پاکستان کی آبادی کا52فیصد خواتین پر مشتمل ہے اور یہ خواتین ایسے ہی گھر بیٹھے ہانڈی روٹی میں اپنا وقت ضائع نہیں کرتیں ،بلکہ اپنے مردوں کے شانہ بشانہ چل کر اپنے گھر کی خوش حالی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ یہ عورت خواہ شہر کی ہو ،گائوں دیہات کی ہو کبھی محنت سے جی نہیں چراتی۔ 8مارچ خواتین کا عالمی دن.اسی حوالے سے آج ہم نے ڈی ایس پی لبنیٰ ٹوانہ سے آپ کی ملاقات کروائی ہے.لبنیٰ ٹوانہ صاحبہ کی اپنی ایک پہچان ہے کہ وومین اینڈ چلڈرن پروٹیکشن سیل کی انچارج بھی ہیں اور معروف سیاسی شخصیت ’’راحیلہ ٹوانہ‘‘ کی بہن بھی ہیں۔
کیا حال ہیں،کیسے مزاج ہیں؟
اللہ کا شکر ہے۔مزاج بھی اچھے ہیں۔
گڈ.آپ اپنا فیملی بیک گرائونڈ بتایئے؟
پہلے تو آپ کا اور آپ کے ادارے کا شکریہ کہ مجھے انٹرویو کا موقع دیا اور ہوسکتا ہے کہ میرے انٹرویو سے کسی کو کوئی معلومات مل جائیں یا اَنہیں اچھا لگے۔
میرا نام لبنیٰ ٹوانہ ہے۔میرا تعلق فیصل آباد سے ہے ویسے میرا بنیادی تعلق ’’مٹھا ٹوانہ‘‘ سے ہے جو کہ صوبہ پنجاب میں ہے۔یہ سرگودھا سے آگے ایک شہر ہے۔اور’’ٹوانہ‘‘ نام ہماری فیملی کے نام پر ہے۔ہماری فیملی زمین دار ہے۔انڈیا میں بھی’’ٹوانے‘‘ ہیں مگر وہ سکھ اور ہندو ہیں جبکہ ہم مسلمان ہیں۔یہ جنگجو اور زمیندار قبیلہ ہے اور جو زمیندار نہیں تھے وہ پھر فوج میں چلے گئے۔
میرے والد صاحب کی زمینیں حیدرآباد میں تھیں میں وہیں پیدا ہوئی۔ہم پانچ بہنیں اور ایک بھائی ہیں۔ایک چھوٹی بہن کا انتقال ہوچکا ہے اور والدین کا بھی۔میرے والد پاکستان ٹول فیکٹری میں ڈپٹی منیجر تھے۔میری والدہ بہت سمجھ دار اور سلیقہ مند خاتون تھیں دونوں کی تربیت کا نتیجہ ہے کہ ہم ایک کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔انہوں نے زندگی کا ہر ہنر ہمیں سکھایا۔کھانا پکانا،سینا پرونا اور ہم نے اپنی زندگی میں اس کا استعمال بھی کیا۔
بچپن میں بہت زیادہ شرارتی نہیں تھی،میں سوبر قسم کی بچی تھی اور فرماں بردار بھی۔زیادہ تر امی کے ساتھ گھر کے کاموں میں اَن کا ہاتھ بٹاتی تھی۔ جب کالج میں آئی تب اَن کے ساتھ کچن میں بھی کھانا پکانے میں اَن کا ساتھ دیا کرتی تھی ،مجھے زیادہ گھلنا ملنا پسند نہیں تھا تو الگ تھلگ ہی رہتی تھی۔یا پھر بہنوں بھائی کے ساتھ رہتی تھی اور اَن کا خیال رکھتی تھی۔طالبہ بھی اچھی تھی۔پڑھائی میں دل لگتا تھا میرا۔شرارتیں کرتی تھی مگر موقع محل کے حساب سے اپنے والدین کی میں پسندیدہ بچی تھی۔
بچوں نے کیا بننا ہے،کیا کرنا ہے،اس کا اندازہ والدین کو اَن کے بچپن سے ہی ہوجاتا ہے۔آپ کیا کہیں گی اس بارے میں؟
بچپن میں مجھے ڈاکٹر بننے کا شوق تھا لیکن فرسٹ ایئر کا امتحان دینے کے بعد مجھے اندازہ ہوا کہ میڈیکل کی پڑھائی ،بہت مشکل ہے اور اس کے لیے بہت زیادہ پڑھنا پڑے گا۔تب میں نے آرٹس میں گریجویٹ کرلیا۔گریجویشن کے بعد میں نے ایک سال PMTF،جہاں سے میں نے ساتویں جماعت تک پڑھا تھا جاب کرلی۔ایک سال ٹیچنگ کرنے کے بعد جاب چھوڑ دی ان ہی دنوں مجھے معلوم ہوا کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ میں جابز آئی ہوئی ہیں ،تو میں نے اپلائی کردیا اور کامیاب ہوگئی۔میرا انتخاب ہوگیا۔ بحیثیت انسپکٹر کے1994ئ میں ،میں نے اپنے والدین کی رضا مندی سے اس شعبے کا انتخاب کیا۔
پولیس کے شعبہ کو جوائن کرنے کی ایک اور وجہ بھی تھی ۔وہ یہ کہ بچپن میں مجھے پولیس کی یونیفارم اور آرمی کی یونیفارم بہت پرکشش لگتی تھی۔آرمی ڈاکٹر بننے کا شوق تھا مگر پڑھائی مشکل ہونے کی وجہ سے ایسا ہونہ سکا۔ پولیس کا شعبہ ایک تو یونیفارم کی وجہ سے پرکشش لگتا تھا۔
دوسری بڑی وجہ جو ہوئی(یونیفارم کا پرکشش لگنا بچپن ہی سے تھا)بڑی بہن’’راحیلہ ٹوانہ‘‘ جو کہ سیاست دان ہیں وہ1990ئ میں اسٹوڈنٹ لیڈر تھیں اور پی ایس ایف (گرلز اسٹوڈنٹ) کی صدر تھیں ،پورے سندھ کی پیپلز پارٹی کی جب1990ئ میں بے نظیر حکومت کا تختہ الٹا ،ان کے جتنے بھی ایم این اے،ایم پی اے،ان کے کارکن،سینئر عہدے دار اور طالب علموں سب کا برا ٹائم آیا ہوا تھا ۔سیاسی گرفتاریاں بہت زیادہ ہورہی تھیں۔ اس چکر میں میری بہن راحیلہ ٹوانہ اور میرا بھائی افضل ٹوانہ بھی گرفتار ہوگئے۔چونکہ ہم پانچ بہن اور ایک ہی بھائی تھا ۔والد صاحب سرکاری نوکری کررہے تھے تو ان کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ ،اپنے بچوں کے لیے بھاگ دوڑ کرسکتے۔
اس وقت پی پی پی نے ہمیں بہت سپورٹ کیا ہے لیکن پھر بھی ان دنوں ،پولیس والوں سے میرا بہت واسطہ رہتا تھا کیونکہ کوئی تھا ہی نہیں جو ہمارا ساتھ دیتا۔ رشتے داروں نے جو کہ بہت قریبی تھے انہوں نے ہمارے لیے اپنے دروازے بند کردیے تھے کہ جب تک آپ کے مسائل حل نہ ہوجائیں ،آپ ہم سے نہ ملیں۔
اس وقت پھر میں نے سوچا کہ مجھے کبھی موقع ملا تو میں پولیس جوائن کروں گی اور جو تکالیف ہم اٹھارہے ہیں،وہ آئندہ کسی کو نہیں اٹھانے دوں گی۔ لوگوں کی مدد کا ایک جذبہ پیدا ہوگیا تھا۔‘‘
’’پولیس کا محکمہ بڑا کرپٹ ہے اور خواتین پولیس کا رویہ بھی بڑا سخت ہوتا ہے۔آپ کیا کہیں گی؟‘‘
’’ہر محکمے کے اندر کرپشن ہے لیکن پانچوں انگلیاں برابر بھی نہیں ہوتیں۔ہر جگہ اچھی اور بری سوچ والے لوگ پائے جاتے ہیں۔نیکی کرنے والے بھی اور بدی کرنے والے بھی تو یہی حال پولیس کے محکمے کا بھی ہے۔
اس میں اچھے لوگ بہت ہیں جو اپنی اس نوکری کو ایک ذمہ داری اور فرض سمجھ کر ادا کرتے ہیں اور لوگوں کے لیے آسانیاں فراہم کرتے ہیں۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جس بات کی مشہوری زیادہ ہوجاتی ہے وہ زیادہ ’’ہائی لائٹ‘‘ہوجاتی ہے اور پولیس کی کرپشن زیادہ ’’ہائی لائٹ‘‘ ہوگئی ہے جبکہ ایسا نہیں ہے۔
اگر آج پولیس کو شہر سے ہٹادیا جائے تو خود لوگوں کو پتا چل جائے گا کہ شہر کی کیا حالت ہوجائے گی،جنگل سے بھی زیادہ بری ہوجائے گی۔پولیس کے محکمے میں اچھے لوگوں کی تعداد زیادہ ہے۔
پولیس کا ڈر ہی لوگوں کو کنٹرول کرتا ہے اور جہاں تک خواتین پولیس کی بات ہے ،تو اس کے لیے میرا یہ جواب ہے کہ اصل میں یہ پبلک ڈیلنگ ہے اور اس میں ہوتا یہ ہے کہ آپ کسی کو کنوینس نہیں کرسکتے۔ اگر کسی بھی طرح کا کوئی ایشو ہوتا ہے اور کسی کو کچھ سمجھانا ہے اور آپ نارمل انداز میں سمجھارہے ہیں تو اچھے ذہن کے لوگ ہوتے ہیں، وہ تو سمجھ جاتے ہیں لیکن جاہل اور گھمنڈی لوگوں کو سمجھانا مشکل ہوتا ہے ان میں’’میں‘‘ بہت ہوتی ہے ،جاہل اپنی جہالت کی وجہ سے بات کو سمجھ نہیں پارہے ہوتے تو پھر لہجہ خود بہ خود کرخت ہوجاتا ہے ورنہ ہم تو کوشش کرتے ہیں کہ ہمارے لہجے کرخت نہ ہوں۔‘‘
’’وومن پروٹیکشن سیل کے کیا کیا کام ہوتے ہیں؟‘‘
’’ہمارے ذمے جو کام ہوتے ہیں ان میں گھریلو تشدد کا مسئلہ،نوکری کے دوران ہراسمنٹ ، طلاق کے مسائل،شوہر کی طرف سے بچوں کا نان نفقہ،سائبر کرائم کا مسئلہ،فیملی کے جھگڑے، سیکچوئل ہیراسمنٹ، چھوٹی عمر کی شادیاں ،طلاق کی بلیک میلنگ ہراسمنٹ، ریپ، غیرت پہ قتل، اغوائ کی صورت میں بچوں کی کسٹڈی کے مسائل وغیرہ وغیرہ۔
تو وومن پروٹیکشن سیل ان ایشوز پر کام کرتے ہیں جن کی فہرست میں نے آپ کو بتائی۔(لبنیٰ صاحبہ نے سب کے بارے میں تفصیل سے بتایا مگر جگہ کی کمی کے باعث تفصیل نہیں دے رہے۔اس کے لیے لبنیٰ صاحبہ سے بھی معذرت)جوMatter(معاملات) ہمارے دائرہ اختیار میں ہوتے ہیں، اس پر شکایت ملنے پر ہم خود ہی ایکشن لیتے ہیں ۔بعض ایشوز ایسے ہوتے ہیں جن پر ہمارا اختیار نہیں ہوتا لیکن وہ کورٹ کے معاملات ہوتے ہیں ،تو اس میں جب کورٹ کا فیصلہ آجاتا ہے تو پھر ہم کورت کے آرڈرز پر عمل درآمد کردیتے ہیں۔یعنی دوپارٹیوں کو آمنے سامنے بٹھا کر۔ لیکن پھر بھی جب صلح وصفائی کا راستہ نہیں نکلتا تو پھر یہ معاملہ کورٹ کو ریفر کردیا جاتاہے کہ آپ جائیں اور کورٹ کو جواب دیں۔‘‘
’’خواتین،بچوں اور طالب علموں کے کس قسم کے مسائل آپ کے پاس آتے ہیں؟‘‘
’’ہمارے پاس ہر طرح کے مسائل آتے ہیں اور سارا دن آتے رہتے ہیں۔گھریلو جھگڑوں سے لے کر آفیشل جھگڑوں تک جیسے گھر میں بہن بھائیوں کے جھگڑے،والدین کے جھگڑے یہ گھریلو تشدد میں آتے ہیں اور خواندگی جھگڑے میں بھی۔اسی طرح کالج اور یونی ورسٹی لیول کے لڑکے اور لڑکیاں، ہمیں اپنا کوئی مسئلہ بتاتے ہیں تو اَن کو بھی ہم حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔نوے فیصد مسائل بلیک میلنگ اور ہراس منٹ کے ہیں،سب سے زیادہ کیس اس طرح کے آرہے ہیں کہ لڑکا لڑکی میں دوستی ہوگئی،بات آگے تک بڑھ گئی لڑکی اَمید سے ہوگئی تو جب ایسا ہوتا ہے تو پھر ،بلیک میلنگ دوسری پارٹی کی طرف سے شروع ہوجاتی ہے اور فیس بک پر فیک آئی ڈی بناکر ویڈیو وائرل کردی یا تصاویر وائرل کردی۔
’’اس میں قصور زیادہ تر لڑکیوں کا ہوتا ہے۔ جب وہ عشق کے جنون میں اپنی گندی گندی ویڈیوز، لڑکے کو بھیج دیتی ہیں اور جب گھر والوں کی طرف سے شادی کے لیے انکار ہوجاتا ہے۔یا لڑکا کچھ اور ڈیمانڈ کرتا ہے اور لڑکی ماننے سے انکار کرتی ہے تو پھر بلیک میلنگ کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ بچوں اور عورتوں کے بارے میں جو کیسز ہمارے پاس آتے ہیں، اَس کی باقاعدہ ہر مہینے ایک رپورٹ ایشو ہوتی ہے کہ کس طرح کے کیسز آئے اور اَن کا کیا حل نکلا۔‘‘
’’خواتین کی آپ تک رسائی کیسے ہوتی ہے۔‘‘
’’ہماری جوwepc ہے اس کے دس یونٹ کراچی میں ہیں،تین آفس ڈی آئی جی آفیسز کے ساتھ اٹیچ ہیں اور سات سیل ایس ایس پی آفیسز کے ساتھ اٹیچ ہیں۔ یعنی اَن کی سپر وژن میں چلتے ہیں۔پورے سندھ کے ہر شہر میں، ہر ضلع میں، یہ wepc بنائے ہوئے ہیں تاکہ خواتین کو جہاں سے نزدیک پڑے وہ اپنے مسائل لے کر آئیں۔ ضروری نہیں کہ خواتین خود اپنی شکایت لے کر آئیں اَن کی طرف سے اَن کے مرد بھی آسکتے ہیں۔درخواست کے ذریعے بھی کمپلین (شکایت) کرسکتے ہیں یعنی لکھ کر،خود حاضر ہوکر بھی کمپلین کرسکتے ہیں اور واٹس ایپ پر بھی اور ویب سائٹ پر جاکر بھی کمپلین کرسکتی ہیں۔خواتین اور اَن کی کمپلین کس طرح کی ہے اَنہیں کیا شکایات ہیں اَس کے مطابق پھر اَنہیں حل کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ ہمارے زون بنے ہوئے ہیں۔اگر کوئی گھریلو مسئلہ ہوگیا ہے کسی کو اور وہ تھانے تک نہیں پہنچ پاتیں تو اَس کے لیے فوری طور پر اپنے گھر سے15 پر کال کریں ،جو بھی 15پر بات کررہا ہو اَسے اپنا مسئلہ بتائیں۔اپنے گھر کا ایڈریس اور لوکیشن بتادیں تو پانچ سے دس منٹ میں موبائل وین آپ کے گھر کے پاس پہنچ جائے گی اور پھر ٹیم اپنے حساب سے اَسے ہینڈل کرتی ہیں۔اس کے علاوہ آن لائن کمپلین آتی ہیں جو دہشت گردی سے متعلق ہوتی ہیں۔مثلاً کسی نے کسی کو قتل کی دھمکی دے دی ،یا تیزاب پھینکنے کی دھمکی دے دی اور یہ یقین ہو کہ یہ اپنی بات پر عمل کرے گا یا کرے گی تو اس صورت میں’’ریڈ زون‘‘ میں کمپلین چلی جاتی ہے اور اَس پر فوری طور پر کارروائی شروع ہوجاتی ہے اور فوری کارروائی تب ہی ممکن ہوتی ہے جب آپ اپنے کوائف بالکل ٹھیک اور اپ ٹو ڈیٹ بھیجیں گے۔
بعض عورتیں تھانے آنے سے گھبراتی ہیں ،ڈرتی ہیں یا بہت پردہ دار ہوتی ہیں ،کبھی گھر سے نہیں نکلی ہوتیں ،وہ اگر ریکویسٹ کرتی ہیں کہ ہماری تھوڑی پردہ داری یا رازداری رکھی جائے تو پھر لیڈی آفیسرز سادہ لباس میں جاکر کارروائی کرتی ہیں تاکہ محلے میں اَن کی بدنامی نہ ہو یا کسی کو پتا نہ چلے۔‘‘
’’فنڈ ملتا ہے حکومت کی جانب سے،اور آپ خواتین لیڈیز پولیس اپنی پروٹیکشن کے لیے کیا کرتی ہیں؟‘‘
’’فنڈز ملتے ہیں مگر بہت خاص نہیں سوائے اس کے جو فکس ہیں یا جو محدود ہیں،ہمیں آفس دیے ہوئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر گاڑی دی جاتی ہے۔پروٹیکشن ہماری اس طرح کی ہے کہ جب ہمیں ضرورت پڑتی ہے ،ہم مرد پولیس کو لے کر جاتی ہیں۔مطلب ہم کسی ایسی جگہ پر جارہی ہیں جہاں پر مارا ماری کا ڈر ہے یا لائ اینڈ آرڈر کا کوئی مسئلہ ہو تو پھر اَس صورت میں ،ہم اپنے میل اسٹاف کو لے کر جاتے ہیں۔ویسے جب اس فیلڈ میں آجاتے ہیں تو ڈر خوف تو ویسے ہی ختم ہوجاتا ہے۔‘‘
’’پولیس کے شعبے میں آنے والوں کے لیے آپ کیا کہیں گی؟‘‘
’’پولیس کا شعبہ ایک بہترین شعبہ ہے اگر اَسے بہترین سمجھا جائے تو،نیکی بدی،اچھائی برائی،گناہ اور ثواب دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہوتے ہیں۔اس کے اندر انسانی فطرتاً اور تربیت بہت کائونٹ ہوتی ہے۔اگر آپ نظرتاً نیک ہیں،ہمدرد ہیں اور اللہ کے احکامات کو سمجھتے ہیں تو پولیس کا شعبہ ایک بہترین شعبہ ہے جہاں آپ انسانیت کی خدمت کرسکتے ہیں۔پولیس کے دل میں ہمدردی ہو یا نہ ہو وہ اپنے فرائض بہ خوبی ادا کرتے ہیںاور ہمدردی آجائے تو پھر کیا ہی کہنے۔پولیس کے شعبے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ آپ بہادر ہوں۔فطرتاً نیک ہوں اور لالچی نہ ہوں۔آپ کے پاس پورے اختیارات ہوتے ہیں کام کرنے کے لیے۔آپ کو کسی کی مدد کرنی ہے،چور ڈاکو پکڑنا ہے،دہشت گرد کو پکڑنا ہے یا ہراساں کرنے والے کو پکڑنا ہے تو آپ کے پاس پورے اختیارات ہیں ۔ڈائریکٹ اختیارات ہیں۔ جو اپنے اختیارات کا صحیح استعمال کرتا ہے تو وہ دنیا میں بھی سرخرو ہوتا ہے اور آخرت میں بھی۔ یہ بہترین شعبہ ہے اگر اسے بہترین سمجھ کر اور انسانیت کی خدمت کے تحت کیاجائے تو۔‘‘
’’گھر میں بھی آپ ایک پولیس آفیسر ہیں یا خاتونِ خانہ ہیں؟‘‘
’’بالکل بھی نہیں ہوں پولیس آفیسر۔ہماری عزت بھی بہت کرتے ہیں۔سب کو فخر سے بتاتے بھی ہیں،مشورے بھی لیتے ہیں اور رشتے داروں اور جاننے والوں کی یہ بہت خواہش ہوتی ہے کہ میں ایک بار یونیفارم اور موبائل وین میں اَن کے گھر آئوں سب سے تعارف بھی کرواتے ہیں۔مگر پھر بھی رعب میں نہیں آتے گھر والے کہتے ہیں کہ تھانے دار ہو تو اپنے تھانے میں۔گھر میں نہیں۔گھر والے ڈرتے نہیں ہیں مگر عزت بہت کرتے ہیں۔‘‘
’’اگر اس شعبے میں نہ ہوتیں تو پھر کہاں ہوتیں؟‘‘
’’اگر اس شعبے میں نہ ہوتی تو پھر ہائوس وائف ہوتی،مجھے گھر میںرہنا اور گھریلو ذمہ داریاں نبھانا بہت اچھا لگتا ہے۔باہر کے کام کرنے کی عادت بھی بچپن سے ہی ہے۔ہماری امی بہت سمجھ دار تھیں۔ہر ہنر سے انہوں نے ہمیں آراستہ کیا ہوا تھا۔ میری نانی میری آئیڈیل تھیں،دادی ہمارے بچپن میں ہی انتقال فرماگئی تھیں۔پھوپھیوں اور خالہ نے بھی بہت ہنر سکھائے،ایک پھوپھی نے سوئیٹر بننا سکھایا۔ جب تک پولیس کے شعبے میں نہیں تھی کھانے پکانے، گھر کی صفائی ستھرائی کے سارے کام میں کرتی تھی۔بھنڈی،پلائو،پالک گوشت اور کباب سب کو میرے ہاتھ کے بہت پسند تھے۔‘‘
’’شادی ہوئی؟۔مزاج کی کیسی ہیں آپ، میاں صاحب کیا کرتے ہیں؟‘‘
’’جی2002ئ میں میری شادی ہوئی،بہت اچھی زندگی گزاری اور گزر رہی ہے۔میری ایک بیٹی ہے اس کی بھی شادی ہوگئی اور اس کا بھی ایک بیٹا ہے۔مزاج بہت اچھا رہتا ہے۔عام طور پر میں کم بات کرتی ہوں،سب کے ساتھ فوری دوستی نہیں ہوجاتی، خوش مزاج ہوں،ملنسار ہوں،لیکن جب کمانڈنگ پوزیشن میں ہوتی ہوں یا ایڈمنسٹریٹیو سیٹ پر کام کررہے ہوتے ہیں تو کسی کو نارمل انداز میں پھرکسی بات کو سمجھارہے ہوتے ہیں۔تو انہیں لگتاہے کہ جیسے غصے میں ہوں اکثر ورکر کہتی ہیں میڈم آج آپ بہت غصے میں ہیں تو میں کہتی ہوں غصے میں نہیں ہوں تمہاری غلطیاں سدھار رہی ہوں یا بتارہی ہوں۔‘‘
ضروری نہیں کہ ہر بڑی سیٹ پر بیٹھنے والا غصے میں ہی ہو۔ ہاں غصہ اَس وقت آتا ہے جب لوگ ہم سے تعاون نہیں کرتے۔مثلاً میں کسی جگہ ڈیوٹی کررہی ہوں ،اَس گیدرنگ کو کنٹرول کرنا ہے اور وہ کنٹرول نہیں ہوپارہی تو غصہ آتا ہے۔
اسی طرح کسی کے اوپر چوری کا کوئی مقدمہ ہے یا اغوائ کا مسئلہ ہے ،سامنے والا سچ نہیں بتارہا یا بتارہی تو پھر مجھے لازمی غصہ آئے گا۔ ایئر پورٹ پر لوگ بہت پریشان کرتے ہیں۔اگر کسی کا پاسپورٹ ایکسپائر ہے اور وہ پھر بھی اندر جانے کے لیے منت سماجت کرے گا تو پھر تو غصہ آئے گا۔
آپ نے میرے میاں صاحب کے بارے میں پوچھا۔وہ زمین دار ہیں۔میرے رشتے دار ہیں مگر انہوں نے کبھی میری فیلڈ پر اعتراض نہیں کیا۔‘‘
’’آپ ڈی ایس پی کے عہدے پر فائز ہیں،یہ بتایئے کہ کن مراحل سے گزر کر اس عہدے تک آئیں۔‘‘
’’1994ئ میں سندھ پولیس میں فی میل انسپکٹر کی آسامیوں کے لیے جابز آئی تھیں۔ اخبار میں اشتہار آیا اور میں نے اپلائی کردیا میں ڈائریکٹ انسپکٹر کے عہدے پر فائز ہوگئی تھی اور پچھلے رینک ختم کردیئے تھے۔آل ریڈی اور انسپکٹر کے عہدے پر فائز ہونے سے پہلے ،ہمارا تحریری ٹیسٹ ہوا ،اس کو پاس کرنے کے بعد انٹرویو ہوا اور انٹرویو بھی سینئر آفیسر ہی لیتے ہیں۔انٹرویو ومیں پاس ہونے کے بعد میڈیکل چیک اپ ہوا اور میڈیکل چیک اپ ہونے کے بعد ہمیں اپائنمنٹ لیٹر مل گیا۔
میرے ساتھ ایک اور لڑکی تھی فرح نام تھا اس کا وہ بھی انسپکٹر کے عہدے کے لیے اپوائنٹ ہوئی۔پھر کچھ ماہ کے بعد ہمیں ٹریننگ کے لیے پی ٹی سی سعید آباد کالج میں بھیج دیا گیا۔ یہاں ایک سال کی اکیڈمک ٹریننگ کرنا ہوتی تھی۔ اَس ٹریننگ میں لائ پڑھاتے ہیں۔پریڈ سکھاتے ہیں۔نشانے بازی اور ڈسپلن سکھاتے ہیں۔دیوار پر چڑھنا۔رسی پر چڑھنا، فائرنگ کرنا، سلوٹ کس طرح کرنا ہے،سینئر جونیئر کے ساتھ کس طرح پیش آنا ہے۔
ایک سال کی اکیڈمی کے بعد پھر دو سال کا پریڈ ہوتا ہے فیلڈ ورک کا۔جس میں تین ماہ ہمیں آفس میں کام کرنا سکھایا جاتا ہے۔پھر تین ماہ کا کورس عدالت کا ہوتا ہے، جس میں کورٹ میں کس طرح پروسیڈنگ ہوتی ہے،کیس کیسے جمع کرانا ہے،بیان کیسے ہوتے ہیں۔کیسے عدالت چلتی ہے یہ سارا ڈیڑھ سال کا کورس ہوتا ہے اور باقی کے ڈیڑھ سال کے کورس میں’’تھانے‘‘ کا کورس ہوتا ہے جو کہ’’ڈی‘‘ کورس کہلاتا ہے جو چار کورس اے بی سی ڈی کہلاتے ہیں۔اس تھانے کے کورس میں پریکٹیکل ورک کروایا جاتا ہے۔
روزنامچہ کس طرح بنانا ہے منشی کا کام سکھایا جاتا ہے۔ ایف آئی آر کیسے کاٹنی ہے،کمپلین کیسے دیکھنی ہے،کمپلین کرنے والے سے کیسے بات کرنی ہے۔ ایف آئی آر میں کیا کیا پوچھ کے لکھنا ہوتا ہے۔ ریڈ کیسے کرنا ہے۔ملزم سے کیسے پیش آنا ہے۔چالان کس طرح بنانا ہے یہ ساری چیزیں ہمیں سکھائی جاتی ہیں۔پھر ہم پکے پولیس والے ہوجاتے ہیں۔تین سال کے بعد کنفرمیشن ہوجاتی ہے۔بس پھر جیسے جیسے جس عہدے کے لیے جابز آتی ہیں اپلائی کرتے جاتے ہیں۔‘‘
’’گھریلو مصروفیات کیا ہیں آپ کی؟اور ڈیوٹی کب کب ہوتی ہے؟‘‘
’’پیر سے لے کر جمعہ تک آفس ورک ہوتا ہے۔گھر آتی ہوں تو کھانا وغیرہ کھاکر آرام کرتی ہوں۔صبح جلدی اٹھ جاتی ہوں ۔صبح کا وقت اتنا برکت والا ہوتا ہے کہ سارے کام اچھے طریقے سے اور وقت پر ہوجاتا ہے۔نماز ریگولر نہیں پڑھتی۔کبھی پڑھ لی تو کبھی نہ پڑھی لیکن جس دن نہیں پڑھتی سارا دن افسوس رہتا ہے۔
اپنی گاڑی میں قرآن پاک ضرور سنتی رہتی ہوں ترجمے کے ساتھ اور جب گھرپر ہوتی ہوں ،تو مختلف علمائ دین جیسے مولانا اسرار احمد،مولانا طارق جمیل،مفتی طارق مسعود کی باتیں یا بیان ضرور سنتی ہوں۔ دنیا نیوز کے انیق احمد کا پروگرام پیام صبح ضرور دیکھتی ہوں۔ گاڑی میں قرآنِ پاک ترجمے کے ساتھ سننے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ایک تو ثواب تو مل ہی رہا ہوتا ہے لیکن میری معلومات میں بھی بہت اضافہ ہورہا ہوتا ہے کہ جب ،کوئی کیس ہوتا ہے تو میں قران کے حوالے سے بات سمجھانے کی کوشش کرتی ہوں۔ گھر میں بھی کچھ نہ کچھ کرتی رہتی ہوں،کبھی کھانا پکالیا تو کبھی کپڑے دھولیے،استری کرلی۔
کھانے میں مجھے پلائو بہت اچھا لگتا ہے جو کہ اب باہر کہیں نظر نہیں آتا بس گھر میں ہی پکانا پڑتا ہے،کہ باہر تو بریانی ہی بریانی ہوتی ہے۔مجھے کوفتے اور آلو گوشت پسند ہے۔میٹھے میں گاجر کا حلوہ اچھا لگتا ہے۔اچھا کھانے کا اور اچھا پکانے کا شوق ہے۔
ٹریولنگ کا بہت شوق ہے خاص طور پر تاریخی مقامات دیکھنے کا اور اس وقت کے لوگوں کے بارے میں ،ان کے رہن سہن کے بارے میں ،جاننے کا بہت شوق ہے۔ یہ کہ وہ ہم سے بہتر تھے یا ہم اَن سے بہتر ہیں۔ میں نے حج عمرہ دونوں کیا ہے۔آفس کی طرف سے میں پیرس،انڈونیشیائ ملائشیائ،تھائی لینڈ،یو کے اور اٹلی ٹریننگ کے لیے گئی تھی اور خوب انجوائے کیا۔
اسی کے ساتھ ہی ہم نے لبنیٰ ٹوانہ صاحبہ سے اجازت چاہی۔جگہ کی کمی کی وجہ سے پورا انٹرویو شائع نہیں ہوپائے گا۔اس کے لیے معذرت اور شکریہ انٹرویو دینے کا۔
٭٭


