کاج بٹن اور دھاگہ – منشا محسن علی

ناولٹ 69

پہاڑوں میں گھرے اس شان دار کاٹیج پر اترنے والی سہ پہر شام جیسی دکھائی دیتی تھی۔ کچھ فاصلے سے بانس کے جنگل سے ایک عجیب سی مہک ساری فضا میں چھائی ہوئی تھی۔ جو اس علاقے کی خصوصیت سمجھی جاتی تھی۔

گدلے سے دن کی اس سرد شام میں، درنایاب اپنی پانچ سالہ شادی شدہ زندگی دو سوٹ کیسوں میں پیک کر کے باپ کے گھر کی دہلیز پر پہنچ گئی تھی۔

شادی شدہ عورتیں بھی کتنی عجیب ہوتی ہیں۔ ان کی شادی شدہ زندگی بھی سوت کی طرح ہوتی ہے۔ جانے کب کیسے چوہے کتر کر چلے جاتے ہیں۔ اور یہ لٹی پٹی حالت میں درنایاب کی طرح اپنے میکے کی دہلیز پر چپ کے روزے کے ساتھ آموجود ہوتی ہیں۔

جیسے وہ پچھلے تین گھنٹوں سے گھر کے آرام دہ مہمان خانے میں ،کسی مہمان کی طرح آبنوسی صوفے پر براجمان تھی۔ اور گھر کے سارے مکین ان دو سوٹ کیسوں سے نظریں چرانے کی کوششوں میں تھے۔

پانچ سالہ شادی شدہ زندگی میں، کبھی باپ کے گھر رات نہ رکنے والی اور مجازی خدا کی رضا کے لیے خود کو قربان کر دینے والی درنایاب آخر اس گرد آلود شام میں وہاں کیوں موجود تھی۔ یہ سوال بہت عجیب اور مشکل تھا تب ہی سب ایک دوسرے سے نظریں چرانے کی کوششوں میں مصروف سے دکھائی دیتے تھے۔

ڈیڈی ہمیشہ کی طرح ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے

شام کے اخبار کے مطالعہ میں مصروف تھے۔ جہاں عالمی منڈی اور مہنگائی سے وہی روز روز کی بورترین خبریں جمع تھیں۔ ممی ہمیشہ کی طرح اپنی سہیلی کی طرف سے آنے والے تحائف دیکھنے اور ان کی تعریف کرنے میں مصروف تھیں۔

وہ اپنی چار سالہ بیٹی کو گود میں لیے بس بیٹھی رہی تھی۔ خاموش. گم شدہ الفاظ کے ساتھ.

لائونج کی کھلی ہوئی کھڑکیوں سے صنوبر کی خوشبوئیں اڑاڑ کر اندر داخل ہو رہی تھیں۔ وہ خوشبوئوں کی دیوانی جیسی چونک سی گئی تھی۔

’’ممی ! یہ خوشبو کہاں سے آ رہی ہے۔‘‘

اس نے ممی کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔

ممی نے سامنے پڑے پھیلاوے کو سمیٹتے ہوئے جیسے جواب دیا تھا۔

’’سامنے ہی ایک فرنیچر ورکشاپ بن گئی ہے۔ بہت اچھے ڈیزائن ہوتے ہیں ان کے پاس۔ تمہیں کچھ پسند ہو تو لے لینا۔‘‘

’’مگر ممی . میں تو خوشبو کی بات کر رہی تھی۔‘‘

’’ارے ہاں .خوشبودار لکڑی کا فرنیچر بن رہا ہے ناں۔ سنا ہے کسی رئیس نے آرڈر دیا ہے اپنی بیٹی کے لیے۔‘‘

بیٹی کے ذکر پر وہ پہلی بار جیسے چونک کر اپنی گپ چپ اولاد کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔ جو ٹکر ٹکر ڈیڈی اور ممی کو دیکھے جاتی تھی۔ یہ گھر اور اس کے مکین کسی حد تک اس کے لیے اجنبی ضرور تھے۔

ڈیڈی نے اسے ٹافیاں عنایت کی تھیں۔ تو اس نے سر ہلا کر منع کر دیا تھا۔

’’مومی. میٹھا نہیں کھاتی ڈیڈی۔‘‘

باہر شاید پہاڑوں میں شام اتر چکی تھی۔ کیونکہ ممی نے کھڑکیوں کے پٹ بند کرنے شروع کر دیے تھے۔ رات ہوتے ہوتے سردی شروع ہو جایا کرتی تھی۔ ممی کو بیٹھے بیٹھے یونہی کچھ یاد آ گیا تھا۔ وہ ایسی ہی تھیں۔ پرانی باتیں نئے وقت میں کرنے والی۔

’’تمہیں یادہے ناب !میں تمہیں میٹھا کھانے سے کتنا روکا کرتی تھی کہ کنواری لڑکیوں کو سنبھل کر کھانا پینا چاہیے۔ ورنہ آگے چل کر رشتہ کے لیے مشکل ہو جاتی ہے۔ اور تمہارا تو کوئی عجیب مسئلہ تھا کہ جیسے ہی میٹھا کھاتی تھیں۔ بلوٹنگ ہو جاتی تھی اور تمہارا وزن بڑھ جاتا تھا۔‘‘

ممی کی کہی گئی وہ ساری باتیں اسے یاد تھیں۔ ہر بات . ایک ایک بات۔

پورے خاندان میں اس کا حافظہ اور وہ خود مشہور تھی۔ قابل ، ذہین ، لائق فائق۔ڈیڈی اور ممی ہر سرکل میں بہت فخر سے اس کا تعارف کروایا کرتے تھے۔

وہ اپنے خاندان کے لیے ایک چلتی پھرتی ٹرافی تھی۔ ہر میدان کی فاتح تعلیمی میدان میں پوزیشن ہولڈر،ادبی سرگرمیوں میں پیش پیش . وہ کالج کے اسٹیج پلے کی ڈائریکٹر اور ایکٹر بھی ہوا کرتی تھی۔

وہ کتنا حسین اور آرٹسٹک سا دور تھا۔ اپنی ذات کے ساتھ. اپنے اعتماد کے ساتھ۔ مومی نے اس کی گود میں ہی کروٹ بدلی تو وہ چونک گئی تھی۔ اس کی چار سالہ بیٹی جو ابھی تک بولنا نہیں سیکھ پائی تھی۔ وہ اشاروں سے اسے متوجہ کر رہی تھی۔ شاید اسے بھوک لگی تھی۔

سوٹ کیس بھوت بن گئے تھے ڈرا رہے تھے۔ وہ نظریں چرا رہی تھی۔

’’عباد کیسا ہے بیٹا؟‘‘ ڈیڈی نے شام کا اخبار مکمل چاٹ کر بے زاری سے کنارے پر کر دیا تھا۔

’’عباد.کون عباد۔‘‘ وہ سوچ میں پڑی تھی۔ ڈیڈی اور ممی نے فکر مندی سے ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔ وہ غائب دماغ سی لگ رہی تھی۔ حواسوں پر بند کھڑکیوں کے باوجود کاٹیج میں درزوں سے داخل ہونے والی خوشبودار لکڑی کی مہک چھا گئی تھی۔ وہ وہاں ہو کر بھی کہیں نہیں تھی۔ وہ ایسی تو نہیں تھی۔ کیسی ہو کر آ گئی تھی ؟

تب ہی ہمیشہ کی طرح کھٹ کھٹ شور کرتی جانوروں کی ڈاکٹر نے اندر قدم رکھا تھا۔ سامنے بیٹھی بڑی بہن اور گپ چپ بھانجی کو دیکھ کر وہ حیران ہو گئی تھی۔

’’یا اللہ یہ معجزہ کیسے ہو گیا۔ محترمہ ناب صاحبہ نے ہمارے غریب خانے کو کیسے رونق بخشی ہے۔‘‘ عباد کی بات بیچ میں کہیں ہوا میں تحلیل ہو گئی تھی۔ جانے کون تھا یہ عباد؟

شبانہ نے بڑی بہن کو محبت اور گرم جوشی سے بھینچ لیا تھا۔ بھانجی کو بھی خوب پیار کیا تھا۔

’’سرپرائز دینے میں تو تم کبھی اچھی نہیں رہیں۔ مگر آج سچ میں تم نے مجھے حیران کر دیا ہے۔‘‘

’’ہاںکبھی کبھی زندگی سر پرائز کر دیتی ہے شبی۔‘‘

شبانہ ٹھٹک گئی تھی۔ اوورآل پرے پھینکا تھا اور درنایاب کے ساتھ ہی صوفے پر ٹک گئی تھی۔ ممی ، ڈیڈی اور شبی کی نظریں ایک دوسرے سے ملی تھیں۔ تینوں نے ہی آنکھوں آنکھوں میں پتا لگانے کی کوشش کی تھی۔ مگر ناکام رہے۔

کھڑکیوں کے پار کسی درخت پر بندر کود گیا تھا۔ بندروں کو بھی چین نہیں تھا۔ کودتے پھاندتے رہتے تھے۔

صوفے سے کچھ فاصلے پر پڑے سوٹ کیس پر پہلی بار نظر گئی تھی۔ شبی حیران رہ گئی تھی۔

’’عباد بھائی نہیں آئے ؟‘‘ شبانہ نے سنبھل سنبھل کر پوچھا تھا۔

وہ مومی کے بالوں کی پونی ٹیل ٹھیک کرنے میں مصروف رہی تھی۔ وہ بار بار کچھ بھول رہی تھی۔ وہ ایسی تو نہیں تھی۔ کہیں کچھ غلط تھا۔ کہیں کچھ خراب تھا۔ مگر کیا ؟

شبانہ نے پہلی بار بڑی بہن کو کندھوں سے تھاما تھا۔ اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔

مومی کی پونی ٹیل کھل گئی تھی۔ لمبے سنہری بال جیسے بکھر گئے تھے۔ وہ کتنا چڑتی تھی بالوں کے کھلنے سے کیونکہ وہ اپنی عمر سے کہیں لمبے اور گھنے بال رکھتی تھی ،جو سمیٹنا مشکل ہو جایا کرتا تھا۔ درنایاب کی آنکھوں سے آنسوٹوٹ کرگرنے لگے تھے۔ ہولے ہولے کانپ رہی تھی۔

’’شبی .میں.میں۔‘‘

’’ہاں بولو کیا بات ہے ؟ سب ٹھیک تو ہے ناں؟‘‘

’’سب ٹھیک تو ہے مگر وہ میں عباد سے ڈرائیورس (طلاق) لینا چاہتی ہوں۔‘‘فرنیچر ورکشاپ سے آرے کے چلنے کی آوازیں آنے لگیں۔ تیز تیز ۔

ممی اپنی بلڈپریشرکی ٹیبلٹ لینے اندر دوڑ گئیں۔ ڈیڈی پریشان صورت کے ساتھ بیٹھے تھے۔ شام کا اخبار دوبارہ چہرے کے سامنے سجالیا تھا۔

مومی نے گم صم مجسمے کی شکل میں ڈھلنے والی عورت ، اپنی ماں کو اپنی بھوک کے بارے میں تیسری بار بتایا تھا۔ درنایاب اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔

’’مومی کو بھوک لگی ہے۔ میں فاطمی بوا سے اس کے لیے کچھ کھانے کو لاتی ہوں۔ سیریلیک ہو گا شبی؟‘‘

وہ کچن کی طرف جاتے جاتے پلٹی تھی۔ شبی کی آنکھوں پر آنسو قطروں کی صورت ٹھہر گئے تھی۔ وہ نفی میں سر ہلا رہی تھی۔

درنایاب نے خوفناک سوٹ کیس دھیرے سے کھولا تھا۔ جس میں سے کپڑے اور چند چیزیں ابل کر باہر گرپڑے تھے۔ وہ سوٹ کیس میں سے سیریلیک کا ڈبہ نکال کر کچن کی طرف چلی گئی تھی۔

ڈیڈی چپ چاپ تھے۔ شبانہ نے مومی کی پونی ٹیل بنانا شروع کر دی تھی۔ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ کچھ بھی نہیں۔

٭٭٭

ڈیڈی کے گھر کا کچن ہمیشہ کی طرح لشک پشک رہا تھا ،اس کے پیچھے فاطمی بوا کی ساری کوششیں تھیں۔ زندگی کے کتنے ہی سال انہوں نے ڈیڈی کے گھر میں کیئرٹیکر کے طور پر گزار دیے تھے۔ وہ ان سب کے لیے ایک فیملی کے فرد کی طرح تھیں۔ جو وہ خود کھاتے تھے انہیں بھی وہی کھلاتے تھے اور جو پہناوے خود پہنتے تھے وہی ان کو بھی پہناتے تھے۔

اتنے عرصے بعد وہ درنایاب کو دیکھ کر حیران ہونے کے ساتھ ساتھ بے تحاشا خوش بھی ہوئی تھیں۔ اور پھر سیریلیک کا ڈبہ اس سے لے کر مومی کے لیے سیریلیک بنانے لگی تھیں۔

’’مومی بٹیا ،اب بھی سیریلیک کھاتی ہیں۔ اب تو کافی بڑی ہو گئی ہیں۔ آپ بھی تو بچپن میں ایسی ہی تھیں۔ میٹھے کی شوقین اور پھر ممی جی سے چھپ چھپ کر چاکلیٹ اور برائونیز کھانے والی۔‘‘

فاطمی بوا بھی اس کی طرح غضب کی یادداشت کی مالک تھیں۔ ماضی کی ایک ایک بات انہیں ازبر ہوتی تھی۔

وہ سر ہلاتی ہوئی اٹالین طرز پر بنے ہوئے فرمائشی کچن کی کھڑکی کی طرف آئی تھی۔ کچن میں یہ شیشے کی کھڑکی اس کے لیے ہمیشہ پسندیدہ گوشہ رہی تھی۔ وہ گھنٹوں یہاں کھڑے کھڑے گزار سکتی تھی۔ شاید پوری عمر بھی ۔

اس نے دھیرے دھیرے کھڑکی کھولنے کی کوشش کی تھی۔ چوں چوں کی آوازوں کے ساتھ مشکل سے وہ کھڑکی کھلی تھی۔ اور کھڑکی کے کھلتے ہی سرد ہوا کا ایک خوشبودار جھونکا اندر کود گیا تھا۔

درنایاب نے مدت بعد وہ ہوائیں اور فضا محسوس کی تھی۔

’’بوا لگتا ہے اب یہ کھڑکی نہیں کھلتی۔‘‘

’’ہاں بس صرف آپ ہی تھیں جو گھر کی کھڑکیاں دروازے کھول کرہوائوں کے راستے آسان کیا کرتی تھیں۔اب توسب کی اپنی اپنی مصروفیت ہے ۔ تمہارے ڈیڈی بھی شام کے اخبار اور دوستوں کے ساتھ نکل جاتے ہیں۔ممی نے بھی کوئی ایسوسی ایشن جوائن کر لی ہے۔ اور شبانہ بی بی تو جانوروں کے علاج میں مصروف ہوتی ہیں ۔‘‘ بوا نے مصروف انداز میں بتایا تھا۔

شام کے چہرے کو ایک نارنجی سورج کی لکیر کاٹ رہی تھی۔ بانس کے جنگلوں میں کوئی جھینگر شور مچاتے تھے۔ کھڑکی کے بالکل سامنے ہی تو چیری کے درختوں والا باغیچہ تھا۔ جو اب آہستہ آہستہ ا ندھیرے میں ڈوب رہا تھا۔

وہ پلکیںجھپک جھپک کے چیری کے درختوں کو دیکھ رہی تھی۔

’’بوا. کیا چیری کے درختوں پر اب بھی پرندے آتے ہیں ؟‘‘لہجے میں آس تھی۔

فاطمی بوا نے سیریلیک بنا لیا تھااور اب چینی کے ایک پھول دار پیالے میں منتقل کر رہی تھیں۔ سیر یلیک کی خوشبوسے وہ اٹالین طرز پر بنا ہوا کچن مہک اٹھا تھا۔

’’نہیں بٹیا ۔ جب تک آپ تھیں تو بھول بھٹک کر چیری کے درختوں پر پرندے بھی آجایا کرتے تھے۔ آپ کی رخصتی کے بعد یہ کھڑکی بھی بند ہو گئی اور پرندوں نے بھی آناچھوڑ دیا۔ وہ تو آپ کے دوست تھے ناں۔ آپ کے جانے کے بعدشاید تبھی آنا چھوڑ گئے۔‘‘

فاطمی بوا کو ہمیشہ سے ہی تفصیلی بات کرنے کی عادت تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی کم بولنے والی فیملی میں بوا کا ہونا بھی ایک معجزے سے کم نہیں تھا۔ اس گھر کے مکین خاموشی پسند تھے۔

درنایاب نے کچھ دیر اندھیرے کو ٹٹولا اور پھرٹھنڈے ہوتے پیالے کے کناروں پر انگلیاں پھیرنا شروع کر دی تھیں۔ وہ صرف ایک کھڑکی نہیں کھلی تھی کوئی گزری ہوئی یادوں کا البم تھا جوورق درورق کھلنے لگا تھا۔

’’فاطمی بوا.وہ جو شرفوچچا ہوتے تھے ؟ اخروٹ کا حلوہ بیچتے تھے اور اسی راستے سے گزرتے تھے ۔ وہ اب بھی یہاں سے گزرتے ہیں کیا ؟‘‘ کنٹوپ پہنے شال اوڑھے ٹھٹھرتے ہوئے شرفوچچا اسے یاد آئے تھے۔

نفاست اور صفائی پسند بوا نے اپنے گرد ایپرن کی ڈوریوں کو کسنا شروع کر دیا تھا۔ درنایاب کی موجودگی نے انہیں بہت خوشی دی تھی یہی وجہ تھی کہ وہ آج ڈنر کے لیے خاص اہتمام کرنے کے موڈمیں تھیں۔ وہ جانتی تھیں کہ وہ ابھی کچھ دیر بعدالفریڈو پاستا اور فرنی کی فرمائش کر دے گی۔ ساتھ وہ دو تین طرح کے سلاد بھی بنا لیں گی۔ کیونکہ سبزیاں فروٹ کھانے کی وہ بہت شوقین تھی۔

’’ارے نہیںوہ تو آپ ہی شرفوچچا کے اخروٹ کے حلوے کی اکلوتی گاہک تھیں۔ تب ہی وہ آپ کے لیے یہاں سے گزرنے کی مشقت کر لیا کرتے تھے۔ کیونکہ آپ پر تو ممی جی کی طرف سے میٹھا کھانے کی پابندی تھی۔ اور آپ چھپ چھپ کر شرفوچچا سے اخروٹی حلوہ لے کر کچن میں بیٹھ کر کھایا کرتی تھیں۔ اورمجھے بھی آپ نے اس رازمیں شریک کر لیا تھا۔بس آپ کی شادی کے بعدشرفوچچا بھی یہاں کا رستہ بھول گئے ۔‘‘

کٹنگ بورڈ پر کھٹ کھٹ سبزیاں کٹتی رہیں۔

برنر پر پاستا ابلتا رہا۔ درنایاب نے جھٹ سے کھڑکی بند کر دی تھی۔ پیالہ اٹھا کر باہر جانے ہی لگی تھی کہ پلٹ کر آخری سوال کرنا یاد آ گیا تھا۔

’’بوا. ایک بات پوچھوں؟‘‘

’’ہاں بٹیا . ضرورپوچھو۔بھلااجازت کی ضرورت کیوں پڑ گئی ہے آپ کو۔‘‘

وہ کچھ سوچتی رہی اور پھر ہمت جمع کر کے سوال پوچھ ہی لیا تھا۔

’’کیا ایک عورت بغیر مرد کے زندگی گزار سکتی ہے؟ بغیر کسی شادی کے ؟‘‘

فاطمی بوا کی ساری مصروفیات میں جیسے اچانک اسپیڈ بریکر آگیا تھا۔

چکن کے پیسز میرینیٹ ہونے سے رہ گئے تھے۔ درنایاب کی آواز.لہجے اور سوال میں کچھ تو خاص بات تھی۔

’’ہر عورت کو آپ کے ممی ڈیڈی جیسا خاندان اور آپ کے جیسے رشتے نہیں ملتے۔ مرد کے بغیر عورت کچھ نہیں ہوتی بیٹا۔ فیملی تو مرد اور عورت دونوں مل کر بناتے ہیںناں۔ میں نے بھی زندگی کے کئی سال صرف اس وجہ سے اس گھر میں گزارے ہیں کہ میرے پاس آپ لوگوں جیسے رشتے تھے۔ جنہوں نے مجھے خون کے رشتوں جتنی ہی اہمیت دی۔ ورنہ غیر شادی شدہ عورتیں کاٹیج کے باہر بانس کے جنگل جیسی دنیا میں گم ہو جاتی ہیں۔ بھیڑیئے اور چیتے چیرپھاڑ کر کھا جاتے ہیں۔‘‘

بوا نے جانے شام کے اندھیرے جیسی بات اس کے حوالے کیوں کی تھی۔ وہ بس سر ہلاتی ہوئی باہر آ گئی تھی۔جہاں سامنے ہی ممی مومی کے ساتھ لگی ہمیشہ کی طرح چھوٹی چھوٹی باتیں کرنے میں مصروف نظر آتی تھیں۔

’’تم نے دیکھا ناب۔ مومی اور میری فرینڈ شپ ہو گئی ہے۔ شبی ایسے ہی کہتی تھی کہ مومی مجھے پسند نہیں کرتی۔‘‘

وہ دھیرے سے سیریلیک مومی کو کھلانے لگی تھیں۔

’’مومی کسی کو بھی نا پسند نہیں کرتی ممی .یہ بہت اچھی ہے۔‘‘

’’میں جانتی ہوں تم اپنی بیٹی کی تربیت کے معاملے میں کوئی کوتاہی نہیں کرو گی۔ تم اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا اچھے سے جانتی ہو۔ تمہیں پتا ہے پچھلے دنوں میں ایک گیدرنگ میں تھی تو وہاں تمہارا ذکر چل پڑا۔ اور سب نے ایک ہی بات کی کہ تم اور عباد ایک آئیڈیل کپل ہو۔‘‘

ممی نے جذبات میں آ کر شاید کچھ زیادہ ہی بول دیا تھا۔ وہ نیپکن کے ساتھ مومی کا چہرہ صاف کرنے میں مصروف تھی۔ پتا نہیں ان کی بات سن بھی رہی تھی یا نہیں۔

’’تمہارے ڈیڈی اس وقت تھوڑا باہر جاتے ہیں۔ ان کے دوست کرنل جعفری بھی پاس میں ہی شفٹ ہو گئے ہیں۔ تو ان کو بھی کمپنی مل جاتی ہے۔‘‘

وہ خالی پیالہ کنارے پر رکھ چکی تھی۔ ممی کی نظریں درنایاب پر تھیں۔

خاندان کی سب سے شان دار لڑکی ۔ جس کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ آج وہ انہیں بہت تھکی تھکی سی نظر آ رہی تھی۔

’’تمہارے ڈیڈی تمہاری وجہ سے پریشان ہو گئے ہیں ناب۔‘‘

’’انہیں کہیں مت ہوں۔ پلیز ۔‘‘اس نے قطعیت سے کہا تھا۔

’’پریشان تو میں بھی ہوں۔ آخر ایسی کیا بات ہو گئی کہ تم سب چھوڑ چھاڑ کر آ گئی ہو۔ عباد سے بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔ ان پانچ سالوں میں پہلے تو ایسا کبھی نہیں ہوا۔‘‘

وہ دھیرے دھیرے سر کو دبا رہی تھی۔ جب بھی وہ اسٹریس میں ہوتی تھی تو یونہی سر کو دباتی رہتی تھی۔ آج بھی وہ یہی کر رہی تھی۔

’’پانچ سال بہت ہوتے ہیں ممی ،کسی ببل میں رہنے کے لیے۔ حقیقت جاننے کے لیے۔ کسی کو پرکھنے کے لیے۔اب میری زندگی میں کچھ بھی آئیڈیل نہیں رہا ممی۔‘‘

ممی نے اپناکوٹ اتار کر خود کو آرام کرکے نایاب کو بانہوں کے گھیرے میں بھر لیا تھا۔ مومی ننگے پائوں دیوار کے ساتھ لگے ایک گلدان کی طرف بڑھ گئی تھی۔ کانچ کے بڑے بڑے گلدان شاید نئے خریدے گئے تھے۔

’’ناب . میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا۔ شادی شدہ زندگی میں مرد اور عورت کا رشتہ کاج اور بٹن کے جیسا ہوتا ہے۔ کاج کے بغیر بٹن کسی کام کا نہیں ہوتا اور بٹن کے بغیر کاج بیکار ہوتا ہے۔ دونوں ایک ساتھ جڑے اچھے لگتے ہیں۔ تب ہی ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں۔ ورنہ یہ رشتہ کسی کترن جیسا ہو جاتا ہے۔ بے ڈھب اور عجیب .‘‘

درنایاب نے شدید حیران ہو کر اپنے سامنے بیٹھی عورت کو دیکھا تھا۔ جو شادی شدہ زندگی کا فلسفہ بیان کر رہی تھی۔ ممی نے پچھلے کچھ سالوں سے اسے حیران کرنا شروع کر دیا تھا۔ پتا نہیں ان کی ذات میں ایسا کون سا انقلاب آیا تھا جو ان کے لفظوں کی گہرائی سے جھلکتا تھا۔ ان کی خاموشی سے چھلک پڑتا تھا۔

ممی کندھے تھپتھپاکر اندر کمرے میں چلی گئی تھیں۔سامنے آتش دان میں لکڑیاں جل بجھ رہی تھیں۔ ماحول میں حرارت بڑھنے لگی تھی۔ اور وہ ابھی بھی پانچ سالوں میں اتنا کچھ بدلنے پر حیران تھی پر سمجھ نہیں پا رہی تھی۔

٭٭٭

درنایاب جسے پیار سے ناب کہا جاتا تھا۔ وہ اپنے خاندان میں یکساں مقبول تھی۔

اس کی بہت ساری وجوہات تھیں سب سے بڑی وجہ اس کا خوب صورت اور ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ سلیقہ مند ہونا بھی تھا۔

رزلٹ ڈے کے موقع پر وہ ہمیشہ گولڈ میڈلز اور انعامات کے ساتھ لدی پھندی ہی گھر میں داخل ہوا کرتی تھی۔ ڈیڈی ہر کسی کو فخر سے بتایا کرتے تھے۔

’’میری ناب چاہے تو دنیا فتح کر سکتی ہے۔‘‘ اور وہ ڈیڈی کی بات پر خوب ہنسا کرتی تھی۔

’’ڈیڈی آپ بھی ناں ۔ کبھی کبھی بہت بڑی باتیں کر جاتے ہیں۔‘‘

ممی ،باپ بیٹی کی انڈرسٹینڈنگ دیکھ کر فاطمی بوا سے کہتی تھیں۔

’’بوا. ذرا دیکھیں تو۔ کسی دن اگر ناب گھر چھوڑ کر دنیا فتح کرنے چل پڑی تو؟‘‘

شبانہ کو ایسی صورت حال میں خوب مزے آیا کرتے تھے۔ تب وہ بہت کھلنڈری اور لاپرواہ ہوا کرتی تھی۔ جسے ڈاکٹر بننا تھااور قسمت کہ وہ اتنی لائق فائق نہیں تھی تب ہی ڈی وی ایم میں داخلہ ہوا تھا۔

وہ گھنٹوں روتی رہی تھی اور نایاب نے ہمیشہ کی طرح سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسے سمجھایا تھا۔ ناب کے مشورے بھی نایاب ہوا کرتے تھے۔

’’سارے ڈاکٹر انسانوں کا علاج کرنے لگیں گے توجانوروں کی صحت کا خیال کون رکھے گا شبی. اتنی خود غرض مت بنو کہ تم دنیا والوں کو ڈاکٹربن کر دکھائو۔چڑیا بگلے اور خچر گھوڑے کو بھی تو ایک ڈاکٹرکی ضرورت ہو سکتی ہے ناں ۔‘‘

روتی ہوئی شبی ہنس دی تھی۔ اس کی بڑی بہن کبھی کبھی بہت عجیب اور انقلابی مثالیں دیا کرتی تھی۔ لیکن اتنا ہوا کہ شبی نے جانوروں پرندوں کے زخموں کا درد محسوس کرنا شروع کر دیا تھا۔

درنایاب نے کالج میں ٹاپ کیا تھا اور وہ انگلش میں ماسٹرز کرنے والی تھی۔ لٹریچر اور آرٹس اس کی گھٹی میں تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اس کی زیادہ تر سرگرمیاں نیویارک ٹائمز جیسے اداروں کے لیے کالم لکھنے اور کسی کتاب پر تبصرہ کرنے کے گرد گھومتی تھیں۔

تھیٹر کے ڈراموں میں بھی وہ ضرور حصہ لیتی تھی۔ کبھی رائٹر بن جاتی تھی۔ کبھی ڈائیریکٹر بن جاتی تھی۔ ممی شکایت لے کر ڈیڈی کی خدمت میں پیش ہو جاتی تھیں۔

’’ناب کو سمجھائیں۔ ہر چیز کرنا یا سیکھنا ضروری نہیں ہوتا۔ پرفیکٹ نہ ہونا بھی ایک حسن ہوتا ہے۔ اور لڑکیوں کو اتنے سارے ہنگاموں میں حصہ نہیں لینا چاہیے۔‘‘ ڈیڈی نے گلاسز کے اوپر سے ممی کی پریشان صورت دیکھ کر فلک پھاڑ قہقہہ لگایا تھا۔

’’ایک ایسی ٹرامازدہ ماں مت بنو کہ جس نے اپنی زندگی میں کبھی کچھ نہیں کیا۔ اور وہ اب بیٹیوں کی زندگی اور خوابوں کی راہ میں روڑے اٹکا رہی ہے۔‘‘ ڈیڈی کا مذاق مذاق میں کہا گیا وہ جملہ ممی کو بہت چبھا تھا۔

وہ کچھ کہے بغیرپلٹ گئی تھیں۔پھربعدمیں انہوں نے کیلاش فیسٹیول میں گھڑ سواری مقابلے میں حصہ لینے پر بھی درنایاب کو نہیں ٹوکا تھا۔ اور پھر مقابلہ جیتنے کے بعد اسے چیئر اپ بھی کیا تھا۔ فاطمی بوا بھی درنایاب کے صدقے واری جاتی تھیں۔

’’جس گھر میں جائو گی بٹیا .اجالا کر دو گی۔‘‘

شبی کو درنایاب کے حوالے سے یہ موضوع کافی حیران کن لگا کرتا تھا اور اس نے ایک شام کھانے کی میز پر چائنیز سوپ پیتے ہوئے شگوفہ چھوڑا تھا۔

’’کیا ناب شادی بھی کرے گی ؟‘‘

نایاب کو ٹھسکا لگا تھا۔ ڈیڈی نے بمشکل ہنسی دبائی تھی۔ اورممی کو تو جی بھرکر غصہ آیا تھا۔ کبھی کبھی شبی چھوٹا بچہ بن جاتی تھی۔ جسے مار کی ضرورت تھی۔

’’خچر گھوڑوں کے ساتھ رہ رہ کر لگتا ہے تمہاری عقل بھی گھاس چرنے چلی گئی ہے۔ یقینی بات ہے کہ نایاب کی شادی ہو گی۔ وہ ایک فیملی بنائے گی۔‘‘

’’لیکن رشتہ کہاں ہو گا ؟ دولہا بھائی کہاں سے آئیں گے؟‘‘شبی کو اب صحیح معنوں میں تشویش ہونا شروع ہو گئی تھی۔ جبکہ جس کی شادی اور رشتے کی تفصیلات گول میز کانفرنس پر ڈسکس ہو رہی تھیں۔ اسے چنداں بھی فکر پریشانی نہیں تھی۔

ڈیڈی نے جیسے راز اگلا تھا۔

’’میرے ایک دوست کا بیٹاابھی لندن سے اپنی انجینئرنگ کی اسٹڈیز مکمل کر کے آیا ہے۔ دوست نے بھی اشاروں کنایوں میں ذکر کیا ہے۔ مجھے لگتا ہے ہمیں ایک بار اس بارے میں ضرور سوچنا چاہیے۔‘‘

ممی اور ڈیڈی کچھ دنوں کے بعد ڈیڈی کے دوست سے ملے تھے اور واپسی پر ممی نے عباد کی تعریفوں میں زمین آسمان ایک کر دیئے تھے۔ یہاں تک کہ عباد کے ذکر کی محفل میں شبی اور درنایاب کانوں پر ہاتھ دے کر کھسک جاتی تھیں۔ ان کے خیال میں یہ موضوع اب ’’بور‘‘ ہو چکا تھا۔

ممی نے آنے والے وقت کے پیش نظر درنایاب کو ،فاطمی بوا کے سپرد کر کے کچن کے سارے کاموں میں بھی طاق کر دیا تھا اور یہاں بھی ان کی لاڈلی نے انہیں مایوس نہیں کیا تھا۔

وہ دیسی ،انگریزی ، تھائی چائنیز سب بنانا دنوں میں سیکھ گئی تھی۔ بس ممی کو کبھی کبھی اس کے میٹھا بنانے سے خوف آتا تھا۔

میٹھا کھانا بھی درنایاب کے لیے منع تھا۔ بچپن سے ہی شوگرکا استعمال اس کے وزن میں اضافے کا سبب بن جاتا تھا۔ اور یہی وجہ تھی کہ وہ شرفوچچا سے چھپ چھپ کر اخروٹ کے حلوے خرید کر مزے سے کھایا کرتی تھی۔

دوستوں کے جھرمٹ تک اس کے رشتے اور پروپوزل کی باتیں پہنچ گئی تھیں۔ وہ ساری اس کے پیچھے پڑ گئی تھیں۔

’’کون ہے ۔ کیسا ہے ؟‘‘

درنایاب نے بھی ان کے ارمانوں پر پانی پھیرنے کی ٹھان لی تھی۔ ’’ٹام کروز جیسا ہے۔‘‘

’’اوہ مائی گڈنیس .ہینڈسم اور ٹال ہو گا پھر تو؟‘‘

’’ہاں بہت ہمارے گھر کے سامنے بانس کے جنگل میں جو بانس ہیں ان کے قد برابر ہو گا۔‘‘

اس بات پر تو سارے گروپ میں جیسے کھلبلی سی مچ گئی تھی۔

’’اوف. اوف.ظالم کرتا کیا ہے ؟‘‘

فاطمی بوا کا چوری چھپے لنچ باکس میں رکھ کر دیا گیا گلقند اڑاتے ہوئے اس نے ہنس کر دوستوں کا رہا سہا اطمینان بھی غارت کیا تھا۔

’’سول انجینئرنگ کی ہے۔ وہ بھی لندن کی بہت بڑی یونی ورسٹی سے۔ اسکالرشپ پر آج کل گورنمنٹ کے ایک بڑے کنسٹرکشن کے پراجیکٹس دیکھ رہے ہیں۔ وہ بھی ہیڈ کی پوزیشن پر.کافی اتھارٹی ہے ان کے پاس ۔‘‘

’’تمہارے پاس فوٹوالبم تو ہو گا کوئی ؟‘‘

’’نہیں تو. بہت براڈ مائنڈڈ ہیں دونوں فیملیز توضرورت محسوس نہیں ہوئی کیونکہ ڈائریکٹ ملاقات طے پائی ہے۔‘‘

ملاقات کی بات پر تو چراغوں سے روشنیاں ہی غائب ہو گئی تھیں۔

وہ سب کا سکون اڑا کر، ہنستی مسکراتی جب گیلی سیلی سڑکوں سے ہوتی ہوئی کاٹیج پہنچی تھی تو سامنے ہی گھر کے پھاٹک پر موٹرکار کھڑی تھی۔ وہ بھی کیٹس کی نظم گنگناتی ہوئی اندر داخل ہو گئی تھی۔ کیونکہ اکثر و بیشتر ڈیڈی کے مہمان آئے رہتے تھے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی شاید زیادہ مصروف ہو گئی تھی۔

جیسے ہی وہ اپنا چھاتا، دیوار پر لگے کھونٹے پر لٹکاتی اندر داخل ہوئی تھی تو ڈیڈی کے ساتھ سامنے ہی ٹام کروز عباد بیٹھا ہوا تھا۔

تھری پیس سوٹ میں ملبوس اور کسی امپورٹڈ پرفیوم میں مہکا ہوا، مرد پہلی بار درنایاب کی دھڑکنوں کو زیرو زبر کر گیا تھا۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ جس کے بارے میں بہت سارے جھوٹ گھڑ کر اس نے دوستوں کوسنائے تھے ،وہ سارے سچ بن کر یوں سامنے آجائے گا۔ ممی بھاپ اڑاتی چائے اور لوازمات کی ٹرالی گھسیٹتی ہوئی اندر آئی تھیں اور بڑی بیٹی کو بت بنا دیکھ کر ٹھٹک گئی تھیں۔

’’ارے ناب، شکرہے تم آ گئیں۔ دیکھو تو آج پھر بارش ہو گئی۔ ہم تمہیں ہی یاد کر رہے تھے۔ عباد بھی ابھی آیا ہے۔ پاس ہی کہیں کام سے آیا تھاتوخاص طور پرمجھ سے ملنے آیا ہے۔‘‘

وہ ہاتھ مسلتی ہوئی وہیں بیٹھ گئی تھی۔ لیکن اس کی توقعات کے برعکس سامنے والا سلام کے بعد بالکل ہی لاپرواہ ہو کر ،ڈیڈی سے باتوں میں مشغول ہو گیا تھا۔ بالوں پر ہلکی ہلکی بارش کے قطرے ٹھہرے تھے۔ گہرے کیمل کلر کی ٹائی پہنے وہ جب وقفے کے بعد ہنستا تھاتو ٹام کروز ہی لگتا تھا۔

خوشبوئوں کی دیوانی، درنایاب نے اس کے پرفیوم کی مہک کو چند فٹ کے فاصلے پر بیٹھے بیٹھے اندر کہیں اتارا تھا۔ موسم کے پیش نظر باہر تاریکی چھائی تو ممی نے زرد روشنیاں جلا دی تھیں۔

بلبوں کی روشنی میں عباد کی رسٹ واچ کا ڈائل چمک کر دیوار پر ایک روشنی کی لکیر بنا رہا تھا۔ وہ بھاپ اڑاتی چائے لیے یہ آنکھ مچولی دیکھتی رہی تھی۔ تعلیمی سرگرمیوں کے بعد اب کہیں جا کر درنایاب کی زندگی میں عباد کی صورت میں ایک دلچسپی آئی تھی۔

٭٭٭

برف برف سا دن تھا۔ سرد سرد سا۔آس پاس جنگل تھا۔ دیودار اور چیڑ کے اونچے اونچے فلک بوس درختوں کے درمیان ،وہ تینوں سیدھ میں چلتے ہوئے جا رہے تھے۔ پچھلے دو تین دنوں سے برفباری بھی مسلسل ہو رہی تھی۔ برف کے گولے آسمان سے ٹھاٹھا کر کے گرتے تھے۔

عباد کریم نے آج ،سیاہ شلوار قمیص کے ساتھ بھورے رنگ کا کوٹ پہنا ہوا تھااور گلے کے گرد نفاست سے مفلر جما رکھا تھا۔ پرفیوم کی خوشبو وہی پرانی تھی جو درنایاب کے حواس گم کرنے کے کام آتی تھی۔

وہ اور ڈاکٹرشبانہ آگے آگے چل رہے تھے شبانہ ،کسی ماہر ٹور گائیڈ کی طرح عباد کو آس پاس کی معلومات سے آگاہ کر رہی تھی۔ درنایاب دونوںکے پیچھے پیچھے ان کے قدموں کے نشانوں پر پیر رکھتے ہوئے آ رہی تھی۔ اس نے بھی جینز پر لمبا سا چکن کاری کا کرتا پہن کر اوپر لمبا فروالا کوٹ پہن لیا تھا۔

کانوں میں گولڈ کے ٹاپس تھے ،جو ڈیڈی نے اسے کالج میں ٹاپ کرنے پر دیے تھے اور یہ ٹاپس جیولری کے ڈبے میں پڑے رہتے تھے مگر آج ممی کی خاص ہدایات پر ،اس نے کافی بحث کے بعد پہن ہی لیے تھے۔ کیونکہ وہ جان گئی تھی کہ یہ اس کی اور عباد کریم کی فیملی کی ملی بھگت تھی کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو جانچ پرکھ لیں۔ اور فاطمی بوا کی احتیاطی تدبیرکے مطابق شبی کو بھی ساتھ کر دیا گیا تھا۔ جو شاید عباد کی کمپنی کو بہت انجوائے کر رہی تھی۔

مگر یہ سلسلہ صرف تب تک جاری رہا تھاجب تک ،رستے میں انہیں خشک پتوں کے ڈھیر پر ایک نیم جاں اور زخمی گلہری نظر آ ئی تھی۔

وہ تینوں اس کے گرد بیٹھ گئے تھے۔ ڈاکٹر شبانہ نے الٹ پلٹ کر اس کے جسم کی حرارت کو محسوس کیا تھا۔

’’سانس چل رہی ہے۔ زخمی بھی ہے اور اندرونی چوٹ آئی ہے ۔ لگتا ہے ٹھنڈ میں برف کی وجہ سے سانس لینے میں دقت ہے۔ آپ دونوں ایک دوسرے کو کمپنی دیں میں اسے لے کر گھر جاتی ہوں۔ اسے فوری فرسٹ ایڈ دینا ہو گی۔‘‘

شبی نے زخمی گلہری کو اپنے اسکارف میں لپیٹ کر، ہاتھ میں چائے کا تھاما ہوا تھرماس درنایاب کے حوالے کر دیا تھا۔ ساتھ چائے کے کپ بھی تھے۔ جو ڈیڈی کے دوست خاص طور پر جاپان سے لائے تھے اور ممی نے سنبھال کر وہ ٹی سیٹ رکھ لیا تھا۔ اور آج ٹام کروز عباد کریم کی وجہ سے وہ ٹی سیٹ استعمال میں آیا تھا۔

شبی تیزی سے اپنے زخمی مریض کے ساتھ گھر کی طرف پلٹ گئی تھی۔ اب آسمان کی اونچائیوں کی چھوتے ہوئے درختوں کی چوٹیاں تھیں اور وہ دونوں تھے۔ دونوں سکون سے آگے بڑھتے گئے۔

دیودار کی چوٹیوں سے ،برف کے گولے ٹوٹ کر دونوں کے سروں پر گرے تھے۔ ایک بہت لطیف سا احساس تھا۔ دونوں اونچا اونچا ہنس دیے تھے۔

سرد سرد ماحول میں وہ ہنسی ،گھرواپسی کے سفر پر روانہ ڈاکٹر تک بھی پہنچی تھی۔ وہ اپنی گلہری سمیت ٹھٹک کر رکی تھی اور پھر سر جھٹک کر آگے بڑھ گئی تھی۔ شاید دونوں کی کیمسٹری میچ کر گئی تھی ،تب ہی سنسان بن میں دونوں چہچہا رہے تھے۔ انسان ایسی ہی مخلوق ہے۔ حیران کن اور عجیب و غریب۔

دونوں ہم قدم تھے۔ عباد نے کسی شاخ کو دھیرے سے چھیڑا تھا اور برف پھر سے پھوار کی طرح گر پڑی تھی۔

’’آپ کو بر ف کیسی لگتی ہے ؟‘‘

’’اچھی لگتی ہے ۔ سفید چادر جیسی ۔ روشن روشن۔‘‘

’’مجھے بھی اچھی لگتی ہے۔ بہت مسٹری ہوتی ہے برف میں۔‘‘

’’مسٹری؟‘‘

’’ہاں جب ہم چھوٹے تھے تو برف کے میدانوں میں ہائیڈ اینڈ سیک (آنکھ مچولی) کھیلتے تھے۔درختوں کے پیچھے چھپ جاتے تھے۔ ہم نے تو بہت بار سفید ریچھ بھی دیکھے ۔‘‘

وہ حیران حیران سی نظر آتی تھی۔ کتنا دلچسپ تھاناں یہ سفید ریچھ کا قصہ بھی. اور نیا بھی ۔

’’آپ کو ڈر نہیں لگتا تھا؟‘‘وہ پریشانی سے پوچھ رہی تھی۔ وہ کندھے اچکا کر رہ گیا تھا۔ جیسے معمولی بات ہو۔ بہت معمولی۔

’’نہیں تو. مجھے تو خود شکار کا بہت شوق رہا ہے۔‘‘

’’ڈیڈی اور ان کے دوست بھی شکار کو جاتے ہیں۔ مگر مجھے یہ چیز کبھی اچھی نہیں لگتی ۔‘‘

’’مگر کیوں ؟‘‘ اب وہ اسے غور سے دیکھنے پر مجبور ہوا تھا۔ ایک دم سے وہ عام لڑکیوں جیسی بن گئی تھی۔

درنایاب نے تھرماس کو بہت احتیاط سے تھاما ہوا تھا۔

جانے اور ان دونوں نے کتنا چلنا تھا۔ جنگل کے رستے بھی تو بہت عجیب ہوتے ہیں۔ یا ختم ہو جاتے ہیں۔ یا شروع ہو جاتے ہیں۔

’’جانوروں کی بھی تو فیملی ہوتی ہے۔ ان کے بھی تو بچے ہوتے ہیں۔ شکار ظالم چیز ہے ایک فیملی کو ختم کر کے رکھ دیتا ہے۔ جیسے ہم کھانے کی میز پر اپنے کسی گھر والے کے منتظر ہوتے ہیں۔ یہ بھی تو ایسے ہی ایک دوسرے کے منتظر ہوتے ہوں گے ناں ۔‘‘

عباد کریم ٹھٹک گیا تھا۔ اسے تو اپنے سرکل سے پتا چلا تھا کہ درنایاب ایک پریکٹیکل مائنڈڈ لڑکی ہے جو اپنی میچوریٹی اور صلاحیتوں کی وجہ سے مشہور تھی۔ مگر اس کے سامنے کھڑی تھرماس اور کپ تھامے دیودار کے درختوں کے بیچ وہ لڑکی ،جس کی آنکھوں میں پانی تھا۔ کوئی جذباتی شخصیت تھی۔

’’چائے ہے ؟‘‘ وہ دھیرے سے اسے اس کی خیالی دنیا سے برف کی دنیا میں کھینچ لایا تھا۔

’’جی جی ہے ۔ آپ پئیں گے؟‘‘وہ خوشی خوشی پوچھ رہی تھی۔ فاطمی بوا کا مشورہ کام کر گیا تھا۔

’’ہاں ضرور۔ اگر آپ کو زحمت نہ ہو تو۔‘‘

ایک بوڑھے درخت کے تنے پر وہ بیٹھ گئے تھے۔ دور تک خشک پتے برف میں دھنس گئے تھے۔ برف کی مخصوص مہک پھیلی ہوئی تھی۔ تھرماس کی تیز دھار سے بھاپ اڑاتی چائے کپ میں انڈیل کر اس نے عباد کی طرف بڑھائی تھی۔ اور پھر اپنے لانگ کوٹ سے الائچی نکال کر بھی ڈال دی تھی۔ وہ دھیرے سے ہنسا تھا۔

’’کیا ہوا .؟آپ ہنس رہے ہیں؟‘‘ اس نے اسے ہنستے ہوئے دیکھ لیا تھا۔

عباد نے کپ تھام لیا تھا۔ درخت کے تنے کے دوسرے کنارے پر وہ اپنا کپ تھامے احتیاط سے ٹک کر بیٹھ گئی تھی۔

’’ہاں.؟‘‘وہ پھر ہنسا تھا۔

’’مگر کیوں ؟‘‘

’’میرے آس پاس لوگ آپ کو آپ کی دوسری بہت ساری خوبیوں کی وجہ سے جانتے ہیں۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ آپ کی یہ سائیڈ کسی نے آج تک نہیں دیکھی ہوگی۔‘‘چائے کی چسکیاں لیتی اس بار ہنسنے کی باری درنایاب کی تھی۔

’’کیا ہوا ؟ ہنس رہی ہیں آپ ؟‘‘

’’جی ہاںمجھے ہنسی آ رہی ہے۔‘‘

’’مگر کیوں؟‘‘

’’اس لیے کہ ہر کوئی یہ کیوںسوچتا ہے کہ وہ کسی بھی انسان کو مکمل جاننے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ جبکہ ہم کبھی کبھی اپنی فیملی کے لیے بھی اجنبی ہوتے ہیں۔ ہر انسان کے اندراس کی ذاتی کائنات موجود ہوتی ہے جو ہر کسی پر نہیں کھلتی ۔‘‘

وہ چائے کے ساتھ ساتھ ،اپنے سے کچھ فاصلے پر بیٹھی ہوئی اس لڑکی کی باتوں سے بھی محظوظ ہو رہا تھا۔

’’آپ ہمیشہ ہی ایسی باتیں کرتی ہیں؟‘‘

وہ چونک گئی تھی۔ سرد ہوا کی لہر چلی تو اس نے گرما گرم کپ کے گرد ہاتھ باندھ لیے تھے۔

’’کیسی باتیں؟‘‘

’’گہری گہری باتیں.‘‘

’’انگلش لٹریچر پڑھنے والی ایسی باتیں نہیں کرے گی تو کون کرے گا؟ جیسے آپ جیسے انجینئراینٹ گارے سیمنٹ پتھر اور عمارتوں کی بات کر سکتے ہیں۔ تو ہم بھی کائنات قدرت اور فطرت کی بات کر سکتے ہیں۔‘‘

اچھی طرح جتا کر وہ خاموش ہو گئی تھی۔ وہ چپ چاپ چائے پیتا رہا تھا۔ اس کا مطلب تھا بحث کرنے کے فن میں بھی وہ طاق تھی۔

’’چائے اچھی ہے ۔ اور یہ الائچی نے اس کا ذائقہ دوبالا کر دیا ہے۔‘‘

’’شکریہ . میں نے بنائی ہے۔‘‘

’’توآپ کوکنگ بھی کر لیتی ہیں کیا؟‘‘تھرماس والی لڑکی نے اب کی بار خوشبوئوں میں مہکتے سیاہ لباس والے شخص کو کسی قدر ناراضی سے دیکھا تھا۔

’’آج شام کے کھانے پر جو فرائیڈ فش. اسٹیم روسٹ چکن اور آئس کریم آپ کھائیں گے۔ وہ بھی میں نے ہی بنائی ہے۔‘‘

وہ پھر سے ہنس پڑا تھا۔ بس یونہی پہلے پہل وہ کتنی بورسی لگی تھی۔ مگر وہ اس کے اندازوں کے برعکس نکلی تھی۔ واقعی دیکھنے سننے والے کسی کو کتنا ہی جان سکتے ہوں گے؟

دونوں اب واپسی کی طرف آ رہے تھے۔ یونہی چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے ہوئے۔

یہاں تک کہ وہ دونوں ایک برف کے ڈھیر کے پاس رک گئے تھے۔

وہ وہیں بیٹھ گئی تھی۔ برف اکٹھی کرنے لگی تھی۔ جیسے صدیوں سے اس کا یہی مشغلہ رہا ہو۔

اب وہ دھیرے دھیرے برف کا آدمی بنا رہی تھی۔

’’آپ کو اچھا لگتا ہے سنو مین بنانا؟‘‘

’’مجھے نہیں شبی کو اچھا لگتا ہے۔ وہ یہی سوچ کر ہمارے ساتھ آئی تھی کہ وہ سنو مین بنائے گی مگر اسے اپنے پیشنٹ کی وجہ سے ایمرجنسی میں واپس جانا پڑا۔‘‘

’’پیشنٹ ؟ آپ کا مطلب وہ گلہری؟‘‘

عباد کریم حیران نظر آتا تھا۔ اور برف کے آدمی کے کان بناتی ہوئی وہ پر سکون لگتی تھی۔

’’ہاںپیشنٹ جانور بھی تو مریض ہوتا ہے۔ آپ کو اتنا حیران نہیں ہونا چاہیے۔ آخر کب ہم جانوروں کے حقوق کو تسلیم کرنا نارئیلائز کریں گے۔‘‘ وہ بھی وہیں پاس سر ہلاتا ہوا درنایاب کے پاس بیٹھا ہوا برف کا آدمی بنانے میں مدد کرنے لگا تھا۔ برف پرانی تھی۔ بار بار گھل رہی تھی۔

کافی کوششوں کے بعد برف کا آدمی بن گیا تھا۔ صحیح سلامت جس کے ہاتھ ، کان اور آنکھیں پوری تھیں۔

درنایاب نے خشک پتوں سے اس کے سر کے بال تک بنائے تھے۔

عباد کریم نے فوٹوکھینچ کر فون گیلری میں محفوظ کر لیے تھے۔ وہ دونوں اب تھرماس تھامے واپس جا رہے تھے۔

’’ویسے ایک بات کہوں؟‘‘

’’جی کہیں.‘‘

’’بہت دلچسپ گزرے گی آپ کے ساتھ زندگی ۔‘‘

وہ گڑبڑا گئی تھی۔ سرد سرد موسم میں یہ حرارت بھرے لہجے ڈگمگانے آ گئے تھے۔

’’چلیں . آج اپنا کوئی ایسا سیکرٹ شیئر کریں جو کسی کو پتا نہ ہو؟‘‘

عباد کریم نے چیڑ کے درخت سے ٹیک لگالی تھی۔ وہ سوچ میں پڑ گئی تھی۔

’’میں ممی سے چھپ چھپ کر شرفوچاچا سے اخروٹ کا حلوہ لے کر کھاتی ہوں۔ اور پتا ہے ہمارے باغیچے میں چیری کے درختوں پر پرندے آتے ہیں۔‘‘ وہ شوق سے بتا رہی تھی۔ وہ شوق اور دلچسپی سے سن رہا تھا۔

تب ہی جانے کیا سوچ کر درنایاب نے پوچھ لیا تھا۔

’’آپ نے کسی سے محبت کی ہے ؟ میرا مطلب ہے کبھی آپ کے دل میں کوئی آیا؟‘‘ عباد کریم کو اس سوال کی ہر گز بھی توقع نہیں تھی۔ وہ سنجیدہ تھی۔

اس کی دوستوں کے گروپ میں ایسے ہی سوال و جواب ڈسکس ہوتے تھے۔ لا شعور میں چھپا ہوا وہ سوال سامنے آ گیا تھا۔

’’نہیںمجھے پہلے کبھی محبت نہیں ہوئی۔ اور نہ ہی میرے دل میں کوئی آیا ہے۔‘‘

یہ کہہ کر عباد آگے بڑھ گیا تھا۔ وہ بھی پیچھے پیچھے مطمئن سی چہرے پر مسکراہٹ لیئے آگے بڑھ رہی تھی۔ عباد کے برف پر نشان چھوڑتے قدموں پر قدم رکھتے ہوئے ! پیچھے. تھوڑا سا اور پیچھے۔ خشک پتوں کے ڈھیر کے پاس۔

درنایاب کے بنائے گئے برف کے آدمی کا دھڑ ٹوٹ گیا تھا۔

٭٭٭

اور پھر ایک سوال کے جواب پر یقین کر کے درنایاب نے زندگی کے پانچ سال گزار دیے تھے۔ یہی کہ عباد کے دل میں کوئی اور نہیں ہے۔ عباد کو کسی اور سے محبت بھی نہیں ہے۔ یہ الگ بات تھی کہ عباد کو محبت تو اس سے بھی نہیں تھی۔

دنیا کے لیے وہ ایک آئیڈیل کپل تھے۔ پرفیکٹ۔

پانچ سالہ شادی شدہ زندگی میں مومی کی پیدائش کے ساتھ وہ کسی پنڈولم کی طرف صرف اپنے شوہر کے گرد گھومتی تھی۔ میکے کا رخ کرنا بھول جاتی تھی۔ ممی اور شبی کے بہت اصرار کے باوجود بھی وہ رات رکنے کا اہتمام نہیں کرتی تھی۔

مومی بچپن سے ہی خاص بچی تھی۔ ڈاکٹرز کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی قوت گویائی لوٹ آئے گی۔ چار سال ہونے کو آئے تھے مگر وہ اب بھی اشاروں میں بات کرتی تھی۔

درنایاب اپنی اولاد اور اپنے شوہر پر جان دیتی تھی۔ یہ دیکھنے والے کہتے تھے۔ اور عباد کریم فخر سے سر اونچا کیے یہ تعریف وصول کرتا تھا۔ کہ جیسے یہ اس کا حق ہو۔ اس جیسے مرد کا حق کہ اس کی زندگی میں آنے والی عورت اس کے لیے اپنا آپ تیاگ دے۔ جیسے درنایاب نے یہی کیا تھا۔

ڈیڈی اور ڈاکٹر شبی کو اس سے بہت شکایتیں تھیں۔

’’یہ تم ہو ناب ؟ کیا سے کیا ہو گئی ہو ؟ تم ایسی تو نہیں تھیں؟‘‘

’’کیسی . کیسی ہو گئی ہوں؟‘‘

’’تم نے بال ڈائی نہیں کروائے۔ مینی پیڈی کروائے کتنا عرصہ ہو گیا ہے۔ صرف یک طرفہ محبت پر سانس لے رہی ہو تم ۔ عباد بھائی کو دیکھو کیسے سوٹڈ بوٹڈ رہتے ہیں۔‘‘

’’میں خیال رکھتی ہوں عباد کا ۔ اس کی ہر ہر چیز کا ۔ ٹائی سے لے کر ٹائی پن تک ۔ شوز سے لے کر شوپالش تک ۔ شرٹ کی کریز تک۔‘‘ شبی نے اسے پاس بٹھایا تھا۔ بڑی بہن کے چہرے پر بہت ساری تھکان جمع تھی۔

’’کب تک ؟ آخر کب تک ؟‘‘

وہ نظریں چرا گئی تھی۔ ہمیشہ کی طرح یہ موضوع ہی کچھ ایسا تھا۔

’’عباد نے مجھے کہا تھا اس کے دل میں کوئی نہیں ہے۔ اسے کسی سے محبت نہیں ہوئی۔‘‘

’’مگر انہیں تم سے بھی محبت نہیں ہے۔ تم بھی تو ان کے دل میں نہیں ہو۔‘‘

’’کبھی تو میں ان کا دل جیت لوں گی شبی۔ کبھی تووہ دن ضرور آئے گا۔‘‘

وہ جگنو جیسی جگمگ کرتی آنکھیں لے کر بیٹھی ہوتی تھی۔

’’پانچ سال بیت گئے ہیں۔ دل میں جگہ بنانے اور خندق کھودنے میں بھی اتنا وقت نہیں لگتا۔ تم نے ہمیشہ عباد کے لیے کوششیں کی ہیں۔ اپنی پسند نا پسند پر کمپرومائز کیے ہیں۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ تم بالکل ہی عباد بھائی بن گئی ہو۔ ان کی کاربن کاپی۔‘‘

وہ آئینے کے سامنے کھڑی پہروں خود کو دیکھتی رہی تھی۔

آئینے میں عباد ہی عباد نظر آتا تھا۔

٭٭٭

رات کے پچھلے پہر کی خاموشی میں گھر کی دیواریں جیسے سانس لے رہی تھیں۔سردیوں کی ہلکی دھند کھڑکی کے شیشوں سے چمٹ کر اندر کی پیلی روشنی کو مدھم کر رہی تھی۔ ڈرائنگ روم کی گھڑی کی ٹک ٹک اس گھر کی واحد باقاعدہ آواز تھی۔ وہی گھر جس میں پانچ برس سے درنایاب نے اپنی ہنسی ، اپنی نیند ، اپنی خواہشیں آہستہ آہستہ رکھ دی تھیں۔ صرف اس امید پر کہ کبھی تو عباد کے دل کے بند دریچے کھلیں گے۔

کچن سے ہلکی سی الائچی اور دار چینی کی خوشبو اٹھ رہی تھی۔ چولہے پر چائے دھیمی آنچ پر رکھی تھی۔ درنایاب نے چمچے سے اسے آہستہ آہستہ ہلایا جیسے چائے نہیں، اپنے دل کی بے قراری کو ہموار کر رہی ہو۔ اس کے ہاتھوں کی حرکت میں مہارت تھی۔ وہی مہارت جو کبھی اس کی شناخت تھی۔ کالج کی ذہین ترین طالبہ ، مباحثوں کی فاتح ، گھر سنبھالنے میں ماہر، ہر کام میں سلیقہ مند، مگر شادی کے پانچ برسوں نے اس کی تمام کامیابیاں جیسے کسی صندوق میں بند کر دی تھیں۔

آج اس نے خاص اہتمام کیا تھا۔ عباد کی پسند کی سفید قمیص استری کر کے بستر پر رکھی تھی۔ ڈائننگ ٹیبل پر اس کے پسندیدہ برتن سجادیے تھے۔ وہ چاہتی تھی کہ آج کی رات مختلف ہو۔ آج وہ عباد سے بات کرے گی۔ صاف ، بے لاگ، دل کی بات۔

دروازہ کھلا۔ عباد اندر آیا۔ حسب معمول تیز قدم ، سیدھی گردن ، آنکھوں میں وہی خود اعتمادی جو کبھی درنایاب کو مسحور کر دیتی تھی اور اب کبھی کبھی اسے چبھنے لگتی تھی۔ اس نے کوٹ صوفے پر ڈالا اور بغیر ادھر ادھر دیکھے بولا تھا۔

’’درنایاب ! پانی ۔‘‘

درنایاب فوراً لپکی ۔ ٹرے میں گلاس رکھا اور اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔ اس کی آنکھوں میں ایک ہلکی سی چمک تھی جیسے کوئی بچہ اپنی محنت کا نتیجہ دیکھنے کو بے تاب ہو۔

’’آج آپ تھک گئے ہوں گے؟‘‘ اس نے نرمی سے پوچھا۔

عباد نے گلاس ہونٹوں سے لگاتے ہوئے سرسری سا جواب دیا تھا۔

’’میٹنگ تھی۔ تم نہیں سمجھو گی۔‘‘

یہ جملہ درنایاب نے سینکڑوں بار سنا تھا۔ تم نہیں سمجھو گی۔

وہ جو کبھی مشکل سے مشکل دلیل کو چند منٹوں میں کھول کر رکھ دیتی تھی۔ آج اپنے ہی شوہر کی زندگی کو نہ سمجھنے والی قرار دی جاتی تھی۔وہ مسکرائی۔ ’’کوشش تو کر سکتی ہوں نا عباد ؟‘‘

عباد نے پہلی بار اس کی طرف دیکھا۔ نظر میں ہلکی سی ناگواری تھی۔

’’درنایاب ! ہر بات میں گھسنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ گھر سنبھالو، وہی کافی ہے۔‘‘

یہ جملہ نرم لہجے میں تھا۔ مگر اس کے اندر حکم کی سختی تھی۔

درنایاب کے ہاتھ میں پکڑی ٹرے کا کنارہ لرز گیا۔ مگر اس نے خود کو سنبھالا۔ وہ جانتی تھی ، اگر اس نے اس وقت کچھ کہہ دیا تو عبادا سے ، ڈرامائی قرار دے گا ۔ ڈائننگ ٹیبل پر کھانا لگا۔ عباد نے ایک نوالہ لیا سر ہلایا۔

’’نمک تھوڑا کم ہے۔‘‘

درنایاب نے فوراً معذرت کی تھی۔

’’میں ابھی ٹھیک کر دیتی ہوں۔‘‘

’’چھوڑو۔‘‘ عباد نے بے دلی سے کہا۔ ’’ویسے بھی تم پر فیکشنسٹ بننے کی کوشش میں اکثر گڑبڑ کر دیتی ہو۔‘‘

درنایاب کے ذہن میں جیسے کوئی پرانا دروازہ چرچرا کر کھلا۔

پرفیکشنسٹ؟ وہ تو واقعی تھی کبھی۔ جب وہ اپنے لیے جیتی تھی۔

وہ کرسی کھینچ کر اس کے سامنے بیٹھ گئی۔ آج وہ خاموش نہیں رہے گی۔ آج نہیں۔

’’عباد میں آپ سے کچھ پوچھوں؟‘‘

’’ہمیشہ پوچھتی ہی رہتی ہو۔ پوچھ لو ۔‘‘

’’کیا . کیا میں واقعی آپ کے لیے کافی نہیں ہوں؟‘‘

کمرے کی فضا جیسے اچانک ساکت ہو گئی۔ گھڑی کی ٹک ٹک تیز سنائی دینے لگی۔

عباد ،نے چونک کر اسے دیکھا ، پھر ہلکی سی ہنسی ہنسا۔

’’یہ پھر شروع ہو گیا ؟ درنایاب تمہیں مسئلہ کیا ہے؟ میں تمہیں سب کچھ تو دیتا ہوں۔ اچھا گھر، آرام، عزت اور کیا چاہیے؟‘‘

درنایاب کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی مگر اس نے آواز کو مضبوط رکھا۔

’’مجھے آپ چاہیے تھے عباد۔ صرف آپ . آپ کی توجہ ۔ آپ کی محبت ۔ آپ کا مان۔ پانچ سال ہوگئے ہیں۔ میں نے کبھی شکایت نہیں کی۔ آپ کی پسندکے کپڑے پہنے۔آپ کے سرکل کے سامنے آپ کی پسندکے مطابق خود کوڈھالا۔ اپنی نوکری چھوڑی دی کیونکہ آپ کوپسند نہیں تھا کہ میں باہر کام کروں۔ میں نے اپنی ہر کامیابی کو آپ کے قدموں میں رکھ دیا۔ مگر کبھی آپ نے .کبھی آپ نے مجھے ویسے دیکھا جیسے میں آپ کو دیکھتی ہوں؟‘‘

عبادکے چہرے پر ناگواری گہری ہو گئی۔

’’یہ جذباتی تقریریں مجھے پسند نہیں۔ تم نے جو کیا اپنی مرضی سے کیا۔ میں نے زبردستی نہیں کی تھی۔‘‘

’’مگر آپ کی خوشی میری مرضی بن گئی تھی عباد!‘‘ درنایاب کی آواز پہلی بار بلند ہوئی۔ ’’میں آپ سے محبت کرتی ہوں۔ بہت زیادہ ۔ شاید اتنی کہ خود کو بھول گئی۔‘‘ عباد نے کرسی پیچھے دھکیلی اور کھڑا ہو گیا۔

’’محبت کا مطلب یہ نہیں کہ تم مجھے کٹہرے میں کھڑا کر دو۔ میں جیسا ہوں ویسا ہوں۔ مجھے بدلنے کی کوشش مت کرو۔‘‘

درنایاب بھی کھڑی ہو گئی۔ اس کے وجودمیں پہلی بار کوئی نئی طاقت جاگ رہی تھی۔

’’میں آپ کو بدلنا نہیںچاہتی۔ میں صرف یہ چاہتی تھی کہ آپ مجھے قبول کریں۔ میری ذہانت کو، میری رائے کو، میرے وجود کو۔ میں صرف ایک سجی ہوئی بیوی نہیں ہوں عباد۔ میں درنایاب ہوں وہی لڑکی جو کبھی اپنے خوابوں پر یقین رکھتی تھی۔‘‘

عبادنے سردلہجے میں کہا۔’’ اگر تمہیں اتنا ہی مسئلہ ہے توخود کو بدل لو۔ ڈرامے کرنے سے کچھ نہیں ہو گا۔ ‘‘

یہ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا۔

درنایاب وہیں کھڑی رہ گئی۔ اس کے کانوں میں اس کے قدموں کی آواز گونجتی رہی پھر خاموشی چھا گئی۔

کھڑکی کے باہر دھند گہری ہو چکی تھی۔ اس نے آہستہ سے کرسی پر بیٹھتے ہوئے اپنے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا۔ آنسوبہہ نکلے .خاموش بے آواز۔پانچ سال کی محبت ، خدمت ، سمجھوتے سب اس کے سامنے تصویروں کی طرح گھومنے لگے۔ ہر وہ لمحہ جب اس نے اپنی خواہش کو مارا ،ہر وہ وقت جب اس نے عباد کی تعریف کے دو لفظوں کے لیے رات بھرجاگ کر اس کی فائلیں ترتیب دیں ،ہر وہ دن جب اس نے خود کو آئینے میں دیکھ کر سوچا۔ شاید آج وہ مجھے دیکھ لے۔ وہ آہستہ سے بڑبڑائی تھی۔

’’کیا محبت واقعی اتنی کمزور ہوتی ہے یا میں نے خود کو بہت سستا کر دیا ؟‘‘

کمرے کی خاموشی نے کوئی جواب نہ دیا۔

یہ معمول کی بات تھی۔ ہر روزیہی توہوتا تھا اور بات ختم ہو جاتی تھی۔ مگر عجیب بات یہ تھی کہ بات جہاں ختم ہوتی تھی ،وہیں سے دوبارہ شروع بھی ہو جاتی تھی۔

عباد کریم کے سامنے درنایاب ایک ’’بونا‘‘ بن جاتی تھی اور بس .!

٭٭٭

شام کی ہلکی سنہری روشنی پردوں سے چھن کر ڈرائنگ روم میں پھیل رہی تھی۔ گھر آج کچھ زیادہ ہی سجا ہوا تھا۔ جیسے دیواروں نے بھی خوشی کا لباس پہن لیا ہو۔ میز پرسفید ریشمی کپڑا، اس پر سنہری کناروں والے برتن ، بیچ میں تازہ گلاب اور ان سب کے درمیان درنایاب کی محبت جو نظر تو نہیں آتی تھی مگر ہر شے میں بسی ہوئی تھی۔ وہ کچن سے آخری ڈش نکالتے ہوئے مسکرائی۔

’’عباد خوش ہو گا۔‘‘ اس نے دل ہی دل میں سوچا۔کیونکہ آج لندن سے عباد کا دوست آ رہا تھا۔ جس کا ذکر وہ کئی بار گزرے ہوئے سالوں میں عباد سے سن چکی تھی۔

دروازے کی گھنٹی بجی۔

’’حسنات!‘‘ عباد کی آواز میں بے ساختہ جوش تھا ایسا جو درنایاب نے شاید اپنے لیے کم ہی سنا تھا۔

گلے ملنے کی آوازیں، قہقہے ، پرانی یادوں کی خوشبو۔ درنایاب ہلکے گلابی لباس میں کمرے میں آئی۔ چہرے پر نرم سی مسکراہٹ۔

’’السلام علیکم۔‘‘

’’وعلیکم السلام بھابھی ! عباد نے سچ کہا تھا آپ واقعی بہت نفیس ہیں۔‘‘

وہ شرما کر مسکرا دی۔ عباد نے ایک لمحے کو اس کی طرف دیکھا ، مگر فوراً باتوں میں کھو گیا۔ وہ لمحہ مختصر تھا مگر درنایاب کو اس کی عادت تھی۔ وہ اس کی توجہ مانگتی نہیں تھی بس اس کے آس پاس رہ کر خوش رہتی تھی۔

کھانے کی میز انواع و اقسام کے کھانوں سے سجی ہوئی تھی۔ طرح طرح کے کھانے۔ نمکین اور میٹھے کی بہت ساری اقسام ۔ دیسی اور کانٹینٹل کی ورائٹی بھی موجود تھی۔ حسنات حیران ہوا تھا۔

’’یہ سب آرڈر کیا ہے کیا ؟‘‘

’’ارے نہیں۔ درنایاب نے سب گھر پر بنایا ہے۔‘‘

حسنات نے جی بھر کر کھانا کھایا تھا۔ وہ بلا کا باتونی تھا۔ وہ ان کے لیے ڈھیروں قیمتی تحائف بھی لے کر آیا تھا۔ مومی سے تو وہ خاص طور پر پیار سے ملا تھا۔ دونوں شاید بہترین دوست تھے۔ تب ہی آج مدت بعد وہ عباد کو خوش اور ہنستا مسکراتا ہوا دیکھ رہی تھی۔ ورنہ تو اسے یہی لگا تھا کہ اینٹ ۔ گارے اور پتھر کی عمارتیں بنانے والے انسان میں وہی سختی در آئی ہے۔

وہ ڈنر کے بعد کافی بنانے کے لیے کچن میں آ گئی تھی۔ عباد اسے حسنات کی پسندیدہ کافی کے بارے میں ہدایات پہلے ہی دے چکا تھا۔

حسنات جیسے اپنے ساتھ رونق لے کر آیا تھا۔ اس کی باتوں کی آواز کچن تک سنائی دے رہی تھی۔

’’یار عباد۔ یاد ہے وہ کلچرل فیسٹیول ؟‘‘ حسنات نے ہنستے ہوئے کہا۔

’’جب تم پہلی بار اسے دیکھ کر بالکل ساکت ہو گئے تھے؟‘‘

درنایاب کے ہاتھ میں پکڑا کافی سے بھرا ہوا چمچ کپ سے ٹکرایا۔ آوازبہت مدھم تھی، مگر اس کے دل میں جیسے کوئی چیز ٹوٹ کر گری تھی۔پتا نہیں کس کی بات ہو رہی تھی۔ شاید کسی لڑکی کی۔

عباد نے پانی کا گھونٹ لیا۔

’’چھوڑو بھی پرانی باتیں ہیں۔‘‘

’’کیوں چھوڑوں؟ بھابھی کو بھی توپتا چلے کہ ہمارے دوست کی پہلی نظر کی محبت کتنی سچی تھی!‘‘

پہلی نظر کی محبت ؟ کیسی محبت ؟ کس کی کس سے محبت ؟

یہ الفاظ درنایاب کے کانوں میں گونجے۔ اس نے کبھی عباد سے اس کے ماضی کے بارے میں سوال نہیں کیا تھا۔ اسے یقین تھا کہ محبت سوال نہیں کرتی بس یقین کرتی ہے۔

مگر اگلے ہی لمحے عباد کی آواز آئی۔ گہری ، سنجیدہ ، اور سچی۔

’’پہلی نظر کی محبت بھولتی نہیں حسنات۔ کچھ چہرے دل پرایسے نقش ہو جاتے ہیں کہ وقت بھی انہیں مٹا نہیں پاتا۔ انسان زندگی گزار لیتا ہے۔ مگر دل کے کسی کونے میں وہ احساس سانس لیتا رہتا ہے۔‘‘

درنایاب کا سانس رک گیا۔

’’زندگی گزار لیتا ہے؟ تو کیا وہ درنایاب صرف زندگی گزارنے کا حصہ تھی؟‘‘

’’تومطلب آج بھی یادہے؟‘‘ حسنات نے چھیڑا۔

عباد ہلکا سا مسکرایا مگر اس کی آنکھوں میں ایک پرانی نمی جھلکی۔ ’’یادیں کبھی مرتی نہیں ہیں۔ بس ہم جینا سیکھ لیتے ہیں۔‘‘

یہ جملہ درنایاب کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو گیا۔ اسے لگا جیسے کمرے کی فضا گھٹ گئی ہو۔ سانس لینا دشوار۔ آنکھوں کے سامنے سب دھندلا سا۔

پانچ سال کیا وہ ان پانچ سالوں میں کبھی عباد کے دل تک پہنچی ہی نہیں؟

سلیب کے پیچھے کھڑی ہو کر اس نے دونوں ہاتھ سنک کے کنارے پر رکھ دیے۔ اس کی انگلیاں سرد پڑ چکی تھیں۔ اس کی آنکھوں کے سامنے ایک ایک منظر ابھرنے لگا۔ وہ لمحے جب اس نے عباد کی خاموشی کو بھی محبت سمجھ کر قبول کر لیا۔

اور آج اسے معلوم ہوا کہ اس کے شوہر کے دل میں ایک ایسا گوشہ ہے جہاں وہ کبھی داخل ہی نہیں ہوئی۔

ڈرائنگ روم سے حسنات کی آواز آئی تھی۔

’’عباد ! بھابھی بہت محبت کرنے والی لگتی ہیں۔ خوش قسمت ہو تم۔‘‘

چند لمحے خاموشی۔ طویل خاموشی لائونج میں لگے وال کلاک کی سوئیوں کی آواز درنایاب کے کانوں میں چبھنے لگی تھی۔ پانی ابلنے کی آواز تیز ہوتی گئی ۔ پھر عباد نے کہا تھا۔

’’ہاں وہ بہت اچھی ہے۔ میرے گھر والوں کی پسند ہے۔ مگر میرا یہ فیصلہ اچھا ثابت ہوا۔ ورنہ پہلی نظر کی محبت کہاں ملتی ہے۔ وہ تو کوئی خواب تھا۔ جادو تھا۔ جس کے اثر میں آج تک زندہ ہوں۔‘‘

درنایاب کے دل میں کچھ بکھر گیا۔

بہت اچھی ہے۔ بس اتنا ؟ کیا وہ صرف اچھی تھی؟ محبت نہیں تھی ؟

آنکھوں سے آنسو بے اختیار بہہ نکلے۔ اس نے جلدی سے صاف کیے چہرے پر مصنوعی سکون سجایا اور میٹھا لے کر واپس آئی۔

’’یہ لیجیے۔‘‘ اس کی آواز معمولی حد تک ہموار تھی۔

عباد نے اسے غور سے دیکھا۔شایداسے آنکھوں کی سرخی دکھائی دی مگر اس نے کچھ نہیں کہا۔

دعوت ختم ہوئی۔ حسنات چلا گیا۔ دروازہ بند ہوتے ہی گھر پر ایک بھاری خاموشی اتر آئی۔

درنایاب کھڑکی کے پاس جا کھڑی ہوئی۔ باہر اندھیرا گہرا تھا بالکل اس کے دل کی طرح۔

عباد آہستہ سے اس کے پاس آیا۔ جیسے اس نے کچھ محسوس کر لیا تھا۔

’’تم نے سن لیا تھا؟‘‘

وہ مسکرائی ۔ ایسی مسکراہٹ جو آنکھوں تک نہ پہنچی۔ ’’ہاں سنا تھا۔‘‘

’’درنایاب ! وہ بس پرانی بات تھی۔‘‘

وہ مڑی آنکھوں میں آنسوچمک رہے تھے ، مگر آواز میں صرف ٹوٹا ہوا یقین تھا۔

’’پرانی باتیں اگر دل میں زندہ ہوں توپرانی نہیں ہوتیں عباد۔‘‘

وہ چند قدم اس کے قریب آئی۔

’’میں نے کبھی تم سے تمہارا ماضی نہیں پوچھا۔ کبھی یہ نہیں جاننا چاہا کہ تم نے کس کو چاہا تھا۔ میں نے بس تمہیں چاہا ۔ پورے یقین کے ساتھ کہ کبھی تو تمہارے دل کے دروازے میرے لیے کھلیں گے۔ ٹھیک کہتی ہے ڈاکٹر شبانہ ۔ تم جیسے مرد بہت سیلف اوبسیسڈ ہوتے ہو۔ جنہیں اپنے علاوہ کوئی نظر نہیں آتا۔ تمہیں تو پہلی نظر کی محبت کے جادو نے اسیر کر لیا تھا۔ مگر میری زندگی تو تمہاری محبت کے پانچ سالوں کے جادو سے چل رہی تھی۔ افسوس وہ جادو آج ٹوٹ گیا ہے۔ اور میں حقیقت کو دیکھ پا رہی ہوں۔‘‘

اس کی آواز لرزنے لگی۔

’’مگر آج پہلی بار محسوس ہوا کہ میں تمہاری محبت نہیں .تمہاری ضرورت ہوں۔‘‘

عباد کے چہرے پر ندامت سی ابھری مگر الفاظ پھر بھی کم پڑگئے۔ درنایاب کے آنسو اب رک نہیں رہے تھے۔

’’میں نے تمہارے لیے اپنی خواہشیں چھوڑ دیں ، اپنے خواب سمیٹ دیے۔ تمہاری ہر خاموشی کو محبت سمجھ کر قبول کیا۔ مگر آج جانا کہ تمہارے دل میں ایک ایسا کمرہ ہے جہاں میرا داخلہ منع ہے ۔‘‘اس نے سینے پر ہاتھ رکھا۔ ’’یہاں بہت درد ہو رہا ہے عباد۔ ایسے جیسے کسی نے میرا یقین توڑ کر میرے ہی ہاتھ میں رکھ دیا ہو۔‘‘

کمرے کی روشنی مدھم تھی۔ اس کی سسکیاں خاموشی میں گونج رہی تھیں۔

’’میں تم سے مقابلہ نہیں چاہتی نہ اس لڑکی سے نہ تمہارے ماضی سے۔ میں بس یہ جاننا چاہتی تھی کہ میں تمہارے دل میں کہاں ہوں۔‘‘

چندلمحے دونوں کے درمیان خاموشی معلق رہی۔

’’اگر میں صرف ذمہ داری ہوںتومجھے سچ بتا دو۔ کیونکہ محبت میں بانٹا ہوا دل قبول نہیں ہوتا۔‘‘

یہ کہہ کر وہ بستر کے کنارے بیٹھ گئی۔ کندھے لرز رہے تھے۔

آج پہلی بار نایاب کو اپنی محبت کمزور نہیں خود اپنا آپ کمزور محسوس ہوا تھا۔ جیسے اس نے پانچ سال ایک ایسے درخت کو پانی دیا ہو جس کی جڑیں کہیں اور تھیں۔ اور عباد۔ وہ اس کے سامنے کھڑا تھا مگر شاید بہت دور۔

کچھ زخم خاموشی سے ناسور بن جاتے ہیں اور انسان کو اندر سے خالی کر دیتے ہیں۔

اس رات درنایاب کا دل واقعی زخمی ہوا تھا۔ صرف الفاظ سے نہیں اس احساس سے کہ جس محبت کو وہ مکمل سمجھتی تھی وہ دراصل ادھوری تھی۔

برف والے جنگل میں عبادنے جھوٹ بولا تھا۔ وہ درنایاب جس نے دوستوں میں بیٹھ کر دعوی کیا تھا کہ وہ اپنے شوہر کے دل پر حکومت کرے گی۔ وہ جیتنے اور حکومت کرنے کے لیے ہی تو بنی ہے۔ مگر وہ غلط تھی۔

شادی شدہ زندگی بھی واقعی بازی جیسی ہوتی ہے۔ کبھی جیت اور کبھی مات۔اور یہاں تو بس مات ہی مات تھی۔

یہی وجہ تھی کہ وہ آج پانچ سالہ شادی شدہ زندگی کے بعد سوٹ کیس کے ساتھ ڈیڈی کے گھر آ گئی تھی۔ اور اس نے شام کے کھانے کی میز پر سب کو بتا دیا تھا۔

ممی ، فاطمی بوا ،ڈاکٹر شبانہ ، سب نے اسے اس فیصلے سے باز رکھنے کی کوشش کی تھی۔

مگر ڈیڈی نے اس کی ٹھوڑی اٹھا کر آنسو پونچھتے ہوئے مضبوط لہجے میں کہا تھا۔

’’تم جو بھی فیصلہ کرو گی ناب .میں تمہارے ساتھ ہوں۔ لیکن سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا۔‘‘

وہ ڈیڈی سے لپٹ گئی تھی۔ خلع کے پیپرعباد کریم تک پہنچ گئے تھے۔

پریکٹیکل مائنڈڈمردچکرا کر رہ گیا تھا۔ گھرکے ہرکونے کھدرے میں نایاب تھی۔ اب صورت حال بدل گئی تھی۔

عباد کریم کو شیشے میں درنایاب نظر آتی تھی۔

اور وہ پہلی نظر کی محبت ۔ وہ دل کے کسی دوسرے تیسرے کونے میں اب بھی تھی۔ مرد کا دل اور چار خانے ۔

٭٭٭

عباد کریم کو پہلی نظر کی محبت ایک خوب صورت اور حسین شام میں آرٹس کونسل کے کلچرل ایونٹ میں ایک چہرے کو دیکھ کر ہوئی تھی۔ وہ اپنے سرکل میں بہت سنجیدہ اور بہت بور ہینڈسم کے طور پر مشہور تھا۔ محبت اور عشق جیسی خرافات کی جگہ اس کی زندگی میں کہیں نہیں تھی۔ تب ہی ایک دن حسنات نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔

’’آج میری ایک بات کہیں لکھ کر رکھ لو۔ تم جیسے لوگ جو محبت اور عشق کو ایک خرافات سے بڑھ کر کچھ نہیں سمجھتے اور ہم جیسے عاشقوں کا محفلوں میں کھلم کھلا مذاق اڑاتے ہو ،اس کی تمہیں بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔‘‘

حسنات کے اس بھاری قسم کے پیراگراف پر عباد دل کھول کر ہنسا تھا۔

’’کون سی بھاری قیمت ؟‘‘

’’تم جیسے لوگ جو محبت سے الرجک ہوتے ہو۔ محبت ایسے لوگوں سے خوب انتقام لینا جانتی ہے۔‘‘

’’اور کیا ہوتا ہے اس محبت کا انتقام ؟‘‘

’’پہلی نظر کی محبت جو جادو جیسی ہوتی ہے۔ سحر طاری کر دیتی ہے۔ اور پہلی نظر کی محبت کے جادو کا کوئی توڑ نہیں ہوتا ۔‘‘

آرٹس کونسل کی سرخ اینٹوں والی عمارت کی سیڑھیوں پر عباد کریم نے اس حسین اپسراکو بہت دور سے دیکھا تھا اور پہلی نظر کی محبت کا جادو چل گیا تھا۔ اور کتنی عجیب بات تھی کہ اس اپسرا کے چہرے کا کوئی بھی نقش عباد کی یاد داشت میں واضح نہیں تھا۔ بس اس کا ’’موجود‘‘ہونا پوری کائنات پر حاوی ہو گیا تھا۔ وہ شاید کسی ڈرامے میں پرفارم کر رہی تھی اور اپنے کردار کے مطابق کاسٹیوم میں بھی تھی۔ سیاہ سلک کی سفید موتیوں سے سجی ہوئی ساڑھی پہنے اور لمبے گھنے بالوں کی چوٹیوں میں سفید پھول ٹانکے وہ جادو ہی کر رہی تھی۔

یہ بہت سال پہلے کی بات تھی۔ مگر یہ بہت سالوں کے بعد بھی قائم رہی تھی۔ اپنے حسن اور اپنے جادو کے ساتھ۔

٭٭٭

عباد نے درنایاب سے رابطے کی بہت ساری کوششیں کی تھیں مگر ساری ناکام رہی تھیں۔ پتا نہیں کیا بات تھی۔ وہ ان پانچ سالوں میں درنایاب کا یہ روپ پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ دنیا دیکھنے والا انسان ایک عورت کو ابھی تک جان ہی نہیں پایا تھا۔ شادی شدہ عورت بھی عجیب پہیلی ہوتی ہے۔ ایک مدت کے بعد سمجھ میں آنا بند ہو جاتی ہے ۔ بہت ساری باتیں اپنے اندر کہیں رکھنا شروع کر دیتی ہے۔ اور شادی کے کتنے سالوں بعد کسی جذباتی سی شام کے منظر نامے میں وہ ساری باتیں ابل ابل کر باہر آجاتی ہیں۔ اپنے تعفن سمیت درنایاب کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔

ساری کوششیں کر کے ہارچکا تھا۔ کاروبار میں کامیاب شخص زندگی میں ناکام کیسے ہو سکتا تھا۔

لڑکی کی اس قدیم اورپختہ الماری سے کچھ سامان گرپڑا تھا۔ یہ الماری ڈیڈی نے اپنی نگرانی میں فرنیچر ورکشاپ سے بنوائی تھی۔ اور اس کا ڈیزائن بھی ممی کی کسی فرینڈ نے انڈیا سے بھجوایا تھا۔ شادی شدہ عورت کا جہیز بھی بہت ساری کہانیوں کے ساتھ مل کر بنتا ہے۔ بہت ساری کہانیوں کے ساتھ مل کر جڑتا ہے۔ اور اگریہ شادیاں ٹوٹ جائیں تو ؟

عبادنے الماری سے گرنے والا وہ سامان دھیرے سے اٹھایا تھا۔ شاید یہ کوئی درنایاب کا پرانا فوٹو البم تھا۔ وہ ایسی ہی تھی۔ پرانی چیزوں کو سنبھال سنبھال کر رکھنے والی۔ شاید ساری شادی شدہ عورتیں ایسی ہی ہوتی ہوں گی۔ کبھی کبھار کچن کے ٹائلوں والے فرش پر اپنا پرانا البم کھولے اپنی گزری ہوئی یادوں کو یاد کر کے ہنستی رہتی ہوں گی۔

عباد نے وہ فوٹو البم کھولا تھا۔ ایک ایک کر کے بہت ساری تصویریں گرنے لگی تھیں۔

وہ کوئی اپسرا تھی۔ سیاہ سلک کی ساڑی میں بالوں میں سفید گلاب ٹانکے منہ پر ہاتھ رکھے دوستوں کے جھرمٹ میں بے تحاشا ہنستی ہوئی۔

عباد کے ہاتھ لرزنے لگے۔ کانپنے لگے۔ وہ ایک ایک کر کے ساری تصویریں دیکھ رہا تھا۔

یہ وہی آرٹس کونسل کی شام تھی۔ جگمگاتی ہوئی۔ پہلی نظر کی محبت کا جادو کرتی ہوئی۔

کہتے ہیں ناں زندگی میں کبھی کبھی سامنے کھڑے ہوئے پہاڑ بھی نظر نہیں آتے۔

ٹھیک کہتے ہوں گے۔ عباد کریم کو سامنے اپنی زندگی کا حاصل پہلی نظر کی محبت ،درنایاب عرف ناب بھی نظر نہیں آئی تھی۔ یہ کس موڑ پر آ کر عباد کریم کو مات ہوئی تھی۔

کاش عباد کریم کے دل میں اتنی وسعت اور ظرف ہوتا تو شاید وہ درنایاب کو جان لیتا۔ وہ فوٹوالبم تھامے گھٹنوں پر سر رکھے تڑپ تڑپ کر سسک رہا تھا۔ رو رہا تھا۔

فرنیچر لے جانے والے ملازمین نے حیرت سے اس شان دار مرد کو روتے ہوئے دیکھا تھا اور انہوں نے یہی بات کاٹیج میں درنایاب کو بھی بتائی تھی۔

ممی نے درنایاب کو عباد کی آمد سے مطلع کیا تھا۔

عباد فوٹو البم کے ساتھ درنایاب کے سامنے موجود تھا۔ وہ بے تحاشا خوش لگ رہا تھا۔ ہنستے ہنستے رو رہا تھا۔ روتے روتے ہنس رہا تھا۔

درنایاب نے شدید حیرت سے اسے دیکھا تھا۔ کیا ہو گیا تھا اسے۔ عبادنے درنایاب کے دونوں ہاتھ تھام لیے تھے۔

’’تمہیں پتا ہے کہ تم ہی وہ لڑکی ہو جس سے مجھے پہلی نظر میں محبت ہوئی تھی۔ سچ میں ۔ میرا یقین کرو۔ یہ فوٹو البم دیکھو۔ یہ تمہاری پرانی تصویریں ہیں ناں۔ آرٹس کونسل کے ایونٹ کی۔ میں بھی اس شام اس ایونٹ میں حسنات کے ساتھ آیا تھا۔ میں نے پہلی بار تمہیں وہاں دیکھا تھا اور تب سے لے کر آج تک میں تمہیں نہیں بھول پایا۔ تم مجھے سن رہی ہو ناں.؟‘‘

وہ یقین دہانی چاہ رہا تھا۔ ناب نے سر کو اثبات میں ہلایا تھا۔

’’میں تمہیں دیکھ رہی ہوں۔ پانچ سالوں میں میں نے کبھی تمہیں ایسے نہیں دیکھا ناں۔‘‘

’’میرے ساتھ چلو ہم گھر چلتے ہیں۔ مومی کہاں ہے۔ یقینا ڈاکٹر شبانہ کے ساتھ ہو گی۔ ان کے زخمی پرندوں کے ساتھ۔‘‘

عباد درنایاب کا ہاتھ پکڑ کر اٹھانا چاہتا تھا مگر وہ گیلی مٹی کی طرح وہیں صوفے پر بیٹھی رہ گئی تھی۔ سامنے کھڑے مرد کے چہرے پر بے تابیاں تھیں۔ کائنات کے مل جانے جیسی خوشی تھی۔ اس نے دھیرے سے عباد کا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔

’’چلے جائو عباد ! اب میرے دل میں تمہارے لیے کوئی جگہ نہیں۔ تم میرے دل میں یہ جگہ واپس حاصل کرنے کے لیے کیا پانچ سال اپنا آپ بھلا کر دن رات کوششیں کر سکتے ہو؟ تم نہیں کر سکتے۔ کیونکہ تم ایک مرد ہو ۔ اور میں ایک عورت ۔ عورت شادی شدہ زندگی میں محبت کی بازی لگا دیتی ہے۔ مگر مرد یہ نہیں کرتا۔ وہ صرف نفع کا سودا کرتا ہے۔ ممی کہتی ہیں شادی شدہ مرد اور عورت کا رشتہ ’’کاج بٹن‘‘ کے جیسا ہوتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں اور نا مکمل ۔ لیکن میں تمہیں ایک بات کہوں۔ مجھے ممی کی اکثر باتوں کی فلاسفی سمجھ میں نہیں آتی۔ اور جو چیز سمجھ میں نہ آئے اسے چھوڑنا بہتر ہے۔‘‘

وہ دن عباد کریم کے لیے آکسیجن سے خالی ہو گیا تھا۔ وہ بمشکل سانس لے پا رہا تھا۔ فاطمی بوا نے درنایاب کو بے تحاشا میٹھا کھاتے ہوئے دیکھا تھا۔

میٹھا کھانا اس کے لیے زہر تھا۔ اس کا وزن بڑھ جاتا تھا۔ سوجن ہو جاتی تھی۔ پہلی نظر کی محبت کے موسم میں وہ میٹھے سے پرہیز کیا کرتی تھی۔ اور اب وہ چپکے چپکے ڈھیروں میٹھا پھانک رہی تھی۔ ڈاکٹر شبی کے صحت یاب ہونے والے بہت سارے مریض گلہری۔ خرگوش اور جنگلی کتے اکثر اپنی طبیب کے پاس حال احوال کے لیے کاٹیج کی سیڑھیوں کے پاس جمع ہو جاتے تھے۔ آج بھی شبی اور مومی ان صحت یاب جنگلی مریضوں سے ملاقات کے بعد اندر قدم رکھ رہی تھی۔

ماضی کا ٹام کروز عباد خالی ہاتھ واپس جا رہا تھا۔ سیڑھیوں کے پا س شبی کے پاس رک گیا تھا۔ اداسی سے پوچھ ہی لیا۔

’’تمہیں یاد ہے پانچ سال پہلے والی وہ زخمی گلہری جو برف کے طوفان میں ہمیں جنگل کے راستے میں ملی تھی؟‘‘

شبی کی نظریں عباد کے پیچھے دور لائونج میں صوفے پر بیٹھی ہوئی بڑی بہن تک گئی تھیں۔

’’نہیں مجھے کچھ یاد نہیں ہے۔‘‘

عباد سر ہلاتا ہوا شبی کی انگلی تھامے مومی سے لپٹ گیا تھا۔ آج اسے اپنی اولاد عزیز ترین لگ رہی تھی۔ شاید زندگی میں پہلی بار اسے اپنی بیٹی کی قوت گویائی کی فکر ہوئی تھی۔ وہ رو رہا تھا۔ دور بیٹھی ہوئی وہ وہیں سے باپ بیٹی کو بس دیکھے جا رہی تھی۔ تب ہی کاٹیج کے پھاٹک سے ڈیڈی اپنے دوست کے ساتھ مرغابیاں شکار کر کے واپس آ رہے تھے۔ چہرے پر فتح تھی۔ سامنے کا منظر دیکھ کر ٹھٹھک گئے تھے۔

ہر طرف عجیب خاموشی تھی۔ دور کہیں بانس کے جنگل سے پرندوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ اور ہاں تب ہی ایک اور نامانوس آواز فضا میں پہلی بار گونجی تھی۔

پاپا.پاپا.ماما.ماما۔

یہ مومی کی آواز تھی۔ چار سال بعد۔

لفظوں کو رہائی مل گئی تھی۔ وہ خوشی سے بار بار چیخ رہی تھی۔ درنایاب جیسے کسی خواب میں تھی۔ وہ دوڑتی ہوئی ننگے پائوں باہر آ ئی تھی۔

گھر کے سارے افراد سیڑھیوں کے پاس جمع تھے۔ نایاب کی آنکھوں میں موتی تھے۔ وہ اور عباد اپنی بیٹی کو پیار کر رہے تھے۔ چوم رہے تھے۔

دھیرے سے نایاب نے خود کو سنبھالا تھا اور ڈیڈی کے پاس آئی تھی جو شکار کی ہوئی مرغابیاں تھامے سامنے کھڑے تھے۔

’’آپ وعدہ کریں مجھ سے۔ آج کے بعد آپ شکار پر نہیں جائیں گے۔ جانوروں کی بھی فیملی ہوتی ہے ڈیڈی ۔ جو رات کے کھانے پر ان کا انتظارکرتی ہے ۔‘‘ڈیڈی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے۔ پھر وہ چلتی ہوئی فاطمی بوا کی طرف آئی تھی۔

’’کچن کی کھڑکی کھول دیا کریں۔ اب چیری کے درختوں پر پرندے آئیں گے اور شرفوچچا کو پیغام بھجوا دیں کہ اب ان کے اخروٹ کے حلوے کے لیے دو گاہک موجود ہوں گے۔ میں اور مومی۔‘‘

سب سے آخر میں اپنے گرد شال لپیٹتے ہوئے وہ ممی کے پاس آئی تھی ،جو گم صم سی کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھیں۔

’’آپ نے ٹھیک کہا تھا ممی۔ شادی شدہ زندگی میں مرد اور عورت ’’کاج بٹن‘‘ کے جیسے ہوتے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے ضروری ۔ لیکن آپ کو ایک بات بتائوں کاج بٹن کے اس رشتے میں اولاد دھاگہ ہوتی ہے۔ جو دونوں کو جوڑ کر رکھتی ہے ۔ مجھے دیکھ لیں اپنی بیٹی کو جو آپ کے سامنے ’’کاج‘‘ بن کر کھڑی ہے۔ وہ دیکھیں آپ کا داماد جو میرے لیے ’’بٹن‘‘بن چکا ہے اور میری اولاد میری مومی ایک ’’دھاگا‘‘ جس نے مجھے دوبارہ اس رشتے سے جوڑ دیا ہے۔ ‘‘

کاٹیج کے مکینوں نے اسے بڑی شان کے ساتھ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے دیکھا تھا۔

آخر پانچ سالوں کے بعد درنایاب کو اپنا تاج اور اپنی کلغی واپس مل گئی تھی۔

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں