دوسری بار کاریڈور سے گزرتے ہوئے بھی اس کی نظر بے اختیاراسی لڑکی پہ پڑی ۔ نقوش والی سانولی سی رنگت اور متناسب قد و قامت کی حامل لیکن کچھ ایسا تھا اس میں کہ وہ متوجہ ہو رہا تھا ۔شاید اسے دیکھ کر بے اختیار ہی اسے صائمہ یاد آگئی تھی۔ وہ بھی بالکل اسی طرح کرسی پہ بیٹھے بیٹھے سو جایا کرتی تھی ۔ اس کے چہرے پہ مدھم سی مسکراہٹ ابھری اورمعدوم ہو گئی۔ یہ ناممکنات میں تھا کہ صائمہ سے اب اس کا کبھی بھی سامنا ہو سکتا تھا ۔ وہ شادی کے بعد سے آسٹریلیا جا چکی تھی ۔ یوں بھی اب پیچھے کیا بچا تھا کہ وہ لوٹ کر آتی۔
ہسپتال کی کرسی نما بنچ پہ وہ صبح سے پاؤں اوپر کیے اونگھ رہی تھی اور اپنے گرداس نے چادر کو کچھ اس طریقے سے پھیلا رکھا تھا کہ اس کا پورا وجود اس میں چھپ گیا تھا ۔بس ایک چہرہ ہی دکھائی دے رہا تھا جو کرسی کی پشت سے ٹکا تھا یوں کہ کچھ ہوا میں ڈول رہا تھا اور کچھ کچھ پیچھے ٹکا تھا ۔ چادر کے نیچے سے ہی اس کا پرس بھی جھانک رہا تھا جو کوئی بھی آرام سے اٹھا کر لے جاتا تو اسے پتا بھی نہ چلتا ۔
اسی پرس کی فکرمیں فائز کا دل کیا کہ وہ اسے جگا دے لیکن وہ ایسی بے خبر سو رہی تھی جیسے کئی دن کی جاگی ہو۔ شاید اسے مریض کے ساتھ سونا نصیب نہیں ہو سکا تھا اسی لیے اپنی نیند پوری کرنے کے لیے یہاں بیٹھی اونگھ رہی تھی۔
اس کے دوسری بار گزرنے کے دوران ہی اس کی گردن کویک دم جھٹکا لگااور وہ نیند سے ہڑ بڑا کر ادھرادھر دیکھنے لگی ۔ کوئی اس کی جانب متوجہ نہیں تھا
سوائے سامنے سے گزرتے اس لڑکے کے جو اسے دیکھ کر موہوم سا مسکرا دیا ۔ اس مسکراہٹ میں ہر گز تمسخر نہیں تھا لیکن حورین کو پھر بھی برا لگااور کچھ برا مناتے ، منہ بگاڑتے وہ سیدھی ہو ئی اور پاؤں نیچے کیے ، دوپٹہ ٹھیک کیا اور پیروں میںچپل پہن لیے ۔ فائز جلدی سے آگے بڑھ گیا ۔ وہ اپنی وجہ سے اسے غیر آرام دہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس کے ماتھے کے ناگوار بلوں کو وہ دیکھ ہی چکا تھا ۔ یوں بھی اس کے آفس جانے کا وقت ہوگیا تھا اور اس وقت اس کا رخ ہسپتا ل کے دروازے کی طرف ہی تھا ۔ دروازے پہ مڑ کر اس نے ایک نظر اس لڑکی کو دیکھا جو اب اٹھ کر سامنے کاریڈور کے ایک دروازے میں داخل ہو رہی تھی ۔
وہ میل وارڈز کے رومز تھے جو تین تین بستروں پہ مشتمل تھے اور وہاں عموما فالج یا برین ہیمرج کے مریضو ں کو رکھا جاتا تھا ۔ وہاں اندر عورتوں کے ٹھہرے کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی ۔ اسی لیے جب سے وہ ہسپتال آیا تھا وہ اسے وہیں باہر اونگھتی ملی تھی ۔ شاید رات سے ہی وہ وہاں بیٹھی تھی۔
’’ اس کے ساتھ کوئی مرد نہیں ہے جو یہ بے چاری یہاں مردوں کے وارڈ میں ٹھہری ہوئی ہے ۔‘‘ اس نے جاتے جاتے سوچا اور پھر تہیہ کیا کہ جب شام میں وہ آئے گا تو اس سے ایک بار جا کر مل لے گا ۔ نجانے اس کی کیا مجبوری ہو اور کیا ضروریات ہوں ۔وہ ایسے لوگوں کی ہی تلاش میں رہتا تھا ۔
٭٭٭
شام کو وہ مغرب کے بعد ہسپتال پہنچا تھا ۔ یہ ایک چھوٹے پیمانے پہ بنا پرائیوٹ ہسپتال تھا جہاں مڈل کلاس فیملیز ہی علاج کے لیے آتی تھیں ۔ اس کے علاوہ کچھ غریبوں کو بھی زکوٰۃ اور عطیات کی بدولت علاج کی مفت سہولیات مل جایا کرتی تھیں۔کچھ کا رعایت پہ بھی علاج ہو جایا کرتا تھا ۔ہسپتال چھوٹا ضرور تھا لیکن علاج کی سہولیات اچھی تھیں ۔
ہسپتال اس کے آفس سے قریب پڑتا تھا اسی لیے صبح آفس جانے اور واپسی پہ آفس سے نکلنے پہ وہ یہاں ایک چکر لازمی لگا لیا کرتا تھا ۔ یہ معمول اس کا پچھلے ایک سال سے تھا ۔ جس دن وہ دکھائی نہیں دیتا اسٹاف میں کچھ تشویش پائی جاتی ۔اس سے اگلے دن سب اس سے غیر حاضری کی وجہ پوچھتے تھے ۔ سب کو اس کی اتنی عادت ہو گئی تھی ۔ کچھ اس کا اخلاق اتنا اچھا تھا کہ جو سب کو اس کی طرح راغب کرتا تھا اور کچھ اس کا مقام جو سب اس کی عزت کرتے تھے ۔
ہسپتال میں داخل ہو کر وہ سیدھا اسی کاریڈور سے گزرا جہاں صبح اسے بیٹھے دیکھا تھا ۔ اس وقت ان کرسی نما بینچ پہ ایک خاتون اور ایک مرد بیٹھے آرام کر رہے تھے ۔ وہ کچھ دیر شش و پنج میں کھڑا رہا ۔ پھر اسے لگا کہ اسے وارڈ میں داخل ہو کر ایک چکر لگا لینا چاہیے ۔ کیا خبر وہ اندر ہی ہو ۔
وہ بنا چاپ پیدا کیے خاموشی سے وارڈ میں داخل ہو گیا۔اندر دوائیوں اور سپرٹ کی مخصوص بو پھیلی ہوئی تھی جس کی اسے عادت ہو چکی تھی ۔
تینوں ہی بستروں کے گرد پردے گرے ہوئے تھے ۔ یوں تو یہ تہذیب کے خلاف تھا کہ وہ پردے ہٹا ہٹا کر مریض دیکھتا لیکن یہ ہسپتال تھا اور یہاں ڈاکٹرز ، نرسیں مریض کو دیکھنے کے لیے آتے جاتے تھے اور یہ کام ان کی مرضی سے تو ہوتا نہیں تھا ۔ سواس نے بھی شرم ولحاظ کو طاق میںرکھا اور پردے ہٹا کر اندر داخل ہوا ۔
اندر ایک ساٹھ ستر سال کے لگ بھگ بزرگ لیٹے تھے جن کا چہرہ ایک طرف تھا لیکن وہ جاگ رہے تھے ۔ اس نے داخل ہو کر ان کو سلام کیا ۔
بزرگ نے فائز کو دیکھا اور سلام کا جواب دیا ۔ وہ ذرا مودب سا ہو کر ان کی خیریت پوچھنے لگا ۔
’’ بس ڈاکٹر صاحب ۔ یہ جو ڈرپ لگی ہیں اور یورین کی نلکی، اس نے بہت تنگ کر رکھا ہے ۔ اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں جاتا ۔اللہ ایسی محتاجی سے بچائے۔ ‘‘یقینا وہ اسے ڈاکٹر سمجھ رہے تھے ۔ یہاں کے اکثر مریض اسے ڈاکٹر ہی سمجھتے تھے اور وہ بھی ان کی غلط فہمی کم ہی دور کرتا تھا کہ وہ توبس ایک عیادت کرنے والے سے زیادہ کچھ نہیں ہے ۔
’’ ان شائ اللہ آپ جلد ٹھیک ہو کر گھر چلے جائیں گے اور اللہ آپ کو پہلے سے بہتر صحت عطا کرے گا ۔‘‘ وہ زیادہ سے زیادہ انہیں تسلی ہی دے سکتا تھا ۔سوا س نے یہی کیا۔
ان کی پلیٹ پہ لکھا ہوا وہ پڑھ چکا تھا کہ ان کا ہرنیا کا آپریشن ہوا تھا ۔
’’ اور کسی قسم کی مشکل تو نہیںہے ؟ دوائیاں وقت سے لے رہے ہیں ؟عملہ آپ کا خیال رکھ رہا ہے۔ ‘‘
ان کی دوائیاں اٹھا کر دیکھتے ہوئے اس نے پوچھا ۔
’’ نرسیں آکر دوائیاں دے جاتی ہیں ۔ بیٹا بھی ادھر ہی ہوتا ہے ۔ ابھی گھر گیا ہوا ہے کھانا لینے ۔ اس کی ماں نے دلیہ بنایا تھا ۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی مجھے کھانے کی اجازت ملی ہے نا تو وہی لینے گیا ہے ۔‘‘ فائز نے سر ہلایا ۔
’’ اور تو کسی قسم کی مشکل نہیںہے ؟ سب خیال رکھتے ہیں آپ کا؟‘‘
’’ مشکل تو ڈاکٹر صاحب یہی ہے جو بستر پہ پڑا ہوں ۔ باقی کیا مشکل ہونی ہے ؟ ‘‘ فائز نے ان کا ہاتھ تھپکا ۔
’’ بستر سے بھی ان شائ اللہ جلد اٹھ جائیںگے ۔ اللہ سے دعا بھی کریں ۔ جو مریض دوائیاں لینے کے ساتھ دعا کرتے ہیں وہ جلدی ٹھیک ہوتے ہیں۔‘‘انہوں نے سر ہلایا۔ ان کے چہرے پہ ایک ایسی نرمی تھی کہ انھیں فائز کی بات سے سکون ملا ہواور ایسا اکثر مریضوں کے ساتھ ہوتا تھا ۔ فائز کے منہ سے ہمدردی اور نرمی سے ادا ہوئے الفاظ انھیں جیسے کسی امرت کی طرح لگتے تھے ۔ کبھی کبھار مریض کی آدھی بیماری تب ہی دور ہو جاتی ہے جب کوئی نرم لہجے میں ان کا حال چال پوچھتے ہوئے انھیں دعا دیتا ہے ۔
پردے کو ہلکا سا پرے کیا تو ایک اسی طرح کے ساٹھ سال کے قریب بزرگ لیٹے تھے ۔ ان کی آنکھیں بند تھیں اسی لیے وہ جان نہیںسکا کہ وہ جاگ رہے ہیںیا سو رہے ہیں۔ ان کی پلیٹ پہ لکھا تھاکہ ان کو مائنر سا فالج کا اٹیک ہوا تھا ۔
فائز نے انھیں سلام کیا تو انھوں نے جھٹ سے آنکھیں کھول دیں ۔ایسے لگا جیسے وہ کسی اپنے کی آواز کے منتظر تھے اور پھر اجنبی چہرہ دیکھ کر انھیں مایوسی ہو ئی تھی ۔
’’ کیسے ہیں آپ سر ؟‘‘ انھوںنے سر ہلادیا ۔ آنکھوں میں اجنبیت تھی ۔
وہ ان کی رپورٹس اور ادویات دیکھنے لگا جو سائیڈ ٹیبل پہ دھری تھیں۔
’’ ڈاکٹر صاحب مجھے چھٹی کب ملے گی ۔میں گھر جانا چاہتا ہوں ۔‘‘ فائز نے ان کی طرف دیکھا ۔
’’ جلد مل جائے گی ۔ پہلے آپ ٹھیک تو ہو جائیں۔‘‘
بظاہر دیکھنے میںتو نہیں لگ رہا تھا کہ فالج نے ان کے کسی حصے کو متاثر کیا تھا ۔
’’ میں بھلا چنگا ہوں ۔ یہ تو حورین کا دماغ خراب ہے جو مجھے یہاں لے آئی ہے ۔ بس ذرا بی پی ہی زیادہ ہوا تھا ۔ وہ تو دوائیا ں کھانے سے جگہ پہ آ ہی جاتا ہے ۔ یہاں لانے کی کیا ضرورت تھی ۔ ‘‘
’’ بی پی ہائی سے آپ کو فالج کا اٹیک ہوا ہے سر ۔ یہ اتنی سی بات تو نہیں ہے ۔‘‘ وہ اب ان کے ہاتھ اٹھا کر ہوا میں آگے پیچھے کرتے ہوئے ان کا معائنہ کرنے لگا ۔
’’ وہ تو کل کی بات تھی ۔ میں اب بھلا چنگا ہوں ۔ یہاں رکنے کوئی ضرورت ہے نہیں ویسے ۔‘‘ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ بستر سے اتریں اور بھاگ جائیں ۔
’’ جب ڈاکٹرز کو لگے گا کہ آپ بھلے چنگے ہیں تو وہ آپ کو چھٹی دے دیں گے سر ۔‘‘ وہ ان کے چہرے کو بغور دیکھ رہا تھا جہاں بائیں طرف کے گال میں فالج کے سبب ہلکا سا کھنچاؤ محسوس ہوتا تھا ۔ اور گفتگو کرتے ہوئے ہونٹ بھی بائیں طرف کھنچتے تھے ۔
’’ یہ ہسپتال والے تو بل بنانے کے لیے خواہ مخواہ اچھے خاصے انسان کو کینسر کا مریض بنا دیتے ہیں۔‘‘انہوں نے ناگواری سے سر جھٹکا تو فائز مسکرا دیا ۔
’’ یہ ہسپتال ایسا نہیں ہے۔‘‘
’’ آپ تو یہی کہیں گے ۔ کام جو کرتے ہیں یہاں ۔‘‘
’’ میں یہاں کام نہیںکرتا ۔ میںبس دیکھ بھال کرتا ہوں ۔‘‘
’’ ایک ہی بات ہے ۔‘‘ وہ انہیں نہیں سمجھا سکتا تھا کہ یہ دو الگ باتیں ہیں۔ ایک بات نہیں ہے ۔
’’ آپ کے ساتھ کوئی اٹینڈنٹ ہے ؟‘‘
’’ حورین یہیںتھی رات بھر ۔ ابھی شاید کینٹین گئی ہے چائے پینے ۔ یہ لڑکی جب تک چائے کے دس کپ نہ چڑھا لے ، ایک قدم کام کے لیے نہیں اٹھاتی ۔‘‘ وہ اپنی اٹینڈنٹ سے بھی خفا تھے ۔ فائز مسکرا دیا ۔یقینا وہ اسی لڑکی کی بات کر رہے تھے جو اس نے صبح بینچ پہ اونگھتے دیکھی تھی ۔
’’ آپ کے ساتھ کوئی مرد نہیں ہے ؟‘‘ یہ مردانہ وارڈ تھا تو ان کے ساتھ مر د ہونا چاہئے تھا ۔
’’ جس گھر کا مرد ہی ہسپتال پہنچ جائے ، پھر وہ نیا مرد کہاں سے پیدا کرے؟‘‘ وہ سمجھ رہا تھا کہ وہ کیا کہہ رہے تھے ۔
’’ کوئی رشتے دار ؟‘‘اس کے سوال پہ انھوں نے سرد آہ بھری۔
’’ بندہ غریب ہو تو رشتے دار بھی بھاگ جاتے ہیں۔ وقت وقت کی بات ہے جب دولت تھی تو بنا بتائے بھاگے آتے تھے ۔ اب بتا بھی دو تو سو بہانے ہوتے ہیں کہ وہ مصروفیت کے باعث چکر نہیں لگا سکتے ۔‘‘اسے افسوس ہوا ۔ لیکن اسے ان بزرگ کی باتوں میںدلچسپی پیداہوئی تو پاس رکھے اسٹول کوگھسیٹ کر اس پہ ٹک گیا۔بڑے میاں نے بغور اسے دیکھاجو ان کے ساتھ بات چیت پہ مائل نظر آتا تھا تو ان کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی۔
’’ جو آپ کے ساتھ ہیں ، وہ آپ کی بیٹی ہیں ؟‘‘ اس نے یونہی پوچھ لیا ۔
’’ بیٹی نہیں ہے ۔ بیٹی اللہ نے دی ہی نہیںورنہ مجھے بیٹیاں زیادہ پسند ہیں ۔ والدین کی ہمدرد ہوتی ہیں ۔ دے دیتا تو شاید مجھے سنبھال لیتی ۔اللہ حورین کو صحت دے ، یہ بھی ہیرا بچی ہے۔ میرا توایک ہی بیٹا ہے جو ملک سے باہر ہوتا ہے ۔‘‘ فائز نے سر ہلایا۔
’’ آپ کی بیماری کا سن کر فون کیا؟‘‘ کچھ دیر وہ اس کے سوال پہ خاموش رہے جیسے کچھ سوچ رہے ہوں ۔ پھرسر نہ میں ہلا دیا ۔
’’ ہمیشہ سے سلیم کو باہر جانے کا بڑا شوق تھا ۔ ابھی پڑھائی سے فارغ بھی نہیںہوا تھا کہ باہر جانے کی رٹ لگا دی ۔ بڑا سمجھایا کہ یار ہم تمہارے بغیر کیا کریں گے ۔ ادھر ہی رہو ۔ جو دال دلیہ لکھا ہے ادھر سے ہی کھا ؤ لیکن آج کل کی نوجوان نسل کو یہ باتیں سمجھ میں نہیں آتیں۔اسے دولت کی ریل پیل چائیے ۔کم میںگزارا نہیں کرنا آتا۔انھیں لگتا ہے کہ باہر پیسوں کے درخت ہیں جن سے بھاگ بھاگ کر وہ پیسے توڑ لیں گے ۔ اپنی نوکری سے ملنے والی ساری رقم اس کے ہاتھ پہ رکھ دی کہ یہ لو بیٹے اور جاؤ پوری کر لو اپنی خواہش ۔اسے تو یہی چاہئے تھا، بنا کوئی احساس کیے چلا گیا آسٹریلیا ہم بڈھوں کو چھوڑ کر ۔لیکن وہاں جا کر بھی اسے سکون نہیں آیا۔اسے میری جائیداد میں سے بھی حصہ چاہیے تھا ۔اپنے درپیش مسائل کا خوب ہی رونا دھونا کیا ۔مجھے ایسا شیشے میں اتار ا کہ میںنے مکان اس کے نام کر ہی ڈالا ۔ اب کہاں مجھے پوچھے گا ۔ اس کی اپنی زندگی ہے ۔ اسی میں خوش ہے ۔ بیوی گوری میم ہے اور بچے بھی اسی پہ گئے ہیں ۔ کبھی ان کی شکل بھی دیکھنا نصیب نہیں ہونی ۔‘‘ ان کی آنکھیں بھر آئیں ۔ فائز نے تسلی کے لیے ان کے بازو پہ ہاتھ رکھا ۔
’’ میری بڈھی کہتی تھی کہ کچھ بھی ہو جائے اسے جائیداد میں حصہ اپنے جیتے جی نہ دینا ورنہ یہ ہماری شکل بھی نہیں دیکھے گا ۔ میں نے غلطی کی جو اس کی باتوں میں آگیا ۔لکھ دیاگھر اس کے نام ، اس نے دو دن نہیں لگائے اسے بیچ کر پیسہ باہر لے جانے میں ۔ اب وہاں عیاشی کر رہا ہے اور بڈھا یہاں کرائے کے گھر میں دھکے کھا رہا ہے ۔ بس وہ ایک دکان کرائے پہ نہ ہوتی تو حلق سے نوالا تک اترنا مشکل ہو جاتا۔اسی ایک دکان کی بدولت دال دلیہ چل رہا ہے ۔ ‘‘ فائز ان کی کہانی سن کر دکھی تھا۔
’’ یہ تو حورین ہے جو میرے جینے کا سہارا ہے ۔اللہ اس کو بھاگ لگائے۔بڑی اچھی بچی ہے ۔‘‘ فائز میں دوبارہ ہمت نہیں ہوئی پوچھنے کی کہ وہ ان کی کیا لگتی ہے ۔ لیکن وہ خود ہی سب بتاتے چلے جا رہے تھے ۔
’’ سلیم کی ماں مری تھی نا تو ہفتے کے لیے پاکستان آیا تھا ۔ تب مجھ سے دکان نام کروانے کی بات کر رہا تھا ۔ میں نے صاف کہہ دیا کہ دکان تو میں حورین کے نام کروں گا جو میری خدمت گزار ہے ۔ تمہیں تو اب ایک پھوٹی کوڑی نہیں ملے گی۔جانتے ہو اب وہ کیا کہتا ہے ؟‘‘ فائز مگن سا ان کی زندگی کی کہانی سن رہا تھا جو پرت در پرت وہ کھول رہے تھے جیسے انہیں نجانے کب سے ایک سامع کی ضرورت ہو اور وہ اپنا سارا حال دل اس سے کہہ دینے کو بے تاب ہوں ۔ اب فائز کی صورت انھیں ایک سامع مل گیا تھا تو وہ یہ موقع گنوانا نہیں چاہتے تھے ۔
’’ کیا کہتا ہے ؟‘‘
’’ وہ کہتا ہے کہ حورین کی شادی اس سے کروا دوں ۔اس سے حورین ہمیشہ کے لیے میری بہو بن جائے گی اور دکان بھی اس کے پاس رہے گی۔ ‘‘ فائز چونکا ۔
’’ تم بتاؤبیٹا !کہ کیوں کروا دوں ۔ ایسے لالچی انسان سے میں اس بچی کی شادی ۔کیوں کروا دوں جو دکان لے کر بھاگ جائے گا اور اسے برباد ہو نے کے لیے یہیں چھوڑ جائے گا جیسے اپنے باپ کو چھوڑ گیا ہے۔اس بچی کا کیا قصور ہوا ۔وہ تو یتیموں جیسی زندگی گزارتی رہی ہے باپ کے ہوتے ہوئے بھی ۔ پھر شوہر کے ہوتے ہوئے بیواؤں جیسی گزارے گی ۔ اس کا نصیب کیوں اس بدبخت اولاد کے لیے پھوڑوں ۔‘‘
فائز کو ان کے بیٹے کے لالچی پن اور بے حسی پہ غصہ آنے لگا ۔ اتنی بھی کیا لالچ کہ آسٹریلیاجیسے ملک میں بیٹھ کر ، وہاں کی عورت سے شادی اور بچے پیدا کر کے بھی اس کی نظر پاکستان میں باپ کی جائیداد سے ہی نہیں ہٹ رہی ۔
’’ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ۔ ایسے لالچی انسان سے تو آپ کو حورین کی شادی نہیں کروانا چاہئے ۔‘‘ اس نے جھٹ سے تائید کی تو بڑے میاں نے ایک گہری آہ بھری ۔
’’ بہت اچھی بچی ہے حالانکہ میری کچھ نہیں لگتی اور جو لگتا ہے ،وہ انتہائی کمینہ ہے ۔ مجھے اپنی ہی تربیت پہ افسوس ہوتا ہے اور گل ورین کی تربیت پہ فخر محسوس ہوتاہے ۔‘‘
’’ گل ورین کون ؟‘‘
’’ گل ورین یقینا میری ماں ہیں۔‘‘ یک دم ہی جواب ،پردہ ہٹا کر اندر آتی حورین کی جانب سے آیا تھا جو ہاتھ میں چائے کا کپ تھامے کھڑی تھی۔
’’ خالو! اگر سار ی داستان سنا دی ہو تو کچھ آرام کر لیں ۔ بول بول کرتھک گئے ہوں گے ۔‘‘ اس نے چائے کا کپ سائیڈ ٹیبل پہ رکھا ۔فائز کچھ شرمندہ ہوا۔
’’ میںچلتا ہوں ۔ اپنا ٰخیال رکھیے گا ۔ آپ جلد ہی یہاں سے گھر چلے جائیں گے لیکن اس کے لیے آپ کو جلدی سے بالکل ٹھیک ہونا ہو گا ۔‘‘ اس نے ان بڑے میاں سے کہا اور ایک نظر سامنے کھڑی حورین پہ ڈالی جو ماتھے تک آتا دوپٹہ درست کر رہی تھی۔
’’ ایک منٹ ۔ویسے آپ ہیں کون اور یہاں کیا کر رہے تھے ؟‘‘ شاید وہ اسے نہیں پہچانی تھی تبھی پوچھ رہی تھی ۔
’’ میں بس ایک عیادت گزار ہوں اور ان کی عیادت کے لیے ہی آیا تھا ۔ ‘‘ اس نے کچھ دیر اسے دیکھ کر سر ہلایا اور پھر بولی ۔
’’ ایک منٹ ۔باہر ویٹ کریں ۔‘‘ فائز کچھ حیران سا ہو کر سر ہلاتا باہر نکل گیا ۔
’’ میڈیسن لے لیں خالو ۔‘‘ ان کی دوائی کا وقت ہو رہا تھا ۔ ان کا بیڈ اس نے اونچا کیا تاکہ وہ تھوڑا اٹھ کر بیٹھ سکیں اور پھر ان کی دوائیوں میںسے دو گولیاں نکال کر ان کے ہاتھ پہ رکھیں ۔
’’ ساری زندگی پہلے بڑھیانے اور اب تم نے مجھے یہ کڑوی گولیاں کھلانے کا ٹھیکا لے رکھا ہے ۔‘‘
’’ دوائیاں نہیں لیں گے تو ٹھیک کیسے ہوں گے؟‘‘
’’ یہ کھا کھا کر کون سا دوڑ میں حصہ لے لیا ہے میں نے ؟‘‘
برے برے منہ بناتے ہوئے انھوںنے وہ دوائیا ں لیں اور حورین سے پانی لے کر نگل لیں ۔
حورین نے گلاس واپس لیا اور پھر انہیں کروٹ دلانے میں مدد کی ۔ پھر ان کا بستر برابر کر دیا ۔
’’ میں یہیں ہوں خالو ۔ آپ اب سونے کی کوشش کریں ۔ دوپہر سے جاگ رہے ہیں اور الٹا سیدھا سوچ رہے ہیں ۔سو جائیں گے تو دماغ پرسکون ہو جائے گا ۔‘‘ وہ انھیں تاکید کرتی پردے سے باہر نکلی ۔
’’ بس یہی چاہتے ہیں سب کہ بڈھا سوتا رہے۔‘‘ وہ ان کی بڑبڑاہٹ سن کر بھی رکی نہیں ۔ جانتی تھی کہ وہ اب کافی دیر تک بڑبڑاتے رہیں گے ۔
حورین اپنی چائے کا کپ لیے باہر نکلی تو وہ اسے کاریڈور میںہی ٹہلتا دکھائی دیا ۔ وہ اس کی جانب بڑھی۔
’’ آئی ایم سوری ۔ شاید آپ کو ضروری کام ہو یہاں اور میںنے آپ کو انتظار کی سولی پہ لٹکا دیا۔‘‘ فائز مدھم سا مسکرایاکہ کوئی بات نہیں ۔
’’ مجھے آپ سے خالو کی طرف سے معذرت کرنا تھی۔ یقینا وہ آپ کو بہت لمبی لمبی کہانیاں سناتے رہے ہیں ۔ ‘‘
’’ اٹس اوکے ۔ ان کا دل ہلکا ہو گیا ہو گا ۔اور مجھے بھلا سننے میں کیا مسئلہ ہو سکتا ہے ۔‘‘
حورین نے چائے کے کپ سے چسکی بھری اور مسکرا دی ۔
’’ دل ان کا کبھی ہلکا نہیں ہوتا ۔ کل آپ جائیں گے تو اسی طرح شروع ہو ئے ہوں گے کسی نئی کہانی کے ساتھ ۔آپ نہیں تو کوئی اور ہو گا جسے پکڑ کر وہ بٹھا لیں گے۔ یہ تو ہمیشہ سے ہوتا آ رہا ہے۔‘‘ فائز بھی مسکر ادیا ۔
’’ اپنے دل کا غبار نکالنا چاہتے ہیں تو اس میں کیا حرج ہے ؟‘‘
’’ آپ سمجھے نہیںہیں کہ میں کیا بتانا چاہ رہی ہوں ۔‘‘ وہ اس کی مسکراہٹ کو بغور دیکھتے ہوئے سنجیدہ ہوئی ۔ فائز نے بھی کچھ الجھ کر اسے دیکھا ۔
’’ خالو نے ابھی آپ کو کیا بتایا ہے میں نہیں جانتی لیکن وہ جو بھی کہتے ہیں وہ بس کہانی ہوتی ہے ۔ اس میں کوئی حقیقت نہیں ہوتی ۔‘‘ وہ واضح چونکا ۔
’’ کیا مطلب ہے ؟‘‘حورین نے ایک گہری سانس لی ۔
’’ انہیں بس ہمیشہ سے کہانیاں بنانے کا شوق رہا ہے۔ہمیشہ ہر کسی کو روک کر کچھ نا کچھ سناتے رہتے ہیں ۔ اپنی ساری جوانی میں انھوں نے لوگوں کو نئی نئی کہانیاں گھڑ کر سنانے کا ہی کام کیا ہے ۔ اب ان کی یہ عادت اتنی پختہ ہو چکی ہے کہ جو بھی انھیں ملتا ہے وہ بنا اس کا لحاظ کیے شروع ہو جاتے ہیں ۔کبھی فرضی بیوی بنا لیتے ہیں ، کبھی گھر ، کبھی بچے اور کبھی اپنی کوئی جائیداد ۔ ‘‘
’’آپ کا مطلب ہے کہ اپنے بیٹے کے بارے میںوہ جو کچھ کہہ رہے تھے وہ سب کہانی تھی ؟‘‘ وہ حیرت سے پوچھ رہا تھا ۔حورین نے سر ہلایا ۔
’’جی ۔ ان کا کوئی بیٹا نہیں ہے۔‘‘ فائز حیران ہوا کیونکہ بڑے میاں نے جتنے زور شور سے اسے ساری داستان سنائی تھی اس میں جذبات کوٹ کوٹ کر بھرے تھے اور کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ ایک کہانی ہے ۔
’’ لیکن وہ ایسا کیوں کریں گے ؟‘‘
’’ بتایا نا کہ انہیں شوق ہے لوگوں کو اپنی طرف سے گھڑ کر سنانے کا۔کوئی نا کوئی بات تو کرنا ہوتی ہی ہے تاکہ وقت کٹ سکے تو انہیں یہی طریقہ ٹھیک لگتاہے۔اس سے انہیں اگلے سے بات کرنے کا موقع مل جاتا ہے ، ہمدردی مل جاتی ہے ، وقت مل جاتا ہے اور یہی سب ان کا مقصد ہوتا ہے ۔‘‘فائز حیران پریشان سا کھڑا اسے دیکھنے لگا ۔
’’ سوری انہوں نے آپ کا بہت وقت ضائع کیا ۔ آپ یہاں اپنے مریض کو وقت دینے آئے تھے اور انھوں نے اپنی کہانیوں میں آپ کو الجھا لیا ۔‘‘ وہ با مشکل مسکرایا ۔
’’ کوئی بات نہیں ۔ میرا یہاں کوئی مریض نہیں ہے ۔میں تو بس یونہی ۔‘‘ وہ چونکی ۔
’’ کیا مطلب ؟‘ ‘ مطلب سمجھانے کے موڈ میں وہ تھا نہیں ۔ اس وقت تو اس کے اپنے دماغ کی چولیںہل گئی تھیں بڑے میاں کے بارے میں جان کر ۔ اور وہ کتنی دیر ان کی باتیں سنتا رہا تھا یہ سوچتے ہوئے کہ وہ اپنے دکھ درد بانٹ رہے ہیں۔
’’ چلتا ہوں ۔ ‘‘ وہ وہیں سے مڑ گیا ۔ حورین اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی ۔ایک گہری سانس لی اور سر جھٹکتے ہوئے واپس اندر چلی گئی ۔ خالو جاگ رہے تھے ۔
’’ بتا دیا اسے کہ یونہی کہانی سنا رہا تھابڈھا ؟‘‘ حورین نے ایک تھکی ہوئی سانس خارج کی ۔
’’ تو کیا کرتی ۔ ؟‘‘
’’ جھوٹ نہ بولتیں ۔‘‘ انہوں نے غصے سے کپکپاتی آواز میں کہا ۔
’’ آپ جیسا سچ مجھ سے نہیں بولا جاتا خالو۔‘‘ وہ اب اپنا چائے کا کپ کوڑے دان میں پھینک رہی تھی ۔
’’ وہ کیا تمہاری خالہ کا پتر تھا کہ اس کو سچ پتا لگ جانے سے قیامت آجاتی ؟‘‘ حورین نے اپنا بیگ کھولا اور اس میں سے اپنا موبائیل نکال کر دیکھنے لگی۔
’’ پھپھی کا پتر تو آپ کا بھی نہیں تھاکہ اسے سارے خاندان کے قصے سنا ئے جاتے ۔ ‘‘
’’ بہت لمبی زبان ہے تمہاری ۔ اچھا ہوا کہ دانش نے تم سے شادی نہیںکی ۔‘‘ کچھ چبھا تھا اس کی آنکھوں میں کہ یک دم پانی آگیا ۔وہ ہنس دی ۔
’’ اسے مجھ سے زیادہ لمبی زبان والی مل گئی ہے خالو ۔ آپ بے فکر رہیں ۔‘‘
وہ تیزی سے پردہ ہٹا کر باہر نکل گئی ۔ وہ کاریڈور سے ہوتی ہوئی اب ہسپتال کے چھوٹے سے اس لان کی طر ف جا رہی تھی جو مچھرو ں سے بھرا ہوا تھا لیکن اسے اپنے اندر کی گھٹن کو اندھیرے میں باہر نکالنا تھا ۔ وہ آنسوؤں کو مزید نہیں روک سکتی تھی ۔ زندگی کی گاڑی کو طویل عرصے سے گھسیٹ گھیسٹ کر وہ تھکنے لگی تھی ۔
لان میں بیٹھ کر اس نے بینچ کے ایک طرف اپنا بیگ رکھا اور ٹشو ہاتھ میں لیے چپکے چپکے آنسو بہانے لگی ۔
’’ میں جتنا بھی کر لوں ۔ آخر میں خالو نے مجھے کچھ ایسا کہنا ہی ہوتا ہے جو یہ جتا دیتا ہے کہ میںکبھی اچھی ہو ہی نہیں سکتی۔اور میرے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ ٹھیک ہوا ۔‘‘ اس وقت اسے خود اذیتی کا شکار ہونا ٹھیک لگ رہا تھا ۔
٭٭٭
صبح سویرے ہی وہ آفس جانے سے پہلے ہسپتال گیا تھا ۔ اس کا آفس ٹائم دس بجے شروع ہوتا تھا سو وہ آٹھ بجے تک ہسپتال پہنچ جا یا کرتا تھا ۔دو گھنٹے وہاں گزار لینے کے بعد وہ اپنے آفس کی طرف نکلتا تھا ۔
اس دن وہ صبح صبح باہر بینچ پہ اونگھتی ہوئی نہیں ملی تھی ۔ شاید وہ رات کو گھر چلی گئی تھی اور بڑے میاں اکیلے تھے ۔
یہ ایک طویل کاریڈور تھا جس کے بائیں جانب شیشے کی دیوار تھی جس سے باہر ہسپتال کاچھوٹا سا لان دکھائی دیتا تھا اور دائیں جانب پرائیویٹ کمروں اور وارڈز کی قطار تھی ۔ شیشے کی دیوار کے پاس ہی وقفے وقفے سے کرسی نما بینچ رکھے تھے اور ان ہی بینچوں کے بیچ میں اسے وہیل چیئر پہ بیٹھے ہوئے بڑے میاں دکھائی دے گئے جو شیشے کے پار دیکھ رہے تھے ۔
’’ السلام علیکم ۔‘‘ وہ ان کے قریب چلا آیا ۔ بڑے میاں نے ہلکے سے سر کو ترچھا کر کے دیکھا اور ان کی نظروں میں شناسائی کی چمک ابھری ۔
’’ کیسی طبیعت ہے آپ کی ؟‘‘
’’ بھلا چنگا ہوں تب ہی تو اس کمرے سے باہر نکلا ہوں لیکن نہ جانے یہ لوگ مجھے کب چھٹی دیں گے ؟‘‘ وہ مسکرا کران کے پاس کی بینچ پہ بیٹھ گیا ۔
’’ اندر دل گھبرا رہا تھا تو باہر چلا آیا ۔ یہاں بیٹھ کر آنے جانے والوں کو دیکھتے وقت گزر جاتا ہے ۔‘‘ فائز ان کی نظروں کے تعاقب میںدیکھنے لگا جہاں لان میںدو بچیاں کھیل رہی تھیں ۔
’’ جلد آپ گھر چلے جائیںگے تو یہ بوریت ختم ہو جائے گی ۔‘‘
’’ گھر میں کون سا مصروفیت کے پہاڑ چھوڑ کر آیا ہوں ۔ وہاں بھی ایسی ہی تنہائی ہے۔یہاں تو پھر بھی اکا دکا لوگ دکھائی دے جاتے ہیں ۔ وہاں تو لوگوں کی صورتیں دیکھنے کو ترس جاتا ہوں ۔ پہلے پورا دن گیٹ پہ کرسی ڈال کر بیٹھا رہتا تھا ۔ آتے جاتوں کو سلام کرتا تھا ۔مسکرا کر دیکھتا تھا ۔ سلام اور صدقے کا ثواب مل جاتا تھا ۔ اب تو نجانے خود سے چل کر صحن تک بھی جا پاؤں گا بھی یا نہیں۔‘‘ فائز چپ رہا ۔اس کا دل ان کی بے بسی پہ دکھی ہوا تھا۔
’’ تمہارے گھر میں کون کون ہوتا ہے ؟‘‘ فائز ان کے سوال پہ کچھ گڑبڑ اگیا ۔
’’ گھر پہ تو کوئی نہیں ہوتا۔‘‘بڑے میاں نے ترچھی نظروں سے دیکھا ۔
’’ کیوں کیا اتنے آزاد ہو؟‘‘ فائز ان کی بات پہ ہنس دیا۔وہ اتنی بے ساختہ گفتگو کرتے تھے ۔ بقول حورین انہیں کہانیاں گھڑنے کا بھی شوق تھا ۔ وہ سوچنے لگا کہ انہوں نے کبھی کہانیاں لکھنے کا کیوں نہیں سوچا ۔
’’ یہی سمجھیں کہ ہر طرف سے آزاد ہوں۔ ابو فوت ہو چکے ہیں ۔امی حیات ہیں لیکن وہ بھی بہن کے پاس ہوتی ہیں ۔ میں اکیلا رہتا ہوں ۔اسی لیے گھر پہ کوئی نہیں ہوتا سوائے میرے۔میںبھی آپ کی طرح لوگوں سے زیادہ دیواریں دیکھنے کا عادی ہوں۔‘‘ انہوں نے کچھ سوچ کر سر ہلایا ۔
’’ شادی کر لو ۔ تنہائی دور ہو جائے گی ۔نوجوان ہو اور خوش شکل بھی ہو ۔‘‘ فائز مسکرا دیا۔یہ ایک بے بس سی مسکراہٹ تھی ۔
’’ اکیلا رہتاہوں سر ۔ لیکن اکیلا پن محسوس نہیں ہوتا ۔ کرنے کو بہت سے کام ہیں ۔‘‘
’’ اکیلا پن تو سب کو محسوس ہوتا ہے صاحبزادے۔ بندہ دیواروں اور چیزوں کے ساتھ زندگی گزار سکتا تو خاندان بنانے کی ضرورت ہی نہ ہوتی ۔ ان ہی چیزوں سے دل لگا لیتا ۔‘‘ فائز خاموش رہا ۔وہ ٹھیک کہہ رہے تھے ۔ اسے بھی کبھی کبھار یہ تنہائی بری طرح چبھتی تھی ۔
’’ کل اس لڑکی نے تم سے جو کہا ۔وہ سب جھوٹ تھا ۔‘‘ فائز یک دم چوکنا ہو گیا کہ آج بڑے میاں کوئی نئی کہانی سنانے کے موڈ میں لگتے تھے ۔ اسے اب ان کی کہانیوں پہ یقین نہیں کرنا تھا ۔ سننے سے وہ انکاری نہیں تھا لیکن اسے اب یہ محض قصہ سمجھ کر ہی سننا تھی ۔اسے سچ ہرگز نہیں ماننا تھا ۔ ان سے ہمدردی نہیں دکھانا تھی ۔ دکھی نہیںہونا تھا ۔
’’ وہ حقیقت سے ہمیشہ ایسے ہی بھاگنا چاہتی ہے اسی لیے سچ کو جھٹلا دیتی ہے۔فرار کے لیے اس نے جھوٹ کا سہارا لے رکھا ہے ۔‘‘ فائز نے کچھ ناسمجھی سے انھیں دیکھا۔
’’اسے ہمیشہ سے گھر کے مسائل کو چھپا کر رکھنا پسندرہا ہے ۔ اپنی اماں کی ابا سے لڑائی کو بھی وہ سب سے چھپاتی تھی کہ کسی کو خبر نہ ہو جائے کہ اس کے اماں ابا لڑتے ہیں۔اسے شرمندگی محسوس ہوتی تھی ایسے خاندان کا حصہ ہونے پہ لیکن وہ یہ نہیںسمجھتی کہ کم و بیش ہر خاندان کا ایک کمزور پہلو ہوتا ہے۔کبھی وہ دکھائی دے جاتا ہے اور کبھی بہت غور کرنے پہ ہی بہ مشکل سامنے آ پاتا ہے۔ایک دن اس کی ماں نے ہی بیماری کی حالت میں میری بڈھی کو فون کیا کہ وہ حورین کو لے جائے اس کی زندگی کا اب کچھ پتا نہیں ہے اور پیچھے بچی رل جائے گی ۔ جب میری بڈھی اسے ہمارے گھر لے آئی تو بھی اپنے گھر کے بارے میں ہمارے سامنے چوں تک نہیں کرتی تھی ۔ ہم کچھ پوچھتے تو ایسی بن جاتی کہ جیسے اسے کچھ پتا ہی نہیں ہے۔کبھی ایک لفظ منہ سے نہیں نکالا ۔اس کی اماں فوت ہوئی تو ابا نے دوسری شادی کر لی ۔ اسے سب سے پہلے پتا لگا تھا لیکن اس نے ہم سے چھپایا۔وہ ہمیشہ سے نہیں چاہتی کہ لوگ ہمارے گھر کی باتوں سے واقف ہو ں اور ہمارا مذاق اڑائیں یا ہم پہ ترس کھائیں ۔ دانش میرا بھتیجا تھا ، میں نے اس کے ابو کے گزر جانے کے بعد اسے پالا تھا۔سلیم اور دانش کی پرورش ساتھ ساتھ ہی ہوئی تھی اسی لیے میرے لیے تو وہ بیٹے جیسا ہی تھا۔سلیم جیسا خود غرض نہیں تھا۔ اس کا مزاج مختلف تھا ۔ بڑی خواہش تھی ہم بڈھا بڈھی کی کہ وہ حورین سے شادی کر لے لیکن وہ نکما اپنے دفتر میں کام کرنے والی کسی لڑکی پہ لٹو ہو گیا ۔ یہ پاگل اسے اندر سے پسند بھی کرتی تھی لیکن کبھی اس بات پہ مانتی نہیں ہے۔بس اندر ہی رکھے رکھا لیکن میری بڈھی بھی اس کی خالہ تھی ۔ اسے خبر ہو ہی گئی۔جو بچے ہاتھوں کے پلے ہوتے ہیں ، ان کی رگ رگ سے بندہ واقف ہو ہی جاتا ہے چاہے وہ خود پہ کتنے ہی پردے کیوں نہ ڈال لیں۔پر ہم کیا کر سکتے تھے ۔ دانش بیٹے جیسا تھا ، بیٹا نہیں تھا ۔اسے عاق کرنے کی دھمکیاں نہیںدے سکتا تھا جیسے سلیم کو دی تھیں۔ یہاں تو بیٹے بھی والدین کی خواہش کا خیال نہیں رکھتے تو بھتیجے کو کیا پڑی ہے ۔ ‘‘
ایک گہری سانس لی جیسے بول بول کر تھک گئے ہوں ۔ کچھ توقف کیا ۔ فائز بھی ان کے ساتھ خاموشی سے باہر دیکھتا رہا ۔
’’اس لڑکی کو بس باتیں چھپانے کا شوق ہے ۔ اسی لیے کبھی میں کسی کے سامنے کچھ بتانا چاہو ں تو مجھے ٹوک دیتی ہے یا صاف کہہ دیتی ہے کہ ایسا کچھ نہیںہے۔میںجھوٹ کہتا ہوں ، سٹھیا گیا ہوں یا مجھے کہانیاں گھڑنے کی عادت ہے ۔‘‘ فائز حیران سامنہ کھولے کھڑاسنتا رہا ۔ کس کی بات پہ یقین کرتا اور کس کی بات کو جھٹلاتا ۔بڑے میاں جس انداز میں بات کرتے تھے ، اسے یقین کرنا ہی پڑتا تھا کہ وہ سو فیصد سچ کہہ رہے ہیںلیکن حورین نے بھی تو ایسے بات کی تھی جیسے وہ سچی ہو ۔
’’ یہ آپ کی بیگم کی بھانجی ہے ؟‘‘
’’ سگی بھانجی نہیںہے ۔ دور پار کی بہن کی بیٹی ہے ۔ وہ کیا کہتے ہیں لوگ اسے ۔‘‘ انھوںنے دماغ پہ زور دیا ۔
’’ سیکنڈ کزن ۔ہاں سیکنڈ کزن کی بیٹی۔‘‘ یک دم جیسے یاد آ گیا۔
فائز نے شانے اچکا دیے ۔ دونوں طرف کی کہانی اتنی سچ دکھائی دیتی تھی۔ فیصلہ مشکل تھا ۔
’’آپ کی بیگم کہاں ہیں ؟‘‘
’’چھ مہینے پہلے مرحوم ہو چکی ہے میری بڈھی ۔ مجھ سے بے وفائی کر گئی ہے ۔ کہتی تھی کہ کچھ بھی ہو جائے ،مجھے بھیج کر ہی ۔سکون سے اس دنیا میںرہے گی ۔ اور اب دیکھو ۔ خود سکون میں ہی ہے لیکن مجھے یہاں بے سکون چھوڑ گئی ۔‘‘ ان کی آنکھوں میں پانی تھا ۔ فائز نے ان کے ہاتھ پہ ہاتھ دھرا ۔
’’یہ جو بڑھاپا ہوتا ہے نا اس میں بڈھا بڈھی کو ایک دوسرے کی بہت ضرورت ہوتی ہے ۔بلکہ اصل ضرورت ہی اس عمر میں ہوتی ہے ۔ ‘‘ انھوں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری ۔ فائز کی نگاہوں میں اپنی امی کا عکس گھوم گیا ۔ وہ سمجھ سکتا تھا۔
’’آج آپ کی بھانجی نہیں آئی ؟‘‘ وہ اداسی بھرے ماحول کو بدلنے کی ایک ادنی سی کوشش تھی ۔
’’ صبح سویرے اسے گھر بھیج دیا تھا کہ آرام کر لے ۔ بے چاری نے اسکول سے بھی چھٹیاں لے رکھی ہیں اور دن رات میری تیمارداری میں لگی ہوئی ہے ۔ جن کی ذمہ داری ہوں ، انہیں پرواہ ہی نہیں ہے ، کبھی پوچھتے ہی نہیں ہیں اور جن کی ذمہ داری نہیں ہوں ان پہ بوجھ بنا ہوا ہوں۔بیٹے کو فون کیا ہی ہو گا حورین نے کہ ہسپتال داخل ہوں ۔ہسپتال کے اخراجات بھجوا دے لیکن اس نے تو مجھے فون کر کے پوچھا تک نہیں کہ کس حال میں ہو ۔ زندہ ہو کہ اوپر اٹھ گئے ۔‘‘
’’ ہو سکتا ہے کہ حورین نے کال نہ کی ہو ۔‘‘
’’ اگر وہ سلیم سے رابطہ نہیں کرے گی تو ہسپتال کا خرچا کہاں سے دے گی ۔ مہینے کے صرف بیس ہزار کماتی ہے ۔ اس سے کہیں زیادہ کے ٹیسٹ اور دوائیوں کے بل ہوں گے ۔ ‘‘
فائز انھیں جانچتی نظروں سے دیکھنے لگا ۔ان کی باتوں میں کس قدر صداقت تھی کہ کوئی کہہ ہی نہیں سکتا تھا کہ وہ کہانیاں گھڑ کر سناتے ہیں ۔اسے لگا وہ سچ کہہ رہے ہیں۔
’’ اب آپ کو اندر چلے جانا چاہیے ۔ کافی دیر سے یہاں بیٹھے ہیں۔‘‘ وہ چاہتا تھا، کچھ اور مریضوں سے مل لے ۔
’’ وہ تو میںچلا جاؤں گا۔ مگر تم نے بتایا نہیںکہ تم یہاں کیوں گھومتے پھرتے رہتے ہو ؟ ڈاکٹر تو لگتے نہیں ہو ۔ کمپاؤڈر یا نرس بھی نہیں لگتے۔پھر کس خوشی میں اپنا ہسپتال سمجھ کر گھومتے رہتے ہو ؟ ‘‘وہ مسکرا دیا ۔
’’ کیا پتا اپنا ہسپتال ہی ہو ۔‘‘ انہوں نے اسے سر تا پیر غور سے دیکھا اور ہنس دیے ۔
’’ جاؤ صاحبزادے ! اپنا ہسپتال رکھنے والوں کی ایسی شکلیں تھوڑ ا ہی ہوتی ہیں ۔‘‘ وہ بھی ہنس دیا۔
’’ آپ مجھے بس ایک تیمار دار سمجھ لیں ۔‘‘
’’ کسی کے اٹنیڈنٹ ہو ؟‘‘ وہ سر ہلا گیا ۔
’’ جی بس یہی سمجھ لیں ۔‘‘
’’ ایک تو اس جنریشن کو بات چھپانے کی بہت عادت ہے ۔ ‘‘
وہ دانت پیس کر رخ موڑ گئے ۔ فائز نے نرمی سے ان کے شانے کو تھپکا اور آگے بڑھ گیا ۔ گھنٹے بعد جب وہ چکر لگا کر واپس آیا تو بڑے میاں اپنی جگہ پہ موجود نہیں تھے ۔ وہ سیدھا ریسپشن پہ آیا ۔
’’ حماد ۔ ڈاکٹر محسن سے کہنا کہ وہ وارڈ نمبر 101 کے بیڈ نمبر3کے جو پیشنٹ ہیں ان کا سارا بل کھاتے میں ڈال دیں ۔ ‘‘ حماد نے جی سر کہہ کر سر ہلادیا تو وہ بھی ہسپتال سے نکل گیا ۔ اسے آفس سے دیر ہو رہی تھی ۔
٭٭٭
شام کو جب وہ ہسپتال آیا تو وہ اسے سامنے لان میں ہی بینچ پہ بیٹھی دکھائی دے گئی تھی ۔چائے کا کپ بینچ پہ رکھے ، سموسے کا لطف اٹھا تے وہ سادہ سی لڑکی اس کی توجہ مکمل طور پہ اپنی جانب مبذول کررہی تھی۔سموسے کی پلیٹ میں ڈھیر ساری چٹنی میں اس نے تین بار سموسے کو غوطہ دیا منہ میں رکھا۔ سموسے سے آلو نکل کر اس کی گود میں گرا جسے اس نے دوسرے ہاتھ سے اٹھا کر منہ میں ڈالا۔ پھر جلدی سے بیگ سے ٹشو نکال کر اسے صاف کیااور کچھ شرمندگی سے ادھر ادھر دیکھنے لگی کہ کسی نے دیکھا نہ ہو ۔ وہ درخت کی اوٹ میں اس طرح کھڑا تھا کہ وہ اسے دیکھ نہیں سکی۔اس کی یہ حرکت اتنی معصومانہ تھی کہ وہ ہولے سے مسکرا دیا ۔
پھر وہ کچھ دیر بعد نکل کر اس کے سامنے جا کھڑا ہوا ۔ تب تک وہ سموسہ کھا چکی تھی ۔ اب چائے پی رہی تھی ۔
’’ کیسی ہیں آپ اور آپ کے مریض کیسے ہیں؟‘‘ اسے سامنے دیکھ کر وہ پھیکا سا مسکرائی ۔
’’ دونوں ٹھیک ہیں ۔ نجانے یہ ہسپتال والے میرے مریض کو چھٹی کیوں نہیں دے دیتے ۔ بل بنا بنا کر ہم غریبوں کو لوٹ رہے ہیں ۔‘‘ وہ بھی اپنے خالو کی زبان ہی بول رہی تھی ۔
’’ شاید آپ کو معلوم نہیں ہے کہ یہاں غریبوں کا مفت علاج ہوتا ہے ۔ ‘‘ وہ ہونقوں کی طرح منہ اٹھا کر دیکھنے لگی ۔
’’ لیکن اب تک تو دوائیوں اور ٹیسٹ کے پیسے میں نے ادا کیے ہیں ۔‘‘ فائز یک دم چونکا ۔ اس بارے میں اس نے نہیں سوچا تھا ۔
’’ آخر میں وہ سب رقم آپ کو لوٹا دی جائے گی۔‘‘ اس نے نئی بات بنائی ۔ اس کے یہ سب کونسا مشکل تھا ۔
’’ سچ میں؟‘‘ وہ بے یقینی سے کھل اٹھی ۔جیسے کسی مایوس انسان کو امید کی کرن مل جائے۔ فائز اس کے ایسے بے ساختہ ردعمل پہ ہولے سے مسکرا کردیا ۔پھر سر ہلا کر اسے یقین دلایا ۔
’ ’ اللہ تیرا شکر ہے ۔‘‘ اس نے آنکھیں میچ کر دل سے شکر ادا کیا ۔ اس کے چہرے پہ بچوں سی خوشی دیکھ کر کچھ لمحے وہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا ۔
’’ لیکن اس کے لیے آپ کو ایک فارم بھرنا پڑے گا ۔ جس میں آپ کو لکھنا پڑے گاکہ آپ کے مالی حالات ایسے نہیںہیں کہ آپ ہسپتال کا خرچا اٹھا سکیں اسی لیے آپ کو رعایت دی جائے ۔‘‘اس کی بات سن کر وہ ٹھٹکی اور یک دم سنبھل کر بولی۔
’’ میں کیوں ایسے کسی فارم میں یہ سب لکھوں ۔ ؟مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے ایسا ویسا کچھ بھی لکھنے کی ۔‘‘ کچھ دیر پہلے جو اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا وہ اچانک ختم ہو گیا ۔
’’ آپ نہیں چاہتیں کہ آپ کے ڈیوز معاف کردیے جائیں ؟یہاں پہ آپ کو بالکل مفت علاج کی سہولیات مل سکیں ۔ ؟‘ ‘ وہ کچھ شش و پنج کی سی کیفیت میں فائز کو دیکھنے لگی ۔ جیسے وہ دل سے یہ چاہتی ہو لیکن ماننے کی ہمت نہ ہو ۔
’’ اگرآپ یہ سب چاہتی ہیںتو فارم تو فل کرنا پڑے گا۔ اس کے بغیر تو آپ کو رعایت نہیں مل سکتی۔‘‘
’’ مجھے ایسا کوئی فارم نہیں بھرنا ۔ ‘‘ وہ بن کر بولی لیکن لہجہ کھوکھلا تھا اور چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ ہاں مجھے ایسے فارم کی شدید ضرورت ہے کیونکہ میرے پا س اتنی رقم نہیں ہے جو میںادا کر سکوں۔
’’ جیسے آپ کی مرضی ۔ امید تو ہے کہ کل آپ کا مریض فارغ ہو جائے گا۔پھر کل ہی آپ کو تمام بل کلیئر کرنا ہوں گے ۔‘‘ وہ اتنا کہہ کر واپس مڑ گیا تو وہ سٹپٹا کر بولی ۔
’’ اگر میں وہ فارم فل کردوں تو سچ میں تمام ڈیوز کلیئر ہو جائیں گے ؟‘‘ فائز نے ذرا سا پلٹ کر اسے دیکھا جس کی شکل پہ دنیا جہاں کی مسکینیت برس رہی تھی ۔ ایک گہری سانس لی او ر سر ہلا دیا ۔
وہ اپنی انگلیاں مروڑنے لگی جیسے فیصلہ نہ کر پا رہی ہوکہ اسے کیا کرنا چاہیے ۔ پھر اس کی طرف دیکھا جو جواب کا منتظر تھا ۔
’’ ٹھیک ہے ۔ ایسالکھنے میں کیا حرج ہے۔لکھ دینے سے سچ مچ کوئی حقیقت تھوڑا ہی بن جائے گا ۔‘‘ ایسا کہتے اس کے لہجے میں خود اعتمادی تھی جس نے فائز کو مسکرانے پہ مجبور کر دیا ۔گو وہ یہ جتا رہی تھی کہ وہ غریب نہیں ہے بس جھوٹ موٹ کا لکھ کر دے رہی ہے ۔ اسی پل میںفائز کے دل نے بتا دیا کہ کہانیاں گھڑنے کی عادت بڑے میاں کو نہیں بلکہ حورین کو تھی جسے باتیں چھپانے اور دوسروں کے سامنے برملا خالو کو جھوٹا بول دینے کی عادت تھی تاکہ اس کا بھرم قائم رہ سکے ۔
’’ فارم میں بھر دوں گا ۔ آپ مجھے اپنے شناختی کارڈ کی کاپی دے دیں ۔‘‘ اس نے بیگ میںسے اپنا آئی کارڈ نکال کر اسے پکڑا تے پکڑاتے ہاتھ کھینچ لیا ۔
’’ ویسے میں اپنا آئی کارڈ کیوں آپ کو دوں ۔ آپ لے کر بھاگ گئے اور کہیں کچھ الٹا سیدھا کر دیا تو پکڑی تومیں جاؤں گی نا ۔‘‘ وہ اسے شک کی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔
’’ بالکل ۔ آپ کے آئی کارڈ کو لے جا کر میں دو تین بینک ڈکیتیاں کروں گا۔ چار پانچ لوگوں کی جائیدادیں ہتھیاؤں گا ، دس گیارہ کو ٹھکانے لگاؤں گا۔‘‘ وہ جلا بھنا کہہ رہا تھا ۔
’ ’ ویسے آپ ہیںکون یہاں کے ؟ ڈاکٹر تو لگتے نہیںہیں ، اسٹاف بھی نہیں ہیں ۔ اٹینڈنٹ ہیںتو آپ کا مریض کہاں ہے ؟ ‘‘ وہی خالو کی زبان ، خالو کی سوچ ۔ وہ کھل مسکرا دیا ۔
’’ میں ایک بدروح ہوں جو یہاں وہاں بھٹکتا رہتا ہوں تا کہ آ پ جیسی پریوں کو ڈھونڈ کر ان کے آئی کارڈ حاصل کر سکوں۔‘‘ اس نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا ۔فائز نے ہاتھ بڑھایا ۔
’’ کارڈ ۔‘‘
وہ ہنوز ہاتھ پیچھے کیے اسے مشکوک نظروں سے گھورتی رہی۔
’’لے کر نہیں بھاگتا۔میںیہاں سے کہیں بھاگ سکتا بھی نہیںہوں ۔یہاں کا پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال میرا جانتا ہے ۔ ‘‘اس نے کچھ متذبذب کیفیت میں مبتلا بالاخر اپنا کارڈ اس کے حوالے کر دیا جسے لے کر وہ چلا گیا اور قریبا دس منٹ بعد وہ واپس بھی آگیا تھا ۔
’’ کام ہو گیا ہے آپ کا ۔‘‘
’’ سچ میں ۔‘‘ اس کا یہ ’ سچ میں ‘ اتنا معصومانہ تھا کہ ایک مسکراہٹ خود بخود اس کے لبوں پہ در آئی ۔
’’ اگر ہسپتال والوں نے ایک روپیہ بھی لیا تو مجھے آ کر بتائیے گا ۔‘‘ حورین نے ایک گہری ، بے فکر سانس بھری اور کھل اٹھی۔
’’ میں اور خالو آپ کے مقروض ہیں۔ہم سچ میں آپ کا یہ احسان کبھی نہیں بھول سکتے ۔‘‘
اس نے سر کو ذرا دائیں طرف خم دیا اور دائیں آبرو اچکائی۔
’’ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ میں کبھی بھی اپنے قرض کی واپسی کا مطالبہ کر سکتا ہوں ؟‘‘ حورین نے ناسمجھی سے اسے دیکھا ۔
’’ تو کیا یہ پیسے آپ واپس لیں گے ۔‘‘ فائز اس کی عقل پہ ہنس دیا ۔
’’ پیسے کون مانگ رہا ہے آپ سے ۔ میںکچھ اور مانگوں گا ۔‘‘ حورین کی آنکھیں پھیل گئیں ۔
’’ کہیں آپ کی نظر ہماری جائیداد پہ تو نہیں ہے ؟‘‘ فائز اب کی بار کھل کر ہنسا۔
’’ اللہ نے آپ جیسا کوئی اور پیس بھی بنایا ہو گا کیا ؟مجھے نہیں لگتا۔‘‘ حورین کا منہ پھول گیا ۔
’’ بنایاتو آپ جیسا بھی نہیں ہو گا ۔آپ تو بالکل سمجھ سے باہر ہیں ۔ کہیں واقعی روح شوح تو نہیں ہیں آپ ۔مجھے تو ڈرلگ رہا ہے ۔ نجانے میرے اور خالو کے علاوہ کسی کو دکھائی بھی دیتے ہیں یا یہ عنایت ہم پہ ہی ہے ۔‘‘فائز ہنستا چلا گیا ۔
’’آپ کسی بھی چلتے پھرتے کو روک کر پوچھ سکتی ہیں ۔‘‘
’’ اتنا دماغ نہیں خراب ہوا، نہ ہی اتنا فالتو وقت ہے ۔‘‘وہ منہ بنا کر بولی۔وہ مسکرانے لگا۔
’’ آپ کون سا پرائم منسٹر لگی ہوئی ہیںیہاں پہ۔‘‘ حورین نے تپے تپے تاثرات سے اسے دیکھا ۔
’’آپ کا مریض آپ کا انتظار کر رہا ہو گا ۔گھر بھی تو جانا ہو گا آپ کو ۔‘‘
’’ میرا کوئی مریض نہیںہے ۔اور گھر جانے کی مجھے کبھی جلدی نہیں ہوتی کیونکہ وہاں میرا کوئی منتظر نہیںہے۔‘‘ وہ پھر سے اسے مشکوک نظروں سے دیکھنے لگی ۔
’’ تو یہاں کیا پکنک منانے آتے ہیں ؟‘‘ فائز مسکرایا ۔
’’ بڑے عرصے بعد میں بات بات پہ مسکرا رہا ہوں ۔ کریڈٹ گو ز ٹو یو ۔‘‘
’’ میں کون سا کامیڈی نائٹ میں پرفارم کر رہی ہوں ۔ لیکن آن دا سیریس نوٹ آپ کون ہیں اور یہاں کیا کرتے رہتے ہیں ؟‘‘
’’ میں یہاں کچھ بھی نہیں ہوں اور کیا کرتا ہوں اس کا جواب یہ ہے کہ میں یہاں لوگوں کی تیمارداری کے لیے آتا ہوں ۔ کسی کو کوئی مسئلہ ہو تو وہ حل کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ کسی کو چند جملے تسلی کے بول دیتا ہوں تاکہ اس کی تکلیف کم ہو سکے ۔ ‘‘ حورین کے ایسے تاثرات تھے کہ ماننے والی بات ہے نہیں لیکن چلو مان لیتے ہیں ۔
’’ اور اس سب سے آپ کو کیا ملتا ہے ؟‘‘
’’ سکون ملتا ہے ۔ دعائیں ملتی ہیں ۔ گناہ کم ہوتے ہیں ۔‘‘ وہ بس اسے دیکھے گئی ۔
’’ اگر یہ سچ ہے جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں تو اس دنیا میں آپ ایک ہی پیس ہیں ۔ کیونکہ آج کل کی دنیا میںکوئی اپنے سگے رشتوں کو نہیں پوچھتا اور آپ دن را ت یہاں اجنبیوں کو پوچھنے آتے ہیں ۔‘‘
’’ آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں کہ آج کل کوئی اپنوں کو نہیں پوچھتا ۔ ایک ایسی غلطی میںکر چکا ہوں اور شاید اب اسی کا خمیازہ بھگت رہا ہوں ۔‘‘ وہ یک دم سنجیدہ ہو گیا ۔ اس کی آنکھوں میں جیسے کوئی ماضی کی تلخ یاد ابھری تھی جو وہ اداس دکھائی دینے لگیں ۔
’’ کیا ہم کچھ دیر اس بینچ کو زحمت دے سکتے ہیں؟‘‘ لان میںایک ہی بندہ دوسرے کونے پہ اپنے اوپر کپڑا ڈالے گھاس پہ لیٹا تھا ۔ باقی لان خالی ہی تھا ۔ وہ دونوں اس بینچ پہ جا کر فاصلے پہ بیٹھ گئے ۔
’’ تو آپ یہاں کسی غلطی کا ازالہ کرنے آتے ہیں ؟‘‘ فائز چونکا ۔ وہ اسے گہری نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔
’’ کہہ سکتی ہیں اور نہیں بھی ۔ویسے جو لڑکی اپنے رازوں کو جھوٹ کے پردوں سے ڈھانپ دینے کا شوق رکھتی ہو۔ اسے دوسروں کے رازوں سے پردہ اٹھانے کا شوق کیوں ہو رہا ہے ؟‘‘ اس کی بات پہ وہ سٹپٹا گئی ۔
’’ مجھے کیا ضرورت ہے جھوٹ بولنے کی اور نہ ہی مجھے کوئی شوق ہے کسی کے راز جاننے کا ۔وہ تو میں نے یونہی پوچھ لیا۔‘‘ اس نے منہ بسور تے ہوئے اپنا بیگ ، جو گود میں دھرا تھا ، اپنے اور اس کے درمیان رکھ دیا ۔فائز مسکرا دیا ۔ وہ اتنی آسانی سے ماننے والوں میںسے نہیں تھی۔
’’ خالو مجھے سب بتا چکے ہیں ۔‘‘وہ چونکی پھر یک دم مسکرا دی ۔
’’ خالو کو تو کہانیاں بنانے میں کمال حاصل ہے۔ ‘‘ فائز نے شانے اچکائے ۔
’’ مگر ان کی آنکھیں اور لہجہ صاف کہتا ہے کہ ان کا حرف حرف سچ ہے ۔ ‘‘ حورین خاموش ہو گئی ۔ خاموشی سے گود میں رکھے ہاتھوں کو رگڑنے لگی ۔فائز کو لگا اس نے چوٹ لگا دی ہے لیکن ابھی وہ اتنی آسانی سے اس پہ اعتماد نہیں کرنے والی اور یہ کسی حد تک ٹھیک بھی تھا ۔
وہ دونوں ابھی دو دن پہلے ہی تو ملے تھے ۔ اتنی جلدی کسی اجنبی پہ اعتبار نہ کرنا ٹھیک ہی تھا ۔ مگر نجانے کیوں اس کا دل اسے اجنبی نہیں سمجھتا تھا ۔ وہ پہلے دن سے ہی اسے اپنی اپنی لگی تھی ۔ شاید اللہ نے کچھ روحوں کی طرف ہمارا جھکاؤ لکھ رکھا ہوتا ہے کہ انھیں دیکھتے ہی عجب اپنائیت کا احساس ہوتا ہے ۔
’’ میںیہاں پر مریضوں کی عیادت کے لیے آتاہوں کیونکہ میں اپنے باپ کی تیمار داری نہیں کر سکا ۔‘‘ اس کے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ حورین نے چونک کر سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔وہ اسے نہیں دیکھ رہا تھا ۔ سامنے لگے درختوں پہ اس کی نظر تھی ۔ اپنی زندگی کے چند راز وں سے پردہ اٹھانے کے لیے آپ میں اکثر اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ آپ وہ باتیں دوسرے کی نظروں میں دیکھ کر کہیں ۔ ایسے میں کسی غیر مرئی نقطے کی اشد ضرورت ہوتی ہے تاکہ بات مکمل کی جاسکے ۔
’’ میری امی جوڑوں کے شدید درد میںمبتلا تھیں اور ان ہی دنوں میں انگلینڈ سے اپنا ایم ایس مکمل کر کے لوٹا تھا ۔ ابو ہی سارا گھر دیکھتے تھے اور یہ ہمیشہ سے تھاجب سے راشدہ کی شادی ہوئی تھی ۔ تب ہی میں اتنا لاپرواہ تھا کہ گھر کی کوئی ذمہ داری میں نے کبھی نہیںاٹھائی ۔ پاکستان لوٹنے کے بعد مجھے فورا یہاں شان دار جاب مل گئی ۔‘‘ اس نے شہر کی ایک بڑی آئی ٹی کمپنی کا نام لیا ۔
’’ اپنا کیئر یئر بنانے کے لیے میں ہمیشہ سے ہی بہت زیادہ پوزیسو تھا سو دن رات ایک کر دیے ۔ اوور ٹائم کرنے لگا ۔ راتوں کو دیر سے گھر آنے لگا ۔ میرا رابطہ امی ابو سے برائے نام ہی تھا ۔ بس اتنا کہ میں صبح ناشتے پہ بھاگتے دوڑتے ان سے سلام دعا کر لیا کرتا تھا۔حال چال پوچھ لیتا تھا ۔ امی تو بستر پہ ہی رہتی تھیں ۔ اکثر کھانا بھی ابو ہی بناتے تھے ۔ان دونوں کی آسانی کے لیے میں نے ایک دوست سے کہہ کر ایک ملازمہ بھی رکھ دی تاکہ کم از کم گھر کے کاموں سے انھیں نجات مل جائے ۔ ملازمہ رکھنے سے ان کا بوجھ تو کم ہو گیا لیکن اس عمر میںوہ تھوڑی توجہ اپنی اولاد سے بھی چاہتے تھے کہ زیادہ نہیں وہ کچھ دیر ہی ان کے پاس بیٹھ جائے ، ان کے ساتھ وقت گزارے ، چند باتیں کر لے لیکن میں اپنی جاب کو لے کر بہت مجبور تھا ۔ محنت کر کے اپنی جگہ بنانے کا یہی صحیح وقت تھا۔ اگر اس وقت میںمحنت نہ کرتا تو ساری عمر پھل کھانے سے رہ جاتا ۔ دوسرے نوجوانوں کی طرح میری بھی یہی سوچ تھی ۔ انھی دنوں جب مجھے ایک بہت اہم انٹرنیشنل کمپنی کا ایک پروجیکٹ ملا ہوا تھااور میں دن رات پاگلوں کی طرح اس پروجیکٹ میںمصروف تھا حتی کہ رات کو بھی گھر نہیں جاتا تھا، ابو کو برین ہیمرج ہوا ۔امی مجھے کالز کرتی رہیں لیکن میں اپنے کام میں اتنا مصروف تھا کہ میں نے ان کی کالز تک اٹینڈ نہیں کیں۔ محلے والے میرے ابو کو کسی طرح ہسپتال لے کر آئے اور وہ ہسپتال یہی ہسپتال تھا جہاں آج ہم بیٹھے ہیں ۔‘‘اس نے سر گھما کر ہسپتال کی عمارت کو دیکھا ۔ حورین نے بھی اس کی نظروں کی تائید کی ۔
’’ان کا بروقت علاج بھی ہو گیا تو مجھے اپنے باپ کی حالت کا پتا چلا ۔ یہاں آ کر بھی میں ایک رات ہی ان کے پاس بیٹھ سکا کیونکہ آفس والوں کے لیے ان کا کروڑوں کا پروجیکٹ اہم تھا نہ کہ میرے باپ کی حالت ۔مجھے کالز پہ کالز آنے لگیں کہ سارا کام میری وجہ سے رکا پڑا ہے تو مجھے واپس جا نا پڑا ۔ ابو جیسے ہسپتال آئے تھے ، محلے والوں کے ساتھ ، اسی طرح واپس گھر بھی چلے گئے اور میں کام میں ہی مصروف رہا ۔برین ہیمرج کے ساتھ انھیں فالج بھی ہوا تھا ۔ بائیں حصہ کام نہیں کرتا تھا ۔ پہلے امی بستر پہ تھیں پھر ابو بھی پڑ گئے ۔ ایک ہی بہن تھی وہ بھی شادی کے بعد کراچی جا چکی تھی۔ راشدہ آئی تھی کچھ دن امی ابو کے پاس رہنے کے لیے لیکن اس کا پیچھے گھر تھا ، بچے تھے ، شوہر تھا ۔ وہ کب تک انہیں چھوڑ سکتی تھی ۔
دو ہفتے رہی ،ان کی خوب خدمت کی اور مجھے میری ذمہ داریاں یاد کرانے کی کوشش کرتی رہی لیکن میں بے بسی سے سن کر خاموش ہی رہتا ۔کیا کر سکتا تھا ۔ نہ جاب چھوڑنا میرے بس میںتھا نہ ہی وقت پہ گھر لوٹنا ۔چاہتے ہوئے بھی میں ان کے پاس نہیںبیٹھ سکتا تھا کیونکہ میںبری طرح سے پروجیکٹ میں پھنسا ہوا تھا ۔
جاب اتنی اچھی تھی کہ اس سٹیج پہ اسے چھوڑ دینا خود کشی جیسا تھا ۔اس بری مشکل میں گرفتار تھا کہ نہ رہائی تھی نہ اسیری ۔ میں کیا کرتا ؟ میرے بوڑھے اور بیمار والدین بستر پہ تھے اور میں انھیں ملازمہ کے حوالے کر کے آفس میں بیٹھا رہتا ۔خود کو یہ تسلیاں دیتا رہتا کہ جلد میرا یہ پروجیکٹ ختم ہو جائے گا تو میںفراغت سے ابو امی کے پاس بیٹھ سکوں گا۔ان کی خدمت کروں گا ۔ بس اس پروجیکٹ کو ختم کرلوں۔ لیکن ایسی نوبت ہی نہیں آ سکی۔اسی دوران ابو چلے گئے۔جب ابو بستر پہ تھے تو مجھے یہ تک احساس نہیں تھا کہ صرف آدھا گھنٹہ بھی اگر میںان کے پاس بیٹھ کر انہیں دو بول تسلی کے ہی بول دوں کہ وہ ٹھیک ہوجائیں گے تو وہ بیٹے کے منہ سے تسلی کے بول ہی ان کے لیے آب حیات ثابت ہو سکتے ہیں ۔ ایک بستر پہ پڑا مریض اپنی حالت سے پریشان ہوتا ہے ۔ مایوس ہو چکا ہوتا ہے ۔ ایسے میں اسے کسی اپنے کے چند پیاربھرے الفاظ کی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔ ایک پیار بھرے لمس اور چند میٹھے الفاظ کی جو اسے یہ بتا سکیں کہ وہ بوجھ نہیںہے ۔ جو انہیں یہ کہہ سکیں کہ وہ جلد شفا یاب ہو جائے گا ۔ جو انھیں بتا سکیں کہ ہم ان کے ساتھ ہیں ۔ اس بات کا احساس مجھے ابو کے جانے کے بعد ہوا ،جب میں نے یہاں آنا شروع کیا ۔ابو کی وفات کے بعد امی کو راشدہ اپنے ساتھ لے گئی کہ وہ امی کو یہاں اکیلا بستر پہ پڑا رہنے کے لیے نہیںچھوڑ سکتی ۔ تب سے وہ راشدہ کے پاس ہیں اور میں اپنی غلطی کے ازالے ، سکون کے لیے یہاں دو چکر دن کے لگاتا ہوں کہ ابو کی تو تیمارداری نہیںکر سکا ۔کیا خبر دوسروں کی تیمارداری کرنے سے مجھے سکون مل سکے ۔وہ جاب بھی چھوڑ د ی جس کے پیچھے میں پاگل ہوا ہوا تھا ۔ اپنا الگ سے آفس بنا لیا۔ اللہ نے اسی کام میں برکت دی ہے،طمانیت دی ہے جو کسی کے نیچے کام کرنے میں نہیں تھی ۔ لیکن افسو س اس بات کا ہے کہ کاش یہ قدم میں نے پہلے اٹھا لیا ہوتا ۔ اب اپنی مرضی سے آفس جاتا اور آتا ہوں ۔ بے فکری ہی بے فکری ، فراغت ہی فراغت ہے کیونکہ امی ابو کی ذمہ داری ہے نہیںاور باس کا ڈنڈا بھی نہیںرہا ۔ اب کہتا بھی ہوں کہ امی کو واپس لاؤں تو راشدہ ہمیشہ یہی کہتی ہے کہ جیسا حال میںنے ابو کا کیا ، وہ امی کا نہیںہونے دے گی ۔میں کتنی وضاحتیں دے چکا ہوں کہ اب حالات ویسے نہیں ہیں ۔ امی کا خیال میں رکھ سکتاہوں لیکن وہ کوئی رسک نہیں لینا چاہتی۔ وہ میرا گناہ معاف نہیںکرتی ، وہ مجھے اس احساس سے نکلنے ہی نہیں دیتی کہ ۔ ‘‘ ایک گہرا سانس اس نے لے کر اپنی آنکھوں کو رگڑا ۔
’’ آپ مجبور تھے ۔وقت آپ کے ہاتھوں میں نہیں تھا اور وقت کی کمی ہی سب سے بڑا مسئلہ تھی۔جوانی میں سب ہی اپنے کیئر یئر کو لے کر ایسا سوچتے ہیں جیسا آپ نے سوچا ۔‘‘ حورین کا دل اس کے لیے دکھی ہو گیا ۔وہ دکھی سا مسکرایا۔
’’ پتا ہے اپنی غلطی تسلیم نہ کرنا اور توجیہات دینا کس کا شیوہ ہے ؟‘‘ حورین نے ناسمجھی سے اسے دیکھا ۔
’’ ابلیس کا ۔ اور یہی طریقہ وہ انسان کو بھی سکھاتا ہے کہ وہ بھی اپنی غلطی ماننے کے بجائے اس کی وضاحت دے ، اپنی مجبوریاں گنوائے ۔‘‘ حورین خاموش ہو گئی ۔
’’ اللہ نے حضرت آدم ِ اور ابلیس کو ایک حکم ہی ماننے کو کہا تھا ۔ دونوں نے اس کی نافرمانی کی ، دونوں سے غلطی ہوئی ۔ایک ہی غلطی ۔ نافرمانی کرنے کی۔ فرق اتنا ہے کہ ابلیس نے اپنی نافرمانی کی توجیہات دیں کہ چونکہ وہ آدم ِ سے بہتر ہے تو وہ انھیں سجدہ نہیں کر سکتا ۔ لیکن حضرت آد م ِ نے ایسا نہیں کیا ۔ انھوں نے فورا سے مان لیا کہ ان سے غلطی تو ہوئی ہے اور اس غلطی کی سزا میں انہیں جنت سے نکالا جا رہا ہے ۔ لیکن ساتھ ہی انھوںنے توبہ کی ، استغفار کرلیا تو اللہ نے انھیں معاف فرما دیا ۔ ہم سب انسان ہیں حورین ۔ ہم سے غلطیاں ہوتی ہیں اور ہم سب میں کمیاں موجود ہیں۔یہ سلسلہ ہمیشہ چلتا رہے گا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں اپنی غلطی کو تسلیم کرنا چاہیے ۔ اس کا الزام دوسرے تیسرے پہ دھرنے کے بجائے اسے اون کرنا چاہئے تاکہ ہم اس پہ معافی مانگ سکیں ۔ اگر غلطی تسلیم نہیں ہو گی تو اس پہ معافی مانگنے کا رستہ بند ہو جائے گا ۔‘‘
حورین مبہوت سی اسے دیکھنے لگی ۔اس کا سامنا پہلے کبھی ایسے انسان سے نہیںہواتھا جو اتنا منکسر المزاج ۔
’’ میں مکمل طور پہ اپنی غلطی مانتا ہوں ۔ میں اس کی کوئی دلیل نہیں دوں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میں نے غلط کیا ہے۔ میرے پاس دو چوائسز تھیں ، میرے والدین اور میری جاب۔ میں ایک طرف جھک گیا۔ میں توازن قائم نہیں کر سکا۔میں اپنے زیادہ اہم کو نہیں چن سکا ۔ میں نے غیر اہم کو زیادہ اہم کا درجہ دیا اور یہی میںنے غلط کیا ۔ مجھے لگا تھاکہ وہ خود کو منوانے کا صحیح وقت تھالیکن میں نے یہ تو سوچا ہی نہیںتھا کہ ابو کوسنبھالنے کا بھی وہی وقت تھا ۔ نوکریاں تو مل ہی جاتی ہیں اگر مقدر میںہو لیکن ہاتھ سے کھو جانے والے رشتے دوبارہ نہیں ملتے ۔ اب اپنا آفس ہے ، اپنی مرضی ہے ، پروجیکٹ ہی پروجیکٹ ہیں ۔اللہ نے اس جاب کے بدلے اپنا کام دیا اور اس میں بھی بہت نفع دیا ہے لیکن ابو اب مجھے دوبارہ نہیں مل سکتے ۔ موبائل پہ اب امی کی ویسی کالز نہیں آسکتیں جو کہیںکہ جلدی آؤ فائز تمہارے ابو کو تمہاری ضرورت ہے۔کیونکہ اب ابو اور امی کو میری ضرورت نہیںرہی ہے ۔‘‘
حورین خاموشی سے اسے دیکھتی رہی ۔کتنی آسانی سے اس انسان نے اپنا دل کھول کر اس کے سامنے رکھ دیا تھا ۔ اس پہ اعتبار کر کے اسے سب کہہ دیا تھا ۔کتنے بڑے پن سے اس نے اپنی غلطی مان لی تھی ۔ کوئی دلیل ، کوئی بہانہ نہیں بنایا۔ کیا وہ بھی ایسا کر پائے گی ؟ شاید وہ اتنی بہادر اور جرات مند نہیں تھی ۔ وہ اپنی زندگی کی تکلیفیں کسی سے بانٹنے کی عادی ہی نہیں تھی ۔ اسے رازوں کو دل کے قبرستان میں دفنانا آتا تھا ۔
’’ میں اس ہسپتال میں ابو کی طرف سے ہر مہینے رقم دیتا ہوں ، ان مریضوں کے لیے جنہیں فالج ہوا ہو تاہے تا کہ اس کا ثواب ابو کو جائے ۔ جب فرشتے انھیں جا کر بتاتے ہوں گے کہ ان کے درجات بلند ہو ئے ہیں کیونکہ ان کے بیٹے نے ان کی طرف سے صدقہ کیا ہے تو شاید وہ مجھے معاف کر ہی دیں ۔‘‘
’’ وہ یقینا آپ کو معاف کر چکے ہوں گے۔ آپ برے بیٹے نہیں تھے ۔ آپ بس مجبور تھے ۔ ہم اکثر مجبور ہوتے ہیں اور ہمیں لگتا ہے کہ ہم برے ہیں ۔ ‘‘ فائز نے اس کی طرف دیکھا اور مدھم سا مسکرا دیا ۔
’’ جب خالو اپنے نکمے اور نالائق بیٹے کو معاف کر سکتے ہیںجو ان کی طرف سے اتنا لاپرواہ ہے کہ اسے یہ تک خیال نہیں کہ اس کا باپ ہسپتال میںپڑا ہے تو آپ کے ابو کیوں نہیں ۔ وہ بالکل آپ کو معاف کر چکے ہوں گے اور خوش ہوں گے کہ ان کا بیٹا ان کی آخرت کے لیے اتنا کچھ کر رہا ہے کیونکہ وہاں انہیں جو چیز فائدہ دے رہی ہو گی وہ ان کی نیک اولاد ہی تو ہے ۔‘‘ فائز کو اس کی تسلی دینا بہت مطمئن کر گیا تھا ۔اس نے سرہلا یا ۔
’’ جانتی ہیں آپ کی کس بات نے مجھے آپ کی طرف متوجہ کیا ہے ؟‘‘ حورین مزید متوجہ ہوگئی ۔ وہ جاننا چاہتی تھی۔
’’ کہ آپ بے لوث ایک ایسے انسان کی خدمت کر رہی ہیں جن سے آپ کا دور پار کا تعلق ہے ۔ اس وقت آپ اسے چھوڑ کر جا سکتی تھیں لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا ۔‘‘
’’ کہتے ہیں کہ کتا بڑا وفادار جانور ہوتا ہے فائز صاحب ۔ مشکل وقت میں تو وہ بھی اپنے مالک کو نہیں چھوڑتا ۔ تو کیا میں اس سے بھی گئی گزری ہوں کہ اپنے محسن کو چھوڑ دیتی ؟‘‘ فائز متاثر انداز میںاسے دیکھنے لگا ۔
مغرب کی اذان دور بلند ہو ئی تو وہ سر پہ دوپٹہ لیتی اپنی جگہ کھڑی ہوگئی۔ فائز نے بھی اس کی تقلید کی۔
’’ مگر آپ نے توکہا تھا کہ خالو کا کوئی بیٹا نہیںہے ۔‘‘ وہ سب جان کر بھی اسے چھیڑنے کے لیے کہہ رہا تھا کہ وہ خو د اعتراف کرے کہ اس نے جھوٹ کہا تھا ۔
’’ میں نے جھوٹ نہیں کہا تھا ۔ جو رشتے اتنے بے حس ہو ں ، وہ مر ہی چکے ہوتے ہیںاور خالو کا بیٹا بھی میرے نزدیک مر چکا ہے ۔‘‘ اس کا سچ بھی انوکھا تھا ۔
٭٭٭
اگلے دن صبح کے راونڈ پہ خالو کو ڈسچارج کر دیا گیا تھا ۔ جب تک وہ سامان سمیٹتی رہی ، خالو فائز کے گن گاتے رہے ۔ وہ خاموشی سے سنتی رہی۔ ایسے لوگ کم ہی تھے جن سے خالو خوش ہو ں ۔کبھی کبھار اس کے بھی گن گا لیتے تھے اور اسے لگتا تھا کہ اس دن سورج مغرب سے نکلا ہے ۔
’’ ایسے نہیں جاؤں گایہاں سے ۔ جب تک اس سے مل نہیں لیتا یہاں سے ہلوں گا بھی نہیں ۔‘‘ صبح کے پونے نو ہو رہے تھے اور وہ ابھی تک ہسپتال نہیں آیا تھا حالانکہ روزانہ صبح کے راؤنڈ کے ساتھ ہی وہ ہسپتال میںہوتا تھا ۔ اس وقت تک تو ڈاکٹرراونڈ لگاکر ، ڈسچارج سلپ پہ دستخط کر کے جا بھی چکے تھے ۔
’’ خالو ہو سکتا ہے کہ آج وہ نہ آ سکے ہوں ۔ کوئی کام بھی تو ہو سکتا ہے انھیں ۔‘‘ خالوسے زیادہ وہ خود کو تسلی دے رہی تھی۔ دو دن میں کوئی انسان آپ کو اتنا کیسے مرعوب کر سکتا ہے کہ پھر تیسرے دن اس کی غیر موجودگی آپ کو کھٹک رہی ہوتی ہے ۔ آپ اس کی کمی کو بری طرح محسوس کر رہے ہوتے ہیں ۔
’’ کہا نا جب تک وہ نہیں آئے گا تو نہیں جاؤں گا۔‘‘ حورین نے خشمگیں نگاہوں سے انھیں دیکھا جو ایک روٹھے بچے کی طرح منہ بسورے بیڈ پہ بیٹھے تھے ۔
’’ اچھا میں دیکھتی ہو ں ۔‘‘ وہ سب وہیں چھوڑ کر باہر نکلی ، ریسپشن تک گئی ۔ یوں بھی اسے تاکید کی گئی تھی کہ جاتے ہوئے وہ اپنی رقم ریسپشن سے لے لے جو ٹیسٹ اور ادویات کے لیے اس نے ادا کی تھی۔
اس نے ڈسچارج سلپ دکھائی اور انتظار کرنے لگی ۔ ریسپشنسٹ کمپیوٹر پہ کچھ ریکارڈ دیکھنے لگا پھر سر ہلاتے ہوئے دراز سے کچھ پیسے نکال کر گنے اور اس کے سامنے رکھ دیے ۔ حورین نے انھیں گنا اور بیگ میں رکھ لیا ۔
’’ آج فائز صاحب نہیں آئے ؟ فائز صاحب کو جانتے ہیں آپ؟‘‘ ریسپشنسٹ نے سر ہلایا ۔
’’ انھیں کون نہیں جانتا میم ۔ وہ اس ہسپتال کے ایک بڑے ڈونر اور بورڈ آف ڈائریکٹرز میں سے ہیں ۔‘‘اس کی بات پہ اس کا دوپٹہ درست کرتا ہاتھ وہیں رک گیا ۔
’’ کیا ہیں وہ ؟‘‘ اسے لگا اسے سننے میںغلطی ہوئی ہے ۔
’’ ڈونر میم ۔‘‘ اس نے زور دے کر اپنی بات دہرائی ۔
’’ اس کے علاوہ بھی آپ نے کچھ کہا تھا کہ وہ کیا ہیں؟‘‘
’’ بورڈ آف ڈائریکٹرز۔ ‘‘ حورین بالکل گنگ سی کھڑی اس کی شکل دیکھتی رہی ۔
’’ وہ ۔ یعنی کہ فائز صاحب۔ جو روز ادھر آتے ہیں ۔آپ ان کی بات کر رہے ہیں نا ۔ جو سب مریضوں کا حال پوچھتے ہیں ۔ وہی نا ؟‘‘ اس نے توڑ توڑ کر جملہ بڑی مشکل سے مکمل کیا ۔
’’جی جی میم ۔ ایک ہی فائز صاحب آتے ہیں یہاں ۔ وہ یہاں پیشنٹس کی دیکھ بھال کا انتظام بھی دیکھنے آتے ہیں اور خود سے ان کی تیمارداری بھی کرتے ہیں ۔اس ہسپتال کے مالک کے اچھے دوست ہیں ۔ ‘‘ حورین نے ایک بار پھر سے بے یقینی سے اسے دیکھا ۔اسے یہ یقین نہیں آ رہا تھا کہ اتنا سادہ بندہ ، جسے پہلے وہ یہاں کا کوئی اسٹاف سمجھ رہی تھی ۔ پھر کسی پیشنٹ کا کیئر ٹیکر ۔ وہ بندہ ہسپتال کے مالکان میں سے ایک تھا ۔ اس نے اس دن خود اپنی آنکھوں سے اسے بائیک پہ جاتے دیکھا تھا ۔ اتنا عام حلیے والا انسان ، جس میں غرور و تکبر دور دور تک نہیں تھا ۔ وہ کیسے سب کے پاس جا جا کر ان کی روداد سنتا تھا ۔ ان کی طبیعت پوچھتا تھا ۔ کچھ کو تو ہاتھ سے دوا تک کھلا دیتا تھا ، وہ انسان کتنا پیسے والا اور امیر آدمی تھا ۔
’’ تو وہ آج نہیں آئے ؟‘‘جب دماغ کچھ جگہ پہ آیا تو اسے یاد آیا وہ اس کا کیوں پوچھ رہی تھی ۔
’’ آج دکھائی نہیںدیے مجھے ۔ آئی تھنک نہیں آئے ابھی تک ۔‘‘ وہ سر ہلا کر مرے مرے ، بے یقینی سے قدم اٹھاتے ہوئے واپس لوٹ آئی ۔
’’ کیا ہوا نہیں آیا وہ نالائق ؟‘‘ خالو اسے اکیلا لوٹتا دیکھ کر کچھ برہم دکھائی دینے لگے۔
’’ خالو آواز آہستہ رکھیں ۔کسی نے سن لیا تو ۔‘‘
’’ ہائیں میں کون سا کسی پرائم منسٹر کی بات کر رہا ہوں ۔‘‘
’’ کچھ کم بھی نہیں ہے آپ کا وہ نالائق ۔‘‘
’’ ہیں ۔‘‘ خالو کو کچھ تجسس ہوا۔’’ کیا بڑا ڈاکٹر ہے یہاں کا ؟‘‘وہ کچھ رازدارانہ انداز سے پوچھنے لگے تو اس نے نفی میںسر ہلایا ۔
’’ ڈاکٹر سے بھی بڑا ۔ ‘‘
’’ ہونہہ۔‘‘ خالو نے ناک بھوں چڑھائی ۔ ’’ تم تو ایسے بات کر رہی ہو کہ مالک ہے۔‘‘
’’ مالک ہی ہے ۔‘‘ خالو چونکے ۔
’’ اے لڑکی ۔ پاگل بنانے کوتمہیں دنیا کم تھی کہ اب مجھ سے یہ جھوٹ بول رہی ہیں۔‘‘
’’ قسم سے خالو جھوٹ نہیں بول رہی ۔ وہ سچ میں یہاں کا ڈائریکٹر ہے ۔ اس ہسپتال کے مالک کا دوست ہے ۔ اس ہسپتا ل میں اس کا بھی حصہ ہے تو اب خود بتائیں کہ مالک ہی ہوا نا ۔‘‘
خالو کی تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔ کتنی دیر بے یقینی سے حورین کو دیکھتے رہے جو اب اپنے آپ میں مگن ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے چیزیں سمیٹ رہی تھی ۔
پھر یک دم ایک ہنسی کا فوارہ ان کے منہ سے چھوٹا ۔ حورین نے حیرت سے انھیں دیکھا ۔
’’ اس میں اتنا ہنسنے والی کیا بات ہے خالو ؟‘‘ بالآخر انہیں ایسے ہنستا دیکھ کر وہ پوچھ ہی بیٹھی ۔
’’ میسنا کہیں کا ۔ مجھ سے ساری باتیں میٹھا بن کر اگلوا لیں اور اپنی بھنک بھی نہ لگنے دی ۔ میں نے یونہی چھیڑنے کے لیے کہا تھا کہ کیا یہاں کے مالک ہو تو مسکرا کر کہنے لگا کہ کیا پتا مالک ہی ہوں ۔ مجھے کیا پتا تھا مسینا سچ ہی کہہ رہا تھا ۔‘‘
حورین خالو کو دیکھتی رہی ۔ وہ ٹھیک کہہ رہے تھے ۔ سچ میں میسنا نکلا تھا ۔ اسے کہا کہ یہاں غریبوں کا مفت علاج ہوتا ہے ۔ یقینا خالو کے علاج کے سارے پیسے اس نے خود دیے ہوں گے یا اسی فنڈ سے ادا کر دیے ہوں گے جو وہ یہاں دیتا تھا ۔ آخر وہ یہاں کا ڈونر بھی تو تھا ۔
جو بھی تھا اللہ نے ان کی مدد کے لیے ایک فرشتہ ہی تو بھیجا تھا ۔ ان کا کام تو بن گیا تھا ورنہ وہ یہاں کے اتنے بھاری بل کیسے ادا کرتی ۔
جب سے خالو داخل ہوئے تھے وہ سلیم کو کتنے فون کر چکی تھی لیکن اس نے ایک بھی نہیں اٹھایا ۔ چلو مان لیا کہ مصروف ہو گا ۔ باہر کی زندگی بہت بھاگتی ہوئی ہے ۔ لیکن اس کے بعد ایک فون کر کے پوچھ تو سکتا تھا کہ وہ بار بار اسے کیوں فون کرتی رہی ہے یا اتنی بھی توفیق نہیں ہو سکی ۔ اسے باپ کی یاد پیسے کے لیے ہی آتی تھی ۔ نجانے کیوں وہ اتنا لالچی تھا جبکہ خالو اور خالہ تو ایسی فطرت کے نہیں تھے۔ اس نے خالو کے جھریوں بھرے چہرے کے اس حصے کو دیکھا جو فالج کی وجہ سے کچھ کھنچ گیا تھا ۔ اسے سچ مچ ان پہ ترس آیا ۔
’’ چلیں خالو ۔ ساری پیکنگ ہو گئی ہے ۔‘‘بیگ پیک تھا ۔ باقی چیزیں اس نے ایک دو شاپرز میں باندھ لی تھیں ۔ سب کچھ سائیڈ میز پہ تیار رکھا تھا لیکن خالو اسی طرح ناراض بیٹھے تھے ۔
’’ اس سے ملے بغیر کیسے چلا جاؤں ؟‘‘
’’ اسے پتا تھا نا کہ آج آپ کو چھٹی مل جائے گی تو بھی وہ نہیں آیا ۔ اسے اتنی پرواہ ہوتی تو آجاتا ۔ نہیں آیا ہے تو یہی مطلب ہے کہ آپ اس کے لیے بس ایک مریض تھے ۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔‘‘ وہ کبھی اتنا سچ بول جاتی کہ اگلے کا دل ہی دکھ جاتا ۔ خالو نے اسی دکھتے دل سے اس کی طرف دیکھا ۔
’’ لیکن دو دن میں میرے لیے وہ بہت اپنا ہو گیا تھا ۔‘‘ ان کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی ۔ حورین بے بسی سے انھیں دیکھ کر رہ گئی ۔
’’ آپ کی تسلی کے لیے میں ریسپشن پہ اپنا نمبرپتا دے جاتی ہوں تاکہ وہ رابطہ کر سکے ۔ ٹھیک ہے ؟‘‘
’’ خالو کی تسلی کے لیے یا اپنی تسلی کے لیے حورین ؟‘‘ اس کے دل نے چوری سے سرگوشی کی تو اس نے جھٹ سے دل کو ڈانٹ دیا ۔
’’ ٹھیک ہے چلو ۔‘‘ خالو اسی شرط پہ چلنے کے لیے رضا مندہو ئے تھے ۔
اس نے جاتے ہوئے ریسپشن کے پاس خالو کی وہیل چیئر روکی اور خود ریسپشن تک گئی ۔
’’ کیا مجھے فائز صاحب کا نمبر مل سکتا ہے ؟‘‘ اپنا نمبر دینے کے بجائے زیادہ بہتر آپشن یہ تھا جو ابھی ابھی دماغ میں آیا تھا ۔
’’ سوری میم ۔ ہمیں ایسی کوئی پرمیشن نہیں ہے۔‘‘ حورین نے سرہلاتے کونے پہ پڑے رائٹنگ پیڈ میںسے ایک کاغذ پھاڑا اور پین پہ تیزی سے کچھ لکھنے لگی ۔
’’ یہ میرا نمبر اور ایڈریس ہے ۔ فائز صاحب کو دے دیجیے گا ۔ انہیں کہیے گا کہ ان کے پیشنٹ ان کا ویٹ کریں گے ۔ ‘‘ اس نے کاغذ بڑھاتے ہوئے کہا تو ریسپشنسٹ نے سر ہلا دیا ۔
’’ یہ وہیل چیئر میں باہر چھوڑ جاؤنگی جب پیشنٹ ٹیکسی میںبیٹھ جائے گا۔‘‘
’’ میم سر کہہ کر گئے تھے کہ ان کی وہیل چیئر ان کے ساتھ ہی جائے گی ۔ یہ ہسپتال کی طرف سے گفٹ ہے ۔‘‘ حورین نے ایک گہری سانس لی ۔
’’ ہسپتا ل کی یا ان کی طرف سے ؟‘‘ اس کے سوال پہ وہ مسکرا دیا ۔ شاید بات ایک ہی تھی ۔
’’کچھ لوگ ضرورت سے زیادہ اچھے ہوتے ہیں کہ ان کی اچھائی پہ شک ہونے لگتا ہے ۔‘‘ وہ ہولے سے بڑ بڑائی ۔
’’ جی میم ؟‘‘ وہ سن نہیں سکا ۔
’’ کچھ نہیں ۔ انھیں تھینکس کہہ دیجیے گا اور یہ لازمی دے دیجیے گا ۔‘‘ اس نے کاغذ کی طرف اشارہ کیا ۔ سلام کیا اور خالو کی وہیل چیئر گھسیٹنے لگی جس کی پشت پہ دونوں طرف بیگ اور شاپرز بھی لٹکے تھے ۔
’’ وہیل چیئر وہ گفٹ دے گیا ہے آپ کو کہ آپ گھر لے جائیں۔اور سارا دن اسے گھماگھما کر گھر کے چکر لگائیں ۔ ‘‘
’’ میسنا ۔‘‘ خالو کے پاس اس انسان کی شان میں کہے جانے کے لائق الفاظ نہیں تھے ۔
٭٭٭
وہ دن اور اگلا پورا دن خالو دروازے کی طرف دیکھتے رہے ۔ اس سے بار بار پوچھتے رہے ۔
’’ اس کی کال آئی ؟‘‘
’’ سلیم بھائی کی ؟‘‘
’’ ارے نہیں ۔ فائز کی ؟‘‘وہ سر نہ میں ہلا دیتی ۔ اس کال کا اتنی ہی بے صبر ی سے اسے بھی انتظار تھا ۔ کیوں تھا اس کا جواب وہ نہ خود سے مانگتی تھی نہ دینا چاہتی تھی ۔
’’ دانش سے رابطہ ہوا ؟‘‘
’’ وہ کیوں مجھ سے رابطہ کرے گا؟‘‘ دانش کے ذکر سے ہی اسے چڑ ہوتی تھی ۔
’’ تم ہی کر لیتیں ۔‘‘
’’ میں کیوں کروں ؟ میرا اس سے کوئی لینا دینا نہیںہے ۔‘‘ وہ مزید چڑتی ۔
’’ میرا بتانے کے لیے اور کس لیے ۔ وہ بھی میرا بیٹا ہے ۔‘‘بڑے مان سے خالو دانش کو بیٹا کہتے تھے ۔ انھیں ناز تھا کہ ان کی تربیت کی وجہ سے وہ بڑا اچھا بچہ بن کر سامنے آیا ہے لیکن وہ بھول گئے تھے کہ ان کا وہ اچھا بچہ اپنی بیوی کو پیارا ہو چکا ہے ۔ وہ نہ صرف اسے ان کی ناک تلے سے کھینچ کر لے گئی ہے بلکہ اس کا ان سے ملنا بھی تقریبا بند کر دیا ہے ۔ یہاں تو اولاد والدین سے ملنا ترک کر دیتے ہیں وہ تو پھر بھی تایا تھے۔
’’ اتنا بیٹا ہے تو پورا مہینہ ہو گیا گھر کیوں نہیں آیا ۔ فون کیوں نہیں کیا ؟‘‘ اسے خالو پہ غصہ آگیا۔ وہ کیوں نہیں سمجھتے تھے کہ ان کا بیٹا اور بھتیجا ان سے رابطہ نہیں رکھنا چاہتے ۔ جو لوگ رابطوں سے بے زار ہوں ، خواہ مخواہ ان کا پیچھا نہیںکرنا چاہیے ۔
’’مصروف ہو گا ۔ ورنہ تو خیال رکھتا ہے ۔‘‘ وہ بجھے لہجے میں کہتے ۔
’’ جی بہت خیال رکھتا ہے ۔ ‘‘ وہ جانتی تھی کہ کبھی کبھار کا چکر لگا جانا ، ایک آدھ نوٹ ہاتھ پہ رکھ جانے کو خالو اپنے دل کے بہلانے کو خیال رکھنا کہہ دیتے ہیں لیکن اندر سے وہ بھی جانتے ہیں کہ وہ کتنا خیال رکھتا ہے ۔شاید خالو نے اسے پالنے کا جو احسان کیا تھا اسے اتارنے وہ کبھی کبھار چکر لگا لیتا ہے ۔
خالو خاموش ہو گئے ۔ مڑ کر دوبارہ سلیم اور دانش کا تو نہیںپوچھا لیکن فائز کا پوچھنا نہیں بھولتے تھے ۔ ساری زندگی پالنے والے دانش اور سلیم سے انھیں ایسی امید نہیں تھی جیسی دو دن کی ملاقات والے فائز سے تھی ۔
’’ رابطہ ہوا ؟‘‘ اب وہ جان گئی تھی کہ وہ کس رابطے کا پوچھتے ہیں ۔ وہ سر نہ میں ہلادیتی ۔
خود اپنی یہ حالت تھی کہ کتنی بار وہ موبائل کو دیکھتی کہ شاید کوئی مس کال یا مییسیج ہو ۔ ہر بیل پہ اسے لگتا کہ وہ ہو گا لیکن ہفتے سے زیادہ وقت گزر چکا تھا اس نے کوئی رابطہ نہیں کیا ۔ جو امید ان دونوں کو تھی وہ آہستہ آہستہ مایوسی میںڈھلنے لگی تھی ۔
’’ میں سوچتاہو ں کیوں نہیں آیا وہ مجھ سے ملنے؟‘‘ وہ اسکول سے لوٹی تھی ۔ کھانا بنا کر اس نے باہر بر آمدے میں لگا دیا۔صبح کی بھوکی تھی اسی لیے رغبت سے کھانے لگی جبکہ خالو نے کھانا شروع تک نہیں کیا تھا ۔وہ کسی گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے اور حورین کے پوچھنے پہ جب وہ بولے تو کھانا کھاتی حورین چونک کر سیدھی ہوئی ۔
’’ خالو ۔ ہم اس کے رشتے دار نہیں تھے کہ وہ ہم سے ملنے آتا ۔ہم اس کے ہسپتال میں باقی سب کی طرح مریض ہی تھے جس سے اس نے ہمدردی دکھائی ۔ علاج کروایا ۔ بل ادا کیے ۔ جاتے ہوئے یہ وہیل چیئر گفٹ کر دی اور بس ۔ وہ اتنا امیر کبیر انسان جو ایک ہسپتال کو چندہ دیتا ہے ۔ اس ہسپتال کے مالک کا دوست ہے بلکہ خود بھی مالکوں میں سے ہے وہ کیوں بھلا ہم جیسے غریب غربا کو یاد رکھے گااور اتنی اہمیت دے گا کہ ان سے ملنے ان کے گھر چلا جائے گا۔ خالو آپ خود سوچیں کہ ایسا شخص کیوں ہم جیسوں سے ملنا چاہے گا جن کو ان کے اپنے نہیں پوچھتے۔اس شخص کے ہم سے ملنے کی کوئی تک بنتی ہے کیا۔ ؟‘‘
خالوخاموشی سے اس کی تلخ مگر حقیقت پہ مبنی باتوں کو سن رہے تھے ۔ اس کے تپے تپے لال ہوتے چہرے کو دیکھا تو سر جھکا دیا ۔
’’ ٹھیک کہتی ہو ۔ ہمیں ہمارے اپنے نہیں پوچھتے تو وہ کیوں پوچھے گا جس سے کوئی رشتہ نہیں تھا۔ مجھے میرا بیٹا اور بھتیجا نہیں پوچھتا ۔تمہیں تمہارا باپ نہیں پوچھتا۔ وہ تو بس ایک تیمار دار فرشتہ تھا جس نے اپنا کام کیا اور بس چپ چاپ چلا گیا۔ میں ہی شاید زیادہ امید لگا بیٹھا ہوں ۔‘‘ حورین نے آنکھیں میچیں اور سانس خارج کیا ۔ اس کا مقصد خالو کو دکھی کرنا نہیںتھا۔
’’ بس مجھے وہ سب سے الگ لگا تھا ، اچھا لگا تھا،اس سے مل کر لگا کہ ابھی لوگوں میں عاجزی ، احساس اور انسانیت باقی ہے تو امید سی بندھ گئی۔ شاید میں اب زیادہ بوڑھا ہو گیا ہوں کہ لوگوں کی پہچان نہیں کر سکتا ۔ غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہوں ۔‘‘
’’کھانا کھائیں اور اس کا انتظار کرنا چھوڑ دیں۔ اس نے تعلق رکھنا ہوتا تو رابطہ کر لیتا۔امیر لوگوں کے پاس غریبوں سے ملنے کا نہ وقت ہوتا ہے نہ ہی ظرف۔خواہ مخواہ اس کا انتظار کر کے اپنا دل دکھی مت کریں ۔ ‘‘ وہ خود بھی اب دل برداشتہ ہو کر کھانے پہ جھکی ۔
’’ کوئی مجبوری بھی تو ہو سکتی ہے کہ نہیں؟‘‘ آواز آئی تو دونوں چونکے اور مڑ کر دیکھا ۔ صحن کے بیچوں بیچ وہ کھڑا تھا جس کے آنے کا دونوں کو انتظار تھا لیکن اب وہی انتظار مایوسی میں ڈھل گیا تھا ۔
خالو بس بے یقینی سے اسے دیکھتے رہے ۔ حورین کو جب یقین آیا کہ وہ سچ میں آچکا ہے تو تیزی سے اٹھ کر کچن میں چلی گئی ۔ اس نے یقینا اس کی ساری گفتگو نہ سہی آدھی تو سن ہی لی تھی ۔ اب کیا سوچتا ہو گا کہ وہ یہ سوچتی ہے اس کے بارے میں ، اپنے محسن کے بارے میں ۔ اتنی احسان فراموش ہے۔ اسے سخت ندامت ہونے لگی ۔ ہمت ہی نہیں ہوئی کہ اس کی طرف دیکھے یا اس کے سامنے جائے ۔ وہیں کچن میں ایک کیبن کے ساتھ کھڑی رہی۔ وہ خالو کے پاس آ کر بیٹھ گیا ۔
’’ نالائق !کتنے دن سے منتظر تھا کہ تم فون کرو ، ملنے ہی چلے آؤ لیکن تم تو گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب تھے ۔ ‘‘ خالو بظاہر برہمی دکھا رہے تھے لیکن وہ دیکھ سکتی تھی کہ وہ کتنی خوشی محسوس کر رہے ہیں۔
’’ کسی جگہ پھنس گیا تھا سر !ورنہ اسی دن آجاتا ۔لیکن آج صبح ہی ہسپتال گیاتو ریسپشنسٹ نے پتا اور نمبر دیا ۔ سوچا فون کیا کروں۔ اب سیدھا ملنے ہی جاؤں گا۔ ‘‘ وہ وضاحت دے رہا تھا اور خالو کے ساتھ اس کا دل بھی صاف ہو رہا تھا ۔
’’چلو اس پہ تو معاف کیا حالانکہ تم نے بہت انتظار کروایا ۔ میں تو مایوس ہو چکا تھا کہ اب تم سے دوبارہ کبھی رابطہ ہو پائے گا ۔ ‘‘ فائز نے مسکرا کر اندر کچن کی طرف کن اکھیوں سے دیکھا جہاں اسے حورین کا آنچل دکھائی دیا ۔ گویا وہ یہیں کان لگائے کھڑی تھی ۔ اس کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔
’’ لیکن اس پہ معاف نہیں کروں گامیسنے ۔تم بتا نہیں سکتے تھے مجھے کہ تم ہسپتال میں کوئی ڈاکٹر یا نرس نہیں ہو بلکہ مالک ہو۔ فضول میں تمہیں برا بھلا کہتا رہا ۔ ‘‘
’’ مجھے برا نہیں لگا ۔ ‘‘ وہ عاجز ی سے بولا ۔
’’ پھر بھی بتا دینا چاہیے تھا ۔اس نے سر ہلا کر ان کی بات کی تائید کی ہاں بتا دینا چاہئے تھا ۔‘‘
’’ خیر میں بہت خوش ہوں کہ تم مجھ سے ملنے آگئے ۔ اوہ ۔ میں تو بھول ہی گیا ۔ تمہیں کچھ کھانے پینے کو پوچھا ہی نہیں ۔‘‘انھوں نے جلدی سے پلیٹ اس کی طرف بڑھائی اور سالن کا ڈونگا اس کے سامنے رکھا ۔
’’کھانا شروع کرو۔ کچھ خاص تو نہیں بنا ہوا ۔ بس یہ ٹنڈے ہی ہیں لیکن حورین یہ بھی بہت اچھے بناتی ہے ۔‘‘ انھوںنے روٹی کی چنگیر اس کے سامنے رکھی ۔ فائز نے نا چاہتے ہوئے بھی ان کے خلوص کی قدر کے لیے تھوڑا سا سالن ڈال لیا۔ لیکن پہلا نوالہ کھاتے ہی سالن کے بہترین ذائقے نے اس کی بھوک چمکا دی اور نا چاہتے ہوئے بھی وہ پوری روٹی کھا گیا ۔ بہت عرصے بعد ایسے گھر کا بنا ہوا لذیذ کھانا کھایا تھا ۔
حورین اندر کچن میں ہی اپنے لیے کھانا نکال کر وہیں کھڑے کھڑے کھانے لگ گئی ۔ ساتھ میں مزید روٹی بھی ڈال لی کہ روٹیاں کم نہ پڑجائیںلیکن فائز نے جان کر اپنا ہاتھ روک لیا ۔ وہ بن بلایا مہمان تھا ۔اپنی موجودگی سے ان پہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔
کھانے کے دوران خالو اس سے ہسپتال کے متعلق چھوٹی موٹی باتیں پوچھتے رہے تھے جن کے وہ جواب دیتا رہا تھا ۔
’’ چلیں اب مجھے اجازت دیں ۔ میں آفس بیچ میں چھوڑ کر آیا تھا ۔ مجھے واپس جانا ہے ۔ کافی کام پڑے ہیں ۔ آج صبح ہی ہسپتال سے آپ کا پتا ملا تھا تو میں نے ٹالنا براسمجھا اسی لیے چلا آیا ۔ ‘‘ وہ اٹھتے ہوئے بولا ۔ ساتھ ہی کچن کی طرف کن اکھیوں سے دیکھا جہاں لہراتا آنچل اب دکھائی نہیںدے رہا تھا ۔
’’ ابھی تو جا سکتے ہو لیکن اگلی بار فرصت سے آنا۔‘‘
’’ ضرور ۔ آپ اپنا خیال رکھیے ۔ دوائیاں وقت سے لیتے رہیں ۔ اب تو آپ پہلے سے بہتر لگتے ہیں ۔ مزید احتیاط سے بالکل پہلے جیسے ہو جائیں گے ۔‘‘ خالو ہولے سے مسکرا ئے ۔
وہ اجازت لے کر رخصت ہو ا تو ہی وہ کچن سے باہر آئی تھی ۔خالو نے بڑے مان سے جتایا۔
’’ کہا تھا نا وہ ضرور آئے گا ۔ انسا ن کی وفا پتا چل جاتی ہے ۔ ‘‘ حورین خاموشی سے برتن سمیٹنے لگ گئی ۔
٭٭٭
خالو کتنے دنوں سے گھر میں بند تھے ۔ وہیل چیئر پہ رہتے تھے ۔ ابھی چلنے میں بہت دشوار ی تھی حالانکہ حورین کوشش کرتی کہ انھیں ایکسر سائز وغیرہ کرواتی رہا کرے۔تھراپیز کروانے کے لیے رقم کہاں سے لاتی اسی لیے انٹرنیٹ سے ایکسر سائز دیکھ دیکھ خود ہی ہمت کرتی اور ہلکان ہو تی رہتی ۔خالو گھر میں رہ رہ کر عجیب چڑ چڑے سے ہونے لگ گئے تو ایک شام اس نے گلی کے طاہر سے درخواست کی کہ انہیں قریبی گراؤنڈ تک لے جائے ۔ طاہر اچھا بچہ تھا ۔ اس سے چند سال ٹیوشن پڑھتا رہا تھا اسی لیے اس کی بات نہیں ٹالتا تھا ۔ وہی خالو کو قریبی گراؤنڈ تک لے گیا تھا ۔
خالو کو بھیج کر وہ اسکول سے لائی کاپیاں چیک کر رہی تھی جب دروازے پہ دستک ہوئی ۔ اسے لگا طاہر خالو کو واپس لے آیا ہو گا اسی لیے اندر سے آواز دے ڈالی ۔
’’ آجاؤ طاہر ۔ دروازہ کھلا ہے۔‘‘ وہ کاپیاں چیک کرنے کے دوران ہی ذرا سا سر اٹھا کر بولی اور پھر سے کام میں منہمک ہو گئی ۔
دروازہ دھکیل کر کوئی اندر آیا لیکن وہیل چیئر کی آواز نہ آنے پہ اس نے سر اٹھا کر دیکھا ۔ سامنے فائز کھڑا تھا ۔ وہ یک دم گھبرا گئی ۔
’’ آپ یہاں ۔‘‘وہ کتابیں سمیٹنے لگی جو پوری میز اور کرسیوں پہ پھیلی ہوئی تھیں تاکہ اس کے بیٹھنے کی جگہ بن سکے ۔
’’ کیوں میں یہاں نہیں آ سکتا ۔ خالو نے دعوت دی تھی کہ دوبارہ بھی آناتو مجھے لگا کہ میں آ سکتا ہوں۔‘‘ وہ ایک خالی کرسی کوگھسیٹ کر بیٹھا ۔
’’میرا یہ مطلب نہیں تھا ۔ خالو بھی گھر پہ نہیں ہیں اس لیے کہا۔‘‘
’’ وہ کہا ں گئے ؟‘‘
’’ محلے کا ایک بچہ انھیں سیر کروانے قریبی گراؤنڈ تک لے کر گیا ہے ۔ گھر بیٹھ کر تنگ ہوجاتے ہیں ۔ باہر جانا چاہتے ہیںاسی لیے آج تھوڑی ہوا خوری کے لیے بھیج دیا ۔‘‘
’’ چلیں وہ نہ سہی ان کی بھانجی تو موجود ہے ۔ اور مجھے یہ کمپنی بھی منظور ہے ۔‘‘ حورین اپنی جگہ سے اٹھی ۔
’’ میں آپ کے لیے چائے کا بندوبست کرتی ہوں تب تک خالو بھی آجائیں گے ۔‘‘
’’ آپ مجھ سے بھاگ کیوں رہی ہیں ؟ کہیں آپ کو یہ ڈر تو نہیں ہے کہ میں آپ سے احسان کا بدلہ لینے آیا ہوں ؟‘‘ حورین جاتے جاتے ٹھہر گئی ۔
’’ مجھے کیوں یہ لگنے لگا خدانخواستہ ۔ ویسے بھی میں کوئی آپ سے بھاگ نہیں رہی ۔ نہ ہی میں بھاگنے والوں میں سے ہوں ۔‘‘ اس نے بن کر کہالیکن اندر سے دل بری طرح دھڑک رہا تھا ۔
’’ تو پھر بیٹھ جائیں ۔ چائے بنتی رہے گی جب خالو آ جائیں گے۔ابھی میں کچھ دیر آپ سے بات کرنا چاہتاہوں ۔ ‘‘ حورین اپنی انگلیاں مروڑنے لگی۔
’’ بیٹھ جائیں حورین ۔مجھے آپ سے بات کرنا ہے ۔‘‘ چاروناچار اسے بیٹھنا ہی پڑا ۔
’’ میں پیسے والا ضرور ہوں حورین لیکن کبھی کسی پہ اپنی امارت نہیں جتائی کیونکہ یہ پیسہ مجھے وراثت میں نہیں ملا تھا ۔ میںنے اسے اپنی محنت سے کمایا ہے۔ اس کے لیے دن رات جان ماری ہے ۔مجھے اس کی قدر کا احساس ہے لیکن اس نے میرا دماغ نہیں خراب کیا ۔اسی لیے میں نے کبھی کسی کو غریب نہیں سمجھا ۔ کبھی کسی کی عزت نفس کو روندا نہیں ہے ۔ایسا تو میں کبھی سوچ ہی نہیں سکتا کہ یہ لوگ غریب ہیں تو ان سے نہ ملا جائے کیونکہ میںپیسے والا ہوں اور یہ مجھ سے کمتر ہیں۔اگر مجھے یہی سب کرنا ہوتا تو میں ہپپتال میں کیوں لوگوں کی تیمارداری اور مدد کے لیے بھاگا پھرتا ۔ اگر میرے اندر کوئی تکبر ہوتاتو پہلے دن سے رعب جماتا کہ میںتو یہاں کے مالکان میں شمار ہوتا ہوں ۔ لیکن آپ جانتی ہیں کہ میں نے اس کی بھنک بھی نہیں پڑنے دی صرف اور صرف اس لیے کہ کہیں دوسرے مجھے برتر اور خود کو کمتر نہ سمجھنے لگیں۔ان کے اور میرے درمیان پیسے کی دیوار حائل نہ ہو جائے۔پھر آپ نے کیوں ایسا سوچا کہ میںاس وجہ سے آپ لوگوں سے کوئی رابطہ نہیں کرنا چاہتا ؟‘‘ وہ اس کی اس دن کی ساری گفتگو سن چکا تھا۔ حورین کو پھر سے اپنی اس دن کی گفتگو پہ افسوس ہوا۔وہ لب کتر رہی تھی اس دن کی پشیمانی پھر سے طاری تھی ۔ اس کی طرف دیکھنے کی ہمت بھی نہیں ہو رہی تھی ۔
’’ آپ نے اتنے عرصے سے رابطہ جو نہیںکیا تو مجھے لگا کہ ۔‘‘ اس نے بات ادھوری چھوڑ دی ۔
’’ میری بہن سیڑھیوں سے پھسل گئی تھی اوراس کا فریکچر ہو گیا ہے۔ وہ اب بستر سے ہل نہیں سکتی ۔اسی لیے اس کا شوہر اسے سسرال لے کر جا رہا تھا تاکہ وہاں اس کی دیکھ بھال ہو سکے ۔ ایسے میں امی کا وہاں رہنا ممکن نہیں تھا تو مجھے ان کو اپنے پاس واپس لانا تھا ۔ میںکراچی امی کو لینے گیا ہوا تھا ۔ انہیں واپس لایا پھر ان کے لیے ایک ملازمہ کا انتظام کیا جو ان کے پاس ہر وقت رہ سکے تاکہ میں سکون سے آفس جا سکوں کہ میری امی گھر پہ اکیلی نہیں ہیں ۔ اس ساری کارروائی میںہفتہ گزر گیا ۔ آج میںہسپتال گیا تو مجھے ریسپشن سے آپ کا نمبر پتا مل گیا تھا اور میں دوپہر میں سیدھا یہاں چلا آیا ۔ کبھی کبھار ہم حالات کی وجہ سے مجبور ہو جاتے ہیں حورین ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ہم برے ہیں۔‘‘ اپنی مجبوری بتا کر اس نے آخر میں اس کی کہی بات دہرا دی تھی ۔
حورین کی آنکھوں میںپانی بھر آیا ۔ اس نے زندگی میںجو بھی مرد دیکھے سوائے خالو کے وہ ایسے ہی تھے تو وہ بھی کیا کرتی ۔ دنیا اس کے لیے بے اعتبار ہی تھی ، اسے لگا وہ بھی اسی دنیا کا حصہ ہے ۔اسی دنیا جیسا ہی نکلا ہے۔ دو دن ملنے والے اجنبی پہ کیسے وہ اتنا یقین کرلیتی جب سالوں ساتھ رہنے والوں کی حقیقت وہ دیکھ چکی تھی ۔
’’ میرے امی نے مجھے جب سے یہاں بھیجا ہے، ابو نے کبھی مڑ کر میری خبر نہیں لی ۔ ان کو تویہ تک نہیںپتا کہ میںزندہ ہوں بھی یا نہیں۔امی کی وفات کے بعد سے وہ اپنی دوسری بیوی اور اس کے بچوں میں گم ہو چکے ہیں ۔ انہیں یاد بھی نہیں کہ ان کی کوئی بیٹی بھی ہے ۔ جس لڑکی کا باپ اتناوفا سے خالی ہو وہ کیسے کسی کی وفا کا یقین کر سکتی ہے ۔‘‘ وہ روئی نہیں تھی لیکن اسے لگا تھا وہ رو دے گی ۔
’’ میں سمجھ سکتا ہوں ۔ ‘‘ وہ پہلی بار اپنی زندگی کی کسی حقیقت کو عیاں کر رہی تھی ۔ وہ اس پہ اعتبار کر رہی تھی تو اچھا تھا کہ وہ اسے اعتماد دیتا کہ وہ اس پہ اعتبار کر کے ٹھیک کر رہی ہے ۔
فائز نے ایک نظر اس کے لال بھبھوکا چہرے کو دیکھا اور پھر سر جھکا لیا ۔
’’جب اس گھر میں آئی تو اپنے سامنے سلیم بھائی کی بے مروتی دیکھی جو خالہ کی اکلوتی اولاد تھے ۔ اتنے طوطا چشم نکلے کہ حد نہیں۔ساری جائیداد لکھوا کر ، بیچ کر بھی خالو کی اس ایک دکان کے پیچھے انہیں پریشان کر رہے ہیں جن سے ان کی زندگی کی گاڑی چل رہی ہے۔ انہیں اس بات کی بالکل بھی پرواہ نہیں ہے کہ دکان ان کے نام کر دینے ، بیچ دینے سے خالو کا گزارا کیسے ہو گا ۔پھر دانش کو دیکھا جسے خالو نے کتنے مان سے بیٹا بنایاتھا ، پرورش کی، پڑھایا لکھایا اور اب وہ بھی ایسا ہے کہ خالو کی خبر لیے برسوں گزر جاتے ہیںلیکن خالو بے چارے کو بیٹے اور بھتیجے سے اب بھی بڑی امید ہے۔ میں ان کی امید توڑنا نہیں چاہتی لیکن میںچاہتی ہوں کہ وہ کچھ حقیقت پسند بن کر جئیں ۔ یہ سب ہمارے سگے رشتے ہیںفائز لیکن انہیں ہماری کوئی پرواہ نہیںہے ۔ ان رشتوں میں کوئی وفا نہیں ہے۔یہ بس ہمیں دکھ دینے کے لیے ہی ہماری زندگی میںموجود ہیں ۔ جو لوگ ایسے انسانوں سے گھرے ہوئے ہوں انہیں جب کوئی ایسا انسان مل جاتا ہے جس سے کوئی تعلق نہ ہو اور وہ ہم سے اتنی مروت نبھائے جیسے اپنا ہو تو یقین کرنا مشکل ہوتا ہے۔اتنی آسانی سے کہاں یقین آتا ہے۔مجھے بھی اسی لیے یقین نہیں تھا کہ آپ ہم سے رابطہ کریں گے۔‘‘
اس دن وہ کوئی اور ہی حورین تھی جو سب سچ کہنے کی ہمت پیدا کر کے اس کے سامنے بیٹھی تھی ۔ اسے اچھا لگا تھا کہ وہ اس پہ اعتبار کر کے سب کہہ گئی تھی ۔ وہ سب جو وہ ہمیشہ خالو کے منہ سے سنتا رہا تھا اور وہ جھٹلاتی تھی کہ خالو توکہانیاں گھڑتے ہیں ، اب اسے حقیقت بنا کر اس کے سامنے پیش کر رہی تھی ۔
’’ مجھے خوشی ہے کہ آپ نے سچ بولا ۔ ‘‘
’’ کڑوا سچ بولنا بہت مشکل ہوتا ہے اورمجھے مشکل کاموں سے ڈر لگتا ہے ۔‘‘ وہ سر جھکائے اپنی ہتھیلیاں رگڑے جا رہی تھی جو رگڑنے سے لال ہو رہی تھیں۔
’’ سچ کڑواہی ہوتا ہے لیکن اسے کہہ دینے سے زندگی میٹھی ہو جاتی ہے ۔ ‘‘ اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔
’’ اور آپ نے جو ہم سے جھوٹ بولا وہ ؟‘‘ اب وہ جرح پہ اتر آئی تھی ۔
’ جھوٹ تو میں بولتا ہی نہیںہوں ۔‘‘
’’ ہم سے اتنا بڑا سچ چھپایا ہے آپ نے۔ اس کے بارے میں کیا خیال ہے ؟‘‘
’’ میں نے چھپایا تو نہیں تھا ۔ یہ اور بات ہے کہ بتایا نہیں تھا ۔ ‘‘ اس نے اسے گھورا ۔
’’ دونوں باتوں میںفرق ہے کیا ؟‘‘
’’ بالکل ۔‘‘ وہ ہولے سے مسکرایا ۔
اتنے میں خالو آگئے تو حورین کچن میں چائے بنانے چلی گئی ۔خالو باہر سے گھوم پھر کر آ ئے تھے اور سامنے فائز کو بیٹھے دیکھا تو ان کے لہجے کی کھنک اسے اندر تک سنائی دے رہی تھی ۔اس کا اپنا دل بھی سب کہہ سن کر ہلکا پھلکا ہو چکا تھا ۔
٭٭٭
اس شام حورین کے فون پہ سلیم کی کال آرہی تھی ۔ خالو کو ہسپتال سے آئے مہینہ ہو چکا تھا ۔ ا س دوران اس نے کوئی رابطہ نہیں کیا تھاحالانکہ وہ اس کے میسجز بھی پڑھ چکا تھا ۔ دانش بھی ایک دن اس کی غیر موجودگی میں ہی آیا تھا جب وہ اسکول گئی ہوئی تھی۔کچھ فروٹس اور جوسز لایا تھا ۔ فائز البتہ ہسپتال سے تو کبھی آفس سے واپسی پہ ہر ہفتے چکر لگا لیتا تھا۔ خالو کو اس کے آنے سے جیسے بڑا سہارا ہو جایا کرتا تھا ۔ وہ خالو کی میڈیسنز بھی خود سے لے آتا ۔کبھی فروٹس تو کبھی دودھ کے ڈبے۔ خالو منع کرتے لیکن وہ نہیں سنتا تھا۔
صحن میں اس وقت بھی فائز آیا بیٹھا تھا ۔ ایسے میں کیا اسے خالو کو فون تھمانا چاہئے تھا ۔کچھ دیر کھڑی وہ سوچتی رہی پھر اس نے کال اٹینڈ کر لی ۔
’’ السلام علیکم سلیم بھائی ۔ کیسے ہیں آپ؟‘‘ بڑی مشکل سے اس نے لہجے کو نارمل رکھا ورنہ جتنا خالو کو لے کر انہوں بدلحاظی دکھائی تھی وہ ان کی آواز بھی نہیں سننا چاہتی تھی ۔
’’ ابو کہاں ہیں ۔ انھیں فون دو ۔‘‘ کوئی سلام کا جواب نہیں، حال احوال نہیں ۔ باپ تک کا نہیں پوچھا کہ کیسی طبیعت ہے ۔ ایک غصے کا لاوا تھا جو اس کے اندر دہک کر پھٹنے کو تیار تھا لیکن اس نے بڑا مشکل سے کنٹرول کیا تھا ۔ وہ مزید کچھ بھی کہے بنا سیدھا فون جا کر خالو کو دے آئی ۔
’’ سلیم بھائی کی کال ہے ۔‘‘ خالو کے چہرے پہ یک دم رونق آ گئی ۔ اسے اس بوڑھے انسان پہ ترس آیا جو اب تک اولاد سے امید لگائے بیٹھا تھا ۔ خود وہ کمرے میں چلی آئی جس کے دروازے پہ جالی دار پرد ہ تھا ۔وہاں سے صحن صاف دکھائی اور سنائی دیتا تھا ۔ وہ اسی پردے کے پار کھڑی ہو کر سب دیکھنے لگی ۔ فائز اس کی دوسری طرف موجودگی سے واقف تھا ۔
فون کان سے لگانے کے کچھ منٹ بعد ہی خالو کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔دوسری طرف کی بات وہ سن رہے تھے اور ان کا رنگ پھیکا پڑ رہا تھا اور پھر کالا ۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ وہ دوسری طرف سے وہی دکان کی بات ہی کر رہا ہو گا ۔
’’ نہیں کرتا تمہارے نام کیا کر لو گے ؟‘‘ یک دم خالو پھٹ پڑے ۔
فائز نے اٹھنا چاہاکہ یہ ان کے گھر کا بہت ذاتی معاملہ تھا ۔ اسے وہاں سے چلا جانا چاہیے تھالیکن خالو نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے بٹھا لیا ۔
’’ تم جیسے طوطا چشم انسان سے اس بچی کا رشتہ مر کر بھی نہ کروں میں ۔ دکان تو میں اسی کے نام کروں گا کیونکہ اس میں وفا کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے جو اپنی اولاد میں کبھی مجھے دکھائی نہیں دی ۔‘‘ خالو کی بات پہ اندر بیٹھی حورین کی آنکھیں بھر آئیں ۔اسے خالو اور خالہ کی شکل میں ماں باپ ملے تھے وہ جتنا شکر کرتی کم تھا ۔
’’ کیوں بٹھا کر رکھوں اسے ۔ اس کے لیے کوئی انسان کا بچہ ڈھونڈوں گا اور عزت سے اسے اپنے گھر کا کروں گا۔ مگر تم سے نہیں کروں گااس کی شادی جس کی نیت ہی اتنی گندی ہے ۔مت آؤ میری طرف سے ، وہیںرہو ۔ مجھے کوئی ضرورت بھی نہیںہے ایسے بیٹے کی جسے باپ بس جائیداد لینے کے لیے یاد آتا ہو۔ویسے تو تمہاری بلا سے میں مروں یا جیئوں تمہیں اس سے کیا لینا دینا ۔‘‘
فائز نے خالو کا ہاتھ تھپکا ۔ غصہ ان کے لیے اچھا نہیں تھا ۔ انھیں پہلے بھی فالج کا اٹیک ہو چکا تھا لیکن بیٹے کو اس کی پرواہ نہیں تھی ۔
اس نے فون ان کے ہاتھ سے لے لیا اور کان سے لگایا ۔
’’ ہیلو مسٹر سلیم ۔ میر ا نام فائز ہے اور آپ کے فادر میرے لیے بالکل میرے فادر جیسے ہیں ۔ اس لیے آپ کو انہیں یہ دھمکی دینے کی ضرورت نہیں کہ اگر وہ دکان آپ کے نام نہیں کریں گے تو وہ لاوارث رہ جائیں گے ، حورین گھر بیٹھی رہ جائے گی۔ایسا کچھ بھی نہیں ہو گاکیونکہ میں ابھی موجود ہوں ۔‘‘ اس کے الفاظ کسی امرت کا کام کر گئے ۔ خالو کے ساتھ ساتھ حورین کے اندر بھی ٹھنڈک اتر گئی ۔ نہ جانے اس نے دوسری طرف سے کیا کہا تھا کہ وہ تیکھا سا مسکرایا ۔
’’میں نے کہا نا اس کے لیے آپ کو بالکل بھی فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ میںحورین سے شادی کر رہا ہوں اور آپ کے فادر کو اپنے ساتھ اپنے گھر لے کر جا رہا ہوں۔اب سے میں ان کا بیٹا ہوں جو کبھی ان کو اکیلا نہیں چھوڑے گا ۔ اس لیے اگر دوبارہ اس قسم کی گفتگو کے لیے یہاں فون کیا تو مجھ سے برا کوئی ہو گا نہیں ۔ آئی ہوپ اٹس کلیئر ٹو یو ناؤ ۔‘‘ اس نے کال کاٹ دی اور ساکت بیٹھے خالو کو موبائل دیا ۔ خالو تو سکتے کی حالت میں اسے دیکھ رہے تھے ۔ موبائل بھی نہیں پکڑا تو اس نے میز پہ رکھ دیا ۔
اندر حورین منہ پہ ہاتھ رکھے حیرت سے پھٹی آنکھوں سے فائز کو دیکھ رہی تھی ۔ابھی ابھی اس نے جو کہا تھا اسے یقین نہیںآ رہا تھا ۔
’’ یہ سب تم نے کیا کہا ؟‘‘
’’ یہ سب کہنے میں یہاں آیا تھا لیکن بات کیسے شروع کرتا سمجھ میں نہیں آ رہا تھا ۔ اچھا ہوا کہ سلیم کی کال آگئی اور بات کھل گئی ۔ ویسے یوں بات کرنے کا ارادہ نہیں تھا میرا لیکن حالات ایسے ہو گئے کہ مجھے یہ سب کہنا پڑا۔ ‘‘ اس نے وضاحت دی ۔
’’ خیر یہ بتائیں کہ جو کچھ میں نے کہا کیا آپ کو کوئی اعتراض ہے ؟‘‘ خالو بے یقینی سے اسے دیکھتے رہے اور پھر رو دیئے ۔
’’ خالو ۔ میر ے گھر میں میری ماں اکیلی ہیں ۔ یہاں آپ حورین کے ساتھ اکیلے کب تک رہیں گے ۔ اگر ایسا ہو جائے تو ہم چاروں کے ساتھ رہنے سے سب کو آسانی اور گھر کا سکون مل جائے گا۔ہمارا ایک پیارا سا، چھوٹا سا خاندان بن جائے گاجہاں ہم سب ایک دوسرے کا احساس کرنے والے ہوں گے ۔ بتائیں کیا آپ کو اعتراض ہے ؟‘‘ خالو نے سر نہ میں ہلایا ۔
’’ میںامی کو کل ہی لے کر آؤں گاباقاعدہ طریقے سے رشتہ مانگنے کے لیے ۔آپ بالکل بھی کسی بات کی فکر مت کریں۔ میں سب دیکھ لوں گا ۔ اب مجھے اجازت دیں ۔‘‘ خالو نے اس کے اپنے سامنے جھکے سر پہ ہاتھ رکھا ۔
’’ حورین !فائز کو دروازے تک چھوڑ آؤ ۔‘‘ کبھی اس سے پہلے انہوں نے یہ نہیں کہا تھا ۔ شاید وہ چاہتے تھے کہ وہ دونوں آپس میں بات کر لیں ۔
حورین ہوش میں آئی اور سر جھکائے باہر نکلی ۔ ٹانگوں سے جان نکل رہی تھی ۔ پاؤ ں کہاں پڑ رہے تھے سمجھ سے باہر تھا ۔ فائز کے پیچھے قدم اٹھاتے وہ دروازے تک آئی ۔فائز نے دروازہ کھولا اور مڑ کر اسے دیکھا ۔
’’ ابھی جو کچھ میں نے کہا کیا آپ کو کوئی اعتراض ہے ؟‘‘اس نے سر نہیںاٹھایا لیکن نہ بھی نہیں کیا۔
’’ آپ جانتے ہیں کہ میرا ایک ماضی ہے ۔ ‘‘
’’ مجھے کسی دانش کے قصے نہیں سننے ۔ وہ میں خالو سے سن چکا ہوں ۔ مجھے اس بات سے کوئی غرض ہے بھی نہیں کہ ماضی میںآپ کسے پسند کرتی تھیں ۔ ہر انسان کی زندگی میںکوئی کبھی نا کبھی آتا ہے ۔ میری بھی ایک کزن صائمہ تھی جس سے امی نے میری بات پکی کی تھی ۔ پھر ابو کی وفات کے بعد اور امی کے راشدہ کے پاس چلے جانے کے بعد اس نے اس رشتے سے منع کر دیا ۔وجہ تک نہیں بتائی۔تھوڑ ی سی پسند تھی وہ مجھے تو کیا ہوا ۔ وقت کے ساتھ پسند بھی ختم ہو گئی ۔ وقت کے ساتھ اکثر لو گ دل سے اتر جایا کرتے ہیں ۔ وہ بھی اتر گئی ۔ کیا یہ سب سن کر آپ کو اعتراض ہے کہ میں اسے کیوں پسند کرتا تھا ؟‘‘ حورین نے سر نہ میں ہلایا ۔
’’ تو مجھے بھی دانش سے کوئی لینا دینا نہیںہے ۔وہ اپنی زندگی میں خوش ہے اور آپ کو اپنی زندگی میں خوش ہونے کا پورا حق ہے۔آگے بڑھنے کا پورا حق ہے۔ایک پسند کیے جانے کی سزا آپ خود کویوں نہیں دے سکتیں کہ ساری زندگی بیٹھی رہیں اور خالو کی خدمت میں لگی رہیں ۔زندگی پہ آپ کا پورا حق ہے جو کہتا ہے کہ اگر ایک باوفا انسان ہاتھ تھامنا چاہے تو اسے منع نہیں کرنا چاہئے۔ ‘‘حورین اپنی انگلیاں رگڑتی رہی ۔ وہ کنفیوز ہوتی تو ایسا ہی کرتی تھی۔
’’ہاں لیکن ایک الجھن میں ہوں اس دن سے۔ وہ دور کرنا چاہتا ہوں ۔‘‘حورین چونکی ۔
’’اس دن جب میں آیا تھا تو آپ کسی طاہر کو اندربلا رہی تھیں ۔ وہ کون ہے ؟میںاس دن سے یہی سوچ رہا ہوںکہ کبھی اس کا ذکر آپ سے یا خالو سے نہیں سنا ۔‘‘
حورین نے سر اٹھا کر بے یقینی سے دیکھا پھر مسکرا دی ۔فائز کے پیچھے کھلے دروازے میں گلی دکھائی دے رہی تھی۔ سامنے گلی میں طاہر کرکٹ کھیل رہا تھا ۔
’’ وہ ہے طاہر ۔‘‘ فائز نے مڑ کر دیکھا ۔وہ تیرہ چودہ سال کا لڑکا تھا ۔
’’ میرا اسٹوڈنٹ طاہر جو خالو کو سیر کرانے لے کر جاتا ہے ۔ ‘‘ فائز نے دل پہ ہاتھ رکھا ایک مسکراہٹ کے ساتھ اس نے گہری سانس لی۔ حورین اس کی اس حرکت پہ مسکرا دی ۔
فائز نے کانوں کو ہاتھ لگا کر جیسے معافی مانگی اور پیچھے ہٹا ۔ حورین نے مسکراتے ہوئے دروازہ بند کیااور کھل کر ایک پرسکون سانس ؛ ۔ ایک ایسا انسان جس کا نام ہی وفا ہونا چاہیے تھا ، اس کی زندگی میں شامل ہونے جا رہا تھا ۔وہ بھی پوری وفا اور محبت کے ساتھ ۔ اور اسے کیا چاہیے تھا ؟
*****


