گردشِ دوراں – نسیم سحر قریشی

2

بڑے سارے صحن میں عورتوں کا سیلاب امڈ آیا تھا۔ باہر ڈیرے پر اَس سے زیادہ مرد تھے۔ نانی ماں بوکھلائی بوکھلائی پھر رہی تھیں۔ صبح سے اِدھر اَدھر چلتے پھرتے کام کرتے میری ٹانگیں شل ہوگئی تھیں، ایڑیاں پھوڑے کی طرح دَکھ رہی تھیں۔

’’تاج چندا! تَو اب اپنے کمرے میں جا بیٹھ۔ ابھی تیرے نانا بابا آئیں گے تو سو سو سنائیں گے۔‘‘

’’نانی ماں تم اکیلی کام کرو گی کیا؟‘‘

’’اے یہ اتنی ساری کمورانیاں جو ہیں مل کے کروالیں گی۔ تھوڑی دیر آرام کرلے میری سوہنی۔‘‘

’’نہیں نانی ماں !نانا بابا کی خاص مہمان کا کمرا ٹھیک کرنا ہے ابھی۔‘‘ میں نے فکر مندی سے کہا۔

’’خاص مہمان۔ کون؟ کہاں سے آرہی ہے؟‘‘

’’مجھے تو نہیں معلوم کون ہے وہ۔ پر نانا بابا کہہ رہے تھے کہ اس کی رہائش کے لےے شاندار انتظام ہونا چاہےے۔ نانا بابا کے کمرے کے ساتھ رنگین چھت والا کمرا تیار کرنا ہے۔ رمضو نے رنگین پایوں والے دو پلنگ ڈال دےے ہیں، وہاںبستر لگانے ہیں، جھاڑ پونچھ کرنی ہے، پانی کی صراحیاں رکھوانی ہیں۔ نانا بابا جھنگ سے جو پیڑھے لائے تھے وہ اسٹور میں سے نکلوا کر اَدھر رکھنے ہیں اور ۔۔۔ اور۔‘‘ یاد ہی نہیں آرہا تھا کہ مجھے اور کیا کیا کرنا ہے۔

’’تاج چندا تَو دلہن ہے، جن لوگوں کو خبر ہے، وہ تو سمجھ رہے ہیں مگر دور دراز سے آئے مہمان دانتوں میں اَنگلیاں داب رہے ہیں کہ دلہن بھاگی بھاگی پھر رہی ہے۔ جا میری جان تَو تھوڑی دیر آرام کرلے۔ شیر دل خان بھی آتا ہی ہوگا تم دونوں کا کھانا میں اندر بھجوادوں گی تمہارے کمروں میں۔‘‘ نانی ماں نے میرے ہاتھوں سے آب خورے لے لےے اور مجھے زبردستی کمرے میں دھکیل دیا۔

ابھی میں پلنگ پر لیٹی ہی تھی کہ غلام گردش میں سے نانا بابا اور نانی اماں کی باتوں کی آواز آنے لگی۔

’’ہاں ہاں، آرام کے لےے بھیج دیا ہے میں نے اَسے، اور تم بھی اب شیر دل کی چھٹی کرو تھک گیا ہوگا بے چارا۔ نا یہ تمہاری خاص مہمان ایسی کون سی آرہی ہے جو عام کمروں میں نہیں بیٹھ سکتی لے کے بند کمرا کھلوادیا اور بچی کو ہلکان کر دیا اور کام تھوڑے تھے۔ یار محمد خان! اب تو باز آجا۔‘‘

’’کیوں؟ کیا ہوا؟‘‘

’’میں پوچھتی ہوں کون شتابو ہے وہ، کہاں کی حرُافہ ہے جو تمہاری خاص مہمان بن گئی، میں نے تمہارے کرتوتوں کو بچوں سے چھپا کے رکھا ہوا ہے اور تم نے تاجور سے کہہ دیا کہ میری خاص مہمان۔‘‘

’’زربخت! تجھے خبر ہے نا ڈال ڈال اڑتے بھنورے کو تجھ سے مل کر چین آگیا تھا۔ تجھے اس گھر میں لانے کے بعد میں نے کسی کو آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا ہو تو۔ وہ قصے وہ افسانے ماضی کے ہیں میں جب سے تیرا ہوا ہوں بس تیرا ہی ہوں۔‘‘

’’اور یہ مہمان؟‘‘ نانی ماں کے لہجے میںکتنے شکوک اور گِلے تھے۔

’’نیک بخت! یہ واقعی خاص الخاص ہے، تَو خود دیکھ لے گی اور خود ہی انصاف کرے گی اور دیکھ یہ دن ہماری زندگی میں بڑی منتوں مرادوں سے آیا ہے۔ آج کے دن کوئی رولا نہ ڈال دینا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔ تجھے خبر ہے نا آج ہمارے شیر دل کی نئی زندگی کی ابتدا ہورہی ہے، ہماری چندا سی بہوتاجور دلہن بنے گی، شگن ہوں گے آج کے دن بدشگونی نہ کرنا۔‘‘

نانا بابا شاید آگے بڑھ گئے تھے۔تب ہی خاموشی چھا گئی۔ جانے کتنے لمحے گزر گئے شاید میری آنکھ لگنے کو تھی کہ نانی ماں کی آواز آئی۔

’’تاجور بیٹی! میووں کے لفافے کہاں رکھ چھوڑے تھے، گرم مسالا بھی نہیں مل رہا اور وہ لہسن چھیلنے کو کسے دیا تھا؟ تیرے نانا بابا بار بار منگوارہے ہیں۔ آ بیٹی! یہ ساری چیزیں خود ہی باہر بھجوا۔‘‘

نانی ماں پریشانی کے عالم میں یہ کہتی باہر چلی گئیں۔ اور میں اٹھ کر باورچی خانے کی طرف چل دی۔

اندر داخل ہوئی تو کوئی دروازے کی طرف پَشت کےے کھڑا تھا۔ آہٹ پر ایک دم مڑا۔ میرے چہرے پر سرخیاں دوڑ گئیں۔ وہ شیر دل خان تھا۔ میں مارے لاج کے وہیں زمین پر بیٹھ گئی اور سر گھٹنوں میں چھپالیا۔

اَسی دم وہ باہر چلا گیا اور زیبو نے کہا۔

’’بی بی رانی! خان میاں باہر چلے گئے ہیں، آپ ہمیں سامان اٹھادو۔‘‘

ابھی میں میوہ بڑے تھالوں میں ڈال رہی تھی کہ نانا میاں بڑی عجلت میں باورچی خانے میں داخل ہوئے۔

’’تاجور بیٹا! تیرے بغیر تو یہ گھر ایک پل کو نہیں چل سکتا۔بس کوئی رسمیں شسمیں نہیں ہوں گی۔ کپڑے اور زیور پہن لینا اور۔۔۔ اور اپنے گھر آئے مہمانوں کو خود ہی سنبھالنا اور میں بھی کیسا جھلُا ہوں، شادی تو تم دونوں کی دس سال پہلے ہوگئی تھی، جب تَو ڈولی میں نہیں میری گود میں بیٹھ کر آئی تھی اب تو تم دونوں ذمہ داری سنبھالنے چلے ہو، اور بس۔‘‘

نانا بابا نے میری پیشانی چوم لی۔

’’تاج چندا! کمرا تیار ہوگیا نا۔‘‘

’’جی نانا بابا!‘‘

’’بیٹے! وہ آئے تو تم اَس کا خاص خیال رکھنا۔ تیری نانی ماں اس کے لےے کچھ نہیں کرے گی۔ بڑا اشتیاق تھا مجھے کہ کسی بہانے وہ میرے گھر کو رونق بخشے۔‘‘

میں ایک پل کو نانا بابا کا منہ دیکھتی رہ گئی۔ وہ نوکروں سے تھال اٹھوا کر باہرچلے گئے۔

مگر میری آنکھوں کے سامنے موجود رہے، میرے تصور میں۔ آپ حیران ہوں گے اپنی شادی کے ولیمے کے انتظامات میں خود کر رہی ہوں۔ نانا بابا کا بیٹا شیر دل خان میرا دولہا ہے، نانی ماں میرے نانا بابا پر شک کرتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔

یار محمد خان میری نانی کے بھائی تھے۔ سب سے چھوٹے اور اکلوتے بھائی۔ ملک پور میں خاصی زمینوں کے مالک تھے اور اس وقت جب جشنِ ولیمہ منعقد کیا گیا تھا وہ صرف بیالیس تینتالیس برس کے تھے اور نانی ماں یعنی ان کی بیوی زربخت چالیس سال کی تھیں۔

نانا بابا اس عمر میں بھی نوجوانوں سے کسی طور کم نہ تھے، اونچا لمبا قد، صحت مند ڈیل ڈول، سرخ و سفید رنگت۔ اب تو اب جب دس سال پہلے اپنے شیر دل خان کو جو اَس وقت دس سال کا بچہ تھا مجھ سے بیاہنے احمد پور آئے تھے، ساری عورتیں جو غیر انجان تھیں نانا بابا کو ہی دولہا سمجھتی رہی تھیں۔

بات کچھ یوں تھی کہ میری ماں کی بے وقت موت پر میری نانی نے مجھے اپنی بیٹی بنالیا تھا۔ نانا بابا کے ہاں ایک ہی بچہ تھا، شیر دل خان۔ بڑا سارا گھر نانا بابا اور نانی ماں کو کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا۔ نانا بابا ایک بار میرے ماموں کی شادی کے سلسلے میں اپنی بہن کے گھر آئے تو میں انہیں بے طرح بھا گئی۔ وہ مجھے نانی سے مانگ کر بیٹی بنانا چاہتے تھے، نانی ماںیعنی اَن کی بیوی زربخت نے انہیں مشورہ دیا کہ بیٹی بنا کے لے جانے کے بجائے، ہم اسے بہو بھی تو بنا سکتے ہیں تاکہ یہ عمر بھر ہمارے ساتھ رہ جائے۔ بس پھر کیا تھا نانی سے بات کی نانا بابا نے اور چٹ منگنی پٹ بیاہ کے مصداق دونوں طرف سے میری اور شیر دل کی شادی کے سارے انتظامات مکمل ہوگئے۔ شیر دل دس سال کا اور میں آٹھ سال کی تھی۔ اس وقت یوں بھی چھوٹے چھوٹے بچوں کے نکاح کا رواج عام تھا، اٰن ہونی صرف یہ ہوئی کہ نانا بابا پورے ارمانوں اور رسموں کے ساتھ مجھے اپنے گھر رخصت کرا لائے اور میں نے احمد پور سے ملک پور تک کا سفر نانا بابا کی بانہوں کی پناہ میں گھوڑے کی پیٹھ پر طے کیا۔ چھوٹے چھوٹے دولہا دلہن دونوں علاقے بھر کی اہم خبر اور عجوبہ بنے رہے۔

میرا وجود واقعی گھر میں رونقیں لے آیا۔ شیر دل، پڑھنے کے لےے شہر چلا گیا اور نانی ماں کا آنگن میرے گڈے گڑیوں اور سہیلیوں سے بھر گیا۔

ہمارا گھر گائوں سے کچھ ہٹ کر تھا۔ دن بھر گائوں کی لڑکیاں ہمارے گھر رہتیں۔ نانی ماں مجھے پڑھاتے پڑھاتے اَن سب کو بھی قرآن پاک کا سبق دینے لگیں، انہوں نے مجھے نہ صرف پڑھایا بلکہ گھریلو کام کاج اور سلائی کڑھائی میں بھی طاق کر دیا۔ میں نے دو چار سال میں ہی سارا گھر سنبھال لیا۔ بارہ تیرہ برس کی عمر میں، میں بچی نہیں عمدہ سوجھ بوجھ کی مالک لڑکی تھی، جس پر نانی ماں اور نانا بابا دونوں بھروسا کرتے تھے، جس کے سہارے اندر باہر کا سارا نظام چل رہا تھا۔

نانی ماں نے میری پرورش کے معاملے میں میری خوراک کا خاص خیال رکھا تھا۔ یوں بھی گھر میں کسی شے کی کمی نہ تھی۔ دودھ مکھن، لسی، مرغیاں، انڈے، نانا بابا تو دو چار مہمانوں کے آجانے پر بکرا ذبح کرا دیا کرتے تھے۔ سالم رانیں بلکہ اکثر اوقات سالم بکرا ہی کوئلوں پر بھون لیا جاتا تھا۔

میں یہاں آکر دنوں کے حساب سے بڑی ہوئی تھی ۔ اور چودھویں برس اونچے پورے قد اور صحت مند سراپا کی مالک لڑکی بن چکی تھی۔ شیر دل ان دنوں دبلا پتلا لمبا لمبا لڑکا سا تھا۔ بے چارے کا اندر داخل ہونا ہی ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔ شہر سے ملک پور آتا تو نانی ماں سے ملنے ہی اندر آسکتا تھا ورنہ بعض اوقات ڈیرے پر ہی نانا بابا کے ساتھ بیٹھا رہتا۔ نانا بابا کا حکم تھا۔ سو ہم ایک دوسرے کے سامنے نہیں آتے تھے۔ پھر گزرتے وقت کے ساتھ شرم و حیا نے آپ ہی آپ میرا دامن تھام لیا۔ میں شیر دل کے سائے سے بھی گھبرانے لگی۔

اَسی سال ایک عجیب واقعہ ہوا۔ نانا بابا سدا کے سیلانی آدمی تھے، اکثر راتیں گھر سے باہر ہی رہا کرتے، کبھی کسی سنگی بیلی سے ملنے نکل جاتے کبھی شکار کو چلے جاتے وہ بھی ایسی ہی ایک شب تھی جب نانا بابا گھر پر نہ تھے۔ میں، نانی ماں اور ملازم عورتیں بڑے سارے صحن میںمحوِ خواب تھے۔

گرما کی خوش گوار رات کی ٹھنڈی سَبک ہوا کا خمار تھا کہ گھر میں چور گھس آنے پر بھی کسی کی آنکھ نہ کھلی۔

کسی نے میری چارپائی کو زور سے ہلایا تو میری آنکھ کھلی۔

’’اے کَڑی! چل جو کچھ بھی پہن رکھا ہے تَو نے اتار کے دے۔‘‘

سیاہ لباس میں ملبوس اور نقاب میں چھپے ایک انسانی چہرے پر چمکتی آنکھیں اندھیرے میں میرے چہرے کو گھور رہی تھیں، میں تو دم بخود ہوگئی۔ کاٹو تو لہو نہیں بدن میں، چور کے ہاتھ میں یقینا خنجر چمک رہا تھا۔ میں نہ حرکت کرنے کے قابل تھی نہ بولنے کے، چارپائی پر چت پڑی تھی تھر تھر کانپ رہی تھی۔ نانی ماں کی چارپائی کی طرف دیکھنے کی ہمت بھی نہیں تھی، شاید وہاں بھی کوئی موجود تھا ۔ اور نانی ماں سے بڑے بدتہذیب انداز سے کہہ رہا تھا۔

’’نکال چابیاں اَس پیٹی کی جس کو بڑے پکُے جندرے لگا رکھے ہیں خان زادی۔‘‘ کسی خبیث نے مکروہ انداز میں نانی ماں سے کہا۔

’’دیکھو، تم جو بھی ہو، جہاں سے بھی آئے ہو میری دھی کو ہاتھ نہ لگانا۔ اسے نہیں چھونا۔ تم لوگ جانتے نہیں شاید یہ یار محمد خان کی حویلی ہے، وہ تم لوگوں کومعاف نہیں کرے گا۔ ہٹ جائو میری دھی کی چارپائی سے۔‘‘

’’تو اتار دے نا تمہاری دھی اپنے سارے گہنے۔‘‘

’’ہٹو میں خود ہی اتار دیتی ہوں۔‘‘ نانی ماں میری طرف آنے لگیں۔

’’اے گامے۔ اس عورت کے کہنے میں آرہا ہے۔ اَتار لوں گا میں خود ہی سب کچھ۔‘‘

اس بھیانک شخص نے میری طرف ہاتھ بڑھایا۔ میں مارے ڈر کے بے ہوش ہونے لگی۔

مجھے ہوش آیا تو دن چڑھ چکا تھا۔ علاقے کی عورتیں ہمارے گھر میں جمع تھیں۔ نانی ماں پریشان سی اَن سب کے درمیان بیٹھی تھیں۔

ڈاکو ہمارے پورے گھر کا صفایا کر گئے تھے، ڈیرے پر سوئے نوکروں کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی تھی۔ بعد میں پتا چلا ڈاکو بڑے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت آئے تھے۔ اور ڈیرے پر سوئے نوکروں کو انہوں نے نشہ آور دوا میں بھیگے رومال سنگھوا دےے تھے۔

اَن ظالموں نے میرے پیروں سے سونے کی پازیبیں، ہاتھوں سے موٹے موٹے کڑے، انگلیوں سے ڈھیر سارے چھلُے اور کانوں سے بالیاں بے دردی سے اتاری تھیں۔ نانی ماں کو اس سارے سونے کے جانے کا غم نہیں تھا۔ اَس بے دردی کا صدمہ تھا جو انہوں نے مجھ سے روا رکھی تھی۔ ڈاکو سارا گھر لوٹ لے گئے تھے۔ زیور، رقم، قیمتی کپڑے، برتن غرض گھر کی ہر قیمتی شے۔

’’ارے بہن شکر کرو۔ اللہ نے عزت محفوظ رکھی جس طرح کے حالات تھے اور بھی بہت کچھ ہوسکتا تھا۔‘‘

’’ہاں بھرجائی عزت تو ان ساری چیزوں سے کہیں مہنگی چیز ہے اور کھوجائے تو پھر نہیں ملتی۔ چیزوں کا کیا ہے بھایار محمد سلامت رہے گھر تو پھر بھی بھرجائے گا۔ گہنے پاتے بھی بن جائیں گے۔‘‘

نانا بابا دوسری شام کو گھر واپس آئے تو یہ حیران کَن خبر اَن کے استقبال کوموجود تھی۔

انہیں یہ سب سن کر کسی بات کا دکھ نہیں ہوا سوا اس کے کہ آنے والے چور ڈاکوئوں نے اَن کی بیٹی، اَن کے بہو کے زیور بے دردی سے نوچ ڈالے، وہ مجھے گلے لگا کر رونے لگے۔ بڑی اونچی آواز میں۔ دھاڑیں مار مار کر۔

’’کیا کر رہے ہو خان! بچی پہلے ہی خوف سے پیلی پڑ رہی ہے، اس کا دل اور بھی ڈھے جائے گا۔ ارے بہادر اور جی دار مرد ہو کر بھی عورتوں کی طرح رو رہے ہو۔ تاجور کا سر صدقہ نکل گیا۔ اپنی بیٹی کے لےے ایسے ہزاروں گہنے بنادیں گے ہم۔‘‘

نانی ماں حوصلہ مند بنی نانا بابا کو تسلی دے رہی تھیں۔ حالانکہ واقعہ بے حد ہولناک تھا۔ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارا پورا گھر لَوٹ کر لے گئے تھے۔ اور مارے خوف و دہشت کے ہم اَف نہ کر سکے تھے۔

وقت گزر گیا۔ نانا بابا نے پولیس میں رپٹ نہیں کرائی جانے کیوں؟ پر اَس کے بعد وہ کبھی بھی رات کے وقت گھر سے باہر نہیں گئے۔ اس کے علاوہ بھی اَن کے معمولات میں فرق آگیا۔ اب وہ ہمہ وقت مصلے پر بیٹھے عبادتِ الٰہی میں مصروف نظر آتے۔

’’اے ہے بڑا مصلُا آباد کر لیا ہے تم نے، اے میں کہوںیہ موئے ڈاکو چند سال پہلے ہی آجاتے گھر میں، کم از کم تمہیں تو اللہ کے قریب کرجاتے۔‘‘

’’اے جھلےُے لوگے، تم نے سنا نہیں۔

در جوانی توبہ کر دم شیوۂ پیمبری

وقت پیری گرگِ ظالم می شود پرہیزگار

پھر وہ نانی ماں کی آسانی کے لےے اس فارسی شعر کا ترجمہ کرتے۔

’’راہِ ہدایت کا کیا ہے، نیک بخت کسی وقت بھی نظر آسکتی ہے، خوش ہونا چاہےے تمہیں صبح کا بَھولا شام سے بھی پہلے لوٹ آیا ہے۔‘‘

کبھی کبھی میں اَن کے کمرے میں ناشتا، چائے یا لسُی لے کر جاتی تو وہ اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو کر عاجزی سے گڑگڑاتے ہوئے توبہ کر رہے ہوتے۔ معافی مانگ رہے ہوتے۔

اسی طرح گزرتے گزرتے یہ وقت آگیا۔ میں نے نانا بابا کے متعلق ایسی بات آج اچانک سنی تھی، اور وہ بھی نانی ماں منہ در منہ اَن سے کہہ رہی تھیں۔ ورنہ نانا بابا نے کبھی کسی عورت کو آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا۔ حالانکہ وہ اس عمر میں بھی قابلِ رشک صحت اور مردانہ حسن کا نمونہ تھے۔

نانی ماں کے شک اور نانا بابا کی تاکید دونوںنے مجھے چوکنا کر دیا ۔ شام کے ڈھلتے سایوں کے ساتھ نانا بابا میرے کمرے کی دہلیز پر کھڑے تھے۔

’’تاج بیٹا! چندا باہر آئو۔‘‘

میں آس پاس کے گائوں کی لڑکیوں میں گِھری بیٹھی تھی۔ نانا بابا کی پکار پر اٹھ کھڑی ہوئی۔

دروازے پر آئی، نانا بابا کے پیچھے ایک عورت کھڑی تھی۔ میرے اعصاب بے دار ہوئے، مجھے ایک جھٹکا سا لگا۔

’’تاجو بیٹے! یہ میری مہمان ہے۔ وہی جس کے بارے میں، میں نے تمہیں بتایا تھا۔‘‘

’’اوہ نانا بابا۔ یہ ۔۔۔ یہ وہ خاص مہمان ہیں۔‘‘

وہ ہنس دےے۔ ’’ہاں بیٹا! وہی۔ یہ میری بہو رانی ہے۔‘‘ اب نانا بابا اَس سے مخاطب تھے۔

میں نے اس کی طرف دیکھا۔

اونچا لانبا سرو جیسا قد۔ کسا ہوا کہیں کہیں سے جھلکتا سونے جیسا جسم اور اس کے اوپر سجا حسین تر چہرہ، سفید کرتے، سیاہ حاشےے والے سفید لاچے اور کڑھائی والے چادر نما دوپٹے میں طلائی کڑھائی والی بند جوتی پہنے نانا بابا کی مہمان میرے سامنے تھی۔

اَس نے اپنا سرخ و سفید نرم لیکن بھاری ہاتھ میرے سر پر رکھ دیا۔ میں اس کے ساتھ چلی آئی۔ اس کے لےے سجایا کمرا کھولا۔ اتنے میں نانا بابا ایک مرد کو ساتھ لےے آگئے، میں نے چہرے پر تھوڑا سا آنچل گرالیا۔

’’یہ ممتاز کا گھر والا ہے تاج چندا۔ اس سے کیسا پردا، سلام کرو۔‘‘

اَس مرد نے بھی میرے سر پر ہاتھ رکھ کر مجھے دعائیں دیں۔ واپس جانے کو باہر نکل رہی تھی کہ ممتاز نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے روک لیا۔

’’ماشائ اللہ! خان سائیں جیسا بتاتے تھے، تم ویسی ہی ہو۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے مجھے دیکھ رہی تھی۔

میں ایک بار پھر اَسے دیکھتی رہ گئی۔ پنجاب کے مشہورِ زمانہ حسن کا ایک نادر نمونہ میرے سامنے تھا۔

میں اپنے کمرے میں آگئی۔ لڑکیوں نے رات کے ابتدائی لمحوں میں مجھے دلہن کا روپ دے دیا۔ پھر رسموں کی ادائیگی ہونے لگی، میںنے دیکھا اور محسوس بھی کیا کہ ممتاز ہر رسم میں بلکہ پوری تقریب میں سب سے آگے آگے تھی، شیر دل خان اور مجھ پر سے وار کر اس نے بے شمار نوٹ نائن اور میراثنوں کو دےے، گھر میں کام کرنے والی کمی عورتوںکے وارے نیارے یوں بھی ہورہے تھے۔ ممتاز نے اَن کے ہاتھ میں بھاری رقمیں پکڑا کے اَن کی عید کرادی۔

نانا بابا اَس کی راہوں میں بچھے جارہے تھے، اس کے کھانے کا خیال، اس کی باقی ماندہ ضرورتوں کا خیال، باہر کام کے لےے اَن کی ڈھنڈیا پڑی ہوئی ہے اور وہ ممتاز کے کمرے میں موجود ہیں، اس سے باتیں کر رہے ہیں۔ نانی ماں کا شک یقین میں بدل چکا تھا۔ اس کا اندازہ مجھے دوسری صبح ہوا۔ نانی ماں کے دل میں ایک مدُت سے ارمان تھا ہماری شادی کا۔ لیکن اس وقت وہ ہر بات سے بے نیاز لگ رہی تھیں بلکہ میری نانی اماں اور خالائوں سے اس بات کا برملا اظہار بھی کر چکی تھیں۔ نانی اماں اور ممانیاں، خالائیں سب کی سب اَن کے کمرے میں تھیں،نانی ماں رو رو کر بے حال ہورہی تھیں اور سب کی دی تسلیاں اور دلاسے بے کار جارہے تھے۔

شیر دل کو بھی اس بات کی خبر ہوچکی تھی۔ شبِ عروسی بھی ہم دونوں کی گفتگو زیادہ تر اسی موضوع پر ہی ہوئی تھی۔ شیر دل خان کو اپنی ماں سے بے حد پیار تھا۔ جان دے دینے کی حد تک۔ نانا بابا کی یہ حرکت اسے سخت ناگوار گزری تھی لیکن وہ نانا بابا سے کچھ کہہ نہیں سکتا تھا۔ سوائے اس دبے دبے احتجاج کے۔

’’بابا کو خوشی کے اس موقع پر یوں رنگ میں بھنگ نہیں ڈالنا چاہےے تھا۔ ماں جی کو دیکھا تم نے تاجور! ایک دن میں نچڑ کر رہ گئی ہیں۔ کون ہے یہ عورت؟‘‘

میںکیا جواب دیتی کہ وہ کون ہے؟ میں نے تو بس یہی دیکھا تھا کہ نانا باا اسے دیکھ کر کھلے پڑے تھے۔

’’اور اس بد ذات کو دیکھو بیوی کو ساتھ لےے لےے پھر رہا ہے ملانے لایا ہے بابا سے۔‘‘

شیر دل کے لہجے میں نفرت کا زہر تھا۔ میں چپ رہی۔

نانی ماں نے تو اپنا کمرا ہی سنبھال لیا۔ پھر باہر نہیں نکلیں، گھر کی فضائوں میں رچی بسی خوشیاں بھی گویا سہم سی گئیں۔ نانی اماں دبے لفظوں میں شکوہ کر رہی تھیں۔ بھائی کی اس دیدہ دلیری کا لیکن نانا بابا سے کہنے کی ہمت ان میں بھی نہیں تھی۔ دوسرے دن سارے مہمان رخصت ہوگئے، میں نے دلہناپے کا چولا اتار کر پورا گھر سنبھال لیا پھر سے، ممتاز اب بھی موجود تھی۔

تیسری صبح شیر دل خان ابھی بستر میں ہی تھا میں حسبِ عادت تڑکے ہی تڑکے جاگ گئی، نہا دھو کر نما زپڑھی باہر آئی تو دیکھا ممتاز اور نانا بابا ڈیوڑھی کے پاس کھڑے ہیں۔ کسی بات پر ہنس رہے ہیں میں اپنی جگہ پر رَک گئی۔

’’ہم تو ویسے بھی شکستِ خوردہ ہیں ممتاز! آج ایک اور احساس بھی ہمارے اندر اتار دو۔ ایک اور ہار بھی ہماری تاریخ میں لکھ دو، تم تو دنیا میں آئی ہی شکست دینے کے لےے ہو ہمیں۔‘‘

’’آپ بھی حد کرتے ہیں خان سائیں۔ جیت میری ہو یا آپ کی، بات ایک ہی ہے۔ چلےے، چلتے ہیں۔‘‘

وہ باہر نکلے تو میں تیز قدموں سے ڈیوڑھی کی طرف آئی، اس اثنائ میں نانا بابا اور ممتاز اپنے اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر گھر سے کافی آگے نکل چکے تھے۔

میں حیران سی کھڑی اَن دونوں کے الفاظ پر غور کرتی رہی۔

نانا بابا ممتاز کی ہمراہی میں جانے کدھر چلے گئے، میں اندر آئی تو نانی ماں اپنے چند جوڑے کپڑوں کی پوٹلی باندھے چادر اوڑھے غلام گردش میں کھڑی تھیں۔ شاید وہ بھی یہ تماشا دیکھ چکی تھیں۔

’’نانی ماں! آپ اتنی صبح اور یہ گٹھڑی؟‘

شیر دل خان جانے کہاں سے نمودار ہوا۔

’’کوئی ضرورت نہیں ہے اماں کے یہاں رکنے کی۔ یہ اپنے میکے جارہی ہیں اور میں تمہیں لے کر شہر چلاجائوں گا۔ نوکری کرلوں گا۔ بابا اپنی اَس چہیتی کو دل سے لگا کے رکھیں۔میں ماں کو چھوڑنے جارہا ہوں۔ شام تک لوٹ آئوں گا۔‘‘

یہ اَن دنوں کی بات ہے، جب سفر کے لےے بسیں، موٹریں نہیں تھیں۔ گھوڑوں اور اونٹوں پر سفر طے کےے جاتے تھے۔ سفر صحرائی علاقے کا تھا کیوںکہ نانی ماں کا تعلق روہی سے تھا اور یہ سفر اونٹ ہی باآسانی طے کر سکتے ہیں۔

’’میری بچی! مجھے معاف کر دینا۔ تیری ڈھیروں خوشیاں دیکھنا، تیرے بچے پالنا میرا ارمان تھا۔ مگر یہ میرے نصیب میں نہ تھا۔ عورت ہر بات برداشت کرلیتی ہے، اپنے مرد میں بٹوارا نہیں۔ دنیا کی ساری خوشیوں کو بٹوارے کا غم کھاجاتا ہے۔ میں نے سدا یہی سمجھا کہ یار محمد صرف میرا ہے۔ اس نے میری جگہ کسی اور کو دے دی ہے۔ دوسرے عورت کے حسن کا اسیر ہوگیا ہے میں اس کے دل میں نہیں رہی تو مجھے اَس کے گھر میں رہنے کا بھی حق نہیں، میں تو لوٹ کر نہیں آئوں گی، شیر دل تمہیں مجھ سے ملوانے لے آتا رہے گا میرے پاس۔‘‘

انہوں نے میرے رخسار تھپتھپاتے ہوئے میری آنکھوں میں جھانکا۔ اَن کی متورم سرخ آنکھیں بتارہی تھیں کہ وہ رات بھر سوئی نہیں ہیں اور روتی بھی رہی ہیں۔

شیر دل نے اَن کا ہاتھ تھاما اور بیرونی احاطے میں چلا گیا۔ جہاں نانی ماں کو سوار کرانے کے لےے اس نے اونٹ کو نیچے بٹھا رکھا تھا۔ میں بے زبان بنی اَن کو جاتا دیکھتی رہی۔ رنج مجھے بھی تھا ۔ نانا بابا کو یہ زیبا نہیں تھا۔ اَنہیں میرا اور شیر دل کا خیال کرلینا چاہےے تھا۔

میں نانی ماں کو جاتا دیکھتی رہی۔

’’یہ سب لوگ صبح ہی صبح کہاں چلے گئے ہیں۔ اور تم یہاں کیوں کھڑی ہو بیٹی۔‘‘

میں مڑی۔ ممتاز کا شوہر میرے عقب میں کھڑ امجھ سے پوچھ رہا تھا۔ نفرت کے ایک تیز ریلے نے مجھے احساس دلایا کہ میں اس سے سختی سے کہوں کہ تمہاری بے غیرتی اور تمہاری بیوی کی بے حیائی نے ہمارا ہنستا بستا گھر اجاڑ دیا ہے، لیکن میں ایسا نہ کہہ سکی۔

’’جی مجھے معلوم نہیں۔‘‘میں اتنا کہہ کر باورچی خانے کی طرف چلی آئی کہ مجھے ان مہمانوں کے لےے ناشتا بھی تیار کروانا تھا۔

سردی میں شدُت آگئی تھی کیوں کہ موسم کل شام سے ابرآلود ہوگیا تھا۔ اور اب پورا آسمان سیاہ و سرمئی بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا۔

باہر گھوڑوں کی ٹاپ ابھری۔

نانا بابا ممتاز کو لےے باورچی خانے میں آگئے۔ اَن کے پیچھے اس کا شوہر بھی وہیں آگیا۔

گرم گرم ورقی پراٹھوں کے ساتھ تازہ مکھن اور انڈوں کا خاگینہ کھاتے ہوئے دودھ پتی کی چائے پیتے ہوئے گاجر کے حلوے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے نانا بابا نے اتنا بھی نہیں پوچھا کہ تمہاری نانی ماں کہاں ہیں؟

سو میں نے بھی نہیں بتایا۔ ایک سرمستی اور خوشی اب بھی اَن پر طاری تھی۔ خود فراموشی کا عالم، وہ تو اَنہیں کسی کام کے سبب نانی ماں کے کمرے میں جانا پڑا تو انہیں نہ پاکر وہ میرے پاس چلے آئے۔

’’کہاں ہے تمہاری نانی ماں؟‘‘ انہوں نے عام انداز سے پوچھا۔

’’وہ اپنے میکے گئی ہیں۔‘‘ میں نے قطعیت سے کہا۔

’’میکے۔۔۔ کب؟ کس وقت؟ اتنے خراب موسم میں اور مجھ سے پوچھے بنا۔ نہیں نہیں۔‘‘

’’یہ سچ ہے نانا بابا۔‘‘ میں نے یقین دلانے کو کہا۔

’’مگر کیوں۔‘‘ وہ حیران تھے۔ ’’یہ کوئی جانے کا وقت تھا۔‘‘

میں چپ رہی۔

’’گھر میں مہمان موجود تھے اور اسے جانے کی پڑ گئی کس کے ساتھ گئی ہے؟‘‘

’’شیر دل خان کے ساتھ۔‘‘

’’اَس احمق لڑنے نے بھی مجھے نہیں بتایا۔‘‘

وہ غصے میں آگئے، میں نے کچھ بھی کہنا مناسب نہیں سمجھا۔

دوپہر کا کھانا کھا کر وہ بھی جانے کو تیار تھے۔ نانا بابا کے دل میں نانی ماں کے خلاف غصہ اپنی جگہ مگر ممتاز کورخصت کرتے ہوئے انہوں نے حد کر دی۔

نانی ماں کا صندوق کھول کر انہوں نے ڈھیر سارے اٰن سلے جوڑے، سونے کے کنگنوں کی ایک جوڑی، ایک چھاپ، ایک بوری چینی، پانچ بوریاں گندم، ایک بھینس (دودھ دینے والی) چار بکریاں، انڈوں کی ایک بھری ہوئی ٹوکری اور نہ جانے کیا کچھ اس کے ساتھ کر دیا۔

حد یہ کہ ہر چیز کے لےے ہنس ہنس کر مجھ سے مشورہ بھی کرتے رہے۔

تین نوکر اَن دونوں کے ساتھ بھیج دےے۔ جن میں سے ایک بھینس اور بکریاں ہانک کر لے گیا اور باقی سامان سے لدے اونٹ لے گئے۔ اور ستم در ستم کہ جس مشکی گھوڑے پر ممتاز نے صبح سواری کی تھی ، وہ بھی اسے بخش دیا۔ آتے ہوئے وہ میاں بیوی ایک گھوڑے پر آئے تھے، واپسی میں ممتاز کے لےے مشکی گھوڑا موجود تھا۔ نانا بابا کی ان عنایات پر اَس کا حسین ترین چہرہ خوشی اور مسرت سے تمتما رہا تھا۔

وہ جاچکی تھی مگر میں ایک ایک بات پر حیران تھی۔ نہ تھیں یہاں نانی ماں ورنہ اس وقت گھر کا ایک کارزار بن چکا ہوتا۔

میں باہر نہ جاسکتی تھی۔ لیکن ڈیوڑھی تک تو جاسکتی تھی۔ دروازے کی جھری سے میں باہر دیکھ رہی تھی۔ اور جو کچھ دیکھ رہی تھی، وہ میرے لےے انتہائی حیران کن تھا۔

نانا بابا اسے الوداع کہنے کے لےے آگے بڑھے تھے۔ ممتاز نے اپنا سر قدرے جھکا دیا تھا۔ اب نانا بابا کا بھاری مردانہ ہاتھ اَس کے سر پر تھا۔

اور میں جانتی تھی کہ ہمارے ہاں یہ طریقہ صدیوں سے مروج تھا۔ اس انداز میں بیٹیوں اور بہنوں کو رخصت کیا جاتا تھا۔

نانا بابا اور ممتاز کا تعلق میری سمجھ میں کچھ نہ کچھ آگیا تھا۔ میرے ذہن سے شکوک دور ہوگئے تھے مگر نانی ماں کے دل میں گھر جانے والا وہم اور شک یقین میں بدل چکا تھا۔ انہوں نے نانا باا کو یہ نہیں بتایا کہ بات کیا ہے، بس اَن سے ہمیشہ کے لےے دوری کا فیصلہ سنا دیا۔ لوگوں کے سمجھانے بجھانے پر کتنے سال بعد بھی جب خدا نے مجھے تین بیٹیوں کے بعد بیٹا دیا تب بھی وہ اس گھر میں نہ آسکیں۔ نانی ماں کے جانے پر نانا بابا چند سالوںمیں بوڑھے نظر آنے لگے۔ شیر دل خان کو بھی نانا بابا سے نفرت ہوگئی تھی۔ میں نے ہزار بار نانا بابا کی صفائی میں کچھ کہنے کی کوشش کی، شیر دل خان نے ہر بار میری بات شروع میں ہی کاٹ دی۔

’’تاج! تم بہت معصوم اور بھولی ہو، اس دنیا میں شرافت کے پردوں میں لپیٹ کر بدمعاشیاں کرنے کا رواج ہے۔ کسی کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے رخصت کردینے سے بہن، بھائی یا باپ، بیٹی کا رشتہ قائم نہیں ہوجایا کرتا۔ تمہیں خبر ہے وہ آج بھی ممتاز سے ملنے اس کے علاقے میں جایا کرتے ہیں، انہوں نے ایک بار بھی کسی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں سمجھی کہ ممتاز کون ہے؟انہیں کیسے ملی؟ اَن کے آپس میں کیا تعلقات ہیں؟‘‘

میں چپ ہورہی، کچھ پوچھتی بھی تو کیسے؟

پھر سالوں پہ سال گزرتے رہے، اَن میں ہمارے بچوںکے حوالے سے ملنے والی خوشی کے رنگ تو تھے، نانی ماں کی جدائی کا غم ہر حال میں شامل رہا تھا۔ نانا بابا اور اَن میں ہوجانے والی یہ علیحدگی ہم دونوں کے لےے خاصی تکلیف دہ تھی۔

اَس برس فصل کے موقع پر نانا بابا خاصے علیل ہوگئے تو سارا نظام شیر دل خان کو ہی سنبھالنا پڑا۔ (ویسے بھی شادی کے بعد سے وہ یہیں پر ہی تھا۔ نانا بابا نے اسے مزید تعلیم حاصل کرنے یا شہر میں رہائش رکھنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اور نانی ماں کی عدم موجودگی میں، میں بھی گھر میں سہمی سہمی رہا کرتی تھی، پھر دوسرے برس پہلا بچہ جو ہمارے آنگن میں اَترا تو اَس نے شیر دل خان کے پائوں میں مضبوط بیڑیاں ڈال دیں۔)

’’شیرو پَتر!ممتاز کے ہاں کچھ گندم بھجوادینا۔ تھوڑا ستُو بھی بنوادینا۔ ایک بوری باجرے کی الگ کروادی تھی میں نے، تھوڑی پیاز اور سرخ مرچیں بھی تھیں۔‘‘ وہ جانے کیا کیا کہے جارہے تھے۔

’’تم خود چلے جانا پَتُر! خوش ہوجائے گی کہ ہمیں آج بھی اس کا خیال ہے، بے چاری بیوہ ہوگئی ہے۔‘‘

شیر دل خان کے جسم کا سارا خون سمٹ کر اس کے چہرے پر آگیا تھا۔ اپنا غصہ چھپانے کے لےے اس نے سر جھکائے رکھا۔ وہ بہت کچھ کہنا چاہتا تھا پر اس نے حدِ ادب کے لحاظ سے کچھ بھی نہیں کہا۔ اور یقینا اس نے اپنے بابا کے حکم کی تعمیل کر دی۔

دوسری رات وہ مجھ سے شکوہ کناں تھا۔

’’ماں کو گئے اتنے سال ہوگئے ہیں۔ کبھی اس کے بارے میں بھی بابا نے سوچا۔ ایک دانہ گندم اَس کے لےے بھی بھیجا۔ کبھی اتنا بھی کہا کہ مجھے اس کے جانے کا ملال ہے یا یہ کہ تم جا کے اسے لے آئو۔ اور اَس حرُافہ، گشتی کے لےے کیسے روح پھڑک رہی تھی، بس نہیں چل رہا تھا خود ہی درِ اقدس پر حاضری دے آتے، بلوالیں اَسے، رکھ لیں اپنے پاس تاجور! اگر بابا کو دنیا کا ڈر نہ ہوتا تو ضرر اسے اپنے پہلو میں بٹھاتے۔ نوکر کے ہاتھ ایک لفافہ بھی بھیجا تھا انہوں نے، یقینا اپنا حالِ دل لکھا ہوگا۔ اس نے جواب بھی بھیجا ہے۔‘‘

واقعی ممتاز نے جواب بھیجا تھا اس کی خبر مجھے دوسری صبح ہوگئی۔

’’تاجو بیٹے!‘‘ میں ناشتا دینے گئی تو نانا بابا نے مجھے پکارا۔

’’جی نانا بابا!‘‘

’’بیٹے! ممتاز آرہی ہے آج۔ اس کے لےے کمرا ٹھیک کرادینا۔‘‘ لحظہ بھر میں چپ رہی۔ وہ میرا منہ تک رہے تھے۔

’’کیا سوچ رہی ہو بیٹی؟‘‘

’’کچھ نہیں۔ کچھ نہیں نانا بابا۔ ٹھیک ہے میں ابھی کمرا درست کرادیتی ہوں۔‘‘

’’اور کھانے پر بھی کچھ۔۔۔ میں نے گاموں سے کہہ دیا ہے، گوشت ابھی آتا ہوگا کسی اور سودا سلف کی ضرورت ہو تو بتا دینا جا کے شہر سے لے آئے گا۔‘‘

’’اچھا نانا بابا!‘‘ وہاں سے میں کیاسوال کرتی جہاں شیر دل خان بولنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔

میں باورچی خانے میں آکے کام میں جَت گئی۔ کھانے کی تیاری سے فارغ ہوئی تو کمرا ٹھیک کروایا۔

گھوڑے کے قدموںکی ٹاپ سن کر میں صحن میں آئی۔ باگیں ہاتھ میں تھامے، مسکراتے چہرے کے ساتھ ممتاز میرے سامنے تھی۔ ایک جست میں نیچے اتری، دوڑ کر میرے قریب آئی۔

’’ارے تاجور! یہ تَو ہے۔ وہی دھان پان سی لڑکی۔ ارے کیسی زبردست عورت ہوگئی ہے اب۔ قسم سے نظر ہی نہیں ٹھہرتی اب تو تجھ پر۔‘‘

اس نے بے تابی کے ساتھ مجھے گلے لگا کر میری پیشانی چوم لی۔

’’خان سائیں ٹھیک ہی کہتے تھے، تیرے حسن سے کسی کا کیا مقابلہ۔‘‘

وہ اب بھی مجھے ایک ٹک دیکھ رہی تھی۔

’’میںنے تو تجھے پہچانا ہی نہیں۔‘‘ اس نے میرے رخسارچوم لےے۔ مجھے حجاب سا آیا۔

’’خان سائیں کہاں ہیں؟ تم لوگوں نے مجھے خبر کیوں نہیں کی؟ اچھے وقت کی ساتھی تو ساری دنیا ہوتی ہے۔ دوست تو وہی جو برے وقت میں کام آئے۔‘‘

’’نانا بابا اپنے کمرے میں لیٹے ہیں، آپ جائےے اندر۔‘‘

گھوڑے کا رسُہ ایک ستون سے باندھتے ہوئے وہ اندر چلی گئی۔

میں نے اس کا ناشتا ان کے کمرے میں ہی بھجوا دیا۔ خود اندر نہیں گئی۔

پھر بچوں کونہلانے دھلانے اور گھر کے دوسرے کاموں میں خاصا وقت گزر گیا۔ تو مجھے احساس ہوا کہ مجھے ممتاز کے پاس جانا چاہےے۔ سو میں چل دی۔

لیکن!

اندر سے آتی آوازوں نے میرے قدم دروازے پر ہی روک دےے۔

’’اَس کی زندگی ہی کیا خان سائیں! جس کے آس پاس دور دور تک محبت بھرا ایک دل نہ ہو، کوئی پیارا نہ ہو۔ آپ میرے لےے کیا ہیں۔ یہ آپ کو کیا معلوم، یہ تو خود مجھے بھی معلوم نہیں۔ آپ۔۔۔ آپ تو آسمان ہیں۔‘‘

’’نہیں ممتاز! ہم تو زمین بھی نہیں، آسمان تو ہمیں تم نے بنا دیا ہے، ہم اپنی اَس زندگی پر غور کرتے ہیں تو ہمیں ندامت ہوتی ہے، تم ہماری زندگی میں نہ آتیں تو جانے ہمارا کیا ہوتا۔ راز کب تک راز رہتا ہم اپنے بچوں کی نظر میں کتنے ہلکے ہوجاتے، وہ ہمیں کس نظر سے دیکھتے؟‘‘

’’نہیں خان سائیں! ایسا نہیں ہے۔ آپ غلط سوچتے ہیں۔‘‘ آپ کتنے بلند ظرف اور عظیم، کتنے وزن دار ہیں۔ یہ میںجانتی ہوں۔ آپ میں انسانوں کی تقدیریں بدل دینے کی طاقت ہے، آپ نے ممتاز کو ایک عورت بنادیا ہے۔ اپنی محبت کے بھربےکنار سے اس کی ساری پیاسیں بجھادی ہیں۔ اَسے محرومی کی دلدل سے نکال دیا ہے، اس میں جذبۂ ہمدردی بھر دیا ہے، خان سائیں! آپ۔۔۔آپ۔۔‘‘

شاید وہ رونے لگی تھی۔

’’ہونہہ چڑیل کہیں کی، انہی ناز و ادا سے تو اَس نے نانا بابا کے ہوش چھین لےے ہیں۔‘‘

’’روئو نہیں ممتاز! آنسوئوں کا اور تمہارا کوئی میل نہیں کوئی جوڑ نہیں۔ تم ایک جی دار اور بہادر عورت ہو۔ تم پر تو میں بے حد مان کرتا ہوں۔ اور تمہارے آنسو مجھے تمہاری محرومیوں کے رہگزاروں میں لے جاتے ہیں۔ دکھوں کا ادراک ہوجائے تو اذیتیں بڑھ جاتی ہیں۔ اَن دکھوں کو بھول جائو اور اس بات کو یاد رکھو کہ میں تمہارا ہوں، تمہارا اپنا، بقول تمہارے تمہارا سب کچھ۔‘‘

میں اندر نہ جاسکی۔ حقیقتوں سے آگاہی نے میرے جسم و جان کی ساری قوتیں چھین لیں۔ یہاں تک کہ واپس پلٹنے کی طاقت بھی۔

’’خان سائیں! خان زادی نظر نہیں آئیں۔ کہیں گئی ہوئی ہیں وہ؟‘‘

’’ہاں ممتاز!‘‘

’’کب؟ کیا انہیں آپ نے میرے آنے کی خبر نہ دی تھی۔‘‘

’’نہیں۔‘‘

’’کیوں؟‘‘

’’وہ یہاں ہوتی تو۔‘‘

’’کیا مطلب؟ وہ پہلے سے نہیں تھیں گھر پر مگر خان سائیں! آپ کی یہ حالت۔‘‘

’’وہ تو۔۔۔ ممتاز! وہ تو ایک مدت سے یہاں سے چلی گئی ہے۔‘‘

’’نہیں۔‘‘

’’ہاں ممتاز! وہ ہمیشہ کے لےے یہ گھر چھوڑ گئی ہے۔‘‘

’’مگر کیوں؟‘‘

’’اَس نے مجھے وجہ نہیںبتائی تھی۔ لیکن میرے اندازے کہتے ہیں کہ اس کی وجہ تم ہو۔‘‘

’’میں۔۔۔‘‘

’’ہاںممتاز تم۔ صرف خان زادی نے یہ گھر نہیں چھوڑا شیر دل نے بھی مجھ سے نفرت کی ہے۔ تاجور نے بھی مجھ پر گمان کیا ہے۔ یہ سب مجھ سے دور ہوگئے ہیں۔ ان سب کے من میں، نگاہوںمیں دل میں ایک ہی سوال ہے ممتاز کون ہے؟ ممتاز کون ہے؟ اور اس سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں۔ میں انہیں نہیں بتا سکا کہ تم کون ہو؟

کیوں کہ یہ بتانے کے لےے مجھے یہ بھی بتانا پڑتا کہ میں کون ہوں؟ اور یہ میں نہیں بتا سکتا۔‘‘

’’خان سائیں! یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ آپ نے ممتاز کا اصل چھپانے کے لےے اپنا گھر اجاڑ دیا۔ محبتوں سے خالی ہوگئے، بدگمانیوں کے خار زاروں میں گھر گئے۔ نہیں خان سائیں نہیں۔ یہ بتانے میں حرج ہی کیا تھا کہ ممتاز۔۔۔‘‘

وہ رک گئی کچھ کہتے کہتے۔

’’آپ نے اسے نیک دل انسان بنا دیا۔ آپ نے میری اصلیت چھپانے کے لےے اپنا آپ مصیبت میں ڈال لیا خان سائیں۔‘‘

’’نہیں ممتاز! نہیں۔۔۔ یہ بتانے کے لےے یہ بتانا بھی ضروری ہوجاتا کہ میں چور تھا۔‘‘

دھم۔۔ دھم۔۔ دھڑام۔

اندر باہر دھماکے سے ہونے لگے۔ یوں لگا کئی فلک بوس عمارتیں ایک ساتھ گر گئی ہیں۔

’’نہیں نہیں۔۔۔ ہر گز نہیں۔ میں اس گھر کے کسی ایک فرد کو بھی یہ نہیں بتا سکتا کہ میں چور تھا۔ بزدل، اندھیرے میں انسانوں کو لوٹ لینے والا، نقب زنی کرنے والا۔‘‘ نانا بابا رو رہے تھے۔

میں حیران و ششدر کھڑی تھی۔ الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے تھے۔ میرا جسم کانپ رہا تھا۔ ماضی کی ایک ایک بات میری نظروں کے آگے پھر رہی تھی۔

’’خان سائیں! آپ کیوں رو رہے ہیں؟‘‘

’’کیوں نہ روئوں ممتاز! کیسے نہ روئوں؟ پانچ بڑی بہنوں کا اکلوتا چھوٹا بھائی تھا میں۔ ماں باپ کا بے حد لاڈلا، نازک مزاج، جلد روٹھ جانے والا، روہی میں ہرنوں کا شکار کرتے کرتے بن کی ایک ہرنی کو پسندکر بیٹھا۔ اس کے اور میرے خاندان میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ میرے بابا اپنے علاقے کے بہت بڑے زمیندار تھے، اس کے ماں باپ صحرا کے باشندے جن کا ٹھکانا موسموں کے ساتھ بدلتا رہتا تھا۔ مجھے اس کے نمکین حسن نے ہی نہیں اس کی ہمت اور بہادری نے بھی اپنا اسیر بنایا تھا۔ میری ضد پر وہ اسے بیاہ لائے، اسے مجھ سے ہمیشہ شکوہ رہا کہ میں دل پھینک عاشق مزاج بندہ ہوں۔ مگر ایسا نہیں تھا، ہر حسین چہرہ خوامخواہ توجہ کھینچ لیتا ہے ہر انسان کی، اور دیکھنا فطری تقاضوں میں شامل ہے مگر ہر دور میں عورتیں خود ہی میری طرف کھنچی چلی آتیں۔ میں نے کسی کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔

میں اَن مردوںمیں سے تھا ہی نہیں۔ وفاداری کے مفہوم سے آشنا تھا۔ اسے لوگوں نے میرے بارے میں شکوک میں مبتلا کر دیا تھا۔ میرا رات کو گھر سے باہر رہنا کسی اور مقصد کے تحت ہوا کرتا تھا ۔ وہ کچھ اور سمجھتی تھی۔ اَس کی باز پرس اَس کا شک مجھے مزا دیتا تھا، جب وہ روتے روتے میرا گریبان پکڑ کر مجھے جھنجھوڑ ڈالتی تو میرا من شانت ہوجاتا۔ شکوے شکایات بھی محبت کرنے والے ہی کو ہوتے ہیں۔

مگر۔۔۔ مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ تمہاری وجہ سے گھر بھی چھوڑ جائے گی۔ ممتاز! میں اسے نہیں بتا سکا اور نہ بتا سکتا ہوں۔ میں تو خود کو بھی باور نہیں کراسکا کہ تم میری کون ہو؟ کیا ہو؟ میں سوچتا ہوں۔

تم میرے لےے ماں جیسی ہو۔

تم میرے لےے بہن ہو۔

تم میرے لےے بیٹی ہو۔

نہیں نہیں، تم۔۔ تم ان سارے رشتوں کو ملا کر جو رشتہ بنتا ہے تم وہ ہو ممتاز۔ وہ ہو، جب میں نے تمہیں یقین دلایا کہ بھری دنیا میں کوئی تمہارا ہے تب میں تمہارے لےے باپ اور بھائی تھا۔ جب تم نے مجھے حکم دیا کہ میں چوری چھوڑ دوں، تب میں نے یوں محسوس کیا کہ تم میری ماں جیسی ہو۔‘‘

یہ میں کیا سن رہی تھی۔ یہ کیا سنا تھا میں نے۔

ارے یہ سسکیاں۔ یہ تو نانا بابا رور ہے ہیں اور۔۔۔ اور ممتاز بھی۔

ایک مدُت بعد میرے دل کو سکون ملا تھا۔ ایک مدُت بعد جسم و جاں میں کَھبی خلش دور ہوئی تھی۔ کتنی ہلکی پھلکی ہوگئی تھی میں۔ جی چاہ رہا تھا۔ ہوائوں میں جھومتی گاتی پھروں، نانا بابا ایک عام مرد نہیں تھے۔ وہ تو عظیم انسان تھے۔

مگر۔ وہ کہہ رہے تھے کہ وہ چور تھے پھر ایک پھانس سینے میں اٹک گئی۔

وہ چور کیسے ہوسکتے تھے۔ ممکن ہے میں نے غلط سنا ہو۔

مجھے مغالطہ ہوا ہو۔ میرے کان بجے ہوں۔ میں نے خود کو دلاسا دیا۔

اور پھر ان کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

ان لمحوںمیں میرے دل میں ممتاز کے خلاف کوئی غبار نہ تھا۔ اس کی اصلیت خواہ کچھ بھی رہی ہو۔ بے شک اس کا تعلق کوٹھے سے ہی کیوں نہ ہو اس گھر میں وہ ماں بہن بیٹی کے رشتے میں بند کر آئی ہے۔ میرے روےے ایک دم بدل گئے۔

’’آئو آئو تاجور! رَک کیوں گئی ہو۔‘‘

نانا بابا نے کہا۔ میں ان کے پلنگ کے قریب آگئی۔

’’کھانا تیار ہے نانا بابا!‘‘

’’تو لے جائو نا ممتاز کو۔ یہ کوئی مہمان تھوڑی ہے۔ باورچی خانے میں کھالے گی۔‘‘

’’نہیں خان سائیں! اس گھر کا دانہ پانی اس وقت تک حرام ہے مجھ پر، جب تک خان زادی واپس نہ آجائیں۔‘‘

نانا بابا شکستہ انداز میں مسکرادےے۔

’’وہ بہت ضدی عورت ہے ممتاز!‘‘

’’میرے پاس پیار کا ہنر ہے خان سائیں! میں نے آپ سے سیکھا ہے۔ ضد کے پہاڑ محبت کے رشتوں سے ٹوٹ سکتے ہیں۔‘‘

’’اب تو اس کے دل میں شک کا نہیں یقین کا بسیرا ہے۔‘‘

’’میں سچ سے یقین کی نوعیت بدل سکتی ہوں خان سائیں!‘‘

وہ اٹھی، باہر آئی۔ ستون سے بندھے گھوڑے کا رسُا کھولا۔ گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہوئی۔ مجھ سے جاتے جاتے نانی ماں کے علاقے کا پتا پوچھا اور گھوڑے کو ایڑ لگادی۔

ً ً ً

شام کے اندھیروں سے پہلے ہی وہ نانی ماں کو لے کر لوٹ آئی۔ کتنے سال بیت گئے تھے نانی ماں کو اس گھر سے دور گئے۔ وہ آئیں تو لگا زندگی نئے رنگ میں ہمارے ارد گرد پھیل گئی ہے۔

رات کا کھانا کھانے کے بعد سب بڑے سارے صحن میں جمع تھے۔ میرے چاروں بچے سو چکے تھے۔ نوکر ڈیرے پر تھے، نوکرانیاں پچھواڑے کے صحن میں۔ ممتاز اور نانی ماں ایک ساتھ بیٹھی تھیں۔

’’خان سائیں!‘‘ ممتاز نے نانا بابا کو پکارا۔

’’ساری بات آپ بتائی گے یا میں؟‘‘

’’نہیں ممتاز! اعتراف کرنے میں ایک عمر لگادی ہم نے اپنی زبانی ہی سنائیں گے تو لطف کچھ اور ہوگا، شیر دل! بیٹے ادھر میرے پاس آجائو۔‘‘

نانا بابا نے اپنے پہلو میں شیر دل کے لےے جگہ بنائی۔

’’یہ کہانی اَن دنوں سے شروع ہوتی ہے جب میں اٹھارہ برس کا جوان تھا۔ چوری کرنا پیشہ ہوتا ہوگا پر میرا مشغلہ چوری تھا۔ آج تک کوئی اس بات سے آگاہ نہیں کہ میں نے سال کے تین سو پینسٹھ دنوں میں سو بار چوری ضرور کی ہوگی۔‘‘

شیر دل نے حیران ہو کر نانا بابا کو دیکھا۔ مجھے کچھ نہ کچھ علم تھا اسی لےے مجھے حیرانی نہیں ہوئی۔

’’اپنی خوبی جس پر مجھے آج بھی ناز ہے، صرف میرے ہی علم میں تھی۔ میں رات ہی رات میں ساٹھ ستر میل سفر طے کر کے کامیاب واردات کے بعد صبح دم گھر پہنچ جایا کرتا تھا۔ اس مشغلے سے میں پورے بیس سال لطف اندوز ہوتا رہا۔ مشرق، مغرب، جنوب، شمال چاروں طرف کوئی علاقہ ایسا نہ تھا جو میری دستِ برو سے محفوظ ہو۔ دن کے اجالوں میں پنچایتی فیصلے کرنے والا زمیندار نمبردار یار محمد خان کامیاب چور ہے۔ یہ بات کسی کے سان و گمان میں بھی نہ تھی۔ شاید یہ خامی تھی میری ، پندرہ بیس سیر وزن اٹھا کے میں تیز نہیں چل سکتا تھا۔ اس خامی کے سبب میں نے اکثر بیش قیمت قیمتی پارچات یونہی رہنے دےے تھے اور چرایا ہوا سار ا گہنا اور پیسہ میں غریبوں میں ضرورت مندوں کو دے دیا کرتا تھا۔

اپنے تئیں مجھے یہ فخر تھا کہ علاقے میں دور دور تک مجھ سا بہادر اور جی دار کوئی نہ ہوگا۔ تنہا جاتا، واردات کرتا اور لوٹ آتا۔ کسی معمولی سی واردات سے لے کر بڑے واقعے تک کسی میں میرا نام کبھی نہیں آیا تھا۔

شاید میں انسان تو کجا جانوروں کو بھی اپنے اس راز میں شریک نہیںکرنا چاہتا تھا۔ تبھی پیدل چلنا میں نے اپنا شوق ہی نہیں رہنے دیا تھا، ضرورت بنالیا تھا۔

وہ گرما کی ایک خوش گوار رات تھی۔ اندھیری سیاہ رات، میں اپنے گھر سے تقریباً آتھ بجے نکلا تھا اور دو گھنٹوں میں احمد پور تک آن پہنچا تھا۔ابھی مجھے کافی آگے جانا تھا۔ راستے میں ایک جنگل پڑتا تھا۔ تیز چلتی ہوا نے جنگل کو پراسرار بنا رکھا تھا۔ اپنے چہرے کوپگڑی کے اک حصے میں چھپائے انتہائی تیز رفتاری سے آگے بڑھا جارہا تھا کہ مجھے کافی آگے ایک انسانی ہیولہ جاتا دکھائی دیا۔

جی دار ہونے کے باوجود میں ڈر گیا، اتنی رات گئے جنگل عبور کرنے والا یہ شخص کون تھا آخر۔

میں نے رفتار اور تیز کر دی۔ لیکن قریب جاکر حیران سا ہوگیا۔ وہ جو بھی تھا چہرہ سیاہ نقاب میں چھپائے، میرے سامنے تھا۔ اور اس کی دو نالی بندوق کا رخ میرے سینے کی طرف تھا۔

زندگی میں پہلی بار رات کے گہرے سنُاٹوں میں کسی انسان کا سامنا کرنا پڑا تھا ایک چور کی حیثیت سے۔

’’کون ہو تم؟ رات گئے اس جنگل میں کیا کر رہے ہو؟‘‘ آواز میں بلا کا رعب تھا۔

اس کے چہرے پر موجود نقاب اور ہاتھ میں پکڑی رائفل نے مجھے سمجھا دیا کہ وہ کون ہے؟

’’جو بھی ہوں۔ تمہارا دشمن نہیں ہوں بلکہ تمہاری قبیل کا ہوں۔‘‘ میں نے اندھیرے میں تیر چلا دیا۔

’’کیا مطلب؟‘‘

’’بھائی میرے! کالے کو کالے سے نہیں پوچھنا چاہےے کہ وہ کون ہے؟ کیونکر ہے؟‘‘ میں نے بات کو مزاح کا روپ دینے کی کوشش کی۔

’’اوہ! سمجھ گیا میں۔ تو تم چور ہو۔‘‘

’’برادری والے کو جلد پہچان لیا تم نے بھائی۔‘‘

میں دل میں تھوڑا خوف زدہ بھی تھا ہوسکتا ہے میرے بارے میں پولیس کو خبر ہوگئی ہو اور چور کے روپ میں کوئی پولیس والا ہی میرے سامنے ہو۔

’’ہا۔ ہا۔ ہا۔۔۔ چوری اور تم۔۔۔ نہ ہاتھ میں بندوق نہ سواری کے لےے کوئی طوفانی گھوڑا، کہاں سے آرہے ہو؟‘‘

’’بہت دور سے۔‘‘

’’پیدل ہی۔‘‘

’’ہاں۔ روز کا معمول ہے۔ ایسے ہی آتا اور جاتا ہوں۔‘‘

میںنے سوچ لیا تھا اگر یہ بندہ پولیس کا نکلا تو صاف مکر جائوں گا تھانے میں اور کہہ دوں گا کہ اَچ شریف میں اپنے ماموں زاد سے ملنے جارہا تھا۔ تمہارے آدمی نے چور ہونے کے شبہ میں پکڑ لیا۔

مگر کہاں؟ اس بندے کی مجال ہی کیا جو مجھے پکڑ سکے، اس نے گڑبڑ کی تو رائفل کا بٹ اس کے سر پر مار کے خود بھاگ جائوں گا۔ میں نے سوچ لیا۔

’’یار! میں مان نہیں رہا کہ تم چور ہو۔‘‘

’’اور کیسے ہوتے ہیں چور۔ گو میں نے سدا اکیلے ہی واردات کی ہے۔ لیکن اگر تم بھی چور ہو تو چلو آج اکٹھے ہی چلتے ہیں۔ یقین آجائے گا میرے ہاتھ کا ہنر دیکھ کر۔‘‘

’’تمہارے ساتھ تو چلوں مگر میرے پروگرام کا کیا ہوگا۔ میں تو آج ٹائم دے رکھا ہے کچھ لوگوں کو۔‘‘

’’کیا مطلب؟ کیا تمہارے اور بھی ساتھی ہیں۔‘‘

’’ساتھی نہیں ہیں۔ اَن لوگوں کو وقت دے رکھا ہے جن کے ہاں ڈاکا ڈالنا ہے۔ چلو ایسا کرتے ہیں پہلے تمہاری تاک پر اور پھر میری تاک پر۔‘‘

’’ٹھیک ہے۔‘‘

اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا۔

’’پورے بارہ بج رہے ہیں۔‘‘

میں نے گھڑی دیکھی واقعی بارہ کا وقت تھا۔ ہم نے قدم اور تیز کر دےے۔ میں یہ دیکھ کر حیران تھا کہ اس کے قدم مجھ سے بھی آگے پڑ رہے تھے۔

’’تیز چلو نا یار! میں نے تمہاری وجہ سے قدموں کو ہولا رکھا ہوا ہے۔ رفتار روک کر چل رہا ہوں۔‘‘

میری غیرت پر چوٹ لگی۔ میں نے بھی رفتار اپنی پوری قوت صرف کر کے تیز کر دی۔ وہ باتیں بھی کےے جارہا تھا اس کے پوچھنے پر میں نے جائے وقوعہ کا پورا نقشہ اسے سمجھا دیا۔

’’نقب زنی والی بات کچھ عجیب نہیں۔ یار! سیدھے راستے سے جا کر مال اڑالانے کی بات ہی کچھ اور ہے۔‘‘

مجھے ایک بار پھر شک ہوا۔ وہ کوئی چور ڈاکو نہیں تھا۔ یقینا پولیس کا بندہ تھا اور باتوں باتوں میں اقرارِ جرم کرائے جارہا تھا۔

ہم مطلوبہ مقام پر پہنچ گئے۔ یہ اندرونِ شہر کی ایک گلی میں موجود ایک نیم پختہ حویلی تھی، کسی علاقائی زمیندارکی۔ دو چار دن پہلے ایک پنچایتی فیصلے کی غرض سے مجھے یہاں آنا پڑا تھا۔ میں قیافوں اور اندازوں سے جان لیتا تھا کہ اس گھر میں ’’مال‘‘ کہاںہوگا۔ کبھی کبھی گھر کے ملازموں سے باتوں ہی باتوں میں یہ سب معلوم کرلینا میرے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ ان کے فرشتوں کو بھی شک نہیں ہوتا تھا۔

اَس رات بھی میرے پاس پوری معلومات تھیں۔ ہم دونوں چھت کاٹ کر صندوق والے کمرے میں پہنچ گئے۔ اس نے پل میں تالے کھول دےے۔ قیمتی پارچات، زیوروں اور پیسوں کا ڈھیر ہمارے سامنے تھا۔

اس نے سارے قیمتی کپڑے ایک بڑے صندوق میں بھر لےے۔

’’یہ۔۔۔ یہ ۔۔ ان کا کیا کرو گے؟‘‘

’’ظاہر ہے ساتھ لے جائیںگے۔‘‘

اَس نے تھوڑی دیر میں سارا سامان گلی میں پہنچا دیا۔ میں بھی باہر آگیا۔ صندوق اس کے سر پر تھا۔ پندرہ منٹ میں ہم مضافات کی طرف آگئے۔ اس کی منزل شاید قریبی دیہات تھی۔

’’سنو تم سامان کے پاس رک جائو۔ میں ابھی آتا ہوں۔‘‘

’’کیوں؟ کیا میں ساتھ نہیں چلوں گا۔‘‘

’’نہیں۔ وہ کام صرف میرا ہے۔‘‘ اس نے قطعیت کے ساتھ کہا۔

میں وہیں بیٹھ گیا۔

اسے واپس آنے میں ڈیڑھ پونے دو گھنٹے لگے۔ اب کے بھی ایک بھاری صندوق اس کے سر پر تھا۔ صبح کا اجالا رات کی سیاہی دھونے کے لےے ہمارے آس پاس ہی کہیں تھا۔ میں جو پندرہ سیر کا وزن اٹھا کر چلنے سے قاصر رہتا تھا بھاری صندوق اٹھانے کے خیال سے مجھے پسینہ آگیا۔ لیکن صندوق تو مجھے اٹھانا ہی تھا۔

ابھی آدھ میل سفر ہی طے کیا ہوگا کہ میرے قدم سست پڑنے لگے۔ وہ ہنس دیا۔

’’تھک گئے نا۔ بڑے چور بنے پھرتے ہو، آئندہ پیدل نہ چلنا۔ اس مال سے کوئی عمدہ گھوڑا خریدلینا۔‘‘ اس نے چوٹ کی میری بہادری پر۔

’’لائو یہ صندوق میرے سر پر رکھ دو۔ جب میرا گھر قریب آجائے گا تو مجھ سے لے لینا۔‘‘

میں نے ہار ماننے میں ہی عافیت سمجھی۔ اَس کا گھر بہت جلد آگیا۔

’’اچھا بھائی۔ اب انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ہم دونوں سارامال آدھا آدھا کرلیں۔‘‘

’’نہیں نہیں۔‘‘

’’کیوں نہیں، آخر اس ساری محنت میں ہم برابر کے شریک ہیں۔ آئو وہاں درختوں کے جھنڈ میں بیٹھ کر ہم حصے بنا لیتے ہیں۔‘‘

میں اب بہت گھبرایا۔ صبح دم ہاتھ میں تسبیح لےے جب میں مسجد میں داخل ہوتا ہوں۔ اذان ہوتے ہی وضو کر کے نمازیوں کی صف میں پہلے نمازی کے طور پر کھڑا ہوتا ہوں، تو کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ رات کہاں رہے، کسی نے صبح دم سر پر اتنا بڑا صندوق اٹھائے اپنے موضع میں داخل ہوتے دیکھ لیا تو پوچھیں گے نہیں کہ یہ کیا ہے۔

’’جوان! بات یہ ہے کہ میں یہ سارا کچھ بطورِ انعام تمہیں دینا چاہتا ہوں، تمہاری بہادری کے سبب۔‘‘

’’نہیں کبھی نہیں۔ میںنے اپنے دست و بازو کی قوت سے لوگوں سے ہر دم چھین کر لیا ہے۔ کسی سے بخشش نہیں لی۔ یہ آدھا مال تمہارا ہے۔ بلکہ تمہیں ضرورت ہو تو سارا لے جائو۔‘‘

اس کے لہجے کی پختگی نے مجھے سب کچھ سمجھا دیا۔

’’دیکھو دوست! اس وقت مجھے جانے دو، اپنے گھر کا پتا دو، پرسوں میں آجائوں گا تمہارے ہاں، مال بانٹ لیں گے، مگر اس وقت نہیں۔‘‘

اس نے پل بھر کچھ سوچا، پھر بولا۔

’’جو تمہاری مرضی۔ وہ سامنے دیکھو۔ یہ جو کچُا راستا جارہا ہے اس پر ایک کوس چلنے کے بعد دائیں طرف مڑجانا۔ دس بارہ ایکڑ آگے جانے پر ایک کنواں آئے گا ۔ پرسوں شام سے قبل میں تمہیں چلتے رہٹ کی گدی پر بیٹھا ملوں گا۔ دن کے اجالے میں پہچان نہ پائوں تو یاد کرادینا آج کی رات۔ پھر ہم دونوں میرے گھر چلے چلیں گے۔ بھولنا نہیں۔‘‘

’’ٹھیک ہے رب راکھا۔‘‘

’’رب راکھا۔‘‘

اگلا دن میں اَسے ہی سوچتا رہا۔ اور حیران ہوتا رہا۔ زمانے میں اور بھی برق رفتار تھے۔ صرف میںہی نہ تھا۔ دو بھاری صندوق سر پر رکھ کر اس کا مردانہ وار چلتے چلے جانا مجھے اب بھی یاد تھا۔ خدا خدا کر کے دوسرے دن کا سورج طلوع ہوا۔ دوپہر ہوئی، میں نے جانے کی تیاری شروع کر دی۔ سفید برُاق کرتے، سفید تہہ بند کلف لگے پٹکے میں طرُہ نکالے میں مشکی گھوڑے پر سوار تھا۔ پیر میں موجود طلائی کھسُہ چمکتی رکاب میں پھنستا تھا اور میں گھوڑے کو ایڑ لگا رہا تھا۔

وقتِ مقررہ پر میں اَس کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ گیا۔ رہٹ دور سے نظر آرہا تھا۔ میں نزدیک جا کر اتر پڑا۔ گھوڑے کو پیاس لگی تھی۔ وہ چلتے پانی کی طرف لپکا میں نے رہٹ کی گدی کی طرف دیکھا۔

’’مگر یہ کیا؟‘‘

میں حیران و ششدر وہاں کھڑا تھا۔

گدی پر ایک صدیوں کا مریض منحنی سا شخص بیٹھا تھا۔ کہ میرے خیال میں اَس سے دو قدم چلنا بھی محال تھا۔ میں اس کے سامنے کھڑا اَسے تکے جارہا تھا۔ اس نے بیلوں کو روک دیا۔

’’میں یار محمد خان ہوں، ملک پور کا نمبر دار، عیسیٰ خان سے ملنے آیا ہوں۔ پرسوں رات۔۔۔‘‘

’’خاناں، تو بھول گیا ہے میں تو تجھے نہیں بھولا۔ پہچان لیا ہے میں نے تجھے۔‘‘

وہ گدی سے اتر کر مجھ سے ملا۔

میں پھر حیران ہوا۔

’’تو وعدے کا پکُا نکلا۔ جو وقت بتایا تھا اسی پر ہی آیا ہے۔‘‘

’’تم نے خود ہی مال بانٹنے پر اصرار کیا تھا۔‘‘ میری نظریں اب بھی اس کے وجود کو ٹٹول رہی تھیں۔

’’مال کہاں ہے؟‘‘

’’یہاں لے کے تو نہ بیٹھتا۔ گھر چل نا خاناں۔ وہیں پر بٹوارہ ہوگا۔ کسی نے اَس کو ہاتھ نہیں لگایا۔ تیری عدم موجودگی میں، میں اسے کھولتا بھی کیسے۔‘‘

اجنبی وجود غیر شناسا آواز۔ میں دم بخود تھا۔

گھوڑے نے پانی پی لیا تھا اس نے باگ تھام لی۔ میں اس کے ساتھ ہولیا۔ وہ بہت آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔

وہاں سے چلے پندرہ بیس منٹ ہوئے تھے کہ شام کے اندھیرے رات کا پتا دینے لگے۔ میں حیران تھا پندرہ بیس منٹ میں ہم نے صرف چند ایکڑ فاصلہ طے کیا تھا۔

’’متاز۔۔۔ ممتازے دیکھ نا خان آیا ہے۔‘‘

اس نے ایک کچے احاطے میں داخل ہو کے آواز دی۔ ایک سروقد خوب صورت نوجوان عورت میرے سامنے تھی۔

سفید کرتے اور سیاہ کنُی والے سفید لاچے میں شیفون کا کڑھائی والا دوپٹُا اوڑھے۔

’’سلام خان!‘‘

’’وعلیکم السلام!‘‘‘

وہ رسوئی میں چلی گئی۔ میں نماز پڑھنے لگا۔

جب نماز پڑھ چکا تو دیکھا صحن کے ایک کونے میں دہکے تنور پر روٹیاں لگا رہی تھی وہ۔

پل بھر میں اس نے ایک تخت پر دستر خوان بچھا کے کھانا چَن دیا۔

بھنا ہوا مرغ، تنوری روٹیاں، سویوں کا زردہ اور جانے کیا کیا۔

ایک ایک شے پَر لطف اور ذائقے دار۔

وہ ہم دونوںکے پاس ہی موجود رہی۔ کورے گھڑے کا ٹھنڈا پانی پی کر میں سیر ہوگیا اور کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا۔

قریب ہی اونچے اونچے پلنگوں پر سفید چاندنیاں بچھی تھیں۔ ممتاز نے ایک بڑا سا گائو تکیہ میرے سرہانے لا رکھا۔ خود دوسرے پلنگ پر بیٹھ گئی عیسیٰ خان بھی حقہ لے کر وہیں آبیٹھا۔

میں بے چین تھا اپنی بات کہنے کے لےے لیکن عیسیٰ خان کو پروا ہی نہیں تھی۔ میں اسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ مجھے دینے پر ہی مصر ہے تو کچھ رقم اور تھوڑے سے زیور دے دے تاکہ میں حسبِ معمول علاقے کی ایک نادار بچی کی شادی میں بطور تحفہ دے دوں اور کپڑے وغیرہ اپنے پاس رکھ لے میں نے اس سے کہا۔

’’عیسیٰ خان مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے، چلو باہر چلتے ہیں، تھوڑی چہل قدمی بھی ہوجائے گی اور بات بھی۔‘‘

اپنی بات کہتے ہوئے میں غور سے اَن دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ کَجا اَس رات والا اونچا لانبا صحت مند نوجوان، اور کجا عیسیٰ۔

’’خان! جو بات کرنی ہے یہیں کرلو۔ عیسیٰ خان اور مجھ میں کوئی پردہ نہیں۔ کل والے مال کی بات ہے نا۔‘‘

ایک عورت کے سامنے اعتراف کرتے ہوئے مجھے پسینہ سا آگیا کہ میں چور ہوں۔

پھر میں نے حوصلے سے کام لیا۔ اور اپنے دل میں چبھتی بات بھی کہنے کی ٹھان لی۔

’’اگر یہاں یہ پردہ باقی نہیں رہا تو ایک بات میں بھی پوچھ لوں۔‘‘

’’ضرور۔‘‘ عیسیٰ خان نے کہا۔

’’میرے ساتھ جانے والا عیسیٰ خان نہیں تھا کوئی اور تھا۔ کیا تم دونوں مجھے بتاسکو گے کہ وہ کون تھا۔ دیکھو نا میں۔۔۔ میں یار محمد خان جس کے بارے میں بھری دنیا میں کوئی نہیں جانتا تھا کہ میں چور ہوں حتیٰ کہ میری جان سے عزیز بیوی بھی نہیں، اور تم دونوں نے جان لیا۔ کیا مجھے نہ بتائو گے کہ وہ جی دار ماں کا لعل کون ہے؟ جس نے یار محمد خان کے غرور کو توڑ ڈالا۔‘‘

’’وہ۔۔۔ وہ۔۔‘‘ عیسیٰ خان کچھ کہنے والا تھا کہ ممتاز بول اٹھی۔

’’وہ میں تھی خان۔ ۔۔ تمہارے ہمراہ۔‘‘

’’کک۔۔۔ کیا۔۔۔؟‘‘ میں سیدھا ہو بیٹھا۔ میری آنکھیں حیرت زدہ ہو کر ممتاز پر جم گئیں۔

’’ہاں خان یہ سچ ہے۔‘‘ اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔

اس رات کا ایک ایک پل میری نظروںمیں گھوم گیا۔ میں سامنے بیٹھی ممتاز کو اب بھی حیرت کے ساتھ تک رہا تھا۔

’’مگر کیسے؟ کیونکر۔۔۔ ایک عورت اتنی طاقت ور اتنی نڈر۔ اتنی جی دار۔۔۔‘‘ میں جانے کیا کیا کہہ رہا تھا۔‘‘

نانا بابا رَک گئے، ہم سب نے حیران ہو کر ممتاز کی طرف دیکھا۔ جس کی آنکھیں آنسوئوں میں ڈوبی ہوئی تھیں۔ ہماری حیرانی سے بے نیاز ہو کر بولی۔

’’خان سائیں نے اٹھ کر میرے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔

’’ممتاز! میں ہار گیا۔ شکست کھا گیا۔ وہ بھی ایک عورت سے۔ اب تک اس زعم میں ایک ایک گھر میں نقب زنی کرتا پھر رہا تھا کہ شاید یہ بڑی جی داری ہے۔ جی دار۔۔ تو تم ہو۔ تم۔۔۔ بہادری تو تمہارا دوسرا نام ہے۔ مگر یہ بتائو ایک عورت ایک ڈاکو کیسے بن گئی کہ رات گئے گھنے جنگلوں میں تنہا سفر کرتے اس کا جی نہیں لرزتا۔ ہمارے ہاں کی عورتیں تو پتُا کھڑک جانے پر بھی چیخ اٹھتی ہیں۔‘‘

’’مجھ سے آج تک کسی نے نہیں پوچھا تھا۔۔۔ پوچھا تو عیسیٰ خان نے بھی نہیں تھا جس سے میری شادی محض ایک حادثہ تھی۔ ایک دن بیٹھے بٹھائے آرزو مچل اٹھی کہ گود میں ایک گول مٹول گل گوتھنا بچہ ہو، بس پھر کیا تھا ایک عام سے بندے سے عیسیٰ خان سے میں نے کہہ دیا کہ مجھ سے شادی کرو گے اور اس نے شادی کرلی۔‘‘

وہ اب زار و قطار رو رہی تھی۔ کسی نے اسے روکا نہیں، رونے ہی دیا۔

’’خان سائیں نے پوچھا تو میرے دل کے سارے زخم پھر سے ہرے ہوگئے۔ میں جنوبی پنجاب کے ایک گائوں کے بڑے زمیندار کی اکلوتی بیٹی تھی۔ خاندانی دشمنیوں کی بھینٹ کے طور پر دوسرے زمیندار نے مجھے اغوا کرلیا۔ میری عزت کے گوہرِ آبدار کوپارہ پارہ کر کے اس نے مجھے میرے گائوں کی سرحد پر لاپھینکا۔ اس کے پندرہ بیس درندہ صفت ساتھیوں نے میری نسوانیت کو تار تار کرتے ہوئے ایک پل مجھ پر ترس نہیں کھایا تھا۔ میں لوٹ کر گھر جانے کے قابل نہیں تھی۔ سو وہاں سے چل دی۔ رات کے اندھیروں، تنہائی کے خوف اور لٹ جانے کے اندیشوں سے بے نیاز، راستے میں ایک جگہ بھوک اور نقاہت کے سبب گر گئی وہ شاید کوئی راہ گزر تھی۔ چند لوگ وہاں سے گزر رہے تھے۔ مجھے دیکھ کر رَک گئے۔ پوچھا کہ کون ہو؟ یہاں کیا کر رہی ہو؟

میں نے جواب نہیں دیا۔

’’لڑکی! کہاں کی ہو گھر سے کیوں نکلی ہو؟‘‘

’’پتا نہیں کیوں؟‘‘

’’جانتی ہو یوں گھر سے نکل آنے والی لڑکیوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟‘‘

’’ہاں جانتی ہوں۔‘‘

’’پھر بھی؟‘‘

’’تم کیا چاہتے ہو؟ میری عزت یا موت؟‘‘

’’کیا مطلب؟‘‘

’’عزت کے لٹنے کا خطرہ نہیں رہا۔ پندرہ لوٹیں تو ایک ہی بات بیس ہوجائیں تو ایک ہی بات اور رہی موت تو موت میری آرزو ہے۔ چلادو گولی مجھ پر، اتار دو خنجر میرے سینے میں، حرام موت سے تو بچ جائوں گی۔‘‘

وہ گھوڑے سے نیچے اتر آیا۔ اپنی گرم چادر اس نے میرے دریدہ لباس پر ڈال دی۔

’’نورے نے لوگوں کا مال لَوٹا ہے۔ ڈاکے ڈالے ہیں، عزت نہیں لوٹی کسی کی۔ کس نے تمہیں اس حال تک پہنچایا؟‘‘

’’مت پوچھو مجھ سے لٹ جانے کی یہ کہانی۔ اونچے شملے والے میرے باپ اور بھائی دنیا میں سر اٹھا کر چلنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ میں کوئی نہیں ہوں۔ بس ایک ستم رسیدہ عورت ہوں۔ ازل سے لوٹی جانے والی بے بس عورت۔‘‘

نورا میرے بابا کی عمر کا مرد تھا۔ ڈاکا اس کا آبائی پیشہ تھا۔ اپنے گروہ کا سردار تھا وہ۔

اس نے میرے سر پر اپنی چادر ہی نہیں ڈالی تھی۔ مجھے اپنا سایۂ عاطفیت بھی بخش دیا تھا۔ وہ مجھے اپنے ساتھ لے گیا۔ میرے سارے زخم اس کی محبت نے بھر دےے، اس نے مجھے نئی زندگی دی۔ عزت دی، پیار دیا، احترام دیا، گروہ کے لوگ اپنے سردار کی بیٹی کا نام بھی ادب سے لیتے تھے۔ پھر نورے نے میرے دشمنوں کا جینا دو بھر کر دیا۔ ان کا سارا قیمتی اثاثہ لوٹ لیا، اَن کے کھلیانوں میں آگ لگوادی۔ قتل کے ایک کیس میں اپنے ایک ساتھی کو بکوا کراس کے دونوں بیٹوں کو پھنسوا دیا۔

دن کے اجالوں میں وہ نورا ڈاکو نہیں۔ رانا نور محمد تھا۔ اور پولیس، عدالتوں کچہریوں میں اس کی بڑی پہنچ تھی۔ میں نے اس گروہ میں رہ کے نورے کی ساری بہادری، جوان مردی، سارے ہنر، سارا حوصلہ، اپنے اندر سمولیا۔ مردوںکا روپ دھار کے میں بھی پیشہ ور ڈاکو بن گئی۔ سرحد پار سونا اسمگل کرتے ہوئے نور بارڈر پولیس کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔ اڈے کے لوگ پکڑے گئے۔ مرتے دم نورے نے کہا کہ میں یہاں سے چلی جائوں۔سو میں اس بستی میں آگئی۔ عیسیٰ خان سے شادی کرلی۔

وہ آگ جو لٹ جانے پر میرے اندر بھڑک اٹھی تھی سینکڑوں گھروں کو لوٹ کر بھی سرد نہ ہوئی۔

’’میں یہ سب کیوں کر رہی تھی؟‘‘

خان سائیں کے سوال نے مجھے چونکا دیا۔

میرے زندہ رہنے کو تو عیسیٰ خان کی پانچ ایکڑ زمین پر اگلے والا غلُہ اور کپاس ہی بہت تھی۔

پھر میں کیوں کر رہی تھی سب کچھ۔

کیا بچھڑ جانے والی محبتوں کا غم غلط کرنے کے لےے۔

خان سائیں سامان بانٹے بغیر ہی لوٹ آئے۔

اَسی شب یہاں ڈاکا پڑ گیا۔ ڈاکو تاجور کے کانوں اور ہاتھوں سے بے دردی سے زیور اتار لے گئے۔ خان سائیں بھاگے بھاگے میرے پاس آئے، مجھے بتایا کہ انہوں نے چوری سے توبہ کرلی ہے، وہ کہنے لگے۔

’’ممتاز میں تو چوری کو کھیل سمجھتا رہا ہوں، پر لٹ جانے والوں کے کتنے ارمان ساتھ لٹتے ہیں، یہ مجھے معلوم نہ تھا۔ تم نے خو کو جھوٹی تسلی دینے کی خاطر، اپنا آپ بدل ڈالنے کی خاطر ڈاکو کا روپ دھار لیا۔ بے مقصد ہی۔ بے سبب ہی۔ ممتاز! تم بھی خود کو ایک بار پھر بدل ڈالو۔ میری خاطر۔ یہ سب چھوڑ دو۔ میںجانتا ہوں تمہیں مال و دولت کی نہیں کھو جانے والی محبتوں کی تلاش ہے۔ میں دوں گا تمہیں وہ ساری محبتیں۔ بھردوں گا تمہارا دامن۔ بس تم وعدہ کرو۔ تم کسی کے ارمان تاراج کرنے کا گناہ نہیں کرو گی۔ سو میں نے وعدہ کرلیا۔ خان سائیں میرے لےے کیا ہیں؟ میں بھی آج تک فیصلہ نہیں کر سکی۔

بس یہ ہے کہ بچھڑ جانے والے سارے رشتے ان کی صورت میرے دامن میں آگئے ہیں کہ اب مجھے اَن کی یاد نہیں ستاتی۔ شیر دل! جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا تو مجھے اپنا بھائی شیر دل یاد آگیا تھا جو اس وقت سات آٹھ برس کا تھا۔‘‘

شیر دل اٹھ کر اس کے پاس آبیٹھا۔

’’ممتاز آپا! میں بھی تمہارا بھائی ہوں۔ یقین مانو۔ ایک غلط فہمی نے راہ روکے رکھی، ورنہ یہاں بابا ہی نہیں تمہارے لےے چاہتیں لٹانے والے اور بھی ہیں۔‘‘

ممتاز نے شیر دل کی پیشانی چوم لی۔

نانا بابا کا چہرہ کھل اٹھا۔

’’شیر دل! اپنی ممتاز آپا سے کہو کہ وہاں اکیلے رہنے کی کیا ضرورت ہے۔ ادھر آجائے ہمارے پاس۔‘‘

نانی ماں نے فیصلہ سنا دیا۔

اور واقعی وہ یہاں سے نہیں گئی۔

اس کے دل میں بچوں کی آرزو تھی، لیکن خدا نے اسے اس سے محروم رکھا۔

مگر اب۔۔۔ میرے بچے، میرے لگتے ہی نہیں۔ دن رات اَس کے گرد پروانوں کی طرح گردش کرتے ہیں۔

اور میں اکثر حیران ہوتی ہوں۔

جن ہاتھوں نے بندوق چلانے ہی میں وقت گزار دیا وہ کس خوبی سے بچوں کی پرورش کر رہے ہیں۔

جس دل کو ایک حادثے نے پتھر کر دیا تھا وہ کیسے موم ہوگیا ہے۔

یہ سب پیار کی بولیاں بولتے کتنے اچھے لگتے ہیں۔ اورممتا بھری مسکان ان پر کتنی سجتی ہے۔

*****

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں