عید کے خوشیوں بھرے دن کے لیے ہم بڑھ چڑھ کر اہتمام کرتے ہیں جس میں خواتین خاص طور پر پیش پیش ہوتی ہیں۔ خصوصاً گھر کی صفائی، سجاوٹ ، کپڑوں کی تیاری اور سب سے بڑھ کر مزے دار کھانوں کا اہتمام۔
ساتھ ساتھ اپنے بنائو سنگھار پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔ چاند رات کو مہندی لگانے کا خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ لباس کی میچنگ کے حساب سے چوڑیاں، ہار، بندے خریدے جاتے ہیں۔ پوری چاند رات ان ہی تیاریوں میں گزر جاتی ہے۔
عید کا پرنور دن طلوع ہوتا ہے۔ نماز کی عید کی تیاری. مہمانوں کی آمد اور پھر کہیں خود ملنے جانا ہے۔ وقت نے بہت کچھ بدلا ہے لیکن عید کی خوب صورت روایتیں آج بھی اپنے اندر بہت حسن رکھتی ہیں۔
ہماری قارئین کیسے عید مناتی ہیں۔ یہ جاننے کے لیے ہم نے عید سروے کا اہتمام کیا ہے۔ سوالات یہ ہیں۔
۔ چاند رات اور عید کا دن کیسے گزارتی ہیں؟
۔کبھی ایسا ہوا کہ چاند نہیں ہوا اور آپ مایوس ہوکر سوگئیں، اچانک چاند ہونے کا اعلان ہوگیا۔ اس وقت آپ کے تاثرات کیا تھے اور فوری طور پر عید کی تیاری کیسے کی؟
آیئے دیکھتے ہیں. ہماری قارئین عید کیسے مناتی ہیں؟
دعا مصطفی ، عروج فاطمہ، سندس بخاری
ویسے تو نماز مغرب کے بعد ہی ہماری چاند رات شروع ہوجاتی ہے۔ ہم چاند رات کو کہیں گھومنے پھرنے نہیں جاتے۔ بس حویلی میں ہی ہوتے ہیں۔ ہم کزنز جیا ، عروج اور میں دوسری بچیوں کے ساتھ حویلی کی چھت پر چاند دیکھنے جاتی ہیں۔ پھر کھانے شانے کے بعد اپنے کپڑے، جیولری، جوتے وغیرہ نکال کر رکھتے ہیں۔ کپڑے میری بڑی بہن رباب پر یس کرتی ہے بابا کے اور عون کے۔ اپنے خود کرتی ہوں۔ عید کی رات میٹھے میں ہم صرف سویاں بناتے ہیں۔ اس کے بعد ٹی وی غیرہ پر عید کے شو (پروگرام پی ٹی والے) دیکھتے ہیں پھر فجر پر اٹھنے کی دعا کے ساتھ سوجاتے ہیں۔
صبح سب سویرے اٹھ جاتے ہیں امی پھر سے سویاں اور دوپہر کو بریانی بناتی ہیں۔ ہم سب خود تیار ہوتے ہیں خالہ والوں کے ہاں سے زبردست بریانی آتی ہے۔ سب
کے ہاں سے آتی ہیں سویاں۔ ہم بھی بھیجتے ہیں۔ ٹیچر کے ہاں سے سوئٹ(مٹھائی وغیرہ) آتی ہے۔ پھر ہم لڑکیاں سوائے امی کے دادی والوں کی حویلی جاتے ہیں۔ ارے ایک بات تو بتانا بھول گئی۔ سب مرد حضرات عید کی نماز پڑھ کر آتے ہیں تو ہمیں عیدیاں دیتے ہیں۔ ہمارا بڑا کزن تقی بھائی وہ تو پہلے ہی دے د یتاہے۔ پھر ہم وہاں(دادی والوں کے ہاں) جاتے ہیں وہاں پر بھی دو بڑی پھوپھیاں ، تین چچا، دو چچیاں، کزنز میل فی میل رہتے ہیں۔ پھر ان سے مل کر عیدیاں وصول کرکے کھاتے پیتے ہیں، خوب انجوائے کرتے ہیں۔
اس طرح دن گزرتا ہے، کبھی بابا وہاں اپنی حویلی آجاتے ہیں تو وہیں پر عیدی دیتے ہیں ورنہ گھر آکر شام کو ان سے بھی عیدی لیتے ہیں۔ لیکن اس دفعہ ان شائ اللہ رات کو بھی ہم دادی کے ہاں رہیںگے۔
حویلی کے قریب ہی ہماری بڑی پھوپھی کا گھر ہے۔ ان کا بھی خیر سے بڑا خاندان ہے۔ ہم بچپن میں ان کے ہاں جاتے تھے لیکن کچھ خاندانی پیچیدگیوں کی بنا پر پھر وہاں آتے جاتے نہیں۔ لیکن ہماری بڑی کزن آپا گل جو کہ پھوپھو کی بڑی بہو بھی ہیں۔ وہ اپنے دو سپوتوں اور ایک بیٹی ہانیہ کے ساتھ وہاں آتی ہیں۔ سب مل کر گپ شپ لگاتے ہیں بڑا مزہ آتاہے۔
۔ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا ، ہم تب تک جاگتے رہتے ہیں جب تک فیصلہ نہ آجائے کہ عید ہوگی بھی کہ نہیں۔ سب کے پاس موبائلز ہیں تو انٹرنیٹ سے کنکٹ رہتے ہیں دیر سو یر پتا لگ ہی جاتا ہے۔ رشتے دار سب ایک دوسرے کو (جو دور دراز ہیں) اطلاع کردیتے ہیں تو پتا چل ہی جاتاہے اب دیکھتے ہیں اس سال کیا ہوتاہے ، آخر میں سب کو میرا مطلب ہماری طرف سے دلی مبارک ۔
صدف ناصر. سرفراز کالونی گوجرانوالہ
سب سے پہلے تو آپ سب کو عید الفطر بہت بہت مبارک ہو۔’’ چاند رات‘‘ انتہائی جوش کے ساتھ ٹائم بہت کم ہوتاہے۔ کام ہزاروں کرنے ہوتے ہیں اکیلی نے، تو ذہن تیزی کے ساتھ کاموں کو ترتیب دیتا ہے۔ صفائی کاکام ہفتہ پہلے ہی شرع کررکھاہوتاہے تو صفائی کی ٹینشن نہیں ہوتی۔ بچوں کے کپڑے ’جوتے، جیولری ہر چیز ایک جگہ رکھتی ہوں۔ میاں، سسر، دیوروں کے کپڑے استری کرکے ہینگ کرتی ہوں۔ مرد حضرات کو ان کے جوتے لینے بھتیجی ہوں جو وہ ہمیشہ ہی چاند رات کو خریدتے ہیں۔ تینوں بیٹیوں کو گھر کے بالکل سامنے اپنی دوست ’’مقدس‘‘ کے پاس مہندی لگوانے بھیجتی ہوں۔
دونوں بیٹے’’کٹنگ‘‘ کروانے چلے جاتے ہیں۔ صبح کے لیے ’’سویٹ ڈش‘‘ تیار کرکے رکھتی ہوں۔ گوشت مسالہ جات وغیرہ چاند کا اعلان ہوتے ہی منگوانے دوڑاتی ہوں۔ پھر سب دھوکر فریج میں رکھتی ہوں۔ ساتھ ساتھ موبائل اور ایس ایم ایس کا سلسلہ جاری رہتاہے۔ ڈائجسٹ نکال نکال کر عید کے دن کی ڈشنز کا انتخاب ہوتا رہتاہے۔ ایسی ڈش ہو جو اگلی عید تک بھولے نہیں۔ ساتھ ساتھ بیٹیاں بار بار گھر کے چکر لگاتی ہیں مہندی دکھا نے کو۔ انتہائی جوش اور خوشی کے ساتھ۔
’’ماما! میری مہندی دیکھیں کتنی پیاری ہے ۔‘‘
پھر ایک چکر بازار کا بھی لازمی لگتاہے۔ کچھ نہ کچھ رہ جاتاہے آنے کو، یوں رات کے دو تین لازمی بج جاتے ہیں۔ اپنی مہندی اور تیاری عید کے دن پراٹھا کھتی ہوں۔ عشا پڑھ کر سوتی ہوں عید کے دن انتہائی دقت کے ساتھ آنکھیں کھلتی ہیں۔ پوری رات جاگ جاگ کر اور بھاگ دوڑ کرکے برا حال ہوتا ہے۔ فجر کی نما ز پڑھ کر بچوں کو اٹھانا انتہائی آسان کام ہوتا ہے عید پر، باقی دنوں میں بچے اٹھتے نہیں جلدی مگر عید کے دن فوراً آنکھیں کھولتے ہیں۔ اٹھ کر فٹا فٹ فریش ہوکر تیار ہوتے ہیں اور باہر دروازے پر کھڑے ہوجاتے ہیں ساتھ ساتھ ہمارا سر کھاتے ہیں۔
’’ماما جی! سامنے گھر آمنہ نے اس طرح کے کپڑے پہنے ہیں فلاں بہت پیاری لگ رہی ہے۔ پھر مرد حضرات کو ہر چیز پکڑا کر انہیں تیار ہونے بھیجتے ہیں۔ پھر سب مل کر مسجد جاکر نماز ادا کرتے ہیں۔ واپس آکر عیدملتے ملاتے، میٹھا کھاتے کھلاتے، بانٹتے بانٹتے گیارہ بج ہی جاتے ہیں۔ کالز کا سلسلہ ساتھ ساتھ جاری ہے۔ عیدی لینے اور دینے کا بھی ۔
اس کے بعد ’’لنچ اسپیشل ‘‘ بنتا ہے۔ گوشت کی ڈشز اور چاول بھی لازمی’’پہلوانوں کے شہر میں بچے بھی پہلوان ہیں۔ پھر شام کو جہاں جہاں عید ملنے جانا سو وہاں جاتے ہیں۔ فل آف مصروف ترین وقت گزرتا ہے۔ الحمدللہ۔
۔ دوسرے سوال کا جواب یہ ہے جناب کہ جی ہاں ایسا ہوا چند سال پہلے کہ جی آج چاند رات نہیں ہے صبح بھی روزہ ہوگا۔
ہم جو انتہائی جوش وخروش سے تیاریاں مکمل کرنے لگے تھے، ہر کام آدھا ادھورا چھوڑ کر غصے ار مایوسی سے سوگئے کہ بلاوجہ خود کو تھکایا۔
پھر گھر والوں نے جگاکر ’’ بریکنگ نیوز‘‘ سنائی کہ عید کا اعلان ہوگیاہے۔ بس جی پھر کہاں کی تھکن اور کہاں کا غصہ، کمر کس کر پھر میدان میں اتر آئے۔ یہ شکر کیا کہ کافی کام نپٹا بھی چکے تھے سونے سے پہلے، سوخود بھی از سرنو دوڑیں لگائیں اور گھر والوں کی بھی لگوائیں۔ آپس کی بات ہے بازار بھی رونقیں دیکھنے جانا ہوتا ہے بہانے سے کیونکہ جان بوجھ کر چھوٹی موٹی چیزوں کو ’’چاند رات‘‘ کو ہی خریدتی ہوں۔ واپسی پر پھر برگر’’پیزا‘‘ بوتل وغیرہ اس رات کا مزا دوبالا کردیتے ہیں۔
نازلی فیصل. لاہور
ہمارے گھرمیں کھلے آسمان پر چاند ڈھونڈنے کی روایت اب تک قائم ہے۔ افطاری کے فوراً بعد کیا بچے کیا بڑے بوڑھے سب ہی ٹیرس کی طرف چاند دیکھنے کے لیے بھاگتے ہیں اور چاند نظر آتے ہی ’’مبارک ہو عید کا چاند نظر آگیاہے۔ ‘‘ کہتے ہوئے سب ایک دوسرے کے گلے لگ جاتے ہیں۔ مبارک سلامت کے شور میں دعائیں اللہ کرے خیروعافیت کا چاند ہو۔ چھوٹے بڑوں کے آگے سرجھکادےتے ہیں۔ اور بڑے پیار سے لگے لگالیتے ہیں۔ چاند رات پر سب خاندان والوں کا ہمارے گھر اکٹھا ہونا محبتوں کی ایسی داستان ہے جس پر آسمان کو بھی رشک آجاتا ہوگا۔ اور اس میں مزید رنگ اس وقت بھرتا ہے جب ہم فرنی کی ٹھوٹھیوں والی کھیر مٹھائی سے سجی ٹرالی ، اور اس کے ساتھ گرما گرم کشمیری چائے سے سب کی خاطر تواضع کرتے ہیں۔
مہندی کی خوشبو سے گندھا ہوا چاند رات کا فسوں، سب ہی کو میچنگ چوڑیوں کی فکر اور مہندی لگوانے کا شوق بازاروں میں لے جاتا ہے۔بہرحال بازاروں میں چاند رات کی رونقوں کے میلے سے نکل کر گھر میں داخل ہوتے ہی چوڑیوں کی کھنک میں ہر کلائی نئے گیت گاتی نظر آتی ہے۔ بچوں کومطمئن کرکے ان کے کپڑے جوتیاں ٹوپیاں سنوارکر رکھنا اورصبح سب کوعیدی دینے کا حساب کتاب سیدھا کرنا ، عیدی جو500`100`10سے ہوتی ہزارتک پہنچ گئی۔
ان سے فراغت کے بعدکچن کی نازبرداریاں، رات سے ہی کھانوں کی تیاری، چکن کڑھائی، حلیم گھوٹنا، سیخ کباب، ابلے چنوں کا مسالہ بنانا ، دہی پکوڑیوں کے لیے املی و پودینہ کی چٹنی جس کے بغیرکھانے کا مزہ ہی نہیں آتا۔
اورعیدکے روزتوعیدکے ہنگامہ خیزیاں زوروں پر ہوتی ہیں۔ بننا سنورنا سجنا سجانا ان سب چیزوں کا بھرپور اظہار ہوتا ہے علی الصبح اٹھ کرشیرخورما تیار کرنا اورساتھ ہی شاہی ٹکڑوں کی ڈش تیارکرنا اس کے بغیرسب کو لگتا ہے کہ عید ہی نہیں ہوئی، میز پر برتنوں کی سجاوٹ ، ٹرالی پرچائے کا اہتمام اور عیدکی نمازجوساڑھے سات بجے ہوجاتی ہے کے بعد دس بجے تک فیصل کے سب بھائی اورمیری بہنوں کا آنا عیدکی یعنی صبح سے شام تک کچن و ڈرائنگ روم کے درمیان دوڑ وخاطرداری میں ایسے مصروف کہ وقت کا پتا نہیں چلتا اس تگ و دو میں۔ شام چھ بجے بڑی باجی کے ہاں حاضری دینا، ورنہ ان کی دعائوں و عیدی سے محروم ہوجاتے، اس کے بعد منجھلی وچھوٹی بہن سے عید ملنے کی روایت جس میں آج تک کوئی تبدیلی نہ آئی، ملنے ملانے کے بعدگھر واپسی پرکپڑے بدل، دوبارہ کچن کی طرف رخ کیونکہ عیدکے دوسرے روز رات کوسسرال، ننھیال و ددھیال سب کی ہمارے گھرکھلی دعوت ہوتی ہے۔ اس لیے عیدکے پہلے روزمٹن گوشت، چانپوں کا مسالا بنانا ، غرض جوجوکام نبٹا سکتے ہیں۔ نبٹاتے ہیں۔
اور ان سارے کاموں کو نبٹاتے نبٹاتے ہمارے نازک کندھے دوہرے چوہرے ہوجاتے ہیں ۔ کب عید شروع ہوئی۔ کب ختم ہوئی، ایک ایک لمحہ ہمارے اندر اپنوں سے ملنے کی خوشی عطاکرکے خوشبوکی مانند پھیل کر، تھکن کا سارا احساس مٹا دیتا ہے۔ یہ حال احوال 2019ئ کی عیدکا ہے پچھلے سال کی عیدتو فاصلے کی عید تھی۔ عید تونام ہی گلے ملنے کا ہے۔ ملنے ملانے کے گریز نے 2020ئ میں نہ وہ رونقوں کے میلے لگنے دیے، نہ چاند رات کافسوں، نہ خوش ذائقہ پکوان کی مہک بکھرنے دی۔
سوال نمبر2 ۔ رویت ہلال کمیٹی کے مطابق ملک بھرمیں چاند نظرنہیں آیا لہذاکل عید نہیں ہوگی۔ ٹی وی پریہ اعلان سنتے ہی سکھ کا سانس لیا چلو ایک روزہ اور،کام کے لیے بھی ایک دن مل گیا ، جوادھورے کام ہیں وہ کل صبح نبٹا لیں گے یہی سوچتے ہوئے آرام سے نماز پڑھی، اورابھی آنکھ لگے کچھ ہی دیرہوئی تھی کہ بچوں کے شورنے اٹھا دیا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ نیندکی ہڑبڑاہٹ میں پوچھا۔
’’عیدکا چاند نظرآ گیا ہے،کل عید ہوگی۔‘‘
’’کیاکہا، رات کے گیارہ بجے چاند نظرآ گیا۔‘‘ سن کرنیند ایسی اڑی فوراً ہی گھبراکے اٹھ بیٹھے اورسارا غصہ بچوں اورمیاں پرنکال دیا۔
’’اچھا بھلاباورچی خانہ میں اپنا پوراکام سمیٹ رہے تھے، ہاتھ پکڑکربٹھا دیا کہ جب کل عید نہیں توکاہے کو جان ہلکان کر رہی ہیں ایک دن اورمل گیا ہے کام کا اس ایک دن کی خوشی میں کیاکیا پاپڑبیلنے پڑیں گے، کیاکروں کیا نہ کروں، اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہوئے منہ پرپانی کے الٹے سیدھے چھینٹے مارے ، کہاں کی نیند،کیسا سونا، سارے کل پہ چھوڑے ہوئے ادھورے کام ایسے یادآئے کہ فوراً ہی باورچی خانے کی طرف دوڑ لگا دی کیونکہ عیدکی نمازتوصبح ساڑھے سات بجے ہوجاتی ہے اورنمازکے بعد سب سیدھے ہمارے ہی گھرآتے ہیں۔
بس اسی خیال سے رات ہی کوسارے کام سمیٹنے تھے سب سے پہلے شیرخورمہ کے لیے رکھا ہوا دودھ چیک کیا کہ کہیں استعمال تونہیں ہوگیا ورنہ صبح شیرخورمہ سے محروم رہ جاتے، ساتھ ہی ادھورے کچے پکے پکوان چولہے پر چڑھائے ایک ہاتھ سے حلیم میں چمچ چلائی تودوسرے سے سیخ کباب بنا کرفریزکیے، ابلے ہوئے چنوں کا مسالہ تیارکیا چکن کڑاہی کا پانی خشک کرکے اسے مکمل کیا بھگوئی ہوئی املی کوچٹنی میں بدلا، باورچی خانے سے نکل کربچوں وبڑوں کے کپڑے ترتیب وار رکھے، تاکہ صبح کی نمازکے وقت بھگدڑنہ مچے کہ میرا سوٹ استری نہیں، میری ٹوپی کدھر، تومیرا جوتا کدھر، یہاں تک پہنچنے کے بعد دم لیا کہ کچھ توحساب کتاب سیدھا ہوا۔
اس سارے کام میں گھڑی دیکھنے کا موقع نہ ملا۔ اب جوفارغ ہوکرگٹھری پہ نظر ڈالی تو رات کا ایک بج رہا تھا اس وقت ٹائم سے زیادہ کام مکمل کرنے کی فکر تھی کہ رات بے شک لگ جائے مگرعیدکی صبح پرسکون ہوکیونکہ عید کی تیاری، مہمانداری کا بوجھ توخاتون خانہ کے سر ہوتا ہے، اب جوسونے کی کوشش کی توخیال آیا کہ کام والی کوصبح جلدی سے آنے سے منع کیا تھا فوراً فون ملایا ، بچوں کوبھی اسے فون کرنے کوکہا۔ باربار فون کرنے پہ بھی اس نے فون نہ اٹھایا، تو پارہ نوے ڈگری تجاوزکرگیا۔
’’جتنا مرضی کرلوان کا۔ مجال ہے جو وقت پرکام آئیں۔‘‘
چاروناچار اسے کوستے ہوئے برتن دھوئے، سمیٹے، میز پر نفاست سے سجائے کیونکہ یہی تو موقع ہوتا ہے اپنا آپ دکھانے کا اور تعریف سمیٹنے کا۔ کام مکمل ہونے کا احساس ہوا تو ساتھ ہی سوچا کہ آئندہ چاند نہ بھی نظر آئے تب بھی سارا کام پورا کرکے ہی آئوں گی۔
ٹائم دوبارہ دیکھا نہیں کہ مبادا ہمت ہی نہ ہار دیں شکر ہے صبح مٹھائی منگوالی تھی۔ ورنہ فیصل کو برفی قلاقند گلاب جامنوں کے لیے دوڑانا پڑتا اور بدمزگی و لڑائی الگ ہوتی۔
اس بھاگ دوڑ و تگ و دو میں عید کا دن نمودار ہوا اور سب کے آنے کی خوشی میں رات کی ساری تھکن بھول گئے اورمیز پر رکھے ہوئے شیرخورمہ ، شاہی ٹکڑوں اور حلیم پر کہ واہ واہ کیا حلیم بنائی ہے سن کرمسکرائے کہ رات کی ساری محنت وصول ہوگئی۔ اب کسی کو کیا معلوم کہ ہم رات کن کن مرحلوں سے گزر کر، بلڈ پریشر کو نارمل کرتے ہوئے اس میز پر سج سنور کر بیٹھے ہوئے داد وصول کر رہے ہیں۔
ربیعہ نسرین ماڈل ٹائون لاہور
۔ عید کی تیاری ۲۷ رجب سے شروع ہو جاتی ہے جب روزہ رکھ بازار کا رخ کرتی ہوں اور ساری خریداری (کپڑوں کی) مکمل ہو جاتی ہے رمضان سے پہلے سلائی ، دھلائی ، استری کر کے (اور بلبل شوریدہ کے نالے ) سمیت سب کام مکمل رمضان سے ایک دو دن پہلے جوتے وغیرہ بھی لے لیتے ہیں۔ سوچاند رات کو اگر بروقت چاند کی رونمائی ہو جائے تو اول وقت ورنہ اعلان ہو جانے پرچار نفل پڑھ لیتی ہوں اور خاندان کے بزرگوں اور اپنی چیدہ سہیلیوں کو فون پر عید کی مبارکباد دے دیتی ہوں اوراب سیل فون پر مبارک باد دینا بھی ایک کام ہے۔
۔سب سے پہلے یہ واقعہ 1967-68ئ میں پیش آیا تھا اس سے پہلے عوام میں چاند دیکھنے کا رجحان تھا۔ لوگ بذات خود چھتوں پرچڑھ کرچاند دیکھتے تھے۔ اس مرتبہ ایوب خان صاحب اقتدارکے حاشیہ برداروں نے حاشیہ آرائی کی کہ جمعہ کی عید حکمران پربھاری ہوتی ہے (حالانکہ نماز تومولوی صاحب پڑھاتے ہیں) اس لیے بذریعہ پولیس مساجد میں جبری عیدکا اعلان کروایا گیا اور لوگوں کے روزے زبردستی تڑوائے گئے۔ پولیس اہلکارکی نگرانی میں امام صاحب عیدگاہ میں نماز پڑھانے کے لیے لائے گئے جب پہلا سجدہ کچھ زیادہ ہی طویل ہوگیا ۔ معلوم ہے کہ امام مقتدیوں کو سجدے میں چھوڑکربھاگ نکلا کہ سپاہی خود بھی نماز پڑھنے کھڑا ہوگیا تھا وہ دن اور آج کا دن۔ اس کے بعد رویت ہلال کمیٹی بنی اور اب چاند آدھی رات کے بعد جلوہ آرا ہوتا ہے۔
دوسری پرلطف یاد 1972ئ کی ہے جب میرے تایا چارسدہ پیپرمل میں تھے۔ عیدکرنے ہم تربیلہ سے گئے۔ وہاں حسب معمول ایک دن پہلے عید ہوئی۔ ہم سب کا روزہ رہا۔ البتہ تایا روزے کے ساتھ عیدگاہ میں دوگانہ پڑھ آئے۔ اگلے دن یعنی اصل عید کے دن صبح وہ برآمدے میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، پڑھ کر کہنے لگے۔
لیں اللہ میاں ! عید کی اصلی نماز پڑھ دی ہے (ویسے اس دور میں کوئی تصور ہی نہیں کر سکتا تھا کہ عید تو بہت دورکی بات ہے کوئی مسلمان جمعہ کی نماز بھی قضا کرلے)
فرحانہ مہناز . اسلام آباد
۔ شادی سے پہلے کی چاند رات اور اب کی چاند رات میں بہت فرق ہے۔ پہلے رات کو اونچی آواز میں ٹی وی لگا لیتے کہ دیکھنا تو کسی نے نہیں بس سننا ہوتا اور اس کے ساتھ ہی سب کزنز مل کر مہندی لگاتیں۔ زیادہ تر مجھ سے لگوائی جاتی۔ میں کوئی کام نہیں کرتی تھی۔ میرے کپڑے بھی امی استری کرتیں۔ تو استری شدہ کپڑے باربار دیکھنا باقی سب جیولری بھی سوٹ پر رکھ کر دیکھنا۔ ابو جی سے شیرخورمہ کا سامان منگوا کر رکھنا۔
اب چاند رات میں سب سے پہلے بچوں کے کپڑے استری کرتی ہوں، سب چیزیں بچوں کے حوالے کر دیتی ہوں۔ خود ہی سیٹ کر لو اور اپنی ڈرا میں رکھ لو۔ چاند رات کو بازار جانا نہ مجھے پسند ہے نہ فراز صاحب کو، سب کچھ ایک دن پہلے تیار ہوتا ہے۔ اب کباب اور شیر خورما تیار کرنا تو چاند رات کو میٹریل تیار کر لیتی ہوں پھر عشائ کی نماز پڑھ کر ارحم ، ابیہا، اضحی کے ہاتھوں پہ مہندی لگاتی ہوں۔ نیوز سننا اور فراز کے ساتھ ڈسکس کرنا کافی لیٹ سوتے ہیں۔
عید کا دن بچوں کو تیار کرنا، سویاں بنانا، نماز عید پڑھ کر تیار ہونا اتنے میں فراز صاحب اور متین نماز پڑھ کر آجاتے ہیں۔ ناشتہ پلس کھانا کھانا، پھر مہمان آنا شروع ۔ لیکن ہم لوگ شام میں یا اگلے روز باہر جاتے ہیں۔
۔جی ہاں ایسے تین بار ہو چکا ہے۔ لیکن ہم لوگ سوتے نہیں پہلی بار جب میں اعتکاف میں بیٹھی ہوئی تھی۔ رات بارہ بجے اعلان ہوا عید کا۔ تب میں نے ایک اور قرآن شروع کر لیا تھا ۔ لو جی عید ہے سب کزنز اپنے کمروں سے پھولوں کی مالا لے کر نکلیں۔ ابوجی اللہ جنت الفردوس میں اعلا مقام دے ۔ کبھی اتنے لیٹ نہیں سوئے تھے لیکن میرے لیے جاگتے رہے اور میری دوست رات کو ایک بجے میرے گھر آگئی، جی ہاں کچھ دوست اتنے مخلص ہوتے ہیں کہ دن تو کیا رات کو بھی حاضر ۔ اپنی دوست عائشہ کو رات ایک بجے میرے لیے گجرے، چوڑیاں، مٹھائی لاتے ہوئے دیکھ کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ عید کی تیاری تو ہم پہلے ہی کر لیتے تھے۔ اس کے بعد کچھ سالوں بعد پھر رات بارہ بجے عید کا اعلان ہوگیا تب ہم سونے لیٹ گئے بچے تو سو ہی گئے تھے۔ جناب پھر بھابھی عابدہ کو لے کر بازار گئے ان کی چیزیں اور میرے متین کے سوٹ رہتے تھے ابھی۔ رات دو بجے واپسی ہوئی۔
او ر اب اسلام آباد آ کر پچھلی عید بھی رات دس بجے پتا چلا ۔ خریداری تو پوری تھی۔ بس میں نے سحری کے لیے ہانڈی بھی بنالی لیکن عید ہو گئی پھر کیا ہاتھوں کو جلدی جلدی چلا کر ایک بجے تک کام کیا اور عید کا دن ہنسی خوشی دونوں میاں بیوی بچوں کے ساتھ انجوائے کرتے ہیں۔ ایک عید اسلام آباد اور ایک گوجرہ، ایسے ہی عید (مطلب خوشی) کو محسوس کرتے ہیں۔
رضوانہ شکیل رائو.لودھراں
۔ عید کی روایتی چیزوںمیں مجھے سب سے اچھی عید کی روایتی تیاری لگتی ہے بھاگم بھاگ کام کرنا اچھا لگتا ہے جو دوڑچاند رات کو لگتی ہے اس میں تھک بھی جائیں تو تھکن نہیں ہوتی خوشی ہوتی ہے۔
تکیوں کے غلاف، بیڈ شیٹ، پر دے چاند رات کو ہی بدل لیتی ہوں اگر کھیر بنانی ہو تو رات کو ہی بنا لیتی ہوں کیونکہ لکڑی کے چولہے پر بنانی ہوتی ہے، سلنڈر پر سالن چائے وغیرہ بنتی ہے۔ آگ جلانے میں کھیر پکنے تک شکیل میری بھرپور ہیلپ کرتے ہیں کیونکہ اس سال کپاس کی لکڑیاں نہیں ہےں۔ تھاپیاں (گوبرکے اپلے)خرید کر جلا رہے ہیں۔
اسد اللہ اور شکیل کے کپڑے رات کو پریس ہوتے ہیں۔ چاند دیکھے بغیر بھلا عید کی خوشیاں مکمل ہو سکتی ہیں۔ نہیں نا ! تو جناب ہم بھی پورے جوش و خروش سے بمعہ خشوع و خضوع سے انتیسویں روزے ہی چاند کو دیکھنے۔ خواہ اک نظر ہی سہی کے لیے کوشش پیہم شروع کر دیتے ہیں جو کہ شاذو نادر ہی نظر آتا ہے۔
بڑے ناز و انداز سے سنورتی ہے
عید دلہن کی طرح لگتی ہے
اگر سوال بچپن کی عید کے متعلق ہوتا تو کچھ ایسا ہی جواب ہوتا۔ عام دنوں سے بالکل منفرد اور انوکھا دن۔ جیسے بادصبا حسین دوشیزائوں سے آنچل اور گیسوئوں کو چھیڑ چھاڑ کر گزرتی ہے۔ جیسے گلدان میں نئے گل لگا دیئے جاتے ہیں۔ خوشی کا عالم کیا خوب ہوتا تھا۔ کھنکتی چوڑیاں ، مہندی سے بھری کلائیاں ۔ گولڈن پرس اس میں موجود چھوٹی سی لپ اسٹک، نیل پالش، جیولری الغرض ہر طرف حسن ہی حسن بکھرا دکھائی دیتا تھا۔
بہت عرصہ ہوا۔ اب عید ایک ہی روٹین سے گزرتی ہے بہرحال عید مصروف ہی گزرتی ہے۔ قدرے بور بھی۔ وجہ؟ رمضان کے ختم ہونے کی اداسی بھی ہوتی ہے۔
عید کے دن کا آغاز نماز فجر کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ پھر گھر کی صفائی ستھرائی سے فارغ ہو کر کچھ اپنے بنائو سنگھار پر توجہ دیتی ہوں کیونکہ ان کی فرمائش ہوتی ہے کہ جب نماز کے بعد گھر آئیں تو ہم تیار ہوں ۔ نماز عید کے بعد آنے جانے والوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور دوسرے عزیز و اقارب بھی، محلے سے بھی بچے آتے ہیں۔
یہاں پر صرف میری سسرالی فیملی ہے۔ میکہ (یعنی سرگودھا) سے امی ، ابو ، بھابھیوں ، بھائیوں سے فون پر عید مبارک کا سلسلہ ساتھ ساتھ جاری رہتا ہے۔ محلے سے جو چیزیں میٹھے میں آتی ہیں، ان کو ٹھکانے لگانے میں اسد اللہ میرا ساتھ دیتا ہے پھر دوپہر کے کھانے کی تیاری چکن قورمہ ہی بناتی ہوں۔ اسد اللہ کی فرمائش پر روٹی کی جگہ نان منگوائے جاتے ہیں۔
صبا آصف . کراچی
۔دن کے ساتھ ساتھ چاند رات بھی بہت مصروف گزرتی ہے اور اگر چاند انتیس کا ہو جائے تو جہاں عید کی خوشی ہوتی ہے وہاں مصروفیت اور بڑھ جاتی ہے، خیر خوش گوار مصروفیات خوشی خوشی نبٹ جاتی ہیں۔ میں اپنے کام دو تین دن پہلے سے کرنا شروع کردیتی ہوں۔ چاند رات کو وہی کام رہ جاتے ہیں جو چاند رات کو ہی ہو سکتے ہیں۔ پھول سجانا، شیرخرما کے لیے پستے بادام بھگونا۔ چنے بھگونا ۔ گرم دودھ میں چھوہارے بھگونایہ ہماری خاص خاندانی ڈش ہے، اس پر پھر کبھی بات ہوگی۔ بہرحال ہم میاں بیوی بیٹا بیٹی نوساڑھے نو تک چاند رات کی رونقیں دیکھنے نکل جاتے ہیں۔ ساتھ کچھ ضروری شاپنگ بھی۔ صاحبزادی چوڑیاں تو چاند رات کو ہی لیتی ہیں پھر مہندی لگوانی، صاحبزادے انس کی بھی کچھ نہ کچھ چیزیں جو رہ جاتی ہیں وہ لی جاتی ہیں واپسی پر کیک اور مٹھائی کے ساتھ ساتھ ہم پھول لینا نہیں بھولتے۔ کچھ پھول میں اپنے لان کے استعمال کرتی ہوں اور کچھ فلاورشاپ سے لے لیتی ہوں کیا اینٹرنس کیا لائونج گھر کا گوشہ گوشہ پھولوں سے سجاتی تھی (اکے بانا کا کورس کیا ہوا ہے) سارا گھر مہک رہا ہوتا تھا۔
اب تو میں چاند رات کو باہر ہی نہیں نکلتی جب سے میرے بھانجے فراز کا انتقال ہوا ہے۔ چاند رات بڑی خامشی سے گزرتی ہے سوئوں بھی نہ تو آنکھیں بند کر کے لیٹی رہتی ہوں۔ عید کا دن بھی بڑا خوشگوار گزرتا تھا ۔ مہمان آنے والے بچوں کے لیے کھلونے غبارے ٹافیوں کے پیکٹ ربن بندھے ہوئے ۔ سب ٹرالی میں سجا کر رکھ دیتی تھی ۔ بچے آتے عیدی کے ساتھ یہ سب بھی دیتے بچوں کو تحفے۔ ہنزہ بیگم بڑی خوشی سے دیتی تھیں۔ بچے بھی خوش ہنزہ بھی خوش۔ بڑوں کے لیے بھی تواضع کا اہتمام ہوتا تھا۔ کباب دہی بڑے، چنے، شیرخرما، پھل، مٹھائی یہ سب کچھ میز پر سجا دیتی تھی۔ میز سے اٹھایا مہمان کے سامنے رکھ دیا۔
عید کے دن ہم میزبان بھی ہوتے تھے اور کہیں مہمان بھی۔ اگلے دن امی کے یہاں دعوت ہوتی تھی۔
عرصہ ہوا اب عید کی دعوتوں میں بھی نہیں جاتی۔ پچھلے سال بھائی کا فون آیا۔ سب آئے ہوئے ہیں تم بھی آجائو۔‘‘ میں انکار کر رہی تھی اور وہ اصرار ۔
بھائی کی شکل ابو سے بہت ملتی ہے اور آواز بھی۔ اس کا اصرار کرتا لہجہ بالکل ابو جیسا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے ابو اصرار کر رہے ہوں۔ رونا بھی آ رہا تھا اور اچھا بھی لگ رہا تھا کوئی ہے بلانے والا ۔ یہ دکھ ہلکا پڑتا محسوس ہورہا تھا کہ ابو کے بعد اس اصرار سے کون بلائے گا اللہ تعالیٰ اس کی عمر میں برکت دے آمین ثمہ آمین۔
عیدالفطربے شک ہم مسلمانوں کے لیے روزے داروں کے لیے اللہ تعالیٰ کا انعام ہے۔ اسے خوشی خوشی منانا چاہیے۔ لیکن یہ بھی ہے کہ اس دن جانے والے بہت شدت سے یاد آتے ہیں سو اب تو عید کے دن رو کر اور سو کر گزرتا ہے۔ (گولی کھا کر)
۔ بہت مرتبہ ایسا ہوا کبھی گیارہ بجے اچانک اعلان ہو جاتا ہے کبھی بارہ بجے ہمارے بچپن میں بھی ایک بار ایسا ہوا ۔ مایوس ہو کر نہ صرف یہ کہ سو گئے تھے بلکہ سحری کھا کر روزہ رکھنے کی تیاری میں تھے۔ ہمارے چچا (ابو کے چچا زاد بھائی) ہم ابو کی جاب کی وجہ سے نواب شاہ ایئرپورٹ پر ہوتے تھے ۔کراچی سے نواب شاہ پہنچ گئے سب ان کو اچانک دیکھ کر خوش بھی ہوئے اور حیران بھی۔ سحری کا وقت ختم پر تھا امی نے کہا ’’اسلم جلدی سے سحری کھالو۔ ‘‘
اسلم چچا ہنس کر بولے۔
’’بھابھی کل تو عید ہے۔‘‘
امی نے کہا ’’نہیں چاند نظر نہیں آیا۔‘‘
کہنے لگے ’’بھابھی چاند کا اعلان ہو گیا تھا۔ میں اعلان سن کر ٹرین میں بیٹھا تھا۔ ہماری تو عید سے پہلے عید ہوگئی۔ کل روزہ نہیں رکھنا پڑے گا۔ دوسرے چچا ہم بچوں کے لیے بہت ساری چیزیں لائے تھے۔ کپڑے، کھلونے، ٹافیاں، مٹھائی ، پھل بلکہ ہماری تو ڈبل عید ہو گئی تھی پاس پڑوس میں جلدی جلدی کہلوایا کہ روزہ نہ رکھیں۔
ایئرپورٹ پر گھر بھی دور دور ہوتے ہیں۔ موبائل کا تو سوال ہی نہیں تھا گھروں میں فون بھی کم ہی کم ہوتے تھے۔ امی کو ہماری مہندی کی فکر پڑ گئی مہندی تو انہوں نے گھول کر رکھی ہوئی تھی۔
سب سے پہلے ہمارے مہندی لگائی امی نے ہمارے مہندی لگا کر اخبار کا کاغذ لپیٹ دیا اور ہمیں سونے کا کہا انہیں بہت سے کام کرنے تھے، سب کام امی نے کیسے کیے۔ ہم تو جب سو کر اٹھے ہمارے کپڑے تیار تھے۔ ابو اور چچا نماز پڑھنے گئے ہوئے تھے۔ ہم بھی تیار ہوگئے۔
ہماری مہندی سے لال ہاتھ دیکھ کر امی بہت خوش کہ ان کی محنت وصول ہوگئی۔ اچانک عید ہونے کی وجہ سے سہیلیوں میں سے کسی کے بھی مہندی نہ لگی ہوئی تھی سو ہم اترائے اترائے پھر رہے تھے۔
بس اس وقت نہ پوچھیں کیاحالت ہے یادوں کی بارات اتری ہوئی ہے آنکھوں میں بھی اور دل میں بھی۔
سلمیٰ مسرت. راولپنڈی
۔اگر رمضان خوب صورت گزرا ہو تو چاند رات بڑی زبردست گزرتی ہے۔ شادی سے پہلے اپنی ساری فرینڈز کے گفٹ پیک کرکے تیار رکھتی تھی، شام تک پہنچا بھی دیتی تھی۔یہ کام میری چھوٹی بہن یاسمین کرتی تھی پھر عید کے روز ان کی طرف سے سرپرائز گفٹ ملتے تھے۔ ایک ہفتے تک ہماری عید ملن پارٹیاں ہوتی تھیں لیکن شادی کے بعد چاند رات ہنگامہ خیز مصروفیت لاتی ہے، اپنی عبادت کو اللہ کے حضور مکمل کرکے پیش کرنا اختتامی دعائوں کے بعد عید کی صبح کے پکوان تیار کرنا، بچوں کے اور اپنے کپڑے پریس کرکے رکھنا کیونکہ ہمارے علاقے میں صبح سویرے عید کا اہتمام کھلے پارک میں ہوتا ہے۔ قاری صاحب کا خطبہ نماز عید پھولوں کے درمیان ادا کرکے سب لوگوں سے عید ملنا، ان میں اکثریت ایسی ہوتی ہے جن سے ایک سال بعد ملاقات ہوتی ہے۔ نماز کی ادائیگی اور پھر قریبی قبرستان میں والدین اور دوسرے احباب جو ہم سے بچھڑ گئے، دعائے مغفرت پڑھ کر گھر واپس آکر بہن اور بھانجے، میرے بچے ہم سب مل کر عید مناتے ہیں۔ تین دن کھاتے کھلاتے گزرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کا بہترین تحفہ ہے یہ روز عید۔
۔ایسا کئی بار ہوا کیونکہ ہمارے ہاں انتیسویں روزے کے بعد جو عید ہوتی ہے اس کا اعلان اکثر دیر سے ہوتا ہے۔ دماغ میں جنگ چل رہی ہوتی ہے کہ اب سحری کا اہتمام کریں یا عید کے ناشتے کا تو ، اب تو میں دونوں قسم کی تیاری کرلیتی ہوں لیکن ایک بار ایسا ہواکہ میں سوگئی۔ امی کی طرف سے فون آیا کہ صبح تو عید کی نماز ہے۔ فجر تک پھر سب کے کپڑے وغیرہ تیار کیے۔ اب تو دو سال سے کرونا نے ساری خوشیاں خراب کردی ہیں۔ پوری دنیا سے اللہ تعالیٰ یہ عذاب ختم کردے، آمین۔
زرینہ خانم لغاری. مظفر گڑھ
۔چاند نظر آیا تو ہر طرف مبارک بادیاں شروع ہوگئیں۔ محلے والے، رشتہ دار، ہمسائے ایک دوسرے کو مبارکاں دینے لگ جاتے ہیں۔ ایک خوشی کا سماں بندھ جاتا ہے۔ چاند نظر آیا۔ تراویح نماز کی چھٹی ہوگئی لیکن اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، اس رات عبادت کرو۔ روزوں کا انعام ملنے کی رات ہے، جیسے کہ مزدور کو کام ختم کرنے پر مزدوری ملتی ہے‘ اس لیے حسب توفیق عبادت کرتی ہوں۔ عید کی تیاری بھی کرتی ہوں۔
عید کا دن ہم گھر پر ہی گزارتے ہیں۔ ہماری فیملی کے تین گھر ساتھ ساتھ ہیں، دیواریں جڑی ہوئی ہیں۔ درمیان میں دروازے رکھے ہوئے ہیں، بس وہیں ایک دوسرے کے گھر تھوڑی دیر کے لیے چلے جاتے ہیں، پھر وہ بھی آجاتے ہیں۔ سویاں، کیک، پھل فروٹ کھانے کھلانے میں دن گزر جاتا ہے۔ خوب صورت لباس بھی زیب تن کرتے ہیں۔
۔واہ یہ کیا خوب صورت عید آپ نے یاد دلادی۔ ایک دفعہ ایسا ہوا، دن بھر گھر کی صفائی کرلی۔ شام کو چاند کا اعلان نہ ہوا، آرام سے سوچکے تھے کہ اچانک گگو بجنے شروع ہوگئے کہ چاند صاحب نمودار ہوگئے ہیں، پہلے تو سوتے سے اٹھنا پڑا۔ دل بہت خراب ہوا لیکن عید کی تیاری تو بہرحال کرنی تھی، کمر کس کر اٹھ کھڑے ہوئے۔
صبح چنا چاٹ بنانے کے لیے بڑے بناکر فریج میں رکھے۔ بچوں نے جلدی سے مہندی لگانی شروع کردی۔ نئے کپڑے استری کا نخرا نہیں کیونکہ اکثر درزی کے ہاں سے استری شدہ آتے ہیں پھر بھی کپڑے نکالے۔ شلواروں میں کمر بند ڈالے۔ کتنے چھوٹے موٹے کام کیے یعنی افراتفری مچ گئی، آدھی رات تک کام سمیٹتے رہے۔ پہلے پہل کوفت بھی ہوئی لیکن پھر عید کی خوشی میں خوشی خوشی سارے کام کرلیے۔
اب جب بھی اس عید کی یاد آتی ہے، وہ وقت کو یاد کرکے خوب انجوائے کرتے ہیں کہ کیسے بھاگم بھاگ کام کررہے تھے۔ پیٹیاں کھول کر نئی بیڈ شیٹ اور تکیے نکالے اور بچھائے جارہے تھے۔ کسی کَرتے پر بٹن ٹانکے جارہے تھے، بچیاں تو مہندی لگاکر نواب بن کر بیٹھ گئیں۔ مائیں بے چاریاں کھپ رہی تھیں، بہرحال مزا بہت آیا صبح سب اپنے اپنے تجربے بتا کر قہقہے لگارہے تھے، مسکراہٹیں بکھیر رہے تھے۔
اقصیٰ امان. کوئلہ جام بھکر
۔چاند رات کو جاتی تو کہیںنہیں، بس اپنے اور گھروالوں کے کپڑے پریس کرتی ہوں۔ محلہ سے بچیاں مہندی لگوانے آجاتی ہیں تو ان کو مہندی لگاتے لگاتے ہی کافی ٹائم ہوجاتا ہے ویسے بھی یہ لیلۃ الجائزہ کی رات ہوتی تو نماز پڑھ کر نفل وغیرہ پڑھتی ہوں، پھر سوجاتی ہوں۔
عید کے روز صبح جلدی اٹھ جاتی ہوں، عید کا دن گہما گہمی کا دن ہوتا ہے، صبح صبح صفائی کرلیتی ہوں۔ چچی سویاں بناتی ہیں، وہ کھا کر مرد حضرات تیار ہوکر نماز عید پڑھنے جاتے ہیں اور ہم بھی تیار ہوجاتے ہیں۔ گھر میں عید ملتے ہیں پھر پڑوسیوں کے گھر، پھوپھو، ماموں وغیرہ کا گھر بھی پاس ہی ہے، ان کو عید ملنے جاتی ہوں۔ ماموں، چاچو، ابو اور اسد بھائی سے عیدی وصول کرتی ہوں۔ باجی سمیہ پلائو بناتی ہیں، وہ سب کھاتے ہیں (ویسے اس مرتبہ شائستہ نے بنانے کا ذمہ لیا ہے کیونکہ اللہ پاک نے سمیہ باجی کو کیوٹ سی گڑیا کی مما بنایا ہے تو میجر آپریشن کی وجہ سے وہ تو کام کرنے سے رہی۔ اس لیے اس بار شائستہ کا بنا بدمزا کھانا کھانا پڑے گا یا خود ہمت کرکے بنا نا) اس دوران مہمانوں کی آمدورفت بھی جاری رہتی ہے جو شام تک ہوتی ہے۔ عید کے دن باجی ثمینہ کے گھر جانے کاپلان ہمیشہ رہ جاتا ہے کیونکہ بھائی کو فرصت ہی نہیںملتی، لوجی ہوگیا اختتام۔
۔ جی بالکل، پچھلے سال ہوا ہے ۔ فواد چوہدری اور مفتیوں کے رولے کے درمیان، ہم عید کے ہونے سے مایوس ہی ہوچکے تھے کہ اچانک چاندکا اعلان ہوگیا۔ بہت سرپرائزنگ سی کیفیت تھی، جلدی سے اٹھ کر کپڑے پریس کیے۔ فیصل (بھائی) کو مہندی لینے بھیجا، خودمہندی لگائی۔ شائستہ جو میری ہونے والی بھابھی اور سویٹ کزن بھی ہے، اسے مہندی لگائی۔ اسی چکرمیں بارہ بج گئے پھر جو سوئےں تو صبح جاگیں۔
٭٭


