کہانی ایک گھر کی – راشدہ رفعت

ناولٹ 69

’’مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے امی !اور جب سے ایمن اور امل کا اسکول میں ایڈمیشن کروایا ہے تو مت پوچھیے کیسے کھینچ تان کر مہینہ پورا کرتے ہیں۔ اچھے اسکولوں کی فیسیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ آپ تصور نہیں کرسکتیں۔‘‘

عاصم ماں سے مخاطب تھا وہ اور صبوحی کو اینڈ پر ان سے ملنے آئے تھے اور گھوم پھر کر بات بڑھتی ہوئی مہنگائی پر آکر رکتی تھی۔

’’اور کیا ہم بھی کون سا سرکاری اسکولوں میں پڑھے ہیں ۔اچھے پرائیویٹ اسکول، کالج میں ہی پڑھے ہمیشہ لیکن جب فیسیں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والوں کی پہنچ میں ہوتی تھیں لیکن اب تو بچوں کو معیاری اداروں میں پڑھانا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ لیکن مجبوری ہے پیٹ کاٹ کر پڑھانا تو پڑے گا۔ بندہ ساری محنت اولاد کے بہتر مستقبل کے لیے ہی تو کرتا ہے۔ ‘‘صبوحی نے بھی شوہر کی بات آگے بڑھائی تھی۔

’’اس میں کوئی شک نہیں مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے بیٹا ۔تم اب مجھے پیسے مت بھجوایا کرو۔ تمہارے ابو کی پنشن میں گزارا ہوجائے گا ہمارا۔‘‘

کلثوم رسانیت سے گویا ہوئیں ۔ابھی دس دن پہلے قاسم اور فریحہ آئے تھے ان کے لبوں پر بھی بڑھتی مہنگائی کا تذکرہ تھا اور کلثوم نے ان لوگوں کو بھی یہ ہی جواب دیا تھا۔

’’ابو کی پنشن تو اونٹ کے منہ میں زیرے والی بات ہے اس قلیل رقم میں مہینہ تو نہیں گزر سکتا۔ آپ کیسی باتیں کرتی ہیں امی!‘‘

عاصم نے خفگی بھرے لہجے میں ماں کو جتایا کلثوم کے لبوں پر بے بس سی مسکراہٹ پھیل گئی۔وہ اس بات کے جواب میں مزید کیا کہہ سکتی تھیں۔ سچ یہ ہی تھا کہ مرحوم شوہر کی قلیل پنشن میں کسی طور گزارہ ممکن نہ تھا۔

’’باسم کو سمجھائیں امی !خوب سے خوب تر تلاش چھوڑے اور جو بھی چھوٹی موٹی نوکری ملتی ہے وہ کرلے۔ اللہ آہستہ آہستہ ترقی کے دروازے کھولے گا۔ یوں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کب تک بیٹھا رہے گا۔‘‘ عاصم نے سنجیدگی سے کہا۔

’’باسم نوکری ڈھونڈنے کی سر توڑ کوشش کررہا ہے بیٹے !وہ تو خود ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے والوں میں سے نہیں ۔اس نے تو پڑھائی کا خرچا بھی ہمیشہ خود ہی پورا کیا۔ ٹیوشن پڑھائیں چھوٹا موٹا آن لائن کام کیا اب بھی گزارے لائق کمارہا ہے۔ میں نے تم سے کہا ناں ہمیں خرچہ بھیجنا بند کرو۔ میرا اور باسم کا گزارا آسانی سے ہوسکتا ہے۔‘‘

’’بس آپ اس کی بے جا سائیڈ لینا بند نہیں کریں گی۔ ہم جو کہتے ہیں اس کے بھلے کے لیے ہی کہتے ہیں۔ ٹیوشن پڑھاکر زندگی نہیں گزرتی اسے عملی زندگی میں قدم رکھنا پڑے گا۔باقاعدہ نوکری اور روزگار کے بغیر یہ ممکن نہیں، جاب لگ جاتی ہے تو بھلے سے پڑھاتا رہے ٹیوشن بھی لیکن نوکری لگ گئی تو یہ گارنٹی تو ہوگی کہ ہر ماہ ایک لگی بندھی آمدنی ہاتھ آئے گی۔ ٹیوشن تو ہوائی روزی ہے آپ خود بتاتی ہیں کہ اکثر لوگ دو، دو تین، تین مہینوں کی ٹیوشن فیس مارلیتے ہیں اور وہ مروت کا سارا منہ سے تقاضاتک نہیں کرتا۔‘‘

عاصم جھلاتے ہوئے انداز میں مخاطب تھا اس کی باتیں غلط نہ تھیں لیکن اکتایا، جھنجلایا ہوا انداز ماں کو خاموش رہنے پر مجبور کرگیا تھا۔

’’اچھا بس کریں عاصم!امی کو مزید پریشان نہ کریں۔ اللہ بہتر کرے گا امی آپ ٹینشن نہ لیں۔‘‘ صبوحی نے شوہر کو ٹوکتے ہوئے ساس کو تسلی دی۔

’’اچھا یہ دیکھیں۔ میں آپ کے لیے نیا سوٹ لائی ہوں۔ سلو الیجیے گا لازمی کبھی الماری میں اٹھاکر رکھ دیں۔‘‘صبوحی نے گفتگو کا موضوع بدلا تھا۔

’’بتایئے کیسا لگا سوٹ۔‘‘وہ پوچھ رہی تھی۔

’’بہت اچھا ہے بیٹے لیکن کیا ضرورت تھی اس کی ،قاسم اور فریحہ بھی نیا جوڑا لائے تھے۔ میں نے اتنے نئے کپڑوں کا کیا کرنا۔ تم اس کی جگہ اپنایا بچوں کا کچھ لے لیتیں۔‘‘ وہ دھیمے لہجے میں بولیں۔

’’دو مہینوں بعد چکر لگاتھا امی۔ آپ کے لیے نیا جوڑا نہ لاتی۔ یہ ہوسکتا ہے بھلا۔‘‘ صبوحی جیسے کراکر بولی۔

’’جیتی رہو۔‘‘ انہوں نے اسے دعا سے نوازا۔

ان کی دونوں بہوئیں لحاظ، مروت والی تھیں ان کا ادب کرتی تھیں انہیں دونوں سے ہی کوئی شکایت نہ تھی۔ روزگار کی وجہ سے قاسم اور عاصم دونوں ہی دور دراز شہروں میں جابسے تھے۔ ڈھائی تین مہینے بعد ماں سے ملنے آتے ،ہر ماں انہیں خرچا بھی بھجواتے گو رقم معمولی ہوتی لیکن وہ جانتی تھیں کہ اس مہنگائی کے دور میں بیٹوں کے لیے اس سے زیادہ بھیجنا ممکن نہیں لیکن اب دونوں بیٹے جس تواتر سے بڑھتی مہنگائی کا تذکرہ کرنے لگے تھے کلثوم بہوئوں کے سامنے اس ذکر پر شرمندہ ہوجاتیں ۔باسم تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوکری کی تلاش میں سرگرداں تھا لیکن ابھی تک اسے ڈھنگ کی نوکری نہ مل سکی تھی۔

دونوں بھائی چاہتے تھے کہ وہ جلد از جلد کمانے لگے اور باسم بھائیوں کی ان باتوں پر چڑجاتا تھا۔ جب بھی بھائی بھاوج آتے اس کی کوشش ہوتی کہ اس کا ان سے سامنا کم سے کم ہو۔ آج بھی وہ صبح کا گھر سے نکلا تھا اور ابھی تک واپس نہ لوٹا تھا۔

امل اور ایمن منہ بسور کر چاچو کو یاد کررہی تھیں۔ دونوں ہی اس کی لاڈلی تھیں بار بار اسے واٹس اپ میسج بھی بھیج رہی تھیں اور شاید بھتیجیوں کی وجہ سے ہی وہ گھر آگیا۔ کلثوم نے شکر کیا کہ عاصم نے نئے سرے سے اس کی نوکری کا موضوع نہیں چھیڑا۔ایمن اور امل کی وجہ سے سب کا دھیان بٹ گیا تھا۔ وہ ان کے لیے کلرنگ بک اور کلر پنسلز لایا تھا اور اب چاچو کے ساتھ دونوں بھتیجیاں کلرز کرنے لگی تھیں۔ کلثوم سکون کا سانس لیتی نماز کے لیے اٹھ گئی تھیں۔

٭٭٭

تین بیٹوں کی ماں ہونا دنیا کی نگاہوں میں کسی تمغے یا اعزاز سے کم نہ تھا۔ کلثوم خود ساری عمر تین بیٹوں کی ماں ہونے پر فخر محسوس کرتی آئی تھیں لیکن اب دل کے نہاں گوشے میں حسرت پیدا ہونے لگی تھی کہ کاش اللہ نے انہیں ایک بیٹی بھی عطا کی ہوتی۔ بیٹی جو ماں کی ہمدم وغمگسار ہوتی ہے ۔

جب تک شوہر حیات تھے دل کا دکھ سکھ ان کو کہہ سناتی تھیں لیکن شوہر کے بعد کوئی شخص ایسا نہیں تھا جس کے سامنے وہ جی کا بوجھ ہلکا کرسکتیں۔ بیٹیاں مائوں کی رازدار ہونے کے ساتھ اچھی سامع بھی ہوتی ہیں۔ کلثوم کو یاد تھا۔اماں مرحومہ ان کے ساتھ اپنی کتنی چھوٹی چھوٹی باتیں بھی شیئر کرتی تھیں۔

معمولی دکھ، تکلیفوں کے ساتھ چھوٹی بڑی سب پریشانیاں، سارے وہم اور تفکرات حتیٰ کہ ماضی کی سنہری یادیں دوہرانے کے لیے بھی انہیں بیٹی کی صورت میںبہترین سامع ملا ہوا تھا۔

اخیر بڑھاپے میں جب وہ بہت زودرنج اور چڑچڑی ہوگئی تھیں تب بھائی انہیں سنبھالنے کے لیے کلثوم کو ہی بلاتے تھے۔ کلثوم انہیں نہلاکر کپڑے بدلنے پر راضی کرتیں۔ بالوں میںتیل لگاکر چوٹی گوندھتیں۔ ناخن تراشتیں اور بہت پیار سے چھوٹے چھوٹے نوالے بناکر پیٹ بھر کر کھانا کھلاتیں۔

کل رابعہ اور عشرت نے منتیں کرلیں اماں کی لیکن دونوالوں سے زیادہ نہ کھائے اور آج بیٹی کے ہاتھ سے رج کر روٹی کھالی ما شائ اللہ۔‘‘ سلیم بھائی خوش ہوکر کہتے۔’’ ہاں تو تیری بیوی کے ہاتھ میں سواد ہی نہیں ہے۔‘‘

’’میری کلثوم نے کھلایا ہے تو سواد آگیا۔ ‘‘وہ کمال بے نیازی سے جواب دیتیں۔ سلیم بھائی قہقہہ لگاکر ہنس پڑے۔

’’سن رہی ہے اماں کی منطق کلثوم!کھانا بنانے والے کے ہاتھ میں تو سواد کاتو پتا تھا ہمیں آج پتا چلا کھانا کھلانے والے کے ہاتھ میں بھی سواد ہوتا ہے۔ میری بھولی ماں کھانا تو آج بھی تیری بہو نے ہی پکایا ہے۔‘‘

خوش مزاج سے سلیم بھائی مسکراکر ماں کو چھیڑتے اور اماں یوں بن جاتیں جیسے یہ بات سنی ہی نہ ہو۔

’’چکر لگاتی رہا کر کلثوم!تیرے آنے سے اماں کھل اٹھتی ہیں۔‘‘ سلیم بھائی مسکراکر اس کا سر تھپکتے۔

یہ نہیں تھا کہ اماں کلثوم کے سامنے چڑ چڑاہٹ کا مظاہرہ نہ کرتیں جب چڑ چڑاپن عروج پر ہوتا تو اسے بھی بے لفظ سناتیں بلکہ شاید دل کی ساری بھڑاس اسی کے سامنے نکالتی تھیں۔ آخری عمر میں بھی انہیں اتنی سمجھ تو تھی کہ یہ غصہ اور چڑچڑاپن کون جھیل سکتا ہے اور کون نہیں۔ کلثوم مسکراتے لبوں کے ساتھ ماں کا بلا وجہ کا عتاب سہہ لیتیں۔

جدید دور میں اس کیفیت کو ڈپریشن اور اینگزائٹی کا نام دیا جاتاہے وہ جب ان اصطلاحوں کو جانتی تو نہ تھیں بس یہ پتا تھا کہ ماں کے جی کا غبار ہلکا ہوجائے گا تو پھر ان کے کئی دن سکون سے گزر جائیں گے اور ماں کی ڈانٹ بھلا کسی بیٹی کو چبھتی ہے۔ چبھتی تو شاید بیٹوں کو بھی نہ تھی ،ماں کو وہ بھی دیوانہ وار چاہتے تھے لیکن مرد ذات کو نمٹانے کے لیے سو بکھیڑے ہوتے ہیں وہ بوڑھے والدین کے لیے اس فراخدلی سے وقت نہیں نکال پاتا جتنا ایک بیٹی اپنی ہزار مصروفیت میں سے نکالنے کا ہنر جانتی ہے۔

جب اماں کی ذہنی کیفیت میں بہتری آتی تو وہ بیٹی کوڈھیروں دعائوں سے بھی نوازتیں۔

’’تو جیسے میرا خیال رکھتی ہے اللہ تجھے بھی ایسی خیال رکھنے والی بیٹی دے۔‘‘ وہ اسے محبت بھری دعا سے نوازتیں۔

’’اللہ کا نام لو اماں۔ میرا باسم اب ساتویں سال میں لگ گیا ہے اور بڑے والے کی تو مونچھیں بھی اگنے لگی ہیں بس بہت ہیں تین بیٹے۔ ان ہی کی صحت،زندگی کی دعا دیں۔‘‘ وہ مسکراکر ماں کو جواب دیتیں۔

’’لو تو کون سا بوڑھی ہوگئی جو ایک اور بچہ پیدا نہیں کرسکتی۔ تجھے کیا پتا بے وقوف لڑکی کہ ایک ماں کے لیے بیٹی کتنی ضروری ہوتی ہے۔ میری تو ہر گھڑی رب سے یہ دعا ہے کہ میری کلثوم کو ایک بیٹی سے بھی نواز دے۔‘‘

ماں کی بات پر وہ یوں مسکرائی جیسے کسی بچے کی بات پر مسکرایا جاتا ہے۔ باسم کی پیدائش پر ہی حبیب نے اور کلثوم نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ ان کے گلشن میں یہ تین پھول ہی بہت ہیں اب انہوں نے ان کی پرورش اور بہترین تعلیم وتربیت کی ذمہ داری نبھاہنی تھی اور اب خیر سے باسم سات برس کا ہونے والا تھا۔ کسی اور بچے کی پیدائش کے بارے میں سوچنا تک محال تھا لیکن ماں ہر بار اسے بیٹی ہونے کی دعا سے ضرور نوازتی تھی۔ اس وقت ماں کی بات ہنسی میں ٹالنے والی کلثوم کو اب جاکر احساس ہوتا تھا کہ ان کی بات اتنی غلط بھی نہ تھی۔ بیٹی کے بنا زندگی واقعی بہت ادھوری تھی۔ دو بیٹے خیر سے شادی شدہ اور بال بچوں والے تھے اگر وہ ساتھ رہ رہے ہوتے تو شاید ان کے بچوں میں ہی دل بہل جاتا۔ اب تو گھر پر باسم تھا یا وہ تھیں اور باسم بھی گھر پر کب ٹکتا تھا۔ صبح کا گیا رات گئے گھر لوٹتا۔ بیٹی ہوتی،بھلے سے شادی شدہ ہوتی۔ کسی دوسرے شہر میں بھی بس رہی ہوتی۔

وہ فون پر تو اسے دل کا حال سناپاتیں۔

انہیں علم تھا کہ بھاوجیں اپنی شادی شدہ بیٹیوں کے ساتھ گھنٹہ پیکیج پر لگی رہتی ہیں۔ آج کیا پکایا۔ کل کیا کھانے سے پیٹ میں اپھارہ آگیا۔ پڑوسن کی بانو تین دن سے کیوں اسپتال داخل ہے۔ آج کل اروی پکائو تو جانے کیوں دو چار اروی گلنے سے رہ جاتی ہیں۔ کل صبح پورے تین گھنٹے لائٹ گئی رہی۔

اسی نوعیت کی بے شمار باتیں جوبظاہر بے مقصد اور بے سروپاتھیں لیکن ایک چھوٹا سا موبائل ماں بیٹی کو جوڑے رکھتا تھا۔ بیٹی اپنے دکھ سکھ کہہ لیتی۔اپنے سسرالی گلے شکوے ماں کے گوش گزار کرکے دل کا بوجھ ہلکا کرتی تو مائیں کن اکھیوں سے گردوپیش کا جائزہ لے کر، کسی بہو کے قریب نہ ہونے کا اطمینان کرنے کے بعد بہوئوں کی برائی بیٹی کے سامنے کرتیں۔ گھنٹہ، گھنٹہ گزرنے کا پتا بھی نہ چلتا۔

اور کلثوم نے تو کسی کی کیا برائی کرنی تھی بس ان کی خواہش تو صرف اتنی سی تھی کہ کوئی انہیں مخاطب کرنے والا ہو تو کسی کے سامنے وہ اپنے دل کی باتیں کریں ماضی کی سنہری یادیں دہرانے کے لیے بھی ان کے پاس کوئی سامع میسر نہ ہوتا تھا۔

ایسے میں بیٹی نہ ہونے کا قلق زیادہ ستانے لگتا مگر اگلے ہی پل وہ خود کو سر زنش کرتیں بیٹے بھی تو محبت کرنے والے تھے۔ان کا ہر ممکن خیال رکھتے، ہر دوسرے دن فون کرکے ان کی خیریت پوچھتے۔ بھلے سے دو منٹ کی بات ہوتی مگر وہ ماں سے غافل تو نہ تھے اور ان کا لاڈلا باسم تو ان کے پاس ہی تھا۔ اللہ ان کے بیٹوں کو صحت،سلامتی اور عافیت میں رکھے۔ ہر گھڑی ان کے لبوں پر ان کے لیے دعائیں جاری رہتیں۔

آج کل ویسے بھی دعائوں کا محور باسم تھا۔ اللہ ان کے بچے کی محنت ٹھکانے لگائے۔ اسے جلد از جلد اچھی سی نوکری مل جائے پھر وہ اس کی شادی کرکے اس ذمہ داری سے بھی فارغ ہوں عاصم اور قاسم کی شادیاں تو خاندان میں ہی طے پائی تھیں صبوحی ان کی جیٹھانی کی بھانجی تھی اور فریحہ حبیب کے چچازاد بھائی کی بیٹی تھی لیکن باسم کے جوڑ کی کوئی لڑکی خاندان میں نہ بچی تھی۔

آخری بہو ڈھونڈنا انہیں ایک دقت طلب مرحلہ لگتا تھا انہیں کیا خبر تھی کہ سب سے معصوم نظر آنے والا ان کا بھولا بھالا بیٹا۔بالا ہی بالا لڑکی منتخب کر بھی چکا تھا۔

٭٭٭

اس دن انہیں بہت دن بعد خواب میں مرحوم شوہر نظرآئے۔ ناشتے کی میز پر انہوں نے باسم کو بیتی رات کا خواب سنانا چاہا۔

’’تمہارے ابو نے آسمانی رنگ کا قمیص شلوار پہن رکھا تھا اوپر نیلی واسکٹ اور جو اپنا پرانا گھر تھا ناں اس کی چھت پر ہم دونوں ساتھ ساتھ کھڑے ہیں۔ شام کا سا وقت۔‘‘

وہ اپنے خواب میں ڈوبی ہوئی تھیں اور پوری جزئیات کے ساتھ بیٹے کو خواب سنانا چاہ رہی تھیں لیکن باسم کچھ غیر حاضر دماغ سا تھا یا شاید وہ کچھ اور سوچ رہا تھا۔

’’اتنے میں ہی تمہاری دادی اور ان کی بہن نظر آئیں کتنی مدت بعد میں نے انہیں دیکھا۔ تمہارے ابو اپنی امی سے ہنس کر کہنے لگے۔‘‘

’’امی!اس بار میرے دونوں انٹرویو بہت اچھے ہوئے ہیں۔ دعا کیجیے کہیں تو بات بن جائے۔‘‘باسم نے انہیں مخاطب کیا، وہ خواب سناتے سناتے ٹھٹک کر رکیں پھر پھیکی مسکراہٹ ان کے لبوں پر پھیل گئی۔ جان گئی تھیں کہ بیٹا ان کی جانب متوجہ ہی نہ تھا۔

’’میں تو ہر گھڑی تمہارے لیے دعا کرتی ہوں بیٹا! تمہیں کہنے کی ضرورت ہی نہیں۔

’’میں جانتا ہوں امی لیکن اب مجھے دعائوں کے ساتھ آپ کی ایک اور فیور بھی چاہیے۔‘‘ اس نے بے ساختہ انداز میں ماں کے ہاتھ تھامے تھے۔

’’کیا بات ہے باسم۔ کھل کر کہو۔‘‘ وہ اس کے انداز پر تھوڑا حیران ہوئیں۔

’’اتنے دنوں سے کھل کر بات کرنا چاہ رہا ہوں لیکن یہ سوچ کر ہمت نہیں پڑتی کہ جانے آپ کیا سوچیں گی لیکن اب آپ کی مدد لیے بغیر چارہ بھی نہیں۔‘‘

’’باسم!پہیلیاں مت بجھوائو۔ کیا بات ہے۔‘‘ کلثوم نے اس بار ڈپٹتے ہوئے پوچھا۔

’’امی میرا دوست عمیر ہے ناں جن کے گھر میں بچوں کو ٹیوشن پڑھانے جاتا تھا۔ اس کی خالہ کی بیٹی ہے نرمین۔ ان فیکٹ اس کی مرحومہ خالہ کی بیٹی ہے وہ۔ وہ اپنے ننھیال میں ہی پلی بڑھی ہے۔ عمیر کی دادو اس کی نانو ہوئیں ناں تو انہوں نے ہی نواسی کو پالا ہے۔‘‘وہ ٹھہر ٹھہر کر انہیں بتارہا تھا۔

’’ٹھیک ہے تمہید ہوگئی۔ اب اصل مدعا بتائو۔‘‘ کلثوم سنجیدہ تھیں۔

’’نانو اپنی زندگی میں ہی اسے اپنے گھر بار کا کرنا چاہتی ہیں اور اس کے لیے آج کل شدومد سے رشتہ ڈھونڈرہی ہیں۔‘‘

’’اسی لیے تم چاہتے ہو کہ میں اس کے گھر فوری رشتہ لے کر چلی جائوں۔‘‘

وہ چبھتے ہوئے لہجے میں بیٹے سے مخاطب ہوئیں باسم گردن جھکاکر رہ گیا۔

’’تم ابھی اپنے پائوں پر کھڑے نہیں ہوئے ہو صرف ڈگری ہولڈر کے ہاتھ میں کوئی اپنی بچی کا ہاتھ نہیں تھماتا۔ کس بنیاد پر میں تمہارے لیے کسی لڑکی کا ہاتھ مانگنے جائوں اور بالفرض محال میں رشتہ مانگنے چلی جاتی ہوں اور اپنی بیٹی کی خوشی کی خاطر وہ لوگ مجبوری میں ہاں کر بھی کردیتے ہیں تو تمہارے بھائی مجھ سے سوال نہیں کریں گے کہ مجھے اپنے بے روزگار بیٹے کے سرپر سہرا سجانے کی کیا جلدی ہے۔ وہ اب تک میرا اور تمہارا خرچا اٹھارہے ہیں ان کی مہربانی لیکن وہ تمہاری شادی اور شادی کے بعد تمہاری بیوی کا خرچا کیوں اٹھائیں گے۔ ہوش کے ناخن لو باسم!‘‘

کلثوم نے بیٹے کو تلخ حقیقتوں سے روشناس کروانا چاہا باسم کے چہرے پر اب تھوڑی خفگی جھلکنے لگی تھی۔

’’آپ نے بہت کچھ خود سے ہی فرض کرلیا امی پہلی بات آپ نے نرمین سے متعلق کی آپ کو لگا کہ وہ بھی مجھ میں انٹرسٹڈ ہے۔اس لیے اس کے گھر والے اس کی خوشی کی خاطر مجبور ہوجائیں گے جب کہ اس بے چاری نے تو خواب و خیال میں میرے متعلق ایسا کچھ نہیں سوچا ہوگا وہ بہت انویسنٹ ہے امی۔ ابھی اس کی شادی کی عمر بھی نہیں ، یہ تو محض اس کی نانو کی خواہش اور ارادہ ہے ،عمیر نے باتوں باتوں میں مجھ سے یہ ذکر کیا تو میں الرٹ ہوا ہوں ورنہ تو میں نے یہ بات کسی مناسب وقت کے لیے ہی اٹھارکھی تھی۔ آپ یقین کریں نہ کریں یہ آپ کی مرضی۔‘‘ وہ روٹھے سے انداز میں بولا تھا۔

کلثوم نے گہری نگاہ بیٹے کے چہرے پر ڈالی جہاں رقم سچائی واضح تھی۔

’’اور جہاں تک شادی اور بیوی کا خرچا اٹھانے والی بات ہے تو میں اتنا خود دار ضرور ہوں کہ اپنے بھائیوں پر اپنا کوئی بوجھ نہ ڈالوں، اپنی پڑھائی تک کا خرچا تو میں خود اٹھانے کی کوشش کرتا ہوں اور پھر میں کب کہہ رہا ہوں کہ رشتہ مانگنے کے اگلے ہی ہفتے آپ میری بارات لے جائیں ۔میں تو صرف اپنی قسمت آزمانا چاہتا ہوں۔ ہوسکتا ہے وہ لوگ خود ہی انکار کردیں لیکن تب مجھے پچھتاوا تو نہیں ہوگا کہ میں نے لڑے بغیر ہی ہتھیار ڈال دیے۔‘‘

’’بڑی با محاورہ گفتگو کررہے ہو۔ آخر کیسی ہے وہ لڑکی جس نے میرے بیٹے کو گفتگو کا قرینہ بھی سکھادیا۔‘‘

کلثوم اس بار بھی سنجیدہ ہی تھیں ،باسم نے کچھ کہنے کو لب کھولنا چاہے لیکن ماں کی مسکراتی نگاہیں بھانپ کر خجل ہوکر ہنس پڑا تھا۔

’’زندگی تم نے گزارنی ہے باسم!اگر تمہاری خوشی اسی میں ہے تو میں ایک بار اس لڑکی کے ہاں چلی جائوں گی لیکن جب تک تمہیں نوکری نہیں مل جاتی شادی کے بارے میں سوچنا بھی مت۔‘‘ انہوں نے بیٹے کو باور کروادیا۔

’’ظاہر ہے امی !اتنی عقل تو مجھ میں بھی ہے۔ آپ ٹینشن مت لیں بس ایک بار وہاں جاکر نرمین کی نانو سے میرے متعلق بات تو کریں۔بعد کے معاملات بعد میںدیکھیں گے۔‘‘ باسم ان کی رضامندی پاکر پھولے نہ سمارہا تھا۔

کلثوم لاڈلے کی خوشی دیکھ کر مسکرادیں۔

صرف اس کی خوشی کی خاطر ہی وہ لڑکی دیکھنے چلی گئی تھیں۔انہیں قوی امید تھی کہ لڑکی کے گھر والے اس رشتے کو زیادہ سنجیدہ نہیں لیں گے ظاہر ہے ابھی ان کا بیٹا اپنے پائوں پر کھڑا تک نہ ہوا تھا لیکن خلاف توقع نرمین کی نانو نے انہیں بہت مثبت رسپانس دیا تھا۔

’’باسم ہمارے عمیر کا دوست ہے،کب سے ہمارے گھر آتا جاتا ہے۔ گھر کے بہت سے بچوں کو ٹیوشن بھی پڑھائی ہے ،بہت سلجھی ہوئی فطرت کا بچہ ہے۔ آپ نے اپنے بیٹے کی مثالی تربیت کی ہے۔‘‘

بیگم شمس الدین نے کھلے دل سے باسم کی تعریف کی تھی ۔کلثوم انکساری سے مسکرادیں۔ کچھ دیر تک کمرے میں بے نام سی خاموشی چھاگئی تھی۔

عمیر کی بڑی بہن کے ساتھ نرمین تواضع کا سامان لے کر آئی تو کلثوم کو باسم کی بات کی صداقت پر یقین آگیا۔

اس کی شکل پر بھولپن نمایاں تھا یقینا اسے کلثوم کی آمد کے سبب سے آگاہ کردیا گیا تھا تب ہی وہ بہت گھبرائی اور بوکھلائی ہوئی سی لگ رہی تھی۔ کلثوم نے اسے اپنے قریب بٹھاکر شفقت بھرے انداز میں عمومی نوعیت کے سوال پوچھے تھے زیادہ تر سوال اس کی پڑھائی وغیرہ سے متعلق تھے۔ ذراسی دیر بیٹھ کر وہ چلی گئی تھی۔

’’میری اکلوتی بیٹی کی نشانی ہے نرمین۔ شادی کے محض پانچ برس بعد شازیہ دوسرے بچے کی پیدائش کے وقت چل بسی۔ بچہ بھی ا س کے بعد محض چند سانسیں لے پایا تھا۔اس وقت نرمین ڈھائی برس کی تھی اس معصوم کو تو ماں کا لمس تک یاد نہیں۔ باپ نے بیوی کی قبر کی مٹی خشک ہونے کاانتظار کیے بنا دوسرا بیاہ رچالیا۔ شازیہ کے فوت ہونے کے بعد میں نرمین کو اپنے ساتھ ہی لے آئی تھی اس کے لیے تو باپ کا ہونا نہ ہونا ویسے بھی برابر ہی تھا۔ سال چھ مہینے میںاسے بیٹی کا خیال آتا ہے تو اس کی خیریت پوچھنے کو رسمی سا فون کھڑکا دیتا ہے۔ پچھلے دس برسوں سے وہ ویسے بھی ملک سے باہر ہے بس یوں سمجھ لو بیٹا کہ نرمین اول روز سے میری ہی ذمہ داری ہے۔‘‘

بیگم شمس الدین آزردگی بھرے انداز میں ساری کتھا سنارہی تھیں۔

’’اب مجھے اپنی زندگی کا بھروسا نہیں رہا۔ چند مہینے پہلے دل کا دورہ پڑا تھا۔جب اللہ نے پھر سے زندگی بخش دی میں نے رب سے اتنی مہلت مانگی ہے کہ میں اپنی بچی کو اس کے گھر بار کا کردوں حالانکہ گھر میں نرمین سے بڑی میری پوتیاں اور نواسیاں بھی بیٹھی ہیں لیکن اللہ ان کے سروں پر ان کے والدین کا سایہ سلامت رکھے، وہ بچیاں پڑھ رہی ہیں کوئی نوکری کررہی ہے، سب اپنے اپنے انداز میں اپنی خواہش کے مطابق اپنی زندگیاں جی رہی ہیں بس میری بچی میری خواہش کے آگے سر جھکاکر تعلیمی سلسلہ منقطع کرکے گھر بیٹھ گئی ہے۔ میرا بس چلے تو میںکل ہی اس کے ہاتھ پیلے کردوں ۔کئی رشتے زیر غور ہیں آج آپ آئی ہیں تو یقینا آپ کے بچے کے رشتے پر بھی غور کروں گی۔

اپنے بیٹوں سے مشورہ کرکے میں جلد ہی آپ کو جواب سے آگاہ کردوں گی۔‘‘

بہت متانت بھرے انداز میں بیگم شمس الدین نے انہیں مخاطب کیا تھا۔کلثوم کو وہ وضع دار بوڑھی خاتون بہت بھلی لگی تھیں۔نرمین کی من موہنی صورت بھی آنکھوں میں کھب گئی تھی۔ اس گھر میں وہ باسم کی خواہش پر آئی تھیں لیکن واپسی میں یہ ان کے اپنے دل کی خواہش بھی بن گئی تھی آج نہیں تو کل باسم کی نوکری لگ ہی جانی تھی وہ اتنا اچھا رشتہ نوکری کے انتظار میں نہیں گنوانا چاہتی تھیں جب کہ یہ ان کے بیٹے کی بھی چاہت تھھی۔

٭٭٭

عاصم اور قاسم کو جب اس بات کا پتا چلا تو حسب توقع وہ دونوں ہی خوب جزبز ہوئے تھے۔

’’امی!آپ بھی کمال کرتی ہیں ایسی کیا جلدی پڑرہی ہے جو آپ باسم کا رشتہ بھی تلاش کرنے چل پڑیںپہلے اسے اپنے پائوں پر کھڑا تو ہولینے دیں۔‘‘ دونوں بیٹوں نے ہی ٹیلی فون پر اپنی خفگی کا برملا اظہار کیا تھا۔

’’ان شائ اللہ نوکری بھی مل جائے گی اور ابھی کون سا رشتہ پکا ہوگیا ہے۔ دعا کرو، وہ لوگ ہاں کردیں۔‘‘ کلثوم بیٹوں کی خفگی کو خاطر میں نہ لائی تھیں۔

بیگم شمس الدین کے اقرار کی دیر تھی کہ باسم کو بہت اچھے ادارے سے اپائنمنٹ لیٹر بھی وصول ہوگیا۔ وہ دو،دو خوشیاں پاکر پھولے نہ سمارہا تھا۔کلثوم خود بھی رب کی اس بے پایاں عنایت پر سجدۂ شکر بجالائی تھیں۔

’’دیکھ لیا ناں امی آپ کی ہونے والی بہو کتنی بھاگوان ہے ابھی صرف ہمارا رشتہ طے ہوا ہے اور مجھے اتنی اچھی جاب بھی مل گئی۔‘‘باسم کی خوشی کا کوئی ٹھکانا ہی نہ تھا۔

’’ٹھیک ہے بیٹا جی !ماں کی دن رات کی دعائوں کو کسی گنتی شمار میں ہی نہ رکھا۔ سارا کریڈٹ اپنی ہونے والی بیوی کے کھاتے میں ڈال دیا۔‘‘ وہ مصنوعی خفگی دکھاتے ہوئے بولی تھیں۔

’’کیسی باتیں کررہی ہیں امی۔ یہ سب اللہ کی کرم نوازی کے بعد آپ کی ہی دعائوں کا تو نتیجہ ہے۔‘‘باسم ان سے لپٹ گیا تھا۔ وہ بیٹے کا ماتھا چومتے ہوئے بشاشت بھرے انداز میں مسکرادی تھیں۔

بیگم شمس الدین کی خواہش کے احترام میں شادی کی تاریخ ٹھہرادی گئی تھی۔ خوش قسمتی سے فریقین ہم خیال تھے اور بے جا نمودونمائش اور اسراف کے بجائے پروقار طریقے سے یہ فریضہ نمٹانے کے خواہش مند تھے لیکن اس فانی دنیا میں سب کچھ انسانوں کی خواہشوں کے مطابق کب ہوپاتا ہے۔

بیگم شمس الدین کو نواسی کے بہتر مستقبل کے حوالے سے اطمینان تو نصیب ہوگیا تھا لیکن اسے دلہن بنا دیکھنا نصیب نہ ہوا۔ وہ ایک رات خاموشی سے آنکھیں موند گئیں۔ان کی وفات پر ان کے گھر کا ہر فرد اشک بار تھا لیکن سب سے بری حالت نرمین کی تھی۔ کلثوم نے بھی اسے خود سے لپٹاکر خوب تسلی دی لیکن جانتی تھیں کہ اسے دھیرے دھیرے ہی صبر آئے گا۔

شادی کی تاریخ کچھ آگے بڑھادی گئی تھی۔ باسم کا نرمین کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ استوار ہوگیا تھا۔ کوئی ا ور وقت ہوتا تو پرانی ریت،رواجوں کو عزیز رکھنے والی کلثوم اس ٹیلی فونک رابطے پر معترض ہوتیں لیکن جانتی تھیں کہ اس مشکل وقت میں نرمین کو کسی کی دل جوئی سے فرق پڑسکتا ہے تو وہ باسم کی ذات ہے سو انہوں نے باسم کو اس ٹیلی فونک رابطے سے نہ روکا۔

٭٭٭

چند ماہ بعد جب نرمین کی ذہنی حالت سنبھل گئی تو اس کے ماموئوں سے مشورہ کرکے شادی کی تاریخ مقرر کردی گئی۔

بیٹے اور دونوں بڑی بہوویں شادی سے ہفتہ بھر پہلے پہنچ گئے تھے بخیر وخوبی شادی نمٹی تو عاصم،قاسم نئے جوڑے کو اپنے اپنے ہاں آنے کی دعوت دے کر رخصت ہوئے اب گھر میں نئی نویلی دلہن کے ساتھ کلثوم ہوتی تھیں۔

باسم کی نئی نوکری تھی زیادہ چھٹی ملنا مشکل تھا وہ صبح کا گیا شام کو گھر لوٹتا۔نرمین شوہر کے آنے کے بعد مطمئن اور مسرور ہوتی لیکن اس کی غیر موجودگی میں ذرا بولائی بولائی سی رہتی۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ کلثوم کو اندازہ ہورہا تھا کہ نئی دلہن گھر داری میں تقریباً اناڑی ہے وہ کون سا اس پر ابھی سے گھر بھر کی ذمہ داری ڈالنا چاہتی تھیں لیکن اس کا پھوہڑ پن کبھی کبھی انہیں خاصی کوفت میں مبتلا کرنے لگا تھا۔ فریحہ اور صبوحی دونوں ہی گھر داری میں طاق تھیں کلثوم کو کبھی اس بارے میں ان سے کوئی شکایت نہ ہوئی تھی لیکن نرمین کا معاملہ یکسر مختلف تھا۔ کچھ وہ کم عمر تھی پھر شاید نانی کے لاڈ پیار نے گھر داری میں دلچسپی پیدا ہی نہ ہونے دی ہوگی۔

پہلے کبھی کلثوم کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا تھا کہ نرمین کے ماموں، ممانیوں نے ہی اس کا رشتہ اپنے کسی بیٹے سے کیوں نہ مانگا لیکن اب انہیں اس سوال کا جواب خود مل گیا تھا۔

انہیں تو اس کی موہنی سی صورت بھاگتی تھی باسم خود اس کی بھولی بھالی صورت پر دل ہار بیٹھا تھا۔ممانیوں نے اس کی موہنی صورت کا کیا کرنا تھا یقینا وہ چھان پھٹک کر اپنی بہویں ڈھونڈلائیں گی۔ کلثوم اب نرمین کے پھوہڑپن سے خاصی عاجز آنے لگی تھیں۔

وہ صبح باسم کے آفس جانے سے پہلے اپنا اور باسم اک ناشتہ بناتی اور جب اس کے کچن سے نکلنے کے بعد کلثوم کچن کا رخ کرتیں تو کوفت اور جھنجلاہٹ سے ان کا برا حال ہوتا۔ اپنی دانست میںتو نرمین اپنے ناشتے کے برتن دھوکر کچن سمیٹ کر باہر نکلتی تھی لیکن یہ سمٹا ہوا کچن کلثوم کو پھر سے سمیٹنا پڑتا تھا۔ کھانا بنانے میں بھی وہ بالکل ہی اناری تھی۔

کبھی کلثوم کا دل چاہتا کہ اسے پاس بٹھاکر کچھ طریقہ سلیقہ سکھائیں لیکن پھر یہ سوچ کر رہ جاتیں کہ کبھی نئی بہو کا موڈ آف ہی نہ ہوجائے۔ آج کل کی لڑکیاں ویسے بھی بڑی نازک مزاج ہوتی ہیں اور کلثوم خود کو سخت گیر ساس نہ کہلوانا چاہتی تھیں سو بہت تحمل اور ضبط سے اس کے پھوہڑ پن کو برداشت کررہی تھیں اور پھر باسم اس کے ساتھ خوش تھا تو اس کی خوشی کی خاطر طبیعت پر تھوڑا بہت جبر کرنا کچھ مہنگا سودا نہ تھا۔

٭٭٭

ایسے میں ایک اور غیر متوقع بات ہوگئی باسم کی کمپنی کی جانب سے کچھ لوگوں کو ٹریننگ پروگرام پر بیرون ملک بھیجا جارہا تھا۔ عین وقت پر کسی مجبوری کی بنا پر ایک سینئر کو لیگ فہرست سے ڈراپ ہوگیا اور اس کی جگہ باسم کا نام شامل کرلیا گیا۔ یہ اس کے کیریئر کے لیے گولڈن چانس تھا اور وہ اسے کسی قیمت پر کھونا نہ چاہتا تھا۔کورس کی مدت چھ ماہ تھی۔ وہ بہت پرجوش ہوکر جانے کی تیاریوں میں لگاہوا تھا۔

نرمین کی اداسی کسی سے ڈھکی چھپی نہ تھی۔ کلثوم اس کی ذہنی کیفیت سمجھ سکتی تھیں۔ شادی کے ابتدائی دور میں شوہر کی جدائی چاہے وہ عارضی ہی کیوں نہ ہو سہنا کچھ آسان نہیں۔باسم یقینا اسے اکیلے میں تسلی دلاسے دیتا ہوگا۔

کلثوم ابھی تک نئی بہو سے اتنی بے تکلف نہ ہوپائی تھیں کہ وہ بھی اسے تسلی کے دو بول کہہ سکتیں۔نرمین ان سے بہت مؤدب ہوکر مخاطب ہوتی تھی لیکن ابھی اس کی شادی کو عرصہ ہی کتنا ہوا تھا تکلف کی دیواریں گرنے میں کچھ وقت تو لگنا تھا اور ساس بہو کے درمیان تکلف کی دیواریں جس حد تک بھی گرجائیں اتنی بے تکلفی پھر بھی نہیں ہوپاتی کہ دونوں ایک دوسرے سے اپنا ہر دکھ سکھ کہہ لیں۔

جس دن باسم کی فلائٹ تھی۔انہوں نے نرمین کو خود کہہ دیا کہ وہ چند دن میکے گزار آئے۔

قاسم چھوٹے بھائی کو سی آف کرنے آیا تھا۔ نرمین،قاسم اور کلثوم تینوں ہی ایئر پورٹ گئے تھے۔ واپسی پر قاسم نے چھوٹی بھاوج کو اس کے میکے ڈراپ کردیا۔ ایک دن ماں کے ساتھ گزار کر قاسم بھی واپس چلا گیا۔

اب اکیلے گھر میں کلثوم کا دل گھبرانے لگا۔باسم کی شادی سے پہلے بھی عملی طور پر وہ گھر میںتنہا ہوتی تھیںباسم تورات گئے گھر لوٹتا تھا لیکن نفسیاتی طور پر ڈھارس ہوتی تھی کہ بیٹا ان کے پاس ہے اور اس کی شادی کے بعد نرمین کی صورت گھر میںایک اور چلتا پھرتا وجود ہوتا تھا۔بھلے سے وہ اپنے کام نمٹاکر اپنے کمرے کا رخ کرتی تھی لیکن گھر میں کسی اور کے ہونے کا احساس تو ہوتا تھا پھر۔

باسم بھی آفس سے چھٹی ہوتے ہی گھر کا رخ کرنا اس کی رات گئے کی مصروفیات اور سب یاری دوستیاں چھوٹ گئی تھیں۔

اب بہت دنوں بعد گھر میں ایسی جامد خاموشی چھائی ہوئی تھی رات کلثوم بہت دیر تک جاگتی رہیں رات کے آخری پہر بہت مشکل سے ان کی آنکھ لگی تھی۔

اگلی صبح وہ ناشتہ کرنے بیٹھی تھیں کہ دروازے پرنامانوس سی دستک ہوئی۔ دودھ والا دودھ دے کر جاچکا تھا اور کوڑا کرکٹ اٹھانے والے لڑکے کا یہ ٹائم نہ تھا وہ گیا رہ بجے تک آتا تھا پھر اس وقت کس نے دروازہ بجایا۔ صبح سویرے تو کوئی آس پڑوس سے بھی نہ آتا تھا۔

وہ حیران ہوتی ہوئی گیٹ کی طرف بڑھیں دروازے پر عمیر کے ساتھ نرمین کو کھڑا دیکھ کر ان کی حیرت دو چند ہوگئی۔

’’آپ کی بہو کا دو دن بھی میکے جی نہیں لگا آنٹی سب نے بہت روکنے کی کوشش کی لیکن میرے سر ہوگئی کہ میں آفس جاتے ہوئے اسے گھر چھوڑ دوں۔‘‘ عمیر نے سلام کے بعد شگفتگی بھرے انداز میں انہیں ماجرا کہہ سنایا۔

’’باہر کیوں کھڑے ہو۔ اندر آئو نا بیٹا! نرمین بیٹا!بھائی کو لے کر اندر آئو میں ناشتا بناتی ہوں۔‘‘ کلثوم نے آداب میزبانی نبھاہنا چاہے۔

’’ناشتہ کرکے آیا ہوں آنٹی!آفس سے دیر ہورہی ہے اب اجازت ان شائ اللہ پھر چکر لگائوں گا اور کوئی بھی ضرورت ہو تو آپ بلا جھجک مجھ سے ہی کہیں گی۔ باسم نہیں ہے تو کیا ہوا آپ کا یہ بیٹا تو ہے ناں اور پھر اب تو یہ ہماری بہنا کا بھی گھر ہے۔‘‘

عمیر نے شفقت بھرے انداز میں نرمین کا سر تھپتھپایا اور پھر اجازت لے کر رخصت ہوگیا۔وہ اس کی سعادت مندی پر اسے دعائوں سے نوازتی واپس اندر پلٹی تھیں۔ نرمین ان کے ہمراہ تھی ۔ اس کی اداس صورت دیکھ کر انہیں اس پر ترس آیا۔

’’ماموں کے گھر جی نہیں لگابیٹا؟ انہوں نے شفقت بھرے انداز میں پوچھا۔

’’وہاں میری حبا اور روشنی سے ہی زیادہ دوستی تھی آنٹی !روشنی اپنی خالہ کے ہاں گئی ہوئی تھی اور حبا کے یپرز ہورہے تھے اور سچی بات تویہ ہے کہ وہاں نانی جان کا خالی کمرہ دیکھ کر میرا دل وحشت سے بھرجاتا ہے حالانکہ چھوٹی مامی نے اسے گیسٹ روم کی شکل دے دی ہے لیکن مجھے وہاں جاکر عجیب سا ڈپریشن ہونے لگتا ہے۔‘‘

وہ یاسیت بھرے انداز میں مخاطب ہوئی تھی۔یہ پہلی بار تھا کہ اس نے ساس کے سامنے اپنے دل کی کوئی فیلنگ شیئر کی تھی۔

’’جب جان سے پیارے لوگ بچھڑ جائیں بیٹا تو صبر آتے آتے ہی آتا ہے۔جب نانی زیادہ یاد آئیں تو ان کے ایصال ثواب کے لیے کچھ پڑھ لیا کرو۔‘‘ وہ نرمی سے مخاطب ہوئی تھیں۔نرمین نے اثبات میں سرہلادیا تھا۔

نرمین کے آنے سے انہیں دوسراہٹ کا احساس ہونے لگا تھا۔ آہستہ آہستہ دونوں کے بیچ تکلف کی دیواریں بھی گرنے لگی تھیں اور ایسے ہی ایک بار جب نرمین نے معمول کے مطابق انہیں آنٹی کہہ کر مخاطب کیا تو وہ بے ساختہ اسے ٹوک بیٹھی تھیں۔

’’فریحہ اور صبوحی مجھے شروع دن سے ہی امی کہتی ہیں تم بھی امی کہہ کر پکارو تو مجھے اچھا لگے گا۔‘‘

انہوں نے تو ایک عمومی سی بات کی تھی لیکن جانے کیوں نرمین خاموشی سے انہیں تکنے لگی تھی۔ وہ اس کی خاموشی پر حیران ہوئی تھیں انہوں نے کوئی ایسی ناجائز فرمائش تو نہیں کی تھی۔ بہویں اپنی ساسوں کو امی کہہ کر ہی مخاطب کرتی ہیں اس میں ایسا کیا انوکھا تھا جو بہو بیگم سوچ میں پڑ گئی تھیں۔

’’صرف امی کہوں یا سمجھوں بھی؟‘‘نرمین کی بات پر اس بار چپ ہونے کی باری ان کی تھی۔

’’جب کہوگی تو سمجھ بھی لینا۔ ساس بھی ماں ہی ہوتی ہے ۔‘‘انہوں نے منطقی سا جواب دیا۔

’’میں نے کبھی ماں کی ممتا محسوس نہیں کی ۔نانی جان بلا شبہ بہت زیادہ پیار کرتی تھیں لیکن میرا ان کا رشتہ پھر بھی ویسا نہیں تھا جیسا میری کزنز کا اپنی مائوں کے ساتھ ہوتا تھا۔ میں نے اس رشتے کی اپنی زندگی میں بہت کمی محسوس کی ہے۔ اگر میں آپ کو امی کہہ کر پکاروں اور میں آپ کی بہو اور آپ میری ساس ہی رہیں تو اس سے اچھا ہے کہ میں آپ کو آنٹی ہی کہتی رہوں۔‘‘ وہ دھیرے سے بولی تھی۔

’’جس طرح تم نے کبھی ماں کی ممتا محسوس نہیں کی لیکن ماں کی کمی ضرور محسوس کرتی رہی ہو بالکل ایسے ہی مجھے بھی ساری زندگی ایک بیٹی کی کمی محسوس ہوتی رہی ہے۔ تم بیٹی بن جائوگی تو شاید بھی ماں بن سکوں۔‘‘

کلثوم نے مسکراکر اسے مخاطب کیا۔ جانے کیوں اس پل انہیں وہ پھوہڑ ،بدسلیقہ اور بے ڈھنگی سی لڑکی بہت اپنی اپنی سی لگ رہی تھی۔

نرمین نے نگاہ اٹھاکر انہیں دیکھا۔ اس کے ہونٹوں پہ دل فریب سی ہنسی بکھری اور آنکھیں جگمگانے لگی تھیں۔

’’ٹھیک ہے ہم ٹرائل بیسز پر امی،بیٹی بن جاتے ہیں فارمولا کامیاب نہ ہوا تو پھر میں آپ کو آنٹی ہی کہوں گی۔‘‘ کلثوم نے اس سرپھری سی لڑکی کو مسکراکر دیکھا پھر اثبات میں سر ہلادیا۔

٭٭٭

اسی رات کا ذکر ہے جب کلثوم گہری نیند سورہی تھیں تو ان کی نئی بنی بیٹی نے بے تکلفی سے ان کے بیڈ روم کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ وہ ہڑبڑاکر اٹھی تھیں۔ پریشان ہوکر دروازہ کھولا۔

’’کیا ہوا بیٹا خیریت تو ہے۔‘‘ کلثوم رات کے اس پہر دن والا عہد پیمان فراموش کرچکی تھیں۔

’’مجھے اکیلے سونے کی عادت نہیں ہے کل رات بھی تقریباً ساری رات جاگی ہوں۔ آج بھی بہت کوشش کے باوجود نیند نہیں آرہی ۔آپ کے پاس سوجائوں؟‘‘

وہ بہت آس سے پوچھ رہی تھی۔ کلثوم نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے اسے اندر آنے کا راستہ دیا۔ وہ خوشی خوشی ان کے بیڈ پر ان کے ساتھ لیٹ گئی تھی۔

’’کل ساری رات جاگی ہو تو کل میرے پاس کیوں نہیں آگئیں۔‘‘انہوں نے پوچھا۔

’’کل تو آپ کے پاس آتے ہوئے جھجک محسوس ہورہی تھی آج تو آپ امی ہیں ناں۔‘‘ کیسا معصومانہ سا اظہار تھا اس کا کلثوم کو اس پر بے ساختہ پیار آیا۔

’’سوجائو سکون سے میں جاگ ہی گئی ہوں تو تہجد کے نفل ادا کرلوں۔‘‘ وہ گھڑی پر نگاہ ڈالتے ہوئے پھر سے اٹھ گئی تھیں۔’’ٹھیک ہے امی۔ جس وقت آپ فجر کے لیے اٹھیں مجھے بھی اٹھادیجیے گا۔ مشکل سے جاگوں گی لیکن آپ زبردستی جگادینا۔ فجر قضا ہوجائے تو سارا دن بے چین رہتی ہوں۔‘‘

وہ بے تکلفی سے تاکید کرتی تکیے میں منہ گھساکر لیٹ گئی کلثوم نفل پڑھ کر پھرسے سونے لیٹیں تب تک وہ گہری نیند سوچکی تھی۔انہوں نے اس پر ایک مسکراتی نگاہ ڈالی پھر خود بھی سونے کی کوشش کرنے لگیں۔

فجر کے وقت اسے جگانا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا ۔کلثوم نے دھیرے دھیرے اس کا شانہ ہلاکر اسے جگانے کی کوشش کی۔ اس کے گال تھپتھپائے۔ نرمی سے اس کے کان میں اس کا نام پکارا۔ لیکن وہ ڈھیٹ لڑکی کروٹ پر کروٹ بدل کر سوتی ہی رہی۔

بہت دیر کوشش کے بعد ان کی برداشت جواب دے گئی۔ رات کو دعوا کررہی تھی کہ فجر قضا ہوجائے تو سارا دن بے چین رہتی ہوں اور اب جاگنے کا نام نہیں لے رہی انہوں نے غصے سے اس کا شانہ پکڑ کر جھنجوڑا تھا۔

’’اٹھتی ہونرمین کہ پانی کا جگ انڈیلوں؟‘‘ دھمکی کارگر رہی وہ کسل مندی سے اٹھ بیٹھی تھی۔

’’ابھی تو نماز کا کافی ٹائم ہے ناں۔‘‘ وال کلاک پر نگاہ ڈالتے ہوئے اس نے جمائی لی۔ کلثوم نے بھانپ لیا کہ وہ پھر سے سونے کا ارادہ بنارہی ہے۔

’’صرف پندرہ منٹ بعد آپ.‘‘

’’نہ، ناں کوئی پندرہ منٹ نہیں فوراً جاکر وضو کرو۔ نیند خود بھاگ جائے گی۔ میں نے اب اپنی تسبیح وظائف کرنے ہیں میں کیا تمہیںجگانے کی ڈیوٹی ہی بھگتاتی رہوں ۔‘‘وہ خفگی بھرے انداز میں گویا ہوئیں۔

’’اچھا ٹھیک ہے۔ جارہی ہوں۔‘‘

وہ نیند میں ڈولتی ہوئی واش روم کی طرف بڑھی۔ کلثوم کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ نماز پڑھ کر وہ پھر سے گھوڑے بیچ کر سوگئی تھی اس بار کلثوم نے اسے نیند پوری کرنے کا موقعہ دیا تھا۔

بے چاری بچی جانے کتنی راتوں سے جاگ رہی تھی اچھا ہے نیند پوری کرلے۔ وہ خاموشی سے اٹھ کر باہر آگئی تھیں بے چاری بچی ساڑھے بارہ بجے سوکر اٹھی تھی۔

’’اٹھ گئی ہو تو دروازہ بند کرلو ۔میں سبزی لے آئوں۔‘‘ وہ اس کے جاگنے کے انتظار میں ہی تھیں سو فوراً سبزی لانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئیں۔

’’آج قیمہ کریلے بنالیتے ہیں امی۔ باسم کے جانے سے پہلے آپ نے ایک بار قیمہ بھرے کریلے بنائے تھے۔ میں نے ویسے مزیدار کریلے پہلے کبھی نہیں کھائے۔ آج آپ وہ ہی بنالیں۔‘‘ اس نے بے تکلفی سے فرمائش کی تھی۔

کلثوم کو خدشہ ستانے لگا کہ وہ بیٹی بن کر زیادہ ہی سر پر نہ چڑھ جائے اگر اسی بے تکلفی سے فرمائشیں کرنا شروع کردیں تو کیا بنے گا ان کا۔ کل کا جذباتی سا عہد ماننا اس وقت انہیں نری حماقت لگی تھی رات کو اس پر جو پیار امڈ آیا تھا، اب اس کا بھی نام ونشان نہ تھا۔

’’اتنا آسان نہیں ہے قیمہ کریلے بنانا۔ موسم کے تیور دیکھے ہیں کس بلا کی گرمی ہے۔ میرے اندر دم نہیں ہے اتنی دیر چولہے کے آگے کھڑی رہوں۔‘‘ انہوں نے روکھا سا لہجہ اختیار کیا۔

’’مل جل کر کرلیں گے ناں آپ ٹینشن نہ لیں۔‘‘ بجائے اس کے کہ وہ ان کے لہجے اور انداز پر پسپائی اختیار کرتی مزے سے ٹینشن نہ لینے کا مشورہ دے دیا۔

انہوں نے اس بار جواب دینے کے بجائے محض ایک تیکھی نگاہ اس کے چہرے پر ڈالی تھی جب وہ گھر سے باہر نکلیں تو یہ فرمائش پوری کرنے کا ان کا قطعاً کوئی ارادہ نہ تھا لیکن جب گھر واپس لوٹیں تو پسینے میں شرابور تھیں۔ قصائی کے پاس کھڑے ہوکر اپنی پسند کا قیمہ لیا اور پھر سبزی والے سے چھانٹ چھانٹ کر کریلے لینے میں اچھا خاصا وقت لگ گیا تھا۔ میڈم رانی کا اب تک ناشتہ ہی ختم نہ ہوا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں چائے کا مگ دیکھ کر انہیں غصہ آگیا۔

’’تم تو اب ناشتے سے فارغ ہوئی ہو۔ فرمائش کردی قیمہ کریلے کی۔ دوپہر کے کھانے کی گنجائش بچی ہے اب؟‘‘

’’ناشتہ کب کیا ہے امی۔ ابھی تو چائے بناکر نکلی ہوں۔ناشتہ تو گول ہوگیا اب لنچ ہی کروں گی۔‘‘

’’میں بازار سے گھر لوٹی ہوں تم نے جب تک صرف چائے بنائی یا دوبارہ اونگھ آگئی تھی۔‘‘کلثوم خفگی بھرے لہجے میں بولیں۔

’’جی نہیں، اب اتنی بھی پوستی نہیں، باسم کے اتنے ڈھیر سارے واٹس میسجز آئے ہوئے تھے بس ان ہی کا جواب دینے میں لگی ہوئی تھی۔‘‘ اس نے بے تکلفی سے آگاہ کیا۔

’’اچھا مجھے ایک گلاس لیموں پانی بناکر دو۔ گرمی سے جی گھبراگیا ہے۔‘‘

جب نئی نویلی بیٹی بے تکلفی سے فرمائش کرسکتی تھی تو کلثوم اس ذرا سے کام کہنے میں کیوں عار محسوس کرتیں۔ حالانکہ انہیں کسی دوسرے کے ہاتھ سے پانی کا گلاس تک لینا گوارا نہ ہوتا تھا ۔اپنا چھوٹے سے چھوٹا کام خود ہی کرنے کی عادی تھیں نرمین چند منٹوں میں ٹھنڈا ٹھار شکنجین بنالائی تھی۔

’’سبزی میں بنالیتی ہوں۔آپ اتنے فریش ہوجائیں۔ پھر کھانا مل کر پکالیں گے۔‘‘

’’دو بندوں کا کھانا بننا ہے کنبے بھر کا نہیں۔بنالوں گی میں خود ہی۔ تم کچن میں گھستی ہو تو سب کچھ تلپٹ کردیتی ہو ذرا جو سلیقہ ہو تمہارے اندر۔‘‘

انہوں نے جتاہی دیا۔ بولنے کے بعد احساس ہوا شاید زیادہ بول گئی ہیں کہیں برا ہی نہ مان جائے آج کی لڑکیوں میں برداشت کی ویسے بھی کمی ہوتی ہے۔

’’وہاں بڑی مامی کو میرا کچن میں گھسنا بالکل پسند نہ تھا اوپر نیچے کے کام تو کروالیتی تھیں لیکن میںکچن میںجاکر کچھ بنانے لگتی تو ان کا موڈ بگڑنے لگتا۔ ڈر کے مارے میں کچن کا رخ ہی نہ کرتی تھی۔ بس اسی لیے کھانا بنانے سمیت کچن کے سب ہی کاموں میںاناڑی رہ گئی۔‘‘

نرمین نے فراخدلی سے تسلیم کرلیا تھا۔ کلثوم کو اس کی بات سن کر دکھ ہوا تھا۔

’’اب میں ہوں ناں تمہیں کھانا پکانا بھی سکھائوں گی اور سب طریقہ سلیقہ بھی۔ لڑکیوں کو گھرداری میں طاق ہونا چاہیے۔ دوسرے کسی بھی ہنر میں مہارت کا نمبر اس کے بعد آتا ہے۔‘‘

’’اچھا ناں۔آہستہ آہستہ سیکھ لوں گی۔ آپ کا موڈ دیکھ کر تو لگ رہا ہے جیسے آپ ڈنڈا پکڑ کر مجھے سب کچھ پل بھر میں سکھانے کا ارادہ رکھتی ہوں۔‘‘وہ شرارت سے مسکرائی تھی۔

’’ڈنڈے کی ضرورت پڑی تو ڈنڈا بھی پکڑلوں گی فکر مت کرو۔‘‘ وہ بھی ہنستے ہوئے بولی تھیں۔ جوابا نرمین کی کھلکھلاہٹ بے ساختہ تھی۔

’’سدایوں ہی ہنستی مسکراتی رہے۔‘‘انہوں نے اسے دل ہی دل میں دعا سے نوازا تھا۔

ہرگزرتے دن کے ساتھ وہ ان کے دل میں جگہ بناتی رہی تھی۔شاید اس میں سارا کمال اسی کا تھا۔ انہوں نے ماں بننے کا دعوا تو کیا تھا لیکن اگر نرمین اتنے دھڑلے سے ان کی بیٹی نہ بنتی تو شاید ان کے لیے ماں بننا ممکن نہ ہوتا۔

وہ ان سے فرمائشیں کرتی تھی تو ان کی ڈانٹ ڈپٹ اور سختی کو بھی برداشت کرتی تھی۔ ایسا نہیں تھا کہ اس کا موڈ آف نہ ہوتا ہو لیکن وہ اپنے آف موڈ کا بھی برملا اظہار کرتی تھی۔ کچھ دیر کے لیے روٹھ جاتی۔ منہ پھلاکر شکوہ بھی کرتی لیکن تھوڑی دیر میں سب کچھ بھول بھال کر بہت مزے سے ان سے کسی بھی موضوع پر تبادلہ خیال کرنے لگتی۔

کلثوم اسے گھر داری سکھانے میں جتی ہوئی تھیں۔ اس بارے میں وہ کوئی رعایت دینے پر آمادہ نہ تھیں۔ وہ تھک گئی ہوں امی‘‘ کا شور مچاتی، کوئی کام بعد پر ٹال دینے کے لیے بہانہ تراشتی لیکن کلثوم اس کی کسی بہانے بازی کو خاطر میں نہ لاتیں۔

’’کتنی ظالم ماں ہیں آپ۔اس سے تو اچھا تھا آپ ساس ہی بنی رہتیں۔ جب تو مجھے کسی بھی بات پر نہ ٹوکتی تھیں ۔‘‘وہ منہ پھلاکر شکوہ کرتی۔

’’یہ جو تم بارہ بجے سوکر اٹھتی ہو پھر میرے ہی ہاتھ کے پراٹھے کی فرمائش کرکے مزے سے کرسی سنبھا کر بیٹھ جاتی ہو، وہ نخرے پہلے کرنے کی ہمت کیوں نہیں تھی، میری بچی۔پہلے تو اپنے ہی ہاتھ کا بناکچا پکا پراٹھا حلق سے اتارتی تھی بلکہ میرے بیٹے کو بھی الٹا سیدھا ناشتہ کرواتی تھیں۔ جب میرا بس نہ چلتا تھا کہ میں تمہیں ہٹاکر باسم کا ناشتہ خود بنادوں۔‘‘

’’آپ کا بیٹا تو کبھی شکایت نہ کرتا تھا بلکہ الٹا میری حوصلہ افزائی ہی کرتا تھا۔‘‘ وہ شرارتی انداز میں جتاتی۔

’’میں جانتی ہوں میرے تینوں کے تینوں بیٹے ایک نمبر کے زن مرید ہیں۔‘‘ کلثوم ٹھنڈا سانس بھرتیں۔

’’تو کیا ابو جی زن مرید نہیں تھے اس روز وہ جوآپ اپنی شادی کے ابتدائی دنوں کا قصہ سنارہی تھیں کیسے آپ سے ہانڈی جل گئی تھی اور ابو جی نے گھر بھر میں کسی کو خبر نہ ہونے دی اور فٹافٹ بازار سے پکا پکایا لاکر آپ کی غلطی کو کور کرلیا۔‘‘

نرمین نے مسکراکر انہیں یاد دلایا۔ کلثوم ہنس پڑیں۔ بھول گئی تھیں کہ اب وہ ان کے بہت سے رازوں کی امین ہے ،جب بھی فارغ وقت میں وہ ماضی کی سیر پر نکلتیں تو نرمین ان کے ہمراہ ہوتی تھی۔

اسے ان کے پرانے زمانے کے قصے سن کر کبھی بوریت نہ ہوتی تھی بلکہ وہ بہت محویت اور اشتیاق سے یہ دلچسپ باتیں سنتی تھی۔ وہ خود بھی بہت باتونی تھی جب خود بولنے پر آتی تو ان کا بھی سر کھالیتی تھی کبھی اداس ہوتی تو ان ہی کی گود میں سر رکھ کر آنسو بھی بہالیتی۔

کبھی اسے باسم کی یاد ستاتی تھی، کبھی مرحومہ نانی خواب میں نظر آتیں تو سارا دن پلکیں بھیگی رہتیں اپنے باپ کی لاتعلقی اور بے اعتنائی کا خیال ستانے لگتا تب بھی کلثوم کو ہی اس کے آنسو پونچھنے پڑے۔

٭٭٭

اور وہ بھی ایسا ہی دن تھا وہ دن بھر بہت قنوطی پن کا شکار رہی تھی۔ اس کا دھیان بٹانے کو کلثوم نے شاپنگ کا پروگرام بنایا۔ وہ جھٹ تیار ہوگئی۔

’’بازار لے کر تو جارہی ہوں لیکن پچھلی بار کی طرح الٹی سیدھی چیزوں پر پیسہ خرچ مت کرنا۔‘‘ انہوں نے اسے پیشگی باور کروایا۔

’’افوہ ایسی بھی کیا کنجوسی امی! پتا ہے ناں باسم کو وہاں کتنا اچھا پیکیج ملا ہوا ہے۔ کھل کر خرچ کیا کریں۔‘‘

’’ہاں تو اتنی محنت سے کمارہا ہے میرا بچہ۔ پردیس الگ کاٹ رہا ہے۔ نو بیاہتا بیوی کو چھوڑ کر جانا آسان ہے کیا اور ہم اس کی اتنی محنت کی کمائی یوں اللے تللوں میں اڑادیں۔‘‘

وہ رسانیت سے بولیں لیکن اس بے وقوف لڑکی کو سمجھانا آسان کام نہ تھا۔ بازار جاکر جو چیز آنکھوں کو بھلی لگی وہ ہی خریدنے کی فرمائش۔ کلثوم نے دبی دبی زبان میں اسے سمجھانا چاہا۔

’’کون سے ہیرے موتی جڑے ہیں اس سوٹ میں پرائس ٹیگ تو دیکھو۔ میں نے ڈیزائن نوٹ کرلیا ہے بلکہ ایسا سوٹ تمہیں خود تیار کردوں گی۔‘‘

’’نہیں امی !گھر پر سلائی کرکے وہ لک نہیں آئے گی ۔دیکھیں، کتنا اسٹائلش لگ رہا ہے بس یہ ایک سوٹ خریدنے دیں وعدہ پھر کسی اور کی طرف نگاہ اٹھاکر بھی نہیں دیکھوں گی۔‘‘

اس نے یقین دلایا تھا۔ قریب کھری ایک ادھیڑ عمر خاتون ان کا مکالمہ سن کر مسکرادیں۔ کلثوم نے انہیں مسکراتے دیکھا تو خاتون نے انہیں مخاطب کرڈالا۔

’’بچیوں کی فرمائش پوری کردینی چاہئیں بہن۔ اگلے گھر جاکر بھلا کب اتنے استحقاق سے فرمائش کرسکتی ہیں۔‘‘

وہ شاید خود بیٹیوں کی ماں تھیں جب ہی دل گداز ہوا ہوا تھا۔ اس مخلصانہ مشورے پر کلثوم کیا تبصرہ کرتیں بس اپنی’’ بیٹی‘‘ کو ایک مزید گھوری سے نوازا تھا۔ نرمین نے دانت نکوس کر انہیں دیکھا اور سوٹ کو کارٹ میں ڈال لیا تھا۔

سوٹ پر تو کلثوم نے سمجھوتا کرلیا لیکن جب وہ ہینڈ بیگز والے سیکشن کی طرف مڑی تو ان کی برداشت جواب دے گئی۔

’’وعدہ کرچکی ہو خبر دار جو کسی اور چیز کی فرمائش کی ۔آئس کریم کھانی ہے تو کھائو اور پھر چلو گھر واپس۔‘‘ وہ سختی سے بولیں۔

’’اچھا ناں ۔صبر تو کریں۔ وعدہ اپنے لیے کیا تھا ناں۔وعدے پر قائم ہوں۔ ہینڈ بیگ تو آپ کے لیے دیکھ رہی ہوں۔‘‘وہ بنارکے آگے بڑھتی گئی تھی۔

’’باز آجائو نرمین ۔میں نے کوئی ہینڈ بیگ نہیں لینا۔ یہ میرا ہینڈ بیگ بالکل صحیح حالت میں ہے۔‘‘وہ اس کے پیچھے لپکیں۔

’’کوئی صحیح حالت میں نہیں ہے۔اتنا پھٹیچر ہورہا ہے۔ کپڑے آپ کے پاس ایک سے بڑھ کر ایک ہیں اور باقی کوئی چیز کپڑوں سے مطابقت نہیں رکھتی نہ ہینڈ بیگ ،نہ جوتے اور یہ جو چادر اوڑھ رکھی ہے نا آپ نے اب یہ بھی بہت پرانی ہوگئی ہے۔ اسے بھی بدلنا پڑے گا۔‘‘

وہ چیزیں گنوائے گئی تھی ۔بات اس کی غلط نہ تھی۔ بڑی دونوں بہویں جب بھی آتی تھیں ساس کے لیے قیمتی اور بڑھیا جوڑا لے آتیں دوسری کسی چیز کی طرف ان کا دھیان ہی نہ جاتا تھا۔ یہ نرمین تھی جو کبھی پیچھے پڑ کر نظر کے چشم کا نیا فریم بنوارہی تھی ۔کبھی آرام دہ سلیپرز کا آن لائن آرڈر کررہی ہوتی اور اب نیا ہینڈ بیگ دلوانے کے درپے تھی۔

ایک مدت ہوئی کلثوم اپنی ذات پر خرچ کرنا چھوڑ چکی تھیں اور اب بھی یہ سب انہیں فضول خرچی ہی لگتا تھا مگر نرمین کچھ سننے پر تیار ہوتی تب ناں۔ وہ اسے اٹھتے بیٹھتے کفایت شعاری کے درس دیتی تھیں۔

’’میری بچی!آج تم دوہو۔ کل خیر سے تین ہوجائو گے۔ آج کچھ جوڑو گے تو کل تمہارے ہی کام آئے گا ناں۔‘‘ وہ اسے پچکار کر سمجھاتیں۔

’’جملے کی تصحیح کریں والدہ۔ اب ہم تین ہیں یعنی میں،آپ اور باسم۔ چلیں آپ کی دعائیں پوری ہوئیں تو تین سے پانچ بھی ہوجائیں گے۔‘‘ وہ بات کرتے کرتے رکی پھر ان کے چہرے پر ناسمجھی کا تاثر دیکھ کر مسکرائی۔

’’بچے دو ہی اچھے ہوتے ہیں ناں امی۔ تو تین ہم اور دو آپ کے پوتا، پوتی تو ہوگئے ناں پانچ تو ابھی پانچ ہونے میں جانے کتنا عرصہ لگے آپ ابھی سے ہی جوڑ توڑ میں لگی رہتی ہیں۔ زندگی کو انجوائے کرنا سیکھیں۔‘‘

’’تمہیں تو عقل کی بات سمجھانا ہی فضول ہے۔ باسم آئے گا ناں تو جتنی بھی بچت ہوگی میں تمہارے لیے سونے کا کچھ بنوادوں گی پہن بھی لینا اور بہترین سرمایہ کاری کا بھی یہ ہی طریقہ ہے دیکھتے ہی دیکھتے سونے کے نرخ بڑھتے ہیں۔‘‘ ا نہوں نے اپنے پلان سے آگاہ کیا تھا۔

’’اور وہ جو آپ اٹھتے بیٹھتے رب سے دعا کرتی ہیں کہ وہ آپ کو اپنے گھر بلانے کا موقع دے اب جب اللہ وسائل مہیا کررہا ہے تو اس دعا کا ذکر ہی گول کر بیٹھی ہیں۔‘‘نرمین کی بات اتنی غیر متوقع تھی کہ وہ چند لمحوں کے لیے کچھ بول ہی نہ پائیں۔

’’باسم واپس آتے ہیں ناں تو آپ اور باسم عمرے پر جائیں گے۔ ان شائ اللہ اس بچت کا میری نگاہ میں اس سے بہتر متبادل کوئی نہیں۔‘‘ وہ اپنے شوہر کی کمائی خرچ کرنے کا پلان ترتیب دیے بیٹھی تھی۔ کلثوم کی پلکیں بھیگ گئیں۔ اللہ نے کس نیکی کا صلہ دیا تھا انہیں۔

’’افوہ امی!آپ چھوٹی چھوٹی باتوں پر اموشنل کیوں ہوجاتی ہیں۔‘‘وہ ان کے آنسو دیکھ چکی تھی سو گردن میں بانہیں ڈال کر بہت دلار سے مخاطب ہوئی۔

’’ہم دو نہیں جائیں گے بلکہ تینوں جائیں گے اللہ نے چاہا تو انتظام ہوجائے گا۔‘‘ کلثوم نے اس کا ماتھا چوم لیا۔

’’اوکے ڈن ہوگیا اب اس خوشی کے موقع پر آپ آج مجھے کھانا باہر سے آرڈر کرنے دیں گی۔ جو بھنڈی آج بنائی ہے وہ ہم کل کھالیں گے۔‘‘ نرمین نے جھٹ پروگرام بنایا۔

’’کوئی حد ہے تمہارے چٹورپن کی سبزی ترکاری تو حلق سے اترتی ہی نہیں۔ دیکھ لینا کل فریج سے کباب نکال کر تل لوگی بھنڈی کا ڈونگہ دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔‘‘

وہ خفا ہوئی تھیں مگر اس ڈھیٹ لڑکی پر کسی بات کا کیا اثر ہونا تھا وہ باہر کا کچھ الا بلا آرڈر کرنے کے لیے موبائل اٹھاچکی تھی۔

٭٭٭

اللہ اللہ کرکے باسم کا کورس اختتام پذیر ہوا۔ بیٹے کے وطن واپس لوٹنے سے زیادہ خوشی انہیں نرمین کی جگمگاتی آنکھوں کو دیکھ کر ہورہی تھی۔

اس کے ہونٹوں سے مسکراہٹ جدا ہونے کا نام نہ لے رہی تھی اور کلثوم اس پر زیر لب پڑھ پڑھ کر پھونکتی رہتی تھیں کس قدر روپ چڑھا تھا اس پر اتنی حسین تو وہ دلہن بن کر بھی نہ لگی تھی۔

’’پہلے آپ ساس کی نگاہ سے دیکھتی تھیں ناں۔ اب ماں بن کر دیکھ رہی ہیں بس اسی لیے ہر وقت نظر اتارتی رہتی ہیں۔‘‘ وہ ان کی محبت پر مغرور ہوتی تھی۔

ماں بیٹی کا یہ تعلق باسم کے لیے بھی انوکھاتھا لیکن ظاہر ہے وہ اس سب پر بہت زیادہ خوش تھا ہاں شرارت بھرے انداز میں ماں کو چھیڑتا ضرور تھا۔

’’آ پ دونوں تو ماں بیٹی بن گئی ہیں اب اس گھر میں مجھے میرے اسٹیٹس سے آگاہ کردیں۔ بیٹا بن کر رہوں یا دامادوں والا پروٹوکول ملے گا۔‘‘

’’منہ دھوکر رکھیں دامادوں والا پروٹوکول تو آپ کو اپنے اصلی سسرال میں نہیں ملتا یہاں کیا ملے گا۔‘‘ جواب نرمین کی طرف سے آتا۔

’’اس لڑکی کو تو شوہر سے بات کرنے کی بھی تمیز نہیں کیا کیا سکھائوں اسے۔‘‘

وہ خفگی سے اسے گھورنے لگتیں۔ وہ جواباً کھلکھلانے لگتی۔ بڑے دونوں بیٹے بیویوں سمیت آئے ہوئے تھے۔صبوحی اور فریحہ ساس بہو کا تعلق سمجھنے میں ہلکان ہوئی ہوئی تھیں۔

’’فریحہ بھابھی!آپ نے نوٹ کیا امی نرمین کے لیے کتنی سخت گیر ساس ثابت ہورہی ہیں صبح میں نے خود سنا، اسے دیر سے اٹھنے پر سخت سست سنارہی تھیں کہہ رہی تھیں گھر میں مہمان آئے ہوئے ہیں اور تم اپنی روٹین سے انچ بھر ہلنے کو تیار نہیں۔ ان کے ناشتے پانی کا انتظام کس نے دیکھنا تھا۔‘‘ صبوحی فریحہ کو رپورٹ دے رہی تھی۔

’’ہمارے زمانے میں تو امی ایسی نہیں تھیں شاید عمر بڑھنے کے ساتھ کچھ زودرنج اور چڑچڑی ہوگئی ہیں۔‘‘ یہ صبوحی کا تبصرہ تھا۔

’’تو ہم باتیں بنانے کا موقعہ بھی کب دیتے تھے۔ آگے سے آگے بڑھ کر ہر کام کرنے پر تیار رہتے تھے کبھی کوئی بات ناگوار بھی لگتی تو ماتھے پر شکن نہ آنے دیتے تھے۔جی امی، جی امی کہہ کر زبان سوکھ جاتی تھی۔ ‘‘صبوحی اپنی شادی کا ابتدائی دور یاد کررہی تھی۔

’’اور نہیں تو کیا۔ ہم ہر لحاظ سے آئیڈیل بہوویں تھیں۔ میں نے تو اپنی امی کی نصیحت پلو سے باندھ رکھی تھی کہ بیٹا شادی کا ابتدائی دور بہت نازک دور ہوتا ہے اگر سسرال میں اپنے قدم مضبوطی سے جمانے ہیں تو ساس کے سامنے کسی بھی بات کا پلٹ کر جواب نہ دینا، دل کا سارا غبار ماں کے سامنے نکال لینا۔ ہم نے تو بہن اسی فارمولے پر عمل کیا۔‘‘

’’قاسم نے بھی مجھے سہاگ رات یہ ہی نصیحت کی تھی کہ خبردار کبھی جوان کی ماں کے آگے زبان کھولی ۔ باپ کے بعد اپنی ماں کے لیے۔یہ تینوں بھائی ہی بہت جذباتی تھے سو مجال ہے جو میں نے کبھی امی کو کسی بھی بات پر اعتراض کا موقعہ دیا ہو۔ اب بھی بھلے سے ہم دور بیٹھے ہیں لیکن روزانہ امی کو فون کرکے ان کی خیریت پوچھنا روٹین کا حصہ ہے۔ آج کے دور میں ایسے فرماں بردار بیٹے اور خیال رکھنے والی بہوویں کہاں ہوتی ہیں۔‘‘

’’صحیح کہہ رہی ہو لیکن نرمین ہمارے سے بہت مختلف ہے آج کل کی لڑکی ہے اتنا حوصلہ اور برداشت کہاں اس میں ہمارے سامنے تو کچھ نہیں کہتی لیکن میں نے خود امی کے آگے زبان چلاتے سنا ہے اسے۔ کہہ رہی تھی امی آپ تو یوں غصہ کررہی ہیں جیسے میری نیند سے واقف نہیں۔جانتی تو ہیں میرے سرہانے دس الارم اکٹھے بھی بجنے لگیں تو میری آنکھ نہیں کھلتی۔‘‘

صبوحی نے نرمین کا کہا من وعن دہرایا تھا جانے کب تک ان دونوں نے کلثوم اور نرمین کے باہمی تعلقات زیر بحث لانے تھے کلثوم مسکراکر پلٹ گئی تھیں۔

٭٭٭

رات کو باسم کے ایک قریبی دوست کا ولیمہ تھا۔ کلثوم کا جانے کا ارادہ نہ تھا لیکن اسامہ کی والدہ سے ان کی بہت اچھی علیک سلیک تھی اور اسامہ جب کارڈ دینے آیا تھا تو نرمین اور باسم کے ساتھ کلثوم کو بھی بطور خاص مدعو کرکے گیا تھا اور اب نرمین انہیں وہ ہی بات یاد دلواکر زبردستی ساتھ لے کر جارہی تھی

صبوحی کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا جس پر اس نے آئرن اسٹینڈ کے سامنے ساس کو کھڑے دیکھا جو بہت انہماک سے نرمین کا دھانی جوڑا استری کررہی تھیں۔

’’لا پرواہ لڑکی ہے۔ اتنا قیمتی جوڑا جلانہ دے بس اسی لیے سوچا خود ہی استری کردوں۔‘‘ کلثوم نے پاس کھڑی بہو کی آنکھوں میں حیرت بھانپ لی تھی جب ہی وضاحت دی۔

حیرت کا اگلا جھٹکا فریحہ کو لگا تھا اس نے کسی کام سے ساس کے کمرے میں جھانکا تو نرمین انہیں کرسی پر بٹھاکر ان کے نہ ،نہ کرنے کے باوجود انہیں لپ اسٹک لگانے میں مصروف تھی۔ ان کے کانوں میں نرمین کے ننھے ننھے سے کندن والے ٹاپس دمک رہے تھے۔

’’لاکھ منع کرو یہ لڑکی اپنی سی کرکے رہتی ہے۔ کارٹون بنادیا مجھے۔‘‘ کلثوم فریحہ کو سامنے پاکر محجوب سی ہوگئی تھیں۔نرمین کی اس جانب پشت تھی وہ فریحہ کو نہ دیکھ پائی تھی۔

’’اتنا حسین کارٹون میں نے تو پوری زندگی نہ دیکھا۔‘‘ وہ ہنسی تھی اور پھر بے ساختہ ان کا گال بھی چوم لیا۔

’’لکنگ گارجئیس مام۔ ابھی ایک تصویر بھی لیتی ہوں۔‘‘

وہ اپنا موبائل اٹھانے لگی تو ششدر کھڑی فریحہ پر نظر پڑی۔

’’آئیں فریحہ بھابھی!‘‘ فریحہ کو دیکھ کر نرمین بھی ذرا سا سٹپٹائی تھی۔

’’ہاں میں وہ بس قاسم کو ڈھونڈ رہی تھی۔‘‘ فریحہ وہاں سے پلٹ گئی۔

’’یہ ڈھکوسلے اور چونچلے ہمیں تو آئے نہیں بھئی۔‘‘ اس نے پہلی فرصت میں صبوحی کو سارا ماجرا کہہ سنایا تھا اور صبوحی کا تبصرہ اس کے اپنے دل کی آواز تھا۔

٭٭٭

دو دن بعد عاصم اور قاسم کی واپسی تھی بچے اداس تھے ان کی نرمین چاچی سے خوب دوستی ہوگئی تھی۔ بھتیجا،بھتیجیوں کی وفاداریاں بدلنے پر باسم انہیں مصنوعی خفگی دکھاتا۔

کلثوم پوتے، پوتیوں کو لپٹاکر خوب پیار کررہی تھیں۔

باسم کی شادی کے بعد وہ اب اکٹھے ہوئے تھے اور اتنی جلدی ان کی واپسی کا ٹائم بھی آگیا تھا۔ ان کی اداسی فطری تھی۔

’’امی!اگلی بار آپ میرے ساتھ چلیں گی ۔پہلے آپ باسم کے اکیلے پن کا بہانا بنادیتی تھیں اب تو وہ جواز بھی ختم ہوگیا ۔اب آپ نے باری باری تینوں بیٹوں کے پاس رہنا ہے۔‘‘ عاصم ماں سے مخاطب تھا۔

نرمین نے بوکھلاکر انہیں دیکھا۔ اس کی بوکھلاہٹ پر وہ مسکرادی تھیں۔

’’بالکل امی۔ اب آپ ہمیں بھی خدمت کا موقع دیں۔ عاصم صحیح کہہ رہے ہیں اگلی بار ہم آپ کو ساتھ لے کر جائیں گے۔‘‘صبوحی نے اپنائیت بھرے انداز میں شوہر کی تائید کی۔

’جی نہیں صبوحی بھابھی!اگلی بار امی ہمارے ساتھ جائیں گی۔ ‘‘قاسم بڑے ہیں پہلا نمبر ہمارا ہے۔‘‘ فریحہ بھی لگاوٹ سے بولی۔

’’خوش قسمت ہیں امی آپ آج کے دور میں ایسی بہویں کہاں ملتی ہیں۔ قاسم بیوی کی بات پر خوش ہوتے ہوئے بولا۔

’’اس میں کوئی شک نہیں بیٹا میری دونوں بہویں لاکھوں میں ایک ہیں۔ دونوں کی شادیوں کو اتنا،اتنا عرصہ ہوگیا ہے دونوں نے مجھے کبھی کسی شکایت کا موقع نہیں دیا۔ مؤدب ہیں فرماں بردار ہیں۔ طریقے ،سلیقے میں ایک سے بڑھ کر ایک اللہ تمہارے گھروں کا سکون اور تمہاری محبت قائم رکھے خوب پھلو پھولو۔ خوش رہو۔ انہوں نے صدق دل سے انہیں دعائوں سے نوازا تھا۔

’’نرمین بھی بہت اچھی بہو ہے امی۔ ابھی کم عمر ہے ناں۔ آہستہ آہستہ یہ بھی سب طریقہ سلیقہ سیکھ لے گی۔‘‘

قاسم کو بے چاری نرمین پر ترس آیا۔ ماں نے اسے مثالی بہووں کی کیٹیگری میں شامل ہی نہ کیا تھا۔ اسے لگا کہ وہ ماں کے مطلوبہ معیار پر پوری نہیں اتری لیکن ماں کو سب کے سامنے اس بے چاری کے ساتھ یوں تو نہیں کرنا چاہیے تھا اپنی دانست میں اس نے چھوٹی بھاوج کی دلجوئی کرنا چاہی تھی۔

کلثوم نے ایک نگاہ نرمین پر ڈالی جو بڑے جیٹھوں کے احترام میں سر جھکائے کھڑی تھی۔

’’نرمین کو میں اچھی ،بری تو کیا سرے سے بہو ہی نہیں مانتی۔‘‘ وہ مسکراکر بولی تھیں۔ ان کی بات سن کر باسم اور نرمین کے علاوہ سب چونکے تھے۔

’’تمہاری نانی مرتے دم تک مجھے ایک ہی دعا بار بار دیتی تھیں کہتی تھیں اللہ تجھے ایک بیٹی سے بھی نواز دے کلثوم۔ میں ان کی دعا کو ناقابل عمل جان کر مسکرادیتی تھیں کیا خبر تھی وہ دعا میرے بڑھاپے میں جاکر پوری ہوگی۔ اللہ نے میرے حق میں میری ماں کی دعا کو قبولیت بخشی اور مجھے ایک بیٹی کی ماں بنادیا۔‘‘

وہ اپنی بیٹی پر محبت پاش نگاہ ڈالتے ہوئے بولی تھیں۔ نرمین نے مسکراکر انہیں دیکھا جبکہ اس کی اپنی آنکھیں جھلملاسی گئی تھیں۔

’’اللہ نے اسے ماں کی نعمت سے محروم رکھا مجھے بیٹی جیسی رحمت عنایت نہ کی اگر نرمین کی ماں موجود ہوتی یا تم لوگوں کی کوئی بہن ہوتی تو شاید نہیں بلکہ یقینا ہم نے ساری عمر ساس بہوبن کر ہی رہنا تھا اور پھر مجھے اپنی بدسلیقہ سی بہو سے رج کر شکایتیں بھی ہوتیں لیکن ہم دونوں کی محرومیاں ہمیں ایک دوسرے کے قریب لے آئیں پھر باسم کے اتفاقیہ باہر جانے سے ہمارے بیچ تکلف اور اجنبیت کی دیوار گرنے میں مزید مدد ملی جو بھی ہوا یہ قدرت کے بنائے اسباب تھے، جن کا حتمی نتیجہ یہ نکلا جو ہمارے معاشرے میں بالکل ناقابل یقین سی بات ہے یعنی ساس بہو کا ماں بیٹی بن جانا۔مجھے نرمین کو ٹوکنے ڈانٹنے یا سمجھانے سے پہلے ایک لمحے کے لیے بھی سوچنا نہیں پڑتا اور یہ میری ڈانٹ سن کر کسی اور کے سامنے جی کا بوجھ ہلکا نہیں کرتی بلکہ میرے سامنے منہ بسور کر مجھ سے ہی شکوہ کرتی ہے اور دو منٹ بعد اپنی کوئی فرمائش زبردستی مجھ سے پوری کرواتی ہے۔ بس یوں سمجھ لو کہ اس نے مجھے بیٹی کی ماں ہونے کے سب رنگوں سے آشنا کروادیا ہے۔‘‘

وہ محبت پاش نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے بولیں۔

’’بہت اچھی بات ہے امی۔ بہت خوشی ہوئی جان کر آپ بیٹی کی ماں بننے پر ہماری طرف سے مبارک باد قبول کریں۔‘‘ قاسم شگفتگی سے مسکرایا تھا۔باقی سب بھی مسکرادیے تھے۔

دلوں کا حال اللہ ہی بہتر جانتا تھا۔

’’تو نرمین چاچی دادو کی بیٹی بن گئیں تو اب ہم انہیں چاچی ہی کہیں یا پھوپھو کہہ کر بلایا کریں۔‘‘سب بچوں میں ریان سب سے بڑا تھا اور یہ نادر نکتہ اسی کے ذہن میں آسکتا تھا۔

’’خبردار پارٹیز!جو پھوپھو کہہ کر پکارا۔ چاچی ہی کہنا ہے یار۔‘‘ باسم نے فوراً مداخلت کی۔

پریشان مت ہو یار نرمین۔ امی کی بیٹی، ہماری بہن ہمارے بچوں کی پھوپھو،جو مرضی بن جائے تیری تواول وآخر بیگم ہی رہے گی میرے بھائی۔‘‘

عاصم نے چھوٹے بھائی کو چھیڑا۔ قاسم نے زور دار قہقہہ لگاکر بھائی کے شانے پر ہاتھ مارا۔ باسم جھپنپا، نرمین محجوب سی ہوکر مسکرانے لگی تھی۔

کلثوم نے اپنے ہنستے مسکراتے بچوں پر محبت بھری نگاہ ڈالی اور اپنے آشیانے کی رونق سدایوں ہی قائم رہنے کی دعا کی تھی۔

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں