’’ہیں آمنہ! کیا واقعی اینڈ میں سب ٹھیک ہوجاتا ہے؟‘‘ آمنہ کے ہاتھ میں دھلے کپڑوں کی بالٹی تھی۔ اس نے تھکان سے بوجھل سانس بھرتے ہوئے بالٹی زمین پر رکھی اور اس کا چہرہ دیکھا جہاں الجھن بھری لکیریں اور خوش امیدی جھلک دکھلا رہی تھی۔ بغل میں ’’شعاع‘‘ تھا اور سینے سے لگے ’’خواتین‘‘ میں انگلی پھنسائے وہ جواب کی منتظر تھی۔ آمنہ خاموشی سے کپڑے جھٹکنے لگی۔ وہ بہت زیادہ تھکی ہوئی تھی۔ پہلے سارا دن شہر جانے کی خواری، پھر بازار، پھر کالج میں فارم جمع کروانے کی پریشانی۔ گرمی نے جیسے سارے جسم سے نمک نکال دیا تھا۔ وہ آتے کے ساتھ ہی غسل خانے میں گھس گئی۔ پہنا ہوا جوڑا اور تربتر برقعہ ساتھ ہی دھو ڈالا اور اب صرف سونے کی خواہش تھی۔
’’بولو نا آمنہ! کیا واقعی اینڈ میں سب صحیح ہوجاتا ہے؟‘‘ اس کے لہجے میں بے صبری تھی۔
’’شڑنگ۔۔۔‘‘ آمنہ نے پوری طاقت سے کپڑا نچوڑ کر جھٹکا۔
’’اینڈ میں ’’جو صحیح ہوتا ہے‘‘ وہ ہوجاتا ہے۔‘‘ اس نے اگلا کپڑا زور سے جھٹک کر رسی پر پھیلایا۔
’’یہ کیسا جواب ہے۔ ہمیں کیسے خبر کہ جو ہوا، وہ صحیح ہے۔‘‘ اس نے برا منہ بنایا۔
’’اس کے لےے تھوڑے توکل، تھوڑی قناعت اور یقین کا سیرپ پینا پڑتا ہے۔ اچھی بری ہر بات مان لینا پڑتی ہے۔‘‘
اس نے پیروں پر لگنے والی مٹی پر پانی بہایا اور اندر بڑھ گئی، وہ پیچھے پیچھے۔ شہروں کی نسبت ان چھوٹے گائوں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ یوں بھی بہت زیادہ تھا اور اب بھی جب لائٹ تھی تو وولٹیج بے حد کم۔ آمنہ نے چارپائی گھسیٹ کر بالکل پنکھے کے نیچے کی اور دھم سے لیٹ گئی۔ اس نے بھی تقلید کی۔
’’بہت تھک گئی ہو؟‘‘
’’ہاں بہت۔‘‘ وہ اپنے گیلے بالوں میں انگلیاں چلا رہی تھی۔ پھر اس نے ہاتھ بڑھا کر بغل میں دبا ’’شعاع‘‘ مانگا۔
’’اس کی حالت کتنی خراب ہورہی ہے۔ اخبار چڑھالیتیں۔‘‘
’’مجھے قسط پڑھنے کی جلدی تھی۔ شام کو چڑھائوں گی۔۔۔ اور تم بھی تو ذرا اچھی حالت کا لاتیں۔‘‘
’’اچھی حالت کا کہاں سے لاتی۔ اتنی مشکل سے ملا۔ چار دکانیں چھانٹیں، پھر یہ گلا سڑا ملا۔‘‘ آمنہ نے خفگی سے اپنی جدوجہد بتائی۔
’’ساری دنیا پڑھ لیتی ہے، پھر ہمیں ملتا ہے پڑھنے کو۔ اسی لےے ہم دنیا سے ہمیشہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔‘‘ اس کے لہجے میں ملال گھل گیا۔
’’تو کیا ہوا؟ کہانیاں ہی تو پڑھنی ہوتی ہیں اور کہانی کبھی پرانی نہیں ہوتی۔ سمجھیں؟‘‘
’’قسط وار کی بے چینی تو ہوتی ہے نا۔ کچھ سمجھیں؟‘‘ اس نے منہ بناتے ہوئے نقل اتاری۔ آمنہ نے ان سنی کردی۔ اسے مطلوبہ کہانی مل گئی تھی۔
’’دراصل آمنہ! ہم سب انجام جاننا چاہتے ہیں۔ دنیا کو کوئی خوف اس سے بڑا نہیں کہ آگے کیا ہوگا۔ ہم آنے والے وقت سے اتنے ڈرتے کیوں ہیں۔ زندگی آگے کیسے رنگ دکھائے گی۔کیا وہ پاسکیں گے، جو ہمیں چاہےے اور کیا وہ کھوجائے گا، جس کے بغیر ہم رہ نہیں سکتے۔‘‘
’’ایسی باتیں وہ لوگ کرتے ہیں جو اللہ پر یقین نہیں رکھتے، جبکہ اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے۔‘‘ نرمی سے سمجھاتے ہوئے آخر میں آمنہ کے لہجے میں سختی آگئی۔
’’پتا نہیں کیسی بے چینی ہے میرے اندر۔ تمہیں پتا ہے میں ہمیشہ ایک ہنستی مسکراتی تحریر پڑھنا شروع کرتی ہوں۔ سب اچھا اچھا اور جیسے ہی کردار مشکل میں پڑتے ہیں میرے پیٹ میں گرہیں پڑنے لگتی ہیں۔ حلق خشک ہوجاتا ہے اور پھر میں جلدی جلدی صفحے پلٹ کر اینڈ پڑھ ڈالتی ہوں۔ اگر سب ٹھیک ہوجائے تو پھر الٹی کہانی پڑھتی ہوں۔تسلی ہوجانے پر، دوبارہ شروع سے۔۔۔‘‘
وہ عجیب بے بسی سے بولی۔ آمنہ چارپائی پر اٹھ بیٹھی۔
’’تم اپنے اندر اتنی برداشت، صبر و تحمل پید اکرو ، کرداروں کے ساتھ سفر کرو، ان کے دکھ سکھ محسوس کرو۔ تم میں برداشت اور صبر پیدا ہوگا، میرا دعوا ہے۔‘‘
آمنہ تیقن سے بولی اور وہ بے یقینی سے اس کا چہرہ دیکھنے لگی۔ اب پتا نہیں آمنہ کے بتائے ہوئے اتنے سادہ علاج کو اس کا کرنے کا ارادہ تھا کہ نہیں، آمنہ کروٹ بدل کر لیٹ گئی۔ وہ بھی چت لیٹ کر پنکھے کو گھورتی رہی۔ نہ جانے کب آنکھ لگی۔
ژژژ
’’مٰنوں۔۔۔ مٰنوں کڑےے! کبھی میری ایک آواز بھی سن لیا کر۔‘‘ دادی جی غصے سے بھری لاٹھی ٹیکتی ان دونوں کے سر پر پہنچیں۔
آمنہ نے زبان دانتوں تلے دبائی۔ اسے وہم سا ہوا تھا کہ دادی کی آواز ہے، مگر وہ زور و شور سے ہانڈی بھوننے میں لگی رہی۔
’’یہ چمچ کے شور میں پتا نہیں لگا دادی جی! آپ بتائیں کیا بات ہے؟‘‘
’’بات۔۔۔۔ بات تو میں بھول گئی۔‘‘
’’تَو تو ہانڈی نہیں بھون رہی تھی نا۔ یہاں ویلی بیٹھی منجی توڑ رہی تھی نا۔ تجھے میری آواز نہ آئی؟‘‘
’’آئی تھی دادی جی! مگر میں نے سوچا، آپ آمنہ کو بلا رہی ہیں۔‘‘ اس نے ڈھٹائی سے کہا۔
’’ناں منوں! تجھے ہی بلائوں گی۔ یہ تو ہانڈی بھون رہی تھی۔ دو ہی تو کڑیاں ہیں گھر میں۔ منوں وڈی تے چھوٹی منوں۔‘‘
’’تو میرا نام لیا کریں نا ’’یمنیٰ‘‘ مگر بس آپ کے منہ پر انیس سال سے چڑھا ہی نہیں۔ دو لڑکیاں اور ایک نک نیم یہ بھی منوں وڈی تے میں چھوٹی اگر آپ یمنیٰ نہیں کہہ سکتیں تو مانی کہہ دیں، مینا کہہ دیں، یمی کہہ دیں، مگر مجھے منوں نہ کہا کریں پلیز دادی جی!‘‘ اس نے تیز تیز کہتے ہوئے آخر میں ہاتھ جوڑے اور لہجہ بالکل دھیما کر لیا۔
آمنہ نے بھنے گوشت کی ہانڈی نیچے اتاری۔ بڑی والی جلتی لکڑی نکال کر پانی کا چھینٹا دیا راکھ اور سفید کوئلوں پر دودھ کی پتیلی رکھ دی۔ دادی کی دوائی کا وقت ہونے کو تھا۔ دودھ تھوڑی دیر بعد نیم گرم ہوجاتا۔
’’یمی تو آئس کریم ہوتی ہے۔ میں نے کھائی ہے میٹھی اور ٹھنڈی۔ واہ! مگر آپا تم تو الٹ ہو۔ کڑوی اور گرم۔۔۔ جلتا کوئلہ۔‘‘ اس کے چھوٹے بھائی شہباز نے جلتی پر تیل چھڑکا۔
’’کڑوی اور گرم۔۔۔ ٹھہرو شہباز!‘‘ اس نے ارد گرد نگاہ کی۔ پاس سبزی کی ٹوکری رکھی تھی۔ ٹماٹر، پیاز، لہسن اور بڑی بڑی ہری مرچیں۔ ’’ہوں۔‘‘ ا س نے اگلے پل بارہ سال کے بھائی کو قابو میں کیا اور اس کی بچائو کی ساری کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے اس کے ہونٹوں اور دانتوں پر مرچ رگڑ دی۔ آمنہ کے بیچ بچائو اور دادی کی لاٹھی کے حرکت میں آنے سے پہلے وہ شہباز کا کام تمام کر چکی تھی۔
’’ہائے! میں مر گیا۔ ہائے میں گیا۔ ہائے میری اماں! ہائے منوں باجی! میں گیا۔‘‘ وہ تڑپ رہا تھا۔ کچھ سچ کچھ جھوٹ۔
’’وے تیرا ککھ نہ جاوے منوں! ویر دی دشمن۔ ہائے کیسے میرا پوترا تڑپ رہا ہے۔‘‘
’’مکر کر رہا ہے! دادی مکر۔۔۔‘‘ اس پر خاک اثر نہ ہوا۔ آمنہ آگے بڑھی۔ پتیلی کا کچا دودھ شہباز کے ہونٹوں سے لگایا۔ اس نے بھی صحرائی پیاسے کی طرح گٹ گٹ چڑھالیا۔ آستین سے منہ صاف کیا۔ اب وہ آمنہ کی دی ہوئی شکر منہ میں بھر رہا تھا۔
’’ویر سردا دوپٹہ، عزت، مان اور تو اس کی دشمن، حق ہا، کڑےے!‘‘
دادی جی از حد حیرت سے اس کی لاپروائی کو تک رہی تھیں۔ ’’نی تجھے ایک بار بھی بھائی کا خیال نہ آیا؟ کیسے مرچ مل دی؟‘‘ دادی کو غصے سے زیادہ حیرت تھی۔
’’ہاں! مل دی اور آئندہ اس کے منہ میں بھردوں گی، جو مجھے تنگ کیا تو۔۔۔ میں نہیں ہوں کسی کی بہن وین۔۔۔‘‘وہ تنتناتے ہوئے اندر بڑھ گئی۔ شہباز نے مزید شکر مٹھی میں بھری اور باہر کو لپکا۔ دادی نے پلو سے بندھا پانچ کا سکہ بھی دیا تھا۔
آمنہ نے دادی کو پانی کا گلاس دیا۔
’’آپ کہنے کیا آئی تھیں دادی جی؟‘‘ اس نے ان کی طبیعت کے پیشِ نظر دھیان بٹانا چاہا۔
’’نی کڑےے! کہنا کیا، سب بھول بھال گئی اس کڑی کے سیاپے میں۔ لیکن تَو تو بتا، یہ اتنی غصے میںکیوں ہے؟‘‘ دادی نے آمنہ کو رازدارانہ انداز میں گھورا۔
’’وہ دادی جی!‘‘ آمنہ ہکلا گئی۔
’’وہ۔۔۔ وہ ابا جی کے ساتھ وہاں جانا چاہتی ہے۔‘‘
’’وہاں، کہاں؟‘‘ دادی نے نا سمجھی سے پوچھا۔
’’وہ۔۔ وہاڑی۔‘‘ اس نے رخ پھیرتے ہوئے اٹک کر بتایا۔
’’ہاں! تو میں بھی تو یہی کہنے آئی تھی۔ سب بھلا دیا۔ بلا ذرا اسے۔۔۔ اے منو! اے گل سن کڑےے!‘‘ پھر اس کی تنبیہ یاد آئی۔’’یمی بیٹی! دھی رانی! چلی جانا اپنے تائے کے ساتھ۔ ادھر آ میرے پاس۔‘‘ آمنہ بھی موڑھا گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔ یمنیٰ کا منہ سوجا ہوا تھا۔
’’تو چلی جا اپنے تائے کے ساتھ۔ پہلے زمانوں میں تو ایسی گل بات پسند نہیں کرتے تھے مگر اب یہ نیا زمانہ۔۔۔ جا تَو بھی دیکھ آ۔ اب تجھے کچھ غصہ کر کے سمجھائوں تو تیری ماں اللہ بخشے یاد آتی ہے کہ سوچے میرے پیچھے میری بچی کا خیال نہیں کیا۔‘‘
’’دیکھ پتر!‘‘ میں ایک واری دیکھ آئی۔ اپنی تسلی کرلی۔ مجھے تو سب اچھے لگے ہمارے جیسے ہی لوگ ہیں سفید پوش ، عزت دار۔ منڈا بھی چنگا ہے۔ اونچا لمبا، چوڑی کاٹھی۔۔۔ گھر بار سب چنگا، جا تَو بھی دیکھ لے، اگلے شہر میں رہتے ہیں۔ ہاں! مگر یہ نہ پتا لگے تَو خاص انہیں دیکھنے آئی ہے۔ کہہ دینا، پھپھی سے ملنے آئی تھی اور ادب لحاظ سے رہنا۔ چنی سر پہ بکل مار کے رکھنا، منڈا بھی دیکھ لینا، مگر بس سلام دعا۔ بھلے سے تیرا پنویا (بہنوئی) بننے جارہا ہے پر بیٹے! جس کا خصم اس کا رشتے دار۔ سلام دعا کرنا، نظر سے نظر ملا کر بات نہ کرنا تے نہ ہی ہنسی مذاقاں۔۔۔‘‘
’’اتنی ہدایتیں، میں جاتی ہی نہیں۔‘‘
’’نیں تے فیر نہ سہی۔‘‘ دادی نے زیادہ زور سے لاٹھی ماری۔ آمنہ بے بسی سے دونوں کو دیکھنے لگی۔
ژژژ
’’آمنہ! بہت خوش قسمت ہو۔‘‘ اس نے وہاڑی سے آنے کے بعد کوئی دسویں بار آمنہ کو بتایا۔ آمنہ اپنی فطری متانت سے مسکراتی رہی۔’’اب تمہاری جان چھوٹ جائے گی اس کچے چولہے سے۔پاتھیوں اور بالن سے، وہاں یہ بڑے بڑے اسٹیل کے چولہے لگے ہیں۔ سنگ مر مر کا سلیب صاف ستھرا، پھر ہم ہوں گے اور یہ کالک۔۔۔‘‘
’’تمہیں بھی یہ سب مل جائے گا۔‘‘ آمنہ ہمیشہ سے خوش امید تھی۔
’’کیا خبر؟‘‘ اس نے راکھ میں چھپا دہکتا کوئلہ تنکے کی مدد سے ڈھونڈ نکالا تھا۔ اب پھونکیں مار مار کر اس کے گہرے ہلکے ہوتے رنگ کو دیکھ رہی تھی۔ رنگ بدلتی روشنی اس کے چہرے پر دہک رہی تھی۔
’’اوں ہوں! پھر وہی بے یقینی کی باتیں۔ اللہ ناراض ہوتا ہے۔‘‘ آمنہ نے تنبیہ کی۔
’’اب وعظ مت شروع کرنا۔ تم بھی گھنُی ہو، آخر کب یہ پوچھو گی کہ وہ کیسے تھے؟‘‘
’’مجھے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے۔ تم نے بتا جو دینا ہے خود سے۔‘‘
’’لو! میں اب بالکل نہیں بتاتی۔‘‘ یمنیٰ نے بھی عہد کیا پھر تھوڑی دیر بعد سب بھول بھال کر شروع ہوگئی۔
’’مجھ سے اچھی طرح ملے، پھر کہنے لگے، ہم نے تو سنا تھا، لڑکی اکلوتی ہے۔ سالی کے بغیر ہی زندگی گزرے گی مگر۔۔۔ مجیداں تائی پاس بیٹھی تھیں، اب انہیں اردو کہاں بولنی آتی ہے۔ بڑی مشکل سے منہ بگاڑ کر دانت جماجما کر بولیں۔ ’’وے پتر! یہ سالی والی کا نام نہ لینا۔ یہ تو خیر سے چاچے کی دھی ہے۔ تیری اپنی چار بہنیں ہیں اور انہوں نے بھی سالیاں بننا ہے، غلط رواج ڈالنے کی ضرورت نہیں۔ میں نہ سنوں، وہ کیا کہتے ہیں سالی، تے آدھے گھر والی۔ ناں سالی پنویا دے ادھے کار کو سنبھالے گی تو اس کا گھر سنبھالنے اس کی ماں جائے گی؟ خبردار!‘‘
اتنے بڑے اونچے لمبے عظیم بھائی ایسے چپ ہوئے کہ پھر اللہ حافظ بھی اماں کی بغل میںمنہ دے کر کہا۔ اس پر وہ بولیں۔ ’’اب کدھر منہ چھپا کر کھڑا ہے۔ بہن پہلی واری کار آئی ہے۔ سر پر ہاتھ رکھ۔ رخصت دے۔ اور انہوں نے ایسے ہاتھ رکھا جیسے میرے سر میں کرنٹ چلتا ہو، پھر مجیداں تائی نے مجھے سو روپیہ دیا اور پتا ہے میں نے کیا کیا؟‘‘
’’مجھے کیا پتا، کیا کیا۔‘‘
’’تم کو پتا ہو بھی نہیں سکتا کنجوس بی بی آمنہ عرف وڈی منوں! اس نے بیگ کھولا جس میں نئے نکور تازہ اسی مہینے کے شمارے تھے۔
’’ارے واہ!‘‘ آمنہ کی بھی چیخ نکل گئی۔ ’’لائو ایک میرا۔‘‘
’’اوں ہوں۔۔۔ پہلے تم چائے بنائو گی۔ پھر ہم مزے سے چھت پر جا کر پڑھیں گے۔‘‘
’’یمنیٰ! میں نے ابھی چولہا ٹھنڈا کیا ہے۔‘‘ اس نے مجبوری بتائی۔
’’دوبارہ گرم کرو۔ سلنڈر پہ بنالو۔‘‘ اس نے آسان حل پیش کیا۔
’’گیس ختم ہوگئی ہے۔‘‘
’’ہا ئیں!‘‘ یمنیٰ کے چہرے پر ناگواری پھیل گئی۔ ‘‘تو تم نے منگوائی کیوں نہیں؟‘‘
’’ابھی مہینہ ختم ہونے میں چار دن ہیں، میں نے سوچا گزارا کرلوں۔ ابو پر بوجھ پڑے گا۔‘‘
’’اب یہ چار دن کیسے گزریں گے۔‘‘ اس کا موڈ خراب ہوگیا۔ وہ اسی دیہاتی کلچر کی پیدائش تھی، مگر اس سب سے بری طرح متنفر۔ اس نے ڈائجسٹ ڈھیلے ہاتھ سے چھوڑ دےے۔ چائے پینے کی بہت زیادہ عادت تھی اور سلنڈر کا استعمال وہ اسی مقصد کے لےے کرتی تھی۔ جب دل چاہا اٹھ کر بنالی۔
’’اچھا! موڈ خراب نہ کرو ، بنا رہی ہوں چائے میں۔‘‘ آمنہ نے لپک کر جگ سے پتیلی میں پانی ڈالا۔ ماچس سے کاغذ کے ڈھیر (جو اس مقصد کے قریب رکھا رہتا تھا) میں سے کاغذ کو آگ لگائی پھر پاتھی اندر رکھ دی۔ چوتھی پانچویں پھونک میں چولہے میں آگ لگ چکی تھی۔ اس نے بہت لگن سے چائے تیار کی۔
’’مجھے اس چائے کا ذائقہ اچھا نہیں لگتا۔‘‘ یمنیٰ نے بے چارگی سے کہا۔
’’پورے وہاڑی میں تو گیس نہیں آئی، مگر تمہارے سسرال والے محلے میں ہے۔‘‘ یمنیٰ نے اپنے تئیں خوش خبری دی۔ آمنہ پھیکی مسکراہٹ سے ہلکے دھویں کو ہوا میں تحلیل ہوتا دیکھتی رہی۔
’’تمہارے جانے کے بعد میں خود بھی بھوکی مروں گی اور سب کو بھی ماروں گی۔‘‘اس نے چائے کا کپ ختم کرنے کے بعد اعلان کیا۔
’’سر پر پڑے تو سب آجاتا ہے۔‘‘ آمنہ نے یونہی کہا۔ یمنیٰ ورق پلٹ رہی تھی۔ اس کے ہاتھ رک گئے۔ اس نے گہری نگاہ سے آمنہ کا چہرہ دیکھا، پھر گمبھیر لہجے میں بولی۔
’’اور میں یہی نہیں چاہتی کہ میرے سر پر ان چاہی چیزوں کا بوجھ پڑے‘‘
ژژژ
’’آمنہ۔۔۔! آمنہ۔۔۔!‘‘ وہ اسے پکارتی چھت پر آگئی جہاں آمنہ کپاس کی چٹھیوں (سوکھی شاخیں)کو توڑ توڑ کر چھوٹے ٹکڑوں میں تبدیل کر رہی تھی۔ اباجی سال چھ ماہ کا حساب رکھ کے اکٹھی خرید لیتے، پھر چھت پر جمع کر دیتے۔ رہائشی علاقے میں گھستے ہی گھر کی چھت پر ڈھیروں ڈھیر نظر آتیں مضبوط شاخیں ابا جی کلہاڑے سے توڑ دیتے۔ بوقت ضرورت آمنہ بلکہ یمنیٰ بھی ہزار باتیں سناتے ہوئے کلہاڑا چلالیتی تھی۔ گیس نہ ہونے کے باعث بازار سے سوکھا بالن خریدا جاتا۔ مٹی کا تیل بہت مہنگا پڑتا تھا، گوبر کی پاتھیاں بھی خریدی جاتیں اور سلنڈر بھی رکھے ہوئے تھے۔ اب جس کو جس طرح سہولت محسوس ہو۔
ژژژ
دادی جی نے دو پیٹیاں بھر کے رکھی تھیں آمنہ کے جہیز کے لےے۔ نہ جانے کتنے زمانوں پرانی چیزیں تھیں ان میں۔۔۔ کوئی سات نسلوں پرانا سامان بھرا ہے ان میں دادی کی۔ دادی کے ہاتھوں کے کڑے، گول تکےے، سفید تکےے پر مور اور مور کے نیچے پنجابی کا شعر۔۔۔ آمنہ کے جہیز کی اہم چیز، پھر دادی جی کی اپنی شادی کا بغیر استعمال شدہ سامان پھر آمنہ کی امی کی بے شمار چیزیں۔ یمنیٰ انہیں آثارِ قدیمہ کہتی۔
’’میں تو کہتی ہوں ہم اپنا ذاتی میوزیم کھول لیتے ہیں۔ نسل در نسل سے محفوظ و برقرار جہیز کا سامان، دیکھنے کی چیز اور ایسا منحوس سامان جو بس سفر ہی کرتا رہا، استعمال ہونا جس کے نصیب ہی میں نہیں۔ بدبو آتی ہے ٹرنک سے اور تم پاگل اس بَدھا کی باقیات کو لے کر سسرال جائو گی؟ تمہیں خود بھی تمیز نہیں۔ وہ اتنے موٹے کپڑے کی بیڈ شیٹ جس پر سوئو تو کروٹ بدلنے ہی سے جسم کا رواں اتر جائے۔‘‘
آمنہ ہنستی رہی وہ دادی جی کی ہاں میں ہاں ملانا فرض سمجھتی تھی۔
اس کے نزدیک یہ سب چیزیں بے کار اور ناقابلِ استعمال تھیں۔ اس لےے وہ اپنے ہاتھوں کے ہنر کو بروئے کار لاتے ہوئے اجرت پر کام کرتی، پھر جو پیسے ملتے اس سے آمنہ کے جہیز کے لےے چیزیں خرید کر رکھتی جاتی۔ اس نے خود سے اونی پھندنوں والا مسٹرڈ اور سرخ بے حد خوب صورت بیڈ روم سیٹ بنا رکھا تھا، اور دادی جی تو کیا، آمنہ تک کو خبر نہ ہوپاتی کہ وہ اپنی ذاتی پیٹی میں کیا کیا بھرتی رہتی ہے۔
آمنہ، دادی جی کے ساتھ مل کر گھر چلاتی تھی وہ فطرتاً کنجوس واقع ہوئی تھی۔ بہت ناپ تول کر پیسہ خرچ کرتی اور کچھ پیسہ بھی کم تھا، ضرورتوں کے لےے ناکافی، پھر آسائش اور تعیش تو بہت دور کی سوچ تھی۔ گھر اور باہر کے سو بکھیڑے تھے۔ پیسہ آنے کے راستے کم اور جانے کے بہت زیادہ تھے۔ دادی جی عمر کے اس دور میں تھیں جہاں خوراک سے زیادہ دوائیاں کھائی جاتی ہیں۔ کھانے سے پہلے دوائی، کھانے کے بعد دوائی اور گزشتہ دو سال میں یمنیٰ کی امی کا گردوں کی بیماری میں مبتلا رہنا، ان کا جگر بھی جواب دے گیا۔ ان کے علاج پر پہلے جمع جتھا لگا، پھر ادھار اور آخر میں خود بھی نہ رہیں۔
وہاڑی، میلسی، بورے والا، لودھراں، جنوبی پنجاب کے اس حصے میں گردے اور جگر کے امراض بہت زیادہ تھے۔ پانی ابال کر پینا، فلٹر کرنے کا سب سے آسان اور سستا ذریعہ کہا جاتا ہے، مگر گیس نہ ہونے کے باعث عورتیں اپنا ’’بالن‘‘ کبھی بھی اس عیاشی کے لےے بال(جلا) نہیں سکتی تھیں۔ بس آخری پل گردے واش کرواتے ہوئے جان دے دیتیں۔ اس خطے میں ذرائع روزگار بھی بے حد محدود اور کم تھے۔ نئی فیکٹریاں اگر کہیں تھیں بھی تو وہاں چند افراد ہی کھپ سکتے ہیں پھر یہاں کے لڑکے کافی عرصہ آوارہ پھرنے کے بعد بڑے شہروں کا رخ کرلیتے، جہاں مواقع میسر آجاتے تھے اور پڑھ لینے والے پھر بہت زیادہ پڑھ لیتے کہ بڑے شہروں سے واپسی کا راستہ ہی بھول جاتے۔ ہر گھر میں بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے جو ہر ماہ آنے والے منی آرڈر کے انتظار میں سو ضرورتوں سے دامن بچاتے ہیں۔ پردیس کا دکھ بھی اور بدلے میں مایوسی اور نا امیدی۔ ان کے گھر کی داستان بھی سب کے جیسے تھی۔ یہ میلسی کا کھیتوں کے کنارے بنا محلہ تھا جو شہری دیہاتی کلچر کا امتزاج تھا۔ کم آمدنی والوں کے گھر پسماندہ تھے اور ذرا جو چار پیسے آگئے تو کھیتوں کے درمیان کوٹھی کھڑی کرلی۔ شہر ترقی کر رہے تھے مگر غربت گائوں کو مزید پسماندگی کی طرف لے گئی۔
نئی آبادیاں بن گئی تھیں۔ خوب صورت بڑے بڑے گھر، چوڑی کھلی سڑکیں، بازار۔۔۔ اور شہر کو مزید پھیلنا ہی تھا۔ کھیت ختم کر کے نئی ہائوسنگ اسکیمیں بن رہی تھیں اور دھڑا دھڑ بک رہی تھیں۔ نئی کالونیاں، مسجد، اسپتال، اسکول، پارک اور دیگر ایسی للچا دینے والی پیشکشوں کے ساتھ۔
آمنہ، یمنیٰ کا گھر پرانے علاقے میں تھا۔ مین روڈ کے اطراف میں کھیت تھے جن کے درمیان میں چلتی سڑک درختوں سے ڈھکی تھی اور جس پر موٹر سائیکل اور رکشے چلتے تھے۔ کبھی کبھار لوڈنگ گاڑیاں کہ کولڈ اسٹور اور منرل واٹر کی فیکٹریاں بھی تھیں، قریں قیاس یہی تھا کہ شہر آگے کی جانب پھیلتے پھیلتے جب پیچھے دیکھے گا تو ان کا چک بھی شہر میں شامل ہوجائے گا، مگر ابھی تو یہ چک ہی تھا اور یمنیٰ کو یہ سب بہت برا معلوم ہوتا تھا۔
وہ چاہتی تھی، اس اتنے بڑے اصطبل کو بیچ کر شہر کے بیچ بازار سے نزدیک کوئی چھوٹا مگر اچھا گھر خرید لیا جائے۔ لیکن اس میں سب سے پہلے جذباتی طور پردادی رکاوٹ تھیں کہ پَرکھوں کا گھر دادا جی کے ہاتھ کے بنائے ہوئے کمرے، رشتے داروں سے بڑھ کر پڑوسی۔
’’ارے کڑےے! صبر کر۔ تیرے بھائی جواں ہوں گے بنائیں گے اسے حویلی جیسا تو صبر کرلے۔‘‘ دادی جی اس کے کوسنوں اور مطالبات کے جواب میں خواب دکھاتیں۔
’’ہونہہ! حویلی چھوڑ، محل بنالیں۔ میرے کس کام کا۔ اس میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہیں گے۔‘‘ اور اپنے منہ سے اپنے مستقبل کا ایسا کھلا تذکرہ دادی جی کے تلوئوں تک کو آگ لگا جاتا۔
’’بے شرم بے ہدایتی۔‘‘
’’اس میں بے شرمی کس بات کی۔ میری شادی نہیں کریں گی کیا؟ وہ مجھ سے اتنے چھوٹے ہیں۔ مجھے تو آپ نے سال دو سال میں باہر کر دینا ہے۔‘‘
’’ہائے! میں مر گئی شرم دا گھاٹا (شرم کی کمی) اگر جو کسی کے کانوں میں پڑے، توبہ توبہ۔۔۔‘‘ دادی جی گال پیٹتیں۔ یمنیٰ بڑی بے فکری سے خلائوں میں تکتی۔
’’دادی جی! اسے کہیں ہم اچھا گھر بھی بنالیں گے بالکل اس کی پسند کا اور اسے کہیں جانے بھی نہیں دیں گے۔ تسلی رکھے۔‘‘ آمنہ نے موقع شناسی کا مظاہرہ کیا۔ دادی جی کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔
’’تے ہور کی، بالکل ٹھیک۔‘‘
’’کیا مطلب میری شادی نہیں کرنی؟‘‘ وہ خوف سے اچھل پڑی۔
’’کرنی ہے، کیوں نہیں کرنی۔میں کوئی زمین دار ہوں جو تجھے گھر بٹھا کر تیری ’’پیٹی‘‘ قبضے میں کرنی ہو۔ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے۔ سب کی کروں گی۔ پر تجھے اسی حویلی میں رکھوں گی، میرے سب سے پیارے پوترے کی ووہٹی بنا کر۔ تو ہی مالکن ہوگی۔ گھر کی دھی بھی تو نالے نوں بھی۔‘‘ دادی جی کے لہجے میں شکر گھل گئی۔ وہ تصور کی آنکھ سے جو دیکھ رہی تھیں۔
یمنیٰ جھٹکے سے اٹھ کھڑی ہوئی، ’’خبردار۔۔۔! خبردار! جو ایسا سوچا بھی تو۔۔۔ میں نے پہلے ہی کہہ دیا اور یہ۔۔۔ تم نے۔‘‘ وہ آمنہ کی طرف مڑ کر غرائی۔
’’تم نے دادی جی کے کان بھرے ہیں نا آمنہ! تم میرے ہاتھوں۔۔۔ اس نے دھلے کپڑوں کا ڈھیر آمنہ پر الٹ دیا۔ وہ چارپائی پر منہ کے بل گری۔ آمنہ کی ہنسی ددی کی پوپلی ہنسی سے مل جاتی۔ یمنیٰ پیر پٹختے، رستے میں پڑی چیزوں کو ٹھوکر مارتے ہوئے آگے بڑھ جاتی۔
دادا جی کے بنوائے ہوئے تین کمرے، ایک دادی جی کا، دوسرا اسٹور، تیسرا لڑکیوں کا۔ بعد میں تایا جی نے بھی دو کمرے بنوائے تھے۔ جب تک تائی جی اور یمنیٰ کی امی زندہ تھیں، وہ ان کے لےے تھے اور اب خالی ویران۔۔۔ کبھی یمنیٰ کا لاہور پڑھنے والا بھائی اعجاز آتا تو وہ رہتا اور جب چھ چھ ماہ بعد اعزاز چھٹی پر آتا تو ایک کمرا اسے مل جاتا، مگر وہ زیادہ تر دادی جی کے ساتھ ان کی چارپائی پر وقت گزارتا یا پھر آمنہ کے ساتھ اس اونچے چبوترے پر بیٹھ کر اس سے باتیں کرتا رہتا جو کچن کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ یہ آمنہ اور اعزاز کی پسندیدہ جگہ تھی اور یمنیٰ کو شدید ترین چڑ بلکہ اپنے اس اوپن کچن سے نفرت تھی۔
’’یہ ہمارا کلچر ہے یمنیٰ!‘‘ آمنہ نرمی سے سمجھاتی۔
’’ہونہہ! اچھی چیز ہے نہیں تو اس بری کو کلچر کہہ کر گلے میں باندھ لو۔‘‘ وہ ہٹ دھرمی سے کہتی۔
’’اردگرد سب کے گھر ایسے ہی ہیں۔‘‘ آمنہ بولتی۔
’’سب خوش ہیں، کوئی ایسے ناک بھوں نہیں چڑھاتا۔ کچھ بنا بھی لیں تو سلنڈر والا چولہا ہی رکھا جاسکتا ہے، وہاں لکڑی یا پاتھی تو جل نہیں سکتی۔ دھویں سے مرجائے پکانے والی اس لےے یہاں کھلے میں بناتے ہیں۔ دھواں اڑجاتا ہے۔ تم کوئی بچی ہو یا پہلی بار یہ سب دیکھ رہی ہو جو میں تمہیں کھول کھول کر سمجھائوں۔‘‘ آمنہ آخر میں خفا ہوجاتی، مگر آگے بھی یمنیٰ تھی۔
’’ہاں! تمہیں یہی سب نظر آئیں گے۔ ماسی زرینہ کا گھر نظر نہیں آتا اور اس آڑھتی شوکت کا۔۔‘‘ اس کے منہ سے آگ بھرے جملے نکلے۔
’’اللہ کے لےے مٰنوں! ‘‘ آمنہ بھی غصے میں بھر گئی۔ ’’ماسی زرینہ کے گھر تین بیٹوں کی دبئی کی آمدنی ہے۔ وہ شہر لاہور میں جا کر گھر بناسکتی ہے۔۔۔ اس سے بھی بڑا، وہ تو ساس سسر کے منہ یہاں بیٹھے ہیں۔ ۔۔ اب ان کی آنکھ بند کہ تب۔۔۔ اور آڑھتی شوکت، اس کی زمین داری اور پھر کاروبار۔۔۔ ہم ان سے کیا مقابلہ کریں۔ ابا جی کی آمدنی کل دس ہزار۔ تمہارے ابا، کبھی کام کیا کبھی نہیں، بیمار بندے پھر سر پر چڑھا قرضہ، اعزاز کی ساری تنخواہ اس ہاتھ آتی ہے، ادھر نکل جاتی ہے اوپر سے اعجاز کی پڑھائی پر اتنا پیسہ خرچ ہورہا ہے۔ شہباز ابھی چھوٹا ہے۔ دادی جی ہر بار ڈاکٹر کے چکر میں سب کسر نکال دیتی ہیں۔ اوپر سے میری شادی تیار۔ میرے بس میں ہو تو اسی حلےے میں جو جیسے کی بنیاد پر چلی جائوں، مگر ہمارا کلچر۔۔۔ جہیز کی ایک ایک چیز وہاں سسرال میں جا کر ڈھیروں چارپائیاں بچھا کر اس پر سجانی لازمی ہوتی ہے۔زیور، کپڑا، برتن، بستر، شلوار میں ڈالنے والے ناڑے تک کو سرخ ڈبے میں سجایا جاتا ہے۔ میں تو سوچ سوچ کر خود کو مجرم سمجھتی ہوں کہ ابا جی اور دادی جی یہ سب کہاں سے کریں گے۔ فرنیچر اور کھانا اس کے علاوہ اور اس پہ قیامت کی مہنگائی اور تم اتنی سمجھ دار، عقل مند اور یہ سامنے کی کھلی باتیں جان بوجھ کر اگنور کرتی ہو۔ خود بھی تپتی جلتی ہو اور ہمیں بھی جلاتی ہو۔ خوا مخواہ۔‘‘
آمنہ عموماً اتنی لمبی بات نہیں کرتی تھی، مگر آج اس کا پیمانۂ صبر لبریز ہوگیا تھا۔
آمنہ اس کے تایا کی اکلوتی بیٹی اور اس سے پانچ سال بڑی تھی، مگر دونوں کی بہت دوسی تھی، محبت تھی۔ آمنہ ماں کی طرح اس کا خیال رکھتی۔ وہ بھی اسے اتنا ہی احترام دیتی۔
آمنہ کی امی اس کے بچپن ہی میں دورانِ زچگی فوت ہوگئیں۔ پیدا ہونے والی بچی بھی ڈیڑھ ماہ بعد ختم ہوگئی۔ یمنیٰ کی امی نے جٹھانی کے دونوں بچوں آمنہ اور بڑے اعزاز کو اپنے بچوں کی طرح پالا، کوئی باہر کا بندہ جان ہی نہیں سکتا تھا کہ یہ دو بھائیوں کی اولادیں ہیں۔
آمنہ نے میٹرک کیا تھا۔ یمنیٰ کی امی کی بیماری کے بعد وہی گھر کو سنبھالتی رہی۔ یمنیٰ کی امی نے چھ سال بستر پر گزارے۔ آمنہ نے دن رات ان کی خدمت کی۔ دو سال پہلے وہ دنیا سے رخصت ہوگئیں تو آمنہ نے پرائیویٹ انٹر کا فیصلہ کیا اور اب اس کے فائنل پیپرز بھی ہوگئے تھے۔
یمنیٰ کی الگ کہانی تھی۔ وہ پڑھائی میں بہت تیز تھی اور شوقین بھی مگر میٹرک کے بعد دو سال پہلے ماں کی شدید بیماری اور پھر انتقال نے اسے توڑ پھوڑ دیا۔ ہر شے سے جی اچاٹ ہوگیا۔ اب یہ تیسرا سال تھا۔ آمنہ کے بھی انٹر کرلینے کے بعد وہ کسی حد تک مائل ہوئی تھی تو اب ساتھ جانے کا مسئلہ تھا۔ ساتھ کی واحد لڑکی فریدہ آگے نکل چکی تھی۔پرائیویٹ کرنا اسے پسند نہیں تھا۔ پتا نہیں کیا ٹھان کر بیٹھی تھی۔ دادی چاہتی تھیں، وہ پڑھائی شروع کر دے۔ اس سے اس کے مزاج پر اچھا اثر پڑے گا، حالانکہ عنقریب آمنہ کی شادی کے بعد انہیں گھر میں تنہا رہنا پڑتا۔ اسے ان کے ساتھ ہونا چاہےے تھا۔ ابا جی صبح کے منڈی جاتے تو شام کے بعد لوٹتے۔ ادھر یمنیٰ کے ابو جی دھاگا بنانے کی فیکٹری میں کام کرتے تھے۔ وہ بھی صبح سویرے نکلتے تو پھر رات کے کھانے پر ہی پہنچتے۔ شہباز صبح سائیکل پر میلسی کے گورنمنٹ اسکول جاتا۔ تین بجے کے بعد واپسی۔ ایسے میں آمنہ کی شادی کے بعد یمنیٰ کا کالج ناممکن سی چیز تھا، مگر دادی جی فیصلہ کےے بیٹھی تھیں کہ سعیدہ کے ساتھ یمنیٰ کو بھی داخلہ لے لینا ہے۔ خالی ذہن شیطان کا گھر ۔
یمنیٰ اس ساری صورت حال سے واقف تھی۔ دل کے کسی خانے میں یہ خیال بھی تھا کہ وہ پڑھ لکھ کر اپنی زندگی سدھار سکتی ہے، مگر دادی جی کو اکیلا چھوڑنا۔۔۔ دادی جی نے کہا بھی کہ وہ اپنی ہم عمر سہیلیوں کی ڈیوٹی لگادیں گی کہ گھنٹے گھنٹے بعد ہر سہیلی ان کے پاس بیٹھے گی اور میراثیوں کی نوں (بہو) کو باقاعدہ پیسے دےے جائیں گے۔ وہ تین سے چار گھنٹے دادی جی کے ساتھ رہے گی اور کھانا وغیرہ پکائے گی، مگر سوچنے اور کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ پھر پکانے کے لےے کسی کی بھی خدمات لی جاتیں، اسے پیسے بھی دینے پڑتے۔ دادی جی صاف کہتیں۔
’’کڑےے! تَو کالج جائے یا نہ جائے، آمنہ کے بعد میں نے بھوکوں ہی مرنا ہے، یہ مجھ سے لکھوالو۔ لوگ پوچھیں گے، بڈھی کیسے مری؟ کہہ دینا چار دن سے روٹی نہیں ملی۔ تو سن لے آمنہ!‘‘
آمنہ کانوں کو ہاتھ لگاتی ’’توبہ توبہ۔‘‘
یمنیٰ واک آئوٹ کرجاتی۔ دادی اپنے بیان پر ڈٹی رہتیں۔
’’نا! اس میں توبہ کس بات کی۔ پہلے اس نے مجھے سو باتیں سنانی ہیں۔ گیس نہیں ہے، مجھے چولہا پسند نہیں، مجھ سے آگ نہیں جلتی۔ پھر شرما شرمی اٹھ بھی گئی تو جتنی دیر میں اس نے چَلا بالنا (چولہا جلانا) ہے میں نے بجھ جانا ہے۔‘‘
آمنہ کی زور سے ہنسی نکل جاتی۔ وہ اٹھ کر انہیں بانہوں میں بھر لیتی۔
’’نہ دادی جی! یمنیٰ دل کی بری نہیں ہے۔ ابھی کم عمر اور نا سمجھ ہے اور آپ کی خاطر تو وہ آگ میں کود سکتی ہے اور آپ۔۔۔‘‘
’’آگ میں کود سکتی ہے۔ ہونہہ پہلے آگ جلا تولے۔۔۔ اس کے ساتھ کی کڑیوں کے دو، دو بچے ہیں، اس کا حال دیکھو۔‘‘ وہ آمنہ کو یاد دلاتیں۔
’’تو آپ میری شادی بھی کر دیتیں اس کے ساتھ ہی تو میں دو کی جگہ چار بچے پیدا کرلیتی۔ دو دو کی جوڑیاں۔ اب بغیر شادی کے ان کا مقابلہ تو کر نہیں سکتی۔‘‘ یمنیٰ تن فن کرتی اند رآئی۔
’’توبہ۔۔۔ توبہ! تیرا بیڑا تر جائے (تیری کشتی پار لگے) یمنیٰ۔۔ یمنیٰ!‘‘ دادی جی کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ پہلے تیزی سے اٹھنے کی کوشش کی، مگر یہ مشکل تھا، سو پہلے اپنے تکےے کے پاس رکھا دوائیوں کا تھیلا اس کی سمت پھینکا، پھر تختی اور آخر میں اپنی لاٹھی۔
آمنہ کی ہنسی۔۔۔ اس کا سانس رک رہا تھا۔ یمنیٰ کو بھی اپنے جملے کا احساس ہوا۔ آمنہ اسے باہر جانے کا اشارہ کرتے ہوئے دادی سے لپٹی انہیں پَرسکون کر رہی تھی۔
دادی جی ارد گرد نگاہ کر کے اور چیزوں کی تلاش میں تھیں۔ نیچے پڑے جوتے اٹھا کر اسے مارنا چاہتی تھیں مگر آمنہ کی گرفت سخت تھی۔ وہ پھڑپھڑا کر رہ گئیں۔
ژژژ
’’تم نے کس کو خط لکھا ہے۔۔۔ یہ کراچی میں کون رہتا ےہ۔۔۔ اور تم اسے کیسے جانتی ہو۔۔۔؟ کون ہے یہ؟‘‘ شہباز کی آنکھیں ابل رہی تھیں۔ وہ کچن کے چبوترے پر کھڑا خط لہرا لہرا کر دادی جی کو متوجہ کرنا چاہتا تھا۔ دادی جی کے کان بھی کھڑے ہوگئے۔ آمنہ آٹا گوندھ رہی تھی۔
’’’میں نے خوامخواہ تمہیں پکڑایا، ابا جی کو ہی دے دیتی۔‘‘ یمنیٰ نے چیل کی طرح اچھل کر اس کے ہاتھ سے خط لے لیا۔
کراچی والا خط دادی جی کے لےے بھی شک میں مبتلا کرنے کا باعث تھا، مگر دادی جی نے لمحے میں دو باتیں سوچیں۔ پہلا آمنہ کا مسکراتا مگن چہرہ، انہیں آمنہ پر خود سے زیادہ اعتبار تھا اور دوسرے خط ایسا ویسا ہوتا تو یمنیٰ بھائی یا باپ کے ہاتھ کیوں پوسٹ کرواتی، سو سب ٹھیک ہے۔
وہ دوبارہ اپنی دوائیوں والی تھیلی میں مگن ہوگئیں۔
’’میں ابا جی کو بتائوں گا۔‘‘ اس نے منہ پر ہاتھ پھیرا۔
’’سو مرتبہ۔۔۔ بلکہ یہ خط اب ابا جی ہی پوسٹ کریں گے۔ سمجھے تم!‘‘ یمنیٰ نے خط لہرایا۔
آمنہ آٹا گوندھ کر فارغ ہوگئی۔ گرمیوں کے دن تھے۔ فریج تھا نہیں، اسے تین ٹائم آٹا گوندھنا ہوتا۔ شہباز رات کے ہلکے خمیرے آٹے کے پراٹھے کے ساتھ انڈا اور چائے کے دو کپ پی کر اسکول کے لےے روانہ ہوا تھا۔ ابھی ابا جی اور چاچا جی کو جانا تھا۔ اس نے مرغیوں کو باہر نکالا اور ساتھ تین انڈے بھی۔ انڈے پالینے کی خوشی سے چہرہ ہر روز دمکتا تھا۔
آمنہ نے ہری پیاز دو انڈوں میں ملا کر آمیزہ بنایا اور یمنیٰ کو اشارہ کیا کہ وہ اندر کمرے میں رکھے سلنڈر پر آملیٹ بنا کر لے آئے۔ وہ بھی فرماں برداری سے اندر گھس گئی۔ پھولا پھولا ہرا سفید آملیٹ، دہی کا پیالا، رات کی بھنڈیاں، لسوڑھے کا اچار اور پراٹھا چائے۔ ابا جی، دادی جی ابو جی آمنہ اور یمنیٰ نے ناشتا کیا۔
یمنیٰ نے اپنا خط نکال کر ابا جی کو دیا اور انہیں خواجہ اینڈ سن کے خواجہ کی طرح یاد کروایا بلکہ رٹوایا کہ خط کس طرح لیٹر بکس میں ڈالنا ہے۔
’’سمجھ گئے نا ابا جی!‘‘
’’’پتر! سمجھ گیا۔ ہر ماہ عزاز کو خط ڈالتا ہوں۔مجھے خط ڈالنا آتا ہے۔‘‘ وہ بھولا منہ بنا کر بولے۔ آمنہ ہنس دی۔ یمنیٰ جھینپ گئی۔ آمنہ کے منہ سے چائے پھوار کی صورت گری اس نے جلدی سے پلو ہونٹوں پر رکھا تھا۔
فریدہ اپنے اسکول کی استانی کے تین سوٹ کڑھائی کے لےے دے گئی تھی۔ یمنیٰ نے ہفتے میں پورے کر دےے، گیارہ سو روپے ملے۔ اس نے ہزار کا نوٹ پیٹی میں غائب کیا۔ سو روپے ڈائجسٹ کے لےے فریدہ کو دےے۔ خدا خدا کر کے دس تاریخ کے بعد شمارے ملے۔ اس نے جوش بھرے انداز میں ورق پلٹے۔ ایک بار دیکھا، دو بار، سہ بار۔۔۔ کچھ بھی نہیں۔ میلسی ہی کے علاقے سے کسی اور قاری کا خط شامل تھا، مگر دونوں جگہ اس کے خط نہیں تھے۔ وہ شدید ترین مایوسی اور بعد میں غصے کا شکار ہوگئی۔ ہر ہر شے پر غصہ نکالا۔ عملاً قولاً۔۔۔ زیادہ کم بختی آمنہ اور شہباز کی آئی۔ آمنہ کو اس کی ساری بھڑاس سننی پڑی اور شہباز حساب کے سوال کی غلطی پر اسے خوب کوٹا گیا۔
’’مجھے پتا ہوتا تم نے ایسے ڈرامے کرنے ہیں تو میں تمہیں خط لکھنے ہی نہ دیتی۔‘‘ آمنہ چڑ گئی۔
’’اتنے پیارے خط میں نے لکھے۔ تعریفیں ہی تعریفیں۔۔۔ پھر بھی۔۔۔‘‘ اس نے ناک چڑھائی۔
’’تم پاگل ہو۔۔۔ کوئی کام کی بات پوچھتیں۔ الٹا پلٹا خط لکھا ہوگا۔‘‘ آمنہ نے شکوہ کیا۔
’’تمہارا ذکر بھی کیا تھا کہ آمنہ ہمیشہ پرانے شمارے لاکر دیتی تھی اب میں خود نئے خریدوں گی۔ دادی کے بارے میں بھی بتایا کہ وہ منع تو کرتی ہیں مگر سختی سے نہیں، لیکن ہم ان کے سامنے پڑھتے نہیں۔۔۔ پہلے ہماری پھپھو سلطان بی بی پڑھتی تھیں۔ ان سے آمنہ کو لت لگی اور آمنہ سے مجھ کو۔‘‘
آمنہ ہنس پڑی۔ ’’سارا محلہ تو ہوگیا، تم نے مرغیوں اور وہ ہماری مرجانے والی بکری کا ذکر نہیں کیا؟‘‘
’’کہا تھا کہ دادی کی بکری نے فوت ہونے سے پہلے فرحت اشتیاق کے ناول کی پوری قسط چبادی تھی۔ پھر میں نے اسے ڈنڈے سے مارا تھا۔ پورا ناول پڑھ لیا ہے۔ وہ قسط آج تک نہیں پڑھی۔‘‘
آمنہ کی ہنسی میں شدت آگئی۔ ’’مجھے اندازہ ہوگیا ہے۔ تم نے کیسا خط لکھا ہوگا۔۔۔ اور وہ شائع کیوں نہ ہوا۔‘‘
یمنیٰ اندر کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔ پھر شہباز کا اسکول بیگ لےے باہر نکلی، پھر چھت کی جانب۔
’’اب کیا کرنے لگی ہو؟‘‘ آمنہ نے آواز دی۔
’’نیا خط لکھنے لگی ہوں۔‘‘ اس نے اونچی آواز میں کاغذ لہرایا۔
’’یا اللہ رحم!‘‘ آمنہ یہی کہہ سکی۔
ژژژ
وہاڑی سے پھپھو سلطان بی بی آئی تھیں۔ اس بار وہ اہم مشن پر تھیں۔ آمنہ کی تاریخ پر تبصرہ ہونا تھا۔ کمیٹی کب کھلے گی۔ لسٹ بنانی تھی کیا کیا خریدنا باقی ہے، کس کو کیا کیا دیا گیا اور اب کیا ملے گا۔
پھپھو دادی کے کانوں میں گھس کر ’’اَدھر‘‘ کی تیاریاں بتا رہی تھیں۔ دراصل یہ رشتہ پھپھو نے اپنے شوہر کے تایا زاد بھائی عظیم سے کروایا تھا۔ وہ وہیں پھپھو کی سسرال وہاڑی میں جوائنٹ فیملی میں رہتا تھا۔ ابھی سال پہلے ہی انہوں نے بیچ میں دیوار کر کے اپنا الگ بڑا گھر بنایا تھا۔ عظیم چار بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ تائی مجیداں نے پھپھو کی پندرہ سالہ شادی شدہ زندگی دیکھ رکھی تھی۔ صبر، شکر، تحمل، برداشت، ہر مشکل گھڑی میں خاندان کے ساتھ، سب سے بنا کر رکھنے والی اور آمنہ پھپھو کا پرتو تھی۔
وہ دو سال پہلے بڑے مان و محبت سے رشتہ لے گئیں۔ اب آمنہ کی نند کی رخصتی میں آمنہ کا ولیمہ تھا۔ دیر آمنہ کی نند کے سسرال کی جانب سے تھی اور اب وہاں بھی ہلچل تھی۔
شام کو دادی کی دونوں بڑی پیٹیاں کھولی گئیں۔ یمنیٰ کو اس موقع پر عموماً غصہ چڑھتا تھا، مگر وہ بھی سنجیدہ بنی اوپر چڑھ کر پیٹی میں گھس گئی۔ اب وہ سامان نکال کر چارپائیوں پر پھپھو کو دیتی جارہی تھی۔ دادی جی لاٹھی ٹیکتی خود دروازہ پر اندر سے تالا ڈال کر آئی تھیں۔ آمنہ کی امی کے جہیز کی شنیل والی آتشی گلابی رضائیاں، سفید سبز دھاری والے کھیس، ہاتھ کی بنی رنگ برنگی دریاں، گدے البتہ نہیں تھے۔ دادی جی کے جہیز کے دیسی روئی کے تکےے پڑے تھے۔ پھپھو سامان چھانٹ کر الگ کر رہی تھیں۔ ایک چارپائی پر سلور اسٹیل کا پتیلیوں کا سیٹ، اعزاز کا لایا ہوا ہاٹ پاٹ سیٹ، کولر، اسٹیل کے برتن آمنہ کی امی کے جہیز کے تھے بلکہ بیشتر سامان انہی کا تھا۔ وہ خوب اچھا جہیز لائی تھیں پر یہاں سسرال میں دادی کی پوری گھر گرہستی تھی۔ ان کا سامان پیٹی ہی میں رہا۔ اب آج نکل رہا تھا۔
’’سلائی مشین اور واشنگ مشین آمنہ کے نانکے دیں گے۔‘‘ دادی جی نے بیٹی کو بتایا۔ پھپھو مطمئن ہوگئیں۔
’’اس کے مامے کا فون آیا تھا۔ کہہ رہا تھا۔ آپ جب مرضی کی تاریخ رکھو۔ میں اگلے مہینے بھجوادوں گا۔‘‘ شام تک سارا سامان نکلوا کر دیکھ لیا گیا۔ بہت کچھ موجود تھا۔ بہت کچھ لینا تھا۔
’’یہ چیزیں زیادہ ہیں۔ یہ الگ رکھ دو۔ تمہارے کام آئیں گی۔‘‘دادی نے دوسری چارپائی کی چھوٹی ڈھیری کی جانب اشارہ کیا۔ ’’یہ ہاٹ پاٹ کے سیٹ ڈبل ہوگئے ہیں۔ یہ رضائیوں کے فالتو کور ہیں اور اسٹیل کے جگ گلاس یہ بھی تمہارے لےے۔‘‘‘ یمنیٰ کا چہرہ تن گیا۔
’’مجھے یہ سب نہیں چاہےے۔‘‘ وہ آمنہ کی پیٹی کو تالا ڈال کر کھینچ کر بولی۔
’’اچھا! چلو چھوڑو۔ اعزاز کوبھی یہ سب نہیں چاہےے۔‘‘ پھپھونے دادی جی کو مسکراتی نگاہوں سے دیکھا۔ وہ بھی کھل کر مسکرائیں۔
’’اور مجھے اعزاز بھی نہیں چاہےے۔‘‘ یمنیٰ نے دوسری پیٹی کا ڈھکن یک دم چھوڑ دیا۔ دھڑک،ڈھا۔۔ کنڈیاں اندر کی جانب بند ہوگئیں۔ یمنیٰ جھاڑن چارپائی پر گولا بنا کر پھینکتے ہوئے باہر نکل گئی۔ دادی جی نے بڑی پریشان نگاہوں سے پھپھو کے حیران اور آمنہ کے شرمندہ چہرے کو دیکھا۔
ژژژ
’’جس طرح اللہ نے رزق پانی باندھ رکھا ہے۔ اتنا اس وقت اس جگہ سے، نہ قسمت سے کم نہ زیادہ جو لکھا ہے وہ مل کر رہے گا۔ اسی طرح مجھے لگتا ہے اللہ نے منظر بھی باندھ رکھے ہیں۔ ہماری آنکھوں کو اتنی خوشی اتنی تراوٹ اتنی وسعت ملنی ہے نہ زیادہ نہ کم۔
یہاں تا حدِ نگاہ ریت ہے۔ صرف دو رنگ، مٹی ریت کا مٹیالا رنگ جو دھوپ میں سونے سے زیادہ لشکارے مارتا ہے، پھر آسمان جو کبھی اتنا نیلا ہوتا ہے جیسے کسی نے سفید چار کو نیل دے دیا ہو، پھر دھوپ بڑھتی ہے اور سارا نیل اڑ جاتا ہے، ڈب کھڑبا آسمان دن بارہ بجے تو کبھی آسمان کی طرف دیکھنا ہی نہیں کہ اس وقت سورج خود سے آنکھ ملانے کی اجازت کبھی نہیں دیتا۔ ہم سب سر جھکا کر ہاتھوں کے چھجے سے آنکھوںکو ڈھانپے بظاہر احترام میں لیکن سورج سے ڈرتے چلتے جاتے ہیں۔ آپ کو صحرا میں رہنا ہے تو سب سے پہلے سورج کی حاکمیت کو ماننا ہوگا۔ میلسی ایک گرم میدانی علاقہ ہے۔ تم سے یہاں کی گرمی برداشت نہیں ہوتی۔ اس صحرا کی گرمی کو دیکھو تو تم میلسی کی گرمی کو ٹریلر کہو گی۔ فلم روز ہم دیکھتے ہیں۔ تم نے پوچھا میں نے اتنی اچھی باتیں کرنی کہاں سے سیکھ لیں۔ کہیں سے نہیں۔ صحرا کی تنہائی آپ کو سوچنا سکھا دیتی ہے۔ میں تو پھر بھی بارہ جماعت پاس ہوں۔ تم ہمارے باورچی بمشکل مڈل پاس بندوق خان کا خط پڑھو تو عش عش کر اٹھو۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ اور تمہاری وہ راحت جبین کی منظر نگاری بھول جائو گی۔ اس نے اپنی بیوی کو خط لکھا۔ بدلے میں اس نے پیر بابا سے بنواکر تعویذ اور پانی بھیج دیا کہ ’’خوچہ بندوق خان پر صحرا کی چڑیل کا قبضہ ہوگیا ہے۔ ایک بھی سیدھی بات نہیں کرتا۔ پھول، خوشبو، ہوا، بادل اور رنگ۔ سات صفحوں کا خط لکھ دیا۔ یہ نہ بتایا کہ چھٹی سے کب آئے گا۔ بیٹی کا نام تک نہ بتایا کہ کیا رکھنا ہے۔۔۔ تم کو صحرا بہت پسند آگیا ہے۔ ام نے صحرا خان ہی نام رکھ دیا ہے۔‘‘ اور فون بند۔ بتائو جب بندوق خان کا علمی قد وہاں تک پہنچ گیا (جہاں اسے کبھی نہیں پہنچنا چاہےے تھا) تو ہم تو پھر عشق گزیدہ ہیں۔ کبھی میرا کوئی خط اسے بھی پڑھوادوشاید قطرہ قطرہ پتھر میں سوراخ کر دے۔ اسے بتائو کہ میں دن میں سورج سے تو آنکھ نہیں ملا پاتا، مگر ساری رات چاند میرے لےے ٹی وی بن جاتا ہے، جس میں اس کا ہر سین لائیو ٹیلی کاسٹ ہوتا ہے اور تمہیں پتا ہے، صحرا کا چاند تمہارے گھرکے چاند سے بہت بڑا معلوم ہوتا ہے۔ جب چاند کی طرف مسلسل دیکھو تو وہ پھیل کر سارے آسمان کو ڈھانپ لیتا ہے۔ اب تم سوچو میں کتنی بڑی یمنیٰ روز دیکھتا ہوں (ہاہاہاہا) اجازت دو میں چھٹیاں بچا کر رکھ رہا ہوں۔ اپنی جگہ سب کو بھیج چکا ہوں۔ اب تم شادی کرلو۔۔۔ یہاں سے تمہارے لےے کچھ لانا مشکل ہے۔ میلے میں گیا تھا۔ ایک چولستانی کڑھائی والی چادر لی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کا لباس گھاگھرا چولی ہے۔ حسبِ معمول اس خط کو بھی چاندنی رات میں چاند کی روشنی میں لکھ رہا ہوں یقین نہیں آیا؟ کرلو یار۔۔۔ تم اس منظر کو تجربہ نہیں کر سکتیں، میں نے کہا نا۔۔۔ منظر اور تجربے بھی ہرشے کی طرح نصیب سے ملتے ہیں۔
دادی اور چاچو کی صحت کا بہت خیال رکھو۔اعجاز کو بھی خط لکھا ہے۔ شہباز کی پڑھائی کا دھیان رکھو۔ میں اسے فوج کا اعلیٰ افسر بنانا چاہتا ہوں۔ ابا جی کو سلام اور ان سے کہنا، میں بہت دور سہی، مگر ہمیشہ ان کے ساتھ ہوں۔ تمہارے لےے ڈھیروں پیار۔ اسے بھی دینا۔۔۔ مگر بھائی میں صرف تمہارا ہوں (یاد رہے۔)
اللہ نگہبان
تمہارا بھائی اعزاز مطلوب
آمنہ کے چہرے کی ہلکی مسکراہٹ پھیل کر پورے جسم پر حاوی ہوگئی اس نے طمانیت کا سانس بھرتے ہوئے خط کو اعزاز کے گزشتہ خطوط کے ڈھیر میں سلیقے سے جما کر رکھا اور دزدیدہ نگاہوں سے یمنیٰ کو دیکھا وہ بظاہر ڈائجسٹ پڑھنے میں مگن تھی مگر آمنہ جانتی تھی، اعزاز کا خط پڑھتے ہوئے جو جو رنگ اس کے چہرے پر آیا تھا، یمنیٰ سے پوشیدہ نہیں رہا تھا۔ اس نے ایک بار اعزاز کا خط پڑھنے سے انکار کیا تھا۔ ’’پڑھنے کے لےے اور بہت کچھ ہے۔‘‘ آمنہ نے دوبارہ کہا نہیں کہ ہر چیز اپنے وقت پر خود بخود ہوجاتی ہے۔
ژژژ
بقر عید کے ساتویں دن شادی رکھ دی گئی تھی اور اب تیاریاں زوروں پر تھیں۔ یمنیٰ کو شاپنگ کرنا تھی اور سب سے اہم، آمنہ سے چھپا کر کرنی تھی۔ سو وہ فریدہ اور سعیدہ کو لے کر صبح صبح بازار چلی گئی۔ شام گئے جب دادی جی ہول ہول کر آدھی رہ گئیں، وہ لدی پھندی گھر لوٹیں۔ یمنیٰ نے کسی کو بھی دکھائے بغیر پیٹی بند کر دی۔
’’پتا نہیں کون سی الم غلم چیزیں خرید لائی ہے۔ پتا نہیں اس نے کون سے چاند تارے خریدے ہیں۔‘‘
آمنہ مسکراتی رہی۔ اس کے کان پر جوں بھی نہ رینگی۔
’’اعجاز آجائے تو گھر پہ سفیدی پھیر دے۔‘‘ وہ چارپائی پر چت لیٹی اونگھ رہی تھی۔ جب دادی جی لاٹھی کے سہارے گھر کی دیواریں دیکھتے ہوئے آمنہ سے رائے طلب کر رہی تھیں۔
’’جی دادی جی۔۔۔ اعجاز کے دوست بھی ساتھ مل جائیں گے۔‘‘
’’مگر اس سے فرق کیا پڑے گا۔ گھر کو سفیدی کی نہیں، صفائی کی ضرورت ہے۔ اس اینٹوں کے ڈھیرو کو ہٹوالیں آپ ذرا۔۔۔ گھر کی پہلی بیٹی کی شادی اور چونا پھیرلو۔۔۔ ہونہہ!‘‘ وہ سوتی بنی لیٹی تھی۔ لڑاکا انداز میں اچھل کر بولی۔ آمنہ نے لمبا طویل سانس بھرا۔
’’ایک نئی بحث شروع۔‘‘
’’کس بات کی اینٹیں۔ خیر سے بنیادیں ڈال رکھی ہیں۔ کمرے بنائیں گے۔ ذرا آمنہ سے فارغ ہولیں۔‘‘ دادی جی پرعزم تھیں۔
’’ہاں! پہلے امی کی بیماری سے فارغ ہوئے۔۔۔ پھر ابو جی بیمار ہیں۔ پھر فراغت کا انتظار۔۔۔ پھر آمنہ کی شادی۔۔۔ پھر ذرا مقدمہ جیت لیں۔۔۔ اور آپ مجھ سے لکھوالیں مقدمہ کبھی جیت ہی نہیں سکتیں آپ۔ حق دار کو حق دیں، وہ بھی خوش۔۔۔ ہمارے مسئلے بھی حل ہوں۔‘‘
یمنیٰ کی ساری دن کی تھکاوٹ زبان کے رستے نکلی۔ دادی جی کو مانو بچھو نے ڈنک مارا۔
’’تیرا بیڑہ تر جائے منوں۔۔۔ نہ مجھے بار جا کے دشمن لبھنے (ڈھونڈتے) کی کیا لوڑ(ضرورت) ہے۔ ہائے وے ربا۔۔ کون سے حق دار۔۔۔ کیسے حق دار۔۔۔ ہائے ہائے!‘‘ دادی نے سینے پر دو ہٹر مارے۔
’’دادی جی! آرام سے۔۔۔ آرام سے۔‘‘ آمنہ لپک کر انہیں روکنے آئی۔
’’تو میں کون سا غلط کہہ رہی ہوں آج ہو یا پچاس سال بعد، فیصلہ یہی ہوگا۔ میں نے تو آپ کو فتویٰ بھی سنایا تھا، اخبار سے پڑھ کے۔‘‘ یمنیٰ ڈٹی رہی۔
’’ہائے! میرے دل کو کچھ ہورہا ہے۔ منوں! پانی دے۔‘‘ دادی جی کی زبان سوکھ رہی تھی۔ آمنہ گلاس بھر پانی لائی اور یمنیٰ کا پیر بری طرح کچلا۔ خاموش رہنے کی التجا۔۔۔
’’ہٹو ظالم۔۔۔‘‘ وہ پیر سہلانے لگی۔ آمنہ نے یمنیٰ کو چھت پر بھیجا اور دادی جی کو سہلانے لگی۔ وہ چھت پر لیٹی تھی۔ پہلے تو نیچے سے آتی دادی جی کی آوازیں اور ہزار بار کا دوہرایا قصہ سنتی رہی، پھر آنکھ لگ گئی۔
’’ابو جی اور ابا جی دونوں تمہیں بلارہے ہیں اور غصے میں ہیں۔ اللہ کے لےے چپ رہنا۔ کہہ دینا غلطی ہوگئی۔‘‘ رات گئے آمنہ اسے اوپر لینے آئی۔
’’اچھا! آتی ہوں۔ تم چلو۔۔۔‘‘ وہ آنکھیں مسلتے جمائیاں روکتے ہوئے کھڑی ہوگئی۔
’’تمہاری باتوں سے امی جی کی طبیعت خراب ہوگئی ہے تم بچی ہو یمنیٰ!‘‘ ابو جی مدھم مگر سخت لہجے میں بولے۔
’’میں نے کوئی غلط بات تو نہیں کی۔ سب لوگ جان بوجھ کر نظریں چراتے ہیں تو چراتے رہیں۔‘‘ وہ ڈٹی رہی۔ ’’مجھے نہیں پسند یہ کھنڈر مکان۔۔ ساٹھ مرلے کا گھر اور یہ صرف چار کمرے، دادا جی کے زمانے کے بنے ہوئے۔ پلاٹ متنازعہ ہے۔ دس سال پہلے یہ بنیادیں ڈالی تھیں۔ ایک ایک اینٹ بھی رکھتے تو عالی شان گھر بن جاتا۔ اب یہ حال ہے کہ ایک کیل بھی نہیں لگا سکتے۔ دس سال سے فیصلہ نہیں ہوا۔ ساری آمدنی مقدمے پر لگادی۔ بلاوجہ کی پھٹیک (ٹینشن)۔ مجھے شرم آتی ہے ایسے گھر میں رہتے ہوئے۔ کوئی آجائے تو میں تو سامنے بھی نہیں آتی۔ کھودی مٹی کھوتے لگ گئی (کنویں کی مٹی کنویں پر لگ گئی)۔‘‘ اس کی آواز بھرا گئی، آنکھوں میں نمی بھی آگئی۔
بات تو سو فیصد درست تھی۔ ابا جی مکمل اور ابو جی آدھے متفق تھے، مگر دادی کو کون منائے۔
’’جائو! اپنے کمرے میں سوجائو۔‘‘ ابو ی دھیمے لہجے میں بولے۔ دونوں آگے پیچھے نکلیں۔
’’تعریف کروں تو تم بڑی بہادر ہو۔۔۔ اور برائی کروں تو صاف بات ہے تم بہت بدتمیز ہو یمنیٰ!‘‘ آمنہ نے اللہ جانے تعریف کی یا تنقید۔۔۔ یہ کچھ نہ بولی۔
’’وقت گزرتا ہے تو ہر چیز بدل جاتی ہے۔ تم اتنی مایوس کیوںہوتی ہو، تمہیں بھی سب اچھا مل جائے گا۔‘‘ آمنہ پرامید لہجے میں بولی۔
’’بات یہ ہے آمنہ! کہ تم ایسی باتیں کر سکتی ہو۔۔۔ تمہارا راستہ آگے روشن ہے۔۔۔ مجھے تم سب مل کر مزید تاریکی میں دھکیل دو گے۔ میرے منہ سے زہر ہی نکلے گا۔‘‘ وہ خار لہجے میں بولی۔ آمنہ حق دق رہ گئی۔
’’تم اتنا برا سوچتی ہو یمنیٰ؟‘‘ وہ بہت دیر بعد بولی۔
’’اس سے بھی زیادہ برا۔‘‘ وہ بے نیازی سے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی۔
’’تم پریشان مت ہو۔ تمہاری مرضی کے بنا کچھ نہیں ہوگا۔ تم اپنا رستہ خود چننا۔‘‘ وہ بہت دیر بعد بولنے کے قابل ہوئی تھی۔
ژژژ
اگر حقیقت پسندی سے دیکھا جائے تو یمنیٰ ٹھیک کہتی ہے۔ غربت کسے اچھی لگتی ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ ہم اوروں سے بہت اچھے ہیں، اپنے سے اوپر دیکھنے سے پہلے نیچے دیکھیں تو دل ہمیشہ ٹھکانے پر رہے، اب یہ جو ساری لڑائی تمہیں بتائی ہے، میں اس کی وجہ سمجھتی ہوں۔ یہ اس دن بازار گئی۔ اسے بڑے بڑے دروازے والے خوب صورت پکُے ماربل والے گھر بھاتے ہیں۔ بازار کی چیزوں کو دیکھتی ہے تو نہ خرید سکنے کا احساس بے بسی میں ڈھل کر رلاتا ہے، لڑواتا ہے۔ ابھی اس میں بچپنا ہے۔ اسے اپنا یہ ماحول، کلچر، رہن سہن کچھ پسند نہیں۔ یہ اس ماحول سے فرار چاہتی ہے۔ اس دن تو اس نے یہاں تک کہہ دیا ’’کاش! پھپھی کی تائی ساس میرا رشتہ ہی مانگ لیتیں۔‘‘ بعد میں بہت شرمندہ ہو کر معافی مانگتی رہی۔ اسے شاید تمہاری ذات پر تو کوئی اعتراض نہ ہو مگر اسے تمہارا ساتھ قبل کرنے سے جو زندگی گزارنی ہوگی، وہ اسے قطعاً قبول نہیں۔ برملا کہتی ہے۔ اعزاز! میرے بھائی! تم کچھ کرو بلکہ تم ہی کچھ کر سکتے ہو، دادی تمہاری بات سمجھتی ہیں۔ تم انہیں مناسکتے ہو۔ یمنیٰ بالکل غلط بھی نہیں ہے۔
یہ بات صاف اور سیدھی ہے کہ دادی جی دادا جان کی دوسری بیوی تھیں اور ان کے پہلے بیوی سے بیٹے یعنی تایا یعقوب دادا جی کی اولاد ہیں اور اس گھر میں ان کا بھی ابا جی اور چاچو جی کے برابر حصہ ہے مگر دادی جی دینے کو تیار نہیں۔ سیدھا سیدھا حل ہے۔ یہ سارا پلاٹ بیچ کر انہیں ان کا حصہ دیں اور ہم کہیں دوسرا گھر لے لیں جب تک ہم انہیں دیں گے نہیں، یہاں عمارت بنانا ممکن نہیں۔۔۔ مگر دادی امی حق تسلیم نہیں کرتیں۔
سالوں پہلے ہم نے جب گھر بنانا شروع کیا تو تایا آگئے کہ میرا حصہ نکالو اور پھر جو مرضی بنالو۔ اس وقت کی ڈلی بنیادیں واقعی کھنڈر کا نقشہ لگتی ہیں۔ دراصل یمنیٰ کو رونا یوں آتا ہے کہ تم سے شادی کی صورت میں اسے اس کھنڈر میں زندگی گزارنی ہوگی۔ اتنی تلخ باتیں کرتی ہے کہ حد نہیں۔ تمہاری محبت بھی اسے رام نہیں کر سکتی۔
اب تم ہی کچھ کرو ایک اچھا خوب صورت گھر ہر لڑکی کا خواب ہوتا ہے وہ حق بجانب ہے۔ اب تم اتنی زیادہ محبت کا دعوا کرتے ہو۔ ثبوت پیش کرو۔۔۔ لوگ دودھ کی نہریں نکال لیتے ہیں۔ تاج محل بنادیتے ہیں تم سے دو کمرے اور ایک کچن نہیں بن سکتا۔ تمہیں خط لکھا تو دل ہلکا ہوا ہے۔ اپنا خیال رکھنا۔
تمہاری بہن
آمنہ مطلوب
اللہ نگہبان
ژژژ
یمنیٰ سارے گھر میں خوشی سے گھومتی پھر رہی تھی۔ ’’میں بن پتنگ اڑ جائوں رے۔‘‘ وہ گنگنائی۔
’’میں تار والی ڈور سے کاٹ دوں گا۔ وہاں گندے نالے میں جاکر گرو گی۔‘‘ شہباز نے خط اٹھایا۔
’’پراں ہو۔۔۔ سارا مزا خراب کر دیا۔‘‘ یمنیٰ بدمزا ہوگئی۔ آمنہ ہنستے مسکراتے دوبارہ اس کا لکھا خط پڑھ رہی تھی جو کوئی ساتویں کوشش میں شائع ہوگیا۔ ڈائجسٹ کی مندرجات پر تبصرہ، پسندیدہ مصنفہ کی تحریر کی فرمائش، اپنا مختصر سا تعارف۔۔۔
آمنہ کو بھی بڑا مزا آیا۔ خط میں اس کا بھی ذکر تھا۔
’’یمنیٰ! میری شادی کا احوال لکھنا۔‘‘ اسے یونہی خیال آیا۔
’’دماغ خراب ہے، تمہاری شادی کا احوال بھی کوئی احوال ہوگا۔ چندے کا جہیز، نانکوں کی سلائی مشین اور واشنگ مشین۔ دادی جی نے اپنا سو مرتبہ کا دھلا کاسنی سفید سوٹ پہن لینا ہے۔ نہ مووی، نہ فوٹو سیشن، نہ بیوٹی پارلر کا میک اپ، نہ تصویریں۔۔۔ کون پڑھے گا دلچسپی سے؟‘‘
’’تم ایسے سوچتی ہو منوں؟‘‘ آمنہ کی آواز بھرُا گئی۔
آمنہ ڈائجسٹ چھوڑ کر یک دم کمرے کی سمت بھاگی۔
’’یا اللہ!‘‘ شہباز نے حیرت سے اپنی بے حد نرم خو، صلح جو، تحمل سے لبریز بہن کو دیکھا، وہ کچھ سمجھا تو نہیں مگر یہ پتا لگ گیا کہ یمنیٰ باجی نے کوئی ’’انتہا‘‘ کردی ہے۔ اس نے یمنیٰ کو گھورا اور کمرے کی جانب بڑھا مگر یہ کیا دروازہ بند۔
’’تم بہت بری ہو چھوٹی منوں۔۔۔ تم سب کو ناراض کرتی ہو۔۔۔ میں بتاتا ہوں دادی امی کو۔‘‘ خود یمنیٰ کے ہاتھوں کے توتے اڑ گئے۔ ٹھک ٹھک ٹھک۔۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے دروازہ بجایا۔
’دروازہ کھول دو منوں۔۔۔ اللہ کی قسم زبان پھسل گئی۔ قسم سے معاف کر دو۔ یہ دیکھو میرے ہاتھ جڑے ہیں۔ سچ بڑی غلطی ہوگئی۔ میری توبہ۔۔۔‘‘ یمنیٰ کے ہاتھ پیر پھول گئے۔
شہاز اچھل کر دیوار سے ٹنگ گیا۔ روشن دان سے جھانکا۔ آمنہ چارپائی پر پیر لٹکائے بیٹھی تھی اور آنکھوں سے آنسوئوں کا تار بہہ رہا تھا۔ ہر حال میں مسکراتی آمنہ کو یوں روتے دیکھنا شہباز کے لےے کڑا امتحان تھا۔ اس نے یمنیٰ سے انتقام لینے کا منصوبہ فوراً بنایا۔
’’نہیں کرو منوں! باجی! نہیں کرو۔۔۔ قسم اللہ کی ۔۔ ۔ نہیں کرو۔۔۔ مرجائو گی تم۔۔۔ دوپٹُا کا پھندا نہیں بنائو۔ پنکھے سے لٹکنے میں بہت مشکل ہوگی۔ تمہارے پاس تو اسٹول بھی نہیں ہائے میری باجی۔۔۔‘‘
’’کیا کہہ رہا ہے شہباز۔۔۔ کیا کر رہی ہے آمنہ۔۔۔؟‘‘ یمنیٰ کے پیروں سے زمین نکل گئی۔ اس نے پوری شدُت سے دروازہ دھڑدھڑایا۔
’’خود کشی حرام موت ہے، اگر بچ گئی نا تو بھی ہاتھ پیر ٹوٹ جائیں گے۔ تمہار اتو دوپٹُا بھی کچُا ہے۔ یہ ابا جی کی سرمئی دھوتی کا پھندا بنائو آپا! ہاں اس بکسے پر کھڑی ہوجائو۔ ۔۔ ہاں ٹھیک ہے، مگر سن لو ذرا میرے بیگ سے کاغذ پنسل لے کر لکھ دو، یہ سب یمنیٰ کی حرکتوں اور باتوں کی وجہ سے کر رہی ہو۔‘‘
’’کک۔۔۔ کک۔۔ کیا شہباز۔۔۔! اندر کود کر دروازہ کھول ۔ ہائے آمنہ۔۔ آمنہ ایسا نہ کر۔۔۔‘‘ یمنیٰ حلق کے بل چیخی۔
شہباز جو کچھ’’دیکھ رہا‘‘ تھا، اس کی کمنٹری مسلسل کر رہا تھا۔ یمنیٰ دھڑ سے زمین پر بیٹھ گئی۔ اس کے جسم کی ساری جان نکل گئی۔ ’’آمنہ! میں مرجائوں گی۔ اللہ کے لےے تم ایسی تو نہیں تھیں۔ ہائے! میں منحوس ہوں سب کی دشمن۔ آمنہ میری زبان پر کوئلہ رکھ دے مگر ایسے نہ کر۔۔۔ ہائے!‘‘
شہباز نے چٹخارا لیا۔ ’’تمہارے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہےے چھوٹی منوں!‘‘ وہ دھڑام کر کے نیچے کودا۔ ’’اب یہاں بیٹھ کر بین کرو۔ میں لوگوں کو بلاتا ہوں۔ میں اکیلا لاش اتار نہیں سکتا۔‘‘ وہ بڑی ذمہ داری سے کہہ کر باہر کو لپکا۔
’’ہائے آمنہ!‘‘ یمنیٰ حلق کے بل چیخی۔ ’’دادی جی۔۔ دادی جی۔۔۔ ہائے میں مر گئی۔‘‘ وہ چکرا کر زمین پر آرہی۔
اتنی دل دوز دل خراش چیخوں پر آمنہ نے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا۔ پورے وزن کے ساتھ دروازے سے چپکی یمنیٰ دروازہ کھلتے ہی آمنہ کے پیروں پر گرپڑی۔ ہوش و حواس سے جدا ہونے سے پہلے اس نے آمنہ کا متورم چہرہ حیرت سے دیکھا تھا۔
’’اب مزا آیا؟ ایسا ہوتا ہے میرا انتقام۔‘‘ شہباز منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے گیٹ سے باہر نکل گیا۔ یمنیٰ کے سر پر گومڑا بھر آیا تھا۔ فرش بڑی زور سے لگا تھا۔
’’میں نے کبھی ایسا نہیں سوچا کہ لوگ اس لےے شادی کا احوال لکھتے ہیں کہ اپنی دولت و امارات رہن سہن کی شو مارسکیں۔ میں نے تو ہمیشہ مختلف کلچر اور رسم و رواج جاننے کے لےے مزے لے کر اس سلسلے کو پڑھا۔‘‘
رات یمنیٰ کے بہت زیادہ منانے کے بعد آمنہ دھیرے دھیرے بول رہی تھی۔
’’تم ٹھیک کہہ رہی ہو، مگر تم نے کبھی کسی غریب غربا کی شادی کا احوال پڑھا ہے؟‘‘ یمنیٰ نے اعتراض اٹھایا۔
’’نہیں پڑھا۔‘‘ آمنہ نے اعتراف کیا۔
’’مگر تم یہ تو دیکھو! شادی بیاہ کے معاملات میں لوگ ہر قیمت پر بہت اچھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر چیز کو بہتر سے بہتر دکھانے کے لےے جان کی بازی لگا دیتے ہیں۔بچتیں، لین دین، ادھار، سب اس موقع کے لےے رکھا جاتا ہے، پھر یہ موقع اتنی محنتوں کے بعد بہت اچھا بن کر سامنے آتا ہے۔ ہمارے گھر کی شادی بھی اتنی اچھی ہی ہوگی۔‘‘ آمنہ نے تفصیلی جواب دیا۔
’’نہیں ہوسکتی کبھی بھی۔‘‘ یمنیٰ قطعیت سے بولی۔
’’اچھا! تمہاری شادی ہم اس طرح کریں گے کہ وہ سب لوازمات ہوں جو تمہارے خیال میں ڈائجسٹ کی شادی میں ہونے چاہئیں، پھر میں تمہاری شادی کا احوال لکھ بھیجو گی۔‘‘ آمنہ نے ہنستے ہوئے اپنا آئیڈیا بتایا۔
’’بہت خوب۔۔۔‘‘ یمنیٰ کی ہنسی استہزائیہ تھی۔
’’تمہارے تو پھر کچھ خواب ، ارمان پورے ہو ہی رہے ہیں۔ ادھر سے نہ سہی، ادھر سے تو کھلا ہاتھ اور کھلا دل ہے۔ میرے لےے تو ایسا کوئی چانس دور دور تک نہیں۔ تمہیں سب مل رہا ہے۔ تم اتنی خوش امیدی کی باتیں کر سکتی ہو۔۔۔ میں نہیں۔۔۔‘‘ اس نے حتمی کہا۔ آمنہ کے پاس جواب تھا مگر اب اس نے دو بدو جواب دے کر سمجھانے کی کوشش ترک کر کے ’’عملی اقدام‘‘ اٹھانے کا سوچا تھا، سو خاموش رہی۔
تمہیں ہمیشہ آدھا گلاس بھرا دکھائی دیتا ہے جبکہ۔۔۔‘‘ اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔
’’اپنی اپنی سوچ، وسعتِ نظر کی بات ہے۔‘‘ آمنہ کا موڈ پھر خراب ہونے لگا۔
’’اچھا! تم اتنی بے حال میں مست الست ہو تو چلو!‘‘ یمنیٰ نے ہتھیلی پر مکا مارا ’’ایک بات تو بتائو۔۔۔ یہ جو یہ یہاں آخری صفحات پر۔‘‘ ا س نے ڈائجسٹ کے ورق پلٹے ’’آپ کا باورچی خانہ‘‘ نامی سلسلہ تھا۔ ’’تم اس میں شرکت کر سکتی ہو؟‘‘
آمنہ نے صفحہ کو بغور دیکھا۔ یمنیٰ چیلنج دیتی طنزیہ نگاہوں سے آمنہ کے چہرے کے اتار چڑھائو کو بغور دیکھ رہی تھی۔ آمنہ نے لمحہ بھر سوچا۔ یمنیٰ کو یہ لمحہ بھر کی طوالت بھی کھلی۔ وہ اس کے ہار جانے کا اعلان کرنے ہی والی تھی۔
’’بالکل کر سکتی ہوں۔‘‘ آمنہ بھرپور اعتماد سے بولی۔
’’میں اس کچن کی بات کر رہی ہوں۔‘‘ یمنیٰ نے ہاتھ لہرا کر کچن چبوترے کی طرف اشارہ کیا۔ ’’تمہارے ’’ہونے والے‘‘ کچن کی نہیں۔‘‘
’’میں بھی اسی کچن کی بات کر رہی ہوں۔ میں اس سلسلے میں عنقریب خط لکھوں گی۔‘‘ وہ بے حد پرعزم لہجے میں قطعیت سے گویا ہوئی۔
’’شائع ہوگا؟‘‘ گہرے طنز نے یمنیٰ کے لہجے اور چہرے کو بگاڑ دیا تھا۔
’’اوں!‘‘ آمنہ سوچ میں پڑ گئی۔۔۔۔ یمنیٰ کا چہرہ اور سخت ہوگیا۔
’’ہنڈرڈ پرسنٹ شائع ہوگا۔۔۔ شرط لگالو۔‘‘ آمنہ نے ہتھیلی پھیلائی۔
یمنیٰ متزلزل تھی۔ ’’مجھے یقین نہیں۔ ڈائجسٹ میں سب اچھا بنا کر دکھایا جاتا ہے۔ وہاں دیہاتی کچن کی گنجائش کہاں۔‘‘
’’شہری زندگی شاید تیس فیصد ہے اور یہ ہمارا دیہاتی کلچر ستر فیصد۔۔۔ اور یہی ہمارا اصل ہے۔ اب میں تمہیں لکھ کر دکھائوں گی اور شائع ہوگا۔۔۔ بلکہ تم بھی لکھو۔۔۔ پھر دیکھتے ہیں۔‘‘ آمنہ نے جواباً اسے چیلنج دے دیا۔
’’مجھے منظور ہے۔‘‘
ژژژ
یمنیٰ کو مسلسل احساس ہورہا تھا کہ کوئی اسے ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہا ہے۔ وہ جتنا زیادہ پرسکون رہ کر اپنا فیشل مکمل کرنے والی تھی، دماغ اب اس سے ڈبل کھول رہا تھا۔دراصل اس نے آمنہ اور اپنے لےے ایک بیوٹی پلان ترتیب دیا تھا، جس کا سب سے پہلا کام یہ تھا کہ اس نے آمنہ سے برتن دھونے کی ڈیوٹی لے لی۔ بالن کی کوئی بھی قسم ہو خواہ لکڑیاں، پاتھیاں، چٹھیاں یا اور کچھ بھی، یہ سب پتیلیوں کو نیچے سے کالا سیاہ کر دیتے ہیں، پھر انہیں دریائی ریت سے خوب رگڑ رگڑ کر مانجھنا پڑتا ہے تو ایسے میں ہاتھوں بالخصوص ناخنوں میں جو کالک بھرتی ہے، وہ پھر مستقل ہی رہ جاتی ہے۔ انگلیوں کے جوڑ سیاہ پڑجاتے ہیں سو دلہن کے ایسے ہاتھ بہت برے لگتے۔ اس لےے آمنہ کو سب سے پہلے اس ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دیا اور دوسرے نمبر پر صحن میں جھاڑو دینے سے کہ پیر خراب ہوں گے اور چہرہ گرد آلود ہوگا۔ وہ فریدہ کے ساتھ جا کر شہر کی سب سے مستند دکان سے ماسک، کریمیں، لوشن اور ایسی دوسری ڈھیروں چیزیں لے آئی تھیں اور بہت ماہرانہ انداز میں روز آمنہ پر اور بعد میں تھوڑی بہت خود پر آزماتی۔ شہباز کے لےے کبھی مٹی ملا منہ، کبھی پیلا منہ اور کبھی بدر نگا منہ بڑی حیرانی اور دلچسپی کا باعث تھا۔ ایسے میں بہنیں آنکھیں بند کرلیتیں اور چہرے پر ایک بھی تاثر نہ آنے دیتیں۔
’’شہباز اسی وقت دلچسپ سے دلچسپ لطیفے سناتا جو بندے کو اندر تک ہلادیں ہنسا ہنسا کر۔
اب اس وقت شہباز اسکول جا چکا تھا۔ دادی جی دوائی کے زیرِ اثر سو رہی تھیں۔ آمنہ کپڑے دھورہی تھی۔ گھر میں اور کوئی تھا نہیں۔ پھر اسے یہ احساس کیوں ہورہا تھا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے مسلسل۔ اسے چہرے پر باقاعدہ تپش محسوس ہونے لگی تھی۔ اس نے جھٹکے سے آنکھوں پر دھرے کھیرے اٹھائے۔ نم پلکیں کھلتے ہی سامنے موجود شکل دیکھ کر وہ جھٹکے سے کھڑی ہوگئی۔ چہرے پر پہلے حیرت پھر شرمندگی، پھر ناگواری کے تاثرات نے مڈماسک کو لکیر لکیر کر دیا۔
’’پہلے خیال آیا، سرخ سوٹ میں وہ چہرہ بھی سرخیاں چھلکاتا ہوگا ، پھر گلابی رنگ دھیان میں آیا۔ اس کے گال بھی کچھ ایسے ہی ہیں ، پھر دھیان سیاہ رنگ پر گیا، وہ کوئلے میں ہیرے کی مانند دمکتی ہوگی۔ بارڈر سے نکلاہوں تو دروازہ کھولنے تک دنیا کے سارے ہلکے گہرے رنگ آزما کے دیکھ لےے۔ کوئی تمہارے شایانِ شان نہیں لگا، پھر سوچا وہ تو ہر حال میں اچھی لگتی ہے، چلو خیر! میری ایک سوچ کی تو نفی ہوئی کہ تم کبھی بری لگ نہیں سکتیں۔ پہلی نظر پڑنے پر میں نے اپنی چیخ جس طرح روکی ہے، میں جانوں یا میرا اللہ جانے۔‘‘ اس نے اپنے چہرے پر مصنوعی سہم طاری کر لیا۔
یمنیٰ نے طویل سانس بھری اور اتنے جذبوں بھرے جملوں کے جواب میں اس نے اپنے تاثرات بمشکل روکے۔ ایک گہری سرد نگاہ ڈالتے ہوئے وہ سامنے لگی ٹونٹی پر جھک گئی۔ اس نے نلکے سے دو، تین چلُو پانی حلق میں بھی اتار لیا۔ تولےے سے چہرہ خشک کرتے ہوئے اس نے دیکھا، وہ سامنے چارپائی پر ڈھیر کریموں کے نام اور کاغذ پر یمنیٰ اور آمنہ کے ہاتھ سے لکھے طریقہ استعمال اور فائدے و نقصانات پڑھ رہا تھا۔
’’تعزیراتِ پاکستان میں ایک دفعہ کا اضافہ یہ بھی ہونا چاہےے، حسینوں کا اقدامِ قتل کے منصوبے بنانا، یہ سب۔‘‘ اس نے ڈھیر کریموں کی جانب اشارہ کیا۔ ’’ان پر بھی دفعہ لگنی چاہےے، کمزور دل بندے ان کے استعمال سے پہلے ہی جان بلب ہوتے ہیں۔ ان کے استعمال کے بعد تو گنجائش ہی نہیں رہتی۔‘‘ اس کے نکھرے چہرے کو اپنی سرخ تھکان زدہ آنکھوں سے دیکھتے ہوئے وہ دل سے مسکرایا۔
’’آمنہ۔۔۔ آمنہ! ادھر آئو، تمہارا بھائی آگیا ہے۔‘‘ وہ اونچی آواز میں بولی اور سامان بیگ میں بھرنے لگی۔
’’آمنہ۔۔۔ آمنہ! ادھر آئو، تمہاری بہن نے آدھا کام کر لیا ہے۔ یہ اتنا تو مان گئی ہے کہ میں صرف تمہارا بھائی ہوں۔‘‘ اس نے یمنیٰ جتنی اونچی آواز میں اسی کے لہجے میں پکارا۔
’’ہیں سچ!‘‘ آمنہ جھاگ لگے ہاتھوں کے ساتھ بھاگی آئی۔ اب پتا نہیں اس نے حیرت کا اظہار کس بات پر کیا تھا۔ بھائی کے آنے پر یا یمنیٰ کے بے ساختہ جملے پر۔ وہ اعزاز سے لپٹ گئی، اس کے بالوں پر جھاگ مل دی۔ اعزاز نے اس کے بالوں پر ہلکا سا بوسہ دیا۔ آمنہ اور اعزاز کی محبت اور دوستی، بہت خوب صورت تھی۔ یمنیٰ کے چہرے پر پہلی بار مسکراہٹ پھیل گئی۔
’’کتنے کمزور ہوگئے ہو۔‘ ‘ آمنہ نے تفکر سے اس کا چہرہ دیکھا۔
’’اور کتنے کالے بھی۔‘‘ یمنیٰ نے استہزائیہ بھرا ٹکڑا لگایا اور بیگ سمیت اندر بڑھ گئی۔ اعزاز کا بے ساختہ قہقہہ۔۔۔۔ اندر تک سنائی دیا۔
ژژژ
ابو جی صبح صبح منڈی جا کر اعزاز کی پسند کی تمام چیزیں لے آئے تھے۔ وہ سات ماہ بعد ڈیڑھ ماہ کی چھٹی پر آیا تھا۔ اس نے اپنی چھٹی بچا بچا کر رکھی تھی کہ آمنہ کی شادی سے کم از کم مہینے پہلے پہنچ جائے اور سب کام سنبھالے۔ یہ اس کی بارڈر پر دوسری مرتبہ کی پوسٹنگ تھی۔
اسے پڑھائی کا بہت شوق تھا، مگر یمنیٰ کی امی کے آخری چار، پانچ سال بیماری کے باعث معاشی لحاظ سے بہت مشکل تھے۔ یمنیٰ کے ابوجی گٹھیا کے مرض کے باعث سردیوں میں بالکل ناکارہ ہوجاتے تھے۔ اکیلی آمدنی ابا جی کی، وہ ابا جی کے ساتھ مل گیا، مگر بجھا بجھا رہتا، یہ اس کے خواب نہیں تھے۔ وہ تو بہت اعلا مقام پر بابو صاحب والی نوکری کرنا چاہتا تھا۔
یمنیٰ کی امی کی وفات کے بعد خود ابا جی نے کہہ دیا کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرے، مگر اب اعزاز کے لےے یہ مشکل تھا۔ اس نے یوں ہی شغل شغل میں رینجرز میں درخواست دے دی۔ حوالداربھرتی ہوگیا۔ نو ماہ ٹریننگ ہوئی اور پہلی پوسٹنگ بارڈر کی تھی، صحرا خشک، بے رنگ، بے دل، مگر اعزاز کو زندگی کا یہ روپ بہت بھایا۔ اس نے آمنہ کو بتایا۔
’’شدید ترین گرم لَو کے تھپیڑوں کے درمیان جب آپ اونٹوں پر گشت کرتے ہیں، جب راتوں کو رائفل تھامے اندھیرے میں عقابی نگاہوں سے ہیولے تلاشتے ہیں، ایسے میں دماغ یاد کرواتا ہے تمہارے اس طرح آنکھیں مل مل کر جاگنے کے باعث اٹھارہ کروڑ بے فکر سو رہے ہیں۔ سمجھو لہو کی جگہ بجلی دوڑنے لگتی ہے۔ نس نس بھڑک جاتی ہے۔ اس انتہائی سخت زندگی پر غالب آجانے والا یہ فخر اتنا طاقت ور ہوتا ہے کہ سب بھول جاتا ہے۔ ہم نگہبان ہیں، ہماری بے خواب آنکھیں کتنی آنکھوں کو خواب دیکھنے پر مائل کر تی ہیں۔ یہ احساس دنیا کے ہر احساس سے خوب صورت ہوتا ہے۔‘‘
اور گھر کے سب افراد کو لگتا ہے کہ اعزاز کے لےے شاید یہی بہترین شعبہ تھا۔ وہ انگوٹھی میں نگینے کی مانند فٹ بیٹھ گیا تھا، مگر جب جب وہ چھٹی پر آتا۔ اس کی حالت دیکھ کر آمنہ پہلے دکھی ہوتی، پھر ہنسے چلی جاتی۔
’’جذبے نے تمہارے دل و دماغ کو سختی بخشی ہے، طاقت دی ہے، مگر اعزاز ! مان لو، تمہارا جسم اب تک اس سختی کا عادی نہیں ہوا۔‘‘
وہ اس کی حالت دیکھ کر تاسف کا اظہار کرتی، اعزا ز کو طعنہ تیر کی طرح لگتا ہے۔ وہ تڑپ کر رہ جاتا۔
’’جذبہ جوان رہنا چاہےے، جذبہ جسم کا محتاج نہیں ہوتا۔ اگر ایسا ہوتا تو حضرت جعفر طیار سیدھا بازو کٹنے پر الٹا استعمال نہ کرتے اور الٹا بازو کٹنے پر تلوار دانتوں میں نہ پکڑ لیتے۔ جذبہ زیادہ اہم ہوتا ہے جسم نہیں۔‘‘
اس کا اتنا مدلل جوش بھرا جواب سن کر سب کے سب ہکا بکا رہ گئے۔ آمنہ کی آنکھیں یکایک آنسوئوں سے بھر گئیں۔ اس نے اعزاز کا ہاتھ اپنے گال سے لگایا۔ ابا جی اور ابوجی کی آنکھوں میں تفاخر در آیا، اور تو اور یمنیٰ بھی دم بخود تھی۔ دراصل آمنہ کا تجزیہ بظاہر غلط نہیں تھا۔ وہ جب جب چھٹی پر آتا اس کی حالت دیدنی ہوتی۔ رنگ کالا سیاہ، دھوپ سے چہرہ جل جاتا۔ اس کی پوسٹنگ صحرا میں تھی، جہاں موسم کی سختیوں اور دیگر سہولیات میسر نہ ہونے کے باعث خاصی ابتر صورت حال تھی۔ ایسی صورت حال میں وہاں کے پیدائشی رہائش بھی بڑی دقُتوں سے زندگی گزارتے تو پھر رینجرز کے یہ جوان جو ملک کے طول و عرض سے آئے ہوئے تھے بڑی مشکلوں سے خود کو ان موسموں کا عادی بناتے۔
شروع شروع میں اعزاز کے لےے بھی بہت مشکل تھی۔ مگر اس نے وہ دو سال بہت ہمت سے گزار دےے کہ یہ عمل نوکری کا حصہ تھا اور پہلی پوسٹنگ بارڈر کی ہی ملا کرتی ہے۔ مگر قسمت خراب تھی یا کیا؟ وہ دو سال پورے کر کے جب ونگ میں واپس لوٹا تو یہاں اس سے غلطی ہوگئی، سزا کے طور پر دوبارہ ایک دوسرے صحرائی بارڈر پر جو پہلے سے زیادہ مشکل اور ناقابل برداشت تھا، بھیج دیا گیا۔
گھر والوں کے لےے یہ جھٹکا زور کا تھا۔ بالخصوص آمنہ کے لےے اور در پردہ یمنیٰ کے لےے، اسے اپنی آنے والی زندگی بالکل تاریک دکھائی دینے لگی۔ دراصل یہ ایک خاموش معاہدہ تھا کہ یمنیٰ کی شادی تایا زاد آمنہ کے بڑے بھائی اعزاز سے ہوگی۔ شروع شروع میں جب یمنیٰ اس حقیقت سے آشنا ہوئی تو نہ اسے خوشی ہوئی نہ ناگواری، مگر وقت کے ساتھ ساتھ مایوسی بڑھتی گئی۔
آمنہ نے اس کے ہاتھ میں پہلے خوابوں کی ریشمی ڈوریاں تھمادیں کہ اعزاز کی ترقی ہوگی، وہ حوالدار سے سب انسپکٹر بنے گا۔ ونگ میں واپس آئے گا تو بیٹ مین ملے گا، اسے تمام سہولیات حاصل ہوں گی۔
یمنیٰ نے ریشمی ڈور کھینچ کر تھان بنا کر خود سے لپیٹ دی۔ اس چادر کا پہلا چھید اس کے سامنے آیا، جب پھپھو سلطان بی بی نے آمنہ کا رشتہ اپنے سسرال میں طے کیا اور اس کی ہونے والی ساس کو بہت خوشی و طمانیت سے بتایا کہ ’’یمنیٰ کا رشتہ گھر ہی میں طے ہے۔ گھر کی بیٹی گھر ہی میں رہے گی، عزاز کی تو مختلف جگہ پوسٹنگ ہوتی رہے گی، پھر وہ ہفتہ پندرہ دن بعد آیا کرے گا تو کوئی فکر ہی نہیں۔ آمنہ کے جانے کے بعد پیچھے گھر کا کوئی مسئلہ نہیں، یمنیٰ ہوگی، وہی باپ، بھائی، دادی۔‘‘
یمنیٰ منہ کھولے حیرت سے پھپھو کے جملے سنتی رہی، یہ منصوبہ تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں آیا تھا۔
’’یہ تو میں نے کبھی سوچا ہی نہیں۔‘‘ یمنیٰ نے پیشانی مسلی۔ شادی نئی زندگی شروع ہونے کا نام ہے تو میرے لےے یہ کیسی نئی زندگی، یہی گھر، یہ ٹوٹے پھوٹے در و دیوار، یہ اینٹوں کا اونچا نیچا فرش۔
یہی نواڑی پلنگ اور کبھی کبھار نکالے جانے والی چادریں اور کمرے کا آسمانی چونا، یمنیٰ کا حلق خشک ہوگیا۔
اسے اپنے پڑوسیوں کی شادی یاد آئی جو ایسے ہی چاچے تائے کی اولادوں کے بیچ ہوئی تھی۔ اچھا ریشمی جوڑا، تھوڑا بہت سرخی پائوڈر اور ایک کمرے سے دوسرا کمرا، زندگی شروع ہونے سے پہلے ختم۔ اس کے اندر احتجاج سر اٹھانے لگا، اس نے ساری بھڑاس جا کر آمنہ پر نکالی۔ وہ حیرت زدہ سی سنتی رہی۔
’’ایسا نہیں ہوگا یمنیٰ ! تم تسلی رکھو، زندگی ہمیشہ آگے بڑھتی ہے، تمہیں تمہاری قسمت کی ہر شے مل کر رہے گی۔‘‘
’’مگر اعزاز کے ساتھ نہیں۔‘‘ اس نے بد لحاظی سے آمنہ کی بات کاٹی۔
’’تمہیں اعزاز پسند نہیں؟‘‘ آمنہ کی مدھم آواز بوجھل ہوگئی۔
’’اعزاز کا کیا سوال، میں نے زندگی کے دس سال بے خبری اور دس سال آنے والے اچھے وقت کی آس میں گزار دےے۔ دادی نے ہر بات پر کہا، اپنے بندے دے کار (شوہر کا گھر) جا کے ارمان پورے کرو۔ میں غریب تو یہی سب دے سکتی ہوں۔پہلے ہمیں بتایا کہ عورت کی زندگی میں بندے دا کار، ہی سب کچھ ہے۔ وہی منزل مقصود ہے، تو پھر مجھے ایسا بندہ (شوہر) ہی نہیں چاہےے، جب یہیں رہنا ہے، یہی سب کرنا ہے تو پھر دم چھلا، ساتھ کیوں لگائوں؟‘‘
’’تم خود کو خوش نصیب نہیں سمجھتیں یمنیٰ! کہ تم کچھ چھوڑنا نہیں پڑے گا۔ وہی گھر، باپ، بھائی نگاہوں کے سامنے، ماں سے بڑھ کر محبت دینے والی دادی جی، میرا تو کلیجہ منہ کو آتا ہے، ایک شہر سے دوسرا شہر، نئے لوگ، نیا ماحول، الگ مزاج سسرال اور شوہر برا مل گیا تو قصہ ہی ختم۔ بھول جائو پچھلوں کو اور ہر لحاظ سے اچھا بھی مل جائے تو تب بھی اتنی دور سے روز، روز کون لڑکی اپنی گرہستی چھوڑ کر آسکتی ہے۔ یہاں دو، دو گھنٹے کے فاصلے پر رہنے والی بیٹیاں آخری لمحوں میں پانی کا گھونٹ پلانے نہیں آسکتیں۔ وہ سرائیکیوں کی بیٹی نسیماں بھول گئیں، سی این جی ہڑتال تھی، وہ دس سواریاں بدلتی جب روتی پیٹتی پہنچی۔ جنازہ گلی میں رکھ کے دو منٹ کو باپ کا منہ دیکھا جنازہ آگے نکل گیا۔ وہ وہیں مٹی میں لوٹنیاں لگاتی رہی۔ بین ڈالتی رہی۔ یمنیٰ! میں نے تو اس وقت دعا کی کہ خدایا! ایسا حال دشمن کو بھی نہ دینا اور تم۔۔۔‘‘
یمنیٰ کے چہرے پر حیرانگی کے ساتھ شرمندگی آرکی، اس نے آمنہ کی باتوں کو گہرائی سے جانچا تو ملال کے رنگ بھی شامل ہوگئے۔ اس نے سچ مچ اس پہلو سے تو سوچا ہی نہیں تھا۔ وہ آمنہ کے متورم چہرے کو دیکھتے ہوئے نظریں جھکا گئی، اس نے حلق تر کرتے ہوئے صفائی دینے کی کوشش کی۔
’’جو باتیں تم نے کہی ہیں، وہ سب درست، مگر منوں! میں بھی تو غلط نہیں۔۔۔۔‘‘ یمنیٰ کی آواز بھرا گئی۔ ’’مجھے بھی یہ سب لوگ بہت پیارے ہیں۔
تم سب لوگ۔۔ میری زندگی میں اس کے علاوہ اور ہے کیا۔ مجھے ایک پیارا سا خوب صورت گھر، آسائش، تعیش نہیں چاہےے، بس ضرورتیں صحیح طرح بغیر رکاوٹ پوری ہوجائیں۔ مجھے اپنی چادر کا اندرازہ ہے۔‘‘ اس کی آواز گم ہوگئی۔ آمنہ نے بڑھ کر اسے سینے میں بھینچ لیا۔
ژژژ
آمنہ ڈھیروں ساگ پھیلائے بیٹھے تھی۔ یمنیٰ برتن دھو کر آئی تو آمنہ کے کانوں سے اعزاز کا فون اور اس میں لگی ہینڈز فری نکال اپنے کان میں ٹھونسی اور دادی کے پیروں کے پاس نیم دراز ہوگئی اور مزے سے گانا سننے لگی۔
’’تیرا ہونے لگا ہوں، جب سے ملا ہوں۔‘‘
اعزاز نہا کر باہر نکلا۔ اس نے ٹرائوزر پر نئی سفید بنیان پہن رکھی تھی۔ گیلے بال تولےے سے خشک کےے اور شانوں پر تولیہ پھیلائے آمنہ کے پاس بیٹھ گیا۔ وہ دونوں پورا پورا دن باتیں کر کے گزار دیتے تھے، پتا نہیںکون کون سی۔
’’اب رنگ ذرا نارمل ہوا ہے۔‘‘ آمنہ نے اس کا چہرہ دیکھا۔
’’ہوں،جلن بھی کم ہے۔‘‘ اعزاز نے آنکھوں کے پاس گالوں کی ہڈیاں تھپتھپائیں۔
’’یہ جس طرح کا ساگ تم بنا رہی ہو، اس کا سارا آئرن تو ختم ہو جائے گا پک پک کے۔‘‘
’’تمہارے لےے اسپیشل پالک بنائی ہے۔ ایک پیاز گلابی کر کے لہسن، ادرک ڈالا، دو ٹماٹر پھر دھلی ہوئی پالک کاٹ کر ہانڈی کے اندر اور ڈھکن بند۔ بس پانچ منٹ رکو۔ روٹی یمنیٰ ڈال دیتی ہے۔‘‘ آمنہ نے تفصیلی تسلی کرائی۔
’’ہاں تو ٹھیک ہے نا، ذائقہ بھلے اچھا نہیں لگے گا، مگر آئرن بہت زیادہ ملے گا۔ تم لوگ بھی ہفتے میں دو چار مرتبہ ایسا سالن کھالیا کرو تو کبھی خون کی کمی نہ ہو۔‘‘
’’ہمارے ملک میں عورتوں میں خون ہوتا ہی کہاں ہے۔ وہ تو سارا مرد چوس جاتے ہیں۔‘‘ آمنہ نے قہقہہ لگایا۔ ’’پہلے ابا کا ڈر، پھر بھائی کا، پھر بندے کا اور آخر میں جوان پتر بھی آنکھیں دکھاتے ہیں۔‘‘
’’ہمارے گھر میں ایسا کون سا مرد ہے؟ بولو!‘‘ اعزاز اتنے غلط الزام پر بھڑک ہی تو گیا۔
آمنہ کی ہنسی بے قابو ہوگئی، دادی ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھیں۔ پیر لمبے کرنے لگیں تو یمنیٰ پائنتی پر تھی۔
’’نا! تو ادھر لمی پے گئی ہے (لیٹ گئی ہے) ادھر ڈھیروں ساگ کون بنوائے گا۔ اٹھ بہن کے ساتھ لگ جا۔‘‘
یمنیٰ تک آواز ہی نہ پہنچی۔ وہ اگلے گانے پر جھوم رہی تھی۔
’’وے سب توں سوہنیا۔‘‘
اعزاز نے کن انکھیوں سے اسے دیکھا، دونوں پیروں کی انگلیاں تھرک رہی تھیں، سر بھی ہلکے ہلکے جھوم رہا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر دل آویز مسکراہٹ آرکی۔
اعزاز نے اپنے تئیں آمنہ سے نگاہیں بچا کر اس دلدار چہرے کو آنکھوں کے رستے دل میں جذب کیا۔ مگر آمنہ کو سب خبر تھی۔ ایک اقرار کی انتہا پر تھا اور دوسرا انکار کی، ان کے درمیان پَل آمنہ ہی کو بننا پڑتا۔ دادی جی نے دوسری اور تیسری بار یمنیٰ کو کوسا اور چوتھی بار اپنا پیر اس کے پیر پر زور سے دے مارا۔
’’ہائے۔۔۔ کون کون؟‘‘ یمنیٰ ہڑبڑا کر سیدھی ہوئی۔
’’اب تو اندھی کے ساتھ بوڑی (بہری) بھی ہوگئی ہے۔ نہ ادب، نہ لحاظ، میں نے کتنی آوازیں ماریں۔‘‘ دادی جی کا غصہ۔
’’لیکن میں نے تو آواز ہی نہیں سنی۔‘‘ یمنیٰ نے حیرت سے سب کو دیکھا۔
’’چل ساگ بنوالے، نیستی کڑی!‘‘
یمنیٰ چپل پیروں میں پھنساتی چبوترے پر چڑھ آئی۔ ’’میں نے آواز ہی نہیں سنی۔‘‘
’’یہی تو دکھ ہے، تم آواز سنتی ہی نہیں۔‘‘ جواب اعزاز نے دیا۔ وہ بہت میٹھی نظروں سے اس کا چہرہ تک رہا تھا۔ اس نے فوراً ان سنی کر دی۔
’’لائو ابھی کتنا باقی ہے۔‘‘ اس نے پتے الگ کرنے شروع کےے۔ اعزاز سرسوں کے ساگ میں سے پھول اکٹھے کرنے لگا۔
آمنہ اٹھ کر آگ جلانے لگی۔
اعزاز نے پیلے چھوٹے چھوٹے پھولوں کا بہت مختصر سا گلدستہ بنالیا اور یمنیٰ کی طرف بڑھایا۔
’’یہ کیا ہے، اسے نہیں کاٹتے ساگ میں۔۔۔‘‘ یمنیٰ نے جھنجھلا کر کہا۔
اعزاز نے ایک نظر پھولوں پر اور دوسری اس کے چہرے پر ڈالی۔ ’’یہ محبت ہے اور بہت زیادہ ہے۔‘‘ اعزاز کی آنکھوں میں محبت کا جہان آباد تھا۔
اس کا پھولوں والا ہاتھ ابھی بھی آگے تھا۔ یمنیٰ کی پلکیں لرز گئیں۔ وہ قطعاً نہیں لینا چاہتی تھی۔ مگر مستقل سرخ جذبے چھلکاتی آنکھیں دیکھ کر غیر ارادی طور پر اس کا ہاتھ آگے بڑھ گیا۔ اعزاز نے ایک پل رک کر اس کا چہرہ جانچا، پھر سرعت سے نیچے اتر گیا۔ وہ چارپائی پر ٹکا موبائل اٹھا کر چارجنگ پر لگانے لگا۔ آمنہ روٹی لےے آگئی۔
’’یمنیٰ کی بچی! تمہیں ساگ چننے کو کہا تھا، تم پھول چننے لگیں۔‘‘ اس نے سر پر ہاتھ مارا۔
’’یہ کیا ہے؟‘‘ اس نے پھولوں کی سمت اشارہ کیا۔
’’یہ محبت ہے اور بہت زیادہ ہے۔‘‘ یمنیٰ اتنا دھیمی بولی کہ آمنہ کے خاک پلے نہ پڑا۔یمنیٰ نے دزدیدہ نگاہوں سے اعزاز کو دیکھا، وہ فون پر نمبر ملا رہا تھا۔ گیلے بال ماتھے پر سوکھ چکے تھے۔ تولیہ کندھوں پر۔۔۔ یمنیٰ کے ہاتھوں میں پھولوں کا گچھا تھا۔ ہاتھ سینے سے لگا ہوا تھا اور پھول ٹھوڑی کو چھو رہے تھے۔ اس کی سماعتوں پر ایک جملہ مسلسل دستک دے رہا تھا۔
ژژژ
آمنہ اور اعزاز بہت دنوں سے کھچڑی پکا رہے تھے۔ کبھی دونوں چھت پر دھیما، مگر زور و شور سے مگن کسی موضوع پر چھڑے ہوتے، اعزاز فون پر نمبر ملاتا اور نہ جانے کہاں کہاں باتیں کرتا۔ پھر ایسی ہی ایک نشست میں تایا ابا اور ابو جی شامل ہوئے۔ سلطان بی بی پھپھو سے بھی ٹیلی فون پر بات ہوئی۔ یمنیٰ کے کان کھڑے تو ہوئے، مگر پھر اس نے اپنی رائے کو حرف آخر سمجھتے ہوئے سارے تجسس پر مٹی ڈال دی۔
اعزاز کے آجانے کے بعد یمنیٰ اکیلے پن کا شکار ہوجاتی تھی کہ آمنہ کی ساری توجہ اس کی جانب مبذول ہوجاتی تھی۔
اس دن آمنہ کے ہاتھوں میں پَھرتی تھی۔ اس نے ساگ بنا کر دیسی گھی کا بگھار لگایا۔ مرغی کا گوشت بھونا، ساتھ الائچی کے تڑکے والا سویوں کا زردہ، یمنیٰ خود ساختہ غصے و ناراضی کا شکار تھی کہ آمنہ منہ سے کچھ پھوٹتی کیوں نہیں۔ اس کے ہلکے سے حیرت کے اظہار پر آمنہ نے بڑی طمانیت سے کہا۔
’’تم بس دیکھتی جائو۔‘ ‘ سو اب دیکھتی جارہی تھی۔
اعزاز بہت پرجوش سا اندر آیا، ساتھ قاری صاحب اور ایک بڑے پاک باز چہرے والا نوجوان تھا۔ ہاتھ میں کچھ کتابیں، یمنیٰ کے ہاتھ سے ٹماٹر زمین پر گر کے اِدھر اَدھر لڑھک گئے۔
’’کہیںیہ لوگ میرا نکاح تو نہیں پڑھا رہے اعزاز کے ساتھ؟‘‘ اس کے دل نے زور، زور سے دھڑکنا شروع کیا۔
’’میری شادی بس سادگی سے ہوگی، مگر ایسے۔۔۔‘‘ اس کے حلق میں گولا اٹکا۔ اعزاز کمرے سے نکلا تو وہ وہیں خالی چنگیر لےے مجسمہ بنی کھڑی تھی۔
’’کیا ہوا تمہیں؟‘‘ اعزاز نے انگلیوں سے اس کا سر ہلایا۔
وہ نفی میں سر ہلا گئی۔ ابا جی کی آواز پر اس نے گھوم کر دیکھا۔
ابو جی کے ساتھ قدم سے قدم ملائے، تایا یعقوب تھے۔ دادی جی کے سوتیلے بیٹے، اسے سب سمجھ آگیا۔ وہ اپنے خیال پر شرمندہ ہوئی اور بڑی ہلکی پھلکی ہو کر پیار لینے تایا جی کے سامنے جا پہنچی۔
’’جیتی رہ، جیتی رہ! اوئے تو تو وڈی ساری ہوگئی۔‘‘ انہوں نے بڑی محبت سے دونوں ہاتھوں سے جیسے اس کی مانگ سنواری۔
’’اور تو اتنی لمبی ہوگئی اور اتنی ہی پتلی۔ اوئے کوئی دودھ لسُی، کوئی دیسی گھی کے پراٹھے۔‘‘
اب وہ آمنہ کے دبلے پتلے سراپے کو دیکھ رہے تھے۔ آمنہ نے سر آگے کر دیا۔ انہوں نے اس کے بھی بال سنوار دےے۔
’’آئیں تایا جی! آپ اندر چلیں۔‘‘ اعزاز دادی جی کے کمرے کی سمت ان کی رہنمائی کرنے لگا۔
’’تو اتنے دنوں سے تم دونوں یہ کر رہے تھے؟‘‘ وہ آمنہ کی سمت گھومی۔
’’ہاں تو۔۔۔‘‘آمنہ نے چائے کا پانی رکھا۔
’’مگر کیا فائدہ۔۔۔ کیا تایا یعقوب دستبردار ہوجائیں گے؟‘‘ اس نے چبا چبا کر کہا، وہ لڑاکا انداز میں کمر پہ ہاتھ ٹکائے کھڑی تھی۔
’’نہیں ،دادی جی انہیں حصہ دے دیں گی۔‘‘ آمنہ نے گویا دھماکا کیا تھا۔ یمنیٰ اچھل پڑی۔
’’وہ تو کہتی تھیں میرے مرنے پر ہی ایسا ہوگا۔‘‘
’’تو تمہارے خیال میں دادی جی نے مزید کتنا جی لینا ہے۔ اعزاز نے یہی سمجھایا ہے۔ ان کی خوشی کی خاطر مقدمے پر پیسے خرچ ہوئے اور جب وہ دادی جی کے پہلے بیٹے ہیں۔ اسی گھر میں پیدا ہوئے ہیں تو ان کا شرعی و قانونی حق ہے۔ دادی جی کی ضد فضول ہے اور یہ اتنا بڑا پلاٹ مردہ جسم بنتا جارہا ہے۔ تایا جی مقدمہ واپس لیں گے۔ دادی ان کا شرعی حق دیں گی، قاری صاحب کے ساتھ ان کا بیٹا ہے، ایک اسلامی قانون بتائیں گے، دوسرے پاکستان کا قانون، ابھی فیصلہ ہوگا۔‘‘
آمنہ کا ہوم ورک پورا تھا۔
’’وہ جو دادی جی کہتی ہیں کہ یعقوب کے پاس اتنی جائیداد ہے جانور، زمین، گھر بار۔ ماں کی طرف سے ملا ہوا، اور دادی جی بیوہ اور کمزور مالی حالت۔‘‘
’’وراثت میں یہ سب نہیں ہوتا۔ یہ تو ان کے باپ کا ترکہ ہے نا۔‘‘ آمنہ چائے کپوں میں بھرنے لگی۔
’’تو کیا ہم حصہ لگاکر انہیں حساب سے پیسے دیں گے؟‘‘ یمنیٰ کی حیرت دو چند ہوگئی۔
’’نہیں! ہم یہ پلاٹ بیچ دیں گے۔‘‘ اس نے جیسے یمنیٰ کے سر پر بم پھوڑا۔
’’کیا۔۔۔۔؟ دادی کا پتا ہے تمہیں۔۔۔؟‘‘
اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہ آیا۔ وہ اس کی صورت تکنے لگی۔
’’دادی مان گئی ہیں۔ پھپھو اپنا حصہ لینا نہیں چاہتیں مگر تایا جی نے کہا، وہ بہن ہے۔ اس کے آگے تین بیٹیاں ہیں۔ آگے زمانہ مشکل ہے، حق چھوڑنا فرائض چھوڑنے کی راہ پر لے آتا ہے۔ یہ گھر اس حساب سے بکے گا کہ تایا یعقوب اور پھپھو کو پیسے مل جائیں گے اور ہم لوگ مل کر یہاں رہیں گے۔ اگر ساتھ والے پڑوسی جو اتنے سال سے احاطہ خریدنا چاہتے ہیں، خریدلیں آدھا پلاٹ۔۔۔ ابھی تو بات نہیں کی اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر سارا پلاٹ بکے گا اور اعزاز کہتا ہے پھر ہم مین شہر میں بھلے تھوڑا چھوٹا، مگر اچھا گھر لیں گے۔‘‘
آمنہ کے چہرے پر مستقبل کا بہت خوب صورت خواب دکھائی دے رہا تھا۔
وہ منہ کھولے سب سن رہی تھی۔
’’منہ بند کرو۔۔۔ پاگل لگ رہی ہو۔۔۔ اعزاز ۔۔۔ اعزاز بھائی! چائے لے جائیں۔‘‘ وہ اٹھ گئی، یمنیٰ کا منہ ابھی تک نیم وا تھا۔
ژژژ
شام تک سب طے ہوگیا، ساری منہ زبانی کارروائی مکمل۔ تایا یعقوب اللہ حافظ کہہ کر کمرے سے باہر آگئے۔ یہاں آمنہ، یمنیٰ اور شہباز بیٹھے بھنے چنے کھا رہے تھے۔ وہ دوبارہ چارپائی پر ٹک گئے۔ دادی جی دل گرفتہ اور ملول دکھائی دیتی تھیں۔ وہ دل سے یہ چاہتی تھیں کہ یعقوب اپنا حصہ چھوڑ دیں مگر وہ باپ کا ترکہ چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔ دادی جی روایتی سوتیلی ماں نہیں بنی تھیں کہ یعقوب زیادہ تر اپنے نانکے رہا اور جب کبھی ملنے بھی آیا تو گھڑی دو گھڑی کے مہمان کی طرح۔۔۔ سو وہ اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتی تھیں کہ یہ پلاٹ ان کا اور ان کی آل اولاد کا تھا۔
آج اعزاز کی بدولت یہ ایک بالکل ناممکن کام ہوگیا تھا۔ اس نے بتایا۔
’’آپ کے گزر جانے پر عدالت خود فیصلہ دے دے گی۔ قبضہ بھی دلوائے گی۔ ابا جی اکیلے کیسے یہ سب دیکھیں گے۔ ابو جی میں اتنی ہمت نہیں۔ وہ بیمار بندے، میری پوسٹنگ نہ جانے کہاں ہو۔ اعجاز دور کالج میں، شہباز چھوٹا۔۔۔ اکیلی یمنیٰ۔ گھر میں عدالت پولیس بھیجے گی۔‘‘ اس نے بڑا ڈرائونا منظر پیش کیا۔
’’اور دادی! آپ سچ کہیں تو وہ حق دار ہیں۔ ان کے باپ کی زمین ہے یہ۔۔۔ اور آپ کو بتائوں، یہ تو آپ کے سامنے کا بیٹا ہے۔ اگر آج کہیں سے کوئی دوسرا دعوے دار آئے کہ جی میں میاں عبدالکریم کا بیٹا ہوں، بیٹی ہوں اور یہ ثابت کردے تو وہ بھی حق دار ہوگا اور شریعت اسے حق دے گی۔‘‘
پھر وہ مولوی صاحب اور ان کے وکیل بیٹے کو لایا۔ مولوی صاحب نے وراثتی تقسیم کے ایسے ایسے مسائل بیان کےے کہ دادی جی کو لگا ان کا حساب کتاب قبر میں جانے سے پہلے شروع ہوا چاہتا ہے۔
ژژژ
گھر بھر میں رونق ہی رونق تھی۔ خوشبو، زرق برق کپڑے، مہمان ہنسی خوشی، طمانیت۔ اعجاز لاہور سے آگیا تھا اور رواج کے مطابق کل شہباز کے ساتھ جا کر پھپھو کو لے آیا تھا۔ ان کے آنے ہی سے اصل رونق آئی تھی۔ اتنے دنوں سے شادی کے حوالے سے کام ہورہے تھے مگر اب گھر واقعی شادی والا گھر لگ رہا تھا۔
صبح جہیز کا سامان جانا تھا۔ یمنیٰ نے اپنی ذاتی چھوٹی پیٹی کھولی تو سب کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔سب کچھ مکمل ہوگیا تھا۔ ہر چیز جو ضروری تھی، آگئی تھی۔ شیشے کے جگ گلاس جن پر گولڈن پھول تھے۔ شیشے کا آئس کریم اور فروٹ سیٹ، سوپ سیٹ، فریدہ کے بھائی سے بہاولپور سے منگوایا جانے والا گرے نان اسٹک پتیلیوں کا سیٹ، بہت خوب صورت گل دانوں کی جوڑی جن کے پھول اصلی لگتے تھے۔ ٹشو بکس اور ڈسٹ بن سیاہ اور برائون، رنگین بیڈ شیٹ جنہیں بنانے میں یمنیٰ ماہر تھی۔ ایک بہت پیارا سلک کا سیاہ اور سرخ سوٹ جو بتیس سو کا بہاولپور ہی سے آیا تھا۔ سب سے نیچے جیولری بکس میں آرٹی فیشل جیولری کا سیٹ تھا۔ وہ کہیں سے بھی آرٹی فیشل نہ لگتا تھا۔ نازک گلوبند، چھوٹی چھوٹی جھمکیاں جن کی کٹوریوں پر سرخ نگ لگے تھے، دو خوب صورت چوڑیاں۔۔۔
آمنہ سحر زدہ ان چیزوں کو دیکھ رہی تھی۔ یہ سب وہ چیزیں تھیں جنہیں آمنہ نے اپنی تمام تر قناعت پسندی ، صبر و شکر والی فطرت کے باوجود دکانوں پر رک رک کر بارہا دیکھا تھا۔ جگ گلاس کا سیٹ اس نے پانچ بار قیمت پوچھ کر چھوڑا تھا۔ ’’سوپ سیٹ بہت پیارا ہے، مگر ہم تو سوپ بناتے نہیں۔‘‘
’’تمہیں پسند ہے تو تمہارے جہیز میں رکھ دیں گے۔‘‘ یمنیٰ نے تسلی دی تھی۔
’’ارے چھوڑو! میں تو یونہی کہہ رہی تھی۔‘‘ آمنہ نے یمنیٰ کا بازو پکڑ کر اسے دکان سے باہر دھکیلا تھا۔
’’جب برتن ہوں گے تو سوپ بھی بنانے کو دل چاہے گا، ہم تو یہ لیں گے بھائی یہ کتنے کا ہے؟‘‘ یمنیٰ آمنہ سے بازو چھڑا کر دوکان دار کی سمت گھومی۔
’’پانچ ہزار کا۔‘‘
’’کیا؟‘‘ یمنیٰ لڑکھڑا گئی۔۔۔ پھر اس نے باقاعدہ ہاتھ رکھ کے منہ بند کیا۔
اور آج وہی سوپ سیٹ سامنے تھا۔ لشکارے مارتی چیزیں جن کی چمک سے آنکھیں خیرہ ہورہی تھیں۔ آمنہ نے کسی معمول کی طرح ہاتھ بڑھا کر سوپ کا پیالا اور چمچ پکڑ لیا۔ اس پر انگلیاں پھیریں۔ اگلے پل وہ یمنیٰ سے لپٹی پھوٹ کر رو رہی تھی۔
’’تم۔۔۔ تم۔۔ نے۔۔۔ اتنی مہنگی چیزیں، تم نے۔۔۔‘‘ اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ پہلے دادی جی کچھ سمجھیں نہیں۔ پھر ان کی بوڑھی آنکھوں سے بھی قطرے بہنے لگے۔
’’تھوڑے آنسو بچائو۔ رخصتی کے وقت رونا۔ ’’وے بابلا ہائے!‘‘ اس نے ہو بہو نقل اتاری۔
پھپھو نے آگے بڑھ کر اس کے سر پر چپت رسید کی۔
’’تم بڑی گھنُی ہو۔‘‘ پھپھو نے احتیاط سے گل دان ڈبُے میں رکھے۔
’’گھنُی نہیں، چالاک مکار۔۔ ۔ یہ سب میں نے اس لےے کیا کہ کل کو تم میرے لےے اس جیسا بلکہ اس سے بڑھ کر کرو۔‘‘ اس نے اپنے بارے میں انکشاف کیا۔
’’تم۔۔۔ تم۔۔۔‘‘ آمنہ ایک بار پھر زور و شور سے رونے لگی۔ وہ اس سے لپٹ گئی۔
’’ہائے اللہ ! یہ تم بار بار جھپُیاں (گلے ملنا) کیوں ڈال رہی ہو۔ ارے ہٹو! میرا دم نکل گیا۔‘‘یمنیٰ چلائی۔ خود کو مشکل سے چھڑا کر دادی جی کے پلنگ پر ڈھے گئی۔
’’اللہ تجھے اس سے بھی بڑھ کر دے گا۔ یاد رکھنا۔۔۔‘‘دادی جی نے اسے خود سے لپٹاتے ہوئے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔
یمنیٰ کی پلکیں بھیگ گئیں۔ آمنہ اس کے لےے کیا تھی۔ وہ الفاظ میں نہیں بتا سکتی تھی اور کاش وہ۔۔۔ وہ سب کر سکتی جو وہ سوچتی تھی۔ اس کی تو اتنی ہی بساط تھی بس۔
ژژژ
صبح بڑی گہما گہمی تھی۔ آج آمنہ کا سامان جانا تھا۔ایک بڑا بکسا اور بیگ چھوڑ باقی سامان کے لےے لڑکے والے آگئے تھے۔
’’دادی جی تھوڑی تھوڑی دیر بعد آنکھیں پونچھتیں، پھر آمنہ کو لپٹا لپٹا کر روتیں۔ ’’ویکھ دھےے! تیری ماں اللہ بخشے ہوتی تو نہ جانے کیا کچھ کرتی پر میری تو اتنی ہی اوقات، سمجھ بوجھ۔۔ کوئی شکوہ ہو، کوئی ناراضی تو اپنی بوڑھی دادی کو معافی دینا۔‘‘ دادی جی نے آمنہ کے سامنے باقاعدہ ہاتھ جوڑ دےے۔
آمنہ کو جیسے بچھو نے ڈنک مارا۔ ’’توبہ توبہ دادی جی! کیوں میری آخرت خراب کر رہی ہیں۔‘‘ اس نے بندھے ہاتھوں کو اپنی مٹھیوں میں جکڑ کر ہونٹوں سے لگالیا۔پہ در پے بوسے دےے۔ یمنیٰ نے پیچھے سے آکر دادی جی کو جکڑ لیا۔ شانو ں سے گردن نکال کر جھریوں بھرے گالوں پر بوسہ دیا۔
ژژژ
’’ہم سب نے کوشش کرلی ہے۔ وہ اٹھتے ہی نہیں۔‘‘ حرا اور نمرہ نے یمنیٰ کے سامنے آکر ہار مان لی۔
’’تم یہ پانی ان پر ڈال دو۔‘‘ یمنیٰ نے بھر اجگ حرا کی جانب بڑھایا۔
’’میں؟ نہیں۔۔۔ ماریں گے وہ۔‘‘
’’تو آپ خود ڈال کر آئیں نا۔۔۔ امی ہمارے کپڑے نکال رہی ہیں اور ہماری جیولری بھی۔ ہم نے وہ دیکھنی ہے یمنیٰ باجی۔۔۔‘‘ دونوں نے اپنا مسئلہ بیان کیا اور بھاگ گئیں۔ چارونا چار یمنیٰ کو اٹھنا پڑا۔
’’اتنی دیر سے آوازیں دے رہے ہیں سب، اٹھتے کیوں نہیں۔۔۔ منڈی جانا ہے۔ ابو جی انتظار کر رہے ہیں۔‘‘ اوندھے لیٹے اعزاز نے کہنیوں کی جھری سے یمنیٰ کو دیکھا۔ آنکھیں ٹھنڈی ہوگئیں۔
’’میں اب جا کر ابو جی کو بھیجوں گی۔۔۔ تم تو سنتے ہی نہیں۔‘‘
’’مجھے گالیاں دینی بھی آتی ہیں۔‘‘ وہ سابقہ انداز میں بولی۔
’’تمہارے منہ سے تو وہ بھی پھول بن کر جھڑیں گی۔‘‘ وہ بہت شوق سے اچھل کر بیٹھ گیا۔ ’’دو۔۔۔ دو نا۔‘‘
یمنیٰ جبڑے بھینچے چپ چاپ اعزاز کا چہرہ دیکھتی رہی۔
’’بلکہ وہ جو رات کو ٹپے گارہی تھیں۔ وہ کون سا ’’نی ایک پَھل موتیا دا مار کے جگا سوہنےے۔‘‘ اس کا مطلب ہے تمہارے قول و فعل میں تضاد ہے۔‘‘ وہ بڑی دلچسپی سے اس کا چہرہ تک رہا تھا۔
’’پھول ماروں تو جاگو گے؟‘‘ یمنیٰ نے فیصلہ کن انداز میں پوچھا۔
’’بالکل! کیا تم میرے لےے ایسا کرو گی؟‘‘ اعزاز نے للچائی ہوئی نگاہ سے اس کا چہرہ دیکھا۔
’’کیوں نہیں۔ تم آنکھیں بند کر کے لیٹو، میں ابھی آئی۔۔۔‘‘
وہ مڑ گئی۔ اعزاز نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے دروازے کو دیکھا جہاں چند لمحے پہلے روشنی ہی روشنی تھی۔
اس نے موبائل اٹھا کر ٹائم دیکھا۔ صبح کے ساڑھے چھ بج رہے تھے۔ باہر ہوتا شور بتا رہا تھا کہ سب جاگ گئے ہیں۔
اعزاز کے موبائل پر دوست کا میسج تھا۔ وہ پڑھنے میں مگن ہوا جب دھڑ دھڑام اس پر جیسے تاک کر پتھر پھینکے گئے۔ وہ بری طرح چونک کر کھڑا ہوگیا۔ سفید کھلے کھلے۔۔۔ گوبھی کے چھوٹے بڑے چار پانچ پھول اس کے سر اور شانوں سے ٹکرانے کے بعد زمین پر اور چارپائی پر پڑے تھے۔ یمنیٰ سینے پر ہاتھ لپیٹے بڑی طمانیت بھری مسکان سے اسے دیکھ رہی تھی۔
’’اب تو کوئی حسرت نہیں رہی۔ اب تو اٹھ جائو گے نا۔‘‘
’’تم۔۔۔ تمہیں تو میں۔۔۔‘‘ وہ جارحانہ عزائم لےے اس کی جانب لپکا، مگر وہ ہوشیا رتھی۔
ژژژ
ولیمہ بارات کے دو دن بعد رکھا گیاتھا کہ آمنہ کو بیاہ کے لانے کے اگلے دن اس کی نند کی مہندی ہوئی کہ بہن نے بارات میں شرکت کرنی تھی۔
یہاں کا ایک ناقابل فہم رواج یہ بھی تھا کہ بارات کے ساتھ درجنوں لوگ آتے، لیکن لڑکے کی ماں نہیں آتی، مگر دادی جی نے بصد اصرار اکلوتے بیٹے کی بارات کے ساتھ ماں کو آنے کی تلقین کی تھی۔
دوسرا رواج یہ تھا کہ ولیمہ کے دن لڑکی والے نہیں جایا کرتے تھے۔ صرف وہی دو چار افراد جو کلاوہ لے کر آتے، وہی شرکت کرتے سو یمنیٰ، اعجاز، اعزاز، شہباز اور ابا جی آئے تھے، یمنیٰ نے جب پہلے آمنہ کے گھر کو دیکھا تھا تب بھی بری طرح متاثر ہوئی تھی، مگر اس بار تو شان ہی جدا تھی۔ گھر کو مزید ڈیکوریٹ کیا گیا تھا، خصوصاً اوپری پورشن نیچے بنے دو بڑے کمروں کے اوپر ایک کمرا بنایا گیا تھا اور اٹیچ باتھ روم، سفید اور گرے ٹائلز اور فرنیچر جو اعزاز نے یہاں آکر پھوپھا جان کے ساتھ پسند کیا تھا۔ سیاہی مائل برائون ڈبل بیڈ تھری ڈور الماری، تھری پارٹ ڈی ڈیوائیڈر، ڈریسنگ ٹیبل، میرون اور ڈارک برائون ویلوٹ کے صوفہ سیٹ کو دیکھ کر تو یمنیٰ کی آنکھیں خیرہ ہی ہوگئیں۔ یہ توا س نے صرف ڈراموں میں دیکھ رکھے تھے۔
یمنیٰ، آمنہ کے کمرے میں بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی کہ دونوں نند بھاوج بیوٹی پارلر تیارہونے گئی تھیں۔ یمنیٰ رشک آمیز انداز میں ہر شے کو سراہ رہی تھی جب دلہنوں کے آنے کا غلغلہ مچا۔ آمنہ کی نند سرخ شرارے اور آمنہ گہرے میرون شرارے میں بے پناہ حسین لگ رہی تھیں۔ یمنیٰ کے گلے لگ کر وہ زور و شور سے ر و دی۔
’’اتنی بری طرح رو رہی ہو۔ سب ٹھیک ہے نا؟‘‘ یمنیٰ نے خدشات میں گھر کے پوچھا۔
’’ہاں! سب ٹھیک ہے۔ میں ترس گئی تمہاری شکل دیکھنے کے لےے سب اتنا یاد آرہے تھے۔ دو دن اتنی مشکل سے کاٹے ہیں۔‘‘ وہ بے بسی سے بولی۔ یمنیٰ ہنس دی۔
’’بہت پیاری لگ رہی ہو۔ دلہن شرارے میں ہی اچھی لگتی ہے۔‘‘ یمنیٰ کے لہجے میں ستائش ہی ستائش تھی۔
جب ہی عورتوں کا گروپ دلہن دیکھنے کے لےے اندر آگیا، یمنیٰ ذرا دور کھسک گئی۔
واپسی کے لےے دو کاریں کرائے پر لی گئی تھیں۔ ایک میں ڈرائیور، ابا جی اور لڑکے تھے۔ دوسرے میں پھپھو، آمنہ، یمنیٰ اور دولہا صاحب۔ اعزاز نے بیک ویو مرر یمنیٰ پر سیٹ کر رکھا تھا۔وہ اتنے لمبے سفر سے تھکی ماندی آنکھیں موندے سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ یک دم شدید احساس ہوا کوئی اسے گھور رہا ہے۔ وہ چونک کر سیدھی ہوئی تو اس نے سامنے دیکھا۔ اعزاز کی بولتی سرخ ڈوروں والی آنکھیں اس کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔ وہ جیسے اس کے ایک ایک نقش کو آنکھوں کے رستے دل میں اتار رہا تھا۔ اس نے اسے گھورا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں نامعلوم نتائج کی دھمکیاں دیں۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے باقاعدہ جتاکر آئینہ مزید سیٹ کیا۔ یمنیٰ بل کھا کے رہ گئی۔ اعزاز نے وکٹری کا نشان دکھا کر اس کے آج کے روپ کو سراہا۔ہلکے اور گہرے نیلے امتزاج کا سوٹ وہ شہر سے خرید کر لایا تھا۔ یہی کام رنگ کے فرق (سبز اور گلابی) آمنہ کے لےے بھی تھا۔ تھکا ماندہ حسن، کاجل آنکھوں سے بہہ نکلا تھا، صبح کے سنورے بال اب لٹوں کی صورت چہرے کے اطراف میں بکھرے پڑے تھے۔ دوپٹُا گلے سے لپٹا تھا اور سیاہ چادر سر سے گر کر شانوں پر ٹکی تھی۔ یمنیٰ نے دانت بھینچ کر چادر سر پر ٹھہرائی۔
نگاہوں میں شوق کا جہان آباد کےے مسلسل دیکھتا شخص۔ قصداً کوششوں سے دل کو لا تعلقی کی راہ پر لگایا تھا، وہ بے قابو ہونے لگا، وہ تو ہمیشہ سے بہت سنجیدہ مصروف بندہ تھا، مگر یہ کبھی کبھار کی شوخی۔ یمنیٰ کی دھڑکنیں اتھل پتھل ہوگئیں۔
اس طرح گاڑی میں یہ پہلا سفر تھا۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس طرح سب کی موجودگی میں وہ اسے تنگ کرے گا۔ یمنیٰ نے چادر دائیں گال سے گزار کر دادی جی کی طرح دانتوں میں پکڑی۔ اعزاز ٹھنڈی سانس لے کر رہ گیا۔ یمنیٰ نے اکلوتی آنکھ سے اسے بغور دیکھا۔ سوا ماہ کی چھٹی گزارنے کے بعد اس کی رنگت نارمل ہوگئی تھی اور صحت بھی بہتر ہوگئی تھی۔ گالوں کی ہڈیوں پر، جو ابھری ہوئی تھیں، اب گوشت چڑھ گیا تھا۔ ماتھے پر پڑے بال ہوا سے ہل رہے تھے۔ اس کے مضبوط ہاتھ مشاقی سے اسٹیئرنگ کو گھما رہے تھے۔
’’اتنا تو آمنہ ٹھیک کہتی ہے۔ اس کا بھائی لاکھوں میں نہ سہی، ہزاروں میں ایک تو ہے ہی۔‘‘اس نے بے خیالی میں تسلیم کیا۔
اپنے محلے کا موڑ مڑنے سے پہلے قریبی گھر کا بچہ اپنی ٹرائی سائیکل پر سامنے آگیا۔ اسے بچانے کی خاطر ان کی گاڑی زور در چکر کھا گئی، اعزاز کے ماتھے پر پسینہ آگیا۔ ذرا سی غلطی بچے کے لےے جان لیوا تھی۔ پھپھو اور آمنہ ہاتھ اٹھا کر اللہ کا شکر ادا کرنے لگیں۔ اعزاز نے رومال سے ماتھا اور چہرہ پونچھا۔
’’ایکسیڈنٹ بچا کر رکھو۔ سال بعد ونگ میں آنے کے بعد کرنا تاکہ دو سال مزید پکُے ہوں۔‘‘ یمنیٰ نے سارے سفر کا بدلہ لے لیا۔
عظیم بھائی جنُاتی قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔پھپھو نے زیرِ لب استغفر اللہ پڑھی۔ آمنہ نے اس کے بازو میں چٹکی کاٹی۔
اعزاز نے آئینہ میں اس کا چہرہ دیکھا، وہ بہت گہری نگاہ سے جیسے اسے اندر تک پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یمنیٰ نے نظریں پھیرلیں۔ گھر آنے پر گاڑی سے نکلنے پر یمنیٰ کو دفعتاً احساس ہوا، اعزاز خطرناک حد تک سنجیدہ نظر آرہا تھا۔ گہری سوچ کی لکیریں ماتھے پر نمایاں تھیں۔ وہ لب بھینچے بس ایک نظر اسے دیکھ کر رہ گیا۔
ژژژ
آج بہت سرد رات تھی۔ ابو جی گٹھیا کے کے درد کے باعث تقریباً مفلوج ہو کر رضائی میں شام ہی سے گھس گئے تھے۔ دادی جی پر کھانسی کا شدید دورہ تھا۔ شہباز ابا جی کے ساتھ ٹی وی پر خبریں سن رہا تھا۔ یمنیٰ کچن چبوترے پر لکڑیوں کی آگ جلائے، برتن دھونے کے لےے پانی گرم کر رہی تھی۔ آمنہ دس دن رہ جانے کے بعد کل ہی واپس لوٹی تھی۔
اعجاز تو شادی کے پانچویں دن ہی چلا گیا تھا۔ کل سے ایک روٹین لائف شروع ہونی تھی۔ یمنیٰ کچھ اداس تھی۔ آج اعزاز بھی جانے والا تھا۔ سامنے چارپائی پر اس کے بیگ دھرے تھے۔ سب گھر والے سر شام ہی کھانا کھا چکے تھے۔ اعزاز کسی کام سے گیا تھا۔ یمنیٰ اس کے لےے روٹی ڈال کر فارغ ہوئی تھی۔ اس نے گاجر، مٹر، آلو کا سالن کٹوری میں نکالا۔ ساتھ دیسی گھی لگی گرم روٹیاں تھیں۔ اعزاز چوکی گھسیٹ کر چولہے کے قریب ہو کر بیٹھ گیا۔ یمنیٰ نے وہیں رخ پھیر کے برتن دھو لےے۔
دونوں کے درمیان اجنبیت کی دیوار اس دن کے جملے نے اٹھا دی تھی اور اب وہ دیوار پروان چڑھ کر اتنی بڑی ہوگئی تھی کہ دونوں ایک دوسرے سے نظریں ملانے سے بھی گئے۔ بس ایک مکمل لا تعلقی اور خاموشی۔ اعزاز خاموشی اور رغبت سے کھانا کھا رہا تھا۔ پیلے بلب کی روشنی میں اس کا چہرہ بے تاثر تھا۔ یمنیٰ نے نئی لکڑی ڈال کر چائے کا برتن رکھا۔ دو انڈے بھی دھو کر پانی میں ڈال دےے۔ انڈے،چائے ساتھ ساتھ تیار۔۔۔
یمنیٰ آگ پر نگاہ جمائے بیٹھی تھی۔ شعلوں کا کھیل، رنگ ہی رنگ، نیلے، پیلے رنگ۔۔۔ جلتی لکڑی کی خوشبو میں قہوہ کی خوشبو اور رات کی ٹھنڈک کی مہک۔ اعزاز روٹی کھا چکا تھا۔ وہ شعلوں کا رقص دیکھنے لگا۔ اس کی خاموشی یمنیٰ کو بے چین کر رہی تھی۔ اس نے تو بس اس دن تپانے کو جملہ کہہ دیا تھا اسے قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ وہ اتنا بڑا ردُِ عمل ظاہر کر ے گا۔
’’منوں۔۔۔!‘‘یمنیٰ چونک کر اعزاز کی شکل دیکھنے لگی۔ وہ شعلوں ہی کو دیکھ رہا تھا۔ یمنیٰ کو شک ہوا کہ کیا اسے وہم ہوا ہے یا واقعی اسے پکارا ہے۔
’’کیا وہ اس دن کا تمہارا جملہ، تمہارے دل کی خواہش تھا؟ کیا تم واقعی یہی چاہتی ہو کہ میں دو سال مزید اور آنے والے بہت سارے دو دو سال صحرا میں گزاروں، جہاں انسان محبت تو محبت، نفرت تک کو بھول جاتا ہے۔ خود کو بھول جاتا ہے۔‘‘ اس کی نگاہیں شعلوں پر اور لہجہ بے تاثر تھا۔
یمنیٰ سٹپٹا گئی۔ وہ تو بچ نکل جانے پر خوش تھی۔ اعزاز کی نگاہوں کی خفگی اورمچلتا سوال شرمندہ کرنے کو کافی تھا۔ ستم در ستم اس نے براہِ راست جواب مانگ لیا۔
’’اب کیا کہوں۔‘‘ یمنیٰ متزلزل تھی۔
اس نے نو ماہ ٹریننگ کے بعد دو سال بارڈر پر گزارے، پھر ونگ میں واپس آیا۔ حوالدار سے سب انسپکٹر بننے کی دعائیں ہی شروع ہوئی تھیں کہ اس سے آن ڈیوٹی جانے انجانے میں غفلت میں ایک ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ بندہ شدید زخمی ہوگیا۔ سزا کے طور پر اعزاز زیادہ مشکل سرحدی صحرائی علاقے میں بھیج دیا گیا۔
یمنیٰ نے کھنکار کے گلا صاف کیا۔ ’’نہیں! وہ تو اس دن تم نے اتنا تنگ کیا سارا رستہ، غصہ میں بس یوں ہی کہہ دیا۔‘‘ وہ سچائی سے بولی۔
’’کیا واقعی؟‘‘
’’ہاں۔‘‘ وہ اثبات میں سر ہلا گئی۔ اعزاز کے خوابوں اور خواہشوں کی ڈور پل بھر میں آسمان کو چھونے لگی۔
یمنیٰ نے تین کپ چائے اندر پہنچائے اور اعزاز کے آگے کپ رکھا۔ انڈے اس کے ٹفن میں رکھے۔
اعزاز خاموشی سے چائے کی چسکیاں لینے لگا۔ وقتاً فوقتاً چیزیں سمیٹتی یمنیٰ کو بے یقینی سے دیکھ لیتا۔ یمنیٰ نے لکڑی نکال کر اس پر پانی کا چھینٹا دیا اور اپنے پیر چولہے کے سامنے پھیلا دےے گرمائش کے لےے۔
’’زاد راہ کے لےے کچھ نہیں دوگی؟‘‘ خالی کپ کو اٹھاتی یمنیٰ کا ہاتھ اس کے سلونے ہاتھ میں چلا گیا۔ اس نے بری طرح چونک کر ہاتھ کو دیکھا۔
’’آلو کے پراٹھے ہیں، چکن دہی ڈال کر بھونی ہے، انڈے دو ہی تھے۔ تھرمس میں دودھ پتی بھر دی ہے۔‘‘ اس نے آنکھوں سے بیگ کے پاس رکھے ٹفن کو دکھایا۔
اعزاز زور سے ہنس پڑا۔
’’تمہیں یقین ہے کہ میں نے یہی پوچھا ہے؟‘‘ اس نے ٹفن کو دیکھا۔ یمنیٰ اسے دیکھ کے رہ گئی۔
’’کوئی جملہ، کوئی بات، کوئی پیغام جو اتنی سختیوں میں آرام کا باعث ہو، جو دل و جان کا رشتہ قائم رکھے۔‘‘ اس نے جذبوں بھرے لہجے میں اس کا چہرہ کھوجا۔
’’کسی جراثیم کش صابن سے ہاتھ دھونا اور شربت فولاد استعمال کرتے رہنا، ستو بھی رکھ دےے ہیں‘‘ یمنیٰ نے بڑی ذمے داری سے ہدایت دی۔ اعزاز کا جان دار قہقہہ سنُاٹے کو چیر گیا۔
’’تم بڑی چیز ہو، یمنیٰ محبوب! تم پر تو نام کا بھی اثر نہیں۔‘‘ وہ جست لگا کر چبوترے سے اتر گیا۔ اندر کمرے میں جا کر سب کے گلے ملا، پیار لیا، پھر واپس ادھر آیا۔
’’اب یہاں کیوں بیٹھی ہو، سردی لگ جائے گی، اندر رضائی میں چلو۔‘‘ وہ اسی طرح پیر چولہے کے نزدیک کےے ہاتھ بڑھاتے ہوئے سینک رہی تھی۔
’’ہاتھ سینک رہی ہوں۔‘‘ اس نے نظریں ملائے بغیر کہا۔اعزاز چبوترے کے نزدیک آگیا، ایک پیر اوپر رکھ دیا، چہرہ یمنیٰ کے چہرے کے نزدیک کیا اور چولہے کے اندر جھانکا۔ لکڑی کب کی نکال چکی تھی۔ سفید سفید راکھ، کہیں نہ کہیں کوئی چنگاری چھب دکھلا جاتی تھی۔ شدید سردی میں بھی یہاں گرمائش سی تھی۔
’’یہ دم توڑتی چنگاری اتنی گرمی دے رہی ہے تو یہاں۔۔۔‘‘ اس نے اپنے سینے پر ہاتھ مارا۔ ’’یہاں تو پورا آتش فشاں دہکتا ہے، مشکل ہے کہ آنچ نہ پہنچی ہو۔‘‘ وہ بہت گہری نگاہوں سے اسے دیکھتا گمبھیر لہجے میں تیقن سے بولتا چلا گیا۔ یمنیٰ نے کچھ گھبرا کر ہاتھ اور پیر سمیٹ لےے۔ چند پل اسے تکتے رہنے کے بعد وہ کھڑا ہوگیا۔
’’اچھا سر! گڈ بائے، رب راکھا۔‘‘
وہ الٹے قدموں گھوم گیا، یمنیٰ بے ارادہ کھڑی ہوگئی۔
’’رب راکھا۔‘‘ وہ آیت الکرسی پڑھنے لگی۔ اسے یاد تھا، آمنہ اسے اسی طرح دعائوں کے حصارمیں رخصت کرتی تھی۔
ژژژ
وہ گہری نیند میں تھی۔ جب اچانک آنکھ کھل گئی۔ اس نے آنکھیں کھولیں تو بارش کا شک ہوا۔ وہ پیروں میں چپل پھنسا، برق رفتاری سے باہر کو لپکی۔ چھاجوں مینہ برس رہا تھا۔ ٹپ ٹپ ٹپ بادلوں کی گرج چمک۔۔۔ اس نے گہرا طویل سانس لے کر مہک اندر اتارلی۔ شہباز تقریباً گلیوں میں بھاگتا پھر رہا ہوگا۔ کچے چولہے پر توی ڈھک دی تھی۔ (بڑا توا جس پر بیک وقت چار سے چھ روٹیاں بنائی جاتی ہیں) اوپر پلاسٹک شیٹ، مرغیوں کو بھی بند کر کے پلاسٹک شیٹ ڈربے پر ڈال دی تھی۔
یمنیٰ کو پتا نہیں چلا، کب آنکھوں سے آنسوئوں کی لڑی بہنے لگی۔ پتا نہیں کیا بات تھی۔ بارش جو خوشی اور رحمت کا دوسرا نام ہے، دل کو اندر سے خالی اداس ، بے قرار کر دیتی تھی۔ وہ دور تک دیکھنے کی خواہش میں بے حال ہورہی تھی۔ دور تک دیکھ لینے والی آنکھ شاید کوئی اور ہوتی ہے۔ مجھے یہ کیوں لگتا تھا کہ میں رہٹ کا بیل ہوں، جو گھنٹی کی آواز کو کَل دنیا سمجھ کر چلتا رہتا ہے۔ آمنہ کہتی ہے یہ بے یقینی دراصل اللہ کی رحمت سے مایوسی ہے، دل کو ہر وقت مستقبل کے خوف سے ہولائے رکھنا، ایمان کی کمزوری ہے، مگر میرا دل چاہتا ہے، میرے پاس جادوگرنی کا شیشہ آجائے اور میں بس پل بھر یہ دیکھ لوں کہ کیا ہوگا، کیسا ہوگا، مگر یہ تو خدائی ہے، بندہ خدا تو نہیں ہوسکتا پھر خدا سے اتنا نزدیک ہوجائے کہ اس پر انکشافات کا دروازہ کھل جائے اور میں تو خود اپنے آپ سے بھی قریب نہیں۔
وہ مایوسی سے آنکھیں پونچھنے لگی۔
اندر شاید فون بج رہا تھا۔ اس نے جلدی سے فون اٹھایا۔
’’میں آمنہ۔۔۔ تمہیں پتا ہے کتنی بارش ہورہی ہے۔‘‘ اس نے چھوٹتے ہی کہا۔ یمنیٰ کا دل خوشی سے بھر گیا۔
’’تو یہ کون سی بات ہے، یہاں بھی بارش ہورہی ہے۔۔۔ چھوٹو کہاں ہے؟‘‘ یمنیٰ نے اشتیاق سے نوزائیدہ بچے کے بارے میں پوچھا۔
’’وہ اپنی کاٹ میں سورہا ہے، سب پکوڑے سموسے کھارہے ہیں، جلیبیاں لائے ہیں، مگر میرے لےے کچھ نہیں، بہت سوچ کر امی نے دودھ جلیبیاں دی ہیں، مگر میں اس چکر میں ہوں ایک پکوڑا تو مل جائے۔‘‘
یمنیٰ طمانیت سے مسکرائی۔
’’تم دو پکوڑے کھائو، ایک میرے نام کا بھی۔‘‘
’’تم بنالو نا یمنیٰ!‘‘ آمنہ نے مشورہ دیا۔
’’کیسے بنالوں، ایک تو میں اکیلی ہوں۔ دوسرے سارا چولہا، ہر شے بھیگ گئی ہے۔ اب برسات میں تو سلنڈر ہی استعمال ہوگا۔ ویسے سچی بات یہ ہے کہ اکیلے کچھ مزا نہیں آتا۔‘‘ وہ مدھم ہوگئی۔
’’فریدہ کی طرف چلی جائو۔‘‘ آمنہ کو اس کے موڈ کا اندازہ ہورہا تھا۔
’’نہیں دادی جی سو رہی ہیں اور شہباز دروازہ بند کر کے گیا ہے۔ اچھا چھوڑو، بارش کا مزا تو لے لیا ہے، اب گھر سمیٹنا باقی ہے، کیچڑ کیچڑ ہوگیا ہے۔‘‘ یمنیٰ ارد گرد دیکھتے ہوئے متاسف ہوئی۔
’’رہنے دو! خود ہی سورج نکلے گا تو سوکھ جائے گا، تم بلاوجہ مشقت مت کرنا۔‘‘ آمنہ نے ہدایت کی۔ ’’یہ بتائو کب آئو گی؟ تیاری کرلی ہے؟‘‘ آمنہ اشتیاق سے پوچھ رہی تھی۔
’’ہاں! پوری تیاری ہے۔ دادی جی منے کے لےے کچھ نہ کچھ بنا رہی ہیں، خرید رہی ہیں۔‘‘
’’اچھا پھر فون رکھتی ہوں، تم بھانجے کے لےے پیارا سا نام سوچ کے آنا۔‘‘ آمنہ کی آواز کی کھلکھلاہٹ صاف محسوس ہورہ تھی۔
بارش رک گئی تھی، بجلی چلی گئی تھی، وہ چیزیں سمیٹتے ہوئے مسلسل آمنہ ہی کو سوچے گی۔ رواج کے مطابق اسے زچگی کے لےے یہاں آنا تھا۔ مگر پھر اس کی ساس اور خود آمنہ نے منع کر دیا۔ تائی مجیداں نے دھوم دھام سے ساتویں روز عقیقہ کا اعلان کیا تھا اور ان سب کو جانا تھا۔
ژژژ
یمنیٰ دو سال پہلے ہی یہاں آئی تھی اور اب عقیقہ کی تقریب کے اختتام پر سب آمنہ کے بڑے سے کمرے میں بیٹھے تھے۔
آمنہ کے سر پر سرخ زرتار دوپٹُا تھا اور وہ دلہن سے زیادہ روپ سنبھالے کچھ نقاہت سے نیم دراز تھی۔ یمنیٰ بہت دل گرفتہ تھی ۔ سب کے درمیان ہوتے ہوئے بھی وہ یہاں نہیں تھی، ذہن و دل میں خیالات کی یلغار تھی، جنہیں بڑی کوشش سے چہرے پر آنے سے روک لیا تھا۔ آمنہ جو اس کی رگ رگ سے واقف تھی۔دو، تین بار اسے گہری نگاہ سے جانچ چکی تھی۔ مگر بند ناک اور بھاری آواز نے اس کے راز کو ڈھانپ لیا۔
کہاں تو آمنہ خود اور وہ بھی یہ سوچ رہی تھی کہ وہ دس بارہ دن رہے گی، مگر اب وہ اس ماحول سے، اس گھر سے بھاگ جانا چاہتی تھی، وہ پھپھو کے گھر منتقل ہوگئی کہ اچھا نہیں لگتا وہ اس طرح بہن کے گھر رہے۔
پھپھو کا گھر آمنہ کے گھر کے عین سامنے تھا۔ یہ وہاڑی کا شہری علاقہ تھا۔ جیسے کراچی یا لاہور کا کوئی علاقہ تمام تر سہولیات سے آراستہ۔
یمنیٰ بس ایسی ہی زندگی چاہتی تھی، اسے ماسی کا گھر بہت پسند تھا، مگر یہ۔۔۔ آمنہ کا گھر۔۔۔ جب اس نے پہلے دیکھا تھا تو اچھا تھا۔۔۔ بہت پیارا، عظیم کا کاروبار اچھا تھا، مگر وہ اتنی تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا، اندازہ نہ تھا۔ عقیقہ والے روز لوگ کہہ رہے تھے۔
’’آمنہ کا نصیب بہت زور آور ہے، تو کیا میرا نصیب ماٹھا ہے، میرے لےے بس وہی سب لکھ رکھا ہے۔‘‘ اس نے دکھتے سر کو ہاتھوں پر گرالیا۔
’’لیکن اب دوسرا راستہ بھی نظر آگیا ہے۔۔۔ تو کیا مجھے اس پر قدم رکھنا چاہےے۔‘‘ وہ تذبذب کا شکار تھی۔
بات صرف یہ تھی کہ آمنہ کی شادی میں تایا یعقوب کے چھوٹے لاڈلے بیٹے ظہور نے یمنیٰ کو پسند کرلیا۔ چھ ماہ کا عرصہ لگا، اسے اپنی ماں کو منانے میں کیوں کہ وہ اپنی بھانجی بیاہنا چاہتی تھی۔ تایا جی نے خوشی کا اظہار کیا، وہ ایک روز مدعا لے کر حاضر ہوئے۔ آمنہ ان دنوں آئی ہوئی تھی اور یہ بھی کوئی ہفتہ پہلے کی بات تھی کہ وہ دونوں بازار گئیں، واپسی میں غضب کی گرمی۔ آمنہ تو آمنہ، یمنیٰ کا بی پی بھی لو ہونے لگا۔ سارا پسینہ بہہ نکلا اوپر سے رکشہ ندارد۔ آمنہ بے دم سے درخت کا سہارا لےے کھڑی تھی۔ یمنیٰ گھبرا گئی اگر آمنہ کو کچھ ہوگیا۔
تب ہی ایک چھوٹی سفید گاڑی ان کے پاس سے گزری اور پھر فوراً واپس ہوئی۔ یمنیٰ نے لمبے لمبے سانس لیتی آمنہ کو دیکھا اور دو قدم پیچھے ہوگئی۔ ڈرائیور انہیں پہچان چکا تھا۔ وہ بڑے مسرت آمیز انداز میں چہکا۔
’’آمنہ باجی! آپ۔۔۔‘‘آمنہ نے بھی مندی آنکھوں سے اسے پل بھر میں پہچان لیا۔
’’آپ ٹھیک ہیں؟‘‘
یمنیٰ نے سکھ کا سانس لیا۔ وہ تایا یعقوب کا بیٹا ظہور تھا۔
’’چلیں آپ لوگ میرے ساتھ۔ ایسی حالت۔۔۔ میرا مطلب ہے اتنی گرمی میں گھر سے نکلنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ اس نے آمنہ کو آگے اور یمنیٰ کو پیچھے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
اندر اے سی آن تھا۔ آمنہ نے بے دم ہو کر سیٹ کی بیک سے ٹیک لگالی۔ دوزخ سے جنت میں آنے کا احساس تھا۔ وہ پہلی بار اے سی والی گاڑی میں بیٹھی تھی۔
’’اب تمہاری طبیعت ٹھیک ہے آمنہ؟‘‘ اس نے آگے ہو کر آمنہ کا چہرہ دیکھا۔
’’ہاں! ٹھیک ہوں بس۔۔۔‘‘
گاڑی پانچ منٹ بعد ہی ایک نئی کالونی میں داخل ہورہی تھی۔ یہ بہت اچھی اسکیم کی کالونی تھی۔
’’یہ تم ہمیں کہاں لے آئے؟‘‘ آمنہ حیرانی سے بولی۔
’’یہ میرا گھر ہے۔ آپ یہاں کھانا کھائیں گی۔ تھوڑا آرام کریں گی، پھر میں آپ کو گھر چھوڑوں گا۔ آپ کو شاید علم نہیں آج سال کا گرم ترین دن ہے۔‘‘
’’لیکن۔۔۔؟‘‘ آمنہ نے یمنیٰ کی شکل دیکھی، مگر وہ اس کی جانب متوجہ نہیں تھی۔ گھوم گھوم کر چاروں جانب دیکھ رہی تھی۔ ظہور باہر نکلا۔ اس نے خود ہی بڑے سیاہ گیٹ کو کھولا، پھر انہیں لےے اندر بڑھا۔ دائیں جانب کارپارکنگ اور بائیں جانب احاطے میں ننھے ننھے پھول پودے تھے۔ یہ بیس مرلے پر بنا نیا گھر تھا۔ تازہ پینٹ کی خوشبو۔۔۔ یمنیٰ نے کبھی خواب میں بھی یہ سب نہیں دیکھا تھا۔ وہ سچ مچ منہ کھولے بچوں کی طرح ہر شے کو حیرانی سے تکے جارہی تھی۔
ظہور فریج میں سے موسم کے سارے پھل اور جوس کے ڈبے نکال لایا۔
’’’ابھی تو یہی خدمت کر سکتا ہوں۔‘‘ وہ جھینپا۔
’’تو تمہاری گھر والی؟‘‘ آمنہ ڈھیلی بیٹھی تھی۔
’’وہ تو ابھی نہیں ہے۔‘‘ ظہور نے گہری نگاہ سے یمنیٰ کو دیکھا۔ پھر آمنہ کی جانب متوجہ ہوگیا۔ آمنہ الرٹ ہوگئی۔۔۔ وہ بچی نہیں تھی۔ اس نے یمنیٰ پر نظر کی، صاف پتا چل رہا تھا۔
’’ہمیں گھر چھوڑ آئو۔‘‘ اس نے ہاتھ میں پکڑا سیب چھوڑ دیا۔
’’ابھی سے۔۔۔ آپ کچھ کھائیں تو۔۔۔‘‘ وہ اچھل پڑا۔ یمنیٰ نے بھی آنکھوں ہی آنکھوں میں رکنے کی استدعا کی۔
’’میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ بس گھر جا کر آرام کروں گی۔‘‘ آمنہ کھڑی ہوگئی۔
’’آپ پہلے یہ سیب ختم کریں، پھر میرا گھر بھی تو دیکھیں نا۔‘‘وہ مَصر تھا۔
’’میں آپ کا گھر دیکھ لوں؟‘‘ یمنیٰ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔
’’جی۔۔۔ جی ضروری۔۔‘‘ وہ کھڑا ہوگیا۔
’’ابا جی نے سالوں پہلے یہ پلاٹ بک کروایا تھا۔ پھر ابھی دو سال پہلے میری ملازمت یہاں ہوگئی تو میں نے سوچا، کرائے کے گھر سے بہتر ہے، میں اپنا گھر بنالوں۔‘‘ اس نے تائیدی انداز میں یمنیٰ کو دیکھا اس نے بھی فوراً سے اثبات میں سر ہلایا۔
’’آپ کیا کام کرتے ہیں؟‘‘ یمنیٰ کا اشتیاق ہر بات سے عیاں تھا۔
’’میں یہاں بینک میں ہوں۔‘‘ یمنیٰ متاثر ہوگئی۔ آمنہ کو بھی اچھا لگا مگر اسے خطرے کی بَو آرہی تھی۔
دانے کی تلاش میں نچلی پرواز کرتا کبوتر، یمنیٰ ۔۔۔۔ اور اگلا وہ جال لے کر تو بیٹھا ہی تھا۔
یمنیٰ دنوں ظہور کے گھر، گاڑی، عہدے ، کالونی کی تعریفیں کرتی رہی۔
اور جب تایا یعقوب نے آکر یمنیٰ کا نام لیا تو گویا دھماکا ہی ہوگیا۔ ’’دیکھو جی! بات صاف کروں گا۔ اس کی ماں اپنی کوئی بھانجی بھتیجی لانا چاہتی ہے مگر اب اس نے یمنیٰ کا نام لیا ہے۔ پھر ہم بھائیوں کا رشتہ اور مضبوط ہوگا۔‘‘
دادی جی بالکل چپ۔ آمنہ خطرناک حد تک سنجیدہ اور ابا جی اور ابو جی خاموش تھے۔
’’آپ نے صاف منع کیوں نہیں کیا؟‘‘ ان کے جانے کے بعد آمنہ چلُائی۔ ’’صاف صاف کہتے یمنیٰ اور اعزاز۔۔۔‘‘
’’تَو غصہ نہ کر بیٹی! جہاں کڑی ہو، ایسے رشتے آتے ہیں، پھر وہ ہمارا بھائی ہے۔ اس نے تو بس بات کان میں ڈالی ہے۔ میں فوراً منہ پھاڑ کے کہتا تو صاف لگتا سوتیلے ہیں۔ اس نے ہماری سنی کب؟ اپنی سنا کر چلا گیا۔ اب آئے گا تو کہہ دیں گے۔‘‘ ابو جی نے بڑے سبھائو سے کہا۔
’’ہاں کڑےے! غلط تو بھی نہیں اور تیرا باپ بھی نہیں۔‘‘ دادی جی نے تائید کی۔ آمنہ صبح و شام بڑبڑاتی رہی۔ وہ اعزاز سے فون پر بات کرنے کو بے قرار تھی، مگر سگنل کا مسئلہ تھا۔
یمنیٰ اگلے دن فریدہ کے گھر گئی تو اس کی غیر موجودگی میں ظہور آیا۔ وہ دادی کے لےے ڈھیروں پھل، بکرے کا گوشت اور جوس لایا تھا۔ یمنیٰ لوٹی تو آمنہ اسے باقاعدہ کوستے ہوئے چیزیں ٹھکانے لگارہی تھی۔
’’تم سب لوگ اپنی رائے اپنا فیصلہ سنا رہے ہو۔ جس کا مسئلہ ہے اس سے بھی تو پوچھو۔‘‘ یمنیٰ نے آم کاٹتے ہوئے سرسری لہجہ اپنایا۔ ’’کس کا مسئلہ؟‘‘ آمنہ نے ڈپٹ کر استفسار کیا۔
’’میرا۔۔۔ مجھ سے بھی تو کچھ پوچھ لو۔‘‘
’’تم سے کیا پوچھیں۔۔۔ اور تم کہو گی کیا؟‘‘ آمنہ کا نقشہ بگڑا۔
’’ہوسکتا ہے، مجھے کچھ کہنا ہو۔‘‘ وہ بہت طمانیت سے آم کی قاش کھانے لگی۔
آمنہ کے دل پر جیسے ہاتھ پڑا۔۔۔’’تمہیں احساس ہے کہ تم نے کیا کہا ہے؟‘‘ وہ چارپائی پر بیٹھ گئی۔
’’کچھ غلط تو نہیں۔۔۔‘‘
’’اعزاز کو بھول گئیں؟‘‘
’’یاد رکھنے کو ہے ہی کیا؟‘‘
یہ ان دونوں کی زندگی کی سب سے زوردار جنگ ہوئی تھی۔
ژژژ
’’میں یہ نہیں رکھ سکتی۔ یہ میرے کس کام نہیں آئیں گے۔‘‘ یمنیٰ نے شاپر بیڈ پر الٹ دیا۔ سفید بارڈر والے کھلے پائنچوں کا پاجامہ۔۔۔ آسمانی اے لائن شرٹ، شرٹ جس کے کنارے زمین تک گرتے تھے۔ ہم رنگ دوپٹا۔۔۔
’’اس میں کیا برائی ہے۔ عام سا کاٹن کا سوٹ ہے۔ عظیم لائے تھے لاہور سے، سرخ رنگ میں میرے لےے، میں نے تمہارے لےے بعد میں منگوایا۔‘‘
’’مجھے کوئی بھی نہیں چاہےے۔ ہمارے کچُے پکُے گھر میں ایسے کپڑے نہیں چلتے۔‘‘
’’میں نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی تمہارے لےے پسند کیا ہوگا۔‘‘
’’مجھے تمہاری کسی پسند کی ضرورت نہیں۔ تم اپنے لےے کچھ اور پسند کرتی ہو، میرے لےے کچھ اور۔۔۔‘‘
’’یقین کرو، دونوں سوٹ ایک جیسے ہیں، بس رنگ کا فرق ہے، تم وہ لے لو۔ ایسی کیا بات ہے۔‘‘ آمنہ الماری کی جانب بڑھنے لگی۔
’’رہنے دو آمنہ! مجھے نہ یہ چاہےے، نہ وہ اور نہ کچھ اور۔۔۔ تم اپنے لےے وہ سب پسند کرتی ہو اور میرے لےے یہ سب۔۔۔‘‘ وہ دونوں ہاتھ پھیلا کر کمرے میں گھوم گئی۔ اشارہ اس کمرے کی ہر شے کی جانب تھا۔ آخر میں اس نے سفید پھولوں والی بے پناہ خوب صورت اورنج چھت پر نگاہ کی۔
’’خود لائٹ جانے پر یو پی ایس چلاتی ہو۔ اے سی کمرے میں سوتی ہو، امریکن کچن میں ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھ کر حکم چلاتی ہو اور میرے لےے تمہارے پاس پاتھیاں اور چٹھیاں ہیں۔ تم اپنے گھر میں ماربل پر وائپر پھیرتی ہو اور میں مٹی میں توڑی ملا کر فرش لیپوں۔ یہ تمہاری چوائس ہے میرے لےے۔۔۔۔ تم اپنے۔۔۔‘‘
’’تم ایسا سوچتی ہو یمنیٰ؟‘‘ آمنہ جیسے ہوش میں آگئی۔
’’یہ سب میںنے پسند کیا۔۔۔۔ یہ تو مجھے مل گیا۔ عظیم کرتے ہیں یہ سب۔۔ میں تو وہی آمنہ ہوں۔‘‘
’’تو جب مجھے ملنے لگا ہے تو تم رخنہ ڈال کر کیوں کھڑی ہو؟‘‘ وہ زہر خند لہجے میں اونچی آواز سے بولی۔
’’تم واقعی۔۔۔ یہ تم بول رہی ہو یمنیٰ؟ تم اتنی سطحی۔۔۔‘‘ آمنہ کی آواز دکھ سے بوجھل ہوگئی۔
’’پینے کے لےے فریج کا ٹھنڈا پانی۔۔۔ بٹن کھول، بند کر کے کھانا بنانے کی خواہش۔۔۔ ایک پکُا فرش جس کو دھو کر کرسی ڈال کر بیٹھ جائو۔ چند آرائشی گل دان، کچھ جھولتی بیلیں، پلستر والی صاف دیوار پر سفید بے داغ چونا۔ یہ سطحیت اور مادیت ہے؟ یہ تو جائز ضرورتیں ہیں جو تمہارے بھائی کے ساتھ رہ کر کبھی پوری نہیں ہوں گی۔ اگر مجھے ایک روشن راستہ مل رہا ہے تو تم کیوں رکاوٹ ڈالتی ہو؟ او ہاں! کہیں تم یہ تو نہیں سوچتیں کہ میں تمہارے برابر آجائوں گی تمہاری ہم پلُہ۔۔۔‘‘
’’خدا کی قسم یمنیٰ! میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ تم۔۔۔ تم ایسا بھی سوچ سکتی ہو۔‘‘ آمنہ منہ پر دوپٹُا رکھ کر رو پڑی۔
’’اگر تم مجھے واقعی چھوٹی بہن سمجھتیں تو میرے لےے اچھا سوچتیں، مگر تم۔۔۔ میری تو ماں بھی زندہ نہیں۔ آج اگر وہ ہوتی۔۔۔‘‘ اسے اپنا پرانا جملہ یاد آگیا۔ ’’تم صرف اپنے بھائی کا سوچتی ہو۔‘‘
’’یمنیٰ! بس کرو۔‘‘ آمنہ نے اپنے پورے جسم کی طاقت سے تھپڑ اس کے گال پر دے مارا۔ ’’بے شرم بد لحاظ! بیس سال کی زندگی اور اتنا زہر۔۔۔ میں تو ہر شے کو جوڑ رہی تھی۔ آنے والے وقت کو دیکھ رہی تھی۔ واقعی تو اس قابل ہے ہی نہیں کہ اعزاز جیسے بے لوث محبت کرنے والے شخص کی زندگی میں شامل کی جائے، چار چمکتی دیواریں اور ایک سجی چھت۔۔۔ چھت کبھی سیمنٹ سے نہیں بنتی۔ وہ اعتماد کی ہوتی ہے۔ جس کے پیچھے تو لپک رہی ہے، وہ بچپن کی منگیتر کو چھوڑ کر تیری طر ف آرہا ہے اور وہ مکان جو بظاہر خالی تھا یہاں کوئی عورت مستقل نہیں ہے۔ وقتاً فوقتاً جو آتی ہیں۔ ہم نے اس دن جانے انجانے میں جا کر بہت بڑی غلطی کی۔۔۔ جس، جس نے دیکھا، نہ جانے کیا سوچا ہوگا اور اگر تمہیں یہی سب چاہےے تو جائو، لے لو۔۔ میرے بھائی کی محبت سنبھالنے کے لےے تمہارا دامن بہت تنگ ہے اور پیالے میں گنجائش برابر ہی چیز سما سکتی ہے۔ تم چلی جائو یہاں سے۔‘‘
آمنہ نے ہاتھ لہرا کر اسے دروازہ دکھایا، جو گال پر ہاتھ رکھے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ اور سن رہی تھی۔ آمنہ دونوں ہاتھ منہ پر جمائے اپنے رونے کی آواز کو روکنے کے لےے بے حال ہورہی تھی۔
ژژژ
اعزا زلوٹ آیا تھا۔ دادی جی اس کی بلائیں لیتی نہ تھک رہی تھیں۔ آمنہ کے بارے میں دادی کے منہ ہی سے سنا۔ وہ دو چار روز میں آنے والی تھی۔ اس کا بچہ ڈیڑھ ماہ کا ہوچکا تھا اور اسے اب لمبے قیام کے لےے آنا تھا۔ گرمیوںکے دن تھے۔ ابو جی کے گٹھیا کو آرام تھا سو وہ کام پر جاتے تھے۔ شہباز کا اسکول بدل دیا گیا تھا، اور پڑھائی کے معاملے میں وہ بہت سنجیدہ تھا۔
تایا یعقوب یہاں پیغام ڈال کر خود عمرہ کرنے سعودیہ گئے ہوئے تھے اور بعد میں وہاں رہائش پذیر بیٹی کے ہاں رہ رہے تھے۔ ابا جی نے کہہ دیا تھا کہ یمنیٰ کے لےے اعزاز ہے۔ اعزاز اور ظہور دونوں گھر کے بچے ہیں، مگر یہ بات پہلے سے طے ہے۔
تایا یعقوب نے تسلیم کیا، مگر مصیبت یہ تھی کہ ظہور ہر دس بارہ دن بعد ظہور پذیر ہوجاتا۔ وہ بڑی تابع داری سے دادی کے پلنگ پر بیٹھ جاتا اور زمانوں پرانے قصے سنتا۔ ڈھیروں کھانے پینے کے تھیلے لاتا۔ یمنیٰ نے پہلی بار چاکلیٹس اور پزا کھایا۔ شہباز کو اس کے آنے سے خوشی ہوتی تھی۔
’’یہ بڑی گاڑی میرے بھائی کی ہے۔‘‘ وہ کسی بچے کو نزدیک نہ آنے دیتا۔ ابو جی اور ابا جی نے اسے گھر کا بچہ سمجھتے ہوئے نظر انداز کر رکھا تھا اور وہ بھی بہت شرافت کا مظاہرہ کرتا تھا۔ یمنیٰ اس کے آگے پیچھے چائے پانی رکھتی۔ نہ جانے یمنیٰ کے کس انداز سے ظہور نے اندازہ لگالیا کہ وہ اپنے ماحول سے متنفر ہے، فرار چاہتی ہے۔ وہ اسٹیج کا آخری فنکار ہے اور جس کے حصے میں صرف ایک اختتامی ڈائیلاگ ہے، مگر نتیجہ خیز۔۔۔ سارے ڈرامے کا نچوڑ وہ ایک جملہ ہے۔ وہ اسے بظاہر بہت سرسری انداز میں اپنی باتیں بتاتا۔
’’گھر میں یہ کام کروارہا ہوں۔ ٹائلز کا رنگ بہتر نہیں تھا۔ میں نے بدلوانے کا سوچا ہے۔ یمنیٰ! کون سا رنگ اچھا لگے گا؟ تم نے تو دیکھا تھا۔‘‘ یمنیٰ کی آنکھوں میں لش لش کرتا گھر دوڑ جاتا۔
وہ گم صم اس کی شکل دیکھتی۔ وہ جیسے اپنے پھیلائے کھیل کو سمیٹ چکا تھا۔ اصلیت جان کر پیچھے ہٹ گیا تھا، مگر نہیں۔۔۔ وہ سنا ر تھا اور دھیرے دھیرے چوٹ مار رہا تھا۔
یہ جھٹپٹے کا وقت تھا۔ روشنی اور اندھیرا ایک دوسرے سے گتھم گتھا ایک دوسرے کو ہرانے کے در پہ تھے۔ سورج کی پسپائی کا لمحہ بس آیا چاہتا تھا، جب صبح سے بے خبر سویا اعزاز اپنی بے پناہ سرخ آنکھوں پر پانی کے چھپاکے مار مار ٹھنڈ اکرنے کے جتن سے فارغ چبوترے پر آگیا۔ اس کی دراز قامتی کمزوری کے باعث زیادہ محسوس ہورہی تھی۔ وہ بخار میں مبتلا رہا تھا۔ گالوں کی ہڈیاں اور اس کی جھلسی ہوئی رنگت شب دیجور کو شرماتی تھی۔ وہ چوکی گھسیٹ کر چولہے کے نزدیک آگیا۔
یمنیٰ نے مدعا جان کر آگ سلگائی۔ کھچڑی اور یخنی گرم کر کے اس کے سامنے رکھی۔ چولہے پر چائے کا پانی رکھ رہی تھی، جب ظہور چلا آیا۔ وہ بہت اچھا تازہ فروٹ کیک لایا تھا۔ اعزا زکھڑے ہو کر گلے ملا۔ موڑھا لا کر دیا، مگر وہ چوکی گھسیٹ کر اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔ یمنیٰ نے چائے کا پانی چڑھایا۔ ظہور بہت با اعتماد تھا جبکہ اعزاز پرسکون اور محتاط۔۔۔ وہ بہت خوش دلی سے گفتگو میں شریک تھا۔
’’بس سزا ختم۔۔ حوالدار سے سب انسپکٹری مل گئی ہے۔ اب ونگ میں جوائننگ ہے۔ ابھی تو چھٹی پر آیا ہوں۔ رپورٹ کرنی ہے مگر بخار آگیا۔‘‘ اس کی آواز میں نقاہت تھی۔
’’بہت مشکل زندگی ہوتی ہے یہ پولیس، فوج کی۔ ہمارے عیش ہیں، نائن ٹو فائیو کی جاب، پھر فارغ۔‘‘ اس نے تکبر سے ہاتھ جھاڑے۔
’’فوجی اتنی مشکل زندگی نہ گزارے تو بینک چھوڑ ایک موچی جوتا بھی نہ گانٹھ سکے۔ فوجی اپنا سکون تیاگ کر نائن ٹو فائیو کو ممکن بناتا ہے۔ مشینوں کے پہےے پیٹرول سے نہیں، اپنے محافظوں کا خون پینے کے بعد چلتے ہیں۔‘‘
اعزاز نے بے حد سکون سے طمانچہ رسید کیا۔اس نے آنکھیں چندھی کر کے اعزاز کو بغور دیکھا۔
’’تم ناراض ہوگئے یار۔۔۔!‘‘
’’نہیں۔۔۔ ہمیں سکھایا جاتا ہے اور ہم نے اپنے تجربے سے تسلیم کیا ہے۔‘‘وہ بہت سادگی اور یقین سے بولا۔
یمنیٰ خاموش رہی۔ اس نے آگ ٹھنڈی کرتے ہوئے ایک نظر دونوں کو دیکھا۔ ظہور نے سفید کلف لگا سوٹ، سنہری چوڑی گھڑی باندھ رکھی تھی۔ چمکیلے جوتے، کپ پکڑے اس کے ہاتھ بہت صاف، گداز اور چمکیلے تھے۔ یمنیٰ کو بخوبی اندازہ ہوا کہ وہ روئی کی طرح نرم ہوں گے۔ دوسری طرف اعزاز تھا۔ اس کی انگلیوں کی گانٹھیں سیاہ ترین تھیں، نسیں نمایاں ابھری ہوئی۔۔ ظہور کا ہاتھ گوشت سے پَر تھا جبکہ یہاں جیسے پنجے پر تھیلی چڑھا کر کس دی ہو۔ یہ جفاکش مضبوط نگہبان ہاتھ تھے۔ پتا نہیں کیوں اپنی تمام تر منفی سوچوں سے پرے یمنیٰ کو سیاہ ہاتھ قابل اعتبار لگے تھے۔
ژژژ
پشت جڑئے بچوں کی طرح وہ ساتھ ساتھ تو تھیں مگر ایک دوسرے سے منہ موڑے۔ ننھے عدیم نے سب کو اتنا مصروف کر دیا تھا کہ یہ نظارہ ماسوائے اعزاز کے کوئی نہ دیکھ رہا تھا۔ وہ خاموش تھا اور یمنیٰ کو ضرورتاً مخاطب کرتا جیسے کچھ ہوا نہیں۔ آمنہ کو اعزاز کو لمبے لمبے خط لکھنے کا جنون تھا اور ہر بات زیر زبر پیش کے ساتھ اس کے علم میں تھی۔ اس نے آمنہ کے شرم دلانے پر بہت سکون سے کہا۔
’’میں سخت جان ہوں۔ پہاڑ توڑ کر دودھ نکال سکتا ہوں، مگر پہاڑ سے سخت چیز دل ہوتا ہے۔ لعل اور انگارے ایک ہی طشت میں رکھے ہوں تو نا سمجھ ہاتھ بڑھانے میں غلطی کرجاتے ہیں۔‘‘
’’تو تم مانتے ہو، وہ انگارے پکڑے گی؟‘‘ آمنہ بھونچکی رہ گئی۔ ’’تم اسے روکو گے نہیں؟‘‘
’’نہیں۔ وہ ہم سے متنفر ہوچکی ہے۔ ناراضی گرہ کی طرح ہوتی ہے۔ بندہ کھولتے کھولتے کھول لیتا ہے۔ شک قینچی ہوتا ہے، کاٹ دیتا ہے۔ میں زبردستی کا قائل نہیں۔ ظہور فطرتاً فلرٹ۔۔۔ اسے ہر چیز فرمائش کرنے پر مل گئی ہے۔ وہ یمنیٰ کو بھی چیز سمجھ کر حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اخبار میں اشتہار دینے جارہا ہوں۔ ماسی پڑوسن کے بیٹے نے جب تک دبئی سے آنا ہے، پھر سودا کرنا ہے، دیر ہوجائے گی۔ میں پورا پلاٹ بیچنے کی بات کروں گا، پھر جو حصہ ملے قسمت۔ اب فیصلہ کرلیا ہے تو عملدرآمد بھی تو کرنا ہوگا نا۔‘‘
وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ آمنہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ دور چھت پر یمنیٰ کے کھلکھلانے کی آواز آرہی تھی۔ وہ آمنہ کے بیٹے سے کھیلتے ہوئے ہنس رہی تھی۔
’’اعزاز ٹھیک کہتا ہے۔ وہ ہم سے متنفر ہوچکی ہے۔ اے اللہ! تَو دلوں کے حال سے بخوبی واقف ہے۔ ایسا کچھ کر دے کہ سب ٹھیک ہوجائے۔‘‘
وہ گڑگڑا کر اللہ سے مدد مانگنے لگی۔ ’’اگر ایسا ہی رہا تو پہلے مرحلے پر اس نے انسانوں پر سے اعتبار کھویا۔ اگلے پر تو کل بھول جائے گی، یعنی آگے پھر گڑھے ہی گڑھے ہیں۔ یا اللہ!اسے یقین دلادے کہ ہم وہی ہیں اس کا بھلا چاہنے والے۔ اس سے محبت کرنے والے اے اللہ!‘‘
ژژژ
’’ہمارے گھر میں پسند نا پسند سے زیادہ گھر والوں کی صحت کا خیال رکھا جاتا ہے۔ دادی جی دل کی مریض ہائی بلڈ پریشر اور معدہ گڑبڑ ہے۔ ابا جی کو شوگر ہے، چاچو کو گٹھیا ہے تو باقی بچے ہم تین افراد۔ طوعاً و کرہاً وہی کھاتے ہیں جو ان سب کے حساب سے پکے، جیسے آٹے میں نمک نہیں ڈلتا، جبکہ ہمارے لےے پھیکی روٹی مشکل ہے اور فریج چونکہ نہیں ہے اس لےے آٹے کو گوندھ کر بھی نہیں رکھ سکتے سو وہی کھاتے ہیں، کریلے بہت بنتے ہیں، ٹھنڈی تاثیر کی چیزیں نہیں بناتے کہ چاچو کو تکلیف ہوتی ہے۔ گنجائش نہ ہونے کے باوجود بکرے کا گوشت بنتا ہے جی۔ مسالہ جات بھی ہلکے رکھتے ہیں، تیل کم۔ پسند نا پسند، غذائیت ان سب سے بڑھ کر پرہیز اہم ہے۔
اچانک مہمان والی بات مشکل ہے۔ دادی جی کی ملنے جلنے والیاں، ہمسائی تھوڑی تھوڑی دیر بعد آتی رہتی ہیں۔ گرمیوں میں نمکین لسُی اور سردیوں میں ایک ایک کپ چائے۔ ہاں مگر کھانے والے مہمان اگر آئیں تو سب سے پہلے ہم گیس کا چولہا استعمال میں لاتے ہیں۔ روٹین کا کھانا لکڑیوں، پاتھیو (گائے کے گوبر سے بنتی ہیں) پر بنتا ہے نا۔ مرغی کا سالن، پھر توی رکھ کے میں اور یمنیٰ جلد از جلد روٹیاں ڈالتے ہیں۔ توی آپ کے قارئین کی دلچسپی کے لےے بتائوں تو ایک بڑے سائز کا توا ہوتا ہے جس میں یمنیٰ آگ ڈالتی جاتی ہے۔ میں توے پر دو دو روٹیاں، پھر یمنیٰ گز بھر لمبے چمٹے کو توی کے نیچے گھسا گھسا روٹیاں سینکتی جاتی ہے۔ مہمان کو مرغی کا گوشت کھلاتے ہیں۔ ترکیب تو کوئی خاص نہیں۔ سیدھا سیدھا مرغی کا گوشت دہی ڈال کر گاڑھا مسالا بنا کر بھون لیں۔ دوسرے ڈونگے میں کلو دہی، بعد میں گرما گرم چائے۔ وہ اس سادہ خوراک پر بھی نقد بیس روپے سے لے کر سو روپے تک دے کر جاتے ہیں۔ دعائوں کا مول اب کیا لگائوں، البتہ بعض مہمانوں کو جو جیسے کی بنیاد پر جو دال دلیہ ہو، پیش کر دیا جاتا ہے۔ چونکہ ہمارے مہمان بھی کھانا پکنے کے انتظار کے اپنے گھر میں عادی ہوتے ہیں، سو وہ صبر شکر سے انتظار کرتے ہیں بلکہ اگر عورتیں ہوتو وہ ہانڈی بھوننے میں مدد کرنے کے لےے اپنی خدمات پیش کر دیتی ہیں۔ پتا نہیں لگتا مہمان کون سی والی ہیں۔
کچن کی صفائی کا اہتمام۔ دراصل ہمارے گھر میں باقاعدہ کچن نہیں ہے۔ (آپ حیران نہ ہوں۔ ہمارا کچن پاکستان کے تمام دیہاتی کچنز کا نمونہ ہے۔ یہ زمین سے ڈیڑھ فٹ اونچا ایک چبوترہ ہے جسے مٹی اور توڑی (سوکھا بھوسا) ملا کر لیپ دیا گیا ہے یہاں مٹی کے دو چولہے لگے ہیں۔ جن میں لکڑی جلائی جاتی ہے یا دوسری چیزیں۔ یہاں مستقل کچھ نہیں رکھا جاتا۔ ہم کھانا بناتے وقت سب سامان اٹھا کر لاتے ہیں اور کام مکمل ہوتے ہی کپڑے سے پونچھ کر ڈبے واپس اندر۔ دراصل اڑتی کالی راکھ ہمارے منہ اور کپڑوں سمیت ہر شے پر پڑتی ہے۔ برتن کھڑے میں نلکے کے نیچے بیٹھ کر دھوتی ہیں اور خشک کر کے ٹوکرے میں الٹے جمادیتی ہیں، پھر ململ کے کپڑے سے ٹوکرا ڈھک دیتی ہوں۔ جب کبھی لیپا ہوا فرش خراب ہوجائے تو مٹی ڈلوا کر بھائیوں سے بنوا کر میں خود ہی فرش لیپ لیتی ہوں (جیسے شہر میں مزدور سیمنٹ کے فرش پر نیرو پھیلاتے ہیں۔ یہ فرش دو دن میں استعمال کے قابل ہوتا ہے اور اس میں جھاڑو پھیر دی جاتے ہے) یہاں کی صفائی کے لےے سب سے ضروری ہے کہ چولہوں سے راکھ لازماً نکال کر پھینک دی جائے تاکہ نئی لکڑی کی جگہ بن سکے۔ کھانے پینے کی تمام اشیا ڈھک کر رکھی جاتی ہےں برتن چونکہ کالے بے پناہ ہوتے ہیں تو انہیں مانجھنا اہم ترین کام ہے۔ مٹی بہت اڑتی ہے۔ چولہے کھلے صحن یا کھلی چھت پر بھی بنائے جاتے ہیں اس لےے کہ دھواں کھلے میں پھیل جائے۔بند کچن میں خواہ چمنی ہو، دھواں بھر جاتا ہے۔ البتہ اسٹور میں جہاں میں نے سلنڈر لگو ارکھا ہے(چائے یا جھٹ پٹ کاموں کے لےے) ا س کی صفائی بہت دل لگا کر کرتی ہوں۔ سلنڈر کو صاف ستھرا اور احتیاط سے رکھنا ضروری ہے ورنہ یہ پھٹ جاتے ہیں۔
چونکہ دادی جی نے مرغیاں پال رکھی ہیں تو انڈا لازمی ہے۔ ابلا ہوا، تلا ہوا (جلا ہوا) ساتھ پراٹھے اور اچار۔ گھر پر دادی کے ہاتھ کا بنا ملی جلی سبزیوں کا اچار نہ صرف ناشتے بلکہ ہمارے ہر کھانے کا لازمی حصہ ہوتاہے۔ شروع میں اچار میں صرف کیری، مرچ، لسوڑے اور مرچیں ہوتی ہیں مگر بعد میں اس میں کریلے ، گوبھی، گاجر اور پھلیاں شامل ہوجاتی ہیں۔ جب کبھی بھائی چھٹیوں پر آئیں تو حلوہ بناتی ہوں اور سفید چنے کا سونف والا سالن۔ گرمیوں میں لسُی اور چائے بھی لازمی ہے۔ مجھے اور یمنیٰ کو آنکھ کھلتے ہی چائے چاہےے۔
باہر کھانا کھانے کا کوئی تصور نہیں۔ جب ہم بازار شاپنگ پر جاتے ہیں تو پہلے سموسے، پھر چھولے، دہی بھلے اور بعد میں ایک ایک ٹھنڈی بوتل، کبھی کبھار فالودہ بھی کھالیتے ہیں۔ ہاں ایک بار پھپھو کی فیملی کے ساتھ ہیڈ سلام پر پکنک پر گئے تھے۔ تلی ہوئی مچھلی کھائی تھی۔ بہت زیادہ مزے دار تھی۔
موسم کو مدُِ نظر رکھتی ہوں۔ لیکن شدید بارش میں جب چولہے بھیگ جاتے ہیں، تب ہم پکوڑوں کے بارے میں سوچتے رہ جاتے ہیں۔ دو دن بعد جب سورج ہر شے سکھا جاتا ہے تو یمنیٰ اور چھوٹا بھائی شہباز یاد دلاتے ہیں کہ ہم نے پکوڑے نہیں بنائے، پھر ہم تینوں دھوپ میں چولہے کے پاس بیٹھ کر پکوڑے کھاتے ہیں اور تلافی کرتے ہیں۔ ہاں! برسات میںگڑ والے چاول بناتے ہیں۔ البتہ گرمیوں میں رائتوں سے کام چلاتے ہیں۔ آلو کا رائتہ، کدو کا رائتہ، بیگن کے بھرتے پر دہی کی تہہ جماتے ہیں۔ دوپہر میں اگر روٹی کھائی جائے (شدید گرمی میں دل نہیں کرتا) تو رائتے بلکہ میں اور یمنیٰ روٹی ہاتھ پر رکھ کے اچار رکھ کے کھالیتے ہیں۔
ایڈیٹر صاحبہ! محنت بغیر کوئی کام اچھا نہیں ہوتا اور ہمارے ہاں تو کھانا پکانا ایک مشقت طلب کام ہے۔ مسالے پیسنے کے لےے مشینیں نہیں ہیں۔ کونڈی ڈنڈا، چاٹی میں لسی بنانا اور پھونکنی سے آگ جلانے کی مشقت۔۔۔ آنکھوں اور ناک سے خوب پانی نکلتا ہے۔
میں بھائی اعزاز کے لےے سردیوں میں گاجروں کے حلوے اور گرمی میں کدو کا حلوہ ضرور بناتی ہوں۔ کدو کھیت سے منگواتی ہوں۔ میرے پاس شہری اچھی نئی ترکیبیں تو نہیں، بس یہی لکھ رہی ہوں۔ ابھی چند دن پہلے بنایا تھا۔
کدو
:پانچ کلو (کدو کش کرلیں)
(کچھ لوگ باریک کاٹ کر بعد میں گھوٹنے سے گھوٹ لیتے ہیں)
چینی
:دو کپ
گھی دیسی
:ایک کپ بھرا ہوا
کھوپرا
: ایک کپ (کدوکش کیا ہوا)
الائچی
: پانچ دانے
ملائی
: دو پیالی
بادام میوے:
آپ کی اپنی مرضی ہے
کدو بہت پانی چھوڑتے ہیں، اس لےے پاس کھڑے رہ کر پانی خشک کریں۔ اب ملائی ڈال دیں۔ الائچی کے ہمراہ اور آدھی رات تک پکنے دیں (میں ایسے ہی پکاتی ہوں) صبح اذانوں کے وقت گھی اور چینی ڈال کر بھوننا شروع کر یں۔ پانی خشک ہو کر گھی اوپر آجائے، خوشبو آپ کے پڑوسیوں کے گھر جائے گی۔ (آپ کی پڑوسن چھت سے جھانک جو رہی ہے) بس، حلوہ تیار۔۔۔ مغزیات ڈال کر پیش کریں۔ اس حلوے کو بہت محنت سے بھوناجائے گا۔
کچن ٹِپ تو شاید میرے پاس نہ ہو مگر گنے کا رس نکلنے کے بعد بچنے والا پھوک زبردست ایندھن ثابت ہوتا ہے (یہ شہری قارئین کے لےے بے کار ٹِپ ہے) ہاں! دو تین آئیڈےے ہیں۔ گوشت کے نام پر گوشت آلو ہی بنتے ہیں۔ مرغی آلو شوربہ، گائے کا شوربہ، تو میں یہ کرتی ہوں کہ ایک دن پیاز برائون کر کے مسالا بنا کر گوشت ڈالتی ہوں۔ ایک دن سب کچھ اکٹھا ڈال کر بعد میں گھی ڈال کر بھون لیتی ہوں۔ ذائقے میں بہت فرق پڑتا ہے کبھی شوربے میں صرف پسا ہوا گرم مسالا چھڑکتی ہوں۔ اگلے دن ہرا دھنیا اور اس سے اگلی بار ذائقہ بدلنے کو ہانڈی اتارنے کے بعد شوربے میں سوکھی میتھی ہاتھ سے مسل کر چھڑک دیتی ہوں۔ اس طرح ایک ہی سالن مختلف ذائقوں میں بدل جاتا ہے۔
دادی جی کی سخت ہدایت پر ہم سر ڈھک کے کھانا پکانے کے عادی ہیں اس لےے کبھی بال آنے کی شکات نہیں ملی۔ آپ بھی ایسا کریں۔
ایڈیٹر صاحبہ! میر بہن نے مجھے چیلنج کیا ہے ’’آپ کا باورچی خانہ‘‘ میں میری کچن کی کہانی شائع نہیں ہوسکتی بلکہ میں بھیج بھی نہیں سکتی کہ بتانے کو ہے ہی کیا، مگر میں خود تسلیم کرتے ہوئے، اپنی چیزوں کو بخوشی اپناتے ہوئے حرف بہ حرف سچ لکھ کر بھیج رہی ہوں۔ میرا دیہاتی بیک گرائونڈ میرے لےے شرمندگی کا باعث نہیں کہ اسے لوگوں سے چھپاتی پھروں۔ امید ہے اتنے بہت سارے الگ الگ ماحول والے کچن میں آپ سب کو میرا کچن پسند آیا ہوگا۔ شکریہ۔
آمنہ مطلوب میلسی موضع
نیچے آمنہ کی تصویر تھی،جو اعجاز نے اس کی شادی سے کچھ روز پہلے کیمرا ٹرائی کرتے ہوئے کھینچی تھی۔ وہ چولہے کے پاس بیٹھی کیمرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اعتماد سے مسکرا رہی تھی۔
یمنیٰ نے ناک سکیڑی۔ اسے پتا چلا۔ اس کے بہتے آنسو ٹھوڑی سے گرتے گریبان کو بھگو چکے تھے۔ اس نے پلکیں جھپکیں تو دو قطرے ڈائجسٹ کے ورق پر گرے۔ اس نے سرعت سے ہاتھ پھیر کر خشک کرنے کی سعی کی۔ باہر آج پھر ظہور آیا بیٹھا تھا۔ اعزاز، شہباز، آمنہ اور دادی جی وہ پھونکنی استعمال کرتے ہوئے کھانستے کھانستے کبھی زور زور سے ہنس پڑتی۔
یمنیٰ دوپہر سے اپنے پسندیدہ ناول کی قسطیں پڑھنے کمرے میں بند تھی۔ ڈائجسٹ بند کرتے ہوئے یونہی اسے شائبہ ہوا کہ وہاں آمنہ جیسی لڑکی کی تصویر ہے۔ اس نے دیکھا، وہ آمنہ ہی کی تصویر تھی اور پھر۔۔۔
ژژژ
آمنہ ٹھیک کہتی تھی۔ اسے خود سے جڑی ہر شے سے پیار تھا، فخر تھا۔ اس کے لےے کوئی چیز شرمندگی کا باعث نہیں، جو چھوٹی چھوٹی چیزیں یمنیٰ کے لےے زندگی موت کا مسئلہ تھیں، وہ آمنہ چٹکیوں میں اڑا دیا کرتی تھی۔
اسے چیلنج کرتے ہوئے یمنیٰ کے پیشِ نظر دو باتیں تھیں۔ اول آمنہ کبھی ہمت ہی نہیں کر سکے گی کچھ بیان کرنے کی اور اگر کیا بھی تو لپیٹ لیپاٹ کر (اگلی نے کھول کھول کر بخےے ادھیڑے تھے، مگر بہت خوشی و فخر سے)
دوئم اسے یقین تھا کہ ایڈیٹر کاغذوں کا گولا بنا کر پھینک دیں گی اور پھر وہ آمنہ کو تن کر کہے گی۔ اصل میں تمہیں خود شرمندگی ہے کہ کیا لکھوں کیا چھپائوں۔ کہنے اور کرنے میں فرق ہوتا ہے۔ اگر یہ طرزِ زندگی اتنا قابلِ فخر ہے تو تم نے لکھا کیوں نہیں۔ اور دیکھو! تم نے لکھ لیا۔ ایڈیٹر پاگل نہیں تھیں کہ اسے شایع کرتیں۔ مگر اس کے دونوں اندازے غلط ثابت ہوئے۔ ایڈیٹر نے سلسلے کے اختتام پر بریکٹ میں تعریفی جملہ لکھا تھا۔ (قارئین! ہمارے ملک میں ستر فیصد آبادی دیہات میں رہتی ہے لیکن یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم ان کے مسائل اور زندگی گزارنے کے اسٹائل سے کتنے ناواقف ہیں۔ بہن آمنہ مطلوب کا یہ باورچی خانہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ ملک کی بیشتر آبادی کی نمائندگی کی ہے۔ ہمیں یقین ہے آپ کو پسند آیا ہوگا۔)
’’تو کیا واقعی میں غلط ہوں؟‘‘ وہ کنپٹیاں مسلنے لگی۔ اور یہ تو یقین ہے کہ یہ آمنہ نے شادی کے بعد اپنے گھر سے بیٹھ کر لکھا ہے، کیوں کہ تصاویر تقریباً ایک ماہ بعد آئی تھیں اور اعجاز خود دے کر آیا تھا۔ وہ یادداشت کو ٹٹولنے لگی۔
’’تو کیا میں ہر بات میں غلط ہوں؟‘‘ وہ محاسبہ کر رہی تھی۔ ’’اور۔۔۔ اور میں نے آمنہ کو کتنا غلط کہا۔ کتنی بدتمیزی کی اور وہ ایک لفظ نہیں بولی۔ کیا وہ واقعی مجھے اپنی بہن اور عدیم کی جگہ سمجھتی ہے اور اتنا تو میں مان ہی سکتی ہوں کیوں کہ میرے اپنے سامنے کی مثالیں ہیں۔ چاچے، تائے کی بیٹیوں کا آپس میں اٹ کتے دا ویر ہوندا ہے (اینٹ کتے کا بیر) حسد، غصہ، نفرت اور آمنہ کو مجھ سے کیا فائدہ ہے؟ اس بات میں کوئی کلام نہیں۔ اعزاز کے لےے آمنہ جس لڑکی پر ہاتھ رکھے، اگلے سر کے بل دینے آجائیں۔‘‘
شادی کے بعد جب محرم میں آمنہ رہنے آئی تو دادی جی بچوں کو کوس رہی تھیں جو ان کے پلنگ پر اچھل اچھل کر اسے ڈھیلا کر گئے تھے اور اب ان کی کمر دکھتی تھی۔ آمنہ نے دبکے کے کام سے بوجھل دوپٹُا تار پر ڈالا اور آستینیں چڑھا کر منجھی کسنے لگی۔ ایک ٹانگ زمین پر دوسری پلنگ کے اوپر۔ وہ اپنا پورا زور لگا لگا کر مگن تھی۔
پھر جانے سے پہلے وہ یمنیٰ کے ساتھ بیٹھ کر چھٹیوں کا ڈھیر ٹھکانے لگواتی رہی۔ جب شادی شدہ عملی زندگی میں قدم رکھا تو تب بھی وہ لپک لپک کر ادھر آئی اور جاتے وقت ہچکیوں سے روتی۔ اس کے گھر میں گرمی شروع ہوتے ہی اے سی لگ گیا تھا۔ عظیم کا کاروبار ترقی کی منزلیں طے کر رہا تھا۔ وہ یہاں لائٹ جانے پر لکڑفین (لکڑی کا پنکھا) دھیرے دھیرے جھلتے ہوئے نیند میں جاتی۔ پھر گرمی لگتی تو ہڑبڑا کر دوبارہ پنکھی جھلتی، پھر نیند کا غلبہ، پھر ہڑبڑا کر اٹھنا۔
اس کے کسی انداز سے نخرہ یا اتراہٹ نظر نہیں آتی تھی۔ اس کی موجودہ زندگی قناعت، صبر و شکر اور توکل کا انعام بھی تو ہوسکتی تھی۔
یمنیٰ نے بارہا سوچا کہ وہ خواب جو اس نے خود سے ہی چھپا کر دل کے نہاں خانوں میں غائب کر رکھے تھے۔ وہ عملی تعبیر بن کے آمنہ کو کیسے مل گئے۔ ’’اگر مجھے یہ سب مل جاتا تو۔۔۔ تو شاید میں آپے سے باہر ہوجاتی۔‘‘
اس نے پہلی بار اپنا صحیح تجزیہ کیا۔ ’’چھوٹا بچہ اپنی ماں کے بھروسے پر جب ٹھہر ٹھہر کر چلنے لگتا ہے تو اسے اپنے چلنے سے زیادہ یقین ماں کے ہاتھ کی پکڑ پر ہوتا ہے کہ وہ گرنے لگے گا تو کوئی فکر نہیں، ماں ہے نا اور ماں بچے کو کبھی گرنے نہیں دیتی اور ماں کے پیار سے ستُر گنا زیادہ پیار اللہ اپنے بندے سے کرتا ہے تو پھر میں اگر اس پر بھروسا کر کے ڈرتے لڑکھڑاتے اس کا ہاتھ تھام کر قدم بڑھاتی تو یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ مجھے گرنے دیتا۔ میری نیت کا کھوٹ، یقین کی کمی، میری بے سود سوچیں، میرے شکوک سے پرے، اللہ اپنا کردار نبھاتا۔ وہ میرا ہاتھ کبھی نہ چھوڑتا۔ وہ مجھے کبھی گرنے نہیں دیتا۔ خود احتسابی کا یہ عمل۔۔۔ سامنے بلیک اینڈ وائٹ تصویر۔ باہر سے آتی زندگی سے بھرپور، طمانیت سے لبریز پَراعتماد ہنسی کی آواز۔۔۔
اس کے دل و دماغ پر چھایا کہر، بے خبری کی چادر جیسے سرک رہی تھی۔ ’’میں۔۔۔ میں اور بس میں۔۔۔ میں تنہائی اکیلے پن کا نشان۔۔۔’’میں‘‘ کوئی نہیں دیکھ پاتا۔ ’’ہم‘‘ بہت سارے ہوں تو دنیا بدل دیتے ہیں۔ نہ میں کسی کے ساتھ کھڑی ہوئی اور نہ کسی کو کھڑا ہونے دیا اور آمنہ نے اپنے دونوں بازو پھیلائے ہوئے تھے اور ان کے حلقے میں وہ دادی جی، ابو، چچا، بھائی، بہن اپنے گرد و پیش کے ہر بندے کو لےے کھڑی تھی۔ اللہ مجھ اکیلی کو دیکھیں گے جبکہ میں ناشکری ہوں اور اللہ کو یہ پسند نہیں۔
وہ آمنہ کو دیکھیں گے، وہ ہر قیمت پر آمنہ کو دیکھیں گے جو سب کے لےے فکر مند ہے۔ جو گھر کے چھتُے سے اترا اصلی کم یاب شہد دادی سے چھپا کر پڑوس کی ایک آنکھ سے اندھی بکری کی آنکھوں میں اس امید پر لگا دیتی تھی کہ شہد سے بینائی تیز ہوتی ہے۔
وہ کرسی پر بیٹھی تھی۔ پائوں اوپر کرلےے اور بازوئوں کے حلقے میں سرگھسا کر پھوٹ پھوٹ کر رودی اس کا جسم جیسے جھکڑوں کی زد میں تھا۔ وہ پھر جیسے رو رو کے تھک گئی۔ نہ جانے کتنی دیر سے کرسی پر ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی تھی۔ چارپائی پر لیٹ گئی۔ دوپٹُا پھیلا کر سراپا ڈھانپ لیا، اس کی اتنی لمبی غیر موجودگی باعث تشویش نہیں تھی۔ وہ اب کل شام آنے والی فون کال کا سوچ رہی تھی جو ظہور کی بڑی بہن نجمہ کی تھی۔
’’ہم نے تو یہی سنا تھا کہ تمہاری اور اعزاز کی بات طے ہے، بلکہ ابا جی نے آکر کہہ دیا، ظہور کا رشتہ جہاں طے ہے، وہیں شادی کی تاریخ لو، مگر وہ کہتا ہے کہ تم ہی سے کرے گا۔ کیا تم نے کوئی امید دلائی ہے؟‘‘
وہ بہت سادہ مگر الجھن بھرے انداز میں پوچھ رہی تھیں، مگر امید دلانے والے جملے پر یمنیٰ اچھل پڑی۔
’’کیا مطلب۔۔۔؟ کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ؟‘‘
’’وہ کہتا ہے۔ یہ بڑوں کا فیصلہ ہے مگر یمنیٰ کو پسند ہیں۔‘‘
’’مم۔۔۔ میری ان سے ایسی کوئی بات نہیں ہوئی۔ وہ مہمان بن کے آتے ہیں۔ ہمارے گھر میں اور کوئی ہوتا نہیں تو دادی جی خوش ہوتی ہیں۔ ہم انہیں عزت دیتے ہیں بس۔‘‘ یمنیٰ کی حیرانی د وچند تھی۔
’’دیکھو یمنیٰ! میں نے تمہیں کوئی دس سال پہلے دیکھا تھا، تب تم چھوٹی بچی تھیں۔ اب ظاہر ہے جوان لڑکی ہو۔ میں یہاں اتنی دور سعودیہ میں ہوں، مگر مجھے علم ہے، ماموں کی بیٹی جو ظہور کی منگ ہے، گوری چٹی آٹھ جماعت پاس، مگر بہت موٹی لڑکی ہے۔ یہ کہتا ہے مجھے موٹی عورتیں پسند نہیں۔ وہ پینڈوئوں کی طرح بولتی ہے۔ دیہاتی ٹچ ہے اس کے اندر۔ ارے بھئی! جب دیہات میں رہے گی تو دیہاتی ٹچ بھی رہے گا۔ تمہاری تعریف کرتا ہے۔ تم بہت اسمارٹ ہو۔ دبلی پتلی۔ اس نے میرے دیور سے کہا، اس کا فیگر قیامت ہے۔ تم کیا گلے میں دوپٹُا ڈال کر گھومتی ہو؟‘‘
’’کک۔۔۔ کک کیسی باتیں کرتی ہیں؟‘‘ یمنیٰ کے ہوش اڑ گئے۔ اس نے غیر ارادی طور پر خود سے لپٹے دوپٹے کو مزید لپیٹا تھا۔
’’وہ کہتا ہے، یمنیٰ اپنے ماحول سے متنفر ہے۔ وہ اعزاز کو پسند نہیں کرتی۔ بلکہ وہ تو یہ بار بار کہتا ہے، اعزاز اس قابل ہی کہاں کہ اسے یمنیٰ جیسی لڑکی ملے۔‘‘
اس نے بمشکل اپنے غصہ کو قابو کرتے ہوئے کہا۔ ’’پہلی بات اتنے سالوں کی خود ساختہ لڑائی کے بعد کی صلح ہم سب کو اچھی لگی ہے۔ پھر سب سے بڑھ کر دادی کو ان کا آنا ڈھارس دیتا ہے۔ وہ تنہائی کا شکار، بولنے کی شوقین عورت ہیں اور آپ کے گھنُے میسنے بھائی نے اس چیز کا فائدہ اٹھایا۔ نمبر دو ایک بندہ روز روز آئے گا تو بات کرنی پڑتی ہے۔ اب جب وہ کوے کی طرح کان کھائے گا کہ یہ اور وہ۔۔۔ میرا گھر ایسا میرا گھر ویسا تو دل چاہے نہ چاہے، رائے تو دینی پڑے گی۔ میں نے تو بھائی سمجھ کر گھر میں گھسایا تھا، مجھے کیا خبر تھی کہ وہ اس طرح بہنوں کی کمر ناپتا پھرے گا۔ ہم بہنیں تو دادی کے حکم کے مطابق چوبیس گھنٹے ایسا لگتا ہے جیسے نما زپڑھنے جارہی ہوں۔ اس نے تو اتنی آر پار ایکسرے جیسے ڈیلے کہاں سے فٹ کروالےے یا پھر بچپن سے گھر میں اپنی بہنوں کے بازو، کمریںناپنے کا عادی ہے؟‘‘
نجمہ باجی کو یوں لگا جیسے کان کے ساتھ موبائل کی جگہ تیز گرم استری لگی ہو۔
’’آپ بتائیں گی تو اسے یقین نہیں آئے گا۔ میں نے ریکارڈنگ کا بٹن آن کرلیا تھا۔ یہ تحفہ میں اسے خود دوں گی۔ اللہ حافظ۔‘‘
اس نے تو یہ سوچ رکھا تھا کہ اس کی سوچیں اس کی دسترس میں ہیں۔ ان پر کسی اور کی رسائی نہ ہوگی۔ ’’یا میں اتنی ہلکی ہوگئی ہوں یا اگلا اتنا گھاگ تھا کہ اس نے اتنے اندر کی بات جان لی۔ میںنے تو اسے کبھی نہیں کہا کہ میں کیا حاصل کرنا چاہتی ہوں، کیا چھوڑ دینا۔‘‘
سر دکھ گیا مگر اس سوال کا جواب نہ ملا۔ اسے خبر نہیں تھی، گفتگو قد آدم آئینہ کی طرح ہوتی ہے۔ نہ صرف معنی بتاتی ہے بلکہ تشریح بھی کرتی ہے۔ کلام ، انعام کی طرح ہوتا ہے جیسا کہا گیا، ویسا پالیا۔ جب ہم کسی ایک چیز کے بارے میں مسلسل سوچتے ہیں تو دراصل اپنی ذات کی چادر میں چھید کر دیتے ہیں۔ لاکھ چھپائیں مگر اند رکہیں نہ کہیں سے جھلک دکھلا ہی جاتی ہے۔ سوچیں قلعے کی طرح ہوتی ہیں اور زبان اس قلعے کی سب سے کمزور اینٹ۔ ۔۔ یہ جگہ چھوڑ دیتی ہے، پھسل جاتی ہے، سربستہ راز اس زبان کی لغزش سے زباں زد عام ہوجاتے ہیں۔
اس کے دل و دماغ کی انتہائی گہرائیوں میں چھپی سوچوں، خیالات تک ظہور کی رسائی اسی زبان کے طفیل ممکن ہوئی تھی۔
وہ خوب ٹھنڈے پانی سے چہرہ دھو کر کچن چبوترے تک چلی آئی۔ اعزاز چارپائی بَن رہا تھا۔
’’ڈائجسٹ پڑھنے میں اتنی مگن تھیں، آئے گئے کا پتا نہیں۔‘‘
ظہور نے گہری نگاہ سے اسے دیکھا۔ یمنیٰ نے چادر میں خود کو محفوظ محسوس کیا۔
’’آمنہ نے آپ کو چائے پانی پوچھ تو لیا۔‘‘ اس نے جیسے اوقات بتائی۔
’’ہاں! یہ بھی ٹھیک ہے۔‘‘ وہ محظوظ ہوا۔
’’سورج ڈھلنے کے بعد کون چارپائی بَنتا ہے؟‘‘ اس نے اعزاز کو مخاطب کیا۔ اس کے ہاتھ سے گولا چھوٹ گیا۔
’’ساری صبح بنالی تھیں بس اب یہ دو ہی رہ گئی ہیں۔‘‘ شہباز نے جواب دیا۔ ’’یہ میری چارپائی ہے۔ میں آج اس پر ہی سوئوں گا۔‘‘
’’یہ اتنے ڈھیر سارے آم۔۔۔؟‘‘ وہ ٹوکرے کو دیکھ رہی تھی۔
’’یہ میں لایا ہوں۔ خریدنے کی ضرورت ہی نہیں۔ دوست کے باغ کے ہیں۔ ذرا چکھو، ایسا ذائقہ کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔‘‘ وہ پریقین تھا۔ یمنیٰ نے ہاتھ بڑھا کر آم ہونٹوں سے لگالیا۔
’’نہیں، آپ کی غلط فہمی ہے۔ یہ آم تو بہت ہی کھٹُا ہے۔‘‘ اس نے آم ہاتھ سے رکھ دیا۔ آمنہ کا پیڑے بناتا ہاتھ رک گیا۔ یمنیٰ کا انداز جارحانہ تھا۔
’’دو۔۔۔ دوسرا ٹرائی کرو۔‘‘ یمنیٰ نے فوراً عمل کیا۔
’’یہ کڑوا ہے۔‘‘ اعزاز اور شہباز تعجب سے دیکھ رہے تھے۔
’’ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟‘‘ ظہور نے لپک کر خود ٹرائی ماری۔
’’یہ۔۔۔۔ یہ تو بہت لذیذ اور میٹھے آم ہیں۔‘‘ اس نے حیرت سے یمنیٰ اور پھینکے جانے والے آم دیکھے۔
’’ضروری نہیں کہ جو چیز آپ کو لذیذ اور میٹھی لگے، وہ دوسروں کو بھی لگے۔‘‘ اس کا انداز جتاتا ہوا کچھ بتاتا ہوا تھا۔
’’اٹھو آمنہ!میں روٹی بنالیتی ہوں۔‘‘ آمنہ نے اپنے ہاتھ دیکھے، وہ سارے پیڑے بنا چکی تھی۔
’’جائو تم۔‘‘ وہ سر پر کھڑی تھی۔ آمنہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے کھڑی ہوگئی۔ اب یمنیٰ اور ظہور آمنے سامنے تھے۔ درمیان میں چولہا۔۔۔
’’میرے پاس جو فون ہے وہ دراصل دادی جی کا ہے۔‘‘ یمنیٰ نے بغیر کسی تمہید کے ظہور سے بات کرنی شروع کر دی جو ناقابل فہم نگاہوں سے یمنیٰ کا چہرہ پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ (کیا یہ مجھ سے فون گفٹ مانگنا چاہتی ہے۔ دلِ خوش فہم کی امید)
’’تو جب کبھی ان کا فون آئے تو ہم ریسیو کر لیں تو ریکارڈنگ کا بٹن دبا دیتے ہیں کہ بعد میں لاکھ بتانے پر بھی وہ پھر۔۔۔ ’’آگے کیا ہوا؟‘‘ جیسے سوال کرتی ہیں۔ کل بھی میں نے نجمہ باجی کا فون سنتے ہی یہی کیا، مگر اس کا سننا آپ کے لےے بھی دلچسپ ہوگا۔‘‘
اس نے موبائل اس کی جانب بڑھایا۔ ظہور نے فون کانوں سے لگالیا اور دو منٹ بعد چولہے کی آگ زیادہ رنگ بدل رہی تھی یا ظہور کا چہرہ، فیصلہ بہت مشکل تھا۔ لال، نیلا، پیلا رنگ۔۔۔ آگ کی لپیٹیں توے سے باہر بے خوف ہوکر سانپ کی طرح زبان ہلاتی تھیں اور جس طرح چولہے کے پیچھے والی سیاہ ترین ہوجاتی ہے، فون کان سے ہٹائے ہوئے ظہور کا چہرہ ایسا ہی تھا۔
وہ دفعتاً کھڑا ہوگیا، تھپ تھپ، یمنیٰ پیڑے کو ہاتھ پر جھلا رہی تھی پھر ا س نے دھپ کر کے اسے توے سے چپکا دیا، ظہور تیزی سے نیچے اترا۔
’’ان بہت خاص آموں کو بھی لیتے جائیں۔ ہم اس ذائقے کے عادی نہیں۔‘‘ وہ اونچا بولی۔
اعزاز جو ان دونوں کی مدھم گفتگو کے دوران جبڑے بھینچے اپنی ساری بے بسی و بے چارگی منجی کسنے میں لگا رہا تھا۔
’’ظہور! ظہور! رکو۔۔۔‘‘ کہتا پیچھے لپکا۔
’’جانے دو اعزاز! وہ کبھی نہ آنے کے لےے گیا ہے۔‘‘
یمنیٰ کی مطمئن اعتماد سے پَر آواز نے اس کے قدم روکے۔ وہ کچھ نہ سمجھا۔ یمنیٰ کی روٹی غبارے کی طرح پھولی پھولی تھی۔ اس نے چمٹا مار کر اسے پھاڑ دیا، پھس۔۔۔ اعزاز کو لگا، یمنیٰ اسے دیکھ کر مسکرائی تھی۔ سچ مچ یا اعزاز کو لگا۔
ژژژ
چاند تماش بین تھا اور اس پر ستم پیدائشی گونگا۔۔۔ کاش وہ ہلکے پیٹ کی بی جمالو مائی جیسا ہوتا اور ادھر کی خبر ادھر پہنچاتا تو کیوں اور کیسے کے سارے مسئلے حل ہوجاتے۔ اعزاز چھت پر چارپائی ڈالے چت لیٹا چاند کو گھورے جارہا تھا۔ اسے لگا، یہ کوئی دوسرا چاند ہے اور چار سال سے زائد عرصہ تک محرم و ہمراز چاند دوسرا، جو اس کے حالِ دل سے بخوبی واقف تھا۔ جو اس کی ساری بے قراریوں اور بے تابیوں کے جواب میں اپنی ٹھنڈک اور روشنی سے تسلی کرواتا تھا۔
نیچے آمنہ بچے کو شانے سے لگائے لوریاں دے رہی تھی۔ پتا نہیں، سارا دن بڑا بیبا بچہ رہنے والا عدیم رات کو گلا پھاڑ پھاڑ کر کیوں روتا تھا۔
’’چندا ماما دور کے، بڑے پکائیں بور کے، آپ کھائیں تھالی میں، عدیم کو دیں پیالی میں۔‘‘ بچہ اور گلا پھاڑتا۔ یمنیٰ نے فون آمنہ کی جانب بڑھایا۔
’’فارغ ہو تو یہ ریکارڈنگ سن لینا۔۔۔ اور مناسب لگے تو اعزاز کو بتانا۔‘‘ وہ چھت کی جانب بڑھی۔
آمنہ نے تعجب سے فون کو دیکھا۔
اعزاز کو وہ ایک دم اپنے پیروں کے پاس کھڑی دکھائی دی۔ ایسا خوابوں میں تو بارہا ہوا تھا مگر۔۔۔ اعزاز نے پلکیں جھپک کر یقین کیا تو فوراً اٹھ بیٹھا اور پائوں نیچے کر کے جوتا ٹٹولنے لگا۔ایک پیر مل گیا دوسرا۔۔۔
یمنیٰ نیچے جھکی، شاید جوتا پکڑنے جو آگے ہوگیا تھا، مگر نہیں۔ وہ دو زانو اس کے عین سامنے بیٹھ گئی۔ اعزاز نے الجھ کر اس کی صورت دیکھی جو اپنے ہاتھ میں پکڑی سرخ پوٹلی اس کی جانب بڑھا رہی تھی۔
’’یہ کیا ہے؟‘‘ اعزاز نے ہاتھ بڑھانے سے گریز کیا۔
’’یہ تو تم بتائو گے؟‘‘ اس کا انداز جھجک آمیز تھا۔ اعزاز نے پوٹلی لے کر ایک لمحے میں کھول دی۔ اندر بساند بھرا بہت تھوڑا سا پیلا بَرادہ تھا۔
’’یہ۔۔۔ یہ کیا چیز ہے؟‘‘ تحیر نے آنکھیں پھیلا دی تھیں۔
’’یہ محبت تھی جو شاید اب نہیں رہی۔‘‘ یمنیٰ کی آواز میں نمی گھل گئی۔ حلق میں نمک بھی آگیا تھا۔ اعزاز کی آنکھوں میں ایک چمکیلی صبح لوٹ آئی۔
’’تم نے انہیں ابھی تک سنبھال کر رکھا ہے؟‘‘
’’تو کیا تم نے پھینکنے کے لےے دےے تھے؟‘‘ وہ ڈپٹ کر بولی۔
’’تم کیا کہنے آئی ہو یمنیٰ؟‘‘ اس نے اپنے حواس قابو میں رکھے۔
’’تم کیا سننا چاہتے ہو اعزاز؟‘‘ اس کے لہجے کا اتار چڑھائو ہمت بندھاتا ہوا تھا۔
’’تو تم وہ کہو گی جو میں سننا چاہتا ہوں۔‘‘ اس کے بے یقین جملے میں امید اور جذبے گھل گئے۔
’’میں وہی کہنے آئی ہوں۔‘‘ وہ ٹھوس لہجے میں یقین سے بولی، مگر اس کی آنکھیں امید و بیم کی کیفیت میں مبتلا تھیں۔ وہ چہرہ اٹھائے اس کے چہرے کو ڈھٹائی سے تکے جارہی تھی۔
ہار جانے کا خوف دنوں میں ہولاتا ہے، مگر پھر وقتِ آخر جب تمام کشتیاں جلادی جائیں تو محض بے خوفی کا سہارا فتح سے ہم کنار کرتا ہے۔ وہ ’’ہاں‘‘ اور ’’نہ‘‘ دونوں سننے کے لےے خود کو تیار کر کے آئی تھی، پر دل کی کیا کرتی جو بس ہاں کا متمنی تھا۔
’’میں اب بھی وہی ہوں۔ ٹوٹے پھوٹے کھنڈر مکان کا حوالدار یا چلو اب انسپکٹر کہہ لو۔‘‘ اس نے یاد کروانا ضروری سمجھا تھا۔
’’مگر میں اب وہ نہیں ہوں۔‘‘ وہ انکشاف کرتے ہوئے اس کے گھٹنے پر ہاتھ کا ہلکا سا دبائو رکھتے ہوئے کھڑی ہوگئی۔
’’اس تبدیلی کی وجہ؟‘‘ اب وہ چہرہ اٹھائے اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔
’’موسم بدلتے ہیں تو منظر بھی بدل جاتے ہیں۔ چیزیں بھی تبدیل ہوجاتی ہیں۔‘‘
اعزاز پورے قد سے کھڑا ہو ااور لمحہ بھر میں رومال ہوا میں لہر ادیا۔ پیلا بَرادہ کہاں اڑا کہاں گرا پتا بھی نہ چلا۔ یمنیٰ کے دونوں ہاتھ بے ساختہ ہونٹوں پر جارکے اور آنکھوں میں تحیر تیرنے لگا۔ سامنے کا چہرہ بے تاثر تھا، مگر انداز فیصلہ کن۔ اس کا دل حلق میں آکر دھڑکنے لگا۔ وہ الٹے قدموں پیچھے ہٹی تو تب رکی جب چھت کی چھوٹی دیوار کمر سے لگی۔
یہ رات دس بجے کے بعد کا وقت تھا، اندھیرا ہر شے کو نگل چکا تھا، اس پر مستزاد لائٹ چلی گئی۔ مگر چاند کی روشنی میں دور بہت دور کسی مسجد کے مینار پر لگے سبز اور پیلے برقی قمقمے ایسے دکھائی دے رہے تھے جیسے سمندر کے بیچوں بیچ ڈولتی کشتی کو اچانک ساحل پر روشن مینار نظر آجائے۔
اعزاز نے سرخ رومال بھی چارپائی پر پھینک دیا، یمنیٰ کو خبر نہیں ہوئی، کب گال گزر گاہ بنے اور آنکھوں سے نکلتا پانی گردن تک روانی سے بہنے لگا۔ اسے جواب مل گیا تھا۔ یمنیٰ نے اپنی آواز گھونٹ لی۔ اسے کیوں پتا لگے کہ وہ رو رہی ہے۔
اسے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اپنے پیر مٰن مٰن کے لگے تھے، مگر اب یوں لگتا تھا ٹنوں وزنی لوہے کی گیندیں بہت چھوٹی زنجیر کے سہارے اس کے پیروں سے بندھی ہیں۔ وہ جنبش بھی نہیں کر پارہی۔ اعزاز د وقدموں میں اس کے عین سامنے بے حد قریب آرکا۔ یمنیٰ نے سانس روک لی۔ چاند بادلوں کی اوٹ میں چلا گیا۔
’’تت۔۔۔ تم نے۔۔۔ پھول پھینک دےے۔ میں۔۔۔ میں نے ایسے ہی سنبھال کر رکھے۔‘‘
دکھ اتنا شدید تھا کہ شکوہ ہونٹوں پر آگیا۔ اس کی آواز نے بھید کھول دیا۔وہ رو رہی تھی۔ اعزاز نے شہادت کی انگلی اس کی مانگ پر رکھی اور ناک سے گزارا ٹھوڑی تک لے آیا۔ اب وہ آنسو صاف کرنا چاہتا تھا۔ یمنیٰ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا۔
وہ زور سے ہنس دیا۔۔ ۔ اس کے آنسو اور تیزی سے بہے۔ آمنہ اسی وقت اوپر آئی تھی۔ اعزاز کا جان دار قہقہہ سن کر وہ رک گئی۔
’’تم جائو آمنہ! ابھی تمہارے ڈائیلاگ نہیں شروع ہوئے۔‘‘ وہ رخ موڑے بنا بولا۔
’’لیکن وہ۔۔۔‘‘
’’تم جائو۔‘‘ وہ دہاڑا۔ آمنہ نے سرپٹ دوڑ لگادی۔ اعزاز نے یمنیٰ کے اطراف دونوں ہاتھ دیوار پر جما دےے تھے۔
’’وہ سارا بَسا ہوا بے رنگ بَرادہ۔۔۔ ہونہہ! میں تمہیں نئے پھول لا کر دوں گا۔ یہ بہت سارے۔۔۔ روزانہ۔۔ ۔ صبح، دوپہر، شام۔‘‘
اس کا لہجہ متبسم تھا۔ یمنیٰ نے بے یقینی سے اس کا چہرہ دیکھنا چاہا۔
چاند نے کسی الہڑ دوشیزہ کی طرح ذرا سا چہرہ نکال کر نیچے دیکھا۔ کہانی کا یہ انجام اسے بھی اچھا لگا۔ وہ گونگا تھا، اندھا نہیں۔ سب جانتا تھا۔ ٹھنڈی میٹھی نرم روشنی میں دو سائے۔
’’ہٹو پیچھے۔ کوئی دیکھ لے گا۔‘‘ یمنیٰ نے اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیچھے دھکیلا۔
’’مگر میں نے تو ابھی کچھ کیا ہی نہیں۔ کوئی کیا دیکھے گا؟‘‘ وہ اچانک دھکا لگنے سے پیچھے ہوا۔ بے چارگی سے پوچھنے لگا۔ یمنیٰ کی ہنسی نکل گئی۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے چہرہ ڈھانپ لیا۔
’’کٹ! یہ سین لائٹ آنے پر یہیں سے شروع کریں گے۔ مجھے تمہارے چہرے کے رنگ نظر ہی نہیں آرہے۔‘‘ اس نے احتجاج کیا۔ یمنیٰ کی رکی ہنسی پھر شروع ہوگئی۔ فضا میں پٹاخوںکی شدید ترین آوازیں گونجنے لگیں۔ دو دن بعد شبِ برأت تھی۔ بہت سارے بچوں نے ایک ساتھ پٹاخے پھوڑے تھے۔ پانچ چھ اناری گولے آسمان پر بہت اوپر جا کر پھٹے۔آسمان ایسا ہوگیا، جیسا سیاہ چادر پر کوئی چمکیلی رنگ برنگی افشاں چھڑک دے۔ یمنیٰ گردن اٹھائے آسمان کو دیکھنے لگی۔
’’کتنا خوب صورت منظر ہے۔ میں نے ایسا کبھی پہلے نہیں دیکھا۔‘‘ وہ سب کچھ بھول بھال بچوں کی طرح ایڑیاں اٹھا کر اوپر دیکھ رہی تھی۔ بچے باقاعدہ پلاننگ سے آتش بازی کر رہے تھے۔
ایک کے بعد ایک۔۔۔ اعزاز نے یمنیٰ کا چہرہ دیکھا۔ یہ آتش بازی اور پٹاخوں کی آوازیں۔۔۔ بہت کم تھیں۔۔۔ بہت کم۔۔۔ ان سے ۔۔ جو اعزاز کے دل میں ہورہی تھیں۔
محبت بڑھ سکتی ہے
محبت مل بھی سکتی ہے
تم کاسہ تھام کے رکھنا
’’اب میں اوپر آجائوں؟‘‘ آمنہ نے نیچے سے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
’’ہاں ہاں آمنہ! جلدی آئو۔ دیکھو تو کتنا مزا آرہا ہے۔‘‘
یمنیٰ نے دونوں ہاتھ لہرا کر اسے اوپر بلایا۔ آمنہ کو سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ہی نتیجہ معلوم ہوچکا تھا۔ اس نے سرعت سے قدم بڑھا دےے۔
*****









