’دیکھو، ذرا ! ہر نیا سال اپنے ساتھ ایک نیا رنگ لاتا ہے اچھوتا اور انوکھا کلر جو سارا سال ان رہتاہے۔ تمام برینڈز بھی اپنی پروڈکٹ ڈریسز، جیولری اور میک اپ وغیرہ میں اسی کلر کو ہائی لائٹ کرتے ہیں۔ا یک طرح سے یہی ’’ کلر آف دی ایئر‘‘ ہوتاہے اور اس سال کا کلر ریڈ ش میرون ہے۔ ‘‘ ( اس نے موبائل دوسرے کان پر منتقل کیا)
’’ سن رہی ہونا کہ میں کیا کہہ رہی ہوں۔ ریڈش میرون، اور میں نے سوچاہے کہ ماہی کی مہندی پر میں اسی کلر کا شرارہ بنواؤں گی۔اب تم بتاؤ کہ سلورپٹی لگواؤں یا پھر گولڈن۔‘‘
’’کیا . گولڈن. ہاں میرا بھی یہی خیال ہے کہ گولڈن ہی خوب اٹھے گی۔ گلے کا ڈیزائن میں نے نیٹ پر دیکھا ہے۔ لمبی پٹی پر گولڈن فینسی بٹنوں کی قطار. اب تم میرے ساتھ بانو بازار چلنا. بٹنوں کی وہاں بڑی ورائٹی ہے۔‘‘
’’ہاں. ہاں. مڈم ٹرم ہوجائے پھر چلیں گے۔‘‘ (اتنے میں سارا اندر داخل ہوئی۔ اس نے ہاتھ میں ٹرے تھام رکھی تھی جس پر دو چائے سے بھرے مگ دھرے تھے۔ وہ ٹرے اس کے سامنے رکھی چھوٹی ٹیبل پر رکھ دیتی ہے۔ وہ ہاتھ بڑھاکر ایک مگ اٹھاتی ہے اور پھر جلدی سے ایک گھونٹ لیتی ہے۔)
’’اف سارا. اتنی چینی. کیابھول گئیں۔ ہم دونوں تو آج کل ڈائٹ پر ہیں۔‘‘
’’کیا. زارا. ہیلو. اچھا تو تمہاری کوئی کال آرہی ہے اوکے. پھر بات کریں گے۔‘‘
’’نا تم کیا کہہ رہی تھیں زارا سے کر ماہی کی مہندی پر ریڈش میرون شرارہ بنواؤں گی۔‘‘ سارا کارپٹ پر آلتی پانی مار کر بیٹھتے ہوئے کچھ خفگی سے کہنے لگی۔
’’ہم سب لڑکیاں تو مونگیارنگ کے بنوارہی ہیں۔ تم نے ا پنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ضرور بنانی ہے۔ اماں نے تو روبی آنٹی کو آرڈر بھی دے دیا ہے کہ مونگیا سلک کا ایک تھان بھجوادے۔‘‘
’’ اف مونگیا. یہ تو آؤٹ آف فیشن ہوچکاہے۔ ‘‘
’’شاید دو ہزار بائیس (2022ئ ) کا تھا یہ کلر، اس سال تو ریڈش میرون. ‘‘
’’ بس کردو !دیا حد ہوتی ہے کوئی۔ مہندی پر ہرے اور پیلے ہی پہنے جاتے ہیں۔ اب تم اماں کا علیحدہ سے خرچا نہ کرواؤ ۔‘‘
’’خرچے کی تم فکر نہ کرو۔ میرے پاس اپنی پاکٹ منی رکھی ہے۔ اسی سے کپڑا خرید لوں گی ۔ جیولری اور گولڈن سینڈل میرے پاس پہلے سے موجود ہیں۔ گولڈن پراندہ میں زارا کا مانگ لوں گی۔‘‘
سارا سمجھ گئی کہ وہ پکا پروگرام بناکر بیٹھی ہے۔ پھر جو وہ سوچ لے وہی کرکے دم لیتی ہے۔ اس لیے اس نے مزیدبحث کا ارادہ ترک کرکے چپ چاپ اپنا مگ اٹھایا اور چائے پینے لگی۔
٭٭٭
ٹی وی لاؤنج میں سامان بکھرا پڑا تھا۔ دو سوٹ کیس بھی کھلے ہوئے تھے۔ سلائی مشین کے سامنے بیزار سی ماہی بیٹھی تھی۔ عالیہ بیگم نے اپنے چشمے کا زاویہ درست کیا اور کپڑے کو غور سے دیکھا۔
’’ بیٹا . ؟؟ یہ تم نے سلائی لگائی ہے۔ اتنی ٹیرھی میڑھی چلو ادھیڑ کر دوبارہ لگاؤ۔ ‘‘ وہ کچھ ڈپٹ کر بولیں۔
’’کیا ہے اماں.مجھے سمجھ نہیں آرہا جب آپ مجھے ڈھیر ساری ریڈی میڈ بیڈ شیٹ دے رہی ہیں جن کے ساتھ سلے سلائے تکیے بھی موجود ہیں تو پھر یہ اضافی کور کیوں بنوارہی ہیں؟‘‘
’’دیکھو ماہی!گھر میں کتنے تکیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ تمہاری نانی اماں نے مجھے جو جہیز میں دیے تھے وہ ابھی تک چل رہے ہیں۔ پھر تمہارے سسرال میں تو مہمان داری بھی بہت رہتی ہے ، ویسے بھی ہاتھ سے سلائی کیے ہوئے کو ر زیادہ نفیس اور پائیدار ہوتے ہیں۔ یہ بازار والے تو کچی سلائیاں لگاتے ہیں پھر جلدی ادھڑ جاتے ہیں۔ چلو شاباش مشین چلاؤ ۔‘‘
ماہی نے ذرا زیادہ ہی جارحانہ انداز میں مشین چلائی تو مشین ایک دم سے چلتے ہوئے رک گئی۔ ساتھ ہی کچھ ٹوٹنے کی آواز آئی۔
’’شاید سوئی ٹوٹ گئی ہے۔‘‘
’’تم سے نہیں ہوگا یہ . چھوڑو اسے، میں کرلیتی ہوں۔ تم کچن میں جاؤ، پالک صاف کی ہوئی رکھی ہے۔ اسے باریک باریک کاٹو۔‘‘ انہوں نے مشین اپنی جانب کھسکاتے ہوئے کہا۔
’’ہائے اللہ تائی جی! اس بیچاری سے پالک کٹوارہی ہیں۔ اس کا تو سبز پانی اس کے ناخنوں میں گھس جائے گا۔ ابھی پرسوں ہی تو اسکا مینی کیور کروایاتھا۔ ‘‘ دیا نے اندر آتے ہوئے سنا تو تڑپ اٹھی۔
’’لوجی ! ایک تو یہ پہلے ہی اتنی کام چور ہے۔ اوپر سے اس کے حمایتی بہت ہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ یہ کچھ پکانا ریندھنا سیکھ لے۔‘‘وہ کچھ خفگی سے بولیں۔
’’آتا تو ہے اس کو پکانا ریندھنا. آخر کوکنگ کورس کر تو رکھا ہے اس نے.‘‘ دیا کو بروقت یاد آیا۔
’’وہ رنگ برنگی ڈشز اور مہنگے کھانے. ہر روز گھروں میں کہاں پکتے ہیں۔ دال سبزی بنانا تو سیکھے پہلے۔ اب کیا سسرال والے کیک کے ساتھ روٹی کھائیں گے۔‘‘
اس بات پر دونوں کھی کھی کرنے لگیں۔ انہوں نے گھور کر دیکھا تو ماہی دیا کو لیے باورچی خانے میں چلی گئی۔
’’مجھے تو لگتاہے کہ میری شادی نہیں ہورہی بلکہ مجھے سولی چڑھایاجارہاہے ۔ اماں مجھے ہرکاکام سکھانے پر تلی ہوئی ہیں۔ اب میراننھا سا دماغ ہے۔ بھلا اس میں اتنا کچھ کیسے ٹھونسوں۔‘‘ ماہی سخت اوزار تھی۔
’’لڑکے کتنے خوش نصیب ہوتے ہیں ۔ ان کی ایسی کوئی مشکلات نہیں ہوتیں انہیں تو کچھ بھی سیکھنا نہیں پڑتا۔‘‘ ماہی نے پرات اور چھری اٹھائی۔
’’بس وہ اچھا شوہر بننا سیکھ لیں۔ یہی بہت ہے۔‘‘
’’ تم فکر نہ کرو۔ حسان بھائی ان شائ اللہ بہت اچھے شوہر ثابت ہوں گے ۔‘‘ دیا نے چھری اور پرات اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے شرارت سے کہا تو ماہی بری طرح سے جھینپ گئی۔
٭٭٭
سارے ضروری کام نمٹاکر وہ رات گئے گھر آیا تو ہر طرف خاموشی اور سناٹے کا راج تھا۔ بھوک زوروں کی لگی تھی۔ وہ منہ ہاتھ دھوکر کچن کی جانب چلا آیا۔ دروازہ ادھ کھلا تھا۔ بتی جل رہی تھی۔ اس نے ذرا سا دھکادے کر دروازہ پورا کھولا تو ایک ہلکی سی نسوانی چیخ سنائی دی۔ وہ بوکھلاکر تیزی سے اندر داخل ہوا۔ سامنے زیبی گھٹنوں کے بل گری پڑی تھی۔
وہ شاید دروازے سے ٹیک لگاکر بیٹھی تھی۔ جھٹکا لگنے پر لڑھک گئی۔ ’’ اف . سوری. ‘‘ اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔ ’’تم اس وقت یہاں کیا کررہی تھیں؟‘‘ اس کی کوفت مزید بڑھ گئی۔
’’ کھانا گرم کرنے آئی تھی۔‘‘ وہ شرمندہ سی اٹھ کر جلدی سے دیگچی سے پیالے میں سالن نکالنے لگی۔ پھر اس نے باؤل اوون میں رکھ کر سوئچ دبایا۔
’’کیا تم نے ابھی تک کھانا نہیں کھایا تھا؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔ وہ بھوک کی بہت کچی تھی۔ گھرمیں سب سے زیادہ کھانے پینے کی شوقین بھی رہی تھی۔ سونے پہ سہاگہ کچن کی زیادہ تر ذمہ داری بھی اسے ہی سونپ دی گئی تھی۔ اور اس کا صحت مند وجود اب مائل بہ خرابی تھا۔ مگر پروا کس کو تھی اب بھی اس نے چن کردو لیگ پیس پلیٹ میں نکالے تھے۔
’’ میں نے تو مامی کے ساتھ ہی کھالیا تھا یہ تو آپ کے لیے گرم کررہی ہوں۔‘‘
’’میرے لیے کیوں؟ میں خود کرلیتا ۔‘‘ اسے اپنی پہلے والی سوچ پر تھوڑی شرمندگی ہوئی۔
’’مامی بتارہی تھیں کہ آپ کواوون چلا نا نہیں آتا۔‘‘
’’تو یہ گیس والا چولہا جو ہے۔‘‘
’’گیس اس وقت کہاں آتی ہے؟‘‘ وہ اس کی بے خبری پر ہنسی۔
پھر اس نے روٹیاں اور سالن کی پلیٹ سامنے ٹیبل پر دھری اور چائے بنانے کے لیے پتیلا اٹھایا۔
’’رہنے دو. ‘‘ اس نے ہاتھ کے اشارے سے منع کیا۔ ’’ میں چائے نہیں پئیوں گا۔ ورنہ نیند نہیں آئے گی۔‘‘
’’اچھا. تو پھر یہ کھالیجیے گا۔‘‘ اس نے کیبنٹ سے ایک چھوٹا سا ڈبا نکالا۔ اس کا ڈھکن ہٹایا۔ اندر بیسن کی مٹھائی موجود تھی۔ ’’ مامی نے بنائی ہے۔‘‘ اس نے ڈبا اس کے پاس رکھا اور پھر اس میں سے ایک بڑا سا پیس اٹھایا اور کھاتے ہوئے باہر نکل گئی۔
’’اس لڑکی کا کچھ نہیں ہوسکتا۔‘‘ اس نے کھانا کھاتے ہوئے سردائیں بائیں گھمایا۔
٭٭٭
کھانے کے بعد اس نے برتن سمیٹے کچن کا دروازہ بند کیا۔ ابا جان کے کمرے کے دروازے کے سامنے سے گزرتے ہوئے اسے ان کے کھانسنے کی آواز سنائی دی۔ شاید وہ جاگ رہے تھے۔ ’’ ابا جان۔‘‘ اس نے ہلکے سے دروازہ بجایا۔
’’ آؤ ولی! ‘‘ وہ اندر داخل ہوا۔ ’’ آپ سوئے نہیں ابھی تک؟طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘اس نے تشویش سے پوچھا۔
’’ہاں ٹھیک ہے.! تم بتاؤ منشی سے بات ہوئی تمہاری؟‘‘
’’جی ہاں. آج بات ہوئی تھی کچھ گاہک لگے تو ہیں اس کے مگر وہ دام کم دے رہے ہیں۔‘‘
’’میں چاہتاہوں کہ جلد از جلد زمین بک جائے تاکہ ہم وہ چوہدری اشفاق والی کوٹھی خرید لیں۔ اچھے علاقے میں جائیں گے تو شاید لڑکیوں کا بھی کوئی اچھا سبب بن جائے۔‘‘ ان کالہجہ فکر مند ساتھا۔
’’آپ فکر نہ کریں ابا. ! زمین اچھے داموں بک جائے تو گھر بھی خرید لیں گے۔ میری بات ہوئی تھی چوہدری اشفاق کے سکریٹری سے فی الحال تو وہ اپنے بیٹے کے پاس یو کے گئے ہوئے ہیں۔ ان کی واپسی پر بیعانے کی رقم تو ہم ادا کردیں گے۔ باقی کا بھی ان شائ اللہ انتظام ہوجائے گا۔ ‘‘ اس نے انہیں تسلی دی۔
’’ہاں ان شائ اللہ ! اب تم جاکر آرام کرو۔ رات بہت ہوگئی ہے۔‘‘وہ تھکا ہارا تھا کمرے میں آتے ہی بستر پر ڈھیر ہوگیا۔ مگر نیند کی دیوی بڑی دیر بعد مہربان ہوئی۔
٭٭٭
ماہی کی شادی کی تیاریاں خوب جوش وخروش سے ہورہی تھیں۔ گھر کی پہلی شادی تھی خوب ارمان نکالے جارہے تھے۔ لڑکیوںنے مہندی کے لیے مونگیا شرارے سلنے دیے تھے مگر دیا بڑے سکون سے پھر رہی تھی۔
’’بھئی میری کوئی فکر نہ کرے۔ میں نے آن لائن ریڈش میرون شرارہ آرڈر کردیاہے۔ بڑا دیدہ زیب ہے۔ بس کرتی کا گلا کچھ سادہ ہے۔ وہاں میں بٹن لگالوں گی۔‘‘
’’باقی چیزیں بھی آن لائن آرڈر کردو۔‘‘ سارا کا منہ پھولا ہوا تھا۔
’’ نہیں ! وہ میں مڈٹرم کے بعد زارا کے ساتھ بانو بازار جاکر خرید لوں گی ۔‘‘ انداز خاصا لاپروا تھا۔ سارا مزید جل بھن گئی۔
٭٭٭
موسم بدل رہاتھا۔ ساری فضا پر دھند کا راج تھا۔ آسمان پر سفید دھویں کی چادر تنی تھی۔ دوپہر میں مطلع کچھ صاف ہوتا شام میں پھر سب کچھ دھواں دھواں ہوجاتا۔ حکومت نے ملک میں فوگ ایمرجنسی نافذ کردی۔ تعلیمی ادارے بند ہوگئے۔ دیا کے مڈٹرم بھی کینسل ہوگئے۔ جب حالات کچھ بہتر ہوئے تو روز مرہ کی سرگرمیاں بحال ہوئیں۔
دیا کے امتحانات کانیا شیڈول بنا۔ جب وہ امتحانات سے فارغ ہوئی تو ماہی کی شادی سر پر کھڑی تھی۔ تمام لڑکیاں تو اپنی شاپنگ کرکے فارغ ہوچکی تھیں مگر اس کی تو کوئی تیاری ہی نہیں تھی۔
اب حال یہ تھا کہ اس کے ہاتھ پاؤں پھولے جارہے تھے۔ اس نے جھٹ زارا کو فون کھڑکایا۔
’’زارا ! آج ہی بازار چلتے ہیں۔ ہم بہت لیٹ ہوچکے ہیں۔‘‘
٭٭٭
رکشہ کرواکر دونوں بانو بازار پہنچیں۔ بے تحاشا رش تھا۔ اتنی شدید گرمی کے بعد خدا خدا کرکے تو کچھ موسم ٹھنڈا ہوا تھا۔ اس لیے کب کی رکی شادیاں بھی دھڑا دھڑ ہورہی تھیں، کپڑے ، جیولری اور جوتوں کی دکانوں پر تو عورتوں اور لڑکیوں کا ہجوم جمع تھا۔ اس بازارمیں نسبتاً سستے داموں چیزیں فروخت ہوتی تھیں۔ اس لیے یہاں ہمیشہ ہی رش کا کم وبیش یہی عالم ہوتا تھا۔
دونوں کا ارادہ تو تھا کہ جیولری تو ڈھیر ساری رکھی ہے وہ نہیں خرید مگر ایک جگہ جیولری آئٹمز کا اسٹال لگا تھا۔ دیا جھٹ گولڈن جھمکوں پر فدا ہوگئی اور زارا نے دو کنگن خرید لیے۔ کچھ مزید اضافی چیزیں خریدنے کے بعد دونوں کو خیال آیا کہ اصل میں جس چیز کی خریداری کے لیے وہ دونوں بازار آئی تھیں تو وہ بھول ہی گئیں۔ ’’ ہائے اللہ زارا ! میرے فینسی بٹن تو رہ ہی گئے۔ ‘‘
’’اب ’’ شاہین دھاگہ بٹن‘‘ تو شایدبہت پیچھے ہے۔ ‘‘دونوں واپس پلٹیں۔ دکان پر آج کوئی نیا شخص کاؤنٹر پر بیٹھاتھا۔
دونوں نے شو کیس میں سجے بٹن پسند کرنے شروع کیے۔
’’ ذرا یہ تو نکال دیں ۔‘‘ دیا نے جگمگ جگمگ کرتے گولڈن بٹنوں کی طرف اشارہ کیا۔
’’دیکھیں جی وہ. دیکھیں. یہ دکان میرے دوست کی ہے۔ وہ کچھ دیر کے لیے مجھے کھڑا کرکے گھر ضروری کام سے گیا ہے۔
آپ بعد میں تشریف لے آیئے گا۔‘‘ سرمئی شلوار قمیص میں ملبوس ایک لمبا سا لڑکا شائستگی سے معذرت کرنے لگا۔
’’کیا بعد میں. ؟‘‘ دیا نے تیوری چڑھائی۔
’’ ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ آپ ابھی دے دیں۔‘‘
’’وہ جی دراصل وہ دوسرا مدد گار لڑکا بھی موجود نہیں ہے۔‘‘ وہ کچھ ہچکچارہاتھا۔ دیا کو تپ چڑھی۔
’’مسٹر ہم کو ن سا مفت لے رہے ہیں جو آپ یوں آناکانی کررہے ہیں۔‘‘
’’مگر مجھے قیمت کا بھی اندازہ نہیں ہے۔‘‘ اس کے لہجے میں بے چارگی تھی۔
’’مگر ہمیں تو ہے۔ اگر آپ کو نہیں ہے تو اپنے دوست سے فون پر پوچھ لیں۔‘‘ دونوں نے اس کے انکار کو خاطر میں لائے بغیر بٹن خرید کر ہی دم لیا۔
٭٭٭
دونوں دکان کی سڑھیاں اتررہی تھیں جب زن سے ایک موٹرسائیکل ان کے بالکل پاس سے گزری۔ اس پر بیٹھے دو لڑکوں میں سے پیچھے والے نے دیا کی کلائی پر کچھ چبھویا۔ بس ایک لمحہ لگا اور وہ اس کا بریسلیٹ کسی چیز سے کاٹ کر یہ جا وہ جا۔ دونوں ہراساں سی کھڑی کی کھڑی رہ گئیں۔
’’ ہائے زارا میرا بریسلٹ ‘‘ دیا نے اونچی آواز میں رونا شروع کردیا۔ وہ اس کی ایک عزیز ترین دوست نے گفٹ دیاتھا جو اب بیرون ملک شفٹ ہوگئی تھی۔
’’ہائے اللہ! تمہاری کلائی سے تو خون نکل رہا ہے۔‘‘ زارا نے گھبراکر اپنا دوپٹا ا س کی کلائی پرلپٹنا شروع کردیا ۔
’’کیا ہوا. کیا ہوا. ؟‘‘ اب وہ کاؤنٹر والا لڑکا بھی تیزی سے ان کے پاس آیا۔ دیا تو مسلسل روئے جارہی تھی۔ کچھ اور دکان دار بھی جمع ہوگئے۔
’’ پولیس میں رپورٹ درج کروانی چاہیے۔‘‘
’’آج کل اسٹریٹ کرائم کس قدر بڑھ گئے ہیں۔‘‘
’’عورتوں کو زیورات وغیرہ پہن کر گھر سے ہی نہیں نکلنا چاہیے۔
بھانت بھانت کی آوازمیں رنگ برنگے مشورے ،اب ان دونوں کی تو سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں۔ ہجوم دیکھ کر موٹرسائیکل پر ایک پولیس والابھی وہیں آپہنچا۔ لوگوں کے بتانے پر آگے بڑھ کر دونوں سے کہنے لگا۔
’’بی بی آپ تھانے چل کر رپورٹ درج کروائیں۔‘‘
’’ یہ کیوں تھانے جائیں۔ آپ یہیں ان کی رپورٹ درج کریں بلکہ ابھی پیچھے جائیں وہ لڑکے یہیں کہیں گھوم ورہے ہوں گے۔ ‘‘ کاؤنٹر والا لڑکا ناراضی سے پولیس والے سے کہنے لگا کچھ اور لوگ بھی اس کی حمایت کرنے لگے۔ دونوں کو کچھ حوصلہ ہوا۔
’’ اچھا , میں آن لائن ہی رپورٹ درج کرلیتا ہوں۔ آپ اپنے گھر میں سے کسی کا نمبر دے دیں تاکہ آپ کو اطلاع کی جاسکے۔‘‘
دیا کے تو حواس جواب دے چکے تھے۔ زہرا نے ہی اس کے چھوٹے بھائی فرحان کا نمبر لکھوادیا۔ ذرا ہجوم منتشر ہوا تو وہ بھی جانے لگیں۔ دیا کی کلائی سے اب بھی خون رس رہاتھا۔ زار انے مضبوطی سے اپنے دوپٹے کا پلو اس کے اردگرد لپیٹ رکھاتھا۔
’’ارے ان کی امداد کا تو کسی کوخیال ہی نہیں آیا۔ آپ اندر تشریف رکھیں میں قریب ہی سے ایک میڈیکل اسٹور والے کوبلا لاتا ہوں۔‘‘
زارا نے ممنون نظروں سے دیکھا۔ پھر تھوڑی دیربعد ہی وہ ایک لڑکے کو ہمراہ لیے پلٹ آیا۔ اس لڑکے نے دیا کے بازو کی مرہم پٹی کی۔ دیا تو چپ چاپ سسکیاں بھرتی رہی۔ زارا نے ہی اس کا شکریہ ادا کیا۔ پھر اس نے وہیں سے ان دونوں کو رکشہ کروادیا اور وہ دونوں اس میں بیٹھ کر روانہ ہوگئیں۔
٭٭٭
کئی روز تک وہ دونوں یہ واقعہ یاد کرکے ہراساں ہوتی رہیں۔ دیا کی نظر جب اپنی سونی کلائی پر پڑتی تو اس کے دل میں ایک ہوک سی اٹھتی۔ مائرہ نے کتنے پیار سے جاتے وقت وہ بریسلیٹ اس کی کلائی میں پہنایا تھا۔ اب وہ کہاں سے ملے گا۔‘‘
وہ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی اپنی کرتی کو بٹن لگارہی تھی جب قریب ہی موبائل بجنے کی آواز آئی۔ فرحان اپنا موبائل چارجر پر لگاکر خود اکیڈمی چلاگیاتھا۔ پہلے تو اس نے کال کاٹ دی مگر جب دوسری اور تیسری بار بھی فون بجتا رہا تو وہ سوچ میں پڑ گئی۔ فرحان اس کا چھوٹا بھائی تھا۔ اس کے دوست اسے آپی کہاکرتے تھے۔ اس نے سوچاکہ کسی کو بے حد ضروری کام نہ ہو۔ دوبارہ فون بجا تو اس نے اٹھایا ۔
’’ہیلو کون؟‘‘ اس نے محتاط لہجے میں پوچھا۔
’’ وہ . جی . میں شاہین دھاگہ بٹن‘‘ سے بات کررہاہوں۔‘‘
’’جی کیا ’’شاہین دھاگہ بٹن؟‘‘ وہ گم صم سی ہوگئی۔ بے اختیار آنکھوں کے سامنے سرمئی کپڑوں والے لڑکے کا سراپا گھوم گیا۔
’’جی فرمائیے؟‘‘ اس نے روکھے سے لہجے میں پوچھا۔
’’ وہ جی. اس دن آپ کے ساتھ حادثہ پیش آیاتھا پولیس والے نے آن لائن رپورٹ درج کی تھی۔ ایک کاپی میرے پاس بھی تھی۔ ان لوگوں نے تو اس معاملے میں شاید کچھ نہیں کیا مگر مارکیٹ والوں نے اپنی مدد آپ کے تحت چند آوارہ اور مشکوک لڑکوں کو پکڑاہے جو شاپنگ کے لیے آنے والی لڑکیوں سے پرس اور جیولری، موبائل، وغیرہ چھین لیتے ہیں۔
ان سے مال وغیرہ تو کچھ نہیں ملا۔ ہاں البتہ کچھ رقم ضرور برآمد ہوئی ہے وہ مارکیٹ یونین کے صدر کے پاس ہے۔ آپ بھی اپنا نقصان بتادیں ساری رقم تو نہیں بہرحال آدھی پونی شاید مل ہی جائے گی۔‘‘
بریسلیٹ نہ ملنے کا سن کر اس کا دل ایک بار پھر دکھ سے بھرگیا۔
’’وہ شاید بہت مہنگا تھا، گولڈ وغیرہ کا. میں نے کہا تو ہے کہ ساری قیمت تو نہیں مگر کچھ نہ کچھ تو آپ کو مل ہی جائے گا۔‘‘وہ اس کی خاموشی سے کچھ اور ہی سمجھ رہا تھا۔
’’ جی وہ اتنا قیمتی نہیں تھا. گولڈ کا بھی نہیں تھا۔ آرٹی فیشنل تھا۔ شاید دو تین ہزار کا.‘‘ وہ دھیرے سے بولی۔
’’کیا کہا. آرٹی فیشل . صرف د وتین ہزار کا.‘‘ وہ حیرت سے چیخ اٹھا۔
’’ اس سستے سے بریسلیٹ کے لیے آپ نے اس دن بازار میں اتنا ہنگامہ کھڑا کیے رکھاتھا۔ میں نے ایویں اتنی بھاگ دوڑ کی۔‘‘وہ مایوسی کی حد پر تھا۔
اس کے ان خیالات پر وہ بھڑک اٹھی۔
’’مسٹر! کیا سمجھتے ہیں آپ کہ صرف سونے چاندی سے بنی چیزیں قیمتی ہوتی ہےں۔ خلوص، وفا اور محبت کی کوئی قیمت نہیں ہوتی وہ کسی کا دیا ہوا تحفہ تھا جومجھے سونے سے بھی زیادہ قیمتی لگتاتھا۔ پھر میں نے کب آپ کی منتیں کی تھیں کہ آپ بھاگ دوڑ کریں۔ نہ کرتے.‘‘ ا س نے بڑے خراب موڈ کے ساتھ فون بند کردیا۔
٭٭٭
ولی کا آج سارا دن بھاگم دوڑی میں گزرا تھا۔ زرعی زمین کا اچانک ایک اچھا گاہک مل گیا تھا۔ منشی کی مدد سے اس نے کاغذی کارروائی مکمل کی۔ اب چند روز تک ان کے اکاؤنٹ میں اتنی رقم ٹرانسفر ہوئی کہ وہ چوہدری اشفاق والی کوٹھی خرید لیتے۔ اس نے فارغ ہوکر گھر اطلاع دی تو زیبی کا جھٹ میسیج آگیا۔
’’ماموں جان کہہ رہے ہیں کہ مٹھائی لیتے آیئے گا۔‘‘
’’وہ سمجھ گیا کہ یہ ماموں سے زیادہ ان کی بھانجی کی فرمائش ہے۔‘‘
بہرحال وہ مٹھائی لے کر ہی گھر گیا۔ کچن سے پکوڑے تلنے کی سوندھی سوندھی مہک آرہی تھی۔
’’ میں نے سوچا میٹھے کے ساتھ کچھ نمکین بھی ہوجائے۔‘‘ زیبی کا مسکراتاہوا چہرا برآمدہوا۔
’’اتنا کھاکھاکر ڈھولو بھولو بن گئی ہو تم۔ رانیہ ثانیہ آپی کو دیکھاہے کتنا کم کھاتی ہیں؟‘‘
’’ وہ تو ڈائٹ پر رہتی ہیں ہر وقت۔ اپنے رشتوں کی ٹینشن جو ہے انہیں جبکہ میرا ایسا کوئی ایشو نہیں ہے۔‘‘ اس نے پکوڑوں کی پلیٹ اس کی جانب بڑھائی۔
’’ کیوں کیا تم پیادیس نہیں سدھارو گی۔ یونہی ہمارے سینوں پر مونگ دلتی رہوگی۔‘‘ اس نے چھیڑا۔
’’ میری بیوی آکر تمہیں نکال باہر کرے گی۔‘‘ اس نے ڈرایا۔
’’ جاؤ منہ دھوکر رکھو۔ تمہاری بیوی کی تو ایسی کی تیسی۔‘‘ اس نے آستین چڑھائیں۔
’’ نہ بابا نہ وہ بے چاری واقعی تمہارا مقابلہ نہیں کرپائے گی۔ ‘‘ اس نے اس کے صحت مند وجود کودیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگائے ۔ پھر دونوں کھکھلاکر ہنس پڑے۔
٭٭٭
ماہی کی شادی قریب ہی تھی مگر تیاریاں ابھی بھی آدھی ادھوری تھیں۔ سب ہی مصروف تھے۔ دیا مہندی کے ڈیزائن سرچ کررہی تھی جب اماں چلی آئیں۔ ’’ دیا ذرا! میرے ساتھ مسز قریشی کے ہاں تو چلو۔‘‘
’’ وہ کیوں اماں.؟‘‘
انہوں نے ہمارے پیچھے جو سفید کوٹھی ہے نا چوہدری اشفاق والی وہ خریدی ہے۔ اور آج اس کے گھر میں محفل میلاد ہے۔‘‘
’’مگر اماں مجھے تو آج بہت کچھ کرناہے۔‘‘
’’مجھے پتا ہے تم نے آج کچھ بھی نہیں کرنا سوائے اس موئے موبائل کو کھنگالنے کے ۔‘‘
’’اماں پلیز سارا کولے جائیں۔‘‘
’’اس نے سر میں تیل ڈال رکھا ہے۔ شام میں نہائے گی۔‘‘
’’تم چلو ہم ایک گھنٹے میں آجائیں گے۔‘‘
پھر اس کی نہ نہ کی پروا کیے بغیر اماں نے اسے تیار کرواکر ہی دم لیا۔
’’اماں ابھی تو صرف نو بجے ہیں۔‘‘
’’ہاں تو انہوں نے نو بجے ہی بلایاہے۔ وہاں جاکر سپارہ بھی پڑھنا ہے۔ سخت بری لگتی ہیں مجھے وہ عورتیں جو عین کھانے کے وقت پہنچ جاتی ہیں۔‘‘
٭٭٭
سفید دودھیا کوٹھی بڑی شان سے کھڑی تھی۔ سفید درودیوار پر کالا حاشیہ اس کی سجاوٹ کو مزید بڑھارہاتھا۔ جہازی سائز گیٹ پر سفید اور سیاہ دھاریاں تھیں۔ ’’ ہائے اللہ ! اماں کاش ہم خرید لیتے۔‘‘دیا دیکھ کر سحر زدہ سی رہ گئی۔
’’ کروڑوں کی ہے۔ تمہارے باوا کے پاس ہیں اتنے پیسے۔ جنہوں نے خریدی ہے۔ اللہ ان کے نصیب میں کرے۔‘‘
دونوں اندر داخل ہوئیں تو وسیع وعریض لان پر دریاں بچھی تھیں ،ساری فضا خوشبوؤں سے معطر سی تھی۔ اکا دکا ملازم ادھر ادھر کاموں میں مصروف تھے۔
’’اماںمیں نے کہاں تھا نا کہ ابھی کوئی بھی نہیں آیا ہوگا۔‘‘وہ کوفت سے بولی ۔
وہ مزید آگے بڑھیں تو ایک ملازمہ جھٹ ان کے استقبال کو لپک کر آئی۔ اندرونی حصے سے سفید چکن کاری کے قمیض شلوار میں ملبوس سو برس مسز قریشی بھی چلی آئیں۔ بے حد پتاک سے ملیں۔ دیا نے ایک سپارہ اٹھایا اور دری پربیٹھ کر پڑھنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد گیٹ کھلا اور آنے والا پنی جھونک میں اندر داخل ہواکر بلند آواز سے چلایا۔
’’ فضلو! یہ دستر خوان کچن میں لے جاؤ۔‘‘
دیا نے بے اختیار سر اٹھاکر دیکھا آنے والے سے نظریں ٹکرائیں اور پھر دونوں اپنی جگہ ساکت رہ گئے۔ وہ شاہین دھاگہ بٹن‘‘ والا لڑکا گیٹ کے عین بیچوں بیچ بت بنا کھڑا تھا۔ سفید شیفون کے دوپٹے میں وہ سنہری رنگت والی غصیلی سی لڑکی آنکھوں میں بے پناہ حیرت لیے اسے تک رہی تھی۔ ا س کے بریسلیٹ کے نہ ملنے کا دکھ اسے کئی دن ستاتا رہاتھا۔
اس دن بازار میں سسکیاں بھرتی ہوئی وہ لڑکی اور اب ہل ہل کر سپارہ پڑھتی ہوئی کتنی مقدس اور پاکیزہ دکھ رہی تھی۔ منظر آنکھوں میں کھب سا گیا۔
’’ولی! گلاب کی پتیاں بھی لے آؤ۔‘‘ اچانک زیبی باہر آتے ہوئے بولی۔ اس نے اپنا سرجھٹکا اور تیزی سے پلٹ گیا۔ دیا کی رکی ہوئی سانس بحال ہوئی۔
٭٭٭
ماہی کی آج مہندی تھی۔ گھر مہمانوں سے بھرا پڑا تھا۔ روشنی اور رنگوں کی برسات اتری ہوئی تھی۔ رنگین آنچل لہرارہے تھے۔ لڑکیاں تیار ہوکر تائی جی کے پورشن کی جانب جارہی تھیں۔
ہاتھوں پر گجرے لپٹتی اندر داخل ہوئی تو دیا شرارہ زیب تن کیے خود کو گھوم گھوم کر ڈریسنگ ٹیبل میں دیکھ رہی تھی۔
’’ واؤ! دیا! کتنی پیاری لگ رہی ہو۔‘‘ سارہ نے بہن کو ستائشی نظروں سے دیکھا۔
’’ دیکھا! میں نے کہاتھا نا کہ یہ کلر بہت اٹھتا ہے۔ اب سارا سال یہی کلر خوب ان رہے گا۔‘‘
’’اچھا باباً! اب تم ماڈلنگ بند کرو اور جلدی چلو ماہی کے میسیج آرہے ہیں۔‘‘
جس وقت وہ دونوں تایاجی کے گھر کے عین سامنے پہنچیں۔ اسی وقت ایک سفید گاڑی بھی ان کے پاس آرکی۔ مسز قریشی اور ان کی بیٹیاں باہرنکل رہی تھیں۔ فرنٹ سیٹ پر بیٹھا ولی سحر زدہ سا سامنے سے آنے والی اس میرون لباس والی پری کو دیکھ رہاتھا جس کی آج سج دھج ہی نرالی تھی۔ اندر خانے کہیں وہ اس کی دید کی آس میں ہی یہاں آیاتھا حالانکہ زیبی نے کہابھی تھا کہ پچھلی گلی میں تو گھر ہے ہم پیدل ہی چلے جائیں گے۔ مگر اس نے ڈپٹ دیا تھا۔ ’’ اب اتنا تیار ہوکر یوں جاتے اچھے تو نہیں لگوگے۔‘‘
دیا نے اس بے شرم کو اتنی فرصت سے خود کو تکتا پاکر جلدی سے ا پنے باریک آنچل سے اپنا چاند چہرا چھپالیا۔ اس کی اس معصوم ادا پر ولی نے فریضتہ ہوکر نظریں پھیرلیں ۔ ان لوگوں سے ٹکراؤ عین دروازے پر ہوا تھا۔ اس لیے اخلاقاً ان دونوں کو رسمی سلام دعا بھی کرنی پڑی۔ دیااس دن محفل میلاد پرمیں مسز قریشی کی دونوں بیٹیوں سے ملی تھی کچھ ریزوو سی تھیں ہاں البتہ گول مٹول سی بھانجی خوب چہک رہی تھی۔
٭٭٭
یہ گھر قریشی صاحب اور ان کی فیملی کے لیے واقعی بابر کت ثابت ہواتھا۔ رانیہ اور ثانیہ کی رشتوں کا کب سے اٹکا ہوا معاملہ حل ہوتا نظر آرہا تھا۔ آج رشتے والی ایک معقول رشتہ لائی تھی۔ رشتہ ایک ہی گھرانے کے دو بھائیوں کا تھا جن کی والدہ ماجدہ دو بہنوں کو بہوویں بنانے کی متمنی تھیں تاکہ بیٹوں میں آئندہ بھی سلوک اتفاق رہے۔ اچھے خاصے کھاتے پیتے لوگ تھے۔ کاروبار بھی پھلتا پھولتا ہوا تھا۔
’’ لڑکے والوں کے تاثرات تو حوصلہ افزا ہی لگ رہے تھے۔ لگتا ہے کہ اس بار رانیہ اور ثانیہ آپیوں کی بیل منڈھ ہی جائے گی۔‘‘
مہمانوں کے جانے کے بعد زیبی کچن سمیٹتے ہوئے ولی سے کہہ رہی تھی۔
’’ اور ہاں ان کے بعد تم بھی اپنی تیاری پکڑو۔‘‘ ولی نے الٹی میٹم دیا۔
’’ ہر گز نہیں! میں نے صاف کہہ دیاہے ممانی جان سے کہ میں پہلے سیف کا کورس کروگی۔ اس کے بعد کسی فائیواسٹار ہوٹل میں جاب کے لیے اپلائی کروں گی ۔ شادی فی الحال میرے پلان میں نہیں ہے۔ ہاں البتہ تم اپنی فکر کرو۔ اب تمہاری دلہن ڈھونڈنے نجانے کتنے کوس دور جانا ہوگا۔‘‘
’’زیادہ دور نہیں جانا پڑے گا۔‘‘ وہ ہولے سے بڑبڑایا مگر زیبی کے تیز کانوں نے فوراً سن لیا۔
’’ کیا کہا. زیادہ دور نہیں. اس کا مطلب ے کوئی قریب ہی نظر میں ہے۔‘‘ وہ اچھل پڑی۔
’’ نہیں. نہیں. میں تو یونہی مذاق کررہاتھا۔‘‘ اس نے جان چھڑانی چاہی مگر وہ بھی زیبی تھی۔ پیچھے پڑ گئی۔
’’ تباؤنا ولی. کون ہے؟ دیکھو میں تو تمہاری گوڑی سہیلی ہوں نا۔‘‘
نہ نہ کرنے والی نے بالآخر ہتھیار ڈال لیے۔ ویسے بھی اسے آج کل شدت سے کسی راز داں کی ضرورت محسوس ہورہی تھی۔
’’ وہ دراصل اس دن تم لوگ پچھلی گلی میں مہندی پر گئے تھے نا۔‘‘ اس نے کان کھجایا۔
’’راستے میں دو لڑکیاں ملی تھیں۔‘‘ وہ کچھ ہچکچاکر رکا۔
’’ ہاں. ہاں. میں سمجھ گئی۔‘‘
’’ان میں سے ایک بہت پیاری تھی۔ مونگیا شرارے والی.وہ سارہ ہے۔ کتنی پیاری . ایک دم لمبی اور گوری چٹی۔ قسم سے تمہارے ساتھ بہت سوٹ کرے گی۔ شکر ہے کہیں تم نے وہ میرون غرارے والی نہیں کہہ دیا۔ بہت مغرور اور نک چرھی ہے۔ رنگت بھی سانولی سی ہے۔ وہ سارہ تو . ‘‘
’’زیبی.پلیز تم میری بھی سن لو. ‘‘ اس نے زیبی کی چلتی زبان کو بریک لگایا۔
’’ میں وہ میرون کپڑوں والی ہی کہہ رہاتھا. دیا نام ہے اس کا ۔‘‘ زیبی کو سخت مایوسی ہوئی۔
’’مگر ولی سارا زیادہ پیاری ہے۔‘‘
’’میں تو دیا کی بات کررہاہوں۔‘‘ وہ جھجلا کر بولا۔
’’ مگر سارا تو.‘‘
’’ زیبی. !! ‘‘ وہ دھاڑا . ’’شادی میں نے اس کے ساتھ کرنی ہے یا تم نے۔‘‘
’’اچھا ٹھیک ہے. چلو دیا ہی سہی۔‘‘ وہ منہ پھلاکر بولی۔
٭٭٭
بارات کے فنکشن پر رانیہ اور ثانیہ نے تو جانے سے صاف انکارکردیا۔
’’ہم نئے آئے ہیں۔ ہماری تو کوئی جان پہچان ہی نہیں ہے۔ اس دن مہندی پر بھی بہت بور ہوئے تھے۔‘‘
مگر زیبی ولی کی خاطر جانے پر تیار ہوگئی۔اور جاتے جاتے جتانا بھی نہیں بھولی۔
’’ صرف تمہارے لیے جارہی ہوں تاکہ سارا کے ساتھ راہ ورسم بڑھاسکوں۔‘‘
’’سارا نہیں دیا کے ساتھ۔‘‘ وہ بھنا کربولا۔
٭٭٭
بعض اوقات انسان کو اپنی منزل بہت دور اور منزل تک جانے والا راستہ دشوار ترین لگتاہے۔ لیکن اگر جذبے سچے اور نصیب نیک ہوں تو راستے سمٹ جاتے ہیں اور منزل قریب آجاتی ہے۔ ولی اور دیا کے دل کے تار بھی یونہی جڑ گئے مانو صدیوں سے ساتھ ہوں۔ کچھ آسانیاں راہ الفت کے ان ہمرائیوں کو زیبی کی کوششوں سے بھی میسر آئیں۔ رانیہ اور ثانیہ کی شادی کے بعد نمبر ولی کا ہی تھا کیونکہ زیبی سب سے چھوٹی تھی۔
مسز قریشی نے تو دل میں ولی کے لیے زیبی کو بھی سوچا تھا مگر پھر دونوں کی ایک دوسرے میں عدم دلچسپی بھانپ کر ولی کے لیے دلہن تلاش کرنی شروع کردی تھی۔ ولی تو شاید خود سے کبھی بھی نہ کہہ پاتا اس کے حصے کی ساری جدوجہد زیبی نے ہی کی تھی۔ مسز قریشی کو دیا کچھ خاص پسند بھی نہیں تھی۔ بہرحال وہ جاکر رشتہ ڈال آئی تھیں اور وہاں سے بھی کچھ وقت مانگا گیا تھا۔
٭٭٭
وقت کی جھولی میں ماہ سال کا ایک اور سکہ گرنے جارہاتھا۔ ایک نئے سال کی آمد آمد تھی۔ نیال سال. جو اپنے دامن میں نجانے کس کے لیے خوشیاں. اور کس کے لیے اداسیاں لانے والاتھا؟ ہر ایک کی امنگیں، خواہشات اور توقعات مختلف تھیں۔
دیا کی طرف سے ولی کو نئے سال کی خوشی میں ایک کارڈ واٹس ایپ کیاگیاتھا۔ کاسنی رنگ کا کارڈ. لکھاتھا۔
’’یہ سال اپنے ساتھ کاسنی رنگ لایاہے۔ کاسنی رنگ. محبت، خلوص اور وفا کے نرم گرم جذبوں کا عکاس ہوتاہے۔‘‘ اس رنگ کو پسند کرنے والے مہربان، شفیق مگر ارادوں میں اٹل ہوتے ہیں۔ ‘‘ کارڈ کے ساتھ کاسنی پھولوں کے گلدستے کی تصویر تھی۔
٭٭٭
نئے سال کی وہ پہلی رات تھی۔ قریشی صاحب نے فرمائش کرکے بیگم سے بیسن کا حلوہ بنوایا۔ رانیہ اور ثانیہ سے فون پر بات کی۔ زیبی کو شیف کا کورس کرنے کے لیے داخلے کی اجازت دی حالانکہ اس سے پہلے وہ چاہتے تھے کہ زیبی ٹیچنگ یا نرسنگ کے پروفیشنل کواپنائے۔
ولی باہر کسی کام میں پھنسا تھا۔ اسے گھر جلد آنے کی تاکید کی۔ پھر اپنی دو اکھاکر سوگئے۔ اگلی صبح جب مقررہ وقت پر بیدار نہ ہوئے تو مسز قریشی نے ان کا کندھا ہلایا۔ ان کی گردن ایک طرف ڈھلک گئی۔ ایمرجنسی میں بلائے گئے پڑوسی ڈاکٹر نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔
٭٭٭
سفید کوٹھی کئی دن تک سوگواری اور غم میں ڈوبی رہی۔ پھر زندگی اپنے معمول پر آگئی۔ مسز قریشی نے اپنی عدت ختم ہونے پر دیا کے گھر والوں سے ایک بار پھر ولی اور دیا کے رشتے کی بات کی۔ انہوں نے مزید کچھ وقت مانگا حالانکہ اس کی ضرورت نہ تھی۔ وہ پہلے ہی سوچ وچار کے لیے کافی وقت لے چکے تھے حالانکہ وہ اشاروں کنائیوں میں دونوں بچوں کی باہمی دلچسپی کا تذکرہ بھی کرچکی تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے زیبی کے لیے بھی سوچنا تھا۔
٭٭٭
’’پھر آپ نے دیا اور ولی کے رشتے کے بارے میں کیا سوچا ہے۔ مسز قریشی کا کئی بار فون آچکاہے۔ ‘‘ اماں نے رات کو ابا سے کہا۔
’’ بیگم ! میں بھی اس معاملے میں کئی روز سے شش وپنج میں پڑا ہوں تم جانتی تو ہو کہ ولی مرحوم قریشی صاحب کا سگا بیٹا تو ہے نہیں ان کی تو صرف دو بیٹیاں ہی ہیں نرینہ اولاد نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے ولی کو کسی یتیم خانے سے گود لیا تھا۔ بلاشبہ اپنا بیٹابناکر پالا ہے۔
اچھی تعلیم وتربیت کی ہے مگر بیٹا بنانے اور سگا بیٹا ہونے میں بہت فرق ہوتاہے۔ اب قریشی کی وفات کے بعد تو صورت حال زیادہ گھمبیر ہوچکی ہے۔
’’ہائے اللہ. وہ کیسے؟‘‘ اماں دہل کر بولیں۔
’’ اتنے دن سے میں نے اپنے سیکریٹری کو تحقیقات پر لگا رکھاتھا۔ آج اس نے جو رپورٹ دی ہے اس کے مطابق قریشی صاحب کی تمام زمین جائیدا دکی مالک ان کی دونوں بیٹیاں اور بیگم ہیں۔ ہاں ایک پلاٹ ان کی بھانجی زیب النسا کے نام بھی ہے مگر ولی کے نام کچھ بھی نہیں ہے۔
قریشی صاحب کی چونکہ اچانک ڈیتھ ہوئی ہے اس لیے شاید انہیں وصیت وغیرہ کا بھی موقع نہیں ملا۔ ہوسکتاہے کہ اگر زندگی مہلت دیتی تو وہ ولی کو بھی کچھ نہ کچھ ضرور دیتے۔ اب نیتوں کا حال تو صرف اللہ ہی جانتاہے۔ فی الحال ایسا کچھ ہوا تو نہیں ہے۔ اگر ولی اور دیا کی شادی ہوجاتی ہے تو جس طرح کا ہمارے معاشرے کا چال چلن ہے کہ لوگوں کی تو اپنی سگی اولاد سے نہیں بنتی یہاں تو پھر لے پالک کا معاملہ ہے۔ کسی کھٹ پھٹ کی صورت میں اگر مسز قریشی نے ہاتھ پکڑ کر ولی کو نکال باہرکیاتو پھر دیا کا اس کے ساتھ کیا مستقبل رہ جائے گا؟‘‘
’’ یہ تو آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ اب ولی کی حیثیت تو ان لوگوں کی زمین اور فیکٹری کے کیئر ٹیکر کی سی ہے۔‘‘
ابا کے لیے دودھ کا گلاس لے کر آتی دیا نے دروازے کے باہر کھڑے ان کا لفظ لفظ سنا اور اپنی جگہ سن سی رہ گئی۔ وہ آج کل کی باشعور اور تعلیم یافتہ حقیقت پسند لڑکی تھی۔ پرانی فلمی ہیروئن کی طرح اتنی جذباتی نہیں تھی کہ علی الااعلان کہہ دیتی کہ میں ولی کے ساتھ جھگی میں بھی رہ لوں گی۔
وہ جانتی تھی کہ ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ انسان جن سہولتوں کا عادی ہوتاہے۔ ان کے بغیر رہنا بہت دشوار لگتاہے۔ا س نے ولی کے سنگ پر آسائش زندگی کے خواب دیکھے تھے۔ اس لیے اس نے ولی سے دو ٹوک بات کرنے کافیصلہ کیا۔
’’ ولی ! تم برا نہ ماننا ۔ اماں ابا کے تمہارے بارے میں کچھ تحفظات ہیں۔ تم مسز قریشی سے کہو کہ وہ جائیداد کا کچھ حصہ تمہارے نام بھی کردیں۔‘‘
ولی کو اس قدر سفاک قسم کی صاف گوئی کی توقع نہیں تھی۔ وہ کچھ حیران سا رہ گیا۔
’’دیا ! میں ان سے یہ بات نہیں کرسکتا۔ کیا یہ کم ہے کہ انہوں نے مجھے ایک یتیم خانے سے اٹھاکر اپنا بیٹا بناکر پرورش کی۔ پڑھایا لکھایا۔ باشعور بنایا ورنہ آج میں کہیں ٹین ڈبہ وغیرہ بیچ رہاہوتا۔ مجھے ان سے کچھ نہیں چاہیے۔ تم فکر نہ کرو۔ میرے پاس تعلیم بھی ہے۔ ہنر بھی اور تجربہ بھی اور سب سے بڑھ کر اپنے زور بازو پر بھروسا۔ میں خود محنت کروں گا اور تمہیں ایک اچھی زندگی دینے کی بھرپور کوشش کروں گا۔‘‘
دیا نے خاموشی سے فون رکھ دیا۔ وہ جانتی تھی کہ ولی کبھی مسز قریشی سے کچھ نہیں مانگے گا۔ اور اپنی تعلیم اور ہنر کے بل بوتے پر وہ کتنا کمالے گا وہ خوب جانتی تھی۔ محبت اپنی جگہ مگر زمینی حقائق بھی تلخ تھے۔
٭٭٭
ولی اپنے لیپ ٹاپ میں مصروف تھا جب زیبی چلی آئی۔
’’ ولی! دیا نے ابھی تک میرے کسی میسیج کا ریپلائی ہی نہیں کیا۔ بلکہ اس نے تو ابھی تک سین ہی نہیں کیا۔ کہیں نمبر تو نہیں بدل دیا۔‘‘
’’نہیںوہ خود بدل رہی ہے۔‘‘ وہ دھیرے سے بڑبڑایا۔
٭٭٭
ریسٹورنٹ میں وہ دونوں ایک دوسرے کے بالکل آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ خاموش اور گم صم ۔
ولی اسے گہری نظروں سے دیکھ رہاتھا اور دیا سرجھکاکے اپنے ہاتھوں کی مٹھیوں کو بار بار کھول اور بند کررہی تھی۔
’’ولی ! تم نے ا پنے اور میرے لیے کیا کیا ہے.؟‘‘ وہ اس کی جانب دیکھے بغیر بولی۔
’’میں سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہوں سوائے اس کے جو تم نے کہا تھا۔‘‘ (اس کا اشارہ مسز قریشی سے حصہ وغیرہ مانگنے کی طرف تھا۔ )
’’ولی! ہم دونوں نے ایک دوسرے سے محبت کی تھی۔ ‘‘ وہ چٹخ گئی۔
’’ کی تھی.!‘‘ وہ صدمے سے بولا۔
’’ ہاں شاید کی تھی۔ ‘‘ اب کے وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی ۔
’’ میں نہیں جانتاتھا کہ تمہاری محبت مشروط ہوگی۔‘‘ ولی کا لہجہ ٹوٹا ہو اتھا۔
’’ زندگی کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ ولی!‘‘ اس نے ا یک بار پھر اسے قائل کرنا چاہا۔
’’ لالچ اور خود غرضی زندگی کا تقاضا نہیں ہوتے۔‘‘
’’تم میرے لفظوں کو غلط معنی پہناتے ہو۔ شاید تمہیں مجھ پر اعتبار نہیں رہا۔‘‘
’’ایسا تم نے خود کیاہے دیا!‘‘ وہ صدمے سے چور چور تھا۔
’’تم احمقوں کی جنت میں رہتے ہو خالی دامن سے کوئی کسی کو کچھ نہیں دے سکتا۔‘‘
’’کیا تمہارے نزدیک خلوص، محبت اور وفا کی کوئی قیمت نہیں ہوئی۔‘‘اس نے اسی کے الفاظ اسے یاد دلائے۔
’’یہ سب کتابی باتیں ہیں۔‘‘ وہ آج اپنے کہے سے ہی پھیر گئی تھی۔‘‘ ولی سمجھ گیا کہ وہ صرف اچھے وقتوں کی ساتھی تھی۔
’’ تو کیا میں سب کچھ ختم سمجھوں۔‘‘ اس نے آخری باری بڑی آس سے پوچھا۔
’’ہاں!‘‘ اس نے اپنا پرس اٹھایا اور تیزی سے باہر نکل گئی۔
٭٭٭
اس نے ڈائری کھولی تو اندر سے بے شمار ننھے ننھے وشنگ کارڈ نکل کر بیڈ پر بکھر گئے۔ مختلف رنگوں کے کارڈ گلابی، نیلے، اسکائی بلیو، زرد، شوخ جامنی، ہلکے اور گہرے سبز، کتنے دیدہ زیب اور خوشنما کارڈ تھے۔ وہ سحر زدہ سا رہ گیا پھر دروازے سے کوئی اندر داخل ہوا۔
’’ چائے لائی ہو؟ زیبی!‘‘ وہ بغیر مڑے بولا۔
’’ زیبی نہیں، میں ہوں، ولی !‘‘ ثانیہ بولی۔ وہ آج کل آئی ہوئی تھی۔
اس نے جلد چلے جاناتھا مگر ان دنوں گھر کی فضا اتنی اداس تھی کہ اس نے مزید رکنے کا ارادہ کیا۔
’’اوہو! ثانیہ آپی. آپ. ‘‘اس نے سیدھا ہوکر چائے کا مگ اس کے ہاتھ سے تھاما۔
’’ کیا کررہے تھے؟‘‘ وہ سامنے صوفے پر ٹک گئی۔
’’یونہی کتابوں کی الماری کھنگال رہاتھا تو یہ کالی ڈائری ملی ہے اور اس کے ا ندر سے یہ رنگ برنگے سے کارڈ نکلے ہیں۔ شاید زیبی کے ہیں۔ آخر آپ لڑکیوں کو رنگوں سے اتنا پیار کیوں ہوتاہے؟‘‘ اسے بے اختیار بے وفا کی یاد آئی۔
’’ ولی ! یہ رنگ ہی ہم لڑکیوں کے زندگی ہوتے ہیں۔ یہ رنگ ہی تو ہیں جواہم اپنے خوابوں میں بھرتی ہیں۔‘‘ وہ کھوئی کھوئی سی بولی۔
’’ پھر وہ رنگ کچے ثابت ہوتے ہیں۔ جلد اترجاتے ہیں یا پھیکے پڑ جاتے ہیں۔‘‘ وہ اداسی سے مسکرایا۔
’’ ہر بار ایسا نہیں ہوتا ولی! کچھ لوگ خود مٹ جاتے ہیں مگر اپنی وفا اور محبت کے انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔‘‘
’’خیر چھوڑیں، یہ ہماری زیبی تو بڑی چھپی رستم نکلی۔ میرا تو خیال تھا کہ اسے صرف کھانے پینے کی چیزوں سے ہی دلچسپی ے مگر اس کا تو شعری ذوق بھی کمال کا ہے۔ کتنے خوب صورت اشعار لکھے ہیں نجانے کس کے ہیں؟‘‘
’’ولی ! میرے بھائی یہ اس کی اپنی شاعری ہے وہ لکھتی بھی ہے۔‘‘’’ثانیہ نے انکشاف کیا۔
’’کیا واقعی.؟؟‘‘ وہ ششدرہ گیا ۔
’’امیزنگ. ونڈر فل‘‘
وہ سحر زدہ ساموتیوں کی مانند بکھرے لفظوں کودیکھ رہاتھا۔
اور ثانیہ سوچ رہی تھی کہ وہ تو شاید زیبی کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا وہ چھوٹی سی تھی جب پھوپھو اپنے میاں کے ہمراہ ایک حادثے میں چل بسیں۔ اماں ایک گلابی سی گڑیاکو لیے ہوئے گھر آئی تھیں۔ ’’ رانیہ اور چانیہ! یہ تم دونوں کی بہن ہے اور اب یہ ہمارے ساتھ رہے گی۔‘‘
رانیہ اپنے آپ میں مگن رہنے والی لڑکی تھی مگر اسے وہ گول مٹول سی گڑیا بہت بھائی۔ وہ اس کے ساتھ سوتی جاگتی، کھاتی پیتی مگر اتنی انسیت کے باوجود اسے پتا ہی نہیں چلا کہ ولی کے بارے میں اس کے جذبات کب بدلے۔ اسے تو بڑی دیر سے سمجھ میں آیا۔
پہلی بار اس نے زیبی کو ولی کے لیے روتے تب دیکھا جب وہ ایف ایس سی کے انٹری ٹیسٹ میں فیل ہوگیا۔ پھر تب بھی جب موٹربائیک سے گر کر اس نے اپنا بازو فریکچر کروالیا۔پھر جب دیا اور اس کا بریک اپ ہوا تو کتنا روئی اس نے دونوں کو ملانے کے لیے کتنی محنت کی تھی۔
ہر بار وہ اس کے دکھ پر روئی۔ بیوقوف تھی نا اگر کبھی اپنے د کھ پر روئی ہوتی تو شاید اس کے جذبوں کی آنچ ولی تک پہنچ ہی جاتی۔ کئی بار ثانیہ کا خود دل چاہا کہ وہ ولی کوبتائے مگر وہ دیامیں اتنا انولو ہوچکاتھا کہ اسے زیبی کے انمول جذبات کو بے مول کرنا چھا نہیں لگا۔
اس کی سوچوں سے بے نیاز ولی ابھی بھی کارڈز پڑھ رہا تھا۔
’’کتنے خوب صورت لفظ ہیں. محبت، خلوص، اور وفاسے گندھے.نجانے کس کے لیے ؟‘‘ وہ بڑبڑایا۔
’’ تمہارے لیے ولی. ‘‘ اب کے ثانیہ ضبط نہ کرسکی۔ وہ اپنی جگہ ساکت رہ گیا۔
٭٭٭
کی حسین صبح تھی۔ خوب صورت سی لکڑی کی میز پر سفید گلابوں کا گلاستہ رکھا تھا۔ سفید رنگ. امن، آتشی، سکون اور خاموشی کا رنگ۔ صلح جو، ٹھنڈے، دھیمے اور محبت کرنے والوں کا پسندیدہ رنگ ،پاکیزگی اور تقدس کی علامت. سفید رنگ ۔
گلدستے کے ساتھ ہی ایک بڑا سا کیک رکھاتھا جو ابھی ابھی بیک کیاگیا تھا کیونکہ اس سے گرم گرم خوشبو دار بھاپ اٹھ رہی تھیں۔
زیبی کچن سے پلیٹ اور چھری لیے نکلی اور اس نے ا پنے بیڈ روم کا رخ کیا۔ اس نے دلکش سی سفید سارھی زیب تن کر رکھی تھی۔ جس کا بارڈر ہلکا گلابی تھا۔ کانوں، گلے اور ہاتھوں میں سفید موتیوں کا زیور تھا۔ آج اس کی اور ولی کی شادی کی پہلی سالگرہ تھی۔
’’ ولی ! اٹھ جائیںپلیز! کیک کاٹیں۔ چاکلیٹ کیک کا گرم گرم کھانے میں ہی مزا ہے۔‘‘ وہ دروازے میں کھڑی ہوکر بولی۔
’’ یار ! بڑی ٹھنڈ ہورہی ہے۔ بستر سے نکلنے کو دل ہی نہیں کررہا۔‘‘ وہ ذرا سا کسمسایا۔ پھر کمبل ہٹا کر باہر چلاآیا۔ ٹیبل پر نظر پڑی تو بے اختیا مسکرا اٹھا۔
’’زیبی ڈیئر! تمہیں نیا سال اور شادی کی پہلی سالگرہ دونوں مبارک ہو۔‘‘
وہ اسے محبت پاش نظروں سے دیکھ رہاتھا جو پہلے سے زیادہ صحت مند اور گول مٹول ہوچکی تھی مگر جس کا دل محبت ، خلوص، اور وفا سے بھرا تھا۔
’’آپ کو بھی۔‘‘ وہ جواباً مسکرابولی۔ وہ اس سے کافی فاصلے پر کھڑی تھی۔ ولی نے شرارت سے اپنے دونوں بازو پھیلادیے۔
اس نے محجوب سی ہوکر چھری اس کے ہاتھ میں تھمائی ا ور آنکھ سے ٹی وی لاؤنج کے دروازے کی سمت اشارہ کیا جہاں سے رانیہ اور ثانیہ بھی چلی آرہی تھیں۔ اس نے شرمندہ ہوکر جلدی سے چھری کی الٹی سائیڈ سے ہی کیک کاٹنا شروع کیا۔ زیبی کی ہنسی پھوٹ پڑی۔
مترنم سی، زندگی سے بھرپور ہنسی۔ رانیہ اور ثانیہ نے اس لمحے دونوں کی ابدی خوشیوں کے لیے دل سے دعا کی۔
٭٭







