بالٹی میں گرتی پانی کی دھار اس بار سیدھی اس کے دل پر گری تھی۔دل گویا اچھل کر سینے کی دیوار سے باہر آ گیا ہو۔چائے کا پانی چولھے پر چڑھاتے ہوئے اس نے کن اکھیوں سے کھڑکی کے پار دیکھا۔
ٹونٹی کے پاس کھڑا پانی بھرتے ہوئے وہ بھی اسی اشتیاق سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا ،ایک لمحے کے لیے دونوں کی نظریں چار ہوئیں اور فوراً زمین بوس ہو گئیں۔اتنی ہمت کہاں تھی اس میں ان نظروں کا سامنا کر پاتی۔
سارے دن میں یہ سب سے قیمتی پل ہوتے تھے جب وہ خالی بالٹی بھرنے کچن کے پچھواڑے لگی اس ٹونٹی پر آ ن کھڑا ہوتا۔
اسے لگتا زندگی کا اس سے حسین کوئی اور پل ہو ہی نہیں سکتا۔جب وہ کھلی کھڑکی سے نظر بھر کر اسے دیکھ سکتا تھا ،محبت کا ایک امرت لٹاتا اس کا رنگ روپ ایک ہی پل میں اس کی زندگی کی ساری تلخیاں بہا لے جاتا۔وہ ڈری سہمی لڑکی جب گھبرا کر اس کی طرف دیکھتی تو لگتا ،ہر طرف زندگی کے رنگ بکھیر گئی ہو۔
اسے دیکھنے میں وہ اس قدر محو ہو جاتا کہ پتا بھی نہ چلتا کب بالٹی پانی سے لباب بھر جاتی تب وہ گھبرائی ہوئی کھلی کھڑکی کے پاس آ کر ٹونٹی بند کرنے کا اشارہ کرتی تو وہ جھینپ کر بالوں میں ہاتھ پھیرتا ٹونٹی بند کر نے کے لیے جھک جاتا۔
٭٭٭
اماں !بوبے کے لیے تو میں نے ایسا رشتہ ڈھونڈا ہے کہ آ پ سنیں گی تو حیران رہ جائیں گی”.
اماں کے گھر آ تے ان کا فیورٹ موضوع اکلوتے بھائی بوبے کا رشتہ ہوتا ۔آ ج بھی بیٹھتے ہی ادھر ادھر کی باتوں کے بعد فوراً وہی موضوع چھڑ گیا۔
ہیں. بوبے کا رشتہ ؟”
اس کی بات سنتے اماں کے بجائے قریب بیٹھی چھوٹی بہن ننھی بول پڑی۔
تیرا دماغ تو نئی چل گیا۔ گھر میں جوان جہاں بہن بیٹھی بوڑھی ہو رہی ہے اور تو ماں کو بھائی کے رشتے کے مشورے دینے چلی آ ئی ہے “
ننھی اور بے بی دونوں کچھ دیر پہلے ہی میکے آئیں تھیں اور آ تے ہی بوبے کے رشتے کو لے کر دونوں کے درمیان گرما گرمی شروع ہو گئی ۔
میں تو امی سے کہنے آ ئی تھی کہ نگو خالہ سے کہہ کر جلدی مونا کی شادی کا کوئی انتظام کریں لیکن تو تو انہیں پٹھے سیدھے مشورے دے رہی ہے “.
ننھی کہنے کو اس سے چھوٹی تھی لیکن تھی سب میں سمجھ دار ،مونا کی بڑھتی عمر پر سب سے زیادہ وہ پریشان ہوتی تھی اس کی عمر کی لڑکیاں کب سے شادی ہو کر سسرال جا چکی تھیں اس بات کی اسے سب سے زیادہ ٹینشن تھی جب بھی میکے آ تی ماں کو مونا کے رشتے کی تاکید کرنا نہ بھولتی۔
چھڈو. تم دونوں تو آ پس میں ہی لڑنے لگ گئی ہو۔ہو جائے گی مونا کی بھی اور بوبے کی بھی شادی ۔پہلے کچھ کھا پی تو لو۔نی مونا جلدی کر ابھی تک تیری چاہ نہیں بنی۔”
بیٹیاں گھر آئی تھیں تو اس کا موڈ آ ج خوش گوار تھا دونوں کو چپ کرنے کا کہہ کر کچن میں کام کرتی مونا کو آ واز دی۔
اتنی دیر میں تو پاوے بھی گل جاتے ہیں جتنی دیر میں تیری چاہ بن کے آ تی ہے ،بندہ ملتان کی گاڑی پکڑ لے “
بسکٹ کے پیکٹ کھولتے ہوئے وہ خود ہی مسکرا دی۔
جلی جئی نا ہووے تے.ہر کم اتنا آ رام آرام سے کرتی ہے ہے کہ بس نہ ہی پوچھو۔”
اماں کی باتوں کا رخ ان کی باتوں سے مڑ کر اب مونا پر جا ٹکا تھا۔
اسی لیے تو نصیب بھی اتنے ٹھنڈے ہیں جہاں کہیں رشتے کی بات چلاؤ ۔اگلے خود ہی کہیں اور چل پڑتے ہیں۔”
بڑی بہن ہونے کے ناتے بے بی کو بھی مونا کے رشتے کے سلسلے میں ہر محاذ پر ناکامی کاسامنا کر نا پڑا تھا۔اب پچھلے ایک گھنٹے سے چائے کا انتظار کرتے اس کی ننھی کے ساتھ تلخ کلامی ہو گئی تھی اور کھانا بننے تک تو ہو سکتا ہے دونوں دست و گریبان ہو جاتیں۔
نصیب ٹھنڈے ہیں پر چاہ بڑی اچھی بناتی ہے۔ملائی مار کے۔ وسیم تو کہتا ہے تم ساری بہنوں میں صرف مونا کے ہاتھ میں بڑا ذائقہ ہے۔”
ایک ننھی تھی جسے مونا کے اندر ہر خوبی نظر آ تی تھی پھر پتا نہیں دوسرے لوگ ہر وقت اسے طعنوں کی لپیٹ میں کیوں گھیرے رکھتے تھے۔اب بھی اسے چائے کی ٹرے لے کر کمرے میں آ تا دیکھ کر اس نے پوری خوش دلی سے اس کے بارے میں اپنے شوہر کی رائے بتائی تھی۔
لو بھئی گرم گرم چاہ کے ساتھ بسکٹ بھی کھاؤ۔”
اس نے بسکٹ کی پلیٹ بیٹیوں کے آ گے کی۔
اور مونا تو کر چاہ پی کے جلدی سے پلاؤ کی تیاری شروع کر دے۔ابھی تیاری کرے گی تو شام تک پلاؤ بن کر تیار ہو گا نا۔”
ابھی اس نے چائے کے کپ بہنوں کے آ گے رکھے تھے کہ اماں کی طرف سے اگلے کام کی لسٹ جاری ہو گئی تھی ،وہ خالی ٹرے لے کر چپ چاپ کچن کی طرف چل دی کہ پورے گھر میں وہی اس کی محفوظ پناہ گاہ تھی۔
گھر میں آ ئے مہمان کے سامنے صرف چائے کھانا رکھ کر وہ خود ہی وہاں سے کھسک جاتی۔ وہ جانتی تھی ان کے درمیان ہونے والی گفتگو کا بڑا حصہ اسی کے گرد گھومتا تھا۔ہر موڑ پر طنز اور طعنوں کے تیر برساتے یہ اس کے اپنے ہی تھے جن کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے وہ بقول سب کے ابھی تک گھر میں بیٹھی ان کے سینوں پر مونگ دل رہی تھی۔
٭٭٭
ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟”
اسے ٹکٹکی باندھے اپنی طرف دیکھتا پا کر وہ تھوڑا شرما کر بولی۔
دیکھ رہا ہو ں ،تم میرے گھر میں چلتی پھرتی کیسی لگو گی.”محبت بھری مخمور نگاہوں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے اس نے ایک دم سے وقت کی کمانوں پر ہاتھ رکھ کر آ نے والے وقت کا تصور کیا۔
جب تم روز صبح پیار سے مجھے جگایا کرو گی دیکھو جی آٹھ گئے ہیں اٹھ بھی جائیں نہیں تو دفتر سے لیٹ ہو جائیں گے “
آنے والے وقت کا خیال ہی اس کے اندر نئی انرجی بھر گیا تھا جب ان کے درمیان کوئی ظالم سماج نہ ہو گا وہ ہو گا اور اس کی ببلی۔
ہاں اور اس سے پہلے تمہاری امی ڈنڈا لے کر مجھے جگا دیا کرے گی جیسے ہر روز تمہیں جگایا جاتا ہے۔”
اسے جگا نے کا منظر ببلی کے ساتھ ساتھ پورے محلے نے سن رکھا تھا۔ککی انٹی جب جوتا لے کر اسے بستر سے نکالتیں تو کوئی کان ایسا نہ تھا جہاں تک ان کی آواز نہ جاتی۔
وے ٹٹ پنیا ،اٹھ وی جا۔دوپہر سر پہ چڑھ آئی۔میری تے قسمت ہی خراب ہے جیسا پیو ویسا پتر۔‘‘
اس کی امی کی ٹون تو یہی تھی لیکن اسے دوسروں کے سامنے تو سب اچھا ہے کا بورڈ ہی لگانا تھا۔جھٹ سے بول پڑا۔
نہیں.نہیں۔میری امی تمہیں کچھ نہیں کہے گی ایک ہی ایک اس کی بہو ہو گی، دیکھ لینا وہ تو تمہیں بیڈ سے پیر نیچے نہیں اتارنے دے گی۔”
اس کی بات پر ببلی کو کیسے یقین آ سکتا تھا ،حیرت سے پوری آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔
رہنے دو ،اب اتنا بھی جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں۔تمہاری امی تو مجھے دیکھتی ایسے ہے جیسے بھینس قصائی کو دیکھتی ہے۔اگر اس گھر میں تم نہ ہو تو میں اس طرف منہ بھی نہ کروں۔”
اس سے ملتے اسے چھ مہینے ہو گئے تھے لیکن ان چھ مہینوں میں وہ جان گئی تھی کہ ککی انٹی اپنے اکلوتے بیٹے کی طرف اٹھنے والی ہر آنکھ کو پھوڑنے کے در پے رہتی ہے۔
مجھے بہو بنانا تو دور، وہ تو میرا سایہ بھی تم پر نہ پڑنے دے۔”
اس کی ماں کی طرف سے اسے کوئی غلط فہمی نہ تھی وہ جب جب اس کے گھر جاتی وہ کھڑے کھڑے اسے وہاں سے چلتا کر دیتی۔ اتنی باتیں تو وہ اس سے گھر سے باہر ہی کر سکتی تھی۔اس وقت بھی وہ دفتر سے نکلتے قریبی پارک میں بیٹھ گئے تھے۔
اچھا اب ایسی بھی بدگمانی کی ضرورت نہیں۔ میری امی اوپر سے جتنی سخت ہیں نا، اندر سے اتنی ہی نرم ہیں۔یہ تو حالات کی بے رحمی نے انہیں ایسا کر دیا ہے کچھ حالات نے اور کچھ میرے ابو کی بے حسی نے۔ ساری زندگی مردوں کی طرح سارے کام کیے ہیں امی نے “
وہ بیٹا تھا ،جانتا تھا عورت کو جب شوہر کے حصے کے کام بھی پورے کرنے پڑ جائیں تو وہ پتھر ہو جاتی ہے۔
اچھا چلو چھوڑو۔تم یہ بتاؤ آ ج کیا پکاؤ گی دیکھو اگر بریانی بناو نا تو میرا حصہ ضرور لے کر آ نا، نہیں تو میں ناراض ہو جاؤں گا۔”
اس نے کچھ ایسی لگاوٹ سے فرمائش کی کہ اس کا دل چاہا ابھی جائے اور دوڑ کر اس کے لیے بریانی بنا ڈالے۔
لیکن ایک شرط پر ؟”
بینچ سے اٹھتے ہوئے اب اسے ستانا بھی ضروری تھا۔
میں جس دن بھی بریانی بناؤں گی ،اس دن پہلے تم مجھے کال کرو گے پھر میں تمہارا حصہ لے کر آؤں گی”
’’مروانا ہے کیا؟”
وہ گھر میں اس سے بات نہیں کرسکتا تھا۔اماں کے کان ہر وقت ریڈار بنے اس پر فوکس رہتے تھے۔
ہاں ۔میسج ضرور کر دوں گا۔۔۔میسج سے کام چلے گا نا۔”
بائیک اسٹارٹ کر کے وہ کچھ اس انداز میں بولا کہ وہ جی جان سے اس کی بات پر سر ہلاتے ہوئے اس کے پیچھے بیٹھ گئی۔
چلے گا نہیں بابا. دوڑے گا۔”
٭٭٭
کرامت بی بی کا چھ کواٹرو ں کا یہ گھر اس کی کل جائیداد تھا۔ان کوارٹرو ں سے آ نے والی آمدنی سے اس نے بچوں کو پڑھایا لکھایا تھا۔ بڑی دونوں بیٹیوں کی شادیاں بھی انہیں کوارٹروں سے آ نے والے پیسوں کی کمیٹیاں ڈال کر بڑے اچھے سے کی تھیں۔
بے بی اور ننھی کے رشتے کرتے ہوئے کچھ نگو سے اس کی دوستی بھی کام آ گئی تھی۔اس نے بڑے اچھے گھروں میں ان دونوں کے رشتے کروا دیے تھے۔دونوں اپنے گھروں میں راج کر رہی تھیں۔
ان سے چھوٹی مونا تھی جو جاڑے کی رت میں اس کے گھر جاڑے جیسا نصیب لے کر آ ئی تھی۔ وہ اکثر کہتی ۔
’’مونا کی قسمت تو برف سے بھی زیادہ ٹھنڈی ہے ۔‘‘
پھر کسی نے بتایا بچی کا نام بدل دو۔ناموں کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔اس سیانے بندے کے کہنے پر مونا کا نام فاطمہ رکھا گیا لیکن چار دن اسے فاطمہ کہہ کر جلدہی سارے مونا پر لوٹ آ ئے۔
مونا کے رشتے کی بات جہاں کہیں چلتی کبھی توڑ نہ چڑھ پائی تھی۔ نگو بھی حیران تھی ،اس سے پہلے وہ کئی رشتے کروا چکی تھی۔
یہ ساری فکریں ایک اکیلی اس کی جان کو تھیں، معراج دین نے شروع سے کسی چیز کی کوئی ٹینشن نہ لی تھی۔سارا دن نشہ کر کے پڑا رہتا۔ ذرا آنکھیں کھلتیں تو روٹی مانگ لیتا۔
سارے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی گڈا ماہی منڈا ٹائپ لڑکی تھی۔وہ گھر کے کسی بندے کے قابو میں نہ تھی۔وہ اپنے فیصلے خود کرتی تھی۔ککی کو اس کی شادی کی کوئی فکر نہ تھی جانتی تھی وہ شادی بھی اپنی مرضی سے کرے گی ،ہاں ببلی کو لے کر اسے بوبے کی فکر ضرور لگ گئی تھی۔
٭٭٭
مجال ہے جو کوئی ایک بھی ڈیوڑھی میں جھاڑو دیتی ہو۔ساری کی ساری کم چور اکٹھی ہوئی ہیں یہاں۔جس کا جہاں جی چاہتا ہے کوڑا پھینک دیتی ہے۔”
وہ لہسن بناتی گندی ڈیوڑھی کو دیکھ کر کڑھ رہی تھی۔
سچ ہی کہا ہے کسی نے ساجے کام کی پوری نہیں پڑتی۔”
سر کو نفی میں جھٹکتے جیسے وہ خود کو سمجھاتی بولی۔
ایک یہ ذرا سی جگہ سب کے حصے میں آ تی ہے۔بندہ اپنے اپنے کوارٹر کی صفائی کر کے یہاں بھی تھوڑا سا پانی مار دیتا ہے پر نہیں ۔غش پڑ جاتا ہے کسی ہور کا کام کرتے۔سانجھا رستہ ہے سب کا ۔”
اس کی آ واز اتنی بلند تھی کہ سارے کواٹروں میں با آ سانی سنی جا سکتی تھی لیکن اسے جواب دینے کی جرات کسی میں نہ تھی۔
نی نازیہ !اندر کی صفائی کر کے ڈیوڑھی میں بھی جھاڑو لگا دیں “
اسے پتا تھا مہینے بعد بھی ڈیوڑھی میں جھاڑو وہی لگوائے گی۔
ککی آنٹی !ایک آ پ کے دل میں صفائی کا ابال اٹھتا ہے باقی سب تو یہاں بے کار پڑی مکھیاں مارتی رہتی ہیں۔” نازیہ چڑ گئی اس کا پہلا کام ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ اس نے نیا کام بتا دیا تھا۔
تو بھی رج کے کم چور ہے۔ذرا سا کام کیا بتا دوں موت پڑ جاتی ہے تجھے۔وہ مکھیاں مارتی ہیں تو تو مچھر مارتی ہے ،تجھے بھی کوئی کام نہیں ۔”
وہ ابھی نازیہ سے دو دو ہاتھ کر رہی تھی کہ کھلے دروازے سے نگو کو ڈیوڑھی سے آ تا دیکھ کر اٹھ گئی۔
نی مونا !دوڑ کے جا . نگو کے لیے جوس ٹھنڈا کر کے لا۔”
اس نے جونہی ڈیوڑھی میں قدم رکھا ،وہ کچن میں کام کرتی مونا کو جوس لانے کا کہہ کر اپنا دوپٹہ اوڑھتی برآمد ے میں چلی آ ئی۔
وہ جوس کا ڈبہ واشنگ مشین میں میلے کپڑوں کے نیچے پڑا ہے وہاں سے نکال لے۔”
مونا کو جوس کے ڈبے کا پتا تو اس نے بتا دیا تھا اب اللہ کرے وہاں سے مل جاتا۔بوبے اور گڈا کے ہوتے کھانے پینے کی چیزوں کا اللہ ہی حافظ تھا۔
بسم اللہ کراں.میری پین آ ئی۔”
اس کا جوش وخروش تو ٹھیک تھا لیکن جوس کی جگہ بہرحال ٹھیک نہ تھی۔نگو نے سنا تو جھٹ سے بول پڑی۔
تجھے اور کوئی جگہ نہ ملی تھی جوس چھپانے کے لیے ۔”
برآمدے میں رکھی کرسیوں پر بیٹھتے ہوئے اس نے ناک چڑھا کر پہلا اعتراض کیا۔
بندہ پوچھے ایسی چیز فریج میں رکھی جاتی ہے۔ مہمان کے آ نے سے پہلے پہلے وہ ٹھنڈی ہو جائے ۔ جا کے چھپایا بھی تو کہاں؟”
ایسے جوس کا سوچ کر ہی اس کا سارا موڈ خراب ہو گیا تھا۔
رہنے دے ،ایسا جوس میں نہیں پیتی۔تجھے ہی مبارک ہو گندے کپڑوں والا جوس۔”
بہنوں جیسی سہیلی کا کورا جواب سن کر وہ اس کا منہ دیکھ کر رہ گئی ۔
تیرا کیا خیال ہے ،ہم گندے لوگ ہیں ؟ ہمارے کپڑے پلید ہوتے ہیں ؟”
غصہ کرنا تو بنتا تھا۔وہ تو پروں پر پانی نہیں پڑنے دے رہی تھی۔
دور کہاں جانا ہے پوچھ لے نازیہ سے ،یہی کہتی ہے ککی آنٹی سارے محلے میں ایک آ پ کے کپڑے سب سے صاف ہوتے ہیں۔ قسم سے۔ گندے کپڑوں کا ڈھیر بھی پڑا ہو تو لگتا ہے ابھی ابھی دھو کر تار سے اتارے ہیں۔نازیہ دس منٹ میں سارے کپڑے دھو کر دوڑ بھی جاتی ہے۔”
مونا سے جوس لے کر اس کی طرف بڑھاتے ہوئے اب اس نے اندر نازیہ کی گواہی بھی شامل کر دی تھی۔
ہاں.ہاں نگو انٹی پھڑ لیں جوس. ککی انٹی بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے کپڑے بالکل صاف ستھرے ہوتے ہیں گامے حلوائی کی برفی کی طرح۔”
نازیہ نے ٹکڑا لگایا تو اس نے ایک گھوری اس کی طرف ڈالی۔
چپ کر ، نی.بس اتنی گواہی کا فی ہے۔ جا، جا کر اپنا کم کر۔”
اسے وہاں سے چلتا کر کے اس نے ایک بار پھر نگو کی طرف دیکھا۔
پھڑ وی لے۔ سویرے سے تیرے لیے اسپیشل جوس منگوا کے رکھا تھا۔تجھے انار کا جوس جو پسند ہے “
جوس کا گلاس اس کی طرف بڑھا تے ہوئے وہ محبت سے بولی۔
تجھے تو پتا ہے میرے سارے کے سارے بچے چوہوں کی طرح کچن میں چیزیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ان شیطانوں سے اسی طرح بچانا پڑتا ہے۔ اور بوبے کا تو تجھے پتاہے وہ پولیس والوں کی طرح ہر جگہ کی تلاشی لے لیتا ہے۔کہیں پہ بھی چھپا لو وہ وہاں تک پہنچ جاتا ہے۔”
اس کی مجبوری شاید نگو کو کی سمجھ میں آ گئی تھی یا پھر انار کا جوس دیکھ کر ساری بد گمانی دھل گئی تھی اس کے ہاتھ سے فوراً جوس کا گلاس پکڑ لیا۔
اچھا ،جوس تو پی لیتی ہوں پر مونا سے کہہ اچھی سی چائے بھی بنا کے لائے۔”
جوس پکڑتے اس نے فوراً اگلی فرمائش ڈال دی۔
ہاں. ہاں. کیوں نہیں نی مونا. نگو آنٹی کے لیے اچھی سی چائے بھی بنا کر لا۔”
جوس کا مسلہ حل ہوا تو چائے کا آ رڈر مل گیا، ابھی تھوڑی دیر میں گلی سے لڈو پیٹھیاں والا گزرے گا تو اس کی فرمائش آ جائے گی۔ چائے بناتی مونا نگو آنٹی پر تاؤ کھارہی تھی۔
ہر دوسرے دن آ ن ٹپکتی ہے۔۔۔ چائے ،کھانا، جوس سارا کچھ ٹھونس کر چلی جاتی ہے اور ڈھنگ کا ایک رشتہ بھی نہیں دکھاتی۔”
وہ منہ میں بڑبڑاتی چائے بناتی رہی۔جب ٹرے میں چائے کا کپ اور بسکٹ سجا کر نگو انٹی کے سامنے رکھ کر واپس مڑی تب اس نے سنا ،وہ امی سے کہہ رہی تھی۔
میری بات کا برا نہ مان ککی ، مونا میں کوئی عیب نہیں سارا قصور تیرا ہے۔رشتے کی بھی ایک عمر ہوتی ہے جب اس کے رشتے آ تے تھے تب تیرا دماغ خراب تھا۔”
چائے کا گرم کپ ہاتھ میں لے کر اس نے بات سولہ آ نے کھری کی تھی۔کچن کی طرف جاتی مونا کا جی چاہا نگو انٹی کو اتنی سچی اور کھری بات کہنے پر داد ضرور ملنی چاہیے۔
ہاں کہتی تو تو ٹھیک ہے۔ اس ٹائم غلطی ہو گئی تھی پر اتنی بھی کوئی بڈھی نہیں ہو ئی میری مونا۔تو کوشش کرے تو کوئی رشتہ مل ہی سکتا ہے۔”
نگو کے سامنے وہ اپنی غلطی مان جاتی تھی ایک اسی سے کوئی امید تھی ،وہ مونا کے لیے کوئی رشتہ گھیر کے لا سکتی تھی۔
غلطی ہو نہیں گئی تھی اس غلطی پر تو تو آج بھی ڈٹ کے کھڑی ہے۔کوئی رنڈوا ، کوئی دوہاجو تجھے اب بھی قبول نہیں۔میری بات پلے باندھ لے ،اب نخر ے چھوڑ دے اور جو مل جائے صبر شکر کر کے مونا کو اس کے ساتھ رخصت کر دے۔ نہیں تو بہت پچھتائے گی۔”
ویلڈن. نگو آنٹی آ پ کی جرات کو میرا سلام ہے۔”
وہ جو نگو کی بات پر تیوریاں چڑھا کے اسے گھور رہی تھی و ہاں قریب سے گزرتی گڈا دونوں ہاتھوں سے تالی بجا کر اسے داد دینے رک گئی تھی۔
ایک آ پ ہی ہیں جو ہماری اماں کو آئینہ دکھا سکتی ہیں ورنہ کرامت بیگم کے آ گے تو ساری زندگی اس کا اپنا شوہر بے بس اور مجبور رہا ہے۔”
اس نے برآمدے میں بچھے پلنگ پر رضائی اوڑھے معراج دین کی طرف اشارہ کیا جس پر اس وقت بھی نشے کی غنو دگی طاری تھی۔
ہا.ہائے . نی مرن جو گی. کیسی قینچی کی طرح زبان چلتی ہے تیری۔ ” وہ پہلے ہی نگو پر خار کھائے بیٹھی تھی ،اوپر سے اپنی بیٹی بھی طعنوں پر اتر آ ئی تھی۔
ماں کا کوئی شرم لحاظ نہیں تجھے۔ دیدوں سے پانی مک گیا ہے۔یہ ہے آ ج کل کی اولاد، کھا پی کے بھی کہتے ہیں ہم نے تو کچھ نہیں کھایا ۔سارا دن کوٹھے ٹپتی پھرتی ہے اور باتیں مجھے سناتی ہے ،میں تو کہتی ہوں نگو تو مونا کو چھوڑ، پہلے اس کا رشتہ کروا۔ اس سے تو میری جان چھٹے۔”
وہ مونا کا بالکل الٹ تھی یا یوں کہہ لیں اس کی فوٹو کاپی تھی۔ سارے بچوں میں جواب بھی اسی سے سننے کو ملتا تھا۔
میرے رشتے کے لیے نگو آنٹی کو زحمت دینے کی ضرورت نہیں ،یہ مونا کا رشتہ ہی ڈھونڈ لیں تو بڑی بات ہے۔ اپنا رشتہ میں خود ڈھونڈ لوں گی۔میں کوئی مونا نہیں جو آپ کی ساری زیادتیاں چپ کر کے برداشت کر لوں گی۔”
وہ ماں کو کھری کھری سنا کر آ گے بڑھ گئی ۔
بڑی آ فت چیز ہے تیری یہ لڑکی۔”
نگو نے بھی کانوں کو ہاتھ لگایا۔
کسی دن تجھے تھانے میں بند نہ کرا دے۔ لوگوں کے ہتھ پیر توڑنے سے بھی باز نہیں آتی ۔میں نے سنا ہے ،پرسوں شوکت درزی کے چھوٹے لڑکے کا بازو توڑ ڈالا تھا۔”
اس کی چھوٹی موٹی لڑائیوں سے سب واقف تھے پورے محلے میں گڈا ڈان کے نام سے مشہور تھی۔
نگو نے اسے مونا کی فکر چھوڑ کر گڈا کے خطرے سے آ گاہ کیا۔
دفع کر اسے۔یہ تو وہ پیڑ(درد) ہے جو میں کسی کو بتا بھی نہیں سکتی۔روز دن چڑھتے پہلے اس سے منہ ماری ہوتی ہے پھر شام پڑتے اس زندہ لاش میں جان پڑ جاتی ہے۔میری تو زندگی ہی برباد ہے۔”
ڈبڈباتی آنکھوں کے ساتھ اس نے سوتے ہوئے معراج دین عرف ماجے کی طرف اشارہ کیا جو دن چڑھے مدہوش پڑا سو رہا تھا۔اس کی جان کو ایک نہیں کئی روگ لگے تھے۔
تو مونا کی بات کر۔یہ سارے روگ تو کینسر کی طرح میرے ساتھ چلنے والے ہیں۔”
جلدہی وہ اسے مطلب پر لے آ ئی۔جس مقصد کے لیے وہ آ ئی تھی وہی بات ہونی چاہیے تھی۔
مونا کے لیے تو میرا مشورہ ہے تو اپنے کواٹروں پر ہی نظر مار لے تو کوئی حرج نہیں۔۔۔وہ گونگا بھی مجھے کوئی برا نہیں لگتا ۔آ گے پیچھے کوئی نہیں تیری بیٹی عیش کرے گی۔”
نگو صحیح معنوں میں اب مونا کا رشتہ تلاش کرنے میں ناکام ہو چکی تھی تب ہی تو اسے شارٹ کٹ راستہ دیکھا رہی تھی۔
اس کا مشورہ سنتے وہ کاٹ کھانے کو دوڑی۔
تیرا کیا خیال ہے اب میں برادری سے باہر رشتہ کر دوں بیٹی کا۔ اس گونگے پٹھان کی ذات برادری کا پتا نہیں۔اپنا مشورہ اپنے پاس رکھ۔ مونا اور بوبے کے لیے وٹے سٹے کا کوئی رشتہ ملتا ہے تو بے شک بات کر لے لیکن میں نے برادری سے باہر بیٹی کی شادی نہیں کرنی۔”
اس نے ٹھونک بجا کر ایک بار پھر سے اس کے کان کھولے تھے۔مونا کا رشتہ وہ برادری سے باہر نہیں کرے گی ۔
یاد رکھ اگلی واری آ ئیں تو مونا کے ساتھ ساتھ بوبے کے لیے بھی اچھا سا رشتہ لے کر آئیں۔اک و اک پتر ہے میرا۔پتا نہیں اس مونا کی قسمت کب کھلنی ہے۔اس کا انتظار کرتے کرتے کہیں میں اپنے پتر سے ہاتھ نہ دھو بیٹھوں۔”
اس کا آ ج کل شاید بی پی ہائی رہنے لگا تھا یا پھر جب سے نئے کوارٹر میں رضیہ اور اس کی بیٹی ببلی آ ئی تھیں اسے مونا کو چھوڑ بوبے کی فکر پڑ گئی تھی۔
٭٭٭
دن چڑھ گیا تے فیر روٹی لا دے۔ “
مرغے کی بانگ سن کر اس نے ہولے ہولے رضائی ہٹا کے اس کی طرف دیکھا تھا جو اپنے دھیان میں مرغیوں کو دانہ ڈال رہی تھی۔
دودن.اب تو رات ہونے والی ہے معراج دین۔آنکھیں کھول اور دنیا کو دیکھ۔ “
وہ سوچوں میں ڈوبتی ابھرتی غصے سے بولی۔
تھوڑی دیر بعد چن تارے بھی نظر آ جائیں گے تیری سویر بڑی جلدی نہیں ہو گئی۔ “
نشئی شوہر بھی عورت کے لیے ایک مسلسل عذاب کی طرح ہوتا ہے معراج دین بھی اس کے لیے وہی عذاب تھا جس نے ساری جوانی نشے کے پیچھے برباد کر دی تھی۔
تیری باتیں میری سمجھ میں نہیں آ تیں ،تو پتا نہیں کیا کیا بولتی رہتی ہے۔ مونا سے کہہ،مجھے روٹی دے۔”
وہ بستر سے آ ہستہ آ ہستہ اٹھ کر برآمدے میں لگے بیسن پر کھڑا منہ پر چھینٹے مار رہا تھا۔
ہاں ،میری باتوں کی تجھے کیا۔ سمجھ آ نی ہے میں انگریزی جو بولتی رہی ہوں ساری زندگی تجھ سے اور تو ٹھہرا سیدھا سادا بندہ”
روٹیوں کے ٹکڑے مرغیوں کی طرف اچھالتے ہوئے وہ اس وقت بہت سنجیدہ تھی۔
ہاں یہ بات تو تو نے بالکل ٹھیک کہی ہے۔میری اماں بھی یہی کہتی تھی۔جب تیرا رشتہ لے کر ابا گھر آ یا تھا تو یہی کہا تھا اللہ خیر کرے کڑی بڑی چلاک ہے میرا پتر سیدھا سادا ہے “
ہاں جلیبی کی طرح بالکل سیدھا۔ “
اس کی بات سن کر وہ جل کے خاک ہو گئی۔اس کا دماغ شام پڑتے چل پڑتا تھا۔سارا دن نشے میں ٹن پڑا رہتا۔شام ہوتے اس کی یادداشت واپس آ جاتی تھی۔
مرغیوں کو دانہ ڈال کر اب وہ انہیں دڑبے میں بند کر رہی تھی جب ٹرے میں بریانی کی پلیٹ سجائے ببلی چلی آ ئی۔
خیر ہے ،آ ج کیا ابو کا ختم د لایا ہے ؟”ماڈرن سے لباس میں یہ خوب صورت کرائے دار اسے ایک آنکھ نہ بھاتی تھی ہروقت ہاتھ میں موبائل تھامے بوبے کے آ گے پیچھے منڈلاتی یہ تتلی اس کی آنکھوں کے آگے خطرے کی گھنٹی بجا تی رہتی۔
نہیں آنٹی وہ ختم تو نہیں۔وہ میں نے خود ہی بنائی تھی۔ “
یہ پلیٹ وہ خاص بوبے کے لیے لائی تھی لیکن لگتا تھا وہ باتھ روم میں چلا گیا تھا۔
ببلی نے ایڑیاں اٹھا کر اندر جھانکتے ہوئے جواب دیا۔
خود ہی بنائی ہے تو خود ہی کھا لینی تھی۔ہم نے بھی آ ج قورمہ بنا یا ہے۔ “
اس کی شاطر نگاہیں اچھی طرح جانتی تھیں وہ چھٹانک بھر لڑکی ایڑیاں اٹھا اٹھا کر اندر کسے ڈھونڈ رہی تھی۔
اس کا جی چاہا بوبے کے باہر نکلنے سے پہلے وہ پلیٹ سمیت اسے یہاں سے چلتا کرے جو ڈٹ کے وہاں کھڑی ہی ہوگئی تھی۔
لا پتر! تو مجھے دے یہ بریانی۔اس کا تو دماغ خراب ہے۔گھر آ ئی نعمت کو نہیں ٹھکراتے۔ “
ان دونوں کے درمیان سوال و جواب کا سلسلہ طول پکڑ تا دیکھ کر معراج دین نے ببلی سے پلیٹ مانگی تو اس نے بوبے کی طرف سے مایوس ہو کر بریانی کی پلیٹ معراج انکل کی طرف بڑھا دی۔ وہ اس سے بریانی کی پلیٹ لے کر کھانے لگ گیا۔
جا اب.پلیٹ ہم بھیج دیں گے۔ “
اسے وہاں کھڑا دیکھ کر ککی نے روکھا سا جواب دیا۔وہ تو شکر ہے ،بوبے کو باتھ روم میں دیر لگ گئی تھی ورنہ وہ باہر آ تا تو شاید وہ آ ج اس کے سامنے ببلی کا دماغ ٹھیک کر دیتی۔ککی آنٹی کے تیور تو اب وہ بھی اچھے سے جان گئی تھی ۔ان کی بات سن کر چپ چاپ اپنے کوارٹر کی طرف چل دی۔
٭٭٭
مل گئی ہے تمہیں فرصت ماں سے ملنے کی۔ ہفتہ ہفتہ میری خبر نہیں لیتی.کہ ماں جیتی ہے کہ مر گئی۔”
ننھی نے ابھی اندر قدم رکھا تھا کہ ماں نے گلہ جھاڑ دیا۔
بچوں نے حیرت سے نانی کی طرف دیکھا جیسے کہہ رہے ہوں، ابھی تھوڑے دن پہلے تو آ ئی تھی۔
ادھر آ ؤ نانی صدقے واری جائے کتنے مہینوں کے بعد پھیرا ڈالا ہے۔۔۔کیا نانی سے ملنے کو دل نہیں کرتا یا دادو نہیں آنے دیتی ادھر۔۔۔”
بیٹی سے ملنے کے بعد وہ اب بچوں کو لپٹائے گلہ کر رہی تھی۔
نی مونا !آ ج مسالے والی بریانی بنا اور لا مجھے پیسے دے میں بازار سے مرغی اور مسالے کے پیکٹ لا کر دوں۔اور فون کر کے بے بی کو بھی بلا لے، کہنا اماں کہہ رہی ہے دوپہر کا کھانا ادھر ہی کھائے۔۔۔بہن سے بھی مل لے گی۔”
بیٹیاں گھر آ تیں تو اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ ہوتا چادر اوڑھ کر بازار جاتے ہوئے وہ مونا کو تاکید کرتی با ہر چلی گئی۔مرغی مسالے دہی لا کر مونا کو دیا کہ دوپہر میں بریانی بنا لے۔
لو تم لوگ یہ چیز کھاؤ “
بازار سے واپس آ ئی تو بے بی بھی آ چکی تھی۔
بچوں کو بازار سے چپس لا کر دیے تھے اب سارے بچے نانی سے چپس لے کر اندر کمرے میں ٹی وی پر کارٹون دیکھنے لگ گئے ۔مونا بریانی بنانے کچن میں چلی گئی ۔
اماں۔نگو خالہ نے پھر مونا کے لیے کوئی رشتہ بتایا۔؟”
پورا ہفتہ ہوا اس کا موبائل بچوں نے گرا کر خراب کر دیا تھا اس کی بے بی سے بات نہ ہو پائی تھی ورنہ تو ساری خبریں اسے وہیں سے مل جاتی تھیں۔
ایسا کوئی ٹھنڈا نصیب لے کر آ ئی ہے۔برف کی طرح جم ہی گئی ہے تیری یہ بہن۔دسمبر کے مہینے میں پیدا ہوئی تھی دسمبر کی طرح ٹھنڈی ٹھار ہے۔”
دھنیا توڑتے ہوئے وہ جل کر بولی۔
اللہ بخشے تیری دادی اس کے پیدا ہونے پر بڑا روئی تھی۔اس کے آ تے ہی میری زندگی پر سوگ طاری ہو گیا تھا تیسری کڑی جو پیدا کر دی تھی میں نے۔ تیری دادی نے پورا مہینہ مجھ سے بات نہیں کی تھی۔ بلایا نہیں تھا اور یہ ماجا یہ تو شروع سے ایسا ہی تھا لاپروا۔”
ننھی اور بے بی کے سامنے اپنا دل کھول کر وہ اسی طرح دکھی ہوتی تھی۔زندگی کا ایک بڑا حصہ ایک ایسے بندے کے ساتھ گزار دیا تھا جسے اپنی کوئی خبر نہ تھی ۔وہ اس کی خبر کیا رکھتا۔
اماں۔ آ پ پھر پرانی باتیں کھول کر بیٹھ گئی ہیں۔چھوٹی چھوٹی تھیں ہم جب سے آپ کی یہ باتیں سن رہی ہیں اب بس کر دیں ابو کو کو سنا ۔ اور اللہ کا شکر پڑھا کریں جس نے آ پ کو اچھی اولاد اور صحت جیسی نعمت سے نوازا ہے۔”
وہ جب کبھی پرانی فائلوں پر سے گرد جھاڑنے بیٹھتی ننھی آگے بڑھ کر ماضی کی ان فائلوں کو بند کروا دیتی۔
دیکھ لے۔یہ میری کسی بات کو نہیں سنتی۔دادی اور پیو کے خلاف تو کچھ سن ہی نہیں سکتی۔ مجھے ہی چپ کرا دیتی ہے ۔تو بتا پھر میں اپنے رونے کس کو سناؤں ،اس گھر میں کون ہے جو میری باتیں سنے ۔وہ گڈا ہے تو سو سو باتیں سناتی ہے مجھے اور وہ بوبا وہ تو آ ج کل اور ہی چکروں میں ہے۔”
دھنیا صاف کرکے ٹوکری کو پرے کھسکاتے ہوئے وہ بے بی سے گلہ کرنے لگی۔جو اس کی ہم خیال تھی۔
اماں !آ پ بولیں ہم سن رہے ہیں۔گڈا کے کان تو میں کھینچ کر جاؤں گی اور یہ بوبے کا کیا چکر ہے؟”
بے بی کے ساتھ ساتھ ننھی کو بھی تشویش ہوئی۔بوبا ان کا اکلوتا بھائی تھا اس کے بارے میں وہ ساری بہنیں کان کھلے رکھتی تھیں۔
بڑے چکر چڑھے ہوئے ہیں اسے۔وہ تین نمبر کوارٹر میں جو نئی کرائے دار آ ئی ہے نا رضیہ ،اس کی بیٹی ببلی آ ج کل اس پر ڈورے ڈال رہی ہے۔میں نے اپنی ان گناہ گار آنکھوں سے دیکھا ہے۔وہ لڑکی بڑی ہی چالاک ہے میرے بھولے بھالے بیٹے کو پھنسا لے گی۔”
ننھی اور بے بی کے سامنے اس نے اپنے سارے خدشے رکھ دیئے تھے۔ایک وہی تو تھیں جن سے وہ یہ سب شئیر کر سکتی تھی ورنہ اور کون ایسی باتیں سنتا تھا۔
اگر اپنے بھائی سے پیار ہے تو اسے اس لڑکی کے چنگل سے چھڑا لو ۔”
ماں کی بات سن کر ان دونوں کو بھی تشویش ہوئی۔اماں کی پریشانی تو ٹھیک تھی بوبا ان کا اکلوتا بھائی تھا۔گھر میں دو دو جوان بہنیں بیٹھی تھیں وہ اپنی مرضی کرنے نکل کھڑا ہوا تو اس گھر کا کیا بننا تھا۔
میں نے نگو سے بھی اس کے رشتے کی بات کی ہے۔۔۔مونا کا رشتہ نہیں ملتا تو نہ ملے میں اب بوبے کو آ زاد نہیں چھوڑ سکتی۔فوری طور پر اس کا رشتہ کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے ،نہیں تو یہ لڑکا میرے ہاتھ سے نکل جائے گا پھر پچھتاتی پھرنا ساری زندگی۔”
مونا کا رشتہ ایک چیلنج بن گیا تھا۔ ایسا اڑا تھا کہ ہو کے نہیں دے رہا تھا۔اس میں کچھ قصور اس کا بھی تھا جس نے شروع میں معمولی باتوں پر اچھے اچھے رشتے ٹھکرا دیئے تھے اور اب یہ وقت آ گیا تھا کہ اسے مونا کو چھوڑ کر اس سے تین سال چھوٹے بوبے کی فکر پڑ گئی تھی۔
٭٭٭
پیار محبت کی کہانیاں پڑھنے سے کچھ نہیں ہوتا، اصل زندگی میں کچھ پانے کے لیے ہاتھ پیر ہلانے پڑتے ہیں “
مونا کو بستر پر لیٹے رسالہ پڑھتے دیکھ کر گڈا ہمدردانہ مشورہ دیتی پاس بیٹھ گئی تھی۔
اور یہ بات اب تک تمہیں اچھی طرح سمجھ میں آ گئی ہو گی کہ امی سے کسی بھی قسم کی کوئی امید باندھنا بے کار یے۔‘‘
کہنے کو وہ اس سے پانچ چھ سال چھوٹی تھی لیکن سمجھانے پر آتی تو اسے لگتا جیسے اس کی دادی وہی ہو۔
گڈا کو اپنے قریب بیٹھتا دیکھ کر اس نے رسالہ بند کر دیا تھا ہمیشہ کی طرح اس کی باتیں سیدھی دل کو چھو گئی تھیں۔ایسا ہی تھا امی سے لگائی امیدیں اب اسے بھی اذیت دینے لگی تھیں۔
رسالے کی سطح پر انگلی سے لکیریں کھینچتے ہوئے وہ اسے بڑی پر سکون گہری جھیل جیسی لگتی جس کے اندر چھپا سارا اضطراب فقط جھیل کی تہہ تک محدود ہو کر رہ جاتا سطح پر سکون ہی سکون ہوتا۔اس کا اطمینان دیکھ کر گڈا سر پیٹ کر رہ جاتی۔
کس دنیا میں رہتی ہو تم مونا۔۔۔۔اپنی آنکھیں کھول کر اردگرد دیکھو بہت سارے لوگ تمہاری پروا کرنے والے ہیں ،اللہ پر بھروسا اور اعتماد ہونا اچھی بات ہے کچھ کرو تو وہ وسیلہ بھی بنادیتا ہے۔”
وہ پریکٹیکل لڑکی تھی اس کا خیال تھا اسے اپنے حق کے لیے اب ماں کے آ گے ڈٹ جانا چاہیے۔
کس وسیلے کی بات کر رہی ہو تم ؟”
اس کا اکسانا اس کے اندر ایک ہل چل مچا دیتا تھا لیکن چند لمحوں کی اس ہل چل کے بعد وہاں پھر وہی سکون ہوتا
’’یار !تم اگر سمجھنے کے قابل ہو جاؤ تو کچھ بے زبان بھی تمہارے لیے دل میں کئی پیغام لیے بیٹھے ہیں۔ اب اپنے گونگے کو ہی دیکھ لو، وہ کل مجھے تمہارے لیے ایک پیغام دے رہا تھا۔”
گونگے کا ذکر کرنا مقصود تھا ،بات اس نے خود سے ہی گھڑ لی تھی۔
پیغام.اور گونگا.وہ بھی میرے لیے؟”
اسے حیرت ہوئی وہ بھلا کیا پیغام دے سکتا تھا۔
لیکن وہ تو بول نہیں سکتا۔”
اسے فوراً خیال آ یا۔
آنکھوں کی بھی ایک زبان ہوتی ہے بے خبر۔ بس انسان کو اس زبان کو پڑھنے کا ہنر آ نا چاہیے تم اگر اس زبان کو جانتی ہوتیں تو اب تک بات کہیں سے کہیں پہنچ گئی ہوتی۔”
اس کی بات تو بالکل ٹھیک تھی ،ہر بار دیکھنے پر اسے لگتا اس کی گہری بھوری انکھیں اس سے کچھ کہنا چاہتی ہوں۔ اس کی بات کا کوئی بھی جواب دیے بغیر وہ کھو سی گئی۔آخر وہ کیا کہنا چاہتا تھا۔
تو پھر اسے کیا جواب دوں ؟”
اسے خیالوں میں کھویا دیکھ کر وہ جھٹ سے نتیجے پر پہنچ گئی۔
پاگل ہو گئی ہو۔”
منہ پھٹ تو وہ تھی ہی لیکن جس پھرتی سے وہ اسے ہاتھ پکڑ کر راہ محبت پر گھسیٹنا چاہتی تھی وہ اس جیسی لڑکی کے لیے بہت مشکل تھا۔وہ تو سن کر ہی کانوں کی لوؤں تک سرخ پڑ گئی تھی جواب کیا خاک دینا تھا۔
اماں نے سن لیا تو بہت خفا ہوں گی۔”
رسالہ ایک طرف رکھ کر وہ کمرے سے جانے کے لیے اٹھ گئی۔اس لڑکی سے کچھ بھی بعید نہ تھا، ابھی کچھ اور کہہ دیتی تو اس کا گلنار چہرہ خود اس پر کئی راز کھول دیتا جس سے وہ ابھی تک خود بھی لاعلم تھی۔
روز اسے پانی کی بالٹی بھرتے دیکھ کر آ ہستہ آہستہ اس کی ،آنکھوں میں اس کے حوالے سے کئی خواب اتر آ ئے تھے۔
توبہ ہے اس گڈا سے بھی اللہ بچائے۔ کہیں دل میں اتر کر اندر کے راز نہ جان لے “
وہ کانوں کو ہاتھ لگاتی کچن کی طرف چلی آ ئی۔
٭٭٭
نگو پر آ ج قسمت مہربان تھی، سویرے سویرے اسے چوہدری سلطان کی بیوی فوزیہ کا فون آ گیا تھا۔ فوزیہ بیگم نے اسے ضروری کام سے اپنی کوٹھی پر بلا یا تھا۔
فون بند کرتے وہ رکشہ پکڑ کر پہنچ گئی ،چودھری سلطان کی بڑی سی کوٹھی ،رشتے تو اس نے آ ج تک بڑے کروائے تھے لیکن آ ج جو ڈیل ہونے جا رہی تھی، اس کا تو کوئی مقابلہ ہی نہ تھا۔
چودھری سلطان نے اسے اپنی چھوٹی بہن ستارہ کے لیے راتوں رات کوئی رشتہ ڈھونڈ کر لانے کی ذمہ داری سونپ تھی اس کے لیے اس نے اسے کتنی بڑی رقم دے دی تھی ،اس لفافے کو دیکھتے اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
ستارہ کے لیے رشتہ ڈھونڈ کر لانا تو اس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔اس نے نوٹوں کی گڈی پرس میں ڈالتے ہوئے وہیں بیٹھے بیٹھے آ گے کی ساری پلاننگ کر ڈالی۔
اس کام کے لیے بوبے سے بہتر کوئی لڑکا نہیں ہو سکتا۔ککی تو چودھری سلطان کی شان بان دیکھ کر ہی فدا ہو جائے گی۔
٭٭٭
اوئے کوئی اندر ہے ادھر ،میری وی گل سن لے کوئی۔”معراج دین کب سے آ وازیں دے رہا تھا۔” مونا پتر مجھے پانی پلا دے “
گھر میں اس وقت کوئی نہ تھا ۔ککی کسی کام سے بازار گئی تھی اور مونا ابھی ابھی باتھ روم میں نہانے گئی تھی۔
اوئے کوئی نہیں سنتا میری بات ،او چل او ماجیا چل کر خود ہی کوئی ہل جل کرنی پڑے گی “
اس نے دیکھا جب کوئی اس کی پکار پر باہر نہیں آ یا تھا تو وہ رضائی ہٹا کر چار پائی سے اٹھنے کا ارادہ باندھنے لگا ۔پانی کا کولر کچن میں پڑا تھا ،سوچا آ ہستہ آہستہ جا کر خود ہی پانی پی لیتا ہوں ابھی چار پائی سے اٹھ ہی رہا تھا کہ دروازے سے اندر آ تے گونگے پر نظر پڑ گئی۔
ادھر آ.”
پیروں میں پھنسایا جوتا اتارتے ہوئے اس نے اٹھنے کا ارادہ ترک کر کے اسے اشارے سے پاس بلایا۔
جا میرے لیے پہلے پانی لے کر آ۔” اسے ہاتھ کے اشارے سے پانی لانے کا کہہ کر اس نے کچن کی طرف اشارہ کیا۔
وہ بے زبان ضرور تھا لیکن تھا سمجھ دار ،ایسے منہ اٹھا کر کچن کی طرف تو نہیں بڑھ سکتا تھا اور اسے انکار بھی نہیں کر سکتا تھا۔پانی پلانا بھی ضروری تھا۔ادھر ادھر نظر دوڑائی چارپائی کے پاس پہلے سے الٹا پڑا ایک گلاس نظر آ گیا۔اس نے جھک کر گلاس اٹھایا اور دھو کر ٹونٹی سے پانی بھر کر لے آ یا۔
شاباشے ،تو تو بڑے کم کی چیز ہے۔”
ماجا اس کی پھرتی سے خوش ہو گیا ۔
پانی پی کر اسے پاس بٹھا لیا۔
تیرا کوئی آ گے پیچھے بھی ہے کہ نہیں۔”
اسے وہ بے زبان بڑ ا اچھا لگتا تھا جب کبھی پانی بھرنے آ تا تو وہ اسے اپنے پاس بٹھا لیتا۔وہ باتیں جو وہ سارا دن کسی سے نہ کر سکتا تھا وہ ساری باتیں اسے سنا دیتا۔
اس نے دل پر ہاتھ رکھ کر اوپر آسمان کی طرف اشارہ کیا جیسے کہہ رہا ہو اللہ کے علاؤہ کوئی آسرا نہیں۔
اچھا۔۔۔اچھا۔۔۔کوئی بات نہیں۔۔ہم ہیں نا تیرے ، کوئی شادی وادی کرنی ہو تو مجھے ضرور بتانا ،میں رکھوں گا تیرے سر پر ہاتھ۔”
ماجے کی الفاظ تو نہیں لیکن ان کے اندر چھپا مفہوم وہ ضرور سمجھ جاتا تھا تب ہی تھوڑا مسکرا کر سر جھکا دیتا۔
وہ بھی تو یہی چاہتا تھا۔وہ اس بے آسرا کو اپنی شفقت کے سائے میں قبول کر لیں لیکن کہتے ہوئے ڈرتا تھا۔
ککی آنٹی کے غصے سے ڈرتا تھا انہوں نے جو اسے یہاں اندر تک آنے کی اجازت دے رکھی تھی، کہیں پتا چلنے پر گھر خالی کر نے کا آرڈر نہ دے دیتی۔
اسے اس کے پاس بیٹھنا اچھا لگتا تھا۔اس کی باتیں اس کی سمجھ میں تو نہیں آتی تھیں۔پھر بھی محبت کی ایک زبان ہوتی ہے اور وہ یہ زبان اچھی طرح سمجھتا تھا لیکن وہ محسوس کرتا تھا ککی انٹی کو اس کا یہاں بیٹھنا اچھا نہیں لگتا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ اسے دیکھ کر ماتھے پر تیوری چڑھاتی وہ پانی بھرنے کے بہانے جلدی وہاں سے اٹھ جاتا۔
٭٭٭
خیر ہے آ ج سویرے سویرے ہی فون کھڑکا دیا ہے “
وہ ابھی ناشتہ کر کے بیٹھی تھی کہ نگو کا فون آ گیا۔
لے تیرے تو اعتراض ہی ختم نہیں ہوتے۔ سویرے سویرے فون کرو تو کہتی ہے اتنی جلدی کیوں کر دیا ۔رات کو کرو تو کہتی ہے جلدی بات کر مجھے سونا ہے۔”
نگو بھی اس پر تاؤ کھائے بیٹھی تھی فوراً پھٹ پڑی۔
تو اکو واری مجھے ٹائم بتا دے ،تجھے فون کس ٹائم کرنا ہے۔”
اس کا دماغ گھومتا دیکھ کر وہ پٹڑی پر آ گئی۔
تو تو غصہ ہی کر گئی ہے لگتا ہے بھائی منور سے کوئی لڑائی شڑائی ہو گئی ہے اور غصہ تو میرے اوپر اتار رہی ہے۔”
نہیں۔تو بات ہی ایسی کرتی ہے کہ بندے کا موڈ خراب ہو جائے۔میں نے تجھے خوشی کی خبر دینے کے لیے فون کیا ہے اور تو اور ہی کسی طرف چل پڑی ہے۔”
نگو کے منہ سے خوشی کی خبر کا سن کر وہ چہک اٹھی۔
کیا مونا اور بوبے کے لیے رشتہ مل گیا ہے؟”
اسے آ ج کل مونا کے ساتھ ساتھ بوبے کے رشتے کے بھی خواب آ نے لگے تھے۔
مونا کے لیے تو نہیں پر بوبے کے لیے رشتہ ضرور مل گیا ہے۔”
نگو کی بات سن کر وہ خوش ہو گئی ،چلو ایک طرف سے تو ٹینشن ختم ہوئی ۔
بتا پھر کون لوگ ہیں؟لڑکی کیسی ہے؟ جہیز وغیرہ تو خوب دیں گے نا ؟”
اس نے اوپر نیچے ایک ساتھ کئی سوال کر ڈالے۔
صبر صبر.ذرا بریک پر پیر رکھ.تیرے بوبے کے لیے ایسا رشتہ ڈھونڈا ہے کہ تو سن کے حیران رہ جائے گی۔پانچ بھائیوں کی اکلوتی بہن ہے۔ پانچ کے پانچ بھائی سعودی عرب میں ہوتے ہیں۔جہیز اتنا دیں گے کہ تیری آنکھیں کھل جائیں گی۔”
اس نے بتانا شروع کیا تو ککی کی زبان تالو سے جا لگی۔
تو پھر جانا کب ہے ؟”
آ ج ہی.نیک کام میں دیر نہیں ہونی چاہیے۔”
نگو تو اسے ابھی چودھری سلطان کی کوٹھی دکھا کر بات پکی کرنے کے درپے تھی اور اسے بھی کسی سے مشورے کی ضرورت نہ تھی۔وہ راضی تھی تو سمجھو سب راضی تھے۔
ٹھیک ہے پھر دوپہر میں تم تیار رہو ،میں آ جاؤں گی تو دونوں چودھری سلطان کے گھر چلیں گے۔”
نگو کے ساتھ سارا کچھ سیٹ کر کے وہ رشتہ دیکھنے چلی گئی۔
٭٭٭
اس نے استری کرنے کے لیے کپڑے نکالے تو دیکھا ،لا ئٹ نہیں تھی۔دکان پر جانے کا ٹائم ہو رہا تھا۔
اب کیا کیا جائے۔
دل میں فوراً جو پہلا خیال آ یا، وہ مونا کا تھا۔اس نے مونا کو کبھی کبھار گیس والی استری پر کپڑے استری کرتے دیکھا تھا۔کیا اس سے استری مانگ لینی چاہیے ؟ہاں حرج ہی کیا ہے۔دل جو پہلے ہی اس کے خیال سے خوش آئند انداز میں دھڑکتا تھا ایک دم سے تائید میں بولا۔
وہ ہاتھ میں کپڑے لیے اپنے کوارٹر سے نکل کر ان کے دروازے کی طرف بڑھ آ یا، دروازے پر ہلکی سی دستک دے کر وہ صحن تک آ گیا۔
ہاتھ میں کپڑے لیے وہ کچن کی کھڑکی کے پاس آ گیا۔حسب معمول وہ وہیں کام میں مصروف تھی۔
اس پر نظر پڑتے ہی فوراً کھڑکی کے قریب چلی آ ئی۔
کیا بات ہے؟”
اس کی سوالیہ نگاہیں بتا رہی تھیں ،وہ کسی کام سے آ یا تھا۔
اس نے ہاتھ میں پکڑے کپڑے آ گے بڑھائے ہاتھ کے اشارے سے استر ی کا اشارہ کرتا گویا اسے سمجھا رہا تھا کہ لائٹ نہیں ہے اور کپڑے استری کرنے والے ہیں۔ وہ فوراً اس کی بات سمجھ گئی۔ہاتھ بڑھا کر اس سے کپڑے پکڑ لیے۔
لاؤ، میں استری کر دیتی ہوں۔ جا کر تیاری کرو میں اتنی دیر میں انہیں استری کر دیتی ہوں۔”
اسے کپڑے دے کر وہ واپس اپنے کوارٹر میں آ گیا۔اپنا ناشتہ بناتے ہوئے اس کے خیالوں پر ہمشیہ کی طرح وہ پوری طرح چھائی رہی۔کیسی خاموش محبت تھی ،ان دونوں کے درمیان جسے اظہار کے لیے کسی زبان کی ضرورت نہ تھی۔وہ چپ چاپ خاموشی سے غیر محسوس طریقے سے اس کے چھوٹے چھوٹے کام کر دیتی تھی۔
کپڑے دھو کر صحن میں پھیلا نے جاتا تو وہ اس سے کپڑے لے کر پھیلا دیتی ،سوکھے کپڑے اتار کر اس کی دیوار پر تہہ کر کے رکھ دیتی۔کبھی کوئی اچھی ڈش بناتی تو ماں سے چھپا کر اسے دے دیتی ،یہ سب محبت نہیں تو اور کیا تھا۔اس کا دل بھی چاہتا اس معصوم لڑکی کو کبھی کوئی تحفہ دے لیکن ڈرتا تھا ،کہیں وہ اسے غلط نہ سمجھ لے ۔کتنے دنوں پہلے وہ اپنی دکان سے اس کے لیے خوبصورت سا دوپٹہ لے کر آ یا تھا۔ناشتہ کر کے اس سے اپنے استری شدہ کپڑے لینے جاتے ہوئے آ ج اس نے ہمت کر کے دوپٹے والا شاپر ہاتھ میں لے ہی لیا ۔
اس کے ہاتھ سے کپڑے لے کر وہ چپکے سے کھڑکی میں وہ دوپٹہ رکھ کر چلا آ یا ۔اسے یقین تھا وہ اس کے دیے تحفے کا برا نہیں منائے گی۔
٭٭٭
جھوٹے برتن اٹھا تے ہوئے اس کی نظر سفید رنگ کے شاپر پر پڑی تھی۔ابھی کچھ دیر پہلے تو یہاں گونگا ہی کھڑا تھا تو کیا وہ یہ شاپر یہاں بھول گیا ہے۔
اماں کی نظر بچا کر وہ شاپر لے کر اپنے کمرے میں چلی آ ئی ۔شاپر کی گرہ کھول کر دیکھا نیلے رنگ کا نفیس سا دوپٹہ اس کے ہاتھوں میں تھا۔اسے اب مزید کچھ سمجھنے کی ضرورت نہ تھی ،وہ سمجھ گئی تھی یہ اس کی طرف سے دیا گیا محبت کا وہ پہلا تحفہ تھا جو اسے دل وجان سے عزیز تھا۔
قد آ ور آئینے میں اس کے دیے دوپٹے میں اپنا سراپا دیکھ کر وہ خود ہی شرما گئی ۔
٭٭٭
وہ گئی تو لڑکی دیکھنے تھی لیکن ساتھ میں شادی کی ڈیٹ لے کر آ گئی تھی یہ بات اس کی بھی سمجھ میں نہیں آ ئی تھی ،انہوں نے اس سے کسی قسم کا کوئی سوال نہ کیا تھا۔نگو سے بات کی تو اس نے کہا۔
’’ ککی تیرا دروازہ آ ج تقدیر نے کھڑکایا ہے، سوچ نہ اور اٹھ کے کنڈی کھول دے۔”
وہ بھی اسے قسمت کی دیوی کی مہربانی ہی کہہ سکتی تھی۔ چوہدری سلطان کی اتنی بڑی کوٹھی دیکھ کر ہی اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں۔اسے تو پتا بھی نہیں چلا ساری باتیں نگو اور چوہدری صاحب کے درمیان ہی طے ہوئی تھیں۔
لیکن گھر میں آ تے اسے بچوں نے گھیر لیا تھا۔
یہ بات میری سمجھ میں نہیں آ ئی اماں !وہ لوگ اسی جمعہ کو بارات لانے کی ضد کیو ں کر رہے ہیں، انہوں نے کہا اور آ پ مان بھی گئیں۔”
ننھی نے جب سنا ماں رشتہ دیکھنے گئی اور شادی کی تاریخ لے کر آ گئی ہے وہ بھی اگلے جمعے کی تو وہ سچ میں پریشان ہو اٹھی۔
نی تو وڈی سائنس دان نا بن۔۔۔۔لڑکی کے بھائی سعودی عرب سے آ ئے ہوئے ہیں ،انہوں نے شادی کر کے واپس بھی جانا ہے اسی لیے نکاح کی تاریخ دے دی۔ اس میں کون سی ایسی سوچنے والی بات تھی کہ میں انہیں کہتی نہیں میں گھر جا کر سوچ کر بتاؤں گی۔انہوں نے کہا منڈا لے کر کل کی آ تی آ ج آ.میں نے بھی کہا ۔سو بسم اللہ ۔”
ککی تو ان کا گھر بار دیکھ کر فدا ہو گی تھی ،باقی باتیں تو اپنے آپ طے ہو گئیں ،اس نے شام کو ننھی اور بے بی کو بلا کر یہ خوش خبری سنا دی ۔
اماں لڑکی تو ایسی کوئی خوبصورت نہیں ہے۔”
ننھی تصویر دیکھ کر منہ بنا کر رہ گئی۔
اتنا سوہنا ہے ہمارا بھائی۔۔۔جوڑی کوئی جمے گی نہیں۔” بے بی کو بھی لڑکی پسند نہ آ ئی تھی۔
خوبصورتی کو مار گولی۔ تم تو اس کی کوٹھی ہی دیکھ کر دنگ رہ جاؤگی۔ دو کنال کی تو ہو گی اور چار چار گاڑیاں کھڑی تھیں وہاں اور سب سے بڑھ کر ستارہ کے اکٹھے پانچ بھائی سعودی عرب میں ہیں۔”
اس رشتے سے انکار کی کوئی وجہ ہی نہیں بنتی تھی۔گھر بار، دولت ،گاڑیاں سب کچھ تھا ،اوپر سے سارے کے سارے سالے باہر کے ملک میں تھے۔
یہاں ایک سالا باہر کے ملک ہو تو لوگوں کے پیر نہیں پڑے ہوں گے۔سوچو بوبے کے پنج پنج سالے باہر کے ملک ہوں گے تو کیا ٹھاٹ ہوں گے میرے پتر کے ۔”
اس کی ایڑی زمین پر نہیں لگ رہی تھی۔اسی وقت فون کر کے بیٹیوں کو بلا لیا تھا اور اب انہیں قائل کر رہی تھی۔
اماں !یہاں آ پ زیادتی نہیں کر رہیں۔ جوان جہان بیٹی گھر میں بیٹھی ہے اور آ پ اسے چھوڑ کر تین سال چھوٹے بوبے کی شادی کرنے چل پڑی ہیں۔ “
ننھی کو پہلے دن سے ماں سے اختلاف تھا جو مونا کو چھوڑ کر بوبے کی شادی کا سوچ رہی تھی۔
میری !ماں بننے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ اس نے گھور کر بیٹیوں کو دیکھا جو اچھے خاصے رشتے میں مین کھیلی نکال رہی تھیں۔
تمہارا کیا خیال ہے مجھے مونا کی کوئی فکر نہیں۔ ساری فکر تم دونوں کو ہے اس کی ۔نگو سے کئی بار اس کے رشتے کا کہہ چکی ہوں اور پھر سب سے بڑی بات وہ ببلی والی تم دونوں کو بتائی تو تھی اب کیا میں ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر منڈے کے بولنے کا انتظار کروں یا اس دن کا جس دن وہ اس منحوس ماری ببلی کو میرے سر پر لا کر بٹھا دے۔”
نگو جہاں مونا کے رشتے کی بات کرتی، آ گے سے صاف جواب سننے کو مل جاتا۔اب وہ مزید انتظار نہیں کر سکتی تھی۔
اب اگر اس کا رشتہ نہیں ہوتا تو کیا میں اکلوتے بیٹے کا بھی کوئی ارمان پورا نہ کروں۔اس کے سر پر سہرا نہ دیکھوں۔”. وہ انہیں جواب دیتی جذباتی ہو گئی تو وہ بھی سمجھ گئیں مونا کا نصیب نہیں جاگنے والا، اس کے جگنے کا انتظار کرنے سے بہتر ہے بوبے کے سر پر سہرا سجا لیا جائے۔
بوبے سے بات کی آ پ نے۔اسے بتا دینا کہیں بعد میں کوئی فساد نہ کھڑا کر دے۔”
ماں کو ٹلتا نہ دیکھ کر وہ تو قائل ہو ہی جانی تھیں لیکن جس کا رشتہ کرنا تھا ،اس سے بات کرنی بھی ضروری تھی۔
اس سے بات کرنے کی کیا ضرورت ہے ، میرا پتر بڑا معصوم ہے اسے کیا پتا ان باتوں کا ،جہاں میں کہوں گی ،آنکھیں بند کر کے شادی کر لے گا۔تم لوگوں کی طرح ہوشیار ،چالاک نہیں ہے “
ماں کی بات سن کر ان دونوں نے منہ پر ہاتھ رکھ کر حیرت سے ایک دوسری کو دیکھا
مجھ پہ جو گیا ہے میرا بیٹا اور تم سب چلاکو ماسیاں اپنی پھوپھیوں پر چلی گئی ہو۔میرا پتر مجھے انکار کر ہی نہیں سکتا ،میں جہاں کہوں گی ،وہیں سہرا باندھ کر میرے ساتھ چل پڑے گا۔”
کچن میں کام کرتی مونا ان کی ساری باتیں سن کر حیران ہو رہی تھی اماں کو بوبے کے بارے میں کتنی خوش فہمی تھی جلد ہی ان کی یہ خوش فہمی دور ہونے والی تھی۔
بوبے کے دل کے سارے راز وہ جانتی تھی لیکن وہ اندر جا کر ماں کی یہ خوش فہمی دور نہیں کر سکتی تھی۔اسے خبر تھی ان کا یہ فرمان بردار بیٹا اس وقت ببلی کے ساتھ چھت پر بیٹھا ،جینے مرنے کی قسمیں کھا رہا ہو گا اماں کی آنکھوں پر بندھی پٹی جس دن کھلے گی، اس روز آئیڈیل ازم کے سارے بت پاش پاش ہو جائیں گے ۔اس کی آنکھوں میں تیرتی نمی میں دو خاموش آنکھیں ابھر کر تیر نکلیں۔
اس نے دیکھا کچن کی کھڑکی سے پرے صحن کی ٹونٹی سے بالٹی بھرتا گونگا اسی کی طرف دیکھ رہا تھا اپنے دیے نیلے دوپٹے کو اس کے کندھوں پر جھولتا دیکھ کر وہ خوشی سے پاگل ہونے کو تھا۔اس کی محبت کا وہ خاموش اقرار تھا جسے سننے کو وہ کب سے بے قرار تھا۔
مونا نے اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر آ ج بھی شرما کر نظریں جھکا لی تھیں۔اس کی انکھوں کے ساگر میں وہ پوری طرح ڈوب چکی تھی
٭٭٭
شادی.اور وہ بھی میری ؟”
بوبا سن کر یوں چونکا جیسے اسے کرنٹ لگا ہو۔
اماں !آ پ کس دنیا میں رہتی ہیں ۔میری زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ مجھ سے پوچھے بغیر کر دیا اور مجھے بتا یا بھی نہیں، مجھے بے بی باجی نے فون کر کے بتا یا ہے۔”
اماں کا مطمئن انداز اسے اندر تک ہلا گیا تھا۔
میں نے ہی بتا نا تھا تجھے ،تو گھر پہنچتا تو ۔
اپنے بیٹے کو پاس بٹھا کر بڑے پیار سے سب بتانا تھا۔لیکن یہ جو تیری بہنیں ہیں نا ان کے پیٹ میں کوئی بات نہیں رہتی پتا نہیں کھانا کیسے اندر رکھ لیتی ہیں۔”
اس کا خیال تھا وہ بوبے کو منا لے گی لیکن وہ بہنوں کے منہ سے اپنی شادی کا سن کر آ پے سے باہر ہو گیا تھا۔
اماں !آ پ بھائی کے ساتھ یہ زیادتی نہیں کر سکتیں “بے بی اور ننھی تو اپنے اپنے گھر جا چکی تھیں، اب اسے بوبے کے ساتھ گڈا نے گھیر لیا تھا۔
آ پ کو احساس ہی نہیں یہ اس کی زندگی کا سوال ہے وہ بالغ ہے اور آ پ اسے کسی صورت اس شادی پر مجبور نہیں کر سکتیں۔”
گڈا نے سنا تو بھائی کے ساتھ ڈٹ گئی۔
نی تو ایڈی اس کی سگی نہ بن۔پھپھے کٹن۔میں اس کی ماں ہوں تیرا رشتہ میرے بعد ہے۔جا جا کر اپنا کام کر۔”
اس کی وجہ سے سارا کھیل بگڑتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔بوبے کو وہ کسی نہ کسی طرح قابو کر سکتی تھی یہ گڈا اس کے بس میں نہ تھی اس سے پہلے کہ وہ اسے اور چابی لگاتی اس نے اسے وہاں سے بھگانا چاہا۔
یہ میرا اور میرے پتر کا معاملہ ہے تو چل دفع ہو یہاں سے۔”
گڈا کی حیثیت تو اس گھر میں اس وکیل کی سی تھی جو بنا کسی معاوضے کے سب کا مقدمہ لڑنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے ،وہ چاہے مونا ہو یا پھر بوبا وہ سب کا ساتھ دینے کے لیے کھڑی ہو جاتی۔
بس اماں۔۔۔۔۔۔ میں اب آپ کی باتوں میں نہیں آ نے والا۔۔ اگر آ پ کو میری ذرا سی بھی پرواہ ہے تو آ پ کو ابھی اور اسی وقت لڑکی والوں کو جواب دینا ہو گا۔”
بوبے کا کورا جواب سن کر ایک لمحے کے لیے وہ سوچ میں پڑ گئی۔
میں جانتی ہوں پتر !تیرے بارے میں نے کوئی آنکھیں بند نہیں کر رکھیں تو جس کی وجہ سے مجھے ایسے کورے جواب دے رہا ہے نا ،اسے بھی میں بڑی اچھی طرح جانتی ہوں۔”
وہ جانتی تھی ببلی کی وجہ سے وہ اس کی بات سننے کو تیار نہ تھا۔اس لیے اب اس کا ذکر کرنا ضروری ہو گیا تھا۔
میری بات بھی کان کھول کر سن لے، اگر میں ستارہ کے بھائیوں کو جواب دوں گی تو یہ بھی یاد رکھ، ببلی بھی بہو بن کر اس گھر میں نہیں آ سکتی۔”
ماں کے منہ سے ببلی کا ذکر سن کر وہ دم بخود رہ گیا ۔اماں تو اس کے دل کی کے حال سے اچھی طرح واقف تھی۔
اماں۔اب آ پ زیادتی کر رہی ہیں۔میں ببلی سے ہی شادی کروں گا۔”
بات کھل گئی تھی تو وہ ماں کو ببلی کے لیے قائل کر نے کی کوشش کرنے لگا۔
کر پتر تو ببلی سے شادی کر۔لیکن وہ میرے گھر میں داخل نہیں ہو سکتی بلکہ جس دن تو اس سے نکاح پڑھے گا اسی دن میں ان دونوں ماں بیٹی کا سامان اٹھا کر اپنے کوارٹر سے باہر پھینک دوں گی۔”
اسے قابو میں کرنے کا یہ آخری پتا تھا جو اس کے ہاتھ میں رہ گیا تھا۔اب اگر وہ یہ چال ہار جاتی تو پھر اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں آ سکتا تھا۔ اماں کی بات سن کر بوبے کے ساتھ ساتھ مونا اور گڈا بھی حیران رہ گئیں اماں اپنی بات منوانے کے لیے کس حد تک جاسکتی تھی۔
٭٭٭
اماں کو پتا نہیں کیا ہو گیا ہے۔اپنی بات منوانے کے لیے اس حد تک چلی جائے گی۔میں سوچ بھی نہیں سکتا۔”
بوبے کو تڑی لگا کر وہ مطمئن ہو کر شادی کی تیاری میں لگ گئی تھی۔اسے پتا تھا اگر وہ ببلی سے پیار کرتا ہے تو کبھی بھی اسے بے گھر نہیں کرے گا۔
وہ ببلی سے سچی محبت کرتا تھا جانتا تھا اس کی ماں کان سے پکڑ کر ببلی کو گھر سے باہر کر دے گی۔
بھائی !آ پ اپنے پیروں پر کھڑے رہیں تو اماں کے ہیروں کے نیچے سے زمین میں کھینچ سکتی ہوں لیکن آ پ ہی ڈر گئے ہیں۔”
گڈا نے اسے سمجھایا تھا وہ اس کے ساتھ ہے لیکن وہ آ گے قدم نہیں بڑھا پا رہا تھا۔
تو نہیں جانتی گڈا اماں جو کہہ دیتی ہے وہ کر کے رہتی ہے اور بوبا نہیں چاہتا اس کی وجہ سے ببلی کو کوئی تکلیف پہنچے۔”
مونا بوبے کی حالت کو اچھی طرح سمجھتی تھی، اس کا بھی خیال تھا اسے اس وقت اماں کے مقابلے میں نہیں آ نا چاہیے ورنہ سارا کام بگڑ سکتا تھا۔
آ فرین ہے تجھ پر بھی۔۔۔۔تو خود جس طرح ساری زندگی یہاں سڑ کر گزار دے گی ،بھائی کو بھی یہی مشورہ دینا۔”
مونا کو اس کی حوصلہ شکنی کرتے دیکھ کر گڈا کو اس پر غصہ چڑھ گیا۔وہ اگراس کا ساتھ دیتی تو شاید وہ ببلی کے ساتھ اس کا بھی کوئی بندوبست کر دیتی۔
تو کیا کریں پھر اپنی ماں کے آ گے کھڑے ہو جائیں۔نہیں ،ہم اتنے مضبوط نہیں ہیں۔”
ہمیشہ چپ رہنے والی نے آ ج احتجاج بھی کیا تو کس کے خلاف ۔اماں کے خلاف آ ج بھی اس کی زبان سے کوئی حرف نہ نکلا تھا۔
معراج دین رضائی میں سر دیے اپنے بچوں کی ساری باتیں سن رہا تھا۔
مونا کی بات سن کر اس کے دل پر گھونسا پڑا تھا۔
میرے ہوتے ہوئے تم لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ابھی میں زندہ ہوں۔”
نم آنکھوں کے ساتھ وہ رضائی پرے ہٹا کر اٹھ بیٹھا۔
میں بنوں گا تم لوگوں کی ڈھال۔۔۔دیکھتا ہوں کوئی کیسے تم لوگوں کے ارمانوں کا خون کر سکتا ہے۔”
اس کی بات سن کر مونا سمیت ان دونوں نے حیرت سے باپ کی طرف دیکھا۔یہ وہ باپ تھا جس نے بچپن سے لے کر جوانی تک ہمیشہ ان سب پر اپنے ارمانوں کو قربان کیا تھا اور آ ج بھی وہ ان کی ڈھال بننے کے لیے کھڑا تھا۔
مونا ڈبڈباتی آنکھوں کے ساتھ اس سے لپٹ گئی۔
اب فکر مند ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ،ابو ہمارے ساتھ ہیں اور ہم دونوں آپ دونوں سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ بوبے کی شادی ببلی سے اور اس گونگی کے نصیب کا فیصلہ بھی ہم ہی کریں گے۔”
گڈا نے ابو کی طرف دیکھ کر ایک ساتھ دونو ں بہن بھائی سے وعدہ کیا ۔
کیوں ابو جی ٹھیک کہا ہے نا میں نے ،اس گونگی کے لیے پھر کوئی گونگا ڈھونڈ کر لانا پڑے گا “
گڈا کی بات پر ماجے کی باچھیں کھل اٹھیں ۔
ڈھونڈنے کی کیا ضرورت ہے ،اللہ نے اسے خود ہی بھیج دیا ہے “
ابو نے تو اس کے دل کی بات کر ڈالی تھی۔
ابو کی بات سن کر مونا کے چہرے پر حیا کے رنگ عود آئے
جو سب کی نظروں سے چھپائے نہ چھپ رہے تھے۔
٭٭٭
ہیں نی ساری بہنیں منہ وٹ کے بیٹھی رہو گی یاشادی کی کوئی تیاری بھی کرنی ہے “
ادھر بوبا ابو اور گڈا کی تسلی سے خاموش ہو گیا تھا تو ککی شادی کی تیاریوں میں جت گئی تھی۔
اب یہ غصے وصے چھوڑو اور شادی کی تیاری شروع کرو۔۔۔پیچھے دن کتنے رہ گئے ہیں۔۔”
اس نے آ ج ننھی اور بے بی کو بازار جانے کے لیے بلا یا تھا۔۔
سب سے پہلے ولیمے کے ڈریس کا آ رڈر دینا ہے۔تم لوگوں کی اپنی تیاری ہوتی رہے گی۔ ستارہ کا ڈریس سب سے اچھا ہو نا چاہیے۔”
بوبے اس کا اکلوتا بیٹا تھا اس کی شادی کا اسے بڑا ارمان تھا۔
اماں برائڈل ڈریس تو بڑے مہنگے ہیں۔ ہاتھ نہیں لگایا جاتا۔کوئی جان پہچان ہو تو ڈسکاؤنٹ ہو جائے۔”
بے بی کے بات کرنے کی دیر تھی ،ککی کا دماغ فوراً پتے والی جگہ جا پہنچا۔
آ واز دے کر مونا کو بلایا۔
مونا۔ وہ اپنا گونگا کس دکان پر کام کرتا ہے۔”
گونگے کا ذکر آ نا تھا کہ مونا کے چہرے پر بہار کے ساتوں رنگ اتر آ ئے ۔
وہ۔ اماں! موتی بازار میں ہوتا ہے “
میں تو کہتی ہوں ،اس کے پاس چلتے ہیں وہ کچھ تو ہماری مدد کرے گا۔ہو سکتا ہے کوئی سستا سا ڈریس لے دے ۔”
ننھی اور بے بی کے ساتھ ساتھ مونا بھی ماں کی پھرتیوں کی قائل ہو گئی کیسا ٹائم پہ اسے گونگے کا خیال آ یا تھا۔
ہاں اماں! ہمارے ذہن میں تو یہ خیال آ یا ہی نہیں ستارہ کے ڈریس کے ساتھ ہم ساری بھی وہیں سے کپڑے لے لیں گی “
بے بی نے ماں کے اس بہترین آئیڈے کو سراہتے ہوئے فوراً بازار جانے کی تیاری کا مشورہ دیا۔
اوئے میرے لیے بھی کوئی سوٹ سلا دینا، میں آخر منڈ کا باپ ہوں مجھے بھی نئے کپڑے پہن کر بارات کے ساتھ جانا ہے ۔”
اسے بھی گھر میں ہونے والی ہل جل سے پتا چل گیا تھا کہ اس کے اکلوتے بیٹے کی شادی رچائی جا رہی ہے ۔
تم لوگ ہی کوئی میرا خیال کرو گی ورنہ تمہارے ماں نے تو عرصہ ہوا ،مجھے منہ لگانا چھوڑ دیا ہے “
آ ج شاید شادی کی خوشی دل میں سمائی تھی جو نشہ تھوڑا جلدی اتر گیا تھا۔بیٹیوں کو ماں کے ساتھ سر جوڑے دیکھ کر وہ بھی اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔
ابو جی آ پ فکر کیوں کرتے ہیں ،آ پ کے لیے بھی نیا جوڑا آ ئے گا ۔آخر کو دولہا کے باپ ہیں آپ۔” ننھی باپ کی محبت میں بولی ،کتنے عرصے کے بعد گھر میں خوشی آ نے والی تھی پھر ان کا تو اس خوشی پر سب سے زیادہ حق تھا۔
کیوں اس نے نئے کپڑے کیا کرنے ہیں، اس کا نشہ اترے گا تو بیٹے کی شادی دیکھے گا “
اس کی فرمائش سن کر ککی کے ماتھے پر تیوریاں چڑھ گئیں۔
ویسے اس کے پاس سارا دن روتے پیٹتے رہو ،آنکھ کھول کے نہیں دیکھتا اور اب کپڑوں کی بات کی ہے تو فوراً اٹھ کے بیٹھ گیا ہے۔”
اس کا دل اس کی طرف سے ہر وقت سڑا ہی رہتا تھا۔
چھوڑیں اماں !آ پ بھی ہر وقت ابو کے پیچھے پڑی رہتی ہیں۔ہمیں یاد ہے ہمارا باپ ہماری ساری فرمائشیں فوراً پوری کرتا تھا۔”
ننھی کے دل میں باپ کی محبت کا دریا سب سے زیادہ روانی میں بہتا تھا اس وقت بھی وہ اس کے حق میں بولی تھی۔
دو دو سوٹ بنا کر دیتا تھا ہر عید پر۔۔۔۔کوئی ہمیشہ سے تو ایسا نہیں تھا۔”
ننھی کے یاد دلانے پر اس کی آنکھوں کے آگے گزرا وقت کسی دھندلے سائے کی طرح لہرا سا گیا۔جب ماجا ماجا نہیں معراج دین ہوتا تھا۔
اپنی اماں سے نظر بچا کر اس کے لیے اور اپنی بچیوں کے لیے چوری چوری چیزیں لے کر آ تا تھا۔
یہ سوٹ آ تے ہوئے دکان پر دیکھا تو تیرے لیے لے لیا ۔مجھے لگا یہ گلابی رنگ تجھ پر بڑا جچے گا۔”
وہ اماں سے ڈرتا تھا لیکن چوری چھپے کبھی کبھار جب اس کے لیے کچھ لاتا تو اسی میں خوش ہو جاتی۔اب ننھی نے ذکر کیا تو اس کی آنکھوں کے میں وہ گلابی سوٹ لہرا کر سامنے آ گیا۔
ہاں ہاں لے لینا اس کے لیے بھی دو سوٹ ایک بارات پر اور دوسرا ولیمے پر پہن لے گا اور ان اس دن نشہ تھوڑا کم کرے لوگوں کو پوچھنا نہ پڑے، لڑکے کا باپ تو نظر ہی نہیں آ رہا۔”
آ ج پہلی بار تھا جب وہ تھوڑے نرم لہجے میں اسے سمجھا رہی تھی۔
چلو پھر اب دیر نہیں کرو ،فوراً تیاری پکڑو اور نکلیں پھر شام پڑے گئے تو رش بڑا ہو جائے گا۔”اٹھ کر چادر اوڑھتے ہوئے اس نے مونا کو آ واز دی ۔
نی مونا.تو بھی ساتھ چل.جو کچھ لینا ہے آ ج ہی لے لو.دن بڑے تھوڑے ہیں۔”
جاتے ہوئے وہ مونا کو بھی ساتھ لے گئیں، مونا کو ساتھ دیکھ کر گونگے کے تو ہاتھ پیر پھول گئے۔دوڑ کر ٹھنڈی بوتلیں پکڑ لایا۔اپنے مالک سے کہہ کر نہ صرف دلہن کے ڈریس میں بلکہ سارے ڈریسز میں ڈسکاؤنٹ کروا دیا تھا۔
٭٭٭
گڈا بھائی سے کیا وعدہ پورا کر نے ستارہ کا پتا کرتی اس کے پاس پہنچ گئی تھی۔
اس دھان پان سی لڑکی سے مل کر اسے پتا چلا کہ وہ تو خود اپنوں کی بے حسی کی ستائی ہوئی تھی۔وہ جس لڑکے کو پسند کرتی تھی اس کے بھائی کسی قیمت پر اس کی شادی وہاں کرنے پر راضی نہ تھے۔اسی لیے انہوں نے نگو خالہ کو پیسے دے کر اس کی شادی بوبے سے کروانے کا کہا تھا۔
تو تم چپ چاپ بوبے کو قبول کر لو گی؟”
گڈا کو اس لڑکی پر حیرت ہو رہی تھی جو کسی اور کو چاہنے کے باوجود یہ سب ہوتا دیکھ رہی تھی۔
کیا کروں پھر؟ میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں ،سارے حربے استعمال کر چکی ہوں لیکن میرے بھائی ماننے پر تیار نہیں۔اب تو دو ہی راستے بچے ہیں یا تو شادی کر لوں یا پھر اپنی جان دے دوں۔”
وہ شاید سارے حربے استعمال کرنے کے بعد ہار مان چکی تھی تب ہی خاموش بیٹھی سارا کھیل دیکھ رہی تھی۔
ہاں تو دو نا پھر جان دے دو ،کم از کم میرے بھائی کی جان تو بچ جائے۔تم اگر کچھ نہیں کرسکتیں تو خود کشی کر کے میرے بھائی کو تو نئی زندگی دے سکتی ہو، وہ ببلی کو چاہتا ہے۔اسے اگر ببلی نہ ملی تو وہ ضرور مر جائے گا۔”
اس نے اسے صاف اور سیدھی بات بتا دی تھی۔
پھر.”
ستارہ کو لگا یہی لڑکی سب کے لیے امید کی کرن بن سکتی ہے۔ آ س دلائی ہے تو حل بھی یہی بتائے گی۔
پھر یہ کہ جیسا میں کہتی ہوں ویسا ہی کرتی جاؤ۔۔میرے کہنے پر عمل کرو گی تو ہم سب اس مشکل سے نکل جائیں گے نہیں تو پھر.”
گڈا کی بات سن کر اس نے خوشی سے اسے گلے لگا لیا ۔وہ اس مشکل کی گھڑی میں فرشتہ بن کر آ ئی تھی۔وہ آنکھیں بند کر کے اس کے پیچھے دوڑنے کو تیار تھی۔
٭٭٭
بوبے کی شادی کی تیاریاں ہوتی دیکھ کر ببلی کی راتوں کی نیند اڑ گئی تھی۔
ککی آنٹی کو پتا نہیں مجھ سے کیا بیر ہے ،ہم شاید غریب ہیں اسی لیے وہ میری طرف دیکھتی بھی نہیں۔”
گھر کی چھت پر بوبے کے ساتھ چلتی ببلی اسے ہمیشہ کے لیے کھو دینے کا سوچ کر آ ج بہت اداس تھی۔
میں تمہارے بغیر جی نہیں پاؤں گی بوبے۔ کاش تم میرے لیے اسٹینڈ لے سکتے تو پھر دیکھتے تمہاری یہ ببلی ساری رکاوٹیں توڑ کر تمہاری زندگی میں شامل ہو جاتی۔”
اسے گلہ تھا وہ اس سے محبت کے وعدے کر کے کتنی جلدی ان وعدوں سے پھر گیا تھا۔
کسی اور سے ہی شادی کرنی تھی تو پھر میرے ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کیوں کھائیں ؟ بولو بوبے !مجھ سے محبت کے جھوٹے وعدے کیوں کیے ؟”
وہ اس کے سامنے کھڑی اس کی بے وفائی پر رو دینے کو تھی جو چپ چاپ کسی اور کا ہونے جا رہا تھا۔
تمہارے لیے تو جان بھی دے سکتا ہوں ببلی۔اور میں نے تم سے جتنے وعدے کیے تھے وہ سارے وعدے سچے تھے۔”
وہ اس کا ہاتھ ہاتھوں میں لے کر ایک بار پھر سے جھوٹ بول رہا تھا۔
اس نے خفگی سے اس کی طرف دیکھا۔
پھر جھوٹ.مجھے جان نہیں چاہیے بوبے.مجھے تمہارا ساتھ چاہیے۔دو دن بعد تمہاری شادی ہے اور تم اب بھی مجھے محبت کا فریب دے رہے ہو۔”
وہ سنجیدہ تھی اور اسے اس وقت بھی مستیاں سوجھ رہی تھیں۔
تم فکر نہیں کرو. میری شادی ہو گی تو صرف تم سے ہو گی۔”
اس کی نشیلی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے اس نے ایک بار پھر اسے اپنے ساتھ کا یقین دلا یا۔
وہ کیسے ؟ ” اس نے ابرو اٹھا کر پوچھا۔
ان دو دنوں میں کیا جادو ہو جائے گا۔۔۔ تمہارے پاس کوئی طلسماتی چھڑی آ جائے گی جسے تم گھماؤ گے اور میں دلہن بن کر تمہارے ساتھ بیٹھ جاؤں گی۔”
ہاں چھڑی ہی آ جائے گی میرے ہاتھ میں”
اس کے لہجے سے ٹپکتا یقین دیکھ کر ببلی کے قدم ڈگمگانے لگے۔
اور اس چھڑی کا نام جان سکتی ہوں میں ؟”
وہ بھی ایک لمحے کے لیے اس کے خوابوں میں ساتھ ہو لی۔
اس چھڑی کا نام ہے نگو آنٹی۔ وہ چھڑی گھمائیں گی اور سارا منظر بدل جائے گا۔”
ککی اگر ضد کی پکی تھی تو وہ بھی اس کا بیٹا تھا۔ماں سے کیسے نپٹنا تھا اس سے وہ اچھی طرح واقف تھا۔ گڈا نے نگو آنٹی سے ساری سیٹنگ کرلی تھی۔
نگو انٹی اگر اماں کو کسی رشتے کے لیے قائل کر سکتی تھی تو اس رشتے پر روکنا بھی اسی کے ہاتھ میں تھا۔
اگر منظر نہ بدلا تو؟”
تو میں آ سمان الٹا دوں گا “
اس کے گمبھیر لہجے پر اسے پورا یقین تھا لیکن اس دل کا کیا کرتی جو ایک پل میں وسوسوں کی خاک اڑا دیتا تھا۔
٭٭٭
آ ج بوبے کی شادی تھی۔ککی کے کوارٹر قمقموں سے سج گئے تھے ۔ بوبے کی ساری بہنیں سجی سنوری دولہا بنے بھائی کے پاس بیٹھی نیگ مانگ رہی تھیں۔ معراج دین نے بھی آ ج نہا دھو کر نئے کپڑے پہن لیے تھے۔ بینڈ باجوں کے ساتھ تھوڑی دیر میں ان کے اکلوتے بیٹے کی بارات روانہ ہونے والی تھی۔
ہیں نی مونا جا اندر ،دوڑ کے بھائی کا سہرا تو لے کر آ.میں اپنے پتر کے سر پر اپنے ہاتھوں سے سہرا باندھوں گی۔”
عنابی رنگ کے جوڑے میں آ ج اس کا بھی رنگ روپ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔
کیوں سارے کام تونے کرنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔کوئی کام مجھے بھی کر لینے دے۔بوبا میرا بھی پتر ہے۔”
وہ دیکھ رہا تھا رشتہ کرنے سے لے کر شادی کی تیاریوں تک اس نے اسے کسی کام میں شریک نہیں کیا تھا اور آ ج جب پتر کی بارات تیار کھڑی تھی اس وقت بھی وہ خود ہی سارے کام کرنا چاہتی تھی۔
تو کر لے اپنا شوق پورا۔شکر ہے تجھے بھی ہوش آ یا لے پھڑ ،باندھ بوبے کے سر پہ سہرا۔”
ننھی نے شاپر سے نکال کے سہرا دیا تو اس نے غصے سے اس کے آ گے کر دیا۔
لے پھڑ یا ہاتھوں میں جان مک گئی ہے تیری۔” اسے اپنی طرف دیکھتا پا کر وہ ایک بار پھر چیخی۔
نی مونا یہ ذرا نگو کو تو تو فون لگائیں۔وہ ابھی تک آ ئی نہیں پتا نہیں کہاں مر گئی ہے۔”
معراج دین نے بوبے کو سہرا باندھ دیا تو اس نے مونا کو نگو کا فون ملانے کا کہا جو ابھی تک نہیں آ ئی تھی۔
سب لوگ بارات میں شریک ہونے کو تیار کھڑے تھے۔ببلی چھت پر کھڑی یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی ۔وہ بے وفا مطمئن بیٹھا اب بھی کسی بازی کے الٹنے کا انتظار کر رہا تھا یا پھر اسے دھوکا دے رہا تھا۔ سہرا باندھ لیا تھا دروازے پر سجی گھوڑی آ چکی تھی
گونگا مولوی صاحب کو بھی لے آ یا تھا۔مولوی صاحب نے ایک اور نکاح بھی پڑھانا تھا اس لیے وہ جلدی چلے آ ئے تھے۔بارات روانہ ہونے والی تھی۔
اب آگے کا منظر اس کی برداشت سے باہر تھا وہ ڈبڈباتی آنکھوں کے ساتھ پیچھے ہٹ گئی۔
تب ہی کھلے دروازے سے نگو ہاتھ ملتی ہوئی اندر داخل ہوئی ۔ اس پر پہلی نظر بھی ککی کی پڑی تھی۔
ہیں نی تو کہاں مر گئی تھی۔۔۔ چنگی تو میری سہیلی ہے بندہ آ کر پوچھتا ہے کوئی کام تو نہیں میرے لائق۔”
وہ روانی میں بولتی آ گے بڑھی لیکن اگلے ہی لمحے اس کے چہرے پر اڑی ہوائیاں دیکھ کر اس کا دل بیٹھ گیا۔
نگو۔سچ سچ ،بتا کیا خبر لے کر آ ئی ہے۔”
اس کا اترا ہوا چہرہ اسے بتا گیا تھا ،کہیں کوئی گڑبڑ ہو گئی ہے۔
’’نی بول وی منحو سے !کیا خبر لائی ہے۔ سویرے سے تیرا نمبر ملا ملا کے تھک گئی ہوں ،کوئی جواب ہی نہیں مل رہا۔ مطلوبہ نمبر سے جواب موصول نہیں ہو رہا ۔‘‘
اس کا دل بیٹھنے لگا تھا۔
وہ میں تو تجھے رات ہی آ کر بتا دیتی پر ہمت نہیں ہوئی۔”
نگو کی پہلیاں اس کی جان لے لیتیں ۔
نی بکواس کر ،کیا ہمت نہیں ہوئی “
وہ ستارہ کے بھائی کا فون آ یا تھا، وہ رات ہی کسی کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔میں بھلا کس منہ سے تجھے یہ خبر دینے آ تی۔”
نگو کی آ مد نے اچھے بھلے خوشیوں کے ماحول کو سوگوار کر دیا تھا۔
ہائے میں مر گئی۔۔نی مونا !دوڑ کے پانی لے آمیر ے دل کو کج ہو گیا ہے۔”
ککی نے سنا تو غش کھا کر بے ہوش ہو گئی۔ مونا پانی لینے دوڑی تو بے بی اور ننھی ماں کو اٹھا کر اندر کمرے میں لے گئیں۔
میں پھر جاؤں اب؟”
مولوی صاحب بھی ساری بات سن کر سمجھ گئے تھے اب یہاں ان کا کوئی کام نہیں۔
مولوی صاحب !آ پ کہاں جا سکتے ہیں ،بیٹھیں یہ اب ہماری عزت کا سوال ہے نکاح ہو گا اور ابھی ہو گا۔”
میدان خالی دیکھ کر معراج دین میدان میں کود گیا۔ اس نے بوبے کو اپنی جگہ سے اٹھایا۔
بوبا سہرے کی لڑیاں پیچھے کرتا اپنی جگہ سے اٹھ گیا اسے پتا تھا اس سے آ گے اب اس کا کام تھا۔ وہ دوڑ کر گیا اور ببلی کا ہاتھ پکڑ کر لے آ یا۔
مولوی صاحب آ پ نکاح شروع کریں۔‘‘
ان کے بیٹھتے، معراج دین نے مولوی صاحب سے نکاح شروع کرنے کا کہا۔پاس کھڑی عورتوں میں سے کسی ایک نے آ گے بڑھ کر ببلی کے اوپر لال دوپٹہ ڈال دیا۔
تھوڑی دیر میں مبارکوں کی آ واز سے صحن گونج اٹھا۔
ککی کو پانی پی کر ہوش آ یا تو وہ مبارک باد کی آواز سن کر گھبرائی ہوئی باہر چلی آ ئی۔
نکاح ہو چکا تھا ۔مولوی صاحب کو دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے دیکھ کر ککی منہ پر ہاتھ رکھے دیکھتی رہ گئی۔
یہ سب کیا ہو رہا ہے؟”
وہ آ گے بڑھی لیکن اس سے پہلے گڈا درمیان میں گود گئی۔
مولوی صاحب دوسرا نکاح بھی شروع کریں۔‘‘اسے ڈر تھا ،کہیں مونا کا نکاح نہ رہ جائے۔
ہیں.نی یہ تو کس کے نکاح کی بات کر رہی ہے ؟ “
وہ ابھی سوال جواب کی گتھیاں ہی سلجھا رہی تھی کہ مولوی صاحب نے نکاح شروع کر دیا۔
اس نے دیکھا گونگے کوکرسی پر پکڑ کر بٹھا دیاگیا تھا اور یہ لال دوپٹے میں منہ چھپائے کون بیٹھی تھی۔
بچی سے اجازت لے لیں پہلے ۔‘‘
مولوی صاحب نے یاد دلایا تو معراج دین انہیں لے کر ا ندر کمرے میں مونا کے پاس چلا گیا۔
تھوڑی دیر میں سب گونگے کو نکاح کی مبارک باد دے رہے تھے۔
وہ سب کے درمیان حیران پریشان کھڑی دیکھ رہی تھی ۔
پل میں کایا پلٹ گئی تھی۔گونگا اس کا داماد بن گیا تھا اور پہلی مبارک باد کی اسے ابھی تک سمجھ نہیں آپائی تھی۔
ہیں نی باقی سب تو ٹھیک ہے پر یہ لال دوپٹے میں کون یہاں بیٹھی ہے ۔ذرا اسے تو اٹھاؤ “
بوبے کے ساتھ لال دوپٹہ ابھی تک اس کے لیے معمہ بنا ہوا تھا۔
اماں !یہ آ پ کی بہو ہے اور اس کا گھونگھٹ تو اب میں کمرے میں جا کر ہی اٹھاؤں گا۔”
بوبے کی بات پر اس نے حیرت سے منہ پر ہاتھ رکھا۔
ہیں.تیری شادی.کب ہوئی؟”
وہ حیران ہوتی بوبے کے سر پر پہنچ گئی۔
میں اچھی طرح جانتی ہوں ،اس کے اندر وہ منحوس ببلی ہی ہو گی “
اس نے آ گے بڑھ کر ببلی کے سر سے لال دوپٹہ کھینچ دیا۔
ہائے میں مر گئی۔ ببلی توں “.ببلی کو بوبے کے برابر میں بیٹھا دیکھ کر اس کا سر چکرا گیا۔
ہائے میں مر گئی جے.نی، مونا مینو پھڑ و، میں گئی؟”
ببلی کو اپنی بہو کے روپ میں دیکھ کر وہ ایک بار پھر سے بے ہوش ہو کر گر گئی تھی۔
٭٭


