عدم کا فسانہ ہے دنیا – تنزیلہ ریاض

2

دارالامان میں ایک سنگ دل عورت نے قرآن پاک شہید کر ڈالا۔

لاہور (نامہ نگار) دارالامان میں ایک سنگ دل عورت نے قرآن پاک کے ٹکڑے کر کے اسے شہید کر ڈالا۔ تفصیلات کے مطابق شہر کے نواحی علاقے میں موجود ایک دارالامان میں مسماۃ ’’ت‘‘ نے نہ صرف قرآن پاک کی بے حرمتی کی بلکہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نازیبا کلمات بھی کہے۔ دارالامان کے حکام نے ’’ت‘‘ کو روکنے کی کوشش کی مگر ’’ت‘‘ نے حملہ کر کے ایک اہلکار کو زخمی کر ڈالا۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ’’ت‘‘ اس وقت نشے کی حالت میں تھی اور وہ پہلے بھی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لےے نازیبا الفاظ استعمال کرتی رہی ہے۔ شہریوں نے اس واقعے پر احتجاج کرتے ہوئے ’’ت‘‘ کے خلاف سخت سزا کی اپیل کی۔ پولیس نے ملزمہ کو گرفتار کر کے واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

٭٭٭

’’میں آج شام میں فارغ ہوں۔ میں چاہ رہا تھا کہ آپ بھی فارغ ہوں تو ڈنر کے لےے چلتے ہیں۔‘‘

مناہل نے استعجاب آمیز حیرت میں گھِر کر ہاتھ میں پکڑے کارڈ لیس کو دیکھا۔یہ خیال ہی بہت خوش کن تھا کہ جس کی موجودگی کو ہمہ وقت اپنے آس پاس محسوس کرتی تھی، اس بے حد مصروف شخص کو ایک ڈیڑھ ماہ بعد ہی سہی مگر بہر حال اس کا خیال آجاتا تھا۔

’’اگر آج مصروف ہیں تو پرسوں کا پلان کر لیتے ہیں کیونکہ کل میں آپریشن تھیٹر میں مصروف ہوں۔‘‘

اس کی لمحہ بھر کی خاموشی کو اس کی مصروفیت خیال کرتے ہوئے صفوان نے نئے سرے سے پروگرام ترتیب دیا۔

’’نہیں۔‘‘ اس نے قطعیت سے کہا پھر لمحہ بھر کا توقف کر کے بولی۔

’’آج ہی چلتے ہیں۔ آپ سات بجے مجھے پک کر لیجےے گا۔‘‘

دوسری طرف سے رابطہ منقطع ہوا تو اس نے مسکراتے ہوئے کارڈ لیس کو دور بیڈ پر پھینک دیا۔ وہ خود کائوچ پر دونوں ٹانگیں سمیٹے لیپ ٹاپ گود میں رکھے بہت دیر سے اسی حالت میں بیٹھی تھی۔ اسے ہر حال میں ایک دارالامان کو چند مخیر حضرات کی جانب سے سلائی مشینوں کی فراہمی پر مشتمل یہ دستاویز صبح مسز شہلا قمر کی میز پر پہنچانی تھی، اسی لےے وہ کافی دیر سے غیر ترتیب شدہ ڈیٹا کو مرتب کرنے میں مصروف تھی۔ ویسے تو وہ ہر کام اتنی ہی جانفشانی سے کرنے کی عادی تھی مگر جو کام ہیڈ آفس کی طرف سے اسے سونپا جاتا تھا، وہ اس کام کو مزید محنت سے سرانجام دیتی تھی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کا کوئی بھی کولیگ یا مسز شہلا قمر خود یہ سمجھیں کہ وہ اپنے اور ان کے بیچ رشتے کا ناجائز فائدہ اٹھاتی ہے، اسی لےے وہ جب سے آفس سے واپس آئی تھی، آفس ہی کے کام میں مصروف تھی لیکن پانچ منٹ کی ایک فون کال نے اس کی ساری توجہ کہیں اور مبذول کرادی تھی۔

’’آج مصروف ہو تو پرسوں کا پلان کر لیتے ہیں۔‘‘

مسکراتی آنکھوں اور متبسم ہونٹوں کے ساتھ اس نے بیڈ پر پڑے کارڈ لیس کو نظروں کے حصار میں لیتے ہوئے صفوان کی نقل اتاری۔ وہ کم گو تھا اور مناہل کو اس کی اس عادت سے سخت چڑ تھی۔

’’مس مناہل مرتضیٰ! آپ کے حصے میں ایک نہایت بورنگ شخص آیا ہے۔‘‘

لیپ ٹاپ کو بند کر کے سائٹ ٹیبل پر رکھتے ہوئے اس نے خود کلامی کی۔ اس کا موڈ خوشگوار ہوچکا تھا، گھڑی کی سوئیاں چار کے قریب پہنچی تھیں سات بجنے میں بہت وقت باقی تھا مگر وہ سب چھوڑ چھاڑ کر وارڈ روب کھول کر شام کو پہننے کے لےے ڈریس منتخب کرنے لگی، بہت غور و خوص کے بعد اس نے نیوی بلیو رنگ کا لباس نکالا تھا۔ جب سے اسے پتا چلا تھا کہ صفوان کو یہ رنگ پسند ہے، تب سے اس نے اس رنگ کے کافی ڈریسز خریدے تھے۔ کپڑوں کے انتخاب سے فارغ ہو کر وہ آئینے کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔

ایک سال قبل جب صفوان کے نام کی انگوٹھی پہننے کا موقع آیا تھا تو اس نے گھر میں ایک ہنگامہ مچا دیا تھا، وہ ابھی یا کبھی بھی شادی کرنا ہی نہیں چاہتی تھی۔ سوشیالوجی میں ماسٹرز کرتے ہی اس کے عزائم بہت بلند ہوچکے تھے ۔ وہ خود کو عورتوں کے حقوق کی سب سے بڑی علمبردار سمجھنے لگی تھی۔ اس کے پاپا تو اس کی ہر روش سے محبت کرتے تھے مگر ممی اکلوتی بیٹی کی اس آزادانہ روش کو دیکھ دیکھ کر ہولنے لگتیں پھر ایک دن اکتا کر بہت غصے سے انہوں نے اپنے شوہر صاحب سے شکایت کر ڈالی۔

’’آپ کی بیٹی عاصمہ جہانگیر بننے کے خواب دیکھ رہی ہے۔‘‘

’’ماشائ اللہ۔۔۔ ماشائ اللہ۔۔ اچھی بات ہے بہت اچھی بات ہے۔‘‘

وہ کیمسٹری کے پروفیسر تھے اور ان کی ساری دلچسپی نامیاتی، غیر نامیاتی اصولوں اور فارمولوں تک محدود تھی۔ اس وقت تو انہوں نے بیٹی کو سراہ کر اپنی شریک حیات کا موڈ خراب کر دیا، مگر اتفاق سے اسی رات انہوں نے ٹی وی کے کسی پروگرام میں متعلقہ خاتون کو دیکھ لیا۔

’’میرا خیال ہے، ہمیں مناہل کے لےے آئے ہوئے پروپوزلز کو سنجیدگی سے زیر غور لانا چاہےے۔‘‘

صبح ناشتے کے وقت وہ اپنی بیگم سے کہنا نہیں بھولے تھے۔ اس طرح سے بہت چھان پھٹک کے بعد مناہل کی مرضی سے اس کے جملہ حقوق صفوان قمر کے نام منسوب کر دےے گئے۔ ماسٹرز کے دوران تھیسس اور پراجیکٹ کے سلسلے میں مناہل کا مسز شہلا قمر کی این جی او میں بہت آنا جانا تھا۔ انہیں نہ جانے اس کی کون سی ادا پسند آئی کہ اسے اپنے لائق فائق ہونہار بیٹے کے لےے پسند کر لیا۔ منگنی کے بعد وہ ان ہی کی این جی او کے ساتھ کام کرنے لگی تھی۔

منگنی سے پہلے اس کی صفوان قمر کے ساتھ صرف ایک باضابطہ ملاقات ہوئی تھی۔ وہ نیورو سرجن تھا۔ زندگی میں اس کی دلچسپیاں اور ترجیحات مناہل کی دلچسپیوں اور ترجیحات سے بہت مختلف تھیں، مگر پھر بھی ایک چھوٹی سی انگوٹھی نے مناہل کو دنوں میں تبدیل کر دیا تھا۔ اب کام کے علاوہ جو ایک نام اسے یاد رہتا تھا، وہ صفوان کا تھا۔ ہمیشہ اپنی مرضی کرنے والی مناہل اب چھوٹی چھوٹی باتوں میں صفوان کی رائے کو اہمیت دینے لگی تھی۔ ہمیشہ اپنے آپ کو کوئی سپر قسم کی چیز سمجھنے والی مناہل کو اب عام لڑکیوںکی طرح صفوان کی طرف سے موصول ہونے والے کارڈز، گفٹس اور پھولوں کا انتظار رہنے لگا۔

وہ صفوان کی طرف سے ملنے والی ہر دعوت پر نہ صرف لبیک کہتی تھی۔ بلکہ خاص طور پر تیاری بھی کرتی تھی۔یہی وجہ تھی کہ ڈیڑھ ماہ بعد ملنے والی یہ دعوت اور یہ شام اس کے لےے بہت خاص تھی۔ سات بجنے میں بیس منٹ ابھی باقی تھے، جب وہ تیار ہو کر پورچ میں آکھڑی ہوئی۔ پھوپھو سے اجازت وہ پہلے ہی لے چکی تھی۔ مناہل کے ممی پاپا ایک ہفتہ قبل حج کے لےے جدہ روانہ ہوئے تھے۔ پھوپھو مناہل کی تنہائی کے خیال سے ان کے یہاں رہ رہی تھیں۔ پورچ میں کھڑے کھڑے اسے اپنے موبائل فون کا خیال آیا جو چارج کے لےے لگا تھا، وہ دوبارہ بیڈ روم میں آگئی۔ موبائل فون اٹھانے سے پہلے اس نے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر بالوں میں ایک بار پھر برش چلایا، ابھی وہ آئینے میں اپنے آپ کو دیکھ کر سراہنے میں مشغول تھی کہ موبائل کی بیپ بجی۔ موبائل کی اسکرین پر مسز شہلا قمر کا نمبر آرہا تھا۔ اس نے کچھ حیران ہوتے ہوئے موبائل کان سے لگالیا۔ اس کا موڈ فون سننے کے بعد آف ہوگیا۔ وہ کافی دیر تک بَرے بَرے منہ بنانے کے بعد اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس نے موبائل فون اٹھا کر کچھ نمبر پش کےے تھے، وہ صفوان کو کال کر رہی تھی۔

’’ٹو ہیل ود یو مناہل۔ ۔۔۔ ٹو ہیل ود یو۔‘‘

سات بج کر دس منٹ پر دوبارہ کارپورچ میں کھڑی وہ خود کو کوس رہی تھی۔ اب اسے مسز شہلا قمر کے ڈرائیور کا انتظار تھا۔

٭٭٭

’’میں کیوں ہوں۔۔۔؟ دادو جی! مجھے کیوں پیدا کیا گیا؟‘‘ اس نے ان کی گود میں بلکتے ہوئے سوال کیا۔ ان کے پاس اس کے سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ وہ ہمیشہ اس کے اس قسم کے سوالوں کے آگے خود کو بے بس محسوس کرتی تھیں۔ مسلسل پڑنے والے تھپڑوں کے باعث اس کا چہرہ سرخ ہورہا تھا اور آنسوئوں کی نمی کی وجہ سے بال رخساروں پر چپک گئے تھے۔ اسے تھپڑوں، ڈنڈوں، لاتوں سے مارا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اس کا ہاتھ دروازے میں آنے کے باعث بری طرح کچلا گیا تھا۔ اس کی دادو جی یہ حالت دیکھ کر ایک بار پھر آبدیدہ ہوگئیں۔ ایسے تو کوئی جانور بھی انسان کو نہیں رگیدتا ہوگا، جیسے اس کے باپ نے اسے رگید ڈالا تھا۔

’’ابو کو اگر مجھ سے اتنی نفرت تھی تو۔۔۔ انہوں نے۔۔۔ مجھے پیدا کیوں کیا۔۔۔ وہ اگر مجھے۔۔۔ دنیا میں نہ لاتے۔۔۔ تو ہم دونوں سکون سے رہ سکتے تھے۔ وہ بھی۔۔۔ اور میں بھی۔۔۔ میرے ہونے یا نہ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے دادو جی۔۔۔؟‘‘

وہ ان کی گود میں سر گھسائے مسلسل سسک رہی تھی۔ اس کے لےے یہ مار پیٹ کوئی نئی بات نہیں تھی، مگر اس مار پیٹ کے لےے اس کی ماں نے آج جو جواز گھڑا تھا، وہ کم از کم اس کے لےے بہت نیا تھا۔

اس کی زندگی کی کہانی وہی تھی جو سنڈریلا کی زندگی کی کہانی تھی، فرق صرف اتنا تھا کہ سنڈریلا کو سوتیلی ماں کے مظالم اس لےے سہنا پڑے کیونکہ اس کی ماں مر گئی تھی، جبکہ اسے اس لےے سوتیلی ماں کو برتنا پڑ رہا تھا کہ اس کی ماں اسے چھوڑ کر چلی گئی تھی کیونکہ وہ اس کے باپ جیسے تنگ نظر، مڈل کلاس عام آدمی کے ساتھ خوش نہیں تھی۔ ماں پاس رہی نہیں، باپ پاس تھا مگر اس نے پاس آنا چھوڑ دیا۔ اسے دادو جی نے پالا تھا۔ اس کے ابو نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینے کے دو ماہ بعد ہی دوسری شادی کر لی تھی۔ ابتدا میں اس کی سوتیلی ماں کو اس سے کوئی شکایت نہیں ہوئی مگر جب دو سال بعد عبیر ان کی گود میں آئی تو انہوں نے خود بخود اس کے خلاف ایک محاذ قائم کر لیا۔ انہیں اس کا وجود بہت بری طرح کھٹکنے لگا تھا۔

بچپن میں زیادتی کا زیادہ احساس اس لےے نہیں ہوتا کہ بچہ ہر ظلم و ستم پر چیخ چلا کر احتجاج کر لیتا ہے اور اس کی بھڑاس نکل جاتی ہے۔ وہ بہت بڑی بڑی باتیں بھی بہت آرام سے بھول جاتا ہے مگر شعور آنے کے بعد رو کر، چلُا کر اپنے غصے کا اظہار کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ خاص طور پر اس انسان کے لےے جس کی پروا کرنے والے اس کے ارد گرد موجود نہ ہوں۔ وہ ہر زندگی کا بدلہ اپنے آپ سے لینے لگی۔ امی کی ڈانٹ، تھپڑ کھا کر دادو جی کی گود میں آکر رو لینا اور پھر تھوڑی دیر بعد سب کچھ بھلا کر پھر سے اپنی ننھی منی دنیا میں گم ہوجانا۔۔۔۔ یہی اس کے بچپن کی خوشگوار یادیں تھیں۔کیونکہ دادو جی ہر بار پٹ کر آنے کے بعد اسے اپنی بانہوں میں بھر لیتیں، اس کے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے اس کے بدن کو سہلاتیں اور پھر اسے ننھے منے قصے کہانیاں سنا کر بہلالیا کرتیں۔ وہ اس کے لےے اتنا ہی کر سکتی تھیں۔ جب ذر ا بڑی ہوئی تو مکوں، تھپڑوں کے ساتھ جو ایک اور چیز اسے ملنا شروع ہوئی، وہ طعنے تھے۔

اسے اکثر ابو کے گھر آنے کے بعد پتا چلتا کہ آج اس نے امی کو کتنا ستایا ہے۔ اس نے عبیر کے نئے فراک کو قینچی سے کاٹ ڈالا ہے کیونکہ وہ اس فراک میں بہت خوب صورت لگ رہی تھی۔ اس نے چھوٹے خرم کا فیڈر پی لیا، اس کا مقصد صرف اور صرف خرم کو بھوکا رکھنا تھا۔ امی کی ایسی باتیں سن کر وہ خوف زدہ ہوجاتی۔ اس وقت ابو حکمران ہوتے تھے اور امی ظالم فریادی۔ انصاف کا تقاضا پورا کرنے کے لےے اس کو مارنا ضروری ہوتا تھا۔

وہ مار کھانے کے لےے زندہ تھی یا زندہ رہنے کے لےے مار کھا رہی تھی، اسے بہت عرصہ تک سمجھ میں نہ آیا مگر وقت اس کی ناسمجھی کی وجہ سے رک نہیں سکتا تھا، سو وقت گزرتا رہا اور وہ بڑی ہوتی گئی۔

اس کی اسکولنگ ، اس کی گھٹیا ڈریسنگ اور اس کا دوسرے درجے کا انداز پرورش یہ سب کچھ اس کی امی کے ایما و منشائ کے تحت ہوا۔ ابو نے کبھی یہ دیکھنے کی کوشش نہیں کہ کہ وہ ان کے دوسرے بچوں کی نسبت اتنی ڈل اور ڈفر کیوں ہے۔ اس کی رنگت جو بچپن میں اچھی بھلی صاف ہوا کرتی تھی، اب اتنی زردی مائل کیوں ہوگئی ہے، اس کے کپڑے اتنے برے رنگوں کے کیوں ہوتے ہیں۔ اس کی مارکس شیٹس پر اتنے برے گریڈز کیوں ہوتے ہیں؟ یہ سوالات اس کے والدین کے سوچنے اور کرنے کے تھے، مگر انہیں کوئی کام سوچ سمجھ کر کرنے کی عادت ہوتی تو شاید ان کے درمیان طلاق کی نوبت نہ آتی۔

عبیر ہر لحاظ سے اس سے بہتر تھی۔ ہر ایک کی توجہ لمحوں میںاپنی طرف مبذول کروالینے والی۔ ان دونوں کی شخصیت میں بلا کا تضاد تھا۔ جس کی وجہ سے اکثر لوگ انہیں بہنیں ہی نہیں سمجھتے تھے۔ اس صورت حال میں امی کے چہرے پر عجیب سی استہزائیہ مسکراہٹ پھیل جاتی جو اسے پزل کر دینے کوکافی ہوتی تھی۔

دادو جی کے علاوہ اگر اس گھر میں کسی اور کو اس کا احساس تھا تو وہ اس کا بھائی خرم تھا۔ امی نے عبیر کی طرح خرم کے دل میں بھی سوتیلے پن کے جراثیم انجیکٹ کرنے کی کوشش کی تھی مگر وہ زیادہ کامیاب نہیں ہوپائی تھیں۔اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ اس نے خرم کو گود میں کھلایا تھا۔ خرم جب پیدا ہوا تو وہ پانچ سال کی تھی۔ دادو جی کو بھی اپنے اکلوتے پوتے سے بہت محبت تھی۔ یہی وجہ تھی کہ خرم، عبیر کی نسبت اس سے زیادہ قریب تھا۔ وہ اپنے اسکول سے اکثر اس کے لےے چاکلیٹس وغیرہ لے آتا تو اس کی خوشی دیدنی ہوتی تھی کیونکہ اس کے اپنے اسکول کی کینٹین میں اس قسم کی چیزیں نہیں ملتی تھیں دراصل اس کے لےے اسکول کا وہ معیار دیکھا گیا تھا جو امی کے دل میں اس کا اور اس کی محبت کا تھا۔ ان سارے حالات میں اگر ابو پہلی اولاد ہونے کے باعث کچھ توقعات لگا رہے تھے تو یہ سرا سر ان کی غلطی تھی۔

اس کی زندگی نے پندرہ سال تک یہی چلن اپنائے رکھا۔ اس عمر کو پہنچنے تک وہ ہر چیز برداشت کرنا سیکھ گئی تھی۔ ابتدا میں طعنے برداشت کرنا بہت مشکل لگتا تھا مگر جب طعنوں کے ساتھ الزام بھی لگنے لگے تو احساس ہوا کہ طعنے برداشت کرنا تو بہت عام سی بات ہے۔

بات سچ مچ بہت عام سی تھی۔ محلے میں سے ایک بڑی عمر کی خاتون اس سے اپنے بیٹے کو خط لکھوانے آئی تھیں۔ وہ عرصہ دراز سے کراچی میں مقیم تھا اور اس نے ماں کی خیر خبر نہ لی تھی۔

’’میرے پیارے اختر! مجھے تمہاری بہت یاد آتی ہے۔ تم کب مجھ سے ملنے آئو گے۔‘‘

پہلا فقرہ انہوں نے یہی لکھوایا تھا اور امی نے بھی شاید یہی فقرہ سنا تھا۔ اس کے بعد مزید کچھ سننے کی گنجائش ہی نہیں تھی۔ انہوں نے اس کے ہاتھ سے کاغذ چھین کر واویلا مچانا شروع کر دیا۔ اس کی ہر تردید سے ان کے دل میں یہ خیال پختہ ہوتا جارہا تھا کہ وہ بگڑ چکی ہے اور اس نے اتنی سی عمر میں لڑکوں سے خط و کتابت شروع کر دی ہے۔ان کے اس قدر برافروختہ ہوجانے سے بیٹے کو خط لکھوانے والی اماں کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے واپس چلی گئی تھیں۔ دادو جی کی طرح وہ اماں بھی ترس کھانے کے علاوہ اس کے لےے کچھ اور نہیں کر سکتی تھیں۔

ابو کے گھر آنے پر امی نے اس کی یہ محبت بھری چٹھی ان کے سامنے رکھ دی۔ اس کے بعد اسے طلب کیا گیا۔

’’ابو! میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔ میری کوئی غلطی نہیں ہے ابو!‘‘

ان کے غصے سے خائف ہو کر وہ اپنی صفائی دیتے ہوئے بولی۔

’’میں جانتا ہوں تمہاری کوئی غلطی نہیں ہے۔۔۔ غلطی میری ہے۔۔۔ میرے نصیبوں کی ہے جو میرے گھر تمہارے جیسی اولاد پیدا ہوئی۔‘‘

انہوں نے اپنے پائوں سے بھاری سلیپر اتارتے ہوئے کہا۔ اس کے بعد بھی وہ مسلسل بولتے رہے تھے۔ مگر کمرے میں سلیپر کی آواز تھی، اس کے بلکنے اور سسکنے کی آواز تھی۔ ایک گھنٹے کے بعد ہر طرف سکوت چھا گیا۔ دادو جی بہت مشکل سے اسے گھسیٹ کر اس کے کمرے تک لا پائی تھیں اس رات وہ بہت روئی تھی، بہت واویلا کیا تھا، بہت واسطے دےے تھے مگر اس کی پکار سننے والا کوئی نہیں تھا یا شاید پکار سننے والے تو بہت تھے مگر جواب دینے والا کوئی نہیں تھا۔

٭٭٭

’’مجھے آج ہی تطہیر رحمن سے ملنا ہے۔‘‘

اس نے اب کی بار ذرا غصہ سے اس گھنی مونچھوں والے موٹے حوالدار سے کہا اس کی بتیسی اندر جانے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ بظاہر وہ سبز مائل رنگ کی فائل میں سر گھسائے کچھ لکھنے اور سڑسڑ کر کے چائے پینے میں مصروف تھا مگر ہر سات آٹھ منٹ بعد وہ مناہل کا بغور جائزہ لے کر مونچھوں کو تائو دیتا پھر ’’سبحان اللہ‘‘ کہ کر سر جھکالیتا۔ مناہل نے سیاہ چادر بہت اچھی طرح سے لپیٹ رکھی تھی، لیکن اس کے باوجود اسے اس ماحول میں عجیب سی الجھن ہورہی تھی۔ اسے اندازہ تھا کہ اس جگہ کا ماحول بَرا ہوگا مگر اتنا بَرا ماحول وہ توقع نہیں کر رہی تھی۔

’’بی بی! میں نے آپ کو بتایا تو ہے کہ سیف اللہ صاحب تفتیش کر رہے ہیں۔‘‘

مناہل کی بات پر اس حوالدار نے بتیس دانتوں کی دوبارہ نمائش کرتے ہوئے کہا۔ اس کا جی چاہا، اس بات پر اس شخص کو خوب جلی کٹی سنائے مگر اسے خاص طور سے تاکید کی گئی تھی کہ اس جگہ کسی قسم کا تماشا کھڑا نہیں ہونا چاہےے، اس لےے وہ غصہ کرنے سے احتراز برت رہی تھی۔

’’کیا آپ مہربانی فرما کر مجھے بتا سکتے ہیں کہ آپ کے سیف اللہ صاحب اس تفتیش کا اختتام کب کریں گے؟‘‘

اس نے طنزیہ انداز میں اس خرانٹ شکل والے حوالدار کو گھورتے ہوئے کہا۔

’’اوہ بی بی!‘‘ وہ سر پر ہاتھ رکھ کر ہنسنے لگا پھر ہنس چکا تو بولا۔

’’صاحب لوگ اپنی مرضی کے مالک ہوتے ہیں۔ جب خواتین سے تفتیش کرتے ہیں تو اس کا اختتام اپنی مرضی سے کرتے ہیں۔‘‘

’’کیاآآ۔۔۔؟‘‘ وہ ایک دم سے اپنی نشست سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ ایسی ویسی کوئی بات تو اس کے ذہن میں بھی نہیں آئی تھی۔ اس کے یہاں پہنچنے کے بعد مسز شہلا قمر کا دوبار فون آچکا تھا، لیکن تطہیر رحمن سے اس کی ملاقات ابھی تک نہیں ہوئی تھی۔ حوالدار کی بات سننے کے بعد اسے اپنے غصے پر قابو نہیں رہا تھا۔ وہ لکڑی کے بنے دروازے کو دھکیل کر اندر داخل ہوگئی۔

میز کے دوسری طرف وردی میں ملبوس وہ شخص جو بھی تھا، کافی اکتایا ہوا لگ رہا تھا۔ مناہل کو دیکھ کر وہ گڑبڑایا نہیں تھا، بلکہ اس نے تحیُر سے اسے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی کاٹ تھی جس نے مناہل کو مزید تائو دلایا۔ اس آفیسر کے سینے پر اس کے نام کا بیج لگا ہوا تھا، وہ سیف اللہ صاحب ہی تھے۔

’’مجھے تطہیر رحمن سے ملنا ہے، بلکہ مجھے اسے اپنے ساتھ لے جانا ہے۔ بیل پیپرز (ضمانت کے کاغذات) میں آپ کے ماتحت کو دے چکی ہوں اور امید ہے کہ آپ کو فون بھی آچکا ہوگا۔‘‘

وہ اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورتے ہوئے بولی۔ اس آفیسر نے بہت تحمل سے اس کی بات سنی پھر کرسی کی سمت اشارہ کر کے بولا۔

’’آپ بیٹھے پلیز۔‘‘

’’میں پچھلے آدھے گھنٹے سے بیٹھی ہوں اور میں مزید نہیں بیٹھ سکتی، اگر میرے بیٹھنے کا کوئی فائدہ ہے تو۔۔۔‘‘

’’بی بی! آپ ہتھیلی پر سرسوں جمانے والی بات کیوں کر رہی ہیں۔ آخر ہمیں بھی اوپر جواب دینا ہوتا ہے۔۔۔ ضابطے کی کارروائی بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔‘‘ وہ اس کی بات کاٹ کر انتہائی سرد انداز میں بولا۔ مناہل کو حوالدار کے ’’بی بی‘‘ کہنے پر اتنا غصہ نہیں آیا تھا، جتنا اس شخص کے ’’بی بی‘‘ کہنے پر آیا۔

’’میں ہتھیلی پر سرسوں جمانے کی بات نہیں کر رہی مگر آپ مجھے یہ بتائےے کہ یہ سارا پولیس ڈپارٹمنٹ آخر کس مرض کی دوا ہے۔ آپ لوگ یہاں بیٹھے سارا دن کرتے کیا ہیں؟ لوگوں کے جان و مال کی حفاظت آپ سے ہو نہیں سکتی اور عزت کی حفاظت آپ کر نہیں سکتے۔ میں اتنی دیر سے باہر بیٹھی بکواس کر رہی ہوں کہ مجھے اس عورت سے ملنا ہے۔ وہ ۔۔۔ آپ کا اسٹوپڈ حوالدار کہتا ہے کہ صاحب تفتیش کر رہے ہیں اور یہاں صاحب، فرما رہے ہیں کہ ضابطے کی کارروائی بھی کوئی چیز ہوتی ہے اور۔۔۔ پھر آپ کہتے ہیں آپ کو اوپر بھی جواب دینا ہوتا ہے۔۔۔ کس کو۔۔۔؟ اوپر کون ہے۔۔۔؟ کس سے ڈرتے ہیں آپ۔۔۔۔؟ میرا تو خیال ہے پولیس ڈپارٹمنٹ اللہ سے بھی نہیں ڈرتا۔۔۔‘‘

’’شٹ اپ۔۔۔ کیا سمجھتی ہیں آپ اپنے آپ کو۔۔۔ ونی منڈیلا کی کاربن کاپی۔‘‘

وہ شخص اس کی بات کاٹ کر اتنے غصے سے بولا کہ باہر سے سپاہی بھی بھاگ کر اندر آگیا، پھر صاحب کو ’’موڈ‘‘ میں دیکھ کر فوراً واپس چلا گیا۔ سیف اللہ نے اپنے سامنے پڑی فائل اٹھا کر اس کے سامنے میز پر پٹخی۔

’’یہ کاغذات آپ کی طرف سے پیش کےے گئے ہیں۔ ان پر آج کی تاریخ میں ساڑھے گیارہ بجے سائن کےے گئے تھے۔ اب آپ یہ دیکھےے۔‘‘

اس نے ٹیلی فون سیٹ کا رخ گھما کر اس کی طرف کیا پھر وہ سی ایل آئی کے نمبر پش کرنے لگا۔

’’یہ دیکھےے۔۔۔ بارہ۔۔۔ ساڑھے بارہ۔۔ بارہ چالیس۔۔۔ سوا ایک۔۔۔ ایک اننچاس۔۔۔ دو۔۔۔ پھر اڑھائی۔۔۔ پھر ساڑھے تین۔۔۔ پھر سوا چار۔۔۔ پھر چار پچاس۔۔۔ پھر چھ اکیس۔۔۔ پھر سات۔۔۔ اور سات سے لے کر اب آٹھ چالیس تک ایک درجن سے زیادہ فون آچکے ہیں کہ اس عورت کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑنا۔‘‘

’’اور اب اس پر دیکھےے۔‘‘ اس نے اپنی جیب سے موبائل فون نکال کر اس کے سامنے رکھا۔

’’میرے ذاتی موبائل پر بھی کم و بیش اتنے ہی فون آچکے ہیں کہ ضمانت کے کاغذات آبھی جائیں، تب بھی کم از کم آج کی رات اس عورت کو نہیں چھوڑنا۔ آپ کی پارٹی مضبوط ہے تو ان کی پارٹی بھی کسی سے کم نہیں ہے جس دارالامان میں یہ واقعہ پیش آیا ہے اس دارالامان کو چلانے والی محترمہ ایک ایم این اے کی منظور نظر ہے۔ وہ کسی صورت ملزمہ کو معاف کرنے کے لےے تیار نہیں ہے۔ جب آپ لوگوں نے بیل پیپرز پر دستخط لےے تو ہم لوگ بھی کورٹ کے باہر موجود تھے۔ آپ لوگوں کو پانچ منٹ کی بھی تاخیر ہوجاتی تو ہم مزید ریمانڈ لینے میں کامیاب ہوجاتے لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ ایسا ہوجاتا تو یقینا مجھے خوشی ہوتی کیونکہ یہ حدود کا مقدمہ ہے۔۔۔ غلطی کرنے والے کو سزا ضرور ملنی چاہےے اور کڑی سزا ملنی چاہےے لیکن۔۔۔‘‘

اس نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ دی۔ وہ ذہنی اضطراب کی نہ جانے کون سی حد پر تھا کہ اسے سب کچھ بتائے چلا جارہا تھا۔

’’ہمیں کسی سے ذاتی دشمنی نہیں ہے، ہمیں کسی کو بے وجہ اپنا مہمان بنائے رکھنے کا بھی شوق نہیں ہے۔ لیکن ہم مجبور ہیں کیونکہ یہ معاملہ جن لوگوں کے درمیان ہے، ان کی اپروچ بہت آگے تک ہے۔ ان کی آپس میں دشمنیاں بھی ہیں اور انہیں ایک دوسرے کو مہمان بنائے رکھنے کا بھی شوق ہے۔ آپ کی مسز شہلا قمر اس وقت دارالپناہ کی صفیہ صفدر کے آفس میں موجود معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کے آفس میں اس وقت دو ایم این اے، ایک مشہور سیاسی رکن جو اس وقت حکومت کا حصہ نہیں ہے مگر پھر بھی پاور میں ہے۔ اس کے علاوہ دو مشہور وکیل ہیں۔ وہ سب معاملے کو سلجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی ہدایت کے بغیر میں کوئی حکم کیسے جاری کر سکتا ہوں۔ جب تک ہمیں وہاں سے آرڈر نہیں مل جاتے، ہم کچھ نہیں کر سکتے۔۔۔ ہم آزاد ہیں۔۔۔ مگر ہم آزاد نہیں ہیں۔‘‘

وہ خاموش ہوا تو مناہل کو ایسا لگا جیسے وہ دوبارہ بہت دیر تک بول نہیں سکے گا۔ اس کے چہرے پر سچ مچ ایک عجیب سی تھکن اور پژمردگی نے ڈیرا ڈال لیا تھا۔

’’اس ملک کا قانون اندھا ہی نہیں ہے بلکہ مکمل طور پر اپاہج ہوچکا ہے۔ ہمارے شکنجے میں برائی ہونی چاہےے لیکن ہم خود برائی کے شکنجے میں ہیں۔۔ آپ کے کہنے پر میں تطہیر رحمن کو چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔ آپ مجھے میری نوکری کی ضمانت دیجےے۔‘‘

’’آئی ایم سوری آفیسر! لیکن میں۔۔۔‘‘ مناہل کی خود سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کہے۔ سیف اللہ صاحب اس کوشش و پنج میں دیکھ کر استہزائیہ انداز میں ہنسے۔

’’آپ کو ایکسکیوز کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ شرمندہ ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ دراصل آپ جیسے لوگ جو یونی ورسٹیوں، کالجوں سے پانچ پانچ چھ چھ ماہ پہلے پاس آئوٹ ہو کر آتے ہیں، وہ اسی طرح جذباتی ہوتے ہیں جیسے آپ ہورہی ہیں۔ آپ لوگوں کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ یہ کس قسم کا گورکھ دھندا ہے۔ یہاں انصاف کو کس طرح حاصل کیا جاسکتا ہے؟ کھرا، کھوٹا کیسے ہوجاتا ہے اور کھوٹا کھرا کیسے کیا جاسکتا ہے۔ یہ سب آپ کو اتنی جلدی سمجھ میں نہیں آسکتا۔ آپ مزید دو تین سال اس سسٹم کا حصہ رہیں گی تو آپ کو ہر بات سمجھ میں آجائے گی پھر آپ کسی پولیس آفیسر کے سامنے اس طرح نہیں بھڑکیں گی جس طرح آپ میرے سامنے بھڑک اٹھی تھیں اور پھر آپ کو کسی کے سامنے اس طرح ایکسکیوز نہیں کرنا پڑے گا، جس طرح آپ میرے سامنے کر رہی ہیں۔‘‘

وہ ابھی کچھ کہنا چاہ رہا تھا مگر فون کی گھنٹی نے گفتگو کا تسلسل توڑ ڈالا۔ اس سے پہلے مناہل کا واسطہ کبھی اس قسم کے آفیسر سے نہیں پڑا تھا بلکہ اس کا واسطہ کسی بھی پولیس آفیسر سے نہیں پڑا تھا۔ اس لمحہ وہ اپنے آپ کو سچ مچ چغد محسوس کر رہی تھی۔ وہ فون پر بات کر ہی رہا تھا کہ مناہل کے اپنے موبائل کی بیپ بجی۔ سیف اللہ کے چہرے پر عجب سی مسکراہٹ آگئی۔ اس نے آنکھوں ہی آنکھوں سے مناہل کو اشارہ کیا۔ گویا کہہ رہا ہو۔ ’’دیکھا میں کہہ رہا تھا نا۔‘‘

مسز شہلا قمر فون پر تھیں۔ وہ اسے ضروری ہدایات دے رہی تھیں۔

ان کی ساری باتیں اسے کس قدر الجھا رہی تھیں۔ اس سے پہلے آفس کی طرف سے ایسی ذمہ داریاں اسے نہیں سونپی گئی تھیں۔ فون بند کر کے وہ سیف اللہ کی طرف متوجہ ہوئی۔ وہ اس کے فارغ ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔ اس کے چہرے پر ابھی تک جلی ہوئی مسکراہٹ کی پرچھائیں تھیں۔اس نے دوبارہ مناہل کو نشست سنبھالنے کے لےے اشارہ کیا۔ وہ چپ چاپ کرسی پر بیٹھ گئی تھی۔

’’مبارک ہو۔۔۔ تصفیہ ہوگیا ہے۔‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ ’’کیا آپ جاننا چاہتی ہیں کہ تصفیہ کیسے ہوا؟‘‘

مناہل خاموش رہی۔ اس کا خاموش رہنا ہی بہتر تھا۔ سیف اللہ نے اسے خود ہی بتانا شروع کیا۔ معاملہ کتنے میں طے ہوا؟ پولیس ڈپارٹمنٹ کو کتنا ملا؟ اس کی اپنی جیب میں کتنا گیا؟ پھر اس نے سپاہی کو بلا کر مطلوبہ لڑکی کو بلانے کو کہا۔

اس کے بعد اس نے فائل نکال کر اس کا سر سری جائزہ لیا پھر ایک نظر مناہل کو دیکھا پھر دوبارہ فائل پر نظر ڈالی۔ اس کے بعد اس نے دیکھتے ہی دیکھتے فائل کے ٹکڑے کر ڈالے تھے۔

’’یہ ہے ایک اسلامی ملک اور یہ ہے اس اسلامی ملک کا قانون۔‘‘

وہ ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا لیکن مناہل نظر اٹھا کر اسے دیکھنے کے بھی قابل نہیں تھی۔

٭٭٭

’’میر انام مناہل ہے۔۔۔ مناہل مرتضیٰ۔‘‘ کار پورچ سے لائونج میں داخل ہوتے ہوئے وہ اس کی طرف دیکھ کر مسکرائی تھی۔ مسز شہلا قمر کا ڈرائیور ان دونوں کو یہاں ڈراپ کر گیا تھا۔ ان ہی کے کہنے پر ڈرائیور کی موجودگی میں اس نے تطہیر رحمن کو مخاطب کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اس نے گھر کے گیٹ سے اندر داخل ہونے کے بعد خود کو متعارف کروایا۔ تطہیر نے اسے مخاطب کرنے یا مسکرانے کی کوشش بھی نہیں کی تھی۔ وہ سر سے پیر تک بھورے رنگ کی ملگجی سی چادر میں ملفوف تھی۔

’’یہ میرا گھر ہے۔ جب تک آپ کی رہائش کا کہیں اور بندوبست نہیں ہوجاتا، آپ یہاں میرے ساتھ رہیں گی۔‘‘

لائونج میں داخل ہو کر مناہل نے اس کا تفصیلی جائزہ لیا۔ فی الحال وہ اس کے بارے میں کوئی بھی رائے قائم نہ کر سکی۔ اس کا حلیہ میلا میلا سا تھا۔ شاید اس نے بہت دن سے منہ بھی نہیں دھویا تھا۔ مناہل اسے لے کر سیڑھیاں چڑھنے لگی۔

’’یہاں آپ اطمینان سے رہےے، کوئی آپ کو ڈسٹرب نہیں کرے گا۔ اس گھر میں میرے اور میری پھوپھو کے علاوہ صرف ملازم ہیں اور ملازم آپ کی مرضی کے بغیر آپ کومخاطب کرنے کی کوشش بھی نہیں کریں گے۔‘‘

’’آپ کو بھوک لگی ہوگی؟ آپ فریش ہوجائو، میں کھانا لاتی ہوں۔‘‘

اب اس کا رخ اپنے کمرے کی طرف تھا۔ تطہیر کے لےے کپڑے نکال کر بیڈ پر رکھے پھر سیڑھیاں اتر کر لائونج میں آگئی۔ کن انکھیوں سے پھوپھو کے کمرے کی طرف دیکھتے ہوئے وہ کچن میں آگئی۔ پھوپھو کو وہ یہ بتا کر گئی تھی کہ صفوان کے ساتھ ڈنر کے لےے جارہی ہے، اس لےے اس درجہ احتیاط برتنا پڑ رہی تھی۔ ملازمہ سے بھی کھانے کے لےے کہہ نہیں سکتی تھی۔ وہ خود ہی ٹرے میں چیزیں رکھنے لگی۔

’’باجی! آپ کھانا کھا ئو گے؟‘‘ پروین نے اس کے پیچھے سے آکر لمحہ بھر کو ڈرا دیا تھا۔ وہ ان کے چوکیدار کی بیوی تھی اور پھوپھو کے سوجانے تک ان کے پاس ہی بیٹھی ہوتی تھی۔

’’پھوپھو سوگئیں؟‘‘ اس نے پروین کی بات کا جواب دےے بغیر استفسار کیا۔

’’ہاں جی!‘‘ اس کا تحیُر دور نہیں ہوا تھا۔ وہ ’’باجی‘‘ کے خاص الخاص ڈنر اور اس کی تمام تیاریوں سے بخوبی واقف تھی۔

’’کھانا گرم کر کے گیلری والے کمرے میں لے آئو۔‘‘ پھوپھو کے سوجانے کا سن کر وہ کافی مطمئن ہوگئی تھی۔ انہیں اگر پتا چل جاتا کہ ان کی بھتیجی پولیس اسٹیشن سے ہو کر آئی ہے تو وہ اس سے کچھ نہیں کہتیں مگر جدہ فون کر کے ساری رام کہانی کو دو سے دو مرتبہ ضرب دے کر اس کے والدین کو سنا دیتیں اور اسی چیز سے مناہل بچنا چاہتی تھی، سو محتاط رہنا لازم تھا۔

’’ہائیں باجی۔۔۔! گیلری والے کمرے میں؟‘‘ پروین کی باتیں اس کا موڈ خراب کرنے کے لےے کافی تھیں اور یوں بھی اسے وہ ڈنریاد آرہا تھا جو ناگزیر وجوہات کی بنا پر مؤخر ہوگیا تھا۔ وہ پروین کی بات کا جواب دےے بغیر دوبارہ سے سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے تک آگئی۔ کپڑے اٹھا کر اس نے اس کمرے کا رخ کیا جہاں تطہیر رحمن تھی۔ وہ منہ ہاتھ دھو چکی تھی اور بستر پر ٹانگیں پھیلائے بیٹھی تھی۔ اسے دیکھ کر اس نے فورا ً ٹانگیں سمیٹ لیں۔

’’یہ کپڑے بھی تبدیل کرلو۔‘‘ مناہل نے بے تکلفی سے کہتے ہوئے کپڑے بستر پر رکھ دےے۔ وہ کن انکھیوں سے اس کا جائزہ بھی لے رہی تھی اور اس کے لےے مناسب سا ٹائٹل بھی سوچ رہی تھی۔

’’عام۔۔۔ بہت عام۔۔۔ عام سے بھی عام لڑکی۔‘‘

اس نے دل ہی دل میں خود سے کہا تھا۔ چند لمحوں بعد پروین کھانا لے کر آئی تو تطہیر کو دیکھ کر اس کی آنکھیں مزید پھیل گئیں، مگر مناہل کے چہرے پر پھیلی سختی دیکھ کر وہ خاموشی سے باہر چلی گئی۔ مناہل نے ٹرے تطہیر کی طرف بڑھادی پھر اسے جھجکتا دیکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی۔

’’آپ کھانا کھائو۔۔۔ میں چلتی ہوں۔‘‘ وہ دروازے کی سمت آئی پھر کچھ یاد آجانے پر مڑی۔

’’کمرے میں لحاف موجود ہے، لیکن اگر اور لحاف چاہےے ہو تو اس کیبنٹ میں موجود ہے۔‘‘

اس نے الماری کے نیچے بنے کیبنٹ کی طرف اشارہ کیا۔

روم ہیٹر وہ پہلے ہی آن کر چکی تھی جس کی بدولت کمرے کا خنک ماحول کسی حد تک گرم ہوچکا تھا۔ اپنی طرف سے اچھے میزبان کی تمام ذ مہ داری نباہ کر وہ جانے لگی جب تطہیر نے اسے پہلی مرتبہ پکارا۔ اس کی آواز بہت خوب صورت تھی۔۔۔ نرم ملائم احساس لےے ہوئے۔

’’ مجھے جائے نماز چاہےے۔‘‘

مناہل نے آنکھیں سکیڑ کر حیرت سے اسے دیکھا۔ اس کے چہرے پر تطہیر کا جھکا ہوا سر دیکھ کر استہزائیہ سی مسکراہٹ آگئی۔

’’خاتون کافی زیادہ ذہین واقع ہوئی ہیں۔ ایک نہایت مشرکانہ حرکت کے لےے کی جانے والی ایک نہایت مسلمانہ کوشش۔‘

٭٭٭

’’اللہ جی! پلیز۔۔۔ پلیز اللہ جی۔‘‘ مصلُے پہ بیٹھی وہ آنکھیں بند کےے بہت دیر سے ایک ہی دعا کرنے میں مصروف تھی۔ منہ سے صرف وہ اللہ کو پکارتی تھی اور باقی دعا دل میں کر رہی تھی۔ آج اس کا رزلٹ انائونس ہونے والا تھا، اس کی اس رزلٹ سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں۔ وہ اس رزلٹ کو لے کر بہت آگے جانے کے خواب دیکھ رہی تھی۔ اس کا رزلٹ اچھا ہوتا تو وہ اپنے امی ابو پر ثابت کر سکتی تھی کہ وہ اتنی بے کار نہیں ہے، جتنا وہ اسے سمجھتے ہیں۔

’’میں نے آپ سے کبھی کچھ نہیں مانگا اور اگر کبھی مانگا تو آپ نے مجھے دیا نہیں لیکن میں کوئی شکوہ نہیں کروں گی۔۔۔ اللہ ۔۔۔میرے پیارے اللہ ۔۔۔۔ مجھے کوئی شکایت نہیں ہے۔۔۔ بس آپ مجھے بہت اچھے نمبرز دے دیجےے گا۔۔۔ مجھے اے گریڈ چاہےے۔۔۔ پلیز میرے اللہ!‘‘

وہ آگے پیچھے ہلتے ہوئے دعا مانگ رہی تھی۔ خرم اس کا اور عبیر کا رزلٹ معلوم کرنے کے لےے قریبی اسٹال تک گیا تھا۔ عبیر اس سے چھوٹی تھی مگر وہ دونوں ہم جماعت تھیں۔ کیونکہ میٹرک میں بَرا گریڈ لانے کے باعث اس کی پڑھائی ختم کروا دی گئی تھی۔ اس کے امی ابو نے اتنے برے نتیجے کی ساری ذمہ داری اس پر ڈال دی تھی۔ اس کی امی بھول گئی تھیں کہ وہ امتحانات میں روٹین سے دوگنا کام کرواتی تھیں۔ اس کے ابو بھول گئے تھے کہ امتحان سے کچھ دن قبل انہوں نے اس پر بے جا شک کرتے ہوئے اس کو روئی کی طرح دھنک ڈالا تھا۔ انہیں یاد رہا تھا تو یہ کہ وہ ان کے کسی گناہ کی سزا ہے اور وہ صرف اس لےے پیدا کی گئی ہے کہ ان کی ٹینشن میں ہر آنے والے دن کے ساتھ اضافہ کر سکے۔ اس نے پڑھائی چھڑوائے جانے پر کوئی شکوہ نہیں کیا تھا، کیونکہ وہ خود بھی اتنے برے رزلٹ سے دلبرداشتہ ہوگئی تھی۔ اسے لگا تھا کہ وہ زندگی میں کبھی بھی کچھ نہیں کرپائے گی۔

اس کے بعد اس نے دو سال گھر میں فارغ ہی گزار دےے تھے۔ دادو جی اسے دیکھ کر کڑھا کرتی تھیں کیونکہ اس کی زندگی میں کھانے پکانے، کپڑے دھونے اور اسی طرح کے دوسرے کاموں کے علاوہ کوئی اور دلچسپی تھی ہی نہیں۔

اسی ساری صورت حال سے تنگ آکر دادو جی نے اپنی کسی جاننے والی کے مشورے سے اسے کچھ کتابیں لادی تھیں۔ وہ کتابیں نصاب کی کتابوں سے مختلف تھیں اور اسی لےے ٹین ایج سے نکلتی ہوئی کسی بھی لڑکی کے لےے ان کتابوں میں سیکھنے کے لےے بہت کچھ تھا۔ شروع میں وہ اتنی دلچسپی سے نہیں پڑھ رہی تھی مگر پھر نسیم حجازی کی داستانوں اور ڈپٹی نذیر احمد کے ناولز میں کچھ کچھ دلچسپی ہونے لگی تھی۔

اس کی پسند کو مد نظر رکھتے ہوئے دادو جی نے محلے میں رہنے والی ایک پڑھی لکھی خاتون سے مشورہ کر کے اس کے لےے کچھ اور کتابیں خریدی تھیں۔ یہ کتابیں اسے پہلی کتابوں کی نسبت زیادہ پسند آئی تھیں۔ خواتین مصنُفین کا لکھا ہو اپڑھنے میں زیادہ مزا آتا تھا اور ایک بات جو اس نے ان کتابوں سے سیکھی، وہ یہ تھی کہ برا وقت ایک دن اختتام کو ضرور پہنچتا ہے اور برائی ختم ہو کر رہتی ہے ۔ اس نے سیکھا کہ ہر انسان میں کوئی نہ کوئی خصوصیت ضرور ہوتی ہے اور یہی خصوصیت اسے انعام دلوانے کا باعث بنتی ہے۔ اس کو اسی انعام کا انتظار تھا۔ اس کی امید جو ختم ہوگئی تھی، ایک بار پھر سے بے دار ہونے لگی۔ اسے احساس ہوا تھا کہ زمانے کے ساتھ چلنے کے لےے تعلیم کا ہونا کتنا ضروری ہے۔ پڑھائی چھوڑنے کے دو سال بعد اسے اچانک پھر سے پڑھائی میں دلچسپی پیدا ہونا شروع ہوئی تھی۔

اس نے تقریباً ہر ناول میں ایک مشترک بات دیکھی تھی ، وہPoetic Justice تھی، اس کی عمر خواب دیکھنے کی تھی اور خواب دیکھنے پر اس کے والدین پہرہ نہیں لگا سکتے تھے۔

اس Poetic Justice نے اس کے خوابوں کو نئی راہ دکھائی تھی۔ اسے اپنے خوابوں کی تعبیر اپنے ہاتھ میں دکھائی دینے لگی تھی۔

’’جب سب کے ساتھ اچھا ہوسکتا ہے تو میرے ساتھ کیوں نہیں۔‘‘

یہی سوچ کر اس نے پرائیویٹ ایف اے کرنے کا ارادہ کیا تھا، تب اس سے دو سال چھوٹی عبیر بھی اسکول سے پاس آئوٹ ہوچکی تھی۔ اس کے نہایت شاندار نمبروں کی بدولت اس کا ایڈمیشن کینرڈ کالج میں ہوا تھا۔ وہ اپنی چھوٹی بہن جیسی قابل اور ذہین نہیں تھی مگر اتنی کند ذہن بھی نہیں تھی کہ ایف اے نہ کر پاتی۔ اس نے بھی نہایت ذوق و شوق سے گھر میں ہی پـڑھائی کا دوبارہ آغاز کیا تھا۔ دادو جی کی دعائیں اور استانی جی کی رہنمائی قدم بہ قدم اس کے ساتھ تھی۔

سارا دن گھر کے کاموں کی مشقت کے بعد وہ جب کتابیں کھولتی تھی تو مشکل نصاب اسے الجھانے لگتاتھا مگر دل میں چھپی کوئی ایک ادھ ننھی کرن اسے ثابت قدم رہنے کی تلقین کرتی، اسے حوصلہ دیتی محسوس ہوتی۔ کتابوں اور داخلوں کے لےے روپے اسے دادو جی نے دےے تھے۔ اس نے داخلہ بھجوانے کے بعد بہت یکسوئی سے پڑھنا شروع کیا تھا۔ وہ راتیں اس کے لےے بہت تھکا دینے والی تھیں۔

اس نے وہ سب کیسے کیا تھا، صرف وہی سمجھ سکتی تھی اور اس کے بعد وہ رزلٹ آجانے تک بہت خشوع و خضوع سے دعا مانگتی رہی تھی، لیکن ہر بار کی طرح اس کی یہ دعائیں بھی قبول نہیں ہوئی تھیں، وہ فیل تھی اور عبیر نے اس بار بھی بہت شاندار نمبر لےے تھے۔

خرم نے جب آکر اس کا رزلٹ بتایا تو اسے لگا تھا جیسے وہ مر گئی ہے۔ امتحان میں ناکام ہوجانا اتنی بڑی بات نہیں ہوتی لیکن جس انسان کے لےے امتحان میں کامیاب ہوجاناہی زندگی ہو، اس کے لےے یہ ناکامی بہت بڑی بات تھی۔ وہ زار و قطار رونے لگی تھی۔ اس کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ روتے روتے وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوگئی تھی پھر اس نے جھک کر نیچے بچھی ہوئی جائے نماز کھینچ کر دور پھینک دی۔ اس کی اہمیت و حیثیت کیا تھی؟ شاید کچھ بھی نہیں تو پھر وہ کیوں پیدا کی گئی تھی۔ یہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔ یہ رات بھی اس کے لےے بہت تکلیف دہ تھی۔

کچھ سال قبل ابو نے ایک غلط فہمی کی بنا پر تشدُد کا نشانہ بنایا تھا۔ وہ اس کی غلطی کی سزا دے رہے تھے۔ اس رات اس نے جتنی تکلیف محسوس کی تھی، رزلٹ والی رات بھی وہ بالکل ویسی ہی تکلیف محسوس کر رہی تھی۔ وہ درد سے گزر رہی تھی اور اس درد کا کوئی مداوا نہیں تھا۔ اس رات بھی اس نے دادو جی کی گود میں بلک بلک کر بہت شکوے کےے تھے اور اس رات بھی دادو جی اسے تسلی دینے میں ناکام رہی تھیں۔ امی اور عبیر کے قہقہے ان کا خون جلا رہے تھے۔

’’میں صابن کی ٹکیہ کی طرح ہوں۔۔۔ مجھے گھل گھل کر ختم ہوجانے کے لےے پیدا کیا گیا ہے۔۔۔ جیسے صابن جسم کی غلاظت صاف کرتا ہے۔۔۔ میں اس گھر کی بدقسمتی صاف کر رہی ہوں۔۔۔ میری زندگی میں آنے والا ہر دکھ۔۔۔ ان کی زندگی کے سکھ میں اضافہ کرتا جارہا ہے۔‘‘ وہ دادو جی کی گود میں سر دےے شکوہ کرتی رہی۔

٭٭٭

’’تم ہمیشہ سے ایک خوش قسمت لڑکی رہی ہو مناہل۔‘‘

’’اچھا۔۔۔ کیسے۔۔۔؟‘‘ ماریہ کی بات پر مناہل مسکرا کر مصنوعی تحیُر سے بولی۔ وہ دونوں کافی دیر سے سڑکوں پر آوارہ گردی کر رہی تھیں۔ ماریہ اپنی خالہ کے پاس پیرس رہ کر آئی تھی اور اب اس کے پاس مناہل کو سنانے کے لےے بہت دلچسپ قصے تھے مگر مناہل نے اس کی کہانیاں سن کر کوئی خاص رپسانس نہیں دیا تھا اور اس کی یہی ادا اس کی بچپن کی سہیلی کو چڑا رہی تھی، تب اس نے جل کر یہ کہا۔

’’کیونکہ۔۔۔ میرے جیسی شاندار لڑکی تمہاری دوست ہے۔‘‘

’’میں تمہاری بات سے اس صورت انکار کرتی اگر ڈنر کا بل مجھے پے کرنا ہوتا۔ اب چونکہ بل تم پے کرنے والی ہو، اس لےے مجھے تمہاری ہر بات سے اتفاق ہے۔‘‘

’’تم خاصی چالاک ہو۔‘‘ ماریہ نے جل کر کہا۔ اور وہ دونوں ہی ہنس دی تھیں۔

’’خوش قسمت ہو یار! تب ہی تو صفوان جیسا شاندار شخص ملا ہے تمہیں۔‘‘ ماریہ نے رشک سے کہا۔

’’صفوان زیادہ خوش قسمت ہے۔‘‘ مناہل نے مسکرا کر کہا۔

’’ٹھیک۔۔۔ ٹھیک۔۔۔ ٹھیک۔۔۔‘‘ وہ سر ہلا کر بولی۔

’’ویسے چالاک تو تمہاری ساس ہیں۔ بیٹا فون کر کے انوائٹ کرتا ہے اور وہ ایک منٹ میں سب دی اینڈ کر دیتی ہیں۔‘‘

ایک ہفتہ پرانی بات مناہل نے ماریہ کو فون پر بتائی تھی۔

’’وہ تو ایک پرابلم ہوگیا تھا، اسی وجہ سے انہیں یہ سب کرنا پڑا، ورنہ تم جانتی ہو، وہ کتنی نائس خاتون ہیں۔‘‘

ماریہ اس کی بات پر خاموش رہی۔ اس کو مسز شہلا قمر کچھ خاص بھاتی نہیں تھیں۔

’’انہوں نے بعد میں مجھ سے ایکسکیوز بھی کیا تھا اور وہ چاہ رہی تھیں کہ میں اور صفوان اگلے ہی دن ان کی طرف سے ڈنر کریں مگر صفوان نیکسٹ ڈے OT میں مصروف تھا پھر اگلے دن وہ ڈھاکہ چلا گیا۔‘‘

’’ڈھاکہ۔۔۔؟ خیریت؟‘‘ ماریہ اس بارے میں لا علم تھی۔

’’WHO نے تیسری دنیا کے ممالک کے Cosmopolitan Cities میں شور کی آلودگی کے باعث پیدا ہونے والی دماغی بیماریوں کی روک تھام کے لےے چند نئے تحقیقی مراکز قائم کےے ہیں۔ اس سلسلے میں کوئی کانفرنس اورسیمینار وغیرہ تھا۔ وہ اٹینڈ کرنے گیا ہے۔‘‘

’’تم نے صفوان سے اپنے پولیس اسٹیشن والے ایڈونچر کا ذکر کیا؟‘‘ ماریہ نے ونڈ اسکرین سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ اسے مناہل کا یہ اقدام پسند نہیں آیا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ جب اس کے والدین کو یہ بات پتا چلے گی تو انہیں اچھا نہیں لگے گا۔

’’پاگل ہوگئی ہو۔ آنٹی نے خاص طور سے منع کیا تھا کہ یہ بات کسی کو مت بتانا، نامناسب لگتا ہے۔ میں نے پھوپھو سے یہی کہا تھا کہ صفوان کے ساتھ جارہی ہوں۔ اگر انہیں یہ بات پتا چل جاتی تو وہ مجھے اسی وقت قتل کر دیتیں۔‘‘ وہ بولی۔

’’انہوں نے تمہارے ساتھ اس لڑکی کو دیکھ کر کچھ نہیں کہا۔۔۔ کوئی سوال نہیں کیا؟‘‘ ماریہ نے حیرت سے پوچھا۔

’’ان کی ملاقات اس سے اگلے دن صبح کے وقت ہوئی تھی مگر میں نے انہیں مطمئن کر دیا کہ وہ میری ایک فرینڈ کی واقف کار ہے، کچھ دن میرے پاس رہے گی پھر چلی جائے گی۔ ویسے بھی ان کے درمیان زیادہ تفصیل سے گفتگو نہیں ہوتی۔ تطہیر زیادہ وقت اپنے کمرے میں رہتی ہے۔ پھوپھو سے اس کا سامنا کم ہی ہوتا ہے۔‘‘

’’تطہیر۔۔۔ نام کتنا خوب صورت ہے۔۔۔ خود کیسی ہے؟‘‘ ماریہ کے انداز سے دلچسپی ہویدا تھی۔

’’ویسی ہی ہے جیسی عام لڑکیاں ہوتی ہیں۔۔۔ عام سا رنگ۔۔۔ عام سا قد۔۔۔ عام سا حلیہ۔۔۔ عام سا اندازِ گفتگو۔۔ عام سی سوچ۔۔۔ عام سی ذہنی اپروچ۔‘‘

وہ اپنے شولڈر بیگ سے چیونگم نکال کر ریپر کھولتے ہوئے بولی۔

’’لڑکی تو عام سی ہے مگر جو حرکت اس نے کی ہے، وہ عام سی نہیں ہے۔‘‘ ماریہ نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔

’’سارا معاشرہ ہی اس قسم کے لوگوں سے بھرا ہے۔ فرسٹریشن اس قدر بڑھ چکا ہے کہ لوگ توجہ حاصل کرنے کے لےے ایسے اوچھے ہتھکنڈے آزمانے لگے ہیں۔ ہر شخص لائم لائٹ میں آنا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لےے وہ ہر حد پار کرنے کو تیار ہے۔‘‘ چیونگم منہ میں ڈال کر وہ لاپروائی سے بولی۔

’’توجہ حاصل کرنے کے لےے، تمہارے خیال میں یہ لڑکی توجہ حاصل کرنے کے لےے۔‘‘ ماریہ نے مزید تحیر میں مبتلا ہوتے ہوئے کہا۔

’’میں کوئی حتمی رائے نہیں دے رہی، صرف اپنا خیال ظاہر کر رہی ہوں۔‘‘ مناہل کو اس ساری بحث سے اکتاہٹ ہونے لگی تھی۔

’’میرا خیال ہے تم ٹھیک کہہ رہی ہو، تمہاری ساس نے بھی تو خدا ترسی کا عظیم مظاہرہ کیا ہے، اس لڑکی کو اتنا اسپیشل پروٹوکول دے کر، اس کے بارے میں کیا کہتی ہو۔‘‘ اس کی کوشش کامیاب رہی۔ مناہل چڑ گئی۔

’’وہ ایسی خدا ترسی کرتی رہتی ہیں۔۔۔ ایسی ضرورت مند لڑکیاں روز ہی دیکھتی ہیں وہ۔۔۔ ان کے لےے یہ نئی بات نہیں ہے۔‘‘

’’تم نے اس لڑکی سے پوچھا، کیوں کیا اس نے یہ سب۔‘‘ ماریہ کو تطہیر میں زیادہ دلچسپی محسوس ہورہی تھی۔

’’پلیز ماریہ۔۔۔ بند کرو یہ انٹرویو۔۔۔ اتنے سوالات تو میرے کولیگز بھی نہیں کرتے، حالانکہ ہمارا واسطہ روز ہی ایسے لوگو ں سے پڑتا ہے۔‘‘

وہ ٹھیک ٹھاک زچ ہوگئی تھی۔

٭٭٭

’’مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔‘‘ وہ مناہل کے سامنے بیٹھی کہہ رہی تھی۔ اس تمام عرصہ میں شاید اس نے اس طرح سے پہلی بار کوئی بات کی تھی۔

’’موسٹ ویلکم تطہیر۔‘‘ اس نے بے تکلفی پیدا کرنے کے لےے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔ مناہل کا دودھیا مخروطی، خوب صورت کیوٹکس سے سجا ہاتھ اس کے سانولے ہاتھ پہ دھرا اور بھی خوب صورت لگنے لگا۔ تطہیر نے بہت آہستگی سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ کے نیچے سے نکال لیا اور پھر اپنی چادر میں چھپانے کی کوشش کرنے لگی۔ مناہل نے اس کی اس حرکت کو محسوس بھی نہیں کیا تھا۔

’’میں آپ سے یہ نہیں پوچھتی کہ آپ مجھے یہاں، اپنے گھر میں کیوں لائی ہیں مگر۔۔۔ میں آپ کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ میں اس۔۔۔ مہربانی کی مستحق نہیں ہوں۔۔۔ میں ان سب چیزوں کی حق دار نہیں ہوں جو آپ مجھے دے رہی ہیں۔‘‘

وہ لمحہ بھر کو خاموش ہوئی پھر مزید سر جھکا کر بولی۔

’’آپ کو اگر کچھ دن بعد۔۔۔ اس ساری مہربانی کے لےے۔۔۔ میرا مطلب ہے۔۔۔ میں۔۔۔ میرے پاس کچھ نہیں ہے۔۔۔ میں آپ کو ان سب کے بدلے میں کچھ بھی نہیں دے سکتی۔۔۔ میں آج، کل یا پرسوں یا پھر ایک سال بعد کبھی بھی اس قابل نہیں ہوسکوں گی کہ آپ کی اس مہربانی کے بدلے شکریہ کے علاوہ کچھ اور دے سکوں۔ آپ نے مجھ پر احسان کیا ہے۔۔۔ میں اس احسان کو یاد رکھنے کی کوشش کروں گی۔۔۔ مگر۔۔۔ میں ایک بے کار عورت ہوں۔‘‘

اس کی آواز دھیمی اور سر جھکا ہوا تھا مگرآواز پر کوئی جذبہ غالب نہیں تھا۔

وہ ایسے بات کر رہی تھی جیسے کسی اور کے بارے میں بات کر رہی ہو۔ مناہل کو اس قسم کے ڈائیلاگز کچھ خاص بھاتے نہیں تھے۔ وہ تقدیر کی مہربانی سے مالا مال لڑکی تھی۔ وہ تطہیر رحمن کی پرابلمز کو صرف سن سکتی تھی۔ اس کا دل حساس تھا مگر اتنا نہیں کہ وہ تطہیر رحمن کی بات سن کر تڑپ اٹھتا۔ البتہ تطہیر سے ہمدردی ضرور محسوس ہوئی تھی۔

’’کس قسم کی باتیں کر رہی ہو تطہیر! کیا کیا سوچتی رہتی ہو‘‘ وہ اس کی ہم عمر لگتی تھی لیکن تطہیر رحمن عورت تھی اور مناہل مرتضیٰ لڑکی۔۔۔ تقدیر کا ہر پھیر تھا یا لفظوں کا، کسے خبر۔

’’میں خود چاہ رہی تھی کہ تم اس موضوع پر بات کرو، تمہیں اپنے بارے میں سوچنا چاہےے اور اگر تم کسی مقدمے وغیرہ سے ڈر رہی ہو تو اس ڈر کو دل سے نکال دو۔ تم سے یہاں اس گھر میں کوئی بھی کوئی سوال نہیں کرے گا۔ سب لوگوں کو میں مطمئن کر چکی ہوں۔‘‘ مناہل نے بات کرتے ہوئے اسے دیکھا پھر توقف سے بولی۔

’’پڑھی لکھی ہو؟‘‘

’’جی۔۔۔ ایف اے کیا ہے۔‘‘ تطہیر کے جواب پر مناہل کو حیرت ہوئی۔

’’آپ مجھے کوئی کام دلوا سکتی ہےں؟‘‘ تطہیر نے اسے خاموش دیکھ کر کہا۔

’’ہاں، کیوں نہیں۔ میں تمہیں۔۔۔‘‘

’’آپ اجازت دیں تو میں آپ کے گھر کے کام کاج کر دیا کروں؟‘‘

وہ اس کی بات کاٹ کر بولی۔ مناہل کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا جواب دے۔ وہ مسز شہلا قمر سے بات کےے بغیر تطہیر کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی تھی۔

مسز شہلا قمر کو ایک ضروری کام کے لےے امریکہ جانا تھا۔ وہ تطہیر کے بارے میں وہاں سے آنے کے بعد کوئی فیصلہ کرنا چاہتی تھیں۔ انہوں نے مناہل سے درخواست کی تھی کہ وہ تطہیر کو مزید دس پندرہ دن کے لےے اپنے گھر میں ٹھہرا لے۔ مناہل اپنے والدین کے واپس آجانے تک بہت آرام سے اس کو اپنے گھر میں ٹھہر اسکتی تھی۔

’’مسلمان ہوں۔۔۔ بخدا میں مسلمان ہوں۔‘‘ تطہیر نے اس کی ہچکچاہٹ کو کوئی اور معنی پہنادےے۔ مناہل سمجھ گئی تھی کہ وہ اپنی حرکت کی وجہ سے شرمندہ ہو کر اس طرح کہہ رہی ہے۔ اس نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

’’میں جانتی ہوں، تم مسلمان ہو اور تم اس گھر میں سب کام اطمینان سے کر سکتی ہو، تم اپنی اس حرکت کے لےے شرمندہ ہو، یہی کافی ہے۔۔۔ غلطی انسان سے ہی ہوتی ہے۔‘‘ تطہیر نے جھٹکے سے سر اٹھایا تھا۔

’’میں نے کوئی غلطی نہیں کی اور میں کسی چیز کے لےے شرمندہ بھی نہیں ہوں۔‘‘ وہ تڑخ کر بولی تھی۔ مناہل حیرت سے اسے دیکھتی رہ گئی۔ اتنی ہٹ دھرمی کی توقع نہیں تھی۔ تطہیر اس سے اجازت لینے آئی تھی، لے کر چلی گئی جبکہ وہ اپنے کمرے میں بیٹھی کافی دیر تک اس صورت حال کے بارے میں سوچتی رہی۔ اسے حیرت ہورہی تھی کہ مسز شہلا قمر جیسی خاتون تطہیر رحمن کو پہچاننے میں غلطی کیسے کر سکتی ہیں۔ وہ اسے جتنی اہمیت دے رہی تھیں، وہ قطعاً اس کی مستحق نہیں تھی۔

اگلے چند روز میں اس نے تطہیر کو گھر کے کاموں میں دلچسپی لیتے دیکھا۔ وہ حقیقتاً سگھڑ واقع ہوئی تھی۔ اس کے ہاتھ میں ذائقہ تھا۔ پھوپھو کو اس کے ہاتھ کا پکا کھانا پسند آیا تھا۔ پروین کو ایک مددگار مل گئی تھی، اس لےے وہ بھی کافی خوش تھی۔ اسے صرف اس بات کا اعتراض تھا کہ تطہیر اس سے زیادہ بات چیت کیوں نہیں کرتی۔ اس سے اپنے دکھ سکھ کیوں نہیں کہتی جبکہ پھوپھو کو اس کی ٹینٹ نما چادر سے الجھن ہوتی تھی۔ وہ ہمہ وقت چادر لےے رکھتی تھی اور وہ ان سے بچنے اور احتراز برتنے کی کوشش بھی کرتی تھی۔ کبھی کبھار اس کا رویہ ایسا ہوجاتا جیسے وہ اس گھر میں رہنے والی اکیلی عورت ہے اور بہت سے مردوں کے بیچ میں پھنس گئی ہے۔ وہ کچھ زیادہ ہی احتیاط پسند تھی، حالانکہ اس گھر میں ملازم مرد گنتی میں صرف دو تھے اور وہ بھی گھر کے اندر زیادہ نہیں آتے تھے، اسی لےے تطہیر کی اس درجہ احتیاط عجیب لگتی تھی۔

مناہل کو اس سے کوئی شکایت نہیں تھی۔ وہ بس مسز قمر کا انتظار کر رہی تھی۔ انہیں امریکہ گئے بہت دن ہوگئے تھے، نہ جانے کیا وجہ تھی کہ ان کا قیام وہاں طویل ہورہا تھا۔ مناہل کو ان سے تطہیر کے متعلق بہت سی باتیں معلوم کرنا تھیں کیونکہ وہ اپنے منہ سے ابھی بھی کچھ بتانے کو تیار نہیں تھی۔

٭٭٭

’’وہ کہتا ہے، یہ گھر اس کا ہے۔۔۔ وہ اس گھر کا سربراہ ہے۔ وہ کہتا ہے، وہ میرے ساتھ جس طرح کا سلوک کرنا چاہتا ہے کر سکتا ہے۔ وہ کہتا ہے، اسے میری بے عزتی کا اتنا ہی حق ہے جتنا ابو کو تھا۔۔۔ وہ کہتا ہے، وہ۔۔۔ وہ میرا بھائی نہیں ہے۔۔۔۔ وہ کہتا ہے۔۔۔ میں اس کے لےے ہمیشہ سوتیلی ہی رہوں گی۔‘‘

وہ یہ سب کہتے ہوئے رو نہیں رہی تھی، لیکن اس کے گرد نادیدہ اٰن بہے آنسوئوں کا ہالہ صاف محسوس کیا جاسکتا تھا۔ آج بھی اس کو سننے کے لےے کمرے کی تنہائی کے علاوہ دادو جی موجود تھیں۔ وہ چاہتے ہوئے بھی اس کے سوالوں کا جواب نہیں دے پاتی تھیں۔ آج سے پہلے وہ اپنے امی ابو کی زیادتی کی وجہ سے روتی رہی تھی، مگر آج وہ اپنے سوتیلے بھائی کی زیادتی کی وجہ سے رو رہی تھی۔ ابو کے انتقال کو بمشکل چالیس دن گزرے تھے اور ان چالیس دنوں میں وہ چالیس ہزار مرتبہ خرم کے روےُے پر حیران ہوئی تھی۔

ابو کے انتقال کے اتنے قلیل عرصہ بعد ہی خرم کو اپنی اس سوتیلی بہن کا وجود اس بری طرح کھٹکنے لگا تھا کہ وہ اسے جلد سے جلد اس گھر سے رخصت کردینا چاہتا تھا اور اس نے اپنی سوتیلی بہن کے لےے اپنے اکتالیس سالہ ماموں کو پسند کیا تھا۔ وہ پہلے سے شادی شدہ تھا۔ اس کے پانچ بچے بھی تھے اور اس کی بیوی ناگزیر وجوہات کی بنا پر اسے چھوڑ کر چلی گئی تھی۔

’’آپی! تم ان بچوں کے درد کو سمجھ سکتی ہو، انہیں ماں کی ضرورت ہے، تم انہیں حقیقی ماں کاپیار دے سکتی ہو، یہ بہت ثواب کا کام ہے آپی! بن ماں کے بچے ہیں، آپ کو بہت دعائیں دیں گے۔‘‘

خرم نے بات کا آغاز ہی یہ کہہ کر کیا تھا۔ وہ اس کی شکل دیکھتی رہ گئی تھی۔ اگر وہ جانتا تھا کہ بن ماں کے بچے پالنا ثواب کا کام ہے تو اس نے یہ بات آج تک اپنی ماں کو کیوں نہیں بتائی تھی۔ وہ یہ بات صرف اسے کیوں بتا رہا تھا۔

’’آپی! گھر کے حالات تمہارے سامنے ہیں۔۔۔ ابو کے بعد میں اپنے آپ کو بہت سی ذمہ داریاں اٹھانے کے قابل نہیں سمجھتا۔ عبیر کے متعلق تم جانتی ہو کہ وہ ابھی پڑھ رہی ہے، اس کا ابھی شادی کا ارادہ نہیں ہے اور پھر اس کے لےے تو بہت سے پروپوزل ہیں۔‘‘

وہ سچ مچ اسے حیران کر دینے کے موڈ میں تھا۔ وہ جانتی تھی ابو کے انتقال کے بعد ان کے آفس سے ایک خطیر رقم ملی ہے۔ انہوںنے اپنے ایک دوست کے ساتھ کوئی پارٹ ٹائم بزنس بھی شروع کر رکھا تھا۔ وہ بھی کافی منافع بخش بزنس تھا۔ اس گھر میں بھی بیٹی کی حیثیت سے اس کا حصہ نکلتا تھا مگر پھر بھی اس کے لےے اب اس گھر میں سب کچھ ختم ہوگیاتھا۔ اس کے لےے ایک ایسے شخص کو جیون ساتھی کے طور پر منتخب کیا گیا تھا جو اس سے عمر میں دگنا تھا۔ وہ اپنے آپ کو اتنا رحم دل نہیں سمجھتی تھی کہ اپنی زندگی بن ماں کے بچوں کے لےے دان کر دے۔ زندگی میں اس کے لےے اگر کچھ اچھا تھا تو وہ اسے ملنا ہی چاہےے تھا۔ یہی سوچ کر اس نے خرم کو انکار کر دیا۔

’’آپی! اگر تم یہ سمجھتی ہو کہ تمہیں اس سے بہتر شخص مل سکتا ہے تو تم غلطی پر ہو۔ ماموں سے بہتر آدمی تمہیں کم از کم اس شکل کے ساتھ نہیں مل سکتا۔‘‘ اس کی بات سن کر خرم نے نہایت خشک لہجے میں اس کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ اس کے لہجے میں کیا نہیں تھا۔ تضحیک، تحقیر، طنز، نفرت، اسے لگا وہ دیوار سے چپکی ایک چھپکلی ہے اور اس کابھائی اس پر تھوک دے گا جبکہ وہ کہہ رہا تھا۔

’’اگر تم نے کبھی غور سے آئینے میں اپنی شکل دیکھی ہوتی تو تم کبھی اس طرح انکار نہیں کرتیں۔ اس شخصیت کے ساتھ تم کس شہزادے سے شادی کر سکتی ہو۔ تمہارا رنگ روپ، شکل و صورت، تمہاری تعلیم، ہر چیز سے تم واقف ہو۔ اس کے باوجود تم ناشکری کر رہی ہو۔ آج سے دو سال بعد شاید تمہیں یہ سب بھی نہیں مل سکے گا۔ اس کے بعد تم کیا کرو گی، کہاں جائو گی؟ تمہارا کیا خیال ہے کہ میں ساری زندگی تمہیں سنبھالوں گا اور کیا تم سمجھتی ہو کہ تم سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لےے مجھے تمہارے مرنے کا انتظار کرنا پڑے گا۔ تم غلطی پر ہو آپی! میں ایسا کچھ نہیں کروں گا۔۔۔ اس کے علاوہ میں کچھ نہیں کہنا چاہتا ور اس کے علاوہ میں کچھ سننا نہیں چاہتا۔ اپنے اچھے برے کی تم خود ذمہ دار ہو، تم اپنی مرضی سے فیصلہ کر سکتی ہو۔‘‘

یہ سب کہہ کر وہ اپنے کمرے میں چلا گیا تھا۔ یہ سب کہتے ہوئے اس کی آواز میں ذرا بھی جھجک نہیں تھی۔ وہ بہت اطمینان سے اس کے سامنے بیٹھ کر اس کی شخصیت کو چیونٹی کی طرح پائوں کے نیچے رکھ کر مسل گیا تھا اور وہ کچھ بھی کر نہیں پائی تھی۔ وہ سانس لےے بغیر اس کی بات سنتی رہی تھی۔ وہ اپنے بھائی کو فرشتہ کہا کرتی تھی اور اس کا بھائی حقیقتاً اس کے لےے فرشتہ ثابت ہوا تھا، موت کا فرشتہ۔‘‘

٭٭٭

’’لڑکیاں عام طور پر اتنی پنکچوئل نہیں ہوتیں جتنی کہ آپ ہیں۔‘‘ وہ چاولوں کی ڈش میں سے چاول اپنی پلیٹ میں منتقل کرتے ہوئے مسکرا کر کہہ رہا تھا۔ مناہل کے چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی۔ ایک ماہ بعد ہونے والی اس غیر متوقع ملاقات نے اس کے موڈ کو بہت خوشگوار کر دیا تھا۔ صفوان نے اسے آفس فون کر کے لنچ کی آفر دی تھی اور بعد میں وہ خود لینے کے لےے کلینک سے اس کے آفس آیا تھا، لیکن اس کو آنے میں بیس منٹ کی تاخیر ہوگئی تھی اور اسی لےے ریسٹورنٹ میں بیٹھ کر وہ اس کی خوبی کو سراہ رہا تھا۔

’’لڑکیاں عام طور سے اتنی ذہین بھی نہیں ہوتیں جتنی کہ میں ہوں۔‘‘ اس نے بھی کھانے کا آغاز کرتے ہوئے مسکرا کر اعتماد سے کہا۔ وہ کھل کر ہنسا تھا۔

’’اس خوش فہمی میں کس نے مبتلا کر دیا آپ کو؟‘‘ اس کی مسکراتی آنکھیں مناہل کے موڈ کو خوشگوار ترین کر گئی تھی۔ برائون شرٹ کی آستین چڑھائے، بکھرے بالوں کے ساتھ اس لا ابالی حلےے میں بھی وہ مناہل کو بہت اچھا لگ رہا تھا۔

’’اسی نے جس نے آپ کو اس غلط فہمی میں مبتلا کیا کہ میں پنکچوئل ہوں۔‘‘ وہ اسی کے انداز میں بولی تو وہ اپنا قہقہہ ضبط نہ کر سکا۔ مناہل بہت دلچسپی سے اسے دیکھ رہی تھی۔

’’Just Kidding‘‘ اس نے کہا۔ وہ نہ بھی کہتا تب بھی مناہل جانتی تھی کہ وہ مذاق کر رہا ہے۔

’’مام بھی آپ کی ذہانت کی تعریف کرتی ہیں۔‘‘ مام کا حوالہ دے کر جیسے اس نے اسے بہلانا چاہا تھا۔ مناہل کا دل چاہ رہا تھا، وہ اس کی ظاہری خصوصیات کی بھی تعریف کرے۔ وہ بتائے کہ وہ اچھی لگ رہی ہے مگر صفوان اس طرف آہی نہیں رہا تھا۔

’’وہ صرف ذہانت کی تعریف نہیں کرتیں۔‘‘ اس نے جتانے والے انداز میں کہا اور یہ حقیقت بھی تھی کہ مسز شہلا قمر اس کی خوب صورتی کو بہت سراہتی تھیں۔

’’آپ کا سینس آف ہیومر بہت شاندار ہے مناہل!‘‘ مناہل کا منہ حلق تک کڑوا ہوا۔ سارا زمانہ ہی اس کے انداز گفتگو، اس کی ذہانت، اس کی حاضر جوابی کی تعریف کرتا تھا مگر اسے صفوان کے منہ سے ایسی تعریف سننا اچھا نہیں لگا تھا۔

’’آنٹی کب واپس آئیں گی امریکہ سے؟‘‘ اس نے خود ہی موضوع تبدیل کردیا۔

’’آج ہی ان سے فون پر بات ہوئی ہے۔۔۔ ابھی کچھ اور دن لگ جائیں گے۔ انہوں نے ہی مجھے تاکید کی کہ ان کی طرف سے آپ کو لنچ کے لےے لے جائوں کیونکہ اس دن والا ڈنر ابھی ڈیو ہے۔ حالانکہ میں سوچ رہا تھا کہ اب کی بار آپ مجھے انوائٹ کریں گی مگر مام نے کہا کہ اس روز ان کی وجہ سے وہ ڈنر ملتوی ہوا تھا۔‘‘

وہ ایک ماہ پرانی تفصیل اسے سنا رہا تھا۔ مناہل کا سارا جوش جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ یہ خیال ہی دل جلارہا تھا کہ وہ صرف اپنی مام کے کہنے پر اسے لنچ کروا رہا تھا۔

’’دراصل۔۔۔‘‘ اس نے بات کی ابتدا کی پھر گہری سانس بھر کر بولی۔

’’کچھ ضروری کام آن پڑا تھا اس روز۔۔۔ میں نے بعد میں فون کیا تھا ایکسکیوز کرنے کے لےے مگر آپ کا موبائل آف تھا۔‘‘

’’اٹس اوکے مناہل! میں شکوہ تو نہیں کررہا۔‘‘ وہ بات اس سے کر رہا تھا مگر دھیان کھانے کی پلیٹ کی طرف تھا۔

’’کاش تم نے کیا ہوتا۔‘‘ وہ دل ہی دل میں خود سے مخاطب ہوئی تھی۔

’’اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔۔۔ کیسا چل رہا ہے آپ کا سوشل ورک؟‘‘

اس نے اس کی جاب کے متعلق پوچھا۔ نہ جانے کیوں مناہل کو لگتا تھا کہ صفوان کو اس کی جاب کی نوعیت پسند نہیں ہے۔ اسے ہمدردی اور خدا ترسی جیسے لفظوں سے چڑ تھی اور یہ بات مسز شہلا قمر نے ہی بتائی تھی۔ اپنے بارے میں کوئی بات وہ کم ہی کرتا تھا۔

’’اوہ ہاں۔۔۔ یاد آیا۔۔۔ میں ڈھاکہ سے آپ کے لےے کچھ گفٹس لایا تھا۔ آپ کو دینا یاد ہی نہیں رہا۔۔۔ وہ ابھی تک میرے پاس پڑے ہیں۔ میں آپ کو ڈرائیور کے ہاتھ گھر بھجوادوں گا۔‘‘

وہ مسکرا کر کہہ رہا تھا مگر مناہل کو سخت توہین کا احساس ہوا۔وہ کتنے دن پہلے بنگلہ دیش سے واپس آیا تھا اور گفٹس دینے کا خیال اب آیا تھا اور وہ بھی ڈرائیور کے ذریعے۔۔۔ اس کا موڈ مزید خراب ہوگیا تھا۔

محبت توقعات کے چکنے فرش پر رقص کرتی ہوئی جوان ہوتی ہے اور اس سلسلے میں اسے بہت مرتبہ پھسلنا پڑتا ہے۔ وہ جتنی مرتبہ پھسلتی ہے، اتنی ہی مرتبہ سنبھلتی بھی ہے لیکن اس پھسلنے اور سنبھلنے کے کھیل میں ایک چبھن، ایک تکلیف ہوتی ہے۔ محبت یہ ساری چبھن اور تکلیف اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے اور پھر اسے اس شخص کو دان کردیتی ہے جسے عرف عام میں مریض محبت کہتے ہیں۔

اس کی خاموشی سے اکتا کر صفوان اس کانفرنس کے متعلق بتانے لگا ۔ جو وہ اسلام آباد میں اٹینڈ کر کے آیا تھا۔ اس نے وہاں کچھ منفرد نیورو کیسز دیکھے تھے، وہ بہت دلچسپی سے دماغی بیماریوں کے متعلق بات کر رہاتھا۔

’’کہتے ہیں جس کو عشق،خلل ہے دماغ کا۔‘‘ اس نیرو سرجن کو شاید یہی بیماری سمجھ میں نہیں آتی تھی۔

ان دونوں کے درمیان ایک گہرا تعلق تھا کیونکہ یہ تعلق ان کے بڑوں نے اپنی رضامندی سے قائم کیا تھا، لیکن اس کے باوجود مناہل کا کمزور محبت کا مارا دل اٰن جانے خدشوں اور وسوسوں میں گھِرا رہتا تھا۔ اسے لگتا تھاکہ صفوان کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور اگر ہے تو وہ اسے کبھی ظاہر نہیں کرتا تھا اس کی اپنی ساس سے کافی بے تکلفی تھی۔ اور انہوں نے بطور خاص اسے بتایا تھا کہ صفوان نے زندگی میں کتابوں کے علاوہ کسی چیز سے عشق نہیں کیا اور وہ اس کی زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی ہے مگر مناہل کو یقین تھا کہ جو شخص زندگی میں صرف کتابوں سے عشق کر رہا ہوتا ہے، وہ زندگی میں پہلے کبھی انسانوں سے عشق میں ناکام ہوچکا ہوتا ہے۔

وہ اس کے سامنے بیٹھا بہت اطمینان سے وہ باتیں کر رہا تھا جس میں اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی مگر پھر بھی وہ خاموشی سے اس کی باتوں میں دلچسپی لینے کی کوشش کر رہی تھی، کیونکہ اس کو صفوان کی باتیں سننا اچھا لگتا تھا۔

٭٭٭

’’مجھے بھوک نہیں ہے، مجھے کھانا نہیںکھانا اور اگر اب مجھے کوئی تنگ کرے گا تو نتائج کا ذمہ دار وہ خود ہوگا۔‘‘

اس نے تکےے سے سر اٹھائے بغیر کہا۔ وہ جب سے واپس آئی تھی، اسی طرح اپنے کمرے میں بند تھی، پھوپھو آج صبح سے اپنے گھرگئی ہوئی تھیں اور گھر میں صرف ملازم تھے جو بی بی کی عادت سے بخوبی واقف تھے۔ پہلے پروین کی بڑی بیٹی کھانے کا پوچھنے آئی پھر چھوٹی بیٹی اور پھر پروین کچھ دیر پہلے ہی پوچھ کر گئی تھی۔ اس بار بھی اسے یہی مغالطہ ہوا کہ شاید ان لوگوں میں سے کوئی ہے مگر اب کی بار تطہیر تھی۔ وہ مناہل کی ڈانٹ کی پروا کےے بغیر کمرے کے اندر چلی آئی۔مناہل اوندھے منہ بستر پر لیٹی تھی۔

’’میں آپ کو کھانے کے لےے بلانے نہیں آئی مگر میری ایک بات سن لیجےے۔‘‘

’’جی، فرمائےے۔‘‘ اس نے سر اٹھائے بغیر تطہیر کے انداز میں کہا۔ لہجہ انتہائی جلا ہوا تھا۔ جب اس کا موڈ آف ہوتا تھا تو وہ سب کے ساتھ اسی سلوک کا مظاہرہ کرتی تھی۔

’’یہ لیجےے۔‘‘ تطہیر اسے کچھ دے رہی تھی۔ وہ اس کی ملازم نہیں تھی، اسی لےے ڈانٹ کر اسے کمرے سے نکال نہیں سکتی تھی۔ طوعاً و کرہاً اس نے تکیہ سے سر اٹھا کر اس کی سمت دیکھا۔ اس کے ہاتھ میں پانی سے لبالب بھرا گلاس تھا۔ مناہل کی خفگی مزید بڑھ گئی۔

’’مجھے پانی نہیں چاہےے تطہیر! ااور اگر چاہےے ہوگا تو میں خود لے لوں گی۔‘‘ وہ بہت مشکل سے ضبط کر کے بولی۔

’’یہ عام پانی نہیں ہے۔۔۔ دراصل۔۔۔‘‘ وہ جھجک کر خاموش ہوئی پھر دوبارہ سے بولی۔

’’میں نے صبح کے وقت قرآن پاک کی تلاوت کر کے اس پر دم کیا ہے۔۔۔ آپ کو پیاس نہیں ہے، تب بھی تھوڑا سا پی لیجےے۔‘‘

مناہل نے اس کی بات سن کر ایک بار پھر سر تکےے پر گرالیا۔ تطہیر کی بات اسے نہایت عجیب لگی تھی۔ چند لمحے خاموشی سے گزر گئے۔ تطہیر نے دوبارہ سے اسے مخاطب کرنے کی کوشش نہیں کی، مگر وہ اس کے بستر کے قریب کھڑی رہی تھی۔ مناہل نے گہری سانس بھر کر ایک بار پھر اسے دیکھا اور اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اسے خود بھی اس طرح کے نخرے کرنا پسند نہیں تھا مگر صفوان کا لیا دیا انداز کبھی کبھی بہت چڑچڑا کر دیتا تھا۔ تطہیر نے پانی کا گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر کھڑکی کا بھاری پردہ ذرا سا سرکا دیا تھا۔ دھوپ کی تھکی ہاری کرنیں اپنا دم خم کھو دینے کے بعد مناہل کی طرح الجھی الجھی لگ رہی تھیں۔ کمرے میں ذرا سی روشنی ہوئی تو ہر چیز پہلے کی نسبت کچھ واضح ہوگئی۔ تطہیر نے دوبارہ بیڈ کے قریب آکر گلاس اٹھایا اور اسے تھمانا چاہا۔ مناہل نے کچھ دیر توقف کر کے گلاس پکڑ لیا۔

’’میں بیمار نہیں ہوں تطہیر!‘‘ اس کے خیال میں بیمار لوگ ہی اس قسم کا پانی پیتے تھے۔ تطہیر خاموش رہی۔

’’تھک گئی ہوں، اس وجہ سے موڈ کچھ آف ہے۔‘‘ وہ مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔ تطہیر اب بھی خاموش رہی۔ وہ مناہل کو تک رہی تھی۔ تاہم اس نے گلاس سے ایک گھونٹ لے لیا۔ وہی عام سا پانی تھا جو وہ روز پیتی تھی۔ اسے کم از کم اس پانی میں کوئی خاص بات محسوس نہیں ہوئی مگر وہ خاموشی سے پانی پیتی رہی۔ تاوقتیکہ گلاس میں سے تین تہائی پانی اس کے اندر منتقل ہوگیا۔

’’بیٹھ جائو تطہیر!‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے تطہیر سے کہا اور اس بار مسکرانے کے لےے اسے کوشش نہیں کرنی پڑی تھی۔ مسکراہٹ خود بخود اس کے لبوں سے پھسل کر اس کے چہرے کا حصہ بن گئی تھی اسے مسکراتا دیکھ کر تطہیر بھی مسکرائی اور اس کے بیڈ کے کنارے پر ٹک گئی۔

’’یہ غصہ بھگانے کا سب سے کامیاب طریقہ ہے۔ دادو جی جب تک زندہ تھیں، اسی طرح پانی پہ دم کر کے میرا غصہ اتارنے کی کوشش کیا کرتی تھیں۔ میرا غصہ بھی فوراً ختم ہوجایا کرتا تھا۔‘‘

’’تمہیں غصہ آتا ہے۔۔۔ تمہیں غصہ آسکتا ہے۔۔۔ یقین نہیں آرہا۔‘‘ مناہل مسکرا کر بولی۔ تطہیر خاموش رہی تھی۔ وہ اپنی مرضی سے بولنا پسند کرتی تھی۔

مناہل کو افسوس ہوا، وہ پہلی مرتبہ اپنی زندگی کا کوئی رخ اس کے سامنے کھول رہی تھی۔ مناہل نے باقی پانی ایک گھونٹ میں ختم کر دیا پھر گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر مسکراتے ہوئے بولی۔

’’میں غصے میں نہیں تھی۔‘‘ پانی کا ایک گلاس کسی کے مزاج کو کس طرح شگفتہ کر سکتا ہے یہ مناہل کی سمجھ میں فی الحال نہیں آسکتا تھا مگر اس کے سرہانے بیٹھی تطہیر اس کے چہرے سے پانی کے اس گلاس کا کرشمہ بخوبی دیکھ سکتی تھی۔

’’میں بھی دادو جی سے اس طرح کہا کرتی تھی۔‘‘ تطہیر کی بات پر مناہل ایک بار پھر مسکرا دی۔

’’دراصل پانی کو کیمیائی زبان میں H2O کہتے ہیں اور جب یہ H2O آکسیجن، یعنی ہوا، یعنی O2 سے ملتا ہے تو تعامل کے بعد جو چیز پیدا ہوتی ہے وہ H2O ہی ہوتا ہے۔ یعنی پانی ہی پیدا ہوتا ہے اور پانی کی خصوصیات ہمیشہ ٹھنڈی ہی ہوتی ہیں، پھر جب ہوا دم کی ہوئی ہو تو ان ٹھنڈی خصوصیات میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ پانی غصے کی تلخی کو اپنے اندر حل کر لیتا ہے اور اگر آپ یہ پانی پینے سے پہلے ’’بسم اللہ‘‘ پڑھ لیتیں تو پہلے گھونٹ کے ساتھ ہی یہ کرشمہ ہوجاتا۔‘‘ وہ اپنے مخصوص انداز میں وضاحت دے رہی تھی۔ مناہل کچھ دیر تک بول نہ پائی۔ اس کے پاپا کیمسٹری کے پروفیسر تھے مگر اتنے عام سے فارمولے کی اتنی خاص وضاحت انہوں نے بھی کبھی نہیں دی تھی۔

’’تمہیں کس طرح پتا چلا کہ میں نے ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ سے ابتدا نہیں کی؟‘‘ وہ ذرا کی ذرا شرمندگی سے بولی۔

’’آپ کو مسکرانے کے لےے تین تہائی پانی پینا پڑا۔ اگر آپ نے اللہ کے مبارک نام سے ابتدا کی ہوتی تو پہلے گھونٹ کے ساتھ ہی مسکراہٹ آپ کے چہرے پر آجاتی۔‘‘ وہ طنز نہیں کر رہی تھی۔ اس کا انداز ویسا ہی تھا۔ معصومانہ، اپنے آپ سے بے نیاز، وہ وہی لڑکی تھی جسے مناہل کوئی اہمیت دینے کے لےے تیار نہیں تھی مگر وہ یک دم اہم ہوگئی تھی۔

’’اب کھانا لگائوں آپ کے لےے؟‘‘ اس نے پوچھا۔

’’میں کھانا کھا چکی ہوں۔ صفوان کے ساتھ لنچ کیا تھا میں نے۔‘‘ تطہیر اس کی منگنی کے بارے میں جانتی تھی۔

’’اس کے باوجود آپ کا مزاج اتنا برہم دکھائی دے رہا ہے۔ حالانکہ آپ کو تو بہت خوش دکھائی دینا چاہےے۔‘‘

وہ پہلی بار اس طرح چھیڑنے والے انداز میں بات کر رہی تھی۔

’’تطہیر! تم نے کبھی محبت کی ہے؟‘‘ صفوان کاذکر آیا تو وہ اسے کریدتے ہوئے پوچھنے لگی۔ تطہیر کے چہرے پر ایسے تاثرات آگئے جیسے مناہل نے کوئی مذاق کیا ہو۔

’’محبت کی جاتی ہے کیا؟‘‘ اس نے الٹا سوال کیا۔

’’اوکے۔۔۔ فائن۔۔۔ کیا تمہیں کبھی کسی سے محبت ہوئی؟‘‘ اس نے سوال کی تصحیح کی۔

’’نہیں۔‘‘ تطہیر نے قطعی لہجے میں جواب دیا۔

مناہل نے صرف ہنکارا بھرنے پر اکتفا کیا۔ اسے اسی جواب کی توقع تھی۔ حیران وہ تب ہوتی جب تطہیر مثبت جواب دیتی۔ وہ جانتی تھی محبت کرنے کے لےے جو معیار اور شرائط ضروری ہوتی ہیں، تطہیر ان سب میں صفر تھی۔وہ بھول ہی گئی کہ محبت اور مذہب دو ایسی چیزیں ہیںجن کے لےے کسی معیار اور کسی شرط کی ضرورت نہیںہوتی۔

’’بہت اچھی بات ہے۔۔۔ خوش قسمت ہو تم۔‘‘ اس کی بات پر تطہیر کے چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ پھیل گئی اور کاتب تقدیر کے چہرے پر بھی کہ بہرحال یہ ساری کارستانی اسی کی تھی۔ بدقسمت وہ نہیں ہوتا جس کی قسمت اچھی نہ ہو، بلکہ بد قسمت وہ ہوتا ہے جو اپنی قسمت کو پہچان نہ پائے۔ نہ جانے ان دونوں میں سے بد قسمت کون تھا۔

’’ہاں۔۔۔ شاید۔‘‘ تطہیر نے اس کی رائے سے اختلاف نہیں کیا۔

مناہل کو احساس ہوا کہ شاید اس نے زیادہ ہی تکلیف دہ بات کر دی ہے۔ وہ لڑکی جو اس قدر مصائب میں تھی۔ وہ کس طرح خوش قسمت ہوسکتی ہے۔ محبت خوش قسمتی کو ناپنے کا مستند پیمانہ نہیں ہوتا۔ یہ ضروری نہیں ہوتا کہ وہ انسان جو کسی سے محبت نہ کرے وہ خوش قسمت ہو، ازل سے دنیا جانتی ہے کہ چاہنے سے زیادہ چاہے جانا اہم ہوتا ہے۔

’’آئو چائے پیتے ہیں۔‘‘ مناہل نے بات پلٹ کر مسکراتے ہوئے کہا تھا۔ وہ دونوں کچن کی طرف جاتے ہوئے بھی مسکرا رہی تھیں۔ نہ جانے کس چیز کا اثر تھا پانی، سورہ یاسین یا شاید کچھ اور۔۔۔؟

٭٭٭

’’میں نماز نہیں پڑھوں گی۔۔۔‘‘ وہ چلُاتے ہوئے بولی تھی۔ اسے اس طرح بولنے، چلُانے اور شکوے کرنے کی عادت تھی وہ بچپن سے اس عادت میں مبتلا تھی۔ دادو جی کو لگتا تھا وہ شاید کچھ مختلف قسم کی مٹی سے بنائی گئی ہے ورنہ اسے آج سے دس، پندرہ سال پہلے ہی مرجانا چاہےے تھا۔ انہوں نے اس لڑکی کی زندگی میں خوشیاں لانے کی ایک کوشش کی تھی انہوں نے اس کے ابو کے انتقال کے کچھ عرصہ بعد اسے اس کی سگی ماں کے گھر بھجوادیا۔ مگر وہ وہاں بھی رہ نہیں پائی تھی نہ جانے کیا بات تھی۔ جو اس کا گزارہ اس کی اپنی ماں کے گھر میں بھی نہیں ہوسکا تھا۔ حالانکہ مالی حیثیت میں اس کی ماں اس کے ابو کے مقابلے میں بہت آگے تھیں۔وہ صرف تین ماہ بعد ان کے گھر سے واپس آگئی تھی۔

واپسی میں اس کے پاس کچھ نہیں تھا حتیٰ کہ وہ خود بھی اپنے آپ کے پاس نہیں لگ رہی تھی۔ اس نے خود اپنے ہاتھوں سے خوشی اور خوشی کے احساس تک کا گلا گھونٹ ڈالا تھا۔ وہ کچھ دیر قبل خرم کو اپنی منشا سے آگاہ کر آئی تھی۔ وہ اس کے ماموں سے شادی کرنے کے لےے تیار تھی۔ اس کا مثبت جواب سن کر خرم نے مسرت کا اظہار کیا تھا، مگر ساتھ ہی اس نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ کہیں اب ماموں کا ارادہ نہ بدل گیا ہو۔ تین ماہ قبل وہ جس رشتے کے لےے بہت پَرجوش تھا۔ اب تین ماہ بعد وہ عجب ملے جلے رد عمل کا اظہار کر رہا تھا، وہ اس کا احسان مند ہونے کے بجائے اس پر احسان کرتا لگ رہا تھا۔اس کے چہرے پر استہزائیہ مسکراہٹ تھی وہ جانتا تھا اس کی سوتیلی بہن اس کے علاوہ کچھ کر ہی نہیں سکتی۔ اپنی ماں کے گھر سے واپس آجانے کے بارے میں اس نے خود ماموں کو مطلع کیا تھا۔ اس نے خود ماموں کو بتایا تھ اکہ اس کی اپنی ماں بھی اسے بوجھ سمجھ کر واپس چھوڑ گئی ہے۔ وہ اپنے کانوں سے خرم کو یہ سب کہتے اور استہزائیہ انداز میں ہنستے دیکھ رہی تھی۔واپس کمرے میں آکر وہ بستر پر بیٹھ گئی تھی اس نے بازوئوں کو گھٹنوں کے گرد باندھ لیا تھا۔ اور سر کو تقریباً گھٹنوں میں دے لیا تھا۔ وہ کسی کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اسے اپنی ماں کے گھر میں گزارے تین ماہ یاد آگئے تھے۔

اسے ان کا وہ رویُہ یاد آگیا تھا، جو وہ اپنے بیٹے اور اپنے دوسرے شوہر کے سامنے اس کے ساتھ روا رکھتی تھیں۔

اسے وہ ناگواری یاد آئی جو اس کا حلیہ دیکھ کر ان کی آنکھوں میں ناچنے لگتی تھی۔

اسے وہ جھنجھلاہٹ یاد آئی جو اپنے ملازموںکے سامنے اسے چلتا پھرتا دیکھ کر وہ محسوس کرتی تھیں۔

اسے وہ الجھن یاد آئی جو اس کی موجودگی میں انہیں ہونے لگتی تھی۔

اور اسے وہ گھڑی یاد آئی جب وہ اس کے سامنے اپنی مجبوریوں کو گنوا رہی تھیں۔ انہیں اس کے اپنے گھر میں رہنے پر اعتراض نہیں تھا مگر ان کے شوہر اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے۔ وہ اسے ہمیشہ اپنے ساتھ رکھنے سے قاصر تھےں۔ وہ اس کی ہر قسم کی مالی مدد کرنے کے لےے تیار تھیں۔ مالی مدد کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

انہوں نے اپنے منہ سے اسے دفع ہوجانے کے لےے نہیں کہا تھا، مگر ان کا ایک ایک انداز اس سے یہی کہہ رہا تھا۔ اس نے خاموشی سے ان کی بات سن لی تھی۔ اور اس نے ان کی بات مان بھی لی تھی وہ بدقسمت اولاد تھی اس کا اپنے ماں باپ کی کسی چیز پر کوئی حق نہیں تھا۔ وہ حق جتانا بھی نہیں چاہتی تھی۔ وہ اپنی ماں سے زندگی میں پہلی بار ملی تھی اور پہلی بار میں اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ یہ عورت سب کچھ ہوسکتی ہے مگر ماںنہیں۔۔۔

اسے بہت اچھی طرح سے پتا تھا کہ وہ اسے اپنے ساتھ اپنے گھر میں کیوں نہیں رکھ سکتی۔ وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اس کے سوتیلے باپ اور ان کے بیٹے کو اس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ وہ اس کی ماں تھیں جو اس کے یہاں رہنے کو مسئلہ سمجھتی تھیں۔ کیونکہ وہ ان کے معیار سے بہت نیچے تھی وہ کسی بھی طرح ان کی بیٹی نہیں لگتی تھی وہ اسے اپنی بیٹی کہہ کر اپنے حلقۂ احباب سے متعارف نہیں کروا سکتی تھیں، انہیں اس کو اپنے ساتھ رکھنے میں شرم آتی تھی۔ گزشتہ تین ماہ سے وہ اسے اپنے جیسا بنانے کی کوشش کر رہی تھیں مگر انہیں کامیابی نہیں ہوئی تھی۔ بہت تھک ہار کر انہوں نے ایک خطیر رقم اس کے حوالے کر کے اسے صاف لفظوں میں وہاں سے جانے کے لےے کہہ دیا تھا۔ اَس گھر میں اور اِس گھر میں زیادہ فرق نہیںتھا۔ وہ جیسی وہاں تھی ویسی ہی یہاں تھی مگر پھر بھی وہ یہاں سے جانا نہیں چاہتی تھی نہ جانے کیوں جاتے سمے کوئی بندھن اسے وہاں رک جانے کے لےے مجبور کرتا رہا تھا مگر وہ ہر بندھن سے آزاد ہو کر واپس اپنے مرحوم باپ کے گھر چلی آئی تھی۔ اب اس کے دل میں کوئی خواہش نہیں تھی۔ خرم کی بات مان کر گویا اس نے اپنا آپ بھی قربان کر دیا تھا اور یہ سب کر دینے کے بعد جب وہ دادو جی کے سامنے بیٹھی تھی تو انہوں نے اسے نماز پڑھ کر اپنے لےے سکون کی دعا مانگنے کی تلقین کی تھی مگر وہ بھڑک اتھی تھی۔

’’نماز وہ پڑھے جس کی دعا قبول ہوتی ہو۔ میں کیوں نماز پڑھوں؟ کس لےے نماز پڑھوں؟ کس چیز کی دعا کروں؟ کس چیز کا شکر ادا کروں؟ اس شکل کا؟ اس ذہن کا؟ اس شخصیت کا؟ یا پھر اس حیثیت کا؟‘‘

وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی نہ جانے کیوں ہر بار مشکل میں اللہ کو پکارنے پر بھی اس کی پکار رد کر دی جاتی تھی۔ وہ ناشکری کر رہی تھی اور علی الاعلان کر رہی تھی۔ دادو جی آج بھی خاموش تھیں حالانکہ انہیں بولنا چاہےے تھا۔

٭٭٭

’’خیریت ہے نا؟‘‘ اس نے آنکھیں ملتے ہوئے تحیر سے دروازے پہ کھڑی پروین کی طرف دیکھا رات کے اس پہر بیڈ روم کے دروازے پر ہونے والی اس دستک نے کچھ دیر کو اس کے حواس معطل کر دےے تھے اس کی آنکھ اتنی جلدی کھلتی نہیں تھی یقینا پروین نے اسے بے دار کرنے کے لےے بہت زورزور سے دروازہ بجایا تھا۔ اس کے استفسار پر سب سے پہلے پروین نے عادت کے مطابق لمبی سانس لی پھر حلق میں گلوگیر ترنم پیدا کر کے بولی۔

’’اوہ باجی!۔۔۔ بہت مصیبت ہوگئی ہے۔‘‘

’’کیا مطلب؟ کیا ہوا؟ پھوپھو کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا۔‘‘ وہ دل کی مریضہ تھیں مناہل کا پہلا دھیان انہی کی طرف گیا۔

’’نہیں باجی۔۔۔ ! میرا مطلب ہاں باجی۔۔۔ آپ پریشان مت ہوں۔۔۔‘‘ وہ اصل بات بتانے کے بجائے اسے اطمینان دلانے لگی، مناہل کو ٹھیک ٹھاک غصہ آیا۔

’’باجی۔۔۔ تطہیر کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ پھوپھو جی ان کے کمرے میں ہیں۔‘‘

رات کے کھانے پر تو وہ اچھی بھلی تھی مناہل اس کے کمرے کی طرف آگئی۔ پھوپھو ایک کرسی پر بیٹھی تھیں ان کے چہرے پر عجیب سے تاثرات تھے انہوں نے مناہل کو دیکھ کر ایک سلگتی ہوئی نظر اس پر ڈالی۔ تطہیر بستر پر بیٹھی تھی اس کے بال کھلے ہوئے تھے جنہوں نے اس کے سارے چہرے کو چھپا کر رکھا تھا وہ دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کے پچھلے حصے کو دبانے میں مصروف تھی۔ مناہل کو دیکھتے ہی اس نے سر پر مکے مارنے شروع کر دےے تھے پھر وہ بالوں کو نوچنے لگی اس کے منہ سے کراہنے کی آوازیں نکل رہی تھیں۔ پروین نے دروازے میں ہی کھڑے رہنے میں عافیت جانی وہ اس کے قریب بھی نہیں آئی تھی، بلکہ دور کھڑی منہ میں کچھ پڑھنے کے ساتھ کانوں کو ہاتھ لگا رہی تھی بلاشبہ تطہیر سے خوف آرہا تھا مناہل کچھ جھجکتے ہوئے اس کے قریب چلی آئی۔

’’تطہیر، تطہیر کیا ہوا ہے تمہیں؟‘‘ وہ اس کے بستر پر بیٹھ کر بولی، تطہیر نے سر نہیں اٹھایا وہ اپنے بالوں کو نوچنے میں مصروف تھی چند لمحوں بعد اس نے سر دونوں گھٹنوں میں دے لیا تھا وہ گھٹنوں کو بھینچ کر سر کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی۔

’’پروین! بی پی آپریٹس لے کر آئو۔‘‘ مناہل نے تطہیر کے سر پر ہاتھ رکھا پروین دوڑ کر باہر نکل گئی تھی۔ مناہل نے تطہیر کے جھکے سر کو اوپر کیا پھر اس کے چہرے سے بال ہٹا کر اس کے رخسار تھپتھپانے لگی۔ تطہیر نے اس کے ہاتھ کو ہٹانے کا جھٹکنے کی کوشش نہیں کی تھی مگر وہ اپنے حواسوں میں نہیں لگ رہی تھی۔

’’کیا ہوا ہے تطہیر! کیا محسوس ہورہا ہے؟‘‘

وہ اس کے سر کو دبانے لگی، تطہیر جس طرح سر کو دبانے میں مصروف تھی اس سے وہ یہی اندازہ لگا سکی کہ شاید اس کے سر میں درد ہے۔ تطہیر نے اس کی بات کا جواب دےے بغیر اس کی گود میں سر رکھ دیا۔اس کا جسم گرم ہورہا تھا۔ مناہل نے حد درجہ گھبر اکر پھوپھو کی جانب دیکھا وہ نہ جانے کیوں دور بیٹھی بس سرد نگاہوں سے اس کی جانب دیکھ رہی تھیں حالانکہ وہ اپنے گھریلو ٹوٹکوں کے لےے خاندان بھر میں مشہور تھیں مگر انہوں نے آگے بڑھ کر تطہیر کی مدد کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ پروین اس دوران آپریٹس لے کر آگئی تھی اس نے بہت ڈرتے ڈرتے بیڈ کے قریب آکر وہ آپریٹس مناہل کو تھمایا۔

’’پلیز اسے میرے اوپر سے تو اٹھائو۔‘‘ وہ پروین اور پھوپھو کے روےُے سے جھلا کر بولی۔ پروین نے آنکھیں تقریباً بند کر تے ہوئے تطہیر کے کندھوں کو پشت سے تھامنا چاہا تطہیر نے ایک دم سر اٹھایا۔ پروین چیخ مار کر ایک بار پھر دروازے کے قریب جا کھڑی ہوئی۔

’باجی۔۔۔ ہٹ جائیں پیچھے ہٹ جائیں اس کو سایہ ہے، آپ کو بھی ہوجائے گا باجی۔‘‘ وہ کپکپاتے ہوئے کہہ رہی تھی۔

’’چپ کرو۔‘‘ پھوپھو نے اپنی نشست سے اٹھ کر اسے ڈانٹتے ہوئے کہا، وہ بہت الجھی ہوئی لگ رہی تھیں۔ انہوں نے تطہیر کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے مناہل کی گود سے اٹھایا اور پھر ان دونوں نے اسے بستر پر لٹادیا۔ رات کے اس پہر وہ کسی ڈاکٹر کو بھی نہیں بلا سکتی تھیں۔ پھوپھو اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دھیرے دھیرے دبا رہی تھیں۔

’’اس کا بی پی چیک کرو۔‘‘ انہوں نے مناہل کی طرف دیکھ کر درشتی سے کہا وہ اس سے اس قدر خفا کیوں لگ رہی تھیں اس کی سمجھ میں نہ آیا۔ حالانکہ کھانے کے وقت ان کا موڈ کافی خوش گوار تھا۔ وہ مناہل کے جلدی گھر آجانے کی روٹین سے مطمئن تھیں۔ مدینہ سے آنے والی اس کے پاپا کی کال میں بھی انہوں نے اس اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ مناہل پریشان ہو کر بی پی چیک کرنے لگی۔سردی کے باوجود اس کے جسم میں کوئی کپکپاہٹ نہیں تھی۔ مناہل نے بی پی چیک کرکے اپریٹس ایک طرف رکھ دیا۔ بی پی نارمل نہیں تھا۔

’’پروین فریج سے سیون اٰپ کی بوتل لے کر آئو۔‘‘ اس کی ممی کو بی پی نارمل کرنے کا یہ طریقہ ان کی کسی دوست نے بتایا تھا۔ پھوپھو اس کے ہاتھ رگڑنے لگی تھیں جبکہ پروین کو انہوں نے اس کے پائوں کے تلوے رگڑنے پر لگایا۔ تطہیر کی آنکھیں ابھی بھی بند تھیں اور نقاہت اس کے سارے وجود پر چھا رہی تھی وہ اپنے ہاتھوں سے پھوپھو کو رک جانے کا اشارہ کر رہی تھی۔

کافی دیر کی تیمار داری کے بعد تطہیر کی حالت بہتر ہونے لگی تھی۔ اگلے پندرہ منٹوں میں وہ سو چکی تھی۔ پھوپھو نے ان سب سے اٹھ جانے کے لےے کہا۔وہ تینوں خاموشی سے باہر نکل آئیں۔ مناہل کا خیال تھا پھوپھو کمرے سے باہر آکر اس سے تطہیر کی حالت کے بارے میں بات کریں گی مگر وہ پروین کا ہاتھ تھامے خاموشی سے سیڑھیاں اتر گئیں۔

٭٭٭

’’باجی۔۔۔۔ پھوپھو جی بلا رہی ہیں۔‘‘ پروین کی بیٹی آخر کار بلاوا لے آئی ان کے کمرے تک آنے سے پہلے اس نے وہ تمام متوقع سوالات خود سے کر لےے تھے جو وہ اس سے تطہیر کے متعلق پوچھ سکتی تھیں۔ اس نے وہ خود ساختہ گھڑی ہوئی کہانی بھی ذہن میں تازہ کرنے کی کوشش کی، جو اس نے تطہیر کے متعلق پھوپھو کو سنائی تھی۔

وہ ان کے کمرے میں آکر خاموشی سے ان کے سامنے بیٹھ گئی۔ وہ اس سے بہت خائف دکھائی دے رہی تھیں۔

’’اس کا شوہر کہاں ہے؟‘‘ انہوں نے مناہل کے چہرے کو غصیلی نظروں سے دیکھتے ہوئے پہلا سوال میزائل کی طرح داغا۔

ایک لمحہ کو وہ سمجھ نہیں پائی کہ وہ کس کے شوہر کے متعلق دریافت کر رہی ہیں، پھر اس کا ذہن پروین کی طرف گیا۔ اس نے بہت اطمینان سے انہیں بتا دیا کہ اس کا شوہر گیراج میں گاڑی دھو رہا ہے مگر ان کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھ کر وہ سمجھ نہ سکی کہ وہ کس کے متعلق پوچھ رہی ہیں۔

’’میں تطہیر کے شوہر کی بات کر رہی ہوں۔‘‘ اس کی استفہامیہ نگاہوں سے چڑ کر وہ کرختگی سے بولیں۔ مناہل نے ان کی بات پر بہت مشکل سے خود کو حالت سکون میں رکھا اسے بالکل یاد نہیں تھا کہ اس نے تطہیر کو ان کے سامنے شادی شدہ ظاہر کیا تھا یا غیر شادی شدہ۔

’’پھوپھو! اس کی شادی نہیں ہوئی ابھی تک۔‘‘ اس نے کچھ سوچ کر جواب دیا پھوپھو کو اس کی بات سن کر جھٹکا لگا انہوں نے گھَور کر اسے دیکھا پھر جو بات انہوں نے اسے بتائی وہ مناہل کے قدموں کے نیچے سے زمین کھینچنے کو کافی تھی۔

’’آپ۔۔۔ آپ کا مطلب وہ پریگننٹ ہے۔‘‘ اس نے حلق میں کانٹے اگتے ہوئے محسوس کےے۔ پھوپھو اسے گھورنے میں مصروف تھیں۔

’’اور تم کہہ رہی ہو اس کی شادی نہیں ہوئی۔۔۔ اس بات کا مطلب؟‘‘

انہوں نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ دی۔ مناہل اندر ہی اندر شرمندہ ہورہی تھی۔ اس کی ممی سامنے ہوتیں تو وہ انہیں نہایت تفصیل سے بتا سکتی تھی، لیکن پھوپھو جس زمانے کی خاتون تھیں، وہ انہیں کبھی بھی قائل نہیں کر سکتی تھی۔

’’میرا مطلب تھا کہ۔۔۔ دوسری شادی نہیں ہوئی۔۔۔ میں سمجھی کہ آپ اس کی دوسری شادی کے متعلق پوچھ رہی ہیں دراصل تطہیر کا پہلا شوہر ایک حادثے میں وفات پاگیا تھا۔ اس بات کو دو تین ماہ ہی گزرے ہیں اس لےے۔‘‘

اس نے اعتماد کی فضا قائم کرنے کے لےے جھوٹ روانی سے بولا۔

’’تین ماہ؟‘‘

پھوپھو نے آنکھیں سکیڑ کر پوچھا۔ ان کا دل ذرا سا پگھلا تو تھا وہ خود بیوہ تھیں اور انہیں زمانے میں سب سے بڑا دکھ بیوگی ہی لگتا تھا۔

’’عدت پوری کرنے کا تو وقت ہی نہیں ملا۔۔۔ ساس نے ظلم کرنے شروع کر دےے تھے اسی لےے اپنے گھر سے نکلنا پڑا۔‘‘ وہ جان بوجھ کر ایسی باتیں کر رہی تھی کیونکہ پھوپھو خود بھی اسی قسم کے حالات سے گزر چکی تھیں اور وہ ایسی باتوں سے ہی پگھل سکتی تھیں۔

’’یہ میری بہت اچھی سہیلی کی دور پار کی رشتہ دار ہے دراصل وہ جانتی تھی کہ میرے گھر میں صرف پاپا ہی ہوتے ہیں اور وہ بھی آج کل یہاں نہیں ہوتے۔۔۔ اسی لےے میری سہیلی نے مجھے اس کو یہاں ٹھہرانے کے لےے کہا۔ آپ جانتی ہیں عدت میں اب وہ آدمیوں کا سامنا تو نہیں کر سکتی تھی۔‘‘

پہلا جھوٹ بولنا مشکل لگا تھا مگر اب وہ بغیر دقت کے بات کر رہی تھی، پھوپھو کے چہرے پر رنج و الم کے رنگ گہرے ہونے لگے۔

’’مجھ سے بہتر کون جان سکتا ہے بیٹا کہ بیوگی کا دکھ کیا ہوتا ہے؟ میں نے بھی بہت کٹھن حالات دیکھے ہیں۔‘‘

وہ رقُت آمیز لہجے میں کہہ رہی تھیں۔ مناہل نے دل ہی دل میں خود کو داد دی اور ساتھ ہی تطہیر کا گلا دبا دینے کو بھی جی چاہا وہ اس کے لےے ہر گزرتے دن کے ساتھ مشکلات پیدا کر رہی تھی۔

’’آپ کو۔۔۔ اس نے خود بتایا اس بارے میں۔‘‘ اس نے ٹھہر ٹھہر کر کہا۔

پھوپھو کے سامنے لفظوں کا چَنائو بہت دیکھ بھال کے کرنا پڑتا تھا۔ وہ بن بیاہی بچیوں سے ہر بات ڈسکس کرنے کی قائل نہیں تھیں۔

’’کس بارے میں؟‘‘ وہ الجھ کر اس کا چہرہ دیکھنے لگیں کیونکہ وہ تو اسے اپنی ساس کے ظلم کی داستان سنانے لگی تھیں، جبکہ وہ شاید سن ہی نہیں رہی تھی۔

’’میرا مطلب۔۔۔ پریگننسی کے بارے میں۔۔۔‘‘ دل ہی دل میں تطہیر کو گالیاں دیتے ہوئے اس نے پوچھا۔ پھوپھو کے چہرے پر پھر خفگی کے تاثرات آگئے۔

’’مجھے اس نے بتایا ہوتا تو میں تم سے پوچھتی۔‘‘ وہ پھر سے اسے گھورنے لگی تھیں۔

’’آپ کو کیسے پتا چلا پھر۔۔۔؟‘‘ اس نے ایک اور احمقانہ سوال کیا، اب کی بار پھوپھو کے چہرے پر ایسے رنگ آئے جیسے اسے چپت رسید کرنے والی ہوں۔

’’احمق۔۔۔ ‘‘ اتنا ہی بولی تھیں اور مناہل پھر بھی نہیں سمجھی۔

’’میں بچی نہیں ہوں دودھ پیتی۔۔۔ دنیا دیکھی ہے میں نے، مجھے پہلے اس بارے میں اس لےے پتا نہیں چل سکا کہ وہ اپنے آپ کو بہت چَھپا کر رکھتی ہے۔ بیڈ شیٹ جتنی تو چادر اوڑھتی ہے وہ۔۔۔ اسی لےے مجھے اندازہ ہی نہیں ہوا۔‘‘ وہ سانس لینے کو رکیں پھر بولیں۔

’’بیوگی کا دکھ بہت بڑا ہوتا ہے بیٹی! عورت کو اندر ہی اندر ختم کر دیتا ہے ورنہ اس حالت میں تو بکری کا جسم بھی پھیل جاتا ہے۔‘‘

اب مناہل کی سمجھ میں آگیا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہی تھیں۔ تطہیر سچ مچ اپنے سراپے سے حاملہ نہیں لگ رہی تھی۔ اتنے دن سے وہ ان کے گھر میں تھی مگر کسی کو پتا نہیں چل سکا تھا۔

’’مجھے اس لڑکی سے ہمدردی ہے مگر کل کلاں کو کچھ مسئلہ ہوگیا تو میں تمہارے پاپا کو کیا جواب دوں گی، میں جانتی ہوں تمہارے پاپا نے تمہیں بیٹوں کی طرح پالا ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم ہر پرائے پھڈے میں ٹانگ اڑا کر اپنے لےے مسائل کا انبار اکٹھا کرو اور پھر کل رات جو کچھ ہوا۔۔۔ میں توہم پرست نہیں ہوں مگر۔۔۔ جنُات کا وجود تو بہرحال قرآن پاک سے بھی ثابت ہے۔‘‘

وہ تطہیر سے اس سے زیادہ ہمدردی نہیں کر سکتی تھیں مناہل ان کی بات مکمل ہونے پر خاموشی سے اٹھ کر باہر آگئی۔ پھوپھو سے بحث کرنے یا ان کی بات سے انکار کرنے کا مطلب ان کی مزید خفگی مول لینا تھا جو وہ چاہتی نہیں تھی ویسے بھی وہ اس سارے مسئلے سے اکتانے لگی تھی۔

تطہیر کے بارے میں ہر روز ایک نئی بات سامنے آرہی تھی ہر روز ایک نئے راز سے پردہ اٹھ رہا تھا۔ مسز شہلا قمر نے یہ بھاری ذمہ داری اس کے سر ڈال کر دوبارہ خبر نہیں لی تھی اور خود امریکہ جا بیٹھی تھیں وہ اسے ہر دو روز بعد فون کر کے صورت حال کے بارے میں پوچھتی ضرور تھیں۔

انہوں نے اس سے خاص طور پر درخواست کی تھی کہ وہ فی الحال تطہیر رحمن کی موجودگی کو راز ہی رکھے حتیٰ کہ انہوں نے صفوان اور باقی کولیگز سے بھی یہ بات مخفی رکھنے کے لےے کہا تھا۔ ایک ماریہ تھی جس سے وہ یہ سب اطمینان سے کہہ سکتی تھی، مگر اس جیسی لا ابالی لڑکی اس مسئلے کو سلجھا ہی نہیں سکتی تھی۔

تطہیر کی شخصیت پیاز کی طرح پرت در پرت کَھل رہی تھی، مگر پھر بھی وہ ایک سر بستہ راز کی مانند معلوم ہوتی تھی۔ مناہل کو اس کی ہر لمحہ اوڑھی ہوئی چادر کا مقصد سمجھ میں آنے لگا تھا۔ اس کا حجم اتنا پھیلا ہوا نہیں تھا کہ مناہل جیسی لڑکی اس کی پریگنینسی کے متعلق جان سکتی، مگر پھوپھو جیسی جہاندیدہ عورت سے اپنا آپ چھپانے کے لےے یہ سب ضروری تھا مگر وہ یہ سب باتیں چھپا کیوں رہی تھی چھپایا تو گناہ جاتا ہے تو کیا تطہیر رحمن گناہ گار تھی۔ اس کے گناہوں کی لسٹ میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔ گناہ بھی عام گناہ نہیں کبیرہ گناہ۔ اس نے اپنے حسن سلوک سے جو ایک امیج بنایا تھا وہ پھر ٹوٹنے لگا تھا۔ اس کی شخصیت کا گراف پھر نیچے آرہا تھا۔ اس کے بارے میں لا تعداد سوالات اٹھ رہے تھے۔ مناہل مزید خاموش نہیں رہ سکتی تھی۔

’’تم کون ہو؟‘‘ اس نے کمرے میں داخل ہو کر پہلا سوال یہ ہی کیا۔

٭٭٭

’’میں کہاں جائوں۔۔۔؟ بولو میں کہاں جائوں؟‘‘

وہ اپنے شوہر کے گھر کی دہلیز پہ بیٹھی آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے ایک بار پھر اپنے مالک سے سوال کر رہی تھی، اسے اسی طرح لا تعداد سوال کرنے کی عادت تھی لیکن اس بار وہ رو نہیں رہی تھی کیونکہ اس کے اندر بہنے والا آنسوئوں کا جھرنا خشک ہوچکا تھا۔ اس کے جسم کے صحرا میں اندر باہر اب کہیں برسات نہیں ہوتی تھی۔ اس کے باپ اور بھائی کے بعد ا س کی مرضی کے بغیر اس کی زندگی میں آنے والا تیسرا مرد اکبر علی تھا لیکن وہ ان دونوں سے قدرے مختلف تھا، اگر چہ وہ زیادہ پڑھا لکھا آدمی نہیں تھا لیکن کچھ شکی اور توہم پرست بھی تھا مگر وہ اس کے ساتھ رہتے ہوئے مطمئن تھی۔ اس گھر میں آجانے کے بعد اس کی دونوں سہیلیاں یکے بعد دیگرے وفات پاگئی تھیں ایک دادو جی اور دوسرے اس کی تنہائی۔ اس کے ابو کے گھر میں اب اس کا کچھ باقی نہیں بچا تھا اس نے اکبر علی کے گھر کو اپنا گھر سمجھنا شروع کر دیا تھا۔

اکبر علی کے پاس کچھ نہیں تھا مگر دولت بہت تھی اور اس دولت کو خرچ کرنے کے معاملے میں وہ بہت شاہ خرچ واقع ہوا تھا۔ اکبر علی کا پیسہ خرچ کرتے ہوئے اسے کسی شرم یا تذلیل کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ وہ خود ہی ہر مہینے کی ابتدا میں اچھی خاصی رقم اس کے حوالے کر دیتا۔وہ اکثر اوقات اس کے لےے تعریفی الفاظ بھی استعمال کرتا تھا شاید اپنی بیوی کی وفات کے بعد وہ اپنی تین جوان ہوتی ہوئی بیٹیوں کو لے کر کچھ زیادہ ہی حساس ہوگیا تھا اسی لےے وہ اس کے ساتھ اپنا رویہ بہتر رکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ اس کی تین بیٹیاں اور دو بیٹے بھی اپنی سوتیلی ماں سے مطمئن تھے۔

شادی کے تقریباً آٹھ ماہ بعد اس کو وہ احسا س ہوا جو ہر عورت کی تکمیل کہلاتا ہے۔ وہ زندگی تخلیق کرنے جارہی تھی اللہ اس پر مہربان ہوگیا تھا وہ اتنی گئی گزری نہیں تھی وہ یقینا اس قابل تھی کہ زندگی کو عدم سے وجود میں لے آئے۔ خوشی کیا ہوتی ہے اسے پتا چل گیا تھا خوشی کی حد کیا ہوتی ہے اسے یہ بھی پتا چل گیا تھا۔ ان دنوں اس کی اپنی زندگی اس کی کھلکھلاہٹیں سن کر حیران ہوجاتی تھی۔

ہماری خوشیوں کو ہماری اپنی ہی نظر لگ جایا کرتی ہے۔ اس کی خوشی کو بھی شاید اسی کی نظر لگ گئی تھی۔ پریگنینسی کے پہلے ہی مہینے اس نے اپنے بچے کا نام سوچ لیا تھا۔ اس نے اپنی گری گری طبیعت کا ذکر اکبر علی سے بہت خوش ہو کر کیا۔ اکبر علی نے اسے کچھ الجھ کر دیکھا پھر اپنی جیب سے نوٹ نکال کر اس کے سامنے رکھے تھے۔ روپے خوشی خریدنے کے لےے ہوتے ہیں لیکن وہ اسے یہ روپے اس کی زندگی کی اکلوتی خوشی کو ختم کرنے کے لےے دے رہا تھا۔ وہ اکبر علی کی بات کیسے مان سکتی تھی۔ اس نے زندگی میں کبھی گناہ نہیں کیا تھا اور پھر بھی اس نے گناہ گاروں جیسی زندگی گزاری تھی اور اگر وہ یہ گناہ کر لیتی تو اس کی زندگی گناہ گاروں سے بھی بد ترہوسکتی تھی۔

اکبر علی اس سے اس کی زندگی کی یہ اکلوتی خوشی بھی چھین لینا چاہتا تھا۔ اس نے واضح لفظوں میں مزید اولاد کے لےے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کر دیا تھا وہ اس عمر میں میٹرنٹی ہوم کے چکر لگا کر اپنا تماشا نہیں بنوانا چاہتا تھا اس نے یہ سب کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ وہ اسے ایک استعمال کی چیز سمجھ کر گھر لایا تھا جسے اس کی اولاد بیک وقت وائپر، جھاڑو، بیلن اور چمٹے کی طرح استعمال کر سکتی تھی وہ اس استعمال کی چیز کے ہاتھوں خود استعمال نہیں ہونا چاہتا تھا۔

اس نے اکبر علی کی بات ماننے سے انکار کر دیا تھا جواب میں اکبر علی نے بہت خاموشی سے طلاق کے کاغذات اس کے سامنے رکھ دےے۔ اسے کسی مولوی سے فتوے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ اسے اپنے گھر سے نکالنے کا فیصلہ کر چکا تھا وہ اکبر علی کا چہرہ دیکھتی رہ گئی تھی یہ بات اسے ہمیشہ حیران کرتی تھی کہ آخر اتنی مشکل سے بننے اور نبھانے والا یہ رشتہ اتنی آسانی سے کیسے ختم ہوجاتا ہے اور اب اپنے شوہر سے یہ کاغذات لیتے ہوئے سب سمجھ میں آگیا تھا۔ وہ اسے اپنے گھر میں رکھنے کو تیار تھا مگر اپنی شرائط پر جو اسے منظور نہیں تھیں اکبر علی نے طلاق کی وجہ اس کی وہ بیماری ظاہر کی تھی جو بہت عجیب و غریب تھی او روہ شادی سے پہلے اس کی اس بیماری کے متعلق نہیں جانتا تھا۔ وہ خود بھی اپنی اس بیماری کو جانتی تھی لیکن جو نام اسے اکبر علی نے دیا تھا وہ کچھ انوکھا تھا کم از کم خود اس کے لےے۔

اسے جنات کا سایہ تھا۔ وہ جنات کے زیر اثر بہت نقصان دہ حرکتیں کرتی تھی۔ وہ اپنے شوہر اور اپنے بچوں کے لےے نقصان دہ تھی۔ ایسی عورت کو گھر میں کیسے رکھا جاسکتا تھا۔

لوگوں کی ہمدردیاں بٹورنے کے لےے اکبر علی کے پاس اس سے بہتر کوئی اور جواز ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ وہ ایک بار پھر کھلے آسمان کے نیچے آگئی تھی۔ اس کے شوہر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر نکال دیا تھا۔ اس کی قسمت ہی یہی تھی شاید کہ ہر جگہ سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے باہر نکال دیا جاتا۔

یہ ابو کے جوتے امی کے تھپڑ یا بہن بھائیوں کے طعنے نہیں تھے کہ وہ چلُا چلُا کر آسمان سر پہ اٹھا لیتی یہ ایک ایسی بات تھی جس کے لےے وہ کسی مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتی تھی اور یہ ایک ایسی بات تھی جس کا سارا کریڈٹ وہ خود لینا چاہتی تھی۔ اس کے لےے اپنے واسطے طلب کرنے کو کچھ نہیں رہ گیا تھا مگر وہ اپنے بچے کی کسی خواہش سے دستبردار نہیں ہوسکتی تھی وہ بچہ اسے اپنا نجات دہندہ محسوس ہونے لگا تھا حالانکہ اس کے آنے میں ابھی بہت سے مہینے باقی تھے مگر اس کے آنے تک اسے ٹھکانہ چاہےے تھا۔ وہ ایک بار پھر اللہ سے پوچھ رہی تھی۔ وہ ماں باپ، بھائی، شوہر کے گھر سے دھتکار دی گئی تھی اسے گھر چاہےے تھا وہ اللہ سے ٹھکانا طلب کر رہی تھی۔

وہ کہتا ہے کہ وہ ہر پکار کا جواب دیتا ہے اور اگر وہ ہر پکار کا جواب دیتا ہے تو وہ جواب سنائی کیوں نہیں دیتا یا پھر شاید اس کے جواب کو سن کر ان سنی کر دیا جاتاہے اکثر اوقات اس کے جوابات کو ٹھیک طرح سے سمجھا ہی نہیں جاتا اور پھر شکوہ بھی اسی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا شاید ورنہ اللہ اپنے بندے سے اتنا لاپروا نہیں کہ اس کی پکار کا جواب نہ دے۔

٭٭٭

’’میں کون ہوں؟ سوال یہ نہیں ہے۔ میں کیوں ہوں؟ سوال یہ ہے۔‘‘

اس نے ہر حقیقت سے پردہ اٹھا دینے کے بعد کہا۔ نقاہت کے باعث اس کے چہرے پر زردی کے رنگ نمایاں تھے۔ رات کے وقت ہونے والے اس سر درد نے سے بہت نڈھال کر دیا تھا وہ بہت ٹھہر ٹھہر کر بات کر رہی تھی مگر اس نے مناہل سے کچھ چھپانے کی کوشش نہیں کی تھی۔

مناہل کے صرف ایک سوال پر وہ اس کے سامنے کھلتی چلی گئی تھی۔ والدین کی علیحدگی، اس کی امی کے ظلم و ستم، عبیر کے طعنے، خرم کی سنگ دلی، اس کی سگی ماں کی خود غرضی۔۔۔ ایک ایک بات مناہل کو بتا دی تھی اس نے، شاید وہ خود بھی اتنا غبار اٹھائے جانے کے قابل نہیں رہی تھی۔ اسے کسی سامع کی ضرورت تھی اور مناہل ایک اچھی سامع ثابت ہوئی تھی۔

اس کی تعلیم زیادہ نہیں تھی ، مگر وہ کمال کا فلسفہ بولتی تھی کیونکہ فلاسفی بولنے کے لےے تعلیم سے زیادہ علم کی ضرورت ہوتی ہے اور علم تجربے سے بھی آجاتا ہے۔ تطہیر کے پاس بہت تجربہ تھا۔ اس نے زندگی کی در ماندگی کو بہت ہمت سے سہا تھا۔

’’مجھے اب کسی سے کچھ نہیں چاہےے۔ میری ساری امیدوں کا مرکز میرا بچہ ہے۔ وہ جب اس دنیا میں آجائے گا تو مجھے کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ میں اس کے سہارے زندگی کے تمام مصائب کو ہنسی خوشی سہہ لوں گی۔‘‘ اس نے کہتے کہتے لمحہ بھر کا توقف کیا پھر بولی۔

’’جب اکبر علی نے مجھے گھر سے نکالا تو میرے پاس کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ میں خرم کے پاس نہیں جا سکتی تھی۔۔ میں اپنی ماں کے گھر واپس نہیں جاسکتی تھی تب میں نے بہت دل سے اللہ کو پکارا تھا۔ میں نے وہاں تین ماہ گزارے اور وہ تین ماہ میری تئیس سالہ زندگی پر حاوی ہیں۔ میں نے ان دنوں زندگی کی جس تلخی کو محسوس کیا جن رنگوں کو دیکھا وہ اس قدر تکلیف دہ تھے کہ میں ابھی تک ان کو بھلا نہیں پائی مگر میں انہیں یاد بھی نہیں کرنا چاہتی۔ گھر سے نکلی دارالامان پہنچی وہاں سے پولیس اسٹیشن اور پھر یہاں آپ کے پاس۔۔۔ میں جانتی ہوں مجھے یہاں سے بھی جانا ہے میں آپ کو زیادہ دیر تک تنگ نہیں کروں گی۔۔۔ بس دو تین ماہ صرف دو۔۔۔۔ تین ماہ مجھے اپنے پاس رکھ لیں یقین کریں اس کے بعد میں آپ کو کبھی شکل بھی نہیں دکھائوں گی۔۔۔ مگر براہ مہربانی۔‘‘

اس نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ دی۔ مناہل سمجھ گئی تھی وہ ڈلیوری تک اس کے گھر میں رہنا چاہتی تھی لیکن یہ مناہل کے لےے ممکن نہیں تھا۔ وہ اپنے والدین سے پوچھے بغیر اب کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن وہ تطہیر کا دل بھی نہیں توڑ سکتی تھی۔ اس نے جان بوجھ کر بات پلٹی۔

’’اور وہ سب کچھ جو کل رات ہوا۔۔۔ وہ کیا تھا۔۔۔ کیا سچ مچ تمہیں۔۔۔‘‘

یہ شاید پھوپھو کی بات کا اثر تھا کہ وہ بھی جنُات کے وجود کے بارے میں پَر یقین ہوچلی تھی اور پھر تطہیر کی طلاق کی ایک وجہ تو یہ بھی تھی اس لےے اس نے پوچھ لیا۔ تطہیر کے چہرے پر بہت مردہ سے مسکراہٹ نے جھلک دکھائی۔

’’بچپن سے ہی ایسا ہے۔۔۔ اچانک درد اٹھتا ہے اور میں بے حال ہوجاتی ہوں حتیٰ کہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں رہتی۔۔۔ دل چاہتا ہے سر کو اپنے ہاتھوں الگ کردوں۔‘‘

’’تم نے کبھی ڈاکٹر کو نہیں دکھایا۔۔۔؟ کبھی چیک اپ بھی نہیں کروایا؟‘‘ مناہل نے پوچھا۔

’’جب میں اپنی ماں کے گھر گئی تھی تب وہاں چیک اپ کروایا تھا۔ ڈاکٹر نے ٹیسٹ وغیرہ کےے تھے۔ وہ کہتا ہے میں پیدائشی ہائپر ٹینسو ہوں۔ اس نے اور بھی بہت سی باتیں بتائی تھیں، دوائیں بھی دی تھیں مگر۔۔۔‘‘

وہ ایک بار پھر خاموش ہوگئی۔ مناہل نے گہری سانس بھری۔ اسے تطہیر سے ہمدردی محسوس ہوئی تھی اور اس جیسی لڑکی جو زندگی کے ہر میدان میں کامیابی کے نشے سے سرشار تھی وہ تطہیر کے لےے صرف ہمدردی ہی محسوس کر سکتی تھی۔

’’تمہیں اپنی ممی کا گھر نہیںچھوڑنا چاہےے تھا۔۔۔ بہرحال وہ تمہاری ماں ہیں وہ تمہیں بہتر طریقے سے سنبھال سکتی تھیں۔‘‘ مناہل نے رائے دی۔

’’وہ بھی یہی کہتا تھا۔۔۔ اس کا خیال تھا میں بہت پچھتائوں گی۔۔۔ اور۔‘‘ اس نے رک کر گہرا سانس لیا اس کے چہرے پر عجیب سے مسکراہٹ تھی مناہل نے یہ مسکراہٹ پہلے کبھی اس چہرے پر نہیں دیکھی تھی۔

’’اور اس کا خیال ٹھیک ثابت ہوا میں حقیقتاً پچھتائی بھی۔‘‘ اس نے اسی طرح مسکراتے ہوئے بات مکمل کی۔

’’وہ؟ وہ کون؟‘‘ مناہل نے کھوجنے والے انداز میں پوچھا۔ تطہیر کے چہرے پر جھینپی ہوئی مسکراہٹ میں اضافہ ہوا۔

’’وہ۔۔۔ وہ تھا۔۔ وہ کہتا تھا اسے مجھ سے محبت ہے۔۔۔ وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتا تھا۔‘‘

شرمگیں مسکراہٹ میں اضافہ ہورہا تھا۔ مناہل کو خفیف سا جھٹکا لگا۔ بھلا تطہیر جیسی عام شکل و صورت والی لڑکی سے کون محبت کر سکتا تھا۔

’’وہ میری ماں کے دوسرے شوہر کا بیٹا تھا ہر لحاظ سے مجھ سے مختلف ہر لحاظ سے مجھ سے بہتر۔۔۔‘‘

وہ ایک بار پھر بات کرتے کرتے رکی۔ شرمگیں مسکراہٹ استہزائیہ مسکراہٹ میں ڈھل گئی۔

’’اسے میرے حالات سن کر ہمدردی کا بخار چڑھ گیا تھا وہ کہتا تھا اسے مجھ سے محبت ہوگئی ہے اور وہ میرے لےے ساری دنیا سے ٹکُر لے سکتا ہے۔‘‘ وہ بتا رہی تھی جبکہ مناہل کو حیرت ہو رہی تھی۔ تطہیر نے بتایا تھا وہ لڑکا اس سے محبت کرتا تھا۔ وہ لڑکا اتنے بڑے بزنس مین کا بیٹا تھا یقینا وہ بہت ہائی فائی چوائس رکھتا تھا تو پھر اس نے بیوی کے لےے تطہیر رحمن کا انتخاب کیوں کیا؟ اس کے ذہن میں یہی سوال گردش کرنے لگے تھے۔

’’بدھو ہوگا۔‘‘ اس نے دل ہی دل میں خود سے کہا۔

’’تمہیں بھی اس سے محبت تھی؟‘‘ مناہل نے سرسری سے انداز میں سوال پوچھا۔

’’پتا نہیں میں نے کبھی سوچا نہیں۔۔۔ مگر مجھے اس کی ہمدردی سے سخت نفرت تھی۔ میری ماں نے اس کی پرورش کی تھی، وہ ان کا احسان اتارنے کے لےے مجھ سے شادی کرنا چاہتا تھا مجھے اس کے جھوٹ سے نفرت تھی وہ احسان کا بدلہ اتارنے کے لےے مجھے استعمال کررہا تھا اور وہ کہتا تھا وہ مجھ سے محبت کرتا ہے محبت یہ تو نہیں ہوتی محبت اس طرح کی تو نہیں ہوتی۔‘‘

وہ سر جھکائے کہہ رہی تھی۔ مناہل سمجھ نہیں پائی کہ پھر وہ کس قسم کی محبت کی طلبگار تھی۔ وہ بات کرتے کرتے آنکھیں بند کر چکی تھی۔ اسے اس بات پر کافی حیرت ہورہی تھی کہ تطہیر رحمن سے کوئی لڑکا محبت کیسے کر سکتا ہے۔ یقینا اس کی والدہ کا سوتیلا بیٹا نیکی کے موڈ میں تھا اور تطہیر نے اسے یہ نیکی کرنے نہیں دی تھی۔

٭٭٭

’’آٹھ نمبر۔۔۔‘‘ استقبالیہ پر بیٹھی لڑکی نے نمبر پکار کر اسے متوجہ کرنے کی کوشش کی۔ مناہل نے مسکراتے ہوئے اس خوب صورت سی ریسپشنسٹ کو دیکھا۔

’’آپ آٹھ نمبر کے ساتھ ہیں؟‘‘ وہ پوچھ رہی تھی۔

’’جی۔‘‘ وہ اپنی نشست سے اٹھ کر استقبالیہ پر آگئی۔

’’میم! آپ اندر چلی جائےے۔‘‘ وہ گائنا کولوجسٹ کے روم کی طرف اشارہ کر کے کہہ رہی تھی۔ مناہل خاموشی سے اندر چلی گئی۔ ویٹنگ روم میں بیٹھی خواتین نے حیرت سے اسے دیکھا تھا پھر ان میں سے دو ایک کھسر پھسر کر کے ہنسنے لگی تھیں، اسی لےے وہاں سے اٹھتے ہوئے اس نے ذرا سکون کا سانس لیا تھا۔ ویسے بھی کسی بھی میٹرنٹی ہوم میں آنے کا یہ اس کا پہلا تجربہ تھا۔ تطہیر پہلے سے گائنا کولوجسٹ کے روم میں تھی۔ اس کا چیک اپ ہوچکا تھا اور وہ اب کرسی پر خاموشی سے بیٹھی ہدایات سن رہی تھی۔

’’آپ ہیں ان کے ساتھ؟‘‘ بے حس سے چہرے والی اس گائناکولوجسٹ نے پوچھا پھر اس کے اثبات پر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولی۔

’’کیس بہت مشکل ہے۔۔۔ سیزیرین کے بغیر تو ممکن ہی نہیں ہے کہ ہم بے بی کو بچا سکیں۔۔۔ بہت کمزور ہیں یہ۔۔۔۔ ہائپر ٹینسو بھی ہیں۔۔۔ بائی دا وے آپ میرڈ ہیں؟‘‘

اس نے ایک دم سے سوال کیا۔

’’نہیں!‘‘ اسے اچانک ہی اپنے غیر شادی شدہ ہونے پہ شرمندگی ہونے لگی۔ گائنا کولوجسٹ کے چہرے کے تاثرات ہی ایسے تھے۔

’’آپ کو کسی میرڈ خاتون کو اپنے ساتھ لانا چاہےے تھا۔۔ اب میں ان کو مزید تفصیلات سے کیا آگاہ کروں؟ آپ کا یہ پہلا بے بی ہے۔۔ بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔۔۔ کچھ کمپلیکشنز ہوسکتی ہیں۔۔۔‘‘

وہ ٹھہر ٹھہر کر ان دونوں کے چہرے اور اپنے سامنے پڑی تطہیر کی رپورٹس دیکھ کر کہہ رہی تھی۔ ایک دن پہلے اس نے اسی میٹرنٹی ہوم سے کچھ ٹیسٹ کروائے تھے۔

’’Foetus کی موومنٹ بہت سلو ہے۔۔۔ آپ اپنی خوراک کی طرف دھیان دیں۔۔۔ ٹینشنز۔۔۔ اسٹریس۔۔۔ ناٹ ایٹ آل۔‘‘

اپنا چشمہ اتار کر اس نے میز پر رکھتے ہوئے کہا پھر مناہل کے حلےے پر نظر ڈال کر بولی۔

’’ادائیگی یکمشت کرنی ہوں گی۔۔۔ آپ کائونٹر پہ اپنا نام رجسٹر کروا کر نیکسٹ وزٹ کی ٹائمنگ طے کر لیجےے۔‘‘

وہ اصل بات کی طرف آتے ہوئے بولی۔ مناہل کو اس نے بلایا ہی اس لےے تھا کہ تطہیر تو اپنے حلےے سے اس قابل نہیں لگ رہی تھی کہ اخراجات برداشت کر سکے جبکہ مناہل کو دیکھ کر اسے اطمینان ہوگیا تھا۔

وہ دونوں شکریہ ادا کر کے اٹھ گئی تھیں، تطہیر کو گائناکولوجسٹ کی باتوں نے پریشان کیا تھا یا نہیں اس کے چہرے سے پتا لگانا مشکل تھا۔ یہاں آنے سے پہلے اس نے مسکراتے ہوئے مناہل سے کہا تھا۔

’’میں جانتی ہوں اس بار اللہ میرے ساتھ ہے وہ مجھ پر کرم ضرور کرے گا۔‘‘

وہ مرکزی استقبالیہ پر آکر ضروری معلومات فراہم کر کے تطہیر کا نام درج کروانے لگی، تطہیر ایک طرف پڑی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ گئی۔

’ایکسکیوز می۔‘‘ مناہل نے مڑ کر دیکھے بغیر اس آواز کو پہچان لیا تھا اس آواز کو وہ ہزاروں کے مجمع میں بھی پہچان سکتی تھی وہ صفوان ہی کی آواز تھی۔ مناہل کچھ جھجکتے ہوئے مڑی۔ میٹرنٹی ہوم میں وہ کم از کم اس شخص کا سامنا نہیں کر سکتی تھی، اسے یہ صورت حال ایک دم سے بہت عجیب لگی۔ صفوان کی آنکھوں میں تحیر تھا۔

’’وہ۔۔۔ میں اپنی ایک فرینڈ کے ساتھ آئی تھی۔‘‘ اس کے استفسار پر وہ خجالت بھری مسکراہٹ سے بولی۔

’’میرے ایک کولیگ کی وائف ہیں یہاں۔۔۔ جڑواں بیٹے ہوئے ہیں ان کے گھر۔‘‘ اسی کے اندز میں صفوان نے بھی وضاحت کی۔ اس کا اس جگہ پر ہونا اتنا بھی حیران کن نہیں تھا، کیونکہ وہ خود ایک ڈاکٹر تھا مگر پھر بھی اس کی وضاحت مناہل کو اچھی لگی۔ اس نے ہاتھ سے اشارہ کر کے تطہیر کو اپنی سمت بلایا۔ صفوان نے بھی اس طرف دیکھا پھر وہ مناہل کو دیکھنے لگا۔

’’یہ۔۔۔ تطہیر۔۔۔‘‘

’’تطہیر رحمن۔‘‘ صفوان نے اس کی بات اچک کر نام مکمل کیا تو مناہل نے حیرت سے اسے دیکھا۔

’’یہ آپ کے ہاتھ میں نسخہ ہے نا اور یہ رپورٹس۔‘‘ صفوان نے اس کے ہاتھ میں پکڑی رپورٹس والی فائل کی سمت اشارہ کیا جس پر تطہیر کا نام لکھا تھا وہ مناہل کے ہاتھ سے فائل لے کر دیکھنے لگا۔ اس کے چہرے پرعجیب سے تاثرات تھے مگر اس نے ان پر قابو پالیا تھا۔ گائنی کی رپورٹس کو مکمل طور سے سمجھنا اس کے لےے اتنا بھی آسان نہیں تھا۔ فائل اس نے چیک کرنے کے بعد واپس مناہل کو تھما دی۔

’’مبارک ہو آپ کو بہت۔‘‘ اس نے تطہیر کی طرف دیکھتے ہوئے استہزائیہ انداز میں مبارک باد دی۔ وہ تطہیر کا مکمل جائزہ لے چکا تھا شاید اسے اس کے حلےے سے الجھن ہورہی تھی کم از کم اس کے چہرے سے الجھن ہی ٹپک رہی تھی۔ سجی سنوری، میک اپ سے آراستہ مناہل کے مقابلے میں تطہیر کی سادگی اس کے روپ کو مزید گہنا رہی تھی۔ تطہیر نے ایک نظر ہی صفوان کو دیکھا تھا اسے مناہل کی قسمت پر رشک آیا تھا۔صفوان کو دیکھ کر اس کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی تھی۔

مناہل نے صفوان کی آنکھوں میں تطہیر کے لےے الجھن دیکھی تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ جانتی تھی صفوان کو ہمدردی، خدا ترسی، سوشل ورک سب باتوں سے چڑ ہے۔ اس کے دل میں ایک انوکھا خیال آیا تھا۔

وہ اس لمحہ صفوان کو دکھا سکتی تھی کہ وہ کتنی ہمدرد اور حساس طبیعت رکھتی ہے اس کا دل لاچاروں کی تکلیف پر کتنا دکھ محسوس کرتا ہے وہ صفوان کی نظروں میں اپنا بلند کردار، مزید بلند کرنے کے لےے تطہیر رحمن کو استعمال کر سکتی تھی۔ وہ اپنی ہمدرد طبیعت کا مظاہرہ کر کے اپنے نمبر بڑھا سکتی تھی۔ اپنی عظمت کو ثابت کرنے کا شاید ہی اس سے بہتر موقع کوئی اور ہوتا۔ اس کا دل مدر ٹریسا بننے کو چاہا تھا۔

وہ صفوان کو اپنی اس مظلوم دوست کے عجیب و غریب سر درد کے متعلق بتانے لگی۔ وہ نیورو سرجن تھا اور مسئلے کی اصل تہہ تک پہنچ سکتا تھا لیکن وہ نہایت لا تعلقی سے مناہل کی بات سن رہا تھا اور وقتاً فوقتاً تطہیر کے سراپے پر نظر ڈال لیتا جو سر جھکائے اپنے جوتوں کو گھورنے میں مشغول تھی۔

٭٭٭

’’جو انسان دارالامان جیسی جگہوں پر برائی ڈھونڈ سکتا ہے جو وہاں کی مظلوم عورتوں کو فراڈ قرار دیتا ہے اور جو ایسی جگہوں کو ختم کرنے کی بات کر سکتا ہے میں تو اسے مسلمان ہی نہیں مانتی۔‘‘

سبیکا نے میز کے گرد بیٹھے ساتوں افراد کے چہروں پر باری باری نظر ڈالتے ہوئے کہا۔

’’تمہارے نہ ماننے سے میں کافر نہیں ہوجائوں گا۔۔۔ الحمدا للہ مسلمان ہی رہوں گا۔‘‘

فیصل نے بہت اطمینان سے جواب دیا جبکہ سبیکا کا خیال تھا وہ اس بات پر ضرور بھڑک اٹھے گا مگر وہ ان خوش قسمت لوگوں میں سے تھا جنہیں غصہ ذرا کم ہی آتا تھا۔ سبیکا نے جان بوجھ کر اس کی بات کاجواب نہیں دیا ورنہ ایک لمبی بحث چھڑ سکتی تھی جس سے وہ فی الحال احتراز برتنا چاہتی تھی۔

’’یہ دارالامان جس طرح ضرورت مند عورتوں کو چھت، آسرا اور پناہ فراہم کرتے ہیں وہ قابل تحسین ہے۔‘‘

’’یہ درالامان جس طرح ضرورت مند عورتوں کو چھت، آسرا اور پناہ فراہم کرنے کے بعد ان سے ان سب سہولیات کے عوض جو کچھ مانگتے ہیں وہ بھی تو قابل آفرین ہے۔‘‘

یہ ٹکڑا بھی فیصل نے ہی لگایا تھا۔ وہ ایک کرائم رپورٹر تھا اس کے پاس اس طرح کی باتوں کے متعلق ساری معلومات ہی نہایت اپ ٹو ڈیٹ ہوتی تھیں، لیکن سبیکا کو اس کی کسی بات سے اتفاق نہیں ہوتا تھا اس کے خیال میں فیصل کو انفرادیت برقرار رکھنے کے لےے ہر اچھی چیز کو برا کہنے کا شوق تھا۔ ان کی این جی او کی سالانہ فنڈنگ سے حاصل ہونے والی رقم سے اس بار ایک دارالامان بنانے کا منصوبہ زیر غور تھا۔ سبیکا کو بورڈ ممبرز کے ساتھ ساتھ جونیئر سینئر اسٹاف کی رائے بذریعہ ووٹنگ لینے کے لےے کہا گیا تھا۔ وہ اسی سلسلے میں ان سب کو اس منصوبے کے فوائد اور دور رس اثرات سے ا ٓگاہ کر رہی تھی جب فیصل بھی وہاں چلا آیا اور آتے ہی اس نے اس منصوبے کو بوگس بکواس قرار دیا تھا۔ سبیکا دراصل اسی بات سے بھڑکی تھی۔ فیصل ان کا کولیگ نہیں تھا اس کا اس آفس سے صرف اتنا تعلق تھا کہ وہ ریحان قمر کا بھانجا تھا اور جب اپنے کام سے تھک جاتا تھا تو فریش ہونے کے لےے ان کے پاس آکر بیٹھ جایا کرتا تھا، کیونکہ وہ ایک فری لانسز رپورٹر تھااس لےے اپنی مرضی کا مالک تھا۔ وہ اس آفس میں ہونے والی ہر بحث میں کود پڑنے کا عادی تھا اور خاص طور سے سبیکا جس بحث کو چھیڑتی اس میں ٹانگ اڑانا تو اس کی عادت تھی۔ اب بھی یہی ہوا تھا، اس نے سبیکا کی بات سے اختلاف کر کے گویا اس کے غصے کو ہوا دی تھی۔

اس کا اطمینان بھی قابل داد تھا۔ وہ سبیکا کو چڑانے کے لےے جان بوجھ کر اس طرح سے بات کر رہا تھا۔ اب کی بار اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ سکی اسی لےے تڑخ کر بولی۔

’’تم تو مجھ سے بات ہی نہیں کرو فیصل۔۔۔ تم ایک مردہ دل کے مالک انسان ہو میرا دل چاہتا ہے کہ تمہاری پیشانی پہ یہ بڑا بڑا کر کے لکھوادوں کہ یہ شخص پاگل ہے اس کو چھیڑنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اسے کاٹنے کی عادت ہے۔‘‘

وہ در پردہ اسے گالی دے رہی تھی۔ فیصل نے بہت جلی ہوئی مسکراہٹ سے اسے دیکھا۔

’’ویل مس سبیکا! آپ میرے بارے میں اور میری عادتوں کے بارے میں کچھ زیادہ ہی باخبر نہیں رہنے لگیں۔۔۔ اور کس کس چیز کی عادت ہے مجھے یہ بھی بتا دیجےے۔‘‘ مناہل، فہد، ربیعہ، اظہر اور شعیب سب ہی ایک دم کچھ محتاط ہوئے۔ فیصل کا یہ انداز ان کے لےے کچھ نیا تھا۔ سبیکا کو بھی شاید اپنی غلطی کا احساس ہوا اسی لےے وہ بھی ذرا دیر کو خاموش ہوگئی فیصل اس کے اترے چہرے کو دیکھ کر ایک دم ہنس دیا اور بات پلٹ کر بولا۔

’’لیو اٹ یار! یہ سب تو چلتا ہی رہتا ہے۔۔۔ کس بات کے لےے ووٹنگ کر رہے تھے تم لوگ، چلو پھر سے شروع کرتے ہیں۔‘‘

اس کے ہلکے پھلکے انداز میں کہنے پر سب ہی کے چہروں پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔

’’تم بھی تو اپنی رائے دو مناہل!‘‘ اسے خیالوں میں کھویا دیکھ کر اظہر نے متوجہ کیا۔ وہ اپنی دنیا میں کھوئی ان کی بات ہی نہیں سن پائی تھی۔ سبیکا اور فیصل نے درمیان تصفیہ ہو بھی چکا تھا، یقینا سبیکا نے معذرت نہیں کی تھی لیکن فیصل کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر وہ سمجھ گئی کہ سب ٹھیک ہوچکا ہے اسے کبھی کبھی اس شخص کی قوت برداشت پر رشک آتا تھا وہ کیسے ہر بات اتنے تحمل سے ہضم کر لیتا تھا۔

’’میں ذاتی طور پر کسے ادارے یا تنظیم کے خلاف نہیں ہوں۔ میں یہ بھی نہیں کہتا کہ دارالپناہ جیسی جگہیں نہیں ہونی چاہئیں میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ مظلوم عورتوں کی بقا کو قائم رکھنے کے لےے کچھ نہ کیاجائے۔‘‘

وہ اپنے مخصوص انداز میں سب سے بات کر رہا تھا لیکن وہ سنانا صرف سبیکا کو چاہتا تھا۔

’’میرے کہنے کا صرف یہ مقصد تھا کہ تمہیں اور باقی سب لوگوں کو یہ بتا سکوں کہ جن جگہوں یا اداروں کے بارے میں ہم بہت حساس ہوتے ہیں اور ہم یہ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ وہاں برائی یا برائی جیسی کوئی چیز ہوسکتی ہے، دراصل وہاں سب سے زیادہ بدی اور برائی کے پائے جانے کا امکان ہوتا ہے، کیونکہ وہاں کسی کی نظر نہیں پڑتی اور برائی بیکٹریا کی طرح نمو پاتی چلی جاتی ہے۔‘‘

وہ لمحہ بھر کو رکا پھراس نے اپنی چیئر کے پاس زمین پر پڑا بیگ اٹھا لیا۔ اس نے دو تین پرانے اخبار اسی میں سے لے لےے اور ان سب کے سامنے میز پر پھیلا کر رکھ دےے۔

’’یہ شہر کے چند بڑے دارالامان ہیں۔‘‘ اس نے کاغذ کے اوپر لسٹ کی صورت میں لکھے ہوئے ناموں پر انگلی چلاتے ہوئے کہا پھر اس نے دوسرا کاغذ اوپر کیا۔

’’اور یہ چند کم معروف دارالامان ہیں۔‘‘ وہ دوسری لسٹ کے متعلق بولا پھر تیسرے کاغذ کی باری آئی۔

’’اور یہ نہایت غیر معروف۔۔۔ ان دارالامان کے ساتھ کسی بڑی این جی او، کسی ٹرسٹ یا کسی بڑے سیاستدان کا نام نہیں ہے۔‘‘

یہ کہہ کر اس نے تینوں کاغذ سمیٹ کر یک طرف کر دےے۔

’’برائی کا تناسب بھی اسی طرح ہے۔۔۔ سب سے زیادہ معروف دارالامان میں سب سے زیادہ۔۔۔ کم معروف میں کم برائی کا تناسب اور پھر غیر معروف میں اس سے بھی کم۔‘‘ وہ اسی طرح رک رک کر بات کرتا تھا۔

’’سب سے زیادہ پکڑ میں کون سے دارالامان آتے ہیں؟‘‘ وہ ان سب کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ کر بولا۔

’’وہ۔۔۔ جہاں برائی سب سے کم ہوتی ہے مگر نظر سب سے زیادہ آتی ہے۔‘‘ اس نے تیسری لسٹ ایک بار پھر سب کے سامنے رکھی اور اس لسٹ میں سے ایک پر ہاتھ رکھ کر بولا۔

’’یہ۔۔۔ ساندہ کے قریب واقع ایک بہت چھوٹا سا دارالامان ہے۔ یہاں کل عورتوں کی تعداد تیس ہے۔ اور یہ دارالامان ایک شخص نے اس لےے تعمیر کیا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کے لےے رفاہ عامہ کا کوئی کام کرنا چاہتا تھا۔ اس کی بیٹی جل کر مر گئی تھی۔ وہ صدقہ جاریہ ٹائپ کوئی کام کرنا چاہتا تھا، سو اس نے اور اس کی بیوی نے اس ایک چھوٹے سے ادارے کی داغ بیل ڈالی۔ شروع میں یہ ایک ہاسٹل کی طرح تھا آپ اب بھی اسے ایک ہاسٹل سمجھ سکتے ہیں کیونکہ یہاں پر رہنے والی تیس کی تیس عورتیں اپنا پیٹ بھرنے کے لےے خود محنت کرتی ہیں۔ اس دنیا میں کوئی ایسا نہیں جسے یہ عورتیں اپنا کہہ سکیں وہ ایک دوسرے کو اپنا کہتی اور اپنا سمجھتی ہیں۔۔۔۔ بلکہ سمجھتی تھیں۔۔۔ کیونکہ ایک ماہ قبل اس دارالامان کو بند کر دیا گیا۔‘‘

وہ ایک بار پھر خاموش ہوا۔ سب ہی وجہ جاننے کے لےے بے تاب تھے۔

’’یہاں پر رہنے والی ایک عورت نے شادی کر لی تھی۔ وہ کس سے کہتی کہ اسے شادی کرنی ہے؟ اس کے بزرگ نہیں تھے، وہ کسی کے حکم کی پابند نہیں تھی مگر پھر بھی اس دارالامان چلانے والے میرے معزز دوست کی مکمل مرضی اس شادی میں شامل تھی لیکن پھر بھی اس بات کو ایشو بنایا گیا کہ اس جگہ پر عورتیں بدکاری میں ملوث ہیں وہ اپنے گاہکوں کو گھیر کر اس جگہ پر لاتی ہیں اور۔۔۔ شاید تم سب لوگوں کے لےے یہ بات دلچسپی کی حامل ہو کہ وہاں ایک عورت کے سوا سب کی عمر پچاس اور ساٹھ کے درمیان ہے۔ وہ لفافے بنا کر، چپس بنا کر، کھجور کی ٹوکریاں بنا کر اور دوسری دستکاری وغیرہ کی مدد سے روزی کماتی تھیں۔ دارالامان بند کر دیا گیا اور ان عورتوں کو ایک اور معروف دارالامان میں شفٹ کر دیا گیا۔۔۔ شاید اس الزام کو سچ ثابت کرنے کے لےے۔‘‘

وہ خاموش ہو کر ایک اور لسٹ اوپر رکھ رہا تھا۔

’’یہ ایک معروف دارالامان ہے۔‘‘ اس نے سب سے پہلی لسٹ کے سب سے آخر میں لکھے ہوئے نام پر انگلی رکھی۔

’’اب ملاحظہ کیجےے یہاں کیا کیا ہوتا ہے؟ زبردستی، زنا، بے ہودہ فلموں کی ریہرسل اینڈ شوٹنگ۔۔۔ کیا یہاں یہ رہنے والی عورتیں یہ سب کام کرنے پر تیار ہوجاتی ہیں؟۔۔۔ ویل ۔۔۔ اگر وہ تیار نہ ہوں تو دارالامان کی انتظامیہ کے پاس بہت سے حربے ہیں جن کی مدد سے وہ ان عورتوں کو یہ سب کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ عورتوں پر تشدد کیا جاتا ہے انہیں اتنی بری طرح ٹارچر کیا جاتا ہے کہ وہ یہ سب کام کرنے پر راضی ہوجاتی ہیں۔ واش رومز میں کیمرے لگا دےے جاتے ہیں، بہت سی عورتوں کی مووی بنالی جاتی ہے اور پھر انہیں بلیک میل کر کے اپنی مرضی و منشا کے تحت مجبور کر کے اپنا من پسند کام کروایا جاتا ہے۔ یہاں سے خوب صورت عورتوں کو بڑے بڑے لوگوں کے گھر مہمان بنا کر بھیجا جاتا ہے جو واپسی میں ڈونیشن کے نام پر بڑی بڑی رقمیں لاتی ہیں اور پھر۔۔۔‘‘

اس نے خاموش ہو کر ایک بار پھر سب کی شکل دیکھی اور سب سے زیادہ غور سے سبیکا کو دیکھا۔

’’بہت خوب صورت عورتوں کو۔۔۔ کچھ اور عورتیں بھی پسند کر لیتی ہیں اور اپنے گھر میں مہمان بنا کر رکھتی ہیں۔ ان کے درمیان غیر فطری تعلقات بھی ہوتے ہیں اور اس سے زیادہ الابلا میں نہیں بتائوں گا کیونکہ اگر اس سے زیادہ میں نے کچھ کہا تو لوگوں کو اعتراض ہوگا کہ میں عورتوں کو مردوں سے کمتر تصور کرتا ہوں اور فلمیں دیکھ کر عورتوں پہ اس قسم کی الزام تراشیاں کرتا ہوں۔‘‘ وہ خاموش ہوا تو وہاں بیٹھی تینوں خواتین ایک لمحہ کو تو بالکل ہی ساکت رہ گئی تھیں ان میں سے کسی کو بھی امید نہیں تھی کہ بات کا رخ اس طرف نکل جائے گا۔

’’یہاں کے رہنے والے لوگوں نے، شہریوں نے بہت بار اس دارالامان میں ہونے والی سرگرمیوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے، احتجاج کیا ہے۔ وہاں کے رہائشی چاہتے ہیں کہ اس دارالامان کو ختم کر دیا جائے کہ یہاں ضرورت مند عورتوں کو طوائف بن کر رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے مگر لوگوں کی بات پر کوئی نوٹس نہیں لیا گیا کیونکہ اس دارالامان کو چلانے والی خاتون ایک بہت معزز سیاستدان کی بھابھی ہیں بھابھی۔۔۔ یہ مذاق بھی خوب ہے کہ ایسے لوگ جس عورت کو بیوی نہ بنا سکیں اسے بھابھی بنا لیتے ہیں۔ اس دارالامان کو ریکارڈ میں A میں رکھا گیا ہے۔‘‘ وہ استہزائیہ انداز میں ہنستے ہوئے بولا جبکہ باقی لوگ مسکرا بھی نہ سکے۔ ’’یہ سب کسی ایک شہر میں نہیں ہورہا بلکہ سب شہروں میں، علاقوں کی بات ہے۔ سبیکا جس دارالامان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی بات کر رہی ہے، اس کا بہت بڑا نام ہے مگر میں اخبار کا آدمی ہوں میں اندر کی بات جانتا ہوں اور اسی لےے میں اس پراجیکٹ کے خلاف ہوں۔ میں صفیہ صفدر کے بیک گرائونڈ سے بہت اچھی طرح واقف ہوں۔۔۔ ابھی حال ہی میں ایک ڈیڑھ ماہ پہلے اس دارالامان میں جو کچھ ہوا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔‘‘

وہ رک کر ایک اخبار ان کے سامنے رکھتے ہوئے بولا۔

’’اسی کو دیکھ لو۔‘‘ اس نے ایک دو کالمی خبر پر انگلی رکھی، وہ سب باری باری اس خبر کو دیکھنے لگے۔

’’اس گناہ گار عورت کو صفیہ صفدر نے پکڑوایا پھر اس نے چھڑوایا۔۔۔ کیسے؟ کیوں یقینا رقم خرچ ہوئی ہے، کسی طرح سے، کس طرف سے؟ کیوں؟ یہ میں نہیں جانتا مگر جلد ہی جان جائو گا۔‘‘

وہ سبیکا کو دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا اس کی بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی اور اخبار اب مناہل کے ہاتھ میں تھا۔ خبر میں ایک عورت کا ذکر تھا جو قرآن کی بے حرمتی کی مرتکب ہوئی تھی۔ مناہل کا ذہن کہیں اور گم تھا اس نے بہت آرام سے پوری خبر پڑھی تھی اس کے ذہن میں بھول کر بھی کسی کا خیال نہیں آیا تھا۔ ایک نام جو اس کے ذہن میں مسلسل گردش کر رہا تھا وہ صفیہ صفدر کا تھا۔ اس نے یہ نام پہلے بھی سن رکھا تھا۔

اخبار دیکھنے کے بعد اس نے اپنے ساتھ بیٹھی ربیعہ کو دے دیا۔ وہ فیصل کی بات سے متفق تھی۔

’’میں چاہتا ہوں برائی کا مکمل طورسے استحصال کیا جائے تاکہ اس کا مکمل طور سے خاتمہ کیا جاسکے اس شخص کی مدد کی جائے جو مدد کا مستحق ہے اس کے لےے ہمیں اپنے کان اور آنکھیں کھلی رکھنی ہوں گی۔۔۔ میں چاہتا ہوں کہ ہم برائی پھیلنے میں مدد دینے کے بجائے اس کا قلع قمع کرنے کی کوشش کریں۔ چور کو ختم کرنے سے پہلے چوری کو ختم کریں اور اس چیز کی ابتدا ہمیں گراس روٹ لیول سے کرنی ہوگی۔‘‘

فیصل نے گہری سانس بھر کر کہا۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے ایک بہترین حل پیش کردینے کے بعد اس کے پاس اب بولنے کے لےے کچھ باقی نہیں بچا۔

’’یہ بات گراس روٹ لیول تک پہنچے گی کیسے۔۔۔ اور پہنچائے گا کون؟‘‘

سبیکا نے ذرا کی ذرا شرمندگی سے فیصل سے ہی پوچھا۔ وہ اس کی پوری بات سے متفق تھی فیصل مسکرا دیا پھر بولا۔

’’اسے ہی پہنچے گی جیسے فیئر اینڈ لولی پہنچی ہے اور پہنچائے گا لیور برادرز۔‘‘ وہ سب ہنس دےے تھے جبکہ سبیکا صرف مسکرائی تھی، اس کی رنگ ذرا سانولی تھی جسے نکھارنے کے لےے وہ بہت ٹوٹکے آزماتی تھی۔

’’فیصل صاحب! آپ کو صفوان صاحب بلا رہے ہیں۔۔۔ وہ مین سکشن میں آئے بیٹھے ہیں۔‘‘

مناہل نے جھٹکے سے سر اٹھا کر پیون کی طرف دیکھا۔ صفوان آفس آیا تھا اور اس طرف آکر مناہل سے ملنے کے بجائے مین سیکشن میں بیٹھا تھا۔ اس کے اندر تک آگ لگ گئی۔ فیصل اور وہ آپس میں کزن تھے، وہ تو فوراً اٹھ کر چلا گیا مگر وہ وہیں بیٹھی رہی۔ ربیعہ، سبیکا اسے چھیڑنے والے انداز میں دیکھ رہی تھیں مگر وہ مسکرا بھی نہ سکی۔ اسے اس لمحہ بہت سبکی کا احساس ہوا تھا۔ صفوان کم گو اور سرد مہر ہی سہی مگر اس کے کولیگز کے سامنے تو وہ اپنائیت کا مظاہرہ کر سکتا تھا۔ وہ اس خیال سے پیچھا چھَڑا ہی نہیں پارہی تھی۔

٭٭٭

’’آپ کو مجھ سے کبھی دلچسپی تھی ہی نہیں۔۔۔ میں خود سمجھ نہیں پائی کہ آپ نے مجھ سے رشتہ کیوں جوڑا۔۔۔ جب آپ کو مجھ سے کوئی انٹرسٹ ہی نہیں تو آپ نے مجھے یہ انگوٹھی کیوں پہنائی؟‘‘

وہ چلُا کر بولی۔ صفوان نے ریسیور کو کان سے تھوڑا پرے کیا کیونکہ مناہل کی آواز ہی اتنی اونچی تھی۔ اسے ایک دم سے اتنا غصہ کیوں آگیا وہ حیران ہوتے ہوئے سوچ رہا تھا۔ اس نے فون کر کے اسے یاد دلایا تھا کہ اس کو اپنی فرینڈ کو میڈیکل چیک اپ کے لےے لانا تھا۔ یہ بات یاد دلا کر جب اس نے اس کا حال پوچھا تو وہ یکدم ہی غصے میں آگئی تھی۔

’’میں سمجھا نہیں مناہل! آپ کیا کہنا چاہتی ہیں؟‘‘ وہ عجب شش و پنج میں گھر کر بولا۔

’’یہی تو آپ کی پرابلم ہے صفوان! آپ کبھی مجھے سمجھ ہی نہیں پائے۔۔۔۔ مجھے، نہ میری فیلنگز کو اور۔۔۔۔ نہ میری محبت کو۔۔۔ میرا ہر جذبہ آپ کے لےے بے کار ہے آپ مجھے اور میری محبت کو Forgranted لیتے ہیں۔‘‘

’’کیا۔۔۔ کیا کہا۔۔۔؟ For granted؟‘‘ اس کی بات سن کر شاک لگا تھا نہ جانے کس کی یاد دل کے کس کونے سے نکل کر آہستگی سے سارے وجود میں سرایت کر گئی۔

’’ہاں۔۔۔Forgranted مجھے آج تک سمجھ میں نہیں آسکا کہ آپ نے مجھے اپنی زندگی میں کیوں شامل کیا۔ جب آپ کو میری ضرورت نہیں تھی تو آپ نے مجھے اپنانے کا سوچا ہی کیوں۔۔۔ آپ کی زندگی میں کہیں پر میں ہوں ہی نہیں اور پھر بھی۔۔۔ پھر بھی آپ کے نام کی انگوٹھی میری انگلی میں کیوں موجود ہے؟‘‘

وہ شاید رو بھی رہی تھی۔ صفوان کے سارے وجود پر ایک بے چینی چھا گئی اس کے پاس الفاظ نہیں تھے وہ مناہل کو کیسے سمجھاتا، جبکہ مناہل نے اس کی خاموشی کو کچھ اور سمجھا۔ اس نے صفوان کے احتراز برتنے کو اس کی لا تعلقی سمجھا تھا۔ وہ بہت دن سے یہی سب محسوس کر رہی تھی مگر آج آفس میں جس طرح اس نے نظر انداز کیا تھا اس سے وہ بہت ہرٹ ہوئی تھی اور وہ مزید اپنے جذبات کو چھپا کر رکھنا نہیں چاہتی تھی۔ جب سے اسے یہ پتا چلا تھا کہ تطہیر رحمن جیسی عام سی لڑکی بھی ان خوش قسمت لوگوں میں شامل ہے جنہیں چاہا جاسکتا ہے تو صفوان کی سرد مہری اسے زیادہ چبھنے لگی تھی۔ اس جیسی خوب صورت لڑکی کا تو یہ حق تھا کہ اسے چاہا جاتا۔

’’کبھی کبھی مجھے یہ لگتا ہے جیسے یہ تعلق آپ کے لےے مجبوری کے سوا کچھ نہیں۔ آپ اسے صرف نبھا رہے ہیں۔۔۔ یہ تعلق آپ کے لےے گلے میں پڑے طوق کی مانند ہے جو آپ سے پہنا نہیں جارہا اور اتارا بھی نہیں جارہا آپ کومیری پروا ہے نہ میری ضرورت۔۔۔ آپ صرف اپنے پیرنٹس کی وجہ سے ابھی تک اس رشتے کو قائم رکھے ہوئے ہیں ورنہ آپ کو مجھ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔‘‘

وہ اس کی کم گوئی کو اس کی سرد مہری سمجھ رہی تھی۔ اس نے اس لڑکی کے ساتھ منگنی اپنی مکمل رضامندی کے ساتھ کی تھی وہ اسے Forgranted کیسے لے سکتا تھا۔

’’آپ غلط سوچ رہی ہیں مناہل۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔ یہ سب غلط ہے۔ نہ جانے آپ نے اپنے ذہن میں کیسے کیسے مفروضے قائم کر لےے اور پھر انہیں ہی سو فیصد درست سمجھنا شروع کر دیا۔‘‘ وہ بہت تھکے تھکے انداز میں بات کر رہا تھا۔

’’ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ مجھے آپ کی ضرورت نہ ہو یا مجھے آپ سے دلچسپی نہ ہو، میں نے زندگی میں کبھی کوئی ایسا کام نہیں کیا جس میں میری سو فیصد مرضی شامل نہ ہو۔۔۔۔ اور پھر یہ تو زندگی بھر کا فیصلہ ہے۔۔۔ آپ غلط سوچ رہی ہیں مناہل۔‘‘ وہ لمحہ بھر کو رکا۔

’’آئی ڈو کیئر فار یو۔۔۔ رئیلی آئی ڈو۔‘‘اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگیا۔

’’آپ جھوٹ بولتے ہیں۔۔۔ آپ صرف میرا دل رکھ رہے ہیں اور۔۔۔‘‘

’’او کے فائن۔۔۔ میںجھوٹ بول رہا ہوں۔۔۔ پھر؟‘‘ وہ اس کی بات کاٹ کر بولا۔ پہلے اس کی آواز میں لاچاری لگ رہی تھی مگر اب صرف غصہ غالب تھا۔ مناہل نے تحیر سے ریسیور کی طرف دیکھا اس کو صفوان کے اس طرح بھڑک اٹھنے کی امید نہیں تھی۔ وہ اسے بہت ٹھنڈے مزاج کا آدمی سمجھتی تھی۔

’’اور کچھ کہنا ہے آپ کو؟ کوئی اور الزام کوئی اور طعنہ۔۔۔۔‘‘ وہ پہلے والے انداز میں کہہ رہا تھا مناہل کچھ بول ہی نہ پائی۔

’’اوکے دین۔۔۔۔ اللہ حافظ۔‘‘

اس کی خاموشی سے اکتا کر صفوان نے فون بند کر دیا۔ مناہل کی آنکھ سے یکدم ہی آنسوئوں کی لڑی موتیوں کی طرح گالوں پر پھسلی۔ وہ صفوان کے روےُے پرافسردہ ہوتی تھی مگر رونا اسے پہلی مرتبہ پڑا تھا۔ وہ فون بند کر کے اپنے کمرے میں آگئی۔ اس کے آنسوئوں سے اس کا تکیہ بھیگنے لگا تھا چند لمحے اسی طرح رونے کے بعد اس نے اپنے بائیں ہاتھ کی تیسری انگلی میں موجود وہ انگوٹھی اتار کر زمین پر پھینک دی تھی۔ اسے صفوان سے کوئی تعلق نہیں رکھنا تھا۔ یہی سب سوچتے ہوئے وہ روتے روتے سو گئی تھی۔ زمین پر پڑی وہ انگوٹھی رات بھر وہیں پڑی رہی مگر صبح ہوتے ہی مناہل نے اسے اٹھا کر دوبارہ بائیں ہاتھ کی تیسری انگلی میں پہن لیا تھا وہ اس انگوٹھی سے دور رہ ہی نہیں سکتی تھی۔

٭٭٭

’’آئی ایم سوری۔۔۔ مجھے ایسے نہیں کہنا چاہےے تھا۔‘‘ وہ ندامت سے سر جھکائے کہہ رہی تھی۔ صفوان نے ایک نظر اس کے جھکے ہوئے سر کو دیکھا پھر لاپروائی سے بولا۔

’’اٹس اوکے!‘‘ مناہل کا دل اس کے انداز پر کٹ کر رہ گیا۔ وہ اس کے بالکل سامنے بیٹھا تھا مگر بہت دور محسوس ہورہا تھا۔ مناہل نے صبح اٹھتے ہی فون کر کے معذرت کی تھی اور اس کو لنچ کی آفر دی تھی۔ صفوان کا انداز بہت لیا دیا تھا اس نے فون پر معذرت کا جواب اٹس اوکے کہہ کر دیا تھا اور اب ریسٹورنٹ میں اس کے بالکل سامنے بیٹھ کر بھی وہ ایسے ہی کہہ رہا تھا۔ ریسٹورنٹ میں رش بالکل نہیں تھا ان کے علاوہ ایک اور لڑکا لڑکی تھے۔ وہ بھی ان سے کافی دور بیٹھے تھے اسی لےے وہ آرام سے بات کر سکتی تھی۔

’’میرا یہ مطلب۔۔۔‘‘ وہ بات بھی مکمل نہیں کر پائی تھی کہ آنکھ سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ صفوان نے ایک نظر اسے دیکھا پھر جھلُا کر بولا۔

’’پلیز مناہل! مجھے اور پریشان مت کیجےے۔‘‘ گویا وہ پہلے ہی بہت تھا۔

’’آپ مجھ پر غصہ کر لیجےے مگر اس طرح۔۔۔ لا تعلقی نہ برتےے، میں آپ کی لا تعلقی برداشت نہیں کر سکتی۔‘‘

وہ دھیمی آواز میں بولی، آنسو ابھی بھی رواں تھے۔ صفوان نے گہری سانس بھری۔

’’کس کس بات کا غصہ کروں؟ آپ کو مجھ پر اعتبار نہیں ہے اس بات کا؟ یا آپ مجھے جھوٹا سمجھتی ہیں اس بات کا؟ میں آپ کی فیلنگز کو فارگرانٹڈ لیتا ہوں اس بات کا؟ یا آپ مجھے لیٹ ڈائون کرتی ہیں اس بات کا؟‘‘

وہ بہت تحمل سے بات کر رہا تھا۔ مناہل نے آنسوئوں سے بھری آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ اس شخص کو کبھی لیٹ ڈائون کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔

’’دراصل۔۔۔ بات یہ نہیں ہے صفوان! آپ مجھے نظر انداز کرتے ہیں۔‘‘

وہ اپنی بات کی وضاحت کر نہیں پائی تھی۔ صفوان نے گہری نظروں سے اسے دیکھا۔

’’کب کیا میں نے ایسا۔۔۔؟ کیا کبھی ایسا ہوا کہ میں نے جان بوجھ کراس طرح کیا ہو؟‘‘ وہ تیز لہجے میں ولا۔

’’آپ۔۔۔ کل آفس آئے تھے اور۔۔۔ آپ مجھ سے ملے بھی نہیں۔‘‘ نہ جانے کیسے یہ بچکانہ شکوہ اس کے منہ سے پھسلا۔ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ اس طرح شکوہ کرے گی۔

’’تو اتنی سی بات سے آپ نے یہ نتیجہ اخذ کر لیا کہ میں آپ سے محبت نہیں کرتا اور اتنی سی بات سے آپ نے مجھے جھوٹا سمجھ لیا، اتنی سی ہی بات سے میں آپ کے لےے بے اعتبار ہوگیا۔۔۔ ویری انٹرسٹنگ۔۔۔ یعنی کہ اگر ایک شخص کسی مجبوری کے تحت آپ سے کسی روز مل نہیں پائے گا تو آپ اسے جھوٹا سمجھ لیں گی۔ آپ جانتی ہیں، میں کل آپ کے آفس کیوں آیا تھا؟‘‘ اس نے بات کرتے کرتے سوال کیا پھر جواب کا انتظار کےے بغیر بولا۔

’’میں آپ کے آفس کے اکائونٹ سیکشن میں آیا تھا۔ مام کو امریکہ میں کچھ رقم کی ضرورت تھی انہوں نے فون کر کے پیسے منگوائے تھے۔ کل میں عجلت میں تھا، آپ کے آفس سے مجھے بینک جانا تھا اور چار بجے ایک ضروری آپریشن تھا۔آپ سے ملنے کے لےے رک جاتا تو دیر ہوجاتی۔‘‘

’’آئی ایم سوری صفوان۔۔۔ لیکن میرا یہ مطلب تو۔۔۔‘‘ وہ وضاحت دے ہی نہیں سکتی تھی، کیونکہ اس قسم کی بات بھی ہوسکتی ہے یہ اس کے ذہن میں ہی نہیں آیا تھا۔

’’آپ کا جو بھی مطلب ہو مناہل۔۔۔ لیکن مجھے اس کا ایک ہی مطلب سمجھ میں آیا۔۔۔۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسی کیا بات ہے جو سارا زمانہ مجھے جھوٹا سمجھتا ہے، کیا میرے چہرے پہ لکھا ہے کہ میں جھوٹا ہوں کیا کسی کی نظر میں میری اتنی بھی اہمیت نہیں کہ وہ میرا اعتبار کر سکے۔۔ میں اتنا برا ہوں کہ سارا جہان مجھے ناقابل اعتبار کہتا ہے۔‘‘

’’پلیز صفوان! میں نے آپ کو جھوٹا نہیں کہا۔‘‘ وہ اس کے لہجے سے خائف ہو کربولی۔

’’کیا یہ لازم ہے کہ اندھے کو اس کے اندھے پن کا احساس اندھا کہہ کر دلایاجائے کیا اور طریقے نہیں ہوسکتے اس کو اس کی کمی کا احساس دلانے کے ۔۔۔ لنگڑے کو لنگڑا کہہ کر اس کی کمزوری کا احساس دلایا جاتا ہے۔۔۔ اگر اس کی بیساکھی چھین لی جائے تو اسے پتا نہیں چل جائے گا کہ اسے معذور کہا جارہا ہے۔۔۔ مناہل آپ نے مجھ سے میرا مان چھین لیا۔۔۔ کیا میں اپنے ماتھے پر لکھوالوں کہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں یا میں ہر بار سانس لینے سے پہلے اس بات کو دہرائوں کہ مجھے آپ سے محبت ہے۔‘‘

وہ بہت سخت لہجے میں بات کر رہا تھا۔ مناہل کو شرمندگی ہونے لگی۔ اسے نہیں پتا تھا کہ وہ سارا زمانہ اور سارا جہان کسے کہہ رہا ہے اور اس کے علاوہ اسے اور کون جھوٹا سمجھتا ہے، مگر اس کی غلط فہمی دور ہوگئی تھی کہ صفوان کو اس کی پروا نہیں ہے اگر اس کو پروا نہ ہوتی تو وہ اتنا غصہ کیوں کرتا۔۔۔ غصہ صرف اپنوں کے ساتھ کیا جاتا ہے اس کے اندر کسی قدر سکون اتر آیا تھا۔

’’اگر آپ کے ہاتھ میں موجود یہ انگوٹھی آپ کو میری محبت کا یقین دلانے میں ناکام ہوگئی ہے تو شاید کوئی چیز آپ کو میری محبت کا یقین نہ دلا سکے۔ میں شرمندہ ہوں مناہل! کہ میں شاید کبھی بھی آپ کی توقع پر پورا نہ اتر سکوں، کیونکہ میں بار بار تو یہ گردان نہیں کروں گا کہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں اور اگر آپ کو میری بات کا یقین نہیں ہے تو اٹس اوکے۔۔۔‘‘

’’پلیز صفوان۔۔۔۔ بس کریں پلیز۔‘‘

وہ تڑپ کر اس کی بات کاٹ کر بولی۔ نہ جانے وہ کیا کہنے والاتھا۔ اسے بھی اپنے لہجے کی سختی کا احساس ہوا۔ وہ دونوں ہی خاموش ہوگئے تھے چند لمحے اسی طرح گزر گئے۔ صفون نے گلاس اپنے قریب کر کے اس میں پانی ڈال لیا وہ کچھ دیر پانی کے اس گلاس کو گھورتا رہا پھر اس نے گہری سانس بھر کر گلاس ہاتھ میں پکڑ لیا۔ مناہل اسی کی طرف دیکھ رہی تھی اس نے گلاس سے پانی کا ایک بڑا گھونٹ بھرا تھا۔ پانی کو اندر منتقل کر کے اس نے ایک بار پھر لمحے کا توقف کیا اور مناہل کے چہرے کی طرف دیکھا۔ اس کے چہرے پہ مسکراہٹ چمکی تھی پھر وہ مسکراہٹ گہری ہوگئی۔ وہ مسکراتے ہوئے دھیرے دھیرے پانی پینے لگا۔ مناہل کے چہرے پر بھی ہلکی سی مسکراہٹ آگئی تھی اسے تطہیر رحمن اور اس کا غصہ بھگانے کا انوکھا طریقہ یاد آیا۔ اسی لمحے صفوان کو بھی کسی کی یاد آئی تھی۔ اس نے خالی گلاس ایک طرف رکھ دیا پھر مناہل کو دیکھ کر بولا۔

’’آئی ایم سوری۔۔۔ میں کچھ زیادہ ہی تلخ ہوگیا تھا شاید۔‘‘

وہ حقیقتاً شرمندہ لگ بھی رہا تھا اس سے پہلے کہ مناہل کچھ بولتی اس نے پھر کہا۔

’’مگر ۔۔۔ مناہل۔۔۔ ایک ریکویسٹ ہے، مجھے کبھی جھوٹا نہیں سمجھےے گا۔ کبھی بھی نہیں۔ مجھے حقیقتاً برا لگتا ہے جب کوئی مجھ پر اعتبار نہیں کرتا۔‘‘

اس کے لہجے میں عجیب سی بے چارگی تھی۔ مناہل کو مزید شرمندگی نے آن گھیرا۔ اس نے میز پر رکھے صفوان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔

’’آئی ایم سوری اینڈ آئی پرامس، اب کبھی ایسا نہیں کہوں گی۔‘‘ اس کے اس طرح سے کہنے پر صفوان کے چہرے پر موجود مسکراہٹ میں اضافہ ہوا تھا۔

٭٭٭

اس سے اگلے ہی دن وہ تطہیر کو لے کر صفوان کے کلینک گئی تھی۔ اس کا مکمل میڈیکل چیک اپ ضروری تھا۔ مناہل کی توقعات کے برعکس صفوان اس سوشل ورک میں اس کے ہم قدم تھا۔ اس نے اپنے ضروری اپائنٹمنٹسکینسل کر کے تطہیر رحمن کو ٹائم دیا تھا۔ مناہل کو آفس جانا تھا اور وہ تطہیر کو اس کے کلینک میں ڈراپ کر کے خود آفس چلی گئی تھی حالانہ تطہیر اس کے بغیر وہاں رکنا نہیں چاہتی تھی اس نے منُت بھری درخواست کی تھی مگر وہ تسلی دے کر اسے صفوان کے پاس اس کے کلینک چھوڑ گئی تھی۔ کیونکہ صفوان نے کہا تھا کہ مکمل چیک اپ میں دیر ہوجائے گی اس لےے وہ بے فکر ہو کر اپنے کام کے لےے جا سکتی ہے چونکہ صفوان نے ایسا کہا تھا اس لےے مناہل کے لےے یہ سب ماننا بہت ضروری تھا۔ وہ اسے یقین دلانا چاہتی تھی کہ وہ اس پہ اعتبار کرتی ہے۔

صفوان نے چیک اپ کے بعد کچھ ضروری ٹیسٹس کروانے کے لےے کہا۔ پھر اس نے خود ہی مختلف لیبارٹریز سے یہ ٹیسٹ کروائے تھے۔ تطہیر جس چیز کو صرف بلڈ پریشر کی زیادتی کی وجہ سے اٹھنے والا سر درد سمجھ رہی تھی، وہ صرف بلڈ پریشر کی وجہ سے اٹھنے والا سر درد نہیں تھا۔ اس کے مکمل ٹیسٹ ہونے میں ایک ہفتہ لگ گیا تھا اور ایک ہفتے بعد آنے والی ساری رپورٹس حیران کن تھیں۔ صفوان کے علاوہ دو نیورو سرجن نے بھی اس سر درد کو برین ٹیومر کا نام دیا تھا۔ ایک ایسی بیماری جو اپنی آخری اسٹیج پر تھی۔ صفوان نے یہ خبر مناہل کو فون پر دی تھی اور اسے یہ خبر تطہیر کو سنانی تھی۔ جو بے صبری سے اپنی رپورٹس کا انتظار کر رہی تھی۔

٭٭٭

’’آپ یہ کہنا چاہتی ہیں کہ میرے پاس اتنا بھی وقت نہیں کہ میں اپنے بچے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکوں۔ اس کے آنے میں بہت تھوڑا سا وقت ہے اور اللہ نے مجھے اتنے وقت کی بھی مہلت نہیں دی۔ اس نے مجھے زندگی میں ایک ہی خوشی دی تھی اور وہ مجھ سے یہ خوشی بھی چھین لینا چاہتا ہے۔‘‘

مناہل کے منہ سے اپنی بیماری کا نام اور اس کی نوعیت جان کر اس نے نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے کہا۔

مناہل نے اس سے پہلے بھی بہت بے یار و مددگار تکلیف میں مبتلا عورتیںدیکھی تھیں مگر اس کا دل کسی کی بھی تکلیف پر اتنا بے چین نہیں ہوا تھا جتنا اس لمحہ تطہیر کی حالت زار دیکھ کر ہوا تھا۔

وہ مناہل کے منہ سے یہ سب سننے کے بعد یکدم رونے لگی تھی اس طرح پھوٹ پھوٹ کر وہ پہلی مرتبہ اس کے سامنے روئی تھی مگر چونکہ مناہل اس کے ماضی کے متعلق سب جانتی تھی اس لےے وہ سمجھ سکتی تھی کہ یہ پہلا موقع نہیں جو وہ اس طرح رو ر ہی ہے وہ اسی طرح روتی آئی تھی۔ اس کا اپنا دل بہت رنجیدہ ہورہا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے تطہیر نے اپنے پاس پڑی سب چیزیں اٹھا کر زمین پر پھینک دی تھیں۔ مناہل کے لےے اس کو سنبھالنا مشکل ہورہا تھا۔

’’وہ مجھے دیکھتا ہی نہیں۔۔۔ اتنے سال ہوگئے، روتے ہوئے چلُاتے ہوئے مگر وہ میری مدد کو تیار ہی نہیں ہوتا۔‘‘ وہ اپنے مخصوص انداز میں شکوہ کناں تھی مگر مناہل نے یہ منظر پہلے دیکھا تھا نہ ایسے شکوے سنے تھے اس نے صرف تطہیر رحمن کے منہ سے اس کے حالات کے متعلق سنا تھا۔ وہ اسے پرسکون کرنے کی کوشش کرر ہی تھی مگر کر نہیں پارہی تھی۔ اسے ڈر تھا کہ وہ حاملہ ہے، کہیں اپنا کچھ نقصان نہ کر بیٹھے دوسرا پھوپھو بھی گھر میں نہیں تھیں ورنہ وہ ہی تطہیر کو سنبھال لیتیں۔

’’میں اتنے سالوں سے اسے پکار رہی ہوں مگر وہ کیوں نہیں سنتا۔ وہ جو ستُر مائوں سے زیادہ محبت کرتا ہے اسے میں نظر کیوں نہیں آتی۔ چاول بھر پرات میں سے کنکر بھی چن لےے جاتے ہیں کیا میں اس کے لےے کنکر کے برابر بھی نہیں۔‘‘

وہ روتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ بہت دن ہوگئے تھے۔ اس کو اللہ سے اس طرح شکوے کےے ہوئے۔ وہ جب سے حاملہ ہوئی تھی تب اس کا ہر شکوہ ختم ہوگیا تھا اسے لگنے لگا تھا زندگی کی صعوبتیں ختم ہوگئی ہیں، مگر اب یہ انکشاف ہی جان لیوا تھا کہ وہ خود مرنے والی ہے۔ اس نے بہت بار مرنے کی دعا کی تھی مگر وہ زندہ رہی تھی اور اب جب وہ زندہ رہنے کی خواہش کرنے لگی تھی، اسے پتا چلا تھا وہ مرنے والی ہے۔

’’میرے جسم کا ایک ایک خلیہ اس کی رحمت کی بارش کے لےے نماز استقسا ادا کر رہا ہے مگر بارش نہیں ہوتی۔۔۔ رحمت نہیں ہوتی۔

اس نے میرے حصے میں سارے غم رکھ دےے اور باقی سب لوگوں کے حصے میں سکھ ہی سکھ خوشیاں اطمینان، میرا باپ اتنی جلدی مر گیا اور میری سوتیلی ماں اپنی سوتیلی اولاد کے ساتھ بالکل اطمینان سے زندگی گزار رہی ہے۔ خرم نے مجھے گھر سے نکال دی مگر وہ خود زندگی میں ایک کامیاب انسان ہے۔ عبیر کے پاس کیا نہیں ہے، زندگی کی ہر نعمت سے مالا مال ہے وہ اور پھر۔۔۔ میری ماں۔۔۔۔‘‘ وہ ہچکی لینے کو رکی پھر بولی۔

’’میری ماں ایک کامیاب عورت ہے۔ ایک دکھ بھی اسے چھو کر نہیں گزرا۔ وہ اطمینان سے شہلا رحمن سے شہلا قمر بن گئی۔ میرے لےے نہ کبھی اس کا دل پگھلا نہ اس کو میری یاد آئی اور جب میں خود اس کے گھر آگئی تو اسے میرے ساتھ رہنا ایک مصیبت لگنے لگا۔‘‘

’’واٹ۔۔۔ کیا کہا تم نے۔۔۔ شہلا رحمن۔۔۔ شہلا قمر۔۔۔۔ وہ، وہ تمہاری سگی ممی ہیں؟‘‘

ہزار والٹ جتنا کرنٹ لگا تھا مناہل کو۔ وہ پھٹی ہوئی آنکھیں لےے اسے دیکھ رہی تھی۔

’’ہاں۔۔۔ وہی میری سگی ممی ہیں۔۔۔ آپ کو بھی تو پتا چلے کہ جس عورت کو آپ فرشتہ سمجھتی ہیں اس کی حقیقت کیا ہے۔‘‘ تطہیر نے سابقہ انداز میں جواب دیا۔

’’تطہیر۔۔۔! صفوان۔۔۔ وہ تم سے محبت کرتا ہے؟‘‘

اس نے سسکی لینے والے انداز میں پوچھا۔ تطہیر اپنے حواسوں میں کب تھی جو بات کو سنبھال پاتی ورنہ جس دن سے اس نے صفوان کو دیکھا تھا اس دن سے وہ ڈر رہی تھی کہ جب مناہل کو اس حقیقت کا پتا چلے گا تو وہ کس طرح اپنے رد عمل کا اظہار کرے گی، وہ جلد از جلد اپنے بچے کا انتظار کر رہی تھی تاکہ وہ اس گھر سے جاسکے مگر تقدیر نے ایک بار پھر اسے اپنا زیرنگیں کر لیا تھا۔ مناہل دھیرے سے اس کے پاس سے اٹھی تھی۔ اس کی اگلی منزل قمر لاج تھی۔ وہ تطہیر کی غلط فہمی دور کرنا چاہتی تھی یقینا اسے غلط فہمی ہوئی تھی کہ صفوان جیسا شاندار انسان اس سے محبت کرتا ہے۔ اس میں ایسا تھا ہی کیا کہ اسے چاہا جاتا۔

٭٭٭

’’صفوان!‘‘ اس نے بہت آہستگی سے پکارا۔ کمرے میں عجیب سے گھٹن تھی اور عجیب سی بو بھی آرہی تھی۔ صفوان کرسی پر کندھے جھکا کر کھوئے ہوئے انداز میں بیٹھا تھا۔ اپنے نام کی پکار پر بھی اس نے سر نہیں اٹھایا تھا۔ مناہل کچھ جھجکتے ہوئے کمرے کے درمیان آگئی۔ ریحان قمر بھی گھر پر نہیں تھے جبکہ شہلا قمر تو پہلے ہی امریکہ میں تھیں۔ ملازم نے اسے بتایا تھا کہ صاحب کمرے میں ہیں اسی لےے وہ کمرے میں ہی آگئی تھی۔

’’صفوان!‘‘ اس نے ایک بار پھر پکارا۔ اب کی بار صفوان نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اس کی آنکھیں بے تحاشا سرخ ہورہی تھیں۔ وہ سیدھا ہو کر بیٹھا تو اس کے ہاتھ سے گلاس نیچے گرپڑا تھا۔ مناہل کے لےے آج جھٹکوں کا دن تھا۔

’’تم۔۔۔ اب کیا کرنے آئی ہو؟ اب کیا رہ گیا ہے۔۔۔ اب تو سب ختم ہوچکا اور تم اب آئی ہو۔‘‘

وہ عجیب سے انداز میں ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا۔ مناہل کو اس سے کچھ خوف محسوس ہوا۔

’’صفوان! میں۔۔۔ مناہل ہوں۔۔۔ آنکھیں کھولیں صفوان۔‘‘

وہ دور کھڑی ذرا جھجکتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ صفوان نے اسے دیکھا پھر ہنستے ہوئے بولا۔

’’تم۔۔ مناہل۔۔۔ تمہیں بھی آج ہی آنا تھا۔ تم بھی آجائو سب مل کر میرا تماشا دیکھو، تمہیں بھی تو مجھ پر یقین نہیں ہے نا تمہیں بھی تو میں جھوٹا لگتا ہوں وہ، وہ بھی یہی کہتی تھی اسے لگتا تھا میں اس پر ترس کھاتا ہوں مگر مناہل میں کیوں ترس کھاتا میں تو اس سے محبت کرتا تھا۔‘‘ مناہل ڈھے جانے والے انداز میں زمین پر بیٹھ گئی۔ اب کس بات کا شک تھا کون سی غلط فہمی دور کرنی تھی۔ وہ شخص آپے میں نہیں تھا وہ نشے میں تھا مگر وہ جانتی تھی کہ اس کے منہ سے نکلا ایک ایک لفظ سچ پر مبنی ہے۔ اس کا دل چاہا ہر چیز کو آگ لگا دے ہر چیز کو تہس نہس کر دے۔

’’مناہل وہ مجھے اتنی اچھی لگتی تھی کہ دل کرتا تھا اس کے سارے غم خود لے کر اپنے سارے سکھ اسے دے دوں۔ اس کی آنکھ میں آنسو نہ آنے دوں۔۔۔ اس کی بد نصیبی کوخوش نصیبی میں بدل دوں۔۔ مگر مناہل وہ بہت بری تھی۔ وہ مجھے جھوٹا کہتی تھی اسے لگتا تھا میں اس پر ترس کھاتا ہوں اسے میرا یقین ہی نہیں تھا، اسے میرا یقین کیوں نہیں تھا مناہل؟‘‘

وہ اس سے سوال کر رہا تھا جبکہ وہ خود جواب دینے کی پوزیشن میں کہاں تھی اس کا سارا غرور مٹی میں مل گیا تھا۔ وہ لڑکی جسے اس نے کبھی کچھ نہیں سمجھا تھا جس کو وہ صرف اپنے گھر میں اس لےے رکھ رہی تھی کہ اس کی ساس نے ایسا کرنے کے لےے کہا تھا ورنہ شاید وہ اسے مخاطب کرنا بھی پسند نہ کرتی۔ اسے یہ بھی سمجھ میں آگیا تھا کہ صفوان کو جھوٹا کہلائے جانے سے کیوں نفرت ہے۔ وہ بے آواز رونے لگی۔

’’وہ کہتی تھی اس کے پاس ایسا کیا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگا ہوں؟ مناہل۔۔۔وہ سمجھتی تھی کہ محبت کے لےے سب سے ضروری چیز شکل ہے اور مناہل اسے لگتا تھا اس کی شکل اچھی نہیں ہے مگر مناہل وہ بہت خوب صورت تھی۔‘‘

وہ کہہ رہا تھا اور مناہل جانتی تھی کہ وہ کتنی خوب صورت ہے اگر محبت کا عمل دخل نہ ہوتا تو صفوان کو وہ لڑکی کسی زاوےے سے خوب صورت نہ دکھائی دیتی مگر محبت کے کھیل نرالے تھے۔ وہ مناہل کے مقابلے میں اسے خوب صورت قرار دے رہا تھا۔

’’محبت۔۔۔ شکل سے کب ہوتی ہے؟ ہے نا مناہل۔۔۔ شکل سے محبت ہوا کرتی تو مجھے تم سے نہ ہوجاتی۔ پلیز مناہل روٹھنا نہیں ورنہ میں کیا کروں گا وہ بھی تو مرنے والی ہے مناہل وہ مرجائے گی۔ مناہل بولو، مناہل میں کہاں جائوں گا اس کے بغیر میں بھی مرجائوں گا میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتا مناہل۔‘‘

اس نے بہت زیادہ پی رکھی تھی۔مناہل خاموشی سے اٹھ کر باہر نکل آئی۔ اس نے بہت بار چاہا تھا کہ وہ شخص اسے تم کہہ کر مخاطب کرتا اور جب آج وہ اسے تم کہہ کر مخاطب کر رہا تھا تو اسے برا لگا تھا۔ وہ بہت آہستگی سے لائونج پھر پورچ تک آئی تھی۔ قسمت نے اس کے ساتھ عجیب کھیل کھیلا تھا اور اس کھیل میں اسے شکست پھر اس انسان کے ہاتھوں ہوئی تھی جو کسی طور اس کا ہم پلہ نہیں تھا۔ ایسی شکست زیادہ رلایا کرتی ہے شاید۔ گھر کی طرف جاتے ہوئے وہ بے آواز رو رہی تھی اور اس کے ذہن میں ایک ہی فقرے کی تکرار تھی۔

’’آئی ول کل یو تطہیر۔‘‘

٭٭٭

’’یہ کون ہیں؟‘‘

تطہیر رحمن کو پہلی مرتبہ اپنے گھر میں دیکھ کر جو بے ساختہ سوال اس کے منہ سے نکلا تھا وہ یہی تھا۔ اس نے اس لڑکی کو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اسی لےے وہ دل ہی دل میں کچھ حیران ہوا تھا۔ اس نے اپنی مام کو ہمیشہ ہائی جینٹری کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے دیکھا تھا وہ ہر چیز میں بہت اعلا معیار رکھتی تھیں۔ ان کا حلقہ احباب بھی ان ہی جیسا ہائی فائی تھا ایسے میں پھیکے سے رنگوں میں ملبوس، سادہ چہرے والی وہ لڑکی ان کے ساتھ نظر آنے کی وجہ سے صفوان کے لےے حیرانی کا باعث بن رہی تھی۔ اس کے استفسار پر ملازمہ نے کندھے اچکا کر لا علمی کا اظہار کیا تھا۔ وہ اپنی مالکن کی اس بدلی ہوئی روش پر صفوان سے زیادہ حیران دکھائی دے رہی تھی۔ صفوان کے اپنی دوسری ماں سے تعلقات بالکل نارمل تھے۔ وہ اچھے موڈ میں ہوتیں تو کافی مہربان دکھائی دیتی تھیں اور برے موڈ میں وہ عام طور پر صفوان کا سامنا کرتی ہی نہیں تھیں۔

صفوان کے ڈیڈی سے شادی کے بعد انہوں نے کبھی بھی اپنی اولاد کے بارے میں نہیں سوچا تھا بلکہ وہ دھڑلے سے کہتی تھیں کہ میرے لےے صفوان جیسا ایک ہی بیٹا کافی ہے۔ ان کے اچھے روےے کی وجہ سے ان کے حلقہ احباب میں تقریباً سب ہی لوگ اس بات سے بے خبر تھے کہ وہ اس کی سوتیلی ماںہےں۔ اس لڑکی کے متعلق ملازمہ سے استفسار کے بعد اس نے دوبارہ یہ سوال نہیں کیا تھا کیونکہ تجسس اس کی عادت نہیں تھی اور اس کا دوبارہ اس لڑکی کے متعلق کچھ جاننے کا موڈ بھی نہیں تھا اگر اس کا سامنا اسی روز ڈائننگ ٹیبل پر اس سے نہ ہوتا۔

وہ کلینک سے واپس آیا تو بھوک سے برا حال تھا۔ اپنے کمرے میں جانے کے بجائے وہ ڈائننگ ہال میں آگیا۔ مام ڈیڈ کے ساتھ وہ لڑکی بھی موجود تھی۔ وہ خاموشی سے سب کے ساتھ کھانے میں شریک ہوگیا۔ اس نے سرسری سی نظر اس پر ڈالی تھی۔

’’یہ تطہیر ہےں۔۔۔ شہلا کی بیٹی۔‘‘ صفوان کو اس کی طرف دیکھتا پا کر ڈیڈ نے تعارف کروایا۔ ابھی وہ اس سے ہیلو ہائے کرنے ہی والا تھا کہ مام عجلت میں بولیں۔

’’تطہیر! ابھی بھوک نہیں ہے تو بعد میں کھا لینا۔ نیند آرہی ہے تو اپنے کمرے میں چلی جائو۔‘‘

صفوان کو مام کے روےے پر حیرت ہوئی تھی اور اسے ان کی بیٹی پر بھی حیر ت ہوئی تھی۔ وہ تو اس لڑکی کو ان کے سوشل ورک کی کوئی نئی مثال سمجھ رہا تھا، مگر اس کا اندازہ غلط نکلا تھا وہ ان کی اپنی بیٹی تھی۔

اس نے مام کی نظر میں اپنی ہی بیٹی کے لےے پیدا ہوجانے والی شرمندگی کو حیرت سے دیکھا۔ وہ ایک نامی گرامی سوشل ورکر تھیں جو ضرورت مندوں کی مدد کے لےے ہر دم تیار رہتی تھیں اور اس لمحہ وہ اپنی ہی بیٹی سے عجیب سلوک کرتی نظر آرہی تھیں۔ صفوان نے سر جھٹک کر اپنا سارا دھیان کھانے کی طرف لگا دیا تھا۔ یہ مام کا ذاتی معاملہ تھا اور وہ اتنا ال مینرڈ نہیں تھا کہ ان کے ذاتی معاملے میں بے جا مداخلت کرتا مگر نہ جانے کیسے ان کا پرسنل میٹر دھیرے دھیرے اس کے لےے بھی پرسنل ہونے لگا تھا ۔ غیر ارادی طور پر وہ اس لڑکی کے ساتھ مام کے روےُے کا جائزہ لینے لگا۔ ان کا رویہ اکثر بہت نامناسب اور اہانت آمیز ہوتا تھا۔ اسے حیرت ہوتی تھی کہ کیا سچ مچ وہ ان کی سگی بیٹی ہے حقیقت تو یہ ہے کہ وہ ان کی سگی بیٹی لگتی نہیں تھی ان کی رنگت، نقوش اور سراپا ہر چیز اپنی بیٹی سے مختلف تھا حالانکہ صفوان نے تطہیر رحمن کے انداز میں بہت تبدیلیاں محسوس کی تھیں۔

اس گھر میں آنے کے بعد اس کے ظاہری حلےے میں بہت سی تبدیلیاں آئی تھیں یقینا مام اس کی ڈریسنگ وغیرہ کے معاملے میں بہت محتاط تھیں۔ انہوں نے اس کو اپنی طرح بنانے کی کوشش نہیں کی تھی ، مگر پہلے دن کے مقابلے میں وہ اب کچھ مختلف دکھائی دے رہی تھی۔ ایک چیز جو ابھی تک ویسی ہی تھی وہ تھا اس کا سپاٹ چہرہ۔ صفوان کو لگتا تھا یہ لڑکی شاید ہی زندگی میں کبھی ہنسی ہوگی۔ وہ اسے مخاطب کرنے کی کوشش نہیں کرتا تھا اور پہلے دن کے بعد اس نے ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا بھی نہیں کھایا تھا اسی طرح اس کو ان کے ساتھ رہتے ہوئے ایک مہینہ بیت گیا تھا۔

٭٭٭

’’بھوک لگی ہے؟‘‘ اس نے دوستانہ مسکراہٹ چہرے پہ سجا کر پوچھا۔

وہ اس کی آواز سن کر کچھ محتاط ہوگئی تھی ورنہ اس سے پہلے وہ لان میں بنے سیمنٹ کے چبوترے پر دونوں ٹانگیں چڑھائے بیٹھی تھی۔ صفوان کے سوال پر اسے حیرت ہوئی۔ اسے کیسے پتا چلا تھا کہ اسے بھوک لگ رہی ہے دراصل جب وہ کچن میں کھڑی کھانے کو کچھ ڈھونڈ رہی تھی تو صفوان لائونج سے اپنا والٹ اٹھانے آیا تھا جو اس نے غلطی سے وہاں رکھ دیا تھا۔

تطہیر کچن سے کچھ بھی کھانے کو ڈھونڈنے میں ناکام ہوکر لان میں آگئی۔ پتا ہی نہیں چلا تھا کہ صفوان مسلسل اس کی حرکت کو نوٹس کر رہا ہے۔ مام اور ڈیڈ ایک پارٹی میں گئے تھے، وہ خود اپنے فرینڈز کے ساتھ ڈنر کر کے گھر آیا تھا۔ تطہیر کو شاید اس قابل سمجھا ہی نہیں گیا تھا کہ اس کے لےے پکا کررکھا جاتا۔ وہ اس گھر کی مالکن کی بیٹی تھی مگر اس کی حیثیت ملازم سے بڑھ کر نہیں تھی، اسے یقینا بھوک لگ رہی تھی مگر وہ صفوان کے سامنے خاموش رہی۔

صفوان نے اپنے ٹرائوزر کی جیب میںہاتھ ڈال کر کچھ باہر نکالا تھا۔ وہ اس چیز کو کچھ دیر ہاتھ میںپکڑ کر دیکھتا رہا پھر اس نے وہ چیز تطہیر کی طرف بڑھا دی۔ وہ چند لمحے تذبذب میں گھری اس کے ہاتھ کی طرف دیکھتی رہی۔ لان میں پھیلی بلب کی زرد روشنی میں وہ بمشکل اس چیز کو پہچان پائی تھی۔ وہ سارے دن کی بھوک مٹانے کے لےے اسے ایک چاکلیٹ دے رہا تھا۔ اس نے کچھ جھجکتے ہوئے اس چاکلیٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا، لیکن صفوان نے وہ چاکلیٹ اس کے ہاتھ میں دینے کے بجائے اس کے سامنے پھینک دی۔ تطہیر کو حد درجہ توہین کا احساس ہوا۔ وہ شاکڈ رہ گئی تھی، اس کے اپنے گھر میں ہزاروں مرتبہ اس کے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا گیا تھا۔ ہزاروں مرتبہ اس کو اسی طرح کھانے کے لےے دیا گیا تھا مگر اتنی بے قدری اسے کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔

’’اٹھائو۔‘‘ صفوان نے کہا۔

’’مجھے نہیں چاہےے۔‘‘ اس نے بہت دھیمی آواز میں جواب دیا۔ صفوان زور سے ہنسا۔

’’کیوں۔۔۔۔؟‘‘ وہ ایک دم سے اس کے سامنے آکھڑا ہوا اور پوچھا۔ اس کے وجو دسے تطہیر کے پاس آنے والی زرد روشنی بالکل چھپ گئی تھی۔

’’میری مرضی۔۔۔ اور میں آپ کی غلام نہیں ہوں جو آپ اس طرح سے مجھے چاکلیٹ دے رہے ہیں۔ اٹھا لیجےے اسے۔ مجھے نہیں چاہےے۔‘‘ وہ تڑخ کر بولی۔ صفوان ایک بار پھر ہنس دیا۔

’’بہت خوب۔ تو آپ کو بولنا آتا ہے۔۔۔؟ سن کر خوشی ہوئی۔۔ ساری دنیا سے اس طرح چیزیں لینے والی تطہیر رحمن مجھ سے اس طرح ایک چاکلیٹ نہیں لے سکتی۔‘‘

اس کے ڈیڈ سے تطہیر کے متعلق یہ سب پتا چلا تھا۔

’’ہاں، میں اس طرح سے آپ سے یہ چاکلیٹ نہیں لے سکتی۔۔ میں جانور نہیں ہوں کہ آپ یہ سلوک کریں۔‘‘

وہ کاٹ کھانے والے انداز میں بولی۔ صفوان اب کی بار ہنسا نہیں تھا مگر اس کے چہرے پر محظوظ سی مسکراہٹ تھی۔ وہ تطہیر کے سرخ چہرے کی طرف بغور دیکھتا رہا پھر اس کے سامنے بینچ پر بیٹھ گیا تھا۔

’’یہی تو میں تمہیں بتانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ تم جانور نہیں ہو اور جب تم جانور نہیں ہو تو لوگوں کو، دنیا کو، اس بات کا موقع کیوں دیتی ہو کہ وہ تمہیں اس طرح ٹریٹ کریں جیسے تم کوئی جانور ہو۔‘‘

وہ بہت اپنائیت سے ناصحانہ انداز میں کہہ رہا تھا۔ اب کی بار تطہیر خاموش رہی۔

’’یہ سب جو تمہیں مل رہا ہے، یہ بھیک نہیں ہے کہ تم اسے لیتے ہوئے شرمندہ ہو۔ یہ سب تمہارا حق ہے۔ اسے حق کی طرح وصول کرو۔ یہ۔۔۔ جہاں تم ابھی بیٹھی ہو۔ اس گھر کی قیمت لگ بھگ ایک کروڑ ہے اور یہ گھر تمہاری مدر کا ہے۔ اور ان کے اس گھر کی واحد حق دار تم ہو۔ مام اگر اپنے سارے اثاثے ڈکلیئر کریں تو ان کی مالیت ڈیڈ کی جائیداد سے بھی زیادہ ہوجائے گی۔ وہ ایک بزنس ٹائیکون ہیں۔ ان کے نام سے کتنے ٹرسٹ چل رہے ہیں۔ اور تم۔۔۔ تطہیر رحمن۔۔۔ ان کی اکلوتی وارث ہو۔ اس کے باوجود تم یہاں ایسے رہتی ہو جیسے کوئی کسی غیر کے یہاں رہتا ہے۔ تم مام کی ہر جائز ناجائز بات اتنے آرام سے برداشت کر لیتی ہو۔ ان کا رویہ تمہارے ساتھ اتنا اہانت آمیز ہوتا ہے مگر پھر بھی تم سہتی رہتی ہو۔ تم یہ سب کیسے کر لیتی ہو۔ کم از کم میں تو ایسا نہیں کر سکتا۔۔۔ مجھے کوئی جانور کی طرح ٹریٹ کر کے دیکھے، میں تو اسے قتل کردوں۔۔۔‘‘ وہ خاموش ہوگیا تھا مگر اس کی بات ختم نہیں ہوئی تھی۔ اس نے تطہیر کی آنکھ سے آنسوئوں کو رم جھم کی طرح برستے دیکھا۔

’’آپ یہ سب کر سکتے ہیں۔۔۔ آپ یہ سب کر سکتے ہیں۔۔۔ مگر میںیہ سب برداشت کرنے کے لےے مجبور ہوں، کیونکہ اللہ نے مجھے یہی سب برداشت کرنے اور سہنے کے لےے پیدا کیا ہے۔ لوگ مجھے اس لےے جانور کی طرح ٹریٹ کرتے ہیں کیونکہ انہیں اللہ نے یہ حق دیا ہے کہ وہ میرے ساتھ اس طرح کا سلوک کریں اللہ نے مجھے بنایا تو انسان ہے مگر میری قسمت۔۔۔‘‘

’’پلیز اب یہ مت کہنا کہ تمہاری قسمت کسی جانور کی قسمت کی طرح ہے۔‘‘ وہ اس کی بات کاٹ کر بولا۔

’’کوئی انسان اپنے منہ سے اپنی اس قدر تذلیل نہیں کر سکتا اور کوئی بھی انسان اس قدر تذلیل کے قابل نہیں ہوتا کہ خود کو ایک جانور سے ملائے۔‘‘ صفوان کی آواز کچھ اونچی ہوگئی تھی۔ مگر جب تطہیر بولی تو اس کی آواز اس سے بھی زیادہ اونچی تھی۔

’’میں کر سکتی ہوں اپنے منہ سے اپنی تذلیل اور میں کسی جانور سے برابری بھی کر سکتی ہوں چھپکلی، سانپ اور ہر ایسے غلیظ جانور سے جس سے کراہیت آتی ہے اور نفرت محسوس ہوتی ہے کیونکہ۔۔۔ اللہ نے مجھے پیدا ہی اس لےے کیا ہے کہ میری تذلیل کی جائے۔ جب اللہ ہی مجھے اس طرح ذلیل ہوتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے تو میں کس طرح ا س کی مرضی کے خلاف جاسکتی ہوں۔میں سارے جہان سے لڑ سکتی ہوں مگر۔۔۔ میں اللہ سے تو نہیں لڑ سکتی۔‘‘

وہ ہسٹریا کا شکار ہورہی تھی۔ صفوان کو اس کی امید نہیں تھی۔ اس کا خیال تھا وہ اس کے سامنے اپنی ماں کے لےے نفرت کا اظہار کرے گی اپنے باپ کے خلاف بولے گی وہ دنیا کی زیادتی کی بات کرے گی۔ مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔

’’اللہ کے بارے میں ایسے بات مت کرو۔‘‘ صفوان کو سال میں دو مرتبہ ہی مذہب سے دلچسپی پیدا ہوتی تھی، جب اسے عیدین کی نماز پڑھنے مسجد جانا ہوتا تھا مگر اس سمے اس لڑکی کے منہ سے ایسی باتیں سن کر وہ اسے ٹوکے بنا نہ رہ سکا جب کہ وہ مزید بھڑک اٹھی۔

’’پیدا ہونے سے لے کر اب تک اس نے مجھے ہر چیز کے لےے ترسایا ہے۔ ہر چیز کے لےے مجھے ستُر ستُر بار اس کو پکارنا پڑا اور ستم ظریقی یہ ہے کہ میری طلب کی ہوئی کوئی چیز مجھے نہیں ملی۔ میری ہر خواہش آزمائش بن گئی میری ہر چاہ آہ بن کر پلٹ آئی۔ والدین۔۔۔ ذہانت۔۔۔ شخصیت، نعمت، ہر چیز، ہر چیز میں مجھے بد قسمت رکھا۔ ہر چیز میں۔ اتنی نفرت تو کوئی بھی کسی سے نہیں کرتا۔‘‘

وہ ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی۔ اور اسی لےے اٹک اٹک کر بول رہی تھی۔ صفوان کو احساس ہوا اسے یہ موضوع چھیڑنا ہی نہیں چاہےے تھا۔ اسے کیا پڑی تھی کہ کسی غیر لڑکی کے آنسو پونچھ کر اس کی تکلیف کم کرنے کی کوشش کرتا۔ مگر نہ جانے کیوں اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ ایک دفعہ اس کے آنسو پونچھ ڈالے۔ اس کے دل سے ساری غلط فہمی دور کر ڈالے مگر وہ اتنی فلاسفی نہیں بول سکتا تھا۔ وہ لفظوں کے معاملے میں تھوڑا کنجوس اور تھوڑا اناڑی تھا۔ اس نے کبھی اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسے نہیں سوچا تھا کیونکہ اسے کبھی ایسے سوچنے کی ضرورت نہیں پڑی تھی۔ اس نے دنیا کی ہر نعمت کو پیدا ہونے کے ساتھ ہی اپنے قریب پایا تھا۔اس کی ماں بھی اس کے بچپن میں انتقال کر گئی تھیں، مگر اسے سوتیلی ماں جیسی کسی چیز سے واسطہ نہیں پڑا تھا۔ ریحان قمر نے جب شہلا رحمن سے شادی کی تو وہ چھ برس کا تھا۔ اس نے بچپن کا عرصہ دادا دادی کے ساتھ انگلینڈ میں گزارا تھا۔ وہ جب واپس آیا تو اس کی اسکولنگ ختم ہوچکی تھی۔ وہ دبنے والی عمر میں تھا نہ مسز شہلا قمر دبانے والی پوزیشن میں، اسی لےے ان کے تعلقات ہمیشہ آپس میں خوشگوار رہے تھے۔ اس کے علاوہ وجاہت، ذہانت، دولت ہر چیز میں وہ آئوٹ اسٹینڈنگ تھا۔ قسمت کا ہیر پھیر کیا ہوتا ہے وہ سمجھ ہی نہیں سکتا تھا۔ اور حقیقت تو یہ ہے کہ اس نے کبھی سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کی تھی، کیونکہ ایسا کرنے کی اسے کبھی ضرورت نہیں پڑی تھی۔

اس نے ہچکیاں بھرتی تطہیر کی طرف دیکھا۔ ’’وہ کیا تھی؟ وہ کیوں تھی؟ وہ زندگی تھی۔ وہ سب کچھ تھی۔ وہ جو اپنے آپ کوکچھ نہیں سمجھتی تھی رات کے اس پہر، اس لمحہ وہ کسی کے لےے اس کا سب کچھ ہوگئی تھی۔ قدرت کو مہربان ہوتے دیر کتنی لگتی ہے۔

وہ اس لڑکی کو خاموش کروانے لگا جسے یہ نہیں پتا تھا کہ اللہ کی مہربانی ہوتی کیا ہے۔ وہ اس کی مہربانی کو سمجھنے کے بجائے اس کی نا مہربانی کا شکوہ کر رہی تھی۔ اس رات صفوان بہت مشکل سے اسے پرسکون کرپایا تھا۔ مگر ان دونوں کی دوستی میں اس رات نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ غیر محسوس طریقے سے صفوان اس کا بہت خیال رکھنے لگا تھا۔

’’تم پاگل ہوگئی ہو؟‘‘ اس نے چڑ کر کہا مگر تطہیر پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ وہ اسی طرح سر جھکائے بیٹھی اپنے ناخنوں کو تکنے میں مشغول تھی۔ صفوان کو اس کے روےُے نے سخت بد مزا کیا تھا اور پچھلے ایک ماہ میں ان کے درمیان اتنی بے تکلفی ضرور پیدا ہوچکی تھی کہ وہ اسے ٹوک کر اس کے غلط روےُے اور فیصلے پر تنقید کر سکتا۔

’’تمہیں واپس جا کر کیا ملے گا؟ کیا وہ گھر اِس گھر سے زیادہ بہتر ہے یا اَس گھر کے لوگ تمہیں اِس گھر کے لوگوں سے زیادہ اچھے لگتے ہیں۔‘‘

وہ بالکل اس کے سامنے بیٹھا تھا اس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا اچانک تطہیر کو کس کی محبت ستانے لگی ہے اور وہ واپس اپنے ابو کے گھر کیوں جارہی ہے حالانکہ اپنے گھر کے متعلق ساری باتیں بتاتے ہوئے اس نے ایک بار کہا تھا کہ وہ زندگی میں کبھی بھی دوبارہ اس گھر میں ان سوتیلے رشتوں کے بیچ نہیں جانا چاہتی۔ اسے اس گھر میں رہتے ہوئے دو ماہ ہوچکے تھے۔ اور مام سے اس کے تعلقات کی نوعیت ویسی ہی تھی جیسے پہلے دن سے تھی۔ مگر صفوان کے ساتھ وہ بہت گھل مل گئی تھی۔ اس نے اپنی زندگی کے متعلق تقریباً بہت ساری باتیں اسے بتائی تھیں اسے اپنے دل کا غبار نکالنے کے لےے ایک مہربان دوست کی ضرورت تھی اور صفوان کی صورت میں اسے وہ مہربان دوست مل گیا تھا۔

اس کی خاموشی اسے تائو دلا رہی تھی۔ جب کہ وہ اپنا فیصلہ سنا دینے کے بعد اب گونگے کا گڑ کھائے بیٹھی تھی۔

’’کیا میں یہ سمجھوں کہ تم مجھے وجہ بتانا نہیں چاہتیں؟‘‘ وہ ایک دم سے اس کے سامنے سے اٹھتے ہوئے بولا۔ تطہیر کے وجود میں خفیف سے لرزش ہوئی تو تھی۔

’’اوکے فائن۔۔۔ میں چلتا ہوں، اب کبھی کچھ نہیں پوچھوں گا۔‘‘

وہ اٹھ کر باہر کی سمت چل دیا تھا۔ اس کو مکمل یقین تھا کہ وہ آواز دے کر روک لے گی مگر ایسا کچھ نہیں ہوا تھا وہ لائونج سے لان میں آگیا تھا، اور کتنی دیر تک لان سے پورچ، کار پورچ سے لان میں چکر لگاتے ہوئے تطہیر کی بے حسی کے معلق سوچ کر سلگتا رہا تھا۔ اس نے اس لڑکی کے لےے کیا نہیں کیا تھا۔ اپنا قیمتی وقت اس پر ضائع کر کے اس میں جینے کی لگن پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہا تھا۔ اس کو اپنی شخصیت کا اتنا زعم تھا کہ وہ کبھی کسی لڑکی کو لفٹ بھی نہیں دیتا، مگر اس تطہیر رحمن کو لے کر وہ گھنٹوں باہر گھومتا تھا۔ اس نے ابھی حال ہی میں اپنا کلینک شروع کیا تھا وہ کلینک سے تھکا ہارا گھر واپس آتا تھا مگر اس کو دیکھ کر نہ جانے کیوں کچھ دیر کو تھکن کو بھول سا جاتا وہ منہ لٹکائے، پریشان حال اداس بیٹھی ہوتی اور ایسے میں صفوان کا دل چاہتا اس لڑکی سے اس کی ساری اداسی، ساری پریشانی لے کر اس کے چہرے پر ایک ازلی مسکراہٹ سجا دے۔

وہ اس کے اس گھر میں آنے سے پہلے اکثر ڈنر باہر سے کر کے آتا تھا مگر اس کے آنے کے بعد وہ خاص طور سے جلدی گھر آجاتا تھا کہ ڈنر اس کے ساتھ کر سکے۔ دوپہر کو لنچ کے وقت وہ اسے فون کر کے کھانے کے متعلق استفسار کرتا، حالانکہ اس کے ہاسپٹل کے کولیگز اس بات پر اس کا مذاق اڑانے لگے تھے کہ شاید وہ ہر روز اپنی کسی گرل فرینڈ کو فون کرتا ہے۔ مگر اسے پروا نہیں تھی اور یہ لاپروا لڑکی کتنے آرام سے اسے بتا رہی تھی کہ وہ واپس اپنے ابو کے گھر جارہی ہے اور اسے اس بات کی بھی پروا نہیں تھی کہ اس کا دوست اس سے ناراض ہے، بہت دیر تک اس کے روےُے پر کڑھتا رہنے کے بعد وہ گاڑی لے کر باہر نکل گیا۔ جان بوجھ کر ڈنر بھی باہر کر کے جب وہ گیارہ بجے کے قریب گھر واپس آیاتو تطہیر لان میں بیٹھی تھی۔

وہ اسے یکسر نظر انداز کر کے اندر کی سمت بڑھ گیا۔ اپنے کمرے میں آکر اس نے کپڑے تبدیل کرنے کے بعد کھڑکی سے لان میں دیکھا تو وہ وہیں بیٹھی نظر آئی۔ دونوں گھٹنوں میں سر دےے اپنے آپ سے بے نیاز، صفوان کندھے اچکا کر اپنے بستر پر بیٹھ کر کچھ مریضوں کی کیس ہسٹری دیکھنے لگا تھا مگر زیادہ دیر تک وہ اپنے آپ کو اس کام میں مصروف نہیں رکھاپایا۔ اس کا دل اس لڑکی کے لےے بے چین ہورہا تھا۔

دل کو کوستے ہوئے وہ سلیپر پہن کر خود بھی لان میں آگیا۔ بہت خاموشی سے وہ اس کے پاس زمین پر بیٹھ گیا۔ ہوا میں بہت ہلکی سی خنکی تھی۔ جو بہت بھلی لگ رہی تھی۔ تطہیر نے سر اٹھا کر اسے نہیں دیکھا تھا مگر وہ ہچکیاں لینے لگی تھی۔ صفوان کے دل کو جیسے کسی نے مسل ڈالا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ کبھی اس کی وجہ سے روئے گی۔

’’تطہیر پلیز۔۔۔ اوکے بابا۔۔۔ سوری۔۔۔ میری غلطی ہے۔‘‘

اس نے تہیہ کیا تھا کہ وہ کبھی اس سے بات نہیں کرے گا مگر اب اس کے آنسو دیکھ کر وہ اپنے آپ سے کےے گئے سارے وعدے بھول گیا۔ وہ مسلسل ہچکیاں لے کر رونے میں مشغول تھی۔

’’پلیز یار۔۔۔! کیوں شرمندہ کرتی ہو؟ اب بس بھی کرو۔‘‘ وہ عجیب بے بسی سے بولا تھا۔

’’پلیز مجھ سے کبھی ناراض مت ہونا۔ کبھی بھی نہیں۔‘‘ اس نے ایک دم سے سر اٹھا کر کہا تھا۔ اس کے گال آنسوئوں سے تر تھے اور اس کی نم نم آنکھوں میں التجا ہی التجا تھی۔ صفوان بہت دیر تک اس کے چہرے سے نظر ہٹا نہیں پایا تھا۔

’’میں تم سے ناراض ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔ کبھی بھی نہیں۔۔۔ تم میری بہترین دوست ہو۔‘‘

آخری بات شاید اس نے اپنے آپ سے کہی تھی۔ وہ ایک عام سی لڑکی کے لےے اپنے آپ کو اتنا بے بس کیوں محسوس کر رہا تھا۔ وہ خود سمجھ نہیں پایا۔

’’میں اس گھر میں نہیں رہ سکتی، مجھے یہاں سے جانا ہے۔۔۔ یہ میرا گھر نہیں ہے۔ یہ تو میری ماں کا گھر ہے اور میری ماں کو مجھ سے محبت نہیں ہے بلکہ وہ مجھ سے نفرت کرتی ہیں۔۔۔ انہیں میرے اٹھنے، بیٹھنے، چلنے، پھرنے حتیٰ کہ میرے کھانا کھانے کے طریقہ پر بھی اعتراض ہے۔۔ وہ اس بات پر غصہ کرتی ہیں کہ میں چھری کانٹے سے نہیں کھا سکتی۔۔۔ انہیں یہ بات بھی بری لگتی ہے کہ میں ان کے ملازموں کے سامنے انہیں مخاطب کیوں کرتی ہوں اور میرے بولنے کا طریقہ ایسا ہے جیسے پچاس ساٹھ سال کی کوئی عورت بات کر رہی ہو۔‘‘

اس بار صفوان کے پوچھے بنا ہی وہ سب کچھ بتانے لگی تھی ، صفوان کو اندازہ تھا کہ مام کا رویہ ہی اس کے لےے ہتک کا باعث ہے اور اسی لےے وہ یہاں سے جانا چاہتی ہے۔

’’دراصل۔۔۔ انہیں میرے سانس لینے پر اعتراض ہے، انہیں اس بات پر اعتراض ہے کہ میں کیوں ہوں؟ میں زندہ کس لےے ہوں، میں اب تک مر کیوں نہیں گئی، میں ان کے لےے وبال جان ہوں۔‘‘ وہ اس سے سوال کر رہا تھا پھر اس کے جواب کا انتظار کےے بغیر بولا۔

’’تم پاگل ہو تطہیر! بالکل پاگل ہو۔۔۔ یہ تمہاری ماں ہیں اگر کچھ کہہ بھی دیتی ہیں تو تم برداشت کرو اور تمہیں برداشت کرنا چاہےے۔۔۔ مگر وہ لوگ تو سب تمہارے سوتیلے ہیں۔۔۔ تمہارے اپنے نہیں ہیں وہ بھی تو تمہارے ساتھ اسی طرح کا رویُہ روا رکھیں گے، پھر۔۔۔؟ پھر کیسے برداشت کرو گی؟ کہاں جائوں گی؟ باپ کے گھر سے نکالا گیا تو ماں کے گھر آئیں۔ ماں کے گھر سے نکلو گی تو واپس باپ کے گھر۔۔۔ اور جب دوبارہ وہاں سے نکالا گیا تب۔۔۔ بولو، کہاں ٹھکانا ڈھونڈو گی؟‘‘

تطہیر نے گہری سانس بھر کر اسے دیکھا۔ اور اپنے گالوں کو ہاتھ سے صاف کرنے کی کوشش کی۔

’’بتائو نا۔۔۔؟ کیا کرو گی؟‘‘ اس نے پھر پوچھا۔

’’آپ یہ سب اتنے آرام سے اس لےے کہہ رہے ہیں کہ آپ کو زندگی میں کبھی بھی اپنوں کی نفرت کا شکار نہیں ہونا پڑا۔ آپ نے کبھی اپنوں کی آنکھوں میں اپنے آپ کے لےے جھنجھلاہٹ یا الجھن نہیں دیکھی۔ آپ کو کبھی اہانت یا حقارت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ آپ نے کبھی اپنوں کی آنکھوں میں تضحیک کی جھلک محسوس نہیں کی۔ میں نے کی ہے۔ اپنے باپ کی آنکھوں میں جھنجھلاہٹ، الجھن، اپنی ماں کی آنکھوں میں اہانت اور حقارت۔۔۔‘‘ وہ لمحہ بھر کو رکی پھر سلسلہ کلام وہیں سے جوڑ کر بولی۔

’’انسان ساری دنیا کی نفرت برداشت کر سکتا ہے مگر اپنوں کی نہیں۔۔۔ میں بھی انسان ہوں مجھ سے بھی اپنی ماں کی آنکھوں میں نفرت نہیں دیکھی جاتی۔۔۔ میں نہیں برداشت کر سکتی۔۔۔ وہ مجھ سے اتنی نفرت کرتی ہیں کہ اس گھر میں میرا وجود بھی برداشت نہیں کر سکتیں۔۔۔ میں ا پنے سوتیلے رشتوں کے ساتھ رہ لوں گی، کیونکہ ان کی زیادتیوں پر میں ان سے لڑ سکتی ہوں۔ چیخ چلا سکتی ہوں، مگر میں اپنوں سے نہیں لڑ سکتی، میں اپنی ماں سے نہیں لڑ سکتی، اور آپ نے پوچھا ہے کہ میں اپنے مرحوم باپ کے گھر سے ایک بار پھر دھتکار دی گئی تو کہاں جائوں گی؟ میں وہاں جائوں گی، جہاں سب جاتے ہیں۔ قبرستان۔۔۔ میں مرجائوں گی۔‘‘ وہ بے رحمی سے بولی۔ تو صفوان اس کی آخری بات پر تڑپ اٹھا تھا۔

’’مرجائو گی۔۔؟ اور میں۔۔۔؟ میرے بارے میں سوچا ہے کہ میرا کیا ہوگا؟‘‘

الفاظ اس کے منہ سے خود بخود پھسلے تھے۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ جذبہ کون سا ہے۔ مگر وہ اتنا ضرور جانتا تھا کہ یہ جذبہ کون سا ہے۔ مگر وہ اتنا ضرور جانتا تھا کہ یہ لڑکی اس کے لےے اہم ہے اتنی ہی اہم جتنا کہ وہ خود تھا اپنے آپ کے لےے۔

’’میں تمہیں مرنے نہیں دوں گا تطہیر! میں تمہیں مرنے نہیں دوں گا، وہ بھی صرف اتنی سی بات کے لےے کہ مام تمہیں ناپسند کرتی ہیں۔‘‘ وہ ایک نئے عزم سے بولا تھا۔

’’کیوںناپسند کرتی ہیں وہ تمہیں؟ تم ان کے اسٹینڈرڈ پر پورا نہیں اترتیں، میں تمہیں ان کے معیار کا بنادوں گا۔۔۔ میں تمہیں تبدیل کردوں گا۔۔۔ اتنا تبدیل کہ تم بھی خود کو پہچان نہیں پائو گی۔ کیا سیکھنا ہے تمہیں؟ چھری کانٹے سے کھانا کھانا، سوسائٹی میں موو کرنا۔۔ انگلش بولنا، میں سب سکھا دوں گا تطہیر! لیکن۔۔۔‘‘

وہ جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ کر بولا۔

’’تم اپنے آپ کو اندر سے تبدیل کرو۔۔۔ تبدیلی کی ضرورت تمہارے اندر ہے، سب سے پہلے تم خود ، اپنے آپ کو اہمیت دینا شروع کرو، تاکہ باقی لوگ تمہیں اہمیت دیں۔ تم اتنی گئی گزری نہیں ہو کہ جس کا دل چاہے تمہیں لیٹ ڈائون کرے۔ جس کا دل چاہے تمہیں فور گرانٹڈ لے۔۔۔ لیکن یہ ساری باتیں سب سے پہلے اپنے آپ کو سمجھائو۔۔۔‘‘

’’میں کیسے تبدیل ہوسکتی ہوں۔۔ طریقہ بدل سکتی ہوں، انداز نہیں۔ عقل بدل سکتی ہوں، شکل نہیں۔ یہ چہرہ تو یہی رہے گا نا۔۔۔ بد صورت، کراہیت آمیز۔۔۔‘‘

’’فار گاڈ سیک تطہیر! اس طرح سوچنا چھوڑ دو۔۔۔‘‘ وہ اس کی بات سے زچ ہو کر بولا۔ نہ جانے کیوں اس لڑکی کو ہمہ وقت اپنی تحقیر کا شوق تھا۔

’’کسی بات پر تو خدا کا شکر کرنا سیکھو۔۔۔ کبھی تو تمہارے منہ سے کلمۂ شکر سنوں میں۔۔۔ اتنا مکمل بنایا ہے اللہ نے تمہیں۔ کس چیز کی کمی ہے؟ آنکھیں نہیں ہیں کیا؟ ٹانگیں نہیں ہیں؟ ہاتھ ٹوٹے ہوئے ہیں؟‘‘

وہ اس کی طرف دیکھ کر سختی سے بول رہا تھا۔

’’یاد رکھو تطہیر! شکر اور شرک کے درمیان ذرا سا فرق ہوتا ہے۔ شکر ادا نہ ہو تو شرک بن جاتا ہے اور اللہ کو شرک پسند نہیں ۔ شرک کرنا چھوڑو اور شکر کرنا سیکھو، پھر دیکھنا اللہ کیسے مہربان ہوتا ہے۔ اس کی نعمت کو پہچاننا سیکھو۔ کسی معاملے میں اگر اس نے کوئی کمی رکھی ہے تو کہیں نہ کہیں اس کی مہربانی کی زیادتی بھی ہوگی۔ شکوے کرنا چھوڑو، اور اللہ کے کرم کو پہچاننے کی کوشش کرو۔ وہ تمہیں مایوس نہیں کرے گا۔ ہم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ اس کا کرم، کب کیسے، کس پر اور کس طرح ہوجائے۔ اس سے اس کا کرم طلب کرو، وہ یقینا مہربان ہوگا۔‘‘

وہ اتنا کہہ کر اپنے کمرے میں آگیا تھا۔ اس کو اپنے آپ پر حیرت ہورہی تھی کہ اس نے فلسفہ تشکُر کس طرح تطہیر کو سمجھایا۔ وہ خوش تھا کہ اس نے کچھ اچھی باتیں تطہیر کو سمجھانے کی کوشش کی۔

٭٭٭

’’میں آپ سے شادی نہیں کر سکتی۔‘‘ اس نے قطعی لہجے میں بغیر کوئی گنجائش رکھے انکار کر دیا۔ اس کو مذاق کرنے کی عادت نہیں تھی کہ صفوان اتنے دو ٹوک انکار کو اس کا مذاق سمجھتا۔ اسے تو پتا ہی نہیں چلا تھا کہ کب وہ اس لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوگیا۔ وہ تو اسے مام کی پسند کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہا تھا اور اس کوشش میں وہ اس کی اپنی پسند میں ڈھلتی چلی گئی۔

’’زندگی میں چھری کانٹے سے کھانا ضروری نہیں ہوتا۔ کھانا ضروری ہوتا ہے اور کھایا ہاتھوں سے بھی جاسکتا ہے۔‘‘

اتنی پریکٹس کے بعد بھی چھری کانٹے سے الجھتا دیکھ کر اس نے سمجھایا تھا۔ اس دن کے بعد سے وہ ہاتھ سے اطمینان سے کھانا کھانے گئی تھی۔ شاید کوئی اور لڑکی ہوتی تو اس کی یہ حرکت صفوان کو کبھی بھی پسند نہ آتی۔ مگر تطہیر رحمن کے لےے اس کا دل ہر رعایت برتنے کو تیار تھا اور تطہیر رحمن اس سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔

’’اس شادی کی بنیاد کیا ہوگی۔۔۔؟ ہمدردی۔۔۔ خدا ترسی۔۔۔ رحم دلی۔۔۔ اور یہ شادی کتنا عرصہ چلے گی؟ دو ماہ، چھ ماہ، یا ایک سال۔۔۔۔‘‘‘

صفوان نے انکار کی وجہ دریافت نہیں کی تھی مگر وہ خود ہی کہنے لگی۔

’’اور اس ہمدردی، خدا ترسی اور رحم دلی کے صلہ میں جو اولاد پیدا ہوگی وہ اگلے پچیس سالوں تک دنیا کی ٹھوکروں کی زد پر ان ہی تین چیزوں کی حق دار ہوگی۔‘‘ وہ بہت سنگدلی سے کہہ رہی تھی۔ صفوان زچ سا ہوگیا۔

اس لڑکی کا واحد مسئلہ خود ترسی تھا اور وہ پچھلے تین ماہ سے اسی خود ترسی والی عادت سے نکالنے کی کوشش کر رہا تھا۔

’’تم اس پاگل پن سے کب باہر آئو گی تطہیر؟‘‘ وہ بے بسی سے کہتے ہوئے اس کے سامنے پڑے کائوچ پر بیٹھ گیا۔

’’یہی تو میں آپ سے کہنا چاہ رہی تھی کہ آپ اس پاگل پن کا شکار کیوں ہورہے ہیں؟ جب میری ماں کو مجھ پر کبھی ترس نہیں آیا تو آپ کیوں مجھ پر ترس کھا رہے ہیں؟‘‘

’’واٹ ربش تطہیر! چپ کرو۔۔۔ گزشتہ تین ماہ سے یہی سب سن رہا ہوں۔۔۔ کیوں ہر وقت خود کو ڈی گریڈ کرتی رہتی ہو۔۔۔۔ مت کیا کرو ایسے، بہت اہم ہو تم میرے لےے۔‘‘

’’امپورٹنٹ اور میں۔۔۔ ہاں۔۔۔۔‘‘ وہ استہزائیہ انداز میں ہنسی۔ ’’میں کسی کے لےے اہم کیسے ہوسکتی ہوں؟ میرے پاس ایسا ہے ہی کیا کہ جو مجھے دوسروں کے لےے اہم کر دے۔ آپ نے کبھی مجھے غور سے دیکھا ہے میرے چہرے سے کراہیت آتی ہے میری ماں کو۔ میرا باپ مجھے کبھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا۔ عبیر نے ہمیشہ میرے رنگ اور نقوش کا مذاق اڑایا۔ ماں نے کبھی اس قابل نہیں سمجھا کہ مجھ سے دو گھڑی بات کر لے۔ کیونکہ میں ایسی باتیں نہیں کر سکتی جیسی میری ماں کو پسند ہے۔ میری ماں ایمسٹرڈیم اور برمنگھم کے شاپنگ مالز کی باتیں کرتی ہیں اور یہاں لاہور کے کسی شاپنگ مال کے بارے میں نہیں جانتی۔‘‘

وہ ہمیشہ اپنے بارے میں ایسے ہی بات کرتی تھی، مگر آج صفوان کو اس کی باتوںمیں ایک نیا پن محسوس ہورہا تھا کیونکہ آج اس نے اسے بھی سب کے ساتھ ایک قطار میں کھڑا کر دیا تھا۔

’’میرا وجود اتنا بے کار، اتنا بے وقعت ہے کہ میرے قریب سے گزرنے والا کوئی انسان رک کر میری طرف نظر ڈالنا بھی پسند نہیں کرتا۔ آپ کے گھر کی ملازمہ بھی مجھ سے زیادہ بہتر ہے اور۔۔۔ آپ مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ میرا مزید تماشا بن سکے۔ جب میں آپ کے ساتھ چلوں تو لوگ میرا مذاق اڑائیں اور آپ کی عظمت کی داد دیں کہ آپ نے خدا ترسی کا عظیم مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے سے کمتر لڑکی سے شادی کی۔ میں نے بہت سے لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹی ہیں مگر آپ جیسا ہمدرد کبھی نہیں ملا۔ وہ لڑکی جس کے ساتھ اس کے اپنے چند منٹ نہیں گزار سکتے وہاں ایک غیر اس کے ساتھ ساری زندگی گزارنے کی بات کر رہا ہے۔‘‘

وہ خشک لہجے میں بات کر رہی تھی اور پہلی بار ایسی باتیںکرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں نمی کا نشان تک نہیں تھا۔ اس کی باتوں سے صفوان کو بہت دکھ ہوا تھا اور آخری بات پر تو جیسے جھٹکا لگا تھا۔

’’غیر۔۔۔۔؟ غیر کون۔۔۔؟ تم مجھے غیر کہہ رہی ہو۔ تطہیر۔۔۔ یہ سب تمہارے اپنے ہیں اور۔۔ میں۔۔۔ میں۔۔۔ غیر ہوگیا۔۔۔‘‘

وہ اپنے سینے پہ انگلی رکھ کر پوچھ رہا تھا۔ تطہیر خاموش رہی تھی۔

’’کیا تمہیں یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ یہ غیر تم سے محبت کرتا ہے اور تمہارے ساتھ ساری زندگی ہنسی خوشی گزارنے کو تیار ہے۔‘‘

’’بہت دیالو، بہت فیاض ہیں آپ۔۔۔ ہمدردی کو محبت کہتے ہیں، ہمدردی کو محبت سمجھتے ہیں۔‘‘

وہ اس کی بات کاٹ کر بولی۔ صفوان کو بھی غصہ آگیا تھا۔

’’شٹ اپ۔۔۔ شٹ اپ تطہیر!‘‘ تطہیر نے اتنے غصے میں اسے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔

’’تم میری انسلٹ کر رہی ہو اور میری محبت کی بھی۔‘‘ وہ اپنے آپ پر قابو پا کر بول رہا تھا۔ تطہیر نے استہزائیہ سا قہقہہ لگایا۔

’’آپ مجھے بچی سمجھتے ہیں یا بے وقوف۔۔۔ کیا میں اس قابل ہوں کہ مجھ سے محبت کی جائے۔۔۔ اور اگر ایسی بات ہوتی تو میرا خالق مجھ سے اس قدر نفرت نہ کر رہا ہوتا۔‘‘

’’دراصل۔۔۔ تمہیں خود اپنے آپ سے نفرت ہے اور اسی نفرت کی وجہ سے تم خود اپنے بارے میں کچھ بھی اچھا سوچنے کے قابل نہیں ہو۔ تم نے زندگی کے ہر میدان میں ناکامی کا منہ دیکھا تو اس کا سبب تم خود ہو۔۔ کبھی کچھ اچھا سوچا ہے تم نے۔ کبھی کوئی مثبت بات آئی تمہارے ذہن میں۔ ہر وقت اپنے آپ میں کیڑے ڈھونڈتی رہتی ہو۔ غلطیاں نکالتی رہتی ہو۔۔۔ تمہارے چہرے پہ یہ جو بارہ بجے رہتے ہیں نا یہ اسی قنوطیت کا نتیجہ ہے۔ سوچ تازہ ہو تو چہرے پہ تازگی نظر آئے۔

یہ تو ہوگئی تمہاری ظاہری شخصیت کی بات اور یہ جو تم ہر وقت ذہانت کی کمی کا رونا روتی رہتی ہو نا تو یہ بھی تمہاری اپنی غلطی ہے جب تم باتیں اتنی ذہانت والی کر سکتی ہو تو پڑھائی میں یہ ذہانت کیسے نہ کام آتی، مگر تم نے خود ہی یہ سوچ لیا کہ ہر کام بس ایک بار کیا جائے گا اور اس کام میں ناکام ہونے کی صورت میں دوبارہ کبھی اسے کرنے کی کوشش ہی نہیں کرو گی۔ بہت بڑے بڑے کامیاب لوگ بھی دوسری کوشش پہ یقین رکھتے ہیں مگر تمہاری ڈکشنری میں شاید یہ لفظ ہی نہیں ہے۔ تم نے ایف اے میں ناکام ہونے کے بعد دوبارہ پڑھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ حالانکہ تم نے خود مجھے بتایا تھا کہ تمہاری دادو جی نے تمہاری بہت منت کی تھی کہ تم دوبارہ سے پیپرز دے لو مگر تم نے ان کی بات بھی نہیں مانی۔

میں مانتا ہوں زندگی نے تمہارے ساتھ بہت بار زیادتی کی ہے۔ تمہاری توقعات ہرٹ ہوئی ہیں مگر یقینا کہیں تو زندگی مہربان ہوئی ہوگی۔ تمہارا مسئلہ یہ ہے کہ تم نے زیادتی کو تو یاد رکھا مگر مہربانی کو بھول گئیں۔ بہت سے لوگوں کے پاس ماں اور باپ دونوں نہیں ہوتے مگر تمہارے پاس باپ کا سایہ تو تھا۔۔۔ باپ کی محبت میں کمی تھی مگر دادو جی کی محبت تھی اور پھر تطہیر۔۔۔ چھت کاآسرا تو تمہارے پاس ہمیشہ رہا ہے۔ اپنی ماں کے گھر میں ہو یا باپ کے گھر میں۔۔۔ عزت تو تمہاری ہر جگہ محفوظ رہی ہے۔ کبھی کسی کی میلی نظر کا سامنا تو نہیں کرنا پڑا تمہیں لیکن تم شاید اس چیز کو اللہ کی نعمت ہی نہیں سمجھتیں۔ تمہارے نزدیک یہ مہربانی ہی نہیں ہے سرے سے۔

اس کے علاوہ کوئی ایسی رات جب تمہیں بھوکا سوناپڑا ہو، تمہیں فاقہ سہنا پڑا ہو۔ کیا تم نے اس بات کو اللہ کی نعمت سمجھا، نہیں نا۔ تم اتنی قنوطیت پسند ہو کہ رحمت کو زحمت سمجھتی رہی۔ تمہارے پاس وہ نظر ہی نہیں جو تمہیں رحمت اور زحمت میں فرق دکھا سکے، ورنہ تمہیں میری محبت ہی سمجھ میں آجاتی۔‘‘

وہ بولتے بولتے تھک گیا تھا مگر بات ابھی بھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ وہ جانتا تھا تطہیر کو وہ یہ بات کبھی نہیں سمجھا سکے گا جس بات کو اسے وہ گزشتہ تین ماہ سے مسلسل مختلف طریقوں سے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا وہ تین گھنٹوں میں اسے کیسے سمجھ آسکتی تھی۔

’’تم کو اللہ کا شکر ادا کرنا آتا ہوتا تو تم اس بات پر بھی شکر ادا کر سکتی تھیں کہ ایک شخص تمہاری محبت میں پاگل ہوا جارہا ہے۔ تم صبح کو شام کہتی ہو تو وہ شام کہہ دیتا ہے۔ تم شام کو صبح کہتی ہو تو وہ اس پر بھی تیار ہوجاتا ہے اور تم۔۔۔ تطہیر۔۔۔! تم یہ کہتی ہو کہ میں تم سے ہمدردی کر رہا ہوں، ترس کھا رہا ہوں تم پر۔ کیا تم نے اس سے پہلے کوئی ایسا ہمدرد شخص دیکھا ہے جو خود کو بھول کر کسی دوسرے کو اپنا بنانے کی کوشش کر رہا ہو۔ تم میری محبت کو رحم دلی کہتی ہو۔‘‘ وہ نہایت بے چارگی سے کہہ رہا تھا۔ تطہیر کا جھکا سر دیکھ کر اسے اور غصہ آیا تھا۔

’’آپ بھی تو اپنی رحم دلی کو محبت کہہ رہے ہیں اور اس جھوٹی محبت کا پرچار کر رہے ہیں۔‘‘ وہ دھیمی آواز میں بولی تھی مگر اس کی آواز کے دھیمے پن نے بھی صفوان کے اندر تک آگ لگا دی۔ اس سے زیادہ وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔

’’جھوٹی محبت؟‘‘ اس نے تحیر سے اس کے الفاظوں کو دہرایا۔

’’اس سے زیادہ سننے کی مجھ میں ہمت نہیں ہے تطہیر! میں نے ہمیشہ تمہاری اور تمہارے احساسات کی عزت کی ہے، اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کہوں گا کیونکہ اب اس کی ضرورت نہیں ہے۔ تم اپنی مرضی اور اپنے ہر فیصلے میں آزاد ہو۔ اب میں تمہاری راہ میں نہیں آئوں گا لیکن میں تمہاری پکار کا انتظار ضرور کروں گا کیونکہ۔۔۔‘‘

وہ کچھ لمحے کے لےے خاموش ہوگیا۔ محبت کے اظہار کی ضرورت ہی نہیں رہی تھی۔ وہ لڑکی اس کے ہر جذبے کو اپنی مرضی کے معنی پہناتی چلی جارہی تھی۔

صفوان نے کچھ دیر اسے دیکھا پھر باہر نکل گیا۔ اس سے اگلی صبح وہ اس سے بات کےے بغیر کلینک چلاگیا تھا اور جب شام ڈھلے وہ واپس آیا تو اسے لگا یہ شام اب کبھی صبح میں تبدیل نہیں ہوگی۔ اس شام کا اثر زندگی پر مستقل ہوچکا تھا، وہ واپس جاچکی تھی۔

٭٭٭

’’تطہیر رحمن! تم ہو کون، چیز کیا ہو؟‘‘

وہ اس کے تقریباً سر پہ کھڑی سوال کررہی تھی۔ تطہیر کی آنکھیں ابھی بھی بھیگی ہوئی تھیں۔ شاید وہ اس کی غیر موجودگی میں بھی روتی رہی تھی۔ مناہل کو اب کی بار اس پر ترس نہیں آیا۔ رقیب مر بھی جائے تب بھی رقیب ہوتا ہے۔

’’تمہاری اوقات کیا ہے؟ یہ جو کپڑے تم نے پہن رکھے ہیں نا، یہ میری اترن ہیں۔ میری وجہ سے آج تم یہاں حالت سکون میں بیٹھی ہو، ورنہ شاید وہیں تھانے میں مر گئی ہوتیں اور تم۔۔۔ تم صفوان سے محبت کرتی ہو، شکل دیکھی ہے اپنی۔‘‘

وہ بہت غصے میں تھی۔ تطہیر کو اس کے غیض پر حیرت نہیں ہوئی۔ وہ جانتی تھی کہ مناہل اسی طرح کرے گی، اسی لےے وہ صفوان کے کلینک جانے اور حتیٰ کہ اس کا سامنا کرنے سے بھی ڈرتی تھی۔

’’میں محبت نہیں کرتی۔ وہ کہتا تھا کہ وہ محبت کرتا ہے۔۔۔ وہ۔۔۔‘‘

’’تم اپنی بکواس بند کرو، اگر تم نے کبھی خود کو غور سے دیکھا ہوتا تو تم یہ بات بھی نہ کہتیں، تم یہ بات اپنے ذہن میں بھی نہ لاتیں مگر تم اس سے محبت کرتی تھیں اسی لےے تم نے مجھے ابتدا میں ہی اپنی سگی ممی کے بارے میں مجھ سے چھپایا۔ میں نے تمہارے لےے کیا نہیں کیا تطہیر! اور تم نے۔۔ تم نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا۔ میں نے تمہارا کتنا خیال رکھا، اپنے گھر میں تمہیں جگہ دی اور تم۔۔۔‘‘

وہ یکدم ہی رونے لگی تھی۔ تطہیر کی آنکھ میں آنسو نہیں تھے مگر وہ یک ٹک مناہل کی شکل دیکھ رہی تھی۔ اسے اس طرح کے رد عمل کی توقع نہیں تھی۔ اس نے پہلی بار جب مناہل کے منہ سے صفوان کا ذکر سنا تو وہ کچھ چونکی تھی مگر پھر بھی یہ سوچ کر اس بات کو ذہن سے نکال دیا کہ ایک جیسے ناموں والے بہت سے لوگ ہوسکتے ہیں مگر پھر ایک روز پروین نے بہت فخر سے مناہل کی ہونے والی ساس کا ذکر کرتے ہوئے اسے ان کی اخبار میں چھپی تصویر دکھائی تھی اور تب اسے احساس ہوا کہ اس کے ساتھ کیا کھیل کھیلا گیا ہے۔

مناہل اس کی ماں کے کہنے پر اسے اپنے گھر لائی تھی اور اسی لےے غیر ہوتے ہوئے بھی وہ اس کے ساتھ اتنی مہربانی سے پیش آتی تھی اور اس کی ماں اپنی سماجی ساکھ قائم رکھنے کے لےے اسے اپنی بیٹی نہیں مان سکتی تھی، ورنہ وہ الیکشن میں اپنے ووٹرز گنوادیتی، اسی لےے راتوں رات اسے تھانے سے گھر منتقل کر دیا گیا تھا۔یہی سب سوچتے ہوئے اس نے مناہل کا گھر چھوڑدینے کا ارادہ کیا تھا مگر اسی رات اس کو وہی سر درد ہوا جو اکثر ہوتا تھا۔ اس نے جان بوجھ کر مناہل سے اپنی شناخت نہیں چھپائی تھی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ وہ اس مہربان لڑکی کو کس طرح بتائے کہ اس کی شادی جس لڑکے سے ہونے جارہی ہے، وہ اس سے بھی زیادہ مہربان ہے۔ وہ تو اسے اپنے گھر لائی تھی جبکہ وہ لڑکا اسے اپنی زندگی میں لانا چاہتا تھا مگر وہ اسے کچھ بتانہیں پائی تھی۔

وہ صفوان کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔ مگر اب یہ قسمت کی خرابی تھی کہ وہ میٹرنٹی ہوم میں مل گیا۔ مناہل کو اپنی ہی دھن میں سمجھ میں نہ آسکا تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر کس بری طرح سے چونک گئے ہیں۔ صفوان نے اسے طنزیہ انداز میں مبارک باد دی تھی مگر اس کے علاوہ ان کے بیچ کوئی بات نہیں ہوئی تھی مگر جب مناہل اس کو کلینک میں ڈراپ کر گئی تھی تو صفوان نے اس سے بہت باتیں کی تھیں۔ وہ اس سے اس کے متعلق اگلوانے کی کوشش کرتا رہا تھا اور اس کے شوہر کے متعلق پوچھتا رہا تھا مگر تطہیر اپنے متعلق کوئی بھی بات بتانے کے بجائے اسے مناہل کے بارے میں بتاتی رہی تھی اور اب مناہل کہہ رہی تھی کہ اس نے اس کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔

’’تم میرے گھر سے چلی جائو۔۔۔ ابھی اسی وقت۔۔۔ چاہے وہیں واپس دارالامان چلی جائو۔۔۔ جہاں سے تم گناہ کر کے تھانے پہنچی تھیں۔۔۔ یا اپنی مدر کے پاس چلی جائو۔۔۔ مگر میری زندگی سے نکل جائو۔۔۔ میرا صفوان مجھے واپس کر دو۔‘‘

وہ بہت بے رحمی سے کہہ رہی تھی۔ تطہیر کو شاید اسی کی توقع تھی۔ اس نے اپنی جگہ چھوڑ دی تھی۔ اس کا گھر یہ بھی نہیں تھا، اس کی منزل کہیں اور تھی، اسے یہ جگہ چھوڑنی ہی تھی۔ اس نے ایک بار مناہل کو دیکھا، وہ اسے بتانا چاہتی تھی کہ جو وہ سوچ رہی ہے، وہ غلط ہے مگر وہ جانتی تھی مناہل اس کی بات کا یقین نہیں کرے گی۔

اس نے جوتے پہننے شروع کےے تھے۔ پہلا جوتا پہن کر اس نے اس کے تسمے بند کےے تھے اور جب وہ دوسرا جوتا پہننے لگی تھی۔ تب اچانک ہی اس کے پیٹ میں ہلکا سا درد اٹھا۔ ایسی درد کی لہریں پچھلے کئی دنوں سے وہ محسوس کر رہی تھی۔

جوتے پہن کر اس نے چادر درست کی۔ وہ خالی ہاتھ آئی تھی، خالی ہاتھ ہی جارہی تھی۔ دروازے پر پہنچ کر درد کی شدت میں اضافہ ہونے لگا تھا۔ اس نے مناہل کی طرف دیکھا، اس کا دل چاہا ایک رات کے لےے یہاں اور رک جائے۔ وہ مناہل سے کہنا چاہتی تھی کہ وہ صبح چلی جائے گی مگر مناہل سے کچھ کہنے کی ہمت اس کے پاس نہیں تھی۔ وہ اس کی محسنہ تھی اور وہ اسے مزید تکلیف نہیں دینا چاہتی تھی۔

اپنی تکلیف کو برداشت کرتے ہوئے وہ دروازے سے باہر نکل گئی۔

٭٭٭

درد برداشت سے باہر ہوتا جارہا تھا مگر وہ چل رہی تھی۔ اس سے چلا نہیں جارہا تھا مگر وہ چل رہی تھی پھر ایک مقام پر تکلیف ناقابل برداشت ہوگئی تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی یہ کون سی جگہ ہے مگر وہ ٹھہر گئی۔ اس نے دیوار کے ساتھ ٹیک لگالی۔ بے حال کرتے ہوئے درد نے ہر طرف سے آنکھیں بند کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس نے آنکھیں بند کرلی تھیں، ہر چیز چھپ گئی تھی۔ زندگی موت سے پہلے والی موت کا نام ہے۔

میں وہ اقلیم کہ محروم چلی آتی تھی

سالہا سال دشت نوردوں سے، جہاں گردوں سے

اپنا ہی عکس روا تھی گویا

ایک محرومی دیرینہ شاداب تھے

آلام کے اشجار وہاں

برگ و باراں کی وہ پامال امیدیں جن سے

پری افشاں کی طرح خواہشیں آویزاں تھیں

کبھی ارمانوں کے آوارہ سراسیمہ طیور

کسی نادیدہ شکاری کی صدا سے ڈر کر

ان کی شاخوں میں اماں پاتے تھے سستاتے تھے

اور کبھی شوق کے ویرانوں کو اڑ جاتے تھے

شوق، بے آب و گیاہ

شوق، ویرانہ بے آب و گیاہ

ولولے جس میں بگولوںکی طرح ہانپتے تھے

اونگھتے ذرُوں کے تپتے ہوئے لب چومتے تھے

’’ہم‘‘ کہ اب ’’میں‘‘ سے بہت دور نکل آئے ہیں

دور اس وادی سے جو کہ اک منزل بے نام بھی تھی

کروٹیں لیتے ہیں جس منزل میں

عشق گم گشتہ کے افسانوں کے خواب

ولولوں کے وہ ہیولے جہاں

جن کی حسرت میں تھے نقاش ملول

جن میں افکار کے کہاروں کی روحیں سرور بستہ ہیں

اولین نقش ہیں ارمانوں کے آوارہ پرندوں کے جہاں

خواہشوں اور امیدوں کے جینن

اپنی ہی ذات کے ہمسائے ہیں

آج ہم خود سے بہت دور نکل آئے ہیں۔

وہ سچ مچ بہت دور نکل گئی تھی۔ ڈھلتی شام نے اس کے مرنے کی خبر قبرستان میں بہت زور و شور سے سنائی تھی۔ ایک اور انسان خود سے بہت دور ہو کر خالق کے بہت قریب ہوگیا تھا۔

٭٭٭

’’مناہل! پلیز۔۔۔ اب بس بھی کرو۔۔۔ بھول جائو تطہیر رحمن کو۔‘‘

ماریہ نے بے بسی سے تقریباً گلوگیر لہجے میں کہا۔ اس سے مناہل کی حالت برداشت نہیں ہورہی تھی۔ بلاشبہ اسے بھی تطہیر رحمن کی موت کا دکھ تھا، مگر اتنادکھ جتنا کسی بھی غیر انسان کی موت کا ہوسکتا ہے۔ وہ ایک بار تطہیر رحمن سے ملی تھی اور اسے اس لڑکی میں ایسی کوئی بات نظر نہیں آئی تھی جسے اس کی خصوصیت یا خوبی قرار دیا جاتا۔ وہ حقیقتاً عام لڑکی تھی اور ماریہ کے ذاتی خیال میں مناہل اس عام لڑکی کے لےے اتنے دن سے سوگ منا کر سے بہت خاص بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔

اسے مسز شہلا قمر پہ بھی غصہ آرہا تھا کیونکہ اس کو اس الجھن میں پھنسانے والی بھی وہی تھیں۔ وہ خود امریکہ سے واپس ہی نہیں آرہی تھیں جبکہ مناہل کے والدین اگلے ہفتے پاکستان واپس آرہے تھے۔ پھوپھو خود مناہل کے لےے پریشان تھیں۔ انہوں نے فون کر کے ماریہ کو بلایا تھا تاکہ وہ مناہل کو سمجھا سکے۔ وہ خود اسے سمجھا سمجھا کر تھک چکی تھیں۔ ان کا بھی یہی خیال تھا کہ ایسی اموات تو معاشرے میں روز ہوتی ہیں اور پھر مناہل جس آرگنائزیشن کے لےے کام کرتی تھی، وہاں ایسی اموات بہت عام تھی۔ گویا کسی کی موت کا دکھ منانے کے لےے اس کا خاص ہونا ضروری ہے۔ مناہل کسی کو نہیں سمجھا سکتی تھی کہ آرگنائزیشن میں کسی کا آنا اور بات ہے اور زندگی میں آنا بالکل ایک اور بات۔ اس کی تطہیر رحمن سے کیا رشتہ داری تھی، ان کے بیچ کتنا گہرا تعلق تھا، وہ کسی کو نہیں بتا سکتی تھی۔

اس کے مرنے کے بعد گویا وہ صفوان کی زندگی سے بھی نکل گئی تھی۔ اس نے اس کا صفوان اسے واپس کر دیا تھا مگر پھر بھی وہ خوش نہیں تھی۔ تطہیر کا دو ماہ کا ساتھ اسے دو سو سال کے برابر لگ رہا تھا۔ وہ آئی تھی اور چلی گئی تھی مگر وہ تھی اور اسے سدا وہیں رہنا تھا۔

’’ہم کسی کو گھر سے تو نکال سکتے ہیں مگر دل سے نہیں۔‘‘ یہ بات مناہل کی سمجھ میں تب آئی جب تطہیر نے وجود سے عدم کی راہ پہ سفر شروع کر دیا تھا۔ وہ اس کے گھر سے نکل کر کہاں گئی، کسی کو نہیں پتا تھا مگر دو دن بعد ایک گمنام فون کے ذریعے اسے بتایا گیا تھا کہ یہ عورت دو دن پہلے مر گئی تھی۔ اسے لاوارث سمجھ کر دفنا دیا گیا تھا اور فون کرنے والا انسان کون تھا؟

سیف اللہ خان۔۔۔ وہی پولیس انسپکٹر جس نے تطہیر رحمن کو مناہل مرتضیٰ کے حوالے کیا تھا۔ وہ اس لڑکی کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا تھا مگر وہ مناہل کو بہت اچھی طرح سے جان گیا تھا کیونکہ وہ ایک بڑی عورت کی ہونے والی بہو تھی، اسی لےے اس نے فون کر کے تطہیر کے بارے میں تفصیل سے بتا دیا تھا۔

لاوارث تدفین اتنی بھی آسان نہیں ہوتی مگر وہ عورت تطہیر رحمن کی حالت اتنی بری تھی کہ اسے عجلت میں دفنانا پڑا تھا۔ وہ زندہ تھی معاشرے کے لےے، تب بھی ناقابل برداشت تھی اور مرنے کے بعد اسے برداشت کرنا مشکل ترین ہوگیا تھا۔

’’ہم انسان پہ رحم نہیں کریں گے تو ہم پر رحم کیسے ہوگا۔‘‘

سیف اللہ خان نے مناہل سے ملنے کے بعد کہا تھا۔ وہ اس کی خدا ترسی کو سراہ رہا تھا۔ مناہل کے بہتے آنسو اس کے درجے کو مزید بلند کر رہے تھے۔

اس انسپکٹر نے ایک لاوارث عورت کے لےے ایک مشہور عورت کو اتنا بے تحاشا روتے پہلی بار دیکھا تھا۔ وہ اسے تطہیر رحمن کے بارے میں تفصیل سے بتانے لگا۔ ہر وہ بات جو مناہل سے مخفی تھی مگر سیف اللہ کو دوران تفتیش پتا چلی تھی اور اس ساری تفصیل نے مناہل کے احساس جرم کو بہت بڑھا دیا تھا۔

’’مناہل! اب ختم کرو یہ رونا دھونا، تم کب تک اس طرح روتی رہو گی۔‘‘

ماریہ نے اس کے بستر پر بیٹھ کر اس کے ٹھنڈے یخ ہاتھ تھام لےے تھے۔ ’’ماریہ۔۔۔! میں اس کا خیال رکھتی تو وہ کبھی نہ مرتی۔ وہ میری وجہ سے مر گئی۔‘‘

اس نے ماریہ کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا کر کہا تھا۔ یہی وہ بات تھی جو پھوپھو کو بھی اچھی نہیں لگ رہی تھی اور یہی وہ بات تھی جو مناہل کی زبان پر ہمہ وقت رہنے لگی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ اگر وہ خیال رکھنے میں ناکام رہی تھی تو اور خیال رکھنا کسے کہتے ہیں۔

’’وہ تمہاری وجہ سے نہیں مری، ہر شخص اپنی مدُت پوری ہونے پر مرجاتا ہے، اسے بھی مرنا تھا کیونکہ اس کی مدت پوری ہوچکی تھی۔‘‘

وہ زچ ہو کر بولی۔

’’میں چاہتی تو اس کی مدت کبھی نہ پوری ہوتی، میں چاہتی تو وہ کبھی نہ مرتی۔‘‘ اس نے ایک اور بے تکی بات کہی۔ ماریہ کو اب کی بار شدید غصہ آیا۔

’’کیوں، تم کون ہو؟ اور بھلا انسانی جان انسان کے ہاتھ میں کب سے ہونے لگی۔ تمہارے چاہنے نہ چاہنے سے کیا ہوتا ہے اور کیا ہوسکتا تھا تمہارے چاہنے سے۔‘‘

وہ سخت لہجے میں بولی تھی، مناہل سے جھکا سر اٹھایا نہیں جارہا تھا۔ وہ اسے کچھ نہیں بتا سکتی تھی۔ وہ اس کی بچپن کی سہیلی تھی مگر پھر بھی اس نے تطہیر کے ساتھ جو کیا تھا اور تطہیر نے اس کے ساتھ جو کیا تھا، وہ اسے نہیں بتا سکتی تھی۔ وہ اسے اپنے گھر میں لائی تھی اور پھر اسی نے اسے اپنے گھر سے نکال دیا تھا۔ اگر وہ یہ بات ماریہ کو بتادیتی تو پھر پہلا سوال جو ماریہ کے ذہن میں آتا، وہ ’’کیوں؟‘‘ ہوتا اور وہ ماریہ کے کسی ’’کیوں‘‘ کا جواب نہیں دے سکتی تھی۔ اس صورت میں ہر راز سے پردہ اٹھ جاتا اور یہی وہ نہیں چاہتی تھی۔ وہ اس شخص کی سیکنڈ چوائس تھی جسے اس نے اپنی زندگی میں ہمیشہ پہلا درجہ دیا تھا۔ یہ بات سب جانتے تھے ماریہ، اس کے ماں باپ، اس کے سب دوست اور حتیٰ کہ صفوان بھی۔

اس نے سیف اللہ کا فون آنے کے بعد صفوان کو فون کر دیا تھا۔ وہ دونوں ایک ساتھ قبرستان گئے تھے۔ شہر سے قدرے دور واقع اس قبرستان میں تطہیر کو جگہ صرف اس وجہ سے مل سکی کہ اس کی تدفین میں حصہ لینے والوں میں ایک انسپکٹر موجود تھا، وگر نہ شاید اسے اس قبرستان میں جگہ بھی نہ مل پاتی۔

’’میں نے اسے سمجھایا تھا کہ یہ تمہارا آخری ٹھکانا ہے، یہاں سے کہیں اور مت جانا۔ اس گھر کو اتنی آسانی سے مت چھوڑنا۔‘‘

قبرستان کی طرف ڈرائیو کرتے ہوئے صفوان کی زبان پہ ایک یہی فقرہ تھا۔ اس نے مناہل کو کوئی وضاحت دینے کی کوشش نہیں کی تھی اور اس چیز نے اسے اندر سے مزید توڑ ڈالا تھا۔ اس نے اپنی آنکھوں سے صفوان قمر کو تطہیر رحمن کی کچی قبر پر زارو قطار روتے دیکھا تھا۔ وہ شاید اس موت پہ اتنا سوگ نہ مناتی، اگروہ اس شخص کواس طرح روتے نہ دیکھتی۔ اس کے اندر احساس جرم بڑھنے لگا تھا۔اگر وہ تطہیر کو اپنے گھر سے نکل جانے کے لےے نہ کہتی تو شاید حالات آج مختلف ہوتے۔ وہ اس لےے تکلیف میں تھی کیونکہ صفوان تکلیف میں تھااور وہ ماریہ کو نہیں بتا سکتی تھی کہ صفوان تکلیف میں کیوں ہے۔ اسے لگنے لگا تھا، وہ شاید سر اٹھا کر اب کبھی دنیا کا سامنا نہیں کرپائے گی۔

سومنات کے مندر پہ کئی حملے ہوئے تھے مگر جان لیوا حملہ آخری ہی تھا۔ بالکل اسی طرح تطہیر کے ساتھ زیادتی کرنے والے لوگ بہت زیادہ تھے مگر آخری زیادتی مناہل مرتضیٰ نے کی تھی۔ اسے تطہیر کو اپنے گھر سے رات کے اس پہر نہیں نکالنا چاہےے تھا۔ اس نے اپنے قریب بیٹھی ماریہ کو دیکھا۔ وہ بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

’’ماریہ! میں نے تطہیر کومار ڈالا۔ میں اسے یہاں سے چلے جانے کے لےے نہ کہتی تو وہ کبھی نہ مرتی۔‘‘

وہ اس سے زیادہ کچھ کہہ ہی نہیں سکتی تھی۔ ماریہ کو اس کی بات پر خاص حیرانی نہیں ہوئی تھی۔

’’تم نے اسے یہاں سے جانے کے لےے کہہ دیا تھا؟‘‘ وہ استفسار کر رہی تھی۔ مناہل اس بات کو جواب کیا دیتی۔

’’کیوں؟‘‘ توقع کے عین مطابق ماریہ نے دوسرا سوال یہی کیا تھا اور اس سوال کا جواب مناہل مرکر بھی نہیں دے سکتی تھی۔ وہ کسی کو کیسے بتا دیتی کہ وہ ’’اٰن چاہی‘‘ ہے۔

’’ویل۔۔۔ اگر ایسی کوئی بات ہے بھی تو تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ تم نے اس کے لےے کیا نہیں کیا، وہ ایک گناہ گار عورت تھی اور تم نے اس کی کتنی مدد کی۔ تم نے اسے اپنے گھر میں پناہ دی۔ وہ حرکت جو اس نے کی تھی، اس کی سزا موت سے کم تو نہیں ہوگی اور پھر بھی تم اس عورت کے لےے اتنا زیادہ رو رہی ہو۔‘‘

وہ ناصحانہ انداز میں کہہ رہی تھی۔ مناہل کی آنکھ سے آنسو ٹپکے۔

’’کون سی غلط حرکت؟‘‘ اس نے ایک بار پھر سرجھکاتے ہوئے پوچھا۔

’’ارے۔۔۔ اتنی جلدی بھولنے والی بات تو نہیں۔۔۔ قرآن پاک شہید کر ڈالا تھا اس نے۔‘‘

وہ تحیر سے بولی۔

’’Blasphemy (اللہ کی بے ادبی) کتنا بڑا گناہ ہے۔‘‘ وہ مناہل کے چہرے پر چھائی زرد خزاں کو گھورتے ہوئے بولی۔

’’Blasphemy of life (زندگی کی بے ادبی) بھی بہت بڑا گناہ ہے اور۔۔۔‘‘ اس نے خلا میں ایک نادیدہ نقطے کو گھورتے ہوئے کہا۔ ماریہ کو لگا جیسے وہ اپنے حواس کھو چکی ہے اور بے تکی باتیں کرنے میں مصروف ہے۔

’’ماریہ! اس نے ایسا کچھ نہیں کیا تھا۔وہ بہت اچھی مسلمان تھی۔ وہ شراب پی کر قرآن پاک کی بے حرمتی کیسے کر سکتی تھی۔ اسے اللہ تعالیٰ سے بہت سے شکوے تھے۔ ایسے شکوے جیسے ہم سب کرتے رہتے ہیں۔ اپنائیت بھرے، محبت بھرے۔ اس کا تو اللہ کے سوا کوئی بھی نہیں تھا، اسی لےے وہ اللہ سے شکوے ضرور کرتی تھی مگر وہ مشرک نہیں تھی، وہ گناہ گار نہیں تھی۔‘‘

اس نے سچ اگلا تھا اور یہ سچ اسے سیف اللہ نے بتایا تھا۔ ’’وہاں دارالامان میں عورتوں سے ایسے کام کروائے جاتے ہیں جو انسانیت کے خلاف ہوتے ہیں۔ تطہیر نے یہ سب کرنے سے انکار کر دیا تھا، اسی لےے وہاں کے حکام اسے ٹارچر کرتے تھے۔اس نے کہا تھا کہ وہ یہ ساری باتیں اور ثبوت پولیس کو فراہم کر دے گی، اسی لےے۔۔۔ اسی لےے ماریہ! صفیہ صفدر نے اسے آفس بلا کر ہراساں کیا تھا کیونکہ دارالامان میں ایک فنکشن ہونے والا تھا جس میں کچھ بڑے سیاستدان اور مخیر حضرات آنے والے تھے۔ وہ ڈونیشن کے لےے اس فنکشن کو خراب نہیں کرنا چاہتی تھی مگر تطہیر نے سب گڑ بڑ کر دی۔‘‘

مناہل سانس لینے کو رکی پھر بولی۔

’’اس نے فنکشن والے روز سب کے بیچ کھڑے ہو کر سب باتیں کہہ ڈالیں۔ اسے خاموش کروا دیا گیا تھا مگر بعد میں صفیہ صفدر نے بدلہ لینے کے لےے جان بوجھ کر صحیفہ کی بے ادبی کروائی۔ اس کو بے ہوشی کی دوا ملا کر کھانا کھلادیا۔ عورتوں کے لےے یہی کافی تھا کہ وہ زمین پر پڑی ہے اور اس کے گرد مقدس کتاب کے صفحات زمین پر ہیں۔ سب ہی عورتیں جانتی تھیں کہ اسے اللہ تعالیٰ سے چیخ چیخ کر شکوے کرنے کی عادت ہے اور بہت سی عورتیں اس کی اس حرکت سے عاجز تھیں۔ انہوں نے اسے مشرک قرار دیا تھا اور وہاں سے وہ حوالات آگئی تھی۔‘‘

وہ خاموش ہوگئی اور ماریہ تو جیسے شاکڈ تھی۔ جب سیف اللہ نے یہ ساری باتیں مناہل کو بتائی تھیں، تب مناہل کی بھی یہی حالت ہوئی تھی کیونکہ اس سے پہلے وہ یہ سوچ کر بھی اپنے آنسو پونچھ لیتی تھی کہ تطہیر رحمن بری تھی اور اس نے اگر اس کے ساتھ بَرا کیا تھا تو وہ اسی کی مستحق تھی۔

’’پولیس اسٹیشن سے تم اسے اپنے گھر لے آئی تھیں مسز شہلا قمر کے کہنے پر، ان کو اس سے کیا غرض تھی؟‘‘

ماریہ کے سوال شروع ہوچکے تھے اور ان ہی سوالات کے جواب مناہل اسے نہیں دے سکتی تھی۔ وہ اس سے زیادہ کچھ بتا بھی نہیں سکتی تھی۔ ماریہ نے بھی یوں ہی سوال کیا تھا، اسے شاید جواب چاہےے بھی نہیں تھا۔

’’سب کچھ سن کر عجیب سا لگتا ہے، جیسے ایک کہانی سن رہے ہوں۔‘‘ ماریہ نے رائے دی۔ مناہل نے گہری سانس بھری۔ پھر بولی۔

’’کہانی بننے سے کہانی سننا بہتر ہے۔‘‘

ماریہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا، اس کی آنکھوں میں پھر سوال تھا مگر مناہل کے پاس جواب دینے کےے الفاظ نہیں تھے۔ وہ اسے نہیں بتا سکتی تھی کہ وہ کس طرح تطہیر رحمن کی کہانی کا حصہ بن گئی تھی۔

’’دعا کرو ماریہ! میرے لےے دعا کرو، مجھے سکون مل جائے۔‘‘

اس نے گھٹنوں پہ سر رکھتے ہوئے التجائیہ انداز میں کہا تھا۔ ماریہ دعا کے علاوہ کچھ اور کر بھی نہیں سکتی تھی۔

٭٭٭

’’تمہیں۔۔۔ سب۔۔۔ پتا چل گیا تھا نا؟‘‘

وہ سر جھکائے پوچھ رہا تھا۔ مناہل کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا۔ وہ دونوں ہی ایک دوسرے سے شرمندہ تھے اور وہ دونوں اس سے بھی شرمندہ تھے جس کی قبرپر فاتحہ خوانی کے لےے آئے تھے۔ مناہل کو امید نہیں تھی کہ صفوان یہ ذکر اس طرح سے چھیڑ دے گا۔ وہ خاموش ہی رہی۔ وہ جانتا تھا کہ نشے کی حالت میں وہ بہت کچھ مناہل کو بتا چکا ہے۔

’’میں نے کبھی کچھ چھپانا نہیں چاہا مناہل! کبھی بھی نہیں۔ میں آپ کو سب بتانا چاہتا تھا۔۔۔ مگر۔۔۔ مجھے۔۔۔ یقین کریں مناہل ! سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں یہ بات کس طرح کروں۔‘‘

وہ ’’تم‘‘ سے ایک بار پھر ’’آپ‘‘ پر آگیا۔ یہ اس کی ذہنی حالت کے انتشار کو ظاہر کر رہا تھا۔

’’آپ کو مجھ سے آل ریڈی کچھ شکایتیں تھیں۔ مجھے احساس تھا کہ میں کبھی کبھی۔۔۔ آپ کو۔۔۔ میرا مطلب۔۔۔ آپ اکثر خود کو نظر انداز کیاجانا محسوس کرتی تھیں۔‘‘ وہ ٹھہر ٹھہر کر بات کر رہا تھا۔

’’آپ کو تطہیر سے محبت تھی؟‘‘ کچھ سوالات کے جوابات ہمیں پتا ہوتے ہیں مگر پھر بھی ہم کلاس روم میں انہیں بار بار پوچھتے ہیں۔ مناہل نے ایک ایسا سوال ہی کیا تھا۔ صفوان کچھ دیر خاموش رہا پھر اس نے دھیرے سے اقرار کیا۔

’’ہاں۔۔۔ بہت۔۔ میں اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔‘‘

وہ ایک بار پھر خاموش ہوگیا اور اب بولنے کو رہ کیا گیا تھا۔

’’میں آپ سے جھوٹ نہیں بولوں گا۔ میں نے اسے پروپوز کیا تھا مگر۔۔۔ اس لڑکی کومیرا یقین نہیں تھا۔ وہ سمجھتی تھی میں اس سے ہمدردی کے لےے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ اسے لگتا تھا میں اس کی ماں کے احسانات کا بدلہ چکانا چاہتا ہوں۔ حالانکہ ایسا کچھ نہیں تھا۔ مجھے کسی نے مجبور نہیں کیا تھا۔ میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھا۔ مام کا رویُہ اس کے ساتھ اچھا نہیں تھا، حالانکہ وہ ان کی سگی بیٹی تھی مگر انہیں اس کے وجود سے شرم آتی تھی۔ وہ اپنے حلقہ احباب میں اسے متعارف کروانے سے شرماتی تھیں اور یہ بات تطہیر کو بہت اچھی طرح سے پتا تھی۔ وہ اس خیال سے پیچھا چَھڑا ہی نہیں پاتی تھی۔‘‘

مناہل خاموشی سے سب سن رہی تھی۔ اسے دھیرے دھیرے اپنی بدقسمتی کا یقین آتا جارہا تھا۔ حالانکہ وہ لڑکی جو زندگی بھر اپنی قسمت کو روتی رہی تھی، اس کے سامنے قبر میں ابدی نیند سو رہی تھی۔

’’اس کی ایک بری عادت تھی، ناشکری کی عادت۔ اسے کسی چیز کے لےے شکر ادا ہی نہیں کرنا آتا تھا۔ میں اسے بہت سمجھایا کرتا تھا مگر وہ شاید سمجھنے کی حد سے آگے نکل چکی تھی۔ وہ اپنی ہرکمی کو اپنے سر پر سوار کر کے اسے اپنے اوپر حاوی کر لیتی تھی۔ یو نو مناہل! جو انسان شکر نہ کر سکے پھر وہ کچھ کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ تطہیر کے ساتھ یہی ہوا تھا۔ اسے لگتا تھا وہ بہت بدقسمت ہے۔ حالانکہ وہ خوش قسمت تھی۔ وہ چلی گئی ہے مگر اپنے پیچھے کتنے بہت سے لوگوں کو روتا چھوڑ گئی ہے۔ ایسے لوگوں کو بھی جن سے اس کا کوئی رشتہ ہی نہیں تھا۔‘‘

وہ گہری سانس بھر کر بولا۔ اس کا اشارہ مناہل کی طرف تھا۔

’’مام کو ڈاکٹر نے بریسٹ کینسر بتایا ہے۔‘‘ اس نے ایک اور اطلاع دی۔ مناہل شاکڈ رہ گئی۔

’’وہ اسی لےے امریکہ گئی تھیں۔ یہ بات مجھے خود کچھ دن پہلے پتا چلی ہے۔ میں نہیں جانتا تھا کہ وہ اپنے چیک اپ کے لےے امریکہ جارہی ہیں۔ میں نے انہیں بتادیا کہ وہ لڑکی جو ان کی سگی بیٹی تھی، وہ مر چکی ہے۔ مام رو رہی تھیں۔ میں جانتا ہوں وہ اپنے لےے رو رہی تھیں۔ انسان خود مرنے والا ہو تو اسے مرے ہوئوں پر رونا آہی جاتا ہے۔‘‘

وہ بہت لا تعلق ہو کر بات کر رہا تھا۔ شاید اس کی سوتیلی ماں کا یہی حق تھا۔

’’میں نے انہیںآپ کے بارے میں بتا دیا تھا، وہ آپ سے شرمندہ ہیں مناہل! اور میں بھی۔‘‘

اس کی بات پر مناہل نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔

’’میں صرف آپ ہی سے شرمندہ ہوں کیونکہ میں نے صرف آپ کے ساتھ زیادتی کی، تطہیر کے ساتھ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ وہ کہتی تھی کہ اللہ اس کی مدد نہیں کرتا۔ آپ بتائو مناہل! اور مدد کیسی ہوتی ہے۔ کیا اللہ خود زمین پر آتا ہے مدد کے لےے؟ وہ انسانوں کو ہی وسیلہ بناتا ہے۔ میں نے تطہیر سے کہا تھا ہ میں اس کے لےے وسیلہ بنوں گا۔ میں اس کی زندگی سے ہر خار چَن کر اسے گلاب بنانے کو تیار تھا۔ اگر وہ مجھ پر یقین کرتی۔۔۔ مگر۔۔۔‘‘

اس نے پھر ٹھہر کر گہری سانس بھری۔

’’اس نے اپنی سگی ماں کی زیادتی کی سزا ن کے سوتیلے بیٹے کو دی۔ اگر وہ مجھ پر اعتبار کرتی تو شاید آج حالات مختلف ہوتے۔ وہ جب ہمارے گھر پہ تھی تب اتنی بیمار نہیں تھی۔ میں نے خود اس کے ٹیسٹ کروائے تھے۔ وہ نامکمل ٹیسٹ کروا پائی تھی مگر تب ڈاکٹر نے اس کی بیماری کی کچھ اور وجہ بتائی تھی۔ وہ میرے پاس رکتی تو اس کا علاج ہوسکتا تھا مگر۔۔۔‘‘

وہ پھر خاموش ہوگیا۔ اس کی زندگی میں بہت سے اگر مگر آچکے تھے۔ مناہل کیا کہتی، وہ خاموش ہی رہی۔

’’میں یہ نہیں کہتا کہ میں اسے جلد بھول جائوں گا مگر میں کوشش ضرور کروں گا۔ آپ اپنی مرضی سے جو فیصلہ کریں گی، میں آپ کا ساتھ دوں گا۔ اگر آپ خود یہ انگوٹھی نہیں اتار سکتیں اور آپ کو کچھ اندیشے ہیں تو میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں۔ میں خود انکار کر دیتا ہوں۔‘‘

مناہل کا دل کٹ کر رہ گیا۔ وہ ایک کو کھو چکا تھا اور دوسری کو کھونے کی تیاری کر رہا تھا۔ کتنے بہت سے لمحے خاموشی سے گزر گئے۔ مناہل نے اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ اس کی سمجھ میں آگیا تھا کہ قسمت کس طرح ہم سب کو اپنے چکر میں جھولا جھلانے کی کوشش کرتی ہے۔

غلطی کی سزا غلط کو دی جاتی ہے، مجبور کو نہیں اور وہ صفوان کو مجبور سمجھتی تھی، غلط نہیں۔ جو ہوچکا تھا وہ بھلانا آسان نہیں تھا مگر کوشش کر کے اسے آسان بنایا جاسکتا تھا۔ اس نے صفوان کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا تھا۔

’’میں اس رنگ کو اپنی انگلی سے کبھی نہیں اتاروں گی۔‘‘

اس سے زیادہ واضح اقرار وہ نہیں کر سکتی تھی۔

ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ مگر وہ مسکرائے نہیں تھے، لیکن شاید قبر میں لیٹی تطہیر ضرور مسکرائی تھی۔ صفوان اور مناہل نے اس کی قبر کے ساتھ بنی اینٹوں کی ٹوٹی روش پر قدم رکھ کر باہر کی سمت چلنا شروع کیا۔

نماز عصر کا وقت ہوچلا تھا اور قبرستان میں سناٹے کا راج دھیرے دھیرے قائم ہونے لگا تھا۔ سناٹا جو ہر جگہ خاموش ہوتا ہے مگر قبرستان میں جو ہمہ قت بولتا ہے، وہ سناٹا ہی ہے۔ شام کے سائے منڈلائے تھے اور سناٹے کو بولنے کے لےے ایک ساتھی مل گیا تھا۔ آج قبرستان میں ایک ہی موضوع کی بازگشت تھی۔

’’تطہیر رحمن کیا تھی، خوش قسمت یا بد قسمت؟‘‘

سناٹا اور شام بھی اسی کی باتیں کر رہے تھے اور صفوان اور مناہل بھی۔ اول الذکر قبرستان میں موجود تھے جبکہ موخر الذکر قبرستان سے باہر جاچکے تھے۔ یہ آنا جانا تو لگا ہی رہتا ہے لیکن تطہیر رحمن کو اب کہیں نہیں جانا تھا۔ اسے ایک طویل عرصے کے لےے مستقل ٹھکانہ مل چکا تھا۔ تطہیر رحمن جس نے ہمیشہ خود کو ایک Pipsqueak (بے قدر) سمجھا تھا۔ حالانکہ دنیا میںاللہ کی بنائی کوئی چیز Pipsqueak نہیں ہوسکتی۔ سناٹا بھی یہ بات اچھی طرح سمجھتا تھا اور شام بھی۔ انہوں نے تطہیر کی قبر کی طرف دیکھتے ہوئے تاسُف سے سر ہلایا تھا۔ وہیں کہیں خزاں زدہ درخت کے زر دپتے نے یہ بات سنی۔ اس نے گرتے ہوئے ان دونوں کی گفتگو میں مداخلت کی تھی۔

’’جبر کو صبر سے برداشت کرنے والوں کے لےے صرف قبر ہی رہ جاتی ہے۔‘‘

*****

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں