خالی مٹھیاں اور دعا – شمائلہ دلعباد

ناولٹ 69

’’نوید یار اٹھ اس موبائل کی جان چھوڑ آ؛ پاکستان پیسے ڈال آئیں۔ ‘‘

’’منور بھائی !ذرا صبر کر لیا کرو ادھر سیلری ملتی ہے اَدھر آپ بغیر ہاتھ دھوئے بینک جا گھستے ہو! بھائی چھری تلے ساہ لے ، پانی پی ، نہا دھو کر کھانا کھا پھر بینک چلتے ہیں۔

’’نہیں نہیں !یار یہ سب کرنے لگے تو دیر ہو جائے گی ،گیٹ کیپر کمپنی کا گیٹ بند کر دے گا ۔اَدھر پاکستان میں تیری بھابھی انتظار کرتی رہ جائے گی۔‘‘

’’تو بھابھی نے کو ن سا رات کے وقت بینک کھلوا کر نکلوا لینے ہیں ،صبح ہی لیں گی۔ ‘‘

’’نوید !تَو جتنی مرضی کوشش کر لے، منور نے سیلری ابھی پاکستان بیوی کے اکا؛نٹ میں ڈالنی ہی ڈالنی ہے ۔ تو نیا آیا ہے۔اس لیے اس سے بحث کررہاہے۔ ہم سالہا سال سے سمجھا سمجھا کر تھک گئے کہ ساری سیلری پاکستان نہ بھیجا کر، بس خرچا بھیج باقی اپنے پاس جمع کیا کر ۔ جتنے کما؛ اتنے پاکستان بھیج دو، پاکستان والے کوئی بچت نہیں کرتے الٹا ہماری واپسی پر کہتے ہیں تم نے کیا ہی کیا ہے ۔‘‘

طالب حسین نے آہ بھر کر الیکٹرک کیٹل سے تیز پتی کی چائے کپ میں ڈالی۔

’’صبیحہ ایسی نہیں ہے، سیدھی سادی عورت ہے۔‘‘ منور نے بیوی کی صفائی پیش کی۔ وہ سب ایک دوسرے کے خاندان سے واقف تھے کہ سترہ سال کا رات دن کا ساتھ تھا، ایک ہی کمپنی ،ایک ہی کام اور ایک ہی کمرہ شئیر کرتے تھے ۔

’’ہاں ہاں ساری بیویاں سیدھی سادی ہی ہیں

جلیبی کی طرح ۔ٹیڑھے تو ہم ہیں۔ ‘‘کپڑے استری کرتے نذرحسین نے بھی دل جلا تبصرہ کیا۔

’’یہی مسئلہ ہے، ہر مہینے جب بھی میں سیلری پاکستان بھیجنے جاتا ہوں تم لوگ یہی تماشا شروع کر دیتے ہو۔ یار !جب چار دن بعد بھی پیچھے گھر والوں کو پیسے ہم نے ہی بھیجنے ہیں تو فوراً کیوں نہیں۔ کیوں انہیں ترسا ترسا کر بھیجوں؟ ‘‘

’’کتنی بار کہا ہے ،کوئی نہیں ترستے ، ان عورتوں نے کم سے کم بھی دو مہینے کاخرچا جمع کر رکھا ہوتا ہے صرف سیلری نکلوانے کے لیے چلتر دکھاتی ہیں کہ پیسے ختم ہیں خرچا بھیج دو۔‘‘ باریک آواز بنا کر عورتوں کی نقل کی گئی ۔

’’کسی مہینے نہ بھیجو گھر کی جاسوسی کروا کے دیکھ لو سارے خرچے چلتے رہیں گے لیکن تم سے کہا جائے گا ہم بھوکے مر گئے ۔ ‘‘

’’صرف کھانا ہی تو خرچا نہیں ہے یار بجلی ، پانی کے بل ، بچوں کی فیسیں ، وین کے کرائے ، دودھ والے کے پیسے . یہ سب لگے بندھے خرچے ہیں۔ ‘‘منور نے کمرے کے ساتھیوں کو ٹھنڈا کرنا چاہا۔

’’ان خرچوں جتنا بھی دو مہینے کا پاس جمع ہوتا ہے جان بوجھ کر بل نہیں بھرتیں تاکہ یہ بیویاں ہم سے دو مہینوں کے بل کے نام پر اور زیادہ پیسے نکلوا سکیں ۔ بلوں کی تصویریں واٹس ایپ کرتی رہیں گی بس۔ ایک تو یہ ٹچ موبائل اور انٹرنیٹ بڑی مصیبت بن گیا ہے ۔ ‘‘طالب حسین نے کپ قالین پر پٹخا۔

’’منور !صبح سے مزدوری کرکر کے بھوت بنے ہوئے ہو ابھی جا؛ واش روم فارغ ہے ،نہا آ؛ چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے ،چائے پی کر میں تیرے ساتھ چلتا ہوں ،پیسے ڈال آتے ہیں۔‘‘ نذر حسین نے اس کی حالت پر ترس کھا کر ساتھ چلنے کی ہامی بھری تو وہ بنا استری کے کپڑے اٹھا کر کھڑا ہو گیا تاکہ نذر حسین کے کہنے پر عمل کر سکے ۔

’’تم جا کر واش روم میں گھسو میں تمہارے کپڑے استری کرکے لاتا ہوں جلدی جا؛ اس سے پہلے کہ ملواری آ کر باتھ روموں پر قبضہ جمائیں۔ ‘‘

’’مجھے لگتا ہے ان کی بس بھی آ گئی ہے آواز سنی تھی ۔‘‘ نوید نے موبائل سے سر اٹھایا۔

’’نہیں ابھی نہیں آئی منور !تم بھاگو جاکر میرے لیے بھی واش روم پر قبضہ کرو، میں اپنے اور تمہارے کپڑے لے کر آ رہا ہوں۔ ‘‘

منور صابن تولیے لے کر دور بنے کمپنی کے غسل خانوں کی طرف بھاگا تو اس کے پیچھے انہوں نے بات کا سلسلہ وہیں سے جوڑا جہاں سے ٹوٹا تھا۔ سیلری ملنے سے ہفتہ پہلے اور ہفتہ بعد صرف پاکستان پیسے بھیجنے نہ بھیجنے پر ہی وہ سب آپس میں بحث کیے جاتے پاکستان سے کال پر کال آتی رہتی ،اس مہینے یہ مسئلہ ہے ۔اس لیے زیادہ پیسے بھیجو ۔اس میں مہینے فلاں کی شادی ہے اس لیے جلدی پیسے بھیجو۔ منور پرانی عادت کے مطابق سیلری ملتے ہی فوراً ساری کی ساری بیوی کے اکا؛نٹ میں ڈال دیتا، صرف دس ریال پاس رکھ لیتا۔ وہ سارے آپس میں بھیجنے نہ بھیجنے اور کم بھیجنے کی بحث میں پڑے رہتے تھے ۔

’’بڑے بھائیو یہ بھی ہو سکتا ہے منور بھائی کی طرف سب اچھا ہی ہو ان کی فیملی علیحدہ رہتی ہے بھابھی سنبھل کر ہی چلتی ہوں گی کیونکہ بھابھی نے صرف اپنے بچوں اور اپنے گھر پر ہی خرچ کرنے ہوتے ہیں ۔ جہاں پیسے ہم اپنے بھائیوں یا والد کے اکا؛نٹ میں بھیجتے ہیں ،وہاں مسائل بنتے ہیں ہمارے بہن بھائی حق سمجھ کر کھاتے ہیں، بیوی بچے بے چارے مشکلات جھیلتے ہیں ۔‘‘

عمر نوید نے اپنے سینئر روم میٹس کو قائل کرنا چاہا۔

’’اوہ یار !تیری عمر ہم تینوں سے کم ہے اس لیے تجربہ بھی کم ہے ،بات صرف ہمارے بہن بھائیوں کی نہیں ہے بیوی کے بہن بھائی بھی انسان ہی ہیں، وہ بھی یہی کچھ کرتے ہیں بس موقع مل جائے ۔ بیویاں شوہر کے رشتوں پر اعتراض کرتی رہتی ہیں ،اپنے بہن بھائیوں پر لٹا کر اینڈ میں وہ بھی دکھ ہی اٹھاتی ہیں لیکن بات سمجھتی نہیں ہیں، جب سمجھ میں آتی ہے ،تب لٹ چکی ہوتی ہیں پچھتاوے پاس بچ جاتے ہیں۔ ‘‘

’’طالب بھائی !بیوی کے بھائی ایسا نہیں کرتے ،جتنا نقصان ہمارے بھائی ہمیں پہنچاتے ہیں۔ ‘‘

’’غلط فہمی ہے ،روم نمبر سات والے ڈرائیور منیر نے کل ہی اپنے سالوں پر بیس لاکھ کا کیس کیا ہے امانتاً ان کے پاس ریال بھیجتا تھا۔ اب بیوی کے دونوں بھائی مَکر گئے ہیں ،صاف کہہ دیا ہمارے اکا؛نٹ میں جو بھیجتے تھے ،ہم تمہاری بیوی بچوں کو دے آتے تھے ۔ اب دس سال کی بچت گنوا کر بلڈ پریشر ہائی کروا کے ہسپتال کے چکر لگا رہا ہے ۔ ‘‘

’’بڑا برا ہوا ہے منیر کے ساتھ . عدالت میں بھی پیسے لگیں گے ،حاصل بھی کچھ نہیں ہوگا۔ میاں بیوی میں اختلاف بھی بڑھیں گے۔ منیر کے سسرال نے اچھا نہیں کیا، تم لوگ بھی اس کے پاس افسوس کرآنا ۔ ‘‘طالب نے صلاح دی ۔

’’پہلے نہا کر پیسے ڈال آئیں پھر منیر کے کمرے میں جائیں گے ورنہ منور نے ادھر بھی نہیں بیٹھنے دینا۔‘‘ نذر ان دونوں کو باتیں کرتا چھوڑ کرکپڑے لیے غسل خانوں کی طرف چل دیا۔

٭٭٭

’’اب میرے پیچھے کھل کر باتیں کر رہے ہوں گے کہ میں اس معاملے میں ان کا مشورہ نہیں مانتا۔‘‘ منور حسین اپنے روم میٹ اور دوست نذر حسین کے لیے بھی باتھ روم میں ٹھنڈا گرم پانی مکس کرتے سوچ کر مسکرایا۔

سترہ سال پہلے تعمیراتی کمپنی کے ویزے پر وہ سلطنت آف عمان کے شہر مسقط آیا تھا تب سے یعنی اپنے عین شباب کے دنوں سے وہ سب ساتھی بنے تھے ۔ بے انتہا گرمی میں مزدوری کرکے جب وہ اکٹھے ہوتے تو ایک دوسرے کے خاندان کے بارے میں گفتگو کرکے ایک دوسرے کو جاننے کی کوشش کرتے ۔ اب سترہ سال بعد وہ سب کے سب ایک دوجے کے لیے فیملی بن چکے تھے ۔ آگے پیچھے شادیاں ہوئیں پھر جوائنٹ فیملی اور پیسے کے مسائل بھی اکٹھے جھیلے بلکہ اب تک جھیل رہے تھے، حالانکہ اب ان سب کی تنخواہ پاکستانی دو لاکھ کے قریب ہو چکی تھی لیکن مسائل اب بھی سترہ سال پرانے ہی تھے۔ ان سب میں سے جوائنٹ فیملی کے مسائل سے نکلنے والا پہلا شخص منور تھا، اس نے صبیحہ غفور سے محبت کی شادی کی تھی ،شادی کے بعد دو مہینے وہ پاکستان میں رہا اور ان دو مہینوں میں اس نے والدین اور بہن بھائیوں کا سلوک پرکھ لیا ،وہ ایسا سلوک ہرگز نہ تھا جس کی بنا پر منور اپنی بیوی کو اپنے گھر والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ آتا۔

اس نے فوراً ہی مشکل فیصلہ کیا، آتے ہوئے صبیحہ کو اس کے میکے چھوڑا کیونکہ وہ اپنے میکے گھر میں سب سے بڑی اولاد تھی، بھائی اس سے چھوٹے تھے تو صبیحہ اور منور کی قدر بھی بے تحاشا تھی، منور کو اپنے سسرال کا صبیحہ سے پیار بہت اچھا لگا تھا ۔

اس کے بعد صبیحہ کو اس کے بھائی کے اکا؛نٹ میں پیسے بھیجتا رہا والدین کو جب تک حیات رہے خرچا والد کے اکا؛نٹ میں بھیجتا رہا۔ اس کی ماں، بہنیں ،بھائی سب صبیحہ کے بارے میں رشتے داروں میں باتیں کرتے رہے ۔ جو صبیحہ اور اس تک پہنچتی رہیں نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اپنے گھر سے مزید دور ہوا تھا۔ بیٹی ہونے پر اس نے سالے کے مشورے پر سسرال والی گلی میں ہی فروخت ہوتا گھر قسطوں پر خریدا اور ہمیشہ کے لیے سسرالی گلی میں شفٹ ہو گیا تھا۔

زندگی سکون سے گزر رہی تھی ،صبیحہ سے عشق آج بھی روز اول کی طرح جوان تھا ۔

صبیحہ کچھ کہے اور وہ پورا نہ کر سکے، یہ سوچ کر ہی اسے گھبراہٹ ہونے لگتی تھی چنانچہ اکا؛نٹ آفس سے سیلری ملتے کی پرواہ کیے بغیر صبیحہ کو پیسے بھیجنے کے لیے نکل جاتا تھا۔ بھائیوں جیسے کولیگ اور روم میٹ ہر مہینے اسے روکتے تھے کہ ساری سیلری مت بینک میں ڈالو ،پر وہ ان کی یہ بات کبھی نہ مان سکا۔

٭٭٭

اس کی آنکھ حسب معمول منور حسین کی واٹس ایپ کال سے کھلی تھی۔ وہاں کا وقت چونکہ پاکستان سے گھنٹہ بھر پیچھے تھا تو صبح کے وقت کام پر جانے سے پہلے لازمی صبیحہ کو کال کرتا تھا۔

’’سیلری اکا؛نٹ میں ڈال دی تھی، بینک سے تمہیں میسج نہیں آیا۔ ‘‘سلام دعا کے بعد وہ محبوب بیوی سے پوچھ رہا تھا۔

’’میسج مل گیا تھا ،سوچا تھا کال کرتی ہوں پر علیزے کی سالگرہ کی وجہ سے ادھر آئے مہمان ہمارے گھر بھی آ گئے تو لیٹ ہونے کی وجہ سے کال نہ کر سکی۔‘‘

’’مرضی ہے باد شاہو. ادھر آپ کا مریض عشق انتظار میں تڑپتا رہا ۔کب آواز سنے ،آپ دوسروں کے چکر میں بھول گئیں ،بس جی ،جو چاہے آپ کا ظالم محبوب کرے ۔ ‘‘صبیحہ کو اس کی آواز میں شرارت و محبت بیک وقت محسوس ہوئی تھی ۔

’’کال اسپیکر پر ہے .‘‘ وہ جیسے فخر سے اترائی ۔

’’اوہ تیرا بھلا ہو جائے صبا !کتنی بار کہا ہے میری کال بچوں کے سامنے اسپیکر پر نہ ڈالا کر۔ ‘‘وہ خفا ہوا۔

’’اسپیکر پر نہیں ہے صرف ڈرایا ہے ویسے بھی اس وقت آپ کی اولاد چھٹیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اے سی میں گدھے گھوڑے بیچ کر سو رہی ہے۔ ‘‘

’’اپنے باپ کے سر پر عیش کر رہی ہے، کرنے دو ۔‘‘

’’وہ تو ٹھیک ہے پر منور! بل بہت آئے گا ابھی تو دن کے وقت عثمان کی طرف چلے جاتے ہیں سارا دن اس کا اے سی چلتا ہے سوچو چوبیس گھنٹے ہمارا چلے گا تب کتنا بل ہو گا۔ ‘‘

’’یار !کوشش کرو ،اپنے گھر زیادہ رہا کرو ۔کسی کو ہر وقت تنگ کرنا مناسب نہیں ہے ۔ ‘‘

’’صحیح کہہ رہے ہیں ۔اللہ میرے بھائی کا بھلا کرے ،بہت ساتھ دیتا ہے ورنہ آپ کے بہن بھائیوں نے تو کوئی کسر نہ چھوڑنی نہ ہمیں بیچ کر ہی کھا جاتے ۔ ‘‘

’’ہر جگہ یہی حال ہے صبا! ہر کسی کے بہن بھائی اب ایسے ہی ہیں تو زیادہ نہ سوچا کر۔ بس میرے لیے دعا کر دیا کر یہی سہارا مجھے پردیس کاٹنے کے لیے چاہیے ہے ورنہ تم سے اور بچوں سے دور رہنا بڑا مشکل ہے ۔

’’میری تو ساری دعائیں ہی آپ کے لیے ہیں ۔

’’تمہیں پتا ہے، میں ویڈیو کال کیوں نہیں کرتا تجھے دیکھ کر اتنی شدت سے یاد آتی ہے، سوچنے لگتا ہوں جس کی ایسی بیوی ہو،اَسے پہلی فرصت میں بیوی کے پاس پہنچ جانا چاہئے کیسی بدقسمتی ہے سترہ سالہ شادی میں ہم چونتیس ماہ اکٹھے رہے ہیں۔

اس کی آواز حسب معمول آنچ دینے لگی تھی صبیحہ کو معلوم تھا اس کا شوہر آج بھی اس پر اتنی ہی جان چھڑکتا ہے، جتنی پہلے دن لیکن وہ اپنے دل کا کیا کرتی کہ شروع سے ہی منور جتنا دیوانہ نہیں بن سکا تھا ۔وہ اس کی بطور شوہر عزت بھی کرتی تھی اور اس کی وفادار بھی تھی لیکن اس کی شدید محبت کے بدلے میں ویسی محبت اسے کبھی نہ ہوئی ۔ہاں اولاد بہت پیاری تھی ۔

’’کمپنی کو چاہیے دو سال بعد چھٹی دینے کے بجائے سال بعد دیا کرے ۔ ‘‘

’’ہاہاہاہا. بھولی بیگم سال بعد ورکروں کو بمع تنخواہ چھٹی دینے لگیں تو چل گئیں کمپنیاں۔ ہزاروں ورکر ہوتے ہیں کمپنی دو سال بعد ان کا ویزہ ری نیو کرنے کا اورآنے جانے کا خرچا بمع دو مہینوں کی تنخواہ دیتی ہے ۔ ہر وقت سینکڑوں مزدور اپنے اپنے ملک چھٹی پر گئے ہوتے ہیں ،ایک ہی وقت میں ایک سال بعد چھٹی دیں گے تو دیوالیہ نکل جائے گا۔ ویسے اگر زیادہ اداس ہو تو میں اپنے خرچے پر چھٹی کے لے آ سکتا ہوں ۔سیلری بھی نہیں ملے گی آنے جانے کا جہاز کا ٹکٹ بھی ہمیں لینا پڑے گا۔ دو سال سے پہلے چھٹی کا یہی نقصان ہوگا۔ ‘‘

’’نہ نہ رہنے دیں ۔اتنی شدید گرمی میں آ کر کیا کریں گے ویسے بھی دسمبر میں آپ کے دو سال پورے ہوجائیں گے ۔موسم بھی اچھا اور اخراجات بھی کمپنی کے ہوں گے ،تب ہی ٹھیک ہے ۔ ‘‘

’’تمہاری بات سے متفق ہی ہوا جا سکتا ہے ۔‘‘ وہ مسکرایا تو وہ بھی مسکرا دی۔

’’اچھا پھر اللہ حافظ۔ سائٹ پر جانے کے لیے بس آ گئی ہے ۔ ‘‘

٭٭٭

بچوں کے اٹھنے سے پہلے اس نے ناشتے کی تیاری کر لی کہ گرمیوں کی چھٹیوں کی وجہ سے نارمل روٹین کا ناشتہ تو بچے خوش ہو کر کرتے ہی نہ تھے ابھی بھی آلو کے پراٹھے بنانے کا انتظا م کرکے آئی تو وہ تینوں جاگ چکے تھے ۔

’’عبداللہ بیٹا !ناشتے کے بعد ہم نے بازار بھی جانا ہے ۔جلدی سے فریش ہو جا؛ ،دھوپ سے پہلے پہلے ہو آئیں۔ ‘‘

’’مما !صبح صبح بازار کیا لینے جانا ہے ؟‘‘ تاشی نے بڑی سی جمائی لیتے ماں سے پوچھا ۔وہ سب سے بڑی اولاد تھی ،اسی حساب سے وہ میاں بیوی کی لاڈلی اور منہ پھٹ بھی زیادہ تھی ۔

’’علیزے کی سالگرہ ہے ،اس کا گفٹ لے آ؛ں ۔کوئی اور شے ہوتی تو تمہارے ماموں کو بھیج دیتی۔ ‘‘

’’میں بھی ساتھ چلوں دہی ،بھلے کھا؛ں گی۔ ‘‘

’’کوئی ضرورت نہیں ،تم گھر کے کام سمیٹنا میں اور عبداللہ یوں گئے اور یوں آئے ۔ واپس آ کر ماموں کی طرف چلیں گے ۔ ‘‘صبیحہ نے چٹکی بجائی۔

’’مما !کتنی بار کہا ہے مجھے نہیں پسند ہروقت ماموں کے گھر گھسے رہنا۔ آپ میری بات کو سریس کیوں نہیں لیتیں۔ ‘‘

’’تمہیں تو اللہ واسطے کا بیر ہوتا جا رہا ہے ماموں ،ممانیوں سے .۔ بالکل ددھیال کی کاربن کاپی ہو، پھوپھیاں ،چاچے ہی اچھے لگتے ہیں۔ عبداللہ ، اسد اللہ بھی تو ہیں مجال ہے ،کبھی پھوپھیوں چچا کا نام لیں یا مامو؛ں کو برا کہیں ،ایک تم ہی ہو۔‘‘

’’مما !آپ کو تو موقع چاہیے بس .‘‘ وہ پیر پٹختی واش روم میں گھس گئی ۔تو بڑبڑاتی صبیحہ بھی کچن کی طرف بڑھ گئی اسے بھتیجی کے لیے سالگرہ کا تحفہ خریدنے کی بہت جلدی تھی۔

٭٭٭

شدید گرمی میں بیٹے کے ساتھ پہلے بینک گئی وہاں سے پیسے نکلوائے اور پھر بازار کی ساری دکانیں پھِر لیں لیکن تیرہ سالہ علیزہ کے لیے کوئی تحفہ سمجھ میں نہ آ رہا تھا۔ سمجھ میں آتا بھی کیسے کہ ذہن میں تو اس کی فرمائش چل رہی تھی ۔ نگاہ بار بار جیولر کی دکان پر ہی جا رہی تھی کانوں میں علیزہ کی بار بار کہی بات گونج رہی تھی ساتھ ساتھ تاشی کی بھی .بالآخر وہ سونے کی دکان میں داخل ہو گئی ،ٹھنڈے ماحول میں جاکر نہ صرف اوسان بحال ہوئے بلکہ فوراً ہی ،تاشفین جیسے سونے کے ٹاپس بھی سامنے پڑے نظر آ گئے ۔

فٹا فٹ خریدے اور ماں بیٹا نکل آئے ۔ اس کے دماغ میں علیزہ کی فرمائش تھی ،اس لیے وہ کوئی اور تحفہ خرید ہی نہ پا رہی تھی ۔اب جیسے سکون ہو گیا تھا ۔ آتے ہوئے تاشفین کے لیے دہی بھلے اور اسد اللہ کے لیے فالودہ لینا بھی نہیں بھولی تھی کہ اسے معلوم تھا تاشی سونے کے ٹاپس دیکھ کر بہت شور ڈالے گی پر اتنا یقین تھا، اس کی اولاد باپ یا ددھیالی رشتوں کو ایک لفظ نہ بتاتی تھی خود ماں کے ساتھ جتنا مرضی لڑ لیتی پر یہ کبھی کسی سے نہ کہا کہ ماں مامو؛ں یا ان کے بچوں پر بھی دل کھول کر خرچ کرتی ہے ۔

ارے صبیحہ !کیا حال ہے ؟ چنگ چی میں سسرالی گلی کی نویدہ آپا براجمان تھیں ،

’’میں ٹھیک ہوں آپا !آپ کیسی ہیں ۔بڑے گھر والے کیسے ہیں ؟ ‘‘صبیحہ سے رہا نہ گیا ،نویدہ کے پاس ہر کسی کی معلومات ہوتی تھیں اسی لیے اس نے سسرال والوں کا پوچھ لیا۔

’’سب ٹھیک ہیں ۔تمہاری بڑی نند آل اولاد سمیت چھٹیوں کی وجہ سے رہنے آئی ہوئی ہے میں ملنے گئی تو ایسے ہی سرسری پوچھ لیا منور کی طرف گئی ہو؟ اے لو بہن !اس عورت نے تو صاف کہہ دیا منور سسرال والوں کا ہے اس کے گھر میں صبیحہ کے میکے کے سوا کسی کی گنجائش نہیں ہے ۔ منور کما کما کر بوڑھا ہوگیا صبیحہ بھائیوں کو بھرتے نہیں تھکتی، سب میکے پر لٹائے جا رہی ہے ،ہمیں تو پانی پوچھنے کی روادار نہیں، میکے کو مرغ مسلم کھلا کھلا کر ہمارے بھائی کی پردیس کی کمائی اڑا رہی ہے ۔ کسی دن دنیا داری رکھنے کے لیے کھڑے کھڑے ہو آؤں گی کون سا صبیحہ نے منہ لگانا ہے وغیرہ وغیرہ۔

نویدہ سے نند کی گفتگو سن کر صبیحہ کا منہ غصے اور توہین کی وجہ سے مزید لال ہو گیا۔

’’آپا !ان کی جتنی مرضی قدر کر لو، مجھ راضی نہیں ہو سکتے ، رہی میکے کی بات تو یہ میرے بھائی ہی ہیں جن کی وجہ سے عزت سے جوان بیٹی کو لے کر بیٹھی ہوں، کسی کی مجال نہیں میرے گھر پر ٹیڑھی نظر ڈال لے ۔ رات کو بلا؛ں یا دن کو بھائی ایک کال پر میرا کام نمٹانے آ کھڑا ہوتا ہے یہ لوگ آئیں گے میرے کام نمٹانے ؟ ‘‘

’’ہاں یہ تو ہے ،سسرال ایسا ہی ہوتا ہے پھر بھی تم تو سمجھ دار ہو کبھی کبھی نندوں کی بھی دعوت کردیا کرو لوگوں کے منہ بند ہو جاتے ہیں ورنہ سب تمہارے بارے میں یہی کہتے رہیں گے، شوہر کی کمائی دونوں ہاتھوں سے بھائی پر لٹا رہی ہے ۔‘‘

نویدہ نے ہمدردی کی آڑ میں خوب گہرا چرکا لگایا یوں کہ صبیحہ کچھ کہہ ہی نہ سکی۔ خود پر جھنجھلائی گھر میں داخل ہوئی کہ نہ نویدہ سے سسرال کا پوچھتی نہ وہ جتلا کر جاتی کہ محلے والے اس کے بارے میں کیا باتیں کرتے ہیں۔ وہ بے دم ہو کر اے سی کے عین سامنے پڑے صوفے پر گری تو تاشی اور اسد اللہ نے فورا شاپر کھول لیے ۔کھانے والی اپنی اپنی چیز کو ابھی پکڑا ہی تھا کہ تاشی کی نظرسرخ مخملی ڈبیا پر پڑ گئی اس نے فوراً کھول کر دیکھی۔

’’مما !آپ نہیں مانیں نا؟ اس کی آواز میں شدید غم و غصہ تھا۔

’’ جب سے اس نے دوسری بار کان چھدوانے ہیں تب سے مجھ سے یہی مانگ رہی تھی تمہیں پتا تو ہے ۔ ‘‘

’’مما ! میں نے کہا تھا نا، اس نے میری نقل کرکے کان دوسری جگہ چھدوائے ہیں ،اب کم سے کم میرے جیسے ٹاپس اسے نہ لاکر دینا لیکن نہیں آپ کو میں نہیں بھتیجی زیادہ پیاری ہے ،آپ نے اسی کی بات مانی میری نہیں۔ باقی کوئی ڈیزائن نہیں تھا جو میرے جیسے خرید لائی ہیں ۔‘‘ تاشفین جذبات کی یورش سے رونے لگی تو صبیحہ بے ساختہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔

ارے میرا بچہ ،ڈیزائن تو بہت تھے پر سارے کے سارے مہنگے تھے ان کا وزن سے نہیں زیادہ تھا اس لیے یہی خرید لیے ۔

’ؔ’ماموں کی فیملی پر آپ پاپا کا سارا پیسہ بھی لٹا سکتی ہیں وزن زیادہ یا کم آپ کا مسئلہ نہیں تھا ،مسئلہ صرف یہ تھا جو اس نے کہا ۔آپ نے وہی پورا کرنا تھا۔ آپ کو پتا ہے نا ،مجھے کتنے پسند ہیں ،میرے منع کرنے پر بھی آپ نے علیزے کو سیم ٹاپس لا دئیے۔‘‘

‘‘بیٹا !وہ آپ کی بہن ہے ،بہنیں ایک جیسی چیزیں پہن لیتی ہیں۔ ‘‘

’’مما !آپ کو ہی لگتا ہے ،وہ میری بہن ہے لیکن وہ ایسا نہیں سمجھتی ۔ممانی بھی ایسی ہی ہیں ۔یہ تو ہم ہیں جو ہروقت ان کو اپنا سمجھتے ہیں۔ ‘‘

’’ششش . کیسی باتیں کر رہی ہو تاشی! ماموں لوگ تم تینوں بہن بھائیوں سے کتنا پیار کرتے ہیں۔ ‘‘

’’کوئی نہیں کرتے ،پھوپھو چاچو جیسے ہی ہیں جتنی ہیلپ ہم ماموں لوگوں کی کرتے ہیں ایسے ہی چاچو پھوپھو کے ساتھ کریں تو اس سے زیادہ وہ کریں گے ۔ جب بھی دیکھو آپ ہی چھوٹے ماموں ، بڑے ماموں ان کے بچوں کے لیے گفٹ لے رہی ہوتی ہیں انہوں نے تو کبھی نہیں ہمیں گفٹ دیے ۔ ہم کیا بچے نہیں ہیں میرے نائنتھ کے رزلٹ پر بھی علیزہ اور ماموں نے کچھ نہیں دیا۔ آپ ہر کلاس کے رزلٹ پر اسے گفٹ دیتی ہیں جب میرے کپڑے لاتی ہیںاس کا سوٹ بھی لازمی لاتی ہیں، بدلے میں وہ مجھے کوئی اہمیت نہیں دیتی نہ ماموں نہ ممانی ۔ ‘‘

’’تاشی !میری ماں نہ بن ، بکواس ہی کیے جا رہی ہے، تم اپنی پھوپھیوں سے کم ہو کیا؟ کیا چاہتی ہو میں بھی تمہاری پھوپھیوں کی طرح اپنے بھائی کا گھر چھوڑ دوں ،قطع تعلق کر لوں ؟ بتا؛ مجھے جیسے تمہاری پھوپھیاں ہمارے گھر نہیں آتیں ویسے ہی ہم بھی ماموں کا گھر چھوڑ دیں؟ میں تمہاری پھوپھیوں جیسی نہیں ہوں۔ ‘‘

تاشفین کی عادت تھی روتی جاتی ماں سے باتیں کیے جاتی ۔ صبیحہ اس کی عادت سمجھتی تھی پر آج نویدہ آپا کی باتیں اَس پر تحفہ خریدنے پر تاشی کا ردعمل .۔ سب کچھ گڈ مڈ ہو گیا ہوا تھا اس لیے اس نے بیٹی کو لتاڑ کر رکھ دیا۔ وہ نویدہ کا غصہ بھی تاشی پر نکالنے لگی تو وہ اس کے شدید ردعمل پر گھبرا گئی۔

’’مما ، سوری ۔میں نے یہ تو نہیں کہا کہ ہم ماموں کو چھوڑ دیں ۔ ‘‘

’’تمہارا مقصد تو یہی تھا۔‘‘اس کا غصہ ہولے ہولے بڑھتا ہی جا رہا تھا۔

’’میرا مقصد صرف اتنا ہے کہ آپ میرے منع کرنے پر بھی میرے جیسے ٹاپس کیوں لائیں ؟ اب میں نے نہیں پہننے ۔میں اتار دوں گی صرف علیزہ ہی پہنے ۔‘‘

وہ دہی بھلے پٹخ کر روتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔ پیچھے سے صبیحہ نے زوردار آواز لگائی تھی.

’’تاشی خبردار ،اگر باپ سے کچھ کہا یا سونے کے ٹاپس علیزہ کو دینے کا بتایا تو. مار مار کے دنبہ بنا دوں گی حاسد نہ ہو تو۔ میری بات سارے کان کھول کر سن رہے ہو باپ سے ایک لفظ نہیں کہنا۔ ‘‘

’’نہیں کہتے .‘‘ یک زبان اسے سنائی دیا تھا۔

٭٭٭

’’عبداللہ ، اسد اللہ اگر نہا لیا ہے تو ماموں کے گھر چلے جا؛ کوئی کام کروا دینا ۔ممانی کو کوئی چیز لا دینا موبائل پر گیم کھیلنے سے میدان نہیں مار لو گے ۔ ‘‘

’’مما ، عبداللہ بھائی نے مجھے تو ایک منٹ کے لیے فون نہیں دیا ،آپ پھر بھی مجھے ڈانٹ رہی ہیں۔‘‘ اسد اللہ سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے نازک مزاج تھا۔

’’اچھا اچھا ایسا کرو یہ پیالی ذرا ہاتھ میں پکڑ کر کھڑے ہو جا؛ میں جلدی جلدی کلر لگا لوں۔‘‘ وہ شیشے کے سامنے کھڑی ہو کر اسد اللہ کی ہاتھ میں پکڑی پیالی سے سیاہ ہیئر کلر برش پر لگا کر احتیاط سے بالوں میں لگانے لگی۔

’’یہ سونے کے ٹاپس نہ لیے ہوتے تو پارلر والی سے ہی ہیر ڈائی کروا آتی . کم بخت سارا بجٹ ہی آپ سیٹ ہو کر رہ جاتا ہے ۔ ‘‘تیزی سے بالوں میں اسٹروک چلاتے اس نے آہ بھر کر سوچا۔

’’مما ! آپ پھر گھر میں ہی ڈائی کر رہی ہیں پچھلی دفعہ بھی گھر میں کرکے پیرنٹ میٹنگ میں چلی گئی تھیں سامنے سر کی جلد میں چڑھا ہوا رنگ کتنا گندا لگ رہا تھا میں کتنا شرمندہ ہوئی تھی۔ اب پھر آپ خود کر رہی ہیں ۔ممانی کی بھابھی اور بہن بھی آئی ہوں گی ۔اب پچھلی بار جیسا نہ کرنا ۔بہتر تھا سیلون چلی جاتیں۔‘‘

’’اچھا اچھا نہیں لگاتی سر کی جلد میں. تقریر بند کر لو۔ ‘‘

’پچھلی بار عثمان کا بجلی کا بل بھرنے میں مدد کرنی پڑی تھی ۔کم و بیش سونے کے ٹاپس جتنی ہی رقم دینا پڑی تھی ۔اس مہینے علیزے کی سالگرہ آ گئی ۔ اچھا اللہ وارث ہے ۔اللہ میرے بھائیوں کو خوب خوب نوازے لمبی زندگی دے ناگہانی حادثے سے بچائے ۔ عثمان تو ہے بھی بہت تھوڑے دل کا ۔اسی لیے تو ذرا سی توقع کے خلاف بات ہو جائے گھبرا کے میرے کندھے سے لگ جاتا ہے ۔ پچھلے مہینے دو ماہ کا اکٹھا بل دیکھ کر رنگ کیسا سفید پڑ گیا تھا۔ اللہ میرے ماں جائیوں کو سلامت رکھے ۔پیسے کا کیا ہے ،آنی جانی شے ہے ۔پیسہ مجھے عثمان سے پیارا تھوڑی ہے ۔

اس نے پیالی اچھی طرح صاف کرکے ڈحیروں دعائیں بھائیوں کے لیے کر ڈالیں ، نہیں خیال آیا تو صرف پردیس بیٹھے پیسے بھیجنے والے سر کے سائیں کا خیال نہ آیا کہ اس کے لیے بھی دعا کر دے ۔

’’تاشی !میرے کپڑے استری کر دے ذرا جلدی کر نبیہا کہے گی آگے پیچھے ہروقت گھسے رہتے ہیں آج کام ہے تو باجی نے پلٹ کر نہیں پوچھا۔ ‘‘

’’مما !کچھ نہیں ہوتا ،تیار ہو کر آپ جاتے ہی ممانی کے کچن میں نہ گھس جانا ،ممانی کی بہن تو مزے سے اے سی میں بیٹھی ہوتی ہے آپ ممانی کے ساتھ لگ کر پسینے میں بھر کر بیٹھ جاتی ہیں۔ اب تو علیزے کی ممانی اور کزنز وغیرہ بھی ہیں۔ ‘‘

’’تاشی !میرے بچے وہ لوگ مہمان ہوتی ہیں ہم مہمان تھوڑی ہوتے ہیں۔‘‘ اس نے رسان سے سمجھایا۔ نہا کر ہلکا گلابی سوٹ پہنے باہر نکلی تو تاشی نے کپڑے تبدیل کر لیے تھے ۔

’’نیا سوٹ کیوں نہیں پہنا؟ ‘‘

’’شام کو کیک کٹنے سے پہلے پہنوں گی۔ ‘‘

’’تو پھر ساتھ شاپر میں رکھ لو ،دوبارہ نہ آنا پڑے گا۔ ‘‘

’’مما !یہ دو گھر چھوڑ کر گھر ہے اس میں بھی کپڑے ساتھ لے لوں؟ میں اپنے گھر آ کر ہی چینج کروں ۔تیار بھی تو ہونا ہے ادھر میک اپ لے کر گئی تو پھر علیزے نے آپ سے میک اپ کی بھی فرمائش کر دینی ہے ۔ ـ‘‘

‘صبیحہ کو اندازہ ہوا بیٹی کے دل میں شدید ناراضی ہے لمحہ بھر کو افسوس سا ہوا تھا پر بیرونی دروازے پر ہونے والی دستک نے زیادہ سوچنے نہ دیا۔

’’جا؛ عبداللہ !دیکھو اس وقت کون آ گیا جسے بیل بھی نظر نہیں آ رہی۔ ‘‘صبیحہ نے ہلکی گلابی لپ سٹک واپس ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی تھی۔

’’السلام علیکم !‘‘ بڑی نند اور اس کے دونوں بڑے بچوں کو باجماعت سلام کرتے دیکھ کراس کا حلق بھی کڑوا ہو گیا۔

’’یہ کہاں سے ٹپک پڑی.‘‘ منہ ہی منہ میں بدبدائی تاثرات یقینا نوٹ کر لیے گئے تھے کہ آنے والی بھی آنکھوں میں دوربین فٹ کروا کر ہی آئی تھی۔

’’یہ اچھا کیا ہے ،اے سی والے کمرے سے بیڈ نکال کر نیچے گدے ڈال لیے ہیں، سارے سہولت سے سو بھی سکتے ہیں۔ چار مہمان آ جائیں تب بھی سہولت رہتی ہے ۔ ‘‘شازیہ خود ہی گدے پر بیٹھتے ہوئے بولی۔

’’مما ایک اے سی والے تمام گھروں میں یہی انتظام ہوتا ہے ،نیا کیا ہے ؟‘‘ رضوان ہنسا .

اس کی بات پر صرف اس کی ماں بہن ہی مسکرائیں صبیحہ اور اس کے بچے سرد ہی رہے ۔ اس نے شروع سے ہی بچوں کے دل میں مامو؛ں کے گھر اور ان ہی کی اولاد کے لیے اپنائیت ڈالی تھی۔ ددھیالیوں سے بچے خاص گھلتے ملتے ہی نہ تھے ،آج تو اسے بھی نویدہ آپا کی بتائی باتوں کی بدولت اور بھی شدید غصہ تھا سو نو لفٹ کا انداز کچھ زیادہ ہی سخت تھا۔ نند اور اس کے بچوں کے چہرے پرزبردستی کی بشاشت ، شرمندگی و بے بسی صاف نظر آنے لگی۔

’’’’تاشی !پھوپھو کے لیے ٹینگ بنا لا؛ ۔ ‘‘

’’آنسہ نے آتے ہوئے شیک پلا کر بھیجا ہے کہہ رہی تھی آپی باہر بہت گرمی ہے جاتے جاتے گلا سوکھ جائے گا۔ اس لیے تاشی تم اب صرف سادہ پانی لے آ؛۔ ‘‘چھوٹی بھابھی کا حسن سلوک جان بوجھ کر جتایا گیا پر سامنے بھی صبیحہ تھی۔

’’تاشی !سادہ پانی لے آ؛۔ ‘‘

’’کہیں جا رہے ہو آپ لوگ ؟ ‘‘

’’ہاں ، علیزے کی سالگرہ ہے ،عثمان نے بلایا ہے ہوا ہے ادھر جا رہے ہیں بس نکل ہی رہے تھے کہ آپ لوگ آ گئے ۔ ‘‘

’’ہمیں پتا ہوتا تو شام کو آ جاتے ۔ ‘‘

’’نہیں ،کیک تو شام کے بعد کاٹنا ہے ہم رات گئے ہی واپس آئیں گے ۔ سارا دن بھی بچوں کے ساتھ ادھر ہی ہوں گی اپنے گھر اے سی نہیں چلانا پڑتا، عثمان کہتا ہے آپی ادھر ہی دن گزارا کریں ،بجلی مہنگی ہے بل کی کچھ نہ کچھ بچت ہو جائے گی میرے گھر جو چل رہا ہوتا ہے تو میں اکیلا ہی بل بھرتا رہوں گا آپ تو بچت کریں ۔ ‘‘

اس کی بات پر نند کی آنکھوں میں صاف تمسخر نظر آیا کہ جا؛ بی بی ہمیں تمہاری چوریاں اور بچتیں سب معلوم ہیں۔ اپنے بھائی کا جھوٹا پیار بتایا جا رہا ہے ہمارے بھائی کو تو بات کرنے کا روادار نہ چھوڑا تم نے ۔

پانی پی کر وہ لوگ اٹھ گئے ۔صبیحہ بھی گھر کو تالے لگانے لگی ،یعنی خاموشی سے دفع ہونے کا کہہ دیا رک جا؛ کھانا کھا کر جانا جیسی فارمیلٹی تو دور کی بات تھی ۔ اسے غصے کے ساتھ جلدی بھی تھی تاکہ عثمان کے گھر جا کر کھانا وغیرہ بنانے میں مدد کر سکے ،صرف کیک ہی باہر سے آنا تھا ۔‘‘باقی کھانا گھر میں بنانا طے ہوا تھا۔ ‘‘

’’اپنے بھائیوں کی تعریفیں کروا لو اس عورت سے اور ہمارے بھائی کو رات دن زہریلی نما باتیں سنا سنا کر ہم سے بدظن کر ڈالا ہے ۔‘‘ شازیہ نے تیز قدم اٹھاتے اولاد کے سامنے شکوہ کیا تھا۔

’’مما !کتنی بار کہا ہے منور ماموں کے گھر نہ جایا کریں پر نہیں آپ کو اپنی انسلٹ بھی کروانی ہوتی ہے ساتھ ہمیں بھی زبردستی ڈوز دلوانی ہوتی ہے ۔ ‘‘

’’آنا نہیں چھوڑ سکتے بچو. تم لوگ چھوٹے ہو ،تمہیں ان نزاکتوں کی سمجھ کہاں .۔ صبیحہ یہی تو چاہتی ہے ۔کبھی کبھار کا آنا بھی چھوڑ دیں تاکہ منور سے کہہ سکے دیکھو تمہارے اپنوں نے مکمل چھوڑ دیا۔‘‘ میرے بھائی تو بہت اچھے ہیں کیسے ،ساتھ مل کر چل رہے ہیں۔ ‘‘

’’آپ ماموں کو کال کرکے مامی کا سلوک بتا دیا کریں ۔ ‘‘

’’وہ یقین نہیں کرتا ،کوئی فائدہ نہیں ۔‘‘ شازیہ نے بات ختم کرکے میکے کے گھر کا دروازہ کھول لیا۔ اسے معلوم تھا چھوٹی بھابھی حیران ہو گی کہ کیا دروازے کو ہاتھ لگا کر واپس آئے ہو ،کچھ دیر تو بیٹھ کر آتے ۔

٭٭٭

’’ پھوپھو! علیزے آپی کی پھوپھو اسے کتنے گفٹ دیتی ہیں ،آپ بھی مجھے گفٹ دیا کریں نا۔‘‘ یہ نبیہا کی بھتیجی تھی جو پرتکلف کھانے اور کیک کے بعد علیزے کو پھوپھی کا دیا تحفہ کانوں میں پہنے دیکھ کر نبیہا کا بازو ہلا رہی تھی۔

’’ارے گڑیا !علیزے کی پھوپھو ٹھہری امیر عورت جس کا میاں باہر سے ریال بھیجتا ہے تمہاری پھوپھیاں غریب ہیں جن کے میاں یہیں پاکستان میں دھکے کھاتے ہیں ۔اس لیے بھئی ہم تو صرف خلوص دل سے پیار ہی کر سکتے ہیں۔‘‘ نبیہا کی بہن فریحہ کے بیان پر قہقہے ابھرے تھے ۔

’’کہاں کی امیر بہن !میرا تو اپنا میاں پردیس میں مزدوری کرتا ہے بس بھتیجی کی فرمائش ٹالی نہیں گئی۔

’’ہمارے بچوں کی تو دو دو پھوپھیاں ہیں آرام سے ٹال جاتی ہیں ،آپ جیسی پھوپھو قسمت والوں کو ملتی ہے ۔

نبیہا کی بھابھی نے صاف دونوں نندوں پر طنز کیا تھا۔ محفل کی فضا بوجھل سی ہو چکی تھی ،ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ صبیحہ کا دل اپنے گھر جانے کو اتا؛لا ہوا ورنہ تو بچے اکتا جاتے تھے ،وہ بھائی کے گھر برتن تک بھابھی کے ساتھ سمیٹ کر نکلتی تھی ،اب گھر جانے کو اٹھ کھڑی ہوئی۔

’’آپی !رک جائیں ۔ہم نے بھی تو جانا ہے اکٹھے ہی نکلیں گے ۔ ‘‘

’’ارے نہیں تم لوگوں نے تو سواریوں پر شہر کے دوسرے کونے میں جانا ہے میرا تو یہ گھر ہے اس لیے میں چلتی ہوں ۔ ‘‘

٭٭٭

گھر آ کر بچے تو سو گئے لیکن اس کی طبیعت بے چین رہی ۔نہا کر آنے کے بعد بھی سکون نہ ملا ۔ سیانے سچ ہی کہتے ہیں ۔شروعات بھلی ہو تب ہی انت بھلا ہوتا ہے ۔مجھے تو صبح ہی ٹینشن شروع ہو گئی تھی کہ علیزے کے لیے ٹاپس لینے پر تاشی ناراض ہوگی، وہی بات ہوئی ۔ اس پر نویدہ آپا نے شازیہ کی گفتگو بتا دی پھر شازیہ بھی اسی وقت ٹپک پڑی۔ آج ایک سے بڑھ کر ایک بوجھل واقعات ہوتے رہے جب شروعات ایسی ہوئی تو اختتام پر بھی یہی کچھ ہونا تھا۔ کیسے نبیہا کی بھابھی اس پر طنز کر رہی تھی گویا میرا بچی کو ٹاپس دینا مصیبت بن گیا ہو۔ اب عثمان کہاں سے اتنے پیسے سسرال پر لٹاتا پھرے ،بات کرتے ذرا جو اس عورت نے سوچا ہو کہ نند کون سا نوکری کرتی ہے جو اپنی جیب سے بھتیجی کی فرمائش پوری کر دے ۔ ‘‘

اس کا آج کا دن بوجھل بنانے کا سبب بننے والی ایک کے بعد ایک سوچ اس کی دماغ میں چلتی جا رہی تھی ۔ آخر میں آ کر اسے اپنے بھائی سے ہی ہمدردی ہوئی ۔بھابھی کی بھابھی پر غصہ آتا رہا کہ عثمان کیوں ایسے قیمتی تحائف دے ،اسے اپنے بچوں پر پیسے لگانے چاہئیں بیوی کے بھائیوں کی اولاد پر نہیں، نبیہا کی بھابھی کس قدر بے مروت ہے وغیرہ وغیرہ۔ عجیب بات تھی اس سارے تجزیے میں اسے اپنے شوہر کی کمائی یا اپنے دو رخے کردار کا خیال تک چھو کے نہ گزرا۔ اچانک ہوئی موبائل کی بیل سے اسے جھٹکا سا لگا تھا۔

’’کیا حال ہے بیگم صاحبہ ، آپ نے تو کال نہ کی ۔میں نے سوچا میں ہی کر لوں ،شاید عثمان کی طرف سے آ ہی چکی ہو۔ ‘‘منور کا فون تھا۔

’’ادھر سے تو کافی دیر پہلے آ گئی تھی۔‘‘ صبیحہ نے بوجھل سانس لی ۔

’’خیر ہے بڑی آہیں بھر رہی ہو ۔آواز بھی ڈھیلی سی ہے طبیعت ٹھیک ہے ؟ اَدھر سے اتنی جلدی کیسے آگئیں ؟‘‘ اس نے ایک ہی سانس میں فکر بھرے سوالات کی بوچھاڑ کر ڈالی ۔

’’طبیعت تو ٹھیک ہی ہے ۔بس دل بوجھل تھا تو کیک کاٹنے کے فوراً بعد بچوں کو لے آئی تھی وہ تو آتے ہی سو بھی گئے ۔ ‘‘

’’تمہارا دل کیوں بجھا ہوا ہے ؟ ‘‘

’’منور !میں صبح علیزے کے لیے تحفہ خریدنے بازار گئی تھی میری بری قسمت کہ مجھے بازار میں نویدہ آپا مل گئیں۔ کاش میں آج نہ جاتی یا بچی کو تحفہ ہی نہ دیتی دراصل میں آپ کی سیلری کا انتظار کر رہی تھی آپ کو پتا تو ہے ۔عام بیویوں کی طرح پیچھے پڑ کر پیسے منگوانے کی میری عادت نہیں ،رات آپ نے پیسے بھیجے ۔صبح میں عبداللہ کو ساتھ لے کر تحفہ خریدنے چل پڑی۔ ادھر نویدہ آپا نے بتایا ،شازیہ ہے میرے بارے میں کیسی کیسی باتیں کرتی ہے۔ ہر جگہ مجھے بدنام کر رکھا ہے کہ میں آپ کی کمائی میکے پر لٹا رہی ہوں ۔ آپ کو پتا تو ہے ،ہمارے گھر کا کتنا خرچ ہے۔ ہمارے تو اپنے خرچے پورے نہیں ہوتے ،بمشکل چند ہزار بچاتی ہوں صرف عثمان کی وجہ سے ۔ اللہ عثمان کا بھلا کرے کتنی ہی چیزیں لا دیتا ہے پیسے پوچھتا نہیں میرے دینے پر بھی نہیں لیتا۔ سارا دن ہمارے گھر کا اے سی بند رہتا ہے ۔عثمان کہتا ہے آپی ،دن کو اپنی بجلی بچایا کرو میری طرف رہا کرو ۔ ایسی سوچ ہے میرے بھائی کی ۔وہ میرے پیسے کیا کھائیں گے ،آپ کے بہن بھائیوں نے اپنے جیسے لالچی سمجھ رکھے ہیں۔ ایسی باتیں سن کر صبح سے ہی اداسی نے گھیر رکھا ہے بچی کو ذرا سا تحفہ دیتے بھی یہی باتیں کلیجے پر کچوکے لگاتی رہیں کہ میں میکے پر لٹا رہی ہوں۔‘‘

لہجے میں خود ہی نمی گھل گئی صبیحہ اپنی آج کی کیفیت بالکل سمجھ نہ پا رہی تھی جانے کیوں رونا آ رہا تھا ۔تاشی کے احساسات کی وجہ سے یا شازیہ کے سچ پر یا پھر نبیہا کی بھابھی کے طنز پر. اسے معلوم نہ تھا۔ کون سی بات منور کے سامنے اسے رونے پر مجبور کر گئی۔

’’ارے نیک بخت !کن باتوں پر رو رہی ہو جو مجھے تم سے پہلے ہی پتا ہیں۔ ‘‘

’’کیا مطلب ؟ ‘‘

’’مطلب یہ کہ مجھے اصغر بھائی نے کافی مہینے پہلے بتایا تھا ،شازیہ ،نازیہ حتی کہ سارے میرے بہن بھائی اس کے گھر یہ ساری باتیں کرکے گئے تھے ۔‘‘ اصغر ، منور کا کزن تھا۔

’’ہاااااا. آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں ؟‘‘ صبیحہ نے لمبی آہ کھینچ کر کہا۔

’’اسی لیے نہیں بتایا کہ میری شہزادی بیوی کا دل دکھے گا ،روئے پیٹے گی۔ ‘‘منور ہنسا ۔

اسے جانے کیا ہوا پھر سے رو پڑی ۔

’’پگلی !روتی کیوں ہو، اس میں نیا کیا ہے۔ شادی کے اول روز سے تمہیں ان کی عادتیں پتا چل گئی تھیں میں نے ان کے رویے پرکھ لیے تھے ۔ جب مجھے ان کی باتوں کی اصلیت پتا ہے تو تمہیں فکر کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ۔ میں تو جیتا اور کماتا ہی تمہارے اور اپنے بچوں کے لیے ہوں سدا کماتا رہوں گا ،تم دل کھول کے خرچ کیا کرو۔ کسی کی باتوں کی ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ، میں جو بیٹھا ہوں۔‘‘

’’ہاں یاد آیا منور !میں بازار سے نویدہ آپا کی زبانی شازیہ کی باتیں سن کر غصے اور ٹینشن میں گھر لوٹی تو شازیہ بڑے دونوں بچوں کے ساتھ ٹپک پڑی۔ ‘‘

’’اچھا پھر . ‘‘

’’پھر کیا میرا دل دکھا ہوا تھا ، مجبوری میں تیار ہوئی تھی کہ عثمان کی طرف چلی جا؛ں ۔آپ کو پتا تو ہے دن کو بچوں کو ادھر لے جاتی ہوں تو بس میں نے بھی کھانا کھا کر جانے کا نہیں کہا بلکہ صاف بتا دیا۔ دعوت پر جا رہی ہوں ۔ اب شازیہ مزید پتا نہیں کتنی باتیں بنائے گی۔ ‘‘

’’کہا تو ہے بنانے دو ۔پرواہ ہی نہ کرو یار، میری بیوی ہو کر بزدل بن رہی ہو۔

ببر شیر جیسا جگرا ہے تیرے شوہر کا ۔شیرنی بن کر رہا کر ۔

وہ ہنستی رہی . شریک حیات کی باتوں نے دل پر ایسی شبنم ڈالی کہ اسے منور کی باتیں سنتے سنتے جانے کب نیند آ گئی ۔ منور نے خود ہی کال کاٹی تھی ۔

٭٭٭

علیزے کی سالگرہ کو دو دن ہو چکے تھے۔ شدید گرمی میں بھی صبیحہ پہلے جیسی پرسکون تھی ،اداسی منور کی باتوں کی وجہ سے چھٹ چکی تھی ۔اس لیے وہ حسب معمول بچوں سمیت سارا وقت عثمان کی طرف گزار رہی تھی۔

’’بچو !! جلدی بتا دو ۔ناشتہ کیا کھانا ہے ؟ ‘‘

’’مما ، چنے ، حلوہ پوری منگوا لیں پلیز.‘‘ اسد اللہ نے فرمائش کی۔

’’مما! حلوہ پوری منگوانی ہے نا تو پھر ناشتہ ہم نے اپنے گھر ہی کرنا ہے ۔ پیسے بھی ہمارے ہوتے ہیں ۔آپ ماموں کے گھر لے جاتی ہیں، وہاں آپ چھوٹے چمچ سے ذرا سا حلوہ ذرا سے چنے پلیٹ میں ڈال دیتی ہیں کیونکہ آپ نے سب کو پورا کرنا ہوتا ہے ۔ ہمارے حصے میں اچھی طرح کھانا بھی نہیں آتا پیسے بھی ہمارے ۔کمپرومائز بھی ہم کرتے ہیں۔ علیزے لوگوں کو مفت میں ہمارے برابر کھانا مل جاتا ہے ۔ ‘‘

’’اوئی اللہ .۔ تاشی تمہاری زبان کاٹنے والی ہے ۔دو تین مہینے سے میں نوٹ کر رہی ہوں ماموں ممانی کے گھر کے پیچھے ہی پڑ گئی ہو۔ کون سکھا رہا ہے تمہیں ایسی گھٹیا باتیں . کیا ددھیال سے ملتی ہو؟ سکول میں پھوپھیاں تو ملنے نہیں آنے لگیں؟‘‘

صبیحہ نے بیٹی کو کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ ڈالا۔ تاشی ماں کی سخت گرفت میں بلبلا کر رونے لگی۔

’’صبح صبح ڈرامہ شروع ہو گیا ہے ،صرف ماموں کے گھر میں سکون سے رہتی ہو ۔اپنے گھر میں تو آپ دونوں ہر وقت لڑتی رہتی ہیں۔‘‘

عبداللہ بھی بہن کی طرح ٹین ایجر تھا دونوں سمجھ دار ہورہے تھے پر صبیحہ سمجھ نہیں پا رہی تھی، کیسے بڑی ہوتی اولاد کو ہینڈل کرے ۔ دونوں بچے عمر کے نازک دور سے گزر رہے تھے ،ان کے جذبات ہر وقت ہائی رہتے تھے ہر چھوٹی بات بھی تاشی کو بری طرح محسوس ہوتی تھی صبیحہ اس کی کیفیت سمجھنے کے بجائے بچی کو ددھیال کے طعنے دینے لگتی تھی۔

’’مما آپی ٹھیک کہہ رہی ہیں حلوہ پوری ہم اپنے گھر میں کھائیں گے پیٹ بھر کر ، ماموں کے گھر مجھے تھوڑا سا حصہ ملے گا ۔باقی آپ اور ممانی پراٹھا سامنے رکھ دو گے ۔ ‘‘اسد اللہ نے بھی منہ بسور کر بہن کی تائید کر ڈالی۔

’’ٹھیک ہے ۔ہم ناشتہ کرکے ماموں کے گھر جائیں گے ۔‘‘ عبداللہ نے بڑا بیٹا ہونے کے ناتے بات ختم کی اور اپنی سائیکل لے کر حلوہ پوری لینے چلا گیا۔ صبیحہ نے واشنگ مشین میں کپڑے ڈالتے ہوئے اپنے موبائل کی بیل سنی تھی۔

’’تاشی! دیکھو کس کی کال ہے تمہارے بابا تو اس وقت کام پر ہوتے ہیں ۔کسی اور کی ہوگی ۔ ‘‘

’’مما چھوٹی !ممانی کال کر رہی ہیں لیکن آپ کے فون کی بیٹری ڈیڈ ہو گئی ہے ،فون بند ہو چکا۔ ‘‘

’’فون کیسے بند ہو گیا ۔میں نے تو اٹھتے ہی چارج پر لگایا تھا۔ ‘‘

’’مما صرف چارج پر لگایا ۔بٹن آن کرنا بھول گئیں۔‘‘

’’لو میں سمجھی بٹن آن ہے، کس نے آف کیا تھا؟‘‘

’’میں نے آف کیا تھا مما! ہمارے فزکس کے سر نے کہا ہے ،سارے گھر کے سوئچ آف رکھا کریں ضرورت کے وقت ہی آن کرنے چاہئیں۔‘‘

’’اب سوئچ آن کرو تاکہ میرا فون چارج ہو جائے ۔تمہارے فزکس کے سر کی وجہ سے بند فون میرا سر درد بن گیا ہے ۔ ایسا کرو عبد اللہ کے موبائل سے ممانی کو کال ملا کر دو ۔اس سے بات تو کر لوں جب تک میرا فون چارج ہوگا ۔کیا پتا وہ مصروف ہو جائے۔ ‘‘

’’ذیشان ، بچے سب ٹھیک ہیں ؟ ‘‘

’’جی آپی ٹھیک ہیں۔ ‘‘

’’بڑے دنوں بعد یاد کیا۔ ‘‘

’’آپ نے تو نہیں کیا نا، میں نے ہی کیا ہے آپ کو تو بس نیہا بھابھی اور ان کے بچے ہی پیارے ہیں۔ ‘‘

’’حق ہاااا .۔ کیا بول رہی ہو فائزہ ، مجھے تو ذیشان ، تم اور تم لوگوں کے بچے بھی اَتنے ہی پیارے ہیں۔ ‘‘

’’جانے دیں آپی !صرف منہ دیکھیے کی باتیں ہیں ۔روکھا سوکھا پیار ۔ ‘‘

’’کس نے کہہ دیا روکھا سوکھا پیار ؟ ‘‘اس کے لاڈ بھرے نروٹھے انداز اور شکوے صبیحہ کو قہقہہ لگانے پر مجبور کر گئے۔

’’علیزے کی سالگرہ پر آپ نے اسے گولڈ کے ٹاپس دیے ، پچھلے مہینے عثمان بھائی کا بجلی کا آدھا بل بھرا ۔ راشن سبزی سب آپ منگواتی ہیں ،ان کے گھر ان سے شئیر کرکے کھاتی ہیں۔ ہم پھر بھی روکھا سوکھا پیار نہ کہیں؟ ‘‘

’’فائزہ !تمہیں یہ سب کس نے بتایا؟‘‘ صبیحہ اب سنجیدہ ہو گئی ،لا؛ڈ سپیکر کی وجہ سے تاشی بھی ساری گفتگو سن رہی تھی۔

’’خبر مل ہی جاتی ہے ،الگ شہر ہونے کی وجہ سے بس ذرا تاخیر سے خبر پہنچتی ہے پر پہنچ ضرور جاتی ہے ۔ ‘‘اب فائزہ ہنس رہی تھی۔

اس کی کال کے دوران ہی عبداللہ ناشتہ لے آیا لا؛ڈ اسپیکر پر بات کرتے ہوئے اس نے ناشتے کے لوازمات بھی سجا لیے ۔ عبداللہ نے دستر خوان پر بیٹھتے ہوئے اے سی کو سولہ پر سیٹ کیا تو صبیحہ کو بولنا پڑا۔

’’عبداللہ !ایک تو ابھی سے اے سی آن کر لیا ہے ۔اوپر سے سولہ پر سیٹ کر دیا۔ ‘‘

’’مما ، میں سائیکل چلا کر آ رہا ہوں ،گرمی سے میری جان نکلنے والی ہو گئی ہے ۔ ‘‘

’’اللہ نہ کرے ،کیسی بد فال منہ سے نکال رہے ہو۔ ‘‘

’’آپی ، مانی کہہ رہا ہے پھوپھو اسے بھی عبد اللہ بھائی جیسی سائیکل لے کر دےں۔ ‘‘

فائزہ نے اسے پھر سے کال کی طرف متوجہ کیا سائیکل لفظ سن کر ساتھ ہی اپنے مطلب کی بات بھی کر ڈالی۔

نبیہا اور اس کی دیورانی جیٹھانی والی جنگ چلتی رہتی تھی ان حالات میں صبیحہ کو اکلوتی نند ہونے کی وجہ سے مشکل بھی پیش آ جایا کرتی تھی جیسے ابھی فائزہ مکمل ناراض تھی ۔اسے جب تک علیزے کے تحفے کے برابر شے نہ مل جاتی اس نے چین نہ لینا تھا۔

’’پھوپھو قربان جائے جب میرے پاس آئے گا تو اپنے شہزادے کو سائیکل بھی لے دوں گی۔ ویسے فائزہ تمہیں یہ سب کس نے بتایا ؟ ‘‘

’’عثمان بھائی نے ذیشان کو بتایا ۔ذیشان نے مجھے ۔ دراصل ذیشان نے عثمان بھائی کو کال کی تھی کہ ہمارے پچاس ہزار واپس کرے ہمیں ضرورت ہے، آگے سے عثمان بھائی نے کہا کہ ان کے حالات تنگ چل رہے ہیں ۔بزنس سیٹ نہیں ہوا ۔گھر کا خرچا تک آپ کی وجہ سے چل رہا ہے بجلی کا بل ، پانی کا بل ، کچن وغیرہ سب میں آپ مدد کرتی ہیں۔ علیزے کے گفٹ کا خود علیزے نے بتایا ہے ۔میں نے علیزے کو برتھ ڈے وش کرنے کے لیے کال کی تھی تب اس نے بتایا۔ ‘‘

’’ہاں بس ایسا ہی ہے ،عثمان کا کاروبار اچھا نہیں چلتا اسی لیے اس کے ساتھ تھوڑا بہت تعاون کردیتی ہوں۔ سونے کے ٹاپس نہیں لونگ ہیں اتنے مہنگے ٹاپس مجھ سے کہاں خریدے جاتے بھلا ۔ فائزہ تم لوگ بھی پچاس ہزار کے پیچھے ہی پڑ گئے ہو ،پتا تو ہے ۔اس کے حالات ٹائٹ چل رہے ہیں۔ ‘‘

’’ارے آپی !کوئی حالات ٹائٹ نہیں ہیں۔ ان کا کاروبار بہت اچھا جا رہا ہے چھ لاکھ کی کمیٹی اسی مہینے نکلے گی۔ دیکھنا کسی کو بھاپ بھی نہ لگنے دیں گے۔ دونوں میاں بیوی ملی بھگت سے آپ کا فائدہ اٹھاتے ہیں ۔آپ سدا کی بھولی لٹتی جا رہی ہیں ساتھ ہمیں بھی کہہ رہی ہیں ۔پچاس ہزار چھوڑ دیں۔ نہ بابا حق حلال کی کمائی ہے ۔ایسے کسی کو کیسے بخش دیں اتنا حوصلہ آپ ہی کا ہے جو کبھی بل بھرتی ہیں تو کبھی واش بیسن بدلوا کے دے رہی ہوتی ہیں۔ ‘‘

صبیحہ نے ناشتے کی پلیٹ دھکیل کر پیچھے ہٹائی اور بہن بھائیوں کو ایک دوسرے کا احساس کرنا چاہئے پر دلائل کا آغاز کیا۔

’’دیکھو فائزہ !تم دونوں مجھ سے عمر میں بھی چھوٹی ہو اور رشتے میں بھی، اس لیے سمجھانا میرا فرض بنتا ہے ،یہ ہم عورتیں ہی ہیں جو بھائیوں کو بھائیوں سے دور کرتی ہیں ،میرے دو ہی بھائی ہیں ۔میرا دل کرتا ہے تم لوگ ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ نبھا؛ احساس کرو۔ ‘‘

’’آپی !تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ہم اور آپ اکیلے احساس کرتے رہیں اور وہ پیٹھ پیچھے ہمیں بے وقوف کہتے رہیں ایسے احساس سے ہم بے احساس ہی بھلے ۔ ‘‘

’’کون کس کو بے وقوف کہتا ہے ۔ ‘‘

’’کہنے والے تو آپ کو بھی کہتے ہیں میں نام لوں گی تو آپ کو یقین نہیں آئے گا ۔اس لیے رہنے ہی دیں۔ آپی میں پھر کال کرتی ہوں ۔انوشے کو فیڈر دے دوں۔ ‘‘

ٹھیک ہے ۔اللہ حافظ

’’دونوں ماموں اور ممانیاں ایک دوسرے کے بہت خلاف ہیں ۔میں نے نوٹ کیا تھا خاص کر فائزہ ممانی تو نبیہا ممانی سے بہت چڑتی ہیں ہے نا مما؟ ‘‘

’’ہوں بات تو تمہاری ٹھیک ہے ۔ ‘‘

عبداللہ نے بات کرتے ہوئے بہن کے دوپٹے سے چکنے ہاتھ صاف کیے تو وہ چیخ ہی پڑی۔

’’بدتمیز ، جاہل ۔‘‘

’’تم خود ہوگی ۔ ‘‘

’’بس کر دو دونوں ، کبھی تو سکون کر لیا کرو۔ تاشی !چیخنے کی کیا ضرورت ہے دوسرا دوپٹہ لے لو واشنگ مشین چل رہی ہے ۔میں دھو دیتی ہوں۔ ‘‘

ماں کی حمایت پر عبداللہ نے بہن کو مزید چڑایا تو اس نے ماں کے ہاتھ سے اس کا موبائل پکڑ لیا۔

’’تمہارا ابھی علاج کرواتی ہوں ۔میں نے تمہارے سیل پر کال ریکارڈنگ آن کر رکھی ہے ابھی مما کو سناتی ہوں کس کس سے کال کرتے ہو ۔کون سے دوست کے ساتھ پروگرام بنا کر ٹیوشن سے گیم کھیلنے جاتے ہو۔ ‘‘

’’میں جاتا ہی نہیں ہوں نہ میں کسی کو کال کرتا ہوں نہ مجھے کسی کی کال آتی ہے ۔ ‘‘

’’ابھی پتا چل جائے گا موٹو !تم دیکھنا ذرا ۔ ‘‘

’’بے شک ساری ریکارڈنگ چیک کر لو۔ کچھ نہیں ملے گا۔ مما نے ماموں کی بیٹھک میں ٹیوٹر کو بلوا کر سارے راستے بلاک کر رکھے ہیں۔‘‘

صبیحہ اپنے گھر کے بجائے ٹیوٹر اپنے بھائی کے گھر بلاتی تھی۔ عبد اللہ بہن کو چڑاتے ہوئے واش روم میں گھسا تو صبیحہ تاشی کا دوپٹہ لے کر باہر واشنگ مشین کے پاس چل دی۔ وہ تار پر سوکھنے کے لیے کپڑے ڈال رہی تھی جب پیلے فق رنگ کے ساتھ تاشی نے اس کے ہاتھ میں عبداللہ کا فون تھمایا۔

’’مما ! ممانی اور فریحہ آنٹی کی کال ریکارڈنگ ہے ، میں نے عبداللہ کے فون پر اسے بتائے بغیر ریکارڈنگ آن کی تھی ۔ آپ کو پتا ہی ہے ممانی کا پیکج نہ ہو تو وہ ہم سے موبائل لے کر کال کرتی ہیں ۔ ممانی نے عبداللہ سے موبائل لے کر فریحہ آنٹی سے بات کی جو ریکارڈ ہو گئی ہے ۔آپ سن لیں ۔میں نے تھوڑی سی ہی سنی ہے ۔آپ کے ہی خلاف ہے ۔ ‘‘

تاشی کا پیلا فق رنگ اور بھری ہوئی آنکھیں بتا رہی تھیں ۔اسے ماں کے بارے میں کی گئی گفتگو سے کتنی تکلیف پہنچی ہے ،اس نے فوراً موبائل اس کے ہاتھ سے لے لیا۔ رسمی کلمات کے بعد کی گفتگو وہ اکیلے کمرے میں بیٹھ کر سننے لگی ۔بچے اے سی روم میں تھے ۔

٭٭٭

’’میری نند بھی تو چورنی ہی ہے ،اپنے میاں سے چوری عثمان کو پیسے دے دے کر اس کا دماغ خراب کر دیا ہے۔ ‘‘

’’آہستہ بولو ۔کہیں عبداللہ نہ سن لے ۔ ‘‘

’’اس کا ٹیوٹر آ گیا ہے ۔اب ٹیوشن پڑھے گا اس لیے گھنٹہ بھر اطمینان رکھو ۔بڑی مشکل سے آج تم سے بات کرنے کا موقع ملا ہے وہ ماں بیٹی خوش قسمتی سے اپنے گھر ہیں ۔میرا پیکج نہیں تھا اس لیے عبداللہ سے موبائل لائی ہوں ۔ کچھ پتا چلا امی کے گھر بھابھی اور اس کی چھٹانک بھر کی سپوتری نے شور ڈالا ہوا ہے کہ میں اور تم بھتیجی کو تحفے نہیں دیتیں اور یہ کہ میری نند تو میری غلام ہے ۔میرا سارا کام وہ کرتی ہے ۔قیمتی تحفے وہ دیتی ہے ۔بدلے میں ، میں پھر بھی اسے جوتے کی نوک پر رکھتی ہوں ۔ کاش ہمارا بھائی مجھے بھی میری نند جیسی نند بننے کاموقع دیتا تو بھابھی کو لگ پتا جاتا ۔‘‘

’’اف اللہ ، اس صبیحہ کی وجہ سے تمہیں کس کس مصیبت سے گزرنا پڑتا ہے ۔‘‘

’’تو اور کیا. اس عورت نے اول روز سے بھائیوں کو گود لے رکھا ہے ۔ذیشان کا سرگودھا تبادلہ ہوا اور فائزہ کی اس سے جان چھوٹ گئی پر میری تو ساری زندگی نہیں چھوٹنی ، گھر ساتھ ہے ۔اوپر سے عثمان نے علیزے بھی اسے ہی دینی ہے ،اگر عبداللہ باپ کی طرح باہر ملک گیا تو ، میری زندگی میں یہ عورت اور اس کے پیدا کردہ مسائل تو لازم ملزوم ہیں۔ بھائیوں کو منا کاکا بنا رکھا ہے ۔صبح اٹھتے ہی ادھرحملہ کرتی ہے رات گئے واپس جاتی ہے ۔اس کی بھائی پرستی نے جہنم دہکا رکھا ہے ، ہمارا میاں بیوی کا رشتہ ہی نہیں پنپنے دیا جو بات میں نے عثمان کو سنانی ہوتی ہے یہ مجھ سے پہلے سنا دیتی ہے ،جب میں بولنے لگتی ہوں وہ کہتا ہے ۔آپی نے بتا دیا ہے ۔ اس نے میرے بات کرنے کوکبھی بات ہی نہیں چھوڑی۔ ‘‘

’’نیہا اپنا بلڈ پریشر نہ ہائی کرو ہزار بار تو تم نے یہ دکھ شئیر کیا ہوا ہے ۔کوئی نئی بات تھوڑی ہے جو جذباتی ہو رہی ہو۔‘‘

’’لاکھ بار بھی اس پر بول لوں تو دکھ کم نہیں ہوگا میں تمہیں اس کیفیت کا بتا نہیں سکتی جب میں نے بچوں کی کوئی بات عثمان سے خود شئیر کرکے خوشی بانٹنی ہوتی ہے ،یہ مجھ سے پہلے ،زیادہ ماں بنتے ہوئے اسے پکڑ کر ساری بات بتا دیتی ہے پھر میرا موڈ آف دیکھ کر عثمان مجھے سڑیل اور پتا نہیں کیا کیا کہتا ہے ۔

میری تو یہی سمجھ میں نہیں آتا یہ بھتیجے بھتیجی سے اتنا پیار کر کیسے لیتی ہے آج کل تو ایسی پھوپھیاں کہیں نہیں ہیں پھوپھو پر جتنی میمز بنی ہوئی ہیں ،اسی سے اندازہ لگا لو۔

’’یہ ان پرانے زمانے کی عورتوں میں سے ہے جنہیں شوہر اور اولاد عزیز نہیں ہوتی ۔بابل بابل کرتی بین ڈالتی رہتی ہیں بھائی اور ان کی اولاد کو ہی اپنی نسل سمجھتی ہیں ۔بھابھی کی خوشامد کرتی ہیں کہ میرے باپ کی نسل آگے بڑھا رہی ہے ،باپ بھلے انہیں وراثت سے عاق کرکے مرا ہو ۔ان کے ڈرامے ختم نہیں ہوتے ۔ فریحہ !مجھے حیرت ہوتی ہے کہ کس مٹی سے بنی ہے یہ عورت ،جتنا مرضی منہ بنا لوں یہ جان نہیں چھوڑتی ۔الٹا مزید آگے پیچھے پھرنے لگتی ہے ۔ کاش اس کی سمجھ میں آئے اس نے کس طرح میرا دل خالی کیا ہوا ہے ۔اپنے بھائی کو لالچی بنا دیا ہے ،میری اولاد بھی یہ بات سمجھ چکی ہے۔ پھوپھو سے پیسے نکلوانے ہیں ۔یہ سب عثمان نے جان بوجھ کر انہیں سکھایا ہے ۔ اسے احساس ہی نہیں ہے کہ شوہر پر ظلم کر رہی ہے ،شوہر کی کمائی چوری چوری کھلا کر اپنی طرف سے رشتے جوڑ کر رکھنے والی دادی اماں بنی پھرتی ہے ۔اتنی رشتے جوڑنے والی تھی تو سسرال سے بھی جڑ کر رہتی نا۔ ‘‘

’’ہاں بالکل ۔ان کی شکل دیکھنے کی روادار نہیں شوہر کو بھڑکا بھڑکا کر اپنے بہن بھائیوں سے بدظن کر رکھا ہے اور تم دیکھو ہماری بھابھی صاحبہ اس کو آئیڈیل نند کہتی ہیں۔‘‘

’’ میں نے سینکڑوں بار بتایا ہوا ہے، یہ چڑیل صبیحہ پوری ڈاکو رانی ہے ،میاں کو زیادہ خرچے بتا بتا کر چوری ۔بھتیجی بھتیجوں کو تحفے دیتی ہے ۔سارا سسرال اس کی چوریوں کو جانتا ہے ۔بس منور ہی اندھا یقین رکھتا ہے ۔ ہم اس عورت کی طرح چوریاں نہیں کر سکتیں نہ ہمارے خاوند ہمیں خرچا دیتے ہیں۔ عثمان منہ پر ہنس ہنس کر بہن سے مدد لیتا ہے۔ میرے سامنے کہتا ہے عورت سے بڑا چور کوئی نہیں ۔ تمہیں ذرا سی رقم پکڑا دوں تم ۔بھی آپی کی طرح مجھ سے چوری میکے کو کھلا دو گی۔ کیا بتا؛ں فریحہ عثمان تو آج کل میرا پرس بھی چیک کر رہا ہے کہ کہیں میں بھی اس کو لوٹ تو نہیں رہی۔

دو مہینے کا بجلی کا بھاری بل آیا تو عثمان میرے ساتھ لڑ رہا تھا۔جیسے میرا قصور ہے اوپر سے یہ پھاپھے کٹنی عورت آ گئی ،فورا چالیس ہزار عثمان کے ہاتھ پر رکھ دیے کہ باقی خود سے ڈال کر بل بھر دو ۔کسی کو پتا نہ چلے ۔ رات کو جب اپنے گھر دفع ہو گئی تو میں نے کہا تمہیں بھی اپنی بہن جیسی بیوی ملنی چاہئے تھی۔ کہتا ہے ۔دوسرے دن کاغذ ہاتھ میں پکڑا دیتا ، ایسی بیوی کس کام کی جو شوہر سے مخلص نہ ہو۔ میں نے بھی صاف کہہ دیا کہ بہن کو بھی شوہر سے مخلص رہنے کا پاٹھ پڑھا دو۔

’’ابھی تو میاں باہر بیٹھا کما کما کر ریال بھیج رہا ہے ۔یہ عیاشی کر رہی ہے لٹا رہی ہے۔ کل جب میاں واپس آ گیا تو شاید تم لوگوں سے مدد مانگا کرے یا دیے ہوئے پیسے واپس مانگے ۔عثمان کو تب لالچ کی سزا ملے گی۔ ‘‘

’’ارے نہیں فریحہ ،ایسی نہیں ہے وہ ، بس بے وقوف ہے اچھا بننے کے لیے سب کرتی ہے ،چوری کی وجہ سے کسی سے بھی واپسی کا مطالبہ نہیں کر سکتی ۔اس کی تو ہر بار پیسے دیتے ایک ہی بات ہوتی ہے۔ کسی کو پتا نہ چلے منور کو خبر نہ ہو ۔ ذیشان دور رہتا ہے۔ دیتی دلاتی تو اس کے بچوں کو بھی کافی کچھ ہے لیکن عثمان پاس رہنے کی وجہ سے زیادہ فائدہ اٹھا رہا ہے ۔ ذیشان ،مجھے عثمان سے کم بے مروت لگتا ہے لیکن عثمان ہمارے بھائیوں سے بڑھ کر بے مروت ہے ،اگر کبھی اس نے کچھ واپس مانگا تو ایک منٹ میں ہاتھ پکڑ کر اسے گیٹ سے باہر کر دے گا۔ اس کے پاس ایک بھی ثبوت نہیں منور کے تو فرشتوں کو خبر نہیں۔ یہ عورت کیا کرتی ہے۔ ‘‘

’’آئے ہائے ! بس ہم بہنوں کی یہی قسمت ہے جتنی مرضی جان دے لیں ۔بھائی پھر بھی ہاتھ پکڑ کر نکال دیتے ہیں ۔ ‘‘

’’ چوبیس گھنٹے ادھر رہتی ہے ۔چھوٹے چھوٹے خرچ بنا کہے پورے کر دیتی ہے ۔عثمان کی سوچ ایسی بنا دی ہے کہ بہنیں بھائیوں پر نچھاور ہونے کے لیے ہی ہوتی ہیں ۔ان کے پیسے دھیلے پر بھائی کا پہلا حق ہے ۔ کنجوس ایسا ہو گیا ہے کہ میں جتنا مرضی رو پیٹ لوں مجال ہے ۔پاکٹ منی کے نام پر دھیلا بھی دے دے ۔ کہتا ہے ۔روٹی کپڑا رہائش سب تو مل رہا ہے پیسے کیا کرنے ہیں ،صبیحہ آپی کی طرح کرو گی۔ منافقت دیکھو اس شخص کی . اپنی بہن کا کھا رہا ہے ، بیوی اپنے بھائی سے سوکھی محبت سے بات کر لے تو بھی فکر پڑ جاتی ہے ۔ ‘‘

’’نیہا مجھے تو منور کی سمجھ نہیں آتی ۔کیا ذرا بھی حساب نہیں لیتا ،ایسا کاٹھ کا الو تو کبھی نہ دیکھا۔ ‘‘

’’وہ سچ میں کاٹھ کا الو ہے۔ میں نے نوٹ کیا ہے اسے اَس سے کوئی خاص لگا؛ نہیں جبکہ وہ تو اس کے عشق سے ہی نہیں نکل رہا۔‘‘

’’غلط کر رہی ہے صبیحہ ۔ایسے محبت کرنے والے شوہر کا استحصال کرنا بہت برے نتائج دیتا ہے ، خود نوکری کررہی ہوتی تو جیسے مرضی جس کو مرضی کھلاتی اس کی اپنی کمائی پر اسی کا حق تھا پر میاں کی کمائی اس سے چوری چھپے دوسروں پر لگانا اچھی عورتوں کا کام نہیں۔ ‘‘

’’یہی تو میں کہتی ہوں ،اپنی کمائی ہوتی تو جو مرضی کر لیتی پر مال مفت دل بے رحم والا حال ہے ۔ سسرالیوں کو منہ نہیں لگاتی ‘‘

’’میں تو کہتی ہوں ،عثمان بات کرنے پر لڑتا ہے تو تم ایک بار پھر سے صبیحہ کو اکیلے میں سمجھا کر دیکھ لو کہ وہ اپنے ساتھ ساتھ عثمان اور اپنے بچوں کا بھی نقصان کر رہی ہے ۔ اپنے بچوں کا بھی حق غصب کر رہی ہے ۔‘‘

’’کوئی فائدہ نہیں ہے فریحہ !وہ عورت ناشتہ بھی بھائی کے ساتھ کرنا پسند کرتی ہے ،میری بات کو بھابھی والی جیلسی سمجھ کر بغض ہی پالے گی ۔عثمان کو بھی لازمی بتائے گی ،وہ عثمان سے بات کیے بغیر زندہ ہی نہیں رہ سکتی۔ عثمان کے مزاج کا تو تمہیں پتا ہے ۔مجھے صاف کہتا ہے ،تمہیں میرا بہن سے مدد لینا نا پسند ہے تو دفع ہو جا؛ ، امی کے گھر ہم بہنوں کو بھائی بھابھی نارمل حالات میں برداشت نہیں کرتے، لڑائی کے بعد تو گیٹ پر بھی نہیں کھڑے ہونے دیں گے ۔ مجھے تو امی نے صاف کہا ہے ۔اب دو تین مہینے اَدھر کا چکر بھی نہ لگا؛ں تاکہ بھابھی صاحبہ بات بھول سکیں، بھائی کا مزاج بھی ذرا ٹھنڈا ہو سکے ۔ ‘‘

’’امی نے تمہیں ایسے کہا ہے تو مجھے بھی کہہ دیں گی ۔فکر نہ کرو ۔‘‘

’’فریحہ !میں سوچتی ہوں اس جہان خراب میں بہن کتنی بڑی نعمت ہے ہم متوسط طبقے کی عورتیں اپنے غم اور مسائل والدین یا شوہر سے بھی کھل کر ڈسکس نہیں کر سکتیں ،صرف بہن سے ہی کر سکتی ہیں۔ ‘‘

ایسی شدید گرمی میں اسے اتنا ٹھنڈا پسینہ آیا کہ بدن اینٹھنے لگا۔ حد سے سوا درد کی لہر میں اس نے کانپتے ہاتھوں سے ان دونوں بہنوں کی ریکارڈنگ ڈیلیٹ کی۔

٭٭٭

’’ ہائے ماں !میری چوریوں نے تم بہشتن کو بھی کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے ۔ اماں تم زندہ ہوتیں تو میں دھاڑیں مار مار کر گلے لگ کر پوچھتی ،مجھے خود سے چھوٹے بھائیوں کی ماں کیوں بنا گئیں؟ مجھے پہلے دن شوہر سے چوری بھائی کی مدد کرنے پر منع کیوں نہیں کیا۔ وہ دونوں بہنیں ٹھیک کہہ رہی ہیں۔ کون سا میری کمائی تھی جو آپ اور عثمان خوش ہو کر پکڑ لیتے تھے ۔ ‘‘

’’مما !آپ کس سے باتیں کر رہی ہیں؟ ‘‘اسد اللہ اور تاشی بخار میں پھنکتی روتی بلکتی ماں کو اکیلے گفتگو کرتے خوف زدہ نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔

’’عبداللہ جلدی جا؛ ۔ماموں کو بلا کے لا؛۔ کے سر کو بخار چڑھ گیا ہے ۔‘‘ تاشی نے ماں سے سنی ہوئی ٹرم بھائی کے گوش گزار کی۔

’’نہیں ۔میں ٹھیک ہوں میرا بچہ ،اب تو بالکل ٹھیک ہوں ۔کسی کو بلانے کی ضرورت نہیں ۔ صرف دو پینا ڈول دے دو اور جا کر ٹی وی دیکھو ۔پریشان نہیں ہونا ۔میں شام تک ٹھیک ہو جاؤں گی۔‘‘

’’مما ! ماموں کے گھر چلتے ہیں ۔‘‘ وہ تینوں یک زبان تھے ۔

’’نہیں بیٹا ،میں اپنے گھر میں ٹھیک ہوں ۔آپ تینوں بھی اپنے گھر رہو ۔جا؛ شاباش مجھے اکیلا چھوڑ دو۔ ‘‘

’’اماں ،مجھے لگتا تھا، میری نندیں اچھی بہنیں نہیں ہیں ۔بھائی بھابھیوں کا خیال نہیں رکھتیں۔ سازشیں کرتی ہیں ،بھابھی کی مدد نہیں کرواتیں بھابھی کے نخرے نہیں اٹھاتیں۔ میں تو بھابھی کے نخرے اٹھا رہی تھی بھائیوں سے پیار کر رہی تھی۔ بھتیجے بھتیجیوں پر جان چھڑک رہی تھی ،مجھے پتا ہی نہیں چلا کب اچھا بننے کے لیے سب خراب کر ڈالا۔ مجھے تو آج پتا چلا ۔میری نندیں مجھ سے بہت اچھی ہیں اپنے شوہروں سے مخلص ہیں ،ان کے پیسے چوری کرکے بھائی بھابھیوں تک نہیں پہنچاتیں بس وہ نند بھابھی والی چپقلش نہیں چھوڑتی تھیں ،میرے نخرے نہیں اٹھاتی تھیں لیکن وہ اپنے شوہروں کی اچھی بیویاں ہیں ۔‘‘

دوائی اور بخار نے اثر دکھادیا تھا وہ غنودگی میں چلی گئی۔

گہری نیند میں اسے عبداللہ دور سے پکارتا لگ رہا تھا بالآخر اسے جھنجھوڑ کر اٹھا دیا گیا۔

’’مما، نذر حسین انکل آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ ‘‘عبداللہ کی بھری آنکھیں ،سَتا چہرہ اور سراسیمہ سے تاشی اور اسد اللہ . کئی لمحے اسے حواس کی دنیا میں آتے لگ گئے ۔

’’بھابھی !مجھے پتا چلا ہے آپ بھی بیمار ہیں لیکن مجبوری ہے ،بات کیے بنا چارہ نہیں ہے ۔ ‘‘

کسی انہونی نے صبیحہ کا بخار زدہ جسم مزید اکڑا ڈالا۔

’’بھائی !خیر ہے منور کہاں ہیں؟ ‘‘

’’بھابھی !منور بھائی کے ساتھ حادثہ پیش آیا ہے وہ ہسپتال میں ہیں۔‘‘

’’الٰہی خیر.‘‘ اس کی چیخیں نکل گئیں ۔آج ہی اس شخص کی اہمیت پتا چلی تھی اور آج ہی وہ ہسپتال جا پڑا تھا۔

’’میری بہن !بات سنیں ۔‘‘ پر سنتا کون .

’’بھابھی پہلے میری بات تو سنیں.۔ شکر کریں ،جان بچ گئی ہے ،کوئی خاص جسمانی نقصان نہیں ہوا ۔ٹانگ فریکچر ہوئی ہے سر پر چار ٹانکے لگے ہیں ۔تھوڑی دیر تک ہوش آ جائے گا۔‘‘

’’یہ سب کیسے ہوا بھائی ؟‘‘ وہ اور بچے زار و قطار رو رہے تھے ۔پردیس کیوں پردیس ہے آج یہ حقیقت بھی اس پر کھل گئی۔

’’عمارت کی تیسری منزل کی تعمیر جاری ہے پیر پھسلا اور نیچے آ گرا۔ ‘‘

اسے حادثے کی تفصیل بتا کر نذر حسین نے اگلا مرحلہ بھی سمجھایا.‘‘

بھابھی یہاں علاج بہت مہنگا ہے ۔منور کی ٹانگ کے آپریشن کے لیے سینکڑوں عمانی ریال درکار ہیں کمپنی میڈیکل چارجز بعد میں ہماری ہی سیلری سے کاٹتی ہے ۔اس لیے میں نے آپ سے مشورہ کیے بغیراس کا یہاں آپریشن کروانے سے منع کر دیا ہے ۔میں اسے پاکستان آپ کے پاس بھیج رہا ہوں سستا اور بہترین علاج ہو جائے گا ۔ہر طرح کے تعاون کے لیے ہم ہر وقت رابطے میں رہیں گے ۔ اگر یہاں سے کرواتے تو کم سے کم بھی ڈیڑھ سال منور کمپنی کا مقروض ہو جاتا یا پھر کمپنی میڈیکل بیس پراگر اسے نوکری سے نکالنے کا فیصلہ کرتی ہے تو پہلے اسے لم سم اما؛نٹ میں پے منٹ ادا کرنی پڑے گی ورنہ کمپنی قانونی چارہ جوئی کر سکتی ہے ۔ یہاں سے ریال کما کر پاکستانی روپے کا قرض اتارنا بہت آسان ہے لیکن پاکستان سے ریالوں کا قرضہ اتارنا آپ کے لیے ناممکن ہو جائے گا ۔ آپ بات سمجھ رہی ہیںنا؟ ‘‘

’’جی میں سمجھ گئی۔ ‘‘

اسے فلائٹ کی ٹائمنگ اور ایئر پورٹ وقت پر پہنچنے کا کہہ کر اس نے کال ختم کی۔

٭٭٭

حالات ایسے بن چکے تھے کہ اسے اپنے بخار سمیت باقی کچھ یاد نہ رہا سوائے منور کے ، اس لیے عثمان اور دیور کے ساتھ وہ خود ایئرپورٹ پہنچی تھی۔ سوَجا ہوا چہرہ ،پٹیوں میں جکڑا سر ، عارضی پٹیوں سے باندھی گئی ٹانگ .. درد سے کراہتا بے حال وجود منور حسین تو لگا ہی نہیں ۔ پھٹتے کلیجے کے ساتھ دیور اور عثمان کے مشورے پر وہ لوگ گھر کے بجائے شہر کے اچھے آرتھوپیڈک سرجن کے کلینک پہنچے تھے۔

’’سر ،ایک لاکھ چالیس ہزار جمع کروا دیں تاکہ ہم پیشنٹ کو او ٹی لے جا سکیں ۔ ڈاکٹر صاحب خاص آپ کے مریض کے آپریشن کے لیے واپس کلینک پہنچنے والے ہیں۔ ‘‘

دیور اور بھائی دونوں نے اس کی طرف دیکھا.

’’بینک سے نکلوانے پڑیں گے۔ میرے دماغ نے کام نہیں کیا ورنہ پہلے نکال کر رکھتی۔ ‘‘

’’ابھی نکال لاتے ہیں ۔ ‘‘عثمان نے فورا پیشکش کی۔

’’آپ لوگ میرے بھائی کو او ٹی شفٹ کریں میں یہیں ہوں ۔بھابھی بینک سے رقم لا کر ابھی جمع کروا دیتی ہیں۔ ‘‘

’’نہیں سر! پے منٹ ایڈوانس ہے ۔ہم اس وقت تک کوئی ٹیسٹ تک نہیں کر سکتے جب تک پے منٹ نہیں ہو گی۔ ‘‘ریسپشنٹ نے خشک انداز میں بات ختم کی تو منور کی دل سوز آوازوں سے گھبرا کر ،وہ فوراً ہسپتال سے نکلی تھی تاکہ گھر سے چیک بک لے کر بینک سے پیسے نکلوا سکے۔

’’گھر میں آپ کے پاس کتنے پیسے پڑے ہیں آپی؟ ‘‘

روٹین کے خرچ کے پیسے پڑے ہوں گے بس اس نے سَتے چہرے کے ساتھ جواب دیا۔

’’کتنے ؟ ‘‘

’’دس ہزار کے قریب تو ہوں گے۔‘‘

’’بہت تھوڑے ہیں ۔دو لاکھ کا چیک کاٹیں ہسپتال، دوا وغیرہ کے باقی اخراجات بھی ہوںگے ۔ یہ تو پنڈلی کا سمپل فریکچر ہے تو تھوڑے پیسے لگ رہے ہیں اگر گھٹنے کا مسئلہ ہوتا تو چار پانچ لاکھ کہیں نہ گئے تھے ۔ ‘‘

اس نے سر ہلا کر دو لاکھ رقم چیک پر لکھ لی۔

آپریشن تھیٹر جانے سے پہلے منور نے ٹانگ کے درد سے بہ دقت بولتے ہوئے اس سے کہا تھا جیب میں کچھ عمانی ریال ہیں وہ نکال لو۔

’’بھابھی !آپ کو تو سخت بخار ہے ۔چلیں ڈاکٹر کو چیک کروا لا؛ں ۔‘‘

منور کا آپریشن چل رہا تھا اس کے سارے بہن بھائی ہسپتال میں موجود تھے شازیہ اس کے ساتھ بیٹھی تھی ۔اسی نے صبیحہ کا بخار محسوس کیا تھا۔ اگلے چند لمحوں میں چیک اپ کے بعد اسے بھی فوراً بیڈ دے کر ڈرپ لگا دی گئی ۔ اب وہ دونوں میاں بیوی ہسپتال کے بیڈ پر بیمار پڑے تھے ۔بچے حسرت کی تصاویر بنے دونوں کو دیکھ رہے تھے ۔

’’آپی! پیسے دیں میں کھانے پینے کا سامان لا دوں ،دو دن سے ہسپتال کی وجہ سے دکان پر بھی توجہ نہیں دے سکا۔ شکر ہے ہسپتال سے چھٹی مل گئی۔ آپ کا بخار بھی اتر گیا ہے ۔اب آپ خود سب کر سکتی ہیں ۔ ایسا کریں اکٹھا ہی سبزی گوشت اور فروٹ منگوا لیں، منور بھائی کو اچھی خوراک کی ضرورت ہے آپ کو بھی اور آنے جانے والوں کو بھی کچھ نہ کچھ تو کھلانا ہی پڑے گا۔ ویسے آج تو سب کو کھانا کھلانا چاہئے ایسا کریں آلو گوشت بنا لیں روٹیاں تنور سے لگوا لیں آج کے بعد کسی کو بھی کھانا کھلانے کی ضرورت نہیں۔‘‘

آدھا گھنٹہ پہلے گھر پہنچے تھے ۔ اب وہ خاموش کھڑی ماں جائے کی باتیں سن رہی تھی جس نے دو دن ہسپتال میں بمشکل دس منٹ کے دو چکر لگائے تھے ۔باقی سارا وقت منور کے بھائی پاس رہے لیکن پھر بھی اس کا کاروبار متاثر ہو گیا تھا۔ وہ جو محبت میں ہی اس کے گھر دعوتی کھانا آئے دن اپنے پیسوں سے بناتی تھی ،اس بھائی نے ضرورت میں ایک دن بھی اپنے گھر سے کھانا بنوا کر بہن کے گھر لانے کی کوشش نہ کی۔

’’آپی ،جلدی کریں ۔ایک گرمی نے مت ماری ہوئی ہے ،اوپر سے آپ پیسے دینے میں اتنا وقت لے رہی ہیں جیسے بینک سے نکلوانے ہوں۔ ‘‘

’’ہر مہینے میں کئی ہزار اس کے گھر میں راشن پر خود خرچ کر دیتی ہوں ۔کبھی جتایا تک نہیں اور یہ آج کے لیے آلو گوشت نہ لا کر دے سکا ۔اس نے ساری گروسری کیا کرکے لانی۔ ‘‘

دماغ میں خیالات ریل کی طرح چل رہے تھے وہ بولتا جا رہا تھا۔

’’ نیہا، فریحہ سے کال پر بالکل ٹھیک کہہ رہی تھی۔ ‘‘وہ اپنی ہی سوچے جا رہی تھی بلکہ اب تو آنکھیں اور دماغ کھول کر سب دیکھ اور محسوس کر رہی تھی ،پر جانے کیوں ابھی مکمل بھروسا نہ ٹوٹا تھا اس لیے کہہ دیا۔

’’ایسا کرو نیہا سے کہو سالن وہ اپنے گھر سے بنا کر لے آئے ۔روٹی تم تنور سے لا ہی دو گے ۔ ‘‘

’’تو پیسے تو دو آپی !گوشت وغیرہ دوں گا تو ہی وہ بھی بنائے گی۔ بلکہ ادھر ہی آ کر پکا لے ۔اَدھر گھی مسالے اور گیس بھی خرچ ہو گی۔ آپ اور بچوں کے لیے بنانا ہوتا تو ٹھیک تھا ۔اب یہ جو پورا جنجال پورہ آپ کے گھر بیٹھا ہے ۔اتنا زیادہ سالن بنانے میں بھی اچھا خاصا خرچا ہو جائے گا۔ ‘‘

اس کا بھائی حساب کتاب کا پکا تھا اسے معلوم تھا لیکن وہ اس درجہ بے مروت و بدلحاظ ہے کہ مرچ مسالے گھی اور گیس تک نوٹ کرتا ہے اب پتا چل رہا تھا۔ کئی ہزار ہمیشہ کی طرح خاموشی سے اس کی مٹھی میں منتقل کر دیے۔

سسرال کا سوچتے ہوئے بھی مجھ جیسی عورت کو شرم آنی چاہئے جس نے شادی کے چند دن بعد سے شوہر کا کمایا مال میکے پر بے دریغ خرچ کرنا شروع کر رکھا تھا۔ جب بھائی مجھ سے فائدہ اٹھا کر ایک دن مجھے اور میرے مہمانوں کو روٹی نہیں دے سکتا تو سسرالیوں کو تو ان کے بھائی کی کمائی سے کبھی روٹی کا نوالہ میں نے لینے نہ دیا ،وہ کیوں ہم پر خرچ کرتے پھریں۔ ‘‘

وہ سنک کے کنارے پر دونوں ہاتھ ٹکائے زار وقطار روتی گئی۔ اس سے فیصلہ نہ ہو پایا، رونا منور کے حادثے کا ہے یا اپنی آگہی کا۔

٭٭٭

منور کی ٹانگ پر پلاسٹر کی وجہ سے اسے شدید گرمی میں ہروقت پلاسٹر کے اندر جلن رہتی تھی ،اے سی بند کرنے کی گنجائش ہی نہ نکلتی۔ ٹانگ کی وجہ سے نہانا بھی مشکل تھا لیکن منور کا بھائی جیسے تیسے کرکے ٹانگ پر شاپر چڑھا کر عبداللہ کو ساتھ لگا منور کو غسل کرا جاتا تھا صبیحہ کو یوں لگتا جیسے وہ اسے زمین میں مزید گاڑ جاتا ہو۔ نندیں بھی اخلاقی و جذباتی طور پر بے حد مدد کر رہی تھیں۔ لیکن جب سے نذر حسین نے بتایا تھا کمپنی منور کو واپس بلانے کا ارادہ نہیں رکھتی تو جیسے ان کے گھر پر مردنی چھا گئی تھی۔

ہر وقت ’’ٹانگ کا پلاسٹر اترنے کے بعدمنور کیا کام کرے گا

کی سوچ صبیحہ کی جان سولی پر لٹکائے رکھتی تھی ۔عثمان کو جس دن سے خبر ہوئی کہ بہنوئی اب پاکستان کا ہی رہ گیا ہے ۔اس نے بہن کے گھر سے ایک دم منہ پھیر لیا تھا۔ ذیشان ، منور کی عیادت کے لیے آیا تو صبیحہ سے رہا نہ گیا ۔وہ ایک ماں جائے کا گلہ دوسرے کے سامنے لے کر بیٹھ گئی۔

شانی ،تم بتا؛۔ میں نے کبھی تم دونوں کے ساتھ برا کیا۔کبھی تم دونوں کا ساتھ چھوڑا ؟‘‘ وہ خاموش ہی رہا۔

’’عثمان کی بڑی کمیٹی نکلی ہے ،میرے پاس گھر خرچ کے لیے بھی پیسے نہیں بچے ۔ بجلی کا بل بھرنا بھی بہت ضروری ہے ۔سوچا اس کی کمیٹی نکلی ہے ایک لاکھ ادھار لے لیتی ہوں ابھی کا وقت تو گزاروں ۔ مجھے صاف جواب دے کر بھیج دیا ۔کہتا ہے آپی، منور اپنے بھائی بہنوں سے لے ۔آپ کیوں ادھار مانگتی پھر رہی ہیں ۔واپس کہاں سے کریں گی؟بندہ پوچھے منور میری طرح چوری اپنے بہن بھائیوں کو دیتا رہا ہے ؟ دیتی تو میں تھی .. شانی ہر مہینے کم سے کم بھی میں بیس ہزار اس پر خرچ کرتی رہی ۔موٹی موٹی رقم کا تو مجھے بہتے پانی کی طرح روانی جیسا یاد ہے ۔ اب مجھ پر برا وقت آیا تو .‘‘

بہتی آنکھیں ،ڈوبتی آواز توقع تھی ذیشان نرم لفظوں سے دل پر پھاہے رکھے گا کہے گا آپی وہ ایسا ہی بے مروت ہے آپ ٹینشن نہ لیں لیکن جب وہ بولا تو صبیحہ کا غم سوا نیزے پر پہنچا گیا۔

’’آپ نے ہمیشہ اسے مجھ سے زیادہ اہمیت دی اس کے بچوں کو ہمیشہ قیمتی تحفے دیے کچن کا سارا کام آپ نے کروا کے دیا، بجلی کے بل آپ بھرتی تھیں ۔کبھی میرے ساتھ تو اتنی محبت نہ جتائی۔ مجھ سے چوری اس کی فیور کرتی تھیں ۔پتا تو پھر بھی مجھے ایک ایک بات کا لگ جاتا تھا۔ اب پتا چلا آپ کو ؟‘‘

وہ بت بنی اسے دیکھے گئی کہ وہ بھی اتنا بغض لیے پھرتا تھا آگے کیا کہتی اس نے تو زخموں پر نمک چھڑک ڈالا تھا۔ کاش میں نے بے وقوفیاں نہ کی ہوتیں ان پر لگانے کے بجائے بچت کر لی ہوتی آج کام آتی یا پھر بوقت ضرورت جو ہوتا۔ منور سے ڈائریکٹ دلاتی تاکہ کچھ تو حیا کرتے ، اس کی رقم واپس نہ کرتے تو شاید ادھار ہی دے دیتے ۔ اس بَرے وقت نے اسے منور کے حد درجہ قریب کر دیا تھا۔

’’صبا !تم ہر وقت اتنا پریشان رہتی ہو کہ میرا دل گھبرانے لگتا ہے مت اتنا پریشان ہو ۔اللہ ایک دروازہ بند کرتا ہے تو محنت کش کے لیے سو در کھول بھی دیتا ہے ۔ ذرا یہ پلاسٹر اتر جائے ۔میں تمہیں اور بچوں کو کسی کا محتاج نہیں ہونے دوں گا۔ ہاں بس پہلی جیسی ریالوں میں کمائی نہیں ہوگی پر تم فکر نہ کرو اس ایک مہینے میں ، میرے دیکھتے دیکھتے تمہارا سارا سر سفید ہو گیا ہے ،اتنے سیاہ خوب صورت بال تھے تمہارے ،اب سفید ہو گئے ہیں مت اتنا پریشان ہو۔ ‘‘وہ محبت پاش نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ گیلی آنکھیں بار بار صاف کرتی رہی۔

’’اکا؛نٹ میں کتنے پیسے پڑے ہیں؟ ‘‘

اس کے سوال پر صبیحہ کے گلے میں زہر کی گٹھلی اٹک گئی بمشکل تمام نگل کر زبان پر زور دیا۔

’’اکا؛نٹ خالی ہے بلکہ بل بھی بھرنے والا ہے ۔ ‘‘

’’اکا؛نٹ خالی ہے ؟ ‘‘وہ الجھن زدہ سا بولا.میرے حساب سے تو ہسپتال کے خرچ کے بعد چند لاکھ ابھی بھی ہونے چاہیے تھے ۔میں تو ساری سیلری تمہیں بھیج دیتا تھا کہ تم سیونگ کر رہی ہو ساتھ والے کہتے بھی تھے ،گھر بھیجو تو بیویاں سب خرچ کر دیتی ہیں، اپنے پاس رکھ کر بچت کروں تمہیں صرف خرچا بھیجوں ورنہ کچھ نہیں بچے گا وہی ہوا ۔ وہ جو میری جیب سے ریال نکالے تھے وہ بھی خرچ ہو گئے ؟

’’جی ، بس میں کھلے ہاتھ سے خرچ کرتی گئی۔ پتا ہوتا تھا آپ نے پہلی تاریخ کو بھیج دینے ہیں اس لیے بچائے کبھی نہیں۔ ‘‘آنکھ جھوٹ بولتے ہوئے شرمندگی سے اٹھ نہ رہی تھی ،دل رک رک کر چل رہا تھا۔

’’سوچا تھا چند لاکھ ہیں ابھی ، چھوٹا موٹا فوری کام تو شروع ہو ہی جائے گا۔‘‘

’’ کیسے کہتی وہی چند لاکھ تو دو گھر چھوڑ کر رہتے بھائی کے گھر پر چوری چوری لٹائے ہیں۔ پھر اس کی بے مروتی سے بال سفید نہ ہوتے تو اور کیا ہوتا ۔برا وقت اتنا برا بھی ہو سکتا ہے اسے اب پتا چل رہا تھا جب وہ مالی و جذباتی دونوں طرح سے لوٹ لی گئی پر قصور اپنا تھا سو سر بھی اپنا ہی پیٹتی وہ بھی مکمل تنہائی میں . ‘‘

بل کی آخری تاریخ پر اسے منور کے سامنے بل بھی رکھنا پڑا تھا۔ اس نے سلطنت آف عمان میں مقیم پرانے دوستوں کو کال ملا کر مالی بدحالی کی تفصیلات بتا ڈالیں۔‘‘

’’منور !آپ کو لگتا ہے وہ ہمیں ایک لاکھ لازمی بھیج دیں گے ۔ ‘‘

’’ہاں وہ کوشش کر رہے ہیں ۔سپروائزر بھی یقین دلا رہا تھا کہ کمپنی کچھ نہ کچھ تو مدد کر ہی دے گی۔ نذر لوگوں نے درخواست دی ہوئی ہے کہ مجھے مزدوری کے لیے نہیں تو کمپنی کے کسی دوسرے کام کے لیے واپس بلا لیا جائے ۔ وہ مقدمہ لڑتے رہیں گے اکا؛نٹ ڈپارٹمنٹ نے کچھ نہ دیا تو پھر ورکر آپس میں جتنے ہو سکیں پیسے اکٹھے کرکے امداد بھیج دیا کرتے ہیں ،وہ بھی اکٹھے کرکے بھیج دیں گے پرانا ساتھ ہے ۔ ‘‘چند لمحے خاموش ہوا ۔

’’ کتنے دکھ کی بات ہے ۔میں مدد اکٹھی کرنے والا خود مدد لینے پر آ گیا ہوں۔ ‘‘

صبیحہ مجرمانہ خاموشی سے وہاں سے اٹھ گئی۔

٭٭٭

کمپنی نے تو کچھ نہ بھیجا ،البتہ ورکرز کی امداد سے ان کے گھر کے حالات کچھ بہتر ہو گئے تھے ۔ بل بھرنے اور باقی لازم وملزوم ماہانہ اخراجات کے بعد کچھ سینکڑے ہی پاس بچے تھے ۔ چنانچہ صبیحہ نے سلائی مشین نکال لی اور منور نے پلاسٹر اترنے کے بعد لنگڑاتے ہوئے اپنے سگے بھائی کی دکان پر سیلز مین کی نوکری کر لی۔

عثمان کی بے مروتی جوں کی توں تھی ۔عبداللہ اب بھی اسی کے ڈرائنگ روم میں روزانہ ٹیوشن پڑھنے جاتا تھا۔ اس کے ہاتھ نیہا کچھ پکا ہوا بھیج دیتی تھی ،عموما گوشت ہوتا جو صبیحہ منور کو دے دیا کرتی تھی۔

وقت رکتا نہیں ہے پر اذیت ناک ضرور گزرتا ہے ان کے بارے میں بھی سب کو پتا چل چکا تھا کہ ٹوٹی ٹانگ لیے منور کو عمان بلایا نہیں گیا۔ اب یہیں مزدوری کرکے عسرت زدہ زندگی گزارنی ہے عیاشی تمام ہو چکی ۔اے سی بند ہو چکے ۔ اب صبیحہ قیمتی تحائف اور امداد دینے کے دائرے سے نکل کر لینے والوں میں تھی پر دینے والا کوئی نہ تھا سو جب شوہر نے پہلی پاکستانی روپوں والی تنخواہ اس کی ہتھیلی پر رکھی تو صبیحہ کی ہچکیاں بندھ گئیں ۔

رات کو جب بدلتے موسم کے سبب سارا جگ اور اس کے مرجھائے منہ والے بچے اطمینان سے سو گئے تو اس نے چھت پر کھلے آسمان تلے سبک رو چلتی آنے والی سردی کا پیغام دیتی ہوا میں سر رب کے حضور سجدے میں رکھ دیا۔

’’یا اللہ، آپ جانتے ہیں نا جتنے اس نے یہاں جان توڑ کر دکھتی ٹانگ کے ساتھ ایک مہینے میں کمائے ۔اس سے زیادہ رقم کے تو میں نے علیزے کو سونے کے ٹاپس سالگرہ پر دیے تھے ۔ میرے اللہ۔ میری غلطیوں کی سزا میرے شوہر اور بچوں کو نہ دے ۔ تو مسبب الاسباب ہے ۔اس کی واپسی کا سبب بنا دے ویزا پڑا ہوا ہے اسی ویزے پر اسے واپس بلا لیا جائے ۔ میرے مالک تو جانتا ہے، چھ مہینے پورے ہو گئے تو ویز۱ بھی ختم ہو جائے گا۔ اس کی واپسی کا سبب بنا دے ۔میں وعدہ کرتی ہوں ۔کبھی چوری نہیں کروں گی اس کے رشتوں کے ساتھ بھی صلہ رحمی کروں گی۔ میں نے اس کے رشتے چھڑوا کر اپنے رشتوں پر اس کی کمائی لٹائی ۔گناہ کیا مجھے چوٹ بھی اپنوں سے ہی لگی ۔اس کے خونی رشتے میرے رشتوں سے کئی گنا اچھے نکلے ۔

مجھے روز اول سے معلوم تھا۔ منور مجھ پر بھروسا کرتا ہے وہ سمجھتا ہے ،میں ذرا بھی فضول خرچی نہیں کرتی بلکہ اس کی کمائی احتیاط سے جوڑ رہی ہوں تاکہ وہ پردیس سے واپس آ کر کوئی کاروبارکر سکے میں نے اس کا بھروسہ توڑ کر گناہ کیا ۔اپنے بچوں کا حق مارا گناہ کیا تو میرے کیے کی میری اولاد اور شوہر کو نہ دے ۔ میرے مالک !مجھے معاف کر دے میں اپنی بے وقوفی اسے بتا کر بدظن نہیں کر سکتی پراس کا حق نہیں کھا؛ں گی ۔پائی پائی لوٹاؤں گی۔ میرے مالک میں اذیت میں ہوں ،تیرے سوا کسی سے درد نہیں کہہ سکتی تو مداوا کر دے ۔‘‘

اگلے کئی گھنٹے اس نے جائے نماز پر ہاتھ اٹھائے گزارے تھے ۔

اور پھر خاموشی سے منور کے برابر آکر لیٹ گئی۔

کھلی کھڑکی سے آتی نم ہوا اور م؛ذن کی آواز نے اس سے کہا تھا ،آج نیا دن ہے کچھ نیا ہونے والا ہے ۔ عجب سرمستی میں اس نے منور اور لڑکوں کو مسجد بھیجا اور خود تاشی کے برابر جائے نماز بچھائی۔

وہ تیزی سے ہاتھ چلا کر بچوں اور منور کے لیے پراٹھے بیل رہی تھی جب منور کا سیل فون بجتا اسے کچن میں سنائی دیا۔ اس کے چند منٹ بعد منور نے بچوں اور اسے خوش خبری سنا ڈالی۔

’’میرے یاروں کی کوشش کی بدولت کمپنی نے مجھے اسٹور کیپر کی جاب پر واپس بلا لیا ہے ۔ اس حادثے کی بدولت میری ترقی ہو گئی ہے صبیحہ !اب میں مزدور نہیں رہا ۔دفتری عملے کا حصہ بن ہو گیا ہوں۔ میری سیلری بھی پہلے سے زیادہ کر دی گئی ہے۔‘‘

کچن کے دروازے کے سامنے کھڑے وہ پانچوں نفوس رو رہے تھے ۔

پچھلے مہینوں میں اس نے غم کے اتنے آنسو بہائے تھے کہ لگتا تھا خوشی کے آنسو بہانا کبھی نصیب نہیں ہوگا اب اس کے بچے اور ان کا باپ خوشی سے چہک رہے تھے ۔وہ بدستور زار و قطار خوشی سے رو رہی تھی۔ منور نے ایک ساتھ اسے اور بچوں کو حصار میں لیا۔

’’بس کرو پاگل ، میں نے کہا تھا نا اللہ ایک در بند کرتا ہے تو سو در کھول دیتا ہے ۔یہ حادثہ میرے حق میں اچھا ثابت ہوا ہے ۔ہے نا؟ ‘‘

اس نے روتے ، ہنستے سر ہلایا تھا کہ یہ حادثہ عقل تو اسے بھی دے گیا تھا۔

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں