ڈاکٹر رضوان احمد ہومیوپیتھک – شاہین رشید

مجھ سے ملئے 0

اللہ کی عطا کردہ بے شمار نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت صحت و تندرستی ہے۔ انسان جب بیمار ہوتا ہے توڈاکٹر، حکیم اورہومیو پیتھک جہاں اسے اعتبار ہوتا ہے وہ جاتا ہے. اور اپنا علاج کرواتا ہے. میں نے اکثر دیکھا ہے کہ جب انسان ایلوپیتھی علاج سے مایوس ہوجاتا ہے تو پھر وہ ہومیو پیتھک یا حکمت کی طرف جاتا ہے کہ فلاں نے کہا تھا کہ اس طریقہ علاج میں شفا ہے. آج آپ کی ملاقات ایک ہومیوپیتھک ڈاکٹرسے کروا رہے ہیں۔

’’کیا حال ہیں ڈاکٹر صاحب ؟‘‘

’’اللہ کا کرم ہے ۔‘‘

’’کچھ اپنے بارے میں بتائیے ؟‘‘

’’جی . بالکل لیکن پہلے آپ کا شکریہ کہ آپ میرا انٹرویو کر رہی ہیں . میں آپ کو بتائوں کہ باقاعدہ طورپر مجھے تقریباً آٹھ سال ہو گئے ہیں بہ حیثیت ڈاکٹر (ہومیوپیتھک)رجسٹرڈ ہوئے .اور پریکٹس میں تقریباً بارہ سال سے ہوں . اللہ تعالیٰ نے بڑی عزت دی ہوئی ہے ۔ یہ میرا پروفیشن بھی ہے اور میرا جنون بھی ہے.اپنی فیلڈ سے عشق کی حد تک محبت ہے . آپ کے انٹرویو سے مجھے یہ موقعہ ملے گاکہ میں اس فیلڈ اور اس کے طریقہ علاج کے بارے میں جو غلط مفروضے اور جو غلط باتیں ہیں ان کی وضاحت کرسکوں . میرا فیملی بیک گرائونڈ کچھ یوں ہے کہ ہمارے والدین کا تعلق لاہور سے ہے. مگر ہمارا زیادہ وقت کراچی میں ہی گزرا اور گزر رہا ہے .میری پیدائش بھی کراچی کی ہی ہے میرے والد انجینئر تھے۔ انہوں نے ملک سے باہر بھی ملازمت کی اور ملک میں بھی. والد صاحب کا انتقال ہو چکا ہے اور والدہ حیات ہیں الحمدللہ ،ہم چھوٹے ہی تھے کہ والد صاحب کا انتقال ہو گیا تھا اور والدہ نے ہی ہماری پرورش کی. اور ہم آج جس مقام پر ہیں ، وہ والدہ کی وجہ سے ہیں۔ ہم چار بہن بھائی ہیں۔ میں گھر میں بڑا ہوں ، میرے بعد دو بھائی اور ایک بہن ہے ۔ سب اپنے اپنے شعبے میں کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ بہن چھوٹی ہے۔ شادی شدہ ہے اور اپنے بال بچوں کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار رہی ہے۔ میں نے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ پری انجینئرنگ سے کیونکہ اس وقت تک کوئی خیال نہیں تھا کہ میں نے ڈاکٹر بننا ہے مجھے انجینئر ہی بننا تھا ۔ انجینئرنگ کے کسی شعبے میں .پھر میں نے بی ایس سی کیا ، پھر کمپیوٹر میں ڈپلوما کیا . اور اس کے بعد میں نے DHMS کی ڈگری حاصل کی یعنی ہومیوپیتھک میں ڈگری حاصل کی ۔‘‘

’’بچپن کیسا گزرا؟‘‘

’’بچپن میں ایک شرمیلا اور چپ چاپ رہنے والا بچہ تھا۔ کیونکہ ہماری والدہ نے ہمیں بہت سختی سے پالا . مگر میری شخصیت میں سنجیدگی بچپن سے ہی تھی. اور ابھی بھی ہے . اسپورٹس کا بہت شوق تھا تو ہر طرح کے کھیل کھیلے . بچپن میں پہلے تو پائلٹ بننے کا شوق ہوا۔ پھر انجینئر . اور جب کمپیوٹر میں ڈپلوما کیا تو مجھے اس فیلڈ کو اپنانے کا شوق ہوا . اور میں اس فیلڈ میں آ گیا اور مجھے جاب بھی مل گئی یہ بات ہے 90`sکی دہائی . اور یہ جاب مجھے 1992ئ میں ملی تھی۔ اگرچہ میں کامیابی کے ساتھ جاب کر رہا تھا مگر مجھے لگتا تھا کہ یہ میری فیلڈ نہیں ہے جبکہ اس فیلڈ میں میرا نام بھی اچھا خاصا بن گیا تھا۔‘‘

’’ہومیوپےتھک فیلڈ میں آنے کا کیا بیک گرائونڈ تھا؟‘‘

’’اس فیلڈ میں آنے کی وجہ یہ تھی کہ میں نے اپنے ننھیال، ددھیال میں سب کو ہومیوپیتھک کا علاج کرواتے ہی دیکھا . ایلوپیتھی کی طرف بہت کم رجحان تھا فیملی کا .تو اس طریقہ علاج سے واقفیت تھی۔ تقریباً بچپن سے ہی . مجھے اندازہ تھا کہ یہ ایک کامیاب طریقہ علاج ہے. اور چونکہ اس کی گولیاں میٹھی میٹھی ہوتی ہیں تو ہم کڑوی دوائی لینے کے بجائے میٹھی گولیاں کھاتے تھے خوشی خوشی اور الحمد للہ ٹھیک بھی ہو جاتے تھے۔

اور دوسری وجہ یہ کہ میرے نانا ’’اعزازی ہومیوپیتھک ڈاکٹر تھے‘‘ اور یہ اس زمانے کی بات ہے جب گورنمنٹ آف پاکستان نے ہومیوپیتھک طریقہ علاج کو لانچ کیا تھا . اور یہ میڈیکل ایکٹ کے اندر اسے شامل کیا گیا اور بات ہے 1965ئ کی تو پھر نانا نے بہت سے لوگوں کو آفر دی کہ وہ اس میں تعلیم حاصل کریں۔‘‘

اسی طرح ہمارے ایک ماموں کو ہومیوپیتھک طریقہ علاج سے بہت لگائو تھا گو کہ وہ ڈاکٹر نہیں تھے میں سوچتا تھا کہ اس طرف آنا چاہیے ۔ لیکن جو میرا مائنڈ اس طرف جو آیا تو اس کی وجوہات کچھ اور تھیں .وہ یہ کہ ایک میڈیکل اسٹور سے میں ایک رسالہ لے کر آیا ۔اس میں کچھ دواؤں کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا تھا وہ ایک طرح سے کمپنی کا بروشر تھا. اس کو جب میں نے دو تین بار پڑھا اور تفصیل سے پڑھا تو پھر ایک دم سے میرا مائنڈ بدلا . اور میں نے سوچ لیا کہ مجھے اس فیلڈ میں آنا چاہیے.

اوریہ اس وقت کی بات ہے جب میں اپنی جاب سے بھی بہت مطمئن تھا.مگر چونکہ دماغ میں سما گیا تھا کہ ہومیوپیتھک ڈاکٹر بننا ہے ۔ چنانچہ ہومیو پیتھک کالج میں داخلہ لیا۔ بہت محنت کی ، چار سال کا ڈگری کورس تھا۔ ہائوس جاب بھی اور ڈاکٹر بن گیا ۔

یوں سمجھیں کہ اس ساری کہانی میں . میں نے بہت زیادہ جدوجہد کی ، اپنا بزنس جو کہ کمپیوٹر کا تھا اسے چھوڑا یہ ایک بڑی قربانی تھی۔ فیملی نے بہت فورس کیا کہ اپنے بزنس کو ختم نہ کرو اور ہومیوپیتھک کو یا بزنس کو سائیڈ پہ رکھو مگر نہیںپریکٹس شروع کی . اللہ نے ہاتھ میں شفا رکھی اور کامیابی ملتی گئی ۔

’’باہر کے ملکوں میں یہ ڈگری کتنی قابل قبول ہے؟‘‘

’’بدقسمتی سے پاکستان میں جو سر ٹیفکیٹ ملتا ہے وہ ڈی ایچ ایم ایس ہوتا ہے۔ اور ہم اپنے آس پاس کے ممالک جس میں انڈیا بھی شامل ہے اگر اس کی ڈگری دیکھیں تو ’’ایم ڈی‘‘کہلاتی ہے اور ایم ڈی کی ڈگری باہر مانی جاتی ہے جبکہ ہماری ڈگری یا ڈی ایچ ایم ایس کو باہر نہیں مانا جاتا۔ اگر ہم باہر جا کر جاب حاصل کرنا چاہیں تو جس ملک میں ہم جا رہے ہیں اس کی ایجوکیشن ہمیں لینا ضروری ہوتا ہے اور یہ تعلیم دو سے تین سال کی ہوتی ہے پھر ہمیں ’’ایم ڈی ‘‘ کی ڈگری ملتی ہے ہم پریکٹس کر سکتے ہیں کامیابی کے ساتھ۔‘‘

’’یہ بات آپ کی نالج میں بھی ہو گی کہ ڈاکٹر حضرات ہومیوپیتھک طریقہ علاج کو نہیں مانتے . حکمت کو تو پھر بھی مان لیتے ہیں مگر ہومیوپیتھک کو نہیں. آپ کیا کہیں گے؟‘‘

’’ایلوپیتھی ڈاکٹر کوئی محکمہ نہیں ہیں۔ کوئی اتھارٹی نہیں ہیں ، ان کے ماننے نہ ماننے سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ کیونکہ یہ طریقہ علاج صرف پاکستان میں ہی رائج نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں Recognised(تسلیم شدہ) ہے اور لاکھوں لوگ اس سے مستفید ہوتے ہیں اور ایلوپیتھی کے بعد دوسرا بہترین طریقہ علاج کا درجہ ہومیوپیتھک کو ہی حاصل ہے۔ اور جب حکومت پاکستان نے ایکٹ میں شامل کرلیا۔ پاکستان میں تسلیم شدہ کر لیا گیا تو اس کے بعد ماننے اور نہ ماننے کی گنجائش نہیں رہتی.

اور میں خود اس بات کا گواہ ہوں کہ ایلومیتھک ڈاکٹر بھی ہومیوپیتھک کا علاج کروانے ہمارے پاس آتے ہیں اور ہمارے ساتھ بھی اگر کوئی ایمرجنسی کا کیس ہوتا ہے تو ہم ڈاکٹر کے پاس ہی جاتے ہیں میں نے دیکھا ہے کہ جو ڈاکٹر حضرات آتے ہیں، وہ یہ بات شو نہیں کر رہے ہوتے کہ وہ ڈاکٹر ہیں ۔ وہ بھی چھپ چھپا کے آتے ہیں.

میرے بہت سارے استاد رہے ہیں مگر میں یہاں ایک استاد کا ذکر ضرور کروں گا جو بہت مشہور ہیں ، جن کا تیس بتیس سال کا تجربہ ہے اس فیلڈ میں. ان کا نام ہے ڈاکٹر ستار زیدی .میں نے ان کے پاس چھ ماہ ہائوس جاب کی. اور اس دوران میں نے بارہا دیکھا کہ جو ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں۔ یاجو ڈاکٹر بن رہے تھے،وہ ان کے پاس علاج کے لیے آتے تھے کیونکہ انہیں ایلوپیتھی سے افاقہ نہیں ہو رہا ہوتا تھا

اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ ڈاکٹر ستار صاحب کے پاس شہر سے باہر کے اور دور دراز کے لوگ بھی علاج کے لیے آتے تھے اوراب بھی آتے ہیں۔ ہمارا طریقہ علاج ایسا ہے کہ اس کے کوئی سائیڈ افیکٹ نہیں ہوتے، کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوتا . اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ بہت ہی سستا علاج ہے اس میں بات بات پر ٹیسٹ نہیں ہوتے جیسا کہ ایلوپیتھی میں ہوتا ہے. ایلوپیتھی میں تو اب ٹیسٹ کرائے بغیر علاج شروع ہی نہیں ہوتا . اور ٹیسٹ بھی اچھے خاصے مہنگے دس بارہ ہزار تو ایک عام سی بات ہوتی ہے ٹیسٹوں کے لیے ، ٹیسٹ کی ضرورت ہمیں بھی ہوتی ہے۔ مگر ایسی نہیں جیسی ایلوپیتھی میں ،ہمارے ڈاکٹرز اتنے ماہر ہوتے ہیں اپنے شعبے میں کہ انہیں مرض پکڑنے میں ٹائم نہیں لگتا . اورماشائ اللہ مریض صحت یاب ہوجاتا ہے.اور میں ایک بات اور بھی کہنا چا ہوں گا کہ جوشاید آپ کے اورلوگوں کے علم میں نہ ہو۔ وہ یہ کہ بہت سے امراض ایسے ہیںجن کا ایلوپیتھی میں کوئی اچھا رزلٹ نہیں آتا،جیسے ہیپاٹائٹس، جگرکی بیماریاں کینسر کے بہت سے امراض ہیں۔ گردے کے امراض، گردوں کے امراض کے لیے ہومیوپیتھک کاکوئی ثانی نہیں ہے اور اکثر ڈاکٹر مریض کوبول دیتے ہیں کہ گردوں کے علاج کے لیے آپ ہومیوپیتھک ڈاکٹرکے پاس جائیں. اور وہ خود بھی ہومیوپیتھک دوائیاں لکھ کردیتے ہیں کہ آپ یہ استعمال کریں. دردکوہم مینج کرلیں گے۔ علاج آپ ہومیوپیتھک کی دوائی سے کریں اسی طرح ’’آئی ڈراپ‘‘ ہیں جرمنی کے اوریہ آئی ڈراپ بھی اب اتنے مشہورہوگئے ہیں کہ ایلوپیتھی ڈاکٹراس کا نام بھی لکھ کرمریض کودیتے ہیں.

توکہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں لوگ اس طریقہ ، علاج کو اپنا رہے ہیں اور مستفید بھی ہو رہے ہیں۔ اعتماد بھی اسی وقت آتا ہے جب آپ اس علاج سے ٹھیک ہوجاتے ہیں اور الحمد وللہ اب لوگوں کو اس طریقہ علاج پر بہت اعتماد ہوگیا ہے۔ ایلوپیتھی میڈیسن کے بہت زیادہ سائیڈ افیکٹ ہوتے ہیں. جوکہ بہت برے ہوتے ہیں کچھ میڈیسن ایسی ہیںکہ جن کوچھ ماہ کھائیں توجگر فیل ہو جاتا ہے دل کے لیے بہت خطرناک ہوتی ہیں اورسب سے زیادہ جو برے اثرات ہوتے ہیں ، وہ معدہ پر ہوتے ہیں آپ کی بھوک متاثرہوگی ،آپ کو قبض ہو جائے گایا پھر موشن آنا شروع ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے کرم سے ہومیوپیتھک کے علاج سے مرض’’جڑ‘‘سے نکل جاتا ہے۔‘‘

’’بے شک طریقہ علاج بہت عمدہ ہے مگراس کا علاج سلوبہت ہے ایسا ہے؟‘‘

’’جی ہاں یہ بات بہت مشہور ہے کہ یہ سلو علاج ہے. اوراس کی بھی کچھ وجوہات ہیں۔ ایک وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس جومریض آتے ہیں وہ اس وقت آتے ہیں جب وہ ایلوپیتھی طریقہ علاج سے مایوس ہوچکے ہوتے ہیں تو جب مرض کوآپ پال کے ہمارے پاس آئیں گے جس پرسرجن کے علاوہ دیگر ڈاکٹرزکے ہاتھ بھی صاف ہوچکے ہوں گے۔ سیلف میڈیکیشن کا استعمال ہو چکا ہوگا یعنی جب آپ مرض کوبگاڑکرلائیں گے تو پھر یہ کیسے توقع کرتے ہیں کہ ہم فوری طور پرصحیح کردیں گے۔

کوئی چاہے کہ جادوہوجائے تو یہ ممکن نہیں ہے. ہاں جب آپ علامات ظاہر ہوتے ہی، تکلیف ہوتے ہی ہمارے پاس آئیں توپھرکبھی بھی علاج سلونہیں ہوگا اورمیں چونکہ اس فیلڈ میں کافی عرصے سے ہوں تومیں آپ کوبتائوں کہ میرے پاس مریض میں ایسی خواتین بھی آتی ہیں جن کوسرکے دردکا مسئلہ ہوتا ہے۔ ہائی بلڈ پریشرکا مسئلہ ہوتا ہے یا شوگرلو ہونے کا مسئلہ ہوتا ہے ہائی ہونے کا مسئلہ تو سب سے پہلے تو ہمارے پاس ڈراپس ہوتے ہیںجو میں انہیں پینے کے لیے کہتا ہوں۔ یقین کریں سیکنڈ کے اندر اندر انہیں افاقہ ہونا شروع ہو جاتا ہے اور وہ خود اعتراف کرتی ہیں کہ ہمیں آپ کی دوائی سے ریلیف ملا ہے.اور پھر وہ بڑے آرام سے اپنی تکالیف کے بارے میں بتاتی ہیں یا بتاتے ہیں۔

اورایسا بہت بارہوا ہے کہ کوئی بہت تکلیف میں آیا ہے۔ بے چینی میں آیا ہے اور اس سے بات بھی نہیں ہو پا رہی اور ہم ان کا فوری ٹریٹمنٹ کرتے ہیں تو ان کو آرام ملتا ہے اس سے تیز طریقہ علاج اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ اور بشرطیکہ آپ صحیح ڈاکٹرکے پاس گئے ہوں ورنہ عطائی ڈاکٹرہرشعبے میں موجود ہیں ۔

’’اس طریقہ علاج میں آپریشن ہے؟‘‘

’’اس میں آپریشن اس لیے نہیں ہوسکتاکہ اس میں آپریشن کی ضرورت ہوتی ہی نہیں ہے. اور جس چیزکے لیے ڈاکٹرکہتے ہیں کہ سرجری لازمی ہے تو ہماری فیلڈ گردے طریقہ علاج سے اس کوٹھیک کردیتی ہے.مثلاً جیسے پتے میں پتھری ہے یا گردوں کے امراض ہیں یا یہ کہ گردے فیلیر کی طرف جا رہے ہیں تو ان امراض کو بھی ہمارے ماہر ڈاکٹر علاج کرکے ہینڈل کرکے بہتری کی طرف لے آتے ہیں. اور اعضائ کو ریمووکرنے سے بچا سکتے ہیں۔ گردوں میں پتھری کا علاج ایلوپیتھی میں تقریباً نہیں ہے سوائے سرجری کے ۔ مگر ہومیوپیتھی میں ہماری دوائیوں سے پتھری گھل کر ، مٹی بن کر پیشاب کے ذریعے نکل جاتی ہے۔ اور پتھری کتنے سائزکی ہے اس کے حساب سے علاج کیا جاتا ہے.

اسی طرح ’’موتیے‘‘ کا آپریشن بڑی عام سی بات ہے تو اگر’’موتیے‘‘ کی طرف آپ کی آنکھ جا رہی ہے تواسی وقت اگرآپ ہومیوپیتھک کی ٹریٹمنٹ لینا شروع کردیں توکم سے کم تین سے چھ ماہ میں موتیے سے آپ کی جان چھوٹ جائے گی ۔کیونکہ موتیا بننے میں جتنا ٹائم لگتا ہے اس سے آدھا ٹائم اسے Dissolve ہونے میں لگتا ہے ۔ یہ جادو نہیں ہوتاکہ آج آپ نے دوائی کھائی، کل آپ کا موتیا ٹھیک ہوگیا.اسی طرح کوئی حاملہ خاتون ہیں اوران کے اندربچے کی پوزیشن صحیح نہیں ہے توہماری دوائیوں سے یہ مسئلہ بھی حل ہوجاتا ہے.

اسی طرح کسی لڑکی کوکسی ڈاکٹرنے اولادکے لیے نا امیدکردیا تواس کا بھی سارا جائزہ لے کرعلاج کیا جاتا ہے۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ سوفیصد کامیابی ہوتی ہے۔ مگرعلاج ہے اس فیلڈ میں . اسی طرح فریکچرہوگیا آپ نے پٹی کروالی.میں یہاں بزرگوں کی بات کر رہا ہوں جن کا مرض پیچیدہ ہو جاتا ہے ان کے اندر ہڈی جڑنے کا عمل بہت سلو ہوتا ہے. اور ایلوپیتھی میں اس کا علاج نہیں ہے تو فریکچر کا مریض جو زیادہ عمر کے ہیں پٹی لگوا کر ہمارے پاس آجائیں تو ہماری دوئیاں ہڈی کے بننے کے عمل کو یا جوڑنے کے عمل کو تیزکرتی ہیں اور ہڈی جڑجاتی ہے۔ تو نہ صرف بزرگوں کی بلکہ بچوں کی بھی ہڈی جوڑ دی جاتی ہے دوائیوں کے اثر سے. اور میں کہوں گا کہ فریکچرکے بعد جوہڈی جڑتی ہے وہ اتنی مضبوط ہو جاتی ہے کہ دوبارہ اسی جگہ پرفریکچر ہونے کے چانس بہت کم ہو جاتے ہیں۔

تواس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں کہ ہومیوپیتھک کی دوائیاں آپ کو آپریشن سے بچاتی ہیں اس کے علاوہ نفسیاتی امراض کا علاج بھی ہے۔ کسی کو ڈیپریشن ہے اینگزائٹی ہے، پریشانی ہے ، مستقبل کا خوف ہے ،بچوں کے مسائل ہیں۔ ذہن پڑھائی میں کمزور ہے تو ہمارے پاس اس کے علاج ہیں اور ایسے ایسے امراض کے علاج ہیں جن کے بارے میں آپ سوچ بھی نہیں سکتیں کہ اس کا علاج ہومیوپیتھک میں ہوگا . اور ہر علاج بہت کامیابی کے ساتھ ہوتا ہے.

ہماری کچھ دوائیاں ایسی ہیں جو’’حفظ ماتقدم‘‘ کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہیں ۔کوئی ایسی بیماری یا ایسی وبا جس کے پھیلنے کا خطرہ ہے یا پھیل گئی ہو تو اس کی دوائیاں بھی ہمارے پاس دستیاب ہیں اور آپ بلا خوف و خطر اسے استعمال کر سکتے ہیں . اور ویکسی نیشن(ٹیکہ لگوانا) کے بعد بچوں کو جو سائیڈ افیکٹ ہوتے ہیں اس کے لیے بھی ہمارے پاس دوائیاں موجود ہیں ویکسین لگوانے سے پہلے، ویکسین لگوانے کے دن اور ویکسین لگوانے کے دوتین دن کے بعدکے لیے کچھ دوائیاں ہوتی ہیں کہ وہ اگرآپ لے لیں گے تو ویکسین کا بھی کوئی سائیڈ افیکٹ نہیں ہوگا اسی طرح جیسے نشے کے امراض ہیں جس میں شراب نوشی ہے ،سگریٹ نوشی ہے. اور آج کل کے لڑکوں کوگٹکا ، چھالیہ ، پان کی لت ہے تو یہ بری عادتیں بھی میڈیسن سے چھڑوائی جا سکتی ہیں۔

اسی طرح اگر سرمیں’’جوئیں‘‘ ہوگئی ہیں تو ڈاکٹر حضرات اس کے لیے شمپو لکھ کریا سوپ لکھ کر دے دیتے ہیں. جوکہ وقتی طور پرجوئوں کوماردیتے ہیں اب اگرآپ اس سلسلے میں ہم سے رجوع کریں گے تو ہم کوئی آئل یا کوئی شیمپو، سوپ وغیرہ نہیں دیں گے بلکہ کھانے کے لیے دوائی دیں گے۔ جس کو جوئیں ہیں ،وہ اسے کھائے گا اوراس کے بعد اس کے سرمیں جوئیں نہیں ہوں گی کیونکہ ان دوائیوں سے آپ کے سرمیں کچھ ایسے کیمیکل بننا شروع ہوجاتے ہیں کہ جس کی وجہ جوئیں آپ کے سر پرقیام نہیں کرسکتیں۔ اوریہ بات میں بہت اچھی طرح واضح کرچکا ہوں کہ ہومیوپیتھک دوائی کے کوئی سائیڈ افیکٹ نہیں ہوتے۔ جبکہ ایلوپیتھی میں توسائیڈ افیکٹ ہوتے ہی ہیں لازمی.

ہاں اسکن کے مسائل ہیں۔کسی کو الرجی ہے توہوسکتا ہے کہ ہومیوپیتھک کی دوائی سے کچھ گھنٹوں کے لیے تکلیف میں اضافہ ہوجائے۔ مگراس کے بعد وہ بالکل ٹھیک ہو جاتا ہے.اورکیوں ہوتا ہے ایساکہ تکلیف بڑھ جاتی ہے وہ اس لیے کہ دوائی اندر سے صفائی کا عمل شروع کرتی ہے اور اندر جوبیکار مادے ہیں فاسد مادے ہیں وہ اندرسے نکال کرباہر لے آتے ہیں۔ آپ کی اسکن کے اوپرجس کی وجہ سے لگتا ہے کہ جیسے اسکن کے مرض میں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ یہ وقتی طور پر ہوتا ہے پھرجب اندرسے صفائی کا عمل مکمل ہوجاتا ہے تو پھرآپ کوریلیف ملتا ہے اورایسا ریلیف ملتا ہے کہ پھردوبارہ اسکن کا پرابلم نہیں ہوتا۔‘‘

’’حکمت کا علاج جڑی بوٹیوں سے اورہربل میں بھی جڑی بوٹیاں استعمال ہوتی ہیں . ہومیو پیتھک میں کیا استعمال ہوتا ہے۔ مطلب دوائیاں کس چیز سے بنتی ہیں؟‘‘

’’ہومیوپیتھک کے علاج کو علاج باالمثل بھی کہتے ہیں۔ یعنی لائیک کیور بھی کہتے ہیں۔ اس اصول کے تحت جو مادہ کسی بیماری کا سبب ہو ،وہ ہی مادہ اگرپورٹن ٹائل حالت میں دیں گے تو وہی علامات اس کی صحیح ہوجاتی ہیں. ایسا مادہ کوئی بھی ایسا جز جو صحت مند باڈی پر اپنا اثر رکھتا ہے اس سے ہماری ہومیوپیتھک میڈیسن بنتی ہے اس میں بہت سارے جراثیم بھی ہیں جن سے ہماری میڈیسن بنتی ہیںبیمار یا صحت مند جو اجزائ ہوتے ہیں اس میں انسان بھی ہو سکتا ہے ، جانور بھی ہو سکتا ہے۔ اسی طرح چاند کی روشنی اور سورج کی لہروں سے بھی. میگنٹک ایکسرے وغیرہ بھی شامل ہیں. اور ایک خاص پروسیجر ہوتا ہے جس کے تحت داؤئیاںبنتی ہیں۔‘‘

’’آپ کس طرح کے کیس لیتے ہیں؟‘‘

’’میں ہر طرح کے کیس لیتا ہوں ۔ بچوں کے ، بوڑھوں کے، مردوںکے، خواتین کے مسائل جن میں وبائی امراض ، موسمی امراض وغیرہ شامل ہیں۔ ہر طرح کے مریض میرے پاس آتے ہیں . اور جوعلاج میرے بس میں نہیں ہوتا اس کے لیے میں شروع سے ہی بتا دیتا ہوںتاکہ مریض کا وقت ضائع نہ ہو. اورپھر ریفرنس کے ساتھ دوسرے ڈاکٹر کو کیس بھیج دیتا ہوں یعنی مریض کو۔ ویسے الحمد للہ میں خود بھی ہرطرح کے کیس دیکھ لیتا ہوں۔‘‘

کیا آپ کی فیلڈ میں اسپشلسٹ ہوتے ہیں مختلف امراض کے؟‘‘

’’جی الحمد للہ ہماری فیلڈ میں بھی اسپےشلسٹ ہوتے ہیں اوراسپےشلسٹ بننے کے لیے ملک سے باہر جا کرتعلیم حاصل کرنی پڑتی ہے اوراس کے لیے جرمنی ، فرانس اورانڈیا جانا ہوتا ہے.انڈیا کی تعلیم بہت اعلا ہوتی ہے وہاںسے لوگ تعلیم حاصل کرکے ایم ڈی بن کے آتے ہیں تب اس مرض میں ڈاکٹرکومہارت ہوجاتی ہے جیسے کینسر، گردوں کے امراض وغیرہ وغیرہ تو ایک ہی طرح کے مریض دیکھ دیکھ کر بھی اسپیشلسٹ بن جاتے ہیں۔‘‘

’’اب نجی سوالات کی طرف آجائیں ؟‘‘

’’نجی سوالات کے جوابات کچھ یوں ہیں کہ سیاست سے مجھے کوئی لگائو نہیں ہے نہ تھا اور نہ ہی آئندہ ہوگا۔ اورجہاں سیاست پر بحث مباحثہ ہو رہا ہوتا ہے ،میں وہاں سے اٹھ جاتا ہوں. اسپورٹس سے لگائو ہے مگر اب نہ کھیلنے کا ٹائم ملتا ہے اور نہ ہی دیکھنے کا . اور جو فارغ وقت ہوتا ہے، اس میں میں اپنا ریسرچ ورک کرتا ہوں۔ میں نے کچھ کتابیں بھی لکھی ہیں اور میڈیکل ڈکشنری پہ بھی کام کیا ہے کچھ نوٹس بھی لکھے ہیں ۔لکھنے لکھانے اور لیکچرز دینے کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے

’’گھر میں فیملی کے ساتھ تعاون کرتے ہیں؟‘‘

’’جی بہت زیادہ ۔کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جو بیگم نہیں کر پا رہی ہوتیں تو وہ پھر مجھے کرنے ہوتے ہیں. اور میں ان کا ہاتھ بٹاتا ہوں اور یہ سنت بھی ہے کھانے پینے کا بہت شوقین ہوں. اور ہر حلال اور جائز چیز مجھے پسند ہے اور جب مریض کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب ہم یہ نہیں کھاتے وہ نہیں کھاتے . تو میں کہتا ہوں کہ آدھے وٹامن تو آپ نے اپنی زندگی سے نکال دیے ہیں ۔ اب کی صحت کسے بنے گی . اور ہاں میں بہت اچھا کک بھی ہوں۔ وقت پڑے تو بہت اچھا پکا بھی لیتا ہوں . میرے پانچ بچے ہیں، تین بیٹیاں اور دو بیٹے ۔‘‘

’’اور کچھ کہنا چاہیں گے اپنی فیلڈ کے حوالے سے ؟‘‘

’’جی بالکل .جولوگ کہتے ہیں کہ یہ سلو ہوتا ہے یا جو کہتے ہیں کہ ہم اس کو مانتے نہیں ہیں توان کی یہ بات مجھے بہت بچکانہ لگتی ہے . کیونکہ جب تک آپ نے کسی چیز کو آزمایا نہ ہو۔ اسے استعمال نہ کیا ہو۔ ذاتی تجربے سے نہ گزرے ہوں اس وقت تک اس پر اپنی رائے دینا مناسب نہیں ہے۔ آپ ہومیو پیتھک طریقہ علاج کو اپنائیے ، آپ کو بہت اچھا رزلٹ ملے گا۔لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ اس ڈاکٹر کے پاس جائیں جو اس فیلڈ میں ماہر ہو ۔ رجسٹرڈ ہونا چاہیے اور تجربہ کار ہونا چاہیے ۔ اس کے سائیڈ افیکٹ بالکل نہیں ہوتے اور یہ مرض کو جڑ سے ختم کرتا ہے اورایسا بالکل نہیں ہوتا کہ علاج مکمل ہونے کے بعد یعنی کچھ عرصے کے بعد مرض دوبارہ سراٹھائے.‘‘

اس کے ساتھ ہی ہم نے ڈاکٹر رضوان سے اجازت چاہی۔

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں