عیدالاضحی خوشیوں بھرا تہوار اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خوب صورت تحفہ۔
عیدالاضحی کا چاند نظر آنے سے پہلے ہی گلی محلوں میں رونق ہوجاتی ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک خوبصورت جانور نظر آتاہے۔
عیدالاضحی پر لڑکے پر جوش نظر آتے ہیں۔ قربانی کے جانور کی خریداری اور دیکھ بھال سے لے کر اس کا گوشت بننے تک ان کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
گوشت بن کر کچن میں آتاہے تو خواتین کی ذمہ داری شروع ہوتی ہے۔ گوشت کی مختلف ڈشوں سے سجا دستر خوان، مہمانوں کی تواضع اور گھر کے افراد کی فرمائشیں وہ خوشی خوشی پوری کرتی ہیں۔
حسب روایت قارئین کی شمولیت کے لیے عیدالاضحی کے موقع پر سروے کیاہے۔ سوالات یہ ہیں۔
٭ کیا آپ کے گھر قربانی ہوتی ہے۔ کوئی یاد گار واقعہ لکھیں جو جانور کے گھر آنے یا قربانی کرتے وقت پیش آیا ہو۔
٭ بقرعید پر دعوت کے لیے گوشت کی کوئی خاص ڈش بنانے کی کوشش کی جو صحیح نہ بن سکی۔ لیکن ساری پریشانی اس وقت خوشی میں بدل گئی جب گھر والوں کے ساتھ ساتھ مہمانوں کوبھی وہ ڈش بہت پسند آئی۔
٭ بقرعید کا دن کیسے گزرتاہے۔ اس کا احوال لکھیے کیا ڈش بناتی ہیں۔ اپنی پسند کو ترجیح دیتی ہیں یا گھر والوں کی پسند کا خیال رکھتی ہیں؟
فرخندہ سلیم (ملتان)
۔بقر عید کے حوالے سے 1996ئ کی بقرہ عید کے پہلے دو دنوں کی یادیں خاص ہیں۔
پہلا دن .اپنی عزیز دوست سیما کے کہنے پر عید کے پہلے دن اس کے گھر گئی ۔ میری موجودگی میں اس کے گھر قربانی ہوئی ساتھ میری خوفناک چیخیں ویسے ہی مشہور ہوئیں اور اگر اس قربانی کے ویڑے (جانور)ویڑے کے بیچ وہ لوہے کا دروازہ نہ آتا تو میںاور سیما کے گھر کی خواتین اس شیر کی طرح بھرے ہوئے ویڑے (جانور)کے نوکیلے سینگوں کے ساتھ اس کے جارحانہ انداز ، تشدد کا نشانہ بن چکی ہوتیں۔
دراصل قربانی کا ویڑا شاید نمرہ اور فرحت کے ناولز کے روکھے مزاج کے ہیرو کی طرح کچھ زیادہ ہی
نخریلا اور غصے والا تھا جو قربان ہونا نہیں چاہتا تھا۔
جیسے ہی ذبح کا وقت آیا تو ایک دم سے اٹھ کھڑا ہوا اور بے دردی سے سیما کے بھائی کو ٹکر مارتے ہوئے کمرے کی طرف آیا۔ جس کی کھڑکی سے میں یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی اس حرکت پر اتنی چیخیں ماریں جیسے موت کا فرشتہ خوفناک شکل میں مجھے نظر آ گیا ہو۔
فوری طور پر سیما کی امی نے دروازہ بند کر دیا تھا ورنہ کمرے والی خواتین میں سے کوئی تو اس ویڑے کا نشانہ بنتا اور تاریخ میں پہلی بار لکھا جاتا کہ خواتین بھی بے قابو ویڑے کا شکار ہوئیں ۔
خیر جب باولا کمرے میں نہ جا سکا تو باہر کا گیٹ کھلا ہونے کی وجہ سے گھر سے باہر بھاگ گیا اور پھر گھر کے مرد اس کے پیچھے پیچھے جیسے گا رہے ہوں کہ ’’ ہم ساتھ ساتھ ہیں‘‘ (میری پسندیدہ فلم) خیر محلے کے لوگوں نے بہت مشکل سے ویڑے کو قابو کیا اور پھر دوبارہ اس کو گھر لایا گیا جیسے قیدی کو جیل میں لایا جاتا ہے اور سب مرد حضرات کے بہت زیادہ کس کر پکڑنے کے بعد ذبح کر کے اس کی بوٹیوں کو بے دردی سے کاٹنے لگے کہ قصائی کی اولاد شاید پچھلے جنم میں ہوں گے۔
دوسرا دن .عید کے دوسرے دن ہماری میٹرک کی الوداعی پارٹی تھی جو اپنی نوعیت کی بہت منفردسی پارٹی تھی کہ ساری لڑکیوں نے اور میں نے بھی پارٹی میں آنے سے پہلے اپنے گھر سے ایک ایک پلیٹ قربانی کا گوشت اسکول کو دیا تھا اور ہم سب لڑکیاں بعد میں تیار ہو کر آئیں پھر بقر عید کے ساتھ اسکول میں آخری دن کا لطف دوبالا ہوا۔ میں نے اور میری دوست نے ایک جیسے کپڑے پہنے تھے اور ڈرامہ بھی کیا تھا جس میں وہ لڑکا بنی تھی سیما نے اپنے بھائی کی پینٹ اور سر پر مردانہ کیپ پہنی تھی اور مجھے اس نے چھیڑنا تھا مگر ہوا یہ کہ ڈرامے کے دوران جب اس نے مجھے چھیڑا تو میں نے اسے کچھ زیادہ ہی زور سے نکا کر تھپڑ مار دیا کہ اس کی کیپ اتر کر گر گئی اور بال بکھر گئے ڈرامہ خراب ہو گیا۔ اورہم نے خوب انجوائے کیا۔
تصویریں بنائیں جوابھی تک میرے پاس محفوظ ہیں وہیں سیما نے مادھوری کے گانے ’’چنے کے کھیت میں‘‘ پرکافی رقص بھی کیا تھا جو اس نے اپنی بھابی سے سیکھا تھا۔ خیر پھر عیدکے گوشت سے اس وقت بنے ہوئے لذیذ سے پلائو اور قورمے کے ساتھ ہم سب نے ٹیچر کے ساتھ مل کر خوب انصاف کیا
۔بقر عید کا دن ، سب کا گوشت آ رہا تھااور میرا دماغ ایسی ترکیبوں میں گھسا ہوا تھا جیسے گوگل کا ہیڈ کوارٹر میرے ہی کچن میں کھل گیا ہو۔ اس بار سوچا تھا کچھ نیا بنائوں، کچھ ایسا کہ سب انگلیاں چاٹتے رہ جائیں اور خاص کر میرے شوہر کی کزنز کہ وہ ہمیشہ عید پر لازمی آتی ہیں۔ جن کی گردن فخر سے تنی رہتی ہے۔ ان کی بولتی بند کرادوں۔
اب کیا تھا۔یوٹیوب کھولا ، دل میں جذبہ ، آنکھوں میں ترکیب ، اور ہاتھوں میں مرچیں ، ترکی بیف رولز کی ترکیب نکالی، اسٹفنگ تیار ، گوشت کو پیٹا ایسے جیسے ساس نندوں کی فضول باتیں دماغ میں گونج رہی ہوں ، چمچے مسالوں سے بھرے اور ارادہ لوہے کا۔ دل میں یہی دعا تھی۔
’’یا اللہ ، رول بن جائیں ۔ شوہر کی کزنز جل جائیں۔ ‘‘
رول دم پر رکھے اور میں سندر بننے ، کیونکہ آخر کار کیمرہ نہیں تو کم از کم ’’نندوں کی نظر ‘‘ ضرور ہوتا ہے۔ شیشہ صاف ، لپ اسٹک ہلکی ، ہاتھ میں چوڑیاں اور دل میں وہی ترکی ڈش کا غرور۔ بس جیسے ہی وقت آیا ، دیگچی کا ڈھکن کھولا تو گوشت نے ایسا دھوکا دیا جیسے پرانے عاشقوں کی عادت ہو ۔ رولز بکھرگئے، اسٹفنگ الگ ، گوشت الگ، سالن ایسا جیسے چمچہ نکالتے ساتھ ہی کانچ کی بوتل میں ہاتھ ڈال دیا ہو۔
میرا تو رنگ اڑ گیا اور دل کیا کہ نندوں کو عید کارڈ کے ساتھ ’’ معذرت نامہ ‘‘ بھیج دوں۔ لیکن ہمت نہ ہاری۔ ذائقہ چکھا تو واہ ! ذائقہ تو لا جواب ! اب کیا تھا سالن کو نیا نام دیا ’’ترکی بیف فلیوربم ‘‘ اور پلیٹ میں رکھ کر کہا۔
’’یہ خاص ہے سسپنس ڈش ہے۔‘‘
مہمانوں نے کھایا تو واہ واہ کرنے لگے۔
نند نے پہلا نوالہ لیا ، آنکھیں پھیل گئیں ، کہنے لگی ۔’’واہ بھابھی ! یہ تو بیف کی کوئی نئی قسم ہے !‘‘
دوسری نندجوہمیشہ ’’امی جی کے ہاتھ کے کھانے ‘‘ کی قسمیں کھاتی تھی، کہنے لگی۔
’’یہ ترکیب تو ہمیں بھی سیکھنی ہے!‘‘
اب دل میں تو قہقہے پھوٹ رہے تھے ، مگر میں نے چہرے پر عاجزی سجائے کہا۔
’’بس تھوڑی محنت تھی ، اللہ کا کرم ہے !‘‘
دل ہی دل میں کہا ۔
’’محنت کم ، نیت جلی ہوئی تھی۔ خاص کر نندوں کی !‘‘بس پھر کیا ، ہر طرف تعریفیں، اور نندوں کی وہ گردن جو ہمیشہ غرور سے تنی رہتی تھی۔ وہ ایسے جھکی جیسے مرغا بننے کو آئی ہو۔ اب ہر عید پہ وہی نندیں پوچھتی ہیں۔
’’بھابھی اس بار کیا خاص بنا رہی ہیں ؟ ہم نوٹ بک لے آئیں؟‘‘
۔بقر عید کا دن ؟ ہائے اللہ ! ایسا دن جو کچن کی دہلیز سے شروع ہو کر قربانی کے میدان ، نندوں کی زبان ، ساس کے اشاروں ، شوہر کی فرمائشوں اور بچوں کی شرارتوں کے درمیان کہیں کھو جاتا ہے۔ چاند رات کو ہی میری نیندیں اڑ جاتی ہیں کیونکہ اگلے دن میرے کندھوں پر صرف گوشت نہیں ، بلکہ پورے خاندان کی خوشنودی کا بوجھ بھی ہوتا ہے۔ شوہر صاحب بڑے فخر سے کہتے ہیں۔’’بیگم بس اس بار کوئی ایسی ڈش بنائو کہ مہمان انگلیاں چاٹتے رہ جائیں۔ ’’اور میں سوچتی ہوں کہ کھانا بنانے کا کیا فائدہ شہد میں انگلی ڈبو کر چاٹ لیں۔ چاند رات کو جب باقی عورتیں مہندی لگا رہی ہوتی ہیں، میں آٹے کے ساتھ اپنا خاندانی رشتہ نبھا رہی ہوتی ہوں۔ گوشت کی تیاری ، مسالے پیسنا ، فریج صاف کرنا ، اور ساتھ ہی نندوں کی چبھتی باتوں کا مسکرا کر جواب دینا۔ یہ سب کچھ ایک ہی سانس میں کرنا پڑتا ہے۔ نندیں کمر پر ہاتھ رکھ کر بولتی ہیں۔
’’بھابھی ، آپ کو تو اب عادت ہو گئی ہو گی ، ہر سال یہی سب تو کرتی ہیں!‘‘ اور میں دل میں سوچتی ہوں’’ عادت ہے ہاں ، خود کو خاموش رہنے کی ، ورنہ تمہارے بالوں میں بم اور میری زبان کا قہقہہ ایک ساتھ ہی پھٹ پڑیں!‘‘
قربانی کے دن فجر سے پہلے اٹھنا ہوتا ہے ۔ لیکن شوہر صاحب کی پرجوش چیخ سے میری آنکھ کھلتی ہے۔
’’بکرا! بکرا نکل گیا جلدی چاقودو!‘‘
میں سمجھتی ہوں کوئی انقلاب آ گیا۔ ادھر میں بچے سنبھالتی ہوں ، ادھر شوہر صاحب گوشت سنبھالتے ہیں ، جیسے ہی گوشت کاٹنے کے بعد حصہ بندی ہوتی ہے ، سب ایک ایک بوٹی پر نظریں گاڑ لیتے ہیں ، جیسے زمین کا پلاٹ تقسیم ہو رہا ہو !
اور اگر خدانخواستہ کہیں کلیجی کا حصہ تھوڑا سا کم دے دوں تو کچھ رشتے دار ایسے بھڑک اٹھتی ہیں جیسے میں نے ان کے جہیز کا حصہ دبا لیا ہو۔
پھر آتا ہے دعوت کا وقت۔
میں نے خاص ’’دم کا قورمہ ‘‘ بنایا ، لیکن دم نہیں لگ پایا کیونکہ دماغ پھٹنے کو آ گیا۔ شوہر بولے ۔
’’بیگم ، نمک تھوڑا زیادہ ہے۔ ‘‘
میرا کہنے کا دل کرے کہ کھانا چھوڑ دو۔
اور نند نے فوراً اضافہ کیا۔ ’’شاید پیار زیادہ ڈال دی ہو !‘‘
میں ہنس کر کہا۔ ’’آپا ، پیار سے زیادہ صبر ڈال دیا ہے ،تاکہ کسی کی باؤلی باتیں ہضم ہو سکیں !‘‘
مگر سچ کہوں تو، جب سب کھانے کے بعد میری تعریفیں کرتے ہیں۔ چاہے وہ دکھاوے کی ہی کیوں نہ ہوں تو دل کو اک سکون سا آجاتا ہے۔ ہاں ، تھکن ہوتی ہے، کمر ٹوٹتی ہے ، برتن پہاڑ بن جاتے ہیںاور نندیں تبصرہ نگاروں کی ٹیم بنی رہتی ہیں۔ لیکن آخر کار یہی سب تو ہے ایک اصلی بقر عید کی جھلک۔ جہاں قربانی صرف جانور کی نہیں، ایک بیوی کے جذبات ، نیند ، صحت اور برداشت کی بھی ہوتی ہے !
اوراگلے سال ؟
پھر یہی کہانی ، نئے بکروں ، نئے طنزوں ، نئے سال اور پرانے شوہروں کی ساتھ دہرائی جاتی ہے۔
نصرت جبین ملک (خوشاب)
۔ مجھے بچپن کا ایک واقعہ آج تک نہیں بھولا بلکہ ہر بقر عید پر جب میری بہن گوشت نہیں کھاتی تو اس واقعہ کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ ہوا یوں کہ میری چھوٹی بہن ابو کی بہت لاڈلی تھی وہ کافی عرصے سے جانور لینے کی ضد کر رہی تھی۔
آخر قربانی سے دو ماہ پہلے ابو نے ایک بکرا خریدا اور اسے کہا۔ ’’ یہ بکرا اس کے لیے ہے ۔‘‘ وہ بہت خوش ہوئی اور ہر وقت اس کی دیکھ بھال کرتی رہی پانی پلاتی ، چارا گھلاتی حتی کہ اس کی جگہ بھی صاف کرتی رہی۔
جب بقر عید کا دن آیا تو گھر والوں نے منصوبہ کے تحت اسے نانا ابو کے گھر کچھ دیر کے لیے بھیج دیا۔ ابو اس کی پسندیدہ مٹھائی کا ڈبہ لے آئے تھے تاکہ جب اس کا بکرا قربان ہو جائے تو اس کے بدلے میں وہ مٹھائی دیکھ کر خوش ہو گی۔
بکرا ابھی ذبح ہوا ہی تھا کہ وہ گھر لوٹ آئی اور آنکھوں سے بکرے کی کھال اترتے دیکھی تو ابو نے فوراً اس کا دل بہلانے کے لیے مٹھائی کا ڈبہ اس کی طرف بڑھایا وہ مگر وہ بے حال ہو گئی اور چیخنے لگی ۔
سب گھر والے بہت گھبراگئے کسی کوبھی اس شدت کی امید نہ تھی سب سمجھانے لگے ۔ ابو نے ایک کی بجائے دو بکرے لانے کا وعدہ کیا مگر وہ سنبھل نہ سکی شدید بیمار پڑ گئی کچھ دن بیمار رہنے کے بعد وہ ٹھیک تو ہو گئی مگر اس کی نفسیات اس واقعے سے اتنی متاثر ہوئی اس کے بعد اس نے قربانی کا گوشت کبھی بھی نہیں کھایا اب شادی کے بعد ان کے گھر قربانی کے دو جانور ذبح ہوتے ہیں مگر وہ ایک بوٹی بھی نہیں چکھتی بلکہ قربانی کے تینوں دن اس کی طبیعت بوجھل رہتی ہے اور وہ گوشت بانٹنے اور سمیٹنے کے کسی کام میں حصہ نہیں لیتی۔
۔جی بالکل میرے ساتھ ایک مرتبہ ایسا ہوا مزے کی بات یہ ہے کہ گوشت نہیں بلکہ مکھنڈی حلوہ جو میں کافی اچھا بناتی ہوں ایک عید کے موقع پر سسرال میں مجھے تین کلو حلوہ بنانا پڑا تو گھبرا گئی کیونکہ اتنا میں نے کبھی نہیں بنایا تھا۔
حلوہ بناتے ہوئے ایک موقع پر تو یوں لگا کہ سب کچھ ضائع ہو گیاہے گھر والے کیا سوچیں گے ؟ مہمانوں کو میٹھے میں کیا دیں گے ؟ مجھے اتنا زیادہ حلوہ بنانے کا رسک نہیں لینا چاہیے تھامگر پھر کلام اللہ سے مدد لی اور سورۃ فاتحہ پڑھنا شروع کر دی تو اللہ کے کرم سے وہ ایسا مزے داربن گیا کہ سب گھر والے خوش تھے کہ سوجی کا حلوہ ، ملتانی سوہن حلوے کی طرح بن گیا تھا اور مہمان بھی پوچھنے لگے کہ حلوائی والا حلوہ آپ نے گھر پر کیسے تیار کر لیا۔
اس کے بعد لاکھ کوشش کے وہ حلوہ مجھ سے دوبارہ نہ بن سکا شاید اس میں صرف میرے اللہ کا کرم ہوا کہ جس نے میری بگڑی چیز کو بھی سنوار دیا تھا اور لوگوں کے سامنے میرا بھرم رہ گیا تھا۔
۔بقر عید کا دن گوشت سے شروع ہو کر گوشت پر ہی ختم ہو جاتا ہے ۔ میٹھا میں ایک رات پہلے بنا لیتی ہوں تاکہ صبح آرام سے بچوں کی تیاری کروا سکوں میرے میاں کو کڑھائی گوشت پسندہے سوپہلے دن بہت بنا لیتی ہوں بچے بھی کھالیتے ہیں مگر مجھے نمکین کالی مرچ والا سادہ گوشت پسند ہے ساتھ یہ بھی ضرور بناتی ہوں۔ رات کو کباب ، چٹنی کے ساتھ یا پھر پلائو بنتا ہے اور سب ہی شوق سے کھاتے ہیں۔
عاصمہ اخلاق (سعودی عرب)
۔جی الحمد اللہ ہمارے گھر ہر سال قربانی ہوتی ہے قربانی سے متعلق یہ واقعات تین سال تک پیش آتے رہے۔
ہوتاکچھ یوں تھا کہ میرے بابا قربانی سے 11 ماہ قبل ایک ماہ کا چھوٹا سا بکرا لے آتے قربانی کے لیے اور اسے پالنے کا حکم دیتے ہم سب بہن بھائی اور کزنز بے حد خوش ہوتے اور کسی چھوٹے بچے کی طرح اس کا خیال رکھتے خاندان کے فرد کی مانند پیار دیتے یوں قربانی آنے تک وہ سب کی آنکھ کا تارا بن جاتا۔
اپنے حصے کا فروٹ آئس کریم سب ہم اپنے پیارے بکرے کو کھلاتے۔
قربانی کے روز بجھے دل کے ساتھ قصائی کو بلایا گیا ہماری آنکھیں نم تھیں تو بابا بھی اداس تھے قربانی کا منظر ہم نے روتے سسکتے دیکھا،عید کا دن یوں ہی اداسی میں گزر گیا ہاں یہ بات سارے محلے میں پھیل گئی کہ بکرے کی قربانی کا منظر دیکھ کر ہماری پوری فیملی کی آنکھیں اشکبار تھیں۔
اس کو کچھ دن گزرے تو بابا ایک اور چھوٹا سا بکرا لے آئے پرانے کا غم بھولا کر ہم نے اس سے بھی دلی وابستگی قائم کر لی وہی پیار ویسے ہی نخرے اٹھاتے اس بار عید عید پر محلے کی کچھ خواتین اور مرد حضرات بھی آ گئے ہم بھی تو دیکھیں آپ لوگ کیسے روتے ہو بس پھر کیا تھا یہاں ہماری آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے تو دوسری جانب محلے کی خواتین بھی ہمیں دیکھ کر رونے لگیں اس کے بعد ایک اور عیدیوں ہی غمگین اور اداس گزری تو مما نے کہا۔
’’اب بکرا نہ لانا عید رونے دھونے میں گزر جاتی ہے اب عید سے چند دن پہلے ہی قربانی کا جانور لیا جاتا ہے اب اپنے وہ ایموشنل سین یاد کرتے ہیں کیسے محلے والے بھی ہمارے غم میں برابر کے شریک ہوتے تھے۔
۔ہاں ایسا ایک بار ہوا تھا جب میںنے نئی نئی کوکنگ شروع کی تھی۔
وہ عید کا دوسرا دن تھا اور میں نے مما سے کہا ۔ ’’میں سالن بناتی ہوں بکرے کا گوشت تھا یہ سن کر مما اور چچیاں عید ملنے کی غرض سے محلے میں چلی گئیں سالن کی ٹینشن تو میں نے اپنے سر لے لی تھی سو وہ بے فکر ہو کر چلی گئیں۔
گوشت گلانے کو ڈھیر سارا پانی ڈال کر پکانا شروع کیا اتنا پانی ڈالا تھا تو خشک ہونے میں دو سے تین گھنٹے لگے اور نتیجہ یہ نکلا کہ گوشت حد سے زیادہ گل گیا اور ریشہ ریشہ ہو گیا میں اس قدر خوف زدہ ہوئی کے سالن تیار کر کے ساتھ میں نانی کے گھر جا کر بیٹھ گئی۔ کھانا بھی ادھر ہی کھایا کب مما اور چچیاں واپس آئیں ، سالن دیکھ کر ان کے کیا ایکسپریشن تھے اس سب سے بے خبر میں پر سکون سی نانی کے گھر بیٹھی تھی۔ کھانا میں نے نانی کے گھر ہی کھایاشام کو ڈرتے ڈرتے گھر قدم رکھا توسب سے پہلے مما سے سامنا ہوا۔ ’’تمہیں تمہارے بابا بلا رہے ہیں۔‘‘
بابا کے پاس گئی تو وہ چہرے پرسنجیدگی طاری کر کے بولے ۔’’سالن تم نے بنایا۔ ‘‘
’’جی!‘‘ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا ۔
’’بہت اچھا بنایا ۔‘‘بابا ایک دم مسکرائے تو میرا چہرہ کھل گیا ۔
بابا کے بعد دادا ابو نے بھی خوب تعریف کی بعد میں مما اور باقی سب کو بتایا کہ میں کس قدر خوف زدہ ہو گئی تھی تو وہ ہنستے مما کہنے لگیں۔
’’ہماری غلطی ہے تمہیں بتا کے جانا تھا کہ بکرے کا گوشت جلدی گل جاتا ہے لیکن خیر اب توتم نے بہت تعریف سمیٹ لی ۔‘‘
۔ابھی تک سسرال میں دو عیدیں گزری ہیں دونوں بہت اچھی رہیں میکے کی طرح سسرال میں بھی صبح صبح ہی نہا کر اچھے سے تیار ہو جاتی ہوں میکے اور سسرال کی عید میں کوئی خاص فرق نہیں میرا میکا ہو یا سسرال سب کو ہی پہلے دن نمکین گوشت کھانا ہوتا ہے اور شام میں بیف پلائو اور شامی کباب یوں سب کی پسند کو مد نظر رکھتے ہوئے دونوں جیٹھانیوں کے ساتھ مل کر کھانا بناتی ہوں۔
رضوانہ وقاص (کرلاں ہری پور)
۔جی الحمد للہ ہمارے گھر میں قربانی ہوتی ہے۔ اور اللہ پاک ہر سال قربانی کرنے کی توفیق دے ۔(آمین) اکٹھی بھی کی ہے۔ اور علیحدہ بھی کی ہے۔ یادگار واقعے لکھنے لگ جائوں تو پھر بہت زیادہ ہو جائیں گی۔
یہ عید قربانی کے حوالے سے بہت اچھی ہوتی ہے۔ ابو تایا چچا اور شوہر ایک ساتھ قربانی کرتے ہیں۔ اگر ہمارے ساتھ کوئی حصہ ڈال لے۔ تو تایا ابو کے گھر ذبح کرتے ہیں جانور۔ چھوٹے بڑوں ۔ بزرگوں اور عورتوں کو بھی بلا کر دعا کی جاتی ہے۔
تائی ہیں بڑی لیکن بچپن سے پھپھو ہی بولتے ہیں۔ وہ سالن بناتی ہیں۔ کیا ہی ذائقہ ہے۔ ان کے ہاتھ میں۔ سامان تیار کر دیتے ہیں۔ پیاز چھیل کر دینا ٹماٹر کاٹ کر دینا۔ اب تو گرائنڈ کرتے ہیں ٹماٹر لیکن وہ کچھ بھی گرائنڈ نہیں کرتیں۔ لہسن چھیل کر دینا۔ باقی پکانا ان کا کام کہتی ہیں۔ عید لڑکیوں کی ہوتی ہے۔ آج کے دن تم لڑکیوں کو چھٹی۔ ساتھ میں امی ۔ چچی ۔ مدد کرتی ہیں۔
اب ویسی عیدیں نہیں رہیں۔ لیکن دعا کرتی ہوں اللہ جی۔ پہلے جیسی عیدیں دوبارہ آجائیں ایسا ہو تو نہیں سکتا لیکن اللہ جی جو تھوڑا بہت اتفاق ہے قائم رکھے ۔(آمین) اور روٹی زیادہ امی ہی پکاتی ہیں۔ تندور پر، امی اور سدرہ باجی تندور پر روٹی بہت اچھی پکاتی ہیں۔ پھپھو کی کلیجی کا سالن تیار ۔ ہاں بہت ہی مزے کا کس کس نے کھانا ہے۔
۔پہلے بہت کی لیکن اب کچھ نہیں کر سکتی۔ شادی سے پہلے جب ٹھیک تھی امی کے ساتھ تھوڑی بہت ہیلپ کروادیتی تھی۔ ایک بات جب بھی عید آتی ہے تو یاد آجاتی ہے۔ بہت زیادہ۔
رات کا ٹائم تھا۔ امی نے کہا گوشت تھوڑا ساکوٹ دو سل میں سب اٹھا کر ٹی وی کے آگے لے گئی۔ کیونکہ ٹی وی بڑے شوق سے دیکھتی تھی کوئی پروگرام ،ڈرامہ مس نہ ہو جائے کیا وقت تھا تو امی نے کہا کمرہ خراب ہوگا باورچی خانے میں کرتیں ۔ گوشت گرتا تو ادھر سے صاف ہو جاتا۔ تو امی گوشت اٹھا کر لے گئیں۔
توابونے کہا میری بیٹی پر غصہ نہ کرو توبس یہ بات یاد کر کے دل بہت دکھی ہو جاتا ہے۔
مہمان تو الحمد للہ پہلے بھی آتے تھے دادی ماں ہمارے پاس رہتی تھیں۔ تودادوکے بھائی بھاوجیں بھتیجے بھتیجیاں۔ بیٹی، نواسے ، نواسیاں سب ملنے آتے۔ اور اب وہ نہیںتو ان کی سیٹ میں نے سنبھال لی ہے۔
بیماری کی وجہ سے تو سب آتے ہیں عید ملنے کے لیے۔ ویسے بھی میری یہ ہی کوشش ہوتی ہے۔ کہ مجھے جو دیکھنے ، ملنے آئے تو ان کی مہمان نوازی میں کوئی کمی نہ ہو ۔ میرے ساتھ میری امی چچی بھی بہت خیال رکھتی ہیں مہمانوں کا۔
۔بقرعید کا دن ایسے گزرتا ہے۔ اگر دل چاہے تو تیار ہو جاتی ہوں موڈ ہو تو۔ لیکن اب امی کے لیے تیار ہوتی ہوںکیونکہ میری وجہ سے پریشان نہ ہوں۔ اور گوشت دینے والے آتے ہیں۔ ایک آ رہا ہے ایک جا رہا ہے ۔ اور پہلی ڈش جو بنتی ہے وہ ہوتی ہے بھنا ہوا گوشت تو سب کو ہی یہ ڈش پسند ہے۔ امی سب کی پسند کا ہی سب کچھ بناتی ہیں اور اللہ سے دعا ہے اللہ پاک اچھی عیدیں گزارے اور اچھی عیدیں دیکھنی نصیب کریں۔ آمین
مسرت حسن (ڈلاس امریکہ)
۔جی ہاں ہمارے گھر ہمیشہ سے قربانی ہوتی ہے اور قربانی کے حوالے سے کافی واقعات پیش آئے کبھی کچھ کبھی کچھ۔ مگر ایک واقعہ ایسا ہے کہ جو ہم لوگ کبھی نہیں بھول پاتے۔ یہ واقعہ اس وقت کاہے کہ جب ہم سعودی عرب میں رہا کرتے تھے ہمارے گھر میں کافی بڑا صحن تھا میرے ہزبینڈ عید سے دو دن پہلے بکرا لے آئے تھے صحن میں بکرا باندھ دیا۔ بچے اس بکرے کے ساتھ انجوائے کر رہے تھے۔
عید سے ایک دن پہلے بچے بکرے کے ساتھ کھیل کے اپنے اپنے روم میں چلے گئے اچانک میری بیٹی بتول کے چیخنے کی آواز آئی ہم سب بھاگ کے روم میں گئے تو دیکھا کہ بتول کے روم میں بکرا کھڑا ہے اور اس کے بیڈ پر گرین لائنوں والوں (گھاس کی طرح)بیڈ شیٹ بچھی ہوئی تھی اس کا کونا بکرے کے منہ میں تھا، وہ بکرا بیڈ شیٹ منہ میں کھینچ رہا تھا اور میرے بیٹی بتول بیڈ کے اوپر کھڑی چیخ رہی تھی پھر میں نے بکرے کے منہ سے چادر کھینچ کر بکرے کو کمرے سے باہر کیا۔
بیٹی کی آوازیں سن کر میرے بیٹے بھی اپنے روم سے باہر آ گئے پھر جو سب ہنستے ہیں وہ کچھ نہ پوچھیے ۔ میرے بیٹے کافی دنوں تک یہ واقعہ بتول کو سنا کر تنگ کرتے رہے۔ بس یہ واقعہ ہر عیدالاضحی پر یاد آجاتا ہے۔
۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کوئی ڈش بنائی ہو اور وہ ٹھیک نہ بنی ہو شکر ہے پروردگار کا کہ جب بھی بنایا ٹھیک ہی بنا۔ کوئی بھی ڈش بنائی ، اچھی بنی۔
۔بقرعید کا دن بے حد بزی گزرتا ہے بہت افراتفری میں دن گزرتا ہے۔صبح اٹھ کر ہم سب تیار ہو کر نماز پڑھنے جاتے ہیں۔ یہاں پر سب خواتین مساجد میں نماز پڑھنے جاتی ہیں۔ ہم سب فرینڈز جاتے ہیں ہم سب کے بچے بھی ساتھ جاتے ہیں۔
نمازپڑھنے کے بعد وہاں ناشتہ کروایا جاتا ہے ناشتے میں پوریاں ، آلو چھولے ، پراٹھے ، آملیٹ شیر خورما، مٹھائیاں چائے اور بہت سی چیزیں ہوتی ہیں جو کہ ناشتے میں پیش کی جاتی ہیں۔
چھوٹے بچوں کے لیے گرائونڈ میں گیمز ہوتے ہیں۔ اسٹال لگائے جاتے ہیں اور بہت کچھ ہوتا ہے گیارہ بجے تک ہم لوگ واپس آتے ہیں۔ پھر وہی کچن ہوتا ہے اور ہم ہوتے ہیں۔
اب اپنی پسند تو کہیں کھو گئی بس جو شوہر اور بچوں کو پسند ہوتا ہے وہی بناتی ہوں اب شوہر اس دنیا میں نہیں رہے ورنہ تو ان کی پسند کی ہر چیز بناتی تھی اب جو بچوں کو پسند ہوتا ہے وہی بناتی ہوں۔ بچے بریانی پسند کرتے ہیں تووہی بناتی ہوں عیدکے دوسرے دن یخنی پلائو اور شامی کباب بناتی ہوں یہ بچوں کو بہت پسند ہیں۔ بس جو بچوں کوپسند ہے اب تو وہی بنتا ہے۔
ماہی بنت افضل (منڈی بہاوالدین)
۔عید کا کوئی واقعہ شاید کبھی ہوا ہی نہیں ایسا کچھ جو یاد رہ جائے ، ہمارے ہاں عیدیں بالکل سادہ ہوتی ہیں کوئی ہلا گلا ، کہیں آنا جانا نہ گھومنا پھرنا نہ کبھی زیادہ مہمان آتے ہیں۔ ایک د فعہ یاد ہے بچپن میں ہم عید والے دن گائوں گئے ہم بچوں نے عید اکٹھی کی بلکہ تین چار دن بہت مزے کیے وہ یاد ہے۔
۔ہاں میں امی سے ڈرتے ڈرتے (کیوں کہ وہ منع کر رہی تھیں کہ خراب ہو جائے گا)یخنی بریانی بنائی تھی سب کو بڑی پسند آئی بہت محنت کی تھی اور یہ دو سال پہلے کی بات ہے۔ ویسے میں کافی کچھ یوٹیوب میں دیکھ کر بناتی ہوں ٹھیک بن جاتا ہے یہ بہت آسانی ہو گئی ہم جیسی پھوہڑ لڑکیوں کے لیے۔
۔عید کے دن ہم صبح صبح اٹھ کر نماز وغیرہ پڑھتے ہیں ۔بھانجا بھانجیوں کو تیار کرتی ہوں پھر جو کچھ بنا ہو سویاں یا حلو ا وہ چائے کے ساتھ کھاتے ہیں خود نہا دھو کر صاف کپڑے پہن کر گوشت کا انتظار کرنے لگ جاتے ہیںکیونکہ ہماری قربانیاں دوسری اور تیسری عید پر ہوتی ہیں پہلی عید پر پڑوسی یا رشتے داروں کی طرف سے گوشت آتا ہے۔ جب تک ابو زندہ تھے تو ہمارے گھر گوشت پہلے دن ہی آجاتا تھا مطلب قربانی پہلے دن ہی کروالیتے تھے مزے کی بات ہے ہمیں تب پتا چلتا جب گوشت آتا کہ ہمارا بھی حصہ تھا گائے میں۔
گوشی جمال( منڈی یزمان )
۔الحمد للہ ! جب سے ہوش سنبھالا ہے اللہ کے فضل و کرم سے ہر سال قربانی کی سعادت حاصل رہی ہے۔ اللہ آگے بھی ہمت عطا کرے۔ آمین
یادگار واقعہ پیش خدمت ہے ۔ قربان گاہ کی طرف سر پہ مرگ موت طاری کیے کچھ سال پہلے عید قربان پہ موٹا تازہ اور ہماری طرح دیدہ دلیر ہمارا بکرا تھکے تھکے قدموں سے دماغ میں فرار کے طریقے سوچتے آن پہنچا۔
عجب بے بسی سے مقتل گاہ اور پھر قصائی کے ہاتھ میں پکڑے او زار کو دیکھا۔ اک دم اچھلا انکل سرور نے پیٹھ سہلاتے ہوئے آگے دھکیلا ’’چل میرے شہزادے ‘‘ خاندان کے تمام مرد حضرات سر فہرست دادا جی گھیرائو کیے ہوئے تھے۔ بکرے نے دل سوز آواز نکال کر پسپائی کی یقین دہانی کرادی۔ مطمئن و شاداں قصائی نے مونچھ کو تائو دیا۔ دادا جی کی کرسی قدرے اور آگے سرک گئی۔ سرور صاحب نے والد محترم کو ذرا فاصلے پر کرسی رکھنے کی تلقین کی ،وجہ خون کے چھینٹے کپڑوں کو داغ دار نہ کردیں۔ مجال ہے ٹس سے مس ہوئے ہوں اوپر سے بحث و مباحثہ پہ اتر آئے ، طول پکڑتی بحث ہاتھا پائی پہ اتر آئی۔
سنہری موقع غنیمت جان کر بکرے میاں نے اپنی راہ لی۔ ارے کوئی بکرے کو تو پکڑے ۔ ‘‘ بکرا سر دھڑ کی بازی لگاتے ہوئے پورے گائوں کی سیر کروا کر کپاس کی فصل میں جا گھسا۔ پورا ٹبر کپاس کی تیار فضل کا بیڑا غرق کرتے اندر آوازیں لگاتے ایک دوسرے سے ٹکراتے رہے ۔ بکرا تو گدھے کے سر سے سینگھ کی مانند غائب ذلیل و خوار ہو کر الٹا کپاس کی فصل کو تباہی پہ لا پٹخا، پھر دستی نیا بکرا خریدا منہ مانگے داموں اور قربانی پیش کی۔
۔نہ جی نہ ! ایسا کبھی وقوعہ سرزد نہیں ہوا۔ البتہ نمک مرچ میں ہلکی پھلکی ڈنڈی کبھی کبھار لگ جانا معمولی بات ہے پہلے گھر کے تقریباً ہر فرد جو کسی ماہر جیوری کے فرائض بہ احسن طریقے سے انجام دینے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ مہمان حضرات تو بے زبان ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی زبان رکھنے والے بہت ہی اپنی فضول آرا سے دوچار کر دیتے ہیں۔
بقرعید کی دعوت دی نہیں جاتی بلکہ زبردستی جبراً مہمان وصول کرنے آجاتے ہیں۔ اور ان کے اس پیار بھری دھونس پہ ہمارے ہاں کے ملاقات کی خوشی ہوتی ہے۔ جمال ہائوس کی تمام خواتین بشمول مرد حضرات کوکنگ کے ماہر ہیں۔ اس لیے ایک دوسرے کو جانچ پڑتا ل کے کٹہرے میں کھڑا کر کے اپنے تئیں ضروری امور سر انجام دیتے ہیں۔
ایک دفعہ زوباریہ سے بریانی کچھ زیادہ بیٹھ گئی تھی۔ حیرت انگیز طور پر اس وقت بھائی حفیظ احمد نے ایک سو میں سے ایک سو نمبر دے دیے۔
۔ بقر عید کا دن ہو اور خواتین مصروف نہ ہوں یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ کپڑوں اور بلکہ روح کے اندر تک گوشت سے بنے پکوان کی خوشبوئیں سرایت کر جاتی ہیں۔ کسی کلون اور پرفیوم کی ذرا نہیں چلتی۔ قربانی، گوشت کی تقسیم ، صفائی جیسے معاملات جسم ہی نہیں رات تک روح بھی تھک جاتی ہے۔ پہلے دن صبح ہی لہسن پیاز تازہ آپا شاہانہ بنا لیتی ہیں ۔
ایک دن پہلے کا تردد ہمارے گھر نہیں ہوتا۔ بھئی ہم ہر چیز میں تازگی کے دلدادہ ہیں۔ جالندھر آرائیں گھرانہ جو ہم نے پایا۔ سب کی پسند کو ملحوظ خاطر میں لا کر پہلے دن کڑاہی مٹن تیار کی جاتی ہے۔ بعد کے رولے رپے سے بہتر ہے بندہ پہلے سب سے پوچھ گچھ کر کے ڈش بنائے تاکہ محنت اکارت نہ جائے۔
ہر سال بکرے کی قربانی کرتے ہیں بیف سے ہماری خاص دوستی نہیں ہے۔ بھائی حضرات کھا لیتے ہیں۔ خواتین کوسوں دور بھاگتی ہیں۔
حنا خالد محمود (لاہور)
۔جی ہاں ہمارے گھر قربانی ہوتی ہے اور قربانی بھی کوئی چھوٹی موٹی نہیں بلکہ پورے آٹھ حصے ہوتے ہیں۔ ابو ہر سال ایک بڑا جانور (بچھڑا وغیرہ) اور ایک چھوٹا جانور بکرا یا دنبہ قربانی کے لیے خریدتے ہیں۔
پھران کے حصے کچھ اس طرح کرتے ہیں کہ سب سے پہلے ایک حضرت محمدؐ کا پھر دوسرے حصے دادا ، دادی مرحومین کے پھر دو حصے امی ، ابو کے۔ یہ پانچ حصے ہر حال میں فکس ہیں ۔ اس کے بعد ایک حصہ ہم بہن بھائیوں کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔ مطلب اس طرح کہ ایک سال ایک کا ۔ اگلے سال دوسرے کا پھر تیسرے کا باقی دو بھی صلاح مشورے سے طے کر لیے جاتے ہیں۔
خیر آتے ہیں اصل بات کی طرف یعنی یادگار واقعے کی طرف تو ہوا کچھ یوں کہ ایک دفعہ معاشی تنگی کی وجہ سے بچھڑا کچھ ہلکا لانا پڑ گیا۔ جو کہ جسم میں بھی کمزور تھا اور دیکھنے میں بھی کچھ خاص نہیں تھا۔
اس دفعہ بہن بھائیوں میں باری بھی مجھ سے چھوٹی بہن مقدس کی ۔ اس نے بچھڑا دیکھا تو دیکھتے ہی بولی۔
’’میں نے نہیں رکھنا اس میں اپنا حصہ جو خود بھی دھکوں سے چلتا ہوں وہ سات لوگوں کو کیسے پل صراط سے لے کر نکلے گا۔‘‘
سب گھر والے ہنستے تھے اوراس کی بات کو مذاق میں لیا تھا لیکن اس نے سچ میں ہی اپنا حصہ نہیں رکھا اس جانور میں بلکہ اگلے سال جب ابو بچھڑے کے ساتھ ایک خوب صورت سا دنبہ لائے تو اس نے آتے ہی ہتھیا لیا یعنی اپنے نام کر لیا۔
آج بھی جب کوئی قربانی کا جانور دیکھتی ہوں تو دل میں یہ خیال چٹکی لیتا ہے کہ یہ اپنے مالک کو کیسے پل صراط سے لے کر گزرے گا۔
۔ہاں جی اپنی بنائی ڈش یاد کر کے میں ہی کیا جب گھر والے بھی یاد کرتے ہیں تو محفل کشت زعفران بن جاتی ہے ۔ بقرہ عید سے اگلا دن تھا میرے شاید بی ۔ اے کے امتحانات سر پر تھے اور میں زور شورسے ان کی تیاری میں مصروف تھی جب حمزہ (بھائی) اور شرافت (پھپھو کا بیٹا) میرے پاس آئے اور بولے۔
’’ہمیں مغز (بچھڑے کا بھیجا) فرائی کر دو۔‘‘
میں نے انکار کر دیا۔ ایک تو میں پڑھائی میں مصروف تھی دوسرا میں نے کبھی مغز فرائی بھی نہیں کیا تھا میں مسلسل انکاری تھی لیکن وہ بھی بضد تھے۔
کرنا کیا ہے۔ ایسے ہی فرائی کر دو جیسے ہر چیز کو فرائی کرتے ہیں۔ پہلے پیاز برائون کر کے پھر آئل میں تل کے ہم نے ہر چیز پیاز، ہری مرچیں مسالہ وغیرہ تیار کیا ہوا ہے آپ بس فرائی کر دو۔ دس منٹ میں ہو جائے گا۔‘‘
ان کی منت اور ترلوں کے آگے مجھے ہتھیار ڈالنے پڑے اور میں کچن میں چلی آئی۔ ہر چیز واقعی تیار تھی۔ کٹی ہوئی پیاز، ہری مرچیں دھنیا اور پسا ہوا مسالہ ۔ ایک پلیٹ میں مغزپوری آن بان شان سے اپنے بل والے وجود کے ساتھ موجود تھا۔ میں نے سلینڈر آن کر کے آئل فرائنگ میں ڈال کر اس میں پیاز برائون کیے اور پھر اس میں مغز ڈال دیا۔
’’ارے یہ دھلا ہوا نہیں تھا۔ ‘‘ وہ دونوں ایک ساتھ چلائے۔
’’لیکن تم دونوں کہہ رہے تھے کہ ہر چیز ریڈی ہے مجھے کیا پتا تھا کہ .‘‘
اور میری آواز ان کے قہقہوں میں دبتی چلی گئی۔ اس کے بعد میری جو درگت بنی فی امان اللہ۔ حالانکہ میں نے اپنی غلطی کا مداوا کر دیا تھا۔ مغز کو نکال کردھویا اور پھر دوبارہ سے پیاز برائون کر کے فرائی کیا تھا اور بنا بھی بہت مزے کا تھا۔
آج بھی جب میری کوکنگ کی بات ہوتی ہے تو حمزہ ازراہ مذاق بول پڑتا ہے۔
’’بس رہنے دو۔ مجھے پتا ہے آپ کیسا پکاتی ہو بغیر دھوئے مغز فرائی کرتی ہو۔ ‘‘
شرافت تو رہا ہی نہیں۔ وہ میرا ہم عمر تھا آٹھ بہنوں کا اکلوتا بھائی فقط اٹھارہ سال کی عمر میں اس واقعے کے ایک سال بعد ہی اس کا ایکسیڈینٹ میں انتقال ہو گیا۔ آج سے تقریباً آٹھ سال پہلے یوں اس ہنسی والے واقعے کے ساتھ وہ بھی یاد آجاتا ہے اور ہنستے ہنستے آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ اللہ پاک اسے جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
۔ عیدالفطر ہو یا عیدالضحی ۔ جیسا کہ برصغیر پاک و ہند میں مسلم گھرانوں میں سب سے پہلے میٹھا پکنے کی روایت چلی آ رہی ہے۔
ہمارے گھر میں میٹھے میں کھیر بنتی ہے۔ ابھی میٹھے والے پکوان کو کھا کر اور سب گھر والوں کو کھلا کر فارغ بھی نہیں ہو پاتے کہ باہر سے قربانی کے جانور کے کلیجی اور تکے آجاتے ہیں ساتھ ہی حکم بھی آتا ہے کہ ایک گھنٹے کے اندر اندر تیار کر کے ساتھ میں روٹیاں بنا کر باہر بھجوا دو۔
جی ہاں آپ بالکل صحیح سمجھے وہ ہمارے لیے نہیں بلکہ قربانی کا گوشت بنانے والوں کے لیے ہوتے ہیں ۔ ابھی اس کھانے کو بنا کر فارغ نہیں ہوتے کہ گوشت تیار ہو جاتا ہے اور یہ مرحلہ تو بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔
یخنی پلائو کے لیے گوشت گلانا ۔ سالن کے لیے الگ سب چیزیں تیار کرنا۔ امی جان کے ساتھ گوشت تھیلیوں میں ڈالنا۔ رشتے داروں اور ان محلے والوں کے حساب سے تھیلیاں گنتی کر کے ایک طرف رکھنا جن کو گوشت تقسیم کرنا ہو۔ اپنے لیے الگ سے دھو کر تھیلیوں میں ڈال کر فریز کرنا۔ ساتھ ساتھ مہمانوں کی آمد و رفت بھی جاری رہتی ہے اور ان کی خاطر خواہ تواضع بھی کی جاتی ہے۔
خیر عیدالضحی کا دن اتنا مصروف گزرتا ہے کہ شام تک تھک کر چور ہو جاتے ہیں۔ لیکن پھر بھی انجوائے منٹ پوری رہتی ہے۔ بھابھیاں امی ہم سب مل کر مینج کر لیتے ہیں۔
عید والے دن ہم کھیر، دہی بڑے سالن اور پلائو کے علاوہ چوتھی کوئی ڈش نہیں بناتے۔ کبابوں کے لیے گوشت الگ کر لیتے ہیں۔ کوفتے اور کباب ہم عید کے بعد بناتے ہیں ۔
سلمیٰ مسرت (راولپنڈی)
۔الحمدللہ ہر سال قربانی ہوتی ہے بلکہ کئی سالوں سے چھوٹی بہن کے اور ہمارے بکرے ایک ساتھ آتے ہیں اس سے کچھ سال پہلے امی ابو کے بکرے بھی ساتھ ہوتے تھے یادگار واقعہ یہ ہے کہ امی کی چھت پر سارے بکرے باندھے ہوئے تھے انہوں نے خوب شور مچایا ہوا تھا امی کی طبیعت بھی خراب تھی وہ ناراض ہو رہی تھیں تو میرے میاں نے پرانا بڑا ٹی وی سیٹ چھت پر لگا دیا ۔میچ بھی ہو رہے تھے اس بہانے میرے بھانجے عبداللہ نے فل ڈیوٹی دی اور ہم سب حیران ہو گئے کہ پوری رات بکرے ٹی وی دیکھتے رہے اور مکمل خاموشی رہی۔
۔مجھے چپلی کباب بنانے نہیں آتے تھے۔ پہلی بار کوشش کی پھر سب کی دعوت بھی تھی کچے قیمے کی ترکیب سے ان کا کوئی ذائقہ نہیں بن رہا تھا آخر میں نے اور مسالے ایڈ کر کے شامی کباب کی طرح سے ٹرائی کیا تو وہ اتنے مزے دار بن گئے کہ دعوت میں سب نے اس کی تعریف کی اس کے علاوہ ایک بارکیک میں آئل ڈالنا بھول گئی میں اتنی پریشان کہ اب کیا ہو گا ۔بہرحال امی کی فرینڈز کے سامنے رکھ دیا سب نے کہا اتنا اچھا کیک بنایا ہے۔
۔میرے لیے بقر عید کا دن بہت پریشانی والا ہوتا ہے گھر میں شادی سے پہلے بڑی تھی اور اب ماشائ اللہ جوائنٹ فیملی سسٹم ہے اس لیے سب گھروں میں گوشت بھجوانا گھر میں کچن میں بھی ہاتھ بٹانا شام تک بہت تھکن ہو جاتی ہے عید کے روز سب کی فرمائش پر کلیجی کے ساتھ پلائو یا بریانی ضرور بنتی ہے۔
٭٭


