ڈاکٹر محمد فرید الدین ماہرِ اطفال – شاہین رشید

مجھ سے ملئے 0

’’کیا حال ہیں ڈاکٹر صاحب ؟‘‘

’’الحمد للہ ۔‘‘

’’کچھ اپنے بارے میں بتائیں؟‘‘

’’میرا نام ڈاکٹر محمد فرید الدین ہے . میرے والدین کا تعلق حیدر آباد دکن سے ہے ۔ والد صاحب کا آج سے بارہ سال قبل انتقال ہوگیا۔ جبکہ والدہ الحمد للہ حیات ہیں۔ ہم دو بہن بھائی ہیں. میری چھوٹی بہن ڈاکٹرجازیہ پہلے آسٹریلیا میں رہتی تھیں اور اب دبئی میں رہتی ہے۔ میری بیگم اسکن اسپیشلسٹ ہیں۔ ان کا نام ڈاکٹر سطوت ہے۔ ہمارے ماشائ اللہ دو بچے ہیں اور دونوں ماشائ اللہ پڑھ رہے ہیں۔ میں نے ’’ایم بی بی ایس‘‘بقائی یونیورسٹی سے کیا جو پہلے بقائی میڈیکل کالج تھا. جناح اسپتال کے ساتھ جوبچوں کا اسپتال ہے Nich وہاں سے ہائوس جاب کی. ہائوس جاب کے بعد میں نے انڈس اسپتال جوائن کیا. اور یہاں بہ حیثیت Paediatricسروسزہوں اور شام میں میری پریکٹس میمن اسپتال میں ہوتی ہے اوربچوں کی اسپشلیٹی میں مجھے بیس سال کا تجربہ ہوگیا ہے الحمد للہ ۔‘‘

’’کیسے طالب علم تھے.بچپن کیسا گزرا؟‘‘

’’میں کوئی بہت پڑھاکوقسم کا طالب علم نہیں تھا.ہاں ایوریج ضرور تھا، مگر اسکول کالج جانے کا بہت شوق تھا اور باقاعدگی کے ساتھ جاتا تھا.کبھی چھٹی نہیں کرتا تھا ، کھیل کود سے لگائو تھا۔ اسکول کی گیمز ٹیم میں تھا۔ ٹیبل ٹینس، ہاکی اورکرکٹ بہت شوق سے کھیلتا تھا اور اب بھی جب موقع ملتا ہے تو اسکواش اور بیڈ منٹن وغیرہ ضرورکھیلتا ہوں.اور پڑھائی کے سلسلے میں جیسا کہ میں نے کہا کہ ایوریج تھا تو پڑھائی کے سلسلے میں امی سے مار بھی پڑتی تھی. اورآج جوکچھ ہوں، امی کے جوتوں اور ڈنڈوں کی بدولت ہوں۔ جبکہ والد صاحب کا غصہ ہمارے لیے کافی ہوتا تھا .امی جب کہہ دیتی تھیں کہ نہیں پڑھوگے تو ابا کو بتا دوں گی۔ تو بس وہی ہمارے لیے کافی ہوتا تھا اور ہم پڑھنے کے لیے بیٹھ جاتے تھے۔ والدین نے پڑھائی کے سلسلے میں بہت گائیڈ کیا . والدین نے ہماری تربیت میں دو چیزوں پر بہت توجہ دی۔ ایک غذا پر اور دوسری تعلیم پر ، دونوں نے بہت دل کھول کر ہم پر خرچ کیا . بس خواہش کرنے کی دیر ہوتی تھی کہ وہ چیز حاضر ہو جاتی تھی۔‘‘

’’میڈیسن کی طرف رحجان تھا یا دلایا گیا؟‘‘

’’میرے بیالوجی میں ہمیشہ اچھے نمبرزآتے تھے توکبھی کبھارخیال آتا تھا کہ میڈیسن سائیڈ پر چلا جائوں ۔ لیکن دوسری طرف انجینئرنگ کی طرف میرا زیادہ رحجان تھا اور میں نے اپنے والدین سے بھی بہت اصرار کیا کہ آپ مجھے انجینئرنگ میں داخلہ لینے دیں ۔ لیکن چونکہ والد صاحب بینکر تھے تو ان کی خواہش تھی کہ میں ان کی فیلڈ کی طرف یا انجینئرنگ کی طرف نہ جائوں بلکہ ڈاکٹر بنوں اور میرا اپنا ایک کلینک ہونا چاہیے . اور یہ بہت زیادہ باعزت پروفیشن ہے اور اس پروفیشن میں بہت زیادہ دعائیں بھی ملتی ہیں. اور اس وقت مجھے لگتا تھا کہ ان کا فیصلہ غلط ہے.لیکن ڈاکٹر بننے کے بعد احساس ہوا کہ ان کا فیصلہ غلط نہیں تھا. اور واقعی مجھے اس پروفیشن میں بہت دعائیں ملتی ہیں . اور والدین کا ہر فیصلہ اولادکے لیے درست ہوتا ہے.میری شادی کا فیصلہ بھی والدین کا تھا اورمیری خالصتاً ارینج میرج ہے۔‘‘

’’چائلڈ اسپیشلسٹ بننے کا خیال کیسے آیا ؟‘‘

’’مجھے بہت شروع میں ہی یعنی جب میں تھرڈ ایئرمیں آیا تو جب پہلی بار میں بچوں کے وارڈ میں گیا توبس اسی وقت ذہن میں سوچ لیا کہ مجھے بچوں کا ہی ڈاکٹر بننا ہے۔ سب نے کہا کہ سرجری میںچلے جائو، اس میں پیسہ بہت ہے تو میں یہی کہتا تھا کہ مجھے پیسے کے لیے کام نہیں کرنا۔ میں تو وہ کام کروں گا جہاں میرے دل کو تسلی ہوگی اور ویسے بھی مجھے بچے اچھے لگتے ہیں۔ میرے دل میں ان کے لیے بہت شفقت ہے. اور میں بہت خوش ہوں کہ میں نے بہت اچھی فیلڈکا انتخاب کیا ہے۔‘‘

’’بچوں میں کون سی بیماریاں ’’کامن‘‘ ہیں؟‘‘

’’بچوں میں جوکامن بیماریاں ہیں، ان میں سانس کا مسئلہ ہے یا پھر پیٹ کے مسائل ہیں . اور بہت ہو تو پھر ٹائیفائڈ ، ملیریا جوکہ موسم کے حساب سے چل رہی ہوتی ہیں۔ فلوکے مسائل اور مریض زیادہ آتے ہیں. اورآج کل چونکہ موسم ہر لمحے بدلتا رہتا ہے تو بچے اس سے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں.

جب میں بہ حیثیت ڈاکٹرکے پریکٹکل لائف میں آیا تھا یعنی جب ہائوس جاب کر رہا تھا تو بچوں کے اسپتال میں ایک چھوٹے سے کمرے میں کوئی دس بائی بارہ کے کمرے میں تقریباً بارہ بچے ایک ساتھ موجود تھے اور ان میں زیادہ تر بچے ڈائریا کے ساتھ آئے تھے. اور مجھے اس وقت یہی گمان ہو رہا تھا کہ پتا نہیں میں ان کا علاج ٹھیک طریقے سے کر بھی پائوں گا کہ نہیں۔ اس لیے کہ مجھ سے بچوں کا رونا نہیں دیکھا جاتا . اور اس وقت سب بچے رو رہے تھے. لیکن پھر وقت نے بہت کچھ سکھادیا اور یہ بھی سکھا دیا کہ ان کے رونے کو دل میں بٹھا کر ڈیپریشن میں جانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، ان کے لیے کچھ کام کریں۔ مطلب اپنے جذبات اور پیار کو قابو میں رکھ کر ان کا علاج کریں تاکہ یہ جلدی ٹھیک ہوجائیں.

اسی جذبے کے تحت کام کیا اوراللہ نے بہت ساتھ دیا .اوراس مقام پرہوں۔‘‘

’’دیکھا گیا ہے کہ بچوں کی ذرا سی بھی تکلیف والدین کو پریشان کردیتی ہے . اور وہ فوراً ڈاکٹر کی طرف بھاگتے ہیں توکیا ایسا ہی کرنا چاہیے ؟‘‘

’’موسمی تبدیلیوں کے ساتھ طبیعت میں جو تبدیلیاں آتی ہیں۔ جیسے نزلہ ،زکام، بخار اس پر والدین کو بہت جلدی پریشان نہ ہونا چاہیے ۔ دیکھا گیا ہے کہ اگر بچے کو بخار ہوا ہے۔ تو والدین چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد بخار ختم ہو جائے اور اس کے لیے وہ کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتے۔ فوراً اینٹی بائیوٹک شروع کر دیں گے۔ فوراً انجکشن لگوانا شروع کر دیتے ہیں.اور اس وقت ایسے والدین کے لیے سب سے بہترین ڈاکٹروہ ہے، جس کی ایک خوراک سے بچہ ٹھیک ہو گیا ہو یقین مانیے ایسی کوئی بیماری نہیں ہوتی جو ایک خوراک سے ٹھیک ہو جائے۔ ہاں یہ صرف اسٹرائیڈ (steroid)کا ہی کمال ہو سکتا ہے اور یہ غلط طریقہ علاج ہے .

میں اینٹی بائیوٹک کے سخت خلاف ہوں اگر وائرل بیماریوں میں دی جائے تو .ہمارے یہاں بچوں میں قوت مدافعت ذرا کم ہوتی ہے اور ان کو ٹھیک ہونے میں ذرا دیر لگتی ہے۔ وائرل بیماری میں دو تین دن لگتے ہیں کہ باڈی اپنی قوت مدافعت کو بہتر کرتی ہے اور پھر دوا کا رزلٹ آتا ہے.قوت مدافعت کو بڑھانے کے لیے بچوں کی خوراک کا خیال رکھیں۔ ان کی خوراک میں پروٹین کا استعمال کریں جیسے دودھ ، انڈا گوشت ، دالیں ضرور دیں .

ہمارے یہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اینٹی بائیوٹک سب کے پاس سے مل جاتی ہیں۔ فارمیسی میں مل جائیں گی.میڈیکل اسٹورسے مل جائیں گی اور پرچون اورپانی والی دکان سے بھی مل جائیں گی اورکسی prescription(نسخہ) کے بغیربا آسانی مل جاتی ہیں. اورہمارے پاس اکثر لوگ اینٹی بائیوٹک لے کرآتے ہیں یا استعمال کرکے آتے ہیں تویہ بہت غلط رجحان ہے۔ جب اس کے اثرات غلط ثابت ہوتے ہیں یا سائیڈ افیکٹ ہوتے ہیں پھرمجبوراً یا توانجکشن دینے پڑتے ہیں یا پھر اسپتال میں داخل کرنا پڑتا ہے۔ خود سے اینٹی بائیوٹک کا استعمال خطرناک ہے۔‘‘

’’کون سی بیماریاں موروثی ہوتی ہیں اورکون سی پیدائشی ہوتی ہیں؟‘‘

’’ہم موروثی بیماری اسے کہتے ہیں جوہماری جینز میں ہوتی ہیں. یعنی ایسی بیماریاں جوخاندان کے اندر چلی آ رہی ہیں. اور یہ ہم ان خاندانوں میں زیادہ دیکھتے ہیں جہاں کزنزمیرج ہوتی ہیں. خاندان کے اندر یا برادری میں ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پرجیسے تھیلیسمیا ہے، یہ بہت کامن بیماری ہے اوراب تویہ لائ بھی پاس ہوچکا ہے کہ شادی سے پہلے آپ کواپنا ٹیسٹ کروالینا چاہیے کہ ان کے اندرکہیں تھیلیسما کے جراثیم تونہیں مگرآپ دیکھی لیں کہ یہ ٹیسٹ کوئی نہیں کرواتا ۔ اس ٹیسٹ میں یہ دیکھتے ہیں کہ ماں اور باپ یعنی لڑکی اور لڑکے میں اگرتھیلیسما کے جز اگرموجود ہیں تو سمجھ لیں کہ 25 فیصد چانس ہیں کہ آپ کے بچے کو یہ بیماری ہوسکتی ہے. اور اس بیماری میں ساری زندگی یا تو خون لگنا ہے (چڑھنا ہے) یا ساری زندگی دوائیں کھانی ہیں۔ یہ موروثی بیماری کی ایک مثال ہے اوربعض بیماریاں پیدائشی ہوتی ہیں۔ جن میں ڈیلیوری میں پیچیدگی یا بچہ دیرسے رویا.یا پیدائشی نمونیہ ہوا جوبچے پیدائش کے فوراً بعد نہیں روتے، ان کے دماغ کو آکسیجن دیرسے پہنچتی ہے جس کی وجہ سے وہ ساری زندگی کے لیے مفلوج بھی ہوسکتے ہیں۔‘‘

’’آج کل کی مائیں فوراً ہی بچے کو فیڈر لگا دیتی ہیں یہ کس حد تک درست ہے؟‘‘

’’ہمارے مذہب میں اور قرآن پاک میں بھی ہے کہ مائیں دوسال تک بچے کو اپنا دودھ پلائیں۔ ایک زمانہ تھا کہ جب مائیں بچوں کوفیڈر دینے کا کہتی تھیں تو نانی، دادی بہت برا مانتی تھیں کہ یہ کس طرح کی ماں ہے کہ جو بچے کو اپنا دودھ نہیں پلا رہی . لیکن اب ٹرینڈ بدلتا جا رہا ہے۔ کچھ ہی دنوں پہلے کی بات ہے کہ ایک نانی سے میری اسی بات پر بحث ہو رہی تھی جب وہ کہہ رہی تھیں کہ آپ بچے کے لیے اوپرکا دودھ لکھ کر دیں۔ لیکن اب بھی ہم تو یہی کہتے ہیں۔ بچے کی بہترین غذا ماں کا دودھ ہے اور اب گائیڈ لائن تھوڑی سی بدل گئی ہے کہ اب ماں اگر بچے کو فیڈ کروا رہی ہے تو چھ ماہ تک اپنا ہی فیڈ دے اور اگر ماں کو لگتا ہے کہ بچے کو مدر فیڈ سے زیادہ کی ضرورت ہے تو پھر آپ نرم غذا کے ساتھ اپنا فیڈ کرائیں . ماں کی غذا ٹھیک نہیں ہوگی تو ماں کی فیڈنگ ٹھیک نہیں ہوگی۔ ماں کی غذا میں ماں کو ہر چیزکھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر ہمارے یہاں دیکھا گیا ہے کہ کہا جاتا ہے ماں اگر کھچڑی کھالے گی یا چاول کھالے گی تو بچے کو سانس کا مسئلہ ہو جائے گا۔ ماں نے ٹھنڈا پانی پی لیا یا کیلا کھالیا تو بچے کا پیٹ خراب ہوجائے گا۔ اس کوٹھنڈک لگ جائے گی ۔ یہ سب کی سب غلط باتیں ہیں.

سب اللہ کی بنائی ہوئی چیزیں ہیں اورہم اس کی نعمتوں کو ٹھکرا رہے ہوتے ہیں۔ بچے کوغذا میں سب کچھ دیں۔ کھچڑی، دلیا، سوجی، چاول، کیلا سب کچھ جب بچے کواچھی غذا دیں گے توبچہ طاقت ور ہوگا. اورجو بھی غذا دیں، دیسی گھی اورمکھن کا استعمال ضرورکریں۔‘‘

’’جوبچے گونگے بہرے پیدا ہوتے ہیں۔ ان کی کیا وجہ ہوتی ہے؟ اوراگرایک بچہ ایسا ہی ہے تو کیا دوسرا بھی ایسا ہوسکتا ہے؟‘‘

’’جوبچے گونگے بہرے پیدا ہوتے ہیں، اس کی کچھ بیماریاں اور وجوہات ہیں اگر حمل کے دوران ماں کو کوئی بیماری لاحق ہوجاتی ہے تو اس کی وجہ سے بھی بچے گونگے بہرے پیدا ہوجاتے ہیں۔ کچھ غلط دوائیاں استعمال کرنے سے بھی ایسا ہوتا ہے۔ آج کل ایک پروگرام شروع کیا ہے، ہم نے انڈس اسپتال میں اور میمن اسپتال میں اسے ہم ’’نیوبورن ہیرنگ اسکرین‘‘ کہتے ہیں یعنی بچے کی پیدائش کے فوراً بعد ایک آلہ کان میں لگا کرچیک کر لیتے ہیں کہ بچے میں سننے کی صلاحیت ہے کہ نہیں اور اگر نہ ہو تو پھرایک اورٹیسٹ کرتے ہیں کنفرم کرنے کے لیے. اوراگرایک بچہ ایسا ہے تودوسرے بچے کے وقت ہم ماں کے ضرورٹیسٹ کرواتے ہیں.اور دوران حمل ماں کی صحت و خوراک کا بہت خیال رکھیں تاکہ بچے صحت مند پیدا ہوں۔‘‘

’’کھانے کے معاملے میں مائیں بچوں کے پیچھے پیچھے بھاگ رہی ہوتی ہیں.توبچوں کوکیا غذا دیں کہ وہ شوق سے کھائے؟‘‘

’’عمر کے حساب سے بچے کے لیے ہرطرح کی غذا بہت ضروری ہے۔‘‘ جوموسم کا پھل ہے جو موسم کی سبزی ہے, وہ بچوں کو دینا بہت ضروری ہے۔ ڈائیٹ کا بیلنس رکھیں اور دودھ ، انڈا، گوشت، دالیں، سبزیاں، مچھلی سب کچھ دیں اور اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی غذائوں پر زیادہ توجہ دیں۔ یہ جو ڈبوں میں پیک غذائیں ہوتی ہیں جو کہ نہ جانے کب سے پیک ہوتی ہیں اور جن کے لیے کہا جاتا ہے کہ بچوں کی پہلی غذا. ان سے اپنے بچوں کو دور رکھیں .بچوں کی پہلی ٹھوس غذا پہلے بھی کھچڑی تھی، آج بھی ہے اور کل بھی رہے گی اور یہ غذا گھر میں آرام سے بن سکتی ہے اور ایک اہم بات کہ بچوں کواپنے ساتھ بٹھا کرکھلانے پر توجہ دیں اور عادت بھی ڈالیں.تاکہ بچہ آپ کوکھاتے ہوئے دیکھے تو اسے کھانے کے آداب بھی آئیں۔ طور طریقے اور تمیز بھی آئے۔

بچوں کی غذا میں تیزمرچوں کا استعمال نہ کریں اوربازارکے کھانوں خاص طور پر فاسٹ فوڈ سے دور رکھیں۔کیونکہ ان کی وجہ سے بھی بچوں کی صحت کے بہت پرابلمز آ رہے ہیں۔کولڈ ڈرنکس اوربازارکے جوسز جوڈبوں میں پیک ہوتے ہیں، ان سے بچوں کو دور رکھیں۔ تازہ پھلوں کا جوس دیں۔

’’بعض بچے بڑے قد کاٹٔ کے نہیں ہوتے تو یہ کوئی پریشانی والی بات ہے؟‘‘

’’اگر ماں یا باپ پانچ فٹ کے ہیں تو ان کا بچہ چھ یا ساڑھے چھ فٹ کا نہیں ہوگا .بچے کی نیند اور غذا کو بیلنس رکھیں .ہمارے جسم میں ایک خاص ہارمون ہے جو گروتھ ہارمون کہلاتا ہے اور جو ہماری باڈی میں secrete اس وقت ہوتا ہے جب ہم گہری نیند سو رہے ہوتے ہیں اور یہ secrete ہوتا ہے رات بارہ بجے سے رات دو بجے تک اور اگر اس ٹائم میں آپ کا بچہ گہری نیند میں نہیں گیا ہے تو ظاہر سی بات ہے، بچے کا قد چھوٹا رہے گا. اور اسی لیے میں سب سے کہتا ہوں کہ بچوں کو نو یا زیادہ سے زیادہ دس بجے تک سلانے کی عادت ڈالیں.

ہمارے یہاں بہت فخریہ کہا جاتا ہے کہ ہمارا بچہ توسب کوسلا کرسوتا ہے۔ یا یہ کہ بچے کے والد رات کودیرسے آتے ہیں توجب تک بچہ ان کے ساتھ ایک گھنٹہ کھیل نہ لے، وہ سوتا نہیں ہے۔ بھئی یہ ظلم نہ کریں۔ اس کے علاوہ بچے کواسٹریس سے دور رکھیں گھرکی باتیں ہو رہی ہوتی ہیں۔ لڑائی ہو رہی ہوتی ہے اوربچے کے سامنے ہورہی ہوتی ہے۔ بچے ان باتوں کا بہت اثرلیتے ہیں ذہن میں بٹھاتے ہیں۔ اس طرح نفسیاتی مسائل جنم لیتے ہیں۔ صحت پر برے اثرات پڑتے ہیں اورذہنی نشونما میں رکاوٹ آتی ہے.لیکن اگربچے کا وزن ٹھیک ہے، صحت مند بھی ہے اورکوئی پرابلم بھی نہیں ہے توپھربھی قد نہیں بڑھ رہا اور پھر کچھ ٹیسٹ کروانے کی ضرورت ہوتی ہے. اور ضرورت پڑنے پردوائیں بھی دیتے ہیں.اور انجکشن بھی دیتے ہیں.اوربچے بہتربھی ہوجاتے ہیں۔ لیکن ہمیں ڈاکٹرکے پاس جانے سے پہلے اپنے گھرمیں وجہ تلاش کریں اوروجہ تلاش کرنے کے بجائے ہم کسی بھی طریقے سے قدبڑھانے کا سوچیں تویہ غلط ہوگا۔‘‘

’’مائوں کوبہت فکر ہوتی ہے کہ ہمارا بچہ کھاتا نہیں ہے، پیچھے پیچھے بھاگ رہی ہوتی ہیں۔ اس کی کیا وجہ ہوتی ہے؟‘‘

’’میں عام طور پرساری مائوں سے یہ کہتا ہوں کہ ایسا کوئی ٹانک نہیں ہے کہ جس سے بچہ ایک دم سے کھانا شروع کردے گا۔ اگر ایسے ٹانک ہوتے تو آج کوئی بھی بچہ کمزور نہیں ہوتا۔ سارے بچے موٹے تازے ہوتے . ہاں ملٹی وٹامنز ایسے ہیں کہ اگربچے کی غذا میں کچھ کمی ہو رہی ہوتی ہے تو وہ پورا کرلیں۔ مثال کے طور پراگرکسی بچے کی خوراک میں فولاد کی کمی ہے تو ہم فولادکا شربت دے سکتے ہیں۔ لیکن ہم اس بات پر بضد ہوجاتے ہیں کہ جب تک بچے کو بھوک کا شربت نہیں دیں گے۔ بچہ کھانا نہیں کھائے گا. یہ سب نفسیاتی اثرات ہیں۔ توجتنا نیچرل طریقے سے دے سکتے ہیں دیں، یہی بہتر طریقہ ہے۔‘‘

’’آپ گھریلو ٹوٹکوں پر یقین رکھتے ہیں؟‘‘

’’مجھے گھریلوٹوٹکوں پرکوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن کچھ ٹوٹکے پرابلمز کری ایٹ کرتے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں کہ بچوں کوپیدائش کے فوراً بعد شہد دینا ہے ، بالکل ٹھیک ، میں مانتا بھی ہوں اور سنت بھی ہے لیکن اس بات کا ضرور خیال کر لیں کہ شہد اصلی بھی ہے کہ نہیں.شہد کے ساتھ نوزائیدہ بچوں کو بہت خطرناک قسم کے انفکشن بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔ ایک سال کی عمر تک کے بچوں کو شہد نہیں دیا جاتا.

اسی طرح بچے کی ناف سرمہ لگا رہا ہے کوئی ناف پہ کوئلہ لگا رہا ہے تو کوئی ’’ناف پہ‘‘ نسوار لگا رہا ہے تو آپ کو بتائوں کہ اس سے بھی بہت خطرناک قسم کے انفکشن ہو جاتے ہیں۔ اور بعض اوقات بچے کی جان بھی چلی جاتی ہے۔ ہم توآنکھوں میں سرمہ بھی لگانے سے منع کرتے ہیں کہ اس سے بھی انفکشن ہونے کے چانس ہوتے ہیں.

میں کھانے پینے کی چیزوں سے کبھی منع نہیں کرتا . آپ ادرک اورشہد دیں۔آپ قہوہ ضروردیں۔ بچوں کے لیے چائے پہ میں ضروراعتراض کرتا ہوں۔ کیونکہ بچوں کوچائے پلانے سے خون میں فولادکی کمی پیدا ہوجاتی ہے اور جو پھل جس موسم میں آتا ہے وہ ضرور کھلائیں۔کہتے ہیں کہ ’’آم‘‘ کی تاثیرگرم ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کوپتا ہے کہ گرمیوں میں ہی آم دینا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کوپتا ہے کہ کینوکی تاثیرٹھنڈی ہے۔ مگر وہ سردیوں میں ہی آتے میں آم آپ نے دسمبر میں اورکینوآپ نے جون میں نہیں کھایا ہوگا۔‘‘

’’بچوں کے لیے ماں اورباپ کا بہترین تحفہ کیا ہے؟‘‘

’’میرے نزدیک بچوں کوبہترین تحفہ اگرکوئی ماں دے سکتی ہے تو وہ ہے ماں کا دودھ اور بہترین تحفہ اگر باپ دے سکتا ہے تو وہ پیدائش کے بعد بچوں کو پیدائشی ٹیکوں کے لیے لے کر جائے.اس سے بہتر کوئی تحفہ آپ بچوں کو دے ہی نہیں سکتے. ماں کا دودھ قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے اور ٹیکے بچوں کو بیماریوں سے بچاتے ہیں۔‘‘

’’بہت باتیں ہوگئیں۔ اب کچھ نجی مصروفیات کے بارے میں بتائیے ؟‘‘

’’مصروفیات کچھ یوں ہیں کہ میں بھی ایک عام انسان ہوں اور مجھے بھی اچھا لگتا ہے کہ باہر جا کر فیملی کے ساتھ کھانا کھائوں دوستوں کے ساتھ بیٹھوں۔ میں گوشت خور زیادہ ہوں مگر پھر بھی ساری چیزیں کھالیتا ہوں.اور فیملی کو ٹائم دینے کا مسئلہ یہ ہے کہ میں صبح پونے آٹھ بجے گھر سے نکل جاتا ہوں رات نو ساڑھے نو بجے گھر واپسی ہوتی ہے .اور پھر وہ ٹائم فیملی کے ساتھ ہی گزرتا ہے . اب تو سنڈے کو بھی کام چل رہا ہوتا ہے. اب بچے بڑے ہوگئے ہیں تو ان کے ساتھ ہماری ایکٹویٹی رہتی ہے۔ خاندان بھر میں بھی کافی آنا جانا رہتا ہے اور اب تودورموبائل کا ہے توسب کے ساتھ فون پر اور واٹس ایپ پہ بھی رابطہ رہتا ہے.فیس بک پہ بھی رابطہ رہتا ہے.

میں تھوڑا سا فن لونگ بھی ہوں۔ دوستوں میں ہوتا ہوں توگانے بھی گا رہے ہوتے ہیں۔ ہلا گلا بھی ہوتا ہے .مجھے ڈرائیونگ کا بہت شوق ہے۔ گھومنے پھرنے، ٹریولنگ کا شوق ہے۔ آدھی سے زیادہ دنیا دیکھ چکا ہوں.آج کل توکہیں نہیں جا پا رہے .اپنے اسپتال میں بھی چھوٹی موٹی ایکٹویٹی کرتے رہتے ہیں.بس دعا ہے کہ اللہ ہمیں اس قابل کردے کہ ہم کسی کے کام آ سکیں۔ اپنے لیے تو سب ہی جیتے ہیں۔ دوسروں کے لیے جئیں تو اس سے بڑھ کرکوئی بات ہی نہیں ہے۔‘‘

’’ اللہ تعالیٰ آپ کے ہاتھ میں شفا دیے رکھے۔ آمین۔ بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب آپ کا ۔‘‘

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں