جہاز چند لمحوں میں لینڈ کرنے والا تھا۔ وہ بڑے الجھے ہوئے انداز میں بیٹھی آنے والے وقت کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ بہت چھوٹی تھی وہ اس وقت جب ابو اور امی کے ساتھ ایک مرتبہ کراچی آئی تھی۔ اتنی چھوٹی کہ اسے اس وقت کی کوئی بات اب یاد بھی نہیں تھی۔ آج اتنے برسوںبعد وہ دوبارہ اس شہر میں آئی تھی اور نہیں جانتی تھی کہ یہاں اسے کس طرح کے حالات سے گزرنا ہوگا۔ ابو کی وفات کے بعد جس قسم کے حالات سے ان لوگوں کو گزرنا پڑا، انہوں نے اسے کسی حد تک بہادر بنا دیا تھا لیکن پھر بھی ملازمت کے لےے کسی دوسرے شہر جانے کا تو یہ اس کا پہلا تجربہ تھا۔ نیا شہر، نئے لوگ۔ وہ پتا نہیں خود کو یہاں پر ایڈجسٹ کر بھی پائے گی یا نہیں اور سب سے بڑھ کر پھوپھو کے گھر قیام۔۔۔ کیا وہ ان کے گھر میں رہ سکے گی؟
حالانکہ وہ خود کو بار بار پھوپھو کے اس بچپن سے لے کر اب تک کے تمام اچھے رویوں اور محبت بھرے سلوک کے بارے میں یاد دلا رہی تھی لیکن پھر بھی بہت سی سوچیں اور بہت سی باتیں ایسی تھیں جو اس کو تشویش اور پریشانی میں مبتلا رکھے ہوئے تھیں۔ پھوپھو بہت اچھی ہیں۔ ان لوگوں سے بہت پیار کرتی ہیں۔ لیکن پھوپھو کے گھر میں صرف وہ اکیلی تونہیں رہتیں۔ وہاں انکل اور اس کے کزنز بھی تو رہتے ہیں۔ اور پتا نہیں وہ لوگ اس کے اپنے گھر قیام کو پسند کریں گے بھی کہ نہیں۔ ان لوگوں نے کب پھوپھو اور ان کی فیملی کے ساتھ کوئی بہت اچھے اور محبت آمیز سلوک کر رکھے تھے، جو وہ بدلے میں یہاں اپنی مہمان نوازیوں اور محبتوں کی کوئی امید رکھتی۔ جو رویہ ابو اور خاص طور پر امی نے زندگی بھر پھوپھو کے ساتھ روا رکھا تھا، اسے دیکھتے ہوئے کسی اور کو تو کیا خود پھوپھو کو بھی اس کی آمد کی کوئی خوشی نہیں ہونی چاہےے تھی۔ پھوپھو کے گھر یہ بن بلایا مہمان امی نے ہی اسے بنوایا تھا ورنہ اس کا قطعاً کوئی ارادہ نہیں تھا ان کے ہاں قیام کرنے کا۔
کراچی میں ایک سوفٹ ویئر ہائوس (Software House) میں یہ جاب جس کے لےے اسے اپنا شہر اور اپنا گھر چھوڑنا پڑا، اسے عاقب خالو کے توسط سے ملی تھی۔ گو پنڈی میں اس کو جاب ملی ہوئی تھی۔ مگر بہت جان توڑ محنت اور انتہائی لگن سے کام کرنے کے بعد مہینے کے اختتام پر جتنے پیسے اس کے ہاتھ میں آتے، وہ ان لوگوں کی ضروریات زندگی پوری کرنے کےے ناکافی تھے۔ اگر وہ شوقیہ ملازمت کر رہی ہوتی تو اپنی اسی جاب کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ پنڈی میں ہی کسی مناسب جاب کے لےے کوششیں جاری رکھتی۔لیکن مسئلہ یہ تھا کہ جاب اس کے لےے شوق، وقت گزاری اور تعلیم کو استعمال کرنے والی چیز نہیں تھی۔ یہ اس کے اور اس کے گھر والوں کی ضروریات پوری کرنے کے لےے انتہائی ضروری تھی۔
دونوں بھائی جن تعلیمی اداروں میں پڑھ رہے تھے، وہاں کی فیسیں اور دیگر اخراجات اس کی اس قلیل سی تنخواہ میں پورے نہیں ہوپاتے تھے۔ وہ بہت پریشان تھی۔ دوران تعلیم بھائی کہیں ملازمت کریں یا ٹیوشنز پڑھائیں۔ یہ بات نہ اسے پسند تھی نہ امی کو۔ ابو کی زندگی میں جو عیش و آرام ان بہن بھائیوں نے دیکھا تھا اور جتنے بے فکرے ماحول میں اپنے تعلیمی مدارج طے کےے تھے، اس کے بعد اسے یہ بات ناممکن دکھائی دیتی تھی کہ وہ پڑھائی اور جاب ساتھ ساتھ چلا سکتے ہیں۔
پھر ان دنوں جب وہ شدید ترین مایوسی کا شکار ہو کر اپنی کمپیوٹر سائنس میںماسٹر کی ڈگری کو ایک کاغذ کے معمولی سے پرزے کے برابر سمجھنے گی تھی۔ تب عاقب خالو نے اس کے لےے اس جاب کا بندوبست کرکے اسے مایوسی کے اس شدید ترین احساس سے باہر نکالا تھا۔ ورنہ خالہ کا حال تو یہ تھا کہ ابو کی وفات کے بعد جب جب وہ ان کے گھر آئیں اور بہن کی بیوگی اورمعاشی پریشانیوں پر ان کے ساتھ مل کر روئیں تو اس احتیاط کے ساتھ کہ کہیں رونے سے ان کا میک اپ نہ خراب ہوجائے۔ پھر جب عاقب خالو کی کوششوں کے نتیجے میں اسے جاب ملی تو وہ خود تو بے حد خوش ہوئی لیکن امی سخت فکر مند۔ اپنی نازوں پلی بیٹی کو ملازمت کے لےے دوسرے شہر بھیجنا ایک بہت مشکل کام تھا ان کے لےے۔ جتنی بھاری بھرکم تنخواہ والی یہ جاب اسے کراچی میں ملی تھی۔ وہ اس وقت اس کی زندگی کی سب سے بڑی ضرورت تھی۔ امی نے اسے اس شرط پر کراچی جانے کی اجازت دی تھی کہ وہ وہاں پھوپھو کے گھر میں رہے گی۔
ساری زندگی جس نند کو انہوںنے خود سے کم تر اور بہت حقیر سمجھا۔ اب ابو کی وفات کے بعد انہیں اچانک اس کی وہ محبت اور خلوص نظر آنا شروع ہوگیا تھا۔ جسے انہوں نے ہمیشہ مکُاری اور بھائی کی دولت کا لالچ قرار دیا تھا۔ وہ امی کو منع کرنا چاہتی تھی کہ انہوں نے کراچی پھوپھو کو فون کر کے اس کی جاب اور ان کے گھر رہائش کے بارے میں بات کرلی۔
پھوپھو کی محبت اور خلوص پر تو اسے کوئی شک تھا ہی نہیں۔ بچپن ہی سے اس کے ذہن میں پھوپھو کا ایک بہت ہی ملنسار اور محبت کرنے والی خاتون کا امیج بنا ہوا تھا۔ حالانکہ ابو کی زندگی میں وہ پنڈی بہت کم آئی تھیں۔ اتنے برسوں میں شاید دو مرتبہ ۔ لیکن فون وہ ان لوگوں کو باقاعدگی سے کیا کرتی تھیں۔چاہے امی کو ان کا فون کرنا اچھا لگ رہا ہو یا نہیں۔ وہ فون پر ان لوگوں کی خیریت پوچھنا کبھی نہیں بھولتی تھیں۔
ابو کے انتقال کے بعد جب وہ پنڈی آئیں اور ان لوگوں کے پاس کافی دنوں تک رہیں تب اسے انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اپنے تمام رشتہ داروں میں اسے پھوپھو ہی وہ واحد ہستی نظر آئی تھیں۔ جن کا چہرہ دکھ اور غم کی تصویر بنا ہوا تھا۔ ان کا رونا ایسا تھا جیسے انہوں نے کوئی بہت عزیز ہستی کھودی ہو۔ ان دنوں میں اسے ان کے وجود کی نرمی اور محبت نے بہت متاثر کیا تھا۔ انہوں نے شکوہ شکایت کی کوئی پٹاری نہیں کھولی تھی۔ امی پر کوئی طنزیہ جملے نہیں کسے تھے۔ بلکہ اس مشکل وقت میں انہیں اپنی طرف سے ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا تھا۔
ایئرپورٹ پر اسے لینے کے لےے عاصم بھائی آئے ہوئے تھے۔ وہ انہیں دور سے دیکھ کر ہی پہچان گئی تھی۔ حالانکہ وہ اس سے پہلے ان سے کبھی ملی نہیں تھی۔ صرف ان کی تصویر ہی دیکھ رکھی تھی۔ وہ انہیں پہچانتے ہوئے آہستہ آہستہ کچھ ہچکچائے ہوئے انداز میں ان کی طرف بڑھی، خود انہوں نے پتا نہیں اسے کیسے پہچانا تھا جو بڑی تیزی سے اس سے پہلے ہی اس تک پہنچ گئے تھے۔
’’السلام علیکم۔‘‘ عجیب سی گھبراہٹ اور شرمندگی محسوس ہورہی تھی اسے ان کا سامنا کرتے ہوئے۔ ڈرتے ڈرتے اس نے ان کی طرف دیکھا۔ کہیں ان کی آنکھوں میںطنز اور تمسخر تو نہیں؟
’’اتنے امیر باپ کی بیٹی نوکری کے لےے شہر شہر ماری ماری پھر رہی ہے۔ بے چارے غریب رشتہ داروں کے ہاں رہائش اختیار کرنے والی ہے۔ جن سے کبھی اس نے ملنا پسند نہ کیا، ان کے گھر بن بلائی مہمان بننے والی ہے۔‘‘
مگر ان کی آنکھوں میں وہ ان میں سے کوئی ایک جملہ بھی کھوج نہیں پائی تھی۔ بلکہ ایک پرخلوص سی مسکراہٹ جس نے ان کے چہرے کا احاطہ کر رکھا تھا وہ اسے نظر آئی تھی۔ اس کے سلام کا انہوں نے مسکراتے ہوئے گرم جوشی سے جواب دیا اور پھر اسی خلوص اور اپنائیت کے ساتھ اسے لےے وہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھے تھے۔
ان کی بالکل نئے ماڈل کی قیمتی گاڑی میں بیٹھتے ہوئے اس کے ذہن میں بجو کا کئی سال پہلے کا ایک جملہ گونجا تھا۔
’’خالی ڈگریوں کو لے کر کیا میں نے چاٹنا ہے۔ بندے کے پاس ڈگریوں کا انبار ہو۔ گلے میں ڈھیر سارے گولڈ میڈلز بھی ہوں مگر جیب خالی ہو۔ ایسی ڈگریوں اور ایسے میڈلز کو میں دور سے سلام کرتی ہوں۔ میں تو شادی اس سے کروں گی جس کے پاس اتنا پیسہ ہو کہ میرے سب شوق پورے کر سکے۔ مجھے اپنا دل نہ مارنا پڑے جو عیش و آرام مجھے اپنے باپ کے گھر میں میسر ہیں، وہ مجھے وہاں بھی ملیں۔‘‘
بجو کی کہی باتیں یاد آتے ہی ایک سرد آہ اس کے لبوں سے نکلی تھی۔ بہت بے ساختگی میں اس نے اپنے برابر میں بیٹھے ہوئے عاصم بھائی کی طرف دیکھا تھا۔ کتنے ہینڈسم اور ڈیسنٹ سے تھے وہ۔ جتنے ہینڈسم وہ اسے تصویروں میں لگے تھے، اس سے بھی بڑھ کر خوبرو تھے وہ۔ غیر شعوری طور پر وہ ان کا جلال بھائی کے ساتھ موازنہ کرنے لگی تھی۔ اسے امی، ابو کی چوائس پر ہمیشہ سے بھی بڑھ کر آج افسوس ہوا تھا کرخت چہرے والے جلال بھائی جب اپنے نام کے معنی پورے کرتے ہوئے واقعی جلال میں آتے تو لمحہ بھر میں کسی کے بھی سامنے بجو کو بے عزت کر کے رکھ دیا کرتے تھے۔ ویسے بیوی بچوں کے ساتھ بہت اچھی طرح، بڑی محبت سے رہتے تھے۔ بجُو اور بچوں کی ہر شاپنگ دبئی، سنگاپور اور لندن سے ہوتی تھی ۔ ہر سال گرمیوں کی چھٹیاں وہ لوگ یورپ میں گزارتے تھے۔ بجو سونے اور ڈائمنڈز میں لدی رہتی تھیں۔ لیکن یہ سب عیش و آسائش وہ ایک ہی منٹ میں برابر بھی کر دیا کرتے تھے۔ اپنے کرائے ہوئے عیش اور شاپنگز کے بجو کو بیچ محفل میں طعنے دے کر۔
’’میں یوں گھماتا ہوں، یوں شاپنگ کراتا ہوں۔ اس قدر عیش کرواتا ہوں۔ تھی تمہاری اوقات اس سب کی؟تمہارے باپ نے تو بس اتنی دولت کمائی تھی کہ ایک جھٹکے میں سب ختم ہوگیا۔‘‘
وہ ابو، امی کی لاڈلی ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دینے والی لالہ رخ ظفر جو شادی سے پہلے بہت نخریلی اور دوستوں کے حلقے میں بڑی مغرور مشہور تھی، پتا نہیں اپنے شوہر کے ہاتھوں یہ ذلت کس طرح سہتی تھی۔ خود دانیا کا جلال بھائی کا یہ انداز دیکھ کر ذلت اور غم و غصے سے برا حال ہوجاتا تھا۔
ایک بار اس نے بہت غصے کے عالم میں بجو کو ان کی بے حسی اور بے غیرتی کا احساس دلانا چاہا تو وہ جواباً بڑی سنجیدگی سے سمجھانے والے انداز میں بولیں۔
’’شوہر کے ساتھ گزارا کرنے کے لےے بیوی کو تھوڑا سا بے غیرت بننا ہی پڑتا ہے۔ اس رشتے میں انا کو لے آئیں تو یہ رشتہ نبھایا نہیں جاسکتا۔ اچھا یا برا جیسا بھی ہے، اب مجھے اس شخص کے ساتھ گزاراکرنا ہے۔‘‘ عجیب سا تھا ان کا فلسفہ۔ جس سے اس کو بہت اختلاف تھا۔
وہ یونہی گم صم سی بیٹھی بجو اور جلال بھائی کے بارے میں ہی سوچے چلے جارہی تھی۔ تب ہی اچانک عاصم بھائی کی آواز پر چونکی تھی۔ وہ اس سے کچھ کہہ رہے تھے۔ اپنے ذہن سے سب سوچوں کو جھٹکتے ہوئے وہ ان کی طرف متوجہ ہوگئی تھی۔ گاڑی بہت سے انجانے اور نئے نئے راستوں سے گزرتی ہوئی اس نہایت ہی عالی شان مکان کے خوب صورت سے پورچ میں جاکر رکی تو اس مکان کی خوب صورتی اور مکینوں کے ذوق کو سراہتی ہوئی گاڑی سے اتر گئی۔ پھوپھو شاید اس کی آمد کے انتظار میں گیٹ کی طرف ہی دھیان لگائے بیٹھی تھیں۔ جو فوراً ہی داخلی دروازہ کھولتی، تیزی سے درمیانی راستہ عبور کرتے پورچ میں آئی تھی۔
’’آگئی میری بیٹی۔‘‘ ہمیشہ ہی کی طرح کا انداز والہانہ اور محبت بھرا تھا۔ ان کے وجود میں سے وہی پیاری سی سانسوں کو معطر کر دینے والی خوشبو آرہی تھی، جو ہمیشہ اسے مسحور کر دیا کرتی تھی۔
وہ اس کا ہاتھ تھام کر اندر آگئیں۔
’’ردا!‘‘ انہوں نے بھابھی کو آواز دی جو غالباً کچن میں تھیں۔ ان کی آواز سنتے ہی وہ فوراً لائونج میں آئیں۔
’’کیسی ہو دانیا؟‘‘ پھوپھو کے تعارف کروانے پر انہوں نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ نرم و نازک سے سراپے والی خوب صورت سی ردا عاصم کو اس نے بہت غور سے دیکھا۔
پھوپھو اسے گھر کے باقی افراد کی عدم موجودگی کی بابت بتا رہی تھیں۔
’’ثمین ابھی کالج سے نہیں آئی۔ دائود اور تمہارے انکل بھی شام میں گھر آئیں گے۔‘‘
’’آپ کو بھی میری وجہ سے اپنے آفس سے جلدی اٹھنا پڑ گیا ہوگا۔‘‘ اس نے اپنے بالکل سامنے صوفے پر بیٹھے ہوئے عاصم بھائی سے شرمندہ سے لہجے میں کہا۔ ایسے جیسے اپنی وجہ سے ان کا وقت ضائع کروا دینے پر نادم ہورہی ہو۔
وہ ابھی اس کی اس پرتکلف سی بات کے جواب میں کچھ بول بھی نہیں پائے تھے کہ بھاگتے دوڑتے دو بچے آگے پیچھے لائونج میں داخل ہوئے تھے۔عاصم بھائی کی طرف جاتے جاتے وہ دونوں اسے دیکھ کر ٹھٹک کر رکے اور پھر فوراً ہی اس کے پاس آگئے۔
’’السلام علیکم۔ آپ دانیا پھوپھو ہیں نا؟‘‘
لڑکی نے اس سے پوچھا تھا۔ اس نے مسکراتے ہوئے سر ہلادیا اور پھر اس کے سلام کا جواب دے کر بولی۔
’’تم میرال ہو اوریہ شارم ہے۔‘‘
’’آپ کو ہم لوگوں کے نام کیسے پتا چلے؟‘‘ وہ حیران ہوئی تھی۔ وہ اس کی حیرت پر ہنس پڑی۔
پھوپھو، عاصم بھائی اور بھابھی بھی اس گفتگو پر مسکرا رہے تھے۔
’’مجھے تو یہ بھی پتا ہے کہ تم دونوں کون سے اسکول میں اور کون سی کلاسز میں پڑھتے ہو۔‘‘ اس نے ہاتھ پکڑ کر ان دونوں کو اپنے پاس بٹھالیا۔
’’بھئی اگر کھانا کھلارہی ہو تو جلدی سے کھلا دو ورنہ پھر میں چلوں۔‘‘ عاصم بھائی نے بھابھی سے کہا تو وہ جلدی سے واپس کچن میں چلی گئیں۔
کھانے کے بعد وہ پھوپھو اور بھابھی کے ساتھ بیٹھ کر باتوں میں مصروف تھیں کہ ’’لو ثمین بھی آگئی۔‘‘ ثمین کو اند رآتا دیکھ کر بھابھی بولیں۔ وہ بہت تھکے ہوئے انداز میں صوفے پر بیٹھ گئی۔ پھوپھو، عاصم بھائی اور بھابھی کے برخلاف وہ اس کے ساتھ بڑے روکھے اور خشک سے انداز میں ملی۔ چہرے پر ہلکی سی خیر مقدمی مسکراہٹ لانے کی بھی اس نے زحمت نہیں کی تھی۔
’’بھابھی! بہت سخت بھوک لگ رہی ہے۔ جلدی سے یہ بتائیں کہ آج پکایا کیا ہے؟‘‘ اس سے سلام دعا کرتے ہی وہ بھابھی کی طرف گھومی۔
’’تمہاری پسند کی ڈشز ہیں۔ فکر مت کرو۔ جائو فریش ہو کر آئو۔ میں تب تک تمہارے لےے کھانا نکالتی ہوں۔‘‘ بھابھی نے تسلی دینے والے انداز میں کہا تو وہ سر ہلاتی ہوئی فوراً کھڑی ہوگئی۔
پھوپھو اور ابو وہ دو ہی تو بہن بھائی تھے۔کسی بے غرض تھی پھوپھو کی محبت، جسے بھائی سے لاتعلقی اور بے گانگی کا کوئی شکوہ نہیں تھا۔ بہن کو زندگی بھر بھلائے رکھنے پر کوئی شکایت نہیں تھی۔ وہ حیرت سے ان کی طرف دیکھے چلی جارہی تھی۔ عصر کی اذانوں کے وقت ہی ان کی باتیں ختم ہوئی تھیں۔ نماز کے لےے اٹھتے ہوئے انہوں نے اسے کچھ دیر آرام کرنے کا مشورہ دیا۔
’’باتوں میں لگائے رکھا میں نے تمہیں۔ ایسا کرو۔ تھوڑی دیر سوجائو۔‘‘ اسے نہ تو نیند آرہی تھی اور نہ ہی یہ وقت اسے سونے کے لےے مناسب لگ رہا تھا۔ اس لےے نفی میں سر ہلاتے ہوئے انہیں اپنے بالکل فریش ہونے کا یقین دلادیا تھا۔
مغرب کے بعد انکل اور پھوپھو دونوں اس کے پاس آکر بیٹھ گئے تھے۔
’’بالکل اپنا گھر سمجھ کر رہنا یہاں۔ کسی قسم کا تکلف کرنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ انکل شاید اس کے تکلف کو محسوس کر گئے تھے اسی لےے بڑی اپنائیت سے اس سے یہ بات کہی۔
اسی وقت لائونج کا دروازہ کھول کر گھر کا وہ آخری فرد اندر آیا تھا جس سے ابھی تک وہ ملی نہیں تھی۔
’’بہت دیر لگادی بیٹا۔‘‘ اس کے سلام کا جواب دیتے ہوئے پھوپھو نے کہا تو وہ جواباً بڑی سنجیدگی کے ساتھ دیر ہوجانے کی وجہ بتانے لگا۔
وہ اندر آتے ہی اسے دیکھ چکا تھا لیکن اس نے از خود اس کے ساتھ ہیلو ہائے کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی تھی۔ پھوپھو کے تعارف کروانے پر بہت رسمی اور ہلکی سی مسکراہٹ صرف اتنی کہ اس میں کسی قسم گرم جوشی اور اپنائیت ظاہر نہ ہو، چہرے پر لاتے ہوئے اس نے دانیا سے سلام دعا کی۔ اور پھر معذرت کرتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا۔
آفس میں پہلا دن ویسا ہی گزرا جیسا وہ توقع کر رہی تھی۔ کام کی نوعیت سمجھتے اور ساتھ کام کرنے والوں کا تعارف حاصل کرتے۔ جن کے انڈر میں اسے کام کرنا تھا۔ وہ بہت ہی اصول پسند، سخت مزاج اور پروفیشنلزم پر انتہائی حدوں تک یقین رکھنے والے انسان نظر آرہے تھے۔ آفس کی طرف سے پک اینڈ ڈراپ کی کوئی سہولت نہیں تھی لیکن اس کی بعض کولیگز نے اپنے طور پر آفس آنے جانے کے لےے وین لگوائی ہوئی تھی۔ اس نے اپنے لےے بھی اسی میں آنے جانے کا بندوبست کروالیا تو بڑا سکون محسوس ہوا۔ کم از کم ایک پریشانی تو دور ہوگئی تھی۔
گھر واپسی پر پھوپھو کا اپنے لےے محبت بھرا پرتشویش انداز اسے اجنبی فضائوں میں اپنائیت کا بھرپور احساس دلا گیا تھا۔ وہ اس کی جاب کے بارے میں، وہاں کے ماحول کے بارے میں، کولیگز کے روےُے کے بارے میں ایک ایک بات پوری تفصیل سے پوچھ رہی تھیں۔ وہ ماں سے دور تھی مگر ماں کی طرح ہی اپنے لےے فکر مند ہونے اور محبت کرنے والی ایک ہستی اس کے پاس تھی۔
ز ز ز ز
آنے والے چند دن اس نے اس گھر کے ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے اور آفس میں کام سمجھنے میں گزار دےے تھے۔ آفس جاب اس کے لےے نئی بات نہیں تھی اس لےے تھوڑی سی کوشش کے بعد خودکو وہاں پر ایڈجسٹ کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔ مگر حیرت تو اسے اس بات پر تھی کہ پھوپھو کے گھر میں جو وہ یہ سمجھتی تھی کہ وہ رہ ہی نہیں پائے گی تو اس کا یہ خیال بالکل غلط ثابت ہوا تھا۔
ان کے گھر کا ماحول اس کے گھر کے ماحول سے بالکل مختلف تھا۔ لیکن پتا نہیں کیا بات تھی اسے ان کے گھر کی ہر بات اچھی لگ رہی تھی۔ ان سب گھر والوں کی آپس میں ایک دوسرے سے محبت۔ پھوپھو کی اپنے شوہر اور بچوں سے محبت۔ وہ کسی این جی او اور کسی سوشل ورک کے غم میں مبتلا نہیں تھیں۔ اپنے گھر کی فکر چھوڑ کر وہ معاشرے کو سدھارنے کی فکر میں نہیں پڑی ہوئی تھیں۔ ان بہن بھائیوں کی آپس میں محبت۔ عاصم بھائی کی اپنی بیوی اور بچوں سے محبت۔
وہ پیسہ کمانے کی دھن میں اس حد تک مگن نہیں ہوگئے تھے کہ اپنی فیملی کو نظر انداز کر دیتے۔ اس نے محسوس کیا تھا کہ اس گھر میں پیسے کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں۔ لیکن اسے اس حد تک اہمیت دینے کے لےے تیار نہیں تھے کہ رشتوں پر اسے ترجیح دے دیتے۔ اپنے گھر میں کب اس نے یہ ماحول دیکھا تھا۔ ساری زندگی ابو کو دولت بڑھانے اور آگے سے آگے بڑھنے کی فکر کرتے دیکھا تھا۔ وہ بزنس جو ابتدا میں انہوں نے بہت چھوٹے پیمانے پر شروع کیا تھا۔ آہستہ آہستہ اسے پھیلاتے چلے گئے تھے۔ اس معاملے میں امی، ابو میں زبردست ہم آہنگی تھی۔ وہ لوگ کوئی ہمیشہ سے ہی اس شان و شوکت سے نہیں رہ رہے تھے۔ اس کے پیچھے قسمت کے ساتھ ساتھ ابو کی یہ خوبی بھی تھی کہ وہ پیسہ کمانا جانتے تھے۔ لوگوں سے کونٹیکٹسکیسے بڑھانے ہیں، کن لوگوں سے ملنا فائدہ مند ہے اور کن لوگوں سے ملنا بے فائدہ اور یہی عادات امی کی بھی تھیں۔ جیسے جیسے ان کا اسٹیٹس اونچا ہوتا چلا گیا۔ وہ اپنے تمام پرانے ملنے والوں اور دوستوں کو چھوڑتے چلے گئے۔ ان کے گھر میں آئے دن گیٹ ٹو گیدرز ہوا کرتی تھیں۔ بہانے بہانے سے گھر پر پارٹیز ارینج کی جاتی تھیں اور ان پارٹیز میں چن چن کر ان تمام کاروباری دوستوں کو مدعو کیا جاتا تھا۔ جن سے کسی بھی طرح کا فائدہ حاصل ہونے کی امید تھی۔ انہیں نئے زمانے کے ساتھ چلنے کے تمام انداز آتے تھے۔ ایمانداری اور اصولوں کو وہ کتابی باتوں سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے چند ہی سالوں میں وہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے تھے۔ سوائے اپنے سگے بہن بھائیوں کے، امی کس کم حیثیت آدمی سے ملنا ہرگز پسند نہیں کرتی تھیں۔ ان بہن بھائیوں نے اسی ماحول میں پرورش پائی تھی۔
لیکن اس پر پتا نہیں کیوں ان باتوں کا کبھی کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ وہ دوستی کرتے وقت کبھی مقابل کے اسٹیٹس کی طرف دھیان نہیں دیتی تھی۔ حالانکہ بجُو اس معاملے میں بالکل امی اور ابو کی جیسی سوچ رکھتی تھیں۔ امی اور بجُو کو اس سے بہت سی شکایتیں تھیں۔ پتا نہیں وہ کس پر پڑی تھی۔ اسے ملازمین کے ساتھ برابری کے درجے پر بات کرتا دیکھ کر امی کا بلڈ پریشر ہائی ہوجایا کرتا تھا۔ بجُو اس کی غریب پروری کا مذاق اڑایا کرتی تھیں۔
بعض دفعہ کئی کئی دن ہوجاتے ابو کو ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائے ہوئے۔ اسے یہ بات اچھی نہیں لگتی تھی۔ اس کا دل چاہتا تھا وہ ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کیا کریں۔ ساتھ کھانا کھایا کریں۔ وہ کبھی ایسی کسی خواہش کااظہار کرتی بھی تو امی جھٹ اسے ٹوک دیتیں۔
’’بہت ضروری ڈنر میں شرکت کرنا ہے تمہارے ابو کو۔ پتا ہے وہاں کون کون آیا ہوا ہوگا۔ اس قسم کے ڈنرز تو کسی بھی قیمت پر نہیں چھوڑنا چاہےے۔‘‘ ہنس کی چال چلنے کی کوشش کرتے وہ اپنا اصل ہی بھول گئی تھیں۔ اپر کلاس کی بیگمات والے تمام شوق انہوں نے اختیار کر لےے تھے۔ کرسٹلز اور ڈائمنڈز کی باتیں، دبئی کے شاپنگ مالز کی باتیں، سوشل ورک اور مظلوم عورتوں کو ان کے حقوق دلوانے کی باتیں۔
پھوپھو ہمیشہ ان لوگوں سے فون پر رابطہ رکھا کرتی تھیں۔ کبھی ابو گھر پر ہوتے تو ان سے بات کر لیتے ورنہ اگر کوئی اور فون اٹینڈ کر کے بعد میں انہیں میسج دیتا تو انہیں کبھی اس بات کے لےے وقت نہیں ملتا تھا کہ انہیں جوابی کال کرلیں۔
وہ شاید اس حد تک مادہ پرست ہوگئے تھے کہ سگی بہن سے ملتے ہوئے بھی ان کے ذہن میں یہ بات رہتی تھی کہ اس سے ملنے میں کیا فائدہ ہے۔ ایک کالج پروفیسر کی بیوی سے ملنے میں نہ امی کو کوئی فائدہ نظر آتا تھا نہ ابو کو۔ لیکن وہ بھائی سے یقینا بہت محبت کرتی تھیں، جو کبھی اس کے روےے پر ناراض نہ ہوئی تھیں۔
اسی طرح ہر دوسرے تیسرے مہینے فون کرکے بھائی، بھاوج اور بچوں کی خیریت معلوم کیا کرتی تھیں۔ امی نے انہیں کبھی کوئی اہمیت نہیں دی تھی مگر ایک روز جب وہ اپنے اعلا تعلیم یافتہ مگر کنگلے بیٹے کا رشتہ ان سے مانگ لینے کی جسارت کر بیٹھیں تو امی خود بخود بھی سخت طیش میں آگئیں۔ پھوپھو نے فون پر ابو سے رشتے کی بات کی تھی۔
’’یہ اچھا شارٹ کٹ نکالا ہے۔ سوچا ہوگا ماموں اتنا مالدار ہے میرے بیٹے کی تو زندگی بن جائے گی۔ خود کے میاں میں تو کوئی گٹس تھے نہیں۔ ساری زندگی حلال حرام کرتے، پروفیسری کرتے گزار دی۔ اب بھائی سے محبت کا ڈرامہ رچا کر بیٹے کا مستقبل سنوارنے کی تدبیر کی جارہی ہے۔‘‘
امی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ پھوپھو کو ایسی ایسی سنائیں کہ ان کی طبیعت صاف ہوجائے۔ ان کی جرأت کیسے ہوئی ان کی نازوں پلی حسین بیٹی کا اپنے بیٹے کے ساتھ نام لینے کی۔ وہ عاصم بھائی کے کیریئر کی شروعات تھی۔ انہوں نے نئی نئی جاب شروع کی تھی اگر چہ یہ بات کسی اندھے کو بھی نظر آسکتی تھی کہ ان کے کیریئر کا آغاز ہی بہت شاندار ہے۔ آگے ترقی اور کامیابی کے واضح امکانات تھے۔ مگر غرور اور گھمنڈ کی جو پٹی امی کی آنکھوں پر بندھی تھی اس نے انہیں یہ بات دیکھنے ہی نہیں دی تھی کہ وہ خود اپنے ہاتھوں ایک ہیرے کو ٹھکرا رہی ہیں۔
پھوپھو کو انکار کر کے امی ابو نے جلال بھائی کا رشتہ قبول کر لیا تھا۔ وہاں رشتہ طے کرنے میں فائدے ہی فائدے تھے۔ اپنے سے بھی اونچے خاندان میں بیٹی بیاہ کر انہوں نے اپنی عقل مندی اور بیٹی کی خوش قسمتی پر ناز کیا تھا۔ رشتے سے انکارہونے پر پھوپھو کو یقینا دکھ تو ہوا ہوگا لیکن انہوں نے پھر بھی بھائی سے قطع تعلق نہیں کیا تھا لیکن اب امی ان سے پہلے سے بھی زیادہ چڑنے لگی تھیں۔ انہیں ایسا لگتا تھا کہ وہ بھائی کی دولت پر نظریں لگائے بیٹھی ہیں اور یہ محبت صرف ڈھکوسلہ ہے۔
ابو جو یہ سمجھتے تھے کہ یہ تمام دولت انہوں نے اپنی ذہانت اور عقل مندی سے کمائی ہے۔ اب اپنی تمام تر ذہانت اور عقل مندی کے باوجود وہ اسے ہاتھوں سے نکلتا ہوا محسوس کر رہے تھے۔ جس کام میں اپنی طرف سے خوب سوچ سمجھ کر ہاتھ ڈالتے، اسی میں انہیں بھاری نقصان ہوتا۔ وہ بہت پریشان اور الجھے ہوئے رہنے لگے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہیں کوئی ڈوری الجھ گئی ہے۔ تقدیر کی مہربان پری ان سے روٹھ گئی تھی جو لوگ ان سے تعلقات بڑھانے اور کاروباری معاملات طے کرنے میں فخر محسوس کیا کرتے تھے، آہستہ آہستہ ان کھنچنے لگے تھے۔ دوستوں کا رویہ تبدیل ہونے لگا تھا۔
اپنے آفس ہی میں انہیں ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔ اتنا شدید کہ وہ اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی اپنے آخری سفر پر روانہ ہوگئے تھے۔ اس روز بھی انہوں نے اپنے نقصان کی خبر سنی تھی۔ ان کا پہلے ہی سے پریشان اور فکروں میں ڈوبا دل اس خبر کو برداشت نہیں کر پایا تھا۔ خود کو اس مالی بحران سے نکالنے اور کاروباری کو سنبھالا دینے کے لےے انہوں نے مختلف جگہوں سے مختلف شکلوں میں بے تحاشا قرض لے رکھا تھا۔ ان کی زندگی میں تو وہ لوگ اس بات سے آگاہ نہیں تھے مگر ان کے مرنے کے بعد جب یہ ہولناک خبر ان لوگوں کو ملی تو ابو کا غم بھول کر وہ لوگ اس فکر میں مبتلا ہوگئے کہ اب ہوگا کیا۔
ان کی سب پراپرٹی، سارا بینک بیلنس سب ختم ہوگیا تھا۔ وہ بہت ساری جائیداد جو اتنے سالوں میں انہوں نے بڑی محنت سے بنائی تھی، سب فروخت کرنی پڑ گئی تھی۔ صرف وہ گھر جس میں وہ لوگ رہتے تھے بکنے سے رہ گیا تھا۔ یوں لگتا تھا، اب ان لوگوں کو زندگی نئے سرے سے شروع کرنی پڑے گی۔
وہ ان دنوں اپنے آخری سمسٹر میں مصروف تھی۔ امی کی ساری سوشل ایکٹویٹیز، پارٹیز، فنکشنز، لوگوں سے میل جول سب ختم ہوگیا تھا۔ وہ سارا سارا دن کمرے میں چپ چاپ پڑی رہتی تھیں۔ عادل اور شہود بھی اداس اداس اور خاموش رہنے لگے تھے۔ جلال بھائی کا رویہ تو ابو کی زندگی ہی میں بہت بدل گیا تھا۔ وہ بھی ابو اور امی کی طرح رشتہ داری میں بھی فائدہ نقصان ذہن میں رکھا کرتے تھے۔ اب سسرال سے کوئی فائدہ ملنے کی امید نہیں تھی، اس لےے وہ ان لوگوں کے ہاں زیادہ آنا جانا پسند نہیں کرتے تھے۔
امتحانوں سے فارغ ہوتے ہی اسے جاب مل گئی تھی۔ جتنی اس کی سیلری تھی، اتنے پیسوں کی ابو کی زندگی میں وہ ڈھنگ کی شاپنگ تک نہیں کر سکتی تھی۔ پہلے مہینے جب اپنی بے حد معمولی مگر بڑی محنت سے کمائی ہوئی تنخواہ اس کے ہاتھ میں آئی تو خوشی کے ساتھ ساتھ اسے ایک عجیب سا احساس بھی ہوا۔ اتنے پیسے تو امی بڑے آرام سے بیوٹی پارلر میں خرچ کر آیا کرتی تھیں۔ جتنے پیسوں کی آج ان کی بیٹی کو نوکری ملی تھی۔ آخر وہ بھی تو اسی گھر اور اسی ماحول کا حصہ تھی۔ اس نے بھی تو یہیں پرورش پائی تھی پھر آخر اسے ہی صرف ایسا کیوں لگ رہا تھا کہ یہ ان لوگوں کے بڑے بولوں کی سزا ہے۔ امی کی اپنے سے کم تر کو حقیر سمجھنے کی سزا ہے۔
ز ز ز ز
اسے پھوپھو کے گھر رہتے ہوئے دو مہینے ہوگئے تھے۔ ثمین کے علاوہ یہاں سب کا رویہ اس کے ساتھ اچھا تھا۔ دائود گو اس کے ساتھ بہت زیادہ گفتگو نہیں کرتا تھا۔ اکثر کھانے کی میز پر یا آتے جاتے اس پر نظر پڑنے پر سلام دعا کر کے ’’کیسی ہو؟‘‘، ’’جاب کیس چل رہی ہے؟‘‘جیسے رسمی جملے بول دیا کرتا تھا۔ بالکل اس طرح جیسے آپ کسی مہمان کے ساتھ رسمی طور پر اخلاق برتتے ہیں۔
اس سے براہ راست کچھ کہے بغیر ثمین نے یہ بات واضح کر دی تھی کہ وہ اس سے سخت نفرت کرتی ہے اور اس سے بات کرنا، اس کے ساتھ بیٹھنا اسے کچھ بھی پسند نہیں ہے۔ چند ابتدائی کوششوں کے بعد وہ خود بھی پیچھے ہٹ گئی تھی۔ اسے ثمین کے روےے پر دکھ ہوتا تھا لیکن وہ اسے اس روےُے کے لےے حق بجانب بھی سمجھتی تھی۔
پھوپھو کے اپنے سسرالی رشتے داروںسے مثالی تعلقات تھے۔ ان کی نندیں، دیور سب ان کی بے حد عزت کرتے تھے۔ ہر کام کرنے سے پہلے ان سے مشورہ کرنا پسند کرتے تھے۔ ان کی رائے اور ان کا مشورہ سب کے لےے بے حد اہمیت کا حامل تھا۔ بھابھی خود پھوپھو کی نند کی بیٹی تھیں اور شادی کے اتنے برسوں بعد، رشتے کی نوعیت تبدیل ہوجانے کے باوجود بھی بھابھی کے میکے والوں سے پھوپھو کے تعلقات اتنے ہی اچھے تھے جتنا اس رشتہ سے پہلے تھے۔ کسی کے گھر میں کوئی مسئلہ، کوئی پریشانی ہوتی وہ پھوپھو کے پاس یوں دوڑتا آتا جیسے کوئی بچہ پریشانی میں ماں کو تلاش کرتا ہوا آتا ہے۔ ان سب کزنز کی بھی آپس میں بہت اچھی دوستی تھی۔
ثمین جس کے چہرے پر اس کے لےے ہلکی سی دوستانہ مسکراہٹ بھی نہیں آتی تھی۔ اپنی کزنز کے ساتھ بلند بانگ قہقہے لگاتی تھی۔ اس روز بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ پھوپھو کے دیور کا گھر ان سے اگلے ہی بلاک میں تھا۔ ان لوگوں کا ایک دوسرے کے گھر بہت زیادہ آنا جانا تھا۔ اس روز ثمین اپنی دونوں کزنز کے ساتھ لان میں بیٹھی باتیں کرتی ہوئی سموسوں اور چائے سے لطف اندوز ہورہی تھی۔ چھٹی کا دن تھا۔ بالکل فارغ بیٹھ کر ٹی وی دیکھتی وہ بے تحاشا بور ہورہی تھی۔ گلاس ڈور سے اس پار لان میں باتیں کرتی وہ لوگ اسے صاف نظر آرہی تھیں۔ زندہ دلی سے ہنستی، قہقہے لگاتی اس نے یونہی اسکرین پر سے نظریںہٹا کر ان لوگوں کو بڑے غور سے دیکھا تھا۔ اسے ان خوش باش ہنستی کھلکھلاتی لڑکیوں کو دیکھنا اچھا لگ رہا تھا۔
اس کا بھی جی چاہا کہ وہ ان کے ساتھ بیٹھے مگر یہ صرف لمحہ بھر کی سوچ تھی۔ ثمین کا اجنبی سا انداز ذہن میں آیا تو اس نے فوراً سر جھٹک کر نظریں دوبارہ ٹی وی کی طرف کر لی تھیں۔
’’کیا بات ہے دانیا! تم اکیلی کیوں بیٹھی ہو؟‘‘ عاصم بھائی، بھابھی اوربچے کہیں باہر سے گھوم پھر کر واپس آئے تھے۔ چلتے وقت اخلاقاً انہوں نے اس سے بھی چلنے کوکہا تھا مگر اس نے تھکن کا بہانہ بنا کر معذرت کر لی تھی۔
’’ہاں۔ باہر وہ ثمین، ندا اور سحر بیٹھی ہیں۔ تم ان کے ساتھ کیوں نہیں بیٹھیں۔ اکیلے بور نہیں ہورہیں؟‘‘ بھابھی نے بھی محبت سے اس سے کہا۔
’’اصل میں یہ پروگرام بڑا زبردست آرہا ہے۔ اسے انجوائے کرتے ہوئے مجھے بور ہونے کا وقت ہی نہیں ملا۔‘‘
اس سے یہ بات کہی نہیں جاسکی تھی کہ ثمین نے اسے باہر بلایا ہی نہیں تھا۔ لیکن عاصم بھائی نے بڑی سنجیدگی سے اس کی بات سنی۔ بہت غور سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے وہ شاید کوئی بات اخذ کرنا چاہتے تھے۔ ان کی نظروں سے کنفیوز ہو کر وہ انہیں اس ٹی وی پروگرام کے بارے میں بتانے لگی تھی۔
وہ رات کو اپنے اگلے دن پہننے والے کپڑے استری کر کے واپس لائونج میں آئی تو پھوپھو، ثمین کو ڈانٹ رہی تھیں۔ عاصم بھائی اور دائود بھی وہیں بیٹھے ہوئے تھے۔
’’آپ محبت نچھاور کریں اپنی لاڈلی بھتیجی پر۔ میں ایسے رشتے داروں کو دور سے سلام کرتی ہوں۔‘‘
پتا نہیں اس سے پہلے پھوپھو نے اس سے کیا کہا تھا۔ جس کے جواب میں اس نے بہت چڑچڑے انداز میں کہا۔
’’جو بھی ہے، وہ ہمارے گھر مہمان ہے۔ میں کئی دنوں سے تمہیں اس حوالے سے ٹوکنا چاہ رہا تھا۔ آج وہ جس طرح اکیلی بیٹھی ہوئی تھی مجھے بہت برا لگا۔‘‘عاصم بھائی نے بہن کو ٹوکتے ہوئے کہا۔
’’ہماری امی ہی کافی تھیں سارے جگ پر محبتیں نچھاور کرنے کے لےے۔ آپ کو کیا ہوگیا ہے بھیا! زہر لگتی ہے مجھے ماموں کی ساری فیملی۔ اپنا مطلب پڑا تو رشتہ داری یاد آگئی ورنہ کبھی پلٹ کر بہن کو پوچھا تک نہیں تھا۔ یہ بھی تو ممانی ہی کی بیٹی ہے۔ اپنی اماں اور بہن صاحبہ سے کیا مختلف ہوگی۔‘‘
ثمین نے بڑی خفگی سے ان کی بات کا جواب دیا۔ وہ چپ چاپ آکر سونے لیٹ گئی تھی۔
اسے ثمین کی اپنے لےے نفرت بہت بری اور تکلیف دہ لگی تھی۔ وہ اسے بتانا چاہتی تھی کہ میں ایسی نہیں ہوں جیسا تم سمجھ رہی ہو لیکن اسے یہ بات بتا نہیں سکتی تھی۔
ز ز ز ز
صبح وہ معمول کے انداز میں ہی جلدی جلدی تیار ہو کر بھابھی کے پاس کچن میں آگئی۔
’’مجھے بتائیں، کیا کام رہ گیا ہے؟‘‘ اس نے کچن میں آتے ہی بھابھی کو مخاطب کیا۔ جو شارم کو دودھ پینے کے لےے بڑی مشکلوں سے راضی کر رہی تھیں۔ شارم اور میرال دونوں کچن ٹیبل پر ہی بیٹھے ناشتا کر رہے تھے۔ بھابھی نے بڑے تشکرانہ انداز میں اس کی طرف دیکھا تھا۔
’’شکر تم آگئیں۔ دائود کو آفس سے دیر ہورہی ہے۔ ذرا جلدی سے یہ آملیٹ فرائی کر کے اسے دے آئو۔‘‘ وہ سر ہلاتی ہوئی کوکنگ رینج کی طرف مڑی تھی۔ چولہے پر فرائنگ پین رکھ کر اس نے جلدی جلدی آملیٹ تیار کیا تھا۔ بڑی احتیاط کے باوجود بھی اس سے اس شکل صورت کا آملیٹ نہیں بن سکا تھا جیسا بھابھی بناتی تھیں۔ وہ اس کی شکل و صورت پر غور کرتی پلیٹ اٹھا کر ڈائننگ روم میں آئی۔
اخبار پڑھتے دائود کے سامنے اس نے پلیٹ رکھی تو بھابھی کے بجائے اسے اپنی خدمت کرتا دیکھ کر وہ ایک پل کے لےے چونکا۔ وہ پلیٹ رکھتے ہی فوراً واپس پلٹ گئی۔ کچن کے دروازے پر رکی، وہ دائود کو آملیٹ کی طرف حیرت سے دیکھتا دیکھ رہی تھی۔ روزانہ سے مختلف شکل والا یہ آملیٹ اسے یقینا حیران کررہا تھا۔ لیکن بس اس نے ایک لمحہ ہی کے لےے اسے حیرت سے دیکھا تھا پھر اس کے بعد وہ کھانے میں مصروف ہوگیا تھا۔
ز ز ز ز
ثمین نے اس کے ساتھ اپنے روےے میں قدرے تبدیلی پیدا کرلی تھی۔ بہت پرتکلف انداز میں وہ اس کے ساتھ تھوڑی بہت بات چیت کرنے لگی تھی مگر اس کے چہرے پر بے زاری اور جھنجلاہٹ صاف نظر آیا کرتی تھی۔ اس روز وہ آفس سے واپس آئی تو ثمین کو کچن میں دل و جان سے مصروف دیکھ کر چونک گئی۔ کچن میں نظر آتا پھیلاوا اور ثمین کی مصروفیت یہ ظاہر کر رہے تھے کہ شاید گھر میں کوئی دعوت ہے۔
’’بہت شاندار دعوتی اہتمام ہورہا ہے۔‘‘ وہ کپڑے بدل کر پھوپھو کے پاس ہی آکر لائونج میں بیٹھ گئی۔
’’بس یہ ان بچوں کے شوق ہیں۔ آج کالج بھی نہیں گئی ثمین، صبح سے کچن میں لگی ہے۔ میرے اور ردا کے کچن میں داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے۔ پتا نہیں شمیم کو ساتھ لگائے کیا پکارہی ہے۔‘‘ انہوں نے لاپروائی سے جواب دیا۔
’’آپ نے اب تک کپڑے بھی نہیں بدلے۔‘‘ ثمین کچن سے نکل کر لائونج میں آئی تھی۔
’’ارے ہٹائو بھی۔ اب اس عمر میں کوئی یہ چونچلے اچھے لگتے ہیں۔ سالگرہ بچوں کی منائی جاتی ہے یا بڈھوں کی۔ ٹھیک ہیں یہی کپڑے۔‘‘ انہوں نے بیٹی کی فرمائش کو کوئی اہمیت نہیں دی تھی۔ وہ جو بات سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ سالگرہ کے ذکر پر خود ہی بات سمجھ گئی۔
’’پلیز امی! میں نے کپڑے استری کر کے آپ کے کمرے میں رکھے ہوئے ہیں۔ ہم لوگوں کی خاطر ہی تیار ہوجائیں۔‘‘ وہ ملتجیانہ انداز میں بولی۔
ابھی ان دونوں کے درمیان یہ بحث ہورہی تھی کہ لائونج کا دروازہ کھول کر دائود اندر آیا۔ بہت سے شاپنگ بیگز ہاتھوں میں پکڑے، خوب لدا پھندا۔
’’سنبھالو انہیں۔‘‘ اس نے ثمین کو سارے تھیلے پکڑائے تھے۔ وہ کھڑے کھڑے ہی تمام تھیلے چیک کرنے لگی۔
’’شکر آپ کیک لے آئے دائود بھائی! میں یہی سوچ رہی تھی کہ آج تو میں نے بھی کیک بیک نہیں کیا۔ اگر آپ کیک لانا بھول گئے تو مزا آجائے گا۔‘‘ ثمین نے گویا اطمینان کا سانس لیا تھا۔
’’کیک لانا تو میں بھول ہی نہیں سکتا تھا۔ بڑی یاد سے صبح ہی آرڈر کرتا ہوا گیا تھا۔ پچھلی بار جو تم نے شاندار قسم کا کیک بنایا تھا اسے کاٹنے کے لےے سب آری ڈھونڈ رہے تھے، اس کے بعد تو میں کسی بھی طرح کا رسک لے ہی نہیں سکتا تھا۔‘‘
وہ ثمین کو چڑاتا ہوا پھوپھو کے برابر ہی صوفے پر بیٹھ گیا۔ موبائل ایک طرف ڈالتے ہوئے اس نے ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کی تھی۔
’’یہ سب بعد میں دیکھ لینا۔ پہلے مجھے ایک گلاس ٹھنڈا پانی پلائو۔ آفس سے تھکا ہارا بازاروں میں خوار ہوتا ہوا آرہا ہوں۔‘‘
اس نے سامان کاجائزہ لیتی ثمین کو ٹوکا تو وہ سب چیزیں ہاتھوں میں اٹھائے واپس کچن میں چلی گئی۔ وہ بہت خاموشی سے ان لوگوں کی گفتگو سن رہی تھی۔ ثمین نے دائود کو پانی لا کر دیا۔ اسی دوران سیڑھیاں اترتی بھابھی بھی اسے نظر آگئیں۔ بہت خوب صورت بلیک کلر کی ساڑھی پہنے وہ خوب سجی سنوری اور پیاری لگ رہی تھیں۔
’’کیا مزے دار اور دلچسپ اتفاق ہے کہ ہم لوگوں کی ویڈنگ اینورسری ایک ہی دن ہوتی ہے۔‘‘
’’سوئیٹ بھابھی جان! یہ اتنا زیادہ اتفاقیہ واقعہ بھی نہیں ہے آپ لوگوں کی شادی کی وہی ڈیٹ رکھنے میں جو امی، پاپا کی بھی شادی کی تاریخ تھی۔ میرے خیال سے پاپا کی اس سوچ کا زیادہ دخل تھا کہ میرے بیٹے کی شادی شدہ زندگی بھی اتنی ہی اچھی اور کامیاب گزرے جتنی میری گزری۔‘‘
دائود نے بھابھی کی بات کا جواب بڑے شرارتی سے انداز میں دیا۔ آپس میں بات چیت کرتے وہ لوگ عاصم بھائی کا انتظار کر رہے تھے۔ جن کے آفس سے آنے پر سالگرہ منائی جانی تھی۔اسے ثمین پر شدید قسم کا غصہ آرہا تھا۔ لاکھ وہ اسے ناپسند کرتی ہے مگر سے کم از کم یہ بات تو دانیا کو بتا دینی چاہےے تھی کہ آج پھوپھو اور انکل اور عاصم بھائی اور بھابھی کی شادی کی سالگرہ ہے۔ وہ ان کے گھر کی فرد نہیں مگر فی الحال تو وہ ان ہی کے گھر میں رہ رہی ہے۔ اسے بے تحاشا انسلٹ کا احساس ہوا تھا۔
اسے ایسا لگا وہ ان سب سے الگ ہے۔ وہ بالکل پرائی اور غیر۔ اس کا دل چاہا اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی جائے۔ اپنی یہاں موجودگی اسے بڑی بے معنی اور فضول لگ رہی تھی۔
’’ہر سال یہ لوگ اسی طرح امی پاپا ،مجھے اور عاصم کو سرپرائز دیتے ہیں۔ ایک ایسا سرپرائز جو اتنا زیادہ سرپرائز بھی نہیں ہوتا۔ پتا ہوتا ہے ہمیں کہ کچھ نہ کچھ خفیہ تیاریاں ہورہی ہیں۔ کھانے کے لےے مینو سوچا جارہا ہے۔ چھپ چھپ کر تحفے خریدے اور پیک کےے جارہے ہیں۔‘‘ بھابھی مسکراتے ہوئے اس کے برابر میں بیٹھ گئیں۔ اس کا ان کی بات کے جواب میں کچھ بھی بولنے کا دل نہیں چاہا۔ وہ رسمی سے انداز میں مسکرائی تک نہیں۔
بھابھی نے اس کی خاموشی پر کچھ چونک کر بغور اس کی طرف دیکھا۔ انہیں ایک دم احساس ہوا تھا کہ وہ بہت زیادہ چپ بیٹھی ہوئی ہے۔
’’تمہیں کیا ثمین نے بتایا نہیں تھا؟‘‘ انہوں نے آہستگی سے پوچھا۔ سامنے بیٹھی پھوپھو جو اس سالگرہ کے سارے اہتمام کو ایک بچکانہ بات سے زیادہ اہمیت نہیں دے رہی تھیں۔ وہ بھی بے ساختہ بھتیجی کی طرف متوجہ ہوئیں۔ ثمین پر بہت زیادہ غصے کے باوجود وہ اس وقت اپنی وجہ سے وہاں کا ماحول خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔ پھوپھو اور باقی تمام افراد اس بات پر یقینا ثمین کو بہت کچھ کہتے۔ خوشی کی تقریب میں اس کی وجہ سے ٹینشن اور بدمزگی پیدا ہو، یہ اسے گوارا نہیں تھا۔اس نے بہت خوش خوش لائونج میں آتی اور اپنے بالکل سامنے صوفے پر بیٹھی ثمین کے چہرے پر ایک نگاہ ڈالی اور پھر جواباً بولی۔
’’اس وقت بیٹھی میں اسی بات کا تو افسوس کر رہی ہوں۔ پتا نہیں میری یادداشت اتنی خراب کیوں ہوگئی ہے۔ میرا خیال ہے اب مجھے نہار منہ بادام کھانے شروع کر دینے چاہئیں۔ ابھی گھر واپس آکر سارا اہتمام دیکھ کر بھی مجھے یاد نہیں آیا کہ آج کیا دن ہے۔ حالانکہ پچھلے ہفتہ ثمین نے مجھے بتایا تھا کہ 16th کو آپ لوگوں کی شادی کی سالگرہ ہے اور شرمندہ ہورہی ہوں کہ آفس سے جلدی آجاتی کچھ ثمین کی ہیلپ ہی کرادیتی۔ بے چاری اکیلی کاموں میں لگی رہی۔‘‘
ثمین کا چہرہ جو اس کے جواب سے پہلے بالکل فق ہوگیا تھا، ایک دم نارمل ہوگیا۔ اس نے اتنے مضبوط لہجے میں جھوٹ بولا تھا کہ اس پر جھوٹ ہونے کا گمان تک نہیں کیا جاسکتا تھا۔ ہاتھ ملتی وہ بہت ہی متاسفانہ انداز میں اپنی یادداشت کو برا بھلا کہہ رہی تھی۔
’’چھوڑو بھی یہ کون سی ایسی خاص تقریب ہے۔ جس کے یاد نہ رکھے جانے پر افسوس ہو۔ میں تو ان لوگوں سے کہتی ہوں کہ بس عاصم اور ردا کی شادی کی سالگرہ منائی جانی کافی ہے۔ یہ لوگ بلاوجہ ہم بڑھیا بڈھے کو بھی گھسیٹ لیتے ہیں۔‘‘ پھوپھو سے بھتیجی کا افسوس زیادہ دیر تک برداشت نہیں ہوا۔ ثمین اس سے نظریں چرائے بالکل خاموش بیٹھی ہوئی تھی۔
دائود جو بڑی دیر سے لاپروائی سے بیٹھا شارم سے باتیں کر رہا تھا۔ اپنی گفتگو موقوف کر کے اس نے بہت غور سے اسے اور پھر ثمین کی طرف دیکھا تھا۔ اس کی ایک نظر کے بعد کسی بھی طرح کا ردُِ عمل ظاہر کےے بغیر وہ دوبارہ شارم کے ساتھ کھیلنے لگا۔ اسے گدگدا کر ہنساتا، وہ بھتیجے کے ساتھ مگن تھا جبکہ بھابھی، پھوپھو کے اس دن کی مخالفت میں دےے جانے والے کمنٹس سے اختلاف کر رہی تھی۔
’’آخر حرج کیا ہے امی اس بات میں۔ ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں تو زندگی کا حسن ہے۔ بڑی خوشیاں تو زندگی میں بہت کم کم اور بہت دنوں میں آتی ہیں۔ کیا یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ جن لوگوں کے ساتھ آپ زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ وقتاً فوقتاً آپ کو اپنی محبت کا احساس دلاتے رہیں۔ یہ بتاتے رہیں کہ آپ کا وجود ان کے لےے بہت اہم ہے۔‘‘ پھوپھو، بھابھی کی بات پر تائیدی انداز میں مسکرادیں۔یوں جیسے ان کی بات سے سو فیصد متفق ہوگئی ہوں۔
عاصم بھائی کو آتا دیکھ کر ثمین جلدی سے سجی ہوئی ڈائننگ ٹیبل کو فائنل ٹچز دینے کے لےے اٹھی تھی۔ کچھ دیر پہلے کیونکہ وہ اس بات پر افسوس کا اظہار کر چکی تھی کہ اس نے ثمین کو اس سارے اہتمام میں کوئی مدد نہیں کروائی، اسی لےے اپنی بات نبھانے کے لےے خود بھی اٹھ کر اس کے پاس ڈائننگ روم میں آگئی تھی۔ثمین بہت شرمندہ سی نظر آرہی تھی، وہ بغیر کچھ جتائے اس کی مدد کروانے لگی تھی۔
سب کے ساتھ مل کر اس گھریلو سی تقریب میں شرکت کرتی وہ خود کو اس ماحول کا حصہ ثابت کرنے کی پوری پوری کوشش کر رہی تھی ورنہ درحقیقت اس کا دل یہاں سے بھاگ جانے کو چاہ رہا تھا۔
’’آئی ایم سوری دانیا! مجھے آپ کویہ بات بتا دینی چاہےے تھی۔‘‘ وہ سونے کے لےے لیٹ ہی رہی تھی جب ثمین اس کے کمرے میں آئی۔
وہ آج کی بات پر ثمین سے بہت بری طرح متنفر ہوگئی تھی۔ اسے اس لڑکی پر بے پناہ غصہ تھا لیکن اس وقت جس طرح وہ شرمندگی سے سرجھکائے ہوئے کھڑی تھی۔ اسے دیکھ کر اسے بے ساختہ اس بات کا احساس ہوا کہ بظاہر بدتمیز اور بداخلاق نظر آنے والی یہ لڑکی اصل میں ایسی نہیں۔ اس کے چہرے پر معصومیت تھی، اپنے روےے پر شرمندگی تھی اس کے بڑے پن کا اعتراف تھا۔
’’آپ نے میری بدتمیزی کو اتنے بڑے پن سے نبھایا۔ سب کے سامنے جھوٹ بول کر میر ی بداخلاقی پر پردہ ڈالا۔ اگر امی اور پاپا کو اصل بات پتا چل جاتی تو وہ مجھ پر بہت ناراض ہوتے۔ سب کا موڈ خراب ہوتا اور تقریب کا سارا مزا ہی ختم ہوجاتا۔‘‘ وہ بیڈ پر اس کے پاس ہی آکر بیٹھ گئی۔ سر جھکائے وہ اس سے نظریں نہیں ملا رہی تھی۔
’’چلو کوئی بات نہیں میں نے تمہیں معاف کیا۔ تم بھی کیا یاد کرو گی لیکن اب میں اتنی اچھی بھی نہیں ہوں۔ تھوڑی بہت پینلٹی تو تمہیں دینی ہی پڑے گی اکیلے شاپنگ کرنے کا مجھے کوئی تجربہ نہیں۔ اب کل تم ہی مجھے بازار لے کر چلو گی تاکہ میں پھوپھو اور انکل اور عاصم بھائی اور بھابھی کے لےے گفٹس خرید سکوں۔ کل میرا ہاف ڈے ہوگا۔ تم لنچ کے بعد تیار رہنا۔ کھانا کھاتے ہی ہم بازار چلیں گے۔‘‘ ثمین نے بڑی بہنوں والے اس کے انداز پر بڑے متعجب سے انداز میں اس کی طرف دیکھا۔
’’ٹھیک ہے نا؟‘‘ اس کی طرف دیکھتے اس نے تصدیق چاہی تو ثمین نے گردن ہلادی۔
’’آپ بہت اچھی ہیں دانیا! میں آپ کو بالکل غلط سمجھتی تھی۔‘‘
’’ہم اکثر لوگوں کو غلط ہی سمجھتے ہیں۔ دراصل لوگوںکو سمجھنا ہے ہی بہت مشکل کام۔ اتنا مشکل میرا خیال ہے اس سبجیکٹ میں بھی یونیورسٹیز میں کوئی ڈگری پروگرام شروع ہونا چاہےے۔‘‘ وہ بے تکلفی سے کہتے ہوئے مسکرائی۔ ثمین بھی اتنی دیر میں پہلی مرتبہ مسکرائی۔
’’ویسے چھوٹا بننے والے کوئی مسئلے مجھے لاحق نہیں ہیں۔ تم چاہو تو بڑی خوشی سے مجھے آپی، باجی جو چاہے کہہ سکتی ہو۔ میں ہر گز برا نہیں مانوں گی۔‘‘
وہ شرارتی سے انداز میں مسکرائی۔ ثمین اس کی بات پر کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
’’اکثر لوگ برا مان جاتے ہیں نا۔ اس لےے میں تو کوشش کرتی ہوں کہ اپنے سے بڑی کسی خاتون کو آنٹی، باجی کہے بغیر صرف آپ جناب سے ہی کام چلالوں۔‘‘ وہ بے تکلفانہ انداز میں اس کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگی۔
ز ز ز ز
عاصم بھائی، بھابھی اور بچے گھومنے کے لےے ہانگ کانگ اور بنکاک گئے ہوئے تھے۔ ان لوگوں کے جانے کے بعد گھر میں بہت خاموشی اور اداسی سی محسوس ہورہی تھی اسے۔ بچوں کے ہونے سے گھر میں خوب شور شرابا اور ہنگامہ رہا کرتا تھا۔ اب ان کے بغیر بڑی خاموشی محسوس ہورہی تھی۔
’’بھیا لوگوں کے جانے سے بڑی بوریت ہورہی ہے نا۔‘‘ رات کے کھانے کے بعد وہ اور ثمین لان میں واک کرتے ہوئے باتیں کررہی تھیں۔ اس نے گردن ہلا کر اس کی بات کی تائید کی۔
’’چلو یار سونا نہیں ہے۔‘‘ ثمین کا اندر جانے کا موڈ نہ دیکھ کر اس نے خود ہی اسے ٹوکا۔ وہ اس کے جمائی لینے اور اندر جانے کی بات پر چڑ گئی تھی۔
’’آج تو ویک اینڈ ہے۔ آج بھی آپ جلدی سوئیں گی۔‘‘ وہ اس کے جلدی سونے کی عادت پر ناراض نظر آرہی تھی۔
’’سونے کو تھوڑی کہہ رہی ہوں۔ اندر چلتے ہیں۔ کمرے میں بیٹھ کر ٹی وی دیکھیں گے اور ساتھ باتیں کریں گے۔‘‘ وہ اس کی ناراضی کے خیال سے سونے کا خیال ملتوی کر گئی اور ثمین کے ساتھ اس کے کمرے ہی میں آگئی۔ ثمین کا غالباً خوب دیر تک جاگنے کا موڈ تھا اسی لےے بڑے اہتمام سے کافی بنا کر اور پلیٹ میں ڈھیر سارے چپس رکھ کر کمرے میں آگئی۔ دھڑا دھڑ چپس کھاتی وہ دونوں مختلف چینلز بدل بدل کر کبھی کوئی پروگرام دیکھنے لگتیں کبھی کوئی۔
’’یہ فلم اچھی لگ رہی ہے۔‘‘ کوئی انگلش مووی تھی۔ اسکرین پر نظر آتاہینڈسم سا بندہ دیکھ کر ہی ثمین نے فلم کے اچھا ہونے کی پیشن گوئی کر دی تھی۔
’’فلم اچھی نہیں ہے۔ یہ کہو تمہیں ہیرو اچھا لگ رہا ہے۔‘‘ دانیا نے اسے چھیڑا۔
’’یہ تو مجھے کوئی ہارر مووی لگ رہی ہے۔ چینل چینج کرو ثمین۔‘‘ رات کا وقت، سنسان جنگل اور وہاں ایک اکیلی خوف زدہ لڑکی اسے اگلے سین میں نظر آئی تو بے ساختہ ثمین کو چینل تبدیل کرنے کے لےے کہا۔
’’نہیں۔ ہارر تو نہیں لگ رہی۔ میرا خیال ہے کچھ Detective اور سسپنس ٹائپ کی مووی ہے۔‘‘ ثمین کی ساری دلچسپی اس سین میں تھی۔
وہ تنہا لڑکی درختوں اور جھاڑیوں میں الجھتی پتا نہیں کس چیز سے بھاگ رہی تھی۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ایک آدمی کے صرف پیر بھی دکھائے جارہے تھے۔ لانگ شوز پہنا وہ آدمی جیسے اس لڑکی کا تعاقب کر رہا تھا۔ صرف ہلکی سی پیروں کی جھلک۔ اس کے پیروں تلے آکر پتوں کی چڑچڑاہٹ تک صاف سنائی دے رہی تھی۔ ثمین کو ٹوکنے کے باوجود وہ خود بھی اسکرین ہی کی طرف دیکھ رہی تھی۔ ڈر تو لگ رہا تھا مگر تجسُس سا بھی محسوس ہورہا تھا۔ آگے کیا ہوگا۔ ہوتے ہوتے وہ آدمی اس لڑکی کے بالکل نزدیک پہنچ گیا تھا۔ اس ویران سے جنگل میں اندھا دھند بھاگتے اس لڑکی کو ایک پرانا کھنڈر نما مکان نظر آیا تو وہ خود کو بچانے کے لےے اس میں گھس گئی۔ بہت بڑا حویلی نما مکان۔ وہ مکان کا مرکزی دروازہ مضبوطی سے بند کر کے سیڑھیاں چڑھتی، تیزی سے ایک کمرے میں بند ہوگئی تھی۔ چٹخنی لگا کر جیسے ہی وہ مڑی تو اس کے پیچھے ایک بہت لمبا چوڑا آدمی کھڑا ہوا تھا۔ پورے چہرے کو ہیٹ سے ڈھانپے ہوئے، لمبا سا اوور کوٹ پہنے ہوئے۔ ادھر فلم میں اس لڑکی کے منہ سے چیخ نکلی، ادھر اس کے پلٹنے پر اس آدمی کو کھڑا دیکھ کر ان دونوںکے لبوں سے ہلکی سی چیخ نکل گئی تھی۔ لاشعوری طور پر وہ ثمین کے نزدیک ہوگئی تھی۔ اس نے اسکرین پر سے نظریںہٹا لی تھیں۔ لیکن کانوں میںتو ساری آوازیں آرہی تھیں۔ اس لڑکی کی چیخیں، اس آدمی کے بے ہنگم قہقہے۔
’’کیا ہوا مر گئی جولی؟‘‘ کچھ دیر بعد اس نے ثمین سے پوچھا۔
’’میرا خیال ہے، مر گئی ہے۔‘‘ اس نے ’’خیال‘‘ کے لفظ پر ثمین کی طرف چونک کر دیکھا تو پتا چلا کہ وہ محترمہ بھی اسکرین سے نظریں ہٹائے صرف آوازوں پر کان لگائے بیٹھی ہیں۔
ڈرتے ڈرتے ان دونوں نے اسکرین کی طرف دیکھا تو وہ آدمی جولی کی لاش کو گھسیٹتا ہوا نظر آیا۔ جس کمرے میں وہ جولی کو لایا تھا۔ اس کمرے میں ڈھیر ساری انسانی کھوپڑیاں پڑی ہوئی تھیں۔ درمیان میں رکھی چپس کی پلیٹ ہٹاتے ہوئے ثمین اس سے بالکل چپک کر بیٹھ گئی تھی۔ ایک دوسرے کے ساتھ بالکل جڑ کر بیٹھی وہ ہینڈسم ہیرو کو جولی کا سر تن سے الگ کرتے ہوئے دیکھ رہی تھیں۔ اس کا سر الگ کر کے اس نے ہاتھوں میں لیا اور اس میں سے بہتا ہوا خون دیکھ کر زور زور سے ہنسنے لگا۔
اگلا سین بالکل نارمل تھا۔ وہ ہینڈسم ہیرو جو یونیورسٹی میں لیکچرر تھا، کلاس روم میں اپنے اسٹوڈنٹس کو لیکچر دیتا نظر آیا تھا۔ کلاس روم میں داخل ہوتی ایک نئی اسٹوڈنٹ کو دیکھ کر ایک پل کے لےے اس کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ ابھری تھی۔
’’میرا خیال ہے، یہ اسی طرح چن چن کر خوب صورت لڑکیوں کو مارتا ہے۔ دیکھو باقی بھی تو کلاس میں کتنی اور لڑکیاں ہیں، وہ کسی کو اس انداز سے نہیں دیکھ رہا۔ آگے فلم میں بتائیں گے کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ لیکن بہرحال بات یہی ہے۔ جولی بھی تو کتنی خوب صورت تھی۔‘‘ اس نے اپنی رائے ظاہر کی تھی۔
ثمین نے اس کی بات سے اتفاق کیا تھا۔
اسی طرح ڈرتے اور ہر خوف ناک سین پر اسکرین سے نظریں ہٹاتے ان دونوں نے پوری فلم دیکھی تھی۔ فلم ختم ہونے پر ٹی وی بند کر کے ثمین بیڈ کی طرف واپس آئی تو وہ ہنوز بیڈ پر جمی بیٹھی تھی۔
’’ثمین! آج میں یہیں سوجائوں۔‘‘ یہ بات کہتے ہوئے اسے شرمندگی تو بہت ہورہی تھی۔
’’میں خود آپ سے یہی کہنے والی تھی دانیا آپی۔‘‘ ثمین کی بات نے اس کی شرمندگی زائل کر دی تھی۔ بغیر لائٹ بند کےے وہ دونوں سونے لیٹ گئیں۔
’’تمہیں ڈر لگ رہا ہے ثمین!‘‘ کچھ دیر بعد اپنے برابر لیٹ ثمین کو اس نے آواز دی۔
’’بہت زیادہ۔ جیسے ہی آنکھیں بند کر رہی ہوں۔ ڈھیر ساری کھوپڑیاں نظر آنے لگتی ہیں۔‘‘ثمین نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔
ساری رات یونہی ڈرتے اور سوتی جاگتی کیفیت میں گزر گئی۔
پھوپھو فجر کی نماز کے لےے ثمین کو اٹھانے آئیں تو ان دونوںکو ایک ساتھ اور وہ بھی لائٹ جلائے سوتا دیکھ کر بہت حیران ہوئیں۔ اس وقت تو وہ بغیر کچھ پوچھے صرف اٹھا کر چلی گئیں لیکن بعد میں کچن میں ناشتے کی تیاری کے دوران انہوں نے ان دونوں سے اس بارے میں پوچھا تھا۔
پھوپھو نے ان دونوں کو مشترکہ ڈانٹ پلائی۔ ناشتے سے فارغ ہو کر ثمین اپنے شام میں پہننے والے کپڑوں اور جیولری وغیرہ کے چکر میں لگ گئی تھی۔ آج اس کی بیسٹ فرینڈ کی منگنی تھی۔ دوپہر کے کھانے سے بھی پہلے وہ دائود کے ساتھ اپنی دوست کے گھر چلی گئی تھی۔ اس کا رات میں وہیں رکنے کا ارادہ تھا۔
ثمین کے جانے کے بعد گھر میں مزید خاموشی چھا گئی تھی۔ وہ پھوپھو کے ساتھ باتیں کرتی چھٹی کا دن گزارنے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ لوگ شام کی چائے پی رہے تھے۔ جب حیدر آباد سے انکل کے ایک عزیز کے انتقال کی خبر آئی۔ بہت افراتفری میں پھوپھو اور انکل حیدر آباد روانہ ہوگئے۔ رات میں کھانے کی میز پر صرف وہ اور دائود تھے۔ آپس میں ہلکی پھلکی باتیںکرتے ہوئے انہوں نے کھانا کھایا۔
’’کافی لائوں آپ کے لےے؟‘‘ ثمین روز رات میں دائود کو کافی بنا کر دیا کرتی تھی۔ آج وہ نہیں تھی تو اس نے اخلاقاً دائود سے پوچھا۔
’’اگر زحمت نہ ہوتو پلیز۔‘‘ لائونج کی طرف جاتے ہوئے دائود نے اسے جواب دیا۔ وہ کافی بنا کر لائی تو دائود اس کے ہاتھ سے کپ لے کر شکریہ کہتا ہوا صوفے پر سے اٹھ گیا تھا۔
’’بہت دنوں سے اپنی میلز نہیں دیکھیں میں نے۔ اس وقت فرصت ہے، میرا خیال ہے یہ کام کر ہی ڈالوں۔‘‘ وہ اپنے یوں اٹھ جانے کی وجہ بتاتا ہوا لائونج سے نکل گیا تھا۔ اس کے جانے کے بعد وہ بھی اپنے کمرے میں آگئی۔ لائٹ آف کرتے کے ساتھ ہی اسے عجیب سا خوف محسوس ہوا تھا۔ وہ خوف جو آج دن بھر میں ایک مرتبہ بھی محسوس نہیں ہوا تھا، اس وقت ہورہا تھا۔ قصداً اپنا دھیان ہر طرف سے ہٹا کر وہ آیت الکرسی پڑھ کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔ معاً اسے لان میں کسی کے چلنے کی آواز آئی۔پتوں کی چڑچڑاہٹ۔۔۔ وہ بے ساختہ اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔ ایک نظر بہت ڈرتے ڈرتے اس نے اس بند کھڑکی کی طرف ڈالی جو بالکونی میں کھلتی تھی اور جس کے پیچھے لان میں اس وقت پتا نہیں کون تھا۔ اس کا دل تیز تیز دھڑک رہا تھا۔ ہاتھ پائوں بالکل ٹھنڈے برف۔ اچانک کھڑکی بجی تھی، ایسا لگا تھا کہ کوئی کھڑکی کے باہر بالکونی میں کھڑا تھا۔ وہ تیزی سے اٹھی اور دروازہ کھول کر اندھا دھند بھاگتی ہوئی دائود کے کمرے کی طرف آئی۔ زور زور سے دروازہ پیٹتے ہوئے وہ اسے آواز بھی دے رہی تھی۔
’’دائود! دروازہ کھولیں پلیز۔‘‘ اسے آواز دینے کے ساتھ ساتھ وہ اپنے پیچھے بھی دیکھتی جارہی تھی۔ ہر بار پیچھے دیکھنے پر یہی لگتا کہ کوئی اس کے عین سر پر کھڑا شیطانی انداز میں ہنس رہا ہے۔ دائود شاید سوچکا تھا۔ دروازہ کھول کر نیند سے بوجھل آنکھیں لےے اس نے اس کی طرف حیرت سے دیکھا۔
’’کیا ہوا دانیا؟‘‘ اسے یوں متوحش دیکھ کر اس کی نیند بالکل بھاگ گئی تھی۔
’’مجھے ایسا لگ رہا ہے گھر میں کوئی گھس آیا ہے۔ میں نے لان میں کسی کے چلنے کی آواز سنی ہے۔‘‘ پسینے میں نہائی تھر تھر کانپتی وہ کپکپاتی ہوئی آواز میں بولی تھی۔ دائود اس کی بات سنتے ہی تیزی سے کمرے سے باہر نکلا تھا۔ وہ خود بھی اس کے پیچھے پیچھے آئی۔ اسے لائونج میں آکر بے دھڑک دروازہ کھولنے کا ارادہ کرتا دیکھ کر وہ تیزی سے اس کے پاس آئی۔
’’اس طرح سے تو ایک دم باہر مت نکلیں۔ اگر واقعی کوئی ہوا اور اس کے پاس اسلحہ بھی ہوا پھر۔‘‘ اس نے دائود کو ہاتھ پکڑ کر روکا۔
اس نے ایک نظر دانیا کے خوف زدہ چہرے پر ڈالی اور پھر اس کا ہاتھ ہٹاتا ہوا باہر نکل گیا۔ صرف لان کا ہی کیا اچھی طرح ہر طرف کا جائزہ لینے کے بعد وہ واپس اندر آگیا۔
’’کوئی نہیں ہے۔ یونہی تمہیں وہم ہوا ہے۔‘‘ لائونج کا دروازہ واپس بند کر کے وہ سیڑھیاں چڑھ گئی۔
دائود اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا، جبکہ وہ بھی اپنے کمرے کی طرف آگئی۔ کمرے کا دروازہ کھولتے کھولتے وہ ایک جھرجھری سی لے کر فوراً رک گئی۔
’’وہاں لان میں مجھے کہاں ڈھونڈ رہی تھیں۔ میں تو یہاں بیٹھا ہوں۔‘‘ اسے ایسا لگا جیسے ہی وہ دروازہ کھولے گی، اسے وہ سامنے ہی ہیٹ سے منہ چھپائے بیڈ پر بیٹھا نظر آئے گا۔ وہ بے ساختگی میں الٹے قدموں بھاگتی دائود کے پاس آئی۔ اسے یوں دوڑ کر اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ کمرے میں جاتا جاتا رک گیا۔
’’اب کیا ہوا؟‘‘ اس بار اس کے لہجے میں واضح جھنجلاہٹ اور کوفت تھی۔
’’مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔‘‘ بغیر شرمندہ ہوئے وہ اسے یہ اطلاع دے رہی تھی۔
’’کس چیز سے ڈر لگ رہا ہے۔ دیکھ تو لیا ہے میں نے سب طرف۔ کوئی نہیں ہے۔ جائو آرام سے سوجائو شاباش۔‘‘ اس نے بڑی مشکل سے اپنے آپ کو بدلحاظ ہونے سے روکا تھا ورنہ اس کی ان حرکتوں پر اسے ٹھیک ٹھاک غصہ آرہا تھا۔
’’نہیں۔ میں اپنے کمرے میں نہیں جائوں گی۔‘‘ وہ اس سے پہلے اس کے کمرے میں گھس گئی۔
’’مجھے پلیز، یہاں پر بیٹھا رہنے دیں۔‘‘ وہ اس کے چہرے پر نظر آتی برہمی اور ناگواری کو دیکھتے ہوئے التجائیہ لب و لہجہ اختیار کر گئی تھی۔
’’آخر تمہیں ڈر لگ کس چیز سے رہا ہے؟‘‘ اس کی آنکھوں میں نظر آتے آنسو دیکھ کر اس نے اپنے لہجے کی سختی کم کی۔
’’مجھے پتا ہے کہیں پر بھی کوئی نہیں ہے۔ یہ سب میرا وہم ہے۔ لیکن پھر بھی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔‘‘ وہ صوفے پر بیٹھ گئی تھی۔ دائود لائٹ آن کرتا سامنے بیڈ پر بیٹھ گیا تھا۔
’’اصل میں کل میں نے اور ثمین نے ایک بہت ہی ہارر مووی دیکھی تھی۔ شاید اسی کا اثر ہے ابھی تک۔‘‘ بہت شرمندہ سے لہجے میں وہ سر جھکا کر اسے صحیح بات بتانے لگی۔ دائود نے اس کی بات سن کر شاید منہ ہی منہ میں لاحول ولاقوۃ کہا تھا۔
’’ایک سفاک قاتل تھا اس میں۔ وہ چن چن کر اپنے گرد موجود خوب صورت لڑکیوں کو بڑی بے رحمی سے قتل کر دیا کرتا تھا۔ پھر ان کے سر جسم سے الگ کر کے اپنے پاس محفوظ کر لیا کرتا تھا۔‘‘ وہ کانپتی ہوئی آواز میں اسے فلم کی کہانی سنانے لگی تھی۔ انداز کچھ ایسا تھا کہ دیکھو میں بے کار میں نہیں ڈر رہی۔ بڑی معقول وجہ ہے میرے پاس خوف زدہ ہونے کی۔ وہ جو اتنی دیر سے جھنجلایا ہوا اورکوفت میں مبتلا اس کی شکل دیکھ رہا تھا، بے ساختہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔
’’خوب صورت لڑکیوں کو۔‘‘ اس نے لفظ خوب صورت کو خوب لمبا کھینچا تھا۔ ایسے جیسے اس لفظ کو بہت انجوائے کر رہا ہو۔
’’اب اپنے کمرے میں جاتے ہوئے تمہیں ایسا لگ رہا ہے کہ وہ وہاںپہلے سے موجود ہوگا۔ ایک اور خوب صورت لڑکی کو قتل کرنے کے لےے۔ اس کا سر اپنے پاس اسٹاک کرنے کے لےے۔‘‘ وہ ابھی تک با آواز بلند ہنس رہا تھا۔ وہ اس وقت جتنی خوف زدہ تھی ایسے میں اس کی کوئی بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی۔
’’تمہیں ایسا نہیں لگ رہا۔ وہ آدمی میں ہی ہوں۔ دیکھو غور سے۔‘‘ اس کے ہاتھ جیسے کوئی بہت ہی دلچسپ بات لگی تھی۔ وہ اس کے مذاق پر ایک پل کے لےے تو واقعی اس کی طرف غور سے دیکھنے لگی تھی پھر اس کے چہرے کی شرارتی سی مسکراہٹ پر نظر پڑی تو بری طرح شرمندہ ہو کر نظروں کا زاویہ بدل گئی۔
’’اچھا تو دانیا ظفر! جو ایک خوب صورت لڑکی ہیں، اس وقت سخت خوف زدہ ہیں۔ ایک انجانے قاتل سے۔ خوب صورت لڑکیوں کی کھوپڑیاں جمع کرنا جس کی ہابی ہے۔‘‘ اس کا انداز سراسر مذاق اڑانے والا تھا لیکن اس وقت وہ اس کی کسی بھی بات کا بَرا نہیں مان رہی تھی۔
’’اتنے خوف کی حالت میں خود ستائی کا یہ عالم ہے۔‘‘ اس نے دائود کی سرگوشی نما خود کلامی سنی۔ وہ بیڈ روم فریج میں سے کچھ نکال رہا تھا۔ چند سیکنڈز بعد وہ پلٹا تو اس کے ہاتھ میں جوس کے دو کین تھے۔
’’پی لو۔ پہلے ہی تمہارا خاصا خون خشک ہوچکا ہے۔‘‘ کین کھول کر جوس پیتے ہوئے اس نے گم صم سی دانیا کو مخاطب کیا۔
’’میری وجہ سے آپ کی نیند ڈسٹرب ہورہی ہے۔‘‘ اسے خود پر سخت غصہ بھی آرہا تھا، شرمندگی بھی محسوس ہورہی تھی مگر یہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں واپس جانے کے خیال سے ہی اس کا دل بیٹھ رہا تھا۔
’’ہاں۔ نیند تو میری ڈسٹرب ہورہی ہے لیکن کیا کریں مجبوری ہے۔ وہاں وہ ظالم اور سفُاک قاتل جو انتظار میں بیٹھا ہے، ایک خوب صورت لڑکی کے۔۔۔۔‘‘ اس نے جیسے لفظ خوب صورت کو اس کی چھیڑ بنا لیا تھا۔ اسی ایک لفظ کو لےے وہ مسلسل اس کا مذاق اڑا رہا تھا۔
وہ اس کی بات کا کوئی جواب دےے بغیر خفگی کااظہار کرتی بالکل خاموش ہوگئی تھی۔ جوس کا کین خالی کر کے اسے ڈسٹ بن میں پھینکتا ہوا وہ کمپیوٹر آن کر کے کرسی پر بیٹھ گیا۔ انٹرنیٹ کنیکٹ (Connect) کرتا وہ مکمل طور پرمانیٹر کی طرف متوجہ تھا۔
’’آپ کو سونا ہے تو سوجائیں۔‘‘ وہ اس کی وجہ سے سو نہیں پارہا اور وقت گزارنے کے لےے کمپیوٹر کھول کر بیٹھ گیا ہے، یہ بات سمجھتے ہوئے وہ بے ساختہ بولی تھی۔
’’’آپ یہیں تشریف رکھیں گی۔ مجھے سونا ہے تو میں سوجائوں۔ بہت شکریہ، بڑی نوازش۔ آپ کی اتنی کرٹسی اور میری نیند کا خیال کرنے پر۔‘‘ وہ اس کی طرف سر گھما کر کچھ طنزیہ سے انداز میں بولا اور پھر دوبارہ اپنا رخ کمپیوٹر کی طرف کر لیا۔
گھڑی دو بجارہی تھی۔ کتنی دیر تک وہ دائود کو انٹرنیٹ پر مصروف دیکھتی رہی۔ وقت گزارنا اور صبح کا انتظار کرنا بہت ہی مشکل کام لگ رہا تھا۔ کتنی دیر بعد گھڑی کی طرف دیکھا تو بھی گھڑی کی سوئیاں تھوڑا سا ہی آگے بڑھی تھیں۔
آخر صبح کب ہوگی؟ دن نکل آئے۔ ہر طرف روشنی پھیل جائے۔ رات ختم ہوگی تو یہ خوف بھی ختم ہوجائے گا۔
کہیں بہت دور سے اذان کی ہلکی سی آواز آنی شروع ہوئی تو اس نے سکون اور طمانیت بھری گہری سانس لی۔ کتنی دیر سے وہ بے دلی سے میگزین کے اوراق پلٹ پلٹ کر وقت کو گزارنے کی کوشش کرتی رہی تھی۔ میگزین بند کر کے رکھتے ہوئے اس نے کمپیوٹر ٹیبل کی طرف دیکھا۔ دائود ٹیبل پر سر رکھ کر بے خبر سو رہا تھا۔ا پنی وجہ سے اس کی نیند خراب کرنے پرافسوس کرتی وہ آہستہ سے اٹھی تھی۔ اس کی نیند نہ ٹوٹے، یہی سوچ کر اس نے اپنی طرف سے بڑی احتیاط سے اور بغیر آواز پیدا کےے دروازہ کھولا، لیکن پھر بھی وہ ایک دم چونک گیا تھا۔ ٹیبل سے سر اٹھا کر اس نے اس کی طرف دیکھا۔ پھر ایک نگاہ گھڑی پر ڈال کر وہ جلدی سے اٹھا اور پھر اس سے بھی پہلے کمرے سے باہر نکل گیا۔ وہ اسے اپنے آگے تیز تیز چلتا ہوا تعجب سے دیکھ رہی تھی۔ وہ اس کے کمرے کی طرف جارہا تھا۔ کمرے کا دروازہ کھول کر وہ اندر گھسا اور پھر بغور پورے کمرے میں نظریں دوڑانے لگا۔
’’خوب صورت لڑکی آپ اندر آسکتی ہیں۔ یہاں کوئی جن بھوت وغیرہ نہیں پائے جاتے۔‘‘ وہ دروازہ کھول کر بالکونی میں جھانکتا ہوا باآواز بلند اس سے بولا۔ اس کے ہاتھوں اپنی یہ شامت اس نے خود ہی بلوائی تھی۔
’’دائود پلیز۔‘‘ وہ روہانسی آواز میں چلائی۔ اسے ڈرتا دیکھ کر اس نے ہنستے ہوئے واپسی کے لےے قدم بڑھادےے۔
ز ز ز ز
عاصم بھائی اور بھابھی واپس آگئے تو گھر کی ساری رونق بھی واپس آگئی۔ باقی سب کے ساتھ ساتھ بھابھی اس کے لےے بھی تحفے لائی تھیں اور ان کے وہ تحفے اس نے بڑی خوشی خوشی قبول کرلےے تھے۔
’’پھوپھو! آپ کے گھر میں مجھے ایسا کیوں لگتا ہے جیسے میں اپنے ہی گھر میں ہوں۔ ذرا سی بھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا۔ حالانکہ آپ لوگوںکا رہن سہن، طور طریقے، سب ہمارے گھر کے رہن سہن سے مختلف ہیں۔ بعض دفعہ تو مجھے ایسا لگتا ہے، یہ میرا ہی گھر ہے۔ میں جیسے ہمیشہ ہی سے یہاں رہتی رہی ہوں۔‘‘ اس روز وہ پھوپھو سے کہہ بیٹھی تھی۔ وہ اس کی بات سن کر کھل کر مسکرادیں۔
’’یہ تمہارا ہی گھر ہے میری جان۔‘‘ پھوپھو کا جواب ویسا ہی محبت بھرا تھا جیسا ہمیشہ ہوا کرتا تھا۔ دائود کو کمرے میں آتا دیکھ کر وہ ایک دم چپ ہوگئی۔ وہ اس وقت پھوپھو کے کمرے میں ان کے پاس بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی۔ دائود، پھوپھو کو ان کی دوا دینے آیا تھا۔ دوا پکڑا کر وہ جس سنجیدگی سے آیا تھا اسی سنجیدگی کے ساتھ فوراً ہی چلا بھی گیا تھا۔
اسے اپنی یہ جذباتی سی باتیں دائود کے سن لینے پر بہت بَرا محسوس ہوا۔
ز ز ز ز
’’یہ رافعہ کیا تم لوگوں کی فرسٹ کزن ہے؟‘‘ اس نے ثمین سے پوچھا۔
’’فرسٹ کزن تو نہیں ہے۔ ہے تو کچھ دور کی رشتہ داری۔ مجھے تو سیدھے سادے رشتے ہی مشکل سے سمجھ میں آتے ہیں۔ اتنے دور کے اور الجھے ہوئے رشتے تو میرے سر پر سے گزر جاتے ہیں۔‘‘ ثمین نے اوون آن کرتے ہوئے اس کی بات کا جواب دیا۔
چھٹی کا دن تھا اور ثمین کا اچانک ہی چکن پیٹیز بنانے کا موڈ بن گیا تھا۔ وہ بھی اس کی مدد کرانے کچن میں آگئی تھی۔ کام کرتے کرتے اس نے ثمین سے اس کی صبح سے گھر آئی ہوئی اس کزن کے بارے میں دریافت کیا تھا جس سے آج وہ پہلی مرتبہ ملی تھی۔
’’سی اے کر رہی ہے نا رافعہ۔ کبھی پڑھائی میں کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو دائود بھائی سے ہیلپ لینے آجاتی ہے۔‘‘ ثمین نے اس کی معلومات میں مزید اضافہ کیا۔
صبح گیارہ بجے سے رافعہ ان کے گھر آئی ہوئی تھی اور باقی سب سے خیر خیریت اور تھوڑی سی گفتگو کرنے کے بعد وہ دائود کے ساتھ ڈرائنگ روم میں ڈھیر ساری کتابیں اور فائلیں پھیلائے بیٹھی تھی اور اب جبکہ تین بج چکے تھے تب بھی وہ دونوں اسی طرح مصروف نظر آرہے تھے۔
’’بہت بولڈ اور نڈر قسم کی ہے رافعہ! ہم لوگوں کی طرح نہیں ہے۔‘‘ ثمین مزید گویا ہوئی۔ یہ بات تو ثمین کے بتائے بغیر بھی اس نے محسوس کرلی تھی۔
’’ابھی پچھلے دنوں دو لڑکوں نے اس کی گاڑی گن پوائنٹ پر چھین لی تھی۔ اس نے بجائے نروس ہونے کے یا رونے دھونے کے بڑے سکون سے گاڑی کی چابی انہیں پکڑا دی اور کہا کے گاڑی بے شک تم لوگ لے جائو مگر اس میں میری کتابیں اور کچھ اہم ڈاکومنٹس وغیرہ ہیں، وہ مجھے نکال لینے دو۔ میں اس کی جگہ ہوتی تو بے ہوش ہی ہوجاتی۔ وہ دونوں بھی اس کی شخصیت کے رعب میں آگئے اور اسے ڈاکومنٹس وغیرہ نکال لینے دےے۔ یہ صاحبہ بڑے سکون سے رکشا میں بیٹھ کر گھر آگئیں۔‘‘ ثمین ہنستے ہوئے اسے بتا رہی تھی۔ پیٹیز اوون میں رکھے جاچکے تھے، اب وہ دونوں مل کر سارا پھیلاوا سمیٹ رہی تھیں۔
’’بھابھی کا اور میرا مشترکہ خیال ہے کہ وہ دائود بھائی کو پسند کرتی ہے۔ خود دائود بھائی کا اس بارے میںکیا خیال ہے یہ مجھے معلوم نہیں۔ بہت بے تکلفی کے باوجود میری ان سے اس طرح کی بات پوچھنے کی ہمت نہیں ہوتی۔‘‘
’’پچھلے چار گھنٹوں سے وہ اسے جس خلوص سے پڑھا رہے ہیں، اس کے بعد شک کی کوئی گنجائش رہ تو نہیں جاتی ورنہ کوئی اور ہو تو چڑ جائے کہ ایک چھٹی کا دن ملا ہے۔‘‘ اس نے ثمین کی بات کا سنجیدگی سے جواب دیا۔
’’بات تو صحیح کہہ رہی ہیں اور یہ بات تو خیر مجھے معلوم ہے ہی کہ دائود بھائی کو ڈرپوک قسم کی لڑکیاں زہر لگتی ہیں۔ مجھے اکثر ڈانٹتے ہیں۔ انہیں بولڈ اور نڈر لڑکیاں اچھی لگتی ہیں۔‘‘ کچن میں کام ختم ہوچکا تھا۔ وہاں سے فارغ ہو کر وہ دونوں لائونج میں آکر بیٹھ گئی تھیں۔
مغرب سے کچھ پہلے رافعہ واپس گئی تھی۔ اسے رخصت کر کے دائود، عاصم بھائی کے ساتھ لان میں بیٹھا ہوا تھا۔ وہ پھوپھو کے ساتھ ان کے کمرے میں بیٹھی باتیں کر رہی تھی جب بھاگتی دوڑتی ثمین کمرے میں آئی تھی۔
’’چلیں دانیا آپی! دائود بھائی ہم لوگوں کو بڑی زبردست سی آئوٹنگ کرانے لے جارہے ہیں۔ میں، آپ، میرال اور شارم مہمانوں میں شامل ہیں۔‘‘ وہ بہت پَرجوش نظر آرہی تھی۔
’’جلدی اٹھیں، ایسے موقع روز روز نہیں آتے۔‘‘
’’میرا موڈ نہیں ہورہا ثمین! تم لوگ چلے جائو۔‘‘ اس کی دعوت پر اس نے سنجیدگی سے انکار کیا۔ اس کا انکار سنتے ہی ثمین کا موڈ بگڑنے لگا تھا۔
’’اتنا اچھا ہم نے تفریح کاپروگرام بنایا ہے اور آپ نخرے کر رہی ہیں۔ چلیں نا بہت مزا آئے گا۔‘‘
وہ اسے ہر قیمت پر ساتھ لے جانا چاہتی تھی جبکہ اس کا اس وقت کہیں بھی جانے کا دل نہیں چاہ رہا تھا۔
’’چلی جائو دانیا! تھوڑی سی تفریح تو زندگی میں ہونی چاہےے۔ روز تو وہی گھر سے آفس اور آفس سے گھر والا ہی روٹین ہوتا ہے تمہارا۔‘‘
پھوپھو کا یہ محبت بھرا انداز وہ ٹال ہی نہیں سکتی تھی۔ اسے اٹھتا دیکھ کر ثمین خوش ہوگئی۔
’’آپ ساتھ نہیں جاتیں تو مجھے بالکل مزا نہیں آتا۔‘‘ وہ اس کی محبت اور خلوص پر مسکرادی۔
’’ایسی کیا خاص بات ہے مجھ میں؟‘‘ وہ اس کے ساتھ کمرے سے باہر نکل آئی۔
’’خاص اور عام کا تو مجھے نہیں پتا۔ لیکن بس آپ مجھے اچھی لگتی ہیں۔ آپ پوز نہیں کرتیں۔ سادگی سے رہتی ہیں۔ بننے بنانے اور پوز کرنے والے لوگوں کے ساتھ میری دو منٹ بھی نہیں بنتی۔‘‘ وہ دونوں پورچ میں آگئیں۔ دائود، میرال اور شارم گاڑی میں ان لوگوں کا انتظار کر رہے تھے۔
’’آپ بتائیں، کہاں چلیں؟‘‘ ثمین نے اگلی سیٹ پر گردن موڑ کر اسے مخاطب کیا۔
’’جہاں سب کا موڈ ہو وہیں۔ میرا اپنا کہیں جانے کا موڈ نہیں۔‘‘ اس نے آہستگی سے اسے جواب دیا۔
’’اب میری وجہ سے بغیر موڈ کے آہی گئی ہیں تو تھوڑا سا انجوائے بھی کرلیں۔‘‘ ثمین کو اس کی بے نیازی پر غصہ آگیا۔
’’مشکل ہے بہت۔ تم لوگوں کا کسی ایک جگہ پر متفق ہونا۔ میرا خیال ہے میں خود ہی یہ کام کرلوں۔اب لانگ ڈرائیو ہوگی اور ڈنر ہوگا اور وہ بھی میں اپنی مرضی کی جگہ پر کرائوں گا۔‘‘ دائود نے ان لوگوں کی بحث و تکرار پر چڑ کر کہا۔
کھانے کے بعد بھی ان لوگوں کا فوراً گھر واپسی کا ارادہ نہیں تھا۔ گاڑی میں بیٹھ کر یونہی ڈرائیو کرتے وہ لوگ باتیں کرتے میوزک سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ میرال اور ثمین میں اپنی اپنی پسند کے گانوں پر جھگڑا ہورہا تھا۔
’’فاخر کا ’’دیوانہ‘‘ لگے گا۔‘‘
’’نہیں ابرار کا ’’پریتو‘‘۔‘‘
ثمین بالکل بچی بنی ہوئی ہوئی اس کے ساتھ جھگڑ رہی تھی۔ ڈرائیو کرتے کرتے دائود نے بیک ویو مرر سے دانیا پر ایک نظر ڈالی۔ اس جھگڑے سے بے نیاز وہ کھڑکی سے باہر پتا نہیں کیا دیکھ رہی تھی۔ کچھ سوچ کر ایک شرارتی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر آئی تھی۔
’’ثمین! یہ جو الٹے ہاتھ پر جھاڑیاں نظر آرہی ہیں۔ پتا ہے یہاں سے پچھلے ہفتہ ایک لڑکی کی سر کٹی لاش ملی ہے۔‘‘ ثمین لاش اور وہ بھی سر کٹی ہوئی لاش کا ذکر سن کر سارے جھگڑے بھول بھال بھائی کی طرف متوجہ ہوگئی تھی۔
’’بہت ڈھونڈا پولیس نے مگر اس کا سر کہیں بھی نہیں ملا۔‘‘ اس نے بہت چپکے سے ایک نظر پھر پیچھے ڈالی۔وہ خاموش تو اب بھی بیٹھی ہوئی تھی مگر بے نیازی اور لا تعلقی والا انداز ختم ہوگیا تھا۔
’’آپ نے اخبار میں پڑھی ہوگی یہ خبر۔‘‘ ثمین نے بڑے خوف زدہ انداز میں پوچھا۔
’’اخبارمیں آئی ہوگی شاید یہ خبر لیکن میں نے اسے اخبار میں نہیں پڑھا۔ میرے ایک کولیگ کی جاننے والی تھی وہ لڑکی۔ مجھے تو ان کے ذریعے پتا چلا۔ پنڈی سے کراچی آئی ہوئی تھی جاب کے لےے بے چاری۔ سب کہہ رہے تھے کہ شاید وہ قاتل پنڈی سے ہی پیچھا کرتا ہوا اسے قتل کرنے کراچی آیا تھا۔‘‘
ثمین اس نادیدہ لڑکی کے پر افسوس کا اظہار کر رہی تھی جبکہ اس نے دائود کو بیک ویو مرر میں اپنی طرف دیکھتا ہوا دیکھ لیا تھا اس لےے دوبارہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی تھی۔
ز ز ز ز
وہ میرال کے ساتھ کمپیوٹر کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی۔ دانیا اس کے ساتھ آکر بیٹھی اور اسے بہت پرفیکٹ طریقے سے کھٹاکھٹ کی بورڈ پر ہاتھ چلاتے دیکھا تو دنگ رہ گئی۔ وہ مائوس کو ہاتھ لگائے بغیر ہر کام کی بورڈ کے ذریعے کر رہی تھی۔
’’تم مجھ سے کیا سیکھو گی۔ تمہیں تو خود سب آتا ہے۔‘‘ اس نے ستائشی انداز میں کہا۔
اسی وقت دروازہ کھول کر دائود اندر داخل ہوا ’’کیا کام ہورہا ہے اتنی توجہ کے ساتھ؟‘‘ وہ مانیٹر پر نظریں دوڑاتا ہوا پوچھ رہا تھا۔
’’چاچو! میںدانیا پھوپھو سے Software Down Loding سیکھ رہی ہوں۔ انہیں انٹرنیٹ کے بارے میں اتنی ساری چیزیں آتی ہیں۔‘‘ میرال نے گردن گھما کر معصومانہ سے انداز میں اس کی بات کا جواب دیا۔ وہ اس سے لاتعلق سی مانیٹر کی طرف دیکھتی کی بورڈ کے ساتھ مصروف تھی۔
’’کچھ ہمیں بھی سکھا دیجےے اس مشین کے بارے میں۔ تھوڑا سا فیض ہم بھی حاصل کرلیں۔ کچھ تو فائدہ ہو اتنی ذہین فطین کزن کے ہونے کا۔‘‘ دونوں ہاتھ میز پر رکھے وہ براہ راست اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا۔
’’مجھے مفت میں ٹیوشنز پڑھانے کا کوئی شوق نہیں ہے۔‘‘ بہت بے ساختہ یہ بات اس کے منہ سے نکلی تھی اور منہ سے نکلی اس بات پر جو محظوظ سی ہنسی اس کے چہرے پر نظر آئی اس نے اسے اچھا خاصا نروس کر دیا تھا۔
وہ یوں مسکرایا تھا گویا کوئی بہت ہی دلچسپ بات سن لی ہو۔ اپنے بے سوچے سمجھے بولے اس جملے میں اسے خود ہی طنز اور جیلسی کی بو آئی تھی۔
’’مفت نہیں، میں فیس دوں گا۔ تم سے یہ امید کی بھی نہیں جاسکتی کہ رشتہ داری کا کوئی لحاظ کرو گی۔‘‘ وہ جیسے اس کے چہرے پر پھیلتے شرمندگی بھرے تاثرات کوجی بھر کر انجوائے کر نے لگا۔
’’میرال یونہی تعریف کر رہی ہے۔ مجھے اتنا کچھ خاص نہیں آتا۔‘‘ اسے اپنی جان چھڑانی مشکل ہورہی تھی۔ ثمین کو اسٹڈی میں آتا دیکھ کر اس نے سکون کا سانس لیا۔
رات گئے تک وہ اپنے اس فضول سے فقرے پر خود کو لعنت ملامت کرتی رہی تھی۔ دل ہی دل میں خود سے عہد کرتی رہی تھی کہ آئندہ وہ کم بولا کرے گی اور دائود کے سامنے تو خاص طور پر۔
ضرورت سے زیادہ ذہین اور اسمارٹ لوگوں سے اسے بہت ڈر لگتا تھا۔ ایسے لوگوں کے سامنے خود کو چھپانا بڑا مشکل کام ہوتا ہے۔ اسے ایسا لگا کہ اس روز ڈنر کے لےے جب وہ لوگ گئے تھے، تب بھی وہ سارا وقت اس کی فیس ریڈنگ کرتا رہا تھا۔
اگلے روز ابھی اسے آفس سے آئے زیادہ دیر نہیں گزری تھی۔ تب ہی فون کی بیل بجی تھی۔ اس نے فون اٹینڈ کیا تو دوسری طرف رافعہ تھی۔
’’میں رافعہ بول رہی ہوں۔ دائود ہیں؟‘‘وہ اسے یہ جواب دینے ہی والی تھی کہ دائود ابھی آفس سے نہیں آیا کہ وہ اندر آتا دکھائی دے گیا۔
’’آپ کا فون ہے۔‘‘ اسے ہولڈ کرنے کا کہہ کر اس نے دائود سے کہا۔ بہت بے زار سے شکل ہورہی تھی اس کی۔ شاید اس وقت وہ کوئی بھی کال اٹینڈ کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔ اپنا چائے کا کپ اٹھائے بغیر ہی وہ لائونج سے چلی گئی تھی۔
’’کیا پک رہا ہے خواتین؟‘‘
بھابھی نے نرگسی کوفتے بنائے ہیں اور میں نے دال چڑھائی ہے۔ آپ کے اور اپنے لےے دال چاول پکارہی ہوں اور اس کے ساتھ اچار۔‘‘ اس معاملے میں اس کی اور ثمین کی پسند سو فیصد ایک جیسی تھی۔
’’کتنا اچار کھاتی ہو تم۔‘‘ بھابھی نے کہا۔
’’آپ کو اچار کے فائدے ہی نہیں معلوم۔‘‘ اس نے جواباً تاسف سے کہا۔
’’پتا ہے آپ کو قلو پطرہ کے حسن کا ایک بڑا راز اچار بھی تھا۔ تھوڑے دن پہلے میں ایک کتاب میں پڑھ رہی تھی کہ قلو پطرہ اپنے حسن کی حفاظت کے لےے اچار کا استعمال بڑی پابندی سے کرتی تھی۔‘‘
’’پھر تو واقعی خوب صورت لڑکیوں کو اپنے حسن کی حفاظت کے لےے اچار ضرور کھانا چاہےے۔‘‘ دائود نے کچن میں آتے ہوئے اس کی بات کا جواب دیا۔ وہ اس کی بات پر کچھ نہیں بولی تھی۔
’’کب آئے تم؟‘‘ اس کے سلام کا جواب دیتے ہوئے بھابھی نے دریافت کیا۔
’’کافی دیر ہوگئی۔ رافعہ کا فون آیا ہوا تھا۔ اس سے بات کر رہا تھا۔‘‘ وہ اس کے بالکل سامنے رکھی ہوئی کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔
’’اچھا۔ رافعہ کافون آیا تھا؟‘‘ بھابھی نے چولہے کی آنچ ہلکی کرتے ہوئے پوچھا۔
’’حالانکہ میرا بات کرنے کا بالکل موڈ نہیں تھا۔ میں نے اشارے سے ان محترمہ کو منع بھی کیا تھا مگر انہوں نے پھر بھی اسے ہولڈ کروادیا۔‘‘ دانیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس نے ناراضی سے کہا۔
’’آپ نے منع تو نہیں کیا تھا۔‘‘ وہ خود پر الزام رکھے جانے پر چپ نہیں رہ سکی۔
’’ہاتھ سے اشار کیا تھا۔ منہ سے چیخ کر تو کہہ نہیں سکتا تھا۔‘‘
’’اشاروںکی زبان میری سمجھ میں نہیں آتی۔‘‘ وہ خود سے کےے عہد کے برخلاف بولنے میں مصروف تھی۔
’’پھر کون سی زبان سمجھ میں آتی ہے؟‘‘ اس کی طرف دیکھتے ہوئے اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔
’’بھابھی! میں پھوپھو کے پاس جارہی ہوں۔ کوئی کام ہو تو آواز دے لیجےے گا۔‘‘ وہ اس کا سوال ان سنا کر کے کرسی پر سے اٹھ گئی۔
’’تم لوگوں کی بحث و تکرار میں اصل بات تو رہ ہی گئی۔ فون کس لےے کیا تھا رافعہ نے؟‘‘ بھابھی کاموں سے فارغ ہو کر مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ ہوگئیں۔
’’فون، ہاں وہ۔‘‘ کہتے کہتے وہ ایک پل کے لےے خاموش ہوا۔
’’کیا ہوا تم گئیں نہیں؟‘‘ وہ سامنے سے بھاگ کر کچن میں آتے شارم کو راستہ دینے کے لےے صرف ایک سیکنڈ ہی رکی تھی جب پیچھے سے یہ جملہ اس کے کانوں سے ٹکرایا تھا۔ شارم کو آگے سے ہٹاتے وہ فوراً باہر چلی گئی۔
بھابھی اور ثمین اس کی بات سننے میں مصروف تھیں۔ انہوں نے اس کا ایک دم غصے سے باہر نکلنا محسوس ہی نہیں کیا تھا۔
ز ز ز ز
صبح اس کی آنکھ دیر سے کھلی تھی۔ وہ بہت تیز ی اور بھاگ دوڑ بھی مچاتی تب بھی گاڑی تو لازماً مس ہو ہی جانی تھی۔ تیار ہو کر باہر نکلی تو پورچ میں اپنی گاڑی کے پاس کھڑا دائود کسی سے موبائل پر بات کر تا ہوا نظر آیا۔ ایک نظر اس پر ڈال کر وہ گیٹ کی طرف بڑھی تو پیچھے سے اس نے اسے آواز دی۔
’’تمہاری گاڑی مس ہوگئی ہے نا۔ چلو میں تمہیں ڈراپ کردوں۔‘‘
’’شکریہ۔ میں چلی جائوں گی۔‘‘ اس نے بردباری سے جواب دیا۔
’’اچھا۔ میں تمہیں ٹھہر کر فون کرتاہوں۔‘‘ اس نے جلدی سے اللہ حافظ کہہ کر بات ختم کی پھر قدرے غصے سے اس کی طرف دیکھا۔
’’تمہیں بلاوجہ فارمل ہونے کا زیادہ شوق ہے۔ جب مجھے وہاں سے گزرنا ہی ہے تو تمہیں بھی چھوڑ دوں گا۔‘‘ جملے کے اختتام پر وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔
’’جلدی بیٹھو۔ مجھے دیر ہورہی ہے۔‘‘ وہ اس حکمیہ انداز پر کچھ چڑتی ہوئی گاڑی میں آکر بیٹھ گئی۔ بہت خاموشی سے ڈرائیو کرتا وہ اس سے مکمل طور پر لا تعلق سا بیٹھا ہوا تھا۔
’’بہت سے کام انسان کو رشتہ داری کے لحاظ میں کرنے پڑجاتے ہیں۔ اپنی خوشی سے یا ناخوشی سے نہیں۔ لیکن بعض اوقات رشتہ داری میں انسان کو لحاظ اور مروت سے کام لینا ہی پڑتا ہے۔‘‘ کافی دیر بعد اس نے دائود کی سنجیدہ سی آواز سنی۔ اس نے قدرے چونک کر اس کی طرف دیکھا، اس کی طرف دیکھے بغیر وہ اسی طرح ڈرائیونگ میں مصروف تھا۔
’’جیسے اس وقت آپ رشتہ داری کا لحاظ کرتے ہوئے مجھے آفس ڈراپ کرنے جارہے ہیں؟‘‘ اس کا انداز استفہامیہ تھا۔ وہ اس کی بات پر دھیمے سے ہنسا۔
’’ہاں۔ یہ بھی لحاظ اور مروت کی ہی ایک قسم ہے۔ ویسے اس وقت میں کسی اور بارے میں بات کر رہا تھا۔‘‘
کافی دیر تک وہ اس کے مزید کچھ اور بولنے کا انتظار کرتی رہی لیکن اس ادھوری بات کو مکمل کرنے کی اس نے ضرورت محسوس نہیں کی تھی جیسے جو بول گیا وہی بہت کافی ہے۔ وہ اسے خاموش دیکھ کر خود بھی سڑک پر نظریں دوڑانے لگی تھی۔
گاڑی اس کے آفس کے قریب پہنچ گئی تھی۔ بیگ کندھے پر ڈال کر اس نے جلدی جلدی رسمی قسم کا شکریہ ادا کرنے کے لےے ایک دو فقرے مرتب کےے تھے۔ لیکن وہ تمام فقرے کہنے کی نوبت نہیں آئی اسے اتارتے ہی وہ اللہ حافظ کہہ کر فوراً چلا گیا تھا۔
شام میں وہ واپس آئی تو گھر میں غیر معمولی چہل پہل اور رونق محسوس ہوئی۔
’’کون آیا ہے؟‘‘وہ بھابھی کے پاس کچن میں آگئی۔ وہ ثمین اور شمیم کو ساتھ لگائے بہت مصروف نظر آرہی تھیں۔
’’بہت خاص مہمان ہیں۔‘‘ بھابھی نے ثمین کی طرف ایک نظر ڈالتے ہوئے معنی خیز انداز میں کہا تو بات سمجھتے ہوئے وہ پرتجسُس سے انداز میں بولی۔
’’مہمانوں کا خاص ہونا تو مجھے اس غیر معمولی اہتمام سے ہی نظر آرہا ہے۔ ذرا کچھ اور تفصیلات تو ارشاد فرمائےے۔‘‘
’’تفصیل کچھ یوںہے کہ بابل کا گھر چھوڑ کر گوری پیا گھر جانے والی ہے۔‘‘ وہ بہت شرارتی موڈ میں تھیں۔ پھر اس کے چہرے پر پھیلے تجسُس کا خاتمہ کرنے کے لےے وہ اسے سنجیدگی سے ساری بات بتانے لگیں۔
’’دائود کے دوست کی فیملی ہے۔ بہت پرانی دوستی ہے دائود کی سفیان کے ساتھ۔ اتنی پرانی کہ اب ان لوگوں کے ساتھ ہمارے فیملی ٹرمز ہیں۔ اسی کا چھوٹا بھائی ہے فرید۔ انڈس ویلی سے گریجویشن کیا ہے اس نے۔ تین چار سال پہلے ان کی ممی نے ثمین اور فریدکے رشتے کی بات کی تھی۔ اس وقت ثمین بھی بہت چھوٹی تھی اور فرید بھی پڑھ رہا تھا۔ اس لےے رشتے سے انکار تو نہیں کیا گیا تھا لیکن ان لوگوں کو چند سال انتظار کرنے کے لےے کہہ دیا گیا تھا۔ اب کیونکہ فرید مزید اسٹڈیز کے لےے امریکہ جارہا ہے تو میرا خیال ہے، آج آمد اسی سلسلے میں ہوئی ہے کہ رشتہ طے کر کے باقاعدہ منگنی وغیرہ کرلی جائے۔‘‘
’’ہے کیسا وہ۔ میں نے دیکھا ہوا ہے کیا اسے؟‘‘ اس کا تجسُس ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔
’’ہاں دیکھا ہوا کیوں نہیں ہوگا۔ دائود سے کافی دوستی ہے اس کی۔ ابھی پچھلے ہفتے ہی تو وہ آیا تھا۔ کافی دیر بیٹھا رہا تھا دائود اور عاصم کے ساتھ لان میں اور پھر ڈنر بھی ہم لوگوں کے ساتھ ہی کرکے گیا تھا۔‘‘ بھابھی نے اسے یاد دلانے کی کوشش کی تو وہ ذہن پرزور ڈالتے ہوئے یاد آجانے پر مسکرائی۔
’’ہاں یاد آگیا۔ وہ جس کے آنے پر اس دن اچانک ہی ثمین کو کھانے کے وقت بھوک نہیں لگ رہی تھی۔ ’’اور بعد میں جب بھوک لگے گی کھالوں گی‘‘ کہہ کر یہ محترمہ اپنے کمرے میں بند ہوگئی تھیں۔‘‘ اس نے ثمین کو گھورا۔
’’کتنی گھنُی لڑکی ہے یہ۔ مجھے کانوں کان خبر بھی نہیں ہونے دی کسی بات کی اور میں اتنی بے وقوف کہ ساری بات سمجھ میں ہی نہیں آئی۔ پتا ہی نہیں چلا کہ اچانک بھوک پیاس کیوں اڑگئی ہے۔‘‘ وہ ثمین کے سر پر کھڑی غصے سے بولی۔
’’اس دن مجھے بتا دیا ہوتا تو میں بندے کو ڈھنگ سے دیکھ تو لیتی۔ اشارتاً ہی بتادیتیں کہ یہی ہیں پرنس چارمنگ۔‘‘ ثمین لاپروا سی بنی ٹرالی سیٹ کرنے میں مصروف تھی۔ لیکن اس کے چہرے پر بکھری شرمیلی سی مسکراہٹ اس کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں ر ہ سکی تھی۔
’’بھابھی! آج پہلی مرتبہ مجھے پتا چلا ہے کہ افسانوں کی ہیروئنوں اور گرگٹ کے علاوہ بھی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو رنگ بدلتے ہیں۔ سچی بات ہے، آج پہلی بار میں نے کسی لڑکی کا سرخ ہوتا چہرہ دیکھا ہے۔‘‘
بھابھی اس کے کمنٹس پر کھلکھلا کر ہنس دیں جبکہ ثمین اسے شرارتی موڈ میں دیکھ کر سب کام وام چھوڑ کر کچن سے ہی چلی گئی تھی۔ مہمانوں کو رخصت کر کے جب گھر کے سب افراد لائونج میں بیٹھے تو وہ بھی وہیں آگئی۔
’’کیا طے ہوا پھوپھو؟‘‘ وہ ان کے پاس ہی بیٹھ گئی۔
’’نکاح کی تاریخ طے کر کے گئے ہیں وہ لوگ اگلے ہفتے کی۔ مجھے تو سوچ سوچ کرہول اٹھ رہے ہیں۔ اتنے کم دنوں میں ساری تیاری کیسے ہوگی۔‘‘ اسے جواب دینے کے ساتھ انہوں نے اپنی فکر مندی کا بھی اظہار کیا۔
’’ہوجائے گا سب۔ کون سی رخصتی ہورہی ہے۔ صرف نکاح ہی تو ہے۔ خوامخواہ ٹینشن مت لو۔‘‘ انکل نے انہیں سمجھایا تو وہ جواباً ناراضی سے بولیں۔
’’تب بھی سوکام ہوتے ہیں۔ ماشائ اللہ اتنا بڑا خاندان ہے۔ صرف لوگوں کو انوائٹ کرنا ہی بہت بڑا اور تھکا دینے والا کام ہوگا پھر بازاروں کے چکر الگ لگیں گے۔‘‘ وہ الجھ رہی تھیں۔ اس وقت تو وہ خاموش رہی تھی لیکن رات میں جب پھوپھو ہی کے کمرے میں اور بھابھی ان کے ساتھ اسی حوالے سے گفتگو کر رہی تھیں تب اس نے اپنے آفس سے چھٹی لے لینے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔
’’میں تین چار دن کی چھٹی لے لیتی ہوں۔‘‘
’’تمہیں مسئلہ تو نہیں ہوگا؟‘‘ پھوپھو کے استفسار پر وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولی۔
’’مسئلہ کیسا؟ ویسے بھی اتنے سارے دنوں کی جاب میں، میں نے ابھی تک ایک بھی چھٹی نہیں کی۔‘‘
اور پھر واقعی اس نے چھٹی لے لی تھی۔ ثمین اسے جتنی پیاری ہوگئی تھی تو ایسے میں اس کی زندگی کی یہ خوشی اسے اپنی ہی خوشی لگ رہی تھی۔
اس صبح اسے گھر کے حلیہ میں بیٹھا دیکھ کر دائود نے تعجب سے پوچھا۔
’’تمہیں آفس نہیں جانا کیا؟‘‘ تو اس کے جواب سے پہلے ہی پھوپھو اسے اس کی آفس سے چھٹی لے لینے کے بارے میں بتانے لگیں۔ ان کے لہجے میں اس کے لےے محبت تھی۔ فخر تھا۔
’’دیکھو کتنی اچھی ہے میری بھتیجی۔‘‘ ان کی آنکھوں میں لکھی یہ تحریر اسے بہت اچھی لگ رہی تھی۔
’’تم اس طرح آکر ہم لوگوں کے ساتھ گھل مل گئی ہو دانیا کہ غیریت کا احساس ہی نہیں ہوتا۔ کبھی تمہارے سامنے بات کرتے ہوئے یہ نہیں سوچنا پڑتا کہ یہ غیر ہے، اس کے سامنے یہ بات نہیں کرنی۔ تھوڑا سا تکلف قائم رکھنا ہے۔‘‘
اس روز جب وہ بھابھی کے ساتھ شاپنگ کرنے گئی تو انہوں نے اس سے کہا اور جس پیار سے وہ میرال کے سرخ غرارے کے ساتھ میچ کرتی سرخ چوڑیاں پسند کر رہی تھی۔ اسے دیکھتے ہوئے بے ساختہ یہ بات ان کے منہ سے نکلی۔
’’میں نے کبھی خود کو غیر سمجھا بھی نہیں بھابھی۔ یہ میری پھوپھو کا گھر ہے۔‘‘ وہ اس کے جواب پر مسکرا دیں۔
’’تم امی کی بھتیجی کے بجائے بیٹی لگتی ہو۔ ثمین سے زیادہ تمہاری عادتیں ان کے جیسی ہیں۔ دائود کا تمہارے بارے میں یہی خیال ہے۔‘‘ ان کی اس بات پر اس کا دل بڑی بے ترتیبی سے دھڑکا تھا۔
’’کیا خیال ہے ان کا؟‘‘ بظاہر اس نے لاپروا سے انداز میں پوچھا۔ ایسے جیسے یونہی پوچھ رہی ہو۔
’’وہ مجھ سے کہہ رہا تھا کہ یہ خاتون کچھ کچھ ہماری امی جیسی نہیں ہیں۔‘‘ وہ جواب دیتے ہوئے مسکرائیں۔
’’اس دن جب ہم لوگوں کی شادی کی سالگرہ تھی۔ اس کے بعد دےے تھے اس نے یہ کمنٹس۔ بھئی! سچی بات ہے مجھے تو پتا نہیں چلا تھا کہ تم جھوٹ بول رہی ہو اور ثمین نے تمہیں جان بوجھ کر نہیں بتایا۔ لیکن دائود کو معلوم نہیں کس طرح تمہارے جھوٹ کا اندازہ ہوگیا تھا۔ امی کی بھی تو یہی عادت ہے لڑائی جھگڑے سے انہیں ٹینشن ہوتی ہے۔ دوسروں کو بہت آسانی سے معاف کردیں گی۔ ان کی غلطیوں کو چھپالیں گی،تاکہ جھگڑوں اور بدمزگی سے بچا جاسکے اور تم نے بھی تو اس روز اسی لےے جھوٹ بولا تھا۔‘‘
اپنے لےے یہ تعریفی جملے اسے درحقیقت خوشی کا بہت انوکھا سا احساس بخش گئے تھے۔ کوئی ہے جو اسے بہت اچھا سمجھتا ہے۔ ساری زندگی اس کے گھر والے اس کی جن عادتوں سے بے زار رہے، یہاں کسی کے لےے وہ سب عادتیں قابلِ ستائش ہےں۔
ز ز ز ز
اس کی امی سے فون پر بات ہوئی تو اس کے پوچھنے سے پہلے ہی انہوں نے ثمین کے نکاح پر اپنے کراچی آنے کا بتایا۔ پھوپھو نے انہیں فون پر بلاوا دیا تو تھا لیکن اسے یقین نہیں تھا ان کے آنے کا جبکہ خود اس کا بہت دل چاہ رہا تھا کہ وہ کراچی آئیں۔ کتنے دن ہوگئے تھے ان سے ملے ہوئے۔ اس کا امی کے ساتھ ویسا تعلق نہیں تھا جیسا ماں بیٹی کا ہوا کرتا ہے۔ کبھی انہوں نے ساتھ بیٹھ کر ایک دوسرے سے اپنے دکھ سکھ نہیں کہے تھے لیکن پھر بھی وہ اس کی ماں تو تھیں۔ ان کی بہت سی باتوں سے اختلاف کے باوجود اسے ان سے بہت پیار تھا اور اب تو ابو کی وفات کے بعد سے وہ بہت تبدیل بھی ہوگئی تھیں۔
وہ امی کی آمد کی شدُت سے منتظر تھی۔ نکاح سے ایک روز پہلے ہی وہ آگئیں تو اسے بہت خوشی ہوئی۔ سب ان سے بہت اچھی طرح ملے تھے بغیر کسی پرانی بات کا حوالہ دےے۔ اسے یاد تھا کہ عاصم بھائی کی شادی پر کس طرح ابو کھڑے کھڑے بالکل مہمانوں کی طرح شریک ہو کر فوراً ہی پنڈی واپس آگئے تھے۔ تب دولت ان کے گھر کی باندی تھی۔ آج اس کے برعکس تھا۔ دولت کا توازن الٹ چکا تھا لیکن آج جن لوگوں کے پیچھے وہ ہاتھے باندھے کھڑی تھی، وہ آج بھی ویسے ہی تھے جیسے اس دولت کے بغیر ہوا کرتے تھے۔
’’اتنا آئیڈیل گھر ہے یہ امی! یہاں سب ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔‘‘ وہ اس کی تعریفوں کے جواب میں خاموشی سے مسکرادیں۔
انہوں نے اس سے اس بارے میں کچھ کہا تو نہیں تھا لیکن پہلا قدم رکھتے ہی پچھتاوے کا احساس ہوا ہوگا۔ انہوں نے عاصم بھائی کے ساتھ جلال بھائی کا موازنہ بھی ضرور کیا ہوگا اور اپنے غرور اور غلط فیصلوں پر انہیں ندامت بھی ہوئی ہوگی۔
پھوپھو نے اسے فنکشن کے لےے کپڑے بنا کر دےے تھے۔ خود ساتھ لے جا کر اسے اس کی پسند کا ڈریس دلوایا تھا۔ یہ اور بات کہ اس پسند میں صرف اس کا نام شامل تھا ورنہ ڈریس پسند انہوں نے ہی کیا تھا۔ اس کے پسند کے سادہ سادہ لباس سے انہیں اچھے نہیں لگ رہے تھے۔ ان کا پسند کیا ہوا آف وائٹ لباس اسے بہت بھاری لگ رہا تھا لیکن انہوں نے اسے ڈانٹ کر چپ کروادیا تھا۔
’’میرا نکاح تھوڑی ہے پھوپھو۔‘‘ انہیں پے منٹ کرتا دیکھ کر وہ منمنائی تو انہوں نے اسے گھور کر دیکھا۔
’’ایسے کپڑے تو لڑکیاں شادی بیاہ میں بڑے شوق سے پہنتی ہیں۔ تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے جو اتنا ہلکا سا کام تمہیں اوور لگ رہا ہے، دیکھنا کتنا سجے گا یہ رنگ تم پر۔‘‘
اور اب جب وہ پھوپھو کا دلوایا یہ لباس پہن کر تیار ہوئی تو سب نے ہی اس کی تعریف کی۔ عام دنوں میں وہ جتنے سادہ سے انداز میں رہا کرتی تھی، اس کے بعد یہ چینج سب کو ہی بہت اچھا لگ رہا تھا۔ فنکشن کا ارینجمنٹ لان میں کیا گیا تھا۔ امی مہمانوں کی طرح بیٹھی بیٹی کو میزبانی کے فرائض ادا کرتے ہوئے دیکھ رہی تھیں۔
وہ ثمین کے پاس اسٹیج پر جارہی تھی تب درمیان ہی میں بھابھی نے اسے آواز دے کر روک لیا۔ وہ اپنے ساتھ کھڑی ایک خاتون کا اس سے تعارف کروارہی تھیں۔
’’یہ میری کزن ہیں۔ جرمنی میں رہتی ہیں۔ آج کل پاکستان آئی ہوئی ہیں اور تہمینہ باجی! یہ دانیا ہے، عاصم کی ماموں زاد بہن۔‘‘ اس نے ان کی طرف ہاتھ بڑھایا تو انہوں نے بڑی خوش اخلاقی سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
سلام دعا کے بعد اس کی چند منٹوں تک ان سے رسمی سی بات ہوئی پھر وہ معذرت کرتی ثمین کے پاس اسٹیج پر آگئی۔ اس کے ساتھ بیٹھ کر تصویریں کھنچوا کر اور مووی بنوا کر وہ اسٹیج سے اتری تو رافعہ، دائود کے ساتھ باتیں کرتی نظر آئی۔
صرف رافعہ ہی کیا وہاں اس کی کئی کزنز کا دائود پر فدا ہونے والا انداز تھا۔ چند ایک کو چھوڑ کر اکثریت کا یہی رویہ تھا۔ چارٹرڈ اکائونٹنٹ کزن جو ایک ملٹی نیشنل میں بڑے شاندار سے عہدے پر کام کر رہا ہے۔ بہت زبردست قسم کی سیلری وصول کر رہا ہے اور سب سے بڑھ کر ابھی تک غیر شادی شدہ ہے۔ سب کی توجہ کا مرکز تھا۔ لڑکیوں کا اس کے ساتھ پوز کر کر کے باتیں کرنا اور بہانے بہانے سے اپنی طرف متوجہ کروانے والا اسٹائل اسے بہت برا لگ رہا تھا۔
فنکشن ختم ہونے پر جب سب مہمان چلے گئے تو وہ فوراً ہی اس لبا س سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لےے اوپر اپنے کمرے کی طرف بھاگی۔ وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھ رہی تھی اور دائود اتر رہا تھا۔ اسے بہت تیزی میں دیکھ کر وہ چڑھنے کے لےے راستہ دیتاخود ایک طرف ہوگیا تھا۔ وہ اس کے قریب سے گزری تو ایک سرگوشی نما آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
’’یہ رنگ اکثر پہنا کریں۔‘‘ اسے ایسا لگا اس کا دل اب سے پہلے کبھی اس رفتار سے نہیں دھڑکا تھا۔ بغیر رکے وہ اوپر تو چڑھ گئی تھی۔ اس کی طرف پلٹ کر دیکھا تک نہیں تھا لیکن خود ابھی تک جیسے عالمِ حیرت میں تھی۔
فنکشن کے دوران ایک بار بھی اس نے اس کی خود پر نظریں محسوس نہیں کی تھیں۔ ایک بار بھی ایسا نہیں لگا تھا کہ وہ اس کی طرف متوجہ ہے اور اب اسے احساس ہورہا تھا کہ اس بات پر اسے دکھ بھی ہورہا ہے۔ کہ آج سب نے اسے سراہا ہے لیکن جہاں سے سراہے جانے کی اسے خواہش تھی، وہاں سے ایک نگاہ تک اسے نہیں ملی۔
کمرے میں آکر اپنی بے ترتیب دھڑکنوں کو ہموار کرتی، وہ کتنی دیر تک اس لمحہ کی گرفت میں رہی۔ کتنا وقت گزر گیا تھا اسے یونہی بیٹھے، اس بات کا اسے خود احساس نہیں تھا۔
’’تم نے ابھی تک کپڑے نہیں بدلے؟‘‘ امی کمرے میں داخل ہوئیں۔ وہ انہیں دیکھ کر شرمندہ سی ہوتی کھڑی ہوگئی۔
’’جی بس اٹھ ہی رہی تھی، کپڑے بدلنے کے لےے۔‘‘ وہ اس کا جواب بے توجہی سے سنتی بیڈ پر بیٹھ گئیں۔ وہ ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑی ہو کر جیولری اتارنے لگی۔
’’کیا بات ہے امی! بہت خوش نظر آرہی ہیں آپ؟‘‘ شیشے میں اسے ان کا مطمئن اور خوش باش چہرہ نظر آیا تو جھٹ پوچھا۔
’’خوشی کی بات جو ہے۔ میں نے تمہاری پھوپھو سے تمہارے اور دائود کے رشتے کے بارے میں بات کی ہے اور انہیں اس رشتے پر کوئی اعتراض نہیں۔ کہہ رہی ہیں کہ تم انہیں بہت پسند ہو۔ بس وہ دائود اور وقاص سے اس بارے میں بات کرلیں پھر مجھے فائنل جواب دیں گی اور فائنل جواب ظاہری بات ہے، ہاں ہی ہوگا۔ سب تمہیں پسند کرتے ہیں یہاں پر۔‘‘ کانچ کی چوڑی بہت زور سے اس کی کلائی میں چَبھی تھی۔
’’کیا کہہ رہی ہیں آپ؟‘‘ وہ اس ٹوٹی چوڑی اور خون نکلنے کی تکلیف پر توجہ دےے بغیر مڑ کر ان کے پاس آگئی تھی۔
’’کیا بات کی ہے آپ نے پھوپھو سے؟‘‘ شاید اس نے کچھ غلط سنا تھا۔ امی شاید کچھ اور بات کہہ رہی تھیں، وہ شاید بات سمجھی نہیں تھی۔
’’کیا ہوگیا تمہیں۔ اتنی حیران کیوں ہورہی ہو۔ میں نے تمہارے رشتے کی ہی تو بات کی ہے۔ اس میں غلط کیا ہے؟‘‘ وہ ناراضی اور خفگی کا اظہار کرتے ہوئے بولیں۔
’’پہلے تو میرا ارادہ نہیں تھا یہ بات کرنے کا۔ لیکن یہاں جس طرح میں نے لڑکیوں اور ان کی مائوں کو دائود اور آپا کے آگے پیچھے دیکھا تو مجھے اپنا کہہ دینا مناسب لگا۔ کہیں ہم شرما شرمی میں رہ جائیں اور کوئی رشتہ دار ہاتھ مار جائے۔ تمہاری پھوپھو تو ہیں ہی سدا کی بے وقوف جو اچھی طرح مل لے اسی کی گرویدہ۔ اب کم از کم میں نے بات تو ان کے کان میں ڈال دی۔ تمہیں تو ویسے بھی یہاں سب اتناپسند کرتے ہیں۔ دائود بھی مجھے ایسا نہیں لگتا کہ تمہیں نا پسند کرتا ہے۔ یہ دونوں بھائی اپنے خاندان کے ساتھ بہت مضبوطی سے جڑے ہوئے ہیں اور اسی لڑکی کو پسند کریں گے جو ان کی فیملی کو اپنا سمجھ کر اور یہاں کی ہر چیز کو اپنا کر رہے گی۔ اور تم نے تو اتنے عرصے میں خود کو ایسا ہی ثابت کیا ہے۔ ایسی کوئی اور لڑکی انہیں کہیں اور ملے گی بھی کہاں۔ جس میں بیک وقت اتنی ساری خوبیاں ہوں۔ شکل و صورت میں تم لاکھوں میں ایک ہو۔ عادتوں اور مزاج سے وہ تمہارے واقف ہیں اور اسے بہت پسند کرتے ہیں۔ اعلا تعلیم یافتہ ہو۔ کمی کس چیز کی ہے تم میں؟ اب کیا میں بیٹھ کر اس بات کا انتظار کرتی کہ رشتہ وہ دیں۔ آج کل کا دور اسی طرح کا ہے۔ بیٹیوں کے اچھی جگہ رشتے طے کرنے کے لےے مائوں کو بہت ہاتھ پائوں مارنے پڑتے ہیں۔ تب کہیں جا کر قسمت کا بند دروازہ کھلتا ہے۔‘‘
وہ گم صم سکتے کی کیفیت میں ایک ٹک انہیں دیکھے جارہی تھی۔ وہ اس کی گم صم سی کیفیت سے لاتعلق اپنے صحیح موقع پر صحیح بات کرلینے پر نازاں نظر آرہی تھیں۔
’’ابھی ان کے کمرے میں بیٹھی میں ان سے یہی سب باتیں تو کر رہی تھی۔ کل رات میں نے عاصم سے عادل کی جاب کے بارے میں بھی بات کی ہے۔ آخری سمسٹر ہے اس کا۔ اچھی سے اچھی پوزیشن کے ساتھ بھی ایم بی اے کر لے تب بھی نوکریاں اتنی آسانی سے کہاں ملتی ہیں۔ کوئی کیریئر والی جاب ہو، جس میں ترقی اور کامیابی کے امکانات ہوں۔ عاصم اور دائود کے بہت کونٹیکٹس ہیں۔ مجھے اس نے انکار بھی نہیں کیا۔ کہہ رہا تھا پوری کوشش کرے گا، عادل کی جاب کے لےے۔
پھر میں سوچ رہی ہوں کہ اگر عادل کی جاب کراچی میں ہوگئی تو میں بھی گھر بیچ کر یہیں شفٹ ہوجائوں۔ تمہاری شادی بھی یہیں ہوگی۔‘‘ وہ اتنی خوش تھیں کہ اس خوشی میں انہیں اس کا اَجڑا ہو ادھواں دھواں چہرہ نظر ہی نہیں آرہا تھا۔
’’آپ بالکل نہیں بدلیں امی! آپ بالکل بھی نہیں بدلیں۔ آپ آج بھی وہی ہیں۔ بالکل ویسی ہی۔ ہر کام Calculate کر کے کرنے والی۔ نفع نقصان کا حساب کتاب کر کے۔‘‘
وہ خاموش کھڑی ویران نگاہوں سے ان کی طرف دیکھے جارہی تھی۔ اس کی مجبوری یہ تھی کہ سامنے بیٹھی عورت اس کی ماں تھی۔ وہ ان سے لڑ نہیں سکتی تھی۔ انہیں کوئی تلخ بات نہیں کہہ سکتی تھی۔ ان سے یہ نہیں کہہ سکتی تھی۔
’’آپ نے کیا مجھے یہاں بھیجا ہی اس لےے تھا۔ آپ کو پتا تھا آپ کی بیٹی ان لوگوں کے دلوں سے تمام بدگمانیاں دور کر دے گی۔ آپ کی بچھائی بساط پر میں ایک مہرہ تھی۔ آپ نے سب چالیں سوچ سمجھ کر چلیں۔ سب فائدے نقصان ذہن میں رکھ کر۔‘‘ اس کا پورا وجود سراپا احتجاج بنا ہوا تھا۔ وہ شکوہ بھری نگاہوں سے ان کی طرف دیکھ رہی تھی۔
امی اس کی خاموشی پر دھیان دےے بغیر واش روم میں چلی گئی تھیں۔
اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کل وہ اس گھر کے مکینوں کا سامنا کس طرح کرے گی۔اور وہ شخص جو اس کی خوبیوں کا معترف ہے۔ اسے اپنی ماں کی جیسی عادتیں رکھنے والی شخصیت قرار دیتا ہے۔ کل وہ اسے دیکھ کر نفرت سے منہ پھیرلے گا۔ یہ سب ان ماں بیٹی کی چالاک ذہنیت تھی۔ سب کچھ ان کے پلان کا حصہ تھا۔
اسے اپنا کیا ایک ایک کام یاد آرہا تھا۔ وہ سب جو اس نے خلوص اور محبت میں کیا تھا لیکن جسے اب مکاری اور اپنی ادائوں کے جال میں پھنسانا قرار دیا جائے گا۔ وہ اب کیونکر کسی کو یقین دلا پائے گی کہ میں کوئی ڈرامہ نہیں کر رہی تھی۔ میں یہ ضرور چاہتی تھی کہ آپ سب لوگ مجھے اپنا سمجھیں، اچھا سمجھیں لیکن یہ میری ایک سادہ اور معصوم سی خواہش تھی۔ اس کے پیچھے کوئی مقاصد نہیں تھے۔ اس نے نادانستگی میں، وہ سب کیا جو امی چاہتی تھیں۔ تب تو دائود نے ایسا کچھ نہیں سوچا ہوگا لیکن اب جب پھوپھو اسے سب کچھ بتائیں گی تو ضرور سوچے گا۔ اور اب جب وہ اس بارے میں سوچے گا تو وہ اس کے سامنے کس طرح کی لڑکی ثابت ہوگی۔اپنی بھولی بھالی اور معصوم شکل کو وہ کس کس طرح استعمال کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ زندگی میں پہلی مرتبہ اسے اپنے اس حسین چہرے سے گھن آئی تھی۔ اس کا دل چاہا وہ اس خوب صورت چہرے پر تیزاب پھینک دے۔ تاکہ یہ اس قابل نہ رہے کہ اس کی خوب صورتی کو کیش کروایا جاسکے۔
اسے یاد آیا ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ دائود کی کزنز کو اس کے آگے پیچھے پھرتا دیکھ کر بڑے تمسخرانہ انداز میں ہنسی تھی اور انہیں حقارت اور تمسخر سے دیکھتے وقت وہ اپنی طرف دیکھنا بھول گئی تھی۔ اس کی وہ سب کزنز دانیا ظفر سے بہت بہتر تھیں، اس سے لاکھ گنا بہتر۔ وہ صرف اسے پسند ہی تو کر رہی تھیں۔ ان کی خواہش یہی تو تھی کہ یہ خوبرو بندہ ہمیں مل جائے۔ لیکن اپنی اس خواہش کی تکمیل کے لےے انہوں نے کوئی گیم نہیں کھیلا تھا۔ کوئی پلاننگ نہیں کی تھی۔ خود کو بہت اچھا بنا کر اس کے سامنے پیش نہیں کیا تھا۔ ان میں سے کسی کی ماں نے دکانداری نہیں کی تھی جبکہ اس کی ماں نے دکانداری ہی تو کی تھی۔ بیٹی کی خوبیاں گاہک کے سامنے رکھ کر۔ اس کی چمک دمک دکھلا کر۔
وہ ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے میں خودکو دیکھے چلی جارہی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے۔
ز ز ز ز
امی نے غصے کے اظہار کے طور پر صبح اس سے کوئی بات نہیں کی تھی۔ وہ خود بھی بالکل خاموش تھی۔ دائود انہیں ایئرپورٹ چھوڑنے جارہا تھا۔ وہ بہت مشکلوں سے خود کو گھسیٹ کر کمرے سے باہر لائی تھی۔ اسے لگ رہا تھا وہ ایک دم بالکل بے وقعت اور حقیر ہوگئی ہے۔ اس میں پھوپھو کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی۔ دائود کی طرف دیکھنے کا حوصلہ نہیں تھا لیکن پھر بھی وہ ان سب کا سامنا کر رہی تھی۔ دائود نے ایک بار بھی براہ راست اس کی طرف نہیں دیکھا تھا۔ اس سے نظریں ملائے بغیر امی کو پورچ میں ہی اللہ حافظ کہہ کر وہ پھوپھو کے ساتھ واپس اندر آگئی تھی اور پھر ان سے تھکن کا بہانہ بنا کر دوبارہ کمرے میں چلی گئی۔
اس کا کمرے سے باہر نکلنے کا دل ہی نہیں چاہ رہا تھا۔دل چاہ رہا تھا وہ کہیں غائب ہوجائے۔ دوبارہ ان سے کبھی بھی نہ ملے لیکن جو وہ سوچ رہی تھی ایسا ہونا ناممکن تھا۔ کہیں چلے جانا اور غائب ہوجانا اس کے بس سے باہر کی باتیں تھیں۔ ثمین اسے لنچ کے لےے بلانے آئی تھی۔
’’مجھے بھوک نہیں لگ رہی ثمین۔‘‘ اس سے نظریں چراتے ہوئے اس نے آہستگی سے کہا۔
’’بھوک کیسے نہیں لگ رہی۔ خوشی میں میری بھوک ختم ہوجائے تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ آپ کی بھوک کو کیا ہوا ہے۔‘‘ اس نے اسے ہاتھ پکڑ کر اٹھا دیا۔
’’صرف سوئیٹ ڈش کھا لیجےے گا۔ چلیں تو سہی۔ سب انتظار کر رہے ہیں کھانے پر۔‘‘ وہ اسے کمرے سے گھسیٹ لائی۔
وہ ثمین کے ساتھ آکر ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ گئی تھی۔ کھانا کھاتے ہوئے سب ہی آپس میں کل کے فنکشن کے حوالے سے کچھ نہ کچھ گفتگو کر رہے تھے۔ وہ سرجھکائے اپنی پلیٹ میں چمچہ چلا رہی تھی۔
’’تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے دانیا؟‘‘ پتا نہیں اس کے چہرے پر ایسی کیا چیز نظر آئی تھی جس نے پھوپھو کو یہ سوال کرنے پر مجبور کیا تھا۔
’’جی پھوپھو۔‘‘ اس نے مختصر جواب دیا۔
’’ہاں کچھ بجھی بجھی سی لگ رہی ہے دانیا۔ میرا خیال ہے کل کی تھکن کا اثر ہے۔‘‘ انکل نے پھوپھو سے کہا تو ثمین ایک نظر اس پر ڈال کر ان سے بڑے شوخ اور شگفتہ سے انداز میں بولی۔
’’تھکن نہیں ہے پاپا! اصل میں کل یہ خوب صورت بہت لگ رہی تھیں۔ ضرور کسی کی نظر لگی ہے انہیں۔‘‘ انکل، ثمین کے کمنٹس پر مسکرائے تھے۔ وہ خود کو موضوعِ گفتگو بنتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ اس نے چاہا کہ وہ خود پر خوش گفتاری اور خوش اخلاقی کا ملمع چڑھا کر روزانہ کی طرح سب سے باتیں کرے۔
کھانے کے بعد پھوپھو نے اس کے کمرے میں آکر دوبارہ اس کی طبیعت کے بارے میں پوچھا تھا۔ وہ شاید یہ سمجھ رہی تھیں کہ وہ اپنی بیماری چھپا رہی ہے۔ ان کی تشویش اور محبت اس کی آنکھوں میں آنسو لے آئے تھے۔
’’پھوپھو! میں آپ کی بیٹی کیوں نہیں؟ کاش میں آپ کی بیٹی ہوتی۔ یا پھر میری امی آپ جیسی اچھی ہوتیں۔ میں خود اپنی نظروں سے گر گئی ہوں پھوپھو! خود سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہی۔‘‘ اس کا دل چاہا ان کے گلے لگ کر دھاڑیں مار مار کر روئے۔
’’میں بالکل ٹھیک ہوں پھوپھو۔‘‘ چہرے پر بڑی مشکلوں سے تھوڑی سی مسکراہٹ لاتے ہوئے یہ بات کہی تھی۔
ز ز ز ز
شام میں وہ بھابھی اور ثمین کے ساتھ لان میں بیٹھی ہوئی تھی۔ دائود نے باہر آکر بھابھی کو ان کا فون آنے کی اطلاع دی اور پھر فوراً ہی واپس مڑگیا۔ اس کے انداز میں بہت عجلت تھی۔ بھابھی فون سننے چلی گئی تھیں۔ ثمین اس کے ساتھ کل کا فنکشن ڈسکس کرنے میں مصروف تھی۔ اسے ثمین کی باتوں میں کوئی دلچسپی محسوس نہیں ہورہی تھی۔ بہت بے دلی سے وہ اس کی باتیں سن رہی تھی۔ بھابھی کافی دیر بعد واپس آئیں۔
’’ثمین کا خیال صحیح ہے۔ تمہیں واقعی نظر لگی ہے اور یہ نظر کس کی تھی، یہ ابھی ابھی مجھے پتا چلا ہے۔‘‘ کرسی پر بیٹھتے ہوئے انہوں نے اسے مخاطب کیا، بہت شرارتی سے انداز میں۔
’’آپ کا انداز بڑا مشکوک سا ہے بھابھی! صاف صاف بتائیں کس کا فون تھا؟‘‘ ثمین نے بے تابی اور بے صبری سے پوچھا تو وہ اس کی بے تابی پر مسکراتی ہوئی گویا ہوئیں۔
’’تہمینہ باجی کا تھا۔ انہیں عثمان کے لےے ہماری دانیا دل و جان سے پسند آگئی ہے۔ ماتھا تو خیر میرا کل ہی ٹھنکا تھا جب انہوں نے بڑی دلچسپی سے دانیا کے بارے میں مجھ سے پوچھا تھا۔ پھر خود ہی مجھ سے اصرار کر کے اس سے تعارف حاصل کرنا چاہا تھا۔‘‘ انہوں نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا۔
’’تمہیں یاد ہے نا دانیا! کل میں نے تمہیں ایک خاتون سے اپنی کزن بتا کر تعارف کروایا تھا۔ گرین ساڑھی پہنی ہوئی تھی انہوں نے۔‘‘ انہوں نے اسے یاد دلانے کی کوشش کی اور اسے کیونکہ پہلے ہی یاد آچکا تھا اسی لےے فوراً سر ہلا یا۔
’’دانیا آپی کو بعد میں یاد دلاتی رہےے گا۔ پہلے مجھے ساری بات بتادیں۔ کیا کہہ رہی تھیں وہ۔ تفصیل سے بتائیں۔‘‘
ثمین کا جوش و خروش دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ ثمین اور بھابھی کی خوشی اور گرم جوشی دیکھتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ انہیں ابھی تک پھوپھو نے کچھ نہیں بتایا۔
’’اب کی بار وہ پاکستان آئی ہی اس ارادے سے تھیں۔ بڑی فکر ہے انہیں بھائی کی شادی کی۔ عثمان نے بھی تو لڑکی پسند کرنے کا اختیار کلی طور پر بہن کو دے رکھا ہے۔‘‘
بھابھی ثمین سے کہہ رہی تھیں، اس کی خاموشی محسوس کی تو ثمین سے گفتگو موقوف کر کے وہ اس کی طرف متوجہ ہوئیں۔
’’برلن میں رہتی ہیں تہمینہ باجی۔ ان کے شوہر کی وہیں جاب ہے۔ بس دو ہی بہن بھائی ہیں تہمینہ باجی اور عثمان۔ والدین کا ان کے کئی سال ہوئے انتقال ہوچکا ہے۔ اب کراچی میں عثمان اکیلا ہی رہتا ہے۔ بہت اچھا سلجھا ہوا لڑکا ہے۔ مہذب اور تعلیم یافتہ۔‘‘ اس کی خاموشی کا انہوں نے یہی مطلب لیا یہ شاید وہ ہچکچا رہی ہے اس لےے از خود ہی اسے تمام تفصیلات سے آگاہ کرنے لگیں۔
’’آپ نے انہیں کیا جواب دیا؟‘‘ اس سے پہلے کہ وہ دانیا کو مزید ہسٹری سنانا شروع کرتیں ثمین نے پوچھا۔
’’ایسے میں کیا جواب دیتی۔ میں نے ان سے یہی کہا کہ میں امی سے بات کرلوں۔ امی، ممانی اور دانیا سے پوچھ لیں۔ اگر سب کو یہ رشتہ پسند آتا ہے تو پھر آپ باقاعدہ پروپوزل لائےے گا۔‘‘
’’کل فنکشن میں آئے تھے نا عثمان بھائی؟‘‘ ثمین نے بھابھی سے پوچھا۔
’’ہاں آیا ہوا تھا۔ اب یہ نہیں معلوم کہ یہ نظر بہن صاحبہ کی تھی یا بھائی کی، جو ہماری سوئیٹ سی داینا کو اتنی بری طرح لگی ہے۔ دیکھو کیسی چپ چاپ اور اداس سی لگ رہی ہے۔‘‘ بھابھی کا جواب حسبِ توقع شوخ سا تھا۔
’’اب آپ یقینا یہ جاننا چاہ رہی ہوں گی کہ موصوف دیکھنے میں کیسے ہیں؟‘‘ ثمین نے اس کی طرف جھک کر رازداری سے دریافت کیا۔
’’بے چاری مشرقی لڑکی شرما رہی ہیں۔ چلیں میں خود ہی بتا دیتی ہوں بلکہ میرا خیال ہے بھابھی بتادیں۔ آخر ان کے کزن صاحب ہیں۔ انہیں ان کی ہائٹ، ناک نقشہ سب از بر ہوگا۔‘‘
ثمین اس وقت مکمل طور پر شرارتی موڈمیں تھی۔ بہت خوش گوار سے انداز میں اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتی وہ بہت خوش لگ رہی تھی۔
رات کا کھانا بغیر بھوک کے سب کے ساتھ بیٹھ کر کھایا تھا اس نے۔ کھانے کے فوراً بعد وہ کمرے میں آگئی تھی۔
بھابھی کی کزن شاید بہت ہی جلدی میں تھیں۔ اگلے روز صبح صبح ہی ان کا دوبارہ فون آگیا تھا۔ اس بار پھوپھو نے ان سے بات کی تھی۔ اس وقت لائونج میں صرف وہ اور پھوپھو بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کی گفتگو کے دوران وہ وہیں بیٹھی رہی تھی۔ پھوپھو نے نہ انہیں ہاں کہی تھی نہ ناں بلکہ بھاوج سے پوچھ کر جواب دینے کی بات کہی تھی۔ وہ فون بند کرچکیں تو وہ اٹھ کر ان کے پاس آگئی۔
’’آپ کو یہ رشتہ کیسا لگ رہا ہے پھوپھو؟‘‘ انہوں نے اس سوال پر تعجب سے اسے دیکھا۔
’’میرا مطلب ہے بھابھی تو بہت تعریف کر رہی تھیں۔ آپ کی کیا رائے ہے؟‘‘ اس کا انداز بے جھجک سا تھا۔ انہیں ایک پل کے لےے تو اس کا خود اپنے رشتے کے بارے میں اس طرح بات کرنا پسند نہیں آیا پھر فوراً ہی اپنی سوچ کو فرسودہ اور پرانے زمانے کی قرار دے کر وہ اس کی طرف متوجہ ہوئیں۔
’’عثمان بہت اچھا لڑکا ہے۔ تعلیم یافتہ ہے۔ جاب بھی اس کی بہت اچھی ہے۔ عادت کا بھی اچھا ہی لگتا ہے۔ ویسے عادتوں کا صحیح سے پتا تو اسی وقت چلتا ہے جب کسی سے رشتہ جوڑا جاتا ہے لیکن بظاہر اس میں کوئی خراب نہیں۔‘‘ انہوں نے اسے سنجیدگی سے جواب دیا۔
’’تمہاری کیا مرضی ہے؟ تمہیں کیسا لگا یہ رشتہ؟‘‘ انہوں نے اس کی دلچسپی اس رشتے میں محسوس کرلی تھی۔ اس لےے اسے کریدا۔
’’پھوپھو شادی کبھی نہ کبھی تو کرنی ہی ہوتی ہے۔ مجھے یہ رشتہ اچھا لگ رہا ہے۔ لمبی چوڑی سسرال میں میرا گزارا نہیں ہوسکتا۔ مجھے تو نند، دیور اور جیٹھ، جٹھانی وغیرہ کے نام سن کر ہی کوفت ہونے لگتی ہے۔ ساری زندگی رشتے نبھاتے رہو اور یہاں تو کوئی ہے ہی نہیں۔ اگر آپ کہہ رہی ہیں کہ باقی سب کچھ ٹھیک ہے تو پھر میرا ووٹ اسی رشتے کی طرف ہے۔‘‘
وہ حیرت سے اس کی بات سن رہی تھیں۔ انہیں شاید یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ رشتوں سے بے زاری کا یہ اظہار دانیا کر رہی ہے۔ جو یہاں سب کے ساتھ اتنی محبت سے رہتی رہی تھی۔
’’آپ لوگوں کی بات دوسری ہے۔ آپ لوگ کوئی میرے سسرال والے تھوڑی ہیں۔ آپ لوگوں سے محبت اس وجہ سے ہے کہ آپ میری پھوپھو ہیں اور باقی سب آپ کے حوالے سے عزیز ہیں لیکن میں سچ کہہ رہی ہوں پھوپھو! مجھے سسرالی جھمیلوں سے الجھن ہوتی ہے۔ وہاں پنڈی میں بجو کی اتنی لمبی سسرال ہے۔ وہ سسرالی رشتے نبھا نبھا کر ختم ہوگئی ہیں۔ بجو کا حال دیکھ کر ہی میری یہ خواہش ہے کہ مجھے زیادہ لوگوں میں نہ رہنا پڑے۔‘‘
وہ ان کے چہرے پر پھیلی حیرت کوبھانپتے ہوئے خود ہی اپنے رویوں کی وضاحت کرنے لگی۔ ’’ویسے تو کبھی نہ کبھی مجھے کراچی سے واپس پنڈی جانا ہی پڑجاتا۔ اب اگر میری شادی کراچی میں ہوگئی تو میں آپ کے قریب ہی رہوں گی۔ آپ سے جلدی جلدی مل سکوں گی۔ بس آپ ان سے یہ کہہ دیجےے گا کہ شادی میں کم از کم ایک سال بعد کروں گی۔ ابھی عادل کی جاب کا مسئلہ ہے۔ تب تک تو شہود کی پڑھائی اور گھر کے اخراجات کا مجھے ہی سوچنا ہے۔‘‘
وہ بہت دوستانہ سے انداز میں ان سے ساری باتیں ڈسکس کر رہی تھی۔ اس کے یہ بات شروع کرنے پر جو انہیں بے باکی اور بدلحاظی کا احساس ہوا تھا، وہ ختم ہو چکا تھا۔ انہیں ایسا لگا کہ وہ انہیں اپنا دوست سمجھ کر بالکل اسی طرح باتیں کر رہی ہے۔ جس طرح انسان دوستوں کے ساتھ کیا کرتا ہے اور دوست بزرگ بن کر نصیحتیں نہیں کیا کرتے۔ اس کی بھی وہی خواہش ہے جو اکثر لڑکیوں کی ہوا کرتی ہے۔ بس میں اور میرا شوہر۔ کوئی تیسرا فرد انہیں اپنے درمیان دیکھنا منظور نہیں ہوتا۔ اپنے گھر میں بہت سے بہن بھائیوں کے ساتھ خوشی خوشی محبت سے رہ لیں گے لیکن سسرال میں دو تین افراد بھی انہیں بڑا خاندان اور وبالِ جان نظر آتے ہیں۔ وہ اپنی خامی کا خود ہی اعتراف کر رہی تھی۔ وہ اسے کیا ٹوکتیں۔
’’ہم لوگ تو تمہارے بارے میں کچھ اور ہی سوچ رہے تھے لیکن خیر اگر تمہاری یہی مرضی ہے تو پھر ٹھیک ہے۔ میں پنڈی فون کر کے نگین سے اس بارے میں بات کرلوں۔ پھر ہی تہمینہ کو کوئی جواب دیا جائے گا۔‘‘وہ آہستگی سے کہتی اس کے پاس سے اٹھ گئیں۔ نہ اس نے پوچھا نہ انہوں نے بتایا کہ وہ لوگ اس کے بارے میں ’’کچھ اور‘‘ کیا سوچ رہے تھے۔
اسے پھوپھو کی مروُت برتنے والی اس ادا پر ہنسی آئی۔ جو سوچ صرف اس کی ماں کی تھی اس میں خود کو بھی شامل کر کے انہوں نے اسے فرد واحد کی سوچ سے بدل کر دو لوگوں کی سوچ میں تبدیل کر لیا تھا۔
اس سے قبل کہ پھوپھو پنڈی فون کرتیں، اس نے خود امی کو فون کرلیا۔ بہت سنجیدگی سے اس نے انہیں اپنے لےے اس رشتے کے بارے میں بتایا
’’کیا جاب کرتا ہے ردا کا کزن؟‘‘ وہ ان کے سوال کا مطلب اچھی طرح سمجھ گئی تھی۔ وہ بندے کی حیثیت، مرتبے اور مالی پوزیشن کا اندازہ کرنا چاہتی تھیں۔ اگر اس کا اسٹیٹس پھوپھو کی فیملی سے اونچا ہے تو وہ ایک پل کے لےے بھی یہ بات نہیں سوچیں گی کہ ابھی دو روز پہلے وہ نند سے اس کے بیٹے کا رشتہ مانگ چکی ہیں اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس دوسرے رشتے کو قبول کرنے کے لےے آمادہ ہوجائیں گی۔ ایک طنزیہ مسکراہٹ اس کے لبوں پر بکھری تھی ان کا یہ سوال سن کر۔
’’بہت اچھی جاب ہے اس کی، سیلری بھی بہت اچھی ہے لیکن دائود کے ساتھ اگر مقابلہ کیا جائے تو شاید اس سے آدھی تنخواہ ہوگی۔ تنخواہ کے ساتھ دیگر مراعات بھی اتنی شاندار نہیں جتنی دائود کو میسر ہیں۔ پوسٹ بھی اس کے جتنی اونچی نہیں ہے۔ ملکوں ملکوں گھومنے کے وہ مواقع بھی نہیں جو دائود کو حاصل ہیں۔ سوشل سرکل میں دائود کے جتنا وسیع نہیں اور تاجروں، صنعت کاروں اور اعلا افسروں کے ساتھ کونٹیکٹس بھی دائود کے جیسے نہیں۔ مختصراً یہ کہ دائود کے ساتھ مقابلے میں ہر معاملے میں اس کے مارکس دائود سے کم آئیں گے، لیکن اس کے باوجود میں اس رشتے کے حق میں ہوں۔ اور یہ رشتہ اگر کسی وجہ سے نہیں بھی ہوسکا تب بھی دائود وقاص کے ساتھ میں کبھی بھی اور کسی بھی قیمت پر شادی نہیں کروں گی۔ میں دنیا کے کسی بھی مرد کے ساتھ شادی کرلوں گی مگر اس کے ساتھ نہیں اور یہ میرا اٹل فیصلہ ہے۔‘‘
اس کا انداز اتنی قطعیت لےے ہوئے تھا کہ وہ جواب میں کچھ بول ہی نہیں سکی تھیں۔ اس کے لہجے میں ضد تھی، سرکشی تھی، من مانی تھی۔ ایسے جیسے اب وہ کسی کی کوئی بات نہیں مان گی۔ ان سے بات کرنے کے بعد کتنی دیر تک وہ چپ چاپ بیٹھی رہی تھی۔ زندگی میں پہلی مرتبہ اس نے ان کے ساتھ اس لہجے میں بات کی تھی۔ اس وقت وہ خاموش بیٹھی اپنے لہجے کی بدصورتی پر افسردہ ہورہی تھی۔
ز ز ز ز
پھوپھو کی امی سے رات میں بات ہوئی تھی۔ اسے یہ تو نہیں معلوم تھا کہ ان کی امی سے کیا بات ہوئی ہے لیکن اس نے انہیں اگلے روز تہمینہ باجی کو باقاعدہ رشتہ لے کر آنے کی دعوت دی تھی۔ ساتھ میں عثمان کو بھی بلایا تھا۔ شاید وہ یہ چاہتی تھیں کہ دانیا، عثمان کو دیکھ لے۔ شام میں وہ میرال کے ساتھ بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی جب دائود بڑے غصیلے موڈ میں وہاں آیا۔
’’تمہارے امتحان سر پر ہیں اور تم بجائے پڑھنے کے بیٹھ کر ٹی وی دیکھ رہی ہو۔‘‘ اس نے درشتی سے میرال سے کہا۔
اس نے اسکرین پر سے نظریں ہٹا کر ایک نظر اس پر اور پھر ایک نظر میرال پر ڈالی جو ہمیشہ دوستوں کی طرح رہنے والے چاچو کو بلا وجہ غصے میں آتا دیکھ کر سہم گئی تھی۔ ڈانٹ کھا کر رونے والی شکل بنائے وہ وہاں سے اٹھ گئی تو وہ خود وہیں بیٹھ گیا اور اس کے پاس پڑا ریموٹ کنٹرول اٹھا کر چینل بدل دیا۔
’’الہ دین اور اس کے جادوئی چراغ کی کہانی دیکھنے کی عمر، میں عرصہ ہوا گزار چکا ہوں۔‘‘ اسکرین پر نظریں مرکوز کےے یہ طنزیہ جملہ بولا گیا تھا۔ وہ بغیر کوئی جواب دےے خاموشی سے وہاں سے اٹھ گئی۔
سیڑھیوں کی طرف جاتے اسے ریموٹ کے بہت زور سے پٹخے جانے اور پھر ٹی وی بھی بند کےے جانے کی آواز آئی۔ اس نے مڑ کر اس طرف نہیں دیکھا تھا۔
پھر رات گئے تک وہ اسے اسی چڑچڑے پن کا مظاہرہ کرتا نظر آیا۔ سب سے زیادہ شامت ثمین، میرال اور شارم کی آئی ہوئی تھی۔ جن کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ اس سے عمر میں چھوٹے تھے۔ بات بے بات اس نے کئی بار ثمین اور میرال کو جھڑکا تھا۔
’’آپ کوکیا ہوا ہے دائود بھائی؟‘‘ ثمین نے آخر ہمت کر کے پوچھ ہی لیا۔
’’کیا ہوا ہے مجھے؟‘‘ وہ آنکھیں نکالے برہم سے انداز میں بولا۔
’’لگتا ہے آج آفس میں کسی سے لڑائی ہوئی ہے اور اس کا غصہ گھر والوں پر اتارا جارہا ہے۔ اتنے تلخ اور بدمزاج ہورہے ہیں۔ جو ڈش آج بھابھی نے پکائی ہے بالکل اسی جیسے۔‘‘ ثمین نے سامنے بائول میں رکھے قیمہ بھرے کریلوں کی طرف اشارہ کیا تو عاصم بھائی اس کی تشبیہ پر مسکرادےے جبکہ وہ مزید غصے میں آگیا۔
کھانے کی میز پر اس وقت عاصم بھائی، ثمین، دائود اور دانیا موجود تھے۔ باقی لوگ ابھی کھانے کی میز پر نہیں آئے تھے۔
’’ہاں پاگل ہوگیا ہوں۔ بلا وجہ غصہ آرہا ہے مجھے۔‘‘ وہ ایک جھٹکے سے کرسی سے اٹھا اور پیر پٹختا ڈائننگ روم سے نکل گیا۔ پیچھے ثمین اسے آواز دیتی رہ گئی تھی۔
’’میں نے تو یونہی مذاق کیا تھا۔ دائود بھائی ناراض ہوگئے۔‘‘ اسے بھائی کا بغیر کھانا کھانے اٹھ جانا بہت تکلیف پہنچا رہا تھا۔ وہ فوراً ہی اس کے پیچھے گئی تھی۔ اسے منانے اور واپس بلانے کے لےے لیکن اس نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ روزانہ کی طرح رات میں پھوپھو کے کمرے میں ان کے ساتھ باتیں کرنے کے ارادے سے آئی تو دائود ان کے ساتھ بیٹھا نظر آیا۔ ان کے پاس بیڈ پر بیٹھا وہ بڑے رازدارانہ اور خفیہ انداز میں کوئی بات کر رہا تھا۔ اسے آتا دیکھ کر وہ یک دم ہی لب بھینچ کر بالکل خاموش ہوگیا۔ پھوپھو نے اسے بیٹھنے کی آفر کی لیکن ان کے چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ اس وقت وہ کوئی بہت ضروری بات کر رہے ہیں اور اس نے انہیں ڈسٹرب کر دیا ہے۔ اس نے انکار کیا تو انہوں نے زیادہ اصرار بھی نہیں کیا۔ کمرے میں واپس آکر وہ آنے والے دن کے بارے میں سوچنے لگی۔
کل پھوپھو نے رات کے کھانے پر تہمینہ باجی کو انوائیٹ کر رکھا تھا۔ ان کے انداز سے تو یہ لگ رہا تھا وہ کل ہی ہاں کروا کر جائیں گی۔
اگلے روز اس نے آفس کی چھٹی کی تھی۔
آج کی دعوت اس کے ہونے والے سسرالیوں کی تھی۔ پھوپھو تو عام مہمانوں کے لےے بھی بہت مہمان نواز خاتون ثابت ہوئی تھی۔ تو پھر بھتیجی کے سسرالیوں کے لےے تو انہوں نے لازمی بہت شاندار سے ڈنر کا اہتمام کرنا تھا۔ پھوپھو اور بھابھی دن بھر لگ کر اس کے سسرالیوں کی خاطر مدارات کا اہتمام کریں اور وہ شان بے نیازی سے آفس چل دے اسے یہ بات اچھی نہیں لگی تھی اسی لےے آفس سے چھٹی کر لی تھی۔ پھوپھو نے اسے آفس کے لےے تیار نہ ہوتا دیکھ کر استفسار کیا تو اس نے انہیں اپنی چھٹی کا بتادیا۔
’’لیکن وہ لوگ تو آج نہیں آرہے۔‘‘ ان کا جواب اسے حیران کر گیا۔
’’کیوں؟‘‘
’’میں نے ہی رات تہمینہ کو آج کے لےے معذرت کی تھی۔ اصل میں آج مجھے کچھ کام ہے۔‘‘ انہوں نے جواب دیا۔
’’پھر کب آئیں گے اب وہ لوگ؟‘‘ ابھی اس کا سوال مکمل بھی نہیں ہوا تھا کہ دائود کچن میں آگیا۔
’’بہت بے قراری ہے شادی کرنے کی۔‘‘ عجب تمسخرانہ انداز میں اس نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
وہ اسے آتا دیکھ کر ہی جھنجھلا گئی تھی۔ مزید کسر اس کے جملے نے پوری کر دی تھی۔ پھوپھو نے بیٹے کو گھور کر دیکھا لیکن وہ ان کے گھورنے کی پروا کےے بنا فریج میں سے کچھ نکالنے لگا تھا۔
’’اب شاید کل آئیں گے وہ لوگ۔‘‘ دانیا کے چہرے پر پھیلتی ناگواری اور غصہ دیکھ کر انہوں نے رسانیت سے جواب دیا۔ وہ ان سے مزید کوئی سوال جواب کےے بغیر کچن سے نکل گئی تھی، جبکہ وہ ہنوز کچن میں کھڑا پانی پیتے ہوئے اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔
’’شاید کل آئیں گے۔‘‘ باہر نکل کر اس نے پھوپھو کا جواب دہرایا۔
’’یہ شاید کیا ہوتا ہے؟‘‘ وہ الجھی۔
’’آئیں گے ، یا نہیں آئیں گے ان دوباتوں کے بیچ یہ شاید کہاں سے ٹپک پڑا۔‘‘
شام تک وہ اسی بات پر الجھتی رہی تھی۔ ثمین کو ندا سے کوئی کام تھا۔ وہ کالج میں اس کے ساتھ پڑھتی تھی، اکثر پڑھائی کے حوالے سے ان دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت پڑجایا کرتی تھی۔
’’چچا کے گھر جارہی ہوں میں، آپ چلیں گی میرے ساتھ؟‘‘ ثمین نے اس سے پوچھا تھا۔ چچا کا گھر قریب ہی تو تھا لیکن شاید اس وقت ہلکا ہلکا سا اندھیرا پھیلتا دیکھ کر وہ اکیلے جانا نہیں چاہ رہی تھی۔ وہ ثمین کے ساتھ جانے کے لےے اٹھ گئی۔ چچا کے گھر پہنچ کر ثمین تو ندا کے ساتھ مصروف ہوگئی جبکہ وہ سحر اور چچی کے ساتھ باتیں کر کے ثمین کے فارغ ہونے کا انتظار کر نے لگی۔
ابھی انہیں آئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ اسے دائود اندر آتا نظر آیا۔ ایک نظر اس پر ڈال کر وہ وہیں لائونج میں ہی فواد کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرنے لگا۔ بیچ بیچ میں چچی اور سحر سے بھی اس کی ہلکی پھلکی گفتگو جاری تھی۔ چچی نے اسے سحر کے کسی رشتے کے بارے میں بتایا تو وہ اس سے بولا۔
’’اچھا تمہیں بھی شادی کی جلدی ہورہی ہے۔‘‘
’’یہ بھی کا کیا مطلب ہے دائود بھائی۔ اور کس کس کو جلدی ہے شادی کی۔‘‘ فواد نے ہنستے ہوئے پوچھا۔
’’یہی آج کل کی لڑکیوں کو اور کس کو۔ جسے دیکھو جلد سے جلد شادی کروانے کے شوق میں مبتلا ہے۔ پہلے لڑکیاں اپنے شادی بیاہ کے ذکر پر شرماجایا کرتی تھیں، اب تو وظیفے پڑھ پڑھ کر جلدی سے شادی ہوجانے کی دعائیں مانگا کرتی ہیں۔‘‘ وہ استہزائیہ انداز میں ہنسا۔ فواد بھی اس کے کمنٹس پر ہنسنے لگا تھا جبکہ سحر ان جملوں کا برا مان گئی تھی۔
’’میں نے کوئی وظیفہ نہیں پڑھا اور نہ ہی مجھے شادی کا کوئی شوق ہے۔‘‘
وہ کچھ دیر تو یہ باتیں برداشت کرتی رہی۔ مگر پھر یہ سوچ کر کہ جب تک وہ یہاں بیٹھی رہے گی، وہ اسی پر اس طرح طنزیہ فقرے اچھالتا رہے گا گھر واپسی کے لےے کھڑی ہوگئی۔
’’تمہیں تو ابھی دیر لگے گی۔ میں چلتی ہوں۔‘‘ وہ نسبتاً الگ تھلگ سے صوفے پر ندا کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھی ہوئی ثمین سے مخاطب ہوئی اور پھر سب کو اللہ حافظ کہہ کر گھر سے باہر نکل آئی۔
باہر سرد ہوا کے جھونکوں نے اس کا استقبال کیا۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے اس کی چچی اور سحر کے ساتھ کراچی کے اس غیر متوقع سرد موسم پر گفتگو ہوتی رہی تھی۔ وہ لوگ اس سرد موسم کو بہت انجوائے کر رہے تھے۔
’’کبھی کبھار سالوں میں تو ایسا موسم یہاں آتا ہے۔ آج کل تو ہم لوگ کراچی میں بیٹھ کر مری کے موسم کا مزا لے رہے ہیں۔‘‘ سرد ہوا سے بچنے کے لےے دونوں ہاتھ سینے پر باندھے تیز تیز چلتے اسے سحر کاموسم کے حوالے سے کہا گیا جملہ یاد آیا۔
پتا نہیں جو موسم سب لوگوں کو بہت اچھا لگ رہا تھا وہ اسے کیوں اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ یہ خوب صورت موسم بھی اس کی بے زاری اور اداسی کو دور نہیں کرپایا تھا۔ اسے احساس ہوا کہ نہ اسے یہ سرد ہوا کے جھونکے خوش گوار سی سردی کا احساس دلا رہے ہیں۔ نہ آسمان پر چمکتا چودھویں کا چاند اسے دلکش لگ رہا ہے۔ نہ درخت نہ پھول نہ ہوائیں اسے کچھ اپیل نہیں کر رہا اور اپنی اداسی کی وجہ سے وہ دانستہ سمجھنا نہیں چاہتی تھی۔ خود اپنے آپ سے وہ اس وجہ کو چھپا لینا چاہتی تھی۔
اپنے پیچھے اسے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ اس سے پہلے کہ وہ مڑکر دیکھتی وہ قدم اس کے برابر آکر اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ سر اٹھا کر دیکھے بغیر وہ اسے اس کے مخصوص پرفیوم کی وجہ سے پہچان گئی تھی۔
یہ خوشبو اس کے لےے اتنی مانوس ہے کہ وہ اس کی طرف دیکھے بغیر اسے پہچان گئی ہے۔ اس بات پر وہ خود اپنے آپ سے ہی خفا ہوگئی۔
’’سنا ہے شادی کے لےے آپ کو ایک عدد لاوارث بندے کی تلاش ہے۔ وہ جس کے آگے پیچھے کوئی نہ ہو۔ نہ ماں باپ نہ بھائی بہن۔‘‘ آہستہ آواز میں لیکن بڑے کڑک دار انداز میں کہا گیا تھا۔
وہ سر اٹھا کر دیکھے بغیر جس طرح پہلے چل رہی تھی، اسی طرح چلتی رہی بنا جواب میں کچھ بولے۔
’’اور سننے میں تو یہ بھی آیا ہے کہ آپ کو سسرالی رشتے زہر لگتے ہیں اسی لےے آپ ایک انجانے اور ان دیکھنے شخص کا رشتہ قبول کرنے کے لےے تیار ہوگئیں، محض اس وجہ سے کہ وہ اپنے گھر میں اکیلا رہتا ہے۔ حالانکہ کچھ عرصہ پہلے تک آپ کو ایک ایساگھر جہاں بہت سے لوگ تھے اور بہت سے رشتے تھے، آئیڈیل لگا کرتا تھا۔ آپ کو وہ گھر اپنا ہی گھر لگا کرتا تھا سوچ کی اس اچانک تبدیلی کو کیا نام دیا جائے؟ قول اور فعل کا تضاد یا پھر مجھ سے پیچھا چھڑانے کی ایک احمقانہ کوشش۔‘‘ اس طنزیہ جملے کے اختتامی حصے نے اسے قدرے مشتعل کر دیا تھا۔
’’اپنے انتہائی پرسنل معاملات کے بارے میں، میں نے آپ سے کوئی رائے نہیں مانگی۔ میں شادی کس سے کر رہی ہوں اور کیوں کر رہی ہوں۔ یہ سراسر میرا ذاتی معاملہ ہے۔‘‘
’’مجھے کوئی رائے دینے کے لےے تمہاری اجازت درکار بھی نہیں ہے۔‘‘ طنزیہ انداز ترک کر کے وہ بھی غصے میں آگیا تھا۔
’’اور تمہارے ذاتی معاملوں کی کیا بات ہے۔ مجھ سے کسی بھی طرح تمہاری جان چھوٹ جائے چاہے اس کے لےے تمہیں چراغ دین کے آٹھ بچوں کی سوتیلی اماں ہی کیوں نہ بننا پڑجائے۔ تم وہ رشتہ خوشی خوشی قبول کرلو گی۔‘‘
وہ اس کی طرف دیکھتا ہوا غرایا۔ اپنا نام گھر میں کام کرنے والے مالی کے ساتھ جوڑے جانے پر اس نے طیش کے عالم میں اس کی طرف دیکھا۔ وہ سامنے دیکھتا بہت غصیلے انداز میں چل رہا تھا۔ اس کے دیکھنے کو محسوس کرلینے کے باوجود اس نے اس کی طرف نہیں دیکھا۔
’’اس کے گھر میں بھی تمہیں سسرالی رشتوں کے جھنجٹ میں نہیں پڑنا پڑے گا۔ صرف اس کے معصوم سے بچے ہی تو ہوں گے وہاں پر۔ اور سوتیلے بچے غالباً سسرالی رشتہ داروں کی فہرست میں نہیں آتے۔ آج کل وہ ہے بھی دوسری شادی کے چکر میں، کہو تو تمہارے لےے وہاں کوشش کروں؟‘‘
اس کا انداز استہزائیہ بلکہ کسی حد تک ہتک آمیز تھا۔ ایسے جیسے وہ جان بوجھ کر اسے اشتعال دلانا چاہ رہا ہو۔
’’آپ انتہائی فضول باتیں کر رہے ہیں۔ مجھے افسوس ہورہا ہے آپ کی ان بے ہودہ باتوں پر۔‘‘
’’تم دوسروں کے جذبات کا جس طرح چاہے مذاق اڑالو۔ تمہیں پورا پورا حق حاصل ہے اور وہ جواب میں اَف تک نہ کریں۔ صرف یہی ہے نا کہ میں نے فلمی ہیروز کی طرح کوئی تھرڈ کلاس قسم کے ڈائیلاگز نہیں بولے تھے۔ باقی تو کوئی کمی نہیں تھی میرے خلوص میں۔‘‘ وہ اس کی بات پر بڑے جارحانہ انداز میں اس کی طرف گھوما۔
اب کی بار وہ جواب میں کچھ نہیں بولی تھی۔ اس کی طرف دیکھا تک نہیں تھا۔ جبکہ وہ خود مسلسل اسی کو دیکھ رہا تھا۔
’’کیوں کر رہی ہو تم یہ بے وقوفانہ حرکتیں۔ کیا مل رہا ہے تمہیں یہ سب کر کے۔‘‘ اس کے چہرے پر بکھری اداس سی خاموشی نے اسے جارحانہ انداز ترک کرکے نرمی اختیار کرنے پر مجبور کیا تھا۔
’’تم مجھ سے کیوں بھاگ رہی ہو دانیا! ایسا کیا ہوگیا ہے جو تمہیں مجھ سے دور بھاگنے پر مجبور کر رہا ہے؟‘‘ اس کے اس نرمی بھرے سوال نے اسے بری طرح نروس کر دیا تھا۔ جو بات وہ کسی بھی قیمت پر اس کے ساتھ ڈسکس نہیں کرنا چاہتی تھی، وہ خود بخود اس بات کا سرا پکڑنے لگا تھا۔ اس نے اپنے قدموں کی رفتار بڑھا کر اس سے آگے ہوجانا چاہا ۔
’’میری بات کا جواب دو تم۔‘‘ اس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا اور خود بھی رک گیا۔
’’میں آپ سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔ مجھے گھرجانا ہے۔‘‘ اس نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی۔
’’سڑک پر تماشا بن رہا ہے۔‘‘ اپنی کوشش کی ناکامی کے بعد کچھ عاجز آکر اس نے روہانسی آواز میں کہا۔
’’میں تو صرف سڑک پر ہی تماشا بنا رہا ہوں۔ تم نے تو میری پوری زندگی کو تماشا بنا کر رکھ دیا ہے۔ امی کہہ رہی ہیں کہ دانیا انہیں بہت پسند ہے لیکن خود اسے بھابھی کا وہ اسٹوپڈ کزن اگر پسند آرہا ہے تو پھر وہ اسے نہ تو اپنی مرضی کے کسی فیصلے کے لےے مجبور کر سکتی ہیں اور نہ ہی کسی بھی طرح اسے پریشرائز کرنے کے حق میں ہیں۔ پچھلے چار روز سے اس عذاب میں مبتلا ہوں۔ صدام حسین کو تو اپنا ملک تباہی و بربادی سے بچانے کے لےے پھر سات دن کی مہلت ملی تھی، مجھے اپنا شہرِ محبت بچانے کے لےے صرف ایک دن ملا ہے۔ صرف ایک دن۔ اور یہ ایک دن بھی کل رات امی کے ساتھ بہت بحث و تکرار کے بعد میں نے حاصل کیا ہے۔ انہوں نے صاف صاف مجھ سے کہا ہے کہ آج ہی انہوں نے بھابھی کی کزن کو فون کرنا ہے یا کل بلانے کے لےے یا کبھی بھی نہ بلانے کے لےے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بلا وجہ کسی کو آس اور امید میں نہیں رکھنا چاہتیں۔ اور میں ان سے ایک دن کی مہلت لے کر آیا ہوں۔ یہ کہہ کر اگر آپ کی بھتیجی بہت ضدی اور خود سر ہے تو میں بھی کم ضدی اور خود سر نہیں۔ تم ایک بار میری آنکھوں میں دیکھ کر یہ کہہ دو کہ تمہیں مجھ سے محبت نہیں۔ بس صرف اتنی سی بات ہے۔ اس سے زیادہ میں تم سے کچھ نہیں چاہتا۔‘‘
اس کا لہجہ بہت ضدی اور اپنی بات کسی بھی قیمت پر منوالینے والا تھا۔ اس کا راستہ روک کر، اس کے بالکل سامنے جم کر وہ کچھ اس انداز میں کھڑا تھا گویا اپنی بات کا جواب لےے بغیر اسے وہاں سے ہلنے بھی نہیں دے گا۔ اس نے سر اٹھا کر اس طرف دیکھنے کی کوشش نہیں کی۔
وہ اس کی طرف دیکھ کر یہ بات کبھی بھی نہیں کہہ سکے گی۔ یہ بات اسے معلوم تھی اور اسی بات پر اسے خود پر سخت قسم کا غصہ آرہا تھا۔
’’پھوپھو کو اگر میں پسند ہوں تو پھر یہ بڑی حیرت کی بات ہے۔ بحیثیت بھتیجی کے تو میں انہیں پسند ہوسکتی ہوں مگر بہو بنانے کے لےے کبھی بھی نہیں۔ کیا وہ ان لوگوں کے ساتھ نئے رشتے جوڑنے کے لےے آمادہ ہوسکتی ہیں جنہوں نے پہلے سے موجود رشتوں ہی کا کبھی کوئی بھرم نہ رکھا ہو۔ میرا خیال ہے پھوپھو نے یہ بات آپ سے یونہی مروتاً کہہ دی ہے کہ دانیا انہیں پسند ہے۔ ورنہ سچی بات تو یہ ہے کہ دانیا انہیں پسند نہیں۔ ہاں البتہ دانیا کی ماںکو ان کا بیٹا اپنی بیٹی کے لےے دل و جان سے پسند ہے۔‘‘
وہ بہت تلخ سے انداز میں بولی۔ اس کے لہجے میں خود اذیتی کی جھلک تھی۔ اپنا جملہ مکمل کرنے کے بعد اس نے دائود کی طرف دیکھا۔ شاید اپنی بات کا ردُِ عمل اس کے چہرے پر پڑھنا چاہتی تھی۔
’’تمہیں یہ بات بری لگی ہے کہ ممانی یہاں رشتے کی بات کر کے گئی ہیں؟‘‘ اس نے بردباری سے پوچھا۔ وہ اس کے اصل بات جاننے پر ذرا بھی متعجب نہیں ہوئی۔ البتہ ذلت کا احساس مزید شدت سے اس کے دل میں ابھرا تھا۔
’’میں یہاں نہ رشتے طے کروانے آئی تھی نہ اپنی شادی کا مسئلہ حل کروانے۔ میں صرف اپنی جاب کے لےے کراچی آئی تھی۔ ہاں آپ لوگوں کے گھر کا ماحول مجھے شروع دن سے بہت اچھا لگا۔ میں نے ہمیشہ اسے آئیڈلائز کیا۔ یہاں سب کے ساتھ گھل مل کر رہنا مجھے اچھا لگتا تھا۔ اس سے زیادہ اور کوئی بات نہیں تھی لیکن اب جو یہ ساری باتیں ہورہی ہیں یہ سب سوائے مجھے ہرٹ کرنے کے کچھ نہیں دے رہیں اور آپ لوگ آخر اتنے اچھے اور فرشتہ صفت بننے کی کوششیںکیوں کر رہے ہیں۔ جن لوگوں سے آپ لوگوں کو نفرت کرنا چاہےے آپ ان سے نفرت کیوں نہیں کرتے۔ مجھے نارمل انسان اچھے لگتے ہیں۔ فرشتوں اور دیوتائوں سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔ میری ماں نے کبھی پھوپھو کی محبت کا جواب محبت سے نہیں دیا۔ اور اب جب آپ لوگ ہم سے زیادہ بلند اور بہتر معیارِ زندگی رکھتے ہیں تو ہمیں سب ٹوٹے ہوئے رشتے جوڑنے کا خیال آگیا ہے۔ مجھے ترس اور ہمدردی سے نفرت ہے۔‘‘
اس کی آواز بھرُائی ہوئی تھی۔ وہ خود کو رونے سے روک رہی تھی۔ لیکن یہ سب کچھ اتنا تکلیف دہ تھا کہ اسے آنسوئوں پر بند باندھنا مشکل ہورہا تھا۔
’’میں دیوتا ہوں اور نہ فرشتہ۔ یقین کرو میں بالکل عام سا انسان ہوں۔ میں اتنا ہی اچھا یا اتنا ہی برا ہوں جتنا ایک نارمل انسان ہوا کرتا ہے۔ تم ان ساری باتوں کو بہت جذباتی ہو کر سوچ رہی ہو۔ ممانی سے کیا ہم لوگ نئے نئے ملے ہیں جو ان کے مزاج سے ناواقف ہوں۔ ہم انہیں ایک عرصے سے جانتے ہیں اور ان کے مزاج کی تمام اچھائیوں اور تمام برائیوں کے ساتھ انہیں قبول کر چکے ہیں۔ سب لوگ ویسے نہیں ہوسکتے جیسا ہم انہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ تم اس بات کو اتنی جذباتیت اور اتنی شدت کے ساتھ کیوں سوچتی ہو کہ تمہاری امی ویسی نہیں جیسا تم انہیں دیکھنا چاہتی ہو۔ تم ان کا مسئلہ سمجھنے کی کوشش کرو، انہوں نے بہت کچھ پا کر کھو دیا ہے۔ وہ ابھی تک کھو دینے کی اس صدماتی کیفیت میں ہیں۔ اب اس عمر میں آکر وہ نہیں بدل سکتیں۔ بہتر ہے تم انہیں ان ہی عادتوں کے ساتھ قبول کرلو۔‘‘ اس نے متانت سے کہا۔ وہ خاموش کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔
’’اب دوسری بات جو تم نے اس بارے میں کی کہ مجھے تم سے نفرت ہونی چاہےے تھی۔ میں نے کبھی تم سے اور تمہاری فیملی سے نفرت نہیں کی۔ سچی بات تو یہ ہے کہ تم لوگوں کی میرے نزدیک ایسی کوئی اہمیت ہی نہیں تھی کہ میں تم لوگوں کے بارے میں سوچتا اور نفرت کرتا۔ ہاں جب تم یہاں آئیں تو شروع شروع میں تم میرے لےے ایک عام سی کزن اور ایک عام سی مہمان تھیں۔ایسی کزن اور مہمان جس کے میرے لےے کوئی خاص اہمیت نہیں تھی۔ کہتے ہیں کہ لڑکے اپنی آئیڈیل لڑکی میں اپنی ماں کی اور لڑکیاں اپنے باپ کی سی عادتیں دیکھنا پسند کرتی ہیں۔ میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ میں نے جب کبھی اس آئیڈیل لڑکی کے بارے میں سوچا جسے میں اپنی شریک حیات بنانے کا فیصلہ کرتا تو لاشعوری طور پر میں اس میں اپنی ماں کی جیسی عادتیں دیکھنے کی خواہش کیا کرتا تھا۔ دوسروں کو چھوڑو خود ہم گھر والوں اور خاص طور پر میرے لےے وہ ایک بہت ہی سیدھی اور نئے زمانے کے تقاضوں سے مطابقت نہ رکھنے والی خاتون ہیں۔ ان کی حد سے بڑھی ہوئی سادگی اور مروت کو ہمیشہ میں نے برملا تنقید کا نشانہ بنایا لیکن پھر میں نے یہ بھی دیکھا کہ جب کبھی میرے راستے میں کوئی رکاوٹ آئی، کہیںمیں ناکام ہونے لگا تو ایک ان دیکھی قوت مجھے اس مشکل سے نکال لائی۔
بہت سی جگہوں پر مجھ سے بھی بڑھ کر قابل اور ذہین لوگ موجود ہوتے ہیں لیکن ان کے ہوتے ہوئے بھی کامیابی اور سرخروئی میرے ہی حصے میں آتی ہے۔ میں نے آج تک کبھی ان کے منہ پر یہ بات قبول نہیں کی لیکن میں جانتا ہوں کہ ہم بہن بھائیوں نے جہاں جہاں اور جو جو کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں ان سب کے پیچھے ہماری ماں کی اچھائیاں اور نیکیاں ہی کارفرما ہیں۔ تم بہت سی باتوں میں ان کے جیسی ہو۔ پہلی مرتبہ میں تمہیں اہمیت دینے پر اس وقت مجبور ہوا تھا جب تم نے ثمین کی ایک غیر اخلاقی حرکت کو بڑی اعلا ظرفی کے ساتھ اگنور کر دیا تھا۔ وہی دن تھا جب سے میں نے تمہارے بارے میں مختلف انداز سے سوچنا شروع کیا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ تمہاری شخصیت میرے سامنے واضح ہوتی چلی گئی۔ اگر چہ تم پوری کی پوری امی جیسی نہیں ہو۔ وہ تمہاری طرح ضدی نہیں۔ وہ تمہاری طرح جذباتی اور جلد باز بھی نہیں۔ ان میں صبر، تحمل اور برداشت بہت زیادہ ہے لیکن پھر بھی بعض باتوں میں تم کچھ کچھ ان کے ہی جیسی ہو۔‘‘
وہ بہت رسانیت اور سنجیدگی کے ساتھ کہہ رہا تھا۔ اس کا ہاتھ اس نے چھوڑ دیا تھا۔ لیکن وہ دونوں ابھی بھی اسی طرح سڑک کے کنارے پر کھڑے ہوئے تھے۔
’’ثمین کے نکاح کے اگلے روز تمہاری غیر معمولی خاموشی اور خفگی کی میں یہ وجہ سمجھا کہ تمہیں ممانی کا عاصم بھائی اور مجھ سے عادل کی جاب کے بارے میں بات کرنا اچھا نہیں لگا ہے۔ جس لڑکی کو صرف اتنی سی بات بہت بڑا احسان نظر آتی ہو کہ میں یا عاصم بھائی اسے اس کے آفس تک ڈراپ کردیں۔ وہ اس بات کو کس طرح پسند کر سکتی تھی کہ بھائی کی جاب کے لےے ہمارا احسان لے۔ لیکن پھر جس طرح تم نے آناً فاناً رشتہ قبول کیا اور شادی کے لےے آمادہ نظر آنے لگیں اس نے مجھے چونکا دیا۔ مجھے احساس ہوا کہ بات یہ نہیں۔ اصل بات شاید کچھ اور ہے۔ پھر میں امی کے پاس گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ آج کل میں مجھ سے تم سے شادی کے بارے میں میری رائے معلوم کرنے والی تھیں اور یہ کہ خود ممانی بھی اس بارے میں اپنی پسندیدگی کا اظہار کر کے گئی ہیں۔ لیکن تمہارا انٹرسٹ اس دوسرے رشتے میں ہے تو پھر ظاہری بات ہے وہ تمہیں مجبور نہیں کرسکتیں۔
امی کو تمہارے اس فیصلے سے بہت دکھ ہوا ہے۔ جو باتیں تم سوچ رہی ہو، وہ ہم میں سے کسی نے بھی تمہارے بارے میں کبھی نہیں سوچیں۔ پلیز اس طرح کی احمقانہ سی جذباتیت میں مبتلا ہو کر اپنے اور میرے لےے مشکلات مت پیدا کرو۔‘‘ بہت نرمی اور رسانیت سے وہ اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔
’’کیا واقعی سب مجھے اتنا عزیز رکھتے ہیں۔ مجھ سے اتنا پیار کرتے ہیں۔ لیکن میں اتنی اچھی ہوں تو نہیں۔‘‘ وہ اچانک ہی رو پڑی تھی۔ ان گزرے دنوں میں اس نے خود کو بہت حقیر اور کم تر ہوتا محسوس کیا تھا۔ اپنے گزشتہ ایک ایک عمل اور ایک ایک بات پر وہ ان گزرے دنوں میں شرمندہ ہوئی تھی۔ خود اپنے آپ کو وضاحتیں دیتی رہی تھی۔
’’اس گھر کے محبت بھرے ماحول نے مجھے اچھا بنا دیا ورنہ مجھ میں کوئی خوبی نہیں۔ سوائے اس کے کہ میرے لےے زندگی میں سب سے اہم چیز محبت ہے۔ یہ بہت شدت سے مجھے اپنی طرف کھینچتی ہے اور یہاں مجھے ہر جگہ محبت ہی محبت نظر آئی۔ اس محبت نے مجھے باندھ لیا۔ مجھے بہت اچھا بنا دیا۔ میں دولت پرست نہیں۔ مجھے بڑے بڑے مکانات اور قیمتی گاڑیوں کی چاہ نہیں۔ میرے لےے انسانوں کی اچھائی اوربرائی ناپنے کا پیمانہ دولت نہیں۔ میں لوگوں کے رویوں میں خلوص ڈھونڈتی ہوں۔ آپ کو میں بہت اچھا انسان سمجھتی ہوں اس کی وجہ آپ کا اسٹیٹس نہیں۔ جو عادتیں آپ میں ہیں، وہی سب ہوتیں لیکن آپ کہیں کوئی بہت معمولی سی جاب کر رہے ہوتے، میں تب بھی آپ کو اتنا ہی اچھا سمجھتی جتنا اب سمجھتی ہوں۔‘‘
وہ اسی طرح روتے ہوئے بولی، اس کی یہ بات سن کر اس کے لبوں پر اچانک ہی بہت خوش گوار اور شوخ سی مسکراہٹ بکھری تھی۔
’’شکر ہے۔ آخر کار تمہارے منہ سے میرے لےے کوئی تو تعریفی جملہ نکلا۔ کتنی دیر سے میں تمہاری تعریفیں کےے چلا جارہا ہوں اور جب ہم کسی کی تعریف کرتے ہیں تو دل ہی دل میں توقع کر رہے ہوتے ہیں کہ ہمیں بھی جوابی تعریف سے نوازا جائے گا۔ ویسے تمہارے جملے سے مجھے تھوڑا سا اختلاف ہے۔ اگر تم یوں کہتیں کہ میں تب بھی آپ ہی سے محبت کرتی تو بات زیادہ خوب صورت اور زیادہ سچی لگتی۔‘‘
اس کا یہ برجستہ اور شوخ سا انداز اس کے لبوں پر بھی مسکراہٹ لے آیا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے اور لبوں پر مسکراہٹ تھی۔ دائود نے اس منظر کو بہت دلچسپی سے دیکھا۔
’’کبھی تم نے بہت تیز بارش میں اچانک ہی دھوپ نکلتے دیکھی ہے۔‘‘ وہ ایک دم جھینپ سی گئی۔ بے اختیار اس نے اپنے آنسو صاف کےے اور فوراً ہی چلنا شروع کر دیا۔ چند لمحے پہلے تک تو احساس نہیں ہوا تھا لیکن اب یہ سوچ کر کہ وہ سڑک پر اس کے عین سامنے کھڑے ہو کر روئی ہے۔ اسے کچھ شرمندہ سا کر گیا تھا۔ اسے چلتا دیکھ کر وہ بھی اس کے ساتھ چلنے لگا تھا۔
’’خوب صورت لڑکی! اتنی بے دردی سے بھی نہ پیش آئو اپنے ساتھ۔‘‘ اسے اسی طرح دوپٹے سے چہرہ رگڑتے دیکھ کر اس نے ٹوکا۔ وہ بہت مطمئن نظر آرہا تھا۔
’’تمہیں پہلی مرتبہ اس خوش فہمی میں مبتلا کس نے کیا تھا کہ تم خوب صورت ہو؟‘‘
وہ اسے چھیڑ رہا تھا اسے باتوں میں الجھا کر اس نے قصداً گھر پہنچنے کے لےے لمبا راستہ اختیار کیا تھا۔ اور اب وہ دل ہی دل میں اس بات پر پچھتا رہی تھی کہ اسے کچھ دیر پہلے اس بات کا احساس کیوں نہیں ہوا تھا۔ اب بقیہ تمام راستہ اسے اسی قسم کی گفتگو کا سامان کرنا تھا۔وہ اس کے جواب نہ دینے پر ذرا بھی برا نہیں مانا تھا بلکہ اسی طرح مسکرا رہا تھا۔
’’تمہاری وہ فیوریٹ ہارر مووی میں دو مرتبہ دیکھ چکا ہوں اور دو مرتبہ دیکھنے کے باوجود بھی میری سمجھ میں یہ نہیں آیا کہ اس میں ڈرنا کہاں تھا۔ سوچ رہا ہوں اب اس کی ایک DVD خرید لوں اور پھر تیسری مرتبہ اسے تمہارے ساتھ دیکھو۔ تم مجھے بتانا اس میں کس جگہ پر ڈرنا ہے۔ اور میرا خیال ہے ہماری شادی کا دن وہ مووی دیکھنے کے لےے آئیڈیل دن ہوگا۔‘‘ وہ ہنوز اسی شرارتی سے موڈ میں اسے چھیڑ رہا تھا۔
’’آپ خوامخواہ بے تکلف ہونے کی کوشش فرما رہے ہیں۔ میں نے اتنی دیر میں یہ بات تو ایک دفعہ بھی نہیں کہی کہ میں آپ سے شادی کے لےے راضی ہوگئی ہوں۔‘‘ اپنے نروس ہونے اور احمقانہ سے انداز میں شرمائے چلے جانے پر اسے خود پر بے تحاشا غصہ آیا تھا اور غصے کے ردِ عمل کے طور پر یہ جملہ اس کے منہ سے نکلا تھا۔
’’خوامخوا بے تکلف ہورہا ہوں؟‘‘اس نے بڑے افسوس بھرے انداز میں اس کی کہی بات دہرائی۔
’’جس لڑکی نے ابھی کچھ دیر پہلے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ اگر چراغ دین کی جگہ میں اس کے گھر کا مالی ہوتا یا پھر ادریس کی جگہ اس کے گھر کا ڈرائیور ہوتا وہ تب بھی مجھ ہی سے محبت کرتی۔ اگر میں اس لڑکی کے ساتھ بے تکلف نہ ہوں تو پھر تمہارے خیال میں مجھے کس کے ساتھ بے تکلف ہونا چاہےے؟‘‘
بہت دکھ بھرے انداز میں یہ سوال پوچھا گیا تھا۔ وہ اس کی بات سنی ان سنی کر کے سردی سے بچنے کے لےے دوپٹہ اپنے گرد اچھی طرح لپیٹنے لگی تھی۔
’’یہ لے لو۔‘‘ اس نے اپنی جیکٹ اتار کر اس کی طرف بڑھائی۔
’’شکریہ۔‘‘ اس نے جیکٹ لینے کے لےے ہاتھ آگے نہیں کیا۔
’’یہ لڑکیوں کے سامنے ہیرو بننے کا اچھا طریقہ ہوتا ہے۔ اپنا کوٹ یا جیکٹ انہیں پیش کر دی جائے، خود کو پھر چاہے سردی سے بخار چڑھ جائے یا نمونیا ہی کیوں نہ ہوجائے۔‘‘ وہ اس کے کمنٹس پر قہقہہ لگا کر ہنسا تھا۔
’’دیکھو، اس سال یہ موقع ملا ہے۔ اگلے دسمبر میں پتا نہیں سردی اپنی جھلک دکھائے گی بھی یا نہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو، میں تمہارے سامنے ہیرو بننے کی سعادت سے محروم رہ جائوں۔‘‘
اسے خود بھی ہنسی آگئی تھی اور یونہی ہنستے ہوئے اس نے وہ جیکٹ اس کے ہاتھ سے لے لی تھی۔
’’اور سنو، امی ویسے چاہے جتنی بھی اچھی ہوں لیکن انہیں پھوہڑ لڑکیاں بہت بری لگتی ہیں۔ تم آملیٹ بنانا سیکھ لو ورنہ پھر پھوہڑ پن پر طعنے سننے کے لےے تیار ہوجائو۔‘‘ اس نے جیسے اسے ڈرانا چاہا۔
’’میں ہارر مویز دیکھ کر ڈرنا بھی چھوڑ دوں گی، آملیٹ بنانا بھی سیکھ لوں گی لیکن آپ سے بھی میری ایک درخواست ہے۔‘‘ اس نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا، وہ مسکراتے ہوئے اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔
’’آپ تعلیمِ بالغان، علم کی روشنی گھر گھر پہنچائو اور تعلیم سب کے لےے۔۔۔ قسم کے تمام سماجی اور معاشرتی بھلائی کے کام کرنا چھوڑ دیں گے۔‘‘ اس نے بظاہر بہت سنجیدگی سے کہا تھا اور وہ ایک مرتبہ پھر قہقہہ لگا کر ہنس پڑا تھا۔
’’وعدہ میں بے شک کرلیتا ہوں لیکن تم اسے اسی قسم کا ایک وعدہ سمجھو جیسا ہمارے حکمران، غریب عوام کے ساتھ اکثر کرتے رہتے ہیں اور جس کے ایفا ہونے کی کوئی امید نہیں ہوتی۔‘‘
وہ لوگ گھر کے قریب پہنچ گئے تھے۔ اوپر اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑی پھوپھو نے ان دونوں کو ایک ساتھ آتا ہوا دیکھ لیا تھا۔ دائود کی دانیا کے ساتھ کیا بات ہوئی ہے اور دانیا نے کیا فیصلہ کیا ہے۔ یہ سوال انہیں ان دونوں سے پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ جو جیکٹ اس نے پہن رکھی تھی اسے دیکھنے کے بعد کچھ پوچھنے کی ضرورت ہی باقی نہیں بچی تھی۔ ایک نظر ان دونوں کے مسکراتے ہوئے چہروں پر ڈال کر وہ فوراً ہی کھڑکی کے پاس سے ہٹ گئی تھیں۔ کارڈلیس اٹھا کر انہوں نے بہت تیز تیز ایک نمبر ملانا شروع کیا تھا اور دوسری طرف وہ گھر میں داخل ہوتے ہوئے اس سے کہہ رہا تھا۔
’’محبت کے اس شہر میں، میں تمہیں خوش آمدید کہہ رہا ہوں۔ یہاں ہم لڑیں گے بھی، جھگڑا بھی کریں گے۔ ایک دوسرے سے اختلاف بھی کریں گے۔ لیکن محبت ہمارے درمیان تعلق کی سب سے بنیادی وجہ ہمیشہ رہے گی۔‘‘
*****









