صدف آشان – شاہین رشید

مجھ سے ملئے 0

۔’’ اصلی نام؟‘‘

’’صدف ‘‘

۔ ’’پیار کا نام ؟‘‘

’’سادی‘‘

۔’’ تاریخ پیدائش /سال؟ ‘‘

’’ 6مئی /سال رہنے دیں‘‘

۔’’ قد /ستارہ/مصروفیات؟‘‘

’’5.5فٹ / ثور جم جانا ، باکسنگ کرنا اور کام کرنا۔ ‘‘

۔’’ مادری زبان؟‘‘

’’اردو۔‘‘

۔’’ بہن بھائی/آپ کا نمبر؟‘‘

’’3بہن بھائی/اور پہلے نمبر کی ہوں ۔ ‘‘

۔’’ شادی /بچے؟‘‘

’’جی شادی شدہ ہوں اور ماشائ اللہ چاربیٹیاں ہیں۔ ‘‘

۔’’ تعلیم؟ ‘‘

’’ایم اے اکنامکس ۔‘‘

۔’’ شوبز میں آمد/گھر والوں کا ردعمل ؟‘‘

’’اتفاقاً آئی۔ شروع میں بہت محنت کی پھر سب نارمل ہوگیا۔ ‘‘

۔’’ بچپن میں کس سے بہت ڈر لگتا تھا؟‘‘

’’والدین نے ایک بات سکھائی تھی کہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرنا، تو بس آج تک اللہ سے ہی ڈرتی ہوں۔ ‘‘

۔ ’’کلاس میںپہلی کمائی کتنی تھی اور کس کے ہاتھ میںرکھی؟‘‘

’’آٹھ ہزار ‘جب میں نائنتھ کلا س میں تھی اور

ٹیوشن پڑھاکر کمایا تھا میں نے اور گھر کے ایک ایک فرد کے لیے گفٹ لیے تھے میں نے حتیٰ کہ کک کے لیے بھی گفٹ لائی تھی پھر بھی پیسے بچ گئے۔ ‘‘

۔ ’’بچپن کا پہلا پیار؟‘‘

’’میرے نانا میرے بچپن کا پہلا پیار تھے۔ ‘‘

۔ ’’صبح کب اٹھتی ہیں۔ فجر سے پہلے یا بعد میں؟‘‘

’’کبھی پہلے کبھی بعد میں۔ ‘‘

۔’’صبح اٹھتے ہی کس چیز کی طلب ہوتی ہے؟‘‘

’’بلیک کافی۔ ‘‘

۔ ’’کیا برداشت نہیں؟ غصہ یا بھوک؟‘‘

’’غصہ ۔‘‘

۔’’ پاکستان کے لیے کیا سوچتی ہیں؟‘‘

’’اس کی بہتری کے لیے ہم کیا کرسکتے ہیں۔ ‘‘

۔ ’’سیاست میں کون پسند ہے؟‘‘

’’کوئی نہیں۔ ‘‘

۔’’ کس ملک کی شہریت کی خواہش ہے؟‘‘

’’کہیں کی بھی نہیں۔ ‘‘

۔’’ کیا آپ کو رونا کا شکار ہوئیں؟‘‘

’’جی شکار ہوئی تھی بہت خطرناک بخار ہو اتھا تو ظاہر ہے کہ کورونا ہی ہوا ہوگا۔ لاک ڈاؤن میں وقت اچھا گزرا اور گھر پر ہی گزرا سارے کام خود ہی کیے۔ ‘‘

۔ ’’شوبز میں کیا اچھا کیا برا ہے۔ ‘‘

’’کبھی جج نہیں کیا۔ لیکن ایک جنرل رائے ہے کہ منافقت بہت ہے۔ ‘‘

۔’’ اسپورٹس سے آپ کا لگاؤ ، کون سا کھیل پسند ہے؟‘‘

’’اسپورٹس سے بہت زیادہ لگاؤ نہیں رہا۔ کیونکہ میری کمپنی میرے نانا ‘نانی تھے۔ ان کے ساتھ رہ کر مجھے علم حاصل کرنے کا شوق ہوا پھر جانور پالنے کا بھی بہت شوق رہا اور اب مجھے باکسنگ کا شوق ہو اہے تو وہ سیکھ رہی ہوں۔ ‘‘

۔’’ زندگی سے کیا سیکھا؟‘‘

’’آپ کو پوچھنا چاہیے کیا کیا سیکھا. بہت کچھ سیکھا ہے ‘ہر دن کچھ نہ کچھ ضرور سیکھنے کو ملتا ہے اور یہ ضرور سیکھا کہ دنیا آپ کے ساتھ نہیں چلتی آپ کو دنیا کے ساتھ چلنا پڑتا ہے ۔ اور دنیا امتحان کی جگہ ہے اسے امتحان کی طرح ہی گزارنا چاہیے۔

۔ ’’تین چیزیں جنہیں خریدنا آپ کا خواب ہے؟‘‘

’’بہت سیدھی سادی انسان ہوں۔ اور کسی دنیاوی چیز کی ایسی خواہش نہیں ہے کہ میں کہوں کہ میرا خواب ہے۔ اللہ نے جو دیا ہے جتنا دیاہے میں خوش ہوں ہاں خانہ کعبہ کے اندر تک جانے کی بہت خواہش ہے۔ ‘‘

۔ ’’گھر کی کوئی چیز خراب ہوجائے تو ذمہ داری کس پر آتی ہے؟‘‘

منحصر ہے کہ کس طرح کی چیز خراب ہوئی ہے ایسی خرابی جس سے گھر کے معمولات میں خلل پڑے اسے میں ہی ٹھیک کرواتی ہوں۔ ‘‘

۔’’ کس کی خاطر شوبز چھوڑ سکتی ہیں؟‘‘

’’اگر مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ مبارک پر کام کرنے کی خواہش میں شوبز چھوڑنا پڑے تو چھوڑ دوں گی۔ ‘‘

۔ ’’پہلی بار کیمرے کا سامنا کیا تو کیا کیفیت تھی؟‘‘

’’کوئی خاص کیفیت نہیں تھی۔ کیمرے کے سامنے آنے سے پہلے تو میں خود پروڈیوسر تھی اور لوگوں سے کام کرواتی رہتی تھی۔ ‘‘

۔’’ تنہائی کا احساس کب ہوتاہے؟‘‘

’’بہت مصروف رہتی ہوں۔ اس لیے نہیں ہوتا احساس، بس یہ خیال ضرور ہوتاہے کہ انسان آیا بھی تنہا تھا اور جائے گا بھی تنہا۔ ‘‘

۔’’ زندگی میں کچھ واپس ملنے کا چانس ہو تو کیا واپس لینا چاہیں گی؟‘‘

’’اپنا ٹین ایچ کا دور واپس لینا چاہوں گی۔ ‘‘

۔ ’’گھر میں آپ کے فیصلے پر مداخلت کون کرتاہے؟‘‘

’’صرف آشان کرتے ہیں(شوہر) اور کوئی بھی نہیں کرتا۔‘‘

۔’’ بیمار ہونے پر بیماری کو سیریس لیتی ہیں؟‘‘

’’بہت زیادہ سیریس نہیں لیتی اور بیماری میں بھی ہرکام کرنے کی کوشش کرتی ہوں ‘ذرا سی بھی ٹھیک ہوجاؤں تو سمجھیں پوری ٹھیک ہوگئی ہوں۔ اس معاملے میں چھوئی موئی ‘‘ نہیں ہوں۔ ‘‘

۔ ’’آپ کے اب تک ڈراموں، فلموں اورکمرشلز کی تعداد ؟‘‘

’’تعداد تو مجھے صحیح طرح یاد نہیں ہے اور مقبول ترین ڈرامے بھی بہت ہیں۔ ’’کم بخت تنو‘‘ ، فاسق، مشت خاک، ہریالے بنے۔ تو بہت ہی مقبول ہوئے بلکہ سب ہی مقبول ہوئے۔ ‘‘

۔’’ رول کون سے اچھے لگتے ہیں نگیٹو یا پوزیٹو؟‘‘

’’دونوں طرح کے ہی رول اچھے لگتے ہیں بس کمفر ٹیبل ماحول ہونا چاہیے اور ڈائریکٹر اچھا ہونا چاہیے۔ جہاں کمیونیکشن گیپ ہوتاہے وہاں کام کرنے کا مزہ نہیں آتا۔ ‘‘

۔’’ لٹریچر سے لگاؤ کس کس کو پڑھا؟’’

’’اشفاق احمد، بانو قدسیہ یہ دونوں مجھے بہت پسند ہیں ۔ عصمت چغتائی ان کو پڑھا ہے۔ ‘‘

۔’’ کوئی فیصلہ جو غلط ثابت ہوا ہو؟‘‘

’’مجھے کبھی غلط فیصلے پر افسوس یا شرمندگی نہیں ہوئی۔ زندگی میں غلط صحیح ، کامیابیاں ‘ناکامیاں آتی رہتی ہیں۔ ‘‘

۔ ’’کچن سے لگاؤ ‘کبھی شیف بننے کی خواہش ہوئی؟‘‘

’’جب ضرورت پڑے تو بہت ہے۔ ویسے مجھے ڈیکور، صفائی بہت پسند ہے، ویسے سارے کام کرلیتی ہوں۔ ‘‘

۔ ’’میٹھے اور نمکین کھانوں میں کیا پسند ہے؟‘‘

’’نمکین اورمیٹھے میں اچھا کھانا پسند ہے نمکین زیادہ ہے ، میٹھے کی طلب کبھی کبھی ہوتی ہے۔ ‘‘

۔’’ ایک نصیحت جو آپ سب کو کرتی ہیں؟‘‘

’’زندگی رکتی نہیں‘ چلتی رہتی ہے اور اسے ہمیشہ چلاتے رہیں رکیں نہیں جو غلط ہوجائے اسے پیچھے چھوڑدیں ‘آگے دیکھیں۔ اور ایک اللہ ہے جو آپ کو دیکھ رہاہے۔‘‘

۔’’ ملک کی ترقی کی راہ میں کوئی رکاوٹ ہے عوام یا حکمران ؟ ‘‘

’’حکمران کے آگے عوام رکاوٹ نہیں. عوام کے آگے مجبوریاں رکاوٹ نہیں دونوں ہی ایک دوسرے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ‘‘

۔’’ اگر سوشل میڈیا یا نہ ہوتا تو؟‘‘

’’توصرف کام ہوتا ‘مجھے ایسا لگتاہے۔‘‘

۔’’ کس شخص پر چاہتے ہوئے بھی غصہ نہیں کرسکتیں؟‘‘

’’کس کس کا نام لوں. بہت لوگ ہیں کسی ایک کانام لیا تو زیادتی ہوجائے گی۔‘‘

۔’’ کبھی غربت میں وقت گزارا؟‘‘

’’نہیں اللہ کا شکر ہے غربت میں کبھی وقت نہیں گزرا۔‘‘

۔ ’’طالب علمی کے زمانے میں کس مضمون سے نفرت تھی ، یابرا لگتا تھا ۔ ‘‘

’’میتھس مجھے برا لگتاہے۔ ‘‘

۔’’ڈاکٹر، حکیم اور ہومیو پتھک کس پر زیادہ یقین ہے۔‘‘

’’جس کے علاج سے میںجلدی ٹھیک ہوجاؤں۔‘‘

’’ پاکستان میں کیا چیز فری ملنی چاہیے؟‘‘

’’تعلیم ۔ ‘‘

’’ کیا دل سے اتر ہوا انسان پہلے جیسا مقام حاصل کرسکتاہے؟‘‘

’’اگر انسان غلطی کرکے پش یمان ہو اور اپنارویہ درست کرے تو اسے کھلے دل سے معاف کردینا چاہیے۔ اور میں کھلے دل سے معا ف کردیتی ہوں۔ ‘‘

۔’’ اپنے ہرکام کے لیے کس سے مشورہ لیتی ہیں؟‘‘

’’اللہ تعالیٰ سے ۔ ‘‘

۔’’ موجودہ حکومت سے مطمئن ہیں؟‘‘

’’مطمئن تو بالکل بھی نہیں کہہ سکتے۔ ہاں پرامید ہوں تھوڑی بہت۔ ‘‘

۔’’ مستقل طورپر ملک سے باہر رہنا پڑے تو آپ کی کیا ایکٹیویٹی ہوگی؟ ‘‘

’’وقت سے پہلے کچھ نہیں بتاسکتی۔ ‘‘

’ غصے میں آپ کا عمل؟‘‘

’’بہت غصے میں خاموش ہوجاتی ہوں اور اس شخص کی طرف دیکھتی بھی نہیں ہوں۔ ‘‘

۔’’ ٹی وی ٹاک شو کے بہترین اینکر؟‘‘

’’ٹاک شو کے اینکرز کا تو زیادہ علم نہیں لیکن مجھے وسیم بادامی کی ہوسٹنگ پسند ہے۔ ‘‘

۔’’آپ کا راز دار کون ہے؟‘‘

’’میرا اللہ اور اللہ کے بعد میری بہن ہے۔ ‘‘

۔’’ فیملی پر آپ کا کتنا رعب ہے؟‘‘

’’کبھی جج کرنے کی کوشش نہیں کی۔ لیکن میری ناراضی سے میری بچیاں ڈرتی ہیں۔ ‘‘

۔’’ لڑکوں کے لیے کوئی نصیحت ؟‘‘

’’مرد اپنے گھر کی ماں بہن کے لیے پروٹیکٹو ہوں انہیں تحفظ دیں اور وہ اپنی لمیٹڈ میں رہ کر جو کچھ کرنا چاہیں انہیں اس کی آزادی دیں۔ ‘‘

۔’’ ایک کھانا جو کسی وقت بھی کھاسکتی ہیں؟

چائے بسکٹ۔‘‘

۔’’ اپنی پرفارمنس میں کیا کمی نظر آتی ہے؟‘‘

’’مجھے اتنا ٹائم نہیں ملتا کہ اپنے ڈرامے دیکھوں لیکن جب دیکھتی ہوں تو بہت ساری خامیاں نظر آتی ہیں۔ ‘‘

’’ اپنا ڈرامہ دیکھ کر کیا سوچتی ہیں؟‘‘

’’سوچتی کچھ نہیں ہوں۔ بس اپنے آپ کو جج کررہی ہوتی ہوں۔ ‘‘

۔’’ مشکل وقت میںکس کو کال کرتی ہیں؟‘‘

’’سب سے پہلے تو میں اللہ سے ہی رابطہ کرتی ہوں کہ اللہ میاں پھنس گئی۔ معاملہ ٹھیک کرادیں اور پھر جو صحیح بندہ لگ رہاہوتاہے اس کو کال کرتی ہوں۔ ‘‘

’’ پہلی فلم جو سنیما ہاؤس میں دیکھی؟‘‘

’’کچھ یاد نہیں. کیونکہ میں کوئی اتنی شوقین نہیں ہوں۔‘‘

۔’’ کھانے میں کیا پسند ہے/کیا اچھا پکالیتی ہیں؟‘‘

’’جو اچھا پکا ہو وہ پسند آجاتاہے۔ ویسے چاول زیادہ پسند ہیں۔ جیسے یخنی پلاؤ بہت پسند ہے ۔ لوازمات کے ساتھ۔ اور میں دم کا قیمہ بہت اچھا پکاتی ہوں۔ گارلک رائس اور تندوری چکن اچھا پکالیتی ہوں۔ ‘‘

۔’’ کون سا رول کرنے کی خواہش ہے؟‘‘

’’تاریخی نوعیت کے کردار کرنا چاہتی ہوں۔ ‘‘

۔’’آپ کا نا قابل فراموش کردار؟‘‘

’’یہ تو دیکھنے والے ہی بتاسکتے ہیں کہ میرا ناقابل فراموش کون سا کردار ہے۔ ‘‘

’’کسی نجومی کو ہاتھ دکھایا، کتنا یقین ہے؟‘‘

’’یقین تو کسی پر نہیں ہے سوائے اللہ کے۔ ‘‘

۔’’ کس کام کو کرنے کے لیے بہت سوچتی ہیں۔ ‘‘

’’لڑنے کے لیے . بحث کرنے کے لیے . لڑنا ور بحث کرنا بہت برا لگتاہے مجھے۔ ‘‘

۔’’ کب جھوٹ کا سہارا لیتی ہیں؟‘‘

’’کبھی نہیں۔‘‘

۔’’ آئینے کو کتنا وقت دیتی ہیں۔ ‘‘

’’کہیں جارہی ہوتی ہوں تو پھر بھرپور ٹائم دیتی ہوں۔ ‘‘

۔’’ ادھار کس سے بلا جھجک مانگ لیتی ہیں؟‘‘

’’میرا بھائی اورمیری بہن ‘مجھے معلوم ہے کہ اگر انکار بھی کردیا تو مجھے شرمندگی نہیں ہوگی۔ ‘‘

۔’’ چاند پر پہنچ کر دنیا میں پہلا پتھر کس کومارکیں گیں؟‘‘

’’کسی کو بھی نہیں. ‘‘

۔’’کس کے روٹھ جانے پر پریشان ہوجاتی ہیں؟ ‘‘

’’ناراض نہیں بلکہ اپ سیٹ ہوجاتی ہوں۔ مجھے اللہ سے بہت ڈر لگتاہے اس لیے کسی کو ناراض بھی نہیں کرتی اور نہ رہ سکتی ہوں۔ ‘‘

۔’’ سگنل پر کس چیز کا جائزہ لیتی ہیں؟‘‘

’’گاڑی میں ہی ہوتی ہوں اور اپنے موبائل کا ہی جائزہ لے رہی ہوتی ہوں۔ ‘‘

۔’’ بچپن میں فلم ٹی وی کے کون سے فنکار پسند تھے؟‘‘

’’ایسا کچھ یاد نہیں۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں بہت کم لوگوں سے متاثر ہوتی ہوں۔ ‘‘

۔’’ خواتین رائٹرز میں پسندیدہ رائٹر؟‘‘

’’سب ہی اچھی ہیں۔ ‘‘

۔’’ شاپنگ کے لیے نکلتی ہیں تو سب سے پہلے کس کا خیال آتا ہے؟‘‘

’’بچوں کا.اور کسی کا نہیں۔ ‘‘

۔’’ کب ہواؤںمیں اڑتا ہوا محسوس کرتی ہیں؟‘‘

۔’’ جب میری بچیاں میری تعریف کرتی ہیں۔ جب میرے ابو میری حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور میری قربانیوں اور میری کامیابیوں کو سراہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ میری بیٹی نہیں میرا بیٹاہے۔ ‘‘

۔’’ اگر آپ کو کسی سیلبرٹی کا انٹرویو کرنے کو کہاجائے تو؟‘‘

’’تو میں عمران خان کا انٹرویو کرنا پسند کروں گی۔ ‘‘

۔’’ نیند کتنی پیاری ہے؟‘‘

’’بہت پیاری ہے۔ ‘‘

۔’’ آپ کے گھر سے کون اس فیلڈ سے ہے یا آنا چاہتا ہے؟‘‘

’’میرے میاں صاحب ڈائریکٹر ہیں۔ میری تیسرے نمبر کی بیٹی گلوکارہ ہے اور میری چھوٹی بیٹی بھی اداکارہ بننا چاہتی ہے۔ اگرچہ میری بیٹیاں ابھی بہت چھوٹی ہیں۔ ‘‘

۔’’ بچت کس شکل میں کرتی ہیں۔ ‘‘

’’کسی شکل میں نہیں۔ کوئی بچت نہیں کرتی۔ میں آج پر یقین رکھتی ہوں۔ ‘‘

۔’’ شادی میں کس رسم کے خلاف ہیں؟‘‘

’’ہر رسم کے خلاف ہوں۔ شادی سادگی سے ہونی چاہیے۔ ‘‘

’’ آج کی فکر زیادہ ہوتی ہے یا کل کی؟‘‘

’’فکر نہیں کرتی اللہ پاک پر بہت بھروسا ہے۔ ‘‘

۔’’ خواتین آئینے کو زیادہ وقت کیوں دیتی ہیں؟‘‘

’’پتا نہیں شاید بہت زیادہ سیلف کانشس ہوتی ہیں۔‘‘

۔’’ صبح اٹھتے ہی کیا بات لبوں پر آتی ہے؟‘‘

’’کلمہ یا کوئی قرآنی آیت ۔ ‘‘

۔’’ فیملی میںکون مزاج کا گرم ہے؟‘‘

’’میرے میاں صاحب۔ ‘‘

۔’’ اپنے فینز کی کیا بات بری لگتی ہے؟‘‘

’’ڈرٹی کومینٹس یہ ان کا حق نہیں ہے کہ وہ گندے جملے بولیں لیکن اللہ کا شکر ہے کہ میرے فنیز کی اکثریت مجھ سے بہت محبت کرتی ہے اور میری تعریف کرتی ہے۔ ‘‘

۔’’ بچپن کا کون سا خواب پور انہیںہوا؟‘‘

’’یاد نہیں. ویسے میں زیادہ خواہشات نہیں رکھتی۔ ‘‘

۔’’ پسندیدہ تہوار؟‘‘

’’عید بہت پسند ہے اور رمضان کی فیسٹیویٹی۔‘‘

۔ ’’جانوروں میں پسندیدہ جانور ؟‘‘

’’کوئی خاص نہیں۔ ‘‘

۔’’ اپنے تجربے سے سیکھتی ہیں یا دوسروں کے ؟‘‘

’’ملا جلا رحجان ہے۔ ویسے میری چھٹی حس الحمداللہ کافی تیز ہے۔ ‘‘

۔ ’’مہینے میں کتنی بار گھر سے باہر کھانا کھاتی ہیں؟‘‘

’’روز ہی. الحمدواللہ روز ہی شوٹنگ پر ہوتی ہوں۔ ‘‘

۔’’ کیا چیز لیے بغیر گھر سے نہیں نکلتی؟‘‘

’’پیسے اور پانی کی بوتل۔ ‘‘

۔’’ کہاںکھانا پسند ہے۔ بیڈ پہ ڈائننگ ٹیبل یا چٹائی؟‘‘

’’ڈائننگ ٹیبل پر ۔ ‘‘

۔’’ گھر میں کس کے لیے اپنا شیڈول بدل سکتی ہیں؟‘‘

’’سب کے لیے شیڈول ایڈجسٹ کرتی ہوں ورنہ بعدمیں سب کو شکوہ ہوتاہے۔ ‘‘

۔’’ اچھی اور بری خبر سب سے پہلے کس کو سناتی ہیں؟‘‘

’’اچھی خبر پہلے سناتی ہوں۔ بری کے لیے انتظار کرتی ہوں۔ ‘‘

۔’’ اگر آپ کی شہرت کو زوال آجائے تو؟‘‘

’’ہر عروج کو زوال ہے۔ اللہ ایسا دن نہ دکھائے۔ میر ابہت پختہ یقین ہے اللہ پر۔ جس حال میں رکھے شکر ہے۔‘‘

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں