زندگی دکھ سکھ سے عبارت ہے، اس میں کامیابی اور ناکامی ساتھ ساتھ چلتی ہیں اور کبھی کبھی تو ایسا ہوتاہے جسے ہم ناکامی سمجھتے ہیں۔ وقت ثابت کرتاہے وہ درحقیقت کامیابی تھی جو ہم سمجھ نہیں پائے۔ انسان دنیا میں کچھ پائے یا کھوئے دونوں صورتوں میں ظرف کا امتحان ہوتاہے۔ کامیاب وہی ہوتے ہیں۔ خوشی میں جن کا پیمانہ چھلکتا نہیں اور غم میں وہ دعاؤں کے دیے روشن کیے اپنے حصے کی خوشیوں کا انتظار کرتے ہیں۔
بدلتے موسموں کی دل داری اور دل آزاری دونوں پر یقین کرنے کے لیے کبھی بھولی بسری یادوں کو چھولینا اچھا لگتاہے۔
سالگرہ نمبر کے سروے میں ہم نے ان ہی یادوں کو چھونے کی کوشش کی ہے۔
سوالات یہ ہیں ۔
۔ کامیابی اور ناکامی دونوں زندگی کا حصہ ہیں۔ ہم کامیابی کو خوشی سے قبول کرلیتے ہیں لیکن ناکامی کو برداشت نہیں کرپاتے۔ کیا آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا؟ کامیابی ملی تو کیا احساسات تھے۔ اور ناکامی کا مقابلہ آپ نے کس طرح کیا؟
۔ جو لوگ ہم سے محبت کرتے ہیں اور جن سے ہم محبت کرتے ہیں، ان کی تعریف اور تنقید بہت اہمیت رکھتی ہے۔ کوئی ایسا تعریفی جملہ جو کسی خاص ہستی سے سن کر بہت خوشی ہوئی۔
۔ کوئی ایک لمحہ جس کی یاد آج بھی دل پر دستک دیتی ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں ہماری قارئین نے کیا جوابات دیے ہیں۔
زینب نور . جہانیاں
کئی ماہ سے رسالے بہت تاخیر سے مل رہے ہیں اور آپی اور بھائی کی شادی کی وجہ سے مصروفیات میں گھرے رہے رسالوں کے لیے وقت نکل ہی نہیں پایا۔ آج بھی نومارچ کو اچانک ہی سروے پر نظر پڑی۔ کیونکہ رسالہ ہی کل ملا۔ اس لیے مجھے فوٹو اسٹیٹ کروائے بغیر بھائی سے منتیں کرکے واٹس ایپ کروانا پڑرہاہے۔
۔ زندگی میں چھوٹے چھوٹے کئی مواقع آئے۔ جب کامیابی اور ناکامی دونوں کا منہ دیکھنا پڑا۔ سب سے بڑی کامیابی ہم بہنیں نہیں جانتی تھیں کہ ڈاک بھیجنے کا کیا طریقہ ہے۔ ستمبر 2018میں تکے سے
خط بھیجا تھا اور ’’ماہنامہ شعاع 37اردو بازار کراچی‘‘ لکھ کر حیرت سے آپی سے پوچھا آپی بس اتنے سے پتے کے ذریعے ڈاکیے کو کیا پتا چلے گا کہ خط کہاں پہنچانا ہے۔ ‘‘بس اللہ اللہ کرکے بہنوئی کے ذریعے خط ڈلوادیا۔ اور یہی میری پہلی بڑی کامیابی تھی کہ وہ خط فوراً شائع ہوگیا تھا اور دوسری کامیابی اس سے بھی بڑی تھی جب میرا پہلا افسانہ شائع ہوا۔ ہم چاروں بہنیں ایک کمرے میں سوتی تھیں۔ پھپھو بھی پاس تھیں مجھ سے بڑی سسٹر شعاع پڑھ رہی تھی، خواتین تب تک نہیں آیا تھا اچانک ہی اس نے ہلکی سی چیخ ماری اور فوراً ہم تینوں کو متوجہ کیا۔
ہم پرانے رسالے پڑھ رہی تھیں سو بے حد بے زاری سے اس کی طرف دیکھا۔ کیونکہ اس کی عادت ہے ،مطالعے کے دوران ہی سب اہم اہم باتیں بتادیتی ہے۔
کہنے لگی۔ ’’ زینب تیری کہانی لگ گئی‘‘ میں نے چونک کر دیکھا تو وہ شعاع میں خواتین کی چھلک پر انگلی رکھے بیٹھی تھی۔ میں اپنے بستر سے چھلانگ لگاکر اس کے بستر تک پہنچی اور اپنا نام دیکھ کر میری زور سے چیخ نکل گئی۔ دونوں چھوٹی بھی حیران۔ ہم چاروں بہنیں حیرت ومسرت سے ایک دوسرے سے ملتے نہ جانے کب تک شور کرتے رہتے اگر جو پھپھو کے گھر کی سے فیض یاب نہ ہوتے۔ بس نہ پوچھیں، کیا احساسات تھے۔ دل چاہ رہا تھا جس بہن نے بتایا ہے ، اس کا منہ چوم لوں، مگر پھر شرم آگئی. (ہائے) پھر تو صبح ہونے کا شدت سے انتظار تھا کہ آپی کو بتائیں گے ۔کتنی ہی دیر تو خود کو یقین ہی دلاتی رہی۔
’’ناکامی۔‘‘
عمر مختصر میں ابھی مختصر ادوار گزرے ،چھوٹی موٹی ناکامیاں تو ملتی ہی رہتی ہیں۔ جیسے دو غزلیں رد ہوئیں اور ایک خط بھی۔ ہاں اسٹوریز بھی۔
مگر ایک موقع کبھی نہیں بھولتی۔ تعلیمی ادوار میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پوزیشن نہ آئی ہو۔ مگر ساتویں کلاس میں 23مارچ کے فنکشن کے ساتھ ہی رزلٹ اناؤنس ہوتاتھا۔ اس فنکشن میں کمپیئرنگ میری تھی۔ فنکشن کے اختتام پر رزلٹ اناؤنس ہوا تو میری فرسٹ تو کیا تھرڈ پوزیشن بھی نہیں تھی۔ اچانک ہی آنکھیں بھر آئیں۔ انعامات تقسیم کیے گئے۔ ٹیچر ناہید نے آخر میں کہا۔
’’سب سے زیادہ تالیاں زینب کے لیے جس نے اپنے الفاظ سے فنکشن کو چار چاند لگائے۔‘‘
اور ساتھ میڈل بھی ملا۔ مگر میں بے تحاشا رورہی تھی۔ پتا نہیں کیسے میڈل وصول کیا۔ کئی دن تک شرمندگی ہی ختم نہیں ہوئی۔ ہاں دکھ زیادہ نہیں تھا۔ بس شرمندگی عروج پر تھی۔ کیوں کہ اس وقت ہمارے گھر کے ماحول میں حوصلہ افزائی نامی کوئی چیز نہیں تھی۔ (اب تو ماشائ اللہ سب پڑھ لکھ گئے ہیں) سو گھر میں خوب انسلٹ ہوئی۔
۔ واقعی تعریف کے ساتھ تنقید تو جیسے واجب ہے تعریفی جملہ، ! خاص ہستی سے ایک سے ۔سنا ہوا لکھا تو باقی سب جملوں کے ساتھ زیادتی ہوگی۔
میری لکھی نعتیں اور حمد پڑھ کر ابو کا حیران سا سوال دل خوش کرگیا۔ ’’کیا واقعی زینب نے اپنے ذہن سے لکھی ہیں؟‘‘
ٹیچر عاصمہ نے پہلی کہانی شائع ہونے پر کہاتھا۔ ’’مجھے تم شروع سے ہی ٹیلنٹڈ لگتی تھیں۔ مجھے حقیقتاً تم پر فخرہے۔‘‘
فرینڈ۔ ’’تم میرے لیے کیا مقام رکھتی ہو، تم خود بھی نہیں جانتیں۔‘‘
بھائی نے کالج میں اپنی اسٹوڈنٹس کے سامنے کہاتھا۔ ’’زینب ہمارے گھر میں گاڈ گفٹڈپرسن ہے۔‘‘ (یہ بات مجھے بھائی کی ایک اسٹوڈنٹ نے ہی بتائی تھی۔)
بھابھی +سویٹ فرینڈ+کزن۔ ’’ اللہ نے تمہیں بہت خاص بنایاہے۔‘‘
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مجھے ان سب کی محبت نے خاص بنادیا ہے۔
۔ ام ام . صرف ایک لمحہ. !! سوچنا پڑے گا مگر مجھے یاد نہیں آرہا۔
کئی لمحات گزرے ہیں جو کبھی نہیں بھولتے مگر کوئی خاص ۔ دل پر دستک دینے والا لمحہ۔
ہاں. یاد آگیا۔
ایک بار میں اور میری بیسٹ فرینڈ غلط فہمی کی بنا پر ناراض تھیں۔ بہت عرصے بعد ملے۔ میری اس کی طرف پشت تھی مگر اس کا رخ میری طرف ہی تھا۔ مجھے اس کا دیکھنا محسوس ہورہاتھا۔ مگر نہ وہ مجھے بلانے کی ہمت کرپائی اور نہ ہی میں. بس یونہی اپنے اپنے گھروں کو آگئے بعد میں صلح ہوگئی۔ مگر وہ لمحے یاد آجائیں تو ہم دونوں کو ہی پچھتاوا ہوتاہے۔
ریحانہ چوہدری.رندھیر
۔اللہ کا شکر ہے کہ اس نے زندگی میں لا
تعداد کامیابیوں سے نوازا ہے۔ سولہ گریڈ کی باعزت جاب ہے اور ٹیچنگ جیسے مقدس پیشے سے اللہ نے وابستہ کررکھا ہے۔ جیون ساتھی دیا۔پیارے پیارے بچے میری جھولی میں ڈالے جن میں سے تینوں بڑے ما شائ اللہ اپنی اپنی فیلڈ میں ایم فل کررہے ہیں اور سب سے چھوٹی سارہ چوہدری جواب قد میں ما شائ اللہ بڑی بہنوں کے برابر ہوگئی ہے اب سیونتھ کلاس میں ہوجائے گی۔
مگر جو خوشی مجھے آپ لوگوں کے ساتھ وابستہ ہونے میں ملی اس کامیابی کا سرور ہی الگ ہے۔مجھے آج بھی وہ دن نہیں بھولتا۔ جب میرا شعر پہلی مرتبہ ’’شعاع‘‘ ڈائجسٹ میں شائع ہوا۔ وہ ناقابل یقین خوشی یا کامیابی تھی۔
پھر دو سال قبل جب میرے افسانے شائع ہوئے اور خصوصاً امتل کی کال آئی تو یقین ہی نہیں آرہا تھا۔ اس کی گواہ تو خود امتل بھی ہیں۔
ارسلان کے اسکول کی کامیابی۔ارسلان کے لا چیمبر بننے کی کامیابی۔ زندگی کی سب سے بڑی خواہش(اللہ تعالیٰ کے در کی حاضری)پوری ہونے کی کامیابی۔اللہ کا ہر سانس کے ساتھ شکر ادا کروں تو بھی کم ہے۔
کئی جگہ پر زندگی میں ناکامیوں سے بھی سامنا کرنا پڑا۔ مگر اللہ کا شکر ہے کہ بہت خندہ پیشانی سے، بہت اعلا ظرفی سے،اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مقابلہ کیا اور اس بات پہ یقین رکھا کہ اس
میں بھی کوئی نہ کوئی بہتری ضرور ہوگی۔
ہاں اتنا ضرور ہے کہ اس وقت یوں محسوس ہوتا ہے گویا’’ روح تک میں اک سناٹا پھیل گیا ہو۔‘‘
:اب دوسرے سوال کی طرف آتے ہیں۔تو مجھے تویوں لگتا ہے کہ میری زندگی سے وابستہ ہر شخص ہی میرے لیے بہت خاص ہے۔میری دوستیں بہت ہی خوش ہوتی ہیں میری کوئی بھی تحریر خواہ وہ خط ہو یا کوئی سفر یا افسانہ پڑھ کر جوان کے تاثرات ہوتے ہیں وہ الفاظ میں بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ ابا جی ہر بار ملتے ہی پوچھتے ہیں اب کچھ نہیں لکھا۔
تو تب دل کو بہت خوشی ہوئی تھی جب میرے خطوط کے جواب میں امتل نے کہا کہ تم میں صلاحیت ہے لکھنے کی۔ان الفاظ نے مہمینر کا کام کیا۔
س؛کوئی ایک لمحہ جس کی یاد آج بھی دل پر دستک دیتی ہو؟
ج:جناب یادیں ہی تو زندگی کا اثاثہ ہوتی ہیں۔ سب سے قیمتی یاد جب اللہ کے گھر حاضری ہوئی ۔وہ دن یادیں میری زندگی کا سرمایہ ہیں۔
میری انتہائی کوشش ہوتی ہے کہ جس سے بھی ملیں ۔اچھے انداز میں ملیں کہ ہم کسی کے حافظے میں اچھی یادبن کر زندہ رہیں۔
دریچہ دل پہ دستک دینے والی یادوں میں سر فہرست امتل کے وہ الفاظ ہیں جو انہوں نے میرے بارے میں کہے۔ان کا فون کال پہ میرے ساتھ بات کرنا۔پورے پاکستان کے دور دراز علاقوں سے میری بہنوں کی پذیرائی۔میرے خطوط کو پسند کرنا۔ میری غیر حاضری کو محسوس کرنا۔ یہ ساری محبتیں میرے لیے سرمایۂ حیات ہیں ،مجھے معتبر کرتی ہیں۔ میری ماہ نور کی دوست ،صباحت اور ارجمند کی دوست ،ماہم، ان سب کی محبت ایک قیمتی یاد ہے۔
نخوت حق.ٹنڈو آدم
۔کامیابی کو خوشی خوشی ویلکم کیا۔ ایسے ہی ناکامی کو بھی قبول کیا۔ دونوں حالتوں میں اللہ کا شکر ادا کیا۔ ’’ہاں‘‘۔ناکامی کو قبول کرنا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن جو ناکامی اور کامیابی کے درمیان والی حالت ہوتی ہے کم از کم اس تکلیف سے بچت ہوجاتی ہے ناکام ہوکر ۔
کامیابی کے بعد دل کھول کر خوش ہوتی ہوں (اب چاہے وہ کامیابی انڈے سے چوزہ نکلنے کی ہی ہو.ہاہاہا اور ناکام تو زندگی میں اتنی بار ہوئی ہوں کہ اب تو یاد بھی نہیں۔
۔ بالکل جی ہاں جب میں گائوں کے ایک اسکول میں ٹیچر تھی وہاں میں تمام اہم موقعوں پر طلبہ کو تقریر لکھ کر دیتی اور ان کو تیاری بھی کرواتی تھی اندازِ بیان وغیرہ تب ایک مقابلے میں میری طالبہ نے پہلی پوزیشن لی تھی اور اس طالبہ کے انداز بیاں پر خوب واہ واہ ہوئی تھی۔جب طالبہ سے مہمان خصوصی نے پوچھا کہ اتنی اچھی تقریر آپ نے خو دکی ہے تب طالبہ نے میرا نام لیا اور میرے لیے بھی تالیاں بجیں اس وقت کو اور ان جملوں کو میں آج بھی یاد کرکے خوش ہوتی ہوں۔
۔لمحہ نہیں لمحات ،میری دادی ماں اور باباجانی کے ساتھ گزرے لمحات ۔میں آج کسی ایسی چٹان کے مانند مضبوط ہوں جس کا نہ برفانی یخ بستہ ہوا کچھ بگاڑ سکتی ہے نہ شعلے برساتا ہوا سورج۔
دادی ماں اور بابا جانی کے ساتھ گزرا ہر لمحہ میرے لیے پیغام سے کم نہیں۔اب اجازت چاہتی ہوں اس شعر کے ساتھ
سمجھے نہ کوئی سرسری ساتذکرہ مجھے
بھرپور ماجرا ہوں ،حوالہ نہیں ہوں میں
سلمیٰ مسرت.خیابان سر سید راولپنڈی
۔ زندگی میں کامیابیوں اور ناکامیوں کی طویل فہرست ہے لیکن میں زیادہ کامیابیوں کی بات کروں گی کیونکہ اس سے زندگی میں شکر کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
ناکامی پر خاموش ہوجاتی ہوں۔کسی کونے میں بیٹھ کر رولیتی ہوں پھر بھی دل مطمئن نہ ہو تو قرآن کی تفسیر کے ساتھ اپنی ڈائری کے صفحے بھی پڑھ لیتی ہوں تو بس حوصلہ مل جاتا ہے۔
۔ ہمارے قاری صاحب نے الہدیٰ کورس کے دوران تجوید پڑھتے ہوئے بغیر دیکھے میرے لہجے کو پہچان کر کہا۔’’آپ بہت اچھا پڑھنے والوں میں سے ہیں۔‘‘
اور میرے شوہر نے جو مجھ پر بہت تنقید کرتے ہیں ایک بار کہا تھا ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ تم خالص اور ایمان دار ہو۔‘‘
میری ساس نے آخری لمحوں میں کہا تھا کہ تم میں اتنا صبر کہاں سے آیا؟
اس کے علاوہ والدین کے بے شمار جملے ہیں جو جینے کا حوصلہ بنے ہیں۔الحمداللہ
ج:سب سے خوب صورت لمحہ میری زندگی میں یکم نومبر کو(2022ئ) میں آیا جب میں نے انٹری دیتے ہوئے سیدھا رکن یمانی کو ٹچ کیا۔ اسی دن حطیم کے اندر نفل پڑھتے ہوئے کعبے کو چھوکر سجدہ کیا۔
دوسرے خوب صورت لمحات 11 اکتوبر 1990ئ جب میرا ارسلان میری گود میں آیا اس سے پہلے میں ماموں ،بھائی جیسی نعمت سے محروم تھی۔
جب قرآن کا فہم ملا اس نے میری زندگی بدل دی کچھ لوگوں نے کہا کہ میں آپ کی درس کی محفل میں آئی تو میری روٹین بدل گئی۔
عائشہ اکرام.لاہور
۔ پہلے پہل جب کامیابی ملتی تھی تو میں اَس کامیابی کو بس اپنا کمال سمجھتی تھی۔غرور سے گردن اکڑ
جاتی تھی۔مگر پھر بہت سی ناکامیاں،مشکلیں اور مصیبتیں پہ در پے آئیں تو اندازہ ہوا کہ اگر ناکامی میں میرا کوئی ہاتھ نہیں تو پھر کامیابی میں بھی سارا کمال میرا نہیں اب میچور ہوگئی ہوں۔ آپے میں رہتی ہوں ۔کامیابی ملتی ہے تو اَسے بھی تحمل سے انجوائے کرتی ہوں اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑے تو بھی حوصلے اور ہمت سے برداشت کرتی ہوں۔(دوسرا کوئی آپشن ہی نہیں)
۔ گَڈ کوئسچن۔تعریف تو کوئی بھی کرے اچھی لگتی ہے مگر کچھ خاص لوگ.اَن کی تو بات ہی اور ہے۔میرے ابوجی!وہ ہر ایک(فیملی اینڈ فرینڈز کا سرکل) کے سامنے میری تعریف کرتے ہیں۔(جیسے انہیں بہت فخر ہو مجھ پر)۔اَن کا ایک جملہ آج بھی میرا ڈھیروں خون بڑھادیتا ہے جو میرے بھائی کو سمجھاتے ہوئے میرے ابو جی نے کہا۔
’’اپنی بڑی بہن کی بات کو سنا اور سمجھا کرو اَس سے زیادہ کوئی بھی ہمارا خیر خواہ نہیں ہے۔وہ سمجھ دار ہے۔میں بھی ہر معاملے میں اَس سے مشورہ کرتا ہوں۔(لو یوابو جی)۔
میرے میاں صاحب کے الفاظ.کبھی بھی کسی ایکس وائی زیڈ سے اپنا مقابلہ مت کرنا جو تم ہو،وہ کوئی نہیں ہے۔ خود کو انڈرایسٹیمیٹ نہ کیا کرو۔ تم نے مجھے حوصلہ اور ہمت دی ہے۔مسائل کو فیس کرنے میں اور ان کو حل کرنے میں میرا جیسے ساتھ دیا ہے ۔وہ میں کبھی بھول ہی نہیں سکتا۔ تم میری جان ہو ،اللہ نے ہمارا ساتھ ایسے ہی لکھا تھا۔ باقی سب بھول جائو۔‘‘
میری بہن کا ایک جملہ’’تم میری آئیڈیل ہو‘‘
اور احمد میرا بھائی اس کے چند جملے جو ایک بہت بڑے کرائسس میں کہے۔
’’عائشہ ایسے مت روئو۔تم تو خود سب سمجھتی ہو۔ پریشان نہ ہو،ہم تمہارے سر پر ہیں۔جب بھی تمہیں ضرورت پڑے ،تمہارے ساتھ ہیں۔بس تم نہ روئو مجھ سے برداشت نہیں ہورہا۔(مس یو احمد برو۔)اور وقت گواہ ہے میں نے جیسے کہا میرے بھائیوں نے وہی کیا۔ تھینک یو اللہ تعالیٰ جی ایسے پیاروں کے لیے۔
۔ میری فرسٹ ڈلیوری تھی اللہ تعالیٰ نے مجھے پیاری سی بیٹی اَم ہانی عطا فرمائی تھی مگر سی۔سیکشن کی وجہ سے تین دن اَسے اٹھا نہیں سکی تھی۔ شیخ زید اسپتال نرسری میں بچوں کو ماں کے ذرا سنبھلنے تک ڈاکٹرز دیکھ بھال کرتے ہیں۔مگر مجھے تین دن یہی لگتا رہا کہ کہیں وہاں سے کوئی میری بیٹی بدل نہ دے یا لے کے بھاگ جائے طبیعت ٹھیک نہ ہونے کے باوجود وہیل چیئر پہ میں اپنی بیٹی کو لینے پہنچ گئی۔ جب اسٹاف نے میری بیٹی میری گود میں دی تو مجھے لگا جیسے کسی نے میرے پائوں کا کانٹا نکال کر مجھے پرسکون کردیا ہو۔آج بھی چھ سال کی ہونے کے باوجود جب وہ میری گود میں زبردستی چڑھ کے بیٹھتی ہے ناں تو وہ لمحہ یاد آجاتا ہے۔میں اس لمحے کا سکون،خوشی یا احساس لفظوں میں بیان کرہی نہیں سکتی۔
ریحانہ وقاص.لاہور
۔ جی بالکل ! میرے لیے چھوٹی چھوٹی کامیابیاں بہت معنی رکھتی ہیں۔ شادی سے پہلے والدین تو ہمیں ویسے ہی خوشیوں کی چھائوں میں رکھتے ہیں۔ رسالہ ملنے کی خوشی ، اچھا کھانا، اچھے کپڑے سل کر آجائیں۔ میاں تعریف کر دیں۔ بہن بھائی بچے سب خوش رہیں۔ کامیابیاں زندگی میں بہت ملیں شکر ہے خدا .جوچاہا وہ ملا۔
بعض اوقات تو ایسا ہوتا کبھی میں کچھ کھانے کی بہت زیادہ خواہش کرتی کہ آج یہ کھانے کو دل کر رہا ہے تو وہ آس پڑوس سے آ ہی جاتا۔ اب اپنے بچوں کے کامیاب ہونے پر بہت خوشی ہوتی ہے۔ ناکامی سے بہت دل دکھتا ہے پھر اللہ سے مدد مانگتی ہوں کہ اے اللہ میری مدد فرما۔
ایف ایس سی میڈیکل کیا ڈاکٹر بننے کی تمنا تھی لیکن پوری نہ ہو سکی دل بری طرح ٹوٹا اور پھر زندگی کو میتھ کی طرف لے آئی۔ بہت عرصے کے بعد قلم ہاتھ میں پکڑ کر شعاع سے ناتا جوڑا تو اس نے مجھے مضبوطی سے تھام لیا اور مجھے زندگی میں ماں اور بیوی کے علاوہ ایک علیحدہ شناخت دی جس کے لیے میں بہت شکر گزار ہوں۔
۔ جن لوگوں سے ہم محبت کرتے ہیں۔ تو ان سے بھی ہم محبت چاہت کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ ان کی تنقید دل پر لکھی جاتی ہے اور کوشش کرتی ہوں کہ بس گڈ بک میں رہوں ۔اپنی عزت بہت عزیز ہے مجھے۔ چاہے وہ میرا شوہر ہو بہن بھائی ہو حتی کہ کام والی ہی کیوں نہ ہو۔ دل توڑنے سے ڈر لگتا ہے ہاں غصہ وقتی طور پر آجاتا ہے۔ لیکن بعد میں معافی بھی مانگ لیتی ہوں اس لیے کسی پر تنقید نہیں کرتی۔
شادی سے پہلے والے جملے تو سب بھول چکے ہیں ہاں جب اب اسکول کی ٹیچرز بچوں کے حوالے سے تعریف کرتی ہیں۔ نندیں تعریف کرتی ہیں کہ تم ہماری بھابھی نہیں بہن ہو تو اچھا لگتا ہے۔
(3)ہاں کچھ وقت ایسا گزرا جس نے مجھے آج بھی وہاں پر منجمد کر دیا ہے۔ میں اس لمحے سے بہت دفعہ نکل نہیں پاتی ہوں۔
میری شادی ہونے میں دو ماہ باقی تھے۔ باقی بہنوں کی شادیاں ہو چکی تھیں۔ بھائی شہر سے باہر ہوتے تھے تو گھر میں ابو میں اور امی ہوتے تھے۔ ابو ہارٹ کے مریض تھے تو ان کی دوائیوں کا میں ہی خیال رکھتی تھی۔ ابو کو میری فکر رہتی تھی۔ ’’ریحانہ تمہاری شادی ہو جائے گی تو میرا کون خیال رکھے گا مجھے وقت پر کون دوائی دے گا۔ ‘‘
اورشاید اللہ نے ان کی سن لی اور میرے جانے سے پہلے ان کو اپنے پاس بلا لیا۔ میں بہت روئی۔ میں جو کہتی تھی وہ میری بات مانتے تھے جو ان کو کھانے کے لیے کہتی کہ یہ آپ کی صحت کے لیے اچھا ہے تو وہ میری بات مان کر آرام سے کھا لیتے۔
جب آخری دن ہسپتال میں تھے تو ان کی مرضی تھی کہ میں رک جائوں لیکن بھائی نے نہیں رکنے دیا کہ مردانہ وارڈ ہے۔ اور پھر میں ہوں نا یہاں ،تم جائو اور مجھے بھیج دیا ،اگلے دن ان کی وفات ہو گئی اور آخری لمحات میں ہم سب بہن بھائی ،والد ان کے اردگرد تھے۔ تیسویں روزہ کی رات تھی۔ ان لمحات نے ہمیں وہیں قید کر لیا ہے۔ رمضان پھر آ رہا ہے۔
سونیا ربانی قاضیاں محلہ بالا
۔ جی ہاں یہ سچ ہے کہ کامیابی اور ناکامی دونوں ہی زندگی کا حصہ ہیں ۔ خیر ناکامی کا سامنا کم ہی کرنا پڑا مجھے۔
لکھنے کی بات کروں۔ تو بہت سارے کردار ہیں۔ جو دماغ میں اڑتے پھرتے ہیں۔ ان کو قید کرنے میں ناکام ہوں۔ کئی افسانے آدھے لکھے پڑے ہیں۔ مکمل کرنے میں ناکام۔ میں بہت سارے ناول لکھنا چاہتی ہوں۔ کچھ خاص لوگوں پہ ۔ جیسے کہ چاچا ارشد (ان کا قتل ہوا تھا علاقے کے خوب صورت ترین جوان تھے)فرحت آنٹی (بہت باتونی اور ہنسنے والی اچانک سے مر گئیں)یا پھر چچی شمیم جو کہ کراچی سے بیاہ کر ہمارے علاقے میں آئیں۔ شوہر بہت ظالم نکلا۔ صرف بیٹے کی خاطر زندگی برباد کر دی۔ مگر بیٹے نے بھی صلہ نہ دیا۔ دوسروں کے گھر زندگی گزار رہی ہیں بے چاری۔ اللہ مجھے صحت اور ہمت دے کہ میں لکھ سکوں یا پھر افسانہ پوسٹ کر کے اس کے نہ لگنے کی ناکامی۔
اورپھر اچانک سے ان ناکامیوں کے بعد کامیابی کی باری آئی۔ اور افسانے لگنے لگے ۔ تو خوشی بیان سے باہر رہی کہ کامیابی کا راز صرف کوشش اور محنت ہے ۔
۔ یہ حقیقت ہے کہ کچھ لفظ جو بہت ہی عام ہوتے ہیں۔ لیکن وہی عام سے لفظ اگر کسی خاص ہستی کے منہ سے ادا ہوں۔ تو یقین کریں۔ پھر کوئی لفظ ، کوئی جملہ ،کوئی بات ان سے خاص کبھی نہیں ہو سکتی ہے۔ خیر تھوڑا سا دماغ پہ زور دیا۔ تو کچھ باتیں جو بہت عام ہوںمگر میرے لیے بہت ہی خاص ہیں۔
میری اسی بیماری کے دوران کی بات ہے۔ میری ڈاکٹر فوزیہ ریاض نے کہا کہ۔
’’سونیا تمہارے اندر صبر اور ہمت بہت زیادہ ہے ۔
نائلہ لطیف نے کہا تھا۔ کہ سوہنی قریب سے تم کو جان کر پتا چلا ہے کہ تم تو دل کی اتنی اچھی ہو۔‘‘
یا پھر میرے فیورٹ کزن وسیم بھائی نے ایک بار کہا تھا کہ کبھی کبھی سونیا کی باتوں سے لگتا ہے کہ جیسے دادا بول رہے ہیں۔‘‘ (یعنی میری باتوں سے نانا کی باتوں کی خوشبو آتی ہے)
یہ الفاظ میرے لیے اتنے خاص تھے کہ مجھے آج تک یاد ہیں۔ وسیم بھائی تو بھول بھی گئے ہوں گے۔
اور میرا افسانہ بے چارہ شوہر، پڑھ کر جویریہ نے کہا تھا کہ اس حالت (دماغی حالت) میں بھی آپ نے مزے کا لکھا ہے۔
۔ کوئی ایک نہیں ہے بہت سارے ہیں۔ جو دستک دیتے رہتے ہیں۔ مگر ہم نے بھی دروازہ ایسا
بند کیا ہے کہ تمہارے کھل ہی نہ سکا۔ مگر کبھی کبھی نانی کا خواب نگر سا علاقہ اور گلیاں شدت سے یاد آتی ہیں۔
کبھی کبھی روح دسمبر کی سردی اور بارش کو محسوس کرتی مری کے پہاڑوں پہ جاتی ہے اور پھر چاروں اور سب بھیگ جاتا ہے ،برف کی طرح بہت ٹھنڈا اور بہت سرد ہوتا ہے۔ یا پھر 8فروری کو میں لاکھ کوشش کر لوں مگر وہ لمحے چپ چاپ بن دستک کے دل میں قدم رکھ دیتے ہیں۔
میں اور وہ لڑکی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے۔ پیرمہر علی شاہ کی نگری میں سارا دن بغیر جوتوں کے گھومے تھے۔ دوبارہ ایسا نہ ہو سکا۔
عروج عباس .کراچی
۔ پہلا سوال کامیابی اور ناکامی کے حوالے سے تو یاد پڑتا ہے کہ آخری بار خاطر خواہ کامیابی جو میں حاصل کر سکی وہ بی اے فائنل کے ایگزام میں اول پوزیشن لینا تھی، ہوا کچھ یوں تھا کہ گھر میں اکلوتی لڑکی ہونے کی وجہ سے گھر کی بہت سی ذمہ داریاں مجھ پہ آ گئیں ،شاید میری والدہ کی طبیعت کچھ ناساز تھی اور میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ ہوم ٹیوشن بھی پڑھاتی تھی۔
یوں بے حد مصروفیت کا گھیرا میرے گرد تنگ ہوتا گیا اور اس تنگی کا احساس مجھے تب ہوا جب ایگزام میں ایک ماہ رہ گیا پھر تو میں بہت پریشان ہوئی ، ہمیشہ سے میرا تعلیمی ریکارڈ AاورBگریڈ پر مشتمل رہا تھا اور فیل ہونے کا تو تصور ہی سوہان روح تھا بس ایک ماہ کو بھی غنیمت جانتے ہوئے کتابوں کے حساب سے ٹائم ٹیبل ترتیب دیا ۔
جب تقریباسات ماہ بعد رزلٹ مجھے اول پوزیشن کے ساتھ ملا تو خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا، شکرانے کے نفل ادا کیے گھر پہ دعوت کا اہتمام کیا گیا والدہ نے محلے میں سب کو مٹھائی بانٹی اور محنت کا اچھا صلہ ملنے کے بعد میرا محنت پہ اور بھی یقین پختہ ہو گیا۔
۔ دوسرا سوال تعریف و تنقید کے حوالے سے تو واقعی تعریف و تنقید انسانی شخصیت کی تعمیر میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ میرے گھر والے امی ابو اور بھائی حضرات تعریف کریں تو مجھے خوشی تو بہت ہوتی لیکن گھر والوں کی تعریفوں کو میں سیریس نہیں لیتی کہ وہ لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں اور اکثر میری خامیوں پہ بھی ان کی فطری محبت کا جذبہ غالب آجاتا ہاں البتہ اسکول لائف میں سب کے دل عزیز محترم استاد سرانیس آصف ہوا کرتے تھے ۔آخری ملاقات میں جو کہ ہمارا اسکول میں آخری دن تھا ان کا کہا گیا جملہ۔
’’مجھے آپ پہ بے حد فخر ہے اور آپ اس فخرمیں ہمیشہ اضافہ کرتی رہیں گی مجھے یقین ہے۔‘‘
آج بھی یاد آتا ہے۔
(3)تیسرا دلچسپ سوال یادگار لمحہ ۔ میرے نانا کی یاد دلا گیا۔ میری زندگی کی سب سے پیاری اور بہت زیادہ قابل احترام ہستی نانا جان وہ مجھ سے بے حد محبت کرتے تھے اور ان کی محبت کا انداز ان کا میری آواز سنتے ہی اپنی جگہ سے کھڑے ہو جانا میرے سر پہ پیار کرنا اور کافی دیر تک اپنے پاس بٹھا کر باتیں کرتے رہنا مجھے آج بھی بہت یاد آتا ہے، اللہ پاک آپ کی مغفرت فرمائے۔ آمین)
لبنیٰ آصف
اپنی والدہ کی بیماری میں صحیح معنوں میں کامیابی اور ناکامی کا مطلب سمجھ میں آیا۔ اس دور نے وہ کچھ سکھایا جو شاید کسی دور میں نہ سیکھ پاتے۔ میری والدہ کی اچانک طبیعت خراب ہوئی اور ایڈمٹ کر لیا ڈاکٹروں نے ٹیسٹ اور ایم۔ آر۔آئی کے بعد بتایا کہ دماغ میں کلاشٹنگ ہوئی ہے۔ بس دعا کریں۔ والدہ بالکل بستر پر تھیں۔ ہم بہنوں ، والد اور بھائیوں نے محنت، خدمت، دعائیں فزیوتھراپی ، ڈاکٹروں کی ہدایت پر عمل تین مہینوں میں والدہ بہتری کی طرف آئیں آہستہ آہستہ چلیں ہنسیں بولیں۔ ایسے لگا ہم سب کامیاب ہو گئے۔زندگی لوٹ آئی۔ ہم سب اپنی گھرگھرہستیوں ، بچوں میں لوٹے ، چند ہفتے ہی ہوئے کہ والدہ کی دوبارہ ویسے ہی طبیعت ہوئی ۔
دل اس امید پر گامزن تھا وہی کامیابی مقدر بنے گی لیکن والدہ کی طبیعت بگڑتی گئی اور تین مہینے بعد امی کا انتقال ہو گیا۔ان چھ مہینوں میں جو والدہ کی بیماری کے تھے۔ کامیابی اور خوشی کا دور بھی دیکھا اور ناکامی اور غم کا بھی۔
(2)میرا پہلا افسانہ شعاع میں چھپا تو میں بہت خوش تھی اتنی کہ اگر لکھوں تو جرنل کا صفحہ بھر جائے گا خوشی خوشی ہسبینڈ کو بتایا اور افسوس کا اظہار کرنے لگی کہ بائیس سال سے رسالا پڑھ رہی ہوں ۔پہلے لکھنا چاہیے تھا بہت دیر سے لکھا تو میرے ہسبینڈ نے کہا ۔ ’’وہ مطالعہ کی عمر تھی ۔پہلے لکھتیں تو اتنا میچور نہ لکھتیں۔ ‘‘ بہت اچھا لگا۔ میرے ہسبینڈ بہت کم اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ میرے لیے ان کے الفاظ بہت قیمتی ہیں۔
۔بہت سارے لمحے زندگی میںایسے ہیں جن کی یادیں آج بھی دل سے نہیں جاتیں۔
مجھے شوروم سے نکلی بالکل نئی گاڑی میں بیٹھنے کا بہت شوق تھا۔ جس دن میں ہسبینڈ کے ساتھ نئی گاڑی میں بیٹھی وہ لمحہ آج بھی نہیں بھولتی بہت شکر ادا کیا اپنے رب کا۔ نئی گاڑی میں جو خوشبو تھی۔ وہ آج بھی مس کرتی ہوں۔
جس دن میں ماں بنی اپنے بیٹے کو گود میں لیا وہ خوشبو وہ احساس آج بھی یادوں میں محفوظ ہے۔
ثمرہ احمد سعید سیالکوٹ
۔ ناکامی ۴کامیابیاں دراصل زندگی کا اتار چڑھائو ہے۔ میں نے ناکامیوں کو بھی خوشی سے اللہ کی رضا سمجھ کر قبول کرنا سیکھا ہے کس سے ؟اللہ تعالیٰ کے
حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے علمائ کی نصیحتوںسے ۔ناکامیوں پر احساسات تو پیچھے رہ جانے والوں جیسے ہی ہوتے ہیں منفی ، مایوس، دل برداشتہ سنہری حروف میں ایک درحقیقت ناکامی کو قبول کرنا ہی پہلی مشقت ہے قبول کرلے پھر بجائے مایوس ہونے کے یا منفی سمت جانے کے مثبت راستہ اپنائے اور یہ اسباق ہمیں والد محترم سے دیکھ دیکھ کر یاد ہوئے تھے مگر پریکٹیکل تب آزمائے جب زندگی نے مجھے آزمایا۔
اور دیکھا جائے تو اولین بیس برس پیدائش سے لے کر شادی تک اور تھے اوراگلے پچیس برس اب تک ٹوٹل تبدیل تھے جیسے انسان آسمان سے گرے اور کھجور میں نہ اٹکے بلکہ سیدھا سیدھا زمین پہ آ گرے کامیابی اور ناکامی بالکل اسی طرح عمر بھر ساتھ ساتھ رہیں جس طرح زندگی کا سفر زندگی کے ساتھ اور قارئین کرام ۔
زندگی کی چوٹوں سے
بس ہلکی سی شکایت ہے
خون جگر سے لکھی ہوئی یہ حکایت ہے
زخم زخم پوریں ہیں
چورچور بدن کی جسامت ہے
پیروں کے چھالے ہیں یا
روح میں اترے بھالے (نیزے) ہیں
ناکامیوں کا کیا کہیں ؟
حسرتوں کی اک مسافت ہے
زندگی کی چوٹوں سے بس ہلکی سی شکایت ہے !
۔ دل پہ دستک دیتی یادیں !
نہ جنوں رہا نہ پری رہی
بہت ہی خاص الخاص رشتے بچھڑ گئے اور اس مقام پہ گئے جہاں سے پلٹ کر کوئی نہیں آتا سو اداسیوں نے دل کے گرد ایسے گھیرے ڈالے کہ اب زندگی کی شام ڈھل رہی ہے!
کس قدر تیز ہوائیں ہیں
کواڑ کھول کے دیکھتے ہیں
دستکیں ہیں ،صدائیں ہیں
لیکن کوئی نہیں ! کوئی نہیں ! کوئی نہیں!
۔محبت کائنات کا خوب صورت ترین جذبہ ہے
مگر اعلیٰ پائے کی محبت ۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کی ہے جسے عطا کر دی جائے وہ زندگی کی معراج پہ ہے۔
اس کے بعد مجازی محبتوں کا سفر ہے جو موت تک جاری و ساری ہے۔ محبت کے نظریے میں میرا ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ کچھ محبتیں مجازی سراب بن جاتی ہیں اور کچھ گلاب کر دیتی ہیں۔
ایسی جگمگاتی محبت جس نے زندگی کے کسی بھی سفر میں بھٹکنے نہیں دیا۔
صبا آصف
ناکامی نہیں ناکامیوں کا مقابلہ کا مقابلہ بہت حوصلے سے کیا۔ ناکامی پر نہ تو میں نے زیادہ غم منایا نہ شور شرابا کیا۔ میرا صبر تو پورے خاندان میں مانا جاتا ہے۔ صبر ہو تو صبا جیسا۔
(2)میں اپنی امی سے بہت محبت کرتی ہوں لیکن ذہنی طور سے ابو سے زیادہ قریب تھی۔ میری منگنی کے بعد ابو نے کہا ’’بیٹا ! مجھے امید نہیں تھی کہ تم ہمارے فیصلے کو قبول کرو گی۔ میں بہت خوش ہوں کہ تم نے ہمارا مان رکھا۔ ‘‘ان کے لہجے میں بہت خوشی اور فخر تھا ۔ انہوں نے کہا مجھے اپنی بیٹی پر فخر ہے کہ اسے میری محبت نے بگاڑا نہیں سنوارا ہے۔ مجھے اپنی اور تمہاری ماں کی تربیت پر ناز ہے۔‘‘
آج وہ دنیا میں نہیں ہیںلیکن ان کے الفاظ نے ہمیشہ مجھے خوشی اور رہنمائی دی۔
دوسری میری بہت پیاری بیٹی ہنزہ بھتیجی لیکن بیٹیوں سے بڑھ کر(ہمارے ہاں اولاد نہیں ہے) ہنزہ بیگم فرماتی ہیں ’’ماما آپ دنیا کی بہترین ماما ہیں‘‘ آپ نے جس طرح میرا خیال رکھا اور میری تربیت کی ہے میں بھی اپنے بچوں کا اسی طرح خیال رکھوں گی اور ان کی ایسے ہی تربیت کروں گی۔ (یہ اس کی بڑائی ہے)ماشااللہ اس کے تین بچے ہیں موسیٰ ، عیسیٰ ، علیزہ ۔
(3) میں اور میرے ابو موٹرسائیکل پر گھر آ رہے تھے۔ سائیڈ سے سوزوکی آ گئی برف کی گاڑی تھی۔ ابو سمجھے جب تک وہاں پہنچیں گے یہ کراس کرے گی (جب اکثر روڈ ڈبل نہیں ہوتے تھے) لیکن وہ رک گئی۔ آدھی سڑک پر کھڑی ہو گئی ہم اپنی سائیڈ سے گزر رہے تھے۔ ابو نے سوچا اگر ایسے ہی گزرتا ہوں تو صبا کی دونوں ٹانگیں اور سرسوزوکی سے ٹکرائے گا ۔ابو نے لمحے بھر میں اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے بیٹی کو بچانے کا فیصلہ کیا اور موٹرسائیکل کا رخ موڑ دیا۔ یہ ایک بہت بڑا فیصلہ تھا ،ایک بہت محبت اور پروا کرنے والے باپ کا اپنی اولاد کے لیے۔
ابو کی سوزوکی والی سائیڈ پر جو ٹانگ تھی پوری شدت کے ساتھ سوزوکی سے ٹکرائی۔ گھٹنے کی ہڈی بری طرح ڈییچ ہوئی دونوں روڈ پر گرے ۔روڈ پر گرنے سے میرے تھوڑی بہت چوٹیں آئیں لیکن ابو نے ایک سال بستر پر گزارا دوبار ان کی ٹانگ کا آپریشن ہوا گھٹنے کی ہڈی جڑنہیں سکتی تھی۔
ڈاکٹروں نے آپریشن کر کے نکال دی سالوں ان کی ٹانگ مڑ نہیں سکتی تھی اٹھنا بیٹھنا بہت مشکل ان کے لیے ،انہوں نے بہت تکلیف اٹھائی ان کے ساتھ ساتھ میرے دل اور ذہن نے بھی بہت تکلیف اٹھائی اور کمال یہ ہے کہ انہوں نے کسی کو علم نہیں ہونے دیا کہ ایسا میری وجہ سے ہوا جب یہ بات مجھے پتا چلی تو میں بہت روئی اور ابو سے کہا۔
’’ آپ نے ایسا کیوں کیا ؟‘‘پہلے تو وہ مانے ہی نہیں جب میں نے کہا۔ میں جان چکی ہوں تو رندھے گلے سے کہامیں گزارچکا ہوں زندگی تم نے گزارنی ہے تمہاری دونوں ٹانگیں جاتیں۔ سر میں بھی چوٹ لگتی۔ بیٹی سے کیسا پیار ۔اپنی جان کی بھی پروا نہ کی۔ میں آج بھی اس لمحہ کی گرفت سے نہیں نکل پاتی۔ اس واقعہ کی یاد آج بھی میرے دل پر دستک دیتی ہے۔
**


