گولڈن جوبلی سروے

سروے 0

نگہت سیما

(1)

میں نے لکھنے کا آغاز بچوں کی کہانیوں سے کیا۔ بچوں کے رسالوں کے علاوہ جنگ کے بچوں کے صفحہ پر لکھا۔ ابھی اسکول میں ہی تھی کہ میں جنگ کے ادبی صفحہ ، خواتین کے صفحے اور ’’سیارہ ڈائجسٹ‘‘ میں لکھنا شروع کر دیا۔ وہاں سے پھر ادبی پرچے اوراق میں. اور پھر کراچی سے چھپنے والے دو ڈائجسٹوںمیں لکھنا شروع کیا .کہ ادبی پرچے چھ چھ ماہ بعد آتے تھے اور کوئی سال بعد . اور اس عمر میں چھپنے کی جو خوشی ہوتی تھی اس کے لیے ضروری تھا کہ جو لکھا جا رہا ہے وہ جلدی جلدی چھپ بھی جائے ۔ ’’خواتین ڈائجسٹ سے رشتہ 1983ئ میں جڑا . اقبال بانو نے ایک ڈائجسٹ میں چھپنے والی تحریر ’’گولڈن چانس‘‘ پڑھنے کے بعد مجھے خواتین ڈائجسٹ میں لکھنے کے لیے کہا اور یوں خواتین میں میری پہلی کہانی ’’تہی داماں ‘‘ مئی 1983ئ میں چھپی ۔ میرے ذہن میں تھا کہ میری پہلی کہانی غالباً 1982ئ میں چھپی لیکن میری فائل میں موجود ریکارڈ کے مطابق پہلی کہانی مئی 1983ئ میں خواتین میں چھپی۔

جب میں نے خواتین میں لکھنے کا آغاز کیا تو اسٹوڈنٹ تھی۔ میں بی ایڈ کر رہی تھی۔ غالباً فائنل پیپرز ہو رہے تھے۔ یا شروع ہونے والے تھے۔ پڑھنا ، لکھنا اور کبھی کبھار فرینڈز کے ہاں چلے جانا اور ان کا ہمارے ہاں آنا۔ تب گھر میں امی جان ، ابو ، شاہدہ، شیریں تھے۔ بھائی سب اپنی اپنی فیملی کے ساتھ مختلف شہروں میں۔ چھوٹے بھائی کی شادی بی ۔ ایڈ کے دوران ہوئی تھی۔ ہاں جب لکھنا شروع کیا تھا تب صرف جاوید بھائی کی اور جمیل بھائی کی شادی ہوئی تھی۔ اور وہ ابو ، امی ، سب ہی بہت خوش ہوتے اور حوصلہ افزائی کرتے تھے پھر 1972ئ میں جاوید بھائی کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ ہم سے بچھڑ گئے۔ جمیل بھائی 1986ئ میں ہم سے جدا ہوگئے۔ سوچتی ہوں جاوید بھائی جو اخبار میں چھپنے والی ہماری کہانیوں کے اور ان کی تعریف میں لکھے گئے خطوط کے تراشے بھی سنبھال کر رکھ لیتے تھے۔ وہ جو بالکل چھوٹی چھوٹی سی بچوں والی کہانیاں ہوتی تھیں انہیں اتنا سراہتے تھے کہ دل چاہتا تھا کہ مزید اچھا لکھیں۔ آہ وہ ہوتے تو کتنا خوش ہوتے۔ البتہ جمیل بھائی نے ہماری بہت حوصلہ افزائی کی (ہم سے مراد میں اور شاہدہ طلعت) وہ صرف ہماری تحریر پڑھنے کے لیے خواتین کے ڈائجسٹ خریدتے تھے اور پڑھ کر ہر کہانی پر تبصرہ کرتے تھے۔ ورنہ وہ پہلے انگلش ناول اور غیر ملکی ادب ہی پڑھتے تھے۔

میں نے جب سقوط ڈھاکہ کے پس منظر میں ’’شکستہ آئینہ ‘‘ لکھنا شروع کیا تو انہوں نے نہ صرف ایئرفورس کے میس سے مجھے اس موضوع پر انگلش اور اردو کی ایک ایک کتاب لا کر دی بلکہ اپنے ایک کرنل دوست سے ملاقات بھی کروائی جو اس وقت ڈھاکہ میں تھے اور جنگی قیدیوں میں بھی شامل تھے۔ گوناولٹ ان کے بعد لکھا۔ کیونکہ پڑھائی میں مصروف تھی۔ ضروری باتیں نوٹ کر لی تھیں تب۔

خواب تو بہت سے تھے۔ پنجاب یونیورسٹی سے انگلش لٹریچر یا جرنلزم میں ماسٹرکرنے کا خواب اسکول کے زمانے سے ہی دیکھ رہی تھی۔ جس کی کسک اب بھی دل کے کسی کونے میں موجود ہے۔

(2)

 اب زندگی کا انداز کیا ہے ؟

میں نے بی ۔ ایڈ کا رزلٹ آنے سے پہلے ہی جاب کرلی تھی۔ پہلے یوں ہی مروتاً . اور پھر کرنا پڑی۔ مروتاً اس لیے کہ کسی جاننے والے کا اسکول تھا۔ اور اب ریٹائرلائف کے مزے ہیں ۔ مصروفیت پلس مصروفیت ۔

گوجاب وہ بھی پرائیویٹ اسکول کی بے حد تھکا دیتی ہے لیکن میں لکھنے کا وقت نکال ہی لیتی تھی۔ اور کچن میں بیٹھ کر بھی لکھ لیتی تھی۔ رات کو دیر تک جاگنا ، صبح جلدی اٹھنا تو یوں لکھنے کا سفر جاری رہا۔ گو بظاہر اب جاب کی مصروفیت نہیں رہی۔ لیکن اب جیسے لکھنے کا وقت ہی نہیں ملتا یا شایدعمر کا تقاضا ہے۔ یا پھر دل ہی نہیں چاہتا لکھنے کو کہ .

(3) نئے رشتے ، نئے لوگ . اس دوران بھائیوں کی شادیاں ہوئیں ، شیریں کی شادی ہوئی تو ان کے حوالے سے بھابیاں بھتیجے ، بھتیجیاں شیریں کے بچے اسامہ ، ثانیہ اس کا ہسبنڈ وغیرہ ۔خواتین کے تعلق سے اقبال بانو سے تعلق رہا۔

لکھنے کے حوالے سے گل اور ثمینہ اعوان جیسی دوست ملیں۔

امتل کا خلوص و محبت بھی اسی سفر کی کمائی ہے۔ اس کے علاوہ بھی دوچار لوگوں سے سلام و دعا کا تعلق رہا۔ لیکن وہ جو فراز نے کہا ہے کہ۔

دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا

تو صحیح کہا ہے۔

عظمیٰ رزاق کا خلوص متاثر کرتا ہے۔ وہ بھی اسی سفر کی دین ہیں۔

رفعت سجاد سے بشریٰ رحمن سے بھی ملاقات ہوئی۔ بشری رحمن سے تو کئی بار لیکن رفعت سے دوبار۔ ایک بار میں ان سے ملنے گئی تھی۔ 1997ئ میں عمرہ کر کے آئی تھی تو ایک بار وہ چکوال آئیں تو شرف ملاقات بخشا ۔

بشریٰ رحمن صاحبہ دوبار مجھے ہوسٹل ملنے آئیں تو اس خوشی کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا۔ اپنے کمرے کی لڑکیوں پر تو رعب پڑا ہی تھا۔ ہمارے بلاک کی لڑکیاں بھی کونوں کھدروں سے جھانک رہی تھیں۔ امتل اور ریاض صاحب اور رضیہ جمیل صاحبہ سے بھی دو بار ملاقات ہوئی۔ ایک بار اپنے گھر اور ایک بار کراچی . ایک ایک ملاقات نسیم نیازی اور بانو سے بھی ہوئی ۔لکھنے کے حوالے سے بس یہی اثاثہ ہے جو یادوں کے خزانے میں سے کبھی کبھی ڈھونڈ کر خوش ہو لیتی ہوں۔

بشریٰ رحمن کے حوالے سے پہلی ملاقات بہت دلچسپ اور یادگار تھی۔ کبھی اس کا احوال لکھوں گی۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور درجات بلند کرے۔ آمین ۔ خواتین ڈائجسٹ کے ادارے کے ساتھ جتنا بھی وقت گزرا بہت یادگار اور خوب صورت تھا۔ اگر ڈائجسٹ ہمیں نہ چھاپیں اور ہمارے قاری ہمیں نہ پڑھیں تو ہماری لکھنے کی صلاحیت جو اللہ کی طرف سے ودیعت ہوئی ہے اس کو زنگ لگ جائے۔ سو ادارہ خواتین ڈائجسٹ اور اپنے سب قارئین کی تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔

پہلی تحریر سے لے آج تک جو اس ادارے کے لیے لکھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ کبھی امتل نے یہ کہہ کر تحریر واپس نہیں کی کہ ہم نہیں چھاپ سکتے۔ میں نے تینوں پرچوں (کرن ، شعاع ، خواتین) کے لیے بہت لکھا ہے۔

یہ سفر بہت بہت خوب صورت اور خوش گوار رہا۔ البتہ ایک کسک دل میں ہمیشہ رہے گی کہ جب بھی میں نے امتل سے کہا کہ میں ’’خواتین یا شعاع‘‘ کے لیے ایک قسط وارناول لکھنا چاہ رہی ہوں۔ امتل نے منع کر دیا۔ معلوم نہیں کیوں.بغیر دیکھے۔ وہ ناول اب بھی ادھورا پڑا ہے۔ البتہ کرن میں دو قسط وار ناول چھپے ڈھائی سال تک ۔

عنیزہ سید

(1)لکھنے کا آغاز میں نے اس وقت کیا جب میں ایف اے سیکنڈ ایئر کی طالبہ تھی۔ وہ بے فکری اور بے نیازی کے بہترین دن تھے۔ کسی بھی قسم کی ذمہ داری سے آزاد بس اپنے حال میں مست گزرنے والے دن۔

گھر میں سب سے چھوٹی ہونے کے ناطے لاڈلی بھی تھی۔ امی ، ابو اور دونوں بڑی بہنوں کے سر پر میں ہر فکر سے آزاد تھی۔

مجھے یاد ہے کہ میں گرمی کی چھٹیاں گزارنے ہاسٹل سے گھر آئی ہوئی تھی۔ اس روز ساون کی پہلی بارش برسی تھی۔ اس زمانے میں ساون کے رنگ ہی الگ ہوا کرتے تھے۔ چھما چھم برستی بارش کے دوران میں نے دوپہر بھر لیٹ کر مزے سے خواتین ڈائجسٹ کا پورا شمارہ پڑھا تھا اور پڑھنے کے بعد فیصلہ کیا تھا کہ جو کہانیاں پڑھ کر فارغ ہوئی ہوں۔ ایسی کہانیاں میں بھی لکھ سکتی ہوں۔

مطالعے کے شدید ترین شوق میں توہمیشہ سے ہی مبتلا تھی،میںکیاگھر بھراس شوق میں مبتلا تھا اردو زبان پرعبوربھی ٹھیک ہی حاصل تھا۔ سوسوچا اورکاغذ پینسل لے کرکہانی لکھنے کاآغازکردیا۔

دوہی دن میں کہانی مکمل کرکے گھرمیں کسی کوبتائے بغیرڈاک سے ادارے کوبھجوادی اور وہ کہانی اگلے ہی مہینے شعاع میں لگ بھی گئی۔ بس پھرقلم چل پڑا اورجوچل پڑا توکبھی مختصرکبھی طویل وقفوں کے ساتھ آج تک جاری ہے۔

باقی رہا یہ سوال کہ جب لکھنے کا آغازکیا تو اس وقت زندگی کے رنگ اور معمولات کیا تھے توبس وہی کہ بے فکری کے دن تھے۔ ہرقسم کی ذمہ داری سے آزاد دن تھے۔ ذمہ داری تھی توصرف اتنی کہ پڑھائی کی طرف توجہ دینی تھی اوراچھے نمبرلائے تھے۔ باقی کوئی پابندی نہیں تھی۔

وہ سادہ سے دن تھے جب دنیا آئی ٹی گیجٹس سے آزادتھی جب مطالعہ ہی بہترین مشغلہ ہواکرتا تھا۔ جب پی ٹی وی کے ڈرامے اورپروگرام دیکھنے کے لیے اینٹیناکی سمت صحیح کرنے کے لیے ہرشام چھت پرچڑھا جاتا تھا۔ جب ریڈیوپرآل انڈیا ریڈیو پرگیتوں کے فرمائشی پروگرام سنتے ہوئے میزبان کی شدھ اردوسے اپنی زبان کی اصلاح لی جاتی تھی۔ جب ہم لوگ مشاعرے سننے اوراپنے پسندیدہ شاعروں اورادیبوں کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے ادبی پروگراموں میں شرکت کیاکرتے تھے۔ اس وقت زندگی کے لیے بہت اونچے اونچے خواب تھے۔ دنیا سرکرلینے کا عزم تھا۔لیکن دنیا کہاں سرہوتی ہے۔ بس مقدوربھرکوشش اورنصیب پھرکامیابیاں۔ اللہ تعالیٰ کی بہت کرم نوازی ہے کہ زندگی اچھی بہت اچھی گزری اوراب بھی گزر رہی ہے۔ بہت احسان ہے اس کی ذات کا۔

(2)نئے رشتے تو جب ہی بنتے ہیں جب اپنی شادی ہوتی ہے اورجب آپ اپنے بچوں کی شادیاں کرتے ہیں توہردو مواقع پر الحمد اللہ بہت اچھے نئے رشتے بنے۔ اللہ تعالیٰ نے زندگی کا بہت اچھا ساتھی عطا فرمایا ، زندگی ان کے ساتھ مختلف راستوں اورنشیب وفرازسے گزرتی یہاں تک آ پہنچی ہے۔گزشتہ سال ہی ہم نے اپنی شادی کی سلورجوبلی منائی اوراپنی بیٹی کی شادی بھی کی، ایک اورزندگی نئے رشتوں سے جڑی ،الحمد اللہ یہ نئے رشتے بھی بہت اچھے ثابت ہوئے۔ اللہ سے دعا ہے سب ہمیشہ ایسا ہی رہے۔

(3) جب تک خود تعلیم حاصل کرتی رہی زندگی مزے میں گزر رہی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس زمانے کے حساب سے بہترین تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع دیے، بہترین استاد ملے جنہوں نے انگلی پکڑکرعلم کی دنیاکی ایسے سیرکرائی کہ سب ازبرہوگیا۔ اورپھرشادی ہوگئی جس نے بتایاکہ جو سیکھ کے آئی ہو وہ عملی زندگی کے لیے ناکافی ہے ابھی مزید سبق پڑھنے پڑیں گے اورپڑھے بھی لیکن ان نئے اسباق میں اپنی سادہ لوحی کے سبب ماسٹرز آج تک نہ کرپائی۔

گوجو وقت گزرا بہت اچھاگزرا لیکن اب خیال آتا ہے کہ ذرا سا جودیے کی لو اوربڑھا دیتے تومنظرمزید روشن ہوسکتے تھے پھرمیرے دونوں بچے ایک سال کے وقفے سے دنیا میں آگئے۔ تخلیق کے ان مرحلوں کا حسن اپنی جگہ بہت خوب تھا۔ لکھنے والے ہاتھ نیپیزبدلنے اورفیڈربنانے میں مشغول ہوگئے اورقلم کا سفرکچھ عرصے کے لیے رک گیا۔ جب بچے پل بڑھ کرذرا بڑے ہوئے اور اسکول جانا شروع ہوئے توقلم سے ناطہ پھرسے جڑگیا۔

بچے اسکول سے کالج،کالج سے یونیورسٹیز اور پھر روزی کمانے کے مراحل سے گزرتے رہے۔ قلم وقفے وقفے سے رکتا اورپھرسے چلتا رہا۔ یہ حقیقت ہے کہ تخلیق کا عمل یکسوئی چاہتا ہے لیکن جوئے شیر و تیشہ وسنگ گراں سے آشنائی کے بغیرکوہ کنی بھی نا ممکن ہے۔ سوانجمن میں تنہائی کا تصور کرتے ہوئے لکھا اوربہت لکھا۔

الحمد للہ ادارہ خواتین ڈائجسٹ نے ہمیشہ میرے لکھے ہوئے کی پذیرائی کی اورپہلی ترجیح کی بنیاد پرمیرے لکھے کواپنے ہاں جگہ بھی دی۔ آج جونام، جومقام میری تحریرنے مجھے دیا ہے اس میں سب سے بڑا ہاتھ ادارہ خواتین، محترم محمود ریاض صاحب اورامت ا لصبور کا ہے۔ جنہوں نے ہاتھ پکڑکرآگے بڑھنا سکھایا۔ جنہوں نے قدم قدم پرحوصلہ افزائی کی۔ اورایک خام ہاتھ کو عنیزہ سید دی رائٹربنا ڈالا۔

خواتین ڈائجسٹ کی گولڈن جوبلی، ادارے اوراس سے منسلک افرادکی اس کمٹمنٹ کی نشانی ہے جوانہیں اپنے کام سے ہمیشہ رہی ہے۔ میں وثوق سے یہ بات کہہ سکتی ہوں کہ اگراس ادارے کی حوصلہ افزائی میرے اورمیری ساتھی لکھاریوں کے شامل حال نہ رہتی توآج ہم میں سے کتنوں کے نام سے قارئین یکسرنا واقف ہوتے۔

اسی لیے میں ادارہ خواتین ڈائجسٹ کی تہہ دل سے ممنون ہوں جس نے بہت سے نابغئہ روزگار اہل قلم پاپولرفکشن کوعطاکیے ہیں اوراپنے اس کارنامے پر خود ادارے کا اپنا نام سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔

افشاں آفریدی

سب سے پہلے تو میں خواتین ڈائجسٹ کی ایڈیٹرز اور ادارے کے سربراہان کو کامیابی اور کامرانی کے یہ پچاس سال پورے کرنے پر تہہ دل سے مبارک باد پیش کرتی ہوں اور دعا گوہوں کہ وہ مستقبل میں اسی طرح معیاری تحریریں شائع کرتے رہیں اور کامیابیوں کے مزید زینے چڑھتے رہیں، آمین۔ خواتین ڈائجسٹ اپنے ہم عصر شماروں میں ایک نمایاں اور آئیکونک (iconic) حیثیت رکھتا ہے۔ اور سب سے بڑی خوبی کی بات یہ ہے کہ گزرے پچاس سالوں میں بھی اس نے اپنی حیثیت کو مستحکم اور برقرار رکھا ہے۔ اس کا سہرا خاص طور پر امتل کو جاتا ہے۔ جنہوں نے اپنے معیار پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔

میں نے اپنے قلمی سفر کی ابتدا اسی ادارے سے کی اور اس سفر کی آگے کی منازل طے کرنے میں چاند پبلیکیشنز کے تعاون کو میں کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ خواتین ، شعاع اور کرن کے لیے لکھنا میرے لیے ہمیشہ خوشی کا سبب بنا ہے۔ میرے تحریری اثاثے کی سو میں سے چھیانوے تحریریں خواتین کرن اور شعاع کی زینت بنیں جو میرے لیے باعث فخر ہے۔ میں نے یہاں سے ہی فکشن لکھنا سیکھا ا ور آج بحیثیت مصنف میں جو کچھ بھی ہوں ، اس میں اللہ رب العزت کا کرم ، میرے والدین کی تربیت اور ان کا عطاکردہ معاون ماحول ہی نہیں، بلکہ امتل اور چاند نگر پبلی کیشنز کا ناقابل فراموش کردار بھی شامل ہے۔

چلیے اب آتے ہیں جوابات کی طرف -:

(1) میری والدہ اور خالہ بہت شوق سے لٹریچر پڑھا کرتی تھیں۔ ماموں نے بھی ایک چھوٹی سی لائبریری بنا رکھی تھی۔ اور والد صاحب بھی اپنے کالج کے زمانے میں بزم طلبہ کے ادبی ونگ کا حصہ رہے تھے۔ الحمد للہ مجھے بچپن سے ہی ایسا ماحول اورکتب میسرآئیں جن کی وجہ سے مجھ میں لکھنے کا شعوربیدار ہوا۔فورتھ کلاس میں مجھے تصویریں بنانے کا بڑا شوق تھا، میری ڈرائینگ بھی اچھی تھی۔ لہذاگرمیوں کی چھٹیوں میں سوچاکہ تصویریں بنائی جائیں اب سوال یہ تھاکہ کیا بنایا جائے توذہن نے مشورہ دیاکہ کہانیاں لکھ کران کی تصویریں بنانا صحیح رہے گا۔ تویوں لکھنے کا یہ سفرشروع ہوا۔ ماما اورنانی اماں کے گھرکی کوئی کتاب میں نے نہ چھوڑی جسے پڑھ نہ ڈالا ہو۔ شاہ نامہ اسلام سے لے کر رضیہ بٹ کے رومانوی ناولوں اورنسیم مجازی کی تاریخی کتب سے لے کر مستنصرحسین تارڑ صاحب کا ہرسفرنامہ میں نے پڑھا اورخوب پڑھا۔

میں نے اپنی پہلی فکشن تحریرگریڈ 8th میں لکھی۔ جسے بڑے شوق سے اپنی کلاس فیلوزکودکھایا اورپڑھوایا۔ اوران ہی میں سے میری ایک پیاری دوست امبرین خلیل کے مشورہ پرمیں نے اپنی پہلی تحریرکوشائع کرانے کا ارادہ کیا۔ مجھے یقین نہیں تھاکہ میری تحریرواقعی شائع ہوگی مگرجب میں پہلی بار ابوکے ساتھ چاند پبلی کیشنزکے دفترآئی تو ریاض صاحب، بابرصاحب اورسیما رضا نے مجھے بہت سراہا، جومجھے دیکھ کرحیران رہ گئے تھے۔ اسکول کی تیرہ چودہ سالہ طالبہ کے لیے یہ بہت بڑی بات تھی کہ نہ صرف میری تحریرکوپڑھنے کا وعدہ کیا گیا بلکہ میری بہت حوصلہ افزائی کی گئی۔ اورچند ماہ کے انتظارکے بعد میرا ناول دواقساط میں شائع کیا گیا۔ اوریوں میرا قلمی سفرشروع ہوا۔کرن کے فوراًبعد امتل نے مجھ سے خواتین اور شعاع کے لیے بہت پیار سے لکھوایا۔ سراہا بھی اورکہیں کہیں حوصلہ افزائی کے ساتھ اصلاح بھی کرتی رہیں۔

طالب علمی کے وہ حسین سال لکھنے اور پڑھنے میں خوب گزرے۔ پی ای سی ایچ ایس کالج میں، میں نے بریل (نابینا افرادکا رسم الخط) سیکھی اور ایشین بلائنڈ یونین کے لیے رضاکارانہ کتابیں بریل میں transcribeکرنے کے دوران مزید لٹریچرزیرمطالعہ آیا۔ جس نے لکھنے کے شوق کومزید بڑھایا۔

اس دور میںتو بس یہی مصروفیات تھیں ، لکھنا پڑھنا ہی اوڑھنا بچھونا تھا۔ اپنے کالج کی لائبریری کے ساتھ ساتھ پاکستان ایئرفورس کالج (جہاں میرا بھائی پڑھتا تھا) کی لائبریری سے بھی بہت سی کتب پڑھنے کو ملیں۔ خاص طور پرپطرس اورمشتاق احمد یوسفی جیسے اوردوسرے عظےم طنزومزاح نگاروں کی تحریریں جوہمارے گھرمیں میسرنہیں تھیں، ان سے بھی تعلق بڑھا۔

پھر میں شادی کے بعد جرمنی آ گئی اور یہ تسلسل پہلے کی طرح قائم نہ رہ سکا۔ مگراب شادی کے اکیس سال گزرنے کے بعد جب میرے بچے ٹین ایج میں آ چکے ہیں اب دوبارہ اپنے شوق کے لیے وقت نکال رہی ہوں جوشادی کے شروع سالوں میں مجھے نہیں مل سکا۔ اگر وقت مل بھی جاتا تھا تو یکسوئی نہیں ہوتی تھی کیونکہ بچے چھوٹے تھے۔کچھ جرمنی کا ماحول اورموسم بھی اثر انداز رہا۔ ایک مصنف اردگردکے ماحول کے رشتوں سے ہی کہانی کا تانا بانا بنتا ہے۔ اوریہاں مجھے اپنی زمین اور لوگوں سے جڑی کہانیاںتوملیں مگر انہیں لکھنے کے لیے وہ ماحول نہیں ملا۔کچھ گھریلو اورکاروباری مصروفیات نے بھی مجھے اس طرف کم آنے دیا۔ مگرماشائ اللہ سے اب میرے شوہراوربچے میرے بہت معاون ہیں۔ میرے اس شوق کو پسندیدگی کی نظرسے دیکھنے کے ساتھ ساتھ مجھے بہت سپورٹ کرتے ہیں۔ میرے لکھنے کے تسلسل اوریکسوئی کوقائم رکھنے کی خاطرمیری ذمے داریاں بھی اٹھا لیتے ہیں۔ ساتھ ہی میری دونوں بہنیں، ایڈیٹرخواتین اور میرے وہ قارئین جومجھے پڑھتے ہیں میری حوصلہ افزائی کا سبب ہیں۔

(2) اس قلمی سفرکے دوران میٹرک کے بعد اکنامکس اوراسلامک اسٹڈیز میں بیچلرز کیا اور ابھی قرآن کا ایک جزہی حفظ کیا تھا کہ شادی ہوکرجرمنی آ گئی۔ شادی کے بعد اللہ نے تین بچوں، ایرج، نوفل اورانشراح سے نوازا، توان کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ امپورٹ ایکسپورٹ کے بزنس میں اپنے شوہر کا ہاتھ بٹاتے ہوئے لکھنے اورپڑھنے کا شوق کہیں پیچھے رہ گیا۔ بچوں کی تربیت کے دوران میرا رحجان مزید دینی تعلیم کے حصول کی طرف چلا گیا تو اللہ کی مدد سے قرآن کی تفسیر اورعربی گرامر کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران میں قرآن و حدیث کی تدریس سے جڑگئی۔

چند سالوں بعد اللہ کی توفیق سے ہمبرگ میں اپنا اسلامک اسکول بنایا اور اس میں مصروف ہوگئی۔ قرآنی تعلیم نے میری لکھنے کی صلاحیت کو ایک اور پہلو یعنی ذہن سازی اورتدریس کے لیے استعمال کرنے کی سوچ عطا کی۔ اور میں نے جرمنی میں مختلف محافل اوراپنے اسلامک اسکول میں درس و بیان بھی کرنا شروع کیے۔

تاہم اس سب کے دوران بھی فنکشن لکھنا جاری رہا اور اب الحمد للہ شوہر اوربچوں کی سپورٹ اورسب سے بڑھ کراللہ کی مدد سے یہ سلسلہ باقاعدہ دوبارہ شروع کیا ہے۔ اورپھرسے اسی ذوق و شوق سے لکھ رہی ہوں۔

انٹرنیٹ کے اس دورمیں خواتین شعاع وکرن میں شائع ہونے والی میری بہت سی تحریریں مختلف ویب سائٹس پربنا اجازت پوسٹ کردی گئیں توخیال آیا کہ اپناآفیشیل پیج بنایا جائے اوروہاں اپنی تصنیفات کوجمع کیا جائے۔ لہذا آج کل خواتین شعاع اورکرن میں شائع ہونے والی اپنی تحریروں کواپنے آفیشل پیج پرجمع کرنے کا کام بھی کر رہی ہوں۔ جب بچے چھوٹے تھے میں نے تب بھی لکھا مگر چند ایک ہی تحریریں لکھ سکی جوامتل کوبھیجیں اورانہوں نے خواتین میں شائع کیں ، خاص طور پر ناول ’’میرے مقابل میں ہوں‘‘ کو بہت پذیرائی ملی۔ کئی سال کے وقفے کے بعد جب دوبارہ اس نگری میں قدم رکھا ہے توالحمد للہ ادارے اور قارئین کرام کا رسپانس بہت اچھا مل رہا ہے جس سے دل اور بھی زیادہ لکھنے پر آمادہ ہے۔

آخرمیں دعا ہے کہ اللہ خواتین ڈائجسٹ کو دن دونی رات چوگنی ترقی دے، اس کے قارئین کوصحت و ایمان والی زندگی عطا فرمائے اور ہم سب لکھنے والوں کو اپنی اس قلمی صلاحیت کا بہترین استعمال کرنے کی حکمت عطا کرے جو محض ہماری دنیا ہی نہیں بلکہ آخرت کی بھی کامیابی کا سبب بن سکے۔ آمین

قانتہ رابعہ

سب سے پہلے تو میں آپ کو آپ کے تمام ادارتی بورڈ کو مبارک باد پیش کرتی ہوں صحافت اور ادب کی تاریخ میں کسی بھی رسالے کا پچاس سال تک سفر معمولی بات نہیں ہے یہ جو محاوروں اور ضرب الامثال میں پڑھا کرتے تھے، یہ نصف صدی کا قصہ ہے دوچار برس کی بات نہیں ۔ تو نصف صدی کسی بھی چیز کی طوالت کا ایک پیمانہ ہے یقینا اس ڈائجسٹ کے بانیوں کی نیت میں اخلاص شامل تھا جو یہ رسالہ نہ صرف قائم و دائم ہے بلکہ آن بان اور پوری شان و شوکت کے ساتھ سر اٹھائے اس دوڑ میں سب سے آگے ہے۔ اس کی پیروی کرتے ہوئے درجنوں ڈائجسٹ مارکیٹ میں آئے مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی . لہذا یہی کہہ سکتے ہیں کہ یہ اللہ کا فضل اور احسان ہے جس کے لیے چاہے مخصوص کرتا ہے۔

(1)میں نے کہانیاں پڑھنے کا آغاز الف ب پ سیکھنے کے ساتھ ہی کیا ۔لفظوں کو جوڑ کر پڑھنا ہجے کرنا درسی کتب یا قاعدے سے نہیں بچوں کے رسالوں سے سیکھا اسی طرح لکھنے کا عمل بھی ابتدائی عمر سے ہی ہوا۔ میرے چاروں طرف کتب تھیں مطالعہ کے شوقین والدین ۔تو ہمہ وقت یہی سوچتی کہ لکھاری کوئی ماورائی مخلوق ہوتے ہیں ان کو سوچنا میرا محبوب مشغلہ تھامیرے نانا اورمیرے ابا جی کا ماموں بھانجے کا رشتہ بھی تھا ۔میرے نانا کا انتقال 2دسمبر1974ئ میں نعت پڑھتے ہوئے ہوا ان کی یاد میں میرے ابو نے چھوٹی بحر میں نظم لکھی جو میرے نام سے بچوں کے رسالے نور میں شائع ہوئی اپنا نام شائع ہوا دیکھنا میرے لیے سات ملکوں کی بادشاہت سے بڑی خوشی کا باعث بنی ،قصہ مختصر تب لکھنے کے جذبے کوتحریک ملی اور کہانیاں مزاحیہ مضامین اور ساتویں وآٹھویں کلاس تک پہنچتے پہنچتے افسانوں کی دنیا میں بھی قدم رکھ دیا۔

تب توبس نام چھپنے کا شوق تھاکچی عمرتھی لیکن خاندانی اور دینی روایات کولاشعوری طور پرسامنے پایاکہ ایسی کوئی تحریرنہ لکھوں جو میری رسوائی یا پکڑکا باعث بنے۔

تب میری بہنیں ،میرے والدین اورمیرا لمبا چوڑا (ماشائ اللہ)خاندان میرے اردگرد تھا لکھنے میں اپنی فطرت کی طرح جوشیلی اور جذباتی قطعی لاعلم کہ ہربات لکھنے والی نہیں ہوتی ۔ ا ونگی بونگی تحریریں ایک بچی سے آپ بچگانہ تحریرکی توقع ہی رکھ سکتے ہیں۔ لیکن میری چچی سیدہ رشیدہ قطب جو لکھنوکی سید زادی، کوثرو تسنیم سے دھلی اردو ان کے ہونٹوں سے نکلتی اور دیر تلک سرور بخشتی۔ پھر یہ کہ وہ اردو ادب کا گہرا مطالعہ اور عمدہ ذوق رکھتی تھیں پطرس، شاہد دہلوی ، رشید صدیقی ،عصمت چغتائی کے نام اور کام کا ان کی صحبت میں مطالعہ کیا ہم دونوں چچی بھتیجی گھنٹوں ان رائٹرز کے متعلق بات کرتے ان کے علاوہ میرے ماموں عبدالوحید سلیمانی جوکرنل اشفاق کی جنٹلمین سیریزکے پبلشر تھے اور خود بھی نامی گرامی طبیب، خطیب اور ادیب تھے خطبہ دیتے تو فصاحت و بلاغت سے سب کو مسحور کرتے ہر نئی کتاب مجھے تحفہ میں دیتے۔ یہ دو ہستیاں میرے محسنین میں شامل ہیں، ان کے علاوہ حلقہ ادب اسلامی کی نامور شخصیات جنہوں نے میرے کچے پکے لفظوں سے دل برداشتہ کرنے یا ہونے کے بجائے مجھے انگلی پکڑکر ساتھ رکھا مجھے کمی کوتاہی سے آگاہ کرتی رہیں ،محترمہ نیئر بانو صاحبہ نے تو مجھے اپنی منہ بولی بیٹی بنایا تھا ،ان سے میں نے بہت کچھ سیکھا میری مرحومہ دوست راحت جو اچھی افسانہ نگار تھیں انہوں نے ادبی معاملات میں مجھے صراط مستقیم پر رہنے میں مدد دی۔

(2) نئے رشتے تیس بتیس سال پہلے تو شوہر اور ان کے متعلقین کے تھے ۔نئی زندگی نئے لوگ نئے رشتے۔ لکھنا کافی عرصہ تک موقوف رہا پھراللہ نے کرم کیا اور ایک دو افسانے بلکہ سچی کہانیاں قلمی نام سے لکھ کر دوبارہ اپنے ہی نام سے میدان میں آ گئی۔ موضوعات بھی ظاہر ہے بدلتے گئے۔ انداز کبھی کسی کا سدا ایک جیسا نہیںرہتا، انسان اپنے بچپن ،لڑکپن اور جوانی میں پھر اس کے بعد کے تمام مراحل میں ایک جیسی سوچ اور نظریات رکھ ہی نہیں سکتا، وقت کے ساتھ بہت کچھ بدل جاتا ہے لیکن آپ نے نظریاتی والدین کے ہاتھوں پرورش پائی ہو زندگی کا مقصد آپ کے کانوں میں دن میں دس مرتبہ گھول کر ڈالا جاتاہوتو انداز جتنا بھی بدلے مقاصد نہیں بدلتے۔ مقصد اب بھی وہی ہے جو روز اول سے رہا۔

شروع دن کا جوش اب قدرے ہوش میں تبدیل ہو گیا ہے ۔لکھنے کے لیے جوحدود میرے مربیوں نے شروع دن سے بتائی تھیں وہ اب بھی میرے لیے ویسے ہی اہم ہیں۔

(3)اب توتین بیٹیاں اپنے گھروں میں الحمد اللہ آباد ہیں یعنی میں تین دامادوں کی ساس ہوں سمدھیانے کے رشتے بھی بنے لیکن میرے مالک نے ہمیشہ عزت سے ہی نوازا ۔

لکھنے کا عمل گو کہ یکسوئی مانگتا ہے لیکن میری سیماب فطرت کی طرح لکھنا بھی ایسا ہی ہے قلم ہاتھ میں لو لکھ کر فارغ ہو جائو۔ مجھے یکسوئی ہو یا نہ ہو کوئی فرق نہیں پڑا چونکہ ساری زندگی ڈسپلنڈ اور ٹائم ٹیبل کے تحت گزاری تو وقت مل ہی جاتا ہے ،جب بچے چھوٹے تھے تب بھی جب چاہا لکھ لیا اور اب بچے بڑے ہیں تو بھی کاموں سے فارغ ہوتے ہی ۔ چونکہ مختصر افسانہ میری شناخت ہے تو ایک نشست میں دو تین افسانے بھی ا وپر والے نے لکھوایے۔ بسا اوقات اچھا قلم نظرآجائے خالی کاغذ نظرآنے پر دو تین افسانے لکھ لیے جاتے ہیں۔ افسانہ ایک ہی قسط میں لکھا ادھورا رہ گیا تو پھر کبھی مکمل نہ ہو گا کہ لکھتے وقت جو مخصوص کیفیت ہوتی ہے دوبارہ میسر ہونا مشکل ہے۔

کئی مرتبہ ایسا بھی ہوتا ہے ایک افسانہ لکھنے کے لیے قلم کاغذ سنبھال لیا تو دوسرے اور تیسرے کے بھی موضوعات کی آمد ہوگئی۔

اللہ رب العزت نے ہمیشہ بھرم رکھا میں نے سوچا تھا قرآن مجیدو احکام اور حدود کے متعلق عام قارئین کو کم علم ہے (علم تو بہت زیادہ میرے پاس بھی نہیں) تو میں نے آگہی کے لیے ان موضوعات پر لکھا جو بہت سے قارئین کے لیے بالکل نئی چیز تھی۔ الحمدللہ بعد ازاں قارئین نے رابطہ کیا اور شکریہ ادا کیا۔

طویل قلمی سفرمیں بہت سے تجربات ہیں سوچ مثبت ہو تو منفی رویوں پر بھی اچھا پہلو نکل آتا ہے اگر سوچ منفی ہو تو مثبت چیزوں سے بھی اذیت کے پہلو ڈھونڈ لیے جاتے ہیں۔ میں نے شعوری طور پر کوشش کی کہ انجام ڈپریشن کی طرف نہ لے جائے بلکہ ڈپریشن میں بھی یہی سمجھایاکہ ان بدصورت رویوں کو دومونہے لوگوں کو ہی دنیاکہتے ہیں ،دنیاکسی چیزکا نام تو ہے نہیں جو اس کی طرف دیکھنے سے بچیں وہ توایسے ہی سامنے آتی ہے کبھی کسی دھوکے سے کبھی کسی کی زیادتی سے .قارئین کرام کے لیے قرآن اور حدیث سے ہی ان کے مسائل کا حل پیش کیا۔ باقی یہ کہ میرے حصے میں لکھنے کی وجہ سے محبتوں کا وافرسٹاک مقدرمیں لکھ دیاگیا تھا مجھے شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہوجس میںکہیں نہ کہیں سے یہ سننے کونہ ملا ہوکہ ہم رسالے کی فہرست میں آپ کا نام سب سے پہلے ڈھونڈتے ہیں۔ آج میں آپ کے توسط سے ان سب کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔

اورمجھے یہ کہنے میں کوئی عارنہیں کہ جب تک میں ان ڈائجسٹوں میں شائع نہیں ہوتی تھی تومیرے قارئین کا حلقہ محدود تھا اب بسا اوقات کسی مجلس میں خواتین ملتی ہیں تو بے ساختہ کہتی ہیں۔ اچھا وہ شعاع والی۔ وہ خواتین ڈائجسٹ والی۔

کاش روز حشرکوئی کہہ دے۔ وہ اللہ والی۔

ربنا تقبل منا .

قانتہ رابعہ

خواتین ڈائجسٹ کے حوالے سے بہت خوشگواریادیں ہیں جولکھنے بیٹھوں توداستان بن جائے۔

ایک ادھ میں شامل کرنا چاہوں گی۔

امی کی وفات کے بعد امتل کا تعزیتی فون موصول ہوا میں نے امی کی عبادت ریاضت کے علاوہ حقوقِ العباد کے متعلق بتایا تو انہوں نے اصرار کیا کہ میں یہ یادیں ان کے ڈائجسٹ کے لیے ضرور قلمبند کروں ،میں نے بھی امی سے جدائی کا احوال لفظوں میں سموکر پیش کر دیا ،کچھ ہفتے گزرے تھے کہ دوران سفر مجھے نا معلوم نمبر سے فون آیا۔

آپ قانتہ رابعہ ہیں میرا جواب سن کرانہوں نے بتایا کہ میں ناہید ہوں اور کینیڈا کے دور درازکے علاقے وین کوور میں رہتی ہوں میں نے جب سے آپ کی امی کے بارے میں مضمون پڑھا ہے میں بس ان کے بارے میں سوچتی رہتی ہوں اور روزانہ دو نفل پڑھ کران کے لیے ایصال ثواب بھی کرتی ہوں میں نے میاں سے کہہ کرنیٹ پرایشیا کا نقشہ نکلوایا پھراس میں سے پاکستان کا اس کے بعد پنجاب اورآخرمیں جہانیاں کا وہ قبرستان جہاں آپ کی امی دفن ہیں میں نے دیکھا ،مجھے آپ سے بہت محبت ہے جب بھی پاکستان آنا ہوا توضرورملنے آئوں گی۔

سمیرا حمید

(1)لکھنے کا آغاز کیا تو زندگی کا رنگ کیا تھا۔ معمولات کیا تھے۔ اردگرد کون سے رشتے تھے۔

لکھنے کا آغاز کیا تو ایک دھند سی تھی۔ ایک غیر یقینی صورت حال ۔ ہمیں بچپن سے اتنا کچھ بننا ہوتا ہے کہ ہم خود کو ایک عمر کنفیوز رکھتے ہیں کہ یہ کریں ، یا وہ کریں ،کیا کیا کریں۔ ایسا اس لیے بھی ہوتا ہے کہ ہمارے رجحانات جاننے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ خود ہم میں بھی یہ صلاحیت موجود نہیں ہوتی۔ پھر یونیورسل سسٹم ہی بہترین پلاننگ کرتا ہے۔ ہمارے اندر جو صلاحتیں ہوتی ہیں، وہ اتفاقات کے ہاتھوں نہیں بلکہ پوری پلاننگ کے تحت باہر لائی جاتی ہیں۔ آغاز میں سب اتفاق لگتا ہے ، کچھ عرصے بعد کڑیاں ملتی ہیں تو سب نکھر کر سامنے آ جاتا ہے۔ میرا ماننا تھا کہ میں کہانیاں لکھ کر کیا تیر مارلوں گی۔ مجھے کہیں اور دوسرے والے تیر مارنے تھے تو میں خود سے بھی نہیں کہتی تھی کہ میں رائٹر ہوں۔ میں نے اسے مرکز نہیں بنایا تھا۔

یہ تھے تخلیق کی زندگی کے رنگ ۔ پہلے لکھنا اہم تھا، لیکن سب کچھ نہیں تھا۔ اب یہ سب کچھ ہے۔ جو مجھے لگا کرتا تھا کہ کیا تیر مارلوں گی تو اب اندازہ ہوگیا کہ انسان کو جو صلاحیتیں دی گئی ہوں ، وہی انسان کے اصل تیرکمان ہوتے ہیں۔ ہرمنزل تک یہی صلاحیتیں لے کر جاتی ہیں۔ نقشے میں تھوڑی تبدیلی آجاتی ہے۔ لیکن منزل ان ہی سب سے ملتی ہے۔

(2)تخلیق کا سفر کیسے جاری رہا۔ تخلیق کا عمل یکسوئی چاہتا ہے۔

تخلیق کا سفر میں نے خود وقفے دے دے کر جاری رکھا۔ دیکھیں کہ ڈوانچی کہتا ہے کہ کچھ دیر کے لیے اپنے کام سے دور ہو جائو، تاکہ بہترین کام کر سکو۔ اس دوران میں اسٹڈی کرتی رہی ، اب بھی کر رہی ہوں۔ میں نے دنیا کی ایک نامی گرامی اکیڈمی سے ڈگری لی۔ اسے لینے کے بعد مجھے ٹھیک ٹھیک اندازہ ہو گیا کہ میں کتنے پانی میں ہوں۔ یعنی بالکل زیرو۔ جب ہم دنیا میں نکلتے ہیں تو جانتے ہیں کہ ہم کیا نہیں جانتے۔ ہماری شخصیت یا علم کے کون سے پہلو کمزور ہیں، یا ان پر کام ہونا چاہیے۔ ہم کتنا پیچھے ہیں، یہ بات معلوم ہو جانا بھی نعمت ہے۔ مجھے معلوم ہوا کہ میں پیچھے نہیں ہوں ، میں تو سرے سے کسی بھی چیز کے لیے تیار نہیں ہوں ۔ ٹھیک اسی وقت میں نے لکھنا بند کر دیا۔ میں نے جان لیا کہ میرے پاس تھیوریز زیادہ ہیں، تجربات کم ۔ مجھے بیرونی دنیا میں نکل کر تجربات حاصل کرنا ہوں گے ، تاکہ کہانیاں نئے عہد میں داخل ہو سکیں۔ ان کے تھیم ، پلاٹ ، اور رنگ بدل سکیں۔ مجھے زیادہ سے زیادہ لوگوں سے ملنا ہے۔ نئی سرزمینوں کے سچ ، قصے معلوم کرنے ہیں۔ مجھے یہ جاننا ہے کہ لوگوں کے نظریات کیا ہیں۔ میرے پاس ایک ہی زندگی ہے ، میں اس ایک زندگی میں ، چلتے پھرتے، ایسے ویسے ، جیسے تیسے تخلیق نہیں کر دینا چاہتی۔

میں کسی بھی وجہ سے ڈسٹرب ہوں تو نہیں لکھتی، ایک یہ واحد وجہ ہے جو میرے راستے میں حائل رہی۔ ورنہ کوئی بیرونی عمل یا چیز میرے راستے میں حائل نہیں رہی۔ مجھے لکھنے کی مکمل آزادی ہے۔ لکھنے کے لیے مجھے مکمل تخلیہ چاہیے ہوتا ہے، ایک خاص ماحول ، فون بند ہو جاتا ہے۔ ہر طرف سے تقریباً رابطہ ختم ہو جاتا ہے۔ طواف عشق لکھنے تک میں غار میں بند ہو جاتی تھی۔ (ایسا میں کہتی ہوں کہ میرے غار میں بند ہونے کے دن آ گئے) خاص کر جب فائنل ڈرافٹ پر کام ہوتا ہے ۔ کہہ دیتی ہوں کہ کوئی مجھے ڈسٹرب نہ کرے کیونکہ میرا سیٹ کیا مخصوص دائرہ پھرٹوٹ جاتا ہے۔ اگر وہ ٹوٹ جائے تو بقول میرے ، میری کہانی کا ربط ٹوٹ جاتا ہے۔ بے شمارکہانیوں کے لیے میں نے رات کا انتخاب کیا، تاکہ سارا جہاں سوجائے۔ کہتے ہیں کچھ پانے کے لیے کچھ قربان کرنا ہوتا ہے۔ میں نے اپنے سوشل رابطے بہت زیادہ محدود رکھے ہیں۔ بہت زیادہ مطلب بہت زیادہ ، میں ہرگز شورہنگامے میں نہیں لکھ سکتی۔ رائٹر پر مختلف فیزآتے جاتے رہتے ہیں۔ یہ اہم نہیں ہوتا، اہم بس یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی چیز، اپنی تخلیق کو اہمیت کتنی دیتا ہے۔ اس کے لیے کیا قربان کرسکتا ہے۔ اپنی جان کتنی جوکھم میں ڈال سکتا ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ ایک ہی جان ہے، جتنی زیادہ جوکھم میں ڈالی جا سکے ، ڈال دینی چاہیے۔

ایمل رضا

(1)ماضی میں جا کر جھانکنا مجھے ہمیشہ سے ہی بہت خوف زدہ کر دیتا ہے۔ پھر ماضی کے اندھیروں میں شروعات کو ڈھونڈنا ، جہاں بہت سی ’’شروعاتیں‘‘ بکھری ہوئی ہیں ، نا تمام اور آپس میں الجھی ہوئی ، یہ تھوڑا مشکل امر ہے۔ یادکروں تو ایسے وقت میں زندگی کا رنگ کچھ ’’کاہی‘‘ سا تھا۔ اپنے اصل کا گہرا اور سیاہ سے ملتا جلتا کچھ غیر واضح سا رنگ ۔ تب رات خواب میں بہت سی ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈیاں نظر آتی تھیں۔ مبہم راستے اور بے نشان منزلیں۔

(2)’’خالدہ حسین‘‘ کہتی ہیں کہ یہ بات کس قدر مضحکہ خیز ہے کہ سفید کاغذ پر سیاہ رنگ سے دوسرے رنگوں کی خاصیت بتائی جائیں۔ لیکن چونکہ دنیا کے دستوروں کو بدلنے میںبہت وقت درکار ہوتا ہے تو بس اسی سوچ کے ساتھ بہت سے سفید صفحے سیاہ کر دیے۔ (تب مجھے پنسل سے لکھنے کی عادت تھی) اور بہت سی ’’شروعات‘‘ میں سے ایک کا سرا مضبوطی سے پکڑ لیا۔

پہلی کہانی شائع ہوئی تو شعاع ڈائجسٹ میں اپنا نام دیکھ کر میری آنکھ سے ایک آنسو نکل آیا۔ یہ میری زندگی کا واحد آنسو تھا جس کا ذائقہ میٹھا تھا۔ اس کے بعد میرا کمرہ تھا، سفید کاغذ اور سیاہ پنسل . گھر والوں کو کبھی علم نہ ہو سکا کہ کیا لکھا جا رہا ہے۔ ویسے ہمارے ہاں پرسنل اسپیس کا بہت خیال رکھا جاتا ہے۔کوئی کسی کے معاملے میں زیادہ غورنہیں کرتا۔ جب پہلے ڈرامے کے سلسلے میں کراچی جانا ہوا تب گھروالوں کے علم میں آیاکہ یہ کچھ ’’لکھنے لکھانے‘‘ کا سین ہے۔ ڈرامہ کسی نے نہیں دیکھا اورکہانی توآج تک کسی نے پڑھنے کی زحمت ہی نہیں کی۔ والد صاحب کوئی چھوٹا موٹا افسانہ پڑھ لیتے ہیں۔ بتانا مناسب نہیں سمجھتے کہ اچھالگا یا برا۔ ایک افسانہ’’باپ‘‘ کے نام سے شائع ہوا تھا تواسے پڑھ کربس اتنا کہا تھاکہ تم نے سچ لکھا ہے۔ (چونکہ افسانہ باپ کی اولاد سے محبت پرتھاتووالد صاحب کوصرف وہی سچ لگا۔ ہاہاہا) پچھلے دنوں بھتیجی نے کمال احسان کرتے ہوئے میرا ایک افسانہ میگھ گھام تین دن لگاکرپڑھا اورپھرکمال تر احسان کرتے ہوئے منہ بناکرکہاکہ ’’اچھا ہے۔‘‘

بات کبھی اس سے آگے نہیں بڑھ سکی۔

کتابیں گھرمیں بہت سی موجود تھیں، خواتین اورشعاع ڈائجسٹ کا تو بہت بڑا ذخیرہ ہمیشہ سے رہا ہے۔ پڑھنے کا شوق وہیں سے ہوا جو ابھی تک پورا نہیں ہوسکا۔ کسی کتاب کودودن سے زیادہ نہیں دیے، (مطلب ہرصورت دو دن میں ہی ختم کیا) لیکن بابا یحییٰ خان کی کتاب’’کاجل کوٹھا‘‘کومکمل کرنے میں دس دن لگ گئے۔ یہ کسی بھی کتاب کودیا جانے والا سب سے زیادہ وقت تھا۔ پڑھنے کی عادت ابھی بھی ہے، لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے پڑھنے کا وقت کم ملتا ہے۔ خودکو روزکے دس صفحات پڑھنے کا ٹاسک دیا ہوا ہے۔ جوفی الحال مکمل ہو رہا ہے۔

لکھنے کی تحریک ذاتی تھی۔ پڑھتے پڑھتے ہی بہت سی کہانیوں کے خاکے ذہن میں بننے لگے تھے۔ خواتین ڈائجسٹ میں ایک کہانی پڑھی تھی جس کا نام’’آنسو‘‘ تھا۔ (معذرت رائٹرکا نام یاد نہیں) شوہرساری زندگی باہرکے ملک کمائی کے لیے گزاردیتا ہے۔ ایک لمبے عرصے کے بعد جب بیوی کے پاس واپس آتا ہے توساری زندگی اکیلے گزاردینے والی بیوی کا رویہ کچھ ایسا ہوتا ہے کہ اب تمہاری واپسی میرے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ تب شوہرکی آنکھ سے ایک ’’آنسو‘‘ نکلتا ہے۔ یہ کہانی پڑھ کراندازہ ہوا تھا کہ کہانی واقعات کی نہیں جذبات کی بھی ہوسکتی ہے۔تب لگتا تھا کہ خواتین ڈائجسٹ میں لکھنے والی رائٹرزخدا سے کچھ خاص قسمت لکھوا کرلاتی ہیں۔ ڈائجسٹ کا سحر کچھ ایسا تھا کہ مجھے یہ کوہ قاف کی مانند لگا کرتا تھا کہ نہ تو اس تک جانے کا رستہ مل سکے گا نہ ہی کوئی ’’اڑنے والا قالین‘‘ اندازہ نہیں تھا کہ وہ ’’خاص قسمت‘‘ میری قسمت میں بھی ہے۔

پچھلی اوراب کی زندگی کے موازنے میں نمایاں تبدیلی ذات کی تبدیلی ہے۔ اپنے کرداروں کو پروان چڑھاتے،انہیں خود اعتمادی دیتے،ان کی خامیاں دور کرتے کہیں نہ کہیں آپ اپنے ساتھ بھی ایسا ہی کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ اعزاز. یہ نایاب اور بے مول ہے۔

(3) قلمی سفر بہت طویل نہیں ہے ، لیکن چونکہ خدا کی ذات پر یقین انتہائی پختہ ہے تو ہر مشکل کو ہمیشہ ہنس کر ٹال دیا۔ شادی ابھی نہیں ہوئی تو اس لیے زندگی میں کسی طرح کی ذمہ داری کا اضافہ نہیں ہوا۔ البتہ وقتاً فوقتاً بہت سی ذمہ داریاں خود ہی اپنے کندھوں پر ڈالے رکھیں۔ کچھ کورسز کیے، تھیٹرکا بہت شوق تھا تو ایک سال تھیٹر سے وابستگی رہی۔ اس کی ساری باریکیاں سیکھیں۔ ایک کہانی کار کی نظرچونکہ ایک ڈائریکٹرکی نظر بھی ہوتی ہے تواسی لیے سیکھنے کا عمل بہت تیزی سے طے ہوا۔

میری عادت کہہ لیں یا شخصیت ، شور اور تنہائی سے میرے سوچنے کے عمل میں فرق نہیں پڑتا۔ یکسوئی مل جائے تو بہتر ، ورنہ شور میں بھی لکھنے کا عمل جاری رہتا ہے۔ اور اگرکام سر پر آن پڑا ہے تو پھر میرا قلم پلیٹ فارم کے شور میں بھی چلتا رہتا ہے۔ کراچی سے واپسی پر پروڈکشن نے کہا کہ انہیں قسط ہر صورت رات تک ان کی ٹیبل پرچاہیے۔کراچی ایئرپورٹ پر بیٹھ کر ساری قسط لکھی اور تب اندازہ ہوا کہ میں توکافی ٹیلنٹڈ ہوں۔ ہاہاہا۔ اس ٹیلنٹ کو باہر لانے کا سہرا خواتین ڈائجسٹ کے سرجاتا ہے۔ (شکریہ ایمل)

نعیمہ ناز سلطان

(1)زندگی کا رنگ انوکھا تو نہیں ہاں اب سے مختلف ضرور تھا ۔جنوری 2004ئ کے شعاع میں جب میرا پہلا ناولٹ شائع ہوا۔ یہ میرے چھپنے کا آغاز تھا۔ لکھنے کی ابتدا میں ، بہت سست رو سفر تھا۔

پہلے سال فقط دو کہانیاں ،ابتدائی چار پانچ برسوں میں یہ سفر یونہی تھا ، چلنا کم ، ٹھہرنا زیادہ ، اس کی وجہ میری غیر مستقل مزاجی کا ہلی اور سستی تھی جس پر میں نے قابو پانے کی کوشش کی ہے۔ ان دنوں میرے آس پاس بہت رشتے ، بہت افراد اور ڈھیروں مصروفیات تھیں۔ (سستی ، کاہلی ، غیر مستقل مزاجی ، فقط لکھنے کے معاملے میں تھی)

میں بیدار ہونے کے بعد ، ابا ، اماں کو ناشتہ دیتی اور ساڑھے نو بجے اسکول پڑھانے چلی جاتی، گلی کے عین سامنے اسکول تھا اور ہاں اسکول سے قبل ہماری محلے دار فاطمہ بھابھی کاقرآن سنتی تھی وہ اپنے مخارج اور ادائیگیاں درست کرنا چاہتی تھیں۔

میری اماں سے بہت گہرا اورخاص تعلق تھا۔ پہلے اماں ہی ان کی استانی تھیں۔اماں کوفالج ہوگیا تھا تویہ ذمے داری میں نے لے لی ،اسکول سے ایک بجے چھٹی ہوتی، وہاں سے سیدھی برابرگلی میں ایک ہوم ٹیوشن تھی ان لڑکیوں کو اسکول نہیں بھیجا گیا تھا ۔ ویسے گھر پر حصول تعلیم کی ساری سہولتیں فراہم کی گئی تھیں۔ اماں نے قرآن پڑھایا تھا ،دو سال میں نے ٹیوشن پڑھائی، تین میں سے دو لڑکیوں نے پرائیویٹ میٹرک پاس کر لیا۔

وہاں سے ڈھائی بجے تک گھر، چھوٹی بہن کی مہربانی سے کھانا تیار ملتا تھا۔ ساڑھے چار بجے تک ہمارا فیملی ٹائم ہوتا تھا ۔ ابا ، اماں ، ہم چاروں بہن بھائی ، بڑی بہن کی شادی ہوگئی تھی۔ بڑے بھائی ملک سے باہر تھے۔

قریباً پانچ بجے گھرکے قریب اکیڈمی میں چلی جاتی وہاں سے آٹھ بجے واپسی، رات کی ہنڈیا عموماً میں پکاتی تھی۔کبھی شام سے پکا جاتی تھی کبھی آ کربنا لیتی تھی۔ باقی سارے کام راحت کرلیتی تھی۔

علاج کے بعد اماں چلنے پھرنے لگی تھیں۔گوکمزوری ہوگئی تھی پھربھی چھوٹے موٹے کئی کام وہ ہی کرلیتی تھیں ۔رات میں ابا بی بی سی سنتے ہوئے کھانا کھاتے تھے۔ میں ٹرے میں انہیں کھانا دے دیتی خبروں میں محویت اور انہماک کا عالم یہ تھا کہ ریڈیو بند ہونے کے بعد ادھرادھرنظریں دوڑاتے اور مجھے دیکھ کر بڑی سادگی سے سوال ہوتا۔

’’اری نعیمہ! تو کب آئی سینٹر سے؟‘‘

’’اباجی ،ڈیڑھ گھنٹہ ہوگیا کھانا میں نے ہی تو دیا تھا۔‘‘

’’اچھا! میں سمجھا چھوٹی تھی۔‘‘ یہ مکالمے آئے دن ہوتے تھے اور جو اماں کے ساتھ مکالمے ہوتے ، ان پر کتاب لکھی جا سکتی ہے۔

رات پھر اپنی تھی، لکھو، پڑھو، جاگو، باتیں کرو، ابا اماں سے یا بڑی بہن آئی ہوتیں تو وہ اور ان کے بچے یعنی چار بچیاں ، جو اب اتنی بڑی ہوگئی ہیں کہ ایک تو شادی کے بعد خود اماں بن گئی ہے ایک بیٹے کی۔

ان ہی مصروفیات میں اپنی پسند کی فلمیں بھی کیبل پر دیکھ لیتے تھے۔ ایک دور میں آن فلم کیبل پر بہت آتی تھی۔ میں اورگڑیا ہربار دیکھتے تھے ، ہمیں دلیپ کمار، نمی اور نادرہ کے ڈائیلاگز یاد ہوگئے تھے۔

میرا حلقہ احباب و شاگرداں بہت وسیع تھا۔ پھر ہر تیسرے چوتھے اتوارکو چچا کے گھر ، جو شاہ فیصل میں فلک ناز میں شفٹ ہوگئے تھے۔ چچا اورہم سب کا بچپن ، لڑکپن ، جوانی ، ایک ہی گھر میں گزرا ہم سب کزنز کا تعلق بہت مضبوط اور بہت قریبی تھا۔ اب شادی اور بچے، سسرال، ان سب کے باوجود ہم سب جب بھی ملتے ہیں۔ وہی پہلے والی مانوس سی فضا آس پاس قائم ہو جاتی ہے۔

کھوکھراپار سے فلک نازمیں شفٹ ہوجانے کے باوجود چچا کا دل یہیں اٹکا رہتا تھا ۔ ہردوسرے روز وہ آجاتے تھے۔ وہ ہم سب سے اتنی محبت کرنے والے شخص تھے کہ ہم بہن بھائی بھی انہیں یادکرتے ہیں توہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ چچا جیساکوئی نہیں ۔ پھپھوتھیں توبہت شفیق اورمحترم ، ہمارا ننھیال توبنگلہ دیش میں ہے یہاں پھپھو اورچچا کے گھرانے سے ہم جڑے رہے ، آنا جانا ، رہنا ، ملنا جلنا اب بھی ہم سب بہن بھائی خاندان اور رشتے داروں کی شادیوں میں ضرور جاتے ہیں کہ تقاریب میں سب سے ملاقات ہو جاتی ہے۔

ان ہی بھاگتے دوڑتے دنوں میں مہمانوں کی آمد بھی ہوتی تھی۔ اکثر مجھے مسترد کر دیا جاتا تھا۔کبھی ہم اس کا بدلہ دوسروں کو ریجیکٹ کرکے لے لیتے، جو رشتے ہمیں سمجھ میں نہ آتے۔

میرے معمولات مشاغل اور مصروفیات میں مجھے اپنے آپ کے لیے زیادہ وقت نہیں ملتا تھا۔ میں شاذو نادر ہی خریداری وغیرہ کے لیے جاتی تھی۔ میری بڑی بہن میرے لیے کپڑے لے آتی تھیں۔ چھوٹی بہن سی کر دے دیتی تھی۔ باقی چیزوں کے معاملے میں بھی کام چل ہی جاتا تھا۔

میرے خواب زیادہ تر میرے گھر والوں کے متعلق تھے کہ ابا ایک بار انڈیا ہو آئیں۔ اماں ایک بار اور بنگلہ دیش چلی جائیں ، میرے چھوٹے دونوں بھائی سیٹل ہوجائیں ،بڑے بھائی صاحب اولاد ہو جائیں۔ شادی کے پندرہ برس بعد ان کے دو بیٹے ہوئے ہمارا گھر بن جائے۔

لکھنے کے حوالے سے میرا خواب تھا کہ کوئی بڑی عظیم تحریر لکھوں جو راتوں رات چھاجائے اور راتوں رات ہی میں مشہور ہوجائوں ان دنوں میرے لکھنے کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ میں مشکل مشکل کردار ، انوکھی کہانیاں اور نرالے موضوعات سوچتی رہتی اور.بس سوچتی ہی رہ جاتی ، ویسے یہ خواب کم تھا اور حماقت زیادہ ،مجھے بہت ہی شاندار قسم کی کہانیاں لکھنے کی خواہش بھی بہت تھی پھر بعد میں یہ احساس ہوا کہ مجھے وہ زندگی لکھنی چاہیے جومیں نے جی ہے یا اپنے اردگردکے لوگوں کو جیتے ہوئے دیکھی ہے اور وہ کردارجو میرے آس پاس ہیں لہذا اب میں عام سے لوگوں کی عام سی کہانیاں لکھتی ہوں۔ ویسے اب بھی کبھی کبھی ایک بلاک بسٹراورکھڑکی توڑ ناول کی آرزو دماغ کے کسی کونے میں رینگتی ہے اور میرے گھورنے پر یونہی رینگتے رینگتے خاموشی سے نکل بھی جاتی ہے۔

ہاں ایک اور خواب یہ بھی تھا کہ یہ کم بخت ماری شادی ، جہاں ہونی ہے ہو ہی جائے تاکہ لوگوں کی قینچی زبانوں کوکچھ آرام کا موقع ملے اور میرے اماں ابا جو اپنی پریشانی کا اظہار نہیں کرتے مگرفکرمند ہیں ان کی فکر بھی دور ہو جائے۔

توپھر یہ ہوا کہ دس جولائی 2009ئ میرے ساس سسر جو اس وقت فقط خصوصی مہمان تھے مجھے دیکھنے آئے تصویر وہ دیکھ چکے تھے بالمشافہ ملاقات کرنے آئے تھے۔ اگست میں رشتہ طے ہوگیا اور 26 ستمبر کو شادی ، جی ہاں ، وہی کم بخت ماری شادی ہو بھی گئی۔ دو بہنوں کے اکلوتے بھائی ، اوپر سے اچھے بھلے ہینڈسم ، مگر شکر ہے انہیں یہ علم تھا کہ انہیں بھی اسی خدا نے بنایا ہے جس نے مجھے بنایا ہے۔ مگر بہت سے لوگوں کو یہ بات معلوم نہیں تھی لہٰذا موازنہ انیس و دبیر جھیلنا پڑا پھر وہی امتحانات ، روٹی و کوفتہ گول نہیں ، نرم نہیں ، چکن کڑھائی تو آتی ہے بنانی مگرکپڑوں پہ کیوں نہیں آتی ؟ یعنی کڑھائی ، سلائی مجھے گزارے لائق آتی تھی۔ مگر شوق نہیں تھا سینے کا بقول میری اماں کے ۔ پتا نہیں مارا جاتا تم سے پھر مجھے پتا مارنا ، دل مارنا ، خودکومارنا ، سب کچھ آ گیا۔ شادی سے پہلے میرے آس پاس جو ہجوم تھا مصروفیات ، مشاغل، شوق، سب چھٹتے چلے گئے، چھوٹتے چلے گئے، مگر بس میں نے قلم ہاتھ میں ہی رکھا طاق پہ نہ سجایا۔

چند برس بہت مشکل تھے اندرکے غبار اورگھٹن کونکالنے کے لیے ،قلم اور لفظوں سے بڑا سہارا اللہ کے بعد اورکوئی نہیں شوہرکا تعاون ا ورساتھ ہمیشہ رہا پہلے چپکے چپکے اب علی الاعلان ۔

گھر میں میرے سسر ہیں ، ساس فوت ہوگئی ہیں ،نندیں شادی شدہ ہیں ،تین بیٹیاں ہیں میری زینب ، صبا ، مریم جو ابھی کچھ دیر پہلے، یہ جوابات لکھنے کے دوران مجھ سے پوچھ رہی تھیں کہ سوالات صرف رائٹرسے پوچھے جاتے ہیں یا ان کے بچوں کا انٹرویو بھی ہوتا ہے ؟ یہ کبھی کبھار اس انداز میں بھی سوال کرتی ہیں ۔

’’اماں وہ جو آپ کے زمانے میں عید کارڈز ہوتے تھے وہ ہم دیکھ لیں؟‘‘ میری کزنز ، سہیلیوں اور اسٹوڈنٹس کے دیے ہوئے تمام کارڈز میں نے تھپی لگا کر حفاظت سے رکھے ہیں ،میرے بچوں جیسی موبائیلی نسل انہیں دیکھ کر حیران ہوتی ہے، اچھا یہ بھی ہوتے تھے؟

اورکیمرے سے تصاویرکھینچ کر پورا رول ختم ہونے کے بعد دھلوانے کا انتظار البم آنے کا انتظار۔

افوہ ، تصویرکھینچنے کے بعد اسے دیکھنے کے لیے اتنا انتظارکرنا پڑتا تھا ؟ سیلفی نسل کی حیرانی کم نہیں ہوتی۔

زندگی کا مزاج اوراندازکبھی مہربان کبھی نا مہربان ۔2008ئ اکتوبرمیں چچا کا انتقال ہوا۔ 2009ئ دسمبرمیں پھپھوکا اورتیرہ ماہ بعد جنوری 2011ئ میں ابا۔ تینوں بہن بھائی آگے پیچھے چلے گئے۔ جون 2015ئ میں اماں کا بلاوا آ گیا۔

مہینے ڈیڑھ مہینے میں کھوکھرا پارکا چکر لگتا ہے ، تینوں بھائیوں سے ملاقات ہو جاتی ہے اور بھابھیوں سے بچوں سے ۔بڑی بہن کا گھر ، میرے گھر سے دو اسٹاپ کی دوری پر ہے۔ دو ہفتے بعد وہاں کا چکر لگتا ہے۔ مجھ سے پہلے میرے بچے جانے کو تیار رہتے ہیں۔ بہن کے پڑوس میں نند کا گھر ہے۔ ایک تیر دوشکار ہو جاتے ہیں۔

صبح صبح ہمارے گھر میں بھی وہی ہنگامہ ہوتا ہے۔ میاں صاحب بے چارے تو خیر مدد ہی کروا دیتے ہیں مگر تینوں بیٹیوں کی تیاری ، سب پہ بھاری، ناشتہ کرلو ، ادھر ادھرکیوں ٹہل رہی ہو ؟پانی کی بوتل رکھی؟ اور لنچ؟ ربن کہاں گئے ؟ موزے دوسرے نکال کے پہنو، یہ کتاب ، وہ کاپی ، پنسل غائب ہے ، پین خراب ہو گیا ، سب کچھ اسی وقت یاد آتا ہے؟ آیت الکرسی پڑھی؟ گھر سے نکلنے کی دعا پڑھو ۔

بچوں کے جانے کے بعد پاپا (سسرصاحب) کو ناشتہ اور دوائیاں دے کر میں ناشتہ کرتی ہوں۔ پھیلا وا سمیٹتی ہوں اور پھر لکھنے بیٹھ جاتی ہوں۔ پھر دوپہر بارہ ایک بجے تک کبھی اونگھتی ہوں، کبھی لکھتی ہوں، کبھی قلم ہاتھ سے چھوٹ جاتا ہے ، آنکھیں بند ہو جاتی ہیں۔ پھر یکدم جھٹکا سا لگتا ہے آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ قلم ہاتھ میں لے کر پھر شروع ہو جاتی ہوں تبھی کچھ کہانیاں سوئی سوئی لگتی ہیں ۔پاپا اگر جاگ رہے ہوں تو دوچار باتیں ان سے ہو جاتی ہیں۔ اگر سوجائیں تو میں اور قلم صفحات ،کوئی نئی یا پرانی کتاب بھی اسی عرصے میں پڑھتی ہوں۔

ایک بجے پرائمری کی چھٹی ہوتی ہے۔ صبا، مریم گھر آجاتی ہیں۔ ڈیڑھ بجے زینب آتی ہے وہ چھٹی جماعت میں ہے ۔ بچوں کے آنے کے بعد پھر ایک نیا سیاپا شروع ، میں آلو چاول کھائوں گی۔ مجھے پتلی کھچڑی بنا دیں ، مجھے نوڈلز چاہئیں ۔ تیسری اعلان فرماتیں کبھی ڈانٹ ڈپٹ کر کے کبھی بہلا پھسلا کر تینوں کو ایک پیج پہ لے ہی آتی ہوں ، یعنی ایک ڈش پہ راضی کر ہی لیتی ہوں۔

تین بجے سے چھ ساڑھے چھ بجے تک بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی ہوں تقریباً سولہ سترہ بچے آتے ہیں۔ میرے بچے بھی ان ہی کے ساتھ پڑھ لیتے ہیں۔ مجھے لکھنے سے بھی زیادہ پڑھانے کا شوق ہے اس لیے نہیں کہ مجھ میں بادشاہ یا ملکہ بننے کی خو ہے بلکہ استاد کا رتبہ اور عہدہ بے حد فیسی نیٹ کرتا ہے۔ شادی سے قبل کئی سال اس شعبے سے وابستہ رہی اور بہت دل سے یہ کام کیا۔

شام سے رات گیارہ بجے تک کا وقت مصروف گزرتا ہے روٹی ہنڈیا کرنا، کھانا کھلانا ، بچوں کا دودھ ، بڑوں کی چائے، وقفے وقفے سے پاپا کی دوائیاں، اسی دوران بچوں کوکوئی قصے کہانی، پاپا سے سیاسی تبصرے اورپھر سونے کے لیے لیٹتی ہوں تو رات اپنی ہے، تھوڑا لکھتی بھی ہوں ، پڑھتی بھی ہوں ، اپنا موبائل خراب ہے میاں صاحب سے موبائل اچکتی ہوں اور پھر جب آنکھیں بھاری ہونے لگتی ہیں تو سوجاتی ہوں ۔سلطان صاحب میرے صفحات قلم ، کتابیں ، موبائل ، سمیٹ کر جگہ پر رکھ دیتے ہیں۔ اللہ انہیں خوش رکھے ۔ زندگی بہت بھلی گزر رہی ہے۔

سدرۃ المنتہیٰ

(1)لکھنے کا آغاز کیا تو آپ کی زندگی کا کیا رنگ تھا، کیا معمولات تھے ، اردگرد کون سے رشتے تھے، آنکھوں میں کون سے خواب تھے ، اب زندگی کا انداز کیا ہے ؟

جواب -:لکھنے کا آغاز کیا تو زندگی کا رنگ ہی عجیب تھا، بچپنے کے چھوٹے چھوٹے خواب ، چھوٹی چھوٹی خوشیاں اور سوچیں بڑی تھیں، میرا مانناہے کہ انسان جتنا ام امیچور ہوتاہے ، اتنا ہی نا ممکنات اور غیر معمولی اس کے رجحان ہوتے ہیں ، جو اس کے اندر خواہش کو بہت اونچا اڑاتے ہیں، انسان جو دور سے دیکھتا ہے ، وہ اچھا لگتا ہے، اور سب کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے ، لیکن خوش وہ معمولی سی باتوں پر بھی ہو جاتا ہے ، اور جب بڑا ہوتا ہے تو اس کی سوچ حقیقی ہو جاتی ہے ، اور وہ کسی بڑی بات پر جا کر خوش ہو جاتا ہے ، سب سے پہلے جب تیرہ چودہ کی عمر میں بچوں کے رسائل میں لکھنا شروع کیا تو، ڈائجسٹ اپنی پہنچ سے آگے کی چیز لگتے تھے ، تب پرچے کا ہاتھ میں آنا ، اور دو دن میں پڑھ کر ختم کر لینا ہی عجیب توانائی دیتا تھا، پھر 2003ئ میں جب ڈائجسٹ میں پہلی کہانی چھپی تو عجیب سی خوشی تھی، جیسے پہلی بار بچہ چلنا شروع کرتا ہے تو ماں خوش ہوتی ہے، پپہلا دانت ٹوٹنے کے بعد نیا آتا ہے تو بچہ خود خوش ہوتا ہے ، یہ پہلی بار ابے کی جیب میں ہاتھ ڈال کر نوٹ نکالنے کے بعد جو فتح بچہ محسوس کرتا ہے کہ وہ اب کچھ بھی کر سکتا ہے،ٹین ایج میں کہانی چھپنے پر ایسا دل تھا ، کدکڑے لگاتا۔

رشتے اپنی جگہ اب بھی وہیں قائم و دائم ہیں ، اب قدر زیادہ بڑھ گئی ہے جب اس دنیا میں ایک عظیم شخص کی کمی ہو گئی ہے ، آپ کی نظر سے وہ صورت ، ہاتھ سے وہ ہاتھ کا لمس، اور سماعتوں سے وہ معتبر آواز نہیں ملتی جو باپ کی آواز کہلائی جاتی ہے، جو آسمان بن کر زمین پر سہارا دیے کھڑا ہوتا ہے ۔ آپ کوگرمی گرمی نہیں لگتی ، سختی سختی نہیں لگتی،بے سروسامانی کا احساس بھی پاس نہیں پھٹکتا، اور یہ جدائی جیسے آپ کو ہاتھ میں گیند دے کرکہتی ہے کہ اب یہیں تک ہے ساتھ، اب خود جا کر گیم کھیلو، خود کھیل کے آداب سمجھو، خود تماشائیوں کو نظر سے گزارو اور جیت کر دکھائو۔ ہارگئے تو اگلے کھیل کی تیاری پکڑو، یہ بھی زندگی کے اصول اور حقائق ہیں ، موت فقط موت نہیں ، ایک پریکٹس ہے ، دکھ کی ، تحمل کی ، چھوٹے مسائل کو بڑے مسائل سے سمجھنے کی ، اور آگے بڑھ جانے کی، لوگ آپ کی زندگی میں جگہیں بدلتے ہیں جب سندھی ادب میں لکھنا شروع کیا تو سندھیا شاہ (سندھی کی مشہور افسانہ نگار) تھی جس کا ہر نیا افسانے چھپنے سے پہلے میری سماعتوں تک پہنچتا تھا۔

علامتی، تجریدی،تمثیلی کہانیاں لکھنے کا ہنر اس کے بائیں ہاتھ میں تھا ، اور دائیں سے وقت کا سکہ گرتا چلا گیا ، فانی سے غیرفانی دنیا کا سفر اس نے سینتیس کی عمر میں کر لیا اور یہ بھی میرے لیے ایک جھٹکا تھا اس کے بعد لکھنے کے پر اور اونچے اڑے اس کے حصے کے حوصلے کا سکہ میرے بائیں ہاتھ کے لا شعوری ہاتھ میں رہنے لگا ۔موت فقط ایک سبق ہے لیکن محبت کبھی کسی کو نہیں توڑتی ،ابو کے بعد سندھیا کی محبت نے کبھی مایوس نہیں کیا، دعا ہمیشہ محبت کی صورت رہتی ہے ، کسی نے کہا تھا کہ محبت بھی ایک دعا ہے ، زندگی جب دوستی کی صورت آپ کو بڑے ظرف والے انسان سے ملا دے تو وقت سے پھر کیا شکوہ ۔ کچھ نئے رشتے نئے لوگ جو آپ کی زندگی میںشامل ہوئے تو اب ، زندگی کس انداز سے گزر رہی ہے ؟

اسی وقت کی بات ہو رہی ہے جس نے پے درپے بہترین دوستوں سے نوازا ہے ہر ایک وقت میں مختلف انسان آپ کی اور آپ کے ان احساسوں کی بھرپائی کے لیے جیتے ہیں، انسان اس دنیا میں بس نرمی سے حاصل کرتا ہے ، سکون جتنا دے سکتا ہے، اس سے زیادہ مل جاتا ہے ، زندگی اچھی گزر رہی ہے۔

بس کہانیاں مٹھیوں میں کھنکتی ہیں، جنہیں اس خوف سے نہیں کھولا کہ کہیں پھسل نہ جائیں ،دل چاہتا ہے سب الجھا دے ایک طرف رکھ کر بندہ بیٹھ کر بس کہانی لکھے اور لکھتا ہی چلا جائے۔

(2)طویل قلمی سفر میں بہت کچھ ایسا ہے جو لکھنا تھا ، نہیں لکھا، لکھنا چاہتی ہوں ، کچھ سال یکسوئی کس بلا کا نام ہے احساس نہیں تھا، شور شرابے میں لکھا، اب یکسوئی کا حصول حد درجہ ضروری لگتا ہے۔ تب ہی لکھنے کا کام باربار تعطل کا شکار ہو جاتا ہے اب جی چاہتا ہے ایک جھونپڑی ہو۔ اس میں ایک بتی ہو ایک پنکھا ہو ، اور دور تک کوئی نہ ہو۔ دن کے چار گھنٹے آپ لکھتے رہیں اورکوئی کام نہ کریں عمرکے ساتھ ذمہ داریاں بڑھتی ہیں، شادی نہیں ہوئی مگر ایک کنوارا انسان بھی سو طرح کی ذمہ داریوں سے گزرتا ہے ، مجھ پر گو کہ گھر کی ذمہ داریاں اتنی نہیں ہیں ، لیکن گھر میں بڑھتی فیملی ، بہن بھائیوں کے بچے بھی آپ کی آدھی اولاد ہوتے ہیں بچوں کی ہنسی میں زندگی جاندار محسوس ہوتی ہے۔ مسکراہٹ تھکن اتار دیتی ہے کبھی کبھار انسان ظاہری سفر سے کہیں زیادہ باطنی سفرکرتا ہے اورذہنی سفرزیادہ تھکاتا بھی ہے، سکھاتا بھی ہے، اگر زندگی میں ظاہری باطنی دونوں مشاہدے ہوں تو پھر پتھر بھی پارس بن سکتا ہے رہی بات تعلیم کی تو۔

تعلیم کا بھی عجیب مسئلہ ہے جب درجے میں بیٹھنے کی عمر تھی، تب غیر نصابی کتابیں پڑھیں اور جب نصاب سے آگے جانے کا معاملہ ہے تب دوستوں کی خواہش اور اسرار پر تین پرچے دے دیے۔ باقی تعلیم تو آپ کی سوچ کی پیداوار اور سمجھ بوجھ ہے ایک لمحے میں آپ کسی سے کچھ لیتے ہیں تو اگلے لمحے دے رہے ہوتے ہیں آپ کے استاد، آپ کے بڑے ، آپ کے ادارے ، آپ کا وقت ، آپ کی زندگی کے حالات ہوتے ہیں، علم نافع وہی ٹھہرتا ہے جس لمحے آپ کو استراحت ، فراخی ، راحت، اور امید کا کوئی روشن چراغ ٹمٹماتا ہے ، وہی وہ لمحہ ہوتا ہے جوآپ کواگلے لمحے کی زندگی کے لیے تیارکرتا ہے ، بشرطیکہ آپ ذمہ داریوں کی زیادتی کے بوجھ تلے دبے ہوئے بھی نہ ہوں اور سستیوں اور بے کاریوں کاکھاتہ اتنا لمبا بھی نہ ہوکہ آپ صدیوں جینے کے باوجو بھی کسی کام کے کرنے کی سوچ میں ہی رہیں اور وقت گزر جائے، مجھے یہاں اعتدال کا پرانا سبق بڑا یاد آ رہا ہے جوکبھی بڑے کثرت سے دیا کرتے تھے۔

سائرہ رضا

(1) میں نے لکھنے کا آغاز دو مرحلوں میں کیا۔ایک شادی سے ،پہلے کالج لائف سے دوسرا شادی کے سات آٹھ سال بعد ۔

تو جواب بھی دو حصوں پر مشتمل ہوگا۔

فرسٹ ایئر سرسید گورنمنٹ گرلز کالج .مقابلہ افسانہ نگاری میں پہلا انعام ملا اور وہی افسانہ پھر کرن میں شائع ہوا تو بسمہ اللہ ہو گئی جیسے۔

اردگرد امی ، پاپا ، ایک بہن دو بھائی تھے اور بہت سی سہیلیاں، گلی کے علاقے کی ، اسکول کی اور کالج کی ، پھر کالج کی سہیلیاں اور ماحول سب پر حاوی ہو گیا۔

عظمت اللہ بلاک سے شہاب الدین کینٹین سے گول چھتری اور گھر یہی کل دنیا تھی اور اپنا آپ فاتح اعظم لگتا تھا۔ پیاری دوستیں جویریہ ’شیریں‘ سعدیہ صدف گل ، صدف جبین تصور اور سمیرا عاقل (جسے میں سمیرا عاقل و بالغ کہتی تھی۔ حسن الماب کی اریبہ عاقل کا نام اسی کو یاد رکھنے کے لیے لکھا)

قابل احترام اساتزہ . مسز عذرا جمیل ، مسز رابعہ خاتون ، مسز ثمینہ انجم ، مسز ریحانہ تبسم فاضل (جن کا خوف آج بھی دل میں ہے احترام کے ساتھ) مسز صفیہ ، مس نفیسہ قدوائی ۔معمولات وہی تھے جو اس عمر کی لڑکیوں کے ہوتے ہیں۔مجھے پودوں کا اور کڑھائی سلائی کا شوق تھا اور ڈائجسٹ پڑھنے کا چسکا پی ٹی وی کے ساتھ نیا نیا این ٹی ایم شروع ہوا تھا میں نے اور تیمور نے جتنی فلمیں اس زمانے میں دیکھیں پھر نہ دیکھیں۔ تیمور کیسٹس لاتا، ہم دونوں مل کر گانے سنتے۔ خاص طور پر اے آر رحمن کا روجا ۔

ہمارے سرکل میں ہم دو بہن بھائی تھے جنہیں اے آر رحمن اتنا پسند تھا۔ بعد میں وہ دنیا کی پسند ہو گیا ۔کیسٹ کلیکشن پاپا سے مخفی رکھنے کے لیے ہمیں خصوصی انتظامات کرنے پڑتے تھے ۔ جب کیبل آیا تب تیمور نے خفیہ طریقے سے تار دیوار میں سوراخ کر کے نکالی۔

سارا دن کیبل چلتا پاپا کے آنے کے ٹائم پر نکال دیتے۔

ایک دن پاپا سرپر پہنچ گئے۔ ہم نے کہا۔ ساتھ والی آنٹی کی ڈش کیچ ہو رہی ہے ہاں تو جو اس نے ساری سلور کی پتیلوں کے ڈھکن اینٹنے پہلے لگا رکھے تھے۔ کبھی تو کامیاب ہونا تھا۔ پاپا نے تیمور کو گھورا۔

(2) آنکھوں میں کیا خواب تھے ؟

رائٹر بننے کا سوچ لیا تھا۔ یقین تھا بن سکتی ہوں۔ ورنہ کتنا اچھا ہو مجھے اخبار جہاں کے دفتر میں نوکری مل جائے بڑے ہو کر کیا مست زندگی ہوگی۔ چاروں طرف کتابوں رسائل میں گھری میں واہ . یا پھرکبھی خیال آتا لیکچرار بھی بنا جا سکتا ہے۔

امی کے ورکنگ وومن ہونے کے باعث میں لاشعوری طور پرگھرسے نکل کرجاب سے خائف تھی۔ مگر ہاتھ پرہاتھ دھرکے بیٹھنا بھی نہیں سوچا تھا۔ اللہ کی کرنی دیکھیں اس نے مجھے گھرسے نکالے بغیرباعزت روزگارعطاکیا۔

(3)اب زندگی کا کیا اندازہے؟

زندگی کے اس نئے اندازمیں میری پہچان ایک رائٹرکی ہے۔ رائٹرپلس ہائوس وائف نئے رشتوں میں شوہراورتین بیٹیاں اور بھابیاں بہنوئی پیارے پیارے بچے اور سسرال ۔

اوراب زندگی کیسی ہے۔ وہ پہلے والی بے پروائی توخواب ہوگئی۔ زندگی ہر قدم اک نئی جنگ ہے۔ بس دعا ہے پیرنہ اکھڑیں۔

(4) لکھنے کا دوسرا مرحلہ شادی کے بعد شروع ہوا۔ تین بچیوں کا ساتھ تھا۔ شوہرکام پرچلے جاتے اورمیں قلم تھام لیتی۔ اچھا .لکھنا میں نے کبھی بھی چھوڑا نہیں تھا۔ ہاں شائع ہونے کے بعد ایک روٹین بن گئی۔ (میرے فارغ وقت کا مشغلہ میرے لیے باعزت شہرت اوردولت کا باعث بنا۔ دولت کوچارحرفی بھی پڑھا اورسمجھا جائے) کہیں آپ زیرو بڑھا بڑھاکردیکھیں۔ ہاہاہا ۔ طویل قلمی سفرکے دوران کن مراحل سے گزریں۔

بس جاں سے گزرتے گزرتے گزری پارے کی طرح ٹوٹے بکھرے اور پھرخود ہی جڑکر (یہ میرے ناول کا جملہ ہے۔ یہاں موزوں ہوا تولکھ دیا)

وہ زندگی اوریہ زندگی نہ وہ ہم گزارتے تھے نہ ہی ہم گزار رہے ہیں۔ زندگی ہمیں گزار رہی ہے۔ اپنی مرضی کی پٹخنیاں دے دے کر یہاں تک کہ ختم کردے گی۔ ایک دلچسپ اورناقابل فہم چیز آج سے بیس سال پہلے ہم جن لوگوں کے بغیر جینے کا تصور نہیں کرسکتے تھے۔ ان میں سے بہت سے آج ہمارے ساتھ نہیں ہیں اور ہم جی بھرکے جی رہے ہیں۔ جبکہ آج جن لوگوں کے ساتھ ہم رہتے ہیں۔ جن کے بغیرہمیں سانس نہیں آتی۔ آج سے بیس سال پہلے ان کا نام و نشان نہیں تھا۔کبھی سوچا آپ نے اس پر.

اس تخلیقی سفرکے دوران بحیثیت عورت تخلیق کا سفربھی جاری رہا۔ اور اس سفر نے بے حال کردیا مانوختم کردیا۔ سڑک پرجاتے جاتے کبھی آپ کوایک خوش شکل، خوش لباس خوش اطوارعورت کسی فٹ پاتھ یاکیاری کی منڈیر پرخاموش اوراداس بیٹھی نظرآئے تو وہ میں ہوں گی۔ جب مجھ پرڈپریشن کا دورہ پڑتا ۔

یہ رفوگری لکھنے کا زمانہ تھا۔ جب میرے ہاں مردہ جڑواں بچیوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ (رفوگری کا وہ سین جس میں تاباں کہتی ہے۔ شکیل دنیاکا آخری مرد بھی ہوتووہ اس سے شادی نہیں کرے گی۔ یہ باب لکھتے وقت مجھے درد اٹھتا ہے اورچاردن بعد جب دوبارہ قلم اٹھایا توبچیاں قبرمیں ،عام طور پرقبریں مستطیل ہوتی ہیں۔ یہ ایک چوکورقبرتھی۔ جس میں ان دونوں کو پہلو بہ پہلو قبلہ رخ لٹا دیاگیا تھا۔

کیوں کیاکیسے بے معنی باتیں ہیں۔ مگرمیں آج تک اس صدمے سے نہیں ابھر سکی۔ اس دھچکے نے مجھے ذہنی اورجسمانی لحاظ سے ختم کردیا۔ نجانے کتنا عرصہ تک تومیں پھوٹ پھوٹ کرروتی تھی۔ اونچی آواز سے گھٹ گھٹ کر بے بی بلینٹک دیکھ کرسانس رکتی تھی۔کسی نوزائیدہ کے ہاتھ دیکھ کر ساکت رہ جاتی کوئی نصیحت اثرنہیں کرتی تھی۔

بازار میں نیوبورن کی شاپ پرکھڑی ہوجاتی۔ اب بھی کبھی کبھار۔

مزاج میں افسردگی اورخاموشی درآتی۔ غصہ اورچڑچڑاہٹ کچھ لوگ مغرورہوگئی۔ سمجھنے لگے۔ امی اورشوہر نے ڈانٹ کرپیار سے سمجھایا۔ (تین بیٹیاں ہیں ناں الحمد للہ ان کے لیے جینا ہے۔ ہاں ان کے لیے. بالکل۔)

مگریہ ہوا مزاج کی شگفتگی اوربزلہ سنجی پر فرق پڑا لیکن چونکہ خود پر قابوپانا آتا ہے سوکوئی اندازہ نہیں کرسکتا۔ دل بجھا ہوا ہے۔

کمال خوبی اللہ نے یہ دی ہے۔ اندرکا تلاطم چہرے پرنہیں آتا کسی بھی معاملے میں ،تخلیق کے کامیاب سفرکی اس ناکامی نے مجھے ختم کردیا۔

زندگی کے جتنے اتارچڑھائو۔کامیابی اورناکامی ان دس سالوں میں دیکھیں پہلے نہیں، آپ سب کو اداس کرنے پر معذرت، مگر یہ میری زندگی کا ناقابل فراموش واقعہ ہے، مجھے زندگی میں ہرچیزکی قیمت ادا کرنی پڑی، جیسے تین زندہ بیٹیوں کی قیمت تین مردہ بیٹیاں (امتل یہ لائن مت کاٹیے گا)

میں سوچتی ہوں انہوں نے جب جانا ہی تھا تو آئیں کیوں.؟

تخلیقی سفرکے دوران ذمہ داریاں ،ذمہ داریوں کے بیچ تخلیقی سفر بس ایسے ہی گزارا اس سفر کو۔

حقیقت پسند تو میں پیدائشی تھی مگراس میں اب یہ جوسفاکیت آ گئی ہے۔ چچ۔

یہ سب پڑھ کرمجھے کمزور مت سمجھے گا۔ میں اکثرکہتی ہوں ترازوکے پلڑے میں ہمارا پہاڑ رکھ دیا جائے اوردوسری طرف میرا دل تو وہ زیادہ مضبوط نکلے گا۔

باقی زندگی خوب صورت ہے۔ زندگی میری بیٹیوں کا چہرہ ہے۔

٭٭٭

فریدہ اشفاق

کیا رنگ تھا .؟ہائے

زندگی اپنی جو اس رنگ میں گزری غالب

ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے

ڈیئرامتل !اب تم نے یاد دلایا توہمیں یاد آیا ۔ کبھی ہم بھی اس قلم قبیلے کا حصہ تھے۔ اسی کارواں میں شامل تھے اوراب عالم کچھ یوں ہے۔ ہر مہینے رسالے موصول ہونے پردل تڑپ تڑپ جاتا ہے۔ پھرسے ایک بار وہی ہوجائیں۔ ہزار مصروفیتوں کے باوجود تسکین قلب ذہنی سکون میسر آ جائے مگر.

آرزو صبر طالب اور تمنا بیتاب

دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک

ویسے بھی

ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب

ہم نے دشت امکاں کو اک نقش پا پایا

بہرحال

گزر رہی ہے اسی بھروسے ابھی تو عمر رواں ہماری

کبھی تو بدلیں گے دن ہمارے کبھی تو راس آئے گا زمانہ

ہر چند کے عمر بھر کا یہ سفر رائیگاں تو ہے !

امتل اشعار کی بھرمار سے گھبرا تو نہیں گئیں۔ پر کیا کروں ؟ قلم اٹھایا تو بے ساختہ بلکہ قلم برداشتہ یہ جملہ معترضہ گویا نوک قلم سے صفحہ قرطاس پر ٹپک گئے تم نے پوچھا ہے ۔ لکھنے کا آغاز کب کیا تو زندگی کا کیا رنگ تھا ؟ کوئی اک رنگ ؟ زندگی بڑی رنگا رنگ تھی مائی ڈیئر ! زمانہ طالب علمی ایسا ہی خوب صورت ہوتا ہے۔ سوشل گیدرنگز میں شرکت ، ریڈیو پاکستان میں آمد و رفت ،معلومات عامہ کے مقابلوں میں شمولیت نیلام گھر کے بے شمار پروگراموں میں گروپ کی صورت لطف اندوزی ، مشاعروں ،موسیقی کی محفلوں کی بزم آرائیاں آرٹس کونسل کی پرلطف محفلیں ۔اب تو سب نقش و نگار طاق نسیاں ہوگئیں

یہ سب کچھ خواب و خیال ہوا۔

کیا تجھ سے کہیں ہم کیا کیا اے گردش دوراں بھول گئے اب ۔

اور یہ تو میں پہلے بھی بیشترمرتبہ بتا چکی ہوں، میں نے لکھنے کا آغاز اپنے استاد محترم ڈاکٹر ابوالخیر کشفی کے کہنے پربلکہ اکسانے، مسلسل زور دینے پرکیا تھا۔ جس کا تذکرہ انہوں نے میرے دوسرے ناول شکستہ شب کا دیباچہ لکھتے وقت جس اندازمیں کیا ہے وہ میرے لیے کسی اعزاز،کسی سند سے کم نہیں ہے۔ بس یہی کچھ معمولات تھے، والدین بھائی بہنوں کی حوصلہ افزائیاں اساتذہ اور احباب کی تعریفیں اور رشک بھرے تبصرے، بہت سی ادبی شخصیات کا لکھنے رہنے پراصرار مختلف جرائد کے مدید ان گرامی کے فرمائشی تقاضے، اور پھر وہ بے فکری کے زمانے پتا نہیں کدھرگئے۔

زمانے کی سختیوں نے گرفت کرنی شروع کی اماں بی کا انتقال ہوا۔ ابا میاں رخصت ہوئے ہماری اکلوتی پھوپی جنہیں ہم ممی جان کہاکرتے تھے، ہمارے ساتھ ہی رہائش پذیر تھیں۔ وہ ذہنی عارضہ میں مبتلا ہوئیں۔ اکلوتے بھائی امریکہ سدھارے پھر ممی جان بھی رخصت ہوگئیں۔ سب سے بڑی بہن جومکمل معذوری کا شکار تھیں۔ ان کی تمام ترذمہ داری ہم بہنوں پرآ گئی۔

سب مل جل کر زندگی کی گاڑی کو رواں دواں رکھے ہوئے تھے۔ پھر وہ بھی چل بسیں اس دوران کیا گزری ،یہ علیحدہ داستان ناقابل بیان ہے۔ جب افراد خانہ کم ہوئے تو ذمہ داریاں بڑھتی چلی گئیں۔ اس دوران بھی قلم سے ناتا بہرحال نہیں ٹوٹا تھا مگر جب سب سے چھوٹی بہن افشاں جاوید یارخان اپنے گھرمیں خوش و خرم زندگی بسرکرتی ہنستی بستی بالکل اچانک موت کی آغوش میں جا سوئی تواس قیامت نے گویا ذہنی طور پربری طرح توڑ پھوڑکر رکھ دیا اورقلم ہاتھ سے چھوٹ گیا۔

اب تمہارے یاد دلانے پرپلٹ کردیکھا تو۔

حیراں ہوں دل کو روئوں کے پیٹوں جگر کو میں۔

یہ ہم کہاں سے چلے تھے۔ اور کہاں آ گئے۔ اور اب زندگی کا یہ انداز ہے۔

وقت نے ذہن میں دھندلا دیے خدوخال

ورنہ تو میں ٹوٹتے تاروں کا دھواں تک دیکھوں

دعا کرو۔ میں پھر وہیں سے سفردوبارہ آغاز کر سکوں۔ جہاں چھوٹا تھاکہ بے شمار ادھوری تحریریں توجہ کے لیے اب بھی پکارتی رہتی ہیں۔

تم یقین کرو گی امتل !دوسرے ناول کی اشاعت کے دوران بہت مرتبہ میں قسط کا بہت سا حصہ اپنے ٹیوشن سینٹر کی طرف سفر کے دوران گاڑی میں لکھا کرتی تھی۔

ایک مرتبہ ریڈیو پاکستان پر ضمیر علی بزم طلبا کے انچارج کے کمرے میں زونیرہ اور میں بیٹھے ہوئے تھے۔ قمر جمیل صاحب بھی شریک گفتگو ہوگئے ان دنوں آرٹس کونسل میں سندھ ثقافتی میلہ ہو رہا تھا۔ ضمیر بھائی کے استفسار پر زونیرہ نے بتایا۔ ’’وہاں مچھلی کا ایک پیس 250روپے کا تھا۔ ‘‘

’’اچھا۔‘‘ ضمیر بھائی ہنسے۔ ’’اور روٹی۔‘‘

’’ہاں وہ چاول کی روٹی کے ساتھ کھائی جاتی ہے۔ روٹی خاصی سستی تھی۔ پچاس روپے کی ایک ۔‘‘

ضمیر بھائی میری طرف بڑھے۔

’’ہاں بھائی !اب آپ ایک افسانہ لکھ ڈالیے۔ ’’سستی روٹی ‘‘ کیا خیال ہے۔‘‘ کمرے میں موجود تمام لوگ بے ساختہ ہنس پڑے۔

یہ نہیں پتا تھا کہ آئندہ ایسا برا وقت بھی پاکستان پر آنے والا ہے۔

اسی طرح ایک بار امرائو طارق صاحب سے ملنے انجمن ترقی اردو کے دفتر جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں ایک صاحب اور بھی تشریف فرما تھے۔ ڈائجسٹ میں لکھی جانے والی تحریروں کے حوالے سے گفتگو ہونے لگی ،امرائو طارق صاحب چھپنے والی زبان اور بیان سے سخت نالاں تھے۔ اسی دوران ان محترم نے بتانا شروع کیا۔

’’نئی لکھنے والی خواتین میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو بہترین زبان اور بیان کے ساتھ بڑی رواں اور شستہ تحریریں میں لکھ رہے ہیں جذبوں کے اظہار کے لیے بڑا بے ساختہ اشعار اور محاوروں کا استعمال، میں تو کہتا ہوں ایسے لوگوں کو تلاش کر کے پروموٹ کیا جانا چاہیے۔ میرا خیال ہے ہم الجھن کے پرچے کے لیے بھی ان سے کچھ نہ کچھ لکھوائیں۔

اس زمانے میں انجمن ترقی اردو سے جو پرچہ نکل رہا تھا۔ وہ شاید اسی سے وابستہ تھا۔

میں اپنے تحریری سفرکے اشاعتی مرحلے کا آغازکرچکی تھی۔ چھپنے کی ابتدا تواردوڈائجسٹ سے ہوئی تھی۔ اک اورمقامی پرچے میں میرے دو تین افسانے مزید چھپ چکے تھے۔ تمہیں جب یہ پتا چلا تم کس قدرناراض ہوئی تھیں کہ۔

’’تم نے اپنی تحریریں کسی دوسرے پرچے کے لیے کیوں بھیجیں۔ بس میں کچھ نہیں جانتی۔ اگلی تحریرتمہاری میرے پاس آنی چاہیے۔ بلکہ آج ہی دفتر پہنچائو۔‘‘

یہ مان ؟ یہ محبت جوآج تک قائم ہے۔ اس نے مجھے مضبوطی سے قدم جماکر اس میدان میں نہ صرف کھڑا کردیا تھا۔ یہ تعلق یہ ربط جو اس وقت اس انداز میں قائم ہوا۔ اس نے مجھ سے دوصخیم ناول لکھوائے۔ درجنوں ناولٹ اور افسانے لکھوائے۔ میری شناخت بنی نام اور مقام ملا ۔ وہ نام وہ مقام جس نے مجھے آج تک لوگوں کے ذہنوں سے محو نہیں ہونے دیا۔ اب بھی جب کوئی اجنبی صورت تعارف حاصل ہونے پر پوچھ بیٹھے۔ آپ نے لکھنا کیوں چھوڑ دیا ؟ میں ٹھٹک جاتی ہوں۔

ہم نے آپ کے افسانے انٹرنیٹ پر پڑھے ہیں۔ یا آپ کا ناول پڑھا ہے۔آپ تو بہت اچھا لکھتی رہی ہیں۔ پھر چھوڑکیوں دیا ؟

’’چھوڑ انہیں چھوٹ گیا !‘‘ چونکہ رونے گانے کی عادت نہیں ہے۔ سو

ہم ہنس دیے۔ ہم چپ رہے

اے خانہ برانداز چمن کچھ تو ادھر بھی

امتل !تمہیں یاد ہے۔ چھوٹی بہن زونیرہ کی مصوری کی نمائش کے سلسلے میں ہم دونوں بہنیں ریاض صاحب سے ملنے تمہارے دفترآئے تھے اور وہاں اچانک غیر متوقع طور پر تمہیں پا کر بے انتہا خوش گوار حیرت کا شکار ہوگئے تھے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں سے سرشاری اور خوشی مل جاتی تھی۔

خاندان والے دوست احباب بڑی حد تک واقف حال ہوتے ہوئے بھی ہر ملاقات پر پہلا سوال یہی کرتے ہیں۔

اوراب جب سے ہماری آپا بے ضعف دماغ کے ساتھ نسیان (ڈی مین شیا) کا شکار ہوئی ہیں توسمجھودنیا ہی بھول بیٹھے میں صبح سے شام تک ان کے ساتھ تقریباً اکیلی ہوتی ہوںعلاوہ چھٹی والے دن کے۔ ماموں زاد بہن شائستہ کے بقول آپ توفنافل آپا بی ہوکر رہ گئی ہیں۔ پرکیاکریں۔

ہوگئے لاچار جی سے ہم

اس طویل سفر کے دوران تمام مراحل سے گزرنے کے باوجود بڑی خوش گوار یادیں ہیں۔ جنہوں نے ہمارے اس سفر کو یاد گار بنایا۔ پھرکبھی شیئر کروں گی اور بھی بہت کچھ میرے نام اور تحریروں کے حوالے سے جوان کی نظر سے گزر چکی تھیں۔ اگر سب میں یہاں دہرائوں تو خود ستائی پر معمول کیا جائے گا۔ ان کی یہ لمبی چوڑی تقریرمیں اور امرائو طارق صاحب خاموشی سے سنتے رہے۔ میرے چہرے پرتو پھر بھی مسکراہٹ تھی مگر امرائو طارق صاحب نہایت سنجیدگی سے ان کی شکل دیکھتے رہے۔ جونہی وہ خاموش ہوئے طارق صاحب نے اس سنجیدگی سے تعارف کرایا۔

ان سے ملیے یہ فریدہ اشفاق ہیں۔ اور وہ مضامین اور ناول جو آپ کی نظر سے گزر رہے ہیں۔ ان ہی کے تحریر کیے ہوئے ہیں۔

اس وقت ان صاحب کے چہرے کے وہ تاثرات اور ان کی حالت زار آج بھی ذہن کے افق پرابھرکر بے ساختہ مسکرانے پر مجبورکر دیتی ہے۔ تم نے بالکل درست کہا تخلیق کا عمل یکسوئی چاہتا ہے۔

مت پوچھ کہ ہم ضبط کی کس راہ سے گزرے !

اللہ تعالی آگے زندگی میں ہمارے لیے آسانیاں پیدا کردے۔ اور اپنی رضا پر راضی رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

کچھ تو ہی کر میرے الفاظ کا مفہوم سمجھ لے

ہنستا ہوا چہرہ تو زمانے کے لیے ہے

خداحافظ. تمت بالخیر

کنیز نبوی

جب لکھنے کا آغاز کیا تو تصوف کا طالب پرندہ سوچ کے آسمانوں پر اڑتا تھا۔ بے فکر ی کے عالم میں سارے زمانے سے بے نیازی افق کی انتہائوں کو چھوتی . اور سپنوں کے آسمان سے لفظوں کے موتی چنتے کب کاپی کالی ہوکر کہانی بنتی۔ پتا ہی نہیں چلتا ، زندگی کے رنگ بڑے بارنگ تھے۔ محبت کے رنگوں کی رونقیں روح پرور تھیں، گیارہ سالہ بچی کو قرآن پڑھانے کی ذمے داری، بھیا جی، استادکی محبت کا رنگ ۔ جن کی حب حبیب صلی اللہ علیہ وسلم مثالی تھی۔ عشق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کے دم سے کبھی ماند نہیں پڑی۔

اس اسپیشل پرسن کی بھوک ہڑتال کی وجہ سے بچی کواٹھاکراپنے بھائی کی بیٹی بنا دیا۔ پھران کی محبت کے رنگ زندگی پرمحیط ہوگئے۔ سائیکل سے لے کر سیٹ پرکھلونا لانے والے، ہرخواہش پوری کرنے والے چچا سے اشاروں میں بات کرتے کرتے میں اشاروں کی ماہر بن گئی۔ دوسال پہلے ان کی وفات نے زندگی کی بے ثباتی پرمہر ثبت کرکے کئی رازوں سے پردہ اٹھا دیا جن کی محبت نے باپ کی کمی کو پورا کردیا تھا ۔ ان دونوں بابا اور بابا ابو اور بی بی کی قبروں پر کروڑوںرحمت ہوں۔ آمین ۔‘‘

اور اللہ میری دونوں مائوں کو سلامت رکھے۔ آمین۔

پھر دوستی کے میٹھے رنگوں میں سب سے گہرا رنگ امتل کی دوستی کا تھا۔ میں نے ان کے کہنے پر رومانس بھی لکھا۔ ہماری لمبی گفتگو ہوتی۔

معیشت ، معاشرت ، فرض پر موضوع کا احاطہ کرتے محبت پر اختتام پذیر ہوتی۔

آنکھوں میں کچھ کرنے کے خواب نے قلم سے رشتہ جوڑا۔ افسوس اس بات کا رہا جو لکھنا چاہتی تھی وہ لکھ نہ پائی۔

ان کی دوستی پر ناز ہے۔ ان کی معتدل مزاجی اور محبت بے مثال ہے اکثر وبیشتر قلم سے ناتا توڑنے پر دھمکی آمیز انداز اختیارکرتی ہیں یہ بھی ان کی محبت کا اک رنگ ہے لکھنا کیوں چھوڑ دیا۔ تمہیں لکھنے کی صلاحیت اللہ نے دی ہے۔ تم سے اپنی صلاحیتوں کی پوچھ ہوگی۔ اک لمحے کو لرزہ طاری ہوتا ہے۔ فوراً اللہ کی وسیع رحمت میں چھپتی ہوں۔ باری تعالیٰ میں نے اپنے قلم پرآپ کے کلام کو ترجیح دی۔ بس میری ساری صلاحیتوں کا رخ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام اور اپنے کلام قرآن کی طرف موڑ دے۔

ہر نمازکے بعد مانگی گئی دعا شاید اس طرح مقبول ہوگئی۔ یا اللہ کام کرنے لکھنے پڑھنے کی توفیق دے جس سے تو اور تیرا حبیب صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہوجائے۔

اوراللہ نے اپنے کلام کے کام پرلگا دیا ہے۔ یہ کام کیا تو بچپن سے مگراس کو اک ادارے کی شکل اب دی ہے۔ اور وہ بھی تجوید کے ساتھ الحمد للہ اس کام کو بڑھانا۔ ہرجگہ پھیلانا میری زندگی کا مقصد اولین ہے۔

امتل کہتی ہیں تم نے خالص سونا چن لیا ہے۔ آپ مشکلات میں گھرے ہوئے ہوں۔ توبعض دفعہ آپ اپنے خوب صورت کلام اوردلربا دلاسے سے مددکردیتے ہیں۔زندگی میں تبدیلی آئی ہے۔ سلمیٰ آپا کہتی ہیں۔ تم مصنفہ مبلغہ بن گئی ہو۔

مگر میں مطمئن ہوں۔ حالانکہ اللہ کی راہ میں مشکلات آ رہی ہیں اورآتی رہیں گی۔ مگر بندہ جب سر تسلیم خم کرنے کے مقام پر پہنچتا ہے تووہ تابعداری تبدیل کرکے ذات کی نئی تعمیرضرورکرتی ہے۔ زندگی کا یہ انداز بہت خوب صورت اوراطمینان بخش ہے۔

شادی اک مکمل ذمہ داری کا نام ہے۔ شوہربچے گھر سب کو دیکھنا پڑتا ہے۔ ہر رشتہ خوب صورت بن جاتا ہے۔ شوہر اک تحفظ اور محبت کا احساس ہے۔ ممتا ذات کو مٹا دینے کا نام ہے۔ یہ رشتے انمول ہیں۔ ان کو نبھانے میں تخلیقی سفر سست ہوا۔ شادی کے بعد بہت ہی کم لکھا۔ زیادہ توجہ اور محبت رشتوں کو دی۔ اپنے مدرسے مدینۃ النبویہ میں تجوید القرآن کی کلاس دونوں بچیوں کے ساتھ لی۔ وفا نبوی چھوٹی تھی اور انتہائی شرارتی گود میں بیٹھی رہتی تھی۔

اور شقا نبوی کو قرآن حفظ کرتی دیکھتی ہوں تو دل خوشی سے نہال ہو جاتا ہے۔

عرض آخرکہ محدود علاقے میں وسیع سوچ کی مجرم ہوں ۔ اور محدود ذہنوں کے درمیان لا محدود مقصد کی مسافر ہوں۔ وہ لامحدود مقصد جن کا اک سرا کنیز نبوی سے شروع ہو کر کنیز قرآن پر ختم ہوتا ہے۔ اللہ کی وہ محبت جو حبیب خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی اس کو پانے کی جستجو میں محو سفر ہوں۔

میری آنکھوں نے اک نیا خواب چن لیا ہے۔ جو اسلامی علوم کی جامعہ کا ہے۔ اللہ میرے خوابوں سے بڑا ہے۔ ضرور پورا کرے گا۔

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں