سڑک پر گاڑیوں کا اژدھام،ہارن کی پوں پوں انسانی وغیرانسانی آوازوں کا شور شرابا۔ ٹوٹی ہوئی سڑک کا گڑھا اور اس گڑھے سے بچ بچ کر نکلنے والی ٹریفک۔ سڑک کنارے مختلف سازوسامان سے لدی دکانیں،دیکھنے اور گزرنے والوں کو اندر آنے کی دعوت دے رہی تھیں۔ ٹھیلے والوں کی ایک قطار تھی جو لذت کام ودہن کا بندوبست کیے ہوئے تھی، انگیٹھی پہ رکھے سیخ کبابوں اور بوٹیوں سے اٹھتا دھواں، انواع واقسام کے پکوانوں سے اٹھتی مزے دار خوشبو ئیں، فضا میں پھیلتے پھیلتے دور تک سفر کررہی تھیں۔
دانیال نے بائیک کو کک لگائی، ایک دو، تین، چار پانچ، پتا نہیں کون سی ویں بار کوشش کررہا تھا مگر بائیک نخریلی، روٹھی محبوبہ بنی، ٹس سے مس نہ ہوئی۔
’’بھائی جان ،اسے مکینک کو دکھادیں، خرچا مانگ رہی ہے۔‘‘
سامنے کرسی پہ بیٹھے برگر کھاتے ،ایک خدائی فوج داری نے مخلصانہ مشورہ دیا۔ اور یہ مشورہ نہ بھی دیا جاتا، تب بھی دانیال کو علم تھا کہ بائیک کو مکینک کی ضرورت ہے۔ مگر ساری بات آکر رک جاتی خرچے پر جس کی سکت فی الحال دانیال میں نہیں تھی۔ اگلے ماہ کی سیلری ملنے تک گاڑی کو کسی نہ کسی طرح دھکا لگانا ہی تھا۔
درجنوں بارکک لگانے کے بعد بھی بائیک اسٹارٹ نہیں ہوئی، ناچار اس نے برگر کی تھیلی ہینڈل سے لٹکائی، بائیک اور خود کو گھسیٹتے ہوئے گھر پہنچا۔ جہاں برگر کا انتظار کرتی آپا جان کے صبر کے سارے پیمانے لبریز ہوچکے تھے
’’توبہ ہے دانیال !دو قدم پہ برگر پوائنٹ ہے بندہ یوں گیا، یوں آیا۔تم جاکر ہی غائب ہوگئے، بھوک کے مارے میرا تو دم نکلنے والا تھا۔‘‘ آپا نے بغیر رکے بولتے ہوئے بے تابی سے برگر نکالا اور ایک بڑا لقمہ لیا۔
دانیال متذبذب سا وہیں کھڑا تھا۔
آپا نے ایک نگاہ اس پہ ڈالی، اچانک انہیں چھ یاد آیا انہوں نے جلدی جلدی منہ چلاکر لقمہ ختم کیا۔
’’تمہارا کھانا نکلا رکھا ہے، کچن سے لے لو، آلو گوبھی ہے کھالوگے نا، یا کچھ اور بنادوں؟‘‘
’’آلو گوبھی؟‘‘دانیال کی تو نام سنتے ہی بھوک مرگئی مگر آپا کے سامنے وہ کچھ بولتا ہی کب تھا۔
اس وقت بھی سر جھکاکر فقط ایک ’’جی‘‘ کرکے رہ گیا
کچن میں گیا، ہاٹ پاٹ پلیٹ اور بائول ،لاکر میز پہ رکھا پانی کی بوتل اور گلاس اٹھارہا تھا جب زریاب نازل ہوگیا۔
’’مما!بھوک لگ رہی ہے۔ فٹا فٹ کھانا دے دیں۔‘‘ وہ میز پر آیا اور اس پہ رکھے بائول میں جھانکا اور تڑپ ہی گیا۔
’’آلو گوبھی پکائے ہیں؟میں کیا کھائوں گا؟‘‘
’’تم تو کہہ رہے تھے اپنے دوستوں کے ساتھ باہر جانے اور کھانے کا پروگرام ہے؟‘‘ برگر کھاتی امی کو اچھو لگ گیا۔ لاڈلے اور نخریلے بیٹے کی بھوک کا علاج اس وقت تو ان کے پاس نہیں تھا۔
’’کینسل ہوگیا پروگرام، مگر آپ نے کچھ پکایا کیوں نہیں؟‘‘ وہ جھنجھلایا اور چاچو کی پلیٹ سے آلواٹھاکر منہ میں رکھا اور کھانے لگا۔
’’کیا پکاتی؟گیس ہی نہیں آرہی تھی، تمہارا پروگرام باہر کا تھا۔ دوستوں کے ساتھ، تمہارے ابو کو کوئی پرانا دوست مل گیا۔ اس کے ساتھ کھانا کھاکر آئیں گے۔ میں اور دانیال بچے تھے۔ میں نے برگر منگوالیا دانیال نے کہا کہ آلو گوبھی کھالے گا۔ اسے دے دیا۔‘‘
’’ماموں نے تو نہیں کہا ہوگاآلو گوبھی کھانے کو۔‘‘ بیٹے نے امی کا بیانیہ مسترد کرتے ہوئے نفی میں سرہلایا اور ماموں کی پلیٹ سے آلو کا دوسرا ٹکڑا اٹھایا۔
’’تمہاری طرح نہیں ہے میرا بھائی، جو میں بناتی ہوں، کھالیتا ہے،نخرے نہیں دکھاتا۔‘‘
’’مجبوری میں کھالیتے ہیں، شوق سے تو نہیں کھاتے، اور مجھے بھوک لگ رہی ہے۔‘‘ زریاب نے بولتے بولتے پھر نعرہ مستانہ بلند کیا۔
’’گیس تو ابھی تک نہیں آئی باہر سے کچھ لے آئو‘‘۔
’’نوٹ نکالیں، فٹافٹ، چلیںماموں ا ٹھ جائیں۔‘‘
’’اب اسے کہاں لے جارہے ہو؟کھانا تو کھانے دو۔‘‘
’’کھا نہیں رہے، زہر مار کررہے ہیں۔‘‘
’’بری بات بیٹا، رزق ہے، ایسے نہ کہو۔‘‘ ماموں نے اپنے مخصوص دھیمے انداز میں میں بھانجے کو ٹوکا۔
’’رزق میں دوچار چیزیں تھوڑی ہیں جو آپ روز کھاتے ہیں ،گھر سے باہر دیکھیں دنیا کی نعمتیں موجود ہیں۔‘‘
زریاب کا مباحثہ شروع ہوچکا تھا جس سے امی جان اب گھبرانے لگی تھیں ،بیٹے کا منہ بند کرنے کا واحد طریقہ یہی تھا کہ اس کا مطالبہ پورا کیا جائے، انہوں نے بیڈ روم سے پانچ سو کا نوٹ برآمد کیا اور زریاب کے حوالے کیا۔
’’یہ لو اور جو کھانا ہے کھالو۔‘‘
’’اور ماموں؟وہ بھی تو میرے ساتھ جارہے ہیں وہ کیا کھائیں گے؟‘‘
’’تو بہ ہے زریاب!بہت ہی تنگ کرتے ہو تم۔‘‘ وہ جھنجلاگئیں تیکھے نقوش والے سانولے چہرے پہ ہلکی سی ناگواری چھاگئی۔
دانیال نے ہی بھانجے کو ٹوکا۔
’’میں کھانا کھاچکا ہوں۔‘‘
’’پھر بھی جانا پڑے گا۔ میری بائیک میں پیٹرول نہیں ہے۔ آپ اپنی موٹر سائیکل پہ لے کر چلیں۔‘‘
’’میری بائیک خراب ہوگئی ہے۔آج تو بالکل ہی جواب دے دیا تمام راستے گھسیٹتا ہوا لایا ہوں۔‘‘
’’اٹھ جائیں پھر، آپ کی گاڑی مکینک کو دے آتے ہیں۔ پھر کچھ کھانے پینے کا پروگرام کرتے ہیں۔‘‘ زریاب نے فٹافٹ پروگرام بنایا اور ماں کو مخاطب کیا۔
’’ایسا ہی ایک نوٹ اور دے دیں تو تھوڑا بہت گزارا ہوہی جائے گا۔‘‘
’’زریاب!‘‘.امی نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ،مگر زریاب ان کی طرف متوجہ ہی نہیں تھا۔
’’چلیں ماموں، کھڑے ہوجائیں، میں بائیک نکال رہا ہوں آپ کی۔امی،لائیں ایک نوٹ اور دے دیں جلدی کریں پلیز۔‘‘
’’درخت لگے ہیں کیا، جائوں اور توڑ کر لادوں؟‘‘
ان کا لہجہ تلخ ہورہا تھا۔ برگر کا سارا مزا اس نالائق اولاد نے کرکرا کردیا تھا۔
دانیال نے گلاس میں پانی ڈالا اور پینے سے پہلے زریاب کو پھر ٹوکا۔
’’زریاب!آپا کو تنگ مت کرو۔‘‘دانیال نے پانی پیا، اللہ کا شکر ادا کیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
’’ میں تو آپ کے ساتھ ہی جائوں گا۔‘‘
زریاب بچپن والا بھانجا بن گیا۔ ضدی اور لاڈلا جس کی ضد یں پوری کرنے اور لاڈ اٹھانے کو دانیال ماموں ہر وقت تیار رہتے تھے۔ اس وقت بھی یہی ہوا۔ زریاب انہیں اپنے ساتھ لے کر ہی ٹلا۔
پانچ سو کا ایک اور نوٹ بیٹے کے حوالے کرتے ہوئے وہ بڑبڑاتی رہیں مگر زریاب ایسے موقعوں پہ چکنا گھڑا بن جاتا۔ دونوں چلے گئے مگر امی کو ایک تشویش اور فکر نے گھیر لیا تھا زریاب کے لچھن اچھے نہیں دکھائی دے رہے تھے۔
٭٭٭
نیوکٹنگ بالوں میں برش پھیرتے ہوئے وہ خود ہی اپنے آپ پر فدا ہورہی تھی۔
’’کیسی لگ رہی ہوں میں؟‘‘ بلا مبالغہ کوئی بیسویں بار یہ سوال پوچھا تھا، زرمینہ نے اور دانیہ نے ہر بار وہی جواب دیا تھا جو وہ سننا چاہ رہی تھی مگر جو سچ بھی تھا۔
’’بہت پیاری لگ رہی ہو۔ مگر اب کپڑے نکال دو۔ میں پریس کردوں، لائیٹ چلی گئی تو مصیبت ہوجائے گی۔‘‘
’’ابھی نکالتی ہوں جوڑا،‘‘زرمینہ وارڈ روب کی طرف بڑھی۔ کمرے میں فریال بھابھی اندر آئیںِ وہ سیدھی مارکیٹ سے آرہی تھیں۔
’’دانیہ نے آٹا گوندھ کے رکھ دیا صبح کے لیے؟اور تمہارے بھائی کے لیے سالن اور ‘‘بولتے بولتے وہ بیڈ پہ ڈھے سی گئیں۔
’’توبہ ہے۔ دو گھنٹوں میں اتنی تھکن ہوگئی جیسے پورا دن بازار میں پھر کر آرہی ہوں۔‘‘ دانیہ سے سوال جواب ادھورے چھوڑ کر وہ اپنا دکھڑا رونے لگیں پھر اچانک دانیہ سے دوبارہ مخاطب ہوئیں۔‘‘ کام تو ہوگیا نا سارا؟‘‘
’’جی بھابھی! سارے کام ہوگئے ہیں. صبح بھیا کے لے جانے کے لیے سالن بنادیا۔ آٹا بھی گوندھ لیا اور کچن صاف کردیا ہے ،کپڑے پریس ہوگئے ہیں۔ زرمینہ اور آپ کا باقی ہے۔‘‘ دانیہ کے تفصیلی جواب نے ان کی تھکن کچھ کم کردی تھی۔
اتنی دیر میں زرمینہ، ان کا لایا ہوا جوڑا شاپر سے نکال کر معائنہ کرچکی تھی۔
’’بہت پیارا لگ رہا ہے۔ ایک جوڑا پھپھو کے لیے بھی لے آئیں دس بار کا پہنا ہوا وہی اکلوتا سوٹ آج پھر پہن رہی ہیں۔‘‘ زرمینہ کے اعتراض اور فرمائش پر فریال کی بھنویں تن گئیں۔
’’جوڑے کیا سستے ہیں کہ جائو اور لے آئو۔ پارٹی ویئر سوٹ کئی کئی ہزار کے ہیں یہ جوڑا خریدنے کے لیے بھی میں نے کئی مہینے بچت کی ہے، تب جاکر لائی ہوں۔‘‘
’’ہر شادی پر آپ نیا سوٹ لاتی ہیں اور یہی کہتی ہیں ،دانیہ پھپھو کے پاس ایک بھی ڈھنگ کا پارٹی ویئر نہیں ہے۔‘‘ زرمینہ آج کی نسل تھی۔ جو ٹھیک لگتا جو کھٹاک سے بول دیتی، اور اس کا اس طرح بولنا فریال کو بہت برا لگتا تھا۔
’’اچھا بھئی یہ لو اپنی مظلوم پھپھو کو دے دویہ جوڑا ،میں کچھ اور پہن لوں گی، میرے پاس تو بہت کپڑے ہیں۔‘‘
فریال نے غصے میں سوٹ اٹھاکر زرمینہ کی طرف پھینکا۔ دانیہ گھبراگئی، وہ دونوں ماں بیٹی کے لیے لاگ اور بنا لحاظ بولنے پر اسی طرح گھبراجاتی تھی۔ بے شک زرمینہ اس کی حمایت میں بولتی تھی۔ مگر فریال بھابھی کا غصہ اس کی حمایت پہ حاوی آجاتا تھا۔
’’لائو زرمینہ ،اپنا سوٹ دو، میں پریس کردوں۔‘‘
دانیہ نے فٹا فٹ یہاں سے گم ہونے کی خواہش میں، جلدی سے بھتیجی کے ہاتھ سے ہینگر لیا اور دروازے کی طرف بڑھی۔ فریال بھابھی کا جوڑا پہلے ہی اٹھا چکی تھی استری کے لیے۔
کمرے سے باہر نکل کر دانیہ نے سکون کا سانس لیا۔ فریال اور زرمینہ کی اس قسم کی بحث سے وہ بہت خائف ہوتی تھی۔ جس کا موضوع اس کی اپنی ذات ہوتی تھی اور اب ایسی بحث اکثر ہونے لگی تھی جب سے زرمینہ یونی ورسٹی جانے لگی تھی۔ اور گھر میں اس کے رشتے اور شادی کی باتیں ہوتیں تو وہ دانیہ کو مقابلے پر کھڑا کردیتی۔
’’پہلے پھپھو کے لیے تو دیکھیں۔‘‘
’’ارے کوئی مناسب رشتہ ملے تو کریں، اب تو دوہا جو رنڈوے اور بچوں والے کے رشتے آتے ہیں ایسے ہی کسی سے کردیا تو سب سے پہلے تم ہی اپنی ماں کو طعنوں پہ رکھ لوگی۔‘‘
فریال بلبلاجاتیں۔ آج کل کی منہ پھٹ اولاد کا علاج ہے کسی کے پاس؟
٭٭٭
شادی سے واپسی پر ان کا موڈ پہلے سے بھی زیادہ خراب تھا۔ سنگھار میز کے آئینے کے سامنے جیولری اتار کر ،میک اپ صاف کرتے ہوئے وہ میاں جی کے سامنے پھٹ پڑیں۔
’’یہ آپ کے خاندان والے کس قسم کی گھٹیا ذہنیت کے لوگ ہیں؟سب کے گھروں میں دانیہ کے جوڑ کے لڑکے تھے۔ جب کرنے کا وقت تھا۔ تب تو کسی نے نہیں پوچھا، اب مجھے طعنے دیے جارہے ہیں۔ آپ کی وہ رفعت خالہ مجھ سے ایسے سوال جواب کررہی تھیں جیسے دانیہ کی شادی نہ ہونے میں ۔سارا قصور میرا ہے۔‘‘
بولتے بولتے فریال بیگم کی آواز رندھ گئی۔ ٹشو پیپر سے گیلی آنکھیں صاف کرتے ہوئے انہوں نے شوہر کی طرف دیکھا جو ان کے ہر فیصلے، ہر بات پر آنکھیں بند کرکے آمنا وصدقنا کہنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔
’’آپ خود گواہ ہیں، کتنی بار کوشش کی ہے دانیہ کے لیے کہ کوئی اچھا رشتہ مل جائے مگر سب ٹیڑھے میڑھے رشتے آئے، اب اگر ایسے ہی کسی کے ساتھ کردیتے تو تب بھی میں بری بنتی کہ اپنے سرسے بلا ٹال دی۔‘‘ فریال بیگم کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
’’آپ کی صالحہ پھپھو نے تو منہ پر ہی ذلیل کردیا مجھے، کہہ رہی تھیں کہ مفت کی نوکرانی ملی ہوئی ہے۔ تب ہی اس کی شادی میں دلچسپی نہیں لیتی۔‘‘ بولتے بولتے دو آنسو ٹپک ہی گئے اور شوہر صاحب تڑپ گئے۔
’’وہیں بتانا تھا مجھے سب کا دماغ درست کردیتا۔ ہم نے کیا جان بوجھ کر اپنی بہن کو بٹھارکھا ہے؟‘‘
شاہد صاحب ان شوہروں میں سے تھے جو بیوی کی آنکھوں سے دیکھتے تھے اسی کے کانوں سے سنتے تھے اور اسی کی زبان بولتے تھے۔
اس وقت بھی بیوی کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر وہ، تسلی اور دلاسا دینے لگ گئے۔ انہیں آج تک کبھی علم ہی نہیں ہوا کہ آنسو مکاری کے بھی ہوتے ہیں۔ بار بار خود کو بے گناہ بتلانا اور اپنی صفائی پیش کرنا کبھی اعلیٰ درجے کی چالاکی اور عیاری ہوتی ہے۔
وہ اپنی بیگم کی طرف ہر وقت متوجہ رہتے تھے کہ پیشانی پہ شکن اور آنکھ میں آنسو نہ آئے انہوں نے کبھی غور سے اپنی سادہ خاموش بہن کو نہیں دیکھا تھا کہ گھر کے کاموں میں مصروف اس کے چہرے پہ کتنی تھکن ہے اور کتنی اداسی؟
٭٭٭
موسم رنگ بدل رہا تھا۔ دیوار سے لپٹی بیل کے سبز پتے زرد ہونے لگے تھے۔ دانیال نے زرد پتے کو چھوا جس میں ابھی سبز رنگ باقی تھا۔ یہ پتا کچھ کچھ اس کی زندگی کی طرح لگ رہا تھا۔
اس نے ہاتھ ہٹالیا، اندر داخل ہوتے ہوئے کوکرکی شوں شوں کے ساتھ ساتھ ارم آپی کی پاٹ دار تیز آواز نے بھی استقبال کیا ،جو فون پر باتیں کررہی تھیں۔
’’کئی بار بتاچکی ہوں تمہیں کوئی ڈھنگ کی لڑکی دکھائو اب میرا بھائی اتنا گیا گزرا بھی نہیں، اپنی عمر سے تو کم ہی لگتا ہے۔
نوکری اور سیلری بھی ٹھیک ٹھاک ہے.
’’ہیں؟.‘‘ انہوں نے بولتے بولتے موبائل کو ایک کان سے دوسری کان پہ منتقل کیا۔
’’ہاں، وہ لڑکی تو اچھی تھی مگر خاندان نہیں دیکھا تم نے؟بھئی ہمارے ہاں تو ہڈی،خون سب دیکھا جاتا ہے، یہ تھوڑی کہ منہ اٹھاکر کہیں بھی رشتہ جوڑ لو۔‘‘
’’اچھا بات سنو، میرے موبائل کی بیٹری ڈائون ہورہی ہے میں بعد میں بات کرتی ہوں، ٹھیک ہے؟پھر کوئی دیکھ کے رکھنا، اچھی سی لڑکی، میرے بھائی کے لیے۔‘‘
آخری فقرہ انہوں نے دانیال کو دیکھتے ہوئے مسکراکر کہا تھا۔ موبائل آف کرکے چارج میں لگاتے ہوئے دانیال کو مخاطب کیا۔
’’رومانہ کی کال تھی، لڑکی بتارہی تھی تمہارے لیے ،رات میں دوبارہ کال کرکے تفصیلات بتائے گی۔‘‘
’’جی!‘‘دانیال بمشکل مسکرایا، پچھلے پندرہ برسوں سے یہی تماشہ دیکھ اور سن رہا تھا۔ پہلے یہ ذکر سن کر دل سے مسکرا تا تھا۔ اور کون جانے آنے والے وقت میں یہ جھوٹی مسکراہٹ بھی غائب ہوجائے؟
’’ارے دانیال !بات سنو۔‘‘
’’جی آپا!‘‘ وہ ٹھہر گیا۔
’’گیس کا بل بھر دوگے ذرا؟دراصل نبیل کی طبیعت خراب تھی نا پچھلے ہفتے، اچھی خاصی رقم ٹیسٹوں میں اٹھ گئی، پھر میڈیسن بھی اتنی مہنگی.کیا بتائوں۔ میں تو بس ایک جنجال میں پھنسی ہوئی ہوں۔ جیسے تیسے گھر چلاتی ہوں۔ اوپر سے لوگوں کی باتیں تمہاری فکر لگی رہتی ہے۔ اپنے گھر بار کے ہوجائو تو میرے سر سے ذمہ داری ہٹے۔ تینوں ٹائم کھانے کا دھیان رکھتی ہوں۔ ہر طرح سے خیال رکھتی ہوں۔ پھر بھی میں بری ہوں۔ تم اپنے ایمان سے بتائو ذرا، آج تک تمہاری سیلری اپنے ہاتھ میں لی میں نے؟جو کماتے ہو، اپنی مرضی سے خرچ کرتے ہو۔ میں نے کبھی تمہاری کمائی پہ نظر رکھی؟‘‘
’’کیا ہوا آپا؟ کسی نے کچھ کہہ دیا کیا؟‘‘ اتنی لمبی تقریر پر دانیال گھبراسا گیا۔
’’اب تو سنتی ہی رہتی ہوں ہر ایک سے، بھائی کی شادی نہیں کررہی۔ بھائی کی شادی نہیں کررہی، بتائو ذرا، کیا میرے ہاتھ میں ہے یہ؟اللہ کا حکم ہوگا تب ہی کام ہوتے ہیں نا۔‘‘
’’چھوڑیں لوگوں کی باتوں کو،آپ کیوں پریشان ہورہی ہیں لوگوں کا تو کام ہی یہی ہے باتیں بنانا۔آپ بل دے دیں مجھے۔‘‘ میں بھردوں گا۔ لاسٹ ڈیٹ کیا ہے؟ ‘‘
’’پرسوں کی ہے، ایک تو یہ کم بخت گیس والے بھی بجلی والوں کے نقش قدم پر چلنے لگے ہیں۔ گیس آتی نہیں چولہوں میں اور بل ایسے بھاری بھرکم جیسے یہاں کوئی انڈسٹری لگی ہوئی ہے بتائو ذرا۔آٹھ ہزار کا بل بھیج دیا۔ ارے ہم یہاں دیگیں پکارہے ہیں کیا؟‘‘
’’آٹھ ہزار ؟دانیال چونک گیا۔ آٹھ ہزار کا بل ہے؟‘‘
’’ہاں نا تب ہی تو پہلے تو ہنڈرڈز میں ہوتا تھا۔ اب تھائوزنڈز میں آنے لگا ہے۔ بتائو ذرا ہم جیسے سفید پوش کہاں جائیں؟‘‘
ارم آپا کی تقریر ختم ہوئی تو گیس کا بل انہوں نے دانیال کو تھمادیا۔
’’تھینک یو میرے بھائی، تم ہمیشہ میرے برے وقت میں کام آتے ہو۔ ‘‘وہ آب دیدہ ہوتے ہوتے رہ گئیں۔
اور واقعہ یہ تھا کہ وہ کوئی بھی کام دانیال کے سپرد کرتیں تو اتنی ممنون ہوتیں، اتنی احسان مند ہوتیں۔ اتنا شکریہ ادا کرتیں اس کا اور اتنا شکر ادا کرتیں اللہ کا جس نے ہیرے جیسا بھائی دیا ہے کہ دانیال کے دل میں کوئی منفی خیال تو دور کی بات الٹا وہ بڑی بہن کے اتنے احسان مند ہونے پر شرمندہ ہوجاتا۔
آج کے دور میں ایسے کون کرتا ہے؟لوگ اپنا کام نکلواتے ہیں اور آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔ مگر ارم آپا کا تو رواں رواں دانیال کا احسان مند ہوتا تھا۔
بل کو لے کر وہ پریشان تھا، کہاں سے بھرے؟کیسے بھرے؟ بالکل آخری دن چل رہے تھے۔ تنخواہ ملنے میں ہفتہ باقی تھا اور بل بھرنا ضروری تھا۔ ناچار ایک دوست سے ادھار لے کر بل بھرا اور آپا کے آگے سرخرو ہوگیا۔
کوئی پہلی بار کا یا نیا معاملہ نہیں تھا۔ پچھلے اٹھارہ برسوں سے یہ تماشا چل رہا تھا۔ ارم آپا کا دعویٰ بالکل سچ تھا کہ وہ دانیال کی تنخواہ کو ہاتھ بھی نہیں لگاتی تھیں۔ بس وہ فقط اتنا کرتی تھیں کہ وقفے وقفے سے کسی مصیبت اور مشکل میں بھائی کویاد کرتی تھیں ۔
’’دانیال !ذرا یہ بل بھردینا۔‘‘
’’دانیال!گروسری لے آئو گے؟میں بھی ساتھ چلتی ہوں۔‘‘
’’دانیال !میرے پیارے بھائی، آج شادی میں جانا ہے۔ لفافہ تم بنادو ذرا۔‘‘
’’دانیال!تمہارے بھانجے کی فیس بھرنی ہے اکیڈمی کی، ذرا دیکھ لو۔‘‘
’’نئے موسم کی نئی کلیکشن آئی ہے کپڑوں کی، مگر بھئی ہم جیسے کہاں خرید سکتے ہیں یہاں تو چادر ہی بس اتنی ہے سر ڈھانپو تو پیر کھل جاتے ہیں۔ پیر ڈھکو تو سر کھل جاتا ہے۔ نئے کپڑوں کا تو سوچ کر ہی رہ جاتے ہیں بس۔‘‘
ارم آپا اپنے بھائی کے سامنے انتہائی دکھی ہوجاتیں اور پھر ان کا کام ہوجاتا۔
زندگی کے دن یونہی گزر رہے رہے تھے اور خوب گزر رہے تھے کہ ایک روز۔
٭٭٭
کشن ترتیب سے رکھ کر، کارنر ٹیبل کا گلدان درست کیا۔ سینٹر ٹیبل پہ پڑے اخبار کے صفحات سمیٹ کر رکھے اور ایک گہری سانس لے کر وہ صوفے پہ براجمان ہوگئیں۔
’’ارے بھئی دانیہ!ایک کپ چائے مل جائے گی؟‘‘
’’جی بھابھی!ابھی لائی۔‘‘ کچن سامنے ہی تھا۔ دانیہ نے ذرا دیر میں گرم گرم چائے کا مگ میز پر رکھا۔
’’شام کی تیاری تو سب مکمل ہے نا؟‘‘
انہیں بڑی فکر ہورہی تھی۔ جو مہمان زرمینہ کو دیکھنے آرہے تھے۔بڑے ہائی فائی قسم کے تھے۔ اگر یہاں بات بن جاتی تو بیٹی کے نصیب سنور جاتے، خاندان میں جب سے زرمینہ کی ہم عمر دو لڑکیوں کے اچھی اچھی جگہوں پہ رشتے طے ہوئے تھے۔ فریال کو بھی اپنی اکلوتی اور لاڈلی بیٹی کی فکر ستانے لگی۔
’’یہی وقت ہے اپنے گھر بار کی ہوجائے، ذرا دیر ہوجائے تو بس پھر وقت ہاتھوں سے نکلتا ہی چلا جاتا ہے۔‘‘
انہوں نے دانیہ کو دیکھتے ہوئے سوچا، جو انہیں مہمانوں کی خاطر مدارات کے لیے کی جانے والی تیاریوں سے آگاہ کررہی تھی۔ مگر ان کا دھیان کہیں اور تھا۔ بھانت بھانت کے خیالات دماغ میں آرہے تھے۔
’’زرمینہ کا رشتہ یہاں طے ہوجائے تو تمہیں خوشی ہوگی نا؟‘‘
اپنے خیالات کے سرسراتے سانپ انہوں نے دانیہ کی سماعتوں میں انڈیل دیے۔
دانیہ نے حیرانی سے بھابھی کو دیکھا پھر سادگی سے مسکرادی۔
’’زرمینہ مجھے بہت پیاری ہے۔آپ جانتی ہیں۔ اس کی خوشی میری خوشی ہے۔‘‘
بہت رسان سے جواب دے کر وہ کچن میں گئی تھی جہاں ڈھیروں ڈھیر کام اس کے منتظر تھے۔
فریال بھابھی کی پیشانی پہ تشویش کی لکیریں نمایاں ہوگئیں ۔پتا نہیں سچ بول رہی ہے یا جھوٹ ، بظاہر تو سیدھی سادی بنی رہتی ہے مگر بھئی دلوں کا حال کسے معلوم۔ کیا پتا، دل میں کچھ اور ہو زبان پہ کچھ اور؟اپنی خصلت اور فطرت کے آئینے میں وہ دانیہ کو دیکھ رہی تھیں۔
زرمینہ،ماں سے الجھ رہی تھی۔
’’پہلے پھپھو کی شادی ہوگی پھر میری۔‘‘
’’یہ کہاں لکھا ہے؟‘‘ فریال جزبز ہورہی تھیں۔
’’میرے اصولوں کی کتاب میں۔‘‘ وہ مزے سے چاکلیٹ کھارہی تھی۔
’’تمہاری اسی کالی زبان کی وجہ سے یہ رشتہ ہاتھ سے نکل گیا۔
فریال کو خاصا قلق تھا کہ ایک بہترین جگہ رشتہ ہوتے ہوتے رہ گیا مگر زرمینہ کو ذرہ برابر افسوس نہ تھی۔ ان دنوں اس کا سارا دھیان خیال اور توجہ دانیہ پھپھو کی طرف تھا۔ اب وہ بچی نہیں رہی تھی۔ماں کی خود غرضی اور باپ کی بے حسی۔ اسے نظر بھی آرہی تھی۔ سمجھ میں بھی آرہی تھی مگر اس معاملے پر وہ ایک حد تک ہی لب کشائی کرسکتی تھی۔
کبھی مذاق میں کبھی سنجیدگی سے ماں کو جتانے کی کوشش کرتی، ان کے رویے کا احساس دلاتی ، وہ کبھی بیٹی کی باتوں کو نظر انداز کردیتیں ،کبھی جذباتی ہوجاتیں مگر زرمینہ نے اب فیصلہ کرلیا تھا محض باتوں سے کام نہیں بننا تھا۔ کوئی عملی قدم اٹھانا ضروری تھا۔ اس کے پاس ایک منصوبہ تھا۔ جس پر فی الفور اسے کام کرنا تھا۔
٭٭٭
دانیال نے بل بھر دیا تھا۔ لاکر آپا کو دے دیا۔
زریاب نے ایک گہری سانس لی اور تاسف سے ماموں کو دیکھا امی تو اندر چلی گئی تھیں۔بھانجے نے ماموں کی کلاس لینی شروع کردی۔
’’ماموں !یہ کیا حماقت کرتے رہتے ہیں آپ؟‘‘
’’کون سی حماقت؟‘‘دانیال صوفے پہ بیٹھ گیا۔ ایک کپ گرم گرم چائے مل جاتی تو مگر خیر.اپنی خواہشات اور آرزوئوں کو دل کے ناں خانوں میں چھپانا خوب آتا تھا۔
’’ماموں بناتی ہیں امی آپ کو اور آپ بن جاتے ہیں۔‘‘ زریاب نے اپنا موبائل آن کیا۔
’’ماموں تو میں ہوں۔ بنانے کا کیا مطلب؟‘‘
’’ماموں کا مطلب ،بے وقوف پاگل اور.‘‘
زریاب کی بات ادھوری رہ گئی۔ امی جان نے اس کا بے لاگ تبصرہ سن لیا تھا جو ان کے بارے میں تھا۔
’’شرم تو نہیں آتی ماں کے خلاف ایسی باتیں کرتے ،میرے بھائی کو بھڑکاتے ہوئے؟ کہیں سے لگتا ہے تم میری سگی اولاد ہو؟‘‘
’’میری آنکھیں بالکل آپ کی طرح ہیں خوب صورت اور نشیلی۔‘‘ زریاب چکنا گھڑا، ماں کی صلواتیں، بوندیں بن کر پھسلیں اور غائب ہوگئیں۔
’’دیکھ رہے ہو، آج کل کی نسل کو، بے دیدہ، بد لحاظ،ذرا جو آنکھ میں شرم ہو، قینچی کی طرح زبان چلتی ہے۔ آگے بھلے ماںہو باپ ہو یا کوئی اور ۔ بک بک کرنے سے مطلب ہے۔‘‘
ارم کو بہت طیش آرہا تھا۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ بچپن کی طرح بیٹے کے کان مروڑ کر ایک دو تھپڑ لگادیں غصے کے ساتھ ساتھ کھسیاہٹ بھی تھی جیسے بیٹے نے ان کی چوری پکڑلی ہو اور اس چوری کو لوگوں کے سامنے لے آیا ہو۔
’’چائے بنائوں دانیال؟‘‘ آپا کے لہجے میں وہ چاشتی تھی جو کم کم ہی ہوتی تھی۔
’’جی آپا، طلب تو ہورہی ہے۔‘‘ دانیال نے سادگی سے اعتراف کیا۔
زریاب نے ماں کو کچن میں جاتے دیکھا۔ اور ماموں کو مخاطب کیا ۔
’’آپ کی طلب بس چائے اور کھانے تک ہی محدود رہتی ہے؟اس کے علاوہ اور ان سے آگے بھی کچھ سوچتے ہیں؟‘‘
’’کیا سوچوں؟‘‘
’’زندگی میں کچھ اور بھی تو ہونا چاہیے، کسی کا ساتھ، ہاتھوں میں ہاتھ، مہکی ہوائیںِ چاندنی رات؟‘‘ زریاب نے آواز دھیمی رکھی تھی، تاکہ امی تک نہ پہنچے۔
’’قسمت کے کھیل ہیں۔‘‘ دانیال کا چہرہ جذبات سے عاری تھا۔
’’سچ بتائیں آپ کا دل نہیں چاہتا اس بلیک اینڈ وائٹ زندگی میں نئے رنگ شامل ہوں۔ خوب صورت اور انوکھے؟‘‘
زریاب نے ان کی طرف جھک کر سوال کیا دانیال کے چہرے پہ ایک رنگ آیا اور گزر گیا۔ ایک پھیکی سی مسکراہٹ چہرے پہ پھیلی پھر سمٹ گئی۔
’’اب عمر نہیں رہی ایسی باتیں سوچنے کی۔‘‘
’’عمر کا کیا ہے یہ تو بس ایک نمبر ہے۔ آپ ذرا اپنا خیال رکھنا شروع کردیں تو میرے بڑے بھائی لگیں، ٹال ،ہینڈسم اینڈ اوسم۔‘‘
’’یہ تم میری تعریف کررہے ہو یا اپنی‘‘ دانیال مسکراتے سامنے سے آپا چائے لارہی تھیں۔
’’کرلیں ماں کی برائیاں؟‘‘ چائے کا مگ دانیال کے سامنے رکھتے ہوئے انہوں نے بیٹے کو گھور کے دیکھا۔
’’کیوں گناہ گار کررہی ہیں مجھ معصوم کو؟‘‘ زریاب کی نوٹنکی۔
دانیال بے ساختہ مسکرادیامگر اب یوں تھا کہ مسکراہٹ تادیر ہونٹوں پہ قائم نہیں رہتی تھی۔ یوں اچانک سمٹ جاتی جیسے چوری کرتے پکڑی گئی ہو۔ زندگی میں دو ہی رنگ تھے سیاہ اور سفید، اس نے خوابوں اور خیالوں کو محدود کرتے کرتے ختم ہی کر ڈالا تھا۔ کوئی رنگین خواب،دھنک رنگ سپنا، دل کا رخ کرتا نہ آنکھوں کا۔
دانیال نے چائے کا مگ اٹھایا اور لبوں سے لگایا۔ گرم گرم چائے زبان، حلق اور سینے کو جلاتی ہوئی اندراتری۔
ارم آپا کا غصہ ابھی کم نہیں ہوا تھا، وہ بدستور بیٹے کو باتیں سنارہی تھیں۔ بیٹا بھی دو بدو جواب دے رہا تھا۔
’’زریاب.‘‘دانیال نے اسے مخاطب کیا جو بڑی شدومد سے ماں کے ساتھ بحث میں مصروف تھا۔
’’جی ماموں!‘‘ وہ دانیال کی طرف متوجہ ہوا۔
’’امی سے بحث مت کرو۔ ادب کرو، ماں ہیں تمہاری۔‘‘ دانیال بہت سنجیدہ تھا زریاب خاموش ہوگیا۔ پھر بولا۔
’’میں کہاں ماموں ،یہ تو امی ہی.‘‘
’’دیکھو، ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا۔‘‘ دانیال نے اس کی بات کاٹی ۔
’’جو محبت اور بے غرضی، والدین سے تمہیں ملے گی، وہ کسی رشتے سے نہیں ملے گی۔‘‘ دانیال کے انداز میں ایسا کچھ تھا جو زریاب اور ارم دونوں کو چونکا گیا۔
دانیال نے اطمینان سے چائے کا گھونٹ بھرا اور پھر بہن کو مخاطب کیا۔
’’آپا، اگلے مہینے امی کی برسی ہے نا، قرآن خوانی کروالیجیے گا۔ میں بندوبست کردوں گا۔ میں نے بھی سپارے پڑھنے شروع کردیے ہیں۔ اگلے ماہ تک قرآن پورا ہوجائے گا۔‘‘
’’ہاں، کیوں نہیں، وہ تو ہم ہر سال ہی کرتے ہیں۔‘‘ ارم آپا جانے کیوں جھینپ گئیں، زریاب خاموشی سے اٹھ کر چلا گیا تھا۔
٭٭٭
خزاں کی واپسی ہورہی تھی، ٹنڈمنڈ شاخوں پہ ننھی منی کونپلیں کھلنے کی آہٹ ہوئی، بلند وبالا شجر سبز پوشاک پہننے کے منتظر تھے۔ جنہیں بہار اپنے دامن میں سمیٹے لارہی تھی۔
پھر ایک دن پھول کھل اٹھے۔ اچانک اور یکایک، شوخ رنگوں کے پھولوں نے فضا مہکادی۔
نئی بہار کے چند تازہ خوش رنگ اور شوخ رنگ پھول گل دان میں سجاتے ہوئے دانیہ نے ان کی خوشبو اپنے اندر اتاری۔ سچ مچ بہار آگئی تھی۔ اک دم سے بنا کسی چاپ کے خوشبوئوں اور پھولوں کی برسات اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھی۔
میچ میکر کے توسط سے ایک رشتہ آیا تھا جہاں بات بننے کا قوی امکان تھا۔
اور پھر یہ امکان حقیقت میں بدل گیا۔ اس نے دانیال کی تصویر دیکھی تھی۔ کھوئی کھوئی آنکھوں والا، گریس فل پرسنالٹی کے ساتھ ، وہ بہت پرکشش تھا۔ زرمینہ نے چھیڑ چھیڑ کر اس کا ناک میں دم کردیا تھا۔
ادھر دانیال کا بھی یہی حال ہورہا تھا، بھانجے کے ہاتھوں جو دن میں کئی بار اس سے سوال کرتا تھا کہ اسے دانیہ کیسی لگی؟اور دانیال فقط ایک مسکراہٹ پہ اکتفا کررہا تھا۔ ایک تصویر سے کسی کی فطرت معلوم ہوتی ہے نہ عادت، خصلت اور مزاج کا علم ہوتا ہے مگر ایک تصویر میں چہرے سے معصومیت اور سراپے سے سادگی نمایاں تھیں۔
’’اور اگر یہی سادگی اور معصومیت فطرت میں بھی ہے تو بھلا اور کیا چاہیے؟‘‘دانیال نے سوچا۔
معاملات ٹھیک ٹھیک آگے بڑھ رہے تھے۔ دونوں گھرانوں نے ایک دوسرے کو پسند کرلیا تھا۔ گھر والوں کی موجودگی میں دانیہ اور دانیال کا منہ میٹھا ہوگیا تھا ۔ اب بس تاریخ طے کرکے ڈائریکٹ شادی کا پروگرام تھا۔
اچانک لالچ اور خود غرضی کی بد صورت ڈائن دانت نکوستے ہوئے آگے بڑھی اور اپنے نوکیلے پنجوں سے ساری مسکراہٹیں نوچ ڈالیں ،اپنے خون آشام دانت گاڑ کر ہر خوشی کو قتل کردیا۔
٭٭٭
ہاتھ پھیلاکر انہوں نے اپنی انگلیوں کا جائزہ لیا۔ تازہ تازہ مینی کپور ،پیڈی کپور کروایا تھا،ہاتھ پہلے سے بہت بہتر لگ رہے تھے لوشن لگاتے ہوئے ان کی آنکھوں میں فاتحانہ چمک تھی اور چہرے پہ اطمینان تب ہی زرمینہ تیزی سے اندر آئی۔
’’امی.!‘‘اس نے بہت بے قراری سے ماں کو مخاطب کیا۔
’’ہوں؟‘‘فریال نے بے توجہی سے بیٹی کی طرف توجہ کی۔
’’ان لوگوں نے انکار کیوں کردیا؟‘‘
’’بیٹا، وہ جو دانیال کی بہن ہے نا، وہ ایک نمبر کی چلتر عورت ہے ،بھائی کو بے وقوف بناکر اس کی کمائی کھارہی ہے ،مکان پہ الگ قبضہ جمائے بیٹھی ہے۔ اپنا گھر کرایہ پر دیا ہوا ہے اب اگر بھائی کی شادی کرے گی تو یہ ساری عیاشی تو ختم ہوجائے گی نا۔ اسے اپنے بھائی کی شادی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، رشتہ ڈھونڈ کر اور لگاکر بے وقوف بناتی ہے۔ بھائی کو بھی اور دنیا والوں کو بھی۔‘‘
زرمینہ کے سوال کے جواب میں فریال نے پوری تقریر جھاڑ دی۔
’’کہا کیا ہے؟‘‘ ذرمینہ نے اکتاکر دوبارہ سوال کیا۔
’’کہنا کیا ہے۔ پہلے تو فضول اعتراض نکال کر بیٹھ گئیں کہ آپ لوگوں نے ہمارے بھائی کی اتنی انکوائری کیوں کروائی ہے؟وہ کوئی کرمنل ہے ؟وغیرہ وغیرہ پھر میری بات پکڑ کر بیٹھ گئیں۔ ارے بھئی میں نے تو صرف یہ پوچھا تھا کہ شادی کے بعد بھی آپ یہیں رہیں گی یا اپنے گھر شفٹ ہوجائیںگی؟‘‘
’’آپ کو کیا ضرورت تھی پوچھنے کی؟یہ سب باتیں تو بعد میں بھی ہوسکتی تھیں۔‘‘
’’میں نے تو یونہی پوچھا تھا، مجھے کیا معلوم تھا کہ محترمہ کی دم پہ پیر پڑجائے گا وہ تو ایسی آپے سے باہر ہوئی کہ پوچھو مت۔‘‘ فریال نے منہ بنایا۔
’’انکل اچھے لگے تھے مجھے۔ پھپھو کے ساتھ کتنی اچھی لگتی جوڑی مگر۔‘‘ زرمینہ کے لہجے میں بہت مایوسی تھی۔
’’چھوڑو دفع کرو۔ دنیا کا آخری مرد تھوڑا ہی ہے۔ دیکھ لیں گے کوئی اور رشتہ ،دانیہ کے لیے۔‘‘ فریال نے بولتے بولتے ایک بار پھر اپنی انگلیاں پھیلاکر جائزہ لیا۔
زرمینہ خاموشی سے اٹھ گئی۔ باہر آئی تو دانیہ کچن میں کچھ کررہی تھی۔
’’افوہ، ایک تو آپ کو ہر وقت کوئی نہ کوئی کام لاحق رہتا ہے کبھی فارغ بھی بیٹھ جایا کریں۔‘‘زرمینہ جھنجلائی۔
’’فارغ بیٹھ کر کیا کروں گی؟بوریت ہی ہوگی۔ ویسے بھی مجھے کام کرنا اچھا لگتا ہے۔‘‘ دانیہ اپنے مخصوص دھیمے انداز میں بول رہی تھی۔ ساتھ ساتھ پکوڑوں کے لیے بیسن گھول رہی تھی۔ چولہے پر کڑھی صبح سے پک رہی تھی۔
’’ میری سہیلی نے بڑے مزے مزے کی میمز بھیجی ہیں۔ چلیں آئیں، دکھاتی ہوں آپ کو۔‘‘
’’تم چلو، میں ابھی آتی ہوں۔‘‘
’’ایک منٹ میں؟‘‘
’’پانچ منٹ میں۔‘‘
’’ٹھیک ہے فٹافٹ آئیں۔‘‘زرمینہ بولتی ہوئی کچن سے نکل گئی، دانیہ کے لبوں پہ ایک اداس سی مسکراہٹ بکھر گئی۔
اگر دنیا میں زرمینہ جیسے لوگ نہ ہوں تو دانیہ جیسے لوگوں کی زندگی میں اور زیادہ اندھیرا ہوتا۔
٭٭٭
لائونج میں ایئرفریشز کی دلفریب مہک پھیلی ہوئی تھی اور ایک اچھی خوشبو ماحول تو مہکا سکتی ہے مگر زندگی کو نہیں۔
زریاب نے سوچتی ہوئی نگاہوں سے ماں کو دیکھا۔
’’میرے تو ابھی تک سمجھ میں نہیں آیا کہ آخر انکار کا ریزن کیا تھا؟ اچھا بھلا شادی کی ڈیٹ فکس ہونے جارہی تھی اور یکایک سارا معاملہ بھی ختم ہوگیا۔‘‘ زریاب ابھی تک بے یقین تھا۔
’’ارے وہ بڑی مکار عورت تھی دانیہ کی بھاوج شادی وادی نہیں کرنی تھی اسے نند کی، ایویں پاگل بنارہی تھی سب کو۔‘‘ ارم آپا نے منہ بنایا۔
’’بھلا بتائو، شادی سے پہلے ہی ’’میں‘‘ آنکھوں میں کھٹکنے لگی؟ ایک بار نہیں کئی بار پوچھ چکی تھی۔ آپ شادی کے بعد بھی یہیں رہیں گی؟اپنے گھر کب شفٹ ہوں گی؟ اف بھائی تمہیں کیا تکلیف ہے میرے یہاں رہنے سے؟میرے باپ کا گھر ہے۔ کسی کو کیا تکلیف ہے؟ میں تو اپنے بھائی کی دیکھ بھال کے لیے ٹکی ہوئی ہوں یہاں، یہ بے چارہ اکیلا کیسے رہتا؟‘‘
ارم آپا نے بولتے ہوئے دانیال کی سمت دیکھا۔ جو بظاہر تو موبائل آن کیے بیٹھا تھا۔
’’عجیب لوگ ہیں، بات اتنی آگے بڑھاکر پھر منع کردیا۔‘‘ زریاب بڑبڑایا۔
’’اچھا ہی ہوا نا شادی سے پہلے تیور کھل کر سامنے آگئے ،بس اکیلا لڑکا چاہیے نیم سے پھوٹا جس کے آگے پیچھے کوئی نہ ہو۔‘‘
’’ماموں کے لیے مجھے اچھی لگی تھیں وہ محترمہ۔ سیدھی سادی معصوم سی، بہت اچھی لگتی دونوں کی جوڑی۔‘‘ زریاب نے جیسے خود کلامی کی۔
’’بعض لوگ صرف شکل سے معصوم لگتے ہیں، اندر سے گنوں کے پورے ہوتے ہیں۔‘‘ ارم نے منہ بنایا۔
دانیال نے دل ہی دل میں اور زریاب نے باآواز بلند ان سے اختلاف کیا۔
’’نہیں امی،’’وہ‘‘ ویسے بھی سیدھی سادی ہی لگ رہی تھیں۔‘‘
’’کیا کہہ سکتے ہیں۔‘‘ ارم آپا نے کندھے اچکادیے۔ انہوں نے اپنی دانست میں اپنے بھائی کے سامنے اپنی صفائی پیش کردی تھی۔ ان کا دل مطمئن ہوگیا تھا۔ بس ایک زریاب ہی تھا جسے چین نہیں پڑرہا تھا۔ اس کی حیرت کم ہورہی تھی نہ ہی افسوس ۔
دانیال کا چہرہ پرسکون جھیل تھا، تہہ میں کیا تھا کچھ نہیں معلوم وہ خاموشی سے اپنے موبائل میں مگن تھا۔
ماموں .کیا ہے بھئی،آپ کو افسوس نہیں ہورہا؟‘‘ زریاب نے دانیال کو مخاطب کیا۔
’’کیسا افسوس؟‘‘ دانیال کی نگاہیں موبائل اسکرین پر ہی تھیں ’’جو کبھی پایا ہی نہیں اس کے کھونے کا کیا غم؟‘‘
زریاب نے ماموں کا فلسفہ سنا اور اس کا تیز دماغ اپنی ہی فلاسفی جھاڑنے لگا۔
’’کسی کو پانا، کیا کوئی بہت مشکل امر ہے؟کہتے ہیں کہ ڈھونڈنے سے تو خدا بھی مل جاتا ہے۔ جستجو اور جدوجہد ہو تو خزانے بھی مل جاتے ہیں۔
موبائل ،فیس بک اور انسٹا گرام کے دور میں کسی کا سراغ لگانا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے۔
زریاب کو وہ لڑکی یاد تھی اور اس کا نام بھی اس نے سرچ کیا، زرمینہ عالم کی آئی۔ ڈی مل گئی، اس کی تصویر بھی موجود تھی، ویسے تو اسے گھر بھی معلوم تھا جہاں وہ لوگ رشتے کے لیے گئے تھے۔ ایک ہی علاقہ تھا دونوں کا مگر وہاں تو جانا ممکن نہیں تھا تو پھر اور کیا تھا جو ہوسکتا تھا؟ زریاب کا دماغ ممکنات پر غور کررہا تھا۔ تیزی سے اپنا دماغ دوڑاتے دوڑاتے بالآخر وہ ایک جگہ ٹھہر گیا۔
’’بس.یہ ٹھیک رہے گا۔ بالکل ٹھیک رہے گا۔‘‘ اس نے خود سے کہا اور مسکرادیا۔
٭٭٭
یونی ورسٹی ایک تھی مگر ڈیپارٹمنٹ الگ تھا۔ جہاں جانا مشکل نہ تھا ہاں اس سے اگلا مرحلہ تھا جو کٹھن تھا۔ اس لڑکی سے بات کرنا وہ، جس کی بری بڑی آنکھیں تھیں اور بال کچھ عجیب سے کٹے ہوئے تھے۔اونچے نیچے سے مگر خیر ہوگا کوئی لڑکیوں کا فیشن۔
زریاب نے اپنا سر جھٹکا۔ بڑی ہمت کرکے وہ یہاں آیا تھا۔ ویسے وہ ڈرتا تو کسی سے نہیں تھا مگر بس بے عزت خراب ہونے سے ڈر لگتا تھا۔ پھر بھی اپنی تمام تر جرات اکٹھی کرکے چہرے پہ اعتماد سجاکر وہ راستے میں کھڑا ہوگیا۔
’’ایکسکیوز می مس۔‘‘
’’جی؟‘‘وہ ٹھہر گئی زریاب کے چہرے پر نگاہ ڈالی۔ شناسائی کے ساتھ ساتھ غصے کے رنگ بھی ابھرے۔
’’آپ؟‘‘
’’جی، میں زریاب دانیال ماموں کا بھانجا۔ آپ سے بات کرنی تھی۔‘‘ زریاب کے انداز میں اتنی تہذیب ،شائستگی اور شرافت تھی کہ خود اسے بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اتنا باصلاحیت ہے۔
’’اب کیا بات کرنی ہے؟بات تو ساری ختم کردی آپ لوگوں نے۔‘‘ زرمینہ کا لہجہ بہت اکھڑ اور سخت تھا۔ مگر زریاب کو اس کے لفظوں نے پتھر مارا تھا۔
’’ہم نے؟ہم نے بات ختم کی تھی؟‘‘ وہ تڑپ ہی گیا۔ مگر اس کے ساتھ جواب دینا نہیں بھولا ’’بات آپ کی طرف سے ختم ہوئی تھی۔‘‘
’’ہماری؟‘‘ زرمینہ نے بے یقینی سے کہتے ہوئے ہاتھ کے انگوٹھے سے اپنی طرف اشارہ کیا۔
’’یعنی.ہم نے انکار کیا تھا؟‘‘ اس کی بڑی بڑی آنکھوں سے غصہ چھلک رہا تھا۔
’’جی ہاں!‘‘
’’جی نہیں۔‘‘ زرمینہ نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں،’’ انکار آپ کی طرف سے ہوا تھا اور بہانہ یہ بنایا تھا کہ ہم نے آپ کے ماموں کی اتنی انکوائری کیوں کروائی۔ جس سے آپ لوگوں کی بے عزتی ہوئی۔‘‘
’’غلط بیانی مت کریں مس ،آپ لوگوں نے یہ کہہ کر انکار کیا تھا کہ میری امی اس گھر میں کیوں رہتی ہیں؟اپنے گھر کب شفٹ ہوں گی؟‘‘
’’بات ایسے نہیں تھی۔آپ باتوں کو توڑ مروڑ کر بیان کررہے ہیں۔ ‘‘اس بار تڑپنے کی باری زرمینہ کی تھی۔
’’میں نے کوئی جھوٹ نہیں بولا۔‘‘ زریاب سنجیدہ تھا۔
’’میں نے بھی سچ ہی کہا ہے۔‘‘ زرمینہ اس سے زیادہ سنجیدہ تھی۔
’’اگر آپ بھی سچی ہیں میں بھی سچا ہوں تو پھر جھوٹا کون ہے؟‘‘ زریاب نے سوال اٹھایا۔
’’ایک منٹ ، میں ابھی معلوم کرتی ہوں۔‘‘ زرمینہ کو اس وقت اچانک یہ خیال آیا اور اس نے فوراً ہی اس پر عمل بھی کر ڈالا۔
موبائل آن کرکے لسٹ میں رومانہ آنٹی کا نمبر نکال کر ٹچ کیا اور اسپیکر آن کردیا۔ بیل جارہی تھی۔ تیسری بیل پر کال ریسیو ہوگئی۔ دوسری طرف رومانہ آنٹی تھیں۔ میچ میکر، جو دانیہ کے لیے اور اب زرمینہ کے لیے بھی رشتے بتاتی تھیں۔
’’آنٹی، ایک بات پوچھنی تھی، آپ پلیز بتائیں گی؟‘‘ زرمینہ کے لہجے میں اتنی تہذیب ،شائستگی اور شرافت تھی کہ زریاب دنگ رہ گیا۔
’’یہ بھی میری طرح باصلاحیت ہے۔‘‘ اس نے خوشی سے سوچا اور پھر رومانہ آنٹی کی طرف متوجہ ہوگیا جن کی آواز اسپیکر سے نکل کر دونوں کی سماعتوں تک پہنچ رہی تھی۔
’’بیٹا! میں کیا بتائوں، یہ تو تمہاری امی بتاسکتی ہیں یا دانیال کی آپا۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘
’’دیکھو زرمینہ مائنڈ مت کرنا۔ میں نے تمہاری امی کو دانیہ کے لیے کئی رشتے دکھائے اور ادھر دانیال کی آپا کو بھی بہت لڑکیاں دکھائیں. لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ دونوں خواتین شادی میں انٹرسٹڈ ہیں۔ اس بار بھی معاملے کو شادی تک لے گئیں مگر معمولی سی باتوں کو بہانہ بناکر دونوں نے انکار کردیا۔‘‘
’’دونوں نے؟‘‘ زرمینہ نے آنکھیں پھاڑیں۔
’’ہاں۔ دونوں نے ایک دوسرے کی برائیاں کرکے منع کردیا تھا۔ اب بھئی میں نے تو توبہ کرلی ہے آئندہ کوئی رشتہ نہیں بتائوں گی۔ نہ فریال کو، نہ ارم کو۔‘‘ رومانہ آنٹی کا لہجہ قطعی تھا۔
’’اچھا آنٹی، آپ پلیز امی سے ا س کال کا ذکر نہ کیجیے گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے، نہیں کروں گی، مگر ایک پروپوزل ہے تمہارے لیے، وہ تو بتادوں۔نا تمہاری مما کو؟‘‘
’’اچھا آنٹی خدا حافظ!‘‘ زرمینہ نے جلدی سے فون آف کیا۔ اور اپنی پلکیں اٹھائیں۔
’’آپ نے ٹھیک کہا تھا۔‘‘ زرمینہ نے اعتراف کیا۔
’’اور آپ نے بھی سچ کہا تھا۔‘‘ زریاب نے اقرار کیا۔
’’اب؟‘‘
’’اب یہ کہ.‘‘
٭٭٭
دانیال اپنی شرٹ استری کررہا تھا جب زریاب اس کے پاس پہنچا۔
’’ماموں۔‘‘
’’کہیے، ماموں کی جان!‘‘
’’کب تک خود ہی اپنے کپڑے استری کرتے رہیں گے؟‘‘
’’پھر کیا کروں؟کوئی ملازم رکھ لوں؟‘‘ کالر کو ایک بار اور چمکاتے ہوئے وہ مسکرایا۔
’’ملازم کیوں کوئی بہار سا فرد لائیں زندگی میں‘‘۔
زریاب نے اپنی موبائل اسکرین ان کی نگاہوں کے آگے کی۔
’’کیا ہے؟دانیال نے اچٹتی سی نگاہ اسکرین پر ڈالی اور پھر اپنی نگاہ اور استری دونوں ہی ہٹانا بھول گیا۔
’’یہ تو.وہی لڑکی ہے‘‘ وہ ہکلاسا گیا۔
’’جی ہاں،وہی لڑکی ہے اور بہت اچھی لڑکی ہے، میں چاہتا ہوں آپ کی ان سے شادی ہوجائے۔‘‘ زریاب نے بولتے بولتے رک کر استری اٹھائی۔ چند لمحے اور تاخیر ہوتی تو شرٹ جل جاتی۔
دانیال نے خاموشی سے بٹن بند کرکے پلگ نکالا۔
’’آپا نے تو منع کردیا ہے۔‘‘ اس نے شرٹ اٹھائی۔
’’’شادی آپ کو کرنی ہے آپا کو نہیں۔‘‘
’’کیسی باتیں کررہے ہو؟‘‘
’’عقل والی، جو آپ کو کبھی نہیں سوجھیں۔‘‘
’’زریاب؟ وہ شرٹ لے کر چل دیا۔
’’ماموں، جو وقت ضائع ہونا تھا، ہوچکا، اب اپنی زندگی کو مزید ضائع مت کریں۔ اپنے فیصلے خود کریں۔‘‘ زریاب اس کے پیچھے پیچھے تھا ۔
’’دیکھو زریاب !‘‘ سمجھانے کے اندازم یں گویا ۔
’’تمہاری عمر میں جوش ،جذبے اور خیالات اسی طرح کے ہوتے ہیں مگر پریکٹیکل لائف میں یہ سب نہیں چلتا، رشتوں کی قدر کرکے انہیں نبھانا ہوتا ہے۔ یوں اپنی مرضی چلاکر اپنے لوگوں کو ناراض نہیں کرتے۔‘‘
اپنی بات مکمل کرکے وہ آگے بڑھا۔
’’اور جو رشتے خود غرض ہوجائیں، جو آپ کی قدر نہ کریں جو آپ کو استعمال کرکے آگے بڑھ جائیں۔وہ.‘‘
’’زریاب.خاموش ہوجائو۔‘‘وہ ایک لمحے کو رکا اور پھر اپنے کمرے کی جانب چل دیا۔ زریاب سوچ میں پڑ گیا۔
٭٭٭
بہار کے پھول کھل چکے تھے۔اب کوئی دل اداس ہو یا چہرہ۔ بہار کو اس سے کیا؟
خوشبو مہک رہی تھی۔ رنگ دہک رہے تھے۔ شوخ ہوا اٹھلا کے چلی، دانیہ کی زلفیں پریشان ہوگئیں وہ تھوڑی دیر پہلے نہا کر آئی تھی۔ بال تقریباً سوکھ گئے تھے۔ بس تھوڑی سی نمی باقی تھی۔
دانیہ نے بالوں کو انگلیوں سے سلجھایا، جوپہلے جیسے بہت گھنے لمبے نہیں تھے پھر بھی اچھے تھے۔
’’پھپھو، پارلر چلیں؟‘‘زرمینہ آکر دھم سے اس کے برابر میں بیٹھی۔
’’کیوں؟‘‘
’’آپ کے بالوں کی سیٹنگ کروادوں؟اچھا سا ہیئر کٹ؟‘‘
’’نہیں بھئی، مجھے اپنے بال ایسے ہی ٹھیک لگتے ہیں۔‘‘ دانیہ نے جلدی سے اپنے بال یوں لپیٹے جیسے زرمینہ ہاتھ میں قینچی لیے بیٹھی ہو۔
ذرمینہ نے اپنی سوچتی ہوئی نگاہیں دانیہ پر مرکوز کیں۔
’’انکار نہ آپ نے کیا تھا نہ دانیال انکل نے بلکہ.‘‘
’’کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ زرمینہ کی غیر متوقع بات پر دانیہ بھونچکی رہ گئی۔جوڑا لپیٹتے بناتے ہاتھ تھم گئے۔
’’اگر وہ دوبارہ اپروچ کریں تو آپ ساتھ دیں گی؟‘‘
’’کیا باتیں کررہی ہو زری ، مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔‘‘ دانیہ نے بے بسی سے اسے دیکھا۔وہ واقعی کنفیوز ہوگئی تھی۔
’’آپ اپنے لیے اسٹینڈ لے سکتی ہیں؟‘‘
’’کیسا اسٹینڈ؟‘‘
’’گھر والے راضی نہ ہوں تب بھی اپنی مرضی چلانا، جو آپ کا حق ہے۔‘‘ زرمینہ کی بات پر دانیہ کی آنکھیں پھٹ گئیں۔
’’ پاگل تو نہیں ہوگئی ہو، فضول باتیں کیوں کررہی ہو؟‘‘ دانیہ سیدھی تھی مگر بے وقوف نہیں۔ اس کی سمجھ میں بات آگئی تھی اور اس کا رد عمل بہت سخت تھا۔
’’اپنی زندگی ضائع مت کریں آپ۔‘‘
زرمینہ کی بات ادھوری رہ گئی۔ امی اسے آواز لگارہی تھیں ۔’’جی امی آرہی ہوں۔‘‘وہ بادل نخواستہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
٭٭٭
اپنے اپنے ڈپارٹمنٹ سے کافی دور، دونوں نے بیٹھنے اور بات کرنے کے لیے ایسی جگہ کا انتخاب کیا تھا۔ جہاں ان کے کسی کلاس فیلو کا گزر نہ ہو۔
’’ماموں نہیں مانے۔‘‘ زریاب نے آغاز کیا۔
’’پھپھو نے بھی ڈانٹ دیا۔‘‘ زرمینہ نے منہ لٹکایا۔
کچھ دیر خاموشی کا پردہ درمیان میں حائل رہا۔
’’اب کیا ہوگا؟ کیا کرنا چاہیے ہمیں؟‘‘زرمینہ نے سوال کیا ۔
’’میں نے بہت سوچا اور مجھے ایک ہی بات سمجھ آئی ۔‘‘
’’کیا؟‘‘
’’محبت۔‘‘
’’محبت؟‘‘ زرمینہ کی سوالیہ نگاہیں اس پر جمی تھیں۔
’’محبت ہی وہ جذبہ ہے جو انسان کو خواب دیکھنے پر، اپنی زندگی جینے پر مجبور کرتا ہے۔ دونوں کے درمیان ایسی الفت، ایسا کنکشن ہونا چاہیے کہ ایک دوسرے کے بغیر سب کچھ ادھورا لگے خوشیاں بھی اور زندگی بھی۔ ‘‘زریاب پورا ہوم ورک کرکے آیا تھا۔
زرمینہ کو اس کی باتیں سمجھ میں آرہی تھیں مگر سوال یہ تھا کہیہ کام ہو گا کیسے ؟
’’محبت کروائی نہیں جاتی خود ہی ہوتی ہے ۔‘‘ زرمینہ نے جتایا۔
’’پلاننگ سے دنیا کا ہر کام ہو سکتا ہے۔ یہاں تک کہ محبت بھی ۔‘‘زریاب کی مسکراہٹ بڑی پراسرار اور پر اعتماد تھی۔ پلان نمبر ایک اس کے پاس ریڈی تھا۔
٭٭٭
زرمینہ کا دل چاہ رہا تھا باہر کچھ کھانے کو اور یہ کچھ بھی ہو سکتا تھا ۔زنگر یا پزا ، تکہ یا شوارما اس کا فیصلہ باہر جا کر میز پہ بیٹھ کر ہونا تھا۔ اس وقت تو وہ دانیہ کے سر پہ کھڑی شور مچا رہی تھی۔ جلدی کے لیے نہیں بلکہ ڈھنگ سے تیار ہونے کے لیے۔
’’لپ اسٹک تو ذرا ڈارک کریں۔‘‘
’’ٹھیک تو ہے کیا ہو گیا ہے تمہیں؟‘‘ دانیہ نے اپنی چادر لی۔
’’کپڑے یہی ؟‘‘
’’ابھی چینج کیے ہیں۔‘‘ دانیہ نے چادر اوڑھی اور زرمینہ کو دیکھا ۔
’’چلیں؟‘‘
’’چلیں۔‘‘ زرمینہ نے کندھے اچکائے۔
اس کا پسندیدہ فوڈ اسپاٹ بہت زیادہ دور نہیں تھا۔ مزے دار خوشبوئوں نے فضا کو مہکایا ہوا تھا۔
سڑک کنارے چلتے ہوئے زرمینہ ٹھہر گئی۔ للچائی ہوئی نگاہوں سے دکان کے شوکیس پہ نگاہ کی۔
’’ایک منٹ میں چاکلیٹس لے کر آتی ہوں۔‘‘
’’افوہ۔‘‘ دانیہ وہیں ٹھہر گئی۔
زرمینہ یوں گئی اور یوں آ گئی۔
’’یہ لیں۔‘‘ زرمینہ نے ایک چاکلیٹ بار ، دانیہ کی طرف بڑھائی اور اپنے ہاتھ میں چاکلیٹ کا ریپر کھول کر اسے کھایا اور چلتے چلتے ایک لمحے کو آنکھیں بند کیں۔
’’ہمم .‘‘ اس نے ذائقے کا لطف اٹھایا اور آنکھیں کھول دیں۔
اپنے پسندیدہ فوڈ اسپاٹ پہنچ کر دونوں نے کرسی سنبھالی اور بیٹھ گئیں۔
زرمینہ اپنا بیگ کھول کر دیکھ رہی تھی۔ اچانک ہی ہلکی سی چیخ اس کے منہ سے نکلی ۔
’’میرا موبائل میرا موبائل کہاں گیا ۔ ہائے پھپھو میرا موبائل۔‘‘ زرمینہ کی شکل ایسی ہو گئی تھی اب روئی کہ تب روئی۔
’’دیکھو بیگ میں ہی ہو گا۔ کہاں جائے گا موبائل ۔‘‘دانیہ بھی پریشان ہو گئی۔
’’نہیں ہے ، دیکھیں۔‘‘زرمینہ نے بیگ ہی الٹ دیا۔ جس میں دنیا جہان کا سامان تھا سوائے موبائل کے۔
’’ایک منٹ ذرا اپنا موبائل دیں۔‘‘ زرمینہ نے کہا۔
’’یہ لو۔‘‘
زرمینہ نے دانیہ کے موبائل سے اپنے نمبر پہ کال کی ۔ بیل جا رہی تھی۔
’’یہ پکڑیں اور کال کرتی رہیں میں شاپ دیکھ کر آتی ہوں۔ جہاں سے چاکلیٹ خریدی تھی۔ مجھے لگ رہا ہے۔ وہیں بھول آئی ہوں۔ اللہ کرے کسی نے اٹھایا نہ ہو۔‘‘ زرمینہ تیز تیز بولتی ہوئی اٹھی اور یہ جا وہ جا۔
٭٭٭
دانیال راضی نہیں تھا مگر زریاب زبردستی اپنے ساتھ لے آیا تھا۔
’’کبھی باہر کی ہوا بھی لگا لیا کریں خود کو۔‘‘
’’روز ہی لگاتا ہوں صبح نکلتا ہوں شام میں آتا ہوں۔‘‘
’’وہ تو جاب کے لیے نکلتے ہیں۔ کبھی اپنے لیے بھی باہر نکلا کریں۔ یہ لیں یہ شرٹ پہنیے گا۔‘‘
زریاب نے اپنی پسند کی شرٹ دی چیک پرنٹ کی بلو اور برائون شرٹ ، دانیال یہ جچ رہی تھی جو پہننے سے پہلے ہچکچا رہاتھا۔ مگر زریاب اپنی من مانی کرنے میں اور بات منوانے میں ماہر تھا۔ اور اس وقت دونوں باہر سڑک پر تھے۔ ایک شاپ کے آگے زریاب نے بائیک روک دی ۔ ذرادیر میں واپس بھی آ گیا۔
’’یہ لیں منہ میٹھا کریں۔‘‘ وہ چا کلیٹس خرید کر لایا تھا۔
دانیال نے سوندھی سوندھی مہک والے زیادہ مٹھاس اور ذرا تلخی لیے ذائقے کا لطف اٹھایا۔
اچانک ہی زریاب کی نگاہ نیچے پڑی۔
’’ماموں .!‘‘ زریاب کی نگاہیںمستقل نیچے ہی تھیں۔
دانیال نے ان نگاہوں کے تعاقب میں دیکھا ۔ وہاں پڑے موبائل کی اسکرین چمک رہی تھی۔ کال آ رہی تھی مگر آواز بند تھی۔
زریاب نے موبائل اٹھایا اسے صاف کیا۔
ایک بار پھر کال آنے لگی نام بھی آ رہا تھا۔ ’’پھپھو کالنگ۔اٹینڈ کرو یار ، کیا پتا کوئی ڈھونڈ رہا ہو اپنا موبائل یا پھر .‘‘
’’کسی لڑکی کا ہوتا تو ضرور اٹینڈ کرتااب یہ پھپھو ، خالہ ، آنٹی قسم کی خواتین سے آپ ہی بات کریں۔‘‘ زریاب نے کال ریسیو کر کے دانیال کے کان سے موبائل لگایا۔
’’ہیلو السلام علیکم ۔‘‘
’’وعلیکم السلام .آپ کون ؟‘‘ دانیہ گڑبڑا گئی ۔ کہنا کچھ تھا مگر کچھ اور کہہ گئی۔
’’محترمہ ،یہ موبائل گرا ہوا ملا ہے آپ کا ہے یا آپ کے کسی جاننے والے کا؟‘‘دانیال نے سوال کیا۔
’’جی جی یہ میری بھتیجی کا موبائل ہے ابھی ابھی کھویا تھا وہ اسے ڈھونڈ رہی ہے باہر، آپ کہاں ہیں۔‘‘
’’ہم اس وقت روڈ پر ہیں ۔ سوئٹ اینڈ سوئٹ کے سامنے۔‘‘ دانیال نے اتنا ہی کہا تھا کہ زریاب نے اس سے موبائل لے لیا۔ اور اپنے کان سے لگایا۔
’’میم ،آپ اپنی لوکیشن بتا دیں ۔ اگر قریب میں ہے اور آپ مناسب سمجھیں تو موبائل آپ کو پہنچا دیں گے۔‘‘ زریاب نے بہت ٹھہرے ٹھہرے شائستہ انداز میں بات کی۔ پھر دوسری طرف کا جواب سنا۔
’’ٹھیک اوکے جی ، ہم ابھی آتے ہیں۔‘‘ زریاب نے موبائل جیب میں ڈالا اور بائیک اسٹارٹ کی۔ ’’چلیں ماموں۔‘‘
’’کہاں؟‘‘
’’اپنی منزل کی طرف۔‘‘
مطلوبہ مقام بہت قریب ہی تھا۔ بہت آرام سے وہاں پہنچ گئے۔ مگر آگے کے مراحل اتنے آسان نہیں تھے۔ پہلے تو سب ایک دوسرے کو دیکھ کر چونکے تھے۔
دانیہ اور دانیال کی حیرت اصلی تھی جبکہ زرمینہ اور زریاب کی حیرانی مصنوعی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ خفگی بھی ۔
’’موبائل کے لیے بہت شکریہ ۔ آج کل آپ جیسے ایمان دار لوگ بہت کم ہیں۔ مگر آپ نے ہماری پھپھو کے ساتھ اچھا نہیں کیا ۔‘‘
زرمینہ کے شکریے کے ساتھ شکایت بھی جڑی ہوئی تھی ۔
’’ہم نے ؟‘‘ زریاب نے بے یقینی سے اپنے سینے پہ ہاتھ رکھا ۔
’’ہم نے کیا کیا ہے ؟ انکار تو آپ کی .‘‘
’’زریاب خاموش ہوجائو۔‘‘دانیال نے بھانجے کے بازو پے ہاتھ رکھا۔
’’ہم سب اتنا خوش تھے اس رشتے پہ ، مگر آپ کی آپا نے۔‘‘زرمینہ نے چیخ کر بولنا شروع کیا۔ دانیہ بوکھلا گئی۔
’’زری چپ ہو جائو، یہ سب باتیں کرنے کا اب کیا موقع ہے ؟‘‘
’’ابھی تو یہ لوگ ہاتھ لگے ہیں ، ابھی نہیں کہوں گی تو پھر کب کہوں گی ؟‘‘زرمینہ بولنے سے باز نہ آئی۔ زریاب ڈٹ کر بیٹھ گیا۔
’’دیکھیں جی ، بات آج کلیئر ہو گی۔ آپ بھی بیٹھ جائیں ماموں!‘‘ اس نے دانیال کا ہاتھ پکڑا جو سٹ پٹائے ہوئے تھا اور اس سے زیادہ بری حالت دانیہ کی تھی۔
’’زرمینہ پلیز جانے دو ان باتوں کو ، جو معاملہ ختم ہو گیا ہے اسے .‘‘ دانیہ بھتیجی کو سمجھانے کی کوشش کرنے لگی۔ جو لگاتار بولے چلے جا رہی تھی ۔ زریاب بھی برابر جواب دے رہا تھا۔
دانیہ اور دانیال کی نگاہیں پنڈولم کی طرح ان دونوں پر گھوم رہی تھیں۔ جو بحث میں مشغول تھے اور پھر نہ چاہتے ہوئے بھی غیر ارادی طور پر دانیال کی نگاہ دانیہ پر مرکوز ہو گئی وہ تصویر جیسی ہی تھی جو سادگی تصویر میں تھی وہی سراپے سے ظاہر تھی۔
زرمینہ اور زریاب خاموش ہو گئے تھے ۔ غلطی دونوں طرف سے تھی۔ بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ خود غرضی دونوں طرف سے تھی۔
’’اب اٹھو ۔‘‘ دانیال نے بھانجے کو اٹھانے کی کوشش کی ۔ جو بحث کے بعد اب معذرت کر رہا تھا۔ اور جواباً زرمینہ بھی حقیقت سے آگاہ ہونے کے بعدخاموش ہو گئی تھی ۔ پھر اس نے بے حد خوش اخلاقی سے دانیال کو مخاطب کیا۔
’’موبائل کی واپسی کے لیے بہت شکریہ ، ورنہ لوگ تو معمولی معمولی چیزوں کے لیے بھی اپنا ایمان خراب کر لیتے ہیں۔‘‘
’’ارے نہیں ، شکریے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘ دانیال محجوب سا ہوگیا۔ دانیہ نے نادانستہ اسے دیکھا اور اگلے ہی لمحے نظر ہٹا بھی لی۔ وہ اپنی تصویر سے زیادہ گریس فل تھا۔
دانیال اور زریاب چلے گئے۔ زرمینہ دانیال کی تعریفوں کے پل باندھتی رہی ۔ دانیہ خاموش رہی ۔
خود غرض رشتوں اور لوگوں پہ افسوس ہو رہا تھا ۔ مگر اس کے بس میں تھا ہی کیا، یہ عجیب و غریب معاملہ تھاایک گورکھ دھندا تھا۔
رشتے اور انسان کہیں اتنے سبک جیسے تتلی ، اتنے خوب صورت جیسے تتلی کے رنگ ، خود سے وابستہ لوگوں کے دامن خوشیوں سے بھر دیں اور کہیں اتنے بھاری جیسی بے آب و گیاہ پہاڑ، ان کے بوجھ تلے انسان پس کر رہ جائے ، دب کر مر جائے، مگر آہ نکل سکے نہ اف کر سکے۔
٭٭٭
نوٹس یاد کر کر کے زرمینہ کی شکل پہ بارہ بجنے لگے تھے۔
دانیہ پیالہ بھرکے پاپ کارن لے آئی تھی۔ کھانا بن رہا تھا۔ زرمینہ بھوک کی کچی تھی اور پڑھائی کے دوران تو اس کا پیٹ اور دماغ دونوں ہی خالی ہو ہو کر دہائیاں دیتے تھے۔
’’تھینک یو پھپھو، جگ جگ جئیں، اللہ آپ کو بہت ہی اچھا سا دولہا عطا فرمائے ، بالکل دانیال انکل جیسا، زرمینہ پاپ کارن کا پیالہ دیکھ کر ایسی نہال ہوئی کہ جو منہ میں آیا بولتی ہی چلی گئی۔
’’منہ بند کرو اور یہ کھائو۔‘‘دانیہ پزل ہو گئی۔
’’منہ بند ہو گا تو کھائوں گی کیسے ؟‘‘ زرمینہ نے سوال اٹھایا۔ پاپ کارن منہ میں ڈالے اور پھر دوسرا سوال دانیہ کے سامنے رکھا۔
’’آپ کو دانیال صاحب کیسے لگے ؟‘‘
’’مم .مجھے کیا پتا۔‘‘ دانیہ گڑبڑا گئی۔
’’پتا نہیں تو پتا کریں۔‘‘ زرمینہ کی لاپرواہی عروج پر تھی۔
’’کہاں سے ؟‘‘
’’اپنے دل سے ۔‘‘
’’دل کہاں سے آگیا بیچ میں؟‘‘دانیہ نے سنبھل کر بھتیجی کو گھورا۔
’’کاش کہ آجائے۔ اس دل کی خاطر تو کوئی صحرائوں میں نکل گیا کوئی جنگلوں میں ،کسی نے دودھ کی نہر نکالی تو کسی نے کچے گھڑے پہ دریا پارکیے ، جب یہ دل بیچ میں آ جاتا ہے تو کشتیاں کنارے لگ جاتی ہیں۔‘‘ زرمینہ پاپ کارن کھاتے کھاتے ایسی شروع ہوئی کہ فل اسٹاپ کوما سب بھول گئی۔
’’تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ ایسی بہکی بہکی باتیں کیوں کر رہی ہو؟‘‘
’’بس یونہی ۔‘‘ زرمینہ نے کندھے اچکائے اور کھلکھلائی ۔ اتنے میں امی آ گئین۔
’’دانیہ ! کھانے میں کتنی دیر ہے ؟‘‘ بھوک کے مارے برا حال ہو رہا ہے۔‘‘ انہوں نے پیالے سے پاپ کارن اٹھاکر منہ میں ڈالے۔
’’جی بس دس منٹ بعد لگا دوں گی۔‘‘ دانیہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’اور ہاں ذرا ماسی کو اپنے ساتھ لگا کر ڈرائینگ روم کی حالت تو درست کروا دینا ، پردے اور کشنچینج کر دینا ، کچھ مہمان آئیں گے۔‘‘ انہوں نے ہدایات دیں۔
’’کوئی خاص مہمان آ رہے ہیںپھپھو کو دیکھنے ؟‘‘ زرمینہ چونک اٹھی اور ماں سے سوال کیا۔
’’تمہیں دیکھنے آ رہے ہیں۔ ڈھنگ سے تیار ہو جانا۔‘‘اس کے سوال کا جواب دے کرفریال چل دیں اور زرمینہ سوچ میں ڈوب گئی۔
٭٭٭
برآمدے کے ستون سے لپٹی بیل بڑی خالی خالی ادھوری سی تھی ،دانیال گروسری کی چیزیں لے کر آیا تھا جو آپا نے منگوائی تھیں۔ سامان ان کے حوالے کر کے اپنے کمرے میں جا رہا تھا کہ زریاب کے ہتھے چڑھ گیا۔
’’چلیں ماموں! رات میں باہر چلتے ہیں۔‘‘ زریاب بیڈ پر آڑا ترچھا لیٹا تھا۔ دانیال کرسی پہ بیٹھے موبائل آن کر رہے تھے۔
’’نہیں بھئی ، مجھے تو معاف ہی رکھو ، تم جائو اپنے دوستوں کے ساتھ انجوائے کرو۔‘‘
’’میں آپ کے ساتھ بھی انجوائے کر سکتا ہوں آپ نے خود پہ بڑھاپا کیوں طاری کر رکھا ہے جو ابھی آیا ہی نہیں؟‘‘
’’اچھا بھئی ، دیکھیں گے کسی روز۔‘‘ دانیال نے ٹالا ۔ مگر بھول گیا کہ بھانجے کو ٹالنا ڈون کی گرفتاری کی طرح مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن تھا۔
’’پھپھو کیسی لگیں آپ کو؟‘‘ زریاب کا سوال اچانک ہی تھا۔
’’کون پھپھو؟‘‘ دانیال گڑبڑا گیا۔
’’اب ان باتوں سے کیا حاصل ؟‘‘
’’بالکل ٹھیک ، باتوں سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ عمل ضروری ہے۔ آپ تیار ہو جائیں ایکشن کے لیے۔‘‘ زریاب نے بردباری سے سر ہلایا۔
’’اب یہ کیا پہیلی ہے ؟‘‘دانیال نے بھانجے کو دیکھا جو خاصا پراسرار لگ رہا تھا۔
’’پہلے میں بوجھ لوں ، پھر آپ کو بتائوں گا۔‘‘ زریاب نے تکیہ کھینچ کر سینے پہ رکھا اور آنکھیں بند کر لیں۔ کچھ پتا نہیں چل رہا تھا کہ بند آنکھوں کے پیچھے کوئی سپنا ہے یا منصوبہ ؟
٭٭٭
یونی ورسٹی کے طول و عرض میں جگہ جگہ طلبہ و طالبات کے جمگھٹے لگے ہوئے تھے۔ ان ہی میں یہ دونوں بھی تھے جو نسبتاً الگ تھلگ جگہ میں پانچ دس منٹ کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔
’’بہت مشکل ہے۔‘‘ زریاب نے نفی میں سر ہلایا۔
’’کیا؟‘‘ زرمینہ کی سوالیہ نگاہیں اٹھیں۔
’’جو ہم سوچ رہے ہیں۔ ماموں اور پھپھو کا ملن۔‘‘
’’پھپھو ڈرتی بہت ہیں۔‘‘زرمینہ نے اعتراف کیا۔
’’اور ماموں بڑوں کے لحاظ اور مروت میں گھلے جا رہے ہیں۔‘‘ زریاب نے حقیقت بیان کی۔
’’سوال یہ ہے کہ اب کیا کیا جائے ؟‘‘ زرمینہ کے چہرے پہ پریشانی تھی۔
’’ہم کتنی ہی کوشش کر لیں مگر زبردستی انہیں اپنے لیے اسٹینڈ لینے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے ، کہ .‘‘
زریاب کی ادھوری بات پر زرمینہ کا چہرہ سوال بن گیا۔
’’سوائے اس کے ، کہ دونوں کو ایک دوسرے سے محبت ہو جائے۔‘‘
’’محبت؟‘‘ زرمینہ بیک وقت چونکی اور گڑبڑائی۔ یہی بات اس نے پہلے بھی کی تھی۔
’’وہ کیسے ہو گی ؟‘‘ زرمینہ اس وقت شاگرد بنی ہوئی تھی اور زریاب استاد۔
’’کچھ باتیں ہوں ، کچھ ملاقاتیں تو یقینا دونوں ایک دوسرے کو پسند کرنے لگیں گے۔‘‘ گرو نے اپنی چیلی کو سمجھایا۔
’’محبت اتنی آسانی اور جلدی تو نہیں ہوتی۔‘‘ زرمینہ تذبذب میں تھی۔ معترض ہوئی۔
’’ہم دونوں مل کر محنت کریں گے تو ضرور ہو جائے گی۔‘‘ زریاب بہت پر امید تھا۔ اس نے زرمینہ کو مخاطب کیا۔
’’دیکھو، نیکسٹ سنڈے ، ایک کام کرو.‘‘ زریاب کی بات ختم ہوئی تو زرمینہ ایک گہری سوچ میں ڈوب گئی۔ پھر ابھری تو وہی سوال ۔
’’کوئی گڑبڑ نہ ہو؟‘‘
’’کچھ نہیں ہو گا۔ بالفرض گڑبڑ ہوئی بھی تو میں سنبھال لوں گا۔‘‘
’’آپ؟‘‘ زرمینہ کی آنکھوں میں بے یقینی تھی۔
’’ٹرسٹ می۔‘‘ زریاب سراپا اعتماد تھا اور اعتبار بھی ۔ باہر سہ پہر ڈھل رہی تھی ۔ گھر کے اندر زرمینہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنا جائزہ لینے میں مصروف تھی۔
’’مجھے لگ رہا ہے کہ میں ویٹ گین کر رہی ہوں۔ ہے نا؟‘‘ اس نے پیچھے مڑ کر دانیہ سے تصدیق چاہی۔
’’نہیں تو، مجھے تو نہیں لگ رہا۔‘‘ دانیہ نے نفی میں سر ہلایا۔
’’آپ تو روز دیکھتی ہیں نا مجھے ، آپ کو پتا نہیں چلے گا۔ جو لوگ زیادہ دنوں بعد دیکھتے ہیں انہیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ بندہ موٹا ہو رہا ہے یا دبلا۔‘‘
زرمینہ گھوم کر آئی اور بیڈ پر بیٹھ گئی۔
’’مجھے روزانہ واک کرنی چاہیے۔ ‘‘اس نے اپنا علاج بھی تجویز کر لیا۔
’’اچھا۔‘‘ دانیہ نے کندھے اچکائے۔
’’پارک چلیں گے شام میں ، آپ بھی میرے ساتھ چلیں گی۔‘‘
’’میں ؟ نہیں بھئی ،شام میں کام ہوتے ہیں گھر میں اور یہ کون سا ٹائم ہے واک کرنے کا ، صبح میں کرو یا رات میں کھانے کے بعد۔‘‘
’’صبح یونی جانا ہوتا ہے۔ رات میں نیند آنے لگتی ہے کھانے کے بعد اور ویسے بھی پیدل چلنا ہے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ صبح ہے ، شام ہے یا رات بس آج آپ چل رہی ہیں میرے ساتھ۔‘‘
زرمینہ نے فیصلہ سنا دیا اور فیصلے پر عمل درآمد کر بھی لیا ، کروا بھی لیا۔
٭٭٭
شام کی ہوا خوش گوار تھی۔ درختوں ، پودوں ، پھولوں کو چھوتی ہوئی اور بھی زیادہ لطافت اور فرحت لیے ہوئے تھی ،مختلف پرندوں کی الگ الگ بولیوں نے سماں باندھا ہوا تھا۔ پارک بہت وسیع و عریض تھا۔ بچوں کے لیے جھولے بھی لگے ہوئے تھے۔ شام سے رات گئے تک بچوں سے لے کر بوڑھوں تک ہر عمر کے افراد آتے تھے۔ ابھی شام کا آغاز تھا۔ آہستہ آہستہ لوگ آنا شروع ہوئے تھے۔
’’بھئی میری تو واک ویسے ہی ہو گئی یہاں تک آنے میں۔‘‘ دانیہ نے لکڑی کی بینچ پر بیٹھتے ہوئے اعلان کیا۔ یہ ایک پرسکون گوشہ تھا۔ جہاں ان دونوں کے سوا کوئی نہیں تھا۔ مگر نہیں ۔دور سے دو افراد آتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔
’’یہ . یہ تو۔‘‘ دانیہ ہکلا سی گئی۔ اس نے پہچان لیا تھا۔ تب ہی چہرے پہ ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔
ادھردانیال چلتے چلتے ٹھٹھک گیا تھا۔
’’بھانجے . یہ کیا ؟‘‘
’’چلتے رہیں ماموں !ایک ضروری بات کرنی ہے۔‘‘ زریاب میں بلا کا اطمینان اور ٹہرائو تھا۔
’’مگریار.!‘‘ان کی بات اور قدم دونوں اٹک گئے۔
’’آپ آگے تو بڑھیں، کب سے اپنی زندگی کو ایک ہی جگہ اٹکایا ہوا ہے۔‘‘زریاب نے ان کا بازو پکڑ کر زبردستی آگے بڑھایا۔
’’یہ لڑکا تمہارا پیچھا کر رہا ہے؟‘‘دانیہ نے اپنے حواس قابو کر کے بھتیجی سے سوال کیا۔
’’یہ نہیں ،وہ والا لڑکا۔‘‘ زرمینہ نے مسکراتے ہوئے آنکھ سے دانیال کی طرف اشارہ کیا۔
’’میرے نہیں آپ کے لیے آیا نہیں لایا گیا ہے۔‘‘
زرمینہ کے قسط وارسسپنس سے بھرپور جملے ، دانیہ کو چونکا رہے تھے۔ سیدھی تھی مگر بے وقوف اور عقل سے پیدل تونہیں تھی۔ ابھی وہ مزید سوچتی یا کہتی مگر اتنے میں زریاب ، ماموں دانیال کو تقریباً گھسیٹتا ہوا وہاں لے آیا تھا۔
’’چلو یہاں سے۔‘‘ دانیہ نے زرمینہ کا بازو دبوچا۔
’’ایک منٹ رکیں ،بات تو سن لیں۔‘‘
زرمینہ نے پھپھو کا ہاتھ تھپتھپایا اورماموں دانیال سے حال احوال پوچھنے لگی۔ اگرچہ کنفیوز تو وہ بھی تھی مگر خود کو بہادر اور پر اعتماد ظاہر کرنے میں کامیاب تھی۔
’’میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔‘‘ زریاب نے کھنکھار کر اپنی تقریر شروع کی۔
’’پیارے ماموں اورمس زرمینہ کی محترم پھپھو صاحبہ آپ دونوں ہم دونوں کے خلوص اور محبت پہ شک نہ کریں ۔ہم صدق دل سے چاہتے ہیں کہ آپ دونوں زندگی سے اپنے لیے خوشیاں کشید کریں۔ رشتوں کا مان رکھیں مگر اپنے لیے بھی کچھ سوچیں۔ خود کو اہمیت دیں ۔یوں ضائع نہ کریں اپنے آپ کو اپنے وقت کو ۔اپنی زندگی کو اور اپنے دل کو۔‘‘ زریاب نے سانس لی۔
’’یہاں بیٹھ کر ، دس منٹ ایک دوسرے سے بات کریں۔ ہم یہیں سامنے ہی ہوں گے۔ اتنے قریب کہ آپ کو دیکھ سکیں اور اتنے دور کہ آپ کو سن نہ سکیں۔‘‘
دانیال اور دانیہ دونوں دم بخود ، گویا سانس روکے زریاب کو سن رہے تھے۔ جو اپنی بات مکمل کر کے سامنے درخت کے نیچے جا کر بیٹھ گیا تھا۔ زرمینہ اس کی مخالف سمت ذرا دور ایک منڈیر پر بیٹھی تھی۔
دانیہ کا دل اپنی پوری رفتار سے دھڑک رہا تھا۔ اسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے بینچ پر بیٹھے بیٹھے وہ ایک سنگی مجسمے میں تبدیل ہو گئی ہے۔ بے حس و حرکت مگر جس میں ایک دھڑکن زندہ تھی۔
دانیال نے ایک گہری سانس لے کر اپنے حواس قابو کیے۔ اپنے دونوں ہاتھ پشت پہ باندھ لیے۔ ایسا عجیب موقع زندگی میں کبھی نہیں آیا تھا۔ وہ کوئی دبو یا گھامڑ قسم کے انسان نہیں تھے کہ صنف مخالف سے بات نہ کر سکتے ہوں مگر اس طرح کے حالات میں اور اس حالت میں بات کرنا بہت ہی مشکل لگ رہا تھا۔
کیا کہا جائے ؟ کیسے کہا جائے ، کیونکر کہا جائے۔ دوچار منٹ اسی سوچ بچار اور ادھیڑ بن میں گزر گئے۔ بالآخر دانیال نے بولنا شروع کیا۔
’’میں . آپ سے معذرت چاہتا ہوں۔ اس آکورڈ سچویشن کے لیے ، دراصل یہ میرا بھانجا اور آپ کی بھتیجی ، آج کی نوجوان نسل ، معاملات دیکھنے اور سوچنے کا ان کا انداز ، ہم سے بہت مختلف ہے۔‘‘
بولتے ہوئے دانیال مدھم سا مسکرایا۔اس کی نگاہیں نیچے گھاس پر تھیں۔ اس نے نہیں دیکھا کہ بینچ پر بیٹھے ساکت وجود کی پلکیں اٹھیں اور اس کی مدھم مسکراہٹ سے ٹکرائیں۔
’’ان کی عمر میں بہت کچھ بہت آسان لگتا ہے۔ چاند کو ہتھیلیوں میں سمیٹ لینا اور . اور ۔‘‘ دانیال اٹک گیا۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ آگے کیا کہے ۔ دانیہ نے اس کی مشکل آسان کر دی۔
’’ہاں، ان کی عمر میں یہ سب آسان لگتا ہے۔ چاند کو ہتھیلیوں میں قید کر لینا ، خوشبو کو آنچل میں باندھ لینا ، ہوا کے سنگ سفر کر کے آسمان چھو لینا۔ مگر .‘‘دانیہ کی پلکیں پھر اٹھیں۔
’’یہ لوگ معصوم ہیں اور بے غرض بھی ۔‘‘
’’ہاں بالکل ٹھیک کہا آپ نے۔‘‘ دانیال کی نگاہیں پہلی بار ان پلکوں سے الجھیں ، ان سادہ و معصوم آنکھوں میں اجنبیت اور خوف کم ہو چلے تھے۔ دانیال کو حوصلہ ہوا اور شوق بھی مزید بات کرنے کا۔
’’آپ یہاں اکثر آتی ہیں؟‘‘
’’نہیں ،بس کبھی کبھار۔‘‘
’’میں بھی . کبھی کبھار آجاتا ہوں یہاں ، جب لوگوں کے درمیان تنہا رہنے کا جی چاہتا ہے تو.‘‘دانیال کی آواز دھیمی ہوئی۔
’’آپ میری وجہ سے کھڑے ہوئے ہیں۔ اچھا نہیں لگ رہا۔‘‘ دانیہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ سادہ سا لہجہ ، سادہ سے الفاظ ، مگر کبھی سادگی میں بھی کیسی جادوگری ہوتی ہے۔
دانیال گھبرا کر پلٹ گیا۔
’’کہیں وہ مسحور نہ ہو جائے اسیر نہ ہو جائے۔‘‘ دانیال کو یکایک ہی خوف محسوس ہوا۔ وہ زریاب کے قریب پہنچ گیاادھر زرمینہ دانیہ کے پاس چلی گئی۔ وہ مسکرا رہی تھی اور دانیہ سنجیدہ تھی۔
’’زری !آئندہ یہ حرکت مت کرنا۔‘‘ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
’’اب دوسری کوئی حرکت کریں گے۔‘‘ زرمینہ اس کی سنجیدگی کو ذرا بھی خاطر میں نہیں لائی۔
’’سیریس ہو جائو۔ تم بچی نہیں ہو ،گھر میں بھائی بھابھی کو بھنک بھی پڑ گئی اس معاملے کی تو کیا ہو گا؟ میری کیا عزت رہ جائے گی ان دونوں کی نظروں میں۔‘‘ بھتیجی کے ہمراہ چلتے ہوئے دانیہ بولتی جا رہی تھی۔
’’آپ کو کیسے لگے ؟ دانیال ماموں!‘‘ زریاب کی طرح وہ بھی دانیال کو ماموں کہہ کر مخاطب کر رہی تھی۔
زرمینہ کا سوال سن کر دانیہ کے چہرے پہ ایک رنگ آیا اور گزر گیا۔ زندگی کے پہلے امتحان کیا کم تھے۔ جو ایک اور امتحان میں ڈال دیا۔ وہ خاموش رہی۔ خاموشی میں عافیت ہے۔ دل کی ہر بات زبان پہ آجائے تو.‘‘ سوچتے سوچتے دانیہ ڈر سی گئی۔
’’بتائیں نا پھپھو!‘‘ زرمینہ نے اصرار کیا۔
’’اچھے انسان ، اچھے ہی لگتے ہیں۔‘‘ دانیہ نے اپنے انداز کو بے حد عام اور نارمل رکھنے کی کوشش کی۔
’’شکر ہے۔ آپ کو اچھے لگے وہ ۔‘‘ زرمینہ نے اطمینان کی گہری سانس لی مگر دانیہ کی بے قراری شروع ہو چکی تھی۔
٭٭٭
دانیال آج پھر اپنی کھٹارا کو گھسیٹتے ہوئے لایا تھا۔ مکینک کو سونپ کر گھر واپس آیا تو آپا بے چینی سے اس کا انتظار کر رہی تھیں۔
’’شکر ہے دانیال !تم آ گئے کہاں تھے ۔اتنی دیر لگا دی۔ کب سے تمہارا انتظار کر رہی تھی۔ ‘‘دانیال کو دیکھتے ہی آپا نان اسٹاپ شروع ہو گئیں۔
’’گاڑی آج پھر خراب ہو گئی تھی۔ مکینک کو دے کر آ رہا ہوں۔‘‘
دانیال بہت تھکا ہوا تھا۔ اس کی شکل بتا رہی تھی۔ مگر آپا اپنے بھائی کو غور سے دیکھنے کی عادی ہی نہیں تھیں۔ اس وقت بھی انہیں اپنے کام کی فکر ہو رہی تھی۔ جس کے لیے وہ بے چینی سے دانیال کا انتظار کر رہی تھیں۔ درزی سے اپنا جوڑا منگوانا تھا۔ رات میں پہن کر جانا تھا۔ میاں جی کے گہرے دوست نے اپنے بچے کی سالگرہ میں بلایا تھا۔ دانیال کو اپنا مسئلہ بتاتے ہوئے ان کا انداز ملتجی تھا۔ نہ بھی ہوتا تو وہ کون سا انکار کرنے والا تھا۔
سوٹ لینے جا رہا تھا کہ زریاب آ گیا۔ اپنے ساتھ بائیک پہ بٹھا کر لے گیا۔ جاتے ہوئے اور آتے ہوئے تمام راستے ماموں کو لیکچر دیتا رہا گھر آ کر بھی اس کی تقریر ختم نہیں ہوئی تھی۔ جس کا موضوع یہی تھا کہ اب وہ اپنی پرواہ کرنا شروع کر دے۔ اپنے بارے میں ، اپنی خوشیوں کے بارے میں سوچے۔
دانیال کمرے میں گیا، نہایا ، لباس تبدیل کیا تب تک بھی زریاب کا لیکچر جاری تھا وہ بیڈ پر چڑھ کر بیٹھا ہوا تھا۔
’’بس کر دے یار ! تو تھکتا نہیں ہے؟‘‘ دانیال بالوں میں کنگھا کر رہا تھا۔
’’آپ کی شادی تک سکون سے نہیں بیٹھوں گا۔‘‘ زریاب نے اپنے ہدف کا تعین کیا۔
دانیال خاموشی سے بال سنوارتا رہا۔ اس کا چہرہ بے تاثر تھا۔
’’بے شک آپ کچھ نہ کہیں ،مگر آپ کی آنکھوں میں لکھا ہے۔ بلکہ شکل پہ بھی بڑبڑا لکھا ہوا ہے۔‘‘ زریاب پھر شروع ہو گیا۔
’’کیا ؟‘‘
’’وہ محترمہ اچھی لگی ہیں آپ کو۔‘‘
’’تو؟ اس سے کیا فرق پڑتا ہے ؟‘‘
’’بہت فرق پڑتا ہے۔ پسند کا نتیجہ محبت ہے اور محبت کا نتیجہ شادی ۔اپنے معاملات کو نتیجہ تک پہنچا ئیے۔‘‘
’’قسمت کو منظور ہوا تو پہنچا دے گی انجام تک ۔ ‘ ‘ دانیال نے پہلو بچا کر قسمت پہ معاملے کو ڈال دیا۔
’’پہلے آپ تو منظوری دیں۔ دل و جان سے ، قسمت بھی منظور کر لے گی۔‘‘
’’بھوک لگ رہی ہے یار ، آپا سے پوچھوں ، کھانا تیار ہے یا نہیں۔‘‘
دانیال بولتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔ زریاب بڑے اطمینان سے وہیں لیٹا تھا۔
’’بھوک تو مجھے بھی لگی ہے مگر ماموں کا ولیمہ کھاکر ہی یہ بھوک مٹے گی۔‘‘
٭٭٭
دیوار کے سہارے اوپر چڑھتی بیل میں دانیہ نے دھاگہ باندھا اور اوپر کیل میں لپیٹ دیا۔ وہاں سے سیدھا لے جا کر دوسرے رخ پہ لگی کیل میں دھاگہ باندھا۔
اسٹول پہ چڑھی کیا کر رہی ہیں؟ زرمینہ نے اتنی اچانک اور زور سے آواز بلند کی کہ وہ ڈگمگا گئی۔ اسٹول سے گرتے گرتے بچی ۔
’’توبہ ہے زری آہستہ نہیں بول سکتیں۔ ڈرا دیا مجھے ۔ابھی گرجاتی ۔‘‘اپنے دھڑدھڑاتے دل کو قابو کرتے ہوئے دانیہ اسٹول سے نیچے اتر آئی۔
’’جلدی سے ریڈی ہو جائیں ۔ کل کہا بھی تھا میں نے ، آج بازار جانا ہے۔ دیر ہو رہی ہے، فٹافٹ نکلنا ہے۔‘‘ زرمینہ کو بہت جلدی تھی ،دانیہ نے حیرانی سے اسے دیکھا۔
’’ذرا سانس تو لے لو، اور مجھے بھی لینے دو۔‘‘
’’باہر چل کے لے لیں گے سانس۔ ابھی تو نکلیں۔ ‘‘
دونوں باہر نکلیں۔ رکشہ فوراً ہی مل گیا۔
’’کیا خریدنا ہے جوا تنی ایمرجنسی میں مجھے لے آئیں۔ کھانا بنانا ہے ، دیر نہ لگانا۔‘‘ دانیہ کو گھر کے کاموں کی ہمیشہ ہی فکر رہتی تھی۔ اس کی ذمہ داری چوتھی۔
’’پہلی بات تو یہ کہ ایمرجنسی میں نہیں لائی آپ کو، کل میں نے بتادیا تھا کہ آج بازار جائیں گے۔ میری سب سے اچھی سہیلی کی برتھ ڈے ہے۔ اس کے لیے گفٹ لینا ہے اور دوسری بات یہ کہ گھر کے کاموں کو اپنے سر پہ سوار مت کیا کریں۔ امی ہیں گھر پر ،وہ دیکھ لیں گی۔‘‘
زرمینہ کا مدلل اور مفصل جواب بھی دانیہ کو مطمئن نہیں کر سکا تھا۔ مگر ایک گہری سانس لے کر خاموش ہو گئی۔ زرمینہ کے آگے بولنا یا اسے قائل کرنا ، دونوں ہی نا ممکنات میں سے تھے۔
زرمینہ اسے ایک مال میں لے آئی تھی۔ اور اب سوٹ دیکھ رہی تھی ۔
’’سوٹ دو گی تحفے میں ؟‘‘ دانیہ کو حیرت ہوئی۔
’’نہیں دے سکتی کیا ؟‘‘ زرمینہ نے الٹا سوال کیا۔
’’ہاں . مگر۔‘‘ آگے کچھ کہنے سے پہلے ہی زرمینہ نے بات کاٹ دی۔
’’یہ دیکھیں، کیسا لگ رہا ہے۔ چلیں گفٹ آپ کی پسند سے لے لیتی ہوں ۔جلدی سے بتائیں، کون سا اچھا لگ رہا ہے یہ ؟ یا یہ یا پھر یہ والا ؟‘‘
’’یہ لے لو۔‘‘ دانیہ نے فٹافٹ فیصلہ کر دیا۔ یہ لڑکی تو پاگل تھی ۔گھنٹوں مارکیٹ میں پھر سکتی تھی۔ مگر دانیہ کو تو گھر کے کام کی فکر ہو رہی تھی۔
’’چلیں؟‘‘خریداری مکمل ہوئی تو دانیہ نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
’’ایسے ہی چل دیں بغیر کچھ کھائے پیے ؟ آئیے آپ کو گول گپے کھلائوں یا کچھ اور ؟‘‘ زرمینہ فوڈ کورٹ کی جانب بڑھ گئی۔
دونوں کرسیاں سنبھال کر بیٹھی ہی تھیں کہ زریاب کی شکل نظر آئی اور ساتھ میں وہی۔
دانیہ ساکت رہ گئی۔ اصولاً تو زرمینہ پر غصہ آنا چاہیے تھا مگر نہیں آیا۔
’’سالگرہ مبارک ہو۔‘‘ زریاب نے آہستہ سے اسے وش کیا اور ہاتھ میں پکڑا ڈبہ میز پہ رکھ کر اسے کھولنے لگا۔ وہ ایک چھوٹا سا کیک تھا۔
’’ہیپی ہیپی برتھ ڈے میری بہت ہی پیاری پیاری پھپھو !اور سب سے پیاری سہیلی اور دنیا کی سب سے اچھی ہستی کے لیے ، میری طرف سے بہت سارا پیار، اور یہ گفٹ۔‘‘
زرمینہ نے لہک لہک کر اسے وش کیا اور وہی جوڑا دیا جو ابھی کچھ دیر پہلے خریدا تھا۔
دانیہ کی خوشی حیرت میں لپٹی ہوئی تھی۔ اسے یاد نہیں تھا۔ آج کیا تاریخ ہے۔ اپنی خوشیوں کے دن یاد رکھنا بھول ہی گئی تھی۔ اس کی آنکھیں نم ہونے لگیں۔ اور یہ نمی آنسوئوں میں بدل رہی تھی۔ وہی آنسو جو کبھی خوشی کے مارے آنکھوں میں آجاتے ہیں۔
’’تھینکس !‘‘اس نے خود پر اور اپنی آنکھوں کی نمی پہ قابو پایا۔
’’محبتوں کا شکریہ ادا نہیں کرتے۔‘‘ زریاب نے اپنا گیان دیا۔
’’بس تحفے کی طرح وصول کرتے ہیں۔ نعمت کی طرح قدر کرتے ہیں اور رحمت کی طرح شکر کرتے ہیں۔‘‘
زرمینہ نے اس سے کیک کٹوایا۔ کھایا اور کھلایا۔ اور پھر کچھ دیر کے لیے وہ اور زریاب وہاں سے غائب ہو گئے۔
دانیہ اور دانیال ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے تھے۔ یہ عجیب لمحہ تھا اور عجیب معاملہ تھا۔ جو دونوں کو اچھا بھی لگ رہا تھا مگر اندر ہی اندر عجیب شرمندگی بھی ہو رہی تھی جیسے اپنے بڑوں کی توقعات پر پورا نہ اترنے پر ہوتی ہے۔
زریاب بہت ضدی ہے۔ اپنی بات منوا کر ہی چھوڑتا ہے اور اس نے مجھے نہیں بتایا تھا کہ .‘‘ دانیال نے اپنی صفائی پیش کی۔
’’زرمینہ بھی ایسی ہی ہے۔ دانیہ دھیرے سے مسکرائی ۔‘‘
دوافراد ان دونوں کی خوشی کے لیے جتن کر رہے تھے۔ ایسے انسانوں پہ غصہ نہیں آنا چاہیے۔ اور ان دو معصوم جانوں کو تو ان لوگوں پر بھی غصہ نہیں آتا تھاجو ان کی خوشیوں کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے۔ بھاری پتھر بن کر اٹک گئے تھے۔
’’زرمینہ ابھی تک بچوں والی حرکتیں کرتی ہے۔ گھر میں اور زندگی میں بھی اسی سے رونق ہے۔‘‘ دانیہ کی آنکھوں میں چمک ابھری۔ دانیال نے اس چمک کو اپنے دل میں محفوظ کیا اور مسکرایا۔
’’بچہ ہونا بہتر ہے۔ بچے معصوم ہوتے ہیں۔ چالاکی اور خود غرضی نہیں دکھاتے ، ان کے دل صاف ہوتے ہیں۔‘‘
’’مگر ہماری قسمتوں کے فیصلے بچے نہیں کرتے ، بڑے کرتے ہیں۔‘‘
دانیہ نے بے ساختہ کہا اور پھر یک دم خاموش ہو گئی۔ چور سی بن گئی۔ کیا ضروری تھایہ کہنا؟ دانیہ کے چہرے پہ خجالت پھیل گئی۔
دانیال حیران تھا۔ وہ بھی تو یہی کہنے والا تھا کیسا عجیب اتفاق تھا۔ دونوں کے ذہنوں میں یا دلوں میں ایک ہی بات آئی۔
اجنبیت کی دھند کافی حد تک چھٹ چکی تھی۔ مگر ایک خاموشی اور گریز تھا جو درمیان تھا۔
’’اس راہ کا اختتام کہاں ہے ؟‘‘ دانیال بے چین ہوا ، دانیہ مضطرب ہوئی۔
یہ ملاقات ، ملاقات نہ تھی۔ ایک آغاز تھا جو انجام تک پہنچنے کا شوق رکھتا تھا۔
ایک بات تھی جو ان کہی باتوں کے درمیان کہیں موجود تھی۔ تمام تر وضاحت اور یقین کے ساتھ۔
دونوں گھر واپس آ گئے تھے مگر اپنی ذات، اپنے وجود کا ایک حصہ کہیں کھو بیٹھے تھے یا چھوڑ آئے تھے۔ شاید ایک دوسرے کے پاس ۔
٭٭٭
دیوار کے سہارے اوپر چڑھنے والی بیل میں دھیرے دھیرے پھول آ رہے تھے۔ خوش رنگ ، خوش ادا ، خوشبو دار اور خوش گوار۔
کچن میں ہنڈیا بھونتی دانیہ نے کھڑکی سے باہر نگاہ ڈالی اس ہری بھری بیل پر ، ابھی پھول آنا شروع ہوئے تھے مگر شروعات بھی کتنی معنی خیز اور دل خوش کن ہوتی ہے۔
دانیہ نے نچلا لب دانتوں میں دبایا۔مسالے میں پانی ڈالتے ہوئے کچھ یاد آیا تھا اسے۔
دونگاہیں جو اپنا شوق چھپانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اور اگر یہ شوق ظاہر ہو جائے تو؟
دانیہ کے دل میں تمنا جاگی ، دل انوکھے انداز میں دھڑکا۔ خواب دیکھنے میں پھر یہ بڑی مصیبت ہے کہ تعبیر کا انتظار بھی دامن پکڑ لیتا ہے۔
ہنڈیا کا پانی خشک ہو کر مسالہ لگ رہا تھا ۔ دانیہ کو احساس بھی نہیں ہوا۔ وہ کسی اور دنیا میں پہنچی ہوئی تھی۔ مگر مسالہ لگنے کی بو سے فریال بھابھی وہاں پہنچ گئی تھیں۔
’’کیا کر رہی ہو تم، پانی ڈالو ہنڈیا میں ۔ سارا مسالہ لگ گیا ۔‘‘
فریال بھابھی کی آواز پہ دانیہ ہڑبڑا گئی۔ جلدی سے ہنڈیا میں پانی ڈالا۔
’’خیریت تو ہے ؟ طبیعت ٹھیک ہے تمہاری ؟‘‘ بھابھی عجیب سی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں۔
’’جج . جی۔‘‘ وہ جلدی سے وہاں سے ہٹ گئی۔
٭٭٭
ارم آپا موبائل پر مصروف تھیں۔ زریاب نے ان پہ نگاہ ڈالی اور پھر نعرئہ مستانہ لگایا۔
’’ماں ! کھانے میں کیا ہے ؟‘‘
وہ ہڑبڑا گئیں۔ موبائل ہاتھ سے گرتے گرتے بچا۔
’’توبہ ہے زریاب ، کیا آندھی طوفان کی طرح نازل ہو جاتے ہو۔‘‘ اپنی سہیلی کو خدا حافظ کہہ کر وہ سنبھل کر بیٹھ گئیں۔
’’آندھی طوفان تو ابھی آئے گا۔ بجلیاں بھی کڑکیں گی۔‘‘ ذریاب نے پیشن گوئی کی۔
’’کیا بدفالیں منہ سے نکال رہے ہو۔ کوئی اچھی بات کرو۔‘‘ ارم نے ناگواری سے بیٹے کو گھورا۔
’’اچھی اچھی باتیں یہ ہیں کہ . یا تو ماموں کا ولیمہ کریں یا ولیمے کی تیاری۔‘‘
’’ہاں ، کیوں نہیں ، اللہ وہ وقت دکھائے ، ضرور ولیمہ کریں گے۔‘‘ انہوں نے خوش دلی کا مظاہرہ کیا۔
’’اللہ وہ وقت دکھانے والا ہے ۔آپ تیاری کر لیں۔‘‘ زریاب بہت پراسرار ہو رہا تھا۔
’’پتا نہین یہ لڑکا کیا اول فول بکتا رہتا ہے۔‘‘ وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔
’’چکن بنائی ہے۔ ماموں سے بولو ، روٹیاں لے آئیں تندور سے ۔‘‘
’’لائیں،پیسے دیں میں لے آتا ہوں روٹیاں۔‘ ‘ زریاب نے آفر کی ۔
’’دانیال لے آئے گا۔ تم جا کر کہہ دو اس سے۔‘‘
’’کہاں سے لائیں گے؟ انہوں نے خود مجھ سے پیسے ادھار لیے ہیں۔‘‘
’’تم سے ؟‘‘ وہ چونکیں۔
’’جی ، مجھ گنہگار سے ، لائیے پانچ سو کا نوٹ۔‘‘ اس نے ہاتھ پھیلایا۔ اور پھر ماں سے رقم لے کر ہی ٹلا۔
روٹیاں لینے گیا اور ساتھ میں دانیال کو اپنے ساتھ گھسیٹ لیا۔ آج کل وہ دانیال کا ہمزاد بنا ہوا تھا۔
’’پتا نہیں کن چکروں میں رہتا ہے۔ ‘‘ارم آپا نے سر جھٹکا۔
باہرنکل کر زریاب آزاد تھا۔ تندور سے پہلے فالودے کے اسٹال پہ رک گیا۔
’’یار !روٹیاں لینی ہیں۔‘‘ دانیال نے یاد دلایا۔
’’یہ کھا کر چلتے ہیں۔‘‘ زریاب دو گلاس کا آرڈر دے بھی چکا تھا۔
دانیال کو آتے جاتے لوگوں میں ایک مانوس سی جھلک دکھلائی دی۔
’’یہ وہی ہے یا اس جیسی لگ رہی ہے ؟‘‘ وہ شش و پنج میں تھا مگر کچھ قریب آ کر شکل واضح ہوئی تو دانیال کی غلط فہمی دور ہو گئی۔
عجیب بات ہو گئی تھی۔ راہ چلتے لوگوں پر بھی اب اس کا گمان ہو رہا تھا۔ دانیال نے سر جھٹکا اور اپنی توجہ فالودے پر مرکوز کرنا چاہی۔ مگر سر جھٹکنے سے دل میں اٹکی بات نہیں نکل جاتی۔ لاکھ اپنی تمام تر توجہ کسی اور طرف کر لو مگر دھیان کی ساری کھڑکیاں اسی ایک طرف کھل رہی تھیں۔
اچانک بچوں کی ہنسی اور آوازیںاطراف میں پھیل گئیں۔ ان کے برابر والی ٹیبل پر ایک فیملی آ کر بیٹھی تھی۔ میاں بیوی اور دو چھوٹے چھوٹے بچے ، انتہائی چلبلے ، والدین انہیں کر سیوں پر بٹھانے کی کوشش کر رہے تھے۔
دانیال دلچسپی سے بچوں کو دیکھنے لگا۔ جو بہت کیوٹ تھے۔
اس کے دل میں ایک اور نیا جذبہ جاگا۔
انسان اپنے فطری تقاضوں اور جذبات کو کتنا ہی تھپک تھپک کر سلا دے مگر ہمیشہ تو ان سے جنگ نہیں کر سکتا۔ بچوں کو دیکھتے ہوئے حسرت کا ایک سایہ چہرے پہ آیا اور گزر گیا دانیال کے سارے دوستوں کی شادیوں کو کئی کئی برس گزر گئے تھے ۔ بعض کے بچے تو سیکنڈری اسکول میں پڑھ رہے تھے۔
قریبی رشتوں کی خود غرضی اور لاپروائی ، کتنی قیمتی زندگی ذات اور وقت میں دیمک لگا کر انہیں برباد کر دیتی ہے۔
سوچتے تو وہ پہلے بھی تھے مگر اب غور کرنے لگے تھے۔
رشتوں کا بھرم ، لوگوں کا مان رکھتے رکھتے اب تھکن کا احساس ہونے لگا تھا۔ دل دکھنے لگا تھا کیونکہ وہ خواب دیکھ رہا تھا اور حقیقت خوابوں سے متصادم ہو تو چبھن ہوتی ہے۔ تکلیف ہوتی ہے۔
اس معاشرے میں چھوٹے بہن بھائیوں کا، بڑے بہن بھائیوں کا دست نگر رہنا اکثر ایک المیہ بن جاتا ہے۔ ہر جگہ محبت، اعلا ظرفی اور خیال نہیں ہوتے، کہیں خود غرضی اور بے حسی بھی ہوتی ہے۔
اپنے خیالوں میں مگن وہ فالودہ کھانا تو بھول ہی گیاتھا۔ تب ہی ذریاب نے اسے ٹہوکا دیا۔
’’سارا فالودہ پانی بن گیا ہے ماموں ، کھانے کے لائق تو رہا نہیں ،جلدی سے پی لیں۔‘‘
ماموں کو مشورہ دے کر بھانجے نے بڑی فرصت اور غور سے انہیں دیکھا۔’’ ویسے کہاں گم تھے؟‘‘
’’کہیں نہیں۔‘‘ ماموں نے فالودہ ختم کر کے گلاس میز پہ رکھا۔
’’اپنا موبائل چیک کر لیجیے گا ، ایک نمبر فارورڈ کیا ہے آپ کو۔‘‘
’’کس کا نمبر .؟‘‘وہ چونکے۔
’’لکی نمبر ، جس کی ضرورت ہے آپ کو۔‘‘
زریاب اٹھ کر فالودے کی ادائیگی کر رہا تھا۔ دانیال کے چہرے پہ اور دل میں کیا تھا۔ وہ خود بھی سمجھ نہیں پارہا تھا۔
٭٭٭
زرمینہ کے بے حد اصرار پہ دانیہ نے اس کا دیا ہوا جوڑا پہنا، کانوں میں اسٹائلش سی بالیاں ، ہلکا پھلکا میک اپ بالوں میں زرمینہ نے بلو ڈرائی کیا تھا۔ اب اسے لے کر آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔
’’دیکھا ،کتنی خوب صورت ہیں آپ ؟‘‘
کیا فرق پڑتا ہے۔ یہ خوب صورتی جسے سراہنے والا کوئی نہیں تھا، اپنی آنکھوں میں ، دل میں جذب کرنے والا کوئی نہیں تھا اور پھر یہ حسن اور جوانی چڑھتا ہوا سورج نہیں تھی۔ دوپہر ہو چکی تھی۔
دانیہ آئینے کے سامنے سے ہٹ گئی۔ آج کل احساس زیاں شدت سے محسوس ہونے لگا تھا۔
زرمینہ اس کی اور اپنی سیلفی لے رہی تھی۔ پھر دانیہ کی تصویریں لینے لگی۔
’’پوسٹ نہیں کرنا۔‘‘ دانیہ نے تاکید کی۔
’’کہیں نہیں کر رہی پوسٹ، صرف اپنی سہیلیوں کو دکھائوں گی۔‘‘ زرمینہ اب اپنی سیلفیز لے رہی تھی۔
دانیہ کو ہمیشہ ہی حیرت ہوتی تھی۔
’’تم تھکتی نہیں ہو ؟ درجنوں سیلفیز لے لے کر؟‘‘
’’نہ .کیمرہ بھلے ہی تھک جاتا ہو، بور ہو جاتا ہو مگر ہم نہ تھکتے ہیں نہ بور ہوتے ہیں۔‘‘
زرمینہ نے اتنے مزے سے جواب دیا کہ دانیہ کی بے ساختہ ہنسی نکل گئی۔ ہنستے ہنستے وہ اپنے بال لپیٹنے لگی۔
’’کیا کر رہی ہیں ؟ میری محنت تو برباد نہ کریں۔ ‘‘ زرمینہ چیخی۔
’’بس ہو گیا نا تمہارا شوق پورا ، اب مجھے کچن میں جانا ہے۔ آٹاگوندھنا ہے ،روٹی پکانی ہے۔ اور .‘‘
’’آج روٹی پکانے کی چھٹی کریں ، میں پاپا کو میسج کر دوں گی۔ آتے ہوئے تندور کی روٹیاں اور چپاتیاں لے آئیں گے۔ ‘‘
’’رہنے دو، میں پکالوں گی ، یہ تو روز کا کام ہے۔‘‘
’’روز کا کام ہے نا ، تو کبھی خود کو اس کام سے چھٹی بھی دے دیا کریں، کبھی کبھار ، کوئی دن ، کوئی وقت اپنی مرضی سے بھی گزار لیا کریں۔ گھر کے کام تو کبھی ختم ہوتے ہی نہیں ہیں۔‘‘ زرمینہ نے لیکچر جھاڑ دیا۔ دانیہ چپکی ہو رہی۔ زرمینہ کی بات بھی شاید ٹھیک ہی تھی کچھ باتوں کا احساس اب ہونے لگا تھا۔ دل و دماغ بدل رہے تھے اور جب دل و دماغ بدلنے لگیں تو زندگی بھی بدلنے لگتی ہے اور شاید تبدیلی واقعی آ گئی تھی۔ پہلی باردانیال کی کال آئی تو اسے برا نہیں لگا ۔ اگرچہ وہ ہچکچائی تھی بات کرنے میں۔
دوسری بار کال آئی تو اسے اچھا لگا۔ دونوں بار مختصر سی باتیں تھیں۔ رسمی سا حال احوال دریافت کرنا۔ مگر اتنی گھٹن میں یہ بھی ایک روزن تھا، تازہ ہوا کے جھونکے کا۔
دانیہ بدل رہی تھی اور اس کا دل بھی
٭٭٭
جھجک اور اجنبیت کے سائے گھٹتے جا رہے تھے۔ پہلی بار دونوں نے بات کی تو دانیہ کا دل کتنی دیر تک تیز دھڑکتا رہا۔ حالانکہ ایسی کوئی باتیں تو کی بھی نہیں تھیں جو دل دھڑکادیں ۔ بس دانیال نے اپنے بارے میں بتایا۔ اپنی جاب ، روٹین ، کچھ پسند ، نا پسند ، دانیہ سنتی رہی ، مگر خود بہت کم بولی۔
اگلی بار دانیال نے اسی بات کا شکوہ کیا۔
’’آپ بھی تو اپنے بارے میں کچھ بتائیے۔‘‘
’’میں .؟ کیا بتائوں ؟‘‘ دانیہ سوچ میں پڑ گئی۔
’’کچھ بھی ؟‘‘ دانیال نے چند لمحے توقف کیا مگر کوئی جواب نہیں آیا ۔
’’آپ کو کیا اچھا لگتا ہے ؟‘‘ دانیال نے پھر سوال کیا۔
’’مجھے .زرمینہ بہت اچھی لگتی ہے۔ بہت پیاری ، وہ میرا دل ،میری جان ہے۔‘‘دانیہ نے ایک جذب کے عالم میں کہا تھا۔ اس کے لہجے سے ،ایک ایک لفظ سے زرمینہ کے لیے محبت چھلک رہی تھی۔
’’اگر یہ دونوں نہ ہوتے تو میں زندگی کی سب سے بڑی خوشی سے محروم رہتا۔‘‘ دانیال نے دل میں اعتراف کیا۔
’’میں بھی۔‘‘ دانیہ نے بھی دل ہی دل میں کہا۔
’’توزرمینہ ہے آپ کی جان اور دل ؟‘‘ دوسری جانب دانیال مسکرایا تھا۔
’’جی .!‘‘ دانیہ جانے کیوں پزل سی ہو گئی۔ بے ساختہ بولے گئے الفاظ کا مفہوم اب واضح ہو رہا تھا۔
’’اگر کوئی اور زرمینہ کی جگہ لینا چاہے تو؟‘‘ دانیال کو خود بھی اپنی جرات پہ حیرت ہوئی تھی ۔
’’پتا نہیں ۔‘‘ وہ بڑی مشکل سے بولی تھی۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے خدا حافظ کہہ کرکال کاٹ دی۔
دانیہ کے اندر ایک ہلچل سی مچی ہوئی تھی۔ وہ آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔
یہ وہ چہرہ نہیں تھا جو وہ روزانہ دیکھتی تھی۔ آج اس کا چہرہ کچھ اور ہی تھا۔ ایسے انوکھے رنگ ، ایسی سجیلی دھنک ، اسے اپنا چہرہ اپنا آپ نیا لگ رہا تھا۔ یکایک اسے کچھ خیال آیا۔
وہ گھبرا کر کمرے سے باہر نکل آئی۔ اس کا دل چاہا ،کھلے آسمان کے نیچے کھڑی ہو جائے۔ وہ سیڑھیوں کی جانب بڑھی۔
چھت پہ منڈیر کے کنارے کھڑے ہو کر اس کی نگاہیں وسیع افق پر جمی ہوئی تھیں۔ کئی بار کا دیکھا ہوا منظر نیا نیا محسوس ہو رہا تھا۔ جیسے پہلی بار دیکھ رہی ہو۔ یہ آسمان ، اس کی نیلاہٹ اس کی وسعت، ایک لمحے کو اس نے آنکھیں بند کیں اور مسکرادی۔
زندگی اتنی محبوس اور گھٹن زدہ نہیں تھی۔ اسے ادراک ہوا۔ آسمان کی وسعتوں میں اس کے لیے پیغام تھا۔ کشادگی کا ، خوب صورتی کا ، آسانی کا۔
دانیہ نے دونوں ہاتھ پھیلائے ، شام کی خوش گوار ہوا اس کے چہرے سے ٹکرائی۔ اسے ایسی آزادی کا احساس ہوا جو آج سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔
٭٭٭
اتوار کی اونگھتی سہ پہر تھی۔ ناشتہ کر کے دانیال اور زریاب جو نکلے تو رات گئے واپس آ ئے ۔ مختلف شاپنگ بیگز سے لدے پھندے ۔ارم آپا نے کڑے تیوروں سے بیٹے کو گھورا۔
’’کہاں نکلے ہوئے تھے تم ؟ چھٹی والے دن دس کام ہوتے ہیں۔ خود بھی باہر نکل گئے۔ دانیال کو بھی ساتھ لے گئے۔‘‘
’’کیا کام تھا۔ ابو سے کروا لیتیں ؟‘‘ زریاب لاپروا انداز میں بولتا ہوا صوفے پہ ڈھیر ہو گیا تھا۔
’’پہلے کبھی کیے ہیں تمہارے ابو نے ایسے کام جو اب کریں گے؟‘‘
’’ویسے گئے کہاں تھے تم لوگ ؟ اور یہ کیا لائے ہو ؟‘‘ارم آپا کی متجسس نگاہیں شاپنگ بیگزپر تھیں۔
’’بازار گئے تھے۔ ماموں کو شاپنگ کرنی تھی میں بھی ساتھ میں چلا گیا۔‘‘
زریاب کشن پہ سر رکھے ، آنکھیں بند کیے بول رہا تھا۔ دانیال بھی صوفے پہ بیٹھا تھا۔ ٹانگیں پھیلائی ہوئی تھیں چہرے سے تھکن ظاہر تھی۔
’’دانیال اور شاپنگ ؟‘‘ ارم آپا کو یقین نہیں آ رہا تھا۔ برس ہا برس سے اس کا ایک ہی معمول تھا۔ آٹھ دس شرٹوں اور چار پانچ پینٹوں میں وہ پورا سال نکال دیتا تھا۔ اس بار ایسی کیا ضرورت پیش آ گئی ؟ انہوں نے خود ہی آگے بڑھ کر تھیلے دیکھنا شروع کر دیے۔
’’پینٹ ، شرٹس، شلوار قمیص، جوتے ، پرفیوم، ٹائیاں ، واسکٹ ، ایں . ‘‘وہ چکرا گئیں۔
’’خیریت تو ہے اتنی شاپنگ ! کیا ساری سیلری خرچ کر کے آ گئے؟‘‘
’’تقریباً۔‘‘ زریاب کی طرف سے جواب آیا۔
’’ہیں دانیال ؟‘‘ انہوں نے دانیال کی طرف رخ کر کے تصدیق چاہی۔
’’جی آپا !‘‘ دانیال نے جواب دیا۔ وہ کچھ بدلا بدلا لگ رہا تھا۔ آپا نے غور سے جائزہ لیا۔
’’نیا ہیئرکٹ؟ تروتازہ چہرہ ، اب تو مردوں کے سیلون بھی عورتوں سے کم نہیں۔‘‘ وہ ایک گہری سانس لے کر رہ گئیں۔
’’میں تو انتظار کر رہی تھی تمہارا ،بل کی تاریخ سر پر آ رہی ہے۔‘‘ انہوں نے پر امید نگاہوں سے دانیال کو دیکھا۔
’’اس بار تو اچھی خاصی رقم ٹھکانے لگ گئی آپا میرے پاس تو روزانہ پٹرول کے پیسے بھی نہیں بچے۔‘‘ دانیال کا یہ انداز پہلی بار تھا۔ آپا ہکا بکا رہ گئیں۔
’’مما جانی! چائے تو پلا دیں اچھی سی ۔‘‘ زریاب نے آنکھیں کھولیں۔
دا نیال میز پہ بکھرا سامان سمیٹ کر تھیلوں میں واپس رکھنے لگا۔
ارم آپا کو عجیب سا احساس ہو رہا تھا جسے وہ کوئی نام دینے سے قاصر تھیں۔ انہوں نے باری باری پہلے بیٹے کا پھر بھائی کا چہرہ دیکھا۔کچھ تھا جو بدلا بدلا سا تھا۔ مگر سمجھ سے باہر تھا۔
’’پتا نہیں یہ لڑکا اندر ہی اندر کیا چکر چلا رہا ہے؟‘‘ انہوں نے بیٹے کو گھورا ، جس کی حرکتیں اور باتیں آج کل بہت ہی زیادہ مشکوک ہو رہی تھیں۔
٭٭٭
جاتی ہوئی سردیاں تھیں۔ موسم بڑا متوازن اور خوش گوار تھا۔ نہ بہت زیادہ ٹھنڈ ، نہ بے پناہ گرمی ، دانیہ جلدی جلدی برتن دھو رہی تھی۔ چند برتن ہی باقی رہ گئے تھے ۔ جب اس کا موبائل بجنے لگا۔
موبائل اٹھا کر وہ سیدھی کمرے میں گئی۔ اس کال کا اور اس مہربان آواز کا انتظار رہنے لگا تھا۔
’’معذرت چاہتا ہوں ،اس ہفتے انتظار کروایا آپ کو ، دراصل روزانہ اوور ٹائم لگ رہا تھا۔ رات بہت دیر ہو جاتی تھی واپسی میں۔‘‘ دانیال اپنی نرم اور ٹہری ٹہری آواز میں اسے بتا رہا تھا۔
’’کوئی بات نہیں۔‘‘
’’بہت مس کیا آپ کو ، دل چاہتا تھا ۔ رات میں کال کروں مگر اس وقت کال کرنا مناسب نہیں لگتا تھا۔‘‘
’’جی .‘‘
’’آپ نے . مجھے مس کیا ؟‘‘
دانیہ خاموش ہو گئی۔ ایسے سوال کا جواب دینا بڑا مشکل لگتا تھا۔
’’وہی جواب دے دیں جو ابھی دیا تھا۔‘‘ دانیال شریر ہوا۔
’’دیکھیں پلیز ،آپ ایسی باتیں کریں گے تو مجھ سے بات نہیں ہو گی۔ ‘‘دانیہ نے بمشکل جواب دیا۔
’’چلیں ٹھیک ہے ،میں کوئی اور بات کرتا ہوں۔‘‘ دانیال جھٹ سے مان گیا اور دانیہ کو اس کی یہ ادا بہت پیاری لگی۔
’’آپ بہت جلد مان جاتے ہیں؟‘‘دانیہ مسکائی۔
’’آپ کو اچھا لگا؟‘‘
’’جی ۔‘‘
’’میں سمجھ سکتا ہوں ، دراصل خواتین کو تابع دار شوہر اچھے لگتے ہیں۔‘‘
’’جی نہیں ، میرا یہ مطلب نہیں تھا۔‘‘دانیہ گڑبڑائی۔
’’توپھر ؟ کیا میںتابع دار نہ بنوں؟‘‘
’’ایک مرد کو آنکھیں بند کرکے اپنی بیوی کا فرماں بردار نہیں ہونا چاہیے۔‘‘ دانیہ کو یکایک اپنے بھائی کا خیال آیا ،وہ سنجیدہ ہو گئی۔
’’ہوں۔‘‘ دانیال سمجھ گیا۔ وہ بھی تو ایسے ہی رشتوں کو جھیل رہا تھا۔
’’اگلے ہفتے ایک سرپرائز ہے آپ کے لیے ۔‘‘ اس نے موضوع بدل دیا۔
’’سرپرائز ہے تو بتایا کیوں ؟ ‘‘
’’گڈ کوئسچن ۔لاجواب کرنا جانتی ہیں۔‘‘
’’میں .‘‘ دانیہ کچھ کہنے والی ہی تھی کہ فریال بھابھی کی آواز آئی۔ وہ دانیہ کو پکارتی ہوئی وہیں آ رہی تھیں۔
’’خدا حافظ !‘‘ دانیہ نے جلدی سے لائن کاٹ دی۔
اندر آتی فریال بھابھی نے حیرت سے اسے دیکھا۔ پہلے وہ کبھی فون موبائل استعمال نہیں کرتی تھی۔ جتنا اب کر رہی تھی۔ مگر اس پر اعتراض کرنے کے بجائے انہوں نے ڈائریکٹ مدعا بیان کیا جس کے لیے وہ یہاں آئی تھیں۔
’’اپنے بھائی کے لیے چائے بنا دو۔ ان کے سر میں درد ہو رہا ہے ۔‘‘
’’جی اچھا۔‘‘ دانیہ نے ان کی جانچتی ہوئی نگاہوں کے حصار سے نکل کر فوراً کچن کا رخ کیا۔
٭٭٭
زیادہ نہیں چند ہفتے ہی گزرے تھے۔ دانیال کی بالکل کایا پلٹ تو نہیں ہوئی تھی مگر کچھ زریاب کی باتوں کا اثر تھا کہ اپنے احساس زیاں پہ غور کرنا شروع کر دیا تھا۔ کچھ تقاضے دل کے تھے۔ دانیہ سے فقط دو ملاقاتیں تھیں اور چند باتیں کٰں دل سنجیدہ ہوچلا تھا ۔
زندگی اب تک جیسی گزری ، آگے ویسی نہیں گزرنی چاہیے۔ یہ تو طے تھا۔ دانیال کے تصور میں دو سادہ و معصوم سی آنکھیں آئیں اور ویسا ہی چہرہ جو انہیں مستقبل کے خواب دکھا رہا تھا۔
ایک میچیور عمر کا انسان چاہے مرد ہو یا عورت، اگر اسے موقع ملے تو اپنا شرعی حق استعمال کرنا کوئی شرم کی بات ہے نہ گناہ کی ۔ بے جا شرم ، لحاظ اور مروت کبھی انسان کو چور راستوں پہ گامزن کر دیتی ہے۔ جو یقینا گناہ ہے۔
دانیال نے فیصلہ کر لیا تھا۔ اگلے ہفتے کے سرپرائز کی تیاری ابھی سے شروع تھی۔ رات میں کھانے کے بعد وہ ارم آپا اور بہنوئی کے ساتھ میٹنگ کر رہا تھا زریاب نے اگرچہ پیش کش کی تھی اس میٹنگ میں شامل ہونے کی اوراپنی مورل سپورٹ کی۔ مگر دانیال نے انکار کر دیا۔ اسے یہ بات سمجھ میں آ گئی تھی کہ زریاب اس کا ہاتھ پکڑکر یہاں تک لے آیا مگر اب آگے کا فاصلہ خود ہی طے کرنا ہے۔ یہ جنگ اکیلے ہی لڑنی ہے۔ کسی کی مدد اور تعاون کے بغیر ۔
کوئی لمبی چوڑی بات نہیں کی تھی دانیال نے۔ بس اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ دانیہ کے ہمراہ زندگی گزارنا چاہتا ہے۔
آپا تو بھائی کی خواہش سن کر ہی ہکا بکا تھیں۔ کچھ دیر تک تو ان کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلا۔ پھر انہیں یاد آیا کہ کیا بولنا ہے۔
’’انہوں نے منع کر دیا تھا، اب دوبارہ کیوں ہاں کریں گے ؟‘‘
’’اس کی آپ فکر نہ کریں ۔ وہ ہاں کر دیں گے۔‘‘
’’مگر وہ لڑکی اور اس کی بھاوج دونوں بہت چلتر عورتیں ہیں۔ میں کھٹک رہی تھی ان کی آنکھوں میں ، تم کر لو گے ایسی لڑکی سے شادی جو گھر میں آنے سے پہلے ، مجھے باہر نکالنے کے در پے ہے؟‘‘آپا کی حیرت دور ہوئی تو زبان فراٹے بھر چکی تھی۔
دانیال نے ایک گہری سانس لی۔
’’وہ لڑکی ایسی نہیں ہے۔‘‘
دانیال کا یقین آپا کی آنکھوں میں چبھنے لگا۔
رہی بات گھر کی تو یہ ہمارے والدین کا گھر ہے۔ آپ کا حق ہے اس پر اور آپ کا یہاں رہنا ، میرے سر آنکھوں پر شادی کے بعد میری بیوی میری ذمے داری ہے۔ ہم اوپر کے پورشن میں رہیں گے۔ اگلے ماہ ویسے بھی کرایہ دار وہ پورشن خالی کر رہے ہیں۔‘‘
’’تمہیں کس نے یہ پٹیاں پڑھائی ہیں؟‘‘ آپا اپنے حواسوں میں آ گئی تھیں ۔
’’اس عمر میں کون پٹیاں پڑھائے گا آپا ؟‘‘ دانیال مسکرایا۔ ’’خود ہی عقل آئی ہے کہ زندگی کو زندگی کے طور گزارا جائے۔‘‘
’’کچھ زیادہ ہی عقل نہیں آ گئی تمہیں ؟ پہلے تو.‘‘
آپا کی قینچی کی طرح چلتی زبان کو ان کے شوہر نے مداخلت کر کے روکا۔
’’ٹھیک کہہ رہا ہے دانیال ، اسے اپنے فیصلے کرنے کا حق ہے۔ تم راہ میں رکاوٹ نہ بنو ، بھائی کا ساتھ دو۔‘‘
ظہیر صاحب کو دانیال کے چہرے پہ لکھافیصلہ دکھائی دے رہا تھا۔ مخالفت کا مطلب تعلقات اور معاملات کو خراب کرنا تھا۔ انہوں نے دانیال کو مخاطب کیا۔
’’ہم تمہارے ساتھ ہیں، جب کہو ، تمہارا پروپوزل لے کر چلے جائیں گے۔‘‘ دانیال کا شانہ تھپتھپا کر وہ کھڑے ہو گئے۔
ارم آپا نے پیچ و تاب کھاتے ہوئے شوہر نامدار کو دیکھا۔ ویسے تو وہ بیوی کے آگے پیچھے پھرنے والے شوہر تھے مگر آج اس وقت کیسے انہوں نے فوراً آنکھیں اور پارٹی بدل لی تھی۔
٭٭٭
زرمینہ نے باپ کو راز دار بنایا تھا۔ لمبی چوڑی تقریر نہیں کی تھی۔ کم لفظوں سے کام چل جائے تو الفاظ ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
’’پھپھو آپ کی بہن ہیں اور آپ کی ذمے داری ان کے لیے رشتہ دیکھنا ہے، شادی کرنی ہے، جو کرنا ہے خود کریں، کسی اور پر یہ ذمے داری مت ڈالیں ، چاہے وہ کوئی بھی ہو ، آپ دانیال انکل سے ملیں، جو پوچھنا ہے ، جو کہنا ہے، ڈائریکٹ بات کریں اور خود کریں۔‘‘
’’مگر بیٹا ! تمہاری امی کو درمیان سے ہٹا کر میں اکیلے کیسے سارے معاملات طے کر لوں؟‘‘ ابو کی تشویش اور اعتراض بجا تھے۔
’’اس لیے کہ اپنی بہن کے لیے جو محبت اور خیر خواہی آپ کے دل میں ہے ۔وہ کسی دل میں نہیں ہو سکتی اور امی کو ہم درمیان سے تھوڑی نکال رہے ہیں۔ شادی کی تیاریاں تو بہرحال وہی کریں گی۔ میں صرف یہ کہہ رہی ہوں کہ فیصلہ آپ کریں۔ پھپھو کی خوشی آپ کے فیصلے میں ہے۔‘‘ زرمینہ نے انہیں قائل کر لیا تھا۔
وہ دانیال سے ملے ، جو اپنے بہنوئی اور بھانجے کے ہمراہ تھا۔ ریسٹورنٹ کی اس میز پر ان کے سوالات اور خدشات کے تسلی بخش جوابات ملے۔ اور دانیال انہیں پہلے بھی پسند آیا تھا بہن کے لیے ۔ مگر .
بہرحال اب انہوں نے اور دانیال کے بہنوئی صاحب نے آپس میں بات کر کے فیصلہ کر لیا تھا۔ زندگی میں پہلی بار انہوں نے معاملات کو اپنی بیوی کی نظر سے دیکھنے کے بجائے خود اپنی نگاہ سے دیکھا تھا۔ انہوں نے گھر پر دانیال کے حوالے سے بات کی۔ اس نام پر دانیہ کے چہرے پہ جو خوشی اور چمک تھی۔ اس میں فریال بیگم کی ناگواری اور واویلا دونوں ماند پڑ گئے تھے جن کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔
’’تم تو خوش ہو نا ؟‘‘ بہت عرصے بعد انہوں نے دانیہ کے سر پہ ہاتھ رکھ کر اس سے کچھ پوچھا تھا اور جواب میں وہ ۔ رو پڑی تھی۔
’’ارے . رو کیوں رہی ہو۔‘‘ بھائی بوکھلا گئے۔
’’رونے دیں ۔خوشی کے آنسو ہیں۔‘‘ زرمینہ نے مداخلت کی۔ وہ مسکرا رہی تھی۔ دانیہ کے قریب آئی اور سرگوشی میں گویا ہوئی۔
’’میلوڈی کوئن !رونا بند کریں ۔کسی نے آپ کی مسکراہٹ کی فرمائش کی ہے۔‘‘
اور جس نے فرمائش کی تھی۔ وہ پریشان ہو کر سوال کر رہا تھا۔
’’میں نے سنا ہے تم رو رہی تھیں۔ کیوں ؟‘‘
’’یونہی .آنسو آ گئے تھے۔ ‘‘
’’اب نہیں آنے چاہئیں ، آنکھوں میں آنسو۔‘‘ دانیال کی طرف سے حکم صادر ہوا۔
’’خوشی کے آنسوئوں کو تو اجازت ہونی چاہیے آنکھوں میں آنے کی۔‘‘ دانیہ کا لہجہ اسی کی طرح دھیما تھا۔
’’مجھے یہ پیاری آنکھیں ہنستی ہوئی اچھی لگتی ہیں۔‘‘
’’صرف آنکھیں ؟ ‘‘ہمیشہ کی طرح بے ساختہ سوال اور سوال کے بعد پزل ہونا ، پرانی عادت تھی دانیہ کی۔
’’مزید کچھ کہوں گا تو تم فون بند کرنے کی دھمکی دے دو گی۔‘‘ دانیال کا لہجہ شریر ہوا۔
’’نہیں دوں گی دھمکی۔‘‘
’’یعنی دھمکی دیے بغیر ہی کال کاٹ دو گی؟‘‘
’’نہیں کاٹوں گی بھئی۔‘‘ دانیہ زچ ہو گئی۔
’’اچھا یہ بتائو، تمہیں اندازہ تھا کہ سرپرائز کیا ہو گا ؟‘‘
’’اندازہ نہیں تھا۔ معلوم تھا۔ زرمینہ نے بتایا تھا۔‘‘
’’اور اسے یقینا زریاب نے اطلاع دی ہو گی۔ بدتمیز نہ ہو تو۔‘‘
’’ایسے نہ کہیں ، ان دونوں کی کوشش اور محنت ہے جو آج ہم ۔‘‘ دانیہ بولتے بولتے رک گئی۔
’’ادھوری باتیں کیوں کرتی ہو۔ آج تو بات مکمل کرو۔‘‘
’’بات تو مکمل ہو گئی ہے، میں کیا باتیں کروں؟ ‘ ‘ دانیہ بے ساختہ کھلکھلائی تھی۔
دانیال اس ہنسی میں گم ہو گیا۔ آگے کچھ کہنا بھول گیا۔ ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھی ۔
وہ بات بھی مکمل ہو گئی تھی دونوں کی اور ذات بھی وہ ادھوراپن جو زندگی میں تھا اس کی تکمیل ہو گئی تھی۔
بس اب سجدہ شکر تھا جو رہ گیا تھا۔ اس کی ادائی کے لیے دونوں کی نیت باوضوتھی۔
******


