گونج – سمیراحمید

ناولٹ 69

ہمارے گھر کی چھت گر گئی۔پورا گھر ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ کچھ نہیں بچا۔چند گھنٹوں کی بارش نے محلے کے کسی گھر کو اس کی جگہ سے نہیں ہلایا اور ہمارا پورا کا پورا گھر زمین بوس ہو گیا۔ نہ جانے کیوں مجھے لگتا ہے کہ یہ گھر بارش سے نہیں گرا، بلکہ یہ گھر عینی کی وجہ سے گرا ہے۔

عینی جو ہماری پھوپھی تھی۔ عینی کا صبر گھر کی دیواروں سے لپٹ کر اسے کھوکھلا کر گیا اور جیسے ہی وہ اس گھر سے نکلی، اس گھر کی چھت زمین پر آگری۔

٭٭٭

یہ جو صبر کے گھونٹ پیے ہوتے ہیں یہ کسی نہ کسی شکل میں طوفان بن کر بنیادیں تو ہلا دیتے ہوں گے۔یہ جو ہمیں معمولی ز یادتیاں لگتی ہیں کہیں نہ کہیں ناسور بن کر ظاہر ہوتی ہیں۔دلوں کی کدورت، نیتوں کی خود غرضی،احساس کی تنگی، کسی بارش ، کسی آندھی کی وجہ ضرور بنتی ہوگی۔

زمین چھوٹی بڑی قیامتوں سے تباہ ہو تی ہے،لیکن خاندان نا انصافیوں سے تباہ ہوتے ہیں ۔رشتے بے حسی سے قتل ہوتے ہیں۔لیکن میں نے ان باتوں پر بہت بعد میں غور کرنا شروع کیا،اس وقت جب ہمارا گھر زمین میں دھنس گیا اور ہم بے گھر ہو گئے۔

اگر میں پیچھے پلٹ کر دیکھوں تو عینی کا سسکتا ہوا وجود سب سے پہلے یاد آتا ہے۔ رات کا گہرا پہر تھا، اس کی گھٹی گھٹی ہچکیوں نے مجھے یک دم نیند سے بیدار کر دیا تھا۔اس کا بستر میرے پلنگ کے نیچے چٹائی پر تھا، اور وہ ہتھیلیوں سے اپنی آنکھیں رگڑ رہی

تھی۔کچھ مدت پہلے اسے طلاق ہوئی تھی بلکہ اس نے خود طلاق لی تھی۔پھر کئی مہینوں تک وہ گاہے بگاہے بیمار پڑتی رہی۔

طلاق اس کے لیے تکلیف کی وجہ نہیں تھی بلکہ اماں کا رویہ تھا۔ اماں اور چچی نے اس کے لیے گھر کو جہنم بنا دیا تھا۔اماں اور چچی دونوں سگی بہنیں تھیں اور دونوں ہی بدزبان اور تیز مزاج تھیں۔دونوں شادی سے پہلے بھی عینی کا جینا محال رکھتی تھیں ۔ اس کے کالج جانے سے چڑتی تھیں، اس سے گھر کے کام لیتی تھیں لیکن اب تو وہ اس کا خون پی جانا چاہتی تھیں۔

ان دنوںاماں نے ابا پر خوب دبائو ڈالا کہ اسے چلتا کرو۔ابا کو اپنی بہن سے پیار تھا لیکن اماں نے منوا لیا کہ رشتہ بہت اچھا ہے پڑھائی ہوتی رہے گی۔

اس اچھے رشتے کی مار کے نشان لے کر عینی گھر آئی تھی۔اماں نے واویلا ڈال دیا کہ وہ مارتا ہے یا بھوکا رکھتاہےے۔ یہ تمہارا نصیب ہے، ہمارے سر نہ پڑو۔لیکن عینی نے ابا سے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ پوری طرح سے نباہ کرنے کی کوشش کرے گی لیکن کبھی مار نہیں کھائے گی۔ اگر دوبارہ ان پر ہاتھ اٹھایا گیا تو ابا کو ان کا ساتھ دینا ہو گا۔

دونوں خاندانوں نے بیٹھ کر بات کی، کچھ صلح صفائی ہوئی اور عینی اپنے سسرال واپس چلی گئی۔لیکن ٹھیک چھ ماہ بعد عینی دوبارہ واپس آگئی اور پھر کبھی نہیں گئی۔

گھر میں دنوں لڑائی رہی۔ اماںچاہتی تھیں ابا اسے واپس بھیجیں، جبکہ ابا کو یہ گورا نہیں تھا کہ بہن ایسی جگہ واپس جائے۔عینی نے اماں کو جتا دیا تھا کہ انہوں نے سب جانتے بوجھتے اسے اس جہنم میں دھکیلا تھا۔ وہ اس لڑکے کے بارے میں سب جانتی تھیں ۔

ابا اماں پر بھڑکتے تھے، اماں عینی کو گالیاں دیتی تھیں۔بات اتنی بڑھ گئی کہ ہم سب گھر چھوڑ کر ماموں کی طرف آگئے۔اماں نے شرط رکھی تھی کہ عینی واپس جائے گی تب وہ واپس آئیں گی لیکن عینی نہیں گئی، اور ہمیں عینی کی طلا ق کی خبر مل گئی۔ شاید یہیں سے اماں نے عینی کی زندگی جہنم بنا نے کی ٹھان لی تھی۔

ہم سب واپس آگئے اور اماں نے آتے ہی عینی کا بوریا بستر کمرے سے نکال کر باہر پھینکا اور کمرے میں چچی کے بچوں کے پلنگ لگا دیے۔اوپر اسٹور میں عینی کا جہیز رکھا تھا، وہ نکال کر کھلی چھت پر پھینکا، اسٹور کو تالا لگا دیا۔اوپر ہی سیڑھیو ں کے پاس ایک چھوٹا سا کمرا تھا، عینی نے وہاں اپنی الماری اور پلنگ لگالیا، اماں نے وہ بھی نکال کر باہر پھینکا۔ابا آئے، بات بڑھی، اور یوں عینی کو زمین پر چٹائی بچھا کر سونے کی جگہ مل گئی۔ کونے میں ان کی لکڑی کی الماری رکھ دی گئی۔یہاں سے ان پر اس گھر کی زمین تنگ ہوئی جس کی کشادہ چھت پوری کی پوری زمین پر آگری۔

جہیز کا سامان کھلی چھت پر پڑا رہا، عینی نے اس پر پلاسٹک ڈال دیا۔دادی کے ہاتھ کی چند چیزیں تھیں جو عینی سنبھالنا چاہتی تھی لیکن اس کے پاس کوئی جگہ نہیں تھی۔ناچار کچھ چیزیں ہمسایوںکے گھر رکھوائیں ۔ایک دن اماں ایک آدمی اپنے ساتھ لائیں اور جہیز کا سارا سامان اسے اٹھوا دیا۔ جب تک ابا گھر آئے، جہیز کی ایک ایک چیز گھر سے جا چکی تھی۔ اماں نے وہ سامان بیج دیا تھا۔کچھ وقت گزرا تو معلوم ہوا کہ اماں ہمسایوں کے گھر جا کر خوب لڑی تھیں اور عینی کا رکھوایا سامان بھی نکلواکر باہر سے باہر بیچ دیا تھا۔

اس دن عینی پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔مجھے بہت بعد میں احساس ہوا کہ وہ سامان کے لیے نہیں، اپنے ساتھ کی جانے والی زیادتی پر رو رہی تھی۔ وہ ان چند چیزوں کے ساتھ جڑ ی یادوںپر رو رہی تھی۔

’’وہ میری ماں کی چیزیں تھیں.میںانہیں رکھنا چاہتی تھی.کیوں بیچ دیں۔‘‘وہ سسکتے ہوئے ابا سے کہہ رہی تھی۔

’’تو بی بی اپنا گھر آباد کرتی وہاں رکھتی۔ایسے منحوس سامان کا سایہ میں اپنی بچیوں پر نہیں پڑنے دوں گی۔‘‘

اس منحوس سامان کے پیسوں سے اماں نے ہمارا جہیز خرید کر رکھ لیا۔اپنے لیے خوب خریداری کی۔ابا نے اماں سے سختی سے پوچھ پڑتال کی اور یہی چیز اماں کو اور بھڑکا گئی۔پتا نہیں اما ں کو کس بات کا غرور تھا۔اما ں کو یہ یقین کس نے دلا دیا تھا کہ وہ جو کچھ بھی کریں گی ،اس کا کبھی حساب نہیں ہو گا۔ویسے تو اس گھر میں پہلے بھی عینی کی زندگی تنگ تھی، لیکن طلاق کے بعد گنجائش بالکل ہی جاتی رہی۔

اماں اس پر یہ ثابت کرنا دینا چاہتی تھیں کہ اگر وہ تمہیں مارتا تھا تو سکھ تمہیں یہاں بھی نہیں لینے دوں گی۔اتنے بڑے گھر کی زمین تنگ کرنے کے بعد اماں نے عینی پر دو وقت کی روٹی تنگ کرنا شروع کی۔تینوں وقت کے کھانے میں جو کچھ بچتا ،اماں وہ پھینک دیتیں کہ عینی نہ کھاجائے۔باقی ہر چیز پر تالا لگا دیا جاتا۔عینی کبھی پیاز تلتی، کبھی پڑوس کے بچے سے کچھ منگواتی۔ان دنوں وہ بیمار تھی اس کے لیے چلنا پھرنا مشکل تھا ۔ وہ چٹائی پر پڑی رہتی اور اسے کوئی نہ پوچھتا۔وہ اتنی کمزور ہو چکی تھی کہ پہچانی نہیں جاتی تھی۔چند بار عینی نے ابا سے کھانے کی تنگی کی شکایت کی، لیکن پھر خاموش ہو گئی۔

عینی سب سے پہلے بھوک پر خامو ش ہو ئی تھی۔

وہ جب جب ابا سے شکایت کرتی تھی، اس کی زندگی پہلے سے زیادہ تنگ ہو جاتی تھی۔ ابا تو رات گئے آتے تھے، عینی کو سارا دن اماں کو بھگتنا پڑتا تھا۔ تندرست ہونے میں عینی کو ہفتو ں لگے، اور پھر کبھی کسی نے اسے بیمار نہیں دیکھا۔گرمیوں میں سارے گھر والے کھلی چھت پر سوتے تھے،وہی چھت جو پوری کی پوری زمین پر آگری، سوائے عینی کے۔اماں اسے ایک چارپائی تک بچھانے کی جگہ نہ دیتیں۔کبھی بہت گرمی میں وہ اپنی چٹائی کی جگہ بنا لیتی تو اماںواویلا شروع کر دیتیں کہ وہ مجبور ہو کر نیچے لوٹ جاتی۔اماں چچی،دونوں کے نوبچے، ابا اور چچا،ہم سب ایک طرف ہوتے اور و ہ اکیلی ایک طرف۔ کیوں؟ کیونکہ میری ماں کو اس سے نفرت تھی اور وہ چاہتی تھی کہ یہ گرمی میں مرے۔ابا کو بہن سے پیار تھالیکن وہ سہل پسند تھے۔ محبت کو صرف لفظی قاعدوں میں رکھتے تھے، ثابت نہیں کر سکتے تھے۔ابا کی محبت کبھی کبھی جاگتی تھی، باقی وقت غفلت کی نیند سوتی رہتی تھی۔پھر وہ روز روز کی چخ چخ سے تنگ تھے۔و ہ خود کو بہرا بنا لیتے۔گھر تو ابا کا بھی تھا، دیواریں تو ابا کے گھر کی بھی گریں۔ابا گھن نہیں تھے جو گیہوں کے ساتھ پسے، بلکہ ابا بھی اماں جیسے ہی تھے، ہم سب اماں جیسے تھے۔

موسم کے حساب سے اماں کا فیصلہ بدلتا تھا۔وہ اسے شا م کی ٹھنڈی ہوا نہ لینے دیتیں، سردیوں کی دھوپ میں بیٹھنے نہ دیتیں۔ اس کے دھلے کپڑے تار سے اتار کر پھینک دیتیں۔روٹی کم پڑ جاتی تو عینی روٹی چور نکلتی۔سالن میں کمی ہوتی تو عینی پر چیخ و پکار ہوتی۔ کہیں کوئی چیز غائب ہو جاتی، کام خراب ہو جاتا،بجلی کا بل زیادہ آجاتا، مہینے کا راشن ختم ہو جاتا،اماں کے سر میں درد اٹھتا، غرض ہر چیز کا الزام عینی پر آتا۔ہمارے لیے یہ معمول کی بات تھی۔اماں واویلا کرتی عینی کی الماری کھولتیں، اپنا کوئی کپڑ اجوتا جو خود ہی الماری میں چھپا دیا ہوتا نکلاتیں اور چیختیں۔

’’یہ چورنی میری چیزیں چراتی ہے.دیکھو.‘‘

پھر وہ اس کا پرس پکڑتیں اور اس کے پیسے مٹھی میں دبوچ لیتیں۔دراصل عینی اس گھر میں پناہ کی چور تھی۔ اس گھر کی زمین پر رہائش کی چور تھی۔ وہ چور تھی ان چند نوالوں کی جن سے وہ اپنی بھوک مٹاتی تھی۔وہ اتنی بڑی چور تھی کہ ہمارے نصیب کی سار ی خیرچرا کر کھا گئی۔پہلے پہل عینی اماں کو کچھ شرم دلانے کی کوشش کر لیتی تھی لیکن پھر اس نے یہ کرنا چھوڑ دیا۔شاید وہ تھک چکی تھی یا سمجھ چکی تھی کہ وہ اماں اور چچی سے نہیں جیت سکتی۔عینی ہمیں وہ آئینہ نہیں دکھا سکتی جس میں ہمارے اصل چہرے دکھائی دے جاتے۔

دراصل ہمارے گھر میں سب گونگے بہرے تھے۔بلکہ ہم اندھے زیادہ تھے۔ایک بار عینی نے الماری کو چھوٹاسا تالا لگا دیا جو اماں نے تڑوا دیا کہ ہمارا کھاتی ہے ، ہمارا چراتی ہے،ہم سے چھپاتی ہے۔ اس کا کوئی کپڑا جوتا، کتاب ادھر ادھر کہیں دکھائی دے جاتی تو اماں اسے اٹھا کر پھینک دیتیں۔ اتنے بڑے گھر میں عینی کے لیے اتنی ہی گنجائش تھی، بتائیے پھر یہ گھر گرنے سے کیسے بچتا؟

٭٭٭

عینی نے دوبارہ کالج جانا شروع کر دیا۔اماں نے چیخ پکار کی کہ گھر کے کام کون کرے گا لیکن ابا نے چپ کروا دیا۔ کام؟گھر کے کام؟ یہ کام کنواری نندوں، طلاق یافتہ بہنوں، بیوہ بیٹیوں کے سر ہی کیوں آجاتے ہیں؟ یہ لڑکیاں جو بوجھ ہوتی ہیں ، ان سے مزدوری لے کر چار دیواری کی پناہ کا کرایہ لیا جاتاہے۔جنہیں دو نوالے کھلانا، ایک بستر کی جگہ دینا بھاری لگتاہے، ان سے پورے خاندان کے کام کروانا آسا ن لگتا ہے۔یہ بیٹیاں جنہیں گھروں اور دلوں میں جگہ نہیں ملتی،یہ بے زمینی کا بوجھ اٹھا کر سب کے کاموں کے بوجھ اٹھاتی پھرتی ہیں۔وہ اس کی، اَس کی ناراضی سے ڈرتی ہیں کہ انہیں بے گھر نہ کر دیا جائے۔وہ اپنی ذات میں چور بن کر رہتی ہیں۔

سردی گرمی خزاں، بہار، ہم سب کی حالتیں بدلتی تھیں سوائے عینی کے۔ سخت سردی ہوتی یا سخت گرمی، اس کا ایک ہی معمول رہتا۔کام کام کام۔وہ صبح گھرمیں سب سے پہلے اٹھتی، صحن کافرش دھوتی، آٹا گوندھتی، ناشتہ تیار کرتی۔ ابا اور چچا کو ناشتہ کرواتی ، اور اسکول جانے والوں کے لیے ناشتہ بنا کر رکھ جاتی۔ اماں اور چچی لمبی تان کر سو رہی ہوتیں۔دوپہر میں آکر برتنوں کا ڈھیر صاف کرتی۔ روٹی بناتی اور پھر رات کا کھانا بنانے کی تیاری کرتی۔چھٹی والے دن گھر بھر کے کپڑے دھوتی۔اماں چھت سے ہمیں وہ کپڑے تک اتارنے نہ دیتیں کہ منحوس عینی کرے گی۔ پھر وہ رات گئے تک بیٹھ کر ہمارے یونیفارم استری کرتی، ابا اور چچا کے کپڑے تیار کرتی۔وہ ہر کام سمیٹتی چلی گئی اور خاموش سے خاموش ہوتی چلی گئی۔اتنی خاموش کہ کبھی کبھی مجھے اس سے ڈر لگتا تھا۔ میرا دل بیٹھ جاتا تھا۔ اماں خوش ہوتیں کہ دیکھو کیسے چکی میں پیس کر رکھ دیا۔کم بخت جائے گی کہاں، دیکھا کیسا قابو کیا۔

’’ہاں اماں!ہم جیسے کم ظرف لوگوں میں رہنے والی بے چاری عینی جیسی لڑکیاں آخر جائیں گی کہاں، کریں گی کیا۔‘‘

اس کے کالج سے کوئی ضروری پیپر آیا تھا جسے دیکھتے ہی اماں نے پھاڑ دیا تھا۔وہ گھر میںبچے بچے سے پوچھتی رہی کہ اس کی رول نمبر سلپ آنی تھی، کسی کو ملی ہے تو د ے دے۔ لیکن وہ تو میری ماں ٹکڑے ٹکڑے کر چکی تھی۔ عینی نے کہیں جاب کے لیے بھی اپلائی کیا تھا، دو تین باروہاں سے بھی کچھ آیا تھا، جو اس تک پہنچ نہیں سکا۔یہ لینڈ لائن کا زمانہ تھا، کچھ اداروں سے فون بھی آئے جو اماں نے عینی کا نام سنتے ہی کاٹ دیے۔ ہمیں سختی سے ہدایت تھی کہ عینی کا فون آئے تو اماں کو جا کر بتائیں، عینی کو نہیں۔

آہستہ آہستہ عینی کو یہ سب معلوم ہو گیا۔پھر ا س کے ضروری کاغذ پڑوسن خالہ کے گھر آنے لگے، اور وہیں جا کر وہ اپنے فون سنتی۔بظاہر سننے میں یہ کتنی معمولی بات لگتی ہے، لیکن کتنی تکلیف دہ بات ہے۔گھر میں مجھ سمیت پانچ لڑکیاں تھیں، اورہم پانچوں کو روٹی تک بنانی نہیں آتی تھی۔ اماں کو ہماری خوب صورتی اور نزاکت پر غرور تھا۔اماں کے غرور بھی عجیب نوعیت کے تھے۔ آئے دن اسکول سے چھٹی کرنا، دن چڑھے تک سونا، رات گئے جاگنا، چھت پرچڑھ کر گپیں لگانا،کبھی اس سہیلی کے گھر، کبھی اس سہیلی کے گھر جانا ہمارا مشغلہ تھا، اور اس پر اماں کو ناز تھا۔ رات کو فلم دیکھنا ، لڈو کھیلنا، شور ہنگامہ کرنا ہمارا معمول تھا۔

شروع میں عینی نے ہمیں سمجھانے کی کوشش کی ، لیکن ہم اولاد کس کی تھی؟ ہمیں یہ گوارا نہ تھا کہ کوئی ہمیںاسکول کی چھٹی سے بازر کھے، امتحان کے دنوں میں ٹی وی بند رکھنے کی نصیحت کرے،چیخنے چلانے پر تنقید کرے اور تمیز تہذیب اپنانے کا مشورہ دے۔ عینی تھی کون؟ جس لڑکی کی رات دن میری ماں کے ہاتھوں درگت بنتی تھی، اس لڑکی کو ہم کیسے اہمیت دیتے؟

پھر عینی ہمارے معاملے میں بھی خاموش ہو گئی۔

میں نے کہا نا یہ گھر عینی کی وجہ سے گرا ہے۔وہ اتنی خاموش کیوں ہوئی؟ اس نے چپ کے اتنے گھونٹ کیوں پیے؟

گھر کے کسی کونے میں اسے سکون میسر نہیں تھا۔ کسی جگہ بیٹھ کر وہ پڑھ لکھ نہیں سکتی تھی۔صرف اماں اور چچی ہی نہیں، ہمیں بھی اس کا احساس نہیں تھا۔ ورنہ ہم ہی اس کے لیے کچھ گنجائش نکال لیتے۔ ناچار وہ دوسری منزل کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر پڑھنے لگی۔ سردیو ں میں اپنے گرد چادر لپیٹ لیتی اور دیوار کے ساتھ جڑ کر بیٹھ جاتی۔ہمیں پڑھنا نہیں تھا، اور اسے پڑھنے دینا نہیں تھا۔آئے دن اماں اس کی کتابیں اٹھا کر پھینک دیا کرتیں۔وہ ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہلکان ہو جاتی، بچوں سے پوچھتی تو اماں چیل کی طرح اس پر جھپٹتیں کہ میرے بچوں پر الزام لگاتی ہو۔اس کے لیے اپنی کتابیں چھپا کر رکھنا درد سر تھا۔اتنی سی الماری میں وہ کیا کچھ رکھتی؟

یہ کئی سالوں کی کہانی ہے جس کے منظر میرے ذہن کے پردے پر نشان چھوڑ رہے ہیں۔عینی کے امتحان کے دنوں میں اماں اپنے دونوں بھائیوں کے بیوی بچے گھر بلا لیتی تھیں۔گھر چڑیا گھر بن جاتا،اور پھر ہر وقت چولہا جلتا رہتا،کچن برتنوں سے بھرا رہتا، صحن اور کمرے گندے رہتے۔وہ کالج سے آتی صفائی کرتی، کھانا بناتی، پھر کتاب پکڑ کر بیٹھ جاتی۔ ان دنوں اس کے پیروں میں چکر آجاتا۔ چاول دم پر لگا کر ، جلدی سے اپنا یونیفارم استری کر لیتی۔ دستر خوان بچھا کر صبح کے لیے آٹا گوندھ لیتی۔ سب کے لیے چائے تیار کرتے ہوئے، ساتھ ساتھ اپنی کتاب دیکھتی جاتی۔ان دنوں ایسا لگتا کہ اوپر سے نیچے گھوم گھوم کر وہ پاگل ہو جائے گی۔انہی چکروں میں وہ ایک پیپر کے لیے اتنی تاخیر سے سینٹر پہنچی کہ پیپر شروع ہوچکا تھا۔اس نے رو رو کر سپر ٹینڈنٹ کی منت کی کہ اس کی مجبوری تھی، زیادہ نہیں تو دس منٹ اور دے دیں۔

پتا نہیں اسے وہ دس منٹ ملے یا نہیں لیکن ہمیں یہ گھر بچانے کے لیے بہت وقت ملا۔ بہت سال، بہت مہینے، بہت دن ملے۔بڑی لمبی مدت ملی لیکن ہم نے گھر بچانے کی کوشش نہیں کی۔ ہم اس گھر میں عینی کے لیے گنجائش سمیٹتے چلے گئے۔ جب وہ گھر پہنچی تو اس کی آنکھیں رو نے کی زیادتی سے سرخ تھیں۔اس کی سال بھر کی محنت کے لیے صرف بیس منٹ ملے تھے۔اس وقت تو نہیں لیکن کئی ہفتوں بعد مجھے اس واقعہ کے تانے بانے معلوم ہوئے جب وہ اپنی سہیلی کے آگے بیٹھی رو رہی تھی۔سہیلی اسے جھوٹی سچی تسلیاں دے رہی تھی۔

٭٭٭

ان ہی دنوں ہمارے یہاں گائوں سے ایک لڑکی آئی۔ اس کالی بھجنگ لڑکی کو دیکھ کر لگتا تھا کہ اسے سڑک سے اٹھایا گیاہے۔یہ ابا کے دور کے رشتے داروں کی بیٹی تھی،ماں باپ فوت ہو چکے تھے،چچا کو بھتیجی سے کچھ انسیت تھی۔ لیکن چچا اپنے خاندان کے ساتھ باہر جا رہاتھا اوربچی کا کچھ بہتر انتظام کر کے جانا چاہتا تھا، ورنہ پیچھے والے اسے کھا جاتے۔وہی جو ہمارے یہاں یتیموں مسکینوں کو ترنوالہ بنا لیا جاتا ہے۔وہ مفت کے ملازم بنا لیے جاتے ہیں اور قیمت چکا دینے پر بھی، مفت کی روٹیاں توڑنے والے کہلاتے ہیں۔

اناج کی چند بوریاں اور ماہانہ پیسوں کے عوض وہ بچی کو ابا کے حوالے کرگئے۔اماں کو کام کے لیے ایک اور ملازمہ مل گئی ، گندم چاول الگ سے۔اب جو کام عینی سے بچ جاتا، وہ گائوں والی کرتی۔ عمر میں چود ہ پندرہ سال کی ہو گی۔ قد میں اچھی خاصی اونچی لمبی تھی۔وہ بھی اسی ماحول سے آئی تھی جس میں عینی رہ رہی تھی۔فرق صرف اتنا تھا کہ وہ ڈری سہمی رہتی اور عینی خامو ش۔

پہلے ہی دن اماںنے اسے کپڑے استری کرنے پر لگا دیا۔جبکہ عینی نے اسے پہننے کے لیے اپنے صاف کپڑے دیے، اس کے بال بنائے اورپھر اپنے قریب اس کا بستر لگا دیا۔ اب چٹائی پر ایک نہیں دو لوگ سوتے تھے، اور دونوں کا کم و بیش ایک جیسا نصیب تھا۔دونوں بوجھ تھیں، دونو ں کے لیے ان کے خاندان بے حس تھے، اور دونوں کا کوئی والی وارث نہیں تھا۔

اگلے ہی دن عینی نے اسے کتابیں لا دیں کہ وہ پڑھائی لکھائی شروع کرے۔ گائو ں میں وہ دو چار جماعتیں پڑھی تھی لیکن اسے لفظو ں کی پہچان تک نہیں تھی۔اماں نے عینی کی لائی کتابیںپھینک دیںاور چیخنا چلانا شروع کر دیا کہ وہ اس معاملے سے دور رہے۔کئی سالوں بعد عینی نے اپنی خاموشی توڑی اور ابا سے شکایت کی کہ اس کا چچا خرچا دے کر گیا ہے بچی کو ملازمہ نہ بنائیں، ورنہ عینی اس کے چچا کو فون کر کے بتا دے گی۔ ابا نے اماں کو سختی سے منع کر دیا کہ وہ بچی کے معاملے سے دور رہے۔یہ لڑکی عینی سے اماں کی نفرت کی اور ایک وجہ بنی۔

میں آج بھی سوچتی ہوں کہ عینی کو کیا ضرورت تھی اپنی زمین اور گنجائش تنگ کروانے کی؟اسے کیا غرض تھی پرائی لڑکی کے لیے اماں کے خلاف جانے کی؟ہماری طرح وہ بھی اندھی گونگی بن کر رہتی۔ بلکہ عینی کو تو خوش ہونا چاہیے تھا کہ اس کے کام اب یہ لڑکی کرے گی۔لیکن عینی غلطیاں کرتی رہی۔

رات گئے تک اس لڑکی کو لے کر بیٹھی رہتی اور کتابیں پڑھاتی۔پھر اسے اسکول لے گئی اورٹیسٹ دلوا کر ایک کلاس میں بٹھا دیا۔اتنی اونچی لمبی لڑکی کا اتنی چھوٹی کلاس میں بیٹھنا کافی مضحکہ خیز رہا۔ اسکول کی لڑکیاں ا س کا مذاق اڑاتی تھیں۔وہ روتی تھی، اسکول جانے سے انکار کرتی لیکن عینی باز نہیں آتی تھی۔ وہ اسے سمجھاتی اور خود اسکول چھوڑنے جاتی۔

آہستہ آہستہ و ہ بھی عینی کی طرح ہوتی چلی گئی۔ خاموش، بہت خاموش۔ ایسی خاموشی کہ جس سے ڈر لگے۔ایک سال کے اندر اندر اس نے دو درجوں کے امتحان دیے، اور بڑی جماعت میں آگئی۔جہاں رات گئے تک عینی پڑھتی تھی، وہ بھی پڑھتی تھی۔ا ب دو لوگ گھر میں ایک جیسی زندگی جینے لگے۔وہ اپنی عینی آپا کے ساتھ اٹھتی، ناشتہ بنواتی، کام سمیٹتی۔ عینی یونیورسٹی چلی جاتی، وہ اسکول چلی جاتی۔دونوںواپسی پر گھر کے کام سمیٹتیں، کھانا کھاتیں اور اپنی کتابیں لے کر بیٹھ جاتیں۔ ہمارے شور ہنگامے، اماں کی چخ چخ سے بے نیاز سیڑھیوں پر بیٹھ کر ریاضی کے سوال حل کرتیں، اور ہم کمروں میں گھسے، بستروں پر چڑھے لڈو کھیلتے، کیرم کی بازی لگاتے،ٹی وی کے ناچ گانے پر شور ہنگامہ ہوتا۔گرمیوں سردیوں کی چھٹیوں میں دونوںممانیاں آتی رہیں، کام بڑھتے رہے، ان کے امتحان چلتے رہے۔

اماں کو یہ گوارا نہیں تھا کہ ٹیوشن پڑھا کر عینی چار پیسے کمائے۔وہ انہیں گھر میں بچوں کو ٹیوشن پڑھانے نہیں دیتی تھیں۔جسے سونے کے لیے چٹائی بھر جگہ دی تھی، بچوں کے لیے چھت یا کمرا کیسے دیتیں۔پڑوسن خالہ نے عینی کو اپنے گھر کا ایک کمرا دے دیا کہ یہاں بچوں کو بلا کر پڑھا لیا کرو۔عینی ٹیوشن کا کام وہاں کرنے لگی۔اسی خالہ کی بچی نے میڈیکل انٹرنس پا س کیا تھا۔اماں عینی کو جگہ دے دیتیں تو شاید میں بھی ریاضی کا پرچہ پاس کر لیتی۔

وہ گائو ں والی چچی کی لڑکی کی کلاس میں پہنچ گئی۔نہم میں۔گھر کی کوئی ایسی لڑکی نہیں تھی جس نے ہر کلاس میں ایک دو سال نہ لگائے ہوں۔اور وہ ایک سال میں دو دو کلاسیں پھلانگ کر ہمارے برابر آگئی تھی۔میں دو سال سے میٹرک بورڈ میں پھنسی ہوئی تھی۔ریاضی میری جان کو آگئی تھی۔اس پرچے سے نکل کر نہیں دے رہی تھی۔ مجھے کالج جانے کا بہت شوق تھا لیکن یہ منحوس ریاضی۔ عینی نے مجھے پڑھانا چاہا تو اماں نے گوارا نہ کیا۔میں نے بھی عینی کو اتنی اہمیت نہ دی۔

’’انہیں ان کے گھر کا کرناہے، ہمیں کون سا ڈگری دلوا کر طلاقوں کے لیے تیار کرنا ہے۔‘‘

جب جب گھر کی لڑکیاں فیل ہوتیں، اماں اور چچی تنک کر کہتیں کہ انہیں پروا نہیں کہ بچے پاس ہوں یا فیل، پڑھ لیا جتنا پڑھنا تھا۔عینی نے کئی بار ہم لڑکیوں کو اماں سے چھپ کر علیحدگی میں سمجھایا لیکن ہمیں عینی کی باتیں سمجھ میں نہیں آتی تھیں۔کیونکہ ہماری نظروں میں عینی کی کسی بات کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ وہ رات دن اماں سے صلواتیں سنتی تھی، ہم اس کی کیسے سن سکتے تھے؟جو میری ماں کے ہاتھوں ذلیل ہوتی تھی وہ ہم سے کیسے عزت پا لیتی۔ایسے گھر کی کوئی لڑکی کالج کیا پہنچتی،فرسٹ ڈویژن لے کر وہ گائوں والی کالج پہنچ گئی۔اس نے ایک ہی جھٹکے میں میٹر ک پاس کر لیا تھا۔ ابا نے اس کے چچا کو فون کر کے بتایا کہ تمہاری بھتیجی بورڈمیں پاس ہوئی ہے۔چچا کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔اسی خوشی میں اچھے خاصے پیسے بھجوائے جو اماں کے ہی ہاتھ آئے۔و ہ گھر کے کام کرتی تھی، چٹائی پر سوتی تھی، عینی کے کپڑے پہنتی تھی، عینی اس کے تعلیمی اخراجات ادا کرتی تھی، لیکن چچا کے بھیجے پیسے اماں کی جیب میں جاتے تھے۔

پڑوسن خالہ کے ٹیوشن والے کمرے میں اب عینی اور گائوں والی مل کر پڑھانے لگی تھیں۔عینی بڑی کلاس کے بچوں کو پڑھاتی تھی اور وہ چھوٹی کلا س کے بچوں کو۔اب میں پیچھے پلٹ کر دیکھتی ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ گائوں والی نے پہلی عینی جیسے معمولات اپنائے،جو عینی کرتی، وہ بھی وہی کرتی۔پھر اس نے عینی جیسی عادتیں اپنا لیں۔ خاموش رہتی، اور پڑھائی پر توجہ دیتی۔ دونوں ہی بیمار نہیں پڑتی تھیں۔یا شاید بیمار ہوتی تھیں لیکن بستر پر پڑنے کی عیاشی نہیں کر سکتی تھیں۔ دونوں سردی گرمی ہر تین ماہ بعد مل کر پورے گھر کا سامان کھسکا کر صفائی ستھرائی کرتیں۔ عیدین پر مل کر دیواریں جھاڑتیں، پردے دھوتیں، سردیوں میں لحا ف بستروں کا کام سنبھالتیں۔ اگر وہ دونوں یہ سب نہ کرتیں تو ہماری پھیلائی گندگی سے ہمارے تنفس تنگ پڑنے لگتے۔

عینی کی چھوٹی سی الماری میں گائوں والی کا ضرور ی سامان رکھا رہتا۔دونوں کے پاس گنے چنے کپڑے تھے لیکن کتابوں کاڈھیر تھا۔ایک بار اس نے مجھے سمجھایا کہ میں ذرا سی ہمت کروں اور ریاضی کا پرچہ دے دوں۔ صر ف ایک گھنٹہ اس سے پڑھ لیا کروں۔نہ جانے کیوں میں چڑ گئی۔ہمارے ٹکڑوں پر پلنے والی ہمیں کیا سمجھتی ہے؟اس کا کیا لینا دینا تھا میرے پاس ہونے سے؟

’’کالج میں آسان سبجیکٹ رکھ لینا لیکن تم میٹرک تو پاس کرو۔‘‘ وہ مجھے سمجھاتی۔

لیکن گھر میں پڑے رہنے،چھتوں پر چڑھنے،بلا ضرورت رشتے داروں کے یہاں ہفتہ ہفتہ رہنے، بازار گھومنے، ہنسی ٹھٹھے میں جو مزہ تھا وہ میٹرک کر کے بڑی ڈگری لینے میں نہیں تھا۔کالج جانے کے شوق کے باوجود میں یہ ہمت نہیں کر سکی۔اماں میرا رشتہ ڈھونڈ رہی تھیں۔عینی نے ابا سے کچھ کہا کہ ابا نے اماں سے کہہ دیا کہ جب تک یہ بارہ جماعتیں نہیں کرے گی، اس کی شادی نہیں ہو گی۔ اماں تو بھڑک اٹھیں۔

’’بارہ کرو اکر طلاق نہیں دلوانی ہمیں ۔‘‘

مجھے عینی سے نفرت محسو س ہوئی۔ خود وہ جتنی چاہے ڈگریاں لے لیکن ہمارے سر پر کیوں سوا رہو رہی تھی۔

’’آپ کون ہوتی ہیں میرے معاملے میں بولنے والی؟‘‘ایک دن تنک کر میں نے اس سے کہہ دیا۔

میرا لہجہ اور انداز، میری ماں سے بھی زیادہ برا تھا۔وہ چند لحظے میری طرف دیکھتی رہی اور پھر خاموشی سے وہاں سے ہٹ گئی۔اس کے بعد اس نے کبھی گھر کی کسی لڑکی کے معاملے میں مداخلت نہیں کی۔ایک بار عینی نے مجھے پارک میں لڑکے کے ساتھ دیکھ لیا تھا۔اب وہ رہ نہ سکی اور اماں سے کہا کہ بچیوں پر دھیان دیں، وہ ناسمجھ ہیں، کوئی بھی انہیں بہکا سکتاہے۔اماں نے تو پروں پر پانی نہیں پڑنے دیا کہ ان کی بچی میں بھی کوئی عیب ہو سکتاہے۔الٹا کہتی رہیں کہ اپنے گریبان میں جھانکو بی بی!کئی جاننے والوں نے تمہیں یہاں وہاں دیکھا، پر میں تو چپ رہی کہ زبان پر حرف لائی نہیں کہ عز ت گنوائی نہیں۔

میری ماں جھوٹ بہت بولتی تھیں۔بلکہ میری ماں کا اوڑھنا بچھونا ہی جھوٹ تھا۔چچا کی بڑی لڑکی کا محلے سے ہی رشتہ آیا تھا۔چچا نے پکڑ کر خوب دھلائی کی۔لڑکے کی ماں صاف صاف سنا گئی کہ یا اپنی بیٹی کو باز رکھو،یا پھر رشتے پرہاں کرو۔ہمارے بیٹے نے ہمار اجینا حرام کر رکھا ہے۔ تمہاری لڑکی ہر وقت چھت پر چڑھی رہتی ہے وہ دکھائی نہیں دیتا ۔اب رشتہ مانگ لیا تو آنکھیں دکھا رہے ہیں۔

چچا کو عینی نے ہی سمجھا کر قابو میں کیا۔ لیکن چچی اور اماں کو یقین تھا کہ اسی نے چچا کو بھڑکایا ہے۔ ان دنوں اماں تنفر سے کہا کرتی تھیں کہ یہ منحوس ہماری بچیوں کا کہیں ہونے نہیں دے گی۔

ہاں! وہ منحوس ہی ہماری بھلائی کے راستے میں کھڑی تھی۔جس لڑکے کے ساتھ میں پارک گئی تھی، میرے بار بار کہنے پر اس لڑکے نے اپنی ماں کو رشتے کے لیے بھیج دیا تھا۔اور یہ ماں ایک بار ہو کر گئی اور پھر پلٹ کر دو بارہ نہیں آئی۔بلکہ اس لڑکے نے بھی مجھ سے رابطہ ختم کر لیا۔نامعلوم چھوٹی سی اس ملاقات میں اس کی ماں ایسا کیا دیکھ گئی کہ اپنے بیٹے تک کو مجھ سے متنفر کر دیا ۔اماں کو یہ رشتہ پسند تھا، لڑکے کی ماں نے انکار تک کرنا گوارا نہ کیا تو اماں غصے میں آگئیں۔ اماں کو یقین تھا ضرور عینی لڑکے کی ماں سے جا کر ملی ہے اور ہمارے خلاف بھڑکایا ہے۔میرا دل ٹوٹا ہوا تھا اور مجھے بھی یقین تھاکہ ضرور عینی نے بغض دکھایا ہے۔

محلے کی کئی لڑکیوں کو عینی نے بورڈ میں پاس کروایا تھا۔ا ن لڑکیوں کی مائیں عینی کی تعریف میں رب اللسان ہوتیں کہ جس نے عینی سے پڑھ لیا ،سمجھو وہ پاس ہو گیا۔وہ عینی سے اپنی بچیوں کے لیے مشورے لیتیںکہ کس کالج میں کروائیں، بچیاں کس مضمون میں کون سی ڈگری لیں۔عینی ان لڑکیوں کے کالج ایڈمشین کروانے بھی جاتی تھی۔ محلے کی ان ہی خواتین نے عینی کے لیے چند اچھے رشتے بتائے تھے لیکن اماں نے وہ رشتے ہونے نہیں دیے۔بلکہ الٹا اماں اپنے خالہ زاد کا رشتہ لے آئیں جو انہی کی عمر کا تھا اور تین جوان بچوں کے ساتھ حا ل ہی میں رنڈوا ہوا تھا۔ عینی نے بڑے تحمل سے رشتے کی تفصیل سنی اور انکار کر دیا۔

’’تمہیں کیا لگتا ہے تمہارے لیے کسی کنوارے شہزادے کا رشتہ آئے گا۔ طلاق لے کر ہمارے سر پر پڑی ہو۔‘‘

اماں جانتی تھیں کہ ا با اس رشتے پر نہیں مانیں گے لیکن اماں ایک شعلہ بھڑکانا چاہتی تھیں جس پر تیل ڈال سکیں۔ لوگوں کو دکھا سکیں کہ وہ عینی کی شادی کرنا چاہتی ہیں یہی نہیں مانتی۔جن دنوں اس لڑکے کی ماں لوٹ کر نہ آئی، ان ہی دنوں مجھے کچھ کچھ احساس ہوا کہ محلے والے ہمارے گھر میں صرف عینی کو پسند کرتے ہیں۔ صرف اسی کی عزت کرتے ہیں۔مجھے ایسا لگا کہ وہ رشتہ عینی نے نہیں، محلے والوں نے ہمارے گھرانے کی حقیقت بتا کر ختم کروا دیا۔

٭٭٭

گاؤں والی نے میڈیکل انٹرنس ٹیسٹ پاس کر لیا تھا، اور خوشی سے روتے ہوئے اپنے چچا کو فون پر بتا رہی تھی۔ اور اسی وقت ہم سب کو معلوم ہوا کہ یہ ڈاکٹر بننے جا رہی ہے۔ پہلی بار اماں کے چہرے کا رنگ متغیر ہوا۔پہلی بار ہمارے گھر کی ہر خوب صورت چیز بد صورت دکھائی دی۔ پہلی بار اماں نے رات کا کھانا نہ کھایا۔اور پہلی بار انہوں نے میرے کندھے نوچے۔

’’کم بخت تجھ سے ایک پرچہ ہی پاس نہیں ہوا.بن جاتی تو بھی ڈاکٹر.‘‘

ڈاکٹر.اور میں.پر میرے پاس ڈاکٹر بننے کا خواب ہی نہیں تھا۔ مجھے کسی نے یہ خواب ہی نہیں دیا تھا بلکہ کوئی بھی خوا ب نہیں دیا تھا۔جس کے پاس یہ خواب تھے اس سے سب نفرت کرتے تھے.عینی سے.جب ہم میں سے کسی نے عینی سے یہ خوا ب نہیں لیے تو اس نے یہ خواب گائوں والی کو تھما دیا۔اماں عینی سے نفرت کرتی لیکن ہمیں تو نہ کرنے دیتیں۔اماں نے ہم سب کو اس آگ میں جھونک دیا اور نقصان میں ہم سب جلے ۔

گائوں والی کی ڈاکٹری ہماری آنکھوں میں چبھتی رہی۔اماں یہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں کہ عینی کی پڑھائی لکھائی کا کوئی فائدہ بھی ہے۔ اسی لیے گائوں والی کی چھلانگ دیکھ کر اماں صدمے میں آگئیں۔ سر پر پٹی کس گئی، کمر کا درد جاگ اٹھا، بھوک پیاس اڑ گئی۔صرف یہی نہیں ، محلے کی دو اور لڑکیاں بھی اسی امتحان میں پاس ہو کر ڈاکٹر بننے جا رہی تھیں۔ ان کی مائیں عینی کے واری صدقے تھیں۔اسی نے لڑکیوں کی قابلیت دیکھتے ہوئے ان کی مائوں کو سمجھایا تھا کہ اپنی بچیوں کو سہولت اور توجہ دیں۔ وہ سہولت جو عینی کو ہمارے گھر میں میسر نہیں تھی،اس کا اہتمام اس نے دوسروں کے لیے کروایا۔عینی کا دل تنگ کیوں نہیں تھا؟وہ کیوں دوسروں کے لیے دوڑ دھوپ کرتی تھی؟

میڈیکل کالج میں جاتے ہی گائوں والی نے اپنا سامان سمیٹا اور ہوسٹل میں رہنے لگی۔

اماں کہتیں دیکھو کیسے آنکھیں بدلی ہیں،یہاں آکر کایا پلٹ گئی اور اب بوریا بستر سمیٹ کر چلتی بنی۔

ا س کے چچا نے بڑی خوشی سے اس کی بھاری فیسیں ادا کی تھیں کہ بچی لائق ہے ۔میں تو ضرور اسے ڈاکٹر بنائو ں گا۔ وہ تو چلی گئی لیکن اس کے گائوں سے اناج کی بوریاں آنا بند نہیں ہوئیں۔ہر فصل سے کچھ نہ کچھ آتا رہا۔گائوں والی کے جانے کی دیر تھی کہ یونیورسٹی سے عینی کی کا پروانہ آگیا۔وہ انٹرویو میں پاس ہو گئی تھی اور اب ٹریننگ کے لیے بلائی جا رہی تھی۔ وہ تو جیسے سانس روکے تیار بیٹھی تھی۔

عینی نے ابا کو یورنیوسٹی میں اپنی لیکچرار شپ کے بارے میں بتایاتو مانو اماں کے چنگل سے شکار نکل بھاگا۔اماں ہکا بکا رہ گئیں۔ان کے گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ کتابیں اسے کوئی ایسا راستہ تھما سکتی ہیں کہ وہ ایسے نکل کر بھاگ سکتی ہے۔اسے تو اسی گھر میں ایڑیاں رگڑنی تھیں، ان کی جوتیاں سیدھی کرنی تھی۔ اب اماں کو کسی پل قرار نہ آئے کہ کیسے اسے واپس دلدل میں گھسیٹیں۔

’’یہ ہوٹل نہیں ہے کہ دل کیا تو عیش سے رہے اور پھر چلتے بنے۔ہمیں ملازم سمجھا ہے اپنا۔ یہ یہاں سے نکلی تو دوبارہ اس گھر کی شکل نہیں دیکھے گی۔ میں اسے دہلیز نہیں پھلانگنے دوں گی۔خبردار جو اس نے گھر میں حصے کی بات بھی کی ہے۔‘‘

ابا کو بھی برا لگا کہ کیسے خود ہی فیصلے کر لیا۔ آزادی دی ہے، پڑھنے لکھنے کی عیاشی دی لیکن یہ کیا بات ہوئی کہ اجازت تک نہ لی۔عینی ہمیشہ کی طرح خاموشی سے سب سنتی رہی۔یہ خاموشی.یہ چپ.بس یہی گھر کی جڑو ں میں گھس گئی اور انہیں کھوکھلا کر گئی۔اماں بار بار حصے کی بات کرتی رہیں کہ یہاں سے گئی تو پھوٹی کوڑی نہیں ملے گی۔اور وہ اپنا حصہ، اپنی خاموشی سمیٹ کر اگلے دن صبح ہی چلی گئی۔مجھے آج بھی وہ لمحہ یاد ہے جب وہ گھر سے نکل رہی تھی۔وہ جتنی خو ش تھی اتنی ہی خوف زدہ بھی۔خوف کہ ایسا نہ ہو یہ خواب ہو، اس کی آ نکھ کھلے اور و ہ چٹائی پر پڑی ہو۔ اس نے ایک بار بھی پلٹ کر پیچھے نہیں دیکھا تھا۔

عینی کے جانے کے بعد پہلی بار ایسا محسوس ہوا کہ سارا گھر خالی ہو گیا۔

اور بہت بعد میں ، جب میرا اپنا گھر گرا ، میں نے جانا کہ ہاں گھر خالی ہوا تھا، اس خیر سے جو عینی کے ساتھ تھی اور عینی کے ساتھ ہی رخصت ہو گئی تھی۔ یتیمیوں مسکینوں کے سروں پر ہاتھ رکھنے والوں کے سروں پر کبھی آسمان نہیں گرتا۔عینی جیسی لڑکیوں کے ساتھ شفقت کا رویہ رکھنے والوں کا گھر کبھی چوہوں کا مسکن نہیں بنتا۔

جو کام دونوں مل کر کیا کرتی تھیں، وہ اماں اور چچی پر آگیا۔ اب دونوں ہمیں بھی صلواتیں سناتیں کہ جوان جہاں ہو، ہل کر پانی نہیں پیتیں۔چچی اور اماں کی تلخ کلامی ہوتی۔ ابا اور چچا بک بک کرتے جاتے کہ وقت پر ناشتہ نہیں ملتا۔دو کام والیاں رکھیں لیکن ابا نے ایک کو فارغ کروا دیا کہ گھر لڑکیوں سے بھرا پڑا ہے،ان سے کروائو، میںا تنا خرچ نہیں اٹھا سکتا۔ اب چچی اور اماں میں تکرار ہوتی کہ سالن کون بنائے گا، آٹا کون گوندھے گا۔ ایک ہفتہ کپڑے دھونے کی باری اماں کی ، ایک ہفتہ چچی کی۔ اور ہر ہفتے تکرار ہوتی،چیخ چنگھاڑ ہوتی۔چچا کی لڑکی نے چھپ کر نکاح کر لیا اور لڑکے کے گھر چلی گئی۔ناچار اسے واپس گھر بلایا، اور چار لو گوں میں رخصتی کرکے کچھ عزت بچائی۔ گھر میں سوگ کی سی کیفیت رہی۔

دو مہینے بعد ابا عینی کو گھر لائے۔ عینی کی شکل دیکھتے ہی اماں اور چچی نے دانت پیسے۔ واویلا مچا دیاکہ اسے گھر میں قدم نہیں رکھنے دیں گی۔بک بک ہوتی رہی۔چچا ناراض ہوئے کہ ہماری بہن ہے، گھر ہے اس کا، پر اماں اور چچی ایک ہو گئیں۔اس بار عینی ترحم آمیز نظروںسے دونوں کو دیکھتی رہی۔ اس نے ابا کی فرمائش پر کوفتے بنائے، اور ایک رات ٹھہر کر اگلے دن واپس چلی گئی۔وہ اپنے بھائیوں کی محبت میں آئی ہو گی، ورنہ وہ کیوں ایسی خوف ناک جگہ واپس آنا چاہے گی؟

اگلی بار وہ عید پر آئی۔ اباہی لائے تھے۔

اس کا ہشا ش بشاش چہرہ اماں کی عید خراب کر گیا۔وہ گہرے میرون رنگ کے سوٹ میں تھی۔کندھوں پر گرم شال تھی۔وہ اپنی چھوٹی سی گاڑی میں آئی تھی۔ٹریننگ کے بعد وہ ورکنگ وومین ہوسٹل میں رہنے لگی تھی۔اماں کو بڑی ٹوہ تھی کہ کہیں سے معلوم کریں کہ عینی کی تنخواہ کیا ہو گی۔انہیں یقین تھا کہ عینی کو گاڑی ابا نے لے کر دی ہے۔ گھر میں پھر نیا فساد ہوا۔گاڑی سکینڈ ہینڈ تھی، زیادہ اچھی حالت میں نہیں تھی۔ پر تھی تو گاڑی، جو اماں کے پاس نہیں تھی۔ہمارے تو گھر کی حالت دن بدن خراب ہوتی جا رہی تھی۔ہر تین مہینے بعد ہونے والی صفائی، عیدین پر بھی مشکل سے ہوتی۔ صاف ستھرے بستر خواب ہو ئے۔ وقت پر کھانا مل جاناہی نعمت رہا۔

بات صرف یہ نہیں تھی کہ ہم پھوہڑ تھیں۔ اصل بات یہ تھی کہ ہم جاہل، تنگ دل اور بے حس تھیں۔اماںنے ہمیں اپنے جیسا بنایا اورہم ویسی بن گئیں۔ کیونکہ ہماری اپنی بھی یہی خواہش تھی کہ ہم عینی جیسی نہ بنیں۔اس کے لیے احساس نہ رکھیں۔ ہم بھی اماں کی طرح لمبی تان کر سونا چاہتی تھیں۔ورنہ اگر ہم ہی احساس کر لیتے ، چار برتن دھو دیتے، روٹی بنا دیتے، اپنا شور ہنگامہ کم کر لیتے کہ عینی کو پڑھنا ہے، تو کیا ہو جاتاہے۔ بیدار دلوں اور گھرو ں میں روشنی ہوتی ہے، تنگی نہیں۔اور ہم بیدار نہیں غافل تھے۔

٭٭٭

کچھ دن بعد عینی کے نکاح کی خبر آگئی۔ ابا اماں کو مناتے تھے کہ اسے گھر سے رخصت کرتے ہیں اور اماںبپھری جاتی تھیں ۔ انہیں یہی حقیقت ہضم نہیں ہو رہی تھی کہ عینی نے پڑھا لکھا شوہر ڈھونڈ لیا۔ان کے جھوٹے برتن دھونے والے لڑکی اتنی خود مختار ہو گئی کہ اسے کسی سہارے کی ضرورت ہی نہ رہی۔ اور بس نکاح میں شرکت کی دعوت دی۔وہ واویلا کرنے لگیں کہ میری بچیوں کے رشتوں میں رکاوٹیں ڈال کربی بی اپنی شادی رچا رہی ہے۔

ابا اور چچا ان کے ہونے والے شوہر سے ملے تھے۔ ابا نے ہی رشتے کے لیے ہاں کی تھی۔ابا کی منت سماجت بے کار گئی۔ پھر ایک جمعہ مسجد میں نکا ح ہو گیا۔ محلے کی عورتیں اور ا ن کی بیٹیاں بھی شریک ہوئیں۔نہیں شریک ہوئیں تو اماں اور چچی۔ابا زبردستی ہم بہنوں کو ساتھ لے گئے ۔سب خوش تھے، سوائے ہمارے۔ اماں کی رات دن کی بڑ بڑ اور چخ چخ نے ہمیں عینی کے لیے خوش ہی نہیں ہونے دیا۔ہمارے تنگ دلوں میں یہ گنجائش پیدا ہی نہ ہو سکی کہ کسی کو مدت بعد اس کے نصیب کی خوشیاں ملی ہیں، چلو کدورت جانے دیں۔وہ ہمارے گھر کا فرد تھی،ہمیں ناشتہ بنا کر دیتی تھی، اسکول کے لیے تیار کرتی تھی۔گرمی سردی ہمارے آرام کا خیال کرتی اور ہم سب سے محبت کرتی تھی۔ چلو اسے دعا دیں۔اس لڑکی کی خوشیوں میں خوش ہو نے والا دل ہمارے پاس تھا ہی نہیں۔ محبت کا احترام ہمیں سکھایا گیا،نہ احساس۔ ہم ناقدرے لوگ تھے، انسان ہونے کا بنیادی سلیقہ ہمیں نہ آیا۔

گائوں والی بار بار اپنی نم آنکھیں صاف کرتی تھی۔ ہاں!وہ اکیلی ان اذیتوں کی راز داں تھی جن سے عینی گزری تھی۔وہ جانتی تھی ہمارا گھر کتنا نوکیلا اور زہریلا تھا۔اور اب وہ خوش تھی کہ عینی کو اپنا خاندان، اپنا گھر مل گیا ہے۔وہ عینی کے ساتھ جڑ کر بیٹھی تھی۔اور یہاں پہلی بار مجھے ایک عجیب سا احساس ہوا۔ وہی احساس جیسے میر ادل بیٹھ گیا ہو۔ ویسے ہی جیسے گھر کی بنیادیں بیٹھ گئیں۔دیواریں بوسیدگی سے جھک گئیں اورچھت آگری۔مجھے لگا کہ ہمارے ہاتھوں سے ایک خاص وقت نکل گیا.خیر کمانے کا وقت.

عینی کی آنکھیں بھیگتی تھیں، وجود لرزتا تھا۔ ایک لمبی مشقت کاٹ کر اسے چھائوں نصیب ہوئی تھی۔محلے کی عورتیں اس کی پیشانی چومتی تھیں، اسے دعا ئیں دیتی تھیں۔اور اسی وقت میں نے اپنے خاندان کی بنیادیں ہلتی ہوئی محسوس کیں۔اماں کی صلواتیں، بڑ بڑ، چھوٹی چھوٹی نوکیلی کنکریاں تھیں۔انہیں معمولی جاننا ہی ہمارے گھر کی چھت کو ہلا گیا۔کونوں میں چھپ کر بہائے گئے آنسو، روٹی کے نوالوں کے ساتھ بھرے گئے صبر کے گھونٹ ہمارا آسمان تنگ کر گئے۔مجھے خیال آتا ہے کہ ہمارے گھر میں جب جب پھول پودے لگانے کی کوشش کی گئی، ناکامی ہوئی۔ انہیں پانی دیا، ان کا خیال رکھا، لیکن چند ہفتوں میں سب گل سڑ جاتے تھے۔ ایسا ایک بار نہیں کئی بار ہوا۔ اب میں وجہ جان گئی۔ اس گھر کی فضا اتنی زہریلی تھی کہ ہرے بھرے پھول پودے تک کھا جاتی تھی۔عینی کو کیسے کیسے نہیں کھایا ہو گا۔

صرف ایک بار ش میں پورا گھر تباہ ہو گیا۔کوئی ایک دیوار سلامت نہ رہی۔محلے کا ہر گھر سلامت تھا، سوائے ہمارے گھر کے۔ہماری جانیں تو بچ گئیں لیکن اماں کی ساری جمع پونجی اجڑ گئی۔جو زمین عینی پر تنگ کی تھی وہ کھلے آسمان تلے بغیر چھت کے پڑی تھی۔ اماں عینی سے کہتی تھیںاس گھر میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ہے۔ خبردار جو حصے کی بات کی۔واقعی عینی کا اس ملبے میں کوئی حصہ نہیں تھا۔اگر ہوتا تو یہ گھر کبھی نہ گرتا۔اگر اس کا حصہ دے دیا جاتا تو یہ گھر بچ جاتا۔

یہ بہنیں، یہ بیٹیاں، یہ مائیں، یہ کہاں جائیں؟زمینوں میں ان کے قانونی حصے نکلیں گے تب ہی گھر ان کے گھر کہلائیں گے؟ایک قانونی کاغذ ہاتھ میں آئے گا تب ہی ان کا حق تسلیم کیا جائے گا؟ پھر انسانیت اور رشتو ں کا کیا؟پھر احساس کا کیا؟میرا گھر، میری چھت، میری زمین، میرا حق، اس سب میں کسی دوسرے کو چھت نہیں ملے گی؟دونوالے نہیں دیے جائیں گے؟کیا عزت اور احساس بھی حصوں کی طرح تقسیم ہوں گے۔دو نوالے کھلا کر چار سنانے کی روایت کب ختم ہو گی۔ہم نیت کے کھوٹے اور بے حسی کے فرعون ہیں۔ہم تھڑ دلوں کے گھروں میں خود غرضی کا بول بالا ہے۔

اماں اور چچی ہم سب کو اپنے آبائی گھرلے آئیں۔ اس گھر میں دونوں ماموں آباد تھے۔ دو دن نہ گزرے کہ دونوں ممانیوں نے آنکھیں چڑھا لیں ، منہ بنا لیا، بڑبڑ کرنے لگیں اور سروں پر پٹی باندھ لی۔ چند ہفتے گزرے کہ اماں نے پلو میں منہ دے کر رونا شروع کر دیا کہ

’’ دیکھو !ہمارے سر پر مصیبت پڑی ہے اور بھاوجوں نے اپنی اوقات دکھانی شروع کر دی۔میرے با پ کا گھر ہے، میرا بھی حق ہے اس پر، میرا حصہ ہے.‘‘

حصہ.

میں اماں کو سمجھانا چاہتی تھی کہ حصہ صرف ایک ہوتاہے.دینے والا حصہ.احساس کا حصہ، رحم دلی کا حصہ، پناہ کا حصہ، اور چھت کا حصہ.اگر یہ حصہ دے دیا جائے تو پھر باقی سارے حصے مل جاتے ہیں۔

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں