تیسری منزل کے اکلوتے کمرے کی مسہری پر براجمان نئی نویلی دلہن حیران پریشان سی نظر آتی تھی۔ پہلے پہل تواپنے پہناوے نے اسے جی بھر کر زچ کیا تھا کہ جو شرارہ اس نے زیب تن کیا ہوا تھا وہ کئی صدیوں پرانا تھا اور جس کی کچی سلائیاں ادھڑنے کا خدشہ دل کو الگ ہولائے دے رہا تھا۔
جان بچی سولاکھوں پائے کے مصداق وہ تیسری منزل کے اس خستہ حال کمرے تک پہنچی تھی جہاں کونوں کھدروں میں کہیں کہیں جالے سجے ہوئے تھے۔ تھوڑی بہت سیلن کی مہک بھی حواسوں پر عجب انداز میں طاری ہو رہی تھی۔
چھینک چھینک کر براحال ہو رہا تھا، کچھ فضا میں ایسا گردو باراںجماتھاکہ کھانسی کے دورے الگ پڑ رہے تھے۔ یہ محلہ توشایدبابائے آدم کے زمانے سے بھی کہیںبڑھ کرپراناتھا۔ سرخ اینٹیں جگہ جگہ سے اکھڑی ہوئی تھیں۔ اور ڈھیروں کی تعدادمیں آدم بو آدم بو کرتے شیطان کے بچے جو کسی صورت چین لینے کوتیار نظرنہ آتے تھے۔مائوں کی گھوریوں اور دھموکا پیٹی کو نظر انداز کیے بس کسی بورترین کھیل کے میچ جیسی کمنٹری کیے جاتے تھے۔
دلہن بے چاری تو اس چڑیا گھر جیسی جگہ پر پہنچ کر سخت کبیدہ خاطر دکھائی دیتی تھی۔ بڑے بھیانے تو کیا کیا نقشہ نہیں کھینچا تھا۔سرخ اینٹوں والی خالص بھٹے کی اینٹوں والی حویلی۔جس میں غلام گردشیں تھیں۔
کوئی سو کے قریب سیڑھیاں تھیں جنہیں تھم تھم کر سہج سہج چڑھنا اترنا پڑتا تھا۔
بڑے بھیا بڑے حسابی کتابی تھے کہ اپنی محبت کو پانے کے واسطے اس کی ساری حیاتی کو روگ لگا گئے تھے۔ مسہری ہر کروٹ چیں چیں کی آوازیں بلند کرتی تھی۔
وہ سارے ماحول کا جائزہ لے چکی تھی اور اب گھٹنوں میں سر دے اپنا حنا سے رنگے ہوئے ہاتھوں کو گھورے جاتی تھی۔ جانے کہاں کہاں سے آنکھوں میں آنسو نما پانی امڈ امڈ کر باہر آ رہا تھا۔
نیچے والی کسی منزل سے کسی ’’پگلم‘‘ نامی بندے کو مسلسل آوازیںپڑ رہی تھیں۔
’’پگلم ! پانی بھر دو۔ ٹنکی میں ایک بوند بھی پانی کی نہیں ہے۔‘‘
’’ارے پگلم.باہر نکڑ والے ہوٹل سے چار پانچ نان اور کوئی شوربے والا سالن پکڑ لا ۔ میرے بچے بے چارے کب سے بھوکے ہیں۔‘‘
’’پگلم صحن کو جھٹ پٹ صاف کر دو۔ مہمانوں کے سونے کی جگہ بن جائے گی۔‘‘
’’قسم سے اتنی خواری والی شادی تھی کہ کمر ٹوٹ پھوٹ گئی ہے۔ ایسے میں پگلم کے ہاتھ کی کڑک چائے ہوجائے تو قسم سے مزہ آجائے۔‘‘
پتا نہیں کون تھا یہ نمونہ انسان جو بھاگ بھاگ کر سب کی جی حضوریوں پر لگا ہوا تھا۔ وہ ڈیڑھ گھنٹے سے یہ نام سن سن کر جیسے اکتا گئی تھی۔
’’جو بھی ہو میری بلا سے۔ ہو گا گھر کا کوئی ملازم۔ ایک تو میری نیند اور بھوک سے جان نکل رہی ہے۔ گھر میں تو عادت تھی سویرے سویرے کھانے پینے اور پھر لمبی تان کر سو جانے کی۔ مگر شہروں کے تو رواج ہی نرالے ہیں۔‘‘
جلتی کڑھتی دلہن نے جیسے ہی مسہری سے ٹیک لگا کر پاسا بدلا تھا۔
’’دھڑام سے مسہری کا ایک حصہ فرش بوس ہو گیا تھا۔‘‘
باہر رنگ رنگیلی رات تھی۔ ہر طرف غل غپاڑہ تھا۔ دلہن اپنی نازک کمر تھامے دہری ہو گئی تھی۔ زردبلب کی روشنی میں دو تین پھولوں کی لڑیوں سے سجائی گئی سیج بھی ایک طرف بیٹھ گئی تھی۔
اسے زور کا رونا آیا تھا۔ پھر اس نے اپنے آپ کو رونے دیا تھا۔
آنکھوں کا کاجل رات کی سیاہی سے جا ملا۔ اور دھیرے دھیرے آس پاس کے ہنگامے سرد ہو گئے تھے۔ وقفے وقفے سے گھر کے ملازم عرف کرتا دھرتا پگلم کو آوازیں پڑنے اور کام سونپنے کا سلسلہ جاری رہا تھا۔
کمرے کی خستہ سی کھڑکی کے باہر کوئی چمگادڑ منڈلاتا ہوا ایک پھیرا کمرے کا لگا کر باہر نکل گیا تھا۔
وہ ڈر گئی تھی۔ مگر صد شکر کہ مرنے سے بال بال بچ گئی تھی۔
بازشت کی طرح سکھی سہیلیوں کے قہقہے اور باتیں سنائی دینے لگیں۔
’’توتو اب پکی پکی شہرن کہلائی جاوے گی۔ بڑے بھیا کہتے ہیں تمہارے سسرالی تو بہت پرانے رئیس ہیں۔ تین منزلہ تو ان کی حویلی ہے اور وہ بھی بھرے شہرکے مرکز میں۔سوسے زیادہ سیڑھیاں ہیں۔ آس پاس نان روٹی کے تندور ہیں۔ اور تو اور سلمہ ستارے اور جارجٹ کی دکانیں بھی بالکل پاس ہیں۔ خوب رونق میں رہو گی۔‘‘
گائوں کی الہڑ مٹیارنیں ایسی ہی تھیں۔ خواب دیکھنے والی۔ پھول بوٹے کاڑھنے والی۔
جمع تفریق کرنے والی۔ موازنے کرنے والی ۔ شہرن کہلائے جانے کی چاہ رکھنے والی۔
نئی نویلی دلہن کے چہرے پر غازے کے رنگ مدھم پڑنے لگے۔
رات پر جوبن طاری ہونے لگا تھا۔ وہ فرش پر دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے بیٹھے اونگھ گئی تھی۔ گھٹنوں کے بل بیٹھنے سے شرارے کی کوئی کچی سلائی کھل بھی گئی تھی۔ دھیرے دھیرے تیسری منزل کے اکلوتے کمرے کے اکلوتے ہی دروازے سے کوئی اندر داخل ہوا تھا۔
زردبلب کی روشنی میں اونچے قدبت کا وہ انسان دلہن کو صحیح طرح نظر بھی نہیں آیا تھا۔
وہ ابھی بھی غنودگی میں جھول رہی تھی۔ آنے والے کے ہاتھ میں تام چینی کی ٹرے تھی۔ متنجن اور کڑک چائے کا کپ بھی رکھا ہوا تھا۔
ٹوٹی ہوئی مسہری ۔ بکھری ہوئی سیج ۔ اونگھتی ہوئی دلہن۔
نووارد جیسے تمام جائزہ لے چکا تھا۔ وہ بھی فرش پر بیٹھ گیا تھا جیسے اسے فرش پر بیٹھنے کی عادت ہو۔
’’پرانی لکڑی تھی مسہری کی۔ مجھے خطرہ تھا کہ کسی دن ٹوٹ جائے گی مگر یہ اندازہ ہرگز بھی نہیں تھا کہ آج کے دن ہی ٹوٹے گی۔ معافی چاہتا ہوں۔‘‘ وہ زمین زمین لہجہ ۔ وہ مٹی مٹی لفظ۔ دلہن ساکت رہ گئی تھی۔
کیونکہ . وہ تو ’’وہی ‘‘ تھا۔
دیوانوں کے جیسا پرویز عرف پگلم .!
اور زمین دارگھر کی بیٹی دلہن بنی بیٹھی تھی۔
چاند کے جیسی چندا.!
٭٭٭
گپ چپ سی صبح تیسری منزل پر طلوع ہوئی تھی۔ چندا کی جب آنکھ کھلی توخستہ کھڑکی سے تیز سورج کی روشنی اندر پڑ رہی تھی۔
فرش پر بچھا ہواآرام دہ بستراور ساتھ ہی سلیقے طریقے سے رکھا ہوا پانی کا کولر اور گلاس دیکھ کر وہ جیسے کسی خواب سے جاگی تھی۔ سب سامان سمیٹ دیا گیا تھا۔ مسہری کے ٹوٹے ہوئے پائے بھی نظروں سے غائب تھے۔ نیچے سے پھر پگلم پگلم کی آوازوں کا شور سنائی دے رہا تھا۔
کبوتروں کا ایک جھنڈ سامنے سے گزر گیا تھا۔ وہ بڑی مشکلوں سے اٹھ کر واش روم تک گئی تھی اور سیڑھیاں اتر کر نیچے پہنچی تھی۔ اور وہاں تو ایسا گھمسان کارن پڑا کہ سب کچھ ہانپ کانپ گیا تھا۔
بچے تیر کی طرح اس کی طرف بڑھے تھے۔ لڑکیاں ان کو ڈپٹ کر ہٹانے لگی تھیں۔
سامنے ہی تخت پر ساس صاحبہ براجمان تھیں۔ پوتیاں بھی دادی کے ساتھ موڑھوں پر بیٹھی شاید شادی میں شرکت کرنے والے مہمانوں کی چغلیوں میں مصروف تھیں۔ وہ بھی وہین ایک مضبوط آبنوس کی کرسی پر صبر شکر کر کے ٹک گئی تھی۔
’’کیسی ہو دلہن .نیند تو اچھے سے آئی ناں؟ نئی جگہ ہے تو کچھ وقت لگے گا مگر فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جلد ہی عادی ہو جائو گی۔‘‘
وہ بس سر ہلا کر رہ گئی تھی۔ سامنے ہی چار پائیوں پر بڑے دیور شجی بھیا چھوٹے گوشت کے پائے کا شوربہ پی رہے تھے۔ وہیں سے مسکرا کر خیر مقدم کیا گیا تھا۔ منجھلے دیور عدی بھیا اپنی روٹھی بیوی کو منانے کے چکروں میں تھے اور ان کے پیچھے پیچھے نچلی منزل کے ہر کمرے سے گزر رہے تھے۔ ہاتھوں میں حلوہ پوری کا ناشتہ تھا۔ وہ وہیں بیٹھے بیٹھے سب کچھ غور سے دیکھے جا رہی تھی۔
پاس کھڑی ثریا نے ٹوہ لینے والے انداز میں پوچھا تھا۔
’’پگلم کیسا لگا آپ کو ؟‘‘
چندا کو ایک پل کو یوں لگا تھاجیسے کسی نے تیز دھار آری سے ٹوٹے ٹوٹے کر دیا ہو۔ وہ کوئی جواب دینے کو پرتول رہی تھی کہ سامنے بنے باورچی خانے سے چنگیر میں پراٹھے ڈالے پگلم شجی بھیا کی طرف بڑھا تھا۔
’’یہ لیجئے بھیا . گرما گرم آپ کا مولی والا پراٹھا ۔‘‘
بھیا نے اس کی پیٹھ ٹھونکی اور مڑ کر چندا سے مخاطب ہوئے تھے۔
’’بھابھی!تمہیں پتا ہے جتنا ذائقہ پگلم کے ہاتھوں میں ہے ناں ایسا ذائقہ اس گھر کی کسی عورت کے ہاتھوں میں بھی نہیں۔ اس کے پراٹھے کھائیں گی تو انگلیاں کاٹ کھائیں گی۔‘‘
جھینپا جھینپا سا پرویز جیسے بیوی کے سامنے اس تعریف پر ہلکا سا شرما گیا تھا۔
دن کی روشنی میں پہلی بار چندا نے اپنے مجازی خدا کو دیکھا تھا۔
اونچا لمبا قد. اول جلول حلیہ . پیشانی پر گرتے سرسوں کے تیل سے چپڑے بال۔
سفید قمیض پر گھی کے بڑے بڑے داغ تھے۔
اماں نے اسی وقت پگلم کی آنکھوں کی چوری پکڑ لی تھی۔
’’بیوی کو تاکنے سے فرصت ملے توایک پھلکا مجھے بھی ڈال دو۔ ساتھ ایک دودھ پتی بھی بنا دینا۔ شادی کی تیاریوںنے توتھکا دیا ہے۔ پورے پنڈے میں درد ہی درد ہے ۔‘‘
ذومعنی قہقہے ابلتے رہے۔ شجی بھیا کی بیٹیاں جوان ہونے کو تھیں اور ان کی بیوی عارفہ نویں مہینے سے تھیں اور اندر کسی کمرے میں آرام فرما رہی تھیں۔
لڑکیاں اسے لے کر ان کے کمرے کی طرف آ گئی تھیں۔
سامنے ہی وہ موجود تھیں۔ کمرے کا حال تیسری منزل کے کمرے سے بھی کہیں ابتر تھا۔ بدرنگے پردے لٹکے ہوئے تھے۔
حفظان صحت کے سارے اصولوں کی خلاف ورزی کے ساتھ عارفہ ٹیک لگائے بیٹھی تھیں۔ ان کے وجود سے عجیب سی مہک اٹھ رہی تھی یہاں تک کہ چندا کو ابکائی سی آنے لگی تھی۔
’’اماں یہ دیکھیں یہ ہیں پگلم کی دولہن۔‘‘
عارفہ نے اتنے جوش و خروش کے ساتھ اسے گلے سے لگایا تھا کہ چندا کا دم نکلنے کو تھا۔
’’ہائے ہائے کتنی سوہنی ہے۔ ہمارا پگلم تو جھلا ہے ۔ رات سے ہی کہہ رہی تھی کہ دلہن کو میرے پاس لازمی لائو مگر اس حالت میں بھی اس گھر میں تو میری کوئی سنتا ہی نہیں۔ سب اپنی من مرضیاں کرتے ہیں۔ ساری رات بے چینی میں کروٹیں بدلتے گزری کہ جانے کیسی ہو گی پگلم کی دلہنیا۔ تب سے دوپٹے کے پلو میں منہ دکھائی کے پیسے باندھے بیٹھی ہوں۔ یہ لو اپنی امانت پکڑو۔ شریر بچے گھر میں گھوم رہے ہیں۔ کیا پتا پلو کھول کر پیسے لے اڑیں۔‘‘
جارجٹ کے دوپٹے کی گانٹھ سے پانچ سو کا مڑا تڑا ہوا سا نوٹ انہوں نے چندا کے حوالے کیا تھا۔
’’اس کی کوئی ضرورت نہیں تھی بھابھی گھر کی ہی تو بات ہے۔‘‘
’’ارے عدی کی بیوی ٹوہ میں رہتی ہے۔ جب بھی تمہیں اکیلا دیکھے گی تو ضرور پوچھے گی کہ عارفہ نے تمہاری ہتھیلی پر کیا رکھا۔ تم بھی کہہ دینا ہزار روپے دیے ہیں۔‘‘ پاس کھڑی چھوٹی لڑکی کھی کھی کر کے ہنسی تھی۔
’’مگر اماں یہ تو پانچ سو ہیں۔‘‘
اسے زور کا دھموکا پڑا تھا۔ وہ کمر سہلاتے ہوئے پرے ہوئی تھی۔
’’جب اپنے ہی دشمن ہوں تو غیروں سے شکایت کیسی ۔ بس دلہن تم ناں اس کو یہی بتانا کہ ہزار ہتھیلی پر رکھا ہے۔ عزت کا معاملہ ہے۔ پرائے خاندان کی ہے۔ گود ابھی تک خالی ہے، بس مجھ سے جلتی کڑھتی رہتی ہے۔‘‘
وہ چپکی ہو کر بیٹھی رہی تھی۔ بڑی لڑکی نے چندا کے چمکتے ہوئے سونے کے کڑوں کو دیکھا تھا۔ لہجے میں عجیب سی حسرت اتر آئی تھی۔
’’یہ سونے کے ہیں ناں ؟‘‘
’’جی .سونے کے ہیں میری اماں کو نانی نے جہیز میں دیئے تھے۔ اب میرے حصے میں آ گئے ہیں۔‘‘
وہ دھیرے سے یہ کہہ کر اٹھنے لگی تھی۔ لڑکیاں بھی جھٹ سے کھڑی ہو گئی تھیں۔ تب ہی ہوا کے جھونکے کی طرح یخنی کا بھاپ اڑاتا پیالہ تھامے پگلم اندر داخل ہوا تھا۔
’’یہ لیجئے بھابھی ! آپ کی فرمائشی یخنی ۔ آپ کے ساتھ ساتھ نئے آنے والے مہمان کو بھی خوب طاقت ملے گی۔‘‘
’’پاگل نہ ہو تو۔ جلدی تمہاری بیوی پر بھی وقت آئے گا تب دیکھوں گی تمہیں کہ کیسے اس کے پائوں دھودھو کر پیتے ہو۔‘‘
چندا کو دیکھ کر وہ اچانک خاموش ہو گیا تھا۔ چندا نے گہری نظروں سے اسے دیکھا تھا۔ نظروں میں کچھ ایسا تھا کہ پگلم کو چپ لگ گئی تھی۔
’’نہیں بھابھی ہمارے ہاں مردباورچی خانے نہیں سنبھالتے۔‘‘
بڑی لڑکی نے لہک کر پوچھا تھا۔ تو پھر کیا سنبھالتے ہیں؟‘‘
وہ پہلی بار دھیرے سے مسکرائی تھی۔
’’ہمارے ہاں مرد خزانے سنبھالتے ہیں۔ تجوریاں سنبھالتے ہیں۔‘‘
گہرے لفظوں کا سحر کمرے میں پھونک کر وہ شان سے باہر نکل گئی تھی۔
شجی بھیا اب ابلا ہوا انڈا نگل رہے تھے۔ اماں پراٹھے پر مربے کی پھانک نکال کرمزے اڑا رہی تھیں۔ دور کمرے میں عدی بھیا نے اسمارہ بھابھی کو منا لیا تھا اور اب چھوٹی چھوٹی برکیوں کے ساتھ انہیں ناشتہ کروا رہے تھے۔
پرویز عرف پگلم پر قیامت بیت گئی تھی۔
کسی نے نہیں دیکھا۔ کسی نے نہیں سنا۔
مگر ایک بات تھی ۔ دیہات سے آنے والی وہ دلہن اتنی سادہ بھی نہیں تھی۔
٭٭٭
جس وقت وہ ناشتے کی ٹرے سجا کر اوپر کمرے میں پہنچا تھا۔ تب تقریباً صبح دوپہر میں ڈھلنے والی تھی۔ نئی نویلی دلہن خستہ کھڑکی میں کھڑی اس کی طرف پشت کیے شاید اپنی اماں سے فون پر بات کر رہی تھی۔ ٹشو کا دوپٹہ فرش پر پڑا تھا ، شاید اسے سنبھالنے میں اسے کوئی دقت پیش آ رہی ہو گی۔
’’ارے اماں ! کیا بتائوں آپ کو جیسا سنا تھا اس سے کہیں بڑھ کر پایا ہے۔ ایک ہی دن میں مجھے اپنا گھر گائوں سب بھول گیا ہے۔ اتنا بڑا شہر ہے۔ بھانت بھانت کے لوگ ہیں۔ الگ الگ کھانے پینے ہیں۔ میں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میں دلہن بن کر شہر میں آئوں گی میری طرف سے خاص طور پر بڑے بھیا کا شکریہ ادا کر دیجئے گا کہ انہوں نے میرے لیے اتنا اچھا رشتہ اور شریف شوہرڈھونڈا۔ مجھے تو بالکل نہیں لگا کہ پہلی بار پرویز سے مل رہی ہوں۔ سچ میں مجھے تو بہت اپنے اپنے سے لگے۔‘‘
ٹشو کے دوپٹے والی نے آنسوئوں کا گلا گھونٹا تھا اور میلوں دور دیہات میں بیٹھی اپنی اماں کو سب اچھا ہونے کی رپورٹ دی تھی۔ ناشتے کے لوازمات کی ٹرے تھامے کھڑا دولہا جیسے اپنی جگہ پر لرز گیا تھا۔ فون بند کر کے وہ دھیرے سے مڑی تھی سامنے ہی وہ کھڑا تھا۔
’’کیا لائے ہیں۔ مولی کے پراٹھے ؟ کڑک چائے؟‘‘
وہ دھیرے سے اس کا ٹشو کا دوپٹہ اٹھا کر سامنے رکھ رہا تھا۔ چندا نے جھٹ سے دوپٹہ اٹھا کر دوبارہ اوڑھ لیا تھا۔
’’نہیں جی ۔ اگر آپ کو پسند ہے توا بھی بنا کر لے آتا ہوں۔‘‘
’’تواس ٹرے میں کیا ہے ؟‘‘
وہ دھیرے دھیرے آگے بڑھ کر میز سیٹ کرنے کی کوشش کرنے لگا تھا۔ الماری سے میزپوش نکال کر سجا دیا گیا تھا۔ اب وہ ایک ایک کر کے الماری سے نئے نکور برتن نکال کر وہ چھوٹی سی میز مختلف قسم کے لوازمات سے بھر رہا تھا۔ سٹیل کے برتن میں لسی۔ مکھن کے پیڑے ۔ گڑ والی چائے۔ دیسی گھی کے پراٹھے ۔ کھیر کی ٹھوٹھی ۔ حلوہ پوری اور چنے بھی۔
چندا کی نظریں پھٹنے کے قریب ہو گئی تھیں۔
’’یہ اتنا سارا کچھ کون کھائے گا؟‘‘
’’آپ کھائیں گی اور کون کھائے گا؟ جانتا ہوں آپ کے ہاں مکھن لسی سے ناشتہ کیا جاتا ہے۔ میں نہیں چاہتا یہاں آپ کو کھانے پینے کے معاملے میں بھی اجنبیت محسوس ہو۔ اس گھر میں رہنے والے بالکل مختلف رہن سہن کے لوگ ہیں۔ اتنی جلدی سمجھ میں نہیں آتے۔ ان کے بارے میں سوچ کر خود کو مت تھکائیے گا۔‘‘
چندا کو بالکل بھی یقین نہیں تھا کہ اس کے سامنے اتنا لمبا جملہ بولے گا۔ نچلی منزل اور تیسری منزل کی سیڑھیاں چڑھنے کے بعد شاید یہ انسان کئی روپ بدل لیتا ہو گا۔ مگر پھر بھی سب کے لیے وہ پگلم ہی تھا۔
’’لے جائواپنا یہ ناشتہ۔ کچھ نہیں کھانا مجھے۔‘‘
’’کچھ نہیں کھائیں گی تو بیمار پڑ جائیں گی۔‘‘
’’میں بیمار پڑوں یا مرجائوں تمہیں کیا۔‘‘
’’آپ نکاح میں ہیں میرے۔ مجھے فکر ہے آپ کی ۔‘‘
’’باہر بیٹھے ہیں ناں تمہارے سگے۔ جا کر ان کی فکر کرو۔ ان کے ناشتوں کا خیال رکھو۔ ان کے لیے بنائو مولی کے پراٹھے ۔ کڑک چائے اور ۔ ہاں یخنی کے پیالے بھی۔‘‘
’’آپ کو اچھا نہیں لگا میرا سب کی خدمت کرنا؟ ‘‘
وہ جیسے رندھے ہوئے لہجے میں پوچھ رہا تھا۔ آج تک اتنے سالوں میں کسی نے بھی اس کی ان خدمات پر سوال نہیں اٹھایا تھا۔ وہ ہمیشہ سے ہی معمول کے مطابق گھر کے مکینوں کے دل جیتنے کے لیے بچھ بچھ جاتا تھا۔ وہ بھی صرف اس وجہ سے کہ شاید اسے ان کے دل میں تھوڑی سی جگہ مل جائے۔
’’سب کو اپنے کام خود کرنے چاہیں۔ سارے ہٹے کٹے ہیں۔ اپنے کام خود کر سکتے ہیں۔ تم اس گھر کے ملازم نہیں ہو۔ میں نے کسی ملازم سے شادی نہیں کی اور نہ ہی کسی چائے والے ڈھابے پر کام کرنے والے چھوٹے سے۔جو ہر آنے والے راہگیر کی خدمات سر انجام دینے کے لیے تیار رہتا ہے۔ اور خود کو دیکھو۔‘‘
چندا کے اونچی آواز میں چلانے اور متوجہ کرنے پر پہلی بار پرویز نے اپنے آپ کو سر سے لے کر پائوں تک دیکھا تھا۔ سفید قمیض داغ داغ تھی۔ ہاتھوں پر گھی کے چھینٹے پڑنے کے واضح نشانات موجود تھے۔ اس نے سر کے بال سیدھے کرنے کی کوشش کی تھی۔ مگر وہ مانگ نکالنے میں ناکام رہا تھا۔
’’دیکھ لیا . کیا لگ رہے ہو تم۔ کہیں سے بھی نئے شادی شدہ دولہا نہیں دکھائی دیتے۔ تم سے تو کہیں زیادہ ہمارے ہاں اینٹوں کے بھٹے پر کام کرنے والے مزدور صاف ستھرے ہوتے ہیں۔ اگر تمہیں اپنا خیال نہیں ہے تو یہ بات اپنے ذہن سے نکال دو کہ یہ ساری دنیا تمہارا خیال رکھے گی۔ تمہارے صاف کپڑو ں کا دھیان رکھے گی۔ اور نہ ہی کبھی تمہاری بگڑی ہوئی مانگ سنوارے گی۔‘‘
پرویز شعلہ جوالا بنی دلہن کے سامنے جیسے ڈھیر ہو کر رہ گیا تھا۔ دھپ سے فرش پر بیٹھا تھا۔
’’میں کسی صلے اور پروا کے لالچ میں یہ سب نہیں کرتا۔ چندا جی .‘‘
’’اگر نہیں بھی کرتے تو کرنا چاہیے۔‘‘
چندا کی بات پر وہ جیسے تلخ لہجے کے ساتھ قہقہ لگانے پر مجبور ہوا تھا۔
’’اتنا خود غرض نہیں ہوں میں۔ دوسروں کی مدد کر کے خوشی ملتی ہے مجھے۔ بچپن سے یہی سب کرتا آیا ہوں۔ جو ملا پہن لیا۔ جو چھت ملی وہاں رہ لیا۔ بھوک مٹانے کو چنگیر میں جو پیش کیا گیا وہ صبر شکر کر کے کھا لیا۔‘‘
چندا حیران نظروں سے اپنے سامنے بیٹھے ہوئے شخص کو دیکھے جاتی تھی جو اس کے شوہر کے رتبے پر فائز تھا۔ وہ منہ موڑے خستہ حال کھڑکی کی طرف دوبارہ رخ کر گئی تھی۔
’’تم نے گزار لیا اپنا بچپن ۔ اور جوانی بھی۔ صبر شکر کر کے۔ مگر میرے اندر صبر شکر کی کوئی گھنٹی نہیں ہے۔ اور مجھ سے کوئی امید بھی مت رکھنا کہ میں گھر والوں کی خدمتیں کروں گی اور جواب میں وہ مجھ سے تمہاری طرح سوتیلوں جیسا سلوک کریں گے۔‘‘
پگلم نے بھیگی ہوائوں کا راز جان لیا تھا۔ پگلم کی دلہن دھاڑنے اور چلانے کے بعد شاید اب رو رہی تھی۔ بے چاری دل کی اتنی بری بھی نظر نہیں آتی تھی۔ شادی کے پہلے دن کی شروعات اس نے بھی کہاں ایسی سوچی ہو گی۔ لڑکیوں کے بھی تو شادی شدہ زندگی کو لے کر بہت سارے خواب ہوتے ہیں۔ اورکون جانے کب یہ ٹوٹ کر بکھر جائیں۔
’’سوتیلا ہی تو ہوں۔ تب ہی تو سوتیلوں جیسا سلوک بھی سہہ لیتا ہوں۔‘‘
پرویز عرف پگلم دھیرے سے یہ کہہ کر کمرے سے نکل گیا تھا۔ چندا سکتے میں تھی۔ ناشتے کی میز دھری کی دھری رہ گئی تھی۔ کتنی عجیب بات تھی دولہا بھی جیسا دکھائی دیتا تھا ویسا ہر گز بھی نہیں تھا۔
٭٭٭
چاند کے جیسی چندا گھر بھر کی لاڈلی تو تھی ہی مگر ساتھ ہی ساتھ وہ دیہات بھر کی بھی لاڈلی بن گئی تھی۔
ابا کی شان جان اور مان تھی۔ صاف گو اور منہ پھٹ تو بلا کی تھی اور جب سے پھر پرائیویٹ بی اے کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کر لیا تو سمجھو ایک کلغی سج گئی تھی۔ بڑے بھیا بھی شہری بابو تھے اور شہر میں َڑھ لکھ کر تو ان کی ٹور ہی بدل گئی تھی۔ دیہات کے لوگوں سے مزاج میل نہ کھاتا تھا اور ہر بات میں کیڑے نکالنے کی عادت پڑ گئی تھی اور اسی بھیا کی بھلائی کے لیے چندا ہر کسی سے دکھ سکھ کر لیتی تھی اور میٹھے شہد جیسے بول بولتی تھی۔
’’اماں سمجھائیں بھیا کو، ابھی سے اپنے آپ کو لاٹ صاحب سمجھنے لگے ہیں اور باقی سب کو کیڑے مکوڑے۔ سننے میں آیاہے کہ کل شرفو کے گلاس سے پانی پینے سے بھی انکار کر دیا وہ بے چارہ دھو کر نلکے سے ٹھنڈا پانی بھر کر لایاتھا ۔‘‘
اماں کو اکلوتے بھیا بڑے عزیز تھے تب ہی ان کی بہت ساری شکایتیں ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتی تھیں۔
’’ارے مرد ذات ہے۔ شہری لوگوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے۔ جب کھانا پینااورپہنا وہ ایک جیسا ہو جائے تو کچھ نہ کچھ فرق پڑ جاتا ہے۔‘‘وہ تن فن کرتی ہوئی اماں کے مقابل آجایا کرتی تھی۔
’’کپڑوں میں کلف آجائے تو خیر ہے اماں مگر یہ جو گلے میں کلف سجائے پھرتے ہیں اور دوسروں کو اپنی میٹھی مصری زبان سے گاجر مولی کی طرح کترتے پھرتے ہیں ناں ۔ یہ غلط ہے۔‘‘
’’ارے چندا کہاں سے آتی ہیں تجھے اتنی ڈھیر ساری باتیں۔ کہاں سے سیکھتی ہے یہ سب ۔‘‘
’’بی اے پاس ہوں اور ایم اے پرائیویٹ کا داخلہ بھی بھیجنے لگی ہوں۔ مجھے اتنا سیدھا سمجھنے کی کوشش نہ کریں آپ۔‘‘
چندا کی ایم اے میں داخلے کی خبر اڑتی ہوئی بھیاتک بھی پہنچ گئی تھی اور وہ تن فن کرتے ہوئے آئے تھے۔
’’جتنا پڑھنا تھا پڑھ لیا۔ اب گھر بسانے کی کرو۔‘‘
وہ بھی آگے سے شیرنی تھی۔ وہ بھلا کسی سے ڈرتی تھی۔ کبھی بھی نہیں ۔ سچی کھری ایسے ہی تو نہیں کہتی تھی خود کو ۔ ماں جائے کے سامنے بھی ڈٹ گئی تھی۔
’’تمہیں جلدی پڑی ہے تو بسا لو گھر ۔ میں تو ایم اے کروں گی۔ ماسٹرنی لگوں گی۔ ابا سے بھی وعدہ لے لیا ہے میں نے اب تو۔‘‘
حفہ گڑگڑاتے ابا کے سامنے وہ تلوار بن کر کھڑا ہو گیا تھا۔ دور چولہے پر اماں اس کی فرمائشی پکوان بنانے میں مگن نظر آتی تھیں۔
’’کس کی شہ پر اچھل رہی ہے چندا۔ لگام ڈالیں اسے ۔ چڑھ چڑھ کر آ رہی ہے۔ اور آپ کیوں طرف داری کر رہے ہیں اس کی۔‘‘
ابا نے دھوئیں کے مرغولے سے سر اٹھا کر جگمگ کرتی آنکھوں والی کو دیکھا تھا۔
’’چل ہٹ دھی ہے میری۔ اس کی طرف داری نہیں کروں گا تو کیا لوگوں کی کروں گا۔ اور لگام تو تجھے ڈالنی چاہیے گدھا گھوڑا کہیں کا۔ دھیوں کے تو ساتھ کھڑا جاتا ہے۔ دھیوں کا تو ساتھ دیا جاتا ہے۔ خبردار جو آئندہ کبھی اس کی شکایت بھی لے کر آیا تو۔‘‘
وہ بانس کی طرح تن کر پھرتی رہی تھی اور مزے سے داخلہ بھی ہو گیا تھا۔ شہر پرچے دینے جاتی تھی تو دیہات کی ساری سکھی سہیلیوں کے لیے تحفے لاتی تھی۔ سہیلیاں بھی صدقے واری جاتی تھیں۔
’’قسم سے چندا ۔ تیرے جیسی سہیلی تو اللہ سب کو دے۔‘‘
’’مجھے لگا تھا تو میرا ہار بھول آئے گی۔ مگر تو تو سب یاد رکھتی ہے۔‘‘
’’میں تمہارے رشتے کی دعا بھی اپنے ساتھ ساتھ مانگ لیا کرتی ہوں۔‘‘
سب سے دعائیں بٹورنے والی چندا کے اچھے دن تب ختم ہوئے تھے جب بھیا نے گھر میں پسند کی شادی کا زلزلہ ڈال دیا تھا۔
’’غزالہ نام ہے۔ میرے ساتھ پڑھتی ہے۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔‘‘
اماں نے ابا کو دیکھا تھا اور ابا نے برآمدے کے پلر کے ساتھ لگی کھڑی چندا کو۔
’’جس گھر میں دھی ابھی کنواری بیٹھی ہو۔ وہاں کے مرد اپنی پسند کی شادی پہلے رچانے کو تیار نہیں بیٹھے ہوتے۔‘‘ بھیا نے گھور کر پلر کی ٹیک لینے والی کو دیکھا تھا۔
’’اس کا کیا ہے۔ میرے شہر میں اتنے جاننے والے ہیں۔ کبھی بھی اچھی جگہ رشتہ ہو جائے گا چندا کا آپ اس کی فکر چھوڑ دیں۔‘‘
وہ رات ہنسی خوشی میں جیسے تیسے کٹ گئی تھی۔ مگر ابابہت چپ چپ رہنے لگے تھے۔ اماں اورچندا کو بھیا نے غزالہ کی فوٹو بھی دکھائی تھیں۔ فوٹو والی دکھنے میں کوئی اپسرا جیسی نظر آتی تھی۔
’’اماں یہ توبہت سوہنی ہے۔ ذرا اس کے ماتھے کا بندی ٹیکہ تو دیکھو۔ لگتا ہے کسی گھر کی شادی میں فوٹو لی ہو گی۔‘‘
وہ تو بعد میں پتا چلا تھا کہ یہ فوٹو تو بھیا اور غزالہ کی اپنی ہی شادی کی تھی۔ جو چوری چھپے پتا نہیں کب کی ہو چکی تھی۔ ابا کو خفیہ ذرائع سے خبرر مل گئی تھی۔ اور انہوں نے دھکے دے کر بھیا کو گھر سے باہر کر دیا تھا۔
’’خبردار جو آج کے بعد تو نے میرے ویڑھے میں قدم بھی رکھا۔ چندا کی بھی شادی کی عمر ہے۔ وہ فرض بھی پورا کرنا ہے مجھے۔ تم نے کون سا بھائی ہونے کا فرق ادا کیا ہے۔‘‘
ابا اور بھیا میں خوب منہ ماری ہوئی اور پھر بھیا اماں سے کچھ پیسے چپکے سے لے کر اپنا بڑا بیگ سنبھالے دہلیز پار کر گئے تھے اور جاتے جاتے اعلان کر گئے تھے۔
’’آج کے بعد شرافت آپ کے لیے مر گیا۔‘‘
رشتے کے کاغذوں میں بھیا توپھر بھی زندہ رہے مگرابااگلے روشن دن کی ٹھنڈی شام میں دنیا اندھیر کر کے چل بسے تھے۔
وہ ٹکر ٹکرانہیں دیکھتی رہی تھی اورجب بھیا اور بھابھی کے توسط سے شہری رشتہ آیا تو اسے رخصت کر دیا گیا۔
دیہات بھر میں بھیا نے ایک ایک کو پکڑ کر بتایا تھا کہ چندا کے سسرال والوں کی قدیم خاندانی حویلی ہے۔ سسرالی آبائو اجداد پرانے وقتوں کے رئیس اور امیر کبیر تھے۔ جو وراثت میں حویلیاں پلاٹ باغ اور فیکٹریاں چھوڑ کر مرے ہیں۔
دنیا اش اش کر اٹھی تھی۔ چندا کو خوش قسمت تصور کیا گیا تھا۔
تن فن کرنے والی اور سینہ سپر ہو جانے والی چندا کو اپنا ایم اے بھی بھول گیا تھا۔
یاد رہا توبس اتنا کہ چندا کی شادی اور چندا کے فرض کی فکر ابا کو لے ڈوبی تھی۔
اور بیٹیاں اپنے ماں باپ کو اگلے جہان میں بھی کہاں فکر کا شکار ہونے دے سکتی ہیں۔ تب ہی وہ اس بھرے پرے انجان شہر میں دلہن بن کر آ گئی تھی۔ آگے رشتوں کا لگایا گیا زخم اندر ہی اندر رسنے لگا تھا۔
معاشرے کی نظروں میں پرویز عرف پگلم چندا کے لیے عمر بھر کا داغ تھا۔
مگر . کہا تھا ناں . چندا جیسی نظر آتی تھی ویسے کبھی تھی ہی نہیں۔سارے گائوں والے کہتے تھے کہ چندا کے ابا نے بنجر زمینوں کو زرخیز کیا تھا۔ وہ بھی ابا کی بیٹی تھی۔ کچھ تو ہنر اسے بھی میسر آ ہی گیا تھا۔
٭٭٭
شہر کے مرکز میں موجود اس حویلی میں پگلم کو تب لایا گیا جب وہ صرف چار سال کا تھا۔ حویلی میں اس کا خیر مقدم طعنوں تشنوں اور بے شمار بدعائوں کے ساتھ کیا گیا تھا کیونکہ اس کے ابا نے حویلی والوں کے خلاف جا کر اس کی ماں سے شادی کی تھی۔ تب سے لے کر آج تک وہ بے چارہ اکیلا ہی اس شادی کا بھگتان بھگت رہا تھا۔
اپنی سگی ماں تو ٹی بی کا شکار ہو کر دنیا سے چل بسی تھی اور ابا بھی کچھ عرصے بعد اللہ کو پیارے ہو گئے۔ یوں پگلم کے لیے ساری دنیا سوتیلی ہو گئی تھی۔ حالات بھی ۔وقت بھی ۔ حویلی میں اس کی اہمیت ایک ملازم سے بڑھ کر نہیں تھی۔ دوسروں کی اترن پہنتے پہنتے وہ جوان ہوا تھا۔ گھر کا سارا کام صرف اس کے ذمے تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ حویلی کے مکینوں کی ضرورت بنتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ باورچی خانہ سے لے کرگھرداری کے سارے معاملات وہی سنبھالے گا۔ اپنی ذمہ داریوں سے جان چھڑانے کے لیے حویلی کی خواتین نے اپنے سارے ہنر پگلم کو دان کر دیے تھے۔ گھر بھر کے سارے میلے کچیلے کپڑے دھونے سے لے کر مردوں کے کپڑوں کو لگانے تک کی ذمہ داری بھی پگلم کے سر پر تھی۔ ساگ سبزی سے لے کر دال دلیہ اور دال دلیہ سے لے کر نہاری تک بھی وہی بنایا کرتا تھا۔ رات کے آخری وقت میں بھی وہ سب گھر والوں کے کپڑے لیے کوئلوں والی استری کے ساتھ مصروف نظر آتا تھا۔ ویسے تو ساری حویلی ہی خستہ حال تھی مگر حویلی کی تیسری منزل کو ایک خاص اعزاز حاصل تھا۔ جہاں چوہوں اور چھپکلیوں کی بہتات تھی۔ان سے چھٹکارا پانے کے لیے اسے بہت مدت درکار تھی۔ ساون کے موسم میں ویسے تو ساری حویلی ہی جھیل سمندر ہو جاتی تھی مگر پگلم کی تیسری منزل بھی دریائوں کا منظر پیش کرتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ بے وقت کی بارشوں نے پگلم کی صحت پر کافی اثر دکھایا اوروہ نمونیا کا شکار ہو گیا۔
حویلی والوں کو چنداں پگلم کی صحت یابی سے کوئی غرض نہیں تھی۔ یہی وجہ تھی کہ محلے کی نائن کے بتائے گئے ٹوٹکوں سے وہ صحت یا ب ہو گیا۔ سولہ سال کی عمر میں بھی وہ اماں کے گھونسلے اور مکے کھا تا رہا۔ عدی اور شجی بھیا نے بھی گھریلو معاملات کے تنائو اور باہر کی پریشانیوں کو کم کرنے کے لیے ہمیشہ اسی کو تختہ مشق بنایا۔
گھرکے بڑوں کے ساتھ ساتھ گھر کے بچوں نے بھی پگلم کو خوب زچ کیا۔ شاید ٹھیک ہی کہتے ہیں ماں باپ کے جانے کے بعد ساری دنیا مل کر سوتیلوں جیسا ہی سلوک کیا کرتی ہے۔ انسان تو شاید خطا کا پتلا ہو سکتا ہے اور اسے معافی بھی مل جاتی ہے۔ مگرسوتیلے رشتے اور ان کی غلطیاں کبھی معاف نہیں ہوتیں۔ دنیا سے جاتے جاتے ابا نے اگر کوئی نیکی کا کام کیا تھا تو وہ یہ تھا کہ یہ خستہ حال حویلی تینوں بھائیوں کے نام کر گئے تھے۔ شاید ایک وجہ یہ بھی تھی جس کی وجہ سے حویلی کے مکین پرویز کو برداشت کرنے پر مجبور تھے۔
مشقت کی چکی کاٹتے ہوئے یونہی سال گزر گئے اور پتانہیں کیسے گھر میں ایک بھونچال آیا کہ پگلم کی شادی ہو رہی ہے۔ سننے والوں نے سنا اور حیرت کا اظہار کیا کہ اس پاگل اور دیوانے کے لیے کون سی لڑکی کے نصیب پھوٹنے والے ہیں؟
ابا کے ایک پرانے جاننے والے دوست کی وساطت سے یہ رشتہ طے پایا اور کافی غور و خوض کے بعد یہ رشتہ منظور کر لیا گیا۔ اور یہی وجہ تھی کہ چاند کے جیسی چندا اور دیوانوں جیسا پگلم نکاح جیسے مبارک اور حسین بندھن میں بندھ گئے۔ کون جانے کب دنیا سوتیلی سے ہٹ کر اپنی ہو جائے؟
کون جانے خود غرض رشتوں کا شکار ہونے والوں پر قدرت مہربان ہو جائے؟
٭٭٭
پرویز کو اتنی ساری باتیں سنانے کے بعد چندا کو بعد میں احساس ہوا تھا کہ وہ اس کا مجازی خدا تھا۔ اس کا پرویز کے ساتھ احترام کا رشتہ تھا۔ مگر بھیا کی طرف سے ہونے والی غداری اور حویلی کی ساری صورت حال نے اس کے اندر زہر بھر دیا تھا۔ ان ہی باتوں کو سوچتے ہوئے اور دعائیں پڑھتے ہوئے جب وہ سیڑھیوں سے نچلی منزل کی طرف آئی تھی تو اسے پتا چلا تھا کہ عارفہ بھابھی کا وقت قریب آگیا تھااور انہیں جلد از جلد ہسپتال لے جایا گیا تھا۔ عدی بھیا اورپگلم انہیں ایمبولینس میں لے گئے تھے جبکہ زچہ کے شوہروہیں صحن میں چہل قدمی کرتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ اماں بھی تسبیح لیے تخت پر بیٹھی کوئی وظیفہ کر رہی تھیں۔
’’اللہ کرے اس بارعارفہ ہمیں وارث دے دے۔ ورنہ پہلے ہی میرا بیٹا دو لڑکیاں پال پوس کر خود بڈھا ہو گیا ہے ۔‘‘
چندا کی نظر دروازے میں کھڑی دونوں لڑکیوں پر پڑی تھی۔ کچھ دیر پہلے والی شرارت اور شگفتگی کہیں غائب ہو چکی تھی۔ اب آنے والے لمحات کا خوف ان کے چہرے پر واضح تھا۔ تب ہی وہاں پر اسمارہ بھابھی آ کھڑی ہوئی تھیں۔ شوخ رنگ کی لپ اسٹک اور نیا جوڑا پہنے وہ بالکل مطمئن نظر آتی تھیں۔
’’سچی بات ہے اماں مجھے تو لگتا ہے کہ اس بار بھی عارفہ کے ہاں لڑکی ہی ہو گی۔‘‘
’’زیادہ بکواس کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ بھی اس صورت میں کہ تم نے ابھی تک لڑکا تو کیا چوہے کا بچہ نہیں جنا۔بڑی آئیں بد دعا دینے والی ۔‘‘
’’بھئی میں تو سچی اور کھری بات کہتی ہوں۔ انسان کی نیت اس کے آڑے آجاتی ہے۔ اگر آپ نے پگلم کے ساتھ اچھا سلوک کیا ہوتا تو اللہ کبھی بھی حویلی کو وارث سے محروم نہ رکھتا۔‘‘
’’ارے جائو جائو۔ بڑی آئی ملانی بی بی اور وہ بھی ہمیں سمجھانے والی۔ جائو لڑکیوں دلہن کے ساتھ جا کر باورچی خانہ دیکھو۔‘‘
لڑکیوں نے جھجک کر دلہن کو دیکھا تھا جو سر ہلاتی ہوئی دونوں کو اشارہ کرتے ہوئے باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی تھی۔
اسمارہ نے ایک فلک بوس قہقہہ لگایا تھا۔
’’ویسے سچی بات ہے اماں ! آپ نے گھاٹے کا سودا نہیں کیا۔ اب تو آپ کو ملازم کے ساتھ ملازمہ کی بھی خدمات میسر آئیں گی۔‘‘
قہقہہ اور الفاظ بغیر کسی رکاوٹ کے باورچی خانے تک پہنچ گئے تھے ۔ آٹا نکالتے ہوئے دلہن کے ہاتھ رک گئے تھے۔ لڑکیوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔
’’آپ ان کی بات کا برا نہ مانیے گا وہ شروع سے ہی ایسی ہی ہیں۔ ڈرامے باز اور فنکار۔‘‘
چندا نے مڑ کر ان کے نفرت بھرے لہجے پر سرزنش کرنے والے انداز میں ٹوکا تھا۔
’’بڑی ہیں تم سے . ان کے بارے میں ایسے بات مت کرو۔‘‘
’’حیرت ہے۔ آپ کے بارے میں وہ اتنی بری بات کہہ گئی ہیں یہاں تک کہ آپ کو ملازمہ بنادیا ہے۔ اور آپ ابھی بھی ان کے لیے بول رہی ہیں ۔‘‘
’’بڑوں کی باتوں کو درگزر کر دیتے ہیں۔‘‘
’’چاہے وہ کچھ بھی کہیں کچھ بھی کریں؟‘‘
پانی کی دھار سے آٹا گیلا ہونے لگا تھا۔ اور کہیں کہیں دل بھی۔
’’ہاں چاہے وہ کچھ بھی کہیں۔ وہ کچھ بھی کریں۔ اس کا اجر ہمیںزندگی میں ان سے نہیں ملتا لیکن آخرت میں اللہ ہمیں اس چیز کا اجر ضرور دے گا۔‘‘ دونوں لڑکیوں نے متاثر ہو کر دلہن کو دیکھا تھا۔ ایسی اچھی اورپیاری باتیں توحویلی میں تو کوئی بھی نہیں کرتا تھا۔
’’آپ کتنی پیاری باتیں کرتی ہیں ناں دلہن۔‘‘
وہ تینوں ایندھن جلاتے ہوئے اور روٹیاں پکاتے ہوئے ہنستی رہیں تھیں۔ تھوری دیر کے بعد اماں کے بین سے در و دیوار لرز گئے۔
’’تیرا ککھ نہ رہے عارفہ ۔ تو نے حویلی کو اس بار بھی وارث نہیں دیا۔ میں کہے دیتی ہوں کہ خبردار جو عارفہ نے اب قدم بھی رکھا۔‘‘
رات بھاری تھی ۔ رات کالی تھی۔ شجی بھیا دروازے کو ٹھوکریں مارتے ہوئے باہر نکل گئے اور صبح سے ذرا دیر پہلے پگلم اکیلا ننھے وجود کو سینے سے لگائے اور عارفہ کو سنبھالے گھر آیا تھا۔ جبکہ عدی بھیا بچے کی ولادت کے فوراًبعدچراغ کے جن کی طرح اسمارہ کی خدمت میں حاضر ہو گئے تھے۔ تیسری منزل میں چندا نے دونوں لڑکیوں کے ساتھ رات آنکھوں میں کاٹی تھی۔
لڑکیوں کے ساتھ چندانے جب عارفہ کے کمرے میں قدم رکھا تھا توعارفہ آنکھوں پرہاتھ رکھے سوتی بن گئی تھیں۔
دونوں لڑکیاں سہمی ہوئی ماں کے دائیں بائیں بیٹھ گئی تھیں۔ چندا نے آگے بڑھ کر پرویز سے وہ ننھا وجود تھام لیا تھا۔
وہ چھوٹا سا ننھا وجود جیسے کسی جگنو کی طرح جگمگ کر رہا تھا۔ موٹی موٹی آنکھوں میں ڈھیروں ڈھیر شرارت تھی۔ وہ اپنا انگوٹھا چوس رہی تھی۔ اس کی آنکھوں کے کاجل نے چندا کو حیران کیا تھا۔ چندا نے حیرت سے پگلم سے پوچھا تھا۔
’’یہ کاجل کیسے .؟‘‘
پگلم گڑبڑایا تھا اور اپنی جیب سے کاجل کی ڈبیا اور چھوٹی سی شہد کی بوتل نکالی تھی۔
’’جی وہ میں لے کر گیا تھا۔ شہد اور کاجل ۔ مجھے پتا تھا ہسپتال میں ضرورت پڑے گی۔ اور آپ کو پتا ہے گڑیا کو میں نے گھٹی دی ہے اور اس کے کان میں اذان بھی دی ہے۔ اذان سنتے ہوئے اتنی پر سکون اور پیاری لگ رہی تھی ہماری بیٹی۔‘‘
’’کون کہتا تھا وہ پاگل تھا؟ کون کہتا تھا وہ اکیلا تھا؟ کون کہتا تھا وہ لاوارث تھا؟‘‘
چندا کو پہلی بار پرویز عرف پگلم کائنات جیسے لگا تھا۔ ہر طرف ۔ چہار طرف ۔
دونوں لڑکیاں چندا کے اشارے پر جھجکتے ہوئے اپنی چھوٹی بہن کی طرف آئی تھیں۔ دنوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
’’کتنی پیار ی ہے یہ۔ہم دونوں سے بھی زیادہ۔ ‘‘
دونوں نے پگلم کے ہاتھ پکڑ لیے تھے۔
’’بہت شکریہ چاچو آپ کا ۔ اگر آپ نہ ہوتے تو کیا ہوتا۔‘‘
آنسو چھپاتا ہوا دیوانوں سا پگلم کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔ لڑکیوں نے گڑیا کو سنبھال لیا اور چندا ہولے ہولے چلتی ہوئی عارفہ کے پاس بیٹھ گئی تھی ۔ اس کے کمزور ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا تھا۔ یہی وہی عورت تھی جس سے کل اسے ابکائیاں آ رہی تھیں۔ پتا نہیں کچھ لمحوں میں ایسا کیا ہوا تھا کہ بستر پر نیند کا ڈرامہ کرنے کی کوشش کرتی ہوئی وہ ماں اسے بہت عظیم لگی تھی۔
’’میں جانتی ہوں جاگ رہی ہیں آپ ۔ اللہ کے فیصلے پر یقین رکھیں۔ بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں۔ انہیں آپ کی ضرورت ہے۔ اور آپ کو ان کی۔ بہت بدقسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جو بیٹیوں کی پیدائش پر بین کرتے ہیں۔ روناڈالتے ہیں۔ آپ کوپتا ہے جب میں پیدا ہوئی تھی تو میرے ابا نے پورے گائوں میں مٹھائیاں بانٹی تھیں۔ آج مجھے اپنے ابا یاد آگئے۔ ہم بھی آج گڑیا کی خوشی میں مٹھائی بانٹتے ہیں۔‘‘
٭٭٭
نئی دلہن نے عارفہ کے کل کے دیے ہوئے پانچ سو سے مٹھائی منگوالی تھی۔ عارفہ نے پہلی بار اس گھر میں بیٹیوں کی پیدائش پر کسی کو خوش ہوتے دیکھا تھا۔ انہیںجیسے پرویز کے نصیب پر رشک ہوا تھا۔پرویز نے بھی ان کی خاطرمیں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ گرائپ واٹر سے لے کر بینگ تک انتظام کر لیا تھا۔ اماں نے مڑ کر بھی عارفہ اور بچی کی خبر نہیں لی تھی۔
اگلے دن کی شام مسہری مرمت ہو کر آ گئی تھی اورچندا مسہری پر بیٹھی کوئی رسالہ پڑھ رہی تھی۔ جب پرویز نے کمرے میں قدم رکھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں گھر بھرکے استری کرنے والے کپڑوں کا ڈھیر تھا۔ فرش پر کھیس پھیلائے وہ مصروف نظر آتا تھا۔ چندا نے اس کی اس مصروفیت کو خشمگیں نظروں سے دیکھا تھا۔ کسی کام سے جیسے ہی وہ باہر گیا تھا چندا نے جلتی ہوئی استری سامنے پڑے اسمارہ کے کپڑوں پر رکھ دی تھی اور اس کے بعد آنے والے طوفان کو سارے محلے نے دیکھا تھا۔
پگلم صحن کے بیچوں بیچاسمارہ اور عدی کے عتاب کا نشانہ بنا ہوا تھا۔جب تک چندا نیچے پہنچی تھی عدی اسے ایک تھپڑ رسید کر چکا تھا۔
’’تمہاری جرات کیسے ہوئی۔ اسمارہ کے کپڑے جلانے کی۔تم نے اور تمہاری بیوی نے کبھی دیکھے ہیں اتنے مہنگے کپڑے۔ کھدر ٹاٹ پہننے والوں کو کیا پتا ۔‘‘
اسمارہ نے آگے بڑھ کر اس کا گریبان پکڑ لیا تھا۔
’’سب جانتی ہوں میں.کیوں اتنے پرپرزے نکل رہے ہیں تمہارے۔ بیوی کیا آ گئی لگتا ہے تم اپنی ساری ذمہ داریاں بھول گئے۔ ایک بات یاد رکھنا ، اس گھر کے لیے تم ایک ملازم سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ اور نہ ہی تمہاری بیوی۔ جس طرح تم لاوارث ہو اسی طرح تمہاری دلہن بھی . جس کا پتا لینے کے لیے میکے سے کسی نے بھی آنا گوارہ نہیں کیا۔‘‘
اس گھر کے مکین وار کرنے میں طاق تھے کب کب کہاں اور کیسے کسی کو توڑنا ہے ۔ چندا جیسے ڈھے گئی تھی۔
ماں جائے نے اسے دیس نکالا دیا تھا۔ اور جس کے ساتھ نصیب جڑا تھا وہ بھی کسی کھاتے میں نہیں تھا۔ وہ تیسری منزل پر آ کر گھٹ گھٹ کر روتی رہی تھی۔ زندگی کا یہ رنگ روپ تو اس نے پہلی بار دیکھا تھا۔ کیا انسان ایسے بھی ہوتے ہیں۔ اور کیا رشتوں کی یہ قسم بھی دنیا میں پائی جاتی ہے؟ شاید وہ اور پگلم ایک ہی کشتی کے سوار تھے۔ اب ان پر تھا کہ کشتی چلانے کا ہنر سیکھتے یا پھر خود کو پانیوں کے حوالے کر دیتے۔
٭٭٭
سسرال کی دنیا بھی جیسے بہت عجیب و غریب تھی دیکھو تو یوں لگتا تھا جیسے کسی فلم کا سیٹ ہو جہاں ہر ہر لمحہ ایک نیا سین پرانے کی جگہ لے لیتا ہے۔ اور سیٹ یکے بعد دیگرے مختلف چہروں کے ساتھ بدلتا رہتا ہے اور اسی طرح جذبات بھی بدل جاتے ہیں۔ ابھی ہنس دو۔ ابھی رودو۔ گلدان اٹھا کر دیوار پر دے مارو۔ کرچیاں چنتے ہوئے خود کو زخمی کر لو۔
گھر کی اس دنیا میں وہ کہیں گم ہوتی چلی گئی تھی۔ تیسری منزل کے کمرے میں وہ لا یعنی سوچوں میں مبتلا مرمت شدہ مسہری پر ڈر ڈر کر کروٹیں بدلتی رہتی تھی کہ اب گرا کہ تب گرا اور مسہری پھر سے مریض ہو جائے۔
پرویز سے بات چیت بھی بس ہوں ہاں تک تھی۔ چھوٹی اور بڑی لڑکیاں کبھی کبھار نمکو، پاپڑ لے کر اس کے پاس آجاتی تھیں۔ ان کی عمر کے مطابق ان کے پاس کرنے کو سینکڑوں باتیں تھیں۔ ادھر ادھر کے معاشقوں کی ۔ ٹوٹے بکھرے گھروں کی۔ آنے والی زندگی کے حسین خوابوں کی۔
چھوٹی گڑیا کو اسمارہ بھابھی نے ویسے تو نظر بھر کر بھی نہ دیکھا تھا بلکہ انہیں عارفہ سے شکایتوں کے دفتر ہی تھے۔ عدی بھیا کے کانوں میں منمناتی رہتی تھیں۔
’’اماں نے اس کی وجہ سے مجھے بانجھ ہونے کا طعنہ دیا ہے۔ حالانکہ وارث تو وہ بھی انہیں نہیں دے پائی۔‘‘
’’اماں جذباتی ہو جاتی ہیں توکچھ بھی کہہ جاتی ہیں۔ بس تم دل پر مت لیا کرو۔‘‘
اسمارہ توہمیشہ سے وہی کرتی ہوئی آرہی تھی جس چیز سے منع کیا جاتا تھا دل سے ساری باتیں لگاتی تھی۔ اور عدی بھیا پیچھے پیچھے پھرا کرتے تھے۔
اسمارہ کی پراندہ لہراتے ہوئے ٹور ہی بدل جایا کرتی تھی۔
عارفہ کو جی بھر کرتائو آیا کرتا تھا اور وہ اپنے جلے دل کے سارے پھپھولے چندا کے سامنے پھوڑتی تھیں۔
’’ذرادیکھو تو ان دونوں کے لچھن۔ شرم و حیا چھو کر بھی نہیں گزری۔ گھر میں جوان ہوتی ہوئی بچیاں ہیں مگر ان کی دل پشوریاں نہیں ختم ہوتیں۔ اگر کرنی بھی ہیں تو تم اور پگلم کرتے اچھے بھی لگو کہ نیا نویلا جوڑا ہو۔‘‘
دل پشوریوں کی بات پر جیسے وہ ایک پل کے لیے چونک گئی تھی اور پھرسر جھٹک دیا تھا۔
’’چھوڑیں بھابھی. میرے نصیب میں ایسا ہی مرد لکھا ہے۔ ابھی ککرپر پائے چڑھا کر باہر اماں کے قہوے کے لیے گڑ لینے گیا ہے۔ کپڑوں کا ڈھیر دھویا اور شام کو وہیں بیٹھ کر استری کرے گا۔ میں نے تو ساری زندگی میں کبھی ایسی مرد ذات نہیں دیکھی۔‘‘
گڑیا کی چوسنی ٹھیک کرتی ہوئی عارفہ نے یاسیت کی لپیٹ میں جاتی ہوئی دلہن کو غور سے دیکھا تھا۔ آنکھوں میں مٹا مٹا سا کاجل تھا۔ ہتھیلیوں پر حنا کے رنگ کمزور پڑنے لگے تھے۔
عارفہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔
’’ذرا میری طرف دیکھو۔‘‘
اس نے بس دیکھا تھا اور انہوں نے آن کی آن میں کاجل کی سلائی اس کی آنکھوں میں پھیر دی تھی۔
’’اپنی آنکھیں کاجل سے خالی نہ رکھا کرو۔ عورت کو اپنے مرد کے لیے سجنا سنورنا چاہیے۔‘‘ دوپٹے کے پلو سے پھیلے کاجل کے کنارے صاف کرتی چندا جیسے ٹھٹھک سی گئی تھی۔
’’پھر تو مرد کو بھی عورت کے لیے سجنا سنورنا چاہیے ناں۔ اچھے اچھے کپڑے پہنے خوشبو لگائے۔ کلف والی کاٹن پہنے۔ رعب جمائے اور بھی بہت کچھ۔ ‘‘ مر دہلیز پر آ کر ٹھہر گیا تھا۔ نظریں اپنے کپڑوں پر اٹک گئیں۔
رف سا پرانا کھدر کا سوٹ۔ پیروں میں قینچی والی عدی بھیا کی چپل ۔ ہاتھوں میں گھریلو ضروریات کا سامان کا ڈھیر۔
وہ عارفہ کے کمرے سے کھٹ سے نکلی تو سامنے بت بنے شوہر نامدار کو دیکھ کر رک سی گئی تھی۔ دونوں کی دن کے اجالے میں آنکھیں چار ہوتی تھیں تو دونوں ہی ہڑ بڑا کر ادھر ادھر ہو جایا کرتے تھے۔ اب کی بار بھی یہی ہوا تھا۔
پچھلے کئی دنوں سی اماں گائوں چکر لگانے کے اصرار پر مصر تھیں اور اس نے جانے کی ٹھان لی تھی۔ ساس صاحبہ کسی محلے کی عورت کے ساتھ ادھر کی ادھر اڑانے میں مصروف تھیں جب وہ ان کے سرپرجا کھڑی ہوئی تھی۔
’’کل میں اور پرویز میرے میکے جا رہے ہیں۔‘‘
پاندان سے چھالیہ نکالتا ہوا ہاتھ واپس نہیں آیا تھا۔ جیسے پاندان نے غڑاپ سے نگل لیا تھا۔
’’ارے ۔ ایسے کیسے چل دیئے ۔ نہ اجازت نہ پوچھ پریت۔ یہ چلا گیا تو گھر کا سارا انتظام کون دیکھے گا؟‘‘
’’ہماری طرف رسم ہے ، لازمی جانا پڑتا ہے۔ اب میں اکیلی تو نہیں جا سکتی ناں۔‘‘
’’ارے میں شجی کو کہوں گی تمہیں بس پر بٹھا دے گا۔کچھ ہی گھنٹوں میں اماں کے پاس صحیح سلامت پہنچ جائو گی۔‘‘
وہ غصے سے جیسے بھنا کر رہ گئی تھی اور بگڑ کر باورچی خانے میں پہنچی تھی جہاں سلیب پر چاولوں کا ڈھیر چنتا ہوا وہ کافی مصروف دکھائی دیتا تھا۔ چاول نہیں جیسے موتی چننے کی ڈیوٹی کرنے میں مصروف تھا۔
’’ہم کل جا رہے ہیں۔‘‘
’’اچھا کہاں .؟‘‘
’’میرے میکے اور تمہاری سسرال۔‘‘
چاول بھول گئے تھے۔ وہ حیرانی سے مڑا تھا۔
’’میں کیوں جائوں گا بھلا . میری کیا ضرورت ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے پھر میں بھی اماں کو منع کر دیتی ہوں کہ ساس اماں کے دبائو میں آ کر آپ کے داماد صاحب تشریف لانے سے معذرت کر رہے ہیں۔‘‘
پرویز کو پریشانیوں میں مبتلا کر کے وہ کھسک گئی تھی مگر شام تک لاواپھٹ چکا تھا۔
آخرکچھ سوچ کر شجی اور عدی بھیا نے بیچ میں کود کر اماں کا غصہ بھی ٹھنڈا کر دیا تھا۔
’’جانے دیں اماں اب وہ بیوی والا ہے۔ نئے خاندان سے رشتہ جڑا ہے اس کا۔ پھر روز روز جانا تھوڑی ہو گا۔ نیا نیا شوق ہے پھر ہماری طرح مسرت اور مرگ کے موقع پر ہی جانا ہو گا۔‘‘
بیچ بچائو کے بعد پگلم کے نئے کپڑے سلنے کے لیے گلی کی نکڑ پر موجود درزی کو دیئے گئے۔ زلف تراش سے بالوں کی تراش خراش بھی کروائی گئی۔ وہ بھی نئے سرے سے قریبی پارلر سے مہندی لگوا آئی تھی اور نیا سوٹ بھی منٹوں میں جھٹ پٹ سی لیا تھا۔
گھربھر پر یہ راز کھلا تھا کہ دلہن جیسی دکھائی دیتی تھی ویسے تو بالکل بھی نہیں تھی۔ گھنی میسنی سی نظر تھی۔
اہتمام کے ساتھ وہ دونوں اماں کے گھر پہنچ گئے تھے۔ جاڑے کے دن تھے اور صبح سے لے کر شام تک ٹھنڈی دھوپ رہتی تھی۔ کھلا وسیع و عریض صحن تھا۔
آنگن میں ابھی تک کھجور اور دھریک کے درخت کھڑے تھے جن پر موسمی پرندوں کے جھرمٹ آ کر بیٹھ جاتے تھے۔
اماں اور غزالہ بھابھی نے ان دونوں کا استقبال کیا تھا اور انہیں رنگ دار پایوں والی چارپائیوں پر بٹھایا تھا۔ اماں نے پرویز کا ماتھا چوما تھا تو وہ عجیب احساس میں گھر کر وقفے وقفے سے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر جیسے وہ لمس محسوس کر کے خود ہی چپکے چپکے ہنس دیتا تھا۔
وہ اماں کے پاس چولہے کی راکھ پھرولنے آ گئی تھی۔ یہ شروع سے ہی اس کی عادت رہی تھی کہ جب بھی اماں کچھ کاڑھ رہی ہوتی تھیں تو وہ یونہی موڑھا گھسیٹ کر ساتھ بیٹھی راکھ کریدتی رہتی تھی اور ڈھیروں ڈھیر باتیں کیا کرتی تھی۔
آج وہ قدرے چپ چپ سی تھی۔ کھیرے کے چاول ابالتی اماں کو اس کا یہ سناٹاذرا نہ بھایا تھا۔
’’تمہارے ساتھ سب اچھے تو ہیں ناں؟‘‘
وہ ضبط کر کے بیٹھی رہی تھی۔ کانچ کی چوڑیاں کھن کھن کرتی رہیں۔
’’ہاں . اچھے ہیں اماں۔ سب کے سب ۔‘‘
’’گھر کیسا ہے تمہارا شرافت تو کہتا ہے کہ ہماری چنداراج کر رہی ہو گی راج ۔ اتنی بڑی حویلی ہے۔‘‘
’’ہاں بڑی تو بہت ہے۔ راج تو کرتی ہوں وہاں۔‘‘
اماں تو جیسے مانو خوش ہی ہو گئی تھیں۔ مائیں بھی نا کتنی عجیب ہوتی ہیں بیٹیوں کے سارے جھوٹ سچ سمجھ کر خوش ہو جاتی ہیں۔ کون جانے کہ کون سی فلم کا سیٹ ہے یہ میکہ بھی۔ یہاں بھی گھڑی گھڑی سین بدل جاتا ہے۔ جھوٹی ہنسی ہنس کر دکھائو۔ ہاتھوں کی مہندی کا گہرا رنگ دکھائو۔
وہ بھی یہی تو کر رہی تھی۔ اماں نے اب کی بار اس کے جھکے ہوئے سر کو دیکھا تھا۔
’’نوکرچا کربھی ہیں کیا؟‘‘
وہ دور کمرے کی طرف دیکھنے لگی تھی۔ رنگین چارپائی پر وہ نیم دراز تھا۔
’’ہاں .اماں ایک ہے۔‘‘
کچھ دیر بعد اماں نے وہ بڑا شاپر کھولا تھا جس کے اندر موجود چیزوں سے وہ خود بھی لا علم تھی۔ شاپر عمر و عیار کی زنبیل کی طرح تھا۔ نان خطائی کے ڈبے۔ میوے والے بسکٹ۔ کراری نمکو۔بھابھی کے لیے کون مہندی اور جھمکیاں ۔ اماں کے لیے چکن کا ڈوپٹہ اور عطر ۔ بھائی کے لیے کھدر کا جوڑا۔
وہ گہری سانس لے کر رہ گئی تھی۔ یہ شخص بھی کتنا بڑا فنکار تھا۔
کھانے کے وقت بھیا آئے تھے۔ ذرا بجھے بجھے سے نظر آتے تھے۔ جتنی دیر سامنے رہے کھوکھلے قہقہے لگاتے رہے اور چندا سے نظریں چراتے رہے۔ اس نے انہیں نلکے پر ہی پکڑ لیا تھا اور خود نلکے کی ہتھی چلانا شروع کر دی تھی۔
پانی جھرجھر بہنے لگا تھا۔ وہ اوک میں پانی بھرے منہ دھو رہے تھے۔
’’اباخواب میں آئے تھے۔ بہت رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ آپ کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ آپ نے ان کی لاڈلی کو اپنا راستہ صاف کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ استعمال توچیزیں ہوتی ہیں بھیا ۔ بہن بیٹیوں کی توحفاظت کی جاتی ہے۔ اللہ کرے آپ کے ہاں بھی بیٹی کی پیدائش ہو۔ پھر آپ سے پوچھنے آئوں گی۔ ویسے بھی سنا ہے غزالہ بھابھی کا ساتواں مہینہ چل رہا ہے۔‘‘بھیا گم صم کھڑے تھے۔
وہ دبنگ لہجے میں نقارہ بجا کر اندر گم ہو گئی تھی۔ اگلے دن صبح ساری سکھی سہیلیاں جمع ہو گئی تھیں۔
’’ہم تو دولہا بھائی سے ملنے آئے ہیں۔‘‘
چندا نے بیزاری سے کمرے کی طرف اشارہ کر دیا تھا۔ اماں نے چائے چڑھا دی تھی۔
وہ ٹرے میں چائے رکھے جب کمرے میں آئی توسامنے محفل کشت زعفران تھی۔ اونچے اونچے قہقہے لگ رہے تھے۔
’’قسم سے چندا۔ دولہابھائی توبہت اچھے ہیں۔ اتنی مزے مزے کی باتیں سناتے ہیں۔ اور دیکھو تو یہ کتنے اچھے میوے والے بسکٹ لائے ہیں۔ منہ میں گھل رہے ہیں۔‘‘
بسکٹوں کا ڈبا بیچوں بیچ کھلا پڑا تھا۔ وہ مسکراہٹ سجا کر سب کو چائے پیش کرنے لگی تھی۔ پرویز نے اس کی نگاہوں کا قہر مشکل سے سہا تھا۔ سہیلیاں جاتے جاتے پرویز کو اپنے گھردورہ کرنے کی دعوت دے کر گئی تھیں۔
’’ضرور آئیے گا۔ ورنہ کٹی ہو جائے گی۔ آپ کو پیٹھے کا حلوہ اور ساگ کھلائیں گے۔‘‘
وہ شکریہ کے ساتھ مسکراتا رہا تھا۔
مزے سے چائے کی چسکیاں لیتے پگلم کو اس نے پکڑا تھا۔
’’کیا ملمع سازی کر کے آئے ہو تم یہاں؟‘‘
’’انسانوں کی بہت پہچان ہے آپ کو چندا صاحبہ۔‘‘
’’میں اماں کو سب سچ سچ بتا دوں گی۔‘‘
وہ دھمکی دینے پر اتر آئی تھی۔
’’بتا دیں میں ہرگز بھی منع نہیں کروں گا۔ اور ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ مجھے شرمندگی اٹھانی پڑے۔ یہ تو آپ کے نظریے پر ہے کہ پگلم سمجھیں یا پرویز۔ مجازی خدا یا پھر ملازم۔‘‘
وہ مسکراتا ہوا زہر نظر آتا تھا۔ بدتمیز خبیث۔
کاش وہ اکیلی ہی آجاتی۔ دو دن کے دورے میں اماں نے اس کے خوب خوب لاڈ اٹھائے تھے اور صحیح معنوں میں پروٹو کول سے نوازا تھا۔ بادشاہ سلامت بھی کافی شاداں و فرحاں نظر آئے تھے۔
اماں اس کی تعریف کرتے ہوئے نہ تھکتی تھیں۔
’’کتنا سیدھا سچا سا شوہر ہے ناں چندا تمہارا۔ قدر کیا کرو۔ نصیب والیوں کوملتے ہیں ایسے گھر والے۔‘‘
’’ہونہہ . اور ایسے گھر بھی ۔‘‘
اماں پہلی بار اس کے لہجے کی ترشی پر چونک گئی تھیں۔ زہر زہر لہجہ ۔
اور پھر وہ ان کے آگے پھٹ پڑی تھی۔ ایک ایک بات .سب کچا چٹھا کھول کر سامنے رکھ دیا تھا۔
اماں نے زندگی گزاری تھی۔ ساری اونچ نیچ سے واقف تھیں۔تب ہی نرمی سے بیٹی کا ہاتھ تھام لیا تھا۔
’’میری چنداکبھی بھی دوسروں کی باتوں میں آ کر اپنے مرد کی خوبیاں ضائع مت کر بیٹھنا۔ ایسے عورت کا ہاتھ بٹانے والے مرد کسی کسی کو ملتے ہیں۔ وہ چائے کافیاں بنائے۔ قمیص کے بٹن ٹانکے۔ جھاڑو لگائے یا پھر کپڑوں کے ڈھیر استری کرے۔ تو اس کی ذات پر سوال جواب مت کرو۔ اس کی خوبیاں ریت مت کرو۔ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سارے کام خود کرتے تھے۔‘‘ اماں کا چہرہ سرخ ہورہاتھا۔ اندھیرے آسمان پر چاند روشن تھا۔
جاڑے کی چاندنی کا نورچہار جانب پھیلا ہوا تھا۔
وہ کسی نمک کے مجسمے جیسی بیٹھی رہ گئی تھی۔
اماں کی طرح تو کسی نے کبھی کچھ سمجھایا ہی نہیں تھا۔ وہ سکے کا ایک رخ دیکھ دیکھ کر پریشان ہوتی رہی تھی۔
وہ دور سے بھی اس مرد کو دیکھ سکتی تھی جو بہت پرسکون انداز میں لیٹا ہوا تھا۔
دودھ کاڑھنے والا مرد۔ بٹن ٹانگنے والا مرد ۔ جھاڑو لگانے والا مرد۔ آٹا پسوانے والا مرد۔ شہد چٹانے والا مرد۔ اور اور ۔ اذان دینے والا مرد ۔ وہ ساری رات بیٹھی رہی تھی۔ رات گزر گئی تھی۔
٭٭٭
دونوں مسافر دوبارہ اپنی منزل مقصود پر پہنچ چکے تھے۔ منزم پر پہنچ کر احساس ہواتھا کہ وہاں پر ہو کا عالم طاری تھا۔ اماں نے بہت ساری سوغاتیں ساتھ کر دی تھیں اور ساتھ ہی ساتھ دوپٹے کے پلو کے ساتھ ایک نصیحت بھی لپیٹ کر بھیجی تھی۔
’’جانتی ہوں ۔ محل جیسا گھر نہیں ہے تمہارا اور نا ہی شہزادوں جیسا شوہر۔ اور نہ مجھے لگتا ہے تمہاراسسرال کسی شاہی گھرانے جیسا ہو گا۔ مگر ایک بات اپنی ماں کی مان لو کہ اللہ نے عورت کے اندر گھر کو محل بنانے۔ شوہر کو شہزادہ بنانے۔ اور سسرال کو شاہی گھرانہ بنانے جیسی صلاحیت رکھی ہے اور میں جانتی ہوں کہ میری بیٹی بہت سمجھ دار اور کرموں والی ہے۔ وہ اپنے گھر کو کبھی برباد نہیں کرے گی۔‘‘
وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی۔ اگلے دن بھیا بھابھی شہر سے رپورٹ کروا کر آئے تھے۔ بھیا چپ چپ اور غمگین سے نظر آتے تھے۔ بھابھی بھی عجیب ڈری ڈری سی دکھائی دیتی تھیں۔ اماں نے پوچھا تو رو کر کہنے لگیں۔
’’اماں بیٹی ہے۔ رپورٹ میں صاف صاف لکھا ہے اور ڈاکٹر نے بھی بتایا ہے۔‘‘اماں پہلے تو حیران ہوئیں پھر ہنستے ہوئے بہو کو بانہوں میں بھر لیا۔
’’پاگل ہو تم دونوں بھی ۔ اس میں منہ لٹکانے والی کون سی بات ہے۔ یوں سمجھو اللہ نے ہمیں ہماری چندا واپس بھیج دی ہے۔ آج ہی حلوہ بنا کر سارے میں بانٹ دیتی ہوں۔ خبردار جو تم دونوں نے میری پوتی کی آمد سے پہلے یہ ملال کا موسم خود پر طاری رکھا۔‘‘
وہ بھی بھیا کے سامنے آئی تھی اوران کے دونوں ہاتھ تھام لیے تھے۔
’’مبارک ہو بیٹی ہو گی۔ جانتی ہوں آپ ایک اچھے باپ ضرور ثابت ہوں گے۔ مگر اس کا کوئی بھائی ہو جائے تو کوشش کیجیے گا کہ اس سے بچا کر رکھیں۔ بس اتنی دعا کرتی ہوں کہ بھتیجی کا نصیب اللہ اچھا کرے۔ اور اس کے اپنے اس کے لیے گڑھانہ کھودیں ۔‘‘
اماں اور غزالہ بھیا کے آنسوئوں کو خوشی کے آنسو سمجھتی رہیں۔ مگر صرف واحد وہ تھی جو جان گئی تھی کہ اس بار اس کے ماں جائے کے آنسو پچھتاوے کے تھے۔ سسرال واپس آ کر وہ پر سکون تھی ۔ مرمت شدہ مسہری۔ خستہ حال کھڑکی جہاں سے اب بھی چمگادڑیں روزانہ کی بنیاد پر چکر لگا کر نکل جاتی تھیں اور ٹوٹی پھوٹی سیڑھیاں اسے زیادہ بری نہیں لگ رہی تھیں۔
بھری محفل میں دوپہر کے کھانے کے وقت جب ہر طرف پگلم کی ڈھنڈیا مچی ہوئی تھی اور لڑکیاں پگلم کے آنے پر اسے ڈانٹ رہی تھیں۔
’’پگلم کہاں رہ گئے تھے تم ۔ کب سے اسکول سے آئے ہوئے ہیں۔ بھوکے بیٹھے ہیں۔ کھانا دے دو۔‘‘
فریم تھامے کسی ٹانکے میں الجھی ہوئی تھی۔ چندا نے سر اٹھا کر لڑکیوں کوسرزنش کرنے والے انداز میں کہا تھا۔
’’خبردار .جو آئندہ انہیں پگلم کہہ کر بلایا تو۔ عمر میں بھی بڑے ہیں تم سے اور رشتے میں بھی ۔ رشتوں کا احترام کیا کرو۔‘‘
جاڑے کے موسموں میں جب طوفانی بارش ہوئی تو وہ تیسری منزل کے کمرے میں پریشانی کے عالم میں ٹہل رہی تھی۔ باہر ایسا طوفان اٹھا تھا کہ چاروں طرف سیٹیاں بج رہی تھیں اور درخت اکھڑ کر تینوں سمیت گھر رہے تھے ۔ مگر پرویز عرف پگلم کا کہیں پتا نہیں تھا۔ دل کو عجیب احساس دلائے دے رہا تھا۔ پریشانی کے عالم میں بارش میں بھیگتے ہوئے وہ نیچے والی منزل پر شجی بھیا اور عدی بھیا کے دروازے بجاتی رہی تھی ۔ کسی کو بھی پگلم کی کوئی خیر خبر نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ پچھلے کئی گھنٹوں سے گھر کے کام کے سلسلے میں وہ بازار گیا تھا۔ بازار جانے والا جاڑے کی شدید بارش میں لوٹ کر نہیں آیا تھا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی پریشانی میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا۔ جب ساری امیدیں دم توڑ گئیں اور خستہ حال کھڑکی سے بارش کی ایک بوچھاڑ نے چندا کو بالکل بھگو کر رکھ دیا توتب کہیںدروازے پر پانی پانی ہوتا ہوا وہ سامنے نظر آیا تھا۔ کاٹن کی قمیض گیلی ہو چکی تھی۔ سرسوں کے تیل میں چپڑے ہوئے بال ماتھے پر آچکے تھے۔ وہ چیل کی طرح اس کی طرف لپکی تھی اور اسے گریبان سے پکڑ لیا تھا۔ اسے نہیں پتا تھا کہ وہ کیا کیا بولے جا رہی ہے۔ باہر اور اندر کا طوفان اکٹھا ہو گیا تھا۔
’’کہاں تھے تم .ذمہ داریوں سے بھاگنے والے۔ فرارحاصل کرنے والے۔ دنیا بھر کی جی حضوری کرنے والے۔ تمہیں مجھ سے شادی کرنی ہی نہیں چاہیے تھی۔ تم جیسے لوگ کبھی بھی کوئی رشتہ نہیں نبھاسکتے۔ اور شادی جیسا رشتہ تم کیا نبھائو گے جسے اپنی ذمہ داریوں تک کا احساس نہیں ہے۔ اب میری سمجھ میں آ رہا ہے کہ تمہیں سگے رشتوں سے کیوں نہیں نوازا گیا ہے۔ اگر میں مر جاتی ۔ مجھے کچھ ہو جاتا۔ میرا دل بند ہو جاتا تو.؟‘‘
بولنے والی جی جان سے بولی تھی۔ سننے والا اپنی بھیگی ہوئی قمیص سے پانی نچوڑ رہا تھا۔ شاید اسے سردی بھی لگ رہی تھی۔ وہ تھوڑا ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔
’’معذرت چاہتا ہوں۔ آپ کو بتانا بھول گیا تھا۔ آج سے میرے پرائیویٹ ایم اے کے امتحانات شروع ہو گئے ہیں۔ وہی پرچا دینے گیا تھا۔ مگر موسم خراب ہو گیا۔‘‘
چندا حیرت سے دیکھتی رہ گئی تھی۔ سامنے کھڑا ہوا شخص عجیب پہیلی تھا۔ ٹکڑوں میں سمجھ میں آتا تھا۔ اور آج جاڑے کی سرد رات بارش میں اس نے چندا کو بہت سارے ٹکڑوں میں بانٹ دیا تھا۔ طوفان ، بارش ، مسہری اور رات چندا پر ہنستے رہے۔
٭٭٭
بہت دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک تھی چاند کے جیسی چندا . اور . ایک تھا دیوانوں جیسا پگلم ۔
اور آج جدید طرز تعمیر پر مشتمل یہ حویلی جو شان سے کھڑی ہے او ر اس کے مکین گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ اپنی حویلی کی طرز تعمیر کے ساتھ خود بھی زیر تعمیر چلے آ رہے ہیں۔ اس حویلی میں ساڑھی پہنے بالوں میں موتیا کے گجرے سجائے ماسٹرنی چندا رہتی ہے۔ جو ہر روز اپنے ماسٹرپگلم کا انتظار کرتے ہوئے تیسری منزل کے پختہ اور خوب صورت پورشن میں انگریزی کھانوں کی نت نئی ترکیبیں آزماتے ہوئے خوش نظر آتی ہے۔ شادی کے بعد ہونے والی محبت کی یہ ایک عمدہ مثال ہے۔ بابا آدم کی یہ حویلی اب ماسٹر اور ماسٹرنی کی محبت حویلی کہلاتی ہے۔ سارے محلے میں اس جوڑے کی دھوم ہے۔ ساس صاحبہ دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں۔ مگر عینی شاہدین کے مطابق اپنے آخری وقت میں وہ اپنے سگے بیٹوں سے کہیں زیادہ اپنے سوتیلے بیٹے پرویز سے خوش ہو کر گئی ہیں۔ شاید تب ہی اگلے جہان سے جھولیاں بھربھر دعائیںبھیجتی رہتی ہیں۔
عارفہ کی بیٹیوں کو ہمیشہ حقارت سے دیکھنے والی اسمارہ اب ننھی گڑیا کو چپکے چپکے پیار کرتی نظر آتی ہے۔ اور اسے نہیں معلوم کہ یہ سب کرتے ہوئے وہ ساروں کو نظر آتی ہے۔ ماسٹرنی جی بار بار شام کی چائے پر بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں اور حقوق العباد کے ساتھ ساتھ گھر داری میں عورت کے کردار پر بھی روشنی ڈالتی ہیں۔ اماں کبھی کبھی بھیا کے ساتھ موسموں کی سوغات لے کر حاضر ہو جاتی ہیں اور فخر سے اپنی ماسٹرنی بٹیا کو یاد دلانا نہیں بھولتیں کہ عورت چاہے تو مکان کو گھر بنا سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بہت ساری خصوصیات عورت ذات میں رکھی ہیں۔
دیوانہ پگلم اور پیاری چندا آج بھی اپنی اتفاقیہ شادی اور حالات زندگی پر تبصرے کرتے ہوئے شکر ادا کرتے ہیں۔ کبھی کبھی زندگی واقعی کسی فلم کا سیٹ بن جاتی ہے۔ بدلتی رہتی ہے وقفے وقفے سے۔ دھیرے دھیرے سے ۔ زندگی کے بدلتے ہوئے پھیلائو میں کامیاب ہمیشہ وہی ہوتے ہیں جو جی جان سے حالات کا مقابلہ کرتے ہیں اور پارلگ جاتے ہیں۔ سکے کا ایک ہی رخ کبھی بھی خوش حال شادی شدہ زندگی کی ضمانت نہیں ہوتا۔
چائے کی پیالی سے سڑک سڑک کر چائے پیتے ہوئے ماسٹرنی ہنس کر ماسٹر جی سے کہتی ہے۔
’’تمہیں پتا ہے میں پہلی بار تم سے کب متاثر ہوئی تھی۔ تب جب تم ننھی گڑیا کولے کر ہسپتال سے آئے تھے۔ تمہاری جیب میں شہد اور کاجل کی ڈبیا تھی اور تم نے مجھے بتایا تھا کہ تم نے گڑیا کی آنکھوں میں کاجل بھرا ہے اور شہد کی گھٹی بھی چٹائی ہے۔ میں نے ایسا مرد اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا۔ ٹھیک کہتی تھیں اماں تمہارے جیسے مردنصیب والیوں کو نصیب ہوتے ہیں ۔‘‘
کبھی کبھی وہ یونہی چائے کی ایک پیالی کے بدلے تعریف کر دیا کرتی ہے اور پرویز عرف پگلم اعزاز سمجھ کر یہ ساری تعریفیں وصول کرنا اپنا حق سمجھتا ہے۔
٭٭


