جنوبی پنجاب کا جاگیر دار خاندان جس کی ایک پہچان ملکی سیاست میں حصہ لینا اور اس گھرانے کی روایات سے باغی یہ گھر جس میں زہرا بتول پیدا ہوئی۔ چار بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھی گو زمانے کے حساب سے گھر کے اندر اور باہر طور طریقوں میں بہت فرق آ چکا تھا لیکن زہرا کی دادی ابھی پچھلی روایات کی حامل تھیں۔
زہرابتول پیدائشی سید زادی ،بچپن میں ہی کئی مرتبہ یہ بات سننے کو ملی کبھی دادی سے اور کبھی نانی سے ، کبھی ابا سے تو کبھی پھوپھو سے کہ اصلی نسلی سید کو زندگی میں ایک نہ ایک مرتبہ تو لازمی آزمائش کی بھٹی سے گزرنا پڑتا ہے ۔ یہ فقرہ سنتے سنتے سیدہ زہرا بتول جوانی کی دلکش وادی میں داخل ہوگئی، نصاب کی کتب میں سیرت النبی کے حوالے سے بہت سے واقعات درج تھے زہرا کو باقی بہن بھائیوں کی نسبت سوچنے کا مرض لاحق تھا ،جب وہ دادی کی بات سنتی تو گھنٹوں سوچتی زہرا کی منی سی جان لرز کر رہ جاتی وہ دل پر ہاتھ رکھ کر سوچتی اس کے لیے رب کون و مکاں نے کون سی آزمائش رکھی ہو گی بھوک ؟ نہیں نہیں وہ دل ہی دل میں دہائی دیتی وہ تو بھوک کی بہت کچی ہے ،تھوڑی سی بھوک پر اس کی حالت قابل رحم ہو جاتی ہے۔
وہ آنکھوں کے گیلے گوشے صاف کرتی یا اللہ مجھے بھوک کی آزمائش میں مت ڈالیے ،وہ دادی کے ساتھ روزے رکھتی لیکن روزوں میں پتا نہیں کس طرح بھوک برداشت کرتی سحری مکمل بھی نہیں کر پاتی کہ انگلیوں پر افطاری کے گھنٹے گننا شروع کر دیتی۔
’’اف.بھوک نہیں،یارب بھوک بردا شت
نہیں ہوتی۔‘‘ وہ روہانسی ہو کر کہتی۔
’’دادی، کیا میں بھی آزمائی جائوں گی ؟‘‘
دادی کی خاموش نگاہوں سے وہ اندر تک خوف زدہ ہو جاتی !
جس خاندان میں بچیوں پر کسی زمانے میں تعلیم حاصل کرنے پر پابندی تھی وہ اسکول کالج کے دروازے تک نہیں دیکھ سکتی تھیں کہ گھر سے جہاں جانا ہوتا گاڑی کے سیاہ شیشے اندر اور باہر کی دنیا میں تمام رابطے منقطع کر دیتے ،جب وہ یہ سب سنتی تو وہ زچ ہوتی دادی کے کان کھاتی ،دادی ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کرتیں اور سرگوشی میں بتاتیں۔
’’اس لیے میری پتر میری مٹھڑی دھی کہ زنانیوں کو باہر کے راستے میں پتا نہیں چلیں ،یہ جانتے ہیں کہ سب سے اتھری روح زنانی کی ہوتی ہے اور سب سے بڑی بغاوت کے لیے سر بھی زنانی ہی اٹھاتی ہے تو ایک طرح سے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھنے کے بجائے گاڑی کے شیشوں کو ہی اندھا کر دیتے ہیں۔ ‘‘
’’شکر ہے خدا کا ،بابا ایسے نہیں ،بابا تو مجھے اگلی سیٹ پر بٹھاتے ہیں اورکہتے ہیں میری دھی ملک سے باہر پڑھنے کے لیے جائے گی اوردنیا کی سب سے بڑی ڈگری لے کرآئے گی۔‘‘زہرا اطمینان کا سانس لے کر کہتی۔
٭٭٭
پھراسے بغرض تعلیم بیرون ملک جانا پڑ گیا وہ سامان میں کپڑے جوتوں کے بجائے کھانے پینے کی اشیائ ٹھونس رہی تھی ،کچھ خشک میوہ جات اور کچھ بسکٹ ، شکر پارے قسم کی مٹھائیاں جو خراب نہ ہوں اس کا اکیلے ملک سے باہر جانے پر دل آمادہ نہیں تھا۔
اسے اعلی تعلیم کے لیے برطانیہ امریکہ یا کسی بھی ایسے ملک میں جہاں کی ڈگری پوری روئے زمین پر تسلیم کی جائے۔
بسااوقات والدین کے خواب اولاد کو پورا کرنے ہی پڑتے ہیں جیسے اپیا نے امی کا ایئرہوسٹس بننے کا خواب بہت مشقتوں کے بعد پورا کیا۔
امی نے کئی بار اپیا کے سامنے یہ بات کی ،اگر مجھے اجازت ملتی تو میں بس چوبیس گھنٹے فضائوں میں اڑتی یوں بابا کی اجازت سے وہ ایرہوسٹس بن گئیں ۔ اور زہرا کو بابا کا بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کا خواب تعبیر میں بدلنا تھا۔
زہرا کو انگلینڈ کی یونی ورسٹی میں داخلہ مل گیا تھا گو وہ سب بہن بھائی ماما چائلڈ نہیں تھے ،پھر بھی روانگی کے وقت زہرا بہت پریشان ہو رہی تھی ،اسے گھر سے دوری بہت تکلیف دے رہی تھی بابا کے بچپن کے ایک دو دوست ادھر ہی رہتے تھے بابا نے ان سے بھی رابطہ کر لیا تھا اسے ہاسٹل کے بجائے کچھ لڑکیوں کے ساتھ ایک فلیٹ میں ہی رہنا تھا۔ زہرا کو امیگریشن کے لیے جاتے وقت تک اعتماد ، ہمت و حوصلہ جیسی بیس بائیس نصیحتوں کے ساتھ انہوں نے رخصت کیا تو اس کا سانس بند ہو رہا تھا۔
٭٭٭
یونی ورسٹی کی طرف سے دو طالب علم زہرا کے نام کی تختی لیے کھڑے تھے ۔
اچھے اور مہنگے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے باوجود اس وقت الفاظ زہرا کے حلق میں پھنس گئے تھے لمبے سفر سے اس کی ٹانگیں ویسے ہی کانپ رہی تھیں ۔
’’ہیلو۔‘‘ کہنے کے بعد اس کی بولتی بند ہو گئی اتنے میں دولم دھڑنگ گوری چمڑی والے طلبہ کے ساتھ اسکارف سے سر ڈھانپے ایک خوب صورت چہرہ زہرا کے سامنے تھا۔ وہ تیزی سے زہرا کی طرف بڑھی۔ ’’سیدہ زہرا بتول ؟‘‘
’’یس۔‘‘ کہتے ہوئے زہرا اس کی طرف بڑھی بالکل غیر متوقع طور پر اس نے آگے بڑھ کر زہرا کو گلے سے لگایا تین مرتبہ اس کا ماتھا چوم کر چوتھی مرتبہ زہرا کے سر پر بوسہ دیا۔
’’السلام علیکم خنسائ عزالدین ۔‘‘مسکراتے ہوئے اس نے نام بتایا تو زہرا کو زندگی میں پہلی مرتبہ اپنے مسلمان ہونے پر خوشی محسوس ہوئی وہ دیر تک السلام علیکم کے مسحور کن کلمات میں کھوئی رہی ،خنسائ نے زہرا کا بازو پکڑا اور اپنے ساتھ رہائش گاہ میں لے گئی۔
خنسائ سے پہلی ملاقات میں زہرا مطمئن ہو چکی تھی۔ دو مہینے گزر گئے زہرا کی ہرضرورت خنسائ نے پوری کی اس کے کھانے پینے کا خیال ،جب زہرا بیمار ہوئی تو ہسپتال لے کر جانا ایسی اچھی تیمارداری کرنا کہ زندگی بھر انسان اس کا شکر گزار رہے۔
رہے بابا کے وہ دوست نصیر مہدی جن کے متعلق بتایا گیا تھا وہ اسے وہاں گائیڈ کریں گے ،ان سے رابطہ ہی نہیں ہو سکا جب انہیں کال ملانے کی کوشش کی نمبر بند ملتا۔
بالآخر تھک ہار کر بابا نے بھی مایوسی کا اظہار کر دیا تھا تب تک اس کے ساتھ آنے والی زمرحسین بھی اسے خداحافظ کہہ چکی تھی۔
زمرکی سرگرمیاں اور مشاغل ہرگز ایسے نہیں تھے کہ وہ ان میں شامل ہو سکتی۔
اس کے لیے اب پہلا اور آخری سہارا خنسائ عزالدین تھی ۔
سبزکانچ کی طرح جگر جگر کرتی آنکھیں گورا رنگ اور دھیما لیکن دل میں اترنے والا لہجہ۔
خنسائ میں کوئی نہ کوئی ایسی غیر معمولی کشش تھی کہ اپنے آپ میں مگن رہنے والی زہرا نے پہلی نظر میں اسے اپنا دل دے دیا۔
خنسائ جب انگریزی میں اس سے گفتگو کرتی تو اسے روانی سے انگریزی بولتا دیکھ کر، کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ اس کی مادری زبان عربی ہے۔
جب وہ زہرا کی آمد کے تیسرے دن کنافہ اور مندی کھانے کے لیے لائی تو زہرا نے پوچھا تھا۔
’’تمہارا تعلق کس ملک سے ہے؟‘‘
اس نے آنکھیں بند کر کے عقیدت سے کہا۔
’’القدس۔‘‘
’’اوہ ۔‘‘ لمحہ بھر کے لیے زہرا چپ ہوئی۔
اسے بس یہ معلوم تھاکہ القدس فلسطین کوکہتے ہیںتوخنسائ نے گفتگو جاری رکھی۔
زہرا تم جانتی ہو القدس تین الہامی مذاہب کی سرزمین ہے یہودیت ، اسلام اور عیسائیت ، اور یہ کہ رب جلیل نے جس علاقے کے لیے اپنی کتاب میں برکتوں والا ، کا لفظ استعمال کیا ہے اس میں شام اور القدس شامل ہیں۔
’’اس علاقے کو معدن الانبیا بھی کہا جاتا ہے جتنے نبی اور رسول اس علاقے میں آئے اتنے کسی اور علاقے میں نہیں آئے بالخصوص شام میں تو ساری گلیاں سارے علاقے ہی کسی نہ کسی پیغمبر کی نسبت سے مشہور ہیں اور القدس میں ۔‘‘اس کی آنکھوں میں چمک آئی۔
’’القدس میں تو لوگوں کی اکثریت کسی نہ کسی پیغمبر کی نسل سے تعلق رکھتی ہے۔‘‘ اس کی سبز ہیرے جیسی آنکھوں میں ہلکا سا تفاخر اور بہت سارشک تھا۔
یہ زہرا کی زندگی کا پہلا موقع تھا جب اس نے اسلام کو نماز روزے سے ہٹ کر سوچا۔
وہ اب محسوس کر رہی تھی کہ اس کے گھر میں اسلام عبادت تک محدود تھا۔ اس کے گھر میں بس سید زادہ ہونے کی وجہ سے تفاخر ، تعصب میں بدل گیا تھا ۔ان کے گھر میں قرآن کی تلاوت روزانہ کی جاتی لیکن کبھی اس نے قرآن کو ترجمہ یا موضوع پر بات چیت نہیں سنی تھی۔
پیغمبر کیوں آئے کہاں آئے کب آئے کے متعلق ،کسی کی اس کے کانوں میں آواز نہیں سنائی دی۔ کبھی کسی کی گفتگو کا موضوع جہاد نہیں رہا ہاں سید ہونے اور اہل بیت کے مناقب و مراتب پر گھنٹوں بات ہوتی تھی !
جبکہ تعلیم کے شروع کے دو ماہ میں خنسائ ہرپیغمبر کے متعلق یوں بات کرتی ،قرآن کے بتائے قصوں کو اس جذب کے عالم میں سناتی گویا یہ کردار اس کے اردگرد بستے ہیں ،اسے بہت سے پیغمبروں کے شجرہ نسب زبانی یاد تھے اور ہر پیغمبرکی بات یوں کرتی جیسے اس کا ان سے بہت گہرا تعلق ہے۔
٭٭٭
زہرا کی پاکستان میں جب بھی اپنوں سے بات ہوتی ،گھر والوں سے خنسائ کا ذکر کرتی گھروالوں کو جب معلوم ہوا کہ خنسائ کا تعلق فلسطین سے ہے تو انہوں نے دبے دبے لفظوں میں اسے محتاط رہنے کی تلقین کی۔ اپنے ملک کی سیاست کے تالاب میں ڈبکیاں لگانے والے بابا ،جب اسے سمجھاتے کہ بیٹے ہمیں ان لوگوں سے بچنا چاہیے ہمیں ان کی سیاست سے کیا لینا دینا تو وہ گھنٹوں سوچتی کیا واقعی فلسطین کے حالات کو سیاست کہتے ہیں؟
وہ ہمیشہ خاموشی سے بات سنتی اور ہر مرتبہ اس کے دل و دماغ میں ایک ہی سوال پیدا ہوتا۔
’’کیوں؟‘‘
’’کیا اپنا حق لینے کو دہشت گردی کہتے ہیں؟‘‘ زندگی کے تئیس ساڑھے تئیس سال تو وہ بھی اس آزاد دنیا میں بسر کر چکی ہے ابھی تک اس کا جتنے لوگوں سے واسطہ پڑا ہے اسے محاورے کے طور پر نہیں حقیقت میں خنسائ جیسی لڑکی نظر نہیں آئی۔
خنسائ اس کے لیے زندگی کی علامت بن چکی تھی۔
ان دونوں کا آپس میں کیا رشتہ تھالیکن رات کے دو بجے بھی اسے تکلیف ہوتی تو خنسائ دوڑی چلی آتی ، اس کا چہرہ اس کے دل کا آئینہ تھا صاف شفاف ہر طرح کے ریا اور دھوکے سے پاک۔ کوئی تو ایسی بات تھی اس کے اندرکوئی مقناطیسی طاقت اور کشش تھی کہ زہرا جیسی الگ دنیا بسا کر رکھنے والی اس کے بغیر ایک دن کیا چندگھڑیاں نہیں گزار سکتی تھی۔
خنسائ عزالدین کی صحبت میں زہرانے پہلے پانچ وقت کی نمازپابندی سے شروع کی نمازیں تو وہ پہلے بھی ادا کرتی تھی لیکن اس کے کمرے میں جب بھی خنسائ نماز کے لیے کھڑی ہوتی تو وہ اردگرد کی ہر چیز سے بے نیاز ہو جاتی۔
زہرا نوٹ کرتی اس کے چہرے پر نماز کی ادائیگی کے دوران عجیب سی کیفیت ہوتی، کئی مرتبہ اس نے خنسائ کے چہرے پر بغیر آواز کے بہتے آنسو دیکھے آنسو اتنی تیزی سے بہتے ہوئے اس کے صبیح چہرے کو چھو کر اس کے گلے سے جا ملتے کہ اس کے چہرے کے ساتھ اس کا دامن تک بھیگ جاتا۔
شروع میں یہ سب زہرا کے لیے عجیب و غریب تھا۔
وہ ایسی نماز کیوں نہیں پڑھ سکتی جس میں اس کے چہرے پر بھی ٹوٹی ہوئی لڑی کی طرح آنسو اس کی گردن گیلی کر دیں۔
اتنے ڈھیر آنسو بہا کر ،جب خنسائ دائیں طرف سلام پھیرتی تو اس کا چہرہ خشک ہوتا پتا نہیں سارے آنسو ایک دم کہاں غائب ہو جاتے اور اس کے ہونٹوں پر شرارت اور آنکھیں مسکرا رہی ہوتیں۔ بالکل ایسے جیسے اپنے کسی بہت پیارے کو مدت کے بعد ملنے پر آنکھیں مسکراتی ہیں۔
چہرہ گلنار ہو جاتا۔
آہستہ آہستہ زہرا نماز میں خنسائ کی اس کیفیت کی عادی ہوتی چلی گئی۔
نماز تو زہرا بھی ادا کرتی تھی لیکن اسے تو سلام پھیرتے ہوئے یہ بھی یاد نہیں رہتاتھا کہ اس نے پہلی رکعت میں، کس سورہ کی کون سی آیات تلاوت کی تھیں۔ خنسائ کی طرح یکسوئی ،خشوع خضوع چہرے پر دراڑیں ،یہ تو دور کی بات ہے ،اس کا بھی دل چاہتا تھا کہ نماز میں وہ دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہو جائے۔ اس کا بھی جی چاہتا تھا اس کے چہرے کو بھی تلاوت کرتے ہوئے ٹوٹی لڑی کی طرح گرنے والے آنسو بھگوئیں ،اس کی بھی خواہش تھی کہ ملن کی مسکراہٹ اس کے چہرے کو چھوئے لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہی۔
ایک دن اس نے خنسائ کو پکڑ لیا۔
’’بتائو ناں تمہارے پاس کیا جادوئی طریقہ ہے تم نماز پڑھنے کے دوران کسی اور ہی دنیا کی مخلوق لگتی ہو۔‘‘ خنسائ تھوڑا مسکرائی اور کچھ کچھ شرماتے ہوئے بولی۔
’’ابراہیم کے رب سے ملاقات کی سعادت ملتی ہے تو سرور آجاتا ہے بس۔‘‘
’’ابراہیم کا رب ؟‘‘ ہونق بن کر زہرا نے پوچھا۔ ’’ہم پیغمبروں کی اولاد سے ہیں ناں ۔‘‘ خنسائ شرمائی۔
’’وہ تو میں بھی اصلی نسلی سید زادی ہوں ،میری تو ایسی کیفیت نہیں ہوتی شاید اس لیے کہ مجھے عربی نہیں آتی ۔‘‘ زہرا بے چین ہوئی۔
’’کیا کہا تم نے زہرا؟ دوبارہ کہو !‘‘ خنسائ نے حد درجہ حیرت سے پوچھا۔
’’کیا ؟‘‘ زہرا سٹپٹاتے ہوئے بولی اس نے ایسی کیا بات کی کہ خنسائ کا منہ کھلا رہ گیا ۔
’’میں نے صرف یہ کہا ہے کہ میں بھی تو سید زادی ہوں چونکہ مجھے عربی زبان سے زیادہ واقفیت نہیں شاید اس لیے نماز میں میری یہ کیفیت نہیں ہوتی۔‘‘ زہرا نے محتاط ہو کر کہا۔
’’تم سچ کہو تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل سے ہو ؟ واقعی ؟ تم نے بتایا کیوں نہیں ؟‘‘وہ تیزی سے بولی۔
’’بتایا تو تھا میں نے تو ایئرپورٹ پر ہی نام بتانے سے قبل سیدہ کہا تھا ناں . اور تم خود بھی تو دن میں دس مرتبہ کم از کم یا سیدہ کہتی ہو ناں !‘‘ زہرا کو اس کے ردعمل پر حیرت ہوئی تھی۔
’’اوہ۔‘‘خنسائ مسکرائی۔
’’ہمارے ہاں ہر عورت کو سیدہ کہا جاتا ہے تو میرے ذہن میں آیا ہی نہیں کہ برصغیر میں سیدہ کا استعمال فاطمہ الزہرائ کی نسل کے لیے کیا جاتا ہے۔‘‘
اس کے بعد زہرا کا دایاں ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر خنسائ نے آنکھوں سے لگایا اور اسے چوما۔
اسے سینے سے لگایا اب رونے کی باری خنسائ کی تھی اس کی زبان سے بس ۔ یا سیدہ لفظ ہی ادا ہو رہے تھے۔
اب زہرا کی باری تھی گنگ ہونے کی وہ بڑبڑائی۔
’’عجیب لڑکی ہے خود کو پیغمبروں کی نسل سے بھی ثابت کر رہی ہے اور میں نے بتایا کہ میں بھی انہی میں سے ہوں ۔‘‘کیسے رشک سے دیکھ رہی ہے ۔
اس کی بڑبڑاہٹ اس وقت بیچ میں رہ گئی جب وہ اسے بازو سے گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئی۔
وہ دونوں پے انگ گیسٹ کے طور پر ایک عرب فیملی کی بلڈنگ میں ہی مقیم تھیں اور دونوں کے کمرے اوپر نیچے تھے یعنی فرسٹ فلور پر جس کمرے میں خنسائ تھی اس کے بالکل نیچے والے کمرے میں گرائونڈ فلور پر زہرا رہتی تھی۔
اب تک زہرا کو اس کے کمرے میں جانے کا اتفاق نہیں ہوا تھا خنسائ ہی اس کی میزبان بھی بنتی اور مہمان بھی۔
چھ سات سیڑھیاں چڑھنے کے بعد خنسائ اسے اپنے کمرہ میں لے گئی۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی دیواروں پر قرآنی آیات کے طغرے ، لٹکے نظر آئے لیکن کمرے کا دروازہ کھولتے ہی اسے بہت جلی حروف میں سامنے دیوار پر سنہری فریم والی نفیس نازک سی سبز اور کالے رنگ میں گلاس کی سینری دکھائی دی۔
’’من النھر الی البحر۔‘‘
قرآنی آیات سے اس کو آگہی تھی لیکن یہ کیا تھا۔ اس کے وجود میں سنسناہٹ دوڑ گئی۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی اس کا مطلب ہے بابا صحیح کہتے ہیں۔
ضرور خنسائ کا تعلق کسی تنظیم سے ہے۔
زہرا کی دلی کیفیت شاید اس کے چہرے سے عیاں تھی ،اس نے اپنی مخصوص مسکراہٹ سے زہرہ کا ہاتھ تھامااور بولی۔
’’یاسیدہ ،یہ محض یاد دہانی ہے ڈرنے یا گھبرانے کی کوئی بات نہیں ، میں تو تمہاری ضیافت کے لیے تمہیں یہاں لے کر آئی ہوں تاکہ میں تمہیں اپنی پسندیدہ چیزیں کھلا سکوں۔‘‘ زہرا نے کھینچ کر لمبا سانس لیا اور بولی۔
’’تم مجھے روکھے پھیکے عرب کھانے کھلائوگی؟ تمہیں معلوم ہے میں بیمار نہیں ہوں۔‘‘
’’بیمار ہوں تمہارے دشمن، میں تمہیں مندی کھلائوں گی جو بس اب پہنچنے ہی والی ہے اسے کھا کر تم اپنی بریانی پلائو۔‘‘
بھول جائو گی اور میں تمہیں کنافہ کھلائوں گی بکلاوا بھی موجود ہے جو چائے کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔‘‘
زہرا کو محسوس ہوا جیسے وہ اس کے سیدہ ہونے پر طنز کر رہی ہے لیکن نہیں اس کی آنکھوں میں تو عقیدت کا سمندر تھا۔
زہرا شرمندگی محسوس کر رہی تھی وہ اپنا اور اس کا موازنہ کر رہی تھی خنسائ اس سے ہر معاملے میں بہت اوپر تھی بہت مخلص بے لوث بہت اونچی قابل تقلید ، قابل رشک ،جھٹ پٹ اس نے دستر خوان لگایا۔
زہرائ کو وہ پہلے بھی سارے کھانوں سے متعارف کروا چکی تھی زہرا نے بھی جوابی کارروائی کے طور پر مشہور پاکستانی پکوان کھلائے جو اس کی روزمرہ روٹین میں شامل تھے کچھ تو وہ ہلکے پھلکے خود بھی بنا لیتی تھی بہت سے وہ پاکستانی یا انڈین ریسٹورنٹ سے منگوا لیتی تھی۔
اور بہت عرصہ تک اس کے لائے پکوان بھی زہرا کے ساتھ ساتھ خنسائ کے پیٹ میں منتقل ہوتے رہے۔
مندی کو تو زہرا نے رعایتی نمبر دے ہی دیئے لیکن کنافہ اسے قطعی پسند نہیں تھا۔
’’میرے والدین وہیں پیدا ہوئے میرے نانا نانی اور دادا دادی آپس میں فرسٹ کزن تھے۔ ‘‘
لیکن میرے والد غزہ ہاشم کے رہائشی ہیں، وہیں ان کی شادی ہوئی ہم سب بہن بھائی وہیں پیدا ہوئے لیکن آج دو بھی وہاں اکٹھے نہیں ہیں میرے بڑے بھائی بھابھی خان یونس میں تھے ،چند سال قبل تک وہاں ناصر اسپتال میں ڈاکٹر تھے لیکن شہر میں ہنگامے ہوئے بہت گولیاں چلیں ،بارودپھینکا گیا بہت برے حالات رہے جب حالات درست ہوئے تو بھائی بھابھی دونوں لا پتہ تھے ہمیں ساڑھے تین سال گزر جانے کے بعد بھی یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں، اپنے طور پر ہم نے معلوم کروایا لیکن تمہیں کہاں پتا ہو گا جب فاسفورس سے بنے بم پھینکے جاتے ہیں تولوہا تک پگھل جاتا ہے ، چھت کے پنکھے پانی بن کر بہہ جاتے ہیں ایسے میں گوشت پوست کے بنے انسان کی کیا نشانی باقی رہ سکتی ہے تم بھول گئی ہو کہ اگر تمہارا خونی رشتہ کسی نہ کسی نبی سے ملتا ہوا تو تم ان کے لیے کتنی ندامت کا باعث بنو گی ، استغفار کرو کثرت سے اللہ تمہاراگناہ معاف کر دیں، بس اس کے بعد جو بھی جاتا ہے تو ایک طرح سے تسلی ہی ہوتی ہے کہ دنیا کے امتحان سے گزر کرسرخرو ہوا، جس جنت میں گیا وہاں اس کی پوری فیملی ہے، سید نا ابراہیم ہیں سیدنااسحاق اور بھی بہت سارے پھرکاہے کا رنج کیا ہم یہیں رہیں گے ہمیشہ ؟‘‘خنسائ نے بہت یقین سے کہا۔
زہراکی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔اس نے خوف سے جھرجھری لی۔
’’اللہ نہ کرے ستر کروڑ مرتبہ معافی مانگتی ہوں اگر یہ حالات ہمارے ہوتے تو ہم چھوڑ جاتے وہ جگہ وہ علاقہ تین بچوں کی قربانی دے کر بھی نہیں سمجھے تمہارے والدین ؟‘‘ پہلی مرتبہ زہرا کو خنسائ پر شدید غصہ آیا خنسائ نے بڑے سکون سے یہ سنا اور تحمل سے کہا۔
’’کہاں جاتے ؟ بھیا اپنا گھر چھوڑ کر ہی غزہ ہاشم سے خان یونس گئے تھے ،اللہ کے دشمنوں نے ان کو ہجرت کے ساتھ شہادت کا رتبہ بھی دلوا دیا ،وہ زیادہ خوش قسمت ثابت ہوئے ، تم جانتی ہو ہجرت کا یعنی نقل مکانی کا ثواب کتنا زیادہ ہے؟ اور پھرشہادت سبحان اللہ و بحمدہ ، سب سے خوب صورت حاضر ی ! ‘ ‘ بڑی عقیدت اور ثواب کے چکروں میں مگن خنسائ بولی۔
’’غزہ ہاشم ؟ یہ کون سا علاقہ ہے؟ میں نے تو آج تک غزہ پٹی کا ہی سنا اور پڑھا ہے ۔‘‘ زہرا نے سوالیہ نظروں سے خنسائ کی طرف دیکھا۔
’’میری معصوم بہن غزہ پٹی تو دس گیارہ کلو میٹر چوڑی اور چالیس اکتالیس کلومیٹرطویل پٹی ہے جو اصل میں غزہ ہاشم کا حصہ ہے اور یہ دنیا کے قدیم شہروں میں سے ہے سکندر اعظم کی فتوحات میں غزہ کا علاقہ بھی شامل تھا ،یہ ساحل سمندر کے قریب مصر کی شاہراہ پر اہم تجارتی مرکز تھا تمہیں شاید معلوم ہو کہ قریش مکہ کے تجارتی قافلے بہت بڑی تعداد میں یہاں آتے تھے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پردادا ہاشم کا وصال اسی علاقہ میں ہوا اس لیے اسے غزہ ہاشم کہا جاتا ہے اور غزہ پٹی تو اس کا چھوٹا سا قدیم حصہ ہے مصائب ،آلام اور غربت کا شکار خط، غربت سے کہیں نیچے زندگی بسرکرنے والے لوگوں کا شہر۔‘‘ خنسائ نے تصحیح کی اور بات جاری رکھی۔
’’یہ عربوں کے غزہ کا صرف بیس فیصد ہے یہ وہ سونے کی چڑیا ہے۔ جسے اللہ کے دشمن ہڑپ کرنا چاہتے ہیں سالوں سے یہاں رہنے والوں پر زندگی اتنی تنگ کر دی گئی ہے کہ اس کا واحد ایئرپورٹ بند کر دیا گیا ہے اس کی بجلی پانی سب اللہ کے دشمنوں نے اپنے قبضے میں لے رکھا ہے جب چاہے وہ پانی روک دیتے ہیں جب چاہے بجلی بند کر تے ہیں جب چاہے وہاں ہسپتالوں سکولوں پر بمباری کر دیتے ہیں۔‘‘ اور دکھ سے خنسائ کی آواز بھرا گئی تھی۔
’’تو تم لوگ چھوڑ دو ناں غزہ ، اللہ کی زمین بہت وسیع ہے کہیں اور چلے جائو۔‘‘اپنی طرف سے زہرانے بڑا صائب مشورہ دیا جسے سنتے ہی خنسائ یوں اچھلی جیسے بچھو نے کاٹ لیا ہو وہ اپنے اوپر قابو پاتے ہوئے بولی۔
’’کیا کہا تم نے ؟ اپنا گھرچھوڑ دیں ؟اپنی زمین اللہ کے دشمنوں کے لیے خالی کر دیں ؟کیا تمہارے قیمتی گھر پر کوئی غیر یہ آ کر کہے کہ یہ میرا گھر ہے تو تم اس کا دعویٰ تسلیم کر لو گے ؟ کیا اپنا گھر اس کے حوالے کر دو گے؟ یوں تو پھر عیسائی کل کو دعویٰ کر سکتے ہیںیہاں نصرہ بستی ہے جہاں حضرت عیسیٰ کی ولادت ہوئی تھی یہ ہمارا علاقہ ہے تو ہم ان کی بھی مان لیں؟ بولو جواب دو انیس سو بیس سے پہلے سارے فلسطین میں بس فلسطینی ہی رہتے تھے ،یہ تولٹے پٹے یہودیوں کو پناہ دینے کا وبال ہے کہ ہر سال چھ ماہ بعد وہ قبضہ کرتے کرتے سارے فلسطین پر قابض ہو گئے ہیں، ایک غزہ باقی ہے جو ان کے لیے سانپ کے منہ کی چھچھوندربنا ہوا ہے اگل سکتے ہیں نہ نگل سکتے ہیں ۔ ویسے مجھے بہت افسوس ہوا زہرا تم نے ایسے کیوں کہا میں خفا ہوں تم سے ۔‘‘ وہ ناراضی کا باضابطہ اعلان کر کے تیزی سے اٹھ کر غسل خانے میں چلی گئی۔
کافی دیر کے بعد وہ باہر نکلی تو ا س کی سوجی آنکھیں اور آنکھوں میں پھر سے جمع آنسو زہرا کو دکھائی دے رہے تھے۔
زہرا بہت شرمندہ تھی اس کو کون سا معلومات تھیں پھر بھی اس نے اس سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اسے گلے سے لگایا۔
وہ جانتی تھی ایمان کے اعلی ترین درجہ پر پہنچ کر بھی جدا ہونے والوں کا زخم اندر سے تازہ ہی رہتا ہے اندر سے زخم رسنے کے لیے بہانہ مانگتا ہے اسے بہانہ مل گیا تھا ماں جائے بھی بھلا کبھی بھولتے ہیں؟
وہ اس کی پشت سہلاتی رہی بہت دیر تک خنسائ اسے اپنی زمیں پر بیتنے والے دکھ بتاتی رہی۔
بے اور خود بھی رو رو کر ہلکان ہوتی رہی زہرا کو بھی رلاتی رہی۔
’’میری امی ریتاج سے بہت پیار کرتی تھیں اس کا اسکول میں پہلا دن تھا جب وہ نصرالدین کا ہاتھ پکڑے گھر سے رخصت ہوئی تھی۔امی نے اسے اس کی پسندکی چیزیں لنچ باکس میں ڈال کردی تھیں۔ ان دونوں کے جانے کے بعد امی خاموشی سے لیٹ گئیں عام طور پر وہ کبھی دن میں ایسے نہیں لیٹتی تھیں۔ پچیس چھبیس منٹ کے بعد جب بم دھماکے کی آوازآئی تو امی نے دہل کرانا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اورکچھ دیر کے بعد جب ہم باہر نکلے اسکول پر بمباری کا پتا چلا تو ہمیں ریتاج کا صرف نیچے والا دھڑ ملا جس کے دائیں ہاتھ میں بسکٹ پکڑا ہوا تھا تومیں بہت روئی تھی ،میرے والد نے اور میرے شہزادے بھائی نجم الدین نے مجھے سمجھایا تھا اور تب سے یہ بات میرے ذہن میں راسخ ہو چکی ہے کہ جب اس طرح موت نصیب ہو تو اس وقت شکر ا نہ ادا کرتے ہیں الحمد للہ کہتے ہیں کیونکہ یہ رب سے سب سے اچھی ملاقات کا آغاز ہوا کرتا ہے ،ان جانے والوں کو موت کی ایک سوئی کی نوک برابر تکلیف نہیں ہوئی ہو گی ،ایسی موت جسے بھی نصیب ہو وہ قبر کے عذاب سے موت کی سختی سے منکر نکیر کے سوالات سمیت قیامت کے تمام مراحل سے محفوظ ہو جاتا ہے ان شہیدوں کی روحوں کو سبز پرندوں کی شکل میں جنت میں بھیج دیا جاتا ہے جہاں وہ اپنا رزق کھاتے ہیں انہیں کبھی مردہ کہتے ہیں نہ سمجھتے ہیں پھر تم کیوں رو رہی ہو ؟
تب پیاری زہرا میں نے اپنے آنسو پی لیے تھے اور جو تم میرے دروازے کے سامنے لکھا دیکھ رہی ہو یہ میں نے تب سے اپنے دل پر لکھ لیا ہے۔
’’من النھرالی البحر‘‘ یہ کوئی نعرہ نہیں ہمارا مطالبہ ہے کہ دریائے اردن سے بحیرہ روم تک کا علاقہ ہمارا تھا وہ ہمیں ملنا چاہیے لیکن بدقسمتی سے دشمنوں نے سارا علاقہ ہڑپ کرنا شروع کر دیا ۔
تم جانتی ہو ان کا مشن کیا ہے ؟ من الفرات الی النیل ۔
فرات سے نیل تک کا علاقہ ان یہودیوں کی ملکیت ہوجائے اسے ہی وہ گریٹراسرائیل کہتے ہیں یہی ان کا منصوبہ ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے وہ ہم سب کو بے دخل کر دیں لیکن وہ نہیں جانتے موت تو ہمیں زندگی سے پیاری ہے ہم دوزخ کی آگ سے جتنا ڈرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ کروڑوں گنا زیادہ شوق ہمیں اس جنت میں جانے کا ہے جہاں ہم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اکٹھے ہوں گے۔‘‘
وہ انگلی کی پور سے آنسو صاف کر رہی تھی یونی ورسٹی میں بہت زیادہ فلوپھیل چکا تھا اور وہ بار بار آنکھیں صاف کرتی چھینکیں مارتی سوں سوں کرتی زاہرا کو اس کے کمرے میں چھوڑ گئی ۔
سخت سردی اور برفباری کے دنوں میں جب کھانسی نزلہ زکام آپ کے ساتھی بن جائیں توباقی سب کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں۔
صرف خنسائ ہی نہیں زہرہ بھی فلو اور سینے میں انفیکشن کا شکار ہو چکی تھی۔
دو دن بخار برداشت کر کے یونی گئی تو عجیب و غریب سی خبریں اور چین سے عالمی سطح پر پھیلنے والے کسی منحوس قسم کے وائرس کی خبریں گردش میں تھیں۔
دو دن میں پتا چلا چین ہلاکتوں میں سب سے آگے ہے پھر بیس بائیس دن خوف دہشت بلکہ سچ کہیں تو نزع کے عالم میں مبتلا رہنے کے بعد دنیا میں صرف اور صرف کرونا ، کووڈ، ماسک ، سینی ٹائزر کس ملک میں کتنی ہلاکتیں ہوئیں کے علا وہ گفتگوکا موضوع نہیں تھا۔
سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے تھے زاہرا اور خنسائ بھی واپس چلی گئیں۔
٭٭٭
کم از کم دو سال تک کرونا کی وبانے دنیا کو خوف اور دہشت کے پنجے میں جکڑے رکھا۔
یونی سے واپسی پر شروع شروع میں خنسائ سے زہرا کا اور زہرا کا خنسائ سے مسلسل رابطہ رہا۔
زہرا کے لیے یہ دن گزارنا بہت مشکل تھے۔
خنسائ اکثر اپنے بھائی نجم الدین کا ذکر کرتی ۔
بقول اس کے وہ کسی جہادی تنظیم کے ملٹری سیل کا انچارج تھا اس کی کئی وڈیوز خنسائ نے اسے یونی میں دکھائی تھیں۔ لم دھڑنگ دیکھ کر زہرا کے منہ سے بے اختیار چیتا لفظ برآمد ہوا تھا۔ اورخنسائ حیران اسے دیکھ رہی تھی زیرلب دہراتے ہوئے پوچھ رہی تھی۔
’’چی تا. چی تا۔‘‘
جب زہرا نے مطلب بتایا تو وہ ایک دم بچوں کی طرح تالی بجاتے ہوئے کھلکھلا کر ہنسی تھی۔
’’ایگزیکٹلی ہم بھی اسے یہی کہتے ہیںاور وہ ہے بھی چیتا۔‘‘ اس کی چھوٹی دونوں بہنیں سعاد اور حاب اب کافی بڑی ہو چکی تھیں۔
پہلے سال تو شاید ہی کوئی دن ایسا گزرا ہو کہ دونوں کا آپس میں رابطہ نہ ہوا ہو دونوں دنیا جہاں کے ہر موضوع پر بات کرتیں لیکن لکھ کر جب سے اس نے اپنے ملک میں واپسی کے لیے قدم رکھا تھا وہ بولنا بھول گئی تھی اس کی آنکھوں کی جوت بجھ گئی تھی۔
بابا باربار پوچھتے.’’زہرا تجھے کیا ہوا ہے ؟ ‘ ‘
وہ جواب دیتی کچھ نہیں دادی کی گود میں سر رکھتی دادی اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی سرگوشی میں پوچھتیں۔
’’زہرا بتول تجھے کون سا روگ لگ گیا ہے؟‘‘ وہ آنکھیں بند کئے خاموش رہتی دادی کریدتیں۔
’’تو کسی غیر سید کو تو دل نہیں دے بیٹھی؟‘‘ وہ دل ہی دل میں کرلاتی۔
’’میں نے تو سارا کچھ ہی دے دیا ۔‘‘دادی کی قمیض کا دامن بھیگتا رہتا اور وہ آنسو بہاتی رہتی۔
اس کے دل کا سکوں اس کی روح سب کچھ خنسائ کے ساتھ پیوست تھا۔ اس کے دل پر گھونسا لگتا ہائے وہ پر لگا کر چلی جائے۔
اسے کلام اقبال دل کی ترجمانی لگتا اسے قرآن کے ترجمہ تفسیر میں گھنٹوں رہنا دنیا و مافیھا سے بے نیاز کر دیتا۔ اسے قرآن کے ہر صفحے اور ہر آیت میں خنسائ کی باتیں یاد آتیں ٹی وی ڈرامے فلمیں سوشل میڈیا سب اس کے لیے قصہ پارینہ بن گئے تھے۔
کبھی کبھار وہ گنگناتی اس کی نمناک آواز اس کے کانوں تک ہی پہنچ سکتی لیکن اسے وقتی طور پر تسکین مل جاتی وہ گنگنا رہی تھی۔
مجھے عشق کے پر لگا کر اڑا
میری خاک جگنو بنا کر اڑا
اسے پتا ہی نہ چلا کب بابا اس کے پاس آئے وہ رو رہی تھی اور بابا بس اس کی شکل دیکھ رہے تھے۔
٭٭٭
کرونا گیا تو زہرا کے بابا اور دادی کو اپنے ساتھ ہی لے گیا تھا لیکن وہ پوری جدوجہد میں رہے سترہ دن وینٹی لیٹر پر گزرے اور اٹھارویں دن ڈاکٹر نے ان کی آنکھیں بند کر کے وینٹی لیٹر سے اتار کر ان کی میت گھر والوں کے سپرد کر دی تھی۔
یہ سترہ دن زہرا نے ایک پائوں پر گزارے تھے۔
ایک وارڈ سے دوسرے ،دوسرے سے تیسرے مختلف میڈیکل اسٹور ادویات کی قلت ۔
دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں وہ ذرا کی ذرا انتظار گاہ میں سرکو صوفے کی پشت پر ٹکاتی اور چند لمحوں کی نیند لے کر ہشاش بشاش ہو جاتی۔
اپیا اور بھیا کرونا میں فلائٹس کینسل ہونے یا بند ہونے کی وجہ سے نہیں آ سکتے تھے۔
اپیا کو لمحہ لمحہ کی رپورٹ مل رہی تھی، سات بیٹے بھی ہوتے تو بابا کی مل کر اتنی خدمت نہ کر سکتے تھے جتنی زہرا کی اکیلی جان کر رہی تھی۔ ماما اصرار کرتیں چھوٹی بہن صبغہ منت سماجت کرتی۔
’’آپی ،آپ بیمار ہو جائیں گی۔‘‘
’’تو؟‘‘ وہ بے نیاز ی سے دیکھتی۔
موت ! موت جہاں لکھی ہے وہیں آئے گی ! بے فکر رہو ،اور پھر اپنی ساری فکریں زہرا کے کندھوں پر ڈال کر بابا چلے گئے۔
دادی کو بیٹے کی موت سے لا علم رکھا گیا لیکن وہ ماں تھیں ،شاید دل نے دل کو خبر دی پندرہ دن کے بعد وہ بھی رخصت ہوئیں۔ گو سب رو رہے تھے جدائی کا دکھ ناقابل برداشت تھا لیکن سب سے کمال ضبط زہرا کا تھا۔ جو کبھی چڑیا جتنا دل رکھتی تھی اکیلے ہی باپ کی میت کو ہسپتال سے ایمبولینس میں لے کر آئی۔
مردوں کی طرح بڑے بڑے پہاڑوں جیسے کام کرتے سب حیران تھے وہ جانتی تھی یہ بہادری یہ حوصلہ سب خنسائ کی صحبت کی وجہ سے ہے لیکن رات تنہائی میں اس کا ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا۔
اس نے خنسائ سے وڈیولنک پر بات کی اور آنسوپونچھتے ہوئے ایک ہی فقرہ کہے جا رہی تھی۔
’’تم لوگوں کوجنت کی طلب میں موت آتی ہے اور محبوب بن کرگلے لگاتی ہے لیکن ہم بہت گناہ گار ہیں۔ ہم موت سے ڈرتے ہیں تو موت ہمارا سب سے بڑا ڈر بن جاتی ہے۔ میرے بابا چلے گئے ۔‘‘ آنسو بہتے رہے لفظ حلق میں پھنسے رہے یونہی صبح ہوگئی۔
٭٭٭
کاروبار زندگی معمول میں آنے پر تین سال لگ گئے۔
بابا کے بعد اپنے خواب سب لپیٹ لپاٹ کر زہرائ نے گٹھڑی باندھ کر پھینک دیئے ۔ اب گھر میں ماما اور چھوٹی بہن صبغہ تھی ۔
بابا نے جتنے چاؤلاڈ بیٹیوں کے پورے کیے بیٹے کو اس سے بہت شکایت تھی اپیا تو ایئرہوسٹس کی ملازمت کے دوران ہی شادی کر کے عمان میں منتقل ہو گئی تھیں ۔بھیا تعلیم حاصل کرنے کے لیے ٹیکساس گئے تو ملاقات کے لیے دس سالوں میں صرف دو مرتبہ آئے تھے۔
اب گھر میں ماما اور صبغہ کی ساری ذمہ داری زہرا کے کندھوں پر تھی۔ بابا کے بعد مستقل خاموشی اس کے سانسوں میں رچ بس گئی تھی۔
اس کے چوبیس میں سے بیس گھنٹے مطالعہ میں گزرتے۔ وہ قرآن کھولتی جہاں کسی پیغمبر کا ذکرآتا وہ انہیں سوچتی ،ان کے متعلق ایمان و ایقان کی سیڑھی پر چڑھنا چاہتی لیکن بے بس ہو جاتی اسے خنسائ یاد آتی۔
وہ کس طرح محبت سے ان سب ہستیوں کا ذکر کرتی تھی جیسے وہ ان کے حلقے میں موجود ہو۔
جیسے وہ ان کے بہت اپنے ہوں وہ بے بسی سے سر ہلاتی مجھے یہ کیفیت کیوں نصیب نہیں ہوتی ؟ کیوں ؟؟
٭٭٭
صبغہ کی تعلیم کے اختتامی مراحل میں اتفاق سے صبغہ کا پہلا رشتہ ہی بہت شان دار کوائف والا تھا، چار چھ ماہ میں زہرا اس کی شادی سے فارغ ہوئی۔
باپ بڑے بھائی کی ساری ذمہ داری زہرہ نے بہت اچھے اندازمیں نبھائیں۔
سب اس پر رشک کر رہے تھے۔
شادی پر بھیا بھی آئے اور ماما کو اپنے پاس آنے کی دعوت دے گئے۔ ’’ماما کو بھیا نے امریکہ میں بلالیا وہ پاکستان میں ساری جائیداد فروخت کر کے امریکہ میں ایک ریسٹورنٹ کھولنا چاہتے ہیں۔‘‘
یہ بیانیہ اپیا کو ہضم نہیں ہوا۔ وہ غصے میں تھیں۔
’’یہ کیسے ممکن ہے ۔‘‘ ماما اس پر ایک فیصد بھی راضی نہیں تھیں۔وہ بار بار سوال کرتیں۔
’’زاروکا کیا بنے گا؟‘‘
’’ماما، میری فکر نہ کریں ؟‘‘ سب کی ذمہ داری تم نے اٹھائی تمہاری کوئی بہن بھائی ذمہ داری نہ لے یہ کیا بات ہوئی ؟‘‘ ماما اس کی ٹینشن میں تھیں۔
’’افوہ کہا ہے ناں جب تک میں ڈگری حاصل نہیں کر لیتی میں شادی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی ، مجھے اپنا خواب پورا کرنے دیں پلیز۔‘‘ اس نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔
’’پتا تو چلے کتنا عرصہ لگے گا؟‘‘ ماما نے فکر مندی کا اظہار کیا۔
’’ماما ،وہ تو مجھے خود بھی نہیں معلوم کتنے مہینے کتنے سال لیکن یہ تسلی رکھیں ان شائ اللہ آپ کی بیٹی جوڈگری لے گی بابا اور آپ بلکہ سارا خاندان رشک کرے گا۔‘‘
کئی مہینوں کے بعد یہ لمبی بات تھی جو زہرا نے گھر کے کسی فرد سے کی تھی۔
ماما کو ساتھ لیے اس نے پاسپورٹ بنوایا ویزے کے لیے ،امریکن ایمبیسی کے سامنے چارکلو میٹر لمبی لائن میں کھڑی رہی اور کئی ماہ کی کوششوں کے بعد دونوں ماں بیٹیوں کو ویزا مل چکا تھا ٹکٹ ان کے ہاتھ میں تھے۔
جہاز پر سوار ہوتے ہوئے اس نے ہر چیز پر الوداعی نظر ڈالی تھی۔
اس نے سوچا کون کہتا ہے دنیا چھوڑنا مشکل ہے ؟ بہت آسان کوئی مجھ سے پوچھے۔لیکن یہ جتنا آسان ہے اتنا ہی مشکل بھی ہے۔ اس نے گہری سانس لی۔
راستے میں دو جگہ کے مختصر قیام کے ساتھ ان کا سفرستائیس اٹھائیس گھنٹوں پر محیط تھا، اس کی آنکھیں مستقبل کا منظر دیکھ رہی تھیں۔
امریکہ میں ڈیڑھ ماہ کے قیام کے بعد اسے خنسائ کی شادی میں شرکت کے لیے جانا تھا۔
کہاں جانا تھا کب اور کیسے یہ سب خنسائ کی ذمہ داری تھی۔ جوں جوں خنسائ سے ملاقات کے دن قریب آ رہے تھے اس کی مسکراہٹ لوٹ رہی تھی۔ اس کی زندگی میں رنگ بھرنے شروع ہو چکے تھے۔
اس کی روح سرشار تھی اندر تک سرشار۔
وہ ترنگ میں آ کر کبھی ترانے پڑھتی کبھی کلام اقبال ،یہ اس کے خوشی کے دن تھے وہ وجد میں آ چکی تھی۔
اس کی تیاری مکمل تھی اس کا پروجیکٹ بھری پری دنیا میں صرف خنسائ کو معلوم تھا ،اب یہ اللہ جانتا ہے کہ کتنے مہینے کتنے سال خرچ ہوں گے اس رتبہ کے حصول میں جو القدس کے باسیوں کو دنیا میں آنے کے ساتھ ہی مل جاتا ہے۔
خدا پر پختہ یقین دنیا سے اعراض خدا کے محبوب سے قابل رشک محبت !موت سے ملاقات۔ اس موت سے جس سے آنکھیں دوچار کرتے ہی اسے مالک الملک تک پہنچائے گی۔
وہ جان کنی کے عذاب سے نہیں گزرے گولیوں اور بارود کی بدبو میں بھی وہ القدس والوں کی طرح معمول کی سرگرمیاں انجام دے گی اور جب اس کا ایمان ایقان ،القدس کے باشندوں کی سطح تک پہنچ گیا تو وہ بھی منتخب ہو جائے گی اس جنت کے لیے جس کا شوق ان کی نیندیں بھگا دیتا ہے۔ ان کی تلواروں کو ان کا زیور بنا دیتا ہے۔
٭٭٭
چہکتے ہوئے اس نے اپنے ٹکٹ اور ویزے کی فوٹو کاپی بھیجی ،خنسائ کا کھٹ سے رپلائی آیا تھا۔
’’اس کا مطلب ہے ستارہ ستاروں کے جھرمٹ میں شامل ہوا چاہتا ہے۔‘‘
’’تم جانتی ہو خنسائ کا مطلب پلٹ کر آنے والا ستارہ ہے زہرا بھی فجر کے بعد صبح کا ٹھنڈا میٹھاستارہ ہے۔‘‘
’’اورنجم بھی ستارہ کو کہتے ہیں میرے منگیتر کا نام سہیل ہے سورج سے کئی گنا بڑا ستارہ ! کتنی اچھی بات ہے ہم ستارے ہیں چاند سورج نہیں ۔‘‘خنسائ بہت خوش تھی۔
’’ہائیں اس کا کیا مطلب ہے چاند سورج کیوں نہیں پسند تمہیں؟‘‘ زہرا نے پوچھا۔
جواب آیا۔
’’میری پیاری ،چاندسورج کو گرہن لگ جاتا ہے جبکہ ستاروں کی روشنی کم سہی لیکن گرہن تو نہیں لگتا۔‘‘ زہرا کو اردن کے ہوائی اڈے پر خنسائ نے خوش آمدید کہنا تھا۔
خنسائ بہت خوش تھی دونوں کی آنکھیں بھیگ رہی تھیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوطی سے پکڑ رکھے تھے۔
زہرا کو سفر میں کچھ بھی کھانا دنیا کا سب سے مشکل کام لگا کرتا تھا۔
سفرمیں پانی تک پینا اس کے لیے نا ممکن تھاوہ سواریوں سے بھرے جہاز میں الٹی نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے وہ بھوکی رہ کر بھی مطمئن تھی۔تب اپنے بچپن میں دادی سے آزمائے جانے کی بات سن کر یاد آیا کہ وہ بھوک کی کتنی کچی تھی دس منٹ بھوک برداشت نہ کر سکنے والی ،کیسے کئی کئی دن کھانے پینے سے بے نیاز رہ رہی ہے۔ ہاں وہ بدل گئی تھی!
اس کی نمازوں کی ادائیگی کے دوران کیفیت یکسر بدل چکی تھی۔
اب وہ اللہ اکبر کہتی تو وہ پتا نہیں کس جہاں میں پہنچ جاتی۔ سلام پھیرتی ،ماما یا صبغہ اسے کندھے سے ہلا کر پوچھتیں۔
’’تم ٹھیک تو ہو کچھ بھی پوچھتے رہیں تم جواب ہی نہیں دیتیں!‘‘وہ سوالیہ نظروں سے تکتی۔
بھلا جس دنیا کو دونوں ہاتھوں سے دفع دور کہتے ہوئے کندھوں تک ہاتھ لے جاتے ہیںپھردوران نماز اس دنیا کا خیال بھی کیوں کر آئے؟وہ اپنی محبوب سرزمین کے سفر کے آخری مرحلے میں تھی۔
انہوں نے جی بھر کے اس کی خاطر تواضع کی پھر خنسائ کو اپنے نکاح کی تیاری کے لیے کچھ سامان لینے کچھ کاغذات اور ضروری دستاویزات لینے کے لیے القدس جانا تھا۔زہرا بھی تیار تھی خنسائ کے بھائی نجم الدین نے اپنے دوست کی گاڑی پر ان کے جانے کا بندوبست کیا تھا۔
’’راستہ ہم نے الخلیل والا لینا ہے سمت بالکل مخالف ہے لیکن زہرا کو لے کر جانا ہے۔‘‘
گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے خنسائ نے بھائی کے کان میں کہا۔
’’الخلیل وہ کون ہے ؟‘‘ زہرا نے پوچھا۔
خنسائ نے بتایا ’’یہ القدس کا بہت قدیم شہر ہے حبرون ۔ ابراہیم خلیل اللہ کا وصال چونکہ اس مقام پر ہوا تھا اس لیے اسے الخلیل کہتے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کی جائے مدفون۔‘‘
بہت سخت حفاظتی اقدامات میں وہ حبرون پہنچے تھے اور ان کی مرقدپر پہنچ کے زہرا پائوں گھسیٹتے ہوئے چل رہی تھی۔
لیکن جب وہ وہاں پہنچ گئے اس پر رعب طاری ہو گیا تھا۔ اللہ عزوجل کے دوست !اللہ عزوجل کے ہر امتحان پر پورا اترنے والے !
ہرالہامی مذہب کے لیے چنے ہوئے پیغمبران۔
’’انی جاعلک للناس اماما۔‘‘
پوری دنیا کے لیے لیڈر
سبحان اللہ سبحان کی تکرار میں جب وہ وہاں سے واپس آئے تو وہیں سے وہ سراپا بدل چکی تھی ۔
اکتوبر کے پہلے ہفتے اور خوش گوار موسم میںنجم الدین کے دوست اس کی بیوی اور ان تین لوگوں کا قافلہ لمبی مسافرت پر روانہ ہوا۔
کرونا کے دنوں میں وہ کئی کتب میں القدس کی تاریخ پڑھ چکی تھی بابا اور دادی کی موت نے حیات و ممات کے سارے پردے چاک کر دیئے تھے۔
خنسائ نے اسے سرگوشی میں بتایا تھا۔
’’وہاں ہمارے لیے ایک بڑاسرپرائز ہے۔‘‘ اور چند لمحوں کے بعد سرپرائز سامنے آ گیا تھا زہرا بتول کی طرح یونی کی طالبہ جو ان دونوں سے دوستی میں آگے آگے تھی اسلام قبول کرنے کے لیے اسکاٹ لینڈ سے غزہ پہنچ چکی تھیں۔‘‘
’’اسے یہاں بلالو اکٹھے سفرکریں گے۔‘‘ بے تابی سے زہرا نے مطالبہ کیا۔
’’نہیں وہ کہتی ہے اسے خواب میں پروفٹ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی نے وہاں پہنچنے کی تلقین کی ہے اور میرا اس سے مسلسل رابطہ ہے میں حیران ہوں ہم تو پیدائشی مسلمان ہیں لیکن وہ عمل اور شوق میں ہم سے بھی آگے ہے منزل پر پہنچنے کے لیے سب سے زیادہ بے تاب رب کے دیدار کی سب سے زیادہ خواہش مند ۔ ‘‘
اب وہ اس جام کی لذت کے لیے آئی تھی جسے منہ سے لگائیں تو بندہ کمال بندگی پر پہنچ جاتا ہے۔
راستے میں رکتے رکاتے دو دن میں وہ غزہ پہنچ چکے تھے۔ اسکاٹ لینڈ سے ان کی یونی ورسٹی کی کلاس فیلو بھی موجود تھی اس نے خنسائ سے رابطہ کیا تھا اور تاکید کی تھی کہ جلد پہنچو، مجھے تم سے ضروری کام ہے میں مسلمان ہونا چاہتی ہوں میں نے کلمہ یاد کر لیا ہے میں بہت خوش ہوں مجھے خواب میں تمہارے پروفٹ کہہ رہے ہیں تم اب آمنہ ہو خنسائ کے پاس جا کر کلمہ پڑھ لو ۔
وہ بچوں کی طرح قلقاریاں مار کر ہنس رہی تھی۔
مجھے تمہارا کلمہ یاد ہو گیا ہے اشہدان لاالہ الا اللہ ۔لنڈا کب کی غزہ پہنچ چکی تھی۔
اور خنسائ سارے راستے میں زہرا کو ڈراتی آئی تھی ہم جب یہاں رہتے تھے ہمیں کئی کئی دن حالت خوف بھوک اور پیاس میں یہاں رہنا پڑتا تھا۔
خنسائ پوچھ رہی تھی۔
’’زہرا تم جنگ کی حالت میں بھوکی رہ سکتی ہو؟‘‘
زہرا کا سر اقرار میں ہلا تھا۔’’ ہاں ایمان مضبوط تو ہر چیز مضبوط ہو جاتی ہے یہاں تک کہ بھوک پر قابو بھی۔‘‘منزل مقصود نظروں کے سامنے تھی۔
تین چار کمروں کا دومنزلہ گھر خالی پڑا تھا۔
خنسائ کے پیچھے پیچھے زہرا بھی گھر میں داخل ہو گئی ،سکاٹ لینڈ یونی ورسٹی والی کلاس فیلو لنڈا پہلے سے ان کے استقبال کے لیے وہاں موجود تھی سر کو اسکارف سے ڈھانپے ہوئے آمنہ بن کر سارے جہاں کا تقدس اس کے چہرے پر جمع ہو چکا تھا وہ گلے مل رہی تھی۔
’’اشہدان لا الہ الا اللہ ‘‘کی جھرنوں کی سی آواز سنائی دے رہی تھی۔
اس نے زندگی میں پہلی مرتبہ یقین کی سیڑھی پر قدم رکھا۔
اس کے اندرہلچل سی ہوئی۔
اس نے خنسائ کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔
’’خنسائ یہاں کون کون سے نبی آئے تھے ؟‘‘ سرگوشی میں اس نے پہلا سوال کیا۔
’’کیوں ؟‘‘خنسائ نے پوچھا۔
’’میرے دل کی عجیب سی کیفیت ہے مجھے لگتا ہے سید نا ابراہیم یہیں کہیں موجود ہیں اور سید نا لوط اسحاق ۔‘‘ اس کی آواز بھرا گئی۔
اللہ اللہ اس کی آواز بالکل بدل گئی تھی گھرکے اندر اس نے پہلا قدم رکھا تھا دوسرا باہر جب قیامت آئی تھی ،راستے میں خنسائ کے بھائی نجم کی فون پر کسی سے بات ہوئی تھی کہ کل اشکلون (عسقلان) میں منعقد ہونے والے یہودی فیسٹیول پر حماس نے غزہ کی باڑ کاٹ کر حملہ کیا تھا۔
بہت شدید حملہ بہت سے یہودی جہنم واصل ہوئے ،سب یہودی فیسٹیول میں شراب کباب اور رنگ رلیوں میں مصروف تھے۔
نجم نے فون کال کے دوران اللہ اکبر کا نعرہ لگایا تھا۔ فضا بدل گئی تھی۔
پھرشاید وہ باتوں میں مشغول ہو گئے تو عربی زبان ہونے کی وجہ سے وہ کچھ سمجھ نہیں پائی تھی ۔کتنے مارے گئے کتنے شہید ہو ئے اس نے غور سے سننا چاہا تھا اور تب بس اس کے دل میں بھی خواہش پیدا ہوئی تھی۔
اس نے خنسائ کو مخاطب کر کے کہا تھا۔
’’خنسائ میں اگر یہاں مر گئی تو کیا میں بھی تم لوگوں کی طرح سیدھی جنت میں جائوں گی ؟‘‘
دھماکہ ہوا تھا گھر کی چھت اڑ گئی تھی، اردگرد کی ساری عمارتیں دھواں بن چکی تھیں اور بھی بہت سا نقصان ہوا تھا۔
اونچی آواز میں کلمہ پڑھا جا رہا تھا سب سے بلند آواز سکاٹ لینڈ یونی ورسٹی کی آمنہ اور سیدہ زہرا بتول کی تھی۔
٭٭٭
اتوار
اکتوبر 2023ئ.
خبررساں ایجنسی کے مطابق طوفان الاقصی کے نام سے کل اشکلون کے یہودیوں کے تہوار پر حماس کے حملے کے ردعمل کے طور پر آج غزہ میں اسرائیلی فوج کی طرف سے شدید بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں تین سو ستر فلسطینی شہید اور کم از کم ایک ہزار زخمی ہوئے۔
حماس کی طرف سے مارے جانے والے یہودیوں کی تعدادچھ سو تک پہنچ گئی ہے اہم بات یہ ہے کہ فلسطینی شہدائ میں دو برطانوی اور ایک ایشیائی اور ایک اسکاٹ لینڈ کی طالبات شامل ہیں دیکھنے والوں نے دیکھا ،پہچاننے والوں نے پہچان لیا پوری دنیا کے سوشل میڈیا پر وہ تصاویر اور وڈیو وائرل ہو چکی تھیں۔
کہنے والوں نے اسے طوفان الاقصیٰ کا نام دیا۔
لکھنے والوں نے اسے غزہ کے محاصرے کا دوسرا دن قرار دیا لیکن رب ذوالجلال کی قسم !شہدائ میں وہ ایک شہید لڑکی صاف پہچانی جا رہی تھی جس کی ملکوتی مسکراہٹ سے اس کے موتیوں جیسے چمکتے دانت جانے کے بعد بھی اس کے چہرے کی تابناکی نگاہوں کو خیرہ کر رہی تھی ہاں وہ الوہی مسکراہٹ والی جس کی تصویر کے نیچے کیپشن میں سبحان اللہ کے الفاظ لکھے تھے زہرا بتول کی تھی سیدہ زہرا بتول بنت سید رضا حسین اپنی مراد کو پا لینے کے بعد معراج کو پہنچ چکی تھی اس کے چہرے کی تصویر ہر ملک ہر شہر کے سوشل نیٹ ورک پر زندہ جاوید گواہی بن چکی تھی امر ہو جانے والے عشق کی دوسری تصویرلنڈا یعنی آمنہ کی جس کی دنیا سے جانے کے بعد بھی دائیں ہاتھ کی انگلی آسمان کی طرف اٹھی گواہی دے رہی تھی۔
اشہدان لا الہ الا اللہ
٭٭٭
نجم الدین گاڑی سے سامان نکالنے کے لیے گاڑی کی ڈگی کھول رہا تھا، جب اسے اپنے پاس سے زمین ہلنے اور دھماکے کی آواز سنائی دی تھی گلی تنگ تھی اور نوکیلے پتھروں کی وجہ سے گاڑی سڑک کے دوسری جانب روکنا پڑی تھی ،اسے دوبارہ گلی میں آنے میں بیس پچیس منٹ لگے اس کا دایاں بازو شدید متاثر ہوا تھا وہ ہمت جمع کر کے گھر میں داخل ہوا کمرے کی چھت گر چکی تھی گھر مکمل طور پر تباہ تھاکمرے کے کونے میں اسے پائوں نظر آئے تھے وہ ملبہ اٹھاتا جا رہا تھا۔
سبحان اللہ
سبحان اللہ وبحمد ہ سبحان اللہ العظیم اسے زہرا نظر آئی تھی اس کی مسکراہٹ واللہ اس نے کبھی اتنی جان دار مسکراہٹ تو زندوں میں بھی نہیں دیکھی اس نے چادر کے پہلو سے اس کا چہرہ ڈھانپ دیا۔
نجم کے دل نے سسکی لی ’’میرا سلام کہنا وہاں سب سے تم نہیں جانتیں خنسائ سے تمہارے متعلق سن کر میرے دل میں تمہارا کیا مقام تھا ان شائ اللہ العزیز آگے ضرور ملیں گے نیک روح !‘‘
نجم نے آنکھوں کے گیلے گوشے انگلی کی پور سے صاف کیے زہرا کے بائیں ہاتھ کو مضبوطی سے تھامے لہولہان چہرے والی دوسری طرف خنسائ تھی اس کی ماں جائی۔
اس کے مشن میں پل پل اس کا ساتھ دینے والی ’’مبروک اختی تم منزل پر پہنچ گئیں واللہ تمہارے جیسی پاکیزہ روح کوئی نہ تھی ‘‘اس نے خنسائ کی کھلی روشنی دیتی آنکھیں بند کیں ،اس کی جگر جگر چمکتی آنکھوں سے نور کی کرنیں چہار جانب پھیلی ہوئی تھیں۔ آمنہ (لنڈا) ان کے پائوں میں تھی مسکراتا چہرہ کی انگشت شہادت آسمان کی جانب اٹھی تھی۔
اے سعید روح نیا سفر مبارک ۔‘‘
نجم الدین کے دل میں ٹیس اٹھی خنسائ کے جسم کے حصے اکٹھے رہا تھا اس کا اپنا ایک بازو شدید زخمی نیچے لٹک چکا تھا خنسائ آمنہ اور زہرا کی میتیں تدفین کے لیے لے کر جانا تھیں ۔موبائل نیٹ ورک بند تھا رابطے کے سارے اسباب منقطع تھے زخمی بازو کے ساتھ ،وہ ان کی تدفین کے بندوبست کے لیے نکل رہا تھا اس نے مڑ کر دیکھا۔
وہ ششدر تھا ساری زندگی اس نے اتنے پرنور اور پرسکون چہرے نہیں دیکھے تھے اس کا دل دھک دھک ڈھک کرتا پہلو سے نکلا ’’ہاں ہم اس معراج تک نہیں پہنچ سکتے کہ یہ ہجرت کر کے آئی تھیں رب کے ہاں ان کا عظیم مرتبہ ہی ہو گاخنسائ نے صرف جام شہادت پیا تھا آمنہ اور زہرا کو ان کا رب کہاں سے ہجرت اور شہادت کے دونوں پروانے کے لیے لے کر آیا ۔‘‘تویہ منورچہرے اس نے رشک سے سبحان اللہ کہا اردگرد کے لوگ جوق درجوق دیکھنے کے لیے آرہے تھے ۔فوٹوگرافر کیمرہ کی آنکھ فوکس کرنا بھول گئے تھے۔
یا اللہ
اللہ اکبر
جیسے کلمات سنائی دے رہے تھے کیونکہ روئے زمین پر شاید اس وقت ان سے زیادہ ایمان کسی نفس کا نہیں تھا۔
رب رحیم سے ملاقات کی سب سے زیادہ متمنی وہی تھیں اور جو رب سے ملنا چاہتا ہے رب اس سے ملنا چاہتا ہے۔
٭٭







