ڈاکٹرحبا ہیلتھ بیوٹی – شاہین رشید

مجھ سے ملئے 0

آج کل جلدی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہاہے۔ جدید ترین ٹیکنالوجی کے باعث اب جلد کے بیشتر مسائل کو ماہرین بخوبی حل کررہے ہیں۔

ڈاکٹر حبہ سلیم کاشمیری بھی ایک مشہور ماہر امراض جلد ہےں۔ اس ماہ ہم ڈاکٹر حبہ سلیم سے آپ کی ملاقات کروارہے ہیں۔

’’کیسے مزاج ہیں؟‘‘

’’الحمدللہ۔‘‘

’’کچھ اپنے اور اپنی فیملی کے بیگ گراؤنڈ کے متعلق بتایے؟‘‘

’’میں 12مئی 1988ئ میں دبئی میں پیدا ہوئی یکم رمضان المبارک تھا اور امی بتاتی ہیں کہ میں جب پیدا ہوئی تو اذان ہورہی تھی. اور چونکہ میں پہلی رمضان کو پیدا ہوئی تو اللہ تعالیٰ کے میں بہت قریب ہوں. مجھے اپنے مذہب سے بہت لگاؤ ہے۔‘‘

میرے والد صاحب ’’کشمیری‘‘ ہیں اور میری والدہ ’’مغل‘‘ ہیں اور ہم ’’سری نگر‘‘ کے کشمیری ہیں۔ میرے ددھیال سے میری دادی مائیگریٹ کرکے ’’مری‘‘ میں قیام پذیر ہوئی تھیں کیونکہ مری بھی انہیں کشمیر جیسا خوب صورت لگا تھا۔ مری میں ہی میرے پاپا پیدا ہوئے تھے۔

ہم چار بہنیں ہیں اور میرا نمبر تیسرا ہے اور الحمدللہ ہمارا بھائی نہیں ہے۔ میرے پاپا ایئر لائن میں کام کرتے تھے اور ٹریولنگ کے بہت شوقین تھے۔

میں اور میری بڑی بہن بھی دبئی میں پیدا ہوئیں۔ دوسری بہن پاکستان میں اور سب سے چھوٹی بہن ’’امریکا‘‘ میں پیدا ہوئی۔

پاپا ایئرلائن میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ جرنلزم سے بھی لگاؤ رکھتے تھے ، وہ ’’نمائندہ جنگ‘‘ بھی رہ چکے ہیں اور پاکستان ایسوسی ایشن سوسائٹی میں میرے پاپا بہت شہرت رکھتے تھے ۔ہر کام میں آگے آگے رہتے تھے ۔ہم نے بہت اچھی زندگی گزاری جب تک ہم دبئی میں رہے۔

پاپا نے ہمیں پوری دنیا گھمایا۔ کیونکہ ایئرلائن میں کام کرنے کی وجہ سے ’’ویزا‘‘ اور ’’ٹکٹ‘‘ کا کوئی ایشو نہیں ہوتا تھا۔

میری تعلیم ’’او‘‘ لیول تک دبئی سے ہوئی۔ پھر میری خاطر میرے والدین کراچی، پاکستان شفٹ ہوئے کیونکہ مجھے ڈاکٹر بننا تھا اور یہ بات پوری دنیا میں مشہور ہے کہ پاکستان کے ڈاکٹر بہترین ہوتے ہیں۔ پاکستان آکر میں نے ’’اے لیول‘‘ کیا۔ پھر ضیائ الدین یونی ورسٹی میں ایڈمیشن لیا ’’ایم بی بی ایس‘‘ میں دوران تعلیم ہی میری منگنی میرے کلاس فیلو سے ہوگئی ۔گریجویشن کے فوراً بعد ہماری شادی ہوگئی۔ وہ بھی ڈاکٹر اور میں بھی ڈاکٹر ،ہاؤس جاب ہم دونوں نے شادی کے بعد کی۔

’’آپ نے کہا کہ الحمدللہ ہمار اکوئی بھائی نہیں ہے اور نہ ہی میرے ماں باپ کو کوئی افسوس ہے کہ ہمارا بیٹا نہیں ہے؟ کیوں؟‘‘

’’اس لیے کہ ہم نے بھائیوں کے متعلق بہت خوفناک کہانیاں سنی ہوئی ہیں اور دیکھی ہوئی ہیں۔ بیٹیوں پر ماں باپ کا اتنا دباؤ نہیں ہوتا جتنا بھائیوں کا ہوتاہے۔ پھر میں اپنی د وستوں سے بھی سنتی تھی کہ بھائی کا رعب ہے بھائی تنگ کرتے ہیں۔ پابندیاں لگاتے ہیں تب ہم شکر کرتی تھیں کہ شکر ہے ہمارا بھائی نہیں ہیں۔ پھر پاپا بھی کہتے تھے کہ بیٹیاں تو خدا کی رحمت ہوتی ہیں۔ سچ پوچھیں تو ہمیں کبھی بھائی کی کمی محسوس بھی نہیں ہوئی۔

میں نے ہمیشہ اپنے آپ کو اپنے ماں باپ کا بیٹا سمجھا میں لڑکوں کی طرح رہی ہوں۔باہر کے کام ہوں۔ گھر کا کوئی مشکل کام ہو میں آگے آگے رہتی تھی۔ بازار سے چیزیں لانا، بہنوں کو یا بہن کو چھوڑ کر آنا، ان کے ساتھ بازار جانا، یعنی بہت سارے کام ایسے کیے ہیں جو عموماً بھائی ہی کرتے ہیں اور بہ حیثیت ’’بیٹے‘‘ کے میں نے اپنے والدین کا بھی ہاتھ بٹایا ہے۔ مجھے یاد ہے میرے ’’پاپا‘‘ مجھے ’’چار دماغ‘‘ والی کہتے تھے ۔

بچپن سے ہی مجھے پڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا۔ یوں سمجھیں کہ میں کتابی کیڑا تھی۔ کسی کی سالگرہ ہو، کوئی تقریب ہو ،میں جہاں بھی جاتی میرے ہاتھ میں کتاب ہوا کرتی تھی ،ہر کوئی میرا مذاق بنارہاہوتا تھا کہ برتھ ڈے پارٹی میں کتاب کا کیاکام ۔ میں ایک دن میں دو دو تین تین ناولز اور دیگر کتابیں پڑھ لیا کرتی تھی۔ دبئی میں ممی گروسری خرید کر گھرمیں لاکر سمیٹ رہی ہوتی تھیں اور جب وہ گروسری سمیٹ لیا کرتی تھیں تب تک میری ایک کتاب ختم ہوجایا کرتی تھی میں کچھ نہیں خریدتی تھی صرف کتابیں خریدا کرتی تھی۔

اپنی اسکول کی کتابیں پڑھنے میں بھی جنونی تھی۔ میرے پاپا مجھ پر بہت فخر کیا کرتے تھے اور سب سے کہتے کہ میری حبہ بہت ذہین ہے نخرے بالکل نہیں کرتی تھی۔ شرارتی بالکل نہیں تھی میں نے اپنے والدین کو بالکل بھی تنگ نہیں کیا۔

’’چلیں جی باتیں تو ہوتی رہیں گی۔ اب آپ آتے ہیں آپ کی فیلڈ کی طرف۔‘‘

’’یہ بتایے کہ اسکن اسپیشلسٹ اور ڈرموٹو لوجسٹ میں کیا فرق ہے؟‘‘

’’بنیادی طورپر اسکن اسپیشلسٹ ایک عام سی ٹیکنالوجی میں آجاتاہے۔ لیکن میں اصل میں ڈرماٹولوجسٹ ہوں اور ڈرما ٹولوجسٹ اسکن کے ساتھ ، ناخن ، پیر، ہر چیز کو دیکھتاہے اور ڈرما ٹولوجسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ میں Aesthetic فزیشن ہوں اور اس میں جو ٹریٹمنٹ ہوتی ہیں ان میں بوٹوکس ، فلرز، ایکنی، Acncsears پگ مینٹینشن کا ٹریٹمنٹ اور Malasmaکا ٹریٹمنٹ بھی شامل ہے۔ ہیر فال کا ٹریٹمنٹ بھی شامل ہے۔ ہیئر، اسکن، نیلز میرا ڈومین ہے اور الحمدللہ میرا اپناکلینک ہے جہاں میں پریکٹس کررہی ہوں۔

’’ڈاکٹر بننے کے پیچھے کیا کہانی ہے، شوق تھا یا فورس کیا گیا؟‘‘

’’مجھے کسی نے فورس نہیں کیا ڈاکٹر بننے کے لیے۔ دراصل میرے والدین بہت سوشل تھے اور رمضان المبارک میں ہم، گھر پر صرف تین چار دن ہی گزارتے تھے باقی سارا مہینہ افطار پارٹیز چل رہی ہوتی تھیں۔ ہم بہت سوشلائز کرتے تھے اور ہمارا ایک گروپ ڈاکٹرز کا بھی تھا جو کہ پاپا کے دوست تھے۔ ان ڈاکٹرز کو دیکھ کر مجھے بھی بہت شوق ہوتا تھا کہ میں ڈاکٹر بنوں۔ سوچتی تھی کہ یہ ایک پروفیشن ہے جو بہت نوبل ہے۔

بچپن سے ہی مجھے میرے والد چار دماغ والی کہاکرتے تھے تو میں اگر ڈفر بھی ہوتی تو والد کی وجہ سے واقعی چار دماغ والی بن جاتی۔ میری ٹیچر نے بھی میری بہت حوصلہ افزائی کی۔ جب میں نے ایم بی بی ایس میں پڑھائی شروع کی تب بھی بہت حوصلہ افزائی ملی اور ٹیچرز کہتے تھے کہ بہت آگے جاؤ گی۔ تو بس سب کی امیدوں پر پوری اتری اور ڈاکٹر بن گئی الحمدللہ۔

’’ڈرما ٹولوجسٹ بننے کے پیچھے بھی کوئی کہانی ہے؟ فیلڈ تو اور بھی بہت سی ہیں میڈیسن میں؟‘‘

’’جب ہم دبئی میں تھے تو پاپا کے ایک دوست تھے ڈاکٹر اکرام اللہ ناصر، وہ ڈرماٹولوجسٹ ہیں ان سے بہت متاثر تھی تو بس میں نے سوچ لیاتھا کہ میں بھی ڈرماٹولوجسٹ ہی بنوں گی۔ لیکن جب میں نے ضیائ الدین میں داخلہ لیا تو وہاں میں نے دیکھا کہ بہت سے اسٹوڈنٹ ڈرما ٹولوجسٹ بننا چاہتے تھے۔ تو میں نے سوچاکہ یہ تو بہت زیادہ مقابلہ ہوجائے گا تو میں سرجن بنوں گی۔ مگر جب شادی ہوئی اور بچہ بھی ہوگیا تو میں نے سوچا کہ آپ ہر چیز نہیں کرسکتے۔

میں ابھی اتنی مصروف ہوں اگر سرجن بن گئی تو پھر تو راتوں کو بھی گھر نہیں آسکوں گی ،کیونکہ سرجن کی ڈیوٹی تو بہت ٹف ہوتی ہے۔ تو پھر میں اس فیلڈ میں آگئی اور میرا دوسال کا ڈپلومہ ڈرما ٹولوجسٹ تھا جو میں نے کرلیا۔

’’آپ کے پاس زیادہ تر خواتین آتی ہیں کیا؟ اور کس بیماری کو لے کر لوگ آتے ہیں؟‘‘

’’ شروع شروع میں تو خواتین ہی آتی تھیں ان کو لگتا تھا کہ شاید میں مرد حضرات کو نہیں ٹریٹ کرتی۔ لیکن چونکہ خواتین کبھی شوہر کے ساتھ تو کبھی بھائی کے ساتھ آتی تھیں تو پھر انہیں یہ بھی پتا چل گیا کہ مرد اور عورت میں کوئی تخصیص نہیں ہے تو پھر مرد حضرات بھی آنے لگے ،ڈاکٹر تو سب کے لیے مسیحا ہوتاہے ،وہ خواتین وحضرات سب کے لیے کام کرتاہے۔جب لوگوں کو مطلب ،مرد حضرات کو پتا چلا تو وہ بھی آنے لگے۔ اب اگر میرے پاس اکیاون فیصد خواتین آتی ہیں تو انچاس فیصد مرد بھی آتے ہیں اور میرے پاس زیادہ تر پگ مینٹیشن کے ہیر فال اور بالوں کے دیگر مسائل اور پھر ایکنی کے ،یہ تین چیزیں بہت کامن ہیں۔ اس کے بعد ایگزیما اور Aestheticپر وسیجر کرانے کی تو سب کی چاہت ہوتی ہے جس میں سب کچھ ہی آجاتاہے۔‘‘

’’گزشتہ چند سالوں میں کس مرض میں اضافہ ہو اہے؟‘‘

’’گزشتہ دو تین سالوں میں ’’بال گرنے‘‘ کے بہت مریض آتے ہیں بلکہ لاتعداد مریضوں میں اضافہ ہوا اور اس کی سب سے بڑی وجہ کووڈتھا۔ ‘‘

بال جھڑنے کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں لیکن بیماری کے بعد بال بہت جھڑتے ہیں اور اس کو ہم روک نہیں سکتے۔ تو جس جس کو کووڈ ہوا ان سب کے بال گرنے لگے۔ بال گرنے میں بہت سی چیزیں رول پلے کررہی ہوتی ہیں۔ ڈائٹ اس میں شامل ہے آپ نے کریش ڈائٹنگ کی ہے تب بھی بال گریں گے۔ خواتین کے بہت سے مسائل کی وجہ سے بھی بال گرنے لگتے ہیں۔ فیملی ہیرٹین کی وجہ سے بھی. اور جسم میں اگر نمکیات کی کمی ہوجائے جیسے وٹامن ڈی ہے اور آئرن کی کمی ہے تو اگر دن میں دس مریض ہیرفال کی شکایت لائیں گے تو سب کا ٹریٹمنٹ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ تو ایسا نہ کریں کہ اگر ایک کو آرام آگیا ہے تو دوسرا وہی دوائی استعمال کرے۔ کیونکہ سب کا مسئلہ الگ ہوتاہے۔

’’ایگزیما بھی آپ کی فیلڈ میں آتاہے؟‘‘

’’جی بالکل. ایگزیما اندرونی وجوہات کی وجہ سے بھی ہوتاہے کبھی کبھار بیرونی وجوہات کی وجہ سے ہوجاتاہے۔ بہت سے لوگوں کو مصنوعی جیولری کی وجہ سے ایگزیما ہوجاتاہے دھوپ میں زیادہ بیٹھنے کی وجہ سے ہوجاتاہے اور اس کا علاج بڑا آسان ہے کہ آپ ان چیزوں سے دور رہیں۔ ہاں جو اندرونی وجوہات کی (جسم) وجہ سے ہوتاہے جیسے کہ پیازہ، جو کہ چھوٹے بچوں میں ہوتاہے۔ ایگزیما مختلف طرح کے ہوتے ہیں مگر ٹریٹمنٹ تقریباً ایک جیسی ہوتی ہے۔ جسم کی ایک کنڈیشن ایسی ہوتی ہے جس میں جسم ہی بہت حساس ہوتا ہے اور خاص طورپر اسکن ،تو انہیں ایگزیما ہونے کے کافی چانس ہوتے ہیں۔

’’(کیل مہاسے)کی کیا وجوہات ہوتی ہیں یہ بہت کامن ہے اور اسکن کی بیماریاں بہت مشکل سے دور ہوتی ہیں؟‘‘

’’نہیں ایسا نہیں ہے۔ اب جیسے Pubertualایکنی تقریباً ہر انسان کو ہوتی ہے۔ گیارہ سال سے لے کر 16سال کی عمر کے دوران Pubertualaایکنی جہاں پر Pubrityہٹ کررہاہوتاہے ہر انسان ،وہاں آئل کی پروڈکشن زیادہ ہونی شروع ہوجاتی ہے اور اس کو ایکنی نکلنا شروع ہوجاتی ہے ضروری نہیں کہ یہ اولڈ ایچ میں بھی آئے۔ لیکن ایک یقینی شرح کے لوگ ایسے ہیں جن کا سیکنڈ بیک آف ایکنی آتاہے 30سال کی عمر کے بعد ان کا ہارمونل ایکنی ہورہا ہوتا ہے Teslosleron سےریلیٹڈلیکن کچھ کانہیں بھی ہورہاہوتا۔ تو ضروری نہیں ہے کہ کچھ ٹائم کے لیے ٹھیک ہوجائے اور کچھ ٹائم کے لیے نہ ٹھیک ہو۔

’’کوئی کیس ایسا آیا جس کے لیے آپ کو مشکل ہوئی ہو یا آپ مایوس ہوگئی ہوں؟‘‘

’’میں جب ڈرما ٹولوجسٹ بن گئی اور میں نے اسپتال میں بیٹھنا شروع کیا بہ حیثیت کنسلٹنٹ ڈرما ٹولوجسٹ کے ،تو ضروری نہیں ہوتا کہ آپ فوراً ہی سب امراض کے ماہر ہوجائیں اس کے لیے وقت تو لگتاہے۔ میری خوش قسمتی یہ ہے کہ جیسے ہی میں ڈرما ٹولوجسٹ بنی میری گورنمنٹ جاب لگ گئی جہاں مجھے سینئر ڈاکٹرز کا ساتھ بھی ملا جنہوں نے مجھے سکھایا ۔ گروم کیا ،مجھے ٹرینڈ کیا کہ کس طرح مریضوں کو دیکھتے ہیں۔

اسی طرح ایک بچی تھی جس کی شادی ہونے والی تھی اور اس کے چہرے پر بہت دانے تھے اور شادی میں صرف تین ہفتے باقی تھے۔ خیر میں نے اس کی کاؤنسلنگ کی اور اسے دوائیاں لکھ کردیں۔ ماشائ اللہ وہ شادی کے چار پانچ دن کے بعد میرے پاس آئی کہ میری اسکن دیکھیں کتنی اچھی ہوگئی ہے۔ اس کے بعد تو میں ان کے خاندان کی فیملی ڈاکٹر بن گئی۔ سب مجھے ہی دکھانے آتے تھے۔ وہ لیاری کی بچی تھی اس نے مجھے اپنے گھر پر دعوت دی اور ہم دونوں میاں بیوی اس کی دعوت پر اس کے گھر گئے۔ یہ تو ایک کے بارے میں بتایا تو ایسے بہت سے مریض ہیں اور میں اپنے مریضوں کو بھولتی نہیں ہوں۔ سب کی اسٹوریز ، شکلیں اور نام مجھے یاد رہتے ہیں۔

’’دیکھا گیا ہے کہ لوگ اسکن کی بیماری کو بہت ہلکا لیتے ہیں جس نے جو علاج بتایا جو ٹوٹکا بتایا اس پر عمل کرتے ہیں۔ یہ کتنا نقصان دہ ہے؟‘‘

’’دراصل یہ آگاہی کا فقدا ن ہے۔ بہت سالوں کی پڑھائی کے بعد اب میں اپنے آپ کے لیے کہہ سکتی ہوں کہ میں ایکسپرٹ ہوگئی ہوں۔ اسکن میں ،بالوں میں ،ناخن میں بہت سارے لوگ سمجھتے ہیں کہ چونکہ اسکن ہمارا شوق ہے تو ہم ایکسپرٹ بھی بن گئے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ ہر کوئی مشورے دے رہا ہوتا ہے کہ ’’او تمہیں چھائیاں ہیں یہ دوائی لگالو یہ ہورہاہے تو یہ استعمال کرلو۔ یہ کریم استعمال کرلو۔ تو یہ سیلف میڈکیشن بہت نقصان دہ ہوتاہے اور اسکن تو ویسے ہی بہت نازک ہوتی ہے اور اسکن کا ڈاکٹر صرف ایکنی کا علاج نہیں کرتا بلکہ اور بھی امراض ہوتے ہیں جس کو وہ دیکھتاہے۔‘‘

’’موسمی اثرات کا جلد پر کتنا اثر ہوتاہے؟‘‘

’’جی موسم کے اثرات ہوتے ہیں ،جیسے گزشتہ ماہ سردی کا موسم تھا تو سردی کے موسم میں اسکن بہت خشک ہوجاتی ہے۔ ایک تو ہم لوگ ویسے ہی پانی کم پیتے ہیں پھر سردیوں میں تو پیا ہی نہیں جاتا تو ڈی ہائیڈریشن کی شکایت ہوتی ہے اور پھر جب خشک ہونٹوں پر زبان پھیررہے ہوتے ہیں تو ہونٹ مزید خشک ہوجاتے ہیں اور پھٹنے شروع ہوجاتے ہیں ایڑیاں پھٹنی شروع ہوجاتی ہے تو اس کا بہترین علاج یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ پانی پئیں اور موسچرائرز ضرور لگائیں بہت ضروری ہے۔ اس کے علاوہ سرد علاقوں میں ہاتھ سینکنے کے لیے جب آگ کے آگے بیٹھتے ہیں تو جو حصے ہم سینک رہے ہوتے ہیں وہ لال ہوجاتے ہیں اور وہاں پگ مینٹیشن آجاتی ہے نشانات سے بن جاتے ہیں جو اسکن کو خراب کردیتے ہیں تو اس کے لیے احتیاط ضروری ہے۔ ‘‘

’’لوگ پڑھ لکھ کر ملک سے باہر چلے جاتے ہیں اور آپ ایک ڈاکٹر ہوکے پاکستان میں ہیں وجہ؟‘‘

’’میرا خواب تھا کہ میں ڈاکٹر بنوں اور دوسرا خواب یہ تھا کہ میں ڈاکٹر بن کر ،انگلینڈ جاؤں گی میرے اس خواب کے ساتھ میری بہترین دوست بھی شامل تھی۔ ہم نے سوچا تھا کہ ڈاکٹر بن کر انگلینڈ جائیں گے اور وہیں پہ کسی سے شادی بھی کرلیں گے۔ پھر کلاس فیلو نے پروپوز کردیا اور شادی سے پہلے میں نے ان سے کہا کہ ہم امتحان دے کر پھر انگلینڈ کے لیے امتحان دیں گے تو اس پر میرے منگیتر نے کہا کہ میں اپنے والدین کو چھوڑنا نہیں چاہتا اپنے پاکستان میں رہنا چاہتا ہوں یہاں پر زندگی زیادہ آسان ہے اور اس بات پر ہماری کافی لڑائی بھی ہوئی تھی۔

مگر پھر میں نے کمپرومائز کرلیا اور یہی وجہ ہے کہ میں آج پاکستان میں ہوں۔ یہاں ڈاکٹرز کے لیے یہ سوچ ہے کہ ڈاکٹر بہت کماتے ہوں گے۔ اس پروفیشن کو بہت گلیمرائز کردیاگیاہے جبکہ ایسا نہیں ہے یہاں مہنگائی بڑھتی جارہی ہے مگر کمائی نہیں۔ لوگ تو میسیجز پر ہی کنسلٹیشنکررہے ہوتے ہیں ۔ اب انسان اس پر کیا ان کو بولے۔ کہ بھئی کلینک میں آکر دکھاجاؤ خیر.

میرے میاں صاحب بھی ڈاکٹر ہیں ایمرجنسی روم کھارادر جنرل اسپتال کے انچارج ہیں اور کووڈکے دنوں میں انہوں نے ہوم سیف سروس فراہم کی تھی اور گھر میں ہی ’’آئی سی یو‘‘ کا پورا ماحول بناکر دیتے تھے مریض کو اور گھر پر انہوں نے دو ہزار سے زیادہ مریضوں کو ،یہ سہولت دے کر صحت یاب کیاہے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ،اللہ تعالیٰ نے ہی میرے میاں صاحب کے ہاتھ میں شفا دی ہوئی ہے۔ مجھے اورمیرے بچوں کو بہت فخر ہے اپنے میاں صاحب پر پورے کراچی میں انہوں نے سروس فراہم کی اور جو علاج نہیں کرواسکتے تھے ان کے لیے ہم فنڈ جمع کرکے علاج کرتے تھے۔‘‘

’’مزاج کی کیسی ہیں؟ کھانے پینے کا شوق ہے؟‘‘

’’میں بہت غصہ والی تھی اور اسی وجہ سے میرے پاپا مجھے غصے والی باجی کہا کرتے تھے ۔کہتے تھے کہ ایک سکینڈ لگتا ہے بگڑنے اور ایک سکینڈ لگتاہے موڈ ٹھیک ہونے میں. تو غصہ والی تھی اور ابھی بھی ہوں. ہر بات پر چڑتی بہت تھی تو پاپا مجھے چمپنیزی بھی کہتے تھے۔

الحمدللہ میرے میاں صاحب اور میرے بچوں کو کھانے پینے کا بہت شوق ہے۔ ہم چاروں یعنی دو بچے اور ہم جب بھی کھانے کے لیے جاتے ہیں نئی نئی چیزیں ٹرائی کرتے ہیں۔ مہینے میں ایک بار ضرور گھر سے باہر کھانا کھاتے ہیں۔ جب ہم سنگار پور گئے تو وہاں کا لوکل کھانا ٹرائی کیا۔ اس طرح ایڈونچر بھی ہوجاتاہے اور دماغ کا کھلنا بھی اسی کو کہتے ہیں اور یہ ساری چیزیں ایجوکیشن کے ا ندر آجاتی ہیں۔

چھٹی کا دن ہم نہ فون استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی ٹی وی خاص طورپر کھانے کے ٹائم پر تو بالکل بھی نہیں۔ اس دوران ہم اپنی باتیں کرتے ہیں ،دین کے کسی ٹاپک کو لے کر بچوں کو بتاتی ہوں ۔ نماز کے وقت کوشش کرتی ہوں کہ بیٹے کو بھی ساتھ کھڑا کردوں تاکہ وہ بھی میرے ساتھ پڑھے۔

سارا ہفتہ مصروف رہنے کے بعد چھٹی کے دن گھر کے کئی ادھورے کام کرتی ہوں۔

چھٹی کے دن ماسی نہیں آتی تو میں اور میرے میاں ہم دونوں مل کر کام کرتے ہیں۔ برتن وہ دھوتے ہیں جھاڑو بھی لگاتے ہیں میں بچوں کو نہلاتی دھلاتی ہوں۔ بلیوں کا کھانابنادیتی ہوں۔ غرض یہ کہ ہم سب مل کر گھر کاکام کرتے ہیں اور گھر پر ہی وقت گزارتے ہیں یا پھر فیملی کہیں باہر وقت گزارتی ہے تاکہ بچے انجوائے کرسکیں۔

اس کے ساتھ ہی ہم نے ڈاکٹر حبہ سلیم کاشمیری سے اجازت چاہی شکریے کے ساتھ۔ باتیں بہت تھیں مگر جگہ کم . سو اس کے لیے بھی حبہ صاحبہ سے معذرت۔

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں