فائزہ محبوب نیوٹریشنسٹ – شاہین رشید

مجھ سے ملئے 0

فاسٹ فوڈکے اس دورمیں لوگوں کی صحت بہت متاثر ہوئی ہے۔ موٹاپا ایسے بڑھ رہا ہے جیسے غبارے میں ہوا. جب موٹاپا آجائے تو پھر واپس بہت مشکل سے جاتا ہے .اس بار آپ کی ملاقات ایک بہت ہی اچھی اور قابل Nutritionist سے کرواتے ہیں جو بہت اچھی کار آمد باتیں آپ کوبتائیں گی۔ جن پر عمل کرکے آپ موٹاپے سے نجات پاسکتی ہیں۔

’’کیسے مزاج ہیں آپ کے؟‘‘

’’جی اللہ کا شکر ہے۔‘‘

’’پہلے توآپ اپنے بارے میں بتائیے؟‘‘

’’جی ضرور.میرا پورا نام فائزہ محبوب ہے۔ میرے ابا جان کا نام محبوب انور جاوید ہے جبکہ اماں کا نام زبیدہ محبوب ہے۔ میرا تعلق ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریب شورکوٹ روڈ پرموجود298 گ ب سے ہے لیکن ہماری رہائش ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ہے. میری والدہ ہائوس وائف ہیں جبکہ میرے والدکا سعودی عرب میں اپناکاروبار ہے.ہم چھ بہن بھائی ہیں۔ چار بہنیں اوردو بھائی. اورمیرا نمبر چوتھا ہے میں غیرشادی شدہ ہوں۔ میری تعلیمی قابلیت بی ایس سی ہوم اکنامکس ہے اوراسپشلائزnutrition Food ہے. اوراب میں فاطمہ میموریل اسپتال سے منسلک ادارے نورانٹرنیشنل یونیورسٹی سے گائنا کو لوجی میں اسپشلائزیشن کر رہی ہوں۔ اس کے علاوہ کلینکل اورکمیونٹی نیوٹریشنسٹ کے طورپرکام کرنے کا تجربہ بھی ہے۔‘‘

’’ہوم اکنامکس سے ذہن میں یہی آتا ہے کہ گھرداری کی کوئی ڈگری ہے.ایسا ہی ہے نا.؟‘‘

’’جی بالکل.ہوم اکنامکس کا نام آتا ہے توعموماً لوگ کہتے ہیں کہ گھر داری کی ڈگری ہے جبکہ یہ بالکل غلط تاثر ہے۔کیونکہ ہوم اکنامکس ایک وسیع مضمون ہے.جس میں زندگی کے ہرپہلو سے متعلق تعلیم ، تجربہ اور سیکھنے کے لیے بہت کچھ شامل ہوتا ہے.

ہوم اکنامکس میں میڈیکل اورنان میڈیکل دونوں ہی مضامین شامل ہیں. اس ڈگری میں آرٹس، میڈیکل فیشن ڈیزائننگ سائیکالوجی اورہوم فرنشنگ جیسے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ میری دلچسپی شروع سے ہی بائیالوجی اور اس سے منسلک مضامین میں تھی اورپھرمیں ڈاکٹر عذرا جہاں کے مضامین بہت شوق سے پڑھتی تھی اوران سے متاثربھی بہت تھی تواسی لیے میں نے فوڈاینڈنیوٹریشن کوبطورمیجرسبجیکٹ اختیارکرنے کا ارادہ کرلیا تھا۔‘‘

’’آپ نے کہاکہ آپ کلینکل نیوٹریشنسٹ اور کمیونٹی نیوٹریشنسٹ ہیں سے کیا مراد ہے؟‘‘

’’کمیونٹی نیوٹریشن ایک ایسی فیلڈ ہے جس میں ویلفیئرکا کام کیا جاتا ہے . مثلاً فری کیمپس لگانا. پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں جاکر لوگوں کی فری اسکریننگ کرنا.خوراک سے متعلق مسائل سے ان کوآگاہ کرنا اوران کا حل بتانا ۔اسکول جانے والے بچوں اورمائوں کے لیے نیوٹریشن کے آگاہی پروگرام کے تحت سیشنزکروانا اورلوگوں میں فری سپلیمنٹ بانٹنا.کمیونٹی نیوٹریشن کی وجہ سے اب لوگوں میں متوازن غذاکو لے کربہت شعورپیدا ہو رہا ہے۔‘‘

ڈائیٹیشن نیوٹریشنسٹ میں کیا بنیادی فرق ہے؟‘‘

’’بنیادی فرق یہ ہے کہ نیوٹریشن ایک جنرل فیلڈ ہے جبکہ ڈائیٹیشن اس فیلڈ سے نکل کربنتی ہے نیوٹریشنسٹ کا دائرہ کار وسیع ہوتا ہے وہ آپ کوہر مسئلہ پر گائیڈ لائن دے سکتا ہے۔ جبکہ ڈائیٹیشن کا تعلق میڈیکل کی ایک مخصوص فیلڈ سے ہوتا ہے اور وہ اس سے متعلق مریضوں کے لیے کام کرتی ہیں ۔جیسے میں اب نیوٹریشنسٹ ہوں لیکن گائناکولوجی میں اسپیشلائزیشن کر رہی ہوں جس کے بعد میں گائنا کالوجسٹ ڈائیٹیشن بھی ہوں گی اور عورتوں میں گائنی سے متعلق امراض کا علاج بھی کرسکوں گی۔

بہ حیثیت نیوٹریشنسٹ ہمارا ’’موٹو‘‘ ہے ’’خوراک سے علاج‘‘ کیونکہ دوائیں کبھی بھی خوراک کا متبادل نہیں ہوسکتیں، یہ بات میں آپ کواس طرح سمجھا سکتی ہوں کہ ایک حاملہ عورت کوپہلے مہینے سے لے کرآخری مہینے تک اپنی اور اپنے بچے کی صحت کا خیال رکھنے کے لیے کس قسم کی خوراک لینی چاہیے تاکہ ماں اور بچہ صحت مند رہیں اوردوران حمل ماں بیمار نہ ہو اور بچہ بھی صحت مند پیدا ہو ۔دیکھیں خوراک سے پیدا ہونے والی کمی آپ کسی بھی صورت دوائوں سے پوری نہیں کرسکتے اوریہ ایک نیوٹریشنسٹ کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ایسا پلان دے کہ ڈیلیوری کے وقت خون کی کمی یا دیگرپیچیدگیاں جنم نہ لیں۔‘‘

’’یہ فیلڈ اپنی مرضی سے لی. یاگھر والوں کے کہنے سے لی؟‘‘

’’جی الحمدللہ ،یہ فیلڈ میں نے اپنی مرضی سے لی ہے اورگھروالوں کی طرف سے تواس بات کی مکمل آزادی تھی کہ میں تعلیم کے معاملے میں اپنی مرضی کر سکتی ہوں۔ اس فیلڈ میں مجھے دلچسپی تو تھی ہی لیکن اس سے بھی زیادہ یہ فیلڈ اس لیے بھی لی کہ پاکستان جیسے پسماندہ ملک میں خوراک اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل کی طرف توجہ دینے کی بہت ضرورت تھی۔‘‘

’’کبھی اپنی نیوٹریشن اپنے گھر والوں پر بھی آزمائی ؟‘‘

’’جی . جی بالکل . میرے گھر والے میرے دیے گئے ڈائیٹ پلان پر عمل کرتے ہیں . البتہ میری اماں میری روک ٹوک سے تنگ ضرور آجاتی ہیں.کیونکہ وہ شوگر کی مریضہ ہیں اور انہیں میٹھا کھانے سے روکنا تھوڑا مشکل ہو جاتا ہے۔‘‘

’’موٹے اور دبلے افراد کے لیے کیا ڈائیٹ پلان دیں گیآپ؟‘‘

’’بہت موٹے اور بہت دبلے افراد کے لیے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنا اپنا لائف اسٹائل بدلنے کی کوشش کریں . کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ انسانی جسم ایک مشین ہے اور کسی بھی مشین سے اگر زیادہ عرصہ کام نہ لیں تو وہ زنگ آلود ہو کر خراب ہو جاتی ہے اور کچھ ہی عرصے میں ناکارہ بھی . تو اسی طرح اگر ہم صرف کھاتے ہی رہیں اور ورزش یا واک نہیں کریں گے تو ہمارا جسم بھی کچھ ہی عرصے میں ناکارہ ہو جائے گا.

توضرورت سے زیادہ دبلے اور موٹے افراد کے لیے ضروری ہے کہ روزانہ ورزش کو اپنا معمول بنالیں . اسی طرح عموماً ہم روزمرہ خوراک کو پانچ حصوں میں تقسیم کرتے ہیں جس میں پھل سبزیاں دودھ اور اس سے بننے والے اجزائ اجناس اور چکنائی ہے ۔اگر ہم معمول بنالیں اور ہر روز ان پانچ گروپس میں سے اپنی جسمانی ضرورت کے مطابق کچھ نہ کچھ کھائیں تو ہم بہت زیادہ موٹے اور دبلے ہونے سے بچ جائیں گے۔‘‘

’’اس فیلڈکاکیا اسکوپ ہے.جاب کے سلسلے میں؟‘‘

’’نیوٹریشن ایک ایسی فیلڈہے جوزندگی کے ہرشعبے اورہرطبقے کے ساتھ منسلک ہے اسی لیے نیوٹریشنسٹ کے لیے کام کرنے کے مواقع بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ اپناکلینک کھولنے کے ساتھ ساتھ ایک نیوٹریشنسٹ سرکاری، پرائیویٹ اسپتالوں، کھانے کی بڑی بڑی کمپنیوں ، ہوٹلز فوڈ سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ، آرمی، باڈی بلڈنگ ،جمز، کیٹرنگ سروس، این جی اوز اور اسکولوں، کالجوں اوریونیورسٹیز میں بھی ملازمت اختیارکرسکتی ہیں.

اس کے علاوہ اسپورٹس نیوٹریشن بھی ایک ایسی فیلڈ ہے جس کے تحت آپ انٹرنیشنل ٹیمزکے اسکواڈ میں بطورنیوٹریشنسٹ کے بھی ملازمت اختیارکر سکتے ہیں۔ میں 2019ئ میں NDS کی ممبربنی تھی اور سرحسنین معاویہ اس کی لیڈ ٹیم کے ہیڈ ہیں۔NDS کا کام نیوٹریشنسٹ کودرپیش مسائل کا احاطہ کرنا ہے اوران کے لیے آوازاٹھانا ہے۔‘‘

’’آپ کی نجی مصروفیات پربات کرنے سے پہلے میں چاہوں گی کہ آپ بہ حیثیت نیوٹریشنسٹ کے کسی کومشورہ دینا چاہیں گی؟‘‘

’’جی بالکل.آپ کے ڈائجسٹ کے پلیٹ فارم سے میں ایک تجویزدینا چاہوں گی کہ ہر وہ بڑی انڈسٹری،کارخانہ یا فیکٹری جہاں ہمارے مزدور مردو خواتین کام کرتے ہیں اوران کو وہاں کھانا بھی دیا جاتا ہے ،وہ کم سے کم ایک نیوٹریشنسٹ ضرورہائرکریں یا 15،20 دن میں کسی نیوٹریشنسٹ سے ضرور مشورہ کرلیا کریں اورمزدوروں کے کھانے کے لیے پلان تجویز کرے اورپھراس پلان کے تحت کھانا بنایا جائے تاکہ مزدوروں کی صحت اچھی رہے اوروہ کام میں اپنا سوفیصد دے سکیں۔‘‘

’’اوراب کچھ نجی لائف .پڑھائی کے علاوہ کیاکیا مشاغل ہیں آپ کے؟‘‘

’’سچ بات تویہ ہے کہ مجھے دوسرے مشاغل کے لیے وقت ہی نہیں ملتا لیکن پھربھی میرا زیادہ تر وقت کچھ نہ کچھ لکھنے میں یا پھرکچن میں گزرتا ہے.مجھے کوکنگ کا بہت شوق ہے اورابھی تومیں کوکنگ سیکھ رہی ہوں۔ شاعری سے شغف ہے جبکہ اردو لٹریچر پڑھنے کی بہت شوقین ہوں۔‘‘

’’آپ کی تحریریں کیا آپ کی فیلڈ سے متعلق ہی ہوتی ہیں؟‘‘

’’جی.جی زیادہ تر. اورمجھے رسائل اوراخبارات میں لکھنے کے لیے میرے گھروالوں نے فورس کیا. اور ان ہی کے کہنے پرمیں مختلف جگہوں پرلکھنے کے لیے مائل ہوئی۔‘‘

’’آپ بتا رہی تھیں کہ آپ کتاب بھی لکھ رہی ہیں. اس کے بارے میں کچھ بتائیے؟‘‘

’’جی کتاب ابھی زیرتکمیل ہے ان شائ اللہ جلد مکمل ہوجائے گی ،اس کتاب میں میرے لکھے ہوئے مضامین ہوں گے اورکچھ نئے مضامین ہوں گے جس میں لوگوں کویہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ متوازن غذا ہمارے لیے کیوں ضروری ہے اورکس طرح ہم بغیردوائوں کے متوازن غذا کھاکے خودکو صحت مند رکھ سکتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ میں چھوٹے چھوٹے کتابچے بھی لکھ کر تقسیم کرتی ہوں، ان میں کسی ایک مسئلہ کے بارے میں لکھتی ہوں۔ ساتھ ہی ساتھ میری ویب سائٹ بھی بن رہی ہے اورانسٹاگرام پہ بھی لوگوں کوان کے مسائل کے حل کے حوالے سے مشورے دیتی رہتی ہوں۔‘‘

’’ٹی وی دیکھنا.گیمز وغیرہ سے کتنا لگائو ہے؟‘‘

’’ٹی وی سے لگائو تومجھے بچپن سے ہی نہیں تھا. خصوصاً ڈرامے اور فلمیں دیکھنے کا توکوئی خاص شوق نہیں تھا. اورایسا بھی نہیں تھاکہ میں کوئی کتابی کیڑا ٹائپ طالبہ تھی. لیکن میرے شوق اپنی عمرکی لڑکیوں سے تھوڑے مختلف تھے۔ مجھے بچپن سے ہی سوانح عمری پڑھنے، شاعری کرنے اور خبریں سننے کا شوق ہے . سیاست سے مجھے خاص دلچسپی ہے. اورسیاست سے باخبررہتی ہوں۔‘‘

’’مصروفیات میں سے کتنا وقت گھروالوں کودے پاتی ہیں اورگھر والے شادی کے لیے فورس توکرتے ہوں گے؟‘‘

’’شادی کے لیے گھر والے فورس کرتے ہیں مگریہ سب اللہ کے کام ہیں ،جب نصیب میں ہوگی ہوجائے گی.میں نے اپنے گھر والوں کوکبھی شکایت کا موقع نہیں دیا. کوشش کرتی ہوں کہ انہیں بھرپورٹائم دوں۔‘‘

’’اپنی کمائی ہو تو فضول خرچی کوبھی دل چاہتا ہے .آپ اپنی کمائی جمع کرتی ہیں یا خرچ کر دیتی ہیں ۔ مزیدکام کیا کرتی ہیں؟‘‘

’’نہ فضول خرچ ہوں اور نہ ہی بہت زیادہ کفایت شعار.سوشل ہوں اور دوتین این جی اوز کے ساتھ مل کرکام بھی کرتی ہوں۔ ہم مختلف جگہوں پر کیمپس بھی لگاتے ہیں اور ورکشاپ بھی کرتے ہیں لوگوں کوآگاہی دینے کے لیے مختلف سیمینارزکا انعقاد بھی کرتے رہتے ہیں. اور آگاہی کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال بھی کرتی ہوں۔‘‘

’’فیشن سے کتنا لگائو ہے؟‘‘

’’جی. جی فیشن سے لگائو ہے اور میں وقت اور زمانے کے ساتھ چلنے والی لڑکی ہوں. مجھے فیشن کرنا ، سجنا سنورنا بہت اچھا لگتا ہے.لیکن میں اپنی معاشرتی اور روایتی حدود سے باہرنہیں نکلتی. اور مجھے اصلی پھولوں کے گجرے بہت پسند ہیں۔‘‘

اور اس کے ساتھ ہی ہم نے فائزہ محبوب سے اجازت چاہی۔

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں