سرماکی پہلی برف باری کا آغاز ہو چکا تھا۔ وہ جانے کب بار سے نکل کر دھیرے دھیرے چلتا سڑک کنارے موجود اس سنگی بینچ پہ آبیٹھا تھا۔
اس سے کچھ فاصلے پہ نصب پول کی مدھم روشنی بمشکل اس کے پاس پہنچ رہی تھی۔لمحہ، لمحہ بھیگتی رات گہری ہوتی جا رہی تھی۔ اور باہر پھیلے گمبھیر سناٹے کی مانند اس کے اندر سناٹا بھی پھیلتا جا رہا تھا۔
پچھتاوے کے ناگ بار، بار اسے ڈس رہے تھے۔ یادو ں کا شور اتنی تیزی سے اٹھا کہ وہ بے اختیار ہی اپنے دونوں گھٹنوں کوجوڑے اپنی کہنیوں کو ان پہ ٹکائے کانوں پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھ گیا۔
کوئی ہنسا اور ہنستا ہی چلا گیا۔ اور یہ ہنسی کسی اور کی نہیں بلکہ اس کی اپنی تھی۔وہ خود پہ ہنس رہا تھا۔
’’آر یو میڈ؟‘‘(کیا تو پاگل ہو) اس کے قریب سے گزرتے اس کپل نے حیرانی سے سنگی بینچ پہ بیٹھے شخص کے قریب سے گزرتے ہوئے کہا۔بینچ پہ بیٹھے شخص نے تیزی سے سر اٹھایا۔وہ افریقین جوڑا تھا۔ جو آنکھوں میں حیرت لیے اسے اتنے اطمینان سے کھلے آسمان تلے بیٹھے دیکھ کر اس کے قریب رٓکا تھا۔اور پھر اگلے ہی لمحے وہ دونوں لڑکا، لڑکی لاپروائی سے کندھے اچکاتے آگے بڑھ گئے۔
’’آر یو میڈ؟‘‘ وہ زیر لب بولا۔
’’ یس آئی ایم میڈ۔ ہاں میں پاگل ہوں۔‘‘ اخروٹ کے خول کی مانند اس کا مضبوط وجود چٹخنے لگا تھا۔صحرائی آنکھوں کی زمین پہ نامحسوس سی نمی ابھرنے لگی تھی۔ چہرے کے سرد تاثرات میں حدت گھلنے لگی تھی۔
’’ ہاں میں پاگل ہوں۔میں پاگل تھا۔ اور شاید مزید پاگل ہو جاؤں گا۔‘‘اس نے کہتے ہوئے اپنے سر کو اٹھایا۔اور گردن کو پیچھے کی طرف گرا دیا۔آنکھوںکے گوشے نم ہوئے۔درد اتنا بڑھا کہ آنکھوں سے گرم سیال مادہ نکل کر اس کی کنپٹیوں سے ہوتا ہوا بالوں میں گم ہو گیا۔
’’ اس کی یاد مجھے مار ڈالے گی۔ میں اسے یاد کرنا نہیں چاہتا۔ تو پھر وہ مجھے کیوں یاد آتی ہے۔جو ہونا تھا۔ہو چکا یہ اول روز سے طے تھا۔ مگر پھر یہ جومیرے ساتھ ہو رہا ہے۔ یہ تو طے نہیں تھا۔ مجھے جو چاہیے تھا۔ میں نے وہ سب حاصل کر لیا۔تو پھر میں خوش کیوں نہیں ہوں۔‘‘وہ بڑبڑاتے ہوئے سیدھا ہو کر بیٹھا۔اپنے چہرے پہ موجود برف کو دونوں ہاتھوں سے صاف کرنے لگا۔اس کے ہاتھ تیزی سے حرکت کررہے تھے۔کہ یکدم رٓک گئے۔
بھوری دو آنکھوں پہ موجود لانبی پلکوں کو اٹھایا گیا تھا۔جن میں نمی نہیں تھی۔حیرت تھی۔استعجاب تھا۔
وہ خود بھلا یہاں کب تھا؟اس کی روح تو ہزاروں میلوں دور اس عالی شان گھر کے تعیش ڈرائنگ روم میں تھی۔جہاں قیمتی فرنیچر بڑی شان سے رکھا ہوا تھا۔ دنیا بھر کے نایاب ڈیکوریشن پیس بڑی شان سے سجائے گئے تھے۔ دیواروں پہ بھاری پردے گرے ہوئے تھے۔ اور اس کے سر کے عین اوپر سلور اور گولڈن امتزاج سے مزید بارہ سنگھے کے سینگ کی مانند فانوس بڑی رعونت سے آویزاں تھا۔
جس میں لگے ننھے بلبوں کی روشنی نے پورے ماحول کو سحر انگیز بنا رکھا تھا۔مگر اس وقت اس ڈرائنگ روم میں موجود کوئی بھی نفوس کسی بھی چیز کی طرف متوجہ نہیں تھا۔ کسی ایک کے چہرے پہ فاتحانہ مسکراہٹ آویزاں تھی۔تو دوسرے کے چہرے پہ سب کچھ پا لینے کی چمک۔جب کہ ان دونوں کے بیچ وہ تیسرا چہرہ حیرت سے فاتحانہ چہرے کی طرف مڑتا تو کبھی اپنے پاس کھڑے شخص کی طرف۔۔۔۔ وہ دونوں شخص مطمئن تھے۔ جو چاہا۔ جیسے چاہا ویسا ہی تو ہوا تھا۔
اور وہ تیسرا جس کے چہرے کا رنگ بار ،بار بدل رہا تھا۔اس کے چہرے پہ کبھی تاریکی بڑھ جاتی۔ تو کبھی حیرت سر اٹھانے لگتی۔کبھی چہرے پہ کرب کے اثرات بکھر جاتے۔
’’ایم سوری۔‘‘ اس نے اس کے چہرے پہ نظر ڈالتے ہوئے کہا۔ اور جھک کر ٹیبل سے ان چیزوں کو سمیٹنے لگا۔ جو اسے اس کی خدمات کے عوض ملی تھیں۔بلینک چیک اور پاسپورٹ ٹکٹ اٹھا کر اس نے اپنی جیب میں رکھا۔ سر کو ہلکا سا خم دے کر سامنے کھڑی عورت سے اجازت طلب کی۔
غرور سے تنی گردن اسی طرح تنی رہی۔ فقط ابرو کے اشارے سے اسے جانے کا اشارہ کیا گیا۔
اس بار اس نے حیرت زدہ پتھر بنی لڑکی کی طرف دیکھنے سے گریز کیا۔اور بیرونی دروازے کی سمت بڑھ گیا تھا۔
اسے امید نہیں تھی۔ وہ اتنی آسانی سے اس بنگلے سے نکل آئے گا۔مگر وہ نکل آیا تھا۔اس بنگلے سے بھی ،اس کی زندگی سے بھی۔مگر.سرد ہوا کی لہر چلی اور سوچوں میںگھرے شخص کو کپکپانے پہ مجبور کر گئی۔
’’ میں تو آگیا تھا۔ مگر میرا دل۔‘‘ بے اختیار ہی اس کا ایک ہاتھ اپنے سینے کے بائیں جانب آن ٹھہرا۔اس نے اپنے دل کی دھڑکن کو سننے کی کوشش کی۔ محسوس کرنے کی کوشش کی۔ مگر اسے یوں لگا۔وہ بنا دل کے ہے۔اس کے پہلو میں دل تو تھا ہی نہیں۔وہ بے اختیار ہی گھبرا کر اٹھا۔
’’مم، مجھے اسے یاد نہیں کرنا۔ مجھے کچھ بھی یاد نہیں کرنا۔ وہ ماضی تھا۔وہ بیت چکا ہے۔ میں سب کچھ بھلا چکا ہوں۔ میں اسے بھی بھول چکا ہوں۔میں اب کبھی بھی کچھ بھی یاد نہیں کروں گا۔میں نے کبھی اس سے محبت نہیں کی تھی۔‘‘وہ بڑبڑاتاہوا اپنی ہڈ کی کیپ کو سر پہ لینے لگا۔
’’ محبت نہیں کی تھی۔کیا واقعی تم نے اس سے محبت نہیں کی تھی۔‘‘ کوئی اس کے قریب چلایا۔اس نے سراسیمگی نظروں سے اپنے ارد گرد دیکھا۔
وہاں کوئی نہیں تھا۔ اگر کوئی نہیں تھا۔ تو پھر یہ آوازیں کہاں سے آرہی ہیں۔ اس نے گردن کو گھما کر اپنے عقب میں دیکھاتو اسے لگا۔وہ اب سانس نہیں لے پائے گا۔ وہ جو بھی تھا بالکل اس کے جیسا تھا۔ایک جیسی قدوقامت، نقش و نگار ،یہاں تک کہ وہ اسی کے جیسے لباس میں ملبوس تھا۔
غور سے دیکھنے پہ اسے محسوس ہوا۔ وہ اور کوئی نہیں بلکہ یہ تو وہ خود ہے۔’’تم نے مجھے مارنے کی بہت کوشش کی۔مگر شاید یہ تمہارے باپ کی حلال کمائی کا اثر تھا۔تم بہت چاہ کر بھی مجھے مار نہیں سکے۔ ضمیر کو مردہ نہیں کر پائے۔یہ رزق حلال کی برکت ہے۔جو تمہیں ضمیر کی خلش میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔
تمہیں کیا لگتا ہے تم ساری دنیا سے چھپ جاؤ گے۔ تو تمہارا اصل چہرہ بھی دنیا سے چھپ جائے گا کبھی نہیں۔دنیا اصل کو پہچان پائے یا نہ پہچان پائے۔ مگر اپنے دل اور ضمیر سے تم اپنا اصل کبھی نہیں چھپا سکتے۔ ہاں تم نے اس سے محبت نہیں کی تھی۔
یہ تو تمہارے پلان میں تھا ہی نہیں۔ لیکن دیکھو۔ ’’تم، اسے محبت ہو گئی۔ محبت کی کب جاتی ہے یہ تو ہو جاتی ہے۔اور محبت عفریت بن کر تم سے لپٹ گئی۔‘‘وہ کہہ کر ہنسا تو پھر ہنستا چلا گیا۔
’’چپ کر جاؤ۔ چپ کر جاؤ۔‘‘وہ پوری قوت سے چلایا تھا۔
’’میرے چپ کر جانے سے سچ چھپ نہ پائے گا۔‘‘ اس کا ہمزاد رٓکا۔اور استہز ائیہ نظروں سے اس کی سمت دیکھا۔ طنزیہ مسکراہٹ اس کے لبوں پہ ابھری۔اور پھر وہ پلٹ گیا۔
’’سنو، میری بات سنو۔‘‘وہ دور جاتے سائے کے عقب میں لپکا۔
’’آج کے بعد مجھے یہ مت کہنا مجھے اس سے محبت ہو گئی۔نہیں مجھے اس سے محبت نہیں ہوئی۔مجھے کبھی بھی اس سے محبت نہیں ہو سکتی۔‘‘
وہ کہتے ہوئے رکوع کی حالت میں جھکا۔اور پھر سڑک کے وسط میں بیٹھ کر رونے لگا۔اور اب وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔اور پھر جب وہ روتے روتے تھک گیا۔تو خود ہی خاموش ہو کر اٹھا۔ وہ میکانکی انداز میں چلتا ہوا۔ ذیلی سڑک سے نکل کر مین سڑک پر آیا۔اور سڑک کنارے کھڑی کیب میں بیٹھ کر ڈرائیور کو ایڈریس بتا کر آنکھیں موندلیں ۔اس کے اندر مزید سوچنے، مزید رونے کی ہمت نہیں تھی۔ اسے گھر جانا تھا اور گاڑی کا رخ اس کے بتائے ہوئے راستے کی طرف تھا۔اگلے بیس منٹ میں وہ اپنے اپارٹمنٹ کے باہر کھڑا تھا۔ اس نے اپنی جیب سے ڈپلی کیٹ چابی نکالی اور لاک کھول کر اندر داخل ہو گیا۔
٭٭٭
’’سناور!‘‘ کوئی ہولے ہولے اس کے رخسار کو تھپتھپا رہا تھا۔ وہ گہری نیند میں تھا۔مگر اس کے باوجود اس کی پوروں کی نرمی کو محسوس کر گیا تھا۔اس نے اپنی آنکھوں کو کھولا اور خود پہ جھکی لڑکی کی سمت دیکھا۔ اگلے ہی لمحے نہ چاہنے کے باوجود وہ اٹھ کر بیٹھ چکا تھا۔
’’کیا بات ہے۔ تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ وہ فکر مندی سے استفسار کرتی اس کے پاس آبیٹھی۔
’’ہاں ٹھیک ہوں۔ میں فریش ہو کر آتا ہوں۔تم مجھے ایک کپ کافی لا دو۔‘‘ وہ خود پہ پڑے کمبل کو پرے کرتا ہوا اٹھ کر کھڑا ہوا۔اور فریش ہونے کے لیے چل پڑا۔جس وقت وہ تولیہ سے سر کو رگڑتا ہوا باتھ روم سے نکلا۔امل ٹرے اٹھائے کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔ اس کے لبوں پہ سناور کو دیکھتے ہی ایک خوبصورت سی مسکراہٹ ابھری۔سناور کے حرکت کرتے ہاتھ لمحہ بھر کے لیے رکے۔ بدقت اس نے اپنے ہونٹوں کو پھیلایا اور اگلے لمحے سمیٹ بھی لیا۔
’’امی کہاں ہیں ؟‘‘اس نے تولیہ کو کرسی کی پشت پہ رکھتے ہوئے ماں کے بارے میں استفسار کیا۔
’’وہ مسز جاوید کے گھر گئی ہوئی ہیں۔‘‘امل نے ہاتھ میں پکڑی ٹرے کو ٹیبل پہ رکھتے ہوئے اسے مطلع کیا۔تو وہ’’ ہوں ‘‘کہہ کر آئینہ کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔ جانے کیا بات تھی۔ وہ اب آئینے میں نظر ڈال کر نہیں دیکھ سکتا تھا۔
وہ صوفے پہ آ بیٹھا۔سامنے ہی اس کا فیورٹ چیز آملیٹ اور خستہ پراٹھا ٹرے میں موجود تھا۔اس نے بمشکل چند نوالے کھائے۔ اور ٹرے کو پرے سرکا کر چائے کا کپ لبوں سے لگا لیا۔
’’ سناور!‘‘ امل نے اسے پکارا۔ اس نے سر اٹھا کر اپنے سامنے کھڑی امل کی جانب دیکھا۔ یہ چہرہ، ہاں یہ چہرہ اسے کائنات میں سب سے زیادہ خوبصورت لگتا تھا۔ اتنی بڑی کائنات میں اس کی کائنات اس چہرے پہ آ ٹھہری تھی۔جی چاہتا گھنٹوں اس چہرے پہ اپنی نظریں جمائے رکھے۔اور اب۔۔۔اب چند سیکنڈ کے بعد ہی اس نے اپنی نظروں کا زاویہ پھیر لیا تھا۔
’’کیا تم مجھ سے ناراض ہو؟‘‘وہ بے تابی سے استفسار کرتی کاؤچ کے دوسرے سرے پہ آبیٹھی۔
’’میں تم سے کیوں ناراض ہوں گا امل۔‘‘ سناور نے الٹا اس سے سوال کیا۔تو امل اپنے لب کچل کر رہ گئی۔
’’ تم بہت بدل گئے ہو سناور۔‘‘تھک کر امل نے شکوہ کرہی دیا۔ تو سناور کے لبوں پہ خزاں رسیدہ مسکراہٹ آن ٹھہری۔
’’ایسا کچھ نہیں ہے۔ پتا نہیں امی اور تمہیں کیوں وہم ہو گیا ہے۔ میں بدل گیا ہوں۔‘‘
’’وہم بلا وجہ نہیں ہوتے سناور۔‘‘ وہ آہستگی سے گویا ہوئی۔ تو اس کے لبوں پہ بکھری خزاں رسیدہ مسکراہٹ بھی دم توڑ گئی۔وہ فقط امل کو دیکھ کر گہری سانس بھر کر رہ گیا تھا۔
’’ وہم کا کوئی علاج نہیں ہوتا۔ اگر تمہیں اور امی کو یہ لگتا ہے تو میں کیسے اس وہم کو دور کر سکتا ہوں۔‘‘ اس نے کہہ کر اپنی توجہ چائے کی طرف مبذول کی۔امل نے شکوہ بھری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔اور پھر اٹھ کر کھڑی ہوئی۔
’’کیا یہ غلط نہیں تم مجھے اور خالہ کو اتنی دور انجان شہر، انجان ملک اور انجان لوگوں میں لے آئے۔اور پھر یہاں آکر خود بھی انجان بن بیٹھے ہو۔‘‘ وہ ناراضگی بھرے لہجے میں بولی اور کمرے کا دروازہ پار کر گئی۔
سناور نے غصے سے ہاتھ میں پکڑا کپ ٹرے میں رکھا۔ اور اٹھ کر کمرے سے نکل کر امل کے کمرے میں آیا۔
’’ کیا غلط کیا ہے میں نے۔تمہیں اور امی کو اچھی زندگی دینے کے لیے میں نے کیا نہیں کیا۔مگر تم دونوں کبھی مجھ سے خوش نہیں ہو سکتیں۔ انجان لوگوں، انجان ملک کیا یہ سب میرے لیے انجان نہیں ہیں۔ لیکن تم اور امی۔۔۔‘‘
سناور نے غصے سے اپنی مٹھیوں کو بند کیا۔اور پلٹ کر امل کے کمرے سے ہی نہیں۔ بلکہ اپارٹمنٹ سے ہی نکل آیا۔امل اسے آوازیں دیتی، روکتی ہی رہ گئی تھی۔مگر وہ تو کب کا وہاں سے جا چکا تھا۔
’’کب تم ایسے کرتے تھے۔اور پھر کہتے ہو مجھے اور خالہ کو وہم کی بیماری نے گھیر لیا ہے۔‘‘امل کی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے۔ اور وہ وہیں صوفے پہ بیٹھ کر رونے لگی تھی۔
٭٭٭
سردی کی شدت بڑھتی جا رہی تھی۔ سرد ہوا نے مزید ٹھنڈ میں اضافہ کر رکھا تھا۔وہ دھیرے دھیرے چلتی ہوئی اپنے کمرے سے نکلی۔اور ٹیرس پہ آکر کھڑی ہو گئی، کمرے میں چلتے ہیٹر نے کمرے کے درجہ حرارت میں کمی کر رکھی تھی۔
باہر نکلتے ہی سردی کی شدت نے مہروسہ کو کپکپانے پہ مجبور کر دیا تھا۔ اس نے اپنے گرد لپٹی گرم شال کو اور بھی مضبوطی سے لپیٹا۔ اور سر اٹھا کر آسمان کی جانب دیکھنے لگی۔
’’زندگی بہت خوبصورت ہے۔ زندگی کا ہر رنگ بہت دل کش ہے۔ تم نے کبھی زندگی کے ان رنگوں کو محسوس کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔‘‘کسی کی سرگوشی اس کے کانوں میں گونجی۔ اس کے لبوں پہ مسکراہٹ ابھری۔
’’شاید ٹھیک کہہ رہے ہو تم۔‘‘اس نے بنا بحث کیے اس کی بات کو مان لیا۔
’’شاید نہیں یقینا۔ کیا کچھ نہیں ہے تمہارے پاس۔تم کیا کچھ نہیں خرید سکتیں۔لیکن دیکھو اس کے باوجود بھی تم ہمیشہ افسردہ نظر آتی ہو۔‘‘ اس نے کہا۔
’’ پیسے سے سب کچھ خریدا جا سکتا ہے؟‘‘ مہروسہ اب مکمل طور پر اس کی طرف مڑی تھی۔
’’تو کیا پیسے سے سب کچھ نہیں خریدا جا سکتا۔‘‘ اس نے الٹا اس سے سوال کیا۔
’’ نہیں خریدا جا سکتا۔ یہ غلط فہمی ہے۔جانے کیوں لوگوں کو لگتا ہے ،پیسہ ہی طاقت ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ پیسے سے ہم بہت کچھ نہیں خرید سکتے۔ خلوص نہیں خرید سکتے۔ خوشیاں نہیں خرید سکتے۔پیسے سے ایک شخص کو خریدا تو جا سکتا ہے۔مگر اس کا دل ،اس دل میں اپنے لیے محبت نہیں خرید سکتے۔ پتانہیں تم کیوں ایسی باتیں کرتے ہو۔‘‘وہ ناراض ہوئی۔
’’رہنے دو مہرو۔ تمہارے پاس پیسے ہیں۔ اسی لیے تم ایسی باتیں کرتی ہو۔‘‘ مقابل نے کہا تو اس کے لبوں پہ استہزائیہ مسکراہٹ ابھری۔ ایسی ہی جیسے کسی نادان بچے کی بات پہ ہنس دیا جائے۔ وہ چڑ گیا تھا۔اور بری طرح چڑا تھا۔اسی لیے وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔
مہروسہ نے گہری سانس لی۔
٭٭٭
وہ کچھ دیر پہلے ہی اسٹور سے واپس آیا تھا۔ اور پلازما اسکرین پہ نظریں جمائے بیٹھا تھا۔کوئی بھی شخص دیکھ کر بتا سکتا تھا۔ وہ یہاں ہو کر بھی یہاں موجود نہیں تھا۔
’’سناور!‘‘ اس کی ماں نے اسے پکارا۔لیکن اس کے وجود میں رتی بھر بھی فرق نہیں آیا تھا۔
’’سناور!‘‘ اب کے عالیہ بیگم ذرا اونچی آواز میں بولیں۔ تو سناور نے چونک کر اپنی نظروں کو اسکرین سے ہٹایا۔اور ماں کے چہرے کی سمت دیکھا۔
’’تم کہاں گم ہو ؟‘‘عالیہ نے فکر مندی سے اکلوتے بیٹے کے قریب ہوتے ہوئے پوچھا۔
’’ نہیں. کہیں نہیں۔آپ بتائیں کیا کہہ رہی تھیں۔‘‘سناور نے سیدھا ہو کر بیٹھتے ہوئے صوفے پہ پڑا کشن اٹھا کر اپنے بازوئوں کے نیچے رکھا۔
’’ وہ میں یہ کہہ رہی تھی۔ کہ اب تو ماشائ اللہ سے سب ٹھیک ہو گیا ہے۔اب تو ہمارے حالات بھی پہلے سے زیادہ ٹھیک ہو گئے ہیں۔ تمہارا سٹور بھی اچھا جا رہا ہے۔ تو کیوں نہ اب تمہاری اور امل کی شادی کر دی جائے۔‘‘
عالیہ بیگم نے کہتے ہوئے محبت پاش نظروں سے امل کی طرف دیکھا۔جو ان کے اور سناور کے لیے کھانا ٹیبل پر چن رہی تھی۔ سناور نے بے اختیار ہی امل کی طرف دیکھا۔جو نظریں جھکائے پلیٹ ٹیبل پہ رکھ رہی تھی۔ کتنے ہی قوس قزح کے رنگ اس کے صبیح چہرے پہ بکھرے تھے۔
لیکن سناور کی خاموشی کا دورانیہ بڑھتا جا رہا تھا۔ اتنا کہ امل نے پلکوں کی گھنیری جھالر کو اٹھایا۔اور لب بھینچ کر بیٹھے سناور کی طرف دیکھا۔اس کے چہرے پہ کوئی بھی تاثر نہیں تھا۔ سپاٹ چہرہ ،خاموش آنکھیں کسی نے تیز دھار خنجر جیسے امل کے سینے میں اتار دیا تھا۔ اسے تو خوشی سے پاگل ہو جانا چاہیے تھا۔محبت لٹاتی نظروں سے اس کی طرف دیکھنا چاہیے تھا۔مگر ایسا کچھ نہیں تھا۔ کتنے ہی کانچ کے ٹکڑے اس کے دل میں پیوست ہو گئے تھے۔
’’ سناور!‘‘ اس کی خاموشی سے گھبرا کر عالیہ بیگم نے اسے پکارا۔وہ کچھ بھی کہے بنا اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ دو بھوری آنکھیں اس کے تصور میں چلی آئی تھیں۔ امل کی آنکھیں اب دل میں موجود کانچ کے ٹکڑوں کی اذیت برداشت نہیں کر پا رہی تھیں۔ بے بسی سے وہ رونے لگی۔ سناور جو وہاں سے جاناچاہتا تھا۔اس کو روتا دیکھ کر واپس اپنی جگہ پہ بیٹھ گیا۔
’’ تم کیوں رو رہی ہو امل ؟‘‘اس کے سوال پہ امل نے جھٹکے سے اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا۔ اور کچھ بھی کہے بنا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔سناور نے ناسمجھی سے ماں کے چہرے کی طرف دیکھا۔
’’تمہیں کیا ہو گیا ہے۔کوئی پریشانی ہے تو ماں سے شیئر کر لو۔ لیکن اس طرح مت کرو۔‘‘عالیہ بیگم کے لہجے میں منت تھی۔
’’ کچھ نہیں ہوا امی۔ آپ کو اور امل کو جانے کیوں یہ وہم ہو گیا ہے۔کہ مجھے کچھ ہو گیا ہے۔‘‘ وہ جھنجھلائے ہوئے انداز میں بولا۔ تو عالیہ بیگم اسے دیکھ کر رہ گئیں۔
’’ امی! میں چاہتا ہوں ابھی اچھے سے مزید سیٹ ہو جاؤں۔‘‘سناور نے ماں کی طرف دیکھا۔
’’ کتنا سیٹ ہونا ہے تمہیں۔ مجھے بہلاؤ مت سناور۔یہ تم بھی جانتے ہو اور میں بھی۔امل سے شادی کے بعد نہ تو کوئی خرچا بڑھنے والا ہے۔اور نہ ہی کچھ اور۔ جو بھی بات ہے تم وہ کرو۔یہ چوہے بلی کا کھیل ختم کرو۔میں جب بھی تم سے امل سے شادی کی بات کرتی ہوں۔تم اسی طرح ٹال دیتے ہو۔ اگر تم امل سے شادی نہیں کرنا چاہتے تو مجھے صاف بتا دو۔ تاکہ میں اس کے لیے کہیں اور.‘‘
’’ امی!‘‘ سناور ان کی بات پہ ششدر رہ گیا۔
’’ کس نے کہا ہے میں امل سے شادی نہیں کرنا چاہتا۔ آپ نے یہ سوچ بھی کیسے لیا۔‘‘وہ اب آکھڑے ہوئے لہجے میں بولا۔
’’تو پھر تم شادی کی بات پہ خاموش کیوں ہو جاتے ہو۔ کیوں ٹال رہے ہو؟‘‘ عالیہ بیگم نے غصے سے پوچھا۔ تو سناور کوئی بھی جواب دیے بنا اپنے کمرے میں آگیا۔ وہ سخت مضطرب تھا۔پریشان تھا۔امل روتی ہوئی اپنے کمرے میں گئی تھی۔اسے اس کے پاس جانا چاہیے تھا۔ لیکن وہ۔۔۔۔سناور نے تھک کر خود کو بیڈپہ گرا دیا۔
’’آہ !وہ دو بھوری آنکھیں پھر سے اس کے سامنے چلی آئی تھیں۔
’’آخر تم میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ دیتیں۔‘‘ سناور نے غصے سے کہا۔اور اپنے قریب پڑے کشن کو اٹھا کر زمین پہ دے مارا۔اور تکیہ اٹھا کر اپنے منہ پہ رکھ لیا۔ وہ اسے یاد نہیں کرنا چاہتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود وہ اپنی تمام تر شدتوں سے یاد آرہی تھی۔سناور نے جھنجھلا کر کروٹ بدل لی۔
٭٭٭
’’السلام علیکم!‘‘وہ ڈائننگ ٹیبل کے قریب آئی۔اور سب کو مشترکہ سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام۔‘‘حسان صاحب نے کانٹے کی مدد سے کباب کا ٹکڑا منہ میں رکھا۔اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔مہر بادل ناخواستہ کرسی کھینچ کر اس پر بیٹھ گئی۔اس کے بیٹھتے ہی قریب کھڑے ملاز م نے آگے بڑھ کر اس کے سامنے پلیٹ رکھی۔اور آسے کھانا سرو کرنے لگا۔
’’اٹس اوکے۔میں خود لے لوں گی۔‘‘مہر نے اس کے ہاتھ سے شیشے کی ٹرے تھامتے ہوئے کہا۔اور اپنی پلیٹ میں چاول نکالنے لگی۔
’’ میں کل رات کا گھر آیا ہوں۔تم مجھ سے ملنے نہیں آئیں۔‘‘حسان نے بیٹی سے جیسے شکوہ کیا تھا۔مہر نے نظریں اٹھا کر باپ کی طرف دیکھا۔ اور پھر ان کے ساتھ کرسی پہ براجمان زمرد بیگم کو دیکھا۔ جو ہمیشہ کی طرح نک سک سے تیار کھلے ہوئے سرخ گلاب کی مانند لگ رہی تھیں۔انہوں نے مسکرا کر مہر کی طرف دیکھا۔ اور ہلکے سے ابرو کو جنبش دی۔
’’ میں رات جلدی سو گئی تھی۔‘‘مہر نے آہستگی سے کہا۔ اور چمچے کی مدد سے چاولوں کو ادھر ادھر کرنے لگی۔
’’ طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔‘‘ حسان چودھری نے فکر مندی سے بیٹی سے دریافت کیا۔
’’ جی ٹھیک ہوں۔‘‘
’’گڈ مارننگ ایوری ون۔‘‘ نک سک سے تیار بازل مسکراتے ہوئے مہر کے ساتھ والی کرسی پہ بیٹھ چکا تھا۔بازل جیسے ہی بیٹھا مہر اپنی جگہ سے فورا ہی اٹھ کر کھڑی ہو چکی تھی۔
’’او آئی ایم سوری۔‘‘ بازل کہتے ہوئے اٹھ کر کھڑا ہوا۔مہروسہ کو جانے کیوں اس پہ غصہ آرہا تھا۔زمرد بیگم کے ساتھ ساتھ حسان صاحب بھی مہروسہ کی طرف دیکھ رہے تھے۔
’’میں نے کھانا کھا لیا ہے۔‘‘ مہر نے کہا اور بنا کسی کی بات سنے سیڑھیوں کی سمت بڑھ گئی۔
’’مہروسہ تو دن بہ دن تنہائی پسند ہوتی جا رہی ہے زمرد۔ تم اسے اپنے ساتھ کیوں نہیں لے کر جاتیں۔اسے آفس جوائن کروا دو۔ یا پھر کسی کلب وغیرہ کی ممبر شپ دلوا دو۔‘‘حسان صاحب نے اپنی بیوی سے کہا۔اور بازل کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
’’ میں نے تو بہت بار کہا ہے حسان۔آپ جانتے ہیں مہر کس قدر ضدی لڑکی ہے۔اور من موجی بھی۔ میری نہیں سنتی۔ آپ کہہ کر دیکھ لیجیے۔ اگر وہ آپ کی بات مانتی ہے۔ تو بہت اچھی بات ہے۔مجھے بھلا کیا اعتراض ہوگا۔‘‘
زمرد بیگم نے اٹھی ہوئی گردن کے ساتھ مسکراتے ہوئے حسان صاحب سے کہا۔اور پھر ہاتھ میں موجود جوس کا گلاس رکھ کر بازل کی سمت متوجہ ہوئی۔
’’ بازل میری جان! ٹھیک سے کھانا کھاؤ۔‘‘زمرد نے شیرینی بھرے لہجے میں کہا۔اور عقب میں کھڑی ملازمہ کو اشارہ کیا۔جو ان کا اشارہ پاتے ہی مستعدی سے گے بڑھی اور بازل کو کھانا سرو کرنے لگی۔
ٹیبل کا ماحول بازل کے آنے سے خوش گوارہو گیا تھا۔تینوں نفوس کھانے سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ پہ سیر حاصل گفتگو میں مصروف ہو چکے تھے۔یہاں تک کہ حسان صاحب اپنی اکلوتی بیٹی کو بھی فراموش کر چکے تھے۔
٭٭٭
موسم سرما کی برفیلی کہر میں ڈوبی شام اب رات میں ڈھل چکی تھی۔ امل جب سے اپنے کمرے میں آئی تھی۔ روئے چلی جا رہی تھی۔ اسے یقین تھا۔اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر ہمیشہ کی طرح اس کی محبت میں پاگل سناور ضرور اس کے پیچھے آئے گا۔لیکن پچھلے چھ ماہ میں ہر بار کچھ ایسا ہو رہا تھا۔جو وہ کبھی خواب میں بھی سوچ نہیں سکتی تھی۔
سناور کے یوں نظر انداز کرنے کا ،اس کا بات بات پہ چڑ جانے کا۔ کب سوچا تھا وہ روئے گی۔ اور سناور اس کے آنسو صاف نہیں کرے گا۔غیر متوقع رویے اور چیزیں بہت تکلیف دیتی ہیں۔ اسے بھی تکلیف ہو رہی تھی۔درد بھی ہو رہا تھا۔اس نے اپنا سر گھٹنوں سے اٹھایا۔اور اپنے قریب آکر بیٹھی عالیہ بیگم کی طرف دیکھا۔ آنسو قطار در قطار رخساروں پہ پھسلنے لگے۔
’’ کیوں خود کو تکلیف دیتی ہو۔‘‘وہ جیسے بے بسی سے بول رہی تھیں۔
’’میں نہیں خالہ آپ کا بیٹا تکلیف دینے لگا ہے۔ وہ ایسا نہیں تھا خالہ۔ ہم جب سے یہاں آئے ہیں۔ سناور بدل گیا ہے خالہ۔ہم واپس اپنے ملک، اپنے گھر چلتے ہیں۔جہاں محبت تھی، اپنائیت تھی۔ جہاں ہمارا سناور تھا۔‘‘
اس نے روتے ہوئے عالیہ بیگم کے ہاتھوں کو تھاماتو عالیہ بیگم نے خود کو مشکل اس کے سامنے بکھرنے سے روکا۔
’’مجھے یہاں نہیں رہنا خالہ!۔آپ سناور سے کہیں نا ہم واپس چلتے ہیں۔‘‘
امل نے جیسے ان کی منت کی۔ اس سے پہلے کہ عالیہ بیگم اسے کوئی جواب دیتیں۔ دروازے پہ سناور کا سراپا ابھرا۔اسے دیکھتے ہی امل کے رونے میں شدت آ چکی تھی۔ عالیہ بیگم نے گردن گھما کر دروازے میں کھڑے سناور کی سمت دیکھا۔ اس کا چہرہ سپاٹ تھا۔عالیہ کو سناور کے چہرے سے الجھن ہونے لگی تھی۔ اس لیے وہ اور خاموشی سے سناور کے پاس سے گزر کر دروازہ پار کر گئی تھیں۔ سناور نے گہرا سانس بھرا اور دھیرے دھیرے چلتا ہوا امل کے پاس کرسی کھینچ کر اس پہ بیٹھ گیا۔وہ ابھی بھی رونے میں مصروف تھی۔
’’تمہارا رونا مجھے تکلیف دیتا ہے امل۔‘‘ وہ جیسے ہارے ہوئے لہجے میں بولا۔
’’اور مجھے تمہارا بدلنا درد دیتا ہے۔یہ مت کہنا وہم ہے۔ وہم نہیں ہے سناور۔ اب وہم نہیں رہا۔‘‘امل نے سر اٹھا کر سناور کی آنکھوں میں دیکھا۔ وہ اس سے نظریں چرا گیا۔
’’میں خود بھی خود کو سمجھ نہیں پا رہا ہوں امل۔ میں بس تمہیں سوچنا چاہتا ہوں۔تمہاری اور اپنی زندگی کے بارے میں۔ یہ زندگی میرا خواب تھی۔ تم سے شادی کرنا میری اولین ترین خواہشوں میں سے ایک۔لیکن۔‘‘سناور نے حسب عادت اپنی انگلی سے کنپٹی کو کھجایا۔
’’تو کیا اب تم مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتے۔‘‘ سارے آنسو ٹوٹ کر دامن میں گم ہوئے۔ اور سامنے بیٹھے سناور کا چہرہ صاف دکھائی دینے لگا۔
’’میں نے ایسا کب کہا امل۔‘‘ وہ بے قراری سے بولا۔ اس کی بے قراری امل کی بے چین روح کو قرار دے گئی تھی۔ اس کے ڈوبتے دل کو ذرا سا چین آیا تھا۔
’’ تو پھر جیسے خالہ کہہ رہی ہیں، تم مان کیوں نہیں جاتے۔‘‘اس کی کالی سیاہ آنکھوں میں امید کے کتنے ہی جگنو روشن ہوئے۔ وہ خاموشی سے لب بھینچے اسے دیکھنے لگا۔یہاں تک کہ امید کے جگنو مر گئے۔ اور اس کی جگہ آنسوؤں نے لے لی۔
’’امل۔‘‘اس بار سناور خود کو روک نہیں پایا تھا۔اس نے امل کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا۔اور اٹھ کر اس کے پاس بیڈ پہ آبیٹھا۔
’’ تمہارے آنسو مجھے بہت تکلیف دیتے ہیں امل۔ تم رویا مت کرو۔وہی ہوگا جو تم چاہتی ہو۔ میں ابھی امی سے کہتا ہوں، وہ جلد از جلد ہماری شادی کی تاریخ طے کر دیں۔‘‘سناور کی باتیں امل کو خوشی سے ہم کنار کر رہی تھیں۔
سناور اس سے محبت کرتا ہے۔اور بہت محبت کرتا ہے۔یہ احساس کتنا خوبصورت تھا۔وہ مسکرائی اور پھر شرما کر اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا گئی۔سناوردھیرے سے ہنسا۔ اور پھر اٹھ کر عالیہ بیگم کے پاس چلا آیا۔جو تسبیح میں مصروف تھیں۔
’’امی مجھے آپ دونوں کی خوشی کے سوا کچھ نہیں چاہیے۔ جیسے آپ خوش ہیں۔ ویسے ہی میں۔‘‘اس نے ماں کے گھٹنوں پہ سر رکھتے ہوئے کہا۔اور آنکھیں موند لیں۔ جانے کیوں اسے اپنی آنکھوں کی زمین پہ نمی سی محسوس ہو رہی تھی۔ عالیہ بیگم جانے کیا کہہ رہی تھیں۔ اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔اسے تو وہ دو بھوری آنکھیں یاد آرہی تھیں۔جس سے اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ۔۔۔۔۔۔سناور نے اپنی بند آنکھوں کو کھولا۔اور اٹھ کر بیٹھ گیا۔وہ اب ماں کے لبوں سے نکلنے والے لفظوں کو سن رہا تھا۔ اور ان کا ہر لفظ اس کی خوشیوں کے سدا قائم رہنے پہ مبنی تھا۔ان کی دعائیں سن کر سناور کو جانے کیوں اپنا آپ ہلکا پھلکا محسوس ہو رہا تھا۔وہ سب کچھ بھلا کر مسکراتے ہوئے کبھی ماں کی باتیں سن رہا تھا۔تو کبھی کمرے میں چھپ کر بیٹھی امل کو اونچی آواز میں چھیڑنے لگتا۔
کتنے عرصے کے بعد وہ پرانے سناور کے روپ میں آیا تھا۔ امل اور عالیہ بیگم بہت خوش تھیں۔ بے انتہا بے تحاشہ۔ اور خود سناور بھی خوش تھا۔لیکن یہ خوشی ان تینوں کے لیے عارضی ثابت ہونے والی تھی فقط چند دن پہ محیط۔
٭٭٭
کہر میں لپٹی شام سیاہ رنگ کی چادر اوڑ ھ چکی تھی۔ وہ بیڈ کے کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھی اپنے سامنے لگی پڑی بڑی سی ایل سی ڈی کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اسکرین تو روشن تھی مگر آواز اس نے ریموٹ کے بٹن سے بند کر رکھی تھی۔ وہ بظاہر یہاں تھی۔مگر ذہنی طور پر جانے کون سے دیس کی مسافر تھی۔ وہ دیس جو اس کا ماضی تھا۔ابھی چند ماہ پہلے ہی تو اس کی زندگی میں سب ٹھیک تھا۔مگر حقیقت۔۔۔۔۔۔ اس کی آنکھ میں ٹھہرآنسو اس کے دل میں موجود اس درد کو برداشت نہیں کر پایا تھا۔ٹوٹ کر اس کی گود میں دھرے مومی ہاتھوں پہ آ ٹھہرا۔
آنکھوں کی رگیں درد کی شدت سے سرخ ہوئیں۔ اس کے کمرے کے دروازے پہ دستک دے کر بازل کمرے میں داخل ہو چکا تھا۔
’’مہروسہ اپنے خیالوں میں اس قدر مگن تھی کہ اسے بازل کے آنے کی خبر نہیں ہوئی۔
’’مہر !‘‘بازل نے اسے پکارا۔مگر وہ ہنوز اسکرین پہ نظریں جمائے ہوئے تھی۔
’’ مہر!‘‘ اب کے بازل نے ذرا اونچی آواز سے پکارا۔تو وہ چونکی اور نظروں کا زاویہ موڑ کر بازل کی طرف دیکھنے لگی اسے دیکھتے ہی اس کی پیشانی ان گنت لکیروں سے بھر گئی۔ نظروں میں اجنبیت کے ساتھ غصہ بھی تھا۔وہ فورا ہی ہاتھ میں پکڑا ریموٹ اپنی جگہ چھوڑ چکی تھی۔
’’آپ میرے روم میں کیوں آئے ہیں۔‘‘ وہ نروٹھے پن سے کہتی اس سے استفسار کر رہی تھی۔مگر مقابل پہ نہ تو اس کے غصے کا اثر تھا۔اور نہ ہی ناراضی سے کوئی فرق پڑا تھا۔ہمیشہ کی طرح نک سک سے تیار بازل دھیرے دھیرے چلتا اس کے عین سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کے کلون کی بھینی بھینی سی خوشبو مہر کے چاروں اور پھیل چکی تھی۔بلیک جینز اور گرے شرٹ کے اوپر اس نے کالی جیکٹ پہن رکھی تھی۔بڑی بڑی چھ فٹ قد کے ساتھ متناسب کسرتی جسم اسے جو بھی دیکھتا۔ پلٹ کر دوسری بار ضرور دیکھتا تھا۔پہلی نظر لاشعوری ہوتی تو دوسری نظر بے اختیار ہی اس پر پڑتی تھی۔ مگر ان سب میں مہروسہ شامل نہیں تھی۔ بازل حیدر کو خاطر میں لانے والی دنیا میں مہروسہ نہیں تھی۔بازل نے گہرا سانس لیتے ہوئے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔
’’موسم بہت اچھا ہو رہا ہے۔ میں نے سوچا کافی پینے چلتے ہیں۔‘‘اس نے کہتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں کو جیکٹ کی جیب میں گھسایا۔غصے کی تیز لہر نے مہر کو جلا کر خاکستر کر دیا تھا۔لیکن اسے خود پہ کنٹرول رکھنا تھا۔ آخر کچھ بھی سہی وہ زمرد بیگم کا لاڈلا بھتیجا تھا۔اور ان کے ہاں مہمان تھا۔
’’سوری۔ مجھے نہیں جانا۔ میرا موڈ نہیں ہے۔‘‘ اس نے کہا۔اور ٹی وی کی طرف دیکھنے لگی مطلب وہ اب یہاں سے جا سکتا ہے۔بازل نے اس کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا۔
’’واؤ فنٹاسٹک۔ وائٹ ہاؤس مووی دیکھ رہی ہو۔ مجھے یہ مووی بہت پسند ہے۔بہت بار دیکھی ہے میں نے۔ہر بار دیکھنے پہ۔‘‘ اس سے پہلے کہ بازل اپنی بات مکمل کرتا۔ وہ ریموٹ اٹھا کر چینل تبدیل کر چکی تھی۔
’’مجھے نہیں پسند یہ مووی۔‘‘وہ کہہ کر بازل کے سامنے سے ہٹ کر صوفے پہ جا بیٹھی تھی۔
’’ تمہیں تو میں بھی پسند نہیں۔‘‘بازل اس کی سمت گھوما۔ مہر نے سر اٹھا کر اپنے سامنے کھڑے بازل کی سمت دیکھا اور پھر سر جھٹک دیا۔
’’ایسی کوئی بات نہیں ہے بازل صاحب۔ آپ ممی کے مہمان ہیں۔ اسی لیے میں۔
’’ہاں میں پھوپھو کا مہمان ہوں۔تو تم میرا لحاظ کر رہی ہو۔ ورنہ کوئی بعید نہیں تھا۔تم مجھے دھکے دے کر نہ صرف اپنے کمرے سے بلکہ گھر سے بھی نکال دیتیں۔‘‘اس نے خفگی سے کہا۔اور مہروسہ کے پاس صوفے کے دوسرے کنارے پہ آ بیٹھا۔ مہروسہ نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا۔مگر اس نے ہاتھ اٹھا کر اسے بولنے سے منع کر دیا۔
’’ میری بات ابھی مکمل نہیں ہوئی۔‘‘ تو مجبورا مہر کو اپنا کھلا منہ بند کرنا پڑا۔
’’لیکن تمہیں جو کرنا ہے کر لو۔ تم خود کو میرے دل سے نہیں نکال سکتیں۔ اگر تمہیں یہ لگتا ہے تمہارا یہ رویہ دیکھ کر میں پیچھے ہٹ جاؤں گا۔تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ میں بازل حیدر ہوں۔ اور ایک دن تمہیں اپنی محبت پہ یقین کرنے پہ مجبور کر دوں گا۔‘‘بازل نے مضبوط لہجے میں کہا۔ اور جھٹکے سے اٹھ کر اس کے کمرے سے جا چکا تھا۔ اور مہرو وہیں دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رو پڑی تھی۔
یہ لفظ محبت اسے تیزاب کی مانند لگتا تھا۔جو اس کی سماعتوں کو جلا کر خاکستر کر ڈالتا تھا۔ اس کی ذات پہ کچوکے لگاتا تھا۔ اسے درد دیتا تھا۔اذیت میں مبتلا کرتا تھا۔ وہ اب کبھی اس محبت نامی شے پہ یقین نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اور بازل حیدر اسے’’ محبت ‘‘نام کے اس جال میں جکڑنا چاہتا تھا۔
’’نفرت ہے مجھے اس لفظ محبت سے۔ نفرت ہے۔ میں کبھی تم سے محبت نہیں کروں گی۔ میں کبھی تمہارا ہاتھ نہیں تھاموں گی۔‘‘وہ روتے ہوئے مسلسل نفی میں سر ہلاتے ہوئے خود سے کہہ رہی تھی۔ اور رات دھیرے دھیرے گزرتی جا رہی تھی۔
٭٭٭
امل اور سناور کی شادی کی تاریخ ہفتے بعد کی رکھ دی گئی تھی۔اس دیار غیر میں کون سے رشتہ دار تھے۔جنہیں مدعو کرنا تھا۔چند ایک دوست احباب تھے۔ جنہیں فون کر کے مطلع کر دیا تھا۔اور پھر جیسے یہ ہفتہ پلک جھپکتے میں گزر گیا تھا۔
سناور خوش تھا بے حد خوش۔ اس نے اس لمحے کا انتظار کیا تھا۔ جب وہ ہمیشہ کے لیے اپنے دل کی رانی امل مشتاق کو امل سناور بنا کر اپنی زندگی میں شامل کرتا۔وہ وقت آن ٹھہرا تھا۔ اس کے سامنے نکاح کے پیپر موجود تھے۔ لیکن جانے کیوں ہاتھ میں تھاما ہوا قلم ان پیپرز پہ رواں نہیں ہو سکا تھا۔
’’ زندگی بھی کتنی عجیب شے ہے نا۔ ساری زندگی خوشیوں کے تعاقب میں بھاگتے رہنے سے خوشیاں حاصل نہیں ہوتیں۔اور پھر جب وہی خوشیاں گھیرا بنائے ہمارے گرد رقص کرتی ہیں۔تب محسوس کرنے کے لیے وہ دل نہیں ہوتا۔لیکن میرے معاملے میں ایسا نہیں ہے۔
زندگی کی خوشیوں کے تعاقب میں میں اتنا تھکی نہیں تھی۔کہ زندگی اور تقدیر نے مجھے تم سے ملا دیا۔‘‘ وہ کہہ کر مسکرائی تھی۔ایسی مسکراہٹ جس میں سب کچھ تھا۔ مان، بھروسا، اعتبار اور بہت سارا تشکر بھی۔
’’ کیا ہوا سناور؟‘‘ وہ جو نکاح کے پیپرزپہ نظریں جمائے ماضی کے کسی لمحے کی قید میں تھا۔ماں کی آواز پہ چونک گیا تھا۔اس نے ایک نظر اپنے دائیں جانب بیٹھی عالیہ بیگم کی کو دیکھا اور دوسری نظر اپنے سامنے بیٹھی امل پہ ڈالی جو سانس روکے اسی کی طرف دیکھ رہی تھی۔
’’ک، ک کچھ نہیں۔‘‘وہ بہت مشکل سے مسکرایا تھا۔ اور پھر گہرا سانس لے کر اپنے سر کو جھکایا اور نکاح نامے پہ سائن کر دیے۔ اس کے سائن کرتے ہی اس کے گرد مبارک باد کا شور اٹھا تھا۔سب سے مبارک وصول کرنے کے بعد اس نے اپنی گردن کو گھما کر بائیں سمت دیکھا۔جہاں امل تفاخرانہ انداز میں سر اٹھائے اس کے پہلو میں آن کھڑی ہوئی تھی۔
٭٭٭
وہ جیسے ہی آخری مہمان کو رخصت کرنے کے بعد اپنے کمرے میں آیا۔تو فریش پھولوں کی خوشبو اس کے ناک کے نتھنوں سے ٹکرائی۔اس نے دروازے پہ رک کر اس خوشبو کو اپنے اندر اتارا اور سامنے بیڈ پہ بیٹھی امل کی طرف دیکھا۔امل، اس کی محبت، اس کا جنون ،اس کا عشق تھی۔
خالہ اور خالو کی روڈ ایکسیڈنٹ میں ہونے والی ناگہانی موت نے جہاں سب کچھ بکھیر کر رکھ دیا تھا۔ وہیں سب سے بڑا مسئلہ امل کے رہنے کا تھا۔ دودھیال والوں نے صاف لفظوں میں اسے اپنے ساتھ لے جانے سے انکار کیا۔تب عالیہ بیگم نے آگے بڑھ کر روتی ہوئی امل کو اپنے سینے سے لگا لیا تھا۔
’’ میرے گھر میں اللہ کی رحمت نہیں تھی۔ لیکن اب تمہاری صورت میں مجھے بیٹی مل گئی۔‘‘
انہوں نے کہتے ہوئے امل کے سر پہ ہاتھ رکھا۔اور یوں سناور کے ہمراہ اسے کھاریاں سے لاہور اپنے ساتھ اپنے گھر لے آئی تھیں۔ خالہ پہلے ہی بیوگی کی زندگی اپنے اکلوتے بیٹے کے اچھے مستقبل کے انتظار میں گزار رہی تھیں۔ خالو کی محدود پینشن میں گزارا ناممکن تھا۔ اور ایسے میں گھر کے اخراجات اور سناور کی پڑھائی کے خرچ کو پورا کرنے کے لیے عالیہ بیگم کپڑے سلائی کیاکرتی تھیں۔
لیکن عالیہ بیگم نے جو کہا تھا۔ اسے ہر ممکن طور پر پورا کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔سناور کے ساتھ ساتھ اس کی پڑھائی کا خرچا بھی بڑھا تھا۔لیکن نہ تو عالیہ بیگم نے اور نہ ہی سناور نے اسے پڑھائی چھوڑنے کا کہا۔ وہ الگ بات تھی کہ گھر کے حالات کو دیکھ کر اس نے خود ہی بی اے کے بعد پڑھائی کو خیر بعد کہہ دیا تھا۔
سناور ان دنوں اپنے ایم۔کام کے فائنل ایئر کے ایگزامز دے رہا تھا۔
زندگی میں بہت پیسہ نہیں تھا۔ لیکن لاہور کے اس لوئر ایریا میں موجود ڈھائی مرلے کے اس مکان میں محبت کی فراوانی ضرور تھی۔احساس تھا۔لگاؤ تھا۔اور پھر جب پہلی بار امل کے لیے بوا رشتہ لے کر آئیں۔ جہاں عالیہ بیگم سوچ میں پڑ گئی تھیں۔ وہیں امل روہانسی اور سناور غصے میں آگیا تھا۔
’’آپ فورا انکار کر دیں بوا کو۔‘‘ کھانے کی ٹرے کو پرے سرکاتے ہوئے سناور نے خفگی سے کہا۔
’’ارے ایسے کیسے انکار کر دوں۔اتنا اچھا ہے لڑکا۔سرکاری نوکری کرتا ہے۔ پانچ مرلے کا اپنا ذاتی ڈبل اسٹوری مکان ہے۔اور پھر ایک بہن اور ماں کا ساتھ۔ ایسا رشتہ تو کبھی ہمارے پورے خاندان میں نہیں آیا جیسامیری امل کے لیے آیا ہے۔‘‘عالیہ بیگم نے بیٹے کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا۔
’’امی آپ میری بات. اس سے پہلے کہ سناور اپنی بات مکمل کرتا۔امل بول پڑی تھی۔
’’ خالہ! مجھے ابھی شادی نہیں کرنی۔آپ جلدی سے میری شادی کر کے مجھے اس گھر سے بھیجنا چاہتی ہیں۔ لیکن مجھے نہیں جانا تب تک تو بالکل بھی نہیں۔جب تک سناور کی شادی نہیں ہو جاتی۔‘‘ عمر میں بڑا ہونے کے باوجودامل اسے سناور ہی کہتی تھی۔نام کے آگے بھائی لگانے کا ٹنٹنا اس نے کبھی نہیں پالا تھا۔
’’میری شادی سے تمہاری شادی کا کیا تعلق ہے۔‘‘ سناور نے دلچسپی سے امل کی بھیگی پلکوں کو دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
’’ یہ تعلق ہے کہ خالہ اب زیادہ کام نہیں کر سکتیں۔ اور ان کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں رہتی۔ تمہاری بیوی کے آنے اور گھر سنبھالنے کے بعدہی میں شادی کروں گی۔خالہ میں آپ کو بتا رہی ہوں۔‘‘ اب کہ امل نے انگلی اٹھا کر عالیہ بیگم سے کہا۔اور اپنی چھوٹی سی ناک کو سکیڑا تھا۔ جہاں عالیہ بیگم اس کی محبت اور خلوص پہ نثار ہوئی تھیں۔ وہیں سناور کے لبوں پہ گہری مسکراہٹ رینگ گئی تھی۔
’’اچھا تو تم یہ چاہتی ہو جلدی سے میری شادی ہو۔اور میری بیوی کام کرے اور تم امی کے ساتھ مزے سے ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر بیٹھو۔ لیکن میں ایسا کچھ بھی نہیں کرنے والا۔میری بیوی کام کرنے کے لیے تھوڑی ہو گی۔وہ تو راج کرنے کے لیے ہوگی۔ راج کرنے کے لیے۔‘‘ سناور نے ہاتھوں کو فضا میں لہراتے ہوئے کہا۔ اور چمکتی نگاہوں سے حیرت سے منہ کھولے اپنی جانب دیکھتی امل کی طرف دیکھا۔
’’خالہ ،خالہ دیکھ رہی ہیں آپ ؟‘‘اس نے پاس بیٹھی عالیہ بیگم کا گھٹنا ہلاتے ہوئے انہیں متوجہ کیا۔ جو سر جھکائے جانے کون سے جوڑ توڑ میں مصروف تھیں۔
’’خالہ ابھی تو شادی نہیں ہوئی۔ بیوی نہیں آئی۔تب یہ حال ہے۔ جب وہ آگئی تو۔۔۔۔۔
’’جب وہ آئے گی تو زندگی میں بہار آئے گی۔ جو پھول راہوں میں اور خوشبو ہر سو بکھری ہوگی۔ آفت کی گھڑی میں میرے چین، میرے سکون کا لمحہ ہوگی۔‘‘ سناور اب امل کے چہرے کو اپنی نظروں کے حصار میں جکڑے جذب کے عالم میں بول رہا تھا۔
’’اس کا مطلب ہے تمہیں کوئی لڑکی پسند ہے؟‘‘امل نے اپنی بڑی بڑی آنکھوں کو سکیڑتے ہوئے اس سے مشکوک انداز میں دریافت کیا۔
’’ کیوں کیا مجھے کوئی لڑکی پسند نہیں ہو سکتی۔‘‘ سناور اس کی حالت سے حظ اٹھا رہا تھا۔
’’کون ہے وہ ؟‘‘اب کے امل کے لہجے میں تجسس تھا۔
’’بس ہے تمہیں کیوں بتاؤں۔امی کو بتاؤں گا۔‘‘سناور نے اب کے اسے ہری جھنڈی دکھلائی تھی۔
’’خالہ۔‘‘ امل نے مدد کے لیے عالیہ بیگم کو پکارا۔جو شاید اپنا حساب کتاب مکمل کر چکی تھیں۔ اور اب گہری طمانیت بھری سانس بھر کر سناور کی سمت دیکھ رہی تھیں۔
’’خالہ آپ کو پتا ہے نا سب۔سناور کو کون سی لڑکی پسند ہے؟‘‘ خود ہی قیاس کے گھوڑے دوڑاتی وہ عالیہ بیگم سے مخاطب تھی۔
’’ لو مجھے کیا پتا اگر مجھے پتا ہوتا تو کیا تم سے ذکر نہ کرتی۔ یہ سناور ویسے ہی تمہیں تنگ کر رہا ہے۔‘‘امل کو تسلی دینے کے بعد انہوں نے بیٹے کی طرف دیکھ کر نفی میں سر ہلایا۔مقصد تو ان کا یہ تھا کہ امل کو مزید تنگ نہ کرو۔
’’دیکھ لو امی مجھے منع کر رہی ہیں کہ امل کے سامنے بات نہ کرو۔‘‘ سناور اس وقت فل مستی میں تھا۔سناور کے یہ کہنے کی دیر تھی امل کی آنکھوں سے برسات شروع ہونے میں ذرا بھر بھی دیر نہیں لگی تھی۔
’’ ہائے ہائے سناور کے بچے !کیوں بچی کو تنگ کیے جا رہے ہو؟‘‘ عالیہ نے بیٹے کو گھر کا۔ اس سے پہلے کہ وہ امل سے کچھ کہتیں۔ وہ سوں سوں کرتی اٹھی اور سرعت سے کمرہ پار کر کے چھت پہ چلی گئی تھی۔
’’ سناور!‘‘ عالیہ بیگم نے تنبیہی انداز میں بیٹے کی طرف دیکھا۔اور پھر اس کے لبوں پہ مسکراہٹ دیکھ کر بہت کچھ سمجھتے ہوئے خود بھی مسکرا دی تھیں۔
’’اس سے اچھی بات تو کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی ۔ میرے دونوں بچے ہمیشہ کے لیے میرے پاس رہ جائیں۔‘‘ عالیہ بیگم بیٹے کی دل کی خواہش سمجھ چکی تھیں۔ سناور اٹھ کر ماں کے قدموں میں آن بیٹھا۔
’’ میں چاہتا تھا پڑھائی مکمل کرنے اور اچھی سی جاب کے بعد ہی آپ سے یہ بات کروں گا۔کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا امی۔امل کے دل میں یہ بات رہتی۔ ہم نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ میرا شان دار اکیڈمک ریکارڈ ،میرے شاندار مستقبل کی ضمانت ہے، پلیز امی امل کو کہیں نہیں جانے دینا وہ یہیں رہے گی۔ہمارے پاس ، ہمارے ساتھ۔‘‘ سناور نے کہتے ہوئے ماں کے قدموں کو تھام لیا۔
’’میں تو خود یہی چاہتی تھی سناور۔کہ امل ہمیشہ میرے پاس رہے۔تم نے مجھے آج بہت بڑی خوشی دی ہے۔بہت بڑی۔‘‘کہتے ہوئے عالیہ بیگم نے بیٹے کے ہاتھوں کو چوم لیا تھا۔
’’آپ امل سے بات کر لیجئے گا پھر بھی۔ اس کی خوشی اور رضامندی سب سے اہم ہے۔‘‘سناور نے اٹھتے ہوئے ماں سے کہا تو عالیہ بیگم نے زور زور سے اثبات میں سر ہلا دیا تھا۔
’’مرضی تو میں اس کی بعد میں پوچھوں گی پہلے میری بیٹی کو مناکر لے آئو۔‘‘ انہوں نے سناور سے کہا۔
’’کیا سوچ رہے ہو؟‘‘ اپنے بھاری کامدار لہنگے کو سنبھالتی امل سوچوں میں گھرے سناور کے قریب آ ٹھہری۔سناور چونکا اور پھر سامنے کھڑی امل کی جانب دیکھ کر کھل کر مسکرا دیا۔
’’سوچ رہا ہوں وقت اتنی جلدی گزر گیا۔ کل کی بات لگتی ہے جب تم ہمارے گھر آئی تھیں۔روتی ،ڈرتی، سہمی ہوئی۔اور اب۔
’’اور اب کیسے شیرنی بنی تمہارے سامنے کھڑی ہوں نا۔‘‘امل نے سناور کی بات کو درمیان سے اچکا۔اور جلدی سے بات مکمل کی۔تو سناور کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔
’’ سناور تم میرے لیے سب کچھ ہو۔ سب کچھ۔ تم بدل تو نہیں جاؤ گے۔‘‘ امل کی آنکھوں میں تھے۔وہ کہہ نہیں سکی تھی۔وہ ایک سال سے جانے کیوں بدلا ہوا۔ الجھا ہوا سا لگتا ہے۔
’’ کبھی نہیں۔ کبھی نہیں امل۔‘‘ سناور نے کہتے ہوئے امل کے ہاتھ کو تھاما تھا۔ اور پھر دھیرے سے آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا تھا۔
’’سناور دنیا کے لیے بدل سکتا ہے۔لیکن اپنی امل کے لیے نہیں۔‘‘ سناور نے زیر لب کہا۔ اور گردن موڑ کر گہری نیند سوئی ہوئی امل کی سمت دیکھ کر خود بھی کروٹ بدل گیا۔
دو بھوری آنکھیں اس کی نظروں کے سامنے آئیں۔تو اگلے لمحے سناور اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔تیز تیز سانس لیتے ہوئے اس نے پانی کے دو گلاس اپنے اندر انڈیلے اور اٹھ کر کھڑکی کے قریب آکر کھڑا ہو گیا۔ بھاری پردوں کو پرے کرتے ہوئے باہر گہری اور بھید بھری رات کو دیکھتے ہوئے وہ کتنی ہی دیر وہاں کھڑا رہا۔یہاں تک کہ تھک کر کھڑکی کے پٹ سے ٹیک لگا کر وہ ایک بار پھر خود کو ماضی کے عفریت سے چھڑانے کی کوشش کرنے لگا۔جو ایک بار پھر اسے اپنی لپیٹ میں لے چکا تھا۔ یوں لگتا تھا یہ عفریت اس کی جان لے کر چھوڑے گا۔
لیکن کون جانتا تھا جان تو جائے گی۔ اس کی نہیں بلکہ کسی اور کی۔ آہ یہ تقدیر کے انجانے وار اور ہم انجان سے لوگ ۔
٭٭٭
جیسے ہی بازل نے ہاتھ میں پکڑے نازک شیشے کے گلاس کو اپنے سامنے موجود ٹیبل پہ رکھا۔ اور سیدھا ہو کر اپنے سامنے موجود زمرد بیگم کو دیکھا۔ جو اس کی بات پر حیران تھیں۔
’’ ویسے جہاں تک میں تمہیں جانتی ہوں۔ تمہارا یہ ٹیسٹ تو نہیں ہے۔‘‘
’’آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ لیکن اب میرا یہی ٹیسٹ ہے۔‘‘ صوفے کی بیک سے ٹیک لگاتے ہوئے بازل نے اعتماد سے کہا۔
’’جلدبازی کے فیصلے اکثر غلط ہو جاتے ہیں۔‘‘انہوں نے ایک ابرو اچکاکر کہا۔
’’جلدبازی میں نہیں۔بلکہ میں نے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے۔اور میں اپنے اس فیصلے سے مام،ڈیڈ کو آگاہ کر چکا ہوں۔انہیں میرے اس فیصلے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔آپ فکر مت کریں۔‘‘ بازل نے اپنا فون آن کرتے ہوئے لاپرواہی سے کہا۔
’’اوڈیٹس مین۔تم فائنل بات کرنا چاہتے ہو؟مجھے کوئی اعتراض نہیں۔میں حسان سے بات کروں گی۔‘‘
’’او سو سویٹ پھپھو۔‘‘بازل اپنا فون صوفے پہ رکھ کر اٹھ کر ان کے ساتھ آبیٹھا۔اور اپنے بازو کو ان کے کندھے کے گرد پھیلادیا۔
’’لیکن مجھے نہیں لگتا۔ وہ ہاں کرے گی۔جانتے تو ہو تم اسے۔کتنی عجیب سی ہے۔‘‘
’’وہ عجیب ہے۔ تب ہی تو مجھے اچھی لگتی ہے۔اور جہاں تک بات اس کے ہاں نہ کرنے کی ہے۔جب حسان انکل اس سے بات کریں گے۔وہ مان جائے گی۔اور اگر وہ پھر بھی نہ مانی تو میں خود اس سے بات کرلوں گا۔اسے منا لوں گا۔پلیز پھپھو آپ انکل سے بات تو کریں۔‘‘بازل کا لہجہ منت بھرا ہوا تو زمرد بیگم نے حیرت سے اپنی آنکھوں کو سیکڑا ۔بازل اور یہ روپ حیرت در حیرت ہی توتھی۔
وہ بے اختیار ہی بازل کو دیکھتی چلی گئی تھیںتو وہیں بازل کھسیانی ہنسی ہنس پڑا،اپنے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔جانے کیوں انہیں غصہ آیاتھا۔ محبتوں کے معاملے میں کچھ لوگ بہت امیر ہوتے ہیں۔محبتیں رستہ بدل بھی جائیں تو پہلے سے کہیں بڑھ کر چاہنے والا راہ میں مل جاتا ہے۔
خیر جوبھی تھا سامنے بازل تھا۔بازل حیدر ان کا لاڈلا بھتیجااور وہ بنا کسی لحاظ کے بازل کے اس پرپوزل کو انکار کرنے والی تھی۔لبوں پہ مسکراہٹ لیے انہوں نے بازل کی سمت دیکھا۔
٭٭٭
زندگی اتنی خوب صورت لگ رہی تھی۔جیسے کوئی فیری لینڈ ہو۔وہ جو پچھلے ایک سال سے عجیب سا ہوگیاتھا۔پھر سے اپنے پرانے انداز میں واپس آچکا تھا۔گھر،مکین،زندگی،رشتے اور پھر دولت کی بھی کوئی کمی نہیں تھی۔کوئی خواہش باقی نہیں تھی۔سناور ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا عالیہ بیگم کے ساتھ اپنی شادی کی تصویریں دیکھ رہاتھا۔ امل کچن میں ڈنر کی تیاری میں مصروف تھی۔
جب اس کے پاس بیٹھی عالیہ بیگم نے اپنی تسبیح کو روکا۔اور اسے پکارا۔
’’جی امی۔‘‘
’’مجھے بی بی صاحب بہت یاد آتی ہیں۔ان کے لیے تو میرے دل سے ہر وقت دعائیں نکلتی ہیں۔اگر وہ نہ ہوتیں تو ہم یہاں نہ ہوتے۔پتا نہیں کیوں تم نے یہاں آنے کے بعد ان کی کمپنی میں کام کرنا چھوڑ دیاہے۔حالانکہ.‘‘
’’آپ کو کہاں سے ان کی یاد آگئی۔آخر آپ پچھلی زندگی کو بھول کیوں نہیں جاتیں۔کتنی بار کہا ہے۔پرانی زندگی ،پرانے لوگوں کو بھول جائیں۔ لیکن آپ.‘‘وہ ماں کی بات کاٹ کر غصے سے اونچی آواز میں بولا۔اس کے یوں بولنے پہ کچن میں موجود امل بھی باہر آچکی تھی۔
’’بھول جائیں سب کچھ۔سب انسانوں کو ،سب لوگوں کو،زندگی آگے بڑھنے کا نام ہے۔اور ہم آگے بڑھ چکے ہیں۔ لیکن آپ.‘‘ وہ غصے میں کہتا ہوا کھڑا ہوا تھا۔
’’یہ آپ خالہ سے کیسے بات کررہے ہیں؟‘‘خاموش کھڑی امل عالیہ بیگم کے پاس آن کر کھڑی ہوگئی۔
’’تم چپ کرو۔بیچ میں مت بولو۔‘‘اب کے سناور نے انگلی اٹھا کر شعلہ بار نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔ پھر اگلے ہی لمحے راستے آنے میں والی ہرشے کو ٹھوکر سے پرے کرتا ان دونوں کوحق دق چھوڑ کر فلیٹ سے باہر نکل گیاتھا۔
’’اس نے کبھی اس طرح بات نہیں کی تھی۔وہ کبھی اس لہجے میں اور اس انداز میں نہیں بولا تھا۔اور اب۔‘‘ جہاں عالیہ بیگم یہ بات کرکے جی بھر کے پچھتائی تھیں۔ وہیں امل ایک بار پھر الجھ گئی تھی۔آخر سناور کیوں پرانی باتوں کو سنتے ہی ہتھے سے اکھڑ جاتا ہے؟ کیوں وہ کوئی بھی پرانی بات کرنے پہ یوں ہی بھڑک جاتا ہے۔’’کتنے ہی کیوں؟‘‘منہ کھولے امل کی جانب دیکھ رہے تھے۔اور اس کے پاس کسی بھی کیوں کا جواب نہیں تھا۔
٭٭٭
اس نے ہولے سے دروازے کو بجایا کیا۔اور اندر چلی آئی۔سامنے صوفے پہ حسان صاحب گرے کلر کا سوٹ زیب تن کیے۔ انگلیوں میں سگار سلگائے ٹانگ پہ ٹانگ دھرے اپنے سامنے اخبار پھیلائے ہوئے بیٹھے تھے۔ کچھ فاصلے پہ زمرد بیگم آئینے کے سامنے اپنے میک اپ کو آخری ٹچ دینے میں مصروف تھیں۔دونوں کی نظریں چند ثانیے کے لیے ملیں۔گہرا سانس لے کر حسان صاحب کی طرف متوجہ ہوگئی۔جو اسے اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کر رہے تھے۔
وہ اسی لیے خاموشی سے دھیرے دھیرے چلتی ان سے کچھ فاصلے پہ آکر بیٹھ گئی۔
حسان صاحب نے چونک کر اس کے گریز کو دیکھا اور ہمیشہ کی طرح ان کا دل تاسف سے بھر گیا۔ مہروسہ اور عامر کی ماں کے گزرجانے کے بعد انہوں نے اپنے تئیں اپنے بچوں کو خوش رکھنے کی بہت کوشش کی تھی۔عامر تو گزرتے وقت کے ساتھ ان کے مزید قریب آگیاتھا۔لیکن مہروسہ،ہر گزرتے دن کے ساتھ انہیں خود سے دور ہوتی محسوس ہوئی تھی۔
حالانکہ جب انہوں نے زمرد سے دوسری شادی کی تھی تب مہروسہ دل سے راضی تھی۔ بہت خوش بھی تھی لیکن۔
’’ارے اب کیا سوچوں میں ہی گم بیٹھے رہیں گے۔یا پھر مہرو سے بات بھی کریں گے۔اور پھر اس کے بعد ہمیں مسٹر اینڈ مسز جمیل کے ہاں پارٹی میں بھی تو جانا ہے۔‘‘زمرد بیگم انہیں خاموش دیکھ کر ان کے قریب آتے ہوئے بولیں۔
’’میں نے تمہارے بابا سے کہا تھا۔ہم گھر واپسی پہ تم سے بات کرلیں گے۔لیکن تمہارے بابا۔‘‘ زمرد بیگم نے حسان صاحب کے ساتھ بیٹھتے ہوئے مسکراتے ہوئے مہروسہ کو مخاطب کیا۔
جس کا دل جانے کیوں سکڑ گیا تھا۔ وہ سخت مضطرب نظر آرہی تھی۔
’’بات ہی اتنی اچھی اور خوشی کی ہے۔کہ میں خود پہ قابو نہیں پاسکا۔ہر ماں باپ کی طرح میری بھی خواہش ہے۔میری بیٹی کا ہونے والا لائف پارٹنر پرفیکٹ ہو۔ اور پھر جب بات بازل جیسے لڑکے کی ہے تو وقت کو ضائع کرنا بے وقوفی ہے۔‘‘
حسان صاحب نے زمرد بیگم کی جانب جھکتے ہوئے کہا۔تو زمرد بیگم کی نقرئی ہنسی پورے کمرے میں گونج اٹھی تھی۔مہروسہ جواب ہونقوں کی مانند منہ کھولے حسان صاحب کی طرف دیکھ رہی تھی۔بات کی تہہ تک پہنچتے ہی تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑی ہوئی۔
’’ارے تم بیٹھو مہروسہ۔مجھے تم سے بازل کے سلسلے میں بات کرنی ہے۔اصل میں تمہاری مما نے مجھ سے بازل کے پرپوزل کے بارے میں۔۔۔‘‘
’’مجھے شادی نہیں کرنی۔ اس لیے آپ فوراً ہی اس رشتے کو انکار کر دیں۔ اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔‘‘مہروسہ کے مضبوط لہجے نے جہاں زمرد بیگم کے لبوں پہ بکھری مسکراہٹ کا گلا گھونٹا تھا۔ وہیں ایک لمحے کے لیے حسان صاحب کو بھی خاموش کروا دیا تھا۔
’’ یہ تم کس لہجے میں بات کر رہی ہو؟‘‘ حسان صاحب نے ناگواری سے بیٹی کو دیکھا۔
’’ پاپا میں۔‘‘ مہروسہ نے کچھ کہنا چاہا۔ حسان صاحب نے ہاتھ اٹھا کر کچھ بھی بولنے سے منع کر دیا۔
’’ اچھی طرح سوچ لو۔سمجھ لو۔پھر کوئی جواب دینا۔ مجھے اور تمہاری مما کو بازل بہت پسند ہے۔ اس بات کو ذہن میں رکھ کر فیصلہ کرنا۔ابھی ہمیں پارٹی میں جانا ہے۔ باقی باتیں بعد میں ہوں گی۔ابھی تم اپنے کمرے میں جا سکتی ہو۔‘‘
حسان صاحب نے اپنی بات مکمل کرنے کے بعد مہر کو وہاں سے جانے کا اشارہ کیا۔اور زمرد بیگم کی طرف متوجہ ہو گئے۔مہروسہ اپنے دھواں دھواں لے کر اپنے کمرے میں آگئی تھی۔اور اب وہ تکیے میں منہ دیے دھواں دھار رونے میں مصروف تھی۔
’’کچھ بھی ہو جائے میں بازل سے شادی نہیں کروں گی۔ بلکہ میں کسی سے بھی شادی نہیں کروں گی۔کسی سے بھی نہیں۔‘‘ وہ بڑبڑائی اور ایک بار پھر شدت سے رو پڑی تھی۔
٭٭٭
وہ اپنے ذہن کو ماضی کی ہر یاد سے چھڑانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا تھا۔لیکن اس کی ہر کوشش بے سود ٹھہری تھی۔ماضی کے دریچے سے جھانکتا اس کا چہرہ اسے کرب میں مبتلا کر رہا تھا۔ ایسا درد جو اس کی رگوں کو چیر رہا تھا۔
امل اسے پچھلے دو گھنٹوں میں لا تعداد فون کالز کر چکی تھی۔ لیکن وہ سنگی بینچ پہ بیٹھا اپنے ارد گرد سے بے خبر ماضی کی گلیوں میں سر پٹ دوڑ رہا تھا۔تب جب وہ اس ڈھائی مرلے کے مکان کی چھت پہ امل کو خاموش کروانے آیا تھا۔
’’ کوئی ضرورت نہیں ہے مجھ سے بات کرنے کی۔‘‘ اسے دیکھتے ہی امل نے دوپٹے کے پلو سے اپنی سرخ ناک کو صاف کرتے ہوئے کہا تھا۔
’’ ارے اب تم سے بات نہیں کروں گا۔تو پھر کس سے کروں گا۔‘‘وہ اس کے قریب دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھتے ہوئے بولا۔
’’اس سے جو آپ کی اور خالہ کی زیادہ سگی ہے۔میں تو جیسے آپ کی کچھ لگتی نہیں ہوں۔اور خالہ مجھے تو یقین نہیں آرہا۔ خالہ میرے ساتھ ایسے کیسے کر سکتی ہیں آپ دونوں چوری چوری ساری باتیں کر لیتے ہو۔ اور مجھے کچھ نہیں بتاتے۔‘‘کہتے ہوئے کتنے ہی آنسو اس کی پلکوں پہ آن ٹھہرے تھے۔
’’ایسی بات نہیں ہے امل۔اصل میں۔
’’ ایسی ہی بات ہے۔ میں بھی توبوجھ ہوں ناآپ پہ۔ ترس کھا کر اپنے گھر میں جگہ دی۔ سر چھپانے کو چھت اور۔۔۔ ’’امل۔‘‘سناور کے لہجے میں خفگی در آئی تھی۔ وہ بیٹھے سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا تھا۔
’’تم ہمارے بارے میں ایسا سوچتی ہو؟‘‘ اس کے لہجے میں بے یقینی اور آنکھوں میں تا سف تھا۔ امل نے سر اٹھا کر سناور کی طرف دیکھا۔لمحے کے ہزارویں حصے میں اسے اپنی غلطی کا احساس ہو چکا تھا۔اس لیے وہ بھی سرعت سے اپنی جگہ سے کھڑی ہو چکی تھی۔
’’ نہیں میرایہ مطلب نہیں تھا، میں تو۔اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتی۔ سناور جانے کے لیے پلٹ چکا تھا۔ اس کے ارادے کو بھانپتے ہوئے امل تیزی سے اس کے عقب سے نکل کر اس کے راستے میں آن کھڑی ہوئی۔
’’اچھا سوری پتا نہیں کیوں میں ایسا کہہ گئی۔ مجھے ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔‘‘کہتے ہوئے امل نے اپنے دونوں کانوں کو پکڑ لیاتھا۔سناور بے اختیار دو قدم آگے بڑھا۔
’’پلیز نہ جائیں نا۔میں سوری کر رہی ہوں نا۔‘‘امل سمجھی سناور نیچے جانے کے لیے آگے بڑھا ہے۔
’’اور آئندہ اگر تم نے ایسی بات کی تو۔‘‘اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے سناور نے استفسار کیا۔امل کا ہاتھ بے اختیار ہی اس کے ہاتھ میں کانپا تھا۔
’’کون ہے وہ لڑکی جسے تم پسند کرتے ہو۔کہاں رہتی ہے ؟‘‘اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ کی گرفت سے نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے امل نے اس سے پوچھا۔
’’ملنا چاہتی ہو اس ؟‘‘سناور نے اس کے چہرے کو اپنی نظروں کے حصار میں جکڑتے ہوئے سوال کیا۔
’’ہاں نا ،دیکھنا چاہتی ہوں۔آخر وہ کون خوش نصیب لڑکی ہے۔جسے تم نے پسند کیا۔‘‘ امل نے عجیب سے لہجے میں کہا۔
’’پسند نہیں۔میں صرف اسے پسند نہیں کرتا۔ بلکہ بہت محبت کرتا ہوں اس سے۔ اگر مجھے وہ نظر نہ آئے تو لگتا ہے ہر منظر پھیکا ہے۔ اس سے بات نہ کروں تو لگتا ہے۔ہر سر بے سرا ہے۔‘‘وہ جذب کے عالم میں کہہ رہا تھا۔ اور امل سانس رو کے اس کی باتیں سن رہی تھی۔
امل نے سر جھکایا۔ اور اپنی آنکھوں میں آنے والے آنسوؤں کو واپس اندر کی جانب دھکیلا۔
’’میں اس قابل نہیں تھی کیا کہ سناور مجھ سے ایسی محبت کرتا ؟‘‘ اس کے دل نے شکوہ کیا۔
’’ تم ملو گی اس سے۔‘‘سناور اب جھک کر اس کی جھکی ہوئی گردن کو دیکھ رہا تھا۔ امل نے جلدی سے اپنے شکوہ کرتے دل کو ڈپٹا۔
اور سر اٹھا کر سناور کی طرف دیکھا۔
’’ہاں کیوں نہیں۔‘‘ وہ مشکل سے ہی سہی لیکن مسکرا دی گئی تھی۔
’’تو پھر میری آنکھوں میں دیکھو۔‘‘ سناور نے اپنا چہرہ اس کے چہرے کے عین سامنے کرتے ہوئے کہا۔
’’میں کیوں ،میں کیوں تمہاری آنکھوں میں دیکھوں۔‘‘ امل اپنی نظروں کو ادھر ادھر گھماتی کہہ رہی تھی۔
وہ نہیں چاہتی تھی دل کے نہاں خانوں میں کسی قیمتی موتی کے مانند چھپا کر رکھی ہوئی اس کی محبت سناور پہ آشکار ہو جائے۔ اب محبت نہ ملنے کا غم الگ تھا۔ لیکن بھرم رہ جانے کی فکر سب سے زیادہ تھی۔
’’جب اسے گھر لے کر آئیں گے۔ تو میں خود ہی دیکھ لوں گی۔ابھی میں جا رہی ہوں۔‘‘اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ کی گرفت سے نکالتے ہوئے اس نے عجلت بھرے لہجے میں کہا۔اور سیڑھیوں کی سمت بڑھ گئی۔چند قدم چلنے کے بعد ہی اسے رکنا پڑا تھا۔ اس کے دوپٹے کا پلو سناور کے ہاتھ کی قید میں تھا۔’’میری زندگی کی خوشی تم ہو امل۔میری محبتوں کے آغاز کا اختتام تم ہو۔تم سے دور جانے کا خیال ہی سوہانِ روح ہے۔‘‘
’’ سناور!‘‘ امل گھبرا گئی تھی۔
’’ میں چاہتا تھا، مجھے جاب مل جائے۔اس کے بعد ہی میں امی سے تمہارے بارے میں بات کروں گا۔ میں چاہتا ہوں، میں تمہیں اپنے دل کی ہی نہیں۔ بلکہ گھر کی رانی بنا کر رکھوں۔اور میرا تم سے یہ وعدہ ہے۔میں تمہیں وہ سب دوں گا جو تمہیں چاہیے ۔‘‘وہ اس کی سماعتوں میں شیرنی گھول رہا تھا۔
امل کا جی چاہا وہ ان لمحوں کو ہمیشہ کے لیے روک لے۔وقت کی طنابوں کو کھینچ کر اس وقت کو صدیوں پہ محیط کر دے۔زندگی میں اس سے زیادہ کی چاہ کس کافر کو تھی۔ اس کے لیے تو سناور اور اس کی محبت ہی کسی قارون کے خزانے سے کم نہیں تھی۔
وہ دن سناور اور امل کی زندگی میں سب سے خوب صورت ترین دن تھااور ان دونوں کو یقین تھا۔ آنے والا ہر دن ان کے لیے خوب صورت ہونے والا تھا۔
لیکن ایسا نہیں ہو سکا تھا۔ہلکا ہی سہی لیکن زلزلہ آیا تھا۔ جس نے سناور کو وہ سناور کب رہنے دیا تھا۔
آنکھوں کے کنارے بھیگے تھے۔ اور وہ آج پھر سردی کی شدت سے بے خبر کتنی دیر تک وہاں بیٹھا رہا تھا۔ پھر جس وقت وہ وہاں سے اٹھ کر اپنے اپارٹمنٹ کی جانب بڑھا تھا۔رات کا آخری ستارہ ڈوبنے کی تیاری میں تھا۔تقریباً پندرہ منٹ کے بعد وہ اپنے اپارٹمنٹ کے باہر کھڑا بیل بجا رہاتھا۔اور دروازہ کھلنے کا انتظار کر رہاتھا۔
٭٭٭
مہروسہ نے آخری نظر اپنے حلیے پہ ڈالی۔پھر مطمئن ہونے کے بعد اپنا پرس اٹھایا اور سیڑھیاں اتر آئی۔
’’میں تھوڑی دیر میں آ جاؤں گی۔‘‘ اس نے لاؤنج میں موجود ملازمہ سے کہا۔ اور بیرونی دروازے کی سمت بڑھی ہی تھی کہ جانے کہاں سے بازل اس کے راستے میں آ کر کھڑا ہو گیا۔ اسے دیکھتے ہی مہرو کا حلق تک کڑوا ہو گیا تھا۔
’’ مجھے تم سے بات کرنی ہے۔‘‘ بازل نے سنجیدگی سے کہا۔
’’ اور مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی۔‘‘ مہرو نے بے اعتنائی سے کہا۔اور دروازہ کھول کر باہر نکل آئی۔
’’ تم ایسے کیوں کر رہی ہو مہرو ؟‘‘بازل کہتے ہوئے اس کے عقب میں لپکا۔
’’میں نے کیا کرنا ہے۔ میں نے کچھ نہیں کیا۔‘‘مہرونے جھنجلائے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’ میرے پرپوزل کو کیوں انکار کیا؟‘‘ اس کے سوال پہ وہ رکی۔اور پنجوں کے بل بازل کی سمت پلٹی۔
’’مجھے ٹھیک نہیں لگا تھا۔اس لیے انکار کر دیا۔‘‘ اس نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
’’ ٹھیک نہ لگنے کی وجہ پوچھ سکتا ہوں؟‘‘ وہ بھی بازل تھا۔
’’ مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی۔ پلیز میرا راستہ چھوڑو۔‘‘اسے اپنے سامنے ایستادہ دیکھ کر اس نے قدرے درشتی سے کہا۔
’’ مجھے اپنے سوال کا جواب چاہیے مہرو۔‘‘ وہ پھر سے ضدی لہجے میں گویا ہوا تھا۔
’’ جب سب بخوشی اس رشتے کے لیے راضی ہیں۔تو پھر تم کیوں شادی نہیں کرنا چاہتی ہو مجھ سے۔ اور پلیز یہ مت کہنا میں تمہاری اسٹیپ مدر کا بھتیجا ہوں۔اس لیے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں پھپھو اور تمہارے بیچ کبھی بھی روایتی سوتیلی ماں والا کوئی ایشو نہیں رہا۔تم نے اور عامر نے ہمیشہ انہیں عزت دی۔ اور پھپھو نے ہمیشہ تم دونوں سے اپنے بچوں کی طرح پیار کیا۔ اس لیے مجھے یقین ہے۔ یہ عذر پیش نہیں کرو گی تم۔پھر دوسری کیا وجہ ہے؟‘‘
وہ بے تابانہ انداز میں پوچھ رہا تھا۔
’’ ضروری تو نہیں جو حقیقت لگتی ہو۔ وہ ویسی بھی ہو۔‘‘اس کے کہنے پہ بازل نے چونک کر اس کی اور دیکھا۔ اور اس سے پہلے کہ وہ مزید کوئی سوال کرتا۔مہرو اس کے پاس سے نکل کر تیز تیز قدموں سے بیرونی گیٹ کی سمت بڑھ چکی تھی۔ اور بازل وہیں الجھ کر کھڑا رہ گیا تھا۔
٭٭٭
تیسری بیل پہ دروازہ کھل چکا تھا۔سناور امل کو پرے کرتا اپارٹمنٹ میں داخل ہوا۔اور بنا کوئی بات کیے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔اس کی چال میں ہلکی سی لڑکھڑاہٹ سی تھی۔ایک خنجر تھا جو امل کو اپنے دل میں اترتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔اس نے اپارٹمنٹ کا دروازہ بند کیا۔ اور تیزی سے سناور کے عقب میں لپکی۔
’’تم نے ڈرنک کی ہے؟‘‘ وہ اس کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے تیز لہجے میں بولی۔سناور نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔
’’ اس وقت مجھے تنگ مت کرو۔‘‘ وہ اپنے لہجے کو حتی الامکان نارمل رکھتے ہوئے بولا تھا۔
’’مجھے اپنے سوالات کا جواب چاہیے سناور ؟‘‘وہ غصے سے اس کے چوڑے سینے پہ ہاتھ مارتے ہوئے بولی۔ سناور لڑکھڑاسا گیا تھا۔
’’ کیا بدتمیزی ہے یہ۔‘‘ اب کے اس نے غصے سے امل کے بازو کو جھٹکا دیتے ہوئے کہا۔
’’ بدتمیزی اور بکواس تو یہ میری زندگی ہے۔جو میں تمہارے ساتھ گزار رہی ہوں۔تم نے آخر ایسا کیا کیا ہے جس کا بوجھ تم اٹھا نہیں پا رہے۔مجرموں کی طرح تم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر دنیا کے اس انجان کونے میں آبیٹھے۔ اور ساتھ میں مجھے اور خالہ کو بھی لے آئے۔‘‘
ایک سال بہت ہوتا ہے برداشت کرنے کے لیے۔ اب امل کی برداشت کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔رات اس نے عالیہ بیگم کے ساتھ جو کچھ کیا تھا۔ امل برداشت نہیں کر سکی تھی۔ عالیہ بیگم کتنی ہی دیر روتی رہی تھیں۔
’’ اپنی حد میں رہوامل!‘‘سناور نے غصے سے انگلی اٹھا کر اسے متنبہ کیا۔
’’ اب حد میں ،میں اور خالہ نہیں تم رہو گے۔ ہم سب سے بات کریں گے۔ سب رشتہ داروں، محلے والوں سے رابطہ رکھیں گے۔
ہم تمہارے غلام نہیں ہیں۔جو.‘‘امل ابھی بات مکمل بھی نہیں کر پائی تھی۔ کہ سناور کا ہاتھ اٹھا اور اس کے چہرے پہ ثبت ہو گیا۔ امل اس سب کے لیے تیار نہیں تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ لڑکھڑا کر زمین پہ گرتی سناور اس کا بازو اپنے ہاتھ کے آہنی شکنجے میں جکڑ چکا تھا۔
’’ایک بھی لفظ نہیں۔اگر تم نے میری مرضی کے خلاف کچھ بھی کیا۔ تو میں تمہیں زمین میں گاڑ دوں گا۔‘‘ اس کے لہجے میں سفاکیت تھی۔ عالیہ بیگم جو ان دونوں کی لڑائی کی آواز سن کر دروازے تک آئی تھیں۔ ٹھنک کر وہیں رک گئی تھیں۔
’’ سب کچھ میں نے تمہارے لیے کیا ہے۔ تمہیں زمین سے آسمان پہ بٹھانے کے لیے میں نے اپنے ضمیر تک کو بیچ ڈالا۔ میں نے خود کو اور کسی دوسرے کی زندگی کو برباد کر دیا ہے۔ اور اس کی وجہ تم ہو۔ اگر تم نے میرے سامنے اونچی اواز میں بولنے کی جرأت کی۔ یا میری مرضی کے خلاف کچھ بھی کرنے کی کوشش کی۔ تو یاد رکھنا میں تمہارا لحاظ نہیں کروں گا۔‘‘کہتے ہوئے سناور نے اس کے بازو کو ایک جھٹکے سے چھوڑا۔ امل ابھی تک چہرے پہ ہاتھ رکھے پھٹی پھٹی نظروں سے سناور کو دیکھ رہی تھی۔
’’ کیا کیا ہے تم نے سناور؟‘‘ امل کی سرسراتی ہوئی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
’’ پیچھے ہٹو۔‘‘ سناور نے اسے اپنے سامنے سے ہٹانا چاہا۔
’’ میں تم سے پوچھ رہی ہوں۔تم نے کیا کیا؟‘‘ امل چلائی تھی۔اور پھر سناور کے بولتے لب اسے یقین نہیں آرہا تھا۔ یہ سب سناور نے کیا۔ وہ بھی پیسوں کے لیے۔
بوجھل دل کے ساتھ عالیہ بیگم دروازے کے سامنے سے ہٹ گئی تھیں اور اندر کھڑی امل کو سانس لینا محال ہو رہا تھا۔ اس نے کیسے چند پیسوں کے لیے ایک جیتی جاگتی زندگی کو زندہ درگور کیا تھا۔سناور کا بت پاش پاش ہوگیا تھا۔
٭٭٭
ان کے گرد پھولوں کی دھیمی دھیمی خوشبو بکھری ہوئی تھی۔ اس کے قریب دوسرے سرے پہ بیٹھا شخص اب بالکل خاموش تھا۔
’’محبت کی نہیں جاتی، ہو جاتی ہے۔محسوس کرنی نہیں پڑتی، محسوس ہو جاتی ہے۔ لیکن شاید میں اس معاملے میں بڑی اناڑی نکلی۔محبت کرتی چلی گئی اس کی باتوں سے ،اس کی کیئر سے، اس سے۔ میں نے بہت محبت کی۔‘‘کہتے ہوئے اس کا لہجہ بھرایا تھا۔آنکھوں کے کنارے بھیگ گئے تھے۔
’’کتنا بدقسمت شخص تھا وہ۔جو تمہاری محبت کو ٹھکرا گیا۔‘‘دوسرے شخص کے لہجے میں تاسف تھا۔
’’محبت ٹھکرا جاتا۔ بے وفائی کر جاتا تو بھی اتنا برا نہ لگتا۔وہ تو بس مجھے پھنسا رہا تھا۔ اور اپنی اس کوشش میں کامیاب بھی ٹھہرا تھا۔‘‘درد مسکراہٹ بن کر اس کے لبوں پہ آن ٹھہرا تھا۔
’’ بھول جاؤ۔ کیونکہ بھول جانے میں ہی عافیت ہے۔ ماضی کی یادوں میں رہو گی تو درد کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔‘‘کہتے ہوئے بازل نے اپنی گردن کو مہر کی سمت موڑا۔
’’ مہرو !میں مانتا ہوں۔ جو ہوا غلط ہوا۔ لیکن.‘‘ دفعتاً بازل بری طرح چونکا تھا۔ اس نے استفہامیہ نظروں سے مہر کے چہرے کو دیکھا۔
’’ لیکن تم نے مجھے یہ نہیں بتایا۔ اس نے تمہارے ساتھ یہ سب کیوں کیا تھا؟ آخر اس کے اس طرح کرنے کی کوئی تو وجہ ہوگی۔‘‘ وہ اب مکمل طور پہ مہر کی جانب رخ کر کے بیٹھ چکا تھا۔’’ پتا نہیں۔ مجھے اس بات کا نہیں پتا۔‘‘ وہ کہتے ہوئے اٹھ کر کھڑی ہو چکی تھی۔
’’ یہ کیسے ممکن ہے کہ تمہیں معلوم نہ ہو۔‘‘ بازل خفگی سے کہتا ہوا اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا ہوا۔
’’مجھے تم سے شادی نہیں کرنی۔اس لیے کہ مجھے کسی سے بھی شادی نہیں کرنی۔ سو بہتر ہے تم پاپا کو خود سمجھا دو۔میری تو وہ کوئی بھی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اور میں چاہتی ہوں یہ بات بنا کسی بدمزگی کے ختم ہو جائے۔‘‘مہرو نے کندھے پہ پرس ڈالتے ہوئے مدبرانہ انداز میں کہا۔
’’ہاں تو اگر تم یہ بات بناکسی بدمزگی کے ختم کرنا چاہتی ہو۔ تو آرام سے انکل کی بات مان لو۔ کیونکہ میں تو اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔‘‘بازل کے لہجے میں چٹانوں سی سختی تھی۔ مہرو اسے دیکھ کر رہ گئی تھی۔مہرو پلٹی اور تیز تیز قدموں سے بیرونی گیٹ کی سمت چل پڑی تھی۔
٭٭٭
سرد مہری کا موسم ان دونوں کے بیچ آن ٹھہرا تھا۔
’’ امل! میں پہلے ہی پریشان ہوں۔ تم مجھے مزید پریشان مت کرو۔‘‘سناور نے کمرے سے باہر نکلتی امل کا بازو تھام کر اسے اپنے سامنے کھڑا کرتے ہوئے کہا۔ امل کچھ بھی بولے بنااپنے ہونٹ کاٹتی رہی۔
’’امل !‘‘سناور نے اس کی ٹھوڑی اوپر کی ’’میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں امل۔ تمہارا یہ رویہ مجھے اذیت دے رہا ہے۔بس کرو امل۔‘‘ سناور نے اس کی منت کی تھی۔ امل کی آنکھوں میں پانی کا سیلاب جمع ہونے لگا تھا۔
اس کے لمس سے اذیت ہو رہی تھی۔ اس اذیت سے گھبرا کر اس نے سناور کے ہاتھ میں جکڑے اپنے بازو کو اپنی پوری قوت کے ساتھ چھڑانے کی سعی کی۔
’’ایسے مت کرو امل پلیز۔ مجھ سے اس طرح دور مت جاؤ۔میں پہلے ہی خود سے، تم سے، اپنے ضمیر سے بہت شرمندہ ہوں۔‘‘سناور بھرائے ہوئے لہجے میں کہتا امل کے قریب ہوا۔
’’مجھے چند دن میرے حال پہ چھوڑ دو سناور۔مجھے یقین کر لینے دو سناور علی نے خوشی خوشی ایک معصوم لڑکی کو برباد کیا۔چند پیسوں کے لیے تمہیں یہ سب ڈرامہ کرنے کے کتنے لاکھ ملے تھے۔ پچاس لاکھ، اسی لاکھ یا ایک کروڑ۔۔
مجھے بے ایمانی کے پیسے نہیں چاہیے تھے سناور۔ کب میں نے تم سے سونے اور قیمتی پتھروں کی فرمائش کی تھی۔ ایک گجرا میرے لیے سونے سے کہیں زیادہ قیمتی تھا۔ کب میں نے تم سے گاڑی میں پھرنے کی خواہش کی تھی۔ میں تو تمہارے ساتھ ٹوٹی ہوئی بائیک پہ بیٹھ کے بھی خود کو کسی ملکہ سے کم نہیں سمجھتی تھی۔
ایک بار بھی، ایک بار بھی تمہیں خیال نہیں آیا تم کیا کر رہے ہو۔تم نے کچھ نہیں سوچا۔‘‘تم ‘‘وہ بے تحاشا روتے ہوئے کہہ رہی تھی۔اور سناور ،سناور اب نم آنکھوں سے اسے روتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔
اس کے پاس اپنی صفائی میں کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔وہ بولنا چاہتا تھا۔ روتی ہوئی امل کو خاموش کروانا چاہتا تھا۔ وہ اس سے معافی مانگنا چاہتا تھا۔لیکن اس وقت وہ کچھ بھی نہیں کر پایا تھا۔ روتے ہوئے کمرے کا دروازہ پار کر گئی تھی۔ اور سناور پاس پڑی کرسی پہ گرنے کے انداز میں بیٹھ کر اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اسے یاد آرہا تھا اس سے محبت کے ڈرامے کرنے اور پھر انکار کرنے کے لیے سامنے پڑے پیپرز پہ سائن کرنے کا کہا جا رہا تھا۔ یہ ایگریمنٹ تھا۔ جو اس کے اور سامنے کرسی پہ بیٹھی خاتون کے درمیان طے پا رہا تھا۔پیسہ اور ساتھ میں امل اور ماں کے ساتھ بیرون ملک چلے جانے کی آفر دولت کی دیوی اس کا دروازہ کھٹکھٹا رہی تھی۔
اور وہ اتنا بھی ایمان دار نہیں تھا۔ جو دولت کی دیوی کے لیے بند کواڑ نہ کو کھولتا ۔ اور وہ بھی اس صورت میں جب وہ پچھلے آٹھ ماہ سے اچھی نوکری کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہا تھا۔ اس نے تیزی سے اپنے ذہن میں سو دوزیاں کا حساب لگایا۔اس کے حصے میں تو سب ٹھیک ہے کا سائن روشن ہوا۔اور پھر، اس نے ٹیبل پہ پڑے پیپرز کو اپنی طرف موڑا۔
٭٭٭
ایک سرد جنگ تھی جو حسان صاحب اور مہروسہ کے بیچ چھڑ گئی تھی۔بیٹی کی ہر خواہش کو پورا کرنے، اسے زندگی میں ہمیشہ سپورٹ کرنے والے حسان صاحب نے اس کی چوبیس سالہ زندگی میں پہلی بار اس کا ساتھ نہیں دیا تھا ،اس کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے وہ اس کے مقابل آن کھڑے ہوئے تھے۔ زمرد بیگم اس سارے قصے میں خاموش تھیں۔ اور ان کی خاموشی مہرو کو ہلا رہی تھی۔ آخر اس نے زمرد بیگم سے بات کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
اس دن حسان صاحب آفیشلی میٹنگ کے لیے باہر گئے تھے۔
وہ اس وقت فون پہ بات کر رہی تھیں۔انہوں نے قریب کھڑی مہرو کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔کال ختم کرنے کے بعد بولیں۔
’’گھما پھرا کر بات کرنا توآتی نہیں مجھے۔ ان فیکٹ میرے پاس اتنا ٹائم بھی نہیں۔ بازل میرا پیارا بھتیجا ہے۔لاڈلا اور چہیتا اب قسمت کی تو تم ہمیشہ سے دھنی رہی ہو۔ دیکھو، کیسے تاش کے بکھرے پتوں کی مانند کھیل تمہاری مٹھی میں آگیا۔ ‘‘ان کے لبوں پہ طنزیہ مسکراہٹ ابھری۔
مہرونے سر اٹھایا اور ان کی طرف دیکھا۔
’’میں۔‘‘ اس نے کچھ کہنے کے لیے اپنے لبوں کو کھولا۔ لیکن اسی لمحے زمرد بیگم نے ہاتھ اٹھا کر اسے بولنے سے منع کر دیا۔
’’ میں نے تمہاری سننے کے لیے نہیں۔بلکہ اپنی سنانے کے لیے تمہیں یہاں بلوایا ہے۔ کبھی بھی میرے مقابل مت آنا۔ میں اپنے راستے میں آئی آئی ہر شے کو چیونٹی کی طرح پاؤں تلے روند نے میں رتی بھر بھی دیر نہیں لگاتی۔‘‘ انہوں نے کہتے ہوئے اپنے بائیں ہاتھ کی انگلیوں کو مسلا تھا۔
’’اپنی زندگی کو انجوائے کرو۔ لیکن اپنی اوقات میں رہ کر۔ورنہ۔۔۔‘‘ دھمکی آمیز لہجے میں انہوں نے اپنی بات کو چھوڑا۔ مہرو تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑی ہوئی۔
’’ میں۔۔‘‘ گلے میں اٹکے آنسوؤں کے گولے کو حلق سے نیچے اتارتے ہوئے بامشکل ایک لفظ بول پائی تھی۔
’’ تمہاری ایک بھی غلطی تمہارے سب راز افشاں کرنے میں دیر نہیں لگائے گی۔یاد ہے نا وہ ویڈیو۔یا تمہیں دکھاؤں۔‘‘انہوں نے کہتے ہوئے سائیڈ ٹیبل پہ پڑے اپنے فون کو اٹھایا۔
’’نہیں نہیں پلیز نہیں۔‘‘ آنسو ٹوٹ کر اس کے گالوں پہ آ بکھرے۔وہ بے اختیار ہی ان کے قدموں میں آ بیٹھی۔
’’ مجھے جینے دیں خدا کے لیے۔ مجھے جینے دیں۔ مجھے نہیں پتا آپ کو کیوں ایسا لگا تھا۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں تھا سچ میں ایسا کچھ نہیں تھا۔‘‘ وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے مسلسل رو رہی تھی۔ جب اچانک ہی حسان صاحب دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوئے تھے۔
مہرو کو یوں فرش پہ ز مرد بیگم کے قدموں کے پاس بیٹھا دیکھ کر وہ ٹھنک کر اپنی جگہ رکے تھے۔ زمرد بیگم تیزی سے سیدھی ہو کر بیٹھیں اور مہرو کو دونوں شانوں سے تھام لیا۔
’’تم بھی نا۔ ہم کون سا اپنی اولاد کو خود سے دور کرنا چاہتے ہیں۔لیکن دنیا کی ریت یہی ہے بیٹیوں کو رخصت کرنا ہی ہوتا ہے۔ پھر چاہے بیٹی کسی بادشاہ کی ہو یا پھر کسی فقیر کی۔‘‘چہرے پہ افسردگی، آنکھوں میں آنسو اور لہجے میں اداسی سموئے زمرد بیگم مہرو کو اپنے سینے سے لگا چکی تھیں۔ حسان صاحب افسردگی سے مسکراتے ہوئے مہرو کے قریب آگئے۔جو اب اپنے آنسوؤں کو صاف کرتی۔قالین سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی تھی۔
’’ مہرو۔میری جان ،میری بچی۔‘‘ حسان صاحب اسے اپنے سینے سے لگا چکے تھے۔
باپ کی مہربان بانہوں میں وہ کتنے عرصے کے بعد سمائی تھی۔ مہرو یاد کرنے کی کوشش میں اپنی پوری شدت سے رو دی تھی۔
’’ والدین ہمیشہ اپنے بچوں کے لیے اچھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں نے بھی اپنی بیٹی کے لیے بازل جیسے انسان کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے۔‘‘
’’پاپا!‘‘ مہرو نے ان کے چوڑے سینے سے سر اٹھا کر کچھ کہنا چاہا۔
’’آپ بس فکر نہیں کریں۔ ہماری بیٹی دنیا کی بیسٹ بیٹی ہے۔میں نے اسے سمجھا دیا ہے اور ہمیشہ کی طرح وہ سمجھ گئی ہے۔ اب تو آپ بس تیاریاں شروع کر دیں۔‘‘ زمرد بیگم نے حسان صاحب کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر سرعت سے جھوٹ بولتے ہوئے کہا۔
’’ارے واہ کیا واقعی۔‘‘مہرو کو دونوں شانوں سے اپنے سامنے کرتے ہوئے حسان صاحب نے بے یقینی سے استفسار کیا۔زمرد بیگم ایک بار پھر بول پڑی تھیں۔
’’لو آپ ایسے حیران ہو رہے ہیں۔جیسے مہرو نے پہلے آپ کی کبھی کوئی بات نہیں مانی۔ ارے بھئی ہماری بیٹی ہے ہی اتنی فرماں بر دار اور سعادت مند کہ اس نے کبھی ہمیں نا امید نہیں کیا۔میں تو بھائی اور بھابھی کے ساتھ ساتھ بازل کو بھی یہ خوش خبری سنانے لگی ہوں۔ جلدی سے دبئی کی سرزمین چھوڑ کر دھوم دھام سے ہمارے بیٹی کو بیاہنے کے لیے آ جائیں۔‘‘پرجوش لہجے میں کہتے زمرد بیگم اب اپنا فون اٹھائے کمرے سے باہر جا چکی تھیں۔ مہرو نے حواس باختہ ہوکر حسان صاحب کی طرف دیکھا۔
’’ پاپا میں۔۔۔‘‘ وہ اپنے آنسوؤں کو ضبط کرنے کی کوشش میں بے حال ہو رہی تھی۔
’’پتا نہیں زمرد میری کون سی نیکی کا صلہ ہے۔ تمہاری ماں کے بعد اس نے جس طرح تمہیں اور عامر کو اپنی اولاد کی طرح سمجھا۔ میں تو قیامت تک اس کا یہ احسان نہیں اتار پاؤں گا۔‘‘ حسان صاحب کے لفظ مہرو کی تمام تر ہمت کو ختم کرتے جا رہے تھے۔
’’سب اتنے خوش ہیں اور بازل تو۔‘‘ زمرد بیگم آگے نہ جانے کیا کیا کہہ رہی تھیں۔ اور مہروایک بار پھر ان سے ہار کر مرے ہوئے قدموں سے ان کے کمرے سے نکل آئی تھی۔ اپنے کمرے میں آتے ہی اس نے سینے سے امڈتی چیخوں کا گلا منہ پہ ہاتھ رکھ کر گھونٹا۔
’’ وہ اچھی نہیں ہیں پاپا۔ وہ اچھی نہیں۔‘‘ دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے وہ زمین پہ بیٹھتی جا رہی تھی۔ اور اپنی تمام تر شدتوں کے ساتھ رو دی تھی۔
٭٭٭
امل کی بے رخ،کہیں اس کی بے اعتنائی ہر گزرتے دن کے ساتھ سناور کو موت کے قریب کر رہی تھی۔ اور اب تو جانے کیوں امی بھی پہلے سے کہیں زیادہ خاموش رہنے لگی تھیں۔
’’ ایسے مت کرو امل۔بہت محبت کرتا ہوں میں تم سے۔‘‘ سناور جانے کیوں یہ کہتے ہوئے خود پہ ضبط نہیں کر پایا تھا۔ وجہ ان دنوں میں امل کی حالت تھی۔ جانے کیوں دن بدن اس کے چہرے پہ زردیاں کھنڈتی جا رہی تھیں۔ آنکھیں اندر کو دھنستی اور ہونٹ تو ،مسکرانا بھی بھول گئے تھے۔
اس وقت بھی وہ اپنے سامنے بیٹھے روتے ہوئے سناور کو خالی خالی نظروں سے دیکھتی جا رہی تھی۔
’’ معاف کر دو امل۔میں نے بنا محنت کے جلدی سب حاصل کرنے کے چکر میں یہ سب کر دیا۔ میں نے غلطی کی گناہ کیا۔ میں مانتا ہوں لیکن تم تو میرے ساتھ ایسے مت کرو۔‘‘
’’ میں کیا کر رہی ہوں تمہارے ساتھ سناور۔ میں نے تو کچھ نہیں کیا۔ میرے اندر کچھ کرنے کی طاقت ہی نہیں۔ اتنی ہمت نہیں تمہیں چھوڑ کر چلی جاؤں۔ ‘‘ کہتے ہوئے اس کے لبوں پہ مسکراہٹ نے چھب دکھلائی اور اگلے ہی لمحے گم ہو گئی۔
’’امل میں۔۔۔‘‘ سناور نے اس کا ہاتھ تھامنا چاہاجسے اس نے اگلے ہی لمحے جھٹک دیا۔
’’ میرے ضبط سے زیادہ مت آزماؤ سناور۔ بہت چاہ کر بھی میں تم سے نفرت نہیں کر پا رہی۔پتا نہیں کیوں تم سے محبت کے سوا کوئی دوسرا رشتہ بنا ہی نہیں پا رہی۔‘‘ وہ رو پڑی تھی۔
’’لیکن تمہیں معاف کرنے کا حوصلہ بھی نہیں۔ ایسے کیسے ہو سکتا ہے جو شخص محبت کرنا جانتا ہو۔ محبت کو رسوا کرنے چل پڑے۔لمحے بھر کے لیے اس محبت کے ڈھونگ کو ایک جانب رکھ بھی دیا جائے۔ کبھی تو سوچتے اس معصوم اور پیاری لڑکی کے دل پہ کیا گزری ہوگی۔کیا گزری ہوگی جب تم نے اس کے سامنے چیک کو اٹھایا ہوگا۔نہیں سناور تم نہیں سمجھو گے۔ کیونکہ تم اس کی جگہ پہ نہیں تمہارے ضمیر کا یہ بوجھ یونہی منوں بھاری نہیں ہوا سناور۔میں بد دعاؤں کی زد میں آئے تمہارے وجود کے ساتھ کیسے خود کو رکھ پاؤں گی۔سمجھ نہیں آرہا مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا۔‘‘ وہ کہتے ہوئے اٹھی۔ابھی دو قدم بھی چل نہیں پائی تھی کہ چکرا کر گری اور بے ہوش ہو گئی۔
سناور پاگلوں کی طرح اس کی سمت لپکا تھا۔اور پھر اگلے چند منٹوں کے بعد وہ امل کے بے ہوش وجود کو ایمبولنس میں ڈالے جلدی سے ہاسپٹل کے قریب پہنچنے کی دعائیں مانگ رہا تھا۔
٭٭٭
چیزیں کتنی غیر متوقع ہوتی ہیں۔ اور حالات کتنے عجیب۔وہ آج بازل کے نام کا عروسی جوڑا پہنے اپنی مہندی زدہ ہاتھوں کو گود میں رکھے ان پہ نظریں جمائے بیٹھی تھی۔
’’ آپ اداس مت ہوا کریں۔ اداس ہوتی ہیں تو لگتا ہے ہر شے پہ اداسی کا رنگ چڑھ گیا ہے۔زندگی خوش رہنے کا نام ہے۔خوش رہا کریں نا۔ جب آپ خوش ہوتی ہیں تو یقین کریں سب سے زیادہ خوشی اس ناچیز کو ہوتی ہے۔‘‘ وہ اپنے سینے پہ ہاتھ رکھے اس کی جانب ذرا سا جھکتے ہوئے بولا تھا۔ اور وہ جو اس سے ڈھیروں ناراض تھی۔اس کی بات پہ کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی۔
’’کیاآپ کو قبول ہے؟‘‘ مولوی صاحب کی آواز اسے ماضی سے حال میں کھینچ لائی تھی۔آنسو ستارے کی ماننداس کی آنکھ سے ٹوٹ کر گرا تھا۔
’’ قبول ہے۔‘‘ اس کے سوا اس کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔
’’ محبت ہو گئی ہے مجھے تم سے۔ جانتا ہوں تمہارے اور میرے بیچ بہت فرق ہے۔ لیکن اس دل کا کیا کروں۔جو تمہیں نہ دیکھے تو دھڑکنے سے ہی انکار کر دیتا ہے۔ ان سانسوں کا کیا کروں جو تمہارے نام کی مالا جپنے لگتی ہیں۔ انہیں منع کروں تو مجھے رک جانے کی دھمکی دینے لگتی ہیں۔‘‘
مہرو کو اپنا وجود ہواؤں میں اڑتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے بے اختیار ہی اپنا نازک ہاتھ اس ٹیبل پہ رکھے ہاتھ پہ رکھ دیا تھا۔
محبت کے اس سفر میں وہ اکیلا کب تھا۔وہ بھی تو اس کی ہم راہی بن بیٹھی تھی۔
’’ کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟‘‘ مولوی صاحب کی آواز ایک بار پھر اسے ماضی کی یاد سے ہاتھ چھڑانے پہ مجبور کر گئی تھی۔
’’ قبول ہے۔‘‘
’’ محبت نہیں کرتا میں تم سے۔ سوری مہرو! مجھے یہ کام کرنے کا آرڈر ملا تھا۔اور میں اس کام کو ایمان داری سے کرنے کی کوشش کی۔اس سے زیادہ کا تعلق نہیں تھا۔‘‘وہ انجان بنا اسے بتا رہا تھا۔ چیک ،ویزے اور پتا نہیں کیا کیا اس کے سامنے پڑا تھا۔
اس کا وجود کرچی کرچی ہوا تھا۔ یا پھر اس کی روح لہو لہان اس بات سے وہاں پہ موجود دونوں نفوس کو کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ اور نہ ہی پڑنے والاتھا۔
’’آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔‘‘ مولوی صاحب کی آواز پہ وہ چونکی۔ گہری سانس بھری اور پھر ’’قبول ہے۔‘‘ کہہ دیا۔
نکاح کی مبارک باد کے شور میں اس نے آخری بار اس ظالم انسان کا نام لیا جسے اس نے اپنی تمام تر چاہتوں سے چاہا تھا۔ لیکن وہ اس کے نصیب میں نہیں تھا۔ اس کا نصیب تو ساتھ بیٹھا بازل حیدر تھا۔جو اب اپنے فون سے سیلفی لینے میں مصروف تھا۔
’’ اسمائل پلیز۔‘‘ اس نے مہرو کو کندھا مارتے ہوئے کہا۔ اور کلک کر کے دونوں کی تصویر کو ہمیشہ کے لیے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لیا تھا۔وہ الگ بات تھی مہرونے اسمائل تو کیا۔ اپنا چہرہ بھی اس کی سمت نہیں موڑا تھا۔
لیکن جانے کیوں بازل حیدر کو یقین تھا۔ وہ اپنی خوب صورت اور نک چڑھی بیوی کو جلد ہی ٹھیک کر لے گا۔محبت ہو جانے میں صدیاں تھوڑی لگتی ہیں۔یہ تو لمحوں میں ہو جاتی ہے۔ اور پھر صدیوں پہ محیط ہو جاتی ہے۔ امر ہو جاتی ہے۔
٭٭٭
اسے ڈاکٹر کارلس نے اپنے کمرے میں بلایا تھا۔ جانے کیوں سناور کا جی چاہ رہا تھا۔ وہ ڈاکٹر کے کیبن میں جانے کے بجائے مشینوں میں جکڑی امل کو اور اس کے قریب بیٹھی اپنی ماں کو اپنے ساتھ لے۔اور ہاسپٹل سے باہر نکل آئے۔ وہ ان دونوں کے ہمراہ اتنی دور چلا جائے۔جہاں کوئی دکھ نہ ہو ،کوئی ماضی کی بات نہ ہو بس امل اور وہ ہوں۔ اور وہ اسی طرح خوش رہ سکے جس طرح اس ڈھائی مرحلے کے مکان میں رہتے تھے۔
ڈاکٹر کارلس اپنے پانچ افراد پہ مشتمل پینل کے ہمراہ موجود تھے۔ جانے کیوں سناور کو کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا۔اس کے دل کی دھڑکن مدہم ہو رہی تھی۔کسی انہونی کا احساس اس سرد موسم میں بھی پیشانی پہ پسینہ لے آیا تھا۔
’’پانچ دن کے مختلف ٹیسٹ کے بعد آپ کی مسز کی فائنل رپورٹ ہمارے پاس آ چکی ہے۔‘‘ بالآخر ڈاکٹر کارلس نے بولنا شروع کیا تھا۔
’’ جی مجھے پتا ہے۔امل شروع سے ہی ایسی ہی ہے۔چھوٹی چھوٹی باتوں کو سر پہ سوار کر لینے والی۔اور اگر بات میری ذات کی ہو۔وہ ایسے ہی کرتی ہے مطلب بیمار پڑ جاتی ہے۔ اصل میں مجھ سے محبت بھی تو بہت کرتی ہے۔ نہیں محبت نہیں بلکہ عشق کرتی ہے۔‘‘سناور نے بے اختیار بولنا شروع کیا۔
’’مسٹر سناور !پلیز خود کو مضبوط کریں۔ آپ کو خود کو مضبوط کرنا ہوگا۔‘‘ڈاکٹر کارلس نے کہتے ہوئے پانی کا گلاس اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔
’’ آپ پانی پییں۔‘‘ڈاکٹر کارلس نے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ تو سناور نے بادل ناخواستہ دو گھونٹ پانی کو حلق سے نیچے اتار لیا۔
’’ مجھے پتا ہے امل کو ٹینشن ہے۔ اور اس کی ٹینشن کا ذمہ دار میں ہوں۔ میں.‘‘ سناور بول رہا تھا۔ جب ڈاکٹر کارلس نے اس کی بات کاٹی۔
’’آپ ہمارے پاس بہت لیٹ آئے ہیں۔آپ کی مسز کو۔۔۔‘‘ڈاکٹر کارلس رکے۔اور پھر ٹیبل پہ پڑی رپورٹس اٹھا کر اپنی نظروں کے سامنے کیا۔ چند صفحوں کو پڑھنے کے بعد ڈاکٹر کارلس نے دم سادھ کر بیٹھے سناور کی طرف دیکھا۔
’’آپ کی وائف کو جگر کا کینسر ہے۔اور بات لاسٹ ا سٹیج سے بھی کہیں زیادہ گمبھیر ہے۔ ایم سوری مسٹر سناور۔ چند دن۔۔۔آپ کی وائف چند دن کی مہمان ہیں۔‘‘ کوئی صور تھا۔ جو ڈاکٹر کارلس ، سناور کی سماعتوں پہ پھونک رہے تھے۔ یا پھر کوئی تیزاب جو اس کی سماعتوں کو جھلسا رہا تھا۔
کتنی ہی دیر اس کے دل نے دھڑکنے سے انکار کر دیا تھا۔
’’ نہیں یہ نہیں ہو سکتا۔ آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔آپ کی رپورٹ ٹھیک نہیں۔ امل بالکل ٹھیک ہے ایک دم ٹھیک۔ ابھی ڈیڑھ ماہ پہلے ہی تو ہماری شادی ہوئی ہے۔ بالکل ٹھیک تھی وہ۔بالکل ٹھیک۔۔۔‘‘ سناور کہتا ہوا بیٹھے سے اٹھ کر کھڑا ہوا۔
’’ہم نے پوری احتیاط اور باریک بینی سے آپ کی بیگم کی فائل پڑھی ہے۔‘‘
’’ آپ کو ہمت کرنی ہوگی۔‘‘ڈاکٹر کارلس نے اسے تسلی دی۔
’’کچھ کیجئے ڈاکٹر۔کچھ بھی کر کے میری امل کو بچا لیں۔میں اپنے پاس موجود ہر چیز کو اس پہ وار دوں گا۔میں اپنا آپ تک اس کے لیے بیچ ڈالوں گا۔ لیکن پلیز میری امل کو ٹھیک کر دیں۔‘‘ان کی منتیں کر رہا تھا۔
’’ہم اپنی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ آپ پلیز خود کو سنبھالیں۔‘‘ڈاکٹر کارلس نے اس کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوئے تسلی آمیز لہجے میں کہا۔اور پھر ایک موہوم امید سے سناور کے عقب میں کھڑے ڈاکٹر زکو دیکھا۔ جن کے چہرے پہ نا امیدی کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔
’’آہ پیاری امل!‘‘ ڈاکٹر کارلس کے لبوں سے نکلا۔اور وہ پھر سے سناور کی طرف متوجہ ہو گئے تھے۔
٭٭٭
تازے سرخ پھولوں سے سجا کمرہ اس کا منتظر تھا۔لیکن اسے اس وقت کسی بھی چیز میں دلچسپی نہیں تھی۔وہ بازل کے ہمراہ کمرے میں داخل ہوئی۔اور ٹھیس سے انداز میں صوفے پہ جا بیٹھی۔
’’ہائے اب ایسے تو مت کرو۔‘‘ بازل جو بیڈ کی سمت بڑھ رہا تھا۔ اسے صوفے پہ براجمان ہوتے دیکھ کر تیزی سے اس کے قریب آیاا مہرو نے اپنی تھکی تھکی آنکھوں کو اٹھا کر اس کی سمت دیکھا۔ ہمیشہ کی طرح فریش چمک چہکتا اور مہکتا بازل اس کی نظروں کے سامنے تھا۔ اس لمحے جانے کیوں اسے بازل پہ بے انتہا اور رشک آیا تھا۔
’’پیارا لگ رہا ہوں نا۔‘‘ بازل شوخ ہوتے ہوئے اس کے قریب صوفے پہ آبیٹھا۔اس کے یوں بیٹھتے ہی مہرو لاشعوری طور پر اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑی ہو چکی تھی۔
’’ دیکھو مجھے تم سے اپنے روایتی انداز میں استقبال کرنے کی کوئی امید نہیں تھی۔لیکن دیکھو پلیز ایسے تو مت کرو۔کچھ تو خیال کرو۔ یہ میری پہلی شادی ہے۔‘‘ چہرے پہ جہاں بھر کی معصومیت سجائے وہ مہرو سے کہہ رہا تھا۔ اور مہرو چند لمحے اس کی طرف دیکھنے کے بعد اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر رو پڑی تھی۔
’’ارے ارے مہرو!‘‘ بازل گھبرا گیا۔اور بمشکل اس کے ہاتھوں کو اس کے چہرے سے ہٹانے میں کامیاب ہوا تھا۔
’’مجھے بہت دعوے کرنے نہیں آتے۔لیکن آج دو وعدے ضرور کروں گا۔ ایک ہمیشہ تم سے بے انتہا محبت ضرور کروں گا۔ اور دوسرا ہمیشہ تمہارا ساتھ دوں گا۔ اپنے دل سے ہر ڈر ،ہر خوف کو نکال دو۔دیکھو تاریخ بدلتی ہے تو وقت بھی بدل جاتا ہے۔ محسوس کرنے کی کوشش کرو گی۔ تب ہی تو محسوس کر پاؤ گی نا۔ بھول جاؤ سب بھول جاؤ۔‘‘ بازل نے کہتے ہوئے اس کے ہاتھ کو سہلایا تھا۔
’’تمہیں عجیب نہیں لگتا۔ میں کسی اور سے محبت کرتی تھی۔ برا نہیں لگتا۔سب جاننے بوجھتے بعد بھی تم نے مجھ سے شادی کر لی۔‘‘ دل میں چھپی بات وہ ہونٹوں تک لے آئی تھی۔بازل تو دھیرے سے مسکرایا۔
’’ برا تو لگتا ہے اور عجیب بھی لگتا ہے۔ یار میں تمہیں کیسے بتاؤں۔ یہ میری پہلی شادی ہے۔ اور تم نے پہلے دن ہی مجھے ہارٹ اٹیک کروانے کے سارے سامان اکٹھے کر لیے ہیں۔‘‘بازل نے اپنی بائیں جانب ہاتھ رکھتے ہوئے پیچھے کی جانب جھکتے ہوئے دہائی دی۔مہرو کے چہرے پہ نا سمجھی کے تاثرات ابھرے تھے۔
’’ارے یہ دیکھو۔‘‘وہ جلدی سے اٹھا اور اس کا ہاتھ تھام کر اسے شیشے کے سامنے لا کر کھڑا کر دیا۔مہرو ابھی بھی شیشے میں دیکھنے کے بجائے بازل کی طرف دیکھ رہی تھی۔
’’ ارے یہاں دیکھو۔‘‘اس نے کہتے ہوئے مہرو کے چہرے کو ٹھوڑی سے پکڑ کر شیشے کی سمت کیا۔رونے کی وجہ سے اس کا سارا میک اپ بکھر چکا تھا۔ کاجل آنکھوں کی بجائے گالوں پہ محوِسفر تھا۔ تو وہیں اس کی ایک مصنوعی پلک ٹوٹ کر اس کی بائیں آنکھ کے کنارے ذرا سی اٹکی ہوئی تھی۔لپ اسٹک ہونٹوں کے کنارے سے نکل کر ادھر ادھر پھیلی ہوئی تھی۔یعنی وہ اچھی خاصی مضحکہ خیز لگ رہی تھی۔
مہرو نے جلدی سے بازل کی طرف دیکھا۔ اس کے یوں دیکھنے پہ بازل بے اختیار ہی قہقہہ لگا کر ہنس پڑا تھا۔
’’بدتمیز۔‘‘ مہرو نے اس کے بازو پہ تھپڑ رسید کرتے ہوئے خفگی سے کہا۔ اور پھر جانے کیوں وہ خود بھی ہنس پڑی تھی۔ رشتوں کی بنیاد سچائی اور خلوص پر ہو تو دل نہ ملنے کے باوجود رشتوں کی خوبصورتی کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ وقت کی مہربان پر ی نے جھک کر مسکراتی ہوئی مہرو کو دیکھا۔اور پھر خود بھی مسکرا دی۔
٭٭٭
وہ دولت جسے حاصل کرنے کے لیے سناور علی نے دل کے مندر میں نقیب لگائی تھی۔وہی دولت اب وہ امل کے مہنگے ترین علاج پہ خرچ کررہاتھا۔حالانکہ ڈاکٹرز نے اسے صاف بتا دیا تھا۔جگر ٹرانسپلانٹ کرنے کے بعد بھی امل کی زندگی کی کوئی گارنٹی نہیں۔اور سب کچھ کرنے کے بعد بھی صرف اور صرف پانچ پرسنٹ کی امید ہے۔
’’پانچ پرسنٹ۔‘‘سناور نے زیر لب دوہرایا۔
’’پانچ پرسنٹ بہت ہیں ڈاکٹر۔بہت زیادہ۔آپ بس میری امل کا علاج کریں۔مجھے یقین ہے وہ ٹھیک ہوجائے گی۔وہ مجھ سے بہت محبت کرتی ہے۔میرے بغیر نہیں رہ سکتی۔‘‘اس کے لہجے میں یقین تھا۔ڈاکٹرکارلس گہرا سانس لے کر رہ گئے۔اور اس کے سامنے پیپرز کو بڑھا دیا۔قلم تھامے وہ کتنی ہی دیر سوچتا رہا اور پھر گہرا سانس لینے کے بعد بالاخر اس نے پیپر پہ سائن کر دیے تھے۔
’’ آپ کو مزید رقم جمع کروانی پڑے گی۔‘‘ ڈاکٹر کارلس نے اس کے سامنے سے وہ پیپرزاٹھاتے ہوئے اب کے پروفیشنلی انداز میں کہا۔
’’میں دوں گا۔ میں سارے پیسے دے دوں گا۔‘‘ وہ کہتا ہوا اٹھا اور ڈاکٹر کارلس کے کیبن سے باہر آگیا۔شیشے کے پار کھڑے سناور نے شیشے کی دوسری سمت دیکھا۔امل اس کی جان ،اس کی زندگی آنکھیں موندے آکسیجن کا ماسک لگائے۔ارد گرد سے بے خبر پڑی تھی۔ اور پاس بیٹھی عالیہ بیگم نم آنکھوں کے ساتھ قرآنی آیات کا ورد کر کے اس پہ پھونک مار رہی تھیں۔وہ دھیرے دھیرے چلتا ماں کے پاس آ بیٹھا۔بکھرتاوجود ،آنکھیں لہو رنگ، شیو بڑھی ہوئی تھی۔ عالیہ بیگم نے بیٹے کا جائزہ لیا۔اور پھر کچھ بھی کہے بنا سر جھکا لیا۔
’’ میں نے بہت برا کیا ہے امی! خود کے ساتھ، امل کے ساتھ اور آپ کے ساتھ بھی۔‘‘ وہ امل کے بے خبر وجود پہ نظریں ٹکائے ہوئے میکانکی انداز میں بولا۔
’’اس ڈھائی مرلے کے مکان میں غربت تھی۔ لیکن زندگی مسکراتی تھی۔ اور اب رونے کے لیے آنسو بھی کم پڑ رہے ہیں۔آپ نے ہمیشہ مجھے رزق حلال کھلایا۔ اپنی انگلیوں کو فگار کر کے مجھے پڑھانے کے لیے وہ سب کچھ کیا۔جس دن میرے ہاتھ میں ڈگری آئی تھی۔مجھے لگا تھا یہ قارون کا خزانہ ہے۔لیکن جب یہی شاندار ڈگری لے کر میں نکلا۔تو معاشرے میں موجود بے ایمان اور منافق لوگوں کے لیے میری ڈگری فقط کاغذ کا عام سا ٹکڑا تھی۔ نوکری کے حصول کے لیے مجھے یا تو تگڑی سفارش کی ضرورت تھی۔ یا پھر پیسوں سے بھرے بیگ کی۔جو میں سسٹم میں بیٹھے ہوئے گدھوں کے منہ میں ڈال کر نوکری حاصل کر لیتا۔میرے پاس یہ دونوں چیزیں نہیں تھیں۔ میری منتوں کو ،میری ڈگری سمیت میرے منہ پر مار دیا جاتا۔
اور پھر ان ہی دنوں آپ کو ہونے والے ہارٹ اٹیک نے میرے پیروں تلے زمین کھینچ لی تھی۔آپ کو کھونے کا تصور محال تھا۔اور ہاتھ میں علاج کے لیے پیسے ہونا ضروری اور میں نے قرض کی صورت میں ہر اس انسان سے پیسے لیے۔ جس سے میری ہلکی سی بھی شناسائی تھی۔آپ کا علاج کروانے میں میں کامیاب تو ہو گیا تھا۔لیکن اپنے معاشرے کے سسٹم سے انتہائی بے دل ہو چکا تھا۔
امی۔ میں نے سوچ لیا تھا آپ کو اور امل کو دنیا کی ہر شے دینے کے لیے مجھے محنت سے کہیں زیادہ شارٹ کٹ راستے کی ضرورت ہے۔ اور پھر انہی دنوں مجھے احمد انڈسٹریز میں منیجر کی پوسٹ کی آفر ہوئی کمپنی بڑی تھی۔ لیکن میری قابلیت اور ڈگری کے سامنے کچھ نہیں۔ پھر بھی میں نے اس کمپنی کو جوائن کر لیا تھا۔ اور پھر انہوں نے مجھے میری شرط پہ اسے برباد کرنے کا ذمہ دیا۔ تو میں شاندار مستقبل کے لیے سب کرتا چلا گیا۔
اس پیاری لڑکی کو دھوکا دیا۔جو اتنے نرم دل کی مالک تھی۔ میری ذرا سی بے اعتنائی پہ گھنٹوں روتی۔ آج مجھے یاد آتا ہے۔جب میں آخری بار ان کے گھر گیا تھا۔کھیل ختم ہو چکا تھا۔ میں اسے توڑ چکا تھا۔اور جب میں نے چیک اور اپنی دوسری چیزوں کو اٹھایا۔تب کیسی بے بسی، بے یقینی تھی اس کے چہرے پہ۔ اس کا گلابی چہرہ یوں زرد ہوا تھا۔جیسے کسی نے مٹھی بھر مٹی کے اس کے چہرے پہ مل دی ہو۔‘‘
وہ اب آنسوؤں سے رو رہا تھا۔آج کل ایک یہی تو کام تھا۔وہ جو بڑی دلجمعی سے کر رہا تھا۔ جوان اور مضبوط اعصاب کے مرد سناور کو روتے دیکھ کر عالیہ بیگم کے دل کو کچھ ہوا تھا۔ وہ پچھلے کئی دنوں سے اس سے ایک لفظ بھی نہیں بولی تھیں۔لیکن اس وقت وہ خود پہ قابو نہیں رکھ سکی تھیں۔
’’ہم تو خوش تھے۔سناور میں اور امل بے انتہا خوش تھے۔ ہمیں تو ہمیشہ سے کم ملا تھا۔ اور ہم اسی میں قناعت کرتے تھے تمہیں نوکری مل جاتی۔ یہی بہت تھا۔ ہم نے تو کبھی نہیں سوچا تھا۔ زیادہ کی چاہ نہیں کی تھی۔جانے کیوں تم نے یہ سب کیا۔‘‘ان کا لہجہ بھرایا تھا۔
اس سے معافی مانگ لو سناور۔یہ نہ ہو۔تمہارے اس گناہ کا کفارہ امل کو ادا کرنا پڑے۔آہیں اور اس کی سسکیاں امل کو کھا نہ جائیں۔‘‘ عالیہ بیگم نے روتے ہوئے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔ اور اگلے ہی لمحے وہ اپنا چہرہ دوپٹے کے پلو میں چھپا کر سسک پڑی تھیں۔اور سناور۔۔۔۔ سناور بے جان جسم و جاں کے ساتھ ابھی بھی امل کے چہرے کو دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ جو کہ اس کی آنکھوں میں موجود نمی کی وجہ سے دھندلا ہو گیا تھا۔
’’کیا وہ مجھے معاف کر دے گی؟‘‘ اس کے دل نے چپکے سے سرگوشی کی تھی۔
’’ ہاں وہ مجھے معاف کر دے گی۔میں اس سے تب تک معافی مانگتا رہوں گا۔جب تک وہ مجھے معاف نہیں کرے گی۔اسے تو مجھ سے محبت تھی نا۔ تو اس محبت کے صدقے میں مجھے معاف کرنے پہ مجبور ہو جائے گی۔‘‘ سناور نے سوچا۔ اور پھر اپنی پوری ہمت مجتمع کر کے وہاں سے نکل آیا۔
٭٭٭
وہ باٹل گرین اور اسکن کلر کی خوبصورت کام دار فراک پہنے نفاست سے کیے گئے میک اپ میں انتہائی خوبصورت لگ رہی تھی۔زمرد بیگم جب اس سے ملنے کے لیے اسٹیج پہ آئیں۔بے شک اس کے چہرے پہ مسکراہٹ آویزاں نہیں تھی۔لیکن وہ کل کی طرح مضطرب بھی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ان سے ملنے کے بعد وہ تیزی سے عامر کی سمت بڑھی تھی۔عامر اس کا چھوٹا اوراکلوتا بھائی تھا۔اس کا کتنا جی چاہتا تھا۔عامر کو بورڈنگ میں داخل نہ کروایا جائے۔ لیکن اس کے چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔ہوتا تو وہی تھا جو زمرد بیگم چاہتی تھیں۔اور حسان صاحب ان کی ہر بات پہ ’’ہاں‘‘ کہنا فرض سمجھتے تھے۔
’’آج تو آپ بہت پیاری لگ رہی ہیں۔لگتا ہے بازل بھائی نے آپ پر اپنا اثر ڈال دیا ہے۔‘‘عامر نے اسے چھیڑا۔تو مہرو بے اختیار ہی شرما گئی۔
’’یعنی مستقبل قریب میں میری میرڈ لائف دے دھنا دھن ہونے کا امکان ہے۔‘‘بازل نے مہرو کے شرمائے چہرے کو نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے شرارتی اندا ز میں کہا۔تو مہرو اس پہ ایک عدد گھوری ڈالنے کے بعد پھر سے عامر کی سمت متوجہ ہوگئی تھی۔جانے کیوں یہ منظر زمرد بیگم کو اچھا نہیں لگاتھا۔ وہ فوراً سے بیشتر اسٹیج سے نیچے اتر آئی تھیں۔اور اپنے غصے کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرنے لگی تھیں۔
٭٭٭
سناور ہاسپٹل سے نکل کر آدھے گھنٹے کی مسافت پہ موجود مسجد میں چلا آیا تھا۔وضو کرتے ہوئے اس کے ندامت زدہ آنسو پانی کے ساتھ بہتے ہوئے جا رہے تھے۔ اور پھر جب وہ دو نفل ادا کرنے کے بعد سجدے میں گیا۔تو تڑپ تڑپ کر رو دیا تھا۔
’’معاف کر دے اللہ مجھے۔میرے گناہوں کا کفارہ میری امل سے نہ لینا اللہ۔ اللہ تومعجزہ کر دے۔میری امل کو ٹھیک کر دے۔ امل کے بنا میری زندگی موت سے کہیں بدتر ہو جائے گی۔میں خطا کار ہوں۔دل سے نادم ہوں۔میری توبہ کو قبول فرما لے۔مالک تو مجھے بخش دے۔مجھے اس آزمائش سے نکال دے۔میں اس سے معافی مانگ لوں گا۔مجھے واپس پاکستان بھی جانا پڑا۔ میں چلا جاؤں گا۔تو بس مجھ پہ اپنے کرم کی ایک نظر ڈال دے۔‘‘
وہ کتنی دیرروتے ہوئے اللہ سے معافی مانگتا رہا۔دل کو ذرا سا قرار آیا۔اس نے اپنی جیب سے فون نکالا۔اور کانپتے ہوئے ہاتھوں سے اپنے فون کی لسٹ سے اس کے نمبر کو نکالنے لگا۔نمبر مل جانے کے بعد اس نے اپنے آنسوؤں سے بھری آنکھوں کو اپنی شرٹ کی آستین سے صاف کیا۔ اور دھڑکتے دل کے ساتھ اس کا نمبر ڈائل کر لیا۔وہ نمبر بند جا رہا تھا۔ سناور کو لگا کسی نے اس کے دل کو اپنے دونوں ہاتھوں سے مسل ڈالا ہو۔
’’اگر اس سے بات نہ ہو پائی۔ اگر میں اسے معافی نہ مانگ سکا۔ آہ !‘‘یہ خیال ہی کس قدر ۔
وہ ایک بار اس سے معافی مانگنا چاہتا تھا۔ ایک بار اس سے بات کرنا چاہتا تھا۔ لیکن وہ۔ بار، بار نمبر ڈائل کرنے کے بعد جب ہر بار اسے فون بند ہونے کا پیغام وصول ہوتا۔ تو اس نے زمرد بیگم کا نمبر ڈائل کر لیا۔ اس نمبر پر بیل جا رہی تھی۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی۔لمحوں میں اس نے اپنے جملوں کو ترتیب دیا۔ اور پھر پھر دوسری طرف سے اس کی کال ریسیو کر لی گئی تھی۔
’’ ہیلو!‘‘ اس کے کانوں میں یہ جملہ پڑا۔یعنی عالم نزع میں اسے ایک گھونٹ پانی کواس کے حلق سے نیچے اتار دیا گیا تھا۔اس کا دل دھڑک گیا تھا۔ مردہ جسم میں جیسے جان سی آگئی تھی۔
’’ میں سناور بات کر رہا ہوں۔‘‘بلآخر وہ بولنے کی ہمت جٹا پایا تھا۔دوسری سمت چند لمحوں کے لیے مکمل خاموشی چھا چکی تھی۔یہاں تک کہ اسے لگا اس کی کال ڈس کنیکٹ ہو گئی ہے۔ اس نے اپنے فون کو کان سے ہٹا کر اپنی نظروں کے سامنے کیا۔کال ملی ہوئی تھی۔
’’ پلیز انکار مت کیجئے گا۔میری بات سن لیں۔‘‘اس نے منت کی اور پھر وہ بولنے لگا تھا۔
’’ سوری۔ تمہاری بات نہیں ہو سکتی۔اس کی شادی ہو چکی ہے۔‘‘ زمرد بیگم کے کہنے پہ لگا جیسے کسی نے اس کے جسم سے جان نکال دی ہو۔
٭٭٭
دھند زدہ شام ڈھلنے ہی والی تھی۔مہرو کچھ دیر پہلے ہی اپنے ساس ،سسر کے پاس سے اٹھ کر اپنے کمرے میں آئی۔
’’ تمہیں کیا لگا تھا۔تم میرے مقابل آ جاؤ گی۔‘‘بھاپ اڑاتے کافی کے مگ پہ نظریں جمائے اس کے کانوں میں باز گشت ہوئی تھی۔
’’مقابل کیوں آنا تھا۔ میں نے کبھی ایسا سوچا بھی نہیں تھا۔‘‘وہ بڑ بڑاتی ہوئی اٹھی اور مشینی انداز میں چلتی۔ پردوں کو پرے کرتی ڈور اوپن کر کے ٹیرس پہ چلی آئی تھی۔شام کا دندلکا کر اب سیاہ رات سے گلے ملنے کے لیے بے تاب تھا۔ اس نے گہری سانس بھری۔اور ذرا سا آگے ہو کر جھک کر لان میں دیکھنے لگی۔ دفعتاً اس کی نظر بڑے گیٹ سے داخل ہوتی گاڑی پہ پڑی۔گاڑی کے اندر آتے ہی ڈرائیونگ سیٹ پہ براجمان بازل حیدر اپنی گاڑی سے باہر آچکا تھا۔ چند لمحے مزید سرکے اب وہ اپنے قریب آئے چوکیدار سے جانے کون سی باتوں میں مصروف ہو چکا تھا۔مہرو بظاہر اسے دیکھ رہی تھی۔ لیکن حقیقت میں وہ خیال کے لمحے میں جکڑی ہوئی تھی۔ جب وہ اسے آخری بار الوداع کرنے بلکہ اس ڈرامے کو دی اینڈ کرنے آیا تھا۔اس کے لبوں پہ اداس مسکراہٹ آ ٹھہری تھی۔ جب اچانک بازل اس کے بالکل قریب آ کر کھڑا ہوا۔ تو وہ بری طرح ڈر کر اچھلی تھی۔
’’اب اتنی بھی بری شکل نہیں ہے میری۔‘‘ بازل نے مصنوعی ناراضگی سے کہا۔
’’ تم اتنی جلدی آ بھی گئے۔ تم تو۔۔۔‘‘ مہرو نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔ اور پھر نیچے دیکھا۔ جہاں وہ کچھ دیر پہلے کھڑا تھا۔
’’اچھا تو اس کا مطلب ہے تم مجھے چوری چوری دیکھتی ہو۔‘‘بازل نے معنی خیز انداز میں اپنی آنکھوں کو گھمایا۔ تو مہرو شرمندہ ہو گئی۔
’’ لو میں تو تمہارا ہی ہوں۔چوری چوری کیوں دیکھتی ہو۔ حق سے دیکھو۔‘‘بازل کہتے ہوئے اس کے عین مقابل کھڑا ہوا۔تو مہرو بے طرح گھبرا گئی۔
’’نہیں تو۔ وہ میں۔۔۔‘‘ وہ ہکلائی تھی۔ اس سے پہلے کہ بازل مزید کچھ کہتا۔اس کی بلیک جیکٹ کی اندرونی جیب میں پڑا فون بول اٹھا تھا۔ بازل جی بھر کے بد مزہ ہوا۔
’’اس فون کو بھی ابھی بولنا تھا۔ میں جب بھی تمہارے ساتھ رومینٹک ہونے کی کوشش کرتا ہوں۔کوئی نہ کوئی انٹری مار دیتا ہے۔‘‘بازل نے منہ بناتے ہوئے اپنا فون نکالا۔ تو مہرو بے اختیار مسکرا دی۔
’’ لو جی پھپھو کی کال ہے۔‘‘بازل نے کہتے ہوئے فون آن کر کے اپنے کان سے لگایا۔ مہرو اسے بات کرتا دیکھ کر واپس اپنے کمرے میں آچکی تھی۔چند منٹوں کے بعد بازل اس کے پاس چلا آیا۔ اور اپنا فون اس کی سمت بڑھا دیا۔
’’ پھپھو تم سے بات کرنا چاہتی ہیں۔‘‘ اس نے اس کی نظروں کے سوال کو سمجھتے ہوئے اسے مطلع کیا۔
بادل ناخواستہ مہرو نے اس کے ہاتھ سے فون تھام لیا۔حال احوال پوچھنے کے بعد اس نے’’ جی ٹھیک ہے آجاؤں گی۔‘‘کہہ کر فون بند کر دیا۔
’’ کل مجھے اور تمہیں دعوت پہ بلا رہی ہیں۔ میں نے ان سے کہہ دیا ہے ہم آ جائیں گے۔‘‘ کہتے ہوئے مہرو نے فون بازل کی سمت بڑھایا۔
’’لیکن میں نے تو پھپھوسے معذرت کر لی تھی۔‘‘ بازل کے جیکٹ اتارتے ہوئے ہاتھ رکے تھے۔وہیں مہرو کے چہرے پہ سرا سمیگی بھرے تاثرات ابھرے تھے۔
’’میں انہیں انکار نہیں کر پائی تھی۔‘‘ وہ سخت شرمندگی کے بوجھ تلے اپنے سر کو جھکا گئی تھی۔
’’ افو ہ مہرو۔اس میں اتنا شرمندہ ہونے والی کون سی بات ہے۔ہم چلے جائیں گے۔ میں نے پی سی میں ٹیبل ریزرو کروایا تھا۔ میں وہ کینسل کروا دیتا ہوں۔ وہاں ہم پرسوں چلیں گے۔‘‘ نئے سرے سے پروگرام ترتیب دیتے ہوئے باز ل اس کے پاس آبیٹھا۔ مہرو کا شدت سے جی چاہا۔ بازل سے کہہ دے۔وہ اپنا پروگرام چینج نہ کرے۔ اسے زمرد بیگم سے ملنے کی نہ تو کوئی تمنا ہے۔ اور نہ ہی کوئی خواہش ہے۔ مگر ہمیشہ کی طرح وہ یہ سب سوچ ہی سکی تھی۔ ایک بھی لفظ کہہ نہیں سکی تھی۔ اس نے اپنے سر کو جھٹکا اور اپنے موبائل میں تصویریں دکھاتے بازل کی سمت متوجہ ہو گئی تھی۔
٭٭٭
مزیدار ڈنر کے بعد حسان صاحب معذرت کر کے اپنے ایک دوست کی عیادت کرنے کے لیے جا چکے تھے۔ یہ چائے کا دور چل رہا تھا۔جب بازل فون سننے کے لیے باہر گیا۔ اور جب وہ واپس کمرے میں آنے لگا۔ ادھ کھلے دروازے سے آتی آواز پہ وہ ٹھنک کر رکا تھا۔مہرو اونچی آواز میں بول رہی تھی۔
’’ مجھے کسی سے بھی بات نہیں کرنی۔ آپ کو اسی وقت اسے منع کر دینا چاہیے تھا۔یا پھر آپ ایک بار پھر میرے ساتھ کوئی ڈرامہ کری ایٹ کرنے والی ہیں۔‘‘ دکھ کی شدت سے اس کی آواز بھرا گئی تھی۔ اس سے پہلے کہ زمرد بیگم کچھ بولتیں۔مہرو ان کے قدموں میں آ بیٹھی تھی۔اور ان کے دونوں پاؤں کو تھام لیا تھا۔
’’مجھ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ مزید آپ کی نفرت کی بھینٹ چڑھوں۔میں بازل سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔لیکن اب میں اسے چھوڑنا نہیں چاہتی۔کیا چاہتی ہیں ،میں وہی کروں گی۔ میں اس پراپرٹی سے کوئی حصہ نہیں لوں گی۔ میں آپ کو لکھ کر دینے کے لیے تیار ہوں۔لیکن پلیز آپ ایک بار پھر سناور کے ساتھ مل کر مجھے ذلیل کرنے کا پروگرام مت بنائیں۔‘‘وہ رو دی تھی۔
’’ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میں تو۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ زمرد بیگم اپنی بات مکمل کرتیں۔ دروازے کے باہر کھڑے بازل کا فون بج گیا تھا۔جہاں بازل گڑبڑایا تھا۔وہیں کمرے میں موجود مہرو اور زمرد بیگم گھبرا کر کھڑی ہوئی تھیں۔
’’ ہاں ٹھیک ہے، میں تم سے کچھ دیر میں ملتا ہوں۔‘‘بازل نے کال اٹینڈ کی۔فون کو کان سے لگایا اور اندر چلا آیا تھا۔ مہرو کی بھیگی پلکوں اور سرخ ناک کو یکسر نظر انداز کیے۔ وہ یوں انجان بنا ہوا تھا۔ جیسے ان دونوں کی گفتگو سن نہیں پایا تھا۔
’’یار مہرو! جلدی سے چلو۔مجھے اپنے دوست سے ملنے کے لیے جانا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے !پھپھو ہم پھر آئیں گے۔‘‘وہ عجلت بھرے انداز میں زمرد بیگم سے مل کر مہرو کو اپنے عقب میں آنے کا اشارہ کر کے پورچ میں کھڑی اپنی گاڑی کی سمت بڑھ چکا تھا۔ چند منٹ کے بعد مہرو کے گاڑی میں بیٹھتے ہی وہ زن سے گاڑی گیٹ سے باہر نکال کر سڑک پہ لاچکا تھا۔گھر جانے کے بجائے وہ مہرو کو اپنے ساتھ پارک میں لے آیا تھا۔جہاں سردی کی شدت کی وجہ سے رش نہ ہونے کے برابر تھا۔
مہرو کوئی بھی سوال کیے بنا اضطراری انداز میں اس کے پیچھے چلتی سنگی بینچ پہ آ بیٹھی تھی۔ درختوں کے پتوں میں ننھے منے جگنوؤں کو دیکھتے ہوئے وہ اپنی آنکھوں میں موجود جگنوؤں کو بھلا چکی تھی۔ کتنی دیر گزری تھی۔ دس منٹ ،پندرہ منٹ اور پھر سولہواں منٹ شروع ہوا۔بازل نے گردن گھما کر اپنے سے ذرا فاصلے پہ بیٹھی مہرو کو دیکھا۔جو اب اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپائے رو رہی تھی۔پہلی بار تھا جب بازل نے اسے رونے سے منع نہیں کیا تھا۔کتنی ہی دیر رونے کے بعد وہ خود ہی خاموش ہو گئی تھی۔ بازل اب رخ اس کی جانب موڑے اسے دیکھنے میں مصروف تھا۔
’’پھپھو نے یہ سب کیوں کیا تمہارے ساتھ۔‘‘ بازل نے سوال کیا۔ وہ تھک گئی تھی بے حد، بے تحاشا۔ وہ چاہتی تھی وہ سب کہہ دے۔جو آج تک کسی سے کہہ نہیں سکی تھی۔ اور پھر وہ بولنے لگی۔
’’میں ایٹتھ سٹینڈرڈ میں تھی۔جب میری مما اچانک ہی بیمار ہو کر چند ہی دنوں میں ہمیں روتا بلکتا چھوڑ گئی تھیں۔
تب عامر تھری کلاس میں تھا۔ہمیں ایک ماں کی ضرورت تھی۔جو پاپا نے زمرد بیگم کی شکل میں پوری کر دی تھی۔بہت محبت کرتی تھی میں ان سے بازل۔ بالکل اپنی مما کی طرح۔لیکن انہوں نے۔ یہ تب کی بات ہے جب میں نے ماس کمیونیکیشن کے ایگزامز کے بعد پاپا کے آفس کو جوائن کیا۔وہاں کی ایم ڈی مما تھیں۔جلد ہی میں نے سب کچھ سیکھ لیا تھا۔ یہ بات پاپا کے لیے تو باعثِ سکون تھی۔لیکن مما کے لیے بے چین کر دینے والا کانٹا تھا۔ جو انہیں اپنی راہ میں میری صورت ملا تھا۔
شو مئی قسمت ان ہی دنوں پاپا کو انجائنا کا اٹیک ہوا۔مجھے نہیں پتا تھا۔پاپا نے کیا سوچ کر اپنی ول تیار کروائی تھی۔ جس کے مطابق عامر کے پیروں پہ کھڑے ہونے تک میں ساری پراپرٹی اور شیئرز کی اسی پرسنٹ تک مالک تھی۔ یہ بات زمرد مما کے لیے توہین تھی۔اور اپنی اس توہین کا بدلہ لینے کے لیے انہوں نے آفس میں کام کرنے والے منیجر سناور کو خرید لیا۔پتا ہے مجھے گرانے کے لیے انہوں نے سناور کو منہ مانگی قیمت دی۔
اور پھر سناور کے ذریعے میری ویڈیو بنائی۔ جہاں سناور میرے دوپٹے کو۔‘‘ وہ رو پڑی تھی۔
’’حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ سناور کے کیبن میں میرا دوپٹا اس کے پاؤں میں اٹک کر نیچے گر گیا تھا۔ اس سے پہلے کہ میں اپنا دوپٹا اٹھاتی۔ سناور نے دوپٹا اٹھا کر میرے کندھے پہ رکھ دیا تھا۔ مجھے نہیں پتا کیسے ایڈٹ کر کے اس ویڈیو کو دوسرا رنگ دیا گیا۔اور پھر مجھے لوز کریکٹر ثابت کرنے کے لیے اس ویڈیو کو پاپا تک اجنبی نمبر سے پہنچا دیا گیا تھا۔پاپا کی نظروں سے گری، خود کی نظروں سے گری۔
کیونکہ کیا انہوں نے ایسا بازل ۔ صرف پیسے اور پراپرٹی کے لیے۔ایک بار وہ مجھے کہہ دیتیں۔ میں پاپا کو انکار کر دیتی لیکن اتنی پلاننگ اور وہ اپنی اس پلاننگ میں کامیاب رہی تھیں۔ وہ کامیاب ہو گئی تھیں۔ اور اب ایک بار پھر۔ ایک بار پھر مجھے برباد کر دینا چاہتی ہیں۔ تم سے دور کرنا چاہتی ہیں۔تبھی وہ آج پھر مجھے سناور سے ایک بار بات کرنے کا کہہ رہی ہیں۔ تم، تم مجھے چھوڑ دو گے نا بازل۔‘‘ اس کے لہجے اور آنکھوں میں خوف سمٹ آیا تھا۔
بازل جو بے حد خاموشی سے مہرو کی باتیں سن رہا تھا۔ سر اٹھا کر سامنے لگے پول کی جانب دیکھنے لگا۔جس کے گرد پروانوں کی فوج جمع تھی۔
’’ مجھے پتا تھا بازل !میں اتنی خوش قسمت نہیں ہوں کہ کوئی میرے ساتھ تا عمر رہ سکے۔میں نے بہت منع کیا تھا۔ پاپا کو بھی، تمہیں بھی۔ پتا نہیں کیوں کسی نے میری بات کو سنا کیوں نہیں۔‘‘ آنسو ٹوٹ ٹوٹ کر آنکھوں سے گرتے رہے۔بازل ابھی بھی خاموش تھا۔
’’لیکن تم بہت اچھے ہو بازل! بہت اچھے۔ میرے جیسی لڑکی تمہارے قابل نہیں تھی۔جانے کیا سوچ کر تم نے مجھ سے شادی کی۔‘‘
’’ میرے لیے کون سی لڑکی قابل اور پرفیکٹ ہو سکتی تھی۔‘‘ بازل نے اب کے پلٹ کر مہرو سے سوال کیا۔
’’پتا نہیں لیکن میں بس یہ جانتی ہوں۔ میں تمہارے قابل نہیں تھی۔‘‘وہ آہستگی سے گویا ہوئی۔ سنجیدہ چہرے پہ اب کہ مسکراہٹ نے چھب دکھلائی تھی۔
’’کبھی میری نظر سے خود کو دیکھو مہرو!تو تمہیں پتا چلے تو میرے لیے کیا ہو۔ تم سے پہلے اور پھر بعد مجھے کوئی لڑکی اتنی اچھی لگی ہی نہیں تھی۔ جس سے میں شادی کرنے کا سوچتا۔‘‘کہتے ہوئے مہرو کے سرد ہاتھوں کو اس نے اپنے ہاتھوں میں بھر لیا تھا۔
’’ پھپھونے جو بھی تمہارے ساتھ کیا۔انہیں اس کا حساب دینا ہوگا۔پھپھوشروع سے ہی پیسے کی رہیں۔ انکل سے شادی بھی انہوں نے شان و شوکت کے لیے کی تھی۔ لیکن پلیز ڈونٹ مائنڈ اس میں غلطی انکل کی بھی تھی۔پھپھو کی ہر بات پہ لبیک کہنا وہ اس طرح فرض سمجھتے ہیں۔ جیسے نعوذ باللہ حکم خداوندی ہو۔
لیکن تم فکر مت کرو۔ میں پھپھو سے خود بات کروں گا۔ انہیں وارن کروں گا۔تم سے دور رہیں۔ اگر انہوں نے مجھے تم سے دور کرنے کی کوشش بھی کی۔تو میں بھول جاؤں گا وہ میری پھپھو ہیں۔‘‘
بازل کی باتیں مہرو کو پرسکون کرتی جا رہی تھیں۔ اس نے تشکر بھری نظروں سے بازل کی سمت دیکھا۔ محبت کی مہربان پری نے مہرو کے دامن کو ڈھیروں محبتوں اور مان کے ساتھ بھر دیا تھا۔ اور پھر سرشاری سے ان کے گرد محوِ رقص ہو گئی تھی۔ نیت صاف ہو تو ایک بار پھر سے انسان جی اٹھتا ہے۔جیسے مہرو کو بازل کے سنگ یقین، محبت، عزت اور اپنا پن مل گیا تھا۔ بنت حوا کی اس سے زیادہ کی چاہ کچھ بھی نہیں۔
٭٭٭
امل کے علاج کے لیے اس نے سب کچھ بیچ ڈالا تھا۔یہاں تک کہ اپنا اپارٹمنٹ بھی۔ اسے بس امل کی زندگی چاہیے تھی۔ اور پھر آپریشن کے لیے جانے سے پہلے کچھ دیر کے لیے امل کو ہوش آیا تھا۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے نرس کو اپنے قریب بلایا۔اور آکسیجن ماسک اتارنے کی درخواست کی۔
’’ امل! یہ تمہارے لیے ضروری ہے۔‘‘ پاس کھڑا سناور بے تابی سے اس کے قریب آیا۔
’’بات کرنی ہے۔‘‘امل اتنی آہستہ بولی کہ سناور کو اپنا کان اس کے قریب لے جا کر سننا پڑا تھا۔ نرس نے آگے بڑھ کر ماسک اتارا اور پیچھے ہٹ گئی۔روتی ہوئی عالیہ بیگم اس کے قریب آگئیں۔
’’خالہ میری پیاری خالہ!‘‘ امل نے اپنا ہاتھ اٹھا کر عالیہ بیگم کی طرف بڑھایا۔جسے انہوں نے تھام لیا۔
’’ٹھیک ہو جاؤ امل!میری بچی میری عمر تمہیں لگ جائے۔‘‘عالیہ بیگم شدت سے رو پڑی تھیں۔ امل کے لبوں پہ افسردہ مسکراہٹ ابھری اور پھر معدوم ہو گئی۔اس کی آنکھوں سے آنسو نکل کر کنپٹیوں سے گزر کر اس کے بالوں میں گم ہو رہے تھے۔
’’میں تمہارے ساتھ جینا چاہتی تھی سناور!‘‘وہ مشکل سے بولی تھی۔ اس کے لہجے کی حسرتیں سناور جیسے لمبے چوڑے انسان کو رلا رہی تھیں۔
’’دیکھو ہم ساتھ ہو کر بھی ساتھ نہیں رہ سکے۔ اس کی آہ !تمہیں لگ گئی سناور! نہیں بلکہ مجھے لگ گئی۔ لیکن میں نے سوچ لیا ہے میں۔‘‘ اس کی سانس اٹکی تھی۔
’’ میں اگلے جہان میں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں گی۔ تم میرے ساتھ رہو گے نا سناور؟‘‘ اس نے امید بھری نظروں سے اسے دیکھا۔
’’میں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں گا امل! اس جہان میں بھی ،اس جہان میں بھی۔ تم بالکل ٹھیک ہو جاؤ گی۔‘‘
’’میں نے بہت محبت کی ہے تم سے سناور! لیکن میں اس محبت کے ساتھ جی نہیں پائی۔‘‘
’’ ایسی باتیں نہیں کرو امل پلیز۔ دیکھنا تم ٹھیک ہو جاؤ گی۔بالکل ٹھیک۔‘‘ وہ روتے ہوئے اس کی منت کر رہا تھا۔
’’پیچھے ہٹیں۔‘‘ ڈاکٹر کارلس، تیزی سے آگے بڑھے۔سناور اور عالیہ بیگم کو پیچھے ہٹانے لگے۔
’’ انہیں مت دور کریں مجھ سے۔‘‘امل نے سناور کا ہاتھ تھاما۔
’’آخری بار ڈاکٹر میری ایک آخری خواہش ہے۔‘‘ اس سے بولنا مشکل ہو رہا تھا۔
’’ ہاں ہاں بولو۔‘‘ڈاکٹر کا رلس امل کے قریب ہوئے۔
’’ سناور سے کہیں، ایک ایک الوداعی بوسہ میرے ماتھے پہ دے دے۔میں اس کا لمس اور اس کا چہرہ اپنی آنکھوں میں لے کر اپنی آنکھیں ہمیشہ کےلیے بند کرنا چاہتی ہوں۔‘‘
’’تم ٹھیک ہو جاؤ گی۔دیکھنا تم ٹھیک ہوجا ؤ گی امل!‘‘سناور بے قراری سے اسے گلے لگاتے ہوئے رو دیاتھا۔
’’ہم ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔ہمیشہ۔‘‘وہ اب بے تابی سے اس کے ماتھے پہ بوسہ دے رہا تھا۔
امل کی سانسیں اکھڑنے لگی تھیں۔
ڈاکٹر نے مشکل سے اسے پرے ہٹایا۔اور امل کو ایمرجنسی وارڈ میں لے گئے۔ایک،دو،تین ہاں بس انہیں گئے تین منٹ ہوئے تھے۔ جب وہ لال بلب بند ہواتھا۔جس پہ سناور نظریں جمائے ہوئے تھا۔
وہ بلب نہیں شاید سناور کی زندگی کی ہر خوشی ختم ہونے کی نوید سنائی گئی تھی۔ڈاکٹر کارلس باہر آچکے تھے۔ سناور کے اندر ہمت نہیں تھی۔وہ خود سے آگے بڑھ کر ڈاکٹر کارلس سے کچھ پوچھتا۔
’’میری امل!میری بچی۔‘‘عالیہ بیگم روتے ہوئے آگے بڑھیں۔
’’سوری گاڈ کو یہی منظور تھا۔‘‘ڈاکٹر کارلس نے افسردگی سے کہا۔سناور کو لگا۔وہ وہیں کھڑے کھڑے مرگیا ہے۔ فقرہ نہیں اسے موت کا مژدہ سنادیا گیا تھا۔عالیہ بیگم یہ سنتے ہی زمین پہ گر چکی تھیں۔اور سناور انہیں گرتا ہوا دیکھ رہاتھا۔
مکافات عمل کا حساب بڑا کڑا نکلا۔سناور نے بہت بڑی قیمت چکائی تھی۔بہت بڑی۔
‘‘آہ! یہ کیسی سزا اس کے لیے تجویز کی گئی تھی۔
وہ نہیں جانتا تھا۔وہ اکیلا ہی اس سزا کا حق دار نہیں ٹھہرا تھا۔زمرد بیگم کو کل شب فالج کا اٹیک ہوا تھا۔
جس کے نتیجے میں وہ اپنے بے جان نچلے دھڑ کے ساتھ بستر پہ آچکی تھیں۔فالج ان کی زبان پہ بھی اثر انداز ہوا تھا۔
اب وہ آنکھوں سے التجائیں اور معافیاں مانگتی تھیں۔اور مہروسہ کے پاس انہیں معاف کرنے کے سوا دوسرا کوئی راستہ بھی تو نہیں تھا۔وہ اسے بیٹی نہیں سمجھتی تھیں۔لیکن وہ تو انہیں ماں سمجھتی تھی۔
ان کی یہ لاچاری اور بے کسی والی زندگی مہروسہ کوجھرجھری لینے پہ مجبور کردیتی تھی۔
مہروسہ نے صرف انہیں ہی نہیںبلکہ پردیس میں موجود سناور کو بھی اسی روز معاف کردیا تھا۔شاید خدا کو زمرد بیگم کی رعونت اور اکڑ اور سناور علی کا لالچ پسند نہیںآیا تھا۔ تب ہی تو دونوں اسی دنیا میں مکافات امل کی چکی میں پس چکے تھے۔
’’مہروسہ،مہروسہ۔‘‘بازل آسے پکارتا ہوا لاؤنج میں داخل ہوا۔تو مہرو اپنے خیالوں سے چونکی۔اور پورے اعتماد کے ساتھ اپنے شوہر اور بیٹے کی سمت بڑھ گئی۔خوشیاں ا س کی ہمراہی تھیں۔
وہ مسکرائی اور پھر مسکراتی چلی گئی۔اسے یوں مسکراتا دیکھ کر بازل مسکرایا۔اور بازل کو مسکراتا دیکھ کر ننھا عازم کھلکھلا کر ہنس پڑا تھا۔
اس سے زیادہ مکمل منظر اس کائنات میں بھلا کہاں ہوسکتا تھا۔
*****


