رخسانہ نگار عدنان
(1) لکھنے کا آغاز کرنے سے بہت پہلے سوچنے کا مرض تھا ،اتنا شدید کہ بچپن سے لڑکپن اور پھر جوانی میں بہت سی کہانیاں سوچیں اور بھلا دیں۔ گھر میں سب بہن بھائیوں سے چھوٹی تھی ،ابو امی کی لاڈلی تھی تو گھر کی کوئی ذمہ داری بھی نہیں تھی۔ سوائے پڑھائی کے اور پڑھائی میں اللہ کا شکر ہے بہت اچھی رہی مگر مطالعے کا خبط تھا بڑی بہنوں کے خریدے ہوئے ڈائجسٹ سے لے کر ادبی کتابوں تک کچھ بھی مل جائے ،سب کچھ پڑھ لینا لائٹ چلی جانا تو چاند کی روشنی میں کام چلانا۔ ایک ہی شوق تھا کتابیں خریدنے کا پھر زندگی نے حالات نے پلٹا کھایا ،گھر کے چھوٹے بچے تھے اس میں بوڑھے والدین ملتے ہیں باقی بہن بھائی بڑے تھے ان کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی کم تھی تو کتابوں سے دوستی رکھی امی ابو بیمار ہو گئے اور میں ان کے ساتھ جڑ گئی وہ چند سال تھے لیکن لگتا تھاجیسے صدیوں کا سفر کر ڈالا تھا۔ بی ایس سی کے بعد اچانک سے لائن بدلی اور ایم اے انگلش میں ایڈمیشن لے لیا، وہ بڑے مشکل دن تھے۔ امی ابو کی بیماری اور میری پڑھائی اور ساتھ میں مطالعہ بھی جاری تھا۔
میری پہلی کہانی امی کے انتقا ل کے بعد چھپی تھی۔ میری ایک دوست جو میری شاعری پڑھ کر سراہا کرتی تھی۔ وہ کہتی تھی تم لکھو تم لکھ سکتی ہو بس پھر ایک رات لکھنا شروع کیا اور فجر سے پہلے تک ایک کہانی لکھ کر شعاع میں بھیج دی اور اگلے ماہ ہی لگ گئی تو پھر یہ سلسلہ رکا نہیں۔
اب شادی کے بعد گھر بچے اور لکھنے کی مصروفیت سب ساتھ ساتھ چلتے رہے اور اب بھی تقریباً یہی مصروفیت ہے۔
لکھنا پڑھنا ابھی بھی سب سے بڑی لذت ہے میرے نزدیک یا پھر ،قرآن مجید بمعہ ترجمہ تفسیرکے ساتھ پڑھنا آج کل کی میری سب سے بڑی مصروفیت ہے ،جس کا سلف ناقابل بیان ہے۔
خواب کبھی بڑے بڑے نہیں دیکھے ۔کسی کومیری وجہ سے تکلیف نہ ہو کسی کا دل نہ دکھائوں ایک پرسکون زندگی گزاروں۔ بس ایک بہت شوق تھا اورہے بھی کہ پوری دنیا کی سیرکروں۔ میرے خیال میں بس یہی ایک خواب تھا۔
(2) نئے رشتے تو شادی کے بعد ہی بنتے ہیں، الحمد للہ عدنان صاحب کے ساتھ زندگی بہت اچھی بہت پرسکون رہی اب تک ،نشیب و فراز تو زندگی کا حصہ ہیں اللہ پاک نے ان سے گزارکریہاں تک پہنچا دیا۔ اب یہ فکربچوں سے شروع ہوکران پرہی ختم ہونی ہے پھر دعا ہے کہ اللہ میرے بچوں کو دین ودنیا میں کامیاب انسان بنائے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہیے۔
(3)قلمی سفرشروع ہوا تو پھر رکا نہیں ،ایک جنون تھا جس نے بہت لکھوایا میرے اللہ کی مجھ پرخاص رحمت تھی کہ میں نے بہت لکھا اور بغیرکسی لمبی چوڑی پلاننگ کے کہانی اپنا پیغام اورکردارخود لے کرآتی اورقلم لکھتا چلا جاتا ۔کوشش کی کہ لکھنے کا کچھ حق ادا کر سکوں شادی کے بعد شوہرکا تعاون حاصل رہا ،بچوں کی مصروفیت کے ساتھ بھی لکھنا کم زیادہ چلتا رہا ،اللہ کا شکر ہے !مقدور بھر یکسوئی مل جاتی تھی ٹوٹی پھوٹی دنیا داری بھی نبھاتی رہی۔ پھر بچوں کی پڑھائی کی مصروفیت نے روٹین بدلی ،اب ڈائجسٹ میں لکھنا کم ہو گیا ہے لیکن لکھے بغیر میں رہ بھی نہیں سکتی۔ ٹی وی پہ اسکرپٹ رائٹنگ کی مصروفیت بڑھ گئی ہے لیکن اب میں اتنے ہی کام کی ذمہ داری لیتی ہوں جتنا میں آسانی سے کرسکوں۔
اللہ کا شکر ہے !پہلی تحریر سے لے کرآج تک جوکچھ بھی لکھا اسے مقدمہ بھرپذیرائی بھی ملی۔ قارئین کی محبت نے بہت حوصلہ بڑھایا خواتین ،شعاع اور کرن میں بہت لکھا۔ جب میں نے پہلی تحریر لکھی اور ڈائجسٹ میں بھیجی تو سوچ لیا تھا کہ اگر یہ تحریر نہ لگی تو میں دوبارہ کبھی نہیں لکھوں گی ۔
اللہ کا شکر ہے !امتل نے پہلی تحریر پر ہی بڑی محبت بھری حوصلہ افزائی کی ۔ بے شک یہ ننھا پودا جو محمود ریاض صاحب نے لگایا تھا، آج ایک تناور درخت بن چکا ہے ،جس کی چھائوں میں بہت ی نسلیں بیٹھی ہیں اور فیض یاب ہوئی ہیں لیکن اس کو تناور درخت بنانے میں امتل کا اخلاص ، ان کی محبت اور محنت نے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے اگر امتل کی جوہر شناس نظریں نہ ہوتیں تو شاید بہت ساری اچھی رائٹرز سامنے نہ آتیں ۔
قارین سے دعا ہے اللہ اس ادارہ خواتین ڈائجسٹ کو آنے والے سالوں میں بھی اس طرح مقبول و مصروف رکھے اور نئی نسل کی عورت اسی تربیت گاہ سے فیض یاب ہوتی رہے۔ آمین۔
امت العزیز شہزاد
خواتین کو پچاسویں سالگرہ نہیں . بلکہ ہروہ لمحہ مبارک کہ جس جس پل اس نے اپنا قد پہلے سے زیادہ اونچا کیا۔
اسے وہ لوگ مبارک جو اسے سجانے . سنوارنے میں ہمہ تن جاں فشانی سے مصروف عمل رہے ۔ اسے تین نسلوں کی تربیت مبارک ۔
اس دعا کے ساتھ کہ خدا اس کی شان و شوکت میں بھرپور اضافہ فرما.آمین۔
(1)یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب میں اپنی دادی کی وفات کے بعد اپنے والدین کے گھر منتقل ہو چکی تھی۔ پھر فوراً ہی نکاح ہو گیا۔ یعنی یکے بعد دیگرے میری زندگی میں ٹوئسٹ پر ٹوئسٹ آ رہے تھے۔ نئی جگہ پر دیگر بھائی بہنوں کے ساتھ ایڈجسٹ ہونے میں مسائل کا سامنا تھا۔ وہ لوگ رات کو سوتے تھے اور میں سدا سے رت جگوں کی عادی ۔
مجھے بچپن سے رات کوکہانیاں پڑھ کر اپنے رجسٹر میں اپنی طرف سے کچھ نہ کچھ لکھنے کی عادت تھی۔ اب چوں کہ کمرہ بہنوں کے ساتھ شیئرکرنا پڑ رہا تھا اور رات کی بادشاہی چھن چکی تھی سوبسترپرلیٹ کرمیرا ذہن بہت سے سوالوں میں الجھنے لگا۔ پھران سوالوں کے جواب بھی اندرہی کہیں سے ملنے لگے۔گویا دل دماغ میں بحث سی چھڑگئی۔ اوریوں ہی ایک دن میں نے وہ بحث بنا سوچے سمجھے صفحات پرمنتقل کرکے اسے کرن میں بھیج دیا۔ اس کا وہ ہی ہوا جوہوسکتا تھا۔
یہ 2006ئ کی بات تھی۔
تو سفر کی شروعات یہاں سے ہوئی۔ کرن میں پہلا افسانہ 2008ئ میں شائع ہوا۔ جس کے بعد شادی ہو گئی۔ پھر نئی زندگی کے جھمیلوں سے جب ذرا فرصت ملی تو دوبارہ بڑے اہتمام سے قلم تھام لیا۔ اور ایک کہانی جو ذہن میں تھی جب جب وقت ملا لکھے گئی۔ یوں وہ ایک ضخیم ناول بن گیا جو میں نے دو تین افسانوں کے ساتھ امتل کو بھجوا دیا۔
اور جس دن وہ پڑھ کر امتل نے مجھے کال کی ۔ چار اپریل 2012ئ۔
میں نہیں جانتی تھی کہ پیاری امتل کی وہ کال مجھ جیسی متلون مزاج ۔ کاہل کا رشتہ قلم کے ساتھ مستقل طور پر بڑی سنجیدگی سے جوڑ دے گی۔
میرا وہ پہلا ناول تھا۔ جس پر امتل کو کچھ اعتراضات تھے جو دور کرکے انہوں نے دوبارہ لکھ کر دینے کو کہا۔ مسرت تو ناقابل بیاں تھی مگر میری زندگی کے ٹوئسٹ ۔
اگلے ماہ مجھے شہزاد کے پاس پاکستا ن سے باہر جانا تھا۔
مگر خیر.میںلکھتی رہی ۔ اور وہ ناول تو میں نے نہ جانے کہاں کہاں بیٹھ کر لکھا ہے اب سوچوں تو حیرت ہوتی ہے خود پر کہ وہ کیا جذبہ تھا کہ جس نے زندگی کے مشکل ترین دور میں بھی میرا ساتھ کتاب و قلم سے قائم رکھا .؟
شاید .خود کو منوانے کا جنون .بہرحال ۔
(2)مجھے اس اپریل خواتین میں چھپتے ایک عشرہ مکمل ہو گیا ہے۔
(3)ان دس سالوں میں زندگی نے جو جو رنگ دکھائے ۔ میں وہ بڑی جرات، کچھ حیرانی ، افسردگی ، تو کبھی بہت شوق سے دیکھ دیکھ کر انہیں کاغذ پر بکھیر کر امتل کے حوالے کرتی گئی۔ یہ میرا کتھارسس ہے۔ میری طاقت ، میری محبت ، سامان تسکین ، یعنی ، میرا قلم اور مجھے عطا کئے گئے لفظ.تو اس ’’دیوانگی‘‘ کے لیے ایک خاتون خانہ کے لیے وقت نکالنا ظاہر ہے کہ مشکل ہے مگر بس . نکال لیا جاتا ہے۔ اپنے آرام کا وقت قربان کر کے۔ دعا کیجئے کہ بس یہ دیوانگی رہے باقی ۔
ثمینہ عظمت علی
(1)لکھنے کا عمل تو بچپن ،یعنی اسکول کے زمانے سے ہی شروع ہو چکا تھا لیکن جہاں تک خواتین ڈائجسٹ میں لکھنے کی بات ہے تو اس کا آغاز، شادی کے بعد ہوا۔ خواتین اور شعاع کم عمری سے ہی پڑھ رہی تھی۔ لکھنے کا دل چاہتا تھا لیکن کبھی سنجیدگی سے اس طرف توجہ نہیں دی۔ بلکہ سچ پوچھیں تو سنجیدگی سے تو کبھی بھی نہیں لکھا۔
پہلا افسانہ یوں ہی مذاق مذاق میں لکھ لیا۔ علی یعنی میاں اکثر مجھ سے کہتے تھے کہ کچھ لکھو،کیونکہ میں اکثرانہیں بتایا کرتی تھی کہ میںلکھتی رہی ہوںاور پڑھنے کا شوق تو ان کے سامنے تھا ہی کہ شادی کے بعد ،زندگی شروع ہوئی تو نئے گھر میں سب سے پہلے میکے والی کتابوں کی الماری آئی۔
وہ جب بھی لکھنے کا کہتے تو میں کہتی کہ آپ کو بہت شوق ہے ، اب میں آپ پر ہی لکھوں گی سوپہلا افسانہ ان ہی پر لکھا۔ اس وقت میں نے سوچا تھا کہ بس مذاق کی بات مذاق میں ختم ہو جائے گی لیکن ایک افسانہ شائع ہوتے ہی دماغ میں آئیڈیاز کی بھرمار اور امتل کی فون کال اور حوصلہ افزائی کی وجہ سے ایک وقت تھا کہ میں نے متواتر لکھا جو الحمد اللہ بہت پسند بھی کیا گیا۔
(2) اس وقت بڑی فراغت تھی۔ میں جاب بھی نہیں کرتی تھی اور اللہ کی مرضی تھی کہ شادی کے بعد کئی سال اولاد کی ذمہ داری نہ تھی تو کافی لکھا۔ لکھنے کے لیے وقت بھی بہت ہوتا تھا اور اس آس پاس کی ستائش بھی۔
(3) بچے کی تمنا ہر عورت کی فطری خواہش ہوتی ہے۔ لہذا جب بے اولادی کا دورانیہ طویل ہوا تو ڈپریشن ہونا بھی لازمی تھا۔ پھر ہمارا معاشرہ بھی کچھ ایسا ہے کہ اچھے خاصے متوکل انسان کے چودہ طبق روشن ہوجائیں۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ !سسرال والوں نے کبھی دکھ نہیں دیا اور میاں نے ہر وقت یہ احساس دلایا کہ ان کے لیے سب سے اہم میں ہوں۔ میں نے ایم اے کیا اور کمیشن کا فارم فل کیا۔ اب یہ خدا کی قدرت کہ علینہ اور لیکچرر شپ آگے پیچھے میری جھولی میں آن گریں اور میں جو سوچتی تھی کہ دن کیسے گزارا جائے اس قدر مصروف ہوگئی کہ سچ مچ سرکھجانے کی فرصت نہ رہی۔
اب بھی یہ ہی دو چیزیں ہیں ،جس کی وجہ سے لکھنے کا عمل تعطل کا شکار رہتا ہے۔ اب یہ بھی اللہ کی منشائ کہ علینہ اکلوتی ہی رہی۔ میں ان عورتوں کو سلام پیش کرتی ہوں !جو تین چار پانچ بچے بھی بخوبی پال لیتی ہیں لیکن یہ بھی ہے کہ اکلوتا بچہ زیادہ وقت اور توجہ مانگتا ہے ۔ ایک سے زائد بہن بھائی آپس میں تو کھیل لیتے ہیں۔ بہرحال میرے پیارے قارئین میری پوری کوشش ہے کہ لکھنے کا سلسلہ دوبارہ شروع کروں۔ میں ان سب قارئین کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں جنہوں نے اب تک مجھے یادرکھا ہوا ہے اور مجھے اکثر میسجز کرتے رہتے ہیں۔ ان شائ اللہ ان کی خواہش ضرور پوری کروں گی۔
نیئر فہیم خان
خواتین ڈائجسٹ سے تعارف کب ہوا مجھے خود بھی نہیں معلوم. بس اتنا یاد ہے کہ جب ہوش سنبھالا تو ارد گرد کتابیں دیکھیں۔ گھر میں امی پھپھو کے رسالے اور روزانہ اخبار آتا تھا اس اخبار کی ایک ایک سطر چاٹ لیتی. بچوں کا صفحہ میری تشنگی نہ بجھاپاتا تھا۔ میری فطرت میں کھوج ہے۔ نئے موسم نئے نظارے مجھے اپنی طرف کھینچتے ہیں اگر میں لڑکی نہ ہوتی تو ضرور ایک سیاح ہوتی۔ میں نے مستنصر حسین تارڑ۔ اور علی سفیان آفاقی کے سارے ہی سفر نامے پڑھ رکھے تھے ۔بہت کم عمری میں ہی ۔ میری ذہنی عمر بلند تھی۔ اشتیاق احمد کے تمام ناول پڑھ لیے تھے۔ دنیا کے قیدی۔ یوگنڈا پر حملہ. سارے ہی کئی بار پڑھے۔ شاید ہی کوئی ایسا ناول ہو جو میری دسترس سے دور رہا ہو۔ کتابوں سے محبت کو دیوانگی کا شرف بخشنے میں دوشخصیات کا عمل دخل ہے۔ میری امی اور میرے ماموں۔ حسن غزالی۔جو علم دوست کتابوں سے محبت کرنے والے اور مخلص انسان ہیں۔
بچپن ہی میں نیم والی گلی کے کونے پر بنے پیلی موٹی دیواروں والے گھر کے صحن پر بچھے تخت پر کتابیں پڑھنے کا الگ ہی مزہ تھا ۔گلی میں لگا سایہ دار درخت صحن میں بھی اپنا سایہ اور ٹھنڈک فراہم کرتا تھا۔ اس گھر کے مکینوں نے ہمیشہ محبت اور شفقت فراہم کی۔ نانا جان کو دیوتا۔ ناول سے عشق تھا او ر ہم فرہاد علی تیمور کے سارے قصے نانا کو ازبر کرادیتے مگر پھر شروع سے اسی لگن سے سنتے کہ جیسے آج ہی کچھ نیا آیا ہو۔ گھر کے قریب جگنو لائبریری تھی۔ جہاں ہمارے میرپورخاص جاتے ہی کھاتہ کھل جایا کرتا تھا۔ میں اوربلقیس اشتیاق احمد کے ناول پڑھتے اور ہما اور شائستہ ۔ چھن چنگلو۔ انگلوبانگلو۔ گلابی پری کالا جن۔ پڑھتی تھی مجھے تصوراتی دنیا کبھی پسند نہیں آئی۔ مجھے محمود فاروق فرزانہ پسند تھے جو زندگی کے مسائل پر عقل سے کام لے کر حل کرتے تھے تب میری عمر دس سال تھی تقریباً.ماموں سب کتابیں منگوا کردیتے مگر ڈائجسٹ پر سخت پابندی تھی۔ اور یہ بات ہمیں سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ وجہ ہماری عمر تھی ۔اب ماموں کو کیا پتا کہ ہم دس سال کی عمر میں بیس سال کی سوچ رکھتے ہیں۔ اب دل کو تجسس ہوا کہ آخر ان رسالوں میں ہے کیا. ماموں کا کہنا تھا کہ لڑکیاںخیالی دنیا کے تصورات میں کھوجاتی ہیں اور زندگی کے حقائق کا سامنا نہیں کرپاتیں۔ تو پہلے سوچ کو مضبوط کریں پھر پڑھ لیں۔ اب ہمارے پاس اتنا صبر کہاں تھا۔
میرپور خاص میں امی کے بہت سے رشتے دار رہتے ہیں۔ ہم نے اپنی رشتے کی خالہ کے پاس رسالہ دیکھا جھٹ مانگ لیا۔ ان کو کیا اعتراض تھا. وہاں پہلی کہانی پڑھی۔ کہانی تو یاد نہیں مگر اتنا یاد ہے کہ جو رشتہ خواتین سے ’جڑ ا‘آج بھی قائم ہے تیس سال سے ہم ایک ساتھ ہیں۔
اور جب خواتین ڈائجسٹ میں اپنی تحریر دیکھی تو یوں لگا تھا کہ آسکر ایوارڈ جیت لیا تھا یا نوبل پرائز ہاتھ آگیا ہو۔ میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں تینوں رسالے پڑھتی ہوں کرن‘ شعاع اور خواتین ۔ رائٹر تو یادرہ جاتی ہیں مگر کون سی کہانی کس رسالے میں پڑھی بھول جاتی ہوں. یہ میرا عشق ہے میرا جنون ہے ہر وقت میں رسالے ہی پڑھتی ہوں اور ابھی سے سوچ لیا ہے کہ بیٹی جب میٹرک کرلے گی تو اس کو یہ تحریر ضرور پڑھائوں گی۔افسوس میری بیٹی کو انگلش اسٹوریز پسند ہیں آج کل مینڈیلڈا کی بک پڑھ رہی ہے میں منع نہیں کرتی۔ جو دل چاہے پڑھے مگر جب اردو کی لت لگے گی تو کچھ اچھا نہیں لگے گا۔ آخرمیری بیٹی ہے۔ خواتین کا نشہ بھلا کہیں اور جانے دے گا بھلا. عنیزہ سید کا ناولٹ تھا۔ آئو سچ بولیں. میں نے سنبھال کر رکھا تھا۔ اس کی اسٹوری اتنی نازک اور گھمبیر تھی کہ سمجھ میں نہ آئے کیا کریں۔ مگر مجھے زندگی کا ایک بہت خوب صورت پہلو سمجھا گئی۔ کہ محبت ہونا آپ کے اختیار میں نہیں مگر محبت چھپا کر عزت سے جینا تو آپ کے اختیار میںہے۔
میں میٹرک میں تھی۔ میری دوست کو کسی نے خط لکھا یہ 1992کی بات ہے۔ اس دور میں فون مسیج کا زمانہ نہیں تھا۔ گلی کے لڑکے نے خط بچے کے ہاتھ دیا. وہ ڈرگئی مجھے اسکول میں بتایا ۔ میں نے پڑھا وہی عامیانہ پن کی جھلک ۔ وہی بے ربطہ اشعار۔ میں نے اسے سمجھا یا کہ اس میں تمہاری کوئی غلطی نہیں ۔ تم ڈرو مت اور اپنی بہن کو بتائو ،وہ تمہاری امی سے بات کرلے گی کوئی حل نکلے گا۔ کسی اور سے پتا چلا تو برا ہوگا۔ اور جو لڑکے کسی لڑکی عزت کرتے ہیں تو راہ چلتے خط نہیں پکڑاتے۔ اس کی سمجھ میں آگیا۔ اس نے وہی کیا ،نتیجہ کچھ دن اس کی والدہ خود اس کے ساتھ اسکول آنے جانے لگیں۔ لڑکے کو سمجھ میں آگیا کہ ان تلوں میں تیل کی نہیں۔ سو وہ پلٹ گیا.
یہ سوچ مجھے ڈائجسٹ سے ملی کہ ماں سے بہتر دوست کوئی نہیں ہوتا۔ جب بھی کوئی مسئلہ آیا پہلے امی کو بتایا۔ باہر کے لوگ کبھی بھی آپ کو آپ کے گھر والوں سے زیادہ نہیں چاہ سکتے چاہے کتنے دعوے کریں۔ آج یہ سوچ میری بیٹی کی ہے ماشا ئ اللہ بہت سمجھ دار بچی ہے۔ ہر بات مجھے بتاتی ہے۔
خواتین سالہا سال اپنے علم اور صاف ستھرے ادب کی رونق بکھیر تا رہے۔آمین
**


