نارسائی سے پارسائی تک – تنزیلہ ریاض

2

میں نے کہیں پڑھا تھا کہ ’’پارسائی‘‘ کی واضح تعریف کرنا اور پھر اس تعریف کی روشنی میں کسی بھی عورت کے کردار کی خوبیوں کوجانچ کر اسے پارسا قرار دینا بہت مشکل کام ہے، تو مجھے اس بات کی صداقت پر فوراً یقین آگیا تھا۔

دراصل آیت و روایت کی کشاکش میں پھنسے ہمارے اس معاشرے میں بعض اوقات عورت کویہ ثابت کرنے کے لےے کہ وہ ’’پارسا‘‘ ہے بہت سی قربانیاں دینا پڑتی ہیں اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ ان قربانیوں کے بعد بھی اس کا کردار ارد گرد رہنے والے لوگوں کے لےے مشکوک ہوجاتا ہے۔

مجھے امید ہے کہ اگر آپ سے یہ سوال پوچھا جائے کہ پارسا عورت کیسی ہوتی ہے تو جواب ہوگا۔

’’وہ عورت جو اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے اپنے شوہر سے وفادار رہ کر اپنی ذمہ داریاں نبھاتی ہے۔ وہی پارسا ہے۔‘‘

یہی کہیں گے نا آپ۔۔۔ ہے نا مگر میں ثابت کر سکتی ہوں کہ بعض اوقات یہ تعریف ’’جامع‘‘ ثابت نہیں ہوتی۔ ہوسکتا ہے آپ میری بات سے اتفاق نہ کریں مگر میں ثابت کر سکتی ہوں کہ ایسا ہوتا ہے۔

دراصل ہمارے معاشرے میں جو چیز عورت کے لےے ’’ناجائز‘‘ سمجھی جاتی ہے وہی چیز مرد کے لےے ’’جائز‘‘ ہوجاتی ہے۔ حالانکہ قرآن و حدیث میں ہر چیز کے واضح احکامات موجود ہیں۔ مگر پھر بھی نہ جانے کیوں حق تلفی ہوجاتی ہے اور یہی ’’حق تلفی‘‘ ہم میں سے بہت سے لوگوں کی زندگیوں میں ایک خلا پیدا کر دیتی ہے اسی خلا کو پَر کرنے کے لےے بعض اوقات ہم کچھ غلطیاں کر جاتے ہیں جنہیں خدا تو معاف کر دیتا ہے مگر یہ معاشرہ معاف نہیں کرتا۔

ایسے بات کہاں سمجھ میں آئے گی۔ میرا خیال ہے مجھے آپ کو جزئیات کے ساتھ بتانا پڑے گا۔ تب ہی آپ کو بات سمجھ میں آسکے گی۔

مجھے سوچنے دیجےے کہ میں بات کہاں سے شروع کروں۔ ہاں میں بتاتی ہوں، یہ قصہ شروع ہوا ایک رات جب۔۔۔

’’ردا! فریج سے بریڈ لے کر آئو۔‘‘

اسفند نے پہلا لقمہ لیتے ہی سامنے بیٹھی ردا سے کہا تھا۔ میں نے چونک کر ان کی جانب دیکھا۔ چہرے کے تاثرات اتنہائی نارمل تھے۔ ہمیشہ کی طرح چہرے کے تاثرات سے مزاج کے درجہ حرارت کا قطعاً پتا نہیں چل رہا تھا۔ یا شاید مجھے ہی اب تک یہ گر نہ آسکا تھا کہ مجازی خدا کے ماتھے کی شکنیں گن کر اور آنکھوں کے رنگ کو بھانپ کر ان کے دل کی کیفیت سمجھ سکتی، وہ ارد گرد سے یکسر بے نیاز مجھے نظر انداز کےے گھونٹ گھونٹ پانی پینے میں مصروف تھے۔ اور ان کی یہی ادا مجھے باور کروا رہی تھی کہ یقینا مجھ سے کوئی خطا سر زد ہوچکی ہے جو میرے سرتاج کو ناگوار گزری ہے۔ میں نے گہری سانس بھر کر ٹیبل پر رکھی چکن فرائڈ رائس کی ڈش کی جانب دیکھا۔ رنگ برنگے فرائڈ رائس اپنی ناقدری پر ماتم کناں تھے۔ اسفند نے بریڈ منگوائی تھی یعنی انہیں چاول نہیں چاہےے تھے۔ جب کہ بریڈ صبح ہی ختم ہوگئی تھی۔

’’اسفند! بریڈ نہیں ہے۔۔۔ آج ماسی کا چھوٹا بیٹا بھی ساتھ تھا۔ ڈیڑھ دو سال کا ہے۔ بھوکا تھا بے چارہ۔۔۔ ناشتے میں جو سلائسز بچ گئے تھے وہ میں نے اسے دے دےے تھے۔‘‘

میں نے اسفند کے سپاٹ چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ اسی اثنا میں تیرہ سالہ ردا بھی پونی جھلاتی نفی میں سر ہلاتی واپس آگئی۔

’’بریڈ نہیں ہے چاچو!‘‘ اس نے میری توقع کے مطابق جواب دیا تھا۔

’’آپ رائس کیوں نہیں لے رہے۔۔۔؟ اچھے نہیں لگے کیا؟ میں نے بہت دل لگا کر بنائے تھے۔‘‘ میں نے سادہ سے لہجے میں پوچھا۔ مجھے ’’کچھ‘‘ تو کہنا ہی تھا۔ حالانکہ صورت حال میرے لےے نئی نہیں تھی۔ اسفند کا مزاج ایسا ہی تھا کہ مجھے اس کی عادت نہ ہوسکی تھی۔ اسفند کی خفگی ان کی خاموشی کی صورت میں ظاہر ہوتی تھی۔ اگر چہ وہ پہلے بھی کچھ زیادہ ہی خاموش طبع واقع ہوئے تھے۔ مگر خفگی میں تو کچھ زیادہ ہی خاموش ہوجاتے تھے۔ اگر بولنے کی ضرورت بھی محسوس ہوتی تھی تو جلی کٹی سنانے پر اکتفا کرتے۔ مجھے ان کے ساتھ آٹھ سال ایک ہی چھت تلے گزار کر بھی ان کی اس عادت کو سہنا نہیں آیا تھا۔ اب بھی میری جان پر بن آئی جب اسفندنے کچھ کہے بغیر پانی کا ایک اور گلاس لبالب بھر کر منہ سے لگالیا۔ جب کہ میں گلاس خالی ہونے تک ان ہی کی جانب دیکھتی رہی۔ ردا اپنی پلیٹ میں چاول نکال چکی تھی۔ مگر وہ منتظر نگاہوں سے ہماری جانب دیکھ رہی تھی۔ اسفند کو شاید اسی پر ترس آیا تھا۔

’’آپ لوگ شروع کیجےے پلیز۔۔۔ میرا موڈ نہیں ہے۔‘‘

انہوں نے سلاد والی پلیٹ اپنی جانب کی اور ایک ہی فقرے میں مجھے چاروں شانے چت کر دیا۔

آج تقریباً چار دن بعد وہ گھر میں ڈنر کر رہے تھے، اور آج ہی ڈنر انہیں پسند نہیں آیا تھا۔

’’کیوں۔۔۔؟ کیا ہوا۔۔۔؟ موڈ کیوں نہیں ہے؟ طبیعت تو ٹھیک ہے۔ چپاتی بنوادوں؟ آج دوپہر میں خان نے چکن کڑاہی بنائی تھی۔ ہم کھانے والے کتنے ہیں۔۔۔ آپ تو لنچ پر ہوتے نہیں ہیں۔ یہ ردا بھی اسکول سے برگر کھا آئی تھی۔ اس نے بھی لنچ نہیں کیا۔ مجھے تو آپ جانتے ہی ہیں۔۔۔ اتنی بڑی میز پر اکیلے بیٹھ کر مجھ سے دانہ بھی نہیں نگلا جاتا۔ تو بس چکن کڑاہی ویسے کی ویسے پڑی ہے۔ وہ گرم کر لائوں۔۔۔ تازہ چپاتی کے ساتھ۔۔۔ میں خود بنا لاتی ہوں۔‘‘

میں نے بہت امید بھرے لہجے میں ان سے پوچھا تھا، جب کہ وہ اب بھی بے رخی کا لبادہ اوڑھے سلاد کی پلیٹ میں سے ٹماٹر کے قتلے چن چن کر کھانے میں مصروف تھے۔ ردا نے تو فوراً کھانا شروع کر دیا تھا۔ مگر میں منتظر تھی کہ اسفند اثبات میں سر ہلائیں تو چپاتی بنالائوں۔ چکن کڑاہی انہیں پسند بھی تھی۔

’’ردا! تمہاری اسٹڈی کیسی چل رہی ہیں؟‘‘ وہ ردا کی طرف متوجہ ہوچکے تھے۔ میری بات گویا انہوں نے سنی ہی نہیں تھی۔

’’ایک دم پرفیکٹ چاچو! اس دفعہ سب میں گریڈ پلس اے لائوں گی۔ چاچی بہت اچھی طرح گائیڈ کرتی ہیں۔ علی سے زیادہ اچھے گریڈز ہوں گے اس بار میرے۔‘‘

وہ پرجوش لہجے میں بولی تھی۔ اپنی تعریف پر میں نے پھر اسفند کی جانب دیکھا کہ شاید اب کی بار میری طرف مسکرا کر دیکھیں اور سراہیں گے مگر میری توقع کے برخلاف وہ سابقہ انداز میں لا تعلق بیٹھے تماٹر ٹونگنے میں مصروف رہے۔ میں نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا کہ آج سلاد میں ٹماٹر زیادہ موجود تھے، ورنہ شاید اسفند ڈائننگ ٹیبل سے بھوکے اٹھ جاتے۔

’’تمہارے پاپا کا فون آیا تھا۔ وہ سب تمہیں بہت مس کر رہے ہیں۔ ولی تمہارے بغیر بہت اداس ہوگیا ہے۔ کل شام ریڈی رہنا، میں تمہیں ڈراپ کردوں گا۔‘‘

اسفند نے اپنے مخصوص لہجے میں حکم سنایا تھا۔ ردا نے ایک نظر اسفند کی طرف دیکھا پھر امید بھری نظروں سے میری جانب دیکھنے لگی۔ میں نے نظریں چرالیں۔ اس کی بات میں سمجھ تو گئی تھی مگر فی الحال میں ’’چپاتی‘‘ اور ’’چکن کڑاہی‘‘ کی پہیلی ہی بوجھ نہیں پائی تھی تو اس کی مدد کیا کرتی۔

’’چاچو! کل نہیں پلیز۔۔۔ ابھی تھوڑے دن اور رہنے دیں نا مجھے یہاں۔۔۔ مجھے یہاں بہت مزا آتا ہے چاچی کے ساتھ۔‘‘

اس نے بے دلی سے چاول کھاتے ہوئے اپنا مدعا بیان کیا تھا۔

’’اپنی چاچی کے ساتھ زیادہ دن رہو گی تو انہی کی طرح ڈل، بے کار اور بورنگ ہوجائو گی۔‘‘

اسفند نے میری طرف دیکھے بغیر کہا۔ میرا دل پھر سلگ کر رہ گیا۔ اسفند کو نہ جانے کیوں میری ہر بات پر اعتراض ہونے لگا تھا جبکہ میں ہزار کوشش کے باوجود اب تک خود کو ان کی مرضی کے سانچے میں ڈھال نہیں پائی تھی۔

’’جی نہیں۔۔۔ چاچی از دا بیسٹ۔۔۔ میری سب فرینڈز کہتی ہیں کہ تمہاری چاچی بہت پریٹی اور نائس ہیں۔ ‘‘

وہ فوراً بولی تھی۔ اسفند کے چہرے پر مسکراہٹ کی ہلکی سی رمق ابھری اور پھر آناً فاناً غائب ہوگئی۔ میں مسکرا بھی نہ سکی۔ اسفند نے ردا کی بات کی تردید یا تائید کرنے کے بجائے میری جانب رخ موڑتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں بولے۔

’’تم بینک گئی تھیں؟‘‘

’’اوہ۔۔۔ میں تو بھول ہی گئی۔ بالکل بھول گئی۔‘‘ میں پیشانی پر ہاتھ مار کر بولی۔ اسفند نے ردا کی جانب دیکھا، گویا جتار ہے ہوں کہ ’’دیکھ لی اپنی چاچی کی سستی۔‘‘

’’آئی ایم رئیلی ویری سوری اسفند! ذہن سے ہی نکل گیا۔۔۔ بس میں صبح وارڈ روب کھول کر بیٹھ گئی۔۔ موسم تبدیل ہورہا ہے نا۔۔۔ میں نے سوچا گرمیوں کے کپڑے رکھ کر شیفون اور جارجٹ وغیرہ نکال لوں۔ اس کے بعد بینک چلی جائوں گی مگر کپڑوں کا اتنا پھیلاوا ہوگیا کہ سمیٹتے سمیٹتے میرے ذہن سے نکل گیا کہ مجھے بینک جانا تھا۔ ۔۔ آئی ایم سوری اسفند۔۔۔ ان شائ اللہ کل چلی جائوں گی۔‘‘

میں نے جلدی سے وضاحت کی۔ اسفند کے مزاج کیوں نہیں مل رہے تھے۔ مجھے بخوبی سمجھ میں آگیا تھا۔

’’کل چلی جائوں گی۔ یہ بات تو میں گزشتہ کئی دن سے سن رہا ہوں۔ نجانے وہ کون سی مبارک ’’کل‘‘ہوگی جب تم اپنے سب کام وقت پر نمٹائو گی۔۔۔ کہاں ہے وہ چپاتی جو تم میرے لےے اپنے ہاتھوں سے بنانے والی تھیں۔‘‘

’’وہ‘‘ بینک سے ایک دم ’’کچن‘‘ کی طرف آگئے۔ میرا دل چاہا سر پیٹ لوں مگر اپنا نہیں، اسفند کا کیونکہ اگر میں سست تھی تو اس کے ذمہ دار بھی وہی تھے۔ ہر کام میں عجلت کا مظاہرہ کرنا ان کی عادت اور اسی عجلت میں میرے سب کام بگاڑ دینا ان کا شوق تھا۔ جب میں چپاتی بنانے کے لےے ان کی مرضی پوچھ رہی تھی تو وہ خاموشی سے ٹماٹر کھارہے تھے اور جب میں یہ سوچ کر چاول اپنی پلیٹ میں نکالنے کا سوچ رہی تھی کہ انہیں چپاتی نہیں کھانی تو انہوں نے چپاتی کے متعلق پوچھ لیا۔

’’میں ابھی بنا لیتی ہوں۔ بس پانچ منٹ لگیں گے۔‘‘ میں فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔ دل ہی دل میں اسفند کے ساتھ ساتھ خود پر بھی غصہ آیا کہ پہلے ہی کیوں نہ اٹھ گئی۔ کچن میں آکر بھی میں خود کو کوستی رہی کہ میں اس قدر سستی کا مظاہرہ کیوں کرتی ہوں کہ ہر بار اسفند کو مجھے ٹوکنا پڑتا ہے۔ چپاتی بنانے میں واقعی پانچ منٹ لگے تھے اور اس دوران میں نے خود سے پچاس مرتبہ عہد کیا تھا کہ اب اسفند کے کسی کام میں کوتاہی نہیں کروں گی۔

’’چاچو کہہ رہے ہیں، اب ان کی بھوک ختم ہوگئی ہے۔۔۔ کہہ رہے تھے نو بجے کافی اسٹڈی میں دے دیں۔۔۔ انہیں کمپیوٹر پر کچھ کام ہے۔‘‘

ڈائننگ روم میں داخل ہوتے ہی مجھے پتا چل گیا تھا کہ اسفند وہاں موجود نہیں ہیں مگر ردا کے منہ سے اسفند کا پیغام سن کر میرا دماغ گھوم گیا تھا۔

’’ہاں تو مجھے نظر آرہا ہے کہ تمہارے چاچو ڈائنگ روم سے تشریف لے جاچکے ہیں۔ اس کا یہی مطلب ہے کہ ان کی بھوک ختم ہوگئی ہے۔۔۔ اور مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ انہیں کمپیوٹر پر کچھ کام ہے۔۔۔ وہ جب بھی گھر پر ہوتے ہیں، انہیں سارا وقت کمپوٹر پر ہی کام ہوتا ہے۔۔۔ مجھے تو وال کلاک کی طرح دیوار پہ لٹکانے کے لےے میرے ماں باپ کے گھر سے لائے تھے۔۔۔ تم اپنا ڈنر ختم کرو۔‘‘

میں نے جل کر کہا تھا۔ ردا اتنی چھوٹی بھی نہیں تھی کہ میری خفگی کو محسوس نہ کرتی۔ میرا مسئلہ یہ تھا کہ مجھے فوراً اپنی غلطی کا احساس ہوجاتا تھا۔ ردا کا لٹکا ہوا منہ دیکھ کر بھی میرا دل کٹنے لگا۔

’’میں بھی کتنی پاگل ہوں، اسفند کا غصہ ردا پر نکالنے کی کیا ضرورت تھی بھلا؟‘‘ میں نے دل میں سوچا تھا۔

’’جلدی جلدی کھائو نا پھر واک کے لےے چلتے ہیں۔۔۔ آئس کریم بھی کھائیں گے۔‘‘

اس کے مزاج کو خوشگوار بنانے کے لےے میں نے کہا تھا پھر میں اس کی سہیلیوں کی باتیں کرنے لگی۔ اس کا موڈ چند لمحوں میں ہی شگفتہ ہوگیا تھا اور ایک بار پھر میں نے کئی دن کی جمع کی ہوئی باتیں اپنے دل میں دفن کر لیں جو مجھے اسفند سے کرنی تھیںکیونکہ اسفند کو کمپیوٹر پر کام کرنا تھا نا۔

٭٭٭

’’اچھا ہوا آپ خود آگئیں، ورنہ میں آپ کو فون کرنے والا تھا۔‘‘ بینک منیجر رانا صاحب مجھے اپنے کیبن میں داخل ہوتا دیکھ کر بولے۔ ان کی میز پر ہمیشہ کی طرح فائلز کا ڈھیر لگا تھا اور فون کی گھنٹی بھی مسلس بج رہی تھی۔ مجھے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے ریسیور اٹھالیا۔ راناصاحب کے ساتھ ہمارے پرانے فیملی ٹرمز تھے۔ میرے سَسر جب حیات تھے، تب سے ہماری ساری کاروباری لین دین انہی کے بینک کے ذریعے ہوتی آئی تھی۔ اسی وجہ سے ہمارے اور ان کے مراسم کی نوعیت کافی دوستانہ تھی، اکثر فیملی گیٹ ٹو گیدرز میں ان سے ملاقات رہتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ میں جب بھی بینک آتی تھی، کلرک، کیشئر اور اکائونٹنٹ کے چکر میں پڑے بغیر سیدھی ان کے کمرے میں آجاتی تھی۔

’’خیریت۔۔۔ لگتا ہے کوئی نئی غزل موزوں کی ہے آپ نے اور آپ کو اب تک کوئی سامع نہیں ملا، تب ہی مجھے کال کرنے والے تھے آپ۔‘‘

انہیں ریسور کریڈل پر رکھتا دیکھ کر میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ وہ انتہائی خوش مزاج، خوش گفتار اور زبردست شاعرانہ ذوق رکھنے والے آدمی تھے۔ میری بات پر انہوں نے قہقہہ لگایا۔

’’ارے یشفیٰ بی بی! ہم سے کیا پوچھتی ہیں، ہمارا تو وہی حال ہے کہ اندھوں کے شہر میں آئینے بیچ رہے ہیں۔ اچھے بھلے شاعر آدمی کو حکومت پاکستان نے منشی نما عہدہ دے کر کرسی پر بٹھا دیا ہے۔ اس بری طرح سے دو اور دو چار کے چکر میں الجھے ہیں کہ غزل و نظم سب خواب ہو کر رہ گیا ہے۔‘‘

انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے ہوئے کہا تھا، میں ان کے اس شکوے پر مسکرائی۔

’’ارے رانا صاحب! پتا بھی ہے آج کل شاعر و ادیب کس بھائو بکتے ہیں۔ آپ تو اس عہدے کو انڈر اسٹی میٹ مت کیجےے۔ قسمت والوں کو ملتی ہے یہ کرسی۔۔ کہ اسی کرسی پر بیٹھنے کے لوگ خواب دیکھا کرتے ہیں۔‘‘

میں نے مسکراتے ہوئے کہا تھا مگر وہ سنجیدہ ہوگئے۔ میز پر رکھے گلاسز آنکھوں پر ٹکاتے ہوئے بولے۔

’’یہ کرسی تو دور کے ڈھول سہانے والا معاملہ ہی سمجھیں۔ شاعر و ادیب ہونے میں جان نہیں ہلکان کرنی پڑتی جبکہ یہ کرسی تو خون نچوڑ لیتی ہے۔ انتہائی ذمہ دارانہ پوسٹ ہے۔۔۔ صرف دیکھنے میں ایسا لگتا ہے کہ ایک بینک منیجر بادشاہ ہے اور عیش کر رہاہے مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ بینک منیجر کو بھی آپ بینک کا چپڑاسی ہی سمجھئے۔۔۔ آپ جیسے لوگوں کا خادم۔۔۔ پبلک سرونٹ۔۔۔‘‘

وہ نہایت سنجیدہ انداز میں کہہ رہے تھے۔ مجھے دل ہی دل میں بے حد شرمندگی ہوئی۔ ان کے طنز مجھے کچھ کچھ سمجھ میں آرہے تھے۔

دراصل گزشتہ دو تین دن سے میرا بینک وزٹ پینڈنگ کا شکار ہورہا تھا۔ میرا اور اسفند کا ایک جوائنٹ اکائونٹ بھی تھا جس میں ہر ماہ ایک خطیر رقم جمع ہوتی تھی بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ہماری فرم کا تمام تر نفع اسی اکائونٹ میں جمع ہوتا تھا اور اس کے علاوہ اس اکائونٹ کے کچھ مقاصد تھے جن کے بارے میں اسفند زیادہ بہتر جانتے تھے۔ مجھے تو صرف دو چار دستخط کرنے تھے مگر میں بینک آ نہیں پائی تھی، اسی لےے مجھے ایسا لگا کہ رانا صاحب کے طنز کے ان تیروں کا رخ میری ہی جانب ہے۔ میں معذرت کرنے کے لےے الفاظ ڈھونڈ ہی رہی تھی کہ فون کی گھنٹی پھر بج اٹھی۔ اب کی بار انہوں نے تقریباً دس منٹ بات کی، اسی اثنائ میں چائے بھی آگئی۔ میں چائے بنانے لگی تھی۔ تھوڑی دیر بعد ریسیور واپس کریڈل پر رکھ کر انہوں نے گہرا سانس بھرا پھر مسکرا کر بولے۔

’’خیر۔۔۔۔ بات کہاں سے کہاں چلی گئی۔ میں اصل مسئلے کی طرف آتا ہوں دراصل پرسوں آپ کے اکائونٹ میں تقریباً ساڑھے بارہ لاکھ کی امائونٹ جمع ہوا ہے۔‘‘

انہوں نے توقف کیا اور چائے کا کپ منہ سے لگالیا۔ مجھے ان کے انداز پر ہنسی آگئی۔ اتنی بڑی امائونٹ ہمارے اکائونٹ میں جمع ہوئی تھی تو یہ خوشی کی بات تھی اور یہ سب اسفند کی محنت کا صلہ تھا۔ گزشتہ کچھ سالوں سے انہیں بزنس میں بہت زیادہ منافع ہونے لگا تھا۔ میری ساس کہتی تھیں کہ یہ سب مجھ سے شادی کا نتیجہ ہے جو دولت اسفند پر بارش کی طرح برس رہی ہے۔

’’اور مسئلہ یہ ہے کہ یہ امائونٹ آپ کا نہیں ہے۔‘‘انہوں نے ایک شوشہ چھوڑا۔

’’رانا صاحب! مجھے آپ کی باتیں سمجھ میں نہیں آرہیں۔‘‘ میں نے ہاتھ میں پکڑا چائے کا کپ میز پر رکھ کر اکتاہٹ سے کہا۔

’’ہمارے ایک بہت اچھے کلائنٹ ہیں۔۔۔ حیدر رضا۔۔۔ یہ امائونٹ دراصل ان کا ہے۔ ایک چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے یہ امائونٹ ان کے بجائے آپ کے اکائونٹ میں جمع ہوگیا۔ آپ کا اکائونٹ نمبر 3313-2 جبکہ حیدر رضا کا اکائونٹ نمبر 3313-3 ہے۔ کراچی سے یہ رقم 3313-3 میں بھجوائی جانی تھی جبکہ ایک ڈیجٹ کی غلطی یہ سے رقم 3313-2 میں منتقل ہوگئی۔ اب یہ آپ کی یا حیدر رضا صاحب کی غلطی نہیں ہے، یہ بینک کی غلطی ہے۔ ایسی غلطیاں ہوجاتی ہیں کبھی کبھی۔ اس میں پریشانی کی بات نہیں ہے۔‘‘

وہ پھر لمحہ بھر کے لےے رکے۔

’’اس کا طریقۂ کار بہت سادہ ہے۔ حیدر صاحب سے میری بات ہوچکی ہے۔ ان کے پاس رسید وغیرہ سب کچھ موجود ہے۔ وہ ایک درخواست لکھیں گے اور ان کا مسئلہ حل ہوجائے گا مگر اس میں کچھ دن لگ جائیںگے اور حیدر صاحب کو اس رقم کی آج ہی اشد ضرورت ہے۔ اب اگر آپ براہ مہربانی ایک چیک کاٹ دیں تو حیدر صاحب خود کیش وصول کرلیں گے اور اس کے بعد ہم خود ریکارڈ کی درستی وغیرہ کرلیں گے۔ آپ میری بات سمجھ رہی ہیں نا یشفیٰ بی بی۔‘‘

مجھے ان کی بات سمجھ میں آگئی تھی مگر میں نے کبھی ایک ہزار روپے کا چیک نہیں کاٹا تھا تو پھر اتنی بڑی امائونٹ کا چیک کیسے کاٹ دیتی اور وہ بھی اسفند سے پوچھے بغیر تو ممکن ہی نہیں تھا۔

’’جی وہ تو ٹھیک ہے۔۔۔ میں سمجھ رہی ہوں رانا صاحب! مگر۔۔۔ دراصل ایسے معاملات اسفند ہی سنبھالتے ہیں۔۔۔ میں تو۔۔۔‘‘

میں جھجکی تو رانا صاحب کھل کر مسکرائے۔

’’ہاں وہ تو میں جانتا ہوں مگر یہ جوائنٹ اکائونٹ ہے نا اور پھر آپ چیک کاٹیں یا اسفند صاحب بات تو ایک ہی ہے۔۔۔ خیر۔۔۔ ایسا کرتے ہیں ان کے آفس فون کر لیتے ہیں۔‘‘ وہ پرسوچ انداز میں بولے۔

اسفند کا فون نمبر ان کے پاس موجود تھا۔ چند لمحوں بعد ہی اسفند کی اجازت سے میں نے چیک کاٹ دیا تھا۔ اس کے بعد مطلوبہ پیپرز پر سائن کرنے کے بعد میں ڈرائیور کے ساتھ گھر آگئی تھی لیکن ایک بار پھر میرا مزاج کسی قدر برہم ہوگیا تھا۔ میرے کانوں میں اسفندکا جملہ گونجتا رہا تھا جو انہوں نے فون پر مجھ سے کہا تھا۔

’’اس قدر لاچار کیوں ہوتی جارہی ہو تم یشفیٰ! حد ہوگئی، یعنی تم ایک چیک نہیں کاٹ سکتیں۔‘‘

٭٭٭

’’حیدر رضا صاحب ذاتی طور پر آپ لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ بینک وزٹ کے تقریباً ہفتہ بھر بعد کی بات ہے جب رانا صاحب نے مجھے فون کر کے پیغام دیا تھا۔

’’تو کرنے دیجےے۔۔۔ ہم کب روک رہے ہیں۔‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے خوش مزاجی سے کہا تھا۔ اس روز میرا موڈ بہت ہشاش بشاش تھا۔ اسفند صبح بائی روڈ اسلام آباد کے لےے نکلے تھے۔ جانے سے پہلے جس طرح انہوں نے مجھے اپنے ساتھ لگا کر میری پیشانی چوم کر مجھے اپنا خیال رکھنے کی تلقین کی تھی، اس لمحہ بھر کی محبت نے مجھ پر طاری کئی دن کی کلفت و بے زاری کو اڑن چھو کر دیا تھا۔ مجھے ہر چیز ناچتی، گاتی، گنگناتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔

’’وہ آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں آپ کا فون نمبر چاہےے۔ آپ کی اجازت ہو تو دے دوں؟‘‘

دوسری طرف رانا صاحب کی قدرے بے زار آواز سنائی دی۔ سیدھے ہاتھ سے ریسیور کانوں کو لگائے اور بائیں ہاتھ سے اپنی زلفوں سے چھیڑ چھاڑ کرتی میں کسی قدر کوفت میں مبتلا ہوئی تھی۔ نئے نئے لوگوں سے ملنے سے ویسے بھی میں بہت کتراتی تھی اور پھر اس قسم کی ملاقات جس میں بے وجہ فارمل ہو کر ’’اٹس اوکے، نو پرابلم،مائی پلیژر‘‘ اور ’’ویلکم‘‘ جیسے جملوںکی گردان سننی پڑتی تھی۔ مجھے کچھ خاص پسند نہیں تھی۔

’’رانا صاحب! اسفند تو گھر پر نہیں ہیں، وہ دو روز کے لےے اسلام آباد گئے ہیں۔‘‘

میں نے ناک چڑھا کر کہا۔

’جی وہ تو میں جانتا ہوں۔۔۔‘‘ وہ اتنا کہہ کر خاموش ہوگئے۔ ان کا موڈ آج کچھ آف لگ رہا تھا۔

’’آپ ہماری طرف سے ایکسکیوز کر لیجےے۔ اسفند واپس آئیں گے تو خود حیدر صاحب سے مل لیں گے۔‘‘ میں نے انہیں ٹالنا چاہا۔

’’آپ بھی حد کرتی ہیں یشفیٰ! میں ایسا کیسے کہہ سکتا ہوں۔ یہ بہت نا مناسب لگتا ہے اور پھر وہ فقط شکریہ ہی تو اد ا کرنا چاہ رہے ہیں۔ انہوں نے تو مجھ سے اسی روز آپ کا فون نمبر مانگا تھا مگر چونکہ میں نے آپ سے پوچھا نہیں تھا، اس لےے انہیں ٹال دیا۔ اب آج پھر ان کا فون آیا ہے۔ پہلے میں نے اسفند کے آفس کا نمبر دیا تھا مگر وہاں سے پتا چلا کہ وہ لاہور سے باہر ہیں۔ اس بندۂ خدا نے مجھے پھر فون کیا اور درخواست کی کہ اگر اسفند صاحب کی اہلیہ سے بات ہوجائے تو وہ کم از کم ایک بار اپنے منہ سے شکریہ تو کہہ دیں۔‘‘ وہ کسی قدر ڈپٹ کر بولے۔ یہ بھی ان کی اپنائیت کا ایک انداز تھا۔ میں خاموش رہی تھی۔

’’اب آپ خود ہی بتائےے کہ کیا یہ مناسب لگتا ہے کہ ہم اس شخص کوایک بار پھر ٹال دیں۔‘‘

انہوں نے جیسے مجھے سمجھانے کے لےے آخری حربہ آزمایا تھا۔ میں پھر بھی خاموش رہی۔ دراصل اسفند سے ذکر کےے بغیر ایسے کسی اجنبی شخص سے ملنا مجھے کچھ عجیب لگ رہا تھا۔ اگر چہ اسفند کی طرف سے مجھے کوئی روک ٹوک نہیں تھی مگر بس عادت تھی کہ ہر بات میں پہلے اسفند سے رائے لیتی پھر کوئی قدم اٹھاتی تھی۔

’’اوکے ایز یو وش۔ اگر آپ سمجھتی ہیں کہ اس شخص سے نہ ملنا ہی بہتر ہے تو میں اسے کوئی بہانا بنا کر ٹال دیتا ہوں۔‘‘ میری خاموشی کومیرا انکار سمجھ کر رانا صاحب نے پھر کہا تھا۔

’’کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ میں ان سے فون پر بات کرلوں۔ اگر انہیں باقاعدہ ملاقات کرنی ہوگی تو وہ اسفند کی واپسی پر بھی ہوسکتی ہے؟‘‘

میں نے مسئلے کا حل نکالا۔ رانا صاحب کی ٹھنڈی آہ سنائی دی تھی اور ساتھ ہی آواز بھی۔

’’یعنی آپ کے خیال میں اتنی دیر سے میں اور کیا کہہ رہا تھا۔ یہی تو میں کہہ رہا تھا۔‘‘

’’اچھا۔۔۔ میں سمجھی آپ ملاقات کا کہہ رہے تھے۔‘‘ میں اپنی حماقت پر خود ہی مسکرائی۔

’’آج آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی مجھے۔‘‘ رانا صاحب کی آواز میں اس دوران پہلی بار بشاشت کی جھلک محسوس ہوئی تھی۔ مجھے ایک دم ہنسی آگئی آج مجھے بات بے بات ہنسی آرہی تھی۔

’’آپ کے جو دل میں آئے کہہ لیجےے رانا صاحب! ایسا ہوجاتا ہے کبھی کبھی۔ نیوٹن کو اللہ نے اعلا پائے کا دماغ دیا تھا مگر اس سے بھی حماقتیں سر زد ہوجاتی تھیں اور حماقتیں بھی ایسی کہ لوگ انہیں لطائف کی طرح ایک دوسرے کو سناتے پھرتے ہیں۔‘‘

میں نے ایک بار پھر بشاش لہجے میں کہا تھا۔

’’آپ کی ایک صلاحیت کا تو میں بھی معترف ہوں۔‘‘ رانا صاحب کی آواز سنائی دی تھی۔ ساری گفتگو میں پہلی بار مجھے ان کے لہجے میں وہ مخصوص کھنک محسوس ہوئی تھی جو جتا رہی تھی کہ اب وہ مجھے کوئی کرارا سا جواب دےنے والے ہیں۔

’’ایک چھوٹی سی بات سمجھنے میں بھی بندے کا آدھا دماغ تو خرچ کرواہی دیتی ہیں آپ۔۔ اس کے باوجود اگر اسفند صاحب جیسا شاندار بندہ آپ کے ساتھ گزارا کر رہا ہے تو یہ یقینا آپ کی کسی انوکھی صلاحیت کی بنا پر ہے اور میں آپ کی اسی صلاحیت کا معترف ہوں۔‘‘

’’آپ کا حسنِ نظر ہے جناب! ورنہ بندی کس قابل ہے۔‘‘ میری بات پر انہوں نے قہقہہ لگایا۔

’’میں آپ سے باتوں میں نہیں جیت سکتا۔ تو پھر کیا کہتی ہیں آپ۔۔۔ دے دوں نمبر؟‘‘ انہوں نے ایک بار پھر پوچھا تھا۔

’’جی جی ضرور۔۔۔‘‘

میں نے فون بند کرنے سے پہلے کہا۔ اس کے بعد ماسی آگئی تو میں اس سے صفائی وغیرہ کروانے میں مگن ہوگئی۔ بہت دن سے سارے وجود پر جیسے برف سی جمی ہوئی تھی۔ آج وہ برف پگھلی ہوئی محسوس ہورہی تھی، اسی لےے میرے مزاج میں رنگینی سی چھائی ہوئی تھی۔ میں ڈریسنگ ٹیبل پر پڑے لپ اسٹک کے ذخیرے میں سے پرانی اور ختم ہوتی ہوئی لپ اسٹکس نکال رہی تھی جب فون کی گھنٹی دوبارہ بجی۔

ٹیلی فون ریسیور کان سے لگاتے ہی بھاری مردانہ، بے حد شائستہ آواز سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔ مجھے پہچاننے میں دیر نہیں لگی کہ یہ حیدر صاحب ہیں۔

’’جی بات کر رہی ہوں۔ اگر میں غلطی پر نہیں ہوں تو آپ مسٹر حیدر ہیں۔‘‘ میں نے بھی اپنی آواز میں شائستگی سمونے کی کوشش کی۔

’’خیریت سے ہیں آپ؟‘‘ دوسرا سوال پوچھا گیا۔

’’جی، شکر ہے اللہ کا۔‘‘ میں نے بھی رسم نبھائی۔

’’میں معافی چاہتا ہوں آپ کو اس وقت ڈسٹرب کیا۔ ایک ہائوس وائف کے لےے یہ ٹائم یقینا بہت قیمتی ہوتا ہے۔‘‘

(دہت تیرے کی۔ یعنی آپ کو فقط آواز سن کر پتا چل گیا کہ میں ہائوس وائف ہوں۔ ارے بھئی ایسی کون سی کائی جم جاتی ہے ہائوس وائف کی آواز پر کہ سماعتوں سے ٹکراتے ہی اندازہ ہوجاتا ہے۔) یہ باتیں میں نے دل میں سوچی تھیں۔ جبکہ وہ میری خاموشی سے فائدہ اٹھا کر مزید فارمل ہوگیا۔

’’میں دراصل آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہ رہا تھا، آپ کو رانا صاحب نے یقینا بتایا ہوگا۔ بہت مہربانی کی آپ نے۔۔۔ اگر آپ اس دن کیش فراہم نہیں کرتے تو میرے لےے بہت پرابلم ہوجاتا۔ وہ روپے میرے ورکرز کی ایک مہینے کی محنت کا صلہ تھے اور ان کی تنخواہوں کی ادائیگی بھی میں نے اسی رقم سے کرنا تھی۔ ایک دن بھی سیلری ملنے میں دیر ہوجائے تو بہت سے گھروں کا ایک دن کا چولہا نہیں جلتا اور بینک والے مجھ سے ایک ہفتہ تاخیر کی بات کر رہے تھے۔ یقین کیجےے، میں صرف فارمیلیٹی نہیں نبھا رہا بلکہ میں دل سے آپ لوگوں کا شکر گزار ہوں۔‘‘

اس کے لہجے سے سچائی کی مہک آرہی تھی۔ میرا دل ایک دم نرم پڑ گیا۔

’’آپ مجھے شرمندہ کر رہے ہیں مسٹر حیدر۔۔ ہم نے ایسا کچھ نہیں کیا کہ آپ کو اتنا شکر گزار ہونا پڑے۔ وہ رقم آپ کی تھی اور آپ کو ہی ملنی تھی۔ آپ اس قدر فارمل نہ ہوں۔ دنیا میں انسان ہی انسان کے کام آتے ہیں۔ ہم نے کوئی انوکھا کام نہیں کیا۔‘‘

اس کے مہذب لہجے اور لفظوں کے خوب صورت چنائو نے مجھے بھی مجبور کر دیا تھا کہ میں بھی بہت سلیقے سے گفتگو کروں۔

’’یہ آپ کا بڑا پن ہے مسز اسفند! ورنہ اس دنیا میں انسان دوسرے انسان کے کس قدر کام آرہا ہے، یہ کوئی ایسی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ بہر حال آپ اسفند صاحب کو بھی میری طرف سے شکریہ کہہ دیجےے گا۔ وہ اسلام آباد سے واپس آجائیں پھر ان شائ اللہ تفصیلی ملاقات ہوگی۔‘‘

اس کے آخری جملے پر میں نے ناک چڑھائی تھی۔ مجھے بے وجہ کمبل ہوجانے والے لوگ کبھی بھی اچھے نہیں لگے تھے۔ اس شخص نے مزید کچھ رسمی قسم کی باتوں کے بعد فون بند کر دیا۔ اس کے بعد میں بھی اپنے کاموں میں مگن ہوگئی تھی۔ یہ حیدر رضا سے ٹیلی فون کے ذریعے ہونے والا میرا پہلا رابطہ تھا۔

٭٭٭

’’یشفیٰ چاچی! آپ میری سب سے اچھی فرینڈ ہیں نا؟‘‘ تین سالہ ولی نے اپنے ننھے منے ہاتھ میرے رخساروں پر رکھ کر محبت سے پوچھا۔ وہ میری گود میں بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے کے ساتھ ساتھ سلانٹی کھا رہا تھا۔ وقفے وقفے سے وہ ایک آدھا سلانٹی کا ٹکڑا میرے منہ میں بھی رکھ دیتا اور مجھ سے بات بھی کر لیتا تھا۔ میں نے اس کی وجہ سے کارٹون نیٹ پر “Angelina bellerina” کی مووی لگا رکھی تھی۔

’’جی میری جان! میں آپ کی سب سے اچھی فرینڈ ہوں۔‘‘

میں نے پہلے اس کے ہاتھوں کو چوما پھر اس کے پھولے پھولے گالوں کو چوم کر اسے اپنی بازوئوں میں بھینچ لیا۔ اسے شاید یہی سننا تھا، تب ہی مطمئن ہو کر دوبارہ سے ٹی وی میں گم ہوگیا۔ ولی سے مجھے بہت انسیت تھی بلکہ ولی ہی نہیں، مجھے اپنے جیٹھ کے تینوں بچے ہی بہت عزیز تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ مجھے بچے بہت اچھے لگتے تھے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ولی کو تو تقریباً میں نے ہی پالا تھا۔ میری جٹھانی اسلامیہ کالج میں باٹنی کی لیکچرار تھیں۔ چونکہ وہ ورکنگ لیڈی تھی۔ اس لےے کالج جاتے ہوئے وہ ولی کو میرے پاس چھوڑ دیا کرتی تھیں اور واپسی پر یہیں سے اسے گھر لے جاتی تھیں۔ جب میری ساس زندہ تھیں تو وہ کبھی ہمارے گھر میں زیادہ عرصہ نہیں رکی تھیں۔ ان کا زیادہ وقت اسد بھائی کے گھر میں گزرتا تھا۔ ردا اور علی کو وہی سنبھالا کرتی تھیں پھر ان کی وفات کے بعد دونوں بچے اتنے بڑے ہوچکے تھے کہ اپنی مما کے بغیر گھر میں اکیلے رہ سکیں۔ ولی جب پیدا ہوا تو یہ ذمہ داری خود بخود میں نے اپنے سر لے لی تھی، اسی لےے ولی مجھ سے بہت اٹیچڈ تھا۔ اب تو ارم بھابھی نے اسے بیکن ہائوس کے پری نرسری میں داخل کروادیا تھا مگر وہاں ہفتے کو چھٹی ہوتی تھی۔ سو علی ، ردا اور ولی تینوں ویک اینڈمیرے ساتھ گزارتے تھے۔ ان بچوں سے انسیت کی تیسری وجہ یہ تھی کہ ہمارے اپنے بچے نہیں تھے۔ یہ نہیں تھا کہ ہم میں خدا نا خواستہ کوئی کمی تھی یا خدا نے ہمیں اس معاملے میں بد قسمت رکھا تھا۔ دراصل ابھی ہم بچوں کے حق میں نہیں تھے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اسفند ابھی فیملی بڑھانے کے حق میں نہیں تھے اور ان کی خوشی کی خاطر میں ہر ایک کے سامنے اپنی اس محرومی پر بہت فخر سے پردہ ڈالتی تھی۔

’’ارے بھئی بچوں کا کیا ہے، آج نہیں تو کل ہوجائیں گے۔ ابھی تو ہم خود بچے ہیں۔ ابھی ہم خود تو لائف انجوائے کرلیںپھر بچوں کے متعلق بھی سوچ لیں گے۔‘‘

میں ہر پوچھنے والے کو یہ کہہ کر مطمئن کر دیتی تھی مگر میرے اندر اس ایک معاملے کی وجہ سے اتنی بے اطمینانی و بے چینی بھر چکی تھی کہ اب ولی پر بے تحاشا محبت نچھاور کرنے کے باوجود میرے اندر دن بدن تشنگی بڑھتی جارہی تھی۔

’’یشفیٰ چاچی! میں آپ کا فرینڈ نہیں ہوں۔‘‘ میری خاموشی سے اکتا کر ولی نے اپنا رخ میری طرف کرتے ہوئے کہا۔ سلانٹی ختم ہوچکے تھے اور ٹی وی پر بھی اب کوئی مار دھاڑ والی کارٹون سیریز آرہی تھی، اس لےے ولی اب باتیں کرنا چاہ رہا تھا۔

’’کیوں بیٹا! آپ میرے فرینڈ کیوں نہیں ہو؟‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔

’’اس لےے کہ میں بوائے ہوں تو میں آپ کا بوائے فرینڈ ہوا نا۔‘‘ اس نے جیسے میری معلومات میں اضافہ کیا تھا۔ میں اس کی بات پر ہنس پڑی۔ ولی کی معصومانہ باتیں بے رنگ زندگی میں رنگ بھر دیتی تھیں۔

’’اسفند چاچو آپ کے بوائے فرینڈ ہیں؟‘‘ اس نے ایک اور مزے دار سوال پوچھا۔ میں مسکراتے ہوئے سوچ میں پڑ گئی کہ اس سوال کا کیا جواب دوں۔ اگر میں مثبت جواب دیتی تو اس کا موڈ بگڑ سکتا تھا۔

’’نہیں جانو! وہ میرے بوائے فرینڈ نہیں ہیں۔‘‘ میں نے اس کا گال چومتے ہوئے جواب دیا تھا۔

’’ہیں نا۔۔۔ وہ اچھے بھی نہیں ہیں۔۔۔ آپ کا بوائے فرینڈ میں ہوں نا تو پھر آپ اسفند چاچو کے گھر میں کیوں رہتی ہیں۔۔۔ آپ میرے گھر چلیں۔‘‘

اس نے بات کرتے ہوئے اپنے ہاتھ میرے گال پر رکھ دےے۔ مجھے پھر ہنسی آگئی۔ اسی دوران فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ ٹی وی اور فون میری زندگی کی دو بڑی مصروفیات تھیں۔ فارغ لوگوں کی طرح مجھے لمبی لمبی کالز کرنے کی عادت تھی۔

’’میری مما کا فون ہوگا۔۔۔ کہہ دیں، ولی نے آج واپس نہیں آنا۔۔۔ وہ بہت بزی ہے۔‘‘

فون کی گھنٹی سن کر ولی شاہانہ انداز میں بولا۔ بھابھی اکثر فون کر کے اس کی خیریت پوچھ لیا کرتی تھیں۔

’’جی جناب! جیسے آپ کا حکم۔‘‘ میں اسے گود سے اتا رکر فون کی طرف آگئی۔ فون اٹھانے سے پہلے میں نے سی ایل آئی پر نمبر چیک کیا۔ میری عزیز از جان سہیلی ثمینہ کا فون تھا۔ ہماری دوستی اسکول کے زمانے سے چلی آرہی تھی۔ پھر ثمینہ کے شوہر رزاق بھائی اسفند کے اچھے دوستوں میں سے تھے۔ سو ہماری دوستی میں شادی کے بعد مزید استحکام ہی آیا تھا۔

’’مال پر زبردست شرٹ پیس آئے ہوئے ہیں۔‘‘ اِدھر اَدھر کی خبریں سنانے، اپنی ساس نندوں کی برائیاں کرنے کے بعد وہ چہکتی ہوئی آواز میں بولی۔

’’تمہیں کس نے بتایا؟‘‘ میں نے نیم دلی سے پوچھا۔

کسی زمانے میں مجھے اچھے اچھے کپڑے بنانے کا جنون ہوا کرتا تھا مگر جب سے اسفند نے اپنی مصروفیات کی وجہ سے مجھ پر دھیان دینا کم کیا تھا تو یہ شوق خود بخود ماند پڑ گیا تھا کیونکہ بہت سے نئے ڈریسز جو میں بہت شوق سے سلواتی تھی، وہ وارڈ روب میں لٹکے ہی رہ جاتے۔ انہیں پہننے کی نوبت ہی نہیں آتی تھی، سو نئے کپڑے بنوانے کا دل ہی نہیں چاہتا تھا۔

’’مجھے بھابھی نے بتایا تھا، وہ اپنے اور اپنی بہنوں کے لےے لائی تھیں۔۔۔ اوریگا میں بھی گرم کپڑے کی نئی ورائٹی آگئی ہے۔۔۔ شام کو تیار رہنا۔۔۔ میں تمہیں پک کرلوں گی۔‘‘

اس نے مجھے اپنے پروگرام سے مطلع کیا۔ میں نے کوفت سے ناک چڑھائی۔

’’آج نہیں یار۔۔۔ کل چلیں گے۔۔۔ ویک اینڈ پر شاپنگ کا مزا نہیں آتا۔۔۔ بہت رش ہوتا ہے۔۔۔ اور پھر۔۔۔‘‘

میں لمحہ بھر کو رکی۔ خود کو جھوٹ بولنے پر آمادہ کرنے کے لےے فقط لمحہ ہی تو لگتا ہے یا شاید مجھے پریکٹس اتنی ہوچکی تھی کہ مجھے بس اس کام کے لےے ایک ساعت درکار ہوتی تھی اور میری بیٹری خود بخود چارج ہوجاتی تھی۔

’’ویک اینڈ پر اسفند کاکوئی نہ کوئی پلان ہوتا ہے۔ وہ گھر آئیں اور میں نہ ملوں تو بہت سخت موڈ آف ہوجاتا ہے۔‘‘ میری بات سن کر ثمینہ کچھ دیر کے لےے خاموش ہوگئی پھر بولی۔

’’ہاں، میں جانتی ہوں تمہارے میاں کوتمہارے بغیر پانی بھی ہضم نہیں ہوتا مگر اے میری لیلیٰ! اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔۔۔ کبھی کبھی اسفند بھائی کے بغیر بھی کہیں آیا جایا کرو۔۔۔ قسم سے بڑا مزا آتا ہے۔‘‘

اس کی آواز میں اس کی مخصوص کھنک تھی۔

’’مجھے اسفند کے بغیر مزا نہیں آتا یار۔‘‘ میں نے سادہ سے لہجے میں ہمیشہ کی طرح گھڑاگھڑایا جواب دیا۔

’’وہ تو تم ہمیشہ ہی کہتی ہو۔۔۔ اور۔۔۔‘‘ وہ کچھ کہتے کہتے چند لمحے کو رکی پھر بولی۔

’’چلو خیر میں فون رکھتی ہوں۔۔۔ مگر کل نہیں۔۔۔ کل میرے بچے فورٹریس کا پروگرام بنائے بیٹھے ہیں۔۔۔ سوموار کو تیار رہنا۔۔۔ میں انکار نہیں سنوں گی۔ اوکے۔۔۔ ٹیک کیئر۔۔۔ اللہ حافظ۔‘‘

اس نے میرا جواب سنے بغیر فون بند کر دیا۔ میں نے مسکراتے ہوئے فون رکھ دیا۔ کئی ویک اینڈز سے اسفند کو میرے ساتھ اطمینان سے بیٹھنے کا موقع نہیں ملا تھا مگر یہ بات میں ثمینہ کو نہیںکہہ سکتی تھی بلکہ اپنا یہ جھوٹا بھرم قائم رکھنے کے لےے کہ اسفند اور میں ایک مثالی جوڑا ہیں، اس قسم کے بے ضرر جھوٹ اکثر و پیشتر میں نا صرف ثمینہ کے سامنے بلکہ اپنی امی، بہنوں اور بھابھیوں کے سامنے بولتی رہتی تھی۔

٭٭٭

’’نو بجے تیار رہنا یشفیٰ! ڈنر باہر کریں گے۔‘‘ سات بجے کے قریب جب میں حسب معمول لائونج میں بیٹھی کافی کا مگ ہاتھ میں لےے بے دلی سے چینل سرچنگ میں مصروف تھی تو اسفند نے مجھے فون پر اپنے پروگرام سے مطلع کیا۔

’’سچ اسفی۔‘‘ میں نے خوشگوار حیرت میں گھر کر پوچھا۔ مہینوں بعد ایسا مبارک دن آیا تھا کہ اسفند نے آئوٹنگ کا پروگرام بنایا تھا، ورنہ آج کل ہر بات کے جواب میں یہی سننے کو ملتا تھا۔

’’بہت ہیکٹک چل رہا ہے یار۔۔۔ آج نہیں، کل چلیں گے۔‘‘ جبکہ میں اس مبارک ’’کل‘‘ کے انتظار میں سوکھتی رہتی۔ جب سے اسفند نے فیکٹری کا پراجیکٹ شروع کیا تھا، تب سے ان کے لےے گھر، بیوی، رشتہ دار سب کسی قدر غیر اہم ہوگئے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے اس چھوٹے سے آئوٹنگ کے پلان نے مجھے بہت پرجوش کر دیا تھا۔

’’بالکل سچ یشفیٰ۔‘‘ اسفند کی آواز میں بھی مجھے بشاشت کی جھلک محسوس ہوئی تھی۔ میں کھلکھلا کر ہنس دی۔ بہت دن بعد اسفند نے اتنے لاڈ سے پکارا تھا مجھے۔

’’اوکے باس! آئی ول بی ریڈی بائی نائن۔‘‘ میں نے یہ کہہ کر مسکراتے ہوئے فون بند کر دیا تھا۔ دل یکدم ہی جھومنے لگا تھا۔ فون ریک کے پاس کھڑے کھڑے میں نے تین مرتبہ دل ہی دل میں ’’بالکل سچ یشفیٰ۔‘‘ دہرایا تھا۔ بیوی کی سرشت عجیب ہوتی ہے۔ شوہر کی ذرا سی نظر کرم اسے گل سے گلستان کر دیتی ہے۔

میرا دل چاہنے لگا تھا کہ بہترین ڈریس پہن کر میک اپ کروں اور اسفند کا فیورٹ پرفیوم لگائوں۔ میں نے کافی کا مگ خالی کےے بغیر کچن میں رکھا اور بیڈ روم کی طرف آگئی۔ ڈریس کا انتخاب کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا کیونکہ بہت سے ڈریسز جوں کے توں پڑے تھے۔ میں نے انہیں پہن کر بھی نہیں دیکھا تھا۔ میں نے اسفند کے فیورٹ کلر ’’وائٹ‘‘ کا انتخاب کیا پھر اس کے بعد نو کیسے بجے، پتا ہی نہیں چلا۔ وہی ٹائم جو گزرنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا، چہرے کی کلینزنگ سے شاور لینے تک اور پھر کپڑے پریس کرنے اور خود پر پرفیوم اسپرے کرنے تک میں نے ہر کام گنگناتے اور مسکراتے ہوئے کیا تھا۔

’’حد ہوگئی یشفیٰ بی بی! اتنی عمر ہوگئی مگر آپ کا بچپنا نہ گیا۔‘‘ آئینے میں اپنے چمکتے دمکتے سراپے کودیکھتے ہوئے میں نے خود کو ٹوکا تھا۔ نو بجے سے پہلے میں وائٹ موتیوں کی کڑھائی سے مزین شلوار قمیص پہنے نک سک سے تیار مہکتی ہوئی دروازے پر کھڑی تھی۔ میرا رواں رواں محو انتظار تھا کہ اسفند جلد از جلد پہنچ جائیں اور مجھے جی بھر کے دیکھیں اور بہت بہت سراہیں۔ اسفند ساڑھے نو بجے آئے تھے۔

’’بہت اچھی لگ رہی ہو۔۔۔ یہ ڈریس کب لیا۔۔ شکر ہے تمہارے پاس ڈھنگ کے ڈریسز ہیں، ورنہ میں سوچ رہا تھا کہ جیب ہلکی کرنی پڑے گی۔‘‘

اسفند کا موڈ کافی خوشگوار تھا۔ مین روڈ تک گاڑی لاتے لاتے میں نے خود ہی فرض کر لیا تھا کہ اسفند نے کئی بار میری طرف دیکھا ہے۔ میں منتظر رہی کہ وہ میری مدح سرائی میں کچھ کہیں گے مگر وہ کچھ نہیں بولے بلکہ اِدھر اَدھر کی غیر ضروری باتیں کرتے رہے۔ بارہا میرا دل چاہا کہ خود پوچھ لوں کہ میں کیسی لگ رہی ہوں مگر پھر کچھ سوچ کر خاموش رہی کہ اسفند مذاق نہ اڑائیں۔مجھے باقی عورتوں کی فطرت کا نہیں پتا مگر میرے ساتھ یہی معاملہ تھا کہ بہت ابتدا میں جب اسفند میری تعریف کرتے تھے تو میں کہتی تھی۔ ’’پلیز آپ مبالغہ آرائی نہ کریں۔‘‘ یا ’’اسفی! آپ میری کتنی جھوٹی تعریفیں کرتے ہیں‘‘ اور اسفند کہتے تھے ’’ارے یار! تمہیں کیا پتا تم کس قدر خوب صورت ہو، کبھی خود کو میری نظر سے دیکھو۔‘‘ تو میں ہنس دیا کرتی تھی مگر دل میں عجب سرشاری بھر جاتی تھی اور جی چاہتا تھا کہ اسفند مجھے اسی طرح سراہتے رہیں، اب بھی میرے دل میں بے حد خواہش تھی کہ اسفند چاہے دولفظ سہی مگر کچھ کہیں ضرور کہ اب ہمارے درمیان ایسی باتیں بہت کم ہوتی تھیں بلکہ ہوتی ہی نہیں تھیں۔ اسفند صبح کے گئے رات کو واپس آتے تھے پھر تھکن سے اتنا برا حال ہوتا تھا کہ بستر پر لیٹتے ہی سوجاتے۔وہ اتنے تھکے ہوئے ہوتے تھے کہ میرا دل ہی نہیں چاہتا تھا کہ ان سے کوئی شکوہ کروں۔

’’مجھے گجرے لینے ہیں۔‘‘ میں نے سگنل پر ایک بچے کوپھول بیچتے دیکھ کر کہا۔

’’ہم۔۔۔ اوکے۔۔۔ ویسے ہم آل ریڈی لیٹ ہوچکے ہیں۔ مگر خیر یہاں رش ہے، آگے دیکھتے ہیں۔۔۔ اگر نظر آئے تو لے دوں گا۔‘‘

اسفند نے میری طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا۔ یہ نہیں تھا کہ ہم خاموش تھے۔ اِدھر اَدھر کی باتیں ہم کرتے جارہے تھے مگر جو میں سننا چاہ رہی تھی، اسفند وہ نہیں کہہ رہے تھے۔ ایک سگنل پر بالآخر ہمیں گجرے مل ہی گئے۔

’’یہ لو۔۔۔‘‘ اسفند نے پیکٹ میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔

’’آپ خود پہنادیں نا۔‘‘ میں نے محبت بھرے لہجے میں بہت لاڈ سے کہا تھا۔

اسفند زور سے ہنس دےے۔

’’او کم آن یشفیٰ! تم کوئی چھوٹی بچی ہو جو میں پہنادوں۔‘‘ ان کے تمسخر اڑانے والے انداز پر میں دل مسوس کر رہ گئی۔ اب ان سے کیا کہتی۔

’’اگر ’’بچپنا‘‘ یہی ہے تو سن لیجےے۔ عورت ساٹھ سال کی ہوجائے، تب بھی یہ والا ’’بچپنا‘‘ نہیں جاتا۔‘‘

خود اپنے ہاتھوں سے گجرے پہنتے ہوئے میں نے سوچا۔

’’ہم ریسٹورنٹ میں زیادہ دیر نہیں بیٹھیں گے بلکہ کھانا کھاتے ہی اٹھ جائیں گے پھر کینال ویو کی طرف سے لمبا رائونڈ لے کر گھر جائیں گے۔ کتنے دن ہوئے ہم لانگ ڈرائیو کے لےے گئے نہ ہی اطمینان سے ساتھ بیٹھ کر بات کرنے کا موقع ملا۔‘‘

تھک ہار کر میں نے خود ہی ان کے کندھے پر سر رکھ کر محبت بھرے لہجے میں کہا۔

’’ارے، تو ہم گھر میں ساتھ نہیں ہوتے کیا۔۔۔؟ اب یہاں تو مہمان بن کر آئے ہیں، جب میزبان اجازت دے گا، تب ہی اٹھیں گے نا۔ ڈنر کرتے ہی اٹھ کھڑے ہوں گے توکتنا برا لگے گا۔‘‘

انہوں نے آہستگی سے اپنا سر میرے سر سے مس کرتے ہوئے کہا تھا۔

’’کیا مطلب؟‘‘ میں نے چونک کر ان کی جانب دیکھا۔

’’تمہیں بتایا تو تھا کہ مسٹر حیدر رضا نے ہمیں ڈنر پہ انوائٹ کیا ہے۔ وہیں تو جارہے ہیں یاد ہے نا، وہ بینک والا پرابلم۔۔ فون پر بات ہوئی تھی حیدر سے۔‘‘

انہوں نے مجھے یاد دلانا چاہا۔

’’یہ بات آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتائی؟‘‘ میں سیدھی ہو کر بیٹھتے ہوئے بولی۔

’’میں نے بتایا تھا یار۔۔۔‘‘ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ مجھے ان کی مسکراہٹ پر مزید غصہ آیا۔ میں تو سمجھ رہی تھی کہ بس ہم دونوں ہوں گے اور اسفند خود مجھے ڈنر کے لےے لے جارہے ہیں۔ مگر اب جا کر یہ عقدہ کھلا تھا، ورنہ شاید اسفند کو مجھے باہر لے جانے کا خیال بھی نہ آتا۔ میرا دل ایک دم سے بجھ کر رہ گیا تھا جبکہ وہ اپنے آپ میں مگن کہہ رہے تھے۔

’’دراصل یہ حیدر رضا میرا پرانا واقف کار نکل آیا۔ واقف کار بھی کیا، ٹھیک ٹھاک شناسا آدمی نکلا۔ آئی بی اے میں میرے ساتھ تھا۔ اگر چہ مجھ سے جونیئر تھا مگر میری اس کے ساتھ ساتھ ٹھیک ٹھاک دوستی ہوا کرتی تھی۔ یہ ہاسٹل میں رہا کرتا تھا جبکہ میں اور کاشف، تایا ابا کے گھر میں رہتے تھے۔ ہمیں ہمیشہ کسی ایسے دوست کی تلاش رہتی تھی، جہاں ہم بیٹھ کر گپیں لڑاسکیں اور اسٹڈی کر سکیں تو پھر بہت سے ہاسٹل میں رہنے والے لڑکوں سے ہماری دوستی تھی۔ میں اور کاشف بھی اکثر کمبائن اسٹڈی کے لےے اس کے پاس رات بھر رکتے تھے۔ کافی اچھی گپ شپ رہتی تھی۔ اچھا بندہ ہے یار!‘‘

مجھے حیدر رضا کے ذکر سے کوئی دلچسپی نہیں تھی مگر پھر بھی اسفند مجھے تفصیلاً بتاتے چلے جارہے تھے اور میں بخوبی سمجھ رہی تھی کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ جب انہیں اپنی کسی غلطی کا احساس ہوجاتا تھا تو اسے تسلیم کرنے کے بجائے بے وجہ بولتے چلے جاتے تھے۔ میں ونڈ اسکرین پر پڑتی روشنیوں کو دیکھتے ہوئے بے دلی سے ان کی باتیں سن رہی تھی۔

’’حیدر کے پیرنٹس شارجہ میں رہتے تھے، وہیں کسی روڈ ایکسیڈنٹ میں ان کی ڈیتھ ہوگئی تھی تو پھر حیدر اپنے ماموں کے پاس امریکہ شفٹ ہوگیا۔ پڑھائی وڑھائی بیچ میں ہی چھوڑ دی تھی اس نے۔ کافی نائس بندہ ہے۔ اس روز آفس آیا تو میں اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس نے بھی مجھے پہچان لیا۔ بہت اصرار کر رہا تھا کہ میرے ساتھ ڈنر کریں۔ تمہیں خصوصی دعوت دی ہے۔‘‘

انہوں نے کہتے ہوئے گردن موڑ کر میری جانب دیکھا۔ میں نے گہری سانس بھر کر فقط گردن ہلانے پر اکتفا کیا۔ مگر ان کی جانب دیکھنے سے گریز کیا۔

’’اوکے بابا میں بھول گیا ہوں گا تمہیں بتانا۔۔۔ اتنی اچھی لگ رہی ہو مگر ڈونل ڈک جیسی شکل کیوں بنا لی ہے۔ اچھا ٹھیک ہے، ہم ایکسکیوز کر لیں گے حیدر سے اور جلدی اٹھ جائیںگے۔ اب تو مسکرادو۔‘‘

وہ میرے کندھے سے اپنا کندھا ٹکر اکر بولے۔ میں نے رخ موڑ کر ان کی جانب دیکھا اور مجھے ہنسی آگئی۔ میں اسفند سے زیادہ دیر ناراض رہ ہی نہیں سکتی تھی اور اب جبکہ انہوں نے کسی بھی طرح سہی مگر اپنی غلطی تسلیم کرنے کی کوشش کی تھی تو یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ میں نخرے کرتی۔ سو میں نے مسکراتے ہوئے ان کے کندھے پر سر رکھ دیا۔

’’ہم کینال ویو کے گرد دو رائونڈ لگائیں گے پھر گھر جائیں گے۔‘‘ میں نے انہیں یاد دلانا ضروری سمجھا تھا۔

٭٭٭

’’تھینک یو حیدر! بہت مزا آیا یار!‘‘ اسفند نے کافی کا سپ لیتے ہوئے وہی مخصوص اختتامیہ رسمی جملے بولنے شروع کےے جو کسی بھی فارمل ڈنر کے اختتام پر کہے جاسکتے تھے۔ اسفند نے یہ کہنے کے ساتھ میری جانب دیکھا اور میں بھی مسکراتے ہوئے گویا اس فارمیلیٹی میں ان کا ساتھ دینے لگی۔ یہ نہیں تھا کہ میں بور ہوئی تھی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ میں جس قسم کے بورنگ ڈنر کی توقع کر رہی تھی، یہ ڈنر اس سے قطعاً مختلف ثابت ہوا تھا۔ اسفند اور حیدر کاروباری گفتگو کرنے کے بجائے زیادہ تر آئی بی اے میں گزارے گئے وقت اور پرانے دوستوں سے متعلق گفتگو کرتے رہے تھے۔

’’کیوں شرمندہ کرتے ہیں مجھے۔ شکریہ تو مجھے ادا کرنا چاہےے۔ آپ نے بہت مدد کی میری۔ آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو۔۔۔‘‘

حیدر رضا نے پھر وہی داستان شروع کردی اس کا لہجہ و انداز گفتگو دونوں ہی بہت متاثر کن تھے۔ مجھے نہ جانے کیوں اس کا لہجہ کچھ مانوس سا لگا تھا۔ شاید وہ کسی مشہور ٹی وی ایکٹر کی طرح بولتا تھا، تب ہی مجھے اس کا لہجہ کچھ جانا پہچانا سا لگ رہا تھا۔ وہ اچھی شخصیت کا مالک تھا مگر اسفند کے مقابلے میں اس کی شخصیت کچھ دبتی ہوئی تھی۔ وہ بلیک ڈنر سوٹ میں ملبوس تھا جبکہ اسفند ڈل گرین پینٹ کے ساتھ وائٹ شرٹ پہنے ہوئے تھے جس کے اوپر انہوں نے بلیک ہائی نیک جرسی پہنی ہوئی تھی۔ اس جرسی کی آستینیں انہوں نے کہنیوں تک چڑھا رکھی تھیں ان کا حلیہ حیدر کے مقابلے میں Casual سا تھا مگر اس کی نسبت کہیں زیادہ اچھے لگ رہے تھے۔

’’میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ جس حیدر کو ہم یہ کیش فراہم کر رہے ہیں، وہ ’’تم‘‘ ہو۔ اگر مجھے ذرا سا بھی شک ہوجاتا تو یقین کرو، میں تمہیں بہت ستاتا۔‘‘

اسفند نے حیدر کی طرف دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا۔ حیدر ان کی بات پر کھل کر ہنسا اور میں اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر رہ گئی۔

’’ایسے کون ہنستا ہے؟‘‘ میں نے دل میں سوچا۔

’’آپ مجھے تنگ کرتے تو میں انجوائے کرتا۔۔۔ اور مجھے آپ کا نام پتا چلا تھا تو مجھے شک تھا کہ شاید میں آپ کو جانتا ہوں کیونکہ رانا صاحب نے ذکر کیا تھا کہ آپ آئی بی اے کے اولڈ اسٹوڈنٹ ہیں۔ وہ بخاری صاحب جو فائنانس کے پروفیسر تھے، کہا کرتے تھے نا کہ آئی بی اے والے کہیں نہ کہیں گھوم پھر کر آمنے سامنے آہی جاتے ہیں۔ تو بس مجھے شک تھا کہ میں آپ کو جانتا ہوں۔‘‘

وہ ٹھہر ٹھہر کر اپنے مخصوص انداز میں بات کر رہا تھا جبکہ میں کافی کے مگ سے اٹھنے والی بھاپ کو دیکھتے ہوئے یہی سوچنے میں مشغول تھی کہ آخر میں حیدر رضا کے انداز گفتگو کو پہچان کیوں نہیں پارہی۔ جب میں نے فون پر اس کی آواز سنی تھی تو مجھے ایسا محسوس نہیں ہوا تھا کہ میں اس شخص کوجانتی ہوں مگر اب اس کے سامنے بیٹھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے اسے پہلے کہیں دیکھا ہوا ہے، جو اس کا لہجہ و انداز میرے لےے اجنبی نہیں ہیں۔

’’بخاری صاحب کا گزشتہ ہفتے ہی انتقال ہوا ہے۔ ‘‘ حیدر نے اطلاع دینے والے انداز میں کہا۔ بخاری صاحب شاید ان دونوں کے ہی فیورٹ پروفیسر تھے۔

’’اوہ۔۔۔ بہت افسوس ہوا۔۔۔ کافی اچھے پروفیسر تھے بخاری صاحب۔۔۔ فائنانس پر زبردست کمانڈ تھی ان کی۔ ہر کانسیپٹ اتنے اچھے طریقے سے کلیئر کرتے تھے کہ سب از بر ہوجاتا تھا۔‘‘ اسفند نے ہلکے پھلکے تاسف میں گھر کر بات مکمل کی تھی۔

’’بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ۔۔۔ ویسے مجھے بخاری صاحب سے پڑھنے کا اتنا موقع نہیں ملا۔ میں تو سیکنڈ سیمسٹر سے پہلے ہی آئی بی اے سے چلا گیا تھا۔ ان کے انتقال کی خبر مجھے ان کے داماد سے پتا چلی تھی۔ دراصل ان کے داماد میرے بہنوئی کے بہت اچھے دوست ہیں۔۔۔ کراچی جائوں تو اکثر ملاقات ہوجاتی ہے ان سے۔‘‘ وہ کافی کا آخری سپ لیتے ہوئے بولا تھا اور تب ہی میرے ذہن میں بجلی سی چمکی تھی۔

’’فارینہ۔۔۔۔ فارینہ رضا۔۔۔۔ آپ کے بولنے کا انداز فارینہ کے انداز سے بہت ملتا ہے۔‘‘

میں نے ایک دم سر اٹھا کر کہا تھا۔ اسفند نے مجھے حیرانی سے دیکھا جیسے میری ذہنی حالت پر شبہ کر رہے ہوں کیونکہ میں بالکل خاموشی بیٹھی ان کی باتیں سن رہی تھی اور جب بولی تھی تو بالکل ہی مختلف قسم کی بات۔ دل ہی دل میں مجھے بھی ذرا سی شرمندگی ہوئی کہ یہ بات کہنی ہی تھی تو کوئی تمہید باندھ کر کہتی۔ یہ کیا کہ بات ایک دم سے سر پر دے ماری۔ حیدر نے آنکھیں سکیڑ کر میری طرف دیکھا پھر متعجب انداز میں مسکرا کر بولا۔

’’میں بھی آپ کو دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ جیسے۔۔۔ شاید آپ کو پہلے کہیں دیکھا ہے۔‘‘ وہ کچھ جھجکتے ہوئے بولا۔ ظاہر ہے وہ ایک دم سے میری طرح منہ پھاڑ کر تو نہیں کہہ سکتا تھا۔ مجھے اب کی بار دل ہی دل میں ہنسی آئی۔

’’آپ شادی سے پہلے یشفیٰ چوہدری ہوا کرتی تھیں نا۔۔۔ اگر میں غلطی پر نہیں ہوں تو آپ صدر والی سائیڈ پر رہتے تھے۔۔۔ آپ کے بڑے بھائی عاطف چوہدری کیمسٹری کے لیکچرار ہیں نا۔۔۔ وہ گھر پر بچوں کو ٹیوشن بھی پڑھایا کرتے تھے۔۔۔ آپ لوگوں نے گھر میں بطخیں بھی پالی ہوئی تھیں؟‘‘

وہ آہستہ آہستہ کئی باتیں دہرا گیا تھا۔ اسفند ہم دونوں کی جانب دیکھ رہے تھے اور وہ کوئی نیرو مائنڈ انسان نہیں تھے کہ ایسی بات کا برا مان جاتے، سو مسکرا کر بولے۔

’’آپ دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہیں؟‘‘

’’ایسا لگ تو رہا ہے۔۔۔۔ فارینہ میری بہن کا نام ہے اور اگر میری بتائی گئی باتیں سچ ہیں تو یقینا آپ یشفیٰ چوہدری ہی ہیں۔‘‘

حیدر سر جھٹک کر ہنستے ہوئے بولا۔۔۔ مجھے بھی ہنسی آگئی۔ کیسے مزے کا اتفاق تھا کہ وہ میری بچپن کی سہیلی کا بھائی نکلا تھا، تب ہی اس کا انداز گفتگو مجھے مانوس لگ رہا تھا۔

’’جی میں یشفیٰ چوہدری ہی ہوں۔۔۔ مائی گاڈ۔۔۔ مجھے یقین نہیں آرہا۔۔۔ کیسا عجیب اتفاق ہے۔۔۔ میں کافی دیر سے سوچ رہی تھی کہ جیسے آپ کو کہیں دیکھا ہوا ہے اور اب پتا چلا کہ آپ فارینہ کے بھائی ہیں۔‘‘

میں نے اسی کے انداز میں ہنستے ہوئے کہا۔ دراصل یہ اتفاق تھا ہی اس قدر دلچسپ بلکہ یہ کہنا چاہےے کہ یہ انکشاف بہت دلچسپ تھا۔حیدر بھی ہنس رہا تھا جبکہ اسفند مسکراتے ہوئے ہماری جانب دیکھ رہے تھے۔ میں نے ہنستے ہوئے ان کی طرف رخ موڑا پھر ایک ہاتھ ان کے بازو پر رکھ کر بولی۔

’’اسفی! آپ کو یاد ہے عاطف بھائی میری ایک دوست کا بہت ذکر کرتے ہیں کہ وہ لڑکی بہت ذہین تھی مگر یشفیٰ کی صحبت میں رہ کر وہ نکمی ہوگئی تھی۔ یہی ذہین لڑکی فارینہ رضا ہے۔ ہم دونوں میٹرک میں عاطف بھائی سے کیمسٹری پڑھا کرتے تھے۔ فارینہ اپنے نانا نانی کے ساتھ رہتی تھی اور ان کے نانا میرے دادا کے بہت اچھے دوست تھے، سو فارینہ سارا دن میرے گھر میں گزارتی بلکہ کبھی کبھی تو فارینہ نانا جان کی اجازت سے رات کو بھی رک جایا کرتی تھی۔‘‘

میں مسکراتے ہوئے اسفند کو بتا رہی تھی۔

اسفند نے پرسکون انداز میں سر ہلایا تھا۔ ان کے لےے یہ سرپرائز عجیب سی بات نہیں تھا۔ ویسے بھی وہ بہت پرسکون سے انسان تھے جبکہ میرا دل خوشی سے بے قابو ہورہا تھا۔

’’فارینہ اب کیسی ہے۔۔۔ بہت عرصہ ہوا اس سے ملاقات نہیں ہوئی۔۔۔ آپ لوگ امریکہ شفٹ ہوگئے تھے نا۔۔۔؟‘‘

’’فارنہ ٹھیک ٹھاک ہے۔۔۔ یہیں پاکستان میں ہوتی ہے۔۔۔ کراچی میں شادی ہوئی ہے اس کی۔۔۔ دو بیٹے بھی ہیں اس کے۔۔۔ اب فون آئے گا تو بتائوں گا اس کو آپ کے بارے میں۔۔۔ اسے بہت خوشی ہوگی۔‘‘ حیدر نے مسکراتے ہوئے کہا۔

’’ضرور بتائےے گا بلکہ اسے میرا فون نمبر دیجےے گا۔ میں اس سے بات کرنا چاہتی ہوں۔‘‘

میں بے حد پرجوش تھی۔ وہ بھی مسکرایا جبکہ اسفند بس ہم دونوں کی جانب دیکھ رہے تھے۔ انہیں یقینا بوریت ہورہی تھی۔ ویسے بھی اسفند کی فطرت ایسی تھی کہ جہاں انہیں توجہ نہیں ملتی تھی، وہ فوراً اکتاہٹ کا شکار ہونے لگے تھے۔ سو ان کے چہرے پر پھیلی بے زاری دیکھ کر میں خاموش ہوگئی۔ ٹائم بھی کافی ہوچکا تھا، سو مزید کچھ دیر ایک دوسرے کے ساتھ گزارنے کے بعد ہم اجازت لے کر اٹھ کھڑے ہوئے۔

’’فارینہ سے بات ہو تو میر اسلام ضرور کہےے گا۔‘‘

میں نے حیدر کو یاد دہانی کروائی۔ اس نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔ واپسی پر ہم کینال ویو کے گرد رائونڈ لگا کر لمبے راستے سے واپس آئے تھے۔

’’ہماری مسز نے انجوائے کیا یا نہیں؟‘‘ ڈرائیو کرتے ہوئے اسفند نے مجھ سے پوچھا تھا۔ میں ان کے کندھے سے سر ٹکائے ان کی جرسی سے اٹھنے والی Eternity کی خوشبو میں گم تھی۔ ان کی بات پر مزید ان کے کندھے میں منہ چھپا کر بولی۔

’’پہلے تو نہیں مگر اب مزا آرہا ہے۔۔۔ آپ کی ایلس ونڈر لینڈ میں ہے۔‘‘

اسفند نے میری سرگوشی پر قہقہہ لگایا پھر اپنا بازو میرے شانوںکے گرد پھیلا کر مجھے اپنے بہت قریب کر لیا تھا۔ کہاں کا حیدر رضا اور کہاں کی فارینہ، مجھے سب بھول بھال گیا۔

٭٭٭

’’میں فارینہ بات کر رہی ہوں۔‘‘

ٹیلی فون ریسیور اٹھاتے ہی ایک چہکتی ہوئی آواز مجھے سنائی دی تھی۔ صبح کے بارہ بجنے والے تھے اور میں زمانے بھر کی فارغ ابھی تک بستر میں گھسی ہوئی تھی۔ ماسی سے صفائی وغیرہ کروا کر میں دوبارہ سوجاتی تھی کہ اور کوئی کام تو ہوتا نہیں تھا، سو اب بھی میں غنودگی کے زیر اثر تھی۔ تب ہی پہلی بار میں پہچان نہیں پائی کہ دوسری جانب کون ہے۔

’’جی۔۔۔ کون۔۔۔؟‘‘ میں نے استفہامیہ انداز میں پوچھا۔

’’فارینہ۔۔۔ فارینہ رضا۔۔۔ شفا کی بچی۔۔۔ پہچانا یا نہیں؟‘‘ میں اپنے بستر پر اٹھ کر بیٹھ گئی۔ حیدر رضا سے ڈنر کے دوران جو گفتگو ہوئی تھی، وہ ذہن میں فلیش لائٹ کی طرح چمکی تھی۔ اس بات کو پندرہ دن گزر چکے تھے اور میں تو بھول بھی گئی تھی مگر فارینہ کی آواز سن کر جیسے سب یاد آگیا۔

’’پہچان لیا یار۔۔۔ فری۔۔۔ توبہ مجھے یقین نہیں آرہا کہ تمہاری منحوس آواز اتنے عرصہ بعد پھر سننے کو مل رہی ہے۔‘‘

میں نے اپنے مخصوص انداز میں کہا تھا۔ میری اور فارینہ کی اس قسم کی نوک جھونک بہت چلتی تھی اور ہم ایک دوسرے کو چڑانے کے لےے اس قسم کی الٹی سیدھی باتیں کیا کرتے تھے۔

’’میری آواز ہی نہیں سن رہیں تم بلکہ میں بقلم خود تم سے ملنے آرہی ہوں۔ دہلیز پر پلکیں بچھا کر میرا انتظار کرو میں دس منٹ میں تمہارے گھر آرہی ہوں۔‘‘ مجھے خوشگوار سی حیرت ہوئی۔

’’ہیں۔۔۔سچی۔۔۔؟‘‘ میں چلُا کر بولی۔ اس نے کچھ بھی کہے بغیر فون بند کر دیا۔ میں کمبل ہٹا کر بستر سے اتری اور سب سے پہلے سی ایل آئی پر نمبر چیک کیا کہ کہیں وہ مجھ سے مذاق تو نہیں کر رہی کیونکہ وہ تو کراچی میں تھی پھر لاہور کیسے آئی مگر سی ایل آئی پر لاہور کا کوڈ جگمگا رہا تھا۔ یعنی وہ آج کل لاہور میں تھی۔ میں لمحہ ضائع کےے بغیر واش روم میں گھس گئی۔ نائٹ ڈریس چینج کر کے میں نے پنک کاٹن کا سادہ سا لباس پہنا پھر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر میں نے کانوں میں گولڈ کے ہلکے پھلکے آویزے پہنے، گلے میں نازک سی چین بھی پہن کر ہلکی پنک لپ اسٹک بھی لگالی۔ بیڈ روم میں بکھری چیزیں فٹافٹ سمیٹ کر رکھیں۔ اس کے بعد میں کچن میں آگئی۔ فریزر میں کباب اور چکن رول موجودتھے۔ فروٹس اور کولڈ ڈرنکس بھی وافر مقدار میں موجود تھیں۔ اگر وہ صرف چائے پینے کے ارادے سے آرہی تھی، تب بھی میں نے اسے کھانا کھائے بغیر نہیں جانے دینا تھا۔ سو میں نے مینیو ترتیب دے کر خانساماں کو فریج سے چکن نکال کر دیا اور اس کے بعد لائونج اور ڈرائنگ روم کا معائنہ کیا۔

میری بچپن کی سہیلی آرہی تھی، سو میری خواہش تھی کہ اپنے گھر کو اس کے سامنے جنت کا نمونہ بنا کر پیش کروں۔ دونوں کمروں کا جائزہ لے کر میں مطمئن انداز میں دوبارہ بیڈ روم میں آگئی۔ اب یہ فیصلہ کرنا تھا کہ فارینہ اور اس کے بچوں کو تحفہ کیا دینا ہے۔

’’اتنے ان سلے کپڑے پڑے ہیں، فارینہ کو کوئی سوٹ دے دوں گی جبکہ بچوں کو پیسے دے دوں گی۔‘‘

میں نے دل ہی دل میں طے کیا، وہ تقریباً آدھے گھنٹہ بعد آئی تھی۔ دونوں بچے بھی ساتھ تھے۔ حیدر انہیں ڈراپ کر کے مجھ سے معذرت کر کے چلا گیا تھا کہ اسے آفس پہنچنا تھا۔

’’یار! تم تو بالکل نہیں بدلیں۔ ویسے کی ویسی ہی ہو۔‘‘ فارینہ نے مجھے دیکھتے ہی رشک بھرے لہجے میں کہا۔ اور اس کے بعد چائے پینے تک وہ میری اسمارٹنس کو سراہتی رہی۔ دو بچوں کے بعد وہ موٹی ہوچکی تھی۔

’’مجھے حیدر نے جب تمہارا بتایا تو مجھ سے رہا ہی نہیں گیا۔ میرے میاں کو اسلام آباد میں کچھ ضروری کام تھا، سو میں بھی آگئی کہ یہاں حیدر کے پاس بھی ہوتی جائوں گی اور تم سے بھی مل لوں گی۔‘‘

میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اس نے بہت محبت سے کہا۔ دراصل اس کا میرا رشتہ دوستوں سے زیادہ بہنوں والا رہا تھا۔ اس کا ایک ہی بھائی جو کراچی میں پڑھتا تھا اور بہن کوئی نہیں تھی جبکہ والدین بھی ساتھ نہیں رہتے تھے، سو وہ ہمارے گھر میں زیادہ وقت گزارتی تھی اور ہمارا رشتہ بھی بہنوں والا ہی تھا۔

’’عاطف بھائی کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ کاشف بھائی کے دو بیٹے ہیں۔ صبا آپی کی ایک بیٹی اور ایک ہی بیٹا ہے۔ ان کے گھر مزید ایک خوش خبری اگلے مہینے تک متوقع ہے جبکہ یمنی کی ابھی شادی نہیں ہوئی۔‘‘

اس کے استفسار پر میں نے تفصیل سے سب کے بارے میں بتایا۔

’’اور تمہارے کتنے بچے ہیں؟‘‘ اس نے یک دم سوال کیا۔ میرے لےے یہ سوال نیا نہیں تھا مگر فارینہ کے منہ سے سن کر میں لمحہ بھر کو خاموش سی ہوگئی پھر خود پر قابو پا کر مسکراتے ہوئے بولی۔

’’ارے یہ سب بچے بھی تو میرے ہی ہیں۔ بہن بھائیوں کے بچے اپنے نہیں ہوتے کیا؟‘‘ میرے جواب پر وہ کچھ نہیں بولی بس گہری نظروں سے میری جانب دیکھتی رہی پھر چند لمحے بعد بولی۔

’’کوئی علاج وغیرہ کروایا۔۔۔ ڈاکٹرز کیا کہتے ہیں؟‘‘ اس نے میرے قریب ہو کر پوچھا۔ اس کے بچے کمپیوٹر پر گیمز کھیلنے میں مشغول ہوچکے تھے۔

’’سب ٹھیک ہے یار۔۔۔! دراصل۔۔۔۔ ابھی ہمارا فیملی بڑھانے کا موڈ نہیں ہے۔‘‘ میں نے اس کے چہرے سے نظریں ہٹا کر چائے کے کپ سمیٹنا شروع کر دےے تھے۔ ہم نے چائے ڈائننگ روم میں بیٹھ کر پینے کے بجائے ٹی وی لائونج میں بیٹھ کر پی تھی۔ کپ سمیٹ کر میں اس کی طرف دیکھے بغیر کچن کی طرف آگئی۔

’’تمہاری شادی کو کتنا عرصہ ہوا ہے؟‘‘ مجھے عقب سے اس کی آواز سنائی دی۔ میں نے گہری سانس بھر کر اس کے سوال کو نظر انداز کرتے ہوئے خان کی طرف دیکھا۔ خان ہمارا ملازم تھا اور کچن کی سب ذمہ داری تقریباً وہی سنبھالتا تھا۔

’’خان بھائی! بریانی میں مسالا ذرا کم رکھنا، بچے بھی ساتھ ہیں۔‘‘

میںنے خوامخواہ اس کے کام میں مداخلت کی۔ میرا مقصد صرف فارینہ کے سوال کو نظر انداز کرنا تھا۔

’’جی بی بی صاب۔۔۔ آپ فکر نئیں کرو۔‘‘

اس نے مجھے تسلی دی۔ میں فریج کھول کر کھڑی ہوگئی۔ دل ایک دم بوجھل سا ہوگیا تھا۔ میں اپنی زندگی کی سب سے بڑی محرومی پر جتنے مرضی پردے ڈالتی مگر یہ سچ ہے کہ میں نے اس بات پر لوگوں کی آنکھوں میں ترحم کے رنگ جھلکتے دیکھے تھے اور مجھے ان رنگوں سے چڑ تھی۔ لوگ میری تعریف کرتے تھے، میرے ہسبینڈ کی تعریف کرتے تھے۔ میرے گھر کو سراہتے تھے۔ ہم میاں بیوی کو ایک پرفیکٹ کپل قرار دیتے تھے۔ ہماری زندگی پر رشک کرتے تھے۔۔۔ مگر۔۔۔ اس ’’مگر‘‘ کے آگے پیچھے اتنے سارے فل اسٹاپ تھے کہ میں چاہتے ہوئے بھی کچھ سوچ نہیں پاتی تھی کیونکہ اسفند سے جب بھی اس ٹاپک پر بات ہوتی، وہ قطعی لہجے میں ’’ابھی نہیں‘‘ کہہ کر بات ہی ختم کر دیتے۔

’’شفا! تم نے مجھے اکیلے ہی بٹھانا ہے تو میں واپس چلی جاتی ہوں۔‘‘ لائونج سے فارینہ کی آواز سنائی دی۔ میں نے فریج کا دروازہ بند کیا اور فوراً کچن سے باہر نکل آئی۔

’’سوری یار۔۔۔! یہ ملازم بھی عجیب ہوتے ہیں۔۔۔ جب تک ہر کام کے لےے ہدایت نہ دو، ٹھیک سے کام ہی نہیں کرتے۔‘‘

میں عجلت بھرے انداز میں کچن سے نکلی تھی تاکہ فارینہ یہ سمجھے کہ کچن میں کوئی بہت ضروری کام ہورہا ہے۔

’’تم کوئی کام مت کرو، بس میرے پاس آکر بیٹھو۔ مجھے تم سے کتنی باتیں کرنی ہےں۔ میں تو ترس گئی تھی کسی اپنے کی شکل دیکھنے کو۔ تمہیں نہیں پتا میں تمہیں کتنا مس کرتی تھی شفا۔۔۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے اچھا سسرال دیا ہے مگر پھر بھی میرا اتنا دل چاہتا تھا کہ میری کوئی بہن ہو جس سے مل کر میں ساس نندوں کی برائیاں کر سکوں۔۔۔ کتنی بار تمہارا خیال آتا تھا مگر مصروفیت اتنی ہے زندگی میں۔۔۔ تم لوگوں نے بھی تو مجھے تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی۔ میرا تو مکمل ایڈریس تھا تم لوگوں کے پاس مگر تم لوگوں نے مجھ سے کبھی رابطہ نہیں کیا اور خود صدر والا گھر تبدیل کر لیا اور مجھے انفارم بھی نہیں کیا۔ ایک بار میں نے حیدر سے کہا تھا کہ وہ پتا کرے اور تب مجھے پتا چلا کہ آج کل وہ گھر کسی شیخ فیملی کے پاس ہے پھر میں صبر کر کے بیٹھ گئی اور کر بھی کیا سکتی تھی۔ اچھا خیر۔۔۔ میں ہی بولتی جائوں کیا۔۔۔ تم بھی تو اپنے بارے میں کچھ بتائو۔۔۔ ہاں پہلے یہ بتائو کہ کتنا عرصہ ہوا ہے شادی کو۔۔ ابھی تک فیملی بڑھانے کا خیال کیوں نہیں آیا۔۔۔ کیا بڈھی ہو کر سوچو گی اس کے متعلق۔۔۔؟‘‘

میں جو اس کی باتوں پر مسکراتے ہوئے سر ہلانے میں مصروف تھی، ایک دم خاموش ہوگئی۔ وہ جو بات کہہ رہی تھی، یہ بات تو میں خود بھی روزانہ سونے سے پہلے سوچا کرتی تھی۔

’’پہلے تم اتنا نہیں بولتی تھیں اور اب تو لگتا ہے جیسے صرف بولتی ہو اور سننے کے لےے تم نے ملازم رکھ چھوڑے ہیں۔‘‘

میں نے اسے چڑانے کے لےے کہا۔ میں چاہتی تھی، وہ مجھ سے اولاد کے متعلق کوئی سوال نہ کرے۔

’’اور پہلے تم کتنا بولا کرتی تھیں مگر اب تو لگتا ہے صرف سنتی ہو۔ کیا بات ہے؟ مجھے لگتا ہے اسفند بھائی کو تمہاری خاموشی زیادہ اچھی لگتی ہے، تب ہی تم اتنا خاموش رہتی ہو۔۔ ویسے حیدر بہت تعریف کر رہا تھا اسفند بھائی کی۔۔۔ مجھے بہت اشتیاق ہورہا ہے ان سے ملنے کا۔۔۔ یوں کرو پہلے اپنی شادی کی مووی دکھائو یا تصویریں وغیرہ لے آئو۔۔۔ میں بھی تو دیکھوں کہ ہماری یشفیٰ صاحبہ اس معاملے میں کتنی خوش قسمت ثابت ہوئی ہیں۔‘‘

وہ اپنی دھن میں بول رہی تھی، میں مسکراتے ہوئے اٹھی اور بیڈ روم میں آکر کیبنٹ کھولنے لگی تاکہ مووی اور تصویریں نکال سکوں۔

’’تمہارے اسفند بھائی مجھے اب بھی باتونی قرار دیتے ہیںمحترمہ۔‘‘

میں نے دل میں سوچا تھا۔ ایسی بات میں سوچا ہی کرتی تھی کیونکہ ایسی باتیں کسی سے کہنے کاکوئی فائدہ بھی تو نہیں تھا۔

٭٭٭

’’یشفیٰ۔۔۔ یار! آج میں پھر لیٹ ہوجائوں گا۔۔ تم سو جانا۔‘‘ اسفند نے فون پر کہا تھا اور میں نے گہری سانس بھر کر کچھ بھی کہے بغیر فون رکھ دیا۔ حالانکہ ابھی ان کی طرف سے رابطہ منقطع نہیں ہوا تھا۔ میں گرنے کے سے انداز میں صوفے پر بیٹھ گئی۔ ٹی وی لائونج کی ٹیوب لائٹ آف تھی جبکہ لابی کا نیلگوں نائٹ بلب آن تھا جو ساری رات آن رہتا تھا۔ میں بجھا ہوا دل لےے اسی بلب کی جانب تک رہی تھی۔ مجھے اس بے جان بلب اور اپنی زندگی میں بہت مماثلت محسوس ہوئی۔ ہم دونوں ہی بے مقصد و بے مصرف زندگی جی رہے تھے۔ وہ بلب لابی میں صرف اس لےے لگایا گیا تھا کہ لائونج میں نصب ٹیوب لائٹ کا سوئچ نظر آسکے جیسے ہی ٹیوب آن ہوتی، بلب کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اسفند بھی مجھے اپنی زندگی میں اس بلب کی طرح استعمال کر رہے تھے۔

آج تیرہواں دن تھا، وہ مجھے مسلسل تیرہ دن سے نظر انداز کر رہے تھے۔ ہر صبح انہیں جلدی جانا ہوتا تھا اور ہر رات وہ لیٹ ہوجاتے تھے۔ یکدم ہی میری آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ نہ جانے کیوں دل چاہ رہا تھا کہ آج چیخ چیخ کر روئوں کہ گھٹ گھٹ کر تو میں روز ہی روتی تھی۔

’’کیا عذاب ہے۔۔۔ کس قدر سیلفش ہیں اسفند۔۔۔‘‘ میں اپنی ٹانگیں سمیٹ کر صوفے پر بیٹھ گئی پھر اپنا سر گھٹنوں میں رکھ لیا تھا۔ میرے آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔

’’سارا دن ان کا انتظار کرو۔۔۔ اور یہ خود۔۔۔ کوئی پروا ہی نہیں ہے۔۔۔ کیا سمجھتے ہیں اپنے آپ کو۔۔۔ میر اکوئی احساس ہی نہیں ہے انہیں۔۔۔ کتنے خود غرض ہوتے جارہے ہیں۔۔۔اپنا دل چاہے گا تو گھر آجائیں گے اور نہیں چاہے گا تو۔۔۔ اونہہ۔۔۔ مجھ سے زیادہ اہم تو ان کی گاڑی کی چابی ہے جس کم از کم سارا وقت اپنے دل سے لگا کر رکھتے ہیں۔‘‘

میں کچھ دیر وہاں بیٹھی روتی رہی۔ جب کوئی دلاسہ دینے والا نہ ہو، کوئی آنسو پونچھنے والا نہ ہو تو انسان تھک ہار کر خود ہی پرسکون ہوجاتا ہے۔ میں بھی جب جی بھر کر روچکی تو مین گیٹ کے لاک وغیرہ چیک کر کے تھکے تھکے قدموں سے بیڈروم میں آگئی۔ میرا بیڈ روم سارے گھرمیں بہترین کمرا تھا۔ اس کی ہر چیز میں نے بہت محبت سے خریدی تھی۔

’’تمہارے سارے گھر کا انٹیرئیر زبردست ہے مگر تمہارا بیڈروم بہترین ہے۔‘‘

فارینہ نے سارا گھر دیکھنے کے بعد بطور خاص بیڈ روم کی تعریف کی تھی اور یہی بیڈ روم مجھے اس وقت اتنا برا لگ رہا تھا کہ دل چاہا پورے کمرے کو آگ لگادوں۔ تھکے تھکے قدموں سے چلتی ہوئی میں بیڈ پر آکر لیٹ گئی۔ دل اتنا بوجھل تھا کہ ہر چیز بری لگ رہی تھی۔ بے سکونی سی بے سکونی تھی۔ میں نے کمبل اپنے گرد پھیلا کر تکیہ اپنے سر کے نیچے سے نکال کر اپنے اوپر رکھ لیا۔ رونے سے دل میں موجود غبار تو کم ہوگیا تھا مگر سر میں درد ہونے لگا تھا اور آنکھوں میں جلن بھی ہورہی تھی۔

میں چند لمحے اسی پوزیشن میں لیٹی رہی پھر تھک کر تکیہ دوبارہ سر کے نیچے رکھ لیا۔ سامنے دیوار پر اسفند کی انلارج تصویر مجھے منہ چڑا رہی تھی۔

’’مجھے آپ سے اتنی محبت کیوں ہے اسفند۔‘‘ میں نے ان کی تصویر کی طرف دیکھ کر خود کلامی کی۔ میں نے اپنے بھائیوں اور بھابھیوں کو دیکھا تھا۔ صبا آپی بھی قیوم بھائی سے بہت محبت کرتی تھیں بلکہ ان دونوں کی تو لو میرج تھی مگر یہ سب لوگ میرے جیسے جذباتی نہیں تھے۔ میں شاید زیادہ حساس تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میری حساسیت میں اضافہ ہورہا تھا۔ اسفند کی بے اعتنائی میری روح تک کو لہولہان کر دیتی تھی۔

میری اور اسفند کی ارینج میرج تھی بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ہماری سیمی ارینج سیمی لو میرج تھی۔ اسفند میری خالہ کی نند کے دیور تھے۔ اسفند نے مجھے کسی شادی کی تقریب میں دیکھا تھا۔ وہ کراچی سے آئی بی اے کر کے آئے تھے اور اب لاہور میں اپنی فرم اسٹیبلش کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور جبکہ میں ان دنوں پنجاب یونیورسٹی سے انگلش لٹریچر میں ماسٹر کر رہی تھی۔ مالی لحاظ سے اسفند لوگوں کی فیملی ہماری فیملی سے زیادہ مضبوط حیثیت رکھتی تھی۔ اسفند کی پرسنالٹی بھی شاندار تھی۔ میری ان سے پہلی باضابطہ ملاقات یونیورسٹی میں ہوئی تھی۔ یہ اپنے کسی دوست سے ملنے آئے تھے۔ اتفاق کی بات تھی کہ میری ان سے مڈبھیڑ ہوگئی۔ اس کے بعد دو تین مرتبہ لگاتار ایسے اتفاق ہوئے تو میں کھٹک گئی۔ اسفند کے انداز سے میری سمجھ میں تو آرہا تھا کہ کیا ہورہا ہے، سو میں نے ایک روز ان سے قطعی لہجے میں کہہ دیا۔

’’آپ اکثر یونیورسٹی آجاتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ بائی چانس ہی آتے ہیں۔۔۔ یہ بھی چانس کی بات ہے کہ آپ کی ملاقات مجھ سے ہوجاتی ہے اور بائی چانس میری کلاس فری ہوتی ہے۔۔۔ خدا خیر کرے، آپ کی زندگی میں چانسز کا عمل دخل کچھ زیادہ ہی ہے۔‘‘

میری بات سن کر اسفند لمحہ بھر کے لےے خاموش ہوگئے۔ شاید انہیں مجھ سے اس صاف گوئی کی امید نہیں تھی پھر انہوں نے کھل کر قہقہہ لگایا تھا۔

’’آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں اور آپ دیکھےے گا ایک روز بائی چانس میری آپ سے شادی ہوجائے گی۔‘‘

ان کی اس بات پر میں خاموش ہوگئی کیونکہ مجھے بھی اس صاف گوئی کی امید نہیں تھی۔ میرے چہرے پر یقینا ایسے تاثرات ابھرے تھے کہ اسفند ایک بار پھر بلا وجہ ہنس دے۔اس کے کچھ دنوں بعد اسفند کی امی باقاعدہ پرپوزل لے کر آئی تھیں۔ میرے بھائیوں کو اسفند کی شخصیت کا غرور پسند نہیں تھا جبکہ صبا آپی کو وہ خود پسند لگے تھے مگر امی ابو نے فیصلہ مجھ پر چھوڑا تھا اور میں نے مثبت جواب دیا تھا کیونکہ مجھے اسفند کی شخصیت کا غرور ان کا وقار لگتا تھا۔ مجھے وہ خود پسند نہیں بلکہ خاموش طبع لگتے تھے اور مجھے مرددوں میں یہ خصوصیت اچھی لگتی تھی اور اب جبکہ ہماری شادی کو آٹھ سال ہوچکے تھے تو مجھے احساس ہوا تھا کہ خاموش طبع ہونا اچھی بات ہے مگر اتنی خاموشی نہیں ہونی چاہےے زندگی میں کہ آپ کو سوائے اپنی آواز کے کوئی آواز ہی سنائی نہ دے۔

اسفند ہر گزرتے دن کے ساتھ مجھ سے لا تعلق ہوتے جارہے تھے۔ مجھے ان پر یقین تھا مگر ان کی یہ لاتعلقی بہت تکلیف دہ تھی۔ انہیں بچوں کی خواہش نہیں تھی کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ بچے زندگی میں ہلچل لے آتے ہیں اور انہیں ہلچل پسند نہیں تھی۔ انہیں شور سے الجھن ہوتی تھی۔ ان کا دل چاہتا تھا تو وہ مہربان ہوجاتے تھے اور دل نہ چاہتا تھا تو مجھ سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ بے شک اسفند میں بہت خوبیاں تھیں۔ وہ خرچ کے معاملے میں فراخ دل تھے۔ وہ پوزیسیو بھی نہیں تھے۔ وہ چھوٹی چھوٹی باتوں میں غلطیاں بھی نہیں نکالتے تھے۔ ان کا مزاج اچھا ہوتا تو بہت سی غلطیوں کو نظر انداز کر دیتے تھے۔

بے شک وہ شوہروں کی اس قسم میں سے تھے، جنہیں سارا زمانہ ’’پرفیکٹ‘‘ قرار دیتا ہے مگر وہ محبت کے معاملے میں بہت خشک تھے۔ اور ان کی لاپروائی میری زندگی کا ناسور بنتی جارہی تھی۔ مجھے لگتا تھا اسفند کی بے رخی مجھے پاگل کر دے گی۔ مجھے بچوں کی خواہش تھی مگر اسفند کہتے تھے۔ ’’ابھئی نہیں۔‘‘

جب یہ ساری باتیں مل کر مجھے بے حد فرسٹریڈ کر دیتیں تو ایک دم سے اسفند مہربان ہوجاتے اور ابھی میں ان کی اس مہربانی کو ہضم کرنے کی پرمسرت کوشش میں مصروف ہوتی تھی تو وہ پھر سے بے رخی کا چولا پہن لیتے۔ یہ ایسی باتیں تھیں جو میں کسی سے کہہ بھی نہیں سکتی تھی کہ بہرحال میری بھی کوئی عزت نفس تھی۔ لوگ مجھے ایک قابل رشک زندگی گزارنے والی عورت کے طور پر جانتے تھے۔

میں نے اپنے اور اپنے شوہر کے لےے لوگوں کی آنکھوں میں ہمیشہ ستائش دیکھی تھی۔ اگر چہ یہ ستائش میں نے جھوٹی سچی کہانیاں سنا سنا کر سمیٹی تھیں مجھے نہیں یاد پڑتا کہ میں نے ابتدائی دنوں کے علاوہ کبھی من چاہی بیوی والے نخرے کےے تھے بلکہ میں نے ہمیشہ اسفند کی محبت کو نعمت سمجھ کر وصول کیا تھا۔ اسفند کو میری بہت سی عادتیں نا پسند تھیں اور میں نے ان کے ایک بار ٹوکنے پر ہی ان عادتوں کو تبدیل کرنا شروع کر دیا تھا۔ آج مجھے ملنے والا ہر شخص مجھے پہلے سے مختلف یشفیٰ قرار دیتا تھا اور جس شخص کے لےے میں نے یہ سب کیا تھا، وہی میری ذات سے سب سے زیادہ لاپروا تھا۔

مجھے اپنی آٹھ سالہ ازواجی زندگی ایک جگسا پزل کی مانند دکھائی دینے لگی تھی۔ اس پزل کے کچھ ٹکڑے غلط جگہ پر لگادےے گئے تھے۔ کس میں سکت تھی کہ ان غلط ٹکڑوں کو صحیح جگہ پر لگا دیتا بجز قدرت کے۔

’’تم بھی کبھی کبھی حد کرتی ہو یشفیٰ اسفند! کس قدر قنوطی ہوتی جارہی ہو تم۔‘‘ میری اس قدر مایوس کن سوچوں سے گھبرا کر کوئی میرے اندر چلُاکر بولا۔

ہماری خوشیوں کی سب سے بڑی دشمن دراصل یہی ’’اندر‘‘ کی اکھاڑ پچھاڑ ہوتی ہے۔ ہم جسے ’’کوئی‘‘ کہہ کر خود کو بہلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دراصل یہ ’’کوئی‘‘ ہمارے اندر کنڈلی مار کر بیٹھا ہوا خوف ہوتا ہے۔ ارد گرد کے انسانوںکا خوف، ناکامی سے خائف ایک لرزتے دل کا خوف، آنکھوں سے جھانکتے تاسُف کا خوف، ہمدردی کی آڑ میں رگ جاں کو کاٹتے فقروں کا خوف، واہ واہ سمیٹنے کے بعد ایک اونچی مسند پر پہنچ کر عزت و ستائش کے مہین لبادے میں لپٹی اسی ’’واہ واہ‘‘ کے گر کر چکنا چور ہوجانے کا خوف، پابندیوں سے جکڑے اس معاشرے کا خوف۔۔۔ جی ہاں اسی معاشرے کا خوف۔ کوئی ایسا نہ کہہ دے، کوئی ویسا نہ کہہ دے، کوئی دیکھ نہ لے، کسی کو پتا چل گیا تو؟ میرے دل کو بھی ایسے خوف لاحق رہا کرتے تھے، تب ہی میرا ’’اندر‘‘ میرے دکھ اور میری بڑبڑاہٹوں کو دبا کر مجھے ’’سب اچھا ہے‘‘ کی گردان کرنے پر مجبور کر دیتا تھا۔

’’کیا کمی ہے میری زندگی میں۔۔۔۔ اتنا اچھا لائف پارٹنر۔۔۔ زندگی کی ہر آسائش۔۔۔ اولاد آج نہیں ہے، کل ہوجائے گی۔۔۔ آج اسفند مجھے ٹائم نہیں دے پارہے مگر کل وہ اس کا ازالہ کردیں گے۔۔۔ میں بھی پاگل ہوں۔‘‘

ڈھیر سارا رونے اور بہت سارا سوچنے سے ڈپریشن دور ہوگیا تھا۔ میں نے کمبل درست کیا اور کروٹ بدل کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔

٭٭٭

’’یشفیٰ! مجھے یمنیٰ کی بہت فکر رہنے لگی ہے۔ تئیس سال کی ہوچکی ہے مگر ابھی تک کوئی ڈھنگ کا پروپوزل نہیں آیا۔ تمہاری اور صبا کی دفعہ مجھے ایسی فکر نہیں ہوئی تھی۔ صبا کو اس کی پھوپھو نے بچپن میں ہی مانگ لیا تھا جبکہ تمہاری دفعہ تو خاندان سے ہٹ کر اِدھر اَدھر سے بھی کافی پروپوزلز آئے تھے مگر یمنیٰ کی بار نہ جانے کیوں اتنی دیر ہورہی ہے۔‘‘

فون پر امی کی پرمژدہ سی آواز سنائی دی تھی۔ امی سے تقریباً میری روزانہ ہی فون پر بات ہوئی تھی اور یمنیٰ کا مسئلہ بھی زیر بحث آتا تھا مگر آج امی کچھ زیادہ ہی پریشان لگ رہی تھیں۔

’’امی! آپ پریشان مت ہوا کریں۔۔۔ اللہ مسبب الاسباب ہے۔۔۔ جب تقدیر میں لکھا ہوگا، تب ہی ہوگا نا۔۔۔‘‘ میری بات ابھی پوری نہیں ہوئی تھی کہ امی بول پڑیں۔

’’اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جائیں اور کوئی کوشش ہی نہ کرےں۔ تمہارے ابو سے بات کرتی ہوں تو وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ فکر مت کرو، ہوجائے گا۔ اللہ بہتر کرے گا۔ ارے میں کہتی ہوں، بیج بوئیں گے تو پھل آئے گا نا۔‘‘

وہ کچھ زیادہ ہی پریشان تھیں، تب ہی شاید غصے میں آگئی تھیں۔

’’کہتی تو آپ ٹھیک ہیں۔۔۔ مگر۔۔۔‘‘ میں اتنا کہہ کر چپ ہوگئی۔

’’مگر کیا میری بچی۔۔۔ تمہاری خالہ کی جیٹھانی اپنے بھائی کے لےے کہہ رہی ہیں مگر وہ لڑکا ایف اے پاس ہے۔ کاروبار تو اپنا ہے مگر گھر میں سب سے بڑا ہے اور چار بہنیں بھی ہیں۔ میری یمنیٰ سب سے چھوٹی، گھر بھر کی لاڈلی۔۔۔ میری بچی تو نندوں کو بیاہتی بوڑھی ہوجائے گی۔۔۔ میں نے تو صاف انکار کر دیا۔۔۔ میں نے ملنے ملانے والوں میں سب سے کہہ رکھا ہے۔۔۔ یشفیٰ! تم اسفند سے بھی کہو نا۔۔۔ اس کے کسی دوست یا کسی کاروباری شناسا سے بات بن جائے تو مجھے اطمینان ہوجائے گا۔‘‘

’’جی امی۔۔۔ میں ذکر کروں گی ان سے۔‘‘ میں نے پھیکے لہجے میں کہا۔ اسفند کو دوستوں یا کاروباری شناسائوں میں رشتہ داری جوڑنا سخت ناپسند تھا اور پھر ایسی بات میں دو ایک مرتبہ اشاروں کنایوں میں کر چکی تھی لیکن وہ دلچسپی ہی نہیں لیتے تھے۔

’’نہیں یشفیٰ! ذکر نہیں کرنا، اصرار کرنا۔ اب تم سے کوئی پردہ تو نہیں ہے میرا۔ مجھے یمنیٰ کے لےے بھی اسفند جیسا ہی داماد چاہےے۔ کیسا شاندار بچہ ہے، تمہیں کتنے چائو سے بیاہ کر لے گیا تھا اور ابھی تک کیسے پھولوں کی طرح رکھا ہے۔ اللہ نظر بد سے بچائے۔ آج تک کسی شکایت کا موقع نہیں دیا اس لڑکے نے ہمیں۔۔۔ قیوم بھی اچھا ہے مگر اسفند کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ تم اسفند کے کان میں یہ بات ڈالتی رہو۔ اس کے تو بہت اچھے اچھے دوست ہوں گے نا۔‘‘

’’قیوم بھی اچھا ہے مگر اسفند کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔‘‘ مجھے لگا میرا خون سیروں کے حساب سے بڑھا ہے۔ مجھے اپنے والدین کے منہ سے اسفند کی تعریف سننا ہمیشہ ہی بہت اچھا لگتا تھا۔

’’جی امی۔۔۔ آپ فکر نہ کریں۔ میں آج ہی بات کروں گی ان سے۔ آپ بس اپنا خیال رکھاکریں۔ یمنیٰ سے کہےے گا چکر لگائے میری طرف ۔ میں تو نکل نہیں پاتی ڈنر کے بعد۔ حالانکہ روزانہ ہی باہر نکلتے ہیں مگر اسفند کا موڈ ہوتا ہے کہ اسی وقت سارے دن کی روداد مجھے سنالیں۔ آپ تو جانتی ہیں جب تک وہ سب کچھ مجھ سے نہ کہہ لیں، انہیں سکون نہیں آتا۔ بس پھر ہم سڑکوں پر رائونڈ لگا کر واپس آجاتے ہیں۔ سنڈے کو تو وہ خود کہیں جاتے ہیں نہ مجھے جانے دیتے ہیں۔‘‘

میں اسفند کی تعریف کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی تھی۔

’’ماشائ اللہ۔۔۔ اللہ تم لوگوں کو ہر دکھ سے بچائے، تم یاد سے یمنیٰ والی بات کرنا اس سے۔۔۔ اور ہاں یشفیٰ! بچے۔۔۔ اب ’’اس‘‘ بات پر بھی سنجیدگی سے غور کرو۔‘‘ انہوں نے ’’اس‘‘ پر زور دیتے ہوئے کہا۔ میں سمجھ گئی، وہ کیا کہنا چاہ رہی ہیں۔

’’بیٹا یہی عمر ہوتی ہے۔۔۔ تم کب تک بچی بنی رہو گی چھوڑو اب یہ فضول کی ضد۔۔۔ بچوں کے بغیر بھی بھلا عورت کی کوئی زندگی ہے۔۔۔ تمہارے شوق کے آگے اسفند بھی کچھ نہیں کہتا ہوگا، ورنہ کیا کیا ارمان نہیں ہوں گے اس کے۔ آٹھ سال ہوگئے ہیں تمہاری شادی کو۔ تمہارے ساتھ بیاہے جانے والی گود میں چار چار بچے لےے پھر رہی ہیں۔۔۔ سن رہی ہو نا۔‘‘ ان کی آواز میں خفگی نمایاں تھی۔

’’جی امی۔۔۔ سن رہی ہوں۔۔۔ شاید دودھ والا آگیا ہے۔ میں آپ کو بعد میں فون کروں گی۔۔۔ اللہ حافظ۔‘‘

میں نے عجلت میں فون بند کر دیا۔ امی کی نصیحت سننا مجھے بہت مشکل لگ رہا تھا۔

’’اسفند! آپ کی خاطر اور کتنے جھوٹ بولوں گی میں۔‘‘ فون ریک کی چکنی سطح پر انگلی پھیرتے ہوئے میں نے سوچا تھا۔ میری فطرت بھی عجیب تھی۔ جب اسفند میرا خیال رکھتے تھے تو میرے دل میں ان کے خلاف ذرا سا شکوہ بھی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ مگر جب وہ مجھ سے لاپروا ہوجاتے تھے تو میرے دل کو کئی ملال گھیر لیتے۔

میں ابھی ان ہی سوچوں میں گھری بیٹھی تھی کہ فون کی گھنٹی پھر بج اٹھی۔

’’حیدر بات کر رہا ہوں۔‘‘ فارینہ سے ملاقاب کے بعد حیدر کا آج پہلا فون آیا تھا۔

’’جی۔۔۔ خیریت سے ہیں آپ؟‘‘ میں نے اپنے لہجے میں مصنوعی بشاشت سموئی۔

’’الحمدللہ۔۔۔ آپ سنائےے۔ معذرت چاہتا ہوں آج پھر سویرے ہی فون کھڑکا ڈالا آپ کا۔۔۔ دراصل آج میرا شیڈول کافی ٹف ہے تو سارا دن آپ سے بات کرنے کی فرصت نہیں ملتی۔‘‘

اس نے شائستہ لہجے میں قدرے بے تکلفی سے کہا۔

’’بھلا مجھ سے بات کرنا ان حضرت کے لےے اتنا اہم کب سے ہوگیا۔‘‘ میں نے حیرت سے دل میں سوچا۔ میں ال مینرڈ نہیں تھی، مگر اس وقت نہ جانے کیوں میرا کسی سے بھی بات کرنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔ اسی لےے رسماً کہا۔

’’جی فرمائےے۔‘‘

’’فارینہ نے آپ کے لےے کچھ تحائف بھجوائے ہیں۔ اس نے خاص تاکید کی تھی کہ آپ تک پہنچادوں، مگر گزشتہ دو تین دن سے بہت مصروفیت ہے۔ میں آپ کی طرف چکر لگا نہیں پایا، میں سوچ رہا تھا فارینہ نے آپ کو فون نہ کر دیا ہو۔ ورنہ میرے لتُے لے گی کہ ابھی تک آپ کی امانت پہنچائی کیوں نہیں۔‘‘

فارینہ کے ذکر پر میری طبیعت پر چھائی کسل مندی ذرا کی ذرا چھٹ گئی اور ساتھ ہی مجھے احساس ہوا کہ مجھے اس شخص کے ساتھ اتنے کھردرے لہجے میں بات نہیں کرنی چاہےے۔

’’ارے۔۔۔ نو پرابلم۔۔۔ فارینہ کیسی ہے۔۔۔ بچے کیسے ہیں اس کے۔۔۔ کن تکلفات میں پڑی رہتی ہے وہ۔ میں ابھی فون کرتی ہوں اسے۔‘‘ اب کی بار میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔

’’ارے یہ غضب مت کیجےے گا پلیز۔۔۔ پہلے اپنے تحائف وصول کرلیں پھر فارینہ سے بات کیجےے گا۔‘‘

وہ بشاشت سے ہنستے ہوئے بولا۔ مجھے احساس ہوا اس کی آواز بہت خوب صورت ہے۔ اسفند بہت کم کھل کر ہنستے تھے۔ انہیں فقط مسکرانے کی عادت تھی۔ اور ان کی مسکراہٹ نایاب بھی بہت تھی۔

’’آپ فارینہ سے بہت ڈرتے ہیں؟‘‘ میں نے مسکرا کر اسے چھیڑنے والے انداز میں کہا۔

’’ایک ہی تو بہن ہے میری۔۔ ڈرتا نہیں ہوں۔۔۔ بس۔۔۔ اب کیا کہوں۔۔۔ بہت عزیز ہے مجھے اپنی بہن۔۔۔‘‘

اس کے لہجے میں فارینہ کے لےے اتنی محبت تھی کہ میرے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ مجھے یاد آیا کہ بچپن میں یہی دونوں بہن بھائی ایک دوسرے سے اتنا لڑتے تھے کہ صلح کروانے کے لےے میری امی کو ان کے گھر جانا پڑتا تھا۔

’’خیر میں بھی کیا باتیں لے بیٹھا۔۔۔ ایسا ہے کہ میں ویک اینڈ پر آپ کی چیزیں آپ تک پہنچادوں گا۔ آپ فارینہ کو فون کریں یا وہ آپ کو فون کرے تو آپ خود بات سنبھال لیجےے گا۔‘‘ میری خاموشی سے اکتا کر وہ بولا۔

’’جی۔۔۔ آپ فکر مت کریں۔۔۔ میں کہہ دوں گی کہ اس کا گفٹ مجھ تک پہنچ گیا ہے۔‘‘ میں نے تسلی دینے والے انداز میں کہا۔

’’اور اگر اس نے پوچھ لیا کہ گفٹ پسند آیا تو پھر آپ کیا کہیں گی؟‘‘ اس نے ایک اور سوال کیا۔

’’آپ فکر کیوں کرتے ہیں۔ شاہ رخ خان ہے نا۔‘‘ میں پھر مسکراتے ہوئے بولی۔ پہلے تو وہ ہنس دیا پھر بولا۔

’’کیا مطلب؟‘‘

’’میرا مطلب۔۔۔ میں ہوں نا۔‘‘ میں نے سابقہ شرارت بھرے انداز میں کہا۔

اب کی بار اس کا مخصوص قہقہہ کانوں میں پڑا تھا، شکر ہے کہ اس کا سینس آف ہیومر اچھا تھا۔ ورنہ مجھے اس بات کی بھی وضاحت دینا پڑتی۔ اس نے میرا شکریہ ادا کر کے فون بند کر دیا۔ میں مسکراتے ہوئے کچن میں آگئی۔ خان آج چھٹی پر تھا سو آج کچن مجھے سنبھالنا تھا۔ برتن وغیرہ سمیٹتے ہوئے میں حیدر اور فارینہ کے متعلق سوچتی رہی۔

’’کتنا تبدیل ہوگئے ہیں دونوں بہن بھائی۔ وہ بھی ہر وقت بھائی کے گن گاتی ہے اور یہ بھی بہن سے کتنی محبت کرنے لگا ہے۔۔۔ خیر میرے بھائی بھی ہم بہنوں سے بہت محبت کرتے ہیں۔ یمنیٰ کو تو اب بھی دونوں بھائی بیٹی کی طرح چاہتے ہیں۔‘‘

یہ سب سوچتے ہوئے میرے ذہن میں اچانک گھنٹی سی بجی تھی۔

’’یمنیٰ تیئس سال کی ہوچکی ہے۔‘‘ امی کی آواز میرے ذہن میں گونجی تھی۔

’’ارے واہ۔۔۔ میرے ذہن میں یہ خیال پہلے کیوں نہیں آیا۔۔۔ حیدر رضا۔۔۔ اور یمنیٰ چوہدری۔‘‘

میرا ذہن فٹا فٹ ایک نئی اور دلچسپ مہم سر کرنے پر آمادہ ہوگیا تھا۔

٭٭٭

’’مکس سبزی بہت اچھی بنی ہے۔‘‘

اسفندنے رغبت سے کھاتے ہوئے تعریف کی تھی۔ بالآخر کئی دنوں بعد اسفند کو میرا خیال آگیا تھا۔ جب وہ ڈنر گھر پر کرتے تھے تو میری پوری کوشش ہوتی تھی کہ ٹیبل پر ان کی پسند کی ہی ڈش موجود ہو۔ آج وہ ڈنر سے کچھ دیر پہلے آئے تھے۔ اور میرے علم میں نہیں تھا کہ وہ جلدی گھر آنے والے ہیں سو جو دوپہر میں پکا تھا وہی میں نے ٹیبل پر سجا دیا۔ ان کے تعریف کرنے پر مجھے دل ہی دل میں خوشی تو ہوئی مگر حیرانی بھی ہوئی کہ انتہائی دیسی طریقے سے بنی یہ مکس سبزی انہیں پسند کیسے آگئی۔ اٹالین و چائنز ٹائپ پھیکے پھیکے کھانے کھا کھا کر انہیں تیز مسالے والے کوئی ڈش اچھی نہیں لگتی تھی اور مکس سبزی میں ہمیشہ خوب مسالے وغیرہ ڈال کر بناتی تھی۔

’’خان نے تمہیں کافی اچھا پکانا سکھا دیا ہے۔۔ کیا خیال ہے خان کی چھٹی نہ کردیں؟‘‘ اپنی پلیٹ میں مزید سبزی نکالتے ہوئے انہوں نے میری طرف دیکھ کر کہا۔

’’بھلے سے کر دیجےے اپنے خان کی چھٹی۔۔۔ مجھے پروا نہیں ہے۔‘‘

میں نے ناک چڑھا کر کہا، اتنے دنوں کے بعد انہیں میرا خیال آیا تھا سو میرا کچھ حق تو بنتا تھا کہ میں کسی قدر خفگی کا مظاہرہ کروں۔ میرے اس انداز پر انہوں نے میری طرف دیکھا پھر مسکرائے۔ ان کی اس مسکراہٹ پر میرا دل چاہا کہ بے ہوش ہوجائوں، یا کم از کم بے ہوش ہونے کی ایکٹنگ ضرور کروں، مگر میں بے تاثر چہرا لےے بیٹھی رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسفند کے گھر میں ہونے سے مجھے عجیب طرح کی خوشی اور سکون محسوس ہورہا تھا۔ اور میں پوری کوشش کر رہی تھی کہ یہ سکون اور خوشی میرے چہرے سے اسفند کو محسوس نہ ہونے پائے۔

’’اتنے کام کا آدمی ہے یہ خان۔۔۔! تمہاری آدھی ذمہ داری بانٹ رکھی ہے اس نے۔‘‘

اسفند نے سویٹ ڈش کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔ وہ مجھے چڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔

’’اسٹوپڈ ہے آپ کا خان۔۔۔ اس نے میری ذمہ داری نہیں بانٹ رکھی، بلکہ میں نے اس کی ذمہ داری بانٹ رکھی ہے۔ اور فار یور کائنڈ انفارمیشن مجھے پہلے بھی کوکنگ آتی تھی۔ یہ خان تو آپ نے خود پال رکھا ہے کیونکہ آپ کو اچھا نہیں لگتا کہ میں سارا وقت کچن میں رہوں۔‘‘

میں ناک چڑھا کر بولی۔

’’بھئی مجھے نہیں اچھا لگتا کہ میری مسز ہر وقت پیاز لہسن سے ’’مہکتی‘‘ رہے۔مجھے الجھن ہوتی ہے پیاز لہسن کی بو سے۔‘‘

مجھے ہنسی آگئی، مگر میں اس ہنسی پر قابو پانے کے لےے کرسی گھسیٹ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔

’’رہنے دیجےے اسفند صاحب! حقیقت یہ ہے کہ آپ کو اپنی مسز ہی اچھی نہیں لگتی۔۔۔ صاف کیوں نہیں کہتے کہ آپ کو اپنی مسز سے الجھن ہوتی ہے۔‘‘

اتنا کہہ کر میں کچن میں آگئی تھی۔ کھانے کے بعد اسفند چائے یا کافی ضرور پیتے تھے، میں نے چائے بنانے کے لےے برنر آن کیا تھا اور ابھی ساس پین اٹھانے لگی تھی کہ کندھوں کے گرد اسفند کے لمس کا احساس ہوا اور ساتھ ہی Eternity کی مخصوص مہک بہت قریب محسوس ہوئی تھی۔ انہوں نے مجھے تھوڑا سا پیچھے کو دھکیلا اور خود میرے سامنے آکر کھڑے ہوگئے۔ پہلے برنر آف کیا پھر بازو میرے گردن میں حمائل کر کے اپنا سر میرے سر سے ہلکا سا ٹکرا کر بولے۔

’’اتنا موڈ کیوں آف ہے آج؟‘‘ ان کے چہرے پر میٹھی سی مسکراہٹ تھی۔ عرصہ بعد ان کے چہرے پہ یہ مسکراہٹ نظر آئی تھی۔ میرے اندر تک سکون اتر آیا۔

دل کہہ رہا تھا کہ ہتھیار ڈال دوں، مگر ایسا شاندار موقع میں ضائع نہیںکرنا چاہتی تھی۔

میں نے بہت نرمی سے ان کے بازو اپنے کندھے سے ہٹائے اور ساس پین میں کپ بھر پانی انڈیل کر بولی۔

’’اللہ خیر۔۔۔ آج تو آپ مسکرا رہے ہیں۔‘‘ اس لطیف سے طنز پر ان کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔

’’میری مسکراہٹ اچھی نہیں لگتی کیا۔۔۔۔؟ پہلے تو تم کہتی تھی کہ آپ کی مسکراہٹ بہت خوب صورت ہے۔ یاد ہے یا سب بھول چکی ہو؟‘‘

وہ سینے پر ہاتھ باندھ کر دلفریب مسکراہٹ لےے مجھے تکتے ہوئے بولے۔ اب کی بار میں خود کو مسکرانے سے روک نہیں پائی تھی۔ ان کا یہ روپ میں نے کتنے دن بعد دیکھا تھا۔ مجھے اپنا آپ ہوائوں میں اڑتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔

’’مجھے سب یاد ہے۔ آپ اپنے دل سے پوچھےے۔ آپ کو بھی کچھ یاد ہے یا نہیں۔‘‘ میں نے بظاہر مسکراتے ہوئے مگر شکوہ کناں انداز میں کہا۔ اسفند میرے قریب آئے پھر میرے ہاتھ سے کپ لے کر کائونٹر پر رکھ کر دوبارہ سے میرے کندھے پر بازو رکھ کر بولے۔

’میرے ساتھ آئو۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ مجھے کیا یاد ہے، اور کیا بھول چکا ہوں۔‘‘

وہ مجھے اپنے ساتھ لگائے لائونج میں لے آئے پھر خود ہی ناک چڑھا کر بولے۔

’’نہیں یہاں نہیں بیٹھنا۔ بیڈ روم میں چلتے ہیں۔ باتیں بھی کریں گے اور تم پیکنگ بھی کر دینا۔‘‘

میں نے لفظ ’’پیکنگ‘‘ پر حیرت سے ان کی جانب دیکھا۔

’’یو نو آئی لو یو سو مچ۔۔۔ میں چاہتا ہوں تم ہر وقت خوش رہو۔۔۔ میں تمہیں زندگی کی ہر سہولت دینا چاہتا ہوں، میں چاہتا ہوں تمہارے سوچنے سے بھی پہلے میں تمہاری مطلوبہ چیز تمہارے سامنے لا کر رکھ دوں۔۔۔ اپنا خیال رکھا کرو نا، میرے لےے۔‘‘

ہم دونوں چلتے ہوئے بیڈ روم میں آگئے۔

’’کہاں جارہے ہیں؟‘‘ میرا ذہن لفظ ’’پیکنگ‘‘ میں اٹک کر رہ گیا تھا۔

’’جاپان۔۔۔ کیا حلیہ بنا رکھا ہے تم نے۔۔۔ بال کتنے رف ہورہے ہیں۔‘‘ وہ میرے بالوں میں انگلیاں پھیر کر بولے۔

میری طبیعت پر چھائی تازگی لمحے بھر میں اڑن چھو ہوئی تھی۔

’’میں بھی ساتھ جائوں گی۔ سمجھے آپ۔‘‘

میں نے ضدی انداز میں کہا۔ ان کی پیار بھری باتوں کا مقصد مجھے سمجھ میں آرہا تھا۔

’’افوہ۔۔۔ تم کیسے جا سکتی ہو۔ ایک مہینے کا ٹور ہے۔۔۔ تفریح کرنے نہیں جارہا۔۔۔ بزنس ٹور ہے۔ پتا ہے۔۔۔‘‘

میں نے ان کی بات کاٹ دی۔

’’ایک مہینہ، اسفند! میں آپ کے ساتھ جائوں گی۔‘‘ میں نے ان کا ہاتھ تھام کر کہا۔ ایک دو دن کے لےے اسلام آباد یا کراچی وغیرہ جانا تو ان کا معمول تھا مگر ایک مہینہ کے لےے وہ کبھی مجھ سے دور نہیں ہوئے تھے۔

’’یار۔۔۔ دماغ مت کھائو میرا۔۔۔ تم وہاں جا کر کیا کرو گی۔۔۔ بور ہوجائو گی جان۔۔۔

میں تمہیں کینیڈا لے کر جائوں گا۔ اپریل میں۔۔۔ کم از کم انجوائے تو کرو گی نا۔۔۔ جاپان میں کیا ہوگا۔۔۔ یقین کرو بہت بورنگ ٹرپ ہوگا یہ۔‘‘

وہ میرے ماتھے پر آئے بالوں کو ہٹاتے ہوئے محبت سے بولے۔

’’پلیز اسفند۔۔۔ میں نہیں رہ سکتی آپ کے بغیر۔‘‘

میں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔

’’کم آن یشفیٰ۔۔۔! بچوں کی طرح بی ہیو مت کرو۔ یار! تم میرے پرابلمز کو نہیں سمجھو گی تو کون سمجھے گا۔‘‘

وہ بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولے۔ ان کے چہرے پر وہی مخصوص سختی در آئی تھی جو ان کی شخصیت کا حصہ تھی۔ میں نے اپنے آنسوئوں کو بڑی مشکل سے ضبط کیا۔ اور وارڈ روب کی سمت آگئی۔ میرے اندر آگ لگی ہوئی تھی۔ جس پر قابو پانا میرے لےے ناممکن تھا۔ میں کچھ لمحے وارڈ روب کھول کر کھڑی رہی پھر بیڈ روم سے باہر آگئی۔ مجھے کہیں نہ کہیں بیٹھ کر تو رونا ہی تھا۔

٭٭٭

’’آج آپ لنچ ہمارے ساتھ کیجےے۔‘‘ میں نے ساڑھے بارہ بجے کے قریب حیدر کو فون کر کے کہا تھا۔ میں یمنیٰ کی وجہ سے بہت سنجیدہ ہوچکی تھی۔ اور جلد از جلد اس معاملے کو آگے بڑھانا چاہتی تھی سو میں نے حیدر کو لنچ پر انوائٹ کیا تھا۔ میرا ارادہ تھا کہ یمنیٰ کو بھی بلالوں گی تاکہ وہ بہانے سے ایک دوسرے کو دیکھ لیں اور اس بات کا فیصلہ ہوسکے کہ یہ معاملہ آگے بڑھنا چاہےے یا نہیں۔ ابھی میں نے امی سے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی تھی۔ میں پہلے حیدر کو پرکھنا چاہتی تھی اور آج کا لنچ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔

’’لنچ۔۔۔؟ کس خوشی میں؟‘‘

حیدر کی بھاری خوابیدہ آواز میری سماعتوں سے ٹکرائی۔ سنڈے کی وجہ سے شاید وہ ابھی تک سویا ہوا تھا اور شاید میرا فون ہی اسے بے دار کرنے کا سبب بنا تھا۔مجھے ذرا سی شرمندگی تو ہوئی، مگر میں نے ظاہر کےے بغیر خوش دلی سے کہا تھا۔

’’آج صبح صبح آپ کی آواز سننے کو مل گئی، اس سے بڑی خوشی کیا ہوسکتی ہے؟‘‘

میں نے بے تکلفی سے کہا۔ مجھے امید تھی کہ وہ میری بے تکلفی کو محسوس کر کے حیران ہوا ہوگا۔ مگر ایسا کرنا ضروری تھا۔ ورنہ میں اس سے یمنیٰ کے متعلق بات کیسے کرپاتی۔

’’ویل سیڈ۔۔۔‘‘ وہ اتنا کہہ کر ہنسا۔۔۔ ہنسی میں بھی غنودگی کا اثر نمایاں تھا۔ ایک چھوٹا سا جملہ بول کر وہ خاموش ہوگیا۔

پھر اس نے ہنکارا بھرا۔

’’اب میں کیا کہوں آپ سے۔۔۔ ہونا تو یہ چاہےے تھا کہ میں بھی جواباً آپ کی تعریف کرتا مگر۔۔۔‘‘

اتنا کہہ کر وہ ایک بار پھر خاموشی ہوگیا۔ مجھے ہنسی آگئی تو وہ بھی ہنس دیا۔

’’دراصل اس وقت میں نیند کے اثر میں ہوں۔۔۔ یوں سمجھ لیجےے میری بیٹری چارج نہیں ہے۔‘‘ اس نے ہنستے ہوئے بات مکمل کی۔

’’اسی لےے توآپ کو فون کیا ہے کہ اٹھےے، اپنی بیٹری چارج کیجےے اور دوپہر کا کھانا ہمارے ساتھ تناول فرمائے۔‘‘

میں نے پھر یاد دہانی کروائی۔ اس سے پہلے کہ وہ پھر کسی شش و پنج میں پڑتا میں فوراً بولی۔

’’اب پلیز فارمل مت ہونا حیدر! آپ کو فارینہ کی چیزیں پہنچانے تو آنا ہی تھا۔ اگر ایک وقت کا کھانا ہمارے ساتھ کھالیں گے تو آپ کی شان میں فرق نہیں پڑے گا۔‘‘

’’ہاہاہا۔‘‘ اس کا اونچا سا قہقہہ سنائی دیا۔ ’’مجھے وہی بچپن والی موٹی سی یشفیٰ یاد آگئی۔ جو میری اور فارینہ کی لڑائی میں ہمیشہ مجھے قصوروار ٹھہرا کر مجھ سے لڑنے آجاتی تھی۔‘‘ وہ مجھے بچپن کی یاد دلاتا ہوا بولا۔ میں مسکرا دی۔

’’نمبر ایک میں کبھی بھی موٹی نہیں تھی، نمبر دو میں ہمیشہ سے انصاف پسند تھی۔ آپ کراچی سے مہینوں بعد آتے تھے اور آتے ہی فارینہ کی ہر چیز پر حق جمالیا کرتے تھے۔ فارینہ سے بے وجہ لڑتے جھگڑتے تھے۔ بلکہ اس معصوم کی چھوٹی چھوٹی شرارتوں کو شکایتوں کا نام دے کر نانا جان کو الٹی سیدھی پٹیاں پڑھاتے تھے تو پھر اس کا حق دلوانے کے لےے مجھے میدان میں اترنا پڑتا تھا۔‘‘

’’میں ان دنوں کو بہت مس کرتا ہوں۔ میری زندگی کا بہترین دور تھا وہ۔‘‘ اس نے خوشگوار لہجے میں کہا۔

’’اسی لےے تو آپ کو انوائٹ کر رہی ہوں، آئےے مل کر ماضی کو یاد کریں گے۔‘‘

’’میں ابھی اٹھا ہوں۔ شاور و بریک فاسٹ، اخبار۔ تین بجے تک آپائوں گا۔ بائی دا وے آپ لنچ میں کیا بنا رہی ہیں؟ اس لےے پوچھ رہا ہوں کہ بریک فاسٹ میں صرف ٹوسٹ لوں یا پھر ٹھیک ٹھاک ڈٹ کر ناشتا کر کے آئوں۔‘‘

’’شاور لے کر آجائےے۔ بریک فاسٹ اور اخبار آپ کو یہاں مل جائے گا۔‘‘

اس نے ہامی بھر لی تھی۔ اس کے بعد میں نے امی کو فون ملایا۔ پہلے بھابھی سے علیک سلیک کی پھر یمنیٰ کو بلالیا۔ MFA کرنے کے بعد وہ آج کل کسی کمپیوٹر کورس میں دماغ کھپا رہی تھی۔

’’آپی! آج میں نہیں آسکتی۔‘‘ یمنیٰ نے سنتے ہی انکار کر دیا۔

’’کیوں نہیں آسکتیں۔۔۔ خوامخواہ نہیں آسکتیں۔ تمہیں آنا ہوگا۔‘‘ میں نے ڈپٹ کر کہا۔

’’آپی! آج رابعہ کی برتھ ڈے ہے نا۔ ہم سب فرینڈز اس کے گھر جارہے ہیں۔ اس کی انگیجمنٹ کی ٹریٹ بھی ڈیو ہے، کسی نہ کسی وجہ سے یہ پروگرام Delay ہوتا رہا ہے۔ بہت مشکل سے سب آج کے دن کے لےے رضامند ہوئے ہیں۔‘‘ اس نے لاڈ بھرے لہجے میں کہا۔

’’ہائے نہیں یمنیٰ! ایسے مت کہو۔۔۔‘‘ میں ذرا کی ذرا پریشانی سے بولی۔

’’مجھے خود افسوس ہورہا ہے کہ آپ اتنی محبت سے کبھی کبھی تو بلاتی ہیں۔ آپ کا خرچا کروانے کا اتنا اچھا موقع ہاتھ لگا تھا۔۔۔ مگر ۔۔۔ سوری آپی۔۔۔ میں نہیں آسکتی۔‘‘

اس نے میرا موڈ ٹھیک کرنے کے لےے چڑانے والے انداز میں کہا۔ میں چپ ہوگئی۔

’’یمنیٰ۔۔۔! تم نے مجھے مشکل میں پھنسا دیا ہے۔‘‘ میں تذبذب میں گھر کر بولی۔

’’آئی ایم سوری آپی۔۔۔ میں کل آجائوں گی۔ فکر مت کیجےے۔ میں کل بھی آپ کا ٹھیک ٹھاک خرچا کرائوں گی۔‘‘ اس نے ہنستے ہوئے اپنی طرف سے ایک اور آپشن دیا۔

’’اوکے۔۔۔ ایز یو وش۔۔۔‘‘ میں نے بے دلی سے کہہ کر فون بند کر دیا۔ وہ اگر اپنی فرینڈز کے ساتھ پہلے ہی پلان نہ بنا چکی ہوتی تو میں اسے اصرار کر کے بلا سکتی تھی۔مگر اب مجھے خود بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ اصرار کروں۔ اگر اسے سمجھاتی کہ بہن تمہارے لےے ایک رشتہ دیکھا ہے ذرا آکر تم بھی اپنی مرضی بتادو اور لگے ہاتھوں حضرت کا معائنہ بھی کر لو تو اس نے فوراً انکار کر دینا تھا۔

’’اب کیا کروں میں؟‘‘ میں سوچتے ہوئے سر پر ہاتھ رکھ کر وہیں بیٹھ گئی۔

رات کی فلائٹ سے اسفند جاپان روانہ ہوگئے تھے اور جاتے وقت میں نے اپنی خود ساختہ ناراضی ختم کر دی تھی۔ مجھے کبھی اچھا نہیں لگتا تھا کہ اسفند گھر سے باہر ہوں اور میری خفگی کا خیال انہیں ستاتا رہے۔ مجھے ان سے شکایتیں ضرور تھیں مگر مجھے ان کے مسائل کا بھی احساس تھا۔ ویسے بھی انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ مجھے اپریل میں کینیڈا لے کر جائیں گے۔

فی الحال مجھے یہ مسئلہ لاحق تھا کہ میرے شوہر نامدار گھر میں نہیں تھے اور میں یمنیٰ کے بھروسے پر حیدر کو انوائنٹ کر چکی تھی۔ یمنیٰ نے انکار کر دیا تھا اور اب مجھے نامناسب لگ رہا تھا کہ میں اور حیدر اس طرح لنچ کریں۔ مجھے اسفند کا ڈر نہیں تھا۔ وہ بہت براڈ مائنڈڈ انسان تھے، بس مجھے خود ہی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ میں کچھ لمحے اسی پوزیشن میں بیٹھی رہی پھر مجھے ایک اور خیال آیا۔ میں نے اپنی جیٹھانی کو فون کیا کہ ردا اور علی کو میری طرف بھیج دیں۔

’’یشفیٰ! ولی چڑیا گھر جانے کی رٹ لگا کر بیٹھا ہے۔ جب کہ ردا اور علی فورٹریس جانا چاہ رہے ہیں۔ تم ہمارے ساتھ چلو نا۔۔۔ بچے انجوائے کریں گے اور ہم اپنی باتیں کریں گے۔‘‘

وہ ایک نئی تجویز پیش کر رہی تھیں۔ میں نے بہانہ بنا کر جان چھڑائی اور کچن میں آگئی، جہاں خان اور اس کی بیوی لنچ کی تیاری میں مگن تھے۔ جب گھر میں زیادہ کام ہوتے تھے تو خان کی بیوی یا ماں میرے پاس کام کروانے کے لےے آجاتی تھیں۔ میں سلاد کے لےے بند گوبھی بھی کتر رہی تھی اور ساتھ ساتھ سوچ بھی رہی تھی کہ اب کیا کروں، پھر مجھے ایک اور خیال آیا۔ کچھ دیر بعد میں دوبارہ امی کا نمبر ڈائل کر رہی تھی۔

’’امی! آپ سے فارینہ کا ذکر کیا تھا نا۔۔۔ حیدر اور فارینہ کا وہ جو صدر میں سامنے والے گھر میں قاضی صاحب رہتے تھے۔ ان کا نواسا نواسی یاد آگیا نا۔‘‘

امی عموماً باتیں بھول جایا کرتی تھیں۔ اسی لےے میں نے دوبارہ سے سب یاد کروایا۔

’’امی! حیدر میری طرف آرہا ہے لنچ پر۔۔۔ فارینہ نے کراچی سے کچھ چیزیں بھجوائی ہیں، وہی دینے آرہا ہے۔ اب لنچ کا ٹائم ہوچلا ہے تو میں نے کہا کہ لنچ کر کے چلے جانا۔ آپ تو جانتی ہیں اسفند گھر پر نہیں ہیں۔۔۔ آپ آجائیں گی نا میری طرف۔۔۔ میں ڈرائیور کو بھیج دیتی ہیں۔‘‘

میں نے ایک طرح سے منت کی تھی۔ امی رضامند ہوگئی تھیں۔ میں نے انہیں یہ نہیں بتایا تھا کہ میں ولید کو یمنیٰ کے لےے پسند کےے بیٹھی ہوں۔ کیونکہ یہ ابھی میرا ذاتی خیال تھا۔ میں پہلے حیدر کو جانچنا چاہتی تھی۔ اور پھر سب سے بڑھ کر ابھی یمنیٰ سے بھی اس موضوع پر تفصیلی بات کرنا ضروری تھا۔

حیدر دو بجے کے قریب آیا تھا۔ لائٹ بلیو ٹی شرٹ کے ساتھ نیوی بلیو جینز میں وہ بہت اچھا لگ رہا تھا۔ وہ شاید سچ مچ شاور لیتے ہی آگیا تھا۔ کیونکہ اس کے بالوں میں دیکھنے سے ہی نمی محسوس ہورہی تھی۔ میں امی کو اس کے ساتھ بٹھا کر کچن میں چلی آئی۔ امی کی نظروں میں اس کے لےے پسندیدگی دیکھ کر مجھے کچھ اطمینان ہوا تھا۔ ویسے سچی بات یہ ہے کہ وہ اچھا بھی بہت لگ رہا تھا۔

’’سب سے پہلے اسفند پھر حیدر اور پھر قیوم بھائی۔‘‘ میں نے دل ہی دل میں امی کے تینوں دامادوں کو پرسنالٹی کے حساب سے پوزیشن دے ڈالی تھی۔ کھانا کافی خوشگوار ماحول میں کھایا گیا۔ پہلی ملاقات کے بعد سے آج کے لنچ سے پہلے تک ہمارے درمیان ایک تکلف سا تھا مگر آج یہ تکلف بے تکلفی میں ڈھل گیا تھا۔ میں اس سے کرید کرید کر امریکہ کی باتیں کر رہی تھی تاکہ اس کے رہن سہن اورسوچ کا اندازہ کر سکوں۔ مجھے وہ یمنیٰ کے لےے پرفیکٹ لگا تھا۔ اس میں نخرہ نام کو بھی نہیں تھا۔ بلکہ اس کے انداز میں بہت اپنائیت تھی۔ جو مجھے بہت اچھی لگ رہی تھی۔

’’جناب نے شادی کے متعلق کیا سوچا ہے؟‘‘ کھانے کے بعد چائے پیتے ہوئے میں نے بے تکلفی سے پوچھا۔ امی نماز عصر کے لےے اٹھ چکی تھیں۔ میری بات سن کر حیدر کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

’’کیا بات ہے۔۔ میں غور کر رہا ہوں آپ دو تین بار گھما پھرا کر اسی ایک سوال کو پوچھے جارہی ہیں۔ فرینکلی بتائیں۔۔۔ کیا میں بوڑھا لگنے لگا ہوں؟‘‘

میں ہنس پڑی، مگر میری ہنسی بہت مصنوعی تھی۔ کیونکہ میں اس سے ایسی چالاکی کی امید نہیں کر رہی تھی۔

’’آپ بوڑھے لگنے نہیں لگے، بلکہ آپ بوڑھے ہوچکے ہیں۔ یہ پرفیکٹ ایج ہے شادی کی۔۔۔ کوئی لڑکی وڑکی پسند ہے تو مجھے بتا دیجےے۔ بھئی ہم بچپن کے دوست ہیں اور ایسے معاملات میں دوست بہت کام آتے ہیں۔‘‘

میں اسے چھیڑنے والے انداز میں بولی۔

میری بات سن کر وہ خوب ہنسا مگر منہ سے کچھ کہنے کے بجائے خاموشی سے چائے پیتا رہا۔

مجھے پھر سے پوچھنا مناسب نہیں لگا۔ کچھ باتیں میں نے دوسری ملاقات کے لےے چھوڑ دی تھیں۔ اس رات اسفند کے فون کا انتظار کرتے ہوئے میں اسی کے متعلق سوچتی رہی۔

’’میں ٹھیک ہوں۔۔۔ سفر بھی ٹھیک گزرا۔۔۔ بہت تھکن ہوگئی ہے۔ اپنا خیال رکھنا۔‘‘

اسفند نے بہت عجلت میں کہا تھا۔ میں ان کے انداز پر کڑھتے ہوئے نہ جانے کب سو گئی تھی۔

٭٭٭

اگلے دن میرا ارادہ تھا کہ فارینہ کو فون کر کے اشاروں کنایوں میں اس حوالے سے بات کرنے کی کوشش کروں گی، مگر صبح کالج جاتے ہوئے ارم بھابھی ولی کو میری طرف چھوڑ گئیں۔ اسے موسمی نزلہ زکام کی شکایت تھی۔ سو وہ اسکول نہیں گیا تھا۔ میرا سارا دن اس کے لاڈ اٹھاتے گزر گیا۔ مجھے اس کے لاڈ اٹھانے مزا بھی بہت آتا تھا۔ وہ جب ’’چاچی‘‘ کہہ کر مجھ سے لپٹتا تھا تو مجھے اس پر بہت پیار آتا تھا۔ دل چاہتا تھا اسے سینے سے لگا کر رکھوں۔

شام کو بھابھی اسے لے گئیں۔ سارا دن اس کی وجہ سے جو ہلچل رہی تھی وہ یکدم ختم ہوگئی تھی۔ ایک عجیب سا سکون سارے گھر پر چھا گیا تھا اور اس سکون میں مجھے اپنی زندگی کی ویرانی کا احساس مزید ستانے لگتا تھا۔

’’میں ’’ماں‘‘ نہیں تھی مگر مجھ میں ممتا تو تھی صرف ولی ہی نہیں بلکہ صبا آپی کے بچے عاطف اور کاشف بھائی کے بچے سب کو دیکھ کر میں ایک عجیب سے احساس کمتری میں مبتلا ہوجاتی تھی۔ مجھے خالہ و چاچی و پھوپھو اور ممانی کہنے والے بہت تھے مگر کوئی ایسا نہیں تھا جو مجھے ’’ممی‘‘ کہتا۔ میری سماعتیں اس ایک ’’لفظ‘‘ کو سننے کے لےے کس قدر بے چین تھیں۔ یہ وہی انسان محسوس کر سکتا تھا جو میری جیسی صورت حال سے گزر رہا ہو۔ ستم ظریفی یہ تھی کہ میں اس ’’دکھ‘‘ کو کسی کے ساتھ شیئر نہیں کر سکتی تھی۔ میں نے تو کبھی اپنی ’’ماں‘‘ کونہیں بتایا تھا کہ میں ’’ماں‘‘ نہ ہونے کی وجہ سے کتنی اذیت سہہ رہی ہوں۔

میں سوچتے ہوئے اپنے بیڈ پر لیٹ گئی۔ آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ چند لمحے بعد میں ہچکیوں سے رونے لگی تھی۔ اس کی وجہ شاید وہ خبر تھی جو امی مجھے سنا گئی تھی۔

’’دعا کرو یشفیٰ۔۔۔! اللہ میرے کاشف کو بیٹی دے۔ میرے بچے کو بیٹی کی بہت خواہش ہے۔‘‘

انہوں نے مجھے مسکراتے ہوئے بتایا تھا اور میں مسکرا سکی تھی نہ اپنی دلی کیفیت چھپا سکی تھی۔ میں ان کے پاس سے ہی اٹھ گئی تھی۔ کیونکہ مجھے ڈر تھا اگر میں ان کے پاس بیٹھی تو وہ میرے چہرے سے میرے دل کی کیفیت جان جائیں گی۔ اس کے علاوہ آج خان کی ماں نے بتایا تھا۔

’’بی بی! امارا بہو کے گھر خوشی ہونے والا ہے۔‘‘

خان کی شادی کو فقط دس ماہ ہوئے تھے اور اس کی بیوی رتبے میں مجھ سے آگے نکلنے والی تھی۔ میں روتی نہ تو اور کیا کرتی، کیونکہ میں تو اس معاملے میں دعا بھی نہیں مانگ سکتی تھی۔ ’’تدبیر کے بغیر تو تقدیر بھی کارگر ثابت نہیں ہوتی۔‘‘

میں نے بیڈ پر لیٹے لیٹے چھت کو گھورتے ہوئے خود کلامی کی تھی۔

پھر سائیڈ ٹیبل پر پڑا کارڈ لیس اٹھایا۔ اگر اس وقت میری اسفند سے بات نہ ہوتی تو شاید میری دماغ کی نس پھٹ جاتی میں نے PTCL سے اسفند کے ہوٹل کا نمبر ملایا۔ میر ارابطہ قائم ہونے میں کچھ دیر لگی مگر بہرحال نمبر مل گیا تھا۔

’’مسٹر اسفند فی الحال موجود نہیں ہیں۔‘‘ ریسیپشنسٹ کی جاپانی لہجے والی انگریزی میری سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔ میں نے پیغام دے کر فون بند کر دیا۔ مجھے امید تھی اسفند واپس آکر مجھے فون کر لیں گے۔

میرا دل چاہ رہا تھا کہ ان کی گود میں سر رکھ کر اتنا رووں کہ میرے اندر موجود آنسوئوں کا سارا ذخیرہ ختم ہوجائے۔ انہوں نے مجھے کال بیک نہیں کیا تھا۔ میں نے تھک ہار کر دوبارہ فون کیا۔ مگر اسفند ابھی تک ہوٹل واپس نہیں آئے تھے۔ میںنے کال بیک کرنے کی تاکید کر کے فون بند کر دیا۔

تقریباً ایک گھنٹہ بعد اسفند کا فون آیا۔

’’خیریت؟‘‘ انہوں نے نہایت پرسکون لہجے میں پوچھا تھا۔

’’اسفند۔۔۔ میں۔۔۔ مجھے۔۔۔ آئی مس اسفند۔‘‘

میں نے آواز میں گھلی نمی پر قابو پاتے ہوئے کہا۔ اسفند نے گہری سانس بھری تھی جسے میں نے اتنی دور ہوتے ہوئے بھی بہت واضح محسوس کیا تھا۔

’’یشفیٰ۔۔۔! فارگاڈ سیک۔۔۔ بی گرون اپ، تم دودھ پیتی بچی نہیں ہو۔ جو اس قسم کی جذباتی تقریریں کرتی رہتی ہو۔ تمہیں احساس ہے کہ تم ایسے ڈرامے کر کے مجھے کتنا پریشان کر دیتی ہو۔ تم آج مجھے بتادو کہ تمہارا مسئلہ کیا ہے۔۔۔ کیا میں ہر وقت تمہیں گود میں بٹھائے رکھوں یا تمہارے گھٹنے سے لگ کر بیٹھا رہوں۔ میں مرد ہوں یشفیٰ۔۔۔ میں اگر تمہاری طرح جذباتی تقریریں کرتا رہوں گا نا تو تم بھوکی مرجائو گی۔۔۔ سمجھیں۔‘‘

انہوں نے غراتے ہوئے کہہ کر کھٹ سے فون بند کر دیا تھا۔

٭٭٭

صبح میری آنکھ کافی تاخیر سے کھلی تھی۔ بے دار ہونے کے بعد میں کافی دیر تک بے حس و حرکت لیٹی رہی۔ میرے سر میں بہت درد ہورہا تھا۔ اور آنکھیں جلتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں۔ رات تاخیر سے سونے کے باعث یا شاید زیادہ رونے کے باعث میری یہ حالت ہوگئی تھی۔ میں نے بائیں جانب سے دائیں جانب کروٹ لی تو سارے جسم میں درد کی تیز لہر اٹھی۔ مجھے حرارت بھی محسوس ہورہی تھی۔ بمشکل سائیڈ ٹیبل پر پڑا موبائل اٹھا کرٹائم دیکھا، صبح کے گیارہ بج رہے تھے۔ میں نے دوبارہ آنکھیں بند کرلیں اور کمبل کو اپنے گرد سختی سے لپیٹ لیا۔ میرا ذہن مائوف ہوا جارہا تھا۔ مجھے پتا ہی نہیں چلا تھا میں کب دوبارہ سوگئی تھی۔ دوسری بار میری آنکھ موبائل کی بیپ سے کھلی تھی۔ میں نے بہت ہمت کر کے موبائل اٹھایا۔

’’آپی! آپ کہاں ہیں۔۔ اب تک سو رہی ہیں۔ میری تو جان نکل گئی تھی۔ پہلے PTCL ملاتی رہی ہوں، مگر وہ مسلسل انگیج مل رہا تھا تو موبائل نمبر ملایا ہے۔ آپ ہیں کہاں؟‘‘

یمنیٰ کی پریشان سی آواز میری سماعتوں سے ٹکرائی۔ میں نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری۔ میرا دماغ ابھی بھی کام نہیں کر رہا تھا۔ مجھے یمنیٰ کی بات تو سمجھ میں آگئی تھی۔ مگر جواباً مجھے کیا کہنا چاہےے اس کے لےے الفاظ نہیں مل رہے تھے۔

’’مجھے ٹمپریچر ہے یمنیٰ۔۔۔ بہت۔۔۔‘‘ میں نے دونوں ہاتھوں سے موبائل پکڑ کر کہا۔

’’آپی! دروازہ تو کھولیں نا۔۔۔ میں آپ کے گھر کے باہر کھڑی ہوں۔‘‘

میں جلتی آنکھوں، پھٹتے سر اور درد سے بے حال ہوتے جسم کو لے کر کیسے گیٹ تک پہنچی، میرا رب ہی جانتا ہے۔ اس کے بعد کیا ہوا مجھے کچھ یاد نہیں تھا۔ سوائے اس کے کہ یمنیٰ نے میرا ہاتھ پکڑا تھا اور میں اس کے بازوئوں میں جھول گئی تھی۔

’’میری بچی کو نظر لگی ہے۔ نہ جانے کون کون حسد کرتا ہے۔ میری یشفیٰ سے۔۔۔ سو سجن سو دشمن۔‘‘

حواسوں میں آتے ہی امی کی آواز سننے کو ملی تھی۔ جب آنکھیں پوری کھلیں تو میں نے امی کو سرہانے بیٹھا پایا جب کہ یمنیٰ بیڈ پر میری پائنتی کے قریب بیٹھی تھی۔

’’آپی! اب کیسی ہیں۔۔۔۔ اٹھیں اپنا گھر سنبھالیں۔۔۔ ہمیں تو ڈرا کر رکھ دیا آپ نے۔‘‘ وہ محبت سے میری جانب دیکھتے ہوئے شرارتی لہجے میں بولی۔ میرے چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی۔

’’ہاں یشفیٰ بیٹا۔۔۔! اپنی امی کی طرف دیکھو دو دن سے تمہارے سرہانے بیٹھی ہیں۔ تم سے زیادہ بیمار لگ رہی ہیں۔ میرا خیال ہے دو دن سے ان کو فیئر اینڈ لولی نہیں ملی، تب ہی رنگت مرجھاگئی ہے۔‘‘

ابو جو بیڈ کے قریب کرسی پر بیٹھے تھے میرا مزاج ہشاش بشاش کرنے کے لےے اپنے مخصوص انداز میں بولے۔

میں نے ان کی جانب دیکھا تو وہ مسکرا دےے مگر میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

’’سوری ابو۔۔۔ میں آپ کو۔۔ آپ سب کو بہت تنگ کرتی ہوں نا۔‘‘ میں نے روتے ہوئے کہا۔ ابو تڑپ کر کرسی سے اٹھے اور میرے سرہانے آ بیٹھے۔

’’نہیں میرا بچہ۔۔۔ میری جان۔۔۔ میں تو مذاق کر رہا تھا۔۔۔ آئی ایم سوری بیٹا۔۔۔‘‘

ابو میرے سر کو چومتے ہوئے بولے تو مجھے ان کے محبت بھرے انداز پر اور زیادہ رونا آنے لگا۔ میں تکےے کے سہارے اٹھ بیٹھ گئی۔ یمنیٰ اور امی بے چارگی سے ہماری صورتیں تک رہی تھیں۔ میں نے اپنے آنسودونوں ہتھیلیوں سے صاف کر لےے۔ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ابو سے ایکسکیوز کس طرح کروں۔ ان کا خیال تھا کہ میں ان کی بات پر رونے لگی ہوں، حالانکہ رونا تو مجھے اسفند کو یاد کر کے آیا تھا۔

اس رات اسفند کا کہا گیا ایک ایک لفظ یاد تھا۔

’’آئی ایم سوری ابو۔۔۔! بس۔۔ میں۔ سوری۔‘‘

میں نے مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا۔

اسفند سے فون پر بات کرنے کے بعد مجھے لگا تھا کہ جیسے اس بھری دنیا میں میرا کوئی ہے ہی نہیں، لیکن آج اپنے پیاروں کو اپنے پاس دیکھ کر مجھے عجیب سا سکون محسوس ہوا تھا۔ جیسے جیسے طبیعت سنبھل رہی تھی ویسے ہی حواس بھی واپس آرہے تھے۔ مجھے احساس ہورہا تھا کہ میرا رویہ کچھ ابنارمل ہے۔ اور میرے والدین کومیری حالت پریشانی میں مبتلا کر رہی ہیں۔ سو میں وہی بھرم کا مخصوص چولہ پہن کر ان کا سامنا کرنے کے لےے تیار ہوگئی تھی۔ مجھے ہنستا مسکراتا دیکھ کر امی ابو بھی مطمئن ہوگئے۔ وہ لوگ تو شام کو چلے گئے، مگر یمنیٰ میرے پاس ہی رک گئی تھی۔

’’میں تو آپ کی حالت دیکھ کر پریشان ہوگئی تھی۔ آپ کا جسم جیسے تنور سے نکلا ہو۔ اتنی مشکل سے آپ کواٹھا کر بیڈ روم تک لائی۔ کاشف بھائی کو فون کیا۔۔۔ ڈاکٹر کو بلوایا اپنے ہاتھوں سے آپ کو بیڈ پر لٹایا۔۔۔ توبہ اتنی وزنی ہیں آپ۔۔۔ ذرا صحت مند ہولیں آپ اور ذرا اپنے میاں جی کو واپس آلینے دیں جاپان سے۔۔۔ پورا معاوضہ لوں گی اس مزدوری کا۔‘‘

میں غائب دماغی سے مسکراتی رہی۔اسفند نے دوبارہ فون ہی نہیں کیا۔ یعنی انہیں احساس ہی نہیں تھا کہ انہوں نے میرے ساتھ کتنا برا برتائو کیا ہے۔ یمنیٰ کا کہنا تھا کہ میں اٹھارہ گھنٹے بعد ہوش میں آئی تھی۔ اس رات اسفند سے بات کرنے کے بعد میں نے روتے ہوئے کارڈ لیس فرش پر دے مارا تھا مین فون لائن اسی کے ساتھ نصب تھی جو کسی وجہ سے ڈس کنیکٹ ہوگئی تھی تب ہی پرانے والے سب نمبرز ڈیلیٹ ہوچکے تھے۔ میں نے اسفند کا نمبر کہیں لکھا نہیں تھا بلکہ CLI کی میموری میں محفوظ تھا۔ ورنہ شاید میںیمنیٰ سے اسفند کو فون کرواچکی ہوتی میں اس قدر ذلت کے بعد بھی اسفند کی محبت کے حصار سے نکل نہیں پائی تھی کہ بہر حال وہ میرے شوہر تھے۔

یمنیٰ باتیں کرتے کرتے سو چکی تھی۔ میں بھی میڈیسن کی وجہ سے غنودگی میں تھی سو اس رات بستر پر لیٹ کر کڑھنے کا ٹائم ہی نہیں ملا تھا، اگلے روز میں اپنے آپ کو بہت بہتر محسوس کر رہی تھی مگر یمنیٰ نے مجھے بستر سے اترنے ہی نہیں دیا۔ وہ ہی سارا کام سنبھالتی رہی۔ خان اور اس کی بیوی موجود تھی مگر اس نے مجھے اپنے ہاتھوں سے سوپ بنا کر پلایا تھا۔

’’آپی! کسی حیدر صاحب کا فون ہے۔‘‘ میں سیب کتر رہی تھی۔ جب یمنیٰ نے مجھے کارڈ لیس تھماتے ہوئے کہا۔ میں نے اس کو مسکرا کر دیکھا، اور وہیں اپنے پاس بیٹھنے کے لےے کہا۔ ابھی میری اس سے حیدر کے متعلق بات نہیں ہوئی تھی۔ مگر اس سے یہ بات ابھی کرنا چاہ رہی تھی۔

’’جی حیدر صاحب! خیریت سے ہیں آپ؟‘‘ میں نے اس کی آواز سن کر بشاش لہجے میں کہا۔

’’یشفیٰ۔۔۔! آپ بیمار ہیں؟‘‘ اس نے میری بات کا جواب دےے بغیر عجب سے لہجے میں پوچھا تھا۔ میں حیرت و استعجاب میں گھر گئی۔ اس شخص کو میری آواز سے پتا چل گیا تھا کہ میں بیمار ہوں، حالانکہ اب تو میں بہت بہتر تھی۔ اور اس سے بہت بشاش لہجے میں بات کر رہی تھی۔

’’نہیں۔۔۔ بیمار تو نہیں ہوں۔۔۔ بس تھوڑا سا ٹمپریچر تھا۔ اب تو بہتر ہوں۔‘‘ میں ذرا جھجکتے ہوئے بولی۔ نہ جانے کیوں مجھے کچھ عجیب سا لگا تھا۔

’’آواز سے تو لگ رہا ہے تھوڑا نہیں بہت زیادہ ٹمپریچر ہے۔‘‘ اس نے پھر کہا۔ وہی دوستانہ سی آواز جس میں خلوص کی چاشنی محسوس ہوتی تھی۔

’’ایسی چھوٹی موٹی بیماریاں تو چلتی رہتی ہیں۔۔۔ آپ بتائےے نا۔۔۔ آپ کیسے ہیں؟‘‘

’’میں تو شکر الحمد اللہ بالکل ٹھیک ہوں۔ آپ اپنا خیال کیوں نہیں رکھتیں۔ بیماری کوئی بھی ہو چھوٹی نہیں ہوتی۔ آپ ہماری دوست ہیں۔ ہمیں اچھا نہیں لگتا کہ ہماری دوست بیمار ہو کر بستر پر رہیں۔ سمجھ رہی ہیں نا آپ۔‘‘ اس کے لہجے میں دوستانہ سی دھونس تھی۔ میں نے مسکراتے ہوئے یمنیٰ کی طرف دیکھا۔ وہ میرے لےے سیب کاٹنے میں مگن تھی۔ میرے ذہن میں ایک دم ایک خیال آیا۔

’’دوست کہتے ہیں ہمیں، دوستی کا دعوا بھی کرتے ہیں مگر دوستی کے تقاضے پورے نہیں کرتے۔ جناب آپ کو بہ نفس نفیس عیادت کے لےے آنا چاہےے۔‘‘

میں نے اس کی بات اسی کو لوٹا دی تھی۔ مجھے یہ سوچ کر مزا آرہا تھا کہ اگر حیدر اس وقت میری طرف آئے گا تو بہانے سے یمنیٰ سے بھی ملاقات ہوجائے گی۔

’’اسفند صاحب آگئے جاپان سے؟‘‘ اس نے میری بات کا جواب دینے کے بجائے یکدم سوال کیا تھا۔ میں خاموش سی ہوگئی پھر میں نے نفی میں جواب دیا تھا۔

’’وہ جب آجائیں گے تو میں آپ کی عیادت کے لےے ضرور آئوں گا۔‘‘

اس نے اسی دوستانہ انداز میں جواب دیا۔ وہ جانتا تھا کہ میں اکیلی ہوں اور اسی لےے وہ آنا نہیں چاہتا تھا۔ مجھے اس کی یہ بات بہت پسند آئی۔ یہ بھی اس کی شرافت کی دلیل تھی۔ میں نے اسے نہیں بتایا تھا کہ میری بہن میرے پاس ٹھہری ہوئی ہے، کیونکہ اس طرح بھی عجیب لگتا اور یمنیٰ کی پوزیشن مشکوک ہوجاتی کہ شاید میں نے اسے بلایا ہی اس لےے ہے کہ وہ میری بہن کو پسند کر لے۔ اس نے تو دو ایک ادھر ادھر کی باتیں کر کے فون بند کر دیا۔

’’تم ان لوگوں کو نہیں جانتیں، ہمارے پرانے فیملی فرینڈز سمجھ لو۔۔۔ بہت اچھی فیملی ہے۔۔۔ حیدر تو بہت ہی اچھا ہے۔ بہت ڈیسینٹ اور بہت سوبر۔۔۔۔ تصویریں تو دیکھی ہی ہیں نا تم نے ان دونوں بہن بھائیوں کی۔‘‘

میں فون بند کر کے پرجوش انداز میں یمنیٰ کو بتا رہی تھی۔ وہ میرے انداز پر مسکرادی۔

’’جی۔۔۔ اتنی چھوٹی بھی نہیں ہوں آپ سے، مجھے یاد ہے کہ فارینہ باجی ہوا کرتی تھیں کیوٹ سی۔۔ حیدر بھائی بھی یاد ہیں مجھے غصیلے سے۔‘‘ وہ میری طرف دیکھ کر بولی۔

’’لو۔۔۔ خوامخواہ میں غصیلے۔۔۔ اتنا پولائٹ سا انسان ہے اور تمہارا بھائی کہاں سے ہوگیا وہ۔۔۔ ارے بدھو بھائی بس اپنے ماں جائے ہوتے ہیں۔ کوئی ضرورت نہیں اسے بھائی وائی کہنے کی۔‘‘

میں ناک چڑھا کر بولی۔ وہ پرسوچ انداز میں میری جانب دیکھ رہی تھی جیسے کچھ کہنا چاہتی ہو مگر الفاظ نہ مل رہے ہوں۔

’’آپی۔۔۔ چھوڑیں ان باتوں کو۔۔۔ مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنا ہے۔‘‘ وہ سیب کی پلیٹ گود میں رکھ کر میرے بالکل قریب آ بیٹھی۔

’’آپی۔۔ دراصل۔۔۔ وہ رابعہ ہے نا۔۔۔ اس کا بھائی ہے۔ آرمی میں میجر ڈاکٹر ہے۔ بہت اچھا ہے آپی۔ دراصل۔۔۔‘‘

وہ جھجکتے ہوئے مجھے ’’رابعہ کے بھائی‘‘ کے متعلق بتانے لگی۔ میرا منہ ایک دم لٹک گیا۔ اس کا شرمایا ہوا انداز مجھے بہت کچھ باور کرواگیا تھا۔ میں نے حیدر کے متعلق بات کرنے کا ارادہ ہی ترک کر دیا کیونکہ اس کا کوئی فائدہ ہی نہیں تھا۔

’’آپی۔۔۔! اس اتوار کو وہ لوگ باقاعدہ پرپوزل لے کر آنا چاہتے ہیں۔ آپ امی سے بات کرلیں گی نا۔‘‘

یمنیٰ پرامید نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی اور ظاہر ہے بڑی بہن ہونے کے ناتے یہ میرا ہی فرض بنتا تھا۔ میں نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ کر اسے اپنا تعاون کا یقین دلایا تھا۔ اسی دوران خان کی بیوی زرمینے ایک بڑا سا سرخ گلابوں کا بوکے لےے چلی آئی۔ ہمیں اپنی باتوں میں کال بیل کی آواز بھی سنائی نہیں دی تھی۔

’’بی بی۔۔۔ یہ کوئی آدمی لایا ہے۔۔ سیٹی ایس سے۔ آپ کے لےے۔‘‘ اس نے بوکے میری طرف بڑھایا تھا۔

’’کون لایا ہے؟‘‘ یمنیٰ نے میری طرف جھک کر بوکے کی جانب دیکھا تھا۔

’’TCS کہہ رہی ہے۔ کوریئر سروس۔‘‘

میںنے زرمینے کوجانے کا اشارہ کیا۔ زرمینے کی زبان خان کے علاوہ مجھے ہی سمجھ میں آتی تھی۔ بوکے کے ساتھ ایک پنک کلر کا کارڈ بھی تھا۔ دل خوش فہم تھا۔ میں نے سوچا شاید یہ پھول اسفند نے کوریئر کے ذریعے بھجوائے ہوں گے۔ میرا قیاس درست تھا۔

کارڈ کے اوپر لکھا تھا، کارڈ کے نیچے کسی کا نام درج نہیں تھا۔ میرے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

’’اسفند بھائی نے بھجوائے ہیں نا؟‘‘ یمنیٰ نے شرارتی مسکراہٹ لےے مجھے دیکھا۔

’’ظاہر ہے۔ اور کون بھجوا سکتا ہے؟‘‘میں نے ہنستے ہوئے کہا۔

مجھے اپنا آپ ہوائوں میں اڑتا محسوس ہوا۔

’’میں آپ سے بہت خفا ہوں اسفند۔۔۔‘‘ میں نے دل ہی دل میں ان کو مخاطب کیا، مگر میرے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔

٭٭٭

’’اب کس طرف جانا ہے جی۔‘‘ ڈرائیور نے گاڑی مین روڈ پر لا کر مجھ سے پوچھا۔ میں ڈرائیور کے ساتھ یمنیٰ کو امی کے گھر ڈراپ کر کے اب واپس جارہی تھی۔ مجھے ڈرائیونگ آتی تھی مگر میں پرفیکٹ ڈرائیور نہیں تھا۔ اس لےے اسفند نے گھر کے لےے ایک جز وقتی ڈرائیور رکھا تھا۔ مجھے جب بھی کہیں جانا ہوتا تو میں اسے فون کر دیا کرتی تھی۔ ڈرائیور کی موجودگی نے مجھے ڈرائیونگ کے معاملات میں مزید لاپروا کر دیا تھا۔

جب ہم گھر سے نکلے تھے تو آسمان پر ہلکے بادل تھے مگر سارا آسمان سفید بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ جو فضا کو مزید خنک بنا رہا تھا۔ اکبر (ڈرائیور) کے سوال پر میں چند لمحے سوچتی رہی۔ میرا دل اتنی جلدی گھر جانے کو نہیں چاہ رہا تھا۔ مجھے اکیلا گھر کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا۔

’’برکت مارکیٹ کی طرف موڑ لو۔‘‘ میں نے شیشیے سے باہر دیکھتے ہوئے مگن سے انداز میں جواب دیا۔ بظاہر میں شیشے سے باہر دیکھ رہی تھی مگر میرا دل ’’جاپان‘‘ میں تھا۔

’’یشفیٰ! یہاں بہت مصروفیت ہے، سر کھجانے کی فرصت بھی نہیں ملتی۔ تم کیسی ہو اپنا خیال رکھنا اور سنو، ذرا راشد کو فون کر دینا کہ اپنا سیل فون آن کر لے مجھے اس سے ضروری بات کرنی ہے۔‘‘

یہ وہ باتیں تھیں جو آج صبح اسفند نے مجھ سے فون پر کی تھی۔ میں ابھی ان کی طرف سے بھجوائے گئے پھولوں کا شکریہ بھی ادا نہیں کر پائی تھی کہ انہوں نے فون بند کر دیا۔ راشد بھائی میرے ننھیالی رشتہ دار تھے اور اسفند کے ساتھ ان کے کافی گہرے کاروباری روابط تھے۔ یقینا جاپان سے لینڈ لائن نہیں مل رہی ہوگی۔ تب ہی اسفند نے مجھے فون کیا تھا کہ میں (PTCL) پر فون کر کے راشد بھائی کو پیغام دے دوں۔ انہوں نے جیسا کہا تھا میں نے ویسا ہی کیا۔

’’اللہ کے نام پر باجی! تمہارے بچے جئیں۔‘‘ گاڑی سگنل پر رکی تھی جب یہ صدا میرے کانوں میں پڑی۔ میں اس دس بارہ سال کی بھکارن کی جانب دیکھنے لگی۔

’’دے دو نا باجی۔۔۔ اللہ تمہارے سر کا سائیں سلامت رکھے۔‘‘ اس نے پھر صدا بلند کی۔ میں نے پرس کھول کر دس روپے کا نوٹ اکبر کو پکڑا دیا تاکہ وہ اس بھکارن کو دے دے۔ اکبر نے ناک چڑھاتے ہوئے وہ نوٹ اس کے ہاتھ میں رکھ دیا۔ اشارہ کھلا اور گاڑی آگے بڑھ گئی۔ میں پھر باہر دیکھنے لگی۔

’’کچھ زیادہ ہی مصروفیت ہوگی وہاں، ورنہ اسفند اتنے لاپروا تو کبھی نہیں رہے مجھ سے۔‘‘

دل کے بہلانے کو میں نے خود ہی ایک تاویل گھڑ لی تھی۔ اس کے علاوہ میں اور کر بھی کیا سکتی تھی۔ کبھی کبھی مجھے اپنی زندگی ایک عجیب دوراہے پر کھڑی محسوس ہوتی۔ میں خود کو بہت تنہا محسوس کرتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے میرے اپنے مجھ سے بے زار ہوچکے ہیں۔ اسفند کی زندگی صرف بزنس کے گرد گھومتی تھی۔ وہ میرے ہو کر بھی میرے نہیں لگتے تھے۔ امی کو ہمہ وقت ایک فکر لاحق رہتی تھی کہ جلد از جلد یمنیٰ کے فرض سے سبکدوش ہوجائیں۔ بھابھیاں تھیں تو وہ ہمہ وقت یہی جتاتی رہتی تھیں کہ زندگی کا نصب العین ’’اولاد‘‘ ہے اور انہیں میری زندگی میں یہ ’’نصب العین‘‘ کہیں دکھائی نہیں دیتا تھا وہ ہمہ وقت مجھے عجیب و غریب مشوروں سے نوازتی رہتی تھی۔ صبا آپی سے ملاقات ہوتی تھی تو وہ اپنے مسائل ڈسکس کرتی رہتیں۔

’’ہائے یشفیٰ! میں بہت پھیلتی جارہی ہوں۔ یہ طلحہ ہر وقت کمپیوٹر پر بیٹھا رہتا ہے۔ رجا کو سہیلیوں سے فرصت نہیں۔ میرے بچے تو بالکل سسرالیوں پر پڑے ہیں۔ تم خوش قسمت ہو جو الگ رہتی ہو، ساس نندوں کا بکھیڑا ہی نہیں۔ اسفند سچ مچ ہیرا ہے، کیسی قدر کرتا ہے تمہاری۔۔۔ شکر ادا کیا کرو ایسی لگژری لائف کے لےے، بہت نوازا ہے رب نے تمہیں۔‘‘

ان کے منہ سے مجھے اپنے اور اسفند کے لےے یہی سب سننے کو ملتا تھا۔ ان پر کیا موقوف میرے سرکل میں جتنے لوگ تھے وہ سب مجھے خوش قسمت گردانتے تھے۔ ایک سہیلی تھی ثمینہ وہ بھی اپنے نام کی ایک ہی تھی۔ اس کو فون کرتی تو اسے ساس نندوں کی برائی کرنے سے فرصت نہیں ملتی تھی۔ اسے فقط ایک سامع درکار ہوتا تھا جو اس کی ساس نندوں کی چالاکیوں کو سن سکے۔ فارینہ سے اتنے عرصہ بعد ملاقات ہوئی تھی تو وہ پہلے جیسی بے تکلفی پیدا نہیں ہوسکتی تھی۔ وہ سب اسفند کو ’’ہیرا‘‘ قرار دیتے تھے اور حقیقت یہ ہے کہ اسفند کی یہ جھوٹی شان و شوکت قائم رکھنے میں سب سے بڑا ہاتھ میرا ہی تھا۔ کبھی کبھی مجھے لگتا تھا جیسے خرابی مجھ میں ہی ہے۔ مجھے اپنا ’’بھرم‘‘ بہت عزیز تھا۔

’’کہاں پر روک دوں جی؟‘‘ اکبر نے گردن موڑ کرپوچھا۔ میں جو سوچوں میں گم تھی، یکدم سیدھی ہو کر بیٹھ گئی۔

’’ہوں۔۔‘‘ میں نے پرسوچ انداز میں ہنکارا بھرا۔

’’مون مارکیٹ کی طرف لے چلو۔‘‘ میں نے اسے دوسری مارکیٹ کی طرف موڑنے کے لےے کہا۔ مجھے کچھ خریدنا تو تھا نہیں فقط ٹائم ہی تو گزارنا تھا۔ اکبر نے کچھ کہے بغیر گاڑی کو دائیں طرف موڑ لیا۔ میں پھر سیٹ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔ شیشے پر کچھ بوندیں چمکنے لگی تھیں۔ شاید بارش شروع ہوگئی تھی۔

سب کے سب اپنے حال میں مست، اپنے آپ میں گم جیسے کسی کو کسی کی پروا ہی نہیں۔ میں شیشے سے پار دیکھتی رہی۔

’’کیا اتنے لوگوں میں کوئی ایسا نہیں جو تھوڑی دیر کے لےے میرے ساتھ بیٹھ کر میرے دکھ سن سکے۔‘‘

میں نے اکبر کے بے زار چہرے کی جانب دیکھ کر سوچا تھا۔ وہ بیک ویو مرر میں کن انکھیوں سے میری طرف دیکھتا اور پھر بے زاری سے سامنے دیکھنے لگتا تھا۔ مجھے احساس تھا کہ وہ یہاں میرے ساتھ خوار ہونے کے بجائے اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ وقت گزانا چاہتا ہے مگر میں کیا کرتی۔ اتنی جلدی گھر چلی جاتی تو باقی کا وقت کاٹنا مشکل ہوجاتا۔ میں نے یمنیٰ کو روکنا چاہا تھا مگر اس کی اپنی مصروفیات تھیں۔

’’آپی۔۔۔! میں پھر کسی روز آجائوں گی۔ قسم سے میں بہت بور ہورہی ہوں۔۔۔ آپ میرے ساتھ چلیں نا۔۔۔ کچھ دن ہمارے ساتھ رہ لیں؟‘‘

اس نے نیا مشورہ دیا تھا سو میں خاموش ہوگئی۔ میں اس سے نہیں کہہ سکتی تھی کہ امی کے گھر میں مجھ پر زیادہ بے زاری طاری ہوجاتی تھی۔ بھابھیوں کی اپنی اولاد کے لےے شفقت و والہانہ پن اور بھائیوں کی اپنی بیویوں کے لےے وارفتگی مجھے احساس کمتری میں مبتلا کر دیتی تھی۔ وہاں جا کر ان کے ساتھ رہنے سے مجھے اپنی زندگی کی ویرانی کا احساس پہلے سے بھی زیادہ ہونے لگتا تھا۔

’’اب کدھر لے چلوں جی؟‘‘ شیزان بیکرز کے قریب پہنچ کر اکبر نے پھر پوچھا۔ اس کی آواز میں عجیب سی بے زاری تھی۔ میں کچھ لمحے سوچتی رہی۔

’’تم چلے جائو اکبر! میں ٹیکسی سے آجائوں گی۔‘‘ میں نے گاڑی سے اترتے ہوئے کہا۔

’’نئیں جی۔۔۔ میں یہاں رکتا ہوں آپ کو۔۔۔‘‘ وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔ چہرے پر وہی مسکینیت چھا گئی جو بے چارے ملازمین کی شخصیت میں رچ بس سی جاتی ہے مجھے اس پر ترس آیا۔ وہ جانا چاہتا تھا مگر نوکری کی وجہ سے خود کو مجبور کر رہا تھا۔

’’نہیں۔۔۔ تم جائو۔۔۔‘‘ میں نے اسے حکم دیا تھا اور پرس ہاتھ میں لے کر آگے بڑھ گئی۔ اِکا دکا بوندیں برسی تھیں مگر سردی بڑھ گئی تھی۔ میں نے شال کو اچھی طرح سے اپنے گر دلپیٹ لیا اور بھیگی سڑک پر سہج سہج کر قدم اٹھاتی مارکیٹ کی اگلی سمت کی طرف آگئی۔ میں منہ اٹھائے دکانوں کے شیشوں سے جھانکتی اشیائ کو دیکھتی آگے بڑھتی جارہی تھی۔

’’یشفیٰ!‘‘ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے عقب سے کسی نے مجھے پکارا ہے۔ میں نے رخ موڑ کر دیکھا تو حیدر رضا تیز تیز قدم اٹھاتا میرے قریب آگیا۔

وہ جینز کے اوپر نہ جانے کون سے رنگ کی شرٹ پہنے ہوئے تھا کیونکہ اس نے بھی میری طرح اپنے گرد شال لپیٹ رکھی تھی۔ اس کی شیو بڑھی ہوئی تھی مگر اس کے چہرے پر تکان نہیں تھی۔

’’آپ۔۔۔یہاں؟‘‘ اس نے حیرانی سے استفسار کیا۔

’’کیوں۔۔۔ میں یہاں نہیں آسکتی کیا۔۔۔؟‘‘ میں نے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجاکر کہا تھا۔ میں اس وقت غائب دماغی کی کیفیت میں تھی۔

’’ابھی دو دن پہلے اتنا ٹمپریچر تھا اور اب یہاں چہل قدمی فرما رہی ہیں۔ کیوں اس قدر ستاتی ہیں خود کو؟‘‘

وہ بہت اپنائیت سے کہہ رہا تھا۔ میں پژمردگی سے مسکرائی۔ میرا دل اتنا بوجھل ہورہا تھا کہ مجھے لگا میں ارد گرد کی پروا کےے بغیر رونے لگوں گی۔ میں نے پلکیں جھپک جھپک کر آنسوئوں کو اپنے اندر اتارا۔ اسفند کے ساتھ رہنے سے مجھے اس چیز کی بہت پریکٹس ہوچکی تھی۔

’’میں اپنے ٹیلرکے پاس آئی تھی۔‘‘ میں اپنے پیروں کو گھورتے ہوئے بولی۔ فوری طور پر مجھے یہی جواب سوجھا تھا۔

’’اسفند صاحب کے ساتھ آئی ہیں؟‘‘ اس نے ایک اور سوال کیا۔

’’نہیں۔۔۔‘‘ میں نے نفی میں گردن ہلائی۔

’’آپ اکیلی آئی ہیں، ڈرائیور ساتھ ہے؟‘‘ اس نے پھر پوچھا۔ گزشتہ ملاقات میں، میں اسے بتا چکی تھی کہ میں خود ڈرائیونگ سے گریز کرتی ہوں، تب ہی اس نے ڈرائیور کے متعلق پوچھا۔

’’نہیں۔۔۔‘‘ اس بار میں نے جواب دینے کے ساتھ ٹشو پیپر سے ناک صاف کی۔

’’واپس کیسے جائیں گی آپ؟‘‘ اس نے جھنجھلا کر کہا۔ اس کے سوالات مجھے کوفت میں مبتلا کر رہے تھے۔ وہ میرے انداز پر خاموش سا ہوگیا مجھے بھی شرمندگی ہوئی۔ کچھ دیر پہلے میں ’’اپنائیت‘‘ کے لےے ترس رہی تھی اور اب اگر کوئی اپنائیت کا مظاہرہ کرنے والا مل گیا تھا تو مجھے جھنجھلاہٹ محسوس ہورہی تھی۔

’’چلےے میں آپ کو ڈراپ کر دیتا ہوں۔‘‘ اس نے آفر کی۔

’’ارے نہیں، میں ٹیکسی لے کر چلی جائوں گی۔‘‘ میں دو قدم آگے بڑھتے ہوئے بولی۔

’’میں نے آپ سے پوچھا نہیں ہے کہ آپ کیسے جائیںگی۔ میں آپ سے کہہ رہا ہوں کہ میں آپ کو ڈراپ کردوں گا۔ آپ اپنی خریداری مکمل کر لیجےے۔‘‘ اب کی بار وہ دھونس جمانے والے انداز میں بولا۔

حیرت کی بات یہ تھی کہ مجھے اس کا انداز برا نہیں لگا تھا۔

’’چلیں؟‘‘ اس نے میری خاموشی سے میرا ارادہ بھانپ کر پوچھا۔ میں سر ہلاتے ہوئے اس کے ساتھ چل دی۔ میں اب بھی خالی الذہنی کی کیفیت میں تھی۔ یمنیٰ کی مرضی جاننے کے بعد اب مجھے حیدر رضا میں کوئی دلچسپی محسوس نہیں ہورہی تھی۔ ہم لوگوں کے درمیان سے گزر کر سڑک پر آئے۔ حیدر نے اپنی گاڑی سڑک کے دوسری طرف پارک کی ہوئی تھی۔

ہم سڑک پار کرنے کے لےے کنارے پر آگئے۔ تیز رفتار گاڑیاں تیزی سے آگے بڑھتی چلی جارہی تھیں۔ مجھے سڑک پار کرنے سے بہت الجھن ہوتی تھی۔ میں اپنے دھیان میں آگے بڑھی تھی۔ دائیں طرف سے ایک وین بہت تیزی سے آرہی تھی۔ میں آگے کی طرف ہوئی تو اچانک حیدر نے مجھے ہاتھ پکڑ کر پیچھے کی جانب کھینچ لیا۔ وہ اگر ایسا نہیں کرتا تو تیز رفتار وین نے میرا قیمہ بنا دینا تھا۔

’’یشفیٰ! پاگل ہو کیا؟‘‘ وہ چلُا کر بولا۔ میرے دل کی دھڑکن ایک دم بگڑی تھی۔ میں نے بے اختیار اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر دھڑکن کو اعتدال میں لانے کی کوشش کی۔

’’ریلیکس۔۔۔ کچھ نہیں ہوا۔‘‘ وہ مجھے تسلی دینے لگا، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے سڑک کے اس پار لے گیا۔

’’اپنی حالت پر غور کیجےے محترمہ، طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور اتنی سردی میں شاپنگ کے لےے نکلی ہوئی تھیں اور وہ بھی اکیلی۔ میں نہیں ہوتا تو کیا ہوتا؟‘‘

وہ اسی طرح میرا ہاتھ پکڑے اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔ مجھے فرنٹ سیٹ پر بٹھا کر وہ خود ڈرائیونگ سیٹ پر آگیا۔ مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے میں کوئی چھوٹی سی بچی ہوں۔

وہ گاڑی ریورس کر کے سڑک کی طرف لینے تک دو تین مرتبہ میری جانب دیکھ چکا تھا۔

’’یشفیٰ! آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی۔‘‘

اب کی بار اس کے لہجے میں اصرار تھا جیسے کوئی ماں اپنے بچے کی حرکت سے نالاں ہو کر اسے ڈانٹ رہی ہو۔ میں کچھ نہیں بولی۔ وہ بھی خاموشی سے ڈرائیو کرنے لگا۔ میں جب گھر سے چلی تھی تو میرا مزاج کافی اچھا تھا پھر امی کے گھر نہ جانے کیا ہوا تھا کہ میرا موڈ آف ہونے لگا۔ عاطف بھائی اور بھابھی سنو فالنگ دیکھنے مری گئے ہوئے تھے اور میں یہ سوچنے لگی تھی کہ میری شادی کو تو فقط آٹھ سال ہوئے ہیں اور میرا شوہر لاپروا ہوگیا تو عاطف بھائی اور بھابھی کے پیار میں اب تک کمی کیوں نہیں آئی۔ میں حاسد نہیں تھی مگر نہ جانے کیوں میرے دل میں ان کے لےے پیدا ہونے والا رشک حد سے بڑھ چکا تھا پھر یہاں مارکیٹ میں کتنے ہی کپلز کتنی محبت کے ساتھ شاپنگ کے لےے آئے تھے اور سب سے آخر میں حیدر کے پرخلوص روےے نے بھی میرے دل کو مزید بوجھل کر دیا تھا۔ وہ جیسے میرا خیال رکھ رہا تھا۔ میرا دل چاہتا تھا اسفند بھی میرا اسی طرح خیال رکھیں، مگر انہیں میری طرف دیکھنے کی فرصت نہیں تھی تو بھلا لاڈ اٹھانے کا وقت کیسے ملتا۔ تب ہی گاڑی ایک جھٹکے سے رکی تھی۔ میری سوچ کو بھی جھٹکا لگا۔

’’دو کافی۔۔۔‘‘ حیدر نے باہر کی جانب دیکھ کر کہا تھا۔ وہ کسی کافی کارنرکے قریب گاڑی روکے کھڑا تھا۔

’’آپ تکلف میں مت پڑیں حیدر۔۔۔‘‘ میں نے اس کی جانب دیکھ کر منمناتے ہوئے کہا۔ وہ میری طرف دیکھ کرمسکرایا۔

’’جناب دوستوں میں کوئی تکلف نہیں ہوتا۔۔۔ سمجھیں آپ، مسز یشفیٰ اسفند۔۔۔‘‘ وہ خوشگوار انداز میں ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولا۔ میں نے پھر مصنوعی مسکراہٹ کا لبادہ اوڑھنے کی کوشش کی مگر ناکامی ہوئی۔ مجھے احساس تھا کہ میں ایسی بے چاری سی مسکراہٹ سے اپنے میزبان پر اچھا امپریشن نہیں چھوڑ رہی مگر میں کیا کرتی۔ میرا دل نہیں چاہ رہا تھا بے وجہ مسکرانے یا مروت کا مظاہرہ کرنے کو۔

’’ارے ہاں۔۔۔ آپ کو فلاورز پسند آئے؟‘‘ اس نے میری خاموشی سے اکتا کر پوچھا۔

’’کون سے فلاورز؟‘‘‘ میں نے حیرانی سے پوچھا۔ وہ اس وقت کافی کارنر والے سے کافی کے ڈسپوز ایبل مگ لے رہا تھا۔ اس نے مگ میری طرف بڑھانے کے بجائے ڈیش بورڈپر رکھ دےے۔

’’میں نے سوچا تھا میری دوست کو پھول پسند ہیں اسی لےے کوریئر سے بھجوادےے۔ ایک دوست کی عیادت کا یہی طریقہ سمجھ میں آیا تھا مجھے۔ ‘‘

وہ اپنائیت سے کہہ رہا تھا اور میں سر جھکائے اس کی باتیں سن رہی تھی۔ میں نے دلی کیفیت چھپانے کی بہت کوشش کی مگر دل میں درد کی ایک نئی لہر اٹھی تھی۔ اتنے دن سے دل کوجو خوش فہمی لاحق تھی وہ حیدر نے ایک لمحے میں ختم کر دی تھی۔ مجھے گمان بھی نہیں گزرا تھا کہ وہ پھول ’’اس‘‘ نے بھجوائے ہیں۔

یکایک میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میں نے اپنا چہرا دونوں ہاتھوں سے چھپا لیا اور سسکیاں بھرنے لگی۔ مجھے اپنے آنسوئوں پر قابو نہیں رہا تھا۔ وہ بھرم جو میں نے ہر ایک کے سامنے قائم رکھا تھا نہ جانے کیسے اس شخص کے سامنے چکنا چور ہوگیا۔ کافی دیر رو چکنے کے بعد میں ہتھیلی کی پشت سے آنکھیں رگڑنے لگی، مگر میرے آنسو اب بھی رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔

’’آئی ایم سوری حیدر!‘‘ میں بمشکل یہی کہہ پائی تھی کہ اس نے میری بات کاٹ دی۔

’’آپ بھی مجھے دوست کہتی ہیں مگر دوست سمجھتی نہیں ہیں۔ کسی اور کے سامنے رونے سے بہتر ہے میرے سامنے رولیں۔۔۔ میرا دل اتنا چھوٹا نہیں ہے یشفیٰ! آپ مجھ سے اپنا دکھ شیئر کر سکتی ہیں۔ یقین کریں میں بہت اچھا راز داں ہوں۔‘‘

وہ اپنے مخصوص اپنائیت بھرے انداز میں کہہ رہا تھا۔ آنسوئوں نے پھر چہرے پر یلغار کر دی۔ کسی کے سامنے رونے سے پہلے آپ کا اس کے ساتھ اپنائیت کا رشتہ ہوتا ہے تب ہی تو آپ اس کے سامنے رونے کی ہمت کرتے ہیں، مگر جب آپ رو چکے ہوتے ہیں تو یہ رشتہ ایک نئے رشتے میں ڈھل جاتا ہے۔ مگر یہ رشتہ بے نام ہوتا ہے۔ آپ اسے درد آشنائی کا رشتہ کہہ سکتے ہیں۔ میرے اور حیدر رضا کے درمیان یہی رشتہ قائم ہوچکا تھا۔

٭٭٭

’’یشفیٰ! تم پریگننٹ ہو؟‘‘ ثمینہ نے میری طرف جھک کر راز داری سے پوچھا۔ مجھے اس کے انداز پر ہنسی آگئی کیونکہ وہ مجھے گھورتے ہوئے یہ سوال کر رہی تھی۔ ہم تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد مل رہے تھے، اس دوران فون پر بھی زیادہ تفصیلی بات نہیں ہوسکی تھی، اس لےے وہ نہیں جانتی تھی کہ اسفند ملک سے باہر ہیں۔

’’نہیں یار۔‘‘ میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا تھا۔ نہ جانے کیوں مجھے اس کے پوچھنے پر ناگواری محسوس نہیں ہوئی تھی۔

’’یشفیٰ! تم جھوٹ بول رہی ہو نا۔۔۔ تمہارے چہرے پر لکھا ہے کہ کوئی خوشخبری ہے، ورنہ ایسے رنگ تو عرصہ ہوا تمہارے چہرے پر نظر ہی نہیں آتے تھے۔ گھنُی! مجھ سے کیوں چھپا رہی ہو؟‘‘

میں ایک بار پھر ہنس پڑی۔ دراصل وہ مجھے دیکھ ہی ایسے رہی تھی جیسے میرا ایکسرے کرنا چاہتی ہو۔

’’تم بدھو ہو ثمینہ۔۔۔ میں یہ بات تم سے کیوں چھپائوں گی۔ پاگل ایسی کوئی بات ہوتی تو میں سب سے پہلے تمہیں ہی بتاتی۔ آخر کو تم اس معاملے میں اتنی تجربہ کار ہو۔‘‘

میں اسے چڑاتے ہوئے بولی۔ اس کے پانچ بچے تھے۔ میری بات پر اس نے ایک بار پھر نظروں سے میرا معائنہ کیا پھر میرے گال پر ہاتھ پھیر کر بولی۔

’’اگر تم پریگننٹ نہیں ہو تو اس قدر چمک کیوں رہی ہو؟ چہرے پر یہ سرخی کیوں دوڑ رہی ہے۔۔۔ اتنی فریش کیوں لگ رہی ہو بلکہ سچ کہوں تو تم بہت پیاری لگ رہی ہو۔‘‘

میں نے اس کی بات کاٹی۔

’’اسٹوپڈ! میں نے فیشل کروایا ہے یہ سب میری بیوٹیشن کی محنت کا نتیجہ ہے۔‘‘

مگر ثمینہ کو یقین نہیں آیا تھا۔ پھر اسے تو کسی نہ کسی طرح میں نے مطمئن کر ہی دیا۔

مگر صبا آپی کو ٹالنا مجھے مشکل ہوگیا تھا۔ وہ ڈلیوری کے لےے امی کی طرف آئی ہوئی تھیں۔ سومیں ان سے ملنے چلی آئی تھی۔

’’آپی! آپ بھی کمال کرتی ہیں۔ آپ جانتی تو ہیں اسفند تقریباً ڈیڑھ ماہ سے ملک سے باہر ہیں۔۔۔ باقی آپ خود سمجھ دار ہیں۔‘‘ میں جھنجھلا کر بولی۔

’’ماشائ اللہ۔۔۔ تم بہت خوب صورت ہورہی ہو۔۔۔ میں نے سوچا۔ شاید تمہیں عقل آگئی ہے اور تمہارے دماغ سے یہ خناس نکل گیا ہے کہ بچے زندگی میں دلچسپیوں کو محدود کر دیتے ہیں۔‘‘

انہوں نے مسکراتے ہوئے میری بہت پہلے کی کہی ہوئی بات دہرائی۔ اسفند کی کہی باتوں کو میں سب کے سامنے اسی طرح ’’اقوال زریں‘‘ بنا کر پیش کرتی تھی۔

’’میں اس لےے خوب صورت لگ رہی ہوں کہ میں ہوں ہی خوب صورت۔‘‘

میں نے صبا آپی کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا۔ صبا آپی نے میری بات کا جواب نہیں دیا تھا۔

امی اور یمنیٰ نے بھی میری تعریف کی۔ مجھے بہت عرصہ بعد یہ سب تعریفیں وصول کرنا بہت اچھا لگا تھا۔ اس تبدیلی کی وجہ فقط یہ تھی کہ میں اب بے سروپا باتوں کو سر پر سوار کرنا چھوڑ چکی تھی۔ میں نے اپنا خیال رکھنا شروع کر دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں مصروف رہنے لگی تھی۔ میں نے کوکنگ کورس وغیرہ توپہلے ہی کےے ہوئے تھے مگر کچھ روز قبل میں نے حیدر کے کہنے پر اکے بانا (پھولوں کی آرائش) کی کلاسز میں داخلہ لے لیا تھا۔ میرا آرٹسٹک سینس پہلے بھی اچھا تھا اور گھر کی سجاوٹ وغیرہ کا مجھے شوق بھی بہت تھا۔ سو حیدر کا مشورہ مجھے بہت اچھا لگا تھا۔

میری اس کے ساتھ بہت اچھی دوستی ہوگئی تھی۔ میں دو تین مرتبہ اس کے ساتھ ڈنر کے لےے بھی گئی۔ ایک بار ہم الحمرا آرٹس کونسل میں پینٹنگز کی ایگزیبیشن دیکھنے بھی گئے تھے۔ مجھے حیدر کی کمپنی اچھی لگتی تھی۔ وہ بہت کیئرنگ تھا اور مجھے اس کی دوستی پر فخر بھی تھا۔ میں ایک بار اس کے ساتھ شاپنگ کے لےے بھی گئی تھی اور اس شاپنگ کو ہم نے بہت انجوائے کیا تھا۔ حیدر اتنی بارگیننگ کرتا تھا کہ بے چارے دکان دار تنگ آجاتے تھے مگر میں اس کی باتوں سے بہت لطف لیتی تھی۔ اس شخص میں ذرا بھی نخرہ نہیں تھا۔ وہ مجھے عام انسان لگتا تھا اس کے ساتھ بیٹھ کر مجھے کبھی یہ نہیں لگا تھا کہ میں کسی بہت معتبر شخص سے باتیں کر رہی ہوں جبکہ اسفند کے ساتھ بیٹھ کر مجھے ہمیشہ یہ لگتا تھا کہ جیسے میں بہت عام سی عورت ہوں اور اسفند مجھ سے بہت برتر ہےں۔

مجھے حیدر کے ساتھ وقت گزارنا بہت اچھا لگتا تھا۔ گزشتہ دو تین سالوں سے اسفند میرے ساتھ جو سلوک روا رکھے ہوئے تھے، مجھے اس روےے کا دکھ اب اس قدر نہیں ہوتا تھا۔ حیدر میرا دوست تھا، میری زندگی کا چور دروازہ نہیں تھا جو میں اس کے اور اپنے تعلق کو لے کر محتاط ہوتی مگر اس روز ایک ایسی بات ہوئی جس نے مجھے احساس دلایا کہ میں اس کی دوستی میں کتنا آگے بڑھ گئی ہوں۔

اس روز اتوار تھا۔ میں صبح سے ہی حیدر کے فون کی منتظر تھی مگر اس نے فون نہیں کیا۔ میں کرتی تھی تو وہ کال ریسیو نہیں کر رہا تھا۔ مجھے اس قدر بے چینی ہوئی کہ بیان سے باہر ہے۔

رات نو بجے کے قریب موبائل پر اس کا فون آیا۔

’’کیسی ہیں آپ؟‘‘ اس نے بہت عام سے لہجے میں پوچھا۔ ہم ایک دوسرے کو ’’آپ‘‘کہہ کر ہی مخاطب کرتے تھے۔

’’میں ٹھیک ہوں۔‘‘ میں نے ناراضی سے کہا مگر وہ میری ناراضی دور کرنے کے بجائے سادہ سے لہجے میں اِدھر اَدھر کی باتیں کرنے لگا۔

’’آپ تھے کہاں۔۔۔ مجھے فون کیوں نہیں کیا۔۔۔ میں۔۔۔ میں۔۔۔‘‘

میں ایک دم سے پھٹ پڑی مگر منہ سے دو جملوں کے بعد کچھ بھی نہیں نکلا تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ مجھے اتنی بے تابی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہےے تھا۔ وہ بھی خاموش سا ہوگیا۔ کچھ لمحے اسی خاموشی سے گزر گئے۔

’’آپ نے مجھے مس کیا تھا یشفیٰ؟‘‘ اس نے عجیب بھاری سے لہجے میںپوچھا تھا۔ میں چھوٹی بچی نہیں تھی کہ اس کے لہجے سے کچھ پہچان نہ پاتی۔ ہماری دوستی میں توقعات بڑھتی جارہی تھیں۔ اس کے لہجے سے میرے ارد گرد جیسے الارم بجنے لگا تھا۔

’’بولو نا یشفیٰ! آپ نے مجھے مس کیا تھا؟‘‘ اس نے ایک بار پھر پوچھا۔

’’نہیںبھئی۔۔۔ اتنی فرصت ہی نہیں ملی۔۔۔ علی اور ولی آئے ہوئے تھے۔۔۔ سارا دن ان کے ساتھ گزر گیا۔‘‘

میں نے سراسر جھوٹ بولا۔ اپنے منہ سے اس حقیقت کو تسلیم کرنا مجھے اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ ہماری ملاقات کو جمعہ جمعہ آٹھ دن ہی ہوئے تھے۔ اتنی مختصر عمر والی شناسائی میں انسیت کا بے پناہ اظہار میری عادت نہیں تھی۔ ویسے بھی مجھے احساس تھا کہ میری انسیت کے بے ساختہ اظہار کو حیدر نہ جانے کس معنی میں لے۔ میری بات سن کر وہ چند لمحے خاموش رہا پھر گہری سانس بھر کر بولا۔

’’ہوں۔۔۔ اوکے میں اب بند کرتا ہوں۔۔۔ سر میں بہت درد ہے۔۔۔ سارا دن بخار میں پھنکتا رہا ہوں۔۔۔ او کے ٹیک کیئر۔۔۔ گڈ نائٹ۔‘‘

اس نے سنجیدہ سے لہجے میں کہا اور میری بات سنے بغیر فون بند کردیا۔

اگلے دن میں سارا وقت فون کے آس پاس گھومتی رہی، مجھے امید تھی کہ وہ اپنے روےے کے ازالے کے لےے فون ضرور کرے گا مگر اس کا فون نہیں آیا۔ موبائل فون بھی میں نے اپنے ہاتھ میں ہی رکھا۔ حتیٰ کہ کچن میں جاتے ہوئے بھی موبائل ساتھ لے کر گئی مگر اس کا میسج آیا نہ کوئی کال۔

اس رات میں کافی دیر تک اس کے فون کا انتظار کرتی رہی مگر اس کا فون نہیں آیا تھا۔ میں ساری رات ٹھیک سے سو نہیں پائی ایک عجیب سی بے چینی محسوس ہوتی رہی۔ یہ خیال بھی ذہن میں آتا رہا کہ وہ ناراض نہ ہوگیا ہو۔ گزشتہ بہت دن سے ہم ایک دوسرے سے تقریباً روزانہ فون پر بات کر رہے تھے۔ ہمیں ایک دوسرے کی عادت ہوگئی تھی یا شاید یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ مجھے اس کی عادت ہوگئی تھی۔ میں اسی کے متعلق سوچتے ہوئے بہت مشکل سے سوپائی تھی۔

٭٭٭

’’آپ۔۔۔یہاں۔۔۔؟‘‘ وہ مجھے اپنے گھر پر دیکھ کر بے حد حیران ہوا مگر اس کی حیرانی مجھے بہت خوشگوار لگی۔ وہ شاید کچن میں مصروف تھا کیونکہ اس نے ایپرن باندھ رکھا تھا اور ہاتھ میں چھری بھی پکڑی ہوئی تھی۔

’’کیوں۔۔۔ اچھا نہیں لگا میرا آنا؟‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

میں بہت ہمت کر کے یہاں آئی تھی۔ حیدر نے مجھے اپنا ایڈریس بتایا ہوا تھا مگر پھر بھی اکبر کو گھر ڈھونڈنے میں دقت ہوئی تھی۔ دوسرا میں یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ اس وقت گھر پہ ہوگا یا نہیں اور سب سے بڑھ کر یہ خدشہ بھی لاحق تھا کہ نہ جانے وہ مجھے دیکھ کر کس طرح ری ایکٹ کرے۔ وہ ہونٹ بھینچ کر مسکرایا۔ یہ اس کی مخصوص ادا تھی۔ وہ جب بہت خوش ہوتا تو اسی طرح مسکراتا تھا۔

’’کاش! میں آپ کو بتا سکتا کہ مجھے آپ کا آنا کیسا لگا ہے۔‘‘

میں ناقدانہ نگاہوں سے لابی کاجائزہ لیتی اندر آگئی۔ علامہ اقبال ٹائون فیز III میں واقع یہ چھوٹی سی کوٹھی اس کی اپنی تھی جس کی انیکسی میں وہ خود رہتا تھا اور باقی حصہ کرائے پر دے رکھا تھا۔ لابی سے گزر کر اندر کی سمت آنے تک میں حیدر رضا کے ذوق کی ٹھیک ٹھاک قائل ہوچکی تھی۔ اس کے گھر کا انٹیریئر نہایت زبردست تھا۔ اندرونی حصے سے کسی کے بولنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ میں نے استفہامیہ انداز میں اس کی جانب دیکھا۔

’’ٹی وی آن ہے۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے بولا۔ مجھے اس کی مسکراہٹ سے عجیب سا سکون ملا تھا۔ وہ مجھے بیٹھنے کا اشارہ کر کے خود ایک سمت چلا گیا تھا۔ شاید اس طرف کچن تھا۔ میں بیٹھنے کے بجائے لونگ روم کی دیواروں پر لگی پینٹنگز اور وال ہینگز دیکھنے لگی۔

’’میں اور میرا غریب خانہ آپ کو ویلکم کہتا ہے مادام! آپ سوچ بھی نہیں سکتیں کہ آپ کو یہاں دیکھ کر مجھے کتنی خوشی ہورہی ہے۔‘‘

وہ ریموٹ سے ٹی وی کا والیوم کم کرتے ہوئے بولا۔ اس نے ایپرن اتار دیا تھا۔

’’مجھے اس قسم کی فارمل باتیں کرنی نہیں آتیں، ورنہ جب آپ میرے گھر آئے تھے تو میں بھی ایسی ہی گفتگو کرتی تاکہ آپ کو احساس ہوتا کہ اس قسم کی باتیں کس قدر اجنبیت کا احساس دلاتی ہیں۔‘‘

میں نے ناک چڑھا کر مصنوعی خفگی سے کہا۔ اس کی مسکراہٹ سے کم از کم مجھے یہ اندازہ ضرور ہوگیا تھا کہ وہ مجھ سے خفا نہیں ہے۔ میری اس بات پر وہ چند لمحے میری جانب دیکھتارہا پھر دوبارہ مجھے بیٹھنے کا اشارہ کر کے بولا۔

’’لازمی تو نہیں کہ صرف فارمیلیٹیز اجنبیت کا احساس دلائےں۔ بعض اوقات کچھ اور باتیں بھی ہوتی ہیں جو لمحہ بھر میں کسی اپنے کو بے گانہ بنا دیتی ہیں۔‘‘

اگرچہ یہ کہتے ہوئے اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی مگر مجھے اس کا یہ طنزیہ سا شکوہ بخوبی سمجھ میں آگیا تھا۔ ہمارے درمیان موجود یہ بے نام سا رشتہ ایسا نہیں تھا کہ اس سے توقعات وابستہ کی جاتیں، اسی لےے میں نے اس کی بات ٹال کر سراہنے والے انداز میں صوفہ سیٹ اور پردوں کے کلر کنٹراسٹ کو دیکھا۔

’’آپ کا گھر بہت خوب صورت ہے۔‘‘ میں نے کہا۔

’’آپ سے زیادہ نہیں۔‘‘ اس نے بے ساختہ کہا پھر صفائی دینے والے انداز میں بولا۔

’’میرا مطلب ہے، آپ کے گھر سے زیادہ نہیں۔‘‘ میں نے اس کی بات کی ذو معنویت پر غور نہیں کیا تھا، اس لےے سر ہلا کر بولی۔

’’جی میں سمجھ گئی تھی کہ آپ کا کیا مطلب ہے۔‘‘

’’میں نے ضروری سمجھا کہ آپ کو بتادوں۔ مبادا، آپ سمجھیں کہ میں آپ کو خوب صورت کہہ رہا ہوں۔‘‘ وہ مسکر اکر چڑانے والے انداز میں بولا۔

’’جناب! مجھے آپ کی گواہی کی ضرورت نہیں۔ میں بہت اچھی طرح جانتی ہوں کہ میں بہت خوب صورت ہوں۔‘‘ میری بات پر وہ کھل کر ہنستے ہوئے بولا۔

’’سچ کہا ہے کسی نے۔ خواتین بہت جھوٹی ہوتی ہیں۔‘‘

میں مسکرا دی مگر نہ جانے کیوں مجھے کچھ عجیب سا احساس ہوا۔ آج کل تو سب ہی مجھے سراہ رہے تھے اور اس نے ایک بار بھی نہیں کہا تھا کہ میں اچھی لگ رہی ہوں۔ شاید میں اس کے منہ سے تعریفی کلمات سننے کی خواہش مند تھی۔ وہ لونگ روم میں رکھے فریج کی جانب بڑھ گیا۔ اس نے فریج کھول کر نہ جانے کیا نکالا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ میں اس کی تیمارداری کے لےے آئی تھی اور یہاں اس بیمار کو مہمان داری پر لگا دیا تھا۔ وہ پلٹا تو اس کے ہاتھ میں دو ڈیو کے ٹن تھے۔ وہ ٹن لے کر کچن کی سمت چلا گیا۔ میں کچھ کہنے کے بجائے ٹی وی کی سمت دیکھنے لگی، جہاں بی بی سی فوڈ پر کوئی گلابی سے رنگ والا انگریز گلابی رنگ مچھلی میں کچھ بھرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

’’آپ کس کے ساتھ آئی ہیں۔ اکبر ڈراپ کر کے گیا ہے؟‘‘ اس نے کچن میں کھڑے ہوئے پوچھا۔ مجھے حیدر کے ایسے اپنائیت بھرے سوالات بہت اچھے لگتے تھے۔ اتنی پروا تو اسفند بھی میری نہیں کرتے تھے۔ اس معاملے میں ان کی دلچسپی اکبر کو اس کی تنخواہ دینے تک محدود تھی۔

’’ہاں۔۔۔ ورنہ مجھے کہاں پتا چلنا تھا کہ جناب حیدر رضا صاحب کا گھر کہاں ہے۔۔۔ آپ نے جو ایڈریس مجھے سمجھایا تھا، وہی میں نے اکبر کو بتا دیا۔ وہ خود ہی مجھے یہاں تک لے آیا۔‘‘ اب اسے کیا بتاتی کہ اس کا کوچہ تلاش کرنے میں کتنی خواری ہوئی تھی۔ وہ کچن سے ایک ٹرے اٹھائے واپس آگیا تھا۔ ڈیو کے ٹن کے ساتھ ایک کرسٹل کے بائول میں سلائسڈ پائن ایپل بھی تھا۔ اس نے ٹرے میرے سامنے سینٹرل ٹیبل پر رکھ دی اور خود اسی صوفے پر میرے دائیں جانب بیٹھ گیا۔

’’میں یہاں آپ سے خدمت کروانے نہیں آئی بلکہ آپ کی عیادت کے لےے آئی ہوں۔ اطلاع ملی تھی کہ آپ کی طبیعت ناساز ہے۔‘‘

میں اس کی جانب رخ موڑ کر دوستانہ انداز میں بولی۔ میں اس سے یہ نہیں کہہ پائی کہ اس کی خفگی کے خیال نے مجھے اتنا ستایاکہ مجھے آنا ہی پڑا۔ وہ مسکرانے لگا پھر ٹن میری جانب بڑھاتے ہوئے بولا۔

’’یہ ہوائی کسی دشمن نے اڑائی ہوگی۔۔۔ آپ دیکھ رہی ہیں کہ میں بالکل ہٹا کٹا آپ کے سامنے ہوں۔۔۔ جو تھوڑی بہت بے زاری طبیعت پر چھائی ہوئی تھی، وہ آپ کو دیکھ کر بالکل ختم ہوگئی۔ اب کہاں کا ٹمپریچر اور کہاں کی میڈیسن۔‘‘

’’واہ کیا ڈائیلاگ ہے۔۔۔ آج کوئی مووی دیکھی ہے کیا؟‘‘ میں اس کے ڈائیلاگ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بولی۔

’’ارے اتنا فارغ البال سمجھ لیا ہے آپ نے مجھے۔ محترمہ! بہت مصروف انسان ہوں میں۔۔۔ یہ جو آپ کو اس وقت نظر آرہا ہوں نا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آج مہینے کا آخری ویک اینڈ ہے اور آخری ویک اینڈ پر میں اپنے سب ورکرز کو جلدی فارغ کر دیتا ہوں۔ یہ میری بہت پرانی روٹین ہے۔ ورکرز سے اچھا کام لینے کے لےے ضروری ہے کہ انہیں تھوڑا ریلیکس بھی کیا جائے۔‘‘ وہ ڈیو کے سپ بھرتا ہوا بولا۔

’’اسفند بھی بالکل آپ جیسے ہیں۔‘‘ میں نے ابھی اتنا کہا تھا کہ اس نے میری بات کاٹ دی۔

’’نہیں۔۔۔ ہم ایک جیسے نہیں ہیں۔۔۔ وہ بہت خوش قسمت ہیں۔‘‘

وہ دایاں بازو صوفے کی پشت پر پھیلاتے ہوئے بولا۔ اس کے انداز میں محسوس کی جانے والی قطعیت نہیں تھی۔ میں کچھ نہیں بولی تھی اور کرسٹل کے بائول میں سے پائن ایپل کے سلائسز پلیٹ میں نکال کر کانٹے کی مدد سے کھانے لگی۔ مجھے کولڈ ڈرنک کے ساتھ پائن ایپل کھانا پسند تھا اور یہ بات میں نے ایک بار حیدر کو بتائی تھی۔ مجھے خوشی ہوئی کہ اس نے اس بات کو یاد رکھا تھا۔

’’تھینک یو۔‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے اسے کہا تو وہ بھی مسکرا دیا۔

’’آپ کے ہسبنڈ خوش قسمت ہیں، اس کے لےے آپ کو مجھے تھینک یو کہنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ وہ ’’مجھے‘‘ پرزور دیتے ہوئے بولا۔ میں نے ناک سکیڑ کر اسے گھورا۔

’’میں ہسبنڈ کے لےے نہیں بلکہ اس پائن ایپل اور کولڈ ڈرنک کے لےے ’’تھینک یو‘‘ کہہ رہی تھی۔‘‘

’’اوہو۔۔۔ تو پہلے بتانا تھا، اور ویسے بھی آپ کو تھینک یو کہنے کی ضرورت نہیں۔ سمجھیں آپ۔‘‘

اس کا وہی اپنائیت بھرا پرخلوص سا انداز جو مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔ کولڈ ڈرنک اور پائن ایپل کے بعد میں کچھ بے تکلف ہو کر بیٹھ گئی۔ وہ مجھے اِدھر اَدھر کی باتیں بتانے لگاجو ایک دوسرے سے شیئر کرنا ہمار امعمول بن چکا تھا۔ اس نے جتایا نہ میں نے استفسار کیا کہ آیا وہ مجھ سے خفا تو نہیں ۔ ہم کافی دیر تک باتیں کرتے رہے۔ وہی عام سی بے ضرر باتیں، دوستوں کی، رشتہ داروں کی، ماضی کی۔۔ اس نے مجھ سے اپنے دو ایک بزنس پرابلم شیئر کےے۔ مجھے بزنس کے اسرار و رموز کے متعلق کچھ بھی نہیں پتا تھا مگر پھر بھی اس نے مجھ سے یہ سب ڈسکس کیا اور میرے مشوروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ اس کے لےے میری ہر بات اہم تھی اور مجھے اس کے ساتھ اپنے دکھ سکھ شیئر کرنے میں اسی لےے راحت ملتی تھی۔

’’یشفیٰ! مجھے بہت بھوک لگی ہے۔ میں نے آج لنچ بھی نہیں کیا۔‘‘ جب باتیں کرتے کرتے تھک گئے تب اس نے کہا۔

’’توبہ ہے حیدر! پہلے نہیں کہہ سکتے تھے۔‘‘ میں نے رسٹ واچ پر ٹائم دیکھتے ہوئے کہا۔ مجھے شرمندگی تو کافی ہوئی مگر میںنے ظاہر نہیں کیا۔ اب اس میں میرا کیا قصور تھا کہ ہمیں باتوں کے دوران ٹائم کا پتا ہی نہیں چلا۔ میں پانچ بجے کے قریب آئی تھی اور اب سات بج رہے تھے۔

’’میرا ملازم تو آج چھٹی پر ہے اور و ہ جو پکا کر فریز کر گیا ہے، میں اسے مائیکرو کر سکتا ہوں۔۔۔ لیکن آپ میری مہمان ہیں، یہ کھانا آپ کے شایان شان نہیں ہوگا۔۔۔ اس لےے میں سوچ رہا ہوں کہ۔۔۔ ڈنر کہیں باہر کر لیا جائے۔‘‘ اس نے میری بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔

’’ارے بھئی، پلیز مجھے مزید شرمندہ مت کریں۔۔۔ میں آج مہمان بن کر نہیںآئی تھی بلکہ آپ کی عیادت کے لےے آئی تھی۔ مجھے اب چلنا چاہےے۔‘‘

اب کی بار میں نے کہہ ہی دیا تھا۔ مجھے خود یہ احساس ستانے لگاتھا کہ میری وجہ سے وہ بے چارہ بھوکا بیٹھا رہا ہے۔

’’میرے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا ہے، کیوں نہ ہم مل کر کوئی اچھی سی چیز بنائیں۔ مثلاً۔۔۔ مثلاً۔۔۔ پزا یا چکن کڑاہی۔۔۔ آپ تو بہت اچھی کک ہیں اور بد سلیقہ تو خیر میں بھی نہیں ہوں۔ بس ہوگیا فیصلہ۔۔۔ ہم مل کر کچھ پکاتے ہیں۔‘‘

وہ پرجوش انداز میں بولا۔ میں نے ایک دو بار پس و پیش کی پھر میں بھی مان گئی کیونکہ مجھے بھی یہ بہت دلچسپ بات لگ رہی تھی۔ اس کے بعد ہم دونوں یہ سوچنے لگے کہ آخر پکایا کیا جائے۔ اس کی منتخب ڈش مجھے اچھی نہیں لگ رہی تھی اور میری منتخب کر دہ ڈش اسے پسند نہیں آرہی تھی۔

’’’اچھا۔۔۔ میں ابھی آتا ہوں۔۔۔‘‘

حیدر بالآخر تھک کر بولا اور کچن سے ملحقہ کمرے کی طرف چلا گیا۔ واپس آیا تو ہاتھ میں دو تین چھوٹی ڈائریاں تھیں۔ اس نے باقی ڈائریاں ٹیبل پر رکھ دیں اور ایک نیلی جلد والی ڈائری کھول کر مسکراتے ہوئے بولا۔

’’یہ میری گرل فرینڈکی ڈائری ہے۔ اسے کوکنگ کا بہت شوق تھا۔ جب میں پاکستان واپس آنے لگا تھا تو یہ اس نے مجھے گفٹ کی تھی اس میں چندبہت اچھی ریسیپیز ہیں۔ اس میں سے دیکھ کر کوئی ڈش ٹرائی کرتے ہیں۔‘‘

وہ جلدی جلدی صفحات پلٹتا ہوا بول رہا تھا۔ چند لمحوں بعد ہم کچن میں کھڑے تھے۔ حیدر اپنی شرٹ کی آستینیں کہنیوں تک چڑھائے نمک اور بیکنگ پائوڈر ڈال کر میدہ گوندھنے میں مصروف تھا جبکہ میں انڈے پھینٹ رہی تھی۔ ساتھ ساتھ حیدر مجھے اپنی امریکن فرینڈز کی دلچسپ باتیں بھی سناتا جارہا تھا، اسی دوران فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ حیدر ہاتھ دھوئے بنا فون سننے چلا گیا جبکہ میں انڈے پھینٹنے کے بعد چکن دیکھنے لگی تھی جو ابالنے کے لےے چولہے پر رکھا تھا۔ مجھے ریسیپی معلوم نہیں تھی، سو میں وہی ڈائری دیکھنے لگی جو شیلف پر کھلی پڑی تھی۔ حید رکا انتظار کرتے ہوئے میں بلا ارادہ صفحات پلٹنے لگی۔ کچھ فون نمبرز تھے، کچھ انگریزی کے اقتباسات درج تھے۔ یونہی صفحات پلٹتے پلٹتے میری نظر کچھ اردو اشعار پر پڑی۔ بہت خوب صورت ہینڈ رائٹنگ میں پوری نظم درج تھی۔ میں بلا ارادہ پڑھنے لگی۔

میری اتنی سی خواہش ہے کہ

میں اک آسمان ہوتا اور

تو میری زمین ہوتی

میں جھک کر تیرے سارے غم

اپنے کاندھوں پہ ڈھو لیتا

تیری تکلیفیں اور کٹھنائیاں

خود میں سمو لیتا

میرے بادلوں سے بارشیں

چھم چھم برستیں تو

تجھے سیراب کر دیتیں

وہ تیری پیاس کو پی کر

تجھے شاداب کر دیتیں

میرے سورج کی کرنیں تجھ پر پڑتیں تو

بڑی انمول ہوجاتیں

ہوا سے مل کر نئی اک شکل میں ڈھلتیں

غزل کے بول ہوجاتیں

میں تجھ سے روٹھتا تو تاریک رات ہوجاتا

مگر پھر بھی میرا چندا تیرے ہی ساتھ ہوجاتا

کہیں تارے چمک پڑتے، گو میرا حسن بڑھانے کو

لیکن بے تاب رہتے وہ تیرا آنچل سجانے کو

پر جاناں میں نے مانا

کہ ایسا ہو نہیں سکتا

نجانے کس کی سازش ہے

مگر پھر بھی میری اتنی سی خواہش ہے۔۔۔۔

نظم پڑھنے کے بعد میرے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ پھیل گئی۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ جناب حیدر رضا صاحب اتنا رومانٹک شخص ہیں۔

’’آپ تو واقعی چھپے رستم ہیں۔‘‘ میں نے مسکراتے ہوئے خود کلامی کی تھی۔ حیدر اب بھی فون پر مصروف تھا۔ میری نظر اسی صفحے کے اوپر کی جانب پڑی جہاں انگلش میں لکھا تھا “To my dear dear love” مجھے بہت تجسس ہوا کہ یہ کس محترمہ کے لےے لکھی گئی ہے۔ بے اخلاقی تو تھی مگر میں نے دوبارہ سے نظم کے آخری حصے کو دیکھا اور لمحہ بھر کے لےے تو مجھے لگا جیسے میرے سر پہ آسمان گر پڑا ہے۔ نظم کے آخر میںبہت چھوٹا سا ’’یشفیٰ‘‘ لکھا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ایک لفظ اور بھی لکھا تھا جسے بال پوائنٹ کی مدد سے اتنا رگڑا گیا تھا کہ وہ پڑھنے کے قابل نہیں رہا تھا مگر پھر بھی بغور دیکھنے پر پتا چل رہا تھا کہ وہاں ’’اسفند‘‘ لکھ کر کاٹا گیا تھا۔

’’ہاں جی۔۔۔ بوائل ہوگیا چکن؟‘‘ وہ بشاش لہجے میں کہتے ہوئے کچن میں داخل ہوا تھا۔

٭٭٭

’’میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘

حیدر نے چھ لفظوں پر مشتمل یہ میسج میرے موبائل پر کیا تھا۔ میں نے گھر کا فون انگیج کر رکھاتھا اور موبائل میں اس کی کالز کو مسلسل نظر انداز کر رہی تھی، تب ہی اس نے یہ پیغام send کیا تھا۔ دو دن ہوچکے تھے، وہ مسلسل مجھ سے بات کر نے کی کوشش کر رہا تھا اور میں اسے مسلسل اگنور کر رہی تھی۔ پہلے دو دن میں نے سیل فون ہی آف کر دیا تھا کہ وہ فون ہی نہ کر سکے اور تیسرے دن اسی لےے آن کیا تھا کہ اسفند موبائل فون مسلسل آف پاکر پریشان نہ ہوجائیں مگر اسفند کا فون تو نہیں آیا تھا البتہ حیدر کی مسلسل کالز آرہی تھیں جو میں اٹینڈ نہیں کر رہی تھی۔ حیدر کی دوستی میرے لےے بہت قیمتی تھی مگر مجھے یہی بہتر لگا تھا کہ اس ’’دوستی‘‘ کو یہیں ختم کر دیا جائے کہ اس کا جاری رہنا رسوائی کے سوا کچھ نہ تھا۔ میرا تعلق متوسط طبقے سے تھا۔ اگر چہ اسفند سے شادی کے بعد میری کلاس میں اضافہ ہوا تھا۔ اسفند کو بزنس کی فیلڈ میں ملنے والی بے پناہ ترقی نے تو ہمارے اسٹیٹس کو چار چاند لگا دےے تھے مگر میں اپنے دل و دماغ کا کیا کرتی جو ابھی بھی ’’مڈل کلاس‘‘ تھا۔ میں حیدر سے ملتی تھی، اس کے ساتھ ڈنر کرتی تھی، تنہائی میں بیٹھ کر اس کے ساتھ بہت سے موضوعات پر باتیں کرتی تھی۔ اس کے ’’ساتھ‘‘ کو بہت انجوائے کرتی تھی اور جب یہ سب کر چکتی تھی تو خدشات میں مبتلا ہوجاتی تھی اور یہ خدشات بے بنیاد نہیں تھے۔

میں بخوبی سمجھتی تھی کہ یہ سب کیا ہورہا ہے مگر شاید میں کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے وقت گزار دینا چاہتی تھی۔ اس روز حیدر کی ڈائری میں لکھی گئی ایک نظم کے نیچے اپنا نام لکھا دیکھ کر میں وہ ڈائری غصے میں اس کے منہ پر مار کر آگئی تھی مگر گھر آکر جب میں نے اپنا محاسبہ کیا تھا تو مجھے احساس ہوا تھا کہ مجھے بھی وہ اچھا لگنے لگا تھا۔ اس کی اپنائیت، اس کا محبت بھرا انداز، اس کا خلوص میری کمزوری بننے لگا تھا۔ ایسی صورت حال میں یہی بہت تھا کہ میں اسے بالکل نظر انداز کر دیتی اور میں یہی کر رہی تھی۔

’’یشفیٰ پلیز۔۔۔ میں ریکوسٹ کرتا ہوں آپ سے۔‘‘

میرے لائونج میں بیٹھے بیٹھے اس نے دوسرا میسج بھی کر دیا تھا۔ میں کچھ لمحے سوچتی رہی۔ میں حیدر کو ہرٹ نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اسفند کی بے رخی سہہ سہہ کر میں نے یہ ضرور سیکھ لیا تھا کہ بے رخی بہت تکلیف دہ ہوتی ہے۔ میں نے ذہن میں دو ایک مناسب جملے ترتیب دےے اور اپنے موبائل سے اس کے موبائل کا نمبر ملانے لگی۔

’’یشفیٰ۔۔۔ آپ مجھ سے مل تو لیں ایک بار۔۔۔ مجھے آپ سے کچھ ڈسکس کرنا ہے۔۔۔ بہت امپورٹنٹ۔‘‘

کال ریسیو کرتے ہی اس نے التجائیہ لہجے میں کہا تھا۔ اور مجھے لگا میرا دل ایک مکھن کی ٹکیہ کی طرح ہے جسے کسی نے جلتے توے پر رکھ دیا ہو۔ میں نے بہت ہمت کر کے اپنے دل کو پگھلنے سے روکا۔

’’میں امی کے گھر ہوں۔۔ میری بڑی بہن صبا آپی کے یہاں بیٹا پیدا ہوا ہے۔ میں بہت مصروف ہوں۔‘‘

میں نے انتہائی رسمی انداز میں کہہ کر فون بند کر دیا۔ ابھی ایک منٹ ہی گزرا تھا کہ پھر بیپ بجنے لگی۔ میں نے اسکرین کی طرف دیکھے بغیر فون کان سے لگایا تھا۔

’’جی فرمائےے۔‘‘ میرے لہجے میں محسوس کی جانے والی سختی تھی۔

’’ارے اتنا غصہ۔۔۔ کس سے جھگڑ کر بیٹھی ہو؟‘‘

اسفند کی آواز سنائی دی تھی۔ میں نے گہری سانس بھر کر اپنے مزاج پر قابو پایا۔ کتنے دن بعد اسفند کی آواز سن رہی تھی مگر اس کے باوجود دل کی دنیا میں ہلچل نہیں مچی تھی۔ وہ باتیں بھی تو ایسی ہی کرتے تھے۔ کوئی بزنس کانٹریکٹ، کوئی نیا ایگریمنٹ، کسی نئے ڈیلی گیشن سے بزنس ڈکشن، یہی سب باتیں کرتے کرتے انہوں نے فون بند کردینا تھا یوں جیسے اپنی سیکریٹری سے بات کر رہے ہوں۔

’’اسفند! میں بہت تھک گئی ہوں۔۔۔ پلیز اب واپس آجائیں۔‘‘

میںنے ان کی بات کاٹ کر التجائیہ لہجے میں درخواست کی تھی۔ حالانکہ میں تہیہ کر چکی تھی کہ اب اسفند کی منت سماجت نہیں کروں گی، نہ ان سے واپسی کے لےے اصرار کروں گی لیکن اس کے باوجود میں نے ایک مرتبہ پھر اپنی عزت نفس کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کہہ دیا تھا۔

’’کم آن یشفیٰ! تم میری بیوی ہو، گرل فرینڈ نہیں ہو۔ ایسی باتیں گرل فرینڈ کے منہ سے اچھی لگتی ہیں یار۔۔۔ ٹرائی ٹو انڈر اسٹینڈ۔۔۔ میں یہاں اپنی فرم کا کنسلٹنٹ آفس اسٹبلش کر رہا ہوں۔ تم نہیں سمجھ سکتیں یہاں کی لیبر کتنی سستی اور کتنی محنتی ہے۔ یہ سب کام ختم ہوتے ہی میں واپس آجائوں گا۔ یقین کرو، میں یہاں بزنس کے لےے آیا ہوں، گلچھُرے اڑانے نہیں۔ میں یہ سب تمہارے لےے ہی تو کر رہا ہوں۔‘‘

آخری جملہ کہتے ہوئے ان کے لہجے میں عجیب سی سختی در آئی تھی۔ اور پھر انہوں نے میری اگلی بات سنے بغیر فون بند کر دیا تھا۔

’’مجھے زندگی میں صرف پیسہ نہیں چاہےے۔ مجھے دولت کے مزار میں دفن مت کریں اسفند! روپوں سے ہٹ کر بھی میری کچھ ضروریات ہیں، خواہشات ہیں۔ میرے بھی کچھ حقوق ہیں۔ مجھے روپوں کی نہیں، آپ کی ضرورت ہے۔ میں تو زندگی میں کبھی بھی مادہ پرست نہیں رہی۔ میں نے آپ سے کب تقاضا کیا کہ مجھے سونے میں تولیں۔‘‘

میں موبائل فون صوفے پر پھینک کر خود بھی وہیں بیٹھ گئی۔ اسفند کا رویہ مجھے اس قدر ہتک آمیز لگنے لگا تھا کہ دل چاہتا تھا ان کے بارے میں سوچوں بھی نہیں۔ ’’میں جانتی ہوں اسفند! آپ کو مجھ میں کوئی دلچسپی محسوس نہیں ہوتی۔ آپ مجھ سے بے زار ہوچکے ہیں۔ میں آپ کے لےے وارڈ روب میں لٹکی ’’ٹائی‘‘ کے جیسی ہوں جسے لگا لگا کر آپ اکتا چکے ہیں جس کے رنگوں میں آپ کو کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی اور اسے فقط اس امید پر وارڈ روب میں لٹکا کر رکھا ہے کہ شاید کبھی کسی شرٹ کے ساتھ اسے میچ کر کے لگایا جاسکے۔‘‘

میرا دماغ پھٹنے لگا تھا اور پھراس اذیت کو کم کرنے کے لےے میں امی کی طرف آگئی۔ صبا آپی کے نوزائیدہ احتشام کی وجہ سے وہاں میرا دل لگ گیا۔ اسے گودمیں لے کر اس کے لمس کو محسوس کرنے میں مجھے بہت سکون ملا۔ ایسا لگا جیسے محرومیوں کا ازالہ ہورہا ہو مگر بہرحال وہ میری اولاد نہیں تھا۔ وہ صبا آپی کی اولاد تھا۔

’’اسفند نے زیادہ دن نہیں لگا دےے؟ اتنا لمبا ٹور تھا تو تمہیں ساتھ لے جاتا۔ تم لوگوں کے تو بچوں والے مسائل بھی نہیں ہیں کہ بچوں کے اسکول کھل جائیں گے یا پڑھائی متاثر ہوگی۔‘‘

بھابھی نے اپنے مخصوص ’’بھابھیانہ‘‘ انداز میں کہا تھا۔ میں خاموش رہی۔ میں نے ہمیشہ کی طرح اسفند کی صفائی میں ایک جملہ بھی نہیں کہا۔

’’ارے یقینا وہ اصرار کرتا رہا ہوگا مگر یہ یشفیٰ خود ہی بے زار رہتی ہے ہر چیز سے، اسی نے انکار کیا ہوگا۔‘‘

صبا آپی احتشام کو تھپکتے ہوئے بولی تھیں۔ میں کچھ بھی کہے بغیر وہاں سے اٹھ گئی اور پھر ہمیشہ کی طرح افسردہ دل لےے اپنے گھر واپس آگئی۔

٭٭٭

’’یشفیٰ! ولی کو نئے شوز چاہئیں۔ میں فارغ نہیں ہوں۔ بی ایس سی کے پیپرز چیک کرنے ہیں۔ تم اسے شوز دلوادو گی؟‘‘

ارم بھابھی نے فون کر کے پوچھا۔

’’آپ ولی کو کالج جاتے ہوئے میری طرف چھوڑ جائےے گا۔‘‘

میں نے ہامی بھرتے ہوئے کہا۔ بھابھی ساڑھے نو کے قریب ولی کو میری طرف چھوڑ گئی تھیں۔ اپنے کام وغیرہ نبٹا کر میں ولی کو لے کر گھر سے نکل آئی۔ اکبر کا بہنوئی بیمار تھا، سو وہ چھٹیاں لے کر واہ کینٹ گیا ہوا تھا۔ مجھے اپنی ایک فرینڈ کے گھر بھی جانا تھا۔ اس کی ساس بیمار تھیں، ان کی عیادت سے فارغ ہو کر میں ولی کو لےے ای بی ایچ آگئی۔ اسے شوز دلوائے پھر گھر کی ضرورت کی کچھ چیزیں خریدیں اور ٹیکسی لینے کے لےے مین روڈ پر آگئی۔

’’اب کہاں جائیں گے چاچی؟‘‘ولی نے پوچھا تھا، وہ میری انگلی پکڑے آتی جاتی ٹریفک کو دیکھ رہا تھا۔

’’آپ کو جہاں جانا ہے مجھے بتا دیجےے۔ میں آپ کو وہاں لے چلوں گی جانو۔‘‘ میں نے سن گلاسز کے عقب سے اسے محبت سے دیکھتے ہوئے کہا۔

’’چاچی zoo چلیں۔ وہاں lion بھی ہوتا ہے۔ وہ میرا دوست ہے۔ مجھے اس سے ڈر تو نہیں لگتا کیونکہ وہ میرا دوست بن گیا ہے نا۔۔۔ ردا آپی اس سے بہت ڈرتی ہیں۔ ردا آپی کا دوست نہیں ہے وہ۔ lion کہتا ہے میں لڑکیوں سے دوستی نہیں کرتا۔ ردا آپی تو لڑکی ہیں نا۔‘‘

وہ میری معلومات میں اضافہ کررہا تھا۔ مجھے اس کی بات سن کر بہت ہنسی آئی۔

اسی دوران ایک گاڑی ہمارے پاس آکر رک گئی۔ یک دم میری ہنسی کو بریک لگ گیا۔ میں اس گاڑی کو پہچانتی تھی اور گاڑی چلانے والا بھی میرے لےے انجان نہیں تھا۔ مگر میں جان بوجھ کر انجان بنی ٹیکسی کی تلاش میں نظریں دوڑاتی رہی۔

’’یشفیٰ! میں آپ کو ڈراپ کر دیتا ہوں۔‘‘

’’میں چلی جائوں گی۔‘‘ میں نے اس کی بات کاٹی۔

’’میں جانتا ہوں، آپ چلی جائیں گی مگر میں آپ سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ اس نے پھر کہا۔ میں کچھ بھی بولے بغیر سامنے دیکھتی رہی۔

’’اب کیا میں آپ کے پائوں کو ہاتھ لگا کر التجا کروں؟‘‘ اب کی بار اس کے لہجے میں عجب کاٹ تھی۔

’’یہ کیا کہہ رہے ہیں چاچی؟‘‘ ولی میری ٹانگ سے چپکا، دلچسپی سے پوچھ رہا تھا۔ میں نے گہری سانس بھری اور ولی کی انگلی تھام کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔

’’شکریہ۔‘‘ حیدر نے سنجیدگی سے کہا تھا۔ میں اس کی طرف دیکھنے سے احتراز برت رہی تھی اور شاید وہ خود بھی بات کا آغاز کرتے ہوئے جھجک رہا تھا۔ ہم دونوں کے چہروں پر پھیلی سنجیدگی دیکھ کر ولی بھی دبک کر بیٹھ گیا۔

’’میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ مجھے گفتگو کا آغاز کس طرح کرنا چاہےے۔۔۔ میں آپ سے کہیں بیٹھ کر اطمینان سے بات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ میں آپ کو کچھ بتانا چاہتا ہوں یشفیٰ۔‘‘

حیدر نے بالآخر خاموشی توڑتے ہوئے کہا۔

’’میں سن رہی ہوں۔ آپ کو جو کہنا ہے، آپ ابھی کہہ دیجےے۔‘‘

میں نے ونڈ اسکرین کی طرف دیکھتے ہوئے سادہ سے لہجے میں کہا۔ حیدر نے گردن موڑ کر پیچھے بیٹھے ولی کی جانب دیکھا جو غنودگی کے باعث پسنجر سیٹ پر لیٹ گیا تھا۔ وہ شاید تھک چکا تھا، تب ہی اسے نیند آرہی تھی۔

’’یشفیٰ! جو بات میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں، وہ اس طرح نہیں ہوسکتی۔ آپ مجھے غلط سمجھ رہی ہیں۔۔۔ آپ پلیز میری بات کہیں اطمینان سے بیٹھ کر سن لیجےے۔‘‘

اس نے ایک بار پھر التجائیہ انداز میں کہا۔ میں تو خود عجیب سی کشمکش میں گھر گئی تھی۔ دماغ کہہ رہا تھا کہ وضاحت سے بات بڑھ سکتی ہے جبکہ دل سمجھا رہا تھا کہ بات سلجھ سکتی ہے۔ ابھی میں اسی میں الجھی تھی کہ حیدر بولا۔

’’اوکے۔۔۔ آپ کی مرضی۔۔۔ مجھے تو ہر حال میں بات کرنی ہے۔۔۔ میں اسی طرح بیٹھے ہوئے بات کرلیتا ہوں۔‘‘ وہ لمحہ بھر کو رکا پھر بولا۔

’’جو کچھ اس روز آپ نے دیکھا۔۔۔ وہ آدھی حقیقت ہے۔ میں نہیں جانتا آپ نے اس نظم سے کیا نتیجہ اخذ کیا مگر میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ دراصل مجھے آپ سے محبت ہے یشفیٰ۔۔۔ آئی ایم سوری۔‘‘

وہ بات کرتے ہوئے بہت جھجک رہا تھا۔ اس کے اعتراف پر میں ششدر رہ گئی۔ میں نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔

’’حیدر۔۔۔ پلیز، فارگاڈ سیک۔ مجھے میری ہی نظروں میں اس قدر بے توقیر نہ کرےں۔ میں سب سمجھ چکی ہوں۔ میں چھوٹی بچی نہیں ہوں جیسے آپ لفظوں سے بہلا سکیں۔ میں جانتی ہوں جسے آپ محبت کہہ رہے ہیں، وہ محبت نہیں ہے، وہ ہوس ہے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا لینے سے، باتیں کر لینے سے، ہنس لینے سے محبت ہوجاتی ہے۔۔۔ وہ بھی ایک شادی شدہ عورت سے۔ نہیں حیدر! یہ محبت نہیں ہوتی، یہ ہوس ہوتی ہے۔ آپ مجھے کیا سمجھتے ہیں۔۔۔ طوائف؟‘‘

گاڑی کو یکدم زور کا جھٹکا لگا۔ میں جو ذرا آگے ہو کر بیٹھی ہوئی تھی۔ ایک جھٹکے سے سیٹ سے ٹکرائی۔ اس کا چہرا لال بھبھوکا ہورہا تھا۔ گاڑی رک چکی تھی۔ اس نے دونوں ہاتھ اسٹیئرنگ پر سختی سے جمائے ہوئے میری طرف دیکھا تھا۔ کیا نہیں تھا اس کی آنکھوں میں۔ میں نظریں چرانے پر مجبور ہوگئی۔

’’آپ نے کتنے آرام سے یہ سب کہہ ڈالا۔۔۔ ایک لمحے کے لےے بھی نہیں سوچا کہ میرے دل پر کیا گزری ہے ان سب باتوں سے۔۔۔ آپ مجھے کیا سمجھتی ہیں۔۔۔ ایک گھٹیا اور ہوس پرست انسان جو شکار پھانستا پھرتا ہے جو اکیلی عورتوں کو دانہ ڈال کر اپنے جال میں پھنساتا ہے تاکہ اپنا مطلب پورا کر سکے۔ آپ نے مجھے بہت غلط سمجھا یشفیٰ۔۔۔ بہت غلط۔۔۔ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ حقیقت کیا ہے۔‘‘

اس نے انتہائی غصے سے کہہ کر ڈیش بورڈ پر پڑی ڈائری اٹھا کر میری گود میں پھینکی۔

’’اسے کھول کر دیکھےے۔‘‘ اس نے غصے سے کہا۔ میں اس کی نظروں سے پہلے ہی خائف ہوئی جارہی تھی۔ میں نے فوراً ڈائری کھول لی۔ اس ڈائری کے صفحات کچھ بوسیدہ سے تھے۔ اس نے ڈائری کھلتے ہی ایک صفحے پر انگلی رکھی۔

’’یہ دیکھےے۔۔۔ یہ وہ نظم ہے جو میں نے سب سے پہلے آپ کے لےے لکھی تھی۔۔۔ آپ اس پر درج تاریخ بھی ملاحظہ کر سکتی ہیں۔۔۔ یہ آج کی نہیں، دس سال پہلے کی تاریخ ہے۔‘‘

پھر حیدر نے ڈائری میرے ہاتھ سے چھینی اور ایک ایک صفحہ پلٹتے ہوئے مجھے دکھانے لگا۔

’’یہ دیکھےے۔ یہ نظم بھی میں نے آپ کے لےے لکھی تھی۔ اس کے نیچے اپنا نام آپ کو نظر آرہا ہوگا۔ یہ دیکھےے یہ قطعہ آپ کی یاد میں لکھا تھا۔ اس پر بھی یشفیٰ چوہدری ہی لکھا ہے۔ آپ اس ساری ڈائری کو چیک کر لیجےے، اس میں یشفیٰ چوہدری کی یاد میں لکھا گیا ایک ایک لفظ آپ کو یقین دلائے گا کہ میں ہوس پرست نہیں ہوں بلکہ میں واقعی آپ سے بہت محبت کرتا تھا۔ میں جھوٹ نہیں بولوں گا، میں آپ سے شادی کرنا چاہتا تھا مگر میرے پیرنٹس کی ڈیتھ نے میری زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ پیرٹس کے بعد کی زندگی میرے لے بہت ڈپریسنگ تھی۔بہت عرصہ لگا مجھے نارمل ہونے میں۔ میں نے فارینہ سے کہا تھا کہ وہ امریکہ جانے سے پہلے آپ سے سرسری انداز میں بات کرے مگر وہ بات نہیں کر پائی۔ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ہم امریکہ سے واپس آ نہیں پائیں گے۔ آپ کچھ نہیں جانتیں۔۔۔ آپ کو کیا خبر کہ میں نے کتنی مشکلوں سے آپ کا گھر ڈھونڈا تھا مگر پھر پتا چلا کہ آپ کی شادی ہوچکی ہے تو میں نے فارینہ سے یہی کہا کہ آپ لوگ گھر تبدیل کر چکے ہیں۔۔فائدہ بھی کیا تھا آپ سے ملنے کا۔ مگر قسمت تو قسمت ہے نا، ہمارا دوبارہ ملنا قسمت میں لکھا تھا۔ آپ مسز یشفیٰ اسفند کے روپ میں سامنے آئیں۔ میں نے صبر کر لیا۔۔۔‘‘ وہ سانس لینے کو رکا تھا۔ میں دم بخود سب سن رہی تھی۔

’’یقین کریں یشفیٰ! میری نیت میں فتو ر نہیں ہے۔ میں نے خود آپ سے روابط نہیں بڑھائے۔ مجھے محسوس ہوا آپ زندگی میں کسی الجھن کا شکار ہیں۔ بہت اطمینان بھری زندگی جیتے ہوئے بھی آپ مجھے کچھ غیر مطمئن لگی تھیں۔ میں تو ایک اچھا دوست بن کر آپ کی زندگی کو اس الجھن سے نکالنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں آپ کی بہت ریسپکٹ کرتا ہوں۔ وہ نظم۔۔۔ بے شک وہ نظم میں نے آپ کے لےے ہی لکھی تھی مگر۔۔۔ وہ میری اپنی سوچ ہے۔۔ میں اسے آپ سے شیئر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ میں آپ کو کبھی بتانا نہیں چاہتا تھا کہ میں آپ کے متعلق کیا سوچتا ہوں۔ مگر چاہتے ہوئے بھی میں آپ کو اپنے ذہن و دل سے نکال نہیں پایا۔ میں جانتا ہوں آپ کو میری باتیں فلمی لگ رہی ہیں مگر۔۔۔ میرا یقین کریں، میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں۔ میرا نفس اتنا بے قابو نہیں کہ میں شادی شدہ عورتوں کے ساتھ فلرٹ کرتا پھروں۔ میں اپنی سوچ کو تبدیل کرنے کی بہت کوشش کرتا ہوں مگر اتنی جلدی یہ ممکن نہیں ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے میں نے جس ایک لڑکی کے بارے میں سوچا ہے، وہ آپ ہیں مگر آپ میرا مقدر نہیں تھیں، اس لےے آپ میری زندگی کا حصہ نہیں ہیں۔ میں آپ کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کے لےے کوئی اوچھا ہتھکنڈا استعمال نہیں کر رہا کیونکہ میں نے آپ کی خواہش کرنا چھوڑ دیا ہے۔ آپ نے کم از کم اس نظم کے مطلب پر ہی غور کر لیا ہوتا۔‘‘

وہ خاموش ہوگیا تھا مگر اس خاموشی میں گزشتہ کئی سالوں کی تھکن تھی۔ میں رونا نہیں چاہتی تھی مگر چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔ میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

’’میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں۔۔۔ آپ نے یہ سوچ کیسے لیا یشفیٰ کہ میں آپ کو۔۔۔ آپ کو۔۔۔ ایک بری عورت سمجھتا ہوں۔‘‘

وہ بہت دکھ بھرے لہجے میں کہہ رہا تھا۔ میری عمر اٹھائیس برس تھی۔ اس لمحے روتے ہوئے میں نے اپنے آپ کو آٹھ سال کی بچی محسوس کیا۔ آنسو تھے کہ بہتے چلے جارہے تھے۔

’’سوری یشفیٰ! اگر میری باتیں آپ کو بری لگیں تو یقین کریں، میں بہت شرمندہ ہوں مگر یہ حقیقت ہے کہ میں نے جو کچھ بھی کہا، وہی سچ ہے۔ میں بہت عزت کرتا ہوں آپ کی۔ میں نے کبھی اس طرح سے آپ کی تذلیل کا تصور بھی نہیں کیااور پلیز یشفیٰ! اس طرح سے مت روئیں۔۔۔ مرے ہوئے کو مزید مارنا کہاں کا انصاف ہے۔‘‘

اس کے لہجے کا کرب میری سماعتوں میں اتر تھا۔ میں کیسے چپ ہوجاتی، چپ ہونا میرے بس سے باہر ہوا جارہا تھا۔ حیدر نے گاڑی اسٹارٹ کر دی۔ اسی دوران بیگ میں پڑے میرے موبائل کی بیپ بجنے لگی۔ میں نے بمشکل آنسوئوں پر قابو پاتے ہوئے کال ریسیو کی۔

’’یشفیٰ! اکبر کہاں ہے؟ اس کا موبائل کیوں آف ہے؟ میں ایئر پورٹ پر کھڑا ہوں یار۔‘‘

اسفند کی آواز سنائی دی۔

٭٭٭

’’یشفیٰ۔۔۔ یار! آج میں لیٹ ہوجائوں گا۔۔ تم سوجانا۔‘‘ اسفند نے ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں دیکھ کر ٹائی کی ناٹ بناتے ہوئے اپنا مخصوص جملہ کہا۔

’’اوکے۔۔۔ نو پرابلم۔‘‘

میں نے مگن سے انداز میں پائوں کے ناخنوں پر کیوٹیکس لگاتے ہوئے جواب دیا۔ مجھے غلط فہمی ہوئی تھی یا شاید حقیقت تھی کہ اسفند نے پلٹ کر میری جانب دیکھا تھا۔ میرا لاپروا سا انداز انہیں کھٹک رہا تھا۔ شاید تب ہی انہوں نے وہیں کھڑے کھڑے فرمائش کی تھی۔

’’یار!اپنی پسند کا پرفیوم ہی اسپرے کردو مجھ پر۔۔۔ کتنے دن ہوئے تم نے مجھے تیار ہونے میں کوئی ہیلپ نہیں کی۔‘‘

کیا انداز محبوبی تھا مگر میں اپنے دل کا کیا کرتی جو ان سے واقعی لاتعلق ہوچلا تھا۔ میں نے اسفند کی باتوں کا، ان کی روٹین کا اور ان کی بے پروائی کا نوٹس لینا چھوڑ دیا تھا۔ جب انہیں میری محبت کی پروا ہی نہیں تھی تو میں اس محبت کا بے جا اظہار کر کے اپنی تذلیل کیوں کرواتی۔ بیس اکیس دن ہوچلے تھے انہیں جاپان سے واپس آئے اور اس دوران انہوں نے بمشکل میرے ساتھ چوبیس پچیس گھنٹے گزارے تھے۔ ان چوبیس گھنٹوں میں نیند کے نو گھنٹے شامل تھے۔

’’آئی ایم سوری اسفند! نیل پالش خراب ہوجائے گی۔‘‘ میں نے اپنے ہاتھ لہراتے ہوئے انہیں رنگے ہوئے ناخن دکھانے کی کوشش کی۔ اسفند نے پرفیوم کی شیشی اٹھائی اور خود اپنے اوپر اسپرے کرنے لگے۔

’’اوکے۔۔۔ نو پرابلم۔’‘ انہوں نے کہا اور ہنستے ہوئے میرے قریب آکر مجھ پر بھی پرفیوم اسپرے کر دیا۔ عام حالات ہوتے تو شاید میں اس ادا پر قربان ہی ہوجاتی مگر اب دل میں کوئی جذبہ ہی نہیں ابھرا تھا۔ میں نے کچھ نہیں کہا مگر ہونٹوں پر مصنوعی مسکراہٹ ضرور پھیلالی کیونکہ خفگی کا اظہار تو محبت کی علامت ہوا کرتی ہے۔

’’کہیں جارہی ہو؟‘‘ بالآخر انہوں نے پوچھ لیا۔

’’ہاں۔۔۔ نہیں۔۔۔ شاید۔۔۔‘‘ میں نے بیڈ سے نیچے اترتے ہوئے مبہم سا جواب دیا۔

’’یہ کیا بات ہوئی۔‘‘ وہ والٹ اور موبائل وغیرہ پاکٹ میں رکھ رہے تھے۔

’’ایک فرینڈ کے ساتھ پلان ہے بار بی کیو کا۔۔۔ اس کا فون آگیا تو چلی جائوں گی۔‘‘ میں ناخنوں پر لگی نیل پالش کی وجہ سے نزاکت سے چلتے ہوئے بولی تھی۔

’’ہوں۔۔۔ گڈ۔۔۔ یو مسٹ گو۔۔۔ انجوائے یور سیلف۔‘‘

وہ بیڈ روم کے دروازے سے نکلتے ہوئے رسمی جملے بول رہے تھے۔ میں نے نیل پالش کی شیشی ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ کر انہیں دیکھا۔ وہ کمرے سے جا چکے تھے۔ انہوں نے یہ پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا تھا کہ میں کس فرینڈ کے ساتھ جا رہی ہوں اور آیا میں اپنے ڈرائیور کے ساتھ جا رہی ہوں یا ’’فرینڈ‘‘ مجھے پک کرنے آنے والی ہے۔ میں نے ڈریسنگ ٹیبل کی دراز میں سے ایک اور چھوٹی سی شیشی نکالی اور ساتھ ہی تھوڑی سی کاٹن لے کر دوبارہ بیڈ پر آبیٹھی۔ دل میں دکھ کی لہر تو اٹھی مگر یہ دکھ اس دکھ کے مقابلے میں بہت کم تھا جو میں جھیلتی آئی تھی۔ اسفند نے مجھ سے کچھ پوچھنا گوارا نہیں کیا تھا۔ میں بہت عام سی عورت تھی۔ میں نے ہمیشہ ایک عام سی زندگی گزارنے کے خواب دیکھے تھے۔ ہوسکتا ہے میری جگہ کوئی اور عورت ہوتی تو خود کو خوش قسمت قرار دیتی کہ اس کا شوہر ’’کسی‘‘ معاملے میں روک ٹوک نہیں کرتا مگر میں ایسی نہیں تھی۔ مجھے اچھا لگتا تھا کہ میرا شوہر مجھ پر حق جتائے، رعب جمائے۔ مجھے اس ادا میں بھی محبت کی جھلک محسوس ہوتی تھی۔

میرا خیال تھا کہ ایک شوہر اپنی بیوی سے جتنا لاپروا ہوتا ہے، اتنا ہی ان کے رشتے میں محبت کم ہوتی ہے۔ اسفند کو واقعی میری پروا نہیں تھی۔ میں سر جھکائے نیل پالش ریموو کرنے لگی۔ مجھے کہیں نہیں جانا تھا۔ میں نے فقط اسفند کا رد عمل جاننے کے لےے یہ بہانہ گھڑا تھا۔ جب سے اسفند واپس آئے تھے، میں ایک بار بھی حیدر سے نہیں ملی تھی۔ بارہا میرا دل چاہا تھا اس سے ملنے کو مگر میں نے خود کو سمجھا لیا تھا کیونکہ میں دو کشتیوں کی سوار نہیں بننا چاہتی تھی۔

البتہ حیدر نے دو تین مرتبہ میرے موبائل فون پر کال کی تھی۔ میری اس سے بات ہوئی تھی۔ میں خود کو ابھی تک اس سے فون پر بات کرنے سے روک نہیں پائی تھی۔ مگر میں نے اسے بتا دیا تھا کہ میں اس سے مل نہیں سکتی اور اس نے اصرار بھی نہیں کیا تھا کیونکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم دل ہی دل میں اپنے اس تعلق پر کبھی کبھی ندامت محسوس کرنے لگتے تھے۔ اگر ہم صرف ’’دوست‘‘ ہوتے تو یقینا ہمیں ندامت نہ ہوتی مگر ہمارے دلوں میں کہیں نہ کہیں چور موجود تھا۔

حیدر تو اعتراف کر چکا تھا کہ وہ مجھ میں انٹرسٹڈ رہا ہے مگر میں نے یہ بات اسے کبھی نہیں بتائی تھی کہ اگر وہ اسفند کے پرپوز کرنے سے پہلے مجھے ملتا تو میں کبھی بھی اسفند سے شادی نہ کرتی۔ نیل پالش ریموو کر کے میں لاک وغیرہ چیک کرنے کے لےے باہر آگئی۔ حالانکہ ابھی صرف آٹھ بجے تھے مگر میری رات ہوچکی تھی کیونکہ اسفند تو بارہ سے پہلے آنے والے نہیں تھے اور میں نے سوچتے ، کڑھتے سو جانا تھا۔ لائونج سے نکل کر میں لابی میں آئی تھی کہ گیٹ سے باہر کسی گاڑی کے رکنے کی آواز آئی پھر ایک مخصوص ہارن سنائی دیا۔ وہ ارم بھابھی کی گاڑی کا ہارن تھا۔

’’چاچی! جلدی سے آجائیں۔ ہم میکڈونلڈ جارہے ہیں۔ ردا نے قرات میں فرسٹ پرائز حاصل کیا ہے ۔ ردا ہمیں ٹریٹ دے رہی ہے۔‘‘

میں نے گیٹ پورا ابھی نہیں کھولا تھا کہ علی کی چہکتی ہوئی آواز سنائی دی۔

میرا دل بوجھل سا ہورہا تھا مگر پھر بھی بچوں کو دیکھ کر میرے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ میں گیٹ سے نکل کر گاڑی کے قریب آگئی۔

’’چاچی۔۔۔ جلدی آئیں نا۔‘‘ ردا بھی بولی۔ ڈرائیونگ سیٹ پر ارم بھابھی بھی براجمان تھیں۔

’’یشفیٰ! ہم تمہیں لینے آئے ہیں۔ جلدی آئو بھئی۔‘‘ انہوں نے بھی دعوت دی تھی۔

’’اتنی جلدی کس بات کی ہے۔ آپ اندر تو آئیں۔‘‘

ایک دم سے انکار کرنے کی ہمت مجھ میں نہیں تھی، سو میں بھی محبت بھرے لہجے میں بولی۔ ارم بھابھی فطرتاً بہت اچھی تھیں۔ اپنے بچوں کی چھوٹی سے چھوٹی خوشی میں بھی مجھے شریک ضرور کرتی تھیں، اس لےے مجھے انہیں واضح انکار کرنا کبھی اچھا نہیں لگا تھا۔

’’نئیں نا چاچی! آپ آجائیں نا۔‘‘ ولی منہ بسور کر بولا۔

’’بیٹا! چاچی نے چینج کرنا ہوگا۔۔۔ پانچ منٹ تو لگیں گے نا۔‘‘ ارم بھابھی نے پہلے اسے سمجھایا پھر کھڑکی سے منہ نکال کر مجھے دیکھتے ہوئے بولیں۔

’’یشفیٰ! کپڑے تو تمہارے ٹھیک لگ رہے ہیں یار! کیا بات ہے، موڈ نہیں ہے کیا۔۔۔ سوری یار! ہمیں فون کر کے آنا چاہےے تھا۔ دراصل ہماری لینڈ لائن تو ڈیڈ ہے۔۔۔ موبائل سے مل ہی نہیں رہا تھا۔‘‘

’’ارے نہیں بھابھی۔۔۔ میں بس تھکی ہوئی تھی کچھ۔۔۔ آپ دو منٹ انتظار کریں، میں ابھی آتی ہوں۔‘‘

اس کے محبت بھرے انداز پر میں شرمندہ ہوتے ہوئے اندر کی طرف بھاگی تھی۔ حلیہ تو میرا واقعہ ٹھیک تھا۔ میں نے شال اٹھائی، پرس کندھے پر ڈالا پھر بال برش کےے اور لپ اسٹک لگا کر فوراً باہر نکل آئی۔

’’پاپا بہت تھکے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا مجھے نہیں جانا، میرا دل نہیں کر رہا۔‘‘ میرے بیٹھتے ہی ولی نے میری گود میں بیٹھ کر فوراً اپنے پاپاکی غیر موجودگی کی وجہ بتائی۔ ردا اور علی پیچھے بیٹھے اپنی باتوں میں مگن تھے۔

’’ایک تو میرے بچے کسی راز کو راز نہیں رہنے دیتے۔‘‘ بھابھی گاڑی ریورس کرتے ہوئے مسکرا کر بولیں پھر ولی کو منہ پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔

’’اسد کے آفس میں آج کل کچھ پرابلمز چل رہے ہیں۔ آفس کا غصہ بے وجہ ہم پر نکالتے رہتے ہیں۔ابھی بھی بلا وجہ موڈ آف کر کے بیٹھ گئے۔ میں نے بھی پروا نہیں کی اور بچوں کو لے کر نکل آئی۔ یہی تو بچوں کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہوتی ہیں۔ انہیں سیلیبریٹ نہیں کریں گے تو پھر کس چیز کی سیلیبریشن کریں گے۔‘‘

وہ اکثر اوقات اپنے گھریلو مسائل مجھ سے ڈسکس کرلیا کرتی تھیں۔ اسد بھائی غصے کے تیز تھے اور غصے کے وقت وہ کافی بد لحاظ ہوجاتے تھے۔

’’آپ پھر جھگڑا کر آئی ہیں اسد بھائی سے؟‘‘

میں نے مذاقاً کہا تھا۔ ارم بھابھی بھی کھل کر ہنسی تھیں۔

’’اب جھگڑے نہیں ہوتے۔ پہلے اگر اسد غصے میں چلایا کرتے تھے تو میں بھی دو بدو مقابلہ کیا کرتی تھی مگر اب بچوں کی وجہ سے ہم دونوں ہی محتاط ہوگئے ہیں۔ بچے ایسی چیزوں کو بہت محسوس کرتے ہیں۔ بچوں کی وجہ سے اسد کا مزاج بہت معتدل ہوگیا ہے۔ اب تو غصہ کرنا بہت کم کر دیا ہے۔‘‘

وہ مزے سے بتا رہی تھیں۔ ولی میرے ہاتھوں میں موجود چوڑیوں سے کھیلنے لگا تھا۔ دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی ابھی بھی اس نے ہونٹوں پر جما رکھی تھی۔

’’بھابھی! آپ کو اسد بھائی کے غصے سے ڈر نہیں لگتا۔‘‘ میں نے پوچھا۔ اسفند کا مزاج بھی اسد بھائی کے جیسا ہی تھا فرق صرف یہ تھا کہ اسفند اپنے بھائی کے برعکس غصہ کا اظہار خاموش رہ کر کرتے تھے۔

’’پہلے لگا کرتا تھا ڈر۔۔۔ اب نہیں لگتا۔‘‘ انہوں نے اتنا کہہ کر پھر گہری سانس بھر کر بولیں۔

’’بچے عورت کی سب سے بڑی طاقت ہوتے ہیں۔۔۔ یوں سمجھو ایک عورت کی سب سے بڑی ڈھال اس کے بچے ہی ہوتے ہیں۔‘‘

’’میں بھی آپ کا بچہ ہوں نا اور یشفیٰ چاچی کا بھی ہے نا چاچی؟‘‘

ارم بھابھی نے گھور کر اسے دیکھا پھر میری طرف دیکھ کر بولیں۔

’’پہلے تم اس سے باتیں کرلو، ہماری باتیں تو ہوتی رہیں گی۔‘‘ ارم بھابھی نے اپنا دھیان ڈرائیونگ کی طرف مرکوز کر دیا جبکہ میں بظاہر اس سے باتیں کر رہی تھی مگر میرا ذہن و دل جیسے ارم بھابھی کے ایک جملے میں اٹک کر رہ گیا تھا۔

’’بچے عورت کی سب سے بڑی طاقت ہوتے ہیں۔‘‘

میکڈونلڈ پہنچ کر بچے اپنی ایکٹیویٹیز میں لگ گئے جبکہ میں اور ارم بھابھی کارنر والی ٹیبل پر آگئے۔

’’مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے۔‘‘ باتیں کرتے کرتے اچانک بھابھی ٹیبل پر جھک کر میرے قریب ہوتے ہوئے بولی تھیں۔ مجھے حیرانی ہوئی کہ اچانک انہیں کون سا موضوع مل گیا جس پر وہ مجھ سے اتنی رازداری سے بات کرنا چاہ رہی تھیں۔ میں نے استفہامیہ نگاہوں سے ان کی جانب دیکھا۔

’’دیکھو۔۔۔ برا مت ماننا۔ میں جٹھانی کی حیثیت سے نہیں بلکہ تمہاری بڑی بہن بن کر تم سے بات کر رہی ہوں۔ تم مجھ سے چھوٹی ہو، بہت سی باتیں ایسی ہیں جو تم ابھی نہیں سمجھ سکتیں۔ ہو سکتا ہے تمہارے ذہن میں ایسی باتیں آتی ہوں اور تم انہیں معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہو۔‘‘

وہ بات تو دوستانہ انداز میں کر رہی تھیں مگر کوشش کے باوجود میں ان کی تمہید سے اصل موضوع تک رسائی حاصل نہیں کرپائی تھی۔

’’میں نے آج سے پہلے کبھی اس موضوع پر بات نہیں کی لیکن مجھے لگتا ہے بلکہ مجھے یقین ہے کہ تمہاری امی نے، صبا نے اور بھابھیوں نے کبھی نہ کبھی تم سے اس کے متعلق بات ضرور کی ہوگی۔‘‘

وہ ایک بار پھر لمحہ بھر کورکی تھیں اور میں جان چکی تھی کہ وہ کس موضوع پر لب کشائی کرنے والی ہیں مگر میں غلط سمجھی تھی۔

’’میری ایک کولیگ ہے، اس کا شوہر رافع انٹر پرائزز میں کام کرتا ہے۔ وہاں اسفند کے بزنس پارٹنر کا بھی آنا جانا ہے۔ انہوں نے میری کولیگ کے شوہر کو بتایا تھا کہ۔۔۔‘‘ وہ لمحہ بھر کا توقف کرتے ہوئے پھر بولیں۔

’’میں تمہاری خیر خواہ ہوں یشفیٰ! میری بات کا غلط مطلب مت لینا۔۔۔ دراصل مجھے پتا چلا ہے کہ اسفند کا اپنی پرسنل سیکریٹری کے ساتھ بڑا زوردار افیئر چل رہا ہے۔ مجھے یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ اسفند جاپان والے ٹور میں بھی اپنی سیکریٹری کو ساتھ لے کر گیا تھا۔ طارق روڈ پر کوئی فلیٹ بھی لے کر دے رکھا ہے اسے۔ میں جانتی ہوں یشفیٰ کہ اسفند برا آدمی نہیں ہے، وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے، وہ تمہاری بہت قدر کرتا ہے۔‘‘

وہ اپنی دھن میں اسفند کی تعریف میں قلابے ملا رہی تھیں مگر مجھے لگا تھا، میں تو مر چکی ہوں۔ میں اسفند سے ہر چیز کی توقع کر سکتی تھی مگر اتنی بڑی بے ایمانی کی توقع میں نے کبھی نہیں کی تھی۔ گزشتہ کچھ عرصے سے اسفند کی سوچ کافی مغربی ہوچکی تھی۔ وہ اکثر کہتے تھے۔

’’بھول جائو یشفیٰ! کہ تم کبھی کسی مڈل کلاس کا حصہ تھیں۔ ’’اس‘‘ کلاس کی جو ویلیوز تھیں ’’اس‘‘ کلاس میں انہیں اپنائے رکھنا بہت اووڈ لگتا ہے۔‘‘

میں نہیں جانتی تھی کہ اسفند کو ’’ویلیوز‘‘ کا مطلب بھی پتا ہے یا نہیں۔

’’کیا آپ اتنا بھی گر سکتے ہیں اسفند!‘‘ میں نے تابوت میں لگی اس آخری کیل کی چبھن کو بہت شدت سے محسوس کیا تھا۔

’’آدمی کو محبت سے نہیں باندھا جاسکتا یشفیٰ! کچھ اور چیزیں ہوتی ہیں جو آدمی کو قید کرنے کے لےے ضروری ہوتی ہیں۔ بچوں کے متعلق سوچو یشفیٰ! اب تمہیں اس بارے میں سیرسلی سوچنا چاہےے۔ بچے ہوجائیں تو آدمی بہت ذمہ دار ہوجاتا ہے پھر اسے اِدھر اَدھر دیکھنے کی فرصت ہی نہیں ملتی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اسے ایسے کاموں کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ تم کہتی ہو تمہیں بچوں کا شوق نہیں ہے، تم ابھی لائف انجوائے کرنا چاہتی ہو۔ میںکہتی ہوں اسفند کے بغیر تمہاری کوئی لائف نہیں ہے اور جب لائف ہی نہیں رہے گی تو تم انجوائے کیا کرو گی۔ تم خود اپنے شوہر کو بھٹکنے کا موقع دیتی ہو یشفیٰ! تم کیوں اس کی خواہشات کو نہیں سمجھتیں۔ تم نے دیکھا نہیں وہ علی سے، ولی سے کتنا والہانہ پیار کرتا ہے۔ اسے بچے اچھے لگتے ہیں مگر تمہاری محبت میں وہ خاموش رہتا ہے، اصرار نہیں کرتا۔ ایک بات یاد رکھنا یشفیٰ! گھر میں سناٹے ہوں تو مرد آوازوں کی تلاش میں کسی اور گھر پہ دستک دے ہی دیتا ہے۔ اپنی غلطی پہچانو یشفیٰ! ابھی تو موقع ہے۔ غلطی کا کفارہ ادا کرنے سے غلطی کا ازالہ کرلینا زیادہ بہتر ہوتا ہے میری بہن۔‘‘

وہ میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولیں۔ ان کی باتوں نے مجھے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اسفند ہر مورل ویلیو کو بھلا کر گناہ کر رہے تھے تو زمانہ اس میں بھی میری غلطی تلاش کر رہا تھا۔ ہر چیز کے لےے میں ہی قصور وار ٹھہرائی جارہی تھی۔

’’یشفیٰ! میری بات پر غور کرنا۔‘‘ مجھے گھر ڈراپ کرتے ہوئے ارم بھابھی نے پھر تاکید کی تھی۔

اسفند کے آتے ہی میں نے ان سے دو ٹوک لہجے میں کہہ دیا۔

’’تمہارا دماغ خراب ہے یشفیٰ۔۔۔ تمہیں یہ الٹی سیدھی پٹیاں کون پڑھاتا ہے۔۔ کون بھرتا ہے یہ خناس تمہارے دماغ میں۔۔۔ میں نے تم سے پہلے بھی کہاتھا اب بھی کہہ رہا ہوں کہ ابھی نہیں۔۔۔ ابھی نہیں کا مطلب ابھی نہیں۔۔۔ تمہیں کیا خطرہ ہے یار۔۔۔ میں مر تو نہیں رہا، ابھی زندہ ہوں۔۔۔ ہوجائیں گے بچے بھی۔۔۔ بہت زندگی پڑی ہے ابھی۔‘‘

وہ اپنے مخصوص ہٹ دھرم لہجے میں کہہ کر کروٹ بدل چکے تھے۔ وہ رات میں نے جاگ کر گزاری۔ فیصلہ ہوچکا تھا۔ اور کچھ فیصلے، فاصلے پیدا کرنے کے لےے کےے جاتے ہیں۔

٭٭٭

’’یشفیٰ! تمہارا اور اسفند کا جھگڑا ہوگیا ہے کیا؟‘‘ امی کی طرف آئے مجھے ابھی بمشکل چاردن گزرے تھے کہ صبا آپی نے میرے قریب بیٹھ کر رازداری سے پوچھا۔ ان کا سوا مہینہ ابھی پورا نہیں ہوا تھا۔ اس لےے وہ ابھی امی کے یہاں ہی ٹھہری ہوئی تھیں۔ صبا آپی اپنے آپ میں مگن رہنے والی خاتون تھیں۔ مجھے امید نہیں تھی کہ وہ مجھ سے یہ سوال کرےں گی۔ میرا خیال تھا سب سے پہلے یمنیٰ یہ سوال کرے گی مگر وہ شاید آج کل اپنے متوقع سسرالیوں کی خاطر داریوں میں مگن تھی، اس لےے اس نے ابھی تک مجھ سے کچھ نہیں پوچھا تھا۔ گزشتہ چار دن سے میں امی کی طرف تھی اور اس دوران اسفند نے ایک بار بھی مجھے فون نہیں کیا تھا۔ فون وہ پہلے بھی نہیں کرتے تھے مگر اپنا بھرم قائم رکھنے کی خاطر میں خود ہی جھوٹ بولتی رہتی تھی کہ اسفند فون کرتے رہتے ہیں۔

’’جھگڑا۔۔۔؟ جھگڑا کیا ہونا ہے آپی؟ میرے اور اسفند کے درمیان اب ایسا کچھ باقی نہیں رہا کہ ہم جھگڑا کریں۔‘‘

میں نے عام سے لہجے میںکہا۔ میں جانتی تھی، امی ابو سمیت سب گھر والے یکے بعد دیگرے مجھ سے اس کے متعلق استفسار کریں گے، کیونکہ اسفند کی پاکستان میں موجودگی کی صورت میں تو میں کبھی پورے چوبیس گھنٹے بھی امی کے یہاں نہیں ٹھہری تھی۔ میں نے سوچا تھا۔ بہتر ہے صبا آپی کو ہی اپنے فیصلے سے سب سے پہلے آگاہ کر دوں۔ کم از کم وہ میری بات آگے تک پہنچا سکتی تھیں مگر یہ میری خام خیالی تھی۔

’’میرا اور قیوم کا جب بھی جھگڑا ہوتا ہے، میں بھی ایسے ہی ری ایکٹ کرتی ہوں۔ دل چاہتا ہے ان کی شکل بھی نہ دیکھوں مگر جب وہ محبت سے مناتے ہیں تو میرا سارا غصہ دور ہوجاتا ہے۔‘‘

انہوں نے اپنے تجربے کی روشنی میں مجھے نصیحت کرتے ہوئے بات ختم کر دی تھی۔ اس حوالے سے دوسری بات بڑی بھابھی نے کی۔

’’مجھے تو بہت خوشی ہے کہ تم اتنے دن یہاں ٹھہری ہو۔ صبا آتی جاتی رہتی ہے، یمنیٰ کی اپنی ایک الگ رونق ہے مگر تمہاری بات ہی الگ ہے۔ تمہارے بھائی پوچھ رہے تھے کہ یشفیٰ کی واپسی کب ہے۔ دراصل وہ چاہ رہے تھے کہ تمہاری واپسی سے پہلے تمہیں ’’ولیج‘‘ میں زبردست سا ڈنر کروائیں گے۔ میں نے کہا کہ یشفیٰ سے پوچھ کر پلان بنائیں گے۔‘‘

ان کی بات کا اپنا ہی ایک انداز تھا۔ میں نے بہت مشکل سے خود پر قابو پا کر ان کی جانب دیکھا۔ میں دنیا کے دستور سے واقف تھی۔ میں جانتی تھی کہ بیاہی بیٹی زیادہ دن تک ماں باپ کے گھر نہیں رہ سکتی۔ میں جانتی تھی کہ بھابھیاں میرے وجود سے خائف ہوجائیں گی مگر یہ سب اتنی جلدی ہوگا، اس کی مجھے توقع نہیں تھی۔

’’میں واپس جانے کے ارادے سے نہیں آئی بھابھی!‘‘ میں نے سر جھکا کر کہہ ہی ڈالا۔ ایک نہ ایک دن تو یہ سب کو پتا چلنا ہی تھا۔

’’’ہیں۔۔۔ ہیں۔۔۔ ہیں۔۔۔ پاگل ہوگئی ہو؟‘‘ انہوں نے بڑا سا منہ کھول کر اپنی حیرانی کا اظہار کیا۔ اس کے بعد وہ اٹھ کر چلی گئی تھیں۔

مجھے امید تھی کہ شام کو جب سب امی ابو کے کمرے میں جمع ہوں گے تو بھابھی ’’بریکنگ نیوز‘‘ کی طرح اس خبر کو ضرور نشر کریں گی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ وہ شام خیریت سے گزر گئی۔ مجھ سے کسی نے کوئی سوال نہیں کیا۔ دراصل یمنیٰ کے رشتے کی بات بھی چل رہی تھی۔ رابعہ بھابھی کا بھائی فرحان سب کو ہی پسند آیا تھا۔ فیملی بھی اچھی تھی، سورشتہ تقریباً طے ہوچکا تھا۔ اگلی ملاقاتوں میں منگنی کی تاریخ طے ہونا متوقع تھی، اسی لےے بھی میں نے خود سے کوئی موضوع چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا۔ میں نے فیصلہ کیا تھا کہ یمنیٰ کی منگنی ہوجانے کے بعد اس بارے میں کھل کر بات کروں گی۔

’’یشفیٰ! نمرہ کو سنبھالو ذرا۔۔۔ میں چائے بنا کر لاتی ہوں۔ مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔‘‘

کچھ روز بعد چھوٹی بھابھی نے بھی بڑی بھابھی کا سا انداز اپنا کر بات شروع کی۔ ان کا انداز مجھے سب کچھ سمجھا گیا تھا۔

’’تمہارا کپل ایک پرفیکٹ کپل ہے۔ اسفند ایک آئیڈیل مرد ہے۔ آج سے پہلے اس نے کبھی تمہیں اس طرح کی کسی شکایت کا موقع نہیں دیا۔ کاشف کو اپنے دونوں بہنوئیوں میں اسفند ہی زیادہ پسند ہے۔ تم بھی ہمیشہ ان کی تعریف کرتی ہو۔ میں نے تمہارے منہ سے کبھی اسفند کی برائی نہیں سنی۔۔۔ پھر۔۔۔ اب۔۔۔‘‘

وہ لمحہ بھر کو رکیں۔

’’پھر اب ایسا کیا ہوگیا ہے یشفیٰ! مجھے اس بات پر اعتراض نہیں کہ تم ہمارے ساتھ رہو۔۔۔ بخدا مجھے خوشی ہوئی ہے کہ تم شادی کے بعد پہلی مرتبہ ہمارے ساتھ رہنے آئی ہو مگر چندا! دھیان رکھنا۔۔۔ اس خوشی کی قیمت ہماری بساط سے زیادہ نہ ہوجائے۔‘‘

وہ چائے کے خالی مگ اٹھا کر کچن کی سمت جاتے ہوئے بولی تھیں۔ میں کچھ کہے بغیر نمرہ کے بالوں میں انگلیاں چلاتی رہی۔ میں جانتی تھی، مجھ سے یہی سب سوالات کےے جائیں گے، اس لےے مجھے بھابھیوں کے روےُے پر حیرت نہیں ہوئی تھی۔ میں طے کر چکی تھی کہ مجھے اسفند کے ساتھ نہیں رہنا۔ دو دن گزرے تو ارم بھابھی ولی کو لےے چلی آئیں۔

’’میں تمہیں اس قدر بے وقوف نہیں سمجھتی تھی یشفیٰ!‘‘ میری توقع کے برخلاف انہوں نے گفتگو کا آغاز ہی تند لہجے میں کیا تھا۔ بھابھیوں نے ہمیں تخلیہ فراہم کر دیا تھا۔

’’تم اپنی غلطی پہچاننے کے بجائے اس سے لڑ کر آگئی ہو۔ ارے بے وقوف اپنا گھر مضبوط کرنا ہو تو بنیاد کی طرف دھیان دینا پڑتا ہے۔ تمہاری بنیاد کمزور ہے اور تم اسے مضبوط کرنے کے بجائے گھر کو آگ لگا کر آگئی ہو۔ مرد تو ایسے ہی ہوتے ہیں۔ تم موقع دو گی تو وہ اِدھر اَدھر ضرور منہ مارے گا۔ مجھے ’’تم‘‘ سے یہ امید نہیں تھی یشفیٰ!‘‘

وہ بہت محبت بھرے لہجے میں بے حد تلخ باتیں کر رہی تھیں۔ مجھے کسی کی بات سن کر اتنا دکھ نہیں ہوا تھا جتنا ارم بھابھی کی باتوں نے دکھ دیا۔

’’آپ کچھ نہیں جانتیں بھابھی۔۔۔ آپ کو کچھ نہیں پتا۔۔۔‘‘ میں نے ابھی اتنا کہا تھا کہ ارم بھابھی نے بات کاٹ دی۔

’’یہ تمہاری غلط فہمی ہے یشفیٰ! کہ کوئی کچھ نہیں جانتا۔ آنکھیں اور کان کھول کر جینا شروع کرو، بہت سے لوگ بہت کچھ جانتے ہیں۔‘‘

ان کی مبہم سی بات مرے پلے نہیں پڑی۔ میں نے استفہامیہ انداز میںان کی جانب دیکھا۔

’’حیدر کون ہے؟‘‘ انہوں نے کھوجتی ہوئی نگاہ مجھ پر ڈال کر چبھتے ہوئے انداز میں پوچھا تھا۔

٭٭٭

’’مجھے خلع چاہےے۔‘‘ میں نے جھکے ہوئے سر کے ساتھ امی کے سامنے اپنا مدعا بیان کر دیا تھا۔ کمرے کا دروازہ بند تھا اور امی میرے سامنے بیٹھی تھیں۔ میں نے اپنی خواہش کا اظہار کر کے کوئی جرم نہیں کیا تھا مگر میں مجرموں کی طرح ہی بیٹھی تھی۔

’’میں اس فیصلے کی وجہ پوچھ سکتی ہوں؟‘‘ امی کی گونج دار آواز میری سماعتوں سے ٹکرائی۔ میں نے یکدم سر اٹھا کر ان کی جانب دیکھا۔ ان کی آواز بے حد سخت تھی اور ان کے چہرے کے تاثرات بھی حوصلہ پست کر دینے والے تھے۔

’’میں اور اسفند مزید ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔‘‘ امی کے حوصلہ شکن انداز نے میری آواز کو کمزور کر دیا تھا۔

’’کیوں؟‘‘ امی نے ایک اور سوال پوچھا۔ ان کا انداز کسی ماہر وکیل کا سا تھا جو اپنے موکل کو بچانے کے لےے کسی بھی گواہ کو لمحہ بھر میں زیر کر سکتا ہے۔ دونوں بھابھیاں اور یمنیٰ جیولر کے پاس گئی ہوئی تھیں۔ گھر میں میرے اور امی کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔

امی کے اس استفسار پر ہی فوری طور پر کچھ کہہ نہ پائی۔ حقیقت یہ ہے کہ میں خود نہیں جانتی تھی مجھے کیا کہنا ہے۔

’’میں نے کچھ پوچھا ہے یشفیٰ!‘‘ امی نے سابقہ لہجے میں پھر سوال کیا۔

’’امی! میں اسفند کے ساتھ نہیں رہ سکتی، مجھے ان کے ساتھ نہیں رہنا۔ میں۔۔۔ مجھے خلع چاہےے۔‘‘ اپنی جگہ سے اٹھ کر میں امی کے پاس بیٹھتے ہوئے بولی۔

’’یہی تو میں پوچھ رہی ہوں کہ کیوں؟ کیوں نہیں رہ سکتیں تم اسفند کے ساتھ؟ خلع کوئی دہی بھلے کی پلیٹ نہیں ہے جو تمہیں چاہےے۔ تمہارا کیا خیال ہے، یہ سب اتنا آسان ہے۔ تمہیں خدا نے چار پیسے کیا دے دےے، تمہارا دماغ ہوائوں میں اڑنے لگا۔ اتنی بڑی بات منہ سے نکالتے ہوئے تمہیں کسی کا خیال نہیں آیا؟‘‘

مجھے توقع تھی کہ میرے اپنے میری بات سن کر ہمدردی کا مظاہرہ کریں گے۔

’’اسفند اتنا اچھا انسان ہے۔ اتنا چاہتا ہے تمہیں۔ ساس سسر کا جھنجھٹ نہیں ہے۔ اپنا گھر ہے۔ اپنی مرضی سے سوتی ہو، اپنی مرضی سے جاگتی ہو۔ من چاہی زندگی گزار رہی ہو۔ ایسی زندگی کی تمنا کرتی ہیں لڑکیاں اور تم۔۔۔ تم کہہ رہی ہو تمہیں خلع چاہےے۔‘‘ امی نہایت سفاک لہجے میں کہہ رہی تھیں۔

’’اپنی بہن کی طرف ہی دیکھ لو۔ ساس سسر نے جینا دو بھر کر رکھا ہے اس کا اور بچوں کے ساتھ ساتھ نندوں اور دیوروں کا بکھیڑا بھی ہے مگر آفرین ہے میری اس بچی پر کہ کبھی ’’اف‘‘ بھی کی ہو۔ اسی کا حوصلہ ہے جو اس دڑبہ نما مکان میں گزارا کر رہی ہے۔ اس نے تو کبھی اتنی بڑی بات منہ سے نہیں نکالی اور تم۔۔۔ یشفیٰ! تم نے اتنی بڑی بات کہہ کیسے دی۔‘‘

مجھے محسوس ہوا جیسے امی کی آواز بھرا رہی ہے۔ امی کے لب و لہجے نے تو مجھے حیران ہی نہیں پریشان بھی کر دیا تھا۔

’’آپ میری زندگی کو صبا آپی کی زندگی سے کیوں ملا رہی ہیں۔ وہ صبا آپی ہیں، میں یشفیٰ ہوں۔ ہم دونوں بہت مختلف ہیں۔ ہماری زندگیاں بہت مختلف ہیں۔‘‘ میں بمشکل خود کو رونے سے باز رکھ پائی تھی۔

’’آپ کچھ نہیں جانتیں امی! جو زندگی میں جی رہی ہوں، وہ زندگی بہت تکلیف دہ ہے۔ آپ صبا آپی کی بات مت کریں۔ جن چیزوں کو آپ بکھیڑے کہہ رہی ہیں، یہ سب تو زندگی کے لوازمات ہیں۔ آپ مجھے صبا آپی سے مت ملائیں۔‘‘ امی بھڑک اٹھیں۔

’’میں تمہیں صبا سے ملا بھی کیسے سکتی ہوں۔ تمہار ااور اس کا کوئی مقابلہ نہیں۔ جتنا حوصلہ اس بچی کا ہے نا اس کا نقطہ بھی نہیں ہے تم میں۔ تم نے مجھے بہت مایوس کیا ہے یشفیٰ! تم ایسی تو نہیں تھیں۔ کیا نہیں ہے تمہارے پاس۔۔۔ روپے، پیسے، آسائش۔۔۔ سب دیا ہے تمہیں اس شخص نے۔ اپنا گھر ہے ، ہر وقت ایک گاڑی گیٹ پر کھڑی ہوتی ہے تمہارے لےے کہ تمہیں کہیں جانا ہو تو مشکل نہ ہو۔ کوئی روک ٹوک نہیں۔ جہاں جی چاہتا ہے جاتی ہو جس سے جی چاہتا ہے ملتی ہو۔ اپنے ارد گرد دیکھو۔۔۔ ہے کسی کا ایسا شوہر جیسا تمہیں اللہ نے دے رکھاہے۔۔۔ تم نا شکری ہو یشفیٰ!‘‘ امی آنسو پونچھتے ہوئے بولیں۔

’’کیا لڑکی کی شادی صرف اس لےے کی جاتی ہے کہ مرد اسے روپیہ پیسہ اور آسائش دے سکے۔ وہ لڑکیاں جن کے ماں باپ انہیں روپیہ، پیسہ اور آسائشات فراہم کر رہے ہوتے ہیں، ان کی شادیاں کرنا تو مناسب ہی نہیں ہے پھر۔۔۔ کیا آپ نے میری شادی صرف اس لےے کی تھی کہ آپ کو اسفند کا روپیہ پیسہ نظر آیا تھا۔۔۔ یہ سب تو مجھے آپ لوگ بھی دے رہے تھے۔‘‘

میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ امی نے میری بات کاٹ دی۔

’’تم یہ فلموں اور ڈراموں میں دکھائی جانے والی باتیں مجھ سے نہ کرو یشفیٰ! ہم عام لوگ ہیں، ہم عام زندگیاں گزارتے ہیں۔ ہماری زندگیوں میں ایسی باتوں کی گنجائش نہیں نکلتی۔ تم مجھے وہ وجہ بتائو جس کی بنا پر تم نے اتنا بڑا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ ان کا لہجہ دو ٹوک تھا۔

’’اسفند کو میری ضرورت نہیں ہے امی!ان کی زندگی میں میری گنجائش نہیں نکلتی۔ ان کے پاس میرے لےے وقت نہیں ہے۔ انہیں اتنی فرصت نہیں ہے کہ میری جانب دیکھیں، میں ان کا انتظار کرتی رہتی ہوں اور ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ مجھ سے دو گھڑی بیٹھ کر بات کر سکیں۔‘‘

میں ایک بار پھر سر جھکا کر بولی۔ امی کے سامنے میں نے ہمیشہ اسفند کے گن گائے تھے۔ ان کے سامنے ایسی باتیں کرتے ہوئے مجھے جھجک بھی ہورہی تھی اور دکھ بھی محسوس ہورہا تھا۔ امی کچھ لمحے میری طرف دیکھتی رہیں۔ مجھے امید تھی وہ میری بات سمجھ گئی ہوں گی مگر ایسا نہیں تھا۔

’’یشفیٰ!۔۔۔ بچی۔۔۔ مجھے مزید غصہ مت دلائو۔۔۔ تم کس قدر بے صبری ہو۔۔۔ سچ کہا ہے کسی نے۔۔۔ آج کل کی لڑکیوں میں صبر ہی نہیں ہے۔ تمہیں اپنی ماں سے ایسی باتیں کرتے ہوئے لحاظ نہیں آیا۔ بھلا بتائو، وہ تمہارے گھٹنے سے لگ کر بیٹھا رہے۔۔۔ اسے کام دھندا نہیں سنبھالنا کیا اور تم کہتی ہو اسے فرصت نہیں کہ وہ تمہاری جانب دیکھے۔ کیا اسی ایک وجہ سے تم اس سے طلاق لے لو گی۔ تمہیں شرم نہیں آتی ایسی بات کرتے ہوئے۔ تم مجھے دیکھو۔۔۔ تمہارے ابو ہری پور میں جاب کرتے تھے اور میں یہاں لاہور میں اپنے سسرال والوں کے ساتھ رہتی تھی۔ تین تین مہینے یہ گھر واپس نہیں آتے تھے اور جب کبھی وہ ایک چھٹی لے کر گھر آجاتے تھے تو اپنے والدین کے پاس بیٹھ کر دکھ سکھ کرنے میں وقت گزار دیا کرتے تھے۔ چھٹیاں دو ہوتی تھیں اور کام ہزار۔۔۔ مجھ سے تو ٹھیک سے خیریت بھی نہیں پوچھتے تھے تمہارے ابو۔۔۔ ہم نے بھی تو وقت گزارے ہیں۔۔۔ کیا تمہاری زندگی ہماری زندگی سے زیادہ مشکل ہے جو تم نے اتنی بڑی بات کہہ دی۔۔ اور پھر سچی بات یہ ہے کہ سب تمہارا ہی قصور ہے۔۔۔ میں کتنا سمجھاتی تھی تمہیں کہ یشفیٰ! کچھ عقل سے کام لو اور ’’بچوں‘‘ کے متعلق سوچو۔۔۔ وہ بھلا مانس تمہارے پاس بیٹھ کر کرے بھی تو کیا کرے۔۔۔ جب شادی کو اتنا عرصہ گزر جاتا ہے تو مرد سے عورت کے حسن کے قصیدے نہیں پڑھے جاتے۔ وہ بچوں کا سکون چاہنے لگتا ہے جبکہ تم۔۔۔ تم تو بے پتوں کی مولی بن کر زندگی گزارنا چاہتی ہو۔ تم چاہتی ہو وہ فقط تمہاری صورت دیکھ کر جیتا رہے۔‘‘

امی کے آگ اگلتے لہجے نے مجھے بھی غصہ دلادیا۔

’’بچے پیدا نہ کرنے کی خواہش بھی ان ہی کی ہے۔۔۔ وہ ہی نہیں چاہتے کہ ابھی ہم بچے پیدا کریں۔ جب وہ ہی نہیں چاہتے تو میں کیا کر سکتی ہوں۔‘‘

میں جیسے پھٹ پڑی تھی۔ میں اس ’’راز‘‘ کو کب تک راز سکتی تھی۔

’’بس۔۔۔ اب ایک لفظ مت کہنا۔۔۔ مجھے تم سے اس بے شرمی کی توقع نہیں تھی۔ تم اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لےے اتنا بڑا جھوٹ بھی بول سکتی ہو یشفیٰ۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ تم اسفند کے ساتھ رہنا نہیں چاہتیں کیونکہ۔۔۔ میں چاہتی تھی تم سے یہ بات نہ کروں مگر تم نے مجھے مجبور کر دیا ہے۔ تم۔۔۔ تم اتنی بری کیسے ہوگئیں یشفیٰ! مجھے تمہاری جیٹھانی نے سب بتادیا ہے۔ تمہارا اور حیدر کا جو سلسلہ چل رہا ہے میں اس سے بخوبی واقف ہوں۔‘‘

وہ چبا چبا کر بولی تھیں۔ میں ہکا بکا ہو کر ان کی شکل دیکھنے لگی۔

’’امی۔۔۔ یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟‘‘ میں رو دینے کو تھی مگر امی کو ترس نہیں آیا۔

’’خاموش رہو، بند کرو یہ ڈرامے۔ ایسے ظاہر مت کرو جیسے تمہیں کچھ پتا نہیں۔ تمہیں شرم نہیں آئی یشفیٰ! تمہیں کسی کا خیال نہیں آیا۔ اپنے بھائیوں کا، اپنے باپ کا۔۔۔ انہیں جب پتا چلے گا تو ان کے دل پر کیا گزرے گی۔۔۔ تمہیں اس لڑکے ساتھ گلچھرے اڑاتے شرم نہیں آئی۔ تمہارے ڈرائیور نے اپنے منہ سے اسفند اور ارم کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ تم حیدر کے گھر جاتی رہی ہو۔۔۔ وقت بے وقت تم اس سے ملتی رہی ہو۔۔۔ مجھے تم سے بات کرتے ہوئے شرم آرہی ہے یشفیٰ۔۔۔ ایسی تربیت کی تھی میں نے تمہاری۔۔۔ ابھی تو میں نے تمہارے باپ سے یہ بات نہیں کی۔۔ وہ سنیں گے تو ان کے دل پر کیا گزرے گی۔‘‘

بات کرتے کرتے امی رونے لگی تھیں۔ میں نے بھی رونا شروع کر دیا تھا۔ مجھے تو کچھ سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا۔ میری اپنی ماں میری پارسائی کے متعلق مشکوک ہوچکی تھیں۔ میں اپنے والدین کی عزت کی خاطر اپنی ازواجی زندگی کے متعلق انہیں کچھ نہیں بتاتی تھی تاکہ انہیں دکھ نہ ہو۔ میں انہیں دکھ سے بچانے کی خاطر جھوٹ بولتی تھی۔ میں نے جب تک امی سے سب چھپا رکھا تھا تو میں امی کی عزیز بیٹی تھی اور اب جب میں ان سے کوئی بات شیئر کر رہی تھی تو میں یکدم بری ہوگئی تھی۔

’’امی۔۔۔ آپ جو سوچ رہی ہیں۔۔۔ وہ غلط ہے امی۔‘‘ میں نے روتے ہوئے پھر بات شروع کی مگر امی نے ایک بار پھر میری بات کاٹ دی۔

’’میں کچھ نہیں سوچ رہی یشفیٰ۔۔۔ تم میری اولاد ہو۔۔۔ میں تمہیں بددعا بھی نہیں دے سکتی مگر۔۔۔ یہ دیکھو، میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔ ایسے مت کرو۔۔۔ ہماری اس معاشرے میں ایک عزت ہے۔ ہم نے یہ عزت بہت مشکل سے کمائی ہے۔ تمہارے اس ایک غلط قدم سے تمہارے باپ اور بھائیوں کے سر ہمیشہ کے لےے جھک جائیں گے۔۔۔ یمنیٰ کی منگنی ہونے والی ہے۔ میری بچی کا گھر بسنے سے پہلے مت اجاڑو۔۔۔ ہماری عزت کو اپنے قدموں تلے مت روندو یشفیٰ۔۔۔ ایسا مت کرو۔۔۔ یہ دیکھو میں ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔‘‘ امی سچ مچ میرے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی تھیں۔

’’امی۔۔۔ پلیز۔۔۔ امی۔۔ ایسے مت کریں۔‘‘ میں نے ان کے جڑتے ہوئے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لےے۔

’’تو ایسا نہیں کرے گی نا یشفیٰ!۔۔۔ بول۔۔۔ نہیںکرے گی نا؟‘‘ وہ امید بھری نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھیں۔

’’نہیں امی۔۔۔ نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔‘‘ میری ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔

٭٭٭

اس کے بعد کیا ہوا، بتانے کی ضرورت تو نہیں مگر بعض باتیں جب تک جزئیات کے ساتھ نہ بتائی جائیں، وہ سمجھ میں ہی نہیں آتیں۔ میں یہ کہہ رہی تھی کہ ایک عورت کے لےے بعض اوقات اپنی پارسائی کو ثابت کرنے کے لےے بہت بڑی قیمت چکانی پڑتی ہے، میرے ساتھ یہی ہوا تھا۔

میں اسفند کے ساتھ ان کے گھر واپس آگئی تھی۔

’’میری بیٹی بہت عقل مند ہے۔ مجھے تم پر فخر ہے یشفیٰ۔۔۔ تم میری سب سے سمجھ دار بیٹی ہو۔‘‘ جب اسفند مجھے لینے کے لےے آئے تو امی نے میرا ماتھا چوم کر کہا تھا۔ انہیں میری آنکھوں میں چمکتے آنسو اور ان آنسوئوں میں چھپی میری آہیں نظر نہیں آئی تھی۔ نہ جانے بعض اوقات مائیں اتنی سنگدل کیسے ہوجاتی ہیں کہ انہیں اچھی بھلی چیزیں بھی نظر نہیں آتیں۔ نہ جانے کیسے وہ اپنی بیٹیوں کو اپنے ہاتھوں زندہ دفن کر دیتی ہیں۔

’’میں نے کہا تھا نا کہ میں بھی قیوم سے لڑائی پر اسی طرح ری ایکٹ کرتی ہوں۔۔۔ مگر جب وہ مناتے ہیں تو۔۔۔ اب بتائو، دل میں کیا ہورہا ہے۔۔۔ اب تو اسفند پر غصہ نہیں آرہا ہوگا نا؟‘‘

صبا آپی نے بطور خاص فون کر کے مبارک باد دیتے ہوئے کہا تھا۔ نہ جانے کیسے لوگ بعض اوقات ’’حادثات‘‘ کی مبارک باد دینے کی ہمت کر لیتے ہیں۔

’’اب کیسے خاموش ہو کر بیٹھی ہو۔۔۔ اس روز مجھے ڈرا دیا تھا کہ اب اسفند کے گھر نہیں جائوں گی۔‘‘

بڑی بھابھی نے باچھیں پھیلا کر مجھ سے کہا تھا۔ میں نے ان کی بات بھی ہضم کر لی تھی۔ مجھے سب کی باتیں ہضم کرنی تھیں۔ ہماری محرومیاں ہمارے دلوں کو قبرستان بنا دیتی ہیں، جہاں ہر بات دفن ہوجاتی ہے۔ میرا دل ایسا ہی قبرستان بن چکا تھا۔ ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی غلطیوں کو چھپالیتے ہیں اور زمانے کے لےے مشکوک ہوجاتے ہیں۔ میرے اپنے بھی میرے کردار کے بارے میں مشکوک ہوگئے تھے۔ میں نے فقط امی کے سامنے اپنی زندگی کی کچھ محرومیوں سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی تھی مگر امی نے مجھے میری ہی نظروں میں شرمندہ کر دیا تھا۔ جب امی کو میری بات پر یقین نہیں آیا تو مجھے یقین ہوگیا کہ کوئی مجھ پر یقین نہیں کرے گا۔

میں حیدر سے ملتی تھی مگر میرے دل میں کوئی چور نہیں تھا۔ صرف ایک بار حیدر کے اعتراف کے بعد میں نے خدا سے یہ دعا کی تھی کہ مجھے حیدر سے ملو ا دیا ہوتا مگر یہ میرا اور اللہ کا معاملہ تھا۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ انسان کا پردہ صرف اللہ ہی رکھ سکتا ہے اور اللہ نے میرا پردہ رکھا تھا مگر میرے اپنے مجھے یہ حق دینے کو تیار نہیں تھے۔

’’خلع‘‘ کا حق مجھے اللہ نے دیا تھا مگر اس معاشرے میں رہتے ہوئے اس حق کا مطالبہ کرنا کس قدر مشکل کام ہے، یہ بات مجھے امی کے روےے نے سمجھا دی تھی۔ آیت بہت سی چیزوں کو ناپسندیدہ ضرور قرار دیتی ہے مگر ناجائز نہیں جبکہ روایت ان ہی چیزوں کو ’’نا پسندیدہ‘‘ بھی قرار دے دیتی ہے اور ’’ناجائز‘‘ بھی۔ میں روایت کو توڑ کر آیت کو ماننا چاہتی تھی مگر معاشرے کے ڈرنے مجھے یہ کرنے نہیں دیا تھا۔

سب لوگوں کو اس معاشرے میں رہنے کا کچھ نہ کچھ کرایہ ضرور ادا کرنا پڑتا ہے اور کچھ لوگوں کو اس ’’کرائے‘‘ میں پوری زندگی اد اکرنی پڑجاتی ہے۔ میں نے بھی اپنی پوری زندگی معاشرے کا کرایہ سمجھ کر ادا کر دی تھی۔ آپ ذرا غور سے اپنے ارد گرد دیکھےے گا۔ آپ کو اپنے ارد گرد میرے جیسے بہت سے لوگ بالخصوص عورتیں نظر آئیں گی جو اپنی اپنی زندگیاں اسی ’’کرائے‘‘ میں ادا کر رہی ہیں۔

امید تو یہی ہے کہ بات آپ کو سمجھ میں آگئی ہوگی لیکن اگر نہیں بھی آئی تو خیر ہے کہ بہرحال آپ بھی اس معاشرے کا حصہ ہیں۔ باقی واللہ العلم۔

*****

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں