کچی زمین پر بھاری ٹائروں کی رگڑ نے دل دہلا دینے والی چنگھاڑ پیدا کی ،ایک دم لگنے والی بریک سے کئی من دھول اڑ کر ماحول کو گرد آلود کر گئی تین بلیک لینڈ کروزر سے بیک وقت کئی بندوق بردار چھلانگ لگا کر اترے اور ایک کچے گھر کا گھیراؤ کرلیا۔ سب سے آخر میں اکڑی گردن کے ساتھ مونچھوں کو تاؤ دیتا داؤد گاڑی سے اترا اور کروفر کے ساتھ آگے بڑھا پھر لکڑی کے سال خوردہ دروازے کو اپنے پیر کی ٹھوکر مارتا اندر داخل ہوا ۔
کچے صحن میں سویر کی دھوپ ابھی پوری طرح نہیں پھیلی تھی صحن کے وسط میں رکھی چارپائیوں پر محو خواب تین افراد اس ناگہاں شور سے بیدار ہوئے پر کچی نیند کا اثر دماغ پر حاوی تھا عبدللہ چانڈیو آنکھیں مل کر ان تنومند مردوں کو دیکھنے لگا جو موت کے فرشتے کی طرح سر پر سوار ہوگئے تھے اور اب درمیانی چارپائی کی طرف بڑھ رہے تھے جہاں اس کی نوجوان بیٹی سوہائی سوتے سے اٹھ بیٹھی اور غائب دماغی سے ٹکر ٹکر ان کی صورتیں دیکھ رہی تھی۔
بلقیس دادی آنے والوں کے ارادے بھانپ کر اپنی چارپائی سے پھرتی سے اتری اور سہمی ہوئی پوتی کو اپنی کمزور بانہوں میں بھر لیا۔
’’کک کون ہو تم لوگ اور یہاں کیا کرنے آئے ہو۔‘‘
عبدللہ چانڈیو اپنی جگہ سے چھلانگ لگا کر اترا اور کانپتی آواز میں پوچھا تو ایک بندوق بردار نے اس کو دبوچ لیا۔
’’تیرے بے حیا پٹ کی مذموم حرکت کا بدلہ
لینے آیا ہوں بڈھے !ہماری عزت کو بھگا لے گیا ہے سمجھتا ہے کیا بوٹیاں نوچ لوں گا اس چھورے کی۔ داؤد مہر میرا نام ہے یاد رکھنا۔‘‘
داؤد نے اس کے گریبان کو دبوچ کر جھٹکا دیا۔ عبدللہ چانڈیو کا دل کانپ گیا۔
’’اس چھوری کے علاوہ جتنی چھوریاں ہیں ،ان سب کو اٹھاؤ ۔‘‘
اس نے سوہائی کی طرف قدم بڑھاتے حکم دیا تو اس کے کارندے فورا اندرونی کمروں کی چھان پھٹک کرنے چلے۔
’’ہاتھ مت لگانا میری چھوکری کو۔‘‘
عبدللہ چانڈیو چلایا تو داؤد مہر نے زوردار قہقہہ لگایا۔
بلقیس دادی تھر تھر کانپتی سوہائی کو اپنی لوئی میں چھپائے بیٹھی تھی داؤد مہر نے آگے بڑھ کر ایک جھٹکے سے اس کی لوئی کھینچ کر دور پھینکی اور سوہائی کو کسی گڑیا کی طرح اٹھایا۔ بلقیس دادی اور سوہائی کی چیخیں آسمان لرزانے لگیں۔
’’چھوڑ میری چھوکری کو رزیل انسان۔‘‘
عبدللہ تڑپ اٹھا پر زور لگا کر بھی خود کو چھڑا نہ سکا۔
’’اس چھوری کے علاوہ گھر میں اور کوئی چھوری نہیں ہے ۔‘‘سائیں داؤد کا کارندہ خالی ہاتھ لوٹا تھا۔
’’بس پھر اسی کو لے چلتے ہیں کیا یاد رکھے گا یہ بڈھا ۔‘‘
داؤد نے ہاتھ پائں چلاتی سوہائی کو ایک زوردار تھپڑ رسید کیا تو وہ جیسے بے دم سی ہو گئی عبدللہ بے بسی سے اسے دروازہ پار کرتے دیکھنے لگا بلقیس دادی اس کے پیچھے تیزی لپکی اور منہ کے بل کچے فرش پر جا گری۔
’’او گھوڑا رے میری چھوکری کو نہ لے جا۔ تجھے خدا کی مار پڑے۔‘‘ وہ ہانپتے ہوئے رونے لگی۔
’’یہ اچھا نہیں کر رہے تم داؤد مہر !ہم نے تمہاری بہن کو اپنی عزت بنایا ہے اور تم ہماری بیٹی کو بے عزت کرکے اٹھا لے جارہے ہو۔‘‘
عبدللہ نے شدت سے دہائی دی مگر داؤد تک اس کی آواز نہیں پہنچی اس نے سوہائی کو زبردستی پچھلی سیٹ پر پھینک کر دروازہ بند کیا۔
’’قابو کرو چھوری کو زیادہ ہی پھڑک رہی ہے۔‘‘
اس نے فرنٹ سیٹ پر بیٹھتے ہی پچھلی سیٹ پر براجمان کارندے کو ہدایت دی جس نے تڑپتی مچلتی سوہائی کو پکڑ کر بھیگا ہوا رومال سنگھا دیا جس سے اس کی ساری حسیات ختم ہوگئیں۔
٭٭٭
’’عبدللہ پٹ وہ میری پونجی اٹھا لے گیا ہم لٹ گئے۔‘‘
دادی بلقیس نے اپنا سینہ پیٹتے دہائی دی۔
سورج طلوع ہونے کے ساتھ اس کچے آنگن کی روشنی معدوم ہوتی جارہی تھی سویر سے سارا گاؤں ہی ان کے گھر جمع ہوگیا تھا ۔تل دھرنے کی جگہ نہ بچی بھانت بھانت کی آوازیں چہ میگوئیاں ہمدردی اور طنزیہ بھنبھناہٹیں ،ان کے بیچ بلقیس دادی کے بے قرار بین عبدللہ کا دماغ ماؤف ہوچکا تھا وہ بے دم سا لیٹا بس مہران کو کوس رہا تھا جس کی وجہ سے آج اس کی پھول جیسی بچی وہ با اثر لوگ اٹھا کر لے گئے تھے نہ جانے لے جانے والے اس کے ساتھ کیسا سلوک کریں گے ۔جانے اس کے ساتھ کیا معاملہ ہونے والا تھا ۔
’’اگر مہران مہر خاندان کی عزت کو یوں بھگا کر نہ لے جاتا تو آج ان کو اپنی بیٹی اپنی لج نہ گنوانی پڑتی۔‘‘ لوگ پولیس میں پرچا کٹوانے کا مشورہ دے رہے تھے پر عبدللہ جانتا تھا اس کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ سوہائی اب واپس لوٹنے والی نہیں تھی۔
٭٭٭
’’وہاٹ دا ہیل !‘‘سمان نے چمچ زور سے پلیٹ پر پٹخا خیراں چند قدم دور ہٹی۔
’’جب میں نے کہا ہے میرا ناشتہ پورے آٹھ بجے میرے سامنے ہونا چاہیے تو اس کا مطلب پورے آٹھ بجے انڈراسٹینڈ۔‘‘
وہ سرخی مائل آنکھوں سے خیراں کو گھور کر بولا تو خیراں نے زور سے سر ہلایا۔
’’تمہیں انڈہ بھی بوائل کرنا نہیں آتا کچا اٹھا کر لے آئی ہو۔‘‘
’’اس نے ایک اور اعتراض اٹھایا خیراں چپ رہی اسے ادھر صبر سے پندرہ منٹ کھڑا رہنا تھا یہ صلواتیں روز کسی معمول کی طرح اس پر برستی تھیں۔
جتنے دن سمان حویلی میں رہتا سب ملازموں کی شامت آئی رہتی جب وہ شہر چلا جاتا تو جیسے وہ کھل کر سانس لیتے، سمان برے موڈ سے ناشتہ کر رہا تھا۔ خیراں بس برتن اٹھا کر لے جانے کے انتظار میں کھڑی تھی کہ اتنے میں باہر سے بلند ہوتی کئی آوازوں کے شور نے دونوں کو چونکا دیا۔
’’کیا مصیبت آگئی ہے صبح صبح اتنا شور۔‘‘
سمان نے ناگواری سے دروازے کو دیکھا خیراں خود تجسس کا شکار تھی مگر خواہش کے باوجود ادھر سے ہل نہیں سکی ۔آوازیں بڑھتی جارہی تھیں اور خیراں کا تجسس بھی ۔سمان نے دس منٹ میں ناشتہ مکمل کیا خیراں فورا برتن لینے آگے بڑھی ۔
’’یہ رہنے دو تم۔ دروازہ کھولو ۔میں دیکھوں۔ باہر کیا آفت آئی ہے۔‘‘
سمان نے اپنی وہیل چئیر کا رخ دروازے کی طرف کرتے ہوئے کہا۔ خیراں نے تیزی سے دروازہ پورا کھول دیا سمان اپنی وہیل چئیر گھماتا ہوا بڑے ہال میں آیا سامنے کا منظر خاصا تعجب خیز تھا ہال کے فرش پر ایک نو عمر لڑکی اوندھے منہ گری ہوئی تھی اور داؤد مہر اس کے سرہانے کھڑا گردن اکڑائے مونچھوں کو تاؤ دیتا نظر آیا ۔چھوٹی جیجی اور بڑی ادی چیخنے اور اس لڑکی کو برے القاب سے نوازنے میں مصروف تھیں۔ باقی جملہ افراد اس گرے ہوئے وجود کو نفرت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے۔
’’اللہ کی مار پڑے اس کے بھائی پر۔ میری معصوم بچی کو بہکا کر لے گیا۔‘‘چھوٹی جیجی نے دہائی دی۔
’’وہیں پر کیوں نہ مار ڈالا اس گندی نسل کو۔ ادھر کیوں لے کر آئے ہو۔‘‘
نگار ادی نے آگے بڑھ کر اس لڑکی کے پہلو میں پیر سے ٹھڈا مارا ۔
’’اس کو موت سے بھی بدتر زندگی دینے ادھر لایا ہوں ادی !جب تک اس چھورے مہران کے خون سے اپنا کلیجہ ٹھنڈا کروں، تب تک اس کے گھر کی عزت کو دو کوڑی کا کروں گا۔‘‘
داؤد مہر نے شقاوت سے کہا۔
’’ہائے نجانے کہاں رولتا ہوگا ہماری پھول سی بچی کو۔‘‘
چھوٹی جیجی کے زخم ادھیڑ گئے تھے۔
’’اسے ادھر لاکر کیوں ہمیں بے قرار کیا ہے داؤد نکالو اس چھوٹی ذات کو یہاں سے ورنہ میں اس کے بھائی کا سارا غصہ اس پر انڈیلوں گی۔ میری ہونے والی نوں کو بھگا کر لے گیا ہے رذیل۔‘‘
کنول پھوپھی جذباتی ہوکر آگے بڑھیں اور پے در پے دھموکے اس لڑکی کی پیٹھ پر جڑے جو پہلے ہی ادھ موئی سی پڑی تھی ۔تڑپ کر رہ گئی، سمان ناگواری سے وہیل چئیر چلاتا ان کے قریب پہنچا اور اکڑوں بیٹھی پھوپی کا ہاتھ پکڑ لیا
’’بس کرو پھوپی ۔‘‘
’’کیا بس کروں میری بیستی کروا دی ہے سارے خاندان میں ۔ہماری ناک کاٹ کر لے گیا ہے اس کا بھائی میں نہیں چھوڑوں گی اسے۔‘‘
کنول پھوپی نے اپنا ہاتھ چھڑا کر اس لڑکی کو دو تھپڑ اور مارے ،لڑکی کی کمر سے قمیص مسک گئی اور اس کے گورے جسم کا کچھ حصہ جھلکنے لگا ،داؤد کی آنکھوں میں ایک کمینی سی چمک لہرائی ۔سمان کا اندر کھولنے لگا اس نے پوری طاقت سے کنول پھوپی کو پرے دھکیلا اور اپنے کندھوں پر پڑی اجرک اتار کر اس لڑکی کے وجود پر ڈالی
’’کیا تماشا لگایا ہوا ہے آپ لوگوں نے۔ سورٹھ کو جانے سے روک نہیں سکے ۔دوسرے کی دھی پر اپنا غصہ نکال رہے ہو۔‘‘
وہ غضب ناک ہوکر چلایا۔
’’بہت مردوں والا کام کیا ہے تم نے داؤد !اپنا بدلہ لینے کے لیے غریب کی بے بس لڑکی اٹھا لائے ہو جس کا کوئی قصور بھی نہیں۔‘‘
پھر اس نے داؤد کو خشمگیں نظروں سے گھورا۔
’’تم اپنے کام سے کام رکھو سمان ادا !مجھے مت سمجھاؤ۔‘‘
داؤد نے ناگواری سے کہا اور اجرک سے لپٹی کراہتی سوہائی پر آنکھیں گاڑ لیں جو وحشت زدہ نظروں سے چاروں طرف دیکھ رہی تھی روایتی سندھی تیکھے نقوش پر اس کی رنگت غیر معمولی طور پر سپید تھی آنکھوں کا رنگ بھی گہرا بادامی تھا اس پر مستزاد اس کے چہرے کی معصومیت داؤد تو جیسے اس پر فریفتہ ہوا۔
’’ادا سمان سبتی گال ( سیدھی بات) کہتے ہیں آپ خوامخواہ دوسرے کی بچی اٹھا لائے سائیں!‘‘
گل بانو نے ڈرتے شوہر کے قریب آکر کہا۔
’’تم مجھے مت سمجھا کم عقل عورت جاؤ اپنا کام کرو۔‘‘
داؤد مہر نے اسے جھڑک دیا ۔گل بانو روہانسی ہوگئی۔
’’بھاجائی سے تمیز سے بات کرو داؤد ۔‘‘
سمان نے ناگواری سے اسے ٹوکا جس پر اس نے سر جھٹکا تھا۔
’’ مجھے آپ ادھر کیوں لائے ہو ،مجھے اپنے گوٹھ جانا ہے۔‘‘
نقرئی میٹھی سی آواز پر سب یک بیک اس کی طرف متوجہ ہوئے جو بہ مشکل اٹھ بیٹھی تھی
’’مجھے مٹھی دادی کے پاس چھوڑ آئیں پلیز۔‘‘
وہ اتنی ساری نفرت انگیز نگاہوں سے گھبرا کر سمان کی طرف التجائیہ نظروں سے دیکھ کر بولی ۔
’’دادی کی پوتی !تیرے بھائی نے جو ہماری مٹی پلید کی ہے ،اس کا ہرجانہ کون بھرے گا۔‘‘
پھوپی کنول پھر سے اسے مارنے آگے بڑھیں مگر سمان نے ان کا بازو پکڑ لیا
’’سمان تم بلاوجہ بیچ بچاؤ نہ کراؤ میں کہے دیتی ہوں میں نہیں چھوڑوں گی اس لڑکی کو ،جب تک اس کا بھائی ہمارے ہاتھ نہیں چڑھتا اسے پیٹتی رہوں گی۔‘‘
کنول مہر پر تو جیسے جوش سوار تھا بڑے زور سے بازو چھڑوانے کی کوشش کی پر سمان کا آہنی ہاتھ تھا۔
اتنے بڑے ایکسیڈینٹ کے بعد بھی کیسی فولادی طاقت ہے۔
کنول نے دل میں جلبلاکر سوچا
’’پھوپی کچھ تو انسانیت کرو ۔‘‘سمان نے غصے سے اسے دیکھا ۔
’’کیا انسانیت کروں۔‘‘کنول چٹخ پڑیں۔
’’داؤد ادا !تم اس لڑکی کو بے گناہ اٹھا لائے ہو بابا سائیں کو پتا چلا تو وہ تمہارے اس اقدام کو ہرگز اچھا نہیں سمجھیں گے ،اس لیے شرافت سے اسے واپس اس کے گھر بھجوا دو۔‘‘
سمان نے رسان سے داؤد سے کہا ۔
’’یہ اب ممکن نہیں ہے سمان ادا! جہاں تک بابا سائیں کی بات ہے وہ خود اپنی عزت خراب ہونے پر سیخ پا ہیں ان سے یہ توقع مت رکھو کہ وہ اس لڑکے کی فیملی پر کسی قسم کی نرمی دکھائیں گے جس لڑکے کو وہ اپنے ہاتھوں سے قبر میں اتارنا چاہتے ہیں۔‘‘
داؤد نے طنزیہ لہجے میں سمان کو باور کروایا۔
’’بہرحال اسے اب یہیں ہمارے پیروں کے نیچے رہنا ہے یہی اس آوارہ چھورے کی بہن ہونے کے ناتے اس کی سزا ہے مائی خیراں اسے نیچے والی کسی کوٹھری میں لے جاؤ اور اسے حویلی کا ہر وہ کام سکھاؤ جو ہمارے جمعدار کرتے ہیں۔
داؤد نے شقی القلبی سے فیصلہ سنایا تو سوہائی تڑپ اٹھی اور روتے ہوئے بے اختیار اٹھ کر سمان کی طرف بڑھی۔
’’پلیز مجھے گھر بھجوا دیں۔‘‘
اس نے سسکتے ہوئے التجا کی ان سارے کٹھور لوگوں کے درمیان اسے ایک وہی انسان دوست نظر آیا تھا۔
اسے پہلے کہ سمان کچھ کہتا داؤد مہر نے اسے بازو سے دبوچ کر پیچھے کیا اور خیراں کو اشارہ کیا خیراں فورا آگے آئی اور سوہائی کو اپنے بازو کے گھیرے میں لے لیا۔
’’چل شاباش۔‘‘
’’نن نہیں مجھے گھر جانا ہے۔‘‘سوہائی چیخی۔
’’چھوڑو اسے خیراں!‘‘سمان نے تحکم سے کہا۔
اسے لے جاؤ داؤد نے بھی حکم دیا خیراں تذبذب کا شکار ہوئی۔
’’ادھر آؤ میرے ساتھ ۔‘‘
داؤد نے خیراں کو کھڑے دیکھا تو سو ہائی کا بازو پکڑا اور اسے گھسیٹتے ہوئے ہال سے باہر لے جانے لگا سوہائی کی چیخیں چھت چھونے لگیں، سمان نے بے چینی سے وہیل چئیر آگے گھسیٹی مگر وہ تیزی سے سوہائی کو باہر لے گیا خیراں اس کے پیچھے دوڑی ۔
سمان نے مٹھیاں بھینچ کر بے بسی سے یہ منظر دیکھا ۔
٭٭٭
اسین ماٹھو لاڑ جا
دریا جی پچھاڑ جا
اتر ڑو تھو لگے ڑے الا
اتر ڑو تھو لگے
ہم لوگ زیریں سندھ کے
دریا کے پرلے سرے کے
شمالی ہوائیں لگتی ہیں
شمالی ہوائیں لگتی ہیں
وہ سورٹھ کا ہاتھ تھامے بہت لے میں گا رہا تھا۔ چھوٹی سی کوٹھڑی میں اس کے بے حد قریب بیٹھی سورٹھ بہت اداس دکھائی دیتی تھی۔
’’مہران !ہمارا ملن ان کٹھن حالات میں ہوگا۔ میں نے تصور نہیں کیا تھا۔‘‘
سورٹھ نے چھت پر نگاہیں جما کر سال خوردہ پنکھے کو دیکھا۔’’ابھی سے ہمت ہارنے لگی ہو سورٹھ۔‘‘
مہران نے فکرمندی سے پوچھا۔
’’نہیں مہران !بس سانس لینا چاہتی ہوں کھل کر تمہاری بانہوں میں بانہیں ڈال کر زندگی کے راستوں پر بے فکری سے چلنا چاہتی ہوں ،یوں بند کوٹھریوں میں دب کر چور بن کر جینا نہیں چاہتی۔‘‘
سورٹھ کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔
’’وہ وقت بھی آئے گا جانم !ابھی حالات کے رخ کو سمجھو یہ وقت مصلحت سے کام لینے کا ہے، تمہاری فیملی ہمیں ڈھونڈنے کی کوششوں میں ہے ابھی اگر ہم لاپروائی برتیں گے تو آگے معاملات بہت خراب ہوسکتے ہیں ۔‘‘
مہران نے اسے رسان سے سمجھایا۔
’’میری مرضی میں جس کے ساتھ نکاح کروں جس کے ساتھ رہنا چاہوں ،یہ مجھے بخش کیوں نہیں دیتے اب تو نکل آئی نا ان کی زندگی سے ۔بھلا دیں مجھے کسی برے خواب کی طرح، کیوں ہماری جان عذاب کی ہے ۔‘‘
سورٹھ نے غصہ سے کہا ۔گزشتہ ہفتہ وہ مہران کے ساتھ اپنی حویلی اور اپنا خاندان ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر آگئی تھی ۔وہ اسے تھر کی طرف اپنے ایک دوست کے گھر لے آیا تھا یہیں ان کا نکاح ہوا اور تب سے وہ اس چھوٹی سی کوٹھڑی میں رہنے پر مجبور تھی۔ شہر سے میلوں دور اس بیابان میں مہران زیادہ محفوظ محسوس کرتا تھا اس کا خیال تھا چند ماہ ادھر رہ کر معاملہ ٹھنڈا ہونے کا انتظار کرلینے میں کوئی مضائقہ نہیں پھر تو سب کچھ خود ہی سیٹ ہوجانا تھا۔
منکوحہ بن جانے کے بعد سورٹھ اس کے بچے کی ماں بھی بن جاتی تو پھر کون ان کو ایک دوسرے سے الگ کرسکتا تھا مگر سورٹھ اس ایک ہفتہ میں ہی اکتا گئی، کہاں اس کی لگژری لائف اور کہاں یہ ضروریات زندگی سے عاری چھوٹی سی کوٹھری جہاں نہ کھل کر سانس لی جاتی نہ سہولت سے رہا جاسکتا تھا من پسند شخص کی رفاقت پالینے کی سرخوشی کے ساتھ یہ بے سروسامانی اسے اذیت دے رہی تھی۔
’’ تم میرے لیے شاہ کی سورمی جیسی ہو سورٹھ۔بہادر اور محبت کے جام سے لبریز !تم ہی گھبرا جاؤ گی تو میں بے چارہ کہاں جاؤں گا۔‘‘
مہران نے اسے محویت سے دیکھتے ہوئے بے چارگی سے کہا تو وہ بمشکل چہرے پر مسکراہٹ لا سکی۔
’’ہم ایک ابنارمل لائف جی رہے ہیں مہران یہ سب فیس کرنا میرے لیے آسان نہیں ۔آئی مین میں نے یہ چیزیں کبھی نہیں دیکھیں ،یہ چارپائی یہ گرمی یہ گھٹن اور اتنا سادہ سا کھانا۔‘‘
سورٹھ نے بھی بے بسی سے اپنی مشکل بتائی تو مہران نے ہاتھ بڑھا کر اسے اپنے قریب کرلیا۔
’’تب ہی میں کہتا تھا سورمی ۔مجھ جیسے غریب اور مسکین آدمی کے ساتھ نہیں گزار سکو گی مگر تم پر تو میری محبت کا بھوت سوار تھا ۔اب پچھتا رہی ہو نا۔‘‘
وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے افسوس سے بولا۔
’’میں پچھتا نہیں رہی مہران بس !جلد از جلد تمہارے ساتھ نارمل لائف جینا چاہتی ہوں۔ ہم دونوں ڈگریز ہولڈر ہیں ۔کسی بڑے شہر میں اچھی سی جاب کرکے اپنا اسٹارٹ اپ لے کر سکون سے رہ سکتے ہیں۔‘‘
سورٹھ کی بات پر وہ مسکرایا۔
’’بہت جلدباز ہو سورمی !جانتی بھی ہو ہماری جان کو اس وقت خطرہ ہے بہت سارے دن ہمیں صبر سے اسی طرح گزارنے ہیں پھر بھی ابھی سے نارمل لائف کی بات کررہی ہو۔‘‘
مہران کی بات پر سورٹھ نے ایک سانس بھر کر اس کے شانے پر سر رکھا۔
’’کب یہ کوفت زدہ دن تمام ہوں گے ۔کب ہم اپنی مرضی سے اپنی زندگی جیئں گے۔‘‘
وہ اداسی سے بڑبڑائی تھی۔
٭٭٭
’’خیراں !اس لڑکی کا کیا حال ہے؟‘‘
اگلی صبح سمان نے ناشتہ لے کر آئی خیراں سے پوچھا۔
’’بخار میں پڑی ہے سائیں؟‘‘
خیراں نے روانی سے بتا کر پھر زبان دانتوں تلے دابی۔
’’بخار کی دوا دی تم نے؟‘‘
سمان کے استفسار پر اس نے نفی میں سر ہلایا۔
’’سائیں نے کل سے تالے میں بند رکھا ہوا ہے آج صبح میں نے ناشتہ دینے کو دروازہ کھولا تو غش پڑی تھی دیکھا تو گرمائش سے تپ رہی تھی ،بڑی مشکل سے جگا کر چند نوالے کھلانے چاہے مگر کچھ کھاتی ہی نہیں ۔‘‘
خیراں نے اٹک کر بتایا وہ تذبذب میں تھی کہ اس لڑکی کا حال بتائے یا نہ بتائے۔
’’اور تم نے اسے ایسے ہی بنا کچھ کھلائے پھر سے تالے میں بند کرلیا ۔‘‘
سمان نے اسے تیکھے انداز سے دیکھا۔
’’تو کیا کرتی سائیں !میرے پاس ٹیم نہیں تھا کہ اس کی تیمارداری کرتی ،ادھر سب کو ناشتہ پہنچانا تھا۔‘‘
خیراں نے گھبرا کر کہا۔
’’شاباش ہے تمہیں ،کسی انسانی جان کو نیم جان دیکھا اور مدد بھی نہ کی۔‘‘
سمان بھڑک اٹھا ۔خیراں نے سر جھکا لیا۔
’’میرا میڈیسن باکس ادھر لاؤ۔‘‘
سمان نے حکم دیا تو وہ دوڑ کر میڈیسن باکس اٹھا لائی ،سمان نے اس میں سے چند گولیوں کے پتے نکالے اور اس کی طرف بڑھائے۔
’’یہ ایک ایک گولی اسے کھلا دو لیکن ناشتہ کروا کر۔‘‘
اس نے ہدایت کی ۔
’’جی سائیں!‘‘خیراں گولیاں پکڑ کر کھڑی رہی۔
’’اب ادھر کھڑی کیا کر رہی ہوجاؤ اس کے پاس۔‘‘
سمان نے ٹوکا۔
’’آپ ناشتہ مکمل کرلیں تو جاؤں۔‘‘
خیراں منمنائی۔
’’میں کرلوں گا ناشتا تم جاؤ جلدی اسے دیکھو۔‘‘
سمان کے کہنے پر وہ سر ہلا کر باہر نکل گئی ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ سمان کے ناشتہ مکمل ہونے سے پہلے وہ کمرہ چھوڑ آئی ہو۔
٭٭٭
’’بابا سائیں !یہ ظلم ہے ہم اپنی بیٹی کا بدلہ دوسرے کی بیٹی سے کیوں لیں آپ داؤد کو سمجھائیں وہ اس لڑکی کو واپس چھوڑ آئے۔‘‘
سمان نے فون پر باپ سے کہا۔
’’ہمارے سینے میں آگ لگی ہے اور تم اس معمولی چھوری کا رونا رو رہے ہو ،وہ خبیث لڑکا ہماری عزت پر داغ لگا گیا ،ہمیں وہ غم نہیں بھلایا جارہا۔ کہیں سے ہاتھ لگے تو دیکھنا کیسے مسلتا ہوں۔‘‘
آگے سے جہانداد مہر مشتعل ہوئے۔
’’داؤد اپنے فیصلوں میں آزاد ہے وہ اپنی عزت کے کھونے پر جذباتی ہے جو کہ ہونا بھی چاہیے ،تم نہ جانے غیرت سے عاری کیوں ہو، اس کا بھائی ہماری نیاڑی بھگا لے گیا ہے یہ چھوٹی بات ہے؟ داؤد اگر اس معمولی چھوری کو حویلی لانے کے بجائے کہیں اور بھی لے جاکر رکھتا تو بھی اسے پوری چھوٹ ہے۔‘‘
جہانداد مہر نے شقاوت سے کہا تو سمان نے غصے سے کہا۔
’’کسی کمزور سے بدلہ لینا کہاں کی غیرت ہے، بہرحال یہ انسانیت کی انتہائی نچلی سطح ہے جس کا مظاہرہ آپ دونوں کر رہے ہیں۔‘‘
سمان بھی ان کا ہی بیٹا تھا۔ دوٹوک اظہار کا حامل جہانداد مہر اس سے بہت کم الجھتے تھے سو خاموش رہے۔
’’تم ان معمولی باتوں پر اپنی انرجی مت کھپاؤ اپنی ڈائٹ اور میڈیسن پر توجہ دو اور باہر جانے کی تیاری کرو ۔تمہاری سرجری کے لیے میں نے انتظامات کر لیے ہیں۔‘‘
انہوں نے بات بدلتے ہوئے کہا۔
’’مجھے نہیں کروانی سرجری !‘‘سمان نے سختی سے انکار کیا۔
’’کیوں ایک بے وفا چھوکری کو جان کا روگ بنا کر بیٹھے ہو ۔اس سے کئی گنا اچھی لڑکیاں پڑی ہیں۔ سرجری کرواؤبھلے چنگے ہوکر موو آن کرو اس مردود محبت کا ماتم کرنا چھوڑو بابا۔‘‘
’’جہانداد مہر کی بات چبھتے ہوئے تیر کی طرح سمان کے دل میں لگی۔
’’نہیں ہے مجھے کسی سے محبت ۔لعنت بھیجتا ہوں میں اس جذبے پر ۔مجھے آپ میرے حال پر چھوڑ دیں بس۔‘‘
وہ حسب توقع بھڑک اٹھا اور غصے سے کال کاٹ دی دوسری طرف جہانداد مہر نے ایک گہری سانس بھر کر اپنا غصہ کنٹرول کیا۔
٭٭٭
بلقیس دادی پڑوس کی دائی حسینہ سے کچہری میں مصروف تھی کہ موٹر سائیکل کی آواز پر چارپائی سے اتری اور کمر پر ہاتھ رکھ کر آہستہ آہستہ چلتی دروازے تک آئی اور کنڈی گرا کر دروازہ پورا کھول دیا ۔
سوہائی موٹر سائیکل پر سوار اندر داخل ہوئی، حسینہ دائی نے منہ بنا کر اسے دیکھا جو آدھے چہرے اور جسم پر اجرک لپیٹے مگن سی کالج بیگ سینے سے لگائے آگے بڑھ رہی تھی۔
’’السلام علیکم حسینہ ماسی!‘‘
وہ حسینہ کو سلام کرکے کمرے کی طرف چلی گئی۔
’’عبدللہ نے نیاٹی کو گھنی آزادی دے دی ہے۔‘‘
حسینہ نے جل کر مٹھی دادی سے کہا۔
آئے دن بیمار رہتا ہے ۔چھوکری کو کالج کون چھوڑنے جائے مہران نے موٹر سائیکل چلانا سکھا دی ہے ۔اب مجبوری میں خود ہی چلی جاتی ہے۔ پاس کی نوراں اور نشی کو بھی ساتھ لے جاتی ہے۔
مٹھی دادی نے وضاحت دی ۔چھ ماہ ہوگئے تھے سوہائی کو اس طرح کالج جاتے ،پر گوٹھ کے لوگوں کو آج بھی یہ بات ہضم نہیں ہوسکی تھی کہ لڑکی ذات موٹر سائیکل چلائے ۔
’’پھر بھی تانگہ لگوایا جاسکتا ہے کالج کے لیے۔‘‘
حسینہ نے مشورہ دیا۔
’’ایک گھنٹے کا راستہ ہے ،تانگے پر بچی کو دیری ہوجاتی ہے۔‘‘
بلقیس دادی وضاحت دینے پر مجبور تھی۔
’’بس بھئی مرضی چلانے کے سو بہانے۔‘‘
حسینہ نے طنزیہ انداز میں سر جھٹکا۔
’’جب اس کے باپ بھائی کو اعتراض نہیں تو بات ختم ۔‘‘
بلقیس دادی نے حسینہ کی زبان بندی کی۔
’’ہاں بھئی باپ بھائی بڑے ہی روشن خیال ہیں تو ہم کیا کرسکتے ہیں ۔اچھا میں چلتی ہوں۔‘‘
حسینہ بدمزہ ہوکر اٹھی ۔دادی نے شکر کا سانس بھرا ۔
٭٭٭
سمان مہر لیپ ٹاپ کھولے بیٹھا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی ۔
’یس۔‘‘سمان نے مصروف انداز میں کہا پھر اچٹتی نظر دروازے پر ڈالی۔
خیراں بازو پکڑے کسی کو اندر لا رہی تھی سمان نے چونک کر دیکھا یہ تو وہی لڑکی تھی مہران کی بہن ۔
’’آؤ شاباش یہ پکڑو اور سائیں کا واش روم صاف کرو۔‘‘
خیراں نے واش روم دھونے کا متعلقہ سامان زبردستی پکڑا کر اسے واش روم کی طرف دھکیلا ۔لڑکی لال بھبھوکا چہرہ لیے وہیں کھڑی رہی۔
’’ارے سنتی نہیں چھوکری !‘‘خیراں اس پر غصہ ہوئی۔
’’کیوں زبردستی کر رہی ہو لڑکی پر، راجو کہاں گیا ہے جو باتھ روم اس سے صاف کروا رہی ہو۔‘‘
سمان نے ناگواری سے یہ منظر دیکھا
’’داؤد سائیں کا حکم ہے کہ حویلی کے سارے واش روم یہ چھوکری صاف کرے گی۔‘‘
خیراں نے جواب دیا اور اسے پھر واش روم کی طرف دھکیلا ۔
’’چھوڑو اسے یہ کوئی ملازمہ بن کر آئی ہے کیا۔‘‘
سمان اپنی وہیل چئیر ان کی طرف لے آیا۔
’’اور کیا بن کر آتی ہیں ایسی لڑکیاں؟‘‘
سمان کی بات پر خیراں منہ میں بڑبڑائی ۔
’’اب ذیادہ بڑ بڑ مت کرو۔ میں بابا سائیں سے بات کرتا ہوں ایک تو پرائی لڑکی کو زبردستی ٹہرایا ہوا ہے پھر اسے ملازمہ بنا رہے ہیں۔‘‘
’’تو آپ جب تک سائیں سے بات کرو تب تک تو یہ کام کرلے۔‘‘
خیراں داؤد کے ڈر سے مستعد کھڑی تھی۔
’’خیراں تم یہاں سے فورا نکلو۔‘‘
سمان کا غصہ آسمان کو چھونے لگا۔اس کی دھاڑ پر خیراں سہم کر باہر بھاگی ۔سوہائی نے گردن موڑ کر اسے جاتے دیکھا۔
’’ادھرآؤ لڑکی۔‘‘
سمان کی آواز پر وہ پلٹی پھر آہستہ آہستہ قدم بڑھاتی عین اس کے سامنے کھڑی ہوگئی۔
’’تمہارا نام کیا ہے ؟‘‘
سمان نے اس کے سرخی مائل چہرے کو دیکھا، کھڑے کھڑے نقوش تنے ہوئے تھے۔
’’سوہائی چانڈیو!‘‘اس نے تیکھے سے لہجے میں بتایا۔
’’ہمم !اب تمہارا بخار کیسا ہے؟‘‘
سمان نے پوچھا تو سوہائی چونک کر اسے دیکھنے لگی۔
’’بخار کھڈ میں جائے۔ میرا دل جلا ہوا ہے آپ لوگ مجھے اپنے گھر جانے کیوں نہیں دے رہے، میرا بابا میری دادی میرے لیے پریشان ہوں گے۔ مہران بھائی نے جو بھی کیا ۔اس میں وہ اکیلے نہیں آپ کی بہن کی رضا بھی شامل ہے پکڑنا ہے ۔تو اپنی بہن کو پکڑیں مجھے کس بات کی سزا دی ہے ۔‘‘
سمان کی آنکھوں میں بے خوفی سے دیکھتی وہ پھٹ پڑی ۔اتنا پر اعتماد انداز ۔سمان حیرت زدہ رہ گیا۔
’’تم پڑھی لکھی ہو۔‘‘
وہ پوچھنے پرمجبور ہوا۔
’’ہم غریبوں کے پڑھنے لکھنے پر آپ جیسے دولت مندوں کی طاقت حاوی ہے اس لیے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں پڑھی لکھی ہوں یا ان پڑھ ۔ادھر سے نکل تو نہیں سکتی۔‘‘
وہ سر تا پا سلگی ہوئی تھی اور اپنے جذبات چھپا بھی نہیں رہی تھی ۔
دیکھو لڑکی !مجھے اندازہ ہے تم کس تکلیف سے گزر رہی ہو جبکہ تم بے قصور ہو تمہیں بے گناہ ادھر لاکر رکھا گیا ہے میں خود تمہاری اس بے جا قید کے خلاف ہوں مگر.‘‘سمان نے بات ادھوری چھوڑی۔
’’کیونکہ آپ بھی اسی طاقت کے کھیل کا حصہ ہیں اسی لیے میرے لیے کچھ نہیں کرسکتے۔‘‘
سوہائی نے استہزا سے سر جھٹکا سمان کو سخت بے عزتی محسوس ہوئی۔
’’لیکن یاد رکھیے گا میں آزاد انسان ہوں کسی اور کے کیے کی سزا میں آپ لوگ مجھے اپنا غلام نہیں بنا سکتے کبھی نہیں۔‘‘
وہ غصے سے پلٹی اور تیز قدموں سے باہر نکل گئی۔ سمان پر سوچ انداز سے دروازے کو دیکھتا رہا۔
٭٭٭
’’یہ دیکھو میری سورمی تمہارے لیے لایا ہوں۔‘‘
مہران نے اس کا ہاتھ پکڑ کر ہتھیلی پر کچھ رکھا۔ سورٹھ نے اس خوبصورت انگوٹھی کو دیکھا جس پر ایم اور ایس کھدا ہوا تھا۔
’’تمہیں منہ دکھائی پر کچھ نہیں دے سکا سو یہ چھوٹا سا تحفہ آج قبول کرلو سوری فار لیٹ۔‘‘
مہران کے لہجے میں شرمندگی تھی ۔سورٹھ مسکرا دی۔
’’سوری فار وہاٹ ،ہماری شادی نارمل حالات میں نہیں ہوئی مہران !اور میرے لیے ان چیزوں سے زیادہ تمہارا پیار اہم ہے ۔تم جانتے ہو۔‘‘
سورٹھ نے انگوٹھی اس کے ہاتھ میں واپس دی پھر اپنا ہاتھ آگے کرکے اسے انگلی میں پہنانے کا اشارہ دیا مہران نے مسکراتے ہوئے اس کی نازک سی انگلی میں انگوٹھی پہنائی پھر کتنی دیر تک اس کے نرم ہاتھ کو تھامے رہا۔
’’کتنے سوفٹ ہاتھ ہیں تمہارے سورٹھ !کبھی تنکا بھی نہ توڑا ہوگا تم نے ،اور ادھر میرے ساتھ حالات کی سختی دیکھ رہی ہو۔‘‘
وہ ہنوز اسی انداز سے بولا۔
’’آج ہو کیا گیا ہے تمہیں مہران !کیوں اتنے ٹچی ہورہے ہو میرے لیے آسائشات سے بڑھ کر تمہارا ساتھ اہم ہے اور یہ میرا دل سے کیا گیا فیصلہ ہے ۔‘‘
سورٹھ نے اپنی بات پر زور دیا۔
’’تم جب چڑ جاتی ہو بیزار ہونے لگتی ہو نا سورمی !تب مجھے لگتا ہے میں نے تمہیں تمہاری آرام و آسائش بھری زندگی سے نکال کر بہت ظلم کیا ہے ۔‘‘
مہران نے بالآخر اپنے دل میں کھٹکتے اس کے رویے کو جتایا۔
’’اوہ وہ تو نیچرل ہے میں بالکل الگ ماحول سے آئی ہوں مہران !مجھے ایڈجسٹ ہونے میں وقت لگے گا کوشش کرتی ہوں ،تمہیں پریشان نہ کروں مگر خود کو اظہار سے روک نہیں پاتی ۔تمہارے سوا اور بھلا کس سے دل کا بوجھ ہلکا کروں۔‘‘
سورٹھ بے بس نظر آئی تو مہران نے اسے بے اختیار خود سے لگا لیا۔
’’تمہاری اسی فطری سادگی نے تو مجھے اپنا دیوانہ کیا ہے تم فکر مت کرو۔ ایک دن میں تمہیں وہ ساری آسائشات ضرور فراہم کروں گا جس کی تم عادی ہو بس یہ مشکل وقت خیریت سے ٹل جانے دو۔‘‘
مہران نے اسے تھپکتے جیسے خود کو بھی تسلی دی ۔
٭٭٭
’’بیٹا سائیں !اس کی دادی دنیا سے گزر گئی ہے اور باپ گھر چھوڑ کر بھاگ گیا ہے ۔تم اس چھوکری کو کون سے گھر واپس لے کر جانے کی بات کر رہے ہو۔‘‘
جہانداد مہر نے اطمینان سے سمان کو اطلاع دی۔
’’ یہ کب ہوا اور آپ کو کیسے پتا چلا۔‘‘
سمان نے حیران ہوکر باپ کو دیکھا۔
’’ہمیں سب پتا ہوتا ہے اب اس معمولی چھوری کے لیے اپنی یہ بے جا ہمدردی کسی صندوق میں بند کرو اور واپس شہر جاؤ ہم ویسے بھی آگ میں تپے ہوئے ہیں ہمیں ذیادہ ہوا مت دو۔‘‘
آخر میں جہانداد مہر کا لہجہ زہریلا ہوگیا ۔سمان کسی گہری سوچ میں گم ہوا۔
٭٭٭
اگلے دن اس نے بے رحم دیار سے رخت سفر باندھ لیا وہ مہینے میں ایک بار دادی سائیں سے ملنے حویلی آجاتا تھا وہ شدت سے اپنے پوتے کا انتظار کرتی تھیں اور شاید ایک وہی تھیں جن کی خاطر وہ حویلی آنا پسند کرتا تھا جاتے سمے وہ ان سے پیار لینے آیا۔
انہوں نے حسب عادت اس کی پیشانی چوم کر ڈھیروں دعائیں دیں ۔
’’اماں !اس بے قصور لڑکی کا خیال رکھیے گا داؤد نے خوامخواہ ایک اندھا بدلہ لیا ہے جس کی کوئی لاجک ہی نہیں بنتی۔‘‘
سمان نے دادی کا بوڑھا ہاتھ آنکھوں سے لگا کر تاکید کی۔
’’بس بچے کیا کریں مہروں کے خون میں جوش ہی اتنا ہے کہ نہ دیکھتے ہیں نہ بھالتے ہیں۔ بس کر گزرتے ہیں سورٹھ نے جو صدمہ خاندان کو دیا ہے ۔اسی کا یہ رد عمل ہے ۔
دادی افسردہ ہوئیں۔
’’انتہائی گھٹیا رد عمل ہے ۔‘‘سمان نے غصے سے کہا۔
’’بہرحال اماں سائیں اس گھر میں آپ ہی ایک ہمدرد خاتون ہیں ،اسی لیے آپ سے کہہ رہا ہوں۔ نوجوان لڑکی ہے ۔اپنی نظروں کے سامنے رکھیے گا ۔‘‘
سمان کے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ دادی نے بے بسی سے سر ہلایا۔
’’میں کوشش کروں گی بیٹا!‘‘
سمان جانتا تھا ،وہ الفاظ کی حد تک ہی تسلی دے سکتی ہیں پھر بھی کچھ مطمئن ہوکر خودکار وہیل چئیر کو گھماتا کمرے سے باہر آیا ۔
’’سائیں آپ کا سامان گاڑی میں رکھ دیا ہے چلیں۔‘‘
عبدل ہاتھ باندھے اس کا منتظر کھڑا تھا۔
’’ہمم خیراں کدھر ہے؟‘‘
’’وہ شاید کچن میں ہے۔‘‘مٹھونے سوچتے ہوئے کہا۔
’’اور وہ نئی چھوکری ۔‘‘سمان نے بہ ظاہر سرسری لہجے میں پوچھا۔
’’اسے تو ابھی میں نے گیراج میں دیکھا تھا ،پانی کا پائپ لگا کر فرش کو دھو رہی تھی چھوٹے سائیں!‘‘
مٹھونے ادب سے بتایا۔
’’اچھا چلو۔‘‘
سمان کی اجازت پر وہ فورا مستعد ہوکر آگے بڑھا ۔سمان گیراج میں اپنی لینڈ کروزر کے سامنے آکر رک گیا ۔گیراج کا فرش گیلا تھا۔ اس نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں مگر وہ لڑکی اسے کہیں نظر نہیں آئی مٹھو نے اسے سہارا دے کر وہیل چئیر سے اٹھایا اور گاڑی میں بیٹھنے میں مدد دی۔ وہ سیٹ پر آرام دہ ہوکر بیٹھا اور ایک بار پھر کھڑکی سے ادھر ادھر دیکھا۔
’’سلام چھوٹے سائیں!‘‘
پاشا ڈرائیونگ سیٹ سبھالتے ہوئے بولا۔
’’میرے بیٹھنے کے بعد آئے ہو ،خیر تو ہے؟‘‘
سمان اس کی طرف متوجہ ہوا۔
’’ہاں بس نیلی کو خرچ کے پیسے دینے تھے۔‘‘
اس نے جھینپ کر وضاحت دی۔
’’بہت پیار کرتے ہو نیلی سے۔‘‘
سمان کے سوال میں یاسیت سی در آئی۔
’’جی!‘‘ پاشا کا چہرہ مسکرانے لگا ۔سمان نے اذیت محسوس کی۔
محبت اور وفا
وفا اور محبت
اس کا ذہن الجھنے لگا۔ گزرے کئی لمحے بصارت کے پردے پر عکس بکھیرنے لگے۔
٭٭٭
’’جب جہاز ڈوبنے لگتا ہے تو سب سے پہلے اسے چوہے چھوڑ کر بھاگتے ہیں ۔‘‘اس نے اذیت سے سوچا اور مٹھیاں بھینچ کر اس آواز کی بازگشت کو اپنے اندر دبانے کی کوشش کی جو اسے دنیا میں سب سے زیادہ عزیز تھی اس میٹھی رسیلی آواز نے نہ جانے کیسے زہریلے سیال کا روپ دھار لیا کہ سمان کے کانوں میں اب پگھلے سیسے کی طرح اترتی تھی۔
’’میں لائف ٹائم ایک اپاہج کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی ۔میرے بھی کچھ ڈریمز ہیں کچھ ایمبیشنز ہیں ،دنیا سے اپنا حصہ لینے کے لیے جس مقابلے کی تیز دوڑ میں ہم دونوں شامل تھے ۔تم اب اس دوڑ میں گھسٹنے کے قابل بھی نہیں رہے ہو مسٹر سمان سوری !ٹو مائی ہرش ورڈز ( معافی چاہتی ہوں اپنے تیز الفاظ کی )
رملہ نے برملا اپنے نوکیلے لفظوں سے سمان کے دل کو چیر کر لا پروائی سے معذرت کی۔ اذیت کے احساس سے سمان کا کنپٹی کی رگیں ابھر آئیں۔
’’تمہیں اس تیز دوڑ میں سرپٹ بھاگنے سے میں نے نہیں روکا مس رملہ طاہر !سوری فار وہاٹ تم نے جو کہا وہی سچ ہے ۔میں واقعی اب زندگی کی دوڑ سے باہر ہوں تم ہر طرح سے اپنے فیصلے میں آزاد ہو مجھ سے بہتر اور بڑھ کر کسی کا چناؤ کرسکتی ہو۔‘‘
سمان نے بہت ضبط سے خود کو کمپوز کیا
’’میں تمہارے سجیشن سے پہلے ہی یہ فیصلہ کرچکی ہوں ۔‘‘
رملہ نے شقی القلبی کی انتہا کردی۔
’’پھر مجھے بتانے کیوں آئی ہو؟‘‘سمان اس بار ٹوٹا ۔
’’تاکہ تم مینٹلی تیار رہو میں تمہیں سڈینلی اپنی لائف سے نہیں نکالنا چاہتی ۔‘‘
سمان کا دل شدت سے کرلایا۔
’’ویل تم ڈس ہارٹ مت ہو ۔ہم دونوں ہمیشہ اچھے دوست بنے رہیں گے۔‘‘
رملہ کی بات پر سمان نے ایک زخمی نظر اس پر ڈالی۔
’’میں تم سے ملنے بھی آیا کروں گی اور تمہاری کئیر بھی کروں گی ۔آفٹر آل ہمارا برسوں کا ریلیشن ہے۔‘‘
رملہ کے الفاظ اسے تکلیف دے رہے تھے۔ اور وہیل چیئر کے ہتھے پر ٹکے اس کے ہاتھ رملہ کے منہ پر مضبوطی سے جم جانے کو مچل رہے تھے رملہ کو اب چپ ہوجانا چاہیے ۔کم از کم اتنا شاک دینے کے بعد کچھ دیر تو۔
’’میں اب آرام کرنا چاہتا ہوں ۔‘‘سمان نے اپنا سر پیچھے کی طرف گرایا ۔
’’اوکے گڈ بائے۔‘‘
رملہ نے فورا پرس کندھے پر ٹکا کر سیل فون اور گاڑی کی چابی میز سے اٹھائی ۔اس نے اونچی ہیل پہن رکھی تھی جس کی ٹک ٹک دروازے سے باہر نکلنے تک سمان کے دماغ میں ہتھوڑے برساتی رہی ۔دو ماہ قبل کے اندوہناک حادثے نے بھی اسے اتنا نہیں توڑا تھا جتنا رملہ کے کہے چند لفظوں نے اسے توڑ دیا تھا۔
٭٭٭
’’سمان سائیں !گھر آگیا ہے۔‘‘
پاشا کی آواز پر اس نے بند آنکھیں کھول کر ارد گرد دیکھا سفر اتنی جلدی تمام ہوا یا وہ اپنے پر اذیت لمحے دہرانے میں ہی مصروف رہا تھا۔ پاشا نے اس کی طرف کا دروازہ کھولا ۔
’’سلام سائیں!‘‘
مٹھل اندر سے وہیل چئیر دھکیلتا ہوا آیا اور دونوں نے اسے اتارنے میں مدد کی سمان وہیل چئیر پر بیٹھ گیا تو پاشا سامان گاڑی سے نکالنے لگا ۔مٹھل سمان کے ساتھ اندرونی حصے کی طرف چلتا اس ایک ہفتہ اس کی غیر موجودگی میں ہوئی باتیں اسے سنانے لگا۔
’’رملہ بی بی نے چکر لگایا تھا ،میں نے بولا سائیں تو گاؤں گئے ہوئے ہیں ۔وہ بولی میرا فون نہیں اٹھاتے ورنہ خبر تو پڑ جاتی ۔‘‘
مٹھل نے اپنے مخصوص لہجے میں بتایا تو سمان نے لب بھینچے ۔رملہ سے بات یا ملاقات اب اس کے لیے صرف ایک امتحان ہوتا تھا
’’اڑی چھوری تو کتھان آئی آھین ‘‘( اری لڑکی تم کہاں سے آگئی ہو)۔‘‘
پاشا کی پاٹ دار آواز پر سمان اور مٹھل نے چونک کر پیچھے دیکھا ۔پاشا گاڑی کے پچھلے دروازے سے کسی کا بازو کھینچ کر باہر نکال رہا تھا ۔
’’جھڈ مھنجی باھ ( چھوڑو میرا بازو ) میں خود اتر سکتی ہوں۔‘‘
چٹخ کر کہتی لڑکی کی جھلک پاشا کے عقب سے دیکھ کر سمان حیران ہوا ۔سوہائی چھلانگ لگا کر گاڑی سے اتری ۔
’’پرے ہٹو مجھ سے۔‘‘
پھر تنفر سے پاشا سے کہتی اپنی قمیص کی شکنیں درست کرنے لگی ۔پاشا کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔
’’ داؤد سائیں سے نظر بچا کر اس گاڑی میں گھس آئی ہو اور اب ہمیں سناتی ہو ٹھہرو ابھی داؤد سائیں کو بتاتا ہوں ۔‘‘
پاشا نے موبائل جیب سے نکالا۔
’’نن نہیں مجھے اس جہنم میں دوبارہ نہیں جانا فون مت کرو۔‘‘وہ ایکدم گھبرائی ۔
’’ابھی جاؤ گی واپس فکر نہ کرو۔‘‘
پاشا محظوظ سا مسکرا کر نمبر دبانے لگا۔
’’پاشا ادھر لے کر آؤ چھوکری کو۔‘‘
اس سے پہلے کہ وہ کال ملاتا سمان کی رعب دار آواز پر اچھل پڑا ،سوہائی بھی ادھر متوجہ ہوئی اور پھر دوڑتی ہوئی سمان کے پاس آئی۔
’’تم چھپ کر ہماری گاڑی میں کیوں بیٹھیں۔‘‘سمان نے سخت لہجے میں استفسار کیا۔
’’مجھے وہاں نہیں رہنا میرا قصور کیا ہے جو آپ لوگوں نے مجھے باندی بننے پر مجبور کردیا ہے مجھے اپنے گھر واپس جانا ہے۔‘‘
سوہائی اس کے انداز سے ذرا بھی خائف نہیں ہوئی۔
’’تمہیں یہ غلط فہمی کیوں ہوئی کہ ادھر آنے سے تم اپنے گھر واپس پہنچ جاؤ گی۔‘‘
سمان نے اسے گھورا تو سوہائی نے بے یقین نظر اس پر ڈالی۔
’’ مجھے لگا آپ ان سب سے الگ باشعور اور احساس والے انسان ہیں اسی لیے میں آپ کی گاڑی میں ۔‘‘
اس بار سوہائی کی زبان لڑکھڑائی تھی۔
سمان نے اپنی پیشانی مسلی۔
’’دیکھو لڑکی تمہاری دادی اب اس دنیا میں نہیں رہی اور تمہارا بابا اپنا آبائی گھر چھوڑ کر کہیں چلا گیا ہے۔‘‘
سمان نے دھیمے سے انداز میں اسے روح فرساں خبر سنائی۔
’’نن نہیں میری مٹھی دادی نہیں مر سکتی ہائے دادی تجھے ان ظالموں نے مار ڈالا۔‘‘
سوہائی زمین پر اکڑوں بیٹھ گئی اور سر پر ہاتھ رکھ کر زور زور سے رونے لگی سمان اس کی اتنی گریہ زاری پر افسردہ ہوگیا۔
’’اب ڈرامہ کرنے ادھر بیٹھ گئی ہے اٹھ چھوکری ۔‘‘پاشا جارحانہ آگے بڑھا ۔
’’پاشا میں کہتا ہوں وہیں ٹھہر جاؤ ۔‘‘
سمان کے غصیلے لہجہ میں تنبہہ تھی پاشا رک سا گیا۔
یہ بات کرنے کا طریقہ ہے عورت کا احترام کرنا سیکھو۔
اور مٹھل تم جاؤ اور مائی بھاگی کو بلاؤ ۔
اس کے حکم پر مٹھل فورا اندر گیا سمان نے سوہائی کو دیکھا جو اسی پوزیشن میں دہری ہوئی سسکیاں لے رہی تھی مائی بھاگی باہر آئی اور سمان کے پاس آکر ادب سے کھڑی ہوگئی ۔
’’جی سائیں!‘‘
’’ماسی بھاگی اس لڑکی کو اندر لے جاؤ ناشتہ پانی دو اور کچھ تسلی بھی یہ آج سے اسی کوٹھی میں رہے گی۔‘‘
سمان کی بات پر پاشا اور مٹھل نے اچھنبے سے ایک دوسرے کو دیکھا بھاگی نے آگے بڑھ کر سوہائی کو زمین سے اٹھایا ۔وہ نڈھال سی اٹھ کھڑی ہوئی سمان کو افسوس ہوا شاید اس کو دادی کی موت کی خبر نہیں سنانی چاہیے تھی۔ ان کے اندر جانے تک وہ کچھ افسردہ نظروں سے سوہائی کو دیکھتا رہا۔
٭٭٭
’’وہ چھوری تمہاری گاڑی میں چڑھ کر کراچی جا پہنچی ہے اس کی ہمت کیسے ہوئی۔‘‘
داؤد فون پر غرایا اسے ملازموں کے ذریعہ اطلاع پہنچ چکی تھی۔
’’وہ وہاں نہیں رہنا چاہتی۔‘‘
سمان نے رسان سے کہا۔
’’اس کی چاہ کی ایسی کی تیسی میں شام تک آرہا ہوں اسے واپس لے جانے اور اس بار اس کی ٹانگیں زنجیروں سے باندھ کے رکھوں گا دیکھتا ہوں کیسے بھاگتی ہے ۔‘‘
داؤد نے پھنکارتے ہوئے گندی گالی دی۔
’’خبردار اب وہ میری پناہ میں آچکی ہے اس لیے اسے اس کی مرضی کے بغیر یہاں سے لے جانے کی میں تمہیں اجازت نہیں دوں گا ۔‘‘
سمان کا بھی غصہ عود آیا۔
’’سمان ادا بہتر ہے کہ تم اس معاملے میں مت پڑو میں اس چھوری کو اٹھا کر لایا ہوں مجھے ہی اس سے نمٹنے دو۔‘‘
داؤد کو سمان کی بات پسند نہیں آئی۔
’’اب جب کہ وہ اپنی مرضی سے میرے گھر آگئی ہے تو میں اس معاملے سے بے پروا نہیں رہ سکتا اسے یہاں رہنے دو جب تک اس کی رضا ہے۔‘‘
سمان نے دو ٹوک انداز اپنایا۔
’’سمان ادا تم خوامخواہ دو ٹکے کی چھوری کے لیے جذباتی ہورہے ہو وہ اپنے بھائی کی فاش غلطی کے بدلے میں لائی گئی ہے اسے سزا دینی ہے ناکہ آرام سے رکھنا ہے اسے واپس جانے دو میں اسے اچھی طرح سدھاروں گا۔‘‘
داؤد اپنی ضد قائم تھا۔
’’یہ ٹھیک بات نہیں بھائی کا بدلہ بہن سے لیا جائے اس قبیح رواج کو اب ختم ہوجانا چاہیے تم بھی الٹی سوچ بدلو داؤد آج کے زمانے کے تعلیم یافتہ مرد ہو اور باتیں جاہلانہ کرتے ہو۔‘‘
سمان نے اسے سمجھایا۔
’’ادا غیرت کے آگے تعلیم کی نہیں چلتی ہماری عزت لے اڑا ہے اس کا بھائی اس کے ساتھ تو جو سلوک کیا جائے کم ہے بہرحال میں شام تک اسے لینے آرہا ہوں ۔‘‘
داؤد اپنی بات سے ہٹنے کو تیار نہ ہوا ۔
’’میں اسے کسی قیمت پر واپس نہیں جانے دوں گا ۔تم ادھر آنے کی زحمت نہ کرو۔‘‘
سمان بھی اسی کا بھائی تھا ضد پر آگیا۔
’’ادا سوچ لو یہ تم ٹھیک نہیں کر رہے ہو۔‘‘
داؤد کا لہجہ دھمکانے والا تھا۔
’’کیا کرلو گے تم میں نے کہا نا وہ میری پناہ میں آچکی ہے اب جب تک وہ خود نہیں چاہے گی میں اسے تمہارے حوالے نہیں کروں گا۔‘‘
سمان نے زور دے کر کہا اور سیل فون آف کردیا دوسری طرف داؤد تلملا کر رہ گیا۔
٭٭٭
’’سارے گوٹھ میں میرے جیسی ذہین کوئی چھوکری نہیں مہران ادا !اپنی کلاس میں پوزیشن لیتی ہوں نئی ٹیکنالوجی کا صحیح اور کارآمد استعمال صرف میں نے کیا ہے ۔سیل فون پر فضول ٹک ٹاک کی وڈیوز بناتی ہوں نہ سوشل میڈیا سرچنگ میں دماغ کھپاتی ہوں پھر بھی گوٹھ کے اکثر لوگ میرے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑے ہوئے ہیں ۔میری خود اعتمادی انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی ۔مٹھی دادی کو بھڑکانے نہ جانے کہاں کہاں سے مائیاں چلی آتی ہیں ۔‘‘
سوہائی بھائی کے بازو سے لگی منہ بسور رہی تھی۔
’’چھوڑو دنیا کی باتوں کو بہنا !جب تم کسی مقام پر پہنچ جاؤ گی تو لوگوں کی چلتی زبانیں خود ہی بند ہو جائیں گی تم دل برا نہ کرو، اور بس اپنی پڑھائی پر فوکس کرو میں بیٹھا ہوں نا تمہارا بھائی ۔سب فکریں میرے حوالے کردو اور سکون سے رہو۔‘‘
مہران نے اس کا شانہ تھپک کر تسلی دی۔ سوہائی نے ایک سسکاری بھری۔
’’اب تو سب فکریں تم سے ہی منسوب ہوگئی ہیں مہران ادا !سکون کا مطلب بھی بھول گیا ہے یہ کیسا زخم لگا کر چلے گئے ہو جو پل پل درد دیتا ہے ۔تم نے تو اپنی دنیا بسالی ہماری دنیا تو اجڑ گئی ۔میں رل گئی مٹھی دادی چلی گئی اور بابا بھی نہ جانے کہاں گم ہوگیا ۔ذرا مڑ کر ہمارا حال تو دیکھو تمہاری شہزادی بہن کن حالوں میں پہنچ چکی ہے۔
وہ بستر پر کروٹ پر کروٹ بدلتی اضطراب کی انتہاؤں پر تھی ،ماضی کا تصور آنکھوں کے آگے اندھیرا سا کردیتا جس میں اپنا حال اور بھیانک نظر آتا تھا۔
’’او چھوکری !چل اٹھ تجھے سائیں بلاتا ہے۔‘‘
ماسی بھاگی نے اس کا شانہ ہلایا تو وہ سستی سے آنکھیں رگڑتی اٹھ بیٹھی ،ماسی بھاگی اسے ڈائینگ روم میں لے آئی جہاں سمان مہر ڈائینگ ٹیبل پر لنچ کے لوازمات کے ساتھ موجود تھا۔
’’آؤ سوہائی !یہاں بیٹھو۔‘‘
سمان نے دائیں جانب پڑی کرسی کی طرف اشارہ کیا سوہائی جھجکتے ہوئے کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔ حویلی میں ہفتہ بھر اس کے ساتھ ملازموں سے بدتر سلوک ہوا تھا سو یہ پیشکش اس کے لیے حیران کن تھی۔ ماسی بھاگی نے بھی ابرو اوپر کرکے یہ منظر دیکھا۔
’’ماسی بھاگی !سوہائی یہاں ملازمہ بن کر نہیں بلکہ مہمان بن کر آئی ہے سو یہ جتنے دن ادھر ہے ۔اس کا خاص خیال رکھا جائے اوکے۔‘‘
ماسی بھاگی کے لیے یہ ہدایت ہضم کرنا کچھ مشکل ہوئی ،سو اس نے بمشکل سر ہلایا۔
’’بسم اللہ کرو سوہانی !‘‘
سوہائی نے خود سے کسی ایک ڈش کی طرف بھی ہاتھ نہ بڑھایا تو سمان کو ٹوکنا پڑا ۔
’’جی‘‘ سوہائی !نے بریانی کی قاب اٹھائی اور تھوڑے سے چاول پلیٹ میں ڈالے کتنے دن ہوگئے تھے اسے مٹھی دادی کے ہاتھ کے بنے پلے کا پلاؤ کھائے۔
نوالہ منہ میں ڈالتے ہی حلق گیلا ہونے لگا ۔
’’ہائے مٹھی دادی ۔‘‘
سوہائی نے چمچہ واپس رکھ دیا آنسو ایک روانی سے آنکھوں سے نکلے جنھیں وہ تیزی سے ہاتھوں کی پشت سے رگڑنے لگی۔
’’سوہائی کم ڈاؤن ۔‘‘
سمان نے اس کو ہمدردی سے دیکھا اس نے سرخ گیلی شکایتی نگاہیں سمان پر جما دیں ۔
’’میری دادی دنیا سے جا چکی ہے میرا بابا نہ جانے کہاں کی خاک چھانتا ہوگا۔ نہ جانے اسے روٹی کا نوالہ بھی نصیب ہوا ہوگا ۔یا نہیں میں ادھر بیٹھ کر کیسے یہ اچھے کھانے کھاؤں مم میں کچھ نہیں کھا سکتی۔‘‘
وہ ایک دم کرسی پیچھے کرکے اٹھی اور دوڑتی ہوئی ڈائننگ روم سے باہر نکل گئی سمان نے افسوس سے دروازے کی طرف دیکھا جبکہ مائی بھاگی نے برا سا منہ بنایا تھا۔
چھوکری کی جرأت تو دیکھو سائیں کے سامنے کھانے کی میز چھوڑ کر چلی گئی۔
٭٭٭
’’میں نے بہت برا سپنا دیکھا ہے مہران۔‘‘
سورٹھ گھبرائے ہوئے انداز میں مہران کے بازو سے لگی۔
’’اچھا‘‘مہران نے کچی زمین پر نگاہیں جمائے رکھیں۔
’’تم کو کیا ہوا ہے ایسے بجھے سے بیٹھے ہو۔‘‘
اس نے مہران کی بے توجہی محسوس کرلی۔
’’تمہارے بھائی نے میری بہن اٹھالی ہے۔ سورٹھ اور میری دادی اس صدمے سے دنیا سے گزر گئی ہے۔‘‘
مہران نے آنکھیں اوپر اٹھائیں تو وہ اتنی سرخ تھیں کہ سورٹھ ڈر گئی۔
’’ یہ کب ہوا یقینا یہ داؤد ادا کا کام ہے میں نے تم سے کہا تھا نا کہ ادا بہت اکھری طبیعت کے مالک ہیں۔‘‘
’’اکھری یا وکھری میں نہیں جانتا میری معصوم بہن کا کیا قصور اسے کیوں اغوا کیا گیا ۔نہ جانے کس حال میں ہوگی ،میری سوہا تم سے محبت کی بڑی قیمت چکائی ہے میں نے سورٹھ۔‘‘
مہران نے اضطراری انداز میں ہاتھ مسلے آخری جملہ تو سوڑھ کے دل پر لگا۔
’’مجھ سے شادی کرنے پر پچھتا رہے ہو۔ مہران چانڈیو۔‘‘
وہ صدمے سے دور ہٹی۔
’’نہیں سورٹھ مگر میں نے ایسا تصور بھی نہیں کیا تھا جیسا مہروں نے میرے ساتھ کر ڈالا ۔میں نے تو تمہیں اپنی عزت بنایا ہے اور وہ ہماری عزت سے۔‘‘
مہران نے لب سختی سے بھینچے۔
’’تم آج مجھ سے کس اجنبی پن سے بات کر رہے ہو مہران میں جسے تم میری سورمی کہا کرتے تھے آج محض سورٹھ پکار رہے ہو۔‘‘
سورٹھ کا افسوس ہی تمام نہیں ہورہا تھا۔
’’میں اتنے بڑے صدمے میں گھرا ہوں اور تمہیں اپنے چونچلوں کی پڑی ہے۔‘‘
مہران نے تلخی سے منہ پھیرا سورٹھ کا دل پارہ ہوا۔
’’یہ تکلیف یہ اذیت ہم دونوں ہی مشترکہ جھیل رہے ہیں ۔آج تم نے مجھ سے اپنے دکھ الگ کرلیے تمہاری بہن میری بہن ہے ۔مجھے بھی اس کے اغوا کا افسوس ہے ،تم مجھ بے قصور کو میرے بھائی کے ساتھ مجرم کیوں ٹھہرا رہے ہو۔‘‘
سورٹھ بے اختیار رونے لگی مہران شرمندہ ہوا۔
’’مجھے معاف کر دو سورمی میں یہ خبر سن کر بہت زیادہ غصے میں ہوں تمارے بھائی نے بہت برا کیا ہے ۔‘‘
اس نے سورٹھ کو اپنی بانہوں کے حلقے میں لیا ۔
’’اس میں میرا قصور کہاں نکلتا ہے۔‘‘
روئی روئی سی سورٹھ نے معصومیت سے آنکھیں جھپکیں ۔
’’تمہارا کوئی قصور نہیں سب میرا قصور ہے سورمی میں نے آنے والے خطروں کے امکانات میں اس امکان کو سوچا نہیں تھا ۔میری غلطی کی میری فیملی نے بھاری قیمت چکائی ہے۔‘‘
وہ سورٹھ کے ملائم بالوں پر اپنا گال ٹکاتے شدت سے پچھتایا ۔
٭٭٭
سوہانی منہ چھپا کر رونے سے کیا حاصل جو کچھ بیت چکا اب اس کو واپس لانا ناممکن ہے اٹھو ،ہمت پکڑو اور اس قید سے رہائی حاصل کرو اپنے بابا کو ڈھونڈو جو نہ جانے مصائب کے کن صحراؤں کو پار کر رہا ہوگا۔
تین دن اپنے غم پر رونے بلکنے کے بعد سوہائی نے اس صبح اپنے اندر بکھری ہمت مجتمع کرنے کی کوشش کی اپنی آنکھوں پر پانی کے چھینٹے مارتے دوبارہ نہ رونے کا خود سے عہد کیا ۔
’’میں ایک مضبوط لڑکی ہوں، میرے بابا نے ہمیشہ مجھے دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جینا سکھایا ہے ۔میں کیوں شکست خوردہ ہورہی ہوں نہیں مجھے بہادر بننا ہے ۔‘‘
وہ کتنی دیر واش بیسن کے آئینے میں اپنے عکس کی ہمت بندھاتی رہی ،پھر جب وہاں سے باہر نکلی تو گاؤں کی وہی سوہائی تھی جس کی خود اعتمادی سے گوٹھ کے لوگ حیرت کرتے تھے۔
ادھر کوئی کپڑوں کا جوڑا رکھا ہو تو اسے پہن کر اپنے کپڑے دھولوں باسی کپڑے اب تو کاٹنے لگے ہیں۔
وہ الماری کھول کر اندر جھانکنے لگی حیرت انگیز طور پر الماری میں کئی سوٹ ہینگ کیے ہوئے نظر آئے سوہانی نے ایک جوڑا نکالا اور چینج کرلیا قمیص کچھ ڈھلی تھی پر غنیمت تھا یہ کمرہ سرونٹ کواٹرز سے کچھ دور بنگلے کے اندرونی طرف بنا ہوا یہاں پر رکھا فرنیچر بھی معمولی نہیں تھا اتنے دنوں میں پہلی بار سوہائی نے کمرے کا جائزہ لیا پھر سر جھٹک کر باہر نکل آئی ارادہ مائی بھاگی سے سرف لینے کا تھا تاکہ اپنے کپڑے دھو سکے مائی بھاگی سامنے ہی مٹھل کے ساتھ کھڑی نظر آئی دونوں نے بیک وقت سوہائی کو دیکھا ۔
’’مائی بھاگی مجھے سرف چاہیے ۔‘‘
اس کی مانگ پر مائی بھاگی نے مٹھل کو جانے کا اشارہ کیا۔
’’کیا کرو گی سرف کا۔‘‘
’’ظاہر ہے کپڑے دھونے ہیں میرے پاس ایک ہی جوڑا ہے جو کافی گندا ہورہا ہے۔‘‘
سوہانی کو اس کا استفسار ناگوار گزرا۔
’’کیوں الماری میں نئے سوٹ رکھوائے تو ہیں سائیں نے تمہارے لیے اب پہن بھی لیا ہے پھر بھی بولتی ہو ایک جوڑا ہے۔‘‘
مائی بھاگی نے منہ بنا کر جتایا تو سوہانی حیران ہوئی پر اظہار نہ کیا۔
’’آؤ اب نکلی ہی ہو کمرے سے تو سائیں کو اپنی شکل دکھا دو کب سے تمہارا پوچھ رہے ہیں۔‘‘
وہ آگے چلی تو سوہائی کو تقلید کرنی پڑی سمان اپنے بیڈروم میں بیڈ پر ٹیک لگائے لیپ ٹاپ سامنے رکھے بیٹھا تھا ،دستک دے کر دونوں اندر داخل ہوئیں تو سوہانی کو دیکھ کر سمان نے لیپ ٹاپ ایک طرف کردیا۔
’’آؤ سوہانی کیسی طبیعت ہے اب ۔‘‘
اس نے نرمی سے پوچھا تو سوہائی نے سر ہلا دیا۔
’’مائی بھاگی تم کچن دیکھو ۔‘‘
سمان کے حکم پر مائی بھاگی باہر نکل گئی سمان نے اسے پاس پڑے صوفہ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا سوہائی آہستہ قدم اٹھاتی وہاں ٹک گئی۔
’’زندگی یوں نہیں گزرتی ہے سوہانی چھپ کر اور رو کر جو ہونا تھا ،ہوگیا شاید قسمت میں اسی طرح لکھا تھا تم قسمت کو بدل نہیں سکتی۔‘‘
سمان نے اسے دیکھ کر رسان سے کہا۔
’’آپ نے ٹھیک کہا میں قسمت کو نہیں بدل سکتی۔‘‘
سوہائی نے بڑبڑا کر اپنی ہتھیلی کھول کر اس پر نظر جمائی۔
’’لیکن میں وہ تو کرسکتی ہوں جو میرے ہاتھ میں ہے آپ مجھے میرے گاؤں جانے دیں میں اپنے بابا کو ڈھونڈوں گی۔‘‘
سوہائی کے مطالبے پر سمان نے گہری سانس لی۔
’’سوہائی میں تمہیں اپنے گھر پناہ دے سکتا ہوں ،تمہیں چھوڑنے کا مطلب تمہاری اپنی جان کا خطرہ ہے، داؤد تمہیں پاتال سے بھی واپس کھینچ لائے گا پھر تم اس جگہ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گی اور واپس اسی حویلی کی قید میں چلی جاؤں گی یا پھر اپنی سانسوں کی قید سے آزاد ہوجاؤ گی۔ یہ گراؤنڈ ریئلٹیز بتا رہا ہوں تمہیں کیونکہ تم ماشائ اللہ پڑھی لکھی باشعور لڑکی ہو۔‘‘
سمان کے لہجے میں فرق نہیں آیا تھا سوہائی کی پیشانی پر سلوٹیں پڑ گئیں۔
’’تم اپنے بھائی کی زندگی کی دعا کرو ،داؤد ان دونوں کے ہی خون کا پیاسا ہے سورٹھ نے بہت امچیور حرکت کی ہے اور ہماری فیملی میں لڑکیوں کی غلطیاں آسانی سے معاف نہیں کی جاتیں۔‘‘
سمان کی اگلی بات سوہائی کو بے چین کرگئی ۔
’’آپ لوگ ان دونوں کو ڈھونڈ کر اپنی بہن واپس لے جائیں ۔میرے بھائی کی جان کیوں لینا چاہتے ہیں۔‘‘
سوہائی کے جذباتی ہوئی ۔
’’دعا کرو سب خیر رہے اور خدا کرے کہ وہ دونوں داؤد کو کبھی نہ ملیں۔‘‘
سمان کی بات میں ہزار اندیشے چھپے تھے سوہائی جو کچھ دیر پہلے مضبوط دکھائی دیتی تھی ٹوٹنے لگی۔ مہران بھائی کے متعلق کچھ برا تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا اور اب سمان مہر کی بات سن کر بھائی کی محبت شدت سے جاگ اٹھی۔
’ؔ’اللہ سائیں ادا کو سلامتی دینا۔‘‘وہ بے اختیار دعاگو ہوئی۔
’’ویسے تم نے تعلیم کہاں تک حاصل کی ہے۔‘‘ سمان کے سوال پر وہ چونکی۔
’’بیچلرز کیا ہے ڈگری کالج سہون سے سوچا تھا سندھ یونی سے ماسٹرز کرنے کے بعد ایم فل کروں گی ۔ایٹ لیسٹ ادا نے تو میرے لیے ہاسٹل وغیرہ سب دیکھ رکھا تھا بابا اور ادا مجھے پڑھائی میں بہت سپورٹ کرتے تھے ساری برادری سے ویر (پنگا) لے کر مجھے تعلیم دلوا رہے تھے ۔‘‘
سوہائی کے لہجے میں گیلا پن در آیا سمان حیران ہوا یہ چھوٹی سی لڑکی گریجویٹ تھی۔
’’ویری گڈ میں سوچ ،نہیں سکتا تھا کہ تمہارے گوٹھ میں بھی لڑکیوں کی تعلیم کا رجحان ہوگا اور تمہارے گھر کے مرد اتنے سپورٹیو ہوسکتے ہیں۔‘‘
سمان نے سراہنے والے انداز میں اسے دیکھا۔
’’ ہمارے گوٹھ میں لڑکیوں کی تعلیم کا خاطر خواہ انتظام نہیں ہے ۔سرکاری اسکول ہے تو سہی مگر وہاں لڑکیوں سے زیادہ بھینسیں بندھی ہیں میرا ارادہ بہت سارا پڑھ لکھ کر اپنے گوٹھ میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے اچھا انتظام کرنے کا تھا لیکن قسمت کو نہ جانے کیا منظور ہے۔‘‘
سوہائی حقیقت بتاتے ہوئے افسردہ ہوئی ۔
’’بہت ہی اچھا سوچا ہے تم نے کافی روشن خیال فیملی سے تعلق رکھتی ہو ،مہران کا سورٹھ نے کبھی ذکر کیا نہ مجھ سے ملوایا ۔حالانکہ میری بہن مجھ سے دل کی ہر بات کرلیتی تھی ۔یہی بات چھپا گئی بہرحال تمہاری باتوں سے لگتا ہے ،وہ کھلے دل کا مزاج کا بہت اچھا شخص ہے۔ دل کو سکون ملا ہے ،یہ جان کر کہ سورٹھ کا انتخاب بہترین ہے۔‘‘
سمان نے مطمئن سانس کھینچا ۔
’’مزاجاً تو آپ بھی اپنی فیملی سے بہت مختلف ہیں۔‘‘
سوہائی کہے بنا رہ نہ سکی دفعتاً دروازہ کھلا تو دونوں ادھر متوجہ ہوئے ،ایک اسمارٹ لڑکی بیگی اسٹائل کورڈ سوٹ میں ملبوس بے دھڑک اندر چلی آئی سمان کی مسکراہٹ ایک دم سمٹی تھی اس نے پاس پڑا لیپ ٹاپ دوبارہ اپنے سامنے کیا اور تیزی سے کی بورڈ پر انگلیاں چلانے لگا۔
’’ہائے بڈی واٹس گوئنگ آن ۔‘‘
وہ بے تکلفی سے آگے بڑھی پھر سوہائی کو دیکھ کر ٹھٹکی۔
’’آئم بزی رائٹ ناؤ یو شوڈ ٹیل می بی فور یو کمنگ ( میں اس وقت مصروف ہوں تمہیں آنے سے پہلے بتانا چاہیے تھا)‘‘
سمان نے اسکرین پر نگاہیں جمائے سرد لہجے میں کہا۔
’’ویل اٹس ڈزن ناٹ سیم لائک دس‘‘ (اچھا ایسا دکھتا تو نہیں )
وہ سوہائی کو دیکھتے معنی خیز انداز میں بولی پھر بیڈ پر اپنا پرس اچھالا اور خود بھی وہیں نیم دراز ہوئی سوہائی کو اس کے بے باک انداز سے سمان سے اس کا رشتہ سمجھ میں آنے لگا۔
’’یہ غالباً سمان مہر کی بیوی یا منگیتر ہے۔‘‘
وہ سوچتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی ۔
’’اوئے کہاں جارہی ہو ادھر آؤ۔‘‘
سوہائی کے قدم بڑھاتے ہی اس نے آواز لگائی۔
’’کون ہے تو چھوری اور سمان کے بیڈروم میں کیا کر رہی ہے۔‘‘
شستہ لہجے میں انگریزی بولنے والی اب جاہل انداز میں اس سے مخاطب تھی سوہائی کو افسوس ہوا۔
’’یہ کس قسم کی زبان استعمال کر رہی ہو رملہ۔‘‘
سمان نے لیپ ٹاپ بند کرکے ناگواری سے ٹوکا۔
’’کیوں ایسی کون سی معتبر ہستی ہے جس سے ادب سے بات کروں۔‘‘
وہ مزید تیز ہوئی۔
’’سوہائی تم جاؤ ۔‘‘
سمان نے فوراً سے پیشتر اسے منظر سے ہٹانا چاہا وہ کہاں رکنا چاہتی تھی فورا کمرے سے باہر نکلی۔
’’بہت ہی بد تہذیب خاتون ہے۔‘‘وہ بڑبڑاتی کچن میں آئی۔
’’کون رملہ بی بی!‘‘
مائی بھاگی کے کان بہت تیز تھے۔
’’ہاں شاید اس کا نام رملہ ہے یہ سمان مہر کی کیا لگتی ہیں۔‘‘
سوہائی نے تجسس سے پوچھا۔
’’سابقہ منگیتر ہے ۔‘‘
مائی بھاگی کے جواب نے اسے چونکا دیا۔
’’سابقہ منگیتر پھر اب وہ اتنی بے تکلفی سے ان کے بیڈروم میں کیوں موجود ہے۔‘‘
’’وہ کیا کہتے ہیں بہت زیادہ لب رل ہے خود بولتی ہے میں سائیں کی سہیلی ہوں شادی نہیں کی تب بھی سہیلی ہی رہوں گی۔‘‘
مائی بھاگی نے منہ بگاڑ کر بتایا۔
’’لیکن ان سے شادی کیوں نہیں کی۔‘‘
سوہائی نے تجسس سے پوچھا۔
’’سائیں کی معذوری کی وجہ سے ،جب منگنی ہوئی تھی تو بھلے چنگے تھے پھر ایک کار حادثے میں ایسی چوٹیں لگیں کہ اپنے پاؤں پر کھڑے نہ ہوسکے ہونے کو تو بہت علاج ہوا ابھی بھی باہر جاکر مزید علاج کروا سکتے ہیں پر اس بے مروت عورت نے معذوری دیکھ کر جب سے سائیں سے منگنی توڑی ہے ۔سائیں دل ہی چھوڑ بیٹھے ہیں اتنا بڑا نامی خاندان سائیں کا اتنا اچھا عہدہ ،روپے پیسے کی ریل پیل پھر سائیں کے چاک و چوبند ہونے کا امکان کوئی بھی چیز اس عورت کو اپنے فیصلے سے باز نہیں رکھ سکی ،دے دی انگوٹھی اتار کر سائیں کے ہاتھ میں نہ شرم نہ لحاظ۔‘‘
مائی بھاگی فراٹے سے بتاتی چلی گئی۔
’’پھر اب منگنی توڑ دی تو ادھر کیوں آتی ہے۔‘‘
سوہائی کی سوئی وہیں اٹکی تھی۔
’’خدا جانے اس بے شرمی اور ڈھٹائی کا مقصد کیا ہے ،سائیں کے تو زخم ہی ادھڑتے ہیں اسے منع بھی نہیں کرتے ادھر آنے سے ،بے شرم نے دوسرے مرد سے منگنی بھی رچا رکھی ہے پھر بھی سائیں کے پاس آ دھمکتی ہے ،اپنے منگیتر کے قصے سناتی ہے ،اس کی کشتی غرق ہو ،نجانے کیا ملتا ہے جلے ہوئے کو اور جلا کر ۔‘‘
مائی بھاگی اپنے مالک کی ہمدردی میں پور پور ڈوبی ہوئی تھی۔
’’یہ تو بڑی زیادتی ہے۔‘‘
سوہائی نے افسوس سے کہا۔
’’سو تو ہے اچھا تم ناشتے میں کیا لو گی سائیں نے تمہارا بہت خیال رکھنے کو کہا ہے تمہارے لیے سائیں نے بہت ہی نرم دلی دکھائی ہے ،ورنہ تم جیسی بدلے میں آئی لڑکیوں کی تو بوٹی بھی نہیں ملتی ۔‘‘
مائی بھاگی نے بات کرتے کرتے پھر اپنا لہجہ بدل لیا سوہائی نے بمشکل خود کو جواب دینے سے روکا اسے مائی بھاگی بھی اپنے گوٹھ کی نوے فیصد عورتوں کی ذہنیت کی لگی۔
’’ایک باشعور انسان کا رویہ ایسا ہی ہونا چاہیے، خیر تم نہیں سمجھو گی ویسے کیا بنا رہی ہو لنچ میں۔‘‘
سوہائی نے بات پلٹ کر پوچھا ۔
’’سائیں کھانا سادہ ہی پسند کرتے ہیں ،لیکن اب رملہ بی بی کے لیے اہتمام کرنا پڑے گا۔‘‘
وہ مصروف انداز سے ہاتھ چلانے لگی۔
’’رملہ بی بی کھانا بھی یہیں کھائیں گی۔‘‘
سوہائی کو پھر حیرت ہوئی۔
’’ہاں آتی ہیں تو کھانا کھائے بنا نہیں جاتی، سائیں ویسے ان کو دیکھ کر غصہ ہوتے ہیں پر اپنا پیار بھلا نہیں پائے ،ان کی خاطر بھی کرتے ہیں ۔‘‘
’’اچھا اتنی بے وفائی کے بعد بھی پیار باقی رہ جاتا ہے کیا۔‘‘
سوہائی کو اس بات نے تعجب میں ڈالا ۔
’’پیار پتھر کو پانی بنا دیتا ہے ،چھوکری یہ محبوب کا بڑے سے بڑا گناہ بھی معاف کردیتا ہے ،ورنہ سائیں جیسے غصہ ور ٹھنڈے پڑیں کسی کے لیے نا ممکن بات ہے۔‘‘
بھاگی کی بات میں تجربہ بول رہا تھا۔
’’یک طرفہ پیار ہے ،بس جو تمہاری رملہ بی بی کو نہیں ہے ،ورنہ وہ محبوب کی معذوری با آسانی نظر انداز کر دیتی۔‘‘
سوہانی کی بات پر بھاگی نے سر ہلایا۔
’’کہتی تو تم ٹھیک ہو مگر ہم چاکری کرنے والے لوگ کیا کہہ سکتے ہیں ۔‘‘
پھر اس نے بے نیازی سے دیگچی میں چمچہ چلایا۔
٭٭٭
’’سورمی ادھر علاقے میں ایک ولاگر گھومتا نظر آیا ہے ،چاچا بتا رہا تھا وہ لوگوں کو میری تصویر دکھا کر میرے متعلق پوچھ رہا تھا لگتا ہے سوشل میڈیا پر ہماری خبریں وائرل ہوگئی ہیں۔‘‘
مہران پیشانی پر تفکر کی لکیریں لیے بتا رہا تھا سورٹھ کا دل بیٹھنے لگا۔
’’کسی بھی معاملے کی تفتیش کے لیے پولیس سے زیادہ تو یہ انفلونسر ایکٹیو نظر آتے ہیں۔‘‘
وہ گھڑے سے پانی کا گلاس بھر کر پینے لگا سورٹھ کی آنکھوں میں پانی پھیلنے لگا۔
’’زندگی کی بنیادی ضروریات تک سے دور ہم یہاں ملک کے آخری کونے میں چھپے بیٹھے ہیں جہاں ریت آنکھوں کو چھبتی ہے اور گرمی ماس جلاتی ہے ،نہ لیٹنے کو نرم بستر ہے نہ کھانے کو ڈھنگ کی روٹی پھر بھی سکون نہیں ہے ،ہر لمحہ پکڑے جانے کا خوف ہماری ہر سوچ پر بھاری ہے۔‘‘
سورٹھ نے رونا شروع کردیا تو مہران کے ہاتھ سے اسٹیل کا گلاس چھوٹ گیا، وہ دوڑ کر سورٹھ کے قریب آیا۔
’’ارے نہیں سورمی رونا نہیں ہے ہمت کرو اچھے دن ہمارے منتظر ہیں۔‘‘
وہ اس کے گرد بازو پھیلا کر بہلانے لگا۔
’’مہران اچھے دن گزر چکے اب تو صرف آزمائش کے دن چل رہے ہیں ۔نجانے کیا گناہ کردیا ہے، ہم نے محبت کرکے کہ نکاح کے بعد بھی منہ چھپاتے پھر رہے ہیں ،لگتا ہے یہ آزمائش ہماری زندگی کے ساتھ تمام ہوگی۔‘‘
سورٹھ نے مایوسی کی سانس کھینچی۔
’’رب پر بھروسہ رکھو ،سورمی وہ ہمارے حال پر ضرور رحم کرے گا۔‘‘
مہران نے اس کے بال سہلا کر تسلی دی تھی۔
٭٭٭
وہ بد دلی سے لان کا چکر لگا کر اب واپس بنگلے کے اندرونی حصے میں آگئی تھی ذہن مسلسل پریشان تھا۔
’’میرا بابا نہ جانے کس جگہ کی خاک چھان رہا ہوگا ،مہران ادا خود تو اپنی خوشی سے گمشدہ ہوئے ہمیں بھی الگ الگ زمینوں کی مٹی میں رول دیا۔‘‘
وہ دل میں بھائی سے شکوہ کناں ہوئی سمان اپنی وہیل چیئر دھکیلتا سامنے سے آرہا تھا سوہائی فوراً ایک پلر کے پیچھے ہوئی سمان کا رخ لان کی طرف تھا روز صبح کو وہ لان میں بیٹھ کر چائے پیتا تھا۔
’’سوہائی ادھر آؤ وہاں کیوں چھپی کھڑی ہو۔‘‘
’’سمان کی آواز پر وہ اچھل گئی پلر کے پیچھے سے لہراتا دوپٹا غالبا سمان نے دیکھ لیا تھا۔
’’جی!‘‘ وہ خفیف ہوکر سامنے آئی۔
’’میرا سیل فون روم میں رہ گیا ہے پلیز لے آؤ۔‘‘
سمان نے مخصوص نرمی سے کام بتایا۔
سوہائی تیز قدموں سے اس کے بیڈ روم میں آئی بیڈ پر پڑا سیل فون جھپٹ کر اٹھایا اور بے ترتیب دھڑکنوں سے موبائل آن کیا موبائل پر کسی قسم کا پاس ورڈ نہیں لگا تھا ،سوہائی نے بے تابی سے ایک نمبر ڈائل کیا اور کان سے لگایا چند منٹ خاموشی کے بعد ریکارڈنگ سنائی دی۔
’’آپ کا مطلوبہ نمبر بند ہے۔‘‘
سوہائی کا دل بند ہونے لگا اس نے نم آنکھوں سے کال کاٹ دی اور شکستہ قدموں سے باہر نکلی۔
’’بابا آپ نے میرے ساتھ بالکل بھی اچھا نہیں کیا۔‘‘
وہ بڑبڑاتی ہوئی سمان کے پاس آئی اور سیل اسے دیا۔
’’اور کیسی گزر رہی ہے ،یہاں کوئی مسئلہ تو نہیں۔‘‘
سمان کے سوال پر وہ تلخی سے مسکرائی۔
’’قید وہی ہے بس پنجرہ بدل گیا ہے۔‘‘
’’سوہائی ادھر بیٹھو۔‘‘
سمان نے سامنے رکھی کرسی کی طرف اشارہ کیا تو وہ ناچار اس پر بیٹھی۔
’’دیکھو سوہائی تم میرے بنگلے میں آرام سے رہو ،یہاں تمہیں کوئی نہیں ستا رہا ہاں بس میں تمہارے گھر والے نہیں لوٹا سکتا ،باقی یہاں تم پوری عزت اور حفاظت سے ہو بے فکر رہو۔‘‘
وہ نرمی سے اسے سمجھاتے ہوئے سیل فون کھولتے ٹھنکا۔
’’یہ نمبر تم نے ڈائل کیا ہے سوہائی۔‘‘
سمان کے سوال پر وہ سر جھکا گئی۔
’’تمہارے بابا کا ہے۔‘‘
دوسرے استفسار پر سوہائی نے سر ہلایا۔
’’پھر بات ہوئی ان سے۔‘‘
اس سوال پر سوہائی نے شاکی نظریں اوپر اٹھائی۔
’’دل چھوٹا مت کرو میں اس نمبر کی ڈٹیل نکلواتا ہوں ،سب پتا چل جائے گا۔‘‘
سمان نے تسلی آمیز انداز میں کہا تو سوہائی میں جیسے جان پڑ گئی۔
’’پلیز اگر آپ یہ کرسکیں تو بہت اچھا ہوجائے گا۔‘‘
’’کیوں نہیں تم اللہ سے امید رکھو ،سب اچھا ہوگا۔‘‘
سمان نے جیسے ایک امید اسے تھمائی۔
’’تمہارے لیے سیل فون منگواتا ہوں یوں دوسروں کے فون چوری سے استعمال نہیں کرتے ۔‘‘
سمان کی اگلی بات پر سوہائی جی بھر کر شرمندہ ہوئی۔
٭٭٭
’’ ان سب جوڑوں کو میں آگ لگاؤں گی، بھاگ گئی بد بخت میرے لاکھوں میں ایک بیٹے کو ٹھکرا کر اس ٹٹ پونجیے کے ساتھ۔‘‘
کنول پھوپھی بھاری زرتار کپڑوں کو مٹھیوں میں جکڑ کر نوچنے لگی آدریان نے بیزاری سے ماں کو دیکھا۔
’’اماں اتنے دن ہوگئے ادا داؤد کی صرف گیدڑ بھبھکیاں سنتے ہوئے ،میں یہ کرلوں گا میں وہ کرلوں گا خاک کیا ہے کچھ وہ ٹکے کا چھورا میری منگ کو بھگا کر لے گیا اور یہ اپنے رسوخ سے ابھی تک ان دونوں کو ڈھونڈ بھی نہ سکے ،بس اس کم ذات چھوری کو اٹھا کر لے آئے بڑا احسان کیا وہ بھی جاکر سمان ادا کی پناہ میں چھپ گئی ہے ۔‘‘
آدریان جلا بیٹھا تھا ۔
’’کیا کہا ذرا پھر سے دہرانا۔‘‘
اچانک داؤد کی بھاری آواز پر ماں بیٹے چونکے وہ آدریان کے سر پر کھڑا اسے گھور رہا تھا۔
’ؔ’وہ ادا میں تو اماں سے یونہی۔‘‘
آدریان تھوک نگلتے صوفہ سے اٹھا۔
’’میرے اثرو رسوخ کو آئندہ کبھی چیلنج مت کرنا آدریان تم نہیں جانتے میں غلطی کرنے والوں کو کیسے مسلتا ہوں ۔‘‘
اس نے غضبناک انداز سے آدریان کو تنبہہ کی۔
’’جی میں جانتا ہوں ۔‘‘
’’تم کچھ نہیں جانتے ورنہ میرے متعلق یوں منہ نہ کھولتے تمہاری منگ اب تمہیں سلامت حالت میں دوبارہ نظر نہیں آئے گی، میں مہران کے ساتھ اس کو بھی بھون دوں گا اور رہی بات اس چھوری کی، سمان نے بلا وجہ اس معاملے میں اپنی ٹانگ اڑائی ہے اس سے میں خود نمٹ لوں گا۔‘‘
داؤد ترشی سے کہہ کر واپس کمرے سے باہر نکل گیا تو آدریان کی جان میں جان آئی کنول کا بھی اٹکا ہوا سانس بحال ہوا۔
’’ایسے جو منہ میں آئے بک نہیں دیتے آدی! تمہیں پتا تو ہے داؤد غصے کا کتنا تیز ہے سوچ سمجھ کر بولا کرو ،تمہارا باپ تو ہمیں چھوڑ کر اس باگڑی عورت کے پیچھے چلا گیا اب اسی گھر سے ہماری زندگی جڑی ہے ،ہمیں مفاہمت سے رہنا ہے ۔‘‘
کنول نے بیٹے کو گھرکا تو آدریان نے پیشانی سے پسینہ پونچھتے سر ہلایا۔
٭٭٭
مائی بھاگی کو اچانک ڈینگی بخار نے آ گھیرا سارا باورچی خانے کا نظام گویا تلپٹ ہوگیا ،اس ایک ہفتے میں دو پروفیشنل کک آئے اور گئے سمان مہر کو مائی بھاگی کے ہاتھ کا کھانا پسند تھا ،سو وہ کسی اور کے بنائے ذائقے پر کمپرومائز نہیں کر رہا تھا، وہ چڑچڑا ہوکر تھوڑا چکھ کر ہی کھانا لوٹا دیتا ،سوہائی نے پہلی بار سمان کو یوں آپے سے باہر ہوتے دیکھا تھا ،مائی بھاگی سے اس کے غصے کے متعلق سنا ضرور تھا مگر ابھی تک پالا نہیں پڑا تھا ،اس دن بھی ایک نیا کک جو شکل و صورت سے چینی دکھائی دیتا تھا گھبرائے ہوئے انداز سے سمان کے روم سے بھری ہوئی ناشتے کی ٹرالی گھسیٹتا باہر نکلا تو اندر داخل ہوتی سوہائی سے ٹکرا گیا۔
’’مائی گاڈ سر تو بہت اینگری مین ہے آپ بھی اندر مت جاؤ۔‘‘
اس نے اڑی رنگت سے سوہائی کو مشورہ دیا سوہائی نے نظر انداز کر کے اندر قدم رکھ دیا سمان اپنی چیئر پر کبھی ادھر کبھی ادھر چکرا رہا تھا ،سوہائی نے آہستہ سے سلام کیا چیئر کی حرکت رک گئی۔
’’وعلیکم السلام سوہائی پلیز اس وقت آپ یہاں سے چلی جائیں۔‘‘
بے رخی سے کہہ کر چیئر موڑی۔
’’آپ لنچ میں کیا کھانا پسند کریں گے ،سمان مہر ۔‘‘
سوہائی گھوم کر اس کے سامنے آئی اور رسان سے پوچھا سمان نے حیران نظر اٹھائی۔
’’کچھ نہیں۔‘‘
پھر چیئرکو گھمایا۔
’’آپ ایک بار میرے ہاتھ کا پکا ٹرائی تو کریں یقین کریں بہت پسند آئے گا ،میری مٹھی دادی نے بہت متھا ماری کے بعد اپنے ہاتھ کا سارا ذائقہ میرے ہاتھ میں منتقل کیا ہے۔‘‘
وہ دو قدم اٹھا کر پھر اس کے سامنے آئی سمان نے اب کہ اسے گھورا۔
’’کیا اچھا پکا سکتی ہیں آپ سوہائی چانڈیو۔‘‘
اس کے لہجے میں محسوس کیے جانے والا طنز تھا۔
’’سب کچھ جو آپ کو پسند ہو۔‘‘
سوہائی پر اعتماد دکھائی دی۔
’’پلے کا پلاؤ اور بہی کا کا سالن ساتھ میں چاولوں کی روٹی۔‘‘
سمان نے سوچ کر مینو بتایا سوہائی بے اختیار مسکرائی۔
’’حاضر سائیں۔‘‘
پھر سر کو جنبش دے کر کہا اور باہر نکل آئی وہ تیزی سے اس جدید کچن میں قدیمی کھانا بنانے داخل ہوئی آج اس کا جوش ہی الگ تھا بہت دنوں کے بعد اس نے کوئی چیلنج لیا تھا اور نت نئے چیلنجز لینے کے لیے وہ گوٹھ میں مشہور تھی۔
کچن میں آکر اس نے فریج کا جائزہ لیا تو پلا فریزر میں موجود تھا نوعمر ملازم دودو کے ہاتھ مارکیٹ سے سبزی اور چاول کا آٹا منگوا لیا اور پھر ایک گھنٹے کے اندر وہ لنچ تیار کرکے ڈائینگ ٹیبل پر چن رہی تھی سمان قدرے برے موڈ سے ڈائننگ روم میں آیا پھر اس نے بے دلی سے کھانے کا آغاز کیا مگر ایک دو نوالے لینے کے بعد رغبت سے کھانے لگا ۔
’’بے حد لذیذ بنا ہے۔‘‘
اس نے بے اختیار ہاتھ کا انگوٹھا بلند کیا سوہائی جو جی جان سے اس کے ری ایکشن کی منتظر تھی ایک دم خوش ہوئی۔
’’میں نے کہا تھا ناں۔‘‘
وہ چمکتی آنکھوں سے ٹیبل پر جھکی۔
’’یہ بہی کا سالن ٹرائی کریں ۔‘‘
اس نے ڈونگے میں سے کچھ سالن پلیٹ میں انڈیلا اور پلاؤ سے لطف اندوز ہوتے سمان کے آگے رکھا۔
’’کیوں نہیں پہلے اس پلے سے تو نمٹنے دو ۔‘‘
سمان خوش گوار موڈ سے نوالہ منہ میں ڈالا۔
’’تم بھی بیٹھو نا کھڑی کیوں ہو ،جسٹ جوائن می۔‘‘
اس نے سوہائی کو کھڑا دیکھ کر کہا تو وہ کرسی کھینچ کر سمان کے برابر میں بیٹھ گئی پھر سالن نکالتے نوالہ بنا کر کھاتے اسے مٹھی دادی کی یاد ایک بار پھر شدت سے آئی۔
’’کس سوچ میں پڑ گئی سوہائی کھاؤ نا۔‘‘
سمان کی آواز پر آنکھوں سے امڈتے آنسو چھپا کر وہ کھانے پر جھک گئی۔
’’یہ اپنا پلاؤ بھی ٹیسٹ کرو ۔‘‘
سمان نے اس کی پلیٹ میں کچھ چاول ڈالے۔
’’واؤ گریٹ ادھر تو ملازمہ کے ساتھ پارٹی چل رہی ہے ۔‘‘
تلخ آواز پر دونوں بیک وقت متوجہ ہوئے رملہ اپنے مخصوص انداز سے چلتی ہوئی قریب آرہی تھی۔
’’آؤ رملہ بیٹھو کھانا کھاؤ۔‘‘
سمان نے اس کے طنز کو نظر انداز کیا۔
’’او نو اب ایسی نوبت بھی نہیں آئی کہ میں دو ٹکے کی ملازمہ کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاؤں۔‘‘
اس نے نخوت سے سوہائی کو دیکھا ،سوہائی کا رنگ سرخ پڑ گیا وہ کرسی سے کھڑی ہوئی۔
’’بی ہیو یور لینگویچ رملہ !سوہائی ملازمہ نہیں ہے۔‘‘
سمان نے رسان سے کہا۔
’’اچھا اچھا پھر کیا ہے ۔‘‘
رملہ نے طنزیہ لہجے میں پوچھا ۔
’’میں کسی کی ملازمہ نہیں ہو ،میڈم رملہ۔‘‘
سوہائی سے برداشت نہ ہوا۔
’’زیادہ منہ نہ کھلوا ؤ میرا فوراً یہاں سے دفع ہوجاؤ اور اپنی اوقات میں رہنا سیکھ ،سمان مہر کے ساتھ ایک میز پر بیٹھی ہے ،جیسے کہیں کی مہارانی ہو۔‘‘
رملہ اچانک جاہلانہ انداز میں چیخی تو سوہائی کے اندر ابال اٹھنے لگے اس نے شکایتی نظر سمان پر ڈالی ۔
’’رملہ پلیز کیپ کام ۔‘‘
سمان نے ناگواری سے تنبہہ کی۔
’’سوہائی تم بیٹھو اور اپنی پلیٹ پوری ختم کرو۔‘‘
پھر اس نے تحکم سے کہا تو سوہائی ناچار واپس بیٹھی رملہ نے غصے کے گھونٹ بھرے۔
’’اوکے بٹھاؤ دو ٹکے کی ملازمہ کو اپنے ساتھ میں جارہی ہوں۔‘‘
وہ پلٹی اور بجائے باہر جانے کے سمان کے بیڈ روم کی طرف چلی گئی۔ سوہائی نے حیرت سے دیکھا۔
’’اب تم کس سوچ میں ہو کھانا کھاؤ ۔‘‘
سمان نے دوبارہ کھانا شروع کرتے سوہائی کو ٹوکا۔
’’پھر کھانا کھا کر اس نے دو کپ کافی کی فرمائش کی اور اپنے بیڈ روم کی طرف بڑھ گیا سوہائی فوراً ہی کافی بنا کر لائی اگرچہ رملہ سے سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی ،مگر سمان کا کہا نہیں ٹالا، بیڈ روم میں رملہ صوفہ پر ٹانگ پر ٹانگ جما کر بیٹھی سمان کو سیل فون پر کچھ دکھا رہی تھی سمان کے تاثرات کچھ اچھے نہیں تھے۔
’’ابھی بھوربن سے لوٹے ہیں تم تو اسٹیٹس دیکھتے ہی نہیں انسٹا پر پورے ہفتے کی جرنی شیئر کی ہے ،بہت مزہ آیا اب نیکسٹ ویک مجھے فاران کے ساتھ دبئی کے ٹور پر جانا ہے۔‘‘
’’وہ بغور سمان کو دیکھتے ہنس کر بتا رہی تھی سوہائی کو اس کا یہ انداز کھولا گیا ،سمان مہر کس ضبط سے اس کی لن ترانیاں برداشت کر رہے ہیں ،اسے تعجب ہوا اس نے زور سے کافی کی ٹرے میز پر پٹخی رملہ کا ارتکاز ٹوٹ گیا وہ سوہائی کو کھا جانے والی نظروں سے گھورنے لگی۔
’’تمیز نہیں ہے ،چیز پیش کرنے کی۔‘‘
وہ فون بیگ میں ڈالتے غصہ میں بولی۔
’’نہیں ۔‘‘
سوہائی اطمینان سے کہہ کر پلٹ گئی۔
’’اس چھوری کو تم نے زیادہ ہی سر چڑھا لیا ہے سمان !بات کیسے کرتی ہے ،جیسے کسی سلطنت کی رانی ہو۔‘‘
رملہ نے دانت کچکچائے ،سمان ہونٹوں کے اندر مسکرایا فون کی اسکرین بند ہونے پر اذیت سے نجات ملی تھی۔
’’مجھے لگتا ہے تم نے سوشل اکاؤنٹس سے مجھے ان فالو کر دیا ہے ،مجھ سے رابطے میں رہو سمان! دبئی جاکر کال کی فرصت تو نہیں ہوگی ،ایک نظر تمہاری پوسٹس پر مار دیا کروں گی تو اطمینان رہے گا۔‘‘
رملہ نے مصنوئی فکرمندی سے سمان کے ہاتھ میں دبا سیل فون نکالا اور اس کے انگوٹھے سے ان لاک کرکے اسکرین پر تیزی سے سمان کے سوشل اکاؤنٹس کھول کر ان سے اپنے اکاؤنٹس کو فالو کرنے لگی ،سمان نے ایک بار پھر بے بسی محسوس کی۔
’’لو ہوگیا ،اب دوبارہ ان فالو مت کرنا اوکے۔‘‘
وہ ری بائنڈنگ شدہ بالوں کو جھٹکتی تنبہہ کرتی سمان کو بہت ظالم لگی۔
’’اچھا دیکھو میں نے ہونٹوں پر فلرز کروائے ہیں کیسے لگ رہے ہیں ۔‘‘
رملہ نے اپنا چہرہ سمان کے قریب کرلیا سمان نے بوکھلا کر نظریں دوسری طرف پھیریں۔
’’سمی دیکھو نا۔‘‘
رملہ نے اصرار سے اس کا چہرہ اپنی طرف موڑا سمان ان خد و خال کو دیکھنے پر مجبور ہوا وہ ان سبک نقوش میں کھو سا گیا ،بے اختیار اس نے رملہ کا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھر لیا نا رسائی کا شدید احساس سمان کی نگاہوں سے چھلکا رملہ کی آنکھوں میں تفاخر چمک اٹھا۔
سوہائی دستک دیئے بنا پھر اندر آئی مگر سامنے کا منظر دیکھ کر بوکھلا گئی ،اس کے آنے کی آہٹ سے سمان چونکا اور رملہ سے دور ہٹا رملہ نے کھا جانے والی نظر سوہائی پر ڈالی۔
’’مم میں خالی برتن اٹھانے آئی تھی۔‘‘
سوہائی خائف ہوکر بولی۔
’’اپنی عادتیں بدلو چھوکری یہ تمہاری کچی جھوپڑی نہیں ہے ،جہاں نہ در ہیں نہ ہی دیوار جدھر منہ اٹھایا ادھر چلے گئے ،یہ بڑے لوگوں کی کوٹھی ہے یہاں اپنی جہالت نہیں دکھاؤ۔‘‘
رملہ خراب موڈ سے سوہائی پر چڑھ دوڑی ۔
’’آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ہم کوئی گرے پڑے نہیں ہیں ،پکے گھروں میں رہتے ہیں اور اپنی عزت کے لیے جان بھی وار دیتے ہیں۔‘‘
سوہائی کی کنفیوژن بھک سے اڑی تھی۔
’’اچھا تب ہی عزت دار لوگوں کی عزتیں لے کر بھاگ جاتے ہو۔‘‘
رملہ کا وار اہانت آمیز تھا سوہائی کے الفاظ گنگ ہوگئے۔
سوہائی برتن اٹھا کر جاؤ یہاں سے اور رملہ تمہیں بھی شاپنگ کرنی ہے ،میں اب آرام کروں گا۔
اس کے لہجے میں یکایک بے زاری بھر گئی اس کے واضح گو آؤٹ کے اشارے پر رملہ منہ بنا کر کھڑی ہوئی ،سوہائی رملہ سے پہلے کمرے سے باہر نکلی اس کا دل اچانک ہر چیز سے اچاٹ ہوگیا ،مہران ادا کے ایک غلط فیصلے نے تمام گھر والوں کی زندگی کس بری طرح سے متاثر کی تھی کہ نہ عزت پاس رہی تھی نہ ہی اپنی چھت!
وہ برتن سنک میں پٹختے کڑھنے لگی آنکھوں کے آگے سمان اور رملہ کی قربت والا منظر بھی چل رہا تھا ،کھولن بڑھ رہی تھی ،زیادہ غصہ رملہ کے الفاظ نے دیا تھا ،یا سمان کے محبت لٹاتے انداز نے ! وہ سمجھ نہ سکی۔
٭٭٭
’’مہران تمہیں یونی کا وہ املتاس کا پیڑ یاد ہے جو اپریل کے ماہ میں ذرد پھولوں سے بھر جاتا تھا ،تمہیں وہ بہت فیسینیٹنگ لگا کرتا تھا ،مگر مجھے ذرد رنگ ہجر کی دہائی دیتا نظر آتا تھا۔‘‘
کھری چارپائی پر مہران کے مضبوط بازو پر سر رکھے وہ ماضی میں کھوئی ہوئی تھی۔
’’ملن اور ہجر کو رنگوں سے کس نے جوڑ دیا ہے سورمی یہ تو انسان کے اندرونی جذبات ہیں جن کا کوئی رنگ ہی نہیں ہوتا۔‘‘
مہران نے اس چہرے کو پیار سے دیکھا جو اسے دنیا میں سب سے عزیز تھا۔
’’غلط بات ہے مہران سرخ رنگ ہمیشہ ملن کا سندیسہ دیتا نظر آتا ہے اور زرد رنگ جدائی کا ایسا نہ ہوتا تو قدرت کی طرف سے بہار میں شوخ رنگوں سے کائنات کیوں رنگ جاتی ہے اور خزاں میں پیلے رنگ کا غلبہ کس لیے ہوتا ہے۔‘‘
سورٹھ نے فوراًاس کی بات کو جھٹلایا تو وہ مسکرا دیا۔
’’چلو تم جیتیں اور میں ہار گیا مگر یہ بات تو مانوں گی کہ انسان کے اندرونی موسم اگر خوش گوار ہوں تو خزاں بھی بہار کی طرح محسوس ہوتی ہے۔‘‘
مہران نے اس الجھی لٹ کو چھیڑا تو وہ بھی مسکرا دی۔
’’سو تو ہے مہران جیسے اس وقت تمہارے پہلو میں لیٹی میں خود کو کسی محل کے نرم گرم بستر پر محسوس کر رہی ہوں۔‘‘
اس نے ایک لمبی سانس بھری۔
’’چل جھوٹی اس دن اس جھوپڑی کے کتنے عیب گنوا رہی تھی۔‘‘
مہران نے اس کا ناک دبایا تو وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
’’بے آرامی اپنی جگہ مگر تمہارے ساتھ میں جو سکون ہے اس کا کوئی بدل نہیں سورمی کے شاہ۔‘‘
سورٹھ نے مان سے بانہیں اس کے گلے میں ڈالی تو وہ شاد سا ہوگیا۔
٭٭٭
مائی بھاگی کی غیر موجودگی کو سوہائی نے جس خوبی سے پر کیا تھا سمان مہر اس پر مطمئن نظر آتا وہ کچن کے معاملات کے ساتھ بنگلہ کے کاموں کو بھی دیکھ رہی تھی ،مٹھل بھی اب اسے اچھے سے پیش آتا ادھر سارے مرد ملازم تھے سوہائی کو شروع میں کچھ الجھن محسوس ہوئی پھر وہ ایڈجسٹ ہوگئی ،یہاں کا ماحول بہت محفوظ تھا ملازم نظر جھکا کر بات کرتے اور سمان مہر تو تھا ہی عزت کرنے والا اسے سمان مہر سے عجیب سی انسیت ہوچلی تھی ،ایسا لگتا تھا جیسے وہ کوئی بہت اپنا ہو ،اس کی تکلیف سوہائی کو بے قرار کر دیتی تھی، بالخصوص جب رملہ اسے ہرٹ کرنے ہر دوسرے دن پہنچ جاتی اور اپنے منگیتر کی قربت کے قصے مزے لے کر سناتی تب سمان کی آنکھوں میں ضبط کی سرخی سوہائی کو بے چین کر دیتی ۔اس کا دل چاہتا وہ ان آنکھوں میں خوشیوں کے گلاب بھردے اور رملہ کا چہرہ تھپڑوں سے لال کردے ۔جو اتنے انمول انسان کو دکھ دے رہی تھی۔
’’آپ رملہ کو ادھر آنے سے منع کیوں نہیں کرتے ۔‘‘
ایک دن وہ جذباتی ہوکر کہہ بیٹھی سمان مہر نے حیرت سے دیکھا۔
’’کیوں۔‘‘
’’کیونکہ وہ آپ کا دل دکھاتی ہے۔ وہ اپنے ہی دیے زخم کھرچنے آتی ہے تاکہ وہ ہمیشہ تازہ رہیں، آپ اس کو اپنے زخم ہرے نہ کرنے دیں اسے روک دیں۔‘‘
’’میں ایسا نہیں کرسکتا سوہائی۔‘‘
سمان نے کچھ بے بسی سے کہا ۔
’’مگر کیوں۔‘‘
سوہائی بضد ہوئی۔
’’اس کے آنے کا بہانہ جو بھی ہو میں اپنا دروازہ اس کے لیے بند نہیں کرسکتا چاہے ،مجھے کتنی ہی اذیت ملے میری محبت مجھے ایسا کرنے نہیں دیتی۔‘‘
سمان نے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’یہ کیسی محبت ہے جو اذیت پر قائم ہے اسے آپ کے جذبات کا ذرا خیال نہیں ،آپ کیسا محسوس کرتے ہیں ،کیا سوچتے ہیں ۔اس کے رویے سے کتنے ہرٹ ہوتے ہیں ۔بس آپ ہی اس کا خیال کیے جائیں۔‘‘
سوہائی جذباتی ہوکر بولی سمان پھیکا سا مسکرایا۔
’’اب یہ بلا وجہ کی مسکراہٹ مت دکھائیں، سمان مہر !اس وہیل چیئر پر بیٹھ کر ایک ہارے ہوئے محبوب کے تاثر کو بدلیں اپنے علاج کی طرف توجہ دیں آپریٹ سے آپ ٹھیک ہوسکتے ہیں پھر کیوں خود کو خود ساختہ معذوری میں مبتلا کیا ہے ،یاد رکھیں یہ دنیا کھڑے کے ساتھ ہے گرے ہوئے کے نہیں چاہے،آپ کے ٹھیک ہونے کا چانس چالیس پرسنٹ ہو آپ ساٹھ فیصد ناکامی کو بھول کر چالیس فیصد کامیابی کی طرف جائیں ،شفا تو پروردگار کے ہاتھ میں ہے ،ہمیں حسن زن رکھنے اور مثبت راستے کو چننے کا فرمایا گیا ہے۔‘‘
سوہائی نے اسے قائل کرنے کی کوشش کی۔
’’کیا چیز ہو تم سوہائی چانڈیو !کچی مٹی سے اتنا پختہ ذہن لے کر نکلی ہو ،ورنہ چھوٹے سے گوٹھ میں اتنا گیانی کون ہوتا ہے یار۔‘‘
سمان نے ستائشی انداز میں بات بدلی۔
’’ہر فہم رکھنے والا ایسے ہی سوچتا ہے سائیں۔‘‘
سوہائی نے نروٹھے پن سے جتایا ۔
’’اچھا میرے لیے ایک اچھی سی کافی بنا کر لاؤ۔‘‘
سمان نے جیسے ٹالا تھا سوہائی اپنی بات ضائع جاتی دیکھ کر منہ پھلا کر اٹھ گئی سمان نے ایک گہرا سانس بھرا ۔
٭٭٭
داؤد مہر بیڈ پر نیم دراز اپنے سیل فون میں پوری طرح گم تھا جب گل بانو کچھ کہتی اس کے سامنے آکر کھڑی ہوئی۔
’’بات سنیں سائیں۔‘‘
وہ دھیمی آواز سے پکاری۔
’’رات کے اس پہر اب کیا آفت پڑ گئی جو سر پر سوار ہوئی ہو۔‘‘
داؤد جھنجھلایا۔
’’میں کہہ رہی تھی کل نگار ادی کے ساتھ شہر جاکر اپنا چیک اپ لیڈی ڈاکٹر سے کروا لوں شادی کو تین سال ہوگئے ہیں اور بچہ ابھی تک نہیں۔‘‘
گل بانو نے ڈرتے ڈرتے ادھوری بات کی۔
’’کوئی ضرورت نہیں اس چیک اپ ویک اپ کی اگلے تیس سال بھی تمہیں بچہ نہیں ہونے والا تم ایک بانجھ عورت ہو سمجھیں ۔‘‘
داؤد کے زہریلے لہجے پر بانو کا دل ٹوٹ گیا وہ آنسو ضبط کرنے لگی اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔
’’دیکھو کون ہے اس وقت۔‘‘
داؤد نے بے زاری سے حکم دیا۔
’’بابا سائیں آپ اس وقت یہاں۔‘‘
دروازے کھولتے ہی جہانداد مہر لاٹھی ٹیکتے اندر آئے تو داؤد اپنی جگہ سے سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔
’’تمہارے کارنامے ہی ایسے ہیں بیٹا سائیں کہ ہمیں راتوں کو بے چین کر دیتے ہیں۔‘‘
’’کیا مطلب بابا سائیں ۔‘‘
’’عوامی اخبار کے صحافی کو غائب کروا کر پھر اپنے کارندوں کے ہاتھوں قتل کروانے کا جو اعلا کام تم نے کیا ہے اسی کی بات کر رہا ہوں۔‘‘
وہ انتہائی برے موڈ سے صوفہ پر بیٹھے۔
’’وہ ہمارے خلاف جگہ جگہ بھونک رہا تھا بابا سائیں سورٹھ کی گمشدگی کو ہاٹ ٹاپک بنا کر اس کی آڑ میں میرے اگلے پچھلے ریکارڈ کھول رہا تھا اسی لیے کچی مروڑ دی سالے کی۔‘‘
داؤد نے دانت کچکچائے۔
’’کچھ معاملات جذبات سے نہیں عقل سے سلجھانے ہوتے ہیں داؤد مہر یہ صحافی کوئی معمولی نہیں تھا اس کی پیٹھ پر ایم این اے خاور ٹالپر کا ہاتھ ہے ،یہ اس کا خاص مہرہ تھا ۔تمہارے اس اقدام نے صحافی برادری کے ساتھ خاور ٹالپر کو بھی مچھرا (غصہ ) دیا ہے ،ایک بڑی مصیبت اٹھ کھڑی ہوئی ہے ہمارے لیے ۔‘‘
جہاںداد مہر نے داؤد کو خشمگین نظروں سے دیکھا۔
’’ہمارے علاقے میں احتجاجی دھرنے لگ رہے ہیں جب تک یہ آگ ٹھنڈی نہیں ہوتی تم اپنا بوریا ادھر سے سمیٹو اور سمان کے پاس جاکر رہو پھر آگے دبئی نکل جانا۔‘‘
’’میں سورٹھ کے معاملے کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاسکتا بابا سائیں !مجھے کسی آگ کی کوئی پروا نہیں مہران چانڈیو کے ٹکڑے کیے بغیر میں چین سے نہیں بیٹھوں گا۔‘‘
داؤد نے چٹخ کر کہا جہاںداد مہر اسے گھورنے لگے۔
’’بس کر سنبھال اپنی جذباتی جن جیسی سوچ ابھی اپنی سہولت کا خیال کر کل صبح ہی سمان کی طرف نکل جانا بعد میں دیکھتے ہیں ۔‘‘
انہوں نے کھڑے ہوتے اپنا فیصلہ سنایا اور کمرے سے نکل گئے پیچھے داؤد ہونٹ بھینچے کچھ سوچنے لگا۔
٭٭٭
آج بہت دنوں بعد سمان مہر آفس جانے کے لیے نک سک سے تیار ہوا تھا گرے رنگ کی شرٹ اور بلیک پینٹ پہنے بالوں کو اچھے سے جیل سے جمائے پاس جانے پر آفٹر شیو اور برائنڈ ڈ خوشبو بھی محسوس کی جاسکتی تھی سوہائی اس کی بلیک کافی لے کر آئی تو ٹھٹک گئی ۔
’’آفس جارہے ہیں ؟‘‘
سوہائی نے اشتیاق سے پوچھا۔
’’ میں نے سوچا آج آفس کا چکر لگا آؤں ورک فرام ہوم کرکے بور ہوگیا ہوں۔‘‘
سمان نے مسکرا کر کافی کا کپ تھاما ۔
’’ اچھی بات ویسے آج آپ بہت اچھے لگ رہے ہیں ۔سمان مہر ۔‘‘
سوہائی نے بے اختیار تعریف کی۔
’’شکریہ سوہائی چانڈیو !ویسے میں آج سے پہلے اچھا نہیں لگا۔‘‘
سمان نے شرارت سے پوچھا۔
’’ آپ تو ہمیشہ سے اچھے ہیں آج کچھ زیادہ ہی اچھے لگ رہے ہیں شکر ہے ،آخر کار زندگی کی طرف لوٹ رہے ہیں ،خدا کی رحمت ہمیشہ آپ پر سایہ فگن ہو۔‘‘
سوہائی نے سادگی سے دعا دی ۔
’’تم نے اتنی اچھی دعا دینا کہاں سے سیکھا ہے سوہائی۔‘‘
اس نے کپ واپس لوٹاتے دلچسپی سے پوچھا۔
’’اپنی مٓٹھی دادی سے۔‘‘
جواب حسب توقع تھا ۔
’’اور تمہیں یہ آلمنڈ ( بادامی ) کلر کی خوب صورت آنکھیں بھی یقینا مٹھی دادی سے ورثے میں ملی ہوں گی۔‘‘
سمان کے غیر متوقع سوال پر سوہائی حیران ہوئی ۔
’’جی میری دادی سے ملی ہیں ۔‘‘
وہ جھینپ گئی ۔
’’ماشائ اللہ اللہ ان آنکھوں کی چمک قائم رکھے۔‘‘
سمان نے بھی دعا دی تو سوہائی نے خوش گواری محسوس کی۔
’’اوکے میں چلتا ہوں۔‘‘
سمان نے کہا تو سوہائی نے ایک طرف ہوکر وہیل چیئر کو راستہ دیا ،پھر وہ اس کے پیچھے پورچ تک آئی سمان مہر کی گاڑی جب تک گیٹ سے نکل نہیں گئی ،وہ وہیں کھڑی دیکھتی رہی پھر مسکرا کر کچن میں آئی تو لب خود بہ خود مسکرا رہے تھے ۔اس کی آنکھوں کی تعریف سہیلیوں نے بہت بار کی مگر سمان کا سراہنا سب سے جدا تھا ۔
پھر ابھی گھنٹہ بھر ہی ہوا کہ بیرونی گیٹ کھلنے کی آواز آئی۔
’’سمان مہر کیا آفس کو ہاتھ لگا کر لوٹ آئے ہیں۔‘‘
دیگچی میں چمچہ چلاتے وہ اپنی سوچ پر خود ہی ہنسی، چند لمحے گزرے کسی کی آمد کا کھٹکا ہوا پھر کسی بھاری ہاتھ نے کندھے پر دباؤ ڈالا وہ جھٹکا کھا کر مڑی تو داؤد بے حد قریب کھڑا تھا، سوہائی کا دل حلق تک آگیا۔
’’کیسی ہو معشوق ۔‘‘
داؤد نے دلبری سے پوچھا۔
’’کون معشوق تمیز سے بات کریں۔‘‘
سوہائی نے ناگواری سے اس کا ہاتھ ہٹایا ۔
’’تم اور کون اپنی ساری دلکشی سمیٹ کر حویلی سے بھاگ آئی ہو میں تو تشنہ رہ گیا کیوں کیا یہ ظلم معشوق۔‘‘
داؤد نے اس کا بازو پکڑ لیا سوہائی کی ہوائیاں اڑ گئی۔
’’چھوڑو مجھے تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے چھونے کی۔‘‘
وہ مچل اٹھی۔
’’ہمت کی بات کرتی ہو معشوق !وہ دن بھول گیا جب تجھے چارپائی سے اٹھا کر کندھے پر لادے حویلی لایا تھا۔‘‘
داؤد کی انگلیوں کی سختی بازو میں گھسی، سوہائی نے پوری قوت سے خود کو چھڑایا اور بھاگتے ہوئے کچن سے نکلی اور اپنے کمرے میں آکر لاک لگا دیا ۔
’’یا خدا یہ یہاں کیوں آگیا وہ بھی سمان مہر کی غیر موجودگی میں ۔‘‘
بیڈ پر بیٹھ کر اس نے اپنی سانسیں درست کی اسے بہت ڈر لگ رہا تھا ۔
٭٭٭
دروازے کی تیز دستک نے اسے ہڑبڑا کر اٹھنے پر مجبور کیا ۔
کک کون ۔
اس نے دھڑکتے دل سے پوچھا۔
’’میں سمان ہوں سوہائی۔‘‘
سمان کی آواز سن کر سوہائی نے فورا دروازہ کھول دیا۔
’’سمان !وہ داؤد مہر۔‘‘
اسے دیکھتے ہی سوہائی پھر سے ہراساں ہوئی۔
’’ریلیکس سوہائی !داؤد مہر آیا ضرور ہے پر تمہیں اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے یہ میرا بنگلہ ہے یہاں تم محفوظ ہو ۔‘‘
سمان نے اسے حوصلہ دیا۔
’’اب آؤ میرے ساتھ لنچ کرو۔‘‘
’’لنچ مگر میں نے تو کچھ بھی نہیں بنایا۔‘‘
سوہائی کو اچانک یاد آیا کہ لنچ بنانا تو رہ ہی گیا۔
’’میں نے منگوا لیا ہے ہوٹل سے اچھے پکوان ہوتے ہیں مگر تمہارے ہاتھ کا مقابلہ بہرحال نہیں کرسکتے۔‘‘
وہ وہیل چیئر آگے بڑھاتا لاؤنج تک آیا پیچھے سوہائی بھی چاروں طرف دیکھتی آئی ،آیا داؤد مہر گھر پر موجود ہے یا نہیں ۔
’’آؤ بسمہ اللہ کرو ۔‘‘
’’سمان ڈائننگ ٹیبل پر انواع اقسام کی ڈشز کی طرف اشارہ کیا سوہائی نے پلیٹ اس کے سامنے رکھی۔‘‘
’’آپ بھی شروع کیجیے۔‘‘
’’تم پوچھو گی نہیں آج آفس میں میرا دن کیسا گزرا۔‘‘
سمان نے خاموش سی سوہائی کو غور سے دیکھا۔
’’ کیسا گزرا آپ کا دن۔‘‘
سوہانی نے چونک کر پوچھا ۔
’’بہت خوش گوار سی فیلنگ کا احساس ہوا۔‘‘
سمان مسکرایا۔
’’میں نے کہا تھا نا آپ ایک بار زندگی کی طرف لوٹیں تو وہ آپ کا پرجوش استقبال کرے گی۔‘‘
سوہائی کی آنکھوں میں چمک آئی ۔
’’آپ یقین کریں مایوسی کو ایسے ہی گناہ نہیں کہا گیا یہ آپ کا حوصلہ توڑ دیتی ہے ،انسان کو کسی قابل نہیں چھوڑتی ،امید ایک مثبت انرجی ہے جو جینے پر اکساتی ہے آپ اللہ پر توکل کرکے امید کے ساتھ جینا شروع کریں پھر دیکھیں کس طرح آپ کی زندگی آسان ہوتی ہے ،آپ اتنے خوب صورت انسان ہیں ،اندر باہر سے ایک بے وفا عورت کے پیچھے آپ خود کو کیوں گنوا رہے ہیں۔‘‘
وہ روانی میں بولتی چلی گئی سمان مہر نے دلچسپی سے سنتے ہوئے پہلو بدلا سوہائی کو کچھ غلط بول دینے کا احساس ہوا۔
’’ اب مجھے ایک کپ اچھی سی کافی بنا دو۔‘‘
سمان نے کھانا کھا کر فرمائش کی تو سوہائی نے سر ہلا کر ہامی بھری پھر اسے کافی دے کر وہ اپنے کمرے میں واپس آئی تو پھر سے ایک عجیب سا خوف اس پر سوار ہوگیا۔‘‘
٭٭٭
اوک میں چلچلاتی دھوپ بھر کر۔
ہم حلق میں اس کی تپش اتاریں گے۔
سورٹھ نے کچے صحن میں کھڑے ہو کر آسمان پر چمکتے سورج کو دیکھا آج کتنے دنوں بعد وہ کوٹھری سے نکلی تھی۔
’’او ادی ادھر کیوں کھڑی ہو جاؤ اندر جاؤ ۔‘‘
مصری مائی سر پر پانی کا گھڑا اٹھائے آئی تو چیخ اٹھی۔
’’اندر میرا دم گھٹتا ہے مصری ۔‘‘
سورٹھ نے بے بسی سے کہا۔
’’لیکن حفاظت اسی میں ہے ادی چلو اندر۔‘‘
مصری نے اس کا بازو پکڑ کر اندر دھکیلا۔
’’مصری اپنے فولادی ہاتھ اپنے پاس رکھو۔‘‘
سورٹھ نے ناراضی سے خود کو چھڑایا۔
’’تمہاری زندگی کو محفوظ بنانا ہمارا فرض ہے مہران ادا کی جان ہے تم میں۔‘‘
مصری نے نرمی سے سمجھایا تو وہ مسکرا دی۔
’’مصری تمہاری زبان مصری جیسی میٹھی لیکن وجود لوہے کو شرماتا ہے۔‘‘
سورٹھ نے مصری مائی کے مردانہ ڈیل ڈول کو دیکھا ۔
’’زندگی کی سختیوں نے ہم عورتوں سے ساری نرمی نکال لی ہے ادی۔‘‘
مصری نے یاسیت سے اپنے کھردرے ہاتھوں کو آپس میں رگڑا۔
’’ہمارے مرد مہران ادا کی طرح مہربان نہیں ہوتے کہ اپنی عورت کو گرم ہوا سے بھی دور رکھیں تم بہت بخت والی ہو ادی۔‘‘
مصری نے ستائشی انداز میں سورٹھ کو دیکھا سورٹھ کا دل اس تپتی دوپہری میں بھی باغ و بہار ہوگیا۔
’’اللہ کا شکر ہے ۔مصری! مہران کی اسی محبت کے سہارے میں سارے بندھن توڑ آئی ہوں۔ دعا کرو ہماری مشکلات آسان ہو جائیں ہم سکون سے نارمل زندگی جی سکیں ۔‘‘
سورٹھ نے اداس لہجے میں کہا تو مصری کے ہاتھ بے اختیار دعا کے لیے بلند ہوئے۔
٭٭٭
داؤد کے سائے سے گھبرائی ہوئی سوہائی مجبوراً گھر میں اس سے کترا کر چلت پھرت کر رہی تھی سمان نے کہا داؤد سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔مگر اس کا سامنا ہونے پر جن حریص نظروں سے وہ اسے دیکھتا سوہائی اندر تک کانپ جاتی اب تو جیسے وہ ہاتھوں سے نکلی مچھلی کو سالم نگلنا چاہتا تھا ۔وہ سمان سے کیسے بیان کرتی یہ کیفیت جو عورت ذات ہوتے وہ محسوس کر رہی تھی ۔
’’ارے بابا بھوک سے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں ،بھئی مانی ٹکی کہاں ہے۔‘‘
داؤد کی پاٹ دار آواز سے کھانا پکاتی سوہائی اچھل پڑی۔
’’آہا میری معشوق ادھر کھڑی ہے ،کیا بنایا ہے دلبر جانی۔‘‘
داؤد خباثت سے قریب آیا سوہائی تیزی سے دور ہوئی ۔
’’ایک گھونٹ پانی ہی پلا دو۔‘‘
وہ دو جست میں پھر اس کے پاس تھا ۔
’’زہر نہ پلا دوں ۔‘‘
سوہائی نے ہاتھ مسلے۔
’’بصد شوق وہی پلا دو تمہارے ہاتھ سے امرت لگے گا۔‘‘
داؤد نے اسے کندھوں سے تھام لیا۔
’’چھوڑو مجھے گھٹیا انسان ۔‘‘
سوہائی نے غصے سے اس کے ہاتھ ہٹائے مگر داؤد نے اسے مضبوطی سے جکڑ لیا۔
’’آج تو تیری چٹنی بنا کر کھانی ہے معشوق ۔‘‘
وہ سوہائی کے کان میں بڑبڑایا ۔
’’سمان نے بہت مزے لوٹ لیے اب ہماری باری ہے۔‘‘
اس کے گھٹیا جملے پر سوہائی غصے سے بپھر اٹھی اور داؤد کے منہ پر تھپڑ جڑ دیا۔
’’گندے انسان دفع ہوجاؤ ،سمان تم جیسا نہیں ہے۔‘‘
داؤد کی آنکھوں میں پہلے تعجب پھر لہو دوڑ گیا۔
’’دو ٹکے کی چھوری تیری یہ ہمت ۔‘‘
وہ طیش سے اس کی طرف بڑھا سوہائی کچن سے باہر بھاگی داؤد پیچھے بھاگا سوہائی بھاگتے ہوئے اپنے کمرے میں آئی اور دروازہ بند کرکے لاک لگانے کی کوشش کی مگر داؤد نے اس کی کوشش ناکام بنا دی وہ زبردستی کمرے میں گھس آیا اور سوہائی کو دھکا دے کر بیڈ پر گرایا۔
’’اب کہاں بھاگے گی مجھ سے بول۔‘‘
وہ برے ارادے سے اس کی طرف بڑھا ۔
’’مٹھل دودو ۔‘‘
سوہائی چیخ چیخ کر بلانے لگی۔
’’کوئی نہیں ہے بنگلے میں گلا پھاڑتی رہو ۔‘‘
داؤد خباثت سے ہنسا سوہائی نے گھبرا کر اپنی نظریں دوڑائیں ۔
’’سمان کے ساتھ تو بہت خوش رہتی ہے مجھ سے کیوں ڈرتی ہے ۔‘‘
داؤد اس کی طرف بڑھنے لگا سوہائی سرک کر سائڈ میز کی طرف ہوئی داؤد جیسے ہی اس پر جھپٹا سوہائی نے پھرتی سے بیڈ سے اتر کر لیمپ اٹھایا اور اوندھے لیٹے داؤد کے سر پر دے مارا یہ سب اتنی اچانک ہوا کہ داؤد سنبھل نہ پایا سوہائی سرپٹ باہر دوڑی کھلے گیٹ سے اندر داخل ہوتی سمان کی گاڑی کو ڈرائیور نے بر وقت بریک لگائی سوہائی کی حالت اتنی نابہ گفتہ تھی کہ سمان دیکھ کر پریشان ہوا اور بہ عجلت مٹھل کی مدد سے گاڑی سے اترا ۔
’’سوہائی تم ٹھیک تو ہو۔‘‘
سمان تشویش سے وہیل چئیر اس کے قریب لے آیا۔
’’میری حفاظت کا ذمہ اٹھایا تھا نا آپ نے سمان مہر اور میری یہ حالت کردی ۔‘‘
وہ سرخ آنکھوں میں غصہ لیے چیخ اٹھی سمان پر پہاڑ آ گرا۔
’’کس نے ہاتھ لگایا تمہیں میں اس کے ٹکڑے کر دوں۔‘‘
’’آپ کے درندے بھائی نے سمان مر گئی میں آپ پہ بھروسہ کرکے ۔‘‘
سوہائی تڑپ کر رو دی۔
’’داؤد کی یہ ہمت میرے گھر میں رہ کر میرے اصول توڑے ،مٹھل کہاں ہے داؤد اسے لے کر آؤ میرے سامنے میں آج اسے سبق سکھاؤں گا ۔‘‘
وہ مٹھیاں بھینچ کر چیخا ملازمین گھبرا گئے۔
’’آپ نے مجھے یقین دلایا کہ یہ گھر میرے لیے محفوظ ہے ،یہ سب سے بڑا جھوٹ تھا میں اگر آج ہمت کرکے اپنی عزت نہ بچاتی تو سب کچھ ختم ہو جاتا۔‘‘
سوہائی کی بات پر سمان کے دل میں سکون در آیا۔
’’آؤ میرے ساتھ اندر میں داؤد کو دیکھتا ہوں۔‘‘
’’نہیں اب مجھے اس کمزور ٹھکانے میں نہیں رہنا۔‘‘
سوہانی نے آنسو رگڑتے انکار کیا اور سائڈ سے نکل کر گیٹ کراس کر گئی ۔
’’مٹھل جاؤ اسے روکو ۔‘‘
وہ اپنی وہیل چئیر کو بے چینی سے گھماتے چیخا سوہائی بہتے آنسوؤں کے ساتھ دوڑی چلی جارہی تھی مٹھل نے دو جست میں ہی اسے جا لیا۔
’’سوہائی ادی چلیے واپس۔‘‘
’’میرا رستہ چھوڑو مٹھل ۔‘’‘
سوہائی غصے سے بولی۔
’’سائیں کا آڈر ہے آپ کو واپس چلنا ہوگا۔‘‘
مٹھل اپنی مضبوط جسامت سے سامنے کھڑا تھا۔
’’اپنے سائیں سے کہہ دو یہ عنکبوت جیسا ٹھکانہ اپنے پاس رکھیں مجھے اب وہاں نہیں رہنا۔‘‘
وہ ضدی پن سے چیخی۔
’’سوہائی پلیز واپس چلو میں وعدہ کرتا ہوں آج کے بعد تمہیں کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھے گا میں اپنے عنکبعوت کو تمہارے لیے مضبوط قلعہ بنا دوں گا۔‘‘
سمان کی آواز پر سوہائی چونکی وہ تیز رفتاری سے وہیل چیئر چلاتے اس کے سامنے تھا۔
’’نہ آپ مضبوط ہو سمان مہر نہ آپ کا گھر آپ اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہو سکتے میری ڈھال کیا بنیں گے۔‘‘
سوہائی تلخ ہوئی اس کے الفاظ سمان کے دل کے پار اتر گئے۔
’’صحیح کہتی ہو میں اپاہج انسان تمہاری ڈھال نہیں بن سکتا بہرحال تم میری ذمہ داری ہو اس طرح تمہیں دنیا کی بھیڑ میں چھوڑ بھی نہیں سکتا جب تک تمہیں مضبوط ٹھکانہ نہیں مل جاتا مجھ کمزور شخص کے ساتھ رہ لو۔‘‘
سمان نے ضبط سے کہا اور وہیل چیئر مڑی سوہائی کو شرمندگی نے گھیر لیا وہ خاموشی سے اس کے پیچھے چلنے لگی۔
’’داؤد سائیں تو کمرے میں زخمی اور بے ہوش پڑے ہیں۔‘‘
بنگلے میں داخل ہوتے ہی دودو نے ہراساں ہوکر اطلاع دی۔
’’کیا مطلب اسے کس نے۔‘‘
سمان نے فوری سوال ادھورا چھوڑ کر سوہائی کو غور سے دیکھا جس کے نفرت انگیز تاثرات بتا رہے تھے کہ یہ کارنامہ اس نے انجام دیا ہے۔
’’تم ڈاکٹر عفان کو کال ملاؤ اور کہو کہ فرسٹ ایڈ کا سامان لے آئیں اس حالت میں اسے ہاسپٹل لے جانا بہتر نہیں۔‘‘
سمان نے سنجیدگی سے کہا اور آگے بڑھ گیا سوہائی خوف زدہ سا دل لیے پیچھے چلی۔
’’وہ آپ کا سگا بھائی ہے وہ مجھ پر جو بھی ظلم کرے آپ اسے پروٹیکٹ ہی کریں گے ،یہ گھر بھی اس کا اور آپ بھی مجھے یہاں سے جانے دے دیں سمان مہر۔‘‘
سوہائی نے اس بار کچھ نرمی سے اپنی بات کہی ۔
’’تم ادھر سے کہیں نہیں جاؤ گی اوکے۔‘‘
سمان نے قطعی لہجے میں کہہ کر بات ختم کی ۔
٭٭٭
’’سورٹھ کو سانپ نے کاٹ لیا وہ تڑپتی ہوئی مہران کے ہاتھوں میں تھی اور مہران کا بس نہ چلتا تھا کہ اس کے بدن میں سرایت کرتا زہر اپنے حلق میں اتار دے حیدر نے فوری گھریلو ٹوٹکے کرکے اس کی ٹانگ میں پٹی باندھ دی اور اطمینان دلایا کہ زہر نہیں پھیلے گا ،مگر مہران کو یقین نہیں تھا وہ اپنی سورمی کو فوراً ڈاکٹر کے پاس لے جانا چاہتا تھا اگرچہ خطرہ بہت تھا لیکن سورٹھ کی جان کے آگے کچھ نہیں حیدر روکتا رہ گیا مگر مہران سورٹھ کو جیپ میں ڈال کر تیز رفتاری سے قریبی شہر کے سول اسپتال لے آیا جہاں ایمرجنسی میں موجود ڈاکٹرز نے اس کو فوری طبی امداد دے کر اس کی جان بچائی نیم بے ہوش سورٹھ جب حواسوں میں لوٹی تو مہران کی آنکھوں سے تشکر کے آنسو امڈ آئے ۔‘‘
’’ خدا نے میری سورمی مجھے لوٹا دی اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میں تو مرجاتا۔‘‘
وہ اس کا ہاتھ لبوں سے لگا کر روتا رہا سورٹھ اس پر خلوص محبت پر نازاں ہوئی ۔
’’ تم سے پہلے مجھے کہیں نہیں جانا میرے گھوٹ ۔‘‘
سورٹھ نقاہت سے مسکرائی۔
’’میں قربان میری کنوار (دلہن)‘‘
مہران دل جان سے فریفتہ ہوا۔
’’اچھا سورمی ذرا ہمت کرکے اٹھو تو ادھر سے واپس چلیں یہاں مزید رکنا خطرے سے خالی نہیں۔‘‘
مہران کو اچانک ہی خیال آیا تو سورٹھ کو سہارا دے کر اٹھایا ،وہ اس کے کندھے پر بازو پھیلائے چادر کی بکل مارے آہستہ چلتے برآمدے سے باہر نکل رہی تھی کہ وہاں کھڑے دو مردوں نے چونک کر انھیں دیکھا۔
’’ارے سومار دیکھ تو یہ وہی چھوکرا ہے ناں جو مہروں کی چھوکری بھگا لے گیا تھا۔‘‘
سرگوشی اتنی زور سے کی گئی کہ وہ دونوں پریشان ہوکر تیز چلنے لگے۔
’’جلدی کر اس کی فوٹو نکال فوٹو۔‘‘
پھر ایک نے دوسرے سے کہا اور دوسرا فوری دوڑتا سامنے آیا اور موبائل سے تصویر اتار کر یہ جا وہ جا مہران غصے سے تلملایا لیکن سورٹھ کو چھوڑ کر اس کا پیچھا نہ کرسکا ۔
’’مہران اب کیا ہوگا۔‘‘
سورٹھ نے کپکپاتی آواز میں پوچھا۔
’’اللہ مالک ہے ،فی الحال تو ادھر سے نکلنا ہے۔‘‘
وہ حتی المقدور اسے لے کر تیز چل رہا تھا۔ پارکنگ میں کھڑی جیپ میں سوار ہوکر اس کے اسٹارٹ کرنے تک مہران کے ہاتھ کپکپا رہے تھے اسے ڈر تھا کسی انہونی کے وقوع پذیر ہونے کا اور سب سے بڑھ کر اسے خوف تھا اپنی سورمی سے بچھڑنے کا۔
٭٭٭
مائی بھاگی ٹحیک ہوکر واپس آگئی اور اپنا چارج سنبھال لیا سوہائی نے اپنے کمرے میں تنہائی اختیار کرلی اس واقعے کے بعد سے وہ بہت چپ ہوگئی تھی اپنے بستر پر پڑی رہتی اور اپنی ہاتھوں کی لکیریں کھوجتی رہتی زندگی عجیب مقام پر لے آئی جہاں اپنے سب بچھڑ گئے اور ایک غیر انسان نے اس کی لج کی ذمہ داری اٹھالی تھی۔
’’ اس دن سمان کو میری حفاظت سے چوکنا نہیں چاہیے تھا وہ آخر مجھے داؤد کے ساتھ گھر پر اکیلا چھوڑ کر اپنے آفس کیوں گیا ۔‘‘
سوہائی نے نروٹھے پن سے سوچا۔
’’اس کی مہربانی کہ اس نے مجھے رہنے کو جگہ دی میری عزت کی میں اس سے اتنی زیادہ توقعات کیوں بڑھا رہی ہوں کیا ۔لگتی ہوں میں اس کی جو ہر لمحہ وہ میری ایک کانچ کی گڑیا کی طرح حفاظت کرے ۔‘‘
دل نے سوال کیا اور پھر جو جواب دیا اس نے سوہائی کو پریشان کردیا ۔
’’نہ سوہائی نہ مٹی جب سون (سونا) کی تمنائی ہوجائے تو اپنی ذات میں ملیامیٹ ہو جاتی ہے۔‘‘
اس نے خود کو تنبیہہ کی گیٹ پر رملہ کی گاڑی کا مخصوص ہارن بجا وہ ٹھس ہوکر اپنی جگہ بیٹھی رہی۔
’’میں کون ہوتی ہوں سمان مہر کو اس کی سابقہ محبت سے دور کرنے والی میں کیوں چاہتی ہوں۔ رملہ سمان کے پاس نہ آئے جب وہ اس کو ساری کج ادائی سمیت اب تک چاہتا ہے تو چاہتا رہے میری بلا سے ۔
اس نے اٹھ کر لائٹ بند کی اور بستر پر دراز ہوگئی۔
٭٭٭
’’اگر بابا سائیں بیچ میں نہ پڑتے تو آج میں نے سمان ادا کو وہ سبق سکھانا تھا جو اسے رملہ بھی نہیں سکھا پائی لنگڑا کہیں کا اس ٹکے کی چھوری کے لیے مجھے اپنے ہی بنگلے سے بے دخل کرتا ہے ،مجھے یعنی کہ داؤد خان مہر کو جس نے آج تک کئی مغرور سالوں کو اپنی کلاشن کوف سے بھونا ہے چاہے ۔وہ کوئی رئیس ہو یا معمولی انسان جس کا داؤد مہر سے چک پڑ گیا وہ اپنی جان سے گیا۔‘‘
داؤد نے پیگ بناتے دانت پیسے گل مہر صبر سے اسے الکوحل کے گلاس چڑھاتے دیکھ رہی تھی۔ داؤد کے ماتھے پر بندھی پٹی اس کی کھلی شکست کا مظہر تھی گل مہر کو اس جی دار لڑکی پر رشک آیا ،جو اس کے شوہر جیسے گھاگ شکاری کو چار چوٹ لگا کر اپنی عزت بچا گئی ۔
’’میں اس مہران سالے کا ایسا حال کروں گا اس کی وجہ سے ہی یہ ساری پریشانیاں کھڑی ہوئی ہیں۔‘‘
داؤد کی تلملاہٹ عروج پر تھی ابھی وہ مزید بھڑاس نکالتا کہ اس کا فون بج اٹھا۔
’’کیا بات ہے چیتے کیوں فون ملایا ہے۔‘‘
اس نے برے موڈ سے پوچھا پھر اگلی بات سن کر چونک کر کھڑا ہوا۔
’’کیا کہا میر پور کے اسپتال میں دیکھا اور تم مجھے آج بتا رہے ہو ۔‘‘
اس نے بے چینی سے گلاس پھینک کر اپنی اجرک اٹھائی۔
’’ اچھا تو یہ ٹھکانہ ہے ان کا میں ابھی پہنچتا ہوں آج تو ان دونوں کو ان کا باپ بھی نہیں بچا سکتا ۔‘‘
داؤد لڑکھڑاتی چال سے آگے بڑھا۔
’’داؤد سائیں کیا ہوا آپ کہاں جا رہے ہیں۔‘‘
گل مہر الماری سے اسے ہتھیار نکالتے دیکھ کر دہل گئی۔
’’سورٹھ اور مہران کو جہنم واصل کرنے ۔‘‘
داؤد نے سفاکی سے کہا ۔
’’آپ اس حالت میں مت جائیے آج آپ نے بہت پی لی ہے ۔‘‘
گل مہر نے اسے روکنا چاہا۔
’’ہٹ پرے آج کیا پہلی بار پی ہے بڑی آئی مجھے روکنے والی۔‘‘
داؤد نے سامنے کھڑی گل مہر کو دھکا دیا اور آگے بڑھا۔
’’داؤد سائیں پلیز رک جائیں گارڈز بھی ساتھ نہیں آپ کی جان کو خطرہ ہے۔‘‘
’’ میری نہیں ان بھگوڑوں کی جان کو خطرہ ہے بے عقل عورت ،بڑی آگ لگی ہے ۔ان کو آج کی تاریخ میں دونوں کو ٹھنڈا نہ کردیا تو میرا نام داؤد مہر نہیں ۔‘‘
گل مہر کی التجا پر داؤد نے کروفر سے کہا اور یونہی لڑکھڑاتے ہوئے گاڑی میں سوار ہوکر اسے اسٹارٹ کرنے لگا اس کے اشارے پر واچ مین نے گیٹ کھول دیا تھا گل مہر پر خوف طاری ہوا نجانے مہران اور سورٹھ کے ساتھ کیا ہونے والا تھا۔
٭٭٭
مہران سورٹھ کو بہ حفاظت واپس تو لے آیا مگر دل میں بے چینی سی بھر گئی تھی۔ دو راتوں سے اس کی آنکھوں سے نیند غائب تھی ہر لمحہ کسی انہونی کا دھڑکا لگا رہتا ،ابھی بھی وہ سورٹھ کے ساتھ بیٹھا خدشوں میں کھویا ہوا تھا کہ حیدر ہراساں سا کوٹھری میں داخل ہوا۔
’’ داؤد مہر کو مخبری ہوگئی ہے ،مہران وہ ہمارے ٹھکانے پر کسی بھی وقت پہنچ سکتا ہے۔‘‘
اس کی بات پر دونوں بری طرح چونکے۔
’’کیا ادا کو کیسے پتا چلا۔‘‘
سورٹھ گھبرا گئی۔
’’آپ لوگ اسپتال گئے وہیں اس کے کارندوں نے دیکھ لیا اور آپ دونوں کا پیچھا کیا۔‘‘
حیدر کے جواب پر دونوں پریشان ہوگئے۔
’’اب کیا کریں حیدر ادھر سے نکل کر کہاں جائیں۔‘‘
مہران نے بے چینی سے پوچھا۔
’’ میں نے رسول بخش سے بات کی ہے دو کلو میٹر دور اس کا خفیہ ٹھکانہ ہے میرے ساتھ چلو اور کچھ دنوں تک اس میں انڈر گراؤنڈ ہوجاؤ ۔‘‘
حیدر نے حق دوستی نبھاتے آفر کی مہران نے ایک نظر سورٹھ کی زخمی ٹانگ کو دیکھا اور اس کی طرف ہاتھ بڑھایا سورٹھ نے ایک فکرمند سانس بھری اور ہاتھ تھام لیا۔
٭٭٭
’’آج مجھ سے بچ کے دکھا مہران !تیری تو میں بوٹیاں اڑاؤں گا ۔‘‘
فل اسپیڈ سے گاڑی دوڑاتے داؤد مہر پر جیسے خون سوار تھا الکوحل کے زیادہ استعمال سے ماؤف دماغ کو وہ سر جھٹک کر حاضر رکھ رہا تھا۔
’’اور سورٹھ تیری بھی خیر نہیں ہماری عزت داغدار کردی تو نے اس دو ٹکے کے چھوکرے کے پیچھے زیادہ شوق ہے نا اس (گالی) کے ساتھ رہنے کا اب اوپر جاکر مل کر رہنا۔‘‘
داؤد نے نفرت سے ایکسلیریٹر پر پیر کا دباؤ بڑھایا گاڑی ہوا سے باتیں کرنے لگی دماغ نے پھر نشے میں غوطہ کھایا آنکھیں ایک لمحے کے لیے بند ہوئیں اسٹیرنگ پر رکھے ڈگمگائے اور گاڑی سامنے آتے تیز رفتار ٹرالر سے بری طرح ٹکرا گئی ایک زوردار دھماکہ ہوا اور گاڑی کے اگلے حصے کے پرخچے اڑ گئے۔
٭٭٭
رملہ کے جاتے ہی سوہائی کو سمان کی طرف سے بلاوا آگیا وہ بے دلی سے اٹھ کر باہر آئی سمان نے بہ غور اس کا ستا ہوا چہرہ دیکھا۔
’’سوہائی میں کچھ دنوں سے نوٹ کر رہا ہوں۔تم اپنے کمرے سے نہیں نکلتیں کہاں گئی تمہاری وہ ایکٹونیس میں اسے مس کر رہا ہوں۔‘‘
سمان نے ہلکے پھلکے انداز سے بات شروع کی۔
’’مٹی میں رل گئی میری ساری ایکٹیونس جس کا باپ بھائی اس کے سر پر نہ ہو ،جس لڑکی کی لج محفوظ نہ ہو وہ کیا ہی ایکٹیونس دکھائے گی۔‘‘
سوہائی تلخ ہوئی سمان نے لب بھینچ لیے۔
’’کیا ضروری ہے ،مجھے بار بار میری کمزوری جتائی جائے ۔‘‘
سمان نے بے بس لہجے میں پوچھا ۔
’’بہرحال میں نے تمہیں یہ بتانے کے لیے بلوایا ہے کہ میں اگلے ماہ اپنا فردر ٹریٹمنٹ کروانے بیرون ملک جارہا ہوں ۔‘‘
سمان نے سنجیدگی سے بتایا تو سوہائی نے چونک کر اسے دیکھا کوئی اور وقت ہوتا تو وہ اس کے فیصلے پر اسے سراہتی لیکن اب وہ بالکل خاموش رہی۔
’’بعض جملے بہ ظاہر بے ضرر لگتے ہیں مگر یہ دلوں پر گہری چوٹ لگاتے ہیں ۔یہ آپ کے فیصلے بدلنے پر بھی قادر ہو جاتے ہیں۔‘‘
سمان وہیل چیئر کے ہتھے پر ہاتھ پھیرتے بڑبڑایا سوہائی کو اپنے اس دن والے الفاظ یاد آئے اسے پھر شرمندگی محسوس ہوئی۔
’’میرے جانے سے تمہاری پروٹیکشن میں کوئی فرق نہیں آئے گا اس لیے گھبرانا نہیں داؤد مہر یا کوئی اور اب تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا سو ڈونٹ وری۔‘‘
وہ ذرا سا مسکرایا ۔
’’ تمہارے لیے میں کچھ اور بھی کرنا چاہتا ہوں اسی لیے تمہارے گاؤں میں ایک ایسے اسکول کی عمارت تیار کروا رہا ہوں جس کو تم چلاؤ گی ۔وہاں کی بچیوں کو تعلیم کے حصول کے لیے دور نہیں جانا پڑے گا۔‘‘
سمان کی یہ بات اتنی غیر متوقع تھی کہ سوہائی کا دل بے ساختہ خوشی سے دھڑکا ۔
’’تمہارے بابا کی تلاش بھی جاری ہے ۔ان شائ اللہ تعالیٰ وہ بھی جلد ہی مل جائیں گے۔‘‘
سمان پے در پے خوش خبریاں دے رہا تھا، سوہائی اپنی گزری سوچوں پر پشیمان ہوئی ۔
’’سمان مہر آپ میرا اتنا خیال کرتے ہیں میں آپ کی ۔‘‘
’’سوہائی پلیز یہ فارمل باتیں مجھ سے مت کرو۔ تمہیں دربدر کرنے والا میرا بھائی ہے،میں اس کی غلط حرکت کا ازالہ کر رہا ہوں بس۔‘‘
سمان نے ٹوک دیا تو کچھ کہتی سوہائی چپ ہوگئی۔
’’ آپ کے لیے نیک خواہشات ہیں رب کرے آپ بالکل تندرست ہوکر وطن واپس لوٹیں۔‘‘
سوہائی نے دل سے کہا ۔
’’ان شائ اللہ دعا کرنے کا شکریہ !اب یہ آدم بے زاری ختم کرو کمرے سے باہر نکلو ہنسو بولو رملہ بھی آج تمہیں مس کر رہی تھی ۔‘‘
سمان مہر کی بات پر سوہائی نے برا سا منہ بنایا۔
’’ ان کو برا بھلا کہنے کے لیے آج کوئی میسر نہیں تھا اس لیے۔‘‘
’’بالکل ایسی ہی بات ہے۔‘‘
سمان نے بے ساختہ قہقہہ لگایا۔
’’خیر آگے سے اب میں تمہیں گھر میں ایکٹیو دیکھوں اوکے۔‘‘
اس نے تاکید کی تو سوہائی نے مسکرا کر سر ہلا دیا۔
٭٭٭
’’داؤد کے کارندے ہمارے راستے پر ہی دندنا رہے ہیں ،اب کہیں بھی پہنچنا نا ممکن ہے۔‘‘
حیدر نے پریشانی سے جیپ کو واپس موڑا سورٹھ کا دل تیز دھڑکنے لگا۔
’’اب کیا ہوگا حیدر میری سورٹھ کو مجھ سے جدا کیا گیا تو میں اپنی جان دے دوں گا یا کسی کی جان لے لوں گا۔‘‘
مہران نے اپنی گود میں رکھی رائفل پر مضبوط گرفت کی تو سورٹھ خوف زدہ ہوگئی۔
’’خدا نہ کرے مہران !ایسی نوبت نہیں آئے گی۔‘‘
’’سورمی ہمیں ہر طرح کے حالات کے لیے تیار رہنا ہے۔‘‘
اس نے نرمی سے سورٹھ کو سمجھایا۔
’’بھاجائی آپ بس دعا کرو کہ خیر گزرے ،ورنہ مہر خاندان کے مردوں کو آپ سے زیادہ کون جانتا ہے ،سوائے سمان مہر کے سب سنگ دل ہیں۔‘‘
حیدر نے جیپ احاطے میں روکتے ہوئے سچ بیان کیا۔ ۔
’’سمان ادا تو ہیرا ہیں حیدر بھائی جو ہماری فیملی میں نہ جانے کیسے پیدا ہوگئے ۔آج سوچتی ہوں تو پچھتاتی ہوں کہ ان کو اعتماد میں لے کر اپنی بات بتا دیتی تو شاید اس طرح دربدر ہوکر نہ رلنا پڑتا۔‘‘
سورٹھ کے لہجے میں بھائی کا مان در آیا حیدر کے فون پر کسی کی کال آئی۔
’’ کیا داؤد مہر کا ایکسیڈینٹ ہوگیا ہے ۔‘‘
اس نے زور سے دہرایا تو دونوں چونک کر متوجہ ہوئے۔
’’ اوکے میں بعد میں کال کرتا ہوں۔‘‘
حیدرپریشان دکھائی دیا ۔
’’کیا ہوا داؤد ادا خیریت سے تو ہیں۔‘‘
سورٹھ بھائی کے لیے بے ساختہ فکرمند ہوئی ۔
’’بھاجائی وہ اب اس دنیا میں نہیں رہا ۔‘‘
حیدر نے بدقت کہا تو سورٹھ صدمہ سے زمین پر ڈھے گئی۔
’’کیا بول رہا ہے حیدر۔‘‘
مہران نے پریشانی سے سورٹھ کو روتے دیکھا۔
’’تیز ڈرائیونگ کے باعث حادثہ پیش آیا ہے غالبا اسی طرف آرہے تھے۔‘‘
حیدر نے اندازہ لگایا۔
’’میں نے داؤد ادا کی موت نہیں چاہی تھی مہران میں تو بس یہ دعا کرتی تھی کہ وہ ہم دونوں تک کبھی نہ پہنچ پائیں ۔‘‘
سورٹھ رونے لگی مہران اسے سنبھالتے بے حال ہوا۔
٭٭٭
داؤد اس دنیا سے چلا گیا سمان مہر کو یہ بات تسلیم کرنے میں کئی منٹ لگے اور جب دل نے اس بات کو سچ مان لیا تو ایک گہرے دکھ نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔‘‘
’’یہ کیا کردیا میرے جذباتی بھائی دوسروں کی موت کا پیچھا کرتے خود ہی لقمہ اجل بن گئے۔‘‘
اس نے ایک درد بھری آہ بھری سوہائی الگ غیر یقینی کیفیت کا شکار تھی ،سمان مہر فوری طور پر گوٹھ جانے کے لیے نکلا جہاں داؤد کی آخری رسومات ہونا تھی بابا سائیں تو اس ناگہانی حادثے کے بعد سے ڈھے گئے ۔داؤد ان کا دایاں بازو تھا ہال کمرے میں عورتوں کی آہ و بکا کے بیچ گل مہر چپ کی چادر اوڑھے سرخ آنکھوں سے داؤد کے بے جان جسم کو دیکھ رہی تھی ،آخری بار کی داؤد کی گفتگو ذہن میں چکرانے لگی اس کا تکبر سے بھرا لہجہ دوسروں کی جان لینے کی کوشش لیکن ہوتا وہی ہے جو اللہ چاہتا ہے۔‘‘
سمان دادی سائیں کو تسلی دیتے آب دیدہ ہوگیا تدفین کے بعد کتنی دیر تک وہ دل برداشتہ باپ کا ہاتھ تھامے بیٹھا رہا ۔
’’میری طاقت تھا داؤد میرا فخر تھا ،اب کیا بچا ہے سب خاک میں مل گیا۔‘‘
وہ بھاری آواز سے گویا ہوئے سمان خاموش رہا یہ وقت ان کو ٹوکنے کا نہیں تھا ۔ورنہ ضرور کہتا کہ غلط کاموں پر اس کی حوصلہ شکنی کرتے تو آج وہ طاقت کے نشے میں یوں جان سے نہ گزرتا۔
بہت دیر ان کے پاس بیٹھ کر سمان دکھی دل سے اپنی وہیل چیئر گھسیٹتا اپنے کمرے میں آگیا۔
٭٭٭
ایک ہفتہ بعد وہ واپس لوٹا تو بہت افسردہ تھا سوہائی اسے دیکھ کر دکھی ہوئی کسی اپنے کا چلے جانا کتنا دل چیر دینے والا تجربہ ہوتا ہے ،وہ پوری طرح سمان مہر کی دلجوئی کے لیے مستعد ہوئی وہ کمرہ بند کیے پڑا رہتا یہ دھڑلے سے جاکر اندھیرے کمرے کو روشن کر دیتی ،وہ کچھ نہ بولتا تو اسے باتیں کرنے پر اکساتی اس کے لیے اس کی پسندیدہ ڈشز بنا کر پیش کرتی۔ سمان مہر اس کے برے دنوں میں اس کی چھایاں بنا تھا ،وہ اس کے دکھی وقت میں اسے کیسے اکیلا چھوڑ دیتی ۔
اور سمان مہر جو رملہ جتوئی کو بھی دروازے سے واپس لوٹا رہا تھا ۔سوہائی کو کسی بھی بات پر ٹوکتا نہ تھا وہ کھانا سامنے رکھتی تو چپ چاپ کھا لیتا کمرے کی لائٹس آن کرتی تو چہرے پر بازو رکھ لیتا فضول قسم کے قصے سناتی تو بے تاثر انداز سے سنتا رہتا۔
مائی بھاگی اپنی جہاندیدہ نگاہوں سے یہ سب دیکھ کر آلجھتی رہتی وہ تو سمجھتی رہی کہ سمان مہر کو رملہ جتوئی سے محبت ہے ۔مگر سوہائی چانڈو سے سمان مہر کا دلی تعلق محبت سے زیادہ زور آور لگتا تھا۔
٭٭٭
پھر ایک دن سوہائی حیرت اور خوشی سے بے حال ہوئی جب اپنے سامنے مہران اور سورٹھ کو پایا یہ نظر کا دھوکہ تھا یا حقیقت وہ کتنی ہی دیر مہران کے سینے سے لگی رہی ۔سمان مہران سے خوش دلی سے ملا ان دونوں کے چہرے اور حلیہ کٹھن حالات سے گزرنے کا آئینہ دار تھا ،سورٹھ کی ٹانگ کی لنگڑاہٹ نے سمان کو تشویش میں ڈال دیا اسے زہریلے سانپ نے ڈسا یہ سن کر سمان کے دل میں درد ہوا ،اس کی نازوں پلی بہن نے اپنی محبت پانے کے لیے کتنے مشکل دن کاٹے تھے ۔سمان نے ان کو اپنے پاس ٹھہرا لیا اور ملازموں کو سختی سے تنبیہ کردی کہ یہ بات باہر نہ نکلے وہ جانتا تھا ۔بابا سائیں چاچا سائیں سمیت اس کی فیملی کے دوسرے مرد یہ بات برداشت نہیں کرسکیں گے کہ سورٹھ کو سمان نے پناہ دی ہے صدیوں سے عورت کی غیرت ان کی گھٹی میں پڑی ہے ،ان کی پگ کی عزت خاندان کی عورتوں کی جذباتی اور جسمانی قربانیوں سے قائم ہے ۔جس عورت نے اپنے دل کی مان لی اس عورت کا ٹھکانہ کہیں نہیں اسے مرتے دم تک قبول نہیں کیا جاتا ۔
سورٹھ بھائی کے پاس آکر اچھے ماحول اور اچھی خوراک کی بدولت تیزی سے بہتر ہورہی تھی۔ مہران البتہ کہیں اچھی جگہ رہائش اور ملازمت کے حصول کے لیے ذہن بنا رہا تھا مگر سمان نے اس کی خواہش قطعاً مسترد کردی وہ اپنی بہن کی حفاظت کے خیال سے ان کو پاکستان سے باہر بھجوانا چاہتا تھا۔ جس کے لیے اس نے کوششیں شروع کردی دونوں کو فی الحال دبئی بھیجنے کا پلان بنایا جہاں وہ کھل کر بنا کسی خطرے کے اپنی ازدواجی زندگی گزار سکیں اس نے سوہائی کو بھی بھائی کے ساتھ بھیجنے کی آفر کی مگر سوہائی نے دو ٹوک انکار کردیا ۔
’’مجھے آپ کا پلان بی پسند ہے آپ میرے گاؤں میں بچیوں کی تعلیم کے لیے جو اسکول تعمیر کروا رہے ہیں ۔مجھے وہی چلانا ہے۔‘‘
اس نے اطمینان سے کہا تو سمان نے اسے سراہتی نظروں سے دیکھا۔
’’سوہائی دبئی سیٹل ہوکر میں تمہیں ضرور بلواؤں گا۔‘‘
مہران نے بہن کو یقین دلایا۔
’’ہمارے بابا کھوئے ہیں ادا دنیا سے گزرے نہیں مجھے ان کو ڈھونڈنا ہے اور ان کے ساتھ رہنا ہے۔‘‘
سوہائی نے دانستہ جتایا تو مہران شرمندہ سا ہوا۔
اپنی من پسند عورت کے ساتھ اچھی زندگی گزارنے کے لیے اس کا دل خود غرض ہوچکا تھا جس کا اسے ادراک تو تھا مگر پچھتاوا نہیں ۔
٭٭٭
معاملات اگر بگڑے تو اب بہتر بھی ہورہے تھے لیکن کسی کی جان جانے کے بعد کا سکھ بے سکونی لیے ہوئے تھا ،سورٹھ جہاز کی کھڑکی سے بہت دور ہوتی اپنی دھرتی کو دیکھنے لگی وہ کئی بار فیملی وزٹ پر دبئی آئی لیکن اس بار کا آنا اداس کر دینے والا تھا، اسے رہ رہ کر اپنا بچپن اپنے لوگ یاد آنے لگے جو شاید اب اسے کبھی نہ مل پائیں ۔سچ تو یہ ہے کہ انسان کو اپنی دلی مراد مکمل اطمینان سے حاصل ہو جائے تو اسے دستیاب ہونی والی خوشی کے ساتھ گنوائی گئی سب چیزوں کا غم ستانے لگتا ہے ،لیکن آنے والی زندگی اس اذیت ناک اور ڈر میں لپٹی زندگی سے لاکھ درجے بہتر ہی ہوگی۔‘‘
سورٹھ نے خود کو تسلی دی اور مہران کے شانے پر سر ٹیک کر آنکھیں موند لیں۔
٭٭٭
ایک ماہ پلک جھپکتے میں گزرا داؤد کا چالیسواں بھی گزر گیا اور سمان مہر کے جانے کی تاریخ آ پہنچی سوہائی اس کے لیے دعا گو تھی اور اکیلے رہ جانے کے خیال سے گھبرائی ہوئی بھی ،سمان نے ملازموں کو سوہائی کا خیال رکھنے کی تاکید کی اور سویر ہی مٹھل کے ساتھ ایئر پورٹ نکل گیا ۔سوہائی کو اس کے جاتے ہی سونے پن کا احساس ستانے لگا ،حالانکہ وہ کئی دن گاؤں چلا جاتا اور وہ محسوس بھی نہیں کرتی تھی ۔اس بار شاید وہ بہت دور گیا تھا ۔اس لیے بہرحال سوہائی عجیب سی کیفیت میں دن رات کاٹنے لگی ایک شام رملہ چلی آئی اور سمان مہر کی باہر کے ملک روانگی کا سن کر حیران ہوئی ۔غالباً سمان مہر نے اسے نہیں بتایا تھا۔‘‘
’’میرا فون پک نہیں کر رہا تو یہ بات ہے ۔اب خیال آیا ہے اپنا ٹریٹمنٹ کروانے کا اب کیا ہوسکتا ہے ،خوامخواہ کا ٹائم ویسٹ ہوگا ۔‘‘
اس کا طنزیہ انداز سوہائی کو بہت برا لگا۔
’’کیوں نہیں ہوسکتا اللہ چاہے تو سب کچھ ہوسکتا ہے۔‘‘
سوہائی نے یقین سے کہا تو رملہ نے سر جھٹکا۔
’’خیر میں تو اس کے بھائی کی تعزیت کرنے آئی تھی مجھے کیا پتا موصوف لمبی یاترا پر نکلے ہیں ۔‘‘
اس نے اپنا سلور پرس جھلایا اور ہیل بجاتی باہر نکل گئی۔
’’یہ سیلفش عورت یہاں آتی کیوں ہے اپنا اور ہمارا موڈ خراب کرنے۔‘‘
سوہائی نے ناگواری سے سامنے سے آتی مائی بھاگی سے پوچھا۔
’’سائیں کو اپنی ادائیں دکھا کر جلاتی ہے ،اس ڈائن کی وجہ سے ہی تو سمان سائیں دل ہار بیٹھے ورنہ اب تک اپنا علاج کروا چکے ہوتے۔‘‘
مائی بھاگی نے بھی بھڑاس نکالی۔
’’شادی بھی کرے گی اپنے منگیتر سے یا صرف ادائیں ہی دکھاتی رہے گی۔‘‘
سوہائی چڑے ہوئے انداز میں کہہ کر اپنے کمرے میں آئی اور سیل فون دراز سے نکالا اس میں سمان مہر کی کوئی کال یا میسج نہیں تھا ۔وہاں پہنچنے کی اطلاع دے کر سمان نے پھر کوئی بات ہی نہیں کی سوہائی دعائیں کرنے میں سارا دن گزار دیتی اور وہ تھا کہ کوئی اپڈیٹ ہی نہیں دے رہا تھا ۔اچانک ہی میسج بیپ سنائی دی سوہائی نے بے تابی سے میسج باکس کھولا سمان نے ایک وڈیو کلپ بھیجا تھا گاؤں میں تعمیر ہوتے اسکول کا جو تیزی سے پایہ تکمیل تک پہنچ رہا تھا ۔سوہائی کا دل خوش ہوگیا دیکھ کر پھر سمان مہر پر غصہ آیا۔
’’آپ نے بتایا نہیں کہ آپ کا آپریٹ کب ہونا ہے۔‘‘
سوہائی کے استفسار پر پھر خاموشی برتی گئی سوہائی نے جھنجھلا کر سیل فون آف کردیا۔
٭٭٭
’’کیا بات ہے ،سورمی ہم ایک دوسرے کی سنگت میں سکون سے ہیں پھر بھی تم بجھی سی ہو۔‘‘
مہران نے دبئی مال میں چلتے ہوئے سورٹھ کا ہاتھ تھاما جو اتنی چکا چوند میں بھی کسی چیز میں دلچسپی نہیں لے رہی تھی۔
’’ایسا لگتا ہے مہران جیسے میرا دل اندر سے مرچکا ہے۔ میں بھی اماں کی طرح اس دنیا سے گزر گئی ہوں۔‘‘
سورٹھ کی آواز بھرائی ،مہران پریشان ہوگیا۔
’’مجھے لگتا ہے اپنے بھائی کی موت کا بہت اثر لے لیا ہے ۔تم نے ریلیکس رہو سورمی اس ایکسیڈینٹ میں تمہارا کوئی ہاتھ نہیں تھا اور اگر وہ حیات رہتا تو ہم اس طرح کھل کر زندگی نہیں جی پاتے۔‘‘
مہران کی بات پر سورٹھ نے اسے شاکی نظروں سے دیکھا۔
’’میں غلط نہیں کہہ رہا سورمی ہر بندہ سمان کی طرح نہیں ہوتا ۔‘‘
’’لیکن میں کنفرٹیبل نہیں ہوں ،مہران میرے دل میں مستقل ایک پچھتاوا ہے کاش میں ایسے تمہارے ساتھ نہ جاتی تو آج گل مہر بھابھی کا سہاگ نہ اجڑتا بابا جو داؤد ادا سے بہت محبت کرتے ہیں وہ بستر سے نہ لگتے۔‘‘
سورٹھ نے بے بسی سے مال کے چکنے فرش کو دیکھا۔
’’یعنی اب تمہیں اس بات پر پچھتاوا ہے کہ ہم دنیا سے ٹکر لے کر ایک کیوں ہوئے تو مان لیتیں ہار بھول جاتیں ہماری چار سال کی محبت کو میں نے تمہیں مجبور تو نہیں کیا تھا ۔‘‘
مہران کا لہجہ تلخ ہوا۔
’’اور نقصان صرف تمہارا نہیں ہوا میرا بھی ہوا ہے ۔میری دادی گزر گئی باپ لاپتا ہوگیا اور تمہارے مرحوم بھائی نے جو میری معصوم بہن کو اغوا کرلیا ۔وہ تو سوہائی سمان ادا کے پاس آگئی ورنہ سوچا ہے اس کا کیا حشر ہوسکتا تھا۔‘‘
مہران سورٹھ کی باتوں سے بد دل ہوا۔
’’سوری مہران میں اس وقت ایک ٹراما سے گزر رہی ہوں ۔میری سوچوں پر میرا اختیار نہیں ہے، داؤد ادا کی موت نے دماغ ماؤف کر دیا ہے۔ بھلے وہ ہم دونوں کے خون کے پیاسے ہوں مگر وہ میرے بھائی تو تھے اور کبھی مجھ پر مہربان بھی تھے ۔‘‘
سورٹھ بے چارگی سے بولی مہران ہمدردی سے اسے دیکھا ۔
’’ریلیکس سورمی میں تمہاری کیفیت سمجھ رہا ہوں۔ اس ٹراما سے نکلنے میں تم مجھے ہمیشہ اپنے ساتھ کھڑا پاؤں گی ۔‘‘
مہران نے اسے خود سے لگا کر تسلی دی
٭٭٭
’’میں آپ سے سخت ناراض ہوں۔‘‘
سوہائی نے میسج بھیجا دو ماہ سے اوپر ہوگئے تھے سمان کو گئے ہوئے مگر اس نے اپنی طبیعت کے متعلق کوئی اطلاع نہیں دی ۔بس خیریت پوچھنے کا فریضہ انجام دے دیتا ۔ایسا بھی کیا جانا کہ بندہ وہیں کا ہو جائے ۔
وہ کڑھتی رہتی اس پر مستزاد رملہ ہر دوسرے روز چلی آتی ۔اسے تجسس مارے دیتا کہ یہاں سب سمان کی اطلاع چھپا رہے ہیں ۔وہ سوہائی پر خوامخواہ الٹ پڑتی سمان کے گھر والوں سے پوچھنے کا حوصلہ نہیں تھا ۔دوسری طرف سمان کی صحیح اطلاع گوٹھ والوں کو بھی نہیں تھی۔ داؤد کے بعد بابا سائیں ہر چیز سے بے نیاز ہوگئے، قوت برداشت ٹوٹی تو یاداشت پر گہرا اثر پڑا اکثر سب کچھ بھول جاتا ۔مہر گل عدت کے دن خاموشی سے کاٹ رہی تھی سر کے سائیں کے جانے کا دکھ دل کو محسوس نہیں ہوتا تھا ۔وہ بہت کوشش کرتی کہ ایک آنسو ہی آنکھوں سے نکل آئے مگر دل کے ساتھ آنکھیں بھی اس شقی القلب انسان کا غم منانے سے انکاری تھیں۔
٭٭٭
سورٹھ کی حالت ہنوز وہی تھی ایک جگہ بیٹھی سوچتی رہتی نہ کپڑے بدلنے کا ہوش نہ کھانے پینے کا مہران اپنی جاب پر اس کی فکر ساتھ لے کر جاتا سورٹھ اسے بات نہ کرتی تو وہ سمان کو کال ملا لیتا سورٹھ بھائی سے بات کرکے کچھ پل بہلتی پھر اسی کیفیت میں چلی جاتی ۔
اس دن بھی وہ سورٹھ کو کہیں تفریح پر لے جانے کو راضی کر رہا تھا کہ اطلاعی گھنٹی بجی مہران نے بیرونی دروازہ کھولا تو حیران رہ گیا سمان پورے قد سے اس کے سامنے کھڑا تھا۔
’’سمان ادا آپ اپنے پیروں پر کھڑے ہوگئے۔‘‘
مہران کے تعجب پر سمان بشاشت سے مسکرایا۔
’’ہاں یار تم لوگوں کی دعاؤں سے الحمدللہ ۔‘‘
وہ اس سے معانقہ کرکے اندر آیا۔
’’سورٹھ کہاں ہے؟‘‘
’’یہی ہے سورٹھ دیکھو کون آیا ہے۔‘‘
مہران نے آواز دی تو سورٹھ نے گردن موڑی پھر بے یقینی ہوئی۔
’’سمان ادا !‘‘
وہ دوڑ کر بھائی کے گلے لگی۔
’’آپ ٹھیک ہوگئے آپ اپنے پیروں سے چلنے لگے ۔ماشائ اللہ ۔‘‘
وہ الٹے قدم دور ہٹی اور سمان کو سراہتی نظروں سے دیکھا۔
’’بس کرو بھئی ایسی بھی کیا حیرانی۔‘‘
سمان محظوظ ہوا۔
’’کیوں نا ہو حیرانی آپ نے فون پر یہ نہیں بتایا کہ آپریٹ کامیاب ہوگیا ہے۔‘‘
مہران نے شکوہ کیا۔
’’شکر کرو تم لوگوں کو کچھ بتا رہا تھا کسی کو تو میں نے بالکل ہی بے خبر رکھا ہے۔‘‘
سمان بدستور مسکراتے بڑبڑایا۔
’’بھائی آپ میرے پاس رہیں گے ناں پلیز۔‘‘
سورٹھ نے فرمائش کی۔
’’صرف ایک دن ۔‘‘
سمان نے اس کا مان نہیں توڑا سورٹھ اسی پر خوش ہوگئی آج کتنے دنوں بعد وہ کھل کر مسکرائی مہران نے اسے دیکھ کر سکون کا سانس لیا۔
٭٭٭
’’اے چھوکری اپنا موبائل دکھاؤ ۔‘‘
رملہ کی آواز پر سوہائی نے ہاتھ میں پکڑا سیل فون پیچھے کیا وہ گارڈن میں کرسی پر بیٹھی تھی کہ پیچھے رملہ آ کھڑی ہوئی ۔
’’کیوں میں اپنا موبائل تمہیں کیوں دوں۔‘‘
وہ اٹھتے ہوئے بولی۔
’’کیونکہ سمان تم سے رابطے میں ہے اتنا شان دار سیل فون اسی نے لے کر دیا ہے ،ورنہ تمہاری اوقات کہاں۔‘‘
وہ حقارت سے بولی تو سوہائی کا رنگ سرخ پڑ گیا۔
’’ہاں لے کر دیا ہے میری اوقات تو جو ہے سو ہے ،تمہاری اوقات کیا ہے ان دو ڈھائی ماہ میں انہوں نے تمہیں ایک میسج کرنا پسند نہیں کیا ،جل بن مچھلی کی طرح تڑپ رہی ہو ۔‘‘
سوہائی کا لہجہ مذاق اڑاتا ہوا تھا رملہ جلبلا گئی۔
’’دو ٹکے کی چھوری مجھ سے زبان لڑاتی ہے۔‘‘
رملہ نے ہاتھ اٹھایا تو اس کا ارادہ بھانپ کر سوہائی نے فوراً اس کی کلائی پکڑ لی رملہ غصے سے پاگل ہوگئی۔
’’خود کو کیا سمجھتی ہے اپنی خوب صورتی سے سمان کو پھانس لے گی ،مگر سن لے وہ مرتے دم تک میرا ہی دیوانہ رہے گا چاہے میں جتنا بھی اس کے ساتھ ستم کرلوں ۔‘‘
رملہ نے تنفر سے جتایا۔
’’اتنی خوش فہمی اچھی نہیں ہوتی رملہ بی بی وہ آپ کا دیوانہ اب میرا اسیر ہے سمجھیں۔‘‘
رملہ کو نیچا دکھانے کے لیے نہ جانے کیسے یہ الفاظ اس کی زبان سے پھسلے ۔
’’یہ سب کیا ہو رہا ہے ۔‘‘
سمان کی رعب دار آواز سے وہ دونوں چونکیں اور پھر حیرانی سے سمان دیکھنے لگیں ۔
’’سمان تمہارا آپریٹ کامیاب ہوگیا۔‘‘
رملہ کے سوال میں صدمہ تھا۔
’’نہیں ہوتا کیا۔‘‘
سمان ہلکا سا مسکرایا۔
’’نن نہیں اٹس امیزنگ مجھے تو یقین نہیں ہو رہا، میں کہیں خواب تو نہیں دیکھ رہی۔‘‘
وہ سنبھل کر اسے ستائش سے دیکھنے لگی ،جو اولیو کلر کی شرٹ اور بلیک پینٹ میں بے تحاشہ وجیہہ نظر آرہا تھا۔
’’اب تو ٹریٹ پکی ہے ،مجھے کسی اچھی جگہ سے شاپنگ کروانا اور ڈنر بھی۔‘‘
رملہ ٹھنک کر آگے بڑھی اور سمان کا بازو تھام لیا۔
’’یار ابھی تو سفر سے لوٹا ہوں ریلیکس تو ہونے دو۔‘‘
سمان نے خاموش سوہائی پر نظر ڈالی۔
’’کم آن پلین سے آئے ہو اونٹ پر تو نہیں میں اب تم سے سود سمیت پورا وقت لوں گی ۔‘‘
رملہ نے سمان کے بازو سے لپٹ کر اس کے کندھے پر اپنا سر رکھ دیا۔ سوہائی کی آنکھوں میں مرچیں بھر گئی، وہ تیزی سے دوڑ کر اندر کچن میں آئی اور سنک کا نلکا کھول کر آنکھوں پر پانی کے چھینٹے ڈالے۔
’’اللہ سلامت رکھے میرے سائیں کو خیر سے اپنے پیروں پر کھڑے ہوگئے آج کتنا بھاگن والا دن ہے ۔‘‘
مائی بھاگی چہکتی کچن میں داخل ہوئی پھر سوہائی کا بھیگا ہوا چہرہ دیکھ کر ٹھٹھکی۔
’’اے چھوکری تجھے کیا ہوا۔‘‘
’’ کچھ نہیں ۔‘‘
سوہائی نے خوامخواہ برتن الٹ پلٹ کیے۔
’’ادھر دیکھ میری طرف۔‘‘
مائی بھاگی نے اسے اپنی جانب موڑا۔
’’اے چری دل لگا بیٹھی ہے کیا۔‘‘
مائی بھاگی کے سوال نے سوہائی کو چونکا دیا۔
’’کیا کہہ رہی ہو مائی بھاگی۔‘‘
سوہائی ہکلائی۔
’’مجھ سے مت چھپا سب سمجھتی ہوں اور تو بھی سمجھ لے وہ آکاش ہے اور تو مٹی ہے یاد رکھ آسمان کبھی دھرتی کی گود میں نہیں سوتا۔‘‘
جہاندیدہ عورت سب جان گئی سوہائی کو اپنا آپ چھپانا مشکل ہوگیا ۔وہ ادھر سے بھاگ کر اپنے کمرے میں آئی اور دروازہ اندر سے لاک کرلیا پھر تمام رات آنسو بہاتی رہی مائی بھاگی کے الفاظ ذہن میں گونجتے رہے۔
’’آکاش اور دھرتی کا ملن ممکن ہے مائی بھاگی اگر درمیان میں محبت ہو مہران ادا نے بھی تو پالیا سورٹھ کو وہ بھی تو آکاش تھی۔‘‘
٭٭٭
ساری رات جاگتے رہنے کا انجام شدید سر درد کی صورت سامنے آیا ۔دوپہر تک جب بھوک اور سر درد قابل برداشت نہ رہے تو سوہائی کو کمرے سے نکلنا پڑا ۔وہ کچن میں آئی تو مائی بھاگی کے ساتھ دو اور ملازمائیں بھی کھانا پکانے میں مصروف ملیں ۔
’’بہت دیر تک سوئی ۔‘‘
مائی بھاگی نے اس کے ستے ہوئے چہرے پر نظر ڈالی۔
’’بہت دیر سے جاگی ہوں۔‘‘
سوہائی نے جیسے تصیح کی۔
’’اچھا ہوا وقت پر جاگ گئی۔‘‘
مائی بھاگی نے ذو معنی انداز میں جواب دیا سوہائی فریج سے ڈبل روٹی نکال کر چائے بنانے لگی۔
’’جلدی ہاتھ چلاؤ چھوریوں اور کتنی دیر کرو گی۔‘‘
مائی بھاگی نے ملازماؤں کو گھر کا۔
’’رملہ بی بی کل سے یہیں ٹہری ہوئی ہے بڑے ناز اٹھوا رہی ہے ۔آخر سائیں کے دل کی ملکہ ہے۔‘‘
اونچی آواز میں جیسے سوہائی کو سنایا ۔
’’سوہائی تم ناشتہ کرکے میرا ہاتھ بٹا دینا ورنہ رملہ بی بی پھر باتیں سنائے گی اور سمان سائیں تو رملہ کا دل خراب نہیں ہونے دیتے ۔سو مجھ پر ہی خفا ہوں گے۔‘‘
مائی نے آج اس کے زخم ادھیڑنے کا تہیہ کر رکھا تھا۔
’’تمہاری رملہ بی بی جائے بھاڑ میں ،اس کی ملازمہ نہیں ہوں میں سمان سائیں ہی پڑے رہیں۔ان کے قدموں میں۔‘‘
سوہائی ٹرے میں چائے کا کپ اور سلائس رکھ کر کچن سے نکلی تو نظر سامنے کھڑے سمان پر پڑی۔
’’کہاں غائب ہو سوہائی طبیعت تو ٹھیک ہے۔‘‘
سمان اسے بہ غور دیکھ رہا تھا ۔
’’اب خیال آیا ہے پوچھنے کا ۔‘‘
وہ بڑبڑائی اور منہ پھلا کر سمان کے برابر سے گزر گئی ۔
’’سمان ڈئیر ادھر کیوں کھڑے ہو ۔‘‘
پیچھے سے رملہ کی لگاوٹ بھری آواز سنائی دی سوہائی کا انگ انگ جلنے لگا ۔اونہہ یہ محبوب ہے ،آپ کا جو آپ کی معذوری میں آپ کا ساتھ چھوڑ دے اور صحت یابی میں مکاری سے محبت جتائے ۔‘‘
اس نے اپنے بیڈ پر دھم سے بیٹھتے ہوئے غصے سے سوچا۔
’’خیر مجھے کیا میں کیوں اپنا دل جلا رہی ہوں ،جب سمان مہر کو اس بات کا شعور نہیں کیا وہ سمجھتے نہیں کہ جو عورت برے حالات میں آنکھیں پھیر سکتی ہے وہ کتنی خود غرض ہے۔‘‘
سوہائی نے گرم چائے حلق میں انڈیلی کل سے وہ خود کو غیر جانبدار رکھنے کی کوشش میں ناکام ہورہی تھی ۔سمان مہر کی بدلی ہوئی وجاہت سے بھرپور شخصیت نے جہاں رملہ کو اس کی طرف دوبارہ ملتفت کیا تھا ۔وہیں سوہائی کی کڑھن میں اضافہ ہوا تھا ۔
’’کاش سمان مہر آپ آپریٹ نہ کرواتے میرے نہیں تو کم از کم رملہ کے بھی نہ ہوتے۔‘‘
ایک عجیب سی سوچ آئی اور سوہائی کو شرمندہ کر گئی ۔
’’وہ معذوری سے نکل آئے ہیں اور میں کیا سوچ رہی ہوں ۔‘‘
اس نے خود کو ملامت کی ۔
’’شاید گرد و غبار سے اٹا آسمان دھرتی کو اپنے ذیادہ نزدیک محسوس ہوتا ہے خوش فہم سمجھتی ہے میں اپنی مٹی سے اسے چھو سکتی ہوں۔‘‘
٭٭٭
اگلے دن سمان مہر گاؤں چلا گیا رملہ ادھر ہی ٹھہری رہی گزرے دنوں رملہ نے اسے خود میں اتنا الجھائے رکھا کہ کسی اور طرف دیکھنے کی گنجائش ہی نہ رہنے دی اور سمان مہر بھی کاٹھ کا گڈا بنا اس کی کمپنی کو انجوائے کرتا رہا ۔اسے خیال تک نہ آیا کہ اس گھر میں ایک لڑکی سوہائی بھی ہے ۔جس نے اس وقت اس کی دل جوئی کی جب وہ رملہ کی طرف سے ٹوٹا ہوا تھا ۔
’’کچھ سنا رملہ بی بی نے اپنی منگنی توڑ دی ہے۔‘‘
مائی بھاگی نے سرگوشی میں زہر پھونکا ۔
’’اب کرے گی سمان سائیں سے شادی۔‘‘
ایقان بھرا لہجہ سوہائی نے آنکھیں میچ لیں۔
’’میں کیسے دیکھ پاؤں گی سمان مہر کو رملہ کا ہوتے۔‘‘
وہ دل میں کراہی۔
’’چلو گھر میں کچھ رونق تو ہوگی سالہا سال سے یہ بنگلہ ویران رہا ہے۔‘‘
مائی بھاگی بڑبڑائی ۔
’’اس سے پہلے کہ مجھے یہ ناقابل برداشت دکھ سہنا پڑے میں ادھر سے چلی جاؤں گی ۔‘‘
اس نے ٹوٹے دل سے ایک فیصلہ کیا ۔
٭٭٭
سمان ایش گرے شرٹ اور چارکول کلر کی پینٹ میں ملبوس خود پر پرفیوم کا اسپرے کر رہا تھا جب آئینے میں سوہائی کی شبیہہ نمودار ہوئی ۔
’’کیسی ہو سوہائی طبیعت ٹھیک ہے۔‘‘
اس نے پلٹ کر اپنا کوٹ اٹھایا۔
’’طبیعت تو پہلے سے بہت صاف ہوگئی ہے ۔‘‘
سوہائی کا لہجہ ستا ہوا تھا۔
’’گڈ‘ ‘سمان کے یک لفظی جواب پر اسے صدمہ ہوا۔
’’میں اب یہاں سے جانا چاہتی ہوں آپ اپنے چاہنے والوں کے ساتھ خوش رہیے ۔‘‘
’’کہاں جانا چاہتی ہو۔‘‘
سمان مہر رسٹ واچ اپنی کلائی پر سیٹ کرتا اس کے مقابل آیا اس کا دراز قد سوہائی کو شدت سے محسوس ہوا۔
’’ واپس اپنے گوٹھ۔‘‘
اس نے سمان کی چھا جانے والی شخصیت سے نظریں چراتے جواب دیا ایک وقت تھا ۔جب وہ اس کے ساتھ بے تکلف تھی تب وہ اتنا قد آور نہیں تھا ہائے اس قد نے درمیان میں کتنی دیواریں حائل کردی تھیں ۔
’’اوکے میں انتظام کر دیتا ہوں۔‘‘
سمان نے اطمینان سے کہا تو سوہائی کا دل ٹوٹ گیا ۔
’’اسکول کا کام تقریباً مکمل ہوگیا ہے تم وہاں جاکر اسے لک آفٹر کرو جس چیز کی ضرورت ہو مجھے بتا دینا ۔‘‘
اس نے اپنا لیپ ٹاپ بیگ اٹھایا ۔
’’اور کچھ۔‘‘
سمان نے جاتے ہوئے سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔سوہائی چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے نزدیک آئی۔
’’آپ ایک اچھے انسان ہیں سمان مہر! میری دعا ہے آپ کو آپ جیسے انسان ہی ملیں لیکن افسوس آپ کو دھوکے بھری زندگی میں رہنا پسند ہے اور دھوکے باز عزیز ہیں۔‘‘
سوہائی کی بات پر سمان نے بھنویں اچکائی ۔
’’اس بات کی وضاحت کرو گی ۔‘‘
’’وضاحت آپ کے عقب میں کھڑی ہے ۔‘‘
سوہائی نے دروازے کے فریم میں نمودار ہوتی رملہ کو دیکھا اور باہر نکل گئی۔
’’یہ ادھر کیا کر رہی ہے۔‘‘
رملہ کی ناگوار آواز سنائی دی۔
’’تمہاری تعریف کر رہی تھی۔‘‘
سمان مہر نے قہقہہ لگایا سوہائی ٹھٹھک کر رکی۔
’’کم آن اب اسے یہاں سے چلتا کرو کب تک سر پر بٹھا کر رکھو گے بھائی کے پاس بھیج دو ۔‘‘
رملہ نے ناگواری سے کہا ۔
’’ڈونٹ وری جا ہی رہی ہے ۔‘‘
سمان جیسے اسے تسلی دی سوہائی کے دل کے سو ٹکڑے ہوئے۔
’’اوکے ویسے انگیجمنٹ کا کیا سین ہے کب ارینج کر رہے ہو ۔مما کو یو کے واپس جانا ہے۔‘‘
رملہ کی اٹھلائی آواز نے سوہائی کا قرار لوٹ لیا اب اسے زیادہ سننے کا اس میں حوصلہ نہیں تھا وہ آنسو روکتی وہاں سے ہٹ گئی۔
٭٭٭
سوہائی نے چادر اوڑھ کر اپنا پرس اٹھایا اور سست قدموں سے پورچ تک آئی کبھی بالکل خالی ہاتھ چھپتی چھپاتی وہ اس بنگلے میں آئی تھی اور اب ہاتھ سامان سے بھرے ہوئے تھے مگر دل بالکل خالی تھا۔ اس گھر کے مالک نے اسے عزت بھی دی سہولت بھی بدلے میں اگر سوہائی کو محبت کی طلب ہوگئی تو قصور سمان مہر کا نہیں اس کا اپنا تھا ۔
سوہائی نے بھرائی آنکھوں سے ان شاندار در و دیوار کو دیکھا اسی اثنائ میں سمان مہر پورچ میں آیا ۔
’’سوہائی جلدی آؤ۔‘‘
’’سمان نے گاڑی میں بیٹھ کر اسے آواز دی تو وہ چونک گئی سنھل نے اس کے لیے فرنٹ ڈور کھولا وہ جھجکتے ہوئے بیٹھی گاڑی ریورس ہوکر گیٹ سے نکلی اور سڑک پر فراٹے بھرنے لگی سوہائی نے چپکے سے سمان مہر کو دیکھا جو ڈرائیونگ میں مصروف تھا ۔وہیل چیئر سے لے کر اپنے قدموں پر کھڑے ہونے تک وہ اسے کتنا دور ہوچکا تھا۔
’’آپ نے کیوں ساتھ چلنے کی زحمت کی میں مٹھل کے ساتھ چلی جاتی۔‘‘
سوہائی نے دھیمے سے کہا سمان مہر نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
’’بہت فارمل ہوگئی ہو، سوہائی چانڈیو! کیا بات ہے۔‘‘
’’آپ نے اتنے دن مجھے پناہ دی مہربانی آپ کی اب آپ اپنے چاہنے والوں کو وقت دیں ناکہ میرے ساتھ چل کر اپنا قیمتی ٹائم برباد کر رہے ہیں۔‘‘
سوہائی کی سنجیدگی میں فرق نہیں آیا۔
’’ کہہ تو تم ٹھیک رہی ہو ،مجھے اپنے چاہنے والوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہیے۔‘‘
سمان نے تائید کی سوہائی کا دل ٹوٹ گیا۔
اس نے کھڑکی سے باہر دیکھنا شروع کردیا سفر اسی خاموشی میں کٹ گیا گاؤں کے مانوس راستے شروع ہوئے گاڑی ایک قبرستان کے آگے کھڑی ہوئی سوہائی نے تعجب سے سمان کو اترتے دیکھا وہ لمبے ڈگ بھرتا آگے جانے لگا سوہائی تیز قدموں سے اس کے پیچھے چلی کچی زمین پر احتیاط سے چلتے وہ ایک جگہ جاکر رکا اور سوہائی کا بازو کھینچ کر کچھ قبروں کے آگے کھڑا کردیا ،سوہائی نے کتبوں پر نظر دوڑائی تو ساکت رہ گئی ایک قبر پر مٹھی دادی اور دوسری قبر پر اس کے بابا عبدللہ چانڈیو کا نام لکھا تھا اسے صدمے سے چکر آگئے سمان نے فوراً سہارا دیا ۔
’’آپ چلے گئے ،بابا ابھی تو میں نے آپ کو ملنا تھا ۔آپ کو بتانا تھا میں آپ کے بنا کتنی ادھوری ہوں ۔‘‘
وہ سمان کے کندھے سے لگی رونے لگی سمان نے نرمی سے اس کا سر تھپکا۔
’’صبر کرو سوہائی اللہ کی یہی رضا تھی۔‘‘
’’ آپ کو پتا تھا وہ چلے گئے ہیں ۔آپ نے مجھے کیوں نہیں بتایا۔‘‘
سوہائی نے شکوہ کیا۔
’’ایک ماہ پہلے یہ کہیں سے واپس گاؤں لوٹ آئے بہت بیمار تھے دو دن میں ہی چل بسے تمہارے رشتہ داروں نے ادھر تدفین کردی۔‘‘
سمان نے افسردہ لہجے میں بتایا ۔
’’ہائے اس بیماری اور بے بسی میں کس نے خیال رکھا ہوگا ۔‘‘
’’بس کرو سوہائی جو بھی ہوا ،اب اپنے بابا کے اگلے جہاں کے لیے آسانی مانگو دیکھو لوگ ادھر متوجہ ہو رہے ہیں۔‘‘
سمان نے اس کے سر سے پھسلتی چادر واپس جمائی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر واپسی کی راہ پر ہولیا ۔گاؤں کے کئی لوگوں نے دلچسپی سے ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھا ۔
’’ عبدللہ چانڈیو کی بیٹی جو چھ ماہ قبل ہی اپنے بھائی کی سنگین غلطی کے سبب اغوا ہوئی تھی اب مہروں کے بیٹے کے ساتھ دوبارہ دکھائی دی تھی ۔یہ خبر تو پھیلانے لائق تھی۔
٭٭٭
اسکول بہت شاندار تعمیر ہوا تھا پرائمری سے لے کر میٹرک تک لڑکیوں کو معیاری تعلیم معمولی فیس میں فراہم کرنے کا عزم تھا ۔سمان نے فیتہ کاٹ کر اسکول کا افتتاح کیا ،پرنسپل کی آرام دہ سیٹ پر بیٹھتے سوہائی کی آنکھیں نم ہوئیں اس کا دیرینہ خواب پورا ہوا پر اس کے اپنے دیکھ نہیں پائے اس کے ساتھ کی سہیلیاں ادھر ٹیچر لگی تھیں سوہائی کے لیے ان کی آنکھوں میں حیرت اور رشک چھلکا ان کو معلوم نہیں تھا کہ اس اسکول کی پرنسپل ان کی وہ سابقہ سہیلی ہے جو اچانک اپنے گھر سے اٹھالی گئی تھی ۔مگر اب پورے طمطراق سے واپس لوٹ آئی تھی ،ان کے دل حسد سے بھر گئے۔
’’بدلے میں اغوا کی گئی چھوکری کو کیسے اتنی عزت ملی ہے اور یہ مہر خاندان کا وہی شخص ہے جس نے اسے اغوا کیا یا کوئی دوسرا ہے۔‘‘
سوال ان کے دل کو بے چین کرنے لگے مگر جواب صرف سوہائی کے پاس تھا جو فی الحال ان کی دسترس سے اونچی ہوچکی تھی۔
٭٭٭
’’یہ مائی رحمت ہے ۔یہ تمہارے ساتھ رہے گی باہر کے کام کرموں دیکھ لے گا پھر بھی کسی چیز کی ضرورت ہو تو بے جھجھک مجھے کال کرسکتی ہو ۔‘‘
سمان نے ایک ادھیڑ عمر عورت کا تعارف کرواتے ہوئے تاکید کی وہ اسکول کے احاطے کے اندر ہی ایک چھوٹا سا گھر اسے دکھانے لایا گھر میں ہر طرح کی ضرورت کی چیز موجود تھی سمان نے اتنا کچھ کیا تھا کہ سوہائی کے سب گلے جاتے رہے ۔
’’اوکے میں چلتا ہوں ۔‘‘
اس نے الوداعی نظر سوہائی پر ڈالی اس کے جانے کے خیال سے سوہائی کا دل بیٹھنے لگا۔
’’ خدا حافظ اور آپ کی ہونے والی منگنی کے لیے نیک خواہشات ۔‘‘
اس نے دل پر جبر کرتے ہوئے کہہ دیا۔
’’ادھر سے ہی نیک خواہشات نہیں چلیں گی منگنی میں تمہاری شرکت بے حد ضروری ہے ،میں گاڑی بھجوا دوں گا ۔‘‘
سمان نے مسکرا کر اس کے نازک احساسات کو ٹھیس پہنچائی ۔
’’میں نہیں آسکوں گی ۔‘‘
سوہائی کی آواز بھاری ہوئی ۔
’’اس کا مطلب تمہیں میری خوشیوں سے کوئی مطلب نہیں ۔ویسے تو بڑے دعوے کرتی تھیں ،مجھے خوش دیکھنا چاہتی ہو ،اب میری لائف کا بڑا ایونٹ مس کر دو گی۔‘‘
سمان نے دل چیرتا ہوا شکوہ کیا ۔
’’اوکے دیکھوں گی۔‘‘
سوہائی بے بس ہوئی ۔
’’دیٹس لائک آ گڈ گرل۔‘‘
سمان نے کار کی چابی اور والٹ جیب میں رکھا اور باہر نکل گیا پیچھے سوہائی کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو چھلکے۔
٭٭٭
اگلے دن سے زندگی کی نئی روٹین شروع ہوئی جس کے لیے سوہائی بہت پر جوش تھی اسے پرنسپل کی سیٹ پر بیٹھ کر بہت سے ایسے کام سر انجام دینے تھے جس کا کبھی اس نے صرف خواب دیکھا تھا مس نوین وائس پرنسپل کی کرسی پر اس کے ساتھ روم میں موجود تھیں بہت ذہین اور ہنس مکھ تین میل کلرک بھی تھے پہلا دن تو ذمہ داریاں سمجھنے اور سمجھانے میں ہی نکل گیا تمام کلاسوں کے دورے کیے گئے اسٹاف سے تعارف لیا گیا اہم لائحہ عمل تیار کیے گئے یوں دن کے تمام ہوتے ہی بہ جائے تھکنے کے سوہائی بہت تازہ دم اور خوش تھی ۔
٭٭٭
بعض اوقات خواب تعبیر پاکر ان آنکھوں کو ہی تیشہ بن کر چبھنے لگتے ہیں ۔جو ان کو برسوں سے سینت رہی تھیں ۔سوہائی نے سوچا تھا علم کی روشنی سے گوٹھ میں تعلیم کے دیے جلائے گی مگر دنیا نے اسے کھل کر اپنا کام کرنے نہیں دیا ۔اس کی واپسی کی خبر گوٹھ میں آگ کی طرح پھیل گئی ،رشتہ دار اور جاننے والے اسے دیکھنے ایسے دوڑے چلے آئے جیسے وہ مرکر زندہ ہوئی ہو ۔تجسس اور کرید سوہائی وضاحت دے کر تھک گئی کہ اس کی لج محفوظ ہے مگر اعتبار کسی کو نہیں آیا سوال یہ بھی تھا کہ سمان مہر کیوں اس پر اتنا مہربان ہے۔ بدلے میں آئی لڑکی کو کون اتنی عزت دیتا ہے۔ سوہائی سچ میں چکرا کر رہ گئی اس کا سارا اعتماد ہوا ہوگیا۔ جتنے منہ اس سے زیادہ سوالات اس کے پاکیزہ کردار پر ہزار انگلیاں اٹھی حتیٰ کہ یہاں کی ٹیچرز جو کبھی اس کی سکھیاں رہ چکی تھی ٹھٹہ لگانے سے باز نہ آئیں سوہائی کو اندازہ نہیں تھا کہ ایک اغوا ہوئی لڑکی کو یہ معاشرہ سر اٹھا کر جینے نہیں دیتا ۔اپنی زبان اور رویے سے یہ ضرور جتاتا ہے کہ تم اب عزت والی نہیں رہی ۔سوہائی گھبرا کر گھر میں مقید ہوگئی ،وہ شدید ڈپریشن کا شکار تھی۔
٭٭٭
ایسے ہی دو ہفتے گزر گئے وہ نہیں جانتی تھی اسکول کا انتظام کیسے چل رہا ہے اسے بس لوگوں اور ان کے سوالات کے خوف نے کمرہ بند رہنے پر مجبور کر دیا۔ اس نے سیل فون بھی آف کر دیا ۔ملازم اس کا خیال رکھ رہے تھے ایسے ہی ایک دن جب وہ اندھیرے کمرے میں بیٹھی تھی کسی نے کمرے میں آکر لائٹ جلا دی سوہائی نے اپنے ہاتھوں سے آنکھیں ڈھانپ دی۔
’’مائی رحمت لائٹ آف کرو۔‘‘
وہ چلائی۔
’’کیوں روشنی چبھتی ہے ۔تمہیں سوہائی چانڈیو۔‘‘
سمان کی آواز پر وہ چونکی ۔
’’میں نے لاکھوں روپیہ خرچ کرکے یہ اسکول اس لیے نہیں بنوایا کہ سوہائی صاحبہ اسے سنبھالنے کے بجائے اندھیرے کمرے میں بیٹھ کر بلیک ہول پر ریسرچ کرنا شروع کردیں۔‘‘
سمان نے خفگی سے کہا سوہائی نے شاکی نظروں سے اس پرکشش شخص کو دیکھا۔
’’آپ میری جگہ ہوتے تو میں پوچھتی سینہ سپر ہوکر آندھیوں کے سامنے ڈٹے رہنا اتنا دشوار نہیں جتنا لوگوں کی زبان کے تیروں کے آگے کھڑے رہنا۔‘‘
وہ بھیگی آواز میں پھٹ پڑی۔
’’دنیا کا کام کہنا ہے اس کی زبان ہم نہیں پکڑ سکتے۔ عجیب یہ ہے کہ تم جیسی با اعتماد لڑکی بجائے مقابلہ کرنے کے ہارنے لگی ۔‘‘
سمان اس کے پاس آکر بیٹھ گیا۔
’’آپ نہیں جانتے جب بات ایک لڑکی کی لج ( عزت ) تک آجائے تو برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔‘‘
سوہائی کی بادامی آنکھوں میں حزن سمٹ آیا ۔
’’تمہاری عزت دنیا کا مسئلہ نہیں تمہارا ضمیر اگر مطمئن ہے تو تمہیں کسی کی کیا پروا تم صرف اپنے اللہ کے آگے جواب دہ ہو لوگوں کی باتوں پر کان دھرنا چھوڑ دو اپنے مقاصد پر فوکس رکھو۔‘‘
’’یہ اتنا آسان نہیں ہے سمان مہر۔‘‘
سوہائی نے نروٹھے پن سے کہا۔
’’یہ اتنا مشکل بھی نہیں سوہائی چانڈیو۔‘‘
وہ ترکی بہ ترکی بولا۔
’’ٹھیک ہے اگر دنیا کی فکر کرنی ہے تو بند رہو اسی کمرے میں مگر یہ ضرور سوچنا جب تمہارا برا وقت تھا تو کیا یہ دنیا تمہارے کام آئی تھی ۔جو اب باتیں بنا رہی ہے ۔‘‘
سمان نے جھنجھلا کر کھڑے ہوتے کہا ۔
’’ بزدلوں کی طرح جینا تو سب کو آتا ہے سوہائی مزہ تو تب ہے جب زمانے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جیا جائے۔‘‘
سمان نے اکسایا سوہائی کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر ایک فیصلہ کرکے اٹھی ۔
’’آپ ٹھیک کہتے ہیں ۔مجھے زمانے کی پروا نہیں کرنی چاہیے ۔زمانے نے کیا کیا جب میں اغوا ہوئی جب مٹھی دادی مری جب بابا دنیا سے گیا ۔زمانہ صرف باتیں بنانے اور تماشہ دیکھنے کے لیے ہے۔‘‘
اس نے پاس پڑا دوپٹہ اوڑھا۔
’’شاباش ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے اب جلدی سے فریش ہوجاؤ تو اسکول کا وزٹ کریں ۔‘‘
سمان نے حوصلہ بڑھایا کچھ ہی دیر بعد دونوں اسکول کی عمارت میں داخل ہورہے تھے۔
٭٭٭
سوہائی کے ساتھ سمان کو آتے دیکھ کر اسٹاف چوکس ہوگیا ۔وہ پرنسپل آفس جانے کے بجائے سوہائی کو کامن اسٹاف روم میں لے آیا جہاں رسز ٹائم کی وجہ سے ٹیچرز خوش گپیوں میں مصروف تھیں سمان کے با آواز بلند سلام کرنے پر چونک پڑیں ۔
’’سر وعلیکم السلام ۔‘‘
سب ایک دم مؤدب ہو ہیں۔‘‘
’’ سب ٹھیک چل رہا ہے کسی کو کوئی پرابلم تو نہیں ہے۔‘‘
سمان نے صوفے پر بیٹھتے خوشگواری سے پوچھا۔
’’نو سر کوئی پرابلم نہیں۔‘‘
اکثریت نے سمان کو سراہتی نگاہوں سے دیکھا۔
’’یہ آپ کی سوہائی میڈم کی طبیعت کچھ دنوں سے ناساز تھی اسی لیے ان کو آف لینا پڑا بہرحال اب یہ واپس ڈیوٹی پر آگئی ہیں ۔چونکہ یہ بہت ہی فرض شناس اور ذہین ہیں ۔آپ اگر ان سے اچھی طرح کو آپریٹ کریں گی تو ان شائ اللہ ہم اپنے اہداف کو حاصل کر لیں گے۔‘‘
اس کی تعریف پر کئی معنی خیز نظریں سوہائی پر جم گئی ۔
’’آپ تو سوہائی کو کم عرصے سے جانتے ہیں سر ہم تو اس کے ساتھ کھیلے ہیں کون سا شوق تھا ۔جو اس کے بابا اور بھائی نے اس کا پورا نہیں کیا ہمارے گوٹھ کی پہلی لڑکی تھی جو موٹر سائیکل پر کالج جاتی تھی۔‘‘
مومل نے منہ چڑھا کر بتایا ۔
’’زبردست یعنی سوہائی چانڈیو روایت شکن لڑکی ہے ۔‘‘
سمان نے ستائشی نظر سوہائی پر ڈالی۔
’’بالکل اس نے سب روایتوں کو مٹا ڈالا ہے۔‘‘
سسی نے جل کر کہا ۔
’’آپ کے بات کرنے کا طریقہ ٹھیک نہیں ہے مس۔‘‘
سمان نے مومل کی طرف انگلی اٹھائی۔
’’میرا نام مومل ہے سر ۔‘‘
مومل گھبرا گئی۔
’’اور آپ کا بھی۔‘‘
پھر سسی کی طرف اشارا کیا وہ بھی کنفیوز ہوگئی۔
’’ہمارا لہجہ گوٹھ والا ہے شاید اسی لیے۔‘‘
مومل نے توجہہ پیش کی۔
’’لہجہ نہیں لفظوں کا چناؤ مومل بی بی اس اسکول میں سوہائی چانڈیو آپ کے اسکول کی پرنسپل ہیں آپ کی پرانی سہیلی نہیں اس لیے ان کے لیے ” اس ” کے بجائے ” ان ” کا صیغہ استعمال کریں اوکے ۔‘‘
سمان نے دبنگ انداز سے جتایا تو مومل کا منہ کھل گیا۔
’’جسے اللہ عزت دے اس کی عزت کیا کریں ۔آئندہ میں اسکول کی چار دیواری کے اندر اور باہر سوہائی چانڈیو سے کسی کو بے تکلف ہوتے نہ دیکھوں یہ یہاں کی سر پرست اعلا ہیں ۔ان کا ہی اسکول ہے، پرنسپل کا عہدہ تو ان کو اعزازی طور پر دیا گیا ہے آپ کو ان سے احترام سے پیش آنا چاہیے۔‘‘
سمان نے سنجیدگی سے تنبیہ کی ،ساری ٹیچرز دبک گئیں۔
’’آئیے سوہائی !باہر کلاسز کا وزٹ کریں۔‘‘
اس نے اٹھتے ہوئے سوہائی سے کہا تو سن بیٹھی وہ حرکت میں آئی پھر سمان کے ساتھ مختلف کلاسوں سکا دورہ کرتے اس کے ساتھ پرنسپل آفس میں لنچ کرتے ایک ارتکاز سے وہ سمان کو دیکھتی رہی کئی بار سمان نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔پر سوہائی کی آنکھوں میں جنبش نہ ہوئی ہلکی سی نمی سے بھری بادامی آنکھیں سمان کا امتحان بن گئی ۔
’’تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے سوہائی۔‘‘
گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے تشویش سے پوچھا ۔
’’ایک ہی دل ہے کتنی بار جیتیں گے سمان مہر۔‘‘
وہ اپنی نم نگاہیں دوسری طرف پھیر کر بڑبڑائی۔
’’جتنی بار جیتنا چاہو۔‘‘
سمان تسلی سے مسکرایا ۔
’’مجھے اتنی فیور دینے کا شکریہ ۔‘‘
سوہائی نے دھیمے سے کہا۔
’’بس بہت ہوگیا اتنی فارمل سوہائی مجھ سے ہضم نہیں ہو رہی۔‘‘
سمان نے اسے گھورا تو وہ بے اختیار مسکرائی ۔
’’ویسے ہم یہ جا کہاں رہے ہیں۔‘‘
سوہائی کو اچانک احساس ہوا کہ وہ اسکول سے بہت دور نکل آئے ہیں۔
’’آج میری انگیجمینٹ ہے اسی لیے تمہیں شہر لے کر جا رہا ہوں ۔‘‘
سمان نے بشاشت سے بتایا تو سوہائی کا دل سکڑ کر پھیلا۔
’’دراصل میں تمہیں کافی دنوں سے کالز کر رہا تھا مگر فون آف ملا ۔پھر کرمو سے معلوم ہوا تم نظر بند ہوگئی ہو ۔میں نے سوچا ان لوگوں کو بھی سبق سکھاؤں جو تمہیں تنگ کر رہے ہیں اور اپنی منگنی کے لیے تمہیں ہائی جیک کرکے آؤں ۔‘‘
اس نے اسٹیئرنگ گھماتے بہ غور سوہائی کا اترا ہوا چہرہ دیکھا۔
’’کیا ہوا خاموش کیوں ہو گھر سے کوئی چیز اٹھانی تھی؟‘‘
’’فکر مت کرو وہاں تمہاری ضرورت کا سب موجود ہے سورٹھ نے اپنے ساتھ تمہارے لیے بھی شاپنگ کر رکھی ہے۔‘‘
’’سورٹھ بھابھی اور مہران ادا بھی آئے ہیں؟‘‘
سوہائی نے چونک کر پوچھا۔
’’بالکل آئے ہیں سورٹھ تو میری منگنی پر خوشی سے بے حال ہورہی ہے ،تمہاری طرح صدمے میں نہیں چلی گئی ۔‘‘
سمان نے خفیف سا طنز کیا سوہائی نے لب کاٹے۔
’’ہنسو مسکراؤ مجھے گریٹ (مبارکباد ) کرو تمہاری دعا اور نصیحتوں کا ہی تو یہ نتیجہ نکلا ہے کہ میں آج اپنے پیروں پر کھڑا ہوں اپنا گھر بسانے جارہا ہوں۔‘‘
وہ مگن انداز سے ڈرائیونگ کرتا سوہائی کو بہت ظالم لگا۔
’’سب بہت اچھا ہونے جا رہا ہے زندگی میں ہمیں ہر چیز پرفیکٹ نہیں ملتی ۔بس جو ہمیں چاہیے وہ مل جائے تو زندگی پرفیکٹ ہو جاتی ہے۔‘‘
سمان دھیمے سے بڑبڑایا سوہائی پھیکا چہرہ لیے مسلسل کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔
٭٭٭
’’ مہران ادا اور سورٹھ بھابھی سے مل کر وہ وقتی طور پر بہل گئی ۔مہران دیر تک اسے ساتھ لگائے بابا اور میٹھی دادی کو یاد کرتا رہا ،ماحول کے بوجھل پن کو سورٹھ نے اپنی باتوں سے ہلکا پھلکا کیا، سوہائی کے لیے دونوں نے دبئی سے بہت اچھی شاپنگ کی تھی ان کی محبت پر اس کی آنکھیں بھیگ گئی۔
’’ میں نے سوچا یہ چھوکری یہاں آکر خوش ہوگی یہ تو اور اداس ہوگئی۔‘‘
سمان فریش ہوکر آیا تو سوہائی کا گلابی چہرہ دیکھا۔
’’بہانے دیں آنسو جتنے بہانے ہیں شام کو ویسے بھی فنکشن میں فریش ہو جائے گی۔‘‘
سورٹھ نے پیار سے سوہائی کا رخسار چھوا فنکشن کا نام سنتے ہی سوہائی کا سابقہ غم لوٹ آیا ۔
’’سو تو ہے میں نے ساری ارینجمینٹس اتنی زبردست کروائی ہیں کہ تم دیکھتی رہ جاؤں گی ۔‘‘
سمان نے صوفہ سے ٹیک لگائی۔
’’گوٹھ سے کوئی شرکت نہیں کر رہا۔‘‘
سورٹھ نے ایک آس سے پوچھا۔
’’بابا سائیں کو بتانا ضروری تھا سو ان کو بتا دیا باقی کوئی میری خوشی میں شامل ہو نہ ہو مجھے پروا نہیں۔‘‘
سمان نے قمیص کی بازو فولڈ کرتے کہا۔ آج اس نے ٹراؤزر شرٹ کے بجائے گرے شلوار قمیص پہنی تھی سوہائی نے اس کے وجیہہ سراپے سے نظر چرائی۔‘‘
’’اب تو بابا سائیں سے ملنا بھی ایک خواب ہوگیا ہے۔‘‘
سورٹھ کی آواز میں اداسی در آئی۔
’’ہو جائے گا ایک دن یہ خواب بھی پورا فکر مت کرو ابھی تو سب لوگ ڈائننگ روم کی طرف چلو مائی بھاگی نے زبردست لنچ تیار کیا ہے ۔‘‘
سمان اٹھا تو تینوں نے اس کی تقلید کی ٹیبل پر کھانا چنتی مائی بھاگی نے سوہائی کو مسکرا کر دیکھا۔
’’کیسی ہو سوہائی ۔‘‘
’’بہت اچھی مائی بھاگی۔‘‘
سوہائی نے اس کے ہاتھوں سے ڈونگا لے لیا ۔
’’سورٹھ تمہیں پتا ہے یہ اپنی سوہائی بھی بہت لذیذ ڈشز بناتی ہے ۔‘‘
سمان نے سوہائی کے لیے ساتھ والی کرسی کھسکائی۔
’’بالکل میری بہن کے ہاتھ میں لذت بہت ہے لیکن اس نے اس کا استعمال کم ہی کیا ہے۔‘‘
مہران نے ہنس کر کہا۔
’’میں نے تو ایک ماہ سوہائی کے ہاتھ کا پکا کھانا کھایا ہے اور اب مجھے ہر ذائقہ اس کے ہاتھ کے آگے پھیکا لگتا ہے۔‘‘
سمان اس کی تعریف میں رطب اللسان تھا۔ سوہائی کی خفگی بڑھنے لگی یہ جانتا ہے میرے دل پر اس کی منگنی کی خبر سے چھریاں چل رہی ہیں اسی لیے یہ میرے زخم پر پھایا رکھنے کی کوشش کر رہا ہے ۔
’’زبردست سوہائی مجھے بھی کبھی ٹیسٹ کروانا تم کھڑی کیوں ہو بیٹھ جاؤ نا۔‘‘
’’نہیں مجھے بھوک نہیں ہے ۔‘‘
سوہائی کا دل آچاٹ ہوا۔
’’ارے کیوں طبیعت تو ٹھیک ہے۔‘‘
مہران نے بہن کو فکرمندی سے دیکھا جبکہ سمان نارمل انداز سے کھانا کھاتا رہا ۔سوہائی سے یہ سنگ دل رویہ ہضم نہ ہوا ۔وہ تیز قدم اٹھاتی ڈائننگ روم سے باہر نکل آئی ۔
٭٭٭
شام میں سورٹھ نے اسے اٹھایا تو سر اتنا بھاری تھا کہ آنکھیں نہ کھلتی تھیں سورٹھ پریشان ہوگئی اور زبردستی چائے کے ساتھ میڈیسن کھلا دی ۔
’’سوہائی ہمیں پارلر چلنا ہے ڈئیر تم نے تو فنکشن سے پہلے طبیعت ہی خراب کرلی ہے۔‘‘
’’مجھے نہیں جانا بھابھی آپ چلی جائیں ۔‘‘
اس نے بھاری آواز سے انکار کیا۔
’’ارے ایسے کیسے چلے گا میرے بھائی کی خوشی میں تم شریک نہیں ہوگی ۔جسے وہ اپنا محسن سمجھتے ہیں۔ سمان ادا کے بقول تم ہی نے ان کو زندگی کا مثبت رخ دکھایا ہے ۔ورنہ وہ تو دل چھوڑ بیٹھے تھے۔‘‘
سورٹھ کی بات پر وہ پھیکا سا مسکرائی۔
’’میں نے ان کو مثبت سوچ دی اور بدلے میں دل کا روگ لے لیا ۔‘‘
’’اٹھو بابا شاباش ڈریسز وغیرہ پارلر میں چینج کرلیں گے تم بس فریش ہوکر آؤ۔‘‘
’’ میں ایسے ہی تیار ہو جاؤں گی ۔جس کی منگنی ہے وہ پارلر جائے۔‘‘
سوہائی نے رملہ کو سوچ کر بد دلی سے کہا۔
’’جن کی منگنی ہے ظاہر ہے وہ تو تیار ہوہی رہے ہیں مگر یہ ہمارا بھی فیملی ایونٹ ہے ۔سوہائی اور فیملی ایونٹ میں اچھی طرح تیار ہوکر شریک ہوا جاتا ہے ۔غیروں کی طرح نہیں۔‘‘
اب کہ سورٹھ نے خفگی سے جتایا تو اس کی ناراضی دیکھ کر سوہائی کو ناچار اٹھنا پڑا۔
٭٭٭
ٹی پنک اور گولڈن کلر کا انتہائی نفیس کام پر بنا فراک پہنے وہ مردہ دلی سے پارلر کی چکا چوند روشنیوں میں قد آدم آئینے کے آگے بیٹھی میک اپ کروا رہی تھی۔
’’بھابھی یہ لائٹس مجھے چبھ رہی ہیں ۔‘‘
اس نے بے زاری سے شکایت کی۔
’’آپ آنکھیں بند رکھیں پھر نہیں چبھے گی۔‘‘
پارلر والی نے تیزی سے ہاتھ چلاتے مشورہ دیا ۔میک اپ مکمل ہوا تو سوہائی نے شکر کیا سورٹھ چند منٹ پہلے تیار ہوئی تھی اب ہر زاویے سے خود کو آئینے میں دیکھ رہی تھی ۔کلر کے فرق کے ساتھ دونوں کے آؤٹ فٹس ایک جیسے تھے ۔
’’ آپ کتنی پیاری لگ رہی ہیں مرر میں دیکھیے نا ۔پھر ہمیں اپنا فیڈ بیک دیں۔‘‘
پارلر والی نے اسے چادر اوڑھتے دیکھ کر اصرار کیا سوہائی نے ایک نگاہ بھی شیشے پر نہ ڈالی اور بے زاری سے آگے بڑھی سورٹھ نے پارلر والی کے آئی پیڈ پر فیڈ بیک لکھا اور دونوں باہر نکل آئیں۔
’’سوہائی ڈئیر تم اتنی ڈل اور روڈ کیوں ہورہی ہو ۔میں نے محسوس کیا ہے جیسے سمان ادا کی منگنی سے تمہیں تکلیف ہورہی ہے۔‘‘
سورٹھ نے گاڑی میں بیٹھتے ہی پوچھا تو سوہائی پوری جان سے چونک گئی ۔جو بات خود سے بھی چھپانی تھی وہ سب کے سامنے عیاں ہورہی تھی۔
’’ نہیں بھابھی آپ غلط سوچ رہی ہیں ۔‘‘
اس نے تیزی سے نفی کی مگر سورٹھ کی آنکھوں میں شکوک تھے ۔یہ میں سب کے سامنے عیاں کیوں ہورہی ہوں ۔مجھے اپنے جذبات چھپانے ہوں گے، سوہائی نے خود کو سمجھایا اور گاڑی سے اترتے ہی اپنے چہرے پر زبردستی مسکراہٹ سجا لی ۔بینکوئٹ کے اندر داخل ہوتے ہی کیمروں کے تیز فلیش لائٹس ان پر پڑی سورٹھ نے سوہائی کا بازو تھام لیا اور سہج کر چلنے لگی ۔شاندار سجاوٹ سے مزین بینکوئٹ کی روش پر چلتے سوہائی کی گھبراہٹ اور سر درد بڑھنے لگا ۔یہ تصور ہی سوہانی روح تھا کہ اسٹیج پر رملہ سمان کے پہلو سے لگی بیٹھی ہوگی ۔ایک ایک قدم اٹھانا قیامت بن گیا اس نے آنکھیں میچ لیں آس پاس کا شور ہوامیں تحلیل ہوا رونقیں ماند پڑی حاضر منظر پس منظر میں چلے گئے اور اس کے مد مقابل سمان آ کھڑا ہوا۔
’’میں آپ کو کسی اور کا ہوتے نہیں دیکھ سکتی سمان مہر کبھی نہیں دیکھ سکتی ۔‘‘
اس نے بلیک تھری پیس سوٹ میں ملبوس سمان کا کالر زور سے پکڑ لیا۔
’’آخر کیوں آپ نے میری پرخلوص محبت کو چھوڑ کر رملہ کی مفاد پرستی کو چن لیا کیا آپ کو میری آنکھوں سے لو دیتے جذبے دکھائی نہیں دیے۔‘‘
وہ گھٹی ہوئی آواز میں شکوہ کناں ہوئی۔
’’سوہائی بی ریلیکس کیا کر رہی ہو ہوش میں آؤ۔‘‘
سمان نے اپنا کالر اس کی مٹھیوں سے نرمی سے چھڑایا ۔اس کے ہاتھوں کے گرم لمس اور سواش پرفیوم کی مہک نے سوہائی کی نیم وا آنکھوں کو پورا کھول دیا وہ گلابی پھولوں سے سجے اسٹیج پر سمان کے بالکل قریب کھڑی تھی ۔اتنے قریب کہ سمان کے چہرے کا ہر نقش دھندلا پڑ گیا ۔
’’سوہائی میری جان ،آؤ ادھر بیٹھو ۔‘‘
سمان نے پیار سے اس کے کندھے پر ہاتھ پھیلایا اور اسے صوفہ پر بٹھایا سوہائی نے دائیں بائیں ہراساں نظروں سے دیکھا اسے رملہ کہیں دکھائی نہ دی ۔
’’سمان ادا بسمہ اللہ کرکے انگوٹھی پہنائیں۔‘‘
سورٹھ نے ایک مخملی ڈبیا سے بیش قیمت ہیرے کی انگوٹھی نکال کر سمان کو تھمائی سمان نے سوہائی کے سامنے اپنا ہاتھ پھیلا دیا سوہائی نے بے یقین نگاہوں سے اسے دیکھا۔
’’سوہائی چانڈیو گھبرائیں نہیں اپنا ہاتھ آگے کریں ۔‘‘
سمان نے شرارتی مسکراہٹ سے کہا سوہائی نے دھیرے سے اس کے ہاتھ پر اپنا بایاں ہاتھ رکھ دیا سمان نے نرمی سے انگوٹھی اس کی نازک انگلی میں پہنا دی مبارک باد سلامت کا شور سا مچ گیا سوہائی نے اپنی انگلی میں سجی انگوٹھی کو ہونٹوں سے چھوا ۔
’’سوہائی سمان مہر میری طرف دیکھیے اور یقین کر لیجیے کہ آپ میری بن چکی ہیں۔‘‘
سمان نے اس کے کان میں سرگوشی کی تو سوہائی نے نزدیک بیٹھے سمان کو شکایتی نظروں سے دیکھا ۔
’’آپ نے مجھے بہت ستایا ہے ۔سمان مہر یہی سب طے تھا تو مجھ سے کیوں چھپایا گیا۔‘‘
سوہائی کے لبوں پر شکوے مچل اٹھے۔
’’تمہارے اس بے ساختہ اقرار کے لیے جو میرا کالر دبوچ کر تم نے بھرے مجمع میں کیا۔‘‘
سمان سرشاری سے ہنسا تو سوہائی کو خفت نے آن گھیرا واقعی وہ اپنے الوژن میں اتنی کھو گئی تھی کہ اسے کسی بات کا احساس تک نہ ہوا۔
’’آپ نے بھائی اور بھابھی کو بھی خود سے ملا لیا بہت برے ہیں ۔آپ میرا دل جلا کر خاک کرلیا رملہ کی طرف ایسے مائل تھے جیسے اسی سے شادی کریں گے۔‘‘
سوہائی نے ناراضی سے اسے ہنستے دیکھا۔
’’تمہارے ہوتے ایسا ممکن تھا؟ اتنی پر خلوص اور ٹوٹ کر چاہنے والی لڑکی کو چھوڑ کر میں کیسے اس خود غرض کی طرف چلا جاتا اسے تو میں نے اسی وقت بائے بائے کہہ دیا جب تمہیں گوٹھ چھوڑ کر واپس آیا۔‘‘
سمان نے محبت سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا سوہائی کے اندر تک سکون اترا۔
’’دنیا جو سوچ رہی ہے ہم اسے سچ کرنے جارہے ہیں سمان مہر۔‘‘
سوہائی کو ایک اور پریشانی نے گھیرا۔
’’دنیا جو سوچ رہی ہے وہ سچ ہی ہے سوہائی میں تمہارے عشق میں گوڈے گوڈے ڈوبا ہوا ہوں ۔‘‘
سمان نے اس کا ہاتھ اپنے سینے پر رکھا ،سوہائی پزل ہوگئی اتنا رومانٹک سمان مہر اسے سرپرائز کر رہا تھا۔
’’سمان ادا اب بس بھی کریں کچھ رومانس نکاح کے بعد کے لیے بچا کر رکھیے۔‘‘
سورٹھ کی شوخ آواز پر دونوں چونکے، سوہائی نے بلش ہوکر اپنا ہاتھ کھینچا تو سمان نے گرفت مضبوط کرلی ۔
’’میں نے دل کی پوری سچائی سے یہ ہاتھ اس لیے نہیں تھاما کہ با آسانی چھوڑ دوں۔‘‘
سمان نے اس کے دلکش دہکتے چہرے کو وارفتگی سے دیکھا کیمرے نے فوراً ان انمول لمحوں کو اپنی آنکھ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کرلیا۔
*****


