کچھ رنگ نئے ہیں – شازیہ چوہدری

2

’’ایک بھائی کا اپنی بہن کے ساتھ۔۔۔‘‘

اعشاریہ بتیس بور کا سیاہ چمکتا ہوا ریوالور اس کی کنپٹی تک پہنچ چکا تھا۔ اس کا چہرہ جو کبھی چمکتی ہوئی رنگت اور خوب صورت مردانہ دلکشی لےے ہوا ہوتا تھا، اس قدر سفید ہورہا تھا جیسے کسی نے اس کا سارا خون نچوڑ لیا ہو۔

اس کا پورا بدن کانپ رہا تھا۔

مگر مقامِ حیرت تھا کہ اس کا دایاں ہاتھ بالکل پَرسکون اور ساکت تھا اور بڑی دلجمعی کے ساتھ کنپٹی پر ریوالور کی نال رکھ کر مناسب زاویہ تلاش کر رہا تھا پھر وہ نال کو ایک جگہ جما کر مطمئن ہوگیا۔

اس کی انگلی دھیرے دھیرے ٹرائیگر کی طرف بڑھی۔

گہری برائون پینٹ اور کریم کلر کی شرٹ میں ملبوس خدا کی ودیعت کردہ تمام تر ظاہری آرائشوں اور کشش سے بھرپور وہ اونچا پورا کڑیل مرد پتھر کا مجسمہ بن کر آخری بار اپنے گرد و پیش کو دیکھ رہا تھا۔

بابا بہت امیر یا رئیس تو نہیں تھے۔ ایک درمیانے درجے کے سرکاری آفیسر تھے۔ ٹھیک ٹھاک گزارا ہورہا تھا۔ گھر بھی ملا ہوا تھا اور میڈیکل کی سہولیات بھی میسر تھیں۔ انہیں آفس لانے لے جانے کے لےے آفس وین آتی تھی۔ لہٰذا بچوں کو کسی چیز کی تنگی نہیں رہی تھی۔ وہ خوش تھے، مطمئن تھے، ہشاش بشاش تھے۔

اس نے بابا کے سرکاری گھر کی مہربان اور مانوس دیواروں کو آخری بار دیکھا۔ ٹریگرپر رکھی انگلی کا دبائو بڑھتا چلا گیا۔

اسی وقت کسی نے بہت عجلت میں دروازہ کھولا تھا۔

اور پھر ایک زور دار دھماکا ہوا۔

ریوالور چلنے کی آواز نے پورے گھر کے در و دیوار کو ہلا کر رکھ دیا۔

٭٭٭

’’کیا عذاب ہے، یہ کچن کا بیسن آج پھر بند ہوگیا ہے۔ ہر دوسرے ہفتے یہی بیماری پڑی ہوتی ہے اسے۔ اس گھر میں پائپ لائن ڈالنے والا کسی دن میرے ہاتھ آجائے ذرا۔ آدھے آدھے انچ کے پائپ فٹ کر رکھے ہیں۔ چار دن نہیں گزرتے اور گٹر بند ہوجاتا ہے۔ میرا تو خیال ہے ، میں ٹیچری چھوڑ کر پلمبری ہی سیکھ لوں اور اوپر سے یہ مسز احسن۔۔۔ پے انگ گیسٹ کا مطلب یہ تو نہیں ہوتا کہ اسے کمرا دے کر دوبارہ اس کی خبر ہی نہ لو۔ ایک تو محترمہ چھ چھ ماہ تک لندن میں رہتی ہیں وہاں سے واپس آئیں تو کبھی فلا نے فیسٹیول کے لےے فرانس جارہی ہیں اور کبھی ڈھمکانے ایونٹ کے لےے دبئی کے ٹکٹ بک کرا بیٹھی ہیں۔ مزا تو جب آئے کہ ہر ماہ کرایہ لینا بھی بھول جایا کریں مگر کہاں وہ تو پکا یاد رہتا ہے۔ ہر ماہ کی پہلی کو ملازمہ دروازہ بجا رہی ہوتی ہیں۔‘‘

ثنا کا پارہ بری طرح چڑھا ہوا تھا۔ وہ برتن دھو کم رہی تھی، انہیں پٹخ زیادہ رہی تھی۔

’’مس مزنہ! ماہر سائیکالوجسٹ، اسٹوڈنٹس آف ہوسلٹک میڈیسن اسپیشلائز کورس، ہوسلٹک میڈیکل سینٹر کے چیف ضرار حسن کی چہیتی کنسلٹنٹ۔ آپ ذرا اٹھ کر تھوڑی سی زحمت کریں گی، کہیں سے ایک عدد پلمبر بلوالیجےے۔‘‘

اب اس کی مخاطب کیس کی فائل میں سر دےے بیٹھی مزنہ تھی۔

’’اس سلسلے میں میری معلومات نہایت محدود ہیں۔ بہتر ہوگا تم غزل سے بات کرو۔‘‘

’’وہ اس وقت کسی گوشۂ آرام و عیش میں خلوت میں کسی کے ساتھ ’’غزل سرا‘‘ ہوں گی۔ ان کو ڈسٹرب کرنے سے کچھ حاصل نہیں۔‘‘ ثنا کے لہجے میں طنز گھل گیا۔

’’ویسے مزنہ! ایسی لڑکیوں کے بارے میں تمہاری نفسیات اور روحانی طریقہ علاج کیا کہتا ہے جو اپنی روح کو ایسی گندگی میں لتھیڑ لیتی ہیں۔‘‘ وہ اس کے پاس بستر پر آکر بیٹھ گئی۔

’’بہت ساری وجوہات ہوتی ہیں اس کی۔ کہیں تسکین نفس، کہیں پیسے کی کشش، کہیں اپنے سے وابستہ رشتوں کی مجبوریاں اور کہیں مناسب ذریعہ روزگار حاصل ہونے میں ناکامی پر فرسٹریشن میں لڑکیوں کے قدم اس طرف آنکلتے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے ہمارے ہاں اس کی شرح دوسرے ممالک کی نسبت بہت کم ہے۔‘‘

’’کبھی ہوتی ہوگی کم مگر اب تو پیسے اور چمک دمک کے لےے ایک سے بڑھ کر ایک پارسا خوشی خوشی خود کو پیش کر رہی ہیں۔‘‘ ثنا تلخی سے گویا تھی۔

’’جب میں اسٹار بن جائوں گی تو کوئی نہیں پوچھے گا کہ میں نے کیمرہ مین، ڈائریکٹر یا ایکٹر کے ساتھ کتنے رنگین لمحات کیش کرائے ہیں۔‘‘ سرخ کام والی دمکتی ہوئی چولی اور گھاگھرے میں ملبوس اپنے قاتل بدن کے تمام حشر سامان زاوےے نمایاں کرتی غزل ابھی ابھی پچھلے گیٹ سے کسی فوٹوگرافر کی گاڑی سے اتر کر اندر آئی تھی۔

’’توبہ۔۔۔ اس قدر بے ہودہ کپڑے زیب تن کر کے باہر جاتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی۔‘‘ ثنا اسے دیکھ کر آگ بگولہ ہوگئی تھی۔

’’ہمیں اخلاقیات کے سبق نہ پڑھائو۔ ہماری دنیا میں اخلاقیات نہیں ہوتی۔‘‘ غزل تلخی سے مسکراتے ہوئے اپنے بیڈ پر ڈھیر ہوگئی تھی۔

یہ ایک بہت بڑا ہال نما کمرا تھا، جہاں تین بیڈ فاصلے سے سیٹ کےے گئے تھے۔ ہر بیڈ کے دونوں طرف سائیڈ ٹیبل تھے۔ کارپٹ گہرے نیلے رنگ کا تھا۔ ہال کمرے کے دائیں جانب کچن تھا اور بائیں طرف باتھ روم۔

وہ ایف ٹین کی شاندار کوٹھی کے پچھلے جانب بنے اس لگژری گیسٹ روم میں مقیم تھیں۔ ظاہر ہے کچن اور باتھ رونوں ویسٹرن اسٹائل کے اور تمام تر پرتعیش سہولیات سے مزُین تھے۔ گیسٹ روم میں داخلے کا راستہ پچھلے گیٹ سے بنایا گیا تھا تاکہ مالک اور کرایہ دار دونوں کی پرائیویسی برقرار رہے۔

گیسٹ روم کا ماہانہ کرایہ آٹھ ہزار تھا جسے پچھلے ڈیڑھ سال سے تینوں شیئر کررہی تھیں۔’’

’’کیوں کرتی ہو ایسا تم؟‘‘ مزنہ نے افسوس سے اس کی طرف دیکھا۔

’’یہ تو پتا ہے کہ تمہارا بیک گرائونڈ ایسا ویسا نہیں ہے کہ ’’خون کا تقاضا‘‘ سمجھ کر تمہیں تمہارے حال پہ چھوڑ دیا جائے پھر خود کو کیوں گراتی ہو اتنا۔ کیا تم نے اللہ کو جان نہیں دینی؟‘‘

’’کون جانے ہم کہاں سے آگے اور کدھر جا کر پھلیں پھولیں گے۔‘‘ غزل نے اونچا سا قہقہہ لگایا۔ ’’اور رہی بات جان کی تو اللہ کو تو ایک ہی بار دیں گے مگر جب تک زندہ ہیں، اس پر دوسروں کا بھی تو حق بنتا ہے۔‘‘ غزل بڑے سکون سے مسکرائی۔

’’اے نیک بیبیو!‘ وہ فریج کھول کر بوتل نکالنے لگی۔

’’ویسے ایک لحاظ سے تو اچھا ہے نا کہ میرے جیسے مزاج کی لڑکی تم لوگوں کے ساتھ رہتی ہے۔ مجھے دیکھ دیکھ کے او رمیری حرکتوں پر توبہ توبہ کرتے ہوئے میرے مقابلے میں تمہیں اپنا آپ بہت معتبر، نیک اور شریف لگتا ہے۔ ہے نا؟‘‘ وہ پھر اونچے سروں میں ہنسی۔ ’’دیکھ لو، میں نے مفت میں تمہیں اعلا درجے کا ذہنی سکون اور روحانی فخر عطا کر رکھا ہے۔‘‘ وہ کچن سے کانچ کا مخصوص ساخت کا خوب صورت سا گلاس لے کر آئی تھی اور اب اپناپسندیدہ مشروب انڈیل کر برف ملا رہی تھی۔

٭٭٭

’’دیکھےے میڈم! ہم ٹریٹ منٹ کے لےے آئے ہیں، پیسے دےے ہیں، اپنے مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔ ہم آپ سے وعظ سننے نہیں آئے۔‘‘ گرے پینٹ شرٹ اور بلیک ٹائی میں ملبوس مرد نے تیز اور چبھتے ہوئے لہجے میںمزنہ کو مخاطب کیا تھا۔

’’میں بھی مسئلے کا حل ہی بتا رہی ہوں مسٹر سفیان! تقریر کرنے کا شوق تو مجھے بھی کبھی نہیں رہا۔‘‘ وہ نہایت پرسکون آواز میں گویا ہوئی۔

’’اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے پیسے ضائع ہورہے ہیں تو آپ کسی اور سائیکالوجسٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ وہ رہا باہر جانے کا راستہ۔‘‘ مزنہ کا لہجہ بالکل سپاٹ تھا۔ سفیان قدرے کھسیا گیا اور سر کے بالوں میں انگلیاں گھمانے لگا۔

’’بات یہ ہے میڈم! کہ ہمیںیہاں ملک کے ایک بہت معروف سرجن نے آپ کی طرف ریفر کیا ہے اور ہم اسی توقع پہ آپ کے بلانے پر تیسرے سیشن کے لےے بھی آگئے ہیں لیکن۔۔۔‘‘

’’ایک منٹ۔ سائیکالوجیکل ٹریٹ منٹ میں بعض اوقات ایک ایک ماہ تک سیشن کےے جاتے ہیں۔ یہ کوئی جسمانی عارضہ نہیں ہے کہ زخم بھر گیا تو ڈاکٹر صاحب ہاتھ جھاڑ کے فارغ ہوگئے۔ احساسات کو رفو کرنا اتنا آسان اور تیز رفتار نہیں ہوا کرتا۔ اب یہی مثال لے لیجےے سسٹمیٹک ڈی سینس ٹائزیشن کا پروسس بعض اوقات مہینوں لے لیتا ہے کیونکہ ہفتے میں صرف دو یا تین بار آدھے گھنٹے کا سیشن کیا جاتا ہے اور آہستہ آہستہ مریض کے فوبیا یا اینزائٹی کو کم کیا جاتا ہے۔ اب ایک دم سے تو کچھ نہیں ہوا کرتا نا۔‘‘

’’میری سسٹر کا پرابلم یہ ہے کہ اسے بند جگہوں سے ڈر لگتا ہے۔ لفٹ میں سفر نہیں کر سکتیں۔ ٹیلی فون بوتھ ایمرجنسی میں بھی استعمال نہیں کریں گی۔ حتیٰ کہ باتھ روم جاتے ہوئے بھی خوف زدہ رہتی ہیں۔‘‘

’’اسے Clustro phobia کہا جاتا ہے اور اسی کو ختم کرنے کے لےے میں ڈی سینس ٹائزیشن کی ٹیکنیک استعمال کر رہی ہوں۔‘‘

’’تو پھر آپ صرف ٹیکنیکلی ڈیل کیجےے انہیں۔ اِدھر اَدھر کے لمبے چوڑے لیکچر نہ پلاےے۔ ان کے مسئلے کا حل نمازیں پڑھنے سے نہیں ملنے والا۔‘‘ وہ بے پروائی سے گویا تھا۔ مزنہ نے بہت گہری نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔

’’نماز دل کا سکون ہے۔ بے شک دلوں کو سکون اللہ کو یاد کرنے سے ملتا ہے اور یاد کا سب سے اچھا ذریعہ نماز ہے۔ غالباً اسلام کی یہ تعلیمات اور احادیث آپ کی نظر سے کبھی نہیں گزریں۔ خیر میں سچ مچ ’’واعظ‘‘ بن کر آخرت کا ڈراوا دے کر آپ کے مزاج کو بگاڑنا نہیں چاہتی کیونکہ یہ باتیں آپ کی دلچسپی کی نہیں ہیں، البتہ آپ کی سسٹر کو یہ مشورہ ضرور دوں گی کہ بھلے مذہبی فریضے کے لےے نہ سہی ٹریٹ منٹ کی خاطر ہی سہی، نماز پڑھ کے دیکھیں۔ ان کے منتشر خیالات، بکھرے ہوئے دل و دماغ اور بھٹکی سوچوں کو کنارہ مل جائے گا۔ جب اندرکا خوف نکل جائے تو باہر خود بخود عافیت دکھائی دینے لگتی ہے پھر بندہ کسی سے نہیں ڈرتا۔ اس نے قلم بند کر کے فائل کے پیپرز کے بیچ رکھا اور کرسی کی پشت سے سر ٹکا لیا۔

’’جی میں کوشش کروں گی، میں دوبارہ کب آئوں؟‘‘ مریض خاتون نے اٹھتے ہوئے پوچھا۔

’’یہ لیجےے اپنا کارڈ، میں نے تاریخ لکھ دی ہے۔‘‘

’’اوکے میڈم!‘‘سفیان کارڈ بہن سے لے کر دیکھتا ہوا آفس سے باہر نکل گیا۔ مزنہ نے ایک گہری سانس لے کر سرکو آگے پیچھے ہلایا اور پھر ہتھیلی پر ٹھوڑی رکھ کر کہنی میز پہ ٹکائے کچھ سوچنے لگی۔

’’میڈم! آپ کے لےے پھر فون ہے۔‘‘ چپڑاسی نے دروازہ بجا کر اندر آکر پیغام سنایا۔ وہ باہر کائونٹر پر آگئی، جہاں ٹیلی فون آپریٹر رضوانہ اپنی خوش اخلاقی مسکراہٹ سمیت اس کی منتظر تھی۔

’’ہیلو۔‘‘ مزنہ نے میز پر رکھے ریسیور کو کان سے لگا کر اپنے مخصوص ٹھہرے ہوئے پرسکون انداز میں مخاطب کیا۔

’’ہیلو۔‘‘ اس کے لہجے میں استفہام تھا۔

’’ہے۔۔۔لو۔۔۔‘‘ اب کی بار ا س نے زور دے کر پوچھا مگر دوسری جانب بدستور خاموشی طاری رہی پھر کسی نے بہت آہستگی سے ریسیور رکھ دیا۔ مزنہ کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔

’’کون تھا فون پر؟‘‘ اس نے ریسیور کریڈل پر رکھتے ہوئے نظر ملائے بنا بظاہر بے نیازی سے پوچھا۔

’’کوئی حمزہ علی تھے۔ آپ کی خیر خیریت دریافت کر رہے تھے۔ میں نے کہا آپ ہولڈ کریں، میں بلا دیتی ہوں۔ ہوسکتا ہے انتظار کرنے کے بعد لائن کاٹ دی ہو۔‘‘ رضوانہ نے خیال ظاہر کیا۔

’’لائن ہی تو نہیں کاٹی۔‘‘ مزنہ نے دل میں سوچا تھا۔ پچھلے پانچ سال سے یہ نام، یہ انجانا سا رابطہ اور رشتہ برقرار تھا۔

پانچ سال ہوگئے تھے اسے خوار ہوتے ہوئے زیست کے جنگل میں تنہا بھٹکتے ہوئے مگر وہ جہاں بھی رہی بغیر کسی براہ راست ملاقات یا بات چیت کے وہ اس کی خبر گیری کرتا رہا تھا۔

وہ جانتی تھی وہ اس کی پروا کےے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔ وہ اسے بھول ہی نہیں سکتا تھا کیونکہ وہ بھی اس پانچ برس طویل اور صبر آزما مدت میں اسے ایک پل نہیں بھولی تھی۔ وہ بھول سکتی ہی نہیں تھی۔ ان کا اتنا گہرا ایسا نہ ختم ہونے والا رشتہ تھا کہ دونوں ہی نہیں بھلا سکتے تھے۔

’’سر کہہ رہے ہیں، اگر آپ فارغ ہیں تو ان کے روم میں آجائیں۔‘‘ ضرار حسن کے بلانے پر وہ کائونٹر سے سیدھی ان ہی کی طرف چلی گئی۔

’’آئےے بی بی۔‘‘ ضرار حسن ساٹھ سال کے باریش خوش وضع، نہایت دین دار اور اپنے پیشے سے عشق کی حد تک مخلص تھے۔ انہوں نے ہی ہولسٹک میڈیسن میں فرانس سے پی ایچ ڈی کرنے کے بعد سید پور روڈ پر اپنا یہ چھوٹا سا ہاسپٹل کھولا تھا، جہاں دماغی و ذہنی امراض کے ماہرین کے ساتھ ساتھ روحانی اور نفسیاتی امراض کے ماہر ڈاکٹر تعینات کےے گئے تھے۔ ادارہ اپنی نوعیت کا منفرد ادارہ تھا جس نے کچھ ہی مدت میں اپنی بہت اچھی ساکھ بنالی تھی۔

’’ایک کیس ہے مزنہ بی بی! ایک انڈسٹریلسٹ کی بیوی شدید فرسٹریشن کا شکار ہیں، ان کی ذہنی حالت اس درجہ مخدوش ہے کہ وہ گھر سے باہر نکلنا چھوڑ چکی ہیں وہ علاج کے لےے بھی ہاسپٹل آنے پر رضامند نہیں۔ آپ ذاتی طور پر ان کے گھر جا کر ان کے ساتھ سیشن کریں۔ ان کے شوہر میرے کلائنٹ رہ چکے ہیں اور انہوں نے مجھ سے خصوصی درخواست کی ہے۔ آپ اس ایڈریس پر جانا پسند کریں گی؟‘‘

’’اگر آپ کہتے ہیں تو ٹھیک ہے سر۔‘‘ گاڑی تو اس کے پاس تھی ہی۔ سو خاموشی سے کارڈ اٹھا کر ان سے اجازت لے کر نکل آئی۔ یوں بھی اس کے ڈیوٹی آورز پورے ہوچکے تھے۔

٭٭٭

’’اتنی لیٹ آئی ہو آج؟‘‘ مزنہ کے ہارن بجانے پر ثنا گیٹ کھولنے آئی تھی۔ وہ گاڑی لاک کر کے پلٹی تو ثنا نے فکر مندی سے استفسار کیا۔

’’ہاں یار! وہ سر نے ایک ایسی اپائٹمنٹ ذمہ لگادی تھی جسے اس کے گھر جا کر ڈیل کرنا تھا۔‘‘

’’ مگر تم تو اس قسم کے کیس نہیں لیتیں۔‘‘ دونوں باتیں کرتے ہوئے اندر آگئیں۔

’’لیتی تو نہیں ہوں مگر سر نے کہا تو مجھ سے انکار نہیں ہوا۔ وہ میرے استاد بھی ہیں اور ایک لحاظ سے محسن بھی کہ انہوں نے چار سال پہلے ایک قطعی اناڑی لڑکی کو اپنے ہاں جاب دی جس کا ایم ایس سی سائیکالوجی کا ابھی رزلٹ بھی نہیں نکلا تھا۔ آج چار سال بعد میں اپنے شعبے میں کتنا تجربہ حاصل کر چکی ہوں۔

اسپشلائز کرنے اور ایم فل مکمل کرنے میں بھی ان ہی کا ہاتھ تھا۔ یہ ان ہی کی مشفقانہ حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہے کہ آج نہ صرف تعلیم اور اچھی پوسٹ حاصل کر چکی ہوں بلکہ ایک عدد گاڑی کی بھی مالک بن چکی ہوں۔‘‘

’’ارے بھئی! اتنے برسوں سے کما رہی ہو، کوئی آگے پیچھے تو ہے نہیں جس پہ لگائو۔ رقم کو جمع ہی ہونا تھا پھر تم نے جمع شدہ رقم کو گاڑی میں تبدیل کر دیا۔‘‘

’’کھانا کیا پکایا ہے۔ سخت بھوک لگ رہی ہے۔‘‘ مزنہ خلاف مزاج بے صبری کا مظاہرہ کر گئی تھی۔

ثنا جلدی آجاتی تھی اسکول سے، اس لےے رات کے کھانے کی ذمہ داری اسی نے اٹھا رکھی تھی۔ رہی غزل تو اس کا موڈ ہوتا تو کھانے میں ہاتھ بٹا دیتی، نہیں تو اپنے اوٹ پٹانگ مشغلوں میں مست رہتی۔ثنا کو ویسے بھی گھر کے کام کاج کا شوق رہا تھا، اس لےے غزل کے عدم تعاون کا گلہ یا غصہ نہیں کرتی تھی۔

’’مسالے والی بھنڈی بنائی ہے۔‘‘

ویسے محترمہ کو عارضہ کیا ہے؟‘‘ ثنا اس کے کیسز میں ہمیشہ گہری دلچسپی رکھتی تھی۔

’’ڈپریشن۔‘‘ اس نے اختصار سے کام لیا۔

’’کس چیز کا۔۔۔؟‘‘

’’کچھ نہ کرنے کا ڈپریشن۔‘‘

’’میں سمجھی نہیں۔‘ ‘ ثنا نے آنکھیں پٹپٹائیں۔

’’اپنے Worth less (بے کار) ہونے کا ڈپریشن۔ ثنا! کام کرتے رہنا ہماری مادی ضرورت ہی نہیں ہے، ذہنی ضرورت بھی بن چکا ہے۔ انسان جب کوئی کام کر رہا ہوتا ہے تو اسے اپنی اہمیت اور ذات پر اعتماد حاصل ہوتا ہے۔ وہ اپنے ہنر پر بھروسہ کرنا سیکھتا ہے۔ سچ پوچھو تو مصروفیت اور ہلکی پھلکی پریشانیاں زندگی کو بھرپور طریقے سے گزارنے کے لےے بہت ضروری ہوا کرتی ہیں کیونکہ مسائل سے لڑ کر ہم میں اپنی ذات کا فخر اور مضبوطی جاگتی ہے۔ کام کی ذمہ داری ہو تو ہمیں اپنا آپ معتبر اور کار آمد محسوس ہوتا ہے۔ مسز وسیم کو سب کچھ حاصل ہے۔ بے پناہ دولت، پرتعیش محل نما گھر، بے شمار نوکر چاکر اور ہر آسائش ہتھیلی کے نیچے منتظر پڑی رہتی ہے۔ شوہر دن رات بزنس بڑھانے میں لگا رہتا ہے۔ بچے آیا نے پال پوس کے اس قابل کردےے کہ انہیں بورڈنگ میں ڈالا جاسکے۔ سو یہ موصوفہ فارغ کی فارغ۔ اتنی فراغت رہے گی تو ذہن تو الجھے گا نا۔ تم نے سنا نہیں خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے۔ وہ بھی فضول اور بے کار سوچوں میں الجھ کر ذہنی مریض بن گئی ہیں، جسے سائیکالوجی میں ڈپریشن کہا جاتا ہے۔‘‘

’’تم نے ان کو کیا مشورہ دیا؟‘‘ ثنا نے ٹھوڑی ہتھیلی پہ ٹِکا کے اشتیاق سے پوچھا۔

’’کچھ ایسے کام کرنے کو جو صرف اور صرف اللہ کو خوش کرنے اور اس کی مخلوق کی بھلائی کے لےے کےے جائیں۔ نمود و نمائش کے لےے تو این جی او اور دیگر سماجی تنظیموں کے میلے ٹھیلے بہت ہیں، میں نے انہیں سمجھایا ہے کہ دولت کے اس بوجھ کو بہت تھوڑا سا اللہ کی مخلوق میں بانٹ کے دیکھےے، آپ کی بوجھل سانس خود بخود ہلکی ہوجائے گی مگر شرط یہ ہے کہ یہ تقسیم اس طرح ہو کہ دائیں ہاتھ سے دیں تو بائیں کو خبر نہ ہو اور دوسری بات یہ کہ جو نعمتیں اللہ نے دے رکھی ہیں، ان کا شکر ادا کریں اور شکر اور ذکر کرنے کا بہترین طریقہ نماز ہے۔ لہٰذا نماز قائم کریں۔‘‘

’’جواب میں انہوں نے بڑبڑ نہیں کی؟‘‘ ثنا نے پوچھا۔

’’میرے سامنے تو نہیں کی البتہ دل میں ضرور کی ہوگی۔‘‘

’’ضرار حسن نے بہت پہلے اپنی ذاتی زندگی کے بارے میں تذکرہ کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ بچپن میں نماز اس طرح قائم کرتے تھے کہ ان کے والدین نے ان کے ذہن میں ڈال دیا تھا، اگر کوئی نماز چھوڑ دو گے تو ضرور تمہارے ساتھ کچھ برا ہوگا یا امتحان میں فیل ہوجائو گے یا استاد سے کسی بات پہ ڈانٹ کھائو گے یا دوست تم سے روٹھ جائیں گے۔ اس لالچ اور خوف کی بنا پر وہ نماز کی پابندی کیا کرتے تھے پھر جوں جوں بڑے ہوتے گئے ان کی یہ سوچ پختہ ہوتی گئی۔ وہ آج بھی اپنے ساتھ ہونے والے نا پسندیدہ واقعے کو اس بات سے جوڑتے ہیں کہ آج فلاں نماز نہیں پڑھی یا بے دلی سے پڑھی تھی، اس لےے میرے ساتھ ایسا ہوا۔ اس طرح انسان لا شعوری طور پر اپنے فائدے اور بہتری کے لےے نمازوں کی پابندی رکھتا ہے۔ میں بھی کئی برسوں سے یہی کر رہی ہوں۔‘‘ وہ ہنس پڑی تھی۔

٭٭٭

گرمیوں کا آغاز ہوچکا تھا۔ پارکنگ ایریا میں آکر گاڑی کھول کر اندر بیٹھی تو ایک دم تپش کا احساس ہوا تھا۔

’’مجھے کیا کرنا چاہےے۔‘‘ وہ پارکنگ سے گاڑی نکال چکی تھی۔

’’اس کو فون کرنا چاہےے، یہ کہنے کے لےے کہ میرا یہ خاموش خیال کرنا چھوڑ دے۔ سمجھ لے کہ ہم میں کوئی رشتہ نہیں تھا۔ یوں بھی رشتہ کہاں ثابت ہوتا ہے۔ جو سمجھا تھا، وہ سراب نکلا، جھوٹ اور فریب نکلا پھر یہ بے وجہ کا تعاقب اور خبر گیری کیوں؟‘‘

وہ خود سے الجھتے ہوئے بے دھیانی کے عالم میں اسلام آباد ہائی وے پہ گاڑی دوڑا رہی تھی۔ عصر کے بعد کا ٹائم تھا۔ بڑا ٹھہرا ٹھہرا، دھیما سا اجالا اور نرم و لطیف ہوا سحر طاری کر رہی تھی۔

’’وقت اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ میرے اطراف میں جلوہ گر ہے پھر مجھ میں صحرا جیسی پیاس اور سنُاٹا کیوں اتر آیا ہے۔‘‘

اس نے کچھ سوچ کر آئی ایٹ تھری کی طرف گاڑی موڑ دی۔

’’علی انکل گھر پر ہیں؟‘‘ اس کے بیل بجانے پر ان کا نوکر باہر آیا تھا۔

’’جی اسٹڈی میں ہیں۔‘‘ وہ ان کے اسٹڈی روم ہی چلی آئی۔

’’میں بہت پریشان ہوں علی انکل۔‘‘ وہ بغیر کسی تمہید کے سلام دعا کے بعد بولی۔

علی انکل، بابا مرحوم کے گہرے دوستوں میں شمار ہوتے تھے اور ان کے تمام تر رازوں کے امین بھی رہے تھے۔ دو بیٹے اور ایک بیٹی کے باپ تھے۔ تینوں شادی شدہ تھے لڑکے امریکہ میں سیٹل تھے اور بیٹی کراچی بیاہی گئی تھی۔ بیوی کو چند سال پہلے فالج ہوگیا تھا، سو وہ بستر اور اپنی خادمہ تک محدود ہوکے رہ گئی تھیں۔

’’کمال ہے، ایک روحانی نفسیات کا معالج بھی پریشان ہوسکتا ہے۔‘‘ وہ ازراہ تفنن چھیڑ خانی کر رہے تھے۔

’’جی ہاں کیونکہ وہ بھی انسان ہوتا ہے۔‘‘ وہ خفگی سے انہیں دیکھنے لگی۔

’’اچھا۔۔۔ یہ آج کی تازہ خبر ہے۔ ویسے اس پریشانی کا نام حمزہ علی تو نہیں ہے؟‘‘

بڑی گہرائی تک پہنچ کر کھوج لگایا تھا۔ مزنہ اضطراری انداز میں اِدھر اَدھر دیکھنے لگی۔

’’مجھے بھی فون کرتا رہتا ہے وہ۔‘‘ چند لمحوں کے مکمل سکوت کو علی انکل کی سنجیدہ آواز نے توڑا تھا۔

’’کیوں؟‘‘ بے اختیار اس نے سر اٹھایا۔

’’تمہارے بارے میں ہدایات نشر کرنے اور تم سے باخبر رہنے کے لےے۔‘‘ انہوں نے سگار منہ میں دباتے ہوئے کہا۔

’’اور میں پوچھتا ہوں برخوردار! جب کوئی رشتہ نہیں رہا تو کیوں اتنی دور بیٹھ کے بے تاب رہتے ہو۔ ویسے تم نے بھی حماقت کی مزنہ!‘‘

’’نہیں انکل!‘‘ اس نے تڑپ کر کہا۔

’’میں مر کر بھی تصور نہیں کر سکتی تھی کہ۔۔۔‘‘ وہ چپ ہوگئی۔

’’وہ بات مرنے کی نہیں جینے کی تھی، زندگی گزارنے کا ڈھنگ تھا۔ کسی طرح کی کوئی قانونی و معاشرتی رکاوٹ نہیں تھی۔ رکاوٹ تمہارے جذبات بنے تھے۔ تم دونوں کے غیر عملی نظریات نے یہ دن دکھائے۔ کیا کچھ انوکھا ہونے چلا تھا؟ سب کچھ ایسا ہی تھا جو ایسے کیسز میں ہوا کرتا ہے۔ ہوجاتا ہے۔‘‘

’’میں آپ سے اپنی پریشانی شیئر کرنے آئی تھی، ڈانٹ کھانے نہیں آئی تھی۔‘‘ وہ بسورتے ہوئے بولی۔

’’دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چلیں گی۔ اس وقت میرے ساتھ کچن تک چلو، میں نے ایک بڑی مزے دار ڈش بنائی ہے۔ یہ نہایت خوش گوار اتفاق ہے کہ تم ادھر چلی آئیں۔‘‘ وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔

کھانا بنانے اور اس میں ورائٹی لانے میں علی انکل کو کمال حاصل تھا۔ آئے دن نت نئے تجربے کرتے رہتے تھے۔

’’بات یہ ہے بیٹا جانی کہ!

یہ زندگی ہے تو پھر اس کو بسر بھی کرنا ہے

قیام کرنے سے پہلے سفر بھی کرنا ہے

کچھ احتراز بھی کرنا ہے اس گلی سے ہمیں

کسی بہانے ادھر سے گزر بھی کرنا ہے

وہ بھی یہی کر رہا ہے اور تم بھی۔ حالانکہ دونوں ہی یہ بات سمجھتے ہو کہ یہ تعلق ٹوٹنے والا نہیں ہے۔ اب اس کا کوئی انجام ہونا چاہےے۔‘‘ وہ شیشے کا بائول فریج سے نکال رہے تھے۔

’’یہ کیا ملغوبہ ہے؟‘‘ اس نے پنک کریمی سے آمیزے کو شوق سے دیکھتے ہوئے سوال کیا۔

’’بدذوق لڑکی! یہ فروٹ ٹرائفل ہے اور میری ہاتھ کی وہ اسپیشل چیز ہے جسے ہر کوئی پسند کرتا ہے اور جو مہمان آتے ہیں، ضرور اس کی فرمائش کرتے ہیں۔‘‘

وہ چھوٹی سی شیشے کی خوب صورت پیالی میں ٹرائفل نکالنے لگے۔

’’بنایا کیسے ہے؟‘‘ اس نے چکھا تو بے اختیار پوچھ لیا۔

’’تمہیں پسند آیا؟‘‘ وہ خوش ہوگئے۔

’’بہت بڑی لذیذ چیز ہے۔ اس میں سیب، کیلا اور انار ڈالے ہیں نا۔‘‘

’’ہاں۔‘‘ پھر وہ اسے مکمل ترکیب سمجھانے لگے۔

’’یہ تو بہت آسان ترکیب ہے۔ میں بھی ٹرائی کروں گی۔ ثنا کو بتائوں گی۔ اسے فارغ وقت میں تجربات کرنا بہت اچھا لگتا ہے۔‘‘

’’یہ ثنا وہی لڑکی ہے نا جس کی اپنے خاوند سے علیحدگی ہوگئی ہے؟‘‘ وہ علی انکل سے ہر بات ڈسکس کر لیتی تھی۔ یہ بھی اسی نے بتایا تھا۔

’’جی انکل! آگے پیچھے تو کوئی تھا نہیں جس کے پاس جاتی یا رہتی۔ زندگی گزارنے کے لےے کوئی ٹھکانہ تو چاہےے تھا۔ کیا آنٹی نے ٹرائفل چکھا ہے؟‘‘

’’نہیں، ابھی تک تو نہیں۔‘‘

’’ٹھیک ہے، میں انہیں دے آتی ہوں اور مل بھی لیتی ہوں۔ اس کے بعد واپس چلوں گی۔‘‘

’’ذرا دیر تو رکو۔۔۔‘‘

’’نہیں، ثنا کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، اس نے اسکول سے بھی چھٹی کی ہے آج۔ غزل تو رات کو دیر سے آئے گی۔ ثنا اکیلی ہوگی۔‘‘ وہ اس کی تیمار داری کے خیال سے عجلت میں وہاں سے نکلی تھی۔ گھر آئی تو ثنا بخار سے تپ رہی تھی۔

’’ارے، تمہیں تو اچھا خاصا ٹمپریچر ہورہا ہے۔‘‘ وہ تھرمامیٹر چیک کرنے کے بعد پریشان ہوکر ثنا کو دیکھنے لگی۔

’’ہم جیسوں کو نزلہ بخار کیا کہتا ہے مزنہ بی بی!‘‘ ثنا ہمت کر کے بیڈ کے کرائون سے ٹیک لگاک کے بیٹھ گئی۔

’’دو پیناڈول کھائی ہیں، چائے تم پلادو۔ دو تین گھنٹوں میں پسینہ آجائے گا تو ٹھیک ہوجائوں گی۔ ہم تو عادی ہیں ایسی معمولی بیماریوں کے۔‘‘ وہ نقاہت سے بولی۔

’’تمہیں پتا ہے مزنہ! جب میری اور ایاز کی شادی ہوئی تو اس وقت میرے کیا خواب تھے؟ ایک پرسکون اور پیار بھرا گھر، مناسب سہولتیں، ذمہ داری نبھاکر سکون کی بے فکر نیندیں اور رشتوں کا تحفظ۔ تم تو جانتی ہو میری اور ایاز کی لو میرج تھی۔ اچھا یہ ہوا کہ والدین بھی مان گئے۔ یوں شادی ہوگئی۔ بے انتہا خوشیوں اور خواہشوں کے جھرمٹ میں۔‘‘

وہ ماضی کے مرغزاروں میں اترنے لگی۔

’’جانتی ہو پھر کیا ہوا؟‘‘

’’ہاں ہاں جانتی ہوں۔ تم خوامخواہ اپنا دماغ نہ الجھائو۔ چلو شاباش لیٹ جائو۔۔۔‘‘ مزنہ چاہتی تھی وہ ماضی کی تلخیاں یاد کر کے خود کو دکھی نہ کرے لیکن وہ کہیں اور جا پہنچی تھی۔ اس کی نظریں خلا میں کچھ ڈھونڈ رہی تھیں۔ بکھرے ہوئے بالوں کی لٹیں گلے کے اطراف میں جھول رہی تھیں۔ وہ ملگجے سے سبز شلوار قمیص میں ملبوس تھی۔ سانولا چہرہ اس وقت بڑا پھیکا اور بے رنگ ہورہا تھا۔

’’پھر یہ ہوا کہ ایک ایک کر کے ایاز کے چہرے کے سارے نقاب اتر گئے۔ میں سمجھتی تھی وہ بہت حساس ، محنتی اورذمہ دار مرد ہے۔ ایک عورت ایسے ہی بھرپور مرد کے خواب دیکھتی ہے۔ لیکن وہ تو کچھ اور ہی نکلا۔ دنوں میں اس کی حساسیت بے حسی میں بدل گئی۔ اس کا محنتی پن، کاہلی و آرام طلبی کے روپ میں ڈھل گئی۔ تب مجھے پتا چلا کہ مرد عورت کے دل شکار کرنے کے لےے بڑی ہوشیاری سے اس کی پسند کا چولا پہنتا ہے۔

پھر جب اس عورت کو حاصل کر لیتا ہے تو اپنے اصلی رنگ ڈھنگ میں آجاتا ہے۔ عورت سمجھتی ہے مرد بدل گیا ہے۔ حالانکہ وہ بدلتا نہیں ہے۔ اپنے اصل پہ واپس لوٹتا ہے۔‘‘ وہ تلخی سے ہنسی۔

’’سسرال والوں نے اس پہ دبائو ڈالا تمہاری نوکری تو چھٹ گئی ہے مگر تمہاری یہ ایم اے پاس بیوی کس دن کام آئے گی۔ اس سے کہو نوکری کرے۔ سو میں نے نوکری کرلی۔ کیونکہ ایاز پر ماں باپ کے علاوہ تین جوان بہنوں اور چار بھائیوں کی ذمہ داری تھی۔ میں نے اس اسکول میں نوکری کی جہاں دو شفٹیں لگتی تھیں۔ صبح اور شام کی۔ زیادہ کمانے کے چکر میں میں نے دونوں شفٹوں میں جاب کر لی۔ تنخواہ دگنی ہوگئی۔ ایاز جو عارضی طور پر چھوٹی موٹی نوکری کر رہا تھا وہ مزید ریلیکس ہوگیا۔ بس ہوا یوں کہ میری جان شکنجے میں آگئی۔ ایسی حالت میں عورت کا جی اور سا ہوجاتا ہے۔ خوامخواہ تھکتی ہے۔ ذہنی و جسمانی طور پر کمزور پڑ جاتی ہے۔ ایک طرف دو شفٹوں کی لمبی ڈیوٹی پھر گھر آکر ایاز کی جلی کٹی اور سسرالیوں کے طعنے کہ صبح سات بجے نکلتی ہے رات کے سات بجے گھر میں قدم رکھتی ہے۔ گھر کا کچھ ہوش ہی نہیں ہے۔ حالانکہ میں واپس آکر جتنا مجھ سے ہوتا تھا گھر کے کام نبٹاتی تھی۔ اکثر رات کو دیر تک ڈسٹنگ، واشنگ اور برتن جھاڑو وغیرہ کے کام نبٹا کے بستر پہ آتی تھی۔

چلو سسرالی کہیں تو دکھ نہیں ہوتا، مگر اپنا خاوند ہی اپنی ذمہ داریاں نہ سمجھے تو کس کو کہیں۔ بعض اوقات پوری پوری رات ہماری بحث و مباحثے میں گزر جاتی تھی۔ تنخواہ آتی تو میں اسے سونگھے بغیر ایاز کی ہتھیلی پہ رکھ دیتی تھی۔ مگر پھر بھی میرا مقام اس گھر میں ایسا تھا جیسے کوئی بے کار استعمال شدہ پھٹا ہوا کپڑا، خاوند سمجھتا تھا گویا میں عیاشی کر کے آتی ہوں باہر سے۔ نتیجہ اس ٹینشن کا یہ ہوا کہ وقت سے پہلے میرے ہاں بچے کی ولادت ہوگئی مگر وہ زندہ نہ بچ سکا اور پھر کچھ ایسی پیچیدگی ہوئی کہ میں دوبارہ ماں بننے کے قابل نہ رہی۔‘‘

’’ہاں، ہاں سب جانتی ہوں میں۔ کیوں یاد کر کر کے اپنے زخم کریدتی ہو۔ اچھا کہو تو ٹی وی لگادوں؟‘‘ مزنہ اس کا دھیان بٹانا چاہتی تھی۔

’’ڈیڑھ سال مزید گزرا۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ ایاز کا دوبئی کا ویزا لگ گیا۔ میں نے سارا زیور بیچ کے اس کے ٹکٹ ویزے کے پیسے پورے کےے۔ وہ دوبئی چلا گیا۔ میں پیچھے اپنے سسرال کو پالتی رہی۔ پھر جب ایاز کا کام جم گیا اور گھر میں پیسے آنے لگے تو میں نے ارادہ کیا کہ اب یہ ڈبل شفٹ کا کام چھوڑ دوں۔ میرے ساس سسر ناراض ہونے لگے۔ لیکن سچ تو یہ تھا کہ اب مجھ سے اتنی مشقت نہیں ہوتی تھی۔ یوں بھی ایاز اچھی خاصی رقم بھیجتا تھا جو گزارہ کرنے کے لےے بہت کافی تھی اس لےے میں نے دوسری شفٹ کی جاب چھوڑ دی۔‘‘ وہ سانس لینے کو رکی۔

مزنہ متاسفانہ نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔

’’کچھ ہی عرصہ بعد اطلاع آگئی کہ ایاز نے دوبئی میں کسی پاکستانی فیملی میں شادی کر لی تھی۔ وہ وطن واپس آیا تو اس حسینہ کو ساتھ لے کے آیا اور اپنے والدین کے کہنے پر مجھے طلاق دے کر فارغ کر دیا کیونکہ اب میری ضرورت نہیں رہی تھی۔ انہوں نے کہا ’’تم بانجھ ہو۔ اولاد تو تم سے ہو نہیں سکتی پھر خوامخواہ باندھنے کا فائدہ۔ یوں میں چار سال بعد طلاق کا ٹیکہ ماتھے پہ سجائے اس گھر سے نکل آئی۔ ماں باپ کا انتقال ہوچکا تھا۔گھر کرائے کا تھا۔ کس کے پاس جاتی سو ادھر چلی آئی۔ نوکری تو شکر ہے جاری تھی۔ ہاں دوبارہ سے سیکنڈ شفٹ بھی جوائن کرلی۔ جتنی فرصت ملتی دکھ اتنے ہی دل کو چھیدتے تھے اس لےے۔۔۔‘‘ ثنا تھک کر چپ ہوگئی۔

مزنہ نے ٹی وی لگا دیا تھا۔ کوئی دلچسپ سا ڈرامہ آرہا تھا جسے دونوں عدم دلچسپی سے دیکھنے لگیں۔

’’بعض اوقات کسی بھی چیز میں دل نہیں لگتا۔ ہے نا؟‘‘ ثناے نے دوبارہ مزنہ کو مخاطب کیا۔ ’’کوئی سوچ، کوئی منظر دل پہ چھائی یاسیت اور مایوسی کو دور نہیں کرپاتا۔‘‘

’’اگر تم پسند کرو تو میں تمہارے لےے گرم گرم سویاں بنا دوں؟ تمہاری طبیعت ایک دم سنبھل جائے گی۔‘‘

وہ جان بوجھ کر اس موضوع پر دھیان نہیں دے رہی تھی تاکہ ثنا مزید بد دلی اور رنجیدگی کا شکار نہ ہو۔

’’مرضی ہے تمہاری، میرے نزدیک تو یہ خوامخواہ کا تکلف ہوگا۔ میرا کچھ کھانے کو جی نہیں چاہ رہا۔‘‘

’’میرے ہاتھ کی بنی سویُاں کھائو گی تو خود بخود جی چاہنے لگے گا۔‘‘ مزنہ اٹھ کے کچن میں چلی گئی۔

سویاں بنا کے لائی تو غزل بھی آچکی تھی۔ اس کی اور ثنا کی نوک جھونک حسبِ معمول عروج پر تھی۔

’’کیوں خوامخواہ ٹکے ٹکے کے لوگوں کے آگے اپنا آپ گروی رکھتی ہو۔ اپنی عزتِ نفس کو ان کے پرغرور قدموں کے نیچے کچلواتی ہو۔‘‘ مزنہ نے تحمل سے کہا۔

غزل کا چہرہ متغیر ہوگیا۔

’’سال ڈیڑھ سال ہونے لگا ہے، تمہیں ایک اسٹوڈیو سے دوسرے اسٹوڈیو میں رَلتے اور بے مول ہوتے ہوئے۔ کیا حاصل ہوا ہے بھلا۔‘‘ ثنا آج اسے کھری کھری سنانے پر تلی ہوئی تھی۔

’’تم دونوں مل کر کیوں مجھے ذہنی ٹارچر کرتی رہتی ہو۔‘‘ وہ دونوں ہاتھوں میں سر تھام کر چیخنے لگی۔

میک اپ کی تہوں کے پیچھے کچھ چٹخ رہا تھا۔

’’ہونہہ جیلس۔۔۔ خوامخواہ چڑیلوں کی طرح میرے پیچھے پڑی رہتی ہیں دونوں۔‘‘ وہ بڑبڑاتے ہوئے ٹیپ آن کرنے لگی۔

’’ہر کام کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے۔‘‘ مزنہ نہایت غور سے غزل کو تیز میوزک پر رقص کی پریکٹس کرتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔

’’میرے کسی فعل کی کوئی وجہ نہیں ہوا کرتی۔‘‘

غزل تھک گئی تو کیسٹ بند کر کے دھم سے اس کے پاس آگری۔

’’تم اپنے سوتیلے باپ کی مذموم حرکت کا انتقام خود سے لے رہی ہو۔‘‘ مزنہ نے آہستگی سے کہا۔ غزل کے چہرے کے تاثرات ایک دم بدل گئے۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور اپنے کانپتے ہاتھوں کے ناخن چبانے لگی۔

’’مت یاد دلائو مجھے کچھ بھی۔‘‘ اس کی آواز مرتعش تھی۔

’’مجھے بھی نہیں پتا تھا، مجھے تمہاری زبانی پتا چلا سب کچھ۔‘‘

’’کب۔۔۔ کیا۔۔۔ کیا پتا چلا۔۔۔‘‘ وہ اس سے رخ پھیر کر پوچھنے لگی۔

’’ کل تم رات کو اپنے لاشعور میں بھٹک گئی تھیں۔ اسی دوران تم نے اپنی پچھلی زندگی کے بارے میں انکشافات کےے۔‘‘

’’کیا انکشافات کےے میں نے؟‘‘ وہ بری طرح گھبرا گئی۔

حیرت کی بات یہ تھی کہ اپنے غیر شرعی اور غیر اخلاقی افعال پر فخر اور ڈھٹائی سے ہنسنے والی لڑکی اپنے ماضی کے اس شرم ناک حادثے پر نظر نہیں ملا رہی تھی۔ جس میں اس کا کوئی دوش نہیں تھا۔

’’تم نے بتایا کہ تمہاری ماں نے دوسری شادی جس آدمی سے کی تھی وہ پرلے درجے کا عیاش اور شرابی انسان تھا۔ تمہاری امی کو بھی شادی کے بعد ہی پتا چلا۔ پھر ایک حادثے میں تمہاری امی کا انتقال ہوگیا۔ اس وقت تم سیکنڈ ایئر میں تھیں۔ تمہارے سوتیلے باپ نے ایک دن شراب کے نشے میں دھت ہو کر تمہیں اپنی ہوس کا نشانہ بنالیا۔ اس حادثے نے تمہیں ذہنی و روحانی طور پر تباہ کر دیا تم کئی ہفتے ہسپتال میں رہیں پھر صحت یاب ہوتے ہی سوتیلے باپ کا گھر چھوڑ کر دارالامان چلی گئیں اور وہاں جا کر تمہیں ایسے بہت سے سوتیلے باپ ٹکرائے جن کو ادارے کے مالکان کے حکم اور زور و زبردستی پر تمہیں خوش کرنا پڑا۔ پھر کافی جدوجہد کے بعد ایک ٹریولنگ ایجنسی میں نوکری حاصل کی اور پھر دارالامان چھوڑ دیا اور یہاں کرایہ پر رہنے لگیں۔ پھر جو کچھ تمہارے ساتھ ہوا تم نے اس کا انتقام خود سے لینا شروع کر دیا۔

’’غزل! پہلی بار ظلم معاشرے کے افراد نے تم پر کیا اور اس کے بعد متواتر ظلم تم خود اپنے وجود اور روح پر کر رہی ہو۔ ماضی کے بھیانک اور اذیت ناک پرچھائیوں سے پیچھا چھڑانے کا یہ طریقہ سراسر غلط اور گناہ ہے۔ ہم نے بھی اپنا ماضی پھولوں کے بستر پر نہیں گزارا۔ جانے کون کون سے پل صراط عبور کر کے یہاں تک پہنچے ہیں۔ راستے کی مشکلات کا یہ مطلب تو نہیں ہوتا کہ انہیں دور کرنے کی بجائے راستہ ہی بدل لیا جائے۔ سیدھی پٹری چھوڑ کے پچھتاوے کی ٹرین پکڑ لی جائے۔

’’تمہارا مطلب ہے وہاں رہ کر ان کی مرضی سے اپنا آپ فروخت کرتی رہتی؟‘‘ وہ سرخ چہرہ اور آگ برساتا لہجہ لےے مزنہ کی طرف پلٹی تھی۔

’’نہیں۔۔۔ تم ان کے چنگل سے آزاد ہو کر یہاں رہ کر ایک شریفانہ اور باوقار زندگی کا آغاز کرتیں۔ اس غلاظت میں نہ دھنستیں۔‘‘

’’مگر کس برتے پر؟‘‘ استہزائیہ بولی۔

’’ٹریولنگ ایجنسی میں مجھے نوکری میری اعلا تعلیمی اسناد کی بناپر نہیں ملی تھی، مالکان کو لبھانے رجھانے اور ادائیں دکھانے پر ملی۔ وگرنہ ایف اے پاس لڑکی جاب کے میدان میں کس جگہ فٹ بیٹھتی ہے تم بخوبی جانتی ہو۔‘‘

’’یہ ضروری تو نہیں تھا کہ تم کسی آفس میں ہی جاب کرتیں۔ کوئی اسکول دیکھ لیتیں۔‘‘

’’ہاں اور وہاں سے ملنے والے اٹھارہ سو یا زیادہ سے زیادہ دو ہزار میرے لےے بہت کافی رہتے۔‘‘ وہ مضحکہ خیز انداز میں سر ہلانے لگی۔

’’ڈھائی ہزار تو اس جگہ رہنے کا کرایہ ہے۔ پھر کھانا پینا، پہننا اوڑھنا، اور ہزار ضروریات زندگی ہیں وہ کہاں سے پوری ہوتیں۔‘‘

’’تم اپنے گناہ کو جائز فعل قرار دینے کے لےے فضول دلیلیں دے رہے ہو۔ اگر تنخواہ کم ملتی تو تم کسی چھوٹے موٹے علاقے میں رہائش پذیر ہوجاتیں۔ جہاں کرایہ بھی کم ہوتا پھر بتدریج بی اے کر کے کسی اچھے اسکول میں اپلائی کر دیتیں۔‘‘

’’ہاں تمہاری جیسی مصلح اعظم کے لےے یہ کہنا بہت آسان ہے۔۔۔‘‘ وہ تلخی سے بولی۔

’’خود پہ بیتی ہوتی تو پتا چلتا۔‘‘

’’خود پر تو جانے کیا کیا بیت چکی ہے۔ اب میں تم سے کیا بحث کروں۔‘‘ مزنہ کے چہرے پر ایک مضمحل سی مسکراہٹ جھلک دکھا کر معدوم ہوگئی۔

’’بہرحال توبہ کا در آنکھ بند ہونے سے پہلے تک ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ اب بھی وقت ہے۔‘‘

’’کون سا وقت؟ میرے لےے اب کوئی وقت نہیں ہے۔‘‘ وہ یاسیت سے گویا ہوئی۔

’’بے عصمت اور بے نام و نشان لڑکی ہوں۔ مشہور زمانہ ہوچکی ہوں۔ اپنا قیمتی سرمایہ پانی کی طرح بے دریغ بہا چکی ہوں۔ اب اس معاشرے میں میرے لےے کوئی جگہ نہیں بچی۔ مجھے خوامخواہ کے بہلاوے نہ دو۔۔۔‘‘ اس کے لہجے کی شکستگی اس کے اندر کی توڑ پھوڑ عیاں کر رہی تھی۔

’’مگر جگہ تو وہ بھی تمہارے لےے نہیں ہے، جہاں جا کر تم اپنا آپ خوار کرتی ہو۔ اس اندھیر نگری کا پیچھا چھوڑ دو۔ اس میں تمہارے بھلائی ہے۔‘‘

مزنہ اپنی فطرت سے مجبور ہو کر اسے سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی تھی۔

’’میری بھلائی تو کسی چیز میں بھی نہیں رہی بھولی لڑکی۔‘‘ وہ عجیب سے انداز میں مسکرائی تھی۔

’’میری فلاح کے راستے تو کب کے بند ہوچکے۔ بہر حال اس لاحاصل بحث کو جانے دو۔ ثنا بتا رہی تھی گروسری کا سامان لانا ہے۔ گاڑی تو ہے تمہارے پاس چلو چلتے ہیں۔ مجھے اپنے لےے کچھ ڈریسز بھی دیکھنے ہیں، بلکہ تم لوگوں پہ کچھ فیاضی کرتے ہوئے میں ’’ٹریپرز‘‘سے ہلکا پھلکا ڈنر بھی پیک کرالوں گی۔‘‘

مزنہ سر ہلاتے ہوئے گاڑی کی چابیاں ڈھونڈنے لگی۔

غزل بیگم جو شاپنگ کے لےے لور لور پھرنا شروع ہوئی تھیں تو مزنہ کو بری طرح تھکا مارا۔

’’یار خدا کا واسطہ ہے جلدی سمیٹو جو لینا ہے کرنا ہے جلدی کرو۔ کون سی خاص چیز ڈھونڈ رہی ہو جو مل کے نہیں دے رہی۔‘‘

وہ آخر میں تقریباً برس پڑی۔ غزل کسی اور طرف متوجہ تھی۔

’’اے مزنہ! ذرا اس ہینڈسم کی طرف دیکھو۔یار یہ کیا غضب کا آدمی ہے۔ کیا ڈریسنگ ہے۔ اور چہرے پہ کیسی بے نیازی اور رعب دار ہے۔ میں تو گئی مزنہ۔۔۔!‘

وہ اتنی دیر سے ایک ٹک دیکھ رہی تھی تو مجبوراً مزنہ کو بھی دیکھنا پڑا۔

دیکھتے ہی اس کے چہرے پر زلزلے کے آثار نمودار ہونا شروع ہوگئے۔

’’حمزہ علی!‘‘ اس کے لب بے آواز متحرک ہوئے تھے۔ وہ بھی اسے دیکھ چکا تھا۔

پھر وہ اچانک مڑا اور تیز تیز چلتا ہوا دوسرے پلازے میں کہیں غائب ہوگیا۔

غزل اپنی دنیا میں گم تھی وہ اس کے چہرے کا تغیر محسو س نہیں کر سکی تی۔ مگر مزنہ کے لےے ایک قدم آگے اٹھانا دشوار ہوگیا تھا۔ وہ بمشکل گھسیٹتے ہوئے اس کے پیچھے چل رہی تھی۔

اس کے قدم آگے اور ذہن پیچھے بہت پیچھے جارہا تھا۔ وہاں جہاں ایک حما داور ایک اسریٰ ہوا کرتے تھے۔

٭٭٭

’’تمہاری خوشی کے لےے میں کیا کروں میری جان! کہو تو جان دے دوں۔‘‘

حماد بہت دکھی ہو کر اسریٰ کے گلابی رخساروں پر چمکتے موتی جیسے آنسوئوں کو پونچھ رہے تھے۔

’’خدا کے لےے ایسی باتیں نہ کریں۔‘‘ اسریٰ نے تڑپ کر ان کے منہ پر ہاتھ رکھا تھا۔

’’بس کہیں سے مجھے صبر لادیں حماد! بہت بڑا خسار ہ ہوا ہے میرا۔ مجھے قرار نہیں آرہا ہے۔ دل کسی بھی چہرے سے نہیں بہلتا حماد! میں کیا کروں۔ بتائیں کہاں جائوں۔ یہ سونا آنگن، یہ دل دہلادینے والی خاموشی، یہ سرد و سپاٹ دیواریں، یہ تنہائی، یہ سب مل کر میری جان لے لیں گے ایک دن۔ زندگی ہر روز ایک جیسی لگتی ہے۔ پھر ایک سی شامیں، ایک سی راتیں، میرا دل گھٹ جائے گا اس گہری کالی تنہائی میں۔‘‘

حماد اسے روتا دیکھ کر بری طرح بے چین ہورہے تھے۔ وہ بہت محبت کرنے والے صابر و قانع قسم کے شوہر واقع ہوئے تھے، شادی کو نو سال بیت چکے تھے مگر آنگن ہنوز خالی تھا، اب تو امیدیں بھی دم توڑتی جارہی تھیں۔

’’پھر اس کا ایک ہی حل نکلتا ہے اگر تم آمادہ ہو تو۔۔۔‘‘ بہت سوچ سمجھ کر حماد نے اسریٰ سے اس موضوع پر بات کرنے کی ٹھانی تھی۔

’’ہم کوئی بچہ گود لے لیتے ہیں۔‘‘

’’لے پالک۔۔۔‘‘ ایک لمحے کو اسریٰ کی سونی ممتا کی کوکھ سے ہوک سی اٹھی لیکن پھر اس نے خود کو سنبھال لیا۔

’’مگر حماد میری دو شرطیں ہیں۔ ایک تو وہ صرف چند دنوں یا ہفتوں کا ہو۔ دوسرا جس کے بارے میں سو فیصد یقین ہو کہ وہ شریف ماں باپ کا خون ہے، اور اس کے ماں باپ یا والی وارث اس دنیا میں موجود نہ رہے ہوں مجھے وہی بچہ چاہےے جو میری شرائط پر پورا اترتا ہو۔‘‘

’’ٹھیک ہے۔ میں علی سے بھی مشورہ کروں گا۔ اسی نے مجھے یہ حل بتایا تھا۔‘‘

یوں بالآخر ایدھی ہوم میں انہیں مطلوبہ بچہ مل گیا۔ مگر وہ چھوٹی سی ننھی سی پری تھی۔

ایک ایکسیڈنٹ میں ماں باپ ہلاک ہوگئے، بچی معجزانہ طور پر بچ گئی تھی۔ دس دن تک ماں باپ کی لاشیں سرد خانے میں پڑی رہیں اخبار میں ان کے آئی ڈی کارڈ بھی چھاپے گئے مگر کوئی پوچھنے نہیں آیا تو لاوارث سمجھ کر دفنا دےے گئے۔ بچی کچھ دن پہلے ہمارے پاس آئی ہے۔ اس کی عمر اندازاً تین مہینے ہوگی۔ انتظامیہ کے سربراہ نے آگاہ کیا۔

اسریٰ نے نازک سے نقش و نگار والی اس گلابی گل گوتھنا سی بچی کو دیکھا تو اس کا جی قابو میں نہ رہا۔ لپک کر گود میں اٹھا کے سینے سے لگا لیا۔

’’سر یہ بچہ کسی طرح نہیں بہل رہا۔‘‘ آیا ڈھائی سالہ دلکش صورت اور سنجیدہ تاثرات کے حامل ایک بچے کا بازو تھامے عاجز ہو کر اندر آئی تھی۔ بچے کا چہرہ آنسوئوں سے تربتر تھا۔

’’ہر طرح سے کوشش کر لی ہے مگر اس کا رونا ختم نہیں ہورہا۔‘‘ آیا تفصیل سے اپنا دکھڑا سنا رہی تھی۔

’’کون ہے یہ۔۔۔‘‘ حماد بہت غور سے اس کو دیکھ رہے تھے۔

’’جناب پچھلے ہفتے پنڈی میں بم دھماکا ہوا تھا۔ بچہ کار میں تھا۔ جو کہ اس شاپنگ ایریا سے کافی دور پارک کی گئی تھی۔ اس لےے بچ گیا۔ اس کا باپ اور ایک دو مزید لوگ اس دھماکے میں ختم ہوگئے۔ ماں تو بچپن میں ہی انتقال کر گئی تھی۔ باپ بھی ساتھ چھوڑ گیا۔ یہ بہت سہما ہوا ہے۔‘‘

’’اسریٰ غور سے دیکھو تو ذرا۔‘‘ حماد جیسے خواب میں بول رہے تھے۔ ’’کتنا پیارا اور من موہنا چہرہ ہے۔‘‘

’’اس کو بھی ساتھ لے چلتے ہیں حماد!‘‘ اسریٰ ان کی بیوی تھی کیسے خاوند کی سوچ نہ پڑھتی۔ بے قرار تو وہ بھی ہوگئی تھی۔

’’ٹھیک تو ہے نا ایک بیٹا، ایک بیٹی۔ ہمارے دو بچے ہوجائیں گے، فیملی مکمل ہوجائے گی۔‘‘ وہ مچل گئی تھی۔

’’اللہ آپ کو آپ کے نیک ارادوں کی جزا دے۔‘‘

انتظامی سربراہ نے مختلف پیپرز پر سائن لینے کے بعد انہیں رخصت کر دیا۔

گھر میں بچے کیا آئے جیسے در و دیوار سے رونقیں، چہکاریں اور زندگی کے تمام رنگ پھوٹنے لگے۔

ان کو ذرا سی تکلیف ہوتی تو وہ ہلکان ہوجاتی تھی۔

کبھی تھک جاتی تو حماد سے شکایتیں کرتی۔

’’افوہ، تھکا مارا ہے آپ کے لاڈلوں نے۔ حمزہ اپنا ہوم ورک نہیں کر رہا۔ اور مزنہ صاحبہ بضد ہیں کہ وہ ان کی کاپی پر اپنے گل بوٹے بنائیں گی۔ ابھی صرف دس ماہ کی ہیں اور گھٹنوں کے بل کھسکتی ہوئی حمزہ کے پاس پہنچ جاتی ہیں اور وہ کام چھوڑ کر اس سے کھیلنے میں مگن ہوجاتا ہے۔‘‘

’’ماشائ اللہ بہت پیار کرتا ہے اپنی بہن سے۔‘‘ حماد محبت سے کہتے۔

’’کس ماں کا بیٹا ہے۔‘‘ اسریٰ فخریہ کہتی اور حماد بے ساختہ قہقہہ لگانے پہ مجبور ہوجاتے تھے۔

دونوں میاں بیوی نے بچوں کی تربیت اتنی اچھی کی تھی کہ لوگ رشک کرتے تھے۔ مزنہ ، حماد سے تین کلاس پیچھے تھی مگر پڑھے دونوں ایک ہی اسکول سے تھے۔ دونوں نے ہمیشہ فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن لی۔

بچوں کے باشعور ہونے پر اسریٰ اور حماد نے انہیں یہ بتانے میں حرج نہیں سمجھا تھا کہ وہ ان کی حقیقی اولاد نہیں تھے بلکہ ایک ادارے سے لائے گئے تھے مگر تب تک مزنہ اور حمزہ کی شخصیات اتنی مضبوط اور پراعتماد بنیادوں پر کھڑی ہوچکی تھیں کہ انہیں کوئی خاص جذباتی دھچکا نہیں لگا۔ تھوڑا سا دکھ اور چبھن تو فطری تھی مگر بہرحال انہیں کسی شدید ذہنی توڑ پھوڑ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

’’امی! مزنہ ایم ایس سی میں آگئی ہے۔ اب آپ اس کی شادی کی فکر کریں۔‘‘ حمزہ کے انداز میں بڑے بھائیوں والی فکر مندی اور احساس ذمہ داری تھا۔ وہ ماسٹرز مکمل کر نے کے بعد دو سال پہلے ایک بہت اچھی جگہ جاب حاصل کر چکا تھا۔ دونوں بچے جوان ہو کر ایسے نکھرے تھے کہ دونوں میاں بیوی ان کی نظر اتارتے نہیں تھکتے تھے۔

’’سچ پوچھو تو بیٹے! میرا دل ہی نہیں چاہتا اسے خود سے دور کرنے کو۔‘‘ انہوں نے مزنہ کے دلکش سراپے کو دیکھتے ہوئے اداسی سے کہا۔

’’خبردار بھائی! چیٹنگ کرنے یا لگائی بجھائی کرنے کی ہر گز کوئی ضرورت نہیں۔ آپ مجھ سے تین سال بڑے ہیں اس لےے پہلے آپ کی ہوگی۔‘‘

’’خوامخواہ۔۔۔‘‘ حمزہ نے ہمیشہ کی طرح اسے ستایا۔

’’پہلے میں اپنی ہونے والی کے لےے میدان صاف کروں گا پھر لائوں گا اس بیوٹی کوئین کو۔۔۔‘‘

’’اچھا امی! ایک کام کرتے ہیں۔ میرے ’’ہونے والے‘‘ کوآپ اس گھر میں رکھ لیں۔ اس طرح مجھے آپ سے دور بھی نہیں جانا پڑے گا اور۔۔۔‘‘ مزنہ نے شرارت سے حمزہ کو دیکھا، ’’اور لوگوں کی کوئین کے سینے پر مونگ دلنے کا موقع بھی مل جائے گا۔‘‘

’’شرم کرو، مشرقی لڑکیاں اپنے منہ سے اپنے ہونے والے کا نام نہیں لیتی ہیں۔‘‘ حمزہ نے بہن کے لانبے خوب صورت بالوں کو کھینچا تھا۔

’’بھائی! پہلے بھابھی آئے گی سن لیجےے۔‘‘ وہ لاڈ سے پیچھے سے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھے جھکی ہوئی تھی کہ مسز علی چلی آئیں۔

انہوں نے قدرے ناگواری سے یہ نظارہ دیکھا تھا مگر اس وقت کچھ نہیں بولیں۔

وہ اِدھر اَدھر ہوئے تو بہت خفگی سے اسریٰ کا گھیرائو کیا۔ یہ کیا ماچس اور تیلی کا کھیل شروع کر رکھا ہے تم نے اپنے گھر میں۔ اسریٰ! میں تمہیں اتنا بے وقوف نہیں سمجھتی تھی۔‘‘

’’کیا ہوا بھابھی؟‘‘ اسریٰ خاک بھی نہ سمجھی تھی۔

’’ابھی کیا کچھ اور ہونا باقی رہتا ہے؟ دیکھو تو دونوں کس طرح ایک دوسرے کے قریب بیٹھے تھے۔ جب آئو یہی حال ہوتا ہے اور یہ لڑکی تو ہر وقت حمزہ کے کندھوں پر سوار رہتی ہے۔‘‘ وہ برہمی سے بولیں۔

’’تو کیا ہوا، وہ اس کا بھائی ہے۔ دونوں بھائی بہنوں والے لاڈ کرتے ہیں ایک دوسرے سے۔ جان چھڑکتے ہیں وہ۔‘‘

’’خوامخواہ خود کو اور دوسروں کو فریب نہ دو۔ تم اچھی طرح جانتی ہو کہ یہ دونوں حقیقی بہن بھائی نہیں ہیں۔ دونوں کا خون ایک نہیں ہے۔‘‘ وہ جھلُائیں۔

’’مگر یہ بات وہ نہیں جانتے۔ ان کے جذبات میں وہی پاکیزگی اور شدت ہے جو حقیقی بہن بھائیوں میں ہوتی ہے۔ پھرہم بتا کر ان کے ذہن تباہ کیوں کریں۔‘‘

’’تمہیں چاہےے تھا شروع سے بتادیتیں، بچے ذہنی طور پر تیار ہوجاتے۔ نہ بتا کر تم نے بہت ظلم کمایا ہے۔ کچھ بھی سہی وہ ہیں تو ایک دوسرے کے نامحرم، شرعی اور اخلاقی طور پر ان میں کوئی رشتہ نہیں ہے۔ صرف احساسات کی بنیاد پر تم نے دونوں کو ایک رشتے میں باندھ دیا ہے۔‘‘

’’احساسات ہی تو سب کچھ ہوتے ہیں۔ جب احساسات پاکیزہ ہیں تو ہم ان میں آلودگی کیوں دیکھیں۔‘‘

’’بہرحال یہ بات غلط ہے۔ آج تو میں کہہ رہی ہوں کل کو پوری دنیا کہے گی جب انہیں حقیقت کا پتا چلے گا۔‘‘

وہ برہمی سے گویا تھیں۔

اسریٰ کے چہرے پر ایک رنگ آرہا تھا اور ایک جارہا تھا۔

اس کا ردِ عمل دیکھ کر مسز علی کچھ نرم پڑ گئیں۔

’’دیکھو اسریٰ! میں تمہارے بھلے کو ہی کہہ رہی ہوں۔ یہ بات میں بھی جانتی ہوں کہ دونوں میں بھائی بہنوں جیسا پیار ہے میں ان پر کوئی بہتان نہیں باندھ رہی، مگر یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ وہ بہن بھائی نہیں ہیں۔ کل کو جب ان کے رشتے کرو گی اور ان لوگوں پر کبھی نہ کبھی یہ کھلے گا کہ یہ دونوںحقیقی بہن بھائی نہ ہوتے ہوئے بھی ایک ہی گھر میں اکٹھے پلے بڑھے اور ان میں آپس میں کوئی دیوار یا تکلف نہیں رہا تو ان کے ذہن کہاں کہاں تک نہیں پہنچیں گے۔ کون تسلیم کرے گا کہ وہ سگے بہن بھائی بن کر ساتھ رہے ہیں تمہیں یہ حقیقت بہت پہلے انہیں بتا دینی چاہےے تھی۔‘‘

اسریٰ سراسیمگی سے انہیں دیکھنے لگی۔

’’مجھے تو یہ سوچ کے بھی تکلیف ہورہی ہے کہ کل کلاں کو لوگ میرے اتنے نیک اور سیدھے سادے بچوں کے بارے میں ایسی باتیں کریں گے ۔ میں نے اس طرف تو دھیان ہی نہیں دیا تھا۔ نہ کبھی مجھے خیال آیا نہ حماد کو کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے۔ ہم اپنی جگہ مطمئن تھے اور با خدا ہم نے تو انہیں بیٹا بیٹی سمجھ کے ہی پالا ہے۔ کبھی ایسے ویسے خیال نے ذہن کو نہیں چھوا۔‘‘

’’اسے حماقت ہی قرار دیا جاسکتا ہے کہ آپ ایک ساتھ دو مختلف گھرانوں کے بچے بہن بھائی بنا کر اڈاپٹ کرلیں۔ بہرحال ابھی کچھ نہیں بگڑا۔ تم اور حماد بھائی طریقے سے دونوں بچوں کوحقیقت بتادو تاکہ وہ احتیاط اور فاصلہ برقرار رکھیں۔‘‘ اسریٰ تڑپ کر رہ گئی۔

’’میں مر نہ جائوں گی اس سے پہلے۔‘‘ وہ تو یہ سوچ کے ہی لرز رہی تھی کہ وہ مزنہ اور حمزہ کو اس تلخ حقیقت سے کیسے آشنا کرے گی۔

’’نہ صرف بتائو بلکہ دنیاوی مسائل سے حل کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ تم دونوں کی آپس میں شادی کردو۔ نہ بیٹی کی جدائی برداشت کرنی پڑے گی نہ بیٹا کسی دوسری عورت کو سونپنا پڑے گا۔‘‘

’’خدا کے لےے، خدا کے لےے چپ ہوجائو۔‘‘ اسریٰ ہول کر رہ گئی۔

’’بچے اپنی جان دے دیں گے۔ بھلا ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔ اور حمزہ ، حمزہ کو میں جانتی ہوں وہ بطور بھائی کے مزنہ سے اس قدر اٹیچ ہے اور اتنا جذباتی ہے کہ یہ تجویز سنتے ہی وہ خود کو گولی مار لے گا۔ میرے منہ میں خاک۔۔۔‘‘ وہ کانپ کر رہ گئی تھی۔

’’بہرحال اس مسئلے کا کوئی حل سوچو اس سے پہلے کہ بات باہر نکلے تم یہ قصہ نبٹادو۔‘‘ مسز علی مخلصانہ مشورہ دے کر اٹھ کھڑی ہوئی تھیں۔

٭٭٭

محلے میں شادی تھی۔ سارا اہلِ محلہ مدعو تھا۔ اسریٰ کی طبیعت پچھلے دو دنوں سے سخت خراب تھی اس لےے صرف حماد، مزنہ اور حمزہ وہاں گئے تھے۔ حسب معمول مزنہ اور حمزہ میں ہلکی پھلکی چھیڑچھاڑ ہورہی تھی۔ دونوں میں اتنی ذہنی قربت اور یگانگت تھی کہ اپنا ہر احساس ایک دوسرے سے شیئر کےے بنا چین نہیں پڑتا تھا۔

’’السلام علیکم۔۔۔ حضرت پہنچانا مجھے؟‘‘

’’شلوار قمیص پر واسکٹ پہنے ایک باریش اور معزز شخص نے لوگوں کی بھیڑ میں حماد تک رسائی حاصل کی تھی۔

’’اوہ معاف کیجےے گا، مجھے صحیح سے یاد نہیں آرہا۔‘‘

’’کوئی بات نہیں۔ ہم صرف ایک دفعہ ملے ہیں اب تک، آپ کو ضرور میری صورت بھول گئی ہوگی، مگر حضرت میں آپ کو ہزاروں کے مجمع میں بھی الگ پہچان سکتا ہوں۔ میں اس ادارے کا منتظم ہوں جہاں سے آپ دو بچے لائے تھے۔ یہ وہی بچے ہیں نا؟‘‘

’’جی جی۔۔۔ کیسے مزاج ہیں آپ کے۔‘‘ حماد نے اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے آہستگی سے سر ہلایا تھا۔

’’بالکل ٹھیک۔۔۔ جناب میں تو اکثر آپ کی مثال دیتا ہوں کہ ایسے خدا ترس اور نیک نفس انسان بھی ہوتے ہیں۔ آئے تھے ایک بچہ لینے مگر دوسرا بچہ روتا ہوا دیکھا تو اس کا خاندان یا حیثیت پوچھے بغیر اس کو بھی ساتھ ہی گود لے لیا۔ دونوں بچوں کے والدین کی روحیں آپ سے بے پناہ خوش ہوں گی کہ آپ نے ان کے بچوں کو اتنے پیار سے رکھا۔ ویسے حیرت کی بات ہے دونوں بچوں کی شکلیں آپ میں ایسے مل رہی ہیں جیسے سچ مچ کے بہن بھائی ہوں۔‘‘

پیچھے کھڑے حمزہ اور مزنہ کو جیسے سکتہ ہوگیا تھا اور ارد گرد کھڑے ان دونوں کو مشکوک نظروں سے دیکھتے محلے والے، حماد کی پیشانی پر چمکتے پسینے کے قطرے ان کی شدید گھبراہٹ اور بے بسی کی علامت تھے۔

٭٭٭

حمزہ تین دن سے لاپتا تھا۔

مزنہ تین دن سے اپنے کمرے میں بند تھی۔

حماد تین دن سے آفس نہیں گئے تھے۔

اور اسریٰ تین دن سے جلے پیر کی بلی کی طرح گھر میںیہاں سے وہاں چکر کاٹ رہی تھی۔

’’پہلے ہم سمجھتے رہے ہم آپ کی اولاد ہیں، باشعور ہوئے تو پتا چلا ہم تو لے پالک ہیں۔ ہم نے اس بات کو نظر انداز کردیا کہ اس سے رشتے میں فرق نہیں پڑتا۔پھر آج انکشاف ہورہا ہے کہ ہم تو ایک ماں باپ کی اولاد ہی نہیں ہیں۔ آپ دھوکا دیتے رہے ہمیں؟ تماشا دیکھتے رہے ہمارا۔ مجھے بتائےے آخر وہ کون سی مصلحت تھی جس نے آپ کو حقیقت بتانے سے روکے رکھا؟‘‘

’’ہم تم دونوں کو دکھی نہیں دیکھ سکتے تھے بیٹا!‘‘ اسریٰ عاجزانہ انداز میں گویا تھی۔

’’دکھی۔۔۔ ہونہہ۔۔۔‘‘ وہ طنزاً بولا۔ ’’اور اب۔۔۔ اب تو جیسے ہم بہت سکون اور سکھ میں آگئے ہیں؟‘‘ وہ پیر پٹختا جنونی انداز میں باہر نکل گیا۔

تین دن بعد آیا مگر ایسے جیسے وہ کسی سرائے میں آیا ہو۔

اور جس دن وہ آیا اسی شام اسریٰ کو دل کا شدید دورہ پڑا۔ وہ جانبر نہ ہوسکی اور اگلے تین دن بعد اس کی میت گھر میں پڑی تھی۔

حماد آفس میں تھے جب انہیں اسریٰ کے انتقال کی خبر ملی۔ گزشتہ دو دنوں سے وہ گھر میں رہے تھے۔ صرف آج کچھ ضروری فائلز دینے کے لےے آفس آئے تھے اور ان کے پیچھے موت کا فرشتہ اسریٰ تک پہنچ گیا۔

وہ دیوانوں کی طرح گرتے پڑتے آفس سے نکلے تھے اور پھر کبھی گھر واپس نہ آسکے۔ ایک بس تیز رفتاری کے عالم میں انہیں کچلتی ہوئی زندگی سے بہت دور کر کے خود آگے بڑھ گئی تھی۔

یوں وہ دونوں نئے سرے سے ’’یتیم‘‘ ہوگئے۔

’’آپ کی وجہ سے ہوا ہے یہ سب کچھ، صرف آپ کی وجہ سے۔‘‘ مزنہ پاگلوں کی طرح حمزہ کو جھنجوڑنے لگی۔

’’میری، میری وجہ سے ایسا ہو اہے۔ تم پاگل تو نہیں ہوگئیں۔‘‘ حمزہ نے اسے زخمی نظروں سے دیکھا۔

’’نہیں۔ کچھ میری بھی غلطی ہے کہ تین دن ان سے منہ موڑے ان کا دل توڑتی رہی اور بہت بڑا گناہ آپ سے سرزد ہوا ہے، آپ انہیں دھتکار کے ان کے جذبوںکو کچل کے تین دن تک گھر سے غائب رہے۔ ان ظالم تین دنوں نے امی کو ختم کر دیا تھا اندر سے۔ پھر بابا بھی چلے گئے۔‘‘ وہ دھاڑیں مار مار کر رو رہی تھی اور حمزہ برسوں بعد وہی خاموش آنسو بہا رہا تھا جو اپنے حقیقی باپ کی موت پر بہائے تھے۔

مگر اب اس دنیا میں کوئی اور حماد یا اسریٰ نہیں رہے تھے جو ان آنسوئوں کی گہرائی اور کرب سمجھ کر اس کو اپنی محبت و تحفظ بھری آغوش میں چھپا لیتے۔

٭٭٭

’’دیکھو بیٹے! میری بات تحمل سے سننا۔‘‘ علی انکل اور مسز علی بڑی مشکل سے تمہید باندھتے ہوئے اصل موضوع کی طرف آئے تھے۔

’’تمہاری امی اور بابا کے انتقال کو دو ماہ گزر چکے ہیں۔ کچھ بھی ہے یہ تو بہرحال طے ہے ک مرنے والے کے ساتھ مرا نہیں جاتا۔ زندگی کی سڑک ایک موڑ پر نہیں ہوتی بلکہ دوسرے موڑ سے پھر شروع ہوجاتی ہے۔ اصل میں اب لوگ باتیں کر رہے ہیں۔‘‘

علی انکل نے بہت احتیاط سے ہچکچاتے ہوئے حمزہ کو مخاطب کیا تھا۔

’’کس قسم کی باتیں؟‘‘ وہ حیرانی سے ان کی طرف دیکھنے لگا۔

’’تم دونوں کے ساتھ رہنے پر۔۔۔‘‘

’’مگر ہم تو گزشتہ چوبیس سالوں سے ساتھ رہ رہے ہیں۔‘‘ وہ ناگواری سے بولا۔ گہرائی تک ابھی بھی نہیں پہنچا تھا۔ اب کے علی انکل نے مدد طلب نظروں سے اپنی بیوی کو دیکھا تھا۔ مسز علی اٹھ کر حمزہ کے قریبی صوفے پر بیٹھ گئیں۔

’’دیکھو بیٹے ! پہلے کی بات اور تھی۔ اب تو تمہیں معلوم ہوچکا ہے کہ دونوں حقیقی بہن بھائی نہیں ہو۔ دونوں کو شرعی و معاشرتی اور اخلاقی حدود کا خیال کرتے ہوئے۔۔۔۔‘‘ بات اتنی بڑی تھی کہ ایک لمحہ بھر کو مسز علی کے بھی ہاتھ پیر پھول گئے۔

’’بہتر یہ ہے کہ تم دونوں آپس میں نکاح کرلو تاکہ۔۔۔‘‘

’’خاموش ہوجائیں۔ پلیز خاموش ہوجائیں۔‘‘ حمزہ تھرُا کر ہاتھ سے انہیں اشارہ کرتے ہوئے اٹھ کھڑ اہوا۔ اس کا رنگ زرد پڑ گیا تھا۔

’’آگے کچھ نہ کہیں، میرا دل بند ہوجائے گا۔‘‘ وہ بری طرح بکھر گیا۔

’’ارے مزنہ بیٹی کو کیا ہوا؟‘‘ علی انکل نے پردے کے پیچھے سے دھڑام سے کسی چیز کے گرنے کی آواز سنی تھی، لپک کر گئے تو مزنہ کو فرش پر بے ہوش گرا پایا تھا۔

حمزہ کے کمرے میں بری طرح اِدھر سے اَدھر چکر لگانے کی رفتار میں بلا کی تیزی آتی جارہی تھی۔ اس کی مٹھیاں بھنچی ہوئی تھیں اور کنپٹیوں کے پاس گویا لاوا دہک رہا تھا۔

’’ایک بھائی نے اپنی بہن سے شادی کرلی۔ معاذ اللہ میں نکاح کروں، اس لڑکی کے ساتھ جس کو آنکھ کھولنے سے لے کر اب تک اپنی سگی بہن کے روپ میں دیکھتا رہا ہوں۔‘‘

’’دیکھو بیٹے! یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ منہ بولے بہن بھائی آپس میں شادی کر سکتے ہیں۔ پھر میں تمہیں ایک مثال دوں، ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لے پالک بیٹے کی مطلقہ بیوی سے شادی کی اور دنیا والوں کو بتایا کہ شادی صرف حقیقی محرم رشتوں کے ساتھ نہیں ہوسکتی۔ جو نامحرم ہو اس سے شادی جائز ہے۔ تم ہمیشہ سے مزنہ سے محبت کرتے رہے ہو۔ اس کا خیال رکھتے آئے ہو۔ اب بھی وہی سب کچھ تمہارے درمیان رہے گا۔ صرف اتنا فرق ہوگا کہ رشتے کی نوعیت اور تقاضے بدل جائیں گے۔ دیکھو میں زیادہ اصرار نہ کرتا مگر تمہاری امی نے اپنی موت سے ایک دن پہلے یونہی باتوں باتوں میں میری مسز سے ذکر کیا تھا کہ وہ صحت یاب ہو کر تم دونوں کو آپس میں حقیقی شرعی رشتے میں باندھ دیں گی۔

بات تو کھل ہی چکی ہے۔ تکلیف تو تم دونوں اٹھا ہی چکے ہو پھر خوامخواہ کی آنا کانی کیوں۔ کیونکہ اب یہ بات سب کو پتا چل چکی ہے اور جہاں مزنہ یا تمہارا رشتہ کیا گیا وہ ضرور اس بات پر معترض ہوں گے کہ ایک نامحرم رشتے کو محرم کے طور پر کیوں رکھا اور اگر ایسا کر ہی لیا تھا تو لڑکا لڑکی کو بتایا کیوں نہیں، کیا پتا دونوں میں کیا رشتہ رہا ہو۔ وغیرہ وغیرہ۔ اب کیا تم اپنی مری ہوئی ماں کی خواہش بھی پوری نہیں کرو گے؟‘‘

علی انکل کی باتوں نے اسے بے بس کر دیا تھا۔

’’انکار بھی نہیں کر سکتا اور اقرار بھی نہیں کر سکتا۔ بس پھر آخری حل یہی ہے کہ میں خود کو بیچ میں سے نکال دوں۔‘‘ اس نے یک دم فیصلہ کیا اور اپنے کمرے میں جا کر الماری کی دراز سے ریوالور نکالا اور اپنی کنپٹی پر رکھ کر نشانہ لے لیا۔

ٹرائیگر دبانے کو تھا کہ مزنہ اچانک اس کے کمرے میں آنکلی اور تیزی سے آگے بڑھ کر اس کا ریوالور والا ہاتھ نیچے گر ادیا مگر جب تک ٹرائیگر دب چکا تھا، گولی کھڑکی کا شیشہ توڑتے ہوئے باہر نکل گئی۔

’’فساد کی جڑ میں ہوں ناں، خود کو کیوں مارتے ہیں۔ مجھے مارئےے۔ مجھے ختم کر دیجےے۔‘‘ وہ قالین پر بیٹھ کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔

وہ تھکے ہوئے شکست خوردہ انداز میں ریوالور وبارہ الماری میں بند کر کے باہر نکل گیا تھا۔ پھر یہ کارروائی بہت خاموشی سے ہوئی۔

علی انکل اور مسز علی نے کچھ معزز لوگوں کو جمع کر کے دونوں کا نکاح پڑھوا دیا۔

اس کاغذی نکاح کے بعد حمزہ صرف دس دن اس چھت کے تلے رہا تھا پھر وہ باہر چلا گیا۔

مگر وہاں رہ کر بھی وہ اس کی خبر گیری کرنا نہیں بھولا تھا۔ حماد صاحب کا مکان سرکاری تھا لہٰذا تین ماہ بعد خالی کرا لیا گیا۔ مزنہ نے خاموشی سے گھر کا کچھ سامان بیچا اور کمرا کرائے پر لے لیا۔ جاب تو وہ گزشتہ ماہ سے شروع کر ہی چکی تھی۔

اور پھر زندگی نے خاموشی سے پانچ سالوں کا طویل سفر طے کر لیا۔

٭٭٭

’’میری سمجھ میں کچھ نہیں آرہا میں کیا کروں، کس طرح کسی اور رشتے سے تمہیں مخاطب کروں انتہائی دبائو کے تحت میں نے یہ کاغذی رشتہ تو تم سے جوڑ لیا ہے لیکن میں گزشتہ دس دنوں سے ہر ہر لمحہ خود سے نفرت محسوس کر رہا ہوں۔ تمہاری موجودگی میں، اس گھر میں، اس محلے میں بلکہ اس ملک میں میرا دم گھٹنے لگا ہے۔ میں باہر نکلتا ہوں تو لگتا ہے ہر آنکھ مجھ پر ہنس رہی ہے کہ یہ دیکھو جس نے اپنی بہن سے نکاح کر لیا۔ میں تم سے بہت دور چلا جانا چاہتا ہوں کیونکہ میں اس رشتے کے ساتھ تمہارا سامنا نہیں کر سکتا نہ ہی تم ایسا کر سکو گی۔ مجھے نہیں پتا میں صحیح کر رہا ہوں یا غلط، مگر میں فی الوقت فرار چاہتا ہوں۔ ان سب لوگوں سے اور جگہوں سے جو مجھ سے آشنا ہیں۔ شاید کبھی لوٹ آئوں یا شاید کبھی نہ لوٹوں۔‘‘

یہ وہ خط تھا جو مزنہ کو اس کے امریکہ فلائی کرجانے کے بعد ملا تھا۔

اس کے بعد پانچ سال تک ان میں کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔

’’جو کچھ ہوا اس میں قصور یا خواہش تو بہرحال میری بھی نہیں تھی۔پھر تم حل نکالنے کی بجائے بیچ منجدھار میں مجھے چھوڑ کر کیوں چلے گئے۔ بے سہارا کر کے یوں غائب ہوئے جیسے کبھی تھے ہی نہیں۔ یہ بھی نہ سوچا کہ ایک کمزور لڑکی معاشرے کے ان بے رحمانہ تھپیڑوں سے کیونکر لڑے گی۔‘‘

مزنہ آنسوئوں سے رو رہی تھی۔

رات کاپچھلا پہر تھا۔ گھور سنُاٹا اور تاریکی ، فقط اس کے آنسوئوںکے چراغ روشن تھے۔

’’میں نے بھی تم سے یہ بندھن نہیں باندھنا چاہا تھا۔ میرے لےے بھی یہ موت سے برتر سزا تھی۔ تم نے تو اس سزا سے فرار کے لےے ملک بدل لیا۔ مگر میں کیا کرتی۔ میں تو کہیں کی بھی نہ رہی تھی۔ تم بزدل تھے حمزہ علی! اتنی جرأت ہوتی تو ڈٹ کر یہ رشتہ جوڑنے سے انکار کر دیتے۔ معاشرہ بھلے جومرضی کہتا رہتا۔ مگر تم ایسا نہ کرسکے۔ مجھے کاغذی چھت تو فراہم کر دی مگر عملی میدان میں میرا ساتھ دینے اور میری حفاظت کرنے کے بجائے آرام سے فرار ہوگئے۔ میرا کیا قصور تھا اس میں؟ میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔ احساسات صرف تمہارے ہی مجروح نہیں ہوئے تھے۔ مجھ پر بھی اتنی ہی قیامت ٹوٹی تھی میں بھی نکاح کے فارم پہ سائن کر کے بارہا خود سے نفرت کی تھی۔ تمہارا سامنا کرنے کا سوچ کر ہزار مرتبہ جیتی مرتی تھی۔ مگر میں نے تو بہرحال میدان نہیں چھوڑا۔‘‘

صبح کی اذانیں ہونا شروع ہوئیں تو وہ اپنے پراگندہ خیالات سمیٹ کر ہمتیں جوڑتے ہوئے وضو کے ارادے سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔

٭٭٭

علی انکل پر بڑا ستم ٹوٹا تھا۔

ان کی بہو اور پوتا سمندر کی سیر کے دوران بوٹ الٹ جانے کے باعث ڈوب کر ہلاک ہوگئے تھے۔

ان کا بیٹا عباس بیوی اور بیٹے کی لاش کے ساتھ دو بیٹیوں سمیت لَٹا پٹا وطن واپس آیا تھا۔

مزنہ کو اطلاع ملی تو وہ ان کے دکھ کے احساس سے آبدیدہ ہوگئی۔

وہ دس دن تک باقاعدہ ان کے ہاں افسوس کے لےے جاتی رہی۔ بیٹے اور بیوی کی حادثاتی موت نے عباس بھائی کو پتھر بنا دیا تھا۔ مزنہ ان کی دونوں بچیوں کو سہما ڈرا ہوا اور افسردہ دیکھتی تو اس کا دل کٹ کے رہ جاتا۔ بڑی بیٹی کی عمر چار سال اور چھوٹی کی تین سال تھی۔

علی انکل سے پتا چلا تھا کہ حمزہ بھی باقاعدگی سے آرہا تھا۔ وہ پاکستان آچکا تھا اور انکل سے ملا بھی تھا مگر ان کے اصرار کے باوجود وہ مزنہ کے گھر نہیں گیا تھا۔ اتفاق ایسا تھا کہ دونوں کا آمنا سامنا نہیں ہوا تھا۔ اور مزنہ نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا تھا۔

٭٭٭

’’میں کیا کروں۔۔۔؟‘‘ بہت عرصے بعد غزل اپنا مصنوعی روپ اتار کر بے بسی و سادگی سے اس کے سامنے اپنا آپ کھولے بیٹھی تھی۔

’’مجھے سکون نہیں ملتا، میرا ضمیر، میرے احساسات میری روح کا ہر تار مجھ پر کوڑے برساتا ہے ۔ میں کتنی غلیظ ہوچکی ہوں، شاید میں بھی نہیں جانتی اس کی گہرائی کو۔ مجھے پاک ہونے کا طریقہ بتادو مزنہ۔‘‘ وہ ہار کر رو پڑی تھی۔

’’اللہ سے رجوع کرو غزل! اس سے مانگو، وہ تمہیں سب کچھ دے گا دل کا سکون بھی اور روحانی پاکیزگی بھی۔‘‘

’’میں بہت دور جا چکی ہوں مزنہ! میں کیسے اس پاکیزگی تک پہنچ سکتی ہوں۔‘‘ پچھتاوے کے ناگ اسے بری طرح ڈس رہے تھے۔ وہ بہت دنوں سے بری طرح بے چین تھی۔ اس کے اندر کوئی الائو بھڑک رہا تھا۔

پھر کچھ دن گزرے اور غزل اچانک لاپتا ہوگئی۔

’’میرا خیال ہے وہ گیسٹ ہائوس چھوڑ کر ہمیشہ کے لےے جا چکی ہے کیونکہ وہ اپنی چیزیں بھی ساتھ لے جا چکی ہے۔‘‘ ثنا نے خیال ظاہر کیا تھا اور وہ کہاں گئی تھی یہ بھی کچھ عرصے بعد معلوم ہوگیا۔

اس نے جسمانی طور پر معذور لاوارث بچوں کے ادارے میں جاب کر لی تھی۔ رہائش کی سہولت اسی ادارے میں موجود تھی اس لےے وہ خاموشی سے گیسٹ روم چھوڑ گئی تھی۔

٭٭٭

اس دن وہ علی انکل کے ہاں گئی تو انہیں کسی گہری سوچ میں ڈوبے پایا۔

’’انکل!خیریت ہے۔ کس سوچ میں گم ہیں آپ؟‘‘

اس نے ان کی نزدیکی کرسی سنبھالتے ہوئے دریافت کیا۔

’’عباس کی چھوٹی چھوٹی بچیاں، ان کی دیکھ بھال، بچوں کو ماں چاہےے اور اس کے لےے عباس کو دوسری شادی بہرحال کرنی ہی پڑے گی۔ اس سلسلے میں تم کوئی مشورہ دو۔‘‘

’’میں کیا مشورہ دے سکتی ہوں انکل!‘‘ وہ پھیکی سی مسکراہٹ لےے گویا ہوئی۔

’’کوئی مناسب رشتہ تلاش کرو۔ میرا خیال ہے تم یہ کام بہت اچھے طریقے سے کر سکتی ہو، تمہاری آنٹی کو تم جانتی ہو مسلسل بیماری کے باعث زیادہ کہیں آتی جاتی نہیں۔‘‘

’’اور عباس بھائی، ان کی بھی تو کوئی مرضی ہوگی۔ وہ کیا کہتے ہیں اس بارے میں؟‘‘

’’اللہ کا شکر ہے، میرے بچے ماں باپ کے کہے کو مان دیتے ہیں۔ وہ ہمارا کہا نہیں ٹال سکے گا۔ تم بس اپنا کام کرو۔‘‘ مزنہ نے سر ہلا دیا۔

اس کے ذہن میں ایک چہرہ آیا تھا۔

ثنا کا چہرہ۔ اس میں ہر خوبی تھی۔ ماسوائے اس کے کہ وہ ماں نہیں بن سکتی تھی۔ مگر عباس بھائی پہلے ہی صاحبِ اولاد تھے انہیں اولاد کی ضرورت نہیں تھی۔ ثنا ان کے لےے بہترین جیون ساتھی ثابت ہوسکتی تھی۔

’’میں چلتی ہوں انکل!‘‘ مزنہ پرس سنبھال کر اٹھی، پلٹی، مگر پھر ٹھٹک کر وہیں کی وہیں کھڑی رہ گئی۔

گرے سفاری سوٹ میں ملبوس ہاتھ میں بریف کیس پکڑے آنکھوںمیں عجیب سے کرب آمیز تاثرات لےے وہ حمزہ علی ہی تھا۔

’’رک جائو دونوں یہیں۔ کیوں چوروں کی طرح منہ چھپارہے ہو۔ کیا چَرا کے بھاگے ہو ایک دوسرے کا۔‘‘ علی انکل اٹھ کر دونوں کے بیچ میں کھڑے ہوگئے اور سختی سے دونوں سے مخاطب ہوئے۔

دونوں کے سر جھکے ہوئے تھے اور نظریں اپنے جوتوں پر تھیں۔

’’بلی چوہے کا یہ کھیل آخر کب تک جاری رہے گا؟‘‘ علی انکل کی سنجیدگی بدستور تھی۔

’’برخوردار ہمارے زمانے میں ایک حویلی میں چار چار خاندان آباد ہوتے تھے۔ سب کے بچے بھی اکٹھے پل کے جوان ہوتے تھے۔ سب ایک دوسرے کے بہن بھائی ہی کہلاتے تھے اور وہی عزت اور محبت ہوتی تھی دل میں۔ بعد میں بزرگ پکڑ کے کسی کا جوڑ کسی سے ملا دیتے اور یوں وہ عزت و محبت ازدواجی رشتے میں بدل جاتی تھی۔ میں مانتا ہوں تمہارے معاملے میں کافی کچھ مختلف ہوا۔ چوبیس سال تک تم لوگ خود کو بہن بھائی سمجھتے رہے۔ پھر انکشاف ہوا کہ خون کا کوئی رشتہ بیچ میں کبھی تھا ہی نہیں۔

تم دونوں کا ردُِ عمل قدرتی تھا۔ تمہارے بابا نے اور امی نے تمہیں معاشرتی دبائو اور مسائل سے بچانے کے لےے مجبوراً یہ تجویز کیا تھا کہ تمہیں ایک شرعی رشتے میں جوڑ دیا جائے تاکہ تم دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہو۔ اس میں ایسا کیا غلط تھا جو اتنا شدید ردُِ عمل ظاہر کیا کہ پانچ سال گنوادےے اور اس کے بعد بھی کوئی احساس نہیں جاگا؟‘‘

حمزہ پیر کے انگوٹھے سے لان کی گھاس کرید رہا تھا۔ مزنہ بت بنی کھڑی تھی۔

’’اور حمزہ! میں تمہیں اسُی فیصد قصور وار ٹھہرائوں گا کہ تم بجائے رشتے کو مضبوطی اور تحفظ فراہم کرنے کے یہاں سے فرار ہوگئے۔ اس بے چاری لڑکی کو معاشرے کے مسائل سے نپٹنے کے لےے اکیلا چھوڑ دیا۔ نیا رشتہ نہ نبھاتے، پرانے رشتے کے ناتے جو تم پر اس کی معاشرتی و معاشی ضروریات اور تحفظ کا حق بنتا تھا وہ تو پورا کرتے۔‘‘

’’میں شرمندہ ہوں۔۔۔‘‘ وہ آہستگی سے بولا۔

پانچ سال بعد مزنہ نے اس کی آواز سنی تھی۔

’’اگر شرمندہ ہو تو پھر باز آجائو مزید وقت برباد کرنے سے اور یوں ذہنی عذاب سے گزرتے رہنے سے کیا حاصل ہے۔ نارمل انسانوں والی زندگی جیو۔‘‘

’’مجھے اتنا عرصہ گزار کر بھی یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ میں تمہارے ساتھ کس طرح زندگی کا آغاز کروں۔‘‘ وہ بہت بجھا بجھا اور شکست خوردہ تھا۔

’’تم کچھ مت کرو۔۔۔ زندگی کو خود موقع دو کہ وہ تمہیں آغاز و انجام سے آگاہ کرے۔‘‘ علی انکل نے جان بوجھ کر دخل اندازی کی تھی۔

’’نہ دور جاپاتا ہوں، نہ قریب آنے کا حوصلہ رکھتا ہوں۔‘‘ وہ پیشانی مسلنے لگا۔

’’خود بخود سمجھ میں آجائے گا۔ کچھ وقت دو ایک دوسرے کو اور فی الوقت یہ کرو کہ مزنہ کو اس کے گیسٹ ہائوس تک چھوڑ دو، اس کی گاڑی کی مجھے ضرورت ہے۔ میری کار کی بیٹری ڈائون ہے اسے کون دھکے لگا کے اسٹارٹ کرے گا۔ میں شام کو تمہاری کار گیسٹ ہائوس پہنچادوں گا۔‘‘ وہ مزنہ سے مخاطب ہوئے۔

کیا زبردست بہانہ ڈھونڈا تھا انہوں نے ان دونوں کی یکجائی کا۔

’’آئو بیٹھو۔۔۔‘‘ حمزہ خاموشی سے اسے لے کر گاڑی تک آیا اور فرنٹ ڈور کھولا اس نے مزنہ کی طرف پہلی بار سر اٹھا کر دیکھا تھا۔

اورنج کلر کے سفید کڑھائی والے سوٹ میں اس کی رنگت دمک رہی تھی۔ حسین تو وہ پہلے بھی بہت تھی مگر اب جیسے اس کے حسن کے سارے ہی رنگ کِھل چکے تھے۔ ایک باوقار حسین عورت کے روپ میں وہ اس کے مقابل تھی۔

’’کس طرف کو ہے گھر۔۔۔؟‘‘ وہ گاڑی آگے بڑھا چکا تھا۔

’’جب آپ ٹھکانہ جانتے ہیں تو پوچھ کیوں رہے ہیں؟‘‘ وہ قدرے طنز سے جواب دے کر باہر دیکھنے لگی۔

’’آپ نے خوا مخواہ زحمت کی۔ آپ کی خبر گیری یا بے خبری سے میری ذات پر کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔‘‘

’’مگر مجھ پر تو پڑتا تھا۔‘‘ وہ بے ساختہ بولا۔

مزنہ نچلا ہونٹ دانتوں تلے کچلتے ہوئے خاموشی سے باہر دیکھتی رہی۔

’’پچھلے سال سے پاکستان میں ہوں، مگر ابھی تم سے سامنا کرنے اور حقیقت کو تسلیم کرنے کے لےے مجھے کچھ وقت چاہےے تھا اس لےے کتراتا رہا۔‘‘

وہ بہت آہستگی سے بول رہا تھا۔ نظریں ونڈ اسکرین پر جمی ہوئی تھی۔

’’تم کیسی ہو، کتنا عرصہ ہوگیا ہے تم سے کوئی بات کےے۔ کیا کیا اتنے سال؟‘‘ اس کے لہجے میں نرمی اور اپنائیت تھی۔

مزنہ کی آنکھوں میں آنسو ڈبڈبانے لگے۔

’’جانے دیجےے، جو بیت گیا سو بیت گیا۔‘‘ اس کا لہجہ گلو گیر تھا۔

’’آپ نے ساتھ چھوڑ دیا تو کیا ہوا۔ اللہ نے مجھے آسرا دینا تھا سو وہ مشکل راستے آسان بناتا گیا۔‘‘

’’مجھے اب اپنے اس جذباتی فیصلے پر سخت شرمندگی ہورہی ہے۔ کچھ بھی تھا مجھے تمہیں یوں تنہا چھوڑ کر نہیں جانا چاہےے تھا۔ جو دکھ میرا تھا، مجھ سے بڑھ کر تمہارا بھی تو تھا۔ امی اور بابا کی روحیں کتنا تڑپتی ہوں گی تمہیں تنہا پا کر۔‘‘ وہ کرب سے بولا۔

’’چھوڑےے، یہ بتاےے آپ کہاں ٹھہرے ہوئے ہیں؟‘‘

’’پہلے تو ہوٹل میں وقت گزارتا رہا۔ پھر کچھ ماہ پہلے ایک گھر خریدا ہے۔ اپنے اور تمہارے لےے۔‘‘

’’مجھے ضرورت نہیں ہے۔ میرے پاس انتظام ہے گھر کا۔‘‘ مزنہ نے فوری ردُِ عمل ظاہر کیا۔

’’یہ تو مجھے بھی پتا ہے، مگر تمہارا اصل ٹھکانہ تو وہ گھر ہی ہے جو میں تمہیں دوں گا۔ بہت کرلیں حماقتیں۔ اب زندگی منطقی انداز میں گزرے گی۔ اور مزنہ! مجھے یقین ہے ہم ساتھ رہیں گے تو خود بخود سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ ہمارے درمیان نارمل رشتہ قائم ہوجائے گا۔ مگر مجھے یقین ہے ایک دن ہم نارمل لوگوں کی طرح جینا ضرور سیکھ لیں گے۔ بات تو ساری احساس کی ہوتی ہے نا۔‘‘

اس نے آہستگی سے اس کی جانب مڑتے ہوئے اس کے شانے پر ہاتھ رکھا۔

مزنہ کا جی بھر آیا۔ بہت مدت بعد کسی کے شانے پر سر رکھ کے پھوٹ پھوٹ کے رونے کو دل چاہا تھا۔

’’قصور نہ تمہارا تھا نہ میرا۔ قصور ہمارے والدین کا بھی نہیں تھا کہ انہوں نے نیک نیتی کے جذبے کے تحت ہمیں ہمارے رشتے کی اصلیت سے آگاہ نہیں کیا۔ لیکن ایک بات اس سے ثابت ہوجاتی ہے کہ کسی بے اولاد میاں بیوی کو اپنے لے پالک بچوں پہ یہ ستم نہیں کرنا چاہےے۔ یا تو ایک ہی گھر کے دو بچے لیں یا پھر صرف ایک بچہ لیں۔ دو مختلف گھرانوں کے بچوں کو بہن بھائی بنا کر یکجا کرنا اور دنیا کے سامنے پیش کرنا بہت گمبھیر اور بھیانک مسائل کا باعث بن جاتا ہے۔‘‘

حمزہ آہستگی سے کہہ رہا تھا۔

’’کیا تم اب بھی مجھ سے ناراض ہو؟ رشتہ ضرور بدلا ہے مگر میں آج بھی تمہاری بہت کیئر کرتا ہوں۔ تم سے جو محبت اور وابستگی ہے اس کی شدت میں کوئی کمی نہیں ہوئی۔ تم کیا کہتی ہو۔‘‘ حمزہ نے اپنے ہاتھ کادبائو اس کے کندھے پر بڑھا دیا۔

جواب میں مزنہ نے خاموشی سے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا۔

*****

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں