یقین کامل ہی بندگی ہے – سائرہ رضا

2

اس کمرے کی ہر شے سے بوسیدگی نمایاں ہو رہی تھی۔ چھتوں کے کونے میں جالے، لکڑی کے پرانی طرز کے دوپٹ دروازے اور کھڑکیاں ،دروازوں کا ہلکا برائون رنگ کہیں کہیں ہی دکھائی دے رہا تھا۔ دیواروں پر یاسیت بھرا زردرنگ۔

دروازہ کھلتے ہی عجیب سے ناگوار بھبھکے نے استقبال کیا تھا۔ دھول اور مٹی نے اسے کھانسنے اور متواتر چھینکوں پر مجبور کردیا تھا، اس کے رہنما اور میزبان نے روشنی کے لیے بلب کا پرانا کالا ٹک بٹن دبایا تو پیلی روشنی نے کمرے کی پراسراریت کو مزید بڑھا دیا تھا۔

’’ میں نے دس دن کی محنت سے یہ چند فائلز نکالی ہیں۔ اتفاق سے ان سب میں تصاویر ہیں۔ جن دو میں نہیں ہیں۔ ان میں ایک لڑکی تھی۔ اور دوسرا لڑکا مگر وہ آٹھ برس تک کی عمر کا ہے۔یہ یعنی چودہ پندرہ سے بہت کم ، آپ خود توجہ فرمائیں۔‘‘

اس کا میزبان ،کلرک کم نگران کم چوکیدار الماریاں ٹٹول کر وصول مٹی سے بے نیاز گھومنے والی کرسی پر براجمان ہوگیا ۔جس کا فوم ادھڑا ہوا تھا۔

اس نے فقط سر ہلایا۔ وہ مضطرب تھا اس نے جبڑے سختی سے بھینچ رکھے تھے۔ آنے والا پل۔۔۔ وہ کئی سالوں سے مسلسل تلاش میں تھا۔۔۔مسلسل سفر۔ اس کی مستقل مزاجی قابل ستائش تھی یاجنون ۔

وہ نہیں جانتا تھا اور نہ اس نے کبھی سوچا تھا کہ۔۔۔ جس تلاش میں وہ اپنا وقت ،پیسہ، ذہانت، دھیان اور تمام تر صلاحیتیں استعمال کررہا تھا۔ وہ اس کا کرے گا کیا؟ اسے بس ڈھونڈنا تھا۔ ایک بار، بس۔

’’آپ اتنی محنت سے نجانے کب سے تلاش کررہے ہیں تو جانتے ہی ہوں گے۔ میرا بتانا فضول ہے۔ مگر میرا نہیں خیال کہ وہ۔۔۔ ‘‘نگران ذرا سا اٹکا۔’’کہ وہ زندہ ہوگا۔‘‘

ورق پلٹتے اس کے ہاتھ رک گئے اس نے بے ساختہ نگران کا چہرہ دیکھا اور اس کی آنکھوں میں درشتی ، ناگواری اور شدید ترین غصہ عود کر آیا تھا۔

نگران نظریں چرا گیا۔ وہ اس کا ماتحت نہیں تھا۔ آس کی نظروں کے چرانے اور زبان کے لڑکھڑانے کے پیچھے وہ بہت سارے نیلے نوٹ تھے جو آس کی جیب کو گرم کر چکے تھے اور اگر وہ شخص کامیاب ہوجاتا تو یقینا وہ اسے منہ مانگا انعام ہی دیتا۔

’’دراصل۔میں معذرت خواہ ہوں۔آپ جتنے سال پرانی بات بتا رہے ہیں۔ایسے ۔۔۔یہ لوگ زیادہ عمر نہیں پاتے ۔بارہ چودہ حد ہوئی تو بیس۔‘‘

’’اگر وہ مرگیا ہے تو بھی مجھے معلوم کرنا ہے کہ وہ کہاں دفنایا گیا۔ کب مرا؟ کیسے مرا؟ اور جب تک زندہ رہا کہاں رہا ؟ کیسے رہا؟‘‘آس کی بات کاٹ کر وہ سرد لہجے میں بولا تھا۔

’’آپ جمع کروانے والے شخص کا نام بھی نہیں بتاتے۔ ورنہ اس سے بھی بڑی مدد ملتی۔‘‘

’’اس شخص نے خود نہیں جمع کروایا تھا۔‘‘ اس نے آخری فائل بند کردی۔ ’’اس نے یقیناکسی اور سے یہ کام لیا تھا۔ اور میں اس شخص کے بارے میں نہیں جانتا۔ اور جو جانتا تھا،وہ بھی مرچکا ہے۔‘‘اس کا لہجہ زہریلا ہوگیا۔

’’یہاں لوگ بچے چھپ چھپا کر ہی چھوڑ جاتے ہیں۔ بعض کوئی نہ کوئی نشانی بھی رکھ دیتے ہیں۔ بعض نومولودوں کو تولیوں میں لپیٹا ہوتا ہے۔ کسی بھی قسم کی شناخت کے بغیر۔۔۔ بعض تجربات کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں۔ ہر عمر کے بچے آتے ہیں۔ رہ زبان برادری کے جائز ناجائز۔۔۔بب۔۔‘‘

’’وہ ناجائز نہیں تھا۔‘‘ وہ اس کی بات کاٹ کر ٹیبل پر زور سے ہاتھ مار کر چلایا۔ دھول کا لپٹا سا اٹھاوہ بری طرح کھانسنے لگا۔

’’سوری جناب۔۔۔ بہت بہت معذرت۔ میں تو آپ کو بس وجوہات بتا رہا ہوں۔‘‘ نگران گھبرا کر سیدھا ہوا۔ ’’میں جانتا ہوں۔۔۔‘‘ نگران ذرا سا آگے جھکا۔ اس کے ہونٹوں پر زہر خند سی مسکراہٹ آرکی۔ ’’یہاں کبھی کوئی کسی ناجائز رشتے کو کھوجتا ہوا نہیں آتا۔ ناجائز کو ڈھونڈنے کے لےے کوئی جائز راستے استعمال نہیں کرتا۔‘‘ وہ دکھی ہوا ۔ ’’یہاں گنجائش بھی کم ہے۔ ہم ایک مخصوص تعداد سی رکھ پاتے ہیں اور اگر کوئی خاص کیس ہو یا جہاں جب تعداد زیادہ ہوجائے بچوں کو بڑے شہروں میں شفٹ کر دیا جاتا ہے۔ اب کون سا بچہ کہاں جائے گا یا چلا گیا اس کا ریکارڈ بہرحال ہوتا ہے۔آپ اگر صرف اس جگہ کا صحیح نام بتادیتے کہ کس شہر کے کس ادارے میں بچہ بھیجا گیا تو سو فیصد چانس تھا کہ آپ کامیاب رہتے۔ مگر ایسے۔۔۔‘‘نگران نے بہت تفصیل سے اسے پہلے کی بتائی باتیں دوبارہ بتائیں۔

وہ اپنی جیب سے رومال نکال کر اب آنکھیں اور ناک صاف کررہا تھا اس کی خوب صورت سنہری آنکھیں سرخی مائل تھیں اور کھڑی ناک کی نوک سرخ ہوچکی تھی۔

اس کا دراز قد، چہرے کی خوبصورتی اور وقار اور مغرور ابرو مقابل کو زیر کرتے تھے۔

اسے یونہی خیال آیا کہ وہ مرد ہو کر اس قدر متاثر ہورہا ہے تو صنف نازک کیا محسوس کرتی ہوں گی۔ اپنے خیال کو جھٹک کر وہ اس کی جانب متوجہ ہوا جواب رخصت کو تیار تھا۔

’’میں نے آپ کو لکھ کر تو دیا تھا۔شاہ گوٹھ میں کوئی یتیم خانہ یا ایدھی سینٹر یا اس طرح کی دوسری چیز نہیں تھی۔ حیدرآباد میں تھی۔ مگر وہ بہت دور پڑتا ہے شاہ گوٹھ سے، وہ اسے صبح صبح لے گئے تھے اور دوپہر کا کھانا واپس آکر کھایا تھا۔ان کی گاڑی چار بجے شام کو پہنچی تھی ، اس سے ثابت ہوا کہ وہ اسی سرکل میں کہیں چھوڑا گیا تھا۔‘‘

’’آپ کچھ پوائنٹس تو دیں بچے کی ماں ۔۔۔اگر کوئی نشانی یا۔۔۔‘‘

گفتگو کے وقت اس کی آنکھوں میں تاثرات بھر گئے تھے ۔لفظ ’’ماں‘‘پر زخمی سی لہر آرکی۔ اس نے تیزی سے کہا ۔

’’وہ اس دنیا میں نہیں ہیں۔ میں نے بتایا تھا آپ کو ۔‘‘اس کے لہجے میں درشتی سی آئی ۔

’’اوہ !‘‘

’’اجازت؟‘‘

نگران اسے دروازے تک چھوڑنے آگیا تھا۔اب اس کا چہرہ تاثرات سے عاری تھا ۔اسے لمبا سفر کر کے واپس لوٹنا تھا۔

آنکھوں پر گاگلز چڑھاتے ہوئے وہ دروازہ کھول چکا تھا۔ جب نگران نے اسے نام سے پکارا ۔ وہ مڑا نہیں مگر رک گیا۔نگران خود سامنے آگیا۔

’’اتنے سال سے اس ویرانے میں رجسٹروں میں اندراج کرتا ہوں۔ یہاں بہت لوگ آتے ہیں۔ طرح طرح کی وجوہات سے۔ مطلب سے۔مگر میرا اندازہ ہے۔ آپ غرض مند تو ہیں مگر یہاں تک مشکل اور لمبا سفر آپ نے غرض سے نہیں درد سے کیا ہے۔ میں پوری کوشش کروں گا ۔‘‘

نگران کا لہجہ سچائی کا مظہر تھا اس نے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھادیا۔

اس نے بھی گرم جوشی سے اپنا ہاتھ آگے کیا اور شکر کیا وہ آنکھوں کو گاگلز میں چھپا چکا تھا ورنہ۔ غرض۔ اور ۔۔۔درد۔۔۔ہاں درد۔

٭٭٭

شہر کے اس پوش علاقے کی اس سڑک پر آمنے سامنے بنے بنگلوں کی قطاریں اپنے مکینوں کی خوش ذوقی اور حیثیت کا تعین کرتی تھیں۔ قیمتی پتھر۔ٹائلز، بالکونی اور ان میں سجے آرائشی پھول بوٹے، قیمتی لکڑی کے منقش دروازے اور سیاہ شیشے والی کھڑکیاں۔

سب ایک سے بڑھ کر ایک۔ مگر دائیں جانب کا وہ تیسرا گھر۔سب سے نمایاں اور خوبصورت تھا ۔

عمارت کی اہم چیز جو اسے سب سے ممتاز کرتی تھی، وہ اس کا ہر جانب سے سبزے میں ڈھکا ہونا تھا۔ لمبے سیدھے درخت ایک قطار میں کھڑے تھے اور ایک ہی قامت کے تھے۔ ہلکی انگوری دیواروں پر گہرے سبز رنگ کی بیلیں لدی پڑی تھیں۔ باقاعدہ ایک شکل اور ان گہرے اور ہلکے سبز رنگ کے تناسب کو مجروح نہیں ہونے دیا گیا۔بیلوں پر لٹکے پھولوں کے گچھے ایک مستقل خوشبو۔

بیرونی دیوار کے اندرونی جانب بوگن ویلیا لگی تھی۔ اور پھولوں کے گلدستے گویا دیوار گھر کے باہر بھی کیاریوں کے پھولوں پودوں کی تراش خراش، روزانہ کی نگہداشت کا باعث تھی۔ ہر شے میں ایک تناسب اور ترتیب۔

اور اگر برائون مین گیٹ سے چپک کر اندر نگاہ دوڑائی جاتی تو اندر سارا سال بہار اپنے جوبن پر رہتی۔ تراشیدہ گھاس، جیسے کسی نے سبز چادر پھیلا رکھی ہو اور اس پر دنیا جہان کے پھولوں کے پودے، قیمتی اور نایاب رنگ چھوٹے پھول پتے اور ان سے پھوٹتی انوکھی خوشبوئیں۔

جھکی کمر والا مالی کیاریوں سے ٹوٹے مسلے پتے اکٹھا کررہا تھا تب ہی گھر کا مرکزی منقش لکڑی کا دروازہ کھلا اور مالکن باہر آئی۔

ہاں اس گھر کے مکین کو ایسا ہی ہونا چاہیے تھا ،شاید کوئی دوسرا اتنا سج نہ سکتا ۔کبھی نہیں۔

وہ کافی برائون رنگ کے ٹرائوز پر گہرے بسکٹی رنگ کی لمبی سیدھی قمیص میں ملبوس تھی۔ ان ہی دو رنگوں کے امتزاج سے بنی پھولوں والی شال دائیں کندھے پر ٹکی تھی۔ اس نے لمبی سانسیں کھینچ کر بارش کے بعد کی خوشبو اور تازہ دھوپ کی خوشبو کو اپنے اندر اتارا ۔ایک آسودگی، طمانیت اور خوشی خوبصورت چہرے پر ناچنے لگی۔

اس کی نگاہیں چار جانب گھومنے لگیں۔سب کچھ اپنے معمول کے مطابق ہورہا تھا۔

سامنے کھڑی ایک گاڑی۔ہاں۔ اس کا شوہر وقت کا پابند تھا۔وہ جاچکا تھا اور وہ ۔ گزری رات عجب تھی۔ وہ کمبل میں چھپی نجانے کیا کیا سوچتی رہی بارش کا شور اور بادلوں کی گھن گرج۔اس کا دل سہما سا رہا۔ اس نے اپنے شوہر کی سمت دیکھا۔ وہ مکمل طور پر کمبل میں چھپا ہوا تھا، صرف ذرا سا ماتھا اور ابرو دکھائی دیتی تھیں۔ ابرو کے کمان۔ مغرور۔ مقابل کو احساس کمتری میں مبتلا کردینے والے۔ وہ کچھ سوچ رہی تھی اور اس سوچ نے چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ دوڑادی۔ (کوئی شخص اتنی بے فکری سے کیسے سوسکتا ہے)اس نے خود سے سوال کیا۔بادل بہت زور سے گرجے تو ایک فوری خیال کے تحت وہ سرعت سے مگر چاپ پیدا کیے بنا کمبل سرکا کر کھڑی ہوگئی۔

اس نے کمرے سے نکلنے سے پہلے سوچا جب وہ صبح اس کو کمرے میں نہیں پائے گا تو بہت خفا ہوگا۔ وہ اسے ضرور ڈانٹے گا کہ وہ پھر بیٹے کے کمرے میں سوئی ہے جب وہاں ایک آیا موجود ہے تو وہ کیوں بھاگ بھاگ مامتا جتانے جاتی ہے۔بس تھوڑی دیر کے لیے اس نے سوچا ۔

وہ نائٹ بلب کی مدہم روشنی میں دبے قدموں مگر کسی قدر تیزی سے بیٹے کے کمرے میں داخل ہوئی۔

خدشات سے پرے۔ اس کا بیٹا، بارش، بادلوں کی گھن گرج سے بے نیاز گہری پرسکون نیند کے مزے لوٹ رہا تھا۔

اس کی باپ جیسی کمان ابرو۔ مگر اس کے چہرے پر باپ جیسی بے نیازی اور تنفر نہیں تھا۔ معصومیت ،بھول پن اور بے تحاشا خوبصورت چہرہ۔

اس کے دل میں خواہش ابھری کہ وہ اس کے پھولے گالوں کو چوم ڈالے مگر نیند خراب ہونے کا اندیشہ۔

آیا کمرے میں گیند بنی سو رہی تھی۔ اس نے چہار اطراف نظر دوڑائی۔ اس کمرے میں دنیا کے ہر خطے سے لائی گئی اشیائ موجود تھیں۔ بے حد قیمتی اشیا ۔اونہہ ! اس کے بیٹے سے بڑھ کر تو نہیں۔

اس کی نگاہ ایک بار پھر بیٹے پر ٹکی اور اس بار وہ خود کو روک نہیں پائی بہت غیر محسوس طریقے سے اس کے کمبل کا کونہ اٹھا کر وہ چپکے سے اندر گھس گئی۔ اس نے آہستگی سے اس کے گرد بازو رکھ دیا۔

بچہ بہت گہری نیند میں تھا مگر اس نے اسی عالم میں اپنا بازو اس کے چہرے سے مس کر کے غالباً اسے محسوس کیا۔ یہ بے ساختہ التفات ۔ اس نے بچے کا ہاتھ ہونٹوں سے لگا کر بے آواز بوسہ لیا۔ گھڑی سوا تین بجا رہی تھی۔ جب وہ گہری نیند میں چلی گئی۔

اور اب صبح دس بجے آنکھ کھلی۔ایسی بے خبری کی گہری پرسکون نیند۔ وہ ہلکی پھلکی سی بے حد فریش ایک اجلی صبح سے لطف اندوز ہونے لان میں آگئی۔ اسے ابھی نہا کر کپڑے بدلنے تھے مگر بچے کو بھوک لگی تھی۔ آیا اسے تیار کروا کر لارہی تھی۔ وہ خانساماں کو ناشتا باہر ہی لانے کا کہہ آئی تھی۔

منقش دروازہ وا ہوا۔ آیا اس کے بیٹے کی چیئر گھسیٹتی باہر نکل رہی تھی۔

’’تم جائو ، فریش ہو کر ناشتا وغیرہ کرو اور یہ گیلے کپڑے چینج کرو، ٹھنڈ لگ جائے گی ۔ اسے میں خود ناشتا کروادوں گی۔‘‘اس نے چیئر تھام لی۔

آیا اس کے بیٹے کو نہلانے اور کپڑے بدلوانے میں خوب ہلکان ہوتی تھی اور بھیگ جاتی تھی، اس کے حکم پر متشکر مسکراتی نگاہوں سے پلٹ گئی۔

خانساماں نے تپائی پر ناشتا چن دیا۔ آملیٹ، شہد بریڈ اور چائے۔ گرم گرم دھواں اڑاتا نوڈلز کا پیالہ۔ ابلے انڈے اور چکن اسپریڈ۔ دودھ کا گلاس اور جوس۔ اس کا بیٹا کچھ بھی مانگ سکتا تھا۔

اور بوائل ایگ بھی۔ اس نے پلیٹ آگے کی۔انڈے صفائی سے کٹے تھے اور ان پر غیر محسوس سا نمک کالی مرچ چھڑکا ہوا تھا۔

’’اوہ۔ہوں۔ نا۔نا۔‘‘ اس کے بیٹے کو بوائل ایگ پسند تھا مگر وہ چیئر پر ہاتھ مارتا اپنی ناگواری بتارہا تھا۔ وہ ٹھٹھک کر رک گئی۔ ’’ارے۔‘‘ اسے دھیان آیا۔ ’’انڈے کاٹ کیوں دیے کوئی ثابت بوائل ایگ ہے تو فوراًلائو۔ اور یہ لے جائو اور ثابت گرم مسالے کا ڈبا بھی لانا۔ یہ بگڑ گیا تو کچھ بھی نہیں کھائے گا۔ ساری محنت اکارت ۔ جلدی ۔‘‘

ملازمہ عندیہ سمجھ گئی۔ سرپٹ دوڑی۔

’’ہاں ہاں بابا!ابھی بس دو منٹ ابھی ہمٹی ڈمٹی بنائیں گے۔‘‘

وہ ہل ہل کر نظم سنانے لگی۔

بچہ سر ہلا ہلا کر اپنی خوشی بتانے لگا۔ پھر یکدم رک کر آنے والی ملازمہ کو دیکھنے لگا۔ ہاتھ میں ثابت ابلے انڈے تھے۔ وہ نظم گانا چھوڑ کر کرسی پر بیٹھ گئی اس نے انڈے کو لمبائی رخ درمیان سے کاٹا ۔ گرم مسالے کے ڈبے سے دو کالی مرچ نکال کر آنکھیں بنائیں لونگ ناک کی جگہ لمبی سی گاڑدی۔ کیچ اپ میں الٹا چمچ ڈبو کر نکالا اور ہونٹوں کا نشان بنادیا۔ ہمٹی ڈمٹی کی گول مٹول بڑے سر والی شکل تیار تھی ۔اس کے بیٹے نے سرشار ہوکر تالی پیٹی۔ وہ خوشی سے لوٹ پوٹ ہوگیا تھا۔

اسے کھانا کھلانا مشکل کام تھا۔اس کام کے لیے آیا تھی۔مگر وہ اپنی بے پناہ مصروفیات کے باوجود ایک وقت کا کھانا اسے اپنے ہاتھ سے ضرور کھلاتی تھی۔

اپنے بچے کو کھاتا دیکھنا ، بڑھتا دیکھنا کتنا خوب صورت ہوتا ہے نا۔

اس کا ناشتا ٹھنڈا ہوچکا تھا مگر وہ مگن تھی۔

وہ ایک چمچ بیٹے کے منہ میں دیتی۔ ایک ہمٹی ڈمٹی کے ہونٹوں سے لگاتی۔ بعض اوقات بیٹے کے اشارے پر اسے اپنے منہ میں ہی ایک چمچ ڈالنا پڑتا تھا۔ ایسی منصفانہ تقسیم پر بچہ خوشی سے ہنستا تو وہ سحرزدہ سی اسے دیکھتی رہ جاتی۔

مائیں بچوں کو ایسے ہی لاڈ پچکار اور بہانوں سے کھلاتی پلاتی ہیں۔

لیکن اگر بچہ عون جیسا ہوتو۔۔۔۔؟؟؟

گورا چٹا۔ تندرست وتوانا۔ مغرور ابرو۔ اٹھی ناک کے ساتھ خوبصورت معصوم بے ریا آنکھیں ہلکی نیلی جینر کی پینٹ ۔پیروں میں جوگرز۔

وہ اپنی عمر کے بچوں سے بڑا دکھائی دیتا تھا ۔مگر پھر بھی ماں کے ہاتھ سے کھانا کھاتا تھا۔ وہ سات برس کا تھا۔ پھر ایسے کیوں ۔ ہاں وہ چیئر پر بیٹھا تھا۔

مگر وہ وہیل چیئر تھی۔ اس کی خوبصورت آنکھوں پر اتنے موٹے شیشے کا چشمہ تھا کہ ان سے آنکھیں یوں جھلکتیں گویا ابلی پڑی ہوں۔

اس کی ساری صحت۔ بس گوشت کے ڈھیر کی صورت تھی ورنہ اگر بات توانائی کی کرتے تو وہ اپنا ہاتھ اپنے سر تک بھی بلند نہیں کرسکتا تھا۔ اس کی گردن عام طور پر دائیں بائیں ڈھلکی رہتی ہاں کھانا کھلاتے وقت اسے وہیل چیئر کے بنائے ہوئے ہیڈ سپورٹ میں ٹہرا دیا جاتا۔یہ وہیل چیئر اس کی ضروریات کے حساب سے آرڈر پر ڈالرز میں رقم ادا کر کے امریکا سے بنوائی گئی ہے۔اس کی آنکھوں سے اکثر پانی بہتا ہے اور منہ سے رال۔ اس کے کانوں میں آلۂ سماعت لگا ہے۔ وہ چند لفظوں کے علاوہ بولنا نہیں جانتا۔ اوں نہ ، نا،ہاں چہرے پہچانتا ہے۔ آیا کا چہرہ۔ باپ کا چہرہ۔ مگر وہ باپ سے گھبراتا ہے اور اس کی موجودگی میں سراسیمہ ہوجاتا ہے اور وہ اپنی مچھلیوں میں خوش رہتا ہے اور پرندوں کے پنجروں کے پاس اور خرگوش اور بطخیں اور ہرن کا بچہ۔

اور سب سے پسندیدہ۔۔۔ماں کا چہرہ۔

اس نے یکدم اپنے ٹیڑھے میڑھے دانت سختی سے بھینچ کر ہونٹ آپس میں پیوست کردیے اور آنکھیں موند لیں۔

ماں کے ہاتھ رک گئے۔ اس کا پیٹ بھر گیا اب وہ اور کچھ نہ کھائے گا۔

’’یہ سب لے جائو ۔‘‘ وہ ملازمہ سے مخاطب ہوئی۔

’’آپ نے ناشتا نہیں کیا بی بی!‘‘ملازمہ نے یاد دلایا۔

’’میں کرلوں گی۔ تم دیکھ رہی ہو نا اب عون پرندے دیکھنے پیچھے جائے گا۔ تم بس میرے لیے ایک گرم کپ چائے لے آئو۔ ہم پیچھے ہیں۔‘‘وہ گھٹنے پر ہاتھ رکھ کر کھڑی ہوگئی۔ ٹشو پیپر سے اپنے ہاتھ پونچھے اور عون کا چہرہ تولیے سے رگڑنے کے بعد چوم لیا۔ پھر اپنا گال اس کے ہونٹوں سے جوڑا کہ وہ بھی چوم لے۔

’’بہت مزا آیا۔‘‘ اس نے بیٹے کو بتایا۔

برتن سمیٹتی ملازمہ نے پل بھر کو رک کر بہترین ناشتے کے لوازمات کو دیکھا۔ اس کی مالکن اکثر بیٹے کو کھلانے کے چکر میں بھوکی ہی رہ جاتی تھی۔

’’سفینہ! میڈم کہاں ہیں۔ سرکا فون آرہا ہے۔‘‘ آیا پھولے سانسوں کے ساتھ باہر آئی۔ ’’وہ آدھے گھنٹے سے کال کررہے ہیں یہ دیکھو سترہ مسڈ کالز۔‘‘

’’تو تم اٹینڈ کرلیتیں۔‘‘سفینہ نے کہا۔

’’کرلیا اٹینڈ۔کسی پارٹی میں جانے کے لیے تیار ہونے کا کہہ رہے ہیں۔‘‘

’’تم نے یہ تو نہ کہا کہ وہ عون بابا کو ناشتا کروارہی ہیں۔‘‘سفینہ نے گھبرا کر پوچھا۔

’’لو!میں کوئی پاگل ہوں۔ کہہ دیا ، نہا رہی ہیں۔‘‘ آیا بھی بیچ کی بات سے خوب واقف تھی۔

ملازمہ سفینہ چہرے پر تاسف اور کسی قدر غصے کے تاثرات لیے تپائی سے برتن اٹھا اٹھا کر ٹرالی میں رکھ رہی تھی ۔

٭٭٭

’’سفینہ!کیا بیگم صاحبہ تیار ہیں۔‘‘کپڑوں کے ڈھیر کو الٹ پلٹ کرتی سفینہ آواز پر بری طرح چونکی۔’’ہاں۔ نو۔ یس سر۔‘‘وہ گڑبڑائی۔

’’میرے لیے ایک کپ چائے منگوادیں اور اپنی میم سے کہیں،ہم لیٹ ہورہے ہیں۔‘‘

سفینہ تیزی سے کامن روم سے نکلی۔ کچن میں خانساماں کو چائے کا کہا اور پھر گومگو کیفیت میں وہیں کھڑی رہی۔

’’کیا ہوا سفینہ ۔ ایسے کیوں کھڑی ہیں ۔‘‘

’’بہت بڑا مسئلہ ہوگیا ہے عبدالسلام!‘‘وہ اپنی ہتھیلیاں مسل رہی تھی۔

’’میڈم کو آج سر کے ساتھ ایک بڑی پارٹی میں جانا تھا ۔صبح ہی ڈرائیور سب کپڑے وغیرہ دے گیا۔میڈم نماز جمعہ کے بعد نماز حاجت پڑھ کے وظیفہ پڑھنے لگیں مجھے بھی دھیان نہ رہا اور سر آگئے ہیں انہیں لینے ۔اب میں کیا کروں۔‘‘وہ بری طرح گھبرائی ہوئی تھی۔

’’تو تم میڈم کو آواز دے دو، چائے پینے تک وہ ریڈی ہوجائیں گی۔‘‘

’’ایسے کیسے آواز دے دوں۔ وظیفے بڑے جلالی ہوتے ہیں۔ بیچ میں چھوڑے نہیں جاسکتے اور نہ ہی درمیان میں پکارنا چاہیے ،الٹا اثر ہوجاتا ہے۔‘‘

سہمے ہوئے لہجے میں جھر جھری لے کر بولی۔

’’پھر آواز دے بھی لوں تو فائدہ۔ انہیں پارلر جانا تھا۔ یہ سب اتنی جلدی نہیں ہوسکتا میں اسی بات کی تنخواہ لیتی ہوں کہ میڈم کے پورے لَک کو مین ٹین رکھوں۔ مگر میں کیا کروں۔ عون بابا کے پیچھے وہ اپنی سدھ بدھ کھو دیتی ہیں اور جب وہ بیمار ہو تو۔۔۔ پھر تو وہ جیسے دیوانی ہوجاتی ہیں۔ میں تین دن سے پارلر جانے کا کہہ رہی ہوں اور وہ مجھے ڈانٹ چکی ہیں کہ بچہ بیمار ہو تو وہ کیسے ان فضولیات میں وقت گنوا سکتی ہیں۔ میں اگر سرکو یہ سب بتائوں تو وہ کھڑے کھڑے مجھے فارغ کردیں کہ اس اتنے بڑے گھر میں مجھے بس اسی ایک کام کے لےے تو رکھا گیا ہے اور۔۔۔‘‘

’’میں پانچ منٹ میں تیار ہوجائوں گی سفینہ!تم اتنی پریشان مت ہو۔‘‘نرمی سے اس کے شانے کو چھوتے ہوئے میڈم نے ملائم لہجے میں کہا۔

وہ چونک کر مڑی پھر شرمندہ ہوگئی۔

’’آئی ایم سوری میم!‘‘اس نے پلکیں اٹھائیں اور اس بار بری طرح اچھلی۔ میڈم پانچ منٹ میں تیار ہوجاتیں مگر اتنے سوجے پپوٹے، سرخ ناک مسلسل رونے سے چہرہ تک سوجا سوجا تھا اور آواز بھاری۔ ’’آپ کا چہرہ میم!‘‘

’’میک اپ سے سب چھپ جاتا ہے۔‘‘اس نے پانی کا گلاس ہونٹوں سے لگایا۔

’’غلط فہمی ہے تمہاری کہ سب چھپ جائے گا۔‘‘ عقب سے ابھرتی غراتی آواز۔ سفینہ بلا ارادہ کچھ پیچھے سرکی۔ ’’میں دس روز سے کہہ رہا تھا کہ ہمیں آج جانا ہے ۔ہمیں مسٹر اینڈ مسز۔‘‘ صاحب نے درشتی سے میم کا بازو پکڑا اور جھٹکا دے کر جملہ اور بازو ایک ساتھ چھوڑ دیے ۔میم بری طرح لہرا گئیں۔ پھر وہ سفینہ کی سمت گھوما۔ ’’ایسا نہیں ہے کہ آپ کی میڈم کوئی جاہل، کم عقل عورت ہیں اور انہیں اپ ٹو ڈیٹ رکھنے کے لیے میں نے ایک اسٹائلسٹ کو نوکری دی ہے۔ میں نے آپ کو اس لیے رکھا تھا کہ آپ انہیں یاد رکھوائیں کہ کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے۔‘‘وہ غرایا۔

’’سر!میں نے کہا تھا۔سر!وہ میم وظیفہ۔ آئی ایم سوری۔‘‘ وہ کانپ رہی تھی۔

’’وظیفہ۔۔۔‘‘ وہ چلایا۔’’تم کرتی رہو اپنے وظیفے ۔‘‘اس نے تیزی سے نمبر گھمایا۔

سفینہ نے ٹھنڈی سانس لی اور جان گئی کہ صاحب کہاں کا نمبر ملا رہے ہیں

’’ہاں!میں بول رہا ہوں۔ کیا تم دس منٹ میں تیار ہوسکتی ہو۔میں پہنچ رہا ہوں۔ ‘‘وہ کسی کو تفصیل سمجھاتے ہوئے پیر پٹختا باہر نکل گیا۔

٭٭٭

’’جب سب کہہ کہہ تھک گئے۔ کیا اپنے کیا پرائے، دوست دشمن سب، تب مانا نہیں اور جب سب پیچھے ہٹ گئے تو موصوف گھوڑی چڑھ گئے۔ خیر مرد کی عمر کو کون دیکھتا ہے ، وہ تو پھر چالیس کا ہی تھا مگر اس کی بیٹی پندرہ برس کی ہوگئی تھی ۔ میں تو بھیا گئی نہیں مگر دیکھنے والوں نے بتایا۔ وہ معصوم باوا کی بارات میں یوں شریک تھی جیسے لاڈوں پالے بھیا کی گھوڑی کی باگ تھامے چلتی ہو۔ اب کراچی ، لاہور، کا فاصلہ تم دیکھو۔ پھر بھانجے کی دوسری شادی۔ لیکن میرے دل کو ارمان ہی چڑھ گیا۔ کہ دیکھوں تو سجاد میاں کس کارن مانے۔ اور دوسرے سوتیلی اماں بیٹا کے ساتھ کیسی ہیں۔ راوی تو بس چین ہی چین لکھتا تھا پر تم بتائو، آج کل تو راوی بھی کرائے کے ملتے ہیں۔ہے کہ نہیں۔‘‘

رابعہ خاتون پلاسٹک کے ڈونگے میں مٹر نکال نکال ڈالتی جارہی تھیں۔ان کے ہاتھ اور زبان تواتر سے چل رہے تھے۔پل بھر کو ہاتھ اور زبان روک کر اپنی سامع شمسہ بیگم سے تصدیق چاہی۔شمسہ بیگم مہارت سے کروشیا سے کچھ بن رہی تھیں۔وہ سارا سال کچھ نہ کچھ بنتی ہی رہتی تھیں۔

اب ان کی بولنے کی باری تھی۔

’’بالکل ملتے ہیں۔آپ صحیح کہہ رہی ہیں اور بھئی وہ دیکھیں گے نا جو دکھایا جائے گا یاد ہے مجھے۔ آپ تو آکر خوش ہی تھیں اچھی عورت مل گئی سجاد کو۔ اور بچی کے ساتھ بھی بہت اچھی ہے۔ میں نے تو کبھی دیکھا نہیں۔ مگر آپ سے سن سن کر دل میں بچی کے لیے دعا کرتی رہی۔ سگی مرجائے اور ابا سوتیلی لے آئے تو ابا بھی سوتیلا ہی بن جاتا ہے۔حق ہا۔‘‘

ٹھنڈی سانس بھر کے انہوں نے انگلی پر دھاگہ لپیٹنے کا توقف کیا۔ سفید نلکی لڑھک کر زمین بوس ہوچکی تھی۔

رابعہ بیگم ابھی تک ہاتھ روکے انہیں سن رہی تھیں۔ باری ملنے پر دوبارہ مٹروں کی جانب متوجہ ہوئیں اور ساتھ ہی سلسلہ کلام جوڑا۔

’’سجاد کے کسی دوست کی سالی تھی۔ راحیلہ نام ہے ۔ اللہ جانے حقیقتِ حال مگر شوہر چھوڑ چکا تھا۔ اس نے تو یہی بتایا۔ کردار کا کچا اور ہتھ چھٹ تھا۔ ایک بیٹا تھا کبھی ماں کے پاس کبھی باپ کے، چونتیس پنتیس کی عمر ہوگی۔ اس کے اماں باوا کہنے لگے۔ بیٹا باپ کے حوالے کردو خوب پیسے والا ہے ، اٹھائے ذمہ داری اور تمہاری تو ہم شادی کریں گے۔ بچہ باپ کے پاس رہا اور راحیلہ بی بی سجاد سے بیاہی گئیں سال بعد بیٹی ہوگئی پھر ایک بیٹا بھی۔ لیکن اس بچی سے بھی رویہ اچھا تھا۔ اتفاق سے دوچار بار جانا ہوا۔ دھلے دھلائے کپڑے۔ کتابیں پڑھتی پائی گئی۔ چھوٹے بہن بھائیوں کو بڑے لاڈ سے سنبھالتی۔ منہ سر چوم کر رکھتی۔ کچن تو ماں کے نہ ہونے سے بچپن ہی سے دیکھنا آگیا تھا۔ ہمیں تو سب بھیا اچھا اچھا ہی لگا۔ خوش حال گھرانہ۔ہاں‘‘

مٹر چھل گئے تھے۔وہ چھلکے تھیلے میں بھرنے لگیں۔

’’تو اچانک سب کے سب منہ الٹائے کینیڈا کیسے بھاگے۔اس کا بھی ٹکٹ کٹوالیتے۔جوان بچی۔‘‘ شمسہ بی بی نے ٹوکا۔

’’یا تو جوان کہیے یا بچی۔ جوان ہے تو بچی کیسے کہہ سکتے ہیں۔ اور بچی ہے تو جوان کیوں کہا؟‘‘

عدینہ ڈوئی ہاتھ میں لئے کچن سے برآمد ہوئی۔ ڈوئی میں مسالا تھا۔ وہ رابعہ خاتون کو نمک چکھانا چاہتی تھی۔ اس کا چہرہ کچن کی گرمی کے باعث ، کچھ خفگی کے باعث اور کچھ حسبِ عادت سرخ اور سوجا سوجا روٹھا سا تھا۔

’’دعوت کا کھانا بننا ہے صاحبزادی۔ اسپتال نہیں بھیجنی بریانی۔ ایک چمچ مرچ اور آدھا نمک کا ڈال اور گرم مسالا کٹا ہوا بھی ڈال دینا۔ بس جملے پکڑنے ہی آتے ہیں۔اپنی ہانڈی کے نقص پکڑنے نہ آئے۔ سسرال میں ساس کی ناک کے آگے بھی ڈوئی لگادینا۔ کہ اماں چکھو۔ہو نہہ۔‘‘

رابعہ خاتون نے خفگی سے کہا ۔

’’میں ایسی کسی سسرال میں جانے والی ہی نہیں جہاں مجھے ڈوئی پکڑادی جائے اونہہ! ‘‘عدینہ نے ان ہی کے انداز میں کہہ کر پیر پٹخے۔

’’اے بی بی۔ سسرال اور ڈوئی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ تمہارے ہاتھ میں نہیں ہوگی۔ تو ساس کے ہاتھ میں ہوگی۔ مگر اس نے بھی اس وقت اسے ہنڈیا میں نہیں گھمانا۔ تمہارے پیروں ہی میں توڑے گی۔ نکمی بہو کو کون بٹھا کر کہلاتا ہے۔ اماں باوا تو ہیں نہیں ۔ عدم سدھارے۔ تم دادا دادی کے چونڈے میں راکھ ڈلوانا۔ہاں۔‘‘

رابعہ بیگم کو غصہ اپنے بھانجے سجاد اور اس کی دوسری بیوی راحیلہ پر تھاجو مسلسل بول بول کر ہلکا کررہی تھیں۔ عدینہ کے بھی لتے لے لیے۔عدینہ کا مانو دماغ گھوما مگر اس کے کھلتے لبوں پر رابعہ بیگم کی نگاہ تھی۔ سو فوراًٹوک دیا۔

’’اب خبردار جو کوئی الٹا سیدھا بولیں تو۔ جاکر مسالا ڈال دو ورنہ پھر کچاند رہے گی۔ صبح سے ایک کھانا تیار نہیں کرسکیں۔ ہاں باتیں کروا لو آنے والے تو بھوک کا شور مچاتے آئیں گے نا۔‘‘

’’جہاز میں بھی تو کھانا ملتا ہے۔ لاہور کون سا دور ہے جہاز میں اپنے گھر سے ناشتا کر کے ہی نکلی ہوگی ۔ آپ بچی کو بولائے دے رہی ہیں ۔آجائے گا سب وقت رہتے۔‘‘

شمسہ بیگم نے کچن کی کھڑکی سے نظر آتے عدینہ کے چہرے کو دیکھا۔ جھنجھلاہٹ غصہ اور ناراضی کے گہرے تاثر نے بھی خوبصورتی پر اثر نہیں ڈالا تھا۔وہ اس روپ میں بھی ہونٹوں پر مسکراہٹ لادیتی تھی۔ حسن ہرعالم میں حسن۔

’’وہ تو کھاپی کر آئے گی۔مجھے کب ہورہی ہے اس کی فکر۔آپ کے بھائی صاحب۔ بھول گئیں انہیں ۔ دو گھنٹے میں تو ایئرپورٹ پہنچے ہوں گے۔ پھر جہاز آنے اور وہ نکلے گی پھر واپسی کے دو گھنٹے اور اگر شومئی قسمت ٹریفک جام ۔تو بس اللہ ہی حافظ۔مجھے تو بس ان کی فکر ہے۔‘‘

رابعہ بیگم کی حقیقت بیانی پر شمسہ بیگم کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔

رابعہ خاتون مٹر فریج میں اور چھلکے کوڑے دان میں ڈالنے کو کھڑی ہوئیں۔ساتھ ہی کچن کی کھڑکی سے اندر جھانکا ۔دوسرے چولہے پر یخنی میں گاجریں ،مٹر، ہری پیاز اور شملہ مرچ دم پر رکھی تھیں۔

’’’ اب یہ کس لیے ۔‘‘ وہ اچنبھے سے عدینہ کی صورت دیکھنے لگیں۔

’’میرے لیے۔کیا میں کچھ نہ کھائوں گی۔‘‘وہ بھرپور ناراضی سے بولی۔

’’تو یہ اتنا سب جوبن رہا ہے اس میں کچھ نہیں تمہارے لیے۔ بریانی،چکن کڑاہی،گاجر کا حلوہ، نان اور سلاد وغیرہ۔‘‘

’’میں نہیں کھاتی اتنی آئلی ہیوی چیزیں۔ ساری اسکن سے تیل کے چشمے پھوٹ پڑتے ہیں اور دانے الگ۔‘‘

’’ارے میرے مالک۔‘‘ رابعہ خاتون کے پاس کوئی جواب نہ رہا۔ڈھکن اٹھا اٹھا کر خود چیک کرنے لگیں۔ عدینہ انہیں مگن پاکر دبے قدموں باہر نکل آئی۔شمسہ بیگم اپنا سامان تھیلی میں بند کر رہی تھیں۔ عدینہ کی گربہ پائی کو بھانپنے مسکرائیں تو اس نے ہونٹوں پر شہادت کی انگلی رکھ کر خاموش رہنے کی گزارش کی۔ رابعہ خاتون اب کام مکمل کر کے باہر آتیں۔

٭٭٭

’’عدینہ۔ ارے عدینہ بچی!سنتی ہو۔ ذرا جلدی سے آئو تو دو روٹیاں ڈال دو۔ فون آیا ہے تمہارے دادا کا۔ پندرہ بیس منٹ میں پہنچنے کو ہیں۔‘‘رابعہ خاتون نے ریسور رکھتے ہی ہانک لگائی۔

’’اب روٹی کس لیے، نان منگوائے تو ہیں ناں۔۔۔‘‘ وہ انکار آمیز اچنبھے سے چلائی۔

’’ارے بی بی اللہ کی بندی انجانے کو تو کتھا سنائوں اور جان بوجھ کر مزا لینے والے کے لیے کیا کروں۔چاول سے بھوک نہیں اترے گی۔ اوپر سے شوگر اور نان ہضم کب ہوتے ہیں تمہارے دادا کو۔ خود سے تو خیال کیا آئے گا ،بتانے پر بھی حجت ۔‘‘رابعہ خاتون کی جان ہی جل گئی۔

’’اتنی تمہید اف۔‘‘عدینہ نے نزاکت سے اپنی پیشانی پر ہاتھ مارا۔’’تو پہلے ہی کہہ دیتیں۔ میں ڈال لیتی۔اب تو میں تیار ہو کر آگئی ہوں۔‘‘

’’تو جو تیار ہو کر آتے ہیں ، کام سے رخصت لے لیتے ہیں۔ کھاتے پیتے نہیں۔ دو روٹیاں ڈالنے میں کتنا وقت لگے گا ۔ بوڑھی دادی پر رحم کرلے بچی۔‘‘رابعہ خاتون عاجز آگئیں۔ عدنیہ کے لیے کوئی راہ نہیں تھی۔ منہ تو پکا رکھا مگردل میں خود کو کوسا۔ پتا تو تھا دادا جان کے لیے روٹی ڈلے گی تو خود سے ہی ہاٹ پاٹ میں رکھ دیتی مگر اس وقت اسے اپنے بنائو سنگھار کی فکر تھی۔ کہ کہیں مہمان کی آمد پر ایسی ویسی نظر نہ آئے ۔ سو بھاگی اور جی جان سے تیار ہو کر آئی۔ اس نے توا رکھتے ہوئے اپنا ناقدانہ جائزہ لیا۔ لہریے دار بالوں کو آدھا کلپ میں جکڑ آدھا کھلا چھوڑا ، وہ بے فکر تھی اس کے برائون بالوں میں سنہری اسٹریکنگ کی دھاریاں تھیں۔ گلابی بے حد گداز سراپے پر آدھے بازو کی تنگ اونچی قمیص کے ہمراہ بوتل کٹ شلوار، سفید گرے سرخ رنگ کی تھی۔پیروں میں سرخ اونی سلیپر سردی سے بچائو کے لیے اس نے کانوں میں بہت بڑی بڑی سرخ بالیاں ڈال رکھی تھیں اور مکھن کے پیڑے جیسے ہاتھوں پر ابھی بڑی دل جمعی سے سرخ نیل پالش لگا کر ہاتھوں پر لوشن مل کر آئی تھی اور اب روٹیاں۔‘‘

’’فیشن لاہور سے شروع ہوتا ہے اور کنیرڈ کی پڑھی لڑکی۔ہونہہ۔‘‘ اس نے بہت احتیاط سے پیڑا بناتے سوچا اور گردن جھٹک کر خود کو دیکھا۔ دادا جان کی موجودگی کا لحاظ نہ ہوتا تو ہونٹ اور گال بھی رنگ لیتی۔ ابھی بھی خود کو بمشکل روکا تھا۔ مگر آنکھوں میں کاجل کی لکیر اور پلکوں کو مسکارے سے آراستہ کرلیا تھا۔ شیمپو کی خوشبو ، صابن ، باڈی اسپرے اور لوشن کی مہک چار جانب چکرا رہی تھی۔

وہ روٹیاں ہاٹ پاٹ میں رکھ رہی تھی۔جب گاڑی رکنے کی آواز آئی اس نے سرعت سے چولہا بند کیا اور ہاتھ دھو کر باہر نکل آئی سردی کے موسم میں اس نے آدھی آستینیں شوق میں چڑھا رکھی تھیں۔ سردی لگے گی تو شال لپیٹ لے گی۔ سامنے سے دادا جان نظر آگئے۔ وہ وہیں رک کر جائزہ لینے لگی۔ ایک بیگ۔ ایک چھوٹا بیگ۔

’’پتا نہیں کتنے عرصے رہے گی ۔ناشتہ دادی جان بناتی تھیں۔ دوپہر کی چپاتیاں کام والی بھولی ڈال دیتی مگر رات کا دستر خوان تمام کا تمام اس کے ذمہ تھا جسے وہ طوعاًکرہاًپورا کرتی۔ اب مزید ذمہ داری۔ پہلے ہی روٹی ڈالنا اتنا مشکل ہے ۔اب اور روٹیاں۔ اور یہ پنجاب کے لوگ روٹی بھی زیادہ کھاتے ہیں۔سامان اتنا زیادہ ہے۔کیا ہمیشہ کے لیے رہنے آگئی۔ہائے اللہ نہ کرے۔‘‘

اس نے دہل کر سوچا اب نظر بھی آجائے کہاں رہ گئی ۔اف۔

دادا جان تخت پر ڈھے سے گئے۔

’’تھک گیا بیگم۔ ‘‘بیگم چونکہ متوجہ نہیں تھیں۔سو اونچی آواز میں عظیم خان بولے۔

’’ہاں جی۔جہاز کے آگے جتے ہوںگے۔‘‘رابعہ خاتون کی ساری توجہ دروازے پر تھی۔

’’پانی۔‘‘ دادا جان نے پکارا تھا۔ وہ جگ لیے تیزی سے نکلی اور تب ہی مہمان اندر داخل ہوئی۔

’’عدینہ جہاں کی تہاں رہ گئی ۔اس نے بہت کچھ سوچ رکھا تھا مگر سب الٹ ہوگیا۔ بن ماں کی بچی۔سوتیلی ماں۔اور اب باپ بھی اپنے بیوی بچوں کے پیچھے کینیڈا چلا گیا۔ وہ اسے بلوائے گا۔ سوتیلی ماں کو اس کے والد نے اسپانسر کیا تھا۔

’’ارے بظاہر سب اچھا اچھا ہی لگ رہا تھا۔ راحیلہ کے والدین بیٹے کے پاس کینیڈا میں رہنے لگے۔ اب آگے کی ویزا پالیسیوں کی ہمیں کیا خبر۔ اس راحیلہ کا بیٹا بھی وہیں کینیڈا میں ۔ سجاد نے کبھی ملنے جلنے پر اڑچن نہیں کی۔ شوہر سے رشتہ ختم ہوا تھا بیٹے سے تو نہیں۔ وہ ایک بار یہاں آکر بھی مل گیا۔ راحیلہ والدین سے ملنے گئیں تو بیٹے سے ملتیں۔ کبھی چھ ماہ رہی کبھی سال بھر۔ نہ جانے کون سی شق کے تحت خاموشی سے سب کرتی رہی۔ پہلے خود گئی پھر بچے مستقبل کے نام پر سجاد کو بھی بلوالیا۔ سوتیلی بیٹی کے لےے ویزا قوانین کیا کہتے ہیں۔‘‘

’’اس باریک بینی میں رابعہ خاتون نہ پڑیں۔‘‘وہ آدھا کا ناقصہ خوب غصے سے اتنی بار سنا چکی تھیں کہ ہر ایک کو ازبر ہوگیا۔

’’سجاد وہاں جائے گا سیٹ ہوگا پھر بیٹی کو بلوائے گا اب یہ سب اتنی جلدی تو ہوگا نہیں۔‘‘

وہ رابعہ خاتون کا اکلوتا بھانجا تھا اور اس کی بیٹی سے انہیں بہت ہمدردی تھی۔سال چھ ماہ کے لیے رابعہ خاتون کے گھر سے اچھا ٹھکا نہ کون سا ہوسکتا ہے ۔

سجاد کی سوچ سے قطع نظر رابعہ خاتون خود ’’بچی‘‘ کو آغوش میں بھرنے کو بے قرار تھیں۔

اتنے دن کے قصے سے عدینہ کے دماغ میں ایک شکل سی بن گئی۔

سوتیلی ماں کے ظلم وجبر اور مکر کو سہتی معصوم بچی اجڑی پجڑی ہراساں قابل رحم ہائے ہائے۔

مگر اب جو ہائے اس کے منہ سے نکلی وہ بڑی ہی عجیب تھی۔

اونچے سیاہ ڈھیلے کرتے پر پورے آستینوں اور گلے پر سی گرین رنگ کی بہت باریک نفیس کڑھائی، سیاہ پٹیالہ نما گھیر والی شلوار ، سی گرین دوپٹا شانے پر گرا تھا لینن کے اس سوٹ کے اندر سراپا۔ نازک نازک عدینہ کو بہت دیر تک دوسری کوئی نہ سوجھی۔کیا اس نے بہت اونچی ہیل پہن رکھی ہے ۔ عدینہ نے ذرا گردن نکال کر دیکھا ۔ نہیں ۔ وہ بالکل زمین سے چپکی جوتی میں تھی اتنا خوبصورت دراز قد۔

نزاکت سرتاپا۔ دادی کہتی تھیں حوریں پانی پئیں گی تو ان کی جلد اتنی شفاف آر پار سی ہوگی کہ گزرتا پانی نظر آئے گا۔

عدنیہ نے سوچا کہ وہ جب وہ پانی پیے گی تو وہ ضرور دیکھے گی اتنی شفاف کھال۔یا اللہ۔

سب سے حیران کن نووارد کا ہیئر اسٹائل تھا یہ شاید ڈائنا کٹ تھا۔ یا تنہائیاں کی زویا کے جیسے بال۔ مگر ان کا رنگ شہد جیسا تھا۔ اور آڑی مانگ کے ساتھ پف بہت گھنا تھا گدی تقریباًخالی۔یہ بالکل تازہ کٹنگ تھی۔

وہ رابعہ خاتون سے گلے ملنے کو جھکی تو پف کا چھجا ڈھلک کر بے ترتیب سا ماتھے پر گرا جسے اس نے انگلیاں پھنسا کر اوپر چڑھایا۔ جو انگلیاں نکلتے ہی دوبارہ کنپٹی پر دائیں جانب۔

’’آئو عدینہ!بہن سے ملو۔‘‘رابعہ خاتون جب خوب جی بھر منہ چوم چکیں تو دھیان آیا۔

عدینہ سحر زدہ سی آگے بڑھ آئی۔ گلے لگ گئی ۔ بہت بھینی سی خوشبو اس کی ساری خوشبوئوں پر حاوی ہوگئی۔ اس کے گداز مکھن جیسے سرخ رنگ میں رنگے ہاتھ پتلے لمبے تراشیدہ گلابی ناخنوں والے ہاتھوں کے اندر دبے تھے۔گرم جوشی اور محبت کا مظاہرہ۔

اخروٹی آنکھوں میں اپنائیت محبت خلوص تھا

٭٭٭

’’بالکل صحیح کہہ رہی ہیں اماں بی۔ تم کوئی سولہ برس کی کنواری دوشیزہ تو تھیں نہیں کہ تمہیں پتا نہیں چلا۔مائی گاڈ پانچ مہینے۔اف۔‘‘

اس کا شوہر ٹہل ٹہل کر اپنی ٹینشن ختم کررہا تھا اور اس کی بڑھا چکا تھا۔ اس کا کمزور دل کانپ رہا تھا۔ وہ بیڈ کی پائنتی پر پائوں لٹکائے مجرموں کی طرح ہراساں بیٹھی تھی ۔ اس کی نظریں بہت دیر سے زمین پر گڑی تھیں اور شوہر کے دائیں بائیں چلتے قدموں کو تک رہی تھیں۔ رفتار کی تیزی۔ مسلسل بولتے جھکتے ہوئے رک جانا۔پھر زمین پر پائوں مار کر چلنا۔ دھم۔پٹخنا۔

اگر اس کے کانوں پر ہاتھ رکھ دیا جاتا کہ وہ کچھ سن نہ پاتی تب بھی وہ صرف پیروں کی حرکت سے شوہر کے غصے ، ضبط ، ناپسندیدگی کو جان لیتی اس کی آنکھیں برس پڑی تھیں ۔

’’اب رونا کس بات کا۔ بہو رانی رونے کے دن تو ہمارے ہوئے نا۔‘‘اس کی ساس بھی کمرے میں صوفے پر پیر اوپر چڑھا کر بیٹھی تھیں۔

’’میں سچ کہہ رہی ہوں اماں بی!مجھے نہیں پتا تھا۔ اور۔۔۔اور جب اندازہ ہوا تو میں۔۔۔ میں ڈر گئی۔میں ڈر گئی تھی اماں بی!‘‘اس کی آواز میں حجاب اور کپکپاہٹ تھی۔

’’اونہہ۔میں تو خیر مان ہی نہیں سکتی کہ اسے خبر نہ ہوئی ہوگی۔ پانچ سال کی بیاہتا ہے۔ عورت تو اپنے اندر کی ساری خبریں رکھتی ہے۔ ان کا دھیان نجانے کہاں کہاں رہتا ہے۔‘‘

اس نے سر گردن کی ہڈی سے چپکا کر ہونٹ کچلے (سب لوگ۔سب جانتے ہیں مگر حجاب کا پردہ۔ حد بندی) اسے اتنی ذاتی بات۔شوہر سے اور وہ بھی ساس کی موجودگی میں ڈسکس ہونا عرق عرق کررہا تھا۔

سرتاج شاید ٹہل ٹہل کر تھک گیا اس کے عین سامنے پڑے صوفے پر دھم سے بیٹھ کر سگریٹ سلگاتے ہوئے وہ اسے گھور رہا تھا۔ اس نے ذرا سی نگاہ اٹھا کر دیکھا اور سہم کر نگاہیں اپنی نم ہتھیلیوں پر جمادیں۔ اسے بخوبی محسوس ہورہا تھا اس کے سامنے بیٹھا شوہر اور دائیں جانب بیٹھی ساس اسے گھورہی ہیں۔ بلکہ ساس کا گھورنا ڈبل تھا ان کا عکس ڈریسنگ ٹیبل سے جھلک رہا تھا۔ یعنی وہ تین اطراف سے نشانے کی زد میں تھی۔ مجرم تھی اور اس کے لےے کہیں جائے پناہ نہیں تھی۔

ایک خاموشی۔ طوفان سے پہلے خاموشی۔ جنازہ اٹھ جانے کے بعد کا سناٹا۔ پرہول۔تمام۔انجام جیسا۔نہیں نہیں۔

ہاں اس پر فرد جرم عائد کرنے والے کسی حد تک درست تھے۔ اسے تین ماہ تک واقعی پتا نہیں چلا کہ اس کے وجود میں ایک اور روح سانس لینے لگی ہے اور وہ تین ماہ۔ تب اس کا بیٹا ، اس کا اکلوتا چار سالہ بیٹا۔ کتنا شدید بیمار ہوگیا تھا۔ جیسے اس کی جان کے لالے پڑ گئے اور اسے لگا کہ وہ بس۔ اللہ نہ کرے تب اسے کب ہوش تھا کسی بھی چیز کا۔ کھانے پینے ، پہننے اوڑھنے، بات چیت کا ۔ بچہ بیمار ہوا تووہ ہر شے فراموش کر کے بس اس میں مگن ہوگئی۔ تب بھی مورد الزام ٹہرائی گئی کہ اسے تو بس اس ناکارہ وجود ہی کی فکر ہے پروہ کیا کرتی۔وہ ماں تھی اور ماں محبت کے معاملے میں بہت مجبور ہوتی ہے۔

کیا ہوا کہ وہ ایک معذور و مفلوج بچہ تھا۔

کیا ہوا کہ وہ پیدائش کے پل سے لے کر اب تک بستر نشیں تھا۔

کیا ہوا کہ وہ بے کار تھا۔ہر حوالے سے ناکارہ۔

مگر وہ اس کے جگر کی آگ تھا۔جس کی لوسے اس کی زندگی روشن تھی۔

اور دو ماہ پہلے جب اس پر انکشاف ہوا کہ ہاں کچھ ہے۔ تو وہ پوروں پر دن گنتی رہی کہ کب۔ کیسے۔ مانع حمل ادویات کھا کھا کر اسے لگتا اس کے اندر آپ کچھ بھی نہیں رہا۔ بار آواری۔کونپل کا پھوٹنا اور نمو پانا۔ وہ سب کچھ کھو چکی ہے۔

اور پھر نو ماہ پیشتر دو ماہ کا حمل ضائع کروایا گیا۔ اس کا شوہر کمشنر تھا اس چھوٹے سے علاقے کا مائی باپ۔ اگر اس کی بیوی یہ غیر قانونی کام کروانے کسی بڑے اسپتال جاتی تو سب جگہ چرچا ہوجاتا۔ نہیں نہیں۔۔

سو ایک سو برس کی بڑھیا دائی نے یہ فریضہ بہت سارے پیسوں کے عوض خاموشی سے انجام دیا۔

اور موت تکلیف دہ ہے مگر ایک بار ظہور پذیر ہوگی تو پھر۔بس آپ مرگئے ہیں۔قصہ ختم۔ بے جان۔ سب احساسات سے عاری۔لیکن آپ مرنے کی ساری تکلیف اذیت سہیں۔کڑواہٹ کا ذائقہ چکھیں اور پھر بھی زندہ رہیں۔اف۔اس نے پھر پھریری لی۔

ہاں وہ کہہ سکتی ہے کہ اس نے موت کے ذائقے کو چکھا۔ موت اس تاریک رات کی سیاہی اور در سے کچھ ہی زیادہ ہوگی۔ یقینا۔

اسے یقین تھا وہ جیسے ہی ذکر کرے گی وہ سب لوگ اس سو برس کی کالی جھریوں بھرے چہرے اور سخت ہڈیوں گانٹھوں والی انگلیوں کی مالکہ دائی کو بلا لائیں گے۔ اس نے تین ماہ بے خبری کے عالم میں مزے سے گزار دیے تھے اور دو ماہ کشمکش میں۔ مگر یہ چیز چھپائی نہیں جاسکتی تھی۔

اور اس کے خدشات مجسم ہو کر سامنے آگئے۔ بھونچال ہی آگیا نا۔

’’میں نے کیا بے گار کیمپ کھول رکھا ہے۔ یا میں معذوروں فقیروں کا ٹھیکے دار ہوں اور لولے لنگڑے سپلائی کرتا ہوں۔‘‘ اس کے شوہر کے لہجے میں فرعونیت تھی۔ بڑے جاہ و جلال والا فرعون غرق آب ہوگیامگر یہ چھوٹے موٹے گلی کوچے کے فرعون ۔نہ سامنے آتے ہیں نہ دعوا کرتے ہیں اور۔نہ ہی غرق ہوتے ہیں۔

’’استغفراللہ۔‘‘اس نے توبہ کی ۔وہ اگلا جملہ سوچ چکی تھی کہ کیا ہوگا۔

’’آپ بلوائیں۔سچی دائی کو۔فوراً۔‘‘وہ حتمی فیصلہ کر کے کھڑا ہوچکا تھا۔

’’نہیں نہیں۔‘‘ وہ سہم کر کھڑے ہوتے ہوئے لڑ کھڑا کر گری۔

’’میں نے بہت دعائیں کی ہیں۔‘‘ وہ شوہر کے قریب جاکھڑی ہوئی۔

’’یقین کریں اماں بی۔ نفلی روزے رکھے ہیں اور منتیں مانی ہیں ان شائ اللہ اب ایسا نہیں ہوگا۔ اماں!اسے نہ بلوائیں اماں! ‘‘وہ ساس کے پیروں کے پاس بیٹھی پھر تڑپ کر دوبارہ شوہر کے قریب پہنچی۔

’’فیصلہ وہی ہے مریم۔ جو میں چار سال پہلے کرچکا ہوں۔ اس میں کوئی ردوبدل نہیں۔ تمہیں چھوڑوں گا بھی نہیں۔ تم پالتی رہو اپنے سپوت کو۔ مگر تم سے کم از کم میں۔اور۔۔۔بچے (بچے کہتے ہوئے اس کا چہرہ بگڑا )نہیں رہنا تو آزاد ہو۔اپنا بیٹا لے کر جاسکتی ہو ۔ مجھے جب بچہ کی خواہش ہوگی تب میں نئے فیصلے بھی کرلوں گا۔ ابھی تو وہی ہوگا جو میں طے کرچکا ہوں ۔‘‘

اس کے شوہر نے اس کے شانے پر اپنے دونوں ہاتھ جماکر قطعیت سے کہا ۔

مریم پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس بے رحم کو دیکھتی رہی۔ سنتی رہی اور سمجھنے کی کوشش۔

’’ہاں وہ بار بار نئے سرے سے حیران کیوں ہوتی ہے۔‘‘

کیا وہ جان نہیں پائی اپنے شوہرکو جو کہہ چکا تھا کہ بچے کے نام پر جو اس کو ملا۔ اس کے بعد تو اسے بچوں ہی۔۔ نعوذ باللہ اور جو اسے جبراً اندر تک سے نوچ لینے کے بعد پلٹ کر حال نہیں پوچھتا وہ بیڈ پر ڈھے گئی۔ اس کی ساس کا چہرہ بیٹے کا ترجمان ہی تھا۔

اس کا شوہر باہر نکل گیا اور ساس پیچھے پیچھے۔ اسے سنے بغیر۔ وہ کہنا چاہتی تھی کہ وہ موت کے مترادف اس پل کو نہیں سہار سکتی۔ وہ اپنا بچہ نہیں کھوسکتی۔

اسے یقین ہے اللُہ تعالی اسے مایوس نہیں کرے گا۔ اس نے اللہ کی دی پچھلی نعمت پر بھی ناشکری اور کیوں کا لفظ نہیں کہا تھا وہ پوری تن دہی سے اس ذمہ داری کو نباہنے لگی تھی ۔جو اللہ نے اسے دی۔ اللہ کو اطاعت اور شکر گزاری پسند ہے اور وہ اس کا بدل دیتا ہے اور اس نے بدل میں ایک صحت مند بچہ مانگا تھا۔

اور اس کا دل کہتا تھا کہ اللہ اسے ضرور دے گا۔

اس کا پانچ ماہ کا بچہ۔ چار ماہ اور گزرتے۔ تو تندرست و توانا گل گوتھنا ان شائ اللہ اس کی گود میں ہوتا۔ دعا کی مستجابی اس کے دل پر وحی کی طرح اترچکی تھی۔ تو پھر۔۔۔یہ کریہہ صورت بڑھیا۔

’’اے اللہ تو نے اسے اس لیے اتنی عمر دی کہ یہ۔۔۔‘‘ وہ اپنی ساس کی ہمراہی میں اندر داخل ہوتی دائی کو دیکھ کر سسک اٹھی۔

وہ گویا خود کو موت کے لیے تیارکرچکی تھی اس نے سر بسجود ہو کر صرف اپنے بیٹے کے لیے رب سے خیر مانگی تھی ۔

وہ جسمانی اعتبار سے جھکڑ کی زد میں آئی بیل جیسی کمزور عورت تھی۔ مگر اس کا یقین۔اس کا ایمان پہاڑوں کو شرمسار کرتا تھا۔وہ سر اٹھا کے کوئے دار چلی تھی۔

’’معاف کردو بڑی بیگم صاحبہ۔ بہت دیر ہوگئی ۔ اب کچھ نہ ہوسکتا۔ پورا ہی کرنا ہوگا۔ ٹائم زیادہ ہوگیا۔ اس کی جان کی کوئی گارنٹی نہیں۔ بچہ گیا تو ماں کو ساتھ لے کر ہی جائے گا۔‘‘

سچی دائی کی متاسف ٹھوڑی اور نفی میں قطعیت سے ہلتا سر۔

’’ارے مائی کوشش تو کرو۔ تمہارا اتنا تجربہ۔‘‘ ساس نے بڑھاوا دیا۔

’’تجربہ ہے جب ہی تو بولوں ہوں کہ کچھ نہیں ہوسکتا۔ ابھی سال بھی نہ گزرا۔ یہی سب کیا۔ وہ آسان تھا۔اب تو بچہ ہاتھ پیر مارنے لگا ہے۔‘‘

’’لیکن مائی۔‘‘ساس حواس باختہ ہوگئی۔ وہ دائی کو شانوں سے تھام کر ذرا دور لے گئی۔ اب وہ سر جوڑے تیز انداز میں کچھ بول رہی تھی ۔مگر دائی کا مسلسل نفی میں ہلتا سر۔

مریم بے دم تھی۔ اسے لگتا ، وہ نیم بے ہوشی کے عالم میں ہے۔ وہ کیا سن رہی ہے ، کیا سمجھ رہی ہے۔

’’ارے مالکن۔ پھر تم کسی بھی جگہ لے جائو۔ سو سال کی عمر ہے تو مانو تجربہ دو سو سال کا۔اب تو وہ بات ہوگئی کہ ماں بچہ نے قسم کھالی۔جئیں گئے تو اکٹھے ۔مریں گے اکٹھے۔ہاں۔‘‘

وہ کڑوے پن سے کہہ کر اپنا برقعہ سر پر جمانے لگی۔ اس کے بے یقین چہرے پر نگاہ پڑی تو مسکرائی۔ اس کے نزدیک آگئی۔

’’خوب کھا اور پی اور اللہ سائیں سے دعا مانگ۔ میں نے سارے دائو آزمانے کا سوچ رکھا تھا۔ مگر وہ بھی پکے پیر جماکر بیٹھا ہے۔ ان شائ اللہ یہ دروازے جتنے قد کا لمبا ہوگا۔ کبڈی کے پہلوان جیسا۔ میں نے یہ بال کوئی دھوپ میں چٹے نہیں کیے ۔ہاں۔‘‘

ساس کا چہرہ لٹھے کی طرح سفید ہوگیا تھا۔ ایک اور معذور۔ ہاں مریم پر شادی مرگ طاری ہوگئی۔ اس کا بچہ اس کے پاس تھا۔ اس نے اپنے پیٹ پر نرمی سے ہاتھ رکھا۔ ’’ہاتھ پیر مارنے لگا ہے۔ پکے پیر جماکر بیٹھا ہے۔‘‘اس کے کانوں میں ان ہی دو جملوں کی گردان تھی۔

’’ہاں اللہ اس بار اسے مکمل صحت مند بچہ دے گا۔‘‘

اس نے باہر نکلتی سچی دائی کو دیکھا۔ اسے ہمیشہ اس کا چہرہ کہانیوں کی جادوگرنی جیسا لگتا تھا۔ جھاڑو پر سواری کرتی اڑتی ڈائن جیسا۔

مگر۔ چہرے کبھی برے نہیں ہوتے سیاہ یا بدشکل ۔

اعمال ان کو روشن اور تاریک بناتے ہیں

٭٭٭

’’میں وہی ہوں جس کے اچھا نکل آنے کی دعائیں کی جاتی ہیں۔‘‘

وہ بڑے مزے سے کرسی پر نیم دراز ہوتے ہوئے بولا تھا۔ وہ خاک نہ سمجھی اور عدینہ نے تو پہلے ہی اسے آتے دیکھ کر برا سا منہ بنالیا تھا۔ وہ کچھ بولنے کے لیے منہ کھولتے کھولتے رک گئی۔

’’سوچیں۔سوچیں۔ خوب سوچیں۔‘‘اس نے بڑھاوا دیا۔

’’نہیں ۔میں نے ہار مانی۔ ‘‘اس نے اخبار تہہ کیا اور وہ پوری طرح اس بے حد شریر نظر آتے نوجوان کی طرف متوجہ ہوگئی۔

’’میں کچھ ہیلپ کروں۔‘‘ عدینہ کا انداز جارحانہ تھا۔

’’اے خبردار! تم بیچ میں مت بولنا۔‘‘ وہ بھی اچھی طرح سے واقف تھا عدینہ کی فطرت سے۔ لہٰذا اچھل کر روکا۔

’’نہیں واقعی ، میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ آپ کیا ہیں اور کس چیز کے اچھا نکلنے کی دعا کرتے ہیں۔‘‘

’’ارے یار !‘‘س نے اپنی ران پر ہاتھ مارا۔

’’خربوزہ ۔ ہم خربوزے کے اچھا نکلنے کی دعا کرتے ہیں کہ اللہ میٹھا نکل آئے۔‘‘ عدینہ نے تیزی دکھائی۔

’’تم کم عقل ہو عدینہ!‘‘وہ چلایا۔ ’’میں بخت ہوں بخت شاہ ۔‘‘

’’اور قطعاً۔ اچھے نہیں نکلے۔نام کا بھی اثر نہیں آیا۔‘‘عدینہ نے چڑایا۔

بخت نے باقاعدہ منہ موڑ لیا اب بولتی رہے۔

’’ اور آپ اپنا تعارف کروایئے۔ غائبانہ تو سب کچھ ہی سن رکھا ہے۔ مگر آپ بولیے۔‘‘ وہ اس کی جانب مڑا۔

’’میں بشائر ہوں بشائر سجاد۔رابعہ دادی جان۔میرے ابو کی خالہ ہیں اور وہ۔۔۔‘‘

’’بس۔‘‘ بخت نے ہاتھ اٹھایا آگے کا قصہ دادی جان کی زبانی ہمیں ازبر ہے۔ ’’ویسے آپ کا نام بہت خوبصورت ہے کیا مطلب ہے اس کا۔‘‘بخت دلچسپی سے پوچھ رہا تھا۔

’’خوش خبری۔‘‘ بشارت سے نکلا ہے۔ بشریٰ ، بشیر ، بشائر۔ وہ اپنے نام کے معنی بچپن سے بتانے کی عادی تھی۔

’’بہت خوب بہت اعلا۔‘‘ بخت نے سرہلایا۔ ’’آپ خوش خبری ہی کی طرح لگتی ہیں مگر اگر آپ کو ایک لفظ میں ڈیفائن کرنا ہو۔ یا چلیے دو الفاظ۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ ’’نزاکت اور وقار۔ ڈیسنٹ چال ڈھال۔ قد، آواز لباس اور مسکراہٹ۔ ہر شے۔ وقار اورنزاکت سے بھرپور۔‘‘

’’زیادہ فلرٹ کرنے کی ضرورت نہیں لوفر!یہ تم سے بڑی ہیں۔ پورے ستائیس برس کی ہیں۔ سمجھے۔‘‘عدینہ نے بھنا کر کہا وہ نجانے کس بات سے چڑ رہی تھی۔

’’تم نے حسبِ عادت سب سے پہلے عمر پوچھی ہوگی۔‘‘وہ بھی پھاڑ کھانے والے انداز میں جھپٹا ’’سطحی عورت ۔‘‘

’’اے بخت ۔ بدبخت! خبر دار! جو مجھے عورت کہا تو۔۔۔‘‘ عدینہ نے اخبار اٹھا کر اس کے سرپر برسایا۔

’’ارے بچائو۔‘‘ وہ اچھل کر دور ہوا۔’’تو کیا بھائی نذیر کہوں یا پائ نذیر ہاں۔ ۔۔‘‘

بخت نے فوری انتقام لیا۔ عدینہ کو کوئی چیز مارنے کو نہ نظر آئی تو کرسی سے اٹھ گئی اور اسے ہاتھ میں سر تک اٹھالیا۔

’’اوہ پلیز۔‘‘بشائر ہراساں اٹھ کھڑی ہوئی۔

’’شرم کرو عدینہ۔نگینہ! ‘‘وہ اسے باقاعدہ منہ چڑاتا بھاگ نکلا۔ عدینہ نے پٹاخ کی آواز سے کرسی زمین پر رکھی۔

’’یہ بہت کمینہ ہے۔ آپ کو نہیں پتا۔‘‘

’’اے عدینہ۔ کمینہ بھی تو عدینہ کے ہم قافیہ ہے نا۔‘‘ وہ گیٹ سے منہ اندر کر کے آگ لگا گیا۔

’’دادی جان۔دادی جان!‘‘وہ دھڑ دھڑ کرتی اندر بھاگی۔

بشائر عجب نا سمجھی کے عالم میں کھڑی رہ گئی پھر اس نے کرسیاں درست کیں اور اندر کی جانب بڑھی

اسے خیال سا آیا۔ کل دادی جان اسی بخت کا ذکر کررہی تھیں شاید پڑوسی کا لڑکا۔ اچھا لگا اسے۔ ہلکی داڑھی۔ بد رنگی جینز پر چیک کی قمیص انداز بے فکرا ساتھا مگر آنکھوں میں ذہانت اور گہرائی تھی۔ عدینہ کا ہی ہم عمر تھا۔

اسے یاد آیا۔

خالہ دادی کا کمرے میں سامان سیٹ کرنے کا حکم سن کر وہ دیے گئے کمرے میں چلی گئی تو پیچھے عدینہ بھی آگئی تھی۔ اسے خالہ دادی نے اس کے مددگار کے طور پر بھیجا تھا۔ مگر وہ نروٹھے پن سے کرسی پر ٹک گئی اور کھلتے بند ہوتے بیگ اور دیگر اشیائ کو دیکھتی رہی۔

وہ اپنے کپڑے ، جوتے کتابیں ، ڈائریاں دیگر سامان رکھتے ہوئے اسے مسکرا کر دیکھتی رہی جو سراسر ناقدانہ جائزہ لے رہی تھی۔ کبھی کسی شے کو اٹھا کر دیکھ لیتی۔ پسندیدگی ناپسندیدگی کا تاثر آنے نہیں دیتی تھی بس اٹھایا دیکھا اور رکھا۔

’’کیا آپ کی سوتیلی امی آپ پر ظلم و ستم کرتی تھیں۔ ‘‘اس نے اچانک بہت ہی عجیب وغریب سوال کردیا۔

وہ بری طرح چونکی ۔ ’’نہیں۔ نہیں بالکل نہیں۔ تمہیں ایسا خیال کیوں آیا۔‘‘ وہ پوری طرح متوجہ ہوگئی۔

’’نہیں وہ دادی جان ہی کہہ رہی تھیں کہ وہ یعنی آپ کی سوتیلی امی نے بظاہر اچھا بن کر اندر ہی اندر بھاگنے کا پلان طے کررکھا تھا۔ میٹھی چھری سی۔‘‘

بشائر کے چہرے پر سایہ سا لہرا گیا۔

’’ایسا نہیں ہے ، دراصل ان کی ساری فیملی آئی مین، بہن بھائی اور والدین سب وہاں شفٹ ہوگئے سو وہ بھی بچوں کے مستقبل کے لیے یقینا۔۔۔!‘‘

’’میں نہیں کہہ رہی۔ دادی جان ہی ہر وقت کہتی ہیں۔ ہمیں لگا آپ۔۔۔ آپ بہت بے چاری سی ہوں گی۔ اجڑی پجڑی سی۔ مگر آپ تو۔۔۔‘‘ وہ کپڑوں کے ڈھیر اور دیگر اعلا چیزوں کو ایک نظر دیکھ کر جیسے کچھ جتا کر خاموش ہوگئی۔ بشائر ہولے سے مسکرا کر دوبارہ سامان اکٹھا کرنے لگی۔

’’ویسے آپ کتنے سال کی ہیں۔‘‘ بہت دیر کی خاموشی کے بعد عدینہ کی آواز گونجی ۔

وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے مڑی ستائیس واں برس لگا ہے ابھی لاسٹ منتھ۔

عدینہ کے لبوں پر مسکراہٹ کا کوندا لپکا۔

’’میں اکیس کی ہوں۔ اس نے نجانے کیا جتانے کے انداز میں کمر سیدھی کی تھی۔‘‘ (کچھ بچپن کچھ سطحیت)

بشائر باوقار انداز میں مسکرائی۔ ’’اچھا!مجھے لگا تم اٹھارہ برس تک ہوگی۔‘‘

’’واقعی! ‘‘عدینہ کے چہرے پر خوشی ابھری۔

’’ہاں بالکل سچ ، اگر تم نہ بتائیں تو۔‘‘ عدینہ کا چہرہ بجھا(ہائے چپ ہی رہتی۔مگر خیر میں نہ بتاتی تو دادی جان سن، دن تاریخ ٹائم تک بتانے سے نہیں چوکتی تھیں) بشائر نے دل میں آئے خیال کو زبان تک آنے سے روکا کہ اگر وہ اتناتیار نہ ہو اور صرف منہ دھو کر رکھے تو شاید سولہ برس کی دکھائی دینے لگے۔ مگر وہ کام میں لگ گئی۔

وہ اس کے مزاج کا اندازہ نہیں کرپائی تھی۔کچھ عجیب سے تاثر کے ساتھ۔ روٹھی نک چڑھی ، خود پسند سی دکھائی دیتی لڑکی۔

’’بخت اور میں ایک ہی روز پیدا ہوئے۔ وہ صبح میں شام کو۔ نکما ہے۔ بس پڑھتا ہی رہتا ہے۔ کام وام کچھ نہیں۔ وہ دادا جان کے دوست کا چھوٹا بیٹا ہے ۔پتا ہے اس کے ابا دادا کے ہم عمر ہیں۔ دادا جان دادا بن رہے تھے اور وہ اسی دن ابا۔ہاہاہا۔‘‘ وہ اپنی بات کے اختتام پر ہنسی۔

بشائر کی کچھ سمجھ میں نہ آیا بس وہ مسکرادی ۔

’’اچھا تو یہ وہی بخت تھا۔ اچھا لڑکا تھا۔ بڑا معصوم سا، شریر مگر اپنا ئیت دیتا ہوا۔ ہوں۔‘‘

٭٭٭

’’میرے ابا اس شہر کے چنیدہ لوگوں میں سے ہیں حیرت ہے آپ انہیں نہیں جانتیں۔‘‘ بخت بولا ’’اور آپ نے انہیں ابھی تک دیکھا نہیں ،افسوس۔‘‘

’’آئی ایم سوری۔میں اتنا باہر نہیں نکلی ابھی۔‘‘ بشائر شرمندہ ہوگئی۔ وہ آج بخت کی امی شمسہ بیگم کی چائے کی دعوت پر جارہی تھی۔ بخت لینے آیا تھا۔ عدینہ بھی ہمراہ تھی مگر وہ ان سے چند قدم پیچھے تھی۔ دونوں کے گھر گلی کے آخری گھر تھے۔ ایک گلی کا پہلا گھر دوسرا اسی لائن کا آخری گھر۔ عدینہ گھروں کے باہر لگے پودوں سے پھول پتے چنتے نروٹھے پن سے چلتی تھی۔

میڑک تک دونوں ایک ہی اسکول میں تھے اور جیسے ایک دوسرے کے جانی دشمن تھے۔

’’کیوں میں نے آپ کو اس دن بک ورلڈ میں دیکھا تھا نا۔‘‘

’’ہاں تو میں میگزین لینے گئی تھی نا! ‘‘بشائر بولی۔

’’تو بک ورلڈ میرے ابا ہی کی توہے۔‘‘ بخت نے زور دے کر کہا۔

’’بک ورلڈ تمہارے ابو کی ہے ۔ مجھے تو بہت اچھی لگی وہ جگہ ۔‘‘بشائر متاثر نظر آئی۔

’’ہے نا۔دراصل میرے ابا۔۔۔!‘‘ بخت شروع ہوا چاہتا تھا۔’’ میرے ابا کو دور ہی سے شناخت کیا جاسکتا ہے۔ میں نے کہا نا وہ اس شہر کے۔۔۔‘‘

’’ہاں جی۔ وہ۔ وہ واحد آدمی ہیں جو ابھی تک شیروانی کے ساتھ جناح کیپ پہنتے ہیں۔ اب تو میوزیم میں بھی یہ ڈریس نہیں ملتا۔‘‘

بخت کا جملہ حلق میں دبا رہ گیا۔پیچھے سے عدینہ نے کمانڈ سنبھال لی۔

’’اے عدینہ کی بچی! میرے ابا کے بارے میں کچھ اگر تم بولیں تو۔‘‘بخت نے مکا تان کر دکھایا بشائر گھبرا کر پیچھے ہوئی۔

’’لو بلا وجہ،میں نے تمہارے ابا کو کب کچھ کہا۔جو کہا شیروانی کو کہا۔کیوں بشائر ۔‘‘

عدینہ کب رعب میں آتی تھی۔

’’ارے ارے ایک منٹ۔تم بولو بخت! میں سن رہی ہوں اور تم چپ رہو عدینہ۔‘‘اس نے دونوں کو دیکھا۔

’’ہاں تو میرے ابا۔ایک عظیم انسان ہیں۔ انہوں نے ریٹائرمنٹ سے ملنے والے سارے پیسوں سے کتابوں کی دکان کھول لی حالانکہ لوگوں نے کہا بے وقوفی کررہے ہیں۔ پیسے کہیں انویسٹ کردیں مگر وہ نہیں مانے۔ کون کون سی کتابیں ہیں جو انہوں نے نہ رکھی ہوں۔ نئی پرانی ، نایاب سے نایاب۔ہر سنڈے فٹ پاتھوں سے کتابیں چھانٹتے ہیں۔دراصل میرے ابا ۔۔۔‘‘

’’سارے پیسے اس لیے لگادیے کہ بڑا بیٹا امریکہ سے ڈالر بھیجتا ہے پھر ایسے آلتو فالتو کے کاموں میں تو دل لگنا ہی ہے نا۔‘‘عدینہ نے گویا پیچھے سے بخت کی پسلی میں چھرا گھونپا۔

’’عدینہ کی بچی پیسے کی میت۔ آج عظیم انکل کو سب بتا کر تمہاری شامت نہ بلوائی تو کہنا بلکہ رابعہ آنٹی سے تمہارا حشر کروائوں گا۔‘‘بخت کا غصہ سے برا حال ہوگیا۔

’’پلیز بخت۔!‘‘ بشائر گھبرا گئی۔

’’صرف آپی کی وجہ سے تمہیں معاف کر رہا ہوں۔‘‘

بخت نے لحاظ رکھا۔

عدینہ ’’ہونہہ !‘‘کہہ کر خاموش ہوگئی۔ لیکن دراصل اسے اندر ہی اندر احساس ہوا بخت کو چڑانے کے چکر میں غلط جملہ بول دیا ہے۔ شمسہ آنٹی اپنے میاں کے مشغلے کو اگر ناپسند کرتی تھیں یا کہتی تھیں کہ گھر امریکہ والے بیٹے کے پیسے پر چلتا ہے ان کی بک ورلڈ کچھ خاص آمدنی نہیں دیتی تھی۔ تو بہرحال یہ میاں بیوی کا آپس کا معاملہ اور نوک جھونک تھی۔ عدینہ کے کانوں پڑی۔ اسے ایسے نہیں کہنا چاہیے تھا۔ لہٰذا وہ ہونٹ سکوڑے خود میں مگن چلی جارہی تھی۔

بخت بشائر کو اپنے بارے میں بتارہا تھا۔ اپنے ماضی کا شاندار اکیڈمک ریکارڈ، مستقبل کے خواب۔ ڈگری سے زیادہ اہم علم ہے اسے علم حاصل کرنا ہے بس وہ دولت کی اہمیت سے تو واقف ہے مگر اس کے ناگزیر ہونے پر اسے اعتراض تھا۔ عدینہ اس کے خوابوں سے ، خیالوں سے بخوبی واقف تھی۔ بخت کی ساری خواہشیں اور خواب اس کے برے منہ کی ’’اونہہ!‘‘ تھے۔

وہ خود پسند تھی۔ نخریلی، مزاج دار ، اپنی ذات سے پیار کرنے والی، میں کا کلمہ پڑھتی ہر سو ، میں دیکھنے والی ۔ اپنی خوشی حاصل کرنے والی ہر اچھی شے پر، اپنا حق جتانے والی۔ بلکہ حق کیا جتانا ۔ فیصلہ۔ یہ چیز اچھی ہے ہاں تو بس اس کی ہے اور۔

’’میں جانتا ہوں میری عمر کے لڑکے بہت بڑے خواب دیکھتے ہیں۔میں بھی دیکھتا ہوں مگر خواب ہمیشہ انفرادی فائدے کی تعبیر نہیں بننے چاہیں۔ خواب تو اقبال نے بھی دیکھا تھا۔ اپنے دل کو اتنی وسعت دینے کی ضرورت ہے کہ اس میں سارے عالم کی بہتری کا گمان جگہ بنالے۔ جاگتے میں سوچی گئی اچھی باتیں اور ارادے خوش کن خواب بن کر رات کو پلکوں میں ستاروں کی طرح ٹک جاتے ہیں۔ ہم اجتماعیت سے دور ہٹ گئے ہیں۔ مجھے اپنی زندگی بہتر کرنی ہے۔ اتنی بہتر کہ پھر ہر سو بہتری پیدا ہو ۔ مجھے اپنے خوابوں سے عشق ہے اور اس کے علا وہ۔۔۔‘‘

بہت خوشی سے بولتا بخت شاید بھول گیا، وہ کہاں ہے۔ کیا کہہ رہا ہے۔ کس سے کہہ رہا ہے۔ بولتے بولتے جیسے کہیں دور چلا گیا تھا۔نجانے کیا کہتے کہتے رکا۔پھر دھیرے سے ہنس دیا۔

’’تم کتنی اعلا سوچ رکھتے ہو بخت۔میرے پاس تو جیسے الفاظ ختم ہوگئے۔‘‘

بشائر ساکت رہ گئی۔ وہ حرف حرف کو امرت کی طرح حلق سے اتاررہی تھی جیسے۔

’’میں نے بہت عرصے بعد بلکہ شاید پہلی بار روبرو ایسے گہرے لفظ سنے ہیں۔ اور اپنے خوابوں کے علاوہ کس سے عشق ہے ۔ جملہ مکمل کرو۔تم نے کہاں سے سیکھیں ایسی باتیں بخت !‘‘وہ شاید بڑھ کر اس کا ماتھا چوم لیتی۔

’’ہاں اور تو کوئی آتا جاتا ہے نہیں ۔خود ہی اپنی ’’بک ورلڈ‘‘میں بیٹھا کتابیں گھول گھول کر پیتا رہتا ہے۔ ‘‘عدینہ سے بخت کی اتنی تعریف اور بشائر کا سحر زدہ رہنا زیادہ دیر برداشت نہ ہوا۔

(تم تو جلتی رہنا) بخت نے بے پروائی سے چہرے پر تاثرات سجائے۔

’’میں جانتا ہوں۔ میری عمر کے لڑکے بڑے بڑے عہدوں، گھروں گاڑیوں کے خواب دیکھتے ہیں اسٹیبلش ہوجانے کی لگن میں کچھ بھی کرنے کو تیار رہتے ہیں۔ مجھے پتا ہے کہ آج میرے پاس ایک سائیکل ہے مگر کل۔۔۔‘‘

’’کل اس پر غبارے اور پیپنیاں ہوں گی۔اور میں گلی گلی آواز لگائوں گا بچوں کے کھڈونے لے جائو۔ پھونک کے پگانے ، ٹک ٹک کا بندر۔۔‘‘بخت کا جملہ کاٹ کر عدینہ نے جل کر پیشن گوئی کی۔ بشائر حق دق رہ گئی اس نے گھبرا کر بخت کو دیکھا جو پہلے حیران ہو ااور پھر زور دار آواز سے ہنس دیا۔

بشائر کو اس کی بے ساختگی پر ہنسی آگئی تو عدینہ بھی ہنس پڑی۔

’’’ ایسے لڑکے اب پوری دنیا میں دو چار ہی ہوں گے باقیوں کو گدوبندر بھیجا جاچکا ہے اس کے بارے میں اگلوں کو ابھی پتا نہیں ہے۔‘‘

عدینہ نے ہنسی روک کر اسے صاف پاگل کہا۔ بشائر کی رکتی ہنسی پھر شروع ہوئی ۔ بخت نے غصے کے بجائے بہت دلچسپی سے عدینہ کے ہنستے چہرے کو دیکھا۔

٭٭٭

بشائر کے آنے سے پہلے عدینہ کے بہت سے اعتراضات تھے جنہیں اس نے اونچی آواز سے بھی اور بڑ بڑ کرتے ہوئے بھی رابعہ خاتون کے کانوں انڈیلا تھا۔

’’اب ایک آدھ دن کی مہمان داری تو بندہ کرلے یہ تو نجانے کب تک رہے گی۔‘‘

’’تو تم کیا نوالے بناکر ڈالو گی ۔ اللہ نہ کرے چلتے ہاتھ پیر کی لڑکی۔ او بی بی کچھ ایسا ہوتا بھی خدا نا خواستہ تو تمہارے چلن سے کون واقف نہیں۔ تمہیں کوئی نہ کہتا۔‘‘ رابعہ خاتون نے جل کر آئینہ دکھایا۔ ’’مہمان تو اللہ کی رحمت۔ پتا نہیں کیسے بس اکیلے اکیلے جی کر لطف اٹھاتی ہو بیٹی۔ نہا دھولیا، کپڑے بدل بس شیشہ میں منہ دیکھ لیا۔کبھی گھوم گھوم کر اپنا سراپا ہی دیکھ کر خوش ہولیں۔ کبھی جل کر بلاوجہ منہ دھونے ، کپڑے بدلنے چلی گئیں۔ اپنے ہی فیصلے، ارے لوگوں میں گھلو ملو ۔ دیکھو کوئی اچھا ہے تو کیوں۔ برا معلوم ہوتا ہے تو وجہ کھوجو، اپنی شخصیت کا تجزیہ کرو، سیکھو۔ یہ کیا بس میں ہی میں۔‘‘

رابعہ خاتون کو اپنی پوتی عدینہ سے بہت سی شکایتیں تھیں اس کی تربیت میں انہوں نے اپنے سارے ہنر لگائے تھے۔ مگر وہ اپنی ہی فطرت کی تھی۔

اپنی پرستش کرتی۔خود پرنثار ہوتی تھی یا پھر۔

رابعہ خاتون کی گہری نگاہ جانتی تھی۔وہ سب دیکھتی تھیں اور سمجھتی تھیں وہ اس کے اخلاق و کردار کو فطری ، لچک دار اور وسعت سے بھرپور دیکھنا چاہتی تھیں۔ وہ اس کے مصنوعی پن اور خود ساختہ اطوار سے ناگواری محسوس کرتی تھیں۔وہ خود کو نمک کا بنا پیش کرتی تھی۔ پانی کے چھینٹے سے گھل جانے والی سو اسے سینت سینت کر رکھا جائے۔ وہ سوچتیں وہ تو سنبھال کر رکھ رہی ہیں۔ بخوشی بہ رضا مگر زندگی ہر انسان پر جب تک اپنے سارے پہلو آشکار نہ کردے۔ اختتام پذیر نہیں ہوتی۔

رابعہ خاتون عدینہ کے حوالے سے ڈرا کرتی تھیں ۔ اسے گرم ہوا بھی نہ لگے۔ وہ سب پالے ۔ وہ مسکرائے، گنگنائے، اپنے دل کی نرمی کو نصیحت ، پیام ، پیش بندی بناکر اسے سدھارنے کے جتن کرتیں۔ وہ اپنی زندگی کے حوالے سے شکر گزار تھیں۔ غم اور خوشی دونوں زندگی کے لازمی جزو ہیں مگر وہ اپنے بوڑھے لاچار دل کو مزید کسی صدمے کا متحمل نہیں پاتی تھیں۔ عدینہ کے والدین کی حادثاتی موت۔ بیٹا، بہو اور پوتا پل بھر میں دم توڑ گئے، زخمی پوتی کو دعائوں کے بل پر وہ جیسے موت کے شکنجے سے کھینچ لائیں۔

پوتی کی زندگی کی خواہش نے جانے والوں کا ماتم منانے کی بھی اجازت نہ دی۔ وہ اس میں مگن ہوگئیں۔

اور پھر اکلوتی بیٹی مریم کی زندگی کا دکھ۔ہاہ!وہ جیسے ہر پل گھلی تھیں۔

بیٹی کی مسرت و شادمانی ، کاملیت کی دعا۔ ایک روز بخشش کی دعا میں بدل گئی ۔ وہ اجڑی، بکھری روئی پیٹی اور واپس پلٹ گئی۔ جہاں پلٹنے کا وعدہ ہر ذی روح نے کر رکھا ہے۔ مگر جاتے جاتے ایک بار تو گردن گھما کر پیچھے رہ جانے والوں کے لیے ہاتھ ہلایا جاسکتا ہے ایسے ایک دم تو کوئی نظروں سے اوجھل نہیں ہوتا۔

بس اس کی خبر آگئی ۔کہ وہ اب نہیں ہے۔ مجھے ہمیشہ لگتا تھا۔ وہ اتنا جبر سہہ نہیں پائے گی مرجائے گی۔ یہ خدشہ مجھے ڈراتا تھا۔ اور جب خدشہ حقیقت کا روپ دھار گیا تو۔ پوچھو مت ۔ ہم کس طرح پہنچے کہیں اندرون سندھ میں پوسٹنگ تھی داماد صاحب کی۔ پہلے ٹرین پھر کار پھر گھوڑا گاڑی۔ وہاں ان کا سارا خاندان جمع تھا۔ بس ہمارا ہی انتظار تھا۔ سفید کفن میں وہ سفید دکھائی دیتی تھی۔ نیل لگائے کپڑے جیسی ساکت۔ میں تو اسے رو بھی نہ سکی نہ میں نے اسے چھوا۔ وہ تو ٹھنڈی مٹی کا ڈھیر تھی۔ میری بیٹی تو نہیں تھی۔ گلابی عارض، لمبی پلکیں، پنکھڑی جیسے لب ۔میں نے تو گلاب کا پھول داماد صاحب کے کوٹ میں لگایا تھا۔ وہ مجھے کیا لوٹا رہے تھے۔ کیا دکھا رہے تھے جیسے میں کچھ جانتی نہیں تھی،مجھے سب خبر تھی۔

مگر وہ ایسے اچانک میدان چھوڑ دے گی۔اس کا میں نے کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا۔‘‘

بشائر بہترین سامع تھی وہ رابعہ خاتون کو سنتے وقت چہرے کے تاثرات سے انہیں بڑھاوادیتی تھی۔ مزید بولنے پر اکساتی تھی۔

رابعہ خاتون ہر وقت دکھ رونے پر آمادہ نہیں رہتی تھیں۔

مگر ان کے دل کے اندر گھائو تھے۔آج بشائر کے ہاتھ مرہمدیکھا تو سسک اٹھیں۔

’’وہاں شور تھا، آوازیں،شکایتیں، صفائیاں ۔ سب خود کو مظلوم اور مرجانے والی ہی کو قصور وار کہتے تھے۔ دیکھو تو قصور وار مرگیا۔ اور باقی سب زندہ۔ ‘‘رابعہ خاتون نے جھریوں بھرے گال پر دوپٹے کا پلو رگڑا۔

’’اس کے کپڑے۔ اس کے زیور جو میں نے اسے دیے تھے۔ سب وہ میرے حوالے کررہے تھے۔ وہ مجھے بس بھیجنا چاہتے تھے۔ میں نے بیٹی دیکھ لی تھی۔ میرے سامنے دفنادی گئی تھی۔ اب مجھے جانا چاہیے تھا۔ میں اس کے کمرے سے جو مرضی اٹھالیتی۔‘‘

وہ روتی جارہی تھیں ۔ بشائر منہ سے کچھ نہ بولی بس صوفے سے کھسک کر ان کے پیروں کے پاس بیٹھ گئی اور ان کے گھٹنے پر دونوں ہاتھ رکھ دیے وہ چہرہ اٹھائے ان کے بھیگے چہرے کو دیکھ رہی تھی پھر اس نے اپنے دوپٹے کے پلو سے ان کے گال پونچھے۔

’’زیورکیا ان دیواروں پر سجا دیتی۔ اس دیوار پر جھومر، اس پر ٹیکا، اس ستون سے گلوبند باندھ دیتی۔ بولو۔‘‘ وہ ہچکیوں سے رونے لگیں۔ لفظ ٹوٹ ٹوٹ کر نکل رہے تھے۔

’’آج سونا کتنا مہنگا ہوگیا ہے ۔ مگر خرید سکتے ہیں اپنے پیسوں سے چوری سے ڈاکے سے کسی سے چھین کر ہم زیور بنا سکتے ہیں۔ بیٹی بنا سکتے ہیں؟ خریدی جاسکتی ہے کیا ؟ بندوق کی نال رکھ کے ، جی ہمیں بیٹی چاہےے۔‘‘

وہ رونا روک کر معصومیت سے پوچھنے لگیں۔

بشائر کی آنکھوں سے آنسو جھر جھر بہنے لگے۔ عدینہ بھی کسک کے ساتھ والے صوفے پر آگئی۔ وہ بہت دیر سے رابعہ خاتون کو دل ہلکا کرتا دیکھ رہی تھی۔ وہ از بر قصُے میں کیا دلچسپی دکھاتی مگر دادی کی بے کلی اور مسلسل رونا ، اس نے آگے بڑھ کر ان کا بھیگا گال چوم لیا۔

’’نہ روئیں دادی۔ورنہ میں بھی رو دوں گی۔‘‘اس نے کارگر جملہ کہا۔

’’اسی لیے میں کبھی انہیں کندھا دیتی نہیں پھر یہ اپنی حالت خراب کرلیتی ہیں۔‘‘ عدینہ نے بشائر کو تادیب کی ڈھکے چھپے لہجے میں سمجھایا۔

’’نہیں روتی۔‘‘ انہوں نے عدینہ کا گال سہلایا۔ پھر وہ بشائر کی جانب دیکھنے لگیں ۔’’کہنے سننے والی اگر ایک ہی بات کہوں تو۔۔۔‘‘وہ پل بھر کو رکیں۔

’’مائوں سے کہوں۔بیٹیوں کو بس کوکھ ہی میں رکھو وہیں پالو۔وہ بس وہیں محفوظ ہوتی ہیں۔پیٹ سے نکل گئیں تو بس ۔ پٹتی رہتی ہیں۔ ہاتھوں سے ۔جملوں سے اور تقدیر کے فیصلوں سے۔ بیٹیاں تو بس کوکھ ہی میں محفوظ ۔‘‘

ان کا رونا بند ہوگیا۔ مگر بشائر یکدم پھوٹ پھوٹ کر رودی ۔ ہر شخص کا ایک دکھ۔

’’میں نے اس کے کمرے کی کسی چیز پر نگاہ نہ ڈالی بس مانگا تو اس کی جیتی نشانی۔ اس کے بیٹے کو۔ اور وہی انہوں نے منع کردیا ۔ وہ کیوں دیتے۔ملنے بھی نہ دیا۔‘‘

٭٭٭

’’تو بیٹی!کیا ہی اچھا ہوتا کہ تمہارے ابو تمہاری شادی ہی کر کے چلے جاتے۔‘‘شمسہ بیگم نے بہت دنوں سے روکے جملے کو کہہ ہی ڈالا۔بشائر شانے اچکا کر رہ گئی۔اب وہ کیا کہتی۔

’’کوئی رشتہ وشتہ دیکھتی تھیں تمہاری راحیلہ امی ۔‘‘

بشائر نے سر اثبات میں ہلایا۔ وہ بدگمانی نہیں پالیتی تھی مگر اب سوچا تو ان گزرے ڈیڑھ دو سال میں امی کی جانب سے رشتوں کی قطاریں لگ گئی تھیں۔ کئی لوگوں سے ملوایا اور کئی لڑکے بھی اس نے دیکھے اور اسے بھی دکھایا گیا۔

یہ ایک عجیب وغریب معاملہ تھا۔

ابو ذات برادری اور زبان کے حوالے سے قطعی تھے ۔نو کمپرومائز۔

امی رکھ رکھائو ، انداز ، معاشی حالت کا ذکر کرتی تھیں ۔ سماجی مقام میچ ہونا اس کی اپنی خواہش ۔ اس نے پہلے کبھی گہرائی سے سوچا نہیں۔ مگر بعد میں ایک روز اس روز روز کے دیکھنے دکھانے سے اکتا کر اس نے سوچا کہ وہ خود کیا چاہتی ہے۔ ہاں اس کی اپنی خواہش۔

اس نے کبھی غور نہیں کیا۔

پھر اس نے سوچا۔ بعض لوگ ابو کو نا پسند ہوجاتے ہیں۔ صاف انکار۔ بعض امی کے معیار سے نیچے بالکل الٹ۔ معاملہ ختم۔

کبھی شاذ و نادر وہ دونوں باہم ہوجاتے تو وہ منع کر دیتی۔ کیوں آخر کیوں۔

ہاں مینٹل لیول، اعلا تعلیم ، اخلاق وکردار اس کے باوجود اسے کوئی بھی شخص درخور اعتنا نہ لگتا۔

اس نے بہت دن تک اس الجھن میں رہنے کے بعد اپنا تجزیہ کیا۔

ہاں وہ خطرناک حد تک حسن پرست واقع ہوئی تھی۔ منہ کھلنے سے پہلے ہی شخصیت کا تاثر مکمل ہونا چاہیے۔

اس نے اپنے من کے اندر بسی شبیہہ کو پزل بکس کے ٹکڑوں کی طرح دھیرے دھیرے ترتیب وار لگایا۔ اور نتیجہ۔ ہاں حقیقت میں اسے دور دور تک کوئی شخص بھی خیالی صورت کے قریب نہ لگا۔

تو پھر کیا ضروری ہے کہ سمجھوتا کیا جائے ۔قصداًاور جبراً خود کو بتلایا جائے کہ بس یہ ٹھیک ہے۔

وہ اپنی شخصیت میں مکمل تھی۔ خاندان ، ذات ، تعلیم اور شکل و صورت وہ پرفیکٹ تھی تو پھر وہ کیوں پاسنگ مارکس دے کر بمشکل کامیاب بندے کو ایوارڈ تھمادے۔ اندھوں میں کانا راجہ ، ڈھونڈنے کی کیا تَک ہے اچھا ملے گا تو ٹھیک ہے اور اگر نہ ملا۔تو بھی ٹھیک ہے۔

اس کے دل کے اندر کا یہ حساب کتاب اور نتیجہ دنیا کی نظروں سے مخفی تھا۔ وہ خود سے ہم کلام ہوتی تو پرفیکشنسٹ پر مائل رہتی۔ اور اگر کبھی حقیقت کے چشمے کو پل بھر کے بھی لےے آنکھ پر لگاتی تو اخلاق و کردار اور ذہنی اپروچ کو شاید اضافی نمبر مل جاتے۔ مگر بہرحال یہ سب وقت پڑنے پر کئے جانے والے فیصلے تھے۔ اور اب سال چھ ماہ کے لیے وہ جیسے ہر شے سے آزاد تھی۔ ٹی وی پر نیوز دیکھنا۔ ٹاک شوز کے گھنٹوں میں ارد گرد سے بے گانہ ہونا ورنہ اخبار ورسائل اور کتب بینی۔ وائو زندگی کتنی حسین ہے۔

مگر اسے یہاں آکر اچھا لگا تھا۔ بہت اچھا۔ رابعہ خاتون کی محبت لگاوٹ ، فکر مندی ، خیال۔ عظیم خان کا بے حد پر شفقت ، دوستانہ محبت سے بھرپور شریر انداز۔

شمسہ بیگم بھی گویا اسی گھر کا حصہ تھیں۔ وہ روز صبح نو بجے آتیں اور ساڑھے بارہ تک اپنی اور رابعہ بیگم کی سبزیاں بنواکر دنیا جہان کے قصے کر کے لوٹتیں۔

شام میں دل گھبرانے کا خیال کر کے رابعہ خاتون چلی جاتیں۔

دوپہر اور رات میں بخت کے چکر لگتے ۔اسے بخت اچھا لگا تھا۔ آج کے نوجوانوں سے بہت مختلف۔ الگ سا۔ خوابوں میں رہنے والا مگر تعمیری خواب۔ اجتماعیت کے خواب ، فکرمندی ، گردوپیش کی بہتری کے خیالات۔ شمسہ بیگم کو اپنی اس بڑھاپے کی اولاد سے بہت پیار تھا ۔ وہ اپنے ابا کا پوتا معلوم ہوتا ہے۔ ان کے تین اور بچے آج کے زمانے کے حساب سے ترقی کے دوڑ میں تن من کے ساتھ دھن کی فکر میں مگن تھے۔بڑا صاحبزادہ اور بڑی بیٹی امریکہ میں تھے۔چھوٹی دو بیٹیاں ایک ہی گھر میں بیاہی تھیں اور کوئٹہ میں رہتی تھیں۔سال کے سال آتیں۔

عظیم خان نے بخت اور اس کے ابا کا تجزیہ کیا۔

’’دراصل سکندر (بڑا بیٹا) جب کاظم شاہ اسے پال رہے تھے تو خود بھی معاش کی تگ و دو میں لگے تھے۔ دن رات پیسے کمانے کی فکر کرتے اور انگلیوں پر پچیس گنتے سو بچہ بڑا ہو کر بنیا نکلا۔ سر دھڑ کی بازی لگا کر ڈالر کماتا ہے اور بھیجتا ہے۔ اس کی اپنی چار بیٹیاں ہیں سو بخت کو بیٹا سمجھتا ہے جو چاہے سو کرے۔ چھوٹے بخت کی تربیت کے زمانے میں ابا موصوف ریٹائر ہوچکے تھے۔ زندگی اور پیسے سے دلچسپی کم ہوگئی۔ مسجد اور کتابوں میں گھس گئے۔

بچے نے یہی سب دیکھا، سیکھا اور سمجھا سو یہ بچہ ایسا نکلا۔‘‘

عظیم خان ایک دوست کی حیثیت سے ایسے تبصرے کر سکتے تھے مگر عدینہ جی بھر کے بخت کا مذاق بناتی۔ اسے بڈھی روح اٹھارہ سو بارہ کا نوجوان کہتی۔ کبھی کہتی ’’یہی سوچ رہی تو وہ مزاروں پر جھاڑو پھیرا کرے گا۔‘‘اسے چڑاتی۔

مگر۔۔۔

اس تمام کارروائی سے پرے بشائر نے دیکھا اور محسوس کیا۔ بخت اسے چڑاتا تھا۔ جان بوجھ کر۔ وہ اتنا بھی نان پریکٹیکل نہیں تھا مگر عدینہ کے سامنے بالکل ہی درویش منش بن کر آتا۔ شمسہ بیگم کو تو وہ بہت پیاری تھی بلکہ وہ اکثر شمسہ بیگم کے آگے رابعہ خاتون کی شکایتیں لگاتی پائی جاتی تھی۔

بشائر نے قطعیت سے سوچا بخت کے خیالات سے پرے ۔ عدینہ۔ نہیں۔ وہ مادہ پرست تھی۔ ظاہری شوشا کی کسوٹی میں پر کھیلنے والی۔ نہیں وہ بخت کے لیے کوئی بھی خیال نہیں رکھتی تھی۔ مگر بخت بہت اچھا تھا۔ ایسا نوجوان جسے دیکھ کر پاکیزگی، ذمہ داری، خوشی کا خیال آتا۔ یونہی بلاوجہ پیار آجائے۔ اس سے منہ موڑنا بدبختی ہوتا۔یقینا۔

مگر نہیں۔عدینہ۔بشائر جانتی نہیں تھی۔وہ دیکھتی تھی ۔بہت پیار سے مگر کسی اور کو۔

٭٭٭

’’تمہاری کزن بہت اسمارٹ ہے عدینہ! ‘‘عدینہ کی کوئی پکی سہیلی نہیں تھی۔مگر آئی ہوئی تینوں لڑکیاں بچپن سے ہم جماعت تھیں اور ایک اپنے بھائی کی شادی کا کارڈ دینے آئی تھی۔بشائر پر ڈالی جانے والی سرسری نگاہ بھی بڑا گہرا تاثر قائم کرتی تھی۔

’’اور ان کی ہائٹ۔ اف، اب کہاں نظر آتی ہے ایسی نزاکت۔کسی ماڈل کے جیسی ہیں۔‘‘دوسری نے بھی مدح سرائی کی۔

’’بہت ڈیسنٹ سی ہیں۔‘‘تیسری نے بھی حق ادا کیا۔

عدینہ کچھ حیرت اور کچھ ناگواری سے ۔ مصنوعی مسکراہٹ سے سرہلاتی رہی۔ ایسا شاید پہلی بار ہوا تھا کہ اسے موضوع بنانے کے بجائے اس کی موجودگی میں کسی اور کو سراہا جارہا تھا جبکہ۔ گولڈن ویلوٹ کے سوٹ میں گولڈن بالوں کے ساتھ وہ سنہری گڑیا دکھائی دے رہی تھی۔ سرخ اونی سلیپر۔وہ ٹانگ پر ٹانگ رکھے نزاکت سے بیٹھی اپنے لہراتے بالوں میں دھیرے دھیرے انگلیاں چلاتی محو گفتگو تھی۔

بشائر بہت محبت سے ان تینوں سے ملی اور فریج ٹٹولتی عدینہ سے بہت محبت سے کہا کہ وہ اپنی دوستوں کے ساتھ بیٹھے ، وہ کچن دیکھ لیتی ہے۔ عدینہ نے اگلے منٹ ہی ہاتھ ڈھیلے کردیے اس کا ذہن واضح تھا۔

’’ہاں وہ ان کے گھر میں گھر کا فرد بن کر رہنے آئی ہے تو گھر کا بندہ ہی بنے نا۔‘‘اس نے رابعہ خاتون کے ایک آدھ بار جتانے پر قطعیت سے کہا۔

رات کا کھانا جو وہ مارے باندھے سو احسانات کے بعد بناتی تھی۔ بشائر کے آنے سے اس سے بھی پیچھے ہٹ گئی۔

رات کی ہنڈیا جو عدینہ کے لیے دنیا کا مشکل ترین کام تھا۔بشائر پلک جھپکتے ہی بہت سلیقے اور ذائقے سے بنادیتی۔ عدینہ پوچھ پوچھ کر روٹیاں ڈالتی تھی۔ آٹا گوندھنے سے ناخن ٹوٹنے کا ماتم۔چولہے کے پاس کھڑے ہونے سے اسے رنگ جلنے کا اندیشہ جلاتا۔ برتن دھونے کے لیے دستانے چڑھالیتی۔ اور کبھی کبھی کوڑے دان میں کچرا ڈالنا دنیا کا مشکل ترین کام۔ وہ باقاعدہ الٹیاں کرتی۔ دن بھر کے لیے ماسی آتی تھی۔لیکن کیا شام کوگند کے ڈھیر پر بیٹھے رہیں۔ رابعہ خاتون بہت نارمل رویے سے اسے راہ راست پر رکھنے کی کوشش کرتیں۔ لڑکیاں ہر کام کرنے کی عادی ہونا چاہیں۔ اور کسی کام میں کوئی قباحت نہیں ہوتی۔ گندگی سمیٹنے ہی سے صفائی و پاکیزگی ملتی ہے۔

عدینہ کی نزاکت و لطافت، ادائوں میں مصنوعی پن تھا۔یا ارادی کوشش اور اب عادت بن چکی تھی۔ نخریلی۔

جبکہ بشائر سراسر فطرت تھی۔ پانی کے بہائو جیسی بے ساختہ۔

’’آپ کا ہیر اسٹائل بہت پیارا ہے۔‘‘ عدینہ کی ایک دوست کب سے روکے بیٹھی تھی۔ بشائر متانت سے مسکرا دی وہ جھک کر درمیانی تپائی پر پلیٹس رکھ رہی تھی۔ چھجا ڈمک کر چہرے پر پڑا رہا تھا اس نے سر اٹھا کر سیدھے ہوتے ہوئے حسب عادت انگلیاں پھنسا کر اسے اوپر پہنچایا اور ذرا سا سر جھٹکا کر شکریہ کا مسکائی۔

اور آپ کے دانت۔ ایسے لگتا ہے ڈینٹسٹ کی دکان پر چائنا کی بتیسی سجی ہو۔‘‘ اگلی دوست نے وکھرے انداز میں توصیف کی۔

بشائر بے ساختہ قہقہہ لگا گئی۔ عدینہ نے بغور دیکھا۔ ہاں بشائر کے دانتوں کی قطار۔

وہ ڈارک گرے شلوار قمیص کے ساتھ ہلدی رنگ کی شال کندھے پر ڈالے سیدھی کھڑی تھی۔ گردن میں پڑی نازک سی چین باریک تھی اور گردن کے گردیوں لپٹی تھی۔جیسے گرن کی موٹائی کا ناپ دے کر بنوائی ہو۔چپکی ہوئی۔

’’میں ذرا بک ورلڈ تک جارہی ہوں ۔‘‘وہ ان سے معذرت کرتی عدینہ کو مطلع کر کے نکلی۔اس نے عدینہ کی طرح نکلنے سے پہلے نہ تو پرفیوم اسپرے کیا تھا نہ ہی آئینے میں خود کو گھوم گھوم کر دیکھا تھا نہ تیز تیز برش کیا۔ وہ سرپر دوپٹا نہیں لپیٹتی تھی۔ شال ایک کندھے پر ٹکی تھی اسے الٹا کر دوسرے پر چڑھادیا۔ وی سی بن گئی۔بالوں میں انگلیاں۔بس تیار۔

عدینہ کے دماغ میں کلک سا ہوا۔ہاں

٭٭٭

’’دادا جان،اچھا لگتا ہے کیا۔۔ عظیم خان کے گھر سے دوپٹا گلے میں پٹے کی طرح ڈالے لڑکی نکلے اور اخبار ہاتھ میں لیے ارد گرد سے بے گانہ پڑھتے پڑھتے بک ورلڈ جائے ، واپسی میں کتاب پڑھتی آئے۔ لوگ سوچتے نہیں ہوں گے عظیم خان اتنے ماڈرن کب سے ہوگئے ۔‘‘

’’آں ہاں! ‘‘عظیم خان اصل ایشو کو پکڑنے میں ناکام ہوگئے۔

’’بولیے دادا جان! مجھے تو کہتے ہیں سر ڈھک کر نکلو۔ سر جھکا کر جائو ، تیز قدموں سے چلو تاکہ کم سے کم وقت راستے میں رہو اور۔۔۔‘‘

’’تمہیں اعتراض کس بات پر ہے ۔‘‘عظیم خان اکیلے بیٹھے شطرنج کھیل رہے تھے۔

’’تو آپ کو یہی پتا نہیں چل رہا ۔‘‘ وہ بھنائی ۔’’آپ مجھے سن ہی نہیں رہے۔‘‘وہ روٹھی۔

’’نہیں نہیں سن رہا ہوں۔ تم اخبار،کتاب کا ذکر کررہی تھیں۔ ایسا ہے پوتی!کہ جاتے ہوئے وہ اخبار پڑھ رہی ہوتی ہے۔ ہے نا،ابھی تم نے بتایا ۔‘‘وہ پوتی کو ناراض نہیں کرسکتے تھے۔

’’تو واپسی میں اخبار ختم ہوجاتا ہوگا۔اس لئے کتاب شروع کر دیتی ہو گی۔‘‘

عظیم خان نے معصومیت سے جواب دے کر اس کا چہرہ دیکھا ۔اب اور آگے بولو کوئی اور مسئلہ۔

عدینہ کی جان جل گئی۔ ’’میں یہ کب کہہ رہی ہوں؟‘‘

’’تو کیا کہہ رہی ہو۔ دوبارہ بولو۔‘‘

’’دوپٹا ،دادا دوپٹا۔ آپ سن ہی نہیں رہے۔‘‘

’’اچھا سن لیا۔ اب تم جائو۔ میں جیتنے والا ہوں بھاگو۔ ‘‘ وہ دوبارہ شطرنج کی جانب متوجہ ہوگئے۔

عدینہ نے چند پل ٹہر کر انہیں دیکھا پھر پیر پٹختی باہر کو نکلی۔

اگلا ٹارگٹ رابعہ خاتون تھیں۔

’’لگتا ہی نہیں لڑکی ہیں کہ لڑکا یہ گدی خالی۔مجھے تو وحشت ہوتی ہے۔‘‘

’’بھئی۔اس کا ذاتی معاملہ ہے۔ کوئی تیسری جماعت کی بچی ہے جو میں آگے بٹھا کر پونیاں کسنے لگوں۔‘‘

’’مجھ پر تو آج تک فیصلے صادر کرتی ہیں آپ۔یوں کرو۔یوں نہ کرو ۔‘‘وہ جل کر بولی۔

’’تم کیا چاہتی ہو ، صاف بات کرو۔‘‘ رابعہ خاتون اسے بخوبی جانتی تھیں۔

’’مجھے کیا کہنا ہے بس الجھن سی ہوتی ہے۔ وہ ماسی کہتی ہے۔ماہی منڈا سا کچھ۔‘‘

’’کرنے والی بات کیا کرو۔‘‘ رابعہ خاتون نے صفا جواب دیا۔’’خود کو دیکھنا نہیں بس دوسروں کے عیب تلاشو۔ ہمیں بھی برے لگتے ہیں تمہارے یہ مرغی کے پنجے۔‘‘ انہوں نے اس کے بڑھے ہوئے ناخنوں کو ناگواری سے دیکھا۔

’’اچھے خاصے بالوں کو جوکروں کی طرح رنگ کر گھومتی ہو ۔ چلو سنہری تو سمجھ میں آئے۔ یہ لال سرخ اور نیلی لٹیں کیوں چہرے پر گرا رکھی ہیں؟ یہ ٹی وی فلموں والوں ہی کے کرنے کے فیشن ہیں۔چار چار کان چھدوا کر بیٹھی ہو ۔ بیٹی تم لڑکی ہو یا بکری۔ جھومتی بجتی۔ اتنا بھی کیا سنگھار کا شوق۔ ہونہہ! مجھے تو ڈر لگتا ہے کسی دن ناک کے درمیان سواخ کروا کر نتھلی پہنے نہ آجائو ،دادی جان کیسی لگ رہی ہوں ہونہہ!‘‘

’’دادی!‘‘وہ حلق کے بل چلائی۔ دادی نے ذرا بھی لفٹ نہ دی ۔ وہ اون کے گولے کو تیار کررہی تھیں۔منہ موڑ کر تن دہی سے لگی رہیں۔

پورے دو دن تک سب سے منہ بسورنے کے بعد وہ خود ہی من گئی۔دادی تو ہمیشہ سے ایسے ہی تھیں۔

پھر اس نے دیکھا کہ بشائر باہر جاتے وقت اپنے گرد بڑے اچھے طریقے سے چادر لپیٹ کر نکل رہی تھی۔ اور بجائے خوش ہونے کے عدینہ کا منہ بن گیا۔دوپٹے کے ہالے میں اس کا چہرہ زیادہ نمایاں ہو کر بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔ اس کی شخصیت کے وقار اور رعب میں بے پناہ اضافہ ہوگیا تھا گویا۔اور رابعہ خاتون نے بالوں پر بھی گفتگو کرلی تھی۔ اسے ماسی ہی سے پتاچلا۔

بشائر گیارہ برس کی تھی لمبی چوٹی۔

وہ چولہے کے پاس کھڑی تھی۔رخ موڑ کر اپنے ابو سے بات کرنے لگی۔ آگے پڑی چوٹی کو پیچھے پھینکا تو وہ جلتے چولہے سے ٹکراگئی۔ منٹ کے اندر بال جلنے کی خوشبو۔سجاد صاحب نے تیرکی سی تیزی سے چوٹی گدی سے کاٹ دور اچھال دی۔

بشائر کی خوف زدگی سے زیادہ سجاد صاحب کا حال برا ہوا۔فوری طور پر گلی کے نائی کے پاس لے کر گئے اور یہ ہیئر اسٹائل دیا پھر ہر ماہ جب اپنی حجامت بنواتے تو بشائر ساتھ ہوتی۔

بعد میں راحیلہ آنٹی اسے پارلر لے جانے لگیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ بشائر کا خوف تو غائب ہوگیا۔ مگر سجاد صاحب کسی طور نہ مانے۔ بشائر کی چھوٹی بہن کو بھی اجازت نہ ملی بلکہ وہ راحیلہ کو بھی اوپر جوڑا بنواتے تھے۔

اور اب تو بشائر۔ اس ہیئر اسٹائل کی عادی ہوچکی تھی۔ اسے اب یہی پسند تھا۔

عدینہ کو دونوں جگہ خفت اٹھانا پڑی

٭٭٭

’’کسی بھی انسان سے پہلی بار ملنے پر سب سے پہلے اس کی کس چیز سے متاثر ہوا جاسکتا ہے ؟

بشائر نے خود سے نجانے کتنی بار یہ سوال کیا۔ اور ساتھ ہی اس کے ذہن میں مختلف جواب گردش کرنے لگے۔

’’نہیں انسان نہیں۔ مرد کی کیا چیز سب سے پہلے متوجہ کرسکتی ہے؟‘‘ اس نے بہت دیر بعد تصحیح کر کے سوچ کی درست سمت کا تعین کیا۔

’’چہرہ ۔ آنکھیں ہاں آنکھیں۔اف!‘‘اس نے جھر جھری لی کر ان سنہری آنکھوں کو سوچا ۔ آج بارش کے بعد سردی میں شدت تھی اس نے خود کو کمبل میں سموتے ہوئے آنکھیں موندیں۔

ناک۔ شاید یونانی دیوتائوں جیسی تھی۔اتنی تیکھی،سیدھی، نوکیلی۔پتا نہیں کیسی۔

اور اس کا ہیئر اسٹائل۔ جب بشائر نے پہلی نگاہ سے اسے دیکھا وہ برآمدے کی سیڑھی پر کھڑا تھا۔ اس نے گرے ہائی نیک پہن رکھی تھی۔ سیاہ کوٹ ۔ اس کا دراز قد،بشائر کی نگاہیں بلا ارادہ اوپر سے نیچے سفر کرتی گویا لمبائی ناپ رہی تھیں ۔وہ کون تھا ؟

آنے والا اندر داخل ہونے سے پہلے سگریٹ کا آخری کش لینا چاہتا تھا۔ شاید وہ اندر آکر سگریٹ نوشی نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس نے طویل کش کا دھواں نیم وا ہونٹوں سے باہر کی سمت نکالا اور دونوں ہاتھ ہوا میں چلا کر جیسے دھویں کے اثرات زائل کرنے کی کوشش کی۔ وہ منہ کھول کر بھاپ سی باہر نکال رہا تھا۔

ایک اجنبی مین گیٹ سے لان اور لان سے برآمدہ کراس کرتے گول کمرے کے دروازے میں یعنی اندر آیا ہی چاہتا ہے۔ وہ کچن کی کھڑکی سے دیکھ کر ٹھٹھک گئی۔ دھیان آنے پر آنچ دھیمی کرتی باہر آئی۔ تب تک وہ اندر داخل ہو کر صوفے پر بیٹھ کر جوتے اتارنے جھکا ہوا تھا۔

’’آں ہاں۔ہیلو!‘‘وہ کھنکھاری۔ ’’آپ کون ؟‘‘

آنے والے نے جھکے سر کے ساتھ فقط نگاہیں اٹھائیں۔ گہری ۔ اداس کھوئی کھوئی سی فراز نے ’’سونے والوں کی طرح ،جاگنے والوں جیسی‘‘ کی تشبیہ یقینا کسی عورت کی آنکھوں کے لیے استعمال کی تھی۔ کاش وہ ان آنکھوں کو ہی دیکھ پاتے۔ اچھا چلو ذرا بھر کو سوچو ۔ فراز نے ان آنکھوں کو دیکھا۔ تو پھر کیا ہوگا ۔

’’ہشت بشائر!‘‘وہ اپنے خیالات پر گڑ برائی۔ کوئی سنے تو کیا کہے ۔ ایک مرد کی آنکھوں کی اتنی مدح سرائی۔ ۔ آں ہاں۔اف !

وہ جوتا اتارنا چھوڑ کر سیدھا کھڑا ہوگیا۔بشائر کو لگا ۔ وہ پل بھر کو حیرت زدہ رہنے کے بعد مسکرایا۔ پلک جھپکنے کی ساعت برابر کی مسکراہٹ۔اس نے اردگرد نگاہ کر کے جیسے کسی اور ذی روح کو کھوجا۔

’’مجھے چھوڑیے۔ آپ یقینابشائر ہیں بشائر سجاد! ‘‘وہ پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈال بڑے آرام سے بولا۔

’’ارے!‘‘بشائر کی آنکھیں پھیلیں۔

’’میں مامون ہوں۔ مامون ابصار۔نانو کہاں ہیں اور عدی ،نانا سب۔۔۔‘‘

پھر بشائر نے سمجھ جانے کے انداز میں سرہلایا تو موصوف خالہ دادی کے نواسے تھے۔

’’وہ ذرا مارکیٹ تک۔اور دادا جان۔شاید نماز کے لیے۔‘‘اس نے گردن گھما کر گھڑی دیکھی۔

’’اس کا مطلب ہے کھانے میں وقت لگے گا۔‘‘یہ شاید خود کلامی تھی۔ وہ دوبارہ جوتے اتارنے کو جھک گیا تھا۔

وہ اب شاید اوپر جانے کا قصد کررہا تھا۔بشائر کو دھیان آیا۔

’’اگر آپ کو بھوک لگ رہی ہے تو میں کھانا لگاسکتی ہوں۔‘‘

’’آپ لگالیں گی۔‘‘ وہ عدینہ کے نخروں اور انکار کا عادی معلوم ہوتا تھا۔

’’جی ہاں!‘‘بشائر نے حیرت کا اظہار کیا۔ ’’یہ کون سا بڑا کام ہے۔‘‘ جواب کے لیے کھلتے مامون ابصار کے ہونٹ فون بیل کی آواز نے سکیڑ دیے نمبر دیکھ کر وہ بہت آرام دہ حالت میں صوفے پر ٹک گیا۔

صوفے کی بیک سے سر ٹکائے وہ اپنے بالوں میں انگلیاں پھیرتے محو گفتگو تھا۔ پھر اس نے ٹانگ پر ٹانگ رکھ لی ۔ اب وہ اپنے ہاتھ کو دھیرے دھیرے اپنے پیر پر پھیر رہا تھا۔

سالن نکالتے ٹرالی سجاتے بشائر کا حلق خشک سا تھا اور ہاتھوں میں کپکپاہٹ اس کے لیے باعث حیرت تھی۔

اگر خالی شکل دیکھ کر نمبر دیے جاتے تو وہ سومیں سے دو سو حاصل کرچکا تھا مگر باقی سب چیزیں۔ پہلی نظر میں محبت ہوسکتی ہے۔نہیں نا۔

اس کی دھڑکن تیز کیوں ہوگئی تھی۔ کیا اس نے زندگی میں پہلی بار کوئی خوبرو مرد دیکھا تھا۔ نہیں بالکل نہیں۔ اور نہ وہ دل ہاتھوں میں لیے پھرتی تھی۔ پھر ہتھیلیوں سے پھوٹتا پسینہ۔ کیا ہوگیا بشائر۔ بی میچور۔ اس نے خود کو ڈپٹا۔ وہ اتنے کمزور اعصاب نہیں رکھتی تھی کہ ایک خوش شکل مرد کو دیکھ کر ہاتھ پیر چھوڑ جائے ہاں مگر وہ دم بخود رہ گئی تھی۔

اس کا چونکنا اور پلٹ پلٹ کر اس شخص کی سمت دیکھنا فقط حیرانی سی حیرانی تھی۔ ماجرا دراصل یوں تھا کہ وہ شخص اپنے ظاہری حلیے کے ہر پہلو سے اس شخص اس آئیڈیل مرد، کے تصور پر پورا اترا تھا جسے اس نے اپنے خیالوں میں تراش رکھا تھا۔

وہ ہمیشہ سوچتی تھی خدا کی دنیا اتنی بڑی ہے۔ اس کا تراشا پیکر اتنا ہی ماورائی نہیں کہ کسی کو مل نہ سکے یا کسی کو دکھ نہ سکے۔ وہ انیس بیس کا مارجن دے کر کسی نہ کسی پر اکتفا کرلیتی یا پھر ڈھیروں لڑکیوں کی طرح حقیقت پسندی کا مظاہرہ کر کے گھر بسا ، بچے پالتی اور زندگی گزار رہی ہوتی۔

اس کے اس بے حد اچنبھے کا کارن تو ہو بہو ہونا تھا اگر وہ صرف ظاہر کو دیکھتی تو۔اور جو اس نے دیکھا بھی۔اور سچ تو یہ ہے کہ وہ خوف زدہ ہوگئی۔

کبھی ایسے بھی ہوتا ہے مگر بشائر!یہ ہوچکا ہے۔ یہ شخص مامون ابصار۔یہ بالکل ویسا تھا جیسا اس نے سوچ رکھا تھا۔ ہاں کیا ہے یہ دنیا اور کیسے نرالے اس کے روپ۔

ابو کے جانے پر میں نے سوچا کہ اب میرے لےے زندگی کیا ہے اور کیا ہوسکتی ہے۔ تعلیم مکمل کرلی۔ پیسے کے لےے بے فکری۔ میں اپنا گھر بار، شہر چھوڑ کر کیوں ایک اجنبی جگہ جارہی ہوں، کس لےے۔ مجھے وہاں کیا ملے گا۔ کیا مل سکتا ہے اور اب زندگی کس ڈھنگ سے گزاری جائے گی۔ کیا اچھا ہوتا کہ ابو امی شہر نہ چھوڑتے اور مجھے ساتھ لے کر ہی جاتے۔ مجھے لگا میری زندگی پر فل اسٹاپ لگا دیا گیا ہو مگر نہیں نقطے تھے۔ قصہ ابھی باقی ہے سو۔۔۔

طے یہ ہوا کہ یہ سب پہلے سے طے تھا۔ میرا یہاں آنا۔ اس شخص کو دیکھنا۔اس سے ملنا اور کیا۔ پانا۔۔ اوں اونہہ ۔بشائر!اسے گدگدی سی ہوئی۔ تم صرف صورت دیکھ کر لٹو ہونے والی تو کبھی نہیں تھیں اس نے خود کو لتاڑا۔ صرف شکل دل پروار کر کے جیت ہار کا فیصلہ نہیں کرسکتی ہے۔

ابھی بہت کچھ باقی ہے۔ضروری ہے اہم ترین۔

کردار ، گفتار ، شعار اور ۔۔۔اور کیا ، اور اظہار۔

٭٭٭

خوشی کے پل ۔پلک جھپکنے جیسے۔

محبت کی عمر ۔اتنی مختصر۔

زندگی میں محبت آئی تھی۔مگر اتنے چھوٹے سے وقفے کے لیے۔

فقط چوبیس گھنٹے کی طمانیت،خوشی،معطر احساس ۔ بے ترتیب دھڑکن ۔ ایک جوار بھاٹا۔ محبت طوفان کی طرح آئی ۔ ہر شے کو تہس نہس کر گئی۔ شور چنگھاڑیں اٹھا پٹاخ سب بہالے جانے طوفان۔اور اب طوفان کے بعد کا سناٹا سناٹا اوربس سناٹا۔ نقصان کا تخمینہ کیا لگایا جائے۔

چوبیس گھنٹے پر محیط محبت کا ماتم باقی کی ساری زندگی منایا جائے اونہہ کہاں کی عقل مندی ہے بشائر سجاد )تم کون بھلا وہ شخص مامون ابصار اور ۔۔۔اور عدینہ ہاں )

پچھلی رات اس کے وجود کے گرد محبت کی گرمائش لپٹی تھی۔ اس کے سکون کے کیا کہنے اور آج کی رات محبت نہیں تھی۔ کمبل کے اندر گلیشر جیسی ٹھنڈک تھی ۔وہ کروٹیں بدل بدل تھک گئی۔

بعض دفعہ ڈسپلے کیے گئے سوٹ پر بک چکا ہے کا ٹیگ لگا ہوتا ہے ہم ہی اپنے جوش میں دیکھ نہیں پاتے۔ اس میں دکان دار یا خریدار کا کیا دوش۔ ہمارے ہوش کہاں تھے ۔

ہر اچھی چیز ہماری نہیں ہوسکتی۔ اس نے اپنی نم پلکوں پر خود کو سرزنش کی۔ ایسا بھی کیا بچپن ۔ ایسا بھی کیا اتائولاپن ۔ ایسی سطحیت۔ بی پریکٹیکل بشائر بس اب آنکھیں پونچھو۔ دعائیں مانگو ۔ سورتیں پڑھو اور سوجائو۔ اب دوبارہ نہ ماتم لے کر بیٹھ جانا۔

وہ کسی استاد کی طرح خود کو سمجھارہی تھی۔ مگر دل نالائق،ضدی نافرمان شاگرد تھا ، وہ ہتھیلیوں کی پشت سے مسلسل آنکھیں رگڑتا۔ عقل کے استاد کو ہٹ دھرمی سے دیکھتا تھا۔ میں نہ مانوں رے۔

اچھا تو پھر یوں ہے کہ ماتم منانے کے لیے تمہیں معاشرتی اعتبار سے تین دن دیے جاتے ہیں۔ بین ڈالو ، سینہ کوبی کرو، بال نوچو یا کپڑے پھاڑ جنگلوں میں نکل جائو مگر یاد رکھو ، چوتھے دن میں تمہیں ملال میں نہ دیکھوں۔ عقل کے استاد کی تنبیہ ۔

دل کو ماننا ہی تھی۔

پاسبان عقل نے اسے تین دن کی شرائط کے ہمراہ تنہاچھوڑ دیا تھا ۔کافی ہے۔

٭٭٭

عظیم خان کھڑکی کے نزدیک کرسی گھسیٹ کر نیم دراز تھے۔ ٹانگیں سیدھی لمبی، موڑھے پرٹکی تھیں چہرے پر آج کا اخبار اوندھا پڑا تھا اور رانوں پر ان کا زمانوں پرانا ٹیپ ریکارڈ پڑا تھا۔

کھڑکی پر سفید جالی کا پردہ تھا اور چھن کر آتی دھوپ ان کے پورے جسم پر پڑرہی تھی۔ وہ اپنی پسندیدہ غزلیں اور گیت سن رہے تھے۔

بشائر کچن کی کامن والی کھڑکی سے انہیں دیکھ کر مسکرارہی تھی۔کس قدر سکون آفرین مکمل منظر تھا۔ سرما کی دھوپ۔ سرما کی خاموشی۔ سرما کا فسوں سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ وہ رابعہ خاتون کی بتائی ترکیب سے نرگسی کوفتے بنارہی تھی۔ اس نے بڑے سکون سے ہانڈی کے اندر ہرا دھنیا چھڑکا۔ اس کے اپنے بنائے کوفتوں میں قیمہ اکڑ جاتا تھا اور انڈا نظر آنے لگتا تھا۔ اس نے احتیاط سے ڈوئی میں کوفتہ اٹھایا وہ فل کور تھا۔ وائو۔ اس نے شہادت کی انگلی سے اسے ہلکا سا گھمایا کامیابی کی مسکراہٹ ابھری مگر اگلے ہی لمحے معدوم ہوگئی ۔ٹیپ سے ابھرتی آواز۔

شامِ فراق اب نہ پوچھ آئی اور آئی کے ٹل گئی

دل تھا کہ پھر بہل گیا جان تھی کہ پھر سنبھل گئی

شامِ فراق۔۔۔۔

وہ جہاں کی تہاں رہ گئی۔ذہن جیسے یکدم خالی ہوگیا۔

’’کیا واقعی شام فراق اتنی آسانی سے ٹل جاتی ہے؟‘‘ ایک بے حد ٹہری مگر چبھتی آواز ۔وہ بری طرح چونکی۔ بخت ٹرے میں کچھ لایا تھا۔ بصد احتیاط رکھتے ہوئے اس کی مخاطب وہی تھی۔اس نے اس کے جملے کو دل ہی دل میں دہرایا

’’کیا کہہ رہے ہو بخت؟ میں سمجھ نہیں سکی ۔‘‘

’’میں کہہ رہا تھا کہ کیا واقعی شام فراق ٹل جاتی ہے۔مجھے تو لگتا ہے۔رک جاتی ہے ۔ ہمیشہ کے لیے۔ جیسے ڈوبتے جہاز کی گھڑیاں بند ہوجاتی ہیں۔ شام فراق بھی ساکت حالت رکھتی ہے۔ اور جن دو آسان الفاظ میں شاعر کہہ رہا ہے دل بہل گیا۔ جان سنبھل گئی۔ حقیقت میں دل کب سنبھلتا ہے۔ دل لڑکھڑا جائے تو بندہ منہ کے بل یوں گرتا ہے جیسے دلدل میں جاگرا ہو۔ دھیرے دھرے اندر دھنستا۔ سب آپ کو دلدل میں غرق ہوتا دیکھتے ہیں۔سہارے کے لیے ہاتھ کوئی نہیں بڑھاتا۔

دل غریب کی جھونپڑی کی چھت بن جاتا ہے۔محض خدشے پر بھی ٹپکنے لگتا ہے۔ اور شاعر کہتا ہے۔ دل سنبھل گیا۔ہونہہ ۔‘‘

بخت کے ہاتھ ابھی تک لائی ہوئی ٹرے پر ٹکے تھے۔ بشائر نے دوسری جانب سے ٹرے پر ہاتھ رکھ دیے۔وہ چونکا اور پھر اپنے ہاتھ پیچھے کر لیے۔

’’کیا ہوگیا۔تمہیں کیا اس غزل کی تشریح لکھنی ہے ۔‘‘

’’نہیں۔‘‘اس نے نفی میں سرہلایا۔ ’’مجھے تو بس اس ساری شاعری پر بہت اعتراض ہے۔ سراسر بکواس۔ اس سب کو کہنا گانا، سننا آسان ہے مگر عمل۔ناممکن ۔‘‘

بشائر کے ہاتھ ابھی تک ڈھکی ٹرے پر تھے ۔ اس نے ایک طویل سانس لے کر ڈھکن اٹھایا کھلے کھلے سفید چاولوں کا مٹر پلائو کونے پر دھرا سلاد اور رائتہ، خوشبو۔ ’’واہ!‘‘ اس کی نظریں پلائو پر جم سی گئیں۔

’’اتنا ناممکن بھی نہیں ہے۔ دل اور جان عقل کے مطیع ہوتے ہیں۔ انہیں سیدھا کیا جاسکتا ہے۔‘‘

’’آپ کو شاعر پر یقین ہے۔‘‘ وہ آواز دبا کر چلایا تھا۔

’’ہاں!‘‘بشائر نے آہ! کی صورت اثبات دکھائی۔’’مجھے اس پر یقین ہے۔‘‘

وہ چاول ڈش میں پلٹنے کے بعد برتن دھونے سنک کی جانب مڑی۔ بخت کا انداز کس قدر اچھنبے میں ڈالنے والا تھا۔ (ہاں مگر اسے عقل پر یقین تھا وہ ابھی کل ہی تو تین دن کا سوگ منا کر عملی زندگی میں لوٹی تھی)۔سنک کے سامنے والی بڑی کھڑکی پچھواڑے کی جانب کھلتی تھی۔ یہاں کپڑے دھلتے تھے اور عدینہ کے طوطوں کے پنجرے تھے۔کچھ آرائشی بیلیں اور پودے۔

وہ زیادہ سے زیادہ دھوپ حاصل کرنے کے لیے دیوار کے ساتھ کرسیاں جوڑے مامون کے ہمراہ بیٹھی تھی۔ پیلے رنگ کے سوٹ پر سبز شال چہرے کے گرد لپٹی تھی اس کے ناخنوں پر سرخ پالش تھی اور زمین پر اس کے سرخ گرم سلیپر پڑے تھے ۔وہ کرسی پر پائوں اوپر رکھ کے بیٹھی تھی۔ گود میں کینو کی پلیٹ تھی۔ وہ کینو چھیل کر پھانکیں جھاڑ جھاڑ خود بھی کھارہی تھی اور مامون کو بھی دے رہی تھی۔ اس کی ناک کی لونگ پر دھوپ پڑرہی تھی اور لشکارا مقابل کے چہرے پر پڑتا تھا۔ یا کبھی طوطے کے سیاہ پنجرے پر جھلمل سی ہوتی۔ وہ مسلسل بول رہی تھی۔ دھیما اور اونچا مگر دونوں صورتوں میں آواز کچن کے اندر تک نہیں آرہی تھی۔

مامون کرسی پر بے حد ڈھیلا سا نیم دراز تھا۔ وہ بہت گھریلو سے حلیے میں تھا۔ بے حد گورے صاف پیروں میں نیلی ہوائی چپل۔ جینز کے پانچے ایک بل سے مڑے تھے۔ ٹی شرٹ کے بٹن کھلے تھے۔ مگر اس نے شرٹ پیچھے کی جانب گرا رکھی تھی۔

عدینہ ارد گرد سے بے گانہ تھی۔ نجانے کون کون سے قصے تھے۔ کون سی باتیں کیسی باتیں۔ جو چلتی ہی رہتی تھیں۔

نجانے اس وقت کیا قصہ تھا۔ عدینہ جوش سے بولتی پھر بھنویں چڑھاتی پھر سکیڑتی ۔ مامون کی ساری دلچسپی عدینہ ہی کی جانب تھی۔ وہ ہمہ تن گوش تھا مسلسل مسکراہٹ اور طمانیت تو چہرے پر چھائی ہی تھی۔ قصے کے موڑ، کبھی ہنسی لے آتے کبھی حیرت و بے یقینی ۔ کبھی وہ بند آنکھیں کھول کوئی سوال پوچھ لیتا۔ وہ دونوں جیسے ایک دوسرے میں گم تھے۔ وہاں تیسرا کوئی نہیں تھا۔

اور اگر ہوتا بھی تو انہیں کوئی پروا نہیں تھی۔

(یہ شخص۔ ماتم کے تین دن پورے ہوجائیں تو کیا غم بھول جاتا ہے ۔)

وہ یکدم ٹھٹھک گئی ۔ جھاگ والے ہاتھ ٹرے پر رکے ہوئے تھے اور ٹونٹی سے نکلتی ٹھنڈی دھار۔ آں۔ ہاں، اوہ۔

’’عدینہ آسٹریلوی طوطا لگ رہی ہے۔‘‘ اس نے بخت سے یونہی کہا جھینپ مٹانے کو۔

’’ہوں!‘‘ بخت نے ذرا سا آگے ہو کر کھلا پٹ بند کردیا۔ ’’طوطا چشم بھی کہیے۔‘‘

’’ارے۔‘‘ اس کی ہنسی نکل گئی۔

’’ٹھنڈی ہوا آرہی تھی۔‘‘ بخت نے پٹ بند کرنے کی توجیہہ پیش کی۔ بشائر کا دھیان پلٹا۔ ٹھنڈی نہیں۔ گرم صحرا کے گرم تھپیڑے بگولے اور دھول جو آنکھوں میں مرچیں بھرتی ہے ۔

اے محبت تیرے انجام پہ رونا آیا۔

’’عظیم انکل کی آج کی پسند ملاحظہ فرمائیں ۔ پہلے شام فراق کا نوحہ ۔ اب محبت کے انجام کی اطلاع۔ پوتی زخم لگاتی ہے۔ دادا نمک مرچ لے کر بیٹھا ہے۔ آپ نے ایسی کیمسٹری کبھی دیکھی ۔‘‘

وہ ناسمجھی کے عالم میں بخت کی بات سن رہی تھی۔ اس نے گردن نکال کر عظیم خان کو دیکھا وہ اے محبت پر گردن دائیں بائیں ہلاتے ہوئے گویا سر دھن رہے تھے۔

’’ایسے سر تو مجھے پٹخنا چاہیے۔ ہے ناں۔ مگر ہم تو وہ ہیں کہ۔

میں نے صبر کیا۔صبر بھی قیامت کا۔‘‘

وہ بے چارگی سے اس کی صورت دیکھنے لگا۔

’’آں!‘‘بشائر کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔’’بخت۔بخت اور عدینہ۔ارے ۔‘‘

’’آج تو ان نرگسی کوفتوں کی نرگسی کٹار بھی زخموں پر پھاہا نہیں رکھ سکے گی۔ میں چلا۔‘‘

وہ یکدم تیزی سے باہر نکل گیا۔

بشائر نے دونوں ہاتھ ڈھیلے پن سے سلیب پر ٹکادےے ۔انکشاف ۔

اے محبت تیرے انجام۔مغنیہ کی گردان۔آہ

٭٭٭

رابعہ خاتون اور شمسہ بیگم اپنے مخصوص تخت پر براجمان تھیں۔ حسبِ معمول رابعہ خاتون سبزی بنارہی تھیں جبکہ شمسہ بیگم کروشیہ سے کچھ بن رہی تھیں۔ تبدیلی یہ تھی کہ بشائر شمسہ بیگم سے چپکی بیٹھی تھی۔ وہ اپنی شمیزوں کے دامن پر کروشیہ کی باریک بنائی چاہتی تھی۔

شمسہ بیگم نے اس کے گال پر دھیرے سے ہاتھ پھیر کے پچکارا ۔’’میں تمہیں بنادوں گی بیٹا۔‘‘

’’وہ تو آپ ابھی بنائیں گی ہی۔ مگر مجھے سیکھنا ہے۔ آپ بس سکھادیں۔‘‘وہ ضدی لہجے میں بولی۔

’’تو سیکھ لو۔ میں کیا اپنا فن قبر میں لے کر جائوں گی۔‘‘

وہ راضی تھیں مگر مسئلہ یہ تھا کہ اتنے بہت سے دن بعد بھی اسے کروشیہ ہی پکڑنا نہیں آیا اور پھر دھاگہ لپیٹنا۔ مصیبت۔ دھاگا لپٹ گیا تو کروشیہ پھسل جاتا اوراگر کروشیہ سنبھال لیتی تو۔۔۔

وہ اس وقت بھی جی جان سے ان سے لگی بیٹھی تھی،تب عدینہ کی ہیل کی ٹک ٹک پر وہ باقی دو خواتین کی طرح چونکی۔ سیاہ وسفید کاٹن کا جدید تراش کا سوٹ پہنے سیڑھیاں اتر کر آرہی تھی ۔ اس نے سیاہ باریک ہیئر کلپ ماتھے سے گزار ذرا سا پف دے کر کس رکھا تھا۔ پیچھے لہریے بال کھلے چھوڑ رکھے تھے۔ بالوں میں ہلکی سی نمی باقی تھی۔ اس کے پیروں میں لمبی ہیل کی پمپی تھی۔ بشائر کی آنکھوں میں ستائش ابھر آئی۔ اس نے مسکرا کر اشارہ دیا کہ وہ بہت اچھی لگ رہی ہے۔

عدینہ شانِ بے نیازی سے مسکرائی۔ اس نے تعریف کو حق سمجھ کر وصول کیا تھا۔ کہ وہ اتنی اچھی ہے کہ اسے سراہا جائے اور اس نے کتنی محنت بھی تو کی ہے۔

’’کہاں جارہی ہو۔‘‘جیسا سوال شمسہ بیگم کی جانب سے آیا۔ تب ہی بشائر کی قوت شامہ نے اسے الرٹ کیا۔ اسے بخوبی اندازہ ہوا پیچھے مامون ہے جو نزدیک آتا جارہا ہے چابی کی آواز۔ اوہ تو وہ دونوں کہیں باہر جارہے تھے۔ جب ایک چیز آپ کی ہے ہی نہیں تو بلاوجہ ندیدوں کی طرح حسرت۔ پرائی شے کو دیکھنا۔ یہ تمہاری تربیت تو نہیں تھی کبھی بھی کہ تم دوسروں کے مال۔۔۔بشائر نے خود کو سمجھایا۔ لفظ مال پر اسے ہنسی آگئی۔ مامون ابصار۔۔۔مال،ہی ہی۔بی میچور بشائر سجاد۔

’’دیکھیں شمسہ آنٹی!دھاگہ پھر کھل گیا۔‘‘اس نے مصنوعی عجلت اور پریشانی سے (وہ اس سمت دیکھنا ہی نہیں چاہتی۔وہ کام کررہی ہے۔مصروف ہے)۔

’’ارے بیٹا ۔‘‘شمسہ بیگم اس کی سمت مڑیں۔ اس نے سر نیچے جھکالیا(وہ نہ اس طرف دیکھے گی۔ نہ فساد برپا ہوگا)

’’مگر تم اتنی نیک بھی نہیں بشائر سجاد! سچ تو دراصل یہ ہے کہ تم ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھ ہی نہیں سکتیں۔ ہاں۔‘‘

’’مامون مجھے گھر دکھانے لے جارہے ہیں۔ وائرنگ کے بعد فانوس وغیرہ لگے ہیں اور کچن کے لیے آئیڈیا سلیکٹ کرنا ہے۔کیبنٹ کلر اور ۔۔۔‘‘عدینہ،رابعہ خاتون کو جواب دے رہی تھی۔

’’او اچھا چلو،ہو آئو۔‘‘رابعہ خاتون نے سر اثبات میں ہلایا۔

عدینہ کی ہیل کی ٹک ٹک تخت کے پاس سے گزری اور دروازے تک۔ ٹک ٹک کی آواز چلنے والے کی دلی کیفیت کی ترجمان تھی گویا۔ فخر، بے فکری، سکون، غرور۔

’’اے سنو مامون! عدینہ! رکو۔‘‘ رابعہ خاتون کو نجانے کیا خیال آیا۔ ’’یہ اپنی بشائر کو بھی لے جائو۔ جب سے آئی ہے، کہیں گھومنے پھرنے نہیں نکلی۔ اب ہم بڈھا بڑھیا کہاں لے لے کر گھومیں۔ سمندر تک نہ دکھلایا۔ تم ہی ساتھ لے لو۔ ذرا سی سیر بھی ہوگی اور دل بھی بہلے گا۔ یہاں ہم دو بڑھیوں میں بیٹھتی ہے۔ یا تمہارے دادا کے پرانے ریکارڈ سنتی ہے۔‘‘

’’میں ارے نہیں!‘‘بشائر نے چونک کر سراٹھایا۔ ساتھ ہی نگاہ سیدھی مامون پر گئی۔ وہ غور سے سننے کے بعد اثبات میں سر ہلارہا تھا۔

’’نہیں میں کروشیا سیکھ رہی ہوں۔میں کیسے جاسکتی ہوں۔‘‘

’’جائو تم ہو آئو۔‘‘شمسہ بیگم فوراً انگلی سے لپٹا دھاگا چھوڑ گول تکےے پر ڈھیر ہوگئیں۔

اس نے عدینہ کا چہرہ دیکھا جہاں حیرانی ناگواری تھی اور اس کی آنکھیں انکار سننے کی متمنی تھیں۔ بشائر اتنی چہرہ شناسی کا دعو اتو کرسکتی تھی۔

’’نہیں دادو ان کا اپنا پروگرام ہے۔میں کیسے۔ میں پھر کسی دن دیکھ لوں گی ابھی تو یہیں ہوں۔‘‘

’’نہیں بشائر! آپ پلیز چلیے۔ بلکہ مجھے پہلے ہی کہنا چاہیے تھا۔ مجھے لگا آپ بہت مصروف رہتی ہیں۔ لیکن پلیز اگر آپ فرصت سے ہیں تو۔جوائن اٰس۔‘‘

’’ہاں ۔ ہاں جائو ۔‘‘رابعہ خاتون کا سر بھی زور سے ہل رہا تھا۔

’’میرے کپڑے ۔۔۔‘‘ اس نے کل کے کپڑے پہنچے تھے جو اب مسلے دسلے تھے۔ ویسے وہ کپڑوں کی فکر پالنے والی نہیں تھی۔مگر بہانے کے طور۔

’’اب آجائیں۔ کیا کپڑے بدلیں گی۔ پہلے ہی اتنی دیر ہوگئی ہے۔‘‘ عدینہ کی آواز میں اکتاہٹ، جھلاہٹ اور ناپسندیدگی تھی۔

اس نے ذرا سی نگاہ اٹھا کر مامون کو دیکھا۔ وہ منتظر نگاہوں سے اس کو دیکھ رہا تھا۔ نگاہ ملنے پر اشارے سے جلدی کا کہا۔

اس نے فوری فیصلہ کیا گلابی شلوار دوپٹے کے بیچ دودھیا کرتا تھا۔ اس نے گلابی دوپٹی چپل پیروں میں پھنسائی۔ تین چار بار بالوں کے چھجے میں انگلیوں پھیریں تو بال بالکل تازہ دم سے ہو کر ماتھے پر گر گئے۔ اس نے تخت کی جانب سے گھوم کر آتے ہوئے قمیص کی شکنیں ہاتھ سے درست کیں۔

مامون کی گاڑی میں جانا تھا۔ عدینہ نے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوپٹا شانے پر ہی چھوڑ دیا تھا۔ مگر اس نے عظیم خان کی ہدایت موجب اپنے گرد گلابی دوپٹا لپیٹ لیا۔

مجھے اچھا لگے کا کہ اگر اچھی بیٹی باہر نکلتے وقت خود کو اچھی طرح لپیٹ لپاٹ لے۔ یہاں بڑے برے لوگ بھی تو رہتے ہیں نا۔‘‘ بچوں کو ڈرانے کے لیے بنایا جانے والا پراسرار سا لہجہ۔مگر وہ بچی نہیں تھی۔ وہ دوبارہ کبھی کھلے سر نہیں نکلی ۔

وہ سارا راستہ ارد گرد کے منظر سے لطف لیتی رہی ۔اس نے قصداًایک بار بھی مامون ابصار کو نہ دیکھا۔ ہاں عدینہ ریموٹ سے گانے بدل بدل نجانے کون سی جھلاہٹ اتارتی رہی

٭٭٭

اس کی گود میں نور تھا۔ روشنی ، چاند ، چاند کا ہالہ۔ خوشبو احساس۔

مکمل۔ یقین دعا۔اس کا گڑ گڑانا ۔رونا تڑپنا۔

اس کے سجدے۔۔۔اور سجدے کبھی بھی رائیگاں نہیں جاتے۔ان کا صلہ دنیا میں ملتا ہے ورنہ آخرت میں۔اس نے دنیا میں مانگا تھا۔

اور۔۔۔

اور اسے مل گیا تھا۔

جون کی تپتی گرم دوپہر جب چیل انڈا چھوڑدے۔ اس کے لیے ٹھنڈے وادیوں سے آتی نم دار خوشبو سے بوجھل ہوا بن گئی تھی۔

ایک تکلیف۔انتہائی۔

ایک انتظار۔قیامت کا۔

ایک نظر۔ترسی ہوئی۔

اس نے ابھی ابھی نہلایا ہوا تولیے میں لپٹا بچہ۔ تھاما۔ وہ دنوں سے بے جان تھی اور تولیے کو کھولتے ہوئے اس کی توانائی چوکڑیاں بھرتی ہرنی جیسے ہوگئی تھی۔

اس نے تولیے کی گٹھڑی کھول دی۔ وہ ٹانگیں مارتے مٹھیاں بند کر کے پیر پٹخ پٹخ کر روتے بچے کو بے یقینی سے تکتی جاتی تھی۔ اس کے رونے کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔ مگر اسے اس رونے سے کوئی تکلیف نہ تھی ۔اسے یاد تھا۔

اس کا پہلا بچہ۔ وہ اس نا سمجھ میں آتے انسانی وجود سے مشابہ بچے کو خوف کے عالم میں تکتی رہی تھی۔ وہ بچہ مروہ تھا۔ بہت بڑا سر مگر اس کی کھوپڑی بہت پلپلی تھی اور بازو۔ جیسے شانے سے دو پتلی چھڑیاں چپکادی ہوں۔ ’’توبہ استغفار۔ اس نے ایسے بچے کو جنم دیا۔‘‘ہائے وہ عش کھا کر گر گئی۔

’’اللہ اپنے پیارے بندوں کو آزماتا ہے۔‘‘ اس کی ماں نے اس کا سر اپنے سینے سے لگایا۔

’’بس اللہ سے معافی طلب کرنی ہے اور توبہ کرنی ہے بس۔‘‘ اس کے باپ نے کہا۔

’’میں اللہ کو اتنی پیاری ہوں امی!‘‘اس نے معصومیت سے ماں کا چہرہ دیکھا۔

’’ہاں بہت پیاری ۔‘‘اس کی امی نے اس کا بھیگا چہرہ چوما۔

بہت جلدی اس بچے کی تدفین کی گئی۔ اس کی ساس نندیں توبہ توبہ کرتی تھیں۔ مگر اللہ کے آگے نہیں۔ اسے سنانے کو۔ دکھانے کو۔ اس کا شوہر نا سمجھی کے عالم میں کچھ کترایا سا پھرتا تھا۔ مگر پھر ماں بہن کے سمجھانے پر اس کا سینہ تن گیا۔ یہ عورت ہی ایسی ہوگی۔ جس نے ایسا بچہ (توبہ استغفار) بچے ماں پر جاتے ہیں (باپ کا پر تو بھی ہوتے ہیں) اور ماں۔ وہ انیس برس کی نازک حور جیسی۔ جس کا چہرہ دیکھ دیکھ دل نہیں بھرتا تھا۔اس کا بچہ۔اور۔ایسا۔

’’امی ! میرے لیے دعا کرنا۔‘‘وہ ماں کے آگے گڑ گڑاتی۔

’’مجھے اور کس کے لیے کرنی ہے۔‘‘ ماں نے اپنے آنسو پیتے ہوئے مجبوری بتائی۔

وہ ماں کے ہاتھ تھام کر ان کے ہاتھوں کے بوسے لیتی رہی۔

’’جتنی بڑی مصیبت اتنی اللہ کی قربت۔اور جب اللہ سے قربت مل جائے تو راز و نیاز کی چھوٹ مل جاتی ہے۔ تم ہم سے زیادہ اللہ کے نزدیک ہوچکی ہو بیٹا!جو دل چاہے مانگ لینا۔‘‘ ابو نے اسے آسان حل بتایا۔

’’وہ انکار نہیں کرے گا۔ اللہ کبھی انکار نہیں کرتا۔منکر ہونا انسانوں کی خصوصیت ہے۔‘‘

اور ان ہی گہری نصیحتوں کے جلو میں۔ مگر خدشات کے ساتھ اس نے اپنے دوسرے بیٹے کو دیکھا تھا۔ جو بہت تندرست اور مکمل دکھائی دیتا تھا مگر وہ پیدائش کے وقت رویا نہیں تھا۔ اور چند گھنٹوں میں پتا لگا۔ اس کا سر معمول سے کچھ زیادہ بڑا ہے۔

چند دنوں میں کچھ اور انکشافات۔

چند مہینوں میں سب کچھ واضح۔

اور چند سالوں میں زبان زدعام ہوگیا۔ مریم کا بیٹا ایک ایب نارمل بچہ تھا۔ اس کی نظر ٹہری نہیں۔ اس نے سر بھی نہیں ٹہرایا۔

وہ روتی ، تڑپی ، مچلی اور شکوہ کناں۔

اور سب سے بڑھ کر سارا دوش اس کا نکلا۔

پھراس کی زندگی کا ، خوشیوں، خواہشوں کا فیصلہ دوسروں کے ہاتھ چلا گیا۔

’’بس اور بچے نہیں۔‘‘

اور پھر ان پانچ سالوں میں اس نے اپنا تجزیہ کیا۔

پہلے بچے کی دفعہ وہ مطمئن تھی۔ ہاں وہ ماں بننے والی ہے ۔ بیٹا یا بیٹی۔ بچوں جیسا بچہ۔ بلکہ اسے بچے کی خوبصورتی کا یقین تھا۔ وہ گوری گلابی تھی اور شوہر کا رنگ بھی صاف۔ ان دونوں کے نقش دل نشین تھے۔ دونوں اپنی جگہ جاذب نظر تھے۔ بچہ ماں باپ یا خاندان ہی کے نقش لے گا۔مگر۔۔۔ایسا نہیں ہوا۔

دوسری بار وہ دعائوں اور استغفار پر آگئی۔ منتیں مرادیں۔ مگر ان سب پر حاوی خدشات تھے اور خدشات مجسم ہو کر سامنے آتے ہیں۔

ایک ایب نارمل بچہ۔ ہا ۔ اللہ ۔

’’اللہ کی انصاف پسند نگاہ تمہارے اوزان پر تھی۔تمہارا ایک پلڑا دعائوں سے لدا پڑا تھا۔ مگر جب تولا گیا تو دوسرے پلڑے میں موجود خدشات بھاری نکلے۔ جو دعا کرتا ہے۔ وہ خدشہ نہیں پالتا۔ ہم دعا نہ بھی کریں مگر یقین کرلیں تو کامیابی دم چومتی ہے۔ تم سے غلطی ہوئی بیٹا۔‘‘ابو کے دوست نے اس کے بلک بلک کر رونے پر سارا معاملہ اس کے سامنے رکھ دیا۔ وہ لمبی مثالیں یا الزامات کے بجائے صاف بات کہہ ۔یہ جاوجا۔

اور پھر اس نے اس بات کو سوچا اور بہت سوچا۔

اور تیسری بار اس نے بے فکری ، لاپروائی سے یقین کیا تھا کہ اللہ تعالی اسے ایک مکمل توانا بچے سے نوازے گا۔

ہاں ۔ ہاں اس بار اس کا بچہ بالکل ٹھیک ہوگا۔

اور تولیے میں ہلتے بچے کو دیکھ کر اسے اپنے یقین پر یقین ہوگیا ہاں یقین اہم ہے باقی سب لن ترانی۔ اللہ پر یقین ،ہاں وہ دے گا۔

وہ بچے کو الٹ پلٹ کر ، چھو چھو کر دیکھ رہی تھی وہ مکمل تھا چار ماہ بعد بھی۔ ابھی بھی۔ چار سال بعد بھی۔ ہمیشہ۔ٹیسٹ خیال گمان ڈاکٹر سب۔ مگر اسے یقین تھا۔وہ رو رہی تھی۔وہ ہنس رہی تھی۔

ڈاکٹرز کا دیا گیا ٹائم پیریڈ۔ مختلف ٹیسٹ۔ انتظار ۔ وہ چار ماہ کا ہو کر نظر ٹہرائے گا۔ سر ٹہرائے گا قلقاریاں مارے گا۔ پکارنے پر دیکھے گا۔ آواز پر چونکے گا۔ چھوٹی چھوٹی موومنٹس۔ ایک مستقل آبزرویشن، سارے گھر کے افراد ہمہ وقت اسے دیکھتے نوٹ کرتے۔ وہ بہت خوبصورت بچہ تھا اور گل گوتھنا وہ مکمل طور پر ماں سے مشابہ تھا۔ ہاں قد کاٹھ یقیناباپ پر جاتا ۔

دادی جب جب اسے پھلتا پھولتا دیکھتیں تو منہ پھیر کے تھتکھار دیتیں۔ اس کے گلے میں تعویذ تھے۔منتیں مرادیں۔

مگر وہ ماں تھی اور اس کا دل پر یقین تھا۔ اس کا بچہ ٹھیک ہے۔ بس اور جب اس نے دس ماہ کی عمر میں پہلی بار قدم اٹھایا۔تب۔

اس نے باقی گھر والوں کی طرح نعرہ بلند نہیں کیا نہ اچھل کود کر بھنگڑے ڈالے وہ مسکراتی نگاہوں سے بچے کو دیکھتی رہی اور پھر سجدے میں گر گئی۔

اس کے شوہر نے بہنوں کو ، بھانجیوں کو سونے کے زیورات دیے تھے لیکن اس نے مونس کے لیے وہیل چیئر مانگی تھی۔

’’وہ تکیوں کے سہارے بیٹھ جاتا ہے۔ میں بٹھائوں گی۔ مجھے کوئی سونا چاندی نہیں لینا۔ بس ایک وہیل چیئر۔ مجھے لگتا ہے وہ بیڈ پر پڑا مزید ناکارہ ہورہا ہے۔ مجھے تو بس یہی چاہیے۔‘‘اس کے لہجے میں ضدی پن آگیا۔

تمام حاضرین نے برے سے منہ بنائے۔ مگر وہ اپنی بات کہہ چکی تھی۔ وہ بچہ سب کے لیے ایک نمونہ یا بے کار چیز تھا مگر اس کے لیے وہ صرف اس کا بیٹا تھا۔ اس کا بچہ اس کی مامتا کی تسکین۔ اسے ساری دنیا سے پیارا۔

وہ جانتی تھی وہ اس بچے کو ٹھیک نہیں کرسکتی مگر وہ اسے کسی قدر آسانی تو دے سکتی ہے۔ ایک کوشش۔ ملال تو نہیں رہے گا نا۔

اور اس نے کس مشکل اور سب کی ناگواری اور مسلسل شور شرابے کے درمیان اسے وہیل چیئر پر بٹھایا تھا ۔ وہ کتنا چیخ رہا تھا وہ رورہا تھا۔ اسے بیٹھنے میں تکلیف ہورہی تھی۔ مگر وہ بڑے ڈاکٹر سے پوری ہدایات لے آئی تھی۔اسے کوشش کرنی تھی۔

اور وہیل چیئر پر اسے بیٹھا دیکھ کر وہ یوں خوش تھی جسے بچہ ریس جیت کر آرہا ہو۔ فاتح۔ کاش !وہ یہ کام پہلے ہی کرلیتی۔ مگر پہلے کوئی مانتا، کبھی نہیں اس کے چہرے پر استہزائ آرکا۔ چھوٹا بھائی بڑے بھائی کے لیے حق میں اچھا ثابت ہوا تھا۔

٭٭٭

وہ اپنے چھوٹے بیٹے کو فٹ بال سے کھیلتا دیکھ رہی تھی۔ اس کے سلکی بال ماتھے پر بکھرے تھے اورلال چہرہ ۔ وہ ہانپ رہا تھا مگر کھیل کا جنون کسی طور کم نہ ہورہا تھا۔

اس کی لگائی کک سے فٹ بال اس کے قدموں میں آگری تو اس نے اس پر اپنا پیررکھ کے بال کو ٹہرایا۔ بچے نے چونک کر ماں کا چہرہ دیکھا۔

’’امی!ہٹ کریں بال کو۔‘‘

وہ بال اٹھا کر اس کے نزدیک چلی آئی۔

’’مجھے تو کھیلنا آتا نہیں۔ کیسے ہٹ کرتے ہیں آپ سکھادو گے؟‘‘

اس نے اسے گود میں اٹھا لیا اور کرسی پر بیٹھ گئی۔

’’میں تو سکھادوں مگر آپ تو میرے ساتھ رہتی ہی نہیں۔‘‘ معصوم لہجے کا بڑا سا شکوہ ۔ مریم کے چہرے پر سایہ سا لہرایا۔یہ یقینااس کے اپنے الفاظ نہیں تھے۔

’’آپ سے کس نے کہا کہ میں آپ کے ساتھ نہیں رہتی۔‘‘

’’دادو کہہ رہی تھیں۔ اور وہ ماسی لوگ بھی۔ کہ آپ کو صرف بھیا اچھا لگتا ہے۔‘‘ مریم کا دل مسلا گیا۔ اس نے اپنے اندر اٹھتے اشتعال پر قابو پانے کی کوشش کی۔

’’اچھا یہ بتائو۔ آپ کو دنیا میں سب سے اچھا کون لگتا ہے ۔‘‘

’’مجھے۔مجھے۔۔۔اوم م م۔۔۔‘‘بیٹے نے شہادت کی انگلی ہونٹ پر جماکر سوچنے کی مہلت لی۔ مریم کا دل دھڑکنے لگا۔ وہ باپ کا نام لیتا یا اس کا۔ ٹھیک ہے۔ لیکن اگر اس نے دادی، پھپھی کا نام لیا تو وہ برداشت نہ کرپاتی۔ اس خیال سے کہ بیٹا اس سے اس حد تک دور جاچکا ہے۔

’’پاپا اور امی۔۔۔ دونوں سے کرتا ہوں۔‘‘

’’اوں ہوں۔ ایک نام لو۔ اچھا آنکھیں بند کرو اور دیکھو کون زیادہ اچھا لگ رہا ہے۔ ‘‘ اس نے اس کی آنکھوں پر اپنے ہاتھ جمائے۔

بچے نے چند پل بے حس و حرکت رہنے کے بعد سر جھٹک کر اس کا ہاتھ ہٹایا۔

’’امی آپ۔ بہت زیادہ پیاری ہیں۔‘‘ اس نے شاید ماں کی خوبصورتی کو سوچا تھا۔ محسوس کیا تھا۔

’’ارے میرا بیٹا۔‘‘ اس نے بیٹے کے گال چومے۔

’’ایک بات کہوں بیٹا!‘‘اس نے بچے کے گرد بازو کسے اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔ ’’میری بات غور سے سننا۔ اور ہمیشہ یاد رکھنا ۔ آپ نے کہا ،آپ سب سے زیادہ پیار مجھ سے کرتے ہیں۔ میں آپ سے کہتی ہوں ، آپ سب سے زیادہ پیار مجھ سے نہ کریں۔ کبھی نہ کریں۔ بلکہ آپ بھی میری طرح سب سے زیادہ پیار اپنے بھیا سے کریں۔ آپ کو دنیا میں سب سے زیادہ پیار اپنے بھیا ہی سے کرنا ہے۔ چاہے کوئی آپ کو کچھ بھی کہے۔ منع کرے یا جو بھی۔ ساری دنیا ایک طرف بھیا ایک طرف۔‘‘

’’لیکن کیسے پیار کروں۔ وہ نہ بات کرتا ہے نہ میرے ساتھ کھیلتا ہے بلکہ وہ تو مجھے دیکھتا ہی نہیں۔ اسے ٹام اینڈ جیری کا نہیں معلوم۔ اسے اسپائیڈرمین کا نہیں معلوم۔ اس نے کبھی میرے ساتھ کرکٹ میچ نہیں دیکھا۔امی ۔‘‘

اس چھ سال کے بچے نے مدبرانہ انداز میں ہاتھ چلا چلا کر دلائل دیئے۔

’’وہ تو چل کر نہیں آسکتا۔درست۔آپ کبھی گئے اس کے پاس کہ بھیا آج میں آپ کو ٹام اینڈ جیری دکھاتا ہوں یا اسپائیڈر مین کا بتایا۔آپ بتاتے اور دکھاتے تو اسے معلوم ہوجاتا نا۔‘‘

’’تو کیا مجھے بتانا چاہےے تھا؟‘‘ اسے شاید اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا۔

’’بالکل بتانا چاہےے تھا۔ کلاس روم میں آپ کی ٹیچر سوال بتانے کے بعد اگلے روز اس کے بارے میں پوچھتی ہیں نا۔ آپ نے کبھی بھیا کو کچھ بتایا نہیں اور خفا ہو کر بیٹھ گئے۔ یہ کیسی بات ہوئی۔‘‘ مریم نے خفگی کا تاثر دیا۔ چہرہ موڑا۔

’’او۔امی! ‘‘بچے نے اپنے چھوٹے ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھام کر اپنی جانب سیدھا کیا۔ ’’میں سمجھ گیا۔ میں اسے سب کچھ بتادوں گا۔ ساری باتیں۔‘‘اس نے ہلکی سی تیوری چڑھا کر ہوا میں اونچا ہاتھ چلایا۔

’’مگر وہ میرے ساتھ کھیل نہیں سکتا۔ اس کے لیے کیا کروں۔‘‘اس نے مسئلہ بتایا۔

’’ہاں۔ یہ بات تو ٹھیک ہوئی۔‘‘ مریم نے مصنوعی طور پر چہرہ پریشان بنایا۔ وہ چند لمحے جیسے سوچ میں گم ہوئی ، ’’مگر بچے۔ آپ اسے یہاں لان میں لاکر بٹھا سکتے ہیں۔ اب جیسے آپ اکیلے اکیلے اتنے اچھے شاٹ لگا رہے تھے۔ بھیا خوشی سے تالیاں بجاتا آپ کو ایپری شیٹ کرتا۔ اسے تالی بجانا آتی ہے نا۔ کتنا مزا آتا۔‘‘

بچے کی آنکھیں حیرانی سے نکلی تھیں اور ہونٹ نیم وا۔ پھر حیران آنکھوں میں تسلیم اور یقین بھرنے لگا۔ وہ قائل ہوچکا تھا۔ مریم نے اس کا چہرہ چوم لیا اور آنکھوں پر ہونٹ رکھے۔

’’ایک بات یاد رکھو۔ جیسے امی دنیا میں سب سے زیادہ پیار بھیا سے کرتی ہے ویسے ہی آپ کو بھی دنیا میں سب سے زیادہ پیار اپنے بھیا سے کرنا ہے۔ نہ دادی، پھپھی نہ پاپا اور نہ ہی مما سے۔ آپ کو صرف اپنے بھیا کو پیار کرنا ہے۔ہمیشہ۔

رات کو سوتے وقت کلمہ پڑھنے کے بعد آپ نے خود سے کہنا میں اپنے بھیا سے بہت پیار کرتا ہوں۔ میرا بھیا دنیا کا سب سے اچھا بھیا ہے۔ ٹھیک ہے۔ کہو گے نا۔‘‘

بچے کی کچھ سمجھ میں آیا یا نہیں۔اس نے سر اثبات میں ہلادیا۔

’’میں سب سے زیادہ پیار بھیا سے کروں گا ہمیشہ۔‘‘

٭٭٭

تازہ پینٹ کی خوشبو اور چمکتے درو دیوار، ماربل کے فرش کی پالش میں چہرہ جھلکتا تھا۔ کارپینٹر کام کر رہے تھے۔الیکٹریشن بجلی کے تاروں میں الجھے تھے۔

بشائر کی آنکھوں میں ستائش ابھر آئی۔ ہر شے میں ایک وقار اور توازن تھا۔ خالی کمرے اس قدر جچ رہے تھے سامان و آرائش کے بعد تو چھب ہی جدا ہوتی۔ اسے سب کچھ پسند آرہا تھا۔ سیاہ ماربل کی کچن سلیب ۔۔۔ وہ اس کی چکنی سطح پر انگلیاں پھیرنے لگی۔ سب ٹھیک تھا۔ تب ہی اس کے ماتھے پر شکن سی ابھر آئی۔ اس نے چاروں جانب دیکھا۔ پھر کچھ واضح ہونے پر شانے اچکا دیے۔ یہ کوئی اس کا اپنا گھر تھوڑی تھا ۔ہر شخص کی اپنی پسند ۔۔۔وہ دوسرے کمرے کی جانب بڑھی۔

عدینہ مامون کے ساتھ ساتھ ہر شے کو دیکھ رہی تھی۔ اس کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ وہ ہر شے کی مدح سرائی میں رطب اللسان تھی۔ عجب مالکانہ استحقاق اور شان بے نیازی اس کی شخصیت کو نمایاں کررہی تھی۔

مامون بجلی والوں سے گفتگو کرتا ذرا باہر نکلا ۔۔۔تو وہ بشائر کے نزدیک آگئی۔

’’کیسا لگا۔‘‘اس کا شارہ گھر کی طرف تھا۔

’’بہت پیارا ۔۔۔ اللہ گھر کو شاد و آباد رکھے ہرا بھرا ۔‘‘اس نے دل کی گہرائیوں سے دعا دی۔

’’ابھی صرف نچلا پورشن تیار ہوا ہے۔ مامون کہتے ہیں۔وہ اوپری پورشن کو ہر لحاظ سے نیچے والے سے مختلف بنائیں گے۔ اٹالین طرز پر۔۔۔ یا جاپانی انداز میں ۔۔۔ اور ہر کمرے کی سیٹنگ میں ایک تھیم ہوگی۔مگر دوسرے سے بالکل الٹ۔۔۔‘‘

’’روایتی سندھی ٹچ اور ایک کمرے میں بلوچی زمینی نشست جیسا انداز بھی رکھا جائے گا۔‘‘عدینہ کے جملے کو اندر آتے مامون نے مکمل کیا۔بشائر نے فقط مسکراکر تائیدی سر ہلایا۔

’’سب کچھ ما شائ اللہ بہت اچھا ہے۔ اللہ آپ کو رہنا بسنا نصیب کرے۔‘‘

مامون کی مسکراہٹ پر اس نے وضاحت کی۔ نیا گھر دیکھ کے ایسے ہی الفاظ میں دعا دیتے ہیں۔

’’اٹس اوکے۔اینڈ تھینک یو فار یور پرے۔‘‘

’’نہیں۔۔۔پھر آپ ان شائ اللہ بولیے۔۔۔ دعا پر مہر لگ جاتی ہے۔‘‘ وہ مسکرائی۔ سگریٹ سلگاتے مامون کے ہاتھ رکے چہرے پہ خجالت آئی اس نے ان شائ اللہ کہہ کر اپنی تصحیح فوراًکی۔

پہلے خجالت آمیز نگاہیں۔۔۔ پھر جتاتی مسکراہٹ والی نگاہیں۔

بشائر نے نظر چرائی۔ وہ گھوم کر لکڑی کے دروازوں کے ڈیزائن پر انگلیاں پھیرنے لگی۔ مامون نے رخ پھیرا۔ وہ کھڑکی کے قریب چلا گیا تھا اور اب دوبارہ سگریٹ سلگا رہا تھا۔ اس نے پہلا طویل کش لے کر دھواں کھڑکی سے باہر چھوڑا۔عدینہ اس کے مقابل کھڑی کچھ کہہ رہی تھی۔

بشائر دھیرے دھیرے ان سے دور کھسکی۔اس نے درزیدہ نگاہوں سے دونوں کو دیکھا۔ مامون نے سیاہ جینز پر نیلی کاسنی شیڈ مارتی شرٹ پہن رکھی تھی۔ کف موڑے وہ عدینہ کو کسی بات کا جواب دیتے ہوئے کش لے رہا تھا۔ دونوں کھڑکی کے فریم میں کسی تصویر کی طرح فٹ آرہے تھے۔ عدینہ گرد و پیش سے بے گانہ تھی۔ وہ بس مامون کو دیکھتی تھی۔ سنتی تھی اور کہتی تھی۔اس کے انداز میں ایک سرشاری، بے فکری اور بے حد خوداعتمادی تھی۔ اسے کسی شے کا خوف نہیں تھا۔

بشائر نے ذرا سا سوچا۔ عدینہ کبھی اعلا سطح کی گہری گفتگو نہیں کرتی تھی۔ بس اپنی کہتی تھی۔ اپنی پسند، اپنی مرضی، اپنی خواہش، میں کا قضیہ۔۔۔ وہ حالات حاضرہ کے دکھڑے نہیں پالتی تھی۔ فلموں، ڈراموں سے بھی بس معمولی شغف تھا۔ پھول، بوٹے، بہار، موسم، شاعر، موسیقی نہیں ان میں سے کوئی چیز بھی اس کا پسندیدہ موضوع نہیں تھی۔تو پھر۔۔۔

بشائر نے مسلسل بولتی عدینہ اور ہمہ تن گوش مامون ابصار کو دیکھ کر سنجیدگی سے دوسری بار اس بات کو سوچا۔

وہ آخر مامون ابصار سے کون سی باتیں کرتی ہے، کس بارے میں، کیسے قصے ۔۔۔ جن میں سامع کی اتنی دلچسپی ہے۔ کون سی باتیں؟ اسے حیرانی آمیز تجسس تو تھا۔مگر ٹوہ لی جائے۔ اونہوں۔۔۔غلط بات۔

اس نے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جاتے ایک گہری نگاہ مامون ابصار پر ڈالی۔ یہ شخص۔۔۔ اس کی آنکھیں۔۔۔ آنکھیں۔۔۔ کیا ہے ان آنکھوں میں جو کچھ نہیں آتا۔

وہ سیکنڈ فلور پر آگئی تھی۔ یہاں کام ابھی کافی باقی تھا۔ وہ یوں ہی کھڑکی سے ٹنگ کر گرد و پیش کا جائزہ لیتی رہی۔ پزا کی ہوم ڈلیوری والے کی بائیک رکی ۔۔۔ اوہ ۔۔۔ ان کی تواضع کا خیال ۔۔۔ کچھ دیر میں عدینہ اور مامون اوپر آگئے۔ ایک مزدور پلاسٹک کی کرسیاں میز بھی اٹھاکر لا رہا تھا۔

’’یہ سب تو تکلف ہوا ۔‘‘وہ مامون کو میز پر سامان رکھتے دیکھ کر شرمندہ ہوئی۔ عدینہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھ چکی تھی۔ بشائر نے آگے بڑھ کر شاپرز کھولنے شروع کردیے۔

’’چھوڑ دیں بشائر! مامون ہی کو کرنے دیں۔آج ہم ان کے مہمان ہیں۔‘‘

عدینہ کا انداز شرارتی تھا۔مزا لیتا ہوا،جتاتا سا۔

’’عدی ٹھیک کہہ رہی ہے۔ آپ تشریف رکھیے۔ میں اچھا میزبان ثابت ہوں گا، بلیو می۔‘‘اس نے نرمی سے بشائر کے ہاتھ سے شاپر لے لیا۔وہ شانے اچکاکر رہ گئی۔

عدینہ اسے بتانے لگی کہ اوپر کس طرف کس کا کمرہ ہو گا۔ ’’یہ بیڈ روم ہوگا اور کامن کے ساتھ دوسرا روم ۔۔۔ دادا ، دادی کے لیے بنا ہے۔ مامون کہتے ہیں۔ وہ انہیں یہاں لے آئیں گے۔ مگر وہ لوگ کہتے ہیں انہیں اپنا گھر بہت پیارا ہے اور وہ اسے کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ ابھی تو خیر گھر بنا نہیں، جب مکمل ہوگا اور مامون شفٹ کریں گے۔ تب دادا جان کو ماننا ہی پڑے گا۔ مامون کو منوانا آتا ہے۔ ‘‘وہ دلکشی سے ہنسی۔

’’سب کچھ بہت اچھا ہے۔ اسپیشلی مجھے ایریا بہت اچھا لگا، بہت سکون ہے یہاں۔۔۔ اسلام آباد جیسا ۔۔۔ کراچی، لاہور تو بہت شور والے شہر بن چکے ہیں۔‘‘بشائر نے کہا۔

’’آپ تعریف ہی کرتی رہیں گی، کوئی نقص پکڑیے، کوئی مشورہ۔۔۔ ‘‘مامون اب اس کی جانب متوجہ تھا۔

’’جب ہر چیز ہے ہی تعریف کے قابل تو غلطی کہاں نکلے گی۔‘‘عدینہ نے چمک کر کہا۔

بشائر کے کھلتے لب بھنچ گئے۔ ’’میں پہلے ہی کہہ چکی ہوں،سب اچھا ہے ۔ماشائ اللہ۔‘‘

’’یقینا اچھا ہے۔‘‘مامون نے گہری نگاہ اس کے اوپر گاڑی۔’’مگر ابھی نیچے کچن میں آپ کو کچھ ناگوار یا اعتراض سا ہوا تھا۔آپ کچھ کہتے کہتے رکی تھیں۔اب آپ وہ کہیے۔‘‘

’’اوہ۔۔۔!‘‘ بشائر کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں۔’’ایسا کب۔۔۔‘‘

’’آپ مکر نہیں سکتیں۔ میں اس وقت اتفاق سے آپ ہی کو دیکھ رہا تھا۔ آپ بہت تیزی سے کچھ کہنا چاہتی تھیں۔مگر نہ جانے کیا سوچ کر رک گئیں۔‘‘

’’میں۔۔۔ ‘‘بشائر نے ذہن پر زور دیا۔ ’’ہاں۔۔۔ چھوڑیے ایسا کوئی بڑا اعتراض تو نہیں ہے ۔‘‘

’’تو اگر اعتراض نکلا تو کیا مامون اب توڑ پھوڑ کریں گے۔ سب کچھ تیار ہے۔‘‘ اس کے جملے کے بیچ میں عدینہ نے ٹانگ اڑائی۔ وہ جیسے اس بارے میں کوئی بات سننا ہی نہیں چاہتی تھی۔ مامون کے فیصلے کیسے غلط ہوسکتے ہیں۔پاگل ہے کیا۔

’’خاموش عدی۔۔۔!سننے تو دو ۔۔۔میں واقعی توڑ نہیں سکتا۔ مگر مجھے علم تو ہو، کیا بات ہے۔‘‘ مامون نے عدینہ کو ٹوکا اور دوبارہ اس کے چہرے پر نظریں جما دیں۔

بشائر نے نوالہ نگل کر عدینہ کے چہرے کو دیکھا۔ جہاں تنائو کی سی کیفیت تھی اور مامون ہمہ تن گوش۔

’’دراصل لائونج سے ملحق کچن ۔۔۔ آئی مین اوپن کچن۔ بنیادی طور پر یورپی ٹھنڈے ممالک کی سردی کو دیکھتے ہوئے وجود میں آئے تھے۔ ہمارے ایشین گرم ممالک میں کچن کا باقی گھر سے ذرا علیحدہ یا دور ہونا ہی بہتر ہے۔ پھر ہمارے گھروں میں یورپی ممالک کی نسبت کوکنگ بہت زیادہ ہوتی ہے، تین ٹائم ۔۔۔ اور ہمارے کھانے بہت زیادہ ٹائم لیتے ہیں پکنے میں، آئی مین روٹی، ساگ، پائے، حلیم، بلکہ ہر چیز تو ایسے میں جب چولہا دن و رات جلے گا تو گھر تو پھر تندور بن جائے گا۔ کم از کم لائونج تو بیٹھنے کے قابل نہیں رہ سکتا۔ بس اور کچھ نہیں۔ ‘‘اس نے بہت تفصیل سے بتایا۔ مگر جملے کے اختتام تک جھینپ گئی۔ خوامخواہ کا اعتراض۔

عدینہ کا منہ حق دق کھلا کا کھلا رہ گیا۔

مامون نے ہونٹ بھینچتے ہوئے چند پل خاموش رہنے کے بعد شانے اچکا دیے۔

’’میں واقعی اس بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ پھر یہاں سب گھر اسی طرح بن رہے ہیں اور نہ ہی انجینئر نے کوئی مشورہ دیا۔ یہ تو بڑی گڑبڑ ہوگئی۔‘‘ وہ متاسف نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔بشائر نے شرمندگی سے سر جھکالیا۔

’’آپ خوامخواہ پریشان ہورہے ہیں۔ مجھے تو بھئی ایسا ہی کچن پسند ہے۔ یہ کیا ڈبی جیسے کچن میں بند ہوجائو۔ سارے گھر سے کٹ کے۔‘‘عدینہ نے سارا معاملہ سمیٹ دیا۔

بشائر نے ٹھنڈی سانس لے کر پانی کا گلاس لبوں سے لگالیا۔ وہ ہلکا سا رخ موڑ کر باہر دیکھ رہی تھی۔ اس کے دماغ میں ایک ہی جملہ چکرا رہا تھا۔’’مجھے تو بھئی ایسا ہی کچن پسند ہے۔(ہاں اصل بات یہ ہے)

’’چلیے بشائر! اب جو ہونا تھا وہ ہوگیا۔ مگر آپ کو کوئی نہ کوئی رائے یا مشورہ دینا ہوگا۔‘‘مامون نے اس کی عقل کو تسلیم کیا تھا۔

’’میں کیسے۔‘‘ وہ گڑبڑائی۔

’’یہ عدینہ تو کان کھالیتی ہے۔ ایسے۔۔۔ ویسے جیسے،آپ فوراًکچھ بولیے،کچھ بھی۔‘‘

اوپر پڑے سامان ریت اینٹ سے بچتی بچاتی وہ کھڑکیوں سے باہر جھانکتی رہی۔ اس نے دل کو اچھے سے سمجھایا تھا۔ مگر دل اچانک ہر شے سے اچاٹ سا ہوگیا۔ رشک اور حسد بال برابر فرق۔۔۔ اس نے سورہ الناس پڑھنی شروع کردی۔ دل ٹھہرنے لگا اور دھیان ہٹنے۔

واپسی کے لیے گاڑی میں بیٹھتے وقت ۔۔۔ مامون نے ایک بار پھر اسے مخاطب کیا۔

’’مشورہ ادھار رہے گا۔‘‘

بشائر بدقت مسکرائی۔ ’’میں ادھار کی قائل نہیں۔‘‘وہ قصداً بہت بے نیازی سے بولی۔آپ آج ہی کسی مالی کو بلالیں۔ گھر کے تیار و مکمل ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کے شفٹ ہونے تک لان کی باقاعدہ شکل نکل آئے گی۔ پھر ہر شے انگوٹھی میں نگینے کی طرح فٹ ہوگی۔ اگر آپ نے کنسٹرکشن کے آغاز پر ہی اس جانب توجہ دی ہوتی تو اب تک تو پیڑ پودے قد نکال چکے ہوتے۔‘‘ وہ بات کے اختتام پر مسکرائی۔آتی ہوا نے پف کو بگاڑ دیا تھا۔ اس نے انگلیوں کی کنگھی سے اسے مشاقی سے سنوارا اور دروازہ کھول کر اندر گھس گئی۔

مامون کی آنکھوں میں حیرانی کے بعد ستائش ابھر آئی۔ اسے یہ دھیان کیوں نہ آیا۔ عدینہ کے چہرے پر بھی اچنبھا سا تھا۔ اس نے سوچ رکھا تھا اور مامون سے کہا تھا کہ وہ بہت ہی بھرا لان بنوائے۔ مگر یہ خیال۔۔۔ وقت کا تعین۔۔۔ اس نے اس پہلو پر کیوں نہ سوچا۔ شاید اس لےے کہ وہ مامون کی ہاں میں ہاںملانے کی عادی تھی۔

گاڑی اسٹارٹ کرتے مامون نے ویو مرر میں بشائر کا سادہ مگر ذہانت سے چمکتا باوقار چہرہ دیکھا۔ اس کے چہرے پر کسی بھی قسم کی لیپا پوتی نہیں تھی۔ وہ اپنے نیچے پھنسے دوپٹے کو نکالنے کی مشقت جھیل رہی تھی۔دوپٹا سر پر لپیٹ رہی تھی۔

عدینہ کے چہرے پر تنائو سا تھا ۔اس نے سیٹ پر بیک سے سر ٹکاکر آنکھیں موندلیں۔وہ واقعی بہت تھک چکی تھی۔

٭٭٭

’’سنا ہے کل آپ تاج محل دیکھنے گئی تھیں۔‘‘بخت نے کہا۔

’’تاج محل۔۔۔ کون سا تاج محل۔۔۔ ہم تو کل سی ویو گئے تھے۔ ہاں اس سے پہلے۔۔۔اور تاج محل کراچی میں کب ہے۔ وہ تو آگرہ۔۔۔انڈیا میں ہے۔‘‘جواب دیتی بشائر نے حیرت سے بخت کی شکل دیکھی۔

’’میں اس تاج محل کی بات نہیں کررہا ہوں۔جو ممتاز کے لیے شاہ جہاں نے بنوایا مرنے کے بعد۔۔۔ میں تو اس کی بات کررہا ہوں جو۔۔۔‘‘

’’یہ فالتو کی باتیں چھوڑو ۔۔۔‘‘بشائر کو یاد آیا وہ کیا پوچھنے آئی تھی۔ وہ اتنے دن سے آیا ہی نہیں کہ وہ پوچھ پاتی۔

’’تم اس روز کیا کہہ رہے تھے۔ عدینہ اور ۔۔۔ تم عدینہ کا نام لے کر کہہ رہے تھے۔ وہ زخم لگاتی ہے۔ بخت تم اور عدینہ ۔۔۔تم سے عدینہ سے۔‘‘بشائر پریقین تھی۔

’’ہاں!۔۔۔‘‘بخت نے ہاں کی یا آہ خارج کی۔

’’اوہو ۔۔۔ مگر وہ تو ۔۔۔‘‘بشائر تاسف میں گھری۔ اس کے چہرے پر پریشانی آ رکی۔

’’اتنا گمبھیر مسئلہ نہیں ہے۔‘‘بخت نے ڈھارس دی۔’’چھوٹی سی بات ہے۔‘‘

مامون اسے عدی کہتا ہے۔ میں بس یہ چاہتا ہوں۔ وہ اسے ساری زندگی ادی ہی کہے۔‘‘ اس کا انداز بے حد سنجیدہ تھا۔

’’ہائیں!‘‘ بشائر کچھ نہ سمجھی، منہ کھول کر اس کی بے حد سنجیدہ شکل دیکھی۔ ’’ادی۔۔۔ ادی۔۔۔ مطلب۔۔۔ ‘‘

’’سندھی میں بہن کو کہتے ہیںاماں۔۔۔اب اماں پر منہ نہ کھولیں۔اماں بڑی بہن کو کہتے ہیں۔ آپ میری اماں ہوئیں نا۔‘‘بشائر کی ہنسی بے ساختہ تھی۔

’’عدی۔۔۔ ادی۔۔۔ واہ۔۔۔ تم تو بڑے بے نیاز سے نظر آتے تھے بخت۔۔۔تمہاری اپنی دنیا۔۔۔ تم کب اس جھمیلے میں پڑے۔‘‘اسے سچ مچ دکھ ہوا تھا۔

’’صرف بے نیاز نہیں، بے وقوف بھی کہیے بلکہ۔‘‘وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر ہنس دیا۔

’’عدینہ کو دیکھ کر میں بے خود ہوجاتا ہوں اور اس محفوظ و مامون کو دیکھ کر بے قابو۔‘‘ اس نے بے خود کہنے پر آنکھیں جذب کے عالم میں بند کرکے جھوم کے دکھایا اور بے قابو کہنے پر فضا میں گھونسا تان لیا۔ بشائر کی ہنسی بے قابو ہوگئی۔

’’آپ کی ہنسی بہت خوب صورت ہے بشائر!‘‘ بخت سحر زدہ سا اس کی شکل دیکھ رہا تھا۔ بلکہ خوب صورت تو ہر دوسری چیز ہوسکتی ہے۔ آپ میں کچھ خاص ہے۔ بیان کرنا مشکل ہے۔ ہر جنبش میں وقار۔۔۔ ہر۔۔۔‘‘

’’اے ۔۔۔ بس۔‘‘اس نے ہاتھ اٹھاکر اسے روکا۔ ’’اِدھر اَدھر مت گھمائو۔ تم مامون کو پسند نہیں کرتے، ہے نا۔‘‘اس نے اصل مدعا کہا۔

’’اوہ۔۔۔ وہ!۔۔۔‘‘بخت نے لاپروائی سے ’’وہ‘‘ کو کھینچا۔ ’’تو آپ دلوں کے بھید بھی جان لیتی ہیں۔‘‘

’’مگر کیوں بخت ۔ وہ تو ۔۔۔اتنا مکمل ڈیشنگ ،زبردست۔۔۔‘‘

’’اوہ!۔۔۔‘‘بخت نے بھنویں اٹھائیں۔ ’’آپ بھی۔‘‘

’’کیا میں بھی؟ بات کر رہی ہوں۔ گھمائو مت، تم اسے پسند کیوں نہیں کرتے؟ عدینہ کی وجہ سے؟ بولو۔‘‘

’’شاید ہاں ، شاید نہیں۔‘‘

’’بخت! تم مجھے زچ کر رہے ہو۔‘‘ وہ جھلائی۔

’’آپ کسی اور موضوع پر بات کریں۔ آج کا اخبار دیکھا؟‘‘ بخت نے اخبارات کا پلندہ اس کے سامنے سرکایا۔

’’بخت!‘‘ اس نے تنبیہی انداز میں میز پر ہاتھ مارا۔

بخت نے نظریں جھکالیں۔ وہ پین سے اخبار پر پھول بوٹے بنانے لگا تھا۔خاموشی بولنے لگی۔

’’کیا تم اس سے جیلس ہو۔‘‘بخت نے چونک کر نظریں اٹھائیں۔

’’عدینہ کی وجہ سے۔‘‘بشائر نے جملہ مکمل کیا۔

بخت نے قلم چھوڑ دیا۔وہ میز پر کہنیاں ٹکاکر جواب دینے کو تیار تھا۔

’’نہیں۔۔۔ مامون کی فطرت کا جنون، انتہا پسندی، کاملیت پسندی، آپ نے کبھی اس کی آنکھوں کی سردمہری نہیں دیکھی۔ پل بھر کی ساعت کو آنے والی یہ لہر اسے اندر تک سے واضح کرتی ہے اور اس بات کو وہ خود بھی نہیں جانتا۔ وہ ظاہر باطن میں بالکل جدا ہے۔‘‘

بخت اپنی رائے میں ٹھوس تھا،حتمی۔

بشائر کچھ نہ سمجھی۔

’’مگر عدینہ تو۔۔۔‘‘

’’عدینہ کی آپ فکر نہ کریں۔۔۔ وہ جی حضوری کی عادی ہے۔ بخوشی بہ رضا۔ وہ ساری زندگی گزارنے کے بعد بھی اصل سے واقف نہیں ہوگی۔ آپ نے اسے جانا نہیں۔ وہ سرورق کی خوب صورتی سے متن کا اندازہ لگاتی ہے۔ ورق پلٹنے اور سطریں پڑھنے سے اسے کوئی علاقہ نہیں۔ آپ اس کی فکر میں نہ گھلیں۔‘‘

بشائر خاموش رہ گئی۔ ہاں بخت نے یقینا زیادہ بہترین تبصرہ کیا تھا۔ وہ انہیں زیادہ جانتا تھا۔ بشائر کی تو بس ایک نظر ہی تھی نا۔

اس نے ایک خیال آنے پر اخبار اٹھاکر چہرے کے سامنے پھیلالیا۔

’’اگر بخت جان لے۔اس نے بھی تو صرف سرورق کی خوب صورتی دیکھی تھی اور خریدنے پر مچل گئی۔ہونہہ ہشت بشائر۔۔۔عقل کے ناخن لو!‘‘

٭٭٭

’’میں پہلے خوش تھی۔ پھر اداس ہوگئی۔ اب پھر خوش ہوں۔‘‘

’’آپ نہیں تھے نا ابو۔۔۔ آپ سب لوگ۔۔۔ امی، بھائی، چھوٹی۔۔ لیکن اب میں یہاں مزے میں ہوں۔ آپ کی صحت اچھی ہے نا۔ باہر کے ممالک میں خوراک ملاوٹ سے پاک غذائیت بخش ہوتی ہے۔ آپ کتنے صحت مند ہوئے۔

امی کا رشتہ دیکھنے کا شوق پورا نہیں ہوا۔ اب کس پر نظر کرم۔ اچھا۔۔۔ اچھا۔۔۔ ایسا کون جو اتنا زیادہ پسند آگیا۔‘‘وہ کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھی تھی۔ ایک پیر مسلسل ہل رہا تھا۔ قمیص کی نادیدہ شکنیں دور کرتے وہ بہت پرسکون ہوکر ابو سے فون پر محو گفتگو تھی۔ بہت دنوں بعد تفصیلی بات ہورہی تھی۔

’’اچھا آپ کو بھی سب اچھا لگ رہا ہے۔ یعنی کوئی اعتراض نہیں۔ مجھے بلوانے کی فکر میں کیسی جلد بازی۔۔۔ میں بہت اچھی طرح سے ہوں ابو،مزے میں۔

نہیں مجھے کوئی پریشانی نہیں۔۔۔ یہاں سب بہت اچھے ہیں۔۔۔ اچھا کہوں گی سب کو سلام دعا۔۔۔ ہاں ہاں مجھے کچھ نہیں چاہےے۔ پیسوں کی بھی ضرورت نہیں۔ پچھلے والے بھی خرچ نہیں ہوئے۔‘‘

وہ باپ کو یقین دلانے کو ہر طرح سے تسلی دے رہی تھی۔ رابعہ خاتون باقاعدہ کرسی رکھ کے اس کے قریب بیٹھی تھیں۔ یک طرفہ گفتگو سے نتیجہ اخذ کیا تھا۔راحیلہ اور سجاد نے اس کے لیے وہاں کینیڈا میں کوئی رشتہ دیکھا تھا۔وہ تفصیلات جاننے کو بے چین تھیں۔

’’زیادہ تو مجھے پتا نہیں۔مگر ابو آپ کو تفصیلی کال کریں گے۔ ابھی تو کہنے لگے۔ یوں ہی بیٹھے بیٹھے بہت زیادہ یاد آنے لگی تو نمبر گھما لیا۔۔۔ بس۔۔۔ ‘‘باپ کی آواز اور بے قراری کو وہ بھانپ لیتی تھی۔ ایک سرشاری سی اسے مسکرانے پر مجبور کررہی تھی۔

’’تو آپ شادی کرکے کینیڈا جائیں گی۔‘‘عدینہ اپنے پیر نیم گرم پانی میں ڈبوئے بیٹھی تھی۔ قیاس اس نے بھی لگایا۔

’’شاید۔۔۔ پتا نہیں۔‘‘اس نے شانے اچکائے۔

عدینہ نے ذرا سی ناک سکوڑی۔’’ہونہہ۔۔۔ کینیڈا۔۔۔‘‘ کچھ لوگ ہر اچھی چیز کو بس اپنے لیے چاہتے ہیں۔ دوسرے کو بھی اچھی مل رہی ہے۔ پتا لگ جائے تو بلاوجہ ہی پہلو بدلتے پائے جاتے ہیں۔

’’ہیلو۔۔۔ السلام علیکم نانو۔۔۔‘‘مامون تیزی سے اندر داخل ہوا۔

’’وعلیکم السلام۔‘‘ رابعہ خاتون مسکرائیں۔وہ راحیلہ کے حوالے سے اپنے خدشات کے غلط ثابت ہونے پر خوش تھیں۔ عدینہ نے جوش سے ہیلو کہا۔ بشائر نے فقط سر ہلاکر جواب دیا۔ وہ آج شمسہ بیگم کے ہمراہ بازار جانے کو تیار تھی۔ لاہور سے آنے کے باعث اس کے پاس بے حد گرم کپڑے تھے۔ کچھ نارمل کاٹن لینن پرنٹس کے لیے وہ چکر لگانا چاہتی تھی۔ وہ تیزی سے اپنے کمرے کی جانب بڑھی۔ سنگھار میز کے آئینے میں خود کو دیکھتے ہوئے وہ سوچ کی گہری وادیوں میں اتر سی گئی۔

’’ہاں۔۔۔ اس خیال نے ہر پل اس کے دل پر ستم ڈھایا تھا کہ ابو اسے چھوڑ گئے۔ وہ فطرتاً مثبت سوچ رکھتی تھی۔ اس نے سوچا، اچھا ہوا، ابو کینیڈا چلے گئے۔ ابو اب بوڑھے ہورہے تھے۔ وہ اکلوتے تھے۔ جبکہ راحیلہ امی کا سارا خاندان کینیڈا میں شفٹ ہوچکا تھا۔ اس کے سوتیلے چھوٹے بہن، بھائی سحر اور احد بہت چھوٹے تھے۔ ابو نے ان کے مستقبل کے حوالے سے بروقت فیصلہ کیا تھا۔ مگر اسے بہت ہلکا ہی سا مگر یہ خیال آیا تھا۔ ابو نے اس کا خیال نہ کیا۔۔ مگر نہیں۔۔۔ وہ اس کے لیے فکرمند تھے۔ آج کتنی دیر وہ اس سے دنیا جہان کی باتیں کرتے رہے۔ ’’ابو۔۔۔ میرے پیارے ابو۔۔۔ سحر۔۔۔ احد اور راحیلہ امی آپ بھی۔۔۔آئی لو یو آل۔‘‘

دل ہلکا پھلکا تھا۔ اس نے یوں ہی اپنا جیولری بکس کھول لیا۔ انگلی بھر لمبائی کا باریک چین نما بندہ ایک سفید موتی کان کی لو سے چپکا تھا اور دوسرا زنجیر کے سرے سے چپکا ہر جنبش پر گردن کو چھوتا تھا۔ اس نے کچھ گنگناتے ہوئے زور سے بالوں میں برش پھیرا۔ پرفیوم کا اسپرے، اپنے گداز ہونٹوں پر چاکلیٹ، برائون رنگ کی لپ اسٹک لگالی۔ اس کی تو مانو جون ہی بدل گئی۔ یہ یہاں آنے کے بعد اس کا پہلا سنگھار تھا۔

رابعہ خاتون کی کسی بات کا جواب دیتا مامون اسے دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔ بقیہ جملہ حلق میں پھنس گیا۔ اسے سنجیدگی سے سنتی عدینہ نے نظروں کے تعاقب میں جب گردن گھمائی۔ تو بے حد حیرت کے عالم میں یک دم کھڑی ہوئی تو پیر ٹب کے اندر تھے۔ ایک چھپاکا سا باہر اچھلا۔ وہ سرعت سے بیٹھی۔ مگر چہرے کے ہونق تاثرات ہنوز تھے۔

’’ماشائ اللہ بیٹی۔۔۔ تم تو بس منہ ہی دھوکر رہتی ہو۔کیا خوب چہرہ چمک اٹھا۔ ایسے ہی رہا کرو۔۔۔باپ کے فون نے خوشی بھر دی ہے اس کے اندر۔‘‘اگلا جملہ مامون کے لیے تھا۔

مامون مسکرایا۔’’کیسے ہیں وہ۔۔۔سب خیریت۔‘‘

’’ہاں وہ ٹھیک ہیں۔ رات میں سحر اور احد بھی بات کریں گے۔‘‘ وہ واقعی بہت خوش تھی۔’’میرے چھوٹے بہن، بھائی ہیں۔‘‘اس کے لہجے میں محبت کا سمندر تھا۔

’’ہاں ماشائ اللہ۔ میں نے دیکھا تھا۔ پورا سجاد کا بچپن ہے۔‘‘رابعہ خاتون نے یادداشت ٹٹولی۔

مامون نے سر ہلایا۔ عدینہ ابھی تک سکتے کے عالم میں تھی۔ لال، گاجر اور برائون رنگ کے چنری پرنٹ کا ڈھیلا ڈھالا سوٹ۔ اس کے آویزے انوکھے تھے یا گردن کی لمبائی یا ہونٹوں کا نیا رنگ یا سوٹ بہت خوب صورت تھا۔ وہ بے وقوفی کررہی تھی۔ ہر شے اپنی جگہ مکمل ۔ معاملہ یہ تھا کہ عدینہ کو اپنے آگے کوئی اور نظر آتا ہی نہیں تھا۔وہ دیکھنا چاہتی بھی نہیں تھی۔

’’میں جائوں دادی جان۔۔۔شمسہ آنٹی انتظار کررہی ہوں گی۔‘‘اس نے دوپٹا اپنے گرد لپیٹا۔

’’ہاں۔۔۔ ہاں۔۔۔ بالکل۔۔۔بہت شوقین ہیں شمسہ بازاروں میں گھومنے کی اور بھئی مہارت بھی خوب ہے بھائو تائو میں،ان سے بڑھ کر کون ہوگا۔‘‘رابعہ خاتون نے تعریف کی۔

’’ایک منٹ بشائر! آپ آج شاپنگ سے فارغ ہولیں۔ تو کل یا جب ٹائم نکالیں۔ ذرا گھر تک چلیے گا۔ لان کے لیے کام شروع ہوگیا ہے۔‘‘ مامون کے پکارنے پر وہ رک گئی۔ اس نے اس شخص کے چہرے کو دیکھنے سے احتراز کیا تھا۔

’’آپ نے شروع کروایا ہے تو یقینا اچھا ہوگا۔میرا جانا ضروری تو نہیں۔‘‘ وہ جانا ہی نہیں چاہتی تھی۔

’’لیکن میں چاہتا ہوں کہ آپ ایک بار چلیں۔‘‘مامون نے زور دے کر کہا۔ بشائر نے رابعہ خاتون کا چہرہ دیکھا۔

’’چلی چلنا بیٹا۔۔۔ بڑی محنت سے میرے بچے نے یہ سب بنایا ہے۔ بڑی ہمت ہے اس کی۔‘‘ رابعہ خاتون کو مامون سے عشق اور آنکھ بند کرکے یقین تھا۔ اس کی مداح سرائی تو وہ سوتے میں بھی کرتی تھیں۔

اس نے عدینہ کو دیکھا۔ وہ اپنے پیروں پر تولیہ رگڑنے لگی تھی۔ مگر اب ساکت ہاتھوں اور نظروں سے مامون کو دیکھ رہی تھی پہلی بار ۔اس نے اسے نہیں کہا۔ اس نے بشائر کی رائے کو۔۔۔ اسے یہ خیال ہی کیوں آیا کہ وہ بشائر کو لے کر جائے گا۔اس نے۔۔۔

’’دراصل لان تو آپ دیکھیں گی ہی۔۔۔اصل بات یہ ہے کہ میں نے لائونج اور کچن کے بیچ دیوار اٹھا دی ہے اور کچن کی بیک دیوار پر ایک بڑی ونڈو رکھوا دی جو بیک ایریا میں کھلے گی۔ آپ وہ دیکھیں۔‘‘مامون نے اصل بات کہی۔

’’جی۔۔۔‘‘بشائر اچنبھے کے عالم میں پھنسی آواز کے ساتھ بدقت کہہ سکی۔

’’کیا۔۔۔۔‘‘ عدینہ چلائی۔

’’کون سی دیوار چنوا دی۔‘‘عظیم خان نے آدھا کانا قصہ سنا’’۔میرا مطلب اٹھوا دی۔۔۔اور خیر چنوا دی تو چنوا دی۔ مگر کیا بیک گرائونڈ میں ’’محبت کی جھوٹی کہانی پر روئے‘‘کا ریکارڈ چلایا تھا۔‘‘وہ تسلی سے صوفے پر ٹکے۔

’’اف!۔۔۔‘‘رابعہ خاتون نے اپنا سر پکڑا۔ مامون کے بے ساختہ قہقہے میں بشائر اور عدینہ کی آواز بھی شامل ہوگئی۔

’’بھئی ،اس لیے کہا کہ ذرا ماحول سا بن جاتا۔ دیوار میں چنے جانے کا دکھ آدھا رہ جاتا۔گانا مکمل۔۔۔ دیوار مکمل۔۔۔اب روتی ہے تو روتی رہے۔ہاں بڑی چوٹ کھائی جوانی پہ روئے ے ے ے۔۔۔محبت کی۔‘‘

رکتی ہنسی نے ایک بار پھر زور پکڑا۔مامون کے انکشاف کا اثر ختم ہوگیا۔

فون بیل پر رابعہ خاتون نے بشائر کو عجلت سے آواز دی۔شمسہ بیگم گھر سے نکلی گلی میں کھڑی تھیں۔ بشائر ہنستا چہرہ لیے باہر کو لپکی۔

پیچھے مامون، عظیم خان کو چنی دیوار کا حدود اربعہ بتا رہا تھا۔

عدینہ کی نظریں مامون کے چہرے پر ٹکی تھیں۔مگر دھیان کسی اور ہی انجان سفر پر گامزن تھا۔

٭٭٭

’’وہ ایسا ہی ہے۔‘‘ بازار سے ڈھیروں ڈھیر خریداری کے بعد وہ شمسہ بیگم کے گھر ہی لوٹی تھی۔ بخت ان دونوں کے لیے چائے بناکر لے آیا۔ بشائر دونوں ہاتھوں سے اپنے پیروں کی انگلیاں دباتی۔ شمسہ بیگم کو سن رہی تھی۔ اس نے مامون اور اس کے گھر کے سارے قصے کو انہیں سنایا تھا۔ اپنی حیرت۔۔۔ اور اتنا فوری اور انتہائی ری ایکشن۔۔۔وہ راستے میں یہی گفتگو کرتی آرہی تھیں۔

’’وہ کسی شے میں کمی یا کجی برداشت کر نہیں سکتا۔بعض اوقات اس کی یہ عادت بہت اچھی لگتی ہے اور بعض دفعہ ایک جنون ، بے وقوفی۔۔۔ اعتدال بہترین رویہ ہے۔نقصان کا اندیشہ نہیں رہتا۔‘‘وہ کہہ رہی تھیں۔

’’آپ بہت ہلکے جملے استعمال کررہی ہیں والدہ ماجدہ۔۔۔ سیدھی بات کریں تو ایک ہی جملہ۔۔۔ یہ ایب نارملٹی کی ایک صورت ہے۔‘‘چائے کے گھونٹ لیتے بخت نے ماں کی تصحیح کی۔

’’پاگل ہے یہ ایسے ہی اِدھر اَدھر کی ہانکتا ہے۔‘‘بیٹے کو گھورتے ہوئے وہ بشائر کی جانب گھومیں۔ ’’بھئی ہر بندے کی اپنی عادت ہوتی ہے۔ کچھ لوگ نقص برداشت نہیں کرتے۔ختم کہانی۔‘‘

’’ماں!دنیا میں کوئی شے جو انسان نے بنائی ہو ،بے عیب ہو ہی نہیں سکتی۔ جب انسان کا وجود عیب ثواب سے مل کر بنا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کے اعمال میں بس اچھائی رہ جائے۔ انسان اچھا بھی کرتا ہے اور برا بھی۔ بس یہ ہے کہ ہر کسی کے پاس اس کا تناسب کم و بیش ہوتا رہتا ہے۔‘‘

’’ارے میرے والد صاحب خدا کے لیے۔‘‘ شمسہ بیگم نے دونوں ہاتھ جوڑ کر پیشانی سے ٹکرائے۔ یہ اتنے مشکل جملوں کی مار نہ مارنا، ابھی صبح ہی تمہارے ابا مجھے کفایت شعاری اور انسان کی زندگی کے لیے انتہائی ضروری چند چیزیں گنوا گئے ہیں کہ میں بازاروں میں میچنگ دھاگے اور لیسوں کے لیے وقت کیوں ضائع کرتی ہوں۔جبکہ زندگی بس چار دن کی ہے اور اپنے ان خیالات کو پہلے معاشرتی، پھر معاشی بعد میں کفایتی اور انت میں خوف خدا کے حوالے سے اس طرح بیان کیا کہ۔۔۔‘‘

وہ بشائر کی جانب مڑیں۔

’’میرا دل چاہا جنگلوں میں جا نکلوں، دنیا تیاگ دوں، سب کچھ دان کردوں اور اب بیٹا مجھے الگ فلسفے سمجھانے لگا ہے۔ ان باپ، بیٹا کو کوئی اور تو سنتا نہیں۔ بس میرے آگے ہی راگ سناتے ہیں۔ بھئی مجھے تو بہت اچھا لگتا ہے مامون۔ صورت ہی دیکھو،کتنی پیاری ہے،ہے نا۔‘‘

’’اَف۔۔۔‘‘بشائر نے چائے کا بڑا سا گھونٹ بھرا۔پوچھا بھی تو کس سے اور کیا؟

’’جند جان ہے رابعہ خاتون کی۔۔۔ اور ا گر ہے اس کی عادت۔۔۔ تو کوئی برائی تو نہیں ہے نا۔ اعلا تعلیم، کاروبار اور اب گھر بھی بنالیا۔

منہ سے براہ راست تو کچھ طے وے نہیں ہوا۔ مگر سامنے کی بات ہے۔ رابعہ خاتون تو چاہتی بھی یہی ہیں کہ عدینہ اور مامون ۔۔۔ انہیں دنیا میں سب سے پیارے ہیں۔ عظیم بھائی منہ سے کچھ نہیں بولے آج تک۔ مگر انہیں اعتراض کرنا بھی کیا ہے اور بھئی سب سے اہم بات تو ہے کہ لڑکی۔۔۔اور اس مامون کا انداز تو شروع سے یہی ہے۔ بچپن کا ساتھ ہے بھئی۔ایک گھر۔۔۔کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔‘‘

وہ بشائر کو بعد میں سارا قصہ سنا رہی تھیں ۔اس سے پوچھا۔

اس نے ایک حتمی احساس کے تحت نفی میں گردن ہلائی۔

ہاں کسی کو کیا اعتراض۔

٭٭٭

’’میری سمجھ میں نہیں آتا مامون۔۔۔تم کیسے ہو بیٹا۔ ہر چیز جہاں تہاں چھوڑ کر چل دیتے ہو۔‘‘ مامون تخت پر لیٹا ہوا تھا۔ سر رابعہ خاتون کے زانو پر تھا۔ وہ کچھ آزردہ،کچھ پریشان سی اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھیں۔

’’پر جاتے کہاں ہو ،یہ تو پتا چلے ۔‘‘

’’پتا نہیں ۔۔۔‘‘اس نے کھوئے کھوئے لہجے میں کہا۔

’’یہ بھی نہیں پتا تو پھر کشٹ اٹھانے کی کیا ضرورت ۔‘‘

’’مجھے یہ کشٹ اٹھانا ہی ہے نانو ۔۔۔میں بہت مجبور ہوں رک نہیں سکتا۔‘‘ اس کے انداز میں ہار، بے چینی ، دکھ عود کر آیا ۔’’کہیں باہر چلیں شام کو ۔‘‘

’’مجھے بھی لے چلیے نا مامون۔‘‘ عدینہ کی جوشیلی آواز۔

مامون نے سر اٹھاکر اسے دیکھا۔ چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔ اس کے مسکراتے چہرے کو دیکھ عدینہ کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اس کا سنگھار رائیگاں نہیں گیا تھا۔ اس کے دونوں ہاتھوں اور کلائی میں کہنیوں تک تازہ مہندی لگی تھی۔

’’کیسی لگ رہی ہے۔‘‘ مامون کی نظروں کے تعاقب نے اسے سوال پر مجبور کیا۔

’’بہت اچھی۔۔۔بڑی مہارت سے لگائی گئی ہے بہت خوب!‘‘ مامون نے عدینہ کے بڑھائے ہاتھ کی سب سے لمبی درمیانی انگلی کو بصد احتیاط اپنی انگلی سے اٹھایا اور ڈیزائن بغور دیکھا۔

’’ارے بنو۔۔۔کس کی بارات چڑھ رہی ہے جو تم۔۔۔‘‘رابعہ خاتون نے سر پیٹا۔

’’لو بارات کیوں۔ خود ہی تو کہتی ہیں۔کنواری لڑکیاں سر میں تیل ڈالتی ہیں۔آنکھ میں کاجل کی باریک دھار اور ہاتھ میں مہندی۔۔۔اب میں نے لگوالی تو طنز کرنے لگی ہیں۔‘‘

’’اوئی اللہ۔۔۔وہ کجلے کی دھار اور تمہارے لائنر مسکارے۔۔۔اور وہ مہندی بس پور ڈھک لی یا بتاشہ بنالیا۔وہ بھی باپ،بھائیوں کی نگاہ نہ پڑے۔ یہاں تو تم نے دلہنوں کو مات دے دی۔ تمہیں سنائی غلط دیتا ہے یا اپنی مرضی کی تشریح کرنے کی عادت ہے۔‘‘رابعہ خاتون جلبلاکر بولنا شروع ہوگئیں۔

’’آپ چھوڑیں دادو کو مامون! مجھے لے چلیے نا۔‘‘

’’چپکی بیٹھی رہو۔۔۔ مجھے بھی لے چلیے۔ ایک موصوف جب جی چاہا، جہاں دل چاہا اٹھ کر چل دیے۔ یہ بھی ہم قدم ہوں گی ۔‘‘رابعہ خاتون کو دونوں پر ہی غصہ آگیا۔تیزی سے چپل پیروں میں ڈال کھڑی ہوگئیں۔

مامون بھی کھڑا ہوگیا۔ ’’نانو پلیز۔‘‘اس نے ان کے شانے پر ہاتھ رکھنا چاہا۔

’’ہٹو مامون! مجھے نماز پڑھنی ہے۔‘‘رابعہ خاتون کا چہرہ مزید تن گیا۔ وہ اندر بڑھ گئیں۔ مامون بے بسی سے ان کی پشت کو دیکھنے لگا۔ عدینہ اپنی مہندی پر پھونکیں مار رہی تھی۔ نظریں ملنے پر پروا نہ کرنے کا اشارہ کیا۔

٭٭٭

’’ارے بیٹی! تصویر تو بہت اچھی ہے۔ مگر مجھے بس یوں ہی ایک خیال آیا۔ بلکہ خیال کیا ایسا ہوتا ہی ہے۔ قبر میں ٹانگیں ہوتی ہیں اور رشتے کرواتے وقت اپنی وہ تصویر بھجوا دیتے ہیں جو میٹرک کے فارم میں لگی تھی۔‘‘ رابعہ خاتون نے کل سے اب تک تصویر کو چھوڑا نہیں تھا۔ ’’وہ بھی اگر میٹرک کیا ہوگا۔۔۔ تو۔۔۔ ‘‘شمسہ بیگم نے نقطہ یاد دلایا۔

’’جس کے دیکھنے کو یہ تصویر سجاد میاں نے بھیجی ہے آپ نے اس بے چاری کو بھی دیکھنے دی ہے یا۔۔۔ خود ہی پوسٹ مارٹم کرتی رہیں گی۔‘‘

’’ہائیں۔۔‘‘ عظیم میاں نے قہقہہ لگایا۔ رابعہ خاتون کے جوش و خوشی نے اس جانب دھیان ہی نہ دیا۔

’’لو بیٹی دیکھ لو۔۔۔ مجھے تو دھیان ہی نہ رہا۔‘‘ رابعہ خاتون نے بے ساختہ تصویر اس کی جانب بڑھا دی۔ بیٹی نے تھام لی۔ مگر دیکھنے سے احتراز کیا۔

وہ خوش تھی یہاں بہت، یہاں رہنا ایک بے حد خوش گوار تجربہ تھا۔ یہاں صرف محبت تھی۔ ہر جانب سے عزت و احترام اور پیار۔۔۔ مگر وہ مہمان تھی اور اسے واپس جانا تھا۔ اپنے والد کے پاس بہن، بھائیوں کے پاس۔۔۔ ان سب کی یاد اسے بے چین کرتی تھی اور واپسی کا سب سے آسان راستہ۔۔۔ وہاں کے نیشنل سے شادی بھی ہوسکتا تھا۔ اسے راحیلہ امی کے حساب کتاب اور ہر پہلو کو سامنے رکھ کے چلنے کی عادت کا پتا تھا ۔وہ اپنے معیار سے کم پر نہیں ٹھہرتی تھیں۔ اور پھر جس بندے کو راحیلہ نے پسند کرلیا تھا اور سجاد نے بھی ہامی بھری۔ وہ ایسا ویسا تو ہوگا نہیں۔ کینیڈا کی کسی بڑی فرم میں کمپیوٹر انجینئر۔

صرف بشائر کی ہاں اور فیصلہ صادر۔

اس نے سرسری نگاہ میں ہی تصویر میں موجود بندے کی شخصیت کو بھانپ لیا تھا۔’’شان دار ‘‘ابو نے پسندیدگی کی سند دی تھی۔ ابو نے رات ہی عظیم خان سے بہت تفصیلی گفتگو کی تھی۔ رابعہ خاتون بہت خوش تھیں۔ راحیلہ اور سجاد کے حوالے سے ان کے خدشات بے بنیاد رہے۔

’’تو کیا اب ٹیلی فون پر نکاح ہوگا اور آپ دلہن بن کر جہاز میں فشوں۔۔۔‘‘ رات عدینہ تصویر لےے بیٹھی تھی۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے جہاز اڑایا۔

’’ویسے فلموں میں تو دیکھا ہے لہنگا پہن کر دلہن جہاز سے اترتی ہے۔ دولہا پھول لےے منتظر۔۔۔ ہائے سو رومینٹک۔‘‘ عدینہ نے آنکھیں میچیں۔

’’ہاں تو پھر آپ کے ابو نے بتایا نہیں۔۔۔نکاح کب ہوگا۔ میں تو کہتی ہوں ،جلدی ہی کرلیں۔ اچھے اچھے کپڑے بنیں گے واہ!‘‘عدینہ کے چہکنے میں ایک طمانیت سی تھی اور اسے شاید اس کا احساس بھی نہیں تھا۔

’’ایسے نکاح کیسے ہوسکتا ہے عدینہ۔۔۔!میں وہاں جائوں گی۔سب سے ملوں گی۔پھر فیصلہ ہوگا۔‘‘

’’یعنی آپ کو اپنے امی، ابو کے فیصلے پر اعتماد نہیں۔‘‘ عدینہ حیرت سے چلائی۔

’’اعتماد تو ہے۔ مگر یہ زندگی بھر کا معاملہ ہے۔ روبرو دیکھنا ملنا تو حق بنتا ہے نا۔‘‘ وہ متانت سے کہہ رہی تھی۔

’’اور اگر آپ کو پسند نہ آیا تو۔۔۔‘‘عدینہ کی زبان سے خدشہ اگلا۔

’’میرا خیال ہے ، مجھے پسند آجائے گا۔ ‘‘بشائر نے ٹھنڈی سانس لی ’’اور اگر نہ آیا تو کسی اور کو آزمائیں گے یا پھر انتظار۔‘‘ اس نے عدینہ کو ڈرانے کی کوشش کی۔ یوں ہی شرارتا۔

’’کیسی باتیں کرتی ہیں آپ بشائر۔ کینیڈین نیشنل ، اتنی اچھی جاب ، قابل، شکل بھی اچھی ہے اور کیا چاہیے۔۔‘‘

بشائر مسکرا دی۔’’نہیں اور کچھ نہیں چاہیے۔‘‘

’’ہاں تو بس جلدی کریں۔آپ شادی وہاں جاکر کرلیجیے گا ۔مگر۔۔۔ہاں ہم آپ کے جاتے وقت ڈھولکی رکھ لیں گے۔ گانے گائیں گے۔ بلکہ مایوں کرلیں گے۔سچ دھوم دھڑکا کیے عرصہ ہوا۔‘‘

’’تو تم شادی کرلو نا۔۔۔ میں نانو سے کہہ دیتی ہوں، میری موجودگی میں ہی تمہاری کردیں۔ میں بھی دھوم دھڑکا دیکھ لوں گی۔‘‘ بشائر نے نہ جانے کس دل سے کہا۔ وہ چاہتے ہوئے بھی رابعہ خاتون سے مامون اور عدینہ پر کبھی بات نہیں کرسکی تھی۔

عدینہ کا چہرہ پھیکا سا ہوا۔’’میری شادی۔ وہ تو ابھی بہت دور ہے۔بلکہ پتا نہیں کتنی دور۔‘‘ اس کے انداز میں پہلی بار آزردگی سی آئی تھی۔

بشائر نے بے ساختہ اس کی ٹھوڑی چھوئی۔ ’’کیوں اتنی ی ی ی دور کیوں کہا ۔‘‘

عدینہ چپ رہی ،پھر طویل سانس لے کر بولی۔

’’پتا نہیں۔‘‘ اس کے چہرے پر اکتاہٹ سی آگئی۔ جیسے یک دم دل ہر شے سے اچاٹ ہوگیا ہو۔

اس سے شمسہ بیگم نے بھی مامون اور عدینہ کے رشتے کی راہ میں حائل کسی وجہ کا ذکر کیا تھا۔ مگر بخت نے بدتمیزی سے ٹوک دیا۔

’’کیا وجہ بھلا ۔۔۔سب کچھ تو ٹھیک ہے۔پھر۔۔۔۔‘‘

٭٭٭

’’تو یہ جو آپ اتنے دنوں سے غائب تھیں۔ تو فارغ وارغ نہیں تھیں۔ کام سے لگی تھیں۔‘‘بخت نے پالینے کے سے انداز میں کہا۔

’’کام۔۔۔ کون سا کام۔‘‘ بشائر نے چونک کر بخت کی صورت دیکھی۔ پھر عدینہ کی۔ اس نے بھی آنکھیں نچا اور منہ بناکر لاعلمی کا اظہار کیا۔

’’بھئی وہی ۔۔۔‘‘بخت نے لمبا کھینچا ’’محبت!‘‘اس نے شعوری توقف کیا۔’’محبت بھی تو ایک کام ہے نا۔‘‘ عدینہ کا چہرہ بگڑا، سب اس کے سر سے گزر گیا تھا۔ بشائر نے آنکھیں سیکڑ کر بخت کی شکل دیکھی۔ جو اپنی بات ختم کرکے مزے سے پکوڑا کھانے لگا تھا۔

’’یہ بخت۔۔۔ اسے کیسے پتا۔۔۔ کیا میرے چہرے پر لکھا نظر آتا ہے کہ میں۔‘‘ بشائر نے سٹپٹا کر بے خیالی میں اپنے چہرے پر انگلیاں پھیریں اور واقعی اس کے چہرے پر ہوائیاں سی اڑ رہی تھیں۔ بخت کو ترس آگیا۔ اس نے عدینہ کے چہرے پر نگاہیں جمائیں۔

’’بھئی ، وہ مابدولت نے سنا کہ کینیڈا سے ایک تصویر آئی تھی۔ نام پتے کے ساتھ۔ نوٹ بھی لکھا تھا کہ بیٹی بشائر اب تم اس شخص سے محبت کرو، سو جنابہ مصروف تھیں۔ اماں، ابا کے دیے کام کو بڑی دل جمعی سے کررہی تھیں، باہر تک نہ نکلیں۔ تنگ آکر آج مجھے ہی آنا پڑا کہ دیکھوں کہ کیا مل گیا کہ جنابہ سدھ بدھ کھو بیٹھیں۔‘‘

’’تت۔۔۔ تم پاگل تو نہیں ہوگئے۔ کیا اناپ شناپ بکے جارہے ہو۔ ارے اللہ۔‘‘

بشائر کی تو جیسے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت جواب دے گئی۔ حیران آنکھوں سے بخت کی صورت دیکھنے لگی۔ عدینہ بھی سراپا سوال بنی تھی۔ مگر ایک استہزا بھی تھا۔ ایسے ہی تو وہ بخت سے نہیں چڑتی۔ دیکھیں اس کی باتیں۔

’’اس میں اتنا شاک کیوں لگ رہا ہے یہی تو ہوتا ہے ناں ہمارے ہاں ، اماں ابا خوب چھان پھٹک کر بر تلاشتے ہیں۔شکل، ذات برادری، رتبہ اور مطمئن ہونے کے بعد عزیزی دختر نیک اختر کو تصویر دے کر کہتے ہیں۔ ہم نے ساری کاغذی کارروائی مکمل کر لی۔ اب تم شریف بچیوں کی طرح اس سے محبت کرو اور اگر کوئی قسمت کی ماری کہہ دے کہ نہیں جی وہ۔۔۔ تو ڈنڈے کے زور پر۔ عقل کی اندھی! تجھے اسی سے محبت کرنی ہے۔ اچھا شکل نہ بگاڑیں۔عقل کی اندھی نہیں کہا ہو گا۔ مگر بعض باتیں زبان سے نہیں کہی جاتیں۔ بس سمجھ لی جاتی ہیں۔ غلط کہہ رہا ہوں کیا ۔‘‘

بخت کے خاموش ہونے پر عدینہ ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گئی۔

’’اب کہی تو تم نے سچی ہے مگر جس طرح مجھ سے جوڑی ہے وہ۔۔۔‘‘ بشائر کا ہونق چہرہ مسکراتے رنگ میں ڈھل گیا۔

’’میرے ابو نے ایسا ویسا کچھ نہیں کہا۔سمجھے ۔۔۔‘‘

’’منہ سے تھوڑی کہتے ہیں مجال ہے جو زبان ہلائی جائے۔ یہ تو میراث کی طرح ہوتا ہے نسل در نسل منتقل۔ ‘‘وہ پکا تھا۔

’’ویسے امی بتا رہی تھیں نام بھی شان اور ہر شے بھی شاندار میں نے کہا۔ بشائر ڈیزرو بھی کرتی ہیں۔ جبکہ ہمارا یہ حال ہے کہ ۔۔۔

یہاں کسی کو بھی حسب آرزو نہ ملا

کسی کو ہم نہ ملے اور ہم کو تو نہ ملا

اس نے بڑے جذب سے شعر پڑھا بشائر ٹھٹھک کر رک گئی۔

اس نے شعر کو خود پر رکھ کے سوچا پھر اگلے ہی پل عدینہ کو دیکھا جو پکوڑے کھانے میں مگن تھی۔ بخت کی شکوہ کناں گہری نگاہوں سے انجان وہ اپنی دنیا میں مگن تھی۔ بشائر کو دکھ ہوا بخت کے لیے۔ جانتے بوجھتے بے وقوفی کیوں ہو جاتی ہے۔

٭٭٭

’’تو پھر تم خوش ہو نا بیٹی۔۔۔!‘‘ رابعہ خاتون اس کے بالکل سامنے کرسی رکھ کر بیٹھی تھیں۔ کرسیاں اتنی نزدیک تھیں کہ آن کے گھٹنے اب ٹکرائے کہ ٹکرائے۔ بشائر بدقت مسکرائی۔

’’تم خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا۔ تمہارے ابا کہہ رہے تھے۔ میں تمہیں اونچ نیچ سمجھائوں میں نے تو کہہ دیا بچی خود ہی ما شائ اللہ بہت دانا ہے۔ سلجھی ہوئی تمیز دار مگر میں کہوں گی ضرور۔۔۔‘‘

’’دیکھو بیٹی۔۔۔!شادی کی ایک عمر ہوتی ہے ،اللہ توبہ طعنہ نہیں دے رہی مگر تم شادی کی عمر کو مانو نکال ہی چکی ہو میں نے بیٹی کی شادی انیس میں کی۔ بعد میں مجھے لگا ، بہت جلدی کر دی بڑا پچھتائی تھی میں ۔۔۔‘‘ وہ کھوسی گئیں۔ ’’پکا فیصلہ کرلیا ، کبھی اتنی کم عمری کی شادی کی حمایت نہ کروں گی مگر اب اس عدینہ کو دیکھو اکیس کی ہے۔ مگر مجھے ہر وقت خیال آتا ہے بس رخصت کر دوں۔‘‘ان کے چہرے پر دکھ سا تیرنے لگا۔

’’تو آپ کر دیجیے ناں دادو جب کہ اب تو ۔۔۔‘‘

’’ہاں کر تو دوں مگر ۔۔۔ایسے ہی خوامخواہ کی رکاوٹیں ہیں تمہارے دادا۔۔۔اور پھر وہ مامون ، میرا ارادہ جانتا ہے مگر اپنی ضد پر۔۔۔چھوڑو بیٹی!میں تو خود ہی مستقبل کے منصوبے بناتی رہتی ہوں ۔سب آج کل اپنے حساب سے چلتے ہیں ۔‘‘

وہ کچھ دل گرفتہ ہو گئیں ۔بشائر چونک گئی۔ رابعہ خاتون ہی تو سرپرست تھیں عدینہ اور مامون کی اور یہ دادا کا اعتراض رکاوٹ ۔

’’دادا جان کیا کہتے ہیں ۔ انہیں کیا اعتراض ۔۔۔‘‘

رابعہ خاتون چونکیں ۔ بشائر کو ان کی آنکھیں ڈبڈبائی سی لگیں۔’’ان کی تو تمہیں پتا ہے نا دنیا سے نرالی منطق ۔ بات وہاں سے نکال کر لاتے ہیں ۔ جہاں ہم تم جیسوں کی سوچ کا جانا نا ممکن ہو ، سامنے نظر آتی پانچ حسیں انہیں غلط لگتی ہیں اور چھٹی نادیدہ حس کے الارم کو سچ مانتے ہیں۔ منہ پھاڑ کر تو کبھی نہیں بولے۔ مگر انہیں ہچکچاہٹ ہے عدینہ اور مامون کے رشتے پر ۔۔۔ان کا ہاتھ ہی تو میری پشت پر نہیں ورنہ آج نہ نکاح پڑھادوں ۔‘‘

’’جی! میں سمجھی نہیں دادو۔‘‘ بشائر حیران تھی۔

’’میں خود نہیں سمجھی تو تمہیں کیا سمجھائوں ۔‘‘رابعہ خاتون یکدم بے زار ہو گئیں ۔

’’سب ہی منہ بند کر کے بیٹھے ہیں۔ تم بولو پھر ہاں کا ٹیلی فون کردوں تمہارے بابا کو۔‘‘

بشائر طویل ٹھنڈی سانس لے کر رہ گئی۔

’’میں وہاں جا کر ہی فیصلہ کرسکوں گی دادو!‘‘ اس نے سر جھکا کر کہہ ہی دیا۔

’’ہاں۔۔‘‘ رابعہ خاتون نے اس سے زیادہ ٹھٹھری ہوئی سانس لی۔ ذرا سا سر نیچے کر کے بشائر کا چہرہ دیکھنا چاہا مگر بالوں کا چھجا درمیان میں حائل ہوگیا تھا وہ ناکامی تسلیم کرتے ہوئے دونوں گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کے کھڑی ہوگئیں۔ ’’یہ بھی صحیح ہے بیٹی۔۔۔‘‘

٭٭٭

بے ہنگم سا غیر متوقع شور۔۔۔ وہ گہری نیند سے یکدم بے دار ہوئی تو مانوس ہونے میں چند پل گزرے۔

’’اونو۔۔۔!‘‘اس نے برق کی سی تیزی سے چادر اتاری۔ یہ آوازیں تو رابعہ خاتون اور عدینہ کی تھیں، وہ سرپٹ دوڑی آوازوں کے تعاقب میں۔

’’اومائی گاڈ۔۔۔!‘‘عظیم خان سینے پر ہاتھ رکھے دہرے گیند سے بنے ہوئے تھے اور ان کا چہرہ اوپر کرنے کی سعی میں نڈھال اونچی آواز سے روتی رابعہ خاتون۔۔۔ عدینہ دادا کی پشت رگڑ رہی تھی ، وہ ان سے چپکی ہوئی تھی اور بہتے آنسوئوں کے ساتھ ان کے ہاتھ کے بوسے لیتی تھی۔

بشائر نے فوری فیصلے کے تحت اپنے کمرے کی جانب دوڑ لگائی ۔ نیچے آ کر بخت کے گھر کا نمبر ملایا۔ بخت نے لفظ ’’دادا جان کو نجانے کیا ہو رہا ہے ۔۔۔ ‘‘جیسے ادھورے جملے کو سن کر ہی ریسیور رکھ دیا تھا وہ ادھر آنے کے لیے بھاگ نکلا تھا۔

’’مائنر سا اٹیک تھا مگر اب وہ ٹھیک ہیں۔ کل تک کے لیے ہم آبزرویشن میں رکھیں گے۔‘‘ڈاکٹر نے تفصیلی چیک اپ کے بعد ان سے کہا۔

’’جب۔۔۔ ٹھیک ہیں تو ۔۔۔ آبزرویشن۔۔۔ میں کیوں؟‘‘ رابعہ خاتون نے کپکپاتی آواز میں ڈاکٹر کی تسلی کو مسترد کر دیا۔ وہ کھڑی ہوتیں تو ٹانگیں کانپتی تھیں اور بیٹھ جاتیں تب بھی انجانے خوف سے پورا وجود لرزہ بر اندام ۔

بشائر نے اپنے بازوئوں میں انہیں سمیٹ کر دوسرے ہاتھ سے بکھرے بال جمائے اور دوپٹا سر پر ٹکاتے ہوئے ڈاکٹر کو مسکرا کر دیکھا۔

’’تھینک یو ڈاکٹر۔۔۔!‘‘

’’پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔ احتیاط کے پیشِ نظر ایک دن کے لےے رکھا ہے۔ کچھ سیٹ ہونا باقی ہیں۔ آپ سب بیٹھے میں چائے لاتا ہوں۔‘‘

’’میں عظیم صاحب کے بغیر ایک منٹ زندہ نہیں رہ سکتی بیٹی!‘‘ رابعہ خاتون نے شکست خوردہ لہجے میں اپنی مجبوری بتائی۔ عدینہ آگے بڑھ کر رابعہ خاتون سے لپٹ گئی ۔

بشائر نے اپنی پوروں سے ان کے جھریوں والے گال پونچھے، وہ انہیں سہارا دیے بینچ پر بٹھانے لے آئی ۔

’’تم تو اپنا رونا بند کرو۔ پہلے ہی ان کی حالت غیر ہو رہی ہے ۔ مجال ہے جو تم میں ذرا سی موقع شناسی ہو ۔ احمق اعظم!‘‘ بخت نے آگے بڑھتی عدینہ کا ہاتھ کھینچا اور دانت پیس کر تنبیہ کی۔ اس کے جملے سے زیادہ قطعی تاثرات اور ناگواری چہرے پر جمی تھی۔ تب ہی رابعہ خاتون نے بخت کے چہرے پر دیکھا۔ بخت فوراً مسکرایا۔

’’میں تو صرف یہ کہہ رہا تھا کہ یہ ان کے بغیر نہ جی سکنے والی بات غلطی سے بھی ان کے سامنے مت دہرا دیجیے گا ۔ ورنہ اس بار ہونے والا اٹیک مائنر بہرحال نہیں ہو گا ۔‘‘

اس کا انداز شرارت سے بھرپور تھا۔ بشائر کھل کر مسکرائی۔ رابعہ خاتون بھی بات سمجھ کر پھیکی مسکراہٹ لے آئیں ۔ عدینہ اپنے ہاتھ کو سہلا رہی تھی۔ بخت کی پکڑ سخت تھی ۔ اس نے چہرہ پکا ہی رکھا ۔

خوشی سے مر نہ جاتے گر اعتبار ہوتا

بخت نے ذرا سا جھک کر رابعہ خاتون کا چہرہ دیکھا۔ بشائر بے فکری کے احساس سے بے ساختہ ہنس دی ۔

٭٭٭

’’ہمارا خون کا رشتہ نہیں ہے بشائر مگر ۔۔۔ آنکھ کا رشتہ تو ہے نا۔‘‘راحیلہ امی کی آواز اس کے کانوں میں پہنچ رہی تھی۔ ’’آنکھ کے رشتے کا مطلب دیکھنے سمجھنے کا رشتہ میں شان کو تمہاری نظر سے دیکھ رہی ہوں اور پورے نمبر دے رہی ہوں میرا یقین رکھو ۔تم سن رہی ہو نا۔‘‘بشائر کی مسلسل خامشی پر وہ چونکیں ۔

’’ہوں۔۔۔‘‘ اس نے ہنکارا بھرا ۔’’سن رہی ہوں۔‘‘

’’پتا ہے اس کو دیکھنے کے دوسرے منٹ میں مجھے تمہارا خیال آیا اور دسویں منٹ تک میں فیصلہ کر چکی تھی۔ دنیا میرے کہے ہر لفظ کو جھوٹ اور سوتیلے پن میں ڈال دے گی کہ یہی روایت رہی ہے۔ مگر سچ کہوں تو ۔۔۔ضرور دکھا جاتی سوتیلا پن اگر سحر فقط گیارہ برس کی نہ ہوتی۔‘‘

کچھ دل گرفتی سے بولتی راحیلہ آخر میں شریر لہجے میں ہنس کر بولیں۔

بشائر کو زور کی ہنس آ گئی ۔

’’یہی سمجھ لو۔ میں تو سجاد سے بھی کہہ رہی تھی۔‘‘

’’میری خالہ کا نواسہ ہے زبردست ایک دم۔۔۔ اور سب کچھ میرے ہی ہاتھ میں ہے۔ خالہ تو بہت خوش ہوئیں۔ انہوں نے تو تمہیں پسند کر ہی لیا ہے۔ شان نے بھی۔ یہ احد اور سحر نے انہیں ساری موویز، برتھ ڈیز وغیرہ کی دکھا دی ہیں۔ سحر تو بہت ہی خوش ہے۔‘‘

’’اوہ۔۔۔!‘‘ بشائر نے یخ بستہ سانس بھری۔ ’’تو معاملہ یہاں تک پہنچ گیا۔‘‘

’’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ تم جلد از جلد آ سکو۔۔۔ اور اب کیا تمہاری خاموشی کو ہاں سمجھوں۔‘‘ راحیلہ کا مسئلہ وہیں کا وہیں تھا۔

’’یا اللہ۔۔۔مجھے آ لینے دیں راحیلہ امی!‘‘ مشکل ہی سے مگر اس نے کہہ دیا۔

’’اچھا۔۔۔‘‘ راحیلہ کے انداز میں مایوس آ گئی ۔

بشائر نے ریسیور رکھ دیا۔ ’’اف ۔‘‘اس نے بالوں میں ہاتھ چلا کر ٹینشن دور کرنے کو لمبے لمبے سانس لیے ۔باہر ہوا میں بیٹھتی ہوں ۔

کچن ونڈو سے عدینہ کا چہرہ نظر آ رہا تھا ۔ اس کے چہرے پر بے حد سنجیدگی، الجھن تھی اس کی نگاہیں چولہے پر رکھی کیتلی پر تھیں۔ مگر دھیان کا پنچھی کسی اور ہی جہان کی پرواز کو گیا تھا کہ نہ پانی کا شور واپس لا رہا تھا نہ قہوہ کے جلنے کی بو ۔

’’کیا کر رہی ہو عدینہ ۔۔۔سب جل گیا۔‘‘ اس نے تیزی سے چولہا بند کیا۔ اندر قہوہ پیندے سے چپک کر کاڑھا سا بن چکا تھا۔’’دھیان کہاں ہے تمہارا ۔‘‘

’’اوہ۔۔۔!‘‘ عدینہ چونکی، وہ بشائر کو دیکھ تو رہی تھی مگر مکمل واپسی نہیں ہوئی تھی ۔

’’مہمان ہیں جی صاحب جی کے کمرے میں ۔۔۔‘‘ بھولی ٹرالی گھسیٹ کر کچن میں لا رہی تھی ۔

’’کون آیا ہے ۔‘‘اس نے باری باری دونوں کی صورت دیکھی ۔

’’شمسہ آنٹی اور انکل ہیں ۔ شاید بخت بھی ہے دادا جان کے کمرے میں۔۔۔‘‘ عدینہ نمکو پلیٹ میں نکالنے لگی ۔

بشائر کو عدینہ کا انداز غیر معمولی لگا ۔

’’تو مجھے بلا لیتیں۔ لائو بتائو ، کیا کرنا ہے ۔‘‘ وہ بولی اور پھر کیتلی دھونے سنک کے پاس چلی آئی ۔

’’میں برتن دھوتی ہوں باجی، آپ کباب تل لیں۔‘‘ بھولی نے کہا ۔’’دادا جان کے لیے سوپ بھی لے کر جانا ہے۔‘‘

عدینہ اسٹول پر ٹک چکی تھی۔ وہ ان دونوں کو کام کرتا دیکھ رہی تھی مگر سوچیں اب پھر کہیں اور تھیں۔

بشائر نے سر اثبات میں ہلاتے ہوئے منٹوں میں ٹرالی سیٹ کی اور پھر خود ہی عظیم خان کے کمرے کی جانب گئی ۔

’’میری سمجھ میں نہیں آتا ، کیا شے انہیں روکے ہوئے ہے بس یہ طے ہے کہ مجھے مامون اور عدینہ ہی کو بیاہنا ہے ۔ اس میں کاہے کا اختلاف یا انتظار۔۔۔ ہاں وہ کاروبار سیٹ کر رہا تھا۔ ماشائ اللہ کتنوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ گھر بنانے لگا وہ اس میں بھی کامیاب اور اب اس سے بڑھ کر مناسب وقت اور کیا ہو گا۔‘‘ رابعہ خاتون کی دبی آواز میں جوش سا تھا۔ خفگی اور سخت الجھن ۔۔۔ٹرالی لاتی بشائر غیر ارادی طور رک گئی۔

’’ہاں!یہی شاید فیصلے کا وقت ہے ۔ خالہ دادی ٹھیک کہہ رہی ہیں ۔۔۔مگر آخر دادا کو کیا مسئلہ ہے۔‘‘ بشائر نے سوچا۔

’’اب بھی چپ شاہ بنے بیٹھے ہیں۔ مجال ہے جو ایک حرف بولیں گے۔‘‘رابعہ خاتون کے مخاطب شمسہ بیگم اور کاظم شاہ تھے۔

’’تم بھابھی بیگم سے صاف صاف بات کیوں نہیں کرتے عظیم خان؟‘‘ کاظم صاحب نے کہا۔

’’سب کچھ صاف صاف تو نظر آرہا ہے۔ انہیں دکھائی کیوں نہیں دیتا۔‘‘ عظیم خان پہلی بار بولے۔

’’چھوڑےے پرانے قصے۔۔۔ اتنے سالوں سے بچہ ہمارے سامنے ہے۔ رابعہ بھابھی بھی سب دیکھ رہی ہیں۔‘‘ شمسہ خاتون کی آواز ابھری۔

’’ان کی آنکھوں پر تو بس محبت کی پٹی بندھی ہے۔‘‘ عظیم خان نے ناگواری سے کہا۔

’’بھابھی بیگم۔۔۔‘‘ کاظم انکل نے قصداً وقفہ دیا۔

’’میرے خیال میں تمہیں چاہیے کہ تم بھابھی بیگم کو تسلی سے سب بتائو ، سمجھائو اور پھر کوئی فیصلہ کرو۔ کاظم انکل نے سنجیدگی سے کہا۔

ساکت کھڑی بشائر چونکی تو ٹرالی کو دھکا سا لگا ۔ برتنوں کے ٹکرانے سے پیدا ہونے والی جھنکار۔۔۔ کمرے میں یکدم خاموشی چھا گئی۔ بشائر چہرے سے تاثرات مٹاتی پردہ ہٹا کر داخل ہو گئی۔ وہ سامان میز پر لگانے لگی ۔

’’تم جائو بیٹا۔۔۔ میں چائے بنالوں گی ۔‘‘ شمسہ بیگم کی آواز پر کپ اٹھاتے اس کے ہاتھ رک گئے ۔

٭٭٭

’’بس ایسے ہی خوامخواہ ۔۔۔تم کیوں رو رو کر جی ہلکان کرتی ہو۔ ڈرے ہوئے ہیں تمہارے دادا، سالوں پہلے ایک نتیجے پر پہنچے اور اب تک اس پر کاربند ہیں۔ تمہیں سب معلوم ہے ناں بچے!‘‘رابعہ خاتون عدینہ کو پچکار رہی تھیں۔

’’بس آ لینے دو مامون کو ۔۔۔مجھے اب کسی کی نہیں سننی۔ بس کر گزرنی ہے۔ نہ۔۔۔نہ نہ رو میری گڑیا رانی!‘‘ایک ہاتھ سے اس کے لہریے دار بال سمیٹے اور دوسرے سے آنسو پونچھے۔

’’فیصلہ تو دادا جان ہی کا ہو گا۔ ‘‘اس نے روتے ہوئے یاد دلایا۔

’’ہاں۔۔۔ ہاں ان ہی کا ہو گا ۔۔۔لیکن ہمارے حق میں۔‘‘

’’آپ سچ کہہ رہی ہیں دادو ۔‘‘ وہ بے یقین تھی ۔

’’سو فی صد سچ۔‘‘رابعہ خاتون نے اسے اپنی گود میں چھپا سا لیا۔

اور مامون اگلے ہی روز صبح ساڑھے سات بجے پہنچا۔ بشائر ہی نے اسے سب سے پہلے دیکھا اور دیکھتی رہ گئی ۔ وہ چھوٹے سے لان نما احاطے کی دیواروں پر لگے آرائشی گملوں میں پانی ڈال رہی تھی اسٹول پر کھڑے ہو کر ۔۔۔ پانی کی بوتل ہاتھ سے پھسل کر نیچے گر گئی اور سینے سے دل(دل اتنا مچلا اور بے قابو بھی نہیں تھا کبھی بھی ۔۔۔مگر بعض اوقات من مانی پر آ جاتا ہے)

مامون کی رنگت سنولائٹ کی جانب مائل تھی۔ ہلکی بڑھی شیو۔ پریشان بال اور گمبھیر چہرہ ۔ وہ جینز اور آدھی آستین کی ٹی شرٹ میں تھا ۔ اس کے پیروں میں جاگرز تھے، نجانے کس دیار کی خاک چھانی تھی کہ گرد کا ہالہ سا پورے وجود سے لپٹا تھا۔ گرد پلکوں سے لپٹی تھی ۔ اتنا رف ٹف حلیہ۔۔۔بشائر نے پہلی بار دیکھا تھا ۔

وہ حسب عادت اندر جانے سے پہلے سگریٹ کے لمبے طویل کش لے رہا تھا۔ بشائر اپنی محویت سے انجان تھی ۔ سگریٹ جوتے تلے مسلتے ہوئے مامون نے اسے دیکھا۔ وہ چونکا۔ کھانس کر اسے چونکایا ’’اوہو ۔۔۔‘‘بشائر نے گری بوتل کو دیکھا اس کے چہرے پر خجالت آ رکی تھی ۔

اپنے بیگ کو وہیں چھوڑتا وہ اس تک آیا اور زمین پر گری بوتل اس کی سمت بڑھائی۔

’’وہ۔۔۔میں۔۔۔ان بیلوں کو پانی دینے کے لیے۔۔۔ ‘‘اس نے اوپر چڑھنے کی توجیہہ پیش کی ۔ وہ ہنوز اوپر تھی مامون نے نظریں اوپر اٹھا کر اس کے چہرے پر ٹکائیں ۔ ہونٹوں پر مچلتی مسکراہٹ کو وہ روک چکا تھا مگر آنکھوں سے چھلکتی کو اس نے چھوٹ دے دی ۔

’’آپ کو بھی اس کی ضرورت پڑتی ہے ۔‘‘اس کا اشارہ اسٹول پر چڑھنے کا تھا ۔ یقینا وہ اس کی دراز قامتی کو کہہ رہا تھا ۔بشائر چونکی ۔

’’آپ سراہ رہے ہیں یا چڑا رہے ہیں ۔‘‘

’’کیا آپ چڑ جایا کرتی ہیں ۔‘‘

’’نہیں اب نہیں۔۔۔ مگر اسکول کے زمانے میں ۔۔۔دراصل میں کلاس فیلوز سے خاصی لمبی تھی۔‘‘

’’آپ اب بھی خاصی لمبی ہیں۔‘‘ مامون کا لہجہ متبسم تھا۔

بشائر نے آنکھیں سکیڑ کر اس کا چہرہ جانچا۔ مامون نے دونوں ہاتھ صلح جو انداز میں سیدھے کھڑے کیے۔

’’یہ میں نے سراہا ہے۔ بیوٹی فل ہائیٹ۔‘‘ وہ مسکرا کر کہہ رہا تھا۔ ستائشی انداز ۔ بشائر کو زندگی میں پہلی بار اپنے قد پر جی بھر کے پیار آیا ،فخر ہوا۔

’’کیا آپ یونہی کھڑی رہیں گی ۔‘‘

’’آں۔۔۔ نہیں میں اتر ۔۔۔تی ہوں۔‘‘اس نے دوپٹے کو شانے پر ٹکایا مبادا پیروں میں لپٹے اور وہ منہ کے بل نیچے گر جائے۔

مامون نے الٹا ہاتھ بڑھایا۔۔۔بشائر نے بوتل تھما دی۔وہ دیوار پر اپنا ہاتھ جما کر نیچے اترنے لگی جب اس نے مامون کا سیدھا ہاتھ بڑھا دیکھا۔اس کے ہاتھ میں تو اب کچھ نہ تھا تو پھر کیا۔

اس نے سوالیہ نگاہوں سے مامون کا چہرہ دیکھا۔مامون کا چہرہ مسکراہٹ سے معمور تھا۔اس نے آنکھ کے اشارے سے اپنا ہاتھ دکھایا کہ وہ اسے تھام کر اترے۔

مامون مینرز نبھا رہا تھا ۔ تو اسے بھی نبھانے پڑیں گے ۔اس کا نازک انگلیوں والا ہاتھ مامون کے مضبوط ہاتھ میں پل بھر کو گیا۔وہ جست لگا کر نیچے اتر آئی۔ ’’تھینک یو ۔‘‘

مامون نے شانے اچکائے۔ بوتل اسے تھما دی۔اور اندر کی جانب بڑھ گیا۔ بشائر نے دونوں ہاتھوں میں بوتل پکڑ کر اسے سینے سے لگا رکھا تھا۔ بوتل کا ڈھکن ہونٹوں سے جڑا تھا ، وہ اس راستے کو دیکھ رہی تھی جہاں سے مامون ابصار گزرا تھا۔

ہاں تو اصل فساد کی جڑ اس شخص کو دیکھنا ہے۔ سارے ارادے اور وعدے ملیا میٹ ہو جاتے ہیں۔ یہ شخص سامنے ہو تو بشائر پھر تمہارے لیے اور کہیں کچھ نہیں ہوتا۔ تو سب سے بہتر یہ ہے کہ اس جگہ سے دور ہو جائو جہاں اس شخص کی موجودگی کا اندیشہ بھی ہو ،زندگی بہت چین سے بے فکر گزرے گی۔

٭٭٭

معذور بچوں کی فلاح بہبود کی آرگنائزیشن نے بڑے پیمانے پر چیرٹی شو کا انعقاد کیا تھا۔ لوگوں کو باشعور کرنے کی کوشش۔۔۔ بچے معذور کیوں ہوتے ہیں ۔ پیدائشی یا بعد میں ہونے والی کوئی خطرناک بیماری۔ علامتیں، حالات، واقعات، تدارک، پیش بندی، ڈاکٹروں کا ایک بورڈ تھا کچھ پیرنٹس جو والنٹیری آگے بڑھ کر اس حوالے سے کام کرتے تھے کہ بتایا جائے کیسے بچ سکتے ہیں ۔ احتیاطی تدابیر ۔

وہ اس کلب کی رکن تھی اور عون کے ہمراہ بڑے ذوق و شوق سے شریک ہوتی تھی۔ اس بار کا فنکشن یوں بھی اہم تھا کہ فنکاروں اور کچھ کھلاڑیوں نے والینٹری شرکت کی اور ہالی وڈ کی ایک بڑی اداکارہ خاص طور پر آئی تھی۔

ملکی و غیر ملکی میڈیا وینز قطار سے کھڑی تھیں اور رپورٹر خبروں کی تلاش میں ایک دوسرے کے اوپر چڑھ رہے تھے۔ پروگرام نے بہت کامیابی سمیٹی اور نتیجہ میں چندہ بھی ۔

اس کے چہرے پر ایک طمانیت تھی۔ مگر وہ جانتی تھی کہ اس کا شوہر کبھی پسند نہیں کرے گا کہ وہ اخبارات یا چینلز کی فرنٹ پٹی پر چلے (کم از کم اس حوالے سے) مگر اسے اپنے اس حوالے پر کوئی شرمندگی نہ تھی۔

یہ حوالہ تو اس کا فخر تھا ، اس کا کَل۔۔۔ حاصل ۔ وہ ایک ماں کی حیثیت سے یہاں تھی۔ وہ عون کی ماں تھی اور اس کا بچہ دنیا کا سب سے خوب صورت پیارا بچہ تھا۔ وہ کیمروں کی زد سے ذرا دور نسبتاً ویران گوشے میں کھڑی کانچ کے نازک گلاس سے گھونٹ گھونٹ شربت حلق سے اتار رہی تھی۔ وہ دور جہاں بچوں کا رش تھا ۔عون پر نگاہیں جمائے ہوئے تھی۔ وہ بہت خوش تھا۔ وہ سارا وقت اسی کے ساتھ تھی مگر ابھی کسی کام سے اس جانب آئی تو ٹہر گئی۔

پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے بے فکری سے محو گفتگو سیاہ کوٹ میں وہ ۔ اس نے ایک لحظہ ٹہر کر پہچان لیا۔ کنفرم ۔ وہ دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی اس کے بالکل پیچھے جا کھڑی ہوئی ۔ دروازے پر دستک دینے کے سے انداز میں اس کا شانہ بجایا۔ مقابل کے گردن گھمانے پر وہ ایڑیاں ذرا سی اٹھا کر شریر انداز میں سر جھکا گئی۔

’’بیسٹ آف لک۔۔۔!اس کے لبوں سے نکلا ۔

’’اوہ آپ۔۔۔!‘‘ وہ حیرت سے مڑا اور اس کے چہرے پر نظر پڑتے ہی کھل کر مسکرایا ، ایڑیوں پر گھوم گیا۔اس کی آنکھیں خوشی سے بھر گئی تھیں۔

’’آپ بھی ۔۔۔یہی کہیں گی۔‘‘ اس نے مسکرا کر شکوہ کیا۔

’’میں کیا۔ سارا شہر، بلکہ ساری دنیا کہہ رہی ہے بیسٹ آف لک ۔‘‘ اس نے اس کے ٹاک شو کے نام کا حوالہ دیا ۔ ’’تم نے کمال کر دیا۔ ہر جگہ واہ واہ۔۔۔ تم اتنے ہی قابل تھے۔ مجھے یقین تھا۔‘‘ وہ بہت خوش تھی ۔ ’’مجھے تم پر فخر ہے تم ۔۔۔‘‘

’’اب سامنے دیکھ لیا تو منہ بھر بھر کے ڈونگرے تعریفوں کے ۔۔۔ایک فون تک تو کیا نہیں ۔ میں نے بھی سوچ رکھا تھا نہیں تو نہ سہی۔‘‘وہ بالکل کسی معصوم بچے کی طرح کہہ رہا تھا۔

اس کے چہرے پر شرمندگی نے تاریکی سی پھیلا دی ۔

’’ایسا نہیں ہے۔ تم جانتے تو ہو، میں کتنی مصروف رہتی ہوں۔‘‘وہ جواب سن کر پل بھر کو خاموش ہوا پھر اپنے ساتھی سے معذرت کر کے اسے لیے آگے بڑھنے لگا۔ وہ دونوں ایک کونے میں آمنے سامنے کھڑے ہو گئے تھے۔ اس نے اپنے چہرے پر ٹکی اس کی نگاہوں سے گھبرا کر چہرہ اٹھایا۔

’’مجھے آپ کی مصروفیات کا یقین ہے۔‘‘اس نے شعوری وقفہ دیا۔’’آپ کے شوہر نامدار نے دلایا تھا۔‘‘

’’وہ تمہیں کہاں مل گئے ۔‘‘ وہ بری طرح چونکی ۔

’’ملے کہیں نہیں ،بس دیکھے تھے ۔‘‘

’’تو پھر ۔۔۔۔‘‘

’’دراصل ان کے ساتھ جو خاتون تھیں۔وہ آپ نہیں تھیں نا۔اس سے معلوم ہوا کہ آپ کسی اور جگہ ۔۔۔‘‘

’’تم میری اور جگہ تو جانتے ہو نا۔۔۔پچھلے دنوں عون بہت بیمار رہا اس کی بیماری میں مجھے اور کسی چیز کا ہوش ہی کب رہتا ہے۔‘‘

’’عون کی بیماری تو آج کل کی بات ہو گی۔ ‘‘وہ براہ راست اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگا۔ ’’میں تو بہت پرانی بات کر رہا ہوں۔‘‘

’’ایسے ہی وہم ہے تمہارا ۔۔۔ وہ کچھ افتتاح وغیرہ کا سلسلہ تھا۔‘‘

’’کسے تسلی دے رہی ہیں۔مجھے یا خود کو ۔۔۔‘‘

’’ہم دونوں کو۔۔۔‘‘ اس نے پہلی بار نظریں اٹھائیں اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کہا۔ ’’ہم دونوں کو تسلی کی ضرورت ہے ناں۔‘‘

اس بار اسے نظریں چرانی پڑی تھیں۔ وہ اس ہجوم کو دیکھنے لگا جو ہالی وڈ ایکٹریس کو دیکھنے کو بڑھتا جا رہا تھا۔

’’اور کسی کو عقل کی ۔۔۔‘‘ اس نے دیکھے بغیر کہا تھا۔

’’مگر بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے ۔‘‘وہ بھی ہجوم ہی کو دیکھ رہی تھی۔

’’ڈھکی چھپی باتوں، معنی خیز جملوں ،قیافوں کے بجائے صاف بات کر لینی چاہیے۔‘‘ وہ اس کی جانب گھوما اور مشورہ سا دے ڈالا ۔

’’تو پھر تم ہی بسم اللہ کرو۔ سب سے لمبی چپ تو تمہاری رہی تھی۔‘‘ اس نے جتایا ۔

’’تو کیا کہہ دینے سے مسئلہ حل ہو جائے گا ۔‘‘

وہ کچھ نہ بولی پھر موضوع بدلنے کو کہا۔

’’عون تمہیں یاد کر رہا تھا ۔‘‘

’’کیسے بھلا۔‘‘اس نے چونک کر دیکھا عون کے پاس ایسے ری ایکشن نہیں تھے جن سے وہ دل کا حال وضاحت سے بتا سکتا ،اس کی حیرت بجا تھی۔

وہ سنبھل کر دل گرفتی سے مسکرائی۔

’’تمہارے شو کی کلپ چل رہی تھی۔ ایک دم زور زور سے،مم مم کہنے لگا تو۔‘‘

’’وہ مجھے مم کہتا ہے۔‘‘اس کی حیرانی کی حد نہ رہی۔

اسے چپ سی لگی۔’’اسے مم ہی کہنا آتا ہے۔‘‘ (اس کی آواز کرچی کرچی تھی )

’’اوہ ۔۔۔ تو پھر باپ کو بھی مم کہتا ہے، کیسا لگتا ہے پھر آپ کے شوہر نامدار کو ۔۔۔‘‘اسے مزا آیا تھا۔

’’وہ باپ کو کسی نام سے نہیں پکارتا۔ وہ باپ سے ڈرتا ہے۔ اس کی موجودگی سے گھبراتا ہے۔ وہ شاید باپ کو ناپسند کرتا ہے۔‘‘اس کا لہجہ خود اذیتی سے بھر گیا تھا۔

’’ناپسندیدگی کا جواب ناپسندیدگی ہی ہو گا نا۔‘‘یہ خود کلامی تھی۔

’’تو پھر محبت کا جواب محبت کیوں نہیں۔‘‘ وہ بے ساختہ پوچھ بیٹھا ۔

’’تم نے کب اظہار کیا۔ بس دل ہی دل میں پوجتے رہے۔ اتنے پریکٹیکل ہو کر تمہاری یہ ڈھکی چھپی عاشقی مجھے ایک آنکھ نہیں بھائی ۔ تم نے اسٹیپ اٹھایا ہوتا تو شاید کہانی کچھ اور ہوتی۔ منہ سے براہ راست نہ سہی کوئی اشارہ ہی دیتے۔ بس جوگ لے کر بیٹھے ہو ۔ تم سے تو افسوس کرنے کو بھی جی نہیں چاہتا۔۔۔ بس تم پر افسوس ہوتا ہے۔‘‘

وہ پر ملال مبہم مکالموں کے اثر سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے چمک کر بولی تھی۔ اور پہلے بھی تو ہزار بار وہ ہزار طریقوں سے قائل کرنے کی کوشش کر چکی تھی۔ مگر ادھر وہی ایک پراسرار مسکراہٹ جواب ہوتی ۔

’’بے وقوف ہیں آپ۔۔۔‘‘ وہ سختی سے مسکرایا ۔

’’وہ اونچی ذات والوں کے من مندر کی دیوی تھی ۔ نچلی ذات والوں کی بھینٹ پر کب نظر کرم کرتی، ہم تو بس چوری چھپے دھرم نباہتے تھے۔ اور دیویاں بے خبر نہیں ہوتیں ، بن کر رہتی ہیں بس یہی دعا کرتے رہے کہ اس برہمن پجاری کو کانوں کان خبر نہ ہو ۔۔۔ باقی سب پھر شانتی ہے۔‘‘

اس نے اپنے سوال کے جواب کے لیے بہت سے موزوں جواز از خود تلاشے تھے ۔ مگر یہ کبھی نہیں۔ اتنی خوب صورتی اور گہرائی سے وہ ہی کہہ سکتا تھا ۔ وہ جیسے سکتے کی سی کیفیت میں ایک ٹک اسی دیکھ رہی تھی۔

اس کا نام پکارنے کو اس کے ہونٹ نیم وا ہو کر خود ہی آپس میں جڑ گئے ۔وہ تحیر کی انتہائوں پر تھی ۔

’’تمہارا مطلب ہے، وہ جانتی ہے ۔۔۔مطلب جانتی تھی کہ تم ۔۔۔۔ اومائی گاڈ ۔‘‘

’’آپ محبت کو کیا سمجھتی ہیں۔ مختلف طریقوں سے کی جانے والی چار لفظوں کی ترتیب ۔۔۔ ہونہہ پریم، پیار۔ لو (Love)محبت بے ترتیبی کا دوسرا نام ہے۔ الٹ پلٹ کر دینے والی، اندر باہر اکھاڑ پچھاڑ مچا دینے والی ۔ بارش کہیں بہت دور بھی برسے تو ہوائیں سن گن لے آتی ہیں پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس دل سے اٹھنے والی پھوار کی مہک نے اگلے کی قوت شامہ کو معطر نہ کیا ہو ۔‘‘

وہ اس کی متحیر آنکھوں میں اپنی آنکھیں ڈالے ہمیشہ کی طرح دور کی کوڑی لایا تھا اور وہ شاید قوت گویائی کھو چکی تھی ۔ حلق خشک ۔۔۔اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے بدقت بولی ۔

’’اور۔۔۔ اور تم جانتے ہو کہ وہ سر تا پا کسی اور ہی رنگ میں رنگی ہوئی ہے اور تم تب بھی۔۔۔۔ رقابت یا انسلٹ یا ۔۔۔‘‘

’’میں پھر کہوں گا ،بے وقوف ہیں آپ ۔‘‘وہ مسکرایا ۔

’’وہ رنگ۔۔۔ عادت تھا جو اب رقابت میں ڈھل گیا ہے۔ جب فیصلہ سنا دیا جائے تو پچ پر کھڑے رہنا نادانی ہوتی ہے ۔مسئلہ صرف یہ ہے کہ اس نے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا ۔‘‘

’’تو کیا تم انتظار کرو گے۔‘‘وہ دکھ سے دہری ہو رہی تھی ۔

’’تو اب تک کیا کر رہا ہوں۔‘‘ اس نے اسے لا جواب کر دیا تھا ۔

٭٭٭

’’میں آج تک نہیں سمجھ سکی کہ آپ نے مجھ سے شادی کیوں کی۔‘‘اس نے اچانک سوال کر دیا ۔

’’تمہارے پاس اتنا وقت ہو جاتا ہے کہ تم سمجھنے سمجھانے کا سوال کرو۔‘‘وہ چونکا نہیں ۔ وہ نیل پالش کے سوکھنے کی منتظر تھی ۔ ہاتھ اور پیر ذرا سے پھیلائے ہوئے آرام دہ حالت میں صوفے پر بیٹھی ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں شوہر کا عکس دیکھ رہی تھی۔ جو پینٹ اور سفید بنیان میں ملبوس تھا اور پینٹ کی بیلٹ کس رہا تھا ۔

’’کچھ خیال و گمان وقت کے محتاج نہیں ہوتے، وہ سانسوں کے ساتھ حاضری لگواتے ہیں ۔کبھی خود کو بھولنے نہیں دیتے ۔‘‘

’’تم گفتگو بہت اچھی کرتی ہو۔۔۔ ہمیشہ کی طرح۔‘‘وہ ہلکی آسمانی نئی شرٹ پہن رہا تھا۔

’’پہلے آپ میری گفتگو پر فوراًعمل درآمد،کر لیا کرتے تھے۔‘‘اس نے جتایا۔

’’کیا تم مجھے اب بھی کچھ کرنے کو کہہ رہی ہو۔‘‘بٹن بند کرتے ہاتھ رکے۔شوہر نے براہ راست اس کی آنکھوں میں جھانکا۔

’’ہاں!‘‘اس کی آواز بے جھجک،دو ٹوک اور واضح تھی۔

’’کیا ؟‘‘

’’میں کہہ رہی ہوں کہ یہ جو آپ کر رہے ہیں نہ کریں ۔‘‘

’’میں، میں کیا کر رہا ہوں۔‘‘اس نے اپنی شہادت کی انگلی اپنے سینے پر رکھی۔

’’انجان مت بنیے۔ میں واقعی اس بات کو بہت شدت سے سوچنے لگی ہوں کہ آپ نے مجھ سے شادی کیوں کی جب ۔۔۔ جب یہی سب کرنا تھا۔ کیا آپ کو لو ٹرائی اینگلز بہت پسند ہیں۔‘‘

وہ منہ سے کچھ نہ بولا۔ وہ قیمتی پرفیوم کو خود پر چھڑک رہا تھا۔ ایک تازگی کا احساس تنائو بھرے ماحول پر چھانے لگا۔

’’تمہارے پاس تیار ہونے کے لیے صرف دس منٹ ہیں۔ ہمیں وقت پر پہنچنا ہے۔‘‘

وہ اس کے صوفے کے پاس آ رکا تو اس نے ٹھنڈی سانس بھر کے اسے سرتاپا دیکھتا۔ نک سک سے درست۔ وجاہت مردانگی کا شاہکار۔ اس پر امارت کا تڑکہ اور سب سے بڑھ کر اپنی خوبیوں سے آشنائی نے آنکھوں میں ایک احساس تفاخر ثبت کر دیا تھا ۔

وہ آج بھی آسمانی بجلی کا وہ لپکا تھا۔ جو بھسم کر دینے کی صلاحیت رکھتا تھا ۔

ایک ایسا کوندا جو دل کو جلاتا تھا ۔جو دل کو بجھا بھی دیتا تھا ۔

آج بھی اس چہرے پر حق سے نظر ٹکانا ایک انعام تھا اور آج بھی ان آنکھوں میں آنکھیں ڈالے رکھنا ایک امتحان ۔۔۔

اس نے بے اختیار نگاہیں چرائیں۔ اتنا سب کچھ۔۔۔ بہت کچھ۔۔۔ اتنی جیت۔ اتنی ہار۔۔۔ اتنے موسم ۔مگر دل میں آج بھی محبت زندہ تھی ۔

آنکھوں کے آگے یاد داشتوں کی فلم سی چل گئی تو نین کٹوروں میں نمی ہلکورے لینے لگی۔

ایک تکلیف دہ کیفیت کے زیر اثر وہ صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اسے اس کے سوال کا جواب نہیں ملا تھا۔ اس کا شوہر ہینگر میں لگی سیاہ فراک اٹھا کر دیکھ رہا تھا۔ فراک ٹخنوں تک لمبی تھی اور گھیرے پر سلور پھول اور نگ ستارے ٹکے تھے۔ چاندی کے جیسی نازک ہیل پاس ہی زمین پر پڑی تھی ۔ اب شوہر کے ہاتھ میں ڈائمنڈ نیکلس سیٹ تھا۔ جو اس نے ہی برتھ ڈے پر گفٹ کیا تھا ۔ وہ بیوی کے تمام ملبوسات ملک کے نامور ڈیزائنر سے خریدا کرتا تھا بمعہ لوازمات۔۔۔ اس کی بیوی نے عرصہ ہوا ان چیزوں میں دلچسپی لینی چھوڑ رکھی تھی، اس کا بس چلتا تو وہ سارا وقت گھر میں رہتی اپنے بیٹے کے ساتھ یا پھر مصلُے پر تسبیح ہاتھ میں لیے۔۔۔ مگر وہ ایسی بیوی افورڈ نہیں کر سکتا تھا۔ اسے شانہ بشانہ ہاتھ میں ہاتھ لیے چلنے والی بیوی درکار تھی ۔

دروازے پر گھبرائی سی دستک کے بعد آیا اندر داخل ہوئی۔ وہ پوری طرح متوجہ ہوئی ۔ شوہر کے چہرے پر ناگواری سی در آئی ۔

’’وہ۔۔۔ وہ عون بابا۔۔۔ آپ کو بلا رہے ہیں ۔‘‘اس نے بے اختیار پف ہاتھ سے چھوڑ دیا۔ عون کو دو روز سے ہلکا بخار تھا ۔ وہ کسی صورت اسے اس حال میں چھوڑ کر نہیں جانا چاہتی تھی ۔

مگر یہ ایک بزنس ڈنر تھا جہاں اس کا اپنے شوہر کے ساتھ پہنچنا بہت ضروری تھا۔ بیٹے کی بیماری سے بھی زیادہ ۔

اس کے ڈھیلے پڑتے ہاتھ اور بدلتے رنگ کو بغور دیکھا تھا اس کے شوہر نے ۔اس نے اپنے چہرے پر پھیلی درشتی کو لہجے میں آنے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی تھی وہ آیا سے مخاطب ہوا۔

’’آپ جانتی ہیں نا کہ ہم ایک امپورٹنٹ بزنس ڈنر کے لیے جا رہے ہیں آپ کو یہاں آنا ہی نہیں چاہیے تھا۔‘‘

آیا نے ذرا سی نگاہ میڈم کو دیکھا۔جس کی آنکھیں بس ٹپکنے کو تھیں ۔

’’پلیز ۔‘‘سر نے اسے ہاتھ کے اشارے سے جانے کے لیے دروازہ دکھایا۔ وہ اس بار میڈم کی جانب دیکھے بغیر سرعت سے نکل گئی ۔

’’کیا اب آپ سے بھی کہا جائے گا کہ ہمیں جلدی پہنچنا ہے ۔‘‘ وہ تسلی سے صوفے پر بیٹھتے ہوئے طنز سے بولا ۔

’’میں بس دوائی پلا آتی ہوں ۔ ‘‘اس کا دل بیٹے کے پاس جانے کو ہمک رہا تھا ۔

وہ جواباً کچھ نہ بولا اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر گھڑی دکھائی۔ مگر چہرے کے انتہائی درشت تاثرات ۔

وہ کپڑے بدل کر لوٹی تو آنکھوں کی سرخی بتاتی تھی، وہ رو کر آئی ہے اس کی ذرا سی جنبش سے فراک کا گھیرا بل کھا جاتا تھا۔ وہ اب ڈریسنگ کے آئینے میں اسے بغور دیکھ رہا تھا یقینا اس کی بیوی کا حسن لوازمات کا محتاج نہیں تھا ۔ وہ اپنے اداس چہرے کو غازے سے رنگ رہی تھی ۔ ضبط گریہ سے سرخ آنکھوں پر اس نے کاجل سے خط کھینچ دیا۔ اپنے کپکپاتے لبوں پر گلابی رنگ پھیر دیا۔ اپنے پیروں میں چاندی کی جوتی پہننے کے بعد وہ نیکلس کا ہک بند کرنے کی کوشش کر رہی تھی اس کے ہاتھوں میں کپکپاہٹ سی تھی۔ وہ ہک بند کرنے کے لیے اٹھ آیا۔ آئینے میں ان دونوں کی جوڑی چاند سورج جیسی تھی۔

’’آپ کو مجھ سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی مامون!‘‘ اس نے خود کو مضبوط کرتے ہوئے ایک ہارا سا جملہ کہہ دیا۔اس کی گردن پر سرکتی انگلیاں پل بھر کو تھمیں۔ آئینے میں وہ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے نظر آئے۔

’’تم صحیح کہہ رہی ہو بشائر! مجھے واقعی تم سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی۔‘‘اس نے ملائمت سے اس کے گال پر انگلی پھیری ۔

٭٭٭

وی آرناٹ اسپیشل (We are not special)

’’ہمیں احساس برتری کی ضرورت نہیں ۔۔۔ہم برابری کی بنیاد پر جینا جانتے ہیں ۔‘‘

نامی معذور بچوں کی فلاح و بہبود کا یہ سماجی ادارہ اپنے پچاس سال پورے ہونے پر بڑے پیمانے پر پروگرامز کر رہا تھا۔انہی میں ایک نئے اعزازی صدر کا انتخاب بھی تھا اور وہ بلا مقابلہ صدر منتخب ہو گئی۔

اس سے بہتر کون سمجھ سکتا تھا معذور ہونے اور معذور کی ماں ہونے میں کتنا درد ہوتا ہے ۔ اس کے حلقہ احباب کا پرزور اصرار تھا کہ ایک گرینڈ پارٹی دی جائے اسے پارٹی دینے پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ مگر وہ پارٹی اپنے گھر میں دیتی یا کہیں باہر ، مامون کی موجودگی بہت ضروری تھی ۔ وہ کیا کہہ کر لوگوں کو بہلاتی کہ یہ وہ اور یہ ۔۔۔‘‘

پارٹی کا سن کر مامون نے بہت خوش ہونا تھا۔ مگر یہاں مسئلہ پارٹی کی نوعیت کا تھا۔ وہ ایک بین الاقوامی شہرت کے حامل نیک نام ادارے کی صدر بنا دی گئی تھی۔مگر اس ادارے کی وجۂ شہرت تھی معذور بچے۔۔۔ اور مامون شاید اس پر خوش ہو جاتا اگر اس کے اپنے گھر میں ایک معذور بچہ نہ ہوتا۔

نہ تو بشائر نے کبھی تجزیہ کیا اور نہ خود اس نے کہ ۔۔۔اسے اپنے ہی جگر گوشے کو دنیا کے سامنے لانے میں کیا ہچکچاہٹ تھی ۔

مامون کے چند جاننے والوں نے اسے بشائر کی اس عزت و کامیابی پر جب مبارکباد دی تو وہ بھناتا ہوا گھر لوٹا تھا۔

’’کوشش کیا کرو کہ تمہاری سرگرمیاں مجھ تک کسی بھی حوالے سے نہ پہنچا کریں۔‘‘

اور اب ایسے میں وہ اس سے امید رکھتی کہ وہ اپنے گھر میں ایسی کسی پارٹی کی اجازت دے گا اور اس میں شرکت کرے گا ۔ نو ۔نیور امپاسبل ۔۔۔

ابھی پرسوں ہی تو اس نے اس کا اچھا موڈ دیکھ کے پوچھا تھا۔

’’ٹاک شو میں بلوایا ہے مجھے ۔‘‘

’’گڈ ۔۔۔کون سا ٹاک شو ۔‘‘

’’بیسٹ آف لک ۔۔۔ود بخت!‘‘اس نے کہا ۔

’’بہت تعریفیں سن رہا ہوں میں اس شو کی۔۔۔ ریٹنگ بھی نمبر ون جا رہی ہے ضرور جائو ۔وہ ایسے ہی کام کر سکتا تھا ۔‘‘اس نے تنقید کی تھی یا تعریف ۔۔۔مگر بشائر کو برا لگ گیا ۔

’’ایسے ویسے کام کا کیا مطلب۔۔۔ وہ اتنا لائق فائق، پڑھا لکھا ۔ اسے یہی کام کرنا چاہیے تھا اور اگر آپ کے پوائنٹ آف ویو سے دیکھیں تو لاکھوں کما رہا ہے ۔ ایسے جوانوں کی ہی تو ضرورت ہے اس۔۔۔‘‘

’’اور اس ایسے جوان نے آپ کو کس سلسلے میں بلوایا ہے ۔‘‘

وہ گڑبڑا گئی ۔

وہW.N.S ۔۔۔کی ففٹی ایئرز پر ہونے والے ایونٹس اور ۔۔۔‘‘

’’اور معذور بچوں کے بارے میں آپ سے زیادہ اتھینٹک (مستند) رائے کہاں سے مل سکتی ہے۔ مامون نے اس کا جملہ اچک لیا۔’’اونہہ!جو نہیں جانتے وہ بھی جان لیں کہ ۔۔۔‘‘

’’وہ ہمارا بچہ ہے مامون۔۔۔!‘‘وہ تڑپ اٹھی ۔

’’ہاں۔۔۔ مگر برائے مہربانی اسے ہمارا بچہ ہی رہنے دو۔ قوم کا بچہ بنانے کی ضرورت نہیں۔۔۔ نمائش کا ارادہ ہے ہونہہ ۔‘‘

اور ایسے میں وہ اس پارٹی میں شرکت کرے گا۔جہاں میڈیا کا جمگھٹا ہو پھر بھی اس نے کوشش کی تھی ۔

’’پلیز مامون۔ میری شناخت مسز بشائر مامون ہے میں گھر کی پارٹی میں مہمانوں کو اکیلے ریسو کرتے کتنی ایمبریس ہوں گی ۔ تھوڑی دیر کو ساتھ رہ کر آپ معذرت کر لینا کہ آپ کو کہیں ارجنٹ جانا ہے مگر ویل کم کہنے کو تو موجود ہوں ۔‘‘

اس نے ان خوب صورت آنکھوں کی قطعیت کو دیکھا (اسے سحر زدہ کر دیا تھا کبھی ان آنکھوں نے )

’’عون سامنے تھوڑی آئے گا ۔ بچے تھوڑی ہوں گے ۔ ہمارے کچھ فیملی فرینڈز اور باقی ادارے کے اراکین وغیرہ جسٹ پارٹی۔ ڈنر اور بعد میں سوچ رہی ہوں۔ کسی غزل گائیک کو بلوالیں۔‘‘ اس نے ملتجی لہجے میں اپنی منتوں کو پرکشش بنایا۔

اور مامون نے پہلی بار پرسوچ انداز میں اسے دیکھا ۔

’’او کے۔۔۔ مگر میں آدھے گھنٹے سے زیادہ نہیں رک سکتا۔‘‘ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔

’’اوہ تھینک یو ۔۔۔مامون!‘‘ اس نے یکدم سرشار ہو کر اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔ اس کے چہرے پر خوشی نے خوب صورتی کو چار چاند لگا دیے۔ موتیوں جیسے دانتوں کی قطار احساس کرواتی تھی وہ ہمیشہ مسکراتی رہے۔ مامون نے بے ساختہ اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے خود سے قریب کیا۔ بحث تمحیص منت ترلے ۔۔۔پیار لاڈ ناز و ادا ان کے رشتے سے کب یہ چیزیں غائب ہوئیں ۔پتا ہی نہ چلا ایسا برجستہ التفات تو گئے زمانوں کا قصہ ہوا۔

ان دونوں کے لیے بھی ایک دوسرے کا لمس اور قربت گویا حیرانی تھی۔ پل بھر کی بے خودی ، بشائر نے دھیرے سے اس کے گلے میں بانہیں ڈال دیں۔ عرصہ پہلے اس نے اس شخص سے عشق کیا تھا ۔ بے حد ،اسے یاد تھا ذرا ذرا ۔۔۔

عورت کا دوسرا نام بے وقوفی ہے ۔

٭٭٭

مامون نے آدھے گھنٹے ٹہرنے کا عندیہ دیا تھا۔ مگر وہ ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک پارٹی میں موجود رہا ۔ بڑے بڑے نامی گرامی لوگ موجود تھے۔ میڈیا کی چند جانی مانی شخصیات اور کچھ رپورٹرز وغیرہ بھی۔۔۔ وہ بہت عرصے بعد دل سے خوش تھی ۔ مامون کی ہمراہی کا فخر اس کی سنگت کے ’’جبر‘‘نے کب کا معدوم کر دیا تھا اور اس روز اس کے الجھے، ہارے، نڈھال، بے بس سوال کے جواب میں ملنے والا جملہ ۔۔۔

’’مجھے واقعی تم سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی ۔‘‘اس نے اندر باہر سے مار ڈالا تھا۔

وہ لا شعوری طور پر کچھ اور سننا چاہتی تھی۔ مگر جو جواب مامون کی جانب سے ملا وہ ۔۔۔آہ ۔۔۔

وہ تڑپ کر سیدھی ہوئی اور پھر دوبدو اس کے چہرے کو دیکھنے لگی تھی کہ جہاں مزاح یا یونہی۔ ایسے ہی خوامخواہ چھیڑنے کے لیے جواب دے دیا جیسا تاثر ملے۔ مگر وہاں موجود یخ بستہ سرد مہری ، قطعیت اور بے فکری نے اسے بلندی سے منہ کے بل نیچے پھینک دیا۔ گویا آگے کچھ بولنے کے لیے، پوچھنے کے لیے بچا ہی نہیں ۔

مگر اس وقت ۔۔۔

مامون کی شخصیت کا تاثر سارے ماحول پر چھایا ہوا تھا ۔ سیاہ ڈنر سوٹ میں وہ پورے کا پورا اس کا ہو کر بھی اس کے لیے ایک امتحان کی طرح تھا ۔ جسے کن اکھیوں سے دیکھنا ایک مسلسل خوشی اور اعزاز تھا۔

تیس تیس میٹر کے یہ جبے (فراک)پہن کر گھومتی یہ خواتین ۔۔۔

’’آپ عورتوں نے کہیں کپڑے کی اسمگلنگ تو شروع نہیں کر دی ۔‘‘

پرستائش آواز پر چونک کر گھومی تو فرش کو چھوتا اس کا سفید انگرکھا فراک چکر کھا گیا ۔

’’اوہ ۔۔۔بخت!تم آئے تھینکس گاڈ !‘‘اس کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا ۔

’’آنے کا ارادہ تو نہیں تھا مگر آپ کا خفا چہرہ بار بار دھیان میں آ رہا تھا سو ۔۔۔مجبوری ۔‘‘

’’صحیح بات ہے اگر تم نہ آتے ۔۔۔تو ۔۔۔سچ میں بہت خوش ہوں ۔میں ایسا ہی کچھ کرنا چاہتی تھی مگر بے اختیار تھی ۔ اب مجھے کون روکے گا ۔اب میں کر سکتی ہوں ۔‘‘

’’آپ اپنے شوہر نامدار کو بھول گئیں ۔اصل روکنے ٹوکنے والے ۔‘‘بخت نے بروقت یاد دلایا ۔

اس نے آنکھیں سکیڑ کر اسے گھورا ۔’’تم ملے ان سے ۔۔۔‘‘

’’نہیں، سیدھا ادھر ہی آ گیا ۔ روشنی ہی روشنی تھی جیسے چاندنی زمین پر اتری ہو ۔دیکھا تو آپ تھیں۔‘‘وہ اس کے سفید لباس کو سراہ رہا تھا ۔

’’تم انہیں پسند نہیں کرتے نا!‘‘اس نے اصل بات کہی ۔

’’آپ بھی کمال ہیں خاتون ۔۔۔غلط فہمی میں جیتی ہیں اور جی بھر کے جی لیتی ہیں۔وہ مجھے پسند نہیں کرتے اور وہ بھی ہمیشہ سے ۔‘‘

’’بلا وجہ ہی وہم ہے تمہارا ۔‘‘

’’مصدقہ اطلاع یہ ہے کہ پہلے وہ مجھے نا پسند کرتے تھے اور اب باقاعدہ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔۔۔ اور میری انفارمیشن غلط نہیں ہوتی بھول گئیں ’’بیسٹ آف لک، ود بخت ‘‘سیاسی و سماجی حوالوں سے مستند ترین رائے رکھتا ہے۔ آپ کو پتا ہے لاسٹ ویک حزب اختلاف اور حزب اقتدار کے خرانٹ بندوں کو بلایا تھا شو میں۔۔۔ وہ بعد میں کہتے پائے گئے۔ بخت شاہ کو ہپناٹائز کرنا آتا ہے۔ وہ، وہ باتیں منہ سے نکل جاتی ہیں۔ جو کبھی بھی نکلنی نہیں چاہیں اور آپ کہتی ہیں۔ وہم ہے تمہارا ۔‘‘ وہ متبسم لہجے میں کہتے ہوئے اسے یقین دلا رہا تھا ۔

’’وہ ایسا کیوں کریں گے بخت۔۔۔۔‘‘اس نے بخت کی دلیل کو مان لیا تھا۔

’’عدینہ۔۔۔نہیں آئی۔ ‘‘وہ بات بدلتے ہوئے بولا ۔

بشائر کے چہرے پر مایوس سی مسکراہٹ آئی۔ ’’وہ میری تقریبات، مطلب میرے حوالے سے کب آتی ہے ۔‘‘

’’اسے معلوم نہیں ہو گا، میزبانوں میں مامون صاحب موجود ہوں گے ۔‘‘بخت نے نقطہ نکالا ۔

وہ سر جھکا کر جوتے کی ٹو سے گھاس کو ٹھوکر مارنے لگی ۔

’’میں نے دادو کو تو فون کیا تھا ۔مگر وہ گھر پر نہیں تھیں ۔‘‘بشائر نے بتایا ۔

’’وہ بیمار ہیں اور کل مامون، عدینہ کے ہمراہ انہیں لے کر ہاسپٹل گئے ہوئے تھے ۔‘‘بخت نے اسے چونکا دیا۔

’’مامون نے مجھ سے ذکر نہیں کیا۔‘‘وہ از حد حیران تھی ۔

’’اب کیا کیا ذکر کیا جائے ۔‘‘بخت کا انداز لاپروانہ تھا۔ ’’رابعہ آنٹی تو ٹیسٹ وغیرہ کرواتی رہیں اور یہ دونوں پہلے آغا خان کی کینٹین کی فش اڑاتے رہے، بعد میں ہرے بھرے لان میں ٹہلتے پائے گئے۔ اس سے دو روز پہلے انہوں نے سنی پلیکس میں ریس ٹو بھی دیکھی اور ۔۔۔‘‘

’’تت۔۔۔ تمہیں کیسے پتا چلا۔۔۔ ‘‘وہ شدید شاک کے زیر اثر تھی۔ ’’تم کیا ان کا پیچھا کرتے ہو۔ اپ ٹوڈیٹ انفارمیشن۔۔۔مائی گاڈ جاسوس!‘‘ اس کی پھٹی آنکھیں اور اس پر معصوم سوال ۔

’’ایک طرف بہن کا گھر۔۔۔ دوسری جانب بے بس دل ۔۔۔ ہم سا مجبور کون۔ ‘‘وہ اتنے بڑے انکشافات کے بعد یکدم بے حد ہلکے پھلکے انداز میں بولا ۔

’’او ہائے بخت آپ بھی یہاں ہیں۔۔۔ ‘‘ایک سیاسی پارٹی کی خاتون لیڈر بڑے حیرت بھرے جوش کے ساتھ چلائی تھیں ۔۔۔ دونوں چونک کر مڑے ۔اپنی گفتگو میں ہر شے کو فراموش کر دیا تھا۔

’’آپ تو کہیں جاتے نہیں پھر یہاں۔۔۔۔‘‘لیڈر کے لیے بڑی دلچسپی تھی۔ بخت کو پروگرام میں انوائٹ کیا جا سکتا تھا۔

’’یہ موصوفہ۔۔۔ بہن ہیں میری ۔‘‘بخت کے جملے نے بشائر کا دل پگھلا ڈالا ،وہ ان سے معذرت کر کے آگے بڑھ گئی۔

٭٭٭

’’کیوں آجاتی ہے وہ یہاں۔ کیا لینے کے لیے ۔ اب کیا بچا ہے جس کی فکر میں جب دل چاہا منہ اٹھا کر۔۔۔ ‘‘وہ لال بھبھوکا چہرے کے ساتھ تیز تیز بول رہی تھی ۔

’’کب آتی ہے روز۔۔۔ کوئی ڈیڑھ ماہ بعد تو۔۔۔‘‘

’’اوہ۔۔۔‘‘ اس نے ایک ہاتھ کمر پر لگایا اور دوسرے کو نچایا۔ ’’ تو آپ دن گن گن کر رکھتی ہیں۔‘‘

’’کون سی سگی دادی ہیں آپ۔ جو فکرمیں گھلتی ہیں محترمہ اگر اس طرح آئیں گی نہیں تو نمود و نمائش کیسے ہو گی اپنے جلوے دکھانے کی ۔۔۔ابھی بھی بتانا ہو گا کہ انٹرنیشنل این جی او کی صدر بن گئی ہیں تو۔۔۔‘‘

’’اس نے تو ایسا کچھ نہ کہا بیٹی!‘‘ رابعہ خاتون کی آواز نقاہت میں ڈوبی ہوئی تھی۔ ’’کس چیز کی صدر بن گئی ہے ، اللہ اسے خوشیاں دے اور اس کا دل ٹھنڈا کرے۔‘‘

وہ دل سے دعا گو تھیں۔

’’دادو۔۔۔!‘‘ عدینہ کی برداشت جواب دے گئی۔’’اب اور کون سی خوشیاں۔۔۔۔ سب کچھ تو پا لیا۔ بلکہ چھین لیا۔ اب اور کیا ملے اسے کہ دل ٹھنڈا ہو ڈائن کا !‘‘

غصے کی شدت سے وہ تیز تیز اونچا بول رہی تھی۔ لفظ ٹوٹے پھوٹے تھے۔

’’اولاد کے دکھ سے بڑا کون سا دکھ۔۔۔‘‘رابعہ خاتون کی آواز پست ہو گئی۔

’’ہونہہ ۔۔۔!‘‘عدینہ صوفے پر پیر اوپر کر کے بیٹھ گئی۔اس کے نتھنے پھول رہے تھے اور آنکھیں شرربار ۔

’’کبھی روبی شکیل کا جوڑا چڑھا کر آجائیں گی۔ کبھی ایچ ایس وائے کے لان پرنٹ۔ میں خود بوتیک چلاتی ہوں۔۔۔ کچھ اندازہ ہے ایک ایک جوڑے کی کیا قیمت ہوتی ہے ۔ وائٹ گولڈ میں ڈائمنڈ جڑی رنگز پہنتی ہیں۔ ابھی گاڑی کا نیا ماڈل خریدا گیا ہے اور کیا چاہیے جو آپ آنکھوں میں آنسو بھر کے گڑگڑا کر اور خوشیاں مانگیں۔ زمین پر جنت مل گئی۔حوا بن کر رہتی ہیں۔ آپ نے کبھی میرے لیے تو خوشیاں نہ مانگیں ایسے آنسو برسا برسا کر ۔‘‘

وہ غصہ کی انتہا پر تھی۔جو منہ میں آ رہا تھا بولے جا رہی تھی۔

’’اور اولاد کا دکھ تو وہ زندگی بھر سہے گی۔ اس کے کرموں کا پھل ہے۔ جب اس نے اپنی نزاکت، وقار کے جلوے دکھا کے آنکھوں کی سوئیاں نکال لیں ۔ میں نے تو یہ سبق سیکھا سسُی آج کی ہو یا سالوں پرانی ، اس کو جاگتے ہی رہنا چاہیے۔‘‘

اس کا لہجہ دکھ سے چور چور ہو گیا تھا ۔ رابعہ خاتون کا دل مسلا گیا۔وہ تسلی کے لیے کون سے جملے ترتیب دیتیں ۔

’’اس نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا بیٹی۔۔۔تمہارے دادا ۔۔۔‘‘

’’دادا کا نام مت لیں۔۔۔‘‘ وہ اچھل پڑی۔ ’’آپ مان کیوں نہیں لیتیں اس کی موقع شناس فطرت کو ۔۔۔ اس نے باقاعدہ پلاننگ کی تھی دادو ۔۔۔!آپ کو نہیں پتا ورنہ۔۔۔ ہم تو بیڈ روم کی کلر اسکیم چوائس کر رہے تھے اور باہر کی کراکری۔۔۔ اور آپ کو کیا یاد کروائوں۔۔۔ بکسا کھول کر تو آپ ہی جوڑوں کو دھوپ لگوانے لگی تھیں۔ اللہ کرے زندگی بھر روئے۔ میں مان ہی نہیں سکتی۔ کوئی جادو کر دیا تھا اس نے۔۔۔ ورنہ یہ وہی مامون ہیں نا۔۔۔ اور۔۔۔ اور یہ کیا تھیلے کے تھیلے بھر کے لے آتی ہے، مامون کی کمائی ہے۔ وہ دے تو دے۔یہ کیوں اپنا پیر اوپر رکھتی ہے۔‘‘

وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ اس کے رونے میں بے چارگی،ناکامی،تکلیف کے سو پہلو تھے۔

رابعہ خاتون نے اٹھ کر اسے سینے سے لگا کر چپ کروانے کی خواہش کو تھپکا۔وہ بہت بوڑھی ہو چکی تھیں اور عظیم خان کے بعد بہت کمزور و بے بس۔بیماری نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی تھی۔ ان کے آنسو کنپٹی سے گزر کر تکیے میں جذب ہونے لگے۔

اور بشائر جو رابعہ خاتون کے لیے شاپنگ کر کے آئی تھی ۔اس میں سے ایک بیگ گاڑی میں رہ گیا تھا ۔اس نے عدینہ اور رابعہ خاتون کے تمام مکالمے سنے تھے۔

رابعہ خاتون نے تو اسے یہی بتایا تھا کہ عدینہ گھر میں نہیں ہے جبکہ وہ تھی۔

بشائر رات کی پارٹی کے بعد بہت تھکی ہوئی تھی۔ مگر رابعہ خاتون کی طبیعت پوچھنا سب سے ضروری تھا۔ سو وہ پہلی فرصت میں ادھر آئی۔

اس نے بیگ دھیرے سے زمین پر رکھ دیا۔وہ رات بہت خوش تھی۔وہ رات ہی بہت ناخوش ہوئی تھی۔ ایک ادھورا انکشاف، پزل بکس کے چند حصے، جو ابھی جڑے نہیں تھے مگر مبہم اشارے ہی بتا رہے تھے تصویر بھیانک ہو گی۔

وہ ہمت کر کے بقیہ کڑیاں جوڑنے نکلی تھی۔ اور ادھر عدینہ کی زہر افشانیاں۔ اس کے قدم لڑکھڑائے ۔اس پر لگائے الزامات میں کوئی صداقت نہ تھی ۔

اس نے پانے کی خواہش ضرور کی تھی ۔مگر کوشش ہر گز نہیں ۔وہ تو بس ایسے ہی مل گیا ۔

مگر کیسے اور کیوں ۔۔۔

اسے معلوم کرنا تھا ۔

٭٭٭

ڈنر کے بعد غزل پروگرام تھا ۔ فرشی نشست تھی سازندے اپنے ساز سیٹ کر رہے تھے۔جب وہ بہت مطمئن حالت میں کچھ دوستوں اور W.N.Sکے پرانے اراکین چیف کے ہمراہ بیٹھ گئی ۔

’’میں تم سے مل کر بہت خوش ہوں۔‘‘بوڑھی ڈاکٹر رئیسہ نے محبت سے اس کا ہاتھ تھاما۔ انہوں نے زندگی کے چالیس برس اس ادارے کو دیے تھے۔ معذور بچوں کے حوالے سے ان کی خدمات اور تحقیق نے دنیا بھر میں انہیں عزت سے نوازا تھا۔

’’تمہارا ہسبنڈ بہت اسمارٹ ہے اور تم دونوں ایک ساتھ بہت اچھے لگتے ہو ۔‘‘وہ دور مامون کو دیکھ رہی تھیں۔ ’’مجھے پتا نہیں کیوں بار بار یہ لگتا ہے کہ میں اس سے پہلے بھی کہیں مل چکی ہوں۔‘‘ ان کی آنکھوں میں الجھن تھی ۔وہ مسکرا دی ۔

’’ہو سکتا ہے ڈاکٹر رئیسہ ۔۔۔میں آپ کو ان سے ملوا دیتی ہوں ۔‘‘

مگر مامون تھوڑی دیر بعد نکل گیا۔بشائر کے ذہن سے بھی محو ہو گیا۔ سب غزلوں پر جھوم رہے تھے۔ جب ڈاکٹر رئیسہ نے اسے اپنے نزدیک بلا لیا۔وہ بہت جوشیلی ہو رہی تھیں۔

’’مجھے سب یاد آ گیا مسز بشائر!‘‘وہ مسکرا رہی تھیں ۔

’’تم بہت لکی ہو جو تمہیں مامون جیسا شوہر ملا۔ اتنی محبت کرنے والا۔۔۔ مجھے یاد ہے یہ 2005ئ تھا جب وہ مجھ سے ملا ۔ اس کے پاس ایک جینٹک ہسٹری تھی۔ ویری ڈینجرس اور یہ پاگل ہو رہا تھا، بہت پریشان ۔‘‘

’’میری کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔۔۔ مامون آپ کے پاس کیسے آ سکتے ہیں۔ مجھے یقین ہو رہا ہے آپ کسی کے شبے میں ۔‘‘

’’تم اپنے شوہر کی کزن ہو نا۔‘‘

’’جی ہوں ۔۔۔مگر ۔‘‘

’’دیکھو لڑکی! تمہارا شوہر اتنا گڈ لکنگ ہے کہ جو ایک بار دیکھ لے وہ ہمیشہ یاد رکھے۔‘‘وہ ذرا خفا ہوئیں ،میں نے اسے ڈاکٹر صوفیہ اسلام کے پاس بھیجا تھا۔

’’اسے تم سے بہت محبت تھی۔ یہ رو دینے والا تھا کہ میں اسے بتائوں کہ وہ بے فکری سے اپنی کزن سے شادی کرے۔۔۔ مگر ظاہر ہے مجھے وہ بولنا تھا جو کیس ہسٹری کہہ رہی تھی اور میرا جواب انکار تھا کہ وہ کبھی اپنی کزن سے شادی نہ کرے۔ مگر وہ بہت پیار کرتا تھا تم سے۔۔۔ میں شاک میں ہوں مسز مامون کہ اس نے سب کچھ جانتے بوجھتے تم سے شادی کی۔ محبت کو اہمیت دی۔ وہ جانتا تھا کہ۔۔۔ تم سے شادی کی صورت میں وہ ۔۔۔آئی ایم سوری۔مگر اس نے سب بھلا کر تم ہی سے شادی کی مائی گاڈ۔۔۔لوگ کہتے ہیں، اب افلاطونی عشق نہیں ہوتا مگر ہوتا ہے۔ دیکھو نا تم اور وہ۔۔۔‘‘وہ بہت خوش تھیں۔

’’میری سمجھ میں نہیں آتا۔۔۔ مامون آپ نے مجھ سے شادی کیوں کی۔‘‘اسے اپنی آواز کی بازگشت سنائی دی ۔

’’مجھے واقعی تم سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی۔‘‘ایک جواب،ایک پچھتاوا ۔

ڈاکٹر رئیسہ کی بوڑھی آنکھوں میں رشک تھا۔

اور کبھی انسان مر جاتا ہے مگر نہ اعلان ہوتا ہے نہ دفنایا جاتا ہے سرد خانے میں منجمد لاش کی طرح۔۔۔ درمیان میں لٹکا۔

’’اور مجھے یاد ہے ۔۔۔وہ اپنی کزن کے حوالے سے اور ۔۔۔‘‘

’’ڈاکٹر رئیسہ!‘‘ اس نے اتنی سختی سے جبڑے بھینچے کہ رگیں ابھر آئی۔ ’’میں ان کی وہ کزن نہیں ہوں جس سے وہ شادی کرنا چاہتے تھے۔‘‘اس نے دھماکا سا کیا۔

الجھے دھاگے کا ایک سرا۔۔۔ مگر اسے ساری ڈور سلجھانی تھی۔اس نے صوفیہ اسلام سے ملنا تھا۔

٭٭٭

وہ آٹھ سال سال پہلے کے ایسے ہی مارچ کی بہار کے ہرے بھرے خوشبو دار دن تھے۔جب سارے گھر کے لوگ موسم کے جوبن سے نظریں چرائے اپنی اپنی سوچوں کے اژدہام میں گم تھے۔خود میں مگن، خاموش اور اگر کہیں کلام تھا بھی تو مبہم دھیما ، ادھورا ۔۔۔سوچوں کی اکھاڑ پچھاڑ کا اتنا شور تھا کہ ایک دوسرے سے مخاطب ہونا بھی گویا سب بھول گئے تھے۔

عظیم خان ڈاکٹر کی ہدایت موجب واک کے لیے جاتے تو واپسی کا راستہ بھول جاتے۔ رابعہ خاتون انتظار کی کوفت سہتیں اور بڑبڑاتیں وہ عدینہ کو ساتھ لگائے سرگوشیاں کرتیں۔ پریقین لہجے میں تسلیاں دیتیں اور عدینہ وہ اپنے بنائو سنگھار کو فراموش کیے گھنٹوں بالوں کی لٹوں کو انگلیوں پر بل دیتی رہتی ۔خفا چہرہ ۔

’’میری جانب سے ہاں ہے راحیلہ امی ۔۔۔مگر پلیز مجھے آنے دیں۔‘‘بشائر نے دنوں کی سوچ و بچار کے بعد ایک روز کہہ دیا اور اس نے محسوس کیا ’’ہاں‘‘کہنے کے پل تک کی ساری مشکلیں تھیں۔ہاں کہنے سے گویا رکی سانس بحال ہو گئی تھی۔ مگر دل۔۔۔ یوں لگتا جیسے دل بجھ گیا ہو۔ ایک سناٹے کی کیفیت۔

اور ان سب سے الگ ادھر مامون تھا۔ بشائر نے دیکھا۔وہ بہت چپ چپ رہنے لگا تھا اس نے یہ بھی دیکھا کہ وہ راتوں کو ٹہل ٹہل کر سگریٹ کے کش لیتا، لیٹ جاتا ، بیٹھ جاتا۔ دھویں کے مرغولے میں چہرہ دھندلا دکھائی دیتا مگر اتنا اندازہ ضرور ہوتا ،دھند کے پار گمبھیرتا تھی ۔ پریشانی الجھن بے یقینی ہاں اور نہیں کی تکرار ۔

اس کی نگاہیں ۔۔۔ عدینہ کے چہرے پر ٹک جاتیں ۔ وہ پلکیں جھپکائے بنا اسے دیکھتا۔یہاں تک کہ آنکھیں جل اٹھتیں تو چونک جاتا۔ وہ رابعہ خاتون کے چہرے پر بھی کچھ کھوجتا اور یہی نہیں۔ بشائر نے اپنے ہلکے سے گمان کو مشاہدے کے بعد یقین میں ڈھالا کہ اکثر مامون کی نظریں اس کا پیچھا کرتیں۔ جانچتی ، تولتی پرکھتی اکثر اس کے قدموں سے لپٹ جاتیں پتا نہیں کیوں ۔

مامون کی شیو بڑھ گئی تھی۔شب بے داری نے آنکھوں کی سرخی کو نمایاں کر دیا تھا۔ اس عالم میں بشائر کا دل پارہ بن جاتا۔کسی پل نہ ٹہرتا۔

’’ایک حتمی فیصلے کے بعد یہ بے ایمانی ہے بشائر سجاد!‘‘اس نے خود کو ڈپٹا۔ ’’تم اللہ کے حکم کی نافرمانی کر رہی ہو کہ قطعی نا محرم شخص کو بے خودی کے عالم میں تکنا ۔۔۔ یہ گناہ ہے بشائر! وہ تمہیں پسند آ گیا اجازت تھی۔ مگر وہ تمہیں مل نہیں سکتا ۔ وہ کسی اور کا ہے اور تم کسی اور کی ہونے جا رہی ہو۔۔۔ تو اب یہ وارفتگی۔‘‘

دل سیدھی شرافت سے مان ہی نہ رہا تھا سو اس نے اسے گناہ و ثواب کے ذریعے عقل دی۔

وہ اب یہاں سے جانے کو بے چین تھی۔ اسے لاہور میں اپنا گھر یاد آنے لگا تھا۔ اسے امی ابو بہن بھائیوں کی یادیں ہر پل ستا رہی تھی اور اسے بس اب جانا تھا۔

تب ہی آسمان میں دو سیارے ٹکرائے جیسے وہ بے یقینی کے سمندر میں غرق ہو گئی ۔

’’کک۔۔۔ کیسے ۔۔۔کیا کہہ رہی ہیں آپ۔۔۔ آپ نے غلط سنا ہو گا راحیلہ امی ۔‘‘ وہ خوش نہیں ہوئی۔ اس پر شادی مرگ بھی طاری نہ ہوئی شدید حیرانی نے چہرے کے نقوش کو بگاڑ دیا۔

’’وہ ۔۔۔ تو ۔۔۔وہ تو عدینہ۔سب جانتے ہیں۔‘‘

’’آپ نے غلط سنا ہوگا مائی گاڈ!‘‘ وہ فون پر بھینچی آواز میں اتنی طاقت سے چلائی کہ گلے میں خراشیں پڑ گئیں۔

’’ارے بے وقوف!‘‘ راحیلہ امی نے اس کی نادانی پر سر پیٹا۔ ’’اس نے صاف کہا کہ وہ تو بس دوست ہے۔ بچپن سے ساتھ ہے۔بہنوں جیسی ہے بھئی۔‘‘

’’مامون نے یہ کہا۔۔۔ ‘‘وہ بھونچکی رہ گئی۔’’راحیلہ امی!آپ مامون سے کبھی ملی نہیں ۔آپ نے عدینہ کو نہیں دیکھا بلکہ آپ نے ان دونوں کو اکٹھے نہیں دیکھا۔‘‘ اس نے پراسرار لہجے میں بتانا شروع کیا۔ ’’میں خود اتنے عرصے سے سب دیکھ رہی ہوں۔وہ تو جیسے ایک دوسرے کا سایہ ہیں اور آپ کہتی۔۔۔‘‘

’’احمق لڑکی!‘‘ راحیلہ امی نے دانت پیس کر اس کی عقل پر ماتم کیا۔’’وہ ساتھ رہے ہیں۔عدینہ اس کی عادت ہو گی ۔اور احمق لڑکی! مرد کھوجی ہوتا ہے وہ کھوجتا ہے نت نئے جہان۔۔۔ تمہارا لیا دیا انداز اسے اکساتا ہے۔ مائل کرتا ہے۔ قائل کرتا ہے۔ جب ہی تو اس نے سیدھا راستہ اپنایا۔ وہ عدینہ کے بارے میں سب کچھ جان چکا ہے۔ نئی اور پرانی کتاب کا فرق سمجھو تم۔‘‘

’’تو جب کل کو نئی کتاب پرانی ہوگی تب کوئی اور۔۔۔‘‘

’’یہ میں نے صرف مثال دی ہے۔‘‘ راحیلہ بھنا گئیں۔’’تم صاف بات کرو تمہیں اعتراض ہے تو بولو، میں جو اتنا فورس کر رہی ہوں تو تمہارے ابو کی وجہ سے۔ وہ مامون سے مل چکے ہیں اسے جانتے ہیں اور بہت پسند کرتے ہیں اور اس رشتے کی بابت جان کر وہ شان کو تو بھول ہی گئے۔ ہم عنقریب لاہور آ رہے ہیں اور کیا تم اسے نا پسند کرتی ہو۔ میں تو صرف کمپیوٹر پر دیکھ کر حیران رہ گئی۔ویری ہینڈسم مین ۔۔۔سامنے سے کیسا لگتا ہو گا ۔‘‘

’’ہاں سامنے سے۔۔۔‘‘بشائر نے ہار مانی ۔

٭٭٭

’’عدینہ کا کیا پوچھنا ۔۔۔‘‘بشائر شمسہ بیگم کے پاس آئی تھی وہ آٹھ سالوں بعد پہلی بار دہرا رہی تھی۔ اس نے کمرے کی ہر چیز اٹھا کر پھینک دی تھی۔اس کا چہرہ پسینے اور آنسوئوں سے تر تھا۔ بکھرے بال اس کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی۔ وہ نجانے کس قدر رو چکی تھی اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ جو رابعہ خاتون کہہ رہی ہیں۔

’’آپ نے تو کہا تھا آپ دادا جان کو منالیں گی ہر صورت۔۔۔ اور آپ کہتی ہیں، مامون بشائر سے شادی کرنا چاہ رہا ہے ۔۔۔یہ کون بشائر!۔۔”who isوہ چیخ رہی تھی۔

’’وہ تو کہیں کینیڈا جا رہی تھی نا۔ آپ اس سے کہیں، وہ کبھی نہ مانے۔۔۔ لیکن نہیں ۔۔۔اسی نے مامون کو پھانسا ہو گا۔۔۔ اور شمسہ آنٹی، دادو کہتی ہیں۔ دادا نے کہا۔ مامون نے صحیح فیصلہ کیا۔ آپ بولیں، میرے اپنے دادا۔۔۔‘‘

’’بیٹا مرد کے دل کا حال۔۔۔‘‘رابعہ خاتون کیا بولتیں وہ کیا بتاتیں کیا چھپاتیں ۔

’’میں کیسے رہ سکتی ہوں۔۔۔ مامون ۔۔۔ میں نے اس کے علاوہ کچھ سوچا ہی نہیں ۔ مجھے پتا ہی نہیں کہ دنیا میں اور بھی مرد ہیں۔( اس کا رونا بہت تکلیف دہ تھا)

’’وہ دنیا کا آخری مرد نہیں تھا۔‘‘میں نے کہا تھا۔

’’کیا پہلا ،آخری ۔وہ میری زندگی کا واحد تھا شمسہ آنٹی!‘‘ وہ بے چارگی کی انتہا پر تھی۔

’’بیٹا ! یہ ایک حقیقت ہے کہ تم اور ہم اب کچھ نہیں ۔۔۔وہ بشائر کے۔۔۔‘‘

’’نہیں۔۔۔‘‘ وہ چلائی۔’’کون بشائر دادو۔۔۔ ہم ہی تھے ہم چار صرف ہم چار۔۔۔ جیسے اسکوائر کے چار کونے۔۔۔ آپ ہی نے تو مجھے اسکوائر کی ڈیفی نیشن یاد کروائی تھی۔‘‘ اس نے رٹا سنا دیا تیزی سے۔

اس کی لبالب بھری آنکھیں اور رو رو کر بیٹھا گلا ۔۔۔وہ اتنی قابل رحم لگ رہی تھی کہ تم اندازہ بھی نہیں کر سکتی ہو۔

’’میں جائوں گی مامون کے پاس ۔‘‘وہ سختی سے آنکھیں رگڑتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ ’’میں پوچھوں گی ان سے کہ ۔۔۔‘‘

’’نا بیٹی ! ‘‘رابعہ خاتون نے اسے روکا اور شانوں سے تھام کر اپنے ساتھ بٹھایا۔ جتنا انجان بن کر وہ جا رہا ہے ۔ تم اتنی ہی اجنبیت سے اسے رخصت کر دو ۔ یاد رکھو، جان اور آن میں سے ایک چیز بچانی ہو تو آن بچانا ۔۔۔ اپنے پندار کی حفاظت ۔۔۔‘‘

’’مجھے گہرائی کی۔۔۔ بلندی کی باتیں نہ سنائیں۔ میں منہ کے بل پستی میں گری ہوں اس نے مجھے کیوں چھوڑا دادو ۔‘‘وہ معصومیت سے چہرہ اٹھا کر پوچھ رہی تھی۔ میں نے اپنے آنسو چھپا لیے۔‘‘ شمسہ بیگم کی آنکھوں میں آج بھی آٹھ سال کا دکھ بول رہا تھا۔

’’آپ آٹھ سال بعد اس سوال کو لے کر آئی ہیں اور ہم آٹھ سال سے سوچ رہے ہیں کہ اس نے عدینہ کو کیوں چھوڑا ۔‘‘ بخت اتنی لمبی نشست میں پہلی بار بولا ۔ وہ بہت سنجیدگی سے بس اسے سن رہا تھا۔

’’اور بشائر سے شادی کیوں کی۔‘‘ بشائر نے سوال کے جواب میں ٹوٹے لہجے میں سوال جڑ دیا۔

شمسہ بیگم اور بخت نے نظریں چرائی تھیں۔

(میں جواب ڈھونڈ لائی ہوں ۔۔۔بخت ۔)

بشائر سجاد نے پہلی نگاہ سے دو دن کے وقفے تک مامون سجاد کو عجب سرخوشی کے عالم میں استحقاق سے سوچا تھا۔ تیسرے دن اس نے جان لیا کہ وہ اس کا نہیں ہو سکتا۔ وہ کسی اور کا ہے۔ تب وہ وقت اس نے ملال میں گھر کے کنی کتراتے خود کو سمجھاتے گزارا۔

اور رشتہ طے ہونے کے بعد سے شادی کے دن تک وہ بے یقینی کے عالم میں قصداً ہی مامون کے چہرے کو کھوج نہیں پاتی تھی۔ یہ کیا ہو گیا۔ یہ کیسے ہو گیا۔ اس کے دل میں اس شخص کی طلب اتنی شدید تھی کہ اس نے اسے بنا کسی مقابلے کے پا لیا۔ وہ شخص اس کا ہو چکا تھا۔

’’اور کیا میں اسے بتائوں گی کہ میں کیسے پہلی نظر میں ۔۔۔ اوخدا، میں نہیں بتا سکتی ہاں ۔جب ہم بوڑھے ہو جائیں گے تب۔۔۔ لیکن میں اس سے پوچھوں گی ضرور کہ اس نے کب کیوں اور کیسے یہ فیصلہ کیا کہ وہ اسے چن رہا ہے۔ واہ ایک احساس تفاخر۔۔۔ اچھا پہلے اس سے پوچھوں گی پھر میں بتائوں گی کہ میں کیسے ۔۔۔‘‘ مامون کے ساتھ خود کو دو بدو سوچنا۔خود میں سمٹ سمٹ گئی ۔

اور گلاب کی خوشبو سے بوجھل خوابوں جیسی وہ شام ۔۔۔وہ اپنی تمام تر وجاہت اور ساحر آنکھوں کے ساتھ اس کے ساتھ براجمان تھا۔ اس کے دل کی اتھل پتھل۔۔۔ دل حلق میں اٹک گیا جب تصاویر بنوانے کے شائق گھس گھس کر ان کے دائیں بائیں بیٹھ رہے تھے اور ایک وقت ایسا آیا جب ان کے پہلوئوں میں کوئی درز نہ رہی۔ اس کی قمیص کا گلا گہرا تھا اور نیچے ڈھلک رہا تھا سب کو لگا اس نے اپنا حنائی چوڑیوں، انگوٹھیوں سے بھرا ہاتھ گریبان کو سنبھالنے کے لیے سینے پر رکھا ہے مگر مشکل سے وہ واقف تھی دل کی بے ترتیب دھڑکن ۔۔۔

اور ارمانوں بھری رات ۔۔۔

اور نئے آغاز کی روشن صبح ۔۔۔اسے اب یاد آتا تھا۔

جیسے گھڑی کی سوئیاں جذبات کے بغیر آگے بڑھتی ہیں۔زندگی کے وہ یادگار لمحے بس آئے اور گزر گئے تھے۔

کوئی اظہار نہیں تھا۔ بس’ ’آغاز‘‘تھا۔

ہاتھوں میں ہاتھ تو تھا مگر ’’ساتھ‘‘نہیں تھا۔

گفتگو تو تھی مگر ’’باتیں‘‘نہیں تھیں۔

اور وہ شادی مرگ کے جس عالم میں تھی ۔اس نے کبھی جذبات سے عاری مشینی رویے پر دھیان ہی نہ دیا۔ وہ کنیرڈ کی پڑھی لکھی باشعور لڑکی تھی ۔میچور ۔

مگر تھی تو عورت نا۔۔۔جس مرد پر پہلی نگاہ پڑتے ہی اسے خیال آیا تھا۔کاش وہ اس کا ہو ،کاش وہ اس کی ہو جائے۔اور اس کی خواہش پوری ہو گئی تھی۔

آسمان کی بلندیوں سے کھیت کو دیکھیں تو یوں لگتا ہے ،سبز رنگ کا قالین بچھا ہے اسی کھیت کو زمین پر جا کر قریب سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ درمیان میں کتنا فاصلہ موجود ہے۔

اور وہ مامون ابصار کی سنگت میں ہوائوں ہی میں تو اڑ رہی تھی۔اس کے پیر زمین پر کب تھے۔جو فاصلہ ماپ سکتے۔

وہ اپنے بیڈ روم کو صبح سویرے تازہ پھولوں سے سجاتی۔وہ خود خوشبوئوں میں بسی رہتی خوشبودار موم بتیوں کی لرزاں روشنی میں شام کا استقبال کرتی۔

اس نے بہت بعد میں اپنے اور مامون کے رشتے کے بارے میں جب سوچا تو دھیان آیا۔

اس کے بے ساختہ بے حد التفات پر اس نے کبھی سرد مہری نہیں دکھائی تھی ۔مگر پہل ہمیشہ اس کی جانب سے تھی ۔مامون ابصار نے محبت کے جواب میں محبت ہی دی تھی (تاوقتیکہ )۔

مامون نے کبھی اس کا ہاتھ نہیں جھٹکا ۔ وہ اسے بغور سنتا تھا ۔ اس کی رائے کو بے حد اہمیت دیتا تھا۔ اس پر کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔ وہ اسے گھمانے لے گیا۔ ہنی مون کے لیے ۔ وہ اسے اندھا دھند شاپنگ کرواتا۔ اس کی باتوں پر ہنس دیتا۔ اسے سنتا رہتا۔مگر کبھی کبھی بشائر کو لگتا۔ اس کی آنکھوں میں ایک مسلسل حزن آ رکا ہے۔ اس نے کبھی پوچھنا چاہا تو اس نے بہلا دیا۔

’’اس کا وہم ہے وہ ہمیشہ سے ایسا ہی ہے۔‘‘وہ کہتا بشائر چپ سادھ لیتی وہ نہ کہتی کہ وہ ان آنکھوں کے ہر رنگ کو پہچان لیتی ہے ان آنکھوں ہی نے تو ۔۔۔

اور عون کے آنے کی خبر ۔۔۔وہ جھوم اٹھی ۔اس پہلو پر تو دھیان ہی نہ گیا۔اس کا اور مامون کا بچہ۔۔۔ کہاں ہے بچہ ۔ وہ قد آدم آئینے میں خود کو کھوجتی اور ایسے میں مامون کا رویہ ۔۔۔اف وہ اسے یوں ٹریٹ کرتا جیسے کسی نے کانچ کی نازک گڑیا اپنی ہتھیلی پر کھڑی کر رکھی ہو ۔ بشائر حیران ہوتی ۔وہ خوش تو نظر آ یا تھا۔مگر وہ اس کی طرح حق دق نہ رہ گیا تھا۔ وہ جیسے منتظر تھا۔ اس کا کھانا پینا سونا جاگنا آرام۔۔۔ وہ ان دنوں اپنے بزنس کو بڑھا رہا تھا۔کامیابیاں، دن رات کی محنت۔ سفر۔۔۔ مگر ان سب کے درمیان بشائر کے لیے وقت اور توجہ ۔ وہ اس کی ہر حرکت پر گویا نگاہ رکھتا اور بشائر اس درجہ پروا پر خوشی سے پاگل۔۔۔ کبھی کبھی وہ مامون کے جنون پر حیران ہوتی بلکہ گھبرا جاتی۔

کبھی اسے لگتا۔ اتنے وقت ، توجہ اور گفتگو کے باوجود مامون وہ کہہ نہیں پاتا جو کہنا چاہتا ہے ۔وہ مضطرب لگتا۔گہری سوچ میں غرق ۔۔۔

’’آپ خالہ دادی کے گھر نہ جا سکنے سے پریشان ہیں نا ۔‘‘

’’ایسا نہیں ہے۔‘‘مامون نے انکار کیا۔

وہ کچھ کہتے کہتے رک گئی۔پہلے عظیم خان نے اور بعد میں رابعہ خاتون نے مامون کو منع کیا تھا وہ اب ۔۔۔ وہ اب ان کے گھر نہ آیا کرے ۔۔۔ یا کم از کم عدینہ کی موجودگی میں تو ۔۔۔اسے شمسہ بیگم نے ایک ملاقات میں بتایا۔

اور شمسہ بیگم اور بخت ۔۔۔

’’تمہیں ہر طرح کی آزادی ہے بشائر۔۔۔مگر یہ حکم نہیں ہے تم ۔۔۔بخت وغیرہ سے نہ ملو۔۔۔ میرا مطلب ہے اس طرف کم جائو تو ۔۔۔ دراصل بخت عجب لاپروا سا ،نکما خیالی باتیں کرتا لڑکا ہے ،نان پریکٹیکل ۔۔۔میں منع نہیں کر رہا تمہیں اور کچھ اس حال میں ۔۔۔تم جانتی تو ہو کہ میں تمہارے اور بے بی کے حوالے سے ۔‘‘

بشائر بخت کے حق میں سو دلائل اور ہزار تعریفوں کے پل باندھ سکتی تھی۔مگر مامون نے پہلی بار۔۔۔ کسی بات پر ناگواری یا ہدایت دی تھی اور بے بی کے حوالے سے اس کا اتاولا پن ۔۔۔ وہ قطعاً برا مانے بغیر مان گئی اور پھر بعد میں ۔۔۔

وہ اپنے بے پناہ مصروف شیڈول میں سے اس کے ہر اپائٹمنٹ کے لیے وقت نکالتا ۔ وہ ہر الٹراسائونڈ میں سونولوجسٹ کے کمرے میں اس کے ساتھ اندر جاتا۔ کرید کرید کر پوچھتا۔ نجانے کون کون سے ٹیسٹ اور ڈاکٹرز کی ایڈوائز اور بشائر اتنی محبت پر سرشار رہتی۔

اور وہ جان چکی تھی کہ اس کے ہاں بیٹا ہو گا لیکن جب وہ اس کے ہاتھ آیا۔اس کی خوشی کا عالم ۔وہ ہو بہو مامون ابصار تھا اس نے بشائر سے کوئی عکس نہ لیا تھا۔

خوشی ،محبت ۔کاملیت ۔زندگی مکمل ہو گئی ۔ہیپی فیملی۔

وہ مامون کی اس درجہ پروا پر حیران رہتی تھی لیکن پھر سوچا بعض لوگ دورانِ حمل بہت محتاط ہوجاتے ہیں اور بعد میں ان کا رویہ نارمل ہوجاتا ہے سو مامون بھی۔۔۔ لیکن مامون کے بعد چار ماہ تک روےے نے بھی اسے حیران رکھا۔وہ اسے چھو چھو کر دیکھتا عمیق نگاہی سے۔۔۔ڈاکٹر ۔۔۔حفاظتی ٹیکے۔وٹامنز وہ بشائر کی خوراک کا خیال رکھتا ۔اسے خود اپنی زیر نگرانی دودھ کے گلاس پلاتا تاکہ بچہ ماں ہی کا دودھ پیے اور خوراک کی کمی کا شکار نہ ہو ۔

اور بشائر مامون ابصار ایک بار پھر حیران رہ گئی۔ جب اتنی احتیاط کے ساتھ پرورش پاتا بچہ چار ماہ بعد بجائے سر اور نظر ٹہرنے کے اس کا سر ڈھلک گیا۔اس کی نظریں پلٹ رہی تھیں۔اس کے منہ سے مسلسل رال سی بہنے لگی تھی۔

’’کم عقل عورت! تمہیں نظر کیوں نہ آیا۔‘‘وہ اتنی زور سے چیخا کہ در و دیوار ہل گئے اور وہ کانپتی ٹانگوں کے ساتھ ششدر صوفے پر گر گئی۔

’’میں ۔۔۔ مجھے نہیں پتا چل سکا۔وہ منہ سے دودھ تو نکالتا تھا۔‘‘وہ نا سمجھی کے عالم میں منمنائی۔

’’تمہیں دودھ اور رال کا پتا نہیں۔‘‘اس کی آواز میں توپ کے گولوں جیسی گھن گرج تھی۔ وہ ہمیشہ بچے کو یوں چھوتا تھا جیسے نازک شاخ پر لگی نودمیدہ کلی ۔۔۔مگر اس سمے وہ اسے یوں دائیں بائیں الٹ پلٹ رہا تھا جیسے۔۔۔جیسے کوئی بے جان فالتو چیز ٹھیک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔ فالٹ ڈھونڈنے کی عجلت اور۔۔۔ اور پھر بعض سر پھرے ناکام ہو کر ایک ہاتھ مارتے ہیں اور خراب شے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر زمین بوس ہو جاتی ہے۔ بشائر نے فوری خیال کے تحت اٹھ کر بچے کو سینے سے لگا لیا۔خود میں بھینچ لیا۔

وہ ہراساں نگاہوں سے ہانپتے اور نجانے کیا کیا بولتے مامون ابصار کو تک رہی تھی۔ وہ نجانے کن جارحانہ عزائم سے اس کی جانب آیا۔ وہ چیل کی سی تیزی سے بچے کو خود میں سموئے بیڈ پر اوندھی ہو گئی۔ اس نے اپنی آنکھیں سختی سے میچ رکھی تھیں۔ مامون ابصار نے ایک زور دار ٹھوکر بیڈ پر ماری اس نے لیمپ اٹھا کر ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے پر مار دیا کرچیاں چھناک چھن۔۔۔آہ۔۔۔! وہ کمرے سے نکل گیا۔

بشائر نے تسلی کر کے کہ وہ جا چکا ہے اپنی سہمی آنکھیں کھولیں اس نے اپنے روتے بچے کو بغور دیکھا۔ بچے بیمار ہوتے ہی ہیں۔آخرکیا ہوگیاتھا ۔ وہ بچے کے کپڑے بدلوانے لگی ۔ اسے پتا نہیں تھا وہ زار و قطار رو رہی تھی ۔ اس کے کپڑے ملگجے تھے۔ ایک یاد، ایک خیال، ایک وہم ۔۔۔ہاں وہ الٹی سیدھی چپل اڑستے باہر کو لپکی ۔اسے خود ہی ڈاکٹر کے پاس جانا تھا ۔ اکیلے ہی۔۔۔ اس نے کسی اور سوٹ کا دوپٹا شانے پر ڈال رکھا تھا۔ اس کا ہیر کٹ بکھرا اجڑا تھا۔ کار کی پچھلی نشست پر بچے کو بانہوں میں بھینچے وہ بے آواز رو رہی تھی۔ اس کے ہونٹ بچے کے سر سے جڑے تھے۔ اس کے آنسو تولےے میں جذب ہورہے تھے۔

وہ پہلی بار بچے کے ہمراہ اکیلی باہر نکلی تھی اور واپسی کے تنہا سفر نے اسے یہ بھی باور کرا دیا تھا کہ وہ اب آئندہ ہمیشہ ۔۔۔ایسے ہی اکیلے ۔

اس کے بچے کے ساتھ ایک عمل کا آغاز ہو رہا تھا ایب نارملٹی کا آغاز ۔ اس نے نظریں پھیریں، اس کا سر بے قابو ہوا ۔اس کے ہاتھ پیروں نے کبھی توانائی نہ پکڑی ۔کیا کیوں کب کیسے ۔۔۔۔ بشائر کو پھر ان سات سالوں میں یہ سب سوچنے کی مہلت نہ ملی۔

عون کے لیے باپ کی محبت ختم ہو چکی تھی۔

عون کے لیے ماں کی محبت شروع ہوئی تھی۔جو کبھی اختتام پذیر نہیں ہوتی۔

ماں کی محبت ،زم زم کا چشمہ ہوتی ہے ایک بار جاری ہو گیا تو بس ہو گیا۔

فقط سات چکروں میں زمین کا دل پگھل جاتا ہے۔

دراصل زمیں بھانپ لیتی ہے، ماں ستر چکر لگا کر بھی نہ نا امید ہو گی اور نہ تھکاوٹ کی شکن اس کے ماتھے پر سجے گی۔

اور شروع کے چار سال بشائر نے اس کی صحت یابی کے خواب دیکھتے ہوئے تگ و دو کی اور آگے تین سال اس نے تسلیم کر لیا تھا۔

ماں بیٹے کا رشتہ مضبوط سے مضبوط ہوگیا اور میاں بیوی کا رشتہ۔۔۔

بچہ میاں بیوی کے رشتے کو مضبوط ترین کرنے کی زنجیر ہوتا ہے مگر شاید عون زنجیر تو تھا ۔۔۔مگر زنگ آلود ۔

عون ان دونوں کی خوشی تھا جسے انہوں نے خوب جی بھر کے منایا تھا۔

عون ان دونوں کا دکھ تھا جسے بشائر نے اکیلے سہا تھا۔مامون نے ہاتھ کھینچ لیے تھے نا۔

عون کوڑھ زدہ مریض کی طرح گھر کے کونے والے کمرے میں منتقل کر دیا گیا اور مامون بھول گیا کہ اس گھر میں ایک تیسرا فرد بھی رہائش پذیر ہے۔

اسے تازہ دم کھلکھلاتی نک سک سے درست بیوی کی ضرورت تھی۔ کسی کمی کے بغیر اور وہ اس پر ذرا بھی کمپرومائز کے لےے تیار نہ تھا۔ مجبوری، دبی زبان کا انکار، اصرار سب بے کار۔۔۔ مامون نے نرس کا بندوبست کر دیا۔ وہ مامون کو دیکھے مگر اسے بشائر ویسی ہی چاہےے جیسی اس نے پسند کی تھی۔

دونوں اپنی جگہ اڑے رہے۔ بشائر کے لےے اول و آخر ترجیح عون تھا اور مامون کے لےے اپنا امیج تھا۔

وہ اتنا کٹھور ، سنگ دل ، سرد مہر آنکھوں والا بن گیا تھا کہ وہ اوپر اوپر سے مضبوط دکھائی دیتی مگر دل میں لرزتی۔ دونوں اپنے مطالبے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے۔ پھر درمیانی راہ خود بہ خود نکل آتی۔ مامون نے عون کے حوالے سے بشائر کے معاملات میں دخل دینا بند کر دیا۔ وہ سیاہ و سفید کرے اس اجازت کے پیچھے۔۔ بشائر کو مامون کی ماننا پڑی۔ اسے ہمہ وقت ایک کامیاب بزنس مین کی بیگم کی طرح رہنا پڑتا۔ اپنے لباس، انداز تک اسے ہر شے مین ٹین رکھنی پڑتی۔ دوہری ذمہ داری نے اس کے اعصاب شل کر دےے تھے۔ مگر مامون اسے کسی قسم کی رعایت دینے کو تیار نہ تھا۔

ایک جانب عون دن بدن مزید تنزلی کی جانب بڑھ رہا تھا ۔زیادہ ڈیمانڈنگ دوسری جانب مامون کا بے لچک رویہ ۔

وہ چھ سال سے دوسری بار ماں بننے کے لیے تڑپ رہی تھی مگر ۔۔۔مامون ۔۔۔

شروع کی حیرانگی کے بعد اس نے جانا ،عون مامون کے لیے باعث شرمندگی تھا۔ شاید باعث اذیت ۔ وہ اس کی بیماری کا سن کر اپنے آپ میں مگن رہتا۔اس کے جنون کے دنوں کی چیخ و پکار سے بچنے کے لیے اس نے نیچے جا کر سونا شروع کر دیا۔ وہ گھر میں ڈاکٹرز کی آمد و رفت دیکھتا مگر کبھی پلٹ کر نہ پوچھا ’’کیا ہوا ہے سب ٹھیک ہے نا‘‘اور شروع کے کچھ سالوں کے بعد بشائر نے ذکر کرنا ہی کم کر دیا تھا یعنی کچھ بھی بتانا۔

وہ اپنا اور مامون کا رشتہ تو نجانے کب سے فراموش کر چکی تھی۔ایک چھت کے نیچے رہتے دو اجنبی۔۔۔ دنوں گزر جاتے وہ ایک دوسرے کو مخاطب بھی نہ کر پاتے ۔ان دونوں کا یہ فاصلہ ۔۔۔گھر کے ملازمین کے سامنے تھا ۔ ہاں وہ باہر کی دنیا کے سامنے بہت اچھا بن کر پیش ہوتے تھے ایک آئیڈیل جوڑا ۔۔۔

اور پھر یہ خلا اس وقت بے پناہ بڑھ گیا جب عظیم خان کے انتقال کے بعد مامون کا ایک بار پھر کھلم کھلا رابعہ خاتون کی خبر گیری کے لیے جانا شروع ہوا۔ مامون نواسا تھا اور بوڑھی نانی کی فکر کرنا اس کا ہر لحاظ سے فرض تھا۔ رابعہ خاتون جو بہت بوڑھی ،کمزور اور بیمار ہو چکی تھیں۔

اور یہیں سے عدینہ اور مامون کا رشتہ دوبارہ استوار ہوا۔

بشائر کے اپنے والدین کینیڈا شفٹ ہو چکے تھے۔ اس کے لیے رابعہ خاتون مائکہ تھیں۔ مگر عدینہ، رابعہ خاتون کو سناتے ہوئے بہت اونچی آواز میں اسے بتا چکی تھی کہ وہ یہاں نہ آئے ۔۔۔ رابعہ خاتون اس کے رشتے کے لیے بے پناہ فکر مند تھیں۔ مگر ادھر ایک نا تھی مسلسل ۔ وہ اپنے شوق کے مطابق ایک چھوٹی سی بوتیک چلاتی تھی۔

مامون نے ہر حوالے سے اس کی مدد کا بیڑا اٹھا لیا۔ وہ اسے میڈیا کے حوالے سے لانچ کر رہا تھا۔ اس کے بنائے ملبوسات معروف اینکرز استعمال کر رہی تھیں۔ اس سب کے پیچھے اہم ہاتھ مامون کا تھا اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی قربت ،دوستی یا ۔

کیا مامون پچھتا رہا ہے۔ کیا وہ مداوا کرے گا۔عدینہ کا مسلسل تنہا ہونا اس بات کا غماز تھا کہ وہ آج بھی مامون سے ۔۔۔بلکہ مامون ہی سے کتنی محبت کرتی تھی ۔

بشائر کو سوچنے کی ضرورت نہ تھی ۔ایک روشن حقیقت ،وہ خود گواہ تھی ۔

اور دوسری روشن حقیقت تو یہ بھی تھی کہ وہ بھی مامون سے اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود اتنی ہی محبت کرتی تھی ۔پہلی نگاہ کا پہلا بے بس احساس آج بھی زندہ تھا۔

پہلی نگاہ کی خوشی ۔پلٹ پلٹ کر دیکھنے کی خواہش ۔۔۔آج بھی مامون کے چہرے کو نظر بھر کے دیکھنا اس کے دل کو خوشی اور فخر سے بھر دیتا تھا۔

لیکن اب اسے کچھ عرصے سے اپنی محبت کی زندگی پر شک ہونے لگا تھا ۔وینٹی لیٹر پر رکھی محبت۔ خاتمے کے اعلان کی منتظر ۔۔۔لیکن حتمی اعلان سے پہلے ماتم تو شروع نہیں کیا جا سکتا نا۔

مامون کیا کر رہا تھا ۔کیا کرنے والا تھا ۔کیا وہ ۔۔۔اونو ۔۔۔‘‘

عظیم خان کے انتقال پر عدینہ، مامون کو دیکھ کر جس سرعت سے اٹھی اور اس کے ساتھ لگ کر جس بے قراری سے روئی ۔عدینہ کے رونے میں بے اختیاری تھی۔اردگرد سے بے گانہ ۔۔۔

کیا وہ صرف عظیم خان کی موت کو رو رہی تھی ۔ بشائر نے کن اکھیوں سے دیکھتے ہوئے سوچا۔

اس نے مامون کو بھی دیکھا ۔ضبط گریہ نے ان ساحر آنکھوں کے فسوں کو بڑھا دیا تھا۔وہ پورے قد سے کھڑا عدینہ کے سر کو تھپتھپا رہا تھا ۔اس کا خود پر کنٹرول تھا۔وہ اپنے اندر کو چھپا لینے کے فن میں طاق تھا۔بشائر کوئی نتیجہ اخذ نہ کر سکی۔

رابعہ خاتون کی عدت کے دن ۔۔۔بشائر کوشش کرتی ۔وہ ہر روز چکر لگا سکے ۔مگر عون کے باعث یہ ممکن نہ تھا ۔وقفے بھی آتے ۔رابعہ خاتون عظیم خان کو روتیں یا پھر عدینہ کی فکریں بتاتیں ۔

ان دونوں کا آمنا سامنا کم ہی ہوتا ۔عدینہ کے چہرے پر نفرت کا سیاہ رنگ اتنا ہولناک ہوتا کہ وہ نظر ملانے سے کترایا کرتی ۔عدینہ اس کا آنا سخت نا پسند کرتی ۔وہ اس کی شکل دیکھنے کی روادار نہ تھی۔ بشائر کے مخاطب کرنے پر اس نے اتنی تلخ روئی سے دھمکایا کہ وہ پھر دوبارہ ہمت ہی نہ کر سکی ۔

’’میں دادو کی مجبوری میں تمہیں برداشت کر رہی ہوں ۔میرا مزید امتحان مت لو اور کوشش کرو کہ بات چیت تو دور ۔۔۔ میں تمہاری شکل بھی نہ دیکھوں ۔ بچپن میں مجھے سیاہ رنگ کے ایک کتے نے کاٹ لیا تھا۔ اس دن سے میں کتوں سے خوف کھاتی ہوں اور شدید نفرت کرتی ہوں ۔لیکن اس سے سو گنا زیادہ تم سے ۔۔۔‘‘

نفرت کے زہر سے بوجھل جملوں کی بوچھاڑ نے بشائر کو نیم جان کر دیا۔

وہ بشائر کی آمد کی خبر پاتے ہی اِدھر اَدھر ہو جاتی تھی۔ سامنا ہوتا تو نفرت سے پیر پٹختی ، شعلہ بار نگاہ ڈال کے ہٹ جاتی۔ عدت کے بعد بھی رابعہ خاتون سے ملنے کے لیے بشائر کا جانا کم نہ ہوا ۔ہاں وقفے بڑھ گئے۔ مگر پھر اس نے دیکھا وہ گھر میں ہوتی نہیں تھی۔شاید اپنی چھوٹی سی بوتیک میں۔

لیکن جلد ہی اسے پتا چل گیا۔وہ کہاں ہوتی ہے۔

اسے کچھ دوستوں نے بتایا۔مامون اور عدینہ ۔۔۔

اسے ڈرائیور نے بتایا۔کچھ بیگمات نے الرٹ رہنے کا مشورہ دیا۔

’’بھلے سے کزن ہے۔مامون اس کی ہیلپ کر رہے ہیں ،اچھا کام کرتی ہے وہ ۔۔۔مگر حد کے اندر ۔ مجھے تو کل فاروق صاحب نے بتایا کہ وہ اکثر ساتھ ہوتے ہیں بلکہ ایک بزنس لنچ میں بھی اکٹھے تھے۔‘‘مسز فاروق نے آنکھیں نچا نچا کر بتایا۔

فیشن ویک میں بھی وہ آگے کی چیرز پر تھی۔اب وہ تو اتنی فیمس نہیں ہے۔آگے کی جگہ مامون ہی کی وجہ سے ملی ہو گی۔ ٹیکسٹائل بزنس میں بڑا نام ہے ۔‘‘ مسز بالٹی والا نے ہاتھ ہلا ہلا کر کہا۔

وہ مسکرا مسکرا کر صفائی دیتی رہی ۔

اسے بخت نے الرٹ کیا۔

’’ہم نے آس کا دامن نہیں چھوڑا۔آپ طنابیں ڈھیلی نہ کر دیجیے گا۔‘‘

وہ ہنس کر ٹال گئی ۔لیکن پھر اس نے خود دیکھا ۔وہ دم سادھے دیکھتی رہ گئی۔

یہ تو وہی آٹھ سال پہلے کے مناظر تھے۔وہی بے خبری،وہی اردگرد سے نا آشنائی ۔مسکراتے چہرے کے ساتھ مسلسل بولتی عدینہ اور ہمہ تن گوش مامون۔

وہی منظر ۔۔۔ہاں مامون اب بہت توجہ سے اسے سنتا تھا اور نئی بات تھی کہ وہ اب عدینہ کے چہرے کو بہت غور سے ٹکٹکی باندھ کے دیکھتا تھا۔کہیں کھو جاتا تھا۔اس کے چہرے پر ۔۔۔چہرے پر۔۔۔ حسرت ۔ہاں حسرت و ملال کے لفظ کندہ ہوتے۔

وہ کیا شکوک و شبہات پالتی۔۔۔ وہ عون میں مگن تھی۔ وہ جیسے جیسے بڑھ رہا تھا اس کے مسائل میں اضافہ ہو رہا تھا۔

اور ایسے میں مامون کو وقت دیتی یا اس کی نگرانی کرتی، فکر پالتی۔ اسے اکثر یہ خیال آیا تھا کہ وہ اور مامون ایک دوسرے سے بہت دور جا چکے ہیں۔ ان کے رشتے میں اب کوئی رابطہ نہیں بچاتھا۔ وہ عقل مند، ہوش مند تھی۔ مگر وہ اب زندگی میں صرف عون کی ماں تھی۔ مامون آج بھی اس سحر انگیز شخصیت کا مالک تھا۔ کئی پارٹیز میںجب ہر موضوع زیرِ بحث آتا تو بیگمات مامون ابصار پر آکر رک جاتیں۔ اس کی سحر انگیز شخصیت اس کی دولت، کامیابیاں، ہاہ۔۔۔ وائو امیزنگ۔

اور ایسے میں کوئی حیرانی نہ ہوتی جو مامون ابصار کوئی قدم اٹھا لیتا اور کچھ سالوں سے ’’کوئی قدم‘‘ کا خدشہ بہت مضبوط ہوتا جارہا تھا۔عدینہ اور مامون کا ازسرنو جڑتارشتہ۔اس بار اسے زیادہ مضبوط محسوس ہوا تھا۔لوگوں کی چہ میگوئیاں یہاں تک کہ ملازمین کی گفتگو۔

’’آپ عدینہ سے بہت زیادہ خوب صورت ہیں اور آپ بیوی بھی ہیں۔آپ اتنی ڈھیلی کیوں ہیں اس معاملے میں۔‘‘سفینہ نے اسے جتایا تھا۔

عون نے اس کے دل کو بہت چھوٹا کر دیا تھا ۔

عون ہی نے اس کے دل کو بہت بڑا کردیا تھا ۔

اس نے فیصلہ کر لیا تھا۔

مامون سے کہے گی۔ وہ اس کھیل کو ختم کرے۔ کیا وہ عدینہ کو اپنانا چاہتا ہے۔کیا وہ اس سے۔۔۔ اچھا تو ٹھیک ہے کر لے۔

اور اس دن کی بات۔

’’تم صحیح کہہ رہی ہو، مجھے واقعی تم سے شادی نہیں کرنا چاہیے تھی۔‘‘

ایک اطلاع۔۔۔ایک اعلان۔۔۔پچھتاوا۔۔۔کیا،کیا نہیں تھا اس ایک جملے میں۔

اب کیا باقی رہ گیا تھا۔ہاں اس کا دل جو آج بھی مامون کا اسیر تھا۔

ترستی زندگیاں ۔۔۔چار ترستی زندگیاں۔

وہ خود پر بشائر ۔۔۔مامون ۔۔۔عدینہ ۔۔۔اور بخت ۔۔۔ہاں بخت بھی۔وہ انتظار کو اعزاز کی طرح نبھا رہا تھا۔اسے کنارہ مل جاتا۔وہ راستہ چن لیتا۔اس میں کیا کمی تھی۔کل کا خیالی باتیں کرتا نوجوان آج ملک کا نامی گرامی تجزیہ نگار تھا۔اس کی رائے ایوان بالا کے دروبام کو ہلا دیا کرتی تھی۔ کیا کمی تھی اس میں۔

لیکن اتنی تلخ حقیقت پسندی کے بعد بھی اس کی سوئی وہیں آکر رک جاتی۔ایک جواب طلب سوال۔۔۔پراسرار سا ۔ناقابل فہم سا ۔ماموں ابصار نے بشائر سے شادی کیوں کی۔

نہیں ۔۔۔یہ نہیں۔

مامون ابصار نے عدینہ سے شادی کیوں نہ کی۔

اور آج اسے اس سوال کا جواب مل گیا تھا۔جس نے اسے ششدر کردیا تھا۔

بشائر سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی تم نتیجہ اخذ نہ کرسکی تھیں۔کیا کہہ کر پکارا جائے۔نادان، احمق،عقل کی اندھی،جسے سامنے پڑی حقیقت سے آشنائی نہ ہوسکی۔

’’اور۔۔۔اور بخت بھی۔۔۔ہاہاہا۔‘‘وہ زہرخند ہنسی ہنس دی۔

’’دنیا کے قابل ترین آدمی بنتے ہو بخت! پاتال سے ڈھونڈکر لاتے ہو بھید کے موتی اور یہ اتنی ذرا سی بات کو نہ پکڑ سکے۔‘‘

وہ شمسہ بیگم اور بخت کے سامنے بول بول کے تھک چکی تھی۔

کون سی بات۔ بخت دم سادھے اسے مسلسل سن رہا تھا۔

’’ہے ایک بات۔‘‘ اس نے لہجہ پراسرار سا بنایا اور صوفے سے پیر نیچے اتارے۔

’’کہاں جارہی ہیں آپ۔۔۔کیا مامون کو دوسری شادی کی اجازت دینے۔‘‘بخت کے لہجے میں آنچ سی تھی۔بے یقینی اور آنکھوں میں ایسا نہ کرنے کی التجا۔

وہ ایک دم اس کے عین سامنے آ کھڑی ہوئی۔اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال دیں۔

’’میں مامون کے پاس جارہی ہوں اور میں اسے عدینہ سے شادی کرنے کا کہوں گی۔نہ صرف اجازت دوں گی،بلکہ فورس کروں گی۔‘‘

اس نے ڈرامائی وقفہ دیا۔ شمسہ بیگم پھٹی آنکھوں سے ان دونوں کو دیکھ رہی تھیں۔اچھل پڑیں۔

’’لیکن تم دیکھ لینا۔۔۔وہ آج بھی عدینہ سے شادی پر راضی نہ ہوگا۔ وہ ایک خودغرض، موقع پرست، خودپرست شخص تھا ۔ہے اور رہے گا۔جو نفع و نقصان کو تولتا ہے۔تماشا دیکھنے چلوگے،اگر یقین نہیں ہے تو۔‘‘

٭٭٭

وہ پیدل ہی بخت کے گھر سے نکل کر سڑک کے کنارے چلتی عظیم خان کے گھر تک پہنچی۔ سالوں پہلے کی عظیم خان کی دی ہدایت موجب، پھر کبھی وہ ننگے سر اس راہ سے نہ گزری۔ لہٰذا آج بھی دوپٹا سر پر ٹکا تھا۔ مگر اس کا دوسرا پلو نہ جانے کب ڈھلک گیا اور اب وہ پیچھے پیچھے زمین پر گھسٹتا آرہا تھا۔

کسی راہ گیر اجنبی کو بھی وہ شکست خوردگی کی مثال نظر آتی۔گردوپیش سے انجان،سوچوں کے اژدھام میں گھری،افسوس،ناکامی،ٹوٹا دل،بھرے نین۔

عظیم خان اور رابعہ خاتون کا گھر عجب سناٹوں میں گھرا تھا۔ورنہ عظیم خان کے پرانے ریکاڈ اور رابعہ خاتون کی آوازیں،سب گئے وقتوں کا قصہ ہوگیا تھا۔

نارنجی رنگ کے شلوار قمیص میں عدینہ ننگے پیر سیڑھیاں چڑھ رہی تھی۔اس کے ہاتھ میں شیشے کا برتن تھا۔رنگ برنگے کٹے پھل۔۔۔اس کے چہرے پر شادابی سی تھی۔

’’عدینہ۔۔۔!‘‘اس نے بے ساختہ پکارا۔

وہ چونک کر مڑی،بوکھلاہٹ میں کانٹا گرا اور ٹن ٹن کی آواز سے سیڑھیوں سے گرتا چلا گیا۔

’’مجھے تم سے بات کرنی ہے عدینہ!‘‘

’’لیکن میں تمہاری صورت بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔‘‘اس کا لہجہ زہر زہر تھا۔

’’مت دیکھنا۔۔۔ مگر مجھے سن لینا۔اس نے برا نہ مانا۔‘‘عدینہ نے نفرت سے سر جھٹکا۔وہ دوبارہ سیڑھیاں چڑھنے لگی۔

’’میں تمہیں سن بھی نہیں سکتی۔۔۔کس گمان میں یہاں تک آئی ہو۔ ہمارے درمیان ایسا کچھ نہیں ہے۔‘‘

’’میں اسی کی بات کروں گی جو ہمارے ’’درمیان‘‘ہے۔‘‘وہ تیزی سے سیڑھیوں تک آئی اور ہاتھ بڑھا کر ریلنگ پر ٹکے عدینہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا۔عدینہ نے چونک کر اسے اور پھر اس کی جسارت کو دیکھا۔وہ دل سے مسکرائی۔

’’تم اسی طرح پیروں پہ بھی ہاتھ رکھ دو۔تو تب بھی میں تمہاری کبھی نہ سنوں۔‘‘اس کے جملے سے ٹپکتی نفرت اور انداز کا جارحانہ پن،بشائر کے ہاتھ پہلو میں گرگئے۔

’’اونہہ!‘‘عدینہ طنزیہ ہنکارا بھرتی آگے بڑھی۔

’’میں سچ بتانے آئی ہوں عدینہ۔۔۔!مامون نے تمہیں کیوں چھوڑا۔ جتنا تم نے اس سوال کو تلاشا ہے۔اتنا ہی میں نے بھی۔۔۔میں اس سوال کا جواب ڈھونڈ لائی ہوں عدینہ۔‘‘اس نے بلند آواز میں کہا تھا۔عدینہ مڑی نہیں ،مگر رک گئی۔

’’تم آدھے سچ اور آدھے جھوٹ کے ساتھ جی رہی ہو۔زندگی دو صورتوں میں ہی آسان ہوسکتی ہے یا تو آپ مکمل سچ جانتے ہوں یا مکمل انجان ہوں۔آدھا سچ تو تیر نیم کش کی طرح ہوتا ہے جو نہ جینے دیتا ہے،نہ مرنے،ہم دونوں اب تک اسی حالت میں جی رہی تھیں۔میں خالی جگہیں بھر کے آرہی ہوں ،تم بھی۔۔۔‘‘

’’مجھے لفظوں کے جال میں مت الجھائو۔‘‘وہ غرائی تھی۔

’’تم ہوتی کون ہو میری فکر پالنے والی، زخم دینے والے ہاتھوں نے مسیحائی کا فن کب سیکھا۔‘‘وہ آگ لہجے میں بولی، اس کی آنکھوں سے بھی لپٹیں نکل رہی تھیں۔

بشائر نے بے بسی سے ہونٹ کچلے۔وہ کیسے اسے بتائے۔وہ تو پل بھر کے لیے بھی رکنے کو آمادہ نہیں۔

’’تم نے سچ کہا تھا عدینہ! قسم سے میں مامون پر پہلی نگاہ پڑتے ہی ہار گئی تھی۔اس کے عشق میں گرفتار ہوگئی تھی۔‘‘

اس نے اونچی آواز میں کہا۔رابعہ خاتون آوازوں پر باہر آگئی تھیں۔وہ سن کھڑی رہ گئیں۔

’’اوہ۔۔۔!‘‘ عدینہ کے سخت تاثرات سے سجے چہرے پر زلزلہ پیدا ہوگیا۔

’’مجھے عون۔۔۔عون کی قسم۔۔۔میں۔۔۔ میں عون کی قسم کھاتی ہوں۔ میں سچ بولوں گی بس ایک بار مجھے سن لو۔‘‘

عدینہ لرز کر رہ گئی۔’’عون کی قسم!‘‘ وہ کسی ٹرانس کے عالم میں سیڑھیاں اتر آئی۔ تب ہی دونوں کی نگاہ رابعہ خاتون پر پڑی۔بشائر کے بڑھنے سے پہلے اس نے آگے بڑھ کر رابعہ خاتون کو سہارا دیا اور چھوٹے چھوٹے قدموں سے چلتی صوفے پر آگئی۔

’’لیکن میں دوسرے ہی روز اس سے دست بردار ہوگئی، یہ جان کر وہ۔۔۔تمہارا ہے۔‘‘

عدینہ کی آنکھوں میں پھیلی بے یقینی دیکھ کر وہ دکھ سے کرلائی۔

’’اتنی بے اعتباری سے نہ دیکھو، میں نے عون کی قسم کھائی ہے۔‘‘ عدینہ کے کھلتے لب آپس میں پیوست ہوگئے۔

’’تمہاری مجھ سے نفرت جائز ہے۔ تمہاری جگہ میں ہوتی تو ایسا ہی کرتی،ایسا ہی سوچتی۔‘‘

وہ خاموش ہوئی،وہ الفاظ مجتمع کررہی تھی۔

’’میں تمہارے اور مامون کے رشتے میں کبھی نہیں تھی۔کہیں نہیں تھی۔پتا نہیں اس نے مجھے ہی کیوں چنا۔۔۔ لیکن تم اتنا جان لو کہ میں نہ ہوتی تو کوئی اور ہوتی، مگر تم کبھی نہ ہوتیں، وہ تم سے کبھی بھی شادی نہ۔۔۔‘‘

’’بکواس کرتی ہو تم۔‘‘عدینہ حلق کے بل چلائی۔’’تم ہوتی کون ہو میرے عیب گنوانے والی اور تم جانتی ہی کیا ہو مامون کے بارے میں۔۔۔تم۔۔۔‘‘

وہ غصے کی شدت سے ہکلانے لگی۔ اس کا سانس بے ربط تھا۔وہ لمبے لمبے سانس لینے کو رک گئی تھی۔

’’میں واقعی کوئی نہیں تھی۔مگر اب میں ہوں اور میں واقعی مامون کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی۔ مگر اب جان گئی ہوں۔‘‘اس کے لہجے کا ٹھہرائو ہنوز تھا۔وہ چیخنے،لڑنے مرنے نہیں آئی تھی۔

’’کیا جان گئی ہو۔۔۔ کون سی الزام تراشیاں،قصہ ختم،تم تسلیم کرچکی ہو کہ تم نے مامون کو پسند کیا، تم نے اسے پھانسا۔۔۔‘‘

’’میں نے اسے نہیں پھانسا۔اس نے مجھے،اس نے ہم دونوں کو ٹریپ کیا۔اس نے تمہیں فقط اس لیے چھوڑ دیا کہ تم سے شادی کرنے کی صورت میں وہ ایب نارمل بچوں کا باپ بنے گا۔‘‘

’’بکتی ہو تم۔‘‘ عدینہ اتنی زور سے چلائی کہ خود ہی تکلیف میں گھرکے اپنا گلہ پکڑلیا۔ رابعہ خاتون کا منہ بھی حیرت سے کھل گیا۔

’’میں سچ کہہ رہی ہوں۔ اس نے ایک ایک شے کا حساب لگایا۔اس کی ماں نے ایب نارمل بچوں کو جنم دیا۔ کیوں دادو! دیا تھا نا۔‘‘ وہ رابعہ خاتون سے پوچھنے لگی۔’’مامون کے والد،دادا جان کے سوتیلے بھتیجے تھے۔ مگر باپ کا خون تو ایک ہی تھا نا اور دادا جان ہی کی تین بہنوں میں سے دو کے ہاں دو، دو بچے ایب نارمل پیدا ہوئے۔ یہ جینٹک بیماری تھی۔ کزن میرج کے سائیڈ افیکٹ، آپ نے سرسری لہجے میں، ڈھکے چھپے الفاظ میں اپنی بیٹی کے دکھ سنائے تھے۔ میں نے آپ کے آنسو بھی پونچھے تھے۔ مگر گہرائی میں کبھی جھانکا نہیں۔ یقین کریں ، میں یہی سمجھتی رہی کہ وہ سسرال کے ظلم و ستم شوہر کے ناروا رویے کے باعث تنگ تھی، دکھی تھی، بیمار تھی، میں نے کبھی غلطی سے بھی نہ سوچا کہ ۔۔۔اور اگر سوچ بھی لیتی تو اتنی گہرائی میں کبھی نہ جاتی،میرے ساتھ زیادہ ظلم۔۔۔‘‘

’’مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا۔ وہ کیسے مری۔ بس خبر آگئی تھی۔ مجھے نہیں پتا ان سب۔۔ با۔۔۔توں۔۔۔ کا۔‘‘ رابعہ خاتون کی کپکپاتی خوف زدہ آواز ابھری۔ بشائر نے دیکھا۔ ان کی ٹانگیں کپکپا رہی تھیں۔

’’یہ تو مجھے بھی نہیں پتا۔۔۔ مگر باقی سب میں معلوم کرکے آئی ہوں۔ مامون نے کبھی بتایا ہی نہیں۔ اس نے تو۔۔۔‘‘رابعہ خاتون کی آنکھیں جھرجھر بہنے لگیں۔

بشائر نے بوڑھی ویران بہتی آنکھوں سے نظریں چرائیں۔اس نے عدینہ کو دیکھا،جو پہلی بار بھڑکے بغیر سن رہی تھی۔مگر نگاہیں ملنے پر اچھلی۔

’’تو تم نے بھی تو۔۔۔ایب نارمل بچہ ہی پیدا کیا نا،تم نے کون سا۔۔۔‘‘

’’ہاں۔۔۔!‘‘وہ طنزیہ ہنسی۔ ’’میں نے بھی ایب نارمل بچہ جنم دیا۔یہیں تو مامون ابصار کو مات ہوئی تھی۔‘‘

’’تم سچ کہتی ہو۔ مامون تم ہی سے محبت کرتا تھا۔ عشق اور تم ہی کو اپنانا چاہتا تھا۔وہ ڈاکٹرز کے آگے رو پڑا کہ اسے اپنی کزن ہی سے شادی کرنا ہے۔ کزن یعنی تم۔۔۔اس نے ڈاکٹر سے کہا کہ وہ عدینہ سے بہت محبت کرتا ہے۔ اس کے بغیر ایک پل نہیں رہ سکتا۔ لاکھ ان کے خاندان میں جینٹک بیماریوں کی ہسٹری ہے۔مگر وہ پھر بھی عدینہ ہی کو اپنائے گا۔وہ پاگلوں کی طرح ٹٹول ٹٹول کر پوچھ رہا تھا۔ وہ پیش بندی معلوم کررہا تھا۔ ایسا کوئی راستہ یا علاج جس کے ذریعے وہ تندرست اولاد کو جنم دے سکیں۔ مگر ایسا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ڈاکٹر نے کہا اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، مگر۹۹فیصد چانس ہے کہ وہ بھی۔۔۔آپ اتنا عشق کرتے ہیں تو ایک راستہ یہ بھی ہے کہ آپ ۔۔۔آپ کزن سے شادی کرلیں۔ مگر کبھی بچے کے بارے میں نہ سوچیں۔‘‘

’’واٹ!‘‘ وہ بوکھلا کر اچھل پڑا۔

’’ہمارا کام ہے آپ کو گائیڈ کرنا، سچ سچ بتانا، ہم نے عمریں گزار دی ہیں، تحقیق و علاج میں۔ نارمل بے بی بھی ہوسکتا ہے۔مگر دوسرے کا بھی امکان رکھیں،باقی اللہ مالک ہے۔‘‘

’’اور کیا تمہیں آٹھ سال پہلے کے وہ دن یاد نہیں، جب دادا جان بیمار ہوئے اور رابعہ دادو نے تمہاری شادی کا فیصلہ کیا تو مامون یہاں نہیں تھا۔ وہ ان ہی دنوں ڈاکٹرز پہ ڈاکٹرز بدل کر رائے لے رہا تھا۔ میں نے بھی یادداشت پر زور دے دے کر کڑیاں جوڑی ہیں عدینہ تم بھی خیالوں سے باہر نکلو۔ وہ نہ جانے کہاں سے لوٹا تھا۔ چپ چپ، پریشان، اس کی شیو بڑھی رہنے لگی تھی۔ وہ راتوں کو ٹہلتا تھا۔ سب کے پوچھنے پر وہ جبراً نہ ہونے کا اعلان کردیتا۔مگر کچھ تو تھا ہی۔

وہ دوراہے پر کھڑا تھا۔ اسے تم سے محبت تھی، بے پناہ۔۔۔ مگر اس کو اولاد بھی چاہیے تھی۔ تندرست و توانا اولاد۔۔۔ نسل۔۔۔ نام۔۔۔ وراثت۔ اس نے محبت کو چھوڑ دیا۔ اس نے تمہیں چھوڑ دیا۔ اسے مکمل صحت مند اولاد چاہیے تھی اسے اپنا نام لیوا چاہیے تھا۔ اسے کسی دوسری لڑکی سے شادی کرنا تھی اور فوری دستیاب میں تھی۔‘‘

وہ خود پر ہنسی۔’’اور میں پاگل۔۔۔

میں نے سوچا تھا کہ مامون جتنا شان دار۔اس کے ساتھ اتنی ہی شان دار، طرح دار لڑکی ہونی چاہیے اور تم ویسی نہیں تھیں یا۔۔۔ مجھے لگی نہیں۔۔۔ میں نے سوچا ،پہلے چونکہ مامون کے اردگرد کی واحد لڑکی تم تھیں۔ تو سارے فیصلے تمہیں مدنظر رکھ کر وہ کرتا گیا۔لیکن ایک بہتر آپشن جب سامنے نظر آگیا تو۔۔۔ میں نے ’’بہتر آپشن‘‘خود کو کہا ہے۔‘‘

وہ اپنے آپ پر ہنس دی۔’’تو اسے کبھی نہیں چاہیے کہ وہ کم تر پر اکتفا کرے۔تم بہت اچھی تھیں عدینہ! مگر مجھے اس کے برابر کی نہیں لگیں۔میری عقل۔۔۔‘‘

گفتگو اس مرحلے پر آگئی تھی کہ عدینہ سن رہ گئی تھی۔ بہت سارے اعتراضات کے باوجود وہ نہ جانے کیوں چپ سی رہ گئی تھی۔

’’میرے ساتھ اچھا نہیں ہوا دادو۔ ‘‘وہ جیسے اچانک نڈھال ہوکر رابعہ خاتون کے قدموں کے پاس زمین پر بیٹھ گئی۔

’’آج میں اپنا دل کھول کر رکھنے کے لےے آئی ہوں۔ میں نے آج تک اپنے دکھ کسی سے نہیں کہے مگرمیں خوش نہیں ہوں۔ میں بہت دکھی ہوں۔ عون جیسا بچہ آزمائش بن کر آیا۔وہ اپنے پسندیدہ بندوں ہی کو آزماتا ہے۔ مجھے یقین نہیں آتا۔میں اتنی ی ی ی پسندیدہ۔۔۔‘‘

رابعہ خاتون کو جھٹکا سا لگا۔ سالوں پہلے کا یادداشت سے اوجھل ایک پل،ایک سوال سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔ان کا پورا وجود رعشہ زدہ ہوگیا،کانپتے ہونٹ اور جھرجھر بہتی آنکھیں۔

’’اور کوئی بات نہیں۔اللہ نے میرے لیے ایسی اولاد چنی،ٹھیک ہے وہ بہترین فیصلے کرنے والا ہے۔ میں بہت مضبوط ہوتی دادو! اگر مامون کا ہاتھ میری پشت پر ہوتا۔ اس نے یوں قدم پیچھے ہٹائے۔ جیسے یہ سارا میرا دوش ہو۔ سائنسی توجیہہ پیش کروں تو عون مامون کے باعث ایسا ہے۔ وہ تو سب جانتا تھا نا، مگر دادو! وہ کبھی میرے ساتھ کھڑا نہ ہوا۔ سالوں ہوگئے، اس نے عون کے کمرے میں جھانکا تک نہیں۔ دس عون جیسے بچے کھڑے کردیے جائیں نا تو وہ عون کو پہچانے بھی نہیں وہ نفرت کرتا ہے عون سے۔ شدید ترین،وہ اسے زہر کا انجکشن نہ دے دے مجھے یہ خیال آتا ہے ۔عون اس کے لیے باعث شرم ہے۔‘‘وہ رونے لگی۔مگر اس نے اپنی بات نہ روکی۔

’’وہ یہ پسند نہیں کرتا کہ عون اس کے سامنے آئے یا میں ہی اسے اس سے لاڈ کرتی نظر آئوں۔ آپ حیران ہورہی ہیں نا۔ میرے گھر کے ملازمین واقف حال ہیں۔ وہ مجھے صاحب کے عتاب سے بچانے کے لیے جھوٹ سچ گھڑتے ہیں۔ وہ مجھے درست مانتے ہیں اور صاحب کو ظالم و جابر حکمران، مجھے اور عون کو مظلوم رعایا۔‘‘

’’وہ ۔۔۔ وہ ایسا تو نہیں تھا۔میرا دل نہیں مانتا۔وہ تو سالوں تک۔۔۔‘‘رابعہ خاتون ڈھے گئیں۔

’’وہ ایسا ہی تھا۔‘‘ وہ تیقن سے بولی۔’’اندر سے ایسا ہی تھا۔مگر کیوں میں آج تک نہ سمجھ سکی۔ میرے لیے۔‘‘

’’تو اس کا مطلب ہے تمہارے دادا درست کہتے تھے کہ اس نے صورت ماں کی لی ہے۔ مگر وہ بنا بنایا باپ ہے۔ مجھے یقین نہیں آتا۔‘‘ وہ بے یقینی سے کہتے کہتے بے بسی سے پوچھنے لگیں۔

’’مجھے نہیں معلوم ، دادا جان کیا کہتے تھے۔ میں نے تو بس اس کی صورت دیکھی اور گھائل ہوگئی اور آپ نے بتایا تھا نا کہ دادا جان،عدینہ اور مامون کے رشتے کے مخالف تھے۔ان کی زیرک نگاہی نے بھانپ لیا ہوگا کہ مامون ابصار کا اندر کیسا ہے،میرے ساتھ ظلم ہوا دادو۔میں۔۔۔‘‘

’’وہ۔۔۔وہ آخری پل میں مان گئے تھے۔‘‘اس کے جملے کو کاٹ کر رابعہ خاتون نے اٹک اٹک کر کہا۔’’میرے مجبور کرنے اور عدینہ کے ستے چہرے کو دیکھ کر وہ۔۔۔‘‘

عدینہ اور بشائر ایک ساتھ اچھلیں۔

’’میں یہ خوش خبری لے کر مامون کے پاس گئی تو اس نے تمہارا نام لے دیا۔فائنل ۔‘‘

’’آ۔۔۔آپ نے تو مجھے کبھی نہ بتایا۔‘‘عدینہ کا چہرہ شدید حیرانی کے باعث بگڑ گیا۔

’’کیا بتاتی۔۔۔کہ دادا مان گئے اور اب مامون نہیں مان رہا۔میں نے تمہیں جھوٹ سچ ملا کر جواز بتایا تھا۔ پر۔۔۔ میں نے سوچا کہ تم یہ پوری بات جان کر کہ مامون ہی نہیں مانا، کس قدر دکھی ہوتیں۔ میں نے تمہارے غصے کو بانٹ دیا تھا۔ آدھا دادو پر، آدھا بشائر پر، آدھا مامون پر۔۔۔ وہ اس کے جنون سے گھبراتے تھے۔وہ مامون سے اعتدال کے خواہاں تھے۔معاف کرنے کے،جبکہ مامون۔۔۔

مجھے آج یقین آگیا۔ وہ سچ کہتے تھے۔‘‘وہ نہ جانے کہاں کھوگئی تھیں۔دکھ کی ان مٹ لکیریں۔

’’چھوڑئیے رابعہ دادو۔ بات صرف یہ ہے کہ اصل ظلم میرے ساتھ ہوا کہ مجھے ایسا شوہر ملا جسے مجھ سے محبت نہیں تھی اور ظلم عون کے ساتھ ہوا کہ اسے مامون جیسا باپ ملا۔عدینہ! تمہیں میرے اسٹائل نظر آتے ہیں۔ میرے بالوں کا اسٹائل میرے لباس کوئی مجھ سے پوچھے تو میں شاید دنوں ایک ہی جوڑے میں گزار دوں۔ تم کہتی ہو میں نے اپنا ہیر کٹ مین ٹین کر رکھا ہے۔ میری پیاری، نادان بہن! مجھے تو بڑھے ناخن کاٹنے تک کا ہوش نہیں۔ عون کا دکھ مامون کی بے اعتنائی مجھے ختم کر رہی ہے۔ اللہ کی قسم مجھے تو اب بھی نہیں معلوم کہ میں نے کون سے کپڑے پہن رکھے ہیں، شلوار قمیص یا اور رنگ شاید برائون یا شاید پیلا۔‘‘

رابعہ خاتون اور عدینہ نے بے ساختہ دیکھا۔ وہ مشہور ڈایزائنر کی لیٹسٹ کلیکشن کا ہلکا و گہرا جامنی سوٹ پہنے ہوئے تھی۔ سفید اور سیاہ چھوٹے بڑے پھول۔۔۔مگر وہ سوٹ ملگجا ہو رہا تھا۔اس کے ایک کان میں ٹاپس تھا اور دوسرے میں نہیں۔

ہاں وہ شکست خوردگی کی تصویر تھی۔ ملال کی مثال۔۔۔دکھ کا عنوان، اذیت کے مضمون کی جھلک دکھا رہا تھا۔ وہ اکڑوں بیٹھی تھی۔ کہنی رابعہ خاتون کے گھٹنے سے ٹکی تھی اور سر پر ہاتھ رکھا تھا ۔ پیر سن ہوگئے تو نہ جانے کب وہیں پھسکڑا مار کے بیٹھ گئی۔ اس کی نزاکت اب کمزوری دکھائی دیتی تھی۔ اس کی شخصیت کا وقار نہ جانے کہاں غائب ہو چکا تھا۔ وہ اس وقت فقط مٹی مٹی نظر آرہی تھی۔ دھول، نادیدہ ۔۔۔ پپڑی زدہ ہونٹ اور حلقوں کے گھیرے میں ویران آنکھیں،جو رو،رو کر سوجی تھیں۔ مگر پھر بھی بول رہی تھی۔ مگر اب انداز بے حد دھیما سرگوشیانہ،مدھم،بلکہ خودکلامی رہ گیا تھا۔

ان دونوں کو لگا، وہ جیسے کہیں دور پہنچی ہوئی تھی۔کسی اور ہی جہان میں اور تم مجھ پر رشک کرتی ہو۔ مجھے کہتی ہو کہ میں دکھانے،بتانے آتی ہوں۔میرے پاس دکھانے کو صرف جھوٹ ہے اور بتانے کو صرف دکھ۔۔۔ ایک زمانے میں مامون میری خواہش تھا اور اب وہ کہیں نہیں ہے۔میری ترجیحات پوچھتی ہو۔میں چاہتی ہوں۔عون بالکل ٹھیک ہوجائے۔بھاگے دوڑے اچھلے کودے مگر یہ ہو نہیں سکتا۔ عون جیسے بچے کبھی آگے نہیں بڑھتے۔وہ آگے پیر رکھ بھی دیں تو پڑتا پیچھے ہی ہے۔میری زندگی میں عون کے علاوہ اور ہے ہی کیا۔ خواہش، خواب، امید، سب عون اور اگر کوئی میرے دل میں جھانکے ۔۔۔میں ماں بننا چاہتی ہوں۔ ایک تندرست بچے کی۔ مگر یہ بات مامون ہونے نہیں دے گا۔میں سر پٹخ پٹخ ہار گئی۔ مگر اسے قائل نہیں کرسکی۔ تمہاری تو وہ بہت سنتا ہے نا عدینہ! کیا تم میری سفارش کرسکتی ہو،میں اللہ سے ہر وقت ایک تندرست مکمل بچہ مانگتی ہوں۔تاکہ جب کل عون نہیں ہوگا ،تو ۔۔۔‘‘

دونوں نے دہل کر اس کی صورت دیکھی۔

’’میرے پاس کیا ہوگا۔ہمارے رشتے میں اب کچھ نہیں بچا عدینہ ۔۔۔!میں بقائمی ہوش و حواس مامون کو دوسری شادی کی اجازت دے دوں گی۔ لکھ کر دوں گی اور چلو میں لکھ کر نہ بھی دوں تو تب بھی جلد یا بدیر وہ کر بھی لے گا۔ تم بھی آگے بڑھ سکتی ہو۔ مگر جان لو، میں شرط لگا سکتی ہوں۔ وہ تمہیں کبھی نہیں اپنائے گا اور ہاں ہوسکتا ہے، وہ ساری زندگی میرے ساتھ ایسے ہی آدھا ، کانا رشتہ نبھاتا رہے۔ مگر تم اپنی راہ کیوں کھوٹی کرتی ہو۔

تم خوش قسمت ہو عدینہ۔۔۔۔! جو ایک دھوکا باز، مفاد پرست انسان سے بچ گئیں۔ جس نے تمہیں گائے بکری کی طرح جانچا اور تم معیار پر پوری نہ اتریں تو آگے بڑھ گیا۔ مجھے اس نے خوب چھان پھٹک کر پسند کیا تھا۔ مگر بعض اوقات الٹی ہوجاتی ہیں سب تدبیریں۔

تم میں اور مجھ میں ایک ہی بات مشترک ہے۔ ہم دونوں صرف صورت پر عاشق ہوئیں۔لیکن تم خوش قسمت ہو عدینہ تمہیں سچی محبت ملی ۔ اور میں بدقسمت اپنی محبت پا کر بھی خالی ہاتھ۔ تمہیں بخت کا محبت بھرا دل کیوں نہ دکھائی دیا۔‘‘

ایک موت جیسا سناٹا کمرے کی ہر شے سے لپٹ گیا۔

’’میں سالوں تک تمہارے دادا سے جھگڑتی رہی کہ وہ الگ ہے جدا سا ۔۔۔وہ ویسا نہیں ہے جیسا وہ گمان کرتے ہیں۔مگر مجھے آج پتا لگا وہ تو بنا بنایا ابصار تھا۔ دوسرا ابصار۔‘‘رابعہ خاتون کے اس ایک جملے میں ان کا سارا دکھ پنہاں تھا۔انہیں مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔انہوں نے سب کہہ دیا تھا۔

اور عدینہ۔۔۔۔!

کمرے میں دفعتاً ہلکی دبی دبی سی سسکیاں ابھریں۔یہ عدینہ کی آواز تھی۔ وہ کس کس چیز پر رو رہی تھی۔ بشائر کی سچائی پر۔ اس کے دکھ پر۔ رابعہ خاتون کی دل چیر دینے والی خودکلامی پر۔یا اپنی محبت کی موت پر یا محبوب کی حقیقت پر۔

اتنی محبت کے دعوے دار نے جب راستہ بدلا تو اس کو بتانے کی بھی ضرورت نہ سمجھی کبھی بدگمانی دور ہی نہ کی۔کیا اس میں بھی جرأت نہ تھی کہ وہ اس سے صاف بات کہتا۔

وہ کس بات پر رو رہی تھی۔ کسی نے سوال نہ کیا۔ وہ یک دم اٹھ کر شاید اپنے کمرے کی طرف جانے لگی تھی۔ جب بشائر نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔نظریں ملنے پر اس نے بیٹھے رہنے کا اشارہ دیا۔اس کے انداز کی قطعیت نے عدینہ کو دوبارہ بٹھا دیا۔

’’کب تک چپ چاپ کھڑے خود پر لگی دفعات کو سنتے رہیں گے۔ سامنے آکر اپنی صفائی میں کچھ نہ کہیں گے۔ کوئی سچ،کوئی جھوٹ۔۔۔‘‘

بشائر نے گردن موڑے بنا اونچی آواز میں کسی کو پکارا۔ عدینہ اور رابعہ خاتون بری طرح چونکیں اور پچھلے گھنٹے سے دروازے میں کھڑا مامون ابصار بھی اچھل پڑا۔

’’سالوں پہلے اس سگریٹ کی خوشبو سے آشنائی ہوئی تھی۔‘‘بشائر نے یہ جملہ کسی سے کہا نہیں تھا۔ مگر اس کے لہجے میں خود اپنے آپ کے لیے ترحم تھا۔

مامون ابصار حسب عادت اندر داخل ہونے سے پہلے طویل آخری کش لینے رکا تھا اور پھر رکا ہی رہ گیا۔

بشائر نے اپنا چہرہ گھماکر سوجی آنکھوں سے اس سنگ دل کو دیکھا۔جس کے چہرے پر شرمندگی یا خوف کے بجائے ایک عجیب سی تکلیف کا تاثر تھا۔ بے حد شدید تکلیف کا عالم۔۔۔ وہ تھکے تھکے قدموں سے اندر آیا اور کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس کے دونوں ہاتھ کرسی کی ہتھیلیوں پر ٹکے تھے۔اس کی نظریں زمین پر پیوست تھیں۔

’’کس قسم کی زندگی جی آپ نے مامون۔ کس قسم کے رشتے جی رہے ہیں آپ۔‘‘اس کا لہجہ دکھ سے چور چور تھا۔

’’نہ اچھے شوہر بنے۔ نہ اچھے باپ۔‘‘وہ طنزیہ ہنسی ہنسی۔’’ارے آپ تو اچھے محبوب بھی نہ بن سکے۔‘‘

اس نے ایک جملے میں ساری داستان سمیٹ دی۔

پل بھر کی خاموشی کے بعد مامون نے نظریں اٹھاکر بشائر کے چہرے پر گاڑ دیں۔ان میں بہت عجیب سا تاثر تھا، نا قابل بیان ۔۔۔بشائر نے کچھ چونک کر اس کا چہرہ دیکھا۔

’’اتنی جلدی میرے عیب ختم نہ ہوں گے بشائر۔‘‘

اس نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں،ایک حتمی فیصلہ۔

’’میں اچھا بیٹا بھی نہیں بن سکا تھا۔ بلکہ میں اچھا بھائی بھی نہ بن پایا۔‘‘

بشائر سمیت عدینہ اور رابعہ خاتون نے چونک کر نظریں اٹھائی تھیں۔

٭٭٭

وہ گیارہ سال بعد ماں بننے جارہی تھی۔ خوشی، خدشہ، دعا اس کے شوہر اور سسرال کے تحفظات حسب معمول تھے۔ مگر اس کا یقین پہلے سے بڑھ کر ایک ایب نارمل ذہنی و جسمانی معذور بچے کے بعد وہ اپنے خاندان کو ایک خوب صورت ، صحت مند ،توانا وارث بھی دے چکی تھی۔

اسے بیٹی کی خواہش تھی۔ مکمل خاندان ، اس کے سجدے طویل ہونے لگے۔ وہ اس بار روحانی طور پر بہت پرسکون تھی۔ مگر بہترین خوراک کے باوجود،اس کے جسم کی ہر ہڈی بولتی، ہاتھ پیر سن ہوجاتے۔ ابتدائی مہینوں ہی میں اس کا اٹھنا بیٹھنا محال تھا۔پیٹ کے نچلے حصے میں مسلسل ہلکا درد اور ورم کا احساس رہتا۔

اور درد کا نخرہ یہ تھا کہ وہ آرام کرتی رہے تو درد بھی آرام کرتا۔ وہ معمولی سے معمولی کام یا سیڑھیاں ہی چڑھ کر اوپر جاتی تو درد جاگ جاتا۔ مار ڈالتا اور اب اس کی سسرال میں پوزیشن مستحکم تھی۔وہ اتنے بڑے افسر کی بیگم تھی۔اسے چاہیے تھا کہ وہ خوب مزے سے پلنگ پر بیٹھ کر اس وقت کو گزارے اور اس میں کوئی مشکل بھی نہیں تھی۔

لیکن نہیں!وہ مونس کی ماں بھی تو تھی۔جسے اس گھر میں اس کے علاوہ آج بھی کوئی نہیں پوچھتا تھا اور وہ بھی اس کے علاوہ کسی کو اپنے گرد برداشت نہ کرتا تھا۔اس کا کمرا اوپر شفٹ کرایا گیا تھا اور اسے سیڑھیاں چڑھنا پڑتیں۔اسے دن میں کئی بار اوپر نیچے ہونا پڑتا۔

گزرتے وقت نے مونس کو مزید تنزلی کی جانب بڑھایا تھا۔ آج تک اسے ماں ہی نے سنبھالا تھا۔ وہ کسی بھی نئی شکل کو دیکھ کر چلانے لگتا۔ اسے کھلانے، پلانے، کپڑے بدلوانے، نہلانے تک کے کام وہ ہمیشہ سے خود خوشی خوشی کیا کرتی تھی۔ مگر اب وہ بہت کمزور تھی اور تکلیف میں مبتلا۔۔۔ اس نے ملازمہ کو اپنے ساتھ زیادہ لگانا شروع کیا کہ وہ اس سے مانوس ہوجائے۔ اگر اس کا موڈ اچھا ہوتا توو ہ مان جاتا۔ ورنہ وہ چیخ و پکار ہوتی کہ الا امان۔

ایک روز وہ چکر کھاکر بے ہوش ہوگئی۔ڈاکٹر نے بتایا۔بار بار کے ابارشنز نے انہیں اندر سے جیسے زخمی کر رکھا ہے۔تو وہی زخم تکلیف دیتے ہیں۔مکمل آرام اور احتیاط دوائیں باقاعدگی سے۔

اس کا حال بہت خراب تھا۔وہ حوائج ضروریہ کی محتاجی سے بیٹھی تھی۔

ادھر مونس کے نعرے۔۔۔وہ ملازمہ کے ہاتھ کہاں آتا۔ اس کے شوہر نے ایک آدمی کو بطور ہیلپر بھیج دیا۔ ایک اجنبی کو دیکھ کر وہ رہے سہے حواس بھی کھو بیٹھا۔ وہیل چیئر پر سر پٹختا ۔ سامنے والا قابو میں آتا تو اسے پورے وجود کی طاقت سے کاٹ لیتا۔ ورنہ ناکامی کی صورت اپنے ہاتھ چبا ڈالتا۔ وہ ذرا سی بحالی کا احساس پاتے ہی ملازمہ کے سہارے اوپر آگئی۔ اس سے لپٹ گئی۔اس کا بچہ ۔اس کی آنکھوں سے سیل رواں بہتا تھا اور وہ بھی لپٹ لپٹ گیا۔ اس کے اندر سمانے کی کوشش اور وہ خود کو سنبھالتی یا اسے ۔وہ پندرہ سال کا تھا۔قطعی ایب نارمل،لیکن ملازمہ اسے نہلاتے ہوئے ہچکچاتی تھی۔اس نے بڑے حساب کتاب سے اس دن اسے نہلانے کا ارادہ کیا۔جھاگ کے کھیل، ٹپ میں تیرتی بطخوں کا کھیل۔ملازمہ تولیہ کپڑے لیے الرٹ، اسے نہلانا مشکل کام تھا۔ مگر نمٹ گیا۔ لیکن یک دم۔۔۔ دھڑام۔۔۔ ڈھا۔۔۔ وہ نہ جانے کس طرح پھسل گئی۔

اسے کس طرح بچایا گیا۔ پتا نہیں۔ اس کے اندر پلنے والا بچہ بھی محفوظ رہا۔ مگر وہ بستر نشین ہوگئی۔ گردوپیش سے بے گانہ درد سہتی۔

’’مونس اچھا ہے نا۔‘‘وہ ملازموں سے پوچھتی۔

’’تم بھائی کے پاس جاتے ہو نا۔‘‘اس نے چھوٹے بیٹے سے پوچھا۔’’اس کے ساتھ بال کھیلتے ہو نا۔‘‘بچہ ہاں میں جواب دیتا۔

مگر ایک روز کہہ بیٹھا۔’’میں نہیں جاتا امی!اس سے بو بہت آتی ہے۔‘‘

’’بو۔ کیسی بو۔۔۔۔ ‘‘ اس کے سر پر پہاڑ سا گرا۔

’’پوٹی کی اور ابو نے اسے گنجا کردیا۔اس کے سر میں بہت جوئیں تھیں امی۔‘‘اس کے پیروں سے زمین کھسک گئی۔

وہ افتاں و خیزاں اوپر پہنچی تو بدبو کے بھبھکے نے استقبال کیا۔ بھنبھناتی مکھیاں۔آئوک اووو۔۔۔ اس کا کلیجہ منہ کے راستے ابلنے کو تھا۔

وہ اس کے بستر پر پہنچی۔ تو وہ خالی آنکھوں سے اسے تک رہا تھا۔ ان میں پہچان کا کوئی رنگ نہ تھا۔ صرف نو دن میں۔۔۔ وہ سانس لینا بھول گئی۔ وہ ماتھا چومنے کو جھکی تو اس نے یک دم اپنی حیوانی طاقت سے نہ جانے سر اٹھایا یا ہاتھ۔اس کے پیٹ کے اندر بم دھماکا ہوا تھا۔ اس کی چیخوں نے درختوں کے پرندوں تک کو سہما دیا۔

اسے لے گئے۔ اس کے پیٹ میں پلتی بچی نے دم توڑ دیا تھا۔ مگر اس کی موت کا وقت ابھی نہیں تھا۔ وہ دوبارہ گھر آگئی۔ آپریشن کی تکلیف ۔وہ جنبش کرنے سے بھی قاصر تھی۔اسے اردگرد کا کوئی ہوش نہ تھا۔ اس نے اپنی عیادت کے لیے آئے والدین کو بھی نہ پہچانا۔اسے ایک ہی بات یاد تھی۔

’’مونس کیسا ہے۔ ‘‘سب اس کی تشفی کرا دیتے وہ گھر والوں سے واقف تھی۔وہ اپنے بیٹے سے بھی واقف تھی۔

’’تم بتائو سچ سچ!‘‘اس نے چھوٹے بیٹے کو پکڑلیا۔

’’’ وہ اچھا ہے امی۔‘‘وہ نظریں چرا رہا تھا۔

’’جھوٹ نہیں بولتے۔‘‘

’’آپ بیمار تھیں نا۔۔۔ تو پہلے وہ بہت روتا تھا۔ شور کرتا تھا۔ پاگل ہوگیا تھا۔ امی اوہ سوری۔۔۔ سب کہتے تھے نا۔لیکن پھر اس کے بعد چپ کر گیا۔ دراصل جب ابو اور چاچو نے اسے زنجیر سے باندھا نا تب۔۔۔‘‘

’’ہاہ!‘‘اس کی چیخ نکل گئی۔

اس کا پیٹ چرا پڑا تھا۔ٹانکے کچے تھے۔مگر وہ اوپر آگئی۔

’’آہ!‘‘اس نے دیوار کا سہارا لیا۔اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔مگر اس کی آنکھوں سے لہو ٹپکنے لگا تھا۔

’’اس کا بچہ ۔۔۔‘‘ تن تنہا غلاظت میں لتھڑا ، بے بس و لاچار، اس میں ہمت نہیں تھی۔ اس نے اجنبی نگاہوں سے تکتے سہمے بچے کو خود میں سمو لیا، اسے چوم لیا۔ اس کی زنجیر ۔ اس نے کسی سے کچھ نہ کہا۔ اس کے اندر ہمت اور طاقت نہ جانے کہاں سے آئی۔ اس نے بیٹے کو نہلایا۔ کپڑے بدلوائے۔ اس نے خاموش بیٹے کو کھانا کھلایا۔ اس نے میلے کپڑوں کا ڈھیر کچھ کہے بنا ملازمہ کے حوالے کیا۔

’’میں نے تمہیں کہا تھا نا تمہیں صرف اپنے بھائی سے محبت کرنی ہے۔‘‘وہ چھوٹے بیٹے سے مخاطب تھی۔

’’تو میں کرتا ہوں نا ۔۔۔ میں نے کل بھی اسے I Love You کہا تھا اور فٹ بال کھیل کر دکھائی تھی۔ٹام اور جیری بھی دیکھنے آیا تھا۔ مگر ادھر بہت بو تھی امی۔‘‘

ہاں وہ اس کا بیٹا ہے اور اس نے اسے سنبھالنا ہے۔اس نے سوچا تھا مگر یہ عزم اگلی صبح دھرا کا دھرا رہ گیا۔ اس کے ٹانکے کھل گئے تھے۔اس کا پیٹ کھل گیا تھا۔

وہ ایک بار پھر سرجری کی ٹیبل پر تھی۔

اس بار وہ گھر لوٹی تو بے جان تھی۔ختم،پانی کے گلاس کی بھی محتاج کروٹ بدلنے سے قاصر ۔ اسے اوپری کمرے سے شور کی آوازیں آتیں۔ زنجیر کی آواز ، گھر والوں کی بک جھک، مگر کوئی پرسان حال نہ تھا۔ وہ خود ہوش و بے ہوشی کے درمیان زندہ تھی۔اسے عجیب و غریب خواب ستاتے۔

اس کی دوائوں میں نشہ سا تھا۔ وہ گھنٹوں سوئی رہتی اور ہوش آنے پر بھی دماغ سن رہتا۔

’’اللہ سائیں آپ کو صحت دے بی بی!کوئی غلطی ہو تو ماپھ (معاف)کردینا۔‘‘

’’تم کہاں جارہی ہو صغراں۔۔۔مونس کو تمہاری ضرورت ہے۔ میری صحت بھی ٹھیک نہیں۔ ذرا مجھے ٹھیک ہونے دو۔‘‘

ملازمہ ہچکچائی۔ ’’بڑی بیگم صاب نے تو خاموشی سے جانے کا بولا تھا۔مگر بی بی!آپ کے بڑے احسان تھے مجھ غریب پر۔۔۔مونس بابا کو میری اب کیا ضرورت۔‘‘

’’کیوں!کیا مطلب۔ ‘‘

’’اس کو تو ۔۔۔ اس کو تو صاب جی گاڑی میں ڈال کر، کہیں دور، بہت دور چھوڑ آئے ہیں۔ وہ بہت خطرناک ہوگئے تھے جی۔ زنجیر والا ہاتھ سر پر مار، مار کے اپنا ہی خون کر ڈالا۔صاب کے ہاتھ پر کاٹ لیا جی۔ پوٹیاں لگ گئی تھیں۔ نہلانے دھلانے والا لڑکا بھی بھاگ گیا۔‘‘

وہ لہولہان تھی۔ وہ بے جان تھی۔ وہ چیخنا چاہتی تھی۔ مگر قوت گویائی سلب ہوگئی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہ آتا۔ وہ لڑے، جھگڑے، چلائے، کوسے یا پھر صرف پوچھے کہ بتا دو میرے جگر گوشے کو کہاں چھوڑ آئے۔

’’کہاں ہے میرا بچہ۔ ‘‘وہ کمرے سے نکل کر دروازے پر بمشکل کھڑی پورے جسم کی طاقت لگاکر چلا رہی تھی۔’’ارے ظالمو !کہاں ہے میرا بچہ۔‘‘

وہ گرتی پڑتی سیڑھیاں چڑھی۔

ہاں ۔۔۔وہ تو خالی دھلا دھلایا کمرا تھا۔وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔

’’وہ وہیں ہے جہاں اسے عرصے پہلے چھوڑ آنا چاہیے تھا۔‘‘ اس کے شوہر نے سگار کی راکھ کا جائزہ لیتے ہوئے سرسری لہجے میں کہا۔وہ چیل کی سی تیزی سے جھپٹ پڑی۔

’’ظالم انسان، کہاں چھوڑ آئے میرے بچے کو۔‘‘ وہ اس کے سینے پر زور،زور سے ہاتھ مار رہی تھی۔اور شوہر کے خواب و خیال میں بھی یہ ری ایکشن نہ تھا۔

’’میرا بیٹا لاکر دے۔‘‘ وہ حلق کے بل چلائی اور شوہر کا دھکا لگنے سے گرگئی،جو حق دق اس کو دیکھ رہا تھا۔

’’پاگل ہوگئی ہے یہ ۔۔۔پاگل کی ماں پاگل۔‘‘ وہ گھر کے لوگوں سے مخاطب تھا۔’’لے جائو اسے۔‘‘ وہ اس پر پل پڑتا۔ مگر اس کا حال خراب ہوگیا تھا۔ ٹوٹا چشمہ، چرا گریباں، سفید بنیان جھلک رہی تھی اور چہرہ ۔۔۔اف وہ بے دم ہوچکی تھی۔

’’میرا مونس۔۔۔ کہاں۔۔۔ہے۔۔۔ کس۔۔۔ حال میں ہوگا۔ وہ تو۔۔۔ بھوکا۔۔۔ مر۔۔۔ جائے گا۔ وہ۔۔۔ میرے۔۔۔ علاوہ۔۔۔ کسی۔۔۔ سے کھانا۔۔۔ کھانا۔۔۔ نہیں۔۔۔ میرا۔۔۔ مون۔۔۔ اس۔۔۔ میرا۔۔۔ مو۔۔۔نس س س س۔۔۔‘‘

وہ ہوش و خرد سے بے گانہ زمین پر پڑی تھی۔

’’میرا۔۔۔ مونس۔۔۔ اللہ۔۔۔‘‘اس کی پکار دل چیر دینے والی تھی۔

٭٭٭

وہ برسات کی ایک سیلن زدہ رات تھی۔ پتنگے اور جھینگر۔۔۔ ہر شے نمی سے بوجھل اپنی اپنی سوچوں میں گم تھی۔ جان دار کیا، بے جان کیا۔ سناٹا روح میں اتر جانے والا اور اس کی سانس رک رک کر چلتی تھی۔

’’تم سب سے زیادہ پیار کس سے کرتے ہو بیٹے۔ ‘‘

بیٹے نے چونک کر ماں کو دیکھا۔ وہ خوف زدہ تھا، سہما ہوا، پریشان ،الجھن میں۔

’’جواب دو ۔۔۔بیٹے ۔۔۔‘‘

’’بب۔۔۔بھائی سے کرتا تھا۔۔۔بھائی سے کرتا تھا۔‘‘اس نے تیزی سے کہہ دیا۔

’’تھا۔۔۔ کیوں بولا،اب نہیں کرتے۔ ‘‘

’’وہ اب۔۔۔نہیں ہے نا،تو اس لیے تھا بولا۔‘‘

’’وہ ہے بیٹے! مونس ہے،بس اتنا نہیں معلوم کہ کہاں ہے۔‘‘

’’امی۔۔۔!‘‘ وہ کچھ سوچتا ہوا جھجک کر بولا۔’’امی۔۔۔!کیا ابو کبھی مجھے بھی چھوڑ دیں گے کہیں دور،ایسے گاڑی میں ڈال کر۔‘‘

’’نا۔۔۔ نہیں۔۔۔ تم کو کیوں۔۔۔ تم تو طاقت ور ہو نا، تم اسٹرگل کرسکتے ہو۔ زندگی میں کبھی بھی کوئی تمہیں ہاتھ لگائے تو تم اس کا منہ توڑ دینا۔‘‘

’’تو طاقت ور تو بھائی بھی تھا۔وہ بہت اچھل رہا تھا۔ شور کرتا تھا۔ مگر ابو نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔‘‘

’’ہائے۔۔۔‘‘اسے جھٹکا سا لگا۔

’’تم مجھ سے پیار کرتے ہو نا؟‘‘

’’کرتا ہوں۔۔۔ پہلے بھائی، پھر امی سے اور۔۔۔ پھر۔۔۔‘‘ وہ باپ کا نام لیتے رکا۔ وہ خوف زدہ سا نظر آیا۔

’’مجھ سے۔۔۔ پرامس کرو۔ ‘‘اس نے اپنا ہاتھ اٹھایا۔بیٹے کے چہرے پر الجھن تھی۔ وہ خوف زدہ سا تھا۔ مگر اس نے ماں کے ہاتھ میں ہاتھ دے دیا۔

’’تم نے اپنی پوری زندگی بھائی سے پیار کرنا ہے۔‘‘ اس کے جملے ٹوٹنے لگے۔ ’’تم نے اسے ڈھونڈنا ہے۔ ان لوگوں سے پوچھ لینا۔ مگر اسے ڈھونڈنا ضرور۔۔۔تم اس سے پیار کرتے ہو نا۔‘‘اس نے یک دم خدشے میں گھرکے پوچھا۔

’’کرتا ہوں۔۔۔ امی۔۔۔ کتنی بار۔۔۔ بتایا تو ہے۔‘‘وہ کچھ جھنجھلایا۔

پھر ماں کو دیکھا تو تسلی آمیز لہجے میں بولا۔’’وہ میرا بھائی ہے امی۔‘‘

سادہ سے جملے میں ایسی انمول یقین دہانی چھپی تھی کہ اس کے بے چین دل کو قرار آنے لگا۔

وہ ساری رات اسے بتاتی رہی تھی۔سمجھاتی رہی تھی۔

’’میں آپ کے ساتھ سو جائوں۔‘‘اس کی آنکھیں نیند سے بوجھل ہونے لگیں۔

’’ہاں۔۔۔!‘‘ اس نے اپنا بازو پھیلا دیا۔ ایک بازو آباد تھا اور دوسرا۔۔۔اس کی سسکی کی آواز پر بیٹے نے نیند سے بوجھل آنکھیں اٹھائیں۔

’’آپ روئیں مت امی!‘‘ اس نے اپنے چھوٹے ہاتھوں سے اس کی آنکھیں پونچھنے کی سعی کی۔ میں آپ کو بھائی لادوں گا۔ آئی پرامس۔ میں اسے ڈھونڈوں گا۔ مامون ابصار جھوٹ نہیں بولتا امی۔‘‘ اسے خود پر بھروسا تھا۔

مریم نے آنکھیں موند لیں۔ پرسکون، ہمیشہ کے لیے۔

٭٭٭

’’جب تک امی زندہ تھیں تو وہ مجھے بتاتی تھیں کہ میں بھائی سے بہت پیار کرتا ہوں۔ میں ان جملوں کو سبق کی طرح یاد کرچکا تھا۔ ان کے پوچھنے پر رٹو طوطے کی طرح بتا دیتا اور وہ خوش ہوجاتیں۔ طمانیت ان کے خوب صورت چہرے پر ہلکورے لینے لگتی۔لیکن ۔۔۔جب وہ۔۔۔‘‘

وہ رکا۔

’’لیکن۔۔۔ لیکن ان کے جانے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ میں واقعی ان دونوں سے کس قدر محبت کرتا تھا، سچی محبت۔ ماں کی طلب بے چین کرتی تو میں ان کی قبر پر چلا جاتا اور بھائی کی۔۔۔ اس کا کونے کا اوپری کمرا نئے انداز میں ڈیکوریٹ کردیا گیا تھا۔خوب صورت سجا بنا، خوشبو دار، اب اس گھر میں کوئی شور نہ تھا۔ کوئی بو نہ تھی۔ کسی کے نعرے نہیں تھے۔ کہیں زنجیر کی کھنک نہ تھی۔ زندگی سب کے لیے نیا آغاز لائی تھی۔مگر میرے لیے زندگی ٹھہر چکی تھی۔

مجھے راتوں کو خواب دکھائی دیتے۔مونس اور امی۔۔۔امی اور مونس۔

میری زندگی سے قرار رخصت ہوچکا تھا۔مجھے اپنا وعدہ یاد تھا کہ مجھے بھائی کو ڈھونڈنا ہے۔ مگر کیسے۔ واحد شخص میرا باپ تھا۔ ابصار احمد۔۔۔اور۔۔۔ اور تمہیں بتائوں میں ان سے، ان سے ڈرنے لگا تھا۔ وہ مجھے بھی، وہ مجھے بھی ایسے ہی ایک روز کہیں چھوڑ آئیں گے۔ میں بہت چھوٹا تھا۔ کمزور، بے بس، انجان۔میں بہت چھوٹا تھا بشائر۔‘‘

مامون ابصار نے یک دم بولنا روک کر بشائر کو یقین دلانا چاہا اور وہ سر بھی نہ ہلا سکی۔

اس نے مامون ابصار کی آنکھوں میں ہمیشہ خوب صورتی کو دیکھا تھا یا پھر قطعیت سردمہری، اجنبیت، لاپروائی،سختی، درشتی،حاکمیت۔

اس نے پہلی بار ان آنکھوں میں خوف دیکھا۔دکھ دیکھا،ماتم دیکھا، بے بسی و بے چارگی۔

اس نے پہلی بار ان آنکھوں میں آنسو دیکھے۔

مامون ابصار بولتے بولتے کھو جاتا۔ وہ رو پڑتا۔ وہ بے بس بھیگی نگاہیں اٹھاکر جب یقین طلب انداز میں بشائر کو دیکھتا تو اس کا دل ٹھہر ٹھہر جاتا کہ وہ آگے بڑھ کر اس شخص کو اپنے سینے میں بھینچ لے۔

مگر وہ ششدر،ساکت،ہمہ تن گوش تھی۔

’’میں اپنے باپ سے ڈرنے لگا تھا۔ میں خوف زدہ تھا اس شخص سے، وہ بہت ظالم شخص تھا، جس طرح اس نے میرے بھائی کو منہ پر ہاتھ رکھ کے ہائی روف میں ٹھونسا تھا۔ میں نے سوچا مجھے بڑا ہونا پڑے گا۔ طاقت ور اور دولت مند۔ تب میں پوچھوں گا اور مجھے گاڑی چلانا سیکھنا ہوگی۔ امی نے کہا تھا۔ ہر جگہ جانا بھائی کو ڈھونڈنے۔‘‘وہ کسی معصوم چار سالہ بچے کی طرح بولا۔

’’میں منصوبہ ساز بن گیا بشائر۔۔۔‘‘وہ زہرخند لہجے میں بولا۔’’میں منتقم مزاج اور دوغلا بن گیا۔ میں اچھا بیٹا بن کر رہتا تھا۔مگر بہت برا تھا میں،منافق تھا۔

اور سترہ برس کی عمر میں مجھے لگا کہ میں طاقت ور ہوں۔ میرے مسلز اور مجھے گاڑی چلانی آگئی تھی۔ میں کالج میں گیا تھا نیا نیا۔ وہ علاقے کے بے تاج بادشاہ تھے۔ جائز ناجائز آمدنی اور جائیدادیں میرے نام بھی بہت کچھ تھا۔ میں نے اس دولت کا بھی حساب رکھا۔ ہاں اب وہ وقت آگیا تھا کہ میں اپنے بھائی کے بارے میں پوچھوں۔

میں نے بہت سارے ری ایکشنز سوچ رکھے تھے۔وہ شدید حیرانی کے بعد مجھے ٹال گئے۔ مگر اصرار پر یک دم بھڑک گئے۔

’’مجھے بس بتا دیں،وہ کہاں ہے۔‘‘

’’پاگل کہاں ہوتے ہیں۔پاگل خانے میں نا۔‘‘

’’مجھے اس پاگل خانے کا پتا چاہیے۔ مجھے اسے ڈھونڈنا ہے۔اس سے ملنا ہے۔‘‘

’’کیا کرنا ہے۔ واپس گھر لانا ہے۔‘‘وہ تضحیک آمیز انداز میں پوچھنے لگے۔

’’یہ تو میں نے نہیں سوچا۔ مگر میں نے اپنی امی سے پرامس کیا تھا کہ میں بھائی کو ڈھونڈوں گا۔ آپ نے اس کے ساتھ نہایت غیر انسانی سلوک۔‘‘

’’اوہ تو وہ پاگل کی بچی زہر گھول کر مری تھی۔اس نے۔۔‘‘

’’اب پتا نہیں بشائر میں نے صحیح کیا یا غلط۔۔۔ وہ میری ماں کے بارے میں نہ جانے کیا، کیا بول رہے تھے۔ میں نے ان کا گریبان پکڑ لیا۔

’’خبردار جو میری ماں کے بارے میں۔۔۔آپ مجھے پتا بتاتے ہیں یا پھر میں۔۔۔‘‘

اور وہ خوف زدہ ہوگئے۔ کھانسنے لگے۔میرا جنون اور جارحیت کم ہونے والی نہیں تھی۔انہیں سچ بولنا پڑا۔ وہ کسی ملازم کے حوالے کر آئے تھے اور آگے ملازم نے کہاں۔۔۔اللہ جانے اور ملازم مر چکاتھا۔

میری ساری پلاننگ دھری کی دھری رہ گئی۔ میں نے اس گھر کو چھوڑ دیا۔بشائر! میں نانا جان کے پاس آگیا۔

میری ماں نے اس رات مجھ سے تین باتیں کہی تھیں۔بھائی کو ڈھونڈنا، خوب پڑھنا اور کامیاب انسان بننا۔ میں ایک میں ناکام ہوا تھا۔لیکن باقی دو میں۔۔۔میں نے مٹی کو ہاتھ لگایا تو وہ سونا بن گئی۔ مگر میں ماں سے کیا وہ وعدہ نہ نبھا سکا۔ جو اس نے اپنی زندگی کے آخری جملوں کے طور پر مجھ سے لیا تھا۔

میں نے باقی کی ساری زندگی ماں سے شرمندہ اور باپ سے نفرت کرتے گزاری۔ انہوں نے مجھے کہا کہ وہ یعنی مونس گھر میں رکھنے کی چیز ہی نہ تھا۔ یہ تو میری ماں کی ضد تھی۔ ورنہ ایسے بچے اسپیشل ہومز میں رہتے ہیں اور وہ بھی امیروں کے، غریب تو پھینک پھانک دیتے ہیں،کہیں ڈال آتے ہیں۔‘‘

بشائر کی آنکھیں جھرجھر بہہ رہی تھیں۔اسے مامون ابصار پر رحم آرہا تھا۔

’’اور نانا جان مجھے ناپسند کرتے تھے۔وہ کہتے تھے میں بنا بنایا ابصار احمد ہوں اور نانو کہتی تھیں، نہیں، میں اپنی ماں جیسا ہوں،لیکن میں کیسا ہوں،مجھے آج تک پتا نہ لگا۔

ہاں میں بچپن سے پلان میکر تھا لیکن عدینہ سے محبت خود بخود ہوگئی۔ وہ چھوٹی سی گڑیا جیسی تھی، تنہا، اکیلی، باتوں کی شائق، سنگھار کی شائق اور وہ مجھے اچھی لگتی تھی۔ اس کی شکل امی جیسی تھی اور وہ پیاری یوں لگتی تھی کہ سجی بنی رہتی تھی۔میں نے اپنی امی کو کبھی سجا بنا نہیں دیکھا۔‘‘

بشائر نے چونک کر مامون ابصار کی صورت دیکھی۔کیا وہ آج سارے سچ کہہ دینے والا تھا۔

’’بشائر صحیح کہتی ہے۔میں نے عدینہ سے شادی اس لیے نہیں کی کہ میں ابنارمل بچوں کو دنیا میں لانا نہیں چاہتا تھا۔‘‘

عدینہ کے کان میں یہ اعتراف انڈیل کر وہ سرعت سے اٹھا اور کمرے سے نکل گیا۔

سالوں بعد اپنی بیٹی کو روتی رابعہ خاتون نے بشائر کو تیزی سے پیچھے روانہ کیا کہ مامون کی ذہنی حالت۔۔۔کہیں خدانخواستہ۔ اور وہ سر پٹ بھاگی تھی۔

اور بشائر نے نکلتے نکلتے دیکھا۔ عدینہ کے دونوں ہاتھ سختی سے ہونٹوں پر جمے تھے۔ اس کا چہرہ لاش کی طرح سفید تھا۔ بے یقین آنکھوں سے گرتے آنسو گریبان بھگو رہے تھے۔ اسے شاید سکتہ ہوگیا تھا۔

٭٭٭

پتھریلے چہرے کے ساتھ اندھا دھند گاڑی بھگاتا مامون ابصار دھڑ دھڑ سیڑھیاں چڑھتا بیڈ روم میں پہنچا۔ وہ کمرا مقفل کرکے نہ جانے کیا کرنا چاہتا تھا۔ بشائر اتنی تیزی سے اس کے پیچھے بھاگی کہ دوپٹا کہیں سیڑھیوں ہی میں گرگیا۔

وہ شاید اس کے اندر گھس آنے سے بے خبر تھا یا اس وقت اسے کسی بھی شے کی خبر نہ تھی۔ وہ دیوار پر سر مار مار کے رو رہا تھا۔ باآواز بلند۔

وہ خوف زدگی کے عالم میں کانپتی ٹانگوں کے ساتھ کھڑی اس کا جنون دیکھتی رہی۔

’’میں اس سے بہت پیار کرتا تھا، بہت زیادہ۔‘‘بشائر کا دل کٹ گیا۔عدینہ سے پیار کا ایسا والہانہ بے خود، جنونی اعتراف۔

’’آپ اسے اپنالیں مامون۔۔۔ آپ اسے اپنالیں۔‘‘وہ اسے سر پھوڑنے سے بازرکھنے کے لیے اس کی پشت سے لپٹ گئی۔

’’میں بیچ میں نہیں آئوں گی مامون۔۔۔ آپ اسے۔۔۔‘‘ وہ نہ جانے کیا کہہ رہی تھی۔وہ یک دم گھوما اور اسے شانوں سے تھام لیا۔

’’مجھے بہت بعد میں احساس ہوا،بشائر!کہ میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں۔امی کے کہنے پر میں صرف جملہ دہراتا تھا۔ مگر میں مونس سے دل سے محبت کرتا تھا۔ بس احساس دیر سے ہوا۔ جب تک امی زندہ تھیں تو وہ مجھے بتاتی تھیں کہ۔۔۔‘‘

’’آپ کس کی بات کررہے ہیں۔‘‘بشائر بری طرح چونکی۔

’’کس کی بات۔۔۔۔ میں صرف مونس کی بات کررہا ہوں۔مجھے دنیا میں صرف اس سے محبت تھی۔ میں صرف اس کے لیے رویا ہوں۔‘‘

اس نے نظریں بشائر کے چہرے پر گاڑ دیں۔ بشائر نے دیکھا۔رونے سے سرخ بوٹی آنکھیں بالکل عون جیسی تھیں۔ اسے اس شخص پر ترس آرہا تھا۔ اسے یہ شخص ظالم لگ رہا تھا۔ اسے یہ شخص مظلوم بھی لگ رہا تھا۔

وہ اٹھ کر واش روم میں چلا گیا۔ بشائر کرسی پر ساکت ٹکی رہ گئی۔شاور کی آواز لگا تار تھی۔

نہ جانے کتنا بہت سارا وقت گزر گیا،جب وہ دوبارہ اس کے سامنے والی کرسی پر آکرٹک گیا۔ گیلے بال ماتھے پر گرے تھے اور رویا، رویا چہرہ اس چہرے پر رعونت نہیں تھی۔ کوئی پرت نہیں ۔ ایک سادہ چہرہ۔۔۔

’’چائے منگوائوں۔‘‘ اس کی آواز رونے سے بھاری تھی۔ مامون نے کوئی جواب نہ دیا۔یک ٹک اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ ارتکاز اتنا گہرا تھا کہ بشائر کو تپش کا احساس ہونے لگا۔

’’اور بشائر سجاد۔۔۔! تمہاری ہمراہی۔۔۔ ‘‘ اس نے یک دم اسے مخاطب کیا۔’’کسی بھی انسان کے لیے زندگی کا سب سے بڑا فخر ہوتی۔ تم اتنی باوقار اور مکمل عورت تھیں۔ میں پہلی نگاہ میں تم سے متاثر ہوا تھا۔ تمہاری قامت، لہجہ اور آواز کا اتار چڑھائو، ذہین آنکھیں،تم کسی بھی مرد کا خواب ہوسکتی تھیں۔‘‘

وہ کہیں دور کھویا شاید اس پل کو دہرا رہاتھا۔ جب اس نے بشائر کو دیکھا تھا۔

’’اور میرا بھی ہوجاتیں۔اگر۔۔۔اگر عدینہ نہ ہوتی۔‘‘

بشائر نے پہلو بدلا۔

’’وہ تمہارے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھی۔ کسی بھی لحاظ سے۔۔۔وہ ایک عام سی لڑکی تھی۔ سطحی، نخریلی، ظاہر پر جان دینے والی۔ ایک انٹر پاس لڑکی۔ مگر اس کا کیا کروں بشائر کہ وہ مجھے اچھی لگتی تھی۔ ساری دنیا سے زیادہ مجھے اس کی موجودگی میں کبھی کوئی عورت بھلی لگی ہی نہیں۔ بس دل تھا نا۔ ایک بار ٹک گیا تو ٹک گیا اور اسے چھوڑنے کا فیصلہ زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ تھا اور فیصلے پر کاربند رہنے کے لیے اس کی ہر امید کو توڑنے کے لیے مجھے فوری طور پر اس کو خود سے بددل کرنے، مایوس کرنے کے لیے شادی کرلینی چاہیے تھی اور ایسے ہی کیا، خود اپنے آپ کو بھی پکا رکھنے کے لیے۔۔۔ کہیں میرا ہی دل دغا نہ دے جائے۔ میں نے جھٹ تمہارا نام لے دیا۔تم فوری طور پر دستیاب تھیں نا۔‘‘

وہ عجیب سے انداز میں ہنسا۔ بشائر کا دل جیسے کسی نے کانٹوں پر راہ گزر پر ڈال دیا۔’’تو آج یہ انکشاف بھی ہوگیا کہ تم نے بشائر سے شادی کیوں کی۔‘‘

’’مجھے عدینہ کو مایوس کرنا تھا۔ وہ مجھ پر اتنا حق رکھتی تھی کہ اگر ایک بار، فقط ایک بار آنسو بھری آنکھوں سے آکر میرے سامنے کھڑی بھی ہوجاتی تو میرے پائے ثبات میں لغزش آجاتی۔میں اس سے، اس آزمائش بھرے بے بس پل سے بھاگ جانا چاہتا تھا۔ تم بہترین تھیں ہر لحاظ سے۔۔۔ تمہاری ذہانت، تمہارا شخصیت کا وقار، ٹھہرائو، نظم میں نے ایک بار عدینہ ہی سے کہا تھا۔

بھلے شان نے وہاں کینیڈا میں بشائر کو نہیں دیکھا۔مگر وہ خوش قسمت ہے کہ اسے اتنی شان دار لڑکی مل رہی ہے۔

اور سچ کہتا ہوں، دل میں عدینہ کی نقب زنی نہ ہوتی تو میں بصد احترام دیدہ دل وا کیے تمہارے لیے ہامی بھرلیتا، فخر کرتا، تم جیسی لڑکی کو پالینا ساری زندگی کی خوشی جیسا تھا۔‘‘

بشائر کو پتا ہی نہ لگا،نہ جانے کب سے آنسوئوں کا ایک ریلا گالوں کو گزرگاہ بنا گیا۔

’’تمہارا اس کا موازنہ کرتا ہوں کہ تم اور وہ۔۔۔تو خود پر حیران ہوتا ہوں۔ اور حیرانی تو یہ بھی ہے کہ میں آج بھی اس کی جانب ملتفت ہوتا ہوں۔ میں تمہیں اذیت دے رہا ہوں۔جانتا ہوں،مگر یہ دل آج بھی ملال میں جیتا ہے اور پچھتاووں کی مار سہتا ہے کہ اے کاش!‘‘

’’آپ اسے اپنالیں مامون!‘‘اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا۔

’’مامون نے جیسے سنا نہیں۔‘‘وہ کہیں اور ہی پہنچا ہوا تھا۔

’’تمہاری ہمراہی فخر تھی۔ قابل تعریف۔ میں نے تمہارے ساتھ زندگی کا آغاز ایمان داری سے کیا تھا۔ بس دل کا ایک کونہ تمہارے لیے نہ کھولا۔ اسے مقفل کرکے چابی کہیں دور پھینک دی کہ نہ تم کبھی جھانک سکو اور نہ میں جھانک پائوں۔ نانا جان نے اور بعد میں نانو نے بھی کہہ دیا کہ میں ادھر نہ آیا کروں یا کم از کم عدینہ کی موجودگی میں۔

میں عدینہ کو بھولا تو خیر کبھی نہیں، مگر بہل ضرور گیا اور پھر عون کے آنے کی خبر۔۔۔ تب مجھے احساس ہوا کہ سب کچھ یوں ہی کا قصہ تھا۔ محبت، دل، لگائو، مجھے تو بس جیسے ایک وقت کا انتظار تھا۔

ہم ایک دوسرے کے قریب ہورہے تھے۔عون کے بعد اور زیادہ قریب۔مجھے تم سے محبت ہونے لگی تھی۔ مجھے تم پر فخر ہونے لگا تھا۔عون کے بعد اور زیادہ۔۔۔ اور عون کی بیماری کے بعد تو میں۔۔۔ حیران رہ گیا۔تم تو بالکل میری ماں جیسی تھیں۔اولاد سے محبت کرنے میں۔ مگر تم اس سے بہت مختلف تھیں۔ بہادر، با اختیار، ہار نہ ماننے والی۔ میری ماں مونس کو اپنی غلطی مان کے شرمندہ زندگی گزارتی رہی۔ وہ چھپ کر بیٹے سے لاڈ کرتی تھی۔ تم ببانگ دہل، کسی شرمندگی کے بغیر۔‘‘

بشائر نے بری طرح چونک کر اس کی صورت دیکھی۔

’’وہ بیٹے کا ذکر کرنے سے کتراتی تھیں۔ تم سینہ تان کر فخر کرتی تھیں۔

میرے بہت سے رویوں کے پیچھے وجوہات تھیں بشائر!

میری ماں اجڑے پجڑے حلیے کی ہراساں عورت تھیں۔ وہ بیٹے کے پیچھے بدحالوں میں گھومتی رہتیں۔ سب کی لعن طعن سنتیں۔ میں نے کبھی انہیں مکمل خوب صورت لباس میں نہیں دیکھا۔ الٹے پلٹے کپڑے، ان کے جسم سے بو آجاتی تھی۔ پھر سب لوگ انہیں باتیں سناتے۔ مجھے عدینہ کا بنائو سنگھار بہت بھاتا تھا۔ کسی بھی اجڑے حال کی عورت دیکھ کر آج بھی میری حالت غیر ہوجاتی ہے۔

مجھے وہم ہوگیا تھا جو عورت زندگی کی دلچسپیوں سے منہ موڑ لیتی ہے۔ایک روز اس سے زندگی بھی منہ موڑ لیتی ہے۔

میرے باپ نے ان سے نفرت کرنا شروع کردی تھی۔وہ ان کے لیے فقط باعث شرمندگی تھیں۔ وہ اتنی خوب صورت عورت تھیں کہ میں نے اتنا حسن کبھی نہیں دیکھا ۔مگر۔۔۔

تمہیں پتا ہے ان کے مرنے کے بعد میرے والد کی زندگی سنور گئی گویا۔ انہیں چلبلی ،سجی بنی شوخ بیوی مل گئی۔ ان کی نئی فیملی لائف شروع ہوگئی۔ میں ڈرتا تھا۔ بشائر! کہیں میں تم سے نفرت نہ کرنے لگ جائوں۔ جیسے۔۔۔عدینہ کے بعد تمہیں بھی۔۔۔کھونا میرے لیے۔۔۔‘‘

شدید ضبط کے باعث اس کی کنپٹی کی رگ پھول پچک رہی تھی۔جبڑے بھینچے تھے۔

’’مجھے عدینہ سے۔۔۔میں تو آج تک اس بات کو تسلیم نہ کرسکا کہ میں اسے کھو چکا ہوں۔وہ میری کبھی نہیں ہوسکتی وہ۔۔۔‘‘

’’آپ اسے اپناسکتے ہیں مامون!‘‘اس نے اپنا گلا صاف کیا اور ذہن و دل بھی۔۔۔ اس نے فیصلہ کن انداز میں کہہ دیا۔

مامون نے چونک کر اس کی صورت دیکھی۔اس کے چہرے پر زخمی مسکراہٹ آ رکی۔وہ جیسے اس پل کسی بڑے اذیت بھرے کچوکے لگاتے خیال کو جھیل رہا تھا۔خاموشی کا ایک بھید بھرا پل آن رکا۔

’’مجھے اسے اپنانا ہوتا تو چھوڑتا ہی کیوں۔‘‘

’’آپ اسے اپناسکتے ہیں۔میں بقائمی ہوش و حواس بہ رضاو رغبت اجازت دے رہی ہوں۔‘‘ وہ زور دے کر بولی۔’’کوئی تو بامراد رہے۔کوئی تو دل بھر کے خوش ہو۔‘‘

’’میں اسے نہیں اپنا سکتا بشائر کبھی بھی۔‘‘وہ کرسی کی ہتھی پر ہاتھ مار کر بولا۔

’’کیوں نہیں اپناسکتے۔ جس شے سے بھاگ رہے تھے۔جس کی پلاننگ کی تھی۔ جس سے بچنا چاہتے تھے۔مجھ سے شادی کے بعد بھی۔۔۔آپ کو وہی تو ملانا۔‘‘ وہ ذرا سا اونچا بولی۔’’ایک عون۔۔۔ جیسا بچہ۔‘‘

’’میں نے کوئی پلاننگ نہیں کی تھی۔‘‘وہ اتنی زور سے بولا کہ وہ تھرا اٹھی۔’’ہاں مگر یہ سوچا ضرور تھا کہ ہمارے ہاں صحت مند اولاد جنم لے گی۔ مگر عدینہ کو اس لیے نہیں چھوڑا کہ اس سے شادی کی صورت بچے ویسے پیدا ہوں گے۔ میں نے اسے اس لیے چھوڑ دیا تھا کہ وہ اولاد کے اس دکھ کو کبھی برداشت نہ کرسکے گی۔ میں نے اپنی ماں کو اس غم میں روتے،گھلتے اور مرتے دیکھا تھا۔ میں نے عدینہ سے سچی محبت کی تھی اور میں اسے اس پریشانی میں مبتلا نہیں کر سکتا تھا، نہیں دیکھ سکتا تھا جیسے میں نے اپنی ماں کو جھیلتا دیکھا۔

میں نے اسے صرف اس لےے چھوڑا تھا کہ وہ دکھ کے اس پہلو کو کبھی نہ دیکھے۔ اسے بچے بہت پسند تھے۔ وہ اس پر کبھی راضی نہ ہوتی کہ ہم بس میاں، بیوی بن کر رہیں۔ میں نے عدینہ سے سچی محبت کی تھی۔میں نے اسے تھوڑا غم دے کر بہت بڑے غم سے بچانے کے لیے اسے چھوڑ دیا تھا۔راستہ بدل لیا تھا۔‘‘

اس نے بالاخر کہہ دیا،اصل سچ۔

’’مامون۔۔۔!‘‘ بشائر ششدر رہ گئی۔ حیرت انگیز انکشاف نے اس کے نقش بگاڑ دیے تھے۔ آسمان سا ٹوٹا تھا سر پر۔

’’تو۔۔۔ابھی۔۔۔آپ آدھا سچ کیوں بول کر آئے۔اسے پوری بات بتاتے نا۔‘‘وہ بمشکل بولی۔ ’’وہ آپ سے نفرت کرے گی،آپ کو الزام۔۔۔‘‘

’’اس کے لیے اتنا ہی سچ ضروری تھا۔مزید ایک لفظ بھی نہیں بشائر! میرا پورا سچ اس کے آگے کے روشن راستے کو تاریکی میں بدل دے گا۔‘‘

’’کک۔۔۔کون سا روشن راستہ۔‘‘اس نے عجلت میں بات کاٹی۔

’’بخت۔۔۔بخت شاہ!‘‘مامون نے دھماکا کیا۔

’’تو۔۔۔ آپ جانتے۔۔۔جانتے ہیں۔‘‘وہ بھونچکی رہ گئی۔

ہاں۔۔۔ہمیشہ سے۔۔۔عدینہ کو زندگی بھر اس ادھورے سچ کے ساتھ جینا ہوگا۔وہ جتنی زیادہ مجھ سے نفرت کرے گی، اتنی ہی جلدی نئے راستہ پر قدم بڑھائے گی۔اسے متنفر ہی رہنے دو۔میں اپنی خودغرضی اور دل کے ہاتھوں اسے مزید بے وقوف نہیں بناسکتا۔یہ طے ہے کہ مجھے اسے نہیں اپنانا تھا۔ بلکہ وہ میرے لیے تھی ہی نہیں اور پورا سچ یہ بھی ہے کہ تم ہو اور مجھے تم سے بھی محبت ہوچکی ہے۔اتنی نہیں۔۔۔مگر پھر بھی۔۔۔‘‘

بشائر کے ہونٹ لرزنے لگے۔وہ سن رہ گئی۔زندگی میں ایسا موڑ۔

اپنے اپنے خول میں اپنے حساب سے جیتے ایک دوسرے سے انجان لوگ۔۔۔ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے دو اجنبی۔۔۔اس نے اس شخص سے محبت کی تھی اور نفرت نہ کرنے پر اپنے دل کو مجبور پایا تھا۔

وہ اس سے محبت کا اظہار کررہا تھا۔آدھی ادھوری ہی سہی۔مگر تھی تو۔۔۔

آج صبح ہی تو وہ اپنی محبت کا گلا گھونٹ۔۔ اسے کسی کو سونپنے چلی تھی۔ وہ مامون ابصار کی حقیقت بتا کر اسے شرمندہ کرنا چاہتی تھی یا ذلیل و خوار۔۔۔ وہ کیا کرنے چلی تھی۔

صبح وہ قابل نفرت لگ رہا تھا اور اب قابل رحم۔

ہاں اب اسے اس پر ترس آرہا تھا۔اس کے دکھوں پر رونے کی خواہش بے حال کررہی تھی اور اگر آج یہ پل نہ آتا تو کیا وہ باقی کی ساری زندگی بھی ایک دوسرے کی سچائی سے انجان رہ کر گزار دیتے۔ اس شخص کا ایک ایک روپ،رویہ،ایک کے بعد ایک آنکھوں سے گزرنے لگا۔

کیسے گزارے یہ ماہ و سال۔۔۔لباس سے جسم جیسی قربت رکھنے والا یہ رشتہ اور وہ جان نہ سکی کہ وہ اس سے محبت کرنے لگا ہے اور اسے کھونے سے ڈرتا ہے۔اور وہ جان نہ سکا کہ وہ اس سے کتنی محبت کرتی تھی،ہمیشہ سے کس بندھن کو جی رہے تھے وہ دونوں۔

لاعلمی،بدگمانی،خیال،کیا،کیا تھا اس رشتے میں۔

’’پتا ہے میں سائیکاٹرسٹ کے پاس بھی گیا تھا۔‘‘اس نے بشائر کی سماعت پر بم پھوڑا۔’’میں آج تک اپنے اور عون کے رشتے کو سمجھ نہیں سکا۔میں نے بہت سوچا۔مگر خدا کی قسم میں نے کبھی اس سے نفرت نہیں کی۔لیکن میں ہمیشہ ڈرتا رہا۔۔۔کہ کہیں۔۔۔‘‘ وہ بولتے بولتے رک گیا۔

’’میں اس سے نفرت کرنے نہ لگ جائوں۔سب کہتے تھے میں ابصار احمد جیسا ہوں۔لیکن میں ان جیسا بننا نہیں چاہتا تھا۔مجھے خیال آتا تھا کہ اسے سامنے دیکھ کر میں بھی کہیں اپنے باپ کی طرح اس سے گھن نہ کھائوں۔اس سے اکتا جائوں۔یا۔۔۔میں بھی اسے کسی روز گاڑی میں ڈال کے کہیں دور پھینک نہ آئوں۔۔۔ اور اس کا تو پھر کوئی بھائی بھی نہیں جو اسے ڈھونڈنے جائے گا۔لیکن بھائی ہونے کی کیا بات۔ مونس کا تو بھائی تھا نا۔مامون ابصار،وہ بھی اسے ڈھونڈ نہ پایا۔‘‘

اس نے بچوں کی سی بے تابی سے بشائر کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔

’’میں نے اسے بہت ڈھونڈا بشائر، ہر جگہ، ہر شہر۔۔۔سب وسائل خرچ کیے۔ مگر وہ۔۔۔میں نے امی سے کہا تھا۔میں اسے ڈھونڈ کر لائوں گا۔لیکن میں نہیں ڈھونڈ سکا۔ میں۔۔۔انہیں کیا جواب دوں گا۔ میں نے اسے کھو دیا۔‘‘

اس کی خوب صورت آنکھوں میں مایوسی،تکلیف،شرمندگی،ناکامی کی ایسی دلخراش تحریر تھی کہ پڑھنے والی ہر آنکھ نم ہوجائے وہ کسی معصوم بچے کی طرح بشائر سے جواب کا متمنی تھا۔

کتنے شکوے تھے،کتنے ارمان،کتنے سوال اور کتنے حساب نکلتے تھے اس بے درد شخص کی طرف۔مگر۔۔۔ایک فوری خیال کے تحت اس نے وہ سارا گوشوارہ کسی اور وقت کے لےے اٹھا رکھ دیا۔

انہیں اپنے رشتے کی نئی شروعات رکھنی تھی۔ایسا آغاز جس میں وہ ایک دوسرے کے غم گسار ہوں۔ باقی سب بعد میں۔۔۔بشائر نے آنسوئوں کو بہنے سے روکا۔وہ اس کا ہاتھ تھامے تھامے کھڑی ہوگئی۔

’’آئیں میرے ساتھ۔‘‘وہ چونکا۔مگر ہاتھ کھینچنے پر کھڑا ہوگیا۔

’’کہاں؟‘‘

’’آپ آئیں تو۔۔۔‘‘ وہ کمرے سے نکل پڑی۔وہ کسی ٹرانس میں پیچھے کھینچا ہوا چلتا تھا۔دونوں ننگے پیر تھے۔

عون کے کمرے کے دروازے پر پہنچ کر وہ مامون کو دیکھ مسکرائی۔مگر مامون کی آنکھوں میں خوف زدگی بڑھ گئی۔ اس نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی۔بشائر نے اپنی گرفت سخت کی۔

’’اوں۔۔۔ہوں۔‘‘

’’بشائر! میں اندر۔۔۔نہیں جاسکتا۔‘‘ وہ بے بس لہجے میں بولا۔’’ہمارے گھر کے اس کمرے میں زنجیروں میں گنجے سر کا ایک بچہ تھا۔وہاں بو تھی۔وہ بہت خوف ناک آواز میں رویا کرتا تھا۔وہ بھوکا تھا۔ اس کمرے میں گندگی تھی اور اندھیرا سیاہ۔‘‘

مامون شدید خوف زدہ لگ رہا تھا۔وہ پھوٹ پھوٹ کر باآواز رو دیا۔ وہ بس اپنا ہاتھ چھڑوا کر بھاگ جانا چاہتا تھا۔

بشائر کا دل پھٹ جانے کو تھا۔مگر بس یہی پل تھا ایک آغاز کا، یقین دہانی کا،ایک نئے رشتے کا۔ قابل رحم نظر آتا یہ شخص۔۔۔اس کا دل رو رہا تھا۔

’’ہاں۔۔۔وہ ایسے کمرے میں رہتا تھا۔ مگر جب میں اسے لے کر آئی نا۔۔۔تو میں نے اسے اپنے طریقے سے رکھا۔آپ آئیں نا اندر۔‘‘اس نے ناب گھما دی۔

شام ڈھل چکی تھی۔کمرے کی روشنیاں جل رہی تھیں۔

ہلکے نیلے،پیلے ،جامنی اور سفید رنگ کے درو دیوار میں تازگی اور پاکیزگی تھی۔ایر فریشنر کی بھینی خوشبو نے ماحول معطر کر رکھا تھا۔مگر پھر بھی تازہ گلابوں کے گلدستے سے پھوٹتی خوشبو نمایاں تھی۔

عون اپنے بیڈ پر نہیں تھا۔وہ دیوار گیر ایکوریم کے بالکل ساتھ وہیل چیئر جوڑ کر بیٹھا تھا۔اس کا ہاتھ شیشے سے چپکا تھا اور ایکوریم کے اندر سے گہرے سیاہ اور مہرون رنگ کے امتزاج کی چھوٹے سائز کی خوب صورت مچھلیاں جیسے ہاتھ کو چوم رہی تھیں۔پورا جھنڈ ہاتھ کے گرد اکٹھا تھا۔ہولے ہولے منہ کھول کر سانس نکالتی ،دم کو ہلاتی مچھلیاں۔

عون بہت پرسکون تھا۔وہ گرد و پیش سے بے گانہ مچھلیوں پر ٹکٹکی باندھے بیٹھاتھا۔ اس کا انہماک اتنا تھا کہ اس نے بشائر کی آمد کا نوٹس نہ لیا۔ وہ اکثر ایسی بے گانی سی کیفیت میں بھی چلا جایا کرتا تھا۔ سفید ٹی شرٹ پر بلو لمبی نیکر۔۔۔مامون کے لباس کا بھی یہی امتزاج تھا۔عون کے بے حد سلکی بال ماتھے پر گرے ہوئے تھے۔ وہ گھٹنے موڑ کر عون کی وہیل چیئر کے سامنے بیٹھ گئی۔ مامون کا ہاتھ ابھی تک ہاتھ میں تھا۔اسے تقلید کرنا پڑی۔

’’یہ۔۔۔‘‘ اس نے عون کا ہاتھ مامون کے ہاتھ میں دیا۔ گدگدا گورا نرم ہاتھ ۔ مامون کی پکڑ میں جھجک تھی۔ بشائر نے اپنے ہاتھ میں عون کا ہاتھ رکھا۔ پھر اس پر مامون کا اور اپنے دوسرے ہاتھ کو اوپر رکھ کے بند کر دیا۔

’’یہ مونس۔۔۔‘‘اس نے بتایا۔

’’مگر۔۔۔یہ تو۔۔۔عون۔۔۔‘‘وہ اردگرد سے بے گانہ تندرست بچے کو حیرانی سے دیکھنے لگا تھا۔

’’اونہوں۔۔۔عون۔۔۔نہیں۔۔۔مونس۔۔۔یہ مونس ہے۔‘‘

لیکن وہ ایسا نہیں تھا۔وہ تو بہت کمزور تھا،بہت گندا سندا۔۔۔شور کرتا۔‘‘مامون کسی ٹرانس میں تھا۔

’’ہاں۔۔۔ایسا ہی تھا۔مگر جب مجھے ملا تو میں نے اسے ایسا کردیا۔‘‘وہ مسکرائی۔

’’تمہیں کہاں ملا۔جبکہ میں نے تو ہر جگہ۔۔۔‘‘

’’آپ کی طلب سچی تھی نا مامون۔۔۔اسے تو فرشتے کہیں اوپر لے گئے۔ لیکن آپ کے لیے اسے دے گئے۔‘‘

’’تمہیں کیوں۔۔۔ڈھونڈ تو میں رہا تھا اور یہ تو عون ہے۔ وہ مونس تھا۔‘‘وہ ماننے کو تیار نہیں تھا، بحث پر اتر آیا۔

’’فرشتوں کو بھی لگا آپ ابصار احمد ہیں اور میں انہیں شاید مریم لگی ہوں گی۔‘‘

’’فرشتے بیٹا ہمیشہ مریم ہی کو دے کر جاتے ہیں مامون!‘‘اس کا دل تشکر کے جذبات سے لبریز تھا۔ اس نے بہت گہری بات کہی۔

’’لیکن میں ابصار احمد نہیں تھا۔‘‘مامون اپنے ٹرانس سے ابھرا۔وہ جیسے کہیں اور پہنچا ہوا تھا۔جھٹکا کھاکر چونکا۔وہ بغور عون کو دیکھ رہا تھا۔بے یقینی سے۔

’’مامون! آپ ابصار احمد سے نفرت نہ کریں ان حالات پر غور کریں تو آپ کو لگے گا کہ وہ بھی غلط نہیں تھے۔بس انہیں حالات کوہینڈل کرنا نہ آیا۔انہوں نے فرار کی راہ اختیار کی لیکن آپ ابصار احمد نہیں ہیں۔آپ مامون ہیں اور یہ عون ،میں بشائر۔۔۔ ہم بہت الگ ہیں پچھلوں سے۔‘‘ اس نے اپنا گال عون کے گھٹنے پر ٹکاتے ہوئے سکون آمیز انداز میں آنکھیں موندیں۔

’’مگر۔۔۔یہ تو عون ہے۔۔۔تو پھر مونس۔‘‘وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔

’’یہی مونس بھی ہے تھوڑا ٹائم لگے گا۔آپ پہچان لیں گے۔‘‘

اس نے یقین سے کہا۔عون کی آنکھیں بند ہورہی تھیں۔بشائر کی بھی۔اسے اس کمرے میں آکر ہمیشہ سکون بھری نیند گھیر لیا کرتی تھی۔

مامون نے بے یقینی کے عالم میں اس کے چہرے کی طمانیت دیکھی۔عجیب بات تھی اس کے بے چین دل کو قرار سا مل رہا تھا۔ناقابل فہم سا سکون۔

’’اچھا آپ فکر نہ کریں۔ اللہ نے اگر ہمیں ایک اور بیٹا دیا تو ہم اس کا نام مونس رکھ لیں گے۔وہ نیند کی وادیوں میں کھونے والی تھی۔تھکاوٹ صبح سے اب تک کی یا آٹھ سالوں کی۔

مامون بری طرح چونکا۔وہ بشائر کی طلب سے واقف تھا۔’’ایک اور بچہ۔۔۔‘‘

’’اور اگر وہ۔۔۔وہ بھی ایسا نکلا۔۔۔تت۔۔۔تو۔۔۔۔‘‘اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔

بشائر نے نیند سے بوجھل پلکیں چونک کر اٹھائیں۔وہ مامون کے چہرے پر پھیلی سراسیمگی دیکھ کر مسکرائی تھی۔وہ مامون کا ہاتھ چھوڑ چکی تھی۔ اس نے اس کے زانو پر ہاتھ رکھا۔تسلی آمیز انداز میں تھپکا۔

’’تو کیا ہوا۔ہماری اولاد ہوگا۔‘‘اس کے جملے میں بشاشت تھی۔مگر آنکھوں میں نمی سی چمکی۔اس نے اس بار بے فکری سے آنکھیں موندی تھیں۔

’’ان اللہ علیٰ کل شی قدیر۔‘‘وہ زیر لب بولی۔

اور اللہ بندے سے اتنے ہی کامل یقین اور بے فکری کا خواہاں ہوتا ہے۔

فیصلے کا اختیار اللہ کو سونپ دیا جائے تو اتنی ہی آسودگی ملتی ہے جتنی اس وقت بشائر کے چہرے پر تھی۔ مامون نے رشک سے اسے دیکھا۔ بعض باتیں دیر سے سمجھ میں آتی ہیں۔مگر دعا مانگنی چاہیے کہ سمجھ میں آجائیں۔

دنیا میں دو طرح کے انسان ہوتے ہیں۔

کچھ وہ جو اللہ پر توکل کرکے زندگی گزارتے ہیں۔

اور کچھ وہ جو خدشات میں گھرے رہتے ہیں۔

گزر دونوں کی جاتی ہے۔

مگر۔۔۔

توکل کرنے والے کی روح و قلب اتنا ہلکا،بے وزن ہوتا ہے۔

جیسے ٹھہرے پانی کے سینے کے اوپر تیرتا پر۔

*****

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں