عیدالاضحی اور آپ جون 2024 – ادارہ

سروے 0

تہواروں کی اصل رونق اور خوشی پکوان سے ہی ہوتی ہے۔ کوئی بھی تہوار ہو، مزے دار کھانوں اور لذیذ ذائقوں کے بغیر ادھورا اور بے لطف رہتاہے اور عیدالاضحی کا تہوار تو ہے ہی کھانے پینے کا تہوار ۔ اس دن خاتون خانہ کا زیادہ وقت نت نئے کھانوں کی تیاری میں کچن میں گزرتا ہے تو مرد حضرات قربانی کرنے گوشت کی صفائی اور تقسیم میں مصروف نظر آتے ہیں۔ عید کے دن ہی نہیں عیدالاضحی کے بعدبھی دعوتوں کا سلسلہ جاری رہتاہے۔ مزے دار کھانے پکاکر گھر والوں اور مہمانوں سے داد وصول کی جاتی ہے۔

اس بار سروے میں ہم نے اسی حوالے سے سوالات کیے ہیں۔ سوالات یہ ہیں۔

۔ آپ کے گھر میں قربانی کے گوشت کی تقسیم اور گوشت کی صفائی کاکام کون کرتاہے؟ کبھی گوشت صاف کرتے ہوئے ہاتھ زخمی ہوئے؟

۔ بقرعید پر کھانا پکانے میں مراد حضرات بھی حصہ لیتے ہیں۔ وہ کون سی ڈش بناتے ہیں؟

۔ کوئی عید ایسی بھی گزری جب آپ کے گھر قربانی نہیں ہوئی اور کسی پڑوسی اور رشتہ دار نے بھی نہیں پوچھا۔ اس وقت ااپ کے احساسات کیا تھے؟

۔ عیدالاضحی پر گوشت زیادہ کھایا جاتاہے۔ اس وجہ سے میٹھے کی طلب زیادہ ہوتی ہے۔ عید الفطر پر تو شیر خورما یا سویاں بنائی جاتی ہیں۔ عیدالاضحی پر آپ میٹھے میں کون سی ڈش بناتی ہیں؟

زینب نور .جہانیاں

۔بقرعید کے خیال کے ساتھ ہی جہاں زبان میں نمکین مزے دار ذائقے محسوس ہوتے ہیں (کیونکہ ہم سب بیف ، مٹن کے شوقین ہیں سوائے سمیرا کے)وہیں خون آلود تپڑ اور فرش کی صفائی کا سوچتے ہی طبیعت عجیب ہو جاتی ہے۔

پہلے توگوشت کی تقسیم کے بارے میں بتاتی ہوں۔ جب تک ہم چھوٹے تھے تو امی بڑی تھالی میں کئی ڈھیریاں لگا کے تھالی ہمارے سر پر رکھ کر روانہ کرتیں کہ یہ راجپوتوں والے محلے میں بانٹنا ہے ، یہ مولے جاٹوں والے محلے میں وغیرہ وغیرہ اور یقین کریں۔ یہ کام ہمیں بالکل بھی نہ تھکاتا تھا۔ بلکہ خوشی ہوتی تھی کہ شاید اس لیے کہ لور لور پھرنے کا موقع مل رہا ہوتا تھا ۔ اور اس کام کے حوالے سے میں اور میرا چھوٹا بھائی ، دونوں بہت پرجوش ہوتے تھے۔پھرگائوں میں دور رہنے والے غریب غربائ کی طرف بھی جانا ہوتا اور یوں گائوں کا کونہ کونہ گھوم لیتے تھے۔ اب پیکٹس بنتے ہیں۔ بھائی موٹر سائیکلوں پہ جا کر بانٹ آتے ہیں۔ مگر اب بھی دل کرتا ہے ، وہ دن واپس آئیں کہ میں سر پہ تھالی رکھ کر گوشت تقسیم کرتی پھروں۔

اور صفائی کون کرتا ہے ؟ بکرے تو تب تک ذبح کیے جب تک گھر کے تھے۔ اب تو حصہ ہی لیا جاتا ہے زیادہ تر۔ گوشت میں استعمال ہونے والے کپڑے اور تپڑ میں اور ہادیہ (بڑی بہن جس کی چھ ماہ پہلے شادی ہوئی) دھوتی ہیں۔ باقی گوشت تو ہمیشہ سے امی ہی صاف کرتی آتی ہیں (اور ان شائ اللہ امی ہی کرتی رہیں گی.ہاہاہا)

لیکن بقر عید کے علاوہ مہمانوں وغیرہ کے آنے پہ ہم درانتی سے گوشت صاف کر لیتے ہیں۔ یا تو زخمی ؟ تھوڑا بہت کٹ لگ ہی جاتا ہے مگر انگلی انگوٹھے مکمل شہید کبھی نہ ہوتے۔ (جی الحمد للہ سگھڑاپا ہی وجہ ہے ناں .)

۔ہاہاہاہا.دل چاہ رہا ہے اس پورے صفحہ پہ ہاہا ہا ہی لکھ دوں .کھانے پکانے کا کام مرد بس ٹی وی پہ ہی کرتے ہیں۔ حقیقت میں تو بے چارے جانور ذبح کرواتے ہوئے ہی تھک جاتے ہیں۔ویسے خاصا مشکل کام ہے یہ بھی۔

ہمارے ہاں کون سا سیخ کباب اور باربی کیو پارٹیز ہوتی ہیں جومرد بھی جوش و خروش سے ہاتھ بٹانے آئیں گے۔ کچن کا کام ہم خواتین اوہ سوری .مطلب ہم لڑکیاں ہی کرتی ہیں۔ ہاں پائے وغیرہ امی کے ساتھ صاف کروا دیتے ہیں۔ پکاتے وہ بھی ہم ہی ہیں۔

۔ناں .نہیں سات آٹھ سال پہلے ہمارے حالات ایسے تھے کہ قربانی کر ہی نہ پاتے تھے۔ پورا سال خواہش رکھنے اور کوشش کرنے کے باوجود بھی .لیکن ایسا کبھی نہ ہوا کہ بغیر گوشت کے بقرعید منائی ہو۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ اول ہم گائوں میں رہتے ہیں۔ دوم. آہم .یہ بتائیںکبھی مولویوں نے بھی بغیر گوشت کے بقر عید منائی ہے ؟ البتہ آپی کی شادی کے بعد پہلی بقرعید ایسی گزری ہے۔ کہ بقرعید والے دن آپی کو بھنڈیاں پکانی پڑیں ہمارے ہی احساسات ناقابل بیان رہے، آپی کے تو نجانے پھر کیسے ہوں گے۔

۔واقعی یہ بات تو ہے ۔ ہم سمجھتے تھے کہ یہ معاملہ صرف ہمارے ہی ساتھ ہے کیونکہ ہم میٹھے کے شیدائی ہیں۔ مگر واقعی سب کا ہی میٹھے کو دل کرتا ہے گوشت کھا کر۔

عیدالفطر پہ سویاں اور شیر خورما بنتے ہیں تو عیدالاضحی پہ کیا بنتا ہے لو جی۔ عیدالاصحیٰ پہ بھی یہی بنالیں۔ انہوں نے کون سا روٹھ جانا ہے کہ دونوں ہی عیدوں پہ ہماری باری .؟

ہمارے ہاں میٹھا ، پکتا نہیں . صرف مہمان آجائیں تو بنا لیتے ہیں ورنہ گھر کے لیے تو نہیں۔

ہاں .بقرعید سے پہلے ابو ڈھونڈ کر عمدہ گڑ لے آتے ہیں ۔کھانا کھانے کے بعد سب ایک ایک ڈلی کھا لیتے ہیں۔ امی کا کہنا ہے کہ گڑ کھانے سے گوشت نقصان نہیں دیتا اور میٹھے کی طلب بھی پوری ہو جاتی ہے۔

نیر فہیم خان. کراچی

سب سے پہلے تو تمام بہنوں اور خواتین کے پورے ادارے کو عید مبارک ۔ اس افراتفری اور بے ہنگم زندگی میں خوشیوں کے چند لمحے ہمیں کشید کرنا پڑتے ہیں ان لمحوں کو جانے نہ دیجیے ۔ خوش رہیں۔

۔اب ہم فلیٹ میں رہتے ہیں تو یہاں قربانی کا تصور الگ ہے۔ ہمارے ہاں بکرا قصائی صاحب کی دکان بھیج دیا جاتا ہے ، بچے بھی اس کے ساتھ ہو لیتے ہیں تاکہ اپنے عزیز کے آخری سفر میں ساتھ رہیں۔ کچھ دیر بعد بکرا اللہ کے حضور پیش ہو جاتا ہے اور گوشت شاپنگ بیگ میں واپس آجاتا ہے۔ گائے ہو تو گلی میں کاٹی جاتی ہے۔ بچے گیلری سے جھانکتے ہیں ،ہر بار نعرہ لگاتے ہیں۔ اب راحیل انکل کی گائے کٹ گئی۔ اب گڈواں انکل کی ۔ اب ہماری۔

جو زیادہ جاں باز ہوتے ہیں، وہ گلی میں بھی موجود ہوتے ہیں۔ اس کے بعد گوشت کی صفائی ستھرائی ہوتی ہے۔ جوکہ میں ہی کرتی ہوں ،امی کے گھر میں امی اور فوزیہ گائے کو ٹھکانے لگانے میں نڈھال ہو جاتے تھے۔ ایک بار اسی طرح گوشت صاف کرتے ہوئے چھوٹی بہن کا ہاتھ چاپر سے کٹ گیا۔ انگلی لہو لہان ۔ عید کا دن ۔ اس کا خون کسی صورت بند نہ ہو اور زخم اتنا گہرا کہ ٹانکے لگے بنا گزارا نہیں۔ بہت خون بہا۔

مگرڈاکٹر نہ ملا۔ تھک ہار کر گھر آ گئے۔ کسی جاننے والے کو گھر بلا کر ٹانکے لگوائے ۔ بہت تکلیف دہ تھا۔ اسی طرح چاند رات کو صفائی کرتے ہوئے میری انگلیاں الماری کے نیچے دب کر کچل گئی تھیں۔ سب لوگ کام کر رہے تھے اور میں تکلیف سے بے حال ہاتھ تھامے بیٹھی تھی۔ وہ عید بالکل عید نہ لگی۔ کیونکہ بچپن سے آج تک عید کے دن ہم فعال ہوتے ہیں ،اب عضو معطل بن کر رہ گئے تو کاہے کی عید۔ان دوواقعات کے علاوہ ہر عید اچھی گزری۔

۔امی کے گھر اور میرے اپنے گھر۔ مرد حضرات بھرپور حصہ لیتے ہیں۔ ابو کو کڑاہی بنانے کا شوق تھا۔ وہ ہر سال بناتے تھے اور ہم سب بہن بھائی مل کر کھاتے تھے۔ اب میرے صاحب عید کے دوسرے دن تکہ بریانی ،کڑاہی۔ سب بناتے ہیں۔ خاص طور پر تکے بنانا مردوں کا کام ہے ، انگیٹھی چھت پر لے جاتے ہیں۔ اور باربی کیو ہوتا ہے۔ سب لوگ مل کر دعوت اڑاتے ہیں۔ بچے اپنی یادوں کو تصویروں میں مقید کرتے ہیں۔

۔پچھلے سال بقر عید کے پہلے دن اتنی بارش ہوئی کہ تقریباً سب ہی لوگوں نے قربانی ملتوی کر دی۔ جن لوگوں نے حصے لیے ،ان کو بھی رات کو دیر سے گوشت ملا۔ بارش ہو اور شہر کراچی ہو۔ تو پھر سڑکیں ۔ سڑکیں نہیں رہتیں ۔ تالاب بن جاتی ہیں۔ آدم خور بلا کی طرح۔ اس عید کے دن نہ ہمارے ہاں قربانی ہوئی نہ کسی کے گھر سے گوشت آیا۔ جن کے ہاں قربانی ہوئی تھی انہوں نے بھی رکھ لیا کی بارش رکے گی تو بانٹیں گے۔ اس عید پہ ہماری پوری بلڈنگ کے لوگوں نے پہلی بار سبزی یا دال بنائی تھی عید کے دن ۔ہم نے بھی آلوئوں کی بھجیا بنائی تھی۔ گلی میں گائے بکروں کی فوج تیار تھی قربانی کے جانوروں کی بہاریں تھیں اور تمام لوگ ترپال اور شیٹ لے کر اپنے اپنے جانوروں کی حفاظت کی فکر میں تھے۔ پچھلے سال ایسا ہوا تھا۔ اس سال کی اللہ جانے موسم کے تیور کیسے رہتے ہیں۔

۔ہم لوگ چٹورے لوگ ہیں ۔میٹھے کے زیادہ شوقین نہیں ہیں۔ مگر ہر سال دونوں عیدوں پر شیر خورما اور آئس کریم لازمی ہوتی ہے۔ بنا شیر خورما عید کا تصور ہی نہیں ہے۔ یہ چند میٹھی سی خوشیاں ہیں جو عید کے دن کو یادگار بناتی ہیں۔ اب تو پورا جانور لینا اتنا مشکل ہو گیا ہے۔ مہنگائی نے ہر ایک کی کمر توڑ رکھی ہے اور کراچی میں ایک مصیبت الگ کہ منڈی جانے والوں کو لوٹ لیا جاتا ہے۔ منڈی اتنی دور افتادہ جگہ بناتے ہیں کہ راستے میں تین چار مہمانوں سے واسطہ پڑنا لازمی ہے۔

فرزانہ انصاری . کراچی

سب سے پہلے تو آپ سب کو عیدالاضحی مبارک اور تمام عازمین حج کو فریضہ حج کرنے پر دلی مبارک باد ۔

۔شادی سے پہلے تو یہ کام امی ، بابو اور بھائی کرتے تھے ۔ہم تو صرف بانٹنے جاتے تھے۔ یا تیار ہو کر مہمانوں کا استقبال کرتے تھے۔ دعوت کا سارا انتظام بہنیں اور بھابیاں کرتی تھیں۔ اتنا اچھا لگتا تھا جب ہمارے گھر قربانی ہوتی تھی ۔پورا گھر مہمانوں سے بھرا ہوتا تھا ۔صبح سے رات تک چائے ناشتہ ، کھانا چلتا تھا۔ کبھی کبھی تو رات کے دو بج جاتے تھے فارغ ہوتے ہوتے ، اب تو راتوں کو جاگنا عام سی بات ہے۔

عیدالاضحی کا صحیح مزہ یا روح تو قربانی کرنے والے گھر میں ہوتی ہے۔ حسن دو سال سے کوشش کر رہا ہے بکرا لینے کی مگر اس مہنگائی نے سب کے ارمانوں پر پانی پھیر دیا۔ اس سال ان شائ اللہ نیت ہے حصہ لینے کی۔ اللہ تعالیٰ وسیلہ بنائے ،ہاں آئے ہوئے گوشت کی صفائی یہ اورمیں مل کرکرتے ہیں۔ پہلے میں ہاتھ بھی نہیں لگاتی تھی گوشت بنوانے میں، اب تو سب کچھ کرنا پڑتا ہے۔

بچپن میں ہماری گھر ہوئی قربانی میں میرے خالہ کے بیٹے کے ہاتھ سے بغدا میرای ہاتھ پر لگ گیا تھا۔ کافی بڑا زخم آیا تھا۔ آج تک میرے ہاتھ پر نشان ہے۔ اور اب بھی گوشت صاف کرتے ہوئے ہاتھ پر کٹ تو ضرور لگتے ہیں۔ مجھے شروع سے ہی قربانی کا گوشت بہت زیادہ دن تک رکھنا پسند نہیں اور نہ ہی ہمارے ماں باپ رکھتے تھے اور نہ رکھنے دیتے تھے۔ ہمارے ہاں ہماری ضرورت سے زائد گوشت آجاتا ہے۔

تو صرف اپنے لیے ہفتے بھر کا رکھ کر باقی غریبوں میں تقسیم کر دیتی ہوں۔

۔یہ صرف گوشت صاف کروانے اور پیکٹ بنوانے کی حد تک مدد کرواتے ہیں۔ اور کون سی ڈش ہے۔ جو بقرہ عید پر یہ نہیں پکواتے مجھ سے، ان کا کہنا ہے۔ بقر عید میرا پسندیدہ تہوار ہے۔ (گوشت خور جو ہیں) سب سے پہلے توکھڑے مسالہ کا گوشت پھر شام میں تکہ بوٹی ، کچے قیمے کے کباب ، دوسرے دن گولہ کباب ، پھر باری باری نہاری ،قورمہ ،چپلی کباب ، پائے یعنی کہ پورے ایک ہفتے تک صبح شام گوشت ، گوشت اور صرف گوشت کی چیزیں ہی پکواتے ہیں۔ ایک ہفتے بعد قربانی کا گوشت نہیں کھاتے ۔کہتے ہیں اب بازار سے منگوالو ۔گوشت میں ذائقہ نہیں رہتا، اس لیے میں زیادہ گوشت رکھتی ہی نہیں۔ شادی سے پہلے تو میں بھی صرف تین دن ہی کھاتی تھی مگر اب تو بھئی ہفتے بھر بھی کھا لیتی ہوں۔

مجھے ذاتی طور پر بقر عید پہ دو ڈشیں پسند ہیں۔ ایک تکہ بوٹی اور دوسرے کجتے قیمے کے کباب یا چپلی کباب میرا خیال ہے یہ دو چیزیں صرف بقر عید پر ہی دل بھر کر کھاتی جاتی ہیں۔ باقی پورے سال تو گوشت کی ہر چیز بن جاتی ہے۔ مگر یہ چیزیں نہیں بنتیں (گوشت وافر مقدار میں جو چاہیے ہوتا ہے، سمجھا کریں نا) اور ہاں بریانی پلائو تو بھول ہی گئی ،وہ مجھے کسی سے پکوانا پڑتا ہے۔ مجھ سے چاول اچھے نہیں بنتے۔

۔شادی کے بعد تو ہم ایک مرتبہ بھی قربانی نہیں کر سکے۔ دو سال پہلے ایسا ہوا تھا۔ یہ چاند رات کو چکن لا کر رکھ دیتے ہیں ،دوپہر میں پکانے کے لیے ، اس سال یہ صبح آئے کام پر سے تو گوشت نہیں لا سکے۔ انہوں نے کہا ۔صبح گوشت آجائے گاکہیں سے تو وہی پکا لینا ۔

اب اس دن کہیں سے بھی گوشت نہیں آیا۔ شام ہو گئی ، بازار بھی بند ، میں نے رات میں دال پکائی تھی وہی کھائی عید پر ، وہ عید یاد رہے گی پہلی مرتبہ عید پر دال چاول کھائے تھے۔ پھر شام کے بعد ہمارے اوپر والے پڑوسی نے اپنے گوشت میں سے تھوڑا سا گوشت بھیجا تب پکایا۔ جبکہ ہماری گلی میں کئی جگہ قربانی ہوئی تھی، تو بہت عجیب سا محسوس ہوا۔

۔حسن کے پاپا گوشت خور ہیں انہیں میٹھے کی طلب زیادہ نہیں ہوتی اور میں میٹھے کی بے انتہا شوقین ہمارے گھر جو مہمان آتے ہیں۔ وہ بھی بے انتہا میٹھے کے شوقین ، بقر عید پر بھی میں عید کی طرح سویاں شیر خورما ، رنگین سویاں، کسٹرڈ مختلف دن ،اوقات میں بناتی ہوں۔ مٹھائی کیک تو لازمی آتے ہیں عید ہو یا بقر عید۔

اس مرتبہ سوچ رہی ہوں زردہ بنائوں، اب تو زردہ نظر بھی نہیں آتا ، مٹھائیاں ، کیک یا دوسرے میٹھے کثرت سے کھائے جاتے ہیں۔

آپی آپ کو ایک بات بتائوں ۔میرے میکے میں نمکین سے زیادہ میٹھا کھایا جاتا ہے۔ کوئی تقریب ہو شادی بیاہ ہو یا کوئی اور کام یہ کوئی نہیں پوچھتا کھانے میں کیا ہے، سب پوچھتے ہیں میٹھے میں کیا ہے۔

حسن آپ سب کو سلام کہہ رہا ہے۔ اس مرتبہ بھی اس کی تھرڈ پوزیشن آئی اور ایک اور خوش خبری حسن نے اس سال کلاس جمپ کی ہے اب ماشائ اللہ سکس کلاس میں چلا گیا ۔ حسن کو اب میں نے گورنمنٹ اسکول میں داخل کروا دیا کیونکہ مجھے حذیفہ کو اسکول میں داخل کروانا تھا۔ دونوں کی پرائیویٹ اسکولنگ میں افورڈ نہیں کر پاتی۔ حذیفہ کا بھی ماشائ اللہ ٹیسٹنگ کے بعد کے جی ون میں ایڈمیشن ہو گیا حسن کا ناظرہ قرآن پاک بھی مکمل ہو گیا اب دہرا رہا ہے (مبارک باد) حذیفہ کا مدرسہ ابھی شروع ہوا ہے۔ مشکلات ہی مشکلات انسان کیا کیا برداشت کرے۔

ریحانہ وقاص .لاہور

۔ہمارے گھر میں قربانی کے جانور کے خریدنے سے بانٹنے تک کا تمام کام مرد حضرات ہی کرتے ہیں ۔ بکرے لینے ہیں یا بڑا جانور۔ ان کی مرضی کے بغیر ہم مرغی تک نہیں خرید سکتے ۔بہت خوشی سے وہ جانور لاتے ہیں ۔مہینہ خدمت کرتے ہیں ساتھ میں ہمارے گھر کے بچے بھی پیش پیش ہوتے ہیں اور تقسیم کر لیتے ہیں کہ ہمارا فلاں بکرا ہے اور تمہارا فلاں۔

پھر جناب عید کے دن صبح صبح عید کی نماز کے فوراً بعد قصائی کی سب سے پہلے اینٹری ہمارے گھر ہوتی ہے۔ تو جناب اپنی مرضی کی بوٹیاں اپنے سامنے بنواتے ہیں۔ پھر خود ہی تقسیم بھی کر دیتے ہیں۔ ہمارے تک تو نوبت ہی نہیں آتی۔

گھر کے اندر تو صرف گھر کے لیے اور میکے میں دینے کے لیے گوشت آتا ہے۔ گھر کا گوشت بھی خود ہی نکالتے ہیں۔ اصل میں دو بھائی گوشت کھاتے نہیں اور تیسرے بھائی گوشت کے سوا کچھ کھاتے نہیں اور ہم ہیں درمیان کے لوگ۔ مزے کی بات ہے ،گوشت کی صفائی سے لے کر پکانے تک ساری ذمہ داری وہ اپنی بیوی کو دیتے ہیں۔ پکنے کے بعد ہمیں مل جاتا ہے۔

۔نہ جی ۔ہمارے میاں کو تو گوشت سے ہی الرجی ہے۔ کمرے میں کھانے پر پابندی ہے ہاں باربی کیو کا انتظام خوب ہوتا ہے۔ ران سب فیملیوں کو (تینوں) کو ملتی ہے ۔جو ہم بڑے شوق سے روسٹ کرواتے اور کھاتے ہیں۔

۔جی ہاں شادی سے بہت پہلے بچپن میں جب ہم قربانی نہیں کرتے تھے تو صبح ہی سے ہر دروازے کی طرف بھاگ اٹھتے کہ کہیں سے گوشت آیا ہے شاید اور اگر آجاتا تو دیکھتے کہ اتنے میں ہانڈی بن جائے گی یہ کسی اور کا بھی انتظار کریں۔

فریج کم ہوتے تھے تو لوگ بانٹنے پر زور دیتے تھے۔

بڑا شوق ہوتا تھا کہ امی فوراً ہانڈی چڑھا دیں۔ اور ہم نمکین گوشت مزے سے کھائیں۔

مجھے چربی بہت پسند ہوتی تھی اور میں بڑے شوق سے کھاتی تھی ۔ نمکین نمکین سی ۔

بہت آس ،امید میں وقت گزرتا۔ حساب لگاتے محلے میں کس کس نے قربانی کی ہے اور کون ہمیں گوشت بھیجے گا۔ ہاں جب ہماراقربانی کرنے کا وقت آیا تو ابو اس بات کا خیال رکھتے کہ گوشت ان کے گھر دیا جائے جو قربانی نہیں کرتے ہیں اور امی ان کو بھی دینا چاہتیں جو ہمارے گھر گوشت بھیجتے ہیں۔

اگرنہ بھیجیں تو تعلقات خراب ہونے کا احتمال ہوتا ہے اور اگلے سال تک یہ بات بار بار سننے کو ملتی ہے کہ ۔ ’’قربانی تو کرلی لیکن ہمیں گوشت نہیں دیا۔ گھر میں ہی سنبھال لیا کیا ؟‘‘

۔سسرال میں گوشت کھانے کا بالکل مزا نہیں آتا۔ یہاں یہ لوگ نپا تلا گوشت کھاتے ہیں اور ہم ٹھہرے نمکین گوشت کھانے والے پیٹ بھر کر ۔ اور اگر کوئی بنا بنا کر کھلائے تو اور زیادہ مزا آتا ہے اور یہ کام ماں کے سوا دنیا میں اور کوئی ہستی نہیں کر سکتی۔

اس لیے ہم تو عید کے تیسرے چوتھے دن اپنے میکے جا کر گوشت کا رج مار کر آتے ہیں۔

امی کے ہاں شیر خورما بنتا ہے جو وہ بہت مزے کا بناتی ہیں اور یہاں سسرال میں ابلی ہوئی سویاں ۴چینی۴دہی ان تینوں کو مکس کر کے کھاتے ہیں۔ شوق سے اور شوق کا تو کوئی مول نہیں ہے جی۔

نوال افضل گھمن . لاہور (بحریہ ٹائون)

۔گھر میں گوشت کی تقسیم اور گوشت کی صفائی میں ہم سب مل کر انجوائے کرتے ہیں۔ جتنا ضرورت ہو ،رکھ لیا جاتا باقی بانٹ دیا جاتا۔ طہٰ ابراہیم اور حمنہٰ اب چونکہ ذرا بڑے اور سمجھ دار ہو گئے ہیں تو وہ اپنی گھر والی لین لائن میں اپنے اپنے دوستوں میں تقسیم کر آتے ہیں بھاگ بھاگ کر ۔

۔جی جناب بالکل مرد حضرات باربی کیو اور چانپ چاول بڑے خوب صورت انداز میں باپ بیٹا مل کر تیار کرتے ہیں۔

۔جی نہیں ماں ،باپ کے گھر اور اپنے گھر اللہ کریم کا احسان ہے ، احسان ہے ، احسان ہے قربانی ہوتی ہے اپنی ۔

۔میٹھے کی ڈش میں طہٰ ابراہیم اور حمنہ کے کہنے پر بہت آسان کسٹرڈ اور جیلی زندہ باد ۔

سلمیٰ مسرت . راولپنڈی

۔شادی سے پہلے امی جان کی مدد کر دیتی تھی۔ گوشت کی صفائی میں ،پکانے میں شاپرز بنانے میں ہر جگہ امی کے ساتھ ہوتی تھیں۔ زیادہ کام امی کرتی تھی۔ شادی کے بعد پتا چلا کہ یہ کام کتنا مشکل ہے کیونکہ ذمہ داریوں میں 100% اضافہ ہو چکا تھا تو اللہ تعالیٰ زندگی ،صحت سلامتی دے میرے شوہر کو قربانی کا جانور خریدنے سے لے کر سنبھالنے تک قربانی کئی بار خود کی اور بچوں کو ساتھ شامل کرتے ہیں ، پھر گوشت کی مکمل صفائی ،قیمہ بنوا کر فریزر میں طریقے سے رکھنا ۔مزدوروں کا ، ضرورت مندوں کا حصہ ان کے بھی بہترین شاپرز بنانا محلے میں دینے کے لیے اور رشتہ داروں کا حصہ مجھ سے پوچھ کر بناتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ان کو بھرپور اجر دے ۔ گوشت صاف کرنے کے اوزار بھی گھر پر رکھے ہوئے ہیں جو عید کے دن اسٹور سے نکلتے ہیں صفائی کا کام مکمل میرے ذمے ہوتا ہے۔

۔ عید پر سپیشل ڈش پائے بنتے ہیں جو میرے شوہر بناتے ہیں ۔انجینئر ہونے کے باوجود ماشائ اللہ سب کام ان کو آتے ہیں دراصل تعلیم کے دوران ہاسٹل میں اور پھر جاب کے دوران اکیلے دوستوں کے ساتھ رہنے میں کوکنگ کے بھی ماسٹر ہیں ۔ ہمارا ٹیرس ہر قسم کے پھلوں پھولوں سے سرسبز ہے۔

۔بالکل یہ تجربہ دو تین بار ہوا ہے۔ ملتان کینٹ میں نئے نئے شفٹ ہوئے تھے ۔ابو شہر سے باہر تھے ہمارے گھر عید کے دن کچھ نہیں آیا۔ شادی کے فوراً بعد عیدالاضحی پر کراچی جانا تھا ٹرین سے بکنگ پہلے ہو چکی تھی ۔چاند لیٹ نکلا اور ہمارا پورا دن ٹرین میں گزر گیا ۔لاہور سے کراچی تک قربانی کے نظارے دیکھتے گئے۔یہی وجہ ہے کہ میں قربانی کا گوشت سب سے پہلے ان گھروں میں بھیجتی ہوں جہاں قربانی نہیں ہو تی بلکہ پکی ہوئی چیزیں بھی مثلاً کلیجی وغیرہ فوراً دیتی ہوں۔

۔آج کل گرمی کا سیزن ہے دو تین سالوں سے آئس کریم کی فرمائش ہوتی ہے میں شیرخورمے کا ڈونگہ اور رس ملائی بنا کر فریج میں رکھ دیتی ہوں ۔سارا سال کولڈ ڈرنک پر پابندی ہے صرف عید الاضحی پر اس کا استعمال بھی ہوتا ہے ۔

صدف ناصر . گوجرانوالہ

۔ہمارے گھر میں قربانی کے گوشت کی تقسیم مرد حضرات ہی کرتے ہیں۔ میرا کام صرف ساتھ ساتھ یاد دہانی کروانا ہوتا ہے کہ کوئی ضرورت مند ، رشتہ دار اور ہمسائے رہ نہ جائیں گوشت سے۔اس بات پر خصوصی توجہ ہوتی ہے کہ کسی شاپر میں کم گوشت نہ ہو۔

جبکہ صفائی کا کام خالصتاً عورتوں کا ہے۔ اپنے حصے کا گوشت اچھی طرح دھو کر خشک ہونے رکھ دیتی ہوں۔ جیسے ہی گوشت خشک ہوتا ہے۔ قیمے والا گوشت الگ کر کے رکھتی ہوں۔ جو کہ دوسرے دن ’’فری قیمہ بنوائیں‘‘ کی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بنواتے ہیں۔ باقی کا گوشت دیکھ بھال کر الگ الگ شاپر میں ڈال دیتی ہوں۔ ہر شاپر پر مارکر سے بڑا بڑا ’’ریسپی‘‘ کا نام لکھا ہوتا ہے۔

ہڈی والا گوشت ’’پلائو‘‘ بریانی اور دالوں کے لیے جبکہ باقی گوشت سبزیوں میں ڈالتی ہوں۔ ساتھ سبزیوں کا نام بھی لکھنا لازم ہوتا ہے۔ تاکہ بعد میں مشکل نہ ہو۔ نہیں بالکل بھی ہاتھ زخمی نہیں ہوئے کبھی۔ الحمد للہ ۔

۔جی نہیں! مرد حضرات بالکل بھی حصہ نہیں لیتے۔ خود سے اٹھ کر کبھی کھانا ڈالا بھی نہیں تو پکانا کہاں ہے۔ (ہاہاہا) البتہ جب کھانا بنائوں تو مشورے ہزار ملتے ہیں۔ کہ گوشت بالکل نرم ہو ، اسپائسی نہ ہو زیادہ ، لیموں بھی ڈالنا ۔ پکانے والا یہ کہنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ سیانی ہتھی خود ہی کیوں نہیں پکا لیتے آپ۔

۔ہائے! کتنا ظالم سوال پوچھ ڈالا۔ سوئے زخم جگا ڈالے۔ نو ، دس سال پہلے جب ہم نے فیکٹری بنانے کے لیے اپنا گھر سیل کر دیا تو کچھ عرصہ رینٹ پر آنا پڑا۔

چند ماہ بعد عیدالضحیٰ آ گئی۔ یقین کیجیئے کہ کرایہ دار سمجھ کر پورے محلے سے سارا دن کسی گھر سے ایک بھی شاپر گوشت کا نصیب نہیں ہوا۔ اور رشتہ داروں کے گھروں سے آتے تو تھوڑا ٹائم لگ ہی جاتا ہے۔ لہٰذا دل دکھ سے بھر گیا۔ دکھ گوشت کا نہیں تھا۔ کیونکہ چاند رات کو ہم ہمیشہ ہی سے چکن ، بیف ، دہی بھلے ، کولڈڈرنکس، بریانی وغیرہ کا مکمل ارینج رکھتے ہیں۔

دکھ ہمیں لوگوں کے رویوں کا تھا جنہوں نے ہمیں کرایہ دار نہیں حقیر ترین مخلوق سمجھا تو وہ دن اور آج کا دن ہمیشہ کرایہ داروں اور ضرورت مندوں کو پہلے ،باقی سب کو بعد میں گوشت بھجواتی ہوں۔

۔جی بالکل ! عیدالاضحی پر میٹھے کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ مگر گوشت کی مصروفیات کی وجہ سے اتنا ٹائم ہی نہیں ملتا کہ کچھ اسپیشل بنایا جائے۔ اور جو تھکن ہوئی ہوتی ہے وہ الگ تو بہت مختصر وقت میں تیار ہونے والی ’’کریمی فروٹ چاٹ‘‘ضرور بناتی ہوں۔ تاکہ بچے خوش ہو کر کھا سکیں کیونکہ دو بوٹیوں سے زیادہ ان سے گوشت کھایا نہیں جاتا۔

مسز طالب .سکھر

۔ہمارے یہاں گوشت کی تقسیم کا کام مرد حضرات ہی کرتے ہیں رشتے داروں کے حصے سے الگ شاپرغریبوں کے لیے الگ تھیلیاں اور گھر کا حصہ ہانڈی میں رکھا جاتا ہے۔ رشتے داروں کے گھر بچے جا کر پہنچا آتے ہیں جبکہ مساکین خود آ کر لے جاتے ہیں اور گھر کا حصہ خواتین کے حوالے کر دیا جاتا ہے کہ کھائو۔ چاہے پکائو یا جلائو اب یہ آپ کا فنکشن ہے۔ اور صفائی کے معاملے میں میری ذاتی رائے ہے قربانی کے گوشت کو صاف کرنے کی کچھ خاص ضرورت نہیں ہوتی ۔یہ میری ’’ذاتی رائے‘‘ ہے سب کا متفق ہونا ضروری نہیں یا پھرمرد حضرات قصائی سے صاف کروا لیتے ہوں تو پھر معلوم نہیں ۔مجاہد بھائی نے سن لیا کہ انہیں قصائی کہہ رہی ہوں تو اب کے بکرا کاٹنے ہی نہیں آئیں گے۔

جی تو اصل میں قصائی صاحب بھی ہماری اپنی ہی داد کے کمپنی پروڈکشن کے ہی ہیں یعنی ہمارے کزن ۴پڑوسی اس لیے ہم موسمی قصائیوں کی چھری تلے آنے سے محفوظ رہتے ہیں (ویسے مجاہد بھائی بھی سارا سال اپنے کام پر ہوتے ہیں ،یہ بھی موسمی قصائی ہی ہیں) اور آپ نے عید پر ہاتھ کے زخمی ہونے کا پوچھا تو ناں جی اللہ محفوظ رکھے ہم سب ہی کو کیونکہ کٹے پھٹے ہاتھ کے ساتھ عید سعید نہیں ہاتھ شہید لگے گی اور ہم خامخواہ ہی خود کو قربانی کے جانور کی بد دعا کا شکار سمجھیں گے حالانکہ ہم تو اسے جنت ہی بھیجتے ہیں (تاکہ ہمارے لیے وہاں کوئی بنگلہ شنگلہ بک کروالے)ورنہ یہاں تو کرائے کا مکان ڈھونڈتے بھی دانتوں پسینہ آجاتا ہے۔

۔اس معاملے میں آپ مجھے آزاد سمجھیں میرے میاں طالب حسین صاحب نہ زیادہ کھانے کے شوقین ہیں نہ ہی پکانے کے مگر ایک بات کہوں گی کم کھاتے ہیں مگر اچھا ہی پسند کرتے ہیں یوں ہی سب کے ہاتھ کا ایویں ایویں نہیں کھا لیتے بہت چوزی ہیں اور ڈش کون بناتا ہے ،وہ تو بھئی میرے بچے بناتے ہیں جی ہاں مما کا مغز فرائی (ہاہاہا)

اور اب آپ سوچ رہے ہوں گے جب میاں جی نہیں شوقین تو گوشت کہاں جاتا ہے ؟ تو ہم کس دن کام آئیں گے میں اور میرے بچے مل بانٹ کر سارا گوشت ہڑپ کر جاتے ہیں جیسا بھی ہو ،ابلا گوشت پکاگوشت ، بھنا گوشت ، تلا گوشت ، جلا گوشت بھی شوق سے کھاتے ہیں ،چاہے بیٹھ کر کھائیں کھڑے ہو کر کھائیں یا پھر لیٹ لیٹ کر کھائیں (یعنی ٹی وی دیکھتے ہوئے)

تیسرے دن چکن پکا کر نندوں کی دعوت کرتے ہیں۔ چونکہ سب ہی گوشت کھا کر بھرے ہوتے ہیں تو چکن سے کسی کو کوئی اشو نہیں ہوتا جبکہ میری بڑی نند کی شرارتی بیٹی ماہ نور تو عید کا پہلا کھانا شاید میرے گھر ہی کھاتی ہے کیونکہ اسے قربانی کا گوشت پسند نہیں (ابھی صرف سات سال کی ہے) تو وہ چکن بریانی دیکھ کر خوشی سے کھا لیتی ہے۔ کیونکہ ان دنوں ہر گھر کی طرح ان کے اپنے گھر بھی قربانی کے گوشت کے ہی پکوان پکتے ہیں۔

۔ہاں ایسی کافی عیدیں گزریں جو بغیر قربانی کیے ہی گزر گئیں مگر ہمارے (پڑوسی) ہر گھر میں چاہے قربانی ہو یا ناں ہو (کلیجی کے علاوہ) گوشت کی پہلی ہنڈیا ابا جی کے گھر سے آئے گوشت کی ہی بنتی ہے کیونکہ انہیں قصائی پہلے مل جاتا ہے (شاید مسجد کے باہر سے ہی پکڑ لیتے ہوں گے ہاہاہا)

اس لیے گوشت بھی سب سے پہلے ابا جی والے ہی بانٹتے ہیں اور کسی نے گوشت نہیں بھیجا تو ہمارے احساسات کیا تھے تو ناں جی ناں ہم اور ہمارا پڑوس ہم لوگ بہت ہی ہوشیار واقع ہوئے ہیں تو جب ہم سب ہی پتاکو ہوتا تھا کہ ہم میں سے کس نے قربانی نہیں کرنی (ہم ایک ہی خاندان کے لوگ ایک ہی محلے میں ساتھ قریب قریب کے گھروں میں رہتے ہیں، دیوار دیوار سے ملی ہے) ہاں تو قربانی کس نے نہیں کرتی تو سب ہی کو معلوم ہوتا تھا تو ہم رات ہی چکن منگوا کر فریج میں رکھ لیتے تھے پھر وہ چکن فریج میں رکھا ہی رہتا تھا کیونکہ ہم نے تو ہنڈیا ابا جی کے گھر سے آئے گوشت کی جو پکانی ہوتی تھی۔ (ہاہاہا)

۔یہ آپ نے بالکل صحیح کہا واقعی میٹھی عید پر تو سویاں وغیرہ ڈال کر کسٹرڈبنا لیتے ہیں۔ایک مرتبہ رس ملائی بھی بنائی تھی (ڈبے والی) جس کی ملائیاں یعنی گول والی ٹکیاں تو ہم نے چمچ سے کھالیں تو اب اتنے سارے رس کا کیا کریں (پتلا جو ہو گیا تھا) میرے میاں جی تو اپنے حصے کی رس ملائی کھا کر سنی بھائی کے گھر چلے گئے۔ اب بقایا رس جو دودھ کی شکل میں تھا ۔میں نے کپوں میں انڈیل کر اپنے بچوں اور ساس سسر کے ساتھ سڑک سڑک کر پی لیا (چلو جائو جی ہم نہیں بناتے رس ملائی)

اور اب کے میرے بچوں نے آئس کریم بنانی سیکھی ہے یوٹیوب سے (اپنی نانی کے گھر بالکل کامیاب تجربہ کر چکے ہیں) میرے بھتیجے یوسف (سگھڑ ) نے میرے بیٹے عاطف ذیشان ہیلپرز کے ساتھ مل کر بنائی تھی بہت زبردست بنی تھی۔ (ویسے یوسف شاید ہل کر پانی بھی نہیں پیتا)سگھڑ سمجھ کے کوئی رشتہ کرنے کی نہ سوچ لے اس لیے غلط فہمی دور کر رہی ہوں کہ ہاں پہلے سے بک بھی ہے۔

تو اب کے ہم آئس کریم بنائیں گے۔

جویریہ فیصل

۔عید والے دن میرا گوشت سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا صفائی تو دور کی بات ہم بہنوں کی تو عید والے دن کھانا پکانے کی بھی چھٹی ہوتی ہے۔

عید والے دن ہمارے صرف دو کام ہوتے ہیں پیارے پیارے کپڑے پہن کر پیارا سا تیار ہونا ۔ کزن کے گھر جانا اور پھر ایک دوسرے کی تعریف کرنا۔

اور دوسرا مزے سے کھانا ۔ جہاں تک گوشت کی صفائی کی بات ہے تو وہ ماما کرتی ہیں اور وہ انتہائی صفائی سے گوشت صاف کرتی ہیں۔

گوشت کی بوٹیاں کرتے ہوئے اکثر ان کے ہاتھ زخمی ہو جاتے ہیں۔ کہاں گوشت تقسیم کرنا ہے کتنا کرنا ہے سب کچھ ماما ہی سنبھالتی ہیں۔

۔بالکل میرے خاندان میں بھی ایسے مرد موجود ہیں جنہیں کھانا پکانے کا شوق ہے اور وہ ہیں میرے شوہر صاحب ابھی میری رخصتی نہیں ہوئی ہے نکاح ہوا ہے۔ لیکن ہمارا ایک دوسرے کے گھر بہت آنا جانا ہے تو جب کبھی وہ کچھ بناتے ہیں تو میں بہت انجوائے کرتی ہوں اس ڈش کو ،ویسے تو وہ ہر قسم کا گوشت بہت ہی مزے کا بناتے ہیں۔ لیکن نمکین گوشت وہ اتنے مزے کا بناتے ہیں کہ دل کرتا ہے بندہ کھاتا ہی رہے۔ میرے خاندان میں کوئی اتنی اچھی کوکنگ نہیں کرتا جتنی اچھی میرے شوہر کرتے ہیں۔

۔الحمدللہ ایسا کبھی نہیں ہوا ۔ اور نہ ہی اللہ کبھی وہ دن لائے۔ ویسے مجھے بڑا ترس آتا ہے ان پر جو قربانی نہیں کرسکتے سچ میں میرا دل کرتا ہے کہ انہیں کافی سارا گوشت دوں۔

۔ہماری یہ روایت ہے کہ ہم دونوں عیدوں پر ابلے ہوئے چاولوں پر گھی اور بورا ڈال کر کھاتے ہیں کافی پرانی روایت ہے یہ میں ماما کو کہتی ہوں پلیز یہ ڈش چینج کر لیں لیکن وہ کہتی ہیں تم سسرال جا کر بے شک نہ بنانا یہاں تو ہمیشہ بنتی رہے گی ۔ (بات ہی ختم)

علیزہ بلال .آڑا اکبر شاہ

۔ویسے تو میرا یقین ہے کہ گھر کا چھوٹا اور ہوٹل کا چھوٹا ایک جیسی قسمت لکھوا کر لاتے ہیں۔ لیکن شکر ہے اس معاملے میں بچت ہو جاتی ہے۔ گوشت بنانے پکانے جیسا ذمہ دارانہ کام اور گھر کا چھوٹا لاپرواہ ، پھوہڑ اور نکما ، اونہوں ۔ یہ کام میری آپی اور امی ہی کرتی ہیں۔

میری آپی جو کہ مجھ سے تین سال ہی بڑی ہیں لیکن وہ اپنے بچپن سے ہی ایسے کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے تیسری چوتھی کلاس سے ہی گھر کو سنبھال لیا تھا کیونکہ امی کو ضرورت تھی۔ ساتھ پڑھائی بھی کی ، گریجویشن کیا ہے شاید آگے بھی پڑھیں ، سلائی اور کڑھائی بھی سیکھی۔ یہ ان مائوں کے لیے ہے جو کہتی ہیں کہ ہم اپنی بچیوں سے گھر کا کام نہیں کرواتے کیونکہ انہوں نے اپنے پیروں پہ کھڑا ہونا ہے تو یقین کریں گھر کا کام کسی عورت یا لڑکی کو پیروں پر کھڑا ہونے سے نہیں روک سکتا۔

خیر بات کافی آگے نکل گئی۔ تو وقت پڑنے پر آپی صاحبہ نے مجھے اپنا اسسٹنٹ بنا لیا۔ اب میں نے عید کے دن بھائیوں اور ابو کی تیاری میں مدد کے بعد صرف مسالہ جات بنوانے ہوتے ہیں اور یہ کام تو تیار ہو کر بھی کیا جا سکتا ہے سو پہلے ہلکی پھلکی تیاری اور بعد میں کام۔

رہا گوشت کی تقسیم کا کام تو ہمارے یہاں ہوتا ایسا ہے کہ ایک بڑے میدان میں شامیانے وغیرہ لگا کر تمام جانور وہیں لے جائے جاتے ہیں پھر سب بڑے چھوٹے لڑکے ، مرد حضرات ایک کے بعد ایک جانور ذبح کرتے ہیں۔ میرے ابو اور چند اور بڑوں کو اس کا کافی تجربہ ہے اس لیے قصائی وغیرہ کا کوئی سین نہیں ہے۔

سب کے گھروں میں گوشت وہیں سے آتا ہے اور جو تقسیم کرنا ہوتا ہے وہ بھی الگ کر کے وہیں سے ہی تقسیم ہو جاتا ہے۔ باقی صفائی تو پھر امی اور آپی ہی کرتی ہیں تو انہیں ہی پتا کہ کتنی بار ہاتھ کٹایا پھر اب تک کٹنے سے محفوظ ہے۔

۔مرد حضرات اور ڈش کی تیاری ! ناں ناں ۔ مرد حضرات حصہ ضرور لیتے ہیں ‘لیکن صرف کھانے میں ۔پکانے میں نہیں (ہاہاہا) اصل میں جیسا میں نے آپ کو بتایا کہ وہ بے چارے عید کی نماز سے واپسی پر کپڑے بدل کر جو قربان گاہ کا رخ کرتے ہیں تو پھر تھک کر ہی لوٹتے ہیں اور ویسے بھی گوشت کی تقسیم جیسا بڑا کام نبٹا کے آتے ہیں تو پھر فریش ہو کر آرام کرتے ہیں۔

اس کے بعد آپی لوگ درختوں کی چھائوں میں اینٹیں ڈال کر عارضی چولہا بناتی ہیں اور جیسے دکھایا جاتا ہے فلموں ، ڈراموں یا کہانیوں میں کہ لکڑیاں جل کر ہی نہیں دیتیں اور بے چاری ہیروئین صاحبہ پھونکیں مار مار کے بے حال تو ایسا کچھ نہیں ہوتا سوکھی لکڑیاں بہت مزے سے جلتی رہتی ہیں اور کھانا سکون سے بن جاتا ہے۔

ہاں تو امی لوگ پہلے گوشت کا مزے دار سا سالن بناتی ہیں پھر نمکین گوشت جو کہ بہت زیادہ شوق سے کھایا جاتا ہے ۔ بیف پلائو تو عید کے دوسرے دن بنتا ہے اور بہت ہی اہمیت سے بنتا ہے۔ یاد آیا عیدین پر ہمارے ہاں سب سے پہلے ’’گائے کا مغز‘‘ ہی پکایا اور کھایا جاتا ہے اس کے بعد ہی کچھ اور ۔

۔نہیں ، بالکل بھی نہیں۔ مجھے یاد ہے کہ میرے بچپن میں حالات کچھ ایسے تھے گھر کے کہ ہم حصہ نہیں ڈال سکتے تھے۔ تب ہمارے گھر میں اتنا زیادہ گوشت آتا تھا کہ گھر کا ہر بڑا برتن بھر جاتا تھا۔

اس کے برعکس جب ہم نے خود قربانی کی تو عید کے دوسرے دن جب میں نے امی سے پوچھا کہ نمکین گوشت کہاں ہے تو امی نے کہا کون سا گوشت کہاں کا گوشت۔

دراصل ہمارا خاندان ماشائ اللہ اتنا بڑا ہے کہ آدھے سے زیادہ گائوں تو ننھیال اور ددھیال پر مشتمل ہے۔ باقی بھی رشتے دار ہی ہیں۔ ویسے بھی سب پڑھے لکھے اور سمجھ دار لوگ ہیں اور ایک دوسرے کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ تو ہوتا ایسا ہے کہ قربانی نہ کر سکنے والوں کے گھر میں بغیر مبالغہ آرائی کے قربانی والوں سے بھی زیادہ گوشت ہوتا ہے۔

(ایک بات بتائوں ہمارے گھر کے ایک طرف ہمارا ننھیال اور ایک طرف ددھیال ہے اور ہم ان کے درمیان میں صحیح معنوں پر لائن آف کنٹرول l.o.c )پر بیٹھے ہیں کیونکہ ان کی کچھ خاص بنتی نہیں ہے۔ ہاہاہا لیکن خوشی غمی میں ’’ہم سب ایک ہیں‘‘ کی مثال پیش ہو رہی ہوتی ہے الحمد للہ )

۔ہمارے یہاں تو بقر عید سے ایک دن پہلے حج منایا جاتا ہے۔ اس دن سب میٹھا ہی کھایا اور پکایا جاتا ہے خاص طور پر سویاں ۔ تو عید کے دن میٹھے کے نام پر ہم ’’مٹھائی‘‘پر ہی گزارا کرتے ہیں اور کل والی سویوں کی وجہ سے گوشت زیادہ سے زیادہ کھاتے ہیں۔ آخر میں آپ سب کو بہت بہت عید مبارک۔

ام ہاویہ.لاہور

بے شک میں خو ہی سارے کا کام کرتی ہوں میرے شوہر صاحب صرف جانور لانے اور پھر قصائی سے ذبح کروانے کا کام کرتے ہیں، خود کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاتے میں ہی پیکٹ بناتی ہوں ارور بیٹے کے ہاتھ تقسیم کرواتی ہوں۔

ایک دفعہ ایسا ہوا کہ میرا بیٹا پانچ سال کا تھا قصائی کے دیر سے آنے کی وجہ سے شام ہوگئی۔ میں جلدی جلدی گوشت کے پیکٹ بنانے لگی کہ رات سے پہلے گوشت تقسیم کرسکوں ۔میں باہر نہیں جاتی تھی بڑے بھائی کی بچیوں کو بلایا جب وہ گوشت دینے گئیں تو میرا بیٹا ان کے پیچھے چلا گیا ۔مجھے لگاکہ پہلے بھی ان کے ساتھ باہر چلا جاتا ہے، اب بھی ان کے ساتھ گیا ہے پر جب بچیاں واپس آئیں تو وہ ان کے ساتھ نہیں تھا ۔ان کو پتا ہی نہیں تھا کہ وہ ان کے پیچھے گیا تھا اور میں پریگیننٹ تھی ۔میں پاگلوں کی طرح سڑک پر بھاگی اوپر سے اتنا رش ،خون وہ دن میں آج تک نہیں بھولی ۔مجھے لگا بس میں ابھی گر کر مرجائوں گی دل کیا چیخ چیخ کے روؤں اللہ کو مجھ پر رحم آگیا اور اتنے میں میرا بھتیجا آیا کہ چچی محمد ہارون مل گیا ہے، وہ بہت دور چلا گیا تھا گھر سے ۔ہمارے سامنے والے گھر میں چند دن پہلے کرایہ دار آئے تھے۔ ان کے بچے نے اسے پہچان لیا ۔وہ بھی وہیں تھا۔ وہ لے آیا تھا اور میں نے شکرانے کے نفل ادا کیے۔

۔ نہیں جی ہمارے گھر کے مرد کھانا بنانا نہیں جانتے۔

۔ ڈشیں تو بہت بنتی ہیں پر میں بناتی ہوں۔

۔ جی ہوا ہے پچھلی عید پر ہم نے قربانی نہیں کی تھی سب کو پتا تھا پھر بھی بہت رات کو گوشت بھیجا پر میں آپ کو بتائوں ،میں نے کبھی کسی سے کوئی امید نہیں رکھی مجھے اندازہ تھا ۔آج کل لوگ دوسروں کم ہی خیال رکھتے ہیں میں نے پہلے ہی چکن وغیرہ منگوالیا تھا اور ٹائم سے سب کو اچھا سا کھانا بناکر کھلایا تھا اور ہم دوسروں سے امیدیں نہ رکھیں تو پھر دکھ بھی کم ہی ہوتا ہے۔

جی بالکل عید الفطر ہویا عید الضحی میٹھا تو ضرور بنتا ہے اور میری کوشش ہمیشہ مختلف قسم کے میٹھے بنانے کی ہوتی ہے اور یہ میٹھا بچے بڑے شوق سے کھالیتے ہیں۔

ثانیہ جعفر.آڑا اکبر شاہ

۔قربانی کے گوشت کی تقسیم ابو جبکہ اس کی صفائی کا کام امی کرتی ہیں۔ پورا دن لگ جاتا ہے گوشت کی ناز برداریاں کرنے میں ۔پہلے میں عید کے دن گوشت کی صفائی وغیرہ کا کوئی کام نہیں کرتی تھی بس مسالے وغیرہ تھوڑے بہت بنادیتی تھی لیکن اس بار سوچ لیا ہے کہ ان شائ اللہ امی کے ساتھ گوشت کی ناز برداریوں اور خدمت میں امی کا ساتھ دوں گی۔ اور ہاتھ شکر ہے ۔کبھی زخمی نہیں ہوئے(کبھی گوشت بنایا بھی ہو تو)

۔یہ آپ نے کون سا سوال پوچھ لیا۔کھانا پکائیں اور وہ بھی مرد حضرات انہیں صرف کھانے سے مطلب ہوتا ہے(ہاہاہا سوری) لذیذ نمکین گوشت وہ بھی امی کے ہاتھ کا۔ وائو۔ سب کھاتے ہیں اور تعریف کرتے ہیں۔ میری امی کے ہاتھ میں بہت ذائقہ ہے ماشائ اللہ۔ مرد حضرات کا کوئی بھی ڈش بنانے کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

۔ بہت سی عیدیں ایسی گزریں جب ہم نے حصہ نہیں ڈالا۔لیکن ہمارے رشتہ دار اور پڑوسی زندہ باد۔ ہمارے گھر حصے سے بھی زیادہ گوشت جمع ہوجاتا۔ قربانی تو نام ہی اللہ کی راہ میں دینے کا ہے۔ بس جو لوگ نہیں کرتے، دوسرے لوگوں کا احساس اور سارا گوشت خود ہی ہڑپ کرتے ہیں ۔اصل میں تو وہ قربانی کے تقاضوں کو سمجھتے ہی نہیں۔

۔میں تو سمجھتی ہوں کہ میٹھے کے بغیر تو زندگی ہی ادھوری ہے مجھے میٹھا بہت پسند ہے۔گوشت کھانے کے بعد کولڈ ڈرنک پی جاتی ہے۔ اور میٹھے کے نام پر سویُاں بنتی ہیں جو کہ مجھے بہت پسند ہیں۔ویسے ہماری ینگ پارتی بہت الم غلم کھاتی ہے جس کی وجہ سے ڈانٹ بھی پڑتی ہے۔چھوٹے بچے پاپڑ کے پیکٹ ،نمکو اور دوسری چیزیں لے کر کھاتے ہیں اور تھوڑا سا کھانے کے بعد کہتے ہیں’’کہیں کوں ہووے‘‘(کسی کو چاہیے )

تہوار سب ہی پسند ہیں لیکن عید الاضحی پہ گوشت کی تقسیم ،اس کی صفائی اور بانٹنے سے جو چہل پہل(دھماچوکڑی) ہوتی ہے وہ بہت پسند ہے۔اور ویسے ہم کزنز خوب انجوائے کرتی ہیں، سب کے گھر جاکر۔ وہ کولڈ ڈرنک کے لیے بچوں کو دوڑیں لگواتے ہیں اور ہم سب بھی منع کرنے کے باوجود گلاس تھام لیتے ہیں(ہاہاہا)۔باقی تہواروں کی طرح یہ تہوار بھی خیر خوشی سے گزرے آمین۔

اور میری ایک دوست،نانو،نانا جان اور نادیہ کے لیے سب دعا لازمی کریں کہ اللہ ان کو شفا دے آمین۔

سونیا ربانی قاضیاں محلہ جالا

۔ہمارا گھر گائوں میں ہے۔ مگر اب گائوں میں بھی کچھ کچھ شہر جیسا ماحول آتا جارہا ہے۔ ورنہ پہلے زمانے کی بات کروں۔ تو جس گھر قربانی ہوتی صرف قربانی کرنا ہوتی تھی۔ گھر کے باہر سارے علاقے کے بچوں کی لائن لگی ہوتی تھی۔(یہ میں اپنے گائوں تھا تھی کی بات کررہی ہوں) اب وہ زمانہ گیا۔ اب اگر بچوں سے ایسی کوئی فرمائش کی جائے تو وہ ایسے دیکھیں گے کہ جیسے ماں باپ پاگل ہوں خیر اس گائوں کی تو اللہ جانے مگر اس گائوں میں (یعنی سسرال) کچھ بچے آجاتے ہیں اور باقی رشتے داروں کے ہاں ولید کے چاچو خود دے آتے ہیں۔ باسط صاحب،زیاد صاحب اور فراز صاحب اور جنہوں نے عید ملنے آنا ہوتا ہے۔ وہ اپنا خود لے جاتے ہیں۔

۔ میری شادی سے پہلے چھوٹی امی اور بڑی امی سارا گوشت صاف کرتی تھیں اور میرے آنے کے بعد یہ کام میں اور بڑی امی کرنے لگے(بڑی یعنی میرے شوہر کی تائی بھی اور خالہ بھی)اور ہاتھ زخمی ہونے کی جہاں تک بات ہے تو جناب میرا خود کا ہاتھ تو کبھی زخمی نہیں ہوا۔

مگر پہلے ،شادی سے بھی پہلے کی بات ہے ماموں ارشاد کے گھر گوشت صاف کررہے تھے، تو میں بھی ساتھ بیٹھ گئی کہ میں بھی مدد کردیتی ہوں تو کوئی دس منٹ بعد ہی میں اپنے کزن کا ہاتھ زخمی کرچکی تھی۔اور حیرت کی بات کہ ان کو محسوس ہی نہ ہوا۔ وہ تو جب گوشت پہ خون کی بوندیں گریں تو پتا چلا کہ میں ان کی انگلی کاٹ چکی ہوں مگر وہ مزے سے بولے خیر ہے میں ہاتھ دھوکر آتا ہوں۔‘‘

۔ جی بالکل مرد حضرات حصہ لیتے ہیں کچن کے کاموں میں(اورمجھے یہ عادت شروع سے بڑی پسندہے مرد حضرات کی)۔

اور یہ عادت مبین صاحب میں اچھی خاصی موجود ہے۔ وہ اکثر کچن میں میری مدد کرتے تھے، دعوت ہو یا پھر اچانک کوئی مہمان آجائے وہ فوراً مدد آجاتے تھے۔

اور بڑی عید پہ جب ساری لڑکیاں آئی ہوتی تھیں۔یعنی میری ساری نندیں(مبین کی بہنیں اور کزنز) تو وہ پلائو بہت ہی اعلا بناتے تھے۔ میرے سسرال میں اب بھی سارے ایک ساتھ رہتے ہیں۔ تو عید پہ خوب رونق اور رش ہوتا ہے اور ہم بھی قاضیاں سے موڑہ دھمیال آکر رش اور رونق لگاتے ہیں۔

۔ اس طرف تو ہر سال قربانی ہوتی ہے، اور اماں کے گھر بھی اب ہر سال ہوتی ہے جب بہت سال پہلے ہم گائوں میں رہتے تھے تب کبھی ہوتی اور کبھی رہ جاتی تھی مگر پڑوس سے اچھا خاصا گوشت آجاتا تھا۔ رشتے دار دور تھے،بائیک اتنی عام نہ تھی کہ بچے بچے کے پاس ہو ۔اب توبائیک پہ ہر جگہ خود جاکر دے آتے ہیں گوشت اور اب تو نظام ہی بدل گیا ہے۔ جس گھر قربانی ہوتی ہے وہاں گوشت نہیں دیا جاتا۔

۔ خیر سے صبح شام گوشت کھاتے ہیں۔ میٹھے کا نام بھی نہیں لیتے۔ بہت ہوا۔تو اعلا سی چائے کا کہہ دیا۔یا پھر گوشت سے فارغ ہوکر ایک چکر بائولی ہوٹل کا اور سب آئس کریم کھاکر واپس۔ گوشت سے ہی کچھ نہ کچھ بنایا جاتا ہے اور بس۔

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں