’’معزز سامعین !‘‘
وہ دیوار گیر آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔ ہاتھوں میں ایک ڈائری تھام رکھی تھی۔
’’میری آج کی تقریر کا موضوع ہے ’’ہمارے معاشرے کی فلاح و بہبود میں عورت کا کردار‘‘۔ خواتین و حضرات ! جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ عورت اور مرد دونوں کے وجود سے ہی معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
یہ دونوں ہی اس کے اہم ستون ہیں۔ مگر نجانے کیا بات ہے کہ ہمیشہ سے ہی مرد کے کردار اور کاوشوں کو سراہا جاتا ہے مگر عورت کی محنت ، خدمت کو یکسر فراموش کر دیا جاتا ہے۔ آپ کسی بھی کامیاب مرد کی ہسٹری کھنگال کر دیکھ لیں۔ آپ کو اس کی ترقی اور خوشحالی کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہی نظر آئے گا۔‘‘
’’اور اس کی تباہی اور بربادی کے پیچھے بھی ایک عورت کا ہی ہاتھ نظر آتا ہے۔ مرحاصاحبہ !‘‘
بھاری سی مردانہ آواز پر اس نے خون خوار نظروں سے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ روجان ہاتھوں میں لیپ ٹاپ تھامے کمرے میں داخل ہو رہا تھا۔ چہرے پر تپا دینے والی مسکراہٹ تھی۔ اس نے اپنا غصہ ضبط کیا اور دوبارہ تقریر جاری رکھی۔
’’ہاں تو سامعین آپ اپنے اردگرد نظر ڈالیں تو آپ کو حوا کی بیٹی کے کتنے حسین روپ نظر آئیں گے۔ وہ ماں بھی ہے۔ بہن ، بیٹی اور بیوی بھی .‘‘
’’ہاں اس کے علاوہ نند، بھاوج، دیورانی، جٹھانی اور سوتن بھی۔‘‘ پیچھے سے پھر روحان کی آواز آئی۔ اب کے اس کا صبر تمام ہوا۔ اس نے ڈائری ڈریسنگ ٹیبل پر پٹخی۔
’’نہ تم مجھے پریکٹس نہیں کرنے دو گے۔ پرسوں میری فائنل ریہرسل ہے اور میری بالکل بھی تیاری نہیں ہے۔‘‘ وہ روہانسی ہو رہی تھی۔
’’یہ کون سا طریقہ ہے تقریر کی تیاری کرنے کا۔ شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر اور دیکھ کر بولنا تو آسان ہے۔ مگر جب ہال کھچا کھچ بھرا ہو گا توتمہارے چھکے چھوٹ جائیں گے۔ اگرپریکٹس کرنی ہے توچار بندوں کے سامنے تو کرو کہ اعتماد کا لیول معلوم ہو سکے۔‘‘
جتنی تیزی سے اس کی زبان چل رہی تھی۔ اتنی تیزی سے وہ لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلا رہا تھا۔ وہ اس کا نادر مشورہ سن کر جل گئی۔
’’ہنہ چار بندے .ہمارے گھر میں تو کل مل ملا کر آٹھ بندے ہیں۔ مگر وقت کس کے پاس ہے کہ دوگھڑی کے واسطے میری تقریر سنے۔ جو گھرکے اندر لوگ ہیں وہ ہر وقت اپنے موبائل میں گھسے رہتے ہیں اور جو گھر سے باہر ہیں انہوں نے گھر آ کر کھانے کے بعد سونا ہوتا ہے ۔ اب میں دیواروں کے سامنے ہی پریکٹس کروں گی نا ۔‘‘
دیواروں سے باتیں کرنا اچھا لگتا ہے
ہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے
عرضہ گنگناتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔ اس نے شاید راستے میں آدھی پونی بات سن لی تھی۔
’’ماشا اللہ.ماشا اللہ. تم دونوں یہاں تشریف فرما ہو۔ فروا آپی تو بتا رہی تھیں کہ تم سب نے آج با جماعت شاپنگ کرنے جانا ہے ۔‘‘
’’آپی لوگ توچلے بھی گئے ہیں۔ مگر مجھے تو اپنی تقریر تیار کرنی ہے۔‘‘اس نے بے چارگی سے ہاتھوں میں تھامی ڈائری کو دیکھا۔
’’اور تم .؟‘‘ اس نے سوالیہ نظروں سے روحان کو دیکھا ۔
’’نہ بابا نہ . خالص زنانہ شاپنگ سے مجھے کوئی انٹرسٹ نہیں ہے۔ فراز بھائی کی شادی ہے۔ وہ جانیں ان کا کام ۔ مجھے تو صرف جوتے لینے ہیں وہ میں اکیلا جا کر لے آئوں گا۔‘‘ اس نے لاپروائی سے کہا۔
’’مگر مجھے تو ان سب کے ساتھ جانا تھا مگر عین وقت پر چچی آ گئیں اور اماں نے مجھے چائے وغیرہ کے لیے روک لیا۔ مجھے اپنے لیے شال لینی تھی۔ ریڈش میرون کلر کی . کل عاتکہ کی برتھ ڈے پر جانا ہے۔‘‘
’’ریڈش میرون تو نہیں مگر میرون کلر کی ایک شال تو ہے میرے پاس پچھلے سال فروا آپی نے کھدر کا سوٹ گفٹ کیا تھا۔ اس کے ساتھ کی ہے۔‘‘
’’اچھا تو میرون ہی نکال دو۔ میں اسی سے کام چلا لوں گی۔‘‘
’’مگر شالیں توسب کی سب اسٹور روم میں پیٹی میںر کھی ہیں۔ابھی نکالی ہی نہیں ہیں ۔‘‘
’’ہیں . کیا ابھی تک شالیں ہی نہیں نکالیں۔ دسمبر ختم ہونے کوہے۔ جنوری میں توسنا ہے کہ درجہ حرارت مائنس ون تک چلا جائے گا۔‘‘
’’شاید یہ خود بھی مائنس ون ہونے کے بعد نکالنا چاہ رہی ہے۔‘‘ روحان نظریں مستقل لیپ ٹاپ پر گاڑھے ہوئے بولا۔
’’مجھے نہیں پتا مجھے تو میرون والی ابھی کے ابھی نکال دو۔‘‘عرضہ ضدی بچے کی طرح روٹھ کر بولی۔
’’اچھی بھلی میں تقریر تیار کر رہی تھی۔پہلے روحان نے آ کر ڈسٹرب کر دیا۔ اب تم تنگ کر رہی ہو۔میں نہیں جا رہی۔ روحان ! پلیز تم نکال دو۔‘‘ مرحانے لجاجت سے کہا۔
’’چلیے محترمہ !‘‘ روحان نے لیپ ٹاپ بند کر کے سائیڈ پر رکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
’’ہاں یاد آیا وہ شالیں شاید پیٹی میں نہیں پیٹی کے اوپر رکھے سوٹ کیس میں پڑی ہیں۔ پیٹی میں تو اماں نے بامشکل لحاف ہی ٹھونسے تھے۔‘‘ مرحانے دوبارہ ڈائری کھولتے ہوئے کہا۔
’’ہاں تو معزز سامعین ! میں آپ کو بتا رہی تھی۔‘‘
اس نے دوبارہ تقریر شروع کی عرضہ اور روحان نے اسٹور روم کا رخ کیا اسٹور روم میں جہازی سائز کی پیٹی کے اوپر ایک بڑا سا سوٹ کیس دھرا تھا جو کسی بھی قسم کے تالے وغیرہ کے تکلف سے پاک تھا۔ روحان نے کھینچ کر اس کا سخت کنڈا کھولا۔ اندر ترتیب سے کپڑے تہ کیے رکھے تھے۔ عرضہ نے اچک کر دیکھا۔ کپڑوں کے نیچے دبی میرون کلر کی شال کا پلو بالکل ذرا سا نظر آیا تو اس کا دل بلیوں اچھلنے لگا۔
’’وہ رہی میرون شال . روحان ۔‘‘ وہ اندر جھانکتے ہوئے خوشی سے چلائی۔
’’کیا یہ والی .‘‘ روحان نے ایک دوسری والی باہر کھینچی۔
’’نہیں. یہ والی نہیں وہ والی .‘‘
اس نے خود ذرا سا اچک کر میرون شال کا پلو ہاتھ سے پکڑکر باہر کھینچنا چاہا مگر شال اس کی رینج سے باہر تھی۔
روحان ابھی ادھر ادھر ہی ہاتھ مار رہا تھا۔ سامنے دھری میرون شال اسے نظر نہیں آ رہی تھی۔ عرضہ کو تپ چڑھی کہ شاید وہ اسے چڑانے کے لیے ایسا کر رہا ہے۔ اس نے اچھل کر شال کا پلو باہر کھینچا شال تو باہر نکل آئی مگر زور کا جھٹکا لگنے سے وہ خود پیچھے الٹتے الٹتے مشکل سے بچی ۔
’’مگر عرضہ یہ تو برائون ہے .‘‘ روحان بولا تو وہ چٹخ گئی۔
’’یہ برائون نہیں میرون ہے کوڑھ مغز تم مرد ہمیشہ سے ہی رنگوں کے معاملے میں کورے ہوتے ہو۔‘‘
’’ہائے اللہ ! کاش یہ ریڈش میرون ہوتی تو لیمن سوٹ پر کتنا اٹھتی۔‘‘ وہ شال کو خود سے لگا کر بولی۔
’’تمہیں یہ کلر بہت پسند ہے۔‘‘ روحان سوٹ کیس بند کر کے اپنے ہاتھ جھاڑ رہا تھا۔
’’پسند ۔‘‘ ہنہ . اس نے سر جھٹکا ۔
’’مجھے ریڈ اور میرون کلر کے ہر شیڈ سے عشق ہے۔ یہی تو زندگی کا رنگ ہے۔ تمہیں پتا ہے ان دونوں کلرز کو ملا کر کتنے نئے شیڈز بن چکے ہیں۔
اور یہ نیا سال آ رہا ہے نا 2026ئ اس کا بھی سنا ہے کہ کلر اسی ریڈ اور میرون کا ہی کوئی شیڈ ہو گا۔ میں تو ویسا ہی سوٹ ضرور بنوائوں گی۔‘‘
’’اور وہ سرخی پائوڈر. میرا مطلب ہے کہ میک اپ بھی یقینا اسی کلر کا ہو گا۔‘‘ اب کے وہ جل کر بولا۔
’’نہ . نہ میک اپ کا کوئی ایشو نہیں ہے۔ میں لپ اسٹک اور بلش آن وغیرہ سب ہی کو پہلے سے موجود رنگوں کی ساتھ مکس کر کے اپنی مرضی کا کلر بنا لیتی ہوں۔‘‘ وہ فخریہ بتا رہی تھی۔
’’پاگل لڑکی .‘‘ وہ افسردگی سے مسکرایا۔
٭٭٭
ٹی وی لائونج میں خوب رونق تھی۔ کل خریدی جانے والی بری ساری کی ساری کارپٹ پر ڈھیر تھی۔ ساتھ ساتھ چائے اور مونگ پھلیوں کا دور بھی چل رہا تھا۔ دونوں دیورانی جٹھانی صوفے پر براجمان خوش گپیوں میں مصروف تھیں۔
’’آپا ! دیکھو نا ذرا ! کہیں سے بھی یہ بری کے کپڑے لگ رہے ہیں۔ کوئی موتی ستارہ نہیں۔ کوئی گوٹا کرن۔ چمک دمک نہیں۔ رنگ بھی مدھم سے ۔ ہلکے ہلکے سے ۔ آخر کچھ تو شوخ لیتیں۔‘‘
’’بس قدسیہ ! کیا بتائوں یہ اپنی فروا اور آنے والی بہو رانی نے میری ایک نہیں سنی۔ گھر سے ہی طے کر کے گئی تھیں کہ گولا گنڈا ٹائپ بری نہیں خریدنی۔ یہ تو ولیمہ کے لیے بھی آف وائٹ کا کوئی شیڈ دیکھ رہی تھیں وہ تو فراز نے اصرار کر کے کاسنی کلر کی میکسی کا آرڈر دلوایا۔‘‘
’’توبہ ہے بھئی تمہیں کپڑوں کے رنگ مدھم لگ رہے ہیں مگر دام دیکھو نا تو دنگ رہ جائو۔ آسمانوں کو چھوتے ہوئے ۔‘‘
’’تمہیں اپنی اور میری بری یاد ہے نا۔ ساس اماں مرحومہ نے کتنے شوخ و شنگ لباس تیار کروائے تھے۔ آنکھیں خیرہ ہو گئی تھیں دیکھنے والوں کی۔‘‘ وہ ماضی کی یادوں میں کھو گئیں۔
’’ہاں آپا میری اور آپ کی ایک جیسی ہی تھی بری ۔ وہ مولا جٹ سلک کے غرارہ سوٹ آتشی گلابی رنگ کے اور مٹکا سلک کی مونگیا فراکیں جن کے دامن پر سلور گوٹے کا کام تھا۔‘‘
’’ہیں . کیا مولا جٹ سلک اور مٹکا سلک۔‘‘ مونگ پھلیاں ٹونگتے فراز کی باچھیں چرر گئیں۔
’’ہاں . ہاں وہ ساٹن اور بروکیڈ کی کرتیاں جن کے ساتھ جاپان گڈی کی خوب گھیر والی شلواریں تھیں۔‘‘
قدسیہ بیگم کو وہ سب کپڑے آنکھوں کے سامنے لہراتے نظر آ رہے تھے۔
’’چچی جان ! وہ پرانے اسٹائل آج کل بھی فیشن میں ان ہو رہے ہیں وہ آپ کی جاپانی گڈی والی خوب گھیر والی شلوار کا نیوورژن آج کل کی فرشی شلوار ہے تو سہی .‘‘ فروا نے ان کے کپ میں مزید چائے انڈیلی۔
’’آپ دونوں خواتین اداس نہ ہوں۔ باقی سب جو مرضی پہنیں مگر میں نے فراز بھائی کی شادی پر خوب شوخ رنگوں کے کپڑے بنوانے ہیں۔‘‘
’’اور وہ شوخ رنگ یقینا سرخ رنگ کے ہی مختلف شیڈز ہوں گے۔‘‘ فروا اس کی دیوانگی سے بخوبی آگاہ تھی۔
’’خبردار جو شادی کے روز سرخ پہنا ، اس کا حق تو صرف دلہن کو ہی ہوتا ہے جب وہ نہیں پہن رہی تو تم بھی نہ پہنو۔‘‘ عرضہ کی امی روایتی سوچ کی مالک تھیں۔
’’چچی جان ! اب اس طرح کون سوچتا ہے۔ پہننے دیں ناجو یہ خوشی سے پہننا چاہ رہی ہے۔‘‘ فراز نے اس کی رونی صورت دیکھ کر دلاسا دیا۔
’’بلکہ تم تینوں کا شادی کا ڈریس میری طرف سے ہو گا۔ روحان ! تم ان کو شاپنگ پر لے جانا ضرور اور اے ٹی ایم میرا یوز کر لینا ۔‘‘فراز بھائی بھی شادی کی خوشی میں حاتم طائی بنے ہوئے تھے۔
’’لہرا.‘‘ فروا، عرضہ اور مرحا نے فلک شگاف قہقہہ لگایا۔
’’اور ہاں روحان ! عرضہ کو اس کی پسند کے ریڈ کلر کا ہی ڈریس دلوانا۔‘‘ انہوں نے پیار سے اس کے سر پر چپت لگائی۔
’’ہنہ . اس کو تو ریڈ اور برائون کا فرق ہی نظر نہیں آتا۔‘‘
اس نے تائی اماں سے نظر بچا کر آہستہ سے روحان کو چڑایا۔
اس کے کمنٹ پر روحان کے چہرے پر تاریک سا سایہ لہرایا۔ پھر جلد ہی وہ اپنے تاثرات کو نارمل کرتے ہوئے دوبارہ موبائل میں ڈوب گیا۔
٭٭٭
دسمبر کی ٹھنڈی یخ ہوا چل رہی تھی۔ عرضہ کالی شال اوڑھے لان میں عین گیٹ کے سامنے تیز تیز چکر کاٹ رہی تھی۔ سورج کی کرنوں میں تمازت کی کمی سی محسوس ہو رہی تھی۔ پودوں کے پتے بھی غالباً سردی سے ہولے ہولے لرز رہے تھے۔
دسمبر کو شاعروں اور ادیبوں نے اداسی کا مہینہ قرار دیا ہے نجانے کیوں . وہ سوچ رہی تھی کہ اسے تویہ پل ، یہ سماں .سورج کی یہ الوداعی کرنیں، سبھی کچھ کتنا بھلا سا لگ رہا تھا۔
’’ارے . عرضہ کیا کر رہی ہو .؟‘‘ مرحا نے درمیانی دروازے سے اندر جھانک کر اسے پکارا۔
’’ایوننگ واک کر رہی ہوں۔‘‘ مارننگ میں تو اٹھنے کی وہ بہت چور تھی۔
’’روحان سموسے لایا ہے ۔ میں چائے بنا رہی ہوں۔‘‘
’’میرا حصہ رکھنا۔ میں ابھی آتی ہوں۔‘‘ اس نے بھی اونچی آواز سے کہا۔ مرحا غائب ہوئی تو وہ دوبارہ پلٹی۔ عین اسی وقت ادھ کھلے گیٹ سے کورئیر سروس والے کی بائیک رکی۔ اس سے پہلے کہ وہ بیل پر ہاتھ رکھتا۔ عرضہ نے دو چھلانگوں میں فاصلہ عبور کیا اور پیکٹ اس کے ہاتھ سے جھپٹ کر دوبارہ اندر گھس گئی۔ کورئیر سروس والا اتنی کوئیک پرفارمنس پر دنگ رہ گیا۔
٭٭٭
ماہ و سال کی
وہی کہانی ہے
رفتار وقت میں
کتنی روانی ہے
یاد محبت کے سوا
کچھ یاد نہیں
ریت دل کی
بڑی پرانی ہے
تیرے ساتھ کی چاہ
جتنی دیوانی ہے
اتنی ہی سہانی ہے
سرخ گلابوں کے بکے کے ساتھ نتھی و شنگ کارڈ پر لکھی نظم کتنی خوب صورت تھی۔ وہ کتنی دیر تک لفظوں کے سحر میں کھوئی رہی۔ چہرے پر موہوم سی مسکراہٹ تھی اور آنکھوں میں خواب جگمگا رہے تھے۔ اس نے صحیح ہی لکھا تھاایک دوجے کے ساتھ کی چاہ سہانی سہی مگر تھی بڑی دیوانی۔ وہ مرحاکے ساتھ اس کی یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں گئی تھی۔ اس نے ایک تقریری مقابلے میں حصہ لیا تھا۔
اس نے تیاری تو بہت دل لگا کر کی تھی مگر سامعین میں موجود ایک شرارتی ٹولے نے اتنی ہلڑ بازی مچائی کہ کنفیوز ہو کر تقریر والا پرچہ ہی نیچے گرا بیٹھی۔ تقریر کورٹے توبہتیرے مارے تھے مگر اس وقت وہ چند جملے نہ ڈھنگ سے ادا کر پائی۔
منچلوں نے خوب ہوٹنگ کی۔ وہ سرخ چہرہ لیے اسٹیج چھوڑ آئی۔ وہ تو فوراً گھر جانا چاہتی تھی۔ مگر تقریری مقابلے کے بعد شعرو شاعری کی محفل بھی تھی۔ عرضہ نے اس کا دل بہل جانے کے خیال سے وہاں ٹھہر جانے کا ارادہ کیا۔
مرحاکا دل توخیر کیابہلنا تھا الٹا وہ اپنا ہی لٹا آئی۔ تیسرے نمبر پر نظم پڑھنے والے نوجوان شاعراحمر مرتضیٰ کی شخصیت ، بول چال اور انداز نے اسے یوں گھائل کیا کہ وہ آناً فاناً اس کے عشق میں ڈوب گئی۔
حالانکہ نہ تو اسے شعر و شاعری کی کوئی سمجھ تھی اور نہ ہی دلچسپی وغیرہ۔ وہ تو ایک شعر تک بھی اس کے درست تلفظ سے ادا نہیں کر پاتی تھی۔ مگر کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ جس چیز سے آپ کا دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا وہ ہی اچانک اپنی جانب کھینچنے لگتی ہے۔ جس راہ پہ آپ کبھی نہیں چلتے وہی راہ سہانی دکھتی ہے۔ وہ بھی ایسی ہی ایک شاہراہ پہ قدم دھرچکی تھی۔
احمر مرتضیٰ مرحا کا سینئر تھا۔ مرحا چونکہ ڈیبیٹ وغیرہ میں حصہ لیتی تھی اور ایسے پروگرام کا آرگنائزر وہی ہوتا تھا۔ مرحا کے ساتھ وہی جاتی تھی پہلے پہل تو اس کی حوصلہ افزائی کے لیے اور بعد میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ،اس دن بھی مرحا تو جاتے ہی اپنی تقریر کے پوائنٹ یاد کرنے میں ہلکان ہو رہی تھی اور اسے سمجھ میں نہیں آ رہی تھی کہ وہ اسٹیج پر تیاری میں مصروف ۔احمر مرتضیٰ سے ہم کلام کس بہانے سے ہو۔
خیر وہ ہمت کرکے اسٹیج تک آئی۔ کچھ جھجکتے ہوئے اپنا تعارف کروایا۔ مرتضیٰ کے لیے تویہ روزمرہ والی عام بات تھی۔ لڑکیاں کسی نہ کسی کام کی وجہ سے اس کے پاس آتی رہتی تھیں۔ مگر اب گم صم سی عرضہ الجھن میں تھی کہ اپنی بات کرنے کی کیا وجہ بیان کرے۔
’’آپ شاید اپنا کچھ لکھا دکھانا چاہ رہی ہیں۔ اس وقت تو میں بہت بزی ہوں۔ آپ ایسا کریں۔‘‘
وہ اسے گومگو کی کیفیت میں دیکھ کر یہی سمجھا۔
’’نہیں . وہ دراصل ۔‘‘ وہ ہڑبڑا اٹھی۔
’’وہ اس دن آپ نے نظم پڑھی تھی تو بہت اچھی لگی تھی۔‘‘
’’ہیں . نظم . نظم تو نہیں میں نے تو اپنی دوغزلیںسنائی تھیں۔ اب آپ پتا نہیں کون سی والی کی بات کر رہی ہیں۔‘‘
اس پرگھڑوں پانی پڑ گیا۔ اسے تو نظم اور غزل میں فرق تک پتا نہیں تھا۔ وہ خاموشی سے ہونٹ کاٹتی رہی۔
’’شاید شعر آپ کے ذہن میں نہیں آ رہے۔‘‘ وہ یہی سمجھا۔
’’آپ اپنی کتاب دے دیں ۔ میں پڑھ لوں گی۔‘‘ اس کے دماغ نے کام کیا اور اس نے فوراً کتاب کی فرمائش کر دی۔
’’محترمہ ! غریب بندہ ہوں۔ ابھی تک تو کوئی کتاب وغیرہ نہیں چھپواسکا۔ہاں یہ میرے پاس ڈائری ہے۔ اس میں وہ غزلیں لکھی ہیں۔ امید ہے آپ نوٹ کر کے ذمہ داری سے واپس کر دیں گی ۔‘‘
اس نے ایک نیلی ڈائری اس کے حوالے کی۔
٭٭٭
چاردن تک وہ اس ڈائری کو سینے سے لگا کر گھومتی رہی۔ کھول کر تو اس نے دیکھی بھی نہیں محض اس کی مہک ہی اندر اتارتی رہی۔ جب واپس کرنے گئی تو وہ پوچھنے لگا۔
’’پھر کیسی لگیں آپ کو میری غزلیں .؟‘‘
’’جی ! بہت اچھی۔‘‘
’’اچھا !‘‘ وہ ذومعنی انداز میں مسکرایا۔
’’اور میرا تخلص وغیرہ؟‘‘
’’ہیں . وہ کیا بلا ہوتا ہے۔‘‘ وہ دل ہی دل میں سخت پشیمان ہوئی۔ یہ لفظ سناسنا تو لگ رہا تھا مگر اب بالکل ذہن میں نہیں آ رہا تھا کہ اس کا کیا مطلب ہوتا ہے۔ شاید کبھی اردو کی ٹیچر نے پڑھایا تھا مگر اب کہاں یاد تھا۔
’’جی مجھے نہیں پتا.‘‘ اس نے شرمندہ ہو کر سر جھکا لیا۔
’’سحاب . تخلص ہے میرا اور اس کا مطلب ہے بادل ۔‘‘ وہ اس کو گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے وضاحت کر رہا تھا۔
’’اور کیا نہیں پتا آپ کو.‘‘ اس کھوئی کھوئی سی لڑکی کو کریدنے میں اسے ایک الگ سا احساس ہو رہا تھا۔
’’جی . وہ . دراصل مجھے شعرو شاعری کا بھی کچھ نہیں پتا۔‘‘ اب وہ مزید اداکاری نہیں کر سکتی تھی۔ ویسے بھی سامنے کھڑے شخص سے چھپنا ممکن نہیں تھا۔
وہ سچ بول کر ہلکی پھلکی ہو گئی جبکہ دوسری طرف اس کی معصومیت نے احمر مرتضیٰ کا دل لوٹ لیا۔ وہ کامنی سی لڑکی سیدھے دل میں گھستی چلی گئی۔
یہیں سے ان کی دوستی اور محبت کا آغاز ہوا۔
مشکل سے پون گھنٹے کی ملاقات میں وہ دونوں یوں تھے جیسے صدیوں سے ایک دوجے کو جانتے ہوں۔ جب وہ جانے لگی تو بے اختیار اس کی ڈائری مانگ بیٹھی ۔
’’یہ آپ مجھے ہی دے دیں۔‘‘
’’اچھا.یہ لیں۔‘‘ احمر نے فراخ دلی سے ڈائری اس کے حوالے کی۔
’’ویسے محترمہ . میں آپ کو بتائوں اس دن عجلت میں، میں نے آپ کو شعر و شاعری کے بجائے ہوسٹل میں کھانے پینے کے حساب والی ڈائری تھما دی تھی۔‘‘
وہ شرارت سے مسکرا رہا تھا۔ اور وہ شرم سے بلش ہو رہی تھی۔
٭٭٭
پھر اس نے آناً فاناً مرحا کے کیمپس سے ایم فل کا پروگرام بنا لیا۔ رودھو کر بی ۔ ایس کرنے والی نے جب روحان کو ایم فل کا فارم لانے کے لیے کہا تو وہ بھی ششدر رہ گیا۔
’’کیا تم واقعی وہاں ایم فل کرنے جا رہی ہو.؟‘‘ اس کا لہجہ مشکوک تھا۔
’’نہیں میں وہاں دہی بڑوں کی ریڑھی لگا رہی ہوں۔‘‘ وہ جل کر بولی۔
’’دراصل ایک تومیں مرحا کی تقریروں سے بہت متاثر ہوں جس میں وہ عورت کو تعلیم حاصل کرنے کی اہمیت اجاگر کرتی ہے۔ دوسرا مجھے کیمپس کی خوب صورتی نے بہت مسحور کیا ہے۔ کیا لمبی لمبی کیاریاں ہیں سرخ گلابوں سے لدی پھندی.نہر کنارے اگا ہوا سبزہ. لمبے لمبے کوریڈورز. قابل اور ذہین اساتذہ .میں تو جب جاتی ہوں نا تو میری روح وہیں رہ جاتی ہے ۔ کاش بی ایس بھی وہیں سے کر لیتی.‘‘
وہ خوامخواہ اتنی لمبی وضاحت پیش کر رہی تھی۔ جب انسان کے اندر چور ہوتاہے ناتووہ خود کو اور دوسروں کو مطمئن کرنے کے لیے ایسے ہی طویل وجوہات بیان کرتا ہے۔ ورنہ ایم فل کرنے سے گھر میں اسے کون روک رہا تھا۔
٭٭٭
’’معزز سامعین !‘‘
میری آج کی تقریر کا موضوع ہے ۔ ’’ہمارے معاشرے کا مرد۔‘‘
مرحا پھر تقریری مقابلے کی تیاری کر رہی تھی اور آج پریکٹس ٹی ۔ وی لائونج میں ہو رہی تھی۔ منظر کچھ یوں تھا کہ سامنے صوفے پر تائی جی نیم دراز اونگھ رہی تھیں۔ فروا آپی نیچے کارپٹ پر بیٹھی نیٹ سے ساڑھیوں کی لوکیشن دیکھ رہی تھیں۔ ایک کونے میں عرضہ اپنا جیولری بکس کھولے نئی اور پرانی جیولری چھانٹ کر نکال رہی تھی۔ کوئی بھی متوجہ نہیں تھا۔
سامعین پلیز.سنیں ذرا۔
ہاں تو میں آپ کو بتا رہی تھی کہ ہمارے معاشرے کا مرد اس شعر کی مثل ہے۔
وہ مرد ہے اسے جائز ہے قتل تک
میں تو محض عورت ہونے کی سزا وار ٹھہری
’’تالیاں .‘‘اب وہ خود ہی تالیاں پیٹ رہی تھی۔ عرضہ ہڑبڑا اٹھی۔
’’ہمارے معاشرے کا مرد ظالم بھی ، کٹھور بھی ، بے رحم اور سنگدل . اور کیا کیا کہوں۔‘‘
’’بی بی . تم رہنے دو۔ کچھ بھی نہ کہو۔ اب ایسا بھی نہیں ہے۔‘‘
عرضہ جل کر بولی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے چھم سے احمر مرتضیٰ کا شاندار سے سراپا آ گیا۔ وہ نرم مزاج ، خوش گفتار اور بہت کیئرنگ سا مرتضیٰ ابھی کل ہی تو وہ اسے ایک کیاری کے پاس لے گیا تھا۔
’’عرضہ ڈیئر! دیکھو یہاں کتنے خوب صورت ریڈ کلر کے گلاب کھلے ہیں۔ تمہارا فیورٹ کلر ہے نا۔ چند روز پہلے میں نے مالی سے یہ پودے نرسری سے منگوائے تھے۔‘‘
اور وہ بھی ان گلابوں کو دیکھ کر مبہوت رہ گئیئ جو تیزسرخ رنگ کے تھے مگر ان کی پنکھڑیاں ہلکے گلابی رنگ کی تھیں۔ پھر وہ دونوں کافی دیر تک وہاں ان گلابوں کا ہی فوٹو شوٹ کرتے رہے۔ مگر یہ مرحا نجانے کیوں اول فول بک رہی تھی۔ اپنی تقریر میں سامعین کی عدم دلچسپی دیکھ کر مرحانے کلس کر ڈائری بند کر دی۔
٭٭٭
فراز کی شادی کی تیاریاں زوروں پر تھیں۔ مہمانوں کی لسٹ بن رہی تھی۔ فراز اور روحان کاغذ قلم تھامے ناموں کا اندراج کر رہے تھے۔
’’مرحا! تم اپنے سبجیکٹ فیلوز کو نہیں انوائٹ کرو گی . ؟‘‘
عرضہ نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔ اس کا کتنا دل تھا کہ وہ احمر مرتضیٰ کو بھی شادی میں شرکت کی دعوت دے۔
’’نہیں بابا . توبہ کرو۔اپنا خاندان ہی اتنا لمبا چوڑا ہے ۔ یہ تیسری بار لسٹ بن رہی ہے۔ سمجھ میں ہی نہیں آ رہا کس کو بلائیں اور کس کو نہ بلائیں ۔‘‘
وہ دل مسوس کر رہ گئی۔
’’تم چھوڑو لسٹ کو ۔ کل درزی کے ہاں چلتے ہیں۔ اس کا فون آیا تھا کپڑے سل گئے ہیں۔‘‘
’’مگر کل تو میں نے یونیورسٹی جانا ہے۔‘‘
’’چھٹی کر لو نا۔ شادی کتنی قریب ہے۔ ڈھیروں کام نمٹانے ہیں۔‘‘
’’کل نہیں کر سکتی بھئی.کل تو ضروری ٹیسٹ ہے۔ پرسوں چلیں گے پکا۔‘‘ اب مرحا کیسے جانتی کہ۔ ٹیسٹ تواس کا کوئی نہیں تھا ہاں البتہ مرتضیٰ کا مشاعرہ تھا۔ اور وہ اس نے ضرور اٹینڈ کرنا تھا۔ بھلے سے اسے شاعری کی کوئی شدھ بدھ نہیں تھی۔ وہ ہونق پن سے پوچھتی مرتضیٰ ! یہ آزاد نظم تھی یا غزل ۔ یہ ردیف ، قافیہ کیا ہوتے ہیں۔‘‘ شاعری کے تمام استعارے اس کی سمجھ سے باہر تھے۔ مگر وہ اس کی شاعری پڑھتی ضرور تھی۔ ایک بار اس نے پوچھا۔
’’مرتضیٰ ! تم جو اپنی غزل میں کئی بار آہوچشم یا غزالی آنکھوں وغیرہ کا ذکر کرتے ہو تو یہ میرا مطلب ہے کہ کس ٹائپ کی آنکھیں ہوتی ہیں۔ مجھے تو صرف سمو کی آنکھوں کا پتا ہے۔ آج کل آئی میک اپ میں اتنی ورائٹی آ چکی ہے کہ آپ اپنی آنکھوں کو خواہ وہ کتنی ہی چنی منی سی کیوں نہ ہوں، ہر طرح کی لک دے سکتے ہیں۔‘‘
اس کی معصومیت پر مرتضیٰ کئی پل محبت سے اسے تکتا رہا۔
یہ سندر سی لڑکی اسے چند دن میں ہی کتنی عزیز ہو چکی تھی۔
٭٭٭
دسمبر کی بھیگی بھیگی سی شام تھی۔ فضا میں خنکی بڑھ چکی تھی۔ 2025ئ کا سال اب چند دنوں کا مہمان تھا۔ وہ اپنی جھولی میں کئی تلخ و شیریں یادیں لیے۔ مستقبل کے کچھ خوش آئند خواب دے کر اختتام پذیر ہو رہا تھا۔
سورج کا سنہری تھال ڈوب رہا تھا۔ روحان تھکے ماندے قدموں سے اندر داخل ہوا۔ ساری دن کی بھاگ دوڑ کے بعد جسم و جان تھکن سے چور تھے۔ دل بھی بوجھل بوجھل سا تھا۔ چچی کا میسج آیا تھا کہ وہ آتے ہوئے میڈیکل اسٹور سے چچا کی دوائیاں لیتے ہوئے آئے۔ وہ وہی دینے سیدھا ان کے پورشن میں آیا تھا۔
ٹی وی لائونج سنسان پڑا تھا۔ درمیانی کوریڈور سے عرضہ کی گنگناتی آواز آ رہی تھی۔ ساری کلفت جاتی رہی۔ وہ مسکراتا ہوا آگے بڑھا اور پھر اس کے کمرے کی دہلیز پر اس کے قدم جم گئے۔
اپنے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے وہ شہزادی ایک خوب گھیر والی فراک پہنے گھوم گھوم کر خود کو دیکھ رہی تھی۔ لمبی ، کالی ، گھنی چوٹی بھی اس کے ساتھ محو رقص تھی۔ روحان کے لیے ساری کائنات ایک پل کے لیے اسی جگہ تھم سی گئی۔ وہ سحر زدہ سا اس مغلیہ شہزادی کو تکتا رہا یہاں تک کہ ٹی ۔وی لائونج میں دھرے ٹیلی فون کی تیز گھنٹی نے اس کا ارتکاز توڑ دیا۔
’’ارے ! روحان تم کب آئے۔‘‘عرضہ نے چونک کر دروازے میں بت بنے روحان کو دیکھ کر حیرت سے کہا۔
’’دیکھو! میری یہ انارکلی فراک ٹیلر سے سل کر آ گئی ہے۔ اچھی ہے نا۔ یہی ہے ریڈش میرون کلرجس کی میں دیوانی ہوں۔‘‘
وہ اپنی جھونک میں بول رہی تھی۔ روحان کے چہرے کا رنگ بدلا اور وہ تیزی سے نکلتا چلا گیا۔
’’ہیں . اسے کیا ہوا .؟‘‘
اس نے سرجھٹکا اور پھر سے فراک کی فٹنگ چیک کرنے میں مگن ہو گئی۔
٭٭٭
آڈیٹوریم لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ نئے اور پرانے شعرائ کی کھیپ اپنا کلام پیش کرنے کے لیے موجود تھی۔ تمام چہرے اس کے لیے اجنبی تھے سوائے احمر مرتضیٰ کے جو انتظامات میں مصروف تھا۔ وہ سخت بیزار ہو رہی تھی۔
’’مرتضیٰ! کتنی دیر لگے گی۔‘‘ وہ اس کے پاس آئی۔
’’ابھی تو مشاعرہ شروع بھی نہیں ہوا۔ اوہو . تم غالباً بور ہو رہی ہو ۔ آئو میں تمہیں کسی سے ملواتا ہوں۔‘‘
پھر وہ اسے لیے ہوئے ایک سائیڈ روم میں آیا۔ یہاں چند نئے شاعر اپنا کلام ایک دوسرے کو سنا رہے تھے۔‘‘
’’عرضہ ڈیئر! ان سے ملو یہ ابھرتی ہوئی شاعرہ ہیں.گل رباب .‘‘
وہ سنہرے بالوں والی ایک دلکش سی لڑکی تھی۔ جس کے چہرے پر بڑا نرم ساتاثر پھیلا ہوا تھا۔
’’عرضہ ! انہوں نے ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی شاعری کے میدان میں قدم رکھا ہے اور تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔ ان کا تخلص گل ہے۔ اب توتم تخلص سمجھتی ہو نا۔‘‘
’’ہاں.‘‘ اس نے بھی دوستانہ انداز میں اس لڑکی کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے سمجھ داری سے سر ہلایا۔
’’تم یہ مکھن بازی بند کرو مرتضیٰ۔ میں کوئی تیزی سے مقبول نہیں ہو رہی۔‘‘ وہ بھی اپنائیت سے عرضہ کی طرف دیکھ کر مسکرائی۔
’’فی الحال تومیں ان سے اپنے ہر کلام کی اصلاح لے رہی ہوں۔‘‘
عرضہ اس کی صاف گوئی سے بے حد متاثر ہوئی ۔ مرتضیٰ تو ان دونوں کو ملوا کر خود باہر نکل گیا۔ اور وہ دونوں تھوڑی دیر کی گپ شپ میں ہی ایک دوسرے سے گھل مل گئیں۔
٭٭٭
آج فراز کا ولیمہ تھا۔ اس نے آف وائٹ میکسی زیب تن کر رکھی تھی جس پر سرخ رنگ کا کام ہوا تھا۔ تیز سرخ دوپٹہ تھا۔ جس پر گولڈن موتی ستاروں کی مانند جگمگا رہے تھے۔ اتنے میں مرحا بھی اندر داخل ہوئی۔ اس نے ہلکے کاسنی رنگ کا شرارہ سوٹ پہن رکھا تھا جس پر سلور کام تھا۔
’’عرضہ ! پلیز مجھے اپنی سلور سینڈل تو دے دو۔ یہ والے جوتے تومجھے اس شرارے کے ساتھ بہت پینڈو لک دے رہے ہیں۔‘‘
’’اوکے .میں ڈھونڈتی ہوں۔‘‘ وہ الماری کے نیچے جوتیوں والا دروازہ کھولنے کے لیے جھکی۔ عین اسی لمحے روحان اندر داخل ہوا۔ وہ آج اس مختلف سے کلر میں کتنی اچھی لگ رہی تھی۔ نظریں وہیں ٹھہر سی گئیں۔
’’روحان ! تم گاڑی لے آئے ہو۔ کیا بھائی اور بھابھی ہمارے ساتھ جائیں گے۔‘‘ مرحا نے اسے دیکھ کر وال کیا ۔
’’تمہاری اطلاع کے لیے عرض ہے کہ دولہا دلہن اماں ابا کے ہمراہ ہال میں پہنچ بھی چکے ہیں۔ اور اب دلہن بھابھی اسٹیج پر اکیلی بیٹھی ہیں اماں اور چچی تم دونوں کو ڈھیروں صلواتیں سنا رہی ہیں۔‘‘
’’عرضہ ! جلدی کرو پلیز۔‘‘ مرحا نے بوکھلا کر جلدی جلدی جوتے پہننا شروع کیے۔
٭٭٭
مرحا تو ہال میں آتے ہی اپنی بھابھی کے ساتھ اسٹیج پر چیک کر بیٹھ گئی۔ جبکہ اسے ہوٹل کی ڈیکوریشن نے اتنا متاثر کیا کہ وہ اپنا موبائل تھامے۔ فوٹوشوٹ کرنے لگی۔ ننھی ننھی آرائشی لڑیاں سفید دودھیا درودیوار پر نگینوں کی مانند دمک رہی تھیں۔ خاص طور پر انٹرنس کو بہت خوب صورتی سے سجایا گیا تھا۔
وہ باہر نکلی ۔ ٹھنڈی یخ ہوا کے جھونکوں نے جسم میں کپکپی کی لہر سی دوڑا دی۔ یہ سردی بھی کتنے مزے کی ہوتی ہے۔ اس کا بھی ایک اپنا ہی لطف ہے۔ پچاس کا ہندسہ چھولیتے درجہ حرارت کو جھیل چکے لوگوں کوتو یہ ایک سوغات کی مانند لگتی ہے۔ وہ چار دیواری پر نصب ننھے ننھے الیکٹرک دیو کو مسحور سی دیکھ رہی تھی۔ مہمان ابھی بھی آ رہے تھے۔
اچانک نظر سامنے اٹھی اور پھر پلٹنا بھول گئی۔ ڈرائیونگ سیٹ سے بلیک ٹو پیس میں ملبوس مرتضیٰ باہر نکلا۔ اس کے ہمراہ ایک سوبر سے انکل بھی تھے۔
اس نے جلدی سے ایک ستون کی اوٹ میں ہو کر اس کا نمبر ملایا۔
’’ہیلو ڈیر عرضہ ! میں اپنے چچا کے ہمراہ ان کے دوست یاسر گردیزی صاحب کے بیٹے کے ولیمے میں آیا ہوں۔گھر جا کر تمہیں فون کرتا ہوں۔‘‘
’’رکو مرتضیٰ! وہ یاسر گردیزی میرے تایا ابو ہیں۔‘‘ جوش سے دبی اس کی آواز پر مرتضیٰ نے جھٹ ادھر ادھر متلاشی نظروں سے دیکھا اور پھر انٹرنس پر اسے دیکھ کر بے اختیار ایک خوب صورت مسکراہٹ اس کے لبوں پر پھیل گئی۔
شادی کے بعد وہ اتنا تھک گئی کہ کئی دن یونی ہی نہ جا سکی۔ سارا سارا دن وہ اور مرحا شادی کی تصویریں دیکھتے ، گروپ میں شیئر کرتے اور پھر کمنٹ پر تبصرہ کرتے۔ اس دوران مرتضیٰ کا ایک بڑا مشاعرہ بھی ہوا۔ اس نے اس میں شرکت سے بھی معذرت کر لی۔
ایک دن ابھی وہ بستر پر رہی تھی جب اس کی ایک دوست نے اسے مشاعرے کی وڈیو سینڈ کی۔ مرتضیٰ کے ساتھ ساتھ گل رباب بھی نمایاں تھی۔
مرتضیٰ نے بالکل صحیح کہا تھا وہ واقعی ایک شاعرہ کی حیثیت سے نوجوانوں میں بہت مقبول ہو رہی تھی کیونکہ اسے اپنے ہر شعر پر سامعین کی جانب سے بہت تعریف اور ستائش مل رہی تھی۔
عرضہ نے نوٹ کیا تھا کہ گل رباب کی شاعری سے زیادہ اس کا شعر کہنے کا انداز دلکش تھا۔ آواز بھی مترنم سی تھی۔ الفاظ کی ادائیگی سے سماں باندھ دیتی تھی۔ اس نے ان دونوں کے ان بکس میں لائک کے ڈھیروں میسج بھیج دیئے۔
٭٭٭
’’تمہارے خط میں وہ اک نیا سلام کس کا تھا۔ ‘‘
وہ گنگناتی ہوئی اندر داخل ہوئی۔ مرحاکارپٹ پر بیٹھی مونگ پھلیاں کھا رہی تھی۔ روحان لیپ ٹاپ لیے بیٹھا تھا۔
’’وہ نیا سلام نیٹ والے کا ہے۔ اس نے وارننگ دی ہے کہ اگر دس تاریخ تک فیس جمع نہ کروائی تو نیٹ کاٹ دے گا۔ اور ابا اس بار بالکل فیس نہیں دے رہے۔ ہم سب کو اپنی پاکٹ منی سے ادا کرنی ہوگی ۔‘‘
روحان نے کچھ اس طرح وضاحت کی تو اس کی ہنسی چھوٹ گئی۔ ویسے بھی آج کل اس کا موڈ بہت خوش گوار رہنے لگا تھا۔ خوامخواہ ہنسی ہونٹوں سے پھوٹتی رہتی تھی۔
’’یہ دولہا اور دلہن کہاں ہیں۔‘‘ اس نے ادھر ادھر دیکھا۔
’’وہ تو رات کو ہی ہنی مون کے لیے نکل کھڑے ہوئے تھے۔ ملنے گئے تو تھے تمہاری طرف . تم تو اس وقت گھوڑے گدھے بیچ کر سو چکی تھیں۔‘‘
مرحا نے مونگ پھلیوں کا شاپر اس کی جانب بڑھایا۔
٭٭٭
آج وہ بہت عرصہ بعد یونی آئی تھی۔ اب پڑھائی سے مزید لاپروائی وہ افورڈ نہیں کر سکتی تھی۔ پہلے ہی شادی کی وجہ سے بہت سے دن ضائع ہو چکے تھے۔
آتے ہوئے اس نے مرتضیٰ کو میسج کر دیا تھا مگر ابھی تک اس کا ریپلائی نہیں آیا تھا۔ اس دن وہ یونی ہی نہیں آیا۔ مزید چار روز گزر گئے۔ پانچویں روز اس کی جھلک نظر آئی تو وہ بے تابی سے آگے بڑھی۔ وہ بہت عجلت میں تھا۔
’’عرضہ ! میں تم سے بعد میں بات کروں گا۔ دراصل مجھے آج ہی اسلام آباد کے لیے نکلنا ہے۔‘‘
’’وہ کیوں .؟خیریت ۔‘‘
’’وہ دراصل دوبئی میں ایک بڑا مشاعرہ ہو رہا ہے۔ پاکستانی کمیونٹی کروا رہی ہے۔‘‘
’’تم دوبئی جا رہے ہو. مجھے بتایا بھی نہیں۔‘‘
’’ابھی کچھ کنفرم تو نہیں ہے۔ دعا کرو سب ٹھیک ہوجائے۔‘‘
وہ تیزی سے نکلتا چلا گیا۔
٭٭٭
اورپھروہ دوبئی چلا بھی گیا۔ اس نے نیٹ پر مشاعرے کی وڈیو بھی دیکھ لی۔ گل رباب بھی شامل تھی۔ اس نے تو اس کے بھی جانے کا بتایا ہی نہیں تھا۔ شاید افراتفری میں بھول گیا تھا۔ وہ بدگمان نہیں تھی بس کیمپس میں ہونے والی چہ مگوئیاں سن سن کر اس کا دل ڈوبا جا رہا تھا۔ اکثریت کا خیال تھا کہ گل رباب سرے سے شاعرہ تھی ہی نہیں اور نہ ہی وہ مرتضیٰ سے کوئی اصلاح وغیرہ لیتی تھی بلکہ اس کا سارا کلام ہی مرتضیٰ کا ہوتا تھا جسے وہ اپنا بنا کر پیش کرتی تھی۔
اس نے خود بھی محسوس کیا تھا کہ گل رباب کے اشعار میں مرتضیٰ کی شاعری کا عکس جھلکتا تھا۔ وہی انداز اور وہی استعارے مگر دل اب بھی دماغ کی نفی کرنے پر تلا تھا۔
اس دن مرحا کو تقریری مقابلے کی تیاری کے لیے کوئی بکس چاہیے تھیں۔ وہ اس کے ہمراہ بک اسٹال تک گئی۔ مرحا وہیں بیٹھ کر نوٹس بنانے لگی جبکہ وہ ادھر ادھر جھانک رہی تھی۔ اچانک ایک کتاب کی بیک سائیڈ پر اسے مرتضیٰ کی تصویر نظر آئی ۔ اس نے جھٹ وہ نکالی اور دیکھ کر حیران رہ گئی وہ تو مرتضیٰ کی اپنی کتاب تھی۔
’’ہیں مرتضیٰ کی کتاب چھپ بھی گئی۔ اس نے تو مجھ سے تذکرہ تک نہیں کیا۔‘‘ اس نے خود سے ذرا بلند آواز میں کہا۔
’’بی بی! ان کی تودوسری کتاب بھی مارکیٹ میں آنے والی ہے ۔‘‘ بک شاپ کا مالک اس کی بات سن کر کہنے لگا تو وہ ساکت رہ گئی۔
’’ابھی چند روز تک وہ ایک بھی بک پیش کروانا افورڈ نہیں کر سکتا تھا۔ اب اکٹھی دو کروالیں۔‘‘ وہ اسی ’ادھیڑ بن ‘میں واپس آئی۔
٭٭٭
اس دن اس کی صرف ایک ہی کلاس تھی۔ وہ اٹینڈ کر کے لیکچر روم سے باہر آئی تو مرتضیٰ اسے لائبریری کی جانب جاتا نظر آیا۔ نکھرا ستھرا گرے شرٹ اور برائون پینٹ میں ملبوس اس کاشاندار سراپا دور سے ہی نمایاں دکھ رہا تھا۔ وہ بھی اس کے پیچھے ہی چلی آئی۔ آج چونکہ ایک آدھ ہی کلاس تھی اس وجہ سے لائبریری میں اسٹوڈنٹ بھی خال خال ہی تھے۔
مرتضیٰ نے ونڈو سائیڈ والی چیئرسنبھالی تو وہ بھی ہولے ہولے چلتی ہوئی عین اس کے سامنے آ بیٹھی۔
’’ہیلوعرضہ !‘‘ وہ چونکا ۔ ’’میں بس تم سے ہی ملنے کا سوچ رہا تھا۔‘‘
’’صرف سوچ رہے تھے ۔‘‘
’’وہ دراصل مشاعروں کی وجہ سے پڑھائی بہت ڈسٹرب ہوئی ہے تو میں نے سوچ کر پہلے نوٹس.‘‘
’’مرتضیٰ تمہاری کتابیں چھپ گئیں اور تم نے مجھے اپنی خوشی میں شامل بھی نہیں کیا.‘‘ وہ زیادہ دیر تک گلہ دل میں دبا نہ سکی۔
’’یہ تو ممکن ہی نہیں تھا عرضہ . وہ تو گل رباب اور اس کے بابا کی مہربانی ہے۔ وہ لوگ بہت قدر کرتے ہیں شعرائ کرام کی۔ گل کے بابا خود بھی ادبی ذوق رکھتے ہیں۔ انہوں نے ہی مجھے سپورٹ کیا ورنہ میں کہاں سوچ سکتا تھا۔‘‘
’’اور یہ دوبئی کا وزٹ بھی انہی کی مہربانی ہو گا۔‘‘ وہ اسے گہری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
اب کے وہ خاموش رہا۔ یہ کترایا سا انداز احمر مرتضیٰ کا تو کبھی نہ تھا۔
٭٭٭
احمر مرتضیٰ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جو محبت ضرور کرتے ہیں مگر ان کی محبت اندھی، بہری نہیں ہوتی۔ وہ دل کے ساتھ دماغ کی بھی سنتے ہیں اور مانتے بھی دماغ کی ہیں۔
عرضہ کی معصومیت اور خوب صورتی سے وہ گھائل ضرور ہوا تھا۔ اور اس کی محبت میں کوئی کھوٹ بھی نہیں تھا مگر اس کے کچھ خواب بھی تھے۔
اوریہ خواب عرضہ کی محبت سے زیادہ پرانے اور اسے شاید زیادہ عزیز تھے۔ گل رباب کی صورت اسے وہ سیڑھی نظر آئی تھی جن پر چڑھ کر وہ خوابوں کے چاند ، تارے توڑ سکتا تھا۔ دوسری طرف گل رباب نے بھی ایک طرح کی سودے بازی کی تھی۔ احمر مرتضیٰ نے کتنے کم وقت میں اسے کتنا لمبا شعری سفر طے کروایا تھا۔ وہ دھڑلے سے اس کے کلام کو بھی اپنے نام سے پیش کرتی رہی تھی۔
احمر مرتضیٰ اور عرضہ کی کہانی بہت عام سی تھی۔ اور یہیں پر ختم ہو رہی تھی۔ اس میں کوئی نیا پن نہیں تھا۔ وہ ہی ہیرو کا کس غرض سے ساتھ چھوڑ دینا اور ہیروئن کا تنہا رہ جانا مگر آگے کی کہانی اتنی عام نہیں تھی وہ بہت مختلف تھی۔ توچلیں آگے کی کہانی تک چلتے ہیں۔
٭٭٭
فضا پر دھند اور سردی کا راج تھا۔ ہر شے دھویں کی سفید چادر میں لپٹی مبہم سی نظر آ رہی تھی۔ اس دھندلے دھندلے غیر واضح منظر کی اوٹ سے ہی 2026ئ کے نئے نویلے سورج نے اپنا مکھڑا نکالنا شروع کیا۔
اس کی نرم ، گرم کرنیںحرارت میں کمزور ضرور تھیں مگر چڑھتے دن کے ساتھ طاقت پکڑتی جا رہی تھیں اور تقریباً نو بجے کے بعد سے سورج اپنی پوری توانائی خرچ کر کے دھند کو بہت حد تک بھگا چکا تھا۔اب درخت ، پودے اور سڑکوں پر چلتے پھرتے انسان سبھی منظر سے یوں واضح ہونے لگے تھے۔ جیسے کسی نے دن کے چہرے سے مہین سفید نقاب اتار دیا ہو۔ وہ ایک لمبے ٹریک سے تیز تیز چہل قدمی کرتی آ رہی تھی۔
گہرے نیلے رنگ کا ٹریک سوٹ پہنے جس کی ہڈ کو اس نے سر سے اتار کر اب خالی اسٹالر سے اسے لپیٹ رکھا تھا۔ ناک کی نوک سرخ تھی اور چہرا برف سا ہو رہا تھا۔ صبح اماں نے منع بھی کیا تھا۔
’’اب چند روز کے لیے یہ واک چھوڑ دو۔ ٹھنڈ لگ جائے گی۔‘‘
’’نہیں اماں جانی ! اس واک سے ہی تو میں سارا دن فریش رہتی ہوں۔‘‘
مرتضیٰ سے بریک اپ کے بعد وہ اتنی آسانی سے دوبارہ زندگی کی طرف نہیں لوٹی تھی۔ اس نے بہت درد سہاتھا۔ اسے لگا تھا کہ سب کچھ ختم ہو گیا تھا۔ اب وہ کبھی ہنس بول نہیں سکے گی۔ کبھی کسی کا اعتبار نہیں کرے گی۔ مگر ایسا صرف چند ماہ کے لیے ہوا۔ جب انسان مایوس ہوتا ہے نا تو رب اس کے اندر سے ہی امید کا ایک دیا جلاتا ہے۔ ضرورت صرف اس کو پکارنے کی ہوتی ہے۔ اس 2025ئ کی آخری رات وہ سارا وقت روتی رہی۔ اس کا تکیہ آنسوئوں سے بھیگ چکا تھا۔
صبح کے وقت اس نے اذان کی آواز سنی۔ ایک انوکھا سا احساس ہوا۔ پہلی اذان کی آواز۔ اس سے پہلے تواماں نماز پڑھ کر اسے جھنجھوڑ کر اٹھاتی تھیں۔ اس صبح وہ خود اٹھی۔ وضو کیا ، نماز ادا کی۔ روح تک سکون اتر گیا۔
اس نے دیکھا کہ اللہ نے اسے کتنی نعمتیں عطا کر رکھی ہیں۔ وہ اپنے تمام اعضا سمیت تندرست اور توانا ہے۔ خوب صورت ہے ۔ باشعور بھی ہے۔ زندگی میں تمام قیمتی رشتے بھی موجود ہیں تو پھر محض ایک محبت ، ایک خود غرض انسان کی محبت کے پیچھے وہ ان سب کو کیوں گنوائے ۔ وہ اپنا اور ان کا نقصان کیوں کرے۔ اس دن کے بعد سے اس کی زندگی بدل گئی۔
اس نے روٹین کی طرف آنا شروع کیا۔ اللہ کا شکر ادا کرتی تھی کہ اس نے بھی اس کا پردہ رکھا تھا۔ فراز بھائی کی شادی میں ہی ان کی چچی ساس کو مرحا اتنا بھائی کہ جھٹ اس کا رشتہ مانگ لیا۔ لڑکا یو کے میں سیٹلڈ تھا۔ یوں وہ بیاہ کر وہاں چلی گئی۔
روحان بھی مزید پڑھائی کے لیے مانچسٹرچلا گیا۔ اور اس کی ذہنی ابتری کو سب نے اداسی اور تنہائی سے محمول کیا۔
٭٭٭
مرحاپریگنٹ تھی۔ وہ خود بھی بوکھلائی ہوئی تھی اور اپنے میاں کو بھی ہولائے جا رہی تھی۔ اس غریب نے گھبرا کر اسے پاکستان بھیج دیا۔ خوب گول مٹول سی مرحا کتنی پیاری لگ رہی تھی۔ وہ کافی دیر تک اس سے لپٹی رہی۔
آج کل مرحا کا کچھ کھٹا میٹھا سا کھانے کو بہت دل کرتا تھا۔ عرضہ نے اس کے لیے کڑھی چاول بنائے تھے۔ وہی دینے گئی تو بیڈ روم سے مرحا اور تائی کی باتوں کی آواز آ رہی تھی۔ اپنا نام سن کر وہ ٹھٹھک گئی۔
’’اماں ! آخر آپ روحان اور عرضہ کا کیوں نہیں سوچ رہیں؟‘‘
’’میں ضرور سوچتی اگر دونوں بچوں کا ایک دوسرے کی طرف رحجان دیکھتی تو۔ پھر میرا خیال ہے کہ تمہاری چچی عرضہ کے لیے اپنے بھانجے کا سوچ بیٹھی ہے۔‘‘
’’اماں ! چچی جو بھی سوچے بیٹھی ہیں وہ غلط ہے۔ روحان تو عرضہ کو بہت پسند کرتا ہے۔ بہت پہلے سے ۔‘‘
’’ہیں.‘‘ وہ چونکیں۔
’’اس نے تم سے کب کہا.‘‘
’’کہا تو نہیں مگر اماں مجھے بارہا محسوس ضرور ہوا ہے۔ وہ اتنا گہرا ہے کہ کچھ ظاہر نہیں کرتا۔‘‘
’’گہرا نہیں گھنا میسنا کہو . اگر ایسی بات تھی تو جاتے جاتے مجھ سے اپنے منہ سے کچھ پھوٹ جاتا۔ گھر کی بچی ہے ہمیں اور کیا چاہیے ۔‘‘
’’اب آ تو رہا ہے اگلے مہینے۔ دوبدوبات کر لیجیے گا۔‘‘
عرضہ مزید نہ سن سکی۔ اس نے برتن کچن میں رکھے اور وہیں سے لوٹ آئی۔ دل کی عجیب حالت تھی۔ یہ انکشاف نیا تھا۔
جب وہ کسی اور کی محبت میں غرق تھی تو کوئی اور بھی عین اسی وقت اسی آگ میں تپ رہا تھا۔ عجیب کھیل ہیں مقدر کے ۔ پوری خوشی شاید کسی کے نصیب میں نہیں۔
٭٭٭
زندگی آگے بڑھ چکی تھی اور ابھی کتنا سفر باقی تھا۔ اسے بھی کسی کا ساتھ ، کسی کی ہمراہی چاہیے تھی۔ اماں اپنے بھانجے کے لیے دبائو ڈال رہی تھیں مگر وہ انہی رشتوں کے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔
اس کی روح یہاں ہی سکون پاتی تھی۔ پھر جب کوئی اتنی پرخلوص محبت اپنے دل میں دبائے اس کا منتظر تھا تو وہ کیوں ٹھکراتی۔ اس لیے جب روحان آیا تو وہ پوری طرح سے اپنی ذہن سازی کر چکی تھی۔
روحان کو آئے ہفتہ بھر ہو چکا تھا مگر ان دنوں وہ پی ایچ ڈی کے لیے اپنا ریسرچ ورک تیار کر رہی تھی اس لیے تائی جی کے پورشن میں بہت کم جانا ہوتا تھا۔ یا شاید وہ لا شعوری طور پر روحان کے لیے خود کو کچھ مزید وقت دینا چاہ رہی تھی۔
پھر اس دن کے انکشاف کے بعد روحان کے حوالے سے اس کے جذبات و احساسات بھی بدل چکے تھے۔ اب اسے اس سے عجیب سی جھجک محسوس ہو رہی تھی۔ مگر اسے حیرت ہو رہی تھی کہ وہ عجیب سی جھجک ایک الگ سا لطف دے رہی تھی۔ یہ خیال کہ کوئی اسے کتنا چاہتا ہے بہت خوش کن تھا۔ اپنی طرف سے تو وہ اس سے کترا رہی تھی مگر ایک ہی گھر کے دو پورشنز میں رہتے ہوئے یہ کہاں ممکن تھا۔
٭٭٭
جنوری 2026ئ کی نرم گرم سی سہ پہر تھی۔ دھوپ وسیع و عریض لان سے گزر کر اب سامنے والی دیوار پر چڑھ چکی تھی مگر اس کی تمازت ابھی بھی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ آج بہت دن بعد کیاریوں کے پاس آ کر بیٹھی تھی۔ سامنے والی رو میں سرخ گلابوں کا پوداپھولوں سے بھرا تھا۔ اس نے کتنے پیار سے وہ پودا اگایا تھا۔ دیکھ بھال بھی بہت کی تھی۔
پھر حالات نے کچھ ایسا پلٹا کھایا کہ وہ اس طرف آنکل ہی نہ سکی۔ آج بہت دن بعد آ کر بیٹھی تھی تو پھولوں پر نظر پڑی تھی۔ وہ منظر نگاہوں کو بھلا تو لگ رہا تھا مگر وہ پہلے والا دیوانہ پن اور جنون مفقود تھا۔ وقت کے ساتھ پسندیدگی کے درجے بھی بدل جاتے ہیں۔
پھر اسے اپنے پیچھے قدموں کی آہٹ سنائی دی اس نے پلٹ کر دیکھا۔
’’تمہیں آج بھی ان گلابوں سے عشق ہے۔‘‘
گرے شلوار سوٹ میں ہاتھ باندھے روحان کھڑا تھا۔ پتا نہیں اسے کیوں اس کی آواز میں نمی سی محسوس ہوئی۔
’’ارے تم کب آئے .؟ آئو بیٹھو .‘‘ اس نے سائیڈ پر پڑی ایک کرسی کھینچی۔
وہ آہستہ آہستہ قدموں سے چلتا ہوا عین اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ اس نے نظر اٹھا کر دیکھا وہ پہلے سے زیادہ شاندار دکھ رہا تھا۔ بہت سنجیدہ اور گہری سوچوں میں ڈوبا ہوا۔ ایک عجیب سا اسرار اس کی پوری شخصیت پر چھایا تھا۔ وہ خود بھی تو پہلے جتنی شوخ و شنگ نہیں رہی تھی۔
’’کیا سوچ رہی ہو .؟عرضہ ۔‘‘
اس نے دھیرے سے پکارا۔ وہ اسی کو تو سوچ رہی تھی۔ اس سوال پر شرمندہ ہو کر سر جھکا لیا۔
کچھ دیر تک دونوں کے درمیان خاموشی کی دبیز چادر تنی رہی۔ اور ایسا اس وقت ہوتا ہے جب کہنے کو بہت کچھ ہو مگر کوئی کچھ نہ کہہ سکے۔
’’عرضہ !‘‘ اسے پھر اس کی سرگوشی سنائی دی۔
’’اس بار میں آیا ہوں تو مرحانے تمہارے حوالے سے مجھے کچھ کہا ہے ۔‘‘وہ بلش سی سر جھکائے رہی۔
’’مگرتم شاید بے خبر ہو کہ میں .‘‘
وہ کہتے کہتے رک سا گیا۔ اس نے تیزی سے سر ہٹایا۔ اس کی آنکھوں کے رنگوں نے روحان کو سب بتا دیا کہ وہ بے خبر نہیں۔
اس نے گہری سانس بھری۔ کچھ دیر تک ہمت مجتمع کرتا رہا۔
’’مگرعرضہ اب یہ سب ممکن نہیں ہے۔‘‘
اس کے ایک غیر متوقع جملے نے اسے آسمان سے پاتال میں جاگرایا۔ کیا وہ ایک بار پھر ٹھکرائی جا رہی تھی ۔ آخر یہ ریجیکشن اس کا مقدر ہی کیوں ٹھہری۔
اس نے بامشکل آنسوئوں کو آنکھوں کے سمندر میں اترنے نہیں دیا۔ اس جملے کا زہر اندر اتارامگر لبوں پر ضبط نہ رکھ سکی۔
’’کیوں .؟‘‘ سرسراتا ہواایک لفظ منہ سے نکل ہی پڑا۔
’’عرضہ ! میں نے بہت سوچا اور یہی سمجھ پایا کہ ہم دو مختلف دنیا کے باسی ہیں۔ ہم ایک ساتھ خوش نہیں رہ سکتے۔ تم رنگوں کی دیوانی میری کمی کے ساتھ شاید گزارا نہ کر پائو۔‘‘
’’کمی .؟ کون سی کمی .؟‘‘
اس نے سوٹڈ بوٹڈ، لمبے چوڑے ، صحت مند روحان کو شکی نظروں سے دیکھا۔
’’ہرگز نہیں .!میری زندگی میں کوئی نہیں ہے عرضہ ! نہ پہلے نہ اب۔‘‘ اس نے شاید اس کی سوچ پڑھ لی تھی۔
’’وہ عرضہ . دراصل ۔‘‘ وہ چند لمحے ٹھہرا عرضہ گم صم سی اس کی صورت تکے گئی۔
’’وہ دراصل میں کلر بلا ئنڈ ہوں۔‘‘
’’کیا بلائنڈ .‘‘عرضہ کے بت میں جان پڑی۔وہ ایک چیخ مار کر کرسی سے اٹھی اور ہاتھوں سے اس کی گہری برائون آنکھوں کو ٹٹولنے لگی۔
’’ہائے اللہ روحان . ! کیا تمہیں نظر نہیں آتا۔‘‘ وہ پاگلوں کی طرح اب اس کا چہرہ ٹٹول رہی تھی۔
’’عرضہ . پلیز .؟‘‘
اس نے اس کے ہاتھوں کو پکڑ کر اسے تھوڑا سا پیچھے ہٹایا اور نرمی سے دوبارہ چیئر پر بٹھا دیا۔ اس کی سانس تیز تیز چل رہی تھی۔
’’بیوقوف لڑکی .میں نے کلربلائنڈ بولا ہے۔‘‘
’’کلر بالائنڈ.‘‘
’’ہاں کلر بلائنڈ. مجھے خود بھی نہیں پتا تھا۔ تمہیں یاد ہو گا کہ مجھے ایئرفورس میں جانے کا کتنا شوق تھا اور میں نے ٹیسٹ دیا تھا۔ ریٹن تو کلیئر ہو گیا تھامگر فزیکل میں اس کمی کی وجہ سے فیل ہو گیا تھا۔ اور مجھے اپنی اس بیماری کا علم بھی اسی وقت ہوا تھا۔
کلربلائنڈنس ایک ایسی بیماری ہے جو آنکھوں کے سیلز میں خرابی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ کلر بلائنڈ افراد کو چیزیں یا تو بالکل بے رنگ نظر آتی ہیں یا پھر وہ رنگوں میں تمیز نہیں کر پاتے۔ یہ عام طور پر مردوں میں ہوتی ہے۔ تقریباً ہزار افراد میں صرف ایک فرد ہی اس نقص کا شکار ہوتا ہے۔ اور بدقسمتی سے میں بھی ہزار میں وہی شخص ہوں۔‘‘
اس نے یاسیت سے سر جھکا لیا۔
عرضہ نے ایک گہری سانس لی۔
’’توبہ ہے روحان ! تم نے ڈرا ہی دیا تھا۔ میں سمجھی کہ پتا نہیں کتنی بڑی بات ہے۔ یہ تو ایک ثانوی سا مسئلہ ہے ۔‘‘
’’تمہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘‘
’’نہیں!‘‘ اس کا لہجہ ٹھوس تھا۔
’’مگرعرضہ ! میں تمہارے فیورٹ کلر کو صحیح سے دیکھ ہی نہیں پاتا۔ تم اس کے ہر شیڈ کی دیوانی ہو مگر میں اسے اس کے کسی بھی شیڈ میں دیکھ نہیں پاتا۔‘‘
’’روحان ! میں اب رنگوں کی اتنی پگلی اور دیوانی نہیں رہی۔ زندگی اس سے بہت آگے کی چیز ہے۔ اصل خوب صورتی تو انسان کے اندر چھپے رنگوں کی ہوتی ہے۔ وہ رنگ خلوص، محبت اور وفا کے ہوتے ہیںان رنگوں کے آگے دنیا کا ہر رنگ ہیچ ہے روحان!‘‘
اس کی کالی گھور آنکھیں پانیوں سے بھر گئیں جن میں ایک بے وفا کا عکس ڈوبنے ابھرنے لگا۔ اس نے جلدی سے آنکھیں میچ لیں مبادا روحان دل کا درد پا جائے کیونکہ اس نے بڑی محنت سے دل کی سرزمین کو اس کی محبت کا پودا اگانے کے لیے ہموار کیا تھا۔
روحان کو اس سمے اس بد لی بدلی عرضہ پر ٹوٹ کر پیار آیا۔
’’سچ عرضہ۔‘‘ اس نے فرط جذبات سے اس کے ہاتھ تھام لیے۔
’’ہاں ۔‘‘وہ بھیگی پلکیں لیے مسکرا دی۔ وہ بھی مسکرا دیا اور ان دونوں کے سنگ جنوری 2026ئ کی سنہری شام بھی ڈھلتے ڈھلتے مسکانے لگی۔
٭٭


