عید سروے – ادارہ

سروے 0

عندلیب زہرا. راولپنڈی

سب سے پہلے تو سالگرہ مبارک ہو. شعاع۔

(1)زندگی ایک کتاب ہے، لوگ ملتے ہیں ابواب کی طرح، اسباق کی طرح۔ لیکن پوری شخصیت نے مجھے کبھی متاثر نہیں کیا۔کسی کی کوئی بات بھاگئی، کسی کی کسی عادت نے متاثر کیا یا کوئی ادا اچھی لگ گئی۔ مجھے اپنی کام والی سکینہ باجی یاد آتی ہے، وہ مسیحی برادری سے تعلق رکھتی تھی۔ اس نے طویل عرصہ ہمارے ساتھ کام کیا ھا، ایمان دار، شریف النفس. قناعت پسند۔

مصیبت میں سایہ بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے، ابو کی بیماری میں سگے رشتے بھی بددل گئے تھے۔ ہم نے سکینہ باجی کو ملازمت سے جواب دے دیا کہ تنخواہ دینے کا حوصلہ نہ رہا۔

’’باجی! بیماری، پریشانی میں اپنے بہن بھائی ہی کام آتے ہیں۔ میں بغیر تنخواہ کے کام کروں گی۔‘‘

اس کا یہ جملہ ان حوصلہ توڑتے دنوں میں مرہم بن گیا تھا۔ وقت کا کا م گزر جانا ہے، اچھا ہو یا برا. اور وقت کی سب سے اچھی بات یہی ہے۔ ہمارا آزمائشی دور گزر گیا۔ بہت سے لوگ پہچانے گئے۔

میں آج بھی سکینہ باجی اور انکا درد مند لہجہ یاد کرتی ہوں۔

ہمارے علاقے میں صاف پینے کے پانی کی قلت ہے۔ہمارے گھر کے نزدیک حاجی صاحب (مرحوم) مجھے نام نہیں معلوم. ان کی وصیت ہے کہ مخلوق خدا کو صاف پانی دیا جائے۔ ان کی اولاد نے وصیت کا پاس رکھا ہے، صبح شام شفاف پانی بلا معاوضہ بلا ناغہ سب کو ملتا ہے۔ سخت گرمی ہو، رش ہو،نہ پانی کم ہوتا ہے نہ رنگ بدلتا ہے نہ ذائقہ۔ اکثر لوگ بورنگ کرواتے ہیں اسی لائن میں. لیکن پتھر نکلتے ہیں اور حاجی صاحب کی وصیت کردہ بورنگ سے یوں پانی نکلتا ہے جیسے کوئی چشمہ جو مسلسل پھوٹ رہا ہے۔ کبھی پانی کم نہیں ہوا، کتنے برس ہوگئے اور لوگ ہاتھ اٹھا اٹھا کر حاجی صاحب کو دعائیں دے رہے ہوتے ہیں۔

اپنے والد مرحوم جنہیں سب یہی کہتے تھے کہ وہ ہر رشتے میں بے مثال تھے، ان کی جس عادت نے مجھے متاثر کیا، وہ ہے دوسروں کی خامیوں کا پردہ رکھنا. نگاہ میں حیا رکھنا. اصل توبہ جو امی کی ہے جو شیوۂ پیغمبری بھی ہے۔ یہ ان کا قول تھا جو وہ اکثر کہتے.

ایم اے اردو کے دوران مس نسرین مرزا، جو راز داری کے ساتھ مستحق طالبات کی مدد کرتیں۔ بغیر کسی کے علم میں لائے۔

میری والدہ جو تعویذ جادو کو شرک سمجھتی ہیں اور اللہ کے بھروسے پر ہر اچھا برا دور گزارنے کو مقدم جانتی ہیں۔

میں لوگوں میں غلطی کا مارجن رکھتی ہوں اور انسان ہونے کے ناتے، ان کی غلطیاں معاف کرنا اہم سمجھتی ہوں اگر وہ واقعی نادم ہوں۔

(2) ہاہاہا. کیا ایسا ممکن ہے؟

ہزاروں خواہشیں ایسی

میں ایک فورس بنائوں گی جو پرانی رائٹرز کو گرفتار کرکے لائے گی اور تاوان میں ناول، ناولٹ، افسانے طلب کیے جائیں گے سب سے پہلے رفعت سراج، فرحت اشتیاق، ماہا ملک، ہما کوکب بخاری، ثمرہ بخاری (فہرست طویل ہے بھئی) ان سے استحقاق سے پوچھوں گی (تڑکے لگا کے) قارئین یاد کررہے ہیں آپ کو۔ جلدی سے ناول لکھیں۔ (بالخصوص رفعت سراج سے)

پرانے سلسلے سیر دو جہاں، شروع کروں گی. صفحات میں اضافہ کروں گی اور اسی لحاظ سے قیمت بھی بڑھی گی۔ کرن شام کی طرز کے پروگرام شروع کروں گی۔ شاہین رشید اور امتل کو ’’روبرو‘‘ میں آنے کی دعوت دوں گی۔ سرورق پر میک اپ اورجیولری کو کم کروں گی۔ ماڈل کے پورے کپڑے دکھائوں گی اور. اور. پھر میری آنکھ کھل جائے گی یا سنڈریلا کی طرح بارہ بجتے ہی میں پھر قاری بن جائوں گی تاہم ایڈیٹر کی میز پر اپنا قلم چھوڑ آئوں گی تاکہ آفس میں میرے آنے کا احساس باقی رہے۔

(3) مجھے دونوں عیدیں پسند ہیں لیکن بڑی عید زیادہ پسند ہے اس عید پر لوگوں سے ملنا جلنا زیادہ ہوتا ہے پھر مجھے گوشت کی نت نئی ڈشیں بنانے کا موقع ملتا ہے۔ میں ہر تہوار پر اہتمام کرتی ہوں۔ مہندی، چوڑیاں، نئے کپڑے سب کچھ. تہوار ہمارے لیے بنائے گئے ہیں بھئی انہیں سوکر کیوں گزارا جائے؟ میں بڑی عید پر شامی کباب بناتی ہوں۔ اس کی فرمائش کی جاتی ہے اور خاص بات یہ ہے کہ گوشت کا قیمہ کرنے کے بجائے اس کی چھوٹی چھوٹی بوٹیاں کی جائیں. پھر اس میں چنے کی دال، پیاز، لہسن، ادرک، ہری مرچ اور تمام مسالہ جات ڈال کر پانی ڈال دیں اور چولہے پر رکھ دیں ہلکی آنچ پر. گوشت دال سب کچھ پانی میں گل کر خشک ہوجائے تو سل بٹہ سے پیس لیں۔ پھر کباب کی شکل دیں، انڈے میں ڈپ کرکے فرائی کریں. بہت لذیذ ہوتے ہیں بھئی (یہ گھر والوں کا خیال ہے)

خواتین و شعاع میں جو تراکیب آتی ہیں توا بو ٹی. بریانی. پلائو. میں ٹرائی کرتی ہوں۔

سنبل ملک اعوان

ہم بہت سارے دوستوںِ، رشتے داروں اور زندگی میں دوسرے لوگوں سے ملتے ہیں۔

(ویسے میرا کام ہی پبلک ڈیلنگ ہے، ہم روزانہ تقریباً سو سے زیادہ مریضوں کو چیک کرواتے ہیں اور چیک کرتے بھی ہیں۔ ہمارے پاس اچھے، برے ہر قسم کے لوگ آتے ہیں اور ضروری نہیں ہے کہ ہم کسی پڑھے لکھے سے ہی کچھ سیکھیں گے۔ زندگی میں ہر شخص آپ کو کچھ نہ کچھ سکھا کر ہی جاتا ہے۔

(1) میں ہسپتال کے گائنی ڈیپارٹمنٹ میں بطور اسسٹنٹ گائنی کام کرتی ہوں۔ بہت سی خواتین اپنی تکلیفیں لے کر ہمارے پاس آتی ہیں۔ کچھ بہت ہی باہمت ہوتی ہیں اور میں ان سے بے حد متاثر ہوتی ہوں۔

لیکن میرے رشتے داروں میں بھی بڑے بڑے عجوبے ہیں۔ مثلاً میری سگی خالہ. وہ نہیں چاہتیں کوئی ہم سے ملے۔ سگی بہن دوسری سگی بہن سے جیلس ہوتی ہے۔

میں اپنی میٹرک کی ٹیچر سے متاثر ہوئی جو انگلش پڑھاتی تھیں۔ مسز امجد نام تھا ان کا، سرخ وسفید رنگت کی مالک۔ میک اپ تو بالکل بھی نہیں کرتی تھیں۔ وہ بہت محبت کرنے والی اور بھرپور توجہ دینے والی ٹیچر تھیں۔

انگلش کا مشکل سبجیکٹ ان کی وجہ سے ہمیں آسان لگنے لگا۔ مسز امجد نہ صرف ہمیں انگلش پڑھاتی تھیں بلکہ وہ اسلامیات کا پیریڈ بھی لیتی تھیں۔

میں پہلے کبھی کبھار ہی نماز پڑھتی تھی، مگر مسز امجد نے پہلے ہمیں زبانی کلامی بتایا کہ بچیوں آپ نے پانچ وقت کی نماز پڑھنی ہے۔ ایک ہفتہ روزانہ کلاس میں پوچھتی رہیں‘ کس کس نے نماز پڑھی۔ دوسرے ہفتے سزا دینا شروع کی نماز نہ پڑھنے کی صورت میں۔ پھر انہوں نے ہر لڑکی سے نماز کی ڈائری بنوائی۔ اس طرح مسز امجد نے مجھے پنچ وقتہ نمازی بنادیا۔

(2) سوال بہت مزے کا ہے اور اونچی اڑان والا بھی۔ (بقول میری ماما کے تم کاغذ کے کاغذ کالے کرتی ہو، تم مصنفہ بن جائو تو بڑی بات ہے)۔

مگر یہاں تو آپ نے ایک خواب ہی دے دیا تو جناب! اگر میں ایڈیٹر بنوں گی تو سب سے پہلے سرورق کو ٹھیک کروںگی۔

بے شک ڈائجسٹ خواتین کا ہے، ماڈل بھی خواتین ہی ہوتی ہیں مگرکیا ہے کہ ہم ایک دوپٹہ اڑھا دیا کریں۔ یار دلہن بھی تو دوپٹہ لیتی ہے شادی والے دن۔

دوسرا سیریل نمبر تو ہم دیتے ہیں مگر ہر صفحے پر کہانی کا نام نہیں لکھ سکتے تو کم از کم شروع کے پیج پر کہانی کا نام لکھ دیا کریں۔ دوسرا یہ جو کمرشل کے رنگین پیج ہیں یہ اگر کہانی کے شروع میں نہیں تو کم از کم بیوٹی بکس کے صفحے سے پہلے یا پھر کھانے کی ترکیب سے پہلے اچار کا کمرشل، بیوٹی بکس سے پہلے سلم اسمارٹ کے اور دوسرے کمرشل دے سکتے ہیں۔

شاہین رشید صاحبہ انٹرویو کرنے والے کی تصویر واضح کرکے اور شروع میں لگادیا کریں۔

بندھن میں شادی کی تصویر لازمی، اس کے بعد عام روٹین کی تصویر بھی لازمی ہو۔

نئی لکھنے والی لکھاری بہنوں کو اتنا موقع ضرور دوں گی کہ پچاس فیصد نوک پلک سنوار کر ان کو ایک رائٹر بننے میں مدد دوں گی۔

ہر مہینے کسی نئی اور پرانے فنکار کا انٹرویو ضرور کرائوں گی۔

اور ایک بات. ہر ماہ کسی بھی ایک ماں کا انٹرویو۔

وہ ماں جس نے ساری زندگی محنت کی اور اپنی بیٹی کو ایک اچھا انسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا، وہ مائیں سیلوٹ پیش کرنے کے قابل ہیں جنہوں نے خود ان پڑھ ہوتے ہوئے اپنی بیٹیوں کو علم کی روشنی عطا کی۔

(3) عید الاضحی کے حوالے سے خاص اہتمام۔ میرا دل تو ہر دن کو منانے کے بس خواب ہی دیکھتا ہے۔ یہ دن بھی تو آپ تب ہی مناسکتے ہیں جب رونق ہو، میلہ ہو۔ آپ کی فیملی، آپ کے بہن بھائی آپ کو اپنا سمجھتے ہوں، مل کر ساتھ رہتے ہوں۔ مزہ تو تب ہی آتا ہے کسی بھی تہوار کو منانے کا۔

(انسان کو ویسے زندہ دل ہونا چاہیے، میرے ہسپتال میں ایک لیڈی ہیلتھ ورکر ہے ویسے تو چھبیس ورکرز ہیں مگر انفرادیت کے حوالے سے بات کررہی ہوں وہ کرائے کے مکان میں رہتی ہے اور میاں اس کا درزی ہے۔ تین بیٹیاں اور تین ہی بیٹے ہیں۔ دو بیٹے ایک بیٹی شادی شدہ ہے، وہ سب لوگ اکٹھے ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔ سنڈے تک کو وہ انجوائے کرتی ہے۔ پورا ہفتہ کام کیا۔ سنڈے کو دیر تک سوتی ہے اور پھر کسی جگہ سیرو تفریح کے لیے نکل جاتے ہیں۔ اسی طرح ہر سال وہ لوگ مری ضرور جاتے ہیں۔ اس بار میرا بھی ارادہ ہے مری جانے کا۔

پھر وہ کہیں نہ کہیں انوائٹ ہوتی ہے، کسی نند کی طرف، کسی بھابھی کی طرف۔ کسی بیٹے کے سسرال کی طرف، مجھے رشک آتا ہے اس پر۔

عید الاضحی کے حوالے سے میں جو خاص اہتمام کرتی ہوں۔ وہ تو قربانی کا ہے۔

چونکہ میری گورنمنٹ جاب ہے، سیلری اچھی ہے اور ماشائ اللہ سے اسکیل بھی چودہ ہے۔ ریگولر جاب ہے تو پھر قربانی بھی مجھ پر فرض ہے۔

بات یہ ہے کہ میرے خاندان میں سب ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے والے ہیں۔ کوئی کسی توڑے کو جوڑنے والا نہیں ہے۔

اسی طرح قربانی کے وقت میں نے یا چھڑا لے لیا اور نہیں تو بڑی قربانی میں حصہ ڈال دیا۔

میں پچھلے تین سال سے ترس رہی ہوں پائے کھانے کے لیے مگر کسی رشتے دار کے گھر سے پائے نہیں آئے۔ میں سارے کا سارا گوشت (بکرا لیتی ہوں) تقسیم کردیتی ہوں۔

تو میرا اہتمام بکرے کی خریداری کے ساتھ ساتھ مما کے لیے کپڑے لینا، اپنے لیے کپڑے پھر گھر کا راشن وغےرہ۔ چونکہ ہمارے گھر میں فریج ہی نہیں اور نہ ٹی وی ہے تو ہم لوگ لمبے‘ چوڑے جھنجٹ سے بچ جاتے ہیں۔ کھانا بھی اتنا ہی پکاتے ہیں جتنا کہ ہم کھالیں۔ شیلٹر ہوم کا اور ہم ماں بیٹی کا کھانا ایک جگہ پر ی پکتا ہے۔

شیلٹر ہوم میں زیادہ لوگ ہوں تو زیادہ سبزی جاتی ہے، کم ہوں تو کم۔ بجٹ میں سے بچ جانے والے پیسے شیلٹر ہوم کی تعمیر کے کام آجاتے ہیں۔

اس مرتبہ بھی میرا انتخاب بکرا ہے، ان شائ اللہ۔ مگر میں پریشان ہوں کہ ذبح کون کرے گا؟ میرے پاپا تو مجھے منہ نہیں لگاتے تو میری قربانی کیسے کریں گے۔ میرے پاپا آکر قربانی کردیں کیونکہ میرے پاپا بہت اچھی قربانی کرتے ہیں۔ ورنہ ہم ماں بیٹی کی بقر عید قربانی کروانے کے لیے قصائیوں کے چکر میں ہی گزر جائے گی اور قصائی بھی وہ ہاتھ آئے گا جو اناڑی ہوگا، اللہ خیر کرنا۔

خاص ڈش جو ہمارے گھر میں بقر عید پر بنتی ہے اورمیرے گھر والے اس ڈش کو انجوائے بھی کرتے ہیں۔وہ ہے نمکین گوشت، اس کی ترکیب لکھ رہی ہوں۔

سب سے پہلے آپ اپنے حصے کے گوشت کو علیحدہ کریں۔

غریبوں کا حصہ اور رشتے داروں کا حصہ اور تیسرا اپنا حصہ۔

آپ اپنے حصے کا گوشت نکال لیں اور اچھی طرح بوٹیاں علیحدہ کرلیں۔ اب تقریباً ایک کلو گوشت کو علیحدہ کرلیں۔ دیگچی میں گوشت ڈالیں۔

ہلدی، نمک، زیرہ، سبز مرچ، ادرک پیس کر شامل کرلیں۔

بکرے کا گوشت چونکہ جلدی نہیں گلتا لہٰذا دو گلاس پانی اور ایک چمچہ لہسن کا پیسٹ ڈال کر درمیانی آنچ پر پکنے کے لیے رکھ دیں۔ جب پانی خشک ہوجائے اور گوشت گل جائے تو ایک کپ دہی شامل کرکے اچھی طرح بھونیں۔ قربانی کے گوشت میں چونکہ چکنائی پہلے سے ہی ہوتی ہے لہٰذا ضرورت نہیں ہے آئل ڈالنے کی۔ جب دہی بھی اچھی طرح گوشت میں مکس ہوجائے اور دہی کا پانی بھی خشک ہوجائے تو چولہا بند کردیں، سبز دھنیا ڈال کر دم دے دیں۔ پانچ منٹ کے بعد چولہے سے اتار لیں اور تندروی روٹی کے ساتھ نمکین گوشت تناول فرمائیں اور بقر عید کا مزہ لیں۔

راہی حمید. ضلع کوہاٹ

(1)مجھے زندگی میں جتنے بھی لوگ ملے انہوں نے اپنے اخلاق سے متاثر کیا کرنا تھا بلکہ میرا دل ہی توڑا اور خفا کیا۔ ان کے اخلاق سوز لہجے سے بہت دل برداشتہ ہوئی ہوں۔ اس کی بھی بڑی لمبی کہانی ہے کبھی موقعہ ملے گا تو ضرور سنائوں گی۔

(2) اگر مجھے ایڈیٹر بنایا گیا تو مہینے کے بجائے ہر ہفتہ شعاع، کرن، خواتین نکالوں گی۔

(3) عید الاضحی کے لحاظ سے تو اس دفعہ تو بڑی مشکل ہوگی قربانی کرنا، کیوں کہ ہم لوگوں نے اپنا ذاتی گھر چار مرلے کا لے لیا ہے جس کی کمیٹیاں ادا کرنی ہےں۔ ہم پر بڑا قرضہ ہے مگر یہ خوشی بھی ہے کہ دس ہزار روپے کرایہ سے جان چھوٹ گئی ہے۔ آپ دعا کریں کہ ہمارا قرضہ جلد اتر جائے، امی کو رات رات بھر نیند نہیں آتی اس پریشانی میں کہ قرضہ کیسے اترے گا ۔ اللہ میری پھوپھو کو سلامت رکھے، وہ عید پر بڑی قربانی کرتی ہیں اور صبح ہی سے ہمارے لیے سب سے پہلے کلیجی اور گوشت بھیج دیتی ہےں۔ ہم تو سادہ لوگ ہیں، کوکنگ بھی سادہ کرتے ہیں۔بڑی آسان سی ترکیب ہے۔

بقرعید کے قربانی کے جانور کے گوشت کی تو اپنی ہی لذت ہوتی ہے۔ہم تو گوشت کو دھوکر ایک برتن میں ڈال کر اس میں لہسن ادرک پیسٹ ڈال کر اور نمک ڈال کر اور ہاں تیل یا گھی تو لازمی ڈالنا ہے۔ ڈال کر بھونتے ہیں اور پھر تھوڑا سا پانی ڈال کر دس سے پندرہ منٹ کے لےے ڈھکن رکھ کر چھوڑ یتے ہیں۔ چولہے کی آنچ درمیانی رکھنی ہے جب گوشت گل جائے تو اس میں ہری مرچیں، ہرا دھنیا، پودینہ کاٹ کر ڈالیں اور کھانے کے لیے نکالتے وقت اس میں ایک عدد لیموں، کالی مرچ اور تھوڑا سا زیرہ ڈال کر پیش کریں۔ یہ ہے ہر بڑی عید پر ہمارے گھر پکنے والی ڈش، اچھی لگی تو پکانا ضرور۔

(٭ پیاری راہی! آپ کا عید کارڈ مل گیا ہے، بہت خوب صورت ہے۔ آپ کا بہت شکریہ۔ )

طلعت ثنائ. سیال شریف

(1) میں اپنی امی سے بہت متاثر رہی ہوں۔ میری امی بہت کم عمری میں بیوہ ہوگئی تھیں۔ پانچ بچوں کا ساتھ اور بیوگی کی زندگی بہت کٹھن مرحلہ تھا لیکن میری امی نے جس بہادری اور ہمت سے ہماری پرورش کی، وہ قابل ستائش ہے۔ میں نے بہت سی عورتوں کو بیوگی میں بچوں کو چھوڑ کر دوسری شادی کرتے دیکھا ہے لیکن ہمارے امی نے ہمارے مستقل کی خاطر بہت ساری قربانیاں دی ہیں۔

(2) اگر مجھے ایک دن کے لیے شعاع کا ایڈیٹر بنادیا جائے تو میں یہ عہدہ لینے سے فوری انکار کردوں گی کیونکہ میں شعاع میں کوئی تبدیلی نہیں چاہتی، یہ جیسا ہے مجھے اسی طرح پسند ہے۔

وہ کہتے ہیں نا.

’’جس کا کام اسی کو ساجھے‘‘

(3) میں عید الاضحی پر بھی بچوں کے نئے کپڑے بناتی ہوں۔ عید الاضحی سے پہلے تمام مسالاجات اور سودا سلف منگوالیتی ہوں۔ گھر کی تفصیلی صفائی سے زیادہ کچن کی تفصیلی صفائی پر توجہ دیتی ہوں اور فریج کو لازمی صاف کرتی ہوں۔ سویٹ ڈش بھی رات کو بنا کر رکھ دیتی ہوں۔

ویسے تو سب کی الگ الگ پسند ہوتی ہے لیکن جو ڈش سب کو پسند ہے وہ ہے نمکین گوشت. نمکین گوشت سب شوق سے کھاتے ہیں اور یہ ایسی ڈش ہے جو صرف عید الاضحی پر ہی کھائی جاتی ہے۔ باقی پورا سال یہ کم کم بلکہ نہ پکنے کے برابر ہے کیونکہ عید الاضحی کے گوشت کی ایک الگ لذت اور ذائقہ ہے جو پورا سال کسی گوشت میں نہیں ہوتا، اس لیے میں نمکین گوشت کو عید الاضحی کی خاص ڈش کہوں گی کیونکہ یہ گھر میں لازمی بنتی ہے۔

تبسم بشیر حسین. ڈنگہ

(1) دوست تو میرے ہیں نہیں جو کبھی تھے وہ بس ایویں سے تھے۔ ان میں سے کوئی بھی مجھے متاثر نہ کرسکا۔ ہاں ایک دوست ہے جو ابھی نیا نیا ہے، راغب۔ میں اس سے بہت متاثر ہوں۔ وہ اپنی عمر سے زیادہ سمجھ دار اور سلجھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ میں اپنی مس فائزہ سے بے حد متاثر ہوں، وہ میری آئیڈیل ہیں۔ میں ان جیسی بننا چاہتی ہوں، میں حمیر بھائی سے بہت متاثر ہوں ۔

(2)ہاہاہا. سچ میں رضےہ آپی! ایک دن کی شعاع کی ایڈیٹر اگر میں بنی تو میں صرف اپنی کہانیاں شائع کروں گی یعنی وہ پورا شمارہ میرا ہوگا، صرف میرا۔ اور دوسروں کو دکھائوں گی کہ دیکھو میں اتنی بڑی رائٹر بن گئی ہوں کہ پورے شعاع میں صرف میری ہی کہانیاں ہیں (کاش! ایسا ممکن ہوتا) ۔

(3) تین بندوں کی بھلا کیا عید؟ پھر بھی گھرکی ساری تفصیلی صفائی ہوتی ہے۔ پردے، فرش، مسالے کے ڈبے، بیڈ شیٹ، فریج کی دھلائی تو لازمی کرتی ہوں۔ ہرا مسالا خوب سارا پیس کر رکھ لیتی ہوں۔ تاکہ بار بار پریشانی نہ ہو۔ اس کے علاوہ توکوئی خاص اہتمام نہیں کرتی ہوں کیونکہ ہمارے گھر تو کسی نے آنا نہیں ہوتا۔

جہاں تک گوشت کی خاص ڈش کی بات ہے تو ماہا کو اچاری گوشت بہت پسند ہے۔ مما مٹر قیمہ شوق سے کھاتی ہیں، پر اس دفعہ وہ اتنی بیمار ہیں کہ بامشکل ہی دودھ پی سکتی ہیں۔ پلیز آپ سب میری مما کی صحت کے لیے دعا کریں۔

حفصہ اسلم نیازی. دریا خان بھکر

(1)آپ نے ٹھیک کہا۔ ہم زندگی میںبہت سے لوگوں سے ملتے ہیں۔ بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں ۔ مجھے اپنی زندگی میں ہر لحاظ سے جس نے سب زیادہ متاثر کیا وہ میرے پھوپھا عنایت اللہ خان ہیں۔ عنایت اللہ ماموں ایک بہترین انسان، بہترین مسلمان، فرماں بردار بیٹے، مہربان شوہر، شفیق باپ، عزت کرنے والے بھائی۔

انہوں نے ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھولی۔ اپنے لڑکپن میں ہی انہوں نے لکڑیوں کے آرے، آٹے کی چکی سمیت چھوٹے چھوٹے کاروبار شرو ع کردیے تھے۔ اپنی لگن، محنت کے بل بوتے پر انہوں نے اینٹوں کے بھٹے میں پارٹنر شپ کرلی۔

آج صرف چھتیس سال کی عمر میں ان کا شمار ضلع کے معزز اور بڑے ٹھیکے داروں میں ہوتا ہے۔ اتنا دولت مند ہونے کے باوجود ان کے اندر عاجزی کوٹ کوٹ کے بھری ہے۔ بہت مہمان نواز ہیں۔کوئی رشتہ دار بیمار ہو تو دو ، تین بار جاکے اس کی خیریت خود پوچھتے ہیں۔ اپنی گاڑی میں ہاسپٹل لے جاتے ہیں۔ رات کے دس بارہ بجے تک اپنی نیند کی پروا کیے بغیر مرےض کے ساتھ رہتے ہیں۔

ان کے والد شوگر کے مریض ہیں۔ ان کے پیر کی انگلی میں زخم ہوگیا۔ وہ روزانہ ان کو لے کر بھکر جاتے تھے اور نئی پٹی کراتے تھے، مسلسل دو ماہ تک روزانہ یہ سلسلہ جاری رہا۔ پھوپھا عنایت اللہ کی جس بات نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ان کا دین سے لگائو ہے۔

بچپن سے آج تک انہوں نے اپنی کوئی نماز قضا نہیں کی۔ چاہے بخار ایک سو چار ہو یا کمر کے مہروں کا آپریشن ہو، انہوں نے نماز قضا نہ کی۔

میری خواہش ہے کہ میرے بھائی ان جیسے بنیں۔ اللہ ان کو لمبی عمر اور صحت دے، آمین ثم آمین۔

(2) کیا پوچھ لیا۔ شعاع کے ایڈیٹر اور ہم۔ سب سے پہلے تو میں ایک دو افسانے نکال کے تمام قارئین کے خط شامل کروں گی۔ دوسرا کام میں ادارے میں آئے تمام ناول اور افسانے پڑھوں گی۔ کتنا مزے کا دن ہوگا وہ۔

(3) یقینا سارے پاکستان کی خواتین گھر کی صفائی کرتی ہوں گی، نئی کراکری لاتی ہوں گی عید سے پہلے۔ مگر میں سب سے مختلف اہتمام کرتی ہوں عید کا اور وہ ہے ڈائٹنگ۔ جی جناب میں بقر عید سے قبل وزن کم کرتی ہوں کیوں کہ پھر کھا کھا کے وزن بڑھانا بھی تو ہوتا ہے۔ بقر عید کے بعد کالج جائو تو سب سہیلیاں حمیرا، عائشہ، مہوش. ویسے کی ویسی صرف میرے گال پھول چکے ہوتے ہیں۔ اس لیے اب میں وزن کم کرتی ہوں۔ بقر عید پر حساب برابر ہوجاتا ہے۔ ہے ناں مزے کی بات۔

عید کے پہلے دن ہمارے گھر کالی مرچوں والا نمکین بھنا گوشت بہت پسند کیا جاتا ہے اور عید کے دوسرے دن تکے سب گھر والے شوق سے کھاتے ہیں۔

ثوبیہ نور. بھاو ل نگر

(1) کہتے ہیں کہ زندگی ایک سفر ہے۔ دوسروں کی خوشی میں خوش ہونا اور تکلیف میں اپنا آپ بھلا کر دوسرے کی مدد کرنا ہی انسانیت ہے۔

ایسی ہی شخصیت جن سے متاثر ہونا بنتا ہی ہے ہمارے گاؤں میں پائی جاتی تھی بڑھاپے کی طرف قدم اٹھاتی عمر لیکن ان کی چال میں نہ کوئی لڑکھڑاہٹ نہ ادھر ادھر کے مسائل اپنے سر لینے میں کوئی ہچکچاہٹ۔ ان خاتون نے نے گاؤں بھر میں جو مدد کرنے کا رویہ اپنائے رکھا۔ اس کا صلہ آج ان کی تیسری نسل کھارہی ہے۔

(2)بابا ایڈیٹر او رمجھے؟

یہ عہدہ مجھے مل جائے تو کانپتے ہاتھوں اور تیز سے تیز تر ہوتی دل کی دھڑکن لےے میں ادارے کے سب کام کرنے والوں کو جاکر دیکھوں گی ۔ ہم جو تخیل میں ایک ماحول بنائے بیٹھے ہیں۔ شعاع کا بڑا سا دفتر اور اس کے اندر ذیلی دفاتر میں کاغذات کے پلندے لےے ادھر سے ادھر بھاگتے افراد اور کہیں قلم کو دو انگلیوں کے درمیان دبائے۔ اوراق کا عمیق نظری سے جائزہ لیتے اس انبار میں سے بڑے بڑے یا بڑی بڑی مصنفات کو تلاشتے جوہری، کوئی پوچھے۔

’’میڈم جی تنزیلہ ریاض کا ناول آیاہے ابھی لگانا ہے یا اگلے مہینے۔‘‘ تو میں سب نظر انداز کیے اندھا دھند تنزیلہ ریاض کے ناول تک جا پہنچوں کہ اس مہینے نا اگلے، بلکہ ابھی. اور اس کے بعد آنکھ کھل جائے۔

(3)یہ سوال میرے کام کا نہیں۔ شاید آگے کہیں مستقبل میں قابل توجہ لگے۔ ابھی تک تو یہی صورت حال رہی ہے کہ ہم بنادیتے ہیں اور گھر والے مروتاً چپ کرکے کھالیتے ہیں۔ آگے کا بھی اللہ مالک ہے۔

فاطمہ تقی. میرپورخاص

میں ایک طویل عرصے خواتین اور شعاع کی قاری ہوں اپنی زندگی کے کتنے فیصلے کرنے میں یہ دونوں رسالے میرے لےے مشعل راہ بنے۔

(1)زندگی کے سفر میں ہم بیشتر لوگوں کی مختلف خوبیوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ مگر کلی طورپر جو خوبیاں ہمیں متاثر کریں۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پاک کے بعد اگر میرے لےے کوئی ہے تو وہ صرف اور صرف میرے ابو ہیں۔ میرے ابو کی وفات کو سولہ سال ہوگئے ہیں مگر کیا ہی درویش طبیعت پائی تھی انہوں نے بچپن سے پانچ وقت کی نماز کے پابند، تلاوت قرآن پاک کے پابند۔

چھوٹی سی عمر میں ہی موذن (اذان دیتے تھے) بن گئے۔ گھر بھی سنبھالا بیوی بچوں کے بھی حقوق ادا کےے اور اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی آدھی آدھی رات تک پڑھتے اور تہجد گزار ، جو بات بری لگے منہ پر بولتے۔ امر باالمعروف، ونہی عن المنکر کی پیروی کرتے بچوں کو مفت سپارہ پڑھاتے۔ ان سے ہنسی مذاق بھی کرتے۔ بہت بہت ایمان دار، سچے اور اللہ والے تھے۔ کسی کے معاملے میں نہیں بولتے تھے۔ دنیا اور دنیا داری سے اتنا ہی تعلق تھا جتنا ہمیں حکم دیاگیا ہے۔ غرور نام کی کوئی چیز نہیں اور ماشائ اللہ ان کی وفات بھی مسجدمیں ہوئی۔ عشائ کی نماز پڑھتے پڑھتے اللہ نے ان کو اپنے پاس بلالیا۔ شہادت کا رتبہ ایسے ہی تو نہیں مل جاتا۔ اپنی جان مارنا پڑتی ہے اور اپنے نفس سے مجاہدہ کرنا پڑتا ہے۔

وفات کے بعد تین چار بار میرے خواب میں آئے اور ہر بار کہتے۔

’’ فاطمہ بچہ مت روؤ تمہیں نہیں پتا مجھے اللہ نے کتنا اجر دیاہے۔ وہ دیکھو آسمان اور جب میں اوپر دیکھتی تو نور سے بھرا ہوتا۔ کہتے کہ یہاں سے آسمان تک مجھے اجر ہی اجر ملاہے۔‘‘

اف ! مت پوچھیں کتنا اچھا لگتاہے ابو کے بارے میں بتاتے ہوئے ۔ کاش اللہ تعالیٰ ہم سب کو بھی ایسی شخصیت اور ایسا ہی خاتمہ عطا فرمائے۔ ( آمین)

(2) ایڈیٹر ہاہاہا.اگرمیں ایڈیٹر ہوئی تو یقینا رسالہ 1ماہ میں ہی بند ہوجاتا۔ سچ بات ہے اتنی صلاحیت ہر کسی میں کہاں ہوتی ہے یہ تو خداداد صلاحیت ہے جو کسی کسی کو ملتی ہے اور اتنی ذمہ داری سے سب کچھ دیکھنا، اس کو تسلسل سے جاری رکھنا اور وقت پر ہر چیز تیار رکھنا مشکل کام ہے۔ پھر بھی اگر ایسا کچھ ہوتا تو اپنی پوری کوشش کرتی کہ بہتر سے بہتر کام کروں اور پہلے ایڈیٹر سے پوری طرح مدد کی درخواست کرتی اور ان سے سیکھتی۔ ہاہاہا۔

(3)ماشائ اللہ ہر سال خصوصی طورپر جانور خریدتے ہیں، جس میں بکرا اور بڑا جانور بھی شامل ہوتا ہے۔ اس عید پر خاص طورپر غریبوں کا خیال رکھتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ گوشت ان میں تقسیم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سب رشتے دار وغیرہ عید ملنے آتے ہیں اور ہم بھی جاتے ہیں تو ان کی مہمان نوازی کے لےے، کبھی نمکین گوشت، بھنی کلیجی، عیدی دینے اور دعوتوں کا اہتمام بھی ہوتاہے البتہ پہلے دن تیاری (میک اپ کپڑے) کا موقع نہیں ملتا۔ اس عید پر اسپیشل سب مل کر باربی کیوں اہتمام کرتے ہیں۔ مل کر مزہ بھی آتاہے اور رونق بھی لگ جاتی ہے۔ سب گھر والے چانپیں شوق سے کھاتے ہیں۔ چپلی کباب کے عید سونی سونی لگتی ہے۔ اسٹیم روسٹ کی ترکیب حاضر ہے امید ہے پسند آئے گی۔

گوشت

ایک کلو

دہی

ایک پاؤ

لہسن ادرک پیسٹ

ڈیڑھ چمچہ

نمک، مرچ

حسب ذائقہ

سفید زیرہ

ایک چمچہ

ثابت دھنیا

ایک چمچہ

پسا گرم مسالا

ایک چمچہ

ہری مرچیں

پانچ عدد

لیموں

ایک عدد

ہلدی

آدھا چمچہ

ترکیب:

لہسن ادرک اور ہری مرچیں پیس لیں دہی میں تمام مسالے دہی ڈال کر پھینٹ لیں اور گوشت میں مکس کرکے دوگھنٹے کے لےے رکھ دیں۔ دیگچی میں دو چمچے آئل ڈال کر میرینیٹ گوشت ڈال کر اسٹیم میں پکائیں جب گل جائے تو کوئلے کو دہکا کر اس میں دھواں دے د یں۔ مزے د ار روسٹ تیار ہے۔

مہنا رانیـ

(1)متاثر ہونے کا تعلق ہے تو جنہوں نے متاثر کیا زندگی میں لسٹ میں اولیت رکھتے ہیں وہ شعاع اور خواتین ہیں اب اگر آپ کا سوال یہ ہو کہ یہ افراد نہیں کتاب کے زمرے میں آتے ہیں تو میرا جواب ہوگا کہ یہی میرے دوست واحباب ہیں۔

(2)سوال نمبر دو کا جواب ہے کہ اگر مجھے ایک دن کے لےے ایڈیٹر بنادیاجائے تو میں اپنی ذمہ داریاں بھول کر بہت سے ناول پڑھوں گی کیونکہ ایک دن کے بعد مجھے ایڈیٹر کے عہدے سے ہٹاتو دیناہے۔

(3)میں عیدالاضحی پر کوئی خاص ڈش نہیں بناتی کیونکہ مجھے گوشت پسند ہی نہیں نہ میں کھاتی ہوں ہاں ماما کا جوتا یاہاتھ اٹھے تو ایک آدھ بوٹی نگل ہی لیتی ہوں۔ رسالوں سے ریسپی دیکھ کے بہن بھائیوں کے لےے کچھ نہ کچھ ضرور ٹرائی کرتی ہوں۔ باقی جو ماما، پاپا کہیں مگر دادی کا حکم سرفہرست ہوتاہے۔ ( دیکھ لیں بہن بھائیوں میں بڑی ہوں پھر بھی ماما مارتی ہیں یہ تو میرے ساتھ زیادتی ہے نا آپ بھی انیس سالہ بچی کو ماریں گی کیا؟ ( ہاہاہا)

تسنیم کوثر. کراچی

آپ کا پہلا سوال کہ زندگی میں ہم بے شمار لوگوں سے ملتے ہیں تو وہ شخصیت جس نے ہمیں متاثر کیا وہ کون ہے تو جناب کچھ یوں کیا .

(1)عرض ہے کہ میری زندگی میں میرے نزدیک جس سے میں بے انتہا متاثر رہی وہ کوئی اور نہیں میرے محبوب شوہر ہی تھے۔ شاندار شخصیت، اعلیٰ تعلیم یافتہ، مخلص، نیک سیرت، بے شمار صلاحیتوں کے حامل جس کا کوئی ثانی نہیں۔ یقین جانیے بعض دفعہ تو مجھے اپنی قسمت پر ناز ہوتاتھا۔ بہرحال میں اپنے شوہر کی متاثر کن شخصیت سے حد درجہ متاثر تھی۔ مگر افسوس اب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں۔

(2)زبردست سوال کہ ایک دن کے لےے شعاع کا ایڈیٹر بن جائیں تو کیا ہو۔ ارے بھئی اگر کبھی غلطی سے ایسا ہو بھی جائے جو کہ ناممکن ہے تو سب سے پہلے ہم سب کی باہمی رضا مندی سے اپنے پیارے شعاع کی قیمت میں تھوڑا سا اضافہ کریں گے اورپوری کوشش کریں گے کہ افسانے ناولز تمام سلسلے خوب سے خوب تر ہوجائے بلکہ یوں سمجھیے شعاع کو نمبر ون بنادیں گے اور شاندار شاہ کار بے مثال بناکر رضیہ جمیل صاحبہ کے حوالے کردیں گے۔ کہیے ٹھیک سوچا ہے نا ہم نے۔

(3)عیدالاضحی پر ہم کیا اہتمام کرتے ہیں نہ پوچھیے کتنا پھیلاوا اور بے تحاشا کام ہوتاچونکہ ہمارے ہاں پہلے دن بکرے کی قربانی ہوتی ہے اور دوسرے دن گائے کی قربانی ہوتی ہے تو بس گوشت کی مختلف ڈشز تیار ہوتی ہیں۔ جن میں بھنی ہوئی لذیذ کلیجی، بریانی، کڑاہی وغیرہ وغیرہ اور جس میں سرفہرست باربی کیو بھی شامل ہے چونکہ ہم مہمان نواز ہیں تو اس لےے مہمانوں کی تواضع بھی خوب دل سے کرتے ہیں۔ اور ہاں ہمارے گھر میں بھنی ہوئی فرائی کلیجی نہایت شوق سے کھائی جاتی ہے۔

نورین . بنوں ،خیبرپختونخواہ

(1)واقعی ہم زندگی میں بہت لوگوں سے متاثر ہوتے ہیں لیکن آج میں کسی سے بھی متاثر نہیں ہوئی (کوئی متاثر کرنے والاملے تب نا) ہاہاہا۔

(2)اگر مجھے ایک دن کے لےے شعاع کا ایڈیٹر بنادیاجائے تو سرورق میں تبدیلی کروں گی۔ ماڈل کو ہتاکر خطاطی یا کوئی سیاحتی مقام لگاؤں گی۔ کیونکہ تقریباً پچاس فیصدگھروں میں ڈائجسٹ پڑ ھنے پر اسی وجہ سے پابندی لگائی جاتی ہے کیونکہ زیادہ تر لوگ ان پڑھ ہیں تو ظاہری صورت سے اندازہ لگایاجاتاہے۔

(3)عیدالاضحی کے موقع پر خاص اہتمام کیاجاتا ہے ( آخر عید جو ہوتی ہے) تکہ بوٹی، کڑھائی، پلاؤ اور قیمہ تو لازمی بنایاجاتاہے۔ باقی میٹھا وغیرہ کم ہی بنایا جاتا ہے اور خاص ڈش تو قیمہ ہی ہے جو سب گھر والے شوق سے کھاتے ہیں۔ باقی تو ہمارے گھر میں ہر ایک کی پسند الگ الگ ہے۔ اور اس دعا کے ساتھ اجازت چاہوں گی۔

تمہاری سالگرہ کے دن یہ دعا ہے ہماری

جتنے ہیں چاند تارے، اتنی ہو عمر تمہاری

بریرہ مشتاق . کوٹ نجیب اللہ ہری پور

(1)میں اپنی زندگی میں بہت کم لوگوں سے تماثر ہوتی ہوں۔ میری کلاس ٹیچر مس نصرت فاطمہ جن سے میں بہت متاثر ہوئی۔ مجھے ان کا دھیرے دھیرے بولنا ان کا لانبا قد، سرخ وسفید رنگت ، ان کا اخلاق بہت پسند تھا۔ دو سال وہ ٹیچر رہیں لیکن میرے سمیت پوری کلاس کو کبھی نہیں ڈانٹا مارنا تو دور کی بات ہے، وہ اب بہت یاد آتی ہےں مجھے۔

(2)یہ تو بڑے اعزاز کی بات ہے۔ ایک دن کے لےے ہی میں ایڈیٹر بن جاؤں، میں تو سب سے پہلے شاہین رشید کا انٹرویو لوں گی۔ شعاع کو اور تبدیلی کی ضرورت نہیں۔ بہت مکمل اور منفرد ہے ہمارا شعاع۔ شعاع کی تحریریں بھی بہت معیاری ہوتی ہیں اور تمام سلسلے رائٹرز بھی اور ہاں صرف اپنی ہی کہانیاں شائع کروں( ہاہاہاہا) ۔

(3)میں اکلوتی بہن ہوں، تین بھائیوں کی۔ امی بھی فوت ہوگئی ہیں۔ گھر کی ساری ذمہ داری میرے ناتواں کندھوں پر ہے۔ مجھے اچھا کھانے اور پکانے کا بہت شوق ہے۔ نت نئے کھانے ٹرائی کرنے کا دل کرتاہے مگر افسوس پرس اتنی اجازت نہیں دیتا اب اتی ہوں عیدالاضحی کے سوال کی طرف ۔

عیدالاضحی مجھے پسند ہے نت نئے کھانے پکانے اور پھر مزے لے لے کر کھانے کا الگ ہی مزہ ہے۔ عیدالاضحی میں بہت سی ڈشیں بناتی ہوں مگر گھر والوں کی پسند الگ الگ ہے۔ ابو کو بھنا ہوا قیمہ، نمکین گوشت کلیجی پسند ہے۔ مابدولت کو چپلی کباب بہت اچھے لگتے ہیں اور بنتے بھی مزیدار ہیں۔ مجھ سے چھوٹے بھائی کو مٹن پلاؤ، بھنا گوشت پسند ہے۔ سفیان کو شامی کباب جو میں اور سفیان مل کر بناتے ہیں پسند ہیں۔ سب سے چھوٹے سعد کو سب کچھ پسند جو بھی بنالوں ۔ گوشت تو اس کی آنکھوں پر باندھ دوں۔ یہ تو ہوگئی سب کی پسند آپ جو سب شوق سے کھاتے ہیں خاص ڈش ابو سمیت وہ بھنا ہوا قیمہ اور آلو گوشت ہے۔

آخر میں میری طرف سے تمام قارئین بہنوں اور ادارہ شعاع کو عیدالاضحی کی ڈھیر ساری خوشیاں مبارک ۔

فرحانہ مہناز . گوجرہ

ہم بھری دنیا میں تنہا تو نہ تھے

کوئی رشتہ نہ ملا پھر تیری چاہت جیسا

(1) کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے لےے متاثر لفظ بھی چھوٹا لگتاہے۔ لڑکپن کا دور ایسی ہی شدید گرمی میں رات کو امی جان ٹھنڈا اٹھار دودھ دے کر سلادیتیں لیکن بارہ بجے ابو جان گھر آتے امی جان دودھ دیتیں تو ہاتھ میں پکڑ لیتے اور مجھے جگاتے۔ امی کہتیں وہ پی کر سوئی ہے ۔ نہیں اتنی گرمی ہے لب سوکھ جاتے ہیں ابو جان دوبارہ اٹھاکر پلاتے کہ سوتے میں پیاس نہ لگی ہو۔ صبح اٹھ کر کہتی مجھے سوتے میں دودھ پیانے کا مزہ نہیں آتا مجھے کیوں پلاتے ہیں۔ لیکن اگلی رات پھر وہی۔ کوئی بھی نیا فروٹ، خشک میوہ ، جو پہلے گوجرہ میں نہیں آتا تھا۔ فیصل آباد میں آتا تو وہاں سے میرے لےے لے آتے۔ میٹرک میں لاہور ٹرپ جانا تھا۔ سب دوستوں نے جانا تھا لیکن میں کیسے اپنے پیارے ابو جان سے پوچھتی کیونکہ وہ اس معاملے میں ذرا سخت تھے۔ امی جان سے کہا لیکن چانس کم تھے۔ امی جان نے ایک بار ہی پوچھا۔ میں دروازے کے پیچھے ڈر کر کھڑی کہ ڈانٹ پڑے گی لیکن ابو جان نے کہا پیسے چاہئیں اور کب جانا ہے۔ میری خوشی کا ٹھکانا نہ رہا۔ میری پسندیدہ شخصیت آج سے میرا آئیڈیل میں اپنی بیٹی کی شادی پر دیسی گھی کی دیگوں میں پکے کھانے دوں گا۔ لیکن افسوس شادی سے نو ماہ پہلے میرے ابو جان اس دنیا سے چلے گئے۔ میں اپنے پیارے ابو جان کے بارے میں لکھوں تو سارا ڈائجسٹ بھردوں۔ میرے ابو جان میری پسندیدہ شخصیت تھے۔ ان کے بعد کوئی متاثر نہ کرسکا۔ ’’ ہزار لوگ ملیں گے کہاں وہ اک شخص‘‘

(2) میرے خیال میں جس کاکام اس کو ساجھے۔ بھئی ہم ایڈیٹر نہیں آپ کے پیارے قائین بننا پسند کرتے ہیں۔ ہم تو شعاع کے ایڈیٹر کو دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کی دعائیں دیتے ہیں۔

(3) بقرعید پر جتنا بھی بیف کا گوشت ہوتاہے۔ اس کا قیمہ بنالیتی ہوں۔ گوشت بچے نہیں کھاتے قیمہ کی مختلف ڈش بناتی ہوں۔

کچے قیمے کباب

قیمہ دو بار مشین سے نکلوالیں، اب اس میں پسا ہوا لہسن، ادرک، ہری مرچ ڈالیں، تھوڑا سا نمک مرچ اور انڈے ڈال کر ہاتھوں سے اچھی طرح مکس کریں۔ اب اس کو گول شیپ میں کباب بنالیں۔ تو ے پر آئل ڈال کر فرائی کریں۔ تھوڑی دیر فرائی کرکے توے کی سائیڈ پر رکھتی جائیں اور باقی بناتی جائیں اچھی طرح اس کا پانی دبا کر خشک کریں۔ مزے دار کباب کیچپ کے ساتھ نوش فرمائیں۔

زینب نور . جہانیاں

(1)ایک ایسی ہستی. رجن سے میں بے حد متاثر ہوں. وہ میری ٹیچر عاصمہ حفیظ ہیں۔ ان کا انداز گفتگو، طرز زندگی سادگی، معصومیت اور ذہانت، بول وجال میں اس قدشائستگی کہ میں تو ان کو سنتے ہوئے ہیپناٹائز ہی ہوجاتی تھی۔ انہوں نے اپنی زندگی میں بے انتہا دکھ جھیلے ہیں مگر مجال جو کبھی ان دکھوں کا سایہ تک ان کے چہرے پر نظر آیا ہو۔ جماعت ششم سے جماعت ہشتم تک ان کے پاس زیر تعلیم رہی ہوں۔

(2)ہاہاہاہا. جب سے یہ سوال پڑھا، کئی بار خود سے پوچھ چکی ہوں۔ اگر شعاع کی ایڈیٹر بن جاؤں تو.‘‘ جب پسینے میں شرابور ہاتھ میں جھاڑو پکڑے یہ سوال یک دم سے ذہن میں آیا تو ہنسی آئی۔ پھر توسوچا کہ اگر ایسا ہوجائے تو بس یہی خیال آیاکہ اپنی جان سمیرا حمید اور فرزانہ کھرل سے ملاقات کا چانس بن سکتاہے۔

(3) ہمارے ہاں عید ہو یا بقرعید. دونوں اسلامی تہواروں پر خاص اہتمام کیاجاتاہے۔ وہی تیاریاں جو عیدالفطر کے موقع پر کی جاتی ہیں۔ کپڑے، جوتے، چوڑیاں مہندی (جن کی میں شیدائی ہوں) گھر کی صفائی ستھرائی. ہاں عیدالاضحی پر اضافی کام یہ ہوتاہے کہ کچن کو پہلے سے زیادہ رونق بخشی جاتی ہے۔

عیدالاضحی پر جو خاص اہتمام کیاجاتاہے، وہ پیاز خریدنا ہے( ہاہاہا. عین موقع پر زیادہ مہنگی ہوجاتی ہے ) ہمارے ہاں اللہ کے فضل وکرم سے عام دنوں میں بھی بہت مہمان آتے ہیں مگر عیدالاضحی پر تو زیادہ ٓتے ہیں ( آہم. ہم مولوی ہیں ناں. اس لےے) کوشش کرتے ہیں کہ ایک دن پہلے ہی مسالہ (دھنیا، گرم مسالا، لہسن وغیرہ) گرائنڈ کرکے رکھ لیں۔ ( یہ الگ بات کہ اس کوشش میں کامیاب کبھی کبھی ہی ہوپاتے ہیں) خاص ڈش؟ دو تین سال پہلے تک تو بریانی، قورمہ اور نمکین گوشت کھاکر ہی خوش ہوجاتے تھے۔ نہ کچھ بنانا آتا تھا۔ نہ بناتے تھے۔ آپیوں کی شادی ہوچکی تھی اور میں .

خود سوچ لیں میٹرک کی ایک دیہاتی اسٹوڈنٹ کو کیابنانا آتا ہوگا۔ مگر اللہ شادو آباد اور قائم ودائم رکھے شعاع وخواتین کو . اب شامی کباب، کوفتے اور روسٹ بنالیتے ہیں۔ مگر سب لوگ جتنے شوق سے بریانی کھاتے ہیں۔ اتنے شوق سے کچھ بھی نہیں کھاتے۔ بقرعید کے بعد جب تک گوشت ختم نہیں ہوجاتا تب تک تقریباً روز ہی بریانی بنتی ہے۔ کبھی دوپہر کے کھانے میں، کبھی شام کے کھانے میں (یقین کیجےے اپنے حصے کا ہی فریز کرتے ہیں)

باقی یہ جو بوٹی باربی کیو پارٹیز ہوتی ہیں، ان کے بارے میں یا تو کہانیوں میں ہی پڑھا ہے یا ڈراموں میں دیکھا ہے( وہ بھی بچپن میں ہمسایوں کے گھر، ہمارے گھر ٹی وی نہیں ہے ناں)

دوسرا نمکین گوشت سب کھاتے ہیں۔ جس کو ہماری زبان میں (سوڑا ہوا گوشت) کہتے ہیں۔ باقی چیزوں میں ہمیں کوئی انٹرسٹ نہیں۔

عنبر سعید . لاہور

(1)ہمارے عزیزوں میں ایک آنٹی ہیں میں جب بھی ان سے ملی بہت متاثر ہوئی میرا دل کرتاہے جب میں ان کی عمر کو پہنچوں تو ان ہی کی طرح دکھوں۔ بہت سوبر اور نرم خو ہیں۔

دوسرے نمبر پر مولانا ثاقب رضا مصطفائی ہیں ان کے بیان دو سال پہلے سنے تھے۔ ایک پروگرام ہوا تھا ہمارے علاقے میں، ان سے متاثر ہوں، بہت شوق سے ان کے بیان سنتی ہوں۔

(2)ہاہاہا یہ تو بہت مزے کا سوال ہے سچی اگر مجھے شعاع کا ایڈیٹر بنادیاجائے تو ساری بہنوں بشمول میرے جن کے خط نہیں چھپتے، ان کے خط چھاپ دوں۔

(3)عیدالاضحی سنت ابراہیم ِو اسمعیل ِہے خصوصی اہتمام کرتے ہیں لوگ قربانی کا جانور دس پندرہ دن پہلے ہی لے آتے ہیں اس کے ناز نخرے اٹھاتے ہیں۔ عیدوالے دن سب سے پہلے تو کلیجی کا سالن بنتاہے جو سب گھر والے اور قصاب پارٹی مل کر کھاتے ہیں۔ ان الوگوں سے جو بچ جائے۔ وہ میں چکھ لیتی ہوں۔ کلیجی نہیں کھاتی میں پھر سارا دن گوشت کی تقسیم اور گھر کی صفائی ستھرائی میں گزر جاتا ہے ۔

شام کو مہمان آتے ہیں، ان کے لےے اسپیشل ڈش ہے نمکین گوشت ،وہ بنتاہے ساتھ تو ے پر بنی نرم گرم اور یہ بری بڑی چپاتیاں جومیں خود بناتی ہوں۔ پیش کی جاتی ہیں یہ گوشت روٹی کے ساتھ اور بغیر روٹی کے بھی کھایا جاسکتا ہے جس کا جیسے دل چاہے کھائے اور مجھے دعائیں دے۔

دوسرے دن پلاؤ بناتی ہوں اور محترمہ سائرہ رضا نے ایک دفعہ کبابوں کی ترکیب بتائی تھی، اسی طرح بناتی ہوں، سب شوق سے کھاتے ہیں۔

نیر فہیم خان. کراچی

عید الاضحی کا مقدس تہوار اور ہمارے شعاع کی سالگرہ ایک ساتھ آئے اور ہم اس میں شریک نہ ہوسکیں یہ تو ناممکن سی بات ہے۔

(1) زندگی میں ہر شخص اپنا کوئی نہ کوئی اثر چھوڑ جاتا ہے، کچھ اچھا تاثر چھوڑتے ہیں، کچھ برا۔ کچھ سے ہم متاثر ہوتے ہیں، کچھ ہمیں متاثرین میں شامل کردیتے ہیں چونکہ خاندان کی پہلی نواسی اور پہلی پوتی ہوں، اسی لیے ننھیال اور ددھیال دونوں جگہ میرا بچپن گزرا۔ میری امی کی ایک بہت اچھی عادت ہے، ہم بچوں کے ذہن میں کبھی بھی کسی بھی شخصیت کے لیے کوئی برائی نہیں ڈالی بلکہ اچھائی کے پہلو اجاگر کیے۔ اگر کبھی کسی نے ڈانٹ دیا اور امی سے کہا تو وہ ہمیشہ یہی کہتیں کہ بیٹا! بڑے آپ کی بھلائی کے لیے ہی کہتے ہیں۔ ماں اور باپ دونوں ہی آپ کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں، ان کا تو خیر کیا ذکر کریں، اللہ تعالیٰ نے یہ رشتہ ہی اتنا حسین بنایا ہے۔

دوستوں کے معاملے میں مجھے رہنما کا درجہ حاصل تھا۔ میں اکثر ان کے مسائل حل کیا کرتی تھی۔ میری ایک دوست عذرا اتنی کم تھی۔ وہ اپنے گھر کے دروازے پر کھڑے ہوکر میرا انتظار کرتی تھی، میرے ساتھ کالج جائے اور واپسی میں اس کو روڈ پار کراکے اس کے گھر تک چھوڑ وں۔ میں اکثر مذاق میں کہتی کہ آئو نابینا. تم کو سڑک کراس کرادوں۔

میری امی کے بعد جس خاتون نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے وہ میری سب سے بڑی خالہ شاہ جہاں ہیں۔ بچپن ہی سے میں ان کے گھر میں دیکھتی آئی کہ دور دراز سے آنے والے مہمانوں کا تانتا بندھا رہتا تھا جو بھی دسترخوان پر ہوتا مہمانون کو پیش کردیا جاتا تھا۔ خالو سرکاری دفتر میں کام کرتے تھے۔ معمولی سی تنخواہ تھی مگر اس کے باوجود انتہائی ذمہ داری کے ساتھ خالو کے چھ بہنوں کی شادیاں کیں۔ خالو کے تین بھائیوں اور ان کی بہنوں، ان کے بچوں سب کو جوڑے رکھا ہے۔ بے مثال فیملی کی روایت قائم کی۔ وہ نام کی شاہ جہاں نہیں ہیں، اپنے اخلاق اور ہمدرد طبیعت کی وجہ سے پورے جہاں کے لیے شاہ ہیں۔بچپن میں اکثر ہی ہم ان کے گھر جایا کرتے تھے اور بچپن کے سنہری دنوں کی بہت سی یادیں ان ہی سے منسوب ہیں۔ بچپن میں ایک بار بہت بیمار ہوگئی تھی تو مجھے ابو سے ضد کرکے اپنے گھر لے آئیں اور میرا خیال رکھا۔ ماحول کی تبدیلی نے مجھ پر بہت اثر ڈالا۔ میں صحت مند ہوگئی، ان کی توجہ اور پیار آج بھی یاد ہے۔

ایک بار میری دوسری خالہ نے کسی کام سے مجھے بھیجا، جانے کس طرح مجھ سے وہ پیسے گم ہوگئے۔ میں ڈانٹ کے ڈر سے روتی ہوئی گھر آئی۔ شاہ جہاں خالہ نے مجھے دیکھ لیا، رونے کی پوچھی، میں نے کہا۔

’’پیسے گم ہوگئے ہیں، چھوتی خالہ ڈانٹیں گی۔‘‘

انہوں نے مجھے تسلی دی کہ ’’رونا بند کرو، چپ ہوجائو۔ کسی کو مت بتانا کہ پیسے گم ہوگئے ہیں۔‘‘

انہوں نے مجھے پیسے دیے اور کہا کہ ’’جائو. دوبارہ سامان لے آئو۔‘‘ میں خوشی خوشی گئی اور سامان لے آئی۔ کہنے کو تو تو بہت معمولی سی رقم تھی مگر میرے لیے کسی خزانے سے کم نہ تھی۔ انہوں نے مجھے ڈانٹ سے بچایا۔ کسی کو پتا بھی نہیں چلنے دیا، ان کا وہ اخلاص آج بھی میرے دل پر نقش ہے۔ آج بھی وہ ہم سب کے لیے مشعل راہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و تندرستی والی اور عمر دراز عطا کرے، آمین۔

(2) اف. کیا سوال کیا ہے۔ میں تو بہت چھوٹی عم میں ہی یہ خواب دیکھتی تھی کہ دفتر میں ہوں، ہر طرف رسالے ہیں، مسودے ہیں اور میں سب کو دیکھ رہی ہوں۔ جب دل چاہا کسی بھی رائٹر کو فون کیا، اس سے بات کرلی۔ ناول پر بحث و مباحثہ کیا۔ ان کی سنی، اپنی کہی۔ سب بہنوں کے مزے مزے کے خط پڑھے۔ ان کی باتوں کو سنا۔ ایک بار مدیرہ نے اپنے آفس میں گزارا ایک دن کسی پرچے میں شائع کیا، بس جب سے ہی ایک خےال سا تصور ذہن میں بنالیا۔ بہت دل چاہتا ہے کہ آفس آئوں، دیکھوں آپ کیسے کام کرتے ہیں۔ آپ تو ایک دن کا مدیربنانے کا کہہ رہی ہیں، کتنا مزہ آئے گا۔ میں توسب رائٹر کو بلا کر ایک پارٹی رکھ لوں گی، سب سے ملوں گی۔ خوب باتیں کروں گی، ایک دن کی ہی حکومت ہے نظام سقہ کی طرح چمڑے کا سکہ تو نہیں بناسکتی۔

( 3) عید الاضحی کا تہوار ہمارے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ ہر عید کے دوسرے دن ہمارے گھر دعوت ہوتی ہے۔ باربی کیوں لازمی ہے۔ بچہ پارٹی سیخوں پر لگے گم گم تکے نہ کھائے تو تکے کا مزہ ہی نہیں آتا۔ مرد حضرات میں فہیم پیش پیش ہوتے ہیں۔ دھواں دھار ماحول میں تکے بناتے جاتے ہیں، جیسے ہی تکے تیار ہوتے ہیں بچہ پارٹی جھپٹ لیتی ہے۔ ان کو عزت و احترام سے پلیٹ میں سرو کرکے کھانے میں مزہ نہیں آتا بلکہ سیخوں کو ہاتھ میں لیے تلواروں کی طرح لہراتے ہوئے، جنگ و جدل کا منظر پیش کرتے ہوئے کھاتے ہیں۔ اسی طرح کھانے کا مزہ آتا ہے۔ ساتھ میں آنو مما کی پکار بھی لگتی رہتی ہے، سب بڑے صبر شکر کے ساتھ بچوں کو دیکھتے ہیں۔ جب ان کا پیٹ بھر جاتا ہے تو خواتین کی باری آتی ہے۔ وہ مزے سے تکہ پارٹی انجوائے کرتی ہیں، اس کے بعد آخر میں مرد حضرات کھاتے ہیں، اسی لیے اکثر فہیم آخر میں ہی کھاتے ہیں۔

ہمارے گھر میں کچھ خاص روایتی ڈش تو نہیں بنتی تقریباً وہی ڈشز جو ہر گھر میں بنتی ہیں، ہم بناتے ہیں۔ جن کی ترکیب تقریباً سب کو ہی معلوم ہے۔ میرے ہاتھ کا پلائو بہت پسند کیا جاتا ہے‘ اس کی ترکیب کو بتادیتی ہوں۔

اجزائ:۔

گوشت ہڈی والا

ایک کلو

باسمتی چاول

ایک کلو

دہی

ایک پائو

چھوٹی ہری مرچ

تیس عدد

گرم مسالا

حسب پسند

آئل

حسب پسند

لہسن ادرک

چار کھانے کے چمچے

سونف اور ثابت دھنیا

چار کھانے کے چمچے

پیاز(درمیانی)

تین عدد

چائنیز سالٹ

دو چمچے

(اگر آپ کو پسند نہیں تو نہ ڈالیں)

یخنی کے اجزائ:۔

پانی اتنا ہو کہ گوشت اچھی طرح ڈوب جائے اور گل بھی جائے۔ پانی میں گوشت، آدھا گرم مسالا، دس ہری مرچ، ایک پیاز تھوڑا سا ثابت لہسن ادرک، نمک ڈال کر پکنے دیں۔

جب گوشت گل جائے تو اضافی ہڈیاں نکال دیں اور یخنی چھان لیں۔ اب آئل ڈال کر پیاز فرائی کرلیں۔ گولڈن ہونے پر نکال لیں۔ اس کے بعد آدھا گرم مسالا آئل میں ڈالیں۔ ساتھ پسا لہسن ادرک کر بھون لیں، ساتھ ہی چھوٹی مرچوں کو بھی پیس کر شامل کردیں۔ کوشش کریں کہ بھوننے میں جو پانی استعمال ہو وہ یخنی کا ہو۔ اب الگ برتن میں سونف اور ثابت دھنیا کو ابال کر اس کا پانی چھان کر شامل کردیں۔ گوشت بھی شامل کردیں اور یخنی کا پانی بھی شامل کردیں۔ ساتھ ہی ایک پائو دہی کے ڈال دیں، نمک بھی ڈال دیں، ہلکا سا پک جائے۔ ٹھیک ہے وہ باسمتی چاول ڈال دیں، احتیاط سے پکائیں۔ پانی زیادہ نہ ہو اس کی یخنی میں ہی پک جائے پھر چاولوں کو دم لگادیں۔

آخر میں برائون پیاز اور زیرہ کے رائتے کے ساتھ پیش کریں۔ بہت اچھے بنتے ہیں اور پسند کیے جاتے ہیں۔ اس بار گوشت کتنا مہنگا ہوگیا ہے۔ عام آدمی کی قوت خرید سے سمجھ لیں‘ باہر ہی ہے۔ ایسے میں غریب لوگوں کا خاص خیال رکھیں، جو بے چارے گوشت نہیں کھاپاتے۔ گھر میں گوشت کھانے کے لیے بقر عید کا انتظار کرتے ہیں۔قربانی تو ان ہی کے لےے ہے۔

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں