سال نو سروے 2023 – ادارہ

سروے 0

اترا میرے آنگن میں نئے سال کا سورج

یاد آئے عہد گزشتہ کے فسانے کتنے

وقت کے سمندر میں ایک اور سال کا اضافہ 22ئ؁ رخصت ہوچکاہے ۔ ایک اور نیا سال ہمارے سواگت کو کھڑا ہے۔

ہر طلوع ہونے والا سورج اپنے ساتھ نئے خواب لے کر آتاہے۔ سال گزشتہ کے بہت سے دکھ اور پچھتاوے بھی یاد آتے ہیں۔ وقت ہاتھ سے نکل جانے کا احساس دل کو کچو کے دیتاہے، پھر ان یادوں کو ذہن سے جھٹک کر ہم نئے سال کے لیے ارادے باندھتے ہیں، خود سے عہدو پیماں کرتے ہیں۔

نئے سال کے آغاز پر ہم نے اپنی قارئین سے اسی حوالے سے سوالات کیے ہیں۔ آیے دیکھتے ہیں ہماری قارئین نے کیا جواب دیے ہیں۔

سوالات یہ ہیں

س 1۔ خواتین ا ور شعاع میں آپ نے بے شمار، ناول، ناولٹ پڑھے ہوں گے کس مصنفہ کی کون سی ہیروئن آپ کو بہت اچھی لگی اور کس ہیروئن کو پڑھ کر آپ کو ایسا لگا کہ ’’ارے یہ تو میں ہوں۔‘‘

س 2۔نئے سال کے لیے آپ نے کیا ارادے باندھے ہیں کیا کرنا چاہتی ہیں، نئے سال سے آپ کی کیا توقعات ہیں؟

س3۔ کیا آپ اپنی زندگی سے مطمئن ہیں؟ زندگی میں کیا کمی محسوس ہوتی ہے۔ زندگی میں کیا تبدیلی چاہتی ہیں۔

رمشا روشن، الہ آباد

تمام قارئین کو سال نو مبارک ہو اور ادارہ کے اسٹاف کو بھی۔

۔ نمرہ احمد اس سال خواتین ڈائجسٹ میں ’’مالا‘‘ کے ساتھ موجود رہیں۔ عمیرہ احمد کی حسین موتیا‘سمیرا حمید کی شوخ سی چراغ‘نمرہ احمد کی سمجھ دار کشمالہ ہر ہیروئن پسند رہی ہے۔راحت جبیں کی خوددار اور محنتی نرمین بھی قابل توصیف ہیروئن تھی۔ چراغ کی شوخیاں‘شرارتیں ہم دونوں بہنوں نے بہت ڈسکس کیں۔ کشمالہ کی سمجھ داری اور ذہانت کے قصے اپنی بہن کے گوش گزار کےے اور موتیا کی خوبصورتی اور سادگی کے ،جہاں تک اپنے جیسا لگنے کی بات ہے تو کشمالہ کی کےریر بنانے کی سوچ کی طرح میری بھی سوچ ہے اپنا کےرےر بنانے کی ۔فنانشلی اسٹرونگ ہونے کی ‘اپنی کمائی جب اپنے ہاتھ میںآتی ہے تو کتنا سکون اور خوشی ہوتی ہوگی۔

کسی کا دل دکھانا اچھا نہیں لگتا‘حساسیت‘جب کوئی دھوکا دے تو دوبارہ اس پر اعتبار کرنا نہیں آتا‘ یہ عادتیں مجھ میں کشمالہ سے مشترک ہیں۔ اور پھوہڑ پن میں تو حنا بشریٰ کے ناولٹ’’نکمی‘‘کی کشف سے بھی چار ہاتھ آگے ہی ہوں گی .ہا ہا !۔

۔ نئے سال میں صوم وصلوۃ کا پابند رہنا ہے ۔ ان شائ اللہ لکھنے لکھانے کا کام جاری رکھنا ہے ۔ مطالعہ کرنا ہے ڈھیر سارا یعنی کمرے کو لائبریری ہی بنالینا ہے(سوچنے میں کون سے پیسے لگتے ہیں.ہا ہا ہا)۔ اپنی خامیوں پر قابو پانا ہے ان شائ اللہ۔ خصوصا زیادہ بولنے پرکنٹرول کرنا ہے اور بھی ڈھیر سارے ارادے کرنے ہیں ۔(فارغ ہوکر بیٹھ کر سوچوں گی کہ کون کون سے کرنے ہیں.ہا ہا ہا !) نئے سال سے توقع کرتی ہوں کہ خوشبو کی نوید بن کر ہم سب کے لےے اپنی جھولی میں خوشیاں ‘امید وروشنی کے جگنو بھر کر لائے۔

۔ جی بالکل! بالکل مطمئن اور پر سکون ہیں ہم اپنی لائف میں کسی تبدیلی کے خواہاں نہیں ہیں (خواہش نہ ہونے کے باوجود شادی کی صورت تبدیلی لائی جارہی ہے جس کے لےے دعا ہے کہ یہ فیصلہ ،یہ تبدیلی خوش آئند ثابت ہو(آمین)) بس آپ کی دعائوں اور محبتوں کی ضرورت ہے ۔

(ہماری دعائےں آپ کے ساتھ ہیں رمشائ)

سلمیٰ مسرت ،راولپنڈی

۔ بے شمار تحریریں ہیں جن کو پڑھ کر خیال آیا کہ یہ میں لکھنا چاہتی تھی؟ یہ میں ہوں؟ لےکن زیادہ نہیں لکھوں گی کیوں کہ مجھے قطعاً خود نمائی پسند نہیںلیکن جو اب دینا ضروری ہے ،میں سچ میں بہت جھجک رہی ہوں بہر حال سائرہ رضا کا سرسوں کا پھول کی ہیروئن بالکل میری کاپی ہے۔

نمرہ کے (مصحف) میں بے شمار جھلکیاں ہیں‘ جنت کے پتے کی ہیروئن میں مکمل میرا عکس، نمل کے کردار سعدی کی سوچیں ،باتیں میرا تخیل اور رقص شرر موسیقی پر تحریر لکھنا میرا ارمان تھا اس موضوع پر کوئی نہیں لکھتا ،زبردست ناول تھا۔

عمیرہ احمد کے ناول نام تھا دوسراآسمان درست نام نہیں آرہا‘ان دنوںمیرے حالات بہت گردش میں تھے ۔ میں بار بار حوصلہ کھو رہی تھی اس تحرےر نے مجھے ٹوٹنے سے بچا لیا، انٹر کی لاابالی بلندیوں کی چھوتی ہوئی لڑکی مکمل زمین پر لگ گئی۔

زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ ایک ناولٹ یا ناول جو (نسیم سحر قریشی) کا تھا اپنے اللہ اور والدین کے آگے جھک کر کیا جو میرے جیسی لڑکی کے لےے بہت مشکل تھا میری گفتگو سوچوںپر اور اخلا ق کردار پر ان تحریروں کے احسانات ہیں ۔ہاں دنیا سے اور اس کے کلچر سے دو ر ہوکر رب سے دوستی کی‘ 15قیمتی سال قرآن کو دےے‘ آج میرا روشن قلب سلیم میں والدہ اور قرآن کے بعد عمیرا ور نمرہ کا ہاتھ ہے

۔ نئے سال کے لیے اپنے وطن اور ہم وطنوں کے لیے اللہ کے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہرمیں ڈھیروں دعائیں مانگی ہیں پہلی بار بیرون ملک گئی۔ اتنی فرصت ملی۔ لوگوں سے مل کر مشاہدے سے ثابت ہوا میرے پاکستان جیسا کوئی نہیں۔ اس سال ان شائ اللہ اپنے دین کو (درس وتدریس) زیادہ وقت دیناہے۔

۔ الحمداللہ بہت مطمئن پر سکون ہوں میری ہر سانس فلک الحمد ولک اشکر۔

کمی صرف شکر کی ہے صبر کی ہے میرا مطلب ہے میرے معاشرے میں برداشت کی شدید کمی ہے۔ نعمتوں کے ڈھیر پر بیٹھ کر مسلسل ناشکری شکوہ اور رشتوں کی بے حسی ہے ۔وقت کی شدید بے برکتی کیوں ہے، برکت والے وقت پر سب سوتے ہیں بچے راتیں گزارتے ہیں دن بناکر غیر فطری زندگی میں کس کو سکون ملے گا۔

زرینہ خانم لغاری ،مظفر گڑھ

۔ کئی عشرے ہوگئے خواتین‘ شعاع‘کرن پڑھتے ہوئے کئی تحریریں دل کو چھو گئیں۔

مصنفین تو تقریبا تمام ہی اچھا لکھتی ہیںلےکن مجھے رخ چوہدری بہت پسند تھیں میری پسندیدہ ترین مصنفہ مہناز عرفان تھیں وہ جب تک لکھتی رہیں ۔میں سب سے پہلے ان کی کہانی پڑھتی تھی اللہ انہیں خوش رکھے ،نجانے اب وہ کہاں چھپ گئی ہیں ۔ہیروئن بھی کئی اچھی لگیں صابر۔ شاکر قسم کی ہیروئن دل کو بھاتی ہیں ،پرانے رسالے کھنگالنے پڑیں گے لےکن وہ بھی اکثر بانٹ دیتی ہوں کسی کا بھلا ہوجائے۔

ایک افسانہ پڑھا تھا اب یاد نہیں ،کس رسالے میں تھا عنوان بھی بھول گیا ہے ۔اس میں ایک خاتون کو ٹچ موبائل کا کوئی پروسیجر سمجھ میں نہیں آتا تھا بس وہ فون سن اور کر لیتی تھیں انہیں نہ ڈیلیٹ کرنا آتا نہ ہی کسی کا فون بند ہوکر پتا کرسکتیں کہ کس کا ہے تب میں نے کہا ’’اوہ یہ تو میں ہوں میری بھی صرف فون کرنے اور سننے تک معلومات محدو ہیں۔

۔نئے سال کے کیا ارادے باندھے جائےں، ہوتا تو وہی ہے جو اللہ تعالیٰ چاہتا ہے ہم بونس پر جینے والے لوگ کیا ارادے باندھیں سوچا ہے زیادہ سے زیادہ عبادت کرنی ہے ،خدا وند کریم ایک دفعہ پھر اپنا گھر دکھا دے لےکن جو مہنگائی ہے ناممکن نظر آتا ہے امید تو اچھی رکھنی چاہےے ۔آگے اللہ مالک ہے۔

۔ الحمداللہ ثم الحمداللہ میں اپنی زندگی سے بہت مطمئن ہوں ۔اللہ تعالیٰ نے ہزارہا نعمتوں سے نوازا ہے ۔انسان پیدا کیا ۔ مسلمان پیدا کیا۔ بے عیب پیدا کیا ۔ اچھے کھاتے پیتے گھر میں پیدا کیا۔ تعلیم حاصل ہوئی ۔ باعزت ملازمت کی ۔ اب پنشن ملتی ہے ۔کسی چیز کی کمی نہیں۔ اپنے بھتیجے کے گھر یعنی میکے کے گھر ٹھاٹ سے رہتی ہوں ‘بھابھی بہت اچھی ہیں ،بھتےجے کی دلہن پلنگ پر کھانا دیتی ہے‘ بھتےجے کا ایک ننھا سا دو سال کاکھلونا سا خوبصورت بیٹا ہے ‘وہ میرے دل کی ٹھنڈک ہے‘ بس ایک کمی زندگی میں رہی کہ رب تعالیٰ نے اولادکی نعمت نہیں دی‘ لےکن مجھے اللہ سے کوئی شکوہ نہیں۔ پانچ میرے بھانجے ہیں ‘ایک بھتیجا ہے ‘میں کہتی ہوں ۔ میرے چھ بیٹے ہیں ۔مجھے کسی چیز کی کمی نہیں ‘بہترین گزار ا ہورہا ہے‘ کوئی تبدیلی نہیں چاہتی ‘اب اللہ تعالیٰ سے ایک دعا ہے۔ خاتمہ ایمان پر کرے ۔

نجمہ جبار ،بہاول پور

۔حسب معمول سروے کے سوالات بہت دلچسپ ہیں ہمیشہ کی طرح خاص کر پہلا سوال اور مجھے ہنسی آرہی ہے ،اب کیا اور کےسے بتائوں اپنی ہی تعریف کروں۔

ہا ہا ہا۔ میں ذاتی طور پر کافی بزلہ سنج ہوں۔ چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو منانا۔ بولنا‘ملنا ملانا مجھے بہت پسند ہے ۔خاموشی میری طبیعت میں نہیں زیادہ اتنے عرصہ سے شعاع وخواتین پڑھ رہی ہوں تو کتنے ہی کردار ہیں جن کو پڑھ کر کہا یہ میں ہوں جی ہاں تو1997 کا آپ کے ادارے یعنی کرن میں آنے والے طویل سلسلے وار’’رنگ‘خوشبو‘ہوا بادل‘‘ جو کہ افشاں آفریدی نے لکھا تھا اور یہ میری پسندیدہ بھی ہیں ۔اس ناول کی صبیحہ کو پڑھ کر لگا کہ یہ میںہوں ۔ اسی طرح افشاں آفریدی کے ناول’’میرا سارا ،رنگ اتار دو‘‘ کی شہرین کو پڑھ کر بھی یہ ہی لگا‘آسیہ رئےس خان کے شعاع کے ناول ’’ہوکر مجبور‘‘ کی ہیروئن بھی مجھے میں ہی لگی ۔ شعاع وخواتین میں ہی ناول پڑھا تھاجس میں تین گنجے بھائی ہوتے ہیں (نعیمہ ناز کا ناول) اس ناول کی مزاحیہ ہیروئن کو پڑھ کر بھی لگا یہ میں ہوں۔ اور بھی بہت سے کردار ہیںجن کو پڑھ کر یہ ہی لگا مگر اب سب کا ذکرکیا تو صرف میرے سوالات کی جگہ رہے گی ۔

شعاع اور خواتین نے ہمیںمتوازن زندگی کو گزارنے کے لےے اتنے سالوں تک اتنا کچھ سکھایا۔ ہر معاملے میںدینی ہو یا دنیاوی ،اخلاقی ہو ،یا روحانی۔

۔ گزشتہ سال چینل کا کام کرنا ‘ناول پڑھنا اور پھر اس پر اتنی سخت محنت کرنا اور آخر میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کامیابی ملنا میرے لےے بہت بڑے اعزاز میں بات ہے اور میری اس کامیابی میںمیرے ملک کی مایہ ناز رائٹرز کا بہت بڑا ہاتھ ہے جنہوںنے نہایت کھلے دل سے مجھے اپنے چینل پر ناول پڑھنے کی اجازت دی۔

ذاتی حوالے سے گزشتہ سال کامیابیوںکا سال قرار دیا جاسکتا ہے۔

نئے سال میں اپنی شاعری کو ترتیب کے ساتھ اپنی فیس بک پیج پر لگانے کا ارادہ ہے۔ایک ناول بھی لکھ رہی ہوں ان شائ اللہ وہ بھی نئے سال کسی بھی شمارے میں لگ جائے گا۔ نئے سال سے مجھے ڈھیر ساری توقعات ہیں جن میں سب سے پہلی جو توقع ہے کہ ہمارا ملک امن کا گہوارہ بن جائے۔ اللہ پاک میرے بچوںکو کامیاب فرمائے۔

۔ جی جی بالکل الحمد اللہ میں اپنی زندگی سے مطمئن ہوں ۔ اللہ پاک نے ہر نعمت سے نواز رکھا ہے‘گھر جیسا سکھ ،محرم کی محبت اور اولاد جیسی نعمت دے کر اللہ نے میرا دامن خوشیوں سے بھر دیا ہے ۔ زندگی میںجو کمی محسوس ہوتی ہے ،وہ ہے میرے ابو جان کی ابدی جدائی ،یہ کمی ایسی ہے کہ بیان نہیں کی جاسکتی کس کس لمحے میں ان کی یاد نہیں آتی۔ اللہ پاک انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے آمین۔

تبدیلی نہیں چاہتی جیسی میں زندگی گزار رہی ہوں ،وہ اللہ کی منشا کے مطابق ہے ۔بچے بھی گھر کا کام کرتے ہیں اور ماسی بھی ساتھ او ر میرا دن پڑھنے لکھنے میں گزرتا ہے یعنی تمام رسالے اور ساتھ بکس یہ تمام جوکہ مجھے بہت پسند ہے اور تمام رسائل میں شرکت کرناشاعری اور لکھنا ساتھ درس تدریس کے شعبے سے وابستگی بھی ہے اور شادی سے پہلے بس یہ ہی حسرت تھی کہ کچھ ایسا ہو کہ بعد میں بھی پڑھتی رہوں اور ایسا ہی ہوا کہ میرے خاندان والے مجھے ہر طرح سے سپورٹ کرتے ہیں۔

سونیا ربانی ،قاضیاں محلہ بالا

۔ ہاں جی شعاع اور خواتین کو دوبارہ میری زندگی میں آئے سال ہونے کو ہے اور اس عرصے میں بہت ساری کہانیاں نظروں سے گزری ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ اب پہلے والی بات نہیں رہی(مطلب کچھ بھی یاد نہیںرہتا ہے)

مگر پھر بھی شعاع میں پڑھی۔ تحریری عسرا یسرا ‘حسنہ حسین کی ۔ یہ ناول آدھا ہی پڑھ سکی مطلب کے درمیان سے شروع کیا تھا ناں! پھر بھی یہ ناول دل کے بہت قریب رہا جب جنت اپنے نانا کے آنگن میں گھوم رہی تھی۔ تب مجھے اس میں اپنی جھلک نظرآئی۔

اور دوسرا ناول فرزانہ کھرل کا ہم اور بلیلیں(جو کچھ لڑکیوں کو سمجھ میں ہی نہیںآیا)مجھے اس ناول کی بدرا بہت بہت اچھی لگی اور اس سے زیادہ عون اچھا لگا۔ کیونکہ عون کی اور میری سوچ ایک جیسی نکلی تھی ۔ فرزانہ کے انمول لفظ( وہ وقت بھی آ گیا بالآخر اس نے جان لیا ،دنیا میں کچھ آخری بھی ہوتا ہے ‘آخری بار‘آخری نظر‘آخری قدم‘آخر کار وہ ہنسنا سیکھ ہی جائے گی ۔ آخر کار‘آخر کار)

یا پھر( تم نے جھوٹ بولا تھا تم نے نمک سے نبی صراحی کو بارش میں نہیں رکھا تھا )

(اسے دولت‘طاقت اور شہرت نے چھوا تک نہیں تھا پھر بھی وہ ایک عروج کی زد میں آگئی تھی )

اور سچی ایساعروج مجھے بھی ملا تھا ۔مجھے بدرا میں بھی سونی نظرآئی تھی ۔

۔ میں کبھی بھی ارادے نہیںباندھتی ہوں ہاںکچھ خواب اور آرزو کہہ سکتے ہیںمیری آرزو ہے کہ اس سال میں بہت سارا لکھ سکوں‘کاش میں بالکل ٹھےک ہو جائوں‘مجھے نئے سال کوئی دورہ نہ پڑے اور دعا ہے کہ اللہ میرے میاں کی کمائی میں برکت ڈالے۔ پیسے بچانا چاہتی ہوں۔ مجھے اپنے بچوں کا گھر بنانا ہے اور نئے سال سے اچھی توقعات ہیںکہ اب کچھ بر ا نہیںہوگا۔

۔جی اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے جو دیا بہت اچھا دیا ‘اور جو نہ مل سکا اس میںبھی بہتری تھی اس لےے مطمئن ہوں اور زندگی میںکوئی کمی نہیں ہے مگر پھر بھی کبھی کبھار ماضی دل پہ دستک دیتا ہے تو بہت سارے چہرے نظرآتے ہیں جود نیا کی بھیڑ میں کھو گئے ۔کزنز جو اب کوئی کہاں تو کوئی کہاں جا بسا ہے۔

کبھی کبھار اپنا گائوںبہت یاد آتا ہے پھر نائلہ لطیف بھی شدت سے یاد آتی ہے۔(اس کے بعد مجھے ہمیشہ ایک دوست کی کمی محسوس ہوتی ہے) وہ نائلہ اقبال بن کر بہت بزی ہوگئی ہے اور بہت کچھ فراموش بھی کرچکی ہے پرانے دوست بھی۔

بس کبھی کبھی کسی کندھے کی کمی محسوس ہوتی ہے کہ وہ کندھا مجھے کبھی مل نہ سکا جس پہ سر رکھ کر دو چار آنسو بہا سکوں(وےسے جب لوکل سفر کرکے جہلم ڈاکٹر کے پاس جاتی ہوں نا!) تب مبین صاحب بھی یاد آتے ہیں یعنی کمی محسوس ہوتی ہے اور جب کبھی بازار میں ارسہ کو اٹھا کر چلنا پڑتا ہے ناں تب بھی اس شخص کی کمی محسوس ہوتی ہے جو اشو کے پاپا جی ہیں اور اب دبئی میں بیٹھے ہیں۔

جو ہوںجیسی ہوں اچھی ہوںاپنے لےے بھی اور سب کے لےے بھی۔ اب کوئی تبدیلی نہیںچاہتی ہوں اصل میں دس برس پہلے میںبالکل اچانک بدل گئی تھی اور یہ تبدیلی ایسی تھی میں سب کی ہوگئی۔ سب کے لےے بہت ہی اچھی ،اچھی دوست ‘اچھی بیٹی ‘بہن‘بیوی ‘بہو اور پھر ایک اچھی ماں بھی۔ جب محبت دل میں گھر کر لے ناں! پھر دل موم بن جاتا ہے سب کے لےے پھر بندہ ہر کسی کے لےے آسانیاں پیدا کرنے لگ جاتا ہے سو میں بہت اچھی ہوں اب تبدیل نہیںہونا۔

ثریایاسمین موگلہ ،ضلع تلہ گنگ

؛۔ خواتین اور شعاع کے ساتھ رشتہ بہت پرانا ہے بے شمار ناول ناولٹ اور افسانے پڑھے ‘ہر سنجیدہ‘شوخ وچنچل ہیروئن اور روتی بسورتی ہیروئن میں ہلکی ہلکی اپنی جھلک دکھائی دیتی ہے مگر ایک افسانہ’’ چاند میرے آنگن میں‘‘ کی ہیروئن ’’سعدیہ‘‘ میں اپنی جھلک لگی ۔ جس کو دادی نے سلیقہ مند بنادیا مگر مجھے حالات نے سلیقہ سکھادیا۔ ’’حساب ابھی باقی ہے‘‘ کی ہیروئن کا نام یاد نہیں مگر اس کے صبر وتحمل نے مجھے صبر کی ایسی مثال سمجھائی کہ خود پہ حیرت ہوئی کہ کس طرح صبر کرپائی۔ سب سے زیادہ ’’نمل‘‘ کی ’’حنین‘‘ کی طرح ہوں۔ کہ حاضر جواب کبھی سست تو کبھی متحرک کبھی پھوہڑ تو کبھی ایسا سلیقہ کہ کوئی حد نہیں مذہب سے لگائوہے۔

۔ سب سے پہلے تو اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ملک عزیز پر اپنا خصوصی کرم فرمائے۔ میں ہر سال کی ابتدا کے ساتھ خود سے عہد کرتی ہوںکہ اپنی کسی بد عادت سے نجات حاصل کروںگی 2022میں میرا ہدف جھوٹ سے نجات تھی۔ الحمد اللہ کامیاب رہی۔ اس سال دو باتوںکا ارادہ ہے ایک غیبت سے بچائو اور دوسرا نماز قضا نہیںکرنی۔ ایک شدید ترین خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ حج یا عمرے کی سعادت نصیب کرے۔

؛۔الحمد اللہ۔ میرے رب کریم نے ہر نعمت سے نواز رکھا ہے میں اپنی زندگی سے بہت مطمئن ہوں بس ماںکی کمی رلادیتی ہے ،امی کو جدا ہوئے 15برس ہوگئے ہیں۔دل کرتا،کبھی گلے لگ کے اپنی پیاس بجھا لوں2022 نے مجھ سے میری بہت ہی عزیز دوست ارم چھین لی جس کی کمی قدم قدم پر محسوس ہوتی ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے میرے اندر قناعت کا مادہ بہت رکھا ہے کہ میں تھوڑے پر بھی شاکر ہوں شاید اسی لےے میرا رب مجھے میری اوقات سے بڑھ کر نوازتا ہے میں صرف اپنے غصے پر قابو پانا چاہتی ہوں میرے غصے کی وجہ سے بچے بھی چیختے ہیںبس یہ عادت ختم کرنی ہے ان شائ اللہ ۔

ربیعہ نسرین ،ماڈل ٹائو ن لاہور

میں’’خواتین ڈائجسٹ ‘‘اور ’’شعاع‘‘ کی ابتدائی قارئےن میں سے ہوں‘ چند شمارے جو کبھی کبھار ناغہ ہوگئے ہوں گے ،وہ ہم نے بعد میں پڑھ لےے کبھی ایسا بھی ہوا کہ کہانی پڑھ کر احساس ہوا کہ یہ ہمارے ارد گرد کی تصویریں ہیں اور کبھی سوچا کہ کیوں نہ اپنی زندگی کو اس ڈگر پر چلنے سے روکا جائے ۔

نمرہ احمد کے تقریبا تمام ناول میرے پاس رسالوںاور پھر کتابی شکل میں موجود ہیں مثلا ببیلی راجپوتاں کی ملکہ’’ نمل ‘‘مصحف ’’حاکم‘‘،’’قراقرم کا تاج محل‘ جب قسط وار چھپنا شروع ہوا تو بچیوں میں بہت مقبول ہوا سردیوں کے دن تھے لاہور کالج برائے خواتین (اب یونی ورسٹی) کے گھاس کے میدان میں دھوپ سینکتی طالبات میںگپ شپ چل رہی تھی کہ کسی لڑکی نے کہا۔

’’ ایسا بے کار ناول ہے حقیقت سے دور ، بھلا کس کے ماں باپ کا دماغ خراب ہے کہ پندرہ سولہ ہزار خرچ کرکے بیٹی کو سیر سپاٹا کرنے بھیجیں اےسے زریں اور نادر خیالات صرف افسانوی دنیا میںہی ممکن ہوتے ہیں کہ پیسے خرچ کےے بغیر سیر وتفریح ہوسکے ۔‘‘

دوسرے نزدیکی گروپ میں بیٹھی ماریہ خان نے لمبا سا ہاتھ کھڑا کیا ’’میری بے وقوف اور شاید احمق اماں نے مجھے ٹرپ کروایا ہے۔‘‘

’’شور تھم گیا‘چند لمحے خاموشی کے در آئے اور پھر سوالات کی بوچھاڑ۔ باقی سب تو وہی ہے جو ناول میںلکھا ہے بس مجھے بھی ایک ہی افسوس ہے کہ اصلی ٹرپ میںکوئی ہیرونہیںملا‘‘

۔چند سال گزرے ،ایک دن مال روڈ پر جانے کا اتفاق ہوا انار کلی جانے والی سڑک کے باہر ایک معمر کتب فروش اپنی کتابیں سجائے بیٹھا تھا۔ بیشتر کتب انگریزی کی تھیں لےکن سب سے اوپر قراقرم کا تاج محل جگمگا رہا تھا۔ قراقرم کی تصویر اس قدر خوبصورت تھی کہ میں نے فورا خرید لیا ۔ گھر آئی تو ڈاکٹر زینب نے فرمایا ناحق خریدا۔ یہ تو ہم پڑھ چکے ہیں اور ناول میرے ہاتھ سے کھسوٹ کر دنیا سے بے خبر ہوکر اس میں غرق ہوگئیں۔ رات گئے جب ناول ختم کرکے فارغ ہوئیں تو فرمایا قسط وار پڑھنا الگ معاملہ ہے ۔ کتاب کا صحیح لطف ایک نشست میں پڑھنے سے ہی آتا ہے ‘سو یہ ہماری دوسری بے وقوفی شمار ہوئی۔

۔2016میںسوات جانا ہوا تو سیر کے لےے ایک بوستان میںلے جایا گیا ،گرمیوںکا اختتام تھا پھل چنے جاچکے تھے ۔خزاں کی آمد سے پہلے درخت پتے جھاڑ کر ٹنڈ مند کھڑے تھے ہر طرف ویرانی کا سماں تھا پھر نیچے زمین پر گرے پتوں کا فرش تھا اور کچھ معلوم نہ ہوپاتا تھا کہ اگلا قدم کہاں لے جائے گا اس لےے بطور احتیاط کسی بھی درخت کے تنے کو مضبوطی سے پکڑ کر قدم اچھی طرح جما کر، آگے بڑھتے تھے مجید احمد کا کوہستانی سفر بھی یاد آیا ایک درخت نے بہت دور تک ساتھ دیا سو پوچھ بیٹھے کہ درخت کس چیز کا ہے؟ جواب ملا’’جنگلی ناشپاتی کا‘‘ کافی دےکھا بھالا مگر کوئی بھولا بھٹکا پھل بھی نہ ملا البتہ طعنہ ضرور ملا ’’افق ارسلان آبھی جائے تو ناشپاتی کا موسم ختم ہوچکا ہے‘‘

مالا کی ہیروئن کافی میں بھی ہوں‘نرم دل ‘اعتبار کرنے والی‘اپنی حالت بدلنے کے لیے ملازمت کرنے والی اور ملازمت کے تقاضوں سے وابستہ وفاداری ‘جھوٹ سے نفرت ،تعلقات نبھانے والی مگر دھوکا دینے والوںکو دوسرا موقع نہ دینے والی

۔نئے سال کے لیے پھر ایک تدبیر کررہی ہوں‘ اللہ اسے کامیاب کردے‘ایک تربیتی ادارہ قائم کرناچاہتی ہوں‘ ایک دار المطالعہ کی بنیاد اور بے سہارا خواتین کے لےے اےک گھر۔ دعا کرےں سب آرزوئےں پوری ہوں(سب ہی کی)

؛۔اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر واحسان ہے کہ مجھے میری اوقات سے بڑھ کردیا ہے البتہ زندگی اور معاشرے میں اخلاق وتہذیب بلکہ مشرقیت اور اسلامی اقدار کی کمی محسوس ہوتی ہے

(انگلی میں چوٹ لگی ہے مگر شمارہ دسمبر بہترین تھا)

نازلی ،فیصل لاہور

۔آج آپ کے سروے کے سوالوں کے جواب لکھتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہوا گویامیںاپنی زندگی کا وہ پرچہ حل کررہی ہوں جس کے متعلق امجد اسلام امجد نے کہا۔

’’زندگی کے سب سوال لازم ہیں ’‘سب سوال مشکل ہیں‘‘

آپ کا یہ سروے یقینا سیپ سے وہ موتی نکالنے کے مترادف ہے جسے لکھ کر جانے کتنی گھریلو خواتین اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کو ترتیب دےتے ہوئے جانے اپنی ذات کی ان گرہوں اور ان ہنروں سے واقف ہوں گی جو ان پر گھر داری کے چکروں میں آشکار نہ ہوئے ہوں گے یا جو اپنی زندگی کا وہ رنگ دنیا کو دکھا دیں کہ یک دم ان کے منہ سے یہ نکلے کہ ’’ہائے میںاپناآپ کہاں رکھ کر بھول گئی تھی‘ ‘ یا ہائیں میں اب تک کہاں تھی ؟.‘‘

۔ خواتین ڈائجسٹ وشعاع کی یوں تو بہت سے ہیروئنیں بہت اچھی لگیں کیونکہ سب ہی مشرقی روایات کی آئینہ دار اور ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتی دکھائی دیں اور ساتھ ہی جذبات واحساسات میں ڈوبی ہوئی زندگی کی قوس وقزح سمیٹتی نظرآئیں۔ لیکن خواتین ڈائجسٹ کے اکتوبر کے شمارے میں قراۃ العین سکندر کا زندگی کے سروں سے سجا اور روز مرہ کے سادہ لفظوں سے گندھا ہوا۔ ’’تیرے جیسا کوئی اور نہ‘‘ کی معصوم سی بھولی بھالی نازک سی شرمیلی سی ’’نگین‘‘ دل میں ارمانوں کی ایک دنیا بسائے کیا کچھ سناتی ہوئی ہمارے دل کو بہت اور بہت اچھی لگی ‘میں چھپانے والی نگین کا وہ ریزہ ریزہ ہو کر ٹوٹنا ‘بکھرنا اور جان پر کھیل جانے کی حد تک جانا لےکن ماں باپ کا دل نہ توڑنا پڑھ کر ہم بھی پکار اٹھے‘کشاں کشاں برسوںپہلے چھوڑے ہوئے بابل کے اس آنگن اور میکے کی دہلیز پر آکھڑے جہاں بڑی بہنوں کے آنے کا شور ان کے گپلو گپلو بچوں کی آوازیں اور امی کی ڈانٹ ۔

اٹھو میری مدد کرو‘میری ہڈیوںمیں اتنا دم نہیں۔‘‘غصہ بھی پیار بھی ‘ناراضی بھی معافی بھی وہ تذبذ ب میںکبھی بڑی بہنوںکا فون نہ اٹھانا‘ کبھی اٹھا کے رکھ دینا کہ کہیں یہ نہ ہوجائے ‘وہ نہ ہوجائے۔تحریر وناولٹ ایسا کہ جو دل کے تاروں کو چھو گیا اور ہیروئن ایسی جو ہماری ہی باتیں دہراتی ہوئی کہلا گئی کہ ’’ہائےں یہ تومیں ہی ہوں‘‘

۔ کیا ارادے ہیں تو وہ کیا ہے نہ بقول مرزا غالب

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے میرے ارماں پھر بھی کم نکلے

خواہشوںکے ریلے میں سوچا تو بہت کچھ ہے لےکن اسے پایہ تکمیل تک پہنچانا اور انہیںعملی جامہ پہنانا اس مالک کی کرم نوازی سے ہی ممکن ہے جس طرح سن1984ئ میں ہم نے سوچا تو بہت کچھ تھا لےکن بیٹے کے اسکول جاتے ہوئے ایکسیڈنٹ میں وفات کے بعد ہمارے سارے خواب چکنا چور کردےے یعنی آنکھ ابھی کھلی نہ تھی خواب سارے بکھر گئے

اس کی وفات کے بعد ایک دم وہ ہر ہفتے میرے لکھتے ہوئے قلم کا چھٹ جانا‘ وہ سروے ،وہ لکھنا لکھانا وہ اسکردو کے ریڈیو اسٹےشن پر اپنی تحریریں پڑھنا، پروگرام کرنا وہ پرنسپل کی تقرری کے کاغذات سب ہی کچھ کہیںکھو کر رہ گیا ۔کیونکہ اللہ کو منظور ہی نہ تھا۔ وقت مہربان تھا۔ لوگ مہربان تھے ۔ قسمت ہی نامہربان تھی۔ اس جنت وادی نے ہمارا ہی چارسالہ معصوم پھول ہماری آغوش سے چھین لیا۔

کیا سوچا تھا کیا کرنا تھا، سب ہی کچھ بھول گیا۔ یاد رہا تو صرف اتنا

اک سانس کی ڈوری اٹکی ہے

ایک روح کا رشتہ باقی ہے

یہ جگر کے ٹکڑے بھی کےسے لہولہان کردیتے ہیںکہ کچھ بھی دکھائی نہیں دیتاقدر ادبی عروج کے بعد اتنی لمبی نیند سوئے کہ بھول ہی گئے ہم بھی کبھی لکھتے تھے سن84ئ؁ کے بعد2020میں کرونا کی بہت سی امڈتی دعائوں سے ہمارے سالوںکے سوئے ہوئے قلم کارواں ہونا۔زندگی کا84ئ کا دھندلایا ہوا عکس‘ منعکس ہوا وہ عمر کی چڑھتی ہوئی دھوپ تھی ۔یہ عمر کی ڈھلتی ہوئی شام تھی ‘جوانی سے بڑھاپے تک کا سفر جو طے کرنے چلے مدتوں سے بند کاغذات اور برسوں پہلے بند کیا وہ بریف کیس کھولا توان گنت ادھوری مکمل تحریریں دےکھ کر زندگی میں بھونچال آگیا۔

اس قدر شکستہ تھی کتاب زندگی

ہر ورق کھولنے کی کوشش میںپھٹ گیا

گو زندگی فلم کی ریل کی طرح ریوائنڈ تو نہیں ہوسکتی لےکن ہمارے لمحے لمحے کا حسا ب لکھنے والے مالک نے جو میرے قلم کو رواں کیا ہے ،چلایا ہے تو اس میں بھی اس کا کوئی خاص اشارہ ہے کہ کیا کرنا چاہتی ہیں ۔ اس کے جواب میں کہیں گے کہ آپ نے تو میرے دل کی بات پوچھی ہے وہ سوال جو میں صرف اپنے آپ سے کرتی اور جواب ڈھونڈتی رہی آج اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر پوچھا تو دل کا سارا غبار آنسوئوںمیںبہہ کر آپ کو اپنی پوری کہانی سنا گیا آپ نے سوال ہی ایسا کیا ہے۔ کہ ٹوٹے ہوئے تار پھر بج اٹھے ہیں، ادھورے خواب پھر آنکھوں میںجاگ اٹھے ہیں، اپنی ادھوری تحریریں مکمل کرکے اور نئی لکھ کر بھیج کے علمی تشنگی بجھائی ۔

۔ الحمداللہ میںاپنی موجودہ زندگی اپنے شوہر کرنل فیصل اور اپنی بچیوں کے ساتھ بہت خوش ومطمئن ہوں۔

میری دونوں بچیاں فرماں بردار ‘نیک اور لائق وسگھڑ ہیں ،بڑی بیٹی ڈاکٹر عائشہ انڈس ہاسپٹل میں گائنا لوجسٹ‘اور چھوٹی نے ایم ایس سی ٹیکسٹائل کیا، دونوں اپنے گھروں میں وبچوں کے ساتھ خوش وخرم ہیں ،دونوں داماد بیٹوں جیسے ہیں اور بچیوںکے سسرال والے انتہائی قدر دان ہیں ۔

اور رہی بات تبدیلی کی سوچتی ہوںبیٹے کا اگر وہ جان کا حادثہ نہ ہوتا تو زندگی شاید کسی اور ڈھب سے گزرتی ۔ وہ اسکول وکالج کی بیسٹ اسٹوڈنٹ ،وہ حیدرآباد بورڈ سن71ئ انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں سیکنڈ پوزیشن حاصل کرنے والی گولڈ میڈلیسٹ ،وہ انگلش ورڈ کی بیسٹ ڈیبیٹر وہ اپنے کالج کے اردو میگزین کی ایڈیٹر، وہ اخبار رسالوںمیں لکھنے والی قلمکار جسے میں رکھ کر کہیں بھول گئی ہوں اسی کو دوبارہ زندہ کروںجو عام سی گھریلو عورت بن کر رہ گئی۔

صبا آصف ،کراچی

۔مجھے ہر وہ ہیروئن اچھی لگتی جو محنتی ہو والدین بہن بھائیوں سے محبت کرنے والی والدین کی عزت اور اگر شادی شدہ ہوتو شوہر کی عزت گھر اور بچوں کو اولیت دینے والی اور خودار سو مجھے خواتین ڈائجسٹ میں چھپنے والے راحت جبین کے ناول زندگی تجھے ہم گزاریں گے کی نرمین بہت اچھی لگی ہر قسط میں نے بہت دل سے پڑھی نرمین والدین بہن بھائیوں سے بہت محبت کرنے والی‘محنتی ‘خود دار ‘لڑکیوںکو ایسا ہی ہونا چاہیے ارے یہ تو میںہوں ۔

۔ نئے سال کے لےے بہت نیک ارادے ہیں، بہت سے ادھورے کام نمٹانے ہیں جو اس سال بے انتہا مصروفیت کی وجہ سے نہ کرسکی ،ایک ارادہ یہ ہے کہ اللہ پاک کی مددشامل حال رہی تو اپنی بہنوں‘دوستوں احباب اور جو اس کا رخیر میں شامل ہوناچاہے کسی غریب بیوی کے گھر کا ایک یا دو کمرے بنوادیں یا پرانے ہی گھر کو اتنا بہتر کردیں کہ وہ سردی گرمی اوربارشوںمیں ایک محفوظ گھر ہوجائے، خاص طور سے بارشوں میں ایک خاندان کسی حدتک بہتر اور موسموں کی شدت سے محفوظ زندگی گزار سکے ۔ اس سے پہلے بھی ہم تین خواتین سمیرا‘افروز اورسمیرا کی بہن‘سب نے حسب توفیق رقم ملا کر اپنی ماسی کو اس کے پلاٹ پر ۔ایک بڑا سا کمرہ بنوا کر دیا تھا کمرے میں ہی واش روم اور کچن بھی شامل تھا اس نے چودہ سال سکون سے اس کمرے میں گزرے اب شوہر کی وفات کے بعد گھر بیچ کر پنجاب چلی گئی ہے ۔

یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ جو بہنیں اجتماعی طور سے یا خود اپنے طور پر کسی غریب کے گھر کو بہتر کرنے میں مدد دے سکتی ہوں تو ایک اور کنبہ موسموںکی شدت سے کسی حد تک محفوظ ہوجائے تو کتنا اچھا ہوجائے۔

نئے سال سے اچھی ہی توقعات ہیں اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو سلامت رکھے ہم گیس بجلی کی لوڈ شیڈنگ برداشت کرلیںگے ‘یہ ہماری پہچان ہے، ہماری آن ہے ہماری شان ہے یہ نہیں تو کچھ نہیں‘اللہ پاک ہمارے پاکستان کی حفاظت کرے (آمین ثمہ آمین)

۔الحمد اللہ میںاپنی زندگی سے بہت مطمئن ہوں رب نے بہت نوازا ہے اچھے والدین جن کی وجہ سے ہم نے بہت عزت پائی ۔اچھا شوہر‘اچھے بھائی بہن‘اچھے اور سچے دوست ‘دو ستیاںکم ہیں لےکن نجمہ بھابھی ‘صاعقہ‘ روبینہ اور زرینہ یہ سب بہترین دوست ہیں ہر خوشی غمی میں شریک اور بہت محبت اور خیال کرنے والی ۔ ضروریات تو فقیر کی بھی پوری ہوجاتی ہیں اور خواہشات بادشاہوں کی بھی پوری نہیں ہوتیں۔ زندگی میں نے پیاری امی پیارے ابو ‘پیاری بہن کوثر جہاں اور پیارے بھانجے محمد فراز خان کی کمی بہت محسوس ہوتی ہے ۔اللہ پاک ان سب کو اپنے جوار رحمت میںجگہ دے آمین ثمہ آمین۔

زندگی میںیہ تبدیلی چاہتی ہوں اللہ پاک مجھے اپنے سے قریب کر لے، مجھے ایسا بنادے جیسا وہ اپنے بندوں کو دےکھنا چاہتا ہے ،اللہ پاک مجھے اپنے والدین کے لےے صدقہ جاریہ بنا دے آمین ثمہ آمین۔

ارم ربانی ،سوہدرہ

۔اپنی زندگی میں اتنے ڈائجسٹ پڑھے ہیں کہ حساب بھی یاد نہیں‘کسی بھی ناول یا ناولٹ کے لےے ہیروئن کا وجود از حد ضروری ہوتا ہے ہیروئن کے کردار کے بغیر نہ کوئی نادل مکمل ہے نہ کوئی فلم لیکن کیا ہے کہ مجھے ہیروئن صرف وہی یاد رہ گئی جو کہانی میں باقاعدہ اپنا ایک حصہ رکھتی تھی، جس کا کردار شفاف‘ذہنوں کے آئینوںپر اپنا عکس چھوڑ گیا شہرذات کی فلک یا پھر شان دار پر سنالٹی امامہ ہاشم بھی نہیں بھولتی ،لاحاصل کی زینت ‘تالیہ جیسی نڈر بے خوف، ہاں کردار میںمجھے اپنا آپ نظرآتا ہے وہ ہے وقت حاضر کی کشمالہ‘‘عرف مالا‘‘ جو ہر غلطی پر مدتوں پریشان رہتی اس کا گلٹ ختم نہیں ہوتا ،ہر کسی پر بغیر پرکھے بھروسہ کرلینا اپنے پمپلز پر پریشان ہوجانا اور جو اسٹےنڈ لینا تو پھر جم جانا۔

۔زندگی کے کئی ماہ وسال بسر کردےے، ہر سال ارادے باندھے اور پھر اپنی آنکھوں سے ان ارادوں کو ٹوٹتے دےکھا لےکن شکر الحمد اللہ زندگی کی ہر خواہش کسی نہ کسی مرحلے پر پوری ضرور ہوگئی ۔آنے والے سال میںنیک ارادہ تو یہ ہے کہ خواتین ڈائجسٹ کچھ اچھا لکھ کر بھیجوں جو اہل خواتین ڈائجسٹ کو پسند آجائے ۔دوسرا ارادہ یہ ہے کہ مفلس لوگوں کے لےے کچھ بہت اچھا کروں جس علاقہ سے میں ہوں ،وہاں معیار زندگی پسماندہ ہے ۔نئے سال سے ہم سب ایک ہی توقع رکھتے ہیں کہ شاید اس سال اللہ کو پاکستان پر رحم آجائے ۔

۔میں نے اپنی زندگی میں بہت سے غلطیاں کی ہیں ،شکرہے اللہ نے پھر غلطی کے مداوے کی توفیق بھی عطا کی ،زندگی کو سمیٹتے سمٹاتے یہ وقت آگیاہے کہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرے قریبی اب مجھ سے خوش ہیں، اب تو کوئی نفسی خواہش بھی نہیں، شوق ذکر الٰہی بھی ہے سو میں مطمئن زندگی کے مراحل میںہوں۔

زندگی میںبہت جگہوںپر کوئی نہ کوئی کمی محسوس رہی لےکن اپنے عزیز از جان دوستوںکی کمی بہت محسوس ہوتی ہے جو شاید اپنی اپنی زندگیوںمیں بہت مصروف ہیں یا شاید میں بھی انہیں یاد آتی ہوں اور وہ بھی میری کمی محسوس کرتی ہوں کوشش ہے کہ ہم دوبارہ مل سکیں۔ یہ کسک دل کے بہت قریب رہتی ہے ۔ زندگی تو نام ہی تغیرات کا ہے کبھی میں بہت نڈر‘ بے باک یا منہ پھٹ تھی پھر بے باکی ختم ہونے لگی اور ایک خوف دل میںسمانے لگا اور پھر سب بدلنے لگا، مادی طور پر میںکوئی تبدیلی نہ چاہوں ہاں یہ چاہتی ہوںکہ مجھے اپنی ذات کی نفی کا ہنر آجائے اپنے اللہ کے سامنے تو ہے ہی اللہ کے بندوں کے ساتھ بھی ۔

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں