گھر میں آج خوب رونق لگی تھی۔ ہر سو چہل پہل تھی۔ لان خوب صورت اور چمک دار بتیوں کی وجہ سے جگ مگ کر رہا تھا۔ حذیفہ جو بڑے بھائی نعمان کا بڑا بیٹا اور عمر اور احمد جو آپی کے بیٹے تھے۔
سب نے مل کر لان کے خوب صورت پودوں اور بائونڈری وال پر روشن چھوٹی چھوٹی ٹیوب لائٹس لگا کے سر سبز لان کو ر نیلی ، پیلی اور سرخ روشنیوں میں نہلا دیا تھا۔ یہ ان کے چھوٹے چھوٹے سے شوق تھے جو وہ گھر میں ہر بار سب کے اکٹھا ہونے پر پورے کر لیتے تھے۔
اس بار انہوں نے کرسیوں اور میزوں کے بجائے کھانا بوفے کے انداز میں لمبی میز پر چنا تھا کرسیاں بہت ہٹ کر لان کے ایک دوسرے کونے میں سلیقے سے لگائی تھیں۔
’’بچوں نے اس پارٹی کو یادگار بنانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔‘‘ نعمان بھائی نے سب بچوں کی حوصلہ افزائی کی۔
’’عمر ! تمہاری ہوٹل مینجمنٹ کی ڈگری کا فائدہ اور کسی کو ہو یا نہ ہو تمہاری ننھیال توخوب فائدہ اٹھا رہی ہے۔ ‘‘ریحان عمر کو سراہا۔
آج کی خوب صورت شام ریحان اور اس کی بیوی کے اعزازیہ کے طور پر سجائی گئی تھی۔ ریحان بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھا جس کی شادی پچھلے ہفتے ہوئی تھی اور آج وہ سب آپی کے گھر جمع ہوئے تھے کیونکہ آپی نے ان سب کی دعوت کی تھی۔
نعمان بھائی اور سلمیٰ بھابھی گھر کے بڑے تھے اور حذیفہ اور کرن ان کے دو ہی بچے تھے۔ صدف نعمان سے چھوٹی تھی اور عمر ، احمد اور ہادی اس کے تین بچے تھے اس کے بعد ریحان تھا جس کی ابھی شادی ہوئی تھی۔ اس کی بیوی فائزہ ان کی دور کی رشتہ دار خاتون کی بیٹی تھی۔ پیاری اور معصوم صورت فائزہ بہت سلجھے ہوئے اطوار کی دکھتی تھی۔ چند دنوں میں ہی سلمیٰ اور صدف کے ساتھ اس کی اچھی دوستی ہو گئی تھی۔
صدف آپی اسی شہر میں اپنے الگ گھر میں رہتی تھیں ان کے شوہر کی کپڑے کی دکانیں تھیں اور خوب چلتا کاروبار اور شہر میں بہت اچھی ساکھ رکھنے والے شخص تھے۔ اور ان سب کے بعد سب سے چھوٹی اور
لاڈلی وہ تھی ماہم جاوید اپنے باپ کی چہیتی اور بہن بھائیوں کی لاڈلی اور آج کی شام کی رونق دوبالا کرنے والی اہم ہستیوں میں سب سے اہم ترین اور اول انعام پانے کی حقدار۔
جی ہاں آپ کچھ کچھ ٹھیک سمجھے۔ ہر شام کی طرح اس شام بھی کھانے کی میز پر انواع و اقسام کے کھانے چننے والی کوئی اور شیف نہیں بلکہ وہ خود تھی۔ اس کی کوکنگ بے مثال تھی۔ ہر چیز کو منفرد طریقوں سے بنانا۔ ہر بار ایک نئے طریقے سے نئی چیز سب کو پیش کرنا ۔ جدید اور خوب صورت طریقوں سے کھانے کو سجانا ، نمک ، مرچ ، مسالوں میں موقع کی مناسبت سے کمی بیشی کرنا ، بچوں کے لیے لذیذ ، بڑوں کے لیے پرہیزی اور ینگ لوگوں کے لیے چٹخارے دار کھانے بنانا اس کا شوق ہی نہیں جنون تھا۔
اسے یاد تھا جب وہ کالج میں پڑھتی تھی اور اس کے بابا دفتر میں جاب کیا کرتے تھے تو وہ ہر دوسرے دن ان سے نت نئی چیزیں منگواتی ۔
’’یہ لڑکی جانے کون کون سے مسالے منگواتی ہے۔ میری تو سمجھ سے باہر ہے۔ وہاں ہر چیز کو ڈھونڈنا اتنا مشکل لگتا ہے۔ دکاندار بھی پریشان ہو جاتے ہیں اور میرا منہ دیکھتے رہتے ہیں۔‘‘ وہ اکثر اس کی شکایت اس کی امی سے کرتے دکھائی دیتے ۔
’’توبابا !آپ سے کس نے کہا ہے کہ آپ یہ چھوٹے چھوٹے اسٹورز اور پرچون اور کریانہ کی دکانوں سے جا کے میری بتائی چیزیں خریدیں جب بھی میں آپ کو لسٹ دوں آپ کو چاہیے شہر کے سب سے بڑے گروسری اسٹورز سے جا کے میری بتائی ہوئی اشیائ خریدیں ۔‘‘ وہ شوخی سے مسکراتی۔
’’واہ ! یہ کوئی طریقہ ہے تمہارا لڑکی !کیوں ہلکان کرتی ہو اپنے بابا کو۔‘‘ امی اسے ڈانٹتیں تو بابا فوراً اسے بچانے آتے۔
’’اچھا چلو جانے دو ،کوئی بات نہیں ۔اب میری بیٹی یہ فرمائشیں اپنے باپ سے نہیں تو بھلا کس سے کرے گی۔‘‘
وہ پیار سے اس کا ہاتھ تھپتھپاتے تو اس کا سیروں خون بڑھ جاتا اور پھر بابا کو خوش کرنے کے لیے مزید تندہی سے جت جاتی۔
فائزہ بھابھی جب بیاہ کر گھر آئیں تو وہ اپنی چھوٹی سی نند کے اتنے گن دیکھ کر حیران رہ گئیں۔
اس دن کچھ ہوا بھی ایسے ہی تھا۔ ریحان بھائی کے کولیگز نے ان سے شادی کی ٹریٹ مانگ لی۔ اس ٹریٹ میں ان کے شادی شدہ کولیگز کی بیویاں بھی شامل ہونا چاہتی تھیں۔ اس لیے دعوت کا انتظام گھر پر رکھنے کا پروگرام ترتیب پایا تھا۔
اس نے اور بھابھی نے امی جان کے ساتھ مل کر مینیو ترتیب دیا تھا۔ اس کو کوکنگ سے خاص شغف تھا یہ نئی بھابھی جانتی تھیں۔لیکن اس کی کھانے پکانے کے بارے میں نالج اس حد تک اچھی ہو گی یہ فائزہ بھابھی کو اندازہ نہ تھا ۔
سردیوں کا موسم تھا لہذا اسی حساب سے اس نے مینو میں چیزیں شامل کروائیں ۔
’’بھابھی اسٹارٹر مین کورس اور ڈیزرٹ سب کو ذہن میں رکھنا ہے اور اس کے علاوہ سردیوں کا موسم ہے تو ہم کوشش کریں گے کہ ایسا مینو ہو جس میں کھانے والوں کو توانائی اور گرمی بھی ملے ۔‘‘
سلمیٰ بھابھی فائزہ کا منہ دیکھ کے ہنسنے لگیں۔
’’ہم ایسا کرتے ہیں سٹارٹر میں چکن کارن سوپ رکھ لیتے ہیں۔ سالن مٹن قورمہ اور چکن کڑاہی رکھ لیتے ہیں۔ کیونکہ سردی کا موسم ہے تو ایسے موسم میں لوگ عموماً تیز مسالے پسند کرتے ہیں۔‘‘
وہ فائزہ کو نوٹ کروا رہی تھی جو بس اس سے امپریس ہو کر اس کی ہاں میں ہاں ملائے جا رہی تھی۔ اس کے ساتھ شاہی دال بھی بنالیں گے اور پالک پنیر بھی اور یہ سب اس حساب سے بنانا ہے کہ ایک ایک بائول بن جائے۔
’’کم مگر زیادہ ورائٹی اس طرح سے کھانا ضائع بھی نہیں ہو گا اور ہر ایک کو اس کی پسند کے مطابق کھانے کو بھی مل جائے گا۔ ‘‘
’’اور اگر بچ گیا تو وہ میں اگلے دن آفس بھی لے جائوں گا۔‘‘ ریحان نے کن اکھیوں سے ماہم کی جانب دیکھا جو غصے سے اسے گھورنے لگی تھی۔
’’تو پھر ایسا کرتے ہیں، دیگیں چڑھاتے ہیں اور ساری چیزیں آپ کی پسند سے بنواتے ہیں تا کہ آپ کے کولیگز ہفتہ بھر اس پر لطف دعوت سے لطف اندوز ہوتے رہیں۔‘‘ اس نے چڑکے کہا تونعمان فائزہ کے ساتھ مل کر ہنسنے لگا۔
’’جب سالن میں اتنا کچھ رکھ رہی ہو توچاول رہنے دو ۔‘‘ امی جان نے مشورہ دیا۔
’’کھانے میں چاول نہ ہوں تو دعوت نا مکمل ہے۔ میری پیاری امی۔‘‘ وہ بڑھ کے ان کے پاس آئی اور ان کے گھٹنوں پر پیار سے دبائو ڈالا۔ سردیوں میں جوڑوں کا درد بہت بڑھ جاتا تھا اس لیے وہ آرام دہ صوفے پر ٹانگوں پر کمبل لپیٹ کے بیٹھی تھیں۔
’’یہ تو ماہم نے میرے دل کی بات کر دی ہے۔ ایسا کرتے ہیں ساتھ میں پلائو بنا لیتے ہیں۔‘‘ فائزہ نے ڈرتے ڈرتے مشورہ دیا کہ جانے اس کا ردعمل کیا ہو۔ اس نے خوشی خوشی اوکے کیا تو فائزہ کی سانس بحال ہوئی۔ وہ خوامخواہ یہی سوچے جا رہی تھی کہ وہ اس معاملے میں بہت گھمنڈی ہے شاید لیکن ایسا کچھ نہیں تھا اسے بس کوکنگ کریز تھا اور اپنے طور پر نئی چیزیں بنانا ، بنا کے سیکھنا نئے ،نئے تجربے کرنا اسے پسند تھا ۔ بدلے میں جو واہ واہ ہوتی پلس بھائیوں سے جو پیسوں اورگفٹس کی انعام ملتا وہ اس کی خوشی دوبالا کر دیتا۔
سارا مینو مل کر ترتیب پا گیا تھا۔ میٹھے میں گاجر کا حلوہ اور کھیر بھی تھی،کشمیری چائے تو آخر میں بے حد ضروری تھی ہی۔ یوں ہی ہنسی مذاق میں دعوت کا دن آ گیا ۔ فائزہ نے بھی اس کی پھرتیاں دیکھیں۔ نہ صرف وہ کام بہت تیزی سے نپٹاتی جا رہی تھی بلکہ ساتھ ساتھ ہر چیز سلیقے سے سمیٹ بھی رہی تھی۔
مٹن اور چکن کڑاہی بناتے ہوئے اس نے باریک لچھے دار پیاز کاٹی تاکہ جلدی اور ٹھیک سے گل سکے۔
سوپ بنانے کے لیے باریک سبزیاں کاٹیں۔ چکن کا ایک ایک ریشہ کیا ۔پکانے کے بعد اس نے گارنشنگ (سجاوٹ) کا بھی خاص خیال رکھا۔
فائزہ نے خوشی خوشی اس کی سب مدد کروائی۔
’’اب بھابھی کسی دن خاص اٹالین یا چائنیز فو ڈ کی دعوت کروں گی پھر آپ بتائیے گا کہ سب کیسا ہے؟‘‘ اس نے خوشی سے کہا۔
دعوت کا انتظام بے حد اچھا ہوا تھا۔ سب مہمان بے حد خوشی خوشی واپس گئے اور ماہم نے تعریفیں اتنی زیادہ سمیٹ لیں کہ اس کا دامن تنگ ہو گیا۔
٭٭٭
صدف آپی اس کی منگنی کی مبارک دینے آئی تھیں۔ سب گھر والے اکٹھے ہوئے تھے لیکن کھانا اس بار سلمیٰ اور فائزہ نے مل کے بنایا تھااور ماہم کو کسی کام کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہ دی تھی۔
’’خوش ہو ؟‘‘صدف آپی نے اسے پیار سے مسکرا کے دیکھا تو وہ شرما گئی۔ اس کا چہرہ گلنار ہو گیا۔ آنے والے خوش گوار دنوں کی چمک اس کی آنکھوں میں ستاروں کی طرح جگمگا رہی تھی۔
اس کا رشتہ بہت اچھی جگہ طے ہوا تھا۔ کھاتے پیتے لوگ تھے ۔ لڑکا بہت اچھی جگہ سے پڑھا تھا۔ ان کے والد تو یونیورسٹی کے ریٹائرڈ پروفیسر تھے لیکن دونوں بیٹوں کا شوق پڑھائی کے بعد بزنس کرنے کی طرف تھا نہ کہ نوکری کی طرف ،بڑے بھائی نے بزنس شروع کیا۔ ہاتھوں سے بنے ہوئے کارپٹ اور رگز وہ دوسرے ممالک میں امپورٹ کرتے تھے۔ ابھی بزنس نیا نیا تھا اس لیے دونوں بھائی سخت محنت کر رہے تھے ۔
بابا اور دونوں بھائی ان کا گھر دیکھ کے آئے تھے اور انہیں وہ بہت پسند آیا تھا۔
’’ہماری شہزادی کے لیے گھر بھی اس کی شان کے مطابق ہی ہے۔‘‘ بھائی نے ان کے تین کنال پر پھیلے ہوئے بنگلے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا۔
’’سب سے مزے کی بات یہ ہے کہ اوپر والا پورشن ماہم کے پاس ہو گا اور اس سے بھی مزے کی بات یہ ہے کہ .‘‘سلمی بھابھی رکیں پھر بولیں ۔
’’اس کا اپنا ایک الگ بالکل نئی طرز پر بنا ہوا کچن ہو گا۔ جس میں ضرورت کی ہر چیز پہلے سے موجود ہے ۔‘‘انہوں نے بات مکمل کی۔
’’لو بھئی۔ یہ تو بہت اچھا ہوا۔ اب اپنی مرضی سے گروسری کرنا ، من پسند چیزیں بنانا اور سب کو کھلانا ۔‘‘ بابا نے بھی پیار سے کہا۔
’’ویسے موجیں تو ماہم کے سسرال والوں کی خصوصاً سعد صاحب کی ہوں گی۔ ناشتے میں کانٹیننٹل دوپہر میں چائنیز ، رات میں دیسی کھانے ، مزے دار چٹنیاں اور سلاد اور جانے کیا کیا۔‘‘ بہنوئی کی بات پر وہ ہنس پڑی کیونکہ صدف آپی ان لوگوں میں سے تھیں جو کھانا بنانے میں وقت لگنے کو وقت کا ضیاع ہی سمجھتے ہیں جو اس بات کے شدید مخالف تھے کہ شوہر کے دل کا راستہ معدہ سے ہو کے گزرتا ہے۔
٭٭٭
سعد بہت اچھا پیار کرنے والا شوہر ثابت ہوا تھا۔ وہ اس کی چھوٹی چھوٹی باتوں کی فکر کرتا تھا۔ اوور آل ایک ذمہ دار شخص تھا۔
’’بھائی کے بچے امی کے بہت لاڈلے ہیں، ان کو ڈانٹنے یا کسی بات سے منع کرنے کی تمہیں ضرورت نہیں۔ وقت کے ساتھ جب تم ایڈجسٹ کر جائو گی پھر اپنی رائے بھی دینا اور مشورے بھی ۔‘‘ وہ اسے پیار سے سمجھا رہا تھا۔
’’بھابھی میری خالہ زاد بھی ہیں اور بہت پرانی شادی ہو چکی ہے ان کی ،اس لیے گھر بھر میں ان کا ہولڈ بہت زیادہ ہے اس بات سے گھبرانا نہیں۔ آہستہ آہستہ تم بھی اپنی جگہ بنا لو گی ۔‘‘ اس کے خوب صورت مخروطی انگلیوں والے ہاتھ کو پکڑ کے وہ بولا۔
’’تمہیں صرف بھابھی کے ساتھ مل کر کچن دیکھنا پڑے گا ۔کھانے میں مدد کرنا ہو گی۔ باقی سب کاموں کے لیے ملازم ہیں لیکن کک رکھنے پر امی کبھی رضا مند نہیں ہو سکیں کیونکہ ان کو بہت مشکلوں سے کسی کا پکا پسند آتا ہے۔ میری دونوں بہنیں کھانے پکانے میں ماسٹرہیں .‘‘اس بات پر وہ خوش ہو گئی ۔
’’یہ تو پھر کوئی مسئلہ ہی نہیں سعد !آپ کو پتا ہے میرے بنانے کھانے تو سارے خاندان میں مشہور ہیں۔ مجھے چائنیز ، اٹالین ، انڈین اور دیسی کھانے بنانے کا بہت شوق ہے ۔ میں اپنی مرضی سے نئی نئی تراکیب بناتی ہوں بیکنگ میں نے نسبتاً کم کی ہے کیونکہ بابا اور بھائی ڈیزرٹس بھی دیسی ہی پسند کرتے تھے۔
خوش ہو کر اسے وہ سب کھانے جو مختلف اوقات میں بنائے تھے اور جو تعریفیں سن رکھی تھیں۔ بتانے لگی جنہیں سعد بہت خوشی اور دلچسپی سے سنتا رہا۔
٭٭٭
اس نے شادی کے بعد کے دن بہت اچھے سے گزارے تھے۔ وہ سعد کے ساتھ گھومنے پھرنے کے لیے نادرن ایریاز بھی گئی۔ سب گھروں میں دعوتیں بھی خوب ہوئیں۔ سب کچھ بظاہر بہت اچھا تھا۔ نارمل تھا لیکن پھر بھی کچھ عجیب سے رویے تھے جو اسے کھٹک رہے تھے ۔
سعد کے دوست نے اپنے گھر انوائیٹ کیا تھا۔ وہ سعد کا بہت اچھا دوست تھا اس لیے سب گھر والے ہی جا رہے تھے۔ اس نے فریحہ بھابھی (جٹھانی) کے کہنے پر نفیس کڑھائی کا رسٹ کلر کا ٹرائوزر شرٹ پہنی۔
جب وہ تیار ہو کے باہر نکلی تو سعد نے بہت سراہا۔
’’ایسا لگتا ہے سب رنگ تمہارے لیے ہی بنے ہیں۔‘‘
تب ہی باقی لوگ بھی آ گئے۔
’’اس طرح کے آئوٹ فٹ کے ساتھ تمہیں بال تھوڑے کرل کر لینے چاہیے تھے کیوں اماں ٹھیک کہہ رہی ہوں نا ۔‘‘فریحہ اسے دیکھتے ہی کہا۔ وہ جو اچھے سے تعریفی جملوں کی منتظر تھی۔ کنفیوز سی ہو گئی۔
’’کن کپڑوں کے ساتھ کیسا میک اپ کرنا چاہیے کیسے بال اور اسٹائل ہونا چاہیے۔ یہ تم سے زیادہ کون جان سکتا ہے بھلا !‘‘ اس کی ساس نے خود پسندفریحہ کو آسمان پر چڑھایا۔
٭٭٭
اگلے دن ناشتے پر سب موجود تھے تو رات دعوت پر بننے والے پکوان کی بات چھڑ گئی۔
’’مجھے قورمہ میں مسالہ بہت زیادہ لگ رہا تھا۔ اس لیے تو وہ اتنا ہیوی سا ہورہا تھا پتا نہیں لوگ یہ بات کیوں نہیں سمجھتے کہ زیادہ پیاز ڈالنا کھانے کا ذائقہ کم کر دیتا ہے اور عجیب میٹھا پن سا آجاتا ہے کھانے میں۔‘‘
فریحہ بھابھی نے اپنے بیٹے کو بریڈ پر جیم لگا کے دیتے ہوئے کہا۔
’’ہاں صحیح کہہ رہی ہو تم ۔ لیکن بریانی تو اس سے زیادہ عجیب تھی ۔ بھئی ۔کیا ضرورت تھی اس میں اتنا ہرا مسالہ ڈالنے کی ۔ معلوم ہونا چاہیے کہ ہر کوئی اتنی بھری ہوئی بریانی نہیں کھا سکتا۔‘‘ اس کی ساس نے بھی نکتہ اٹھایا۔
ماہم حیران ہوئی ، فریحہ بھابھی کا پوائنٹ اپنی جگہ بالکل صحیح تھا مگر یہ بھی سچ تھا کہ اوور آل کھانا بہت اچھا تھا اور بہت طریقے اور سلیقے سے سرو کیا گیا تھا۔
پھر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب سب گھر والے ہی کھانے پر تنقید کرنے لگے۔ ماہم بالکل خاموش تھی اور خاموش ہی رہی۔
اس کی شادی کو مہینہ سے کچھ دن اوپر ہو گئے تھے۔رات کے کھانے کے بعد سب اپنی اپنی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔ سعد ، زاہد بھائی کے ساتھ مختلف امور پر زیر بحث تھے۔ بات کرکٹ سے شروع ہوئی اور سیاسی سرگرمیوں پر ختم ہو کر دوبارہ سے ان کے کاروباری معاملات کی طرف رخ اختیار کرگئی۔ اماں اپنی دونوں بیٹیوں کے ساتھ گروپ کالز پر مصروف تھیں۔ یہ وقت اماں کا اپنی بیاہی بیٹیوں کے لیے مخصوص تھا۔ فریحہ بھابھی اپنے چھوٹے دونوں بیٹوں کو سلا کے باہر آ کر بیٹھی ہی تھیں کہ آج اماں بھی فون نپٹا کے باہر ان کے ساتھ ہی آ کر بیٹھ گئیں۔
’’میں سوچ رہی ہوں۔ اب چھوٹی بہو بھی آ گئی ہے۔ تو اس کو بھی کچن کے کاموں میں حصہ لینا چاہیے۔‘‘ وہ فوراً سے متوجہ ہوئی۔ سعد اور زاہد بھائی بھی اماں کی جانب متوجہ ہوئے۔ فریحہ ہلکے ہلکے مسکرا رہی تھی۔ ماہم کو کچھ کچھ اندازہ تھا وہ کیا کہنے والی ہیں۔
’’میں سوچ رہی ہوں ،اب فریحہ کا بوجھ بھی کم ہونا چاہیے ۔ دونوں بہنیں مل جل کے کام کریں گی تو کام آسان ہو جائے گا۔‘‘ وہ چند لمحے کو رکیں ۔
’’میں دونوں بہوئوں میں کام بانٹ دوں گی. اس کے لیے رسم کے مطابق کل ماہم سے میٹھا بنوالیں گے اور سعدیہ اور رابعہ بھی آجائیں گی۔ مل بیٹھنے کا موقع بھی ہو جائے گا اور اسی بہانے ماہم کی بھی کچن میں انٹری ہو جائے گی۔‘‘
اپنی بات مکمل کر کے انہوں نے سب کی طرف دیکھا ، سب نے ہی ان کی بات کی تائید کی۔ سعد نے چپکے سے اسے Thumbs upکیا اس نے دل کی خوشی سے اسے وصول کیا۔
٭٭٭
وہ خوش بھی تھی اور کچھ کچھ نروس بھی۔ سلمیٰ بھابھی کو کال کر کے ساری بات بتائی۔
’’گڑیا ! تم تو ایسے پریشان ہو رہی ہو جیسے پہلی بار کچن میں جانے لگی ہو۔‘‘ وہ حیران ہوئیں۔
’’ایسا نہیں ہے بھابھی ! لیکن نئے لوگ ہیں۔ ان کی پسند نا پسند کے بارے میں تو میں کچھ نہیں جانتی اس لیے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا۔‘‘وہ پریشانی سے بولی۔
’’اچھا ایسا کرو ،اپنی ساس سے کچھ مشورہ کر لو کہ وہ سب کیسا میٹھا پسند کرتے ہیں ،اس حساب سے بنا لو وہ خوش بھی ہو جائیں گی کہ ان سے پوچھ کے اور ان کی اجازت سے تم نے کام کی شروعات کی ۔‘‘ یہ مشورہ اس کے دل کو لگا۔ وہ ان کے پاس گئی اور مدعا بیان کیا مگر ان سے پہلے فریحہ بھابھی بول پڑیں۔
’’بھئی ،یہ تو تمہاری اپنی مرضی ہے جو بھی جیسا بھی بنائو گی ۔سب کھائیں گے اور ویسے بھی میٹھے سے پیٹ تو نہیں بھرا جاتا۔ سب نے چکھنا ہی تو ہوتا ہے ایک رسم کے طور پر اور تو کچھ بھی نہیں۔‘‘
اماں نے بھی تائید کی اور وہ جی اچھا کہہ کے اٹھ آئی اور شام کی تیاریوں میں مصرو ف ہو گئی۔
میٹھے میں اس نے کھیر بنانی تھی۔ وہ بے حد مزے دار بناتی تھی۔ اس کی مقدار بھی زیادہ ہوتی تھی۔ اس نے ساتھ میں کچھ اور بھی بنانے کا سوچا تھا مگر سلمیٰ بھابھی نے منع کر دیا۔
’’گڑیا! تمہارا پہلا دن ہے ۔تمہیں جیسے اور جتنا کہا ہے ویسے ہی کرو ۔باقی معاملات گھر کی دوسری بڑی عورتوں کو خود دیکھنے دو۔‘‘
اس وجہ سے اس نے ارادہ بدل دیا۔ جب لسٹ سعد کو دی تو وہ حیران ہوا۔
’’یہ سب کیا ہے ؟‘‘ اس نے پرچی اپنے سامنے پھیلاتے ہوئے کہا۔
’’یہ لسٹ بنائی ہے آپ جلدی چیزیں منگوا دیں تاکہ میں میٹھے کی تیاری کر سکوں۔‘‘ اس نے سکون سے بیڈ شیٹ کی سلوٹیں دور کرتے ہوئے کہا۔
’’ایک منٹ ! یہ لسٹ صرف میٹھے کے لیے ہے؟‘‘ اس نے تعجب سے کہا۔
’’ہاں ۔‘‘ اس نے یک لفظی جواب دیا۔
’’ا ن سب لوازمات سے صرف ایک کھیر بنے گی۔‘‘ وہ زور سے ہنسا ۔ماہم کو اس کی ہنسی بالکل اچھی نہ لگی۔
’’دودھ ، زعفران ، کشمش.‘‘ اب وہ لسٹ میں تمام اجزائ ایک ایک کر کے پڑھنے لگا۔
’’چلو ٹھیک ہے ،یہ میں ریاض کو دے جائوں گا وہ تمہیں سامان لا دے گا۔‘‘
شاید اسے احساس ہوا تھا کہ وہ ماہم کے ساتھ چھوٹی سی بات پر بحث کر رہا ہے ،اس لیے چپ ہو گیا۔
٭٭٭
’’باجی ! آپ کو بیگم صاحبہ بلا رہی ہیں۔‘‘ وہ تھوڑی دیر سونے کے لیے لیٹی ہی تھی کہ ملازمہ پیغام لیے آ گئی۔
’’آپ نے بلایا اماں ۔‘‘ وہی ملازمہ بیٹھی ان کے کندھے دبا رہی تھی۔ فریحہ بھابھی بھی وہیں لائونج میں بیٹھی اپنے ناخن تراش کر رہی تھیں۔
’’ہاں ۔میں نے بلایا تھا ،یہ سامان تم نے منگوایا تھا؟‘‘انہوں نے سامنے شیشے کی میز پر پڑے سامان کی طرف اشارہ کیا۔
’’جی!‘‘ وہ بس اتنا ہی بول سکی۔
’’اچھا ٹھیک ہے۔ یہ لے جائو اور وقت پر خود بھی تیار ہو جانا۔ سعدیہ اور رابعہ بھی تھوڑی دیر تک آجائیں گی پھر تمہاری مدد بھی کروادیں گی ۔‘‘ انہوں نے کہا۔
’’ٹھیک ہے لیکن آپ سعدیہ اور رابعہ آپی کو پریشان مت کریں ، میں سب کر لوں گی۔‘‘ اس نے نرمی سے کہا اور سامان اٹھا کے مڑ گئی۔
’’اماں !آپ کی بہو تو لگتا ہے پوری سوسائٹی کے لیے میٹھا بنانے لگی ہے۔‘‘
فریحہ بھابھی نے گویا تمسخر اڑایا تھا، فطری طور پر وہ اماں کا جواب سننے کے لیے ایک لمحہ کو رکی مگر وہ کچھ نہ بولیں۔
ماہم کا دل عجیب سی پریشانی میں گھر گیا۔ نتیجتاً اس کا دل گھبرانے لگا کہ کہیں کوئی گڑبڑ نہ ہو جائے۔ لیکن جب وہ کام کرنے کچن میں گھسی تو ہمیشہ کی طرح سب کچھ بھول گئی۔ خوب محنت سے کام شروع کیا۔ کھویا بھی گھر میں تیار کیا۔ چاول بھگوئے ۔ میوہ جات تیار کیے اور کھیر چڑھا دی۔ جب کھیر اچھی طرح پک گئی تو اچھے سے برتن میں نکال کے ان کو ٹھنڈا ہونے کے لیے فریج میں رکھا۔ شام تک جب وہ خود بھی تیار ہو گئی تو نیچے چلی آئی جہاں سعدیہ اور رابعہ بھی آئی بیٹھی تھیں۔
تب ہی سعد بھی آ گیا تو وہ دوبارہ اوپر کمرے میں آئی اور اس کی تیاری میں مدد کرنے لگی۔ خود اس نے باٹل گرین گرم اور ہلکی کڑھائی کا سوٹ پہنا تھا اور شال ایک طرف کندھے پر پھیلا رکھی تھی۔ بال کیچر میں آدھے قید اور باقی آزاد تھے۔ بہت لائٹ سا میک اپ اسے شام کے فنکشن کے حساب سے بہت سوٹ کر رہا تھا۔
’’کیسی لگ رہی ہوں ،یہ تو بتا یا ہی نہیں آپ نے۔‘‘ سعد تیار ہونے کے بعد پرفیوم اسپرے کر رہا تھاجب وہ پاس آ کر بولی۔ اس نے گہری نظر اس پر ڈالی۔
’’بتاتا ہوں۔ اتنی جلدی کیا ہے۔‘‘ کہا تو اس نے یہ مگر اس کی نظروں میں خمار کی شدت نے اسے چپ کرا دیا۔
’’اچھا چلیں ، سب ہمارا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘ وہ جلدی سے بات بدل کے پلٹی تو اس نے اسے بازو سے پکڑ کے روکا ۔
’’بالکل شام کی پریوں جیسی لگ رہی ہو۔‘‘ وہ ہلکے سے بولا۔
’’یہ پریاں تو ہوتی ہیں لیکن شام کی پریاں کچھ الگ صفات کی ہیں کیا۔‘‘ وہ کھلکھلائی ۔
’’ہاں ! کیونکہ شام کی پریاں دل کی بھی اتنی ہی پیاری ہوتی ہیں جتنی شکل و صورت کی۔‘‘ خود سے الگ کر کے اس کے ہاتھ تھام کے وہ بولا۔
’’سعد !اب ہم نیچے چلیں ۔سب ہمارا انتظار کر رہے ہوں گے۔‘‘ اچانک اسے خیال آیا کہ وہ اب ایک بہو بھی ہے۔ اس نے فوراً سے سعد کو دروازے سے باہر دھکیلا ۔
٭٭٭
کھانا سب کھا چکے تھے۔ ملازمہ نے میزیں صاف کیں اور میٹھا رکھنے لگی۔ وہ بہت پر جوش سی تھی لیکن اس کا سارا جوش ماند پڑ گیا جب اس کی ساس نے سجے ہوئے پیالے دیکھے۔
’’اتنی سجاوٹ کر دی تم نے ، گھر میں ہی سب نے کھانا تھا۔ تھوڑا ہلکا ہاتھ رکھ لیتیں۔‘‘
گارن شنگ ضرورت کے حساب سے تھی، بادام ، کشمش اور ناریل ۔کھیر میں یہ چیزیں نہ ہوں تو دیسی ٹچ کیسے آتا۔
’’اچھا چلیں ۔ کھا کے تو دیکھیں ،کیسی بنی ہے ۔‘‘ زاہد بھائی میٹھے کے رسیا تھے سو ان سے برداشت نہ ہوا۔
’’پھر انہوں نے بیٹے کے کہنے پر ذرا سی کھیر پیالے میں لی اور بہت احتیاط سے کھانے لگیں۔‘‘
ماہم یہ سوچنا تو نہیں چاہتی تھی لیکن ان کا رویہ اسے مجبور کر گیا کہ وہ ایسے کھا رہی تھیں۔ جیسے اس نے زہر ملایا ہو۔
’’اماں ! اب بتائیں، کیسا ذائقہ ہے ،آپ کی بہو کے ہاتھ کا ۔‘‘ سعد نے ماں سے پوچھا تو وہ سر ہلانے لگیں۔
’’اچھی ہے ۔‘‘ ماہم کو ان کی تعریف ، تعریف نہ لگی ، عجیب لٹھ مار سا انداز تھا، ساتھ ہی ان کے اگلے جملے نے اس کی سوچ کی تصدیق کر دی۔
’’میٹھا ذرا سا کم ہوتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔‘‘
باقی سب کا تو پتا نہیں لیکن اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا تھا ، ان کی بات سن کر ۔
وجہ شاید یہی تھی کہ آج تک اس نے صرف اور صرف تعریفیں ہی وصول کی تھیں۔
ایسا نہیں تھا کہ صرف گھر والے اس کے ذائقے کے رسیا تھے۔ اس نے آپی کی سسرال ، بھابھیوں کے گھر والوں کے لیے بھی دعوت کا انتظام کئی بار کیا تھا۔ اس کے علاوہ بھائیوں کے دوستوں کے لیے تو کئی بار وہ کچھ نہ کچھ بنا کے آفس بھجواتی رہتی۔ بابا کے کئی دوست صرف اس کے ہاتھ کے بنے چائنیز کھانے ان کے گھر آتے۔ اس کے علاوہ اس کی اپنی کزنزاور دوستوں میں بھی خوب دھاک بیٹھی تھی ہمیشہ سے۔ پھر آج اس سے میٹھا اچھا کیوں نہیں بنا ، کیوں وہ کسی کو خاص پسند نہیں آیا تھا۔
باقی سب خاموشی سے کھا رہے تھے ،اماں کے ابتدائی جملوں کے بعد کسی نے بھی اپنی رائے کا اظہار نہ کیا۔ نہ اچھا نہ برا۔
اس نے سعد کی جانب دیکھا جو رابعہ آپی سے کہہ رہا تھا اس کے کی پیالی میں پسا ناریل اور پسا بادام نہیں آنا چاہیے۔
اس نے دکھ سے سعد کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھیں آنسوئوں سے چھلکنے کو بے تاب ہوئیں تو وہ بہانے سے اٹھنے لگی جب فریحہ بھابھی کی آواز کان میں پڑی۔
’’بیٹا! آپ یہ مت کھائیں ،اس میں کشمش ہے جو آپ سے نہیں کھائی جائے گی میں کل الگ سے آپ کے لیے بنائوں گی۔‘‘ اپنے بارہ سالہ بیٹے کو ان کا یہ کہنا اسے بہت عجیب عجیب لگا۔
’’کیا وہ چھوٹا دودھ پیتا بچہ ہے کہ کشمش اس کے حلق میں پھنس جانے کا خدشہ تھا انہیں۔‘‘ اسے بہت حیرت ہوئی تھی۔ ان کی بات سن کر ۔
٭٭٭
رات کو اس نے سعد سے پوچھ ہی لیا ۔
’’آپ کو میٹھا پسند نہیں آیا ؟‘‘
’’اچھا تھا۔‘‘ وہ کچھ رکا ۔ ’’لیکن یار ! آئندہ یہ اوپر سے اتنا کچھ نہ ڈالنا عجیب ہی بنا دیا تھا تم نے کھیر کو۔‘‘
کھیر، شیرخورما، سویاں ان سب میں یہ لوازمات نہ ہوں تو بھلا کیسا لگتا ہو گا۔ کھانے کو تو کھاہی لیتے ہوں گے لوگ لیکن اسے ہر کام کو پراپر طریقے سے کرنا پسند تھا۔ اس کے حلق میں آنسوئوں کا گولہ اٹک گیا۔
’’کتنے عجیب لوگ ہیں یہ سب ۔‘‘ اس نے حیرت سے سوچا۔
٭٭٭
پھر اماں نے کچن کے کام بھی بانٹ دیے۔ کچن کا کام صرف کھانا بنانے تک تھا باقی برتن صفائی وغیرہ ملازمہ ہی کرتی تھی۔ ناشتہ فریحہ بھابھی اور لنچ اس کے ذمہ تھا۔ لنچ میں اسے یہ سہولت تھی کہ صرف بچوں اور اپنے لیے کچھ بنانا ہوتا تھا۔ باقی فریحہ بھابھی اپنا ڈائیٹ پلان فالو کرتی تھیں اور اماں دوپہر میں صرف کوئی پھل لیتی تھیں ،اس لیے اس تقسیم پر وہ بہت خوش ہوئی۔
بچے تو بچوں والی چیزیں کھاتے ہیں۔ وہ مزے مزے کی چیزیں بنایا کرے گی اور بچے خوش ہو جایا کریں گے۔ رات کا کھانا وہ اور بھابھی مل کے بنایا کریں گی۔ اسی وجہ سے اس نے اتوار کا دن نکال کے باقی دنوں کا مہینیو بنایا اور چیزیں منگوا کے رکھ لیں تاکہ سہولت رہے۔ لیکن اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ جس کام کو وہ اس قدر آسان سمجھ رہی ہے ،وہ اس کے لیے کس قدر کٹھن ثابت ہونے والا تھا۔
اگر اسے علم ہوتا کہ بچے تو بچے گھر والے بھی اس کے منچورین اور چائینیز رائس کا کیا حال کریں گے تو وہ کبھی بھی کچن میں اتنا وقت برباد نہ کرتی۔
’’کیا بنا ہے ماہم ؟‘‘ وہ فائنل ٹچ دے رہی تھی۔ جب بھابھی کچن میں داخل ہوئیں۔
’’چائنیز.؟‘‘ انہوں نے دیکھا اور پھر سوچتے ہوئے سر ہلانے لگیں۔
’’جی بھابھی !کیا ہوا ۔‘‘ وہ یونہی پر سوچ انداز میں کھڑی رہیں تو اس نے دوبارہ پوچھا۔ کیا بچے یہ نہیں کھاتے ؟‘‘
’’نہیں .‘‘ ہاں اتنے شوق سے نہیں کھاتے لیکن خیر تم نے اب بنا لیا ہے تو ٹھیک ہے ، کھانا تو ہے ہی اب اور کچھ بھی نہیں کھانے کو۔‘‘انہوں نے اس کے سر پر عظیم احسان کرتے ہوئے کہا۔
شرمندگی کے احساس سے وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکی اتنا کہہ کے وہ شان بے نیازی سے باہر چلی گئیں ۔ وہ دونوں ہاتھوں سے سلیب کو پکڑ کے اپنا غصہ اور بے بسی قابو میں کرتی رہی۔
’’تمہیں اندازہ نہیں !ماہم بچے بہت مختلف ہیں باقی بچوں سے ،وہ بہت سی ایسی چیزیں کھانے کے عادی ہیں جو نارمل بچے دیکھتے بھی نہیں اور جو چیزیں اسنیکس بچوں کو بہت پسند ہوتے ہیں ہو سکتا ہے وہ ان کی طرف دیکھنا بھی پسند نہ کریں ۔‘‘ سعد کی اس بات پر اس کا دماغ کھولا۔
’’تو اب مجھے یہ سب کیسے پتا چلے گا کہ وہ کیا پسند کرتے ہیں اور کیا نہیں۔‘‘ اس کو غصہ توبہت آیا لیکن کچھ کہہ نہ سکی۔
’’تم اماں یا بھابھی سے پوچھ کے بنایا کرو پھر کوئی مسئلہ نہیں ہو گا ۔‘‘ سعد نے مسئلے کا بہت عظیم حل اسے بتا دیا تھا۔
وہ گہری سانس لے کے کروٹ بدل کے لیٹ گئی ۔اس کا دل ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا تھا۔
٭٭٭
اگلے دن دوپہر کو اس نے ویسا ہی کیا جیسا سعد نے کہا تھا۔ اس نے فریحہ بھابھی سے پوچھ کے کھانا بنایا۔ انہوں نے مٹن کا چھوٹا سا پیکٹ پکڑایا اور کہا۔ ’’یہ بنا لو ۔بچے خوش ہوکر کھائیں گے۔‘‘
اس نے سوچ لیا تھا جیسے وہ کہیں گی ویسے ہی کرے گی اپنی مرضی نہیں کرے گی لیکن پھر بھی جب اماں نے کچن میں آ کر اس کی تیاری دیکھنے کے بعد پیاز ، ٹماٹر، لہسن اور نمک مرچ کا تناسب بھی الگ کر دیا تو جہاں اسے شدید چڑ ہوئی ، وہیں عجیب سی بے بسی بھی محسوس کی۔ لیکن کھانا ویسے ہی بنایا جیسے انہوں نے کہا لیکن ان کا وہی حال تھا مرغے کی ایک ہی ٹانگ اسے بچوں نے کھانے میں کئی نقص نکالے۔ ایک کو نمک مرچ تیز لگا تو دوسرے کو اس میں دھنیا نہیں چاہیے تھا۔
’’ماما پلیز ۔آپ ہمارے لیے خود کھانا بنایا کریں۔‘‘ بڑے بیٹے نے جس کی عمر بارہ ، تیرہ سال تھی اس نے ماہم کے سامنے ہی ماں سے کہہ دیا۔ وہ پرجوش سی ہنس پڑیں اور اماں کو بھی ساتھ شریک کر لیا۔
ماہم اپنا دکھ ، بے بسی اور غصہ دبا کے رہ گئی۔
٭٭٭
’’بھئی ۔آپ کی نئی بھابھی کی کوکنگ کی تعریفیں تو اس کے گھر والوں نے بہت کی تھیں لیکن یہاں آ کر ان کی دال کچھ گل نہیں رہی۔‘‘
رات فریحہ اپنے شوہر سے کہہ رہی تھیں۔ چھوٹا بیٹا چار سال کا تھا ۔وہ ان کے ساتھ ہی سوتا تھا۔ باقی تینوں بھائیوں کا الگ سے کمرا تھا جہاں وہ انہیں سلا کے ابھی واپس آئیں اور آ کر کلینزنگ لوشن لے کر شوہر کے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھ گئیں۔
’’اپنی طرف سے تو کافی محنت کرتی ہے لیکن کیا کریں نہ اماں کو کچھ پسند آ رہا ہے اور نہ ہی بچوں کو۔‘‘ لگتا تھا وہ اس سچویشن سے بہت لطف اندوز ہو رہی ہیں ۔
’’ایسا تو مجھے نہیں لگا۔ ماہم کے ہاتھ میں بہت ذائقہ ہے۔ اس کا اپنا ایک طریقہ سے کھانا پکانے کا اور مجھے تو بہت پسند آیا یہ مختلف ذائقہ۔‘‘
وہ مصروف سے انداز میں انگلیاں کی بورڈ پر چلاتے ہوئے بولے۔
’’تم بچوں کو سمجھائو گی تو وہ سمجھ جائیں گے۔ ماہم اب اس گھر کی بہو ہے۔ اسے ہر کام سے پیچھے تو نہیں ہٹا سکتے ورنہ سعد کو برا بھی لگ سکتا ہے۔‘‘
’’ان کو بس میں ہی غلط نظر آتی ہوں ہر معاملے میں۔‘‘ انہوں نے نحوت سے سر جھٹکا۔
٭٭٭
دل کا موسم اچھا نہ ہو تو باہر کیا حالات ہیں اس سے خاص فرق نہیں پڑتا ۔ جاتی سردیوں کے دن تھے ۔
سعد اور زاہد بھائی نے کوئی نیا پروجیکٹ شروع کیا تھا وہ زیادہ وقت آفس اور فیلڈ میں ہی گزارتے ۔ گھر میں دن بھر کوئی خاص کام نہ ہوتا۔ وہ اماں کے پاس جا کے بیٹھ جاتی۔ ان کی باتوں میں ماہم کو کبھی بڑا پن محسوس نہ ہوتا۔ ان کی باتیں ان کی اپنی تعریفوں سے شروع ہو کر اپنی اولاد کی خوبیوں پر ختم ہوتی تھیں۔ یہ الگ بات کہ فریحہ بھابھی بھی ان کی اولاد میں ہی شمار ہوتی تھیں ،وہ اس لیے کہ انہوں نے اپنا بچپن اور لڑکپن یہیں گزارا تھا۔
’’میں نے بہت محنت سے اپنے بچوں کو پالا ہے۔‘‘ تمہارے سسر کو تو پتا بھی نہیں تھا بچے کون سے اسکول جاتے ہیں۔ کس کلاس میں پڑھتے ہیں ۔ میں نے خود پڑھا یا لکھایا۔ بہترین لباس پہنائے ۔ لوگ آتے جاتے میرے بچوں کو پیار کرتے ۔ یہ فریحہ ، سعدیہ ، رابعہ سب کے بچے دیکھ لو ماشائ اللہ کتنے پیارے بچے ہیں۔ میری بیٹیوں نے اپنی اپنی سسرال میں محنت سے اپنے گھر بنائے ،وہاں اپنی جگہ بنائی ان کی ساس ، دیور ، نندوں سے پوچھو کتنی تعریفیں کرتی ہیں سعدیہ اور رابعہ کی۔
ماہم خاموشی سے سنتی رہتی۔ فریحہ بھابھی مسکراتی رہتیں اور کن اکھیوں سے اس کے تاثرات جانچنے میں لگی رہتیں۔
’’ا ماں ! آپ مجھے اجازت دیں کہ میں بچوں کے لیے لنچ ان کی مرضی سے خود بنایا کروں ۔ میں ماں ہوں ،اچھے سے جانتی ہوں کہ کب کیا بہتر ہے بچوں کے حساب سے۔‘‘
سب لوگ ڈائننگ روم میں جمع تھے۔ کھانا اس نے فریحہ بھابھی کے ساتھ مل کر ہی بنایا تھا یہ الگ بات کہ ان کی ہر بات پر روک ٹوک اس کا اعتماد بھی متزلزل کرتی اور موڈ بھی خراب کرتی۔
ان ساس بہو کو ماہم کے ہر کام ، ہر انداز سے چڑ تھی۔ وہ لچھے دار پیاز کاٹنے لگتی تو وہ چوپ کرنے کا حکم دیتیں۔ جس دن چوپ کرتی اس دن باریک کاٹنے کا فرماں جاری ہو جاتا۔ نمک ، مرچ ، ان کی مرضی سے ڈالا جاتا۔ یہاں تک کہ وہ دال کو تڑکا بھی ان ہی کی مرضی سے لگاتی اسے مونگ کی دال میں لہسن اور زیرے کا تڑکا پسند تھا لیکن انہوں نے زیرہ سکپ کروا دیا۔
ٹنڈے اس کو بھنے ہوئے پسند تھے لیکن اماں کی خواہش پر وہ شوربے والے بنتے۔
ٹرائفل میں انہیں نہ فروٹ کیک کی آمیزش پسند تھی نہ فروٹ جیلی کی۔
بریانی انہیں سلاد اور دہی کے بغیر چاہیے ہوتی تھی۔ ہر بات میں ماہم غلط اور فریحہ بھابھی ٹھیک۔ اس کے ہر کام سے سب کو مسئلہ ہوتا۔ اس کا کوئی کام کسی کو پسند نہ آتا۔
ابھی بھی وہ خوامخواہ ہی سب کے سامنے چور سی بن گئی جیسے یہ غلطی اس کی تھی کہ ان کے بچے چچی کے ہاتھ کا بنا کھانا پسند نہیں کرتے تھے۔
’’ماہم نے کہا تو تھا کہ وہ آپ سے پوچھ کے بچوں کی مرضی کا ہر روز کچھ نہ کچھ بنا لیا کرے گی پھر مسئلہ کیا ہے بھابھی ؟‘‘سعد اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہا تھا۔
’’ہاں بھئی ۔ایسا کہا تھا ماہم نے مگر تم تو جانتے ہو سعد بچے کتنے چوزی ہیں۔ ہر چیز میں وہ اتنے نخرے کرتے ہیں۔ اب سارا دن بچے اسکول میں گزارتے ہیں تو کم از کم گھر آ کر لنچ تو ان کی مرضی کا ہونا چاہیے۔‘‘فریحہ بھابھی خود پر مظلومیت طاری کر کے بولیں ۔
’’فریحہ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے۔ ہم سب جو کچھ بھی کرتے ہیں، وہ ان بچوں کے لیے ہی تو ہے اور بھئی صاف بات ہے۔ آئندہ وہی بنے گا جو میرے بچے پسند کرتے ہیں۔‘‘اماں نے فرمان جاری کیا۔
اس طرح اس کو ناشتے کی ڈیوٹی سے ہٹا کر لنچ کی ڈیوٹی سے بھی آزاد کر دیا گیا لیکن وہ کوئی سازشی ذہن رکھنے والی لڑکی نہ تھی کہ اس طرح کی بانٹ سے خوش ہوتی ۔وہ ماہم جاوید تھی۔ اپنی ماں کی طرح محنتی ، سگھڑ اور سلیقہ شعار ۔ محنت اور کام سے نہ گھبرانے والی۔
اسے فارغ بیٹھنا کبھی بھی پسند نہیں رہا تھا۔ وہ بی ایس 2 کی طالبہ رہی تھی اس لیے آئی ۔ ٹی میں بھی اسے بے حد دلچسپی رہی تھی۔ پڑھائی سے الگ اس نے سائبر سیکورٹی اور ڈیٹا سائنس کے کورسز کیے تھے۔ ان سب سے ہٹ کر کوکنگ جو اس کا جنون تھا ہمیشہ سے ۔ آٹھویں کلاس کے بعد اس نے میٹرک کیا اس کے بعد اس نے ملٹی کوزین کو رس کیا جس کے لیے اسے گھر سے کچھ دور جانا پڑا۔ یہ وہ وقت تھا جب اس نے مختلف بین الاقوامی کھانے جیسے چائنیز ، تھائی ، اٹالین سیکھے ۔ دیسی کھانے اسے امی نے بنانے سکھائے اور پھر سلمیٰ بھابھی آ گئیں جو اس کے لیے ماں کا ہی درجہ رکھتی تھیں۔ انہوں نے اس کو باربی کیو آئٹمز بنانے میںماہر کیا ۔کچھ اس کا شوق تھا۔ کچھ محنت کہ وہ ہر چیز میں ہی طاق ہوتی گئی۔ پھر ہر چھٹیوں میں وہ کبھی فاسٹ فوڈ میکنگ کورس کرتی تو کبھی ہیلتھی کوکنگ کورس جس کا سب سے زیادہ فائدہ اس کے والدین کو ہوا جب وہ ان کے لیے کم کیلوریز والے کھانے اور سلاد بناتی تو ان کے دل سے اس کے لیے بے شمار دعائیں نکلتیں۔
وہ ماں باپ آج اسے سسرال میں اسی چیز کے پیچھے اپنی درگت بنواتے دیکھ لیں تو ان کے دل کا نپ اٹھیں۔
اس کی آنکھیں قابو کرتے کرتے بھی چھلک گئیں ،وہ بہانے سے میز سے اٹھ گئی۔
’’رات کو جو تم نے زیرے کا رائتہ بنایا تھا، وہ آئندہ مت بنانا ،ہمارے گھر میں کوئی بھی نہیں کھاتا۔‘‘ تو پوں کا رخ اس کی طرف ہوا۔
’’جی اچھا۔‘‘ وہ سانس بھر کے رہ گئی۔
’’اور ماہم برا نہیں ماننا پلیز لیکن کل جو دال مونگ تم نے بنائی تھی وہ تھی تو اچھی لیکن ثابت سرخ مرچ اور سبز مرچ کو تڑکے میں شامل نہ کرتیں تو اچھا تھااب دیکھا تھا نا تم نے رات کو نہ بچوں میں سے کسی نے کھائی نہ سعد اور اماں نے ، دوپہر کو جو سالن میں نے بنایا وہی کھایا پھر سب نے۔ تم پلیز پوچھ لیا کرو پہلے ۔‘‘ فریحہ بھابھی بولیں۔ ماہم کو عجیب سی شرمندگی نے گھیر لیا۔
’’اوکے بھابھی ! میں آئندہ خیال رکھوں گی۔‘‘
’’تم سادہ کھانا بنایا کرو بھئی یا سمجھ میں نہ آئے تو مجھ سے یا فریحہ سے پوچھ لیا کرو۔‘‘ اماں بولیں۔ وہ جواب میں خاموش رہی۔ چند لمحے یونہی بیٹھنے کے بعد وہ کھڑی ہوئی۔
’’جا کیوں رہی ہو ۔بیٹھو نا !‘‘ فریحہ بھابھی نے مروت نبھائی جو کہ ان پر بالکل نہیں جچتی تھی۔
’’میں سوئوں گی کچھ دیر ابھی ۔‘‘ اس کا رکنے کا بالکل موڈ نہیں رہا تھا۔ دل عجیب سی بے بسی میں گھرا تھا۔
’’کچن میں اگر رضیہ ہوئی تو میری طرف بھیجنا اسے ۔‘‘
اماں نے پیچھے سے آواز لگائی تو وہ اوپر کو جاتی سیڑھیوں کی طرف مڑنے کے بجائے کچن کی طرف چلی آئی۔
رضیہ کچن ٹیبل کے پاس کھڑی تھی۔ اس کے سامنے ٹرے میں ایک طرف سیخ کباب دھرے تھے اور دوسری طرف چاکلیٹ ڈونٹس جنہیں وہ چھوٹے شاپر میں اخبار میں لپیٹ کر رکھ رہی تھی۔
’’یہ کیا کر رہی ہو رضیہ ؟‘‘ اتنی محنت سے بنائی چیزوں کو ایسے بے دردی سے اٹھا کے لپیٹنا اور شاپر میں رکھنا۔ اسے پسند نہیں آیا تھا۔
’’یہ کدھر لے کر جا رہی ہو اور اماں کو پتا ہے۔ تم کیا کر رہی ہو۔‘‘
’’جی باجی ! اماں جی نے ہی کہا کہ یہ لے جائو بچے کھالیں گے ۔یہاں تو کسی کو پسند نہیں آئے تو پڑے پڑے خراب ہی ہوتے ۔‘‘رضیہ نے نارمل سے انداز میں جواب دیا۔ دکھ اور تکلیف سے وہ سن سی ہو گئی۔
’’یہ کس طرح کی نیچر کے لوگ ہیں ۔کوئی اتنا خود پسند کیسے ہو سکتا ہے کہ اس کے ہاتھوں سے پکی چیزیں بھی ایسے بے دردی سے ملازموں کو دے دے۔‘‘
’’اماں جی بہت اچھی ہیں باجی! میرا بڑا خیال کرتی ہیںاس دن بھی آپ نے وہ جو بچوں کے لیے سویاں بنائی تھیں ناں مرغی اور سبزیاں ڈال کے وہ بھی میرے بچوں کے لیے دے دیں انہوں نے سب ۔‘‘
رضیہ بولے جا رہی تھی۔ وہ خاموشی سے اوپر آ گئی۔ رات تک یہ سوچ سوچ کر اس کا سر دکھنے لگا۔
سعد کو جب بتایا تو ہمیشہ کی طرح اس کا انداز لاپرواہ سا تھا۔
’’اگر انہوں نے ملازمہ اور اس کے بچوں کے لیے کچھ دے دیا تو اس میں اتنا برا ماننے والی کیا بات ہے ماہم ۔‘‘ وہ اس کی شکایت کو بالکل اور رنگ دے رہا تھا۔
’’مجھے ان کو کچھ بھی دینے دلانے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن وہ مجھے جان بوجھ کر یہ احساس دلاتی ہیں کہ میرا بنایا ہوا کچھ بھی اس قابل نہیں ہوتا کہ وہ اور بچے کھائیں۔‘‘ وہ رونا نہیں چاہتی تھی مگر اپنی ناقدری نے اس کا دل بہت کمزور کر دیا تھا۔
’’تم آئندہ کوئی ایکسٹرا ایفرٹ نہ کرنا جس پر بعد میں تمہیں دکھی ہونا پڑے۔‘‘ سعد نے بات ہی ختم کر دی۔
کل کی بدمزگی نے اس کا دل بے حد برا کیا تھا۔ اسے شدت سے خواہش ہو رہی تھی کہ کوئی اپنا ہو جس کے کندھے پر سر رکھ کے وہ چند آنسو بہالے۔ سو صبح اماں سے اجازت لے کر سعد کے ساتھ امی بابا سے ملنے آ گئی۔
صبح صبح اسے دیکھ کر سب بہت خوش ہوئے ۔ ناشتے سے سب فارغ ہو چکے تھے۔ دونوں بھائی اپنے اپنے آفس جا چکے تھے۔ بابا اپنے کسی دوست کی عیادت کو گئے تھے۔ بچے اپنے اپنے اسکول اور کالج صرف کرن ہی گھر پر تھی ۔ امی ، سلمیٰ بھابھی اور فائزہ بھابھی مزے سے لائونج میں بیٹھی تھیں۔ فائزہ بھابھی کسی کسی وقت ملازمہ کی طرف جاتیں اسے ہدایات دے کر واپس ان ہی کے ساتھ آ کے بیٹھ جاتیں۔ سعد اسے چھوڑ کے چلا گیا تھا۔
’’اور سنائیں پھوپھو کیا کرتی رہتی ہیں آپ گھر میں سارا دن ، مجھے تو لگتا ہے بس صبح شام نئے نئے مزید ار کھانے بنا کر ہی خود داد وصول کرتی ہوں گی۔‘‘ ماہین اس کے پاس آ بیٹھی تھی اور اس کی بات سن کر ماہم پھیکی سی پڑ گئی۔
’’میری بیٹی ہے ہی اتنی پیاری یہ تو ہر معاملے میں داد وصول کرتی ہو گی۔‘‘ امی نے اسے پیار سے دیکھا۔
’’ایسا کچھ نہیں ہے امی اور آپ جانتی ہیں نئی بہوئوں کو گھر میں جگہ بنانے کے لیے کتنی محنت کرنا پڑتی ہے ۔‘‘
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ماں کے سامنے کھل گئی۔ ابھی تو وہ اور بھی جانے کیا کہتی کہ سلمیٰ بھابھی اونچی آواز میں ملازمہ کو آواز دینے لگیں۔ ناچار اسے چپ ہونا پڑا۔
’’اٹھو ماہین ! کچن میں جا کے دیکھو فائزہ کیا کر رہی ہے۔ ان سے کہو کہ لنچ میں ماہم کا فیورٹ پاستا بھی بنائیں اور قیمہ بھرے کریلے بھی بنانے ہیں۔ بابا صبح کہہ رہے تھے اور اب مجھے یہاں نظر نہ آئو۔ فری ہو توکچھ کام کاج سیکھ لو ، کل کو تمہاری ساس کہے گی کہ ہم نے کچھ بھی سیکھا کے نہیں بھیجا ۔‘‘ انہوں نے ماہین کو ڈانٹا تو وہ منہ بسورنے لگی۔
’’سارا دن تو پڑھائی کرتی ہوں جو فری ٹائم ہوتا ہے اس میں آپ ساتھ لگا لیتی ہیں کسی نہ کسی کام میں اب پھپھو کے پاس کچھ دیر تو بیٹھنے دیں۔‘‘
’’کیا کروانا ہے آپ نے اس سے بھابھی ؟ وہ ابھی بچی ہے اسے زندگی انجوائے کرنے دیں اور کوئی ضرورت نہیں ہے سسرال کے ڈراوے دینے کی جب وقت آئے گا تو کرے گی سب کام ۔‘‘ وہ تلخی سے بولی۔ وہ سب اس کی طرف حیرت سے دیکھنے لگیں۔
’’تم تو لڑکیوں کے ہر کام میں طاق ہونے کی بہت حوصلہ افزائی کرتی تھیں ماہم یہ تم نے اپنی رائے کب سے بدل لی ۔‘‘ بھابھی نے امی کی طرف دیکھ کے کہا۔
’’اس لیے کہ اس سب کا کوئی فائدہ نہیں۔ آپ جتنا بھی کسی کام میں طاق ہوں ۔ ماہر ہوں لیکن آپ اپنی سسرال میں ہیں تو نہ کبھی آپ کی حوصلہ فزائی کی جائے گی۔ نا ہی کسی کام کو سراہا جائے گا۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ مزے سے زندگی گزارو، جو کام جیسے کرنا ہے وہ کرو اور سسرال میں جا کے ان لوگوں کے معیار ، خواہشات ، مزاج اور لحاظ سے ہر کام انہی سے سیکھ کے انہی کے انداز میں کرو تو وہ صحیح ہے۔ ایسے میں اگر ذلت اٹھانا بھی پڑے تو وہ اتنی تکلیف دہ نہیں ہوتی دکھ اور اذیت ناقدری کی ہوتی ہے۔‘‘
’’کوئی بات ہوئی ہے ماہم اس طرح کی باتیں کیوں کر رہی ہو ۔‘‘ ماں تھیں نا پریشان ہو گئیں بیٹی کا چہرہ ہمیشہ کی طرح کھلا کھلا نہیں تھا یہ تو انہوں نے دیکھتے ہی جانچ لیا تھا۔
’’کچھ نہیں ہونا امی ، آپ تو جانتی ہیں ماہم کتنی حساس ہے ساس نے ذرا سا کچھ کہہ دیا ہو گا تو پریشان ہو گئی ہو گی ۔‘‘ بھابھی نے فوراً سے امی کو جواب دے کر بہلایا اور خود ماہم سے دوسری باتوں میں لگ گئیں۔
لنچ کرنے کے بعد وہ امی کے کمرے میں لیٹی تھی۔ امی لائونج میں تھیں غالباً ملازمہ کے کچھ مسائل سلجھا رہی تھیں۔ کمرے کا دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز آئی تو وہ جو کروٹ لیے آنکھیں موندے لیٹی تھی سیدھی ہو کے دیکھنے لگی۔ سلمیٰ بھابھی اس کے قریب ہوئیں۔ ’’سورہی تھیں ؟‘‘
’’نہیں بھابھی !‘‘ وہ اٹھ کے بیٹھی۔
’’یونہی نیند آئی تو لیٹ گئی لیکن سو نہیں سکی۔‘‘
’’کیا بات ہے ماہم ، پریشان لگ رہی ہو۔ سب خیر تو ہے گھر میں۔ سعد کیسا ہے ؟‘‘ بھابھی پریشانی سے گویا ہوئیں۔ جواباً اس کی آنکھیں چھلک پڑیں ۔
’’کچھ ٹھیک نہیں ہے بھابھی۔‘‘ اس کے آنسو تیزی سے بہنے لگے ۔’’کچھ بھی ٹھیک نہیں۔‘‘ وہ پھر بولی۔
’’ہوا کیا ہے ماہم کچھ بتائو گی تو پتا چلے گا نا !‘‘ انہوں نے اس کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔ روتے ہوئے اس نے سب بتانا شروع کر دیا۔
’’ٹھیک ہے بھابھی ! میں مانتی ہوں میں کام ٹھیک نہیں کر پاتی جیسے ان کی مرضی و خواہش ہوتی ہے لیکن میں کوشش تو کرتی ہوں۔ کبھی انہیں کسی بات سے انکار نہیں کیا ، روکا نہیں ، بہانا نہیں بنایا اس کا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ وہ میرے ہر کام پر ہر وقت اعتراض کریں ۔‘‘
اب دل تھوڑا ہلکا ہوا تو آنسو بہنے کی رفتار بھی کم ہو گئی۔
’’میں نے ہر طرح سے کوشش کر کے دیکھ لیا لیکن وہ مجھ سے خوش نہیں ہوتے بلکہ وہ چاہتے ہی نہیں کہ مجھے بھی گھر کا فرد سمجھیں ۔ میری ساس اور فریحہ بھابھی ہر وقت مجھے نیچا دکھانے کی کوشش میں رہتی ہیں۔ سعد نے کبھی میرا خیال کیا نہ میری طرف سے کچھ بولے ،یوں لگتا ہے انہیں وہی سچ دکھائی دیتا ہے جو انہیں بتایا جاتا ہے اور سب سے بڑی بات جو کسی طور مجھے قبول نہیں ۔وہ ان کا رکھائی بھرا انداز ہے۔ کسی کو سمجھانے میں اور لفظی اور عملی طور پر ذلیل کرنے میں بہت فرق ہوتاہے اور میرے ساتھ ساس بہو دونوں کا رویہ ایسا ہوتا ہے گویا میں اس گھر کی بہو نہیں کوئی ملازمہ یا چھوٹی بچی ہوں جس کو جب چاہا کسی کے بھی سامنے ڈانٹ دیا۔ آپ جانتے ہیں میری کنڈیشن کیسی ہے ،کیا اس طرح کے حالات میں کوئی خوش رہ سکتا ہے اور میں اپنی کوئی جگہ نہیں بتا پائی تو آنے والے بچے کی حیثیت بھی ویسی ہی ہوگی دو نمبر شہری جیسی ۔‘‘
سلمیٰ بھابھی نے خاموشی سے اس کی سب باتیں سنیں اور جب وہ دل کا غبار نکال چکی تو وہ گویا ہوئیں ۔
’’تمہیں یاد ہے ،تمہیں رخصت کرتے وقت بابا نے تمہیں کیا نصیحت کی تھی۔‘‘بھابھی کے پوچھنے پر وہ حیران سی نفی میں سر ہلانے لگی۔
’’انہوں نے کہا تھا کہ عزت سب کی کرو ، ادب و احترام ہر رشتے کو دو۔ ہر رشتہ کو اس کی جگہ پر رکھو لیکن اپنی عزت نفس پر آنچ نہ آنے دینا۔‘‘
اس نے غور سے بھابھی کی بات سنی تو بابا کی یہ نصیحت بھی یاد آ گئی۔
’’سسرال میں ہر لڑکی کو اپنی جگہ بنانے کے لیے محنت اور جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ میں تمہاری ماں یا بہن نہیں بھابھی ہوں۔ میں بالکل غیر جانب دارانہ نبدارانہ تجزیہ کروں تو یہ کہوں گی کہ وہ لوگ بہت بدقسمت ہیں جو اتنی گنوں اور خوبیوں والی لڑکی کی قدر نہیں کر رہے۔ تم نے بہت برداشت کیا ہے۔ ڈیڑھ سال کا عرصہ اپنے ناکردہ گناہوں اور غلطیوں کی سزا کاٹنے اور ان کا بوجھ اٹھانے کو کم نہیں ہوتا۔ تم آج کل کی لڑکی ہو اپنے حقوق کو بھی پہچانو فرائض کے ساتھ ساتھ ۔جو اپنی عزت خود نہیں کرتا دنیا اسے روندتی گزر جاتی ہے۔ خود کو پہچانو اور اپنی قدر کرنا سیکھو اور سکھائو۔‘‘
گھر میں سب کے اس قدر حوصلہ شکن رویے نے اسے توڑ ڈالا تھا۔ اس کا اعتماد اور حوصلہ دونوں پر ہی کاری ضرب پڑی تھی ۔وہ گویا بلند عمارت سے منہ کے بل نیچے گری تھی اور دھکا دینے والے بھی اس کے اپنے ہی تھے۔
٭٭٭
اب رات کا کھانا ملازمہ کے ساتھ مل کر وہی بناتی تھی اور شروع شروع میں جس جوش و خروش نے اس کو گھیرا ہوا تھا ۔وہ رفتہ رفتہ ماند پڑتا گیا۔
جب نئی نئی رات کے کھانے کی ڈیوٹی سنبھالی تو پرانی باتیں ذہن سے جھٹک کر نئے سرے سے ہمت جمع کی اور ایک بار پھر سب کو خوش کرنے اور خود پر بھروسا کرنے کی کوششیں تیز کر دیں۔
اس نے ہر روز کے حساب سے مینو بنایا ۔ جس میں میٹھا بھی شامل تھا۔ ایک ڈش بڑوں کے لیے اور ایک بچوں کے لیے الگ سے اگر انہیں کچھ اور کھانا ہو تو۔
لیکن اس سب میں وہ یہ احتیاط ضرور کرتی کہ فریحہ اور اماں سے پوچھ لیتی۔ پوچھنا ہوتا تو خیر الگ بات تھی۔ اسے تو اجازت چاہیے ہوتی تھی۔
اس کے بابا اکثر کہا کرتے تھے کہ انسان جینے کے لیے کھاتا ہے اور ایک مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ہر وقت بھرے پیٹ سے رہے۔ اس کے بابا اور بھائی گھر میں ایک بہترین کک ہونے کے باوجود بہت کم اور ضرورت کے مطابق کھاتے۔ اس نے اپنے سارے شوق پورے کیے۔ اس کے ہر تجربے پر اس کے امی ،بابا اسے داد بھی دیتے اور ہر خراب تجربے پر اس کے بابا اکثر کہتے ۔
’’کوئی بات نہیں ، جہاں ہر بار اچھی چیز بنتی ہے کیا ہوا اگر کبھی خراب بن جائے۔ کھانے میں نقص نکالنا مسلمان کی شان کے خلاف ہے ۔‘‘
اسی وجہ سے کھانے میں کوئی نقص نہ نکالتا ، کسی کو پسند ہوتا کھانا نہ پسند آتا تو چھوڑ دیتا لیکن نمک ، مرچ ، مسالے پر بحث اس کے بابا کو نا پسند تھی۔
ایک بار اس نے بادام کا کیک بنایا جو کچھ سخت تھا یہ تب کی بات تھی جب اس نے بیکنگ شروع کی تھی۔ نعمان بھائی نے بہت مذاق اڑایا اتنا کہ وہ رونے لگ گئی۔ اس کو دنیا کے ہر معاملے میں روک ٹوک کر لو ، ڈانٹ لو ، نقص نکال لو وہ پی جاتی مگر اس معاملے میں وہ حد سے زیادہ ٹچی اور کمزور تھی ،وہ نہیں سن سکتی تھی کہ اس نے کبھی بھی کچھ خراب بنایا ہے۔ اس موقع پر ماما. بابا نے نعمان بھائی کو ڈانٹا تھا۔
’’بہنیں اچھا یا برا بنائیں تواس پر تنقید نہیں کرتے ،جب اپنے گھر والے تنقید کریں گے تو سسرال والوں سے کیا امید ۔‘‘
اس کا سیروں خون بڑھ گیا تھا۔ لیکن امی کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ انہیں بابا کا ایسا کہنا برا لگا۔
’’کل کو اسے اگلے گھر میں جانا ہے تو وہاں کون اتنے نخرے اٹھاتا ہے۔ تنقید سننے کا بھی حوصلہ پیدا کرنا چاہیے ماہم کو۔‘‘ وہ شکایتی نظروں سے ماں کو دیکھتی بابا کے اور نزدیک ہو جاتی۔
’’تنقید والی بات صحیح ہے لیکن تنقید برائے اصلاح ہو تومنفی رویے اور منفی تنقید سہنا کوئی جرات کی بات نہیں بلکہ یہ کمزوری کی علامت ہے۔‘‘
سب بہت یاد آ رہے تھے۔ رشتوں کی یہ بھی اچھی بات ہے کہ مشکل کو آسان بنا دیتے ہیں۔
٭٭٭
کچھ دن مزید گزرے تھے۔ اب وہ اپنی مرضی کا مینو بھی نہیں چوز کر سکتی تھی ۔ہر چیز دوسروں کی مرضی و منشا کی ہوتی۔ فریحہ بھابھی کے مشورے اور ٹپس چلتیں۔ ان معاملات میں اس کی اپنے گھروں میں بیٹھی نندیں بھی ہر وقت اپنی خدمات دینے کو تیار رہتیں۔
ایک دن کھانا تھوڑا سا لیٹ ہوا تو رابعہ آپی کہنے لگیں۔
’’آپ سب چیزوں کی کٹنگ پہلے سے کر کے رکھیں تو جلدی کام نپٹ جائے۔ پیاز برائون کر کے رکھ لیں، ٹماٹر کیوبز میں کاٹ کے رکھ لیں ۔ بھئی میں تو ایسا ہی کرتی ہوں جب کھانا بنانا ہو باہر نکالو اور استعمال کر لو۔ ایک گھنٹے میں سب تیار ہو جاتا ہے۔‘‘
وہ اس کے پاس کھڑی اس کے کٹے دھنیے کو مزید باریک کاٹ رہی تھیں۔ اس نے بہت غور سے ان کی اس حرکت سے نظر چرائی۔
ان کے تبصرے پر وہ خاموش رہی ۔وہ ان سے کہنا چاہتی تھی کہ وہ یہ سب جانتی ہے لیکن وہ فی الحال گھر میں بالکل فارغ رہتی تھی، ایسے میں یہ سب اس کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ مسالے تازہ ہی کٹے ہوں تو الگ مزہ دیتے ہیں ورنہ فروزن وہاں فائدہ مند ہوتے ہیں جہاں عورتوں پر گھر کا بہت بوجھ ہوتا ہے یا جاب کرنے والی خواتین ان سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں مگر جواب میں وہ مکمل خاموش رہی۔
٭٭٭
اماں کی طبیعت کچھ دن سے خراب تھی۔ ان کا بلڈ پریشر اور شوگرلیول دونوں ہی بڑھے ہوئے تھے۔ ڈاکٹر سے نئے سرے سے چیک اپ کرایا اور اب وہ نئی دوا استعمال کر رہی تھیں لیکن کمزوری نے انہیں بستر پر لٹا دیا تھا۔
اس کے امی ، بابا ، بھائی ، سلمیٰ بھابھی ان کی عیادت کو آئے تھے۔ بچے بھی ساتھ تھے۔ اسی دن سعدیہ اور رابعہ آپی بھی اپنے میاں کے ساتھ آئی تھیں۔
رابعہ آپی کی ساس اور جیٹھانی بھی ساتھ تھیں اور سعدیہ آپی کی ساس ، نند اور ان کے میاں بھی آئے تھے۔ گھر میں خوب چہل پہل تھی۔ خواتین اماں کے کمرے میں تھیں اور مرد سب ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے۔ کولڈ ڈرنکس کے بعد سب کو چائے اور کافی سرو کی گئی اور ابھی ماہم فریحہ بھابھی کے کہنے پر ڈرائی فروٹس کی چھوٹی ٹرے سجا کے دونوں کمروں میں پہنچا آئی۔
کھانے میں ابھی کافی دیر تھی۔ وہ اور فریحہ بھابھی ملازمہ کے ساتھ ہی مصروف تھیں۔ مٹن قورمہ ، بریانی اور نرگسی کوفتے اس نے بنائے تھے۔ قیمہ مٹر ، مونگ کی دال فریحہ بھابھی نے تیار کر لیا۔ اس نے جلدی سے موسم کی مناسبت سے کدو کا حلوہ بھی تیار کر لیا۔ رائتہ ،سلاد بھی سب بن گیا تھا۔
وہ اماں سے پوچھنے آئی تھی کہ کھانا کب لگائیں۔ لیکن اس کے سوال نے اسے ان ساری خواتین جن میں اس کی امی بھابھی اور بھتیجی بھی شامل تھیں حد سے زیادہ شرمندہ کر دیا۔ وہ بولیں۔
’’کھانا فریحہ کے ساتھ ہی مل کے بنایا ہے نا !‘‘
’’جی اماں !‘‘اس نے امی کی طرف دیکھ کے جواب دیا۔ جن کو اس کی بات صحیح سمجھ میں نہیں آئی تھی۔
’’ہاں اچھا کیا، تم سے اکیلے کہاں اتنا سنبھالا جاتا یہ تو فریحہ کی ہی ہمت ہے جو چار بچوں کے ساتھ اتنا کچھ بڑے سبھائو سے چلا رہی ہے۔‘‘
ہمیشہ کی طرح انہوں نے فریحہ کے لیے تعریفی کلمات ادا کئے۔ اس کی امی اور بھابھی نے پریشان صورت لیے کھڑی ماہم کو دیکھا۔
’’اتنے مہمانوں کا کھانا تو ماہم کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے بہن ! آپ کو شاید ہماری ماہم کی صلاحیتوں پر بھروسا نہیں ۔‘‘
اس کی امی نے فق چہرہ لیے کھڑی ماہم کو دیکھ کر اس کی ساس سے کہا۔ انداز مجبوراً ہلکا پھلکا ہی رکھا کہ کہیں کوئی بدمزگی نہ ہو۔
’’بھروسا کر کے دیکھ چکے ہیں۔ اب روز روز رزق کا نقصان تو نہیں کر سکتے اسی بھروسے کے بل پر ، بہت مشکل ہے کھانا اور بہت آسان ہے اسے اڑانا۔‘‘
اپنی طبیعت کو پس پشت ڈال کر اور اتنے مہمانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے انہوں نے ایک اور طنز کا نشتر اس کے سینے میں چبھو یا۔
’’ایسا بھی کیا نقصان کر دیا ہماری بیٹی نے آنٹی !کیا ہم نہیں جانتے ،ہماری ماہم کتنی سلیقہ شعار ہے۔ گھر کا کوئی ایسا کام نہیں جو ہم نے اسے نہ سکھایا ہو پھر یہ آپ کس طرح کی باتیں کر رہی ہیں۔‘‘ سلمیٰ بھابھی نے اٹھ کے جا کے اسے تھام لیا جو ٹھنڈے ہاتھوں اور فق چہرے کے ساتھ بس وہاں موجود سب کے چہرے دیکھے جا رہی تھی۔
’’دیکھو بی بی ! میں نے کوئی غلط بات نہیں کی۔‘‘ہم نے رشتہ کرتے وقت بہت واضح انداز میں کہا تھا کہ میرا بیٹا بہت خوش خوراک ہے۔ میں نے ہمیشہ اپنے بچوں کو بہترین کھلایا پلایا ہے۔ اس وقت تم لوگوں نے دنیا جہان کی تعریفیں کیں اور اب ۔‘‘ وہ جانے کون سا غصہ اور کب کی جلن نکال رہی تھیں۔
’’اب ایسا کیا ہو گیا ہے۔ اگر وہ آپ کے معیار کا نہیں بنا پا رہی تو آپ اپنے طریقے سے سکھا دیں۔ بہت ساری بہوئیں ہوتی ہیں جو سسرال آ کر کھانا نئے سرے سے پکانا سیکھتی ہیں ۔‘‘
سلمیٰ بھابھی نے ان کی بات کاٹی نہ چاہتے ہوئے بھی ان کی آواز بلند ہو گئی۔ شور سن کے سب ہی وہاں جمع ہو گئے۔ اب زیادہ لوگ اس کی بے عزتی میں حصہ دار بن گئے تھے۔ اس کے بابا ، سعد ، زاہد بھائی ، دونوں بہنوئی ، فریحہ ، ملازم ، بچے ، ہر ایک اب سن رہا تھا اور سب سمجھ گئے تھے کہ جھگڑا کس بات پر ہو رہا ہے۔
’’اماں پلیز ۔بس کریں ،یہ کوئی وقت ہے ان سب باتوں کا۔‘‘ سعد فوراً آگے بڑھا اور ماں کے قریب ہو کر ان کے ہاتھ تھام کر انہیں خاموش کرانے لگا۔
’’سعدیہ !خوامخواہ بات کا بتنگڑ بنا رہی ہیں۔ ارے میں نے ایسا تو کچھ غلط نہیں کہا۔ میں صرف اس کے گھر والوں کو یہ بتانا چاہ رہی تھی کہ جب بیٹیاں شادی کے قابل ہو جائیں تو انہیں کچھ گھر داری بھی سکھا دیا کریں۔ اگلوں کو جا کے مشکل میں نہ ڈال دیں۔‘‘
’’اچھا اماں !جانے دیں وہ سب سیکھ لے گی۔ سب کر لے گی جیسا آپ چاہیں گی ویسا ہی ہو گا۔ آپ ابھی اپنی طبیعت خراب نہ کریں۔‘‘
ماہم سعد کو دیکھتی رہ گئی یہ تسلی دینے کا کیسا انداز تھا جس نے اس کے اندر سے اس کی روح کو بھی زخمی کر دیا تھا۔ اتنی ذلت ، اتنی جگ ہنسائی ، اس کو لوگوں کی پرواہ نہیں تھی اس کا مان ٹوٹا تھا اس کے ماں باپ کے سامنے ،وہ زندگی بھر ایک اچھی ، پیاری ، مخلص ، سلیقہ شعار، خدمت گزار بیٹی بن کے رہی تھی۔ یہ مان کرچی کرچی ہوا تو اس کی کرچیوں کی چبھن ۔ اس کے ماں باپ ،بھائی اور بھابھی کی آنکھوں میں ہو رہی تھی۔ اس کے بابا فق چہرہ لیے آگے بڑھے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔
اس نے نظریں زمین پر گاڑ دیں۔ اور پھر وہ خاموشی سے واپس پلٹ گئے۔ ان کے پیچھے بھائی ، بھابھی امی اور بچے بھی نکل گئے وہ روتی آنکھوں سے اپنے وجود کی خاک اڑتے ہوئے دیکھتی رہی۔
٭٭٭
’’کیا ضرورت تھی اتنی بحث کی اماں ! اتنے سارے مہمان تھے گھر میں، اتنی باتیں سنائیں آپ نے ماہم کو۔‘‘ زاہد اماں سے کہہ رہے تھے۔
ماہم کے گھر والے کھانا کھائے بغیر ہی چلے گئے تھے ۔زاہد نے انہیں روکا تھا مگر وہ رکے نہیں۔
زاہد نے ان کی آنکھوں میں دکھ اور پچھتاوا ایک ساتھ دیکھا تھا۔ اسے بہت برا محسوس ہو رہا تھا۔ وہ ایک پڑھی لکھی فیملی تھی۔
’’اس کے گھر والوں سے سچ برداشت نہیں ہوا۔ آخر ساس ہوں چار باتیں سنا دیں تو کیا ہوا ۔‘‘ ان کے بچے تو خوامخواہ ہی پیچھے پڑ گئے تھے۔ پہلے سعد بیوی کو لے کر اوپر چلا گیا اور اب یہ ۔
’’پہلی بات تو یہ ہے کہ اسے چند دن نہیں سال سے اوپر ہو گیا ہے ۔ اس گھرمیں آئے۔ اس گھر کو اپنا سمجھتی ہے۔ آپ سب کی عزت کرتی ہے۔ ہزار جلی کٹی باتوں کے جواب میں بھی نہ خود کبھی کچھ کہا نہ سعد کے کان بھرے کیا آپ کو اس کی یہ فطرت نظر نہیں آئی جس میں اس کی بہترین تربیت کے رنگ جھلکتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس کے ماں باپ کے سامنے یہ باتیں کر کے آپ نے ان کا بھی دل توڑا ہے ۔‘‘
زاہد کو انتہائی برا لگا تھا گھر والوں کا یہ رویہ۔ وہ شروع سے ہی اپنے باپ کے ساتھ زیادہ رہا تھا۔ اس کے باپ بہت ہی سخی ، سادہ مزاج اور نیک دل کے مالک تھے۔ اماں کی طبیعت میں سختی اور غصہ کا عنصر زیادہ تھا ۔
’’آپ تو خوامخواہ اماں کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ اچھی طرح جانتے ہیں۔ اماں ہر کام مکمل اور پرفیکٹ چاہتی ہیں۔‘‘
فریحہ کا من پسند کھیل رچایا گیا تھا۔ وہ کیسے ساس کی حمایت میں آگے نہ بڑھتی۔
’’جتنی غلطی اماں کی ہے ،اس سے زیادہ قصور وار تو تم ہو ۔‘‘ زاہد بیوی پر پھٹ پڑا۔
’’میں . میں نے کیا کیا ہے۔‘‘ وہ حیران ہوئی ۔
’’تم اچھی طرح جانتی ہو ،اماں تمہاری باتوں اور مشوروں کو بہت اہمیت دیتی ہیں تو تمہیں چاہیے تھا کہ اماں کو ماہم کے بارے میں اچھی باتیں بتائیں اور اس کے بارے میں اماں کی رائے بہتر کرتیں تاکہ گھر کا ماحول پر سکون رہے۔ مگر تم ایسا کیوں کرو گی تم تو بس یہ چاہتی ہو کہ ہر طرف صرف تمہاری واہ واہ ہو ۔‘‘
وہ کچھ کہنے کے لیے پر تولنے لگی تو زاہد نے اسے ٹوک دیا۔
’’میری بات مکمل نہیں ہوئی جب تم خود گھر میں آئی تھیں تو تمہیں کیا آتا تھا؟ کوئی ایک کام جو تم ڈھنگ سے کر سکو۔ کھانا بنانا تم نے اماں اور سعدیہ سے سیکھا ، بچے تمہارے میری ماں اور ملازموں نے پالے ، تربیت کے نام پر تم نے انہیں صرف کھانا ، کھانا اور صرف کھانا ہی سکھایا ہے۔ ایک چائے کا کپ تم گھنٹے میں بناتی ہو اور وہ بنانے کے بعد جب کچن سے باہر نکلتی ہو توایسا لگتا ہے جیسے کسی ہوٹل کے کچن میں گھس گئے ہوں۔ تم نے کبھی ماہم کے کام پر غور کیا ہے ؟ وہ دس کھانے بھی تیار کرے تو وقت سے پہلے کرتی ہے اور کچن دیکھو تو لگتا نہیں کہ یہاں کوئی آیا بھی تھا، میں مرد ہوں تو کیا ہوا رہتا تو گھر میں ہی ہوں اور گھر کا بڑا ہونے کی وجہ سے ہر معاملے پر نظر رکھتا ہوں۔‘‘
فریحہ شوہر کے منہ سے اتنے کڑوے سچ سن کر سہہ نہ پائی تو تن فن کرتی باہر نکل گئی اور پیچھے سے ساس کو حوصلہ دینا بھی بھول گئی۔
٭٭٭
اتنی ذلت ، خواری اور شرمندگی کے ساتھ وہ دوبارہ سے سب گھر والوں کا کیسے مقابلہ کرتی وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ اس کی طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی سعد کے ساتھ ہاسپٹل گئی تو ڈاکٹر نے نئی زندگی کی نوید سنائی ، جہاں وہ بہت خوش ہوئی وہیں دل ملول سا بھی ہو گیا۔
اس دن کے واقعے کے بعد اس نے سعد کے ساتھ دل کی باتیں کرنا چھوڑ دیا تھا۔ اب اسے اس کے جھوٹے دلاسوں اور تسلی کی ضرورت نہیں تھی۔
سعد نے اس واقعہ کے بعد اس کی دل جوئی کرنے کی کوشش کی تھی مگر اس نے بس چند باتیں ہی کہیں۔
’’بیوی کی محنت اور کوشش کی قدر کرنا عورت کو مضبوطی عطا کرتا ہے، ساتھ ہی اس کے اعتماد میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ جو عورت شوہر کی ذمہ داریاں اور فرائض ادا کرنے میں ایک پل بھی نہیں ہچکچاتی وہ کم از کم تھوڑی بہت عزت کی تو مستحق ہوتی ہی ہے نا ! مجھے گلہ صرف آپ سے ہے کہ آپ نے ہر جگہ ، ہر بار اور ہر موقع پر سب کے ساتھ مل کر مجھے ذلیل کیا ، کم تر سمجھا اور سب کے ساتھ مل کرمیری عزت ، میرے مقام اور حیثیت کو ذلت اور حقارت کا نشانہ بنایا ۔‘‘
’’جب گھر میں بیوی اور بہو بیاہ کر لاتے ہیں تو براہ مہربانی تھوڑی بہت وسعت اپنے دلوں میں بھی پیدا کر لیا کریں۔ ‘‘
سعد نے آگے بڑھ کے اسے تھامنے کی کوشش کی وہ خاموش رہی ، اس کے ہاتھ نہیں جھٹکے۔ وہ اسے لیے صوفے پر بیٹھ گیا۔ کچھ لمحے یونہی بیت گئے۔
’’تمہیں آئندہ کوئی شکایت نہیں ہو گی ،میں۔‘‘ وہ بولا لیکن ماہم نے اس کی بات کاٹ دی۔
’’شیشہ ایک ہی بار چکنا چور ہوتا ہے۔ دوبارہ سے جڑنے کا عمل اس میں کبھی بھی نہیں ہو سکتا، یہ فطرت کا اصول ہے۔ عزت شیشے کی طرح ہی نازک ہوتی ہے۔‘‘اس نے نرمی سے اپنے ہاتھ اس کے ہاتھوں سے الگ کیے۔
’’بات صرف کھانا پکانے کی حد تک ہو تو ٹھیک ہے مگر اس ایک چیز کو آڑ بنا کر کسی کی صبح شام تذلیل کرنا وہ بھی صرف اس لیے کہ کہیں اسی ایک خوبی کی بنا پر کوئی اچھا مقام نہ حاصل کر لے خاصی دل شکن بات ہے۔‘‘
سعد خاموش تھا ،وہ جانتا تھا اس کے ساتھ اب تک جو بھی ہوتا رہا ۔وہ غلط تھا ،سب کے ساتھ وہ خود بھی اس کا قصور وارتھا، اس سے اچھے تو زاہد بھائی نکلے جو ہر بار ایسے موقع پر اس کی طرف داری کرتے تھے اور وہ خود جس کا یہ فرض تھا کہ اپنی بیوی کو تحفظ فراہم کرے ایسے ہر موقع پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیتا۔
مگر اسے یقین تھا ۔یہ وقتی غصہ ہے اور اس کا موڈ جلد ٹھیک ہو جائے گا لیکن یہ اس کی سب سے بڑی غلط فہمی تھی وہ بھی ماہم کو لے کر ۔
بعض اوقات کوئی جملہ ۔ لمحہ یا ایک واقعہ انسان کو بدل کے رکھ دیتا ہے اور انسان وہ کرنے کی ٹھان لیتا ہے جو پہلے سوچنے کی ہمت بھی نہیں کی ہوتی۔
سلمیٰ بھابھی کے بارہا سمجھانے سے بھی وہ کبھی نہ سمجھی ، سعد کے بیگانے رویے نے بھی اس کو کبھی ہمت نہ دی۔
اپنے صحیح کام پر بھی کئی بار سخت باتیں سن کر اور بلاوجہ خود کو ڈی گریڈ کروا کر بھی خود کو بدلنے کی وہ ہمت جو اس میں کبھی نہ آ سکی، وہ اپنے جان سے عزیز بھائی اور ماں باپ کی بے عزتی کروانے کے بعد اس میں آ گئی تھی۔
اس نے جان لیا تھا کہ اگر وہ خود اپنے لیے آواز نہیں اٹھائے گی تو کوئی بھی اس کی مدد کو نہیں آئے گا اور اس کے حالات دن بدن خراب ہوں گے۔
چند ماہ میں اس کی اولاد بھی ہو جاتی تو ایسے ماحول میں وہ بچے کی کیا پرورش کرتی جہاں قدم قدم پر اسے یہ جتانے کو لوگ موجود ہوں کہ وہ سب اس سے بہت بہتر ہیں۔
’’نہیں اسے اپنے بیٹے کو یہ ماحول نہیں دینا ۔ اسے ایک مضبوط اور صحت مند ماحول دینا ہے اور وہ ماحول تب ہی بننا ہے جب وہ خود کوشش کرے گی ۔‘‘ اپنا لائحہ عمل وہ تیار کر چکی تھی۔
٭٭٭
فروری کے موسم کی دھند بھری شام تھی۔ سارا دن بھی ایسے ہی دھند چھائی رہی تھی اس کا بہت دل چاہا کہ وہ کچھ دیر کے لیے دھوپ میں جا کے بیٹھے مگر سورج نے ذرا دیر کو چھب دکھلائی اور پھر منہ چھپا لیا۔
وہ کمرے میں واپس آ گئی۔ اس حالت میں اسے نیند بہت زیادہ آ رہی تھی ابھی بھی سونے کا وقت نہیں تھا لیکن وہ کمرے میں آ کے ہیٹر آن کر کے گرم بستر میں لیٹ گئی۔ منٹوں میں اس کی آنکھ لگ گئی۔ ابھی سوئے ہوئے جانے کتنی دیر گزر گئی تھی جب کمرے کے دروازے پر ہلکی ہلکی سی دستک سنائی دی۔ اس نے خودپرسے کمبل ہٹایا۔ بال سمیٹ کر پونی ٹیل بنائی۔
’’آجائیں۔‘‘ اٹھتے اٹھتے وہ دوبارہ سے تکیے کے سہارے بیٹھ گئی۔ ملازمہ نے دروازہ کھولا اور دو قدم اندر ہوئی اور بولی۔
’’باجی بیگم صاحبہ بلا رہی ہیں۔ میں پہلے بھی دوبار آئی لیکن آپ سو رہی تھیں۔‘‘
’’اچھا!‘‘ اس نے سائیڈ ٹیبل پر پڑی ٹرے میں سے گلاس پانی سے بھرا اور گھونٹ گھونٹ پینے لگی۔
’’میرے لیے چائے لے آئو اور آئندہ میرے ایسے چھوٹے موٹے کام تم ہی کرو گی کیونکہ میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں رہتی اور کچن میں گھستے ہی عجیب سی متلی آنے لگتی ہے ۔ تمہارا جو بھی اضافی حق ہو گا ، وہ میں خود دیا کروں گی ۔‘‘
ملازمہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔ اس کی حیرت پر ماہم کو ہنسی آئی۔
’’تم ٹھیک ہو ؟‘‘ اس نے یونہی پوچھ لیا۔
’’میں تو ٹھیک ہوں باجی !آپ کی طبیعت مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی۔‘‘ اس نے تعجب سے کہا۔ جواباً وہ مسکرائی۔
’’تم چائے لے آئو ،میں پی کے فریش ہو کر نیچے آتی ہوں۔‘‘ ملازمہ چلی گئی۔ ماہم فریش ہونے کے لیے باتھ روم چلی گئی۔
ملازمہ واپس آئی تو فریحہ اور اماں صوفے پر ایک ساتھ بیٹھی تھیں۔ لائونج میں خنکی سی تھی لیکن ہیٹر آن نہیں تھا۔ سامنے بڑی سی LCDسکرین پر کارٹون چل رہے تھے تین سالہ ذوہان ہاتھ میں چپس کا پیکٹ پکڑے پورے دھیان سے ٹی ۔ وی کی طرف مگن تھا۔ اس کے ساتھ اسے صوفے پر پانچ سالہ ذی شان ہاتھ میں اسٹوری بک لیے بیٹھا تھا اور کسی کسی وقت نظر اٹھا کے ٹی ۔ وی سکرین پر ڈال لیتا۔
’’فریحہ !بچے کب تک فارغ ہو جائیں گے۔‘‘ اماں نے ساتھ بیٹھی بہو سے پوچھا جو سامنے لکڑی کی جھوٹی سی میز پر چائے کے ساتھ کباب اور بسکٹس کھا رہی تھی۔
’’بس اماں !دس پندرہ منٹ تک فارغ ہو جائیں گے۔‘‘
’’اچھا تم ایسا کرو ، بون لیس چکن بھی نکال لو اور ماہم کو بتا دو بچوں نے جو بھی کھانا ہے اور میں سوچ رہی تھی۔ پلائو کے بجائے فرائیڈ رائس بنوا لوں ساتھ میں وائٹ کڑاہی۔ سبزی میں آج کچھ نہ بنوانا ۔ اس کے علاوہ بھی تم سعد اور زاہد سے پوچھ لو ، میٹھے میں کیا کھائیں گے۔ ویک اینڈ ہے۔ بچے اچھا سا ڈنر کریں گے آج ۔‘‘
انہوں نے فریحہ کو سمجھایا جو چائے کے گھونٹ لے رہی تھی۔ تب ہی اس کی نظر ملازمہ پر پڑی جو ان کے پاس ہی آ کر کھڑی ہو گئی تھی۔
’’تم کہاں چلی گئی تھیں۔ میں نے تمہیں ماہم کو بلانے بھیجا تھا اور تم اب آ رہی ہو۔‘‘ انہوں نے حیرت اور غصے سے ملازمہ سے کہا جواباً وہ بولی۔
’’میں ماہم باجی کے لیے چائے بنانے لگ گئی تھی ،وہ کہتی ہیں ، چائے پی کر وہ تھوڑی دیر میں آتی ہیں۔‘‘
اس کی بات سن کر فریحہ اور اماں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا جیسے اس کی بات سمجھ میں نہ آئی ہو۔
’’یہ تمہیں ماہم نے کہا کہ وہ تھوڑی دیر تک آئے گی۔ مطلب تمہیں اسے پیغام دیئے ہوئے آدھا گھنٹہ سے بھی اوپر ہو گیا اور ابھی بھی وہ نہیں آئی۔‘‘ فریحہ نے بھی حیرت اور غصے سے کہا ۔
ملازمہ خاموش رہی۔
’’ٹھیک ہے تم جائو۔‘‘ ملازمہ پلٹی ہی تھی کہ سامنے سے ماہم آتی دکھائی دی۔
’’باجی آ گئی ہیں۔‘‘ اس نے خوشی سے اطلاع دی جس پر دونوں ساس بہو نے غور سے اس کی طرف دیکھا۔ ’’اسلام علیکم‘‘ ماہم ان کے قریب آئی۔
کاسفی رنگ کڑھائی والے گرم سوٹ میں اس کی رنگت دمک رہی تھی۔ شال کندھوں پر پھیلائے پونی ٹیل بنائے وہ ایک ہاتھ میں موبائل اور دوسرے میں چائے کا خالی کپ پکڑے ہوئی تھی جو اس نے لا کے فریحہ کے سامنے پڑی میز پر رکھ دیا۔
اس حرکت پر فریحہ نے اسے آنکھ اٹھا کے دیکھا۔
’’جی اماں !آپ نے بلوایا تھا۔‘‘ دوسرے صوفے پر اپنی صحت کے پیش نظر آرام سے بیٹھتے ہوئے اس نے پوچھا۔
’’میں نے تمہیں یاد دہانی کے لیے بلایا تھا کہ شام ہو گئی ہے ،اب کھانا بنا نے کی تیاری کرو۔ تین چار گھنٹے لگ جائیں گے بنتے ہوئے۔ تمہیں پتا ہے زاہد اور سعد بھوک کے کتنے کچے ہیں۔‘‘ تھوڑی دیر تک آجائیں گے۔
’’کھانا میں تو نہیں بنائوں گی اماں ! سعد نے آپ کو بتایا نہیں۔‘‘
وہ معصومیت سے وہ بولی ۔ فریحہ اور اماں نے اسے نا سمجھی سے دیکھا۔
’’کیا نہیں بتایا سعد نے ، کچھ بتانا تھا کیا ؟‘‘ اپنی حیرت پر قابو پاتے وہ بولیں۔
’’یہی کہ میں آئندہ سب کے لیے کھانا نہیں بنائوں گی ،میرے ہاتھ کا پکا نہ بھابھی کو پسند آتا ہے نہ بچوں کو اور نہ ہی آپ کو ۔ خوامخواہ روز کھانا ضائع ہوتا ہے۔ کبھی ملازمہ کو دینا پڑتا ہے۔ کبھی بھابھی کو زہرمار کرنا پڑتا ہے تو میں نے سعد کے ساتھ یہ فائنل کیا ہے کہ مجھے کوئی اعتراض نہیں اپنا کچن الگ کرنے میں ۔ نہ ہی میری کوئی ناراضی ہے اماں سے یا کسی اور سے۔ اب دیکھیں نا میری وجہ سے ہر روز کتنی پریشانی اٹھانا پڑتی ہے سب کو اب بھابھی خود اپنے شوہر اور بچوں کے لیے ان کی پسند سے ہر روز کچھ نہ کچھ بنایا کریں گی تو گھر کا ماحول بھی اچھا رہے گا اور کھانے کا زیاں بھی نہیں ہو گا ۔‘‘
اس کی بات مکمل ہونے تک ساس اور بہو ایک ٹک اس کی طرف دیکھتی رہیں۔ جب اپنی بات مکمل کر کے وہ خاموش ہوئی تو دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
’’تم نے کس کی مرضی سے کچن الگ کیا ہے۔ میں بڑی ہوں اس گھر کی اور یہ فیصلے میرے کرنے کے ہیں نا کہ تمہارے ۔ تم اپنے قدم تو پہلے صحیح سے جما لو گھر میں پھر میرے فیصلوں کو چیلنج کرنا ۔‘‘
وہ غصے سے بولیں۔ ان کا لہجہ ان کے بے قابو جلال کو ظاہر کر رہا تھا۔ وہ کوئی جاہل ، غصیلی ، اجڈ ساس نہیں تھیں بلکہ پڑھی لکھی ، نرم لہجے میں بات طنز کے نشتر چلانے والی۔ میٹھے لہجے میں باتیں سنانے والی تھیں۔ مگر اس وقت وہ اپنے انداز و اطوار بھول گئی تھیں۔
’’ارے نہیں اماں !میں کل کی لڑکی بھلا کیسے آپ کے فیصلوں کا مقابلہ کر سکتی ہوں اور چیلنج کرنا تو نا ممکن ۔ میں تو صرف آپ کی آسانی کے لیے اور گھر کے بجٹ کے بے دریغ ضائع ہونے کی وجہ سے کہہ رہی تھی کہ اچھا ہے میں اور سعد الگ سے کھانا بنا لیا کریں۔ گھر کا ماحول بھی ٹھیک رہے گا۔‘‘ ابھی وہ غصے میں اور بھی کچھ کہتیں کہ سعد اور زاہد آ گئے۔
’’اسلام و علیکم ۔‘‘ انہوں نے آگے بڑھ کر ماں کو سلام کیا اور زاہد اماں کے ساتھ ہی بیٹھ گیا جبکہ سعد دوسری طرف بڑے صوفے پر ماہم کے ساتھ بیٹھ گیا۔
’’سب ٹھیک ہے نا ؟ آپ غصے میں کیوں ہیں۔‘‘ زاہد نے فوراً ماں کا غصہ بھانپ لیا۔
’’مجھ سے کیا پوچھتے ہو اپنے بھائی سے پوچھو یہ کیا فیصلے کر رہے ہیں دونوں میاں بیوی اندر ہی اندر اور ماں کی یہ اہمیت رہ گئی ہے ان کے نزدیک کہ آ کر بس اطلاع دے کر رہے ہیں۔‘‘ زاہد نے حیرت سے سعد کی طرف دیکھا اور جواباً اس نے بھی پریشانی میں نا سمجھی سے سر ہلا دیا۔
’’کوئی بتائے گا کہ کیا ہوا ہے۔ ماہم۔‘‘ سعد نے اس کی طرف دیکھا۔
’’میں نے ماں سے صرف یہی کہا ہے کہ میں آئندہ سب کے لیے کھانا نہیں بنائوں گی۔ میری پکائی ہر چیز میں سو طرح کے اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں جو مجھے بالکل قبول نہیں۔ اس لیے میرے لیے یہی بہتر ہے کہ میں سب سے الگ ہو جائوں۔‘‘ سعد اس کی بات سن کر سٹپٹا گیا۔
’’میں نے آپ کے ساتھ ڈسکس کیا تھا اور آپ نے ہی مجھے یہ مشورہ دیا تھا کہ اماں سے بولو اگر تمہاری پکائی ہر چیز خراب ہوتی ہے۔ اور بالکل بھی کھانے کے قابل نہیں ہوتی تو بہتر ہے تم سے نہ پکوایا کریں۔ بس یہی بات میں نے اماں کو بتائی تو انہیں غصہ آ گیا ۔‘‘
سعد پر بوکھلاہٹ طاری ہو گئی۔ وہ کبھی ماں کا چہرہ دیکھ رہا تھا اور کبھی بیوی کا۔ اسے کیا معلوم ہر وقت ڈری سہمی رہنے والی ،نرم لہجے میں بات کرنے والی ، سلجھی ہوئی سمجھ دار سی ماہم کی پریشانی میں کی گئی باتوں کے جواب میں چند تسلی بخش الفاظ اس طرح سے پکڑ میں آجائیں گے۔‘‘
’’وہ تو میں نے یونہی کہہ دیا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ میں اپنی ماں سے الگ ہو جائوں۔‘‘ سعد نے ماں کے انداز دیکھ کے کہا۔
’’تو کوئی بات نہیں اگر آپ بھی اماں کے ساتھ مل کر فریحہ بھابھی کے ہاتھ سے بنے ناشتے اور کھانے کھانا چاہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں لیکن میں نہ توکسی کے لیے کچھ پکائوں گی نہ مجھ سے کوئی ایسی امید رکھی جائے۔‘‘
وہ جیسے آئی تھی ویسے ہی دھیمے قدم اٹھاتی واپس کمرے کی طرف چل پڑی۔ اس کو ڈاکٹر نے دو بچوں کی خوش خبری سنائی تھی۔ اب جو عورت اللہ کے حکم سے دووجودتخلیق کرنے جا رہی تھی ،اتنا تو ڈیزرو کرتی تھی کہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھا سکے۔ اپنے لیے نہ سہی۔ ماں باپ کی تربیت کی خاطر نہ سہی اپنی اولاد کے لیے۔ اس اولاد کے لیے جس نے دنیا میں آ کر سب کچھ اپنی ماں سے سیکھنا ہے ،برداشت اور صبر ، مالی معاملات، خاندانی روایات،محبت ، سلیقہ مندی اور سب سے بڑھ کر خود اعتمادی ۔
بات صرف کھانے میں پسند نا پسند کی نہیں تھی بات اس عزت نفس کی تھی جو لمحہ لمحہ مجروح کی جاتی تھی۔ ۔ وہ پڑھی لکھی با شعور لڑکی تھی ، عزت ، احترام اپنی جگہ لیکن اسے اپنی خوبیوں پر بھروسا تھا ،اس لیے اس نے اپنے لیے اور اپنی آنے والی نسل کے لیے آواز اٹھائی تھی۔
بظاہر یہ ایک عام گھریلو معاملہ تھا اور معمولی سی بات تھی مگر اس کے اثرات دور رس اور گہرے ہوتے۔ اس نے گہری سانس لی ، اپنے اعصاب ڈھیلے چھوڑے اور بنا پیچھے ٹرے سب کے تاثرات جانچے اور اوپر کی طرف جاتی سیڑھیوں کی طرف مڑ گئی۔
٭٭


