کھانے کی میز پہ چاولوں کی ڈش رکھتے ہوئے بشریٰ نے ایک طائرانہ جائزہ لیا اور طمانیت بھرا سانس لے کر لاؤنج میں بیٹھے شوہر ، داماد اور بیٹی کو محبت بھری نظروں سے دیکھا ۔ وہ تینوں کسی نئی ہاؤسنگ سوسائٹی پہ بحث کر رہے تھے جہاں معیز پلاٹ لینا چاہ رہا تھا ۔
’’ کھانا ٹھنڈ ا ہو جائے گا ۔ پلیز اب آجائیں۔‘‘ یہ دوسری دفعہ تھا جب وہ انہیں کھانے کے لیے بلا رہی تھیں ۔
’’ میرے خیال میں ڈیڈی !یہ ساری ڈسکشن کھانے کے دوران بھی ہو سکتی ہے ۔ ممی دو بار بلا چکی ہیں ۔‘‘ دانین کو ہی خیال آیا اور وہ ان دونوں مرد حضرات کو اپنی جگہ سے اٹھانے میں کامیاب ہوئی ۔
’’ اتناکچھ . آنٹی آپ نے اکیلے اتنا کچھ بنالیا ہے ۔ اس کی بھلا کیا ضرورت تھی.؟ ہم کون سا یہاں ایک دن کے مہمان ہیں ۔‘‘ کھانے کی میز پہ اتنا اہتما م دیکھ کر معیز نے کرسی گھسیٹتے ہوئے بشریٰ کو مخاطب کیا ۔
’’ بھلے تم لوگ ساری زندگی رہو ۔ اپنا ہی گھر ہے تمہارا ۔‘‘ بشریٰ کی جگہ صائم نے بہت محبت سے داماد کے سامنے بیٹھتے ہوئے جواب دیا ۔ بشری بس مسکرا دیں ۔
پلیٹیں اور ڈشز معیز کی طرف بڑھاتے ہوئے انہوں نے دانین کوا شارہ کیا کہ وہ اپنے شوہر کی پلیٹ میں کھانا نکالے ۔ خود وہ صائم کی پلیٹ میں کھانا نکال رہی تھیں ۔
’’ لیکن انکل یوں اچھا نہیں لگتا کہ آنٹی روزانہ
اتنا اہتمام کریں ۔‘‘
’’ بھئی پہلی بار تو اہتمام بنتا ہے نا . اب کھاناشروع کرو ۔‘‘
صائم نے اپنے سامنے رکھا روسٹ معیز کی پلیٹ میں نکالا تو بشری قدرے اچنبھے سے میاں کو دیکھنے لگیں ۔ جو اپنا کھانا کبھی خود نہیں نکالتے تھے ، وہ داماد کو نکال کر دے رہے تھے ۔ انہوںنے ایک گہری سانس لی ۔ وقت وقت کی بات ہوتی ہے ۔
کھانے کے دوران بھی وہی ہاؤسنگ سوسائٹی پہ پھر سے بحث شروع ہو گئی ۔بشریٰ خاموشی سے کھانا کھاتی رہیں ۔
’’ آنٹی سب کچھ بہت مزے کا بنا ہے ۔ امید ہے دانین بھی مجھے ایسے ہی اچھا کھانا بنا کر کھلائے گی۔‘‘ بشری نے مسکرا کر شکریہ کہا ۔ بیٹی کو انہوں نے چھوٹی عمر سے ہی امور خانہ داری میں طاق کر دیا تھا ۔ اکلوتی بیٹی تھی لیکن انہوں نے اس پہ ایک حد تک سختی رکھی تھی ۔ پڑھائی اور تہذیب سکھانے کے معاملے میں انہوںنے کبھی کسی کی نہیں سنی تھی . اپنے میاں کی بھی نہیں۔
کھانے کے بعد دانین سب کے لیے قہوہ بنا لائی ۔خود بشریٰ کچن سمیٹنے چلی گئیں ۔
صائم قہوہ پی کر اپنے کمرے میں چلے گئے تاکہ عشائ کی نماز ادا کر سکیں ۔
’’ ہماری گاڑی کہاں کھڑی ہو گی .؟‘‘ ان کے جاتے ہی معیز کی فکر پھر سے عود آئی ۔
’’ گلی بند ہے معیز . ساری گاڑیاں باہر گلی میں ہی کھڑی ہوتی ہیں ۔ ڈیڈی کی گاڑی بھی باہر ہی ہوتی ہے۔ آپ کو کیوں تسلی نہیں ہو رہی کہ کوئی مسئلہ نہیں ہو گا ۔‘‘
گھر بہ مشکل چارمرلے کا تھا اور اتنی سی جگہ میں پورچ کی گنجائش تو تھی نہیں ۔ اسی لیے گاڑی باہر ہی کھڑا ہونا تھی ۔
’’ قریب میں کو ئی کار پارکنگ نہیں ہے.؟‘‘ معیز کو یوں اتنی مہنگی گاڑی گلی میں کھڑی کرنا مناسب نہیں لگ رہا تھا ۔
’’ معیز گلی بالکل سیو ہے ۔ یہاں کبھی چوری نہیں ہوئی ۔ ہم پچھلے سات سال سے یہیں رہ رہے ہیں۔‘‘
’’ بات صرف چوری کی تو نہیںہے نا . باہر آتے جاتے کسی کی بھی گاڑی لگ سکتی ہے ۔ ایک ڈینٹ بھی پڑا اور گاڑی کی قیمت گئی۔ ویسے بھی باہر کھڑی تمام گاڑیا ں چھوٹی اور سستی ہیں ۔ خرا ب بھی ہو جائیں تو کون سا بڑا مسئلہ ہے ۔ میں اپنی اتنی مہنگی گاڑ ی کو یوں گلی میں نہیں چھوڑ سکتا ۔‘‘ دانین چپ ہو گئی ۔
ان دونوں کی شادی کو ڈیڑھ مہینہ ہوا تھا اور اس دوران اتنا تووہ جان ہی گئی تھی کہ معیز اچھے مزاج کا تھا۔سب کے سامنے اسے اہمیت دیتا تھا، اس کی چھوٹی چھوٹی چیزوں کا خیال رکھتا تھا، اس سے برملا محبت کا اظہار کرتا تھا. لیکن اس سب کے باوجود ایک بری عادت اس میں تھی کہ وہ دانین کو وقتا ً فوقتا ً اپنی مالی حیثیت جتاتا رہتا تھا ۔
’’ ہماری طرف کی ساری دعوتوں میںتم بری کے کپڑے پہن کر جاؤ گی ۔ امی نے بہت بھاری کام دار جوڑے بنوائے ہیں ۔ پتا لگنا چاہیے کہ تم ہمارے خاندان کی بہو ہو۔‘‘ اس کے جہیز کے ذرا ہلکے سوٹ کو دیکھتے ہی اس نے الماری میںواپس رکھ کر اس کے لیے ایک بھاری کامدانی سوٹ نکالا ۔ سوٹ بھلے بہت پیارا تھا لیکن دانین نے اپنے جہیز کے جوڑے بھی بڑی محبت سے بنوائے تھے ۔ہاں وہ قیمتی نہیں تھے۔
’’ شادی کی تحائف میںجو اچھے تھے وہ میں نے رکھ لیے ہیں ۔ جو لو کوالٹی تھے ، وہ الگ کر دیے ہیں ۔ کام والی کو دے دینا ۔‘‘ اس نے خاموشی سے سر ہلا دیا اور جب لو کوالٹی تحائف دیکھے تو ان میں زیادہ تر وہی تھے جو اس کی طرف کے رشتے داروں نے دیئے تھے ۔ اس کا دل تھوڑا دکھی ہوا تھا لیکن پھر بحث سے بچنے کے لیے اس نے وہی کیا جو معیز نے کہا ۔
’’ ہمارے گھر میں ہر چیز برانڈڈ آتی ہے دانین۔ ہم لوکل مارکیٹ کی کوئی چیز نہیں خریدتے۔تم کوشش کرو کہ آئندہ ایسی کوئی چیز پسند مت کرو ۔‘‘ شاپنگ کے دوران ایک عام سی دکان سے کچھ پسند آ جانے پہ اس نے دانین کو وہ خریدنے نہیں دی تھی۔
کمپنی کی طرف سے لاہور میں اس کی ایک مہینے کی ٹریننگ تھی ۔یوں تو معیز کے ماموں اور خالہ بھی لاہور میں ہی مقیم تھے اور انہی کی بدولت ان دونوں کا رشتہ ہوا تھا لیکن دانین نے ہی معیز کو منایا تھا کہ وہ ایک مہینہ اپنے میکے میں رہنا چاہتی ہے ۔ جب والدین کا گھر موجود تھا اور وہ اپنے ہی شہر میںجا رہی تھی تو کیوں نا وہاں رہتی . ؟ معیز پہلے تو یہی کہتا رہا کہ وہ لوگ تنگ ہوں گے حالانکہ دانین جانتی تھی کہ اس کے والدین سے زیادہ اسے اپنے تنگ ہونے کی فکر تھی لیکن ایک مہینے کسی رشتے دار کے گھر ٹھہرنا اسے بالکل مناسب نہیں لگ رہا تھا ۔ معیز نے تو یو ں بھی ہفتے کے سات دن صبح سے رات ٹریننگ پہ ہونا تھا ، ایسے میںبھلا وہ رشتے دارو ں کے گھر اکیلی کیا کرتی ۔ اسی لیے یہ طے کیے بیٹھی تھی کہ وہ حتی المقدور ہر شے معیز کے حسب مطابق رکھے گی تاکہ اسے کوئی شکایت نہ ہو لیکن رہے گی وہ اپنے میکے میںہی .
’’ اس وقت تو دیر ہو گئی ہے معیز۔ پارکنگ دس بجے تک بند ہو جاتی ہے ۔ کل کھڑی کر دیجیے گا ۔ ‘‘
اس کی بات پہ معیز کا موڈ خاصا خراب ہو گیا ۔ وہ کتنی دیر منہ ہی منہ میں بڑ بڑاتا رہا جس کا لب لباب یہی تھا کہ اسے یہاں آنا ہی نہیںچاہیے تھا ۔ اچھا خاصا وہ ماموں کے گھر جا رہا تھا لیکن اس کے کہے میں آ کر یہاں چلا آیا ۔ دانین خاموشی سے سنتے ہوئے اپنا سامان نکال کر الماری میںسیٹ کرنے لگی ۔ جانتی تھی کہ کچھ دیر بولنے کے بعد وہ خود ٹھیک ہو جائے گا ۔
٭٭٭
گھر سے اتنے قریب تو کوئی کار پارکنگ نہیں تھی کہ جہاں گاڑی کھڑی کر کے معیز پیدل گھر بھی لوٹ آتا اسی لیے صائم کی بہت یقین دہانی پہ وہ گاڑی باہر ہی کھڑی کرنے پہ رضا مند ہو گیا ۔ یوں بھی گاڑی صبح سے رات گئے تک و ہ اپنے ساتھ آفس لے جاتا تھا ۔ صرف رات کو ہی کھڑی کرنا ہوتی تھی۔ صائم نے اپنے پڑوسیوں سے بھی بات کر لی تھی کہ سب اپنی گاڑیاں معیز کی گاڑیوں سے پیچھے اور فاصلے پہ لگائیں کچھ اس طرح کہ کوئی گاڑی گزرتے ہوئے اس کی گاڑی سے ہلکی سی بھی نہ ٹکرائے اور گلی میں کھڑی بھی اس طرح ہوں کہ انہیں پار کئے بنا کوئی معیز کی گاڑی تک نہ پہنچ سکے ۔محلے داروں کو پرانی محلے داری کا خیال تھا سو مان گئے ۔
ہفتہ بہت سکون سے گزرا تھا ۔ دانین پوری طرح اس بات کا خیال رکھتی کہ معیز کو کوئی بات بری نہ لگے۔ اسے کھانے میں لازمی گوشت کی کوئی نا کوئی ڈش پسند تھی اسی لیے وہ خود اس کے لیے کچھ بنا دیتی تھی ۔ وہ سلاد شوق سے کھاتا تھا تو باہر سے گزرتے پھیری والے سے وہ روزانہ تازہ سبزیاں خریدلیتی ۔ اسے کھانے سے پہلے پھل لینا پسند تھا تو وہ صائم سے کہہ کر روزانہ کافی سارا پھل منگا لیتی ۔وہ نہیںچاہتی تھی کہ معیز کا کسی بات پہ موڈ خراب ہو اور وہ اسے یا اس کے والدین کو کچھ بھی برا بھلا کہے ۔
ایک ہفتہ تو معیز کا موڈ بہت اچھا رہا تھا ۔لیکن پھر ایک اتوار کی صبح شاید بچے گلی میں کھیل رہے تھے کہ کسی چیز سے گاڑی کو ہلکی سی رگڑ لگی اور اس پہ خراش پڑ گئی ۔ معیز نے دیکھتے ہی گلی میں کھڑے کھڑے آسمان سر پہ اٹھا لیا ۔
صائم، دانین اور بشریٰ شور سن کر باہر نکلے تھے ۔ معیز گلی میں کھیلتے کچھ بچوں پہ بری طرح چلا رہا تھا ۔
’’ معیز پلیز چھوڑ دیں ۔‘‘ دانین اسے خاموش کروا کر اندر لے جانا چاہتی تھی لیکن وہ اس کی سن ہی کہاں رہا تھا ۔ وہ بچو ں پہ چلا رہا تھا ۔ ان کے والدین کو برا بھلا سنا رہا تھا ۔ اس وقت دیکھ کر لگتا ہی نہیںتھا کہ وہ اتنا پڑھا لکھا اور اتنی اچھی نوکری کرتا ہے ۔ بالکل جاہلوں کی طرح کا برتاؤ تھا ۔
’’ معیز بیٹا ! معمولی سی لگی ہے ۔ بلکہ کچھ زیادہ پتا بھی نہیں چل رہا ۔ جانے دو بچے ہیں ۔ اب کیا اتنی سی بات پہ اتنا غصہ کرنا۔ ‘‘ صائم نے اسے نرمی سے کہتے ہوئے ٹھنڈا کرنا چاہا ۔
’’ معمولی سی لگی ہے ؟ یہ معمولی سی لگی ہے .؟ اتنی مہنگی گاڑی پہ ایک کھرونچ آپ کے نزدیک معمولی بات ہے ۔ آپ لوئر مڈل کلاس کو پتا بھی ہے کہ اس گاڑی کی قیمت ہے کیا ؟ یہ ڈبیا سی گاڑی اور ڈربہ سا گھر ساری زندگی میں بنایا ہے ۔ آپ کو کیا اندازہ ایسی باتوں کا . ‘‘ وہ صائم کی بات پہ یکدم پھٹا تھا ۔
دانین پھٹی آنکھوں سے اپنے شوہر کو دیکھ رہی تھی جس نے گلی کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر اونچی آواز میں اس کے باپ کو سنایا تھا ۔ صائم کی تو حالت ایسی تھی کہ جیسے وہ کھڑے کھڑے مر چکے ہوں ۔ گیٹ میں کھڑی بشر یٰ کا رنگ پھیکا پڑا اور وہ اندر کی طرف بڑھ گئیں ۔
صائم غصے سے اندر چلا گیا ۔ دانین نے باپ کو دیکھا اور اس کی طرف بڑھی ۔
’’ ڈیڈی آپ ٹھیک ہیں نا؟‘‘ صائم نے بیٹی کا چہرہ دیکھا اور آنسو پی لیے ۔ سر اثبات میںہلاتے اس کا چہرہ تھپکا جو متفکر سی باپ کو دیکھ رہی تھی ۔
دانین نے صائم کا ہاتھ تھام لیا اور اسے اندر لے جانے لگی ۔
ناشتے کی تیاری کے دوران بشری اور دانین بالکل خاموش تھیں ۔ ناشتہ لگا تو میز پہ بھی سب خاموش تھے ۔ صائم جو ہمیشہ معیز کے سامنے بیٹھتے تاکہ اس کی پلیٹ میںوقتا فوقتا کچھ نا کچھ ڈالتے رہیں ، سر جھکائے خاموشی سے ناشتہ کرتے رہے ۔اپنی اتنی سبکی محسوس ہو رہی تھی کہ ناشتہ تک نہیںکیا جا رہا تھا۔ میز پہ غیر معمولی خاموشی تھی ۔ معیز نے سب کے بجھے چہرے دیکھے اور ناشتہ ادھورا چھوڑ کر اٹھ گیا۔ کسی نے اسے نہیں روکا حتیٰ کہ دانین نے بھی نہیں ۔
’’ دانی ! جا کر معیز کو دیکھو ۔اس نے ناشتہ پورا نہیں کیا ۔ چائے بھی نہیںلی ۔ اسے چائے تو دے آؤ۔‘‘ بشری نے بیٹی کی طرف چائے کا کپ بڑھایا۔
’’ کرنا ہو گا تو کر لیں گے ممی ۔ میں ایسے شخص کے پیچھے پیچھے نہیں پھر سکتی جس نے میرے باپ کی اتنی بے عزتی کی ہو ۔ ‘‘ دانین کی آنکھوں میںآنسو چمکے تو بشری نے اس کا ہاتھ تھپکا ۔
’’ وہ شوہر ہے تمہارا . تم اس سے ایسے لاپرواہ نہیں ہو سکتیں. اپنے گھر کے لیے بہت سی باتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں ۔وہ غصے کا تیز ہے تو تم بھی کیا اس کا مقابلہ کرو گی ۔ ایسے تو رشتہ نہیںچل سکتا ۔ کسی ایک کو نرمی دکھانا پڑتی ہے ۔جاؤ اس کے لیے چائے لے جاؤ ۔‘‘
دانین کو بادل نخواستہ اٹھنا پڑا۔اپنی اور معیز کی چائے بنا کر وہ کمرے میں لے گئی ۔
صائم کو دیکھتے بشریٰ نے پیالی اٹھائی ۔
’’ آپ کی چائے نکالوں ۔۔؟‘‘
’’ میں سمجھتا تھا کہ اللہ نے اور اولاد نہیںدی تو چلو داماد کی شکل میں بیٹا مل گیا ہے لیکن اس نے بیٹا بن کر نہیں دکھایا ۔ داماد ہی سمجھا تبھی اپنا پلہ بھاری رکھنے کے لیے مجھے سب کے سامنے بے عزت کر دیا۔‘‘ دکھی سے سر جھکائے بیٹھے تھے ۔ بشری چائے نکالنے لگیں ۔
’’دانین کی حالت دیکھو . چہرہ کیسے اتر گیا ہے میری بیٹی کا ۔ کیوں نا اترے چہرہ . کوئی بیٹی کیسے اپنے والدین کی بے عزتی برداشت کر سکتی ہے؟‘‘ بشریٰ نے گہری سانس لی اور کپ میںچائے نکالنے لگی ۔
’’ غصہ اترے گا تو ٹھیک ہو جائے گا۔دانین بھی سنبھل جائے گی ۔ ‘‘
’’ کیا ٹھیک ہو جائے گا.؟ جو دل برا ہو گیا ، وہ ٹھیک ہو سکتا ہے کیا .؟‘‘
’’ یہ تو آ پ خود سے پوچھیں کہ جب دل برے ہو جاتے ہیں ، تو وہ پھر سے ٹھیک ہو جاتے ہیں کیا ؟‘‘ بشری نے سادگی سے کہا لیکن صائم چونکے تھے ۔
’’ کہنا کیا چاہتی ہو تم؟‘‘
’’ یہی کہ اکثر کہانی خود کو دہراتی ہے ۔‘‘ ان کا کپ ان کی طرف بڑھا کر وہ میز سے اٹھ گئیں ۔ صائم بالکل بت بنے انہیں دیکھ کر رہ گئے ۔
٭٭٭
بشری کی امی مزاجاً بہت سادہ سی خاتون تھیں ۔ انہوں نے اکیلے اپنی اولاد کی پرورش کی تھی ۔جب وہ تینوں چھوٹے تھے تو والد صاحب ڈنکی لگا کر انگلستان چلے گئے تھے ۔ غیر قانونی طور پہ جانے والے پھر ساری عمر قانون سے بھاگتے ہی رہتے ہیں ۔ بارہ سال تک گھر والے ان کی شکل دیکھنے کو ترس گئے ۔ جب شہریت ملنے کا وقت آیا تو دل کا دورہ جان لے گیا ۔ یوں اس کی اور بھائی کی یادداشت میںتو ابو کی تھوڑی سی شبیہہ تھی لیکن چھوٹی فروا کو تو باپ کی صورت بالکل یاد نہ تھی۔امی ہی ان کے لیے باپ بھی تھیں اور ماں بھی جنہوں نے زمانے کا سرد گرم سہہ کر انہیں پالا تھا ۔ ان تین بھائی بہنوں کے لیے امی آخری حد تھیں ، جو اس کو پار کرتا پھر وہ ان کی دنیا سے پار ہوتا۔بشریٰ ان میں بڑی تھی لیکن ماں کی طرح تحمل مزاج تھی۔ امی کی غیر موجودگی میں وہ باقی دونوں کے لیے ماں ہی بن جاتی ۔فروا چونکہ سب سے چھوٹی تھی، سب کی لاڈلی رہی تھی اسی لیے اس کا مزاج بھی تیکھا تھا۔ یو ں تو امی نے ان بھائی بہنوں کی تربیت ایسی کی تھی کہ وہ اپنے کام سے کام رکھنے والے تھے، کبھی کسی کے معاملات میں نہیں بولتے تھے ، کبھی کسی کا برا نہیں چاہتے تھے لیکن اگر امی پہ کوئی انگلی بھی اٹھاتا تو وہ تمام تربیت جاتی کھڈے میں ۔
’’ کیا فائدہ تم لوگوں کی اچھی تربیت کاجب زبان ہی قابو میںنہ ہو تو .؟‘‘ امی تاسف سے ان تینوں کو دیکھ کر بس ایک یہی جملہ کہتیں ۔
’’ تو کیا فائدہ ہمارا اولاد ہونے کا اگر ہم اپنی ماں کا دفاع نہ کر سکیں ۔‘‘ فروا کی تیز مزاجی اپنا رنگ دکھا ہی دیتی ۔
’’ ہر جگہ بولنے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔‘‘
’’ تو ہر جگہ خاموش بھی نہیں ہوا جاتا امی ۔‘‘
ماموں کے گھر قرآن خوانی تھی اور وہ سب مدعو تھے ۔ کھانے کے دوران ممانی نے کسی سے بات کرتے ہوئے صفیہ کو نشانہ بنایا کہ وہ اپنے میاں کے ساتھ ساتھ ان کے میاں کی آدھی جائیداد بھی کھا گئی ہے۔فروا سے چپ نہیں بیٹھا گیا ۔ وہ امی کو بھری محفل میںرسوا کر رہی تھیں ، الزام تراشی کر رہی تھیں تو وہ کیسے چپ بیٹھ سکتی تھی ۔
فروا نے بھی پھر آؤ دیکھا نہ تاؤ ، شہد آگیں مگر مضبوط لہجے میں کہہ گئی ۔
’’ممانی اس طرح تو آپ بھی اپنے شوہر کے ساتھ ساتھ سسر کی کمائیاں کھا رہی ہیں ۔ ہمارے نانا کی ساری جائیداد ہڑپ کر گئی ہیں ، حتیٰ کہ وہ بھی جس پہ ماموں کا نہیں ہماری ماں کا حق تھا ۔ ہم پھر بھی خاموش رہے ہیں کہ امی سے ان کا میکہ نہ چھوٹے ۔ اب غلطی سے اگر ماموں نے زمین کا ایک ٹکڑا ، جو تھا بھی نانا کا ، امی کو دے دیا ہے تو آپ سے ہضم نہیں ہو پا رہا ۔ آپ پورے خاندان میں یہ مشہور کر رہی ہیں کہ ہماری ماں غاصب ہے۔جبکہ کون غاصب ہے سب اچھی طرح جانتے ہیں ۔ ‘‘ ممانی سے تو پھر کچھ کہا ہی نہیںگیا کہ سار ا خاندان تمسخر آمیز نظروں سے ممانی کو ہی دیکھ رہا تھا ہے کوئی جواب؟
پھر جب کبھی ددھیال یا ننھیال میں سے کوئی بھی ایسا حاسد رشتے دار امی کے بارے میں کچھ بھی کہتا تو فروا سب سے پہلے میدان میں کودتی اور ساتھ ہی بشری اور فرہاد بھی اس کا ساتھ دینے لگتے ۔
کون جانتا تھا کہ ان کی زندگی میں پھر ایک ایسا رشتہ بھی آئے گا جو ان کی ماں پہ بول کر بھی ان سب کی بولتی بند کر دے گا. امی ٹھیک کہتی تھیں کہ ہر جگہ بولنے کی نہیں ہوتی ۔
صائم سے اس کی شادی امی کی ایک دوست کے توسط سے ہوئی تھی ۔ بظاہر صائم میںکوئی برائی نہیں تھی لیکن غصے کا بہت تیز تھا ۔ ذرا ادھر کچھ ہوتا ادھر وہ ہتھے سے اکھڑ جاتا . طعنے تشنے ، چیزیں اٹھا کر پٹخنا اور بڑوں کا لحاظ کرنا تک بھول جاتا. غصہ اترتا تو صائم کو یاد تک نہ ہوتا کہ اس نے کہا کیا تھا ۔ صاف کہتا کہ یہ کب ہوا .؟ یہ میںنے کب کہا ؟
صائم کی یہ عادت بشریٰ کے لیے قابل قبول ہوتی گر یہ اس کی اپنی ذات تک ہی محدود ہوتی تو . زیادہ برا یہ ہوا کہ صائم کے اس غصے کا شکار بشریٰ کے گھر والے ہونے لگے ۔۔
’’ تمہارے میاںنے آج یہاں آ کر امی سے بہت بدتمیز ی سے بات کی ہے کہ تم کھانا لیٹ بناتی ہو۔ یہ تم دونوں کے آپس کامعاملہ ہے ۔تم گھر کو کیسے سنبھالتی ہو اس سے امی کا کیا لینا دینا ہے. ؟ وہ یہاں آ کر امی پہ کیوں چلاُ رہے ہیں .؟ امی کی تربیت پہ کیوں سوال اٹھا رہے ہیں .؟ ‘‘
پہلی بار تھا جب فروا کا اسے فون آیا اور وہ بالکل گنگ رہ گئی ۔ رات ڈرامے کی آخری قسط دیکھنے کے چکر میںکھانا ذرا دیر سے تیار ہوا تھا جس پہ پہلی بار صائم اس پہ بری طرح چلایا تھا۔ بشریٰ نے معذرت بھی کی تھی کہ اس سے غلطی ہو گئی لیکن صائم اسی وقت گھر سے کھانا کھائے بنا نکل گیا تھا ۔ جب آیا تو پرسکون تھا ۔ بشری کو یہی لگا کہ و ہ باہر سے گھوم پھر کر آیا ہے تو مزاج بہتر ہو گیا ہے ۔ اس کے تو فرشتوں کو بھی خبر نہیں تھی کہ وہ سیدھا اس کی ماں کے گھر گیا ہو گا اور وہاں جا کر سارا غصہ ان پہ انڈیل آیا ہو گا۔
’’ آپ نے امی سے کیا کہا ہے ۔۔؟‘‘ فروا کی کال نے اس کا دماغ گھما دیا تھا لیکن اس نے پھر بھی گہرے سانس لے کر خود کو پرسکون کرنے کی مقدور بھر کوشش کی تھی ۔
’’ میں نے تو کچھ بھی ایسا نہیں کہا ۔‘‘ وہ بخوبی جانتی تھی کہ وہ کہہ سن کر اسی طرح بھول جاتا تھا لیکن جن کو کہتا تھا وہ تھوڑا ہی بھولتے تھے۔
’’ آپ نے امی سے یہ کہا ہے کہ انہوںنے میری کوئی تربیت نہیں کی ۔ مجھے کچھ نہیں سکھایا .؟‘‘ غصے سے اس کی آواز پھٹ گئی تھی ۔
’’ آواز نیچی رکھو ۔ یہ کون سا انداز ہے بات کرنے کا ؟‘‘
’’ اور کیا وہ انداز ٹھیک تھا جو آپ نے میری ماں کے ساتھ اپنایا . ؟؟؟ وہ آپ کی ماں کی جگہ ہیں ، آپ سے عمر میں بڑی ہیں اتنا بھی آپ نے نہیں سوچا۔‘‘ آنسو ماں کی ہتک پہ بہہ رہے تھے ۔ آواز اس غم سے پھٹ رہی تھی کہ ماں کے دل پہ کیا گزری ہو گی جب داماد نے یوں تذلیل کی ہو گی ۔
’’ میں نے صرف تمہیں سمجھانے کا کہا تھا ۔‘‘
’’ ان سے کہنے سے بہت بہتر ہوتا کہ جو زہر اگلنا تھاوہ آپ مجھ پہ اگل دیتے ۔ میری ماں کو بیچ میں کیوں لائے .؟ اس عورت نے اکیلے ہم تینوں کو کیسے پالا ہے وہ کوئی نہیں جانتا اور جب جانتا نہیں ہے تو حق بھی کیا ہے بولنے کا کہ انہوں نے ہماری تربیت بری کی ہے یابھلی۔‘‘
’’ اتنا خیال ہے ماں کا تو ایسی حرکت ہی کیوں کہ ان کی تربیت پہ بات آتی ۔۔؟ بیٹیاں جب غلط کرتی ہیں تو تربیت پہ تو انگلی اٹھتی ہی ہے . ‘‘
گو کہ بات اتنی بڑی نہیں تھی کہ یوں پھیلائی جاتی لیکن صائم کو بطور داماد اپنا شملہ اونچا رکھنے کا شو ق تھا ۔ و ہ مردوں کی اس نسل سے تھا جنہیں بات بے بات سسرالیوں کو جتانے کا شوق ہوتا ہے کہ وہ ان سے کمتر ہیں کیونکہ وہ بیٹی والے ہیں ۔
بشریٰ کی وہ رات بستر آنسوؤں سے تر کرتے گزری ۔ امی کیا سوچ رہی ہوں گی ۔ ان کا دل کتنا دکھا ہو گا ۔ وہ کتنا نادم ہوئی ہوں گی ۔ہر کروٹ پہ وہ یہی سوچ سوچ کر آہیں بھرتی رہی ۔اس کی وجہ سے اس کی ماں کی تربیت پہ انگلی اٹھی ۔
اگلی صبح صائم کو آفس بھیج کر وہ امی کے گھر چلی آئی تھی جو دس منٹ کی پیدل مسافت پہ تھا ۔
’’ صائم نے کل جو کچھ بھی کہا امی .‘‘ وہ نادم سی سر جھکائے ان کے سامنے بیٹھی تھی ۔اس نے امی کا سر جھکا یا تھا اسی لیے اپنا سراٹھانے لائق نہیں رہی تھی۔
’’ بس چھوڑ دو بیٹا۔ غصے میںتھا تو کہہ گیا۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ مردوں کو اتنا غصہ نہیں دلانا چاہیے کہ معاملہ بگڑ جائے۔ ‘‘ اس کی ماں ایسے ہی درگزر کرنے والی عورت تھی ۔
’’ مجھے معاف کر دیں امی ۔۔‘‘ اس نے سر کو مزید جھکا لیا اور ہاتھ جوڑ دیئے ۔ امی نے جلدی سے اس کے ہاتھ تھا م کر چوم لیے ۔
’’ نہیں بیٹا.‘‘
’’میری وجہ سے اتنا کچھ سننے کو ملا آپ کو .‘‘ وہ روئے جا رہی تھی ۔ امی حوصلے سے بیٹھی اسے چپ کراتی رہیں ۔
’’ بس صائم کی طرف سے دل صاف کر لو اور آئندہ کے لیے احتیاط کرنا ۔ غلطی تمہار ی طرف سے ہوئی ہے ۔وہ تو حق پہ تھا۔ اس کا شکایت کرنا بنتا بھی تھا ۔ایسا کچھ کرو ہی مت کہ دوسرے تم پہ یا میری تربیت پہ بولیں ۔‘‘ امی کی یہ نصیحت وہ پلو سے باندھ کر لوٹ آئی ۔دل بوجھل تھا اور بوجھل ہی رہا ۔
شام کو صائم لوٹا تو اس کا ستا چہرہ دیکھ کر ٹھٹکا ۔
’’ چلو تیار ہو جاؤ ۔ باہر چلتے ہیں ۔‘‘ اس کا لہجہ ہشاش بشاش تھا۔ بشری نے سر نفی میں ہلایا ۔
’’ چلو نا . جلدی کرو۔میں انتظار کر رہا ہوں۔‘‘ چار و ناچار اسے اٹھنا پڑا ۔
صائم اسے سیدھا مارکیٹ لے کر گیا ۔ کپڑوں کی دکان میں داخل ہوتے ہوئے اس نے کہا ۔
’’ امی کے لیے کوئی اچھا سا سوٹ پسند کر و۔‘‘ بشریٰ کچھ حیرت سے اسے دیکھنے لگی ۔
’’ میری امی کے لیے .؟‘‘
’’ اب میری امی کو تو اوپر سوٹ بھجوا نہیں سکتے تو تمہاری امی کی ہی بات ہو رہی ہے ۔‘‘ بشری کچھ جھجکتے ہوئے ایک سوٹ پسند کرنے میںکامیاب ہو گئی ۔
مارکیٹ سے وہ اسے میکے لایا تھا ۔ بشری کا مزاج اس بات پہ بہتر ہوگیا کہ صائم سے بدسلوکی ہوئی تھی اور اسے اس بات کا ادراک تھا ، اب وہ اس کی تلافی بھی کر رہا تھا ۔ صفیہ نے ان دونوں کو ساتھ خوش دیکھا تو کھل اٹھیں ۔ مائیں تو اسی بات سے کھل اٹھتی ہیں کہ بیٹیاں اپنے گھروں میںآباد اور مطمئن ہیں ۔
’’ آنٹی یہ آپ کے لیے ہے ۔ ‘‘ صائم نے سوٹ خود صفیہ کو پیش کیا ۔ بشریٰ کا دل کھل اٹھا تھا ۔ صفیہ بھی مسکرا اٹھیں ۔
’’ کل میں نے جو کچھ بھی کہا مجھے نہیں کہنا چاہیے تھا ۔‘‘
’’ کوئی بات نہیں بیٹا . ہو جاتا ہے۔ تم بھی بیٹے جیسے ہو ۔‘‘ داماد نادم تھا تو وہ کیوں دل بڑا نہ کرتیں ۔
کھانا وہیں کھایا گیا ۔ ماحول خوشگوار ہو گیا ۔ راستے میںبشری نے مسکرا کر صائم کو شکریہ کہا اور قصہ ختم ہو گیا ۔
قصہ اس وقت تو ختم ہو گیا لیکن آئندہ کے لیے وہ محتاط ہو گئی کہ اس سے کوئی ایسی حرکت نہ ہو کہ بات اس کی ماں کی تربیت تک جا پہنچے ۔
پھر وقت کے ساتھ اندازہ ہوا کہ وہ کتنی بھی محتاط ہوجاتی ، صائم کو اپنا غصہ نکالنے کے لیے امی آسان ہدف لگتیں جن کو کبھی فون کر کے تو کبھی بہ نفس ِ نفیس جا کر سنانا اس کی عادت بنتی چلی گئی ۔ وہ سسرال کی طرف کی کمی بیشی کا غصہ بھی انہی پہ اتارتا اور بشریٰ کی طرف سے ہونے والی کمی کوتاہی کا بھی .
صفیہ تو صوفی منش انسان تھیں ۔ سمجھ گئیں کہ داماد میںلاکھ گن سہی مگر یہی ایک خامی ہے کہ وہ غصے میںآپے سے باہر ہوجاتا ہے لیکن فروا اوفرہاد کے دل اتنے برے ہوئے کہ وہ صائم سے ایک طرف ہو گئے ۔ رشتوں میں فاصلے بڑھ گئے ۔صفیہ دونوں فریقین کے مابین ایک پل کا کام دیتیں ۔ صائم کے الفاظ کا وزن ڈھوتیں اور فروا ، فرہاد کے دل صاف کرنے کی کوشش کرتیں ۔ صائم کو داماد ہونے کی وجہ سے لگتا کہ وہ ان کا سرپرست بن بیٹھاہے اور ان کی زندگی کے فیصلوںمیں اس کی شرکت ضروری ہے اسی لیے جب سسرال میں بنا اس سے پوچھے کوئی کام ہوتا تواسے بے حد برا لگتا اور ہدف صفیہ ہی ہوتیں جو اس کی کڑوی کسیلی باتیں سر جھکائے سنتی رہتیں۔کچھ اسے یہ بھی لگتا کہ جو بیٹی والے ہوں انہیں داماد کے ہاتھوں ہتک اٹھانا ہی پڑتی ہے ، ان کا سر داماد کے آگے جھکے ہی رہنا بہتر ہوتا ہے تبھی داماد کی اہمیت وضع ہوتی ہے۔
دانین کی پیدائش پہ دینے دلانے کے معاملات پہ بھی صائم کو کمی بیشی لگی تو صفیہ کو جتادیا ۔ بشری کو دیکھ کر صفیہ پھیکا سا مسکرا دیں کہ وہ دل برا مت کرے ۔ جو کمی تھی ہفتے میں پوری کر دی لیکن بشریٰ کا دل میاں کے اس رویے بھی مکدر ہو گیا۔
فرہاد کی شادی پہ بارات کے پہنچنے پہ گاڑیوں کی پارکنگ کا کچھ مسئلہ بن گیا تو بھی غصے میں صائم نے ساس کو ہی باتیں سنائیں ۔ بشریٰ ڈھنگ سے شادی بھی نہیںنبٹا سکی ۔ امی کی اڑی اڑی رنگت دیکھ کر اس کا دل کیا کہ صائم کی گردن اڑا دے ۔ یہ تو ہو نہیں سکتا تھا لیکن رخصتی سے وہ سیدھا گھر چلی گئی تھی۔ صائم کے تب ہاتھ پیر پھول گئے اور لگا بیگم کو منانے لیکن بشری کمرہ بند کر کے روتی رہی ۔ فرہاد منانے آیا کہ میری دو ہی تو بہنیں ہیں ، خوشی کا موقع ہے جانے دو ۔تب وہ بھائی کی خوشی کے لیے ساتھ چلی گئی لیکن دل تو برا ہو گیا نا کہ اکلوتے بھائی کی شادی میں کیا اتنی سی بات پہ ہنگامہ کرنا ضروری تھا ۔
فروا کو ایک کمپنی میں نوکری مل گئی تھی ۔آنا جانا وین پہ ہی تھی جو سب سے آخر میںاسے اتارتی تھی۔یوں اکثر وہ عشائ کے بعد ہی گھر لوٹتی ۔ صائم کو جب پتا چلا تو اس نے امی کو برا بھلا سنا دیا کہ ان کا بیٹی پہ زور نہیںہے۔ یہ کون سا طریقہ ہے کہ لڑکی اتنی رات کو گھر لوٹتی ہے ۔
’’ خدا کی قسم ! وہ تمہارا شوہر نہ ہوتا تو کبھی ہمارے گھر سے اپنی ٹانگوں پہ سلامت نہ جاتا ۔‘‘ بہن کی بات پہ بشریٰ بالکل سن رہ گئی ۔
’’ آپ امی سے کیوں بدتمیز ی کرتے ہیں ؟ کیا میری ماں ہی ملی ہے آپ کو دنیا جہاں کا غصہ اتارنے کے لیے . کیا میں نے کبھی آپ کی بہن یا بھائی سے ایسی زبان میں بات کی ۔ ان کی غلط باتوں پہ بھی میں خاموش ہو جاتی ہوں لیکن آپ میری ماں کی تذلیل کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے ۔‘‘ بشری نے پچھلی دو تین بار کی بدتمیزیاں برداشت کر لیں لیکن اس بار وہ خود کو بولنے سے باز نہیں رکھ سکی ۔
’’ میںنے تو اپنا سمجھ کر انہیں کہا تھا .‘‘ صائم کی نئی توجیہہ تھی ۔
’ ’ اپنا سمجھ کر سمجھایا جاتا ہے ، بدتمیز ی نہیں کی جاتی ۔‘‘ اپنے گھر والوں کے سامنے وہ صائم کی وجہ سے اتنی نادم رہنے لگی تھی کہ اس نے میکے جانا ہی کم کر دیا تھا ۔
’’ وہ تمہاری فیملی ہے اورمیری بھی فیملی ہے ۔ میں نے اگر اس بات پہ غصہ کیا کہ فروا کو رات گئے کیوں آنٹی باہر رہنے کی اجازت دیتی ہیں تو اس میں کیا غلط کہا ہے ۔‘‘
’’ بات کرنے کا طریقہ ہوتا ہے صائم . میںآپ کی نیت پہ شک نہیں کر رہی ہوں لیکن یہی بات آپ نرمی سے کہتے تو امی کوبھی محسوس ہوتا کہ آپ کو ان لوگوں کی پرواہ ہے نہ کہ آپ ان پہ دھونس جمانے کے لیے یہ سب کہہ رہے ہیں ۔‘‘
’’ تمہیں یہ لگتاہے کہ میں یہ سب ان پہ دھونس جمانے کے لیے کہتا ہوں؟ ‘‘ صائم غصے میں آ گیا تھا ۔ بات بگڑ رہی تھی اسی لیے بشریٰ کو خاموش ہونا پڑا ۔
’’ ٹھیک ہے آئندہ سے میں ان لوگوں کے معاملات میںنہیںبولوں گا ۔‘‘
اس دن کے بعد سے صائم سسرال تو جاتا لیکن انداز بس لیے دیے رہنے والا ہو گیا ۔ نہ وہ سسرالیوں کی کسی خوشی میں خوشی کا اظہار کرتا نہ ہی کسی تکلیف میں ان کا ہمنوا بنتا ۔ اور انداز یوں ہو گیا کہ جو مرضی کرو بھئی ، مجھے کیا پرواہ ۔
پھر ایک دن وہ ہوا جس نے بشریٰ کی زبان پہ چپ لگا دی ۔
٭٭٭
صائم کے دفتر میں حالات کچھ اچھے نہیں جا رہے تھے ۔ پچھلے ڈیڑھ سال میں مہنگائی کی شرح اوپر گئی لیکن تنخواہ میں دھیلے کا بھی اضافہ نہیں ہوا تھا ۔ مکان کرائے کا تھا اور کرایہ ادا کرنا اب مشکل ہو گیا تھا ۔ دانین ابھی بہت چھوٹی تھی اسی وجہ سے بشریٰ نوکری نہیں کر سکتی تھی ۔ اخراجات کاسارا بار صائم کے سر تھا ۔
’’ حالات تمہارے سامنے ہیں یار . تم آنٹی سے بات کرو کہ وہ اوپری منزل ہمیں کچھ عرصے کے لیے دے دیں ۔ جب میری تنخواہ بڑھے گی تو یا ہم انہیں کرایہ ادا کر دیں گے یا کہیں اور شفٹ ہو جائیں گے ۔ ‘‘ بشری متامل سی میاں کی صورت دیکھنے لگی ۔ وہ اپنے منہ سے گھر داماد بننے کی بات کر رہا تھا جو کم از کم اسے بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔ پھر جو انسان اتنی دور رہ کر بھی اس کے گھر والوں پہ اپنی چلانے کی کوشش کرتا تھا وہ اسی گھرمیں رہ کر تو خود کو ا ن کی زندگی کا مالک ہی سمجھنے لگے گا . کہاں کہاں پھر وہ اس کی ماں کو ذلیل نہیں کر ے گا ۔
’’ میرا نہیں خیال کہ یہ ممکن ہو سکے گا ۔‘‘ بشریٰ نے اپنے تئیں ہی بات کو ٹالنا چاہا ۔
’’ کیوں ممکن نہیں ہو سکتا ۔ چار افراد ہیں اس گھر میں اور تین منزلہ گھر ہے۔ کیا اتنے بڑے گھر میں ہمیں وقتی طور پہ ایک کمرہ بھی نہیں مل سکتا ۔۔؟ تم آنٹی سے بات تو کرو ۔مجھے یقین ہے وہ منع نہیں کریں گی۔‘‘
’’ صائم ! اول تو وہ دو منزلہ گھر ہے کیونکہ چھت پہ کوئی کمرہ نہیں ہے ۔ دوسری بات یہ کہ دوسری منزل پہ فرہاد اور فاطمہ رہتے ہیں ۔ ہم ان کے پورشن میں انہی کے ساتھ گھس کر نہیں ر ہ سکتے۔نہ اس بات پہ وہ رضا مند ہوں گے اور نہ ہی مجھے یہ ٹھیک لگتا ہے کہ ان کی پرائیویسی ڈسٹرب ہو ۔‘‘ امی سے بات کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔
’’ تو ٹھیک ہے نیچے تو فروا اور آنٹی ہی ہوتے ہیں ۔ نیچے بھی دو کمرے ہیں ۔ ایک وہ ہمیں دے دیں۔ ایک میںخود رہ لیں ۔‘‘ بشریٰ نے تاسف سے میاں کو دیکھا ۔
’’ ایسے کیا دیکھ رہی ہو . ہمارے فائدے کی ہی بات کر رہا ہوں ۔ کرایہ بچ جائے گا ایک آدھ سال کا تو سو اور اخراجات پورے ہو جائیں گے ۔ بائیک بیچ کر گاڑی لے لوں گا ۔ کل دانین بڑی ہوگی تو اچھے اسکول میں داخل کروا دیں گے۔جو کچھ کر رہا ہوں تم دونوں کے لیے ہی کر رہا ہوں ۔‘‘
’’ میںامی پہ خواہ مخواہ بوجھ نہیں ڈالنا چاہتی.‘‘ وہ اٹھ کر کمرے سے چلی گئی تاکہ بات ختم ہو لیکن وہ اس کے پیچھے پیچھے باورچی خانے میںآ گیا ۔
’’ کیسا بوجھ یار .؟ بل ہم برابر ادا کریں گے ۔ گروسری ایک مہینے وہ ڈلوا لیں ، ایک مہینے میں ڈلوا دوں گا ۔ اور بھی جو کہوگی کر دوں گا لیکن اب یہ کرایہ ادا کرنا میرے بس سے باہر ہو رہا ہے۔ ۔‘‘ وہ اسے کہنا نہیں چاہتی تھی کہ وہ پیسوں کے بوجھ کی بات نہیں کر رہی ۔ وہ اسے رویے اور باتوں کے بوجھ کی بات کر رہی ہے جو وہ اس کے گھر والوں پہ ڈالتا ہے۔
’’ مجھے یہ سب مناسب نہیںلگ رہا صائم ۔‘‘ وہ اسے کیسے منع کرتی اس کی سمجھ سے باہر تھا ۔ وہ کوئی توجیہہ سننے پہ آمادہ ہی نہیں تھا ۔
’’ اس میں نامناسب کیا ہے .؟ فرہاد اس گھر میں بنا کرایہ دیے رہ رہا ہے کہ اس کے باپ کا گھر ہے ۔ فروا بھی اپنا پورا حق جتاتی ہے ۔ وہ گھر تمہارے باپ کابھی تو ہے نا جس پہ تمہارا بھی پورا حق ہے ۔ اگر وہ دونوں اپنے پورے حق سے رہتے ہیں تو تم کیوں نہیں رہ سکتی ؟‘‘
بشریٰ چپ رہی ۔ ہمارے حالات اچھے نہیں جا رہے اسی لیے کہہ رہا ہوں کہ اپنا حق استعمال کرو ۔ اس میں غلط کیا ہے .؟ آنٹی کے دو بچے پورے استحقاق سے وہاں رہ رہے ہیں تو تیسری کیوں نہیں رہ سکتی .؟مجبوری ہے تو ہی کہہ رہا ہوں ورنہ کسی کو شوق نہیں ہوتا سسرال کے در پہ پڑے رہنے کا ۔ ‘‘ بشریٰ خاموش رہی ۔
’’اگر تم بات نہیں کر سکتیں تو بتا دو ۔ میں بات کر لوں گا ۔‘‘ بشریٰ کی سانس رک گئی ۔ وہ کیسے بات کرے گا وہ جانتی تھی ۔ اسے روکنا ممکن نہ تھا اسی لیے بشر یٰ کو ہامی بھرنا پڑی ۔
’’ ٹھیک ہے . میں بات کروں گی امی سے ۔‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی اسے کہنا پڑا ۔ صائم نے گہرا سانس لے کر اس کا شانہ تھپکا ۔
’’ یہ تمہارا حق ہے بشریٰ ۔اور اپنا حق لیتے ہوئے جھجکنا نہیں چاہیے ۔‘‘
بشریٰ کی آنکھیں بھرآئیں۔ اس میں ہمیشہ سے اپنے ماں جائیوں کی نسبت زیادہ خود داری رہی تھی ۔ شادی سے قبل وہ ماں سے کچھ مانگتے ہوئے سو بار سوچتی تھی ۔ اسکول کالج کے لیے رقم بھی چاہیے ہوتی تو کتنی دیر خود کو منانے میںلگ جاتا کہ بول دوبشری ۔ بعض دفعہ بالکل ہمت نہ جتا پاتی اور بعض دفعہ بڑی شرمسار سی ہو کر کہہ دیتی ۔ اسے اپنا ہی حق مانگتے شرم محسوس ہوتی تھی اور اب صائم کیسے اسے منہ پھاڑ کر گھر میں رہنے کی بات کرنے کا کہہ رہا تھا ۔ اتنی ڈھیر ہمت وہ کیسے پیدا کرے گی وہ نہیں جانتی تھی لیکن محض صائم کو روکنے کے لیے اس نے ہامی بھر لی تھی ۔
٭٭٭
اس نے امی سے کئی بار فون پہ بات کرنے کی کوشش کی کہ سامنے وہ ان سے یہ سب نہیںکہہ سکتی تھی ۔ لیکن اسے دو تین بار بات شروع کر کے خود ٹا ل دینے پہ احساس ہوا کہ یہ بات تو وہ ماں سے فون تک پہ نہیں کر سکتی تھی جو صائم اسے ان کے منہ پہ کرنے کا کہہ رہا تھا۔ان دنوں یوں بھی فروا گھر میں کافی تبدیلیاں کروا رہی تھی ۔ نیا فرنیچر خرید رہی تھی۔رنگ روغن کروا رہی تھی ۔ کارپٹ پردے بدلوا رہی تھی ۔ جب وہ گھر کو اتنی محبت سے سجا رہی تھی تو بھلا اپنا سجا سجایا گھر وہ پلیٹ میںرکھ کر اسے کیوں پیش کرتی . ؟ سو اس نے بات کرنے کا ارادہ ہی ملتوی کر دیا ۔
’’ تم نے اب تک بات نہیں کی .؟‘‘
’’ فروا گھر کی ڈیکوریشن اپنے طریقے سے کروا رہی ہے صائم ۔ وہاں ہماری اور ہمارے سامان کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔‘‘ وہ بے بسی سے میاں کو دیکھنے لگی۔
’’یہی تو میں کہتا ہوں کہ وہ جو دل میں آئے کرتی ہے کہ اس کا گھر ہے ۔ اور تم ایسے بنتی ہوجیسے پرایا گھر ہو ۔‘‘ اب وہ کیا کہتی کہ بیٹیاں بیاہی جائیں تو پرائی ہی ہوجاتی ہیں ۔ پھر میکے اور گھر پہ ان کا حق جتانا عجیب ہی لگتا ہے ۔ فروا کی بات او ر تھی ۔ وہ بن بیاہی تھی اسی لیے یہ سب کر سکتی تھی ۔
’’ تم رہنے دو ۔ تم سے یہ کام ہونا ہی نہیںتھا ۔ میں آنٹی سے بات کرتا ہوں ۔‘‘ صائم غصے سے گھر سے نکلا ۔ بشری اسے روکنے کے لیے بھاگی لیکن تب تک وہ نکل چکا تھا ۔ دانین رو رہی تھی ۔ وہ واپس اندر کی طرف بھاگی ۔ دل سوکھے پتے کی طرح کانپ رہا تھا ۔دانین کو گود میں لیا اور اسی طرح چادر اوڑھے وہ صائم کے پیچھے لپکی تھی۔
جب وہ گھر میں داخل ہوئی تو امی لاؤنج میں سر جھکائے کسی مجرم کی طرح کھڑی تھیں اور صائم کروفر سے کھڑا کہہ رہا تھا۔
’’ اگر آپ کے باقی بچے اس گھر میں رہ سکتے ہیں تو بشریٰ کیوں نہیں . ؟ انکل کے گھر پہ اس کا بھی اتنا ہی حق ہے ۔ میرے حالات اتنے برے نہ چل رہے ہوتے تو میں کبھی یہ بات نہ کہتا ۔‘‘ دانین اس کی گود میں ہی سو چکی تھی اور وہ اسے لیے وہیں دروازے میں ٹھہرگئی ۔
’’ بیٹا میں سب سے مشورہ کر کے ہی جواب دے سکتی ہوں ۔تم کچھ دن انتظار کر لو۔‘‘ امی بے بسی سے نظریں جھکائے کہہ رہی تھیں ۔ داماد کے سامنے ان کا سر اور نظریں ہمیشہ جھکی ہوئی ہی ہوتی تھیں تاکہ ان کی بیٹی اس کے ساتھ سر اٹھا کر جی سکے ۔ بشریٰ کے آنسو بہنے لگے۔
’’ آپ اس گھر کی بڑی ہیں ۔ فیصلہ کریں اور سب کو سنا دیں ۔ مشورے کی بھلا ضرورت ہی کیا ہے۔‘‘
’’ صائم بھائی ۔ امی فرہاد سے بات کئے بنا کوئی فیصلہ نہیں کر سکتیں ۔وہ اس گھر کا مرد ہے ، ابو کے بعد اب وہی سرپرست ہے ۔ اس سے پوچھے بنا اتنا بڑا فیصلہ کیسے لیا جا سکتا ہے۔‘‘ فروا مزاج کی تیزی کی وجہ سے اگلے پہ بھی وہ تیزی دکھا جاتی ۔
تبھی دانین کسمسا کر کچھ روئی تو سب کی نظریں دروازے میں کھڑی بشریٰ پہ پڑیں ۔
’’ تم بھی آجاؤ اور کوئی تمہاری بھی فرمائش ہے تو کہہ دو۔‘‘ فروا نے طنز اً کہا تو صفیہ نے اسے ٹوکا۔
’’ بہن سے ایسے بات مت کرو ۔‘‘
’’ کیوں امی .؟ اسے بھی تو کہنے دیں ۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ اس کے علم میںلائے بنا صائم بھائی نے یہ سب کہا ہو ۔‘‘ صاف ظاہر تھا کہ فروا کو برا لگا تھا۔
’’ تمہیں کیوں اتنا برا لگ رہا ہے .؟ یہ گھر تمہارے باپ کا ہے تو اس کے بھی باپ کا ہے۔بیٹی کو جہیز کی چند چیزیں تھما دینے سے اس کا حق ختم نہیں ہو جاتا ۔‘‘ صائم نے غصے سے فروا کو دیکھا ۔
’’ بالکل اس کے باپ کا ہے یہ گھر، جب چاہے آئے ، رہے ، کوئی روک ٹوک نہیں ہے . لیکن یہ اب ہمار ی ذمہ داری نہیں ہے ۔ ہم اب اسے بیاہ چکے ہیں ۔ یہ آپ کی ذمہ داری ہے ۔ آپ کا کام ہے اسے بنیاد ی سہولیات مہیا کرنا نہ کہ اسے لے کر ہمارے ہاں چلے آنا کہ ہم اس کے ساتھ آپ کی ذمہ داریاں پوری کریں ۔‘‘
’’ تم سے کون کہہ رہا ہے ذمہ داریاں اٹھانے کو . ہم اس گھر میںاپنا حق چاہتے ہیں ۔‘‘
’’ بشریٰ کا جو حق ہے وہ اسے مل جائے گا جب یہ گھر اپنے وارثوں میں تقسیم ہو گا . لیکن امی کی زندگی میںایسا نہیں ہو گا ۔‘‘ فروا دو بدو جواب دینے سے کبھی نہیں ہچکچائی تھی۔
’’ فروا خاموش ہو جاؤ اور یہاں سے جاؤ ۔‘‘ صفیہ نے اسے اندر دھکیلنا چاہا ۔
’’ یہاں سے چلی جاؤں تاکہ آپ انہیں یہاں آنے کی اجازت دے دیں ۔ ‘‘
’’ہمیںاب یہاں آنے کا شوق بھی نہیں ہے۔اتنی باتیں سننے کے بعد کون کافر یہاں آنا پسند کرے گا ۔ اپنا سمجھ کر ایک بات کی تھی لیکن آپ لوگوں نے جتا دیا کہ مشکل وقت میں کوئی اپنا نہیںہوتا . اور ہوں میں نکما ، نکھٹوجو اپنی بیوی بیٹی کی ذمہ داری پوری نہیںکرسکتا . تو رکھو اسے یہیں پہ . جب میں اس قابل ہوجاؤں گا کہ اس کے اخراجات اٹھا سکوں تو اسے لے جاؤں گا ۔‘‘ صائم غصے سے نکل گیا ۔ صفیہ اسے روکنے بڑھیں تو فروا نے روک لیا ۔ بشری تو ہونق بنی سب کچھ دیکھ رہی تھی ۔
’’ تمہیں ضرورت ہی کیا تھی یہ سب بکواس کرنے کی فروا ۔۔ہزار بار کہا ہے کہ ہر جگہ زبان نہیں کھولنا ہوتی ۔ بہنوئی ہے تمہارا ۔ کوئی رشتے کا لحاظ کر لیتیں ۔‘‘ امی نے فروا پہ سارا غصہ اتارا ۔
’’ آپ ساس ہیں اس کی ۔ وہ کتنا لحاظ کرتا ہے رشتے کا ؟‘‘
’’ ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا وہ . ابھی ان کے حالات کچھ تنگ ہیں ۔ کچھ وقت یہاں رہ لیں گے تو کیا قیامت آ جائے گی ۔ تم اور فرہاد نہیں رہتے ۔ یہ بھی اس گھر کی بیٹی ہے۔ اس کا بھی حق ہے ۔‘‘ صفیہ ہنوز داماد کی طرف داری کر رہی تھیں ۔
’’ اس بیٹی کو بیاہ چکی ہیں آپ . اب کیا اس کا پورا خاندان پالیں گی؟‘‘
بشریٰ کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے ۔ اس کی زندگی بھر کی خودداری اس دن ختم ہو گئی تھی ۔ شوہر اور بہن نے مل کر اس کی عزت ِ نفس کا جنازہ نکال دیا تھا ۔
’’ تم اب یہاں رہو گی کہ اپنے میاں کے پاس جاؤ گی .؟کیونکہ وہ تو صاف کہہ گیا ہے کہ وہ اب تمہیں نہیں لے کر جا سکتا ۔ نہ ہی تمہارا خرچا اٹھا سکتا ہے ۔ ‘‘ بشری پلٹی کہ اسے گھر جانا تھا ۔ جیسے بھی حالات میںاسے صائم رکھتا وہ رہ لیتی لیکن اپنا گھر وہ کسی قیمت پہ نہیں چھوڑنا چاہتی تھی ۔
’’ بشریٰ رکو بیٹا ۔ میں تمہارے ساتھ چلتی ہوں۔ صائم سے بات کرتی ہوں ۔میں اپنا کمرہ خالی کر دیتی ہو ں ۔تم لوگ میرے کمرے میں شفٹ ہو جانا او ر سامان ممٹی میں رکھو ا لینا ۔بہت جگہ ہے وہاں ۔‘‘ بشری کا دل کیا وہ دھاڑیں مار کر روئے ۔ اپنی ماں کے قدموں سے لپٹ جائے کہ اتنی اچھی مت بنیں امی ۔ میری ماں ہونے کا اتنا بوجھ نہ ڈھوئیں امی۔ ۔لیکن وہ نہیں کہہ سکی ۔ وہ اتنا بھی نہیں کہہ سکی ۔بس ماں کے سامنے ہاتھ جوڑدیے۔
’’ مجھے معاف کر دیں امی ۔۔ ۔ کاش کہ میں اپنی تقدیر بدل سکتی اور کسی اور گھر میںپیدا ہو جاتی تو آپ کو میری وجہ سے یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ۔ ‘‘ صفیہ جہاں کی تہاں رہ گئیں ۔
بشری آنسو صاف کر کے تیزی سے گھر سے نکل گئی ۔ صفیہ سے اسے روکا تک نہیں گیا ۔ وہ تو اس کے الفاظ سے ہی سن رہ گئی تھیں ۔
گھر پہنچ کراس نے سارے کام آنسو پیتے ہوئے نبٹائے ۔ دل پہ اتنا بوجھ تھا جیسے پھٹ جائے گا ۔ صائم منہ پھلائے ٹی و ی دیکھتا رہا ۔
’’ ہم گھر تبدیل کر لیتے ہیں ۔کوئی کم کرائے کا گھر دیکھتے ہیں۔‘‘ وہ کھانے کے بعد بالکل نارمل تھا۔بشریٰ نے کوئی رد ِ عمل نہ دیا بس معمول کے کام بنٹاتی رہی ۔
د و د ن اسی طرح گزر گئے ۔ امی سے وہ اس قدر پشیمان تھی کہ ان کی کال اٹھا کر بات کرنے کی ہمت تک نہ ہوئی۔
صائم نے دو دن میں نیا گھر تلاش کر لیا تھا ۔ رات وہ اسے تفصیلات بتا رہا تھا جسے سننے میں اسے کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔ وہ غائب دماغی سے دانین کو دیکھ رہی تھی ۔ اس کا ڈائپر بدل رہی تھی ۔
’’ کل سے پیکنگ شروع کر دو پھر . ہفتہ ہی ہے ہمارے پاس ۔‘‘ آخری جملہ اس نے سنا اور سر ہلا دیا ۔ اچھا ہی تھا کہ گھر امی کے گھر سے دور مل رہا تھا ۔ نہ ہر وقت کا آنا جانا ہوتا نہ ہر وقت کی چخ چخ رہتی ۔
’’ اب کیا مہینہ ایسے ہی منہ بنائے رکھو گی تم اور تمہاری امی ؟‘‘ اس کی بات پہ وہ اپنے خیالات سے چونکی ۔
’’ آپ امی سے ملے ہیں .؟‘‘
’’ میرا اوزار وں کا ڈبہ ان کی طرف پڑ اتھا وہ لینے ہی گیا تھا ۔ وہ بھی ایسے ہی منہ لٹکائے بیٹھی تھیں تمہاری طرح جیسے کوئی مر گیا ہو۔‘‘
’’ کسی کا دل دکھا ہو تو کیا وہ ہنس کر دکھائے . ایسے بن جائے جیسے کچھ ہو ا ہی نہیں ۔‘‘
’’ ایسا کیا ہو گیا ۔۔؟ ایک بات تھی کر دی ۔ وہ نہیں پوری کر سکیں ، بات ختم . ‘‘
’’ بات اتنی آسانی سے ختم ہو جاتی ہے کیا .؟ جو دل دکھے ہیں وہ اتنی آسانی سے جڑ جاتے ہیں .؟‘‘
’’ تو کیا پھانسی چڑھا دیں گی مجھے .؟ حق ہی مانگا تھا اس پہ اتنا صدمہ لگا ہے ماں بیٹی کو جیسے جائیداد نام کروانے کا مطالبہ کر دیا ہو ۔۔‘‘
کیسا انسان تھا کہ اسے بالکل احساس نہیں تھا کہ کسی کی خودداری ، حساسیت ، عزت ِ نفس کو ٹھوکر لگے تو اسے کیسا دردہوتا ہے ۔ وہ ایک ماں کو محض اس لیے تکلیف دیتا تھا ، ان کی تذلیل کرتا تھا کہ وہ ایک بیٹی کی ماں تھیں اور اس بیٹی کے سر پہ اس کا باپ نہیں تھا جو اس کی چھتر چھاؤں بنتا ۔
’’ اللہ سے کچھ تو ڈریں ۔ آپ کی بھی ایک بیٹی ہے جس نے کبھی نا کبھی بڑے ہونا ہے ۔ جسے آپ نے کبھی کسی کے سنگ رخصت کرنا ہے . تھوڑا سا اپنے مستقبل کا ہی خوف کھا لیں ۔‘‘ صائم اپنی جگہ سے اچھلا ۔
’’ تم مجھے اور میری بیٹی کو بددعا دے رہی ہو .؟‘‘
’’ میں بس یہ کہہ رہی ہوں کہ اتنا ہی برا کریں جتنا کل کو جھیل سکیں. کہیں آپ کو اپنے جیسا ہی کوئی ٹکرا جائے تو کیا کریں گے پھر .؟‘‘ وہ اتنا کہہ کر دانین کو لیے ٹیرس پہ نکل گئی۔ وہ پیچھے کیا کیا بڑبڑاتا رہا تھا اس نے نہیں سنا ۔
’’ میری بیٹی کی قسمت میرے جیسی کبھی نہ کرنامیرے اللہ۔ کبھی بھی مت کرنا . اس کے باپ کے کیے کا اس کے آگے مت لانا ۔۔ میں بیٹی ہو کر اپنی ماں کی تذلیل سہہ رہی ہوں ۔ ماں بن کر پھر سے بیٹی کہ وجہ سے یہ سب دوبارہ نہیں سہنا چاہتی۔ میری بیٹی کا نصیب کبھی میرے جیسا مت کرنا ۔اس کے باپ کو اس جیسا داماد مت دینا۔اسے میرے صبر کا پھل دینا۔‘‘ دانین کو خود میں سمیٹے وہ کھلے آسمان تلے بیٹھی رات گئے تک روتی رہی ۔
اس دن کے بعد سے بشریٰ نے چپ سادھ لی تھی ۔ وہ بہت کم بات کرتی ۔ بہت کم مسکراتی ۔ امی کو فون کرتی اور خیریت پوچھ لیتی ۔ انہیں کبھی اپنے دکھ درد نہیںسنائے ۔ گھر شفٹ کر لیا تو میکے جانا تک کم کر دیا کہ وہ مزید امی کا سامنا نہیں کر سکتی تھی ۔ وہ اپنی ماں کی ذلت کی وجہ بنی تھی ۔ اب کبھی عزت سے ان کے سامنے نہیں جا سکتی تھی ۔
٭٭٭
صائم نے اس دوپہر کھانا نہیںکھایا تھا۔ معیز دانین کو لے کر اپنے ماموں کے گھر لنچ پہ چلا گیا تھا ۔ دانین کا چہرہ ہنوز بجھا بجھا تھا۔معیزکو اپنے کئے پہ کوئی ندامت دکھائی نہیں دی۔دانین ماں باپ کا چہرہ دیکھ رہی جہاں اداسی تھی ، بیٹی کی تکلیف کا دکھ تھا ۔باپ کے چہرے پہ ذلت کھنڈی ہوئی تھی جسے دیکھ کر دانین کا دل رو رہا تھا۔
صائم سارا دن بے چین سا اندر باہر ہوتا رہا ۔ حال سے زیادہ اسے ماضی رہ رہ کر یاد آ رہا تھا جہاں کوئی معیز نہیں ، صائم تھا ۔
’’ صائم تم ہمارے بیٹے ہو ۔ جیسے فرہاد ہے ویسے ہی تم ہو ۔ اگر فرہاد یہاں رہ سکتا ہے تو تم بھی رہ سکتے ہو ۔ میں کل ہی اپنا کمرہ خالی کرواتی ہوں ۔ تم اور بشری میرے کمرے میں شفٹ ہو جاؤ ۔اور جب تک چاہو یہاں رہ سکتے ہو۔ ‘‘ اگلے دن جب وہ اوزار لینے گیا تھا تو صفیہ نے لجاجت بھرے لہجے میں داماد کو منانے کی کوشش کی ۔
’’ رہنے دیں آنٹی . اس گھر میں اپنی عزت میں دیکھ چکا ہوں ۔‘‘
’’ فروا کی طرف سے میں معافی مانگتی ہوں بیٹا۔‘‘ صفیہ کی آواز بھرا گئی اور انہوں نے صائم کے سامنے ہاتھ جوڑ دیے ۔ دو آنسو بھی ان کے دوپٹے میں جذب ہو گئے لیکن معاملہ بیٹی کا تھا اور اس کا گھر بسانے کے لیے وہ یہ سب کر سکتی تھیں ۔
’’ آنٹی پلیز اس کی ضرورت نہیں ہے ۔۔ ہم گھر شفٹ کر رہے ہیں ۔ کسی سستے علاقے میں سستے گھر میںرہیں گے ۔ بہت شکریہ آپ لوگوں کامگر مجھے میری اہمیت پتا لگ چکی ہے۔سو یہ ڈرامہ مت کریں۔‘‘ ان کے بندھے ہاتھوں نے دل کو اس وقت عجب تسکین دی تھی کہ داماد تو داماد ہی ہوتا ہے ۔ ایک بیٹی لے کر جاتا ہے اور سسرالیوں کو ساری زندگی سر جھکا ئے رکھنے کی سزا سنا جاتا ہے ۔
صائم کو خبر تک نہ ہوئی کہ کب وہ سوچتے سوچتے قبرستان کے دروازے پہ جا پہنچے تھے۔ جب ہوش آیا تو بالکل گم صم تا حد نگاہ پھیلی قبروں کو دیکھتے رہے ۔ پھر ہمت کی اور ساس کی قبر تک چلے گئے ۔ مغفرت کی دعا کی اور وہیں بیٹھ گئے ۔
’’ آنٹی ! کسی دوسرے کے پیر میں چبھنے والا کانٹا کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے یہ تب تک نہیں پتا چلتا جب تک وہ کانٹا اسی مقام پہ اپنے پیر پہ نہ چبھ جائے۔ ‘‘ قبرستان میںہو کا عالم تھا ۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔انہوں نے روکا نہیں ۔
’’ اپنے متکبرانہ رویے سے میں نے آپ کو ہمیشہ چوٹ پہنچائی کیونکہ آپ بیٹی کی ماں تھیں ۔ اپنا اور بشری کا رشتہ تک خراب کر دیا ۔اب اپنے داماد میں مجھے اپنا عکس نظر آ رہا ہے تو مجھے بہت زیادہ تکلیف ہو رہی ہے ۔ وہ ہماری تذلیل کر رہا ہے ۔ وہ دانین کا دل دکھا رہا ہے یہ سب مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا . کاش کہ آپ زندہ ہوتیں تو یہ سب میںآپ سے ، آپ کے قدموں میں بیٹھ کر کہتا لیکن وقت گزر جاتا ہے ، پچھتاوا رہ جاتا ہے ۔ میں آپ سے یہاں معافی مانگنے آیا ہوں ۔ یہ نہیں جانتا کہ اللہ مجھے معاف کر ے گا بھی کہ نہیں ۔ بس یہ چاہتا ہوں کہ میری بیٹی اس دکھ سے ساری عمر نہ گزرے جس سے آپ کی بیٹی گزری ۔ ‘‘ اس دن وہ وہاں بیٹھ کر کھل کر رو دیئے تھے ۔ وہاں سننے کے لیے کوئی نفس موجو د نہیں تھا ایک سوائے خدا کے ۔
گھر واپسی پہ اپنی جیب میں موجود واحد سبزنوٹ کو انہوں نے ایک بھکاری کو صدقہ کر دیا ، اس نیت سے کہ ان کی ساس کے درجات بلند ہوں ۔ جانے والوں کے ساتھ پھر ایسے ہی نیکی کی جاتی ہے ۔ ہماری ندامت ان کے وہاں کس کام کی بھلا .؟
رات کھا نے کے لیے بشریٰ چکن روسٹ کر رہی تھیں کہ معیز کو پسند تھا ۔ صائم نے کچن میںجھانکا تو بشریٰ وہی بنا رہی تھیں ۔
’’ دانین بتا رہی تھی کہ ابھی وہ لوگ شاپنگ کر رہے ہیں ۔ رات کا کھانا گھر پہ کھائیںگے تو اسی لیے معیز کے لیے چکن روسٹ بنا رہی ہوں ۔‘‘
’’ بیٹی کی خوشی کے لیے دل کتنا بڑا کرنا پڑتا ہے نا بشریٰ .‘‘ صائم کی بات پہ وہ چونک کر مڑیں ۔صائم کا ستا چہرہ بہت کچھ بتانے کو کافی تھا اس لیے بشریٰ نے کوئی سوال نہیںکیا ۔
’’ دانین آواز سے خوش لگ رہی تھی۔ جب معیز آئے تو کوئی ایسی بات نہ کریے گا جو اسے بری لگے ۔‘‘
’’ میں نے تو اسے بیٹا سمجھا تھا ۔‘‘
’’ بہو اور داماد بیٹی اور بیٹے نہیں بن سکتے صائم ۔روک ٹوک ، ڈانٹ ڈپٹ اپنی اولاد پہ تو اچھی لگتی ہے بہو داماد پہ نہیں ۔۔ رحم کے ان رشتوں کو ظرف بڑا کر کے نبھانا پڑتا ہے ۔ ‘‘ کتنی دیر وہ کچن کے کونے میں کھڑے رہے پھر ہمت کر کے کہہ دیا ۔
’’ آئی ایم سوری بشریٰ ۔ ‘‘ وہ جانتی تھیں کہ وہ کس بات پہ اس سے معذرت کر رہے ہیں ۔ وہ اس بارے میں اب کچھ نہیں کہنا سننا چاہتی تھیں ۔ جب امی نہیں رہی تھیں تو سب یوں بھی ختم ہو چکا تھا ۔
’’ آپ نماز پڑھ لیں پھر مارکیٹ سے مجھے تندوری مسالہ لا دینا ۔ تندوری کڑاھی بنا لیتی ہوں ساتھ میں۔‘‘ وہ ظرف وسیع کر کے داماد کی پسند کا سب بنا رہی تھیں ۔صفیہ بھی یہی کرتی تھیں ۔ جو والدین بھی بیٹیوں کے گھر آباد دیکھنا چاہتے ہیں وہ داماد کو سر آنکھوں پہ ہی بٹھا کر رکھتے ہیں ، ان کا اچھا برا سب خاموشی سے برداشت کرتے ہیں ، وہ جانتے ہیں کہ اپنی ذلت پہ کچھ کہیں گے تو بیٹی سسرال میں عمر بھر ذلیل ہو گی اسی لیے اپنی ذلت خاموشی سے پی جاتے ہیں ۔ بس ایک بات جو وہ نہیں جان سکتے کہ بیٹیاں ان کی ذلت کو دل میں چھپا کر پھر دل سے کبھی خوش نہیں ہو سکتیں۔ وہ اوپر سے مسکرا کر دکھاتی ہیں اور اندر سے رو دیتی ہیں ۔
معیز لوٹا تو اس کا موڈ بالکل ٹھیک تھا ۔ خود سے ہنس بول رہا تھا۔ ان دونوں کے لیے شاپنگ کر کے لایا تھا ۔ کھانا کھاتے ہوئے بشریٰ کی ڈشز کی تعریف بھی کر رہا تھا۔کہانی سچ میں خودکو دہراتی ہے، بس کردار نئی جگہ لے لیتے ہیں ۔ صائم کے سامنے ماضی کا صائم آگیا ۔ وہ اس وقت یہ نہیں سمجھ سکتے تھے کہ ساس کا د ل ایسے وقت میں اندر سے کیا ہوتا ہو گا . آج وہ یہ بھی سمجھ سکتے تھے. بشریٰ نے ٹھیک پوچھا تھا کہ انہیں خود سے پوچھنا چاہئے کہ پھر دل کیا پہلے سا ہو جاتا ہے ؟ جواب اب سامنے تھا کہ دل پہلے سا کبھی نہیں ہو سکتا ۔
٭٭







