الماس پروین نے کمرے میں سب کو بلایا تھا اور ان کے کمرے سے باہر نکلتے ہی گھر میں یوں ہلچل مچی، مانو اندر سے سب عید کے چاند کا دیدار کر آئے ہوں۔
اگلا دن عید کا بھی ہو تو اپنی زندگی کے شب و روز ایک سے ہونے کا یقین اس قدر پختہ تھا کہ تجسس جیسا جذبہ اس کے لیے اجنبی تھا لیکن ہر انسانی زندگی کی طرح چند ایک ’ پہلی بار ‘ تو اس کی زندگی میں بھی تھے۔
’’ کچھ سنا تم سب نے ؟ ‘‘ نمو ہمیشہ کی طرح دوڑتی آئی تھی اور دروازے میں رک کے سب کو مخاطب کر کے ماحول کو سنسنی خیز بنانے کی کوشش کی۔ ویسے تو وہ اپنی اماں اور دو بہنوں کی طرح کام نہیں کرتی تھی لیکن جس دن اسکول کی چھٹی ہوتی ،وہ لازمی ان کے ساتھ یہاں آجاتی۔ کسی کسی دن تو وہ بطور خاص یہاں آنے کے لیے اسکول کا ناغہ کرتی تھی۔
’’ پہلے ہی میرا مارے تجسس کے دم نکلنے والا ہے، جلدی بکو۔ ‘‘
نمو کی ہمشیرہ مینو میں صبر کا فقدان تھا۔ مینو کے ساتھ اس سے بڑی بہن بالی بھی اس کی سمت پلٹی۔ اس کا چہرہ بھی وہی کہہ رہا تھا جو مینو کی زبان سے ادا ہو چکا تھا۔
ان تینوں نے ایک نظر آٹا گوندھتی رہی آئیدٰن کو دیکھا، جو معمول کی طرح اطراف سے بے نیاز تھی۔ وہ آدم بے زار یا خشک مزاج نہیں تھی لیکن دوسروں کے معاملات میں اس کی دلچسی کا عالم صفر
تھا۔ وہ خود سے کبھی کہیں شامل نہیں ہوتی تھی، ہاں کوئی بلائے یا بات کرے تو نرمی اور پیار سے بات یا معاملے میں شامل ہو جاتی لہٰذا انہیں اس تازہ ترین خبر میں بلکہ کسی بھی معاملے میں اس کے آگے بڑھ کے دلچسپی نہ لینے کا ایسا ہی یقین تھا جیسے کل صبح سورج نکلنے کا، سو اگلے ہی پل وہ اسے نظر انداز کر کے فی الوقت کی ’ بریکنگ نیوز ‘ کی جانب متوجہ ہوئیں جو نمو کے قبضے میں تھی۔
’’ حمدان بھائی آ رہے ہیں۔ ‘‘
اس نے آخر فضا پر تنی تجسس کی قبا اپنے انکشاف کی تیز ہوا سے اڑا دی اور خود ہی شور مچانے لگی کہ اسے حمدان بھائی بڑے پسند تھے بلکہ اس کا پہلا پہلا ’ کرش ‘ کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔
اس کی ہو ہا کے شور میں کسی نے نہیں دیکھا کہ دنیا سے بے نیاز اس لڑکی کے ہاتھ تھم گئے ہیں، وہ کچھ لمحوں کے لیے بت بن گئی ہے اور اس کے اندر پیالے میں یکجا ہوئے آٹے پر مٹھیاں مارنے کی قوت یکایک ختم ہوگئی تھی مگر جلد ہی سنبھل کے اس نے انگلیاں ایک ساتھ ملاکے بھینچیں۔ اس معمولی کے کام میں اس کی جدوجہد کوئی نہ جان سکتا تھا نہ سمجھ سکتا تھا۔
وہ تینوں کام چھوڑ کے الماس پروین کے چھوٹے سپوت پر برائے راست ’ ٹاک شو ‘ شروع کر چکی تھیں جو دو سال بعد واپس آرہا تھا۔ آئیدٰن نے قریب آکے بالی کا بازو ہلایا تو وہ پلٹی۔
’’ میں کچھ دیر بعد آکے روٹی بناتی ہوں۔ ‘‘
’’ ہمم۔‘‘ اس نے مصروف سا ہنکار بھرا اور زور شور سے جاری بحث میں شامل ہوگئی۔ سکینہ خالہ، مینو اور بالی گھر کی صاف صفائی اور کھانا پکانے پرمامور تھیں۔
وہ باورچی خانے سے باہر نکلی جو مکان سے الگ تھلگ نہیں تھا لیکن سب سے آخری کمرہ ضرور تھا۔ اس کے داخلی دروازے کے بائیں جانب کمروں کی بنا کھڑکی والی دیوار تھی۔ بس ایک کمرے کا دروازہ اس سمت کھلتا تھا جو اس کا تھا۔ باورچی خانے کے عین سامنے لائونج اور ہال کے ذیلی دروازے تھے جو باورچی خانے سے لاؤنج اور ہال میں آنے جانے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ اس آمدورفت کے لیے درمیان میں روش بنی تھی۔ دائیں سمت کھلا لان تھا۔
باورچی خانے اور اس کے کمرے کو ایک تنگ سی گلی جدا کرتی تھی جو عقبی حصے میں جاتی تھی جہاں کبھی چھت پر جانے والا زینہ تھا۔ وہ اسی گلی سے گزر کے پیچھے آگئی۔ اس جگہ پہنچ کے قدم خودبخود رک گئے۔
سالوں پہلے جب وقت کے مطابق چلتے ہوئے مکان میں کچھ جدید طرز کی تبدیلیاں کی گئیں تو چھت پر جانے والی پرانی سیڑھیاں بے مصرف ہوگئی تھیں کہ سب کچھ اگلے حصے میں منتقل ہوگیا تھا۔ عقبی حصہ آمدورفت اور کسی بھی قسم کی مداخلت سے فارغ کر دیا گیا تھا تاہم زینے اب بھی موجود تھے اور یہ ہی اس کی پسندیدہ جگہ تھی۔ دن ہو یا رات، کسی بھی پہر وہ بے دھڑک گھنٹوں یہاں گزار دیتی تھی کہ اس طرف کوئی کھڑکی بھی نہیں تھی۔ کوئی گلی سے اندر آتا تب ہی اسے یہاں کسی کی موجودگی کا اندازہ ہوتا تھا اور ادھر کوئی نہیں آتا تھا۔ اس کے یہاں آنے جانے کا علم بھی مینو اور بالی کو ہی تھا۔
پلولہرا کے دھول ہٹانے کی کوشش کے بعد وہ زینے پر بیٹھ گئی۔ سامنے احاطے کی دیوار سے لگ کے نیم اور پیپل کے گھنے پیڑ اپنے پتے پتے کو چپ رہنے کا حکم دے کر اس سبز آنکھوں اور گلابی رنگت والی حسینہ کو سننے کو بے تاب تھے جو چپ کی زباں میں ان سے بے تحاشا باتیں کرتی تھی۔ شاخوں سے لٹکے پتے بھی سعادت مندی سے بے حس و حرکت تھے۔ اچانک اسے اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا اور اس نے گھبرا کے دوپٹا نکال کے گود میں رکھ لیا۔
باورچی خانے میں اس نے پہلے فقرے کے بعد ان تینوں کی گفتگو کا ایک لفظ بھی نہیں سنا تھا لیکن اس وقت اس کے ذہن میں بھی وہ ہی بات تھی جو ان تینوں کے جوش کا مرکز تھی کہ حمدان شادی کے لیے آرہا ہے۔
’’ ظاہر ہے دوسال ہوگئے ہیں انگیجمنٹ کو۔ ‘‘ اس نے دوپٹے کا مڑا کنارہ انگلیوں سے کھول کے کھینچا۔
’’ اور شادی کے بعد وہ پھر واپس ہی جائیں گے۔‘‘ یہ خود کے لیے تسلی تھی یا آگاہی، اسے خود بھی یقین نہیں تھا۔ اسے وہ طرح دار اور پراعتماد آئینہ یاد آئی جو پچھلے دو سالوں سے اسی کے ساتھ تھی۔
اس نے مزید سوچنا چاہا مگر ذہن خالی تھا۔ اس موضوع پر آس پاس والوں کی بے شمار باتیں سن کر بھی اس کے اندر اس شادی سے منسلک کوئی خیال، کوئی تصور پیدا نہیں ہوتا تھا کہ یہ اس کے تخیل کا احتجاج تھا۔
وہ اس عالی شان بنگلے میں لائی گئی تو اس کی عمر شاید گیارہ بارہ سال تھی۔ اسے تو ٹھیک سے یاد بھی نہیں تھا۔ اس وقت اس کے پاس پچھلی زندگی کی خوبصورت یادیں تھیں۔ اپنے امی ابو کی آنکھوں کا تارا اور نانا کی بے حد لاڈلی آئیدٰن بہت باتونی تھی۔
پھر یکے بعد دیگر والدین کی وفات کے بعد وہ پہلی بار مایوسی، شکستگی اور دکھ سے آشنا ہوئی تھی۔ اس کے بعد نانا اس کی کل کائنات تھے۔ انہوں نے اسے مایوسی اور دکھ سے نکال کرزندگی سے محبت سکھائی، تاریکیوں کے بیچ جگنو کی اہمیت اور اسے تلاشنے کے گر سکھائے اور اس نے سارے سبق ایسے پکے سیکھے تھے کہ پھر وقت کے تھپیڑوں اور اپنوں کی ستم ظریفیوں کے باوجود زندگی سے اس کی محبت کم نہیں ہوئی۔ اس نے گلے شکوں کے بجائے جیسا اور جو ملا اس پر تشکر کو اپنا شعار بنالیا۔
نانا کی وفات کے بعد اس گھر میں اجنبی اور سپاٹ تاثر سے سجے چہروں کے بیچ وہ گھبرائی سی تھی۔ ٹکر ٹکر سب کو دیکھتی اس کی نظر کو جس گرم جوشی اور اپنائیت کی تلاش تھی وہ کسی صورت میں نہ تھی۔ وہ سب افراد اچھے تھے مگر اپنے نہ تھے۔
اسے ایک کمرہ عنایت کیا گیا تھا۔ باقی سب تو ٹھیک تھے لیکن اس گھر کی سربراہ الماس پروین کی نظروں نے پہلے دن ہی اسے سہما دیا تھا۔ اس کم عمری میں بھی ان کی آنکھوں کی تپش اور لہجے کی برف نے اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑا دی تھی۔ ان کے وجود سے اٹھتی اپنے لیے وہ منفی شعاعیں ہی تھیں کہ وہ اپنی عمر کی عام ہنستی بولتی کھلکھلاتی لڑکیوں کے مقابلے میں گم گو اور سنجیدہ ہوگئی۔ اس کے نا سمجھ اور معصوم ذہن نے اپنے طور پر ہی مصیبت سے بچنے کی خاطر انہیں کبھی خفا نہ کرنے کی ٹھان لی کہ اسی میں زندگی کا سکون مخفی تھا۔
اول دن نئی جگہ، اجنبی لوگ اور آنے والے وقت کا خوف ہی اس قدر تھا کہ اس سے رات کھانا نہیں کھایا گیا تھا۔ جب کروٹیں بدل بدل کے وہ تھک گئی تو خالی پیٹ کی آوازوں کا پانی سے گلا گھونٹنے کے ارادے سے باورچی خانے میں آئی۔ پانی پی کر پلٹی تو آنتیں دہائیاں دینے لگیں کہ ہم سکڑی جا رہی ہیں کچھ تو فکر کرو۔
جھجکتے ہوئے اس نے ڈھکے برتنوں کو دیکھا اور کاؤنٹر کے قریب آئی۔ ابھی ایک پتیلے کا ڈھکن اٹھایا ہی تھا کہ کسی نے بتی جلائی اور وہ مارے شرمندگی کے پسینے میں نہاگئی۔ ابھی چوری کی بھی نہیں تھی اور پکڑی گئی۔
اجالے کا جھماکا ہوتے ہی ہاتھ ہٹانے کے ساتھ وہ بے اختیار ہی پلٹ گئی تھی گویا اس طرح خود کو ذرا دیر پہلے والے عمل سے دور کر لے گی۔ سامنے جو بھی تھا۔
وہ اس کی شرمندگی پر حیران تھا جو اس کے خاموش وجود سے بنا صوتی لہروں کے چیخ رہی تھی۔
نانا کی وفات کے بعد جو کچھ دن اس نے اسی گھر میں ماموں ممانی کے مکمل مالک بن جانے کے بعد گزارے تھے، انہوں نے اسے لوگوں اور زندگی کے بالکل نئے روپ دکھائے تھے۔ اب بھی وہ ایک سرزنشی ڈانٹ کی امید کر رہی تھی۔
’’ کھانا ہی تو لے رہی تھی ! ‘‘ حمدان نے سوچا۔
اور ادھر آئیدٰن ندامت کے مارے زمین میں گڑی جا رہی تھی۔
وہ آگے آیا اور رات کی خاموشی میں احتیاط کے باوجود دبا دبا سا، دراز کا شور پھر برتنوں کا شور ابھرا، پھر اس نے سلیپر میں قید پیروں کو کاؤنٹر سے دور جاتے دیکھا۔ اگلے پل وہ اس سے مخاطب تھا۔
’’ کھا لو۔ ‘‘ آئیدٰن نے خجالت کے وزن سے ٹوٹی جا رہی گردن اونچی کی۔ وہ میز کے قریب کھڑا تھا اور میز پر چاولوں سے بھری رکابی دھری تھی۔ ٹی شرٹ اور پاجامے میں ملبوس وہ اجنبی لڑکا کیسے اس کی بھوک جان گیا تھا ۔ اس نے سوچا اور وہیں کھڑی رہی۔
کچھ دیر اس کے آگے بڑھنے یا بولنے کے انتظار کے بعد حمدان نے جگہ چھوڑی اور فریج کھول کے یخ بوتل نکال کر دروازے کی جانب چل پڑا۔ دروازہ عبور کرنے سے پہلے اس نے مڑ کے دیکھا۔ وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔
’’ اِیٹ۔(کھائو) ‘‘ اس نے بوتل والا ہاتھ اٹھا کے رکابی کی طرف اشارہ کیا تاہم فوراً ہی غلطی کا احساس ہوا کہ جانے وہ سمجھ سکی یا نہیں۔
’’ کھانا کھالو۔ ‘‘ اس نے ایک بار پھر دوہرایا اور چلا گیا۔ آئیدٰن کی نظر میز پر ٹھہر گئی۔ ٹھنڈے پلاؤ کی صورت دیکھتے ہی آنتوں نے کروٹ بدلی۔
’’ میں نے تو نہیں لیے، وہ خود دے کر گئے ہیں۔ ‘‘ اس نے شانوں سے ندامت اور احساس سہو کو جھٹکا اور کھڑے کھڑے ہی کھانا شروع کر دیا۔
رکابی خالی کر کے اس نے کوشش کی کہ دھوتے ہوئے آواز پیدا نہ ہو لیکن اسٹیل کے سنک میں سرد پانی گرنے کی آواز اسے کسی سیلابی ریلے کا شور محسوس ہو رہی تھی۔ کسی کے ادھر نہ آنے کی دعا کرتے اس نے وہ پلیٹ دھو کے رکھی اور کمرے میں آگئی۔
پیٹ بھرتے ہی ٹھنڈ کا احساس بھی دوبالا ہوگیا اور نیند بھی گھر کر آئی تھی۔ وادیٔ نوم میں قدم رکھنے سے پہلے اسے وہ مہربان چہرہ یاد آیا تھا۔
وہ پہلی شب تھی اسے اتنا ہی یاد تھا کہ اس کے بعد ایسی ان گنت شبوں کا شمار ممکن نہیں تھا۔ وہ چند دن کے لیے گھر آتا تھا اس میں بھی ان کا آمنا سامنا نہ ہونے کے برابر ہوتا کہ جب تک وہ الماس پروین کی معتمد خاص نہیں بنی تھی۔ یہ کام اس کے سپرد دسویں کے بعد ہوا تھا۔ اس سے پہلے وہ اسکول جاتی اور واپس آکر کمرے میں بند پڑھتی رہتی۔ سکینہ خالہ کمرے میں ہی اسے کھانا دے جاتی تھیں۔ اس کبھی کبھار کے سامنے میں ہی دنیا اور اپنوں کی لاتعلقی جھیل رہی آئیدٰن کو اس کی مہربان، احساس کرتی نظر اور دوستانہ مسکراہٹ اچھی لگتی تھی۔ اتنے لوگوں میں ایک اسی میں اسے اپنائیت نظر آتی تھی۔
’’ آئیدٰن دیدی ! ‘‘ مینو کی پکار پر وہ چونکی۔
’’ بڑی آنٹی نے کہلوایا ہے، وہ آج جلد کھانا کھائیں گی۔ ‘‘ وہ کچھ کہے بنا کھڑی ہوئی۔ مینو بھی غائب ہوگئی۔
وہ اس گھر کی ملازمہ نہیں تھی بلکہ ملازموں کے لیے قابل رشک تھی کہ وہ بڑی مالکن یا بڑی آنٹی کی معتمد خاص تھی۔ ان کا کھانا، ناشتہ بنانے سے لے کر لگانے تک سب اس کے ذمہ تھا۔ ان کے کمرے کی صفائی، ان کے کپڑے، جوتے اور دیگر لوازمات کی تیاری اور ذمہ داری بھی اس کی تھی، وہ ہرجگہ اسے ساتھ رکھتی تھیں، اس کے بنا کہیں نہیں جاتی تھیں۔ جو مقام اور حیثیت دور سے یا کبھی کبھار د دیکھنے والوں کو اس کی خوش نصیبی کا یقین دلاتی تھی، اس کی حقیقت وہی جانتی تھی۔ لوگوں کو الماس پروین کے پیار اور مہربانی کا یہ انداز بڑا پیارا لگتا تھا لیکن اس سارے عمل میں پیار کا کہیں گزر نہیں تھا۔
انہوں نے جو طریقہ اپنایا تھا، کبھی وہ سوچتی تو خود ہی ستائشی انداز میں تالیاں بجانے کا دل کرتا تھا۔ ان کی ہمدردی، بے غرضی اور انسان دوستی، خدا خوفی کی مثال لگنے والا عمل ان کا انتقام تھا، محبت اور نفرت کا اظہار تھا اور یہ حقیقت جو جانتے سمجھتے تھے وہ اپنی زبانیں سی چکے تھے۔ وہ کبھی جان نہ پاتی اگر سکینہ خالہ کی بات نہ سنتی جو وہ اپنی بیٹیوں کی الجھن دور کرنے کے لیے سنا رہی تھیں کہ ایک اجنبی کو وہ کیوں گھر لے آئی ہیں۔
آج ان کی توجہ دو برس بعد واپس آرہے بیٹے کے استقبال کی تیاریوں پر تھی جو منگنی کے بعد بیرون ملک چلا گیا تھا۔ ہر کوئی اس آمد کو مستقبل قریب میں شادی سے جوڑ کر ہی بے پناہ پر جوش تھا۔ وہ الماس پروین کی پانچ اولادوں میں سب سے چھوٹا اور لاڈلا بیٹا تھا۔ اس کی عمر اور ان کے بڑے پوتے کی عمر میں چند سال کا ہی فرق تھا۔
اس نے ہمیشہ اپنی مرضی ان سے منوائی تھی۔ ان کی اولاد میں وہی تھا جو اسکول کے بعد مزید تعلیم کے لیے ہاسٹل گیا تھا۔ وہ چیخ پکار ، غصہ یا دھمکی دے کر اپنی بات منوانے والا ضدی نہیں تھا بلکہ بڑے سلیقے اور طریقے سے وہی منوالیتا تھا جو اس کی خواہش ہوتی۔
ان کی اور حمدان کی غیر معمولی محبت کا اولین سبب تو یہ تھا کہ وہ سب سے چھوٹا تھا اور اس نے کم عمری میں ہی باپ کو کھو دیا تھا۔ سب نے باپ کا پیار دیکھا اور محسوس کیا تھا لیکن اس کے شعور سنبھالنے سے پہلے ہی ان کے شوہر کی وفات ہوگئی تھی اس لیے وہ اپنی جانب سے اس چھن چکی محبت کی تلافی بھی کرتی تھیں۔
’’ حمدان کا کمرہ دیکھ لو۔ ‘‘ اچانک انہوں نے اس کی سمت دیکھ کر کہا۔’’ بالی نے ٹھیک سے صفائی کی ہے یا نہیں۔ اس کی ضرورت کی تمام چیزیں وہاں ہونی چاہئیں۔ ‘‘
’’ جی۔ ‘‘ اس نے دھیرے سے کہا۔ انہوں نے سامنے رکھی رکابی دو انگلیوں سے دور کی۔
یہ اشارہ تھا کہ اب وہ برتن اٹھا سکتی ہے۔ آئیدٰن نے ہاتھ میں تھامی ٹرے میں ان کی پلیٹیں، گلاس اور چمچ اٹھا کے رکھے اور چلی گئی۔ پلیٹ کھسکانے جیسا معمولی عمل کرتے ہوئے بھی وہ حقارت اور ان کے نزدیک اس کے مقام کا تعین، اس تک پہنچا دیتی تھیں۔
ٹرے باورچی خانے میں رکھ کے وہ ان کے حکم کی تعمیل کے لیے اس بند کمرے کی جانب چل پڑی جو روز صفائی کے لیے کھلتا تھا لیکن آج اپنے مکین کی متوقع آمد کے لیے کھلا تھا۔
اندر اب بھی نمو اور مینو پردے تبدیل کر رہی تھیں۔ اسے دیکھ وہ دونوں مسکرائیں۔
’’ دیدی ! دیکھیں بھلا انہیں بدلنے کی ضرورت تھی کیا ؟ ‘‘ نمو نے پرانا اتارا گیا پردہ بمشکل ہاتھوں سے سنبھالتے ہوئے پوچھا۔ اس کے نام کے ساتھ ’ دیدی ‘ زیادہ سوٹ کرتا ہے، یہ یقین نمو کا ہی تھا جس نے اس کے لیے دیدی کی شروعات کی تھی۔ اس کے نام کی وجہ تسمیہ اور تاریخ جان لینے کے بعد کہ اس کے نانا نے اپنی بیٹی کا فارسی نام آئے تن رکھا تھا اور پھر نواسی کا اس سے ملتا جلتا ہم قافیہ آئیدٰن۔
’’ یہ نئے پردے وغیرہ بلکہ ساری تیاری خوشی کا اظہار ہے۔ ‘‘ اس نے مسکرا کے نمو کا حوصلہ بڑھایا جو بہنوں کے مقابلے میں کام چور تھی۔
’’ میں کچھ مدد کروں ؟ ‘‘ اس کا مدد کا ارادہ قطعی نہ تھا، یہ بس رسمی جملہ تھا۔
’’ ارے نہیں۔ بس ہوگیا، پکڑو۔ ‘‘ مینو نے چادر کھول کے پلنگ پر پھیلائی اور دوسرا سرا نمو کو پکڑنے کاکہا۔ اس نے پرانے پردے ہاتھ سے فرش پر گرا کے چادر تھامی۔ وہ ان سے کچھ فاصلے پر کھڑی انہیں چادر بچھانے کے بعد تکیے کے غلاف بدلتے دیکھتی رہی۔
اس سے قبل بھی وہ اس کمرے میں کئی بار آئی تھی۔ اور اپنے جذبوں سے باخبر ہوتے ہی وہ یہاں سے ایسے گزرتی اور چلتی تھی کہ کسی شے سے اس کے ہاتھ تو دور دوپٹا اور دامن بھی نہ مس ہو۔ جانے دیوار، میز، پردے، چادر، ان پر رہ جانے والا اس کا کون سا لمس چغلی کر بیٹھے، جانے اس کا دوپٹا کون سی گرہ کھول کے سرگوشی وہاں بکھیر دے۔
اس کے پاس بڑے خوف تھے جو اسے اس احتیاط پر مجبور کرتے تھے۔ اتنی احتیاط کے باوجود جس لمحے میں سارے اندیشے ایک ساتھ سچ ہوئے اور سارے خوف دم توڑ گئے، وہ اس کی بڑی معمولی غلطی کے کارن ہوا تھا۔
’’ کاش میں اس رات کمرے میں ہی رہتی ! ‘‘ اس نے اب بھی سوچا لیکن کہیں دل اس کاش پر خفا بھی ہوتا تھا کہ۔وہ غلطی ہی تو اب حاصل زیست تھی۔
’’ بس اب جب حمدان بھائی گھر آجائیں تب ان کے ادھر آنے سے پہلے وہ جلانا ہوگا۔ ‘‘
نمو نے کمر پر ہاتھ رکھ کے خود کو ذرا آگے پیچھے جھکاکے کمر کی ورزش سی کرتے ہوئے، دیوار سے لگی کنسول میز پر سنہری ٹرے میں رکھے رنگین منقش مرتبان کی طرف اشارہ کیا جو خوشبودار موم سے بھرا تھا۔
انہیں الماس پروین کی طرف سے بڑی مخصوص ہدایات تھیں جن میں یہ خوشبودار موم بتیاں جلانا بھی شامل تھا کہ حمدان کو کمرے میں مخصوص ہلکی خوشبو پسند تھی اور حمدان بھائی کی، الماس پروین جتنی پروا اور فکر ننھی نمو کو بھی تھی۔ گھر کے چھوٹے مالک پر اس کا ’ کرش ‘آئیدن اور وہ بہنیں جانتی تھیں۔
’’ ویسے انہیں ہفتہ بھر پہلے تو بتانا چاہیے تھا نا۔ ‘‘ مینو کمرے سے باہر لے جانے والا سامان باسکٹ میں رکھتے ہوئے گویا ہوئی۔
’’ ایک دن میں اتنا تھکا دیا۔ اب ساری رات جاگتے رہو وہ الگ۔ ‘‘ مینو کی ابتدائی خوشی اور جوش، کام کی زیادتی نے چھین لیا تھا۔ حمدان کی گھر آمد کا متوقع وقت آدھی رات کے بعد تھا۔
’’ میں تو مغرب کے بعد ہی گھر جا کرسو جاؤں گی تا کہ پھر رات میں اٹھ کے ادھر آجاؤں۔ ‘‘ نمو کے الگ منصوبے تھے۔
’’ حق ہا! مغرب کے بعد سوجاؤں گی ! ‘‘ مینو نے اس کی نقل اتاری۔
’’ چلو ورنہ ابھی بالی چیخنے لگے گی۔ ‘‘ اسے بڑی بہن کا خیال آیا جو سکینہ خالہ کے ساتھ باورچی خانے میں مصروف تھی۔
ان کے ساتھ باہر نکل کے اسے دروازہ بند کرنا پڑا کہ دونوں کے ہاتھ خالی نہیں تھے۔
اس نے الماس پروین کو اطلاع دی کہ کمرہ ان کی ہدایات کے مطابق تیار کر دیا گیا ہے۔ ان کی طرف سے جواب میں ایک ہنکار ملی جس میں چھپا تنفر بھرا تیر جانے اور کسی کو محسوس ہوتا بھی تھا یا وہ سب جان بوجھ کر نظر انداز کر دیتے تھے۔
الماس فاطمہ کی بڑی بیٹی سمیعہ جو قریب کے شہر میں تھیں، وہ حمنہ کے ساتھ پہنچ گئی تھیں۔
٭٭٭
دو ہفتہ قبل آئینہ فرینکفرٹ سے واپس آئی تھی جہاں پچھلے دو برسوں سے وہ ایک ہی پروجیکٹ پر ساتھ کام کر رہے تھے۔ جب گھر والوں کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے آنے کی اطلاع اسے بھی دی تو وہ خفا ہوگئی کہ وہ اس کے ساتھ نہیں آنا چاہتا تھا اس لیے بہانا بنا کے رکا تھا۔ اس نے زیادہ صفائی دینے کی کوشش کی نہ منانے کی بس ’’ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘ ‘ کہا تھا۔
وہ اس وقت کچھ سوچنا نہیں چاہتا تھا لیکن دل تو یونہی بدنام ہے ذہن اور سوچیں بھی کب ہمارے اختیار میں ہوتی ہیں۔ لینڈنگ میں ابھی آدھا گھنٹہ مزید تھا۔ اس نے ہاتھ باندھ کے سر پیچھے ٹکایا۔
اس پر وہ دونوں ادوار گزرے تھے جو کسی بھی دل ہارنے والے کا مقدر ہو سکتے ہیں۔ وارداتِ قلب کا واحد فریق ہونے کی کسک، محرومی اور لاحاصلی کی صداقت قبول کرلینے کے بعد وہ جاں فزا لمحہ اس کی زندگی میں بھی آیا جس کی وقوع پذیری کی دعائیں کہ کوئی اور بھی ان شعلوں سے لپٹ کے سکون محسوس کر رہا ہو جس میں ہم جل رہے ہوتے ہیں لیکن دوسری صورت حال بھی اس کے لیے خوشی کا سامان نہ بن سکی تھی بلکہ ان دو برس کے خود ساختہ ہجر میں آس لمحے نے اسے کبھی خوش اور مطمئن ہونے نہ دیا۔
اس دن سے پہلے جانے کتنی بار اس نے اس کندنی سبز آنکھوں والی لڑکی کو دیکھا تھا جو بلاشبہ اسے اس وقت بھی پیاری لگتی تھی لیکن یہ پسندیدگی ایسی تھی جو کسی بھی خوبصورت اور دلکش چیز کے لیے ہوتی ہے۔ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے کئی بار ان کا آمنا سامنا بھی ہوتا تھا۔ وہ زیادہ ترخاموش ہی رہتی۔ اس نے کم ہی اسے کسی سے گفتگو میں پہل کرتے دیکھا تھا۔ اسے ان کے یہاں آئے دو ڈھائی برس ہونے آئے تھے۔
اس بار جب وہ فائنل نتائج کے بعد ہاسٹل سے گھر آیا تو معمول کی طرح بھتیجوں اور اکلوتی بھتیجی کے لیے تحائف لایا تھا اور چوں کہ اسے علم تھا اس نے بھی دسویں کے بعد کالج جانا شروع کیا ہے لہٰذا اس نے ایمل کے لیے کالج بیگ لیا تو اس کے لیے بھی ایک بیگ خریدلیا۔
پورا دن وہ اسے کہیں دکھائی ہی نہیں دی آخر وہ سونے سے پہلے اس کا تحفہ دینے اس کے کمرے کے باہر تھا۔ وہ پہلی بار اس کمرے تک آیا تھا اور اس کے لیے یہ ایک بے ضرر اور عام سی بات تھی۔
دستک پر آئیدن نے دروازہ کھولا۔ سکینہ خالہ ان کی بیٹیوں اور کبھی کبھارسمیعہ کے علاوہ کوئی اس کے کمرے میں آتا نہیں تھا اور اس وقت تو قطعی نہیں، سو اس نے دروازہ کھولا تو حمدان کے سامنے گھبرائی صورت تھی۔ اسے دیکھتے ہی گھبراہٹ پر حیرت حاوی ہوگئی۔
’’ یہ۔ ‘‘ اس نے بیگ آگے کیا اور اچانک جانے کدھر سے سمیعہ نے آکے بیگ آچک لیا۔
’’ باجی ! ‘‘ ان کی آمد سے زیادہ ان کا بیگ جھپٹنے کا انداز اسے حیران کر رہا تھا۔
’’ حمدان ! کان کھول کر سن لو، اگر آئیدن کو کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے تو کبھی ادھر کا رخ نہیں کرنا اور نہ یہ سب۔ ‘‘ انہوں نے بیگ والا ہاتھ ہلایا۔
’’ باجی۔ ‘‘ اس کی حیرت میں اضافہ ہوا۔ آئیدٰن الگ ان کی بات سن کر سکتے میں تھی۔
’’ آئیدٰن ! ‘‘ انہوں نے اس کے گلابی گال پر ہاتھ رکھا۔
’’ بیٹا تم جاؤ اندر اور پریشان نہ ہو کچھ نہیں ہوا ہے۔ ‘‘ ان کے لہجے میں ذرا دیر پہلے والی تنبیہی اور آگاہی والا سٓر ندارد تھا۔ یہاں کے لوگوں میں، کبھی کبھی آنے والی سمیعہ باجی سے ہی اسے اپنائیت اور انسیت کا احساس ملا تھا۔
آئیدٰن نے سر ہلایا، ایک نظر حمدان پر ڈالی اور دروازہ بند کر لیا۔
’’ آؤ۔ ‘‘ وہ اس کا ہاتھ کھینچتے ہوئے اسے لاؤنج میں لے آئیں۔
’’ بیٹھو۔ ‘‘ اسے صوفے پر بٹھا کے وہ بھی ساتھ بیٹھ گئیں۔
سمیعہ باجی، اسلم بھائی کے بعد دوسرے نمبر پر تھیں۔ ان کے بعد عدنان بھائی اور پھر شازمہ آپی تھیں۔
’’ تمہیں۔ آئیدٰن پسند ہے ؟ ‘‘ ان کا خوف اتنا بڑا تھا کہ ان کے اندر اشاروں کنایوں اور گھما پھرا کے سراغ لگانے اتنا حوصلہ اور صبر بھی نہیں رہا تھا۔ آئیدٰن اس عمر میں تھی جہاں شباب بھی پر شباب ہوتا ہے اور حسن میں تو بے مثال تھی، ان کا ڈر بجا تھا۔
’’ ایسی تو کوئی بات نہیں۔ ‘‘ وہ بدک کے پیچھے ہوا کہ ان کے سوال کا مفہوم وہ بخوبی سمجھ گیا تھا۔ وہ بغور اس کے تاثرات دیکھ رہی تھیں۔
’’ شکر ہے۔ حمدان ! ‘‘ انہوں سے پورا رخ اس کی جانب کیا۔
’’ سوال جواب مت کرنا لیکن آج جو کہہ رہی ہوں اسے ہمیشہ یاد رکھنا۔ تمھاری فیلنگ اور نیت جو بھی ہو، آئیدٰن میں تمھاری ذرا سی دلچسپی بھی اس پر زندگی تنگ کر دے گی۔ ‘‘
’’ لیکن کیوں ؟ ‘‘ وہ آئیدٰن کی طرح پندرہ سال کا لڑکا نہیں تھا جو بلا حیل و حجت سب سن اور مان لیتا۔
’’ وہ سب تم نہیں سمجھو گے لیکن میں نے آج تک تمہیں بلا وجہ کوئی ہدایت دی ہے ؟ ‘‘ آخر میں انہیں اس کی جانب سے یقین دہانی پانے کے لیے اپنے ماضی کا سہارا لینا پڑا۔
وہ سب بہن بھائیوں میں معاملات، حالات اور رویوں کی زیادہ سمجھ رکھتی تھیں۔ ان کے مشوروں پر عمل کرتے ہوئے کوئی متامل نہیں ہوتا تھا۔ وہ عمر میں اس سے کافی بڑی تھیں، ان کی تین بیٹیاں تھیں، کوئی بیٹا نہیں تھا، وہ سب سے چھوٹا بھائی تھا، وجہ ان میں سے کوئی ایک تھی یا ساری جو ان کی حمدان کے لیے محبت ممتا میں لپٹی محسوس ہوتی تھی۔ یہ بھائی ان کے لیے بڑا خاص تھا۔
’’ آپ غلط نہیں کہہ رہی ہیں لیکن کون زندگی تنگ کرے گا ؟ ‘‘ اس بے ضرر لڑکی کے لیے کوئی برا سوچ بھی کیسے سکتا تھا وہ بھی اس کی چند معمولی عنایات کی وجہ سے ؟ وہ حیران تھا۔
’’ امی۔ ‘‘
’’ امی ؟ ‘‘
’’ ہوں، اور اب مزید سوال مت کرو۔ اس کے پیچھے لمبی ہسٹری ہے، بس آئندہ یوں بی ہیو کرو کہ آئیدٰن یہاں موجود ہی نہیں ہے، ٹھیک ہے ؟ ‘‘
ایک عام سی بات پر سمجھ دار بہن کا ایسا شدید رد عمل اور پھر یہ عجیب سی وجہ۔ انہیں علم ہی نہیں تھا انہوں نے اس رات آئیدٰن کو اس کے لیے کتنا خاص بنادیا تھا۔ جس کے خدشے انہیں ستا رہے تھے، ان کے اس عمل نے ان کے سچ ہونے کی بنیاد رکھ دی تھی۔
بہر حال اسے باجی پر اتنا بھروسا تھا کہ اس نے خودبخود اپنی ماں کے رویے پر غور کرنا شروع کیا اور جلد ان کے انداز سے ان میں آئیدٰن کے لیے چھپی نفرت بھانپ لی تھی اور یہ جان کر اسے جتنا دکھ ہوا اس پر وہ ششدر رہ گیا۔ یہ پہلا احساس تھا جس نے اسے چونکایا تھا۔
اس کے بعد وہ محتاط ہوگیا، خاص طور پر امی کی موجودگی میں لیکن آزادی چھنتے ہی انسان چور رستے ڈھونڈ لیتا ہے۔
جانے یہ رفتہ رفتہ پرورش پاکے ہونے والا حادثہ تھا یا اسی شب اس سفر کا آغاز ہوچکا تھا، اسے احساس مگر دھیرے دھیرے ہوا تھا۔
وہ جب بھی ہاسٹل سے گھر آتا، راستہ بھر قیاس کرتا رہتا، وہ اسے سب سے پہلے کہاں نظر آئے گی۔ لاؤنج میں امی کو چائے دیتے ہوئے، لان میں انہیں صبح کا اخبار دیتے ہوئے، ان کے کمرے میں ان کی الماری میں استری شدہ کپڑے رکھتے ہوئے یا راہداری میں ٹرے اٹھائے یا پھر قسمت مہربان رہی تو وہ اسے تنہا اپنے آپ میں گم یا پڑھائی کرتے ہوئے لان کے گوشے میں دیکھ سکے گا۔
گھر آنے کا سارا جوش اور خوشی آئیدٰن کے دیدار سے وابستہ ہو کے رہ گئی تھی تاہم اسے سمیعہ کی بات پر اتنا یقین تھا کہ اس نے کبھی اس کے قریب جانے یا اسے مخاطب کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔
وہ اکثر فجر کے بعد لان میں اپنی کتابیں لے کر بیٹھتی تھی اور اس نے بھی چند دنوں کے قیام میں فجر کے بعد جاگنگ کے لیے جانا شروع کر دیا۔ آتے اور جاتے وقت ایک اچٹتی سی نگاہ اس کی نئی آکسیجن تھی۔ محبت اپنے سارے رنگوں اور جزئیات کے ساتھ ساتھ ابتدا سے ہی حد درجہ محتاط تھی۔ اسے سمیعہ کی بات بھولتی نہیں تھی اور گزرتے وقت کے ساتھ آئیدٰن کی تنگ زندگی مزید تنگ نہ ہو، اس سعی میں وہ بڑا کامیاب رہا۔
کبھی کسی کو اس کے دل کی خبر نہ ہو سکی۔ ویسے بھی الماس پروین کا اس کے ساتھ جو رویہ تھا، گھر کے بچے اپنے والدین کی ہدایت پر آئیدٰن کے ساتھ فری نہیں ہوتے تھے اور اس نے تو دل کی بے ایمانی کے بعد سخت سے سخت پہرے بٹھا دیے تھے۔
اسے ہر قسم کے عتاب و عذاب سے بچانے کی خواہش کو جھٹکا اس وقت لگا جب اس سے چند سال چھوٹی بھانجی ناجیہ سے اس نے سنا کہ آئیدٰن کے لیے کوئی رشتہ آیا ہے۔ وہ یکایک سن ہوگیا تھا۔ آس پاس اچانک لایعنی آوازیں تھیں جنھیں اس کا ذہن ڈی کوڈ کرنے سے قاصر ہوگیا تھا۔
یہ سچ تو اس نے اب تک نظر انداز ہی کیا تھا۔
’’ آخر تمہیں اسے عذاب اور عتاب سے ہی بچانا ہے نا ! ‘‘ وہ مان جاتا لیکن اب ذہن ’ مگر کیوں ؟ ‘ کی تکرار جاری رکھتا۔
خیر اس رشتہ کی بات وہیں ختم ہوگئی کہ ابھی وہ پڑھ رہی تھی مگر حمدان کے لیے ایک نئی اذیت کا در کھول گئی۔ اگلی بار اس نے سنا خاندان سے ہی کسی نے رشتہ بھیجا ہے اور اس بار بھی انکار ہوگیا کہ امی مطمئن نہیں۔ وہ بلا کے حسن کی مالک تھی سو لوگوں کے لیے اس کا یتیم و یسیر ہونا یا سگے ماموں کی بے اعتنائی کوئی مسئلہ نہیں تھی۔
جب اس نے اپنے جذبات پوری ایمانداری سے قبول کر لیے تو ایک دن سمیعہ سے اپنی امی اور آئیدٰن کے انوکھے رشتے کی حقیقت پوچھ ہی لی۔
’’ ٹھیک ٹھاک تو پروپوزلز تھے، امی کیوں ’’نا‘‘ کہہ رہی ہیں ؟ ‘‘ ذرا دیر پہلے ناجیہ اپنی مما اور ممانیوں کے ساتھ اسی موضوع پر بات کر رہی تھیں۔ ان کے جاتے ہی اس نے سمیعہ سے پوچھا۔
’’ شاید امی نہیں کرنا چاہتیں اس کی شادی۔ ‘‘
’’ لیکن کیوں ؟ ‘‘ اس کے سوال پر وہ چپ ہوگئیں۔
’’ کم آن باجی ! ‘‘
اور انہوں نے اصل واقعہ کہہ سنایا۔
مکمل قصے کے بعد وہ دونوں کتنی دیر خاموش رہے۔
’’ امی کے لیے وہ آئیدٰن نہیں آئے تن ہے۔ وہ اسے فراز احمد کو ٹھکرانے کی سزا دے رہی ہیں۔ اگر وہ قبول کر لیتی تو ان کی طرح اس گھر میں آئیدٰن بھی مالکن ہوتی وہ اسی خیال کو جانے کسے باور کرا رہی ہیں خود کو، آئیدٰن کو یا آئے تن کی روح کو۔ امی کی سائیکی یہ ہی بن گئی ہے۔ تم فراز ماموں سے ان کی محبت جانتے ہو نا تو اسے نہ چھیڑو۔ ‘‘
’’ لیکن اس طرح کسی کی زندگی سے۔ ‘‘
اس کی بات انہوں نے درمیان میں کاٹ دی۔
’’ میں مناسب وقت اور مناسب رشتہ آنے پر مداخلت کروں گی۔ ابھی بے وقت چھیڑ کر خوامخواہ ایشو بنانا ٹھیک نہیں اور تم ان سب سے دور رہو۔ امی کا دماغ اس معاملے میں سینسیٹیو ہے۔ ماموں کا دکھ دیکھ رہے ہو نا، کیا کروارہا ہے ان سے، تمھارے متعلق انہیں شک یا غلط فہمی بھی ہوئی تو سوچ لو۔ اس بے چاری کا کیا کریں گی۔ ‘‘
’’ میرے بارے میں کیوں غلط فہمی ہوگی ! ‘‘ اس کے دل کا چور تھا کہ اس نے صفائی دی۔
’’ جب آئیدٰن کو گھر لانے کی بات چل رہی تھی تو کسی نے امی سے کہا تھا‘‘ وہ ماں کی طرح حسین ہے اگر تمھارے یہاں پھر وہی کہانی دہرائی گئی تو۔‘‘ اس پر امی نے بڑے فخر اور یقین سے کہا تھا ایسا کبھی نہیں ہوگا، ان کی اولاد ماں کے اشاروں سے اس کے دل کا حال سمجھنے والی ہے اور ماموں سے پیار کرنے والی ہے، وہ کبھی ایسی غلطی نہیں کرے گی۔ ‘‘
اور حمدان کو اپنا سانس رکتا محسوس ہوا تھا۔
آئیدٰن کا بی اے ہوتے ہی مزید اس قسم کی باتیں اس کے کانوں میں پڑیں لیکن کہیں بات نہیں بنی مگر اس نے یہ خسارہ قبول کر لیا کہ وہ ہمیشہ اس کی دسترس سے دور ہی رہے گی تب ہی خوش اور مطمئن رہ سکے گی۔ جتنا وہ اپنی امی اور ان کے آئیدٰن کے ساتھ رویے پرغور کرتا اسے سمیعہ کا تجزیہ صد فی صد درست محسوس ہوتا۔
ملازمت کے بعد اس کا آنا جانا کم ہوگیا تھا۔ وہ جب گھر جاتا خود کو ذہنی طور پر آمادہ رکھتا کہ گھر میں آئیدٰن کی شادی کی خبر سننے کی ملے گی لیکن ایسا کچھ نہ ہوا حتیٰ کے گھر میں اس کی شادی کی باتیں ہونے لگیں۔
ایک سمیعہ باجی تھیں جن سے وہ آئیدٰن کا ذکر کر سکتا تھا لیکن اس پیش روی میں اس کا اپنا راز افشا ہونے کا خطرہ تھا کہ ان کی زیرک نگاہی کا وہ قائل تھا اور سب سے زیادہ مشقت اب تک ان سے چھپنے میں ہی کرنی پڑی تھی۔
ایک دو دفعہ جب وہ اس کے پاس آئیں تو اس کے دفتر کی ساتھی آئینہ سے ملنے کے بعد الماس پروین نے اسے گھر پر مدعو کیا۔ وہ اس کے ساتھ دو بارگھر آئی۔ جلد ہی وہ گھر میں سب سے گھل مل گئی تھی۔ اب اسے گھر آنے کے لیے اس کی ضرورت نہیں رہی تھی، وہ خود بھی سب سے ملنے آجاتی تھی۔
سب کو ان دونوں کے ایک دوسرے کے ساتھ ملوث ہونے کا اس قدر یقین تھا کہ اس کی مرضی پوچھے بنا ہی الماس پروین اس کا رشتہ لے کر آئینہ کے گھر پہنچ گئیں۔ وہ سب اسے یہ سرپرائز دے کر اس سے جو توقع کر رہے تھے، اس نے بھی وہی رد عمل دیا۔ دنیاداری بہر حال دل کی د نیا سے الگ شے تھی، کم از کم اس کے لیے تھی !
کچھ فیصلے بس خانہ پری کے لیے کرنے پڑتے ہیں، اس نے بھی کر لیا لیکن اپنی منگنی والے دن ایک بار پھر اس کی دنیا بدل گئی تھی۔
ایئر ہوسٹس کی آواز پر وہ چونک کے سیدھا ہوا۔
٭٭٭
’’ ارے بیٹا! فون بھی نہیں کیا ؟ ‘‘ آئینہ کو دیکھ کر وہ سب خوش گوار حیرت میں گھر گئے تھے۔ جواب میں وہ محض مسکرا کے رہ گئی۔
’’ ایک ساتھ ہی آتے نا، ہفتہ یا کچھ دن ہی تو تھے درمیان میں۔ ‘‘ بڑی بھابھی نے سب کے ذہن میں مچل رہی بات کو آواز اور الفاظ دیے۔
’’ اس ٹائم حمدان کو چھٹی نہیں مل رہی تھی، یہ تو ابھی اچانک اپروو ہوگئی ہے۔ ‘‘ اس نے جھوٹ کا سہارا لیا۔
سارا گھر اپنی طرف سے چند دنوں بعد ان دونوں کی شادی کی امید اور انتظار میں تھا۔ وہ سب آئینہ کے والدین کے آنے کی توقع کر رہے تھے۔
کچھ دیر بعد آئینہ نے باجی کے کان میں جانے کیا کہا کہ وہ بہانے سے اسے اور الماس پروین کو لے کر ان کے کمرے میں آگئیں۔
’’ سب ٹھیک تو ہے بیٹا ؟ ‘‘ وہ جہاندیدہ خاتون تھیں۔ آئینہ نے کچھ کہنے کے بجائے سمیعہ کو دیکھا۔
’’ امی ! آئینہ کے کچھ تحفظات ہیں حمدان کو لے کر۔ ‘‘ انہوں نے احتیاط سے الفاظ چنے تھے۔ الماس پروین جو بڑے آرام و سکون میں تھیں یکایک چوکنی ہوگئیں۔
کمرے کے دوسرے گوشے میں اسٹینڈ لگائے کپڑے استری کرتی آئیدٰن نے بھی سر اٹھا کے دنیا کی خوش نصیب ترین لڑکی کو دیکھا۔ آئینہ کی آمد کے بعد انہوں نے ہی اسے اس کام کے لیے کمرے میں بھیجا تھا۔
’’ انہیں کیا تحفظات ہو سکتے ہیں بھلا ؟ ‘‘ اس نے واپس سامنے پھیلے دوپٹے پر بھاپ اڑاتی استری چلاتے ہوئے سوچا۔
’’ میں سن رہی ہوں۔ ‘‘ جب وہ دونوں چپ رہیں تو انہوں نے باری باری انہیں دیکھا۔
’’ آنٹی! کیا حمدان کو کوئی اور پسند تھا، آپ نے یہ انگنجمنٹ زبردستی کی تھی ؟ ‘‘ چند پل واضح تعجب سے اسے دیکھنے کے بعد وہ ہنس دیں۔
’’ بیٹا! یہ انگیجمنٹ اس لیے کی تھی کہ ہم سب کو لگا تھا آپ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور اگر اسے کوئی پسند ہوتا تو وہ ہمیں ضرور خبر کرتا اور ہم سب خوشی خوشی اسے قبول کر لیتے لیکن ایسا کچھ نہیں ہے۔ ‘‘ انہوں شفقت سے سمجھایا۔ ’’ اتنا لمبا عرصہ منگنی رکھنے کے لیے اسی لیے منع کرتے ہیں کہ وسوسے اور وہم ستاتے ہیں، ان پر توجہ نہ دو۔ ‘‘
’’ آنٹی یہ بھی تو ہو سکتا ہے وہ کسی کو پسند کرتا ہو لیکن وہ نہیں یا کوئی دوسرا مسئلہ ہو جو آپ سے کہہ نہیں سکا یا کیا پتا کوئی اور بات ہوئی ہو۔ ‘‘ آئینہ کے لہجے میں سچ جاننے کی تڑپ تھی۔
’’ بیٹا! آپ اوور تھنکنگ کا شکار ہو رہی ہیں۔ ‘‘ انہوں نے دل میں ایک لمبی آہ کے ساتھ ’ یہ آج کل کی نئی نسل ! ‘ کہنے کے بعد آئینہ کو مخاطب کیا تھا۔
’’ حمدان نے مجھ سے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی، کیا کبھی تم سے کچھ کہا ہے ؟ ‘‘ انہوں نے بیٹی نے دیکھا۔
’’ نہیں۔ ‘‘ سمیعہ نے نفی میں سر ہلایا۔
’’ مجھ سے نہ سہی لیکن اگر کوئی ایسی ویسی بات ہوتی تو وہ سمیعہ سے ضرور کہتا اس لیے آگے کی تیاری پکڑو، مستقبل کا سوچو۔ ہم سب ایک دو دن میں آتے ہیں اور شادی کی تاریخ طے کرتے ہیں بلکہ آج ہی سمدھن کو اپنی آمد اور مقصد سے آگاہ کردیتی ہوں۔ ‘‘ وہ حتمی لہجے میں کہہ کر کھڑی ہوئیں۔
’’ میں نماز پڑھ لوں پھر ساتھ کھانا کھاتے ہیں۔ ‘‘ اس دفعہ ان کی آواز ذرا بلند تھی اور آئیدٰن نے استری کا سوئچ آف کر دیا۔
وہ اٹھ کرغسل خانے میں گئیں اور اس نے ان کے مخصوص گوشے میں جائے نماز بچھائی پھر الماری سے نماز والا دوپٹا نکال کے جائے نماز کے قریب رکھی گول میز پر رکھا جہاں قرآن کریم کا نسخہ اور دیگر مسنون دعاؤں و اذکار کی کتب رکھی تھیں۔
’’ تم نے حمدان سے اس موضوع پر بات کی ؟ ‘‘ باجی نے آئینہ سے پوچھا۔ وہ دوبارہ سابقہ جگہ آن کھڑی ہوئی تھی۔
’’ کئی بار باجی ! ‘‘ اس نے ہاتھ اٹھا کے گرائے۔
’’ حمدان کا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ، ایسا کچھ نہیں۔ لیکن باجی آپ خود بتائیں، دو سال میں اس نے ایک باربھی اپنائیت کا احساس نہیں دلایا۔ وہ مجھے ویسے ہی ٹریٹ کرتا ہے جیسے باقی سب کولیگز کو اور کولیگز کویقین نہیں آتا کہ ہم انگیجڈ ہیں۔ ‘‘
’’ یہ تو ان کے کلچر اور ہماری روایات اور لمٹس کا فرق ہے نا آئینہ۔ ‘‘
’’ اس دور میں ہمارے ملک میں کوئی یہ پرانی روایتیں یاد نہیں رکھتا تو گوروں کے درمیان یہ لمٹس کسے یاد رہتی ہیں باجی۔ ‘‘ بات تلخ مگر جھوٹ بھی نہیں تھی۔
’’ میں لمٹس کراس کرنے کی بات نہیں کر رہی۔‘‘ اسے بھی اپنے بیان کے حد سے گزرنے کا احساس ہوا۔
’’ لیکن اپنائیت، انسیت، اٹیچمنٹ کا اظہار تو ہونا چاہیے نا۔ چلیں مانا پہلے کوئی فیلنگز نہیں ہوں گی لیکن جب یہ علم ہے کہ ہمیں ساری عمر ساتھ رہنا ہے تو دو سال میں کچھ تو بدلتا۔ اس کے اندر کوئی ایکسائٹمنٹ ہے نہ گرم جوشی اورمیں اس سے یہ سب ایکسپیکٹ کرتی ہوں اس لیے میرے ساتھ اس کا روٹین اور عام رویہ جیسا وہ سب کے ساتھ رواں رکھتا ہے، زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ ‘‘
’’ دیکھو، اب تم خود کہہ رہی ہو کہ یہ اس لیے محسوس ہورہا ہے کیونکہ تم ایکسپیکٹ کرتی ہو۔ کچھ افراد مختلف ہوتے ہیں، دیکھنا وہ تمہیں شادی کے بعد حیران کر دے گا۔ ‘‘ انہوں نے اس کا ہاتھ تھپتھپایا۔ آئینہ نے ایک گہرا سانس لیا۔
’’ پاس بیٹھا انسان جب بہت دور محسوس ہوتو اتنا بڑا فیصلہ کرتے ڈرلگتا ہے۔ حمدان یا تو بہت گہرا ہے کہ کوئی اس تک پہنچ نہیں سکا یا پھر وہ ان لطیف احساسات سے عاری ہے۔ ‘‘
آخری دوپٹا تہہ لگا کے رکھتے ہوئے اس کا ہاتھ تھم گیا۔ وہ بھی تو اس گہرائی تک دیر سے پہنچی تھی۔
’’ کبھی کبھی لگتا ہے جیسے اس نے خود کو کہیں کمٹ کرر کھا ہے اور بڑی سختی اور ایمان داری سے وہ کمٹمنٹ نبھا رہا ہے۔ ‘‘ سمیعہ پھر آئینہ کے قیاس رد کرتے ہوئے کچھ کہہ رہی تھیں مگراس کے کانوں میں ان کی نہیں کسی اور کی آواز گونجی تھی۔
’’ اوہ آئیدٰن ! ‘‘
کوئی حمدان کے لطیف احساسات سمجھتا بھی کیسے کہ یہ دو لفظ کتنے جذبوں سے بھرے تو اس کی تنہا شاید وہ تھی لیکن کیا وہ شب کسی خاموش وعدے کی گواہ بھی تھی ؟
سمیعہ اب بھی اسے قائل کرنے میں توانائی خرچ کر رہی تھیں کہ وہ زود حس ہو رہی ہے اور حمدان کے آنے کے بعد وہ خود اس سے بات کریں گی۔
آئیدٰن نے سوئچ بند کیا اور پلگ نکال کے استری اس کی جگہ پر رکھی پھر اسٹینڈ بند کر کے الماری اور دیوار کے درمیان والی درز میں کھسکا دیا۔ الماس پروین غسل خانے سے باہر آکر دوپٹا باندھ رہی تھیں۔
’’ کھانے کی تیاری کرو۔ ‘‘ اس کی سمت دیکھے بنا کہے اس چار لفظی فقرے کی ٹھنڈک اگر آئینہ محسوس کر سکتی تو اسی وقت سر جھٹک کے حمدان سے اپنی شکایات کو ’جینیٹکس ‘ کے سر ڈالتی اور ہنستی مسکراتی شادی کی تیاریاں کرنے دوڑ پڑتی۔
وہ سمیعہ اور آئینہ کے پاس سے گزر کر کمرے سے نکل گئی۔ اس گھر کے مکین اور ملنے جلنے والوں کے لیے اس کا وجود ایسا ہی غیر اہم اور ناقابل دید تھا۔
سب کے اصرار کے باوجود بھی آئینہ رکی نہیں۔
٭٭٭
اسلم بھائی کے بیٹے ارحم، اویس، عدنان بھائی اور ان کا بیٹا اشفاق اسے لینے ایئرپورٹ گئے تھے۔ باقی سب گھرمیں منتظر تھے۔
چوں کہ ایئرپورٹ سے واپسی ڈیڑھ دو بجے متوقع تھی لہٰذا سکینہ خالہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ گھر چلی گئی تھیں۔ ان کی ضرورت کی صورت میں انہیں فون کر کے بلالیا جاتا کہ ان کا گھر پاس ہی تھا۔
وہ کوئی جدی پشتی امیر نہیں تھے بلکہ اکرام اللہ نے اپنی محنت اور لگن سے یہ مقام حاصل کیا تھا جس کے بعد ان کے بچے پڑھ لکھ کے معاشرے کے قابل اور عزت دار افراد میں شمار ہوتے تھے۔ چند سال قبل دونوں بڑے بیٹوں نے ملازمت ترک کر کے اپنا کام شروع کیا تھا۔
ارادہ حمدان کا بھی یہ ہی تھا لیکن پھر اس نے بھائیوں سے گزارش کی کہ چند سال اسے اپنی تعلیم اور قابلیت کے مطابق ملازمت کرنے دیں پھر وہ ان کے ساتھ شامل ہوگا۔ اس کی مہارت آئی ٹی کے میدان میں تھی۔ کچھ وقت ملازمت کے بعد اسے بیرون ملک جانے کا موقع ملا تھا جو اس نے گنوایا نہیں۔
وہ اپنے بستر پر لیٹی چھت کو تک رہی تھی اور ساری حسیات تکیے کے پاس رکھے فون کی جانب تھیں جس میں ایک ہی نمبر سے کال آتی تھی اور وہ الماس پروین کا تھا۔ وہ کال کرتیں اور فون اٹھائے بنا رنگ ختم ہونے تک وہ ان کے سامنے کھڑی ہوتی۔ پہلے کالج جاتی تھی تو سہیلیوں سے بات چیت تھی لیکن کالج چھوڑنے کے چند دنوں بعد جیسے سب سے روابط ختم ہوگئے تھے۔ آج سے پہلے کبھی اس نے فون بجنے کا انتظار نہیں کیا تھا۔ باہر کا شور اور ہنگامہ اسے قافلے کے آمد سے باخبر کر چکا تھا۔
فون کی بیل تو نہیں بجی لیکن دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا تو سامنے سمیعہ کی چھوٹی بیٹی حمنہ تھی۔
’’ مما نے کہا ہے، آپ کے ساتھ مل کر سب کے لیے چائے بنا لوں۔ ‘‘
وہ دروازہ بند کر کے اس کے ساتھ ہولی۔ لاؤنج سے آوازیں آرہی تھیں۔ خوشی سے معمور، چہکتی اور مطمئن آوازیں !
اس نے چائے چڑھائی اور حمنہ بسکٹ، مفنز اور نمکین پلیٹوں میں نکالنے لگی۔ ذرا دیر بعد ہی ایمل دوڑتی ہوئی آئی۔ وہ گھر میں سب سے چھوٹی تھی، عدنان کی اکلوتی بیٹی اور الماس پروین کی واحد پوتی۔
’’ آپ یہاں کیوں آگئیں، کتنا مزہ آرہا ہے ادھر۔ ‘‘ اس نے چپس اٹھا کے منہ میں رکھا۔ ’’ چاچو سب کے گفٹس دے رہے ہیں۔ ‘‘
’’ شروع بھی کر دیا۔ ‘‘ حمنہ نے منہ پھلایا۔
’’ میں نے کہا بھی تھا ماموں سے میرے آنے تک وہ بیگ نہیں کھولنا۔ ‘‘
’’ وہ آپ کا ویٹ کررہے تھے لیکن کسی سے صبر نہیں ہو رہا تھا، آپ چلیں نا۔ آئیدٰن دیدی لے آئیں گی۔ ‘‘
’’ تم یہ لے جاؤ، میں آرہی ہوں۔ ‘‘ اس نے اسے بڑی ٹرے تھماتے ہوئے کہا۔
آئیدٰن اس وقت ادھر جانا نہیں چاہتی تھی لیکن اگر ابھی حمنہ چلی جاتی تو چائے اسے ہی لے جانا پڑتی۔
’’ چائے بھی ہو ہی گئی ہے۔ ‘‘ خلافِ عادت اس نے پہل کی۔
’’ آپ یہ دے آئیں تب تک میں نکال لیتی ہوں۔ ‘‘ اس نے کپ ٹرے میں قطار سے رکھتے ہوئے کہا۔
’’ اوکے۔ ‘‘ حمنہ دوسری ٹرے لیے چلی گئی اوراس نے اس کی واپسی تک حاضرین کی تعداد کے حساب سے گن کے کپ چائے سے بھر دیے۔
’’ آپ بھی آجائیں۔ ‘‘ سمیعہ نے ٹرے اٹھاتے ہوئے اسے دعوت دی۔ تنیوں بہنوں میں سب سے چھوٹی سمیعہ کا مزاج ماں کے مزاج کے قریب تر تھا۔ وہ بس سر ہلا کے مسکرادی۔
اس کے جانے کے بعد وہ اپنا کپ لیے وہیں اسٹول پر بیٹھ گئی۔ فون کاؤنٹر پر رکھا تھا۔ الماس پروین کو جانے کب اس کی ضرورت پڑ جائے، کہہ نہیں سکتے تھے سو اس نے سب کے کمروں میں چلے جانے اور لاؤنج میں خاموشی ہونے کے بعد ہی اپنے کمرے میں جانے کا سوچا۔
ایک گھونٹ لینے کے بعد وہ کپ کے کنارے پر انگلی پھیرتی بیٹھی رہی اور چائے یونہی ٹھنڈی ہوگئی۔
کچھ کہانیاں مسلسل بیان ہوتی ہیں، ان کا نہ نقطۂ آغاز ہوتا ہے نہ انجام۔ یہ بھی ایسی ہی رواں داستان تھی جس میں انگلیوں پر گنے جا سکے اتنے لفظوں کی گفتگو اور چند روبرو ملاقاتیں ہی تھیں لیکن ایک لامتناہی سلسلہ تھا خاموش احساسات اور جذبات کا، لحظہ بھر پڑنے والی نظر میں چھپی بے شمار خواہشوں اور نہ ختم ہونے والے خیال و تصور کا۔ اسے یاد نہیں تھا کب وہ اتنا اہم، سب سے اہم ہوا تھا، شاید اس ٹھنڈے چاولوں کی پلیٹ کے ساتھ ہی تاہم اسے دیر سے سمجھ میں آئی اور اس سے بھی تعبیق سے اس نے یہ قبول کیا۔
’’ لگتا ہے بیٹے کی آمد کی خوشی میں آج وہ مجھے بھول گئی ہیں۔ ‘‘ جانے کتنی دیر بعد اس نے چائے سنک میں انڈیل کے کپ دھوتے ہوئے سوچا۔
فون اٹھا کے جانے ہی لگی تھی کہ حمنہ خالی کپوں کی ٹرے لیے اندر آئی۔
’’ نانو نے بلایا ہے آپ کو، وہ دراصل فون کمرے میں بھول گئی ہیں۔ ‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے اطلاع دی۔
آئیدٰن سر ہلاتی لاؤنج کی سمت چل پڑی جہاں الماس پروین، ان کے دونوں بیٹے، بہوئیں، ان کے تین بیٹے، ایک بیٹی، بڑی بیٹی اور نواسی کے ہمراہ سب سے چھوٹے اور چہیتے بیٹے کے ساتھ موجود تھیں۔ چھوٹی شازمہ نہیں آ سکی تھی۔ اگلے ایک دو دن میں اس کی آمد متوقع تھی۔
دور سے ہی کچھ قالین پر، کچھ صوفے پر بیٹھے، کھلے بیگ سے نکلا سامان پھیلائے افراد اسے نظر آرہے تھے لیکن اس نے ایک جھلک چرانے کی بھی کوشش نہیں کی اور دبے پاؤں چلتی الماس بیگم کی کرسی کے قریب جا کر کھڑی ہوگئی۔ اس نے کبھی خود کو بہکنے یا خواہش کے آگے گھٹنے ٹیک دینے کی رعایت نہیں دی تھی۔
اس کی موجودگی کا احساس ہوتے ہی انہوں نے اشارے سے اسے قریب ہونے کہا۔ اس شور شرابے میں ان کی بات سننے کے لیے وہ ان کے قریب جھک گئی۔
’’ یہ دونوں بیگ حمدان کے کمرے میں پہنچا دو اور کینڈلز جلا دینا۔ ‘‘ ان کا اشارہ ایک جانب رکھے دو بڑے ٹرالی بیگوں کی جانب تھا۔
ذرا دیر وہ اسی وضع میں ٹھہری رہی کہ آیا وہ مزید ہدایات دیں گی لیکن جب وہ مسکرا کے سامنے دیکھنے لگیں تو وہ بھی سیدھی ہوگئی۔ کمان سی حالت سے تیر بنتے ہوئے اس کی نگاہ اس چہرے پر پڑ ہی گئی، پورے دو سال ڈیڑھ ماہ اور دس بعد۔
٭٭٭
دیوار کے پاس کھڑے بیگ کے دستے کھینچ کے وہ اس کے کمرے کی جانب چل پڑی۔ کوئی اور متوجہ نہیں تھا ورنہ روکتا ضرور یا اس کی مدد کی خاطر کم سے کم ایک بیگ خود لے لیتا اور جس کا رواں رواں متوجہ تھا، اس نے اس کے معاملات میں مداخلت خود پرممنوع کررکھی تھی۔
دروازہ کھولنے کے بعد اس نے باری باری ایک ایک بیگ کھینچ کر اندر لیا اور دروازہ کھلا چھوڑ دیا۔ دونوں بیگ پلنگ کے ساتھ والی دیوار سے لگا کر کھڑے کرتے ہوئے وہ بے خیال سی بیگیج ٹیگ ہاتھ میں لے کر دیکھنے لگی۔
کچھ دیر بعد خود ہی اپنی بے خودی کا احساس ہوا اور وہ جھٹ ٹیگ چھوڑ کے دور ہوئی جیسے پتا نہیں کیا گناہ سرزد کر بیٹھی ہو۔
اتنی جلدی سب کے درمیان سے اٹھ کے ادھر آنا ممکن تو نہیں تھا پھر بھی وہ عادتاً محتاط تھی۔ وہ پلٹ کے کنسول میز کے پاس آئی۔ شیشے کے خوبصورت نقش والے چھوٹے سے مرتبان میں حرارت سے خالی زردی مائل سا موم منجمد تھا۔
سمیعہ کی منجھلی بیٹی ناجیہ نے کینڈل میکنگ شوقیہ شروع کی تھی اور پھر یہ کام اتنا پسند آیا کہ سنجیدگی سے اسے اپنا پیشہ بنالیا۔
اس نے خوشبو دار موم بتی کا پہلا تحفہ اپنے ماموں کو دیا تھا اور بھانجی کے بعد انہیں استعمال کرنے کا دوسرا شوق ماموں کو لاحق ہوا تھا۔ دراز سے لائٹر نکال کر اس نے موم کی سطح کے اوپر گردن نکالے جلنے کے لیے اپنا آپ پیش کر رہی ڈور میں شعلہ بھڑکا دیا۔ ونیلا کی نہایت ہلکی اور مسحور کرنے والی مہک کمرے کو بھرنے لگی۔ یہ کیک جیسی میٹھی اور تیز نہیں بلکہ دھیمی اور مسکن تھی۔
گھر میں رہتے ہوئے سب ہی باتیں اس کے کانوں میں پڑتی تھیں۔ حمدان نے اس مخصوص مہک کے لیے ناجیہ کی کتنی کوششیں رد کی تھیں پھر کئی ’ ٹرائل ‘ کے بعد اس خوشبو کو پاس کیا تھا۔
آج سے پہلے اسے کبھی خیال نہیں آیا تھا لیکن اس وقت خوشبو نے جیسے دل و ذہن میں جھماکا کیا۔
چھوٹی بھابھی ایمل کی سالگرہ کے دن کیک بنا رہی تھیں۔ باورچی خانے میں الماس بیگم کا کھانا بنانے کے علاوہ وہ اکثر کام کی زیادتی یا وقت کی کمی کی صورت میں سکینہ خالہ اور ان کی بیٹیوں کا ہاتھ بٹا دیتی تھی۔
وہ بھی ایسا ہی دن تھا سالگرہ کے اہتمام میں بن رہی بریانی، قورمے اور کباب کی تیاری میں سب ہی بھاگ بھاگ کر کام کر رہے تھے۔ وہ سلاد اور رائتہ بنارہی تھی۔ چھوٹی بھابھی کے ہاتھ سے ونیلا ایسینس کی شیشی پھسلی، انہوں نے گرتی شیشی پکڑنے سنبھالنے کی کوشش کی اور وہ جانے کیسے پاس کھڑی آئیدٰن نے دوپٹے اور دامن پر الٹ گئی۔ فرش پرگرنے سے پہلے شیشی اپنے لوازمات اس پر خالی کر چکی تھی۔ ونیلا کی میٹھی اور تیز خوشبو سارے باورچی خانے میں بھر گئی۔
اس نے ہاتھ روک کے وہیں سنک میں دوپٹا اور کرتے کا دامن دھویا تاکہ داغ نہ لگے۔
’’ انہیں فوراً اتار کے ڈٹرجنٹ میں ڈال دو۔ ‘‘ بھابھی نے مشورہ دیا۔
’’ جی۔ ‘‘ اسے بھی یہی مناسب لگا۔ وہ باورچی خانے سے باہر نکلی ہی تھی کہ فون بجنے لگا۔ اس نے دوپٹا اور دامن مزید قوت لگا کے نچوڑا، تین چار بار ہوا میں جھٹکا اور جب یقین ہوگیا کہ ان سے پانی کی بوندیں نہیں ٹپکےں گی تو الماس پروین کے پاس پہنچی۔ اس کے وجود سے ونیلا کی ہلکی مہک اب بھی آرہی تھی۔
’’ مینو کو لے کر جاؤ اور حمدان کے روم کی صفائی کردو ‘‘ اس کی جانب دیکھے بنا انہوں نے حکم دیا۔ اس کا مطلب تھا وہ آج آرہا تھا۔۔
اسے گیلے کپڑے بھول کر مینو کے ساتھ جانا پڑا۔ مینو تیزی سے ہاتھ چلا رہی تھی۔ اسے بھی احساس تھا باورچی خانے میں کافی کام ادھورا ہے۔
’’ آپ چادر اور غلاف بدل دیں گی پلیز۔ ‘‘ جب اس نے التجا کی۔
’’ میں کر لیتی ہوں۔ تم جاؤ۔ ‘‘ وہ مسکرا کے مان گئی۔ یہ پہلا اور آخری کام تھا جو اس نے اس کمرے میں کیا تھا۔
چوں کہ حمدان فی الوقت گھر میں موجود نہیں تھا اس لیے وہ اپنی رفتار سے کام کر رہی تھی۔ چادر بچھا کے اس نے تکیے کے غلاف بدلے اور میلی چادر اور غلاف لے کر باہر آگئی۔ کچھ دیر بعد یاد آیا کہ وہ فون بھول گئی ہے۔ واپس کمرے میں آکر فون ڈھونڈا جو پلنگ کے نیچے چلا گیا تھا۔ فون لے کر وہ کھڑی ہوئی تو دروازے میں حمدان کھڑا تھا۔ وہ تیزی سے دروازے کی طرف بڑھی اور رک گئی۔ راستہ مسدود تھا۔ حمدان ایک سمت ہوا اور وہ اس کے بازو سے گزر کر چلی گئی۔
’’ ونیلا ! ‘‘ وہ دھیرے سے بڑبڑائی اور باقی دو موم سے بھرے مرتبان کے کناروں پر انگلی پھیری۔
اچانک ہوا کے یخ جھونکے نے کھڑکی سے اندر آکر شوں شاں کا شور مچایا اور اس نے بدن میں بھری ٹھنڈ کے جواب میں بے ساختہ ہاتھ باندھ لیے۔ اسے یاد آیا کہ وہ کافی دیر سے یہاں موجود ہے۔ اس خیال کے بعد وہ بتیاں بجھا کے تیری سے اپنے کمرے میں آگئی۔
جب اس نے اپنے کمرے کا دروازہ بند کیا تو لاؤنج سے آوازیں آرہی تھیں۔ کیا پتا، چائے کے اگلے دور کی طلب ہو تو پھر اس کے دروازے پر دستک ہو۔ اس بار وہ بستر پر لیٹی تو ذرا دیر قبل کی طرح اس کا دھیان متوقع بلاوے کی طرف نہیں تھا۔ اس کی سبز آنکھیں بھیگی بھیگی سی تھیں۔
٭٭٭
چار بجے جب وہ سب کے درمیان سے اٹھا تو سمیعہ اس کے ساتھ کمرے تک آئیں۔
’’ آئینہ اور تمھاری لڑائی ہوئی ہے ؟ ‘‘
’’ نہیں۔‘‘ وہ اس سوال کی امید رکھتا تھا لیکن اتنی جلد نہیں۔
’’ حق ہا ! ‘‘ انہوں نے لمبا سانس آزاد کیا۔ ’’یعنی لڑائی سے بڑی بات ہے ورنہ تم پوچھتے، میں یہ سوال کیوں کر رہی ہوں۔ ‘‘
وہ دھیرے سے ہنسا۔
’’ مجھے آئینہ کے فضول اندیشوں کا علم ہے، آپ زیادہ جاسوس نہ بنیں۔ ‘‘
’’ یعنی اس بار شہنائیاں بجوا کے جاؤگے۔ ‘‘ ان کی فکر کسی قدر کم ہوئی۔
’’ یہ تو آپ سب طے کریں گے۔ شہنائیاں، ڈھول یا کچھ اور۔ ‘‘ اس نے اصل جواب گول کرتے ہوئے کمرے کا دروازہ کھولا۔
’’ آں ! ‘‘ سمیعہ نے لمبی سانس اندر کھینچی۔ ’’امی کتنا خیال رکھتی ہیں۔ ‘‘ ان کا اشارہ۔ استقبال کر رہی خوشبو کی طرف تھا۔ اس کے چہرے پر تشکر بھرا تبسم بکھر گیا۔
’’ آرام کرو، شب بخیر۔ ‘‘ انہیں بھی اب نیند آرہی تھی۔
’’ شب بخیر۔ ‘‘ وہ چلی گئیں اور حمدان اندر آیا۔
دروازہ بند کر کے اس نے بتیاں نہیں جلائیں۔ ہلکی سی سنہری روشنی اور دریچے سے آرہی چاندنی کی مہربانی تھی کہ کمرے کی ہر شے دکھائی دے رہی تھی۔ دروازے کے پاس رک کے ہی اس نے پہلے کنسول میز پر دھری جلتی موم بتی کو دیکھا پھر دیوار سے لگے بیگوں کو۔
کئی بار ہم خود کو کچھ زیادہ ہی بہادر اور سمجھ دار سمجھ لیتے ہیں اور اس سے بڑی غلطی دل اور جذبات کو زنجیریں ڈال کے زیر کرلینے، ان کی بغاوت کچل دینے کا زعم پال کے کرتے ہیں اور وہ یہ دونوں غلطیاں منگنی والی شب سے پہلے بڑی کامیابی سے کر رہا تھا۔
آگے جا کے اس نے بیگ اٹھا کے پلنگ پررکھا اور کھول کر تبدیل کرنے کے لیے کپڑے نکالے۔ موسم سرد تھا اور اب نیند بھی آرہی تھی لیکن وہ نہانے چلا گیا۔ باہر نکل کے شیشے کے سامنے بال تولیے سے رگڑتے ہوئے اس کی نظر عکس میں اپنے پیچھے پڑی۔ اس نے پلٹ کے دیکھا اور کنسول میز کے پاس آیا جہاں ٹرے کے اس طرف فون دھرا تھا۔ اس نے پہلے ہتھیلی گھما کے موم بتی بجھائی اور مرتبان ڈھانکا پھر فون اٹھایا۔ اسے دیکھے، کھولے بنا بھی علم تھا کہ وہ کس کا فون ہے۔ فون مقفل نہیں تھا۔ کچھ دیر وہ یونہی ہاتھ میں لیے کھڑا رہا پھر واپس اسی جگہ رکھ دیا۔
٭٭٭
الماس پروین کے بھائی فراز احمد کو اپنی جوانی میں وکالت کے ساتھ ساتھ نیا نیا شاعری اور فارسی سیکھنے کا شوق چرایا۔ اپنے ٹوٹے پھوٹے، خام اشعار کی صحت یابی کے لیے انہوں جس سے بھی ایک استاد اور اصلاح کار کا پوچھا سب نے انہیں کریم الدین کا پتا بتایا۔ کریم الدین کی پنساری کی دوکان تھی۔ طب پڑھ رکھا تھا یا بزرگوں سے سیکھا تھا جو اب وہ جڑی بوٹیوں سے خود بھی مریضوں کا علاج کرتے تھے۔ ان کے پاس تعلیم کی کوئی سند نہیں تھی لیکن مطالعے کا شوق اور شاعری کا ذوق رکھتے تھے، خود بھی فارسی اشعار کہتے تھے۔ شہر کے بہت سے نئے شاعر اصلاح اور رہنمائی کے لیے ان کے پاس جاتے تھے اور نوجوانوں میں یہ ذوق و شوق دیکھ کر وہ بہت خوش ہوتے اور پورے جوش سے ان کی مدد کرتے تھے۔ وہ اپنے شاگردوں میں استاد جی کے نام سے مقبول تھے اور ان کے جاننے والوں اور اپنے محلے میں وہ غربت کے باوجود بڑے محترم اور باعزت تھے۔
آئے تن ان کی بیٹی تھی جسے اپنے ابا کی طرح شاعری سننے کا اور پڑھنے کا شوق تھا۔
فرازاحمد، آئے تن کو دیکھتے ہی دل ہار بیٹھے تھے۔ اپنے نام کی طرح جس کا حسن بھی یکتا تھا۔ بھورے بال، کندنی سبز آنکھیں اور گلابوں کی ہلکی سرخیوں کو مات دیتی رنگت پر کسی ماہر بت تراش کے ہٓنر کا ثبوت جیسے نقوش۔ پہلی نظر ہی انہیں بت بنا گئی تھی۔
انہوں نے والدین سے پہلے بہن سے حال دل بانٹا اور انہوں نے بہن ہونے کا حق ادا کر تے ہوئے والدین کو منا لیا جو آسان نہیں تھا کہ ان کے اور آئے تن کے خاندان کا کوئی میل نہیں تھا۔ ان کے نزدیک اپنے والدین کو منا کر انہوں نے بھائی کے لیے محبت کی جنگ جیت لی تھی۔ اب فراز احمد کی خوشیوں میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔
انہیں کیا کسی کو بھی شک نہیں تھا کہ فراز احمد کے رشتے کو انکار ہو جائے گا۔ آئے تن کا رشتہ بچپن سے کزن بابر کے ساتھ طے تھا جو ان ہی کے ساتھ رہتا تھا۔
اس جواب سے ان کے والدین مطمئن ہوگئے تھے یہ باب ہمیشہ کے لیے بند ہوا لیکن بھائی کی منتیں اور بے قراریاں دیکھ کر وہ خود آئے تن سے بات کرنے پہنچیں۔ انہیں یقین تھا وہ بھائی کا حالِ دل سنا کر اسے قائل کر لیں گی۔ انہیں لگتا تھا آئے تن سے پوچھے بنا، اسے اس رشتے کا بتائے بغیر ہی کریم الدین نے انکار کر دیا ہے۔
’’ آپ سچ کہہ رہی ہوں گی لیکن میری شادی طے ہوچکی ہے۔ ‘‘ اس کے حسن نے انہیں بھی مبہوت کر دیا تھا۔
’’ ہوئی تو نہیں ہے نا اور فراز جیسی محبت تمہیں کوئی نہیں دے سکتا۔ وہ تمہیں ہاتھ کا چھالا اور دل کی رانی اور اپنے عالیشان گھر کی ملکہ بنا کے رکھے گا پاگل ہے وہ تمھارے پیچھے، کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دے گا، تمھارے منہ سے نکلنے سے پہلے ہر خواہش پوری ہوگی تمھاری۔ ‘‘ انہوں نے سارے لالچ ایک جملے میں سموئے۔ ان کی بات پر وہ دھیمے سے مسکرائی تھی۔
’’ اگر ایسا ہے تو ان سے کہیں جس سے میری شادی طے ہے میں بھی اس کے پیچھے پاگل ہوں، وہ سمجھ جائیں گے۔ ‘‘
جب انہوں نے بابر کو دیکھا تو وہ کہیں سے بھی فراز سے بہتر نہیں تھا۔ یہ دونوں کی پسند سے ہوا رشتہ تھا۔ وہ کوئی چھوٹی موٹی ملازمت کرتا تھا، ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ انہیں اس حسین اور مغرور لڑکی پربہت غصہ آیا۔ انہیں لگا وہ اس طرح فراز احمد کو تڑپا ترسا کر اپنی انا کی تسکین کر رہی ہے، اس سے اس کا غرور مطمئن ہو رہا ہے۔
فراز احمد اس قدر دل برداشتہ ہوئے کہ ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ اور اس کے مہینہ ڈیڑھ مہینہ بعد آئے تن کی شادی ہوگئی۔
سب نے سوچا تھا چند دن بعد محبت کا خمار اور بخار اترے گا تو لوٹ آئیں گے لیکن وہ بس والدین کی وفات پر آئے۔ کسی کی شادی میں بھی شامل نہیں ہوئے اور ان سب کی ذمہ دار آئے تن تھی۔ اس نے نہ صرف ان کا بھائی دور کیا تھا بلکہ اسے سراپا بدل دیا تھا۔
کچھ سال بعد جب انہوں نے وہیں کینیائی مسلم خاتون سے شادی کرلی تو وہ بری طرح ٹوٹ گئیں۔ کہاں وہ ایک حسین کے اسیر ہوئے تھے اور اب ان کا دل اور طبع نازک اس قدر جذبات اور احساسات سے عاری تھے کہ وہ ایک سیاہ فام سے شادی کر بیٹھے تھے۔ انہیں لگا ان کا بھائی خود کو محبت کی لاحاصلی کی سزا دے رہا ہے، خود سے ہی اذیت بھرا انتقام لے رہا ہے۔ آئے تن سے ان کی نفرت بڑھ گئی جو وقت کے ساتھ بڑھتی گئی۔ ایک عام سے انسان کے لیے جس نے ان کے ہیرے جیسے بھائی کو ٹھکرایا تھا۔ انہیں بھائی کا دکھ اور ویران دل جتنا یاد آتے، آئے تن کے لیے جذبات اتنے ہی منفی ہوتے جاتے۔
پہلے انہیں بابر کی وفات کی خبر ملی اور اس کے کچھ وقت بعد آئے تن کی۔ انہیں علم تھا کہ اس کی ایک بیٹی ہے۔ سال ڈیڑھ سال بعد پتا چلا کہ آئے تن کے والد بہت زیادہ بیمار ہیں۔ اسی دوران برسوں بعد فون پر انہوں نے فراز احمد کی آواز میں آئے تن کا نام سنا۔
’’ آپا آئے تن کی بیٹی اس کے بھائی کے گھر بڑے برے حال میں ہیں، استاد جی کا بیٹا ان جیسا نہیں اور ان کی زندگی کا کوئی بھروسا نہیں اگر آپ اسے گھرلے آئیں یا کوئی بہتر انتظام کر دیں تو مجھ پر بڑا احسان ہوگا۔ ‘‘
ایک بار پھر وہ بھائی کی بات ٹال نہیں سکیں اور بھائی کی محبت میں، اس کی خواہش پوری کرتے ہوئے ان کی نفرت کو نشانہ مل گیا۔ فراز احمد کی یہ التجا ان کے سارے خیالات کی تصدیق تھی کہ وہ آئے تن کا دیا زخم دل سے لگائے ہیں۔
پہلی بار جب انہوں نے آئیدٰن کو دیکھا تو گنگ رہ گئیں۔ انہیں لگا ان کے سامنے آئے تن کا لڑکپن ہے۔ وہ اپنی ماں کا پرتو تھی۔ وہی گلابی رنگت کہ ہاتھ لگانے سے میلی ہونے کا خدشہ ہو، کندنی سبز آنکھیں، سلیقے سے تراشے گئے نقوش، سحرزدہ کرنے والا تبسم۔ وقت کے ساتھ اس کے انداز، چال ڈھال سب کچھ آئے تن جیسے ہوتے گئے۔ مانو وہ آسے ہی جوان ہوتے دیکھ رہی تھیں۔ اسے دیکھ کر انہیں لگتا سامنے وہی ہے، ان کے ہیرے جیسے بھائی کو، اس کی ہمراہی اور ایک پر آسائش زندگی کو ٹھکراکے ان کے فراز احمد کو ان سے دور کرنے والی، فراز احمد کے دکھ اور ان کے بن باس کی وجہ اور ہر گزرتے پل کے ساتھ اس لڑکی کے لیے ان کا دل پتھر ہوتا گیا۔ پہلے پہل انہوں نے ان احساسات سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی کہ وہ بچی ہے، معصوم ہے مگر وقت کے ساتھ جب وہ دوسری آئے تن میں ڈھلتی گئی تو ان احساسات کو جھٹکنا ناممکن ہوگیا۔ اس کی موجودگی ان کے بھائی کے ہرے زخموں کا ثبوت تھی ورنہ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں زندگی گزارتے فراز احمد کو کیا پڑی تھی۔
انہیں بھائی کی بات اور خواہش کا مان بھی رکھنا تھا کہ وہ لڑکی دربدر نہ ہو، محفوظ رہے، اسے پناہ گاہ میسر ہو، وہیں اپنی نفرت اور اس کی ماں سے ملا دکھ بھی نہ کم ہوتا تھا نہ بھولتا تھا۔ برسوں بعد بھائی نے دوسری بار ان سے کچھ مانگا تھا پہلی دفعہ تو وہ ناکام رہی تھیں اور اس بار وہ چاہتی تھیں تو بھی انہیں مایوس نہیں کر سکتی تھیں۔ ان دو متضاد اور مشکل احساسات میں توازن رکھتے رکھتے ان کا رویہ اس کے ساتھ یوں ہوگیا کہ انہوں نے اس کی مادی اور دنیاوی ضرورتوں میں کوتاہی نہیں کی لیکن اسے کوئی جذباتی سہارا دیا نہ جذباتی رعایت اور سہولت دی۔ اس کی حیثیت، مقام اوراپنی نفرت ہر ہر قدم اور ہر عمل سے اسے باور کروائی۔
اسے اپنی ہر نظر اور انداز سے سمجھایا کہ ان کی نظر میں وہ بھی ان حسرتوں اور محرومیوں کی حق دار ہے جو اس کی ماں کی وجہ سے ان کے بھائی کا مقدر بنی تھی۔ خوشی اور دل کے سکون پر اس کا کوئی حق نہیں تھا نہ کسی الفت بھری رفاقت کا۔
٭٭٭
اگلے دن سب ہی دیر تک سو رہے تھے لیکن الماس پروین سب سے پہلے اٹھ گئی تھیں۔ وہ لان میں نکلیں تو آئیدٰن وہیں ٹہل رہی تھی۔ انہیں دیکھ کر وہ ٹھٹھک گئی۔ اس کا خیال تھا، ان سمیت کوئی بھی اتنی جلدی نہیں جاگے گا۔
’’ ناشتہ۔ ‘‘ انہوں نے تنفر بھرا ایک لفظی حکم جاری کیا اور وہ باورچی خانے میں آگئی۔
اپنے سارے کام انہوں نے جب اس کے سپرد کیے تو سب ہی حیران تھے کہ گھر میں سکینہ خالہ پکانے پر مامور تھیں۔ یہ بات انہوں نے اس سے نہیں سکینہ خالہ سے ہی کہی تھی۔
’’ اب سے کچن کے میرے کام تم نہیں یہ کرے گی۔ ‘‘ ان کا اشارہ بلاوے پر قریب کھڑی آئیدٰن کی سمت تھا۔
’’ آٹا گوندھنے سے لے کر میرے لیے سبزی گوشت یہ ہی صاف کرے گی اور پکائے گی بھی۔ ہفتہ بھر میں اسے سب سکھا دو۔ ‘‘
وہ شوقیہ ہی باورچی خانے میں سکینہ خالہ اوربالی کا ہاتھ بٹاتے ہوئے کافی کچھ سیکھ چکی تھی۔ تاہم اس کے بعد اس کی باقاعدہ ٹریننگ ‘ شروع ہوئی تھی۔
جب اس نے ناشتے کی ٹرے میز پر ان کے سامنے رکھی تو ہال میں ان کے علاوہ حمدان بھی موجود تھا۔ وہ پلٹ ہی رہی تھی کہ اٹھ کے اس کی طرف بڑھ چکے، چار قدم دور حمدان کی وجہ سے رک گئی۔ پہلی بار اس پر گھبراہٹ سوار ہوئی۔
’’ یہ شاید کمرے میں رہ گیا تھا۔ ‘‘ اس نے آگے آکر فون میز پر رکھا تو وہ چونکی۔ اسے تو یاد بھی نہیں تھا کہ فون اس کے پاس نہیں ہے۔
’’ اچھا ہی ہوا، میں نے آج فون نہیں کیا ورنہ حمدان کی نیند خراب ہوتی۔ ‘‘ انہوں نے لہجے سے ہی اسے اس کا قصور وار ٹھہرایا جو ہوا ہی نہیں تھا۔
اس نے فون اٹھاتے ہوئے معذرت خواہانہ انداز میں فون اٹھایا اور چوں کہ اس کی غفلت کی وجہ سے فون اس تک پہنچانے کی تکلیف وہ اٹھا چکا تھا اورنیند خراب ہونے کی تکلیف سے بچ گیا تھا، اس نے سب کی معافی اس سے بھی مانگ لی اور جانے کیسے آج اس کی نظر حمدان کی سمت اٹھ گئی۔
’’ سوری۔ ‘‘ اس میں آخرالذکر کی بھی معذرت تھی۔
حمدان نے کچھ کہا نہیں لیکن آج وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے مسکرایا تھا۔ آئیدٰن رفتار پکڑ چکی دھڑکنوں پر یوں گھبرائی مانو آواز کمرے میں گونج رہی ہو۔
’’ پہلی بار ‘‘ سب کے لیے اور سب کا ہوتا ہی ہے۔ پہل ہمت سے مشروط ہے جس کی اس میں کمی پہلے بھی نہیں تھی تو اب کیا بدلا تھا ؟
وہ سہما دل سنبھالتی ایک طرف کھڑی ہوگئی کہ ان کا ناشتہ ختم ہونے سے پہلے وہ وہاں سے جا نہیں سکتی تھی۔
’’ تم بھی کر لو ناشتہ۔ ‘‘ انہوں نے وہیں کرسی سنبھال چکے حمدان سے کہا۔
’’ نہیں امی! سب کے ساتھ کروں گا ویسے بھی بھوک ابھی نہیں ہے۔ ‘‘ وہ سامنے اخبار پھیلائے تھا۔
’’ میرا ارداہ ہے پرسوں آئینہ کے یہاں ہو آئیں لیکن اس سے پہلے ہم خود سب اتفاق سے شادی کی کوئی دو تین تاریخیں ذہن میں رکھیں پھر ان سے بات کریں گے۔‘‘
’’ جی۔ ‘‘ اس نے اپنی توجہ اور نظر اخبار پر ہی رکھی۔ انہوں نے ایک تفصیلی نظر بیٹے پر ڈالی۔ آئینہ کی بات انہوں نے رد کر دی تھی اور وہی ان کا یقین بھی تھا کہ ان کے بیٹے کی زندگی اور دل میں کوئی دوسری لڑکی نہیں ہے مگر اس وقت اس کے سرسری انداز نے انہیں ٹھٹکا دیا۔
’’ تم نے کوئی تاریخ یا خاص دن وغیرہ سوچا ہے ؟ ‘‘
’’ نہیں۔‘‘ اسی اخبار میں گم انداز میں اس نے انکار کیا۔
’’ دو سال کافی نہیں تھے ؟ کیا تم مزید رکنا چاہتے ہو؟ ‘‘ وہ رکا تو تھا تاہم وجہ وہ انہیں بتا نہیں سکتا تھا۔
’’ ایسا کب کہا میں نے ؟ ‘‘ اس نے ماں پر ایک نظر ڈال کے صفحہ پلٹا۔
پیچھے کھڑی آئیدٰن یہ سب سننا نہیں چاہتی تھی لیکن کانوں پر ہاتھ رکھنا بھی ممکن نہیں تھا۔
’’ تو بتاؤ کون سا دن اور تاریخ رکھیں۔ ‘‘ وہ اسے اس گفتگو میں فعال کردار ادا کرتے دیکھنا چاہ رہی تھیں۔
’’ امی! میں لمبے وقت کے لیے یہاں ہوں آپ اتنی جلد بازی نہ کریں جیسے میں بس ابھی چلا جاؤں گا۔ ‘‘ اب کے اس نے ان کی سمت دیکھتے ہوئے مسکراکے بات مکمل کی۔ وہ نہال ہوگئیں۔
’’ آج پہلا ہی دن ہے۔ ‘‘
’’ جیتے رہو۔ ‘‘ انہوں نے گردن ذرا ترچھی کی لیکن مڑ کر اسے دیکھا نہیں۔
’’ چائے ٹھنڈی ہوگئی ہے۔ دو کپ لانا۔ ‘‘
ان کی بات کا مفہوم سمجھتے ہوئے وہ دوسری طرف سے ان کے قریب آئی اور میز سے ٹرے اٹھالی۔
دو کپ تازہ چائے بنا کر وہ واپس آئی اور لاؤنج کے دروازے پر ہی قدم رک گئے۔
’’ جو بھی بات ہے بیٹا صاف صاف کہو۔ ‘‘
’’ امی میں آئے۔ ‘‘ چھناکے کی آواز میں اس کا جملہ گم ہوگیا۔
وہ دونوں ایک ساتھ پلٹے۔ ٹرے چھوٹ کر زمین بوس ہوئی تھی، کپ کی چائے فرش پر بکھری تھی اور کپ ٹوٹ گئے تھے لیکن وہ ٹرے تھامنے کے انداز میں ہاتھ فضا میں معلق لیے کھڑی تھی۔ اسے دائیں پنجے پر گری گرم چائے کا بھی احساس نہیں تھا۔
’’ کیسے گرادیا ؟ ‘‘ الماس پروین نے درشتی سے جواب طلب کیا۔
اسی وقت سکینہ خالہ اور بالی باورچی خانے کی طرف جاتے ہوئے اسے یوں دروازے میں بت بنی دیکھ کر اس طرف آئیں۔
’’ اوہو ! کوئی بات نہیں بالی صاف کر دے گی، آپ دوسری چائے بنا لیں۔ ‘‘ سکینہ خالہ ماجرا سمجھ گئی تھیں۔ انہوں نے اس کے بازو پرہاتھ رکھ کے کہا تو وہ ہاتھ گرا کے فرش کو ہی دیکھتی رہی۔
’’ بیٹھیں امی ! ‘‘ حمدان نے انہیں تھام کے واپس بٹھایا اور سر جھکائے کھڑی آئیدٰن کو دیکھا۔
’’ میں کہہ رہا تھا کہ میں آیا ہی یہ سوچ کر ہوں کہ کوئی ایکسائٹنگ اور انٹرسٹنگ پروجیکٹ ملا تو ہی اوور سیز جاؤں گا ورنہ نہیں۔ ‘‘ اس نے ضروری دو لفظوں پر زور دیا تھا۔ جملے کے اختتام پر گھوم کے میز کے دوسری طرف جاتے ہوئے اس نے اسے دیکھا جس کے ساکت وجود میں حرکت ہوئی تھی۔ وہ ان دونوں کی سمت دیکھے بنا واپس پلٹ گئی۔ حمدان کرسی کھینچ کے بیٹھ گیا۔
’’ یہ توبڑی خوش خبری سنائی تم نے۔ ‘‘ ان کی مکدر ہوئی طبیعت یکایک بشاش ہوگئی۔
کچھ دیر بعد سکینہ خالہ خود ہی فرش صاف کر رہی تھیں۔
باورچی خانے میں دوبارہ چائے بناتے ہوئے وہ ذرا دیر پہلے والی کیفیت سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ پل بھر میں اپنی دور تک اڑان بھر چکی سوچ اب اسے شرمندہ کر رہی تھی۔ بالی اسے سنا رہی تھی کہ کس طرح آج نمو اسکول کی چھٹی کرنے پر بضد تھی کہ ان کے ساتھ یہاں آسکے جو وہ غائب دماغی سے مسکرا کے سنتی رہی۔
جب وہ نئی ٹرے اور نئے کپ لیے پھر ادھر آئی تو باقی لوگ بھی وہاں موجود تھے۔ آج شازمہ اور ان کے بچوں نے آنا تھا اور اس وقت وہی گفتگو کا مرکز تھے۔
٭٭٭
ہر سو خوشی کا ماحول تھا سوائے اس کے دل کے جس کے لیے اور جس کی وجہ سے یہ سارا اہتمام تھا۔ اس سے پہلے اسلم اور عدنان کی منگنی نہیں ہوئی تھی۔ رشتہ پکا ہونے کے بعد سیدھا شادی کی تقریب رکھی گئی تھی لیکن حمدان چوں کہ بیرون ملک جا رہا تھا وہ بھی لمبے عرصے کے لیے، اس لیے یہ تقریب لازمی ہوگئی تھی اور اب بچے اتنے بڑے اور سمجھ دار تھے کہ انہوں نے ماموں اور چاچو کی منگنی کا شور ڈال رکھا تھا۔
رنگیں، آنچلوں اور سنگھار سے بھرے چہروں کے بیچ گہرے سبز آنچل اور کاجل لپ اسٹک سے مزین چہرے پر سجی ہیزل گرین آنکھوں والی وہ لڑکی اس کے دل میں جو کسک اور ٹیس جگا رہی تھی، اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا۔ اس کی آنکھوں کا مخصوص شیڈ جاننے کے لیے اس نے کتنے جتن کیے تھے یہ بھی وہی جانتا تھا۔ لیکن یہ بھی سچ تھا کہ اس سے دور رہنا، اسے بے خبر رکھنا، دنیا کو بھنک بھی نہ پڑنے دینا، یہ سب اس کے انتخاب تھے۔
خوش باش اور ہنستے مسکراتے عنقریب دولہا بننے کے لیے کسی وعدے میں مقید ہونے والے اس شخص کی محرومی اور نقصان کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا تھا۔
آج وہ بھی سب کے ساتھ باتیں کرتی مسکراتی نظر آرہی تھی۔ جب گھر کے ملازمین بن ٹھن کے شامل تھے تو اس کا شامل نہ ہونا کیسے ممکن ہوتا۔
وہ لوگ آئینہ کے یہاں سے گھر پہنچے تو سب ہی تھکے تھے، جلد سو گئے لیکن اس کے احساس اور جذبات کی تھکن کے مقابلے میں جسمانی تھکن بڑی معمولی تھی سو وہ جاگ رہا تھا۔ کافی بنانے کے ارادے سے وہ اپنے کمرے سے نکلا تھا۔ چوں کہ اس کے لیے کھلے لان میں لاؤنج اور باورچی خانے کے درمیانی روش سے گزرنا پڑتا تھا، اس نے نئی نئی تحفتاً ملی شال اٹھا کے شانوں پر پھیلا لی۔
آگے بڑھ جانے کے بعد اسے احساس ہوا کہ شاید اس طرف کوئی ہے۔ وہ ٹھہر گیا۔ یہ ممکن نہیں تھا کہ ادھر کوئی جاتا ہی نہیں تھا کجا کہ اس پہر کوئی موجود ہوتا۔ لیکن پھر اس کے قدم باورچی خانے میں داخل ہونے کے بجائے عقبی حصے میں جانے والی چھوٹی سی گلی کی سمت اٹھ گئے۔
وہ سب کے کمروں میں بند ہوتے ہی ادھر چلی آئی تھی۔ متروک ہوچکے زینے کی آخری سیڑھی پر اس کا سردی سے کانپنا باقی تھا لیکن وہ کمرے میں نہیں جانا چاہتی تھی، اسے وہاں کا آرام اور حدت نہیں چاہیے تھی۔ وہ جیسے موسم کی زیادتی برداشت کرتے ہوئے وقت اور مقدر کی زیادتی سہنے کی مشق کر رہی تھی۔ آج اس کے ضبط و صبر، عقل و فہم، مصلحت و فراست کے سارے بندھ اور بھرم ٹوٹ گئے تھے۔ جس کا حصول اس نے گمان کے آس پاس پھٹکنے بھی نہیں دیا تھا، یکایک اس کے چھن جانے کا احساس اسے خالی کر گیا تھا۔ اسے لگ رہا تھا اس کا سب چھن گیا ہے، جینے کی وجہ، سانسوں کی آمدورفت کا پروانہ، ہنسنے مسکرانے کی اجازت، سب کچھ۔ اپنے ماں باپ اور نانا کی وفات کے بعد آج وہ اس قدر شدت سے رو رہی تھی۔ دونوں ہاتھوں سے خود کو سنبھالے وہ اب ہلکے ہلکے لرز رہی تھی۔ دفعتاً اس کی نظر سامنے کھڑے حیرت سے بت بنے حمدان پر پڑی اور اسے لگا وہ اس کا تصور ہے۔ آنکھوں میں حسرت اور ارمان گڈمڈ ہوئے اور اپنا المیہ اس بری طرح دل کے آر پار ہوا کہ وہ مزید تڑپ کے رونے لگی۔ حمدان بے اختیار دو قدم آگے آیا اور آئیدٰن بت بن گئی۔ وہ مجسم سامنے تھا تصور نہ تھا۔
’’ اوہ آئیدٰن ! ‘‘ حمدان نے بایاں ہاتھ اٹھاکے بالوں میں پھنسایا۔
یہ انکشاف اس کے اب تک کیے گئے کتنے ہی فیصلوں کی بنیاد ہلاگیا تھا۔ ان دو لفظوں میں اپنی بے خبری کا افسوس، بے وقوفی کا پچھتاوا اور اس کے ’ ہم سفر ‘ ہونے کا دکھ تھا کہ یہ سفر تنہا زیادہ سہل تھا۔ اپنی نارسائی قابل برداشت تھی اس کی نہیں۔
وہ ہوش میں آکے کھڑی ہوئی۔ یکایک ٹھنڈ کا احساس بڑھ گیا تھا۔ شیفون کا دوپٹا ناکافی سے بھی کم تھا۔ اب وہ باقاعدہ کانپ رہی تھی۔ حمدان سبک خرامی سے اس کے سامنے آکے رک گیا۔ اس کے سرخ ہونٹوں اور بھیگے گلابی چہرے پر یخ ہوائیں مزید ستم ڈھا رہی تھیں۔ اس نے اپنی شال اتار کے اس کے گرد پھیلائی۔
وہ اسے نہیں دیکھ رہی تھی۔ یہ دن کبھی نہیں آنا تھا، یہ قربت ناممکنات میں سے تھی، یہ التفات گمان سے پرے تھے۔ وہ پچھتا رہی تھی، حمدان پچھتا رہا تھا لیکن دونوں پچھتاوئوں کی نوعیت مختلف تھی۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے شال کو پھسلنے سے روکا۔ چند پل اسے ساری ہمت مجتمع کرنے میں لگے تھے اور پھر وہ یہ اس کے بازو سے گزر کے وہاں سے چلی گئی۔
دم سادھے کھڑا حمدان بے جان سا اس کی جگہ بیٹھ گیا۔ اسے نہ سرد ہواؤں کا ہوش تھا نہ کسی کے آجانے یا دیکھ لینے کا ڈر۔ اس شب نے بس آئیدٰن کے آنسو دیکھے تھے لیکن رویا حمدان بھی تھا۔
’’ چاچو! ‘‘ پیچھے سے ارقم کی تعجب بھری آواز ابھری تو وہ چونکا اور ماضی کا وہ منظرِ آگہی تحلیل ہوگیا۔
’’ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ؟ ‘‘ اس جانب کوئی نہیں آتا تھا۔
’’ سوچا، دیکھوں تو ادھر کیا ہے۔ ‘‘ وہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کے مسکرایا۔ ارقم کو اب بھی اس جگہ آنے کا تجسس سمجھ میں نہیں آیا لیکن یہ اتنا غور و فکر کرنے والی بات نہیں تھی۔
’’ ادھر سب آپ کا پوچھ رہے ہیں۔ ‘‘
’’ چلو۔ ‘‘
٭٭٭
ابھی اسے آئے تین دن ہی ہوئے تھے۔ گھر میں آپس میں مشورے اور صلاح چل رہی تھی کب آئینہ کے گھر جایا جائے کہ ادھر سے خبر آگئی۔ آئینہ نے منگنی توڑ دی ہے۔ اس نے شادی سے انکار کر دیا تھا۔
وہ سب اس کے سر ہوگئے۔ الماس پروین نے تب تو آئینہ کی بات چٹکیوں میں اڑا دی تھی لیکن اب انہیں یقین ہو رہا تھا ضرور ویسی ہی کوئی بات ہے جس کا شبہ اس نے ظاہر کیا تھا کیوں کہ حمدان ایک دم پرسکون تھا۔ اسے منگنی ٹوٹنے کا افسوس نہیں تھا نہ ہی وہ سب کو دکھانے کو ہی افسوس کا ڈرامہ کر رہا تھا۔ جیسے یہ عین اس کی مرضی کے مطابق ہوا ہو
’’ ہماری طرف سے تو کوئی پابندی تھی نہ زبردستی۔ اگر تمہیں کسی اور میں دلچسپی تھی تو بتایا کیوں نہیں ؟ ‘‘ اسلم بھائی نے پوچھا۔
’’ ایسی کوئی بات ہوتی تب بتاتا نا بھائی۔ ‘‘
’’ دو سال کی انگیجمنٹ کوئی بھی لڑکی یونہی نہیں توڑ دیتی۔ ‘‘ بھابھی کی بات غلط بھی نہیں تھی۔
’’ میں شاید ان دو سالوں میں اس کی امیدوں پر پورا نہیں اتر پایا ہوں۔‘‘
’’ وہی تو سوال ہے کیوں ؟ ‘‘ شازمہ نے پوچھا۔ اس کے پاس انہیں دینے والا جواب نہیں تھا۔ بس بے بسی سے شانوں کو حرکت دے کے رہ گیا۔
’’ تمھاری جنریشن تو ہماری طرح نہیں۔ روشن خیال ہو، سب کچھ ہی آپس میں ڈسکس کرلیتے ہو اگر کوئی ایشو تھا تو باہمی گفتگو سے مل بیٹھ کر حل کرلیتے۔ ‘‘ عدنان بھائی کی بات معقول تھی۔
’’ کوئی ایشو ہوتا تو ضرور حل کرتے۔ ‘‘ اس کے پاس ایک سے جواب تھے۔
’’ ہو سکتا ہے، آئینہ کو کوئی اور پسند آگیا ہو اور اب وہ ہمارے حمدان پر الزام لگا کر دامن چھڑا رہی ہو۔ ‘‘ چھوٹی بھابھی کی بات اس کے حق میں تھی لیکن اسے بہت ناگوار گزری۔
’’ ایسا بالکل نہیں ہے، شادی اور انگیجمنٹ سے پہلے آئینہ میری دوست بھی ہے یوں اس کی کردار کشی نہ کریں پلیز۔ ‘‘ اس کی بات پر کچھ دیر مکمل خاموشی چھائی رہی۔ آخر وہ ہی گویا ہوا۔
’’ اتنے دنوں میں شاید اسے اندازہ ہوا ہے کہ ہمیں شادی اور لائف پارٹنر سے مختلف چیزیں چاہئیں، ایک دوسرے سے ہماری ایکپیکٹیشنز الگ الگ ہیں، شاید ہم کمپیٹیبل نہیں۔ ‘‘ وہ غلط یا جھوٹ نہیں کہہ رہا تھا تاہم اصل وجہ اب بھی اس کی زبان پر نہیں آئی تھی۔
یہاں آنے سے پہلے آئینہ اور وہ کئی دن تک اس موضوع پرلمبی چوڑی بات کرتے رہے تھے جن میں زیادہ تر آئینہ کے سوال ہوتے تھے یا خیالی، فرضی منظر نامے جن میں وہ اس کا رد عمل اور عمل جاننا چاہتی تھی۔ وہ خوب سمجھ رہا تھا کہ آئینہ یہ سب کیوں کر رہی تھی۔ وہ مطمئن نہیں تھی، اسے لگنے لگا تھا اب بھی وقت ہے، اس کے پاس درست فیصلے کا وقت ہے کیونکہ یہ ہی سب اس کے اندر بھی چل رہا تھا۔ لاکھ کوشش کے بعد اب وہ بھی اپنی زندگی آئینہ کے ساتھ تصور نہیں کر پاتا تھا۔
سردی سے ٹھٹھرتی اس لڑکی کی حالت کی ذمہ دار محض موسم کی خنکی نہیں تھی۔
اس کے علاوہ سارا گھر منگنی ٹوٹنے پر ماتم میں ڈوبا تھا۔ الماس پروین نے آئینہ کی والدہ سے فون پر بات کی تھی لیکن انہوں نے بھی کوئی بڑی یا خاص وجہ نہیں بتاتھی۔ بس اتنا کہا کہ دو سالوں میں اسے اندازہ ہوا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے فٹ نہیں ہیں۔
نئی نسل تو پورا شادی کا موڈ بنائے تھی لہٰذا ان کے ماتم کی وجہ وہ نہیں تھی جو بڑوں کی تھی۔
’’ ہمیں اب لڑکی دیکھنا ہوگی۔ ‘‘ بڑی بھابھی کو فکر نے گھیرا۔
’’ حمدان سے ہی کہیں، وہ تلاش کرے اور ہمیں ملوادے۔ ‘‘ شازمہ کا مشورہ حاضر تھا۔
’’ ویسے آئینہ سے بھی ہمیں اسی نے ملوایا تھا۔ ‘‘ چھوٹی بھابھی نے یاد دلایا۔
’’ اس نے اپنی دوست سے متعارف کروایا تھا جسے ہم سب نے منگیتر بنادیا تھا۔ ‘‘ سمیعہ نے درست صورت حال پیش کی۔
’’ کہیں واقعی ایسا تو نہیں اسے کوئی پسند تھی اور اس کی شادی کہیں اور ہوگئی یا اس نے ہمارے حمدان کا دل توڑ دیا ہو اور جس کی یادیں اس کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ ‘‘ اسلم بھائی بڑے سنجیدہ تھے۔
’’ اگر ایسا ہے تو ہم کچھ نہیں کر سکتے لیکن پھر حمدان کو کم سے کم ہمیں سچائی بتادینا چاہیے۔ ‘‘ عدنان بھائی کا انداز اداس سا تھا۔
جب اس نے سنا تو عجیب احساس میں گھر گئی۔ حیرانی، ڈر، بے یقینی، خوشی ، گھبراہٹ اور ان سب سے بڑھ کے اب کیا ہوگاکی بے قراری۔ اس سے بچنے کی احتیاط اس نے دوگنی کر دی تھی۔
ان سب سے الگ حمدان بھتیجے، بھتیجی اور بھانجیوں بھانجے کے ساتھ مصروف تھا۔ اس کے پاس سب سوالوں کا ایک ہی جواب تھا۔ ’ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ ‘
٭٭٭
الماس پروین اور سمیعہ سنجیدگی سے اس کے لیے لڑکیاں دیکھنے کا سوچ رہی تھیں اور وہ ان کے پاس ارقم کی سفارش لے کر آیا کہ اسے حمنہ پسند تھی بلکہ یہ پسندیدگی دو طرفہ تھی۔
گھر میں ایک نیا ہنگامہ جاگ اٹھا۔ کسی کو اعتراض نہیں تھا لیکن سب ناک کے نیچے چل رہے اس سلسلے پر حیران اور پھر خوش تھے۔ سب ان دونوں کا قافیہ تنگ کیے تھے۔ حمنہ کے والد بھی مان گئے تھے۔
سب کا متفقہ فیصلہ یہ تھا کہ حمدان کی شادی کے ساتھ ان دونوں کے رشے کا باقاعدہ اعلان اور منگنی ہوگی۔
وہ اس دن والے حادثے کے بعد حتی المقدور اس کے سامنے جانے سے بچتی رہی تھی اور منگنی ٹوٹ جانے کے بعد تواور زیادہ محتاط ہوگئی تھی لیکن ہمیشہ چھپے رہنا بھی ممکن نہیں تھا۔
وہ الماس کے حکم پر ان کی الماری خالی کر کے صفائی کے بعد ان کی ہدایت کے مطابق دوبارہ ترتیب دے رہی تھی جب وہ حمدان کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئیں۔ وہ ہی نہیں حمدان بھی اسے وہاں دیکھ کرچونکا تھا۔ اس نے اپنے ہاتھوں کی رفتاربڑھا دی۔ انہیں الماری کے سب سے نچلے خانے سے کچھ کاغذات نکال کراسے دینے تھے جسے ہاتھ لگانے کی کسی کواجازت نہیں تھی۔
’’ دیکھو وہاں دو باکس فائل رکھی ہے۔ ‘‘ انہوں نے خود پلنگ پر بیٹھتے ہوئے الماری کی سمت ہاتھ اٹھایا۔
جب وہ اسے اپنی طرف آتا محسوس ہوا تو وہ ایک دم کھلے پٹ سے لگ گئی۔ جب وہ پنجے موڑ کے فرش پر بیٹھا تو اسے وہاں سے ہٹنے کی جگہ اور موقع نہیں بچا تھا۔ پٹ دیوار سے لگا تھا اور وہ پٹ سے۔ اس نے پیروں کی انگلیاں بھینچیں جو فرش پربیٹھے اور دراز پر جھکے حمدان سے زیادہ دور نہیں تھیں۔ اس نے فائلیں نکالیں اور ترچھی نگاہ اس کے پیروں کی سمت کیں جہاں گرم چائے نے اپنے ثبوت چھوڑے تھے۔ بے اختیار اس کا دل کیا، اس کے پیر کے جلے حصے کو چھوئے اور اسی پل آئیدٰن کو لگا وہ ابھی اس کے پیر پر ہاتھ رکھے گا۔
دونوں طرف ایک لطیف، خفیف اور کمزور سا خیال ہی تھا لیکن وہ لمحہ کس قدر لرزتے ہوئے گزرا، وہ دونوں ہی جانتے تھے۔ آرزو اور آس کی تتلی پھڑپھڑا کے آگے بڑھ گئی تھی۔
وہ فائلیں ہاتھ میں لیے کھڑا ہوا اور ادھر ادھر دیکھے بنا ماں کے پاس چلا گیا۔ کھلے پٹ کی اوٹ میں اس نے اندر خانے میں رکھے کپڑوں پر سر گرایا۔
’’ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا پھر اب یہ کیا ہو رہا ہے ؟ ‘‘ وہ حیران پریشان تھی۔
کیا برا تھا اگر وہ رات ان کی زندگی میں آتی ہی نا۔ لیکن اب تو دل ایک اور ایسی شب کا تمنائی تھا۔ وہ ان سے فائلیں لے کر چلا گیا جو اسے اسلم بھائی کو دینا تھیں اور وہ نماز پڑھنے کا عندیہ دیتی غسل خانے کی جانب بڑھیں تو وہ الماری سے ہٹ کے جائے نماز بچھانے لگی۔
٭٭٭
کچھ دن بعد چھوٹی بھابھی نے ایک نیا شوشہ چھوڑا۔ ان کے بھائی کو آئیدٰن اتنی بھائی تھی کہ وہ گھر والوں کے سمجھانے بجھانے کے بعد بھی بضد تھے اور اب سب نے ان کی ضد کے آگے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ اس خبر سے سب سے زیادہ سمیعہ خوش تھیں۔ یہ ہی وہ وقت تھا جب انہیں آئیدٰن کے لیے آواز اٹھانی تھی۔
حسب معمول اب بھی انہوں نے انکار کر دیا تھا کہ انہیں ابھی اس کی شادی نہیں کرنی۔
’’ امی! اسے بی اے کیے بھی اب کئی سال ہوگئے ہیں۔ یہ پرپوزل ہرلحاظ سے اچھا ہے، بھابھی کی فیملی سب جانتی بھی ہے، ان کی کوئی ڈیمانڈز بھی نہیں، میرے خیال سے تو یہ وقت اور پروپوزل دونوں آئیدٰن کی شادی کے لیے پرفیکٹ ہے۔‘‘
اس کے حق میں بیٹی کی اتنی لمبی تقریر پر ان کے ماتھے کی شکنیں اور تنا چہرہ ناگواری کا اظہار کر رہے تھے۔ وہ سختی سے لب سیئے بیٹھی رہیں۔
’’ امی ؟ ‘‘ سمیعہ نے سوالیہ انداز میں ہاتھ اٹھائے۔
’’ کہہ تو دیا، ابھی شادی کا ارادہ نہیں ہے۔ ‘‘
’’ کب تک ارادہ ہے، انہیں یہ بتا دیں، وہ کر لیں گے انتظار۔ ‘‘ انہوں نے ماں کے لفظوں کے انتخاب کو استعال کیا۔
’’ یہ تم سب کا دردِ سر نہیں ہے، مجھے کب کیا کرنا ہے مجھ پر چھوڑ دو۔ ‘‘ ان کا لہجہ حتمی تھا۔
’’آپ فراز ماموں سے مشورہ کر لیں، آخر ان کے کہنے پر ہی وہ یہاں ہے۔ ‘‘ سمیعہ کچھ ٹھان لےں تو پھر ہار ماننے کا سوال نہیں ہوتا تھا۔
’’ سمیعہ! اب اس موضوع پر بات نہیں ہوگی۔ میں نے انہیں منع کر دیا ہے تو تم کیوں لیے بیٹھی ہو؟‘‘ ان کی آواز میں غصہ تھا۔
’’ اس لیے امی کہ آپ انہیں انکار کر کے غلطی کر رہی ہیں۔ ‘‘ انہوں نے رسان سے کہا اور وہ چٹخ پڑیں۔
’’ مجھے مت سمجھائو تم، سب سے زیادہ تفصیل تو تمہیں پتا ہے۔ ‘‘ ان کا لہجہ تیز ہوگیا تھا۔
’’ امی!ٰ ماموں اپنی زندگی میں، اپنی بیوی بچوں کے ساتھ مگن اور خوش ہیں، جو آپ کی نظر میں ان کی قصور وار تھیں وہ کب کی دوسرے جہان سدھار چکیں تو پھر آپ کیوں ماضی کو دونوں ہاتھوں سے تھامے ہیں ؟ ‘‘
’’ زندگی، بیوی بچے۔ ؟ ان کی حقیقت کا علم بھی ہے تمہیں ؟ ‘‘ سمیعہ نے جیسے ان کے زخم میں ناخن گاڑ دیے تھے۔
’’ اس عورت اور اس کے حسن کا ایسا زخم خوردہ ہے کہ فراز نے حسن خود پر حرام کر لیا اور ایک سیاہ فام سے شادی کر لی، پلٹ کے اس شہر میں قدم نہیں رکھا جہاں اس کی محبت کی بے قدری ہوئی تھی، دل ٹوٹنے پر اس خود اذیتی کو اپنالیا کہ خود کو اپنوں سے دور کرلیا اور۔ اور۔ ‘‘
انہوں نے ہاتھ دروازے کی سمت اٹھایا جس کے باہر کہیں دور آئیدٰن کا کمرہ تھا۔
’’ اب بھی اس کی بیٹی کی پروا۔ اس کی وہ محبت اب تک زندہ رہنے کا ثبوت ہے، وہ اب بھی اول دن کی طرح گھائل اور دکھی ہے۔ جس نے میرے بھائی کی ساری زندگی عذاب کر دی اس سے میں اپنی مرضی جیسا سلوک رواں رکھنے کا حق رکھتی ہوں۔ تم نے اپنے بھائیوں یا بہن کو اس تکلیف میں دیکھا ہوتا تو میری بات سمجھتیں۔ ‘‘
’’ میں آپ کی ہر بات، ہر جذبہ سمجھ رہی ہوں لیکن آپ کو بس یہ سمجھانا چاہ رہی ہوں کہ وہ آئیدٰن ہے آئے تن نہیں۔ وہ اس معاملے میں انوالو ہی نہیں ہے۔ ‘‘
’’ ہے۔ ‘‘ انہوں نے طیش میں پتھروں سے سخت لہجے میں کہا۔
’’ وہ بھی شامل ہے ورنہ وہ اس گھر میں نہ ہوتی اور نہ ہوتی تو مجھے کوئی فرق بھی نہیں پڑتا تھا لیکن اب۔ کوئی مجھے اس معاملے میں ایک لفظ نہ کہے۔ ‘‘ ان کا لہجہ اٹل تھا۔
’’ تم ہی کچھ مدد کرو۔ ‘‘ سمیعہ نے فون میں مصروف خاموش بیٹھے حمدان کو گھسیٹا جس کا تحمل آج آسمان چھو گیا تھا۔
’’ فراز ماموں آرہے ہیں۔ ‘‘ اس نے فون کی اسکرین سامنے کی۔’’ ان کا میسج ہے وہ فیملی کے ساتھ آرہے ہیں۔‘‘
’’ ہیں ؟ ‘‘ اس بحث اور گرما گرمی کے درمیان اچانک اس خبر پر وہ دونوں جتنا حیران ہوتیں کم تھا۔
’’ واقعی ؟ بتاؤ مجھے۔ ‘‘ سمیعہ نے اس کے ہاتھ سے فون لیا۔
اندر کہیں انہیں ذرا ڈھارس بندھی کہ اب وہ فراز ماموں کے ذریعے اپنی ماں کو قائل کر لیں گی لیکن آنے والے وقت کے انکشاف کا انہیں اندازہ نہیں تھا۔
٭٭٭
گھر میں حمدان کے استقبال سے بڑھ کے تیاریاں ہو رہی تھیں آخر فراز ماموں بیوی بچوں کے ساتھ پہلی بار آرہے تھے۔ سمیعہ کی دونوں شادی شدہ بٹیاں بھی ان کے آنے سے ایک دن قبل بچوں کے ساتھ آگئی تھیں۔ جب سے اس نے سنا تھا عجیب سی بے چینی گھیرے تھی۔
ذرا سے وقت میں بہت کچھ ہوگیا تھا جس کی اسے عادت نہیں تھی۔ بنا کسی ہلچل اور بڑے وقوعے کے زندگی بڑی سیدھی سرل چل رہی تھی۔ دو سال قبل والی شب کے اثرات اس نے قابو کر کے سنبھالے ہی تھے کہ وہ واپس آگیا، منگنی ختم ہوگئی، اس کے انداز بدل گئے، بھابھی کے بھائی کا پیام اور اب فراز احمد کی آمد۔ اسے کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا اور ان سب سے فرار بھی ممکن نہیں تھا۔ ایک ہی ماموں تھے جنھوں نے اسے یہاں چھوڑنے کے بعد ایک بار دنیا داری کے لیے بھی پلٹ کے پوچھا نہیں تھا۔ وہ زندہ ہے یا مر گئی۔ انہیں پروا نہیں تھی۔ ان کی عادات اور مزاج کی وجہ سے ہی نانا کو اندازہ تھا وہ ان کی آنکھ بند ہوتے ہی اس کے ساتھ کیسا سلوک کریں گے تب ہی انہوں نے الماس پروین کی یقین دہانی کے بعد سکون سے آنکھیں بند کر لی تھیں۔
گھر میں جاری تیاریوں اور ہلچل کے بیچ اچانک بارش شروع ہوگئی اور جاڑے کی بارش خنکی کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ یوں ابھی سردیوں کا آغاز ہی تھا لیکن بارش ہوتے ہی سب کے سوئٹر، جرسیاں اور شالیں باہر آگئیں۔
’’ ارے حمدان ! ‘‘ اچانک چھوٹی بھابھی کو یاد آیا۔
’’ سمیعہ باجی نے انگیجمنٹ کے وقت تمہیں شال گفٹ کی تھی، وہ کہاں ہے؟ ‘‘ انہیں وہ پشمینہ شال حد سے زیادہ پسند آئی تھی جو سمیعہ کے میاں نے اپنے کشمیری دوست سے منگوائی تھی۔
’’ وہ ساتھ لے گیا ہوگا نا، کیوں حمدان ؟ ‘‘ سمیعہ نے اسے دیکھا اور اس نے فوراً تائید کی۔
’’ جی اور وہ وہیں ہے۔ مجھے کہاں علم تھا، یہاں بارش ہوگی یا اس قدر ٹھنڈ۔ ‘‘
’’ خیر سردیاں تو یہاں ایسی ہی شدید ہوتی ہیں مگر۔ ‘‘ وہ فون کی طرف یوں اشارہ کرتے گویا کال ہو، وہاں سے اٹھ گیا۔ شکر تھا کہ سمیعہ چھوٹی بھابھی کے ساتھ اس وقت وہ شال دیکھنے کو بے قرار نہیں ہوئی تھیں۔
جب وہ مہمانوں کے کمروں کا جائزہ لے رہی تھیں تو ساتھ اسے بھی رکھا تھا۔ جو کمیاں انہیں نظر آرہی تھیں وہ اسے گنوا رہی تھیں کہ وہ سب اسے مینو اور بالی سے ٹھیک کروانی تھیں۔
’’ کل صبح یا ہمارے واپس آنے سے پہلے لان سے تازہ پھول لاکر گلدانوں میں سجا دینا۔ ‘‘ آخری ہدایت اس کے لیے تھی۔
اگلی صبح سب ہی انہیں لینے ایئرپورٹ گئے تھے۔ کسی نے بتایا نہیں تھا تاہم اس نے جہاز کی آمد کا وقت سنا تھا۔ اسی اندازے سے وہ لان سے پھول اکٹھا کر رہی تھی کہ بارش شروع ہوگئی۔ اسے سب ہی گلدانوں کے لیے پھول بہرحال جمع کرنے تھے سو وہ بارش سے بے نیاز ہو کر اپنا کام کرتی رہی۔
ایئر پورٹ پر گلے شکووں اور جذبات، جدائی کے دکھ، ملن کی خوشی سب کی آنکھوں کے راستے خوب باہر نکلی تھی۔
سب نے فراز احمد کی بیگم اور دونوں بچوں کو تصاویر اور ویڈیوز میں ہی دیکھا تھا۔ یہ ان سب کی ان سے پہلی ملاقات تھی۔ بچے ٹھیک ٹھاک اردوجانتے تھے جب کہ ان کی بیگم شہناز ٹوٹی پھوٹی۔
وہ اپنے کمرے میں ہی تھی کہ یہ الماس پروین کی ہدایت تھی جو سکینہ خالہ نے اس تک پہنچائی تھی۔ آج انہوں نے کھانے کے اوقات میں بھی اسے کال نہیں کی تھی۔ وہ بھی سمجھ رہی تھی کہ وہ اسے فراز احمد کے سامنے نہیں لانا چاہتیں۔ وہ اسی شخص کی وجہ سے ایک بہتر مکان اور مقام پر تھی اور اسی کی وجہ سے بے مقام اوربے مکاں بھی تھی۔ وہ جتنا بھی سوچتی، اسے کبھی فراز احمد پر غصہ نہیں آتا تھا بلکہ ایک ہلکا سا خوف تھا کہ ان کا سامنا ہوگا تو کیا ہوگا۔ وہ اس کو دیکھ کر چیخیں گے، چلائیں گے، نفرت سے منہ پھیر لیں گے یا پھر وہ بہت پیار اور نرمی سے پیش آئیں گے کہ اس کی بھلائی کے خیال سے ہی تو انہوں نے اس کے یہاں رہنے کو ممکن بنایا تھا۔ وہ ایک ہی بات سب سے زیادہ سوچ رہی تھی کہ یہ واپس کب جائیں گے۔
’’ شاید ان کے قیام تک وہ مجھے فارغ ہی رکھیں۔ ‘‘ اس نے سوچا۔
وہ اپنے کمرے میں بند تھی۔ بارش میں بھیگنے کے بعد اب اسے چھینکیں آرہی تھیں۔
٭٭٭
سب کے لاؤنج سے اٹھتے ہی انہوں نے سمیعہ کو آواز دے کر روکا تھا۔
’’ تم نے فراز سے اس کے بارے میں کیا کہا ہے ؟ ‘‘ انہوں نے آئیدٰن کا نام نہیں لیا تھا اور اس کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ فراز ماموں سے بات کرنے کے بعد سمیعہ ان کی جانب سے بازپرس کی منتظر ہی تھیں۔
’’ یہی کہ اچھا رشتہ آیا ہے۔ ‘‘
’’ جب انکار ہوچکا تو اب کون سا رشتہ ؟ ‘‘ وہ سمیعہ کی نادانی پر از حد طیش میں تھیں کہ برسوں بعد چار دن کے لیے ان کا بھائی آیا ہے اور اس میں بھی سب سے غیر ضروری انسان کا ذکر چھیڑ کے اسے ماضی میں دھکیل کر دکھی کیا جائے۔
’’ امی ! ‘‘ سمیعہ اس کے لیے تیار تھیں کہ ان کے مطابق یہ ہی ایک موقع تھا جب آئیدٰن کے لیے کوئی مناسب فیصلہ کروایا جا سکتا تھا۔ فراز احمد اگر مداخلت کرتے اور شادی کے لیے کہتے تو وہ انکار نہیں کر سکتی تھیں۔ وہ یہ سنہری موقع گنوانا نہیں چاہتی تھیں۔
’’ آپ ماموں جان کے کہنے پر اسے گھر لائی تھیں اب بھی انہیں بتادیں اگر وہ کہیں، کر دیں شادی تو کردیجیے گا۔ ‘‘ وہ خوب جانتی تھیں یہ اتنی سیدھی بات نہیں جتنی انہوں نے اس جملے میں بنا دی تھی۔
الماس پروین نے سختی سے منہ بند کیا۔ وہ بیٹی کے سامنے ضبط کر رہی تھیں اور سمیعہ کو لگا لوہا گرم ہے۔
’’ امی ! مجھ سے بہتر کوئی نہیں جانتا، آپ کو ماموں جان سے کتنی محبت ہے کہ آپ جیسی محبت میرے اور حمدان کے رشتے میں بھی منتقل ہوئی ہے لیکن امی! آپ نے فراز ماموں کو دیکھا نا، وہ کس قدر مطمئن اور خوش ہیں تو آپ کیوں پرانی باتیں دل سے لگائے ہیں اور پھر ان سب میں آئیدٰن۔ ‘‘
’’ پرانی باتیں۔ ؟ اگر یہ سب پرانا ہوگیا ہوتا تو وہ اتنے برس پردیس میں نہیں گزارتا، مطمئن اور خوش۔ ہونہہ جیسے میں اس کو جانتی ہی نہیں۔ ‘‘
’’ ہو سکتا ہے نا امی !کہ آپ غلط سوچ رہی ہوں۔ ‘‘ وہ جو کہنے جا رہی تھیں یہ تلخ اور مشکل تھا لیکن کہنا بھی ضروری تھا کہ وہ اپنی ماں کو بھی اس اذیت سے نکالنا چاہتی تھیں۔
’’ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ماموں جان وہاں جا کے آئے تن کو بھول گئے ہوں، کام میں بزی ہوگئے ہوں، دنیاداری اور کریئر کو اہمیت دینے لگے ہوں، آپ ان کی بے اعتنائی یا بدلے جذبات، خیالات کو قبول نہیں کر سکیں اور چوں کہ آپ بھائی کی غلطی یا خطا مان ہی نہیں سکتی تھیں اس لیے ان سب کا الزام کسی اور کے سر دے کر ساری عمر اس سے نفرت کی، اتنی کہ اس کے جانے کے بعد اس کی اولاد سے بھی وہ نفرت نبھاتی رہیں۔ ‘‘
انہیں بیٹی کی بات سے تکلیف پہنچی تھی اور یہ ان کے چہرے سے واضح تھا۔
’’ امی پلیز۔ میری بات سمجھیں، ہو سکتا ہے آپ بنا کسی بنیاد کے ہی نفرت کا محل تعمیر کیے خود کو تکلیف دے رہی ہوں اور پھر کسی اور کے بدلے کی نفرت کہاں تک درست ہے اور اس ہستی کے بعد اس سے منسلک فرد سے اس لیے نفرت کہ ان کے درمیان کوئی تعلق ہے۔ کیسے کوئی ہوش مند اسے جائز ٹھہرا سکتا ہے؟ ‘‘
’’ تمھاری تمام باتوں کا جواز یہ ہے کہ فراز اسے بھول گیا تھا اور یہ ہی سراسر غلط ہے۔ اس لیے بیٹا یہ بات یہیں ختم کرو۔ ‘‘ انہوں نے خود کو سنبھال اور سمیٹ کر مضبوط اور استبدادی لہجے میں کہا۔
’’ اچھا یہ بتائیں ان سب میں آئیدٰن کہاں اور کیوں قصور وار ہے ؟ ‘‘ وہ ہار ماننے کو تیار نہیں تھیں کہ یہ پہلا اور آخری موقع تھا۔
’’ وہ اس عورت کی بیٹی ہے جس کے حسن سے زخمی ہوا میرا بھائی اب بھی تڑپ رہا ہے۔ اتنے برسوں بعد یہاں اس کی صورت دیکھ کر وہ اپنے گھر میں بھی سکون سے نہیں رہے گا کہ وہ اسی کا پرتو ہے جس نے اسے ٹھکرا کے اس کی زندگی ویران کر دی تھی۔ اس کی وجہ سے وہ ایسی زندگی گزارنے پر مجبور ہے جو کبھی اس کا خواب نہیں تھی۔ اس لیے یہ بحث یہاں ختم ہوتی ہے۔ آج کے بعد اس موضوع پر تم کچھ نہیں کہوگی، مجھ سے نہ کسی اور سے۔ اس لڑکی کو فراز نے میرے سپرد کیا ہے، اس کے لیے مجھے جو مناسب لگے گا وہ کروں گی۔ ‘‘
وہ اپنی جگہ سے اٹھیں اور پلٹتے ہی انہیں دروازے میں بت بنے فراز احمد دکھائی دیے۔
’’ فراز ! ‘‘ ان کی لرزتی آواز پر سمیعہ نے بھی اٹھ کے دروازے کی طرف دیکھا۔ الماس پروین بے دم ہوکے واپس صوفے پر گر سی گئیں۔
’’ ماموں جان ! ‘‘ شرمندہ سی سمیعہ ان کے پاس آئیں لیکن انہوں نے نہ انہیں دیکھا نہ سنا۔ وہ خواب کی سی کیفیت میں چلتے صوفے تک آئے۔
’’ آپا ! ‘‘ ان کی آواز عجیب سی شرمندگی اور حیرت کا آمیزہ تھی۔
’’ مجھے معاف کر دیں۔ ‘‘ انہوں نے ان کے ہاتھ تھام کے آنکھوں سے لگائے۔
’’ فراز۔ ! ‘‘ الماس پروین نے ان کے سر پر ہاتھ رکھا تو آواز آنسوؤں سے تر تھی۔
’’ آپا ! ‘‘ سمیعہ کی بات اور بہن کی سوچ اور یقین نے انہیں جیسے نیند سے جگادیا تھا کہ انہوں نے اس نہج پر کبھی کیوں نہیں سوچا کہ ان کے لیے نہ سہی مگر یہاں اس شہر میں، اس گھر میں ماضی اب بھی اس آب و تاب سے زندہ ہوسکتا ہے اور ان کے واپس نہ آنے کی وجہ سب ناکام محبت سمجھتے ہوں گے۔ وہ آگے بڑھ گئے تھے تو انہوں نے سوچا سب آگے بڑھ گئے ہوں گے۔
’’ میری پیاری آپا ! ‘‘ انہوں نے اب بھی ان کے ہاتھ تھام رکھے تھے۔
’’ مجھے معاف کردیں۔ اتنے سال میری وجہ سے آپ نے اس اذیت میں گزارے۔ مجھے شدت سے اپنی کوتاہی، اپنی غفلت، اپنی بے وقوفی کا احساس ہو رہا ہے لیکن اس وقت آپ کی محبت پر خود کو دنیا کا سب سے نازاں بھائی بھی فیل کر رہا ہوں اور آپ سے بے حد شرمندہ بھی ہوں۔ ‘‘
’’ کیا کہہ رہے ہو فراز۔ ‘‘ ان کے انداز الماس پروین کو کھٹک رہے تھے۔
’’ مجھے آپ سے کھل کر ہر بات کرنا چاہیے تھی، ویسے ہی جس طرح میں یہاں رہتے ہوئے کرتا تھا لیکن اتنی دور سے فون پر اتنی تفصیلی بات کا وقت اور وسائل نہیں ہوتے تھے ان دنوں۔ ‘‘ انہوں نے خود کو آمادہ کیا۔ وہ سب بیان کرنے جو کئی سال پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔
’’ اس وقت آئے تن کے لیے میرے جذبات سچ تھے تو میری یہ خوش حال فیملی اور ان سب سے میری محبت بھی سچ ہے۔ میں نے شہناز سے محبت کے بعد ہی شادی کی تھی کسی دھوکے ،یاد، دکھ، انتقام یا اذیت کی خاطر نہیں۔ آئے تن کو میں جانتا نہیں تھا مگر شہناز کو اچھی طرح جاننے سمجھنے کے بعد مجھے اس سے محبت ہوئی تھی۔ آپ اسے جو چاہے سمجھیں۔ میچورٹی، عمر کا تقاضا یا صرف محبت کہ رنگ نسل اور دنیا کے اسٹینڈرڈ والی خوبصورتی کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔ میں ان دنوں جس لائ فرم میں ملازم تھا وہ ’ پرو بونو ‘ کچھ کیسز پر بھی کام کرتی تھی۔ اسی طرح کے کیسز میں ایک شہناز کا کیس تھا جوایک حادثے میں اپنی فیملی کھودینے کے بعد غیر قانونی طور پر لندن آئی تھی۔ اسے ڈی پورٹ ہونے سے بچانے اور اس کی وہاں موجودگی کو قانونی بنانے میں، میں اس کا وکیل تھا اور ہمارا یہ پروفیشنل رشتہ اور ہماری ملاقاتیں کچھ وقت کے بعد پسندیدگی اور محبت میں ڈھل گئی تھی۔
یہ میرے وہاں جانے کے ڈیڑھ دو سال کے دوران کی بات ہے اس کے بعد مجھے اس کی حفاظت یا اسے بیوی بنانے سے پہلے خود کے لیے وہاں کی شہریت چاہیے تھی، جس کے لیے معینہ مدت تک وہاں رہنا لازمی تھا۔
پھر شادی کے بعد بھی اس کا کیس اور اس کی کچھ قانونی پیچیدگیاں تھی جن کی وجہ سے شہناز ملک چھوڑ کے نہیں جا سکتی تھیں اور میں اسے تنہا چھوڑ کے جانا نہیں چاہتا تھا۔ میں نے کہا بھی تھا آپ سے۔ ‘‘
انہیں یاد تھا کہ فراز احمد نے نہ آنے کی وجہ بیوی کی کچھ دفتری سی وجہ بتائی تھی جو انہیں صد فی صد بہانالگی تھی۔
’’ پھر بچوں کی آمد کے بعد مصروفیت بڑھ گئی اور فون ویڈیوز پر میں آپ سب سے مسلسل رابطے میں تھا تو کبھی محسوس نہیں ہوا کہ ہم دور ہوگئے ہیں یا بہت وقت گزر گیا ہے کیوں کہ ہمارے رابطے مضبوط اور مستقل تھے۔ استاد جی میرے لیے محض آئے تن کے والد نہیں تھے بلکہ میں انہیں دل سے استاد تسلیم کرتا تھا، اب بھی کرتا ہوں، ان کا احترام، مقام اب بھی میرے دل میں ویسا ہی ہے۔ مجھے میرے دوست نے فون کیا تھا استاد جی نے نہیں کیا تھا۔ دوست نے بتایا کہ استاد جی بیمار ہیں اور اپنی نواسی کے لیے بے انتہا فکر مند۔ مجھے تب تک آئے تن اور اس کے شوہر کی وفات کا علم نہیں تھا۔ میں اپنی زندگی کا یہ باب بند کر کے آگے بڑھ چکا تھا۔ میں نے آئیدٰن کی مدد استاد جی کی وجہ سے، ان کے لیے کی تھی آئے تن کی وجہ سے نہیں آپا۔ ‘‘
انہیں پچھتاوے گھیر چکے تھے جو اب لہجے اور آواز کو نڈھال کر رہے تھے۔
الماس پروین اب بھی بے یقین تھیں۔ اتنے سالوں سے جو ان کا سچ تھا اسے یک لخت غلط تسلیم کرلینا ممکن نہیں تھا۔ بھائی کے اجڑے دل کا دکھ کبھی ان سے دور نہیں ہوا تھا اور اب کھلا کہ یہ دکھ تنہا ان کا تھا۔
’’ آپ یہ خیال دل سے نکال دیں آپا! کہ میں خوش نہیں یا اتنا عرصہ میں نے کسی اذیت یا محرومی میں بسر کیا ہے۔ میں اللہ کے کرم، آپ کی دعاؤں اور شہناز کی ہمراہی میں آسودہ رہا ہوں۔ بے شک آئے تن کے وقت میں غم زدہ اور مایوس تھا لیکن وہ میری زندگی کا محض ایک فیز تھا اور آپا۔ ‘‘ وہ کچھ متامل ہوئے۔
’’ آئیدٰن۔ میری کہانی میں اس کا تو کوئی کردار ہی نہیں ہے۔ میں آپ کا بے حد شکرگزار تھا، اب بھی ہوں کہ آپ نے بروقت میری بات مان کے مجھے اپنے استاد جی کے مقابل سرخرو کیا کہ میں انہیں مطمئن کر سکا، ان کے لیے کچھ کر سکا۔ ‘‘
الماس پروین کا سانس رکنے لگا۔ وہ ایک دم اٹھ کھڑی ہوئیں۔
’’ میں کمرے میں ہوں۔ ‘‘ وہ غائب دماغی سے کہتی آگے بڑھ گئیں۔ سمیعہ ان کے پیچھے جانے لگی تھی کہ فراز احمد نے روکا۔
’’ انہیں کچھ وقت تنہا رہنے دو بیٹا۔ ‘‘ لمبا سانس بھر کے انہوں کے بھی پشت صوفے سے ٹکائی اور چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
’’ کچھ دن پہلے حمدان اچانک ملنے آیا اور یہاں آنے کا اصرار کیا، میں تب بھی سمجھ نہیں پایا۔ ‘‘ ان کا انداز خودکلامی سا تھا لیکن سمیعہ ٹھٹکیں۔
’’ حمدان آپ سے ملنے آیا تھا ؟ ‘‘
’’ ہاں وہ فرینکفرٹ سے لندن آیا تھا اور وہاں سے ادھر۔ وہ جتنے دن ٹھہرا مجھے کنوینس کرتا رہا کہ اتنے برسوں سے میں آپا سے ملا نہیں، یہاں آیا نہیں، کوئی میری فیملی سے ملا نہیں اور بچوں کو بھی ان کی ایکسٹینڈڈ فیملی سے ملنے کا شوق ہوگا وغیرہ تو اب ہائی ٹائم ہے کہ میں ایک چکر لگاؤں۔ اس سے مل کر اور اس کی باتوں سے بچے اور شہناز بھی ایکسائٹیڈ ہوگئے تھے اور اس نے ان سے وعدہ لیا کہ ہم سب اس ماہ ہی آئیں گے کہ اس کی شادی ہوگی اور ہم شادی میں شرکت کریں۔ ‘‘
’’ اچھا۔ اتنے برسوں سے امی کو دیکھتے ہوئے اسے یہ موقع مناسب لگا ہوگا کہ آپ کو بلایا جائے، امی کی اداسی اور آپ کو یاد کرتے رہنا اب اس کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگیا ہوگا۔ ‘‘ سمیعہ نے سر ہلایا۔ انہیں اپنے چھوٹے بھائی پر بے تحاشا پیار آیا تھا۔
’’ اسے شاید آپا کی سوچ، ان کا رویہ پریشان کر رہا تھا۔ اس نے صاف صاف تو کوئی ایسی بات نہیں کی تھی لیکن اب آپا کی بات سننے کے بعد مجھے یقین ہوگیا ہے، یہ ہی وجہ تھی، وہ نہ آپا سے کہہ سکتا تھا کہ وہ غلط ہیں، نہ مجھ سے کہ آپا میری وجہ سے کیا کر رہی ہیں، کیا سوچتی ہیں، لہٰذا اس نے مناسب سمجھا کے ہمیں آپس میں بات کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ ‘‘
وہ پرسوچ سے بول رہے تھے اور سمیعہ الجھ گئیں۔ اگر ایسا تھا تو اس نے ان سے بات کیوں نہیں کی ؟ جب کہ وہ گھر میں آئیدٰن کی سب سے ’ ووکل سپورٹر ‘ تھیں۔
اپنے کمرے میں پہلی بار الماس پروین کو اپنے بھائی پر غصہ آرہا تھا۔ ان کا حال ایسا تھا مانو ایک لمبی دوڑ کے بعد جب تمغہ لینے کا وقت آیا تو انہیں غلط ٹریک پر دوڑنے کا پروانہ تھمایا دیا گیا۔
’’ اس نے جیسے آئے تن سے اپنی محبت کا ذکر کیا تھا ویسے ہی یہ بھی شیئر کرنا چاہیے تھا۔ ‘‘
’’ اس نے تو کیا تھا، تم نے ہی کبھی یقین نہیں کیا۔ ‘‘ وہ خود سے الجھ رہی تھیں۔
پہلی حیرت، غصہ اور بے یقینی کی شدت تھی جو دھیرے دھیرے کم ہوکر اب پچھتاوے میں ڈھل رہی تھی۔
لوگ محبت میں اندھے ہوتے ہیں یا نفرت میں اور وہ دونوں میں نابینا ثابت ہوئی تھیں۔ انہیں لگتا تھا، بھائی کے دکھ میں انہوں نے زندگی میں کئی بھاری، غمگین راتیں گزاری ہیں لیکن آج کی شب کا ان راتوں سے کوئی مقابلہ نہیں تھا۔
٭٭٭
اگلے دن سمیعہ اور فراز احمد، کسی نے بھی الماس پروین سے گزشتہ شب والی گفتگو کا ذکر نہیں چھیڑا کہ وہ خود چپ سی تھیں۔ یہ انکشاف کسی صدمے سے کم نہ تھا۔
فراز احمد خود کو قصوروار سمجھ رہے تھے۔ سب سے بڑی غلطی ان سے ہوئی تھی۔ جو باتیں ہمارے لیے اہم ہوتی ہیں، اگر وہ کبھی غیر اہم ہو جائیں تو انہیں ضرور خبر کرنی چاہیے جن کے لیے وہ باتیں ہمارے جتنی ہی اہمیت رکھتی ہیں۔
چوں کہ ان سب کا قیام محدود وقت کے لیے تھا لہٰذا بچوں نے ہر دن کا پروگرام طے کررکھا تھا شہناز اور بچوں کو اپنے شہر کی سیر کروانے کے لیے اور ملک سے متعارف کروانے آج کا پورا دن باہر گزانے کا منصوبہ تھا۔
الماس پروین میں کل تک جو جوش تھا، وہ اب ماند پڑ گیا تھا لیکن وہ سب کے ساتھ جانے سے انکار بھی نہیں کر سکتی تھیں۔
دوپہر کا کھانا بھی سب نے باہر ہی کھایا تھا۔ شام سے پہلے سمیعہ کو مینو کا فون آیا۔
’’ آئیدٰن دیدی کو بخار ہے، کیا کروں ؟ ‘‘
’’ کب سے بخار ہے ؟ ‘‘
’’ پتا نہیں وہ کمرے سے باہر ہی نہیں نکلیں دن بھر تو ابھی آکے دیکھا۔ ‘‘
’’ پاس والے کلینک میں دکھا لو۔ ‘‘ انہوں نے معقول مشورہ دیا۔
’’ باجی اس وقت بارش بہت ہے ادھر۔ ‘‘ مینو نے بے بسی جتائی۔
’’ اگر تمھارے پاس ہو تو کروسین دے دو یا چوکیدار سے کہو وہ فارمیسی سے لے آئے گا۔ ہمیں آتے آتے رات ہوجائے گی۔ ‘‘ وہ شہر سے دور تھے۔
’’ جی۔ ‘‘ مینو نے فون رکھ دیا۔
وہ سب کے درمیان سے اٹھ کے دور آ کھڑی ہوئی تھیں جب پلٹیں تو پیچھے حمدان کھڑا تھا۔
’’ سب ٹھیک ہے ؟ ‘‘
’’ ہاں۔ آؤ۔ ‘‘ انہوں نے مختصر جواب دیا اور اس سے پہلے آگے بڑھ گئیں۔
گزشتہ رات کے انکشافات کے بعد وہ اس وقت یہ معمولی سی بات الماس پروین اور فراز احمد دونوں سے مخفی ہی رکھنا چاہتی تھیں کہ سب کے ساتھ کسی طرح ان دونوں کی طبیعت اور مزاج بحال ہوا تھا۔ اس وقت آئیدٰن کے ذکر پر جانے وہ دونوں کیا رد عمل دیتے۔
انہیں دیر رات تک باہر ہی رہنا تھا۔ لیکن اب حمدان’’ موسم کچھ ٹھیک نہیں کسی بھی وقت بارش شروع ہو جائے گی۔ ‘‘
’’ بہتر ہے ہم آج یہیں رکتے ہیں اور واپس چلتے ہیں، باقی کل دیکھیں گے۔ ‘‘ سب تھک بھی گئے اور کچھ موسم بھی بے اعتبار سا تھا سو سب کو حمدان کی بات ٹھیک لگی۔
شہناز اور دونوں بچے تھکے تھے تاہم انہیں سب کے ساتھ لطف آرہا تھا۔ پہلی بار فراز احمد کے خاندان سے مل کر وہ سب خوش تھے۔ ننھیال تو ان کا کوئی تھا نہیں اور پہلی بار اپنی پھپھو، کزنز اور ہم عمر بھتیجے بھانجیوں سے مل کر انہیں اپنا یہ بڑا سا خاندان اچھا لگ رہا تھا۔
ان کے گھر پہنچنے تک پھر بارش شروع ہوگئی تھی۔ راستے میں سب کچھ نہ کچھ کھاتے رہے تھے سو گھر پہنچنے کے بعد کسی کو کھانے کی حاجت محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ سب سونے کے ارادے سے سیدھا کمروں میں چلے گئے۔
’’ بیٹا! ذرا آئیدٰن کو دیکھ لو۔ ‘‘ سمیعہ کی گود میں ان کا نواسا تھا جو سو گیا تھا۔ وہ اسے لیے کمرے میں جانے سے پہلے حمنہ کو کہہ گئیں۔
کچھ دیر بعد حمنہ ان کے پاس آئی۔
’’ مما ! آپ آئیں ذرا۔ ‘‘
وہ آئیدن کے کمرے میں پہنچیں تو ٹھنڈ سے بری طرح کانپ رہی تھی۔ حمنہ نے بتایا کہ کھڑکی کھلی تھی۔ اس کی وہ حالت نہیں تھی کہ وہ اٹھ کے کھڑکی بند کر سکتی۔
کسی طرح اسے اٹھا کے ان دونوں نے اسے دوا دی اور گرم لحاف میں چھپایا۔ فراز احمد کی آمد کے بعد سے اسے کسی نے دیکھا نہیں تھا۔ جانے وہ کب سے بیمار اور بھوکی پیاسی تھی۔ مینو نے چوکیدار سے بخار کی دوا منگوا کے کھلا دی تھی۔
اس کی کپکپاہٹ کم ہوئی تو وہ حمنہ کو اسے کھانا کھلانے کی تاکید کرتی باہر آگئیں۔
’’ تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟ ‘‘ اپنے کمرے کی سمت جاتے ہوئے لاؤنج میں بیٹھے حمدان کو دیکھ کر انہوں نے حیرت سے سوال کیا۔
’’ کچھ نہیں۔ میری ضرورت ہے تو کہیں۔ ‘‘ اس نے سر سے ادھر اشارہ کیا جہاں سے وہ آئی تھیں۔
’’ اس وقت اسپتال جانے جیسی کنڈیشن نہیں ہے، صبح دیکھیں گے۔ تم بھی سو جاؤ۔ ‘‘
’’ جی۔ کچھ ضروری ای میلز دیکھنی ہیں پھر جا رہا ہوں۔ ‘‘ اس نے اپنا فون دکھاتے ہوئے کہا۔
’’ دیر مت کرنا۔ ‘‘ وہ بھی تھکی ہوئی تھیں، چلی گئیں۔
کچھ دیر بعد حمنہ بھی اسے دیکھ کر چونکی۔
’’ آپ سوئے نہیں ؟ ‘‘
’’ بس جا رہا ہوں۔ ‘‘ وہ مسکرایا لیکن اس کے چہرے مہرے نے حمنہ کو اگلے سوال پر مجبور کیا۔
’’ کچھ چاہیے ؟ ‘‘ اسے دیکھ کر ہی لگ رہا تھا وہ کچھ کہنا چاہ رہا ہے۔
’’ چائے کافی ؟ میں بنا دیتی ہوں۔ ‘‘ وہ باورچی خانے کی طرف پلٹی تھی کہ اس نے شتابی سے روکا۔
’’ نہیں حمنہ! مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ کچھ کام ہے وہ ختم کر کے جا رہا ہوں۔ ‘‘
’’ آرام کریں ماموں! آپ نے لمبی ڈارئیونگ کی ہے آج۔ ‘‘ وہ مسکراتی چلی گئی۔
٭٭٭
جب بخار مکمل اتر گیا تو وہ اپنے اوپر پڑا واحد لحاف ہٹا کے اٹھ بیٹھی۔ حمنہ کے اصرار پراس نے تھوڑا سا کھانا کھایا تھا۔ پلیٹ اب بھی پلنگ کے ساتھ والی میز پر ڈھکی رکھی تھی۔ اب شدید بھوک کا احساس جاگا تھا لیکن باورچی خانے میں جا کے کھانا گرم کرنے جتنا صبر نہیں تھا۔ اس نے وہی ٹھنڈی پلیٹ اٹھالی۔
دن بھر وہ تیز بخار کے زیر اثر سوتی رہی تھی۔ اب بخار بالکل نہیں تھا تو دوبارہ نیند کا سوال ہی نہیں تھا۔ باہر بارش اس وقت تھمی تھی لیکن ہر سو پانی اور نمی بکھری تھی۔ وہ کمرے سے باہرنکلنا چاہتی تھی۔ سوئیٹر لینے کے لیے اس نے الماری کھولی تو سامنے ہی وہ شال تھی۔ دوپہر میں مینو نے اس کے لیے جرسی سوئیٹر کمبل جیسی شے ڈھونڈتے ہوئے سب کچھ اوپر نیچے کر دیا تھا۔ اس نے وہ شال اٹھالی۔ ان دو سالوں میں وہ الماری میں بند تھی۔ کئی موقعے آئے جب اسے اس شال میں چھپی حدت کی خواہش اور طلب ہوتی تھی، وہ اس کے لیے دستِ مسیحا تھی لیکن پھر بھی اس نے کبھی اسے الماری سے نکالنے کی ہمت نہیں کی تھی لیکن اس وقت اسے اپنے گرد لپیٹ کر باہر آگئی۔ رات کے اس پہر کس نے اسے دیکھنا تھا، دیکھ بھی لیتا تو کس نے پہچاننا تھا۔ باہر آتے ہی خنکی کا احساس بڑھ گیا۔ وہ لان کے گزیبو میں جا کے بیٹھنا چاہتی تھی۔
’’ لائٹس آف کرنا بھول گئے سب۔ ‘‘ لاؤنج کی روشنی دیکھ کر وہ بتیاں بجھانے کے ارادے سے ادھرآئی اور دروازے میں ہی، دروازے پر نظریں جمائے حمدان کو دیکھ کر تھم گئی۔ اگلے پل ہی اس نے جو پیر چوکھٹ کے اندر رکھا تھا وہ واپس باہر کر لیا۔ حمدان اپنی جگہ سے کھڑا ہوا لیکن آگے نہیں آیا۔
’’ آئیدٰن ! ‘‘ اس کا پلٹنے کا ارادہ بھانپ کے اس نے روکا اور وہ پلٹی نہیں۔
’’ طبیعت کیسی ہے ؟ ‘‘ وہ آواز اتنی ہی تھی کہ صوفے سے دروازے تک کا سفر کر سکے۔
’’ اچھی ہے۔ ‘‘ اس نے دونوں ہاتھ میں تھامے شال کے کنارے کھینچ کے قریب کیے۔ یہ شاید براہ راست اس کی حمدان سے پہلی بات تھی۔
اس کا گلابی چہرہ قرمزی ہو رہا تھا، کندنی سبز آنکھوں کے گلابی جال اور بکھرے بال، وہ بستر سے اٹھی مریض ہی لگ رہی تھی۔
’’ ہمم۔ ‘‘ یہ ’ ہمم ‘ رازوں کا وہ خفیہ خزانہ تھی جسے دنیا سے چھپا کے کہیں دفن کیا جاتا ہے اور پھر اس کی چابی کہیں دور سمندر میں پھینک دی جاتی ہے۔
’’ میں جا رہا ہوں۔ ‘‘ اسے پلٹنے کے لیے پر تولتے دیکھ حمدان نے کہا۔
’’ تم جس کام سے باہر نکلی تھیں، وہ کرو۔ ‘‘ وہ اس کے سامنے سے گزرتا اندر بڑھ گیا۔
وہ کتنی دیر وہیں کھڑی رہی پھر اندر جا کے بتیاں بجھائیں اور واپس کمرے میں آکے بستر پر ڈھے گئی۔
’’ یہ سب کیوں ہو رہا ہے ؟ ‘‘
اگلی صبح سمیعہ جاگنے کے بعد اسے دیکھنے آئیں۔ کمرے کا دروازہ اندر سے مقفل نہیں تھا۔ انہوں نے دستک دی لیکن کوئی جواب نہ پاکر وہ فکرمند سی دروازہ کھول کے اندر آگئیں۔
آئیدٰن بے خبر سو رہی تھی۔ انہوں نے احتیاط سے اس کا ماتھا چھوا، بخار نہیں تھا۔ وہ اسی خاموشی سے واپس جانے لگیں کہ نظر تکیے کے اس طرف تہ کر کے رکھی شال پر پڑ گئی۔
٭٭٭
دروازے پر بے صبر سی دستک پر اس کی آنکھ کھلی اور اس نے تیزی سے اٹھ کے دروازہ کھولا۔ سامنے سمیعہ تھیں جو اسے ایک طرف کرتی اندر داخل ہوئیں۔ وہ دروازہ بند کرکے پلٹا۔ ابھی اس عجلت کی وجہ دریافت کرنے منہ کھول ہی رہا تھا کہ انہوں نے ہاتھ میں تھامی شال اونچی کی۔ اس کی بچی کچھی نیند بھک سے اڑ گئی۔
ایک گہرا سانس لے کے اس نے دونوں ہاتھ چہرے پر رکھ کے بے اختیار بکھرنے والے اپنے تاثرات سمیعہ سے چھپائے تھے۔ پھر وہی ہاتھ بالوں پر پھیرتے ہوئے دونوں ہاتھ سر کے پیچھے روک کے اس نے انہیں دیکھا۔
’’ میں آپ سے کہنے ہی والا تھا۔ ‘‘ یہ جھوٹ نہیں تھا۔
’’ کب ؟ جب میں ماموں کی مدد سے اس کی شادی عاصم سے طے کروادیتی ؟ ‘‘
’’ نہیں۔ اس سے پہلے ہی۔ ‘‘ وہ آگے جا کے پلنگ کے کنارے ٹک گیا۔
’’ تم اسی لیے لندن گئے تھے ؟ ‘‘ وہ اس کے پیچھے آئیں۔ اس نے اقرار میں سر ہلایا۔
’’ یا اللہ ! ‘‘ انہوں نے سر پر ہاتھ رکھا۔’’ اب یہ مت کہنا انگیجمنٹ بھی تم دونوں نے اس وجہ سے آپسی صلاح مشورے سے اینڈ کی ہے۔ ‘‘
’’ نہیں۔ یہاں اٰن انٹیشنلی آئینہ نے میری مدد کی ہے۔ ‘‘
’’ ورنہ تم کرنے والے تھے ؟ ‘‘ وہ چپ رہا۔ اس نے سوچا تھا آئینہ سے سب سچ کہے گا۔
’’ حمدان ! ‘‘ وہ بھی اس کے بازو میں بیٹھ گئیں۔
’’ اب تک مجھے کیوں نہیں بتایا ؟ ‘‘
’’ مجھے خود انگیجمنٹ کے بعد علم ہوا۔ ‘‘
’’ کیا مطلب ؟ ‘‘ وہ چونکیں۔
’’ تب تک میں سمجھتا رہا میری فیلنگز ون سائیڈڈ ہیں اور بہتر ہے اس وجہ سے میں اسے مشکل میں نہ ڈالوں کہ آپ نے مجھے امی کے ارادوں اور احساسات سے پہلے ہی باخبر کر دیا تھا۔ ‘‘ وہ کچھ دیر رک گیا۔
’’ لیکن اس رات اتفاقاً۔ میں نے جانا کہ میں اکیلا مبتلا نہیں ہوں۔ تب انگیجمنٹ ہو چکی تھی، میری چار دن بعد کی فلائٹ تھی، دو سال کا کانٹریکٹ تھا۔ ان دو سالوں میں کوشش کے باوجود میں آئینہ کے ساتھ زندگی سوچ سکا، نہ آئیدٰن کے بنا زندگی کا تصور کر سکا۔ فائنلی طے کیا کہ پہلے ماموں اور امی کو ملایا جائے پھر ماموں خود ہی امی کا رویہ دیکھ کے کیا اور کتنا غلط ہو رہا ہے سمجھ جائیں گے، نہ سمجھتے تو میں انہیں سمجھا دیتا کہ اس معاملے میں امی ہم میں سے کسی کی کوئی دلیل، کوئی بات نہیں سنیں گی، یہ آپ بھی جانتی ہیں۔ ‘‘
’’ اور آگے کیا سوچا تھا ؟ ‘‘
’’ مجھے آپ اور ماموں سے مدد مانگنا تھی۔ ‘‘
’’ کیسی مدد ؟ ‘‘
’’ ماموں ہی امی سے اس خواہش کا اظہار کریں کہ وہ چاہتے ہیں آئیدٰن اور میری۔ ‘‘
اس نے فقرہ نامکمل چھوڑ دیا۔
’’ واہ ! ‘‘ وہ خفیفف سا مسکرائیں۔
’’ اور اگر ماموں کے جذبات وہی ہوتے جیسا امی سمجھتی رہی ہیں تو پھر کیا کرتے ؟ ‘‘
’’ تب میں انہیں ان کی محبت کا واسطہ دیتا کہ مجھے تو محروم نہ رکھیں، ان کے اختیار میں ہے، دو محبت کرنے والوں کو دوور نہ ہونے دیں۔ ‘‘ اس کے انداز میں ہلکی شوخی تھی۔
’’ اور وہ پھر بھی نہ مانتے تو ؟ ‘‘
’’ تو آپ کے سر ہوجاتا کہ کچھ بھی کریں، اس مسئلے کا وہ حل سوچیں جو مجھے چاہیے۔ ‘‘ اس نے بڑے یقین سے کہا۔
’’ چلو ! ‘‘ انہوں نے اس کے بازو پر ہاتھ مارا
’’ اتنے دن مجھ سے چھپایا اور اب مسکا لگا رہے ہو۔ ‘‘
’’ مجھے برسوں پہلے کہی آپ کی بات کبھی نہیں بھولی تھی باجی کہ میری دلچسپی اس پر زندگی تنگ کر دے گی۔ ‘‘
’’ اسے تمھارے اس پلان کا علم ہے ؟ ‘‘ ان کے سوال پر اس نے ہلکا سا قہقہہ لگایا۔
’’ باجی ! ساری زندگی چند لفظوں کے تبادلے کے علاوہ ہماری کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔ ‘‘ انہوں نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں۔
’’ آپ کی باتوں نے ہی مجھے ہمیشہ اتنا محتاط رکھا۔ ‘‘
وہ کھڑی ہوئیں۔
’’ سب جاگ جائیں تو آج موقع دیکھ کے ماموں سے بات کرتے ہیں۔ ‘‘
’’ جی۔ ‘‘
’’ سنبھال کے رکھو اب اسے۔ ‘‘ انہوں نے شال پلنگ پر رکھی۔’’ میرے تحفے کی یہ قدر تھی۔ ‘‘ سمیعہ نے مصنوعی ناراضی لہجے اور چہرے میں سموئی۔
’’ میں نے کسے دی، اسی بات سے اس کی قدر کا اندازہ لگائیں۔ ‘‘ وہ بھی کھڑا ہوا اور ان کے ساتھ دروازے تک آیا۔
’’ شرم کرو۔ بڑی بہن سے کیسی باتیں کر رہے ہو۔ ‘‘ سمیعہ کی بات پر وہ ہنس دیا۔
٭٭٭
اسے ٹھیک ٹھیک یاد تھا کہ شال اس نے سرہانے رکھی تھی لیکن اب سارا کمرہ چھان مارا تھا مگر کہیں بھی شال کا نام و نشان نہ تھا۔
حمنہ دستک دے کر اندر آئی ۔
’’ کیسی طبیعت ہے اب ؟ ‘‘
’’ الحمد اللہ ۔ٹھیک ہے۔ ‘‘
’’ ابھی کچھ کھانے کے بعد بخار نہ بھی ہو تو دوائی لے لیجیے گا۔ ‘‘ حمنہ کی بات پر اس نے سر ہلایا۔
اس کا ذہن شال میں اٹکا تھا۔ خود پر غصہ آرہا تھا کہ کیا ضرورت تھی اوڑھنے کی۔ اس کا غائب ہونا اچھی بات نہیں تھی۔ کوئی بھی اسے دیکھ کر پہچان لیتا اور وہ اس کے پاس کیسے آئی اس سوال سے بچنے کے لیے وہ آج تک اسے چھپا کے رکھتی آئی تھی۔ رات جانے کس خیال کے زیر اثر وہ اسے اوڑھ کے باہر نکلی تھی اور اب وہ مل نہیں رہی تھی۔
’’ چلیں، سب کے ساتھ بریک فاسٹ کریں۔ ‘‘ حمنہ نے کہا تو وہ حیران سی اسے دیکھے گئی۔
’’ آئیں۔ ‘‘ وہ باہر نکلی۔
اس کے دل میں کئی سوال تھے اور اس سے زیادہ خوف۔ تاہم وہ حمنہ کے ساتھ باہر آگئی۔ حمنہ میز لگانے میں مینو اور بالی کی مدد کر رہی تھی۔ وہ بھی ان کے منع کرنے کے باوجود شامل ہوگئی کہ کام کر کے سب کے آنے سے پہلے کمرے میں بند ہو جائے گی۔
وہ میز پر ہر کرسی کے آگے پلیٹیں اور گلاس رکھ رہی تھی۔ ابھی کوئی آیا نہیں تھا۔ اس کے ذہن پر شال اور فراز احمد سے ملاقات اس قدر حاوی تھے کہ مکمل طور پر اطراف سے کٹ گئی تھی۔
’’ شال میرے پاس ہے۔ ‘‘ جب اس کے بغل والی میز پیچھے کھینچتے ہوئے حمدان نے سرگوشی کی تو اس کے ہاتھ سے گلاس چھوٹ گیا جسے حمدان نے زمین بوس ہونے سے بچا لیا۔
اس کی اطلاع نے اسے مزید بد حواس کر دیا۔
’’ کیا وہ کمرے میں آئے تھے ؟ ‘‘ اس کا دل بند ہونے لگا۔
وہ مزید کچھ کہتا یا اس سے گھبراہٹ میں کوئی خطا سرزد ہوتی، پیچھے آوازیں ابھریں۔ سب ایک ساتھ اندر داخل ہو رہے تھے۔
وہ گلاس میز پر رکھتا کرسی پر بیٹھ گیا۔ وہ جانے لگی تھی کہ سمیعہ نے پکارا۔
’’ آئیدٰن ! ‘‘ وہ رک گئی۔
’’ ماموں! یہ آئیدٰن ہے آپ کے استاد کی نواسی اور آئیدٰن بیٹا! یہ فراز ماموں ہیں تمھارے نانا کے طالب علم جو اب تک کچے پکے شاعر ہیں۔ ‘‘
اس نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے جواب دے کر اس کا احوال پوچھا۔ پھر وہ اس سے نانا کے متعلق بات کرنے لگے۔ انہوں نے اسے اپنی بیوی اور بچوں سے بھی اسی رشتے سے متعارف کروایا۔
سب سے آخر میں الماس پروین آئی تھیں۔ سب بیٹھ گئے تھے لیکن وہ فراز احمد اور شہناز کے ساتھ کھڑی تھی جو اسے نانا کی کوئی بات سنا رہے تھے۔
’’ آجاؤ فراز۔ ‘‘ اپنی جگہ سنبھالتے ہوئے انہوں نے بھائی کو آواز دی۔
’’ جی آپا۔ ‘‘ وہ بیوی کے ساتھ میز کی طرف بڑھے اور وہ دروازے کی طرف۔
’’ تم بھی آؤ۔ ‘‘ انہوں نے مڑ کے آئیڈن دیکھا۔ یہ ان کے لیے آسان نہیں تھا لیکن اب بھی یہاں فراز احمد کی موجودگی اور بہن کی بھائی کے لیے محبت ہی آسانی بھی بنی تھی۔
’’ آئیدٰن۔ ‘‘ اس کا نام پکارنے سے پہلے جو وقفہ تھا وہ سب پر بھاری گزرا۔ اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔
’’ آجاؤ۔ ‘‘ سمیعہ نے پکارا اور اپنے بازو والی خالی کرسی پر ہاتھ رکھا۔
وہ حیران پریشان سست قدم اٹھاتی کرسی پر بیٹھ گئی۔
اس کے سامنے دائیں جانب حمدان تھا۔ بے اختیار ہی اس کی آنکھیں اس پر ٹھہر گئیں۔ وہ اسے دیکھ رہا تھا۔ نگاہیں ملتے ہی وہ مسکرایا اور پلیٹ پر جھک گیا لیکن اس مبہم تبسم میں تسلی تھی، یقین دہانی تھی۔
٭٭٭
’’ آپا ! حمدان کی انگیجمنٹ ختم ہوگئی ہے ہم تو اس کی شادی میں شرکت کے ارادے اور تیاری سے آئے تھے۔ اس قلیل وقت میں نئی دلہن ڈھونڈنے سے اچھا ہے قریب ہی دیکھ لیا جائے؟‘‘
’’ قریب کون ہے ؟ ‘‘
’’ اگر آپ اور حمدان کو اعتراض نہ ہو تو استاد جی کی نواسی موجود ہے۔ ‘‘ فراز احمد نے بہن سے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔
’’ خوبصورت ہے، پڑھی لکھی اور دیکھی بھالی بھی پھر مجھے ہمیشہ کے لیے اطمینان رہے گا اور جو سختی غلط فہمی کی بنا پر ہوئی ہے، اس کی اس سے بہتر تلافی کیا ہو سکتی ہے ! ‘‘ سمیعہ نے اپنے ماموں کو خوب ’ ٹریننگ ‘ دی تھی۔
’’ لیکن حمدان مانے گا ؟ وہ تمھاری میری مرضی کے آگے دل پر پتھر رکھ کے ہاں نہ کر دے۔ ‘‘ تلافی والی بات کہیں ان کے اندر رہ گئی تھی۔
ان کی سوچ اور یقین اس قدر غلط ثابت ہوئے تھے کہ انہیں اپنے خیالات اور قوت فیصلہ پر بھروسا نہیں رہا تھا۔ ان کے علاوہ ہر کوئی درست تھا ۔سمیعہ بھی، فراز احمد بھی۔ بس وہ ہی ایک بات کو سچ مان کے اسی پر اڑی رہیں اور پھراسی عینک سے سب کچھ دیکھا فراز احمد کو بھی اور آئیدٰن کو بھی۔ اس وقت وہ خود کو کوئی بھی فیصلہ کرنے کے قابل نہیں سمجھ رہی تھیں اور اپنے بھائی کے چہرے اور انداز کی ندامت بھی ان کو اداس کر نے والی تھی۔ان کی محبت اب بھی بھائی کو ساری رعایتیں دینے پر مصر تھی۔
’’ آپ سمیعہ سے کہیں، وہ حمدان سے اس کی مرضی معلوم کروالے گی۔ ‘‘ مشورہ حاضر تھا۔
باقی گھر والے اچانک اس تجویز پر شش و پنج میں تھے ،سب ہی نے الماس پروین میں تبدیلی محسوس کی تھی۔ وہ پہلے بھی آئیدٰن، الماس پروین اور فراز احمد والے معاملے سے دور رہتے تھے، اب بھی سب نے وہی کیا تاہم آخری فیصلہ حمدان پر چھوڑدیا گیا۔
اور پھر سارے گھر نے دیکھا کہ سمیعہ نے پوچھا اور حمدان اور آئیدٰن کا رشتہ پکا ہوگیا۔سب کے نزدیک یہ فرا ز احمد کی خواہش تھی جسے حمدان اور الماس پروین نے قبول کیا تھا۔
’’ دوسروں سے اپنی وفا ثابت کرنے کے لیے ہم ان کے ساتھ زیادتی کر جاتے ہیں جن کا ہماری طرف کوئی حساب ہی نہیں نکلتا ہے۔ یہ کیسا انصاف، کیسی محبت ہوتی ہے؟ محبت ثابت کرنے کے لیے کسی سے نفرت کرنا پڑے تو اس محبت کو کس کھاتے میں رکھا جائے گا؟ ‘‘
جب سب حمدان کو مبارک باد دے رہے تھے تو کبھی سمیعہ کی کہی بات ان کے کانوں میں گونجی۔
یہ تلخ سی بات ان کی سوچ بن کر ابھری اور اداس ہوتے ہوتے اچانک ان کے اندر اطمینان پھیلا کہ وہ دیر سے سہی سنبھل گئی تھیں اور انہیں فوراً تلافی کا موقع بھی مل گیا تھا۔
اسے بتانے سمیعہ ہی آئی تھیں اور وہ پلکیں جھپکائے بنا بت بنی انہیں تک رہی تھی۔
’’ مبارک ہو۔ ‘‘ انہوں نے بڑھ کے اسے گلے لگایا اور وہ جیسے ہوش میں آئی۔ ان کے گلے لگی وہ یک دم پھوٹ پھوٹ کے رو دی۔
جانے کس کس دکھ، کون کون سے زخم اور کیسی کیسی باتوں پر اس کے جمع آنسو بہہ نکلے تھے یا پھر یہ محض خوشی کے آنسو تھے۔
سمیعہ کو ان دو معصوموں اور ان کی خاموش محبت پر بڑا ناز محسوس ہوا۔
باری باری سب ہی اسے مبارک باد دینے آرہے تھے لیکن سب سے اداس ان سب میں نمو تھی۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا، آئیدٰن بازی مار گئی تھی۔
فراز احمد کے جانے سے قبل شادی تھی اور ساتھ ہی حمنہ اور ارقم کی منگنی بھی۔
٭٭٭
آج حمنہ اور ارقم کی رسمِ منگنی کے ساتھ ان دونوں کا نکاح ہوا تھا۔
ایمل، وغیرہ کے لاکھ سمجھانے کے باوجود بھی بار بار اس کی آنکھیں بھر آرہی تھیں باوجود ضبط کے ایک آدھ آنسو چھلکنے کی جرأت بھی کر رہا تھا۔
’’ میں ہوتی تو خوشی کے مارے اس سے زیادہ روتی۔‘‘ نمو کی حسرت زدہ آواز پر اس سمیت سب ہنس پڑیں۔
’’ اب ایسی آہیں سوچ سمجھ کے بھرا کرو۔ ‘‘ ایمل نے اس کے سر چپت لگائی۔ ’’ ورنہ آئیدٰن دیدی ڈنڈے سے پٹائی کر دیں گی۔ ‘‘ ’ نہیں۔ ‘‘ اس نے پورے یقین سے کہتے ہوئے اسے دیکھ کر تائید چاہی۔ ’’ انہیں پتا ہے، وہ تھوڑی ماریں گی مجھے۔ ‘‘
’’ کیا پتا ہے ؟ ‘‘ امیمہ، سمیعہ کی بڑی بیٹی نے پوچھا۔
’’ کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا، ان کی شادی ہوگئی ہے۔ ‘‘ ان سب کے بلند قہقہوں میں اس کا تبسم بھی شامل تھا۔
وہ سب اس سے وعدہ لے کر نکلی تھیں کہ اب وہ ضبط کرے گی اور ان کے جانے کے بعد وہ واقعی خود کو رونے سے روکنے کی کوشش کرتی رہی کہ اس سے جذبات اور خوشی سنبھل نہیں رہی تھی۔ اس کا دل، دامن، آنکھیں سب اس افتاد پر ہکا بکا آنسو بہانے پر مصر ہوئے پڑے تھے۔ تھوڑا وقت خود کو سنبھالنے میں خرچ کرنے کے بعد اس نے نظریں گھمائیں اور دائیں جانب کنسول میز پر دھری ٹرے دیکھ کے ٹھٹھک گئی۔
’’ سب اسے کیسے بھول گئے ؟ ‘‘ اس نے سوچا اور بے اختیار ہی پلنگ سے نیچے اترگئی۔
وہ اپنا عروسی جوڑا سنبھالتی سست قدموں سے میز کے پاس پہنچی اور دراز سے لائٹر نکال کر ابھی مرتبان کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ پیچھے سے حمدان کی سرگوشی ابھری۔
’’ اب اس کی ضرورت نہیں۔ ‘‘ وہ اپنے درمیان خاموشی اور غیر صوتی رابطوں کے عادی تھے جہاں تصور اور خیال پر اس عزیز کا قبضہ انہیں اردگرد کی آہٹوں سے بے نیاز کر دیتا تھا۔ جیسے اس وقت اپنے خیال میں گم اسے کمرے کی کوئی آہٹ سنائی نہیں دی تھی۔ اس کا ہاتھ لرزا اور پیچھے کھڑے حمدان نے اس کے ہاتھ سے لائٹر لے کر میز پر رکھ دیا۔ وہ ہنوز اسی وضع میں ایستادہ تھی۔ ایک دوسرے کے روبرو کھڑے ہوکر بات کرنے کا وقت آگیا تھا اور یہ کیسے کرنا ہے، وہ اناڑی تھی۔
’’ جب تم پاس ہو۔ ‘‘ حمدان نے اس کے شانوں پر ہاتھ رکھ کے اپنا سر اس کی کنپٹی سے لگایا۔
’’ توکمرے میں ان جھوٹے بہانوں اور تسلیوں کی کیا ضرورت ! ‘‘ اس نے اس کا رخ اپنے سامنے کیا۔
اس روپ میں سامنے دیکھ کر اسے خود ہی خواب کا گماں ہونے لگا۔
’’ ہم اگر اتنے برسوں کی شناسائی اور ہماری گفتگو کو بیلنس کرنے کی کوشش کریں تو اگلا ایک سال مسلسل باتیں کرتے گزر جائے۔ ‘‘ اس کی آواز دھیمی تھی لیکن بات میں شامل جذبات اور خواہشات دھیمی نہیں تھیں۔
’’ اور میرے پاس ہے بھی اتنا کہ کچھ تم سے کہنے کہ یہ بھی ناکافی ہوگا۔ ‘‘ وہ نظر اٹھا کے اسے دیکھ بھی نہیں پا رہی تھی۔
’’ یہ خواب نہیں ہے۔ ‘‘ ذرا دیر کے توقف کے بعد حمدان نے اس کا خیال پڑھ کے جواب دیا۔
آئیدٰن نے آہستہ سے سر اونچا کیا۔ اس نے بارہا تصور میں منگنی والی شب کی طرح ایک رات سجائی تھی جب اسے بلند آواز میں اس کا نام لینا تھا، چند پل اس چہرے، ان آنکھوں کو دیکھتے رہنا تھا۔
اسے بتانا تھا کہ اس نے اس کی زندگی کو کس قدر خوبصورت بنایا ہے، اسے وہ سب رنگ دکھانے تھے جو اس کے ہونے سے اس کے آس پاس بکھرے رہتے تھے۔
اس سے کہنا تھا کہ وہ دکھی اور افسردہ روح نہیں بلکہ اس نے اسے اس سر زمین پر ایک مست اور بے خود روح میں بدل دیا ہے، جو سیراب ہے، سرخرو ہے، بس ایک ایسی رات کا تصور اور تمنا کی تھی اس نے اور جب وہ سجی سجائی رین حقیقت بنی تو وہ گونگی ہوگئی تھی۔
اس کے چہرے پر رقم سارے احساسات، سارے تشکرات حمدان پڑھ سکتا تھا، پڑھ رہا تھا۔ پھر اس کا خوشی سے لبریز دل، آنکھوں سے چھلکنے کو بے تاب ہوا۔ کب اس کے گمان میں تھا کہ ایک ایسی رین قدرت نے ان کے لیے بھی سجا کے رکھی ہے۔
’’کچھ تو کہو۔ ‘‘ حمدان نے اس کا چہرہ اونچا کیا۔ ایک زمانے کی خاموش مسافت اور صدیوں کا انتظار تھا اس کا اور اب اسے خاموشی نہیں الفاظ اور آواز چاہیے تھی۔
’’ آج مجھے یقین ہوگیا ہے۔ ‘‘ اس نے آخر بولنا شروع کیا۔
’’ کہ طلب کی شدت اور جذبوں کا خلوص دنیا کی سب سے پٓر اثر دعا ہے۔ ‘‘
اس کی بڑی بڑی کندنی سبز آنکھیں اس وقت بھی بھیگی تھیں۔ اس نے نہ کبھی ہاتھ اٹھا کے اس کے حصول کی دعا مانگی تھی نہ دل میں گڑگڑائی تھی کہ اس کی نیت اور مقصد حمدان کی آسانی تھا اور اس نوازنے والے کو تو کوئی بھی ادا بھا جاتی ہے !
’’ اوہ آئیدٰن ! ‘‘ اسے قریب کرتے ہوئے وہ بڑی فراخی سے مسکرایا تھا۔
اتنی بڑی دنیا میں اتنی سی جگہ کی ہی تو خواہش تھی اسے۔ اس نے آنکھیں موندیں تو گال بھیگ گئے تھے۔
٭٭٭
فراز احمد لوٹ گئے تھے۔ باقی سب بھی جاچکے تھے۔ اگلی صبح سمیعہ کی واپسی تھی۔
’’ اب یہ تم دونوں پر منحصر ہے اسے ساری عمر راز رکھتے ہو یا دنیا کو اس پریم کہانی کی خبر ہوجاتی ہے۔ ‘‘
’’ جو بھی ہو، اب کیا فرق پڑتا ہے۔ ‘‘ حمدان کو واقعی اب پروا نہیں تھی۔
’’ مجھے دڑ لگتا ہے کہ یہ سچ جاننے کے بعد امی کے اندر پھر کوئی منفی جذبہ نہ ابھرنے لگے۔ ‘‘ سمیعہ نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔
’’ اب ایسا نہیں ہوگا باجی۔ ‘‘ اسے یقین تھا کہ وہ ماں کا مزاج اور فطرت جانتا تھا۔
’’ اللہ کرے ایسا ہی ہو۔ ‘‘ وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔
’’ زیادہ دیر باہر مت رکنا۔ موسم ٹھیک نہیں۔ کہیں آئیدٰن پھر بیمار نہ پڑ جائے۔ ‘‘ جاتے ہوئے انہوں نے تاکید کی مگر وہ بھی ان کے پیچھے جانے کے لیے کرسی چھوڑ کے کھڑی ہوگئی۔
’’ تم کہاں چلیں ؟ ‘‘ ہاتھ پکڑ کے اسے روکتے ہوئے وہ بھی کھڑا ہوگیا۔
’’ اندر چلتے ہیں۔ ‘‘
’’ کیوں ؟ تمہیں ٹھنڈ لگ رہی ہے ؟ ‘‘ حمدان نے اس کے گرد لپٹی شال درست کرتے ہوئے پوچھا۔
’’ نہیں۔ لیکن۔ ‘‘ اس نے لاؤنج اور کمروں کی طرف دیکھا۔’’ کوئی بھی ادھر آسکتا ہے۔ ‘‘
’’ ہمیں یوں دیکھ کر الٹے پیر واپس بھاگ جائے گا۔ ‘‘
’’ یہ اچھی بات تو نہیں۔ ‘‘ آئیدٰن کی آواز اتنی دھیمی تھی مانو ڈر ہو کہ کوئی سن نہ لے۔ وہ اس نئی قربت اور بے تکلفی سے مانوس ہو رہی تھی۔
’’ کیا اچھی بات نہیں ؟ ‘‘ حمدان کے سوال پر وہ کچھ دیر چپ رہی مگر چہرے پر شرمگیں سا تبسم بکھر گیا۔
’’ میں نے اتنی احتیاط اور اتنا خود کو کنٹرول کیا ہے کہ میرے پاس یہ چیزیں بیلنس بچی ہی نہیں ہیں۔ ‘‘ حمدان نے اس کے یخ رخساروں پر آرہی لٹیں پیچھے کیں۔
الماس پروین تب سے اپنے کمرے کی کھڑکی میں کھڑی لان میں دیکھ رہی تھیں جب وہاں سمیعہ بھی موجود تھیں۔
ان کی باتیں، مسکراہٹیں، ہنسی، آئیدٰن کی جھجک، شرم اور حمدان کا چہرہ ،اس کی نگاہیں۔ انہیں ہمیشہ سمیعہ اور حمدان میں فراز اور وہ نظر آتے تھے اور آج اس تصویر میں انہوں نے ان کے ساتھ آئیدٰن کو بھی دیکھا۔
کئی منظر واضح ہوئے اور ان کی آنکھوں کے سامنے کڑی سے کڑی جڑتی گئی۔
’’ حق ہا! میرا بیٹا محبت میں آئے تن نکلا ! ‘‘ وہ زیر لب بڑبڑائیں۔
لان میں وہ آئیدٰن کا چہرہ تھام رہا تھا۔ الماس پروین مسکرائیں اور ان کی دائمی خوشیوں کی دعا کرتی وہاں سے ہٹ گئیں۔ وہ جو اپنے بھائی کے لیے نہیں کر سکی تھیں، ان کی بیٹی نے اپنے بھائی کے لیے کر دکھایا تھا اور اس کامرانی کی وجہ یہ فرق تھا کہ دونوں جانب جذبات ایک سے تھے۔ انہیں سمیعہ پر بڑا پیار آیا۔
آئیدٰن نے گھبرا کے ادھرادھر دیکھا اور اس کا ہاتھ ہٹانا چاہا لیکن بس سوچ کے رہ گئی۔
’’ ہم اندر کمرے میں چلیں۔ ‘‘ اسے سر عام اس کی یہ بے باکیاں بوکھلا رہی تھیں اور جو زبان سے پھسلا، اس پر خود ہی بے طرح خجل ہوگئی۔ حمدان ساختہ زور سے ہنسا۔
’’ اوہ آئیدٰن ! ‘‘
*****


