بارش کیا ہے؟
کون سی بارشی۔۔۔ وہ جو اندر برستی ہے؟
سردیوں کی بارش۔۔۔
سرما کی بارش۔۔۔ اس نے کھڑکی کھول دی۔ نم ہوا کے جھونکے نے بڑھ کر اس کے گال پر بوسہ دیا اور کمرے کی خاموش فضا میں بکھر گیا۔ آسمان سے برستی موتیوں کی مالا تھی۔ ہوا بادل سے موتیوں کی مالا چھین کر دھرتی پر بکھیر دیتی۔ سارے موتی ایک تواتر سے ٹوٹتے اور گھاس میں گم ہوجاتے۔ سارا آسمان سرمئی گھلے ملے بادلوں کی اوٹ میں چھپ گیاتھا اور اب آسمان سے زمین تک بوندوں کی چادر سی گر رہی تھی۔ بنا کسی شور کے، ایک مدھم سی آہٹ، ایک ہلکی سی چھنک کے ساتھ۔
’’تمہارے لےے سرما کی جھڑی کیا ہے۔۔۔؟‘‘
ایک اور جھونکا اپنے پروں پر سوال باندھے اس کے چہرے پر بکھر گیا۔اس نے ایک بار پھر چڑیوں کے غول کو اپنے بھیگے پروں کے ساتھ شاخیں اوڑھتے دیکھا۔
’’بارش آسمان سے زمین کا رشتہ ہے۔
ہوا کی بادل سے شرارت ہے۔
بوندوں کی پتوں سے سرگوشی ہے۔‘‘
’’اور۔۔۔؟‘‘
’’گوری کے پائوں میں پڑی پازیب ہے۔
کسی رازداں سہیلی کی خوب صورت سی بات ہے۔
کسی کنواری کو چھوتی محبوب کی پہلی نظر ہے۔‘‘
’’اور۔۔۔؟‘‘
’’صحن میں کھیلتی ننھی سی بچی ہے۔
جنگل میں ناچتا مور ہے۔
زمین کی حسرت، کھلیانوں کی دعا ہے اور۔۔۔۔ اور خدا کی اس زمین پر ڈالی رحمت کی نظر ہے۔‘‘
ہاں۔۔۔ اسے بارش ایسی ہی لگتی تھی۔ دل میں پھوٹتی اولین چاہت جیسی خوب صورت، انوکھی اور اٰن اچھوئی اس کا دل چاہتا ان بوندوںکو ہتھیلیوں میں بھر کر پی جائے۔ ان ہوائوں کو جھومتے درختوں سے چھڑا کر اپنے آنچل سے باندھ لے۔ اس کا وجود ان بوندوں میں گھل مل جائے۔
’’کاش میں بادل کا ایک ٹکڑا ہوتی اور پوری دھرتی پر برس جاتی۔‘‘
اس نے دونوں ہتھیلیاں دریچے ی چوکھٹ پر جمائیں اور ذرا سی آگے جھکی۔ چوکھٹ سے لپٹی سرخ پھولوں کی بیل اس کے ماتھے کو چھونے لگی۔ جس پر اٹکے شفاف قطرے اس کے ماتھے کو چھو کر، کسی کی آنکھ میں اتر گئے۔ بس ایک پل لگا تھا اور وہ سارے خوب صورت احساسات و جذبات یک لخت بدل گئے تھے۔ اسے لگا پہاڑوں پر کھلے پھولوں پر برف جم گئی ہے۔
’’پتا نہیں بارشوں کا موسم اس گھر کے مکینوں کے اندر کیوں برس جاتا ہے۔‘‘
اس نے لمبے لمبے درختوں کی قطاروں میں بھٹکتے ہوئے آنی کو دیکھا۔ نہ جانے کون سا دکھ تھا، جو ان کے قدموں سے لپیٹ کر کہیں ٹھہرنے نہ دیتا تھا۔ نہ جانے کون سی آگ تھی جو اس سرد موسم میں بھی بجھنے میں نہ آتی۔ ان کا تن من سلگائے رکھتی۔ وہ یونہی بھٹکتے بھٹکتے ایک ایک کمرے میں جھانکنے لگتیں۔ ایک ایک فرد کا چہرہ کھوجتیں۔
’’کوئی پریشا ن ہے۔‘‘ وہ زیر لب بڑبڑاتیں اور فون کے نمبر ڈائل کرنے لگتیں۔
س نے نظریں چرا کر آسمان کو دیکھا۔ وہ چونک گئی۔ آسمان اپنی ہیئت بدل رہا تھا اور دیکھتے دیکھتے وہ ایک بڑی سی آنکھ بن گیا۔ سرمئی بادل آنکھ کی شفاف سطح پر بجھے ہوئے خوابوں کی راکھ اڑانے لگے۔ بوندوں کی جگہ آنسو تھے جو تواتر سے برس رہے تھے۔ اس نے گھبرا کر ہاتھ بڑھائے اور کھڑکی کے پٹ بند کر دےے۔ مگر ہوا بپھر گئی تھی۔ کھڑکی کے پٹ سر پٹخنے لگے اور بوندیں پتھروں کی طرح برسنے لگی تھیں۔ وہ بھاگ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔ مگر اس چھوٹی سی راہداری کے درمیان رک گئی۔ سامنے والے بند دروازے کے دوسری طرف سسکیاں بلند ہورہی تھیں اور بند دروازے سے لپٹ کر روتی تھیں۔
نیچے آنی تھی، بے چین، مضطرب اور وحشت زدہ۔
سامنے بند دروازے سے لپٹی سسکیاں تھیں۔
اور عقب میں غضب ناک ہوا اور سب لوگ نہ جانے کہاں تھے۔ رانیہ بے بسی سے ہاتھ ملنے لگی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا وہ کہاں جائے۔
ـــــ
آتش دان میںآگ سلگ رہی تھی اور اس کی روشنی کمرے کی نیم تاریکی سے ہاتھ ملا رہی تھی۔ ان میں عجیب سے باہمی رفاقت کا سلسلہ تھا کہ نہ تاریکی روشنی پر غالب آرہی تھی اور نہ ہی روشنی تاریکی کا گلا گھونٹ پارہی تھی۔ کمرے کے کونوں میں گھسا اندھیرا آنکھیں مل مل کر چٹختی آگ کو دیکھ رہا تھا۔ اسی آتش دان کے پاس آفاق بھائی کی رائٹنگ ٹیبل پڑی تھی۔ آفاق بھائی وہاں نہیں تھے اور ٹیبل پر لیمپ کے پاس وکٹر ہیوگیو ا شہرہ آفاق ناول ـ”La Miserable” اوندھا پڑا تھا۔ وہ جب بھی نظر اٹھا کر ٹیبل کی طرف دیکھتی۔ بوڑھا پادری ناول کے صفحوں سے نکل کر کرسی پر آبیٹھتا اور اپنے چہرے پر چھائے سکھ چین و طمانیت کے تبسم کے ساتھ اسے دیکھنے لگتا تھا۔
’’آفاق بھائی کہاں ہیں؟‘‘
’’سوئٹزر لینڈ گئے ہیں۔۔۔‘‘ عمر نے انتہائی سنجیدگی سے جواب دیا تھا۔ وہ اچھل پڑی۔
’’ہیں۔۔۔ کب؟‘‘
وہ دونوں ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسنے لگے۔ اس نے جھنجلا کر کمبل اتار پھینکا۔ تب ہی آنی آگئیں۔ ٹچ ٹچ کی آواز کے ساتھ ہی کمرا تیز روشنیوں سے جھلملا اٹھا۔ تاریکی کو کہیںمنہ چھپانے کی جگہ نہ ملی تو کھڑکی سے چھلانگ لگا کر لان کے کونے کھدروں میں چھپنے لگی پھر چھت پر چڑھ گئی۔
’’کتنی بار کہا ہے اتنی کم روشنی میں ٹی وی مت دیکھا کرو۔‘‘ آنی نے رسانیت سے کہا۔
’’آنی! کھانا کب تک ملے گا۔ میرا ارادہ چوہوں کے ساتھ دوستی کا ہرگز نہیں۔ ایسا نہ ہو کہ وہ مستقل یہیں رہائش پذیر ہوجائیں۔۔۔‘‘ عمرپیٹ پر ہاتھ مار کر بولا۔ آنی مسکرادیں۔
’’یہی کہنے آئی ہوں کھانا لگ گیا ہے۔‘‘
’’تھینک گاڈ۔‘‘ وہ تینوں ڈائننگ ٹیبل پر آئے۔آفاق بھائی اور عالیہ آنٹی پہلے ہی سے وہیں موجود تھے۔ آغا جی کا انتظار تھا۔ رانیہ بیٹھنے لگی۔ جب آنی نے اسے گھور کر دیکھا۔
’’پانی کا جگ اٹھالائو۔۔۔‘‘
’’خیال رہے، پانی کے اندر جگ نہیں بلکہ جگ کے اندر پانی ہو اور وہ بخیر عافیت کے ٹیبل تک پہنچ بھی جائے۔‘‘ حمزہ نے چھیڑا۔ وہ پلٹ کر کرسی پر بیٹھ گئی۔
’’تم خود لے آئو۔‘‘
’’رانیہ! دماغ تو ٹھیک ہے تمہارا، کتنی بار کہا ہے۔ کم بولا کرو۔ دو بدو جواب دیتی ہو بھائیوں کو۔‘‘ آنی نے ایک پل میں اسے لتاڑ کر رکھ دیا۔ حمزہ کے دانت نکلنے لگے تھے۔ خفت سے اس کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
’’آنی! وہ بھی تو۔۔۔‘‘
’’پانی لے کر آئو۔‘‘ انہوں نے تحکمانہ لہجے میں کہا۔ اور ان کے اس لہجے کے بعد رانیہ کچھ بھی کہنے کے قابل نہیں رہتی تھی۔ سو پائوں پٹخ کر کچن میں چلی آئی۔ آفاق بھائی نے سر اٹھا کراسے جاتے دیکھا۔ پھر حمزہ کی طرف متوجہ ہوئے۔
’’کیوں تنگ کرتے ہو۔‘‘
’’میں نے تو مذاق کیا تھا۔۔۔‘‘ وہ لاپروائی سے بولا۔
’’مذاق وہ ہوتا ہے جسے خود بھی اور دوسرے بھی انجوائے کریں۔‘‘ وہ رسانیت سے بولے۔
’’وہ حرکتیں ہی ایسی کرتی ہے۔ یہاں لڑھک گئی، وہاں پٹخ گئی۔‘‘ وہ اپنے قافیہ مل جانے پر خود ہی ہنسنے لگا۔ مگر اس کے قہقہے کا گلا آغا جی کی کھنکھار نے گھونٹا تھا۔ رانیہ نے جگ لا کر درمیان میں رکھا۔ حمزہ نے باقاعدہ جھانک کر اس میں پانی دیکھا تھا۔ وہ چڑ کر سامنے رکھے ڈونگے کو گھورنے لگی۔ آنی نے ڈونگہ اٹھا کر آغا جی کے سالن رکھ دیا۔بَھنا ہوا چٹپٹا قیمہ تھا، مٹر پلائو، سلاد، رائتہ اور چپاتی۔
’’فون کا بل دیکھا ہے؟‘‘ سالن ڈالتے ڈالتے آغا جی نے باری باری سب کو گھورا۔
’’دیکھا ہے آغا جی! وہیں فون اسٹینڈ پر پڑا ہے۔‘‘ رانیہ نے جلدی سے جواب دیا۔
آغا جی نے اسے گھور کر دیکھا اور اس کا دل ٹیبل کے نیچے گھس جانے کو چاہا۔ اپنے جلد بول اٹھنے پر شرمندگی بھی ہورہی تھی۔ اس نے پلیٹ کی سطح پر نظریں یوں گاڑی تھیں گویا اس وقت صرف یہاں پلیٹ اور اس کے سوا کوئی موجود نہیں ۔
’’میرے پاس کوئی خزانے نہیں جو یوں تم لوگوں کے اللُے تللُوں میں ضائع کروں ۔فون کو تالا لگائو اور چابی مجھے دو۔‘‘ یہ حکم اکثر جاری ہوتا تھا، اور یہ واحد حکم تھا جسے ماننے میں آنی کو تامل تھا اور وہ آنے بہانے ٹال دیتی تھیں۔
’’آپ تو سارا دن زمینوں پر ہوتے ہیں۔ اگر کوئی ایمرجنسی پڑجائے تو۔۔۔‘‘ اس وقت بھی وہ آہستگی سے کہہ رہی تھیں۔
’’تم نے امریکہ فون کیا تھا؟‘‘ آغا جی نے کڑی نگاہوں سے گھورا۔ آنی نے خاموشی سے سر جھکالیا، رانیہ کو یاد آیا۔ پچھلے مہینے موسم کی پہلی بارش ہوئی تھی۔ آغا جی گرج چمک کر کھانے کی طرف متوجہ ہوگئے۔
’’میں تابی کو بلا کر لاتی ہوں۔۔۔‘‘ رانیہ کا دل اچاٹ ہوگیا تھا۔ کوئی نہیں بولا تھا۔ وہ جلدی سے دائیں طرف سے اوپر جاتی سیڑھیاں چڑھ گئی۔
دروازہ بند تھا۔ اس نے کان لگا کر سننے کی کوشش کی۔ مگر اندر چپ کی برف گر رہی تھی۔ اسے لگا تابی اس برف میں پوری طرح دھنس گئی ہے۔ اس نے گھبرا کر دروازے پر ہاتھ رکھا، وہ بے آواز کھل گیا۔ رانیہ نے گردن اندر گھسادی۔ کمرے کی سیلن زدہ فضا میں نیم تاریکی کا راج تھا۔ تابی بیڈ پر بیٹھی سامنے والی دیوار کو گھور رہی تھی۔ آنکھوں کی پتلیاں ساکت تھیں۔ یوں لگتا تھا ان آنکھوں میں جاگنے والے سارے منظر، نمکین پانیوں کی زرد جھیل کی زد میں آکر ڈوب گئے ہیں۔
رانیہ نے گھبرا کر پورا دروازہ کھول دیا اور زور سے پکارا۔
’’تابی۔‘‘
’’کیا ہے۔۔۔؟‘‘
’کھانا کھالو۔۔۔‘‘
’’مجھے بھوک نہیں۔‘‘
’’اس طرح تو مرجائو گی تابی۔۔۔‘‘ اس نے کہتے ہی زبان دانتوں تلے دبالی۔ سچ کہتے تھے سب کہ وہ بولنے سے پہلے کبھی نہیں سوچتی۔
’’چلونا۔۔۔‘‘ اس کے لہجے میں اصرار تھا۔ تابی نے نفی میں سر ہلادیا تو اسے مایوس ہی پلٹ جانا پڑا۔ سب خاموشی سے کھانا کھارہے تھے۔ کسی نے بھی نہیں پوچھا کہ تابی آرہی ہے کہ نہیں۔ رانیہ نے بھی تھوڑا قیمہ نکال کر چپاتی ہاتھ میں لے لی۔ کھانے کے بعد آغا جی چائے کا کہہ کر اپنے کمرے میں چلے گئے۔ حمزہ اور عمر نے پھر سے ٹی وی کھول لیا۔ آفاق بھائی نے رائٹنگ ٹیبل سنبھالی۔ عالیہ آنٹی عشائ کی نماز پڑھنے چلی گئیں۔ آنی نے اسے برتن سمیٹنے پر لگا دیا۔ جب انہیں دھونے لگی تو انہوں نے روک دیا۔
’’تم تابندہ کو کھانا دے آئو۔‘‘
’’آنی! وہ نہیں کھاتی ہے۔ آپ لے جائیں۔‘‘
’’وہ مجھ سے نہیں لے گی۔‘‘ آنی آہستگی سے بولیں۔ تو وہ نل بند کر کے ان کی طرف پلٹی۔ پھر جھجکتے ہوئے پوچھنے لگی۔
’’تابی آپ سے خفا ہے؟‘‘
’’ہاں۔۔۔‘‘ سالن پتیلی میں منتقل کرتے ہوئے وہ رک سی گئیں۔
’’کیوں۔۔۔؟‘‘
آنی نے پلٹ کر اسے سخت نگاہوں سے دیکھا۔
’’کتنی بار کہا ہے بلاوجہ سوالات مت کیا کرو۔‘‘
رانیہ نے تیزی سے ٹرے میں چاول، سلاد، رائتہ اور چپاتی رکھی۔ اس سے قبل کہ وہ ٹرے اٹھا کر نکل جاتی۔ آنی جھنجلا کر بولی تھیں۔
’’ایک لگائوں گی۔ دماغ کہاں رہتا ہے۔‘‘
رانیہ پہلے حیران پھر پریشان ہو کر ان کا چہرہ دیکھنے لگی۔ انہوں نے پلیٹ میں سالن نکال کر پلیٹ ٹرے میں پٹخ دی۔ وہ شرمندہ سی اوپر چلی آئی۔ حسبِ عادت کچھ دیر دروازے سے باہر رکنے کے بجائے فوراً اندر داخل ہوگئی۔ وہ اب تھک کر لیٹ گئی تھی۔
’’تابی! اٹھیں، کھانا کھالو۔‘‘
’’میں نے کہا تھا نا مجھے بھوک نہیں ہے۔‘‘ اس کی آوازمیں آنسوئوں کی آمیزش تھی۔
’’آغا جی نے بھجوایا ہے۔ تم نہیں کھائو گی تو ناراض ہوجائیں گے۔‘‘ اس نے دانستہ آغا جی کا نام لیا۔ آنی سے تو وہ خفا تھی۔ حسبِ توقع وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور جب پلیٹ میں تھوڑے سے چاول نکالے تب اس کے پاس بیٹھ کر پوچھنے لگی۔
’’تابی! تم نیچے کیوں نہیں آتی ہو؟‘‘
تابندہ کچھ نہیں بولی تھی۔ بس حلق میں چاول اٹک گئے تھے۔
’’تم۔۔۔ لوگوں سے ڈرتی ہو نا۔‘‘ رانیہ نے ڈرتے ڈرتے اس کے چہرے کی سمت دیکھا۔ اس کے چہرے کی رنگت بدل گئی۔
’’تم جائو یہاں سے۔۔۔ برتن میں خود رکھ دوں گی کچن میں۔‘‘ اس کا لہجہ بہت خراب تھا۔ رانیہ منہ بنا کر اٹھ آئی۔
’’سب کے سامنے آنے کی ہمت نہیں۔ اس وقت آئیں گی۔ جب سب اپنے اپنے کمروں میں گھس جائیں گے۔ تب باہر نکلیں گی۔‘‘ وہ بڑبڑاتی ہوئی اپنے کمرے میں آگئی۔
آنی سارے کام ختم کر کے آچکی تھیں اور اب دونوں ہاتھ گود میں دھرے نہ جانے کن سوچوں میں گم تھیں۔
’’لائونج سے فون سیٹ اٹھا لائو۔‘‘
’’آنی۔‘‘ اس نے کچھ کہنا چاہا۔ مگر آنی نے جن نظروں سے اسے دیکھا تھا۔ وہ دل ہی دل میں کلستی نیچے اتر آئی۔ عمر اور حمزہ جا چکے تھے۔ آتش دان میں آگ بجھنے لگی تھی اور آفاق بھائی لیمپ جلائے کسی کتاب کے مطالعے میں مگن تھے۔ انہوں نے سر اٹھا کر رانیہ کو بھی نہیں دیکھا تھا۔ اس نے تار نکال کر فون سیٹ اٹھایا۔
’’اتنی ڈانٹ کھا کر بھی آنی کو صبر نہیں آتا۔ میں ان کی جگہ ہوتی تو کبھی فون کو ہاتھ بھی نہ لگاتی۔‘‘ ریسیور پھسل کر اس کے گھٹنے سے ٹکرایا۔
’’افوہ۔۔۔‘‘ ریسیور ٹکا کر پلٹی تو تار اسٹینڈ سے لپٹ گیا۔
’’کیا مصیبت ہے۔‘‘ فون گود میں لے کر بیٹھ گئی اور کھینچ کھینچ کر تار نکالنے لگی۔
’’آرام سے بھئی۔‘‘ آفاق بھائی کی نرم آواز آئی تھی۔
’’امریکہ فون کریں گی آنی۔۔۔‘‘ اس نے گویا شکایت کی۔
’’تو۔۔۔؟‘‘ وہ مدھم سا مسکرائے۔
’’ابھی کھانے پر کتنی ڈانٹ پڑی تھی۔ میں نے ضرورتاً بھی کسی فرینڈ کو لوکل کال کرنی ہو تو آنی سر پر کھڑی ہوتی ہیں کہ بس کرو۔۔ بس کرو۔۔۔‘‘ اس نے تار نکال لیا تھا۔
’’سارا غصہ اسی بات کا ہے۔‘‘ ان کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔ رانیہ نے انہیں کبھی کھل کر ہنستے نہیں دیکھا تھا۔ ان کی خوشی کا اندازہ بس ان کی مسکراہٹ سے ہی ہوتا تھا۔ ہلکی مسکراہٹ۔۔ گہری مسکراہٹ۔۔۔ پھر اس سے بھی گہری ۔۔۔ جب ان کی آنکھیں بھی مسکراتی تھیں۔
’’بھائی! آنی کو صرف بارش میں ہی فون کرنا کیوں یاد آتا ہے۔۔۔؟ صبح سے ماموں اور پھوپھو کو بھی فون کر چکی ہیں۔‘‘
’’فون دے آئو۔ ورنہ آنی ڈانٹیں گی۔‘‘ وہ کتاب کے صفحے پلٹنے لگے، اور اس کا سوال بھی یونہی کسی صفحے میں لپیٹ کر رکھ دیا تھا۔ وہ اوپر آگئی۔ فون آنی کے پاس رکھ کر پلگ لگادیا۔ ابھی اپنا تکیہ درست کر رہی تھی جب آنی نے بے حد حیرت سے پوچھا۔
’’تمہیں پیپرز نہیں دینے۔۔۔؟‘‘
’’دینا ہیں۔‘‘ اسے پتا تھا اب اگلا حکم کیا جاری ہوگا۔ سو اندر ہی اندر اپنے غصے کو دباتے ہوئے الماری میں کھول کر کتابیں نکالنے لگی۔
’’آفاق کے پاس چلی جائو۔‘‘
حکم کی تعمیل کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ اس کا پھولا ہو امنہ دیکھ کر آفاق بھائی ہنس دےے۔
ـــــ
رانیہ کتابیں اٹھا کر باہر نکل آئی۔ رات دیر تک برسنے والے بادل نہ جانے کس دیس کا رخ کر گئے تھے۔ آسمان بالکل صاف اور دھوپ کسلمندی سے برہنہ تن درختوں کی شاخوں پر جھول رہی تھی۔ ہوا ساری رات شور مچانے کے بعد اب اپنے ہی بازوئوں میں چہرہ چھپائے بیٹھی تھی۔ ٹوٹی ہوئی شاخیں، چڑیوں کے گھونسلے، تتلیوں کے پر، سرخ روش پر زرد و گیلے پتوں کا فرش بچھ گیا تھا۔
’’رات اتنی بارش ہوئی تھی۔‘‘
رانیہ کی آواز پر آفاق نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور مسکرادےے۔ صبح سے آنی ملازمہ کو ساتھ لگائے گھر صاف کروارہی تھیں اور رانیہ کو ساتھ لگایا تھا۔ جب بھی وہ سر پر کھڑے ہو کر کام کرواتیں، رانیہ سے ڈھیروں ڈھیر غلطیاں ہوتی تھیں اور کسی بھی غلطی کو نظر انداز کرنا آنی کی سرشت میں نہ تھا۔ ایسے میں وہ پزل ہو کر مزید گڑبڑ کر دیتی۔ اب بھی ڈھیر ساری ڈانٹ کھانے کے بعدانہوں نے رانیہ کو کتابوں سمیت دفع ہوجانے کو کہا تھا اور رانیہ نے بھی ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا۔
’’آفاق بھائی کے پاس چلی جائوں۔‘‘
ان کی اجازت پاتے ہی وہ باہر بھاگ آئی تھی۔
کسی کیاری میں سے بابا ملُا برآمد ہوا۔ تہبند، کرتے پر لمبا لنڈے کا اوور کوٹ، سر پر مفلر لپیٹے ہوئے۔ وہ ہمیشہ جھک کر چلتا تو اس کی لمبی سفید ڈاڑھی سینے کو چھوتی رہتی۔ چھوٹی چھوٹی آنکھیں سکڑی رہتیں۔ اس کے کَب کی بنا پر عمر کہتا تھا۔
’’بابے کی اٹھنی گم ہوگئی تھی۔ اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے یہ حال ہوگیا۔‘‘
وہ بار بار اس سے پوچھتا۔
’’بابا! تمہاری اٹھنی نہیں ملی۔‘‘
جواباً بابا ملُا اسے بری طرح گھورتا۔ وہ زیادہ تنگ کرتا تو ڈنڈا لے کر اس کے پیچھے لگ جاتا۔ بابا ملُا کون تھا، کہاں سے آیا تھا۔ کچھ خبرنہیں۔ بس وہ برسوں سے یہاں ملازم تھا اور عیسائی تھا۔ سارا دن ان ہی پھول پتوں کے درمیان گزار دیتا۔ محبتوں سے سینچتا تھا۔ ان تناور درختوں کو اس نے بیجوں کی شکل میں بویا تھا، آج اس کی کمر جھک گئی تھی اور یہ درخت سینہ تانے، بازو پھیلائے آسمان چھونے کی کوشش کر رہے تھے۔ حقہ گڑگڑاتے ہوئے وہ ہمیشہ ایک بات بہت حسرت سے کہا کرتا تھا۔
’’کاش مرنے کے بعد میرا وجود ان کیاریوں میں بیج بن کر بکھر جائے۔‘‘
تب رانیہ بہت غور سے کیاریوں کو دیکھتی ۔ مٹی ہٹتی اور اسے لگتا۔ ہر طرف بابے ہی بابے اَگ آتے ہیں۔ لمبی ڈاڑھیوں اور جھکی ہوئی گردنوں والے۔ وہ جھرجھری لے کر رہ جاتی۔
’’ہاں، تم تو رات کو کمبل اوڑھ کر سو گئی ہوگی۔ تمہیں کیا خبر رات کو کیسا طوفان آیا تھا۔‘‘
بابا ملُا کھرپی لہرائے ہوئے بولا۔ وہ رات کو جلد ہی سو گئی تھی۔ اسے تو یہ بھی خبر نہیں تھی۔ا س کے ساتھ والے بیڈ پر پڑے وجود میں کیسے کیسے طوفان اٹھے تھے۔ بلو آئی تھی اور لمبے تنکوں والی جھاڑو کے ساتھ روش پرگرے پتے سمیٹنے لگی۔ رانیہ اب بابا سے یہ سوال جواب کر رہی تھی۔ آفاق دیکھ رہے تھے۔ جب آنی سامنے نہ ہوتیں تو رانیہ کی زبان خوب چلتی تھی۔ ایک آزادی کا احساس اس کی ہر ہر حرکت سے ظاہرہوتا۔ انہوں نے سر جھٹک کر نظروں کا رخ پھیرا۔ تو نظر کا پنچھی اڑ کر اوپر والی کھڑکی کی چوکھٹ پر جا بیٹھا۔ کھڑکی کھلی تھی۔ انہوں نے بہت دنوں کے بعد تابندہ کو دیکھا تھا۔ تابندہ نے انہیں دیکھا پھر کھڑکی یوں بند کی تھی جیسے کبھی کھلی ہی نہ ہو۔ پنچھی مایوس ہو کر پلٹا اور دل کی منڈیر پر بیٹھ کر احتجاج کرنے لگا تھا۔ جیسے اپنا قصور پوچھتا ہو۔
’’آفاق بھائی۔۔۔!‘‘ رانیہ نے کتابیں ان کے سامنے میز پر رکھ دیں۔
’’تمہیں آنی نے کیسے بھیج دیا۔‘‘
’’آپ کے پاس پڑھنے بھیجا ہے۔‘‘
’’تو کتاب کھولو۔۔۔‘‘
’’پڑھ لوں گی نا۔۔۔‘‘ ایسے لاڈ وہ صرف آفاق کوہی دکھا سکتی تھی۔ ساتھ ہی ایک جھکی ہوئی ٹہنی توڑلی۔
’’خبردار۔۔۔! خبردار۔۔۔!‘‘ بابا ملُا اپنا ڈنڈا اٹھا کر غصے سے بولا۔ اس نے ٹہنی چھوڑی پھر شکایتی انداز میں کہنے لگی۔
’’آفاق بھائی! یہ لان ہمارا ہے نا۔‘‘
’’ہاں۔۔۔!‘‘
’’تو پھر بابا اتنا رعب کیوں جماتے ہیں۔ مجال ہے جو کبھی ایک پھول بھی توڑنے دیا ہو۔‘‘
’’ وہ کر سکتے ہیں۔ بہت محبت سے سینچا ہے ان پودوں کو بابا نے۔ اتنی محبت تو کوئی اپنی اولاد سے بھی نہیں کر سکتا، جتنی بابا نے ان پیڑ پودوں سے کی ہے۔‘‘
وہ خاموشی سے بابا کو کام کرتے دیکھتی رہی۔
’’کیا سوچنے لگیں۔۔۔‘‘
’’مجھے لگتا ہے۔ ہمارے گھر پر آسیب کا سایہ ہوگیا ہے۔‘‘
’’یہ کیا بات ہوئی۔‘‘ وہ اس کی بے تکی بات پر حیران ہوئے۔
’’اتنا سب کچھ ہوگیا۔‘‘ اس کا لہجہ اداس سا تھا۔
آفاق بھائی چند لمحے کچھ کہہ نہ پائے پھر ایک کھوکھلی سی ہنسی ہنس دےے۔
’’اس میں آسیب کا کیا ذکر، کچھ حادثے ہونا ہوتے ہیں۔‘‘
’’لیکن یہ سب ہمارے گھر کے ساتھ ہی کیوں ہوا۔‘‘
’’یہاں تو ہر دوسرا شخص کسی نہ کسی حادثے کا شکار ہوتا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ سب صرف ہمارے ساتھ ہی ہورہا ہے۔ خیر۔۔۔ سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘
’’کب۔۔۔؟‘‘
’’تم ان باتوں میں وقت ضائع مت کرو جانو! وقت آنے پر سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ وہ تسلی آمیز لہجے میں بولے۔
’’لیکن جو نقصان ہوگیا ہے۔۔۔‘‘ رانیہ کی مدھم آواز پر وہ ساکت سے رہ گئے۔ پھر زیر لب بڑبڑائے۔
’’ہاں، جو نقصان ہوگیا ہے۔ اس کی تلافی کہاں ممکن ہے۔‘‘
پھر اس تکلیف دہ احساس سے ہاتھ چھڑاتے ہوئے قدرے بلند آواز میں بولے تھے۔
’’اپنی کتابیں کھولو رانیہ۔۔۔‘‘
وہ کچھ لمحے یونہی ان کے عقب میں کھڑی اِدھر اَدھر دیکھتی رہی۔ پھر ایک دم اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ دونوں ہاتھ ان کے کندھوں پر ٹکا کر وہ ذرا ساجھکی۔
’’آفاق بھائی۔ میں ابھی آتی ہوں۔‘‘
آفاق نے روکنا چاہا۔ پھر خاموش ہوگئے۔ وہ آفاق کی نظروں کے سامنے کیاریاں پھلانگتی روش کے دوسری طرف ہار سنگھار کے ٹنڈمنڈ پیڑوں کے پیچھے غائب ہوگئی تھی۔ وہ ایک طویل سانس لے کر بابا سے باتیں کرنے لگے۔
ـــــ
گھنٹی ٹوٹ کر لٹک رہی تھی۔ اس نے برستے آسمان کو دیکھا۔ لکڑی کا جھولتا دروازہ ادھ کھلا تھا۔ وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیا۔ سامنے سرخ روش پر ٹوٹے ہوئے پتے ہوا اور بارش کے ساتھ محوِ رقص تھے۔ ایک اجنبی کو دیکھا تو ہوا پتوں کا ہاتھ چھوڑ کر ایک پل کو ٹھٹکی۔ پتے بے دم ہو کر روش پر گر گئے۔ وہ احتجاجاً اس کے قدموں تلے آکر چرچرانے لگے۔ مگر یہ وہ پتے تھے جو ابھی ابھی شاخوں سے ٹوٹے تھے۔ ورنہ بہت سے ایسے تھے جو بارش میں بھیگ کر احتجاج بھی نہ کر سکے تھے۔ وہ کاریڈور میں آکر بال جھٹکنے لگا۔ ایئرپورٹ تک بارش کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ بس گھنے سرمئی بادلوں کی چادر پورے آسمان پر پھیلی تھی۔ وہ ٹیکسی لے کر روانہ ہوا تو ہوا کی شرارت سے اس چادر پر سلوٹیں سی پڑ گئیں اور جب ٹیکسی شہر سے باہر اس قدیم مگر خوب صورت بنگلے کے سامنے رکی تھی۔ تو ہوانے بادلوں کا دامن نچوڑ دیا تھا۔
اپنے کوٹ سے بارش کے قطرے جھاڑتے ہوئے اس کی سیاہ آنکھوںمیں کوفت سی تھی۔
اسے بارش کبھی اچھی نہیں لگتی تھی۔
تب ہی جالی دار دروازہ کھول کر ایک خاتون باہر نکلیں پھر ٹھٹک گئیں۔ وہ انہیں دیکھ کر چند قدم آگے ہوا۔
’’میں۔۔۔‘‘
’’معاذ!‘‘ ان کے لبوں نے تڑپ کر سرگوشی کی۔ وہ مسکرادیا۔ آنی کے بازو بے تابانہ اسے اپنی آغوش میں لینے کو پھیلے۔ مگر وہ وہیں کھڑا پوچھ رہا تھا۔
’’آپ۔۔۔؟‘‘ اس کا ’’آپ‘‘ بے حد استفہامیہ تھا۔ آنی کے بازو پہلو میں گر گئے۔ پھر انہوں نے آگے بڑھ کر اس کا چہرہ اپنی ہتھیلیوں میں بھرا اور بے حد احتیاط سے اس کی بھیگی پیشانی پر بوسہ دیا تھا۔ پھر پیچھے ہٹ کر اسے ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے ہوئے بولیں۔
’’میں آنی ہوں۔۔۔‘‘
’’آئی ۔ سی۔۔۔‘‘ وہ بھرپور انداز میں مسکرایا۔
’’مجھے ڈائوٹ تو ہوا تھا مگر میں نے سوچا۔۔۔ آپ کو کبھی دیکھا نہیں تھا۔ ممی کے پاس آپ کی تصویر بھی نہیں تھی۔۔۔ مگر۔۔۔‘‘ وہ ایک لمحے کو رکا۔ ’’آپ نے مجھے کیسے پہچان لیا۔‘‘
’’میں نے تمہیں دیکھا ہے۔‘‘ وہ اب بھی اسے ایک ٹک دیکھ رہی تھیں۔
’’میں نے تمہیں دیکھا ہے۔‘‘ انہوں نے دوبارہ خود کلامی کی تو وہ پوچھنے لگا۔
’’کب۔۔۔ کیا ممی آپ کو میری تصویریں بھجواتی رہی ہیں۔‘‘‘
وہ چونکیں۔ پھر مسکرادیں۔
’’تم اردو اچھی بول لیتے ہو۔ اندر آئو۔۔۔‘‘ وہ اسے لےے اندر چلی آئیں۔ ہال کمرا نیم تاریک تھا۔ مگر آتش دان میں آگ اب بھی سلگ رہی تھی۔ رائٹنگ ٹیبل پر آفاق بھائی موجود تھے اور ان کے قریب رانیہ کشن پر بیٹھی کتاب ہاتھ میں لےے اونگھ رہی تھی۔
آفاق نے چونک کر نووارد کو دیکھا۔
’’یہ آفاق ہے، میرے دیور کا بیٹا۔‘‘
آنی کی آواز پر رانیہ ہڑبڑا کر جاگی۔ کتاب سنبھالتے ہوئے وہ ہوشیار بننے کی کوشش میں بے ساختہ بولی۔
’’آنی! میں پڑھ رہی ہوں۔‘‘
جہاں آنی نے اسے خشمگیں نگاہوں سے گھورا تھا۔ وہیں نووارد کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر گئی۔
’’بہتر ہے تم کچھ دیر سوجائو اچھی لڑکی!‘‘ وہ انگلش میں گویا ہوا۔ رانیہ شرمندگی سے سرخ پڑ گئی۔
’’یہ معاذہے۔‘‘ آنی نے آفاق سے تعارف کروایا۔ آفاق بھرپور انداز میںمسکرائے اور وہیں بیٹھے بیٹھے مصافحے کے لےے ہاتھ بڑھا دیا۔ معاذ کوعجیب سا لگا لیکن اس نے مصافحہ کیا تھا۔
’’یہ۔۔۔۔‘‘ اس نے کتاب کا کونا کھرچتی شرمندگی سے سرجھکائے بیٹھی رانیہ کی طرف اشارہ کیا۔
’’یہ رانیہ ہے۔۔۔‘‘
’’ہیلو۔۔۔‘‘
رانیہ نے جھجک کر سامنے پھیلے ہاتھ کو دیکھا اور گھبرا کر کھڑی ہوگئی۔
’’میں تابندہ کو بتاتی ہوں۔‘‘ کتاب وہیں چھوڑ کر وہ اوپر بھاگ گئی۔ معاذ خجل سا ہوگیا تھا۔
’’تم کپڑے بدل لو۔ بھیگ گئے ہو۔ میں چائے بناتی ہوں۔‘‘ آنی نے رسانیت سے کہا۔ معاذ کو خود بھی الجھن ہورہی تھی۔
’’تابی! تمہیں پتا ہے کون آیا ہے؟‘‘ وہ پَرجوش تھی اس کے کمرے میں گھس گئی۔ کھڑکی سے باہر جھانکتی تابندہ نے پلٹ کر اس کے تمتماتے چہرے کو دیکھا۔
’’کون آیا ہے۔۔۔؟‘‘
’’معاذ آئے ہیں۔‘‘
’’کون معاذ۔۔۔؟‘‘ وہ بے دھیانی میں بولی۔ رانیہ نے پیشانی پر ہاتھ مارا۔
’’امریکہ والی خالہ کے بیٹے۔ تمہیں یاد ہی نہیں ہے۔ ایک اکلوتے تو ان کے بیٹے ہیں۔‘‘
’’اچھا۔۔۔‘‘ اس کا لہجہ بے تاثر سا تھا۔
’’تم ان سے ملو گی نہیں؟‘‘
’’وہ آنی سے ملنے آئے ہیں۔ ہم سے نہیں۔‘‘
’’یہ کیا بات ہوئی۔‘‘ اسے تابی کا سپاٹ انداز اچھا نہیں لگا۔
’’جائو رانیہ!تنگ نہیں کرو۔۔۔‘‘ اس کی بے زاری سی آواز پر رانیہ کچھ مایوسی اور غصے میں پلٹ گئی۔
ـــــ
رات کے کھانے پر معاذ کی ملاقات سب ہی سے ہوگئی تھی۔
’’تابندہ کو بلالائو۔۔۔‘‘ آنی نے رانیہ سے کہا تھا۔
’’وہ آتی تو ہے نہیں۔۔۔‘‘اس کی زبان معاذ کے سامنے ہی پھسل گئی۔
’’کیوں؟ وہ سب کے ساتھ کھانا نہیں کھاتیں؟‘‘ معاذ نے چونک کر پوچھا تو وہ گڑبڑا گئی۔
’’پ۔۔پتا نہیں۔۔۔‘‘
وہ سامنے رکھی خالی پلیٹ میں جھانکنے لگی۔ پھر کرسی کھسکا کر اوپر آگئی۔
’’تم ٹیبل پر کھانا تو نہیں کھائو گی۔‘‘ روٹھا روٹھا سا لہجہ تھا۔ تابی مسکرادی۔
’’تم چلو۔ میں آتی ہوں۔‘‘
’’ہیں۔‘‘ اس کا منہ کھل گیا۔ اسے معلوم نہیں تھا۔ ابھی ابھی عالیہ آنٹی اسے سمجھا بجھا کر گئی تھیں۔
تابی کو دیکھ کر آفاق کے لبوں پر گہری مسکراہٹ ابھر آئی۔ جس کا ساتھ ان کی آنکھوں نے بھی دیا۔ وہ دروازے میں ہی رک گئے تھے۔ پھر ان کی اسٹک کی ٹک ٹک نے معاذ کو ششدر سا کر دیا اور وہ تاسف سے اس خوبرو شخص کو دیکھنے لگا۔ تابی نے بس رسمی سا ہیلو کہا تھا۔ پھر کھانے کی طرف متوجہ ہوگئی۔ جیسے کسی سے کوئی سروکار نہیں۔ آنی ایک ایک ڈش نہ صرف معاذ کے سامنے رکھ رہی تھیں، بلکہ تابندہ کی بھی اسی طرح خاطر کر رہی تھیں۔مگر اس نے پہلی بار ہی ڈونگا ان کے ہاتھ سے لے کر دوبارہ ٹیبل پر رکھ دیا اور سپاٹ سے لہجے میں بولی تھی۔
’’مجھے جولینا ہوگا میں لے لوں گی۔‘‘
ان کا چہرہ ایک پل کو متغیر سا ہوا۔ پھر ان کی پوری توجہ معاذ پر مرکوز ہوگئی تھی۔ کھانے کے بعد جب آنی کافی بنانے لگیں تو معاذ نے ان سب کو تحائف دےے تھے۔ جب رانیہ کو خوب صورت سا کارڈیگن اور ڈھیر ساری چاکلیٹ دیں تو وہ ایک دم خوش ہو کر بولی تھی۔
’’یہ واقعی میرے لےے ہیں؟‘‘
اس کے اندازمیں بچوں کی سی سادگی اور بے ساختگی تھی۔ معاذ نے مسکرا کر غور سے اسے دیکھا تھا۔ وہ جھینپ گئی۔
’’میں آنی کو دکھاتی ہوں۔‘‘
’’تم ابھی تک بچی ہو۔‘‘ معاذ نے سرتاپا اسے دیکھ کر کہا۔ رانیہ کو اس کا ریمارک پسند نہیں آیا۔ اپنے خیال میں وہ خاصی بڑی بلکہ سمجھ دار ہوچکی تھی۔
’’آنی! دیکھیں، معاذ بھائی میرے لےے کیا لائے ہیں۔‘‘
آنی نے ایک سرسری نگاہ ڈالی تھی۔ پھر درشت لہجے میں بولیں۔
’’اب کیا یونہی سینے سے لگائے رکھو گی۔ چھوڑو ان کو اور یہ کافی لے کر جائو۔‘‘
اس نے پیکٹ وہیں کچن ٹیبل پر رکھے اور ان کے ہاتھ سے ٹرے تھام لی۔
ـــــ
معاذ کو یہاں آئے صرف دو دن ہوئے تھے اور وہ بالکل بے زار ہوگیا تھا۔ یہاں کے لوگ اس کی سمجھ سے بالا تر تھے۔ عجیب الجھے، بے زار، خاموش، گم صم اور سنکی سے۔ عالیہ آنٹی ہمہ وقت ہاتھ میں تسبیح لےے دنیا سے کٹی نظر آتیں۔ ان کے اکلوتے بیٹے آفاق وہیں رائٹنگ ٹیبل پر سر جھکائے نہ جانے سارا دن کیا پڑھتے اور لکھتے رہتے تھے۔ ہر بات کے جواب میں ان کے پاس محض ایک خاموش سی مسکراہٹ ہوتی۔ تابندہ اسے پہلے دن کے بعد نظر ہی نہیں آئی تھی اور اس دن بھی اس کا انداز روکھا پھیکا اور لےے دےے والا تھا۔ پھر آنی تھیں جو معاذ سے بات کرتیں تو پلکیں جھپکنا بھول جاتی تھیں۔ معاذ کو ان کی بولتی نگاہوں سے الجھن ہوتی۔ آغا جی تنک مزاج اکھڑے اکھڑے سے انسان تھے۔ عمر اور حمزہ کا سارا دن گھر سے باہر گزرتا۔ معاذ کی ان سے دوستی نہیں ہوسکی۔ ایک رانیہ تھی جس کی آنکھوں میں زندگی ایک مکمل روپ کے ساتھ مسکراتی۔ مگر وہ اپنے بے ساختہ انداز میں بات کرتے کرتے ایک دم یوں چپ ہوجاتی گویا کسی نے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا ہو۔ پھر گھبرا کر بھاگ جاتی۔ یوں لگتا تھا یہاں کوئی بھی نارمل نہیں۔ ہر کوئی اپنے اندر کسی نہ کسی آواز کا گلا گھونٹ رہا ہے۔ اتنے سارے افراد کے ہوتے ہوئے بھی پورے ماحول پرسکوت کا پنچھی پر پھیلائے اونگھتا رہتا۔ ساری آوازیں، سارے لفظ، سارے جذبے اس کے بدرنگ پروں میں تنکوں کی طرح الجھ کر رہ گئے تھے۔ معاذ کا دل چاہتا ایک بار تو وہ اپنے پر جھٹکے۔ اچانک اسے خیال آیا۔ تابندہ کا گفٹ اس کے پاس اب تک رکھا ہوا ہے۔
’’آنی! تابندہ کہاں ہے؟‘‘
’’اپنے کمرے میں ہوگی۔‘‘ انہوں نے فریج سے قیمہ نکالتے ہوئے جواب دیا۔
’’اس کا کمرا کون سا ہے؟‘‘
’’سیڑھیوں سے اوپر والا۔‘‘
وہ پیکٹ ہاتھ میںپکڑے اوپر آگیا۔
’’آجائو۔۔۔‘‘ اس کے دستک دینے پر آواز آئی تھی۔ وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تو چکرا سا گیا۔ نیم تاریک کمرا، گھٹن، ساری کھڑکیاں بند، ہر چیز بے ترتیب۔ تابی کی نگاہوں میں حیرت سی ابھری۔
’’یہ لوگ واقعی نارمل نہیں ہیں۔۔۔‘‘ وہ زیرِ لب بڑبڑایا۔
’’مجھ سے کچھ کہا۔۔۔؟‘‘ تابندہ کا لہجہ سپاٹ سا تھا۔معاذ قصداً مسکرایا۔
’’تم سے کیا کہنا ہے تابی ڈیئر۔۔۔۔‘‘ تابی کی سپاٹ نگاہوں میں خفگی کا تاثر ابھرتا دیکھ کر وہ ایک پل کو خاموش ہوا۔ ’’سوری میں ہمیشہ بھول جاتا ہوں کہ اب میں پاکستان میں ہوں۔ حالانکہ ممی نے مجھے کافی بریف کیا تھا۔ بہرحال۔۔۔‘‘ امریکن اسٹائل میں کندھے اچکاتے ہوئے اس نے گفٹ تابی کی طرف بڑھایا۔
’’تمہارے لےے لایا تھا۔۔۔‘‘
تابی نے کچھ بھی کہے بغیر پیکٹ تھام لیا اور میز پر رکھ دیا۔ خاصی بدتہذیبی کی بات تھی مگر معاذ کے لےے اب کچھ بھی غیر متوقع نہیں تھا۔ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ گھسا کر وہ کمرے کا جائزہ لینے لگا۔ تابندہ کو الجھن سی ہونے لگی۔
’’یہ جاتا کیوں نہیں۔۔۔‘‘
معاذ کی نظریں بک ریک پر رک گئیں۔ ذرا سا جھک کر اس نے کتابوں کے نام پڑھے۔ پھر ستائشی انداز میں سیٹی بجائی۔
’’تمہیں انگلش لٹریچر میں دلچسپی ہے۔۔۔؟‘‘
’’کبھی تھی۔۔۔‘‘ میز کی خالی سطح پر نظریں جما کر وہ بڑبڑائی۔
’’تھی۔۔۔؟‘‘ معاذ پنجوں کے بل اس کی طرف گھوما۔ تابی نے فوراً خود کو کمپوز کیا۔
’’گفٹ کے لےے شکریہ۔‘‘
دوسرے لفظوں میں وہ اسے دفع ہوجانے کو کہہ رہی تھی۔ معاذ بد مزا ہوگیا۔ کچھ لمحے ٹٹولتی نگاہوں سے اسے دیکھتا رہا۔ وہ نظریں چرائے بند کھڑکی کو گھورتی رہی۔ وہ سر جھٹک کر باہر نکل گیا۔
’’معاذ! چائے پیو گے؟‘‘ آنی نے پوچھا۔
’’ضرور۔۔۔‘‘ وہ کچن میں آگیا۔
’’کیا بنا رہی ہیں؟‘‘
’’بریانی۔۔۔‘‘
’’میری فیوریٹ ڈش۔‘‘ وہ فریج کھول کر اندر جھانکنے لگا۔ آنی نے پلٹ کر اس کی سمت دیکھا جبکہ وہ کہہ رہا تھا۔
’’آپ پکاتے پکاتے تھکتی نہیں ہیں۔‘‘
’’تمہارے لےے پکانا اچھا لگتا ہے۔‘‘ ان کے اندر کئی اور خواہشیں جنم لینے لگیں۔ معاذ فریج بند کر کے ان کی طرف پلٹا۔
’’میرے لےے اتنا مت کیا کریں۔‘‘
وہ اسے دیکھتی رہیں۔ پھر مسکرادیں۔ ان کی انگلیوں نے اس کی کشادہ پیشانی پر بکھرے بالوں کو سمیٹا۔ پھر آہستگی سے اس کی ٹھوڑی کے سیاہ تل کو چھوا۔
’’میں ترس گئی تھی کسی بہت ہی اپنے کے لےے۔ گزشتہ چوبیس برس سے میرے پاس کوئی میرا اپنا نہیں آیا تھا۔ میں ان اجنبی دیواروں اور اجنبی لوگوںمیں سانس لے رہی تھی۔ اب تو اپنا آپ بھی کھو گیا تھا۔ مجھے اپنے ہونے کا احساس چاہےے تھا۔ جو تمہارے آنے سے ملا ہے۔ تم آئے ہو مجھے لگا میں پھر سے سانس لینے لگی ہوں۔‘‘
وہ خود کلامی کی کیفیت میں بول رہی تھیں۔ معاذ نے الجھ کر انہیں دیکھا۔ پھر اسی انداز میں ہنس دیا۔
’’سوری آنی! میری اردو اب اتنی اچھی بھی نہیں ہے۔‘‘
وہ بری طرح چونکیں۔ پھر تیزی سے پلٹ کر ابلتے پانی میں چائے کی پتی ڈالنے لگیں۔ ان کے ہاتھوں میں لرزش تھی۔ معاذ پلٹ کر کرسی پر بیٹھ گیا۔
’’ممی کے ساتھ کوئی پرابلم ہے آنی۔‘‘
’’کیسی پرابلم؟‘‘ معاذ کے پوچھنے پر وہ چونک گئیں۔
’’یونہی مجھے لگا۔ وہ پاکستان آنے سے کتراتی ہیں۔ چوبیس سالوں میں ایک بار بھی پاکستان نہیں آئیں۔ کوئی جھگڑا ہے آپ دونوں کے درمیان؟‘‘ وہ بے حد سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔
’’نہیں۔ ایسی تو کوئی بات نہیں۔‘‘ آنی نے آہستگی سے کہا اور مکمل طور پر کھانے کی طرف متوجہ ہوگئیں۔ گویا اب کوئی بات نہیں کریں گی۔ معاذ کپ اٹھا کر باہر نکل گیا۔ رانیہ بابا ملُا سے لڑ رہی تھی۔
’’یسوع مسیح کی قسم، یہ لڑکی بالکل احمق ہے۔ کتنی بار کہا ہے۔ ابھی بیج بونے کا موسم نہیں آیا۔‘‘ وہ جھنجھلا کر چیخا۔
’’بابا! میں تو۔۔۔‘‘
’’اب تم نے میرے کام میں دخل دیا۔ تو میں تمہارا سر پھاڑ دں گا۔‘‘
’’مجھے پتا چل گیا ہے بابا۔ تمہارا کَب کیوں نکلا ہے۔۔۔‘‘ وہ مایوسی سے سر ہلاتے ہوئے بولی۔
’’خبردار۔۔۔ خبردار۔۔۔‘‘ بابا ملا نے سچ مچ ڈنڈا اٹھالیا۔ اپنے کَب کا ذکر اسے سخت ناگوار گزرتا تھا۔ وہ پلٹی پھر معاذ کو لان چیئر پر بیٹھا دیکھ کر ٹھٹھک گئی۔
’’لگتا ہے یہ اولڈمین تمہیں زیادہ پسند نہیں کرتا۔۔۔‘‘
’’ایسی تو کوئی بات نہیں۔ بابا مجھ سے بہت پیار کرتے ہےں۔‘‘ اس نے آرام سے کہا۔
’’اچھا۔‘‘ اس کے لہجے میں بے یقینی تھی۔
’’ہاں، وہ مجھے پھول توڑنے نہیں دیتے لیکن میرے لےے اپنے ہاتھوں سے گلدستہ بناتے ہےں۔‘‘ اس نے ثبوت دیا۔
’’چلو مان لیا۔ تم اسکول نہیں جاتیں۔‘‘
’’اسکول۔۔۔‘‘ وہ صدمے سے چلُائی پھر ناگواری سے ناک چڑھا کر بولی۔ ’’میں کالج جاتی ہوں۔ جس دن آپ آئے تھے اس سے دوسرے دن میرا آخری پیپر تھا۔‘‘
’’رئیلی۔‘‘ اس کے لہجے میں حیرت تھی۔ مگر آنکھیں متبسم تھیں۔ گویا اس سے مذاق کر رہا تھا۔ رانیہ کی پیشانی پر شکنیں ابھر آئیں۔ پھر وہ کچھ بھی کہے بغیر اندر چلی گئی۔
ـــــ
عمر اور حمزہ کالج ٹرپ کے ساتھ سوات گئے تھے۔
’’مت جائیں نا۔ معاذ بھائی کیا سوچیں گے۔‘‘ رانیہ نے کہا تھا۔
’’برف پگھلنے لگی ہے، چشموں کو راستہ مل گیا ہے۔ میں پہاڑوں پر بہار کا پہلا شگوفہ کھلتے دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘ حمزہ نے کہا تھا۔ آنی کی توجہ مکمل طور پر معاذ کی طرف تھی۔ سو رانیہ تھوڑی آزادی محسوس کر رہی تھی۔ آفاق بھائی کی الماری سے ڈاکٹر ژواگونکال کر وہ پچھلی گول سیڑھیوں پر آبیٹھی جو اوپر جاتی تھیں۔ پچھلا برآمدہ پرانے سامان، لٹکتی بیلوں، ٹوٹی شاخوں اور خشک پتوں سے بھرا رہتا تھا۔ پچھلا دروازہ ہمیشہ بند رہتا تھا۔ رانیہ کو یہاں تک گھوم کر آنا پڑتا اور اب وہ سب سے چھپ کر ڈاکٹر ژواگو نکال کر یہاں آگئی تھی۔ مگر چوتھے صفحے پر ہی بے زار ہوگئی۔ مخصوص روسی نام اس کے سر کے اوپر سے گزر رہے تھے۔
’’یہ ناول اس قابل تو نہیں کہ اسے نابل پرائز دے دیا جائے۔‘‘ اس نے اکتا کر ناول رکھ دیا۔
’’ہیلو گرل! یہاں اکیلی کیوں بیٹھی ہو؟‘‘ چین تو معاذ کو بھی نہ تھا۔
’’اکیلی تو نہیں ہوں۔‘‘ وہ مسکرائی۔ معاذ اس سے نچلی سیڑھی پر بیٹھ گیا۔ بیٹھتے ہوئے اس نے کتاب اٹھالی۔
’’ڈاکٹر ژواگو۔ میرا فیورٹ ناول ہے۔‘‘
’’اس میں ایسا کیا ہے۔‘‘ رانیہ کو حیرت ہوئی۔ معاذ اسے انقلاب روس اور اس کے بعد کی ابتری اور ناول کے مصنف ’’بورس پیترنک‘‘ کے بارے میں بتانے لگا۔ وہ کچھ لمحے سنتی رہی۔ مگر وہ روانی میں انگلش زیادہ بولنے لگا تھا۔ رانیہ کے پلے کچھ نہ پڑا۔ وہ اٹھ کر جانا چاہتی تھی مگر سامنے معاذ پھیل کر بیٹھا تھا۔
’’معاذ بھائی! اب چلیں۔۔۔‘ ‘ بے زار ہو کر وہ بول اٹھی تو معاذ کو احساس ہوا وہ بھینس کے آگے بین بجا رہا تھا، وہ ہنس دیا۔
’’تم بور ہورہی ہو۔ سوری۔ میں تمہاری تنہائی میں مخل ہوا۔۔۔ مگر تم اتنی ویرانی میں تنہا کیوں آجاتی ہو۔۔۔‘‘
’’تنہا تو نہیں ہوں۔ یہاں میری مانو بلی آجاتی ہے۔ آج نہیں آئی۔ ان درختوں پر ڈھیر ساری چڑیوں کے گھونسلے ہیں۔ ان میں انڈے بھی ہیں۔ یہ ویرانی تو بہارکے بعدختم ہوجائے گی۔ یہاں ہر طرف پھول کِھل جائیں گے۔ تتلیاں آئیں گی، لمبی دم والی چڑیا اور کوئل بھی۔ ان درختوںمیں شہد کی مکھیوںکا چھتُہ بھی ہے۔ بابا نے مجھ سے وعدہ کیا ہے۔ جب اس میں شہد بن جائے گا تو وہ مجھے نکال کر دیں گے۔‘‘ وہ پَرجوش ہوتے ہوئے ایک دم ڈر گئی۔
’’معاذ بھائی! آپ یہ سب آنی سے مت کہےے گا۔ انہیں میرا یہاں آنا اچھا نہیں لگتا۔‘‘ معاذ کے چہرے کے تاثرات سنجیدہ ہوگئے۔
’’رانیہ! تم کتابیں پڑھتی ہو۔‘‘
’’بالکل پڑھتی ہوں۔‘‘ وہ آرام سے بولی۔
’’میوزک۔۔‘‘
’’بہت سنتی ہوں۔۔۔‘‘
’’تمہاری بیسٹ فرینڈ کون ہے؟‘‘
’’آفاق بھائی۔۔۔‘‘
’’تمہاری فیورٹ سنگر اور رائٹر کون ہے؟‘‘
رانیہ گڑبڑا سی گئی۔ معاذ نے گردن گھما کر اسے دیکھا۔
’’تم جھوٹ کیوں بول رہی ہو؟‘‘
’’نہیں تو۔۔۔‘‘ وہ پزل ہو کر دونوں ہاتھ مسلنے لگی۔ معاذ نے دوبارہ اپنا سوال سخت لہجے میں دہرایا تو گھبرا کر کھڑی ہوگئی۔
’’راستہ چھوڑیں۔ آنی ڈھونڈ رہی ہوں گی۔‘‘
معاذ نے رستہ دے دیا تھا۔ وہ اندر چلی گئی ۔ مگر معاذ بہت دیر وہیں بیٹھا کچھ سوچتا رہا تھا جبکہ رانیہ آفاق کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔ وہ کچھ لکھتے لکھتے رک گئے۔
’’کیا ہوا۔۔۔؟‘‘
’’مجھے معاذ اچھے نہیں لگے۔‘‘ گھاس کی پتیاں نوچتے ہوئے اس نے خفگی سے بتایا۔
’’کیوں۔۔۔؟‘‘ انہوں نے لکھے گئے صفحات سمیٹے۔ انہیں کلپ لگا کر فائل میں رکھ دیا۔
’’تم نے اس سے کیا کہا تھا۔‘‘
’’بس یہی کہ میں کتابیں پڑھتی ہوں اور بہت سا میوزک سنتی ہوں اور میرے بیسٹ فرینڈ آفاق بھائی ہیں۔‘‘
’’آخری بات کے علاوہ تم نے جھوٹ کیوں بولا؟‘‘
’’تو میں ان سے کیا کہتی۔‘‘ رانیہ نے سر اٹھا کر آفاق کو دیکھا۔
’’یہی کہ آنی مجھے کتابیں نہیں پڑھنے دیتیں کیونکہ ان کے خیال میں کتابیں دماغ خراب کرتی ہیں اور وہ مجھے گانے بھی سننے نہیں دیتیں جبکہ حمزہ اور عمر کے کمرے میں ریموٹ کنٹرولڈ اسٹیریو ہے۔ ان کے کمرے میں ڈھیر سارے فنکاروں اور کرکٹرز کے پوسٹرز لگے ہیں اور جب میں نے عمر کی منتیں کر کے ’’کیٹ ونسلیٹ‘‘ کا پوسٹر لیا کہ اپنے کمرے میں لگائوں گی تو آنی نے اس کے ایک سو بیس ٹکڑے کر کے جلا دیا تھا اور جب ایک بار میری فرینڈز نے مجھے ’’سونونگم‘‘ کا کیسٹ دیا تھا کہ گھر جا کر سننا تو آنی نے اس کیسٹ کو توڑ کر مجھے تھپڑ دے مارا تھا اور یہ بھی کہ میری کوئی دوست نہیں صرف آفاق بھائی میرے بیسٹ فرینڈ ہیں۔ کتنی سبکی ہوتی۔۔ کتنی شرمندگی۔۔۔‘‘ اس کی آواز بھرا گئی۔ آنکھوںمیں آنسو چبھنے لگے۔
’’بیٹا! یہ تو بہت چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں۔ والدین کی تربیت کا انداز۔۔۔‘‘
’’صرف میری۔۔۔ عمر اور حمزہ کی نہیں۔ وہ کتابیں بھی پڑھتے ہیں اور میوزک بھی سنتے ہیں۔ وہ نہیں بگڑ سکتے۔ وہ خولہ، مریم، عالیہ اور میری ساری کالج فیلوز۔۔۔ ان کے بگڑنے اور دماغ خراب ہونے کا کوئی چانس نہیں ہے۔۔۔ صرف رانیہ بگڑ سکتی ہے۔۔۔ صرف رانیہ کا دماغ خراب ہوسکتا ہے۔۔۔‘‘ وہ معصوم لہجے میں سوال کر رہی تھی۔ مگر اس کا سوال بہت چَبھتا ہوا اور گہرا تھا۔
’’ہیلن کیلر‘‘ نے تو تین دنوں کی روئیداد لکھی ہے۔ مجھ سے کوئی پوچھے کہ میں ایک دن۔۔۔ صرف ایک دن آزادی سے گزارنے کو ملے تو میں کیسے گزاروں گی تو جانتے ہیں آفاق بھائی میں کیسے گزاروں گی۔‘‘
وہ پوچھ رہی تھی اور آفاق گردن جھکائے صاف صفحے پر آڑی ترچھی لکیریں کھینچ رہے تھے۔
’’ایک گیت سن کر، اپنی کسی سہیلی کو فون کر کے جب کوئی میرے گرد یہ دیکھنے کو نہ کھڑا ہو کہ ہم کیا باتیں کر رہے ہیں۔ اپنے کمرے میں ایک پوسٹر بھی لگائوں گی۔ خواہ اگلے دن وہ اتار دیا جائے۔ ایک اچھی سی کتاب بھی پڑھوں گی اور۔۔۔‘‘
اپنے عقب میں آہٹ سن کر وہ ایک دم پلٹی اور معاذ کو دیکھ کر جم گئی۔ وہی سبکی۔۔۔ وہی شرمندگی۔۔ جس سے بچنے کے لےے وہ جھوٹ کا آنچل اوڑھ رہی تھی۔ معاذ نے نظروں کا زاویہ بدل کر آفاق کو دیکھا تو وہ اس کے قریب سے نکل کر اوپر بھاگ گئی۔
’’آنی کو یوں اس کی چھوٹی چھوٹی آزادیاں سلب نہیں کرنی چاہےے تھیں۔ رانیہ کے ساتھ اچھا نہیں ہوا۔۔۔‘‘ معاذ زیر لب بڑبڑایا۔ ’’شاید آپ میں سے کسی کو نہیں خبر کہ چھوٹی چھوٹی باتیں اس کے اندر کتنی گڑبڑ مچا رہی ہیں۔ اس کی پرسنیلٹی گم ہورہی ہے۔ اس کے اندر کا خلا کیسے بھرے گا مسٹر آفاق! کہیں وہ اپنی ذات کا اعتماد نہ کھودے۔‘‘
آفاق نے سر جھٹک کر معاذ کو دیکھا۔ ان کے چہرے کے جامد تاثرات چٹخ گئے۔
’’ہم سب اپنی ذات کا اعتماد کھو چکے ہیں مسٹر معاذ! ہم میں سے کسی کے ساتھ بھی اچھا نہیں ہوا۔‘‘
ـــــ
وہ آنی کے ساتھ کچن میں کام کروارہی تھی اور حسبِ معمول آنی کی ڈانٹ اس کے ہاتھ پائوں پھلا رہی تھی۔ سو کوئی بھی کام ٹھیک ہونے کے بجائے بگڑتا ہی جارہا تھا اور آنی کے غصے کا گراف بھی بڑھتا ہی جارہا تھا۔ پھر معاذ کی موجودگی۔۔ ۔ وہ پانی لینے آیا تھا اور اب وہیں کھڑا بے حد دلچسپی سے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ پھر دلچسپی کی جگہ سنجیدگی نے لے لی۔ شاید رانیہ کی آنکھوں میں امڈتی نمی دیکھ لی تھی۔
’’کیا کر رہی ہیں آنی آپ۔ تربیت کا یہ کون سا انداز ہے۔‘‘ وہ انگلش میں گویا ہوا۔
’’یہ لڑکی ساری عمر کچھ نہیں سیکھ سکے گی۔‘‘ آنی جھنجلاگئی تھیں۔
’’اس طرح تو واقعی نہیں سیکھ سکے گی۔‘‘ معاذ نے ہمدردی سے اس معصوم لڑکی کو دیکھا۔ جس کی پوری توجہ پیاز سے زیادہ پلکیں جھپک جھپک کر آنسو پینے کی طرف تھی۔ پیاز سیاہ ہونے لگی۔
’’نظر نہیں آرہا ہے۔۔۔‘‘ آنی نے سخت لہجے میں ٹوکا تو اس نے پانی کا چھینٹا دیا۔
’’سبزی ڈالو۔۔۔ مگر اس سے پہلے چمچ ضرور ہلادو۔۔۔‘‘
’’آپ ایک کام اس کے سپرد کر کے بھول کیوں نہیں جاتیں۔‘‘
’’تاکہ وہ سب خراب کر دے۔‘‘
’’ایک بار خراب کرے گی تو اگلی بار سیکھ جائے گی۔۔۔ غلطی نہیں کرے گی تو اسے درست کرنا کیسے سیکھے گی۔‘‘
آنی کو غصہ آگیا۔ اس کے ہاتھ سے چمچہ چھین لیا۔
’’جائو یہاں سے۔۔۔‘‘
رانیہ باہر نکل گئی۔ بابا ملُا کیاریاں بنا رہا تھا۔
’’آنی کو مجھ سے بالکل پیار نہیں ہے۔‘‘ وہ غصے و بے بسی سے بڑبڑائی۔
’’میرا بھی یہی خیال ہے۔‘‘ معاذ اس کے پاس بیٹھ گیا۔ رانی نے لب بھینچ لےے۔
’’تم مجھ سے اب تک خفا ہو۔۔۔؟‘‘
’’نہیں تو۔‘‘ اس نے ستون سے لپٹی بیل کی ایک خشک ٹہنی توڑلی۔ پھر گھبرا کر بابا کی طرف دیکھا۔ وہ اپنے کام میں مصروف تھا۔
’’لائو تمہارا ہاتھ دیکھوں۔‘‘
’’آپ پامسٹ ہیں؟‘‘ رانیہ نے رخ بدل کر معاذ کو دیکھا اور معاذ نے اس کی بھیگی پلکوں کو۔
’’ہاں۔۔۔‘‘
رانیہ نے دوپٹے سے ہاتھ صاف کر کے ہتھیلی اس کے سامنے کی۔ وہ کچھ لمحے سامنے پھیلی گلابی ہتھیلی پر قسمت کی لکیر دیکھتا رہا اور منتظر سی اس کے چہرے پر نظریں گاڑے بیٹھی رہی۔
’’تمہاری قسمت کی لکیریں بہت اچھی ہے۔‘‘
’’اور۔۔۔‘‘ رانیہ کے لہجے میں اشتیاق سا تھا۔معاذ نے اس کی نم پلکوں کو دیکھا اور مسکرادیا۔
’’لیکن تم زندگی میں کبھی کوئی بڑا کام نہیںکر سکتیں۔ ہاں قسمت خود تم پر مہربان ہوگی۔‘‘
رانیہ نے ہاتھ ہٹالیا اور ناک چڑھا کر بولی۔
’’آپ کو دیکھنا نہیں آتا۔۔۔‘‘
معاذ ہنس دیا۔ پھر صلح جو لہجے میں بولا۔
’’اچھی لڑکی! آئو دوستی کرلیں۔‘‘
’’میری آپ سے دوستی کیسے ہوسکتی ہے۔ آپ تو مرد ہیں۔‘‘
’’تو مردوں سے دوستی نہیں ہوسکتی؟‘‘ معاذ نے حیرت سے اسے دیکھا۔
’’امریکہ میں ہوتی ہوگی۔ پاکستان میں نہیں ہوسکتی۔‘‘ اس نے اپنے تئیں معاذ کو لاجواب کیا۔
’’تو پھر آفاق تمہارے بیسٹ فرینڈ کیسے ہوگئے۔۔۔؟‘‘ معاذ نے جرح کی۔ وہ لاجواب ہوگئی۔ پھر تنک کر بولی۔
’’وہ آفاق بھائی ہیں۔ میری ہر بات سنتے ہیں اور یقین بھی کرتے ہیں خواہ میں جھوٹ ہی کیوں نہ کہہ رہی ہوں۔‘‘
معاذ کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
’’پرامس۔۔۔‘‘ اس نے ہاتھ پھیلایا۔ ’’میں بھی تمہاری ہر بات پر یقین کروں گا، خواہ وہ جھوٹ ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘ رانیہ نے ہاتھ ملانے سے گریز ہی کیا۔ معاذ مسکرادیا۔ پھر پوچھنے لگا۔
’’آفاق تمہاری بات صرف سنتے ہیں یا سمجھتے بھی ہیں۔‘‘
’’سمجھتے ہیں، اسی لےے تو یقین کرتے ہیں۔‘‘ رانیہ جواب دے کر اندر آگئی۔ مگر اس نے یہی بات پہلے آفاق پھر تابی سے پوچھی تھی۔ وہ دونوں مسکرادےے تھے۔ آفاق کی مسکراہٹ بالکل پھیکی اور بے رنگ تھی اور تابی کی مسکراہٹ ایک دم گہری اور معنی خیز تھی۔ مگر رانیہ ان دونوں مسکراہٹوں کا نہ فرق جان سکی تھی اور نہ مطلب۔
ـــــ
معاذ اس کے لےے کچھ کیسٹس اور واک مین لایا تھا اور چند بہت اچھی کتابیں بھی۔
’’نہیں، آنی بہت ڈانٹیں گی۔‘‘ وہ لینے میں متامل تھی۔
’’نہیں ڈانٹیں گی یار، لے لو۔۔۔‘‘ معاذ نے زور دیا تو وہ آفاق کو دیکھنے لگی۔ وہ مسکرادےے۔
’’لے لو رانیہ! سارا دن فارغ پھرتی ہو۔ کسی انسٹی ٹیوٹ میں تو آنی تمہیں بھیجیں گی نہیں۔ وقت اچھا کٹ جائے گا۔‘‘
’’اگر آنی نے ڈانٹا تو میں کہہ دوں گی آفاق بھائی نے مجبور کیا تھا۔‘‘ وہ لینا بھی چاہتی تھی اور ڈرتی بھی تھی۔
’’ایک دم ڈرپوک ہو۔‘‘ معاذ جھنجلا گیا۔ ’’آنی۔۔۔ آنی۔۔۔‘‘
آنی ہاتھ میں تولیہ لےے ادھر ہی آگئیں۔‘‘
’’کیا چیز ہے یہ لڑکی۔۔۔ میں اس کے لےے کچھ چیزیں لایا ہوں اور یہ لینے سے انکاری ہے۔‘‘
آنی نے رانیہ کو دیکھا۔ پھر رسانیت سے بولیں۔
’’رکھ لو۔۔۔‘‘ اور واپس پلٹ گئیں۔
’’بس اتنی سی بات تھی۔‘‘ معاذ نے رانیہ سے کہا۔ تو اس نے خوشی خوشی وہ چیزیں سنبھال لیں۔
’’میں تابی کو دکھا کر آتی ہوں۔‘‘
معاذ آفاق کی طرف متوجہ ہوگیا۔
’’تم چلے جائو گے تو رانیہ بہت مس کرے گی تمہیں۔‘‘
’’اور میں بھی۔۔۔ وہ ایک اچھی اور معصوم لڑکی ہے۔ محبتوں اور توجہ کی طالب۔۔۔‘‘ پھر بات بدلتے ہوئے پوچھنے لگا۔ ’’آپ کیا لکھتے رہتے ہیں؟‘‘
’’ایک ناول ہے۔۔۔‘‘
’’آپ رائٹر ہیں۔۔۔ وائو۔۔۔‘‘ معاذ کے لےے یہ اطلاع نئی تھی۔
’’نہیں۔۔ یہ میرا پہلا ناول ہے۔ مگر انجام سمجھ میں نہیں آتا۔‘‘ آفاق نے ایک الجھی الجھی سی سانس کھینچی۔
’’کہانی کیا ہے۔۔۔؟‘‘
آفاق کی نگاہوں میں کرب آمیز اداسی اتر آئی۔ بولے تو لہجہ سپاٹ تھا۔
’’ایک معذور شخص کی کہانی ہے۔ جو محبت جیسے جذبے کو اپنا حق تو سمجھتا ہے۔ مگر اپنی محبت کا یقین نہیں دلا سکتا۔‘‘
معاذ کچھ لمحے انہیں دیکھتا رہا۔ پھر ان کی طرف جھکا۔
’’وہ کسے اپنی محبت کا یقین دلانا چاہتا ہے؟‘‘
اور آفاق پلکیں جھپکنا بھول گئے تھے۔
ـــــ
معاذ کی ممی کا فون آیا تھا۔ معاذ نے بات کر کے ریسیور آنی کو تھما دیا۔
’’معاذ ٹھیک ہے نا۔۔۔‘‘ ایمن نے بے تابی سے پوچھا۔
’’تم نے ابھی تو بات کی ہے۔۔‘ ‘آنی نے آہستگی سے کہا۔
’’ہاں۔‘‘ وہ خاموش سی ہوگئیں۔ ’’اسے اب واپس بھجوادو۔‘‘
’’ابھی۔۔۔ ابھی سے۔۔۔‘‘ آنی کے لہجے میں بے تابی در آئی۔ ’’کچھ دن اور رہنے دو ایمن۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ ایمن قطعی لہجے میں بولیں۔ ’’اس کا سمسٹر اسٹارٹ ہونے والاہے۔‘‘
’’وہ بہت عرصے کے بعد آیا ہے۔‘‘ ان کا لہجہ ملتجی تھا۔
’’میں اسے اب بھی نہ بھجواتی مگر اس کی ضد تھی۔ معاذ پاکستان زیادہ عرصہ رکے، یہ ہم دونوں کے لےے بہتر نہیں۔‘‘
آنی نے خاموشی سے ریسیور رکھ کر آنکھ میں آئی نمی صاف کی۔ کچن میں آکر معاذ کے لےے گرم دودھ نکالا۔ اس کے کمرے میں آئیں تو وہ بستر پر دراز آنکھیں موندے پڑا تھا۔
وہ کچھ لمحے اس کی بند پلکوںکو دیکھتی رہیں۔ ان کی نگاہوں کی تپش محسوس کر کے اس نے آنکھیں کھول دیں۔
’’آئیں آنی! میں آپ ہی کا انتظار کر رہا تھا۔‘‘ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ آنی بیڈ کے کنارے ٹک گئیں۔
’’تم بالکل اپنے باپ پر گئے ہو۔‘‘ ان کے لبوں نے سرگوشی سی کی۔
’’کہاں آنی! سب کہتے ہیں کہ میں ڈیڈ سے بالکل نہیں ملتا۔‘‘ اس نے گلاس پکڑا۔ وہ کھڑی ہوگئیں۔
’’بیٹھیں نا آپ سے کچھ باتیں کرنی ہیں۔‘‘ وہ جب بھی دودھ لے کر آتی تھیں۔ معاذ یہی کہتا تھا اور وہ کام کا بہانا بنا کر ہمیشہ ٹال دیتی تھیںمگر آج دوبارہ بیٹھ گئیں۔ معاذ نے گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور ان کا ہاتھ تھام لیا۔
’’اتنا چپ کیوں رہتی ہیں آپ۔۔۔؟‘‘
اس کے سوال کاجواب ایک گہری چپ کی صورت آیا۔
’’ہر وقت مصروف رہتی ہیں۔میرے پاس بیٹھنے کابھی وقت نہیں۔ حالانکہ میں تو آپ سے ملنے آیا تھا۔ اتنی باتیں سنی تھیں آپ کی اور دیکھا نہیں تھا۔‘‘ معاذ نے ان کے ہاتھ کی پشت پر بوسہ دیا۔ وہ ساکت تھیں۔
’’یو آر سو سویٹ آنی۔۔۔میرے تصور سے بھی زیادہ۔‘‘
’’تم واپس جارہے ہو۔۔۔؟‘‘ آنی نے بمشکل پوچھا۔
’’ہاں۔۔۔‘‘ معاذ نے ان کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
’’تم کہیں گھومنے بھی نہیں گئے، عمر وغیرہ کے ساتھ سوات ہو آتے۔‘‘ وہ اپنے ہاتھ کی پشت پر نظریں گاڑے کہہ رہی تھیں۔
’’آپ لوگوں سے ملنا تھا مل لیا۔ اگلی بار آئوں گا تو پورا پورا پاکستان گھوموںگا۔‘‘
’’اگلی بار آئو گے۔۔۔؟‘‘ انہوں نے بڑی آس سے پوچھا تھا۔
’’ہاں کیوں نہیں۔۔۔ آپ بلائیں گی تو ضرور آئوں گا۔‘‘
’’میں تو تمہیں نہیں بلا سکتی۔ خود آنا چاہو تو ضرور آنا۔‘‘ وہ آہستگی سے بولی تھیں۔ معاذ نے عجیب سی نگاہوں سے انہیں دیکھا۔
’’آپ مجھ سے دوبارہ ملنا نہیں چاہتیں؟‘‘
’’میں تو چاہوں گی، تم یہیں رہ جائو۔‘‘ وہ ایک طویل سانس لے کر ذرا سا مسکراتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوئیں۔
’’یہ تھوڑا مشکل ہے۔۔‘‘ وہ کان کھجاتے ہوئے بولا۔
’’دودھ پی لو۔ ٹھنڈا ہورہا ہے۔‘‘ آنی کھڑی ہوگئیں۔
’’آنی! تابندہ کے ساتھ کیا پرابلم ہے۔۔۔‘‘ دودھ کا گلاس اٹھاتے اٹھاتے معاذ نے اچانک پوچھا۔ وہ ٹھٹک گئیں پھر سنبھل کر بولیں۔
’’رات بہت ہوگئی ہے۔ تابندہ کا پرابلم صبح ڈسکس کرلیں گے۔‘‘
’’اوکے۔۔۔‘‘ معاذ نے آگے ہو کر ان کی پیشانی چوم لی۔ ’’گڈنائٹ آنی۔۔۔‘‘
وہ ساکت سی اسے دیکھتی رہیں۔ یہاں تک کہ اس نے دودھ کا گلاس خالی کر دیا۔ تب انہوں نے چونک کر گلاس اپنے ہاتھ میں لیا اور تیزی سے کمرے سے باہر نکل گئیں۔
ـــــ
موسم بدل رہا تھا۔
فطرت اس کائنات کو نیا اور خوب صورت روپ دینے کو بے تاب تھی۔بند کھڑکی پر ہوا دستک دیتی تھی۔
بارش کی خوشبو، بند کھڑکیاں نہیں روک سکتیں۔
کھڑکیاں کھولو، اوائل بہار کی آہٹیں سنو۔۔۔
موسم بدلنے والا ہے۔
آلوچے کی شاخوں پر نئے شگوفے کھلنے لگے ہیں۔
ٹنڈ منڈ درختوں کی برہنہ تن شاخوںپر ننھی کونپلیں پھوٹنے لگی ہیں۔
چٹکتی کلیوں کی صدا سنو
یہ تمہیں بلاتی ہیں۔ وہ صبح رنگ لڑکی جو اپنے آنچل کو ست رنگی کلیوں سے بھرلیتی تھی۔ کہاں ہے؟
بہار کی علامت، ایک ادھ کھلا گلاب۔
بہار کی علامت،دور دیس سے بہار کا تعاقب کرتی تتلی۔
بہار کی علامت، کوئل کی پہلی کوک
بہار کی علامت، وہ شفیق رنگ لڑکی،کہاںہے؟
آئو میں تمہیں اپنے بازوئوں میں بھرلوں، خوشبو کو اوڑھیں اور ان خوش رنگ فضائوں میں رقص کریں۔
وہ سنتی رہی، پھر ان ہی سرگوشیوں کو اوڑھ کر سوچتی۔
’’بارش جن کے اندر برستی ہو اور جن کے نصیب خزاں گزیدہ موسموں کی طرح ہو، وہاں بہار کے قدم بھی لڑکھڑا جاتے ہیں۔اب یہاں کلیاں نہیں چٹکتیں، کانٹوں کی فضل اگتی ہے۔ اس دل میں اب خوشبو نہیں راکھ اڑتی ہے۔ میں نے زندگی کو خوش رنگ تتلی سمجھ کر ہتھیلیوں میں سنبھالا تھا۔ اب دیکھتی ہوں تو ایک بے جان مردہ تتلی ہے اور کچھ رنگ۔۔۔ رنگ بھی تو کیسے۔۔ ۔ کچے رنگ۔‘‘
اور ہوا کی آنکھوں میں حیرت نئے موسموں کی طرح اترتی ہے اور وہ حیران ہو کر سوچتی ہے۔
’’ایسا بھی کوئی موسم ہے جو مستقل ٹھہرے۔‘‘
کسی نے کھڑکی کھول دی تھی۔ ہوا، بادل، خوشبو، اوائل بہار کی سرگوشیاں کمرے کے کونے کونے میں گھس کر شرارت سے ہنسنے لگیں۔
’’بند کھڑکی نئے موسموں کاراستہ نہیں روک سکتی نادان لڑکی۔‘‘
اس نے آنکھیں کھولیں اور سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر جھنجلا گئی۔
’’یہ کیوں میرے پیچھے پڑ گیا ہے۔‘‘
’’کھڑکی بند کردو۔۔۔‘‘ تابی کے لہجے میں تلخی رچی تھی۔ وہ چوکھٹ پر دونوں ہاتھ جمائے باہر جھانک رہا تھا، اس کی طرف پلٹ کر سادگی سے پوچھنے لگی۔
’’اس سے کیا ہوگا۔۔۔؟‘‘ تابی نے لب بھینچ لےے۔
’’تمہیں تازہ ہوا بری لگتی ہے؟‘‘ پھر اسے خاموش دیکھ کر کہنے لگا۔
’’کمرے میں گھٹن سی ہورہی تھی۔ اب اچھا لگ رہا ہے۔‘‘
(جن کے اندر دھواں ہی دھواں ہو، انہیں کمرے کی گھٹن کیا کہے گی)
وہ میز پر نظریں جمائے بیٹھی تھی۔ معاذ کچھ لمحے اسے دیکھتا رہا پھر تاسف سے سر ہلاتے ہوئے پوچھنے لگا۔
’’زندگی اتنی بری تو نہیں تابی۔‘‘
’’ہاں، اس سے زیادہ بری ہے۔‘‘
’’زندگی سے کیوں ڈرتی ہو۔۔۔؟‘‘ وہ اس کے سامنے آبیٹھا۔
’’میں نہیں ڈرتی۔۔۔‘‘ تابی کا لہجہ سپاٹ تھا۔
’’لوگوں سے۔۔۔؟‘‘
’’نہیں۔۔۔‘‘ وہ جزبز ہوگئی۔
’’ان کی باتوں سے۔۔۔‘‘
’’میں کسی سے نہیں ڈرتی۔‘‘ وہ بپھر کر بولی۔ معاذ سکون سے اس کی آنکھوں میں جھانکتا رہا۔ وہ جھنجلا کر کھڑی ہوگئی۔
’’پھر کیوں سب سے چھپ جانا چاہتی ہو۔ صرف اس لےے کہ تم کسی کا سامنا نہیں کر سکتیں۔‘‘
’’معاذ! تم چلے جائو یہاں سے۔‘‘ اس کے ہاتھوں میں کپکپاہٹ اتر آئی۔
’’تم دنیا کی پہلی طلاق یافتہ عورت نہیں ہو تابی۔۔۔‘‘ اس کا لہجہ سپاٹ تھا۔ تابی کو سفاک لگا۔ وہ بے جان سی ہو کر کرسی پر گر گئی۔
’’طلاق اتنی بری چیز نہیں ہے تابی! وہ زندگی اس سے کہیں بری ہے جو دو انسان نہ چاہتے ہوئے بھی ایک دوسرے کے ساتھ بسر کرنے پر مجبور ہوں۔ وفا، خلوص، محبت اور اعتبار سے عاری زندگی۔ آپ ایک دوسرے کی شکل دیکھنا بھی گوارا نہ کرتے ہوں۔ پھر بھی مجبوری کے بندھن بھی بندھے رہیں۔ یہ تو نجات ہے تابی! ایک ناپسندیدہ اور تکلیف دہ بندھن سے چھٹکارا پانے کا سیدھا رستہ۔‘‘ اس کا لہجہ سادہ، سلجھا ہوا اور پَر اثر تھا۔
آنسو قطرہ قطرہ اس کی آنکھوں سے برسنے لگے جو التجا کرتے تھے کہ وہ ان زخموں کو مت کریدے۔ وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے سسکنے لگی۔
’’چہرہ چھپانے سے کیا ہوگا تابی۔ فیس کرو اس ساری سچویشن کو۔ زندگی بند کمرے میں نہیں گزر سکتی۔ بڑے بڑے حادثے ہوجاتے ہیں۔ ان کے ساتھ جینا پڑتا ہے۔‘‘
’’سب مجھے الزام دیں گے۔‘‘ وہ ڈری ہوئی تھی۔
’’سو واٹ۔۔۔ تمہارے لےے تمہارا اپنا وجود اہم ہونا چاہےے۔ تمہاری سوچیں، تمہارے خواب، لوگوں کو کہنے دو۔۔۔ تمہارا دل مضبوط اور مطمئن ہونا چاہےے۔ زندگی آج بھی خوب صورت ہے۔ راستے آج بھی کھلے ہیں۔ آگے بڑھو، اپنے لےے راستہ تلاش کرو۔‘‘ معاذ کا لہجہ پَرسکون اور سادہ تھا۔ تابندہ نے ہاتھ ہٹالےے اور دوپٹے سے چہرہ صاف کرنے لگی۔
’’خدا گواہ ہے معاذ! میں نے نباہ کی بہت کوشش کی۔ مگر وہ شخص۔ اسے عورت کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ تو دنیا بھول جانا چاہتا تھا۔ ولی ہونا چاہتا تھا۔ اپنے نفس پر قابو پا کر فنا ہوجانا چاہتا تھا۔۔۔ میں اس کے لےے ایک تجربہ تھی، میں اس کی دسترس میں تھی مگر وہ۔۔۔ اس نے کہا عورت شیطان کی آلۂ کار ہے۔۔۔ ایک بہکاوا ہے۔۔۔ راستہ روک دیتی ہے۔۔۔ بھٹکا دیتی ہے۔۔۔ میں کیا کرتی معاذ۔۔۔! اسے میری ضرورت ہی نہیں تھی۔‘‘
کتنے عرصے کے رکے آنسو بہہ نکلے تھے۔ معاذ نے اسے روکا نہیں۔ وہ روتی رہی اور کہتی رہی۔ معاذ لب بھینچے سنتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ تھک کر خاموش ہوگئی۔ معاذ کھڑا ہوگیا۔ پھر خاموشی سے باہر نکل گیا۔ تابندہ خود سے لڑنے لگی۔
’’اس نے یہ سب معاذ سے کیوںکہا؟‘‘
ـــــ
معاذ قالین پر بیٹھا پسٹل صاف کر رہا تھا۔ لمبا برش، کپڑا، تیل وہ بڑے انہماک سے ایک ایک پرزے میں سے برسوں کی جمی گرد اور میل صاف کر رہا تھا۔
’’یہ کس کا ہے معاذ بھائی۔۔۔؟‘‘ رانیہ نے پوچھا۔
’’آغا جی کا۔۔۔‘‘ اس نے بنا سر اٹھائے جواب دیا۔ ’’یہ چیز حفاظت کے لےے ہوتی ہے اور یہاں فالتو پرزے کی طرح پڑا ہے۔‘‘
رانیہ صوفے پر بیٹھ کر دیکھنے لگی۔ معاذ نے صاف کر کے کچھ جگہوں پر برش سے تیل لگایا۔ پھر بند کر کے ٹریگر دبایا۔ وہ کڑچ کڑچ کی آواز دے رہا تھا۔ پھر مطمئن ہو کر رانیہ کی سمت دیکھا۔
’’تمہیں پسٹل چلانا آتا ہے۔۔۔؟‘‘
’’مجھے، بالکل نہیں۔۔۔ میں نے تو کبھی اسے ہاتھ میں بھی نہیں لیا۔‘‘
’’چلو، تمہیں پسٹل چلانا سکھاتے ہیں۔‘‘ وہ اٹھ کر اس کے قریب آبیٹھا۔ رانیہ نے اٹھنا چاہا۔ اس نے دوبارہ کھینچ کر بٹھالیا اور اسے پستول کے حصوں کے متعلق بتانے لگا۔ ’’یہ میگزین، یہ سیفٹی کیچ یہ۔۔۔‘‘ کندھا سے کندھا جوڑے وہ اس کی سمت جھکا پستول اس کے سامنے کےے بتا رہا تھا۔ رانیہ کچھ پزل سی ہوگئی۔ آنی ٹھٹک کر دروازے میں رکیں، کچھ لمحے دیکھتی رہیں۔ معاذ نے سیدھا ہو کر پسٹل رانیہ کے ہاتھ میں دے دیا تو وہ اسی خاموشی سے واپس پلٹ گئیں۔
’’پہلے سیفٹی کیچ ہٹاتے ہیں۔‘‘ معاذ نے کہا مگر رانیہ سے ہٹتا ہی نہیں تھا۔ معاذ نے دو تین بار ہٹا کر دکھایا۔ رانیہ حیرت سے اس کے مضبوط ہاتھوں کو دیکھنے لگی۔ اس کے ہاتھ میں سیفٹی کیچ کاغذ کا بن جاتا تھا اور رانیہ کی دفعہ پتھر۔
’’مجھ سے نہیں ہٹتا۔‘‘ وہ جھنجلا گئی۔
’’بہت ہی نازک اور کمزور ہاتھ ہیں تمہارے۔ پہلے تمہیں انگلیاں مضبوط کرنے کی ایکسر سائز سکھانا ہوگی۔‘‘ معاذ نے مایوسی سے سر ہلایا۔ رانیہ چڑ کر کھڑی ہوگئی۔
’’مجھے نہیں سیکھنی۔‘‘
’’جا کہاں رہی ہو۔ مجھے ایک کپ کافی ہی پلادو۔۔۔‘‘ وہ ٹانگیں پھیلا کر صوفے پر نیم دراز ہوگیا۔
’’مجھے تو کافی بنانا نہیں آتی۔۔‘‘ رانیہ تھوڑی شرمندہ ہوئی۔ معاذ مسکرادیا۔
’’کچن کیبنٹ میں انسٹنٹ کافی کا ڈبہ رکھا ہے۔ اسے بنانے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آتی۔‘‘ رانیہ کچن میں آگئی۔ آنی دودھ ابال رہی تھیں۔
’’معاذ بھائی کافی مانگ رہے ہیں۔‘‘
جب تک آنی نے کافی بنائی۔ وہ وہیں کھڑی گاجر کھاتی رہی تھی۔ انہوں نے کافی سے بھرا مگ چھوٹی ٹرے میں رکھا۔ ٹرے اسے تھماتے ہوئے بولیں۔
’’معاذ کے ساتھ زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں۔‘‘
’’جی!‘‘ رانیہ نے حیرت سے انہیں دیکھا۔ وہ خلافِ توقع اسے سخت سست نہ کہہ سکیں کہ وہ ایک بار بات کو سن اور سمجھ کیوں نہیں لیتیں بلکہ رخ بدل کر ابلتے ہوئے دودھ کی طرف متوجہ ہوگئیں۔
’’تم نے بنائی ہے۔‘‘ معاذ عالیہ آنٹی سے باتیں کر رہا تھا۔ اس سے پوچھنے لگا۔
’’جی۔۔۔‘‘ وہ پلٹ گئی۔ معاذ مسکرادیا مگر وعدے کے مطابق اسے رانیہ کی بات پر اعتبار کرنا ہی تھا۔ رانیہ بد دل سی ہو کر باہر نکل گئی۔ لمبی سفید ڈاڑھی والا کبڑا بااسے پکار رہا تھا۔
’’دیکھو بٹیا! کیاریوں میں کونپلیں پھوٹنے لگی ہیں۔‘‘
’’تو میں کیا کروں؟‘‘ رانیہ کو غصہ تھا۔ بابا نے اسے بیچ نہیں بونے دےے تھے۔ وہ ہار سنگھار کے پیڑوں کے پیچھے غائب ہوگئی۔ یہ کافی بڑا حصہ یونہی بےکار پڑا تھا۔ لمبے لمبے درختوں اور خود رو جھاڑیوں سے بھرا ہوا۔ بے حد پَرسکون اور خاموش۔ رانیہ کو لگتا وہ کسی جنگل میں سفر کر رہی ہے۔ بہت دیر تک وہ یونہی اِدھر اَدھر گھومتی پھوٹتی کونپلوں کو دیکھتی رہی۔ دھرتی اپنا پیراہن بدلنے کو تھی۔ بہار ذرا سا مسکرائی تھی۔
وہ آنکھیں موند کر بیٹھ گئی۔ اسے لگا، وہ ایک قدیم کہانی کا خوب صورت کردار ہے اور یہ جنگل اس کا گھر۔اس کی سماعتیں پھولوں کے چٹکنے کی صدا سنتی تھیں، ہوا کی پتیوں سے سرگوشیاں، تتلی کے پروں کی آہٹیں۔۔ بلبل کے گیت۔۔۔ کوئل کی کوکو۔۔۔ اور۔۔۔ اور کسی کے قدموں کی چاپ۔۔۔ خشک چرچراتے پتے۔۔۔ ٹوٹی شاخیں۔
چاپ اس کے قریب آکر گم صم ہوگئی۔
رانیہ نے اس چاپ کو ہوا کی شرارت جانی۔ اپنا دھیان پھر سے آوازوں کی سمت کرلیا۔ وہ سب چیزوں کو تخیل کی آنکھ سے دیکھ رہی تھی۔
پھول، تتلیاں، کوئل، پتے، ہوا اور۔۔۔ اور معاذ۔۔۔‘‘
’’معاذ۔۔۔!‘‘ اس نے ایک دم آنکھیں کھولیں۔ اپنے سامنے معاذ کو بیٹھے دیکھ کر ششدر رہ گئی۔ معاذ کے چہرے کے تاثرات یک لخت بدلے۔ وہ قصداً مسکرایا تھا۔
’’تمہیں کیسے پتا چلا، میں آیا ہوں؟‘‘
’’یہ تمہیں تمہاری خوشبوسے پہچاننے لگی ہے۔‘‘ ہوا ہنسی۔ وہ دونوں ہوا کی سرگوشی سن نہیں سکے۔ ننھی کونپل اندر پھوٹی تھی۔ ابھی خوشبو پھیلنے کا موسم نہیں آیا تھا۔ ابھی تو بہار آغازِ سفر میں تھی۔ رانیہ نے ایک طویل سانس کھینچی۔ وہ اجنبی مگر مانوس خوشبو اب بھی آرہی تھی اور وہ بے حد حیرت سے معاذ سے پوچھ رہی تھی۔
’’آپ کون سی خوشبو لگاتے ہیں معاذ بھائی۔۔۔؟‘‘
’’کوئی بھی نہیں۔۔۔‘‘ وہ کھڑ ا ہوگیا۔ پھر اِدھر اَدھر دیکھنے لگا۔
’’بہت سکون ہے یہاں۔۔۔ مگر اتنی زیادہ خاموشی میں تمہیں وحشت نہیں ہوتی۔‘‘
’’ہاں بہت سکون ہے یہاں۔۔۔ میں ہوں اور۔۔۔‘‘ پھول، خوشبو، ہوا اور تتلیوں کا ذکر کرتے کرتے اس کی نگاہ بھٹک کر معاذ تک گئی تو سر جھٹک کر بولی۔
’’معاذ بھائی! آپ کو ایک چیز دکھائوں۔‘‘
’’ہوں۔‘‘ وہ چونکا۔ ’’ہاں۔۔۔‘‘
رانیہ کو وہ کچھ چپ چپ سالگا۔ مگر وہ اسے ساتھ لےے ایک کونے کی طرف بڑھ گئی۔ پھر ایک سوکھے درخت کے پاس بیٹھ کر خشک پتے ہٹانے لگی۔
’’یہ دیکھیں۔۔۔‘‘
معاذ اس کے نزدیک پنجوں کے بل بیٹھ گیا۔ ایک ننھی سی خود رو بیل تھی۔ جو بڑھ کر کھوکھلے تنے سے لپٹ گئی تھی۔ چھوٹی سی بیل پر تین سرخ پھول کِھلے تھے۔
’’محبت۔۔۔!‘‘ معاذ کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
’’کیا مطلب۔۔۔؟‘‘ رانیہ نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے اس کی سمت دیکھا۔
’’ایک انگلش پوئم یاد آگئی تھی۔ جس میں شاعر نے محبت کو ایک ایسی ہی خودرو بیل سے تشبیہ دی تھی۔ جس نے اس کے بنجر وجود کو سبز خوشبو سے بھر دیا تھا۔‘‘
معاذ نے ہاتھ بڑھا کر ایک پھول توڑا اور اس کی سمت بڑھادیا۔
’’سبزرتوں کا پہلا پھول۔۔۔‘‘
رانیہ نے کچھ جھجک کر وہ ننھا سا پھول پکڑ لیا۔ معاذ اٹھ گیا تھا۔
’’آئو چلیں۔‘‘
رانیہ کے کچھ نہ بولنے پر وہ خود پلٹ گیا۔ رانیہ نے اس ننھی سی بیل کو دیکھا۔ پھر ہاتھ میں پکڑے پھول کو ۔ اس کی انگلیوں نے آہستگی سے پھول کی نرم پتیوں کو چھوا۔
’’محبت۔۔۔‘‘ اس کے لب بے آواز گنگنائے۔ رانیہ کو لگا۔ سرخ رنگ اس کی انگلیوں پر اتر آیا ہے مگر اس نے سر جھٹک کر ا س نامعلوم احساس سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی تھی ہوا کے لبوں پر خوشبو بھری مسکان تھی۔
پھول کو نرم مٹھی میں چھپائے وہ گھر کے اندر آئی۔ اس سے قبل کہ سیڑھیاں چڑھ جاتی۔ آنی اسے بازو سے کھینچ کر لائونج میں لے آئیں۔ آفاق نے بے حد حیرت سے غضب ناک ہوتی آنی کو دیکھا۔
’’کیا کر رہی تھیں تم وہاں؟‘‘
’’آنی!‘‘ وہ سہم گئی۔ ’’میں تو۔۔۔‘‘
ان کا بھرپور تھپڑ رانیہ کے گال پر پڑا۔ وہ صوفے پر گری۔ آفاق اسٹک سنبھال کر اٹھ کھڑے ہوئے۔
’’کیا کر رہی تھیں تم وہاں معاذ کے ساتھ ۔‘‘ وہ دبے دبے آتشیں لہجے میں چیخیں۔
’’آنی! کیا کر رہی ہیں۔۔۔‘‘ انہوں نے ایک دم سامنے آکر آنی کا دوبارہ اٹھا ہاتھ روکا۔
’’اس سے پوچھو، یہ معاذ کے ساتھ وہاں کیا کر رہی تھی۔۔۔ میری ذرا سی نظر چوکی نہیں کہ یہ لگی ہے نئے گل کھلانے یہ۔۔۔‘‘ وہ غیض و غضب سے کانپ رہی تھیں۔
’’بس کریں آنی۔۔۔‘‘ آفاق کا لہجہ سخت تھا۔ انہوں نے روتی ہوئی رانیہ کو بازو میں سمیٹا۔ ’’مت کریں اس کے معصوم ذہن کو اس طرح آلودہ۔۔۔‘‘
’’معصوم۔۔۔ یہ صرف نظر آتی ہے معصوم۔۔۔‘‘ انہوں نے رانیہ کے پائوں کو ٹھوکر لگائی۔ ’’لیکن اس سے کہہ دو۔ اب میں نے اسے معاذ کے ساتھ تنہا دیکھا تو گلا گھونٹ دوں گی۔‘‘
’’آپ چلی جائیں یہاں سے۔۔۔‘‘ آفاق سخت غصے میں تھے۔ آنی پلٹ کر اوپر چلی گئیں۔
’’آفاق بھائی! میں تو صرف معاذ بھائی کو بیل دکھا رہی تھی۔۔۔‘‘
’’میں جانتا ہوں۔۔۔‘‘ انہوں نے پیار سے اس کا سر تھپتھپایا۔ ’’آنسو صاف کرو اور معاذ سے بلکہ کسی سے بھی کچھ مت کہنا۔‘‘
’’میں تو ان سے بات بھی نہیں کروں گی۔ ورنہ آنی تو مجھے سچ مچ مار ڈالیں گی۔‘‘ وہ ڈر گئی تھی۔
آفاق لب بھینچ کر رہ گئے۔
ـــــ
عمر اور حمزہ واپس آگئے تھے۔ ان کے پاس سنانے کو کئی کہانیاں تھیں۔ مگر سننے والا کوئی نہیں۔ وہ آپس میں ہنستے رہتے۔ ان کی آوازیں سن کر سکوت کا بوڑھا پنچھی جھنجلا جاتا۔ وہ گھر سے باہر چلے جاتے تو پَرسکون ہوجاتا۔ معاذ رانیہ سے پوچھتا۔
’’بلبل! خاموش کیوں ہوگئی ہو؟‘‘
وہ کچن میں گھس جاتی۔ معاذ کے پاس بھی زیادہ وقت نہیں ہوتا تھا۔ اس کی تابندہ کے ساتھ ڈسکشنز بڑھ گئی تھیں۔وہ جانے سے قبل اس لڑکی کو زندگی جینا سکھانا چاہتا تھا۔
’’باہر نکلو، اپنی صلاحیتوں کوکام میں لائو۔ اس طرح خود کو ضائع مت کرو تابی۔ خود کو اتنا مضبوط کرو کہ زندگی میں کوئی بھی حادثہ تمہیں ہلا نہ سکے۔‘‘
وہ اسے کھینچ کر باہر لے آتا۔ سب لوگوں کے درمیان۔ آغا جی خوش ہوجاتے۔ وہ تابندہ سے بہت پیار کرتے تھے۔ خوش تو آنی بھی ہوتی تھیں۔ مگر تابی ان سے کوئی بات نہ کرتی۔ رانیہ شکوہ کناں نگاہوں سے آفاق کو دیکھتی۔
’’آنی تابی کو کیوں منع نہیں کرتیں کہ وہ معاذ سے بات نہ کرے۔‘‘
وہ مسکرادیتے۔ ان کی مسکراہٹ بے حد عجیب ہوگئی تھی۔ رانیہ کو وحشت سی ہوتی۔
ان ہی دنوں ایک اپائنٹمنٹ لیٹر آگیا۔ آفاق کو جاب مل گئی تھی۔ پہلی بار کسی نے ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنا چاہا تھا ان کی معذوری سے ہٹ کر۔ عالیہ آنٹی کی آنکھیں چمکنے لگیں۔
’’اب اپنا ناول بھی مکمل کر ہی لیجےے آفاق۔‘‘ معاذ نے انہیں مبارک باد دیتے ہوئے کہا تھا۔ وہ سنجیدہ سے ہوگئے تھے۔
’’کہانی رخ بدل گئی ہے۔۔۔‘‘
معاذ کی ممی کا پھر فون آیا تھا۔ اب کے انہوں نے معاذ کو سختی سے واپس آنے کو کہا تھا۔
ـــــ
رات جارہی ہے، چاند ڈھل رہا ہے
دھیرے دھیرے آسماں رنگ بدل رہا ہے
میرے دل کی راہوں میں، پلکوں کی چھائوں میں
کوئی میرے ساتھ چل رہا ہے
میرے ساتھ کون چل رہا ہے؟
وہ کھڑکی کی چوکھٹ پر کہنیاں ٹکائے کائنات کے سنُاٹے میں پھیلی رات کو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک دیکھ رہی تھی۔ بک ریک سے کتابیںنکال کر ان پر جمی گرد صاف کرتے ہوئے تابی نے کئی بار اسے دیکھا۔نم ہوا کے جھونکے اس کے بالوں سے اٹھکھیلیاں کر رہے تھے۔ اس کی نگاہیں بادلوں کی اوٹ میں چھپے چاند کا تعاقب کر رہی تھیں۔ ستاروں کی روشنی مدھم تھی۔ تابی کو وہ کچھ اداس نظر آئی۔
اونگھتے ہیں پیڑوں پہ قافلے بہاروںکے
کروٹیں بدلتے ہیں جسم رہگزاروں کے
سرمئی گھٹائوں میں، بدلیوںکی بانہوں میں
ہر تارہ آنکھیںمل رہا ہے، چاند ڈھل رہا ہے
’’تابی! تمہیں معاذ کیسے لگتے ہیں۔۔۔؟‘‘
تابندہ یہ جان کر وہ معاذ کے بارے میں سوچ رہی ہے، ششدر سی رہ گئی۔
’’مجھے وہ بہت اچھے لگتے ہیں میرا دل چاہتا ہے، وہ کبھی واپس نہ جائیں۔‘‘
رانیہ معاذ کے جانے سے اداس تھی۔ تابندہ اس کے قریب آگئی۔ کندھوں سے تھام کر اپنی طرف گھمایا۔
’’تمہیں معاذ کیوں اچھے لگتے ہیں رانیہ۔۔۔؟‘‘
’’کیونکہ وہ میری بات سنتے ہیں اور اس پر یقین بھی کرتے ہیں خواہ وہ جھوٹ ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
وہ ابھی تک اسی مقام پر کھڑی تھی جہاں سے آفاق اور معاذ کی محبت ایک سی نظر آتی تھی۔ ابھی آگہی کا عذاب جسم و جاں پر نہیں اترا تھا۔
’’تمہیں ہر وہ شخص اچھا لگتا ہے جو تمہارے جھوٹ پر یقین کرے۔‘‘
تابی اس کے اندر اترجانا چاہتی تھی۔ اس کے دل کے کونے کونے میںجھانک کر اپنے اندر ابھرتے خیال کی نفی کرنا چاہتی تھی۔
’’اعتبار اچھا لگتا ہے تابی! جب کوئی ہم پر کرے۔‘‘ وہ بڑے ضبط سے بولی تھی اور تابی کو لگا، رانیہ کے اندر کچھ ٹوٹ گیا ہے۔
’’آنی نے تم سے کچھ کہا ہے۔‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں وہی کرچیاں تلاشنے کی کوشش کر رہی تھی جنہیں نکالتے نکالتے وہ خود لہولہو ہوئی تھی۔
’’کچھ بھی تو نہیں۔‘‘ وہ اس کے ہاتھ ہٹا کر پیچھے ہٹی۔ ’’اچھے لوگ جانے کی بات کریں تو دکھ تو ہوتا ہے۔ معاذ بھائی نے میری چھوٹی چھوٹی خواہشیں پوری کی تھیں۔ وہی خواہشیں جو پوری ہوجائیں تو پتا بھی نہیں چلتا۔ نہ ہوں تو ساری عمر حسرتیں بن کر دل میں بس جاتی ہیں۔ بہت اچھا لگتا ہے جب کوئی ہماری بات، کسی خواہش کو اہم جانے، دوسرے معنوں میں وہ ہمیں اہم سمجھ رہا ہوتا ہے۔‘‘
وہ اب کتابیں پڑھنے لگی تھی اور بڑی بڑی باتیں سیکھنے لگی تھی۔
’’معاذ بھائی بہت زیادہ اچھے ہیں۔ مجھے اچھے لگتے ہیں اگر چہ وہ کہتے ہیں۔۔۔ میں جھوٹ بولتی ہوں اور میںزندگی میں کوئی بڑا کام نہیں کر سکتی۔۔۔ مگر دیکھو، انہوں نے تمہیں کتنا بدل ڈالا۔ ورنہ تم تو کمرے سے باہر ہی نہیں نکلتی تھیں۔ اب تم نے کتابیں بھی کھول لی ہیں۔‘‘
’’آنے والوں کوواپس تو جانا ہی ہوتا ہے رانیہ!‘‘
’’تو پھر وہ آتے کیوں ہیں۔۔۔‘‘
تابی کا دل چاہا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دے۔ مگر وہ خشک آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی۔
’’تابی! تم سے ایک سوال پوچھوں۔۔۔‘‘ وہ بے حد جھجکتے ہوئے کہہ رہی تھی اور تابی جانتی تھی کہ وہ کیا پوچھے گی۔ اس نے کھینچ کر رانیہ کو ساتھ لگالیا۔
’’کچھ مت پوچھنا رانیہ! کچھ مت پوچھنا۔‘‘
اس کا اپنا وجود ہولے ہولے کانپ رہا تھا اور رانیہ حیرت زدہ تھی۔ اس شام تابی نے معاذ سے کہا۔
’’تم واپس چلے جائو۔‘‘
’’واپس تو مجھے جانا ہی ہے۔ مگر نکالا کس خوشی میں جارہا ہوں؟‘‘ وہ اس کے سامنے بیٹھا۔
’’رانیہ تم سے بہت اٹیچ ہورہی ہے۔۔۔‘‘
’’میں بھی اس سے بہت اٹیچ ہوگیا ہوں۔ وہ بہت معصوم اور اچھی لڑکی ہے۔‘‘
’’ہاں، وہ بہت معصوم ہے۔ اس کی معصومیت برقرار رہنے دو۔ وہ ابھی تمہیں پسند کرتی ہے اور اس کے بعد۔۔۔‘‘ وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر لب کاٹنے لگی۔
’’اس کے بعد۔۔۔؟‘‘ معاذ نے استفہامیہ انداز میں پوچھا۔
’’وہ تمہاری عادی ہوتی جارہی ہے معاذ!‘‘
’’اس کے بعد۔۔‘‘ معاز کا انداز ہنوز وہی تھا۔ تابی نے جھنجلا کر رخ بدلا۔
’’محبت جرم ہے اس معاشرے میں۔ اور مجھے ڈر ہے وہ لڑکی اس جذبے کی اسیر نہ ہوجائے۔ رانیہ محبتوں اور توجہ کو ترسی ہوئی ہے۔ جو بھی اس کا ہاتھ پکڑے گا۔ اس پر اعتبار کرے گا۔ وہ آنکھیں بند کر کے اس کے ساتھ چل دے گی۔ خواہ وہ تم ہو یا کوئی اور۔۔۔ ہم جیسی لڑکیاں، جنہیں محبت اپنے سے وابستہ لوگوں اور رشتوں سے نہیں ملتی۔ وہ اسے یونہی غیروں کی آنکھوں میں ڈھونڈنے لگتی ہیں۔ بہت بھیانک انجام ہوتا ہے۔ یہاں تو محبت کا نام لینے پر سنگسار کر دیا جاتا ہے۔‘‘
’’تمہارا آنی سے کیا جھگڑا ہے۔۔۔؟‘‘ وہ بات کو کہیں کا کہیں لے گیا۔ تابی کے لبوں پر طنز بھری مسکراہٹ پھیلی۔
’’کچی عمر تھی۔ ذرا سا تجسُس۔ ماںکو سہیلی سمجھ بیٹھی تھی۔ بس پوچھ لیا۔ ماں محبت کیا ہوتی ہے؟ انہوں نے یہ نہیں بتایا۔ محبت کیا ہوتی ہے۔ یہ ضرور سکھا دیا۔ محبت کا نام لینے کی سزا کیا ہوتی ہے۔‘‘ وہ کرسی پر بیٹھ گئی۔ ’’میں نہیں چاہتی یہی سوال رانیہ مجھ سے پوچھے۔ میں اسے دوسری تابی نہیں بننے دوں گی۔ ابھی تو وہ سمجھتی ہے کہ وہ تم سے اور آفاق سے ایک جیسی محبت کرتی ہے۔ کل کو اس کا فرق جان لینے کی کوشش کی تو کیا ہوگا۔‘‘
’’تابی! تم سے ایک بات پوچھوں؟‘‘ معاذ پنجوں کے بل اس کی سمت گھوما۔
’’پوچھو۔‘‘ تابی کی سوالیہ نظریں معاذ کی طرف اٹھیں۔ معاذ نے دونوں ہاتھ میز پر ٹکا کر جھکتے ہوئے براہ راست اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
’’تم محبت کا مفہوم کیوں جاننا چاہتی تھیں؟‘‘‘
دروازے کے باہر کھڑی رانیہ تابی کا جواب نہیں سن سکی تھی۔ شاید اس نے جواب دیا ہی نہ تھا اس رات رانیہ نے سوچا تھا۔
’’کیا اسے معاذ سے محبت ہوسکتی ہے؟‘‘
اندر سے ملنے والے جواب نے اسے پسینہ پسینہ کر دیا۔ وہ اتنا ڈری کہ بنا آنی کی طرف دیکھے کمبل میں چھپ گئی تھی۔
ـــــ
پرسوں اسے واپس چلے جانا تھا۔ جہاں آنی کے وجودمیں بے کلی سمائی تھی۔ وہیں رانیہ کا رنگ فق ہوگیا تھا۔ اس کی پلکوں پر نمی مستقل ڈیرا ڈالے بیٹھی تھی اور وہ سب سے چھپتی پھر رہی تھی۔ حتیٰ کہ معاذ سے بھی۔
’’کیا یہ لڑکی۔۔۔‘‘ معاذ دوراہے پر کھڑا تھا۔ اس نے ممی سے بات کی تھی۔ وہ خاموش رہ گئیں۔ پھر بس اتنا ہی کہا۔
’’تم واپس آجائو، میں نے تمہارے لےے لڑکی پسند کرلی ہے۔‘‘
وہ پاکستان میں نہیں پلا بڑھا تھا، جہاں اولاد کے فیصلے والدین کرتے ہیں۔ اس نے دو ٹوک لہجے میں کہہ دیا کہ فیصلہ وہ کر چکا ہے۔
’’سوری مام! میں شادی تو رانیہ سے ہی کروں گا۔‘‘
انہوں نے فون کھٹ سے بند کر دیا۔ معاذ مطمئن تھا۔ وہ لڑکی اپنی تمام تر معصومیت کے ساتھ اس کے اندر سما گئی تھی۔ پاپا اس کے ساتھ تھے اور ممی کو منانا اتنا مشکل کام نہ تھا۔ بس اسے ایک بار امریکہ جانا تھا۔
’’ممی نے ابھی تک رانیہ کو دیکھا نہیں۔‘‘
رات بہت ہوگئی تھی اور نیند آنکھوں سے غائب تھی۔ وہ کافی بنانے کے ارادے سے نیچے آیا۔ پھر آخری سیڑھی پر ہی رک گیا۔ لائونج خالی تھا مگر رائٹنگ ٹیبل پر آفاق کی جگہ رانیہ بیٹھی تھی۔ سر رائٹنگ ٹیبل پررکھے کسی کتاب کے عنوان پر انگلیاں پھیر رہی تھی۔ اندھیرا اس کے چاروں طرف پھیلا تھا۔ بس لیمپ کی ہلکی سی روشنی جو اس کے بالوں اور آدھے چہرے کو روشن کر رہی تھی۔ معاذ کچن میں چلا گیا۔ دو مگ کافی کے بنا کر لوٹا۔ تو وہ اسی طرح بیٹھی تھی۔
’’رانیہ! سو گئی ہو؟‘‘ اس کی مدھم آواز پر رانیہ نے چونک کر سر اٹھایا۔ چہرہ آنسوئوں سے بھیگا ہوا تھا۔
’’رو رہی ہو۔۔۔‘‘ وہ اس کے سامنے میز پر بیٹھ گیا۔
’’نہیں تو۔۔۔‘‘
معاذ نے غور سے اسے دیکھا پھر مسکرا کر پوچھنے لگا۔
’’کیا سفید جھوٹ پر بھی یقین کرنا ہوگا۔‘‘
رانیہ خاموشی سے آنسو صاف کرنے لگی۔ پھر کھڑی ہوگئی، مگرمعاذ جب تک راستہ نہ چھوڑتا وہ جا نہیں سکتی تھی۔
’’بیٹھ جائو رانیہ! مجھے تم سے بات کرنی ہے۔‘‘
’’آنی خفا ہوتی ہیں۔۔۔‘‘
’’اور تھپڑ بھی مارتی ہیں۔۔۔‘‘ معاذ نے ٹٹولتی نگاہوں سے اس کی سمت دیکھا۔
’’آپ کو کس نے بتایا؟‘‘ رانیہ کو شرمندگی نے گھیر لیا۔ معاذ نے جواب کی جگہ مگ اس کی سمت بڑھادیا۔
’’بیٹھ جائو۔ آنی اب کچھ نہیں کہیں گی۔‘‘ وہ خود اٹھ کر فلور کشن پر بیٹھ گیا۔ رانیہ کو بیٹھنا پڑا۔
’’آپ جارہے ہیں؟‘‘ بہت دیر کی خاموشی کے بعد رانیہ نے پوچھا تھا اس کی آواز میں آنسوئوں کی آمیزش تھی۔
’’تم اسی لےے رو رہی تھیں۔۔۔‘‘
رانیہ نے کچھ کہنے کو منہ کھولا پھر خاموش ہوگئی۔ جو آپ کے جھوٹ پر بھی اعتبار کرتا ہواس کے سامنے جھوٹ بولنا مشکل ہوجاتا ہے۔
’’میں واپس آئوں گا رانیہ۔۔۔‘‘ رانیہ نے پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا تو وہ مسکرادیا۔ ’’تمہارے لےے۔‘‘
رانیہ کا دل ایک پل کو دھڑکنا بھول گیا۔ اس نے ایک بار کہا تھا۔ ’’تم زندگی میں کبھی کوئی بڑا کام نہیں کر سکتیں۔ مگر قسمت خود تم پر مہربان ہوگی۔‘‘
’’کیا قسمت مجھ پر مہربان ہوگئی ہے۔۔۔‘‘ وہ متحیر سی سوچ رہی تھی۔
’’میں نے جھوٹ کہا تھا کہ تم زندگی میں کبھی کوئی بڑا کام نہیں کر سکتیں۔ میں چاہتا ہوں کہ تم کوئی بڑا کام کرو۔ میں نہیں چاہتا کہ تم بھی تابی بن جائو۔ زندگی میں کوئی مسئلہ ہو اور تم دنیا سے چھپ کر کمرے میں بند ہوجائو۔ تمہیں دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینا سیکھنا ہوگا۔ یہ پھول، کلیاں، تتلیاں، جگنو، زندگی کا خوب صورت حصہ ہیں۔ زندگی نہیں۔ میں واپس آئوں تو۔۔۔‘‘
’’مت دو اس کے ہاتھ میں کوئی خواب۔۔۔‘‘ آنی کی آواز پر جہاں رانیہ گڑبڑا کر کھڑی ہوئی تھی۔ وہیں معاذ نے بے حد سکون سے پلٹ کر دیکھا تھا۔
’’رانیہ! اوپر جائو۔۔۔‘‘ آنی کا لہجہ و انداز ناقابل فہم تھے۔ اس نے گھبرا کر معاذ کو دیکھا۔ پھر مگ ٹیبل پر رکھ کر اوپر چلی گئی۔ آنی تیر کی طرح اس کے سامنے آئیں۔
’’تم واپس جاہی رہے ہو تو اسے اپنا پابند کیوں کر رہے ہو؟‘‘
’’کیونکہ مجھے اس کے لےے واپس آنا ہے۔‘‘ معاذ کا انداز ہنوز پرسکون تھا۔ وہ بپھر گئیں۔
’’جھوٹ۔۔۔ بکواس۔۔۔ دھوکا۔۔۔ فریب۔۔۔ تم کبھی لوٹ کر نہیں آئو گے، معاذ کبھی نہیں۔‘‘
’’آپ کو اتنا یقین کیوں ہے۔۔۔؟‘‘
’’جس خواب کو سچ ہونا ہی نہیں۔۔۔‘‘
’’آپ کو کس نے کہ اس خواب کو سچ نہیں ہونا۔‘‘ وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
’’کیونکہ تم۔۔۔‘‘ وہ کچھ کہتے کہتے رک گئیں۔
’’جملہ پورا کریں آنی!‘‘
’’تمہاری ماں اس رشتے پر راضی نہیں ہے۔‘‘ آنی جھنجلا گئیں۔
’’میں واپس جائوں گا تو انہیں منالوں گا۔‘‘ اس کا لہجہ ٹھوس تھا۔
’’بکواس کرتے ہو تم۔۔۔ تم انہیں کبھی نہیں مناسکو گے۔۔۔‘‘ وہ چیخ اٹھیں۔ معاذ نے ان کے کانپتے وجو دکو دیکھا۔ ’’اور میں اپنی بیٹی کو انتظار کی سولی پر لٹکنے نہیں دوں گی۔ اس کی سکون سے گزرتی زندگی کو کانٹوں کا سفر مت بنائو۔‘‘
’’آپ کو یقین کیوں نہیں آتا آنی۔۔۔ ٹھیک ہے۔‘‘ معاذ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا۔ ’’میں رانیہ سے ابھی اور اسی وقت نکاح کرنے کو تیار ہوں۔‘‘
’’شٹ اپ!‘‘ وہ حلق کے بل چلائیں۔ پھر انگلی اٹھا کر وارننگ کے انداز میں بولیں۔’’ اب میری بیٹی کا نام تمہاری زبان پر نہ آئے۔ پرسوں تم جارہے ہو۔ بہتر ہے جانے سے قبل رانیہ سے کہہ دو کہ تم کبھی لوٹ کر نہیں آئو گے۔ یہ تمہارے لےے بھی بہتر ہے اور رانیہ کے لےے بھی۔‘‘
وہ پلٹیں۔ پھر ٹھٹک گئیں۔ آخری سیڑھی پر تابندہ کھڑی تھی۔ وہ قدم قدم چلتی ان کے سامنے آئی۔
’’میں سمجھتی تھی۔ ماں صرف ماں ہوتی ہے۔ نہ سگی نہ سوتیلی۔ مگر آپ نے تو ثابت کر دیا۔ سوتیلی ہمیشہ سوتیلی رہتی ہے کبھی ماں نہیں بنتی۔‘‘
’’تابندہ!‘‘ وہ لڑکھڑا گئیں۔ انہوں نے اپنی آدھی عمر اِن بچوں کو دی تھی۔ ایک ایک پل۔۔۔ ایک ایک لمحہ۔۔۔ کہیں کوئی کھوٹ، کہیں کوئی جھوٹ نہیں۔ چوبیس برس کے بعد سوتیلی کے طعنے نے ان کے قدم اکھاڑ دےے۔
’’معاذ رانیہ سے شادی کرنا چاہتا ہے تو آپ اس کے اتنا خلاف کیوں ہیں جبکہ آپ اچھی طرح جانتی ہیں کہ رانیہ بھی اسے چاہنے لگی ہے۔‘‘
’’یہ چاہت ایک جھوٹ ہے، دھوکا ہے تابی۔۔۔‘‘ ان کی آواز کمزور اور لرزتی ہوئی تھی۔
’’آپ کے پاس ایسا کون سا پیمانہ ہے جس پر آپ جھوٹ اور سچ کو پرکھتی ہیں۔ معاذ کے ماتھے پر لکھا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے۔‘‘
’’تابندہ! تم۔۔۔‘‘ معاذ نے کچھ کہنا چاہا مگر تابندہ نے تیزی سے اس کی بات کاٹ دی۔
’’نہیں معاذ! مجھے ان سے بات کرنے دو۔ انہوں نے ہم سے کھلی دشمنی کی ہے۔ جو کچھ میرے ساتھ ہوا۔ میں نے صبر کر لیا۔ لیکن۔۔۔ رانیہ۔۔۔ وہ معصوم لڑکی جس کے سامنے یہ دن کو بھی رات کہتیں تو وہ مان لیتی۔ اس کے ساتھ یہ سلوک۔‘‘
’’تابی! میں نے تم لوگوں کو اپنی اولاد کی طرح پالا ہے۔‘‘ وہ کراہیں۔
’’یہی دھوکا۔۔۔ یہی دھوکا تو کھایا آغا جی نے۔ کہ سب کچھ آپ پر چھوڑ کر بے فکر ہوگئے۔ کاش وہ جان سکتے کہ آپ کی اصلیت کیا ہے۔‘‘ وہ شعلے کی طرح بھڑک رہی تھی۔ آنی کا وجود بھڑ بھڑ جلنے لگا۔ ’’مجھے صرف اتنا بتائیں، محبت سے اتنی خائف کیوں ہیں آپ۔۔۔؟ کیا سمجھوں میں۔۔۔ کس کا بدلہ آپ ہم سے لے رہی ہیں۔۔ کس کے کےے کی سزا ہے جو ہم لوگ بھگت رہے ہیں۔ بتائیں آنی۔۔۔ ماضی کا کوئی دھوکا، کسی کی بے وفائی یا۔۔۔۔‘‘
’’شٹ اپ تابندہ۔۔۔‘ معاذ ایک دم ان دونوں کے درمیان آیا۔ اس کا چہرہ سرخ اور کنپٹی کی رگ پھڑک رہی تھی۔ تابندہ اس کی آنکھوں میں امڈ آئے غصے سے خائف ہو کر خاموش ہوگئی۔
’’تم حد سے بڑھ گئی ہو۔‘’‘
’’مجھے حد سے بڑھنے پر کس نے مجبور کیا مسٹر معاذ۔۔۔؟‘‘ وہ زہر خند لہجے میں پوچھنے لگی۔
’’تم جاسکتی ہو۔ یہ میرا اور آنی کا معاملہ ہے۔‘‘ وہ ضبط سے کام لے رہا تھا۔
’’یہ رانیہ کا معاملہ ہے اور میں رانیہ کو اپنی طرح برباد ہونے نہیں دوں گی، یہ سمجھا دینا اپنی آنی کو۔۔۔‘‘ وہ ایک تلخ سی نگاہ ان پر ڈال کر اوپر چڑھ گئی۔ معاذ نے بالوں میں انگلیاں پھنسا کر اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کی سعی کی۔ چہرے پر ہاتھ پھیرے تو وہ آگ کی طرح تپتا محسوس ہوا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا۔ آنی گھٹنوں کے بل فرش پر بیٹھی تھیں۔ وہ اس نیم تاریکی میں ان کا لرزتا وجود دیکھ سکتا تھا۔ اس نے ان کے قریب بیٹھ کر کندھے پر ہاتھ رکھا۔
’’آئی ایم ساری آنی! تابندہ کو یہ سب۔۔۔‘‘
آنی نے سیدھے ہو کر معاذ کو دیکھا۔ اس کی پیشانی، اس کے لب، اس کی آنکھیں، ٹھوڑی کا تل۔
کسے معلوم، کون اس راز کی صدیوں پرانی کیفیت سے آشنا ہے؟
یہ میرے چاروں طرف کیوں ایک سکوت بے صدا ہے؟
میں کس سے کہوں؟
میری اجڑی ہوئی آنکھوںکے خالی روزنوں کے اس طرف کیا ہے؟
خلا ہے یا ستارے پھانکتی اندھی ہوا ہے؟
کس پر کھل سکا ہے؟
جسم کے خالی کھنڈر میں کون اب تک بس رہا ہے؟
تم مجھے دیکھو
میں اپنے آپ سے ڈرتی ہوں شب کو
جب اندھیرا بولتا ہے
دل کا سناٹا پرانی داستانوں سے اٹے بھیدوں کی گرہیں کھولتا ہے۔
جب لہو کی آگ میں لت پت کواڑوں سے الجھتی ہیں مری چیخیں
کوئی سنتا نہیں مجھ کو
بکھرتے ٹوٹتے خوابوںمیں جب تقسیم ہوتی ہوں
کوئی چنتا نہیں مجھ کو
’’آنی! کیا ہوگیا ہے آپ کو۔۔۔ کچھ تو بولیں، کچھ تو بتائیں۔۔۔؟‘‘
تو ایسا ہے کہ تم اپنی مہکتی نیند سے کھیلو۔ (نہ دکھ جھیلو)
میری تنہائی کے اسرار مت پوچھو
کہیں ایسا نہ ہو، تم بھی خود اپنے کو گنوا بیٹھو
مری خواہش اور اپنے درمیان بھیدوں بھری دیوار رہنے دو
مجھے صدیوں پرانی داستانوں کی طرح اندھی ہوا کے ساتھ
پراسرار۔۔۔۔ رہنے دو۔
ان کی آنکھوں میں منجمد ہوجانے والے تاثرات ناقابل فہم تھے۔ وہ کسی ایک تاثر، کسی بھی کیفیت کو سمجھنے سے قاصر رہا تو گھبرا کر بول اٹھا۔
’’آنی۔۔۔‘‘ اس کی آواز کی ضرب سے ان کے منجمد اعصاب آئینے کی طرح ریزہ ریزہ ہو کر بکھرے تو ایک کراہ سی لبوں پر ٹوٹ گئی۔ اپنے دونوںہاتھوںمیں چہرہ چھپا کر وہ رخ بدل گئیں۔
’’آنی!‘‘
’’جائو معاذ۔۔۔‘‘ ان کی مدھم کپکپاتی آواز معاذ کو بے حد اجنبی محسوس ہوئی۔
’’مگر میں۔۔۔‘‘
’’معاذ پلیز۔۔۔‘‘
ان کے اندر ہوائوں کا شور بڑھ رہا تھا۔ مانوس آوازیں اندھے کنویں میں سرپٹخ پٹخ کر سسکیاں بھرنے لگیں۔ کھڑاک کھڑاک کھلتیں اور بند ہوتی تھیں اور وہ ڈرتی تھیں کہیں معاذ جھانک نہ لے۔ یہ کھلتی بند ہوتی کھڑکیاں انہیں ماضی کی کچھ جھلکیاں نہ دکھادیں۔ وہ سارے منظر جو ان کے اندر آگ سلگائے رکھتے تھے۔
ان کے عقب میں دروازہ آہستگی سے بند ہوا۔
تب ہی یادوں کی بے مہر ہوا نے ان کے اندر کئی برسوں کے بند، زنگ آلود دروازے کھڑاک کھڑاک کھول دےے تھے۔
’’سنو آئینہ! میں تھوڑا پزل ہورہا ہوں۔‘‘
آئینہ نے فائل سے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا پھر بے اختیار ہنس دی۔
’’تم تو واقعی۔۔۔‘‘
’’تمہیں ہنسی آرہی ہے۔‘‘ عمران نے اسے خفگی سے دیکھا۔ پھر اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگا۔
’’تمہاری امی کیا پوچھیں گی؟‘‘
’’یہی خاندان، گھر اور تمہاری جاب وغیرہ کے بارے میں۔‘‘ اس نے فائل بند کر کے گھڑی پر نگاہ دوڑائی۔ پھر اپنی چیزیں پرس میں رکھنے لگی۔
’’اور۔۔۔‘‘
’’بھئی، مجھے کیا پتا۔ اب انہو ں نے کوئی سوال نامہ تو لکھ کر رکھا نہیں ہے جو میں ایک ایک سوال کر کے تمہیں بتاتی جائوں۔‘‘ وہ مسکرادی۔ اس وقت پزل پزل سا عمران معمول سے زیادہ اچھا لگ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں دےے سے جلنے لگے۔
عمران اس کے ساتھ ہی آفس سے باہر آیا۔
’’آئینہ! کہیں وہ مجھے ریجیکٹ تو نہ کر دیں گی۔۔۔؟‘‘ فٹ پاتھ پر اس کے ساتھ چلتے ہوئے وہ تشویش سے پوچھنے لگا۔ آئینہ نے ذرا سا رک کر اسے سرتاپا دیکھا۔
’’کرنا تو نہیں چاہےے۔‘‘ لبوں پر دبی دبی سی مسکان تھی۔ گویا خود اپنی ہی چوائس پر شاباش دی جارہی تھی۔
’’اگر انہوں نے میرے والدین کے بارے میں۔۔۔‘‘ وہ اپنی تسلی کر رہا تھا۔
’’جب مجھے کوئی اعتراض نہیں تو انہیں بھی نہیں ہوگا۔‘‘ وہ خاصی پراعتماد تھی۔
’’آئینہ! تم تو میرا ساتھ دو گی نا۔ خواہ کیسے بھی حالات ہوں۔‘‘
’’عمران! تمہیں مجھ پر اعتبار نہیں ہے۔‘‘
’’نہیں، وعدہ کرو۔ کبھی ساتھ نہیں چھوڑو گی۔‘‘
وہ اس کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ آئینہ نے کچھ حیران سا ہو کر اسے دیکھا اور مسکرادی اور بے حد خاموشی سے ایک وعدہ وفا کی ڈوری میں لپیٹ کر اس کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔ تب اسے خبر نہ تھی۔ سڑک کے کنارے کئے گئے وعدے ہمیشہ ہوائوں کا رزق بنتے ہیں اور جن کی ہتھیلیوںکو یہ امانت سونپی جاتی ہے وہ انہیں وہیں کسی سڑک کنارے رکھ کر بھول جاتے ہیں۔
’’اچھا دیکھو۔‘‘ آئینہ نے دور سے آتی بس کو دیکھا۔ ’’ٹھیک چار بجے پہنچ جانا۔‘‘
’’اوکے۔‘‘ وہ ہاتھ ہلا کر پیچھے ہٹ گیا۔ آئینہ گھر پہنچی تو امی گھر پر نہیں تھیں۔ جبکہ اس کی پڑوسن اور سہیلی زیبی چپس تل رہی تھی۔
’’یہ تم یہاں کیا کر رہی ہو اور امی کہاں ہیں۔۔۔؟‘‘ آئینہ نے حیرت سے پوچھا۔
’’میں تمہاری خاطر داری کر رہی ہوں اور آنٹی تمہارے کزن کے گھر گئی ہیں۔‘‘ وہ اطمینان سے بولی۔
’’محسن بھائی کے گھر۔۔۔ خیر تو ہے، صبح تک تو کوئی ارادہ نہیں تھا ان کا۔‘‘ آئینہ ایک دم کوفت کا شکار ہوگئی۔ عمران کو آنا تھا اور اسے ابھی امی کے ساتھ بہت کچھ ڈسکس کرنا تھا۔
’’ہاں، فون آیا تھا محسن بھائی کا۔ ثمینہ آپی کی طبیعت ٹھیک نہیں شاید۔‘‘ اس نے چپس پلیٹ میں نکالے اور چولہا بند کر کے کھڑی ہوگئی۔ ’’اچھا بھئی، میں تمہارا ہی انتظار کر رہی تھی۔ اب جارہی ہوں کیونکہ مجھے فلم دیکھنا ہے۔ کھانا خالہ پکاگئی ہیں۔‘‘
وہ پلیٹ اٹھا کر باہر نکل گئی۔ آئینہ اپنی سوچوں میں اسے رکنے کا بھی نہیں کہہ سکی۔
’’خیر شام تک تو آہی جائیں گی۔۔۔‘‘ وہ زیر لب بڑبڑائی۔ برائے نام کھانا کھانے کے بعد اس نے از سر نو گھر چمکایا۔ کچھ چیزیں گھر میں بنائیں۔ کچھ زیبی کے بھائی سے بیکری سے منگوائیں۔ امی واپس آئیں تو بے حد پریشان تھیں۔
’’ثمینہ کی حالت خاصی خراب ہے۔ ڈاکٹر نے مکمل بیڈ ریسٹ بتایا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچے، چوتھے کی آمد۔ گھر میں نہ کوئی ساس نہ نند۔ بے چاری کرے تو کیا کرے۔ ڈاکٹر نے تو صاف کہہ دیا ہے، بیڈ سے نیچے پیر نہیں اتارنا۔ ورنہ ماں اور بچہ دونوں جان سے جا سکتے ہیں۔ بے چاری بہت رو رہی تھی۔‘‘
وہ تھوڑا سا پریشان تو ہوئی۔ مگر دھیان اب بھی پورے کا پورا عمران میں اٹکا تھا۔ وہ منتظر تھی۔ امی موضوع بدلیں تو وہ انہیں عمران کے بارے میں بتائے۔
’’گوجرانوالہ سے اپنی ماں کو بلوایا ہے اس نے۔ میں بھی آتی جاتی رہوں گی۔‘‘ تب ہی ان کی نظر آئینہ کے ہاتھ میں پکڑے ڈسٹر پر پڑی۔
’’تم آتے ہی صفائی کیوں کرنے لگیں۔ کھانا کھالیا تھا؟‘‘
’’کھالیا تھا۔‘‘ وہ آہستگی سے بولی۔ پھر صوفے کی بیک پر کپڑا پھیرتے ہوئے بتانے لگی۔
’’امی! آج عمران آئیں گے۔‘‘
’’ہاں!‘‘ وہ چونکیں۔ پھر بے حد دھیان سے چم چم کرتے ڈرائنگ روم کو دیکھا۔ پھر بیٹی کے چہرے پر بکھرے رنگوں اور آنکھوں میں جگر جگر کرتی روشنیوں کو دیکھا۔
’’وہ آپ سے ملنا چاہتا ہے۔۔۔‘‘ آئینہ نظریں جھکائے کہہ رہی تھی۔ وہ ایک طویل سانس لے کررہ گئیں۔ پھر رسانیت سے پوچھنے لگیں۔
’’ماں باپ ساتھ ہوں گے۔۔۔؟‘‘
وہ ایک پل کو گڑبڑائی۔ ’’نہیں فی الحال تو اکیلا ہی آئے گا۔‘‘
انہوں نے حیرت سے اسے دیکھا پھر خاموشی سے کھڑی ہوگئیں۔
’’ٹھیک ہے، چائے کا اچھا سا انتظام کرلینا۔‘‘ وہ اندر چلی گئیں۔
’’بس۔۔۔‘‘ وہ بے تحاشا خوش تھی۔ ’’آپ ایک بار اس سے مل لیں۔ اپنے سارے سوال بھول جائیں گی۔ ہاں۔۔۔ وہ ایسا ہی ہے۔‘‘
وہ تتلی کی طرح اڑ رہی تھی۔
’’محبت کتنا خوب صورت احساس ہے۔‘‘ شفق اس کے چہرے پر اتر آئی تھی اور آنکھ کنارے خوب صورت سپنے قطار باندھے کھڑے تھے۔ جب عمران اس سے ٹکرایا تھا تو اپنی فائلیں سمیٹتے ہوئے کس بری طرح اس پر برس پڑی تھی اور وہ حیران حیران سا ’’میری بات تو سنیں۔‘‘ کہہ کر رہ گیا تھا۔ جبکہ آئینہ اپنی سنا کر پلٹ گئی تھی۔ بعد میں پتا چلا، وہ اسی کے آفس میں تعینات ہوا ہے۔ عمران نے اس کی سیٹ پر آکر معذرت کی۔ آئینہ شرمندہ سی ہوگئی۔ اس کا قصور اتنا زیادہ تو نہ تھا۔ وہ مسکرادی پھر بھول گئی۔ مگر وہ نہیں بھولا تھا۔ عمران کی نگاہیں اس کا تعاقب کرتیں۔ بات کرتے ہوئے اسے دیکھتا تو اپنی بات بھی بھول جاتا۔ اس کی نگاہوں کی وارفتگی آئینہ کو پزل کر دیتی۔ وہ لاشعوری طور پر اس کی طرف متوجہ ہونے لگی۔ اس کے اندر چاہے جانے کی خواہش انگڑائی لے کر جاگنے لگی۔ تب ہی وہ بے بس سا اس کے سامنے آکھڑا ہوا اور مرد کبھی بے بس نہیں ہوتا۔ ہاں تاثر یہی دیتا ہے اور مقابل کو بے بس کر دیتا ہے۔ وہ کندن ہوتی تو اس کی ایک نگاہ پر کبھی نہ پگھلتی۔ مضبوط ہوتی تو یوں اس کے خوب صورت لفظوں پر بکھر نہ جاتی۔ کتنی ہیں جو ہر روز آگ کے اس دریا کو عبور کر کے ویسی کی ویسی اپنے اپنے آشیانوں کو لوٹ آتی ہےں۔ ان کی محبتیں، ان کی چاہتیں، سینت سینت کر رکھے جذبے سب کے سب امانت ہوتے ہیں اور ان میں رتی بھر خیانت نہیںہوتی۔ ہاں۔۔۔ وہ کمزور نکلی تھی۔ راستے کے پتھر کو نشان منزل سمجھ بیٹھی تھی۔ تو انجام کیا ہوتا؟
امی عصر کی نماز پڑھ رہی تھیں۔ جب عمران آیا۔ دروازہ آئینہ نے ہی کھولا تھا۔
’’تم آدھا گھنٹہ لیٹ آئے ہو۔‘‘ وہ خفگی سے گویا ہوئی۔
’’یار! تھوڑی بہت تیاری بھی تو کرنی تھی۔ کیسا لگ رہا ہوں۔۔۔؟‘‘
بلیو جینز، وائٹ شرٹ اور بلیو کارڈینگ میں جمے جمائے بالوں اور نکھرے فریش چہرے کے ساتھ وہ سامنے تھا۔ اس نے مسکرا کر راستہ چھوڑا۔ امی آئیں تو وہ کچن میں آکر چائے بنانے لگی۔
’’پتا نہیں امی کیا کہیں۔۔۔‘‘ وہ کچھ کنفیوز سی ہو گئی۔ چائے بنا کر آئی۔ تو عمران خاموش سا بیٹھا تھا۔ امی کا چہرہ سپاٹ تھا۔ آئینہ چائے بنانے لگی تو امی نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا۔
’’تم جائو۔ میں بنادوں گی۔‘‘
آئینہ نے عمران کو دیکھا۔ وہ اب بھی اس کی طرف متوجہ نہیں تھا۔ وہ خاموشی سے باہر نکل آئی۔ مگر اندر کہیں خطرے کی گھنٹی سی بجی تھی۔ وہ جانتی تھی امی اعتراض کریں گی۔
’’سب ٹھیک ہوجائے گا۔ میں ہینڈل کرلوں گی۔‘‘ اس نے خود کو تسلی دی اور کچن کے دروازے میں کھڑی ڈرائنگ روم کے بند دروازے کو گھورنے لگی۔ اسے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔ عمران باہر نکلا تو اس کا چہرہ سرخ ہورہا تھا۔ آئینہ کو دیکھ کر وہ ٹھٹک کر رکا۔
’’مجھے نہیں معلوم تھا۔ تم نے مجھے یہاں انسلٹ کرنے کو بلوایا تھا۔‘‘
’’عمران۔۔۔!‘‘ آئینہ نے پکارا مگر وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔ وہ پلٹی تو امی کھڑی تھیں۔
’’مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی آئینہ۔‘‘ ان کا لہجہ بکھرا بکھرا سا تھا۔
’’امی! آپ نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا۔۔۔‘‘ آئینہ کا لہجہ بھیگ گیا اور اس کا جملہ۔۔۔ امی سن سی ہوگئیں۔ اس نے شاکی نظروں سے ماں کو دیکھا اور بھاگتی ہوئی کمرے میں گھس گئی۔
ـــــ
’’اب کیا ہوگا عمران؟‘‘ وہ رو پڑی۔
’’تم روئو تو مت۔۔۔ آئینہ پلیز۔۔۔ سنبھالو خود کو۔ تم جانتی ہو یہ آنسو میرے دل پر گرتے ہیں۔ میں تمہیں روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔‘‘ وہ مضطرب سا ہو کر اس کے آنسو صاف کرنے لگا۔
’’یہ آنسو میری ماں کو نظر کیوں نہیں آتے عمران۔۔۔‘‘
’’ایسے مت کہو آئینہ! ماں ہیں وہ۔۔۔‘‘ عمران نے رسانیت سے کہا۔ وہ تڑپ اٹھی۔
’’کیسی ماں ہیں۔ اپنی بیٹی کی خوشیوں کی دشمن ہورہی ہیں۔ کیا وہ نہیں جانتیں کہ اب آئینہ کسی اور شخص کے ساتھ زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔‘‘
’’کیا کوئی اور پرپوزل ہے۔۔۔‘‘ وہ بری طرح چونکا۔ تو آئینہ نے نفی میں سر ہلادیا۔
’’ تو آنٹی تمہاری شادی کیوں نہیں کرنا چاہتیں۔‘‘ عمران الجھن آمیز لہجے میں پوچھنے لگا۔ وہ کچھ ناسمجھی کے عالم میں اسے دیکھنے لگی۔
’’دیکھو آئینہ! میں جانتا ہوں تم اپنے گھر کی واحد کفیل ہو۔ مگر میں تمہیں منع تو نہیں کر رہا۔ تم شادی کے بعد بھی جاب کر کے اپنی والدہ کا خرچ اٹھا سکتی ہو اور اگر نہیں بھی کرنا چاہو۔ تو آئینہ۔۔۔‘‘ اس کے لہجے میں افسردگی سی در آئی۔ ’’میں نے اپنا گھر تمہاری خاطر چھوڑ دیا۔ اپنے والدین، بہن بھائی، دولت جائیداد سب تمہاری خاطر چھوڑا ہے۔ اب اس دنیا میں تمہارے اور آنٹی کے سوا میرا کون ہے۔ وہ ہمارے گھر میں ہماری بزرگ بن کر رہ سکتی ہیں۔ یقین جانو۔ میں ان کی عزت اپنی ماں سے بڑھ کر کروں گا۔‘‘
’’عمران۔۔ تم۔۔۔ تمہارا مطلب ہے امی۔۔۔‘‘ اس کے منہ سے لفظ نہ نکل سکے۔
’’نہیں آئینہ۔‘‘ عمران نے اسے فوراً ٹوکا۔ ’’ان سے بدگمان مت ہو۔ بس تھوڑا سا حقیقت پسند ہو کر سوچو۔ وہ تمہاری شادی کے بعد کیا کریں گی۔ تمہارا کوئی بھائی نہیں ہے۔ باپ نہیں ہے ایک بڑی بہن جو شادی کے بعد امریکہ جا بسی۔۔۔ لیکن میں نے کہا نا۔۔۔ میں انہیں اپنی والدہ کی جگہ سمجھوں گا۔ شاید ان کے دل میں ایسا ہی کوئی خدشہ ہو۔ ورنہ میرے پرپوزل کو ٹھکرانے کی یہ وجہ تو ایسی معقول نہیں کہ میرے والدین راضی نہیں۔ جبکہ ہم ان کے بغیر بھی اپنی زندگی بنا سکتے ہیں ۔میں جاب کرتا ہوں۔ تم بھی جاب کرتی ہو۔ یہاں میرا اپنا فلیٹ ہے۔ میں نے آنٹی سے کہا تھا۔ میں اپنا فلیٹ تمہارے نام کر دوں گا اور۔۔۔ اور کیا کروں میں۔ اپنے جذبے اپنے محبتیں، اپنا پورا وجود تو پہلے ہی تمہارے نام کر چکا ہوں اور کیا سیکورٹی دوں میں انہیں میرے پاس اور ہے کیا۔۔۔‘‘ وہ بے بسی سے پوچھ رہا تھا اور آئینہ کچھ کہہ ہی نہ سکی۔
’’تم ان سے بات تو کرو آئینہ۔ انہیں بتائو۔ عمران تمہارے بغیر جی نہیں سکے گا۔ تم تو میری روح کا گمشدہ حصہ ہو۔ میری تکمیل ہو۔ کیسے بھول پائوں گا میں تمہیں۔ میں تو تم سے یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ آئو شادی کرلیں۔ خود غرض ہوگی یہ میری۔ جو دکھ میرے حصے میں آئے ہیں، انہیں تمہارا مقدر کیوں بنائوں۔‘‘
اور یہ پرخلوص شخص۔۔۔‘‘ آئینہ نے آنسو صاف کرتے ہوئے تفاخر سے اسے دیکھا۔ وہ اس کے لےے ساری دنیا ٹھکرا آیا تھا۔ کیا وہ اس کے لےے اپنی ماں کو نہیں منا سکتی۔ ’’اور جی پائو گی آئینہ۔ تم اسے کھو کر۔‘‘
اس کا دل یہ سوچ کر ہی دھڑکنا بھول گیا۔
’’نہیں عمران! میں بات کروں گی امی سے۔ وہ مان جائیں گی۔ انہیں ماننا ہوگا۔‘‘
وہ سرخرو ہوگیا تھا اور اب آئینہ کی محبت امتحان میں تھی۔ مگر ان کی ناں ہاں میں نہیں بدلی۔
’’وہ اپنے والدین کو لے آئے، میں تمہیں آج ہی رخصت کردوں گی۔‘‘ ان کا لہجہ ٹھوس تھا۔
’’وہ انہیں چھوڑ چکا ہے میری خاطر۔‘‘
’’پھر بھی وہ قابل اعتبار ہے۔۔؟‘‘ ماں نے چبھتی نگاہوں سے اسے دیکھا۔
’’آپ کو اس کے جذبوں میں کھوٹ کیوں نظر آتا ہے۔ وہ میرے لےے سب کو چھوڑ چکا ہے۔ میں پھر بھی اس پر اعتبار نہ کروں۔۔۔ جبکہ میں جانتی ہوں وہ مجھے خوش رکھ سکتا ہے یا پھر آپ مجھے خوش دیکھنا ہی نہیں چاہتیں۔‘‘
اس کے باغیانہ و گستاخانہ لہجے پر انہوں نے بے یقینی سے اپنی بیٹی کو دیکھا۔ پھر اس کی آنکھوںمیں جھانکا۔
’’کیا اس کی بینائی چھن گئی ہے۔‘‘ بے ریا محبتوں پر کھوکھلے اور جھوٹے لفظ کیوں غالب آگئے۔
’’کہاں کمی رہ گئی میری تربیت میں؟‘‘
وہ بولیں تو لہجہ بے حد عجیب تھا۔
’’تمہیں اپنی ماں پر اعتبار نہیں آئینہ۔‘‘
آئینہ کی سماعتیں بس عمران کو سنتی تھیں۔ ڈوبتے جہاز پر کھڑے مسافر کی آخری پکار جیسی ماں کی آواز بس خلا سے ٹکر ا کر واپس لوٹ گئی۔ انہوں نے اپنی ایک عمر کی ریاضت و محبت کو دائو پر لگا کر پوچھا تھا۔ کون بیٹی تھی جو نفی میں جواب دیتی۔ مگر اس نے یہ بد نصیبی اپنے ہاتھوں کمائی تھی۔ بولی تو بس یہ۔۔۔
’’عمران کہتا ہے، اسے کوئی اعتراض نہیں۔ اگر میں جاب کر کے آپ کا خرچ اٹھالوں۔ اگر آپ چاہیں تو ہمارے ساتھ۔۔۔‘‘
’’آئینہ۔۔۔!‘‘ وہ چیخ اٹھیں۔ دوسرے پل بھرپور تھپڑ اس کے گال پرپڑا تھا۔
’’تو سمجھتی ہے کہ میں۔۔۔‘‘ ان کا کمزور وجود کانپ کانپ گیا۔ گال پر ہاتھ رکھ کر وہ سیدھی ہوئی۔ بے یقینی سے انہیں دیکھتے ہوئے بڑبڑائی۔
’’عمران ٹھیک کہتا ہے۔ آپ کو میری خوشیوں کی کوئی پروا نہیں۔‘‘
’’دفع ہوجائو آئینہ! دفع ہوجائو یہاں سے۔۔۔‘‘ وہ بے دم ہو کر صوفے پر گر گئیں۔ ایک پل کو آئینہ کا دل تاسف میں گھر گیا۔ دوسرے پل وہ کمرا چھوڑ گئی تھی۔
ـــــ
اسے کہنا کہ پلکوں پر نہ ٹانکے خواب کی جھالر
سمندر کے کنارے گھر بنا کر کچھ نہیں ملتا
یہ اچھا ہے کہ آپس کے بھرم نہ ٹوٹنے پائیں
کبھی کبھی دوستوں کو آزما کر کچھ نہیں ملتا
مگر جب آنکھوں میں بےنائی جل جائے تو سارے منظر دھندلا جاتے ہیں۔ کچھ بھی صاف دکھائی نہیں دیتا۔ ہر نصیحت، ہر دلیل بے وزن ہوجاتی ہے۔
اس نے عمران پر اندھا اعتماد کرتے ہوئے اپنے سارے خواب، سارے ارمان اسے سونپ دےے اس نے بہتے پانیوں پر گھر بنانے کی کوشش کی تھی اور نہیں جانتی تھی یہ گھر جب ٹوٹ کر تنکا تنکا بکھرتے ہیں تو ان کا مقدر ہمیشہ مہیب تاریکیوں میں ڈوبے اجنبی و اٰن دیکھے جزیرے ٹھہرتے ہیں۔ جہاں سوائے ویرانیوں کے کچھ بھی نہیں ہوتا۔
کورٹ سے باہر نکل کر وہ ایک پل کو ٹھٹکی۔
’’شاید آسمان کا رنگ بدل گیا یا شاید زمین ہی کوئی اور ہے۔‘‘
وہ بے حد خوش تھی یا بے حد اداس۔ اپنے احساسات خود بھی سمجھ میں نہیں آتے تھے۔ ہاں عمران بہت خوش تھا۔ گنگناتے ہوئے اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا۔
’’بیٹھےے مسز عمران!‘‘
وہ خاموشی سے بیٹھ گئی اور بہت سا راستہ یونہی خاموشی میں کٹ گیا۔ تب ہی عمران نے گردن گھما کر اسے دیکھا۔
’’تم خوش نہیں ہو آئینہ۔۔۔؟‘‘
’’ایسی تو کوئی بات نہیں۔‘‘ آئینہ نے چپکے سے اپنے آنسو پونچھے۔ عمران نے گاڑی سڑک کے کنارے روک دی۔ نظریں سامنے جماتے ہوئے بولا تو لہجہ کچھ مایوس و متاسفانہ تھا۔
’’میں نے کبھی نہیں چاہا تھا کہ یہ سب اس طرح ہو۔ یقین جانو آئینہ! میں نے تم سے صرف محبت ہی نہیں تمہاری عزت بھی کی ہے۔ تم میرے ساتھ سر اٹھاکر چلو۔ کہیں کوئی پشیمانی، کوئی دکھ تمہارے ساتھ نہ ہو۔ میں تو یہی چاہتا تھا مگر حالات۔۔۔‘‘ وہ ایک طویل سانس لے کر رہ گیا۔
’’لیکن آئینہ! یہ بھی تو سوچو۔ کیا ہم ایک دوسرے کو کھو کر جی پاتے؟‘‘
’’اسی لےے تو اتنا بڑا قدم اٹھایا ہے۔‘‘ وہ آہستگی سے گویا ہوئی۔
’’پھر تمہارا دکھ اکیلا تو نہیں ہے۔ تمہیں تو صرف ماں کی خفگی مول لینی ہے۔ اور میں۔۔۔ میں نے تمہارے لےے سب کچھ چھوڑ دیا لیکن دیکھو، کہیں کوئی پچھتاوا، کوئی پشیمانی نہیں کیونکہ تم میرے ساتھ ہو۔‘‘ اس کے لہجہ و انداز میں وارفتگی و شدت تھی، وہ پھر سے شرمندہ ہوگئی۔
’’کیا کچھ نہیں کیا اس شخص نے مجھ جیسی معمولی سی لڑکی کے لےے اور میں۔۔۔‘‘
’’آئی ایم سوری عمران!‘‘ اس کے بازو پر ہاتھ رکھ کر وہ شرمندگی سے گویا ہوئی۔ عمران نے ایک نظر اس کے ہاتھ پر ڈالی۔ پھر مسکرادیا۔ ان کے درمیان قائم ہونے والے اس شرعی و قانونی رشتے نے آئینہ کے انداز بدل دےے تھے۔ ورنہ ان معاملات میں خاصی محتاط واقع ہوئی تھی وہ۔
’’اٹس اوکے۔‘‘ عمران نے دھیرے سے اس کا ہاتھ تھپتھپایا۔ پھر سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔
’’امی کو کب بتائو گی۔۔۔؟‘‘
’’ہاں۔۔۔ موقع دیکھتے ہی بتادوں گی۔‘‘ امی کا ردُِ عمل سوچ کر وہ خائف سی ہوگئی۔
’’وہ برا بھلا کہیں گی۔ خاموشی سے سن لینا۔ ہم نے کچھ ٹھیک بھی تو نہیں کیا۔‘‘
’’عمران۔۔۔‘‘ آئینہ نے حیرت سے اسے دیکھا پھر بے اختیار گویا ہوئی۔’’تم واقعی بہت اچھے ہو۔‘‘
’’میری تعریفیں بند کرو۔ چلو، تمہیں تمہارا گھر دکھاتا ہوں۔‘‘ گاڑی کا رخ بدل گیا تھا۔
’’میرا گھر۔۔۔؟‘‘ آئینہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
’’میرا فلیٹ، جو اب تمہارا بھی ہے۔ تم وہاں قدم رکھو گی تو وہ خالی فلیٹ گھر بن جائے گا۔ تمہیں نہیں معلوم آئینہ، میں نے اس وقت کا کتنا انتظار کیا ہے۔‘‘
’’میرا گھر۔۔۔‘‘ آئینہ نے زیر لب دہرایا۔ اور ایک خوب صورت سے احساس میں گھر گئی۔
ـــــ
وہ گھر آئی تو محسن بھائی بیٹھے تھے۔ امی ان کے لےے چائے بنا رہی تھیں۔
’’کیسی ہو آئینہ۔۔۔؟‘‘
’’ٹھیک ہوں۔ بھابھی کیسی ہیں۔‘‘
’’طبیعت ٹھیک نہیں رہتی اس کی۔ اسی لےے مامی کو لینے آیا ہوں۔‘‘ وہ بہت الجھے الجھے اور پریشان سے نظر آئے۔
’’آئینہ! تم چلو گی ساتھ؟‘‘ امی چائے کی ٹرے اٹھائے اندر آئیں۔ وہ بے اختیار ہی نظریں چراگئی۔ اس سے قبل کہ کوئی بہانا سوچتی۔ امی بول اٹھیں۔
’’چلو ٹھیک ہے۔ گھر میں کسی تو رہنا ہے۔ یوں بھی آفس سے تھکی ہوئی آئی ہے۔‘‘ آخری جملہ انہوں نے محسن بھائی سے کہا۔ وہ نہ جانے کیوں گھبرا کر اٹھ گئی۔
’’امی! میں چینج کرلوں۔‘‘
کمرے میں آکر وہ بہت دیر یونہی بیٹھی رہی۔ کچھ دیر کے بعد امی چادر اوڑھتی اندر آئیں۔
’’تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے آئینہ۔‘‘ اسے یوں بیٹھا دیکھ کر ایک ہلکی سی تشویش ان کے لہجے میں چھلکی۔ آئینہ نے اس دن کے بعد عمران کے بارے میں کوئی بات نہیں کی تھی۔ وہ سمجھیں، شاید ان کی بات آئینہ کی سمجھ میں آگئی۔ وہ انگارہ چھونے کی تمنا کر رہی تھی اور وہ انگارہ اس کی ہتھیلی پر نہیں دھر سکتی تھیں۔ البتہ آئینہ کے لےے اچھے رشتے کی تلاش انہوں نے آئینہ سے بالا بالا ہی شروع کر دی تھی۔ ایک دو جگہ امید ہوئی تھی۔ شاید اسی لےے اس دن والی آئینہ کی گستاخی نظر انداز کر دی تھی۔
’’میں تو ٹھیک ہوں، کیا ہوا۔۔؟‘‘ آئینہ نے کلپ سے باہر نکلتی لٹوں کو ہاتھ سے سنوارتے ہوئے گڑبڑا کر پوچھا۔ وہ اب بھی ان سے نظریں چرا رہی تھی۔
’’کپڑے نہیں بدلے ابھی تک۔‘‘
’’بس میں اٹھ رہی تھی۔‘‘
’’کھانا کھالینا اور دروازہ ٹھیک سے بند کرلو۔ میں کوشش کروں گی کہ جلدی آجائوں۔‘‘
’’اور اگر آپ کو معلوم ہوجائے کہ میں کیا کر آئی ہوں تو۔۔۔‘‘
وہ ایک جھرجھری لے کر رہ گئی۔ آج جو کچھ ہوا، وہ ہونا نہیں چاہےے تھا مگر وہ نہ تو عمران کو روک سکی اور شاید خود کو بھی۔ کچھ دن وہ اسی الجھن میں رہی۔ مگر عمران کے والہانہ پن اور بے انتہا چاہتوں نے اسے بہلا لیا۔ وہ فلیٹ اس نے اس طرح سجایا تھا۔ جیسے وہ اس کا اپنا گھر ہو۔ آفس سے واپسی پر وہ کچھ گھنٹوں کے لےے وہاں ضرور رکتے۔ امی سے اس نے آفس ٹائمنگ بڑھ جانے کا بہانا کر دیا تھا۔
ان ہی دنوں امریکہ سے ایمن اور فراز آگئے۔ ایمن کی شادی کو آٹھ برس ہوگئے تھے اور ابھی تک وہ دونوں اولاد جیسی نعمت سے محروم تھے۔ امی کا دھیان ایمن کی پریشانی کی طرف منتقل ہوگیا۔ وہ بھی آفس سے جلدی گھر آنے لگی۔ ایمن ماں کی طرح سیدھی نہیں تھی جو اس کے بہانوں سے بہل جاتی۔ عمران منہ پھلائے رکھتا، جھنجلا جاتا، اس کی بے قراری پر آئینہ کو ہنسی آجاتی۔
اس دن عمران آفس کے باہر ہی مل گیا۔
’’کیا ہوا، اندر نہیں جانا یا آفس والوں نے نکال دیا ہے۔‘‘
وہ اسے بازو سے کھینچ کر بائیک تک لے گیا۔
’’فوراً بیٹھو۔۔۔‘‘
آئینہ اس ڈر سے کہ کوئی دیکھ نہ لے فوراً بیٹھ گئی۔
’’جب سے تمہاری سسٹرتشریف لائی ہیں۔ میں تو تمہیں دیکھنے کو ترس گیا۔‘‘ وہ بڑبڑایا تھا۔ وہ دن ایک یادگار دن تھا۔ وہ دونوں گھومے تھے۔ فلیٹ پر جا کر پزا اور کافی پی اور خوب انجوائے کیا۔ عمران نے اسے ایک سونے کی انگوٹھی گفٹ کی۔
’’یہ سب کس لےے۔۔۔؟‘‘ آئینہ کو حیرت ہورہی تھی۔
’’کل تنخواہ ملی تھی محترمہ! اب یہ پیسے اپنی بیگم پر نہیں لٹائیں گے تو کس پر لٹائیں گے؟‘‘
’’تم آج بہت خوش نظر آرہے ہو۔‘‘
’’اتنے دنوں کے بعد جو ملی ہو۔‘‘ وہ مخمور لہجے میں گویا ہوا۔
آفس سے واپسی کے وقت پر وہ گھرمیں موجود تھی۔ امی کی نظر انگوٹھی پر پڑی تو اس نے اطمینان سے کہہ دیا تھا کچھ پیسے ہر مہینے بچا کر خریدی ہے۔
’’آفس میں سب لڑکیاں چھوٹی موٹی جیولری پہنتی ہیں۔‘‘
امی مطمئن ہوگئیں۔ اس پل آئینہ کے ذہن میں خیال سا آیا کہ مائوں کو اتنا سیدھا نہیں ہوناچاہےے۔ پھر اس نے سر جھٹک دیا۔ امی کی سادہ لوحی اس کے تو حق میں ہی جاتی تھی۔
ـــــ
خلاف معمول عمران کچھ چپ سا تھا۔ جتنی مرتبہ وہ اس کے سامنے سے گزری۔ وہ سر جھکائے فائل پر لکیریں کھینچتا ہی نظر آیا۔ نہ اس کی طرف دیکھ کرمسکرایا۔ نہ ہی کوئی ذو معنی جملہ کہا۔ لنچ بریک تک آئینہ نے بمشکل ضبط کیا۔ جیسے ہی آفس خالی ہوا، وہ فوراً اس کے پاس آئی۔
’’کیا ہوا عمران۔۔؟‘‘
’’ہوں۔۔۔‘‘ وہ چونکا۔ پھر مضمحل سا مسکرایا۔ ’’کچھ نہیں یار! سر میں کچھ درد ہے۔‘‘ اس نے انگلیوں کی پوروں سے کنپٹی سہلائی۔
’’ٹیبلیٹ لے لو۔ میرے پاس ہے۔‘‘ آئینہ اٹھنے لگی۔ عمران نے روک دیا۔ ’’نہیں۔۔۔ ایک کپ چائے لوں گا تو ٹھیک ہوجائوں گا۔‘‘ پھر دانستہ مسکرایا۔ ’’تم پریشان مت ہو۔‘‘
لیکن وہ پریشان ہوگئی تھی۔ عمران دن بدن الجھتا جارہا تھا اور اسے بھی الجھاتا جارہا تھا۔
’’پرابلم کیا ہے عمران۔۔۔؟‘‘ اس نے بے حد سنجیدگی سے دریافت کیا۔ وہ پریشان تھا تو مطمئن آئینہ بھی نہ تھی۔ راتوں کی نیندیں اڑ گئی تھیں۔
’’کوئی پرابلم نہیں ہے۔ کتنی بار کہوں گا۔‘‘ وہ جھنجلا گیا۔ آئینہ سنجیدگی سے اسے دیکھتی رہی۔ پھر بیگ اٹھا کر کھڑی ہونے لگی۔ عمران نے اس کا بیگ پکڑلیا۔
’’بیٹھ جائو آئینہ۔۔۔‘‘
وہ خاموشی سے بیٹھ گئی۔ عمران کچھ لمحے گلاس ہاتھ میں گھماتا رہا پھر آہستگی سے گویا ہوا۔
’’امی بیمار ہیں۔۔۔‘‘
’’اوہ۔۔۔‘‘
’’مجھ بلا رہی ہیں۔۔۔‘‘
’’تو۔ تم جائو نا۔۔۔‘‘ وہ ایک دم بولی۔ عمران نے پلکیں اٹھا کر اسے دیکھا۔ اس کی نگاہوں کا مفہوم سمجھ کر آئینہ نے تاسف سے سر ہلایا۔
’’میں نے تمہیں روکا تو نہیں عمران۔۔۔‘‘ اسے دکھ ہو ا تھا۔
’’تم نے نہیں میں نے خود کو روکا ہے۔ میں نے وعدہ کیا تھا خود سے۔ اس گھر میں تب ہی قدم رکھوں گا۔ جب آئینہ میرے ساتھ ہوگی۔‘‘
’’میں چلوں تمہارے ساتھ۔۔۔؟‘‘ آئینہ نے پوچھا۔ اس نے نفی میں سر ہلادیا۔
’’امی بیمار ہیں۔ اس صورت میں تمہارا وہاں جانا ان کے لےے شاک ہوگا۔‘‘
وہ جانا نہیں چاہتا تھا مگر آئینہ نے اسے زبردستی بھیج دیا۔
’’تم بہت اچھی ہو آئینہ۔۔۔! میں موقع دیکھتے ہی ابو سے بات کروں گا۔‘‘ جاتے ہوئے اس نے وعدہ کیا تھا۔
’’میں بھی کوشش کروں گی۔ ایمن سے بات کر سکوں۔‘‘
لیکن وہ ایمن سے بات نہ کرسکی۔ ہمت ہی نہ ہوتی۔ بس عمران کی امی کے لےے دعائیں کرتی رہتی۔
پھر پورا ہفتہ گزر گیا۔۔۔ وہ پریشان ہوگئی۔
’’کہیں اس کی امی۔۔۔‘‘ دل میں عجیب طرح کے وسوسے اٹھے۔ تو وہ گھبراکر فلیٹ چلی گئی۔ وہاں تالا پرا تھا۔ ظاہر ہے عمران کی غیر موجودگی میں آئینہ کو اس فلیٹ کی ضرورت ہی کیا تھی۔
چودہ دن کے بعد اس کا کولیگ اویس ایک معنی خیز مسکراہٹ لبوں پر سجائے اس سے پوچھ رہا تھا۔
’’مس آئینہ! عمران نے استعفیٰ دے دیا ہے بغیر کوئی معقول وجہ بتائے۔ آپ بتا سکتی ہیں اس نے ایسا کیوں کیا۔ بہت دوستی تھی نا آپ لوگوں کے درمیان۔‘‘
آئینہ کو لگا، وہ چکرا کر گر جائے گی۔
ـــــ
مرے بدن سے گریز کرتی ہو اسے کہنا
وجود کے ہر مسام میںجو غلاظتیں ہیں
یہ ذلتیں ہیں کئی برسوں کی
ہوا سے کہنا
کہ نوحہ پڑھتی تمام صبحیں، سلگتی شامیں
مری کہانی سناتی رہی ہیں
حیات کا اب جواز کیا ہے۔۔۔!
کہ سر سے آکاش اڑ گیا ہے
قدم زمیں پر لرز رہے ہیں
چھ ماہ قبل وہ کورٹ سے باہر نکلی تھی تو اسے لگا تھا۔ آسمان پر دھنک کے ساتوں رنگ بکھرے ہیں۔ ہوا خوشبو اوڑھے محو رقص ہے۔ وہ ہاتھ بڑھا کر ان رنگوں کو چھوئے گی تو وہ اس کی ہتھیلی کی حنا بن جائیں گے۔ زمین واقعی اس کے قدموں کے نیچے تھی اور وہ عمران کا ہاتھ تھامے اپنی محبتوں کے رنگوں سے نیا افق سجانے چلی تھی اور آج۔۔۔‘‘ اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی پریگنینسی رپورٹ کو دیکھا اور ڈر گئی۔ آسمان کے سارے رنگ اندیشوں اور بدنامی کی گرد میں چھپ گئے تھے۔ زمین ریت کی طرح قدموں کے نیچے سے سرکتی جارہی تھی۔ وہ گویا کسی خلا میں معلق تھی۔ گاڑیوں کے ہارن، لوگوں کی آوازیں، نیون سائن، دکانوں میں جلتی روشنیاں اور قدموں کی چاپ، ہر چیز میں ایک جان لینے کی کیفیت تھی۔ لوگوں کے چہروں پر استہزائیہ مسکراہٹ امڈ آئی۔ اسے لگا وہ سب اسے سنگسار کرنے آرہے ہیں۔
’’میرا کوئی قصورنہیں۔۔۔ میں نے تو محبت کی تھی۔‘‘ وہ چیخنا چاہتی تھی۔ ایک دم کسی نے اسے بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑ ڈالا۔
’’کہاں گم ہو؟‘‘
’’میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔ میں نے تو۔۔۔‘‘ وہ ایک دم چپ ہو کر سامنے کھڑے شخص کو پہچاننے کی کوشش کرنے لگی۔
’’کتنی دیر سے ہارن دے رہا ہوں۔۔۔‘‘ وہ جھنجلائے ہوئے تھے۔
’’فراز بھائی۔۔۔‘‘ وہ انہیں ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی۔
’’یہاں کیا کر رہی ہو؟‘‘ انہوں نے پلٹ کر مشہور گائناکالوجسٹ ڈاکٹر زبیدہ جمال کے کلینک کو دیکھا۔ آئینہ گڑبڑا گئی۔ پتا نہیں فراز بھائی نے اسے کلینک سے نکلتے دیکھا تھا یا اسے سامنے کھڑے دیکھ کر پوچھا تھا۔ مگر وہ بری طرح ڈر گئی۔ رپورٹ اس نے موڑ کر تیزی سے پرس میں گھسیڑ دی۔
’’وہ میری کولیگ کی رپورٹس لینی تھیں۔ وہ نہیں آسکی تو میں۔۔۔‘‘
فراز نے اس کی زرد رنگت، کپکپاتے لب، ماتھے پر آیا پسینہ دیکھا۔
’’تم ٹھیک تو ہو ؟‘‘
’’ہاں، میں ٹھیک ہوں۔۔۔‘‘ وہ باوجود کوشش کے مسکرا نہ سکی تو دوپٹے سے پسینہ صاف کرنے لگی۔
’’نہیں۔ تمہارے طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگتی۔ چلو، تمہیں گھر چھوڑ دوں۔ میں تو اتفاقاً یہاں سے گزر رہا تھا تو تم پر نظر پڑ گئی۔‘‘
وہ خاموشی سے ان کے ساتھ ہولی ۔ سارا رستہ وہ پرس کو دونوں ہاتھوںمیں دبوچے بیٹھی رہی۔ فراز بھائی نے ایک دو باتیں کیں۔ کوئی توجہ نہ پاکر خاموش ہوگئے۔
’’کمال کرتے ہیں فراز آپ بھی۔ گھر سے نکلتے ہیں تو بس لوٹنا بھول جاتے ہیں۔‘‘ گھر میں گھستے ہی ایمن خفا ہونے لگی۔
’’اتنے برسوں کے بعد تو وطن آیا ہے۔ سو لوگوں سے ملنا ملانا، دوست احباب۔۔۔‘‘ امی نے محبت سے اپنے داماد کو دیکھا۔ وہ مسکرا کر ان کے نزدیک صوفے پر جا بیٹھے۔
’’مگر یہ بات ان محترمہ کو کون سمجھائے۔ ہمیشہ شک ہی کرتی رہتی ہیں۔‘‘
’’ہاں تو آپ مردوں کا کیا اعتبار۔‘‘ تب ہی ایمن کی نگاہ آئینہ پر پڑی۔ تو بے اختیار پوچھنے لگی۔
’’تمہیں کیا ہوا ہے۔۔۔؟‘‘
امی نے بھی چونک کر اسے دیکھا۔
’’کچھ بھی تو نہیں۔‘‘ اس نے خشک لبوں پر زبان پھیری۔
’’اچھا چینج کرو۔ پھر میں کھانا نکالتی ہوں۔‘‘
’’جی۔‘‘ وہ سراسیمہ سی اندر جانے کو پلٹی کہ ایک دم در و دیوار گھوم گئے۔ پرس اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ اس نے صوفے کا سہارا لینا چاہا اور اسی پر ڈھیر ہوگئی۔
’’آئینہ۔۔۔ آئینہ۔‘‘ امی اور ایمن ایک دم اس کی طرف لپکیں۔
’’نہیں، میں ٹھیک ہوں۔۔۔‘‘ اس نے خود کو سنبھالنے کی سعی کی۔
’’لاپروائی بھی تو اتنی کرتی ہو۔ کبھی جو تمہیں ڈھنگ سے کچھ کھاتے پیتے دیکھا ہو۔‘‘ ایمن اسے لتاڑنے لگی۔ اس نے سر جھٹک کر سامنے دیکھا اور ہفت آسمان گھوم گئے۔ فراز بھائی اس کا پرس کھول رہے تھے۔ وہ چیخ کر انہیں روکنا چاہتی تھی۔ مگر گنگ سی پھٹی پھٹی نگاہوں سے انہیں دیکھتی رہی۔ ایمن نے اس کی نظروں کے تعاقب میں فراز کو دیکھا۔ وہ رپورٹ کھول کر پڑھ رہے تھے۔ ان کے چہرے کے تاثرات لمحہ بہ لمحہ بدلنے لگے۔ پھر انہوں نے سر اٹھا کر آئینہ اور پھر ایمن کو دیکھا۔
’’کیا ہوا فراز۔۔۔؟‘‘ ایمن نے بے حد حیرت سے پوچھا تھا۔ انہوں نے خاموشی سے رپورٹ اس کی طرف بڑھادی۔ ایمن نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے کاغذ ہاتھ میں لیا۔ دوسرے پل اس کی رنگت زرد پڑ گئی۔ چیخ روکنے کی کوشش میں اس کا ہاتھ اپنے لبوں پرجم گیا۔
’’آ۔۔۔آئینہ۔۔۔‘‘ رپورٹ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گر گئی۔ آئینہ نے آخری بار امی کو جھک کر رپورٹ اٹھاتے دیکھا تھا۔ پھر ہوش و خرد سے بیگانہ ہوگئی تھی۔
ـــــ
ایک قیامت تھی جو اس گھر کے مکینوں پر اتری تھی۔ امی بستر سے جالگی تھیں۔ ان کے کوسنے، بدعائیں، کیا قیامت کی گھڑی تھی جس پل ماں کی دعا، بد دعا میں ڈھل گئی۔ ان کی مارپیٹ آئینہ کی چپ نہ توڑ سکی۔ ماں نے اس کا نام آئینہ رکھا تھا۔ وہ آئینے ہی کی طرح کرچی کرچی ہوئی تھی اور اب اپنا ہی چہرہ دیکھنے کی ہمت نہ تھی۔
ایمن ڈر ڈر کر فراز کا چہرہ دیکھتی۔پتا نہیں کب اس کے منہ سے کیا نکل جائے۔ سب کچھ اس کے سامنے ہی تو ہوا تھا اور وہ سگریٹ پھونکتے نہ جانے کیا سوچتے رہے۔
’’اس سے ملو جا کر۔ گھر بلائو۔۔۔ اپنے اس گناہ۔۔۔‘‘
’’کوئی گناہ نہیں کیا میں نے۔ شادی کی تھی۔‘‘ اس نے آہستگی سے بات کاٹی۔ ایمن ششدر سی اسے دیکھے گئی۔
’’آئینہ۔۔۔ تم۔۔۔؟‘‘
’’میں نے ملوایا تھا امی کو اس سے مگر۔۔۔‘‘
’’بس کرو۔‘‘ ایمن تڑخ کر بولی۔ ’’بتا چکی ہیں امی مجھے سب کچھ۔ ماںکو بھی اپنے جیسا بے وقوف سمجھ لیا ہے تم نے ۔ آئینہ! تمہیں ایک پل کو بھی اپنے مرے ہوئے باپ کی عزت کا خیال نہیں آیا۔ اپنی ماں کی بیوگی پر اتنا سا ترس بھی نہ آیا۔ انہوں نے اپنی ساری عمر ہم دونوں کے نام کر دی اور تم نے یہ صلہ دیا ان کی ریاضتوں اور محبتوں کا۔۔۔ آئینہ۔۔۔ آئینہ! میرا دل چاہتا ہے تمہارا گلا گھونٹ دوں یا گولی ماردوں۔ تم جیسی لڑکیوں کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔‘‘ وہ غصے سے کانپ رہی تھی۔ ’’اوہ میرے خدا۔۔۔‘‘ وہ دونوں ہاتھوں میں سر تھام کر کرسی پر گر گئی۔ ’’فراز کیا سوچ رہے ہوں گے۔ ہم اتنے گھٹیا لوگ ہیں۔ آنی۔۔۔! تم نے تو ہمیں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔۔۔ کیسے فیس کریں گے ہم لوگوں کو۔۔۔ کیسے چھپائیں یہ سب۔۔۔‘‘
وہ آنے والے وقت کو سوچ کر ہی کانپ کانپ گئی۔
’’ایمن! عمران کو آنے تو دو۔۔۔وہ۔‘‘
’’کہاں۔۔۔کہاں گیا ہے وہ۔۔۔؟‘‘
آئینہ نظریں چراگئی۔
’’اپنے گھر گیا ہے۔ کچھ دنوں تک آجائے گا۔‘‘اس کے اپنے الفاظ، اپنا لہجہ ہی بے یقین تھا۔ ’’اسے واپس آنا ہوتا تو یوں بنا بتائے غائب ہوتا۔۔۔‘‘ایک اندیشے نے اس کے ڈگمگاتے یقین کو ڈنک مارا۔ تو وہ لرز گئی۔
’’نہیں۔۔۔ وہ آئے گا۔ کوئی حادثہ، کوئی اہم واقعہ اس کا راستہ روکے ہوگا۔‘‘
اس نے یقین کی ڈور سے لرزتے، کانپتے دل کو باندھا لیکن ایمن کی سرسراتی خوف زدہ آواز نے اس گرہ کو کھول کر رکھ دیا۔
’’اگر وہ نہ آیا آئینہ۔۔۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ وہ تڑپ گئی۔ ’’ایسے مت کہو۔۔۔ میں مرجائوں گی ایمن۔‘‘
’’ہم سب ہی مرجائیں گے۔‘‘ ایمن کی سرگوشی پر ایک گہری چپ آگری۔ کچھ ڈرے سہمے لمحے ان دونوں کے بیچ کپکپاتے رہے۔ تب ہی فراز کی آواز نے اس گہری چپ کو توڑا۔
’’آئینہ۔۔۔!‘‘ وہ نظریں اٹھا کر انہیں دیکھ نہ سکی۔ بس نچلا لب کاٹتی رہی۔
’’مجھے اس کے متعلق ساری معلومات اور اس کا ایڈریس وغیرہ دو۔۔۔ دیکھتا ہوں، کیا ہوسکتا ہے۔‘‘
آئینہ نے اثبات میں سر ہلادیا۔ وہ خاموشی سے باہر نکل گئے۔
’’خدا کرے سب ٹھیک ہوجائے۔‘‘ ایمن زیر لب بڑبڑائی تھی۔
’’ایمن! میں عمران سے خود۔۔۔‘‘
’’تم نے جو کچھ کرنا تھا کر چکی ہو۔ معاملہ اب تمہارے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔ فراز جو کر رہے ہیں۔ انہیں کرنے دو۔ یہ کیا کم ہے کہ وہ تمہارا ساتھ دینے پر آمادہ ہیں۔‘‘
ایمن کے لہجے میں موجود سختی نے اسے خاموش کروادیا۔
ـــــ
باہر سے آتی آوازیں بے موسمی بارش کی طرح ٹپ ٹپ اس کے کانوں میں گر رہی تھیں۔ ایمن امی سے دوا کھانے پر اصرار کر رہی تھی۔
’’کیا کروں گی جی کر۔۔۔‘‘ امی کی آواز میں اپنے علاج سے مایوس ہوجانے والے مریض کی مایوسی تھی۔ پھر وہ فراز سے مخاطب ہوئیں۔ ’’کیا کہتا ہے وہ لڑکا۔۔۔؟‘‘
’’فراز بھائی عمران سے ملے ہیں۔‘‘ آئینہ کا پورا وجود سماعت بن گیا۔
’’وہ مجھے ملا ہی نہیں۔۔۔‘‘ فراز بھائی کی سرگوشی جیسی آواز کانٹے کی طرح اس کے دل میں چبھی۔
’’اب کیا ہوگا۔۔۔؟‘‘ ایمن کی پریشان سی آواز ابھری۔
’’میں اس کے فلیٹ پر گیا تھا۔ فلیٹ کرائے کا تھا اور اس میں موجود سامان بھی۔‘‘ آئینہ کا دل ڈوب گیا۔
’’پھر میں اس کے گھر گیا۔‘‘ وہ ایک پل کو خاموش ہوگئے۔ جیسے اگلا جملہ کہنے کے لےے خود کو تیار کر رہے ہوں۔ ’’وہ شادی کر چکا ہے اور وہ لڑکی اسے اپنے ساتھ جرمنی لے گئی ہے۔‘‘ ان کی آواز بے حد مدھم تھی۔ مگر گویا آسمان اس کے سر پر آگرا۔ لڑکھڑاتے ہوئے اس نے دروازے کا سہارا لیا۔
’’عمران ایسا نہیں کر سکتا۔‘‘ اس کا دل بے یقینی سے کرلا کر رہ گیا۔ بے یقینی سی بے یقینی تھی۔ فراز بھائی باقی تفصیلات بتا رہے تھے۔ آنسو ایک تواتر سے اس کے گال بھگونے لگے۔
’’تم جانتی ہو، یہ آنسو میرے دل پر گرتے ہیں۔ میں تمہیں روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔ میں اپنا فلیٹ تمہارے نام کردوں گا۔۔۔ اپنا پورا وجود تو پہلے ہی تمہارے نام کر چکا ہوں۔‘‘
’’عمران تمہارے بغیر جی نہیں سکے گا۔‘‘
’’تم تو میری روح کا گمشدہ حصہ ہو۔ میری تکمیل ہو۔ کیسے بھول پائوں گا میں تمہیں۔‘‘
’’یا اللہ۔۔۔‘‘ اس نے دونوں ہاتھ کانوں پر رکھ لےے۔ ’’اس کے جذبوں میں اگر کھوٹ تھا تو مجھے محسوس کیوں نہیں ہوا۔ اتنا بڑا دھوکا۔۔۔ اتنی ذلُت۔‘‘
’’اس کے گھر والے اس شادی سے بے خبر ہیں اور سب سے بڑا جھوٹ جو اس نے آئینہ سے بولا کہ وہ گھر چھوڑ چکا ہے۔‘‘ فراز بھائی بتا رہے تھے۔
’’تمہیں تو صرف ماں کی خفگی مول لینی ہے اورمیں۔۔۔ میں نے تمہارے لےے سب کچھ چھوڑ دیا۔‘‘
’’نہ جانے کیا جادو کر دیا تھا، اس نے کہ آئینہ نے میری ایک بات نہیں سنی۔‘‘ امی بلک رہی تھیں۔ عمران کو کوسنے دے رہی تھیں۔ آئینہ کے اندر ایک وحشت جاگی۔
’’اس سے تو اچھا تھا، آئینہ تو مرجاتی۔‘‘
’’ہاں۔۔۔ مجھے مر ہی جانا چاہےے۔ مجھ جیسی لڑکی کو زندہ رہنے کا واقعی کوئی حق نہیں۔‘‘ ایک وحشت کے عالم میں وہ کمرے سے نکل کر کچن میں آگئی۔ اس کی متلاشی نگاہیں ادھر نہ جانے کیا ڈھونڈ رہی تھیں۔ تب ہی نگاہوں کی گرفت میں چھری آگئی۔
’’آئینہ! تم نے سنا۔۔۔‘‘ ایمن اس کے پیچھے آئی تھی۔
’’ہاں سنا!‘‘ اس کا لہجہ سپاٹ ہوگیا۔ ’’قصور وار وہ نہیں ہے۔ میں کوئی بچی نہیں تھی جسے کھلونے دکھا کر بہلالیا جاتا۔ اس نے مجھے اغوا نہیں کیا تھا۔ گن پوائنٹ پر نکاح نہیں پڑھوایا تھا۔ جو کچھ ہوا، میری مرضی سے ہوا۔ میں اندھی ہوگئی تھی۔ اپنے نفس کی غلام ہو کر اپنی نسوانیت کا سارا غرور اس کے قدموںمیں رکھ دیا۔ میں نے سوچا، وہ مجھ سے اپنی جنم دینے والی ماں سے زیادہ محبت کر سکتا ہے۔ میں نے ان کی کوئی بات نہیں سنی۔ بیٹی کی عزت تو خاندان کی عزت و ناموس ہوتی ہے اور میں نے اسے چند کھوکھلے اور جھوٹے لفظوں کے عوض نیلام کر دیا۔ میں نے یہ کیسے سوچ لیا کہ جو شخص میری محبت کو پارکوں، ہوٹلوں اور کرائے کے فلیٹ میں رسوا کر رہا ہے۔ وہ مجھے اپنے گھر کی زینت بنائے گا۔ میں نے کیوں دھوکا کھایا۔ گناہ میں نے کیا ہے، قصور میرا ہے۔ سزا بھی مجھے ملے گی۔۔۔ امی ٹھیک کہتی ہیں۔۔۔ مجھ جیسی بیٹیوں کو مر جانا چاہےے۔‘‘ اس نے جھپٹ کر چھری اپنے قبضے میں کی۔
’’آئینہ۔۔۔!‘‘ ایمن کے منہ سے چیخ نکل گئی۔ اس سے قبل کہ وہ لپک کر چھری پکڑتی، آئینہ اپنی کلائی کی رگ کاٹ چکی تھی
ـــــ
بارش قطرہ قطرہ برس رہی تھی۔ ایسی ہی بارش اس کے اندر بھی ہوتی تھی اور مسلسل ہوتی تھی۔ شادی۔۔۔ کتنا مقدس بندھن۔ بزرگوں کی دعائوں میں انجام پائے تو کتنا خوب صورت، انوکھا اور دل نشین رشتہ قائم کر دیتا ہے مرد و عورت کے درمیان، جہاں ماں کی دعائیں لڑکی کے ہاتھوں میں سجی مہندی میں رنگ لاتی ہیں تو باپ کی دعائیں مانگ میں افشاں کی طرح سج جاتی ہیں۔
’’اور یہاں کیا تھا دھوکا۔۔۔ عمران نے اگر مجھ سے دھوکا کیا تو اس سے پہلے میں نے اپنے گھر والوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی تھی۔ میں بھول ہی گئی کہ میں کس معاشرے میں جی رہی ہوں۔ جہاں بیٹی کو سینکڑوں لوگوں کی موجودگی اور گواہی میں قرآن کے سائے میں رخصت کیا جاتا ہے۔ کاش میں نے بھی۔۔۔۔‘‘ وہ ایک زخمی سا سانس کھینچ کر رہ گئی۔
اب میں زندہ ہوں مگر یہ زندگی۔۔ بس ایک سزا ہے، لیکن مجھ جیسی لڑکیوں کا یہی انجام ہونا چاہےے۔‘‘ اس کی خالی نظریں اپنی خالی گود سے ٹکرا کر واپس آگئیں۔
نو ماہ۔۔۔ اور ان نو مہینوں میں کیا کچھ نہیں ہوگیا۔
جب ایمن نے اس سے کہا۔
’’فراز چاہتے ہیں، یہ بچہ ہم لے لیں۔‘‘ وہ ششدر سی اسے دیکھے گئی۔
’’تم جانتی ہو، ہم پاکستان کیوں آئے تھے؟‘‘ وہ اس کے قریب بیٹھ گئی۔ ’’حالات بگڑ گئے تھے۔ فراز مجبور ہوجاتے دوسری شادی کے لےے۔ حالانکہ یہ ممکن نہیں تھا۔ کیونکہ نتیجہ تب بھی یہی نکلتا۔۔۔‘‘
آئینہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
’’کیونکہ نقص مجھ میں نہیں فراز میں ہے۔‘‘ اس نے دبے دبے لہجے میں انکشاف کیا۔
’’ایمن! کیا کہہ رہی ہو۔۔۔‘‘ وہ ششدر سی اسے دیکھے گئی۔
’’میں نے یہ کسی کو نہیں بتایا۔ تمہیں بھی نہ بتاتی۔۔۔ آئینہ!۔۔۔ یہ بچہ ہمیں دے دو۔ وہ ایک دم اس کی طرف پلٹی۔’’پھر اس معصوم کا کیا قصور ہے۔ اسے اس دنیا میں آنے سے پہلے کیوں ختم کر دیا جائے۔ اپنی اور عمران کی غلطیوں کی سزا اس معصوم روح کو دو گی۔‘‘
’’لیکن یہ سب۔۔۔‘‘ آئینہ ڈر سی گئی۔
’’سب ٹھیک ہوجائے گا اور کسی کو خبر بھی نہیں ہوگی۔‘‘ ایمن نے اسے تسلی دی اور واقعی سب ٹھیک ہوگیا۔ وہ دونوں اسے لے کر مری آگئے تھے۔ جہاں اس نے اپنے بیٹے کو جنم دیا۔ اسی دوران عمران کی طرف سے طلاق کے کاغذات بذریعہ ڈاک مل گئے۔
دروازہ آہستگی سے کھلا اور اس کی چرچراہٹ سے سارے خیالات ذہن کے کونوں کھدروں میں جا چھپے۔ ایمن کی گود میں معاذ تھا۔ وہ خاموشی سے بیڈ پر آکر بیٹھ گئی اور آئینہ اس کے سامنے قالین پر۔ معاذ کے کمبل سے باہر نکلے ننھے منُے گلابی پائوں اس کے سامنے تھے۔ اس کے اندر ان کو اپنے لبوں سے چھونے کی خواہش نے جنم لیا۔ اپنے ضبط سے ہاتھ چھڑا کر وہ آگے بڑھنے کو تھی کہ ایمن کی آواز دیوار کی طرح حائل ہوگئی۔
’’آئینہ! امی نے تمہارے لےے ایک فیصلہ کیا ہے، اگر چہ تم ان سے سارے فیصلوں کا حق چھین چکی ہو مگر پھر بھی۔ ہم سب کا خیال ہے ان حالات میں اس سے بہتر فیصلہ ہو ہی نہیں سکتا۔‘‘ وہ ایک پل کو خاموش ہوئی۔ آئینہ نے ہاتھ بڑھا کر گلابی پائوں کی نرم انگلیوں کو چھوا۔
اس کے پائوں ٹھنڈے ہورہے ہیں۔۔۔
ایمن نے کمبل کھینچ کر اس کے پیروںپر کر دیا۔ آئینہ کی نظریں بے تابی سے اس کے چہرے کے نقوش چومنے لگیں۔ پھر ٹھٹک گئیں۔ ویسی ہی کھڑی ناک، وہی لبوں کا خم اور ویسا ہی ٹھوڑی کا سیاہ تل۔۔۔ وہ بنابنایا عمران تھا۔ کچھ بھی تھا۔ ان نو ماہ میں آئینہ نے اس بے وفا اور دھوکے باز شخص کو سوچا بہت تھا۔ بھلے نفرت سے ہی سہی مگر وہ اس سے نفرت نہیں کر سکتی تھی جو اس کے وجود کا حصہ تھا۔
ایمن کہہ رہی تھی۔
’’ڈاکٹر نے کیا کہا ہے، تم جانتی ہو۔تم دوبارہ ماں نہیں بن سکتیں۔ ان حالات میں ہم جس سے بھی تمہاری شادی کریں گے۔ وہ اولاد کی خاطر دوسری شادی ضرور کرے گا۔ ویسے بھی اگر اسے پتا چل گیا تو۔۔؟ کیونکہ ہر شخص فراز نہیں ہوتا۔ فراز نے تو جو احسان ہمارے خاندان پر کیا ہے، اس کا بدلہ ہم ساری عمر بھی نہیں دے سکتے۔ وہ۔۔۔‘‘
’’اسے مجھے دے دو۔۔۔‘‘ آئینہ کی بانہیں بے اختیار پھیلیں۔
’’شام کو تمہارا نکاح ہم محسن کے ساتھ کر رہے ہیں۔‘‘
آئینہ کے بازو پہلو میں گر گئے۔ وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے ایمن کو دیکھنے لگی۔ وہ دروازے کے قریب جا کر رک گئی۔ پھر پلٹ کر بولی۔
’’تم یہ نہیں کہہ سکتیں کہ ہم نے تمہارے ساتھ کوئی ظلم کیا ہے۔ یہ ظلم تم نے خود کمایا ہے۔ اپنے ساتھ دشمنی تم نے خود کی ہے۔ معاذ کی تم فکر نہ کرنا۔ یہ تمہارا نہیں اب ہمارا بیٹا ہے۔‘‘
محبت کی راہ میں پہلا قدم اٹھاتے ہوئے یہ گمان بھی نہ تھا کہ دوسرا قدم پاتال میں جا گرائے گا۔ وہ واقعی کسی کو الزام نہیں دے سکتی تھی کہ اپنی زندگی اپنے ہاتھوں برباد کی تھی اس نے۔
آغا محسن کے ساتھ اس کا نکاح بے حد سادگی کے ساتھ ہوا تھا اور انہوں نے اس سے پہلی بات یہی کی تھی۔
’’مجھے نہیں معلوم کہ تم سے ایسی کیا غلطی سرزد ہوئی ہے جس کی پاداش میں تمہیں چار بچوں کی ماں بننے پر مجبور کر دیا گیا۔ میں پوچھوں گا بھی نہیں کہ مجھے تمہارے ماضی سے کوئی واسطہ نہیں۔ میں صرف اس گھر کا سکون اور اپنے بچوں کے چہروںپر مسکراہٹ چاہتا ہوں۔ جو ثمینہ کے جانے سے ختم ہوگئی۔‘‘
آئینہ نے اپنی بچی کھچی مسکراہٹ، سکون، محبت اور دکھ دعائوں میں لپیٹ کر معاذ کے کمبل میں رکھ دےے اور جس دن وہ جارہے تھے۔ آسمان نے اس کے سارے آنسو ادھار لے کر دھرتی پر برسادےے۔ وہ خشک آنکھوں سے امی کو سامان باندھتے دیکھتی رہی۔ وہ ایمن اور فراز کے ساتھ جارہی تھیں۔ وہ کہنا چاہتی تھی۔
’’ماں! کوئی بہت ہی بچی کھچی دعا بھیک میں ہی دے جائو۔‘‘
مگر اس کے لب خاموش ہی رہے۔ وہ خود کو اب اس کا حق دار نہیں سمجھتی تھی۔ اس کی سماعتیں معاذ کی آواز سن رہی تھیں۔ نہ جانے کیوں وہ اس رات بہت رویا تھا۔ باہر آسمان برستا تھا۔ اندر وہ روتا تھا اور وہ ایمن کے کمرے کے سامنے کھڑی ساری رات بھیگتی رہی تھی، مگر اندر جانے کی ہمت نہ کر سکی۔ صبح اس نے ماں کا ہاتھ تھام لیا۔ اس کی آنکھیں التجا کرتی تھیں۔
’’ماں! ہوسکے تو مجھے معاف کر دینا۔‘‘
انہوں نے نہ جانے کتنے عرصے کے بعد نظر اٹھا کر بیٹی کو دیکھا اور بے اختیار اسے گلے لگالیا۔
’’آئینہ! کاش تو نے یہ سب نہ کیا ہوتا۔‘‘
پھر وہ سب چلے گئے تھے۔ لق و دق صحرا میں وہ تنہا تھی۔ پل صراط کا سفر تھا۔ لہو لہو ہوئے دل کو سنبھالے وہ اس رشتے کو نبھانے کی سعی کرتی رہی۔ جس کی ابتدا ہی شک سے ہوئی تھی۔ آغا محسن نے اس سے کچھ نہیں پوچھا تھا۔ مگر وہ اس سے لمحے لمحے کا حساب لیتے تھے۔ اس کی ذرا سی غلطی، ذرا سی لرزش معاف کرنے کے روادار نہ ہوتے اور آئینہ نے یہ سب اپنی سزا سمجھ کر قبول کرلیا تھا۔ سزا در سزا کا یہ سلسلہ پچیس برس پر محیط ہوگیا۔ امریکہ سے فون آتا، اس کا وجود سماعت سن جاتا۔ ایمن اِدھر اَدھر کی باتیں کرتی۔ وہ منتظر ہی رہتی۔ پھر بے اختیار پوچھ لیتی۔
’’معاذ! کیسا ہے ایمن؟‘‘
ایمن ایک پل کو خاموش ہوجاتی۔ ’’ٹھیک ہے۔‘‘ کہہ کر فون بند کر دیتی۔کچھ وقت گزرا۔ ایمن گویا بھول ہی گئی۔ آئینہ کا معاذ سے کیا رشتہ ہے۔ وہ معاذ کی ہر کامیابی کا تذکرہ یوں کرتی جیسے اپنے بچے کا کر رہی ہو۔ آئینہ نم آنکھوں سے مسکرادیتی۔ پھر سوچتی۔
’’شاید یہ ٹھیک ہی ہوا۔ میری غلطی کی سزا میرے بچے کو کیوں ملتی۔‘‘
اس نے معاذ کی محبت کو دل میں چھپا کر اپنی پوری توجہ ان بچوں پر مرکوز کر دی۔ اس نے اپنی عمر کے چوبیس برس ان کے اسکول کے بستوں، کاپیوں، کتابوں اور کالج کی فائلوں میں تقسیم کر دےے۔ تب ایک دن جب تابندہ کے لےے ایک اچھا رشتہ آیا تھا۔ وہ کچن میں اس کا ہاتھ بٹاتے ہوئے آہستگی سے پوچھنے لگی۔
’’آنی! محبت کیا ہوتی ہے۔۔۔؟‘‘
اس کا دل پتے کی طرح لرزا۔اس نے پلٹ کر تابندہ کو دیکھا۔ وہاں تابندہ نہیں آئینہ کھڑی تھی۔ ایک اور آئینہ کسی عمران کا شکار بننے چلی تھی۔ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کرپیتا ہے اور وہ روشنی سے ڈری ہوئی تھی۔ ان بچیوں کو زمانے کے سرد گرم سے بچانے کے لےے انتہا پسند ہوگئی تھی۔ اس نے تابندہ کی شادی کر دی۔ حالانکہ کتنا انکار کیا تھا اس نے۔
’’مجھے پڑھنا ہے ابھی۔۔۔‘‘
مگر وہ اس کے انکار کو کسی اور تناظر میں دیکھتی تھی۔ اس نے دعائوں کے سائے میں رخصت کرتے ہوئے یہ کب سوچا تھا کہ وہ لوٹ کر پھر یہیں آجائے گی اور تابندہ اس سے ناراض تھی۔ اپنی بربادی کا ذمہ دار آنی کو سمجھتی۔
پھر معاذ آگیا۔ وہ جو بے یقین اورمایوس سی ہورہی تھی پھر سے جی اٹھی۔ وہ معاذ کو دیکھتی تو ہر بات بھول جاتی۔ وہ ہو بہو عمران جیسا تھا۔ مگر وہ اس سے نفرت نہیں کر تی تھی کر ہی نہیں سکتی تھی۔ وہ اسے چھونا چاہتی۔ اپنی بانہوں میں بھر کر سینے سے لگانا چاہتی پھر ڈر جاتی۔۔۔
’’جب اسے معلوم ہوگا کہ اس کی ماں۔۔۔‘‘
وہ کترا جاتی۔ سامنے سے ہٹ جاتی۔ پھر ایک دن اس نے معاذ اور رانیہ کو آگے پیچھے ان درختوں سے نکلتے دیکھا۔ معاذ گم صم تھا، کچھ سوچتا ہوا جبکہ رانیہ کے چہرے پر رنگ تھے۔ لبوں پر خوب صورت مسکان، پھر ہتھیلی پر دھرا ایک ننھا سا پھول۔
وہ چکرا گئی۔ آخر وہ تھا تو اسی بے وفا اور دھوکے باز عمران کا بیٹا۔
مگر وہ سنجیدہ تھا۔ رانیہ سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ اسی رات ایمن کا فون آگیا۔ وہ غصے سے پاگل ہورہی تھی۔
’’میں جانتی تھی، تم اسے مجھ سے چھین لو گی۔ اسی ڈر سے اسے پاکستان نہیں بھیجتی تھی۔ تم اسے خود حاصل نہ کر سکیں تو رانیہ کو آگے کر دیا۔ مگر وہ میرا بیٹا ہے۔۔۔ اور ہمیشہ میرا ہی ہے گا۔‘‘
’’اور۔۔۔ میں۔۔۔‘‘ وہ ریزہ ریزہ ہو کر اپنے ہی قدموں میں بکھر گئی تھی۔ وہ اس کا اپنا تھا مگر وہ اسے اپنا کہہ نہیں سکتی تھی۔ ’’اور وہ جو میرے کچھ نہیں تھے۔ جنہیں میں نے اولاد کی طرح پروان چڑھانے کی کوشش کی۔ وہ بھی پوچھتے ہیں، میں ان کی ہوتی کون ہوں۔۔۔ بس سوتیلی ماں۔ کیا ایک غلطی کی سزا بھگتنے کے لےے پچیس برس کم ہوتے ہیں۔۔۔ لیکن میں تو غلطی پر غلطی ہی کرتی رہی۔ ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹیں کھلانے کی کوشش میں آنسو دیتی رہی۔۔۔ تو ہوا یہ آئینہ کہ تو فیل ہوگئی۔‘‘ وہ سر پر ہاتھ رکھ کر روئی۔ باہر بہاروں کے قافلے اتر رہے تھے اسے اپنا آپ خزاں کی دھول لگا جسے خزاں گزیدہ ہوا اپنے ساتھ اڑا لے گئی تھی اور اب پھر سے اپنی تلاش کا عمل شروع تھا۔
’’آنی۔۔۔!‘‘
’’اور یہ جو مجھے ماں نہیں آنی کہتا ہے، میرا ہے مگر میں کبھی اسے اپنا نہیں کہہ سکوں گی۔‘‘ اس کے اندر تپتی ریت اڑنے لگی جس پر ننگے پائوں وہ پانی پانی پکارتی تھی۔ اس کی آنکھوں سے آنسوئوں کی جگہ ریت بہنے لگی۔ ’’اور یہی ہم خزاں رسیدوں کا مقدر ہے۔‘‘
رتیلے آنسوئوں کو ہتھیلیوں میں سنبھال کر اس نے سوچا۔
’’آنی! یہاں محبت کی اتنی کڑی سزا کیوں ملتی ہے؟‘‘ وہ اس کے عقب میں کھڑا پوچھ رہا تھا۔
’’محبت کی نہیں مان توڑنے اور اعتبار ریزہ ریزہ کرنے کی سزا ملتی ہے۔ جو محبت کرتے ہیں ان میں لڑنے کا حوصلہ بھی ہونا چاہےے۔ چور رستوں سے حاصل ہونے والی محبت یونہی خوار کرتی ہے۔‘‘
’’میں نے تو کوئی چور رستہ تلاش نہیں کیا۔ پھر میرے ساتھ یہ کیوں ہورہا ہے۔ میں نے محبت کی ہے اور مجھ میں لڑنے کا حوصلہ بھی ہے، لیکن آپ مجھے کمزور کر رہی ہیں۔ آپ کو کیوں لگتا ہے کہ میں لوٹ کر نہیں آئوں گا۔‘‘
’’کیونکہ تم۔۔۔‘‘ الفاظ ان کے حلق میں اٹک گئے۔
’’کیونکہ میں۔۔۔ جملہ پورا کریں آنی۔۔۔‘‘ وہ ان کے سامنے آیا۔ وہ سر جھکائے روتی رہی۔ معاذ نے دونوں ہاتھ ان کے کندھوں پر رکھے اور ان کے سر پر بوسہ دیا۔ پھر افسردہ سے لہجے میں بولا۔
’’مجھے تو لوٹ کر یہیں آنا تھا۔ کیونکہ یہاں رانیہ ہی نہیں میری ماں بھی رہتی ہے۔‘‘
’’معاذ۔۔۔‘‘ ساری کائنات ایک لمحے کو ساکت رہ گئی۔
’’مجھے ڈیڈی نے سب بتا دیاتھا۔ حقیقت بھی کبھی چھپ سکی ہے۔۔۔ میں صرف ان کا نہیں آ پ کا بھی تو بیٹا تھا امی! پھر مجھ پر اعتبار کیوں نہیں کیا۔۔۔؟‘‘ وہ ان کے دونوں ہاتھ تھامے رو دیا تھا۔
ٹپ۔۔۔ٹپ۔۔۔ صحرا کے تپتے بدن پر بوندیں گر رہی تھیں۔ آبلہ پائی کا سفر تمام ہونے کو تھا۔ ان کے بازو پھیلے اور اسے اپنے اندر سمیٹ لیا۔و ہ دونوں رو رہے تھے اور ان کے آنسو صدیوں کی پیاس بجھانے لگے۔
ـــــ
دن بہت روشن اور چمکدار تھا۔ بہار کی خوشبوئوں سے لبریز، معطر معطر سا۔
تابی کی فائل میں کوئی ایک نظم لکھ گیا تھا اور عنوان کی جگہ ایک تازہ ادھ کھلا گلاب کا پھول رکھا تھا۔ تابی کی نظر سب سے پہلے پھول پر ہی پڑی تھی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر پھول اٹھالیا اور نظریں ان معطر معطر سے لفظوں پر پھسلنے لگیں۔
جاناں!
میں نے اب کے سال بھی سبز رتوں کا پہلا پھول
ایک تیری خاطر شاخ شجر سے توڑ کے اپنی زرد کتاب میں لارکھا ہے
کوئی نہ جانے
کبھی کوئی آوارہ بادل، بھولا بھٹکا بادل
عمر کے ترسے پیاسے دشت کی
پل میں پیاس بجھاتا ہے
کوئی نہ جانے
بعض اوقات ایک بھولی بسری دعا بھی
ایسے پوری ہوجاتی ہے جیسے غیر آباد جزیرے
رستہ بھول کے آنے والے لوگوں سے بس جاتے ہیں
یوں میں نے اب کے سال بھی جاناں
سبز رتوں کا پہلا پھول ایک تیری خاطر
شاخِ شجر سے توڑ کر اپنی زرد کتاب میں لارکھا ہے
اسٹک کی ٹک۔۔۔ٹک کمرے کے دروازے پر آرکی۔ تابی نے گلاب کی نازک پتیوں کو اپنی انگلیوں سے چھوا۔ پھر آہستگی سے بولی۔
’’اندر آجائو۔ یہ دروازہ تمہارے لےے کبھی بند نہیں ہوا۔‘‘
ٹک۔۔۔ٹک اس کے عقب میں آکر ٹھہر گئی۔
’’میں ڈرتا تھا۔ ایک ادھورے انسان کے ساتھ زندگی گزارنا بے حد تکلیف دہ احساس ہوگا۔‘‘
وہ ان کی طرف پلٹی۔
’’ادھوری رفاقتوں اور ادھوری محبتوں سے زیادہ نہیں۔۔۔ اور تمہیں تو میں نے کبھی ادھورا سمجھا ہی نہیں تھا آفاق۔۔۔! مجھے تو تمہاری زندگی میں بس اتنی ہی جگہ چاہےے جتنی اس بیساکھی کی ہے۔‘‘
’’اور میں اس کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل سکتا۔۔۔‘‘
آنی واپس پلٹ گئیں۔
ـــــ
صبح اٹھتے ہی اسے احساس ہوگیا تھا، وہ چلا گیا ہے۔۔۔ جتنی اچانک آیا تھا اتنی ہی اچانک۔۔۔ لیکن اس کے واپس آنے کا یقین ان کے لبوں پر مسکراہٹ بن کر پھیلا۔ آفاق اور تابی ہنسے تھے۔ سکوت کا بوڑھا اونگھتا پنچھی ہڑبڑا کر جاگا۔ اپنے پر جھاڑے اور اڑ گیا۔ ایک دم ساری آوازیں واضح ہوگئی تھیں۔
آفاق اور تابی ہنس رہے تھے۔
پھر تابی ان کے سامنے آئی۔
’’آئی ایم سوری آنی! مجھے وہ سب نہیں کہنا چاہےے تھا۔‘‘
آنی نے مسکرا کر اس کا گال تھپتھپایا اور سیڑھیاں اتر گئیں۔ لائونج میں عمر اور حمزہ نے ہڑبونگ مچا رکھی تھی۔ عالیہ آنٹی انہیں ناشتے کے لےے پکار رہی تھیں۔ وہ باہر نکل گئیں۔
لمبے ڈنڈیوں والے ادھ کھلے گلاب ان کا راستہ روک رہے تھے۔
ستونوں سے لپٹی بیلیں، سرخ، سفید اور کاسنی کلیوں سے لد گئی تھیں۔
مروا کے خم دار پتیوں والے پھول
ہار سنگھار کی زرد ڈنڈیاں
موتےے کی کلیاں
فضا میں لیموں کے پیڑوں کی مہکار اور پھولوں کی خوشبو رقص کرتی تھی۔ بابا رانیہ سے لڑ رہا تھا۔ وہ اب پھول توڑنے کی ضد کیوں نہیں کرتی اور وہ ہنستے ہوئے کہہ رہی تھی۔
’’تمہیں نہیں پتا بابا! میرے ہاتھ میں کوئی سبز رتوں کا پہلا پھول دے گیا ہے۔‘‘
بہار کی اوُلین ساعتوں جیسی خوب صورت مسکان نے آئینہ کے لبوں کا احاطہ کر لیا۔ انہیں لگا بہار نے اچانک ان کا راستہ روک لیا ہے۔
*****









