محبت کا ہنر – بشریٰ احمد

ناولٹ 69

’’توبہ ہے یار، دیکھو ذرا لوگ سوشل میڈیا پر کیسی فنی پوستیں ڈال دیتے ہیں۔‘‘ علیزہ موبائل اسکرین پر نظر دوڑاتے ہوئے بے ساختہ ہنس پڑی تھی۔

’’کیسی پوسٹ؟‘‘سارہ نے عدم دلچسپی سے سرسری سے انداز میں پوچھا۔

’’ایک محترمہ فرماتی ہیں کہ میری پاکستان بھر کی مائوںسے گزارش ہے۔اپنی بیٹیوں کی شادی عید الفطر کے چاند نہ کریں کیونکہ جب نئی نویلی دلہنوں کے دلہناپے کے دن گزرتے ہیں تو ان کے سر پر بڑی عید آن پڑتی ہے۔‘‘ علیزہ نے بہن کو مسکراتے ہوئے پوسٹ کے مندرجات سنائے تھے۔

’’تو اس میں فن کہاں سے آگیا، کسی بے چاری نے جلے دل کے پھپھولے ہی پھوڑے ہیں۔‘‘ سارہ نے افسردہ سے انداز میں تبصرہ کیا۔

’’اوہ، تم بھی تو اسی کیٹیگری میں شامل ہویار!سوری میں بھول گئی تھی۔‘‘

علیزہ نے خود سے دو برس بڑی بہن کو مسکراکر دیکھا جو روٹین کے مطابق پانچ، چھ دن بعد دن بھر کے لیے میکے آئی تھی۔ صبح آفس جاتے ہوئے سد اسے یہاں چھوڑ دیتا۔ شام کو آفس سے واپسی پر ساتھ لیتا جاتا۔ گھر والے داماد کی سعادت مندی پر خوش اور مطمئن تھے۔

انہیں کیا خبر تھی کہ یہ ڈیوتی بھگتاتے ہوئے سعد کا موڈ قدرے آف ہوجاتا تھا۔ ماں کے سامنے دبے دبے انداز میں اپنی خفگی اور جھنجلاہٹ کااظہار بھی کرتا رہتا۔

’’میرے آفس کے راستے مٰں تھوڑی ہے سارہ کا گھر .آپ خواہ مخواہ پہر پانچ ،سات دن بعد اسے میکے جانے کا کہہ دیتی ہیں۔

اتنا لمبا روٹ پڑتا ہے اور صبح تو چلو پھر خیر ہے اصل مسئلہ شام کو ہوتا ہے ۔ایک تو پہلے بندہ سارا دن آفس میں گزار کر تھک کر چور ہوجاتا ہے پھر آپ کی بہو کو پک کرنے کے لیے دوبارہ اسی لمبے راستے کی خواری برداشت کرو، سڑکیں خراب اور اوپر سے ٹریفک کا اژدہام۔‘‘

وہ بیزاری سے ماں کو مخاطب کرتا۔

’’میری بہو تمہاری بیوی ہے اور بیوی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کا خیال کرنا شوہر کا فرض ہے اور ماں باپ سے ملنے کی خوشی تو چھوٹی نہیں بلکہ بہت بڑی خوشی ہے۔ تم اگر لڑکی ہوتے اور تمہیں اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر کسی اجنبی جگہ رہنا پڑتا تب پتا چلتا تمہیں۔‘‘

امیمہ بیٹے کو رسانیت بھرے انداز میں ٹوکتیں یہ مکالمہ سارہ کی غیر موجودگی میں ہوتا تھا لیکن کوئی آدھی، ادھوری بات اس کے کان میں پڑہی جاتی تھی اس کی ساس صرف اچھی نہیں ،بہت اچھی تھیں بلکہ ساس ہی کیا سب سسرال والے ہی بہت محبت کرنے والے تھے۔

سارہ حیران ہوتی تھی کہ اتنے اچھے گھرانے میں سعد جیسا ٹیڑھے مزاج کا بندہ کہاں سے پیدا ہوگیا لیکن وہ سعد کے مزاج کا یہ رخ اپنے گھر والوں کو بھی نہ دکھاتی تھی۔

وہ بے چارے خواہ مخواہ ہی پریشان ہوتے۔ ابھی تو وہ اس کی زبانی اس کی ساس ،سسر نند اور دیور کی تعریفیں سن کر ہی مطمئن اور شاد تھے۔

ہاں لیکن اب سارہ قدرے تھکنے لگی تھی۔ ماں کے سامنے نہ سہی علیزہ کے سامنے وہ دل کی تھوڑی بہت باتیں کرنے لگی تھی۔

’’سچ بتائو سارہ !تمہیں بھی بقر عید کا سہم سوار ہورہا ہے امیمہ آنٹی تو بہت آئیڈیل ساس ہیں یار اب تک تم پر گھر کے کاموں کا بھی کوئی خاص بوجھ نہیںڈالا۔پھر تم کیوں ٹینشن لیتی ہو۔‘‘

علیزہ نے حیرت بھرے لہجے میں استفسار کیا۔

’’امیمہ آنٹی جتنی مرضی اچھی ہوں لیکن سسرال سسرال ہوتا ہے میڈم!اپنے ماں باپ کے گھر والی آزادی سسرال میں میسر نہیں ہوتی اور عید ،تہوار پر تو خاص طور پر نئی دلہن کے سگھڑاپے اور ہاتھ کے ذائقے کا امتحان ہوتا ہے۔ بے چاری وہ لڑکیاں جن کی میٹھی عید کے بعد شادی ہوتی ہے۔بڑی عید آنے تک تو انہیں سسرالی کچن میں کیبنٹ کے اندر دھری چیزوں کا ٹھیک سے علم نہیں ہوتا ۔‘‘اور سر پر آن پڑتی ہے بقر عید سارہ نے طویل ٹھنڈی سانس بھرتے ہوئے خود کلامی کی تھی۔

’’تم مجھے اس بار بہت بجھی بجھی سی لگ رہی ہو سارہ!خیر تو ہے ناں۔ امیمہ آنٹی، ثمن آپی وغیرہ ٹھیک ہیں ناں تمہارے ساتھ ۔کہیں ایسا تو نہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کے چہروں کا نقاب اترنے لگا ہو۔‘‘

علیزہ اس بار ٹھیک ٹھاک پریشان ہوگئی تھی لیکن اس کی سوچ کی پرواز ساس ،نند تک ہی پہنچ پائی تھی۔ سارہ بہن کی تشویش پر مسکرادی۔

’’ایسی کوئی بات نہیں۔ امیمہ آنٹی ،ثمن آپی، انکل سب بہت اچھے ہیں اور ایک بات بتائوں ،میں نے امیمہ آنٹی کو امی کہنا شروع کردیا ہے۔‘‘

’’ان کی فرمائش پر؟ ‘‘علیزہ نے پوچھا۔

’’نہیں، سعد کے کہنے پر ۔سعد کہتے ہیں ساس، سسر بھی ماں باپ ہوتے ہیں انہیں ۔انکل، آنٹی کے بجائے امی، ابو کہہ کر پکارا کروں۔‘‘

’’ہاں ۔ٹھیک کہتے ہیں سعد بھائی اور ویسے بھی جب ساس ،سسر اتنے اچھے ہوں تو امی ابو کہنا بنتا ہے۔‘‘ علیزہ نے تائیدی انداز میں گردن ہلائی۔

’’میں نے کب کہا کہ سعد غلط کہتے ہیں لیکن برے تو سعد کے ساس ،سسر بھی نہیں لیکن وہ جانے کب انہیں انکل،آنٹی کہنا چھوڑیں گے۔‘‘

وہ پھیکے سے انداز میں مسکرائی تھی۔

’’کیا ہوا ہے سارہ از ایوری تھنک آل رائٹ۔‘‘ علیزہ اس کے انداز پر ٹھٹکی تھی۔ سارہ بھی قدرے سنبھلی۔ اب خداناخواستہ اس کے حالات اتنے بھی دگر گوں نہیں تھے کہ وہ خواہ مخواہ چھوٹی بہن کو تشویش میں مبتلا کرتی سو فوراً ہی گفتگو کا موضوع بدلا۔‘‘

مصعب کہاں رہ گیا، ابھی تک گول گپے نہیں لایا۔‘‘ اسی لمحے مصعب کی بائیک کا ہارن سنائی دے گیا۔

’’میں لاکھ منتیں کرلوں، نہیں لاتا اور تم نے ایک دفعہ فرمائش کی کیسے دوڑا چلا گیا۔‘‘ علیزہ ہنستے ہوئے بولی تھی۔

’’تمہاری شادی کے بعد تمہارے لیے بھی دوڑا چلا جایا کرے گا۔‘‘ سارہ مسکرائی۔

’’ تمہارا عینکو کو دیور اسد ،عمر میں مجھ سے اتنا چھوٹا نہ ہوتا تو میں خوشی خوشی تمہاری دیورانی بن جاتی۔ سچ سارہ کس قدر آئیڈیل سسرال ہے تمہارا۔‘‘ علیزہ کی تان پھر وہیں آن کر ٹوٹی تھی۔ اس بار سارہ فقط مسکراکر رہ گئی۔

٭٭٭

سب کہتے تھے ،اس کا سسرال مثالی سسرال ہے۔ خود سارہ کو بھی اپنے سسرال والوں سے کوئی ایک بھی شکایت نہ تھی بلکہ سارہ کے بیانات کی روشنی میں ہی تو اس کے سسرال کو آئیڈیل سسرال کا ٹائٹل ملا تھا کیونکہ دونوں گھرانے ایک دوسرے کے لیے قطعی انجان اور اجنبی تھے۔

سارہ کا یہاں رشتہ جڑنا۔’’رشتے آسمانوں پر بنتے ہیں۔‘‘والی کہاوت کا عملی ثبوت تھا۔

عروبہ اور ارسلان کی شادی میں دونوں خاندان ایک دوسرے سے پہلی بارملے تھے۔ عروبہ سارہ کی سیکنڈ کزن تھی ۔اس کے ابو اور سارہ کی امی عائشہ چچا زاد بھائی بہن تھے۔ گھر قریب قریب ہونے کی وجہ سے دور کی رشتہ داری قریبی تعلق داری میں بدلی ہوئی تھی۔

مزاجوں میں ہم آہنگی نہ ہونے کے باوجود خود سارہ او ر عروبہ کی بہت اچھی دوستی تھی۔ عروبہ کی شادی میں سعد اور سارہ کی مائوں کا ایک دوسرے سے رابطہ ہوا۔

سعد ارسلان کا چچا زاد بھائی ہونے کے ساتھ بہترین دوست بھی تھا۔شادی کے ہر فنکشن میں یہ لوگ پیش پیش تھے۔ عروبہ کی طرف سے عائشہ اور جمال (سارہ کے امی، ابو) کا بھی یہ ہی کردار تھا۔ وہ شادی کے ہر فنکشن میں انتظامی امور نمٹانے کے لیے عروبہ کے ماں باپ کے ساتھ ساتھ تھے۔

یہ ملنساری اور پرخلوص طبیعت خاص طور پر دونوں کی مائوں کا خاصا تھی۔ سو ابتدائی علیک سلیک بہت جلد گرم جوش تعلق میں تبدیل ہوگئی۔

عروبہ اور ارسلان کے ولیمے کو پندرہ دن بھی نہ گزرے تھے کہ سعد کا سارہ کے لیے رشتہ آگیا۔ سارہ تین بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی۔ حال ہی میں تعلیمی سلسلہ تکمیل پذیر ہوچکا تھا اور اب ماں باپ اس کے لیے بہتر برڈھونڈنے کی کوشش کا آغاز ہی کرنے والے تھے، ایسے میں سعد کا رشتہ آنا ان کی امیدوں سے بڑھ کر تھا۔

متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا یہ مثالی جوڑا جو ساری عمر اولاد کی بہتر تعلیم وتربیت اور پرورش کرنے کے علاوہ کچھ جمع جوڑنہ کرپایا تھا اس رشتے کو رب کی عنایت جان کر سجدئہ شکر بجا لایا۔

سعد خوبرو، پڑھا لکھا، معقول ملازمت رکھنے والا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انتہائی شریف والدین کی اولاد تھا۔ عائشہ اور جمال کی اپنے خاندان میں مقبولیت کا سبب یہ تھا کہ وہ رشتے نباہنے والے اور بہت ملنسار اور مروت ومحبت کا پیکر تھے۔دوسری طرف سعد کے والدین بھی کچھ اسی قسم کا مزاج رکھتے تھے سو کند ہم جنس باہم جنس پرواز والا معاملہ ثابت ہوا۔

رشتہ جڑنے کے بعد فریقین کی باہمی رضامندی سے تین ماہ بعد شادی کی تاریخ بھی ٹھہرادی گئی۔ امیمہ آنٹی نے جہیز لینے سے سختی سے منع کردیا تھا پھر بھی عائشہ اور جمال نے اپنی حیثیت کے مطابق شادی کی تیاریاں شروع کردی تھیں۔

’’انکل اگر ہم اور آپ جیسے لوگ بھی معاشرے کے خلاف اسٹیننڈ نہ لے سکیں تو یہ سخت زیادتی والی بات ہے۔اگر ہم نے کہا ہے کہ ہمیں صرف سارہ چاہیے تو بخدا ہمارا یہ ہی مطلب ہے کیوں بلاوجہ کے تردد میں پڑتے ہیں۔‘‘ ثمن آپی جمال سے صاحب سے

سارہ وغیرہ کی طرح سعد بھی تین بہن بھائی تھے۔ ثمن سب سے بڑی ،شادی شدہ بہن تھیں پھر سعد کا نمبر تھا اور سب سے چھوٹا اسد جو خوب پڑھا کو تھا اور علیزہ نے اسے عینکو کا خطاب بے رکھا تھا۔ علیزہ کو بار بار یہ ہی قلق سناتا تھا کہ وہ اس سے پانچ چھ برس چھوٹا کیوں تھا۔ سال دو سال کی چھوٹائی بڑائی چل سکتی تھی۔

’’خود سوچو اتنی اچھی کوئی اور فیملی امی، ابو میرے لیے کہاں سے ڈھونڈیں گے۔ سچ سارہ تم بہت لکی ہو۔‘‘ علیزہ مسکراکر اسے مخاطب کرتی۔

سارہ کو خود اپنی خوش قسمتی پر کوئی شبہ نہ تھا۔ رشتہ جڑنے کے بعد اس نے فقط ایک بار سعد کو دیکھا تھا جب وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ ایک بار ان کے ہاں لنچ پر آیا تھا۔ علیزہ کے تعاون سے سارہ اسے چوری چھپے دیکھنے کے قابل ہوہی گئی تھی اور اس دن سے ہی سعد کا نام اس کے دل کے کورے کاغذ پر نقش ہوگیا۔ اور پھر وہ دن بھی آگیا جس کا خواب ہر لڑکی اپنی پلکوں پرسجائے رکھتی ہے لیکن جب خواب کی تعبیر کا دن آن پہنچتا ہے تو وہ ہی پلکیں بھیگ بھیگ جاتی ہیں اور دل جیسے اندر ہی اندر ڈوبتا جاتا ہے۔

اپنوں کو چھوڑنا کس قدر جانگسل مرحلہ ہے۔ اس کا جواب باپ کے گھر کی چوکھٹ پار کرتی لڑکی کا دل ہی دے سکتا ہے ثمن آپی اور امیمہ آنٹی بہت پیار بھرے انداز میں اس کی دل جوئی کررہی تھیں۔ اس کےد ل کو بھی قدرے قرار آگیا ۔سہاگ رات سعد بہت محبت بھرا برتائو کرنے والا شوہر ثابت ہوا۔ اس نے جس طرح سارہ کی پروا کی اور اس کا خیال رکھا۔ سارہ کے دل میں چھپے ہر اندیشے نے دم توڑ دیا۔

ولیمے کی تقریب میں جب عروبہ اور ارسلان دولہا، دلہن کو مبارک دینے اسٹیج پر آئے تو عروبہ نے مسکراکر سعد کو مخاطب کیا۔

’’سعد بھائی! آپ جانتے ہیں ناں آج میں اور ارسلان سارہ کے گھر والوں کے ساتھ آپ کے سسرالی رشتہ دار بن کر آئے ہیں۔

’’ جی عروبہ بھابھی !جانتا ہوں اور آفٹر ال آپ تو ہیں میری سسرالی رشتہ دار لیکن مجھے ارسلان سے اس طوطا چشمی کی امید نہیں تھی۔‘‘ سعد نے دوست پر تیکھی نگاہ ڈالی تھی۔

’’یار !اگر میں آج دوسری طرف سے شامل ہونے کا وعدہ نہ کرتا تو کل تیری طرف سے بارات میں جانے کی اجازت بھی نہ ملتی ۔سمجھا کر بھائی۔‘‘ بھائی ارسلان نے ہنستے ہوئے کہا تھا۔

’’ہاں تو ٹھیک ہے ناں۔ کل میں ارسلان کے کہنے پر ان کے ساتھ بارات میں شامل ہوئی تو آج ان کا میرا ساتھ دینا بنتا ہی تھا۔‘‘ عروبہ کھلکھلائی تھی۔

’’اب میرا دوست بھی میری کیٹیگری میں شامل ہوگیا ہے ناں۔ میری مجبوریاں سمجھ سکتا ہے۔ ارسلان نے شوخ انداز میں سعد کو چھیڑا۔

’’اللہ نہ کرے میں جناب کی کیٹیگری میں شامل ہوں۔‘‘ سعد نے اسے طنزیہ نگاہوں سے گھورا تھا۔

’’یہ ہر مرد کا مقدر ہے میرے بھائی! مقدر سے کب فرار ممکن ہے۔‘‘

ارسلان اسے سر اسر چھیڑ رہا تھا۔سارہ مسکراتے لبوں سے دونوں دوستوں کا مکالمہ سن رہی تھی۔ اسے یہ دو بے تکلف دوستوں کے یچ روٹین کی چھیڑ چھاڑ لگ رہی تھی لیکن جب عروبہ اور ارسلان اسٹیج سے نیچے اترے تو سعد اپنی ناگواری کااظہار کیے بنا نہ رہ پایا تھا۔

’’زہر لگتی ہیں مجھے یہ محترمہ ،تم ذرا ان کے سائے سے دور ہی رہنا۔‘‘

اس انداز اور اس تبصرے پر سارہ کا حیران ہونا بنتا ہی تھا مگر وہ اس وقت کچھ کہنے یا پوچھنے کی پوزیشن میں نہ تھی۔ اور یہ تبصرہ سارہ کے ذہن سے محو ہو بھی جاتااگر سعد ٹھیک اگلے روز کچھ اسی قسم کی بات دوبارہ نہ دہراتا۔

’’ہمارا رشتہ عروبہ بھابھی اور ارسلان کی شادی کے فوراً بعد ہی جڑ گیا تھا اگر امی کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اس رشتے پر میری رائے مانگتیں تو یقینا میرا جواب انکار میں ہوتا۔‘‘ سعد کی بات سن کر سارہ نے تاسف بھرے انداز میں اسے دیکھا۔

’’عروبہ بھابھی تمہاری کزن ہیں۔ فرسٹ کزن نہ سہی پھر بھی خاندان تو ایک ہی ہے ناں مجھے خدشہ ستاتا تھا کہ کہیں تم بھی عروبہ بھابھی والے مزاج اور عادتوں کی مالک نہ ہو۔‘‘

سعد اپنی ہی دھن میں بولے جارہا تھا۔ سارہ اب بھی اس کی بات سمجھ نہ پائی تھی۔ یہ سچ تھا کہ عروبہ خاص ہنسوڑ،چلبلی اور شوخ طبیعت کی مالک تھی لیکن اس کی ساری زندگی سارہ کے سامنے کھلی کتاب کی مانند تھی ،اس کے کردار میں کوئی کجی یا جھول نہ تھا پھر آخر کیوں سعد عروبہ سے اتنا متنفر تھا۔ سعد کی اگلی بات اس کے دل میں کلبلاتے اس سوال کاجواب تھی۔

’’ارسلان کو بالکل ہی اپنے اشاروں پر نچارکھا ہے انہوں نے ۔پورے خاندان میں ارسلان کا خوب مذاق بنتا ہے۔ زن مرید اور جورو کے غلام کا پکا پکا ٹائیٹل مل گیا ہے موصوف کو لیکن انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہنسی خوشی غلامی کا یہ طوق گلے میں ڈال رکھا ہے۔ شمائلہ چچی اپنے غلط انتخاب پر خوب پچھتاتی ہیں لیکن ان بے چاری کے بس میں بھی اب کچھ نہیں ہے۔‘‘

سعد بات کرتے کرتے رکا۔

’’بس تم خیال رکھنا کہ تم امی کا انتخاب غلط ثابت نہ کردینا۔ ‘‘

سارہ بے چاری کی اب بھی سمجھ میںنہ آیا کہ اپنا انتخاب صحیح ثابت کرنے کے لیے اسے کیا کرنا ہوگا۔

لیکن ہر قدم پر اس کی رہنمائی کرنے کے لیے اس کے شوہر نامدار موجود تھے ناں۔ شادی کے ایک ہفتے بعد ہی اس نے سارہ سے گھر کے کام سنبھالنے کی فرمائش کردی۔

’’تم جانتی ہو ناں، امی ڈایا بیٹک پیشنٹ ہیں اب ان میں پہلے والی توانائی باقی نہیں ۔کوشش کرو تم امی کی ذمہ دریاں اپنے کندھوں پر منتقل کرلو۔‘‘

سعد کی بات پر اس نے حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا ۔ ابھی اس کی شادی کو جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے نہیں تھے اور موصوف اسے گھر بھر کی ذمہ داریاں سونپنا چاہ رے تھے۔

سارہ ہرگز بھی کام چور لڑکی نہیں تھی۔ میکے میں ماں کا ہر ممکن ہاتھ بٹانے کی کوشش کرتی لیکن یہ بھی سچ تھا کہ بھی اسے گھر داری کا خاص تجربہ بھی نہ تھا۔ شادی سے کچھ عرصہ پہلے ہی تو اس کا تعلیمی سلسلہ انجام کو پہنچا تھا۔ اب وہ ماں سے گھر داری کی کلاسز لے رہی تھی کہ آناً فاناً رشتہ طے پاگیا۔

جب عائشہ بیگم نے امیمہ کی طرف سے جلد شادی کے مطالبے پر جواباً یہ عذر پیش کیا کہ ابھی ان کی بیٹی گھر داری میں طاق نہیں تو امیمہ نے اس عذر کو درخور اعتنا ہی نہ جانا۔

’’اس بارے میں تو آپ کو فکر کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ جس طرح بیٹیاں ماں کے گھر آہستہ آہستہ گھر کے کام سیکھتی ہیں ۔سارہ میرے پاس آکر آہستہ آہستہ سب کچھ سیکھ لے گی۔ میری طرف سے گارنٹی ہے کہ سارہ پر گھر کے کسی کام کا دبائو ہوگا اور نہ ہی کسی قسم کی نکتہ چینی۔‘‘

امیمہ آنٹی اپنے مخصوص ملائم سے لہجے میں مسکراکر مخاطب ہوئی تھیں۔سارہ کو اپنی پروقار اور شائستہ مزاج سی ساس کی یہ یقین دہانی مطمئن کر گئی تھی۔

اسے کب خبر تھی کہ ساس کے لخت جگر کی جانب سے فوراً ہی گھریلو ذمہ داریاں اٹھانے کی فرمائش کردی جائے گی۔اممہ آنٹی تو ابھی اس کو اٹھ کر پانی تک نہ پینے دے رہی تھیں۔

شفیق انکل جو اپنے نام کی طرح انتہائی شفیق مزاج سسر ثابت ہوئے تھے، گھر سے باہر جاتے ہوئے خاص طور پر اس سے اس کی کسی فرمائشی چیز لانے کے بارے میں پوچھتے ۔

ثمن آپی بھی جب آتیں اس کے واری صدقے جائیں۔ ایسے میں سعد تھانا جو ہرپل اسے یہ محسوس کرواتا رہتا تھا کہ وہ اب میکے میں نہیں سسرال میں رہ رہی ہے۔ سعد کے کہنے پر اس نے امیمہ آنٹی کا کچن کے کاموں میں ہاتھ بٹانا چاہا تھا۔

’’ارے بیٹا کاموں کے لیے ساری عمر پڑی ہے۔ ابھی تو تم جہیز ،بری کے اچھے اچھے کپڑے پہن کر مجھے تیار ہوکر دکھایا کرو۔ میری خوشی اسی میں ہے۔‘‘ وہ اسے پیار بھر لہجے میں کہتیں۔

’’لیکن آنٹی ! میں سارا دن فارغ رہ ، رہ کر بور ہو جاتی ہوں۔‘‘

سارہ نے کاموں میں حصہ لینے کی اپنی سی کوشش جاری رکھی۔

’’بور کیوں ہوتی ہو۔ ہم سے باتیں کرو۔ کچھ ہماری باتیں سنو ۔ اپنے امی ، ابو سے فون پر گپ شپ لگائو۔ وقت گزرنے کا پتا بھی نہیں چلے گا۔‘‘

سارہ ان کی محبت کے آگے بے بس ہو گئی۔ لیکن یہ بات سعد کو کیسے سمجھاتی جوہر حال میں اسے آئیڈیل بیوی اور بہوکے خانے میں فٹ دیکھنا چاہتا تھا۔

’’امی ، ابو فجر کی نماز پڑھ کر چائے پیتے ہیں ،کل سے کوشش کرنا کہ انہیں تمہارے ہاتھ کی چائے ملے۔ ساڑھے سات ، پونے آٹھ کے قریب اسد کالج کے لیے نکلتا ہے ،اس کا ناشتہ بنا کر فارغ ہو گی اتنے میں آفس کے لیے اٹھ جائوں گا۔ بس پھر ہم دونوں اکٹھے ناشتہ کریں گے اگرامی ابھی تم سے ہانڈی روٹی نہیں کروا رہیں تو تم کم از کم ناشتے کی ذمہ داری تو اٹھاہی سکتی ہو ناں۔‘‘

سعد کے پوچھنے پر اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ سعد ساڑھے نوبجے کے قریب آفس کے لیے نکلتا تھا۔

سارہ کی روٹین تھی کہ وہ فجرکی پہلی اذان پر ہی فریش ہو کر نماز پڑھ لیتی تھی، یوں اسے نیند پوری کرنے کا موقعہ بھی مل جاتا تھا لیکن اب یہ روٹین برقرار رکھنا ممکن نہ تھا۔

سعدکی فجر تو اب اکثر و بیشتر قضا ہی ہونے لگی تھی۔ وہ مزے سے سویا رہتا اور سارہ نماز پڑھ کر ساس ، سسر کے جاگنے کا انتظار کرتی۔ چونکہ وہ دونوں نماز فجر کے بعد دوبارہ نہیں سوتے تھے سو اذانیں ہونے کے بھی بعد اٹھتے تھے۔

سارہ بار بار ذرا سا دروازہ کھول کر باہر جھانکتی جب دیکھتی کہ امیمہ آنٹی اپنی نماز اور تسبیح سے فارغ ہو کر کچن کا رخ کر رہی ہیں تب وہ فوراً باہر نکلتی۔

’’آپ انکل کے پاس جا کر بیٹھیں آنٹی ! میں چائے بنا کر لاتی ہوں۔‘‘

’’تم اتنی صبح کیوں اٹھ گئیں بیٹا۔ آج نماز کے بعد دوبارہ سوئیں کیوں نہیں۔ طبیعت تو ٹھیک ہے ناں۔ آنکھیں بھی سرخ ہو رہی ہیں۔‘‘ انہوں نے اسے بغور دیکھا۔

’’بالکل ٹھیک ہوں آنٹی ! آپ چلیں ناں۔ میں چائے بناتی ہوں۔ دن میں تو آپ کچھ کرنے نہیں دیتیں۔ اب چائے بنانے سے تو مت روکیں۔‘‘ اس نے منت بھرا انداز اختیار کیا۔

’’اچھا ٹھیک ہے بیٹا !بنا لو چائے اور خود خالی پیٹ صرف چائے مت پی لینا۔ کیک رسک یا بسکٹ لے لینا۔ ناشتہ تو تم سعد کے بنا کرتیں نہیں ۔‘‘

انہوں نے اس پر محبت بھری مسکراتی نگاہ ڈالی تھی۔ سارہ بھی بمشکل جمائی روکتے ہوئے مسکرا دی۔

بیڈ ٹی کا مرحلہ نمٹا تو اسد کا انتظار شروع ہو گیا۔ نیند سے آنکھیں بند ہوئے جا رہی تھیں۔ کچن کی میز پر سر رکھے رکھے اسے اونگھ بھی آ گئی۔

’’سارہ بیٹا! یہاں کیوں بیٹھی ہو۔ بیڈ روم میں جا کرآرام سے سو جائو۔ ابھی تو سعد کے اٹھنے میں خاصی دیر ہے۔ امیمہ آنٹی کچن میں اآئیں تو اسے وہیں بیٹھا دیکھ کر حیران ہوئیں ۔

’’اسد کالج کے لیے تیار ہو رہا ہے ناں۔ میں سوچ رہی ہوں ،آج اس کے لیے ناشتہ میں بنا دوں۔‘‘

’’میں اسد کا ناشتہ بنا رہی ہوں بیٹا بلکہ اپنا اور تمہارے انکل کا ناشتہ بھی بنانے لگی ہوں، تم اگر آج جاگ رہی ہو تو تمہارا ناشتہ بھی بنا لیتی ہوں ۔ آج ناشتہ ہمارے ساتھ کر لو۔‘‘ انہوں نے الٹا اس کا ناشتہ بنانے کی ہی آفر کر دی۔

’’کوئی زبردستی نہیں بیٹا اگر ناشتہ سعد کے ساتھ ہی کرنا ہے تو دونوں اکٹھے کر لینا۔ اس کے چہرے پر چھایا تذبذب دیکھ کر وہ جانے کیا سمجھی تھیں۔‘‘

’’ارے نہیں آنٹی ! مجھے بھی بھوک لگی ہے۔ میں ناشتہ بناتی ہوں پھراکٹھے کریں گے۔‘‘ سارہ نے اب بھی اپنی کوشش ترک نہ کی۔

’’بس بھوک لگی ہے تو ٹھیک ہے ۔ میں تمہارے لیے گرم ، خستہ پراٹھا بناتی ہوں ۔ آملیٹ بنا دوں یا رات والے آلو قیمے کے ساتھ لو گی ۔‘‘

انہوں نے پوچھا۔ سارہ ان کی محبت کے آگے مزید ڈٹی نہ رہ پائی تھی اور جس وقت وہ مزیدار پراٹھے کے ساتھ آلو قیمہ تناول کر رہی تھی، جانے سعد کیسے جلدی جاگ گیا۔ جاگنے کی تو خیر تھی وہ سیدھا کچن میں نکل آیا۔ امیمہ آنٹی چولہے کے آگے کھڑی تھیں اور سارہ ، شفیق صاحب اور اسد نا شتے میں مشغول تھے۔

’’آئو بیٹا ! تم بھی اٹھ گئے تو آئو بیٹھو تمہارا پراٹھا بنا دوں۔ ‘‘انہوں نے بیٹے کو مخاطب کیا۔ وہ کرسی گھسیٹ کر بیٹھ تو گیا لیکن بیوی پر خشمگیں نگاہیں ڈالنا نہ بھولا۔ سارہ کا نوالہ اس کے حلق میں اٹکنے لگا تھا۔

سعد کی ناراضی مول لینے سے بہتر تھا کہ وہ گھر کے کاموں میں زبردستی گھس جائے اور امیمہ آنٹی کے روکنے کے باوجود اس نے گھر کے کاموں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔

٭٭٭

ثمن آپی گھر آئیں تو اسے کچن میں گھسا دیکھ کر خفا ہوئی تھیں۔

’’کیا کروں، میری سنتی ہی نہیں۔‘‘امیمہ بے چارگی سے بولیں۔

’’اب یہ میرا گھر ہے آپی ! مجھے گھر کے کام کر کے مزہ آتا ہے ۔‘‘ اس نے مسکرا کر نند کو مخاطب کیا۔

’’تمہارا ہی گھر ہے چندا !اور سب کچھ آخر تمہیں ہی سنبھالنا ہے لیکن یہ جو شادی کے شروع شروع کے دن ہوتے ہیں ناں یہ بڑا سنہرا وقت ہوتا ہے جو دوبارہ پلٹ کر نہیں آتا۔ ابھی تمہارے سجنے ، سنورنے ، گھومنے پھرنے اور عیش کرنے کے دن ہیں بلکہ فارغ وقت میں اپنی نیندیں پوری کیا کرو۔ جب میری شادی ہوئی تھی تو میں سب سے زیادہ اپنے میکے کی بے فکری والی نیند کو ہی یاد کرتی تھی۔ میرا بھرا پرا سسرال تھا۔ سونے جاگنے ، اٹھنے بیٹھنے کی اتنی آزادی نہیں تھی۔ تم اس گھر میں پورے حق سے اور بنا کسی ٹینشن کے رہو گی تو ہمیں زیادہ خوشی ہو گی۔‘‘ وہ پیار بھرے لہجے میں مخاطب ہوئیں۔

ساس اور نند کی یہ محبت اسے شادکرتی تو کبھی اسے یہ سب محض دکھا وا لگتا۔ کہیں ایسا تو نہیں تھا کہ وہ اس کے منہ پر میٹھی بنتی ہوں اور سعد کے ذریعے اپنی مرضی کرواتی ہوں لیکن اگلے ہی پل وہ اس بدگمانی پر دل ہی دل میں خود کو ڈپٹ دیتی تھی۔

یہ خناس صرف سعد کے اپنے ذہن کی پیداوار تھا کہ کہیں ارسلان کی طرح اس پر بھی زن مرید ہونے کا ٹھپا نہ لگ جائے اس لیے وہ شروع سے ہی سارہ کی طنابیں کس کر رکھنا چاہتا تھا۔

ارسلان اور عروبہ کے قصے سنا نے والے بھی کم نہ تھے چونکہ ان کا گھر قریب ہی تھا سو سعد کا جو بھی ددھیالی عزیز ان سے ملنے جاتا ، ادھر کا چکر بھی ضرور لگاتا۔

’’اللہ بھابھی !کیا بتائوں۔ اپنی آنکھوں سے دیکھا ،ارسلان عروبہ کے کپڑے تک استری کر رہا تھا۔

بے چاری شمائلہ بھابھی کا جلنا کڑھنا بنتا ہے۔ عروبہ نے تو ارسلان کو بالکل ہی مٹھی میں کر رکھا ہے۔‘‘

یہ سعد اور ارسلان کی منجھلی پھوپھو تھیں جو امیمہ کے سامنے چسکے لے کر عروبہ اور ارسلان کا قصہ سنا رہی تھیں۔

’’شمائلہ بھابھی کی کوئی بیٹی نہیں ہے ناں ۔ تینوں بیٹے پہلے ماں کا ہاتھ بٹاتے تھے، اب وہ ہی عادت پڑی ہوئی ہے نگہت ! بس ماں کی جگہ بیوی نے لے لی۔‘‘

ا میمہ مسکرائی تھیں ۔سارہ کی خواہش تھی کہ وہ عروبہ کے ساتھ اپنی بہو کا موازنہ کر کے مہمان خاتون کے سامنے تعریف کے دو بول ہی بول دیں لیکن اس کی خواہش پوری نہ ہوئی۔

٭٭٭

امیمہ نے نند کو کھانے پر روک لیا تھا۔ کھانا سارہ نے ہی بنایا، نگہت پھوپھو کی جانچتی نگاہیں مسلسل اس کے تعاقب میں تھیں۔ امیمہ آنٹی ذرا سی دیر کو کچن میں آئیں۔

’’میری کسی مدد کی ضرورت ہے بیٹا ؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔

’’نہیں امی ! آپ نگہت پھوپھو کو کمپنی دیں۔‘‘ وہ مسکرا کر بولی۔

سعد کے بار بار ٹوکنے پر وہ اب ساس کو امی کہنا شروع ہو گئی تھی۔

اپنے تئیں اس نے بہترین کھانا بنایا تھا۔ کھانے کی میز پر نگہت پھوپھو سمیت سب نے ہی تعریف بھی کی لیکن وہ ابھی ڈھنگ سے خوش بھی نہ ہو پائی تھی کہ سعد نے تنقیدی پہلو ڈھونڈ ہی لیا۔

’’چاولوں میں معمولی سی کسر ہے اور فیرنی میں میٹھا ذرا زیادہ ہو گیا ہے۔ امی کے ہاتھ والا ذائقہ نہیں آیا۔‘‘

سب کے سامنے اس تبصرے پر سارہ کا چہرہ پھیکا پڑ گیا تھا۔ امیمہ نے تادیبی نگاہوں سے بیٹے کو گھورا۔

’’سب کچھ بہت لا جواب ہے اور اگر بہتری کی گنجائش ہے تو وقت کے ساتھ وہ بھی آجائے گی۔ تم اپنی مثال سامنے رکھو۔ لاکھ تاکید کر کے بھیجوں کہ سودا سلف کیسا لانا ہے ،اپنے ابو کے مقابلے میں بالکل اناڑی ہو۔ نہ ڈھنگ کا گوشت لینا آتا ہے نہ صحیح فروٹ کی پہچان ہے۔ دکان دار جو تھما دے آنکھیں بندکر کے اٹھا لاتے ہو ۔‘‘

امیمہ نے تنقید کا رخ بیٹے کی جانب موڑ دیا وہ جو چند سیکنڈ پہلے پھوپھی کے سامنے بہت معتبربن کر بیوی کے پکائے ہوئے میں نقص نکال رہا تھا، خجل سا ہو کر مسکرا دیا۔ سارہ نے اپنی مہربان ساس کو ممنون نظروں سے دیکھا۔

’’کیا ساسیں ایسی بھی ہوتی ہیں۔‘‘ اس نے دل ہی دل میں سوچا تھا۔

٭٭٭

شمائلہ چچی بھی ایک دن جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے چلی آئیں۔ اب سارہ کو اپنی ساس کے مزاج کا اندازہ ہو گیا تھا وہ کبھی بھی چسکے لے کر کسی کی برائی سنتی تھیں نا ہی بلاوجہ کی کرید میں پڑتی تھیں بلکہ وہ بات کو ہلکا پھلکا رنگ دے کر گفتگو کا رخ موڑ دیتی تھیں۔

’’اپنا زمانہ یاد ہے نا بھابھی ! ہم نے سسرال آ کر کیا کیا کام نہیں کیا ۔ آج کل کی بہوئوں کو ہر طرح کی سہولت ہے پھر بھی کام کرتے ہوئے جان جاتی ہے ۔ایک ہم تھے ،بھرے پرے سسرال میں کولہو کے بیل کی طرح کاموں میں جتے رہتے اور چوں تک کرنے کی اجازت نہ تھی۔ ‘‘

انہوں نے ٹھنڈا سانس بھرتے ہوئے اپنا وقت یاد کیا۔ امیمہ مسکرائی تھیں۔

’’لیکن یاد ہے شمائلہ !ہمارے زمانے کی بہوئوں کو بھی یہ ہی طعنہ سننے کو ملتا تھا۔ ہماری مائوں اور ساسوں کو جو ہنر آتے تھے ،ہم ان میں کورے تھے۔ یاد ہے ناں ،اماں مرحومہ کہتی تھیں کہ تم لوگ بازاری مسالے ہانڈی میں ڈالتے ہو۔ سالن میں بالکل سواد نہیں آتا ،وہ اپنے زمانے کو یاد کرتی تھیں جب مسالے سل پر پیستے تھے ۔ ہاتھ سے نلکا چلا کر کپڑے دھوتے تھے۔ ہم تو واشنگ مشین میں جھٹ پٹ کپڑے دھو ڈالتے تھے ۔اماں مسلسل اپنے دور سے ہمارے دور کا موازنہ کر کے ہمیں باتیںسناتی رہتی تھیں۔ اب ہم اپنی بہو ، بیٹیوں کو آٹومیٹک واشنگ مشین استعمال کرتے دیکھتے ہیںتو ہمیں یہ تن آسا نی لگتی ہے۔ ہر بدلتے وقت کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں جو جتنا جلد سمجھ لے اتنا بہتر۔ ‘‘امیمہ نے دیورانی کو سمجھانا چاہا۔

’’جو بھی ہے بھابھی ! آج کل کی لڑکیوں کو گھرداری کی الف بے بھی نہیں آتی۔ مائوں کو کچھ تو سکھا، سمجھا کر اگلے گھر بھیجنا چاہیے ناں ۔‘‘ وہ رسانیت سے بولیں۔

’’مائیں بے چاریاں بھی کیا کریں شمائلہ ! اتنی مشکل پڑھائیاں ہیں آج کل کے بچوں کی۔ کیا لڑکے ، کیا لڑکیاں ڈگری حاصل کرنے کی دوڑ میں ہی لگے رہتے ہیں۔ ہمارے وقتوں میں لڑکیاں ایف اے ، بی اے کر کے گھر بیٹھ جاتی تھیں ،اب تو اپنے دماغ میں یہ بٹھالو کہ جس بچی کو گھر لا رہے ہیں پہلے اپنی بیٹی کی طرح اسے گھر داری سکھانی ہو گی ۔پہلے دن سے ہی اس سے بلند و بانگ توقعات باندھ لینا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔‘‘

امیمہ نے دیورانی کو سمجھانا چاہا۔

’’خیر سے آپ کو سیدھی بہو مل گئی ہے۔ اس لیے یہ نصیحت کر رہی ہیں۔ ہماری بہو جیسی کوئی پلے پڑتی توآپ میرا دکھ سمجھ سکتیں ۔ خیر، میں آج آپ سے یہ پوچھنے آئی تھی کہ وہ جو پروین پہلے آپ کے ہاں کام کرتی تھی اس کا کوئی رابطہ نمبر ہے آپ کے پاس۔‘‘ شمائلہ چچی کو آنے کا مقصد یاد آ گیا تھا۔

’’ہاں شاید فون نمبر ہے اس کا۔ کیوں خیریت ؟ امیمہ نے پوچھا۔‘‘

’’صاف ستھری عورت ہے بھابھی !بقرعید والے دن اسے بلا لوں گی گوشت سمیٹنے میں میری مدد کر دے گی۔ ہماری بہو کو تو گوشت کی سمیل (مہک) سے ہی الرجی ہے۔ اب بھی اگر قسمت سے کسی دن کچھ پکانے کھڑی ہو جائے تو گوشت ارسلان ہی دھو کر دیتا ہے۔ عید پر تو ہر طرف گوشت ہی گوشت ہو گا کمرے سے کہاں نکلے گی۔ میں نے سوچا پہلے سے ہی کچھ انتظام کر لوں۔‘‘

شمائلہ چچی نے تفصیلی جواب دیا۔ پہلی بار سارہ کو دل ہی دل میں عروہ پر غصہ آیا۔ بے چاری شمائلہ چچی کے دکھڑے بے جا نہ تھے۔ عروہ کی ہڈ حرامی کی وجہ سے نئی نسل کی لڑکیاں خوامخواہ بدنام ہو رہی تھیں۔ لڑکی اگر کاموں میں ماہر نہ ہو تب بھی اسے اتنا کام چور نہیں ہونا چاہیے۔

سارہ کو عروہ کا طرز عمل بالکل بھلا نہ لگا تھا۔

سارہ کی قسمت کہ عین اس وقت سعد بھی چلا آیا اور اسے اپنی چچی کے آنے کے مقصد سے بھی آگاہی حاصل ہو گئی۔

رات کو موقع پاتے ہی اس نے سارہ کو پیشگی باور کروانا مناسب جانا تھا۔

’’بقر عید سر پر ہے۔ تم اپنا ہوم ورک مکمل کر لو، اس دن سب کچھ کیسے مینج کروگی۔ گوشت سمیٹنا ، سنبھالنا ، بانٹنے والے پیکٹ بنانا ، اپنے حصے کے گوشت کے پکوانوں کے مطابق علیحدہ علیحدہ پیکٹ بنا کر فریز کرنا یہ سب تمہیں ہی دیکھنا ہو گا۔ ساتھ ساتھ کوکنگ کا سلسلہ بھی ہو گا۔ ہمارے ہاں کسی پروین وغیرہ کا انتظام نہیں ہو گا۔ تم پہلے ہی بتا دو، تمہیں تو گوشت کی سمیل وغیرہ سے الرجی کا مسئلہ نہیں ہے۔‘‘

وہ سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔ سارہ نے تھوک نگلا تھا۔ عید ، تہواروں پر مائیں جانے کیوں سجی سنوری بیٹیوں کو اپنے ساتھ کاموں میں نہیں لگاتیں شاید یہ سوچ کر کہ آگے جا کر انہوں نے یہ کچھ ہی تو کرنا ہے لیکن یہ کچھ کرنے کے لیے تھوڑا بہت تجربہ بھی تو چاہیے تھا ناں ۔

اپنی شفیق ساس کے وجود سے سارہ کو بہت ڈھارس تھی لیکن اس شفیق ساس کا بیٹا جو کسی سخت گیرہیڈ ماسٹر کی طرح سر پر ڈنڈا پکڑ کر کھڑا ہو جاتا تھا سارہ کی حالت اس شاگرد کی طرح ہو جاتی جو سوالوں کے جواب آنے کے باوجود استاد کے ڈر سے سب کچھ بھول بیٹھا ہو۔

’’آپ فکر نہ کریں ،میں سب کچھ کر لوں گی ۔‘‘

اس نے دھیمے لہجے میں شوہر کو یقین دلایا لیکن جانے کیوں وجود پر عجیب سی تھکن چھانے لگی تھی۔

٭٭٭

عیدالفطر کے ٹھیک پانچ روز بعد وہ دولہن بن کر اس گھر آئی تھی۔ عیدالاضحیٰ ہی سسرال میں اس کی پہلی عید تھی اور پیا کے سنگ گزارنے والی اس پہلی عید کا تصور ہی اس کے لیے سوہان روح بنا ہوا تھا۔

گھر کے روٹین کے کاموں میں حصہ لینا ایک بالکل دوسرا معاملہ تھا، وہ سعد کی خواہش یا حکم پر جی جان سے گھریلو ذمہ داریاں نمٹانے کو کمر بستہ رہتی تھی لیکن بڑی عید جیسے انتظامی ایونٹ کو نمٹانے کا اس کے پاس سرے سے کوئی تجربہ نہ تھا۔

دوبکرے اور بڑے جانور میں تین حصے جن میں ایک اس کے نام کا بھی تھا، گوشت کے اس ڈھیر سے وہ کیسے نبرد آزما ہو گی یہ سوچ اس کی راتوں کی نیند اڑانے کے لیے کافی تھی۔

’’خوش قسمت ہو بیٹا !جو قربانی کرنے والوں کی صف میں شامل ہو گئیں ۔‘‘میکے میں ماں باپ یہ جان کر خوش ہوئے تھے کہ ایک حصہ اس کے نام کا بھی ہے۔

’’تمہاری ساس گریٹ خاتون ہیں یار۔ ہائو لکی یو آر۔‘‘

علیزہ نے بھی لقمہ دیا۔ ساس کے حوالے سے تو اسے خود کو بھی اپنے لکی ہونے پر کوئی شبہ نہ تھا ہاں جب معاملہ ساس کے بیٹے کا آتا تو لکی ہونے کا معاملہ مشکوک ہو جاتا۔

جانے سعد کی نفسیات میں کون سی گرہ تھی جو کھلنے کا نام نہیں لے رہی تھی شاید اس کا شمار ان لوگوں میں ہوتا تھا جو شادی کے ابتدائی عرصے میں ہی بیوی کو قابو میں کرنے کا پیشگی ذہن بنائے ہوتے ہیں۔ انہیں ایسی بیوی چاہیے ہوتی ہے جو آئیڈیل بیوی کے ساتھ ساتھ مثالی بہو کے خاکے پر پوری اترتی ہو۔ سارہ ہر وقت اس کے تنقیدی تبصروں اور تجزیوں کی زد میں رہ کر تھکنے لگی تھی۔ اس کا یہ روپ اس کے گھر والوں پر بھی نہیں کھلا تھا۔ اس کے زیادہ تر فرمودات تنہائی میں ہی سننے کو ملتے تھے۔

ایک بے تحاشا شریف اور سلجھا ہوا شخص ہونے کے باوجود محض اس کی نکتہ چینی کی عادت کی وجہ سے ان کی شادی شدہ زندگی کا حسین ترین دور متاثر ہو رہا تھا اور اسے اس کا احساس تک نہ ہوتا تھا۔

سارہ محض بس باس کی عملی تفسیربن کر رہ گئی تھی۔

٭٭٭

آج کل جانے کیوں سارہ کی طبیعت پر عجیب کسل مندی سی طاری رہتی تھی۔ شاید طبیعت کا یہ بوجھل پن نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے تھا۔

عید سے ایک دن پہلے طبیعت زیادہ ہی نڈھال ہو رہی تھی۔ ڈھنگ سے کھانا تک نہ کھایا گیا۔ جی چاہ رہا تھا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر لمبی تان کر سو جائے۔ حیرت انگیز طور پر سعد نے اس کی طبیعت کا مضحمل پن نوٹ کر لیا تھا۔

’’تم بہت ڈل ہو رہی ہو۔ خیر تو ہے۔‘‘ اس نے پوچھا۔

’’ہاں۔ پتا نہیں طبیعت کچھ عجیب سی ہو رہی ہے۔‘‘وہ تھکے ہوئے لہجے میں گویا ہوئی۔

’’کہیں تم کل کے کام سے بچنے کے لیے پیشگی گرائونڈ تو تیار نہیں کر رہیں۔‘‘ سعد بظاہر ہنستے ہوئے بولا تھا۔

اس تبصرے پر سارہ کا دل دکھ سے بھر گیا۔ اتنے دنوں سے دونوں کا دن رات کا ساتھ تھا اور وہ ابھی تک اسے سمجھ ہی نہ سکا تھا۔ اس نے سعد کی بات کا جواب دینا ضروری نہ جانا اور وہ کب جواب کا منتظر تھا۔

ثمن آپی پہلے دن تو صرف کھڑے کھڑے عید ملنے آتی ہیں ان کی باقاعدہ دعوت عید کے دوسرے دن ہوتی ہے۔ میں چاہ رہا ہوں، تم روایتی کھانوں کے ساتھ ساتھ بچوں کی پسند کی ایک دو ڈشز بھی ضرور بنانا۔ ‘‘اس نے تاکید کی۔

سارہ اسے بتانا چاہتی تھی کہ امی نے بھی عید کے دوسرے دن اس کی دعوت رکھی ہے لیکن جانتی تھی بتانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ اس نے امی کو فون کر کے بتا دیا کہ دوسرے دن آنا ممکن نہیں ہو گا ،وہ عید کے تیسرے دن ہی آپائے گی۔

’’امی ! میں اس بار آئوں گی تو تین چار دن کے لیے رکوں گی ۔ آپ سعد سے خود ہی یہ بات کہہ دیجیے گا۔‘‘ اس نے ماں کو مخاطب کیا۔

’’ٹھیک ہے بیٹا ! میں سعد کو ابھی فون کر دیتی ہوں۔‘‘ وہ جھٹ مان گئیں۔

’’نہیں امی ! ابھی نہیں جس دن آئوں گی جب ہی روک لیجیے گا۔‘‘

وہ عجلت میں بولی۔ جانتی تھی ،سعد ساس کے سامنے تو فرماں بردار داماد بن کر فوراً ہامی بھر لے گا لیکن پھر اس کے کندھے پر بندوق رکھ کر پروگرام کینسل کروادے گا۔ ایسا پہلے دوبار ہو چکا تھا۔ ایک بار امیمہ آنٹی اسے چند دن کے لیے میکے بھیج رہی تھیں تو ایک بار امی ، ابو اسے ساتھ لے جانے کا پروگرام بنائے ہوئے تھے لیکن سعد نے اسی کے ذریعے انکار کر وایا تھا۔

اب وہ سعد کو اپنے پروگرام سے پیشگی مطلع کرنے کی غلطی دوہرانا نہ چاہتی تھی۔ جسمانی تھکن اور دل و دماغ پر چھائی اس عجیب سی جمود بھری کیفیت کو توڑنے کے لیے اس کا میکے جا کر ’’ری چارج‘‘ ہونا ضروری تھا۔

٭٭٭

عید کے لیے امیمہ آنٹی نے اسے بہت خوب صورت جوڑا دلوایا تھا۔ پڑوس کی ایک لڑکی کو بلا کر دونوں ہاتھوں پر مہندی بھی لگوائی۔ عیدی والی عید نہ ہونے کے باوجود ساس ، سسر دونوں نے ہی اسے ڈھیروں دعائوں کے ساتھ عیدی بھی دی تھی۔

سعد نے بھی دل کھول کر اس کی تعریف کی۔ آئینہ بھی یہ ہی بتا رہا تھا کہ وہ آج بہت حسین لگ رہی ہے لیکن وہ اپنے چکراتے وجود کا کیا کرتی جو جانے کیوں اتنا ڈھیلا ڈھیلاہو رہا تھا۔ کل سارا دن بھی یہ ہی کیفیت رہی تھی ،کل کی طرح آج بھی کچھ کھانے کو جی نہ کر رہا تھا۔

ناشتے میں اس نے بمشکل آدھا سلائس لیا۔ چائے تک پینے کو جی نہ چاہا۔ قربانی کے بعد تو نہ ختم ہونے والی مصروفیات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ سادہ سوتی جوڑا پہن کر وہ امیمہ آنٹی کے ساتھ مل کر گوشت سمیٹنے لگی تھی ۔

’’امی !آپ کیوں بیٹھ گئیں۔ سارہ کو بتا دیں ناں ۔یہ کرلے گی سب ۔‘‘ سعد مداخلت کیے بنا نہ رہ پایا۔

’’میرا دماغ خراب ہے جو میں سب کچھ بچی پر چھوڑ دوں۔‘‘ امیمہ بیٹے پر خفا ہوئیں۔

’’بچی کہاں سے ہو گئی۔ اب شادی شدہ خاتون خانہ ہیں ہماری بیگم ۔ آپ انہیں انڈر اسٹیمیٹ نہ کریں۔ پورے اعتماد کے ساتھ انہیں اپنی ہر ذمہ داری سونپ دیں۔‘‘

وہ مسکرا کر ماں سے مخاطب تھا۔

’’سارہ کی تو ہمارے ساتھ پہلی عید ہے میرے بچے۔ پہلے تم اپنی بات کرو۔ اپنے ابو کو کتنی ذمہ داریاں بانٹ رکھی ہیں تم نے، صرف کما کر پیسے ہاتھ میں تھما دینے سے بات نہیں بنتی ۔اب بھی تم تو اپنے کمرے میں مزے سے اے سی چلا کر سو جائو گے گوشت بانٹنے کی ذمہ داری بھی تمہارے ابو کو نبھانی پڑے گی ۔صبح سے انہیں سر کھجانے کی فرصت نہیں ملی۔‘‘

امیمہ نے بیٹے کو آئینہ دکھایا۔ وہ خجل سا ہو کر ہنس پڑا تھا۔ سارہ کو اس مکالمے سے کوئی سروکار نہ تھا سچ تو یہ تھا کہ آج وہ جس مشکل سے خود پر قابو پا کر بیٹھی تھی ۔یہ وہ ہی جانتی تھی ۔ گوشت کی مہک سے اسے مسلسل ابکائیاں آ رہی تھیں۔ وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد کسی بہانے سے اٹھتی اور واش روم میں جا کر قے کر ڈالتی۔ خالی پیٹ الٹی کر کے اس کا براحال تھا۔ بھلے سے وہ شادی سے پہلے مٹن یا بیف شوق سے نہ کھاتی تھی لیکن اب ایسا بھی نہ تھا کہ اسے گوشت کی مہک اتنی ناگوار لگتی ہو۔ آج تو کوئی انوکھا ہی دن تھا اور اصل مشکل یہ تھی کہ وہ اپنی کیفیت سے کسی کو آگاہ بھی نہ کر سکتی تھی۔

سعد تو کل بھی اس معاملے میں عروبہ کے نقش قدم پر نہ چلنے کی تلقین کر چکا تھا۔ وہ خود پر جبر کر کے امیمہ بیگم کے ساتھ گوشت کے پیکٹ وغیرہ بنوانے میں لگی رہی۔

دوپہر کو امیمہ آنٹی نے کلیجی بھونی تھی۔ سب نے شوق سے کھائی اور وہ موقع پا کر اپنی پلیٹ واپس کچن میں رکھ آئی تھی۔

جیسے تیسے کر کے دن گزارا تھا لیکن شام تک اس کی حالت غیر ہو گئی۔ مغرب کا وضو کر کے وہ واش روم سے نکلی تو اس زور کا چکر آیا کہ ٹانگوں نے جسم کا وزن سہارنے سے انکار کر دیا۔ وہ وہیں فرش پر بیٹھتی چلی گئی۔

اسی لمحے سعد کمرے میں آیا تھا۔ سارہ نے مندی مندی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا اور پھر اسے کوئی ہوش نہ رہا تھا۔

٭٭٭

ثمن آپی کی دیورانی کی بڑی بہن منجھی ہوئی گائنا کالوجسٹ تھی ،اپنی رہائش گاہ کے ساتھ ہی اس نے کلینک قائم کر رکھا تھااور اس وقت اسی کلینک میں سارہ کو ڈرپ لگی ہوئی تھی۔

خوش خبری کی تصدیق ہونے کے بعد امیمہ آنٹی نے کلینک میں ہی دو نفل شکرانے کے ادا کیے تھے۔ لیکن وہ سعد کے ساتھ ساتھ سارہ سے بھی خفا تھیں۔ رات کو جب سارہ ڈسچارج ہو کر گھر واپس آئی تو ثمن آپی بھی ہمراہ تھیں۔

’’تم نے ہمیں اتنی بڑی خوشی دی ہے سارہ کہ ہم بیان نہیں کر سکتے لیکن دوسری طرف تم نے ہم سب کو غیروں کی کیٹگری میں کھڑا کر دیا ، اس بات کا ہمیں بہت دکھ بھی ہے۔ دو دن سے تمہاری طبیعت اتنی خراب تھی کہ تم سے کچھ کھایا پیا تک نہ گیا اور تم نے گھر میں کسی کو بتانا تک ضروری نہ سمجھا۔ نہ سعد کو بتایا ، نہ امی کو پتاچلنے دیا۔ دوپہر کو جب میں عید ملنے آئی تم نے مجھے بھی اپنی طبیعت کے بارے میں کچھ نہ بتایا الٹا میرے لیے چائے پانی بنانے کھڑی ہو گئیں ۔ کوئی اپنے ساتھ ایسا ظلم بھی کرتا ہے بے وقوف لڑکی ۔‘‘

ثمن آپی پیار بھرے لہجے میں اس کو سرزنش کر رہی تھیں۔

’’خدا گواہ ہے ثمن !کہ میں نے اسے اول روز سے اپنی بیٹی ہی سمجھا لیکن یہ اگر ماں نہ سہی ساس سمجھ کر ہی مجھے اپنی کیفیت کے بارے میں بتاتی تو میں اسے چارپائی سے پائوں نیچے نہ رکھنے دیتی اور یہ بے وقوف لڑکی سارا دن کولہو کے بیل کی طرح میرے ساتھ کاموں میں لگی رہی۔‘‘

امیمہ آنٹی واقعی خفا تھیں اور اپنی شفیق ساس کا یہ خفگی بھرا روپ دیکھنا اس کے لیے آسان نہ تھا۔

’’میں نے سعد کے ڈر سے کسی کو کچھ نہیں بتایا۔ کل جب انہیں اپنی طبیعت خرابی کے بارے میں ہلکا سا اشارہ دیا تو انہوں نے اسے کاموں سے بچنے کے لیے پیشگی ڈرامہ قرار دیا تھا۔ ‘‘

سارہ نے روہانسی ہو کر پول کھول دیا۔ سعد جو اس کی حالت دیکھ کر پہلے ہی شرمندگی کے سمندر میں غوطہ زن تھا، مزید ڈبکیاں لگانے لگا۔ آج اس کے لیے فرار کی کوئی راہ نہ تھی ۔

ساس اور نندکے مہربان وجود سے ڈھارس پاتے ہوئے سارہ نے ہچکیاں لے لے کر اس کی ساری ستم ظریفیوں سے آگاہ کر دیا۔ کیسے سعد ہر وقت عروبہ سے اس کا موازنہ کرتا رہتا تھا۔ گھر کی ساری ذمہ داریاں اٹھانے کے لیے ہر وقت کا پریشر، اس کے میکے لے جاتے ہوئے سو ، سو نخرے ۔ فجر کی نماز کے ساتھ ہی اس کو کمرہ چھوڑنے کی ہدایت ، اس کے کسی بھی کام پر حوصلہ افزائی کے بجائے نکتہ چینی اور مین میخ۔

زیادتیوں کی ایک طویل فہرست تھی جو سارہ کے لبوں سے سعد کے نامہ اعمال میں درج ہوتی جا رہی تھی۔

’’مجھے پہلے ہی شبہ تھا امی! کہ آپ کا بیٹا خود کو واقعی مجازی خدا سمجھنے لگ گیا ہے۔ اس روز جب میں ملنے آئی تو سارہ نے کیسے اپنے میکے جانے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔ آپ کے اور میرے بار بار کے اصرار پر بھی یہ نہ مانی۔ اب اندازہ ہوا بے چاری مانتی تو کیسے مانتی۔ آنکھیں دکھانے کو اس کے شوہر نامدار وہیں تو موجود تھے۔‘‘ ثمن نے بھائی کو قہر بار نگاہوں سے گھورا۔

’’آپی ! آپ دو ہفتے بعد آئی تھیں ،ہم کیسے چلے جاتے۔ ‘‘سعد منمنایا۔

’’تو تمہاری آپی لندن یا فرانس سے آئی تھی یا اس نے دوبارہ ملنے نہیں آنا تھا۔ حد ہے سعد !آج تم نے مجھے میری ہی بہو سے نگاہیں ملانے کے قابل نہیں چھوڑا۔‘‘ امیمہ تاسف بھرے انداز میں بیٹے سے مخاطب ہوئیں۔

’’سوری امی !‘‘ وہ شرمندہ ہو کر یہ ہی کہہ پایا۔

’’مجھ سے معذرت کے بجائے اپنی بیوی سے معذرت کرو۔ جس کو خدا ، رسول کو گواہ بنا کر اپنی زندگی میں شامل کیا اور اپنے حقوق ادا کرنے کے بجائے اس پر فرائَض کی ادائیگی کا زور ڈالتے رہے ۔مرد کبھی خود کو عورت کی جگہ پر رکھ کر سوچے تو اسے احساس ہو کہ اپنے ماں باپ ، بہن بھائیوں اور گھربار کو چھوڑ کر ایک قطعاً اجنبی ماحول میں بسنا کتنا مشکل ہوتا ہے اور ایسے میں اس بچی کی دل جوئی اور حوصلہ افزائی کر کے اسے نئے گھر میں دل لگانے کا موقع دینے کے بجائے اول دن سے ہی اس کی گردن میں ذمہ داریوں کا طوق ڈال دیا جائے تو کس قدر زیادتی ہے یہ اس بچی کے ساتھ ۔مجھے کیا خبر تھی کہ میرا بیٹا بھی اپنی بیوی کے ساتھ اسی زیادتی کا مرتکب ہو گا ۔‘‘ امیمہ کی خفگی ختم ہونے کا نام نہ لے رہی تھی۔

’’کہا ناں امی !غلطی ہو گئی۔ گھر میں ارسلان کی مثال سامنے تھی اور باہر اویس کا حشر دیکھتا تھا۔ دونوں بیویوں کے ہاتھ کھلونا بنے ہوئے تھے ،ان کے گھروالے ان کی بیویوں سے عاجز آئے ہوئے تھے میں سوچتا تھا ۔سارہ اپنی خدمت گزاریوں سے آپ سب کے دل میں جگہ بنالے گی تو گھر کا ماحول مثالی بن جائے گا۔‘‘

’’اور سارہ کا دل ۔ تم نے اس کے بارے میں کبھی نہ سوچا۔‘‘ امیمہ نے سنجیدہ لہجے میں استفسار کیا۔ سعد نے ایک نگاہ سارہ پر ڈالی وہ واقعی اپنی کامنی سی بیوی کے ساتھ بہت زیادتی کر بیٹھا تھا ۔

’’صرف آئی ایم سوری بولنے سے کام نہیں چلے گا امی ! کافی زیادہ تنگ کیا ہے میں نے اس کو ۔ منانے میں کچھ وقت تو لگے گا ناں ۔‘‘وہ سر کھجا کر مسکرایا تھا۔

’’چلو جیسے مرضی منائو۔ یہ تمہارا مسئلہ ہے لیکن سارہ !آئندہ تم نے سعد کی کوئی بھی زیادتی امی سے نہیں چھپانی ۔ اگر پہلے نہ چھپاتیں تو اسے اتنی من مانی کرنے کا موقع بھی نہ ملتا۔‘‘ ثمن آپی نے اسے مخاطب کیا۔

’’نہیں ،اب ایسی بھی کوئی خاص زیادتی نہیں کی ۔ شاید میں ہی زیادہ اموشنل ہو گئی۔‘‘ سارہ اتنی ڈھیر ساری حمایت پا کر کچھ جھینپ سی گئی تھی۔

’’جیتی رہو اور سدایوں ہی ہنستی مسکراتی رہو۔‘‘ امیمہ نے محبت سے اس کی پیشانی چوم لی۔ سارہ کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں ۔اس نے بھی ان کی ہتھیلی کی پشت پر محبت سے بوسہ دیا۔

’’اگر میں کبھی ساس بنی امی! تو کوشش کروں گی کہ بالکل آپ جیسی ساس بنوں۔‘‘ یہ ساس کے لیے اس کا اظہار عقیدت تھا۔ امیمہ نے اسے اپنے ساتھ لپٹا لیا۔

’’امی جیسی ایک اور ساس ۔ یعنی اگر اللہ نے مجھے بیٹے سے نوازا تو اس معصوم کا بھی میرے والا حشر ہو گا۔‘‘

سعد نے ٹھنڈا سانس بھرتے ہوئے خود کلامی کی۔ کمرے میں موجود تینوں عورتوں نے اسے بیک وقت گھورا تھا۔ اس نے مسکین شکل بنا کر کان پکڑنے میں عافیت جانی۔ سب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔

کسی کو اپنا بنانے کے لیے اس کے دل میں جگہ بنانے کا ہنر ہی محبت کا ہنر کہلاتا ہے۔ سارہ کی ساس نہ صرف اس ہنر میں خود ماہر تھیں بلکہ آج انہوں نے اپنی بہو کو بھی یہ ہنر منتقل کر دیا تھا۔

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں