چلوساتھ چلتے ہیں – فریدہ سیفی

ناولٹ 69

’’نشا . نشا‘‘ جبران چلایا۔ وہ اس وقت اپنی وارڈ روب کے سامنے کھڑا تھا۔ اپنے کپڑے چیک کرتے ہوئے اس کا پارہ ساتویں آسمان پر جا پہنچاتھا۔

’’نشا !‘‘ وہ ایک بار پھر دھاڑا اور الماری کا دروازہ زور سے بند کیا اگلے ہی پل حواس باختہ سی نشا کمرے میں داخل ہوئی۔ غصے سے لال پیلے ہوتے جبران پر ایک نظر ڈالی اور پھر بگڑ کر بولی۔

’’کیا بات ہے۔ کیوں شورمچا رکھا ہے صبح صبح؟‘‘

’’میری کوئی شرٹ بھی تم نے استری نہیں کی ہوئی۔‘‘ جبران چلایا تھا۔

نشا ایک دم دھیمی پڑ گئی۔ لہجہ معذرت خواہانہ بلکہ افسوس ناک ہو گیا ۔

’’اہ .مجھے یاد ہی نہیں رہا۔‘‘

’’تمہیں باقی سارے کام تو یاد رہتے ہیں صرف میرے کام کرنا بھول جاتی ہو۔‘‘ جبران نے طنز کیا۔

’’سوری جبران۔‘‘ نشا نے شرمندگی سے کہا۔ ’’رات کو میں تھک کے لیٹ گئی تھی۔ سوچا تھا تھوڑی دیر بعد اٹھ کر تمہارے کپڑے استری کر دوں گی۔ پتا ہی نہیں چلا کب سو گئی۔‘‘

جبران کا غصہ اس بات پر کم ہونے کے بجائے اور بڑھ گیا۔ منہ بگاڑ کر بولا ’’ تمہیں سونے اور کھانے کے علاوہ اور آتا ہی کیا ہے۔‘‘

’’اب تم زیادتی کر رہے ہو ۔ سو ری کر رہی ہوں ناں۔‘‘ نشا خفا ہو گئی۔

’’تمہارے سوری کرنے سے کیا ہوتا ہے۔‘‘

جبران چیخا۔’’ اب مجھے آفس جانا ہے اور میرے کپڑے استری شدہ نہیں ہیں۔ کیا کروں میں ہاں !‘‘

’’توجبران اللہ نے تمہیں بھی ہاتھ دیے ہیں۔‘‘ نشا کو بھی غصہ آ گیا ۔’’اپنا کوئی کام خود بھی کر لیا کرو۔ میں نے کیا قصور کیا ہے کہ تمہارے سارے کام بھی کروں اور تمہارا غصہ بھی برداشت کروں۔‘‘

جبران نے سنی ان سنی کر کے وارڈ روب کھولی اور اس میں سے ایک پینٹ شرٹ نکال کر نشا کو پکڑائی۔

’’زیادہ تقریر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ میرے کپڑے استری کرو۔ میں شاور لے کر آتا ہوں۔‘‘

’’لیکن میں ناشتہ بنا رہی ہوں۔‘‘نشا نے کپڑے لیتے ہوئے احتجاج کیا ۔

’’تم ناشتے کا احسان مت کرو مجھ پر۔‘‘ جبران تولیہ لے کر باتھ روم کی طرف بڑھا ۔ ’’پہلے کپڑے استری کرو۔ کہیں لائٹ ہی نہ چلی جائے۔‘‘ اس نے باتھ روم میں داخل ہو کر زور سے دروازہ بند کیا۔ نشا کپڑے لے کر استری اسٹینڈ کی طرف چلی آئی۔

’’ہونہہ ! مفت کی نوکرانی جو مل گئی ہے میری صورت میں اسے۔ آج کل تو نوکروں سے بھی تمیز سے بات کرنی پڑتی ہے ورنہ نوکری چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ بیوی کا درجہ تو نوکرانی سے بھی کمتر ہے۔‘‘

وہ کپڑے استری کرتے ہوئے مسلسل بڑبڑا رہی تھی۔

٭٭٭

مہینہ بھر پہلے ہی ان دونوں کی شادی ہوئی تھی۔ اور ایک مہینے میں ہی نوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ وہ ایک دوسرے سے سیدھے منہ بات کرنے پر بھی راضی نہیں تھے۔ دونوں فیملیز لاہور میں رہتی تھیں۔ جبران کی جاب اسلام آبادمیں تھی۔ شادی کے لیے پانچ دن کی چھٹی ملی تھی اسے۔ چھٹی ختم ہوئی تو واپسی میں نشا کو اس کے ساتھ کر دیا گیا ، نشا خوش تھی شادی کے شروع میں ہی الگ گھر مل گیا تھا۔ سسرال کی خاطر داریوں سے جان چھوٹ گئی تھی لیکن چند ہی دنوں میں اندازہ ہوا کہ جبران صرف شوہر ہی نہیں تھا بلکہ اس کے اندر ساس نندوں والے سارے جوہر موجود تھے۔ دھیمی آواز میں رومینٹک گفتگو کرنے کے بجائے جب وہ ساس کے انداز میں طنز کرتا اور نندوں کی طرح جلی کٹی سناتا تو نشا کو بہت برا لگتا۔

دوسری طرف جبران کی امیدوں پر بھی اچھی خاصی اوس پڑی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ وہ گھر میں ایک باس کی طرح رہے گا۔ اس کی بیوی اس کے اشاروں پر چلے گی۔ صرف اس کا غصہ ہی برداشت نہیں کرے گی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس کے ناز نخرے بھی اٹھائے گی لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ غصہ کرنے والے کے ناز نخرے اٹھانا بے حد مشکل ہے اور پھر بیوی اگر نشا جیسی ہو تو پھر تو یہ نا ممکن ہی ہے ۔

جبران اگر غصہ کرتا تو جواباً وہ بھی غصہ کرتی۔ وہ مزید غصہ کرتا تو وہ بھی سینہ ٹھونک کر میدان میں اتر آتی اور بس پھر اس کے بعد گھر گھر نہ رہتا۔ میدان جنگ بن جاتا ،جہاں سارے نرم اور میٹھے جذبات کا خون ہو جاتا اور مال غنیمت میں رہ جاتے ڈھیر سارے شکوے اور شکایتیں جنہیں سمیٹ کر وہ دونوں ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے تھے۔

٭٭٭

مہرین سو رہی تھی بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ سونے کی ناکام کوشش کر رہی تھی تو زیادہ بہتر ہو گا۔ تکیہ اس نے اپنے کانوں پر رکھا ہوا تھا۔ اچانک دھاڑ کی آواز آئی اور اس کے کان جھنجھنا اٹھے۔ آنکھیں ایک دم سے کھل گئیں۔ اس نے کانوں پر رکھے تکیے کے اوپر بازو رکھ کر اسے بھینچااور آنکھیں میچ لیں۔ اگلے چند لمحے وہ اسی طرح لیٹی رہی۔ بلآخر اس نے تکیہ اٹھا کر پرے پھینکا اور بال سمیٹتی کمرے سے باہر نکل آئی۔ اس کا رخ کچن کی طرف تھا حلیمہ ناشتہ بنا رہی تھیں۔ اسے آتے دیکھ کر حیرت سے بولیں۔

’’آج جلدی اٹھ گئیں۔‘‘

مہرین نے بالوں کا جوڑا بناتے ہوئے آنکھوں سے اوپر کی طرف اشارہ کیا۔

’’آپ کے نئے کرائے دار سونے دیتے ہیں بھلا۔ صبح صبح ہی لڑنا شروع کر دیتے ہیں اور ساری آوازیں میرے کمرے میں آتی ہیں۔‘‘

’’بس اللہ ہی اتفاق دے ۔‘‘ حلیمہ نے چولہے پر توارکھا ۔’’تم بریڈ لوگی یا پراٹھا بنائوں۔‘‘

’’پراٹھا بنا دیں۔‘‘ مہرین نے فریج کھول کر پانی کی بوتل نکالی اور ساتھ ہی آٹے کا برتن نکال کر ماں کے سامنے رکھا ۔’’ویسے امی یہ لوگ اتنا لڑتے کیوں ہیں۔ ابھی توان کا ہنی مون پیریڈ ہے۔‘‘

’’اصل میں شروع کے دنوں میںآپس میں انڈرسٹینڈنگ نہیں ہوتی ناں۔‘‘ چلیمہ نے روٹی بیلتے ہوئے وجہ بیان کی ۔ ’’اور پھر سر پر کوئی بڑا بھی نہیں ہے۔‘‘

مہرین گلاس میں پانی ڈال کر شیلف کے پاس کھڑی ہو گئی۔ ’’خیربڑے ہوتے تو اور مسائل ہوتے۔ یونو ساس نندوں کے پرابلمز۔‘‘ اس نے پانی پی کر گلاس شیلف پر رکھا۔

’’ہاں یہ تو ہے۔‘‘ حلیمہ مسکرائیں۔

’’یعنی ۔‘‘ مہرین پرسوچ انداز میں بولی۔ ’’اس کا مطلب ہے کہ شادی چلانا ایک مشکل کام ہے۔‘‘

’’نہیں اتنا بھی نہیں۔‘‘ حلیمہ نے مصروفیت سے جواب دیا ۔ ’’اگر عورت سمجھ دار ہو۔ سمجھوتا کرنا جانتی ہو تو گھر بن جاتا ہے۔‘‘

’’کیا فائدہ ایسے رشتے کا جس میں سمجھوتے سے کام لینا پڑے۔‘‘ مہرین نے منہ بنا کر کہا۔

حلیمہ نے پراٹھااتار کر پلیٹ میں رکھا اور مشفقانہ لہجے میں بولیں ۔

’’سمجھوتا تو ہر رشتے کی بنیاد ہے میرے بچے۔‘‘

’’توپھر ایسے رشتے بنانے ہی نہیں چاہئیں۔‘‘ مہرین نے گرم گرم پراٹھے کا نوالہ توڑنے کی کوشش کی۔

’’اونہوں ۔ پہلے منہ ہاتھ دھو کر فریش ہو جائو پھر کرنا ناشتہ۔‘‘ حلیمہ نے خفگی سے اسے ٹوکا۔

’’توبہ ہے امی .‘‘مہرین نے کہا۔ ’’اچھا میرے لیے آملیٹ بھی بنا دیں۔ ‘‘ وہ کچن سے نکل گئی۔

شادی سے پہلے بے فکری اور لاپرواہی کی زندگی گزارنے والی لڑکی کو شادی کے بعد ایک ذمہ دار اور سمجھ دار عورت بننے میں تھوڑا وقت تو لگتا ہے ۔ نئے ماحول اور حالات میں خود کو ڈھالنا کوئی آسان کام تو نہیں ہوتا۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہر انسان صرف اپنے نظریے سے سوچتا ہے اپنے اندر لچک پیدا کرنے کے بجائے دوسرے کو سر سے لے کر پائوں تک بدلنے کی فکر کی جاتی ہے۔ اچھی خاصی سیدھی سادی زندگی کو جان بوجھ کر مشکل بنا دیا جاتا ہے۔

٭٭٭

نشا نے گھر کی صفائی کی۔ مشین لگا کر کپڑے دھوئے اور پھر کھانا بنا کر جبران کے کپڑے استری کرنے شروع کیے۔ درحقیقت وہ صبح ہونے والی بدمزگی سے پریشان تھی اس لیے تھیکی ہوئی ہونے کے باوجود اس نے جبران کی کئی پینٹ شرٹس استری کر دیں۔ جب وہ آفس سے آیا تو وہ ہنوز اسی کام میں مصروف تھی۔ جبران اسے کپڑے استری کرتے دیکھ کر خوش ہو گیا۔

’’ہوں۔ گڈ جاب ۔ کافی کپڑے استری کر دیے ہیں تم نے ۔‘‘ اس نے ہینگ کیے ہوئے کپڑوں کی طرف اشارہ کیا ۔ ’’کیا ہی اچھا ہو کہ تم میرے سارے کپڑے استری کر کے رکھ دو۔‘‘

’’یہی سوچا ہے میں نے۔‘‘ نشا نے اس کی شرٹ استری کرتے ہوئے جواب دیا۔ ’’ شوہر بدمزاج ہو تو بیوی کو ڈر کے رہنا پڑتا ہے ۔ جبران ہنسنے لگا۔ ’’چلو اسی خوشی میں آج کھانا باہر کھاتے ہیں۔ ‘‘

’’سوچ لو۔‘‘ نشا نے خبردار کیا ۔ ’’میں نے بریانی بنائی ہے اور ساتھ کباب بھی ۔‘‘

’’اوہ ۔‘‘ جبران نے سر ہلایا۔ ’’چلو اچھا ہے بچت ہو گئی۔ تم کھانا لگائو میں فریش ہو کے آتا ہوں۔‘‘

بریانی بہت مزے کی بنی تھی۔ میکے میں جب بھی نشا بریانی بناتی تھی تو اس کے خوب تعریفیں ہوتی تھیں۔ کھانا کھاتے ہوئے نشا نے جبران کے تاثرات کا جائزہ لیا۔ وہ بہت رغبت سے کھا رہا تھا۔

’’کیسی بنی ہے بریانی۔‘‘ نشا نے اشتیاق سے پوچھا۔

’’ہوں۔‘‘ جبران چونکا۔’’ مصالحہ کم ہے۔ اس بار لاہور جائیں گے تو تم امی سے ترکیب پوچھنا۔ وہ بہت مزے کی بریانی بناتی ہیں۔‘‘ نشا کا منہ بن گیا۔ وہ مزید بریانی اپنی پلیٹ میں نکال رہا تھا۔ پسند نہیں آئی تھی تو کھا کیوں رہا تھا۔ بد لحاظ بے مروت ،نشا کا دل تو چاہا اسے کھری کھری سنانے کو تاہم اس نے اپنی زبان بند ہی رکھی۔ وہ دوبارہ بدمزگی نہیں چاہتی تھی۔

٭٭٭

بہار نے دھرتی کے کینوس پر رنگ بکھیرنے شروع کر دیے تھے۔ موسم میں خوشگواریت تھی وہی خوشگواریت جو اعتدال کا خاصا ہے۔ اعتدال جو اگر ہم اپنی زندگیوں میں پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو بہار جیسی طمانیت نصیب ہو۔ مہرین نے گلاب کا پھول اپنے بالوں میں اٹکانے کی کوشش کی لیکن وہ سلکی بالوں میں پھسلتا چلا گیا۔

’’میں ہیلپ کروں ؟‘‘ آواز پر اس نے پلٹ کر دیکھا۔ وہ زین تھا۔ اونچا لمبا ۔ گندمی رنگت اور پر اعتماد آنکھیں۔

’’نہیں۔‘‘ اس نے خفیف سا ہو کر پھول ہاتھوں میں تھاما اور اس کی ملائمت محسوس کی ۔ ’’ اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ‘‘

’’لیکن مجھے تمہاری ضرورت ہے مہرین ۔‘‘وہ قدم قدم چلتا اس کے پاس آ کھڑا ہوا۔

’’کسی کو کسی کی ضرورت نہیں ہوتی۔‘‘ مہرین نے پھول کی پتی توڑی ۔

’’اونہوں۔‘‘ زین نے اس سے پھول لے لیا ’’پھول نہیں توڑتے ‘‘

’’پھولوں کو ہی توڑا جاتا ہے۔‘‘ مہرین نے جتاتے ہوئے لہجے میں کہا۔

’’تم اتنی بدگمان کیوں ہو۔‘‘ زین نے غور سے اس کی اٹھتی گرتی پلکوں کو دیکھا۔

’’نہیں۔ میں بدگمان نہیں ہوں۔‘‘ مہرین نے گہری سانس لی ۔ ’’بس بے اعتبار ہوں۔‘‘

’’بے اعتبار۔‘‘ زین نے حیرت سے دہرایا اور اپنے سینے پر ہاتھ رکھا ’’تمہیں مجھ پر اعتبار نہیں ہے ؟ میں جو تمہارا دوست ہوں بچپن سے ۔‘‘

’’میں اس دوستی کو قائم رکھنا چاہتی ہوں۔‘‘ مہرین کی آواز دھیمی ہو گئی ’’نئے رشتے بنانے سے پرانے رشتے کھو جاتے ہیں۔‘‘

’’کچھ بھی نہیں ہو گا۔ یقین کرو میرا.ہم بہت اچھی زندگی گزاریں گے۔‘‘ زین نے پر زور لہجے میں اسے قائل کرنے کی کوشش کی۔

’’پلیز زین مجھے مجبور مت کرو۔‘‘ مہرین نے ملتجی لہجے میں کہا۔

’’میں اپنی زندگی میں بے حد خوش اور مطمئن ہوں۔ میں توقعات اور سمجھوتے کے گرداب میں پھنسنا نہیں چاہتی ۔‘‘

’’تم ڈرتی ہو ۔ بزدل ہو تم۔‘‘ زین نے صاف گوئی کا مظاہرہ کیا۔

’’شاید۔‘‘ مہرین نے سر جھکا کراقرار کیا۔ ’’میں دوسروں کو خوش کرنے کے لیے سرتاپا بدل جائوں۔ اتنی ہمت نہیں پاتی میں خود میں۔‘‘

’’کون کہہ رہا ہے کہ تم خود کو بدلو۔‘‘ زین نے کہا۔ ’’بس جیسی ہو ویسی ہی رہنا۔‘‘

’’یہ صرف کہنے کی باتیں ہوتی ہیں۔‘‘ مہرین کا لہجہ تلخ ہو گیا ۔ ’’جب زندگی بدلتی ہے تو خود کو بدلنا تو پڑتا ہے ناں ۔‘‘

’’اگر میں نہیں تو پھر کیا کوئی اور.‘‘ زین نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔ اس کے لہجے میں خدشے بول رہے تھے۔

’’نہیں۔‘‘ مہرین نے اعتماد سے اس کی آنکھوں میں جھانکا ۔’’کوئی بھی نہیں اور کبھی بھی نہیں۔ ‘‘

’’بس تو پھر کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔‘‘ زین خوش ہو گیا ۔ ’’میں انتظار کروں گا تمہارا۔‘‘

’’تم تھک جائو گے۔‘‘ مہرین نے اسے ڈرایا ۔ ’’میری ناں کبھی بھی ہاں میں نہیں بدلے گی۔ ‘‘

’’ارے چھوڑو۔‘‘ زین نے جیسے ہاتھ سے مکھی اڑائی ۔ ’’بڑے دیکھے ہیں تم جیسے۔‘‘

’’کیا .کیا ۔‘‘مہرین چلائی۔ ’’اور کس کس کو دیکھا ہے تم نے ۔‘‘

’’اوہو۔ محاورتاً کہہ رہا ہوں یار۔‘‘ زین نے گھبرا کر وضاحت کی۔

’’نہیں .سچ سچ بتائو مجھے۔‘‘ مہرین نے اسے گھورا۔

’’تم جیلس ہو رہی ہو۔‘‘ اب کی بار وہ شرارت سے مسکرایا۔

’’ایویں۔‘‘ مہرین خفیف سی ہو گئی۔

’’ہو رہی ہو۔‘‘ زین نے اصرار کیا۔ اس کی آنکھوں میں چمک تھی۔ مہرین نے رخ بدل لیا۔ کہیں یہ چمک اس کے ارادوں کو متزلزل نہ کر دے۔

زین اس کی خالہ کا بیٹا تھا۔ خالہ اس کو بہو بنانا چاہتی تھیں۔ زین کے دل میں بھی وہ ایک عرصے سے براجمان تھی۔ سیدھا صاف راستہ اس کے سامنے تھا لیکن وہ قدم بڑھانے سے ڈرتی تھی۔ وہ اپنی زندگی اکیلے گزارنا چاہتی تھی۔ اپنی مرضی سے اپنی خوشی کے مطابق ۔

٭٭٭

نشا نے کچن صاف کیا اور لائونج میں آ گئی۔ جبران ٹی وی دیکھ رہا تھا وہ بھی پاس آ کر بیٹھ گئی۔ چند لمحے ٹی وی پر ہونے والی ریسلنگ دیکھتی رہی۔ پھر بور ہو کر جبران کی شکل دیکھی۔ وہ پورا دن گھر میں اکیلی رہتی تھی۔

جبران آفس سے آتا تھا تو اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ آپس میں دوستوں کی طرح گپ شپ کریں ۔ بہت سی باتیں ایک دوسرے کے ساتھ شیئرکریں جبکہ اس کے برعکس جبران ٹی وی دیکھنے بیٹھ جاتا تھا۔ ابھی بھی وہ اتنی دیر سے اس کے پاس بیٹھی تھی لیکن مجال ہے جو اس نے ذرا بھی اس کی طرف توجہ کی ہو۔ آخر تنگ آ کر نشا نے خود ہی بات چیت شروع کرنے کی کوشش کی ۔

’’کیسا رہا آج کا دن ؟‘‘

جبران نے کوئی جواب نہیں دیا۔ نشا نے اسے دوبارہ مخاطب کیا۔ ’’کیا ہے بھئی۔ تم آ کر ٹی وی کے سامنے جم جاتے ہو۔ بندہ کوئی بات ہی کر لیتا ہے۔‘‘

جبران چونکا ۔’’کس سے ؟‘‘

’’مجھ سے اور کس سے۔‘‘ نشا نے تیز لہجے میں کہا۔ ؔ’’ سارا دن میں اکیلے بور ہوتی ہوں۔ آفس سے آ کے تو میرے ساتھ کچھ بات چیت کر لیا کرو۔‘‘

جبران نے برا سا منہ بنا کر ہاتھ ہلایا ۔ ’’نشا پلیز ۔ اس وقت مجھ میں ہمت نہیں ہے۔ سارا دن آفس میں سر کھپا کر آیا ہوں۔ ٹی وی دیکھنے دو مجھے۔ ‘‘

نشا نے ٹی وی کی طرف دیکھا۔ دوہٹے کٹے پہلوان ایک دوسرے کی پھینٹی لگا رہے تھے۔ کم از کم یہ چینل تو وہ اس کے ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتی تھی۔

’’اچھا پھر پلیز چینل چینج کرو۔ کوئی ڈراما دیکھتے ہیں اچھا سا۔‘‘ وہ صلح جو انداز میں بولی۔

’’میں ڈرامے نہیں دیکھتا۔‘‘ جبران نے صاف جواب دے دیا۔

’’پھر کوئی اور چینل لگا لو جو میں بھی تمہارے ساتھ دیکھ سکوں۔‘‘ نشا زچ ہو کر بولی۔

’’سارا دن ہوتا ہے ناں تمہارے پاس ٹی وی ۔ اب میرا ٹائم ہے مجھے دیکھنے دو۔‘‘ جبرا ن نے بے مروتی سے کہا۔

’’تو میں کون سا فارغ ہوتی ہوں جو ٹی وی دیکھتی رہوں۔ ڈھیروں کام ہوتے ہیں مجھے۔‘‘ نشا نے جتایا۔

’’ہونہہ جانتا ہوں میں جو تم کام کرتی ہو۔‘‘ جبران بدمزاجی سے بولا۔

’’کیا مطلب ہے تمہارا؟‘‘ نشا ہتھے سے اکھڑ گئی ۔ ’’پانی کا گلاس تک تو تم اپنے ہاتھ سے پیتے نہیں ہو اور کام کے طعنے مجھے دیتے ہو۔‘‘

’’جہنم بنا دی ہے تم نے میری زندگی ۔‘‘ جبران کو غصہ آ گیا ۔’’تمہاری چخ چخ ہی ختم نہیں ہوتی۔‘‘

’’چخ چخ میں کرتی ہوں یا تم ۔‘‘ نشا چلائی ۔ ’’اس گھر میں ،میں اپنی پسند کا ڈرامہ تک نہیں دیکھ سکتی۔ ‘‘

جبران نے ریموٹ کنٹرول صوفے پر پھینکا اور اٹھ کھڑا ہوا۔

’’بھاڑ میں جائے ڈرامہ اور بھاڑ میں جائو تم۔دیکھو تم ڈراما جارہا ہوں میں ۔‘‘

’’ہونہہ .تمہیں تو گھر سے باہر جانے کا بہانا چاہیے اور وہ تمہیں مل گیا۔‘‘ نشا نے بلند آواز میں کہا۔ جبران جواب دیے بغیر دھاڑ سے دروازہ بند کرتا ہوا باہر نکل گیا۔ دروازہ بے چارہ اس کے غصے سے لرزتا رہ گیا۔ اب ٹی وی کس نے دیکھنا تھا۔ نشا سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ اسے رونا آ رہا تھا۔

٭٭٭

مہرین ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہو کر بال بنا رہی تھی جب دھاڑ سے دروازہ بند کرنے کی آواز آئی۔ اس نے افسوس ناک نظروں سے چھت کی طرف دیکھا اور بالوں میں پونی لگاتے ہوئے بیڈپر آ بیٹھی۔

’’یا اللہ خیر۔‘‘ حلیمہ اندر آتے ہوئے بولیں ۔ ’’یہ لوگ تو ہماری دروازے توڑ دیں گے۔‘‘

مہرین ہنس پڑی ۔’’اور ہم نے ان کی چھوٹی فیملی دیکھ کر دیا تھاپورشن کرائے پر۔‘‘

’’بچوں سے بھی بڑھ کر ہیں دونوں ۔‘‘ حلیمہ نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے تبصرہ کیا ۔

’’خیرچھوڑو۔ مجھے بتائو تم نے کیا سوچا ہے۔‘‘

مہرین سمجھ تو گئی لیکن جان بوجھ کر انجان بنتے ہوئے بولی۔

’’کس بارے میں۔‘‘

’’زین کے بارے میں بھئی۔‘‘ حلیمہ تنک کر بولیں ۔ ’’آصفہ جواب مانگ رہی ہے مجھ سے۔‘‘

مہرین نے پاس پڑا موبائل اٹھا لیا۔ ’’امی میں نے آپ کو بتایا ہے ناں کہ مجھے شادی نہیں کرنی۔ ‘‘

’’شادی نہیں کرنی تو کیا ساری عمر میرے سر پر بیٹھنا ہے۔‘‘حلیمہ کو غصہ آ گیا۔

’’آپ دیکھ تو رہی ہیں شادی کا نتیجہ۔‘‘ مہرین نے منہ بنایا۔ ’’کیا فائدہ سر پر ایک باس مسلط کرنے کا جو ہر وقت آپ کو جلاتا اور ستاتا رہے۔ اس سے بہتر ہے کہ انسان اپنی زندگی تنہا گزارے۔ اپنی مرضی سے۔‘‘

’’ہاں . اور اگر بیمار ہو تو کوئی پانی دینے والا بھی نہ ہو۔‘‘حلیمہ جل کر بولیں۔

’’اللہ مالک ہے امی۔‘‘ مہرین نے موبائل پر گیم کھیلنی شروع کر دی۔

’’بیٹے شادی زندگی گزارنے کا ایک طریقہ ہے۔ معاشرے کا چلن ہے اور پھر اللہ کا حکم بھی ہے۔‘‘ حلیمہ نے دھیما پڑ کر بیٹی کو سمجھایا ۔

’’وہ سب ٹھیک ہے امی۔ لیکن نشا اور جبران کو دیکھ کر توسچی بات ہے مجھے شادی سے ڈر لگنے لگا ہے۔ یہ لوگ بالکل بھی خوش نہیں ہیں۔ حالانکہ ان کا میچ ایک بہت پرفیکٹ میچ ہے۔‘‘مہرین نے پہلی دفعہ حلیمہ سے اپنی سوچ شیئر کی۔

’’پودا بھی جب زمین پر لگایا جاتا ہے ناں تو جڑ پکڑنے میں تھوڑا وقت لیتا ہے پھر اس کے بعد اس پر پھل پھول لگتے ہیں۔ شادی کے شروع کے دنوں میں ایسا ہو جاتا ہے۔ دیکھنا کچھ عرصے بعد یہ لوگ ہنسی خوشی رہنے لگیں گے۔‘‘ حلیمہ نے اسے تسلی دی۔

’’جب میں نے ان لوگوں کو خوش دیکھ لیا تو میں بھی ہاں کر دوں گی ۔‘‘ مہرین نے انہیں ٹالا۔

’’ہاں تم کہیں کی شہزادی ہو ناں جو آصفہ تمہارا انتظار کرے گی اتنا عرصہ ۔‘‘حلیمہ جل کر بولیں۔ ’’وہ تو سگی خالہ ہے تمہاری اور پیار بھی بہت کرتی ہے تم سے۔ اس لیے اتنے نخرے اٹھا رہی ہے تمہارے، ورنہ زین کو لڑکیوں کی کمی نہیں ہے کوئی۔ ‘‘

’’میں تو کوئی انتظار نہیں کروا رہی انہیں۔‘‘ مہرین بگڑ کر بولی۔ ’’میں تو صاف انکار کر رہی ہوں آپ کو بھی اور زین کو بھی آپ لوگ ہیں کہ میرے انکار کو مانتے ہی نہیں ہیں۔ ‘‘

’’تم بیوقوف ہو تو تمہارے ساتھ ہم بھی بیوقوف بن جائیں کیا۔‘‘ حلیمہ نے اسے ڈپٹا۔ ’’اپنے دل اور دماغ کو جلد اس رشتے کے لیے راضی کرو۔ میں زیادہ انتظار کرنے والی نہیں ہوں۔ ‘‘ وہ غصے سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئیں۔

’’زندگی میری ہے لیکن اسے اپنی مرضی سے گزارنے کا حق مجھے نہیں ہے۔‘‘ مہرین نے بڑبڑاتے ہوئے موبائل بیڈ پر پٹخا ۔’’میں لاکھ انکار کروں لیکن یہ لوگ میری شادی کروا کے چھوڑیں گے۔‘‘

٭٭٭

زندگی میں دھوپ چھائوں کا منظر آ کر ٹھہر گیا تھا۔ تھوڑی دیر کے لیے صلح ہوتی تو اگلے ہی پل پھر لڑائی ہو جاتی۔ ادھار رکھنا تودونوں میں سے کسی نے بھی سیکھا ہی نہ تھا۔ انہی جلے کٹے دنوں میں جبران کے دوست کی شادی کا کارڈ آ گیا۔ وہ خود تو نہا دھو کر پندرہ بیس منٹ میں فل تیار ہو گیا تھا لیکن نشا کی تیاری تھی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی اور اب صورت حال یہ تھی کہ نشا بیگم میک اپ کر رہی تھیں اور جبران صاحب ان کے سر پر سوار تھے۔

’’آخرکتنی دیر ہے یار۔‘‘ جبران نے کئی بار کا کیا ہوا سوال ایک دفعہ پھر پوچھا تھا۔

’’تیار تو ہونے دو۔ کیا آفت آ گئی ہے۔‘‘ نشا نے پلکوں پر مسکارا لگاتے ہوئے جواب دیا۔

’’سات بجے کا ٹائم تھا اور اب ساڑھے سات ہو رہے ہیں۔‘‘ جبران نے رسٹ واچ پر نظر ڈالی ۔ ’’پہنچتے پہنچتے بھی آدھا پونا گھنٹہ لگے گا۔‘‘

’’کچھ نہیں ہوتا۔‘‘ نشا نے بے فکری سے کہا۔ ’’ٹائم پر کون آتا ہے آج کل ۔

’’ہاں بس یہی خرابی ہے ہم لوگوں میں۔‘‘ جبران جل کر بولا ۔ ’’یہی بات سوچ کر سب لوگ لیٹ پہنچیں گے۔‘‘

’’پھر بھی شادی ہو جائے گی تمہارے دوست کی۔ تم ٹینشن مت لو۔‘‘ نشا نے بلش آن لگاتے ہوئے کہا۔

’’جس کی تم جیسے بیوی ہو، وہ ٹینشن کیسے نہ لے۔‘‘ جبران نے طنز کیا۔

’’ہاں مجھ میں ہی کیڑے نکالتے رہنا۔‘‘ نشا نے منہ بنایا۔

’’اچھی بھلی شکل ہے تمہاری۔‘‘ جبران نے غور سے اسے دیکھتے ہوئے تبصرہ کیا۔ ’’کیا ضرورت ہے اتنی لیپا پوتی کی۔‘‘

’’تو کھل کے تعریف کرو ناں کہ تم بہت خوب صورت ہو۔ تیار نہ بھی ہو تو کوئی مسئلہ نہیں وغیرہ وغیرہ۔‘‘ نشا شوخ ہو گئی۔

جبران نے نفی میں سر ہلایا۔ ’’تم اور تیار نہ ہو۔ یہ تو ہو نہیں سکتا۔‘‘

’’اور تم . اور تعریف کرویہ بھی ہو نہیں سکتا۔ ‘ ‘ نشا نے کہا۔

’’ہو تو رہی ہوں۔‘‘

’’اچھا زیادہ باتیں نہ کرو تیار ہوجاأ جلدی سے ۔‘‘ جبران نے کہا۔ اب وہ لپ اسٹک لگا رہی تھی۔

’’گوری کرت سنگھار ۔ گوری کرت سنگھار۔‘‘ بالوں کو برش کرتے ہوئے اس نے دھیمی آواز میں گنگنانا شروع کر دیا تھا۔

جبران کو اس کا یہ اطمینان کچھ خاص پسند نہ آیا سو اس نے مداخلت ضروری سمجھی۔

’’کیا مصیبت ہے بھئی جلدی کرو ۔‘‘

’’تھوڑی دیر خاموش نہیں رہ سکتے تم ۔‘‘ نشائ بے اختیار جھنجھلائی تھی۔

’’تمہاری تیاری ختم ہی نہیں ہوتی۔‘‘ جبران بگڑ کر بولا ۔’’تم کیا مس ورلڈ کے مقابلے میں جا رہی ہو۔ اس تھوبڑے کو جتنا بھی سجا لو گی کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ ‘‘

نشا کو اس کی بد زبانی پر غصہ آ گیا۔ ’’تم جلتے ہو مجھ سے۔ تمہاری شکل پر بھی کوئی نور نہیں برس رہا۔‘‘

جبران آگ لگا چکا تھا لہذا اطمینان سے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آ کر بال برش کرتے ہوئے بولا ۔ ’’تمہارے جیسی بیوی کے ساتھ رہتا ہوں صبر اور شکر کے ساتھ۔ اچھا خاصانور ہے میرے چہرے پر۔‘‘

’’تم کرتے ہو صبر اور شکر۔‘‘ نشا جل کر بولی۔ ’’ارے میں رہتی ہوں تم جیسے سڑیل کے ساتھ صبر اور شکر کر کے۔‘‘

’’اچھا چلو اب تقریر مت کرو۔‘‘ جبرا ن نے اسے تیار دیکھ کر باہر کا رخ کیا۔ کلچ اٹھا کر نشا اس کے پیچھے لپکی تھی۔

’’جہاں بھی جانا ہو تم میرا موڈضرور خراب کرتے ہو۔‘‘

’’تمہارا موڈ رہتا ہی خراب ہے تمہارے دماغ کی طرح۔‘‘

’’تمہیں اتنا بھی نہیں پتا کہ بیوی سے بات کیسے کرتے ہیں۔‘‘

’’تم ہو ناں عالم فاضل ۔ تمہیں تو سب پتا ہے ناں۔ تم ہی اچھے طریقے سے بات کر لیا کرو۔‘‘

سیڑھیاں اترتے ہوئے ، گاڑی میں سارا راستہ ان کی تکرار جاری رہی تھی۔

٭٭٭

رمضان کا مبارک مہینہ شروع ہو گیا تھا۔ اس مہینے میں شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں لیکن حضرت انساان ہیں کہ ان کی کمی محسوس نہیں ہونے دیتے۔ بہرحال اس ماہ کی اپنی برکات ہیں جو ہر طرف پھیلی ہوئی واضح طور پر نظر آتی ہیں۔ معمولات کا ایک واضح فرق ہر طرف زندگی کو ایک خاص نہج پر لے آیا تھا۔ حالات کی بخشی بے سکونی اب مالک کی رحمت کی متلاشی تھی۔ حلیمہ اپنی عبادات اور دعائوں میں مہرین کی ہدایت کے طلب گار تھیں تومہرین بھی بہترین فیصلے کے لیے اللہ سے مدد چاہ رہی تھی۔

رمضان دعائوں کا مہینہ تھا۔ دعائیں جو تقدیر بدل دیتی ہیں جو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتی ہیں۔ دعا درحقیقت ایک بہت بڑی طاقت ہے۔ دعا ایک رابطہ ہے۔ سب سے طاقتور ہستی کے ساتھ جو مشرق و مغرب کا رب ہے اور اللہ کے ساتھ رابطہ انسان کو کبھی بھی مایوس نہیں کرتا۔ مہرین سحری کے بعد تلاوت کر رہی تھی جب زین کا فون آیا۔

’’میں سوچ رہا ہوں تمہیں راضی کرنے کے لیے کوئی وظیفہ کروں۔‘‘ صبح صبح وہ کافی فریش تھا۔

’’پھر وہی مرغے کی ایک ہی ٹانگ ۔‘‘ مہرین چڑ گئی۔

’’تمہیں وارن کر رہا ہوں۔ پھر نہ کہنا کہ خبر نہیں ہوئی ۔‘‘ اس کی لن ترانی جاری تھی۔

’’زین ! تمہیں ایک سے ایک اچھی لڑکی مل جائے گی۔ کیوں میرے پیچھے پڑے ہو۔‘‘ مہرین نے بے چارگی سے کہا۔

’’تمہاری ہمدردی میں۔‘‘ زین نے دو بدو جواب دیا ۔ ’’کیونکہ میرے علاوہ کوئی اچھا لڑکا تمہیں ملنا مشکل ہے۔ ‘‘

’’بات تو درست ہے۔‘‘ فون رکھنے کے بعد مہرین نے سوچا۔ اگر زین نہ ہوا تو پھر کوئی ان دیکھا انجانا آدمی۔ وہ لرز کر رہ گئی۔ کیونکہ یہ تو طے تھا کہ حلیمہ نے اس کی شادی کرا کر ہی دم لینا تھا۔ یہ ہمارا معاشرہ ہے یہاں ہماری زندگی صرف ہماری نہیں ہوتی اس پر بہت سے لوگوں کا حق ہوتا ہے۔ اور وہ سب اپنے اپنے حساب سے اس میں ردوبدل کرتے ہیں۔

٭٭٭

’’یہ کیا ہے۔‘‘ جبران نے پراٹھے کو پکڑ کر تھوڑا سا اونچا کیا اور پھر نشا سے پوچھا۔

’’پراٹھا۔‘‘ نشا نے مختصرجواب دیا۔ وہ لوگ سحری کر رہے تھے اورٹائم تھوڑا ہی تھا۔

’’اس کی شکل کو کیا ہوا ہے۔‘‘ اب کی بار جبران نے وضاحت سے سوال کیا۔

’’کیا ہوا ہے۔‘‘ نشا نے حیرت سے پوچھا۔ اچھا خاصا خستہ اور مزیدار پراٹھا تھا۔ اعتراض کی کوئی گنجائش نظر تو نہیں آ رہی تھی۔

’’تم نے چوکور پراٹھا کیوں بنایا ہے۔ آئندہ میرے لیے گول بنایا کرو ۔‘‘ بالاخر جبران صاحب نے نقطہ اعتراض جڑ کر سحری کا آغاز کیا۔

’’تم نے کھانا ہی ہے ناں اس کے ساتھ سیلفی تو نہیں لینی۔‘‘ نشا نے بگڑ کر کہا۔ ’’میں پراٹھے چوکور ہی بناتی ہوں۔‘‘

’’لیکن میری امی ہمیشہ گول بناتی ہیں اور میں گول ہی کھاتا ہوں۔‘‘ جبران نے جتایا۔ نشا نے بے اختیار گہری سانس لی۔ یہ بندہ کوئی بھی نئی چیز اختیار کرنے پر راضی نہیں تھا۔

جبران کے آفس جانے کے بعد پورا دن وہ گھر میں اکیلی تھی۔ معمول کے کام نپٹانے کے بعد وہ قرآن لے کر بیٹھ گئی۔ دل بے چین ساتھا۔

جبران اس کا شوہر تھا۔ وہ اس سے محبت کرتی تھی اور اس کی ساتھ اتفاق اور سلوک سے گھر بسانا چاہتی تھی لیکن کہیں کچھ تھاجو غلط ہو رہا تھا۔ زندگی ریاضی کا ایسا سوال بن گئی تھی جس کا جواب بار بار حل کرنے کے باوجود غلط آتا تھا۔ اللہ سے ڈھیر ساری دعا کر کے اور اپنے تمام معاملات اس کے سپرد کر کے کچھ سکون ہوا۔

افطاری کے لیے اس نے چاٹ ، دہی بھلے اور پکوڑے بنا لیے۔ جبران افطار سے کچھ دیر قبل آیا تھا۔ کھجور کے ساتھ روزہ کھول کر وہ نماز کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔

’’میرے لیے روٹی بنا دو۔ میں کھانا کھائوں گا یہ الا بلا کھانے کی عادت نہیں ہے مجھے۔‘‘

جاتے جاتے وہ کہہ گیا تھا۔ نشا دل مسوس کر رہ گئی ۔ جبران نے اس کا دل رکھنے کے لیے بھی کچھ نہیں چکھا تھا۔

٭٭٭

چلو چل کے دیکھتے ہیں

سورج کا پڑائو کس جگہ ہے

کہاں ہے چاند کی بستی

ستاروں کا یہ کیسا جمگھٹا ہے

چلو چل کے دیکھتے ہیں

جگنو کیا ڈھونڈتے ہیں پیڑوں میں

ہوا کے گیت ادھورے کیوں ہیں

کیسا رمز چھپا ہے پانی کی لہروں میں

چلو چل کے دیکھتے ہیں

ان سنی کہانیوں میں کیسا تحیر ہے

ان دیکھی وادیوں میں چھپا ہے حسن کتنا

ان جانے لمحوں میں کیسا سحر ہے

چلو چل کے دیکھتے ہیں

آنکھ اور آنسو کا میل کیسا ہے

محبت کے دامن میں تشنگی کیوں ہے

ہماری بیچ قسمت کا یہ کھیل کیسا ہے

زین نے موبائل پر نظم بھیجی تھی۔ وہ ساتھ چلنے کی دعوت دے رہا تھا۔ نئی منزل اسے اپنی طرف پکار رہی تھی۔ راستہ با نہیں کھولے کھڑا تھا۔ حالات، وقت اور لوگ سب کا ایک ہی تقاضا تھا کہ وہ قدم بڑھائے۔ وہ جھجھکی اور پھر نئے راستے پر قدم رکھ دیے۔ محبت منتظر کھڑی تھی۔ اس نے دل کا دروازہ کھول دیا۔ وہ مالکانہ حقوق کے ساتھ اندر داخل ہوئی اور ہر جگہ اپنا ڈیرا جما لیا۔ مہرین ہار چکی تھی لیکن خوش تھی۔ عجیب ہار تھی اور عجیب خوشی۔ وہ جانتی تھی سفر انجانا ہو گا۔ راستے کی دھول ہمراہی کے خدوخال کو بھی بدلے گی لیکن پھر بھی اس نے قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا تھا۔ زندگی میں انسان کسی بھی جگہ رک نہیں سکتا اگر رک جائے تو وہی جگہ اس کے لیے دلدل بن جاتی ہے۔

٭٭٭

بچہ سب کے ساتھ ہنسی خوشی کھیلتا رہتا ہے لیکن جب تکلیف پہنچتی ہے تو فوراً ماں کی طرف لپکتا ہے۔ دکھ میں ،مصیبت اورپریشانی میں ہمیشہ ماں یاد آتی ہے۔ نشا نے بھی ماں کو ہی فون کیا تھا۔

’’مما کہاں پھنسا دیا ہے آپ نے مجھے ۔‘‘ شکوہ اس کے لہجے میں تھا الفاظ میں تھا اور اتنا شدید تھا کہ پرزور طریقے سے فون کے دوسری طرف موجود طیبہ کے کانوں تک پہنچا تھا۔ وہ پریشان ہو گئیں۔

’’کیا ہوا بیٹے۔ سب خیریت تو ہے ناں۔‘‘

’’بہت بدمزاج ہے جبران۔ بہت غصہ کرتا ہے۔ نرمی سے آرام سے تو کوئی بات کرتا ہی نہیں ہے۔‘‘ نشا نے دل کا بوجھ ہلکا کیا ۔’’اچھا . لگتا تو نہیں تھا ایسا ۔‘‘ طیبہ سوچ میں پڑ گئیں۔ ’’ہروقت جلی بھنی باتیں کرتا ہے۔ حد سے زیادہ سڑیل ہے۔‘‘ نشا نے مزید بتایا۔

’’لڑائی تو نہیں ہوتی۔‘‘ طیبہ نے پوچھا۔

’’ہوتی ہے ناں ۔ روز ہی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے جب وہ غصہ کرتا ہے تو پھر مجھے بھی غصہ آجاتا ہے ۔‘‘ نشا نے صاف گوئی سے جواب دیا ۔

’’یہی ڈر تھا مجھے ۔‘‘ طیبہ نے گہری سانس لی ۔ ’’تم مزاج کی تیز ہو ۔ برداشت تو تم میں ہی نہیں۔‘‘

’’مما آپ بھی مجھے ہی کہہ رہی ہیں۔‘‘ نشا کو حقیقتاً افسوس ہوا تھا۔

’’تو تمہیں ہی کہوں گی ناں۔‘‘ طیبہ نے رسان سے کہا۔ ’’نشا بیٹی شادی کے بعد لڑکی کو بہت حوصلے سے کام لینا پڑتا ہے۔ بہت کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے تب گھر بنتا ہے۔ ‘‘

’’توبرداشت تو کرتی ہوں لیکن وہ خواہ مخواہ غصہ کرتا ہے ۔ بلاوجہ۔‘‘ نشا نے شکائتی لہجے میں کہا۔

’’توکرنے دو۔ بس تم جواب مت دیا کرو۔‘‘ طیبہ نے کہا۔

’’تو چپ چاپ بری بھلی سنتی رہوں۔‘‘ نشا بگڑ کر بولی۔

’’ہاں . اگر ایک فریق خاموش ہو جائے تو دوسرا کتنا بولے گا۔ آخر وہ بھی چپ ہو جائے گا۔ اس طرح بات بڑھتی نہیں ہے۔ خاموش رہنے سے بڑی سے بڑی بات بھی ختم ہو جاتی ہے جبکہ بولنے سے چھوٹی بات بھی طول پکڑ لیتی ہے ۔‘‘طیبہ نے ناصحانہ انداز میں کہا۔

’’مما ! آپ سمجھ نہیں رہیں۔ جبران ہر وقت فضول قسم کا رعب جماتا رہتا ہے۔‘‘ نشا نے ان کی ہمدردی حاصل کرنے کی آخری کوشش کی۔

’’میں سمجھتی ہوں بیٹا۔‘‘ طیبہ رسان سے بولیں۔ ’’بس تم اپنا مزاج نرم رکھو۔ ورنہ تم میں اور اس میں فرق کیا رہ جائے گا۔‘‘

نشا دھیمی پڑ گئی۔ ’’جی کوشش کروں گی۔‘‘

٭٭٭

’’اسد آ رہا ہے لاہور سے۔ آج ذرا افطاری میں اہتمام کر لینا۔‘‘

جبران نے نشا سے کہا تھا۔ اسد جبران کا کزن تھا۔ آفس کے کام کے سلسلے میں اسلام آباد آ رہا تھا۔ افطار ان کے گھر کرنے کا پروگرام تھا۔ نشا نے کافی شوق سے افطاری کی تیاری کی۔ آخرپہلی بارکوئی سسرالی مہمان اس کے گھر آ رہا تھا۔ اس نے کافی ساری ڈشز تیار کر لیں۔

اسد اچھا خوش مزاج بندہ تھا۔ اس نے بھرپور افطاری کی اور ساتھ ساتھ نشا کی کوکنگ کی تعریف کرنے میں بھی بخل سے کام نہیں لیا تھا۔ آج تو جبران بھی افطاری کر رہا تھا۔ اس نے چاٹ بھی کھائی اور سموسے بھی ۔ پکوڑوں کے ساتھ بھی انصاف کیا اور رول بھی خوب اڑائے لیکن مجال ہے کہ اس کے منہ سے تعریف کا ایک کلمہ بھی نکلا ہو۔ حتیٰ کہ اسد کی کی گئی تعریف کی تائید میں بھی اس نے کچھ نہیں کہا تھا۔

’’بہت لکی ہو تم جبران !جو تمہیں نشا جیسے بیوی ملی ہے۔‘‘ افطار کے بعد بھی اسد کا تعریف نامہ جاری تھا۔ جبران جواباً استہزائیہ انداز میں مسکراتا رہا۔

آخر چائے پی کر اسد رخصت ہوا۔ جانے سے پہلے اس نے نشا کا خوب شکریہ ادا کیا۔ جبران اسے ایئرپورٹ چھوڑنے کے لیے جا رہا تھا۔

’’تم دونوں کے درمیان گڑبڑ چل رہی ہے ؟‘‘ راستے میں اسد نے جبران سے پوچھا۔

ڈرائیو کرتے ہوئے جبران کچھ دیر خاموش رہا پھر دھیرے سے بولا۔ ’’مجھے لگتا ہے کہ ہمارے مزاج نہیں ملتے۔ ‘‘

’’ہوں۔‘‘ اسد کچھ دیر سوچتا رہا۔ کار کی کھڑکی سے باہر اسلام آباد اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس اندھیرے میں سے مختلف قسم کی روشنیاں نکل کر باہر آ رہی تھیں۔ آس پاس کی بلڈنگز کی روشنیاں سڑک پر لگی لائٹس کی روشنیاں اور اردگرد چلتی ٹریفک کی روشنیاں۔ ان سب روشنیوں نے مل کر اندھیرے کو شکست دے دی تھی۔

’’تمہیں پتا ہے جب میری شادی ہوئی تھی تو میرے ساتھ کیا ہوا تھا۔‘‘اسد اس سے پوچھ رہا تھا۔ بلکہ جب میرا رشتہ طے ہوا تھا تب میرے ماں باپ ۔ بہن بھائی ۔ کزنز یہاں تک کہ ملنے جلنے والوں نے بھی مجھے نصیحتیں کرنی شروع کر دی تھیں اور تم جانتے ہو وہ کس قسم کی نصیحتیں تھیں۔‘‘

جبران خاموش رہا تاہم وہ دلچسپی سے اسد کی گفتگوسن رہا تھا۔

’’بیوی کو شروع سے ہی قابو میں رکھنے کے لیے گر اور طریقے ۔ ہاہاہا ۔‘‘ اسد ہنس رہا تھا۔ پھر وہ سنجیدہ ہو گیا۔

’’مجھے کہا گیا بیوی کی تعریف مت کرنا ورنہ وہ سر چڑھ جائے گی۔ اس پر پیسے مت خرچ کرنا ورنہ وہ تمہاری ساری تنخواہ لٹا دیا کرے گی۔ اس پر رعب رکھنا۔ اس سے دوستی مت کرنا۔ گپ شپ نہ کرنا۔ کوشش کرنا کہ وہ تمہارے ساتھ فری نہ ہو۔ اسے فاصلے پر رکھنا وغیرہ وغیرہ ۔‘‘

’’اور تم نے ان نصیحتوں پرعمل کیا۔‘‘ جبران نے پوچھا۔

’’دل و جان سے۔‘‘ اسد نے گہری سانس لی ۔ ’’اور اس کانتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے درمیان لڑائیاں شروع ہو گئیں۔ میں ہانیہ پر جتنا رعب جماتاوہ اتنا ہی ہتھے سے اکھڑ جاتی۔ ہمارے بیچ سے ہرقسم کا لحاظ اٹھ گیا ہم بچوں کی طرح آپس میں لڑتے رہتے۔‘‘

’’پھر.‘‘ جبران کے لہجے میں تجسس تھا۔

’’پھر.کچھ عرصے بعد مجھے اس بات کا احساس ہو گیا کہ ایک پڑھی لکھی لڑکی باس نما شوہر کے ساتھ ملازم بن کر کبھی نہیں رہ سکتی ۔‘‘

’’ظاہر ہے یار جب میں یہ چاہتا ہوں کہ میری بیوی میرے دکھ سکھ میں شریک ہو۔ میری ہمراز اور غم گسار ہو تو دوسری طرف میری بیوی بھی مجھ سے کچھ توقعات رکھتی ہے جن کا پورا کرنا میرے لیے ضروری ہے۔ میں اس کا خیال رکھوں گا تو میرا خیال رکھے گی۔ محبت دوں گا تو محبت ملے گی ناں۔‘‘

’’ہوں ۔‘‘ جبران نے سر ہلایا۔

’’تمہارے ساتھ بھی یقینا ایسا ہی ہوا ہو گا۔‘‘ اسد نے غور سے اس کی شکل دیکھی ۔ ’’ارینج میرج میں عام طور پر یہی ہوتا ہے۔ لڑکا اور لڑکی کی آپس میں انڈرسٹینڈنگ تو ہوتی نہیں ہے اوپر سے ہمارا معاشرہ ایسا ہے کہ ہر بندہ مفت مشورہ دینا اپنا فرض سمجھتا ہے اور کچھ ہم خود بھی اپنی بیویوں کو قابو میں رکھنے کے خواہش مند ہوتے ہیں ۔‘‘

’’اچھا اب اپنا لیکچر بند کرو۔ ایئرپورٹ آنے والا ہے۔‘‘ جبران اپنی جھینپ مٹانے کی غرض سے بولا۔

’’دوست بیوی کو اہمیت دینی پڑتی ہے ۔‘‘اسد ہنوز سمجھانے والے انداز میں بولا۔ ’’وہ شوہر کی لائف پارٹنر ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کی عزت ، گھر ، نسل سب اس کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔‘‘

’’تم کیا چاہتے ہو کہ بندہ بالکل ہی زن مرید بن کر رہ جائے۔‘‘ جبران نے چڑ کر کہا۔

’’ایک تو یہ جاہلانہ سوچ . ‘‘اسد نے افسوس سے اسے دیکھا ۔ ’’کم از کم تم جیسے پڑھے لکھے بندے سے مجھے اس بات کی توقع نہیں تھی۔‘‘ جبران شرمندہ ہو گیا۔

اسدنے اس کی شرمندگی محسوس کرلی بولا۔ ’’زندگی کو حسابی کتابی طریقے سے گزارو گے توبہت بورنگ ہو جائے گی۔ اسے پورے دل سے جیو یار۔‘‘

’’اوکے باس۔‘‘ جبران نے سر ہلایا۔ ’’اب نکلیں گاڑی سے ایئرپورٹ آ گیا ہے۔ ‘‘

٭٭٭

آج چاند رات تھی۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے زین نے مہرین کو منگنی کی انگوٹھی پہنائی تھی۔ اور اب وہ دونوں ٹیرس پر کھڑے تھے۔

’’مجھے تو چاند نظر نہیں آ رہا۔‘‘ مہرین نے آسمان کی طرف بغور دیکھتے ہوئے کہا۔

’’رویت ہلال کمیٹی والوں کو نظر آگیاہے ناں۔ بس کافی ہے۔‘‘ زین نے لاپرواہی سے کہا پھر شرارت سے اس کی طرف جھکا ۔

’’ویسے بھی میرا چاند تو میرے سامنے ہے۔‘‘

’’چیپ رومینس۔‘‘ مہرین نے سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ اپنی جھینپ مٹانے کو کہا۔

’’رومینس کبھی بھی چیپ نہیں ہوتا۔‘‘ زین جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اسے دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔

’’ہوتا ہے۔ میں ایک سو ایک مثالیں دے سکتی ہوں۔‘‘ مہرین چمک کر بولی۔

’’لیکن دینا مت۔‘‘ زین نے ہاتھ اٹھا کر اسے منع کیا ۔ ’’کیونکہ میں تو تم سے فل رومینس کروں گا چاہے تمہاری نظر میں کتنا ہی چیپ کیوں نہ ہو۔ ‘‘

مہرین ہنس پڑی۔

’’ویسے میرا وظیفہ کامیاب ہو گیاناں۔‘‘ زین نے فخریہ کہا۔

’’تم نے کیا ہی نہیں ہے۔ جھوٹ مت بولو۔‘‘ مہرین نے ماننے سے انکار کر دیا۔

’’سچ مچ کیا ہے۔ تبھی تو تم راضی ہوئی ہو۔‘‘ زین نے اسے قائل کرنے کی کوشش کی۔

’’مجھے تو امی نے زبردستی منایا ہے۔‘‘ مہرین نے بے نیازی برتی ۔

’’اب تم جو بھی کہو۔ تم میری ہو چکی ہو۔‘‘ زین نے کندھے اچکائے۔ ’’چلو آئو تمہیں چوڑیاں پہنوا کے لائوں۔ ‘‘

’’ابھی تو تم لوگ لائے ہو منگنی کے سامان میں ڈھیر ساری چوڑیاں‘‘ مہرین نے اسے یاد کرایا۔

’’اوہو ۔ تم آئو بازار جانے کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے چاند رات کو۔ ‘‘ وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے ساتھ لے گیا۔ دور کہیں چاند یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ چاند جو تھا لیکن نظر نہیں آ رہا تھا۔

٭٭٭

پچھلے کچھ دنوں سے دونوں کے درمیان خاموشی کا دور چل رہا تھا۔ نشا طیبہ کی ہدایت کے مطابق خاموش رہنے کی کوشش کر رہی تھی تو جبران بھی کسی سوچ میں گم نظر آتا تھا۔ بس ضرورت کی بات چیت ہی ہو رہی تھی ان کے بیچ ۔ ابھی تھوڑی دیر قبل ہی ٹی وی پر عید کا چاند نظر آنے کا اعلان ہوا تو جہاں نشا کو ایک فطری سی خوشی ہوئی وہیں ایک دھیمی سی اداسی بھی دل میں براجمان ہو گئی۔ کاش وہ اور جبران آپس میں خوش ہوتے۔ کاش ۔

نشا نے ٹی وی بند کیا اور اٹھ کر کچن میں چلی آئی۔ جبران وہاں چائے بنا رہا تھا۔

’’تم خود کیوں بنا رہے ہو چائے۔ مجھے کہہ دیتے ناں۔‘‘ نشائ حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔ جب سے شادی ہوئی تھی اس نے جبران کو گھر کا کوئی کام خود کرتے نہیں دیکھا تھا۔

’’کوئی بات نہیں۔‘‘ جبران سنجیدگی سے بولا۔ ’’آج میرے ہاتھ کی چائے پی کر دیکھو۔ ‘‘

’’عید کا چاند نظر آ گیا ہے مبارک ہو۔‘‘ نشا نے اسے اطلاع دی۔

’’ایسے دیتے ہیں مبارک باد ۔ اتنی دور کھڑے ہو کر۔‘‘

جبران نے معنی خیز نظروں سے اسے دیکھا۔ وہ جھینپ کر نظریں چرا گئی۔ جبران نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھاما۔

’’سوری نشا ۔ پچھلے دنوں میرا رویہ تمہارے ساتھ کچھ نا مناسب رہا۔‘‘

نشا نے آنکھیں پھیلائیں۔ ’’کچھ بہت زیادہ نا مناسب۔ ‘‘

’’ہاں مجھے اس بات کا احساس ہو گیا ہے اسی لیے تو سوری کر رہا ہوں۔‘‘ جبران اس کا ہاتھ پکڑے پکڑے چولہے کے پاس آیا اور چولہا بند کیا۔

’’سوری تو مجھے بھی کہنا ہے۔‘‘ نشا نے دھیمی آواز میں کہا ۔

’’میں بھی کچھ زیادہ ہی غصہ کرتی ہوں۔‘‘

’’کچھ بہت زیادہ غصہ ۔‘‘جبران نے اسی کے انداز میں آنکھیں پھیلائیں۔ دونوں ہنس پڑے۔

’’چوڑیاں پہننی ہیں۔‘‘ جبران نے پوچھا۔

’’ہاں لیکن چائے ۔‘‘ نشا نے چولہے پر رکھی چائے کی طرف دیکھا۔

’’اسے چھوڑو۔‘‘ جبران باہر کی طرف لپکا۔

’’تو بنائی کیوں تھی۔‘‘ نشا اس کے پیچھے تھی۔

’’تم سے بات کرنے کے لیے۔‘‘ جبران نے ٹیبل سے والٹ ، موبائل اور کار کی چابی اٹھائی۔

’’مجھ سے بات کرنے کے لیے۔‘‘ نشا نے حیرت سے دہرایا۔

’’ہاں میں جانتا تھا کہ جب تم کچن میں آئو گی اور مجھے چائے بناتا دیکھو گی تو ضرور مجھ سے بات کرو گی۔‘‘

’’اوراگر میں کچن میں نہ آتی تو۔‘‘ نشا نے پوچھا۔

’’تو میں چائے بناتا رہتا۔‘‘ جبران مسکرایا۔

’’کیا مطلب۔‘‘ نشا سمجھی نہیں۔

’’بھئی پرفیک چائے تھی۔ پچھلے آدھے گھنٹے سے میں اسے بنا رہا تھا۔‘‘ جبران مسکرایا۔ نشا ہنس پڑی۔

رمضان کی برکتوں نے واقعی ان کے مسائل حل کر دیے تھے۔ عید کے چاند نے ان کے آنگن میں اجالے بھر دیے تھے اور عید وہ تو تھی ہی اللہ کا انعام اور خوشی۔

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں