حادثے ہی زندگی ہیں – فوزیہ یاسمین

2

’’کیا یہ ضروری ہے کہ عید کے دن جتنی بھی پارٹیز ارینج کی گئی ہوں تم وہ ساری کی ساری اٹینڈ کرو۔‘‘عکاشہ نے پارس کے قریب آکر نہایت برہمی سے دونوں ہاتھ اپنی کمر پر رکھ لےے تو وہ جو ریاض سے الوداعی کلمات کہہ رہا تھا ایک دم ہنس دیا۔

’’میں ساری دنیا کی عید ملن پارٹیز اٹینڈ کرنے نہیں جارہا۔ میرے اپنے گھر میں فنکشن ہے، ممی تو مجھے آنے بھی نہیں دے رہی تھیں صرف تمہارا نام سن کر آنے دیا ہے اگر پارٹی تمہارے علاوہ کسی اور کے گھر میں ہوتی تو وہ کبھی پرمیشن نہ دیتیں۔‘‘ پارس نے مسکراتے ہوئے صفائی دی تو عکاشہ کی چڑھی تیوریوں میں کچھ کمی آگئی مگر موڈ بدستور خراب رہا۔

’’وہ تو مجھے پتا ہے کہ تمہاری ممی مجھے بہت پسند کرتی ہیں۔ میرے انویٹیشن پر وہ تمہیں روک نہیں سکیں، لیکن آنٹی کو یہ بھی سمجھنا چاہےے کہ میرے گھر پر ہمارے کالج فرینڈز کی پارٹی ہے تم یہاں زیادہ انجوائے کر رہے ہو بانسبت اپنے گھر پر ہونے والے فیملی گیٹ ٹو گیدر کے۔‘‘

’’اتنی دیر سے انجوائے کر تو چکا ہوں اب کچھ فرض میرا فیملی کی طرف بھی بنتا ہے اور تم بے فکر رہو میں وہاں بھی بور نہیں ہوں گا میری فیملی میں میرے ہم عمر کزنز بہت ہیں۔‘‘ میں نے اطمینان دلانے والے انداز میں کہا تو اسی کے پاس کھڑا ریاض فوراً بول پڑا۔

’’اسی لےے تو اسے جانے کی اتنی جلدی ہے، تمہیں نہیں پتا عکاشہ اس کی ساری کزنز کتنی خوب صورت ہیں۔‘‘ریاض کے شرارتی لہجے پر عکاشہ کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑا تھا اسی لےے وہ رکھائی سے کہنے لگی۔

’’ارے چھوڑو، میں پارس کے آدھے سے زیادہ خاندان سے مل چکی ہوں ایک بھی لڑکی ’’خوب‘‘ کہلانے کے بھی قابل نہیں ہے خوب صورت تو بہت دور کی بات ہے بس ایک پارس ہی سب سے الگ ہے۔‘‘ آخری کا جملہ کہتے ہوئے اس کے لہجے میں تھوڑی نرمی آگئی تھی لیکن اپنی کزنز کے بارے میں اتنی غلط بیانی پارس سے ہضم نہیں ہوئی تھی تبھی کہنے لگا۔

’’ہاں ممی بھی یہی کہتی ہیں کہ میں ان کے خاندان کا تو لگتا ہی نہیں بلکہ اپنی کلاس فیلو عکاشہ کی فیملی کا لگتا ہوں جیسے کوئی بچپن کے کھوئے ہوئے بہن بھائی۔‘‘ پارس کی بات پر عکاشہ کے چہرے کا رنگ جتنی تیزی سے تبدیل ہوا تھا ان کے گرد کھڑے تمام لڑکے لڑکیوں نے بھی اتنی ہی زور سے قہقہہ مارا تھا کہ عکاشہ کے بڑے سے ڈرائنگ روم میں بجتا زور دار ڈیک بھی تھوڑی دیر کے لےے مدھم پڑ گیا۔

’’شٹ اپ پارس! بکواس بند کرو اور یہ ٹاٹا گڈ بائے کا سین بھی، تم کہیں نہیں جارہے اینڈ ڈیٹس از فائنل۔‘‘

عکاشہ نے اپنے ازلی دھونس بھرے لہجے میں کہا اس کے حسین چہرے پر ایسے رعونت بھرے جملے بولتے وقت مزید کشش پیدا ہوجاتی تھی اور اس وقت تو اس کی سج دھج ہی نرالی تھی۔

ویسے تو پارس کی کلاس کی ساری ہی لڑکیاں اس کی ’’کلاس‘‘ کی ہونے کے باعث ایک دوسرے کی ٹکر کی تیاری کر کے آئی تھیں مگر کسی کے پاس عکاشہ جیسا حسن نہیں تھا اور نہ ہی اس جیسا مزاج۔

کہنے کو وہ ان سب کی دوست تھی مگر سب کے ساتھ اس کا رویہ حکمیہ سا تھا۔ خاص طور پر پارس کو تو وہ صرف اور صرف اپنی ملکیت سمجھتی تھی کیونکہ اس کی نظر میں صرف پارس ہی اس کی برابری کا تھا جبکہ پارس کا مزاج ایسا نہیں تھا وہ تمام دوستوں کے ساتھ یکساں دوستانہ رویہ رکھتا تھا اسی لےے عکاشہ کے مزاج کو سمجھتے ہوئے اکثر اس کی باتوں کو مذاق میں اڑا دیتا ورنہ اگر اس کے جملوں کی گہرائی میں اترنا شروع کرتا تو ان کا اتنا اچھا گروپ دو منٹ میں بکھر جاتا اس لےے عکاشہ کی بہت ساری باتوں سے اختلاف ہونے کے باوجود وہ ان پر کبھی سنجیدہ نہیں ہوتا تھا پھر عکاشہ کی خوبیاں اس کی خامیوں سے زیادہ تھیں وہ بے پناہ حسن کی مالک، شہر کے بہت بڑے بزنس مین کی بیٹی اور کلاس کی ہی نہیں کالج کی بھی مشہور ترین اسٹوڈنٹ تھی جس پر پارس اس سے متاثر تو نہیں تھا کہ یہ ساری خصوصیات خود اس میں بھی موجود تھیں مگر ان سب آسائشوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے وہ اس کے مزاج کے تیکھے پن کو کافی حد تک ایک فطری بات سمجھ کر قبول کر چکا تھا بلکہ اس کے گروپ کے لڑکے عکاشہ کی غیر موجودگی میں جب اسے کہتے کہ

’’ایک دم روایتی حسینہ ہے، حسین، امیر اور مغرور۔‘‘ تو پارس بھی دل کھول کر ہنس دیتا مگر اتنی نرمی برتنے کے باوجود اس نے عکاشہ کو کبھی اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا تھا اس وقت بھی پاراس اس کی ناراضی کی پروا کےے بغیر سب لڑکوں سے مصافحہ کر کے اس کے گھر سے نکل گیا مگر اس کی کوٹھی کے باہر کھڑی اپنی گاڑی کے چاروں ٹائر پنکچر دیکھ کر اس کا دماغ گھوم گیا۔ اس نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ وہ جلدی چلا جائے گا پھر اس طرح اسے زبردستی مجبور کر کے روکنے کا کیا مطلب تھا۔

اس کا خون ابلنے لگا۔ دل چاہا ابھی اندر جا کر عکاشہ کی طبیعت صاف کر دے مگر یہی تو وہ چاہتی تھی کہ پارس گھر جانے کے بجائے تھوڑی دیر اور یہاں رک جائے بھلے ہی اس کا یہ قیام جھگڑے کی نذر کیوں نہ ہوجائے۔

وہ اسے یہ خوشی ہر گز نہیں دینا چاہتا تھا اس لےے دوبارہ اندر جانے کے بجائے پیدل چلنے لگا اس کا ارادہ فوراً ہی کسی ٹیکسی میں بیٹھ جانے کا تھا مگر اول تو یہ شہر کا وہ علاقہ تھا جہاں رہنے والے ہر شخص کے پاس چھ، چھ گاڑیاں ہوتی تھیں ، ایسے علاقے میں رہنے والوں سے ٹیکسی میں بیٹھ کر کون ملنے آتا، دوم عید کے دن خالی ٹیکسی ویسے ہی مشکل سے ملتی تھی مگر پارس کو ان تمام باتوں کا سرے سے کوئی تجربہ نہیں تھا اور پھر وہ تو غصے میں نکل کھڑا ہوا تھا۔ اگر عقل کام کررہی ہوتی تو وہ ریاض کو ہی ڈراپ کرنے کے لےے کال کر کے باہر بلا لیتا مگریہ خیال اسے آدھے گھنٹے تک پیدل چلتے رہنے کے بعد آیا تھا لیکن اب وہ ریاض کو فون کر کے اپنا تماشا نہیں بنانا چاہتا تھا کیونکہ ریاض کے لےے بھی وہاں سے اٹھنا آسان نہ ہوتا اور سچ بتانے کی صورت میں سب اس کے ابھی تک پیدل چلنے پر خوب ہنستے۔

وہ چلتے چلتے کوٹھیوں سے نکل کر کمرشل ایریا تک آگیا تھا مگر بازار اور دوکانیں بند ہونے کی وجہ سے اسے اب بھی کسی سواری کا ملنا آسان نہیں لگ رہا تھا۔

آخر اللہ اللہ کر کے اسے روڈ کی دوسری جانب ایک خالی رکشا نظر آہی گیا۔ اتنی دیر بعد کوئی سواری نظر آئی تھی۔ وہ اسے کسی طور گنوانا نہیں چاہتا تھا۔ اس لےے رکشا کی طرف بڑھتے ہوئے اس نے جب روڈ کراس کرنا چاہا تو اپنے بالکل قریب آجانے والی تیز رفتار گاڑی پر دھیان ہی نہیں دیا اور اس کے بعد سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ دھیان دینے یا نہ دینے کا کوئی فائدہ ہی نہیں رہا۔

گاڑی اسے اڑاتی ہوئی آگے بڑھ گئی تھی، رکنا تو درکنار ڈرائیور نے گاڑی کی رفتار بھی لمحہ بھر کے لےے کم نہیں کی تھی۔ اتنی شدید تکلیف کے دوران پارس کو اپنا دماغ مائوف ہوتا لگ رہا تھا۔ وہ ڈرائیور کی بے حسی محسوس کےے بغیر نہ رہ سکا۔

پارس زمین پر لڑھکتا ہوا فٹ پاتھ سے ٹکرایا تھا مگر اس کے ہوش و حواس نے اس کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا۔حالانکہ سر میں اٹھتی شدید ٹیس پر اس کا دل چاہا کہ دونوں ہاتھوں سے اپنا سر تھام لے مگر ہاتھوں نے جیسے ہلنے سے انکار کر دیا۔ اسے اپنے جسم کا ایک ایک انگ دکھتا ہوا محسوس ہورہا تھا۔

سڑک پر رواں دواں ٹریفک میں سے کسی نے بھی رک کر اس حادثے پر تشویش کا اظہار کرنے یا زخمی کی حالت پر غور کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی تھی۔ آخر عید کا مبارک دن تھا کسی کو کھانے پر پہنچنے کی جلدی تھی تو کسی کو مٹھائی خریدنے کی، ایسے مبارک وقت میں کون رک کر اپنا وقت خراب کرتا۔

پارس نے درد کی شدت سے بے جان ہوتے ہاتھ پائوں کو بمشکل حرکت دینے کی کوشش کی تو سب سے پہلے اس کی نظر اپنی جیب سے گر جانے والے موبائل پر پڑی تھی موبائل اس سے صرف چار قدم کے فاصلے پر تھا۔ مگر پارس سے ہلا تک نہیں جارہا تھا وہ کسی بھی طرح ریاض کو اطلاع کرنا چاہتا تھا وہ عکاشہ کے گھر سے زیادہ دور نہیں تھا۔ وہ دس منٹ میں اس تک پہنچ سکتے تھے۔

اپنی ساری ہمتیں مجتمع کر کے پارس نے موبائل کی طرف رینگنے کی کوشش کی وہ اوندھے منہ پڑا تھا۔ کہنیوں کے بل اپنا وجود چار قدم کے فاصلے پر پڑے موبائل تک گھسیٹنا اسے دنیا کا سب سے مشکل کام لگ رہا تھا۔ تھوڑا سا آگے کھسکنے کے بعد وہ نڈھال ہو کر ہانپنے لگا۔ تب اس نے ہاتھ بڑھا کر موبائل اٹھا لینا چاہا مگر اب بھی اس کی انگلیوں اور موبائل کے بیچ پورے دو بالشت کا فاصلہ تھا وہ دو بالشت دو سو میل سے کم نہیں تھے۔ پارس کی بند ہوتی آنکھیں اپنے موبائل پر جمی تھیں تبھی اچانک کہیں سے ایک ہاتھ نمودار ہوا اور اگلے ہی پل سامنے دو بالشت کے فاصلے پر پڑا موبائل پارس کے بجائے اس ہاتھ کی گرفت میں چلا گیا۔ پارس نے سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھنا چاہا، وہ کوئی کم عمر سا لڑکا تھا جس کا حلیہ عجیب لفنگوں جیسا تھا۔ سر پر کیپ لگائے اور گلے میں رومال باندھے اس لڑکے نے موبائل اٹھانے کے بعد دو چار بٹن دبا کر اسے جیب میں رکھ لیا۔ تبھی اس کی نظر پارس پر پڑی اسے ہوش میں دیکھ کر وہ بغور اسے دیکھنے لگا۔ پارس کا ہاتھ اب بھی ویسے ہی بڑھا ہوا تھا جیسے موبائل اٹھالینے کی شدید خواہش اب بھی اس کے دل میں ہو، اس لڑکے نے جھک کر پارس کی کلائی پکڑلی اور اس کی کلائی میں بندھی بیش قیمت گھڑی کھولنے لگا۔

یہ گھڑی کچھ ماہ پہلے ہی اس کے ڈیڈی نے لندن سے لاکر دی تھی۔ پارس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس لڑکے کے منہ پر مکوں اور لاتوں کی بارش کر دے مگر وہ تو ہاتھ تک ہلانے کے قابل نہیں تھا اس نے کبھی خود کو اتنا لاچار نہیں جانا تھا۔ تکلیف اور بے بسی کے احساس سے اس کی آنکھوں میں دھند سی چھانے لگی جب سامنے کا منظر زیادہ ہی دھندلا ہوا تب اسے احساس ہوا کہ اس کے سر سے خون نکل رہا ہے جو سر اٹھا کر دیکھنے کی کوشش میں بہہ کر پیشانی سے ہوتا اب اس کی آنکھوں تک آگیا تھا۔

اس لڑکے نے گھڑی اتارنے کے بعد بڑی لاپروائی سے پارس کی کلائی چھوڑدی جیسے کوئی ڈاکٹر دم توڑ دینے والے مریض کی نبض چیک کر کے اس کا ہاتھ چھوڑ دیتا ہے وہ لڑکا بھی ایسے ہی وہ گھڑی اپنے ہاتھ پر باندھتے ہوئے سیٹی پر کوئی دھن بجاتا واپس مڑ گیا۔

پارس کو لگا کوئی اس کے جسم سے جان آہستہ آہستہ کھینچ رہا ہو۔ اس کی آنکھیں بند ہوتی چلی گئیں پھر بھی اسے اپنے آس پاس مکھیوں کی بھنبھناہٹ جیسی آوازوں پر مشتمل مختلف لوگوں کی باتیں سنائی دے رہی تھیں۔

’’ارے کوئی اسے ہسپتال تو پہنچادے۔‘‘

’’ہاں دیکھو کتنا خون بہہ رہا ہے۔‘‘

’’آج کل خون کی عجیب عجیب بیماریاں پھیلی ہیں اسے کون ہاتھ لگائے گا بھئی۔‘‘

جب تک اس کا ذہن مکمل تاریکی میں نہیں ڈوبا اسے صرف آوازیں آتی رہی تھیں مگر کوئی ہاتھ اس کی طرف نہیں بڑھا تھا اتنی تکلیف اور بے ہوشی کے عالم میں بھی اس کے حواس اسے احساس دلا رہے تھے کہ اس کا چہرہ خون سے بھیگتا جارہا ہے مگر کسی نے اس کے سر پر کوئی کپڑا تک باندھنے کی ضرورت نہیں سمجھی تھی پارس کو اچانک اپنے و الدین اور دادی کا خیال آیا تھا۔ ان کے صدمے سے نڈھال چہرے اس کے ذہن کے پردے پر ابھرے اور پھر ہر چیز تاریکی میں ڈوب گئی۔

ض ض ض

آنکھیں کھولنے کے بعد کچھ دیر تک خالی خالی نظروں سے نامانوس ماحول کو دیکھتا رہا۔ آخر جب اس کا ذہن سوچنے سمجھنے کے قابل ہوا تب اسے پتا چلا کہ وہ ہسپتال کے کمرے میں ہے جس کی کھڑکی سے آتی روشنی دوپہر ہونے کا پتا دے رہی تھی تبھی ایک نرس دروازہ کھولتی کمرے میں داخل ہوئی۔

’’سسٹر مجھے ہسپتال کون لایا تھا؟‘‘ سب سے پہلے اس کے منہ سے بے ساختہ یہی سوال نکلا تو سسٹر بولی۔

’’ارے آپ کو ہوش آگیا۔ اب کیسی طبیعت ہے آپ کی۔‘‘ وہ اس کے بیڈ کے قریب چلی آئی۔

’’پتا نہیں! سر بہت دکھ رہا ہے۔‘‘ پارس نے آہستہ سے کہا۔

’’جی ہاں آپ کے سرمیں بہت گہری چوٹ آئی تھی شاید آپ کا سر فٹ پاتھ سے ٹکراگیا تھا۔ باقی چوٹیں تو زیادہ گہری نہیں تھیں مگر سر میں چوٹ لگنے کی وجہ سے آپ کا خون بھی بہت بہہ گیا تھا اگر آپ کو ہاسپٹل لانے والے نے تھوڑی دیر اور کر دی ہوتی تو۔۔۔ خیر میں ڈاکٹر کو انفارم کرتی ہوں۔‘‘ سسٹر تیز تیز بولتی کمرے سے نکل گئی۔

اسے دو دن بعد ہوش آیا تھا۔ حالانکہ اب وہ خطرے سے باہر تھا مگر اس کے ہوش میں آنے کی اطلاع پاتے ہی اس کے والدین اور دادی کو ایک نئی زندگی مل گئی تھی۔ کچھ ہی دیر میں وہ تینوں، اس کے دیگر رشتے دار اور دوست سب ہسپتال پہنچ گئے تھے حالانکہ سب کو اس سے ملنے کی اجازت نہیں ملی اس کی دادی، ممی، ڈیڈی یا صرف ماموں اور پھوپھی آسکے تھے۔

ممی ڈیڈی اپنی اکلوتی اولاد کو صحیح سلامت دیکھ کر اتنے جذباتی ہوئے کہ ان سے زیادہ بات ہی نہ کی گئی اور دادی تو مسلسل اس پر پڑھ پڑھ کر دم کرتی رہی تھیں۔ ان کی اپنی طبیعت بہت گری گری لگ رہی تھی۔ ڈاکٹر نے جلد ہی انہیں کمرے سے باہر جانے کے لےے کہہ دیا۔

پارس کو کچھ دنوں میں ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا اور ان کچھ دنوں میں سبھی اس سے ملنے آئے تھے مگر ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق کوئی بھی اس کے پاس پانچ منٹ سے زیادہ دیر نہیں رکا تھا اس لےے گھرآکر جب اسے ریاض سے فرصت سے بات کرنے کا موقع ملا تو اس نے پھر اپنا وہی سوال دوہرایا۔

’’تمہیں ہسپتال کون لایا تھا یہ بات تو گورنمنٹ ہسپتال کے اس عملے کو معلوم ہوگی جہاں تمہیں پہلے لے جایا گیا تھا۔ وہاں ڈاکٹر عابد موجود تھے جو تمہیں دیکھتے ہی پہچان گئے۔ انہوں نے جب انکل (ڈیڈی) کو فون کر کے اطلاع دی تو فوری امداد کے بعد باقاعدہ علاج کے لےے انکل تمہیں اس ہسپتال میں لے آئے تھے۔‘‘ ریاض کے تفصیل سے بتانے پر پارس اسے دیکھ کر رہ گیا مگر کچھ کہا اس لےے نہیں کہ جس اذیت سے وہ گزرا تھا اسے صرف وہی محسوس کر سکتا تھا کسی دوسرے سے اس کیفیت کو سمجھنے کی توقع رکھنا بے کار تھا۔ ریاض نے اس کے تاثرات دیکھتے ہوئے وضاحت دینے والے انداز میں کہا۔

’’اصل میں ہم سب اس وقت اتنے ٹینس ہوگئے تھے کہ ان سب باتوں پر دھیان ہی نہیں گیا، تمہارے ماموں نے یہ پتا کرنے کی کوشش ضرور کی تھی کہ وہ کار کون ڈرائیو کر رہا تھا مگر کچھ معلوم نہ ہوسکا۔

جب تمہارے ایکسیڈنٹ کی اطلاع ملی تب ہم سب عکاشہ کے گھر سے جا چکے تھے اس لےے صرف چند ہی لوگ ہاسپٹل پہنچ سکے تب تک تمہیں لانے والا شخص جا چکا تھا اور پھر آتے ہی اتنی بری خبر سننے کو ملی کہ اور کچھ سوچنے اور پوچھنے کا ہوش ہی نہیں رہا۔

ڈاکٹرز نے کہا تھا تمہارے سر میں چوٹ لگی ہے ہوسکتا ہے تمہاری بینائی ختم ہوجائے۔‘‘ ریاض ایک دم چپ ہوگیا تو پارس آہستگی سے مسکرادیا۔

’’ہوں ڈیڈی نے بتایا تھا انہوں نے کتنے صدقے اور خیرات کےے تھے۔ دادی پوری رات، پورے دن مصلُے پر بیٹھی رہی تھیں۔‘‘ پارس اطمینان سے بولا۔ ظاہری بات ہے اب خطرہ ٹل چکا تھا۔ لہٰذا اسے اس موضوع پر بات کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں تھی۔

’’جب ہمیں یہ بات پتا چلی تو ہم سب ہی شاکڈ رہ گئے مگر اس سے بھی زیادہ میں لوگوں کے روےُے دیکھ کر ششدر رہ گیا تھا۔ عکاشہ نے سنتے ہی کہا تھا۔

’’او گاڈ! اگر پارس اندھا ہوگیا تو کتنا عجیب لگے گا۔‘‘ ریاض کے تاسف بھرے انداز پر پارس چپ چاپ اسے دیکھتا رہا۔ اسے یقین تھا ریاض سچ بول رہا تھا اسی لےے وہ اس کی بات پوری خاموشی سے سننا چاہتا تھا جو مزید کہہ رہا تھا۔

’’تب عالیہ کہنے لگی اندھا ہونے سے تو اچھا ہے پارس مر ہی جائے۔‘‘

اس کی بات کسی حد تک حقیقت پر مبنی تھی جب میں نے اسے ٹوکا تو وہ مجھ سے ہی جرح کرنے لگی۔

’’ریاض کیا تمہیں اندازہ نہیں پارس ہمارے کالج کا سب سے ڈیشنگ اسٹوڈنٹ ہے کتنے لوگ اس پر رشک کرتے ہیں اور کتنے جلتے ہیں جب وہ سفید چھڑی لے کر چلا کرے گا تو لوگوں کو کتنا سکون ملے گا۔‘‘

تم یقین نہیں کر سکتے پارس میں نے کس طرح ان لوگوں کو وہاں سے ہٹایا ہے۔ ان کی باتوں کو اگر ہم وقتی صدمے کا ردعمل کہہ کر نظر انداز کردیں تب بھی ان کا بعد کا رویہ بھلایا نہیں جاسکتا۔ عکاشہ تمہیں دوبارہ دیکھنے تک نہیں آئی، چلو تم ہوش میں نہیں تھے مگر تمہاری ماں سے اتنی اچھی سلام دعا ہونے کی وجہ سے اسے ان کے پاس تو آنا چاہےے تھا بلکہ وہ تو تمہارے بارے میں بات تک نہیں کرتی تھی۔ تمہارے ہوش میں آنے کی اطلاع ملنے پر بھی اس نے چھوٹتے ہی پوچھا۔

’’اس کی آئی سائیٹ تو ٹھیک ہے نا۔‘‘

اگر خداناخواستہ میرا جواب نہیں میں ہوتا تو مجھے یقین ہے عکاشہ سمیت بہت سے لوگ تم سے ملنے تک نہیں آتے۔‘‘ ریاض تلخی سے کہتے کہتے چپ ہوگیا۔ پارس کے اپنے احساسات بھی عجیب ہورہے تھے۔ مگر وہ کوئی کمزوری ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا اس لےے ہلکے پھلکے اندازمیں کہنے لگا۔

’’چھوڑو یار لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔ کم از کم اس حادثے کی وجہ سے تمہیں لوگوں کی اصلیت کا علم تو ہوگیا اور پھر ہم کیوں دوسروں پر اعتراض کریں ہم خود کون سے عظیم ہیں جو حادثہ میرے ساتھ ہوا اگر وہ عکاشہ یا کسی اور کے ساتھ ہوتا تو شاید میں بھی یہی کہتا کہ اس سے تو اچھا ہے وہ مرجائے۔‘‘

پارس نے لاپروائی سے کہا اسے وقتی طور پر افسوس ہوا تھا۔ مگر بہت زیادہ غمگین ہونے والی کوئی بات نہیں تھی۔ وہ عکاشہ کے لےے اتنا جذباتی نہیں تھا کہ اس کے انداز پر دل ٹوٹ جاتا وہ اسے پسندضرور کرتا تھا کہ وہ تھی ہی اتنی پرکشش اور کلاس میں سب سے مشہور اور اہم، اس لحاظ سے وہ اس کی دوستی پر فخر بھی محسوس کرتا تھا کیونکہ وہ صرف مخصوص لوگوں کو ہی لفٹ کراتی تھی اور اس میں بھی وہ عکاشہ کی گڈ بک میں شامل تھا یہ سب باتیں اسے سرشار کرنے کے لےے کافی تھیں مگر وہ اس سے جذباتی طور پر وابستہ نہیں تھا اسی لےے ریاض کی اداسی محسوس کر کے اس نے فوراً موضوع بدل دیا۔

ض ض ض

اسے ہسپتال سے ڈسچارج ہوئے ایک ماہ ہوگیا تھا۔ زندگی واپس معمول پر آگئی تھی اس نے کالج جانا شروع کر دیا تھا۔ اور سب سے بالکل پہلے کی ہی طرح ملتا تھا البتہ اس کے روےے میں ایک فرق ضرور آگیا تھا وہ اپنے ممی ڈیڈی اور دادی کے لےے زیادہ حساس ہوگیا تھا۔ اب وہ پہلے کی طرح دوستوں کو ان پر ترجیح نہیں دیتا تھا بلکہ وہ ان کا پہلے سے زیادہ احترام کرنے لگا تھا۔

دادی پہلے بھی اکثر بیمار رہتی تھیں اب ان کی طبیعت زیادہ خراب رہنے لگی تھی۔ وہ مختلف چیک اپ کے لےے جو گھنٹوں ہسپتال میں گزارتی تھیں تو پارس کو کبھی یہ خیال نہیں آیا تھا کہ ہسپتال کا ماحول کتنا بوجھل ہوتا ہے۔ دوائوں کی مخصوص بو کے درمیان اردگرد مصروف سے سنجیدہ عملے کو دیکھ کر دل چاہتا ہے بس فوراً یہاں سے بھاگ جائے۔

ان تمام باتوں کا احساس اسے اب ہوا تھا جب وہ خود ہسپتال میں بے کیف دن گزار کر آیا تھا بلکہ پہلی بار اس نے غور کیا کہ دادی کی زندگی میں تنہائی بہت ہے اس کی ممی کی کافی سماجی سرگرمیاں تھیں ایسے میں دادی گھر میں اکیلی پڑی رہتی تھیں۔ ان کے گھر میں کوئی کل وقتی ملازمہ بھی نہیں تھی۔ ایک چوکی دار تھا اور ایک خانساماں جو مستقل رہتے تھے ورنہ صفائی والی ماسی دوپہر تک چلی جاتی تھی۔

’’دادی کے لےے کوئی عورت ہونی چاہےے جو ان کے چھوٹے موٹے کام کرے اور انہیں کمپنی بھی دے سکے۔‘‘ ایک دن پارس نے کہا تو ڈیڈی فوراً تیار ہوگئے۔ممی نے بھی خاموش رہ کر رضامندی دے دی۔ مگر دادی نے منع کر دیا۔

’’نہیں بھئی کیا ضرورت ہے کسی عورت کو گھر میں رکھنے کی، حالات کتنے خراب ہیں۔‘‘

’’امی حالات تو واقعی خراب ہیں لیکن پارس کی بات بھی ٹھیک ہے۔ آپ کے پاس کسی عورت کوہونا چاہےے اور حالات کی آپ فکر مت کریں ہم کسی بھروسے کی عورت کو ہی رکھیں گے بلکہ پارس تمہارے دوست ریاض کی مدر نے پچھلے دنوں میرے ایک بزنس پارٹنر کے گھر پر ایک ملازم رکھوایا ہے ان کے آبائی گائوں میں پشتوں سے ان کے بھروسے کے ملازم چلے آرہے ہیں تم ریاض سے بات کرلو کہ وہ کسی سمجھ دار اور تمہاری دادی کے مزاج کے مطابق کسی مذہبی عورت کا انتظام کر دیں۔‘‘ ڈیڈی کہتے چلے گئے دادی نے انہیں منع کرنے کی بہت کوشش کی مگر ڈیڈی موبائل بجنے پر وہ بات ادھوری چھوڑ کر اٹھ گئے۔

ایک دن اتفاق سے پارس کا گزر اس گورنمنٹ ہسپتال کے سامنے سے ہوا تو وہ کار پارک کر کے اس شخص کا پتا معلوم کرنے کے لےے ہسپتال میں داخل ہوگیا جو اسے سڑک سے اٹھا کر جانے کیسے یہاں تک لایا ہوگا۔ حالانکہ وہ اس کا پتا مل جانے کی طرف سے زیادہ پر امید نہیں تھا مگر اس وقت اسے خوش گوار حیرت ہوئی جب ہسپتال کے عملے نے اس کی فائل میں سے کسی رفیق نامی شخص کا پتا نکال کر دے دیا۔

پارس اسی وقت اس شخص سے ملنے کے لےے نکل کھڑا ہوا۔ گھرڈھونڈنے میں اسے کافی دقُت ہوئی تھی۔ اس کا ایکسیڈنٹ شہر کے مہنگے ترین علاقے میں ہوا تھا مگر اسے ہسپتال لانے والا شخص بالکل نچلے طبقے کی کچی آبادی سے تعلق رکھتا تھا جہاں گھروں پر نمبر بھی باقاعدہ ترتیب سے نہیں تھے۔

پارس کو اس علاقے میں پہنچنے کے بعد اندازہ ہوا کہ جو پتا ہسپتال کے فارم میں اندراج کرایا گیا تھا وہ کسی قدر نامکمل تھا۔ اپنی بڑی سی گاڑی کو اونچی نیچی تنگ گلیوں سے بہت دور کھڑی کر کے وہ مختلف لوگوں سے رفیق ہاشم شخص کا پوچھتے ہوئے اندر بڑھتا چلا گیا۔

راستے میں گندے اور ننگے بچوں سے سامنا ہونے پر گلی سے گزرنے کی بھی جگہ نہیں بچتی تھی عجیب و غریب بو سے بھری ان گلیوں سے گزرتے وقت ایک لمحے کے لےے بھی اس کے دل میں یہ خیال نہیں ابھرا تھا کہ یہاں سے لوٹ جائے بلکہ جتنا وہ آگے بڑھ رہا تھا اتنا ہی یہ یقین اور پختہ ہوتا جارہا تھا کہ اسے ہسپتال پہنچانے والے شخص کے پاس گاڑی تو کیا سواری کے نام پر ایک ٹھیلا بھی نہیں ہوگا۔

جانے کس طرح اس نے خون سے بھرے پارس کے وجود کو اٹھا کرہسپتال پہنچایا ہوگا۔ سواری کا انتظام کرنے کی صورت میںجانے کتنے پیسے خرچ ہوئے ہوں گے۔

بہت دیر کی دوڑ دھوپ کے بعد آخر وہ ایک خستہ حال دروازے پر دستک دے رہا تھا کیونکہ بیل وغیرہ کا کوئی انتظام موجود ہی نہیں، شہادت والی انگلی کی پشت سے دروازہ بجاتے ہوئے وہ دل ہی دل میں دعا گو تھا کہ یہی رفیق کا گھر ہو۔ راستے میںجس طرح دو چار جاہلوں نے اسے پتانے پر پریشان کیا تھا اس کے بعد اب وہ مزید کسی سے کچھ پوچھنا نہیں چاہتا تھا۔

’’دروازہ کھلا ہے ازل بیٹی۔‘‘ اندر سے کسی بوڑھے مرد کی نحیف سی آواز ابھری تو پارس جیسے سوچ میں پڑ گیا کہ کیا جواب دے لیکن پھر بغیر کچھ بولے ہی دروازہ آہستہ سے دھکیل کر اندر داخل ہوگیا۔

نہایت چھوٹے سے ورانڈے میں ایک طرف چھوٹا ساباورچی خانہ بنا تھا۔ سامنے ایک کمرا تھا اور ایک طرف بند دروازے کے پاس لگا واش بیسن اس دروازے کو غسل خانہ ظاہر کر رہا تھا۔ ورانڈے کے عین درمیان میں ایک پلنگ رکھا تھا جس کے پاس بید کا موڑھا رکھا تھا اس کے علاوہ ورانڈے میں کوئی فرنیچر نہیں تھا۔ پلنگ پر ایک بوڑھا شخص آنکھوں پر بازو رکھے دراز تھا۔

’’آج بہت دیر ہوگئی ازل۔‘‘ اس شخص نے لیٹے لیٹے پوچھا تو پارس گلا کھنکارتے ہوئے بولا۔

’’بابا کیا رفیق صاحب یہیں رہتے ہیں۔‘‘ پارس کے پوچھنے پر وہ شخص چونکتا ہوا بستر پر اٹھ بیٹھا۔

’’کون۔۔۔؟ ارے تم وہی ہو نا جس کا عظمیٰ مارکیٹ کے سامنے ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔‘‘ وہ آنکھوں پر چھجا سا بناتے ہوئے بولا تو پارس حیرانی سے اس کمزور وجود کو دیکھنے لگا وہ تو سمجھ رہا تھا اس شخص کے بیٹے نے اسے ہسپتال پہنچایا ہوگا۔

’’اب کیسی طبیعت ہے تمہاری؟ اس وقت تو تم خون میں نہا گئے تھے لیکن تم یہاں کیسے آئے؟‘‘ اس نے چونکتے ہوئے پوچھا تو پارس نے پلنگ کے پاس رکھے موڑھے پر بیٹھتے ہوئے مختصراً اپنے یہاں آنے کا احوال سنادیا اور کہنے لگا۔

’’میری سمجھ میں نہیں آرہا میں آپ کا شکریہ کبھی ادا کرپائوں گا بھی یا نہیں ابھی تو آپ کو دیکھ کر مجھے یقین نہیں آرہا کہ آپ مجھے ہسپتال لے کر گئے تھے۔‘‘ اس کی بات پر رفیق بابا دھیرے سے ہنس دیا۔ عجیب کھانستی ہوئی نقاہت بھری ہنسی تھی۔

’’ارے ڈیڑھ مہینے پہلے میں اتنا بیمار نہیں تھا یہ تو اچانک ہی دل کا دورہ پڑا تو حالت بگڑتی چلی گئی۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ تمہیں اٹھا کر ٹیکسی تک لے جانا میرے بس کی بات نہیں تھی حالانکہ وہاں اتنے جوان لڑکے کھڑے تھے مگر میرے ہزار بار کہنے پر بھی کوئی آگے نہیں بڑھا۔ ویسے بھی عید کا دن تھا۔ سارا بازار بند تھا ورنہ میں بازار میں دوکانوں پر چائے دینے کا کام کرتا ہوں اگر بازار کھلا ہوتا تو میرے لوگ ضرور آگے آتے۔ میں تو محض ریسٹورنٹ کے مالک سے اپنی تنخواہ لینے گیا تھا۔ ریسٹورنٹ کے پاس ہی اس کا گھر تھا اس مالک نے چائے کے چند گلاس ٹوٹنے پر میری پوری تنخواہ روک لی۔ اب عید کے دن اچانک پیسوں کی ضرورت پڑی تو میں اس کے گھر چلا گیا۔ اللہ کا کرم تھا کہ مالک کی بیوی نے پیسے دے دےے ورنہ میں تمہیں ٹیکسی میں بھی نہیں لے جاسکتا تھا۔‘‘ وہ بوڑھا بیمار شخص شاید سارا دن گھر میں اکیلا پڑا رہتا تھا تبھی پارس کے آتے ہی ایسے بولنے لگا تھا جیسے کسی سے بات کرنے کے لےے ترس رہا ہو جبکہ پارس اس کی بات سن کر بولنا ہی بھول گیا تھا۔

اس غریب آدمی کی تنخواہ ہی کتنی ہوگی جبکہ ٹیکسیوں کے کرائے تو آسمان سے باتیں کر رہے ہیں اور عید کے دن تو معمول سے بھی زیادہ تقاضے کےے جاتے ہیں اس کی تو ساری تنخواہ لٹ گئی ہوگی مگر وہ شخص اس بات کی پروا کےے بغیر اطمینان سے کہہ رہا تھا۔

’’اللہ اللہ کر کے ایک ٹیکسی ڈرائیور تیار ہوا تمہیں اٹھانے کے لےے تو ہسپتال پہنچ کر ہسپتال والوں نے ہاتھ لگانے سے انکار کر دیا۔ ٹیکسی ڈرائیور تو فوراً بھاگ گیا اور ان لوگوں نے مجھے پکڑ لیا۔

یہ آدمی کہاں رہتا ہے؟

کس گاڑی نے ٹکر ماری تھی؟

نمبر دیکھا یا نہیں؟

حادثہ تھا یا کوئی سازش؟

میں نے کہا اللہ کا خوف کرو بھائی، پہلے اس کی پٹی تو کردو مجھے نہیں پتا یہ کون ہے اور کہاں رہتا ہے؟ تمہارے پاس کوئی پرس یا والٹ بھی نہیں تھا جو تمہاری شناخت ہوجاتی۔‘‘ رفیق بابا بستر پر لیٹ کر ہانپنے لگا۔ اتنا بول کر اس کا سانس اکھڑ گیا تھا۔ پارس نے اِدھر اَدھر متلاشی نظروں سے دیکھا اور باورچی خانے میں رکھے مٹکے سے پانی نکال کر لے آیا۔

’’میرا والٹ حادثے کے بعد کسی نے چوری کرلیا تھا اس میں میر اآئی ڈی کارڈ اور لائسنس بھی تھا۔‘‘

’’ہاں لوگوں میں تو انسانیت ہی نہیں ہے ڈاکٹر نے تمہاری حالت دیکھ کر کہا تھا کہ اگر خون اور بہہ جاتا تو تمہاری موت بھی ہوسکتی تھی حالانکہ تمہیں چوٹیں اتنی نہیں آئی تھی اگر کوئی فوراً ہسپتال لے جاتا تو تمہارا اتنا خون ضائع نہ ہوتا میں بعد میں بھی تمہیں دیکھنے گیا تھا مگر پتا چلا تمہارے والدین تمہیں کسی بڑے ہسپتال لے گئے ہیں۔‘‘ رفیق بابا نے پانی پی کر کہا۔

’’میں خود بھی کب سے آپ سے ملنا چاہ رہا تھا آپ نے جو کیا اس کے لےے شکریہ کا لفظ بہت چھوٹا ہے۔ آج اگر میں صحیح سلامت کھڑا ہوں تو صرف آپ کی وجہ سے، ورنہ ایکسیڈنٹ کے وقت مجھے یہی لگا تھا کہ میرا آخری وقت آگیا ہے۔ اتنے لوگوں کی بھیڑ میں ایک بھی ایسا نہیں تھا جو مجھے بچانے کی کوشش کرتا وہ سب ایسے ہی کھڑے مجھے مرتا دیکھتے رہے۔

پہلی بار میں نے خود کو اتنا بے بس اور محتاج محسوس کیا تھا کہ میرے سامنے ایک شخص میری کلائی سے گھڑی اتار کر لے گیا اور میں زبان سے ایک لفظ نہ کہہ سکا۔‘‘ پارس خود کلامی کے انداز میں کہتا چلا گیا تو رفیق بابا بھی گہرا سانس کھینچ کر کہنے لگا۔

’’انسان تو بہت کمزور اور بے بس ہے۔ اس کے اختیار میں ہے ہی کیا، تمہیں پہلی بار ایسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا اس لےے تمہیں اندازہ نہیں تھا۔ ورنہ ہم جیسے تو روز ہر مقام پر خود کو لاچار محسوس کرتے ہیں، اختیارات تو سارے بس اللہ کے پاس ہیں بس وہ بندے کو آزمائش میں نہ ڈالے، بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو آزمائش میں پورے اترتے ہیں اب دیکھو نا تمہاری زندگی تھی تمہیں زندہ رہنا تھا اگر کوئی اور آگے بڑھا ہوتا تو یہ اجر اس کے حصے میں آتا۔ لیکن اللہ سبحان تعالیٰ کو یہ سعادت میرے نصیب میں لکھنی تھی جومیں چھٹی کے دن بھی بازار چلا گیا۔ تمہیں میرا شکریہ ادا کرنے کی فکر نہیں ہونی چاہےے شکریہ ادا کرنا ہے تو اس پاک ذات کا کرو جس نے مجھے وسیلہ بنا دیا۔‘‘

’’وہ تو ٹھیک ہے بابا مگر اس دن میں نے لوگوں کی بے بسی جو دیکھی ہے وہ میں بتا نہیں سکتا۔ آپ کا احسان تو نہیں اتار سکتا لیکن آپ کی خدمت کر کے مجھے خوشی ہوگی۔‘‘ پارس نے ممنوعیت سے بھرپور لہجے میں کہا تو بابا مسکرادےے۔

’’میرے لےے دعا کرو بس یہی میری خدمت ہوگی۔‘‘ بابا نے کہتے ہی اِدھر اَدھر کی باتیں شروع کر دیں شاید انہیں تشکر سے لبریز جملے سننے کا شوق نہیں تھا۔ پارس اپنے ساتھ اچھی خاصی رقم لے کر آیا تھا مگر اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا یہ رقم انہیں کیسے دے اگر وہ اتنے غریب نہ ہوتے تو شاید پارس کو اتنی دقت نہ ہوتی اب تو اپنا یہ فعل اسے انہیں سراسر شرمندہ کرتا لگ رہا تھا۔

آخر جب انہوں نے کہاکہ اپنی بیماری کی وجہ سے وہ آج کل کام پر نہیں جارہے تب پارس نے نوٹوں کا لفافہ ان کے سرہانے رکھ دیا وہ ایک دم اٹھ کر بیٹھ گئے اور اسے باقاعدہ ڈانٹنے لگے۔

’’بابا آپ کا حق بنتا ہے لیکن چلیں آپ اسے قرض سمجھ کر رکھ لیں حالانکہ آپ مجھے ٹیکسی میں لے کر گئے تھے آپ کا اتنا کرایہ خرچ ہوا تھا اور آپ نے۔۔۔‘‘

’’اگر تم واقعی میرے لےے کچھ کرنا چاہتے ہو تو ان نوٹوں کو اٹھالو۔‘‘ رفیق بابا نے سختی سے کہا تو پارس نے خاموشی سے لفافہ اٹھا کر جیکٹ کی جیب میں رکھ لیا۔ فوراً ہی رفیق بابا کے تاثرات میں نرمی آگئی وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگے۔

’’دل چھوٹا نہیں کرو تم میرا گھر ڈھونڈتے آئے یہی بہت ہے ورنہ تمہاری جگہ اگر کوئی اور ہوتا تو ہرگز اتنی زحمت نہ کرتا۔ تم سے مل کر مجھے بہت خوشی ہوئی اگر میرے لےے کچھ کرنا ہی چاہتے ہو تو کبھی کبھی مجھ سے ملنے آجایا کرنا۔‘‘ اس سے پہلے کہ پارس کچھ کہتا گھر کا دروازہ کھولتی ایک لڑکی تیزی سے اندر داخل ہویئ وہ پارس کی موجودگی سے بے خبر سر پر اوڑھی چادر سے ماتھے پر آیا پسینہ پونچھتے ہوئے اپنی ہی رو میں کہنے لگی۔

’’بابا آج پھر بسوں نے ہڑتال کر دی۔ دو گھنٹے پیدل چل کر آئی ہوں۔ صبح تو سکینہ کے ساتھ چلی گئی تھی اگر صبح سکینہ کے ساتھ نہ گئی ہوتی تو میں آج جاتی ہی نہیں، چلتے چلتے میری چپل بھی ٹوٹ۔۔۔‘‘ وہ ایسے ہی بولتی رہتی مگر ٹانگوں میں کھڑے رہنے کی سکت نہیں تھی اور بیٹھنے کے لےے جب اس نے ورانڈے میں پڑے واحد موڑھے کو دیکھا تو اس کی زبان یک دم رک گئی۔ ہاتھ سے چادر آگے کرتی وہ رخ موڑ کر کھڑی ہوگئی۔

’’تم فیکٹری سے پیدل گھر آرہی ہو۔‘‘ رفیق بابا بستر پر آدھا اٹھ بیٹھا تھا۔ اس کی نظریں بیٹی کی چپلوں میں الجھ گئی تھی۔

دوپٹی کی معمولی سی چپل کو اس نے انگوٹھے اور انگلی کو ملا کر زبردستی پکڑ رکھا تھا ورنہ دونوں پٹیاں تلے میں سے نکل کر باہر آگئی تھیں۔ تلے میں چھید کافی بڑھا ہوا لگ رہا تھا۔ جس سے ظاہر تھا کہ راستے میں اس نے کئی بار چپل اتار کر پٹیوں کو تلے میں وقتی طور پرپھنسانے کی کوشش کی ہوگی۔

’’بابا میں اندر جارہی ہوں۔‘‘ وہ مزید کوئی بات کےے بغیر چپل گھسیٹتی کمرے میں چلی گئی تو پارس بھی اجازت لیتا کھڑا ہوگیا۔

’’ارے چائے تو پی کر جائو۔‘‘

’’نہیں بابا بہت دیر ہوگئی ہے مجھے آگے بھی جانا ہے۔‘‘ پارس نے بہانہ بناتے ہوئے کہا۔

’’ٹھیک ہے مگر اگلی بار چائے پےے بغیر نہیں جائو گے۔‘‘

انہوں نے بڑے مان سے کہا تو پارس صرف انہیں دیکھ کر رہ گیا۔ گھر اندر سے بھلے ہی بہت صاف تھا مگر یہاں جانے کون سا پانی اور کون سی پتی استعمال کی جاتی ہوگی جبکہ وہ منرل واٹر کے علاوہ اور کوئی پانی نہیں پیتا تھا۔ مگر وہ کچھ بھی ظاہر کےے بغیر الوداعی کلمات کہتا گھر سے نکل گیا تو انہوں نے پیچھے سے آواز لگائی۔

’’تم سے مل کر بہت اچھا لگا دوبارہ ضرور چکر لگانا۔‘‘

ض ض ض

بہت سارے دن بہت تیزی سے گزر گئے۔ پارس سمسٹر میں اتنا مصروف ہوا کہ دوبارہ رفیق بابا کے گھر جا ہی نہیں سکا۔ حالانکہ وہ ان سے ملنا چاہتا تھا وہ بہت بیمار تھے وہ ان کی عیادت کے لےے جانا چاہتا تھا مگر وقت جیسے پر لگا کر اڑ رہا تھا۔ سمسٹر سے فارغ ہو کر وہ پورے ڈیڑھ ماہ بعد دوبارہ ان کے گھر گیا تھا۔

دستک کے جواب میں ایک نہایت موٹی عورت نے دروازہ کھولا تھا۔ اندر کا منظر پہلے سے یکسر مختلف تھا۔ دو سال سے لے کر دس سال تک کے بچے ورانڈے میں بھاگ رہے تھے اور ورانڈے کی حالت نہایت ابتر تھی۔

’’یہ رفیق صاحب کا گھر ہے نا؟‘‘ پارس نے حیرانی سے پوچھا۔ جواب اس کی توقع کے مطابق نفی میں تھا۔ مگر آگے کا جملہ اس کی توقع کے بالکل برعکس تھا۔

’’نہیں اب اس گھر میں میرا بیٹا، بہو اور بچے رہتے ہیں، رفیق بھائی تو مر گئے۔‘‘

’’کیا؟ کب؟‘‘ پارس کو اپنی سماعتوں پر یقین نہ آیا۔

’’ایک ماہ ہوگیا ہے۔‘‘ وہ کہہ کر دروازے بند کرنے لگی تو پارس جلدی سے پوچھنے لگا۔

’’ان کی ایک بیٹی بھی تو تھی نا وہ اس گھر میں نہیں رہتی تھی۔‘‘ اب کی بار وہ عورت بڑے مشکوک انداز میں سر سے پیر تک پارس کو دیکھنے لگی۔ اس تنگ سے علاقے کی تنگ گلیوں میں رہنے والی وہ تنگ نظر عورت اس وقت کیا سوچ رہی ہوگی اس بات کا اندازہ ہونے کے باوجود پارس نے رتی برابر پروا نہیں کی کیونکہ رفیق بابا سے اِدھر اَدھر کی باتوں کے دوران اسے پتا چل گیا تھا کہ ان کی بیوی دس سال پہلے انتقال کر گئی تھی اور اولاد میں صرف ایک بیٹی تھی اس لےے وہ بیماری کی حالت میں بھی کام کرنا چاہتے تھے۔

جب اس لڑکی کا کوئی بھائی وغیرہ بھی نہیں تھا تو وہ اکیلی کہاں رہ رہی ہوگی۔

بہت دیر تک تیوریاں چڑھائے پارس کو دیکھتے رہنے کے بعد اس نے بھنائے ہوئے انداز میں کہا۔

’’وہ کرایہ نہیں دے سکتی تھی اس لےے گھر چھوڑ دیا۔ وہ کہاں ہے ہمیں نہیں پتا۔ مگر تم کون ہواس کے، کوئی رشتہ دار وغیرہ تو ہیں نہیں۔‘‘ پارس اس کے جواب پر حقیقتاً پریشان ہوگیا تھا۔ ’’وہ اکیلی لڑکی کہاں گئی ہوگی جب ان کا کوئی رشتے دار بھی نہیں ہے۔ جس لڑکی کے پاس راستے میں ٹوٹی چپل جڑوانے کے پیسے نہیں تھے وہ باپ کے کفن دفن اور گھر کے کرائے کا بندوبست کیسے کر سکی ہوگی۔‘‘

’’بتائو تو سہی کون ہو تم؟‘‘ اس عورت نے آنکھیں نچاتے ہوئے پوچھا۔ پارس کا بے اختیار دل چاہا اس کے منہ پر ایک طمانچہ دے مارے۔ وہ اتنا پریشان ہوگیا تھا اور اس عورت کو اٹکھیلیاں سوجھ رہی تھیں۔بڑی مشکل سے اس نے خود پر ضبط کرتے ہوئے رسانیت سے کہا۔

’’عظمیٰ مارکیٹ میں میری دوکان ہے۔ رفیق بابا ہمیں چاے دیا کرتے تھے۔ ان کے کچھ پیسے مجھے لوٹانے ہیں وہ بہت دنوں سے آئے نہیں تو مجھے خود آنا پڑا، کیا آپ ان کی بیٹی کی فیکٹری کا نام بتا سکتی ہیں جہاں وہ کام کرتی تھی۔‘‘ پارس کے جواب پر وہ کچھ دیر اسے گھورتی رہی پھر جیسے اسے یقین آگیا اور اس نے یہاں سے کافی آگے بنی ایک فیکٹری کا نام بتا یا۔ پارس اس کا شکریہ ادا کرتا فوراً آگے بڑھ گیا۔ اور اسی وقت فیکٹری کی طرف روانہ ہوگیا۔

رہ رہ کر اس کے سامنے رفیق بابا کا چہرہ گھوم رہا تھا۔ اس کے وہاں سے نکلتے وقت ان کا آس سے بھرپور لہجے میں کہا وہ آخری جملہ اس کی سماعتوں میں گونج رہا تھا۔

’’تم سے مل کر بہت اچھا لگا، دوبارہ ضرور چکر لگانا۔‘‘

ان کی اتنی نازک حالت دیکھ کر بھی اس نے کبھی سنجیدگی سے دوبارہ آنے کی کوشش نہیں کی۔ ایک ملال سا اس کے اندر اترنے لگا۔ اسے وہ وقت یاد آرہا تھا جب ایکسیڈنٹ کے بعد اس کا دل پہلے سے زیادہ نرم ہوگیا تھا سی لےے اپنی وہ بے بسی یا د کر کے اسے رفیق بابا کا دکھ اور بھی محسوس ہورہا تھا وہ بھی ایسی کسمپرسی کی حالت سے گزر رہے تھے وہ تو چند لمحوں کے لےے اتنا بے بس ہوا تھا جبکہ رفیق بابا جیسے لوگوںکی زندگی کا بیشتر حصہ محرومیوں میں ہی گزرتا ہے۔ پھر بھی انہوں نے پارس سے پیسے لینے سے صاف انکار کر دیا حالانکہ انہیں پیسوں کی ضرورت بھی تھی۔ مگر انہوں نے مانگا بھی تو کیا ’’بس کبھی کبھی ملنے آجایا کرنا‘‘ اور پارس نے وہ بھی نہیں کیا، صبح سے شام تک تنہا پڑے ایک بیمار شخص کی فرمائش میں کتنی التجائیں پوشیدہ ہوں گی باکل ویسے ہی جیسے اس وقت سڑک کے کنارے پڑے پارس کو کسی مددگار کے آجانے کی شدید خواہش محسوس ہورہی تھی۔

جتنا وہ سوچ رہا تھا اس کا پچھتاوا اتنا ہی بڑھ رہا تھا۔ اسی شرمندگی کے زیرِ احساس جب اس نے فیکٹری کے سامنے کار پارک کی تو وہ اس لڑکی کا نام نہ جاننے کے باوجود ذرا بھی نہیں ہچکچایا تھا۔

ریسپشن پر رفیق ہاشم کی بیٹی کے متعلق پوچھتے وقت اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک ہی دن میں ایک کے بعد اسے دوسری بری خبر بھی سننی پڑے گی۔

ریسپشن پر موجود لڑکے نے بھی اس عورت کی طرح ان دونوں کے مابین رشتے کی بابت پوچھا تو پارس نے جب وہ کہانی اس کے سامنے بھی دوہرا دی تب وہ کہنے لگا۔

’’اسے آج ہی پولیس گرفتار کر کے لے گئی ہے۔‘‘

’’کیا۔‘‘ پارس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی تھی۔

’’لیکن کیوں؟‘‘

’’اس نے فیکٹری کے مالک کے ساتھ بدتمیزی کی اور فیکٹری میں سے روپے چوری کرنے کی کوشش بھی کی۔‘‘ پارس ششدر سا کھڑا کا کھڑا رہ گیا۔ وہ رفیق بابا کی بیٹی کو ذاتی طور پر نہیں جانتا تھا اسے نہیں پتا تھا وہ کس ذہنیت کی ہے اور یہ کہ اس الزام میں کتنی سچائی ہے مگر سب سے بھیانک سچائی ایک لڑکی کا حوالات میں بند ہونا تھا اگر حالات سے مجبور ہو کر یا عادتاً اس نے یہ سب کیا بھی تھا تب بھی اخلاقی طور پر پارس کو اسے باہر نکالنے کی کوشش کرنی چاہےے تھی۔

پارس نے ریسپشن پر موجود لڑکے سے تھانے وغیرہ کی معلومات حاصل کرنے کے ساتھ جب فیکٹری کے مالک سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تو ایک درمیانی عمر کا شخص جو کچھ ہی فاصلے پر کھڑا تھا اس کے نزدیک چلا آیا۔

’’آپ مالک سے ازل رفیق کے متعلق بات کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

’’جی میں فیکٹری کے مالک سے اصل صورت حال معلوم کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ پارس بولا۔

’’میں یہاں کا منیجر ہوں۔ اس لڑکی پر جو الزام لگا ہے وہ سراسر جھوٹا ہے۔‘‘ وہ شخص کن انکھیوں سے اِدھر اَدھر دیکھتے ہوئے آواز دبا کر بولا تو پارس ہمہ تن گوش ہوگیا۔

’’فیکٹری کا مالک اچھا آدمی نہیں ہے۔ اس کی نیت ٹھیک نہیں تھی۔ اس نے ازل کو فیکٹری کے ہاسٹل میں رہنے کی جگہ اسی ارادے سے دی تھی مگر ازل نے اس کے مطالبات رد کر دےے پہلے اس نے ڈرایا دھمکایا جب ازل نے جاب چھوڑ کر جانے کے متعلق بتایا تو اس نے غصے سے تلملا کر اسے جھوٹے کیس میں پھنسا دیا۔

اصل میں اس بے وقوف کو چپ چاپ جاب چھوڑ دینی چاہےے تھی مگر اس نے تنخواہ حاصل کرنے کے لےے نوٹس دے کر پراپر طریقے سے ریزائن کیا تھا اور یہی اس کی غلطی تھی۔ اصل میں اسے رہنے کی جگہ بھی نہیں مل رہی تھی اکیلی لڑکی ایسے منہ اٹھا کر کہیں جا بھی تو نہیں سکتی۔‘‘

’’آپ بے فکر رہیں میں سب سنبھال لوں گا۔‘‘ پارس خود شاک میں گھِرا تھا۔ پھر بھی اس نے اپنے اوپر قابو پاتے ہوئے کہا۔

’’جو کرنا ہے جلدی کرنا وہ بڑی سیدھی لڑکی ہے دو گھنٹے ہوگئے ہیں اسے تھانے گئے ہوئے۔‘‘ منیجر کے لہجے میں خدشات بول رہے تھے۔ پارس مالک سے ملنے کا ارادہ ملتوی کرتا سیدھا پولیس اسٹیشن روانہ ہوگیا۔

دسمبر کے اوائل دنوں میں تو شام ہوتے ہی سنُاٹوں کے باعث ہر طرف ویرانی ٹپکنے لگتی ہے اور اس وقت تو رات کے آٹھ بج رہے تھے اس لےے تھانے میں یہاں سے وہاں معلومات حاصل کرتے وقت ٹیوب لائٹ کی روشنی میں بھی اسے ہر سو تاریکی پھیلی محسوس ہورہی تھی۔

کوئی اسے ازل رفیق کے متعلق بتانے کے لےے تیار ہی نہیں تھا اصل میں وہ کسی جلسے میں ہوئے ہنگامے کے کیس میں الجھے تھے ایسا لگ رہا تھا انہوں نے ازل رفیق کے کیس کے سلسلے میں ابھی کوئی کارروائی کی ہی نہیں تھی۔

ایک بار تو پارس کا دل چاہا ڈیڈی کو فون کر کے بلالے مگر ان کا مزاج بہت مختلف تھا۔ وہ فیصلے کرنے کے معاملے میں کافی جلد باز تھے وہ ایک انجان لڑکی کی مدد کرنے کے بجائے اس کی ذات سے ہی بدگمان ہوجاتے اور اگر ایسا ہوتا تو وہ خود تو کچھ نہیں کرتے اوپر سے پارس کو بھی ہاتھ پائوں مارنے نہ دیتے جبکہ پارس اس کی مدد صرف اور صرف رفیق بابا کی وجہ سے کرنا چاہتا تھا حالانکہ اسے منیجر کی بات بالکل صحیح لگ رہی تھی ایک اکیلی لڑکی کے ساتھ ایسی صورت حال کا ہونا کوئی حیران کن بات نہیں تھی لیکن اگر منیجر نے یہ سب نہ بھی کہا ہوتا تب بھی پارس اسے نکالنے کی ہر ممکن کوشش کرتا۔

اس لےے آخر جب بڑی کوششوں کے بعد ایک انسپکٹر نے اس سے سیدھے منہ بات کرنا گوارہ کیا تو پارس نے بغیر لگی لپٹی رکھے اس لڑکی کو یہاں سے نکالنے کا معاوضہ پوچھ لیا۔ انسپکٹر بھی موٹی آسامی کو فوراً تاڑ گیا اس لےے قانون کی باریکیاں سامنے رکھ کر کیس کو مشکل ترین ظاہر کرنے کی کوشش کرنے لگا مگر پارس کی جانب سے تمام تشلی بخش جواب حاصل کرنے کے بعد اس نے واقعی ایک گمبھیر نکتہ اٹھالیا۔

’’اس فیکٹری کا مالک کوئی معمولی آدمی نہیں ہے وہ اگر بعد میں پوچھنے آگیا تو میری وردی اترجائے گی مجھے ایسا پکا کام کرنا ہوگا کہ بعد میں، میں بھی صفائی دے سکوں۔‘‘

’’ٹھیک ہے آپ پکاکام کرنے کا طریقہ کار بتادیں میں ہر طرح کے تعاون کے لےے تیار ہوں۔‘‘ پارس فوراً بولا۔

’’ابھی اس لڑکی کے خلاف ایف آئی آر نہیں کٹی ہے تم اس لڑکی سے اپنا کوئی مضبوط رشتہ ثابت کر کے اسے یہاں سے لے جائو۔ بعد میں اگر کوئی مسئلہ کھڑا ہوا تو ہم فیکٹری کے مالک کو عدالت میں ثبوت دے سکیں گے کہ اس کا رشتے دار اسے لے گیا ورنہ ہم پر بھی الزام آسکتا ہے کہ ہم نے اسے غائب کر دیا۔‘‘ اس کی بات میں وزن تھا پارس سوچ میں پڑ گیا۔

’’میرا تو اس لڑکی سے کوئی رشتہ ہی نہیں ہے مضبوط رشتہ کہاں سے ثابت کروں۔‘‘وہ اتنی دیر سے ان پولیس والوں کی جہالت اور بدتمیزیاں جھیل رہا تھا اس کے اعصاب شل ہوگئے تھے۔

انسپکٹر کچھ دیر اس کی شکل دیکھتا رہا پھر ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے بولا۔

’’ہم قاضی بلالیتے ہیں نکاح پڑھوا کر اسے لے جائو۔‘‘

پارس کو لگا اس کے قریب کوئی زوردار دھماکا ہوا ہو وہ پتھرائی ہوئی نظرں سے انسپکٹر کو دیکھے گیا جبکہ وہ اطمینان سے کہنے لگا۔

’’نکاح نامے کی کاپی ہمارے پاس ہوگی تو ہم بھی فیکٹری کے مالک کی زبان بند کر سکتے ہیں اور تمہیں اور خاص طور پر اس لڑکی کو بھی کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔‘‘ وہ تھوڑی دیر پارس کے بولنے کا انتظار کرتا رہا پھر کرسی پر پہلو بدلتے ہوئے بولا۔

’’اگر یہ منظور نہیں ہے تو پھر صبح کورٹ کھلنے پر ہی آئو اس لڑکی کو میں یہاں سے نکلوادوں گا اس کی تم فکر مت کرو۔ لیکن ابھی آج کے آج ہی اسے چھوڑ کر میں اپنی ملازمت خطرے میں نہیں ڈال سکتا۔ کل ضمانت کے کاغذات لے آئو۔ ہم فوراً اسے تمہارے حوالے کر دیں گے۔‘‘ پارس کے دماغ میں ایسی گڑگڑاہٹ ہورہی تھی جیسے کوئی ٹرین بالکل اس کے کان کے پاس سے گزر رہی ہو۔

وہ رات بھر کے لےے اس لڑکی کو ان پولیس والوں کے پاس چھوڑ کر جانے کے لےے کسی طور پر راضی نہیں تھا۔ دوسرے اگر ایک بار وہ عدالت چلا جاتا تو ضمانت کے کاغذات بننے میں کئی دن لگ جاتے۔ پھر عدالت بھی ضمانت منظور کرنے سے پہلے ان دونوں کے مابین کسی مضبوط رشتے کا سوال ضرور اٹھاتی۔ اگر ڈیڈی اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے ضمانت حاصل کر بھی لیتے تب بھی اس کا نام ایف آئی آر میں درج ہوجاتا پھر کیس لڑنے کے لےے اسے عدالتوں کے جانے کتنے چکر کاٹنے پڑتے اور پھر سوباتوں کی ایک بات وہ اسے یہاں چھوڑ کر جانے کے لےے تیار ہی نہیں تھا بلکہ اب تو اسے اپنے ڈیڈی کو فون کرنا بھی ٹھیک نہیں لگ رہا تھا اگر وہ یہاں آجاتے تو وہ قانونی طریقے سے ہی اس کیس کو حل کر نا چاہتے اور ضروری نہیں تھا کہ اس کوشش میں وہ کسی گرم جوشی کا مظاہرہ کرتے ان کے آنے کے بعد پارس بھی اس کی مدد کرنے سے قاصر ہوجاتا اور اس متبادل حل کے لےے تو وہ ہرگز راضی نہ ہوتے۔

’’آپ ابھی قاضی کو بلادیں میں اسے نکاح کر کے فوراً لے جانا چاہتا ہوں۔‘‘ اسے خود اپنی آواز اجنبی لگی تھی مگر ایک اس ایک جملے کے ادا ہوتے ہی چاروں طرف بلند شور ایک دم تھم گیا بلکہ اتنی خاموشی چھا گئی جیسے اس کے ارد گرد کا منظر بغیر والیم کے چلتی کوئی فلم ہو۔ سب کچھ سلوموشن میں ہورہا تھا۔

ازل رفیق کو بالآخر بلا کر کونے میں رکھی ایک بینچ پر بٹھا دیا گیا وہ آج بھی اس دن کی طرح چادر میں لپٹی ہوئی تھی ۔ اس کا ہولے ہولے ہلتا وجود اس کے بری طرح خوف زدہ اور ہراساں ہونے کی نشاندہی کر رہا تھا۔

پتا نہیں اس نے پارس کو پہچانا تھا بھی یا نہیں۔ البتہ قاضی کے آنے پر اس نے کوئی سوال جواب کےے بغیر نکاح نامے پر دستخط کر دےے۔ اس کی غیر ہوتی حالت کو دیکھ کر پارس کو لگ رہا تھا کہ اسے معلوم ہی نہیں ہوگا اس نے کن کاغذات پر دستخط کر دےے ہیں وہ تو بس انسپکٹر کی ہدایت کے مطابق عمل کر رہی تھی۔

ڈیڑھ گھنٹے کے طویل اعصاب شکن مرحلے کے بعد جب وہ دونوں تھانے سے نکلے تو اپنی اپنی جگہ بالکل خاموش تھے۔

پارس کا ذہن مختلف سوچوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ سب سے پہلا سوالیہ نشان اس کے سامنے ازل کی رہائش کو لے کر تھا وہ اسے اس وقت گھر لے جا کر کسی تنازعے کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا اسے گاڑی میں بٹھا کر پارس نے ریاض کا نمبر ملایا اور گاڑی سے قدرے دور ہٹ کر مختصراً اسے ساری صورت حال سے آگاہ کر دیا۔

کچھ لمحوں کے لےے تو ریاض بھی ششدر رہ گیا مگر وہ واقعی ایک مخلص دوست ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سمجھ دار انسان بھی تھا۔اس نے غیر ضروری باتوں کو چھڑنے کے بجائے وقتی طور پر ازل کو اس کے ایک جاننے والوں کے ہوٹل میں ٹھہرانے کا مشورہ دیا تھا۔ جس پر پارس صرف اس لےے راضی ہوگیا کہ فی الحال یہی ایک قابل عمل حل تھا۔ ریاض اگر کہہ رہا تھا تو وہ واقعی قابل اعتبار ہوٹل ہوگا۔ پھر ریاض نے خود فون کر کے اس کی رہائش کا انتظام کردینے کا یقین دلا کر فون بند کیا تھا۔

ان تمام باتوں کے باوجود رات کے ساڑھے دس بجے اس لڑکی کو اس طرح تنہا ہوٹل کے کمرے میں چھوڑ کر جاتے ہوئے وہ بالکل مطمئن نہیں تھا اس پر وہ لڑکی خاموشی کی ایسی مورت بنی ہوئی تھی کہ پارس کو خود بھی اسے مخاطب کرنا یا کسی قسم کی تسلی دینا مشکل لگ رہا تھا پھر بھی اسے کمرے میں چھوڑ کر جاتے وقت پارس کو کہنا ہی پڑا۔

’’آپ یہاں بے فکر ہوکر رہیں۔ ابھی تھوڑی دیر میں آپ کے کمرے میں کھانا آجائے گا۔ اور باقی جس چیز کی بھی آپ کو ضرورت ہوگی اس کا انتظام صبح ہوجائے گا۔ آپ آرام سے ساری سوچیں جھٹک کر سوجائیں۔‘‘

جن حالات سے وہ گزر رہی تھی اس میں پارس کو خود بھی اپنے الفاظ بالکل کھوکھلے لگ رہے تھے وہ اب بالکل بھی نہیں رو رہی تھی۔ شاید اس کے آنسو صدمے کے زیرِ اثر خشک ہوگئے تھے پارس کی بات سن کر بھی اس کے وجود میں کوئی جنبش نہیں ہوئی۔ وہ ویسے ہی بت بنی کمرے کے بیچوں بیچ کھڑی رہی تو پارس کے لےے وہاں رکنا اور بھی دشوار ہوگیا۔ لہٰذا وہ فوراً کمرے سے نکل گیا۔

سارے راستے اس کا ذہن بری طرح منتشر رہا۔ گھر آکر اپنی اتنی طویل غیر حاضری کا وہ ممی کو کئی تسلی بخش جواب بھی نہیں دے سکا اپنے کمرے میں بیٹھ کر وہ آئندہ کے حالات پر غور کرنے لگا۔

جیسے جیسے وہ اس شاک سے باہر نکل رہا تھا ویسے ویسے اس کے ذہن نے کام کرنا شروع کر دیا تھا۔

اپنے فعل پر اسے کوئی شرمندگی یا پچھتاوا نہیں تھا۔ رفیق ہاشم کی بیٹی ہونے کی حیثیت سے پارس نے جو کچھ بھی اس کے لےے کیا وہ اس کی پوری طرح مستحق تھی کہ اس نے اپنے ماحول اور اپنی حیثیت سے اتنے نچلے طبقے کی لڑکی سے شادی کرنے کا کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا اس لےے وقتی طور پر نکاح کا لفظ سن کر اس کا ذہن سن ہوگیا تھا مگر جیسے ہی اسے اپنے اقدام میں گنجائش کا احساس ہوا اس کی الجھن میں کمی آنے لگی۔

اس نے حالات سے مجبور ہو کر محض نکاح کیا تھا ضروری نہیں تھا کہ اس رشتے کو ساری عمر کے لےے اپنے اوپر مسلط کر لیا جائے وہ اس کے محسن کی بیٹی تھی اور وہ کوئی احسان فراموش نہیں تھا جو اپنے محسن کی بیٹی کو رلنے کے لےے چھوڑ دیتا۔ وہ اس کی ذمہ داری اٹھانے کے لےے جی جان سے تیار تھا مگر اس کے لےے ضروری نہیں تھا کہ وہ اسے اپنی بیوی بنا کر اپنی زندگی میں شامل کرتا وہ اس کے لےے کوئی اچھا لڑکا تلاش کر کے اس کی شادی کر کے بھی اس فرض کو ادا کر سکتا تھا مگر وہ اس معاملے میں کسی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ آخر یہ ایک لڑکی کی زندگی کا سوال تھا۔ اس میں وقت چاہے جتنا بھی لگے کام پوری خوش اسلوبی سے ہونا چاہےے تھا مگر تب تک اس لڑکی کو ایک محفوظ چھت مہیا کرنا بہت ضروری تھا۔

وہ اس کے لےے کوئی فلیٹ وغیرہ خرید کر اسے وہاں بھی رکھ سکتا تھا مگر اس کے ڈیڈی کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا۔ اگر کسی کو بھنک بھی پڑجاتی تو سارے شہر میں ڈھنڈورا پٹ جاتا۔ ویسے بھی یہ کوئی ایک دو دن کی بات نہیں تھی وہ ایک بالکل تنہا لڑکی کو کسی بھی گھر یا فلیٹ میں ایسے ہی اکیلا نہیں چھوڑ سکتا تھا اسے ریاض کے بتائے ہوٹل میں ٹھہرا کر جب وہ اتنا بے سکون تھا تو بھلا کوئی اورجگہ اس کے لےے تسلی بخش کیسے ہوسکتی تھی۔

ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ اس کے ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا وہ اپنے والدین کو اس ساری صورت حال سے آگاہ نہیں کرنا چاہتا تھا جب وہ اسے چھوڑنے کا ارادہ کر ہی چکا تھا تو پھر کیا ضرورت تھی انہیں ساری تفصیل بتا کر مضطرب کرنے کی اور ابھی جو خیال اسے آیا تھا اس سوچ کے بعد وہ انہیں کچھ بتانے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ورنہ وہ خوامخواہ کے شک و شبہات میں مبتلا رہتے۔ وہ جیسے سارے فیصلے کر کے ایک دم مطمئن ہوگیا اور ایک بار پھر ریاض کا نمبر ملانے لگا۔

ض ض ض

اگلے دن ناشتے سے فارغ ہو کر بظاہر وہ کالج جانے کے لےے نکلا تھا جبکہ اس کا رخ ہوٹل کی طرف تھا۔

ریاض سے سارے معاملات طے کر کے وہ بہت پَرسکون ہوگیا تھا اسی لےے اب وہ اس لڑکی سے تفصیلی بات کرنا چاہتا تھا۔

ہوٹل پہنچتے ہی اسے اطلاع ملی کہ اس کا آرڈر کیا کھانا بیرا کل رات ایسے ہی واپس لے آیا کیونکہ اس لڑکی نے دروازہ ہی نہیں کھولا۔

پارس نے جب اوپر جا کر دروازہ کھٹکھٹایا تب بھی اس نے کئی بار دستک دینے کے بعد دروازہ کھولا تھا۔

’’بہت دیر لگادی دروازہ کھولنے میں، کیا سوچ رہی تھیں۔‘‘ اس کا چہرہ دیکھ کر لگ رہا تھا جیسے وہ رات بھر سوئی نہ ہو مگر اس کی خاموشی توڑنے کے لےے پارس کو کچھ تو کہنا ہی تھا وہ کچھ دیر اس کے سوال پر سر جھکائے خاموشی سے کھڑی رہی پھر بہت ٹھہر ٹھہر کر بولی۔

’’آپ کا نام سن کر میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا اور انجان لوگوں کے لےے میں دروازہ نہیں کھولتی۔‘‘ اس کاجواب سن کر پارس کچھ چپ سا ہوگیا کل رات اسے بہت دیر ہوگئی تھی اس لےے کھانا آنے تک اس کے پاس رک نہیں سکا اور وہ نہ جانے کب سے بھوکی ہونے کے باوجود بیرے کا لایا کھانا نہیں کھاسکی اس نے رات کو بھی اس لےے دروازہ نہیں کھولا ہوگا اپنی جلد بازی پر اسے افسوس تو ہوا مگر فوراً بات بدلتے ہوئے کہنے لگا۔

’’کیا آپ میرے بارے میں کچھ جانتی ہیں میرا مطلب ہے کہ کیا بابا نے میرے متعلق کچھ بتایا تھا۔‘‘ پارس کو احساس تھا وہ اچانک در آنے والی اس صورت حال سے کتنی پریشان ہوگی اس لےے وہ جلد سے جلد اس پر یہ ظاہر کر دینا چاہتا تھا کہ وہ ہر طرح سے اعتبار کے قابل ہے۔ ورنہ اپنے فیکٹری کے مالک کے روےے کو دیکھنے کے بعد یقینا وہ اس کی جانب سے بھی شک و شبہات کا شکار ہوگی اور وہ اس کے سارے وہم دور کر دینا چاہتا تھا اس نے پارس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا شاید وہ جانتی تھی تب ہی اس نے نفی نہیں کی تھی لیکن ظاہری بات تھی وہ حوالہ ایسا کوئی تفصیلی نہیں تھا کہ جس پر وہ اس سے متعارف ہونے کا دعوا کر سکتی لہٰذا پارس نے خود ہی کہنا شروع کر دیا۔

’’آج سے تقریباً ڈھائی تین ماہ پہلے آپ کے بابا نے میری جان بچائی تھی ان کا کہنا تھا کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ ہے لیکن اگر تقدیر کے لکھے میں انسانی کوششوں کا کوئی عمل دخل ہے تو آج میں اللہ کے بعد صرف رفیق بابا کی وجہ سے یہاں زندہ اور صحیح سلامت کھڑا ہوں۔

میں ان سے ملنے صرف ایک بار آسکا۔ حالانکہ میں دوبارہ آنا چاہتا تھا۔ انہوں نے جو میرے لےے کیا میں اس کا بدلہ نہیں چکا سکتا مگر میں ان کا تہ دل سے مشکور ہوں اسی لےے میں کل ان سے دوبارہ ملنے ان کے گھر گیا تھا۔‘‘ پارس دیوار کے ساتھ رکھے صوفے پر بیٹھتے ہوئے اسے کل کی ساری روداد سنانے لگا اور سب کہنے کے بعد اس نے گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھا تو وہ ابھی تک دروازے کے پاس ویسے ہی کھڑی تھی بس اب اس کی نظریں زمین پر نہیں گڑی تھیں بلکہ وہ سر اٹھائے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔

ڈیڑھ ماہ پہلے پارس نے اس کا چہرہ ٹھیک طرح سے نہیں دیکھا تھا جو ایک جھلک اس نے دیکھی تھی وہ اس کے ذہن سے کافی حد تک محو ہوگئی تھی اب اس کی جانب دیکھنے پر پارس کو احساس ہوا کہ وہ بہت کم عمر ہے ورنہ فیکٹری میںکام کرنے کی وجہ سے اس کے ذہن میں کسی ورکنگ ویمن کا خاکہ بن گیا تھا جبکہ وہ اٹھارہ، انیس سال سے زیادہ کی نہیں لگ رہی تھی اور پھر اس کا چہرہ اس کے ماحول کی لڑکیوں سے کافی مختلف تھا اس کے کپڑے بہت معمولی تھے اس لےے اس کی شخصیت ایک نظر میں بالکل واجبی سی لگی تھی ورنہ وہ اپنے ماحول کی چیخ چیخ کر ہاتھ نچاتے ہوئے لڑنے کے انداز میں باتیں کرتی لڑکیوں سے کافی الگ الگ رہی تھی کیونکہ اس کے چہرے پر ایک محسوس کی جانے والی نرمی تھی اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں تیرتی سنجیدگی اسے بہت باوقار ظاہر کر رہی تھی اور پھر پارس نے ساری تفصیل بتانے کے بعد آخر میں اس کے والد کی تعریف کرتے ہوئے جب یہ کہا۔

’’آپ اس فیکٹری کے مالک اور پولیس والوں سے بالکل خوف زدہ نہ ہوں میں آپ پر کوئی مشکل نہیں آنے دوں گا۔ آپ کے والد بہت عظیم انسان تھے دنیا میں ان جیسے بہت کم لوگ ہوں گے مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ تمام انسانوں سے مایوس ہوجائیں۔‘‘

پارس کا تسلی بھرا یہ انداز سن کر اس کی آنکھیں جھلملانے لگی تھیں وہ پلکیں جھپک کر آنکھوں میں آئی نمی کو پینے کی کوشش کرنے لگی پارس خاموشی سے اسے دیکھتا رہا وہ تو بھول ہی گیا تھا کہ وہ کیا کہنے آیا تھا اور اب نہ جانے کیوں اسے وہ سب کہنا مشکل بھی لگ رہا تھا۔ تبھی اس کے چہرے پر سے نظریں ہٹا کر وہ مناسب الفاظ ڈھونڈنے لگا۔

’’وہاں پولیس والوں نے آ پ کو آزاد کرنے کی یہی شرط رکھی تھی کہ میں نکاح کر کے ہی آپ کو اپنے ساتھ لے جاسکتا ہوں مجھے اندازہ ہے آپ کے لےے بھی اچانک اتنا بڑا فیصلہ کرنا کٹھن رہا ہوگا۔ میں نے بھی رات کو گھر پہنچ کر اپنے گھرمیں کسی کو کچھ نہیں بتایا۔ میرے گھر میں میرے ماں باپ اور میری دادی رہتی ہیں میں ابھی اچانک انہیں یہ سب نہیں بتا سکتا اور تب تک آپ کا اکیلے رہنا بھی کچھ مناسب نہیں اس لےے میں آپ کو اپنے گھر کسی اور حوالے سے لے جانا چاہتا ہوں۔‘‘ پارس کی زبان نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا حالانکہ ریاض سے بات کر کے اسے سب کچھ بہت آسان لگ رہا تھا اس نے تو سوچا تھا وہ اس لڑکی کے پاس جا کر اس سے کہے گا کہ ’’میرے گھر والے اس شادی کو ہر گز قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی میں انہیں یہ صدمہ پہنچانا چاہتا ہوں میری دادی کے لےے ہمیں ایک عورت کی ضرورت تھی جس کے لےے میں نے اپنے دوست سے بات بھی کی تھی اب میں تمہیں اپنے گھر یہی کہہ کر لے جائوں گا کہ میرے دوست نے تمہیں دادی کے لےے رکھوایا ہے۔‘‘

وہ جس علاقے اورماحول کی لڑکی تھی اس کے لےے ایک بوڑھی عورت کی خدمت کرنا کیا مشکل ہوگا۔ دادی کون سا بہت بیمار رہتی تھیں۔

مگر اب اس کے سامنے یہ سب کہتے ہوئے اس کا منہ نہیں پڑ رہا تھا کہ وہ اپنے محسن کی بیٹی سے نکاح کر نے کے بعد یہ کہے کہ میں تمہیں بیوی کے بجائے اپنے گھر میں ملازمہ کی حیثیت سے لے جارہا ہوں اس سے پہلے کہ اسے کوئی مناسب الفاظ ملتے وہ خود ہی دھیرے سے کہنے لگی۔

’’اگر آپ کے لےے یہ سب گھر میں بتانا مشکل ہے تو آپ بتائیں ہی نہیں بلکہ مجھے اپنے گھر لے جانے کی بھی ضرورت نہیں۔ آپ بس مجھے کہیں ملازمت دلا دیں، رہنے کو تو میں دارالامان میں بھی رہ لوں گی۔ بابا کے انتقال کے بعد سے میں گرلز ہاسٹل میں ہی رہ رہی تھی۔‘‘ اتنے برے حالات سے گزرنے کے باوجود وہ بڑے سلجھے ہوئے اندازمیں بڑی رسانیت سے بول رہی تھی بلکہ بڑی حقیقت پسندی سے اس نے خود ہی اس رشتے کو بے جوڑ سمجھتے ہوئے اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی نہ ہی اپنی ذمہ داری اٹھانے کے لےے اس کے سامنے اپنی بے بسی کا رونا رویا بلکہ اس کے برعکس اس نے بڑے اعتماد سے اپنا بوجھ خود اٹھانے کی یقین دہانی کرانی چاہی تھی۔

’’اتنا کچھ ہونے کے بعد بھی آپ پھر کسی گرلز ہاسٹل اور دارالامان جیسی جگہ پر جانا چاہتی ہیں۔‘‘ پارس نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا مگر وہ جیسے انجان بنتے ہوئے کہنے گی۔

’’سب ایک جیسے نہیں ہوتے۔‘‘ اپنی بات اسے خود بھی کھوکھلی لگی تھی تبھی اس کا اگلا جملہ بڑا ٹھوس اور حقیقت پر مبنی تھا۔

’’میری ماں کا بہت عرصہ پہلے انتقال ہوگیا تھا۔ میرے ننھیال والے مجھ سے کبھی ملنے نہیں آئے اور بابا کے کوئی بہن بھائی نہیں تھے اگر خاندان میں دور پرے کا کوئی رشتے دار ہے بھی تو ان میں سے کوئی مجھے اپنے گھر رکھنے کے لےے تیار نہیں ہوگا اب ایسی صورت میں مجھے یہ نہیں دیکھنا کہ میں کہاں جانا چاہتی ہوں بلکہ صرف یہ دیکھنا ہے کہ میں کہاں جاسکتی ہوں۔‘‘

وہ کچھ پل کے لےے لاجواب ہوگیا تھا۔ وہ کافی سمجھ دار لڑکی تھی اس سے بات کرنا اتنا مشکل نہیں تھا۔ پارس نے سب کچھ کہنے کا فیصلہ کرتے ہوئے بات شروع کی۔

’’میں آپ کو کسی ایسی جگہ پر نہیں چھوڑ سکتا جہاں آپ کے غیر محفوظ ہونے کا ایک فیصد بھی امکان ہو۔ آپ میرے ساتھ میرے گھر چلیں گی مگر آپ کے ماضی اور حال کے متعلق میرے گھر میں کسی کو کچھ پتا نہیں چلنا چاہےے۔ میری دادی بہت بیمار رہتی ہیں۔ ہم لوگ ان کے لےے کوئی ایسی عورت رکھنا چاہتے تھے جوصرف نرس نہ ہو بلکہ ان کی تنہائی بھی شیئر کرے اب آپ وہ لڑکی بن کر جائیں گی اور ان کو اپنے بارے میں وہی بتائیں گی جومیں کہوں گا لیکن اس سے پہلے آپ کو میرے ساتھ بازار چلنا ہوگا آپ اپنی ضرورت کی تمام چیزیں خرید لیں آپ کا پچھلا سامان جہاں کہیں بھی ہے وہ اگر ممکن ہوا تو بعد میں منگوالیا جائے گا مگر آپ میرے گھر میں ایسے داخل ہوں گی جیسے بہت دور کے کسی گائوں سے طویل سفر کر کے آئی ہیں۔‘‘ پارس حتمی انداز میں کہتا ہوا کھڑا ہوگیا۔

وہ دن اس کی زندگی کا سب سے عجیب دن تھا۔ اس نے ناشتا تو کمرے میں منگوالیا جسے اس نے برائے نام ہی کھایا تھا مگر اسے بازار لے جانے کے لےے اس کے ساتھ باہر جاتے ہوئے پارس کو بہت عجیب محسوس ہورہا تھا وہ اسے جان بوجھ کر ایسی دوکانوں پر لے کر نہیں گیاجہاں اس کے کسی جاننے والے کے مل جانے کا امکان ہو۔ ویسے بھی وہ اسے ایک گائوں کی لڑکی کے طور پر ممی ڈیڈی کے سامنے لے جانے والا تھا اسی لےے اس کی خریداری بھی ایسی ہی ہونی چاہےے تھی کسی ٹاپ کلاس ماڈل جیسی نہیں۔ وہ ممی کو چونکنے کا کوئی موقع نہیں دینا چاہتا تھا مگر اسے سلے سلائے معمولی سے کپڑے دلاتے ہوئے پارس کو شرمندگی بہت ہورہی تھی لیکن ازل کے روےے سے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اس کے پیسوں سے ایک چیز بھی خریدنے کے لےے آمادہ نہ ہو اور زبان سے انکار کی ہمت نہ ہو، پارس نے اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دو گھنٹے کے اندر اندر اس کا بکس تیار کر دیا۔

ان کے لوٹنے تک ریاض بھی ہوٹل پہنچ گیا تھا بلکہ ریسپشن کے پاس کھڑا ان کا انتظار ہی کر رہا تھا۔ پارس، ازل کو کمرے میں جانے کا کہہ کر خود اس کے نزدیک چلا آیا تو وہ چھوٹتے ہی بولا۔

’’یہ ہے رفیق بابا کی بیٹی؟‘‘

’’ہاں۔‘‘ پارس اس کے حیرت بھرے لہجے پر چونکا۔

’’تم نے تو کہا تھا فیکٹری میں کام کرنے والی عورت ہے یہ تو بالکل لڑکی لگ رہی ہے۔‘‘

’’مجھے خود اندازہ نہیں تھا کیوں کوئی پرابلم؟‘‘

’’کئی پرابلمز۔‘‘ ریاض تڑک کر بولا۔

’’کم عمر لڑکی کو تو کوئی بھی اپنے گھر میں رکھنا نہیں چاہتا، اگر تمہاری دادی نے میری مما کو فون کر کے اس کا پورا بائیو ڈیٹا پوچھ لیا تو۔‘‘ ریاض کے پریشانی سے کہنے پر وہ خود بھی الجھ گیا۔

’’تم نے تو کہا تھا گائوں میں بہت ساری عورتیں ہیں جو تمہارے کھیتوں میں کام کرتی ہیں جن کا نام بھی تمہاری مما کو نہیں پتا ان ہی میں سے کسی کی رشتے دار بنا کر پیش کر دو کسی کو شک بھی نہیں ہوگا۔‘‘

’’یہی تو میں کہہ رہا ہوں یہ اگر کوئی تیس بتیس سال کی عورت ہوتی تو کسی کو شک بھی نہیں ہوتا اور تمہاری دادی کو ٹوہ بھی نہ ہوتی لیکن اب اگر انہوں نے متجسس ہو کر میری مما کو فون کرلیا تو مما اس کا پورا شجرہ نسب معلوم کرنے کھڑی ہوجائیں گی اور اگر میں نے زیادہ لا علمی ظاہر کرنے کی کوشش کی تو وہ اسے فوراً نکال باہر کرنے کا مشورہ دے دیں گی تمہاری دادی کو، بھئی کون ذمہ داری لے گا ایک بالکل انجان لڑکی کی، وہ بھی ایسے حالات میں جہاں آئے دن اخبار میں نوکروں کے واردات کر کے فرار ہوجانے کی خبریں چھپتی رہتی ہوں۔‘‘ ریاض کہتا چلا گیا، پارس بھی تھوڑا بہت پریشان ہوگیا تھا مگر اس نے یہ سوچ کر خود کو زبردستی اطمینان دلا دیا کہ دادی اتنی گہرائی میں نہیں جائیں گی بلکہ جاتے ہی وہ ازل کی ایسی دکھ بھری کہانی سنادیں گے کہ دادی کا دل پسیج جائے اور وہ اسے فوراً اپنے پاس رکھنے کے لےے تیار ہوجائیں۔

ض ض ض

دوپہر کو پارس ایسے ہی گھر لوٹا جیسے کالج سے گھر آیا ہو اس کے آنے کے تین گھنٹے بعد اس کی ہدایت کے مطابق ریاض ازل کو ہوٹل سے پک کرتا اس کے گھر پہنچ گیا۔ وہ دونوں ہی ازل کو اچھی طرح سمجھا چکے تھے کہ اسے کیا کہنا ہے لیکن پھر بھی جب وہ ریاض کے ساتھ آتی دکھائی دی تو اسے دیکھ کر پارس کو نئے سرے سے گھبراہٹ ہونے لگی۔

آج ڈیڈی کی فلائیٹ تھی وہ کچھ دنوں کے لےے بزنس کے سلسلے میں شہر سے باہر جارہے تھے۔ اس لےے وہ سب ان کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کے لےے لان میں آبیٹھے تھے۔ ریاض کی گاڑی دیکھ کر چوکی دار نے گیٹ کھول دیا تھا مگر اس کے ساتھ کسی لڑکی کو پورچ میں اترتا دیکھ کر وہ سبھی ان کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔ ایک سوائے پارس کے جو اپنے والدین اور دادی کے تاثرات دیکھنے لگا تھا۔

ریاض نے قریب آکر اس لڑکی کا تعارف کرایا تو ممی اور دادی خلافِ توقع چپ رہیں البتہ ڈیڈی انگلش میں کہنے لگے تاکہ وہ لڑکی نہ سمجھ سکے۔

’’بیٹے تمہیں اس کے علاوہ کوئی نہیں ملا ہمارے گھر لانے کے لےے۔‘‘

’’کیوں انکل کیا ہوا؟‘‘ ریاض فوراً نروس ہوگیا، پارس بھی سانس روکے ان کی طرف دیکھنے لگا۔

’’یہ تو بہت کم عمر لگ رہی ہے۔‘‘ ریاض نے ایک نظر پارس کو دیکھا جیسے کہہ رہا ہو۔

’’میں نے کہا تھا نا۔‘‘ پھر ایسے بولنے لگا جیسے ڈیڈی کا مطلب نہ سمجھا ہو (یہ اور بات تھی کہ وہ اچھی طرح سمجھ گیا تھا)

’’ارے انکل کم عمر ہونے کے باوجود یہ لوگ بہت ماہر اور تجربے کار ہوتے ہیں، سب کچھ آسانی سے سنبھال سکتے ہیں۔‘‘

’’تم سمجھے نہیں، کسی لڑکی کو گھر میں رکھنا ایک ذمہ داری ہوتی ہے اور تم لائے بھی اتنی خوب صورت لڑکی کو ہو۔‘‘ ڈیڈی کچھ چڑ گئے تھے ریاض کی وضاحت پر، تب ہی بڑے صاف لفظوں میں انہیں سمجھانا پڑا تھا۔ پارس کی نظریں بے ساختہ اس کی طرف اٹھی تھیں مگر راستے میں ہی پلٹ گئیں بروقت اسے احساس ہوا تھا جیسے ڈیڈی کن انکھیوں سے اس کی طرف متوجہ ہوں۔

ریاض کچھ دیر بڑی بے بسی سے کبھی انہیں اور کبھی پارس کو دیکھتا رہا پھر بڑی درد بھری آواز میں بولا۔

’’انکل یہ بالکل بے سہارا اور مظلوم لڑکی ہے۔ گائوں میں میرے رشتے کی پھوپھی کی ہدایت پر اتنا لمبا سفر کر کے اکیلی آئی ہے، انہیں اس پر بڑا بھروسا ہے تب ہی بھیجا ہے۔‘‘ ریاض کے منمنا کر کہنے پر ممی جو اتنی دیر سے خاموش تھیں ان دونوں کی طرح انگلش میں بولیں۔

’’اب وہ لے آیا ہے تو رکھ لیں نا کچھ دنوں میں اندازہ ہوجائے گا کہ کیسے چال چلن کی ہے پھر فیصلہ کرلیں گے۔‘‘ ممی نے فیصلہ سنانے کے باوجود حاضرین کو رائے طلب نظروں سے دیکھا تو پارس نے ایسے کندھے اچکا دےے جیسے اس معاملے میں کوئی دلچسپی نہ ہو۔ دادی انگلش بول نہیں سکتی تھیں مگر سمجھ اچھی طرح لیتی تھیں انہوں نے بھی رضامندی دیتے ہوئے سر اثبات میں ہلا دیا تو ڈیڈی ’’جیسے تمہاری مرضی‘‘ کہتے اٹھ گئے۔

پارس نے کب کا روکا سانس بڑی آہستگی سے باہر خارج کیا اور ریاض کو دیکھنے لگا ان دونوں نے ہی اپنے اپنے چہرے پر سنجیدگی طاری رکھنے کی کوشش کی ہوئی تھی۔ پھر بھی ایک دوسرے کو دیکھ کر وہ دونوں ہی اپنی مسکراہٹ نہیں روک سکے تھے۔

ض ض ض

ازل کو گھر لانے کے بعد پارس اتنا مطمئن ہوا تھا کہ اسے تقریباً بھول ہی گیا تھا اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ازل نے خود کو دادی کے کمرے تک محدود کر لیا تھا تو دوسری وجہ پارس کا بے تحاشا مصروف لائف اسٹائل تھا۔ وہ صبح اٹھتے ہی کالج چلا جاتا، ناشتا کرنے کی اسے بچپن سے عادت نہیں تھی بس کالج پہنچ کر کچھ بھی کھالیتا۔ کالج سے فارغ ہو کر وہ جم چلا جاتا، وہاں سے چار پانچ بجے تک لوٹتا تو گھر میں سب کھانا کھا چکے ہوتے تھے وہ نہا دھو کر کھانا کھاتا، کچھ دیرسوتا اور پھر اٹھ کر دوستوں کی طرف نکل جاتا پھر رات تک کا سارا وقت ان ہی کے ساتھ گزرتا جس میں کمبائن اسٹڈی سے لے کر گھومنا پھرنا سب شامل تھا۔

ایکسیڈنٹ کے بعد سے اس معمول میں ذرا سا فرق آگیا تھا اب پچھلے کچھ مہینوں سے وہ کالج سے جم جانے کے بجائے ڈیڈی کے آفس چلا جاتا اس کا مقصد تو ان کا ہاتھ بٹانا تھا مگر ایک طرح سے وہ ابھی صرف کام سیکھ رہا تھا ان کے ساتھ لنچ کر کے وہ شام تک گھر آتا پھر کچھ دیر سونے کے بعد جم روانہ ہوجاتا وہاں سے واپس آکر ٹائم ملتا تو دوستوں کی طرف جاتا ورنہ سیدھا گھر آجاتا۔ دوستوں کو اس سے شکایت تو ہوتی تھی مگر وہ زیادہ دھیان نہیں دیتا تھا۔ اور پھر رات کے کھانے کے بعد سے لے کر سونے تک وہ سارا وقت گھر میں ہی گزارتا اور ان اوقات کار میں جب پورا گھر اکٹھا ہوتا تو ازل کبھی کمرے سے باہر نہ نکلتی اس کا بستر دادی کے کمرے میں ہی لگا دیا گیا تھا۔ کھانا وہ عام طور پر کچن میں ہی کھاتی تھی ۔ ایک طرح سے پارس اگر اسے بھولا نہیں تھا تو بھی اس کی مسلسل غیر حاضری کی وجہ سے وہ اس کے ذہن سے محو ضرور ہوگئی تھی۔

لیکن جب اسے یہاں رہتے ہوئے دو ماہ ہوگئے تب دادی نے اس کا ذکر کر کے نا صرف پارس کو چونکا دیا بلکہ پریشان بھی کر دیا۔

’’پارس! مجھے تمہارے دوست ریاض کی والدہ کا نمبر چاہےے۔‘‘ حسبِ معمول جب وہ رات کے کھانے کے بعد لان میں چہل قدمی کر رہے تھے دادی نے اچانک کہہ کر اسے الجھن میں ڈال دیا۔

’’کیوں دادی۔‘‘

’’مجھے ازل کے بارے میں ان سے بات کرنی ہے۔‘‘

پارس کے بڑھتے قدم اپنی جگہ تھم گئے۔

’’کیا بات کرنی ہے۔‘‘ وہ ایسے بولا جیسے گہری نیند میں ہو۔

’’یہی کہ اس لڑکی کو ملازموں والے کام پر کیوں لگا دیا۔‘‘ پارس کے رکنے پر دادی بھی رک گئی تھیں۔ ممی ڈیڈی دو رکھڑے اپنے باغبانی کے شوق کی تسکین میں لگائے جا بجا پھولوں کے مشاہدے میں مصروف تھے۔

’’میں سمجھا نہیں دادی! کیا آپ کو اس سے کوئی شکایت ہے۔‘‘ پارس تفکر سے انہیں دیکھنے لگا۔

’’ارے نہیں بھئی۔ وہ اتنی نمازی، پرہیزگار لڑکی سے مجھے کیوں شکایت ہونے لگی ہم لوگ جو اس وقت لان میں چہل قدمی کر کے وقت برباد کرتے ہیں اور وہ اتنی سی بچی مجھ قبر میں پائوں لٹکائی عورت سے زیادہ عاقبت اندیش، عبادت اور نوافل میں مشغول رہتی ہے پتا نہیں رات کو کب سوتی ہے۔ صبح فجر سے بھی پہلے اٹھ جاتی ہے۔ دن بھر میری دیکھ بھال تو چلو اس کی جاب ہے مگر وہ کچن میں گھسی خانساماں کی بھی مدد کرنے پہنچ جاتی ہے اتنی محبت کرنے والی سلجھی ہوئی لڑکی سے بھلا مجھے کیا شکایت ہوگی۔‘‘ دادی تو جیسے انتظار میں تھیں کہ کوئی اس کا ذکر چھیڑے اور وہ اس کی تعریفوں کے پل باندھ دیں۔

’’تو پھر آپ ریاض کی امی سے بات کرنا کیوں چاہتی ہیں؟‘‘ پارس کی سوئی ہنوز وہیں اٹکی ہوئی تھی۔

’’اس لڑکی نے اپنے بارے میں کبھی کچھ بتایا جو نہیں وہ۔۔۔‘‘

’’کیا جاننا چاہتی ہیں آپ اس کے بارے میں۔‘‘ پارس نے ان کی بات کاٹتے ہوئے نروس سے انداز میں پوچھا۔

’’وہی تو بتا رہی ہوں بولنے تو دو مجھے۔ آج میں ازل کو اپنے ساتھ بازار لے کر گئی تھی وہاں ایک دوکان پر کھڑی سیلز گرل اسے دیکھتے ہی پہچان گئی اور اس سے بات کرنے لگی مگر یہ ازل جانے اتنی بزدل کیوں ہے یہ آئیں بائیں شائیں کرتی وہاں سے بھاگنے لگی تو پہلے تو میرا ماتھا ٹھنکا اس لےے میں نے اس سیلز گرل سے پوچھا کہ وہ ازل کو کیسے جانتی ہے تب اس لڑکی نے تو مجھے خوش ہی کر دیا۔ وہ ازل کے کالج میں پڑھتی تھی بلکہ حیران ہورہی تھی کہ انٹر میں اتنے اچھے مارکس لانے کے باوجود اس نے پڑھائی چھوڑ کیوں دی۔ وہ ازل سے پوچھ رہی تھی کہ کیا اس نے پرائیویٹ پڑھائی شروع کر دی ہے پھر تو اس نے سائنس چھوڑ کر آرٹس لے لی ہوگی مگر ازل صاحبہ ہوا کے گھوڑے پر سوار جا کر گاڑی میں بیٹھ گئیں۔

گھر آکر میں نے پہلے تو ازل کے خوب کان کھینچے لیکن بعد میں احساس ہوا ڈانٹ کی اصل حق دار تو ریاض کی والدہ ہیں ایک لڑکی جس نے ایسے حالات میں رہ کر بھی پڑھائی کی اور پڑھائی میں اتنی اچھی بھی رہی بجائے اس کے کہ وہ اسے آگے سپورٹ کرتیں انہوں نے اسے بالکل ہی ملازموں والے کام پر لگا دیا چلو کسی کام میں کوئی عیب نہیں ہوتا وہ رزقِ حلال ہی کمار ہی ہے مگر جسے پڑھائی کا اتنا شوق ہو اسے ایسے کام میں ڈال دینا صریحاً ظلم ہے۔‘‘ دادی کے لہجے میں ناراضی واضح تھی، حیرانی تو پارس کو بھی ہوئی تھی مگر اس کی حیرانی پر پریشانی حاوی ہوگئی تھی۔

’’مگر اس نے آپ سے کیا کہا؟ وہ کون سے کالج میں پڑھتی تھی کب پڑھتی تھی کیسے پڑھتی تھی۔‘‘ پارس کو خدشات کسی ناگ کی طرح ڈس رہے تھے یقینا یہ سارے سوال دادی نے ازل سے کےے ہوں گے کیونکہ ان کی نظر میں تو وہ گائوں سے آئی تھی پھر شہر میں سیلز گرل کی جاب کرنے والی لڑکی اس کے کالج کی کیسے تھی کہیں ازل نے گھبرا کر سچ نہ بتا دیا ہو کہ وہ شروع سے اسی شہر میں رہی ہے اور یہ کہ اسے ریاض یہاں پارس کے کہنے پر لایا تھا۔

’’کیا بتاتی وہ بے چاری، گائوں سے باپ کے ساتھ شہر آئی تھی اور پڑھائی کرنے کے لےے باپ کے ساتھ ہی یہاں رہتی تھی مگر باپ کا انتقال ہوتے ہی اسے واپس گائوں جانا پڑ گیا۔ گائوں میں کوئی لڑکی کی پڑھائی کے حق میں نہیں تھا۔ باپ نے خاندان کی مخالفت کے باوجود اسے پڑھانے کے لےے اسٹینڈ لیا تھا جب وہی نہ رہا تو وہ آگے کیسے پڑھتی۔‘‘ دادی کا لہجہ گلوگیر ہوگیا۔ پارس دل ہی دل میں اس کی ذہانت کو سراہے بغیر نہ رہ سکا بلکہ کسی حد تک مطمئن ہوتا دوبارہ آگے قدم بڑھاتے ہوئے بولا۔

’’جب ساری بات اس نے کلیئر کر دی تو ریاض کی امی کو پریشان کرنے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘

’’ضرورت کیوں نہیں۔‘‘ دادی کو جیسے مرچیں لگ گئیں۔

’’انہیں مجھے بھی تو بتانا چاہےے تھا۔ گائوں کے رشتے دارلڑکی کو پڑھانے کے حق میں نہیں حالانکہ باپ کے مرنے پر کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ اسے اپنے پاس رکھ لیتا اتنی دور شہر میں انجان لوگوں کے پاس بھیج دیا جب کوئی ذمہ داری اٹھانے کے حق میں نہیں تو اس کے معاملات میں بولنے کا انہیں کیا حق ہے جب خود ذمہ داری نہیں اٹھا رہے تو اسے اس قابل ہونے دیں کہ وہ اپنی ذمہ داری اٹھا سکے۔ بے حسی تو جیسے فیشن بن گئی ہے۔ لیکن ہمارا ضمیر ابھی اتنا مردہ نہیں ہوا ہے اگر مجھے پہلے کوئی بتا دیتا تو میں اسے آگے پڑھاتی بے چاری کا اتنا وقت برباد ہوگیا۔‘‘ دادی کا ملال کسی طور کم نہیں ہورہا تھا۔

’’ریاض کی امی کو بھی کچھ پتا نہیں ہوگا ان سے شکایت کرنا بے کار ہے۔ گائوں کے لوگ ایسی باتیں گھروں سے نکلنے نہیں دیتے، اس کے رشتے دار ریاض کی امی کو بھلا کیوں بتاتے کہ ہم نے اس کی پڑھائی چھڑا دی اور جہاں تک سوال وقت برباد ہونے کا ہے تو آپ کیوں دل جلا رہی ہیں اگر وہ پڑھنے کے لےے ذہنی طور پر تیار ہے تو کل ہی اس کا ایڈمیشن ہوسکتا ہے نہیں تو اگلے سال امتحان دے سکتی ہے۔‘‘ پارس انہیں کسی بھی طور ریاض کی والدہ سے ہم کلام ہونے نہیں دے سکتا تھا۔

’’اب تو ایڈمیشن بند ہوگئے اس کا یہ سال تو برباد ہوگیا نا۔‘‘ ان کا دکھ کسی طور کم ہی نہیں ہورہا تھا وہ ایسی ہی تھیں بہت حساس اور بہت خیال کرنے والی۔

’’سب کچھ ہوسکتا ہے دادی! آپ کس دنیا میں رہتی ہیں۔‘‘ پارس انہیں ہر حال میں ٹھنڈا کرنا چاہتا تھا اور اس کی بات ایسی کچھ غلط بھی نہیں تھی۔ خاص طور پر اپنے کالج میں تو وہ اس کا ایڈمیشن ایسے کرا سکتا تھا کہ رجسٹر میں اس کی پچھلی اٹینڈنس بھی لگ جاتیں۔

یہ ساری یقین دہانی کر کے پارس نے ان کا دھیان اتنا بٹا دیا تھا کہ ریاض کی والدہ سے بات کرنے کا ارادہ خود بخود ملتوی ہوگیا۔ حالانکہ ممی نے جب ان کی بات سنی تو انہوں نے فوراً اس فیصلے پر ناگواری کا اظہار کر دیا لیکن پارس دادی کو ان کے فیصلے سے باز رکھنے کے لےے ممی کو سمجھانے کی کوشش کرنے لگا جس طرح اس ایکسیڈنٹ کے بعد پارس کے معمول اور مزاج میں فرق آگیا تھا اسی طرح اس کے والدین بھی اس کے لےے پہلے سے زیادہ حساس ہوگئے تھے۔ اس لےے ڈیڈی نے بحث کےے بغیر فوراً رضامندی دے دی۔

ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ کسی اور کالج میں اتنی تاخیر سے ایڈیشن ممکن نہیں جبکہ پارس کے کالج میں وہ اوپر سے لے کر نیچے تک سب کو جانتے تھے اور اپنے بیٹے کے منہ سے نکلی بات کے لےے پیسہ خرچ کرنا ان پر پہلے بھی فرض تھا اب تو ناگزیر ہوگیا تھا البتہ اس سارے طریقے کار پر عمل کرنے کی ذمہ داری انہوں نے پارس پر ڈال دی جس کے پیشِ نظر پارس نے اگلے دن صبح صبح دادی کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹادیا بقول دادی کے وہ صبح ان کے بے دار ہونے سے پہلے اٹھ جاتی تھی اور وہ اس سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا تھا۔

اس کی توقع کے عین مطابق دروازہ ازل نے ہی کھولا اور بلا مبالغہ اس نے پورے ایک ماہ بعد ازل کو دیکھا تھا اس لےے پہلی نظر میں وہ اسے پہچانا ہی نہیں وہ اس پل مٹیالے سے رنگ کی بڑی سی چادر اوڑھے رہنے والی ازل لگ ہی نہیں رہی تھی یقینا دادی نے اسے نئے کپڑے بنوادےے تھے وہ بھی کسی حد تک، اپنی حیثیت کے مطابق، تبھی گہرے اور ہلکے نیلے رنگ کے حسین امتزاج کے سوٹ میں ایک شانے پر جارجٹ کا دوپٹہ اور دوسرے شانے پر کمر تک آتے کھلے بال ڈالے وہ شاید ابھی ابھی نہا کر نکلی تھی ، ہاتھ میں پکڑا ہئیر برش اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ اس نے بال سلجھاتے ہوئے بڑے آرام سے دروازہ کھول دیا تھا اتنی صبح صبح پارس کے دروازہ بجانے کی اسے قطعاً امید نہیں تھی اور اس پر نظر پڑتے ہی اس نے جس طرح گھبرا کر بالوں کو لپیٹنے کے ساتھ دوپٹے کو دوسرے شانے اور سر پر پھیلایا تھا اس پر پارس کو اپنا اس طرح چلا آنا بہت نامناسب لگا تھا اسی لےے وہ بغیر کسی تمہید کے ایسے بولنے لگا جیسے بہت جلدی میں ہو۔

’’کل رات دادی نے مجھے مارکیٹ میں آپ کی دوست کے مل جانے کے متعلق بتایا تھا وہ چاہتی ہیں آپ اپنی تعلیم دوبارہ شروع کر دیں آپ مجھے اپنے ڈاکومینٹس دے دیں باقی ساری تفصیلات آپ کو خود دادی بتادیں گی۔‘‘ اس کی حیرانی سے پھیلتی آنکھیں صاف ظاہر کر رہی تھیں کہ پارس کی بات اور انداز دونوں ہی بڑے بے تکے تھے اس لےے پارس کو سنبھلتے ہوئے دوبارہ کہنا پڑا۔

’’اصل میں دادی کو بہت افسوس ہے کہ آپ کا اتنا وقت ضائع ہوگیا وہ چاہتی ہیں کہ آپ کا فوراً کسی کالج میں ایڈمیشن ہوجائے۔‘‘ اس کی بات پر ازل نے بیڈ پر سوتی دادی کو پلٹ کر ایک نظر دیکھا پھر کمرے سے باہر آتے ہوئے اس نے آہستگی سے دروازہ بند کر دیا اور دھیمی آواز میں کہنے لگی۔

’’میرے پاس میرے کوئی ڈاکومینٹس ہیں ہی نہیں۔ میں فیکٹری کی طرف سے دےے گئے جس ہاسٹل میں رہ رہی تھی میرے سارے کاغذات وہیں رہ گئے۔‘‘

اتنے دنوں میں پہلی بار پارس کو احساس ہوا کہ وہ اس کی ذات سے کس قدر بے خبر ہے اپنے گھر لا کر اسے ایک محفوظ چھت تو مہیا کر دی مگر اسے بالکل بھول بھی گیا کہ اس کے پاس اس کا گزشتہ سامان نہیں ہے وہ اپنی کوئی چیز لانا چاہتی ہے یا نہیں، فیکٹری کے مالک نے اس پر اتنا بڑا الزام لگایا اسے اتنے لوگوں کے سامنے پولیس کے حوالے کر دیا، کیا وہ فیکٹری کا مالک اس قابل تھا کہ اسے ایسے ہی چھوڑ دیا جائے اس کے خلاف کوئی ایکشن تو لینا چاہےے تھا تاکہ دوبارہ ایسا کسی اور لڑکی کے ساتھ نہ ہو جو ازل کے ساتھ ہوا تھا۔ پارس اپنی لاپروائی پر بری طرح شرمندہ ہوگیا کہ اس سے کچھ بولا ہی نہیں گیا۔ اسے خاموش دیکھ کر ازل خود ہی کہنے لگی۔

’’آپ پریشان نہ ہوں میں دادی کو کسی طرح ٹال دوں گی۔‘‘ دادی کو گھرمیں خانساماں اور ماسی بھی دادی ہی کہتے تھے شاید اسی لےے وہ بھی انہیں دادی کہنے لگی تھی اس کے نرمی سے کہنے پر پارس چونک کر اسے دیکھنے لگا۔

’’دادی کو ٹالنے کے بجائے ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ کی تمام چیزیں ہاسٹل سے واپس لینے کی کوشش کی جائے اور اس فیکٹری کے مالک کو ایسا سبق سکھایا جائے کہ وہ دوبارہ کسی لڑکی کے ساتھ ایسا کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔‘‘ پارس نے دانت پیستے ہوئے کہا تو وہ ایک دم ہراساں ہوگئی۔

’’نہیں، نہیں آپ ایسا کچھ کرنے کا سوچےے گا بھی نہیں، اس طرح گھر میں سب کو پتا چل جائے گا کل مارکیٹ میں اپنی سینئر کو دیکھ کر بھی میں نے بڑی مشکل سے بات بنائی تھی ورنہ اگر دادی کو ذرا بھی شک ہوجاتا تو۔۔۔‘‘

’’تو؟ تو کیا فرق پڑتا۔‘‘ اس کی بوکھلاہٹ دیکھ کر پارس نے بے اختیار اس کی بات کاٹ دی۔

’’اتنا خوف زدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں اگر گھر میں کسی کو پتا چل بھی جاتا ہے تو بھی صرف میں ان کے آگے جواب دہ ہوں کہ میں نے جھوٹ کیوں بولا، آپ کیوں فکر مند ہورہی ہیں آپ نے تو وہی کیا جو میں نے آپ سے کرنے کو کہا۔‘‘ پارس کی بات پر اس کے چہرے پر پھیلا اضطراب سنجیدگی میں بدل گیا وہ کچھ دیر پارس کو دیکھتی رہی پھر بہت ٹھہر کر بولی۔

’’جب آپ کو میری فیکٹری کے منیجر سے پتا چلا کہ میں جیل میں ہوں اور کن الزامات کی بنا پر ہوں تو آپ کے دل میں کیا خیال آیا تھا کیا واقعی میں نے چوری اور مالک کے ساتھ نازیبا حرکتیں کی ہوں گی۔‘‘ اس کے سوال پر پارس الجھ سا گیا، اس نے تو یہی سوچا تھا کہ اگر وہ مجرم ہے تب بھی اس کی مدد کرنی چاہےے مگر یہ بات اس کے سامنے دوہرانا بڑا عجیب لگ رہا تھا مگر وہ لڑکی واقعی بڑی سمجھ دار تھی تبھی اس کے کہے بغیر ہی اس کا جواب جان گئی۔

’’آپ نے سوچا ہوگا کہ جس لڑکی کا باپ مر گیا ہو اور جسے پیسوں کی سخت ضرورت ہو اس لڑکی کے لےے ایسا اقدام اٹھالینا کوئی حیران کن بات نہیں کیونکہ غربت ایمان کو کھا جاتی ہے لیکن کیونکہ میرے والد نے آپ کی جان بچائی تھی اس لےے آپ بھی میری مدد کرنے کھڑے ہوگئے حالانکہ جو آپ نے میرے لےے کیا آپ اس کے پابند نہیں تھے مگر آپ نے سب اپنی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر کیا۔ آپ کے والدین بھی یقینا آپ جیسے اچھے ہی ہوں گے مگر وہ آپ کی طرح ایک ایسی لڑکی کو گھر میں پناہ دینا ہرگز گوارا نہیں کریں گے جس کی ذات کے ساتھ ایسے قصے وابستہ ہوں، اگر وہ میرے کردار کی طرف سے مشکوک ہوگئے تو مجھ سے میری یہ آخری پناہ گاہ بھی چھن جائے گی آپ کے ڈیڈی کسی صفائی کا بھی موقع نہیں دیں گے اور مجھے گھر سے نکال دیں گے ویسے بھی ایسی کسی صورت حال میں میرے پاس صفائی میں کہنے کے لےے ہوگا ہی کیا۔‘‘

اپنی آنکھوں میں پھیلتی نمی کو اس نے بڑے ضبط سے روکا تھا۔ بے اختیار پارس کا دل چاہا اسے جھٹلا دے یا کوئی جھوٹی تسلی ہی دے دے مگر وہ ایسا کچھ نہ کر سکا وہ واقعی ٹھیک کہہ رہی تھی ایسی مشکوک کردار لڑکی کو وہ کبھی گھر میں نہیں رکھیں گے حالانکہ دادی اس سے کافی متاثر تھیں اس کے عبادت گزار ہونے پر وہ خود اسے سراہتی تھیں انہیں خود بھی مذہب سے خاص لگائو تھا مگر پارس کی ممی اس مزاج کی نہیں تھیں اب ازل کے آجانے سے انہیں جیسے گھر میں کوئی اپنا ہم خیال وہم نظر مل گیا تھا جس کے ساتھ وہ گھنٹوں قرآن و سنت کی باتیں کر سکتی تھیں مگر اس سے متعلق ساری حقیقت آشکار ہوتے ہی اس کی ساری خوبیاں اس کے عیب بن جائیں گی۔ اس کے مزاج کی نرمی کو ڈھونگ اور ڈرامہ کہہ کر مسترد کر دیا جائے گا۔ پارس ماحول کے بوجھل پن کو کم کرنے کے لےے بات بدلتے ہوئے بولا۔

’’جو بھی ہو آپ کو اپنی تعلیم دوبارہ ضرور شروع کرنی چاہےے۔‘‘

’’اس کے لےے مجھے اپنی اسناد وغیرہ کی ضرورت پڑے گی بہتر یہی ہے کہ جیسا چل رہا ہے چلنے دیں۔‘‘ وہ شاید فیکٹری کے مالک کی طرف سے بھی خوف زدہ تھی تب ہی اس باب کو دوبارہ کھولنا نہیں چاہتی تھی اس سے پہلے کہ پارس سمجھانے کی کوشش کرتا وہ بات ختم کرتے ہوئے بولی۔

’’آج میں نے ماسی کو ذرا جلدی بلا یا ہے کچن کی ذرا تفصیلی صفائی کرنی ہے وہ کسی بھی لمحے آتی ہوگی۔‘‘ اس کا لہجہ صاف کہہ رہا تھا کہ اب آپ جائیں۔

اس کے اچانک دروازہ کھول دینے کی وجہ سمجھ میں آنے پر پارس اس کے چہرے کے گرد احاطہ کےے دوپٹے پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالتا واپس پلٹ گیا۔

ض ض ض

سارا دن کالج میں بھی اس کا ذہن اسی نکتے پر سوچتا رہا۔ اب وہ صرف دادی کو ریاض کی والدہ سے بات کرنے سے باز رکھنے کے لےے ازل کی تعلیم کے متعلق نہیں سوچ رہا تھا بلکہ یہ سوچ کر بھی اس کی تعلیم مکمل کرنے کا خواہش مند تھا کہ اس جیسی ذہین لڑکی کی آگے پڑھنے میں مدد کرنی ہی چاہےے اور اس کام کے لےے وہ ازل کی خواہش کے مطابق فیکٹری کے مالک کو چونکائے بغیر اس کے کاغذات حاصل کرنا چاہتا تھا۔

ؔ’’کیا بات ہے بہت پریشان لگ رہے ہو۔‘‘ اس کی کلاس فیلو مسکان نے لائبریری میں اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے پوچھا تو وہ چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگا۔

’’مسکان میرا ایک کام کرو گی۔‘‘

’’کیا؟‘‘ اس نے رجسٹر کھولتے ہوئے سرسری انداز میں پوچھا۔

’’وہ میں تمہیں راستے میں بتائوں گا بند کرو یہ سب اور چلو میرے ساتھ۔‘‘ پارس نے کھڑے ہوتے ہوئے اپنی کتابوں کے ساتھ اس کا رجسٹر اور دیگر اشیا تیزی سے اٹھالیں وہ ’’ارے ، ارے‘‘ ہی کرتی رہ گئی اور پارس لائبریری سے باہر بھی نکل گیا۔

حسبِ خواہش حسبِ توقع وہ تھوڑی دیر میں ہی پارکنگ ایریا میں اس کی گاڑی ڈھونڈتی ہوئی اس تک پہنچ گئی۔ اس کے چہرے پر غصے کے تاثرات صاف پڑھے جاسکتے تھے۔ پارس نے مسکرا کر جلے پر نمک پاشی کا کام فوراً انجام دینا ضروری سمجھا اور اس کے لےے دروازہ کھولتے ہوئے اسے مزید سلگایا بھی۔

’’تمہیں پڑھ کر کون سا کلاس میں ٹاپ کرنا ہے تم پاسنگ مارکس لے آئو وہی بہت ہے ویسے بھی یہ کام تمہارے رجسٹر سے زیادہ ضروری ہے۔ تمہیں ایک گرلز ہاسٹل میں جا کر ایک لڑکی کا سامان نکلوانا ہے۔‘‘ مسکان کے چہرے سے غصے کے تاثرات گدھے کے سر پر سے سینگ کی طرح غائب ہوگئے اب وہ پوری طرح متجسس نظر آرہی تھی۔

’’کس لڑکی کا سامان نکلوانا ہے اور سامان میں ہے کیا؟‘‘

’’سامان کچھ زیادہ نہیں ہے میرے خیال سے تو چند کپڑے ہی ہوں گے اور لڑکی کون ہے اس کے بارے میں زیادہ کچھ میں بھی نہیںجانتا میری دادی کی جاننے والی ہے اور ان کی ہدایت پر ہی میں یہ سب کر رہا ہوں۔‘‘

پارس نے جھوٹ نہ بولتے ہوئے اور سچ نہ بتاتے ہوئے گول مول سا جواب دیاہر چند کہ مسکان نے اسے بہت کریدنا چاہا مگر وہ بھی ٹالنے میں ماہر تھا۔

’’زندگی میں پہلی بار بھروسہ کر کے کسی نے کوئی ڈھنگ کا کام دیا ہے بجائے دوسروں کی امیدوں پر پورا اترنے کے تم کسی جاسوس کی طرح تشویش میں لگی ہو۔‘‘

’’ہاں کام دیا ہے تو کون سا احسان کیا ہے اپنے مطلب کے وقت ہی یاد آئی ہے میری، ورنہ سوال تو میرا باکل بجا ہے آخر وہ لڑکی خود جا کر اپنا سامان کیوں نہیں لے لیتی اتنے پیسے برباد کرنے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘ مسکان نے ان نوٹوں کی طرف دیکھا جو پارس نے جیب سے نکال کر ڈیش بوڑ پر ڈالے تھے۔

’’وہ تم کام کر کے لائو گی تو میں بتائوں گا۔‘‘ پارس نے فیکٹری کے ساتھ بنے ہاسٹل کے سامنے گاڑی روکتے ہوئے کہا وہ دیکھنا چاہتا تھا اندر جا کر اسے کیا کچھ پتا چلتا ہے۔

’’پندرہ منٹ کے اندر اگر تم نے مجھے فون نہیں کیا میں اندر آجائوں گا۔‘‘ پارس بولا۔

’’گرلز ہاسٹل میں!‘‘ مسکان نے طنزیہ انداز میں اسے دیکھا اور روپے لے کر اتر گئی۔

پندرہ منٹ گزرنے سے پہلے ہی وہ گیٹ سے نکلتی نظر آئی، اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا گرے کلر کا سوٹ کیس تھا۔

’’کیا ہوا اتنی جلدی آگئیں۔‘‘

’’عجیب تھرڈ کلاس سا ہاسٹل تھا، یہ کسی کالج کا تو نہیں ہوسکتا اتنا لور اسٹینڈرڈ کا فرنیچر تھا اور ریسپشن پر کوئی تھا ہی نہیں ایک ماسی جھاڑو دے رہی تھی، تمہارے کہے کے مطابق میں نے اس سے یہی کہا کہ کچھ عرصے پہلے میری ایک دوست یہاں آئی تھی اس کا کچھ سامان واپس لینے کے لےے مجھے کمپلین لکھ کر کہاں دینی ہوگی۔ مجھے یہ کام جلدی کرنا ہے اگر کچھ پیسے بھی دینے پڑیں تو بھی کوئی پرابلم نہیں۔ تب اس نے کہا یہ سب کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اور مجھے لے کر ایک اسٹور میں چلی گئی، وہاں سامان کباڑ کی طرح بکھرا پڑا تھا تب میں نے اسے پیسے دے کر کہاں یہاں ایک ازل نامی لڑکی رہتی تھی اس کا سامان کون سا ہے تب اس نے کہا وہ جو کچھ مہینے پہلے ہی یہاں سے گئی تھی اس کا تو سارا سامان یہیں رہ گیا تھا جس میں سے کچھ چیزیں وارڈن نے لے لیں کچھ لڑکیوں نے رکھ لیا بس یہ سوٹ کیس رہ گیا ہے۔

میں نے اسے اٹھا تو لیا مگر اس میں کپڑے یا زیور کچھ بھی نہیں ہے بس گھر کی کچھ چھوٹی موٹی چیزیں ہیں کچھ تصویریں ہیں، کچھ دوائوں کی خالی شیشیاں، کچھ کاغذات اور کتابیں، مجھے لگتا ہے تم نے اتنے پیسے بلا وجہ ضائع کےے۔‘‘

مسکان کا انداز بڑا چڑا ہوا تھا، جانے وہ اس بیگ سے کس خزانے کے برآمد ہونے کی توقع کر رہی تھی۔ پارس نے بیگ اس کے ہاتھ سے لے کر ڈگی میں رکھ لیا اور اسے کوئی بھی تسلی بخش جواب دےے بغیر کالج کی طرف روانہ ہوگیا۔

ض ض ض

ازل سے بات کرنے کے لےے اسے ایک بار پھر منہ اندھیرے اٹھنا پڑا تھا کیونکہ اس وقت گھر میں سب سو رہے ہوتے تھے وہ آرام سے اس سے بات کر سکتا تھا۔

دستک کے جواب میں ازل نے اپنے مخصوص حلےے کے ساتھ دروازہ کھولا تو پارس زیرِ لب مسکرادیا مگر آج بھی اس نے بغیر تمہید باندھے سیدھے موضوع پر آتے ہوئے بات شروع کردی۔

’’ہاسٹل میں سے آپ کا سارا سامان چوری ہوگیا ہے بس یہ ایک سوٹ کیس مل سکا ہے میں نے اسے کھول کر نہیں دیکھا آپ چیک کر کے بتادیں اس میں آپ کے کاغذات ہیں یا نہیں۔‘‘ پارس نے بیگ اس کے سامنے کیا تو وہ جیسے ششدر رہ گئی اپنی کسی ذاتی چیز کو سامنے دیکھ کر وہ بھی اس قدر اچانک دیکھ کر اس کی حالت غیر ہوگئی تھی وہ پارس سے یہ بھی نہ پوچھ سکی کہ وہ یہ بیگ کیسے لے کر آیا۔

اپنے پیچھے کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئے اس نے وہیں ماربل کے فرش پر دو زانو بیٹھ کر بیگ زمین پر لٹایا اور جلدی سے اس کی زپ کھولنے لگی اس کے ہاتھوں کی لغزش صاف محسوس کی جاسکتی تھی ۔ سوٹ کیس کھولتے ہی وہ چند لمحوں کے لےے اپنی جگہ بت بن گئی۔

مسکان کے کہے کے مطابق اندر کوئی خاص سامان نہیں تھا بلکہ سامان کی تعداد دیکھ کر لگ رہا تھا کہ اس بیگ پر بھی ہاتھ صاف کیا گیا ہے اندر صرف گھر کی غیر ضروری چند چیزیں پڑی تھیں مگر ایک ایسے شخص کے لےے وہ چیزیں بھی غیر ضروری نہیں ہوسکتی تھیں جس کا گھر ا س سے ہمیشہ کے لےے چھن گیا ہو۔

اس نے جس طرح کانپتے ہاتھوں سے دوائوں کی خالی شیشی کو اٹھا کر مٹھی میں جکڑ لیا تھا ا س سے صاف ظاہر تھا کہ وہ شیشیاں اس کے بابا کی تھیں۔

پارس خود بھی اس کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھ گیا بیگ میںایک پرانی سی تصویر پڑی تھی ایک پانچ چھ سال کی ہنستی مسکراتی بچی ماں باپ کے ساتھ کھڑی کھلکھلا رہی تھی، تصویر کسی تفریحی مقام پر لی گئی تھی اس تصویر پر نظر پڑتے ہی ازل نے وہ شیشی چھوڑ کر تصویر اٹھالی وہ اپنی انگلیاں اس تصویر پر ایسے پھیرنے لگی جیسے اس کاغذ کو چھو کر وہ اپنے ماں باپ کا لمس محسوس کرنا چاہتی ہو اس کی پلکوں پر ٹھہرے آنسو دیکھ کر پارس کی سمجھ میں نہ آیا اسے کیسے تسلی دے تبھی پارس کی نظر ایک خاکی لفافے پر پڑی تو اس کا ہاتھ بے اختیار لفافے کی طرف بڑھ گیا۔

اس میں سے برآمد ہونے والے میٹرک اور ایف ایس سی کے سرٹیفکیٹس اور دیگر کاغذات دیکھ کر پارس بے ساختہ اس کے احساسات کی پروا کےے بغیر کہنے لگا۔

’’تھینک گاڈ یہ پیپرز چوری نہیں ہوئے ورنہ بورڈ سے ڈوپلی کیٹ منگوانے میں کتنا وقت برباد ہوجاتا۔‘‘ ازل آنسو بھری آنکھوں سے اپنی اسناد وغیرہ دیکھنے لگی۔ اس کے روہانسے چہرے پر ایک لمحے کے لےے چمک ابھر کر غائب ہوگئی جیسے ماضی کی کوئی خوب صورت بات یاد آگئی ہو وہ اسی کیفیت کے زیرِ اثر کہنے لگی۔

’’میری میٹرک کی مارکس شیٹ دیکھ کر بابا بہت خوش ہوئے تھے میں نے انہیں زندگی میں پہلی بار اتنا خوش دیکھا تھا۔‘‘ وہ دوبارہ ہاتھ میں پکڑی تصویر کو دیکھنے لگی وہ یہاں موجود ہو کر بھی یہاں موجود نہیں تھی، پارس اسے ٹوکنا نہیں چاہتا تھا وہ غیر ارادی طور پر اس کی مارکس شیٹ دیکھنے لگا، ہر سبجیکٹ میں اس کے شاندار نمبر دیکھ کر پارس کو نئے سرے سے حیرانی ہورہی تھی۔ اس لڑکی کا وہ چھوٹا سا گھر اور تنگ سا ماحول دیکھ کر وہ اسے جس طرح جاہل اور محدود ذہنیت کی لڑکی سمجھ بیٹھا تھا وہ ایسی تھی نہیں، بلکہ اپنے حالات کے لحاظ سے کافی بہادر تھی۔ اس وقت بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے کے بجائے وہ بدستور تصویر کو دیکھتے ہوئے کھوئے کھوئے لہجے میں کہنے لگی۔

’’میرے بابا نے زندگی میں بہت سخت وقت دیکھا ہے میری ماں کی اچانک موت نے ان کی زندگی میں بڑی ابتری پھیلادی تھی تب انہوں نے اپنی ساری توجہ میری ذات پر مرکوز کر دی۔‘‘ وہ خود کلامی کے انداز میں بول رہی تھی۔ پارس خاموشی سے اسے سنے گیا۔

’’وہ ایک آفس میں چپڑاسی کی جاب کرتے تھے، شام کو پارٹ ٹائم جاب کے طور پر بازار چلے جاتے، کبھی دوکانوں پر چائے سپلائی کرتے کبھی بازار سے ازار بندھ اٹھا کر بیچنے کی کوشش کرتے، ان کی زندگی کا سب سے اہم مشن مجھے تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا تھا، کتنی محنت کی تھی انہوں نے میرے لےے تب ہی اتنے بیمار پڑ گئے وہ اپنے علاج پر ایک روپیہ خرچ کرنا نہیں چاہتے تھے اور میرے جاب کرنے کے تو بالکل حق میں نہیں تھے۔ ان کا خیال تھا اس طرح میری توجہ تعلیم سے ہٹ جائے گی لیکن اپنے آخر وقت میں وہ کام کرنے کے قابل ہی نہیں رہے تب انہوں نے سخت مجبوری میں مجھے فیکٹری میں جاب کرنے کی اجازت دی تھی صرف اس شرط پر کہ میری پڑھائی متاثر نہیں ہوگی۔ خوامخواہ انہوں نے خود پر اتنا ظلم کیا پہلے ہی میری بات مان جاتے تو انہیں تھوڑا آرام کرنے کا وقت مل جاتا بلا وجہ میری خاطر انہوں نے۔۔۔۔‘‘

اس کی آواز رندھ گئی تو اسے چپ ہونا پڑا ورنہ شاید اس کے دل میں ایک غبار اٹھ رہا تھا پارس نے بات پلٹنے کے لےے آہستگی سے کہا۔

’’ان کے چلے جانے کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی خواہش بھی ادھوری رہ جائے ان کا ارمان تو اب بھی پورا ہونا چاہےے۔‘‘ وہ بے بسی سے اس کی شکل دیکھنے لگی۔

’’مگر پھر میں دادی کی دیکھ بھال کیسے کروں گی؟‘‘

’’خداناخواستہ دادی اتنی بیمار نہیں ہیں کہ کسی کا ہر وقت ان کے ساتھ ہونا ضروری ہو اور پھر انہوں نے خود ہی تو کہا ہے۔‘‘

’’مگر آپ کے پیرنٹس۔‘‘ وہ اب بھی مضطرب تھی۔

’’وہ دادی کی کسی بات پر اعتراض نہیں کرتے، ان کا دل بھی دادی کی طرح بہت وسیع ہے مگر انہیں دادی کی طرح اظہار کرنا نہیں آتا۔‘‘ پارس کی بات پر وہ ہونٹ کاٹتے ہوئے جھجک کر بولی۔

’’میں جانتی ہوں سب بہت اچھے ہیں مگر آپ کے ڈیڈی تو شروع سے میرے گھر میں رہنے کے خلاف تھے اب اگر انہیں لگا کہ پڑھائی شروع کرنے سے میرا دھیان بٹ گیا ہے اور انہوں نے مجھے ملازمت سے نکال دیا تو۔۔۔‘‘ اس کے خدشات سے پر لہجے پر پارس کی زبان تک آکر رہ گیا۔

’’تم یہاں کوئی ملازمہ نہیں ہو۔‘‘ مگر بروقت اس نے خود کو یہ کہنے سے روک لیا اگر جواب میں وہ یہ سوال اٹھاتی کہ پھر اور کیا ہوں تو وہ کیا جواب دیتا۔ دوسرے یہ کہ اس کی بات سن کر وہ کچھ شرمندہ بھی ہوگیا جب پہلے دن وہ گھر آئی تھی تب ڈیڈی نے بھی پارس کی طرح اسے کوئی جاہل اور اٰن پڑھ لڑکی سمجھ کر اس پر انگلش میں تبصرے کےے تھے جنہیں سننے کے بعد اسے کتنا برا لگا ہوگا، ممی نے بھی اسے بے خبر سمجھ کر بڑے اطمینان سے لٹھ مار انداز میں کہا تھا۔

’’اب وہ لے آیا ہے تو رکھ لیں نا کچھ دنوں میں اندازہ ہوجائے گا کیسے چال چلن کی ہے۔ تب فیصلہ کرلیں گے۔‘‘ پارس نے بڑی مشکل سے بات بنائی۔

’’ڈیڈی ایسے نہیں ہیں آپ بے فکر ہو کر کالج جانے کی تیاریاں کریں اور ان تمام چیزوں کو جلدی سے سمیٹ کر رکھ دیں، فجر کی اذان ہورہی ہے، دادی اٹھنے والی ہوں گی۔‘‘ پارس نے کھڑے ہوتے ہوئے عجلت میں کہا تو وہ بھی سامان ایسے ہی چھوڑ کر اس کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔

’’میری سمجھ میں نہیں آتا میں آپ کے احسانوں کا شکریہ کیسے ادا کروں۔‘‘ وہ تقریباً پلٹ گیا تھا جب سماعتوں سے اس کا مشکور لہجہ ٹکرایا تو وہ پلٹے بغیر محض گردن موڑ کر اس کی بھیگی پلکوں کو دیکھنے لگا۔

’’ایک طریقہ ہے، میں نے آپ کو کبھی مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا۔‘‘ پارس نے بڑی سنجیدگی سے کہا تو پہلے تو وہ سمجھی نہیں۔ جب سمجھی تو اس عجیب و غریب فرمائش پر حسبِ عادت اس کی آنکھیں حیرانی سے پھیل گئیں مگر اگلا لمحہ پارس کے لےے حیران کن تھا کیونکہ اس کے ہونٹوں پر بے ساختہ ایک جھینپی ہوئی مسکراہٹ ابھری تھی، روتی آنکھوں کے ساتھ یہ مسکراہٹ جیسے بارش کے بعد کی دھوپ کا منظر پیش کر گئی تھی۔ پارس بے اختیار اس منظر کو دیکھے گیا وہ بڑی مشکل سے اس پر سے نظریں ہٹا کر واپسی کے لےے پلٹا تھا۔

ض ض ض

ممی نے ازل کے پڑھنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ مگر جب اس کا ایڈمیشن پارس کے کالج میں ہوگیا تب وہ بھڑک اٹھیں اس کے ایڈمیشن کے لےے ڈیڈی نے خود بات کی تھی تب جا کر اتنی تاخیر کے باوجود اس کا ایڈمیشن ممکن ہوا تھا ایسے میں سب کچھ ہونے کے بعد ممی کے اعتراض پر ڈیڈی ان سے بھی زیادہ بھڑک اٹھے مگر ممی نے دبنے کے بجائے بڑے دو بدو جواب دیا تھا۔

’’پورے شہر کے کالج چھوڑ کر اس کا داخلہ پارس کے ساتھ کرانا ضروری تھا۔‘‘

’’وہ پارس کے ساتھ نہیں ہوگی وہ اس سے جونیئر ہے۔‘‘ ڈیڈی نے چڑ کر کہا۔

’’بات تو ایک ہی ہے نا، آپ کو مجھ سے ذکر کرنا چاہےے تھا۔‘‘ ممی نے بھی غصے سے کہا۔

’’کیا مطلب ہے تمہارا، میں نے تم سے چھپ کر جلدی سے اسے پارس کے کالج میں داخلہ دلادیا، امی نے تمہارے سامنے ہی تو ذکر کیا تھا ساری بات تمہارے سامنے ہوئی تھی اب مجھے کیا پتا کہ تمہارے لا تعلق بنے رہنے کی عادت کی وجہ سے تمہیں پتا ہی نہیں چلا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ بہرحال اب کچھ نہیں ہوسکتا۔ پہلے میں نے خود ایڈمنسٹریشن کے حفیظ صاحب سے بات کی اور اب ایڈمیشن ہونے کے بعد خود ہی چپ ہو کر بیٹھ جائوں دیٹ از ناٹ پاسیبل۔‘‘

ممی ڈیڈی کے اس جھگڑے کی پارس نے زیادہ پروا نہیں کی البتہ ممی کے حکم کے مطابق وہ ازل کو اپنے ساتھ لے کر نہیں جاتا تھا حالانکہ ایک ہی گھر سے جاتے ہوئے اس طرح الگ الگ جانا اسے بہت عجیب لگتا تھا مگر اس معاملے میں اس نے ممی سے ذرا بھی بحث نہیں کی ویسے بھی اس کا کالج زیادہ دور نہیں تھا۔ ازل بس سے آرام سے چلی جایا کرتی تھی پھر بقول ممی کے اس نے خود ہی کہا تھا کہ وہ بس سے آنے جانے کی عادی ہے اور اپنی عادت کو بدلنا نہیں چاہتی حالانکہ پارس کو علم تھا کہ اگر ممی زیادہ اصرار کرتیں تو وہ اتنی خود اعتماد نہیں تھی کہ اپنی خود داری کی خاطر اپنی بات پر اڑی رہتی وہ بھی ممی جیسی عورت کے سامنے، مگر ممی نے تو بات ہی ایسے کی ہوگی کہ اگر وہ بس میں نہیں بھی جارہی ہوتی تو بھی جانے کا فیصلہ کرلیتی۔

جو بھی تھا اس کا تعلیمی سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیاتھا۔ البتہ پارس نے اپنے کالج میں کسی سے ازل کا ذکر نہیں کیا تھا اس کی نظر میں یہ بات اتنی اہم نہیں تھی کہ خاص طور پر بتائی جاتی مگر اسے نہیں پتا تھا جو بات بتائی نہ جائے وہ چھپانے کے زمرے میں آتی ہے اور بعض اوقات کسی چیز کا خاص طور سے ذکر کرنا اسے اتنا اہم نہیں بناتا جتنا اسے چھپانا اسے خصوصیت کا حامل کر دیتا ہے۔

پارس کی سالگرہ آئی تو اس کے کالج کا پورا گروپ کیک اور دیگر لوازمات لے کر سرپرائز پارٹی کے طور پر اس کے گھر پہنچ گیا۔

وہ کوئی بچہ تو تھا نہیں جو باقاعدہ برتھ ڈے مناتا مگر ان کا یہ سرپرائز اسے اچھا لگا تھا، موسم خوش گوار ہونے کی وجہ سے وہ لان میں ہی پورا میوزک سسٹم اٹھا لائے تھے اور ابھی وہ کہیں باہر جانے کا پروگرام بنا ہی رہے تھے کہ پورچ میں گاڑی آکر رکی تو سب ہی اس کی طرف متوجہ ہوگئے۔ پارس کی دادی کو سبھی جانتے تھے انہیں کار سے اترتا دیکھ کر سب سے پہلے ریاض نے جہاں کھڑا تھا وہی سے آواز لگا کر انہیں سلام کیا تو سبھی سلام کرنے لگے۔

’’دادی کہاں سے گھوم کر آرہی ہیں۔‘‘ عکاشہ نے شوخی سے پوچھا۔

’’ارے ملا کی دوڑ مسجد تک، ڈاکٹر کے پاس چیک اپ کے لےے گئی تھی۔‘‘ دادی کے انداز پر عکاشہ کھلکھلا کر ہنسی مگر فوراً ہی اس کی ہنسی کو بریک لگ گئے۔

گاڑی کے دوسری طرف کا دروازہ کھول کر ازل ہاتھ میں دوائیں سنبھالتی اتری تو جس کی نظر اس پر پڑی وہ اسے ہی دیکھتا رہ گیا، وہ دادی کے قریب آئی تو سب کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر کچھ ٹھٹک گئی۔

’’یہ کون ہے دادی؟‘‘ عکاشہ نے سب کے سوال کو زبان دی۔

’’ارے تم نہیں جانتے، تمہارے کالج میں ہی تو پڑھتی ہے اس کا نام ازل ہے۔‘‘ دادی نے فوراً کہا۔

’’ہاں شکل دیکھی ہوئی تو لگ رہی تھی۔‘‘ مسکان فوراً بولی۔

’’مگر یہ آپ کی کون ہے؟‘‘ عکاشہ نے پھر پوچھا۔

’’یہ میری بیٹی ہے۔‘‘ دادی کا محبت بھرا انداز ان سب کو پارس کی طرف دیکھنے پر مجبور کر گیا تھا۔

’’دادی چلیں یہ دوا آپ کو ہر دو گھنٹے کے فرق سے کھلانی ہے اور ابھی ٓخری خوراک کو ڈھائی گھنٹے ہوگئے ہیں۔‘‘

ازل کے کہنے پر وہ دونوں اندر کی طرف بڑھ گئیں۔

’’کون تھی یہ؟‘‘ عکاشہ نے چھوٹتے ہی پوچھا۔

’’دادی کی دیکھ بھال کرتی ہے۔‘‘ پارس نے سرسری انداز میں کہا۔

’’مگر وہ تو اسے اپنی بیٹی کہہ رہی تھیں۔‘‘ عکاشہ کے لہجے پر غور کےے بغیر وہ اس کی بات پر ہنس دیا۔

’’کیا تمہیں یہ میرے ڈیڈی کی بہن لگ رہی ہے۔‘‘

’’لیکن یہ ہمارے کالج میں پڑھتی ہے جس کی فیس تمہارے ڈیڈی ہی ادا کر سکتے ہیں۔‘‘ اس کا کلاس فیلو عادل بولا۔ آخر ان کا کالج شہر کے مہنگے ترین کالج میں سے ایک تھا۔

’’ہوں اسے پڑھنے کا بہت شوق ہے اس کے شوق کو دیکھتے ہوئے دادی نے ہی ڈیڈی سے اس کے ایکسپنس ادا کرنے کو کہا تھا۔‘‘ پارس کو یہ ساری تفصیل بتانا بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا۔

’’تو اسے اتنے مہنگے کالج میں پڑھانے کی کیا ضرورت تھی۔ گلی گلی میں تو کالج کھلے ہیں، نہیں تو گورنمنٹ کالج میں پڑھ لیتی۔‘‘ عکاشہ نے عجیب سے لہجے میں کہا۔

’’تمہیں کیا پرابلم ہے تمہیں تو اس کی فیس نہیں دینی ہے نا۔‘‘ پارس اس انٹرویو سے اکتا کر بولا۔

’’تم نے کبھی بتایا نہیں کہ تم اسے جانتے ہو۔‘‘ اس کے ایک اور دوست سلیم نے حیرت کا اظہار کیا۔

’’اگر مجھے پتا ہوتا کہ تم سب اس کی ذات میں اتنے انٹرسٹڈہوگے تو میں اس کا پورا بائیو ڈیٹا پہلے دن تمہارے ہاتھ میں رکھ دیتا۔‘‘ پارس چڑ ہی گیا۔

’’کیوں کیا تمہیں ہمارا اس میں انٹرس لینا برا لگ رہا ہے۔‘‘ سلیم نے شوخی سے پوچھا۔ تو سب ہنس پڑے۔ اس کا ذو معنی لہجہ پارس کو کھلا تو تھا مگر وہ سلیم کی فطرت سے واقف تھا اگر اسے پتا چل جاتا کہ پارس چڑ گیا ہے تو وہ ہاتھ دھو کر پیچھے پڑ جاتا اور بال کی کھال اتارنے میں تو سب ہی ایکسپرٹ تھے۔

’’ہم مووی دیکھنے جارہے تھے کسی کو یاد ہے یا نہیں۔‘‘ پارس نے ان سب پر نظر ڈالی۔

’’اسے بھی ساتھ لے کر جائو گے۔‘‘ سلیم نے ایک بار پھر شرارت سے پوچھا اور پارس کی پیشانی پر بل پڑتے دیکھ کر معصوم سی شکل بنا کر کہنے لگا۔

’’بھئی تمہاری دادی بھلے ہی اسے اپنی بیٹی کہیں مگر ہے تو وہ ہماری ہی ایج کی، کیا حرج ہے وہ بھی تھوڑا انجوائے کرلے گی تم روز اس کے ساتھ کالج بھی تو آتے ہوگے۔‘‘ سلیم کی بات پر پارس نے وضاحت دینا ضروری نہیں سمجھا کہ وہ کیسے جاتی ہے بلکہ ریاض سے فلم کے متعلق پوچھنے لگا۔

’’یہ تمہارے گھر میں کب سے رہ رہی ہے۔‘‘ عکاشہ نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا تو پارس سانس باہر خارج کرتے ہوئے سپاٹ نظروں سے اسے دیکھنے لگا جس پر وہ خود ہی کہنے لگی۔

’’ایک تو ہمیں اس کے باے میں کچھ بتایا نہیں اب ہمیں خود پتا چل گیا ہے تو بھی تم اس کے ذکر سے کترا رہے ہو۔‘‘ عکاشہ کے لہجے میں خفگی در آئی تھی۔ پارس بھنا کر کچھ کہنے ہی والا تھا کہ ریاض نے آنکھ سے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا اور تیزی سے کہنے لگا۔

’’مووی شروع ہونے تک ہمارا سینما پہنچنا تبھی ممکن ہے جب ہم فوراً گاڑی میں بیٹھ جائیں۔‘‘

ریاض کے اعلانیہ کہنے پر مسکان اور عادل وغیرہ جلدی سے اپنی پلیٹیں خالی کرنے لگے سب کو حرکت میں آتا دیکھ کر پارس نے جان بچ جانے پر سکون کا سانس لیا مگر عکاشہ کا رویہ سارا وقت عجیب سا رہا اور سب سے زیادہ حیرانی پارس کو اس وقت ہوئی جب وہ اگلے دن اپنے معمول کے مطابق شام کے وقت جم پہنچا تو کچھ دیر بعد عکاشہ بھی وہاں چلی آئی۔

’’تم یہاں کیا کر رہی ہو؟‘‘ پارس اسے دیکھتے ہی ٹریڈ مل سے اتر آیا۔

’’میں نے بھی یہاں کی ممبر شپ لے لی ہے۔‘‘ بلیک اینڈ وائیٹ ٹریک سوٹ ، بلیک جوگرز پہنے بالوں کی اونچی سی پونی باندھی وہ بہت فریش لگ رہی تھی۔

’’مگر یہ جم تو تمہارے گھر سے بہت دور ہے تم اپنے گھر کے قریب کوئی جم جوائن کیوں نہیں کر لیتیں۔‘‘ پارس نے تعجب سے پوچھا۔

’’کیا تھا، مگر وہاں اکیلے میں، میں بور ہوجاتی تھی تو سوچا تمہاری کمپنی میں ٹائم اچھا گزرے گا۔‘‘ وہ دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر ورزش کے سے انداز میں پہلے دائیں جانب ترچھی ہوئی پھر بائیں جانب جھکنے لگی اس کے کان میں پڑی بڑی بڑی بلیک بالیاں اور پونی میں قید بال بھی اس کی جنبش کے ساتھ لہرانے لگے تھے۔

’’اس وقت تو یہاں بہت رش ہوتا ہے تمہیں لیڈیز ٹائمنگ میں جوائن کرنا چاہےے تھا۔‘‘ پارس نے سولہ سال سے لے کر ساٹھ سال تک کے لوگوں سے بھرے مجمع پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔

’’عورتوں کا ٹائم تو صبح میں ہوتا ہے اس وقت میں کالج میں ہوتی ہوں۔‘‘ عکاشہ شان بے نیازی سے کہتی اس ٹریڈ مل پر چڑھ گئی جس سے پارس اترا تھا۔

روزانہ ایک ڈیڑھ گھنٹے تک مشینوں کے ساتھ روکھے سوکھے انداز میں وقت گزارنے کے معمول سے ہٹ کر عکاشہ کی موجودگی میں اس کا وقت بظاہر اچھا گزرا تھا۔ عکاشہ بھی اس دن کچھ زیادہ ہی شوخ ہورہی تھی مگر اتنے خوش گوار ماحول کے باوجود اسے اندر سے مسلسل ایک ناگواری کا احساس ہوتا رہا تھا خاص طور پر جب ان کی برابر کی مشینوں پر لڑکوں کا ایک ٹولہ آدھمکا تو پارس نا صرف خود وقت سے پہلے کھڑا ہوگیا اور عکاشہ کو بھی زبردستی گھسیٹ لیا۔

’’تم اگر اس جم میں آئو گی تو میں یہاں نہیں آئوں گا۔‘‘ اسے اس کی گاڑی کی پاس چھوڑتے ہوئے پارس نے حتمی انداز میں کہا۔

’’کیوں کیا تم میری کمپنی میں بور ہورہے ہو۔‘‘ عکاشہ چونک کر بیٹھتے بیٹھتے رک گئی۔

’’عکاشہ یہ جگہ تمہارے لےے بالکل بھی سوٹ ایبل نہیں ہے۔‘‘ پارس کہہ کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا اسے احساس تھا عکاشہ وہیں کھڑی اسے تب تک دیکھتی رہی جب تک وہ کار ریورس کر کے پارکنگ سے نکال نہ لے گیا۔

ض ض ض

عکاشہ کی اس دن کی حرکت پارس کے بالکل سمجھ میں نہیں آئی تھی مگر اس نے زیادہ گہرائی میں جا کر سوچنے کی ضرورت بھی نہیں سمجھی لیکن اس وقت اسے واقعی چونکنا پڑا تھا۔

جب کینٹین کی طرف جاتے ہوئے اچانک اس کی نظر کوریڈور میں آمنے سامنے کھڑی عکاشہ اور ازل پر پڑی وہ اپنی جگہ جیسے ٹھٹک گیا عکاشہ عموماً ہر ایک سے بات نہیں کرتی تھی اور ازل ان میں سے تھی جو بات کرنے میں کبھی پہل نہیں کرتے جبکہ اس وقت ان دونوں کے ہلتے ہونٹ دیکھ کر اسے لگا اسے ان کے قریب جانا چاہےے مگر جب سے ازل کالج میں آئی تھی وہ اس کے کبھی پاس بھی نہیں بھٹکا تھا ایک طرح سے اس نے بڑی بداخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سے یہ تک نہیں پوچھا تھا کہ اسے کسی چیز کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔ بلکہ کیمپس میں کبھی سامنا ہو بھی جاتا تو ازل اتنی لا تعلق سی بن جاتی کہ پارس اسے مخاطب کرنے کا ارادہ بھی نہ کرتا ایسے حالات میں اس وقت اسے ان کے نزدیک جانا کچھ مناسب نہیں لگا اور پھر فوراً ہی عکاشہ جانے کیا کہتے ہوئے مسکراتی ہوئی آگے بڑھ گئی جبکہ ازل اپنی جگہ جمی رہی اس کے چہرے پر کچھ سوچتا تاثر صاف نمایاں تھا۔

گھر آکر بھی پارس کا دھیان ان کے مابین ہونے والی گفتگو پر قیاس آرائیاں کرنے میں الجھا رہا آخر شام ہونے پردادی سے اسے پتا چلا کہ ان کے بیچ کیا بات ہوئی تھی۔

ان کا کالج ہاکس بے جارہا تھا اور عکاشہ نے دادی کو فون کر کے اصرار کیا تھا کہ ازل سے وہ کہہ کر دیکھ چکی ہے مگر وہ پکنک پر نہیں جارہی لہٰذا اب آپ اسے تیار کریں۔

پارس تو سن کر حیران رہ گیاجبکہ دادی عکاشہ کی تعریف کرتی نہیں تھک رہی تھیں۔

’’کتنی محبت کی ہے عکاشہ، مجھے تو کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ ازل میرے ساتھ بازار اور ہسپتال جانے کے علاوہ کہیں نہیں جاتی آخر اسے بھی تو تفریح کی ضرورت ہے لیکن عکاشہ نے محسوس کی یہ بات۔ میں نے تو ازل سے کہہ دیا تمہیں ہر حال میں جانا ہے مگر وہ اکیلی ہے نا شاید اس لےے کہیں آنے جانے سے گھبراتی ہے میرے کہنے پر وہ مان تو گئی مگر اس کا خیال رکھنا تمہاری ذمہ داری ہے۔‘‘ ازل عکاشہ کے جانے کے بعد وہاں کھڑی کیا سوچ رہی ہوگی اس کا اندازہ پارس کو اب ہوا تھا جب خود اس کے ذہن میں اسی قسم کے سوال ابھرنے لگے۔

’’آخر اس مہربانی کی کیا وجہ ہوسکتی ہے۔‘‘

ض ض ض

ہاکس بے، پارس کے لےے کوئی نئی جگہ نہیں تھی مگر ٹھنڈی ہوائوں، خوش گوار موسم اور تمام دوستوں کی موجودگی ایسے موقعوں کو ہمیشہ یادگار بنا دیتی تھی اس پر عادل اپنی نئی اسپورٹس بائیک وہاں لے آیا تو تمام لڑکے سمندر کو بھول کر اسی کے مشاہدے اور تجربے میںمصروف ہوگئے۔

ازل، دادی کے اصرار پر آ تو گئی مگر بڑی سی چادر بچھا کر بیٹھے تمام اسٹوڈنٹس کے بیچ بیٹھی وہ تنہا ہی لگ رہی تھی اس کی اپنی کلاس کی جن چند لڑکیوں سے بات چیت تھی وہ زیادہ تر نہیں آئی تھیں اورجو آئی تھیں وہ ازل کو زیادہ لفٹ نہیں کراتی تھیں کیونکہ ازل کے پاس بات کرنے کے لےے نہ فیشن اور کپڑوں کی معلومات تھی نہ ان کے ساتھ مال اور پارٹیز میں اڑانے کے لےے پیسہ تھا بلکہ اس کے پاس تو موبائل تک نہیں تھا تو اس سے بھلا کون دوستی کرتا۔

’’عادل تم اپنی بائیک یہاں کیوں لے آئے سچ بالکل مزا نہیں آرہا تم سب اس میں بزی ہوگئے ہو۔‘‘ ان کے گروپ کا اشعر بائیک دو منٹ کا کہہ کر لے گیا تھا اور پچھلے پندرہ منٹ سے غائب تھا تب وہ سب مجبوراً سب کے درمیان آبیٹھے تھے جس پر مسکان نے فوراً اعتراض کیا۔

’’کیابات کر رہی ہو شکر کرو عادل یہ زبردست چیز اٹھالایا ورنہ یہاں دیکھنے اور کرنے کے لےے تھا ہی کیا۔‘‘ سلیم نے نخوت سے ارد گرد نظر ڈالی۔

’’اتنی ہی بری جگہ تھی تو آئے کیوں تھے۔‘‘ مریم نے جل کر پوچھا۔

’’سب جارہے تھے تو گھر میں بیٹھ کرکیا کرتا کم از کم گھر میں دادا جی کو برداشت کرنے سے تو بہتر ہی ہے۔‘‘ سلیم کے انداز پر صرف چند لوگوں کو چھوڑ کر سب ہنس پڑے تھے۔

’’تم اپنے دادا کے لےے کوئی اچھی سی نرس کیوں نہیں رکھ لیتے، اچھا وقت گزر جائے گا ان کا بھی اور تمہارا بھی۔‘‘ عکاشہ کے اچانک کہنے پر پارس نا چاہتے ہوئے بھی اس کی بات کا پس منظر ڈھونڈنے لگا۔

’’میرے دادا جی کبھی بیمار ہی نہیں پڑتے مجھے تو حسرت ہی ہے کہ کبھی وہ ہم بہن بھائیوں کے کمرے میں جھانکنے کے بجائے بستر پکڑ کر لیٹ جائیں۔‘‘ سلیم نے یاسیت بھرے انداز میں سینے پر ہاتھ رکھا اس کے ہرجملے پر سب کا ہنسنا جیسے بہت ضروری تھا۔ البتہ پارس کی زبان کی نوک تک آتا جملہ ریاض نے بڑی سنجیدگی سے ادا کیا۔

’’کیسی باتیں کر رہے ہو سلیم، مذاق میں بھی کسی کو کوسنا نہیں چاہےے۔‘‘

’’کوسنا کیسا بھئی، ٹھیک ہی تو کہہ رہا ہے۔‘‘ عکاشہ فوراً بولی۔

’’کچھ بزرگوں کا مزاج ایسا ہوتا ہے کہ وہ بالکل وبال جان لگتے ہیں اب ہر کوئی پارس کی دادی کی طرح سوئیٹ تھوڑی ہوتا ہے جو ہر ایک کی زندگی میں دخل اندازی نہیں کرتیں۔ گھر میں رہتے ہوئے بھی وہ کبھی اس گہرائی میںجانے کی کوشش نہیں کرتیں کہ گھر میں کیا ہورہا ہے۔‘‘ عکاشہ کہتی چلی گئی پارس کو اس کی بات کچھ زیادہ پسند نہیں آئی وہ فوراً بولا۔

’’میرے گھر میں ایسا کچھ ہو بھی نہیں رہا ہوتا جس کی گہرائی میں جانا پڑے۔‘‘

’’مگر جن کی عادت ہوتی ہے وہ رائی کا پہاڑ بنا ہی لیتے ہیں کیوں ازل میں ٹھیک کہہ رہی ہوں نا۔‘‘ عکاشہ نے اچانک بہت فاصلے پر بیٹھی ازل کو مخاطب کیا وہ اتنی دور بیٹھی تھی کہ اسے عکاشہ کی بات سنائی بھی نہیں دی تھی وہ کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں عکاشہ کو دیکھنے لگی تو عکاشہ اسے ہاتھ سے قریب آنے کا اشارہ کرتے ہوئے قدرے چیخ کر بولی۔

’’ازل تم اتنے عرصے سے پارس کی دادی کی خدمت کر رہی ہو تم نے ان کے مزاج کو کیسا پایا۔‘‘ عکاشہ کی بات پر سبھی ازل کو دیکھنے لگے ایک سوائے پارس کے جس کی نظریں عکاشہ کے چہرے پر جمی تھیں۔

’’پارس کی دادی کی خدمت تم کیوں کرتی ہو ازل؟‘‘ اس کی کلاس فیلو نے تعجب سے پوچھا تو اس سے پہلے عکاشہ بول پڑی۔

’’تمہیں نہیں پتا یہ پارس کے گھر میں ملازمہ ہے نا۔‘‘

پتا نہیں ازل کو کیسا لگا تھا مگر پارس کو لگااس کے اندر ایک زور دار بلاسٹ ہوا ہو۔ وہ مٹھیاں بھینچتے ہوئے خود کو کسی شدید رد عمل کا مظاہرہ کرنے سے روکنے لگا جبکہ عکاشہ بڑی معصوم بنتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔

’’ازل تم نے اپنی کلاس میں کسی کو بتایا نہیں کہ تم پارس کے گھر کام کرتی ہو۔ بائی دا وے کتنے مہینے ہوگئے ہوں گے تمہیں یہ جاب کرتے ہوئے۔‘‘ اس کا سوال جیسے کسی نے سنا ہی نہیں تھا کیونکہ ازل کی کلاس کی لڑکیاں حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھیں ایک نے تو پوچھ بھی لیا۔

’’تم اتنے بڑے کالج میں پڑھ کر ایسی معمولی سی جاب کیوں کرتی ہو تمہارے پاپا کیا کرتے ہیں۔‘‘

’’اس کے پیرنٹس اس دنیا میں نہیں ہیں پارس کے فادر ہی اسے۔۔۔‘‘

’’عکاشہ میرے ڈیڈی کیا کرتے ہیں کیا نہیں وہ تمہیں یہاں ڈسکس کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ پارس نے نہایت سرد لہجے میں کہتے ہوئے اس کی بات کاٹ دی۔ مگر سب کے اندر تجسس تو سر اٹھا چکا تھا وہ سب بڑی حیرانی سے کبھی پارس، کبھی ازل اور کبھی عکاشہ کو دیکھ رہے تھے۔

’’کیا عکاشہ سچ کہہ رہی ہے۔‘‘ ازل کی کلاس فیلو فضا نے تصدیق طلب انداز میں پارس کو دیکھا وہ سب الگ الگ کلاسز میں پڑھنے کے باوجود پچھلے تین چار سالوں سے ایک ہی کالج میں ہونے کی وجہ سے نا صرف ایک دوسرے سے اچھی طرح واقف تھے بلکہ کسی حد تک بے تکلف بھی تھے۔

’’پارس کے فادر بڑے گریٹ ہیں ایک سرونٹ کو اسی کالج میں پڑھانا جس میں اپنے بیٹے کو پڑھا رہے ہوں اٹ از ناٹ آ جوک (یہ کوئی مذاق نہیں ہے)۔‘‘ سلیم نے پارس کو خاموش دیکھ کر فوراً فضا کو جواب دینا ضروری سمجھا۔

پارس لب بھینچے عکاشہ کو دیکھتا رہا اس کے چہرے سے وہ کچھ اخذ نہیں کر پارہا تھا ازل کے چہرے کی طرف دیکھنے کی اس میں ہمت نہیں ہورہی تھی۔ غصے اور شرمندگی نے بیک وقت اسے اپنے گھیرے میں لے لیا تھا کہ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کہے۔ دل تو چاہ رہا تھا عکاشہ کی زبان کھینچ لے مگر ذہن کا کوئی ایک کونا اسے ایسا کرنے سے روک رہا تھا جانے کیوں اسے لگ رہا تھا وہ جتنا بولے گا بات اتنی ہی طول پکڑے گی اور ازل کو اتنی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اسے لگ رہا تھا جیسے عکاشہ یہ سب کسی مقصد کے تحت کر رہی ہو جیسے وہ اسے اکسا رہی ہو تبھی عکاشہ نے بناوٹی انداز میں چونکتے ہوئے کہا۔

’’ارے میرا سوال تو درمیان میں ہی رہ گیا۔ بتائو نا ازل اتنے دنوں سے تم پارس کی دادی کی دیکھ بھال کر رہی ہو ان ہی کے کمرے میں زمین پر گدا ڈال کر، ٹوہ لیتے دیکھا ہے۔‘‘ سب کی نظریں ازل کے چہرے پر ایسے جم گئی تھیں جیسے اس سے دلچسپ سوال دنیا میں کبھی کسی نے کسی سے نہ پوچھا ہو۔

’’نہیں۔‘‘ ازل نے دھیمے لہجے میں کہا تو عکاشہ فخریہ بولی جیسے کوئی جنگ فتح کر لی ہو۔

’’دیکھا میں نے کہا تھا ناسب ایک سے نہیں ہوتے۔ کسی کا مزاج پتا کرنا ہو تو اس کے نوکر سے پوچھنا چاہےے جتنا صحیح وہ بتا سکتے ہیں کوئی نہیں بتا سکتا۔‘‘

’’اب چھوڑو بھی عکاشہ تم کیا بے کار کی باتیں لے کر بیٹھ گئیں۔‘‘ ریاض نے انگلیوں سے بال سنوارتے ہوئے جھنجلا کر کہا۔

’’وہ دیکھو اشعر بائیک واپس لے آیا۔‘‘ عادل نے انگلی اٹھا کر دور سے آتے اشعر کی طرف اشارہ کیا تو تقریباً تمام لڑکے اٹھ کر روڈ کی طرف دوڑ پڑے۔

’’چلو پارس۔‘‘ ریاض نے اٹھتے ہوئے کہا جو بدستور اپنی جگہ جما تھا اور اس کے چہرے پر پھیلے جامد تاثرات دیکھ کر ریاض اسے یہاں چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا تھا تبھی عادل نے دور سے آواز لگا کر پوچھا۔

’’پارس تم آرہے ہو یا میں بائیک سلیم کو رائونڈ پر لے جانے کے لےے دے دوں۔‘‘ عادل کے پوچھنے پر پارس نے خلاف توقع ہاتھ اٹھا کر اسے رکنے کا اشارہ کیا تھا۔

’’تم چلو گی عکاشہ۔‘‘ اس کے سنجیدگی سے پوچھنے پر عکاشہ چونک اٹھی۔

’’تم مجھے سیر کرائو گے وائے ناٹ چلو۔‘‘ عکاشہ کھل اٹھی۔ پارس نے پہلے حیران بیٹھے ریاض پر ایک نظر ڈالی پھر ازل کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔

’’تم لوگ بیٹھو میں ذرا عکاشہ کو ’’گھوما‘‘ دوں۔‘‘ پارس ان دونوں کا رد عمل دیکھے بغیر ایک جھٹکے سے اٹھ گیا اور پھر ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کی حیرانی بڑھتی گئی۔

عکاشہ بڑی خوشی خوشی بائیک پر پارس کے پیچھے بیٹھی تھی مگر جس طرح پارس نے پوری قوت سے کک مار کر بائیک کو اسٹارٹ کیا تھا ااور زور دار جھٹکے سے اسے آگے بڑھایا تھا اس طوفانی انداز پر عکاشہ کے ساتھ ساتھ دوسری لڑکیوں کی بھی ہلکی سی چیخیں نکل گئی تھیں۔

عکاشہ کو لگا وہ لہرا کر ابھی گر جائے گی اس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے پارس کو مضبوطی سے تھام لیا پھر بھی اس کا خوف کسی طور کم نہیں ہورہا تھا کیونکہ بائیک کی رفتار ہر لمحہ بڑھ رہی تھی۔

ریاض اور ازل ان سے اتنے فاصلے پر ہونے کے باوجود عکاشہ کی خوف سے بھری چیخیں با آسانی سن سکتے تھے بلکہ وہاں موجود سبھی لوگ کھانا پینا بھول کر اپنی اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے تھے۔

بائیک پہلے ہی بجلی کی سی رفتار سے دوڑ رہی تھی کچھ آگے جا کر تو پارس نے بائیک کو ایک ٹائر پر کھڑا کر لیا۔

عکاشہ کے ساتھ ناظرین کی بھی دل دوز چیخیں بلند ہوئی تھیں ایک پل کے لےے تو ازل کا دل بھی جیسے بند ہوگیا تھا اسے لگا پیچھے بیٹھی عکاشہ ابھی پھسل کر گر جائے گی۔ بے اختیار اس نے دعائیں پڑھنی شروع کر دی تھیں مگر ریاض پر نظر پڑتے ہی اسے کافی حیرانی ہوئی تھی وہ سڑک پر رواں دواں ٹریفک کی وجہ سے پریشان ضرور لگ رہا تھا مگر عکاشہ کی چیخوں کے ساتھ وقفے وقفے سے اس کے چہرے پر ابھرتی مسکراہٹ اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ اس منظر سے لطف اندوز ہورہا ہے۔

دس منٹ تک سب کا خون اچھی طرح خشک کر دینے کے بعد جب پارس نے بائیک واپس اپنی جگہ پر لا کر روکی تو سبھی ان کے گرد جمع ہوگئے۔ عکاشہ نے اترتے ہی بری طرح بگرٹے ہوئے اسے نان اسٹاپ ڈانٹنا شروع کر دیا۔

’’تمہارا دماغ خراب ہوگیا تھا کیا، پاگل ہوگئے تھے تم ایسے بائیک چلاتے ہیں اگر ایکسیڈنٹ ہوجاتا اگر مجھے کچھ ہوجاتا تو۔۔۔‘‘ عکاشہ کا پہلے ہی چیخ چیخ کر گلا بیٹھ گیا تھا اس وقت بکھرے بالوں اور حوا س باختہ تاثرات کے ساتھ غصے سے بھری عکاشہ کو دیکھ کر کئی چہروں پر مسکراہٹ دوڑ گئی (آخر وہ بھی عکاشہ کے ہی دوست تھے اس سے مختلف کیسے ہوتے)

’’کیا ہوا عکاشہ میں نے اتنی زبردست بائیک چلائی تم نے انجوائے نہیں کیا۔‘‘ پارس نے کمال مہارت سے اچنبھے کے ساتھ کہا۔

’’واٹ! انجوائے؟ آر یو میڈ؟ اتنی بار میں نے تم سے کہا روکو روکو۔‘‘ عکاشہ کے تلووں میں لگی اور سر پر بجھی۔

’’تم روکو روکو کہہ رہی تھیں۔ مجھے لگا تم کہہ رہی ہو گو گو۔ میں نے تمہارا جوش دیکھ کر اسپیڈ اور بڑھا دی۔‘‘

پارس کے لہجے میں بلا کی معصومیت تھی ازل کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کس پر یقین کرے۔ اپنی آنکھوں پر یا اپنے کانوں پر جسے اتنے فاصلے سے بھی عکاشہ کے الفاظ صاف سنائی دے رہے تھے۔

عکاشہ کا موڈ سخت خراب ہوگیا تھا۔ وہ بکتی جھکتی اپنی گاڑی میں جا بیٹھی۔ کئی خوشامدی لڑکے اسے منانے کے لےے اس کے پیچھے بھاگے مگر وہ ایک پل کے لےے بھی رکے بغیر فوراً وہاں سے چلی گئی اس کے جانے سے بہت سے اسٹوڈنٹس بور ہوگئے تھے انہوں نے جھنجھلا کر پارس پر لعن طعن بھی بہت کی مگر پارس کی پیشانی پر ایک بل نہیں پڑا بلکہ بڑے ہی سرشار سے انداز میں وہ گردن جھٹک کر پیشانی پر آئے بال پیچھے کرتا رہا شام ہونے کے ساتھ ساتھ ہوائوں کی اٹکھیلیاں بھی بڑھ گئی تھیں۔

پارس نے جان بوجھ کر ریاض کی طرف دیکھنے سے گریز کیا بغیر دیکھے ہی وہ اس کے چہرے پر لکھی عبارت صاف پڑھ سکتا تھا مگر جب اس کی نظر ازل پر پڑی تب اسے احساس ہوا کہ وہ بھی ریاض کی طرح اسے ہی دیکھ رہی تھی مگر آج اس کے چہرے پر صرف حیرانی نہیں تھی بلکہ ایک احساس پھیلا ہوا تھا جیسے پارس کے اس سارے روےے کی وجہ صرف ریاض ہی نہیں وہ بھی سمجھ رہی ہو اور اس کے چہرے پر پھیلا سکون ظاہر کر رہا تھا جیسے اس انتقامی کارروائی پر اسے کوئی خوشی نہ ہوئی ہو مگر یہ احساس بہت تقویت بخش ہو کہ کسی نے اسے چوٹ پہنچانے والے کو چوٹ پہنچانے کی کوشش کی۔ چاہے کوشش کا وہ طریقہ قابل قبول ہو یا نہ ہو۔ اس کوشش سے بے عزتی کا احساس کم ہوا ہو یا نہ ہو مگر صرف یہ ایک کوشش ہی اپنے اندر کئی راحتیں سموئے ہوئے تھے۔

اگر ریاض نے پارس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے چونکا نہ دیا ہوتا تو نہ جانے کتنی دیر وہ خود فراموشی کے انداز میں ازل کے چہرے پر بکھرتے رنگ دیکھتا رہتا۔

پارس چونکتے ہوئے محض اپنا دھیان بٹانے کے لےے سلیم وغیرہ کی طرف بڑھ گیا۔

ض ض ض

پکنک پر پارس جان بوجھ کر ریاض کو نظر انداز کرتا رہا جیسے بغیر سنے بھی اسے پتا ہو کہ وہ اس سے کیا کہنے والا ہے مگر آخر کب تک، ریاض بھی اپنے نام کا ایک ہی ڈھیٹ تھا وہ رات کے کھانے کے بعد پارس کے گھر چلا آیا۔ اب فرار کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ پارس ذہنی طور پر اپنی پیشی کے لےے تیار ہوگیا۔ ریاض بھی وقت ضائع کےے بغیر فوراً موضوع پر آگیا۔

’’یہ جو کچھ تم نے آج کیا اس کا مقصد کیا تھا؟‘‘

’’میں نے آج کیا کیا؟‘‘ پارس نے خوامخواہ انجان بننے کی ایک ناکام سی کوشش کی۔ ریاض کچھ دیر خاموشی سے اس کی شکل دیکھتا رہا پھر ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے پوچھنے لگا۔

’’ازل کو ہوٹل میں چھوڑ کر آنے کے بعد تم نے مجھے فون کر کے کہا تھا کہ میں نے صرف حالات سے مجبور ہو کر اس سے شادی کی ہے مگر میرا اس شادی کو نباہنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ میں صرف اس کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔‘‘

کیا مجھے بتانے کے بعد یہ سب تم نے ازل سے بھی کہا تھا یا وہ اپنے اور تمہارے رشتے کو دائمی سمجھ کر اس انتظارمیں بیٹھی ہے کہ تم کب اس شادی کو ڈیکلیئر کرو گے۔‘‘

’’میں چاہتا تو یہی تھا کہ اسے سب بتادوں مگر وہ وقت ایسا نہیں تھا کہ یہ ساری گفتگو کی جاتی مگر جب میں نے اس سے بات کی تو مجھے اندازہ ہوا وہ بہت سمجھ دار ہے۔ اس نے خود ہی کہہ دیا تھا کہ میں اپنے گھر میں اس شادی کا تذکرہ نہ کروں بلکہ اسے کہیں جاب دلادوںتو وہ خو ہی کسی دارالامان میں رہنے چلی جائے گی۔‘‘ پارس نے تفصیل سے کہا۔

’’ایسا اس نے اس وقت کہہ دیا ہوگا مگر اب تمہارا جو رویہ ہے اسے دیکھ کر وہ کسی خوش فہمی میں مبتلا بھی ہوسکتی ہے چاہے وہ کتنی بھی سمجھ دار ہو۔ آخر ہے تو ایک لڑکی ہی، تمہاری طرف سے اتنی عزت افزائی پر وہ اس رشتے کو اٹوٹ سمجھنے کی غلطی بھی کر سکتی ہے۔ اگر تمہیں اسے اپنانا ہی تھا تو پہلے دن گھر لاتے ہی سب کو بتا دیتے اسے اپنے ہی گھر میں نوکرانی بنا کر تم نے اس کے اور خود اپنے لےے مسائل کھڑے کر لےے ہیں۔‘‘

’’کیسی باتیں کر رہے ہو ریاض۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ کوئی نوکرانی نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ۔۔۔‘‘

’’پہلی بات تو ہے ہی یہ کہ وہ اس گھر میں نوکرانی ہی ہے۔‘‘ ریاض نے درمیان میں ہی اس کا جملہ قطع کر دیا۔

’’تنخواہ پر کام کرنے والے ملازم ہی کہلاتے ہیں اگر یہ سچ تمہیں اس کی انسلٹ لگتا ہے تو تمہیں اسے یہ مقام دینا ہی نہیں چاہےے تھا۔ اب اپنی غلطی کا اعتراف کر کے سچ کا سامنا کرنے کے بجائے تم عکاشہ کوسچ بولنے کی پاداش میں سزا دینے کھڑے ہوگئے۔‘‘ پارس اس کی بات سن کر بھڑک اٹھا۔

’’یہ کون سا طریقہ ہے سچ بولنے کا۔ اگر کوئی تنخواہ دار ملازم بھی ہو تب بھی کسی کو حق نہیں کہ اس کے ساتھ ایسا ہتک آمیز رویہ روا رکھے اسے اتنے لوگوں کے بیچ نوکرانی، نوکرانی کہہ کر عکاشہ صرف اسے ذلیل کر رہی تھی۔ میں نے عکاشہ کو کوئی سزا نہیں دی کیونکہ وہ محض اتنی سی سزا کی مستحق نہیں تھی اس کا تو وہ حشر کرنا چاہےے تھا کہ زندگی بھر یاد رکھتی۔‘‘

’’میں مانتا ہوں اس کا رویہ بہت برا تھا مگر عکاشہ نے کیا کیا۔ اس بحث میں پڑنے کے بجائے تم یہ بتائو کہ تم نے ابھی تک ازل کو طلاق کیوں نہیں دی۔‘‘ ریاض کے منہ سے نکلی بات کسی نشتر کی طرح پارس کو چبھی تھی۔ اس نے کچھ کہنے کے لےے منہ کھولا مگر کوئی الفاظ نہ ملنے پر وہ صرف ریاض کو دیکھتا رہ گیا۔ ریاض کچھ دیر اس کے بولنے کا انتظار کرنے کے بعد خود ہی کہنے لگا۔

’’پہلے دن تم اسے اس ارادے کے ساتھ گھر لائے تھے کہ اسے چھوڑ دو گے پھر اتنے مہینے گزرنے کے باوجود تم نے ابھی تک اپنے ارادے کو عملی جامہ کیوں نہیں پہنایا۔‘‘ اسے بدستور خاموش دیکھ کر ریاض ٹھوس لہجے میں کہنے لگا۔

’’کیوں تم اسے چھوڑنا ہی نہیں چاہتے۔‘‘

’’کیا بکواس کر رہے ہو یار۔‘‘ پارس نے اس کی طرف سے رخ موڑتے ہوئے ٹی وی کا ریموٹ اٹھالیا مگر اس سے پہلے کہ وہ ٹی وی آن کرتا ریاض نے ریموٹ اس کے ہاتھ سے چھینتے ہوئے کہا۔

’’تمہیں اتنی سی بات کا اعتراف کرنے میں اتنی دقُت کیوں ہورہی ہے کیونکہ وہ تمہارے اسٹینڈرڈ کی نہیں ہے۔‘‘

’’ریاض پلیز۔‘‘ پارس نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔

’’تو پھر تم خود بتائو تم ایک فیصلہ کیوں نہیں کرلیتے اگر اپنانا نہیں ہے تو چھوڑ دو اور اگر چھوڑنا نہیں چاہتے تو فوراً پیش قدمی کرو، تمہارے ممی ڈیڈی تم سے اتنی محبت کرتے ہیں انہیں ازل کو بہو بنانے پر اعتراض تو ہوگا مگر تمہاری خوشی کی خاطر وہ اس فیصلے کو قبول کرلیں گے لیکن پہلے تم خود تو اس سچائی کو قبول کرو۔‘‘

’’ازل واقعی بہت اچھی لڑکی ہے اسے چھوڑنا سراسر بے وقوفی ہوگی۔‘‘ پارس اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا تھا مگر ریاض نے جیسے چاروں طرف سے اسے گھیر لیا تھا وہ بے بس ہوتے ہوئے بولا۔

’’اچھی تو وہ ہے مگر میں نے کبھی اس کے بارے میں سوچا نہیں۔‘‘

’’تم اپنی سوچوں کو آزاد چھوڑو گے تو کچھ سوچو گے نا۔‘‘ ریاض بے ساختہ مسکر ادیا تو پارس بھی جیسے ہار مانتے ہوئے بولا۔

’’شاید تم ٹھیک کہہ رہے ہو میں نے کبھی خود کو اس کے بارے میں سوچنے ہی نہیں دیا۔ حالانکہ وہ صرف اچھی نہیں بہت اچھی ہے مگر اس کا تعلق جس ماحول اور علاقے سے تھا اس ماحول کی لڑکی کو میںنے اپنی شریکِ حیات بنانے کا کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ اس بات کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں کسی لمبے چوڑے جہیز کا خواہش مند تھا۔ میری کنفیوژن کی وجہ صرف یہ تھی کہ اتنی مختلف زندگی جینے والی لڑکی میں اور مجھ میں ذہنی مطابقت کیسے پیدا ہوگی اور پھر میں ممی ڈیڈی کو بھی ہرٹ نہیں کرنا چاہتا تھا ظاہری بات ہے انہوں نے بھی میری طرح اپنے ذہن میں اپنی بہو کا خاکہ کچھ اور ہی بنا رکھا ہوگا۔‘‘ پارس سنجیدگی سے بولا۔

’’اس خاکے میں ازل مکمل طور پر فٹ ہوسکتی ہے اگر تم اسے موقع دو تو۔ وہ ایک پڑھی لکھی لڑکی ہے اور پھر ذہنی مطابقت کا تعلق صرف ماحول سے نہیں ہوتا کچھ انسان کی اپنی فطرت بھی ہوتی ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو تمہاری اور عکاشہ کی بہت اچھی انڈر اسٹینڈنگ ہونی چاہےے تھی مگر ایسا نہیں ہے اس لےے ان بے کار باتوں کو چھوڑ کر تم صرف یہ دیکھو کہ ازل کے لےے اسٹینڈ لے سکتے ہو یا نہیں۔‘‘ ریاض کے پوچھنے پر پارس فوراً بولا۔

’’اسٹینڈ لینا کون سا مشکل کام ہے، ممی ڈیڈی میرا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔ شادی تو میںکر ہی چکا ہوں وہ اتنے ضدی بھی نہیں ہیں کہ میرے اس اقدام پر مجھے گھر سے نکال دیں مگر بات صرف اتنی ہے کہ میں انہیں تکلیف نہیں پہنچانا چاہتا، انہیں ہرٹ کر کے میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہتا اور ازل کو اپنانے کی صورت میں انہیں ٹھیس پہنچنا یقینی ہے۔‘‘ پارس کا لہجہ پژمردہ سا ہوگیا تھا۔

’’ایک طریقہ ہے اگر تم اپنی اور اس کی شادی کے متعلق کچھ نہ بتائو اور ایسے ہی۔۔۔‘‘

’’کیا بات کر رہے ہو یا، اس طرح تو ممی ڈیڈی بالکل بھی نہیں مانیں گے بلکہ انہیں لگے گا کہ ازل نے کسی گھٹیا پلاننگ کے ذریعے مجھے شیشے میں اتار لیا ہے حالانکہ گھٹیا حرکتیں تو دور کی بات ہے وہ تو کبھی بغیر سر ڈھکے میرے سامنے بھی نہیں آتی۔‘‘ پارس نے فوراً اس کا مشورہ رد کر دیا۔

’’تو کیا بتائو گے انہیں کہ پولیس اسٹیشن میں نکاح ہوا تھا۔ اور وہ چوری کے الزام میں لاک اپ میں بند تھی۔‘‘

ریاض کا سرد اور سنجیدہ لہجہ پارس کو لمحہ بھر کے لےے لاجواب کر گیا۔

’’میرے خیال سے اس بات کو ابھی ایسے ہی رہنے دیتے ہیں۔‘‘ پارس کا انداز صاف پہلو تہی والا تھا۔

’’پارس جو شخص بیک وقت کئی لوگوں کو خوش دیکھنا چاہتا ہو وہ خود سب سے زیادہ ناخوش رہتا ہے تم کسی کے لےے مسئلہ کھڑا نہیں کرنا چاہتے اس لےے اس معاملے کو ایسے ہی رہنے دینے کو کہہ رہے ہو حالانکہ یہ بات انہیں جتنی دیر سے پتا چلے گی مسائل اتنے ہی زیادہ ہوں گے خاص طور پر اگر یہ بات انہیں کسی اور کے ذریعے پتا چلی تو بات اور بھی گمبھیرہوسکتی ہے۔‘‘ ریاض نے ناصحانہ انداز میں کہا مگر پہلی بار پارس الجھنے کے بجائے دل کھول کر مسکرادیا۔

’’یہ بات انہیں کسی اور کے ذریعے کیسے پتا چلے گی۔ یہ بات صرف ہم تین لوگ جانتے ہیں تم، میں اور ازل، اور مجھے تم دونوں پر اتنا ہی بھروسہ ہے جتنا خود پر۔‘‘

ض ض ض

ریاض کے سامنے یہ اعتراف کر کے وہ جیسے اندر تک پرسکون ہوگیا تھا ورنہ اتنے دنوں سے اس کے اندر ایک جنگ چل رہی تھی حالانکہ وہ اب بھی کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچا تھا مگر اب وہ ازل کو اپنے احساسات سے آگاہ ضرور کر نا چاہتا تھا اور اس کا رد عمل جاننا چاہتا تھا کیسے ری ایکٹ کرے گی وہ، کیا حسبِ عادت اس کی آنکھیں حیرانی سے پھیل جائیں گی یا اس کے چہرے پر وہی مبہوت کر دینے والی مسکراہٹ ابھر آئے گی۔ پارس سوچ کر خود ہی ہنس دیتا۔

اگلے دن کالج میں بھی وہ یہی سوچتا رہا کہ اسے ازل سے کیسے بات کرنی ہے۔ریاض نے دو تین بار اسے ٹوکا بھی کہ عکاشہ کالج نہیں آئی وہ ضرور ناراض ہوگی اسے فون کرلو مگر پارس نے جواب دینا تو درکنار دھیان دینا بھی ضروری نہیں سمجھا۔

کالج سے آفس پہنچ کر اسے وہاں اتنی دیر ہوگئی کہ اسے جم جانے کا بھی وقت نہیں ملا۔ ٹوکیو کی ایک کمپنی ان کے ساتھ ڈیل کرنا چاہتی تھی اس سلسلے میں ایک پورا وفد ٹوکیو سے آیا تھا ان کے ساتھ میٹنگ کے بعد ڈیڈی گھر چلے گئے اور وہ ان کے ساتھ آفیشلی ڈنر پر جانے کے لےے مجبور ہوگیا۔

رات کو دیر سے واپسی ہونے پر صبح اس کی آنکھ بھی دیر سے کھلی تھی۔ دادی اس وقت تک اٹھ چکی ہوں گی۔ لہٰذا ازل سے اگلے دن بات کرنے کا سوچ کر جب وہ کالج پہنچا تو پہلی بار عکاشہ کے لگاتار دو دن چھٹی کرنے پر ایک لمحے کے لےے اس نے سوچا کہ اسے فون کرلے مگر پھر اس دن کی گفتگو یاد آنے پر وہ سر جھٹک کر رہ گیا بلکہ کالج آکر اسے ازل کی بھی غیر حاضری کا علم ہوا تو وہ کالج ختم ہونے پر آفس جانے کے بجائے سیدھا گھر چلا آیا، راستے میں اس نے ڈیڈی کو اطلاع کر دی تھی کیونکہ وہ اور ڈیڈی دوپہر کا کھانا گھر پر نہیںکھاتے تھے اس لےے ممی بھی اس وقت زیادہ تر گھر پر نہیں ہوتی تھیں ان کی سماجی مصروفیات اتنی زیادہ تھیں کہ وہ آئے دن گھر سے باہر ہی لنچ کرتی تھیں۔

اپنے معمول سے ہٹ کر جب وہ گھر میں داخل ہوا تو گھر کا ماحول بھی معمول سے مختلف پایا۔ جب وہ سب گھر پر ہوتے ازل صرف دادی کے کمرے میں مقید رہتی۔ لیکن اس وقت وہ نا صرف خانساماں کے ساتھ کچن میںمصروف تھی بلکہ باتوں کی آواز سے ظاہر تھا کہ وہ دادی اور خانساماں کے ساتھ روز یہ وقت یہیں گزارتی ہوگی۔ دادی کا اسے پتا تھا کہ وہ بوریت کے وقت کچن میں رکھی ڈائننگ ٹیبل کی کرسی سنبھال لیتی تھیں اور کوئی سبزی وغیرہ کاٹ کر اپنا وقت گزارنے کی کوشش کرتیں مگر ازل کے آنے کے بعد وہاں باتوںکا بھی دور چلنے لگا تھا۔ یہ پارس کے لےے بالکل نئی خبر تھی۔

وہ کپڑے بدلے بغیر خاموشی سے جا کر کچن کے دروازے میں کھڑا ہوگیا۔ سبھی اس کی جانب سے رخ موڑے کام میں مصروف تھے کسی کو بھی اس کی آمد کا احساس نہیں ہوا تھا۔ خانساماں روٹی پکا رہا تھا۔ ازل برتن دھو رہی تھی اور دادی مٹر چھیلتے ہوئے خاصی جھنجھلائی ہوئی بھی لگ رہی تھیں۔

’’چلو مان لیا انہیں تمہاری ذات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے لیکن تم یہی سمجھ لو کہ مجھے ذلیل ہونے کا شوق ہے، اس لےے ایک بار میں تمہارے خاندان والوں سے ملنے ضرور جائوں گی چاہے وہ میرے منہ پر دروازہ ہی کیوں نہ بند کر دیں۔‘‘ ان کے انداز پر ازل ہنس پڑی تھی۔ بڑی کھوکھلی سی ہنسی تھی اس کی، جیسے زبردستی ہنسنے کی کوشش کر رہی ہو۔

’’دادی آپ تو برا مان گئیں میرا یہ مطلب تھوڑی تھا۔‘‘ وہ پارس کی جانب پشت کےے سنک میں برتن دھو رہی تھی اس لےے اس کے تاثرات پارس سے مخفی تھے مگر اس کی آواز سے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ خوامخواہ کھلکھلانے کی کوشش کر رہی ہو۔

’’میرے خاندان والے آپ کی بات سمجھنے کے بجائے میری ذات پر اعتراض شروع کر دیں گے انہیں لگے گا شہر جا کر میں خود سر ہوگئی ہوں اپنے فیصلے خود کرنے لگی ہوں۔‘‘

’’تم بے کارمیں پریشان ہورہی ہو جہاں بیری ہوتی ہے وہاں پتھر آتے ہی ہیں۔ یہ تو ہمارا ظرف ہے کہ ہم کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے انہیں مطلع کر رہے ہیں ورنہ جس طرح وہ تمہاری ذات سے لا تعلق بنے بیٹھے ہیں انہیں کوئی حق نہیں کسی قسم کی رائے دینے کا مگر خاندان میں ضد نہیں باندھی جاتی اگر آج ہم نے بغیر ان کی اجازت اور مشورے کے کوئی قدم اٹھا لیا تو کل تمہیں ہی مشکل ہوگی۔‘‘ دادی بالکل روایتی انداز میں بول رہی تھیں، پارس سمجھتے ہوئے بھی سمجھ نہیں پارہا تھا۔

’’کیا مسئلہ درپیش ہے دادی۔‘‘ پارس کی بات پر سب ہی چونک کر مڑے تھے۔ پتا نہیں پارس کا وہم تھا یا حقیقت مگر اسے لگا اس پر نظر پڑتے ہی ازل نے سکون کا سانس لیا تھا۔

’’ارے آج تم کیسے جلدی آگئے؟‘‘ دادی خوش ہوتے ہوئے بولیں تو وہ انہیں سلام کرتا کرسی گھسیٹ کر ان کے پاس ہی بیٹھ گیا۔

’’دل نہیں چاہ رہا تھا آفس جانے کا۔ تم کالج کیوں نہیں آئیں۔‘‘ پارس نے پہلی بار اسے سب کے سامنے مخاطب کیا۔ اس کے جواب دینے سے پہلے ہی دادی کہنے لگیں۔

’’کیسے جاتی وہ بے چاری، میری ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ جو تھی، اللہ کا شکر ہے کہ ابھی میرے ہاتھ پائوں چل رہے ہیں پھر بھی اس لڑکی نے مجھے ہتھیلی کا چھالا بنا رکھا ہے۔ میں نے بہت کہا میں چلی جائوں گی مگر نہ جی مجال ہے جو کوئی میری سن لے۔‘‘ دادی نے خاصی برہمی سے کہا تو پارس بے ساختہ ہنس دیا۔

’’یہ کس کس پر غصہ آرہا ہے آپ کو جو اس بے چاری پر نکل رہا ہے۔‘‘

’’تمہارا دوست ریاض آخر مجھے اپنی والدہ کا نمبر کیوں نہیں دیتا، دو دن پہلے جب وہ گھر آیا تھا میں نے تب بھی کہا کہ اپنے گھر کا نمبر دے دو لیکن پتا نہیں اسے ہر وقت کس بات کی جلدی رہتی ہے بس یہ کہا کہ جی دادی ابھی آکر دیتا ہوں اور ایسا غائب ہوا کہ وہ ’’ابھی‘‘ پھر کبھی نہیں آئی۔‘‘

’’تو اس سے نمبر کیوں مانگا آپ نے، مجھ سے لے لیتیں۔‘‘ پارس فوراً بولا تو دادی کو غصہ ہی آگیا۔

’’تم سے تو چھ ماہ سے مانگ رہی ہوں، دینے والے کو بھلے ہی کوئی شرم و حیا نہ ہو لیکن اتنی دفعہ کی ٹال مٹول کے بعد تو مانگنے والے کا ہی منہ نہیں پڑتا۔‘‘ وہ شاید ابھی مزید اس کی تعریفیں کرتیں کہ پارس نے پیالے میں پڑے مٹر اٹھانے چاہے تو انہوں نے پورا پیالہ جھپٹ لیا۔

’’ہاتھ تو دھو لو۔‘‘ دادی نے اسے ناگواری سے دیکھا وہ ویسے ہی غصے میں تھیں۔ پارس نے چپ چاپ ہاتھ دھولینے میں ہی عافیت سمجھی اور سنک کی طرف بڑھ گیا۔

’’آپ کو کیا کام ہے ریاض کی امی سے، میں آپ کو ان کے گھر لے چلتا ہوں۔‘‘

’’ہیں واقعی۔‘‘ توقع کے عین مطابق ان کا غصہ ایک پل میں غائب ہوگیابلکہ وہ پہلے سے زیادہ جوش سے مٹر چھیلتے ہوئے کہنے لگیں۔

’’تو پھر ایسا کرتے ہیں آج ہی چلتے ہیں۔‘‘ وہ تو جیسے انتظار میں تھیں۔

’’آج۔‘‘ پارس نے قدرے حیرت سے کہا ازل اسے ہاتھ دھونے کی جگہ دیتے ہوئے ایک طرف ہٹ گئی تو اس نے سوالیہ نظروں سے ازل کو دیکھتے ہوئے بظاہر دادی سے پوچھا۔

’’آخر بات کیا ہے؟‘‘

’’ازل کا بڑا اچھا رشتہ آیا ہے۔‘‘ دادی نے گویا دھماکا کر دیا۔ وہ صابن ہاتھ میں پکڑے اسے دیکھتا کا دیکھتا رہ گیا جو سر جھکائے سلیب پر انگلی پھیرنے لگی تھی جبکہ دادی اپنے آپ میں مگن اس جوش و خروش کے ساتھ کہتی رہیں۔

’’میں جہاں چیک اپ کے لےے جاتی ہوں وہاں عموماً ایک آصفہ نامی نرس ہی میرے کام پر معمور ہوتی ہے بڑی اچھی لڑکی ہے ہمیشہ بہت باتیں کرتی ہے جب آج میں چیک اپ کے لےے گئی تو اس نے اپنے بھائی کے لےے ازل کا رشتہ مانگا ہے۔ میں نے کہا اسے پڑھنے کا بہت شوق ہے تو وہ کہنے لگی وہ پرائیویٹ تعلیم حاصل کرلے یا اگر سائنس چینج کرنا نہیں چاہتی تو ہم انتظار کرلیں گے اس کا بھائی ویسے بھی دبئی میں رہتا ہے۔

میرے خیال سے تو بس لڑکے کے بارے میںمعلومات کرانے کے بعد فوراً شادی کردینی چاہےے۔ پڑھائی بہت ضروری سہی مگر اس کے کوئی آگے پیچھے نہیں ہے کل کو اگر مجھے کچھ ہوگیا تو تمہاری ماں اسے بلا وجہ گھر میں بھی نہیں رکھے گی پھر کہاں جائے گی یہ۔ تم کچھ بول کیوں نہیں رہے پارس۔ میں ٹھیک کہہ رہی ہوں نا۔‘‘

دادی کو اچانک اس کی خاموشی کا احساس ہوا تھا وہ تب سے نل کے نیچے ہاتھ کےے صابن پکڑے کھڑا تھا۔ ازل پھر بھی خود کو مصروف ظاہر کرنے کے لےے پلٹ کر پیاز کاٹنے لگی، دال کو بگھارنے کے لےے۔

’’جی، جی دادی بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ۔‘‘ پارس نے چونکتے ہوئے کہا تو وہ بھی چونک کر اسے دیکھنے لگی۔ اس کی حیرانی سے پھیلتی آنکھوں کو دیکھ کر پارس نے بمشکل اپنی مسکراہٹ ضبط کی تھی۔

’’ازل کے لےے پڑھائی سے زیادہ ضروری ہے کہ وہ شادی کر کے اپنا گھر بسالے مگر لڑکا بہت دور ہے اگر یہاں ہوتا تو ایک بار ازل سے ملا تو سکتے تھے آخر اس کی بھی تو کوئی پسند نا پسند ہوگی اب ایسا تو ہو نہیں سکتا کہ سیدھا قاضی صاحب کو بلا لیا جائے اور بغیر سوچے سمجھنے سیدھا نکاح نامے پر دستخط کرالےے جائیں۔‘‘ پارس ہاتھ دھو کر سلیب کے دوسری جانب اسی کے سامنے آکھڑا ہوا مگر وہ سر جھکائے خاموشی سے پیاز کاٹتی رہی جبکہ دادی تڑپ اٹھیں۔

’’کیسی باتیں کر رہے ہو، اب ایسا بھی اندھیر نہیں کہ ہم بغیر کچھ معلوم کےے اسے اتنی دور بھیج دیں۔ لڑکے کی معلومات پارس تم خود کرائو گے لیکن یہ سب تو بعد کی باتیں ہیں پہلے ازل کے گائوں جا کر ان کے خاندان والوں سے تو بات کرلیں۔‘‘ دادی کا انداز ایک بار پھر جھنجھلایا ہوا ہوگیا تھا۔

’’کیا ضرورت ہے گائوں میں بات کر کے مسائل کھڑے کرنے کی، اگر انہوں نے منع کر دیا اور اپنے خاندان کا کوئی ان پڑھ اس کے پلُے باندھ دیا تو۔‘‘ پارس نے پلٹ کر ایک نظر دادی کو دیکھا تو وہ بھی ہاتھ روک کر اسے ایسے دیکھنے لگیں جیسے یہ خیال انہیں پہلے نہ آیا ہو۔

’’بات تو تمہاری ٹھیک ہے مگر ہم ان کے بغیر بتائے اس کا رشتہ تھوڑی طے کر سکتے ہیں کل کو ان لوگوں نے ہم پر کوئی الزام لگا دیا یا لڑکی کو غائب کر دینے کا مقدمہ دائر کر دیا تو۔۔۔ یہ تو شادی کر کے دبئی چلی جائے گی۔‘‘

دادی فکر مندی سے بولیں۔

’’ایسا کچھ نہیں ہوگا دادی۔ یہاں بغیر شناختی کارڈ کے لڑکی کا نکاح ہوسکتا ہے چاہے اس کے سرپرست بھی موجود نہ ہوں اور یہ بھی کنفرم نہ ہو کہ لڑکی بالغ بھی ہے یا نہیں۔ یہ سارے قانونی دائو پیج ہم سنبھال لیں گے۔ آپ صرف ازل کی مرضی معلوم کریں کہ یہ راضی ہے یا نہیں۔‘‘ پارس نے دوبارہ ازل کی طرف پلٹتے ہوئے اس کے جھکے سر کو دیکھتے ہوئے کہا۔ امریکن اسٹائل کے درمیان میں بنے سلیب پر کہنیاں ٹکاتے ہوئے وہ جھک کر اس کے تاثرات دیکھنے کی کوشش کرتے ہوئے بولا۔

’’ویسے یہ بھی کیا کہے گی اس نے لڑکے کو دیکھا ہی نہیں، مگر زیادہ فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں میں مل کر ایسا آنکھوں دیکھا نقشہ کھینچوں گا کہ تمہیں لگے گا وہ تمہارے سامنے کھڑا ہے بائی دا وے کیسا ہونا چاہےے اسے؟ میرے جیسا چلے گا؟‘‘

تیز دھار کی چھری پیاز کے بجائے اس کی انگلی پر چل گئی تھی۔

تکلیف کی شدت سے اس کے ہاتھ سے چھری گر گئی تھی مگر اس کے منہ سے ایک ’’سی‘‘ تک نہیں نکلی۔ خانساماں فوراً اس کی طرف لپکا۔

’’ارے ارے بیٹی اتنا گہرا گھائو، چھوڑ دو یہ سب میں کرلوں گا۔‘‘

’’ہاں ہاں ازل جائو جا کر جلدی سے پٹی باندھ لو۔‘‘

دادی بھی فوراً بولیں تو وہ کسی کی طرف دیکھے بغیر تیزی سے کچن سے نکل گئی۔ پارس صرف سر پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔

ض ض ض

دادی کو اس نے فی الحال اس رشتے کے بارے میں کسی کو بھی بتانے سے منع کر دیا۔ اس نے یہی کہا تھا کہ ممی رشتے کا سنتے ہی اس کی شادی کے لےے راضی ہوجائیں گی جبکہ انہیں پہلے ہر طرح سے اطمینان کر لینا چاہےے اگر رشتہ ہر لحاظ سے موزوں ہوا تب ممی ڈیڈی سے ذکر کریں گے۔ دادی مان تو گئیں مگر ازل کے گھر والوں کو لے کر وہ ابھی تک پریشان تھیں اور ان کی باتیں سن کر اسے لگ رہا تھا کہ اسے اب مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہےے اور ڈیڈی کو سب کچھ صاف صاف بتا دینا چاہےے۔ جتنا وقت گزرتا جائے گا اس کے لےے سچ بتانا اتنا ہی مشکل ہوتا جائے گا مگر اس سے پہلے وہ ایک بار کھل کر ازل سے بات کرنا چاہتا تھا کیونکہ سچائی سامنے آنے پر وقتی طور پر اس کی پوزیشن بہت آکورڈ ہوجائے گی حالانکہ آئندہ کی طرف سے وہ بہت پرامید تھا کہ سب ٹھیک ہوجائے گا مگر سب ٹھیک ہونے تک جو حالات ہوں گے کیا ازل وہ برداشت کر سکے گی۔

وہ ازل سے بات کرنے کے متعلق سوچ ہی رہا تھا کہ کمرے کے دروازے پر ابھرنے والی دستک نے اسے چونکا دیا۔ وہ رات کے کھانے کے بعد واک کر کے اپنے کمرے میں آگیا تھا اور کالج کے کام سے فارغ ہو کر بس سونے ہی جارہا تھا مگر دروازہ کھولنے پر اس کی نیند ہی اڑ گئی۔ اس کے سامنے ازل کھڑی تھی۔ بے اختیار اس نے گھڑی کی طرف دیکھا جہاں رات کے ساڑھے گیارہ بج رہے تھے۔

’’ازل تم یہاں۔‘‘ بالکل غیر ارادی طور پر اس کے منہ سے نکلا تھا۔

’’مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔‘‘ وہ بہت جھجکتے ہوئے بولی۔ پارس اتنی رات گئے اسے اپنے کمرے میں بلانا نہیں چاہتا تھا لیکن اگر وہ خود سے آئی تھی تو واقعی کوئی ضروری بات ہوگی پارس کو مجبوراً ایک طرف ہٹتے ہوئے اسے اندر آنے کی جگہ دینی پڑی۔

’’کیا بات ہے۔‘‘ اس کے پیچھے دروازہ بند کرتے ہوئے پارس نے ایسے پوچھا جیسے جو کہنا چاہتی ہو کہہ کر جلد سے جلد چلی جائو۔ وہ خود بھی ایسی ہی کسی کیفیت سے دو چار تھی اس لےے فوراً کہنے لگی۔

’’میں دادی کو اپنے بارے میں سب کچھ بتا دینا چاہتی ہوں۔ بس اس نکاح والی بات کو چھوڑ کر، کیونکہ جو نکاح ٹوٹنے ہی والا ہے اس کے بارے میں بتانے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ لیکن میں اور کوئی بات چھپانا نہیں چاہتی۔‘‘ وہ بڑی مضطرب لگ رہی تھی۔

’’لیکن کیوں۔ تم نے ہی تو کہا تھا جیسے چل رہا ہے چلنے دیں۔ کیا اب تمہیں یقین ہوگیا ہے کہ وہ تمہاری بے گناہی کو سمجھ جائیں گی۔‘‘ پارس نے سنجیدگی سے پوچھا۔

’’نہیں، یہ یقین تو مجھے اب بھی نہیں ہے مگر ان گزرے چند مہینوں میں مجھے یہ ضرور پتا چل گیا ہے کہ جھوٹ زیادہ دیر چل نہیں سکتا اور جو لوگ ایسی کوشش کرتے ہیں وہ اپنا ذہنی سکون کھو دیتے ہیں۔ اسی لےے میں نے طے کیا ہے کہ میں دادی کی نرس آصفہ کو اپنے بارے میں سب بتادوں گی۔ بھلے ہی وہ سب جاننے کے بعد اپنے بھائی کا رشتہ نہ دیں لیکن میں اتنی ساری غلط بیانی کے ساتھ کوئی نیا رشتہ استوار کرنا نہیں چاہتی۔

جب میں انہیں بتائوں گی کہ میرا گائوں میں کہیں کوئی خاندان نہیں ہے تو وہ میری بابت دادی سے ضرور پوچھیں گی اگر دادی کو کسی اور کے ذریعے پتا چلا تو انہیں بہت تکلیف ہوگی اور وہ مجھ سے زیادہ بدگمان ہوجائیں گی انہوں نے مجھے بہت محبت دی ہے میں انہیں کوئی صدمہ نہیں پہنچانا چاہتی، انہوں نے اگر سب کچھ جاننے کے بعد مجھے دھتکار دیا تو میں کسی دارالامان میں چلی جائوں گی۔ مگر اب میں مزید کوئی جھوٹ نہیں بول سکتی وہ بھی ایسا جھوٹ جو کبھی بھی کھل سکتا ہو۔

دادی کے پاس ریاض بھائی کی امی کا نمبر نہیں ہے لیکن ان کی کہیں اتفاق سے ملاقات بھی تو ہوسکتی ہے۔ آپ کو کیا لگتا ہے اگر آپ اور ریاض بھائی انہیں ملنے نہیں دیں گے تو وہ کبھی روبرو نہیں ہوں گے۔ جس دن وہ دادی کو کہیں مل گئیں دادی سب سے پہلے ان سے میرے گائوں کا پتا مانگیں گی میں انہیں اپنے گائوں کے جھوٹے قصے سناتے سناتے تھک گئی ہوں۔‘‘

وہ کہتی چلی گئی جس روانی سے وہ بول رہی تھی اسی تواتر سے اس کی آنکھیں بہہ رہی تھیں۔ پارس مضطرب ہونے کے ساتھ ساتھ شرمندہ بھی ہوگیا۔

وہ اس عذاب سے آج اسی کی وجہ سے گزر رہی تھی۔ یہ سارے جھوٹ اس نے پارس کے کہنے پر ہی بولے تھے۔ وہ ہر وقت دادی کے ساتھ رہتی تھی۔ ایسے میں اسے ہر لمحہ کوئی نہ کوئی جھوٹ ایک جھوٹ کو نباہنے کے لےے بولنا پڑتا ہوگا۔ وہ بھی دادی جیسی شفیق عورت سے۔

اس کا ضمیر اسے کتنی ملامت کرتا ہوگا اور وہ کس اذیت سے گزرتی ہوگی اس کا احساس پارس کو پہلی بار ہوا تھا۔ ورنہ وہ تو یہ سوچ کر مطمئن تھا کہ وہ یہاں بہت آرام سے ہے لیکن اگر ذہنی سکون میسر نہ ہو تو جسمانی آرام بھی ہیچ ہوجاتا ہے۔ اس کے اتنے رات گئے یہاں آنے سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ وہ بت دیر بستر پر لیٹی ان ساری سوچوں کو جھٹکنے کی کوشش کر رہی ہوگی مگر جب کامیابی نہیں ہوئی تو پارس کے پاس چلی آئی۔ اس وقت اس میں واقعی اتنی ہمت ہوگی کہ ہر ردعمل کا سامنا کر سکتی ہوگی کیونکہ اس وقت وہ ضمیر کی لن ترانیاں سن کر آرہی تھی۔

’’ازل پلیز چپ ہوجائو تم جیسا چاہتی ہو ویسا ہی ہوگا تم ٹھیک کہہ رہی ہو، جھوٹ زیادہ دیر نہیں چل سکتا مگر مجھے ڈر تھا کہ سچ بتانے کے بعد شاید میرے گھر میں تمہیں جگہ نہ مل سکے اور اگر مل بھی جاتی تب بھی اتنی عزت اور توقیر ہر گز نہ ہوتی لیکن اگر تم چاہتی ہو تو میں دادی کو بتا دیتا ہوں کہ تمہارا ریاض کے آبائی گائوں سے کوئی تعلق نہیں۔ تم رفیق بابا کی بیٹی ہو اور تمہیں یہاں میں لے کر آیا تھا لیکن اب بھی یہ نہیں چاہوں گا کہ تمہارے اریسٹ ہونے کے بارے میں کچھ بتایا جائے ورنہ وہ لوگ تمہیں بہو کی حیثیت سے کبھی قبول نہیں کریں گے۔‘‘ پارس کی بات پر وہ رونا دھونا بھول کر ہونقوں کی طرح اسے دیکھنے لگی۔

’’بہو!‘‘ اس نے زیرِ لب دوہرایا اس کے لہجے میں بے یقینی ہی بے یقینی تھی۔

’’کیوں کیا تمہیں دوبئی والا رشتہ زیادہ پسند آگیا ہے جو اتنی پریشان ہوگئی ہو۔‘‘

پارس نے مسکراتے ہوئے پوچھا مگر اس کی حالت کے پیشِ نظر فوراً سنجیدہ ہوتے ہوئے کہنے لگا۔

’’میں تم سے اس بارے میں بات کرنے ہی والا تھا۔ اچھا ہوا تم نے خود ہی ذکر چھیڑ دیا۔ میں اس رشتے کو ختم نہیں کرنا چاہتا بلکہ تمہیں پوری دنیا کے سامنے سماجی اور روایتی انداز میں اپنانا چاہتا ہوں کیا تمہیں میرا ساتھ منظور ہے۔‘‘

’’بالکل نہیں۔‘‘ ازل کے چہرے پر پھیلے بے یقینی کے تاثرات یک دم برہمی میں تبدیل ہوگئے۔ پارس کو اس قدر صاف انکار کی توقع نہیں تھی۔ مگر وہ فوری طور پر کسی رد عمل کا مظاہرہ کرنے کے بجائے خاموشی سے اسے دیکھتا رہا اور اس کی یہ خاموشی محسوس کرتے ہوئے ازل خود بھی متذبذب ہوگئی۔

’’آپ۔۔۔ آپ کے مجھ پر بہت احسان ہیں ایک احسان اور کردیں پلیز میرا خیال اپنے دل سے نکال دیں میں۔۔۔ میں اپنا کوئی تماشا نہیں بنانا چاہتی اور اتنا تو آپ کو بھی یقین ہوگا جس دن آپ نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا اسی دن گھر میں بھونچال آجائے گا۔ میں اب کسی امتحان سے گزرنا نہیں چاہتی۔ آپ اس رشتے کو ختم کر دیں۔ میں زیادہ دن آپ کے گھر میں رہنا بھی نہیں چاہتی۔ دادی کو جہاں مناسب لگے گا وہ میری شادی کر دیں گی تو آپ کے والدین کو بھی مجھے اپنے گھر میں پناہ دینے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہوگا۔ ورنہ وہ ساری عمر یہی سوچتے رہیں گے کہ ایک نیکی ان کے گلے پڑ گئی۔ انہوں نے ایک بے سہارا لڑکی کو سہارا دیا تو وہ ان کے بیٹے پر ہی قابض ہوگئی۔ میں ایسے طعنے اور حقارت سے بھری نظریں برداشت نہیں کر سکتی۔ آپ پلیز مجھے اس بندھن سے آزاد کردیں۔‘‘

وہ دونوں ہاتھوں میں چہرا چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ پارس لب بھینچے بے بسی سے اسے دیکھتا رہا۔ کتنی خوش نصیب تھی وہ، دل دکھا تھا تو کم از کم آنسو تو بہا سکتی تھی، وہ تو یہ بھی نہیں کر سکتا تھا۔

ہمیشہ کی طرح آج پارس کے پاس اسے تسلی دینے کے لےے الفاظ نہیں تھے۔ حالانکہ وہ چاہتا تو اس کی بات مان کر ایک پل میں اس کے چہرے پر وہی معصوم سی مسکراہٹ بکھیر سکتا تھا مگر اس کے دل و دماغ میں ایک جنگ چھڑی ہوئی تھی دونوں ہی ایک دوسرے کی بات ماننے کے لےے تیار نہیں تھے۔ اس نے تنے ہوئے اعصابوں کو ڈھیلا چھوڑتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا۔

’’رات بہت ہورہی ہے جائو جا کر سوجائو، صبح بات کریں گے۔‘‘ وہ نہیں چاہتا تھا کہ ازل کوئی بھی فیصلہ اس کے مجبورکرنے یا اس کے احسان تلے دبے ہونے کی وجہ سے کرے۔ مگر اس کا دل ازل کی بات ماننے کے لےے بھی تیار نہیں تھا۔ اس نے فی الحال بحث سمیٹنے کے لےے کہا تھا اور واقعی رات بہت ہورہی تھی۔ ازل آنسو پونچھتی اس کی طرف دیکھنے سے جان بوجھ کر گریز کرتی کمرے سے نکل گئی۔

ض ض ض

اگلے دن کا سورج بہت بوجھل اور بے کیف صبح لے کر طلوع ہوا تھا۔ پارس بڑی بے دلی سے تیار ہو کر کالج جارہا تھا کہ ڈیڈی کی طبیعت کی خرابی کا سن کر ان کے کمرے میں چلا گیا۔ وہ بیمار تو نہیں مگر بہت چڑچڑے ہورہے تھے پارس نے انہیں آفس جانے کے بجائے گھر پر آرام کرنے کا مشورہ دیا تو وہ ترخ کر بولے۔

’’ہزار کام ہوتے ہیں مجھے آفس میں، آرام کرنے بیٹھ جائوں گا تو بزنس کیسے چلے گا۔ ایک ہفتے سے اسلام آباد جانا چاہ رہا ہوں پہلے سنگاپور جانا پڑ گیا۔ پھر یہ ٹوکیو سے ٹیم چلی آئی آج تو ہر حال میں جانا ہے مجھے۔‘‘

’’ڈیڈی آپ آرام کریں میں اسلام آباد چلا جائوں گا۔‘‘

پارس کے رسانیت سے کہنے پر وہ بری طرح تلخ ہوگئے۔

’’نہیں، میں خود جائوں گا تم پر مجھے بھروسہ نہیں ہے۔‘‘ ان کی بات پر ممی جھنجھلانے لگیں۔

’’خوامخواہ کی ضدیں کرنے کا شوق ہے آپ کو، پارس کے ساتھ آپ کے آفس کا اسٹاف بھی جائے گا اور پھر ہمارا بیٹا بہت سمجھ دار ہے آپ کو بس عادت ہے سارا بوجھ اپنے سر پر رکھنے کا۔‘‘ ممی سے بحث سے بچنے کے لےے ڈیڈی نے بس جان چھڑانے والے انداز میں اسے اسلام آباد جانے کی اجازت دی تھی مگر ان کے تیور بدستور بگڑے ہی رہے۔ پارس کالج جانے کے بجائے سیدھا آفس چلا گیا۔ وہاں واقعی بہت کام تھا۔ شام تک وہاں مصروف رہنے کے بعد وہ سیدھا ایئرپورٹ چلا گیا۔

ض ض ض

اسلام آباد کا دو دن کا ٹور اس کے لےے خاصا خوش گوار ثابت ہوا تھا۔ ایک تو وقتی طور پر اس کا ماحول بدل گیا تھا دوسرے اس نے اسٹاف ممبرز کی بات نہ مانتے ہوئے خود فیصلہ کر کے ایک طرح سے بہت بڑا رسک لیا تھا مگر اس کے اندازے کے مطابق اس کا بھرا گیا ٹینڈر زیادہ کامیاب رہا اور فوراً منظور کر لیا گیا۔ جس پرڈیڈی نے خود فون کر کے اسے سراہا تھا اس کے گھر پہنچنے پر بھی وہ کافی دیر تک اس پر فخر کرتے رہے۔

’’اچھا ڈیڈی! میں ذرا دادی سے بھی مل لوں۔‘‘ وہ اپنی تعریفوں پر مسکراتا ہوا اٹھ گیا۔

’’تمہاری دادی تمہاری پھوپھی کے گھر رہنے گئی ہیں ایک ہفتے سے پہلے نہیں آئیں گی۔‘‘ ممی کے اطلاع دینے پر بالکل بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا تھا۔

’’اور ازل؟ کیا وہ بھی ان کے ساتھ گئی ہے۔‘‘ ڈیڈی کے چائے کی طرف جاتے ہاتھ کو ٹھٹکتا دیکھ کر اسے اپنی بے اختیاری کا احساس ہوا تھا مگر ممی نے چونکے بغیر سرسری انداز میں کہا۔

’’وہ اپنے گائوں چھٹی پہ چلی گئی ہے نا اسی لےے تو تمہاری دادی گھبرا کر پھوپھی کے گھر رہنے چلی گئیں۔‘‘

پارس نے چونک کر کہا۔

’’گائوں!‘‘

’’ہاں تو اس میں اتنی حیرت کی کیا بات ہے اتنے دنوں میں پہلی بار گئی ہے۔‘‘ ممی اس کی کیفیت سمجھے بغیر سمجھانے والے انداز میں بولیں پھر ڈیڈی سے مخاطب ہوتے ہوئے کہنے لگیں۔

’’ویسے امی اس لڑکی سے کچھ زیادہ ہی اٹیچ ہوگئی ہیں کسی کا اتنا عادی ہونا صحیح نہیں ہے۔‘‘

’’لیکن وہ گائوں کب گئی، کس کے ساتھ گئی، کیا کوئی لینے آیا تھا اسے۔‘‘ پارس نے بمشکل اپنے لہجے کو نارمل رکھا ہوا تھا پھر بھی ڈیڈی کی نظریں اس کے چہرے پر جم گئیں۔

’’بھئی مجھے نہیں پتا میں تو گھر پر نہیں تھی، تمہاری دادی بھی کھانے کے بعد سو رہی تھیں۔ تمہارے ڈیڈی گھر پر تھے اتنے دنوں میں پہلی بار اس کے گھر کا کوئی شخص اسے لینے آیا تھا تو یہ بھلا اسے کیسے روکتے۔ اس شخص کو بھی جانے کی جلدی تھی ازل دادی سے ملے بغیر ہی چلی گئی۔‘‘ ممی پلیٹ میں سے بسکٹ اٹھاتے ہوئے بولیں۔ پارس الجھی ہوئی نظروں سے ڈیڈی کو دیکھنے لگا جن کے چہرے پر کچھ تھا مگر کیا، یہ وہ سمجھ نہیں پارہا تھا۔

’’ڈیڈی کون لینے آیا تھا؟‘‘ اب کی بار اس نے اپنی آواز اور لہجے پر قابو رکھنے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی۔ اسی لےے اس کے انداز سے جھلکتا تفکر دیکھ کر ممی نے پہلی بار چونک کر اسے دیکھا تھا مگر اسے قطعاً پروا نہیں تھی اسے لگ رہا تھا جیسے اس کا دل بند ہورہا ہو۔

’’تم کیوں فکر مند ہورہے ہو اس کے خاندان کا ہی کوئی شخص تھا وہ یہاں سے اپنی مرضی سے گئی ہے۔‘‘ ڈیڈی نے براہ راست اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سرد سے لہجے میں کہا۔ پارس کچھ دیر انہیں دیکھتا رہا پھر اپنے کمرے کی طرف پلٹ گیا۔

کمرے میں آتے ہی اس نے ریاض کو فون کیا تھا وہ بھی پارس کی طرح چونک اٹھا تھا اور بجائے پارس کو تسلی دینے کے بجائے اس نے پارس کو مزید پریشان کرتے ہوئے حقیقت پر مبنی امکانات گنوانے شروع کر دےے۔

’’کہیں اس فیکٹری کے مالک نے تو کوئی چال نہیں چل دی، ہوسکتا ہے اسے پولیس اسٹیشن سے ازل کا پتا مل گیا ہو یا وہ پولیس والے ہی کوئی موٹی سی رقم نکلوانے کے چکر میں اسے لے گئے ہوں ورنہ اس کا کوئی رشتے دار تمہارے گھر تک کیسے پہنچ سکتا ہے اور ازل بغیر تمہیں بتائے اس کے ساتھ ایسے کیسے جاسکتی ہے۔‘‘

پارس اور وہ دونوں اسی وقت اپنے اپنے گھر سے نکل کھڑے ہوئے اور پولیس اسٹیشن پہنچ گئے۔ وہاں اس بدتمیز انسپکٹر سے مل کر انہیں یقین ہوگیا کہ اس کام میں اس کا ہاتھ نہیں ہے ورنہ وہ انجان بننے کی اتنی اچھی اداکاری نہیں کر سکتا تھا۔ ریاض نے تو بہت چاہا کہ اس فیکٹری کے مالک کے خلاف کوئی قانونی کارروائی کرلی جائے یا ازل کے گمشدہ ہونے کی ہی رپورٹ درج کر دی جائے مگر پارس نہیں مانا اس طرح ازل کے لےے مسائل بھی کھڑے ہوسکتے تھے یا اگر وہ فیکٹری کے مالک کے پاس تھی تو وہ اسے غصہ دلانے کی حماقت کرنے کے بجائے فی الحال صرف مفاہمت کرنا چاہتا تھا بعد میں چاہے وہ اسے قتل کر دیتا اس لےے وہ دونوں وہاں سے نکل کر سیدھے فیکٹری پہنچے تھے مگر وہاں منیجر نے کوئی اور ہی کہانی سنادی۔

فیکٹری کے مالک کو ایک ماہ پہلے ہی اس کے بھائی نے قتل کر دیا تھا اور فیکٹری بیچ کر خود ملک سے فرار ہوگیا۔

ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے طور پر وہ اس کے ہاسٹل بھی گیا مگر شام گہری ہوجانے پر وہاں کی وارڈن نے دو لڑکوں کو گیٹ کے اندر داخل بھی نہیں ہونے دیا شاید فیکٹری کے نئے مالک نے انتظام بہتر کر لےے تھے۔

ایک آخری کوشش کے طور پر وہ دونوں رفیق بابا کے گھر پہنچ گئے۔ دن کے مقابلے میں رات کے وقت وہ کچی آبادی اور بھی خستہ حال اور ہیبت ناک لگ رہی تھی وہ ان اندھیری گلیوں میں امید کی موہوم سی کرن لے کر داخل ضرور ہوئے تھے مگر واپسی میں ان گلیوں میں پھیلی ویرانی سے بھی زیادہ گہری تاریکی پارس کے اندر اتر چکی تھی۔ ریاض کے سمجھانے بجھانے پر وہ گھر تو چلا آیا مگر ریاض کے ’’صبح کچھ کرتے ہیں‘‘ کے کھوکھلے جملے اسے صبح کے اجالے کے منتظر بنانے میں ناکام رہے تھے۔

اس پر شدید مایوسی طاری تھی۔ صرف ایک ہی امکان غالب تھا کہ ازل نے اس سے طلاق کا مطالبہ کیا تھا مگر پارس کے روےُے سے اسے محسوس ہوا وہ اس سے دست بردار ہونے کے لےے کسی طور راضی نہیں ہے تب وہ پارس کی غیر موجودگی میں چپکے سے یہ گھر چھوڑ گئی۔ پتا نہیں اس نے واقعی اپنے کسی رشتے دارکو بلایا تھا یا ڈیڈی کو مطمئن کرنے کے لےے ان کے سامنے کوئی ڈرامہ کیا تھا کچھ بھی تھا اس کا اس طرح چلے جانا پارس کو توڑ گیا تھا اگر اسے ذرا بھی اندازہ ہوتا کہ ازل اس حد تک جاسکتی ہے تو وہ واقعی اسے آزاد کر دیتا۔ اس طرح خود کو بے گھر کر کے ازل نے پارس کا سارا سکون درہم برہم کر دیا تھا۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ جسے وہ اتنا ذہین سمجھتا تھا وہ اتنی بے وقوفی کا مظاہرہ کیسے کر گئی۔

’’پارس کہاں تھے تم کتنی دیر سے تمہارے موبائل پر ٹرائی کر رہی ہوں۔ ایک کال ریسیو نہیں کی تم نے۔‘‘ ممی اسے دیکھتے ہی برس پڑیں مگر اس کا تھکا تھکا چہرہ دیکھ کر وہ سارا غصہ بھول بھال کر فکر مندی سے پوچھنے لگیں۔

’’پارس بیٹا کیا بات ہے؟‘‘ پارس نظریں اٹھا کر ڈیڈی کی طرف دیکھنے لگا۔ جو نائٹ سوٹ میں ملبوس محض اس کے انتظار میں صبح کا اخبار دیکھنے بیٹھ گئے تھے۔ پارس تھکے تھکے قدموں سے چلتا ان کے قریب آکھڑا ہوا۔

’’ڈیڈی ازل کو جو شخص لینے آیا تھا آپ نے اس سے کچھ نہیں پوچھا کہ وہ کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ ازل کو واپس کب چھوڑنے آئے گا۔‘‘

’’پارس تم ازل کو لے کر پریشان ہو؟ تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے؟‘‘ ممی اس کے منہ سے خلافِ توقع بات سن کر ششدر رہ گئی تھیں وہ کچھ اور بھی کہنا چاہتی تھیں کہ ڈیڈی نے ہاتھ اٹھا کر انہیں روک دیا اور پارس کو بغور دیکھنے لگے۔

’’جب ریاض نے اسے میرے سامنے کھڑا کیا تھا میں نے تب بھی یہ نہیں پوچھا تھا کہ وہ کون ہے کہاں سے آئی ہے۔ میں نے صرف ایک خدشہ ظاہر کیا تھا اور دیکھ لو آج میرا وہ خدشہ صحیح ثابت ہوگیا۔‘‘ ڈیڈی نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا تو پارس ان کے سامنے زمین پر ایسے بیٹھ گیا جیسے اپنا سب کچھ ہار کر بالکل تہی دامن رہ گیا ہو۔ وہ بہت آہستہ آواز میں بالکل سرگوشیانہ اندازمیں کہنے لگا۔

’’اسے ریاض نہیں لایا تھا ڈیڈی۔ اسے میں ریاض کے ذریعے لے کر آیا تھا۔‘‘ ممی بری طرح چونک کر کبھی پارس کو اور کبھی ڈیڈی کو دیکھنے لگیں۔ جن کے چہرے پر حیرانی کے کوئی تاثرات نہیں تھے۔ اس کے برعکس ان کے چہرے پر ایسی سختی پھیلی تھی جیسے اپنا غصہ بڑی مشکل سے ضبط کرر ہے ہوں کیونکہ وہ اس کی پوری بات سننا چاہتے تھے۔

’’میں اسے جانتا نہیں تھا۔ مجھے کچھ نہیں پتا تھا کہ وہ کون ہے کیسی ہے۔میں نے تو اس کی شکل بھی ٹھیک طرح سے نہیں دیکھی تھی میں صرف یہ جانتا تھا کہ وہ اس شخص کی بیٹی ہے جس نے میری مدد اس وقت کی تھی جب میں بالکل لاچار تھا اور شدت سے کسی کی مدد کا منتظر تھا تب ازل کے والد شفیق بابا نے میرے ایکسیڈنٹ کے بعد مجھے سڑک سے اٹھا کر ہسپتال پہنچایا تھا۔‘‘ ڈیڈی کے چہرے پر پھیلی کرختگی حیرانی میں تبدیل ہوتی جارہی تھی جیسے انہیں اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آرہا ہو۔

ض ض ض

کمرے میں تین نفوس کی موجودگی میں بھی موت کا سنُاٹا چھایا ہوا تھا۔ اب تک صرف پارس کی مدھم آواز کمرے میں ابھر رہی تھی۔ اس کے چپ ہونے کے بعد جیسے پوری کائنات خاموش ہوگئی تھی۔ آخر پارس نے ہی جھکا سر اٹھا کر ڈیڈی کی طرف دیکھا جو کسی غیر مرئی نقطے کو دیکھتے ہوئے کسی گہری سوچ میں غرق تھے۔

’’ڈیڈی۔‘‘ پارس نے ان کا ہاتھ تھامتے ہوئے آہستگی سے کہا۔

’’میں جانتاہوں میں نے آپ کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے مگر میں نے یہ سب آپ کو چوٹ پہنچانے کی نیت سے نہیں کیا بلکہ میں نے اگر آپ سے کچھ چھپایا تو صرف اسی لےے کہ آپ کو کوئی تکلیف نہ ہو۔‘‘ پارس کی بات پر پشت سے ممی کی رندھی ہوئی آواز ابھری۔

’’تو کیا اب ہمیں تکلیف نہیں پہنچی کیا اب یہ سب سن کر ہم بہت خوش ہوگئے ہیں۔‘‘ پارس ان کے ٹوٹے ہوئے لہجے پر بے چین ہوگیا مگر پلٹ کر ان کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں تھی۔

’’اگر ازل اس طرح غائب نہ ہوئی ہوتی تو میں شاید اب بھی آپ کو یہ اذیت نہیں دیتا۔ ڈیڈی مجھے لگتا ہے وہ کچھ دن کے لےے نہیں گئی بلکہ ہمیشہ کے لےے چلی گئی ہے وہ نہیں چاہتی تھی کہ یہ ساری حقیقت آپ لوگوں کوپتا چلے اس نے مجھ سے درخواست کی تھی کہ میں اسے آزاد کر دوں مگر میں اتنا خود غرض ہوگیا تھا کہ اسے کوئی تسلی بخش جواب ہی نہ دے سکا وہ میرے روےے سے خائف ہو کر یہاں سے چلی گئی ہے مگر وہ کہاں جاسکتی ہے اس کے خاندان والے اگر اتنے اچھے ہوتے تو وہ باپ کے مرنے پر کسی ہاسٹل جانے کے بجائے ان ہی کے پاس جاتی اب پتا نہیں وہ کہاں ہوگی کس حال میں ہوگی۔

ڈیڈی میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں اگر وہ نہیں ملی تو آپ اپنے بیٹے کو بھی کھود یں گے۔‘‘ پارس کا ٹوٹا بکھرا سا لہجہ انہیں تڑپا گیا تھا۔ ڈیڈی مضطربانہ انداز میں اٹھ کر کمرے میں ٹہلنے لگے۔ پھر کمرے کی کھڑکی کے سامنے رکتے ہوئے انہوں نے باہر پھیلے اندھیرے کودیکھتے ہوئے دکھ اور غصے کی ملی جلی کیفیت میں کہا۔

’’انسان کو کبھی گھر میںجھوٹ نہیں بولنا چاہےے۔ سچ چاہے جتنا بھی کڑوا ہواسے صرف دنیا والوں سے چھپانا چاہےے اپنے گھر والوں سے نہیں، اگر تم نے اس سے نکاح کیا تھا تو یہ بات گھر آتے ہی بتا دینی چاہےے تھی۔ جب اس کے پیچھے پولیس اسٹیشن پہنچے تھے۔ تب ہی مجھے فون کر نا چاہےے تھا اس کے باپ نے تمہاری جان بچائی تھی تو کیا ہم اس کی بیٹی کو ایسے ہی چھوڑ دیتے، زمانے کی ٹھوکروں میں۔

تم نے یہ سب چھپا کر ٹھیک نہیں کیا گھر کی باتیں جب باہر کے لوگوں سے پتا چلتی ہیں تو بہت تکلیف ہوتی ہے اور پھر وہ اپنی اصل صورت حال سے بہت مختلف انداز میں ہمارے کانوں تک پہنچتی ہیں مجھے جب عکاشہ نے ازل کے متعلق بتایا تو میرا خون کھول اٹھا تھا۔ دل چاہا اس کے ساتھ ساتھ تمہیں بھی گھر سے نکال باہر کروں۔‘‘

’’عکاشہ؟‘‘ پارس بری طرح چونکا۔

’’عکاشہ نے آپ سے کیا کہا۔‘‘ ممی ابھی پارس کے انکشاف سے نہیں سنبھلی تھیں کہ ڈیڈی نے ایک اور شگوفہ چھوڑ دیا۔

’’پارس کے اسلام آباد جانے سے ایک دن پہلے عکاشہ میرے آفس آئی تھی اس دن پارس آفس نہیں آیا تھا بلکہ کالج سے سیدھا گھر چلا گیا تھا۔ ویسے وہ بھی کالج کے ٹائم پر ہی آئی تھی اس نے مجھے بتایا کہ ازل ایک جھوٹی اور دھوکے باز لڑکی ہے اس کا تعلق ریاض کے گائوں سے نہیں ہے بلکہ وہ یہیں گارمنٹ فیکٹری میں کام کرتی تھی اور اسی فیکٹری کے ہاسٹل میں رہتی تھی اسے پیسہ کمانے کی ہوس تھی وہ جلد سے جلد رئیس ہو جانا چاہتی تھی۔ اس کے لےے اس نے پہلے فیکٹری کے مالک کو رجھانے کی کوشش کی جب اس میںکامیاب نہ ہوسکی تب فیکٹری سے کیش چرا کر بھاگنے لگی اور رنگے ہاتھوں پکڑی گئی۔ فیکٹری کے مالک نے اسے پولیس کے حوالے کر دیا مگر وہ پولیس والوں کو بھی بہلا پھسلا کر جیل سے نکل گئی ان ہی پولیس والوںمیں کوئی ریاض کے گائوں کا بھی تھا اس نے ریاض سے رابطہ کر کے ازل کی مظلومیت کی داسنتان سنا دی تو وہ اسے گائوں کی ایک سیدھی سادی لڑکی سمجھ کر آپ کے پاس لے آیا مگر اس نے یہاں آکر بھی وہی حرکت کی جو فیکٹری میں کی تھی اب وہ پارس کے پیچھے لگ گئی ہے۔ کالج میں بھی ہر وقت اس کے آگے پیچھے پھرتی رہتی ہے وہ اتنی چالاک ہے کہ پارس کو آرام سے بے وقوف بنا لے گی۔‘‘

پارس ششدر رہ گیا تھا ان کی بات سن کر ممی بھی کچھ بولنے کے قابل نہیں تھیں۔ اور انہیں خاموش دیکھ کر ڈیڈی سلسلہ کلام جوڑتے ہوئے کہنے لگے۔

’’اس نے مجھے ازل کی فیکٹری کا نام بتایا تھا کہ میں چاہوں تو جا کر پتا کرلوں اس کا اتنا اعتماد دیکھ کر میں اس کی بات پر یقین کرنے پر مجبور سا ہوگیا تھا ورنہ پوری طرح اس کی بات میں صداقت کی مجھے امید نہیں تھی۔ ازل اتنے مہینوں سے ہمارے گھر میں تھی۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایک لڑکی کا کردار اتنا خراب ہو پھر بھی اتنے مہینوں تک وہ اپنے ساتھ رہنے والوںکو دھوکا دے سکے۔ دوسرے یہ کہ عکاشہ مجھے میرے اس سوال کا تسلی بخش جواب بھی نہیں دے سکی جب میںنے اس سے پوچھا کہ وہ یہ سب کیسی جانتی ہے تو اس نے مجھے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ مجھے پارس کی بہت فکر ہے اسے پارس کے آگے پیچھے پھرتا دیکھ کر میںنے اس کے بارے میںمعلومات کرائی تھی۔

میری سمجھ میںنہیں آیا کہ اس نے معلومات کرانے کے لےے کیا طریقہ کار اپنایا۔ کہیں وہ یہ سب محض حسد کی بنا پر تو نہیں کہہ رہی۔ کچھ بھی تھا ازل کے متعلق اتنا کچھ سننے کے بعد میں اسے اپنے گھرمیں رکھنا نہیں چاہتا تھا۔ عکاشہ کی بات میں سچائی ہو یا نہ ہو میں کوئی خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا۔ مگر اس سے پہلے کہ میں کچھ سوچ بچار کرتا یا ریاض سے بات کر کے عکاشہ کی سچائی پرکھتا اسی رات میں نے تقریباً ایک بجے کے قریب ازل کو تمہارے کمرے سے نکلتے ہوئے دیکھا۔‘‘

ڈیڈی کہتے کہتے رک گئے۔ جیسے وہ وقت یاد کر کے اب بھی ان کا تنفر بڑھنے لگا ہو۔ پارس تو اپنی جگہ سن ہی ہوگیا تھا۔ اپنی اور ازل کی اتنی بدقسمتی کا اسے یقین نہیں آرہا تھا۔ ازل اتنے مہینوں میں پہلی بار اس کے کمرے میں آئی تھی۔ وہ بھی دس یا پندرہ منٹ کے لےے اور اسی وقت ڈیڈی نے اسے دیکھ لیا، کیا کہتا وہ اسے اتفاق یا تقدیر۔

’’عکاشہ کی باتیں سن کر مجھے نیند نہیں آرہی تھی۔ مگر مجھے کیا پتا تھا کمرے سے باہر چہل قدمی کرنے کی صورت میں مجھے ایسا منظر دیکھنے کو ملے گا کہ ہمیشہ کے لےے میری نیند حرام ہوجائے گی۔مجھے لگا تم اور ازل دونوں میرے اس اقدار اور روایت کے پاسدار گھر میں رہنے کے قابل نہیں ہو مگر اولاد واقعی انسان کو کمزور کر دیتی ہے۔ میں تمہارے ساتھ کوئی سختی نہ کر سکا بلکہ مجھے یہ بھی گوارا نہیں تھا کہ تم چاہے کتنی ہی گرجائو تمہاری بدنامی ہو اور لوگ تم پر انگلیاں اٹھائیں۔ میں نے سوچ لیا تھا کہ تمہاری شادی فوراً عکاشہ سے کردوں گا۔ وہ تمہیں سنبھال لے گی اس لےے جب تمہاری دادی کھانے کے بعد سو گئیں اور تمہاری ممی بھی گھر نہیں آئی تھیں میں نے ازل کو بلوایا اور اسے پندرہ منٹ کا وقت دیا کہ اس گھر سے جو سامان چاہو اٹھالواور یہاں سے دفع ہوجائو۔‘‘

پارس کو لگا جیسے زمین اس کے پیروں تلے سے سرک رہی ہو۔ کمرے کی ہر چیز جیسے زور دار جھٹکوں کی زد میں آگئی تھی۔

’’یہ۔۔۔۔ یہ آپ نے کیا کیا۔۔۔ ایک اکیلی لڑکی کو اس طرح۔۔۔ ایسے گھر سے نکال دیا۔‘‘ ممی سے بات کرنا مشکل ہوگیا تھا۔ ڈیڈی کی اپنی آنکھیں ضبط کرتے کرتے سرخ ہوگئی تھیں۔

’’تم گھر کی بات کر رہی ہو اسے پارس کے کمرے سے نکلتا دیکھ کر میرا دل چاہا تھا اسے شوٹ کردوں۔ مجھے تو یہ بھی منظور نہیں تھا کہ اس سے بات ہی کرلیتا۔ میرا حکم سن کر اس نے بڑی حیرانی سے اپنی غلطی پوچھی تھی۔ تب میں نے خود پر جبر کر کے اسے صرف اتنا کہا تھا کہ اگر تم یہ چاہتی ہو کہ تمہارے فیکٹری کے مالک کی طرح میں تمہیں پولیس کے حوالے نہ کروں تو ابھی اور اسی وقت اس گھر سے نکل جائو۔ یہاں سے جو چیز لے جانا چاہو لے جائو مگر میرے بیٹے کا پیچھا چھوڑ دو۔‘‘

میری بات سن کر اس کا چہرہ فق ہوگیا تھا۔ وہ کمرے میں گئی اور ایک گرے کلر کا سوٹ کیس اٹھا کر بغیر کچھ لےے چلی گئی۔ میرے خیال سے تو اس نے اپنے کپڑے بھی نہیں رکھے۔ اس کا بیگ اتنا خالی اور ہلکا سا لگ رہا تھا بعد میں جب امی کو اس کے جانے کا پتا چلا تو وہ بھی یہی کہہ رہی تھیں کہ وہ اپنے سارے کپڑے اورجوتے چھوڑ گئی جو انہوں نے بنا کر دےے تھے۔‘‘

ان باتوں پر ڈیڈی نے اب غور کیا تھا ورنہ اس وقت تو انہیں اس کی دیدہ دلیری پر تائو آرہا تھا کہ کیسے دندناتے ہوئے اپنا بیگ لے گئی معافی کا ایک لفظ تک نہ کہا۔

پارس کے کانوں میں سائیں سائیں ہورہی تھی۔ ممی اب بھی ڈیڈی سے کچھ کہہ رہی تھیں۔ مگر پارس کو سنائی نہیں دے رہا تھا۔ اسے بس دور کہیں کسی کی آنسوئوں کی گھلی آواز آرہی تھی۔

’’ایک بار اگر وہ میرے کردار کی طرف سے مشکوک ہوگئے تو مجھ سے میری یہ آخری پناہ گاہ بھی چھن جائے گی۔ آپ کے ڈیڈی مجھے فوراً گھر سے نکال دیں گے۔‘‘

اس کی آنسو بھری آنکھیں پارس کے ذہن کے پردے پر کسی جلتی بجھتی شمع کی طرح روشن ہوتیں اور غائب ہوجاتیں وہ ایک جھٹکے سے اٹھا اور ممی کے آوازیں دینے پر بھی رکے بغیر گاڑی لے کر گھر سے نکل گیا۔

ض ض ض

ایک حادثے نے اسے زندگی کی قدر کرنا سکھا دی تھی وہ دوسروں کے ساتھ زیادہ نرمی اور انکساری کے ساتھ پیش آنے لگا تھا مگر دوسرے حادثے نے اس کا دنیا سے دل اچاٹ کر دیا تھا اس حادثے میں لگنے والے زخم تو کب کے بھر گئے تھے۔ مگر اس حادثے کے گھائو گزرتے دن کے ساتھ پہلے سے اور گہرے ہوجاتے۔

وہ اگلے ہی دن عکاشہ سے ملنے گیا تھا۔ اور اس کے ساتھ بڑے جارحانہ انداز میں پیش آیا تھا کہ وہ سہم کر رونے لگی تھی پارس اس کے آنسو دیکھ کر پگھلا تھا نہ اس کے خود غرضی اور حسد کے پیراہن میں لپٹے اقرار ِ محبت سے مرعوب ہوا تھا۔ مگر پارس نے اس کے ساتھ کوئی انتقامی کارروائی بھی نہیں کی کیونکہ جو نقصان وہ پہنچا چکی تھی کوئی بدلہ اس کی تلافی نہیں کر سکتا تھا۔

جب پارس نے ہاکس بے پر عکاشہ کو بائیک پر وہ خطرناک سیر کرائی تو عکاشہ کو وقتی خوف کے علاوہ بعد میں مسلسل احساسِ توہین تڑپاتا رہا تھا اس سے برداشت نہیںہورہا تھا کہ پارس نے اس کے ساتھ ایسا سلوک محض ازل جیسی معمولی لڑکی کی وجہ سے کیا حالانکہ پارس نے زبان سے کچھ نہیں کہا تھا مگر عکاشہ تو اسی دن ازل سے خائف ہوگئی تھی۔ جس دن اس نے ازل کو پارس کے گھر پر دیکھاتھا۔ اس کے فتور بھرے ذہن میں سب سے پہلا خیال یہی آیا تھا کہ پارس آج کل زیادہ وقت گھر پر اس لڑکی کی وجہ سے گزارنے لگا ہے حالانکہ پارس کے روٹین میں یہ تبدیلی اس ایکسیڈنٹ کے بعد سے آئی تھی۔ مگر وہ ازل کو ہی اس تبدیلی کا محرک سمجھ رہی تھی۔ دراصل اسے یہ نہیں پتا تھا کہ ازل یہاں کب سے رہ رہی تھی۔

اس نے پارس کے زیادہ سے زیادہ قریب رہنے کے طریقے سوچنا شروع کر دےے تاکہ پارس اس کے علاوہ کسی اور کی طرف راغب نہ ہوسکے اس کے لےے عکاشہ نے اس کا جم جوائن کرلیا مگر پارس نے پہلے ہی مقام پر اس کی دل شکنی کرتے ہوئے اسے وہاں آنے سے منع کر دیا بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ اگر تم آئو گی تو میں نہیں آئوں گا۔

عکاشہ اندر تک سلگ اٹھی تھی اس نے محض اپنی انا کی تسکین کے لےے دادی سے بات کر کے ازل کو ہاکس بے بلایا تھا تاکہ اس کی ساری کلاس کے سامنے اسے اس کی اوقات یاد دلا سکے مگر جب پارس نے ازل کو بے عزت کرنے کے جواب میں تمام لوگوں کے سامنے اس کا تماشا بنا دیا تب وہ الجھن میں پڑگئی کہ وہ واقعی پارس کے لےے اتنی اہم ہے یا یہ اس کی غلط فہمی ہے پکنک سے گھر آکر وہ یہی سوچ کر الجھ رہی تھی کہ مسکان کا فون آگیا۔ وہ بھی پارس کے عجیب و غریب روےے پر حیران تھی۔ جب عکاشہ نے ازل سے وابستہ اپنے خدشوں کا اظہار کیا۔ تب مسکان ایک دم جوش میں آگئی۔ تب اس نے بتایا کہ کس طرح پارس ایک دن اسے ایک گرلز ہاسٹل لے گیا تھا کسی ازل نامی لڑکی کا بیگ نکلوانے کے لےے۔ ضرور یہ وہی لڑکی ہوگی۔

عکاشہ پہلے ہی ازل کے متعلق دادی سے پوچھ چکی تھی۔ انہوں نے اسے یہی بتایا تھا کہ وہ ریاض کے گائوں سے آئی ہے۔ جب اس نے ازل سے متعلق دو متضاد باتیں سنی یعنی ہاسٹل میں بھی رہتی تھی اور گائوں سے بھی ابھی آئی ہے تو وہ سچائی پتا کرنے اگلے ہی دن کالج جانے کے بجائے ہاسٹل پہنچ گئی وہاں ماسی کے ذریعے اسے پتا چلا کہ وہ یہاں کی فیکٹری میں کام کرتی تھی مگر پھر اچانک غائب ہوگئی۔ فیکٹری کی لڑکیوں کا کہنا تھا مالک نے اسے پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔

عکاشہ ہاسٹل میں رہائش پذیر فیکٹری کی لڑکیوں سے ملی تو ان سب نے یہی بتایا کہ وہ چوری کے الزام میں جیل تو گئی تھی مگر اس کے بعد کچھ پتا نہیں چلا کہ کوئی قانونی کارروائی ہوئی یا نہیں البتہ فیکٹری کے مالک نے فیکٹری میں مشہور کر دیا کہ وہ اتنی گری ہوئی لڑکی تھی پولیس والوں کو ’’خوش‘‘ کر کے وہاں سے بھی نکل گئی۔

اس کے بعد وہ کہاں گئی کہ کسی کو پتا نہیں تھا۔ اصل میں کسی نے پتا کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ ورنہ وہاں موجود ہر لڑکی نے مالک کی برائی کی تھی ۔ پھر بھی ازل کے متعلق جس نے جو سنا وہ آگے پھیلا دیا۔ عکاشہ نے بھی پولیس اسٹیشن جا کر کچھ پتا کرنے کے بجائے لوگوں کی بتائی باتوں میں کچھ اپنی طرف سے مل اکر ایک نئی کہانی پارس کے ڈیڈی کو سنا دی اور یہ یقین دہانی بھی کرادی کہ دنیا میں ان کے بیٹے پارس کی وہ سب سے بڑی خیر خواہ ہے اسے پروا نہیں تھی کہ ڈیڈی ریاض سے اس کی سنائی کہانی کی تصدیق کر سکتے ہیں کیونکہ ان پولیس والوں میں کوئی ریاض کے گائوں کا نہیں تھا۔ مگر ازل سے وابستہ اتنی بڑی اور بھیانک سچائی کے سامنے اس کا یہ ایک چھوٹا سا جھوٹ قابل گرفت نہیں تھا پھر بھی اگر کوئی مسئلہ کھڑا ہوتا تو وہ یہ کہہ کر صاف بچ جاتی کہ اس نے یہی سنا تھا اسی لےے اس نے ڈیڈی کو یہ نہیں بتایا تھا کہ اسے یہ سب کیسے پتا چلا وہ اپنی اتنی بھاگ دوڑ بھی آشکار نہیں کرنا چاہتی تھی کہیں ڈیڈی اسے عکاشہ کی ہی کوئی چال نہ سمجھ لیں۔

مگر اس کا جھوٹ اس کی توقع سے بڑھ کر کامیاب ہو اتھا اور اس کی خواہش سے بھی بڑھ کر فوری نتیجہ سامنے آیا تھا۔ ڈیڈی نے ازل کو فوراً سے بیشتر گھر سے نکال دیا تھا۔

مگر اتنے کامیاب جھوٹ کے بعد بھی ناکامی نے ہی اس کا منہ چڑایا تھا۔ کیونکہ بہت ساری حقیقتوں سے وہ واقف ہی نہیں تھی نہ اسے ازل کے والدکے متعلق پتا تھا نہ پارس اور ازل کے نکاح کا علم تھا اور نہ ہی ازل کے جانے کے بعد پارس کے اتنے شدید رد عمل کی توقع تھی ۔ اس نے یہ سب محض پارس کو صرف خود تک محدود رکھنے کے لےے کیا تھا مگر وہ اسے پانا تو درکنار اس کی دوستی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھی تھی اسی لےے سب کچھ بتانے کے بعد اس نے روتے ہوئے کہا تھا۔

’’میں نے کچھ غلط نہیں کیا میں تمہاری زندگی میں کسی اور کو نہیں دیکھ سکتی تھی۔‘‘ پارس کا دل چاہ رہا تھا اسے پیٹ کر رکھ دے مگر بڑی مشکل سے اس نے خود پر ضبط کیا تھا اور اس سے کچھ بھی کہے سنے بغیر وہاں سے چلا گیا تھا۔ اسے عکاشہ پر اتنا غصہ آرہا تھا کہ وہ خود بھی اپنے غصے سے خوف زدہ ہوگیا تھا۔ اس نے وقتی طور پر کالج جانا بھی چھوڑ دیا تھا کہ کالج میں عکاشہ کو دیکھ کر اس کا اشتعال اسے کوئی انتہائی قدم اٹھانے پر اکسانے لگتا۔ اس کی حالت دیکھ کر سب سے زیادہ دکھ دادی کو ہوا تھا انہوں نے بڑی یاسیت سے کہا۔

’’کم از کم مجھے تو بتا دیا ہوتا۔‘‘ پارس صرف انہیں دیکھ کر رہ گیا۔ اس کی حالت دیکھ کر اس کے والدین اتنے نرم پڑ گئے تھے ورنہ اگر اس نے پہلے سب بتایا ہوتا تو وہ ازل کو دھتکار ہی دیتے۔ اب تو وہ سامنے نہیں تھی اس لےے ان کا غصہ ٹھنڈا پڑ گیا تھا بلکہ ڈیڈی شرمندگی کے باعث خاموش ہوگئے تھے۔ ایک لوئر کلاس لڑکی کو بہو بنانا یا نہ بنانا ایک الگ مسئلہ تھا مگر بہرحال ممی، ڈیڈی جتنی بے حس نہیں تھےں کہ ایک جوان لڑکی کو اس طرح در بدر کر دینے اور بالکل بے یار و مددگار چھوڑ دینے پر بھی ان کا دل نہ کانپتا، خاص طور پر ایک ایسے شخص کی بیٹی کے لےے جس نے ان کی اولاد کو موت کے منہ سے نکالا تھا۔ ڈیڈی تو جیسے اپنے آپ سے بھی آنکھ ملانے کے قابل نہیں رہے تھے۔

ض ض ض

ایک کے بعد ایک دن گزرتا گیا۔ پارس نے تو جیسے دنوں کا حساب رکھنا بھی چھوڑ دیا تھا اگر صرف اس کے چلے جانے کا دکھ ہوتا تو شاید پارس خود کو سنبھال بھی لیتا مگر یہاں تو اس کے دور ہونے کے ساتھ اس کے محفوظ ہونے کی بھی کوئی ضمانت نہیں تھی۔ پتا نہیں وہ کس حال میں ہوگی؟ یہ سوال اسے کسی بھی خوشی کے موقع پر خوش نہیں ہونے دیتا تھا۔ ممی ڈیڈی نے اب اسے سمجھانا چھوڑ دیا تھا۔ شاید انہوں نے یہ سوچ کر صبر کرلیا تھا کہ وہ وقت کے ساتھ ہی سنبھلے گا۔

بظاہر واقعی سب کچھ پہلے جیسا ہوگیا تھا اس کی وہی روٹین لائف شروع ہوگئی تھی مگر اس کی ذات میں اتر آنے والی پژمردگی اس سے چھپائے نہیں چھپتی تھی۔ دادی اس کا دکھ بانٹنے کی بہت کوشش کرتی تھیں۔ اصل میں وہ خود بھی ازل کے بہت قریب تھیں۔ اس کے ساتھ ہوئی زیادتی پر انہیں بہت قلق تھا اکثر بے خیالی میں وہ پارس سے اس کی باتیں کرنے لگتیں۔ حالانکہ اس طرح پارس کے زخم رسنے لگتے تھے۔مگر یہ وہ واحد موضوع تھا جس پر بات کرتے وقت اس کی آنکھوں میں پھیلی ویرانی میں کچھ کمی آجاتی۔

’’آج فجر میں آنکھ نہیں کھلی۔ ازل کے آنے کے بعد مجھے خود سے الارم لگانے کی عادت ہی نہیں رہی وہی مجھے جگاتی تھی۔‘‘

ایک دن غیر ارادی طور پر دادی کے منہ سے نکلا تو اگلے دن سے پارس نے خود ہی انہیں جگانے کی ذمہ داری اپنے سر لے لی حالانکہ اتنے منہ اندھیرے اٹھتے وقت اسے اپنی اور ازل کی وہ ملاقات یاد آجاتی۔ جب وہ اس سے بات کرنے آیا تھا اور ازل نے بے اختیار دروازہ کھول دیا تھا۔ یہ سب یاد کر کے اس کی نیند ہی اڑ جاتی تو وہ دادی کے کمرے میں ہی بیٹھ جاتا اور انہیں نماز پڑھتا دیکھتا رہتا آخر ایک دن دادی نے کہہ ہی دیا۔

’’جب مجھے نماز پڑھنے کے لےے جگاتے ہو تو خود بھی نماز پڑھ لیا کرو فرض سمجھ کر نہ سہی، صرف یہ سوچ کر ہی پڑھ لیا کرو کہ نماز پڑھنے سے دل کو سکون ملتا ہے۔‘‘ ان کی بات پر وہ بے دلی سے نماز پڑھنے اٹھ گیا تھا اس نے صرف دادی کے لحاظ میں نماز پڑھی تھی جس پر خود دادی بھی حیران رہ گئی تھیں وہ اسے خوب دعائیں دیتے ہوئے اکثر ایسی ہی باتیں کرنے لگی تھیں۔

’’تم جانتے ہو ازل میں اتنی قوتِ برداشت کیوں تھی کیونکہ وہ روزے بہت رکھتی تھی۔ ہر تیسرے دن وہ روزے سے ہوتی تھی۔‘‘ دادی کی کہی بات اس کے دل میں کسک پیدا کر دیتی۔

’’روزہ انسان کو ضبط کرنا سکھا دیتا ہے۔ اب تمہیں دیکھو، کس چیز کی کمی ہے تمہیں پہلی بار کوئی ایسی ہستی تم سے دور ہوئی ہے جس سے تمہیں بہت محبت تھی اور تم ہر وقت اداسی کی تصویر بنے پھرتے ہو جبکہ ازل کو دیکھو اس نے کیا کچھ نہیں کھویا جن حالات میں تم اسے یہاں لائے تھے کوئی اور لڑکی ہوتی تو ہر وقت روتی رہتی جبکہ وہ خود کو ہر وقت عبادت میں مصروف رکھتی تھی۔ اس کی شخصیت میں ایک ٹھہرائو تھا۔ والدین، گھر بار، نوکری ہر چیز اس سے چھن گئی تھی پھر بھی اس کے چہرے اور باتوں میں کسی کے لےے حسد یا رشک نہیں ہوتا تھا بلکہ ایک محسوس کی جانے والی نرمی ہوتی تھی۔ وہ کبھی تمہاری طرح دنیا سے ناراض نظر نہیں آتی تھی۔‘‘

دادی کی وقتاً فوقتاً کہی باتیں اس کے ذہن پر اثر چھوڑنے لگی تھیں۔ رمضان شروع ہوئے تو زندگی میں پہلی بار اس نے محض کھانا پینا چھوڑ کر صرف فاقہ نہیں کیا تھا بلکہ پانچوں وقت کی نماز بھی اداکی تھی ورنہ وہ روزہ رکھ کر سارا دن سوتا تھا اور افطار کے وقت اٹھ کر روزہ کھول کر دوستوں کے ساتھ سیر سپاٹے کرنے نکل جاتا۔ ساری رات کھانے پینے اور گھومنے کے بعد وہ سحری کر کے گھر آتا اور آکر تھک کر ایسا سوتا کہ افطاری کے وقت ہی اٹھتا نہ اسے بھوک پیاس کا احساس ہوتا نہ روزہ رکھ کر معمول کے کام کرنے کی مشقت کا پتا چلتا۔

گزشتہ روزوں کے مقابلے میں اس بار شروع کے دو تین روزے اسے واقعی بہت مشکل لگے مگر وہ اپنے فیصلے پر ڈٹا رہا تو آہستہ آہستہ جیسے مشکل آسان ہوتی چلی گئی اور پھر آخر کے روزوں میں تو اسے احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ وہ روزے سے ہے۔ بھوک، پیاس سے بے خبر وہ نا صرف کالج جاتا تھا بلکہ وہاں ڈھٹائی سے کھاتے پیتے اسٹوڈنٹس کو دیکھ کر اسے ان پر ترس آتا تھا جو تھوڑی سی بے صبری کا مظاہرہ کر کے اپنے معدوں میں جہنم کی آگ بھر رہے تھے وہ آگ جس کی تپش دنیاوی آگ سے ستر گنا زیادہ ہوگی۔

وہ یہ سب باتیں دادی کو آکر بتاتا تو وہ بے اختیار کہہ اٹھتیں۔

’’تم تو بالکل ازل کی طرح بولنے لگے ہو۔‘‘ ان کی بات اسے دوبارہ اسی اذیت سے دو چار کر دیتی جسے روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہونے کے باعث وہ محسوس نہیں کرپاتا تھا۔

آخری کی طاق راتوں میں اس نے کوشش کی کہ وہ بھی تھوڑی بہت عبادت کرلے مگر وہ تو دادی سے بھی پہلے تھک جاتا۔

’’تمہیں عبادت کرنے کی عادت نہیں ہے نا اس لےے نیند آرہی ہے ورنہ رات بھر دوستوں کے ساتھ گھومتے ہوئے تمہیں کبھی نیند نہیں آتی تھی۔‘‘ دادی اسے آنکھیں ملتا دیکھ کر مسکرا دیتیں۔

انتیسویں شب کو تو وہ عشا کی نماز پڑھ کر آیا تو سیدھا دادی کے بستر پر آکر لیٹ گیا۔ اسے یقین تھا دادی ضرور ٹوکیں گی کہ اگر ایک بار نیند حاوی ہوگئی تو پھر سحری میں ہی اٹھو گے۔ آخری رات تو ہے عبادت کی، کچھ تو استغفار پڑھ لو مگر دادی کسی کتاب پر جھکی تھیں انہوں نے نظر اٹھائے بغیر پوچھا۔

’’جب تم ازل کو پولیس اسٹیشن لینے گئے تھے تب وہ لاک اپ میں کتنی دیر سے بند تھی؟‘‘ پارس آنکھیں کھول کر انہیں حیرت سے دیکھنے لگا۔

’’دو گھنٹے ہوئے ہوں گے۔‘‘ انہوں نے خود ہی اندازہ لگاتے ہوئے پوچھا۔

’’جی، لیکن آپ کو کیسے پتا۔‘‘ پارس نے پوچھا۔

’’یہاں آیت کریمہ لکھا دیکھ کر یاد آیا ایک بار ازل نے کہا تھا کہ ایک دفعہ وہ ایک اندھیری کوٹھری میں بند ہوگئی تھی جہاں سے نکلنے کی کوئی امید نہیں نظر آرہی تھی مگر تب اس نے یہی دعا پڑھی جو حضرت یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ میں شدید تاریکی میں پڑھی تھی تب اللہ نے اچانک اسے وہاں سے مدد بھیجی جہاں سے اسے گمان بھی نہیں تھا۔ میں نے اس سے بہت پوچھا وہ کون سی جگہ تھی جہاں بقول اس کے اسے لگ رہا تھا کسی نے اسے جیتے جی قبر میں اتار دیا ہو مگر وہ بھی جانے کون سے خیال میں کہہ گئی تھی پھر تو میں پوچھتی رہی مگر اس نے کچھ نہ بتایا کہ وہ کون سی جگہ تھی اور یہ کب کی بات تھی بلکہ میرے زیادہ اصرار پر کہنے لگی۔

جس نے مجھے اس جہنم سے نکالا تھا اس نے مجھے بتانے سے منع کیا ہے اور میں اس کا بھروسہ نہیں توڑ سکتی بلکہ وہ دنیا کا وہ واحد شخص ہے جس کے کہنے پر میں اپنی جان بھی دے سکتی ہوں، اس وقت میرے گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ تمہاری بات کر رہی ہوگی۔‘‘ دادی کی نظریں کتاب پر تھیں مگر ان کی آنکھیں کئی ماہ پہلے کا کوئی منظر دیکھ رہی تھیں۔ پارس کچھ دیر گم سم سا ان کی شکل دیکھتا رہا پھر بغیر کچھ کہے وضو کرنے کے لےے اٹھ گیا۔

ض ض ض

عید کی نماز سے واپس آتے ہوئے وہ کافی خوش تھا۔ ڈیڈی ہر سال کم از کم عید کی نماز پڑھ لیا کرتے تھے مگر آج پہلی بار ممی بھی ان کے ساتھ گئی تھیں۔ مسجد میں عورتوں کا الگ سے انتظام تھا۔ یہ جاننے کے بعد دادی بھی ان کے ساتھ ہولیں ۔ پورے گھر کے ساتھ نماز پڑھ کر آنے کا مزا ہی کچھ اور تھا۔ اور پھر اپنی ممی میں یہ تبدیلی بھی اسے بہت اچھی لگی تھی بلکہ نماز پر جانے سے پہلے ڈیڈی نے ممی سے صدقہ فطر کے بارے میں پوچھا تھا جس پر ممی بڑی ذمہ داری سے بولی تھیں۔

’’وہ میں نے دو دن پہلے ہی دے دیا تھا۔‘‘ پھر پارس کو دیکھتے ہوئے کہنے لگیں۔

’’ایک غلطی بار بار نہیں دوہرائی جاتی، صدقہ فطر جان کا صدقہ ہوتا ہے اس کے ادا کرنے سے مصیبتیں اور بلائیں ٹلتی ہیں۔‘‘ پارس ان کی بات نہیں سمجھا تھا مگر ممی کے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر آبدیدہ انداز میں کہنے پر وہ چونک اٹھا۔

’’پچھلے سال یہ عید کتنی بری گزری تھی، اللہ میرے بچے کو ہر نظر بد سے محفوظ رکھے۔‘‘ ایک سال ہوگیا تھا اس کے ایکسیڈنٹ کو۔ اسے انگریزی کلینڈر کی تاریخ بہ خوبی یاد تھی جس کے حساب سے ابھی بھی سال پورا ہونے میں دس دن باقی تھے مگر اسلامی تاریخ کے مطابق آج اس حادثے کو پورا ایک سال گزر گیا تھا۔ جب وہ کتنی دیر سڑک پر بے بسی کے عالم میں پڑا رہا تھا آج بھی اس وقت کو یاد کر کے اس کے احساسات عجیب ہوگئے تھے۔ اسی لےے مسجد سے گھر جا کر ممنوع اوقات ختم ہوتے ہی اس کا شکرانے پڑھنے کا ارادہ تھا اور مسجد اتنی دور تھی کہ گھر لوٹنے تک سورج پوری طرح طلوع ہوچکا تھا۔ پارس گاڑی کا دروازہ کھول کر تیزی سے باہر نکلا تھا کہ ڈیڈی نے ٹوک دیا۔

’’اتنی جلدی کیا ہے بھئی عیدی تو لے لو۔‘‘ پارس بے اختیار مسکرادیا۔ ایک وقت تھا جب وہ عیدی ملنے کا انتظار کیا کرتا تھا مگر آج اس کی اپنی جیب میں اتنے پیسے تھے کہ اسے کسی رقم کی طلب نہیں تھی پھر عید کے پہلے دن ان کا سارا خاندان ہمیشہ ان کے گھر جمع ہوا کرتا تھا اس سے پہلے کہ وہ گیٹ ٹو گیدر شروع ہوتا وہ نوافل سے فارغ ہونا چاہتا تھا اسی لےے رکے بغیر بولا۔

’’ڈیڈی ابھی آکر عیدی لوں گا۔‘‘

’’اب تم باہر تھوڑی آئو گے، خیر تمہاری عیدی اندر ہی موجود ہے۔‘‘ ڈیڈی نے بھی وہیں سے آواز لگائی تو وہ ان کی بات کا مطلب سمجھنے کے لےے صرف لمحہ بھر کو رکا تھا مگر پھر سر جھٹکتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا اور اتنی تیزی سے آگے بڑھا کہ اسی کی طرح تیزی سے کچن سے نکلتے وجود سے ٹکراتے ٹکراتے بچا تھا۔ سنبھلنے کے بعد پارس نے اسے ڈانٹنے کے لےے منہ کھولا تھا مگر اس پر نظر پڑتے ہی پارس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔

سی گرین کلر کے نیٹ کے ستاروں بھرے سوٹ میں وہ دونوں ہاتھوں میں ہم رنگ چوڑیاں پہنے اور کانوں میں بڑے بڑے آویزے لٹکائے وہ شاید کچھ دیر پہلے ہی نہا کر نکلی تھی تبھی اس کے گھنے بال پشت پر الجھے الجھے سے پڑے تھے ہاتھ میں پکڑا شیر خورمہ کا پیالہ اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ نمازیوں کے آنے سے پہلے پہلے میز سیٹ کر دینا چاہتی تھی شاید اسی لےے اس نے بال سلجھانے میں وقت ضائع نہیں کیا تھا۔

’’راستہ چھوڑیں پلیز۔‘‘ ازل خود پر جمی اس کی نظروں سے خائف ہوتے ہوئے آہستگی سے بولی تو پارس جیسے کسی گہری نیند سے جاگ اٹھا۔

’’تم؟ تم یہاں کیسے۔ کہاں چلی گئی تھیں تم۔ کب آئیں۔ کہاں تھیں اتنے دنوں سے جانے سے پہلے مجھ سے ایک بار مل نہیں سکتی تھیں۔ ڈیڈی نے کہا چلی جائو اور تم چلی گئیں۔ پڑھائی بھی چھوڑ دی کم از کم کالج ہی آجاتیں ایک بار۔‘‘ پارس کو خود نہیں پتا تھا وہ کیا کیا کہے جارہا تھا مگر جواب میں اس کے چہرے پر مسکراہٹ ابھرتی دیکھ کر وہ یک دم چپ ہوگیا۔

’’میں کیوں کالج آتی اگر کسی کو مجھ تک پہنچنا تھا تو مجھے خود ڈھونڈتا۔‘‘ پارس سرتاپا سلگ اٹھا تھا کتنا تڑپا تھا وہ اس کے لےے، کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا تھا اسے اور وہ کہہ رہی تھی مجھ تک پہنچنا تھا تو خود ڈھونڈتا۔

’’ہاں میں تو چین کی بانسری بجا رہا تھا نا تمہارے جانے کے بعد، مجھے کیا ضرورت تھی تمہیں ڈھونڈنے کی۔ ارے پاگلوں کی طرح تمہیں ہر اس جگہ تلاش کرنے گیا تھا جہاں تمہارے ملنے کے ذرا بھی امکان تھے۔ تمہارے گھر سے لے کر اس فیکٹری، تمہارے ہاسٹل سے لے کر پولیس اسٹیشن تک، مگر تمہیں کیا احساس ہوگا تم تو شاید سسٹر آصفہ کے پاس چلی گئی تھیں ایک بس وہیں جانے کا خیال نہیں آیا تھا مجھے۔ ان کے دبئی میں مقیم بھائی تمہارے لےے جو بھی ہوں میرے نزدیک تو یاد رکھنے والی چیز نہیں تھے۔‘‘ پارس کے تپے ہوئے انداز کو وہ خاطر میں نہ لاتے ہوئے یاد دلانے والے انداز میں بولی۔

’’ان کے پاس جا کر کیا کرتی آپ نے کون سامیرے کہنے پر مجھے آزاد کر دیا تھا۔ ایک نکاح پر دوسرا نکاح تو نہیں کر سکتی تھی نا۔‘‘ اس کے اطمینان سے کہنے پر پارس کا بس نہیں چل رہا تھا اسے کچا چبا جائے۔

’’مجھے نہیں پتا تھا تم دوسرے نکاح کے لےے اتنی بے چین ہو ورنہ۔۔۔‘‘

’’ورنہ کیا؟ کیا آزاد کر دیتے مجھے۔‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بڑے اعتماد سے پوچھ رہی تھی۔ پارس کا غصہ جیسے ٹھنڈا ہوتا چلا گیا۔ اس کی ذات سے چھلکتا یقین ایسے ہی نہیں تھا یقینا اس کی یہاں موجودگی کے پیچھے ممی ڈیڈی کا ہاتھ تھا بلکہ ڈیڈی کا تھوڑی دیر پہلے کا کہا جملہ اب سمجھ میں آیا تھا۔

’’تمہیں ڈیڈی یہاں لے کر آئے ہیں۔‘‘ پارس کے سنجیدگی سے پوچھنے پر وہ سر ہلاتے ہوئے بولی۔

’’ڈیڈی اور ممی دونوں کل رات ہی مجھے لائے تھے آتے ہی ممی مجھے اپنے ساتھ بازار لے گئیں عید کی شاپنگ کے لےے، وہاں سے رات کو دو بجے گھر واپس آئے تو پتا چلا آپ اور دادی سو چکے ہیں۔‘‘ پارس خاموشی سے اس کے سجے سنورے روپ کو دیکھتا رہا اچانک ہی اس کے لہجے میں زمانے بھر کی تھکن در آئی۔

’’کہاں چلی گئی تھیں تم بغیر بتائے۔ ایک بار بھی میرے بارے میں نہیں سوچا۔ دادی سے تو کہا تھا کہ میرے لےے اپنی جان بھی دے سکتی ہو جبکہ تم تو میری جان لینے کے درپے ہوگئی تھیں۔‘‘ اس کے لہجے میں بسی بے چارگی پر ازل کی آنکھیں نم ہوگئی تھیں۔

’’ڈیڈی نے جس طرح مجھ سے بات کی تھی اسے سن کر میرا خود کشی کرلینے کا دل چاہ رہا تھا مگر میں نے اس حرام فعل سے خود کو کیسے باز رکھا یہ صرف میں جانتی ہوں میرے اندر ہمت نہیں رہی تھی کہ میں آپ کا یا آپ کے گھر والوں کا دوبارہ کبھی سامنا کر سکوں میں ہمیشہ کے لےے۔۔۔‘‘ وہ کچھ کہتے کہتے رک گئی شاید وہ یہ سب کہنا نہیں چاہتی تھی تبھی اپنی آواز کو دوبارہ ہشاش بشاش بناتے ہوئے کہنے لگی۔

’’مگر میں آپ کو بتائے بغیر تو نہیں گئی تھی کتنی بار تو بتایا تھا میں کسی دارالامان میں رہ لوں گی مگر آپ مجھے وہاں چیک کرنے گئے ہی نہیں اور ممی سے میں نے ایک بار بھی نہیں کہا تھا مگر وہ وہاں پہنچ گئیں۔ وہاں کی لڑکیوں کے لےے وہ کتنی چیزیں لائی تھیں میں انہیں دیکھتے ہی چھپ جانا چاہتی تھی مگر شاید کسی نے بہت دل سے دعائیں مانگی تھیں جو مجھے کہیں پناہ نہ ملی۔‘‘

ازل کی گفتگو سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اپنے دکھ کو چھپانے کے لےے زبردستی اِدھر اَدھر کی باتیں کر کے خود کو مطمئن کرنا چاہ رہی ہو ورنہ یقینا اس کا وقت بہت کٹھن گزرا ہوگا مگر ممی نے ملتے ہی ساری بات کلیئر کر دی ہوگی اسی لےے وہ انہیں دوہرا کر شکایت بھی نہیں کرنا چاہتی تھی اور اتنی جلدی بھول بھی نہیں سکتی تھی۔ دادی صحیح کہتی تھیں اس میں ضبط بہت تھا وہ حسد یا رشک کا شکار ہو کر دنیا سے کبھی ناراض نظر نہیں آتی تھی جب ڈیڈی نے اس پر انگلی اٹھائی تب اس نے انہیں کوئی صفائی دینے کی کوشش نہیں کی، یا دوہائی تک نہیں دی کہ میں کہاں جائوں گی لیکن جب وہ خود اپنی غلطی تسلیم کر کے اسے لینے گئے تب اس نے عزت نفس کے نام پر خوامخواہ کی ضد نہیں باندھی۔

راضی بہ رضا ہوتے ہیں ارباب قناعت

وہ اپنا بھرم دستِ طلب سے نہیں کھوتے

دامن توکل یہ خوبی ہے کہ اس میں

پیوند تو ہوسکتے ہیں دھبے نہیں ہوتے

پارس خاموشی سے اسے دیکھتا رہا، جو مزید کہہ رہی تھی۔

’’آپ خوامخواہ دارالامان کے ماحول سے اتنے خائف تھے۔ میں نے کہا تھا نا سب ایک سے نہیں ہوتے۔ وہاں کی وارڈن اتنی اچھی تھی ںکہ ممی کے کہنے پر بھی انہوں نے مجھے نہیں چھوڑا بلکہ جب ممی اور ڈیڈی مجھے لینے آئے تب بھی میری رضامندی حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اجازت نامے پر سائن کےے تھے۔‘‘ ازل مسکراتے ہوئے بولی۔

’’اگر ممی ڈیڈی کی جگہ میں آتا تو کیا تم تب بھی چلنے کے لےے راضی ہوجاتیں۔‘‘ پارس نے براہِ راست اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بڑی سنجیدگی سے پوچھا تو وہ ایک دم چپ ہوگئی۔ اس کا جواب شاید نفی میں تھا مگر شاید وہ پارس کا دل بھی دکھانا نہیں چاہتی تھی اس لےے بہت سوچتے ہوئے کہنے لگی۔

’’آپ کے مجھ پر اتنے احسان ہیں کہ اگر میں۔۔۔‘‘ پارس نے ہاتھ اٹھا کر اسے روک دیا۔

’’تھوڑی دیر کے لےے بھول جائو کہ میں نے تم پر کوئی احسان کیا ہے سمجھ لو کہ تم اپنے ہر فیصلے میں پوری طرح سے آزاد ہو تو کیا پھر تم میرے ساتھ آتیں۔‘‘

’’آپ کیا پوچھنا چاہتے ہیں؟‘‘ وہ کچھ زچ ہوگئی تھی۔

’’یہی کہ کیا تم مجھے مجبوری میں قبول کر رہی ہو۔‘‘ پارس نے صاف لفظوں میں کہا تو ازل کے چہرے سے ایسا لگا جیسے اس نے اپنی مسکراہٹ کو بڑی مشکل سے روکا ہو۔

’’ممی تو کہہ رہی تھیں آپ میں بہت تبدیلیاں آگئی ہیں۔ ہمیشہ سے مسلمان ہونے کے باوجود ایسا لگتا ہے جیسے آپ نے اب اسلام قبول کیا ہو۔ تو جب انسان اللہ سے سوال کرنا سیکھ جاتا ہے تو اسے انسانوں سے مانگنا نہیں پڑتا بلکہ حالات ایسا رخ اختیار کرلیتے ہیں کہ لوگ خود چل کر آتے ہیں انہیں دینے کے لےے، میری یہاںموجودگی اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔‘‘ ازل کہتی چلی گئی۔

’’میں تمہاری طرح سمجھ دار نہیں ہوں مجھ سے پلیز آسان لفظوں میں بات کیا کرو۔‘‘ پارس کی سمجھ میں خاک بھی نہیں آیا تھا۔

’’کوئی بات نہیں میرے ساتھ رہتے رہتے مشکل گفتگو بھی سمجھنے لگیں گے۔‘‘ ازل کہہ کر تیزی سے سائیڈ میں سے ہوکر نکل جانا چاہتی تھی پارس اس کا ارادہ بھانپتے ہوئے اس سے پہلے کہ اسے روکتا ڈیڈی کی آواز پر وہ دونوں ہی اپنی جگہ رک گئے۔

’’بھئی آخر شیر خورمہ کھانے کے لےے کتنا انتظار کرنا پڑے گا۔‘‘ ڈیڈی کے ساتھ دادی اور ممی بھی اندر داخل ہوگئے تھے۔ دادی کے چہرے سے پھوٹتی خوشی ظاہر کر رہی تھی کہ انہیں ابھی باہر ہی ڈیڈی نے اس کی آمد کے متعلق بتایا ہوگا۔ ازل آگے بڑھ کر ان سے بات کرنا چاہتی تھی مگر ڈیڈی کا جملہ اسے بلش کر گیا تھا۔

’’بہت انتظار کیا کہ تم دونوں گلے شکوے سمیٹ کر ہمیں اندر بلالو گے۔ مگر نہیں بھئی آخر ہم خود ہی ڈھیٹ بن کر کباب میں ہڈی بننے چلے آئے۔‘‘ ڈیڈی کے خوش دلی سے کہنے پر ازل تیزی سے ڈائننگ روم میں غائب ہوگئی۔

’’آپ ہی کو شوق ہورہا تھا سرپرائز دینے کا ورنہ اگر پرسوں ہی بتا دیا ہوتا تو اب عید تک ان کے گلے شکوے کہہ سن کر ختم ہوگئے ہوتے۔‘‘ ممی نے مسکراتے ہوئے کہا تو پارس واقعی جھینپ گیا وہ تو اندر آکر انہیں بالکل ہی بھول گیا تھا تبھی ڈیڈی چلتے ہوئے اس کے عین سامنے آکھڑے ہوئے۔

’’عیدی پسند آئی۔‘‘ ان کے مسکرا کر پوچھنے پر پارس کچھ دیر انہیں دیکھتا رہا پھر بے اختیار ان کے گلے لگ گیا۔

*****

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں