ادھر نئی فلم ریلیز ہوتی، ادھر رحمت بیگم عرف نمی کسی سہیلی کے ساتھ سینما ہال پہنچ جاتی، اور واپسی پر ہمیشہ اپنے شوہر سے تگڑی مار کھاتی، مگر فلم بینی کا ایسا چسکا پڑا تھا کہ اترنے کا نام نہیں لیتا تھا، فلمیں دیکھ دیکھ کر اسے اداکاری کا بھی شوق پیدا ہوگیا تھا، مگر سننے میں یہی آتا تھا ، فلمیں لاہور میں بنتی ہیں اور وہاں جانا اس کے لیے ولایت جانے سے کم مشکل تو نہیں تھا۔ ویسے اسے یقین تھا، وہ بھی کسی ہیروئن سے کم نہیں ہے، اس کے چہرے اور جسم کی ساخت میں بلا کی کشش ہے،اس بات کا اظہار آس پڑوس میں رہنے والیاں بھی کرجاتیں اور شادی سے پہلے وہ چاچے، مامے کے لڑکوں کی آنکھوں میں اپنے لیے پسندیدگی دیکھ چکی تھی، پر اماں بڑی گھاگ عورت تھی، صرف پندرہواں لگاتھا کہ اماں نے سردار کے پلے باندھ دیا، ویسے اس وقت اسے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا احساس نہیں تھا۔ دلہن بن کر خوش خوش سردار کے گھر چلی آئیں تھی، سردار عمر میں اس سے پندرہ سا ل بڑا تھا۔ مضبوط قد کاٹھ ،بڑی بڑی سرخ ڈوروں والی بے رحم سے آنکھیں، پکارنگ، تیکھا سا ناک نقشہ، کم عمر رحمت تو دہل سی گئی اور یہ دہشت چار سال تک قائم رہی، پہلے موتیا، پھر صفدر کی پیدائش، رحمت لڑکی سے عورت بن گئی اور اسے یہ بھی احساس ہوا کہ سردار خاموش طبع، اپنے آپ میںمگن رہنے والا ہے، تھوڑا سا غصیلا ضرور ہے، مگر اتنا بھی نہیں کہ اس سے دب کر عمر گزار دی جائے۔
’’آخر میرے بھی تو کچھ ارمان ہیں، کون سی دوبارہ زندگی ملنا ہے کہ یہ زندگی میں سردار کے اشاروں پر ناچتے گزار دوں۔‘‘ بس یہ سوچ ذہن میں آنے کی دیر تھی کہ اس نے پر پرزے نکالنے شروع کر دےے۔ ساتھ کے گھر میں انورا رہتی تھی، جسے رحمت، بھابھی انورا کہتی تھی، وہ بڑی فیشن ایبل عورت تھی، خوب شوخ رنگوں کے چست کپڑے پہنتی، ہر وقت بنی ٹھنی رہتی، میک اپ تو کبھی کسی شادی بیاہ میں شرکت کے لےے محلے کی عورتیں کرتی ہی تھیں، مگر انورا کا تو انداز بھی دوسرا تھا۔ ہونٹوں پر شوخ لب اسٹک اور اس پر چمکیلی افشاں، آنکھوں میں سرمہ تو سب ہی لگاتی تھیں، مگر انورا جیسادنبالے دارسرمہ کسی کو لگانا نہیں آتا تھا۔ ابرو موچنے سے فالتو بال نکال نکال کر باریک کیے گئے تھے اور بالوں کا جوڑا تو وہ ایسا بناتی کہ سب دیکھتی رہ جائیں۔ یہ رحمت کی قسمت کہ وہ ان کے پڑوس میں آبسی تھی۔ بچہ وچہ کوئی نہیں تھا اور میاں اس کااکثر بیمار رہتا تھا۔ اکثر عورتیں انورا سے اس سلسلے میں کافی ہمدردی رکھتی تھیں، مگر اس بات پر کسی نے کبھی انوارا کو دکھڑے روتے نہیں سنا تھا، اب جو رحمت کا اس کے گھر خاصا آنا جانا ہوا تو دل میں مچلتا سوال لبوں پر آہی گیا۔ انورا شیشے کے سامنے بیٹھی میک اپ مکمل کرنے کے بعد گال پر تل بنانے لگی تھی۔ ہاتھ روک کر بولی۔
’’ سردار تو خاصا خوش شکل اوربھرپور مرد ہے نا، پھر تجھے اس کی اچھی شکل سے کوئی فائدہ ہوا ہے؟‘‘
رحمت سوچ میں پڑ گئی۔
انورا مسکرائی اور بولی۔’’ مرد جتنا بدصورت ہوتا ہے، اتنا ہی بیوی کے رعب میں رہتا ہے، میں کیا کرتی ہوں، کیسے رہتی ہوں، کیا کھاتی، پہنتی ہوں، کہاں کہاں گھومتی پھرتی ہوں، اس میں اتنی جرات نہیں کہ مجھ سے سوال و جواب کرسکے۔ ریلوے میں ملازم ہے، اچھ خاصی تنخواہ ہے، دوسری سہولتیں بھی حاصل ہیں۔ جن سے فائدہ اٹھاتی ہوں صرف میں۔‘‘
انورا نے بدصورت شوہر کے اتنے فوائد بتائے کہ رحمت نے بے اختیار سوچا، کاش سردار بھی ایک بدصورت ، دبلا پتلا، ڈرپوک مرد ہوتا۔
’’ تم تو گھر میں بند رہتی ہو۔ کبھی چلو نا میرے ساتھ ، مل کر فلم دیکھیں گے۔‘‘
’’ فلم؟‘‘
’’ ہاں، ایک دو بار امی اور خالہ کے ساتھ شادی سے پہلے میں فلم دیکھنے گئی تھی۔ میری تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، کیسی خوبصورت زندگی تھی، ان لوگوں کی اور وہ تھے بھی کتنے خوبصورت ۔‘‘
’’ اچھا ، تجھے فلمیں دیکھنا اچھا لگتاہے، یہ تو بڑی اچھی بات ہے، دو بجے کا شو ہمیں مناسب رہے گا، تم بچے سلا کر آجانا، گھر میں تمہاری ساس تو ہوتی ہے، اگر کوئی بچہ جاگ بھی گیا تو وہ سنبھال لے گی۔‘‘
’’ ہاں خالہ (ساس) تو بہت اچھی ہے، وہ مجھے کہیں آنے جانے سے نہیں روکتی، مگر فلم پر جانا شاید اسے اچھا نہ لگے۔‘‘
’’ تو بھلا، بے وقوف ! یہ بتانے کی ضرورت ہی کیا ہے، کہہ دینا انورا بھابھی نے بازار جانا ہے، مجھے بھی ساتھ چلنے کو کہہ رہی ہے۔‘‘
بس ایک بار انورا نے راہ دکھائی اور پھر وہ اسی راہ پر چل نکلی۔سردار ٹھٹکا۔ اس کی ماں نے بہو کو سمجھانے کی کوشش کی۔ مگر فلم کا نشہ رگ رگ میں اتر چکا تھا۔ اگلے تین سالوں میں وہ بالکل ہی بدل چکی تھی، بلکہ اب تو اسے اس نام سے بھی چڑ تھی، وہ نمی کہلاتی تھی۔ سردار کو اس کا نیا نام بالکل پسند نہیں تھا، وہ رحمت کہہ کر ہی بلاتا اور یوں آغاز میں ہی جھگڑا کھڑا ہوجاتا۔
’’ ہزار بار کہا ہے ، میرا نام اب نمی ہے۔ تم مجھے اس پرانے زمانے کے فضول نام سے مت پکارا کرو۔‘‘
’’ انسان بن جا رحمتے! کسی دن مجھ سے ہڈی پسلی تڑوالے گی۔‘‘
مگرنمی جانتی تھی، وہ صرف دھمکی ہی دیتا ہے، ہاتھ کبھی نہیں اٹھائے گا۔ چھ برس اس کے پڑوس میں رہنے کے بعد انورا کسی دوسرے شہر چلی گئی ، مگر اب نمی کو شہر کے ہر سینما ہائوس کا راستہ یاد تھا، میک اپ کرنا، ہر نیا فیشن کرنا، سب سیکھ چکی تھی۔ اس لیے انورا کے جانے سے اسے کچھ زیادہ فرق نہیں پڑا۔
پھر جب موتیا آٹھ برس کی ہوئی، وہ بھی ساتھ جانے کی ضد کرنے لگی۔ نمی نے سوچا ۔ حرج ہی کیا ہے، بچی بھی خوش ہوجائے گی۔ وہ موتیا کو بھی ساتھ لے جانے لگی۔موتیا کے جوان ہونے کی اسے تو خبر نہ ہوئی، یہ احساس اسے سینما ہائوس میں آنے والے بے فکر ے شوخے لڑکوں نے دلایا، تب اس نے چونک کر بیٹی کی طرف دیکھا، لڑکوں کے گروپ کی جانب سے اچھالے گئے بے ہودہ فقروں نے اس کا رنگ اڑادیا تھا۔ وہ ماں کے پیچھے چھپنے کی کوشش کررہی تھی اور نمی سوچ رہی تھی۔
’’ موتیا تو بہت خوبصورت ہے، بالکل کسی فلم کی ہیروئن کی طرح۔‘‘
پھر یہ بات اس کے ذہن سے نکلی نہیں۔
’’ میر ی تو عمر اس خواہش میں ہی بیت گئی، کوئی راہ ہی نہیں ملی، ورنہ آج اس گندے محلے میں چھوٹے سے ٹوٹے پھوٹے مکان کے بجائے کسی شان دار بنگلے میں رہ رہی ہوتی۔ اب بیٹی کا مستقبل سردار جیسا کوئی مزدور آدمی نہیں ہونا چاہیے۔اسے فلم کی ہیروئن بنائوں گی، پھر ہم سب ٹھاٹ سے رہیںگے۔ مگر کیسے؟ فلمیں تو لاہور میں بنتی ہیں، سنا ہے وہاں کچھ جگہیں ہیں جہاں اداکار اکٹھے ہوتے ہیں اور فلم بنتی ہے۔‘‘
ایک دن اس نے موتیا سے پوچھا، تمہیں فلمیں دیکھنے کا بہت شو ق ہے، یہ تو میں جانتی ہوں، تم نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ تم بھی فلم کی ہیروئن بن جائو۔‘‘
’’اماں! وہ۔۔۔‘‘ موتیا ڈر رہی تھی، اگر اس نے بتا دیا، وہ دن رات خود کو ہیروئن تصور کر کے کسی نہ کسی ہیرو کے ساتھ خیالوں ہی خیالوں میں گیت گاتی رہتی ہے ، تو اماں بہت مارے گی۔ بس اسی لےے ہچکچا رہی تھی، مگر نمی کا انداز کچھ ایسا تھا۔ موتیا اپنی خواہش کو زیادہ دیر چھپا نہیں سکی۔
’’ہائے موتیا! اگر تم ہیروئن بن جائو! ہمارے تو وارے نیارے ہوجائیں گے۔‘‘
’’اماں۔۔۔ اماں! کیا ایسا ممکن ہے؟‘‘ موتیا کی آنکھیں جگمگانے لگی تھیں۔
’’میں ارادے کی بڑی پکُی عورت ہوں۔ بس تیری مرضی پوچھنی تھی، تجھے بھی شوق ہے تو بس سمجھ لے، ہیروئن بن گئی۔‘‘
’’اماں! تم پڑھی لکھی نہیں ہو، میں نے پوری آٹھ جماعتیں پڑھی ہیں۔ تمہیں پتا نہیں ہے۔ فلمیں لاہور میں بنتی ہیں اور جہاں فلمیں بنائی جاتی ہیں۔ اس جگہ کو اسٹوڈیو کہتے ہیں، وہاں ہر وقت چوکیدار کھڑا رہتا ہے، ہر کسی کو اسٹوڈیو میں داخلے کی اجازت بھی نہیں ہوتی۔‘‘
’’جو لوگ ایکٹر بن گئے ہیں، وہ بھی تو آخر کسی نہ کسی طرح اندر داخل ہوئے ہی ہیں نا!‘‘ نمی مایوس نہیں تھی۔
خ خ خ
آنے والے دنوں میں وہ ماں، بیٹی کم سہیلیاں زیادہ بن گئیں۔ موتیا کو گھر کے کام کاج میں پہلے بھی زیادہ دلچسپی نہیں تھی، اب تو نمی اس سے بالکل ہی کام نہیں کرواتی تھی۔ برتن مانجھنے، کپڑے، برتن دھونے سے اس کے ہاتھ خراب ہوسکتے تھے۔ ہیروئن کے ہاتھ تو بہت خوب صورت ، نازک نازک، صاف ستھرے ہوا کرتے ہیں۔
دادی دنیا سے گزر چکی تھی، ورنہ پوتی کے فیشن اور نخروں پر ضرور اعتراض کرتی۔
ماں، بیٹی فلم دیکھ کر آتیں، پھر ریڈیو پر فرمائشی پروگرام باقاعدگی سے سنتیں اور موتیا گانوں پر بالکل ویسا ہی ڈانس کرتی جیسا فلم میں ہیروئن نے کیا ہوتا تھا۔
’’کاش انورا یہاں ہوتی، وہ ضرور کوئی نہ کوئی راہ نکال لیتی۔‘‘ نمی کو اب کئی بار انورا کا خیال آتا تھا۔
’’اماں! وہ دن کب آئے گا جب میری بھی تصویریں اخباروں میں چھپیں گی؟‘‘ دونوں اس وقت بازار کی مشہور دکان پر بیٹھی چاٹ کھا رہی تھیں۔ میز پر پڑے اخبار کے فلمی صفحے دیکھ کر موتیا کچھ اداسی، کچھ بے تابی سے سوال کر رہی تھی۔
’’میں خود بھی زیادہ انتظار نہیں کرنا چاہتی۔ سوچ رہی ہوں، لاہور کا چکر لگائوں، مگر وہاں ہمارا کوئی رشتہ دار تو رہتا نہیں ہے۔ ہوٹل میں جا کر ٹھہرنا پڑے گا اور اس کے لےے پیسہ چاہےے۔ تجھے تو پتا ہے۔ تیرا کنجوس ابا گن کر پیسہ میرے ہاتھ پر رکھتا ہے۔‘‘
’’اگر پیسہ نہیں ہے، پھر ایسے منصوبے بناتی ہی کیوں ہو؟‘‘ موتیا ناراضی سے بولی۔
’’مایوس کیوں ہوتی ہے۔ تجھے ہیروئن بنانا میرا خواب ہے، اور میں اس خواب کو پورا کر کے دم لوں گی۔ چل اب جلدی جلدی کھا، تھوڑی خریداری رہ گئی ہے، پھر گھر چلیں۔‘‘
’’اب اور کیا لینا ہے؟‘‘ موتیا نے قریب رکھے دو پھولے ہوئے شاپنگ بیگ دیکھ کر سوال کیا۔
’’کپڑے لتے تو لے لےے ہیں، اب ان سے میچ کرتی نلکیاں، فیتے، بٹن بھی تولینے ہیں کہ نہیں؟‘‘
موتیا نے اثبات میں سر ہلایا، پھر بولی، درزن سے کہنا، جلدی سی دے۔ پچھلی مرتبہ اس نے بہت دن لگا دےے تھے اور دیکھو اماں! نیلے سوٹ کے لےے یہ ڈیزائن کتنا اچھا رہے گا۔‘‘ اس نے اخبار کے صفحے پر مسکراتی ہیروئن کی تصویر پر ہاتھ رکھا۔
’’ہاں۔ اچھا ہے، یہی بنوادوں گی۔ اخبار لپیٹ کر شاپر میں ڈال لے۔‘‘ اور موتیا نے ایسا ہی کیا۔
خ خ خ
سردار کوئی ڈھیلا ڈھالا مرد نہیں تھا، اس نے کمانے کے ساتھ ساتھ گھر کے مسئلے مسائل پر بھی پوری نظر رکھی ہوئی تھی، بیٹی جوان ہے اور خوب صورت بھی، سونے پر سہاگہ تعلیم بھی حاصل کر رہی ہے، اسے بہت اچھے مال دار گھر میں بیاہنے کا اس نے فیصلہ کر رکھا تھا۔
اس سلسلے میں بیوی سے کوئی بات نہیں کی کہ وہ اسے بے وقوف اور گنوار عورت خیال کرتا تھا، جسے جوان بیٹی کی ماں ہونے کے باوجود فیشن کرنے کا بے انتہا شوق تھا اور سردار کو اس کی اس عادت سے سخت چڑ تھی۔
ماں، بیٹی گھر آئیں، دونوں لڑکے گلی میں دروازے کے سامنے کھیل رہے تھے۔ بڑے نے اطلاع دی کہ ابا گھر آچکا ہے، ساتھ میں دو مہمان بھی ہیں۔
’’تیرے ابا کو بھی چین نہیں۔ یہ بھلا گھر آنے کا وقت ہے اور ساتھ میں پتا نہیں کون سے مفت خورے اٹھالایا ہے۔‘‘ نمی نے بڑبڑاتے ہوئے برقعہ اتارا۔ موتیا کو کسی کے آنے جانے سے کوئی مطلب نہیں تھا۔ وہ تو گھر کے کسی کام کو ہاتھ ہی نہیں لگاتی تھی۔ نمی کو اگر کام کی زیادتی کی و جہ سے مدد چاہےے ہوتی تو بیٹوں کو ہی پکارا کرتی تھی۔
’’موتیا کی ماں! لاہور سے میرے مہمان آئے ہیں۔ امیر بندے ہیں، کھانا بہت اچھا سا ہونا چاہےے۔‘‘
سردار نے بیٹھک سے آکر بتایا تھا۔
’’لاہور سے؟ وہاں تو بڑی فلمیں بنتی ہیں۔‘‘ نمی کی آنکھیں چمکنے لگیں۔
’’او پاگل! یہ کوئی بھانڈ نہیں ہیں۔ اچھے خاصے کھاتے، پیتے شریف لوگ ہیں۔‘‘ سردار نے دانت پیستے ہوئے مگر دھیمی آواز میں کہا تھا کہ گھر کوئی اتنا بڑانہیں تھا۔ چند فٹ کے فاصلے پر بنی بیٹھک میں معزز مہمان بیٹھے تھے۔ وہ نہیں چاہتا تھا، اس کی آواز وہاں تک پہنچے۔
’’لاہور سے آئے ہیں۔ کھاتے پیتے لوگ ہیں۔‘‘ سردار کے جانے کے بعد اس نے موتیا کو بتایا۔
’’ہمیں کیا فائدہ؟ یہ تو ابا کے جاننے والے ہیں۔‘‘
’’سوچنے سے راستے نکل آتے ہیں۔ تم ہر وقت مایوسی کی باتیں مت کیا کرو۔ اور سنو، یہ دونوں تھیلے ابھی تک یونہی رکھے ہیں، کچھ تو عقل کیا کرو، انہیں فوراً چھپائو۔ سردار کی نظر پڑ گئی تو اس فضول خرچی پر بڑا چلُائے گا۔‘‘
’’اوہ ہاں۔ مجھے خیال ہی نہیں رہا۔‘‘ وہ برق رفتاری سے اٹھی۔ دونوں تھیلے اٹھا کر صندوق میں ڈال دےے۔
سردار کے ملنے والے آتے ہی رہتے تھے، مگر ماں، بیٹی کو بیٹھک میں آنے کو کبھی نہیں کہا تھا، لڑکے ہی کھانا اندر لے کر جایا کرتے تھے، مگر آج تو انہونی ہوگئی۔ سردار نے نمی سے کہا۔
’’کھانا خود لے کر جائو اور موتیا کو بھی ساتھ لے لینا۔‘‘
دونوں مرد معقول صورت، سردار کے ہم عمر اور لباس سے پیسے والے دکھائی دیتے تھے، جب سردار نے بتایا کہ یہ اس کی بیٹی موتیا ہے۔ بہت ہنر مند اور لائق ہے تو دونوں پر شفقت انداز میں مسکرائے اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا، پھر پانچ، پانچ سو موتیا کے ہاتھ میں رکھ دےے۔ سردار نہیں، نہیں کرتا رہ گیا، مگر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بھی تھی اور وہ دونوں بھی اس کے انکار کو اہمیت نہیں دے رہے تھے۔ موتیا روپے ہاتھ میں پکڑے باپ کی جانب سوالیہ انداز میں دیکھ رہی تھی، جونہی باپ کی جانب سے ’’رکھ لو‘‘ کا اشارہ ملا، وہ مٹھی بند کر کے بیٹھک سے باہر آگئی اور جب نمی کمرے سے باہر آئی تو اس کے چہرے پر گہری سوچ کے سائے تھے۔
’’کیا ہوا اماں! اتنی چپ کیوں ہو۔ دیکھو تو کتنے روپے مل گئے، لگتا ہے ابا کے دوست بہت ہی مال دار ہیں۔‘‘
’’ہاں ہوں گے، مگر موتیا! کوئی یونہی روپے ہاتھ پر نہیں رکھ دیا کرتا، مجھے تو یہ کچھ خاص معاملہ لگتا ہے۔‘‘
’’کیسا معاملہ؟‘‘ وہ ماں کے قریب کھسک آئی۔
’’ضرور سردار نے تیرا رشتہ پکُا کر دیا ہے۔‘‘
’’کک۔۔۔ کیا، مگر مجھے تو شادی نہیں کرنی، میں تو ہیروئن بننا چاہتی ہوں۔‘‘
’’چپ شور نہ ڈال۔ ابھی میں مری نہیں، زندہ ہوں۔ اگر یہ شادی تیرے میرے مفاد میں ہوئی تب ہی ہوگی، نہیں تو ہنگامہ کھڑا کر دوں گی۔‘‘
نمی کا شک غلط نہیں تھا، ان دو میں سے ایک نے موتیا کو اپنے بھتیجے کے لےے پسند کر لیا تھا۔ دراصل وہ لوگ آئے ہی اسی سلسلے میں تھے۔ سردار کی ان سے کب سے بات چیت چل رہی تھی، سردار لاہور جا کر لڑکا بھی دیکھ آیا تھا۔
موتیا کے جوڑ کا خوب صورت پڑھا لکھا جوان تھا۔ اس کے چچا، چچی نے ہی اس کی پرورش کی تھی۔ اب تو چچی بھی دنیا میں موجود نہیں تھی، بڑا سا گھر اور یہ دو مرد۔ سردار کا تو بس نہیں چلتا تھا، ابھی نکاح پڑھوادے۔ سردار بہت خوش تھا، انہیں رخصت کر کے وہ اندر آیا، نمی آگ بگولہ سامنے برآمدے میں ہی موڑھے پر بیٹھی تھی۔
’’تمہیں کیا ہوا ہے؟‘‘ وہ صورت دیکھ کر ٹھٹکا۔
’’سب کچھ کرکرا کے پوچھتے ہو مجھے کیا ہوا ہے۔ ٹھیک ہے، بہت عقل ہے تمہارے پاس، مگر میں بھی نری گدھی نہیں ہوں اور پھر میں موتیا کی ماں ہوں، تم سے زیادہ اس کا اچھا برا سوچ سکتی ہوں، مگر تم نے تو مجھے ہوا تک نہیں لگنے دی۔ پتا نہیں کب سے بات چلائے ہوئے تھے جو آج وہ لوگ پیسے بھی رکھ گئے جی تو چاہ رہا تھا، وہیں رولا ڈال دوں، مگر تیری عزت کے خیال سے چپ ہوگئی۔‘‘
’’بڑی مہربانی تیری اور تیری عقل کو بھی میں آج مان گیا ہوں مگر یہ تو بتا میں نے آج تک کچھ غلط کیا ہے۔ جو اب کروں گا۔‘‘ پھر اس نے نمی کو تفصیل سے سب کچھ بتا دیا۔
’’گھر میں کوئی عورت نہیں ہوگی دونوں مرد ذاتی کاروبار کرتے ہیں، صبح کے نکلے شام کو گھر آتے ہوں گے، لاہور شہر میں رہتے ہیں، یہ تو سب کچھ ان کے حق میں جارہا تھا۔ نمی نے جب یہ سب سوچا تو خاموش ہوگئی، جب موتیا کو ساری بات سمجھائی تو وہ بھی خاموش ہوگئی۔
ویسے بھی وہ اپنی عقل سے کم ماں کی عقل سے زیادہ سوچتی تھی۔
مگر رشتہ پکُا ہوجانے کے بعد ایک تبدیلی اس میں آرہی تھی، وہ طیب کے بارے میں بہت سوچنے لگی تھی۔ سردار نے نمی کو بتایا تھا، وہ بہت خوب صورت اور پڑھا لکھا ہے، یہ دونوں باتیں موتیا کو بڑی اچھی لگی تھیں۔ اور موتیا کی یہ تبدیلی نمی کو بالکل اچھی نہیں لگی تھی۔
خ خ خ
سردار کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا، وہ دو دن بے ہوشی کی حالت میں اسپتال میں رہا، ڈاکٹر اس کی طرف سے مایوس تھے۔ سر پر چوٹ آئی تھی، آپریشن کا کہا گیا۔
نمی نے لاہور طیب کے چچا کو تار بھجوا دیا، وہ بھی فوراً چلا آیا، سردار کے پاس پیسے کی کمی نہیں تھی، بس اس وقت کسی سیانے کی ضرورت تھی۔ طیب کے چچا علائو الدین نے یہ ضرورت پوری کر دی۔
’’کیوں روتی ہو موتیا! تمہارے ابا بالکل ٹھیک ہوجائیں گے۔‘‘ وہ ستون کے ساتھ کھڑی سسک رہی تھی، جب علائو الدین نے قریب آکر تسلی دی تھی۔
’’میرا دل گھبرا رہا ہے چچا!‘‘
’’نہیں، نہیں پریشان مت ہو۔ تمہارا ابا ٹھیک ہوجائے گا۔ آئو میرے ساتھ باہر تازہ ہوا میں آجائو۔‘‘ وہ اسی طرح اسے سہارا دےے باہر اسپتال کے لان تک لے آیا، اس وقت سورج ڈوب رہا تھا، یہ وقت طبیعت پر اداسی کے اثرات چھوڑتا ہے اور یہ لڑکی جس کا رنگ بہت چمک لےے ہوئے صاف تھا۔ اور جس کے ہونٹوں کا کٹائو بہت واضح تھا۔ اس وقت اداسی کے رنگ میں پوری طرح رنگی ہوئی تھی۔
وہ اس کی اداسی دور کرنے کو بے چین تھا۔ اِدھر اَدھر کی باتیں کرتا رہا، پھر بوتل پلائی، سموسے منگوا کر دےے۔ اور جب وہ وارڈ کی طرف واپس آرہے تھے موتیا پہلے کی نسبت کافی سنبھل چکی تھی۔
سردار کو ابھی بہت دن اسپتال میں رہنا تھا۔ علائو الدین ذاتی کاروبار کرنے والا مصروف آدمی تھا۔ وہ دو چار دن رہنے کے ارادے سے آیا تھا، مگر اب اس نے طیب کو لکھ دیا تھا۔
’’کاروبار تم سنبھالو، مجھے آنے میں دن لگ جائیں گے۔‘‘ نمی اس کے اس ایثار پر بہت ممنون تھی اور وہ موتیا کے سامنے اٹھتے بیٹھتے اس کی تعریف کرتی تھی، ساتھ ہی یہ بھی کہا۔
’’یہ تمہارا چچا سسر ہے، طیب کو اسی نے پالا ہے۔ اس لےے طیب اس سے پیار تو کرتا ہی ہوگا، اس کا احسان مند بھی ہوگا۔ اگر تم اس بڈھے کے دل میں جگہ بنالو تب تمہیں اس گھر میں جا کر کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی اور تم اپنی ہر بات آرام سے منوا سکو گی۔‘‘ موتیا نے اثبات میں سر ہلا دیا اور علائو الدین کا بہت خیال رکھنے لگی۔
مگر تھوڑے دن بعد اس نے محسوس کیا، اسے موتیا کی یہ خدمت اتنی خوشی نہیں دیتی، وہ تو خود اس کے ناز اٹھا کر، اسے اس کی پسند کی چیزیں دلا کر خوش ہوتا ہے۔ اور یہ تو بہت ہی اچھی بات تھی۔ ان چند دنوں میں اس نے موتیا کو بہت مہنگے جوڑے دلا دےے۔ نہ صرف موتیا، بلکہ نمی کو بھی بہت کچھ لے کر دیا۔ وہ سردار کی بیماری سے پریشان تو تھی، مگر خوب صورت کپڑے تو اس کی کمزوری تھے۔ سردار گھر آگیا، مگر معذوری کے ساتھ وہ ابھی کسی کو پہچانتا نہیں تھا۔ نہ ہی خود سے اٹھتا بیٹھتا تھا، مگر ڈاکٹر نے کہا تھا۔ علاج اور وقت کے ساتھ وہ سنبھل جائے گا۔
کاروبار بڑا لڑکا دیکھنے لگا۔ ابھی وہ بچہ ہی تھا، مگر یہ مشکل جو آپڑی تھی۔
سردار کے گھر آتے ہی علائو الدین دوبارہ جلد آنے کے وعدے کے ساتھ لاہور چلا گیا تھا، دس دن کے بعد لدا پھندا واپس آیا تو سردار کی وہی حالت اور کاروبار کی بگڑتی حالت سامنے تھی۔ نمی سے مشورہ کر کے اس نے لڑکے کے ساتھ اپنا بھروسے کا ایک ملازم بھی لاہور سے بلوا کر لگا دیا۔
’’یہ علائو الدین چاچا تو بڑے کھلے دل والا ہے۔ میں سوچتی ہوں اماں! پتا نہیں اس کا بھتیجا بھی اتنا دل والا ہوگا یا نہیں۔‘‘ موتیا ماں سے بے تکلف تھی۔ دونوں ہم عمر سہیلیوں کی طرح ہر بات کر لیا کرتی تھیں۔
’’چھوڑ دفع کر، اس کے بھتیجے کو۔ ہمیں اس سے کیا لینا دینا۔‘‘ ماں کی بات پر اس کے برابر چار پائی پر لیٹی موتیا اٹھ بیٹھی اور ٹکر ٹکر ماں کی صورت دیکھنے لگی، لیکن رات کے اس پہر زیرو کے بلب کی ملگجی روشنی میں وہ ماں کے چہرے کے تاثرات جاننے سے قاصر تھی۔
’’ادھر آ میرے پاس۔ تجھے کچھ سمجھانا ہے میں نے اور میری بات سننے سے پہلے یہ یاد رکھ لینا کہ میں تیری دشمن نہیں، ماں ہوں اور میں نے آج تک کبھی تیرے لےے کوئی غلط فیصلہ نہیں کیا۔‘‘ نمی کا انداز ہی ایسا تھا کہ تجسس کی ماری موتیا جلدی سے بستر چھوڑ کر اس کے پاس آ بیٹھی۔ لیکن جو کچھ ماں نے کہا، وہ سننے کے بعد بدک کر پیچھے ہٹی پھر خفگی سے اٹھنے لگی۔
نمی نے بازو پکڑلیا ’’تم بچی ہو، نا سمجھ ہو، لیکن میں نے ایک دنیا دیکھی ہے اور پھر اپنی بڑی بوڑھیوں سے بہت کچھ سن بھی رکھا ہے، ہمارا تجربہ یہی کہتا ہے جوان مرد کی نسبت بوڑھا خاوند بیوی کے بہت ناز نخرے اٹھاتا ہے، اس کی ہر بات مانتا ہے اور اس کی خواہش رد کرنے کی، اسے خفا کرنے کی جرأت بھی نہیں کر سکتا۔‘‘
’’پر اماں! نہیں، نہیں میرا دل نہیں مانتا۔‘‘ موتیا نے پوری شدت سے نفی میں سر ہلا یا۔
’’بے وقوف پاگل کی پتر! وہ جو طیب ہے نا، تجھے گھر کی چار دیواری میں قید کر دے گا۔ دن رات خدمت کروائے گا، گھر کے کام کر کر کے تیرے ہاتھ کھردرے ہوجائیں گے، اوریہ جو چہرے پر گلاب کھلے رہتے ہیں نا، سرسوں پھولے گی پھر یہاں پر، جبکہ علائو الدین سر آنکھوں پر بٹھائے گا، پیر دبانے کو کہہے گی تو اس پر بھی تیار ہوجائے گا۔‘‘ پھر مزید ہلکی آواز میں بولی۔ ’’بڈھا آدمی ہے، دو چار سال میں لڑھک جائے گا، پھر ساری دولت تیری ہی ہوگی، جس سے چاہے شادی کرلینا اور اتنے پیسے سے اپنی ذاتی فلمیں بھی بنانے لگنا اور وہ طیب، علائو الدین نے بتایا ہے۔ یتیم بھتیجا ہے اس کا۔ صرف کاروبار کی نگرانی کرتا ہے، ایک طرح کا منشی سمجھ لو اور وہ بھی تنخواہ کے بغیر، چاچے کا جب جی چاہتا ہے، خرچے کی کچھ رقم رکھ دیتا ہے اس کے ہاتھ پر۔‘‘
پھر آنے والے دن نمی نے اسے قائل کرنے میں گزارے، ادھر علائو الدین کی نوازشیں بڑھتی جارہی تھی۔ دراصل یہ نمی کا کارنامہ تھا۔ ایک طرف بیٹی کو قائل کر رہی تھی، تو دوسری طرف علائوالدین کی بھی ہمدرد بنی، مشوروں پر مشورے دے کر خوب عیش کر رہی تھی اور آخر ایک دن موتیا نے ماں کی بات سمجھ لی۔
موتیا کا نکاح، علائو الدین کے ساتھ پڑھوا دیا گیا۔ لڑکے پہلے تو حیران ہوئے، لیکن انہیں اعتراض کیونکر ہوسکتا تھا، آخر کو ابا کا یہ دوست اتنی مدد کر رہا تھا ان کی۔
نمی نے ابھی صرف نکاح ہی کیا تھا، رخصتی کے لےے ایک سال کا وقت مانگ لیا تھا، یہ شرط کڑی تھی، لیکن علائو الدین کو فی الحال ماننا ہی پڑی تھی۔
ان دنوں دبئی کم ہی لوگ گئے تھے اور جو گئے تھے، ان کی حالت دنوں میں بدل گئی تھی۔ کوٹھڑیاں، کوٹھیوں میں بدل گئی تھیں۔ نمی نے دیکھ لیا تھا، بڑے لڑکے سے بھی کام سنبھالا نہیں جارہا تھا اور چھوٹا تو ابھی بالکل بچہ تھا۔ علائوالدین سے اسے دبئی بھجوانے کی بات کی۔ اس نے جھٹ ہامی بھرلی، بڑے والے نے سنا تو وہ بھی خوش ہوگیا۔
علائوالدین نے کاروبار سمیٹا اور نمی کی خواہش پر وہ سب لاہور آگئے۔ آنے سے پہلے طیب کو تار دے دیا تھا، بتا دیا تھا۔ نکاح کرلیا ہے، کچھ لوگ ساتھ آرہے ہیں۔ لیکن یہ نہیں لکھا تھا، تمہاری منگیتر پر ہی ہاتھ صاف کر لیا ہے۔
خ خ خ
طیب اسٹیشن پر انہیں لینے آیا تھا، جہاں وہ اتنی کم عمر چاچی کو دیکھ کر چونکا، وہاں موتیا کے دل میں بھی اسے دیکھ کر ملال سا اتر آیا۔
’’یہ کیا کر دیا میں نے۔‘‘ اس کے قدم لڑکھڑائے تھے۔ طیب کی صورت دیکھنے کے بعد نمی سمجھ گئی تھی، موتیا کے دل کی کیا حالت ہوسکتی ہے۔ اسی لےے ساتھ ساتھ تھی، جہاں وہ لڑکھڑائی، بڑھ کر تھام لیا۔ لیکن موتیا کی آنکھوں میں اتر آنے والی نمی اسے مسلسل پریشان بھی کر رہی تھی اور غصہ بھی دلا رہی تھی۔
آدھے گھنٹے کے بعد ٹیکسی ایک پرانی سی کوٹھی کے باہر رکی، اچھا خاصا رقبہ تھا اور جھاڑ جھنکاڑ کے ساتھ ساتھ لان میں کئی پھل دار درخت بھی موجود تھے۔
’’قیامِ پاکستان سے پہلے اس کوٹھی میں انگریز رہتے تھے اب یہ میرے نام ہے۔‘‘ علائو الدین نے فخر سے بتایا۔ ’’سن رہی ہے نی موتیا! یہاں کبھی میم صاحبہ گھومتی تھیں اب تَو سر اٹھا کر پھرے گی۔‘‘
’’موتیا!‘‘ طیب نے چونک کر سر اٹھایا، پھرسوالیہ نظروں سے چچا کی جانب دیکھا۔
’’سامان اندر رکھو، ہم لوگ تھکے ہوئے آئے ہیں اور میرے سسر کی حالت تو تم دیکھ رہے ہو، بیمار آدمی ہے، جلدی سے اسے کمرے میں لٹائو۔ آج گرمی بھی کچھ زیادہ ہے۔‘‘ اس کی نظروں کے سوال کو نظر انداز کر کے وہ تیز تیز بول رہا تھا۔
نمی نے تو آتے ہی سارے گھر کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔ یہاں کئی کمرے تھے۔ دھول، مٹی سے اٹا ہوا بہت سا سامان بھی موجود تھا، یہ سب دیکھ کر نمی تو مارے خوشی کے پاگل سی ہوئی جارہی تھی۔
سردار اچھا کما رہا تھا، لیکن گھر بالکل چھوٹا سا تھا جہاں ضرورت کا تھوڑا سا سادہ فرنیچر ہی موجود تھا۔
’’دیکھ ری، قسمت بدل گئی تیری۔‘‘ موتیا کو ٹہوکا دیا، لیکن وہ بالکل ٹھس تھی، اسے کسی بھی چیز میں دلچسپی نہیں تھی۔
بے حد رنجور وہ باپ کی پٹی سے لگی چپ چاپ بیٹھی تھی۔
’’نی ادھر آ۔‘‘ نمی نے بازو سے پکڑ کر اٹھایا اور تقریباً گھسیٹتی ہوئی دوسرے کمرے میں لائی۔
’’اب بول۔ کچھ منہ سے پھوٹ، شکل کیوں اتری ہوئی ہے تیری۔‘‘
’’اماں! وہ طیب تو بڑا خوبرو جوان ہے، بالکل کسی فلم کے ہیرو کی طرح۔‘‘
’’دفع دور۔ نا پاگل ہے تَو۔ وہ ہیرو جیسا ضرور ہے، لیکن ہیرو نہیں ہے، کنگلا ہے۔ پھوٹی کوڑی نہیں ہے اس کی جیب میں، اگر خدا نا خواستا تیرا بیاہ اس سے ہوجاتا تو اس کوٹھی کے پچھواڑے کوئی ایک آدھ کمرا ہی مقدر ٹھہرتا۔ پھر سارے خواب مٹی میں رَل جاتے، لیکن اب بس تَو دیکھتی جا، ہائے اب تو لگتا ہے۔ میرا خوب حقیقت بننے کے دن بہت ہی قریب آگئے ہیں۔‘‘
’’سچ کہتی ہو اماں! پتا ہے مجھے تو لگتا ہے، میں اس بڈھے کی بڑی سی کوٹھی میں کھو کر رہ جائوں گی۔ میرے سارے خوب بس خواب ہی رہ جائیں گے۔‘‘
’’ماں پر اعتبار نہیں تجھے! ارے تیرے خوابوں کو حقیقت نہ بنا دیا تو نام بدل دینا میرا۔ اور ہاں سن، اس بڈھے سے ذرا بچ کے رہنا۔ تنہائی کا موقع مت دینا اسے۔ یہ مرد چاہے قبر میں پائوں لٹکے ہوں، ہوتے بڑے خبیث مردود ہیں۔ میرے ساتھ ساتھ ہی رہیو۔‘‘
’’ٹھیک ہے اماں! مجھے کون سا اس کے منہ لگنے کی چاہ ہے۔‘‘ موتیا نے برا سا منہ بنایا۔
’’اب یہ باسی روٹی جیسی شکلیں نہ بنا، اس کے سامنے بری بری شکلیں بنانے کی ضرورت نہیں، جب بھی بات کرنا، مسکرا کر شرما کر کرنا، یہ بڈھے مرد شکی مزاج اور خرانٹ بھی ہوتے ہیں۔‘‘
’’اماں! طیب سے دوستی تو کر سکتی ہوں۔‘‘
’’دفع۔ میں کیا بکوا س کر رہی ہوں۔ کہاں گئی ہے تیری عقل۔ اری میری بچی! طیب کے تو سائے سے بھی بچ کر رہنا، یہ بڈھا سب سے زیادہ شک تو اسی کے حوالے سے کرے گانا۔‘‘
’’اماں! ہم فلم اسٹوڈیو کب جاسکیں گے، ذرا جلدی بات کریں نا اس سے۔‘‘
’’کرلوں گی بات، پہلے تو میں سوچ رہی ہوں، کسی دن لاہور کے سینما گھر میں جا کر فلم دیکھیں، یہاں کے تو سینما گھر بھی بڑے خوب صورت، صاف ستھرے ہوں گے، وہ ہمارے شہر جیسے نہیں کہ ایک سیٹ پر ہم بیٹھے ہیں، فلم دیکھ رہے ہیں، مونگ پھلی کھا رہے ہیں، برابر میں یہ موٹا تازہ چوہا بیٹھا بھی یہی شغل فرما رہا ہے۔‘‘
’’ہاں اماں! مزا آئے گا۔‘‘ وہ بھی پَرجوش ہوگئی۔
خ خ خ
علائو الدین کے پاس پیسہ تو تھا، گھر میں عورت نہیں تھی۔ عورت کے وجود کے بغیر سلیقے کا کیاتصور؟ یہاں تین ملازم تھے، ایک ڈرائیور ، ایک ملازم صفائی کے لےے اور ایک سست الوجود بابا کھانا بنانے کے لےے رکھ چھوڑا تھا۔
علائو الدین نے بھنا گوشت، کباب، چاول سب بنوائے تھے اور سب ایک سے بڑھ کر ایک بدمزا۔
’’کل سے کھانا میں بنائوں گی۔‘‘ نمی نے اعلان کر دیا۔ فرشی دری پر کھانا لگایا تھا۔ موتیا، نمی چھوٹا لڑکا اور علائو الدین بیٹھے تھے، سردار کی تو صحت ایسی نہیں تھی۔ اسے تو چھوٹے بچے کی طرح کھلانا پڑتا تھا اور طیب دستر خوان پر موجود نہیں تھا۔
’’دیکھ لو۔ یہ اوقات ہے طیب کی۔‘‘ نمی نے موتیا کے کان میں سرگوشی کی جبکہ وہ سوچ رہی تھی شاید خفا ہوگا، چچا سے۔ اسی لےے نہیں آیا ہوگا۔
’’سب سے پہلے تو سردار کو کسی اچھے ڈاکٹر کے پاس لے کر چلیں۔‘‘ نمی نے کھانے کے بعد داماد صاحب سے کہا تھا۔
’’ہاں، ہاں کیوں نہیں۔‘‘ وہ اس وقت میٹھی نظروں سے موتیا کا جائزہ لینے میں مصروف تھا۔ ہڑبڑا کر سر ہلانے لگا۔
’’اور اپنی موتیا کو فلم اسٹوڈیو دیکھنے کا بڑا شوق ہے، کسی روز وہاں کی بھی سیر کروائیں نا اسے۔‘‘
’’فلم اسٹوڈیو کی سیر کا شوق؟‘‘ اس نے حیرت سے دہرایا۔
’’ہاں۔ فلمیں دیکھنے کی بھی بڑی شوقین ہے اور ہے بھی تو کسی فلمی ہیروئن جیسی۔‘‘
’’ہاں، ہاں۔ اس میں کیا شک ہے۔‘‘ آنکھوں میں خمار بھر کر شوخی سے موتیا کو دیکھا اور یہ شوخی اسے زہر لگی، لیکن ماں کا حکم تھا۔ بے زاری کا اظہار نہیں ہونا چاہےے تو شرمانے کی اداکاری کرنے لگی۔
’’ہائے کیسی پیاری لگے گی، فلم میں ہیرو کے ساتھ اسی طرح کی اداکاری کرتی ہوئی۔‘‘ نمی نے آنکھوں ہی آنکھوں میں بیٹی کی بلائیں لے لیں۔
شام کو سیر کا پروگرام بن گیا علائو الدین کے پاس ایک پرانی سی گاڑی اور اناڑی سا ڈرائیور تھا۔
’’اپنی موتیا کو بڑا شوق ہے گاڑی میں سیر کرنے کا اور بڑا ارمان تھا اسے اپنی گاڑی کا۔ سچی آپ تو اس کے لےے بڑے ہی بھاگوان ثابت ہوئے ہیں۔ میری بیٹی نے تو جو چاہا پالیا۔‘‘
’’یہ تو کچھ بھی نہیں خالہ! بس دیکھتی جائو، کیسے کیسے عیش کرواتا ہوں اپنی بیگم کو۔‘‘
اور خالہ کہنے پر نمی کی تو آنکھیں ابل پڑیں۔ موتیا نے ہنسی چھپانے کو دوپٹا منہ کے آگے کرلیا، مگر وہ عمر میں نمی سے بڑا تھا۔ ٹھیک ہے رشتے کا تقاضا کچھ اور تھا، پھر بھی سیدھے سمجھائو خالہ بول دینا نمی کو ہضم نہیں ہورہا تھا۔
’’ارے بولنا تھا تو بھابھی ہی کہہ دیتا۔ ننھا چوزا بنتا ہے کم بخت۔‘‘
اور اگلے روز وہ کم بخت واقعی بال رنگوا کر شوخ سا کرتا شلوار پہنے جب گھر آیا تو نمی اور موتیا کمرے کی کھڑکی سے دیکھ کر ہی ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوگئیں۔
’’ہائے ہائے اماں ! کہاں پھنسا دیا، کیا لگے گا یہ پاگل کا پتُر میرے ساتھ چلتے ہوئے۔‘‘
’’نوکر لگے گا تیرا اور کیا لگے گا۔ اور پھر تَو کیوں چلنے لگی اس کے ساتھ، تیرے ساتھ ساتھ تو تیری فلموں کے ہیرو ہوں گے۔ آج ہی چلتے کہیں سیر کو، پر تیرے ابا کی طبیعت آج کچھ زیادہ ہی خراب ہے۔‘‘
دونوں بے تکلفی کے ماحول میں دوپٹے سائیڈ پر ڈالے کمرے میں کھڑی باتیں کر رہی تھیں۔ پتا ہی نہیں چلا کب لدا پھدا علائوالدین کمرے میں چلا آیا۔
موتیا اور نمی نے جلدی سے دوپٹے اوڑھے۔
’’کب آئے، پتا ہی نہیں چلا۔‘‘ نمی معصومیت سے بولی۔
’’لو جی، میں کیا جی، ذرا ادھر تو دیکھو۔ ذرا بوجھو تو ہم تمہارے لےے کیا لائے ہیں۔ اور دیکھو جی، ہم نے آج جو حلیہ تبدیل کیا ہے۔‘‘ وہ پورے کا پورا موتیا کی جانب متوجہ تھا، جو گھونگھٹ میں منہ چھپائے کھڑی تھی۔ اس کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔
’’شرماتی ہے، بچی ہے نا ابھی۔‘‘ نمی نے پہلے بتایا، پھر جتایا۔
’’او خالہ! عمر تو میری بھی زیادہ نہیں، پر تم جانو جب گھر میں خیال کرنے والی عورت نہ ہو تو پھر مرد کا کچھ نہیں رہتا۔ زمانے کی ٹھوکروں نے حلیہ ٹائیٹ کر دیا ہے میرا، بال بھی وقت سے پہلے سفید ہوگئے، کبھی رنگوانے کا خیال نہیں آیا، پر اب تو سارے خیال رکھنے پڑیں گے نا۔‘‘
’’بڈھا ضرورت سے زیادہ تیز جارہا ہے، ہم اندھے ہیں، جھریوں سے بھرا چہرہ اور فرماتے ہیں عمر زیادہ نہیں، خبیث! پھر کیا منہ پر گرم استری لگ گئی ہے۔‘‘ نمی جی ہی جی میں کوس رہی تھی، اور موتیا کا جی چاہتا تھا، دھکے مار کر اسے کمرے سے نکال دے۔
’’وہ کیا خیال ہے جی، آج سیر شیر کو نا چلیں، دیکھو تو میں کیسے خوب صورت مہنگے مہنگے کپڑے لے کر آیا ہوں، لفافہ کھولو نا جی۔‘‘ وہ موتیا کے قریب آکھڑا ہوا تھا۔
موتیا اس کے قریب سے ہٹ کر لفافے کھولنے لگی، کپڑے واقعی بہت قیمتی اور خوب صورت تھے، لیکن اس نے تعریف نہ کی۔ ہاں نمی اس کی پسند کو سراہتی رہی۔
’’پھر بن گیا پروگرام، چلیں شام کو شالا مار باغ دیکھنے؟‘‘
’’وہ جی علائو الدین بھائی ! اصل میں سردار کی طبیعت بڑی خراب ہے، آج ہم کہاں نکل سکتے ہیں۔‘‘
’’چلو ٹھیک ہے، آپ سردار چاچا کے پاس رہنا، میں اور موتیا چلے چلتے ہیں۔‘‘ آرام سے پروگرام بنالیا۔
’’نن۔۔ نہیں۔ میرا مطلب تھا، سردارکو ڈاکٹر کے پاس لے چلتے ہیں۔‘‘
’’آہاں، ہاں، لیکن آج تو ڈاکٹر کی چھٹی ہے، اصل میں، میں سردار چاچا کو شہر کے سب سے اچھے ڈاکٹر کو دکھانا چاہتا ہوں نا۔‘‘ جلدی سے وضاحت کی۔ اسی وقت دستک دے کر ملازم اندر آیا
’’وہ جی طیب بھائی ، آپ کے کمرے میں کھڑے ہیں، بلا رہے ہیں آپ کو۔‘‘
’’کنگلا فقیر، پیسے چاہےے ہوں گے، ہٹا کٹا ہے، لیکن کام کی عادت ہی نہیں، ابھی تک میرے ہی ٹکڑوں پر پل رہا ہے۔‘‘ وہ انہیں سنانے اور کچھ جتانے کو بڑبڑاتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔
’’شکر ہے گیا تو، میرا تو دم الجھتا ہے اماں!‘‘ موتیا ہراساں سی تھی۔
’’ایسے نہیں کہتے۔ ویسے سامان تو تیرے لےے بڑا اچھا لایا ہے۔‘‘ وہ ایک ، ایک چیز کو دوبارہ دیکھنے لگی۔
’’دفع کرو اماں! ایک بار فلموں میں آجائوں، اس سے کہیں اچھا سب کچھ خرید لوں گی۔‘‘
’’اسٹوڈیو جانے کے لےے ایسے ہی قیمتی کپڑوں کی ضرورت تھی۔‘‘ نمی نے اس کی بات سنی ہی نہیں۔
موتیا اکتا کر کمرے سے باہر نکل آئی، آج کھانا نمی نے بنایا تھا، بڑی اچھی خوشبو آرہی تھی، وہ ادھر ہی آگئی۔ اور دم لگے کھانوں کے ڈھکن اٹھا اٹھا کر چیک کرنے لگی۔ اسے پتا نہیں لگا۔ کب طیب ادھر آگیا، اس نے پانی کا گلاس اٹھایا، تب موتیا نے آہٹ پر مڑ کر دیکھا، اسے دیکھ کر گھبرا گئی۔
’’وہ میں کھانا دیکھنے آئی تھی، دم پر لگایا ہے نا۔‘‘
’’مجھے کیا کہتی ہیں آپ بیگم صاحبہ ہیں۔ مالکن ہیں اس گھر کی۔‘‘ اس کے لہجے میں کاٹ تھی، یقینا وہ خفا تھا۔ یہاں آنے کے بعد موتیا پہلی مرتبہ اس سے مخاطب ہوئی تھی۔ اس کی جانب سے ایسے جواب پر منہ بنایا اور بولی۔
’’مجھے کیا جتاتے ہو، بیگم صاحبہ مجھے آپ کے چچا نے بنایا ہے، ورنہ مجھے ایسے کون سے چائو چڑھے تھے۔‘‘
’’آپ کو شاید یہی سب چاہےے تھا۔‘‘ وہ شاید آج سارے گلے شکوے کرلینا چاہتا تھا۔
’’نا یہ مجھ سے حساب کتاب کس سلسلے میں؟‘‘ موتیا کا مزاج عود کر آیا، کمر پر ہاتھ ٹکا کر اکڑ کر بولی۔
’’مجھے کیا حساب کتاب کرنے ہیں، تم لوگوں کو دیکھنے کے بعد احساس ہوا، اللہ جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے۔ میں تو چچا کا شکر گزار ہی ہوں۔‘‘ پانی گلاس میں انڈیل چکا تھا، لے کر باہر چلا ۔ موتیا نے پوچھا بھی۔
’’نا تو کیا مطلب ہے تمہارا، میں بدشکل ہوں، گنوار ہوں، کیا مجھے فیشن کا نہیں پتا؟‘‘ طیب نے جواب دینے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی۔
’’ایں کیا سمجھتا ہے خود کو، آج علائو الدین سے کہوں تو وہ اسے گھر سے نکالنے میں دو منٹ نہ لگائے،پر کیا فائدہ۔ دفع کرو۔ ہا۔۔۔ ذلیل کیا بکواس کر گیا ہے۔ لگتا ہے غصے کی عینک لگا کر میری شکل دیکھی ہے۔ ہاں تو بے چارہ غصے سے تو بات کرے گا نا! ویسے ہوئی بڑی زیادتی ہے اس کے ساتھ۔ وچارا، خیر اب کیا ہوسکتا ہے۔‘‘ وہ ہانڈی میں سے بوٹیاں پلیٹ میں منتقل کرنے لگی۔ ارادہ یہیں بیٹھ کر دعوت اڑانے کا تھا۔
’’ہوں آپا! اکیلے اکیلے۔‘‘ چھوٹا بھی آگیا۔
’’توبہ کبھی نہ مجھے آرام سے کچھ کھانے مرنے دینا، فوراً پہنچ جاتا ہے حصہ بٹانے۔ آجا اب کھالے تَو بھی۔‘‘ پلیٹ اس کے سامنے رکھ دی۔
خ خ خ
’’کیا خیال ہے، چلیں پھر آج کہیں گھومنے شومنے۔‘‘ دوپہر کے کھانے کے بعد علائو الدین پھر سر پر سوار تھا۔
’’لگتا ہے بڈھے کا دماغ گھوم گیا ہے، اماں نے بتایا بھی ہے، ابا کی طبیعت اچھی نہیں ہے، لیکن پھر وہی ایک ہی رٹ۔‘‘ موتیا نے جل کر سوچا تھا۔
’’وہ جو گلابی ساڑھی لایا ہوں، تمہیں میری قسم، وہی پہن کر چلو۔‘‘ کیسا عاشقانہ اسٹائل تھا۔
’’چھوٹے کو بھی ساتھ لے جانا، اسے بھی بڑا شوق ہے سیر کا اور ویسے بھی ابھی تمہاری رخصتی نہیں ہوئی، یوں اکیلے جانا مناسب نہیں۔‘‘ نمی مخاطب تو موتیا سے تھی، لیکن سنا علائوالدین کو رہی تھی۔
خلافِ توقع وہ چپ ہی رہا اور موتیا بھائی کے ساتھ گاڑی میں آ بیٹھی، ڈرائیور کو چھٹی دے کر علائوالدین خود گاڑی چلا رہا تھا۔ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھایا تھا، چھوٹا پیچھے گردن اکڑائے سڑک پر پیدل چلتے لوگوں کو حقارت سے دیکھ رہا تھا۔
’’کدھر چلیں؟‘‘ بات کرتے کرتے ہاتھ موتیا کے ہاتھ پر رکھ دیا۔
’’فلم اسٹوڈیو۔‘‘ جھٹ سے جواب دیا۔
’’ایں ادھر کیا ہے، اندر تو کوئی گھسنے بھی نہیں دیتا، بڑی سختی ہوتی ہے۔‘‘
’’کوئی واقفیت نہیں ہے آپ کی؟‘‘
’’لو میری بھانڈوں سے کیوں واقفیت ہونے لگی۔‘‘
’’آپ کو کیا پتا فنکار ہوتے ہیں یہ لوگ۔‘‘ موتیا تو تڑپ اٹھی۔ یوں لگا تھا، یہ گالی براہِ راست اسے دی گئی ہے۔
’’دفع کرو۔ ہم چڑیا گھر چلتے ہیں۔‘‘
’’ہاں تمہارے لےے وہی بہتر ہے۔‘‘ موتیا نے جل کر سوچا۔
چڑیا گھر میں ایک کیمرے والے کو اجرت دے کر اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر تصویریں بھی بنوالیں۔ بندروں کو چنے کھلائے، چھوٹا بھی بڑی خوشی خوشی ہر جانور کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔ علائوالدین بار بار اس کے برابر اور بے حد قریب چلنے لگتا، اگر ماں نے موڈ ٹھیک رکھنے کی تاکید نہ کی ہوتی تو کب کی برداشت کھو بیٹھتی۔
کئی گھنٹے چڑیا گھر میں خراب کروا کر پھر ایک ہوٹل سے کھانا کھلایا۔ موتیا کو تو صرف مرچوں کا ذائقہ ہی محسوس ہوا، آنکھوں سے پانی، کانوں سے دھواں نکلنے لگا، جبکہ وہ مزے سے کھا رہا تھا اور بتا رہا تھا وہ اس ہوٹل کے سواد کو بے حد پسند کرتا ہے۔
’’اسے ہوٹل تو نہ کہو۔‘‘ موتیا نے در و دیوار اور فرنیچر پر نظر ڈالتے ہوئے احتجاج کیا۔
’’او اچھا، اچھا خفا ہو۔ کسی بڑے ہوٹل کیوں نہیں لے کر گیا۔ خفا نہ ہو چلیں گے اَدھر بھی۔‘‘ پھر آگے کو جھکا اور رازداری سے بولا۔ ’’جس دن صرف ہم دونوں سیر کے لےے نکلیں گے تب چلیں گے اَدھر۔‘‘
رات گئے جب واپسی ہوئی۔ طیب برآمدے میں کرسی ڈالے کچھ پڑھ رہا تھا، آنکھ اٹھا کر بھی ان لوگوں کی جانب نہیں دیکھا، جبکہ موتیا چپکے چپکے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
’’خفا ہے بے چارہ؟‘‘ یہی اندازہ لگاتی اپنے کمرے میں آگئی۔
خ خ خ
صبح صبح نمی نے جگا دیا۔
’’کیا ہے اماں! سو لینے دے۔‘‘ اس نے پھر کروٹ بدل لی۔
’’نی موتی! میں نے دیکھا ہے، ادھر کوٹھیوں میں رہنے والیاں صبح سویرے سڑک پر سیر کر رہی ہوتی ہیں، چل ہم بھی چلتے ہیں۔ اسی طرح جان پہچان بڑھے گی۔ دیکھ نا، یہ سب بڑے لوگ ہیں، خوب فیشنی سی ہیں ساری عورتیں، ہمیں ان سے ملنے ملانے سے فائدہ ہی ہوگا۔‘‘
’’اچھا جی اور جو کسی نے پوچھ لیا، اس کوٹھی کے مالک بابے سے تمہارا کیا رشتہ ہے تو کیا جواب دیں گے؟‘‘
’’کہہ دیں گے رشتے داری ہے، چل اب اٹھ نا۔‘‘
اور فیشنی بیگمات سے ملنے کے شوق میں وہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔ جلدی سے صابن سے رگڑ کر منہ ہاتھ دھویا۔ میرون لپ اسٹک لگا کر ریشمی جوڑا اور ہیل والی جوتی پہنے وہ جانے کو تیار تھی۔ نمی ایک بار پھر کمرے میں آئی اس کی تیاری دیکھ کر اثبات میں سر ہلایا اور دونوں باہر نکل آئیں۔ اس وقت آسمان پر سرخی تھی، سورج ابھی نکلا نہیں تھا، یہ اوائل اپریل تھا، ٹھنڈی ٹھنڈی صبح کی ہوا بھلی لگ رہی تھی، قریب سے گزرنے والی ہر لڑکی اور خاتون نے کچھ حیرت اور دلچسپی سے انہیں اور ان کے حلےے کو دیکھا۔
’’ستیاناس، کتنی فلموں میں ہیروئن کو صبح کی سیر کرتے دیکھ چکے ہیں، پھر بھی میں آج بھول گئی۔‘‘
’’نی موتی! کل سے یہ جوتے، یہ کپڑے نہیں چلیں گے، آج ہی ہم بابے کے ساتھ جا کر صبح کی سیر کے لےے جوتے اور کپڑے خریدلیں گے۔‘‘
’’ایک تو اماں! صبح صبح تمہیں بابا یاد آیا ہے۔ اب سارا دن فضول گزرے گا۔‘‘ نمی نے ہنس کر دھپ رسید کردی، تب ہی دونوں کی نظر پڑی، سامنے سے طیب آرہا تھا۔ یقینا وہ صبح کی سیر کا عادی تھا۔ موتیا نہ چاہتے ہوئے بھی دیکھے گئی۔
’’چل نا۔ کیا پائوں میں موج آگئی ہے؟‘‘ نمی نے دانستہ اس کی محویت کو توڑا اور ساتھ کھینچ لیا۔
’’اے بات تو سنےے۔‘‘ کسی نے پکارا۔
دونوں نے مڑ کر دیکھا، ایک ادھیڑ عمر، لیکن اسمارٹ سی عورت ہونٹوں پر دوستانہ مسکراہٹ لےے انہیں ہی دیکھ رہی تھی۔
’’جی جی السلام علیکم! کیا حال ہے؟ صحت تو ٹھیک ہے نا آپ کی؟‘‘ نمی نے اخلاق نبھایا۔
’’میں ٹھیک ہوں، آپ کا کیا حال ہے۔ پہلی بار دیکھ رہی ہوں تم دونوں کو۔ کسی دوسرے گھر کیسے آئی ہو۔ مہمان ہو؟‘‘ اس کا لب و لہجہ ان ہی جیسا تھا۔
’’نہیں نہیں جی۔ یہ والی کوٹھی اپنی ہے۔‘‘ نمی نے بڑے فخر سے بتایا۔
’’اچھا اچھا جہاں وہ خوب صورت سا نخریلا لڑکا رہتا ہے، طیب نام ہے نا، اس کا؟ کیا لگتا ہے وہ تمہارا؟‘‘ انہیں پتا نہیں تھا، یہ کوٹھی خوب صورت لڑکے کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ حوالہ ان کے لےے کچھ خاص پسندیدہ بھی نہیں تھا۔ نمی اس کے سوالوں کو گول کر گئی اور بولی۔
’’آپ کا گھر کون سا ہے؟ اتنی دبلی پتلی ہو کر آپ نے یہ صبح کی سیر کا کھڑاگ کیوں پال لیا ہے۔‘‘
’’بس جی الٹا دماغ ہے میرے میاں کا۔ فیشنی عورتیں پسند ہیں۔ میری جان کھائے رکھتا ہے، میں تو بڑی سیدھی سادھی معصوم سی عورت ہوں، پر میرا وہ بڑا تیز ہے اور جب سے فلم والوں میں اٹھنے بیٹھنے لگا ہے، چٹک مٹک والی زنانیوں نے حواس ہی چھین لےے ہیں۔‘‘
’’ف۔۔۔ فلم والے؟‘‘ دونوں ایک ساتھ بولی تھیں اور ایک سیکنڈ میں مارے جوش کے چہرے کے رنگ بدل گئے تھے۔
’’آہو مصیبت، سیاپا، جان کا روگ۔‘‘ جتنی یہ مشاق، عورت اتنی بے زار تھی۔
’’کیا کرتا ہے تمہارا میاں فلموں میں؟‘‘ نمی نے ایک اہم سوال کیا۔
’’کھے تے سوا (راکھ اور مٹی) فلم والے سوائے پان کھانے، سگریٹ پینے اور باتیں بنانے کے اور کچھ نہیں کرتے، ہاں یاد آیا۔ وہ بھی خوب پیتے ہیں، شیطان کے بچے۔‘‘
’’نئیں تو تمہارا میاں کچھ تو آخر کرتا ہی ہوگا۔‘‘ نمی نے پھر اصرار کیا۔
’’کہتا ہے فلم بنائوں گا۔ بیڑا غرق۔ میں کہتی ہوں زنانیاں نچا کے کیوں پیسے کمانے ہیں۔ اس سے بہتر ہے تو ٹین ڈبُے کا کارخانہ لگالے۔‘‘
’’اے میں نے کہا بیگم صاحبہ! بھابی جی، بہن میری۔ اپنے میاں سے ملوائو نا۔ ہمیں فلمی دنیا کو قریب سے دیکھنے کا بڑا شوق ہے۔‘‘ نمی کی گھگھیاہٹ کو خاتون نے کچھ یوں دیکھا، جیسے اس کی دماغی حالت پر شبہ ہو اور جواب نہیں دیا۔
’’ہیں جی! پھر بتایا نہیں آپ نے کون سا گھر ہے آپ کا؟‘‘
’’میں تو تمہیں شریف عورتیں سمجھی تھی۔‘‘ وہ چل پڑی۔
’’ہم شریف ہیں بالکل، بلکہ گھریلو اور یہ میری بیٹی بڑی دکھی اسٹوری ہے اس کی، وہ جو بڈھا اس کوٹھی میں رہتا ہے نا، اس نے نکاح کرلیا ہے میری بیٹی سے۔‘‘ نمی اس کے پیچھے پیچھے چلتی تیز تیز بول رہی تھی۔
’’ہائے میں مر گئی۔‘‘ عورت ٹھٹکی۔ گھوم کر موتیا کو دوبارہ دیکھا اور سینے پر ہاتھ رکھ لیا۔
’’یہ ملوک سی لڑکی اور وہ بڈھا بدمعاش، نا ایسی کیا آفت آگئی تھی تم پے؟‘‘
’’لمبی کہانی ہے بیگم صاحبہ! کبھی تمہارے گھر آئوں گی تو سنائوں گی۔‘‘
’’آج شام ہی آجائو۔ وہ جو سبز گیٹ والا گھر ہے نا جس میں جامن کا درخت بھی لگا ہوا ہے، وہی ہمارا ہے۔‘‘
’’ضرور ضرور آئیں گے۔‘‘ مقصد حاصل ہوگیا تھا، دونوں کا بس نہیں چل رہا تھا، کس طرح خوشی کا اظہار کریں۔ گھر سے پہلے دن اکیلی نکلی تھیں، اور اتنی جلدی مراد بھی بر آئی۔ اب سب عورتیں گھروں کو جانے لگی تھیںکہ دن چڑھنے لگا تھا، وہ بھی واپس آگئیں۔
’’کدھر نکل گئی تھیں تم دونوں سویرے سویرے۔ یہ تم لوگوں کا چھوٹا سا شہر نہیں ہے، لہور ہے لہور۔ یہاں ہر طرح کے لوگ بستے ہیں، تمہیں اکیلے نکلنے میں احتیاط کرنا چاہےے۔‘‘بڑھے ہوئے پیٹ کے ساتھ کمر پر دونوں جانب ہاتھ رکھے بڑی سنجیدگی چہرے پر طاری کےے وہ برآمدے کی سیڑھیوں میں کھڑا تھا۔
’’ہم عورتیں ہیں بکریاں نہیں کہ کوئی ہانک کے لے جائے گا۔‘‘ آج پہلی بار نمی نے کچھ جتا کر کچھ بے زار صورت بنا کر بات کی تھی۔
’’او پاگلو ! بکریاں ہوتیں تو مجھے اتنی فکر کس بات کی ہوتی۔ چلو بس کرو اب اندر چل کر ناشتے کا انتظام کرو۔‘‘ اس کا انداز آج واقعی گھر کے سربراہ کا تھا یا انہیں ہی محسوس ہوا تھا۔ دونوں کچن کی طرف چل دیں۔
’’اوئے کیا دیگیں چڑھانی ہیں، جو ایک عورت نہیں سنبھال سکتی۔ تم ادھر آئو موتیا! میرا بٹوہ نہیں مل رہا، صبح سے ڈھونڈ رہا ہوں۔ اچھی خاصی رقم تھی اس میں۔ میری الماری میں اور کمرے میں ہر جگہ دیکھو اور ہاں کہیں تمہارے بھائی نے تو نہیں اٹھایا، بڑا شوق ہے اسے گلی سے گزرنے والے ہر ٹھیلے سے کچھ نہ کچھ لے کر کھانے کا، پوچھو اس سے بھی۔‘‘
’’نا جی۔ میرا بھائی کوئی چور ہے۔‘‘ وہ برا مان گئی۔
’’او اچھا اچھا، چل کر پہلے کمرا دیکھ لے نہ ملا بٹوہ پھر کچھ سوچوں گا۔‘‘ وہ غصے سے پیر پٹختی اس کے کمرے میں آئی تھی۔ آتے ہی سیدھی الماری کی طرف بڑھی، پٹ کھولے اور تب کمرے میں اندھیرا بڑھ گیا۔ پلٹ کر دیکھا علائو الدین نے کمرے میں آنے کے بعد دروازہ بند کر کے چٹخنی چڑھا دی تھی۔
’’یہ۔۔۔ یہ کک۔۔۔ کیا؟‘‘ ناز ادا سے بات کرنے والی موتیا گھگھیا رہی تھی۔
’’او سوہنیو!‘‘ وہ ہنستے ہوئے قریب آیا۔ بڑھ کر بازو سے تھام لیا۔ ’’نکاح میں ہو تم میرے، اور یہ تمہاری ماں چالاک لومڑی۔ پتا نہیں کیوں خوامخواہ کی پابندیاں لگاتی ہے۔‘‘
’’پر جی رخصتی نہیں ہوئی ابھی۔‘‘ اس نے خود کو اس کی گرفت سے آزاد کرنے کی کوشش کی۔
’’ہوتی رہے گی رخصتی بھی۔‘‘ وہ اس پر جھکا۔
خ خ خ
ناشتے پر طیب، علائو الدین اور چھوٹا موجود تھا۔ طیب کبھی ان کے ساتھ کھانا نہیں کھاتا تھا، آج اس کے چچا علائو الدین نے خود بلوایا تھا اسے، وہ کچھ بتانا، کچھ جتانا چاہتا تھا۔ طیب کا یہ خفا خفا، کٹا کٹا انداز بتاتا تھا وہ اب بھی موتیا کو اپنی منگیتر سمجھتا ہے، حالانکہ یہ صرف علائوالدین کی اپنی سوچ تھی۔ اس کے اندر کے چور کی آواز بھی ہوسکتی تھی، طیب کبھی بھی اس کے بہت قریب نہیں رہا تھا، اس کی دلچسپیاں، اس کے شوق ہمیشہ سے الگ تھے، جب تک علائوالدین کی پہلی بیوی زندگی رہی، طیب اپنی خالہ کے ہاں رہا تھا، اس کی خالہ غریب بیوہ تھی، طیب کا خرچ علائوالدین ہی دیتا تھا کہ آخر اس جائیداد میں طیب کا حصہ تو تھا، پھر علائوالدین کی بیوی کا انتقال ہوا، طیب ان دنوں میٹرک میں تھا، اب چچا تنہائی سے گھبرا کر اسے اپنے ہاں آکر رہنے کو کہتا تھا۔ پھر دو سال بعد جب طیب کی خالہ کا انتقال ہوگیا، تب اسے ادھر آنا پڑا۔اس کے آنے سے چچا کو خاصا فائدہ بھی ہوا کہ وہ حساب کتاب میں تیز تھا اور سمجھ دار بھی تھا۔ ان دنوں میں اس نے اس حقیقت کو مان لیا تھا کہ یہ جو کچھ بھی ہے طیب کا ہی ہے کہ اس کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی۔ لیکن موتیا کے آجانے کے بعد وہ پھر سے جوانی کو بلانے کے جتن کر رہا تھا۔ پلنگ کے برابر رکھی میز طاقت کی دوائوں اور دیسی کشتوں سے بھر گئی تھی۔ اب اسے طیب کا وجود بھی کھلنے لگا تھا۔ وہ بھتیجاکم رقیب زیادہ لگنے لگا تھا۔ ہاں ایک بات اطمینان بخش تھی کہ طیب ادھر کم آتا تھا اور موتیا، نمی اسے بالکل اہمیت بھی نہیں دیتی تھیں۔ لیکن آج جی میں ایسی ترنگ تھی کہ اسے بلا بیٹھا، لیکن فائدہ نہیں ہوا۔ وہ دونوں تو آئیں نہیں، کمرے میں نمی بڈھے کو کوسنے بد دعائیں دینے میں لگی تھی اور موتیا کا رو، رو کر برا حال تھا۔
’’بس اب نہیں رہنا یہاں، آج ہی اس سبز گیٹ والی کے گھر جا کر اس کے میاں کو شیشے میں اتارنا ہے، بس اب جلدی فلموں میں کام شروع کرنا ہے۔‘‘ وہ روتے ہوئے بول رہی تھی۔
’’اچھا اچھا۔ چپ کر، کچھ سوچنے دے مجھے۔‘‘
’’سب سے پہلے تو یہ سوچ اس بڈھے بھیڑےے کو قتل کس طرح کرنا ہے۔‘‘
’’نی چپ کر، دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔‘‘ نمی نے گھبرا کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھا۔
’’نہیں چھوڑوں گی میں اسے۔‘‘ اس نے ماں کا ہاتھ ہٹا کر دانت پیستے ہوئے کہا۔
’’بس، بس۔ ہے تو تیرا میاں ہی، نکاح میں تو، تَو ہے نا اس کے، اور اس کو قتل کر کے ہم نے پھانسی تھوڑا چڑھنا ہے۔ دفع کر اسے، ہمیں کون سا یہاں رہنا ہے۔ دیکھنا منہ دیکھتا رہ جائے گا یہ۔‘‘
’’اب کیا فائدہ!‘‘ موتیا نے بے بسی سے سر ہلایا۔
’’کچھ نہیں ہوا، بس اب چپ کر جا اور اس پر ظاہر بھی نہ کرنا کہ تجھے اتنا غصہ ہے اس بات کا۔‘‘ تب ہی دروازے کے باہر کوئی کھنکارا، دونوں سنبھل کر بیٹھ گئیں۔ علائوالدین ان کے سامنے تھا۔ اکڑ کر سیدھا کھڑا، چہرے پر جیت کا غرور ، ہونٹوں پر مسکراہٹ، موتیا نے نفرت سے نگاہ پھیرلی۔
’’او میں نے کہاجی۔ آج ناشتے کا خیال نہیں ہے؟‘‘ نمی کو نظر انداز کےے وہ بڑے لاڈ سے مخاطب تھا۔
’’آج حلوہ پوری کو جی چاہ رہا ہے اس کا، اگر ہوسکے تو لادو۔‘‘ نمی کو بات تو سنبھالنا تھی۔
’’او یہ تو گل ہی کوئی نہیں، سجنو! تسی کہہ کر تے دیکھو۔‘‘ وہ فرمائش پوری کرنے چلا گیا۔
’’شکر ہے، دفع ہوا۔‘‘
’’چھوڑ اسے۔ یہ دیکھ اٹھ کے کہ شام کو کپڑے کون سے پہن کر جائے گی۔ اگر کسی چیز کی ضرورت ہے تو ابھی ناشتے کے بعد بازار چلتے ہیں۔‘‘
خ خ خ
لیکن شام کو سبز دروازوں والے گھر میں جانے کی نوبت ہی نہیں آئی
سردار کا انتقال ہوگیا۔ وہ نمی اور موتیا کے لےے بس ایک اچھی یاد بن گیا۔ وہ جیسا بھی تھا جتنا بیمار اور ناکارہ سہی، لیکن پھر بھی اس کے وجود سے ڈھارس تھی اور اب بہت دنوں تک دونوں بے حد اداس رہیں، چھوٹا چودہ پندرہ سالہ لا ابالی سا لڑکا تھا۔ قد بت کچھ ایسا تھا کہ اپنی عمر سے بہت چھوٹا دکھائی دیتا تھا۔ باپ کے جانے پر دکھ تو اسے بھی تھا، لیکن فطری طور پر وہ کچھ من موجی ٹائپ لڑکا تھا۔ سارا دن گلی کے لڑکوں کے ساتھ کھیل میں گزار دینا اسے اچھا لگتا تھا اور بڑے نے تو جانے کے بعد ایک خط کے بعد کوئی رابطہ ہی نہیں کیا، جب تک سردار زندہ تھا۔ یہ ساری باتیں اتنی محسوس نہیں ہوتی تھیں، لیکن اس کے جاتے ہی دونوں یہ سب بڑی شدُت سے سوچنے لگی تھیں۔
سبز گیٹ والے گھر کی بیگم بھی افسوس کے لےے آئی تھی، ان آس پاس کے گھروں میں رہنے والیوں کو اس موقع پر ہی پتا چلا کہ کامنی سی موتیا اس بڈھے علائوالدین کی بیوی ہے۔ ہر کسی نے افسوس کیا اور بڈھے پر لعنت بھیجی۔
سبز گیٹ والے گھر کی بیگم کا نام مختار بیگم تھا اور اب اس کی ہمدردی ان دو مظلوم عورتوں کے ساتھ تھی۔
’’میں کہوں گی اپنے میاں سے۔ تم لوگوں کو فلم میں چانس دلوائیں۔ اپنا کمانے لگو گی تو پھر مڑ کر تھوکنا بھی نہیں اس مکار لومڑ کے منہ پر۔‘‘
‘’بس بیگم! اب تو اوپر خدا اور نیچے آپ ہیں۔ ہمیں آپ ہی کا سہارا ہے۔‘‘ نمی نے تو بس پیر پکڑنے کی ہی کسر چھوڑی۔
خ خ خ
پھر ایک روز مختار بیگم دوپہر کے وقت بڑی عجلت کے عالم میں آئی تھی۔
’’تیار ہوجائو تم دونوں۔ شام کو میرے میاں نے فلم کے کچھ لوگوں کو چائے پر بلوایا ہے، آجانا۔ میں ملوادوں گی۔‘‘
’’تم نے اپنے میاں سے ذکر تو کیا ہوگا ہمارا؟‘‘
’’آہو! پر وہ ذرا دوسرے دماغ کا بندہ ہے، کہتا ہے نئے چہروں کو چانس ملنا آسان نہیں ہوتا۔ ایسے شوقیہ فنکار تو نہ جانے کتنے اسٹوڈیو کے گیٹ پر رَلتے ہیں۔ اسی لےے تو میں آج تمہیں کچھ بڑے لوگوں سے ملوا رہی ہوں، جن کا فلم انڈسٹری میں واقعی ایک نام ہے۔‘‘
’’اچھا یہ بتائو۔ مختار باجی! ہیرو کون سا آرہا ہے؟‘‘ مختار عمر میں نمی سے بھی بڑی تھی، لیکن اسے خوش کرنے کو موتیا اسے باجی ہی کہتی تھی۔
’’ہیرو کو کیا کرنا ہے، ہیرو کوئی فلم تھوڑا ہی بناتا ہے۔‘‘ مختار نے اس کی معصومیت پر لتاڑا۔
’’اسے بھلا کیا پتا، بس جی آپ نے کہہ دیا۔ حکم سر آنکھوں پر۔ ہم دوپہر کو ہی آجائیں گے، کچھ کام شام میں ہاتھ بٹادیں گے نا آپ کا، بلکہ جو کچھ بنانا ہے مجھے بتا دینا۔ آپ بس آرام کرنا۔‘‘ نمی کی بات پر مختار بے حد خوش ہوئی اور کہہ دیا۔
’’یہ ٹھیک رہے گا۔ تم دوپہر کو ہی آجانا۔‘‘
خ خ خ
سجی سنوری موتیا کو دیکھ کر مختار کا میاں چونکا تھا۔
’’واقعی بھئی، بیوی ٹھیک کہتی ہے، اس لڑکی میں ہیروئن والی بات تو ہے۔ چلو آج شام کو اتنے لوگ آرہے ہیں۔ سامنے کردوں گا اسے اور اس وعدے پر فلم دلوائوں گا۔ تین سال تک میری پابند رہے گی۔‘‘ اسے دیکھ کر وہ خیالی پلائو پکانے لگا۔
شام کو آنے والوں میں ایک فلم کا نامور موسیقار، ایک کیمرہ مین اور ایک مکالمہ نگار تھا۔ تینوں نے ہی موتیا کی خوب صورتی کو سراہا۔ کیمرہ مین نے اسے کیمرے کی نظر سے ہر زاوےے پر گھما کر دیکھا، کبھی کہتا، مسکرائو، کبھی رو کر دکھائو، کبھی شرمائو اور آخر میں فیصلہ سنایا۔
’’لڑکی بس ایک بار اسکرین پر آجائے۔ ساری ہیروئنیں گھر بیٹھا دے گی۔ راج کرے گی فلم انڈسٹری پر۔‘‘
’’تو کیا خیال ہے، کل ہی اسے لے چلیں۔ سروش صاحب کے پاس۔‘‘مختار کا میاں شوکی مسکرایا۔
’’ہاں بالکل، دیر کیوں کریں۔‘‘
’’تو ایسا کرتے ہیں۔ ہم ایک گروپ بنالیتے ہیں۔ جس نے موتیا کو ہیروئن سائن کرنا ہوگا۔ اسے ہم سب کو بھی اس فلم کے ان شعبوں میں رکھنا ہوگا، جن میں ہم ماسٹر ہیں۔‘‘
سب نے اثبات میں سر ہلا دےے، جبکہ یہ خیال بھی سب کو آیا تھا، بھلا شوکی صاحب کس چیز کے ماسٹر ہیں، اس کا اٹھنا بیٹھنا فلمی ہنر مندوں کے ساتھ ضرور تھا، لیکن اس شعبے سے متعلق کوئی بھی کام اسے نہیں آتا تھا۔
سروش صاحب فلمی دنیا کا بڑا نام تھا۔ فلم پروڈیوس بھی کرتے تھے، ڈائریکٹر بھی تھے۔ واپسی پر موتیا کے تو پائوں زمین پر نہیں ٹکتے تھے۔ وہ اور نمی جیسے ہوائوں میں اڑتی ہوئی گھر تک پہنچی تھیں۔
’’میں نہ کہتی تھی، تو ایک روز بڑی ہیروئن بنے گی اور میں، ہائے قسمت نے مجھے ایسا موقع نہیں دیا اور میری ماں بھی بد نصیبی سے تیری ماں جیسی نہیں تھی نا، مجھے میرے بچپن میں ہی بیاہ کر فارغ ہوئی، سارے ارمان مٹی میں مل گئے میرے، ورنہ جوانی میں، میں کیا کم قیامت ڈھاتی تھی۔‘‘
وہ اپنے دَکھڑے لے کر بیٹھ گئی، لیکن موتیا ٹوکتی تو تب جو کچھ سن رہی ہوتی، وہ تو اپنے ہی خیالوں میں گم تھی۔
ان کی خوش قسمتی کہ علائو الدین سویرے ہی کسی ضروری کام کا کہہ کر شہر سے باہر چلا گیا۔ واپسی کا دن یہ پوچھتی رہیں۔ نہیں بتایا۔ ہاں اس نے موتیا کو ساتھ لے کر جانے کی بات کی تھی۔ آج تو نمی نے اس بات پر وہ شور ڈالا کہ بچارا گھبرا گیا، یاد دلانے لگا، موتیا منکوحہ ہوتی ہے اس کی۔
’’بچی ہے ابھی وہ۔ بخشو اس کی جان!‘‘ نمی نے دانت پیسے۔
’’اچھا پھر اسے اپنی نظروں کے سامنے ہی رکھنا، دیکھو وہ امانت ہے میری، زمانہ بڑا خراب ہے اور، اور اس گھر میں رہنے والا میرا بھتیجا، وہ بھی بظاہر معصوم، بے ضرر دکھائی دیتا ہے، ہے پورا شیطان، خیال رکھنا۔ اسے تنہائی میں موتیا سے کوئی بات نہ کرنے دینا۔‘‘
’’اے نا تو سیٹھ علائو الدین صاحب!‘‘ نمی کمر پر ہاتھ ٹکا کر سامنے کھڑی ہوگئی۔ ’’اگر ایسی ہی بے اعتاری ہے میری بیٹی پر تو پہلے کیوں نکاح کر بیٹھے؟‘‘
’’نہیں، نہیں۔ توبہ توبہ۔ میرا ایسا کوئی مطلب ہرگز نہیں تھا۔‘‘
’’چلو پھر ربُ راکھا۔ نکلو اپنے کام سے صبح ہی صبح پتا نہیں کیسی کیسی باتیں لے بیٹھے ہو۔‘‘ آج نمی کا انداز بدلا ہوا تھا۔
وہ اسے اپنی بات کا ردُِ عمل سمجھا اور شرمندہ سا چلا گیا۔
’’چل موتیا رانی! اٹھ جا اب۔ ابٹن بنا کر رکھا ہے میں نے۔ اچھی طرح چہرے کے ساتھ ساتھ ہاتھ پیروں پر بھی لگالے، پھر نہا کر بال کھلے چھوڑ دینا اور جوتی وہی ستاروں والی پہن کر جانا۔ تیرے پیروں میں بڑی اچھی لگتی ہے۔‘‘
’’نیلا سوٹ پہن جائوں اماں؟‘‘ اس نے مشورہ چاہا۔
’’کون سا نیلا، جس پر ریشمی دھاگے کا کام ہے نا۔ وہ نہیں ذرا چمک دمک والے کپڑوں میں جانا، میرا تو خیال ہے ہرا والا پہن لے، وہی جو لاہور کی بڑی مہنگی مارکیٹ سے خریدا تھا۔‘‘
’’چلو ٹھیک ہے، پھر وہی استری کرلیتی ہوں۔‘‘
’’تَو ابٹن لگا، باقی کام مجھ پر چھوڑ دے۔‘‘ نمی نے روک دیا۔
دن کا ایک بج رہا تھا، جب وہ دونوں شوکی کی کوٹھی میں کھڑی تھیں۔ ٹیکسی آچکی تھی، اب انہیں شوکی کے ساتھ اسٹوڈیو جانا تھا۔ گھر پر بیگم کی موجودگی میں تو شوکی صاحب بیبے بچے بنے رہے، ان کی عمر دیکھتے ہوئے تو موتیا انہیں چاچا جی کہنے کا ہی ارادہ کر رہی تھی، لیکن ادھر ٹیکسی چلی اَدھر ان کی زبان بھی چل پڑی، نمی کی موجودگی میں بھی وہ موتیا پر فدا ہوئے جاتے تھے۔ اس کے حسن کے قصیدے پڑھتے نہیں تھکتے تھے۔
خ خ خ
اسٹوڈیو میں شوکی کے گھر آنے والے اس کے دوست بھی موجود تھے۔ موتیا کا سب نے بغور جائزہ لیا۔ کچھ تعریفی جملے بھی کہے، لیکن ان میں سے اکثر کی حالت وہی تھی جو موتیا کی تھی، اگر یہ رجیکٹ ہوگئی تو اس کے حوالے سے بنائے تمام منصوبے بھی خاک میں مل جائیں گے۔ روزی روٹی کے جو خواب اس کے حوالے سے دیکھے ہیں۔ وہ خواب ہی رہ جائیں گے۔
یہاں سب سے شاندار آفس سروش صاحب کا ہی تھا۔ وہ سوٹڈ بوٹڈ سلیقے سے بال بنائے بڑی سی میز کے پیچھے اونچی سی بیک والی کرسی ڈالے بیٹھے تھے۔ صورت تو بالکل بھی خاص نہیں تھی، لیکن شان دار آفس، اچھے لباس اور مہنگے پرفیوم نے بھرم رکھا ہوا تھا۔ جس وقت یہ لوگ ان کے کمرے میں داخل ہوئے، وہاں کچھ اور افراد بھی بیٹھے تھے، کچھ ہی دیر کے بعد وہ چلے گئے اور اب سروش صاحب ان کی جانب متوجہ تھے۔
’’ایک چیز لائے ہیں جی آپ کے لےے، اسے آپ فلم انڈسٹری کے لےے تحفہ ہی سمجھیں۔ ہماری دریافت ہے جی، لیکن آپ یہ سہرا اپنے سر باندھیں گے تو ہمیں بہت خوشی ہوگی۔‘‘
وہ سب بول رہے تھے اور سروش صاحب کی تولتی نظریں موتیا پر تھیں، جو نگاہیں جھکائے بڑی نروس سی بیٹھی تھی۔
’’ادھر آئو لڑکی! کیا نام ہے تمہارا؟‘‘
’’جی صاحب! موتیا نام ہے جی اس کا۔‘‘ نمی نے تیزی سے کہا، صاحب نے ہاتھ اٹھا کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا، پھر روکھے سے لہجے میں بولے۔
’’جس سے پوچھ رہا ہوں، جواب بھی اسے ہی دینے دیں، ہاں بی بی! اگر تم بھی ہیروئن کا ٹیسٹ دینے آئی ہو تو دوسری بات ہے۔‘‘
’’نا، ناجی!‘‘ اس انداز پر نمی سہم کر چپ ہوگئی۔
’’ادھر آئو۔‘‘ پھر سے موتیا کو اشار ہوا، وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور چلتی ہوئی اس کرسی پر جا بیٹھی، جس کی طرف اشار کیا تھا۔ دائیں پیر کو ذرا اندر کی طرف موڑکر چلتی ہے تو گویا بازارِ حسن سے نہیں وہاں پہلی توجہ چال پر دی جاتی ہے۔
’’نام نہیں بتایا۔ کہاں سے آئی ہو، یہ بھی نہیں بتایا۔‘‘
’’موتیا نام ہے جی میرا اور گلبرگ میں گھر ہے ہمارا۔‘‘
’’گلبرگ میں!‘‘ وہ چونکے۔
’’ہاں جی۔ میرے گھر کے قریب ہی رہتی ہے۔‘‘ شوکی صاحب نے بتایا۔
’’کب سے؟‘‘ سروش کو یہ بات ہضم نہیں ہورہی تھی۔
’’کچھ دن سے۔ پہلے ہم چیچہ وطنی رہتے تھے۔‘‘
’’اوہ!‘‘ اب سروش صاحب پَرسکون ہوئے۔ ورنہ اندازے کی غلطی نے انہیں پریشان کر دیا تھا۔ لڑکی نے دو لفظ بولے اور وہ سمجھ گئے، کم پڑھی لکھی اور کم پڑھے لکھے گھرانے کی ہے۔ اردوبھی مقامی بولی کے انداز میں بول رہی تھی اور اس کے چہرے پر بھی اسی کلاس کا عکس تھا، جس سے وہ تعلق رکھتی تھی۔ شکل و صورت کی اچھی تھی، لیکن ایک گھاگ ڈائریکٹر کی نظر اور بھی بہت کچھ دیکھتی ہے، چال کی خامی، لہجے کی خامی، آواز کا بھاری پن اور اس کا گول بھاری چہرہ اسکرین پر اور بھی نمایاںہوگا۔
’’یہ چہرہ اردو فلموں کے لےے نہیں پنجابی فلموں کے لےے موزوں ہوگا۔ آپ لوگ کسی پنجابی فلم کے ہدایت کار سے ملیں۔‘‘ انہوں نے پانچ منٹ نہیں لگائے فیصلہ سنانے پر۔
’’مگر سر جی! آپ ٹیسٹ تو لے لیتے۔ کچھ فوٹو ہی اتروا کر دیکھتے۔‘‘ کیمرہ مین صاحب نے یاد دلایا۔
’’ضرورت نہیں ہے، یہ چہرہ اردو فلموں کا ہے ہی نہیں۔ آپ اب جا سکتے ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر سگریٹ سلگایا اور کوئی فائل کھول لی۔ انہیں اٹھنا پڑا۔
’’دفع دور۔ مغرور گھوڑا۔‘‘ موتیا نے جل کر خطاب دیا کہ اس کے تو سارے خواب جلنے لگے تھے۔
’’گھبرائو نہیں، یہ سروش صاحب تو چیز ہی بڑی اونچی ہیں۔ ہمیں ان کے پاس جانا ہی نہیں چاہےے تھا۔‘‘
وہ سب تسلی دیتے اسے ایک بڑے سے ہال نما کمرے میں لے آئے۔ یہاں جگہ جگہ مجمع لگے تھے، ایک ایسے ہی مجمع میں یہ بھی گھس گئے۔
’’اوئے کیا ہے پھر کوئی شعر لکھ لیا تَو نے یا پھر شوکی نے فلم بنانے کے لےے پیسے اکٹھے کر لےے ہیں؟‘‘ خالص لاہوری لہجہ، گرج دار آواز اور بھاری ڈیل ڈول، اب وہ اس شخص کے سامنے کھڑے تھے اور اسے موتیا کے بارے میں بتا رہے تھے۔
گہرے سانولے رنگ والے اس مرد نے اپنی موٹی موٹی گول آنکھوں سے موتیا کو دیکھا، پھر یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔
’’میرے کمرے میں آئو۔ یہاں بھیڑ بھاڑ میں کیا بات ہوسکتی ہے۔‘‘
اس کا کمرا بھی اس کی طرح بے ترتیب سا تھا۔ سروش صاحب کے آفس جیسی کوئی بات اس آفس میں نہیں تھی۔
’’ہاں بھئی کڑےے، پہلے تعارف تو کرا اور یہ تمہیں کہاں سے مل گئی بھئی؟‘‘
جواب میں شوکی نے بتایا کہ پڑوسن ہے میری، ساری بات سن کر اس نے نفی میں سر ہلایا بولا۔
’’اس کا مطلب ہے، گھر سے اٹھ کر فلم میں کام کرنے آگئی ہے۔ بازار سے تعلق نہیں۔ یعنی تربیت کچھ بھی نہیں۔ یہ تو بڑا مسئلہ ہوگا۔‘‘ اور نظریں جیسے موتیا کے وجود پر گڑ ہی گئی تھیں۔
’’آپ جس کے سر پر ہاتھ رکھ دیں نا جی، پھر کوئی مسئلہ نہیں رہتا۔ قسمت کی دیوی آپ ہی مہربان ہوجاتی ہے۔‘‘
’’او بھئی شوکی! وہ سب تو ٹھیک ہے پر سوچو نا ذرا، کڑی میں جھجک بھی ہوگی کہ گھر سے اٹھ کر آئی ہے۔ پھر بول چال، ادب آداب، سیاست سب سے ناواقف۔ ڈانس کے نام پر چند ٹھمکے ہی مارسکے گی اور بس۔‘‘
’’آپ اس کا چہرہ تو دیکھیں۔ ہے کہ نہیں بالکل شہزادیوں جیسا۔ میں تو کہتا ہوں، اسے ہیروئن بنائیں۔ کیمرہ مین مجھے رکھیں، اسے ایسے زاوےے سے لوں گا کہ دھوم مچ جائے گی۔‘‘
’’او آہو۔ اوئے پتا ہے تَو بڑا قابل کیمرہ مین ہے۔‘‘ طنزیہ ہنسی کے ساتھ کہا، پھر موتیا کے قریب آکر کندھے پر ہاتھ رکھا، وہ ذرا گھبرا گئی، مگر ناگواری کا اظہار نہیں کیا، پھر اس نے ٹھوڑی کے نیچے دو انگلیاں رکھ کر چہرہ اونچا کیا اور بولا۔
’’خوب صورت چہروں کی کمی نہیں ہے یہاں، تم یہ بتائو محنت سے تو نہیں گھبراتیں؟‘‘
’’نہیں جی، جو کہیں گے میں کروں گی۔‘‘ اس نے جلدی سے کہا۔
’’پہلے تمہیں ٹریننگ دیں گے، پھر ہی فلم میں رکھیں گے۔‘‘
’’میں تیار ہوں۔‘‘ اس کے تو دل کی دھڑکن یہ سوچ کر ہی بڑھ گئی کہ وہ اس کے لےے تیار تھا۔
’’سروش صاحب کہہ رہے تھے، یہ چہرہ اردو فلموں کے لےے نہیں ہے۔ پنجابی فلموں میں ہی چلے گا۔‘‘ موسیقار نے بتایا۔
اس نے نفی میں سر ہلایا اور بولا۔
’’دیکھ لینا۔ ہم ایک دن اسے اردو فلموں کی بھی ہیروئن بنائیں گے، کیوں بے بی بنو گی نا ہیروئن؟‘‘ اس کے گال پر ہاتھ پھیرا اور اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
’’بھئی۔ یہ شرم و حیا اب صرف اسکرین پر دکھانے کے لےے ہی رکھ چھوڑو۔ یہاں اس کا کوئی کام نہیں۔‘‘
اور موتیا نے اس پر بھی اثبات میں سر ہلادیا۔
’’وہ ڈوگر صاحب! اگر تصویریں بنالی جائیں۔‘‘ مشورہ دیا گیا۔
شفیق ڈوگر نے ماننے سے انکار کر دیا، بولا۔
’’میں خود ساری تیاری کروائوں گا بھئی، لو جی مبارک ہو۔ یہ چہرہ پسند آگیا ہے مجھے۔ بس میری آنے والی فلم کی ہیروئن یہی ہوگی۔‘‘
’’مہربانی کر کے موسیقی کا کام مجھے دیں۔‘‘
’’اور کیمرہ مین مجھے رکھیں۔‘‘ وہ سب اپنی اپنی کوالٹیز بتانے لگے تھے۔
’’اوئے چپ او۔‘‘ (ایک زبردست گالی) نمی اور موتیا تو اچھل ہی پڑیں۔
’’بھئی میں کہہ رہا ہوں لڑکی بالکل کوری ہے۔ سارے سبق ہمیں ہی رٹوانے پڑیں گے۔ اس کے لےے ٹائم بھی لگے گا۔ محنت بھی ہوگی۔ شوکی! یہ کام تیرے ذمے ہیں، تو ہر روز شام کے پانچ بجے لڑکی کو نہر والی میری کوٹھی پر لایا کرے گا۔ وہاں پر اس کی کلاسیں ہوں گی۔ اداکاری بھی سکھائیں گے اور ڈانس بھی‘‘
’’پر جی۔۔۔ میں کیوں لائوں گا۔ میرا مطلب ہے کوئی وجہ بھی تو ہو نا جی؟‘‘ وہ خوشامندانہ انداز میں ہنسا۔
’’گھبراتا کیوں ہے، شفیقے ڈوگر نے آج تک کسی سے مفت کام نہیں کروایا۔‘‘
’’بہت شکریہ جناب! اب اجازت۔ ہم چلتے ہیں۔‘‘ شوکی نے اجازت چاہی، اس نے نفی میں سر ہلایا اور بولا۔
’’تم سب باہر بیٹھو۔ میں ذرا کاکی کا انٹرویو تو کرلوں اور ہاں دو چائے کیک اور گرم رول بھجوادینا میرے کمرے میں۔‘‘
اور موتیا نے پہلی بار کسی غیر مرد کے ساتھ تنہا بیٹھ کر چائے پی، ہاں لیکن اس دوران وہ اس کی شرافت کی ضرور قائل ہوگئی۔ ایک بھی غلط بات کی نہ غلط نگاہ سے دیکھا اسے۔ بس تفصیل سے اس کے بارے میں پوچھتا رہا اور پہلے سے طے کےے گئے کے مطابق اس نے یہی بتایا۔ ’’علائوالدین اس کا دور کا رشتہ دار ہے اور باپ کی وفات کے بعد وہ اس کے گھر میں رہتی ہے۔‘‘
’’فکر نہ کرو۔ یہ پریشانی چند روز کی ہے۔ وہ دن دور نہیں جب تم اس علاقے میں اپنی کوٹھی کی مالک ہوگی۔‘‘ وہ باتوں ہی باتوں میں اسے ہیروئن بناتا گیا۔
اور جب موتیا کمرے سے باہر آئی تو خوب صورت گردن تنی ہوئی تھی۔ آنکھوں میں اعتماد اور غرور تھا اور چال بھی بدلی بدلی تھی۔ اس کا چہرہ بے حد سنجیدہ تھا اور اسے باہر انتظار میں بیٹھے سب لوگ کیڑے مکوڑے لگ رہے تھے، عام سے لوگ جو ایکٹرس کی ایک جھلک دیکھنے کے لےے گھنٹوں دھوپ میں جل سکتے ہیں۔
’’نئی گاڑی کی کیا قیمت ہوتی ہے بھلا؟‘‘ شوکی کے ساتھ ان کی واپسی ہوئی تھی اور وہ راستے میں ٹیکسی کے سفر سے، اس کے بوسیدہ پن سے بور ہو کر پوچھ رہی تھی۔
شوکی نے جواب میں قہقہہ لگایا اور بولا۔
’’فلم ہٹ ہونے کی دیر ہے، پھر گاڑی کیا، ہیلی کاپٹر خرید لینا۔‘‘
’’اچھا شوکی بھائی ! وہ جو ڈوگر صاحب نے نہر والی کوٹھی آنے کو کہا ہے، وہ بھلا کتنی دور ہے ادھر سے؟‘‘ نمی نے کسی سوچ سے ابھرتے ہوئے سوال کیا تھا۔
’’بس جی۔ زیادہ دور نہیں ہے، یہی کوئی بیس پچیس منٹ کا راستہ ہے ٹیکسی سے۔‘‘
’’ٹیکسی نہیں گھر پر گاڑی تو ہے۔ کل سے ہم گاڑی پر ہی جائیں گے۔‘‘
’’کیسی بات کرتی ہو اماں؟‘‘ موتیا نے ٹہوکا دیا۔
نمی نے سوالیہ انداز میں دیکھا تو بولی۔ ’’وہ بھلا لانے دے گا ہمیں گاڑی سو سوال ہوں گے اس کے پہلے تو، اور میں بتائے دیتی ہوں، کسی کے سوالوں کے جواب دینے کے موڈ میں نہیں ہوں اور وہ۔۔۔ ہونہہ! اس کی شکل دیکھنے سے بے زار ہوں۔‘‘
’’بس اب تو تھوڑے دن کی بات ہے، بڑا صبر کیا ہے میری بچی نے۔ بس تھوڑے دن اور۔‘‘
نمی پچکار رہی تھی۔ موتیا منہ بنائے بیٹھی تھی۔
شوکی سے انہوں نے گاڑی گھر سے کچھ دور رکوانے کو ہی کہا تھا۔ گھر داخل ہوئیں، لان میں طیب کرسی ڈالے بیٹھا تھا۔ ہاتھ میں کتاب تھی، اس پر نظر ڈالی۔ یہ دیکھا کہ گیٹ سے کون گھر میں داخل ہوا ہے، پھر دوبارہ کتاب کی طرف متوجہ ہوگیا۔
’’توبہ کیسا اجڑا ہوا لان ہے اور گھر بھی قبرستان کی طرح ہی لگتا ہے۔‘‘ آج نمی کو بھی احساس ہوا تھا۔
’’یہ طیب اپنی عمر گنوا رہا ہے، اسے چاہےے فلم میں ٹرائی کرے۔ آرام سے ہیرو بن سکتا ہے۔‘‘ ہمیشہ کی طرح موتیا آج بھی اسے نظر انداز نہیں کرپائی تھی۔
’’چل، چل۔ آرام کرلے، پھر کل کی تیاری بھی کرنا ہے۔‘‘
’’ہائے اللہ خوابوں کی تعبیر کتنی قریب ہے نی موتی! میرے تو ہاتھ پائوں پھول رہے ہیں۔‘‘
’’مجھے تو پہلے ہی یقین تھا اماں! آج ہی کامیاب لوٹوں گی۔‘‘
’’ہاں پر نی وہ اردو فلموں کا ہدایت کار تو بڑا ہی چول بڑا ہی کوجا نکلا۔‘‘
’’دفع کرو اماں! فلم انڈسٹری میں اردو فلموں کا ایک ہی ہدایت کار تھوڑی ہے۔ تم دیکھنا جلد ہی اردو فلمیں بھی کرنے لگوں گی، پھر جوتی پڑے گی اس کے منہ پر۔‘‘
’’ویسے اماں! یہ ڈوگر صاحب بڑا ہی اچھا آدمی ہے۔ اکیلے میں بھی بڑی عزت، بڑی ہی شرافت سے بات کی اس نے۔‘‘
ؔ’’اے مجھے تو صاف پتا چل رہا تھا، تیرے حسن سے بری طرح متاثر ہوگیا تھا بے چارہ اور آج تَو ماں کو بھی داد دے، اگر میں نے تیری شادی طیب کے بجائے علائو الدین سے نہ کروادی ہوتی تو بھلا تَو پہنچ سکتی تھی یہاں تک۔‘‘
پھر خود ہی نفی میں سر ہلا کر بولی۔
’’کبھی نہیں، یہ جو منڈے ہوتے ہیں نا۔ بڑا گرم خون ہوتا ہے، بڑی غیرت ہوتی ہے ان میں۔ بیوی مرضی کے خلاف چلے تو قتل سے بھی گریز نہیں کرتے۔‘‘
’’چل چھوڑ اس بات کواماں! تھک گئی ہوں۔ سونا چاہتی ہوں۔‘‘ وہ تیز قدموں سے اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔
خ خ خ
ان کا خیال تھا نہر کے کنارے بڑی عالی شان سی کوٹھی ہوگی، جہاں ڈوگر صاحب سجے سجائے ڈرائنگ روم میں ان کے انتظار میں بیٹھے ہوں گے۔ لیکن نہر والی کوٹھی تو کسی اجڑے دیار کا منظر پیش کر رہی تھی۔ علائو الدین کی کوٹھی سے کہیں زیادہ اجڑا ہوا لان تھا۔ گھاس اتنی لمبی کہ آدمی آرام سے چھپ جائے اور گھاس کا رنگ سبز نہیں خاکستری سا تھا۔ دھول مٹی میں اٹی برآمدے کی ٹوٹی پھوٹی سیڑھیاں اور برآمدے کے فرش پر بھی اتنی مٹی کہ پیر رکھو تو نشان چھو ڑجائے۔ ایک ہٹے کٹے ملازم نے ڈرائنگ روم تک رہنمائی کی تھی۔
ہاں، ڈرائنگ روم کی حالت بہت بہتر تھی۔ صاف ستھرا، سجا سجایا، فرنیچر کوئی بہت اعلا نہیں تھا، لیکن اچھا تھا، قالین پرانا، لیکن صاف ستھرا بے داغ تھا، دروازوں، کھڑکیوں پر پردے نئے ڈالے گئے لگ رہے تھے۔ ڈوگر صاحب استقبال کے لےے موجود تھے۔ انہیں دیکھ کر اٹھے نہیں۔ بیٹھے بیٹھے ہی استقبال کیا۔ موتیا کی تیاری کو بغور دیکھا اور اعلان کیا۔
’’لڑکی کو ابھی پہننے اوڑھنے کا سلیقہ نہیں۔ یہ بھی سکھانا پڑے گا۔‘‘
’’کیا یہ صحیح نہیں ہے؟‘‘ وہ گھبرائی۔
’’بالکل بھی صحیح نہیں ہے۔ فکر نہ کرو، بلوایا ہے میں نے۔ کوکب عرف چھیما کو۔ ایک دم سے چالو کر دے گی تمہیں۔ ڈانس وانس، چٹک مٹک سب سکھا دے گی، فکر نہ کرو جند جان! ارے اب تم ڈوگر کی پارٹی بن گئی ہو۔ چند دنوں کی بات ہے، پھر دیکھ لینا ہر اخبار ہر فلم میگزین میں تمہارے ہی چرچے ہوں گے۔‘‘
’’او یار شوکی! ذرا دیکھنا ادھر باورچی خانے میں کوئی ملازم ہوگا، اسے چائ پانی کا تو بول دو۔‘‘
’’رہنے دو جی، ڈوگر صاحب! بھلا اس تکلف کی کیا ضرورت ہے۔‘‘ نمی نے خوشامندانہ انداز میں کہا اور ڈوگر نے فوراً اثبات میں سر ہلا دیا۔
کچھ دیر کے بعد چھیما بھی پہنچ گئی۔
عمر ہوگی پینتالیس کے قریب تھوڑا فربہ بدن۔ چھدرے سے بال، لیکن ساری کسر لباس اور میک اپ نے پوری کر دی تھی۔ اتنی تہیں لگا رکھی تھیں چہرے پر کہ اصل صورت کا اندازہ ہی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اتنی چست قمیص پتا نہیں غریب سانس بھی کیسے لیتی ہے۔
ڈوگر سے بہت بے تکلف تھی۔ کبھی ہاتھ پر ہاتھ مار کر، تو کبھی اس کے کندھے پر ہاتھ مار کر بات کرتی تھی۔ قہقہے بھی مردانہ وار لگاتی تھی اور اکثر باتیں ایسی کہہ جاتی جو ان دونوں کے سر سے گزر جاتیں۔ ہاں شوکی صاحب کی سمجھ میں آجاتی تھیں، منہ نیچا کر کے ہنس پڑتے تو کبھی کھنکار کر کچھ سمجھانے کی کوشش کرتے۔ موتیا انتظار میں ہی رہی۔ ابھی استانی جی آج کا سبق دے گی، لیکن وہ تو یوں نظر انداز کےے بیٹھی تھی جیسے یہاں ڈوگر کے علاوہ کوئی موجود ہی نہیں۔
تقریباً ایک گھنٹہ بعد ڈوگر نے ان تینوں کو جانے کی اجازت دے دی اور تاکید کی۔ ’’کل پورے ٹائم پر آجانا۔ ہمارے پاس ضائع کرنے کو ٹائم نہیں ہے لڑکی! ٹریننگ جتنی جلدی ہوجائے اتنا ہی اچھا ہے۔ اور سنو جانی، موتی! پیاری! کل بال کھلے چھوڑ کر آنا۔ اچھے لگیں گے نا تم پر جانی!‘‘ چھیما کو بالکل اچانک اس پر بے حد پیار آگیا تھا۔
’’جی، جی اچھا!‘‘ پہلے وہ حیران ہوئی ، پھر مسکرائی۔
’’کل سے تمہارا پہلا سبق شروع ہوجائے گا۔ اچھی پیاری لڑکی ہو تم، اگر دل لگا کر کام کرو گی تو بہت ترقی کرو گی، یہ جو تین، چار لڑکیاں آج کل فلم انڈسٹری پر راج کر رہی ہیں نا، یہ سب میری ہی شاگرد رہ چکی ہیں۔‘‘ اس نے ان ہیروئنوں کے نام بتائے اور انہیں متاثر کر دیا۔
خ خ خ
اگلے روز اس کی تیاری کو چھیما اور ڈوگر نے پہلے سے بہتر قرار دیا۔ پھر ٹیپ چلائی گئی اور گیت کے بولوں پر اسے ڈانس کے لےے کہا، دو مردوں کی موجودگی میں وہ گھبرائی۔
’’ایسے تو کام نہیں چلے گا، ارے اسٹوڈیو میں تو کئی ہوں گے اور ہیرو کے تو ساتھ لگی کھڑی ہوگی تم۔‘‘
اس بے جا شرم پر سب ہی نے خفگی کا اظہار کیا، نمی نے بھی کہنی ماری تو اسے اٹھنا پڑا۔ وہ ناچتی رہی، سب ہی بڑی سنجیدگی سے دیکھتے رہے، پھر چھیما اٹھی اور اسے بتانے لگی۔ کہاں کہاں کس طرح کے اسٹیپ لینے چاہئیں۔
دو گھنٹے تک وہ اسے یہی سکھاتی رہی، موتیا تھک گئی، کچھ بے زار بھی ہوئی، اس نے کب سوچا تھا۔ ہیروئن بننے کے لےے یہ سب بھی کرنا ہوگا۔
پھر آنے والے دنوں میں وہ اکیلی آنے لگی، حالانکہ نمی ایسا نہیں چاہتی تھی، لیکن ہر روز موقع پاتے ہی ڈوگر اسے یہ بات سمجھانا نہیں بھولتا تھا۔ اسے بتاتا تھا ایک ہیروئن کو با اعتماد ہونا چاہےے، پھر تم یہاں اکیلی تھوڑا ہی ہوتی ہو، چھیما بھی موجود ہوتی ہے۔
پندرہ دن کے بعد وہ اور ڈوگر اکیلے تھے، ڈوگر نے بڑی بے تکلفی اور محبت سے بڑی سلجھی ہوئی باتیں کیں۔ موتیا کو ذرا بھی تو گھبراہٹ نہیں ہوئی اس تنہائی میں۔ آنے والے دنوں میں بے تکلفی بڑھی اس کی باتیں سنتے، اس کے ساتھ شہر کے اچھے سے ریسٹورنٹ میں کھانا کھاتے، اسے کبھی یہ خیال نہیں آیا، اس کی ٹریننگ میں چھیما کے نہ آنے سے خلل آرہا تھا۔
’’بات یہ ہے رانی! کہ میں چاہتا ہوں اب تم کسی ایسی جگہ شفٹ ہوجائو جہاں سے آزادی سے ہر جگہ آجاسکو، اصل میں کچھ اخبار والوں سے بھی ملوانا چاہتا ہوں تمہیں اور یہ سب اس گھر میں تو ممکن نہیں۔‘‘
’’پھر، پھر کیا کروں، ابھی تو میری کوئی انکم بھی نہیں ہے۔ میں گھر تو نہیں لے سکتی۔‘‘
’’او شہزادی! او رانی! کیسی بات کی ہے۔ آئے ہائے ہائے دل میں چھید ڈال دیا، او جی۔ ہماری کوٹھی کس لےے ہے۔ کیسی غیروں والی بات کی ہے، زندگی بھر گلہ ہی رہے گا۔‘‘
’’آ۔۔۔آپ کی کوٹھی لیکن۔۔ لیکن۔۔۔‘‘
’’لیکن ویکن کچھ نہیں۔ شفٹ ہونے کی تیاری کرو، اور اپنی ماں کو بھی کچھ سمجھائو، مجھے تو لگتا ہے، اس کی یہ احتیاطیں، ہر کسی پر شک، ہر وقت عجیب چوکنا سا انداز ہوتا ہے، جیسے میں کوئی اٹھائی گیرا ہوں۔‘‘
’’نہیں نہیں۔ ماں کو تو خود بہت شوق ہے مجھے ہیروئن بنانے کا۔‘‘
’’بس پھر ٹھیک ہے۔ سمجھائو اسے۔ تم لوگوں کا اب اس گھر سے اٹھ آنا ہی بہتر ہے۔‘‘
’’لیکن وہ جی، وہ سر جی۔ کک۔۔۔۔ مشکل ہے۔‘‘ اس کی آواز اصل بات بتاتے ہوئے پھنس رہی تھی، لیکن اب تو ڈوگر صاحب سے اچھا، سچا، سادہ دل پرخلوص کوئی لگتا ہی نہیں تھا۔ اٹک اٹک کر حقیقت بتا ہی دی۔
’’اولو جی مسئلہ ہی کوئی نہیں۔ کیوں گھبراتی ہو رانی! ویسے یہ سب سن کر مجھے تم سے بہت ہمدردی ہورہی ہے۔‘‘
خ خ خ
نہر والی کوٹھی میں آجانے کے بعد حالات بڑی تیزی سے بدلے تھے، اب وہ آزاد تھی، ڈوگر کے ساتھ فلمی تقریبات میں شرکت کر سکتی تھی اور یہیں اسے دیگر لوگوں سے جان پہچان بنانے کا موقع ملا، اس نے دیکھا۔ فلمی اداکارائیں کس طرح شرکت کرتی ہیں، کیسے اٹھتی بیٹھتی ہیں اور اس کے علاوہ بہت سے دوسرے ہدایت کار، تقسیم کار، پروڈیوسر بھی ملے۔ وہ تیزی سے یہ سب سیکھ اور اپنا رہی تھی۔
ڈوگر نے نئی فلم بنانے کا اعلان کر دیا تھا۔ نہر والی کوٹھی پر ہر شام کہانی کار، موسیقار اور پنجابی فلمی دنیا کے ایک دو شاعر اکٹھے ہوجاتے، ڈوگر نے ایک مکارسی عورت بطور ملازمہ بھی رکھ چھوڑی تھی، جس کے ساتھ مل کر نمی نے سارا گھر چمکا دیا اور شام کو جو رونق لگتی، اف سب کی چائے اور خاطر تواضع کا انتظام بھی یہ دونوں مل کر کرتیں، موتیا تو بس ہار سنگھار کےے محفل میں بیٹھی رہتی، مردوں کی کھلی ڈلی باتیں۔ شیطانی قہقہے اور فقرے بازیاں۔ اب بھی کبھی کبھی اسے پریشان کر جاتے، لیکن بظاہر وہ بھی ہنسی میں ساتھ دیتی اور ان کی بے تکلفی کا برا نہیں مانتی تھی۔
مہمانوں کے چلے جانے کے بعد یہ چاروں نمی، موتیا، چھوٹا بھائی اصغر اور ڈوگر اکٹھے کھانا کھاتے، اس کے بعد ملازمہ انہیں دودھ کے گلا س لا کر دیتی، یہ دودھ پینے کے کچھ ہی دیر کے بعد اصغر اور نمی کو نیند آنے لگتی اور وہ معذرت کر کے اٹھتے۔ اپنے کمروں میں چلے جاتے، ڈوگر موتیا کا ہاتھ پکڑ کر بے تکلفی سے اپنے پاس بٹھالیتا۔ وہ اس کے اشاروں پر چلنے پر مجبور تھی کہ وہی تو اسے خوابوں کی تعبیر دے سکتا تھا۔ رضامندی سے سب کچھ ہوتا اور ڈوگر کہتا۔
’’جتنا مجھے خوش کرتی جائو گی، اتنی ہی ترقی پائو گی۔‘‘
’’میں ابھی تک علائو الدین کے نکاح میں ہوں۔ ڈر لگتا ہے۔ کہیں مجھے کھوجتا ہوا یہاں تک نہ آجائے۔‘‘ ایک دن اس نے خدشے کا اظہار کیا تھا۔
’’یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ تم ڈوگر کو نہیں جانتیں، ایک سے ایک چھٹا ہو بدمعاش اپنے قبضے میں ہے۔ کل ہی دبائو ڈلوائوں گا طلاق کے لےے۔‘‘
اور واقعی پندرہ دن کے بعد طلاق کے کاغذات اس کے سامنے تھے۔ ’’حق مہر نہیں دیا۔ اس بڈھے بدمعاش نے۔‘‘ نمی نے خالی کاغذ ہی دیکھے تو بولی۔
’’دفع کرو، ہمیں اس کے پیسوں سے کیالینا۔ بس چند دن کی بات ہے ہماری موتیا لاکھوں میں کھیلے گی۔‘‘
’’پر ابھی تو ضرورت ہے نا پیسوں کی۔‘‘ نمی نے اصرار کیا۔
’’یہ بات ہے تو پہلے کیوں نہیں بتایا۔‘‘ جھٹ سے جیب سے ہزار روپیہ نکال کر نمی کے ہاتھ میں دے دیا، اس فرخ دلی پر دونوں داد نہ دیتیں تو کیا کرتیں اور۔
ڈوگر نے حق مہر میں ملنے والی رقم کے ساٹھ ہزار لا کر اپنی الماری کے لاکر میں رکھ دےے، کچھ سوچ کر لبوں پر عجیب سی مسکراہٹ ذرا کی ذرا ابھری، پھر معدوم ہوگئی۔
خ خ خ
پورے تین ماہ بعد جب فلم کی شوٹنگ کا آغاز ہونے کو تھا۔ نمی کی طبیعت عجیب گری گری سی رہتی۔ اب ملازمہ اسے کوئی سگریٹ دینے لگی تھی اور دن بھر وہ اس کے سوٹے لگایا کرتی تھی، چھوٹا اصغر یہاں کے ماحول میں سیٹ نہیں ہوسکا تھا۔ ایک دن موتیا گھر آئی تو اس کے کمرے میں میز پر اصغر کا خط رکھا تھا اس نے لکھا تھا۔
’’میں طیب بھائی کے پاس جارہا ہوں، مجھے ناچ گانا نہیں سیکھنا۔ میں پڑھنا چاہتا ہوں اور یہاں آنے کے بعد بھی طیب بھائی سے ملتا رہا ہوں۔ اب آپ لوگ میرا انتظار نہ کرنا۔ میں واپس نہیں آئوں گا۔‘‘
موتیا نے اس کے جانے کا نوٹس نہیں لیا اور نمی کو تو اب ویسے بھی ہوش کہاں رہتا تھا۔
پہلی فلم میں اسے ہیروئن نہیں بلکہ ہیروئن کی سہیلی کا رول دیا گیا، جس پر اس نے خفگی کا کھل کر اظہار بھی کیا۔
’’جانی! تم ابھی کچُی ہو، بس ایک بار تمہارا چہرہ اسکرین پر آکر پسندیدگی کی سند حاصل کرلے۔ سمجھو، آنے والی ساری فلمیں تمہاری۔‘‘
اسے پختہ کار عورت بنا کر بھی وہ بات کہہ رہا تھا، موتیا کے پاس سوائے اقرار کے کوئی چارہ نہیں تھا، لیکن وہ ایک دم بددل سی ہوئی تھی۔
شوٹنگ کے لےے اسٹوڈیو آنے کے بعد پہلا کام اس نے مختلف پارٹیوں میں ملنے والے چہروں سے جان پہچان بڑھانے کا کیا، وہ اب ڈوگر سے جان چھڑانا چاہتی تھی۔ کچھ دن کی کوشش کے بعد اسے ایک فلم میں سائیڈ ہیروئن کا رول مل گیا، یہاں فلم پروڈیوسر اس پر مہربان ہوا تھا۔ ڈوگر کہاں اسے ہاتھ سے جانے دیتا، لیکن سامنے کا بندہ اس سے زیادہ زور آور تھا، پھر یہاں کمی تھوڑا تھی۔ ایک موتیا گئی، دوسری آجانی تھی، نہر والی کوٹھی آباد ہی رہتی تھی۔
ادھرموتیا یہ نہیں جانتی تھی کہ رفیق صاحب کی فلم میں جو سائیڈ ہیروئن کا رول اسے دیا گیا ہے، یہ بہت ہی کم ہے۔ پوری فلم میں اس کے صرف چند گنتی کے سین ہوں گے۔
وہ خوب صورت تھی، لیکن اس کا چہرہ کیمرے کے لےے موزوں نہیں تھا۔ دوسرا نقص اس کی چال میں تھا۔ وہ ایک پائوں اندر کی سائیڈ پر تھوڑا ٹیڑھا رکھ کر چلتی تھی اور کیمرے کی آنکھ سے یہ نقص بہت واضح ہوجاتا تھا۔ پھر اس کی آواز بھی ڈائیلاگ کی ادائیگی میں موزوں نہیں تھی، لیکن فلم اور کیمرے سے باہر کی حقیقی دنیا میں وہ خوب صورت اور بھرپور لڑکی تھی، پھر کیوں نہ اسے لارے لگا کر فائدہ اٹھایا جاتا۔ رفیق نے بھی ایک فلیٹ اسے دلا دیا تھا، کام کے لےے ملازمہ کا بندوبست بھی ہوگیا تھا۔
یہاں آکر بھی نمی کی وہی حالت تھی اور رفیق نے اس کے لےے نشے والے سگریٹ کا انتظام کر دیا تھا۔ رفیق صاحب نے ڈوگر کی طرح دیر نہیں کی، اسے فوراً فلم میں لیا اور کام شروع ہوگیا، صرف چند سین اور ایک گانے کا کچھ حصہ اس پر پکچرائز ہوا اور وہ لڑکی جس کے بارے میں فلم کے کرتا دھرتا، یہ فیصلہ سنا چکے تھے۔ یہ چہرہ کیمرے کے لےے موزوں نہیں ہے، اسی گانے سے ہٹ ہوگئی۔ ڈانس کرتے ہوئے وہ بے حد اچھی لگی۔ اخبارات کے فلمی صفحات پر اس کے ڈانس کی تعریف ہوئی، اور آئندہ کئی فلموں میں وہ صرف ڈانس کے لےے بک کی گئی۔
’’مجھے تو ہیروئن بننا ہے جی!‘‘ ایک روز جب رفیق بہت موڈ میں اسے قریب بٹھائے اس کے کھلے ریشمی بالوں سے کھیل رہا تھا، اس نے یاد دلایا تھا۔
’’صبر، صبر۔ دیکھو۔ میری ایک فلم نے تمہیں کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے، تم جلد ہی ہیروئن بھی بن جائو گی۔ بے صبری مت بنو۔‘‘
’’سب کہتے ہیں میری ڈائیلاگ ڈلیوری ٹھیک نہیں ہے۔ میں کوئی استاد رکھنا چاہتی ہوں۔ میں سیکھنا چاہتی ہوں اور میں نے بات بھی کرلی ہے‘‘
’’کمال ہے،مجھ سے پوچھے بغیر۔‘‘ رفیق کو اچھا نہیں لگا۔
’’ہاں ایڈوانس ملا ہے مجھے۔ رقم ہے میرے پاس۔ استاد کو فیس میں خود ہی ادا کروں گی۔‘‘
رفیق کچھ نہیں بولا، ہاں ناراضی کا اظہار کرنے کے لےے پیچھے ہٹ کر بیٹھ گیا، اس نے پروا نہیں کی، وہ یہاں ہیروئن بننے آئی تھی۔ ان بدصورت کالے بھیڑیوں کے ناز اٹھانے کے لےے نہیں۔
وہ اب زیادہ سے زیادہ وقت فلم اسٹوڈیو میں گزارتی لوگوں سے ملتی اور فلمی اخبار کے رپورٹروں سے بھی تعلقات بڑھانے کی کوشش میں رہتی۔ رفیق سے دوستی رکھتے ہوئے اس کے فلیٹ میں رہتے ہوئے بھی اس نے کئی مضبوط پارٹیوں کے سربراہوں سے دوستی گانٹھ لی، جس پر رفیق نے غصہ دکھایا، اسے اب غصے کو ٹھنڈا کرنے اور اپنی چلانے کے گَر آگئے تھے۔سو اب بھی رہتی اسی کے فلیٹ میں تھی، لیکن آنا جانا لگا رہتا تھا۔ دو سال کتنی جلدی بیت گئے۔ وہ بائیس سال کی ہوگئی۔ فلموں میں اس کا چہرہ نظر آنے لگا، لیکن صرف ڈانسر کے طور پر، ابھی اسے بہت جدوجہد کرنا تھی۔ وہ استاد رکھ چکی تھی، تلفظ صحیح کرواتی، مکالمے بولتی، آواز کو بہتر بنانے کی پریکٹس کرتی اور ہاں سب سے زیادہ محنت ڈانس پر کرتی کہ وہ ایک ڈانسر کے طور پر تو جانی جاتی تھی نا!
وہ فلمی دنیا کے عروج کے دن تھے، فلمیں ہر طبقہ دیکھتا تھا، صرف ڈانسر ہوکر بھی وہ کئی نظروں میں تھی اور سیاست دانوں کے ہاں ہونے والی بڑی بڑی تقریبات میں اسی حوالے سے بلائی جانے لگی تھی۔
’’چلو اچھا ہے جان پہچان بڑھے گی۔ وہ بڑی تیاری کے ساتھ جاتی، لیکن ان پارٹیوں پر اصل قبضہ فلم کی کچھ دوسری بڑی اداکارائوں کا تھا۔ وہ اس کے راستے کی ہر جگہ ہی رکاوٹ بن جاتیں۔ دو سال مزید بیت گئے اسے پتا ہی نہیں چلا، اب وہ رفیق کے فلیٹ پر نہیں تھی۔ یہ جگہ جہاں اب وہ رہتی تھی ایک بڑے صنعت کار کی ملکیت تھی۔ یہاں اس کے پاس ایک نہیں دو ،دو ملازم تھے، گاڑی بھی اسی صنعت کار کی دلائی ہوئی تھی اور اس نے وعدہ کیا تھا میں تمہارے لےے فلم بنائوں گا۔
اس کے لب و لہجے میں خاصی بہتری آئی تھی اور جان پہچان بھی بڑھ گئی تھی۔ آخر کار کوشش رنگ لائیں اور اسے ایک پنجابی فلم میں سائید ہیروئن کا رول مل گیا، پائوں زمین پر نہیں ٹکتے تھے۔ بس نہیں چلتا تھا فلم جلدی سے مکمل ہو اور سینما گھر کی زینت بن کر مقبولیت کے ریکارڈ توڑ دے، لیکن فلم کے ہیرو، ہیروئن کی وجہ سے کام رک رک کر آگے بڑھ رہا تھا۔ دونوں مصروف تھے، سیٹ پر لیٹ آتے اور زیادہ وقت بھی نہیں دیتے تھے۔ اسٹوڈیو آتے جاتے گیٹ سے باہر بہت سے لڑکوں اور لڑکیوں کو دیکھتی جو اس دور کے مشہور و مقبول ہیرو، ہیروئن کے اسٹائل اپنائے صرف ایک چانس کی خاطر گیٹ کے سامنے کھڑے رہتے تھے۔ اس نے کبھی غور نہیں کیا، لڑکیوں کی صورتیں بدلتی رہتی تھیں، ایک دن جو دکھائی دیتی۔ وہ اگلے دو، تین روز کے بعد وہاں نہیں ہوتی تھی، لیکن لڑکے وہی تھے، اس نے کبھی نہیں سوچا، لڑکیاں کہاں چلی جاتی ہیں، کیا وہ اتنی جلدی مایوس ہو کر واپسی کی ٹھان لیتی ہیں، اس نے کبھی بھی کسی نہر والی کوٹھی ، کبھی کسی رفیق کے فلیٹ میں نہیں جھانکا۔
خ خ خ
فلم مکمل ہونے اور اسکرین تک آنے میں پورا ایک سال لگا، وہ مسلسل دو راتیں سو نہیں پائی اور چہرے پر نقاب لگاکر فلم کا پہلا شو دیکھنے آئی تھی۔ فلم بری طرح فلاپ ہوئی۔ ہیرو، ہیروئن کو تو فرق نہیں پڑا، لیکن اس کے تو آرزو کے محل زمین بوس ہوگئے۔ کتنے ہی روز وہ بستر پر پڑی رہی، چاہنے والوں نے تسلی دی، کچھ نے تحفے تحائف دے کر موڈ بحال کیا اور وہ ایک بار پھر اسی دنیا میں لوٹ آئی۔ انہیں ہنگاموں کا حصہ بن گئی۔ اس نے فیصلہ کیا تھا، اب وہ خود فلم بنائے گی اور ہیروئن بھی وہ خود ہوگی، لوگ اس کی صلاحیتوں کو ضائع کر رہے ہیں۔ ’’اب مجھے خود ہی قدم اٹھانا چاہےے۔‘‘ یہ بات سوچی اور پھر ذہن میں جڑ ہی پکڑ گئی۔
سوتے جاگتے وہ فلم بنانے کے خواب دیکھنے لگی، ہیرو کس کو لوں گی، ایک رات بستر پر لیٹ کر جب وہ اسی بارے میں سوچ رہی تھی تو یہ خیال ذہن میں آیا وہ فلم کے مختلف ہیروز کو ذہن میں لانے لگی اور ایک چہرہ جو ان سب کے درمیان بڑی تیزی سے ابھرا، اسے دیکھ کر وہ چونک گئی، یہ چہرہ طیب کا تھا۔
طیب بھلا کیسا ہوگا، وہ اب اور کہاں ہوگا، اس نے حساب لگایا، آٹھ سال ہورہے تھے طیب کو دیکھے ہوئے، علائو الدین تو شاید مر کھپ چکا ہوگا اور طیب پتا نہیں اب بھی وہیں رہتا ہے یا کہیں چلا گیا ہوگا، اصغر بھی تو طیب کے پاس ہے اور پتا نہیں طیب نے شادی کرلی ہے یا نہیں کر ہی لی ہوگی، اب اتنے سال تک وہ کنوارا تھوڑی بیٹھا ہوگا، اس کا دل چاہا وہ طیب سے ملے دیکھے تو سہی اتنے سال کے بعد اب وہ کیسا لگتا ہے۔ میری فلمیں دیکھتا تو ہوگا، میں تو پہلے سے بھی خوب صورت ہوگئی ہوں۔ سوچا ہوگا، کاش میری شادی موتیا سے ہوجاتی، کیا پتا علائوالدین سے میری طلاق ہونے کے بعد وہ پھر سے میرے خواب دیکھنے لگا ہو، فلم میں میرا چہرہ دیکھ کر سوچتا تو ہوگا، کبھی یہ خوب صورت لڑکی میری منگیتر تھی، وہ تو میرا پتا نہیں جانتا، لیکن میں تو جانتی ہوں نا! مجھے اس سے ملنا چاہےے۔ میں کل ہی کسی وقت اس کی کوٹھی پر جائوں گی۔
’’اے اے موتی! میرا سگریٹ لائی ہے؟‘‘ نمی کو بس اب ایک ہی چیز سے غرض تھی، وہ رات کو طلب سے بے چین ہوئی تو اس کا دروازہ پیٹنے لگی۔
پھر موتیا نے ملازم کی آواز سنی۔ وہ نمی کو زبردستی اس کے دروازے سے ہٹا رہا تھا۔ کچھ دیر کے بعد نمی کی آواز دور ہوگئی، اس نے مطمئن ہو کر آنکھیں موند لیں۔
سوچ کا سفر جو فلم بنانے سے شروع ہوا تھا، اب وہاں صرف طیب ہی طیب تھا، وہ اسی کو سوچ رہی تھی۔
خ خ خ
صبح اطلاع ملی ملک کے مشہور و معروف اور بہت دیالو سیاست دان اس شہر تشریف لائے ہیں، خیر سے پانچویں بار دولہا بنے ہیں، رات اسی خوشی میں ان کے دولت کدے پر جشن ہے۔ موتیا کی شرکت بھی ضروری ہے، پھر دن بھر اسی تیاری میں لگی رہی، ایسا صرف اسی روز نہیں ہوا۔ آنے والے بہت سے دن وہ مصروف رہی کہ اسے فلم بنانی تھی، ہر طرف سے پیسہ پیسہ اکٹھا کرنا تھا۔
فلموں کی ایک سائیڈ کی اداکارہ، ڈانسر، لیکن بہت سے صاحبِ حیثیت لوگوں کی منظورِ نظر ڈیڑھ سال کے عرصہ میں اس نے کافی سرمایہ اکٹھا کرلیا، دن رات کی محنت نے اسے بیمار کر ڈالا، وہ بہت تھکن محسوس کرنے لگی تھی، زیادہ تر فلمیں گھریلو موضوعات یا پھر محبت پر بنتیں جبکہ یہ دنیا اس کے بالکل الٹ تھی۔ وہ یہ فلمیں دیکھتی تو، اسے لگتا اندر دراڑیں پڑنے لگی ہیں۔ دن اسٹوڈیو میں، رات کبھی کسی بنگلے، کبھی کسی حویلی تو کبھی کوٹھی میں۔
’’کیا ہے یہ اور کیوں ہے، میں کس کے لےے یہ سب کر رہی ہوں ؟ کوئی تو ہو جسے میری محبت کا دعوا ہو، جو میری کامیابی پر خوش ہو، جو صرف طلب کی خاطر میرے پاس نہ آئے، میر ی باتیں بھی سنے، اپنے دل کی بھی سنائے۔‘‘
فلم کا اعلان کر دیا گیا، مشہور ہیرو بھی کاسٹ کرلیا اور ایک نئے جوش اور ولولے کے ساتھ وہ پھر سے مصروف ہوگئی، لیکن اب ایک سوچ اور بھی تھی، فلم کے کامیاب ہونے کے بعد ایک ساتھی کی تلاش جو میرا سچا دوست ہو، میرا ہمدرد اور خیر خواہ ہو۔
محنت نے اسے بیمار کر ڈالا، فلمی صنعت سے وابستہ لوگ منہ پر تو کچھ نہیں کہتے تھے۔ ہاں پیچھے سے مذاق اڑاتے۔ تھکے ہوئے جسم اور بیمار سے چہرے والی ہیروئن۔ یہ فلم ضرور فلاپ ہوگی۔
اور ایسا ہی ہوا فلم واقعی فلاپ ہوگئی اور اس خبر کو سن کر اتنی بیمار ہوگئی کہ دنوں بستر پر پڑی رہی، جو کچھ تھا، سب تو فلم پر لگا دیا۔ اب تو کچھ بھی نہیں، ایک بار پھر وہی محنت۔ سخت محنت۔
اک جنون، اک شوق، جو ماں نے گھٹی میں دیا تھا۔ اسے لگا۔ آج تمام ہوگیا ہے، وہ بے حد تھک گئی ہے۔ اب پھر سے وہی دن رات ہوں گے، ہیرو، ہیروئن کے انتظار میں گھنٹوں سیٹ پر بیٹھنا ہوگا اور زندگی کی گاڑی کو اچھے طریقے سے کھینچنے کے لےے شام پارٹیوں میں ڈانس کرتے اور رات تھکے جسم کے ساتھ کسی اور کی تسکین کا سامان بنتے، پھر ہاتھ میں کیا ہوگا، کک۔۔۔ کچھ بھی نہیں۔ یہ گھر بھی ایک کرم فرما کا دیا ہوا ہے۔ گاڑی بھی اپنی ملکیت نہیں، تو پھر وہ ان کو انکار کیسے کر سکتی ہے۔
خ خ خ
فلم کیا فلاپ ہوئی، وہ فلمی نگری میں ایک مذاق بن کر رہ گئی۔
’’ڈرائیور آج مجھے شاہدرہ لے چلو، نور جہاں کے مقبرے پر۔‘‘
’’آج وہاں کوئی شوٹنگ ہے جی؟‘‘ ڈرائیور نے اس کے کہنے پر یونہی سوال کر دیا تھا، حالانکہ وہ اس کے پہلے ڈرائیور کے مقابلے میں خاصا کم گو اور اپنے کام سے کام رکھنے والا نوجوان تھا۔
’’نہیں۔ کوئی شوٹنگ نہیں۔ بس تھک گئی ہوں، وہاں بھی ایسی ہی ویرانی ہوا کرتی ہے، جو میرے اندر ہے۔‘‘
’’ایک بات کہوں جی؟‘‘ نادر نے جھجک کر کہا تھا۔
’’ہاں کہو۔‘‘ وہ بھی اب تیوری چڑھا کر بات کرنا بھول گئی تھی کہ اب تک یہی سوچ تھی سے ایک روز نام ور ہیروئن بننا ہے، لیکن فلم نے فلاپ ہو کر اسے بتا دیا تھا۔ یہ صرف خواب ہے، ورنہ اخباروں نے اسے عمر رسیدہ عورت لکھا ہے، حالانکہ وہ صرف تینتیس سال کی تھی، لیکن شاید یہی سچائی ہے، اس کا چہرہ واقعی کیمرے کے لےے موزوں نہیں۔
’’میں پوچھنا چاہتا تھا۔ کیا نظر آتا ہے آپ کو اس جھوٹ فریب کی دنیا میں؟‘‘
’’اس کا جواب میرے پاس نہیں۔ تم بتائو، کہاں کے رہنے والے ہو؟ میں نے اکثر تمہیں اخبار پڑھتے دیکھا ہے، اس کا مطلب ہے پڑھے لکھے بھی ہو۔‘‘
’’جی میرا تعلق لائل پور (آج کا فیصل آباد) سے ہے۔ میں ایف اے تک پڑھا ہوں۔ اب بھی پرائیویٹ بی اے کی تیاری کر رہا ہوں۔‘‘
اس روز نور جہاں کے مقبرے پر انہوں نے ڈھیروں باتیں کیں، موتیا کو لگا اس کی ذات پر جتنے بوجھ تھے، سب جھڑنے لگے ہیں۔ آج وہ جتنی خوش ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔
اب اسٹوڈیو میں اس کی مصروفیات بہت کم تھیں اور شاموں کو اکثر وہ خود گھر سے غائب رہ کر فارغ بنا لیتی، کبھی جہانگیر کے مقبرے، کبھی شالا مار کی روشوں پر، تو کبھی شملہ پہاڑی کے سبزے میں، وہ نادر سے بہت سی باتیں کرتی۔ اسے بتاتی۔ وہ کتنی مظلوم اور تنہا عورت ہے اور ایسے ہی ایک روز اس نے نادر کو بتایا تمہاری شکل طیب سے ملتی ہے۔
’’طیب!‘‘ اس نے فلمی اداکاروں کو سوچا، اس نام کا تو کوئی نہیں تھا۔
’’طیب جو میرا کچھ بھی نہیں تھا، لیکن میں اسے کبھی بھلا نہیں پائی۔ میری بد نصیبی وہ میرا نہیں ہوسکا۔‘‘
اتنے سال فلمی دنیا میں گزار کر وہ سمجھ گئی تھی، مرد کو مظلوم، بے چاری عورت بڑی اچھی لگتی ہے۔‘‘
’’آئو کہیں باہر کھانا کھانے چلتے ہیں۔‘‘
’’لیکن بی بی! وہ اصل میں مجھے یوں آپ کے پیسوں سے کھانا، تحفے لینا اچھا نہیں لگتا۔‘‘
’’کیا مطلب ، کیا میرا اور تمہارا الگ الگ ہے؟‘‘ اس کی بات پر نادر کچھ چونکا، پھر چپ کا چپ رہ گیا۔
’’چلو جلدی سے تیار ہو کر آئو۔ وہی سوٹ پہننا جو میں کل تمہارے لےے لائی تھی۔‘‘ نادر نے حکم کی تعمیل کی۔ وہ گاڑی میں اس کے ساتھ ہی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی۔ اس کی تعریف کرتی رہی، اسے بتاتی رہی کہ وہ اس سوٹ میں کتنا جچ رہا ہے۔
’’میں تمہیں کیسی لگتی ہوں نادر؟‘‘
’’آپ اچھی ہو بیگم صاحبہ!‘‘
’’اوں ہوں۔ بیگم صاحبہ نہیں۔ میرا نام لیا کرو۔‘‘
’’کدھر کو چلیں؟‘‘ وہ پوچھ رہا تھا۔
’’آج شاہی قلعے چلتے ہیں۔‘‘ اور اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
’’مجھ سے شادی کرو گے نادر؟‘‘ یہیں روشوں پر اس کے برابر چلتے موتیا نے سوال کیا تھا، اور نادر کے بڑھتے قدم رک گئے۔
’’حیران ہورہے ہو، توقع نہیں تھی تمہیں اس سوال کی؟ ارے میں امیر غریب، چھوٹے بڑے کے فرق کو نہیں مانتی، تم بھی اس بات کو بھول جائو کہ میرے ڈرائیور ہو۔‘‘
’’بی بی! آج شاید شوٹنگ تھی آپ کی؟‘‘
’’آ، ہاں تھی تو چلو پھر چلتے ہیں۔‘‘
اسے خیال آیا تھا۔ نادر کے ساتھ نئی زندگی کا آغاز کرنے کے لےے کچھ نہ کچھ رقم کی ضرورت تو ہوگی، اسے پھر محنت کرنی چاہےے۔ چھوٹے موٹے جو بھی کردار ملیں، لے لینا چاہئیں۔
خ خ خ
اگلے روز نادر صبح ہی صبح گائوں چلا گیا، وہ تو سو رہی تھی، ملازمہ نے ہی اسے کا پیغام دیا۔
’’کمال ہے، ایسی کیا جلدی پڑ گئی تھی۔‘‘
’’وہ جی یہ خط بھی دے کر گئے ہیں آپ کے نام۔‘‘
ملازمہ نے تہ شدہ کاغذ اس کی جانب بڑھایا، جسے اس نے بے تابی سے تھام لیا اور کمرے میں جا کر کھولنے لگی، لکھا تھا۔
موتیا بی بی!
آداب۔
میں یہ ملازمت چھوڑ کر ہمیشہ کے لےے جارہا ہوں، امید ہے آپ پریشان نہیں ہوں گی، اپنی دنیا میں جلدی بہل جائیں گی۔ ہاں غصہ ضرور آئے گا، ایک ادنیٰ ملازم کی جرأت ہے، لیکن بات یہ ہے بی بی کہ میں غریب ضرور ہوں پر شریف ماں باپ کا غیرت مند بیٹا ہوں۔ کل جو بات آپ نے مجھ سے کہی یہی خیال ستاتا ہے۔ ایسا ہوا بھی کیوں آپ نے کیا سمجھا مجھے۔ یقین مانیں یہ تحفے تحائف میں نے صرف اس لےے قبول کےے کہ آپ پریشان تھیں اور میں سمجھ رہا تھا، آپ اپنا دل بہلانے کو ایسا کر رہی ہیں۔ سب یہیں چھوڑ کر جارہا ہوں۔ میں ایسا ہرگز نہیں جیسا آپ نے سمجھا۔ ہم لوگ اپنی عورتوں کو عزت دیتے ہیں اور وہ ہماری عزت کی حفاظت کرنا اپنا فرض سمجھتی ہیں۔ آپ جیسی عورت سے شادی۔ ایسا تو مر کر بھی نہیں سوچ سکتا۔ امید ہے جلد ہی آپ کو نیا ڈرائیور مل جائے گا۔
نادر
خط تھا یا دہکتا ہوا انگارہ، جس نے موتیا کے انگ انگ کو جلا ڈالا۔ الفاظ اس کے آس پاس ناچتے رہے اور وہ بے دم سی فرش پر بیٹھی رہی۔
تین دن بخار میں پھنکنے کے بعد آخر اپنا آپ سنبھالا اور اس نے غور کیا۔ ان تین دنوں میں اس کے فون کی گھنٹی ایک بار بھی نہیں بجی، تو اب کسی پارٹی میں اس کی ضرورت نہیں رہی اور اب شاید وہ فلم کے پردے پر ناچتی بھی پہلے جتنی اچھی نہیں لگتی۔
تیسرے دن کی شام وہ ہمت کر کے اٹھی۔ نہا کر تیار ہوئی اور فلم اسٹوڈیو کی راہ لی، گاڑی وہ خود ڈرائیو کر رہی تھی اور ذہن بہت بوجھل تھا۔
پرس میں چند ہزار باقی ہیں اور خرچے بہت زیادہ ہیں۔ اسی سوچ میں گم وہ ایکسیڈنٹ کر بیٹھی۔ ہوش آیا تو اسپتال میں تھی، باقی جسم تو محفوظ ہی تھا، لیکن ٹانگ بری طرح کچلی گئی تھی۔ اخبار میں خبر آئی، صرف چند کرم فرما ہی خیریت پوچھنے آئے اور اس نے اپنی غربت کی داستان سنا کر مدد کی درخواست کی۔
پھر وہ چال میں ہلکا سا لنگ لے کر صحت یاب ہوگئی اور بہت روئی، اللہ سے بہت شکوے بھی کےے اس نے۔ اب کیا کروں؟ کہاں جائوں؟ مکان خالی کرنے کے تقاضے ہونے لگے تھے۔ گاڑی تو کبھی کی واپس لے لی گئی تھی۔ ملازم جا چکے تھے۔ وہ التجا کرتی تھی، ایک کمرا میرے پاس رہنے دیں۔ جو بی بی یہاں اب آکر رہے گی۔ اس کی خدمت کے لےے ہی رکھ لیں۔ لیکن اس بی بی کو بھی صحت مند، دوڑ دوڑ کر کام کرنے والی ملازمہ کی ضرورت تھی، پھر بھلا اسے کیوں رکھا جاتا۔
’’میں کہاں جائوں، میرا تو کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔‘‘
’’ہمیں نہیں معلوم۔ ہم نے کوئی ساری عمر کا ٹھیکہ تو نہیں اٹھا رکھا۔‘‘
’’بہت خدمت کی ہے میں نے آپ کی حضور!‘‘ کبھی جو ناز و ادا دکھا دکھا کر فرمائشیں کیا کرتی تھی، آج منت سماجت پر اتری ہوئی تھی۔
’’مفت تھوڑا ہی کی ہے۔ بدلے میں یہ آسائشیں بھی تو لیتی رہی ہو۔‘‘ گالی دے کر جتایا گیا تھا۔
پھر وہ کس کس کے پاس نہیں گئی۔ کیا، کیا فریاد نہیں کی۔ لیکن خد اکو بھولے ہوئے پیسے کے پجاریوں کی یہ دنیا یہاں چمکتے دمکتے چہرے اور لچک دار جسم ہی ڈیمانڈ ہے، اگر یہ ہے تو فرمائش کرو۔ نہیں تو ایک وقت کی روٹی کے پیسے بھی ہاتھ پر نہیں رکھیں گے، جائو اپنا راستہ ناپو۔
ان ہی بے حد پریشان دنوں میں نمی اس کا ساتھ چھوڑ گئی۔ اس نے ماں کو کئی سال سے نظر انداز کر رکھا تھا۔ وہ چاہتی تو علاج کروا کر نشے کی عادت ختم کرواسکتی تھی، لیکن کبھی ضرورت ہی محسوس نہیں کی اور اب جبکہ اسے ماں یاد آئی تھی۔ ماں ساتھ چھوڑ گئی۔ محلے والوں نے چندہ کر کے اس کو دفن کرنے کا انتظام کیا اورموتیا چند چیزیں سمیٹ کر ایک چھوٹے بیگ میں ڈال کر ایک بڑی سی چادر میں کسی شریف زادی کی طرح اپنا وجود چھپائے لنگڑی ٹانگ گھسیٹتی اس گھر سے ہی نہیں اس شیشے کی بنی دنیا سے بھی باہر آگئی۔ وہ کہاں جارہی ہے۔ اسے کچھ خبر نہ تھی۔
ہاں جب قدم رکے تو اس نے دیکھا۔ وہ تو علائوالدین کی کوٹھی کا گیٹ تھا، لیکن روغن نیا تھا، یہاں کھڑے درخت ہرے بھرے تھے اور لان پھولوں سے سجا تھا، وہ یہیں رک گئی اور لان میں بیٹھے میاں، بیوی اور دو پیارے بچوں کو دیکھنے لگی۔
’’اے کون ہو تم؟‘‘ پہلے بچہ متوجہ ہوا، پھر طیب اٹھ کر ادھر آیا۔
’’تم!‘‘اس نے پہچان لیا اور موتیا کی آنکھوںکے آگے آنسوئوں کی دھند چھا گئی۔
’’کون ہے یہ، تم جانتے ہو طیب اس کو؟‘‘ یہ عورت کی آواز تھی۔
’’یہ فلمی ڈانسر وہی ہے موتیا، تم نے پہچانا نہیں، میرے چچا کی سابقہ بیوی۔‘‘
ہاں یہی تعارف تو تھا اس کا، طیب نے یہ تو بتانا تھا، لیکن وہ کون سا حوالہ سننا چاہتی تھی۔ اسے جھٹکا کیوں لگا، وہ شدُت سے کیوں رونے لگی تھی۔
’’کیا ہوا؟ ادھر کیوں آئی ہو تم؟‘‘ طیب بڑی سنجیدگی اور اجنبیت سے پوچھ رہا تھا۔
’’میری مدد کرو۔ میں بڑی مجبور ہوں۔ بے کس ہوں۔‘‘
’’ہم سے کیا چاہتی ہو؟‘‘ طیب کی بیوی پوچھ رہی تھی۔ گھر کی مالکن، ان بچوں کی ماں اس کاانداز بتا تا تھا۔ اسے موتیا کو روتے دھوتے دیکھ کر بھی ہمدردی ہرگز نہیں ہوئی۔
’’ملازم رکھ لیں مجھے؟ میرا کوئی ٹھکانا نہیں، دعائیں دوں گی۔ آسرا دے دیں۔‘‘
’’نہیں، نہیں طیب! اس کریکٹر کی عورت کو میں تو کبھی اپنے گھر نہیں رکھ سکتی۔ ہمارے ملنے والے کیا کہیں گے اور پھر میں بھی بیٹی کی ماں ہوں، ایسی عورت کے تو سائے سے بھی بچنا چاہےے۔‘‘
اور اب کہنے کو کچھ نہ رہا، ہاں طیب نے کچھ رقم اس کے ہاتھ پر ضرور رکھ دی، جو اس نے گنے بغیر بیگ میں ڈال لی۔
یہاں سے نکل کر اس نے پھر سے سفر شرع کیا۔ آہستہ آہستہ چلتی وہ اسٹیشن تک آگئی، تب اسے خیال آیا۔ اس نے طیب سے اصغر کا پتا نہیں پوچھا۔ شاید اچھا ہی کیا، کیا اب وہ کسی بھائی کی بہن کہلا سکتی ہے۔
یہاں بیٹھ کر محسوس ہوا۔ وہ بھوکی ہے۔ یا دآیا۔ طیب نے کچھ رقم دی تھی، بیگ کھول کر دیکھا۔ یہ تو ایک ہزار روپے تھے، روٹی لے کر کھائی اور ٹکٹ لینے کے لےے کھڑی ہوئی۔
’’کہاں جانا ہے بی بی؟‘‘ وہ پوچھنے لگا اور اس نے چیچہ وطنی کہتے لمحے کی دیر نہیں لگائی۔
خ خ خ
چھوٹا سا اسٹیشن جہاں کوئی قلی نہیں ہے، کوئی کینٹین نہیں ہے، لیکن کتنا اچھا، کتنا آباد ہے، جی چاہتا ہے اس شہر کے در و دیوار کو چوم لوں، یہ وہی تو شہر ہے جہاں وہ با عصمت تھی۔ ایک شریف باپ کی بیٹی تھی۔ دو بھائیوں کی بہن اورماں کی لاڈلی بیٹی، تب زمانے نے اس کو کھلونے کی طرح استعمال نہیں کیا تھا، اس شہر کی ہوا اب بھی اس کی اپنی تھی، اسے یوں لگا ہوا اس کی بربادی پر بین کر رہی ہے۔ دکھ کے بوجھ سے کچھ دیر کے لےے وہ بھی اسٹیشن کی سیڑھیوں میں بیٹھ گئی اور پھر اٹھ کر چل پڑی۔ اسے یاد تھا۔ اس کا گھر اسٹیشن سے زیادہ دور نہیں تھا، لیکن معذوری اسے تیز چلنے نہیں دیتی تھی، جب وہ اپنے محلے اور پھر اپنی گلی میں پہنچی تو اسے لگا۔ اس کا بچپن گیا نہیں تھا۔ یہیں چھپ کر بیٹھا تھا کہ گلی میں آج بھی لڑکیاں کیکلی ڈال رہی تھیں۔
لک چھپ جانا مکئی کا دانہ۔
راجے کی بیٹی آئی جے۔
راجے کی بیٹی، ہاں ہر بیٹی باپ کے گھر میں شہزادی ہوا کرتی ہے۔ وہ زمین پر بیٹھ گئی۔ اس کے قریب ہی گندی نالی بہہ رہی تھی، لیکن وہ کہاں کچھ دیکھ رہی تھی۔ اسکول سے آتی موتیا، گلی میں کھیلتے اس کے دونوں بھائی اور سائیکل پر سوار سامنے سے آتا اس کا باپ۔
’’ارے بھین (بہن) کون ہو تم؟ کیوں روتی ہو؟‘‘ عورتیں اس کے گرد اکٹھی ہوگئی تھیں، کسی نے کاندھا ہلا کر پوچھا تھا۔
اس نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔ چہرہ بھیگا ہوا تھا، ہاں واقعی وہ تو رو رہی تھی، یقینا بہت اونچی آواز میں رو رہی تھی، جب ہی تو ہر کوئی سوال کر رہا تھا۔
’’مم، میں موتیا ہوں۔ سردار کی بیٹی!‘‘
’’ارے اصغر اور اشرف کی بہن، پر ہم نے تو یہ سنا تھا۔ تم لاہور جا کر فلموں میں کام کرنے لگی ہو، لڑکے بتاتے تھے، ناچتی گاتی ہو، اخباروں میں بھی تمہارے فوٹو چھپتے رہے ہیں، پر یہ تمہارا حلیہ؟‘‘ عورتیں حیران تھیں۔
’’بے سہارا ہوں، کوئی ٹھکانہ دے دو۔‘‘
’’نا پر واپس کیوں آگئی اس گناہ کی دلدل سے؟‘‘ کسی نے پوچھا۔
’’بھئی ۔ دیکھ نہیں رہے لنگڑی ہوگئی ہے۔ اب وہاں کون پوچھتا۔‘‘
کسی نے طنزاً کہا۔ وہ تو بس روتی ہی رہی، سر اٹھا کر کسی کی جانب نہیں دیکھا۔
’’مجھے پہچانا۔ میں تمہاری پڑوسن رجو ہوں۔‘‘ اس کی ہم عمر ایک عورت پانچ، چھ برس کے بچے کی انگلی تھامے کھڑی تھی، ہاں اسے یاد تھا وہ رجو تھی۔
’’اشرف بھائی اور اصغر بھائی تین، چار برس پہلے بھی آئے تھے، پچھلے برس بھی ہو کر گئے ہیں۔ تمہارا مکان انہوں نے ایک بے سہارا بیوہ کو دے دیا ہے، آئو بات کرتے ہیں، اس سے۔ اسے کہتے ہیں، ایک کمرا تمہیں دے دے، آخر تم بھی مالکن ہو اس گھر کی۔‘‘
’’ارے یہ تو اس نے نہیں سوچا تھا۔‘‘
اسے واقعی اپنے گھر کی بیٹھک مل گئی، طیب کے دےے پیسوں سے اس نے کچھ دال دلیا، کچھ بسکٹ، ماچس کے پیکٹ اور ایسی چھوٹی چھوٹی چیزیں ڈال کر دکان داری کا آغاز کیا۔
شروع ، شروع لوگ متجسس رہے، اس کے پاس آتے، بڑے شوق سے فلمی دنیا کی باتیں پوچھتے، فلاں ہیروئن دیکھنے میں کیسی لگتی ہے اور کون سا ہیرو حقیقت میں سب سے زیادہ خوب صورت ہے۔ پھر ان باتوں سے اس کی بے زاری دیکھ کر آہستہ آہستہ لوگ کم ہی پوچھنے لگے۔
ہاں ایک بات تھی، عورتیں اس سے سودا لینے اس کی دکان پر تو آتی تھیں۔ کھڑی کھڑی اس سے لمبی باتیں بھی کرلیتی تھیں، لیکن کبھی کسی نے اپنے ہاں آنے کی دعوت نہیں دی تھی۔ یہاں تک کہ محلے میں ہونے والی کسی شادی پر بھی اسے مدعو نہیں کیا جاتا تھا۔ وہ دنوں منہ نہیں دھوتی تھی، بالوں میں کنگھی کےے تو ہفتوں مہینوں گزر جاتے، بالوں میں اترتی چاندی اس کے اطمینان میں اضافہ کرتی۔
پھر آہستہ آہستہ لوگوں کا گریز کم ہونے لگا۔ زمانہ بھی تیزی سے بدلنے لگا۔ فلم انڈسٹری زبوں حالی کا شکار ہوئی، لوگ ٹی وی ڈرامے شوق سے دیکھنے اور پسند کرنے لگے، فیشن انڈسٹری بن گیا اور اس چھوٹے سے شہر کی لڑکیاں بھی فیشن کرنا سیکھ گئی۔
’’موتی خالہ! ایک بات تو بتائو، ماڈلنگ کی دنیا میں بڑا نام ہے، بڑا پیسہ ہے۔ بس سمجھ میں نہیں آتا وہاں تک پہنچا کس طرح جائے، کیا تم کوئی راستہ بتا سکتی ہو؟‘‘
شوبز کی چکا چوند سے متاثر ہو کر بہت سی لڑکیاں ایسی خواہش دل میں لےے اس کے پاس آتی ہیں، تب وہ کانپ جاتی ہے۔ ان سے کہتی ہے۔
’’اس راستے پر قدم نہ رکھنا کہ جب تم اس اندھیرے غار میں اتر جائو گی تو پھر چپکے سے ایک بھاری پتھر سے اس کا منہ بند کر دیاجائے گا۔ اندھیرے میں ڈوبتی چلی جائو گی، اور جب تم آگے، بہت آگے اندھیروں میں چلتی اس دنیا کی باسی ہوجائو گی تو پھر ایک روز پتھر ہٹا کر تمہیں غار سے باہر پھینک دیا جائے گا۔ لیکن تب تک تمہاری آنکھیں اندھی ہوچکی ہوں گی۔ تم اندھیرے میں رہ، رہ کر اس رنگ کی ہوچکی ہوگی اور اجلے لوگ تمہاری طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کریں گے۔
یہ گلیمر کی دنیا، یہ روشنیاں، یہ مسکراہٹیں، سب دھوکا ہے۔ مت جائو اس راستے پر، ادھر کبھی پیر نہ رکھنا۔‘‘
وہ ہر اس لڑکی سے جو چاہ رکھتی ہے۔ یہی سب کہتی ہے، کوئی کان دھرلے تو یہ اس کی خوش قسمتی اور جو نہ سنے تو پھر اس کے ہاتھ میں پچھتاووں کے ٹوٹے پر رہ جاتے ہیں، آس کے خوب صورت پرندے پھڑ پھڑا کر ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔ اور شام آٹھہرتی ہے۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لےے۔
*****









