’’اصلی نام؟‘‘
’’اسدعلی زین ۔‘‘
’’پیار کا نام ؟‘‘
’’پیار سے زین بولتے ہیں ۔‘‘
’’تاریخ پیدائش ؟‘‘
’’18مارچ 1990ئ۔‘‘
’’قد / ستارہ ؟‘‘
’’چھ فٹ / حوت۔‘‘
’’مادری زبان ؟‘‘
’’ پنجابی۔‘‘
’’تعلیمی قابلیت ؟‘‘
’’بی کام اور ایم اے انگریزی۔‘‘
’’شادی / بچے ؟‘‘
’’ابھی سنگل ہوں۔‘‘
’’شوبز میں آمد / گھر والوں کا ردعمل ؟‘‘
’’شوق کی وجہ سے گھروالوں نے اجازت دے دی تھی اورمیں نے ماڈلنگ سے شروعات کی تھی۔ پھر ماڈلنگ چھوڑ کر باقاعدہ اداکاری کی فیلڈ میں آ گیا۔‘‘
’’بہن بھائی / آپ کا نمبر ؟‘‘
’’میںگھر میں سب سے بڑا ہوں۔ ہم چار بہن بھائی ہیں۔ میرے بعد دو بہنیں پھر ایک چھوٹا بھائی ہے ۔‘‘
’’بچپن میں کس کے قریب تھے والدین یا بہن بھائی کے ؟ ‘‘
’’امی کے ہی قریب رہا ہمیشہ سے۔‘‘
’’بچپن میں کس سے ڈر لگتا تھا؟‘‘
’’قاری صاحب سے ۔ ان کی مار سے بہت ڈر لگتا تھا۔ ویسے الحمد للہ .میں حافظ قرآن بھی ہوں۔‘‘
’’زندگی کی پہلی کمائی کس عمر میں کی اور کس کے ہاتھ میں رکھی ؟‘‘
’’جب میں سترہ سال کا تھا تو ایک ہوٹل میں بہ حیثیت ویٹر ہیلپر کے جاب کی ،اٹھارہ سو روپے مہینہ تنخواہ تھی اپنی اس پہلی کمائی سے گھر والوں کو کھانے کی دعوت دی اور ڈنر کروایا۔‘‘
’’آپ کی زندگی کی سب سے بڑی اچیومنٹ کیا ہے؟‘‘
’’اپنا گھر بنایا۔‘‘
’’اپنے ہر کام کے لیے کس سے مشورہ لیتے ہیں؟‘‘
’’میرے ایک سینئر دوست ہیں، ان سے معذرت کے ساتھ کہ ان کا نام نہیں بتا سکتا۔‘‘
’’گھر میں کس کا رعب ہے ؟‘‘
’’امی کا ۔‘‘
’’آپ کی صبح اور رات کب ہوتی ہے؟‘‘
’’چھ بجے صبح اور رات دو بجے رات صبح چھ بجے جم جاتا ہوں۔ رات دو بجے سوجاتا ہوں۔‘‘
’’صبح کیا نہ ملے تو صبح نہیں ہوتی اور رات کیا نہ ملے تو رات نہیں ہوتی ؟‘‘
’’صبح امی کے ہاتھ کا ناشتہ اور رات دوستوں کے ساتھ آئوٹنگ اگر نہ ملے تو صبح اور رات نہیں ہوتی میری۔‘‘
’’بھوک میں آپ کی کیفیت ؟‘‘
’’زیادہ بھوک نہیں لگتی کیونکہ میں ڈائیٹ پہ ہی ہوتا ہوں۔‘‘
’’پاکستان کے لیے کیا سوچتے ہیں؟‘‘
’’پاکستان کے لیے بھی میں ہی سوچوں گا تو جو ملک چلا رہے ہیں پھر وہ کیا سوچیں گے۔‘‘
’’کس ملک کی شہریت کی خواہش ہے؟‘‘
’’لندن (یوکے )۔‘‘
’’اسپورٹس سے آپ کا لگائو؟ کون سا کھیل پسند ہے؟‘‘
’’اسپورٹس میں مجھے ویڈیو گیمز پسند ہیں۔ اور میں کرکٹ کو تو بالکل پسند نہیں کرتا۔‘‘
’’گھر میں ضدی اور آرام طلب کون ہے؟‘‘
’’میرا چھوٹا بھائی حیدر۔‘‘
’’پہلی بار کیمرے کا سامنا کیا تو؟‘‘
’’بہت گھبرا گیا تھا اور اس ڈرامے سے ہی مجھے نکال دیا تھا۔‘‘
’’گھر میں سب سے زیادہ پیار کس کو ملا ؟‘‘
’’مجھے۔‘‘
’’سیاست میں کون پسند ہے ؟‘‘
’’کوئی بھی نہیں۔‘‘
’’کس سیاست دان کا کردار کرنا پسند کریں گے؟‘‘
’’مجھے کسی سیاستدان سے دلچسپی ہی نہیں ہے۔ تو رول کیا کرنا۔‘‘
’’کیا کبھی زندگی میں کوئی معجزہ ہوا ۔ قسمت پر کتنا یقین ہے؟‘‘
’’قسمت پر بہت یقین ہے ۔ میرے ہر برے وقت میں کوئی نہ کوئی معجزہ ہوا ہے۔ اللہ نے ہمیشہ سنبھالا ہے۔‘‘
’’کس بات پر آپ کی آواز اونچی ہو جاتی ہے؟‘‘
’’ظاہر ہے غصے میں۔‘‘
’’کیا کیا چیزیں خریدنا آپ کا خواب ہے؟‘‘
’’بیچ پہ اپنا ذاتی ہٹ خریدنا چاہتا ہوں۔
’’کس کی خاطر فیلڈ چھوڑ سکتے ہیں ؟‘‘
’’فی الحال تو اس بارے میں کبھی سوچا نہیں ہے اور اگر چھوڑنی بھی پڑی تو اپنی ہی خاطر چھوڑوں گا۔‘‘
’’خاندان میں کون جلدی ناراض ہو جاتا ہے؟‘‘
’’نہیں .میرا خیال ہے کہ خاندان میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے۔ سب ہی بہت اچھے ہیں۔‘‘
’’کسی کی ایک اچھی عادت جو آپ چاہتے ہیں کہ آپ میں آجائے؟‘‘
’’میری امی کی صبر کرنے والی عادت ، میں چاہتا ہوں کہ مجھے بھی ہر چیز میں صبر سے کام لینا چاہیے یا لینا آجائے۔‘‘
’’زندگی میں کچھ واپس ملنے کا چانس ملے تو کیا واپس لینا چاہیں گے؟‘‘
’’اپنا بچپن ۔‘‘
’’دل کا ٹوٹنا قابل برداشت ہے یا موبائل کا ٹوٹنا ؟‘‘
’’دل کا ٹوٹنا برداشت کر سکتا ہوں موبائل کا نہیں ۔ ‘‘
’’گھر کے کس کونے میں سکون ملتا ہے؟‘‘
’’ویسے تو پورے گھر میں ہی سکون ہے لیکن امی کے کمرے میں زیادہ سکون ہے۔‘‘
’’بیمار ہونے پر بیماری کو سیریس لیتے ہیں؟‘‘
’’منحصر ہے اس بات پر کہ بیماری کیا ہے۔ تب ہی تو سیریس لینے یا نہ لینے کی بات ہے۔‘‘
’’اس فیلڈ میں کیا کیا کر چکے ہیں؟‘‘
’’کمرشلز ، ڈرامے ، ماڈلنگ۔‘‘
’’کردار کون سے پسند ہیں ، نگیٹو یا پوزیٹو؟‘‘
’’پوزیٹو زیادہ پسند ہیں۔‘‘
’’پہلا ڈرامہ ، وجہ شہرت؟‘‘
’’اے آر وائی سے ٹیلی کاسٹ ہوا تھا۔ ’’میرے بابا کی اونچی حویلی‘‘ اس میں میرا کردار بہت اچھا تھا طلعت حسین صاحب کے ساتھ کام کرنے کا شرف حاصل ہوا تھا۔‘‘
’’اپنی کمائی سے کتنے فیصد بچا لیتے ہیں؟‘‘
’’40.60فیصد تک .کیونکہ میرے کوئی ایکسٹرا ایکسپنسیو نہیں ہیں۔‘‘
’’کچن سے لگائو ۔ کبھی شیف بننے کا خیال آیا؟‘‘
’’میں کھانے پینے کا بہت زیادہ شوقین ہوں اس لیے کچن سے بھی بہت لگائو ہے۔ شیف بننے کا خیال تو نہیں آیا۔‘‘
’’کوئی فیصلہ جو غلط ثابت ہوا ہو؟‘‘
’’اپنے کام پر فوکس کرنا چھوڑ دیا تھا۔‘‘
’’کس کو دیکھے بنا نیند نہیں آتی؟‘‘
’’الحمد للہ نیند بہت اچھی آجاتی ہے۔ کسی کو دیکھنا نہیں پڑتا۔‘‘
’’ملک کی ترقی میں کون رکاوٹ ہے حکمران یا عوام ؟‘‘
’’سیاست کانہ شوق ہے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی جواب میرے دماغ میں ہے۔‘‘
’’کس شخصیت پر چاہتے ہوئے بھی غصہ نہیں کر سکتے؟‘‘
’’اپنی بہن پر۔‘‘
’’کیا آپ برانڈ کانشس ہیں؟‘‘
’’نہیں بالکل نہیں۔‘‘
’’کھانے کی ٹیبل پہ کیا ہونا ضروری ہے ؟‘‘
’’سوفٹ ڈرنک ۔‘‘
’’کبھی غربت میں وقت گزارا؟‘‘
’’جی ہاں۔‘‘
’’ایک مضمون جو آج تک نا پسندیدہ ہے؟‘‘
’’بچپن میں اسکول میں جو مضامین پڑھائے جاتے تھے وہ سب ہی نا پسندیدہ تھے۔‘‘
’’ڈاکٹر، حکیم اور ہومیو پیتھک کس پر یقین ہے؟‘‘
’’ہومیوپیتھک پہ ۔‘‘
’’دنیا کا سب سے بورنگ کام ؟‘‘
’’بورنگ کام پڑھائی کرنا ۔ بچپن سے ہی پڑھائی کرنا سب سے زیادہ بورنگ کام لگتا تھا اور ہے۔‘‘
’’کیا دل سے اترا ہوا انسان دوبارہ اپنی جگہ بنا سکتا ہے؟‘‘
’’کبھی بھی نہیں. کیونکہ پھر اس پر آپ بھروسا نہیں کر سکتے۔‘‘
’’کہاں جانے کے لیے آپ ہمیشہ تیار رہتے ہیں؟‘‘
’’دوستوں کے ساتھ آئوٹنگ پہ اور ڈنر پہ ۔‘‘
’’وقت کی پابندی کرنے کے قائل ہیں؟‘‘
’’سیٹ پہ ہمیشہ دیئے ہوئے وقت پر ہی پہنچتا ہوں ۔‘‘
’’گھر کے کون سے کام کرنا پسند نہیں؟‘‘
’’ویسے تو خیر گھر کے سارے کام میں کر لیتا ہوں۔ مگر پھر بھی گھر کا کوئی کام کرنا مجھے پسند نہیں ہے۔‘‘
’’آج کے دور کا پسندیدہ اینکر؟‘‘
’’عمران اشرف۔‘‘
’’کس کیڑے یا جانور کو دیکھ کرچیخیں نکل جاتی ہیں؟‘‘
’’یہ تو بہت ہی فنی سوال ہے۔ مرد ہوں اس لیے کسی کیڑے اور جانور کو دیکھ کر چیخیں نہیں نکلتیں۔‘‘
’’کس طرح کے کردار ریجیکٹ کر دیں گے؟‘‘
’’چائلڈ ابیوز ٹائپ کے ۔‘‘
’’کون سی تاریخیں یاد رہتی ہیں؟‘‘
’’شوٹ کی تاریخیں کبھی نہیں بھولتا میں۔‘‘
’’آپ کی آج کل مصروفیات؟‘‘
’’ایک ڈراما آن ایئر ہے اور گرین ٹی وی کے ساتھ آج کل شوٹنگ میں مصروف ہوں۔‘‘
’’کیا اپنا ڈرامہ بار بار دیکھتے ہیں؟‘‘
’’کچھ سین نکال کر دیکھتا ہوںاور اپنے آپ کو اور بہتر اداکار بنانے کے لیے دیکھتا ہوں۔‘‘
’’گھر میں کون پڑھاکو تھا؟‘‘
’’میرے بعد والی بہن پڑھاکو تھیں۔‘‘
’’مشکل میں کس کو کال کرتے ہیں؟‘‘
’’امی کو۔‘‘
’’بچپن میں کس وجہ سے مار پڑتی تھی؟‘‘
’’گھر دیر سے آنے کی وجہ سے۔‘‘
’’کن چیزوں پر زیادہ خرچ کرتے ہیں؟‘‘
’’اپنی ڈریسنگ پر ۔‘‘
’’لٹریچر سے لگائو؟‘‘
’’نہیں بالکل بھی نہیں۔‘‘
’’سوشل میڈیا سے آپ کی دلچسپی؟‘‘
’’کچھ خاص نہیں۔‘‘
’’گھر میں بچت کی عادت کس کو ہے؟‘‘
’’امی کو بچت کی عادت ہے۔‘‘
’’کبھی نجومی کو ہاتھ دکھایا؟‘‘
’’نہیں.مجھے اپنے اللہ پریقین ہے جو وہ کرتا ہے وہی بہتر ہوتا ہے۔‘‘
’’ادھار کس سے بلا جھجک مانگ لیتے ہیں؟‘‘
’’میرا ایک دوست ہے اسی سے۔‘‘
’’کس کے روٹھ جانے پر پریشان ہو جاتے ہیں؟‘‘
’’امی کے روٹھ جانے پر ۔ باقی مجھے کسی کی پرواہ نہیں ہوتی۔‘‘
’’گھر میں کس کی زبان کو بریک لگانا مشکل ہے؟‘‘
’’کسی کی بھی نہیں۔ سب کی بریکیں لگی ہوئی ہیں۔ ہاہاہا۔‘‘
’’آپ کے گھر میں کون حاتم طائی ہے ؟‘‘
’’میری امی ۔‘‘
’’کبھی چھپ چھپ کر دوسروں کی باتیں سنیں ؟ ‘ ‘
’’نہیں ایسا کبھی نہیں ہوا۔‘‘
’’یوٹیوب میں آپ کا پسندیدہ چینل ؟‘‘
’’فوڈز کا ۔‘‘
’’دنیا کی خطرناک مخلوق؟‘‘
’’انسان ۔‘‘
’’آپ کی شہرت کو زوال آجائے تو؟‘‘
’’خود کو ’’زیرو‘‘سے اٹھایا ہے میں نے ۔ اب کسی زوال کا ڈر نہیں ہے مجھے ۔‘‘
٭٭


