پنچھی بنی ،اَڑتی پھروں ۔۔مست گگن میں
آج میں آزاد ہوں۔۔دنیا کے چمن میں
دادا جان اِس بڑھاپے میں بھی سرما کے دیوانے تھے۔ نومبر دسمبر ان کی یادوں کے دوار کھولنے میں بڑے معاون ثابت ہوتے تھے۔ صائم کہتا اللہ جانے کیسی قوس وقزح کی نہر میں ہاتھ دھوئے تھے بزرگوار نے۔۔ مزاج کی رنگینی تھی کہ پھیکی ہونے کا نام نہ لے رہی تھی۔ دسمبر لگا تو بالکنی میں ٹیپ ریکارڈر سج گیا اور کسیٹس والی الماری بھی کھل گئی۔ اب ایک ایک کیسٹ سے دھول صاف کرتے جاتے اور باری باری ریکارڈ بجا کر یادوں کے گارڈن میں اَڈاری لگاتے پھرتے ۔ حالانکہ اشعل نے کان بھرنے کی بھرپور کوشش بھی کی
’’ؔدادا جان۔۔میں تو سمجھتا تھا یہ فیمنزم (آزادی نسواں کی طرفداری) آج کی بیماری ہے۔ پر اب پتا چلا یہ تو پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں بھی عروج پر تھی۔‘‘
’’ہیں. وہ کیسے؟ ‘‘داداابا صاحب نے ٹیپ ریکارڈر کا والیوم کم کیااور اشعل کی طرف متوجہ ہوگئے۔
’’یہی.‘‘ اس نے دونوں ہاتھوں کا اشارہ ٹیپ ریکارڈر کی جانب پھیرا’’ پنچھی بنی اَڑتی پھروں ۔۔ کے بجائے پنچھی بنا اَڑتا پھروں کیوں نہیں۔۔ مجھے کیا حق حاصل نہیں ہے دنیا کے گگن میں آزاد پھرنے کا ۔۔لیکن نہ۔۔ وہی عورت کارڈ ۔۔ وہی سمپتھی ۔‘‘
’’ارررے یارر.‘‘ داداابا نے سخت بیزاری
سے والیوم دوبارہ اونچا کیا۔ ’’ جاؤ،پتر کسی اور کو بور کرو۔ ۔ میں ہی ملا ہوں صبح صبح ۔‘‘
’ؔ’ٹھیک ہے دادا جان۔۔آپ بھی پروموٹ کریں اِن خرانٹ کلیوں کو۔ یہ ۔پاپا کی پریاں نہیں۔۔ چھَریاں ہیں چھَریاں۔ اور گلا کٹنے پر آواز بھی نہیں نکلتی ۔ ‘‘وہ بوریت کا خطاب ملنے پر سخت کبیدہ خاطر سا بڑ بڑ کرتا کمرے میں آگیا۔
’’پھر کیوں تیرہ بجے ہیں چوکھٹے پہ۔‘‘ رفعت نے ناک منہ سکوڑ کر اپنے اکلوتے سڑیل کو دیکھا ۔
’’ میں تو بھیا۔۔پھَر ہورہا ہوں یہاں سے۔ میری بلا سے ،کوئی بالکنی کوچنڈوخانہ بنائے ۔ یا۔یہ۔ ‘‘اس نے پلنگ پہ بکھرے آن لائن ڈریسز کو دیکھا ’’لاڈلیوں کو دبئی فیسٹیول کے مزے فراہم کرے۔ ‘‘
’’ اب کہاں کو روانگی ہے؟‘‘ رفعت نے کپڑے پلنگ پہ رکھ کر اسے بغور سننے کا عزم کیا۔پچھلے ایک ماہ سے اَس نے ٹیبل پر پراسپکٹس کے ڈھیر لگا دئیے تھے۔ وحید چاچا نے جسے طنزیہ ہنسی سے دیکھتے جملہ جوڑا تھا کہ ’’زیادہ پراسپکٹس لیاقت کی نہیں نالائقی کی نشانی ہوتے ہیں۔ ‘‘
’’ لاہور جاؤں گا پڑھنے ۔ ‘‘اس نے سینے پر ہاتھ باندھ کر خود کو بااعتماد ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ رفعت کی ہنسی نکل گئی۔
’’ باپ سے پوچھ لیا ؟ ‘‘
’’ جی۔ پوچھ لیا۔ ‘‘اشعل کے لہجے میں ایکدم بشاشت جھلکی۔
’’ واہ۔ شیشے میں کیسے اَتارا ؟‘‘
’’ اَن کی مرضی کا پروفیشن چَن کر۔‘‘ اشعل نے ابرو اٹھا کر اپنے اسمارٹ ہونے کا اشارہ دیا
’’ یعنی. کیا کرنے لگے ہو۔‘‘ رفعت کا حیرت سے منہ کھلا۔ کل تک ان باپ بیٹے کا سارا اختلاف ہی پروفیشن پر تھا۔ اشعل کمپیوٹر ڈیزائننگ کی طرف جانا چاہتا تھا۔ اور باپ زبردستی ایم فِل کروانے کے بعداب پی ایچ ڈی کی طرف دھکیل رہا تھا۔اور رفعت خوش تھیں کہ اگر باپ جیت گیا تو بیٹا اس کی آنکھوں کے سامنے رہے گا۔ کیونکہ اپنے شہر میں بھی اچھے انسٹیٹیوٹ تھے،اور اشعل کے متعلق تو انہیں پتا تھا کہ ڈیزائننگ وغیرہ تو ایک بہانہ ہے۔ پروفیشن کا اصل میں مسئلہ ہی نہیں تھا۔ جس بندے کو پڑھائی سے ہی دلچسپی نہ ہو ، پروفیشن سے اسے خاک لگاؤ ہونا تھا۔ اسے تو بس لاہور بھاگنے کی جلدی تھی۔ اور اس کی وجہ بھی بڑی سیدھی تھی۔اول تو شیخ فیملی کے سب ہی آدمی ہی اپنے تئیں پھنے خان تھے۔ ’’میں ‘‘ سے اسٹارٹ ہوتی گفتگو کا انجام بھی ’’میں ‘‘ پر ہی ہوتا تھا۔ اللہ جانے کس سیارے سے اَترے تھے۔ پر یہ اشعل حمیدتو مَکھیا(لیڈر) تھے سب کے ۔ اَن کی الگ اپنی ہی لائن تھی جس پر نہ صرف وہ خود چلتے تھے بلکہ پوری کوشش تھی کہ باقی بھی انہی کے پیچھے چلیں۔ رفعت نے ایک بار فضہ اور عمارہ کی باتیں سَنیں۔ اشعل کو وہ پائیڈ پائیپر (بانسری والا) کہتی تھیں۔
اس حساب سے ہم سب تو چوہے ہوئے ۔ عصمہ چاچی کو مثال پسند نہیں آئی تھی۔ خیر تو بات ہورہی تھی اشعل کی کھینچی لکیر کی۔ اب باقی مکھیا گیری تو چلو ایک طرف ہوگئی۔ اصل روگ یہ تھا جناب ِ والا کو کہ انہیں کزن میرج نہیں کرنی تھی۔اور کسی قیمت پر نہیں کرنی تھی۔ ۔ دنیا کی بے کار ترین مخلوق ہوتی ہیں یہ خالہ زاد، ماموں زاد، چچازاد ۔ ۔ اَف۔۔وہ زِچ ہوکرکانوں کو ہاتھ لگاتا۔’’کوئی باہوش وحواس انسان ان کو بطور بیوی جھیل بھی کیسے سکتا ہے۔ ‘‘
’’ کیوں بھئی ۔میں تمہارے ابا کی ماموں زاد ہوں۔ بتاؤ کیا برائی ہے ہمارے کپل میں۔ رفعت کی تیوری چڑھ جاتی، کیونکہ جن سب رشتوں کے باقاعدہ نام لے کر وہ اظہار ِ بے زاری کرتا تھا۔ وہ سب ہی بھر بھر کے موجود تھیں۔ اور رفعت نے انہی میں سے کسی ایک کا انتخاب بھی کرنا تھا۔ تب ہی وہ بری طرح چِڑ جاتیں۔
’’ آپ کے دور کی کزنز قدرے انسان تو تھیں۔ یہ جو آج کل کی ایلیئن کزنزہیں نا۔‘‘ اس نے کان کی لو کو چھوا۔ ’’شیطان بھی پناہ مانگے، میری کیا اوقات۔ ‘‘
’’ اور جو تم باہر سے کسی اسٹرینجر کو لاؤ گے۔ کسی نہ کسی کی تو وہ بھی کزن ہوگی۔‘‘
’’ ہاں. یہی بات.‘‘ اس نے تو نشست سنبھال لی ،اپنا تھرڈ ریٹ فلسفہ بڑے اعتماد سے پیش کرنے کے لیے ۔ ’’جن کی وہ کزنز ہیں نا ۔ان کے لیے وہ بھی ایلئین ہی ہیں۔ یہی لڑکیاں جب غیر فیملی میں جاتی ہیں تو ایک دم سیدھی رہتی ہیں۔ ہمارے والیوں کو کہیں دور پار بھیج دیں تو یہ بھی تیر کی طرح ہوجائیں گی۔ کوئی نخرہ نہیں۔ کوئی چونچلے نہیں۔ لیکن جونہی دم تلے اپنا کوئی بے چارا کزن آگیا۔ ۔ چَن چَن کر پہلے اس کی کمزوریاں مٹھی میں دبائیں گی اور پھر اسے بھی دبوچ لیں گی۔ ‘‘
’’ اور تمہیں لگتا ہے ، تم جو کہہ رہے ہو ،وہ بالکل درست ہے؟ ‘‘رفعت کا اندر سے خون کھول رہا تھا۔ اشعل سے بات کرکے ہمیشہ اسے یہی لگتا کہ ساری عقل و دانش اس وقت ریت ہوجاتی ہے جب سامنا اشعل جیسی فولادی دیوار سے ہو۔
’ؔ’ آپ کو پتا ہے ،میں کبھی غلط نہیں کہتا۔ کیا کانفیڈنس تھا۔‘‘
’’ اَف۔ ‘‘رفعت بلڈپریشر اوپر جانے کے خوف سے کمرا ہی چھوڑ جاتیں۔ پر آج تو قصہ ہی نیا تھا۔
’’ اچھا اگرباپ کی مرضی کا پروفیشن چَنا ہے تو پھر۔۔؟ بات ابھی پوری کہاں سمجھ میں آئی تھی۔‘‘
’’ تو میں نے شرط رکھ دی کہ ٹھیک ہے نہیں کرتا کمپیوٹر ڈیزائننگ ۔ لیکن اگر پی ایچ ڈی کی تو یونیورسٹی اور جگہ میری پسند کی ہوگی۔‘‘ اس نے کالر بھی کھڑا کیا ۔
’’ آں۔۔ہاں۔‘‘ رفعت کھلا منہ لیے اب بات تک پہنچی تھیں۔ اشعل کااصل مقصد تو گجرات سے بھاگنا تھا۔اور باپ سمجھ رہا تھا کمپیوٹر ڈیزائننگ ترک کرکے اس نے اپنے دیرینہ خواب کی قربانی دی ہے۔
’’ تو ۔اب۔؟ ‘‘
’’ لو جی۔آپ کو تو کچھ پتا ہی نہیں ہے۔ سعداللہ چاچا سے بات بھی ہوگئی ہے۔ وہ سب مجھے ویلکم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ‘‘
’’ ہوں۔کب جا رہے ہو؟‘‘ رفعت کا موڈ تو خوب بگڑا لیکن تاثرات چھپا لیے۔وہ ماں تھیں اوراشعل کے پر پھیلانے کی وجہ سے بھی واقف تھیں۔اَسے کسی طرح کزنز کے جھرمٹ سے نکل کر آزاد فضاؤں میں جانا تھا۔ یونیورسٹی میں داخلہ لے کر نت نئی دوستیاں کرنی تھیں۔ اور اسے پورا یقین تھا کہ خوابوں کی شہزادی خاندان میں تو کیا پورے گجرات میں کہیں نہیں ہے۔ ’’لاہور‘‘ ہی تھا اس کی اَمنگوں کا محور ومرکز۔ اور یہی رفعت نہیں چاہتی تھیں۔ پتا نہیں بیگانے شہر میں کیسے لوگوں سے واسطہ پڑے۔ وہ الجھی الجھی سی اپنے کمرے میں آگئیں ۔ سوچا شام کو حمید صاحب سے پوچھیں گی۔ لیکن شام کو مایوسی بھرے خیالات بجائے کم ہونے کے حمید اللہ صاحب کو سن کر کچھ اور بڑھ گئے۔
ؔؔ’’اشعل کی بات تو بالکل درست ہے رفعت۔اب توہر کوئی بڑے شہروں کا رخ کررہا ہے۔ ڈگری کی ویلیو کچھ اور بڑھ جائے گی۔ ‘‘
’’ آپ سبھی بھائی اچھے عہدوں پر ہو۔ روپے پیسے کی بھی کوئی کمی نہیں۔ آپ بھی تو اسی شہر سے پڑھے ہیں۔ ‘‘
’’ وقت وقت کی بات ہے بیگم۔ دور بدل رہا ہے۔ ‘‘وہ تو ذہن بنائے بیٹھے تھے۔ اب رفعت کی کہاں سننے والے تھے۔ وہی خاندانی ’’میں‘‘ کامرض۔۔وہ بجھے بجھے خیالات لیے وہاں سے چلی آئیں۔
٭٭٭
’’بلاوجہ پریشان ہو رہی ہو رفعی! کب تک بچوں کو گھٹنے سے لگا کر بیٹھ سکتے ہیں۔ جہاں نظر ڈالو۔بچوں کے اچھے فیوچر کے لیے سب ہی ایسے فیصلے کرتے دکھائی دیں گے۔مجھے تو سعداللہ نے بتایا۔ سچی بڑی خوشی ہوئی۔ اسی بہانے ذرا تم بھی لاہور کا چکر لگا لیا کرو گی۔ میں نے تو اوپر کا کمرا خالی بھی کروا لیا۔ اب اشعل کے لیے سیٹ کروا رہی ہوں۔
دیکھو تم نے ضرور آنا ہے ساتھ، خود اپنی تسلی سے اس کو یہاں سیٹ کرجانا۔ ‘‘نادیہ سے فون پر بات ہوئی تو وہ بڑی خوش نظر آئی۔اور فعت کو سعداللہ یا نادیہ کی وجہ سے تو مسئلہ تھا ہی نہیں۔
نادیہ اور رفعت سگی خالہ زاد بھی تھیں اور اب دیورانیاں جیٹھانیاں بھی ۔ اول جماعت سے لے کر کالج کی پڑھائی تک دونوں ایک ساتھ ایک بنچ پر بیٹھی تھیں۔ گہری پکی سہیلیاں ۔ دوستی ڈبل رشتے داری میں بدلی ،تب بھی محبت میں کوئی کمی نہیں آئی۔حتیٰ کہ منجھلی دیورانی عصمہ بھی اپنے جیسی دوست مزاج تھی ۔اور یہی پیار یہاں بھائیوں میں تھا۔حمیداللہ ،وحیداللہ اورسعداللہ بھی جان چھڑکنے والے بھائیوں میں سے تھے۔
اشعل کو لاہور میں ہاتھوں ہاتھ لیا جانا تھا۔ یہ تو رفعت بھی جانتی تھیں۔پر اصل مسئلہ اشعل کے پلانز کا تھا۔ اسے گجرات سے صرف اس لیے بھاگنا تھا کہ اسے کسی کزن سے باندھ نہ دیا جائے۔ اور خالی کھوپڑی میں ایک ہی بھرکس بھرا تھا کہ شادی اس نے آؤٹ آف فیملی کرنی ہے۔ اب نادیہ اور سعداللہ اس کا یونیورسٹی کے اند ر تو خیال نہیں رکھ سکتے تھے۔ پتا نہیں یہ بچے کبھی سکھ چین سے کیوں نہیں بیٹھنے دیتے۔ اوپر سے ہم پاکستانی ماؤں کا ایک دکھڑا یہ بھی ہے کہ بچوں کے اَلٹے کام ہمیں ان کے باپوں سے بھی چھپانے پڑتے ہیں۔ وہ کسی قیمت پر اشعل کے خیالات حمیداللہ کو نہ بتا سکتی تھی۔ ایک تو ہمارے پاکستانی باپ لڑکوں سے پیش بھی ایسے آتے ہیں کہ ماں کا کلیجہ باہر نکل پڑے۔
وہ بھی بس اپنے آپ سے جنگ لڑتے اشعل کو لاہور روانہ کرنے کی تیاری میں لگ گئیں۔ آج بدھ تھا۔ پیر کو اس کی پہلی کلاس تھی اور چچا سعداللہ نے کہہ دیا تھا کہ ہفتے کی صبح وہ ان کے ہاں پہنچ جائے تاکہ وہ دودنوں میں اسے یہاں کے روٹ سمجھا دیں ۔ پروگرام یہی طے ہوا تھا کہ وہ چچا کے گھر سے بائیک پر یونیورسٹی جایا کرے گا۔اب انہی دو دنوں میں انہیں اشعل کی پیکنگ کرنی تھی۔ کچھ سامان نیا لینا تھااور اس کی لسٹ اشعل سے پوچھ کر تیار کرنی تھی۔
٭٭٭
’’ہاں بھئی۔ کیسا رہا آج کادن؟ ‘‘نادیہ کھانا بنا چکی تھیں۔ چولہا اور سلیب صاف کرتے اشعل کو دیکھا۔ تھکا ہارا سا وہ سامنے ہال کی ڈائننگ ٹیبل پر آبیٹھا تھا۔
’’ ایک دم فرسٹ کلاس۔ دھاک بٹھا دی سب پر ۔‘‘وہ اپنی عادت مطابق گھٹنے پہ دھپ جما کر بتا رہا تھا۔ بلکہ سنجیدہ بھی تھا۔
’’ ہوں.‘‘ نادیہ نے ہنسی روکی ’’ ویسے تمہاری امی کا فون آیا تھا۔ کہتی ہیں۔ اس کو سمجھانا کلاس میں سب کا ابا بننے کی کوشش نہ کرے۔ لوگ تو اپنے فائدے کے لیے یوز کرتے ہیں۔ ‘‘
’’ارے یار! یہ امی بھی بڑی وہمی ہیں۔۔ آپ کا بھتیجا پہلے ہی ہفتے سی آر بن گیا ہے۔‘‘ اس نے کالر اونچے کئے۔
’’ یہی کہہ رہی تھیں وہ بھی۔۔ پہلے بڑی بڑی باتیں کرے گا۔ پھر ان کو ثابت کرنے کے لیے عملاٰٰ اپنی کارکردگی شو کرے گا۔ کلاس فیلوز سمجھ جائیں گے اور ٹیچرز بھی کہ یہی ہے وہ شاہکار جس کی تلاش تھی۔‘‘ نادیہ کے کان رفعت نے اپنے ہی سپوت کے خلاف خوب بھر رکھے تھے۔ تب ہی وہ فراٹے سے شروع تھیں۔ لیکن شاہکار بھی ڈھیٹ نمبر ون تھا۔ رفعت یونہی تو فولاد کی دیوار نہ کہتی تھیں۔ مجال ہے جو کوئی نصیحت کبھی سَنی یا سمجھی بھی ہو۔
’’آپ کو نہیں پتا چاچی! جانے کس جنگل سے اٹھ کر آجاتے ہیں ۔ ان کو کچھ آتا جاتا نہیں ہے۔ ہر چیز مجھ سے پوچھ پوچھ کے کر رہے تھے۔ ‘‘
’’ ہاں کیونکہ ساری عقل ودانش تو گجرات سے امپورٹ ہوئی ہے۔ ‘‘نادیہ بھی باز نہ آرہی تھیں۔
’’ مجھے سمجھنا آسان نہیں ہے چاچی! پر ایک دن لوگ اس پوائنٹ پر آہی جاتے ہیں،جہاں میں کھڑا ہوں۔ ‘‘وہ ایک انگڑائی لیتا فائلز اٹھا کر اوپر چلا گیا۔ نادیہ نے ہنس ہنس کر رفعت کو احوال سنایا۔
’’ سچ بتاؤ،یہ آخری بار کب کسی سے قائل ہوا تھا؟ ‘‘
’’ توبہ کرو۔ رفعت نے کانوں کو ہاتھ لگائے۔’’تئیس سالہ زندگی میں تو قطعی نہیں ۔ میرے پیٹ سے پہلے کے اشعل کا مجھے پتا نہیں۔‘‘ وہ بھی اس کی ماں تھی۔ نادیہ کا قہقہہ نکل گیا۔
’’ بس کردو. بے چارا اتنا بھی ضدی نہیں۔ نرم دلی کی حد بھی دیکھو۔ آدھی کلاس کی اسائمنٹس اس نے اپنے سر لے لی ہےں۔ ایک کڑک ٹیچر سختی سے وارن کرچکا ہے کہ چیٹ جی ٹی پی کو میں دور سے سونگھ لیتا ہوں۔ خبردار کسی نے اس جانب کھسکنے کی کوشش بھی کی۔ ‘‘
’’ چلو جی۔ اس اعلان کے بعد اگلا اعلان اکبراعظم کی طرف سے کلاس کو مخاطب ہوکہ ہوا ہوگاکہ حاضرین ۔یہاں دیکھو ، یہ سانس لیتی جیتی جاگتی چیٹ جی ٹی پی ہے نا۔ غم کیوں کرتے ہو،۔‘‘
’’ ہاہاہا۔۔‘‘نادیہ سرہلاتے ساتھ ساتھ چائے بنانے لگیں۔ اشعل کے آنے سے بھی بڑا دلچسپ مشغلہ ہاتھ آگیا تھا۔ وہ خود تو ماں کی طبیعت کی وجہ سے اس کو پورا حال نہیں سناتا تھا۔ لیکن نادیہ چاچی تو بڑی فرینڈلی تھیں۔ اور یونی کا حال پوچھتی بھی خود تھیں۔ تو ساری ڈیٹیل رفعت وہاں سے نکلوا لیا کرتی تھیں۔
٭٭٭
’’ ہائے اللہ میاں. میرا گھر کدھر گیا۔‘‘وہ چھوٹی انگلی منہ میں ڈالے پلٹ کر ایک مرتبہ پھر گلی کے نکڑ پر آگئی۔ بڑی سڑک سے نیچے اتر کر جس ذیلی روڈ پر آتے تھے ۔اس کے دائیں بائیں لین جاتی تھیں۔ کم بخت ساری ایک جیسی تھیں۔ پانچ مرلے مکانات کا یہ سلسلہ بڑا ہی طویل تھا۔ ساری گلیاں ایک جیسی تھیں۔ دائیں بائیں کے گیٹ اوپر کی بالکنیاں ۔۔گھروں کے رنگ ،بس تھوڑا بہت فرق کے ساتھ ۔دور تک جاتے جا رہے تھے۔ اِنہی میں سے ایک گلی اس کے نئے گھر کی بھی تھی۔ دو روز تو اسے مما اسٹاپ تک چھوڑنے گئی تھیں۔اور واپسی پر وہ بس سے اَترتے انہیں کال کرلیتی،اور وہ سڑک تک اسے لینے آجاتیں۔ ان کے ساتھ باتوں میں مگن وہ تھوڑی کچھ یادرکھتی تھی۔ آج مما نے کال کرکے بتایا کہ وہ کچھ گروسری لینے جا چکی ہیں۔ گھر کی چابی وہ شکیل فاروقی صاحب کی مسز کو دے گئی تھیں۔
’’ایکسکیوزمی۔سس۔ سَنیں ذرا۔‘‘اس نے قریب سے گزرتی بائیک کو آہستہ ہوتے دیکھ کر آواز لگائی۔بائیک والا گلی میں مڑ رہا تھا اس لیے بائیک کی رفتار آہستہ ہوئی تھی۔
’’ یس.‘‘ لڑکے نے بائیک روک کر ہیلمٹ اَتارا اور بڑی مہربان مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھا ۔
’’ آپ شکیل فاروقی صاحب کا گھر جانتے ہیں؟‘‘
’’ام م م۔۔جانتا تو نہیں۔ پر مل کر ڈھونڈ لیتے ہیں ۔ ‘‘
’’آپ نے بھی وہیں جاناہے؟‘‘ سما ئ کی آنکھیں حیرت سے کشادہ ہوئیں۔
’’او۔ارے ۔نہیں۔ ‘‘اشعل کی ہنسی میں نرمی رس گلے جیسی گھل چکی تھی۔
’’آپ کے لیے .تو۔کیا کرتے ہیں شکیل فاروقی صاحب؟ ‘‘
’’وہ۔۔تو شاید۔وکیل ہیں۔‘‘سمائ نے کچھ دیر سوچاتو یاد آگیا۔
’’اور آپ نے ایڈریس نہیں لیا تھا شکیل صاحب سے۔۔؟ دیکھیں نکلنے سے پہلے پتا، نمبر سب پوچھ لینا چاہئیے۔اور۔‘‘
’’نن۔نہیں نہیں۔‘‘اس نے دونوں ہاتھ نفی میں ہلاتے اشعل کو روکا۔ ’’مجھے شکیل صاحب کے گھر جانا ہی نہیں ہے۔ ‘‘
’’اچھا۔۔تو۔۔ہم شکیل صاحب کا گھر پھر کیوں تلاش کریں۔‘‘
’’ ارے۔آپ چپ رہیں نا۔ میں بتاتی ہوں۔ شکیل فاروقی کے ساتھ والا گھر ہی میرا گھر ہے۔لیکن مجھ سے میرا گھر کھو گیا ہے۔ ‘‘
’’ ہائیں۔۔ہوا محل ہے کیا۔ ؟ کھو کیسے گیا۔‘‘ اشعل کا منہ کھَلا۔ہنسی تو بالکل ہی سمٹ گئی۔ لڑکی کی باتیں کچھ پاگلوں جیسی تھیں۔
’’ تو پھر آپ شکیل فاروقی کا گھر کیوں پوچھ رہی ہیں۔اپنے کا پتا کریں۔ ‘‘
’’ اَف اللہ۔ آ پ سمجھ نہیں رہے۔‘‘وہ زِچ ہوئی۔’’ شکیل فاروقی اس علاقے میں بہت پرانے رہائشی ہیں۔ ان کو یہاں سب جانتے ہیں۔ میں اور میری مما پرسوں آئے ہیں۔ مما ابھی گھر پہ نہیں ہیں۔ میں اسٹاپ سے اتر کر ایک ایک گلی میں جھانک رہی ہوں۔ ساری ایک جیسی لگ رہی ہیں۔ اندر تک چل کر دیکھنے کی ہمت نہیں ہورہی ۔ ‘‘
’’ ہاااااں۔۔اب سمجھا۔‘‘اشعل کے دماغ نے چکر پھیریاں لگانا شروع کیں۔ ’’اوکے تو گلی مڑنے کے بعد کتنا آگے جانا پڑتا ہے؟ ‘‘
’’آئی تھنک۔۔ تقریباٰٰ ہاف تک۔‘‘وہ سامنے والی گلی کو دیکھتے اندازہ لگانے لگی۔
’’ ہوں۔۔اور گیٹ کا کلر۔؟ یا کوئی اور نشانی؟‘‘
’’ گیٹ ڈارک گرین ہے ۔اور اوپر بالکنی فان کلر کی ہے۔ انیکسی کا کلر لائٹ براؤن ہے۔‘‘
’’ مسز شکیل کا نام یاد ہے ؟‘‘ اشعل کچھ زیادہ ہی دماغ لڑا رہا تھا۔
’’ آں۔۔ہاں۔۔تنزیلہ آنٹی۔‘‘
’’ جن کے ٹوئنز ہیںنا؟ ‘‘اشعل نے چہک کر انگلی اٹھائی اور سمائ نے ہلکی سی چیخ ماری۔
’’ یس.وہی ہیں۔ ‘‘
’’ لیں ۔پھر ۔مل گیا گھر۔ چلیں میرے پیچھے آجائیں۔ ‘‘
’’ بائیک پر؟‘‘ وہ بدک کر پیچھے ہٹی اور پچھلے بنگلے کی سلائڈ پہ چڑھ گئی۔جبکہ اشعل نے نرم سی مسکراہٹ کے ساتھ سر نفی میں ہلایا
’’میں آہستہ رفتار سے بائیک آگے بڑھاتا ہوں۔ آپ تیز قدموں سے میرے پیچھے آجائیں۔‘‘
’’ ہاں۔صحیح۔ ‘‘وہ شرمندہ سی اس کے پیچھے ہولی ۔اور یہ دیکھ کر تو ماتھا ہی پیٹ لیا کہ اس کا گھر دوسری لیفٹ سائیڈ والی گلی میں تھا۔ اشعل نے بائیک عین اس کے گھر کے سامنے روکی ۔کچھ ہی دیر میں وہ بھی وہاں پہنچ گئی۔
’’ کمال ہے ویسے۔آپ نے بڑی جلدی بوجھ لیا ۔‘‘
’’ دیکھ لیں پھر۔‘‘ اشعل نے عادت کے مطابق گردن ہلاتے تعریف وصول کی ۔
’’ لیکن آپ تنزیلہ آنٹی کو تو جانتے ہیں اور شکیل انکل کو نہیں جانتے؟ ‘‘وہ اچانک خیال آنے پرحیران ہوئی۔
’’ مجھے بھی یہاںآئے ایک ہی ہفتہ ہوا ہے۔ میری چچی نادیہ ، تنزیلہ آنٹی کانام تو روٹین میں لیتی ہیں۔ کافی آنا جانا ہے۔ لیکن انکل شکیل ان کے ہسبنڈ کانام ہے ،یہ تو مجھے ابھی پتا چل رہا ہے۔ ‘‘
’’ تو آپ کا گھر؟‘‘ سمائ نے دیکھا وہ بائیک سے اتر کر سامنے والا گیٹ کھول رہا تھا۔
’’ یہی۔ آ پ کے عین مقابل؟‘‘ اس نے ہنس کر ابرو سے اشارہ کیا اور سمائ کا حیرانی سے منہ کھل گیا۔
’’ کمال ہے؟‘‘
ؔؔ’’ اصل کمال پتا ہے کیا ہے۔ وہ گیٹ کھول کر واپس آیا۔ ’’ آپ نے جب گرین گیٹ کہا ،میں وہیں کھٹک گیا تھا۔ کیونکہ صبح جب گھر سے بائیک نکالتا ہوں تو وہ میری تیز رفتاری کی وجہ سے روزانہ ہی سامنے والے اس گرین گیٹ سے لگتے لگتے رہ جاتی ہے۔ پھر جب فان کلر کی ریلنگ،اور لائٹ براؤن پینٹ سنا تو بس مجھے فوراٰٰ خیال آیا کہ کسی طرح گھر کی خاتون کا نام پتا کرنا چاہیے۔ ‘‘
’’ اللہ۔ آپ بہت اسمارٹ ہیں۔‘‘ وہ بڑے ہی رشک سے اشعل کو دیکھ رہی تھی۔اور اشعل کے لیے تو یہ روٹین کی بات تھی۔
’’ آپ بھی نئی آئی ہیں؟‘‘ اشعل کو بات بڑھانے کا بہانہ بھی سوجھ گیا ۔
’’ جی،ہمیں آج تیسرا دن ہے۔ یہاں تو پاس ان ہی پڑوسیوں سے سلام دعا ہوئی ہے۔ اس نے شکیل فاروقی کے گھر کی طرف اشارہ کیا اور اشعل نے دل ہی دل اپنی چچی کی سستی پر افسوس کیا۔ عین سامنے نئے لوگ آئے ہیں۔ کچھ تو حق ِ میزبانی بنتا تھا۔ ‘‘
’’ اچھا۔ مجھے گھر کھولنا ہے۔ تھینکس۔‘‘ سمائ کو وہ تو جاتا دکھائی نہیں دیا تب ہی سرہلاتے خود ہی اجازت مانگی اور شکیل صاحب کے ہاں چابی لینے داخل ہوگئی۔ اشعل البتہ دل میںدبے بے شمار سوال اور ان کے جوابات کی حسرت لیے ٹھنڈی آہ بھرتے گھر آگیا۔
٭٭٭
’’چابی غلط نہ ہو امی!یہ کہیں اندر روم کی تو۔‘‘
’’ ارے نہیں سمائ۔ کی چین دیکھو؟‘‘ انہوں نے ہاتھ آگے لہرایا ’’چابی کا مسئلہ نہیں ہے۔ چابی پوری اندر ہی نہیں جا رہی ۔ ‘‘
’’ یا اللہ۔ اب کیا ہوگا۔‘‘سمائ کو شدید کوفت ہونے لگی۔ یونیورسٹی آج آف تھی۔ تین بجے وہ اور امی مارکیٹ چلے گئے تھے۔ اب شام کے چھ بجے واپسی ہوئی تو آگے سے یہ مسئلہ۔ اشعل کا بھی ڈے آف تھا۔ ایک بجے تک تو وہ سویا ہی رہا۔ نادیہ چچی نے آواز دی ،پردے ہٹائے تو وہ بھی اَٹھ گیا۔ ناشتے کے بعد وہ لیپ ٹاپ آن کرکے بیٹھ گیا تھا۔ لیکن لیپ ٹاپ کی بیک پر کھلی کھڑکی سے آتی روشنی اس کی آنکھوں میں چبھ رہی تھی۔ وہ اٹھ کر پردہ برابر کرنے بالکنی تک آیا لیکن نیچے گرین گیٹ کے سامنے پچھلے روز والی لڑکی اور ایک عورت کو دیکھ کر وہیں رَک گیا۔ دونوں کی باتوں کی آواز بہت واضح تھی جس سے معلوم ہوا کہ گھر کا لاک نہیں کھل رہا۔ اشعل نے بس سیکنڈز لگائے پھر وہ بالکنی کے بجائے گیٹ کے باہر کھڑا تھا۔ متوجہ کرنے کے لیے ہلکا سا کھنکارا اور چہرا اپنے موبائل پر جھکا لیا۔ جیسے وہ تو بس یونہی کھانستا ہوا گھر کے دروازے تک آیا ہے۔ او رتوجہ بھی مکمل اپنے موبائل کی طرف ہے۔
’’ امی۔کل اسی نے مجھے اپنی گلی اور گھر تک پہنچایا تھا۔اس سے ہیلپ مانگتے ہیں۔ ‘‘
’’ اچھا۔‘‘ وہ سر سے پیر تک اشعل کو دیکھتے سوچ میں پڑ گئیں۔ ’’تم ہی کہو۔ میں تو جانتی نہیں۔ ‘‘
’’اسلام وعلیکم۔‘‘سمائ نہایت خوش خلقی سے مسکراتے ہوئے گلی کے درمیان تک آئی ۔
’’ او ارے آپ۔ وعلیکم اسلام۔‘‘ اس نے نہایت شیرینی سے مسکراکر جواب دیتے دوسری عورت کی طرف دیکھا
’’ اسلام وعلیکم آنٹی! ‘‘
’’ وعلیکم اسلام ۔جیتے رہو۔‘‘
’’ وہ ۔اصل میں ہم ابھی مارکیٹ سے آئے ہیں۔ گھر کھولنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن کھل نہیں رہا۔ ‘‘
’’ او۔۔ اچھا۔‘‘ وہ اتر کر ان کے گیٹ تک آگیا۔ اور چابی آنٹی کے ہاتھ سے لے کر کی ہول میں ڈالی کی لیکن وہ پھنس رہی تھی۔ اور ظاہر ہے کہ جب تک پوری فٹ نہ ہوتی ،لاک کا کھلنا ممکن نہیں تھا۔ اس نے کچھ دیر سوچا پھر اپنے موبائل کی ٹارچ آن کرکے اندر دیکھا ۔ چابی کو ایک بار اندر تک ڈالا۔
ہوں۔۔ اشعل کے چہرے پر تفکر چھا گیا۔
’’ لگتا ہے بچوں نے کچھ ٹھونسا ہے ۔ ابھی کچھ دیر پہلے یہاں کافی شور بھی تھا۔ یقینا بچے کھیل رہے تھے۔ اور۔‘‘ اس نے ایک مرتبہ پھر ٹارچ کی روشنی میں اندرتک جھانکا ۔
’’ یہ تو مجھے چیونگم لگتی ہے۔ ‘‘
’’ ہائے ۔اب کیا ہوگا۔‘‘ آنٹی نے ہاتھ پریشانی سے ماتھے پہ مارا ۔
’’ ارے آنٹی ۔فکرمند کیوں ہوتی ہیں۔ میں ہوں نا۔ ‘‘اس نے پہلے جلدی سے اپنے گیٹ کا چھوٹا دروازہ کھولا۔ ’’آنٹی ،آپ اِدھر ہمارے گھر بیٹھ جائیں کچھ دیر۔ اتنی دیر آپ سے کھڑا نہیں ہو اجائے گا۔ ‘‘
’’ نہیں بیٹا۔ میں۔‘‘
’’ آجائیں آنٹی! ‘‘اس نے اندر چھوٹے لان سے پلاسٹک کی کرسی کھینچ کر گیٹ کے اندرونی جانب رکھی تو آنٹی اس مرتبہ بنا کچھ اور کہے اندر آکر کرسی پہ بیٹھ گئیں۔ اشعل انہیں بٹھا کر واپس سمائ کی طرف آیا۔
’’ کوئی نوک والی چیز ہے۔۔ آں ہیئر پِن۔؟ اسے خیال آیا۔‘‘
’’ ہئیر پِن۔ ‘‘وہ سوچ میں پڑ گئی۔ پھر اپنی سائیڈ پہ لٹکے ہینڈ بیگ کی زِپ کھولی۔ ’’ ہئیر پن بھی ہے۔ سوئی بھی ہے۔ اور یہ۔‘‘
’’ ہاں آپ ہئیرپن اور سوئی دونوں دیں۔‘‘ اس نے پہلے سوئی اندرڈال کر چیوگم نکالنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔ تو کالی سادی ہئیر پن کو دیکھ کر کچھ خیال آیا۔
’’ آپ یہ ٹارچ پکڑیں اور روشنی یہاں فکس کریں۔ ‘‘اس نے موبائل سمائ کو دے کر پن کی بیک سائیڈ کو اندر ڈال کرپن کی یو شیپ کی گولائی میں چیوگم پھنسا کر اسے باہر کھینچا تو جمی ہوئی ٹھنڈی چیوگم کا کچھ حصہ باہر آگیا۔
’’ ارے واہ، سمائ خوشی سے چہکی۔ اور فوراٰٰچابی آگے کردی ۔
’’ نا۔نا۔ ابھی نہیں۔ سارا کام خراب ہوجائے گا۔ ابھی اور بھی ہے۔ ‘‘اس نے دوبارہ وہی عمل دوہرا کر کچھ اور چیوگم باہر نکالی۔ اور تیسری مرتبہ کے بعد جب چابی اندر ڈالی تو وہ اچھی طرح فکس بھی ہوگئی اور لاک بھی کھل گیا۔
’’ امی گھر کھل گیا۔‘‘ سمائ نے خوشی سے شور مچا دیا۔
’’ یا اللہ۔تیرا شکر۔‘‘ وہ ہاتھ اٹھا کر شکرپڑھتی باہر آگئیں۔ اور تھیلے وغیرہ اٹھا کر فوراٰٰ ہی اندر داخل بھی ہوگئیں۔ بلاوجہ ان کا کافی سارا وقت ضائع ہوگیا تھا
’’بہت شکریہ۔‘‘ سمائ نے پلٹ کر مسکراتے ہوئے اشعل کو دیکھا ’’آپ نہ ہوتے تو مجھے لگتا ہے ،لاک کھلنا ناممکن تھا۔
’’ ارے کوئی بات نہیں۔ کوئی بھی مشکل ہو ، کہہ دیا کریں۔ کون سا دور ہوں آپ سے۔‘‘ اَس کی زبان بے ساختہ پھسلی ’’ مطلب ۔یہیں سامنے ہی توگھر ہے نا۔‘‘وہ بات سنبھالتے نروس سا ہوکر اپنے گیٹ کی طرف اشارہ کرنے لگا اور سمائ ہنستے ہوئے گھر میں چلی گئی۔
٭٭٭
جالی دار کریم کلر کا پردہ دھیمی ہوا کے سرد ہلکوروںسے لہراتا بار بار اس کے چہرے پر آرہا تھا۔ خواب ناک آنکھیں بند ہورہی تھیں۔ جبکہ وہ آنکھیں کھول کر اس سامنے والی کھڑکی سے جھانکتی دل نشین حسینہ کو دیکھنا چاہتا تھا۔ لیکن باوجود کوشش کے آنکھیں نہ کھل رہی تھیں۔ شاید وہ نیند میں تھا۔ کچھ خواب کچھ بیداری کی سی کیفیت میں وہ پچھلے دوروز کے مناظر کو سوچتے ایک الگ ہی سحر میں گرفتار ہورہا تھا۔ اورچھناک۔۔ نہایت قریب کچھ ٹوٹا تو سوتی جاگتی کیفیت بھی مکمل بیداری میں تبدیل ہوگئی۔ وہ کمبل ہٹا کر فوراٰٰ ہی بالکنی میں آیا۔ اتوار کی صبح بچوں کو کہاں کچھ آرام تھا۔ نیچے کرکٹ جاری تھی۔ ٹینس بال گملے سے ٹکرائی اور گملاگلاس ونڈو کی طرف اوندھے منہ گرا تو چھن کی آواز سے شیشے پر دراڑ پڑ گئی۔ اشعل نے بچوں کو ڈانٹ کر دور کھلی جگہ کی طرف بھگا یا اور ان کی بال بھی واپس کردی۔ان کے وہاں سے بھاگ جانے کے بعد انگلیاں بالوں میں ڈال کر بال سلجھائے ۔ کچھ دیر رک کر آس پاس پہ ایک نظر ڈالی۔ سامنے کی وائٹ بالکنی کو دیکھ کر اسے چند لمحوں پہلے کا خواب یاد آگیا۔ سامنے دکھائی دیتی بالکنی سے کچھ دس بارہ قدم پیچھے کمرے کا دروازہ تھا جس پر لہراتا آف وہائٹ جالی دار پردہ ابھی کچھ دیر پہلے اسے خواب میں پریشان کررہا تھا۔ جانے وہ لڑکی اس بالکنی سے دکھائی دیتے دروازے کے پیچھے کہاں موجود تھی۔ وہ کچھ دیر وہاں بلاوجہ ہی منتظر رہا لیکن پھرکسی کو وہاں نہ پاکے مایوس ہوکر فریش ہونے چلا گیا۔
واپس آکر اس نے کمرے سے نکل کر نیچے لاؤنج میں جھانکا تو ہرطرف سکوت چھایا ہوا تھا۔ جس کا مطلب یہی تھا کہ چچا چچی اور بچے اتوار کی وجہ سے دیر تک آرام کرنے کے موڈ میں تھے۔ ارادہ تو اس کا بھی اگرچہ یہی تھا۔ جب تک چچی خود اٹھانے نہ آتی تھیں وہ سویا ہی رہتا تھا۔ یہ تو بچوں کی شرارت کی وجہ سے اس کی آنکھ کھل گئی تھی۔ اس نے واپس کمرے میں آکر وال کلاک کی طرف دیکھا۔ دن کے ساڑھے نو بجے تھے۔ ناشتہ تو چچی کے جاگنے پر ہی ملنا تھا۔ وہ پانی پی کر موبائل ہاتھ میں لیے کرسی کھینچ کر بالکنی میں آبیٹھا۔ نیچے گلی میں اب سکون ہی سکون تھا۔ نظریں بار بار سامنے بھٹک جاتیں۔
’’ اَٹھ بھی جاؤ ماہ رَخ۔۔ دسمبر کی ٹھنڈی صبح کی رومانویت کو محسوس کرو ،تاکہ اس جاتے سال کی شاعری میں ہم بھی کچھ تھوڑا بہت اضافہ کردیں۔ پلیز۔۔پلیز۔‘‘ وہ چاہ کر بھی خود کو موبائل میں مصروف نہیں رکھ پارہا تھا۔ اور پھر اچانک ایک خیال آنے پر اس کی آنکھوں میں چمک آگئی۔
واہ۔یہ خیال پہلے کیوں نہیں آیا۔ اس نے جلدی سے کرسی سائیڈ پہ کھینچی اور پردہ برابر کرکے اندر کمرے میں کچھ ڈھونڈنے لگا۔ اور پھر سینٹر ٹیبل پہ رکھے مصنوعی پھولوں والے گول مٹول واز میں اسے سفید کنکر دستیاب ہوگئے۔اس نے ایک نسبتاٰٰ بڑا کنکر ہاتھ میں لیا اور پردے کے پیچھے سے نشانہ باندھ کر کنکر سامنے کمرے کے بند دروازے پر دے مارا۔پہلا کنکر تو دروازے سے کچھ پہلے بنا کوئی خاص آواز پیدا کیے نیچے گر گیا۔ لیکن دوسرا ٹھک سے دروازے پر لگا ۔ اور کچھ ہی دیر میں جب سامنے کمرے کا دروازہ کھولا گیا تو اِدھر سے اشعل نے بھی پردہ ہٹا کر خود کو چندھی آنکھوں کے ساتھ نیند میں ظاہر کرتے نیچے جھانکا۔
’’ کون پھینک رہا ہے یہ پتھر،کنکر؟‘‘
’’ آپ کی طرف بھی آئے کیا؟‘‘ وہ جو ٹھا کی آواز پر بھاگی چلی آئی تھی اب کھلے بالوں کو ایک سائیڈپر سمیٹ رہی تھی۔ اشعل نے نیچے ایکٹنگ کرتے بلاوجہ ہی جھانکا تھا۔ اس کی آواز پر چونک کر سامنے دیکھا تو جواب دینا ہی بھول گیا۔ وہ گولڈن پیلے کپڑوں اور کندھے سے لٹکے دوپٹے کے ساتھ کھلے بالوں میں اس وقت دسمبر کی ٹھنڈی خوب صورت صبح کو مکمل کررہی تھی ۔انتظار رائیگاں تو کیا جانا تھا، انعام کی صورت سامنے موجود تھا۔ سوچا بھی نہیں تھا کہ گھر چھوڑنے کے دس ہی دن بعد وہ کلمہ شکر بجا لائے گا۔ وہ یونی ورسٹی فیلوز جن کی طرف یار دوستوں نے متوجہ کروایا تھا، کہیں بیک گراؤنڈ میں گم ہونے لگیں۔ ۔واللہ کسی خرافات میں نہیں پڑوں گا۔ کوئی دل لگی نہیں۔۔بس ایک مسکراہٹ۔۔ پر ۔۔ اشعل چونکا۔ وہ جواب نہ ملنے پر واپس پلٹ رہی تھی۔
’’ جی ۔جی۔۔ کسی نے یہاں بھی کنکر پھینکے ہیں۔بہت شرارتی بچے ہیں یہاں کے۔ دیکھیں نا۔۔ شیشہ توڑ دیا۔ ‘‘اس نے جی توڑ کوشش کرکے لڑکی کو روکا۔ وہ دوبارہ اِدھر دیکھنے لگی۔ نظریں ملنے پر اشعل مسکرا دیا،
’’ چلیں اچھا ہی ہوا۔‘‘
’’کیا.شیشہ ٹوٹنا؟‘‘وہ تعجب سے پوچھنے لگی۔اشعل جھینپ کر ہنس دیا۔
’’ نہیں۔ ایکچوئلی میری کوشش ہوتی ہے۔چھٹی کا دن سو کر ضائع نہ کروں لیکن پھر اٹھنے کے لیے ہمت بھی تو بہت چاہیے ۔ پر اب بچوں کی شرارت کی وجہ سے جاگ ہی گیا ہوں تو کافی فریش فیل کررہا ہوں۔ ‘‘
’’ جی یہ تو ہے؟‘‘
’’ہاں ۔لیکن آپ کی نیند ڈسٹرب ہوگئی۔ہے نا؟ ‘‘وہ پھر اسے روکنے میں کامیاب ہوگیا۔
’’ نہیں ۔میں بھی دس بجے تک اٹھ جاتی ہوں۔ ‘‘
’’ آپ کیا کررہی ہیں۔۔ آئی مین۔ اسٹڈیز؟‘‘
’’ میں ۔ بی ایس میتھس۔‘‘
’’ ہاں ۔ماشائ اللہ۔ آفس جاب کے لیے تو بہت عمدہ آپشن ہے۔ ‘‘
’’ جی۔ ‘‘وہ اب کسی طرح نکلنا چاہ رہی تھی۔ اشعل کو اندازہ ہوا تو کچھ اسی وجہ سے جملے ترتیب دئیے۔
’’ تعارف حاصل کرنے کے لیے ۔کتنے اور اتفاقات ہونے چاہئیں؟ ‘‘اس نے پلٹ کرجاتی لڑکی سے پوچھا تو جاتے جاتے وہ رکی۔ چہرے کی مسکراہٹ بہت واضح تھی۔
’’ سمائ زہرا۔‘‘
’’ واہ۔ بہت خوب صورت ۔۔ مجھے اشعل رضا کہتے ہیں۔اور میں پی ایچ ڈی کے فرسٹ سمسٹر میں ہوں۔ یہ میرے چچا کا گھر ہے۔ ہم بیسیکلی گجرات سے ہیں۔ ‘‘اس نے تعارف کی مد میں کوئی کسر نہ چھوڑتے ہوئے سب کہہ ڈالا ۔وہ ہنستے ہوئے پوری پلٹ آئی۔ ایک نظر نیچے گلی میں جھانک کر کسی کے نہ ہونے کی تسلی کی ،پھر اشعل کو دیکھا ۔
’’ اور آپ کی برتھ ڈے کب ہوتی ہے، آپ کے مشاغل، پسندیدہ کلر، فوڈ،موویز۔۔ وہ بھی بتاتے جائیں۔ ‘‘سمائ رکی تو طنز کرنے تھی لیکن پتا نہیں تھا واسطہ کس سے پڑا ہے۔ اشعل نے ساتھ رکھی کرسی گھسیٹ کر سیدھی کی اور بیٹھ کر کہنیاں بالکنی پہ ٹکا دیں۔
’’ ہاں نا بالکل پتا ہونا چاہیے۔ میری برتھ ڈے چھبیس مارچ کو ہوتی ہے۔اس حساب سے میں ایریز (حمل) ہوں۔ ایج چوبیس برس ہے، مشاغل سب کے کام آنا۔ کلر تو مجھے جتنا یہ گولڈن یلو پسند ہے نا۔ ۔ واللہ آپ تو آج دسمبر کی پینٹنگ کمپلیٹ کررہی ہیں۔ خزاں کا رنگ اور دھندبھری سرمئی سی صبح ۔۔کیا سحرانگیز کمبی نیشن ہے۔۔ جواب نہیں۔ اور فوڈ تو سمائ مجھے سارے پسند ہیں۔ مجھے سمجھ میں نہیں آتی لوگ تین ٹائم ہی کیوں کھاتے ہیں۔ میں تو پانچ وقت ہی کھاتا ہوں۔ اب نمازیں بھی توپانچ وقت کی ہیں۔ سچ کہوں تو قدرت کا نظام ہے ۔آپ بھی ذرا غور کرکے دیکھ لیں۔ بھوک بھی بندے کو پانچ ہی مرتبہ لگتی ہے۔‘‘ وہ نان اسٹاپ بول رہا تھا۔ اور سمائ کو کچھ کچھ اندازہ اسی دن ہوگیا کہ یہ بندہ کیا چیز ہے۔وہ تاسف سے سرہلاتی واپس پلٹ گئی۔
٭٭٭
’’ارے۔ یار۔ تمہارا بیٹا تو بڑا ہی فاسٹ ہے۔ ‘‘نادیہ کے پاس بڑی چٹ پٹی خبریں تھیں۔ سعداللہ اور اشعل رات کو واک کے لیے نکلے تو نادیہ نے فوراٰٰ ہی رفعت کو کال ملا دی۔
’’ کیوں ڈرا رہی ہو۔ پہلے ہی طفیل بھیا نے میرا سانس خشک کررکھا ہے۔‘‘
’’ ہائیں۔ طفیل بھائی کا کیا مسئلہ ہے ؟‘‘ نادیہ کو اَلٹا نئی خبر کا سامنا تھا۔
’’ ارے ہاں ۔تمہیں کہاں بتا پائی تھی۔ اس لڑکے کی پیکنگ شاپنگ کے اتنے دھندے تھے۔۔ یاروہ طفیل بھائی اور سمیعہ بھابی اماں کے پاس گئے تھے بڑے گھر۔ انہوں نے صاف اپنی مرضی ان پر ظاہر کی تھی کہ عنایہ کا رشتہ وہ اشعل سے کرنا چاہتے ہیں۔ رفعت اگر دلچسپی رکھتی ہے تو وقت پر بتادے۔ ورنہ پھر ہم عنایہ کا کہیں اور کریں۔ دراصل بھیا کو ہی بچیوں کی شادی کی جلدی ہے۔ ‘‘
’’ ہاں۔اچھا۔۔ تو پھر۔۔‘‘
’’ بس فی الحال چھوڑو وہ سب۔۔ ابھی مجھے اس بارے میں حمید سے مشورہ کرنا ہے۔ اس کے بعد ہی کچھ کہہ سکوں گی ۔ پہلے تم بتاؤ نا۔کیا کہہ رہی تھی اشعل کے بارے۔ ‘‘
’’ ہاں بھئی۔ میں تو سمجھ رہی تھی یونی ورسٹی میں تلاش جاری ہوگی ۔۔پر وہ تو لگتا ہے ہر طرف ہاتھ مارہا ہے۔ ‘‘
’’ ہر طرف۔۔مطلب کے؟ ‘‘
’’ یار میرے گھر کے عین سامنے کی لڑکی ہے۔ فاریہ لان میں بیٹھی پڑھ رہی تھی۔اس نے آکر بتایاکہ سامنے والی لڑکی سے کافی فری ہورہے تھے۔ پھر اشعل نے خود بھی باتوں باتوں میں مجھے بتایا کہ ان کا لاک خراب ہوگیا تھا تو میں نے ٹھیک کرکے دیا۔اور کہہ رہا تھا کہ آپ کو بھی جانا چاہیے ۔ نئے آئے ہیں۔ فرض بنتا ہے۔ ‘‘
’’ ہاں بس یہ فرض سمجھ میں آتے ہیں۔‘‘ رفعت کا مزید دل جلا۔ ’’ اپنا گھر خاندان اچھی شریف لڑکیوں سے بھرا پڑا ہے۔ یہ فرض بھی تو اپنوں کا بنتا ہے کہ اگر اللہ نے آپ کو لڑکے عطا کئے ہیں تو اپنے گھر کی بچیاں کہیں دور نہ جانے پائیں۔ بہن بھی میرے منہ کو دیکھ رہی ہے۔ بھائی بھی یہی چاہتا ہے۔ وحید بھائی کی فضہ ،عمارہ بھی شادی کی عمر میں ہیں ۔ میں نے کبھی نہیں چاہا کہ کسی ایک کو اس کے سر تھوپ دوں۔ہمیشہ یہی کہا سب تمہارے سامنے ہیں۔ جسے تم پسند کرو۔ لیکن اس نے تو پورے خاندان کی نفی کردی۔ فیملی تو اَسے بھِڑ کی طرح کاٹتی ہے۔‘‘
’’ پوچھوں گی اس کمینے سے۔ بگاڑا کیا ہے ہم نے تمہارا۔ چڑنے کی کوئی وجہ بھی تو ہو۔‘‘نادیہ بھی غصہ میں آگئیں۔
’’ میں تو کچھ نہیں چھوڑتی نادی۔ ابھی پرسوں ہی میری بات ہوئی تو میں نے کہا اتنے گلے ہیں فیملی سے تو چچا کے گھر کیوں پڑے ہو۔ ہم کیاہاسٹل کا خرچہ نہیں اٹھا سکتے۔ جاؤ پھر ،پورے خود مختاربنو ۔‘‘
’’اچھا اب یہ تو نہ کہو۔‘‘ نادیہ نرم پڑیں ’’ کہیں غیرت میں چل ہی نہ دے۔ ہم سب تو بہت خوش ہیں اس کے آنے سے۔ سچ کہوں تو بچہ تمہارا بڑا ہی لائق اور سگھڑ ہے۔ ‘‘
’’ کہیں نہیں جانے والا۔ اوپر سے سامنے والی کھڑکی بھی آباد ہوگئی۔ اب کہاں جاتا ہے۔ اچھا بتاؤ نا۔۔کون ہے سامنے والی لڑکی ۔‘‘
’’ میں تو بالکل نہیں جانتی۔ ابھی کچھ ہی دن ہوئے ہیں محلے میں آئے۔‘‘
’’ کچھ ہی دن۔‘‘ رفعت سوچ میں پڑ گئی ’’ارے یہ بھی تو ابھی گیا ہے۔ کہیں پہلے سے تو نہیں جانتے ایک دوسرے کو۔ ہیںکون لوگ ۔ پتا تو کراؤ۔ ‘‘
’’ ہاں۔جاتی ہوں کسی دن۔ کام والی بتا رہی تھی بس ماں اور بیٹی ہیں۔ ‘‘
’’ ہائے اللہ۔دواکیلی عورتیں۔ پتا نہیں کیسے لوگ ہوں گے۔ تم نے تو مجھے نئی فکر میں ڈال دیا۔‘‘
’’ کچھ نہیں ہوگا۔ بالکل ہی نئی نئی بات ہے۔ معلوم نہیں معاملہ سنجیدہ ہے بھی یا نہیں۔‘‘
’’ اچھا پتا کرکے بتانا۔ اور دیکھو اس سے روزانہ کا حال احوال ضرور لیا کرو۔ باتیں اَگل بیٹھتا ہے۔ ‘‘
’’ ہاں ہاں۔ پریشان مت ہو۔ سامنے والے معاملے کو تو خود دیکھنا آسان بھی ہے۔ دعا کرو۔ باہر کچھ اور مسئلے نہ ہوں۔ ‘‘
’’ہاں بہن۔ دعا کے علاوہ کیا ہے میرے پاس۔ ‘‘رفعت بھی آہ بھرتے اجازت لے گئیں۔
٭٭٭
گھنے گہرے بادل تو دسمبر شروع ہوتے ہی چھت کی طرح تن گئے تھے۔ ہرکوئی بارش کی دعا مانگ رہا تھا۔ لیکن بادلوں سے بوند بھی نہ ٹپک رہی تھی۔ وہ اسٹاپ سے یونی ورسٹی بس میں سوار ہوتی اور واپسی بھی اسی اسٹاپ سے کرتی۔ سڑک سے اندر گھر تک فاصلہ ایسا تھا کہ وہ روز ہی کنفیوژ ہوجاتی کہ اتنی مسافت بندہ پیدل طے کرے یا رکشہ کرے۔ لیکن پھر پیدل ہی چل پڑتی۔ اَس روز وہ یونی ورسٹی پہنچی ہی تھی کہ اللہ اللہ کرکے بادل برس ہی پڑے۔ بس سے اتری تو سرما کی بوندا باندی سڑک کو مکمل بھگو چکی تھی۔ یونی ورسٹی کے گیٹ سے اندر بلڈنگ ایریا میں داخل ہونے تک وہ ہلکی سی بھیگ چکی تھی۔ جرسی سوئٹر ابھی شروع نہ کیے تھے ،حالانکہ امی روزانہ نکال کہ کھڑی ہوتی تھیں۔ وہ بری طرح پچھتائی کہ اگر امی کا کہنا مان لیتی تو اب بجائے کپڑوں کے جرسی گیلی ہوئی ہوتی اور جسے وہ اندر جاکر اتار لیتی تو دن، آرام سے گزر جاتا لیکن ہلکے نم کپڑوں کی وجہ سے تیسری کلاس ختم ہونے تک اسے بخار نے آلیا۔
ابھی ایک کلاس باقی تھی۔ اس کا جسم گرم اور سر بھاری سا تھا لیکن سمائ نے کلاس پوری اٹینڈ کی۔ ویسے بھی بس تو اپنے وقت پر ہی نکلنی تھی۔ آخری کلاس کے بعد بھی اسے آدھا گھنٹہ بیٹھنا پڑتا تھا۔ بارش صبح سے جو ہلکی ہلکی شروع ہوئی تھی وقفے وقفے سے جاری ہی تھی۔ جس وقت وہ بس میں بیٹھی بارش ایک مرتبہ پھر شروع ہوچکی تھی اس لیے پارکنگ میں پہنچنے تک ایک مرتبہ پھر کپڑے نم ہوچکے تھے۔ سمائ کو بس میں بیٹھے ہی شدید سردی لگنا شروع ہوگئی۔ اسے صاف محسوس ہو رہا تھا کہ ٹانگوں کی کپکپاہٹ اس کے کنٹرول میںنہیں ہے۔
گھر تک کا سفربھی قریب چالیس منٹ کا تھا۔ چالیس منٹ بعد جب وہ اسٹاپ پر اتری اس کی حالت بہت بری تھی۔ بارش ابھی بھی ہورہی تھی۔ اس نے رکشہ کی تلاش میں نظریں اردگرد دوڑائیں۔ اسٹاپ کے شیڈ کے نیچے خود کو چھپائے وہ کسی رکشے کا انتظار کررہی تھی۔ آج پیدل چل کر جانے کی حالت نہ تھی۔لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ رکشے یہاں رکتے ہی نہ تھے۔ ان کا اسٹاپ ذرا سا آگے دائیں مڑتی ذیلی روڈ کے نکڑ پر تھا۔ یہاں اسٹاپ پر کھڑے لوگوں کو دیکھ کر یہی سمجھا جاتا کہ وہ بس کا ویٹ کررہے ہیں۔ بخار کی حالت نے اسے الگ پریشان کررکھا تھا۔ کسی رکشہ کے نہ رکنے پر بالآخر اس نے چلنا شروع کردیا۔ اسے تو بس جلد ازجلد کسی طرح گھر پہنچناتھا تاکہ چینج کرکے بستر میں گھس سکے۔
’’ ارے سمائ۔۔ آپ۔۔پیدل کیوں جا رہی ہیں۔ ‘‘نہایت قریب ایک بائیک رکی اور جانی پہچانی آواز پر اس نے سر اٹھایا ۔
’’ اشعل۔آپ۔‘‘ وہ کسی اپنے کو دیکھ کر تھوڑی سی مطمئن ہوئی ۔ ابھی اسٹاپ سے وہ چند ہی قدم چلی تھی۔ گھر تو اس حساب سے کافی دور تھا۔
آ۔آپ۔ٹھیک تو ہیں سمائ۔؟ اشعل کو اس کا چہرا دیکھ کر سمجھ میں آگیا کہ اس کی حالت نارمل نہیں ہے۔
’’ رکشہ نہیں مل رہا۔ طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے۔ ‘‘
’’ رکشہ تو یہاں مشکل ہے۔اس کا اسٹاپ تو اگلی گلی کے نکڑ پر ہے ۔ اور بارش بھی متواتر ہورہی ہے۔ آپ برا نہ منائیں تو میں آپ کو گھر چھوڑ دیتا ہوں۔ ‘‘
’’ نہیں۔‘‘ وہ ایک بار پھر فوراٰٰ پیچھے ہٹی۔ ’’ مجھے اس کی اجازت نہیں ہے۔ ‘‘وہ تیز قدموں سے چلنے بھی لگی۔ اشعل باوجود بارش میں بھیگنے کے آہستہ روی سے بائیک اس کے پیچھے رکھے ہوئے تھاجب سمائ کے موبائل پر کال آنے لگی۔
’’ جی امی۔ جی۔بس سے اتر چکی ہوں۔ بس پیدل۔‘‘با ت اس کے منہ میں تھی اور اشعل نے بائیک اس کے مقابل لاتے روکی اور ’’ایک منٹ‘‘ کہہ کر موبائل اس کے ہاتھ سے لے لیا۔
’’ آنٹی میں اشعل بات کررہا ہوں سامنے گھر والا۔ آنٹی مجھے لگتا ہے انہیں بخار ہے۔ میں اتفاقاٰٰ یہاں پہنچا ہوں۔ رکشہ یہاں سے نہیں ملتا۔میں اپنی بائیک پر ہوں۔ آپ پلیز سمائ کو اجازت دیں تاکہ میں ان کو فوراٰٰ گھر پہنچا سکوں۔ ‘‘
’’ ہا۔ہاں۔ ہاں۔ بیٹا۔‘‘ آنٹی نے بات سمجھ کر بس چند لمحے لیے اور فوراٰٰ ہامی بھرلی۔
’’ مل گئی اجازت۔۔ آئیں بیٹھ جائیں۔‘‘وہ کچھ خفگی سے کہہ رہا تھا۔ سمائ بھی مزید وقت ضائع نہ کرتے پیچھے بیٹھ گئی ۔
’’ پیچھے کیرئیر ہے ۔اسے پکڑ لو۔‘‘ اشعل کو اندازہ تھا کہ وہ اس کے کندھے پہ ہاتھ نہیں رکھے گی ،اس لیے اس کی مشکل آسان کی۔ سمائ نے ہاتھ پیچھے کرکے کیرئیر کو تھاما اور کچھ ہی دیر میں وہ دونوں اس کے گیٹ کے سامنے تھے۔ اس شام اپنے اپنے گھر میں داخل ہوتے بِنا کچھ کہے ہی ایک میٹھی ذومعنی مسکراہٹ کے تبادلے نے سب کہہ دیا تھا۔
٭٭٭
سامنے والی کھڑکی اِن دنوں اشعل کے لیے کیا تھی۔ ۔ خواب میں نظر آتی جنت کی جھلک۔ بہار کی خوشبوؤں میں لپٹی ہواؤں کی گزرگاہ ، کھڑکی کے اس جانب کبھی کبھار سمائ کا لہرا کر گزر جانا جیسے پھول پہ اَڑتی خوش رنگ تتلی۔یونیو رسٹی کا وقت تو جیسے تیسے دھکا دے کر گزرتا تھا۔ چچا کے گھر آمد کی کشش اِن دنوں دن بھر کا سب سے خوب صورت کام تھا۔ کیونکہ سمائ بھی اسی کی طرح ہی بے چین و منتظر ہوتی تھی۔ صبح سویرے یونی ورسٹی جانے سے پہلے تیار ہوکر بالکنی میں آنا۔ ایک دوسرے کو اپنی تیاری دکھا کر روانہ ہونا۔دن بھر کی روٹین ساتھ ساتھ واٹس ایپ پر کبھی لکھ کر تو کبھی وائس کے ذریعے بھیجتے رہنا۔
واپسی پر گھر پہنچتے ہی سب سے پہلے بے تابی سے وہاں آنا کہ جہاں سے دیدار ِ یار دن بھر کی تھکن اَتار دیا کرتا۔ ۔ راتیں دیر تک باتیں کرتے بیت رہی تھیں۔ دسمبر کی چھٹیوں میں جب امی نے گھر بلایا تو اشعل کو ہوش آیا کہ یہ گھر بلاوا تو دراصل سمائ سے ہفتہ جدائی کا دوسرا نام ہے۔ وہ دل پہ پتھر رکھے گھر پہنچا تو امی اسے خوب ہی کڑے تیور لیے منتظر ملیں۔ نادیہ چچی نے واردات ِ عشق کی رپورٹ من وعن اَن تک پہنچا دی تھی ۔
’’ جانے کون سی بددعا پیچھا کررہی ہے۔ جو سوچتی ہوں وہی ہو نہیں پاتا۔‘‘وہ ماتھے پہ ہتھیلی مارتے سخت مایوس دل گرفتہ دکھائی دے رہی تھیں۔
’’ اپنے گھر کی یہ پیاری پیاری ، سگھڑ ، سلیقہ شعار، نیک شریف بچیوں کو دیکھ کر حسرت سے سوچتی تھی ، اے اللہ ایک ہی بیٹا کیوں عطا کیا۔ کم از کم تین بیٹے ہوتے تاکہ بھائی، بہن ،دیورسب کے گھروں سے بہوویں لاکر سب کو راضی کردیتی۔ کیا خبرتھی ایک اکلوتا چراغ بھی کسی پرائے گھر کو روشن کرنے پہ تَل جائے گا۔‘‘
’’ آپ ایک بار سمائ سے ملیں تو سہی۔ آپ کو مل کر صاف صاف فیملی اور باہر کا فرق سمجھ میں آئے گا۔ امی آپ کی سوچ ایک ہی دائرے میں گھوم رہی ہے۔ خاندان برادری ضرور بندے کو پیارے ہوں ، لیکن اس چکر میں غیروں سے نفرت کی انتہا کو پہنچنا۔‘‘
’’ او میاں۔‘‘ رفعت نے پلک جھپکتے میں اس کا کان یوں مروڑا کہ اس کا پورا سر ہی گھوم گیا.’’ شرم نہیں آتی بے غیرت اولاد۔ نفرت کا الزام مجھ پر لگا رہے ہو۔۔ نفرت توتم کرتے ہو،لفظ’’کزنز‘‘ سے۔۔اور جس نفرت نے مجھے دن میں تارے دکھا رکھے ہیں ۔ تم نے یہ فتنہ کھڑا نہ کیا ہوتا تو خاندان بھر میں شرمندہ ہونے کی نوبت تو نہ آتی۔ بہن ،بھائی۔سسرال کوئی نہیں بخشے گا مجھے۔ ‘‘
’’ لیکن میں نے تین شادیاں تو نہیں کرنی تھیں۔ آپ سے تو کوئی ایک ہی خوش ہوتا۔باقی دو نے تو پھر بھی خفا ہی ہونا تھا۔ ‘‘
’’ ایسا کچھ نہ ہوتا۔ میں نے یہاں سب سے یہی کہہ رکھا تھا کہ آج کے بچوں پر اپنی مرضی نہیں تھوپی جا سکتی۔ اس کے سامنے سب کا نام رکھوں گی،پھر اس کی مرضی کہ جسے چاہے پسند کرے۔ ‘‘
’’ ارے،وہی تو کررہا ہوں میری ماں۔ ‘‘وہ چِڑ گیا۔ ’’اپنی پسند ہی تو بتا رہا ہوں ۔‘‘
’’ شرم کرو اشعل۔‘‘ رفعت کا نئے سرے سے خون کھول گیا۔ اور غصے میں ہاتھ اٹھ جانا تو معمول تھا۔ دن بھر گھر کے کام کاج کرکے ہاتھ بھی لوہے کے ہوچکے تھے۔ مغز پہ ہاتھ جمایا تو اشعل کا دماغ ہی گھوم گیا۔ منہ بسورتے بے چارا کھوپڑی سہلانے لگا۔
’’ ایک مہینے میں کون اتنے بڑے بڑے جمپ لگاتا ہے۔ لڑکی پسند بھی آگئی۔ پھر اس سے محبت بھی ہوگئی اور شادی کا فیصلہ بھی کرلیا۔ پتا بھی ہے کچھ، کون لوگ ہیں۔ کیا خاندان ہے ، ذات برادری۔ مذہب، مسلک ؟‘‘
’’مجھے صرف سمائ سے مطلب ہے ۔‘‘ وہ ضدی سا ہو بیٹھا۔
’’ خبیث انسان۔ چارسال کے لیے پڑھنے بھیجا تھا۔ ‘‘رفعت کا ایسا خون کھولا کہ جوتا ہی مارنے کے لیے اٹھا لیا۔’’اور یہ نامراد پہلی چھٹی پراپنا بندوبست کرآیا ہے۔ ‘‘
’’ آئی۔‘‘جوتے کی نوک کندھے پرچبھ گئی ۔
’’ نادیہ بتا رہی تھی، اکیلی ماں بیٹی رہتی ہیں۔ کچھ تو ہوش کرو کم عقل انسان۔۔ کہیں تمہارے ہی سر پہ کوئی پہاڑ نہ ٹوٹے ۔‘‘رفعت نے جوتا تو پھینک دیا پر فولادی ہاتھ کو بالکل آرام نہ تھا۔ پچھلے چار ہفتوں سے دور بیٹھی اپنی باغی اولاد کے کارنامے سن رہی تھیں ۔ ہاتھ سینکنے کا موقع کہاں ملا تھا۔ پھر اشعل کا کان سرخ کیا۔ ’’ارے ،کچھ تو پوچھا ہوگا تم نے ۔۔کہاں سے آئی ہیں۔۔اکیلی کیوں رہتی ہیں؟‘‘
’’ آپ کچھ بولنے دے رہی ہیں۔‘‘اب وہ کان بچا رہا تھا۔
’’ ہاں ۔بتاؤ۔سن رہی ہوں۔‘‘رفعت نے کسی امید پر کان لگائے کہ شاید کوئی سقم ہی ایسا نکل آئے کہ جس سے بیٹے کی واپسی کی امید پیدا ہو ۔
’’ وہ ۔بس اتنا پتا ہے کہ اس کی امی ٹیچر ہیں اور پیچھے کسی گاؤں سے آئے ہیں۔ ان کی ٹرانسفر ہوئی ہے۔‘‘
’’ یہی پتا چلاپائے ایک ماہ میں۔‘‘وہ پھر مارنے لپکیں۔
’’ اَف اللہ۔ کبھی کہتی ہیں ۔پہلی ہی چھٹی پہ بندوبست کرآیا ہوں۔کبھی کہتی ہیں پورے ایک ماہ میں اتنی سی خبر۔۔ اب میں کہوں کیا کہ پہلی ہی چھٹی پر اور کتنی معلومات لا سکتا تھا۔‘‘ وہ اب ماں کی رینج سے دور نکل کر بات کررہا تھا۔
’’ میں کہہ رہی ہوں اشعل۔۔ ابھی کے ابھی پتا کرکے بتاؤ۔ تب ہی کچھ بات ہوسکتی ہے۔ اور کان کھول کر سن لو۔ اگر ہمارے معیار پر پوری نہ اتری تو اپنا بوریا بستر بھی باندھ لینا۔‘‘ وہ تنتناتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئیں ۔ اور اشعل نے جلدی سے پہلا ہاتھ موبائل پر مارا۔ کم بخت عشق نے بھی کہیں کا نہ رکھا تھا۔ اس کی میٹھی سریلی آواز کے سحر میں ڈوبتا تو باتیں بھی رس بھری نکلتیں۔ کسے ہوش تھا کہ بائیو ڈیٹا نکالنے بیٹھتا ۔ وہ موبائل لیے چھت پر آگیا۔ سوچا خاموشی بھرے ماحول میں سکون سے باتیں ہوں گی۔ وہ وہیں کھڑکی کے باہر کرسی کھینچ کر سمائ کا نمبر ملاتے وہیں بیٹھ گیا۔
’’ جاگ جاؤ سوہنیو۔۔دن کے گیارہ بجے ہیں۔ ‘‘
’’ جاگ گئی ہوں۔‘‘ اس نے جمائی لی ۔
’’ گاؤں چلے گئے تھے؟ ‘‘اشعل کو خیال آیا ،وہ اور اس کی امی بھی نکلنے والے تھے۔ سرما کی چھٹیوں میں سب ہی ہوم ٹاؤن روانہ ہو جاتے۔
’’ ہاں۔پہنچ گئے۔ ‘‘
’’ یار سمائ۔ میں نے تمہارے گاؤں کا نام ہی ابھی تک نہیں پوچھا۔ خیال ہی نہیں آیا۔‘‘دماغ کو سمائ کی میٹھی آواز میں ڈوبنے سے پہلے ہی اسے امی کا ہتھوڑا ہاتھ یاد آیاتو اس نے مائنڈ کو فوکس کیا ۔
’’ منگووال سے ہیں ہم۔‘‘
’’ منگووال۔‘‘ اس نے حیرت سے دہرایا۔ ’’یہیں اپنے گجرات کے قریب؟‘‘
’’ ہاں بھئی۔ بتایا نہیں تھا تمہارے گجرات سے زیادہ دور نہیں ہیں ہم بھی۔ ‘‘
’’ ہاں اچھا۔۔ اور فیملی وائز ۔۔میرا مطلب ہے ہم لوگ شیخ ہیں نا تو۔‘‘
’’ ہم رانا فیملی سے ہیں۔‘‘
’’ اچھا رانا۔‘‘
’’ اور سوری یار۔میں آنٹی کا نام بھی نہیں جانتا ۔ امی پوچھ رہی تھیں۔ مجھے پتا ہی نہیں تھا۔‘‘ وہ جھینپے جھینپے لہجے میں انٹرویو لے رہا تھا۔
’’ امی کا نام فرخندہ نگار ہے۔ یہاں گورنمنٹ ہائی اسکول میں ٹیچر ہیں۔‘‘
’’ اچھا۔فرخندہ نگار۔‘‘ وہ سمائ کا ہر جواب باقاعدہ دوہرا رہا تھا۔
’’ اور آپ کے ابو ؟ ‘
’’ ابو فوت ہوچکے ہیں ۔‘‘
’’ تو تم اپنے دادا کے گھر جاتی ہو .گاؤں؟ ‘‘
’’ ہاں۔ دادا ابا کا گھر ہے ۔‘‘
’’ ہوں اچھا۔ داداکے گھر۔‘‘ وہ سمائ سے ملی معلومات کو ذہن میں دہراتے ہوئے فی الحال اسی پر اکتفا کے موڈ میں تھا۔ زیادہ لمبی باتیں اسے یاد بھی نہ رہتی تھیں۔ وہ کال آف کرکے ذہن میں مسلسل ان ہی کو دہراتا ہوا نیچے اتر گیا۔
٭٭٭
’’ عدالت میں۔جج کا ریڈر ! ماشائ اللہ ۔۔اباجی نے سرکاری نوکری لگنے پر بغل گیر ہوکر مبارک باد دی تھی۔ ۱۹۷۰ئ میں یہ بہت بڑی بات ہوا کرتی تھی۔ آس پاس کے سبھی ملنے جلنے والے شام ہونے تک جمع ہوچکے تھے۔ رحمت اللہ کے بیٹے حیات اللہ کی شہر میں سرکاری نوکری لگی تھی۔ دو دن تو چائے اور دعوتیں کھلائی گئیں۔ تیسرے روز اتوار کی سہ پہر حیات اللہ کو بڑے اہتمام اور سازو سامان کے ساتھ جلال پور سے گجرات شہر روانہ کیا گیا۔اس زمانے میں سفر اتنے آسان نہ ہوا کرتے تھے۔ نہ رابطے کے ذرائع آج جیسے تھے۔ روانگی کا مطلب صحیح معنوں میں دوری او رجدائی ہوا کرتا تھا۔
حیات اللہ شہر آئے ۔کچھ دن ایک جاننے والے کے ہاںرہنا پڑا۔اس دوران نوکری بھی جوائن کی اور اپنے لیے ذاتی رہائش کی تگ ودو شروع کردی۔ تھوڑی بھاگ دوڑ کے بعد ایک مکان کا اوپروالا کمرا کرائے پر مل ہوگیا۔ دوست سے اجازت لے کر حیات اللہ اپنی نئی رہائش گاہ آگئے۔ یہ ایک اچھا متوسط علاقہ تھا۔ لوگ بھی اچھے تھے۔ وہ رقم دے کر نیچے والی خاتون سے تین وقت کاکھانا بنوا لیا کرتے ۔گھر آنا جانا شروع شروع میں ہر ہفتے رہا لیکن پھر یہاں کی روٹین سیٹ ہوگئی تو دو ہفتے بعد ہو آتا۔
زیب النسائ سے ان کا سامنا تو اول روز اس محلے میں آتے ہی ہوگیا تھا۔ وہ بھی پیشے سے استانی تھیں ،اوپری کمرے کے عین مقابل ان کے گھر کی کھڑکی میں رہائش پذیر زیب سے خاموش رابطہ بننے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ صبح وہ دونوں تقریباٰٰ ایک ہی وقت میں گھر سے نکل کر سڑک تک آتے تھے۔ سڑک سے زیب النسائ بھی ایک بس میں بیٹھ جاتیں اورحیات اللہ دوسری بس کے ذریعے عدالتوں کا رخ کرتے ۔ واپسی کے اوقات تو اگرچہ مختلف تھے لیکن ایک لگاؤ سا دونوں طرف برابر محسوس ہونے لگا تھا۔
حیات اللہ کی تو رہائش ہی چھت پر تھی ۔لیکن زیب کا بہانے بہانے سے سامنے والی کھڑکی میں آنا یونہی نہیں تھا۔ حیات اللہ کو پردیس کی تنہائی میں زیب النسائ کی آنکھوں کے پیغام باقی ہر مصلحت بھلانے میں بڑے ہی معاون ثابت ہوئے ۔ محبت کا جواب محبت سے دینے کی راہ حیات اللہ کے لیے یوں تو قطعی سہل نہ تھی لیکن محبت سوچنے سمجھنے کا موقع بھی کہاں دیتی ہے۔ حیات اللہ بھی ہرگز کچھ سوچنے کے موڈ میں نہ تھے۔ زیب النسائ کی بیمار والدہ کو کبھی ڈاکٹر کے پاس لے جانا۔ کبھی گھر کا سامان لانا، لے جانا۔ چھوٹے بڑے سب ہی کام ایک ذمہ داری کی طرح اپنے سر لے لینا حیات اللہ کو کبھی بار نہ لگا۔ جواباٰٰ زیب النسائ کی میٹھی مسکان ، گہری آنکھوں کے حسین پیغام اور والدہ کا مکمل تعاون حاصل تھا، کچھ اور سوچنے کی مہلت ہی کہاں ملی تھی۔
حیات اللہ نے پیچھے جلال پور میں باوجود اپنی پہلی بیوی رحیمہ خاتون ،دو ننھے بیٹوں کے دوسری مرتبہ گھر بسا لیا۔ زیب النسائ اور والدہ کو گھر میں مرد کی اشد ضرورت تھی۔ حیات اللہ شادی کے بعد کرائے کی رہائش چھوڑ کر سامنے والے مکان میں بطور گھر داماد شفٹ ہوگئے۔ ساس صاحبہ اگرچہ گھر والوں کی شرکت پر مصر تھیں لیکن حیات اللہ کے لیے یہ ممکن نہیں تھا۔ تب ہی زیب النسائ کومحبت کے اعتماد میں لے کر بیاہ رچا نے میں کامیاب ہوگئے ۔ گاؤں والوں سے یہ معاملہ چند ماہ تو باآسانی چھپا رہا ۔لیکن شہر میں رہنے والے کچھ خیرخواہوں نے راز کو زیادہ عرصہ راز نہ رہنے دیا اورمعاملہ اباجی تک پہنچ ہی گیا۔
حیات اللہ نے پوری کوشش کی کہ اس کی دوسری بیوی کو قبول کرلیا جائے لیکن حالات دن بہ دن مزید کشیدہ ہوتے گئے۔ جس وقت رحیمہ خاتون کی گود میں تیسرابیٹا آیا ۔ زیب النسا کو اللہ نے فرخندہ نگار سے نوازا۔ اسی سال ہی ساس صاحبہ کا بھی انتقال ہوگیا تو زیب النسائ نے خواہش ظاہر کی کہ گجرات میں اب کرائے کے مکان کے بجائے اپنا گھر لیا جائے۔ لیکن حیات اللہ اس پوزیشن میں نہ تھے۔ گھر والوں کی طرف سے تو باقاعدہ زیب النسا کو طلاق دینے کا پریشر تھا۔ شادی کے سال بھر بعد ہی زیب ا لنسا اور حیات اللہ کے ازدواجی تعلقات میں دراڑ آنا شروع ہوگئی ۔ کھینچا تانی کا نتیجہ شادی کے دوسال بعد طلاق پر ہی منتج ہوا۔ زیب النسا اپنی بچی فرخندہ کو لیے منگووال چلی گئیں۔اسکول سے ٹرانسفر بھی دوبارہ گاؤں کے ایک اسکول میں کروا لیا۔ حیات اللہ کے بیوی بچوں کوجلال پور سے اس کے پاس شہر بھیج دیا گیا۔
زیب النسا کو نہ ہی خاندان میں کبھی بلایا گیا تھا نہ کبھی کسی نے دیکھا تھا۔ زیب النسا نے اپنی بچی فرخندہ کو خود پالا پوسا۔ بڑے ہونے پر وہیں اسی گھر میں ماما کے بیٹے منظور کے لیے ماما،مامی نے فرخندہ کا رشتہ مانگ لیا۔
زیب النسائ جیسے حالات اپنی محبت کی شادی کے دیکھ اور بھگت چکی تھی۔ ہرگز نہیں چاہتی تھی کہ فرخندہ کا ان پر سایہ بھی پڑے۔اس لیے فوراٰٰ رضامندی ظاہر کردی۔منظور اگرچہ کم پڑھا لکھا تھا اور مارکیٹ میں اس کی ہول سیل کی دکان تھی لیکن فرخندہ پڑھی لکھی تھی اور اس کی سرکاری نوکری بھی لگ چکی تھی۔ وہ منظور کے ساتھ خوش تھی۔ ماما جی چل بسے تھے۔ گھر پر مامی اور زیب النسائ اکٹھی رہتی تھیں۔ فرخندہ خود اگر جاب کے سلسلے میں یہاں وہاں چلی بھی جاتی تو اس کی بچی کو سنبھالنے کے لیے نانی اور دادی دونوں موجود تھیں۔
منظور کے ساتھ فرخندہ کی رفاقت بس پندرہ سالوں پر ہی محیط رہی۔ ہیپاٹائٹس جان لیوا ثابت ہوا اور وہ بیوی اور بچی کو اکیلا کر گیا۔ مامی اپنے اکلوتے بیٹے کاصدمہ بس دو برس ہی سہہ پائیں۔ ان کے گزر جانے کے بعد زیب النسا ، فرخندہ اور سمائ اپنے باپ دادا کے آبائی مکان میں رہنے لگے۔ فرخندہ کی بیٹی جس وقت انٹرمیڈیٹ میںآئی تو زیب النسا بھی دنیا سے گزر گئیں۔ فرخندہ کا گاؤں میں اب کوئی نہ رہا تھا۔ بچی کی اچھی تعلیم کی خاطر گاؤں کو خیرباد کہا اور لاہور آگئیں۔
ابن ِ انشائ فرماتے ہیں کہ ’’ماضی میں کسی شخص نے جو فعل کیا ہوا اَسے فعل ماضی کہتے ہیں۔ کرنے والا عموماٰٰ اسے بھولنے کی کوشش کرتا ہے لیکن لوگ نہیں بھولتے۔ حیات محمد یعنی دادا جان کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہوا تھا۔ اشعل کی بدولت اب ان کا ماضی بعید ماضی قریب میں تبدیل ہورہا تھا۔
سمائ نے تواشعل کے پوچھنے پر اپنا تعارف نہایت ہی مختصر سا دیا تھا۔ اشعل نے اس سے گاؤں کا نام۔ امی،ابو کے نام وغیرہ پوچھے تھے پر کوئی تھا وہاں ایسا جس کے لیے یہ مختصر تعارف بھی قیامت ہوگیا تھا۔ جس وقت اشعل چھت پر آیا ۔ دادا ابا اندر کمرے میں ہلکی چادر اوڑھے لیٹے ہوئے تھے۔ اس نے باہر سے سرسری دیکھااور خاموشی کو تنہائی سمجھتے سمائ کو کال ملا دی تھی۔ اسے لگا اوپر کوئی نہیں ہے ۔لیکن اندر لیٹے داداابا کے کان منگووال کے نام پر کھڑے ہوئے اور اگلا نام فرخندہ نگار سن کر تو وہ پورے ہوش میں آگئے۔ فرخندہ نگار ۔۔ان کی اورزیب النسا کی اکلوتی بچی اور فرخندہ کی بیٹی سمائ یعنی ان کی نواسی ۔ وہ اسی وقت دوڑے چلے آئے اوررفعت کے سر پر پہنچے۔ اشعل نے سمائ سے صاف صاف کہا تھا کہ اس کی امی جاننا چاہتی ہیں۔ اس کا مطلب کہ رفعت سے بات کرنا مناسب تھا اور رفعت جو سسر کا کنسرن بالکل نہیں جانتی تھیں ، جتنا انہیں معلوم تھا کہہ سنایا۔
’’ اباجی۔ اب آپ ہی سمجھائیں اشعل کو۔ مجھے تو جب سے نادیہ نے بتایا،بہت پریشان ہوں۔ کتنی پیاری، سگھڑ نیک بچیاں ہیں اپنے خاندان میں۔ مجھ میں ہمت نہیں ہے ان کے بابا سے بات کرنے کی۔ آپ ہی حمیداللہ سے کہیں وہ ہی اشعل کو منع کریں گے۔ میں تو کہتی ہوں ،کوئی ضرورت نہیں اسے واپس بھیجنے کی ۔ کہیں کچھ کرنہ بیٹھے۔ ‘‘رفعت نے ایک سچ اَگلا تو پھر بولتی ہی چلی گئیں۔ حیات اللہ شیخ البتہ کسی گہری سوچ میں تھے۔
’’ کیا بتا رہی تھیں تم۔۔ ’’کزن میرج‘‘ کے خلاف ہے صاحبزادہ؟ ‘‘
’’ جی اباجی!کہتا ہے یہ خالہ زاد، چچازاد، ماموں زاد جیسے سبھی رشتوں سے چڑتا ہوں۔ ‘‘
’’پھوپھی زاد سے تونہیں چڑتے نا۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے اندر بڑھ گئے اور رفعت حیرت سے کھڑی دیکھ رہی تھیں۔ اور پھر شام کو اللہ جانے اباجی کی بیٹوں سے کیا میٹنگ ہوتی رہی۔ سعداللہ کو لاہور سے کال پر لیا گیا۔اور اس واٹس ایپ میٹنگ کے بعد اباجی نے حمیداللہ کے ساتھ منگووال جانے کا پروگرام بنالیا۔
’’ تم بھی ساتھ چلو۔اور برخوردار کو بھی تیار کرو۔ ‘‘
’’ منگووال کیوں جانا ہے۔‘‘
’’بیٹے کا رشتہ لے کر۔‘‘ حمید صاحب نے اس مرتبہ مسکراتے ہوئے کف کا بٹن بند کیا۔ گنگناتے ہوئے بالوں میں برش کیا اوررفعت کو شانوں سے تھام کر سامنے پلنگ کی پٹی پر بٹھادیا۔ سامنے والا ٹو سیٹرصوفہ تین قدم ہی دور تھا۔ خود اس پر بیٹھ گئے۔
’’ لیکن منگووال میں تو وہ لڑکی سمائ رہتی ہے۔میں نے تو اباجی سے کہا کہ سمجھائیں اشعل کو۔۔پھر اباجی تو فضہ کو پسند کرتے تھے۔ کہتے تھے وحید سے خود بات کروں گا۔ اور۔‘‘
’’ میں نے تمہیں یہاں سامنے اس لیے بٹھایا ہے کہ تم مجھے سنو۔۔ اور تم ہو کہ سرپٹ دوڑی چلی جا رہی ہو۔‘‘
’’ ہاں۔اچھا سوری۔ بتائیں نا جلدی پلیز ‘‘
’’ اباجی کی بہت پہلے ایک اور شادی بھی ہوئی تھی۔ کبھی سنا تھا تم نے؟ ‘‘
’’ آں ۔ہاں۔جب نئی دلہن بن کر آئی تو اباجی کی رنگین طبیعت کی باتیں گردش کرتی تھیں۔ میں نے اماں جی سے پوچھاتو انہوں نے سرسری بتایا کہ بہت سال پہلے شہر میں کی تھی ۔کسی سے پر دوسال ہی چلی۔ ‘‘
’’ ہاں۔ میں اس وقت چار سال کا تھا۔وحید دوسال کا۔جب اباجی شہر نوکری کرنے گئے تھے۔ وہیں پر کسی سے محبت ہوئی۔چوری چھپے بیاہ رچایا۔ ایک بچی پیدا ہوئی۔لیکن ہمارے گھر والوں نے اسے قبول نہیں کیا تو اباجی نے اس کو طلاق دے دی اور وہ بچی کو لے کر گاؤں چلی گئی۔ اباجی نے کبھی کوئی رابطہ نہیں رکھا۔ لیکن اپنی بچی کا نام انہوں نے خود رکھا تھا۔ فرخندہ نگار اباجی کی وہی بیٹی ہے۔ انہوں نے اشعل کے منہ سے منگووال ، اور فرخندہ نگار سنا تو سب سمجھ گئے۔
اب وہ برسوں بعد اپنی بیٹی اور نواسی سے ملنا چاہتے ہیں اور انہیں اپنے خاندان سے جوڑنے کے لیے اشعل اور سمائ کی شادی پر رضامند ہیں۔‘‘
’’ ہا۔۔یعنی کہ؟‘‘رفعت حیرت سے منہ کھولے بیٹھی تھیں۔
’’ جی۔یعنی کہ اشعل کا’’ کزن فوبیا ‘‘ بھی ختم سمجھو ۔‘‘وہ قہقہہ لگا کر ہنسے اور رفعت کو بھی تب خیال آیا ۔
’’ تب ہی اباجی کہہ رہے تھے کہ پوچھو پھوپھی زاد سے بھی نہیں کرنی۔ ہاہاہا۔‘‘وہ بھی بے تحاشا ہنستی چلی گئیں۔
٭٭٭
’’جتنا زیادہ انسان کسی چیز سے چِڑتاہے ،اتنا وہ سامنے آکہ رہتی ہے۔‘‘ نادیہ چاچی نے اشعل کے کان میں سرگوشی کی تو وہ بری طرح جھینپ گیا۔ منگنی کا فنکشن ختم ہوگیا تھا۔اب گروپ پکچرز بن رہی تھیں۔ سعداللہ اور نادیہ کو بلایا گیا تو آتے ہی پہلے اشعل کے کان میں گھسیں۔
بات سمائ نے بھی سَن لی ،ذرا سا سر گھما کر تعجب سے دونوں کو دیکھا۔ اسے جملے کا مطلب ومفہوم معلوم نہیں تھا۔ نادیہ نے اس کی آنکھوں کی حیرت بھانپ لی تھی۔ تب ہی جب فنکشن کے بعد سب گھر واپس آئے تو سمائ اور فرخندہ کو بھی اپنے ساتھ گھر لے آئے۔
اباجی نے فیصلہ کیا تھا کہ فرخندہ اب سے اپنے باپ اور بھائیوں کے گھر ہی رہیں گی ۔فرخندہ اپنے والد کے متعلق جانتی تھیں۔ اس کی امی کے پاس اپنے ابااور گھر والوں کی تصویریں اس نے دیکھ رکھی تھیں۔ باپ نے اپنی بے خبری اور لاتعلقی پر معافی طلب کی ۔ فرخندہ کا اب بھری دنیا میں سوائے سمائ کے اور تھا ہی کون۔ سخت اور بے حس تو وہ تھی ہی نہیں۔زیادہ ناراضی نہ دکھا پائیں۔ اور ویسے بھی سمائ کو اپنے ناناکا خاندان اور گھر مل رہا تھا۔ اب تو وہ تسلی سے اس دنیا سے جا سکتی تھیں۔
انکار کرنے کی کوئی وجہ بھی باقی نہ رہی تھی۔ اس نے باپ کی کوتاہیوں پر اسے دل سے معاف کردیا۔ ازالے کے طور پر وہ اپنی نواسی کو ہمیشہ کے لیے نا صرف اپنا رہے تھے بلکہ بڑی عزت سے اپنے گھر کی بہو اور بیٹی بنا رہے تھے۔ اشعل کی صورت میں سمائ کو ایک محبت کرنے والا شوہر مل رہا تھا۔ زندگی سے اور بھلا کیا چاہئیے تھا۔
سمائ کا دل البتہ الگ ہی تشویش سے بھر گیا تھا۔ چاچی نے ایسا کیوں کہا تھا۔ کیا اشعل اس سے چڑتا تھا۔۔ ؟ پر کیوں۔۔ کب۔ کیسے؟ وہ گھر آکر بھی اترا چہرا لیے اداس سی بیٹھی تھی۔ رفعت آنٹی اسے آرام کرنے کے لیے اپنے کمرے میں بٹھا گئی تھیں۔ ڈرائنگ سے ہنسی مذاق کی آوازیں آرہی تھیں۔ سمائ نے باریک گوٹے والا فیروزی قمیص شلوار پہنی تھی۔ بال کھلے ہی رکھے تھے۔ صرف ایک سائیڈ سے پِن لگا رکھی تھی۔ میک اپ بھی لائٹ رکھااور زیورات تو اسے پسند ہی نہ تھے۔ اشعل کو باہر کہاں آرام آرہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ اسے ڈھونڈتا ہوا وہاں آپہنچا تھا۔ لیکن سمائ کی صورت پہ بارہ بجے دیکھ کر حیران حیران سا سامنے آبیٹھا۔
’’ تمہیں کیا ہوا ہے ؟‘‘
’’ کچھ نہیں۔‘‘اس نے مزید برا منہ بناتے پتھر مارا۔اشعل نے ابرو کھینچے۔ لڑکیوں کی ’’کچھ نہیں‘‘ میں ہی تو لڑکے کی اصل کرائم رپورٹ چھَپی ہوتی ہے۔
’’ ارے یار بتاؤنا۔ کسی نے کچھ کہہ دیا کیا۔میں توآیا تھا کہ تمہیں اپنا گھر اور کمرا دکھاؤں۔‘‘
’’ نہیں دیکھنا کچھ بھی۔ مجھے گھر واپس جانا ہے۔ ‘‘وہ منہ دوسری جانب کیے بیٹھی تھی ۔
’’ اچھا بابا چلی جانا۔ ناراضی کی وجہ تو بتاتی جاؤ۔‘‘
’’ تم چِڑتے تھے مجھ سے ؟‘‘ اس نے پہلا وار کیا جس پر اشعل کو غش آتے آتے رہ گیا۔
’’ کیوں بھئی۔ یہ کس نے کہہ دیا۔ میں کیوں چِڑوں گا تم سے؟ ‘‘دل دماغ چاروں جانب دوڑنے لگے کہ آخر آتے ہی اس کی ساس اور منگیتر کو کن دشمنوں سے واسطہ پڑ گیا۔ کس حاسد سے اس کی خوشیاں دیکھی نہیں جا رہیں۔
’’ نادیہ چچی نے میرے سامنے کہا کہ جس چیز سے انسان چڑتا ہے، وہی اس کے سامنے آکر رہتی ہے۔ کہا نا؟‘‘ اس نے غصے سے انگلی اٹھاکرتائید چاہی۔ اشعل کو فوراٰٰ ہال کااسٹیج اور نادیہ چچی کی بات یاد آئی۔ اس نے جبراٰٰ مسکراہٹ روک کر ڈرتے ہوئے سر ہاں میں ہلایا
’’ تو۔کیوں کہا۔ ۔وہ بھی ایسے موقع پر۔اس کا مطلب میرے لیے کہا۔ اور اب تم سچ سچ مجھے یہ بتادو کہ کیوں چِڑتے تھے تم مجھ سے۔جبکہ تم تو مجھے جانتے بھی نہیں تھے۔اور ایک منٹ۔‘‘ وہ چونک کر رَکی ’’تم نے ہم سے کوئی بدلہ لینے کی کوشش تو نہیں کی۔۔ یعنی کہ تمہاری دادی کا بدلہ۔۔ میری نانی ان کی سوتن تھیں۔‘‘
’’ اَف اَف اَف۔‘‘ اشعل کا اس وقت اپنے نہیں بلکہ ایسی چڑیل منگیتر کے بال نوچنے کا من ہوا۔ ’’کیا بک بک کرتی جا رہی ہو۔ اسٹاپ ہے کہ نہیں۔‘‘
’’ تو تم جواب کیوں نہیں دے رہے۔ ‘‘وہ بھی بلی کی طرح نوچنے پر تلی تھی ۔
’’ ارے تم چَپ کرو گی تو کچھ بولوں گا نا۔ ‘‘
’’ چَپ نہیں بیٹھے،بہانہ سوچ رہے ہو۔‘‘
’’ میں کہہ رہا ہوں زبان کو لگام دو ۔لاحول ولا۔۔ تمہارے ساتھ زندگی کیسے گزرے گی۔ الزام پہ الزام۔ ‘‘وہ بری طرح بوکھلا چکاتھا۔ نادیہ کمرے کے سامنے سے گزر رہی تھیں۔ توتکار سنی تو دوڑی چلی آئیں۔
’’ ارے ،ارے۔۔ شرم کرو۔ ابھی ابھی تم دونوں کی منگنی ہوئی ہے۔ ‘‘
’’ آئیں آئیں۔۔کوئی اور کسر رہ گئی ہو تو وہ بھی پوری فرمالیں۔‘‘ اشعل نے طنزیہ نادیہ چاچی کو دیکھا تو اس بار وہ حیران لگیں، تب اشعل نے ہی انہیں ان کا جملہ یاددلایااور اب سمائ کے الزامات بھی
’’ اوہو۔نہیں نہیں سمائ۔ تم بالکل غلط سمجھی ہو۔ وہ فوراٰٰ نزدیک آئیں ۔’’تمہیں شاید پتا نہیں کہ اشعل کزن میرج کے سخت خلاف تھا۔ اسے ہمیشہ سے شوق تھا کہ وہ غیر فیملی میں شادی کرے گا۔ ہم نے اِسے بہت سمجھایا لیکن یہ بجائے خاندان میں منگنی شادی کرنے کے لاہور بھاگ گیا کہ مجھے آگے پڑھنا ہے۔ اور وہاں اسے غیر لڑکی پسند بھی آگئی تو اب میں اسے وہی کہہ رہی تھی کہ جتنا تم خاندان سے چڑتے تھے ، اتنا ہی وہ معاملہ تمہارے آگے آیا۔ اب یہ بتانے کی ضرورت تو نہیں نا کہ تم بھی چونکہ اس کزن ہو تو میں نے اس حوالے سے چڑنے کی بات کی ‘‘
’’ آں ہاں۔‘‘ وہ اب خفت زدہ سی کوئی بھی تبصرہ کرنے کی پوزیشن میں نہ تھی۔ چور نگاہوں سے اشعل کو دیکھ کر زبان دانتوں میں دبائی۔ بات تو چاچی نے بھی سولہ آنے صحیح کہی تھی۔ اشعل مڑا تو نتھنے پھولے ہوئے تھے۔ ‘‘
’ؔ’ ہمارے خاندان کی لڑکیاں بات کو چیونگم کی طرح کھینچتی ہیں۔ آستینیں چڑھا کر مقابلے پر آجاتی ہیں۔ خود کو غلط سمجھنا تو سرشت میں شامل ہی نہیں ۔ دیکھ رہا ہوں۔ کزن مماثلت کے اثرات ۔ ‘‘
’’ جھوٹ ، غلط۔‘‘وہ پھر بپھر گئی ’’ میں اس وقت بھی شرمندہ بیٹھی تھی اور سوری ہی کرنے والی تھی کیونکہ میں اپنی نانی پر گئی ہوں۔ لیکن اب کوئی سوری نہیں ، میری نانی بھی بڑی غیرت والی تھیں۔‘‘
’’ ہاں اچھا۔یعنی کہ میں اور میری کزنز اپنی دادی پر گئی ہیں۔ ‘‘اشعل کو اور پتنگے لگے۔
’’ چلو جی۔۔ اب اِس نانی دادی کانیا چیپٹر کھَل گیا۔ یہ تو رکنے والا بھی نہیں لگتا۔ خیر خوب مزا آئے گا ۔‘‘وہ ہنستی ہوئی باہر نکلیں تو سامنا رفعت بھابی سے ہوگیا۔ اَن کے پوچھنے پر نادیہ نے انہیں اشعل اور سمائ کی نوک جھونک بتائی ۔
’’ تصور کرو نادیہ۔‘‘ رفعت نے مسکراتے ہوئے ہاتھوں کے اشارے سے سامنے فضا میں ایک فرضی اسکرین کھولی ’’ آنے والے وقت میں جب سمائ اپنی نانی اور اشعل اپنی دادی کو ڈیفینڈ کررہا ہوگا۔ فرخندہ آپا اپنی والدہ زیب النسائ کی سپورٹ میں میدان میں اتریں گی اور اِس مورچے سے رحیمہ خاتون کے تین سپوت محاذ سنبھال لیا کریں گے۔‘‘
’’ اور اِس سب میں ہمارے وی آئی پی اباجی کا رول کیا ہوگا۔ ’’نادیہ ہاتھ سینے پر باندھے رفعت کی باتیں انجوائے کررہی تھیں۔‘‘
’’ خود ہی دیکھ لو۔‘‘ رفعت نے اوپر بالکنی کی طرف اشارہ کیا۔ اباجی منگنی کا فنکشن ختم ہونے کے بعد مہمانوں کے چھٹتے ہی اپنی مخصوص نشست سنبھال کر کیسٹس اَلٹ پلٹ کررہے تھے۔کچھ ہی دیر میں محمد رفیع کی آواز ماحول میں گونجنے لگی ۔
دیوانہ مجھ سا نہیں ۔۔ اِس امبر کے نیچے
دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور قہقہہ لگا کر تالی بجائی۔ اشعل سدھر گیاتھا پر اباجی نہیں سدھر سکتے تھے۔
٭٭







