سفر بے حد طویل اور تھکا دینے والا تھا۔۔۔جسم سے زیادہ تھکن روح میں اتری تھی۔۔۔ایک طویل مدت لگی تھی اسے یہاں واپس پلٹتے۔۔۔اس نے سوچا نہی تھا کہ وہ کبھی دوبارہ ان گلیوں اور چوباروں کو دیکھ سکے گا لیکن جس کی کشش اسے آج تک ہنکاتی تھی وہی اسے یہاں لے بھی آئی تھی۔۔۔وقت بدل گیا تھا یا گزر گیا تھا پر اس کے لیے جیسے ٹھہر گیا تھا۔۔۔وہ جیپ میں بیٹھ کے یہاں پہنچا تھا لیکن اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ وہ چھکڑے پہ بیٹھا ہے۔۔۔وہی چھکڑا جس کے آگے رامو کاکا کے دو بیل جتے ہوتے تھے۔۔۔جوں جوں وہ شہر کے اندر داخل ہو رہا تھا اس کے دل کی حالت تھرتھراتے پتے کی مانند ہوتی جا رہی تھی۔۔۔جیپ کی پچھلی سیٹ پہ بیٹھے نوجوان نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے جیسے اسے تسلی دی۔۔۔لیکن یہ سب بیکار تھا۔۔۔اس کی اندرونی کیفیت صرف اسی پہ آشکار تھی۔۔۔ڈرائیو کرتا کالا بھجنگ سا درمیانی عمر کا مرد مارواڑ کا رہنے والا تھا لیکن تھا مسلمان۔۔۔اس کی بھاشا مارواڑی تھی جو آسانی سے سمجھ آ جانے والی زبان ہے۔۔۔ وہ اپنے ساتھ آنے والے مسافروں کی زبان سے بھی پوری طرح واقف لگتا تھا لیکن بن رہا تھا کیونکہ وہ ایک مسلسل ڈرائیور تھا جو روز کے بیسیوں مسافر بارڈروں سے اٹھاتا تھا اور چھوڑتا تھا۔۔۔بس وہ اپنے کام سے کام رکھنے والا ضرور تھا۔۔۔اب کس کے پاس اتنا سمے ہے کہ روز نت نئی بپتا سنے۔۔۔۔یہاں تو جو آتا ہے وہ ایک کہانی پرو کے لاتا ہے اور جو جاتا ہے وہ ایک داستان پلو سے باندھ کے لے جاتا ہے۔۔۔پر اس کی تو جھولی تارتار تھی جس میں سے اس کی کہانی چھن چھن کے ریت کے ذرات کی مانند گرتی تھی۔۔۔چپے چپے پہ اس کی کتھا کے بیج بوئے ہوئے تھے۔۔۔آج وہ اسی کی فصل کاٹنے پہنچا تھا۔۔۔!
جیپ ایک جھٹکے سے رکی۔۔۔وہ خیالوں کی دنیا سےباہر آیا جن میں ٹھیک سے جا بھی نہی پاتا تھا کیونکہ وہ کئ حصوں میں بٹا ہوا تھا۔۔۔ماضی حال اور پھر ماضی۔۔۔وہ انہی تین کڑیوں کا کیڑا تھا۔۔۔جہاں سے چلتا واپس وہیں آ کر رک جاتا پھر چلتا اور چلتا ہی رہتا۔۔۔بس یہی اس کا کل سفر تھا۔۔۔!
تھے کِھٹے جا رے او۔۔؟”( آپ کہاں جا رہے ہیں)
ڈرائیور نے بات کر کے اسے چونکایا تھا کیونکہ وہ جیپ رکنے کے باوجود ابھی تک اترا نہی تھا۔۔۔جواب میں وہ بے بسی سے دور دور تک پھیلے مکانات کو دیکھ رہا تھا۔۔۔اس وقت وہ بھارت کی ریاست راجھستان کے دوسرے بڑے شہر جودھ پور میں موجود تھے۔۔۔یہ شہر جو نوابوں کا شہر تھا اور اب جو محلات ، قلعوں اور مندروں کا شہر ہے۔۔۔وہ ھیرت نگاہوں میں سموئے بڑی ھسرت سے سامنے کا منظر دیکھ رہا تھا۔۔۔یہ شہر اس کی جائے پیدائش تھا۔۔۔وہ یہاں پیدا ہوا تھا ان رستوں پہ بھاگا دوڑا تھا لیکن بچپن کا وہ دورجو الف لیلوی داستان کی مانند پر تجسس ہوا کرتا ہے اس کے لیے المناکی میں تبدیل ہو گیا۔۔۔!
وہ بنا کوئی بات کیے جیپ سے اتر آیا۔۔۔اس کی دیکھا دیکھی پچھلی سیٹ پہ بیٹھا اس کا پوتا ریان بھی مختصر سامان کا بیگ اٹھائے ہلکی سی چھلانگ لگاتا اترا تھا۔۔۔وہ بے حد اشتیاق سے ارد گرد دیکھ رہا تھا۔۔۔رونق شور بھانت بھانت کی دور اور نزدک ہوتی آوازیں اور انجان چہرے۔۔۔۔!
اس نے ڈرائیور کو ہندوستانی کرنسی میں کرایہ ادا کیا تو وہ خوشگواری سے پیسے جیب میں ڈالتا ہوا بولا۔۔۔
نکا جاجو۔۔۔( دھیان سے جائیے گا)”
ریان نے سمجھنے کے انداز میں سر ہلایا اور اسے مسکراہٹ کے ساتھ رخصت کیا۔۔۔اس کے جانے کے بعد وہ بوڑھے دادا کے پہلو میں آ کھڑا ہوا۔۔۔
اب کیا چھوٹے دادا۔۔۔کدھر جانا ہے۔۔۔ہم تو نا کسی کو جانتے نا پہچانتے۔۔۔کھو ہی نا جائیں کہیں۔۔۔ویسے جی کر رہا ہے کھو ہی جائیں۔۔۔!” وہ شہر کی خوبصورتی سے مرعوب ہو رہا تھا۔۔۔آخری فقرہ بے حد جذب سے بولا۔۔۔۔اس کی بوڑھی آنکھوں میں نمی سی تیر گئ۔۔۔وہ مسکرایا اور آگے کو قدم بڑھاتے ہوئے بولا۔۔۔
میں یہیں تو کھو گیا تھا ریان۔۔۔آج خود کو ڈھونڈنے آیا ہوں۔۔۔!”
ریان بھی کندھے اچکاتا اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔۔۔ہر طرف نئے سانولے سلونے انجان چہرے مقامی لباس میں یہاں سے وہاں جاتے دکھ رہے تھے۔۔۔لیکن اسے لگتا تھا جیسے وہ سبھی کو جانتا ہو۔۔۔وقت نے بہت کچھ بدل دیا تھا۔۔۔بازار بن گئے تھے۔۔۔مکانات کی بہتات تھی۔۔۔سب ایک دوسرے کے اوپر چڑھا ہوا تھا جیسے۔۔۔لیکن اس کا تصور یہ نہی دیکھ رہا تھا۔۔۔وہ وہیں تھا جب راجھستان کے صحرا کی گرد آلود ہواؤں میں وہ اور دیپو بھاگا کرتے تھے۔۔۔ایک جھکڑ سا چلا اور اپنے ساتھ ماضی کی گرد اڑاتا اس کی آنکھوں میں بھر کے انہیں چھلنی کر گیا۔۔۔
خدا بخس۔۔۔دھیرے بھاگے سؤ۔۔۔ہمار پیر رپٹ گئیو نا اور ہم گر گئے نا تو میا ہم کا دو چماٹ دھرے گی۔۔۔رک سئے خدا بخس۔۔۔!”
خدا بخش نے ہنستے ہوئے پلٹ کے دیپو کو دیکھا۔۔۔وہ لڑھکتا اور بری طرح ہانپتا اس کے پیچھے بھاگا چلا آرہاتھا۔۔۔دونوں پرانے مندر کی کھوئی کے پاس سے دوڑنا شروع ہوئے تھے۔۔۔خدا بخش اس سے آگے نکل گیا تھا اور اسے خیال تک نا رہا کہ دیپو کو دمے کا دورہ پڑ سکتا تھا۔۔۔وہ خدا بخش کے ساتھ کھیلنے کے لیے اپنا جیون بھی تیاگ سکتا تھا۔۔۔کچھ ایسا ہی رسیا تھا وہ اس کا۔۔۔دیپو کو یوں بے حال ہوتا دیکھ وہ بری طرح گھبرا کے رکا اور واپس اس کی سمت دوڑ لگا دی۔۔۔جب تک اس کے قریب پہنچتا ، وہ کھانسنا شروع کر چکا تھا۔۔۔خدا بخش کے ہاتھ پیر پھول گئے۔۔۔وہ پریشانی سے اس کی کمر سہلانے لگا۔۔۔وہیں پرانے پیپل کے نیچے اس کی کمر ٹکا کے ہاتھ پیر ملنے لگا۔۔۔اگر دیپو کو کچھ ہو جاتا تو اس کا باپ کرپا شنکر اسے زندہ جلا ڈالتا۔۔۔خدا بخش کی آنکھیں بھر آئیں۔۔۔دیپو کا سانس اکھڑ رہا تھا۔۔۔وہ موندی موندی آنکھیں کھول کر خدا بخش کو تسلی دینے کی کوشش کرنا چاہتا تھا لیکن اس کی سانس ہموار ہوتی تو وہ کچھ کہہ پاتا۔۔۔خدا بخش نے سوچا کہ وہ بھاگ کر جائے اور حکیم چاچا کو بلا لائے۔۔۔شائد اس کے ننھے دل کا خوف حکیم چاچا کے دل میں الہام بن کے اترا تھا کہ وہ اپنی چھوٹی سی صندقچی پکڑے وہاں آتے دکھے۔۔۔دونوں کو یوں حال وبے حال دیکھ کے وہ فورا سمجھ گئے کہ دیپک لال کو دمے کا دورہ پڑا ہے۔۔۔انہوں نے تادیبی نگاہوں سے خدابخش کو دیکھا اورفورا صندقچی کھول کر اس میں سے مطلوبہ دوا ڈھونڈنے لگے۔۔۔خدا بخش سر نیہوڑائے دل ہی دل میں اللہ سے دعا کر رہا تھا کہ دیپو بچ جائے۔۔۔اس نےتب تک آنکھیں کھولیں نا سر اٹھایا جب تک حکیم چاچا نے اس کا کندھا پکڑ کے جھنجھوڑ نہی ڈالا۔۔۔
چل لے جا اب اسے اس کی حویلی۔۔۔شکر کر ہلکا سا دورہ تھا ورنہ آج تھے( تٓو نے) اپنے سب گھر والوں کی لٹیا ڈبو دی تھی سمجھ۔۔۔پتا نہی کائں ( کیا) اس کے باپ کا۔۔۔چل اٹھ جلدی کر۔۔۔!”
اور خدا بخش کسی قیمتی متاع کی طرح دیپو کو اپنے ناتواں بازوؤں کا سہارا دیے اس کی حویلی کی جانب چل پڑا۔۔۔گاؤں کی تیسری بڑی حویلی۔۔۔جس کے اونچے چوبارے اور چار مینار دور سے ہی دکھائی دینے لگتے تھے۔۔۔یہ حویلی گاؤں کے سنار کرپا شنکر کی تھی۔۔۔جو اپنے پیسے اور کروفر کی بدولت سارے میں مشہور تھا۔۔۔دیپک لال اس کا اکلوتا بیٹا تھا جو تقریبا اس کے بڑھاپے کی اولاد تھا۔۔۔اس کے “ونش” کا اکلوتا پھول۔۔۔دیپک لال کی پیدائش پر تین ماہ حویلی میں دیگیں چڑھی رہی تھیں اور سارا گاؤں وہاں سے کھاتا رہا تھا۔۔۔دیپک کچھ بڑا ہوا توکرپا شنکر کو معلوم ہوا کہ اسے دمے کا مرض ہے جو علاج معالجے سے بڑھنے سے رک سکتا تھا لیکن ختم نہی ہو سکتا تھا کیونکہ اس وقت دمے کا حتمی علاج شاذ ونادر ہی کوئی کر پاتا تھا۔۔۔دیپک کی ماں نے کلیجہ تھام لیا تھا اور دیپک کو جیسے خزانے کی طرح حویلی کے اندر چھپا ڈالا۔۔۔دیپک کا نا کوئی دوست تھا نا بننے دیا جاتا۔۔۔کیونکہ وہ برہمن ہندو تھا اور کرپا شنکر اس معاملے میں انتہائی کٹر سوچ کا حامل تھا۔۔۔ارد گرد زیادہ تر بچے جو ہندو تو تھےلیکن برہمن نہی تھے ان کے ساتھ بھی دیپک کو کھیلنے کی اجازت نہی تھا۔۔۔مسلمان بچے کا تو تصور ہی محال تھا کہ وہ دیپک لال کے ساتھ بیٹھ بھی سکے۔۔۔دیپک حویلی کے چوباروں اور میناروں پہ چڑھ کر ھسرت سے بچوں کو کچی پگڈنڈیوں پہ کھیلتے دیکھا کرتا تھا۔۔۔کبھی درختوں پہ چڑھتے تو کبھی ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے اور ایک دوسرے کو پکڑ کر لڑتے۔۔۔لڑائی کے بعد ہونے والی صلح دیپک کو بے ھد پسند تھی جو فورا ہی ہو جایا کرتی۔۔۔وہ بھی باہر جا کر کھیلنا چاہتا تھا لیکن اس کی مائی اور پتا اس معاملے میں نرمی نہی برتتے تھے۔۔۔ماں کو وہ راضی کر سکتا تھا پر اس کی مائی اس کے باپ کو منا نہی سکتی تھی۔۔۔وہ ایک شدھ پتی ورتا قسم کی عورت تھی جو شوہر کے سامنے کبھی ہنسی بھی نا تھی۔۔۔خدا بخش اسی گاؤں کے ایک غریب مسلمان گھرانے کا منجھلا بچہ تھا۔۔۔جس سے دو بڑے اور تین چھوٹے بہن بھائی موجود تھے اس لیے اس کی جانب کسی کا خاص دھیان نہی تھا۔۔۔وہ مدرسے جاتا اور وہاں سے نکل کر سارا دن کھیل کود میں گزار دیتا۔۔۔اس کے پاس ایک پوری گڑوی بھری پڑی تھی کنچوں سے۔۔۔ان سے وہ کھیلا کرتا اور کبھی سیر نا ہوتا۔۔۔وہ زیادہ تر اکیلا کھیلا کرتا ہے کیونکہ اکیلے وہ خود ہی ہار اور جیت کا مالک ہوتا تھا۔۔۔دیپک لال سے اس کی دوستی بھی عجیب حالات میں ہوئی تھی۔۔۔خدا بخش کا باپ سکھ بیوپاری کا مقروض ہوا تو قرضہ اتارنے کی خاطر کرپا شنکر کے پاس گیا تھا۔۔۔اس کے پھلوں کے باغات تھے جن کی راکھی خدا بخش کا باپ کیا کرتا تھا۔۔۔بدلے میں اسے کچھ اناج اور کپڑا بھانڈا مل جایا کرتا تھا۔۔۔پچھلے سال خدا بخش کا کچا مکان ایک طرف سے ڈھے گیا تو اس کے باپ نے قرضہ لیا۔۔۔قرضہ سود پر تھا اور سود اتارتے اتارتے خدا بخش کا باپ ادھ موا ہو گیا تھا تو قرض کی رقم کیسے اتر پاتی۔۔۔سکھ بیوپاری جان کو آ گیا۔۔۔مجبور ہو کر خدا بخش کے باپ کو اپنے بڑے لڑکوں کو کام سے لگانا پڑا۔۔۔پہلے وہ اس کا ہاتھ تو بٹاتے تھے لیکن مکمل چاکری کسی کی نہی کرتے تھے۔۔۔اب جب سر پر پڑی تو خدا بخش کے باپ نے بڑے دونوں لڑکوں کو گاؤں کے سر پنچ کے ہاں ڈنگروں کی دیکھ بھال کے لیے اجرت پہ رکھوا دیا۔۔۔اور خود خدا بخش کو لیے کرپا شنکر سنار کے ہاں چلا آیا۔۔۔قرضے کی رقم بہت زیادہ نہی تھی لیکن غریب کے لیے بہت تھی ایسے میں کرپا شنکر نے ادھار دینے سے صاف منع کر دیا۔۔۔خدا بخش کا باپ جب اس کا ہاتھ تھامے واپس ہونے لگا تو کرپا شنکر نے آواز دے ڈالی۔۔۔
اپنے چھورے کو کیوں نہی لگا دیتا ایہو کام سے۔۔۔باڑے کا کام دیکھت ہے اور ساتھ سو اندر باہر کے کام نکل ہی آوت ہیں۔۔۔پگار طے کر لیجو جو بھی چل رہی۔۔۔دھیرے دھیرے اتر ہی جاوے گا تیرا قرجا۔۔۔!”
اور خدا بخش کا باپ ٹھٹھک کے رک گیا۔۔۔خدا بخش نے اسے سہمی نگاہوں سے دیکھا کہ وہ ان کا مفہوم سمجھ جائے اور نا اسے چھوڑ کے جائے یہاں لیکن اس کے باپ کے سامنے قرض کی رقم ناچ رہی تھی۔۔۔قرض نا اترتا تو سکھ بیوپاری اس کے مکان پہ قبضہ کر لیتا۔۔۔ایسے میں وہ بیوی بچوں کو کہاں لے جاتا۔۔۔اس نے دھیرے سے خدا بخش کا ہاتھ چھوڑ دیا۔۔۔خدا بخش مزید سہم کے سکڑ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔اس کی نگاہوں کے سامنے اپنی کنچوں سے بھری گڑوی گھوم گئ جو اس کی سب سے قیمتی متاع تھی۔۔۔خدا بخش کا باپ اسے تو حویلی میں چھوڑ گیا لیکن اس کی پگار یک مشت ہی لے گیا تا کہ قرضہ اتار سکے۔۔۔اب خدا بخش حویلی کا بے دام غلام تھا۔۔۔باپ چلا گیا تو وہ سہما سا ایک نکڑ پہ کھرا ٹکر ٹکر دیکھنے لگا۔۔۔وہ نہی جانتا تھا کہ اس نے کہاں جانا ہے اور کام کیا کرنا ہے۔۔۔کرپا شنکر بہت بڑی پلنگ نما چارپائی پہ کھاتے کھولے اپنے منشی سے گفتگو میں مصروف تھا اور مسلسل تھا۔۔۔۔جب کچھ فرصت ہوئی تو اسے دوسرے ملازم کے ہمراہ باڑے میں بھیج دیا۔۔۔خدا بخش نو سال کا منحنی سا بچہ تھا۔۔۔اسے اپنے باپ پہ بے حد دکھ ہو رہا تھا جو اس سے بنا پوچھے یہاں چھوڑ گیا تھا۔۔۔وہ تو اماں سے بھی صبح کا ملا ہوا تھا۔۔۔ماں کا خیال آتے ہی اس کی آنکھیں گیلی ہونے لگیں۔۔۔وہ آستین سے آنکھیں پونجھتا ملازم کا بتایا کام کرنے لگا۔۔۔ٹوکے سے چارہ کاٹتے۔۔۔دودھ کے ڈول ڈھوتے اورڈنگروں کی غلاظت کو دابڑے میں ڈال کر پچھواڑے اپلوں کے لیے جمع کرتے اسے صبح سے شام ہو گئ۔۔۔لاشعوری طورپر وہ اپنے باپ کا منتظر تھا کہ وہ آئے گا اور اسے لے جائے گا۔۔۔اس کی ماں ہی بھیج دے گی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ خدا بخش رات کو اکیلے میں ڈرتا ہے۔۔۔لیکن رات سر پہ آ گئ اور ایک ملازم اسے پتلی سی دری اور گندہ میلا سا کھیس دے گیا کہ وہیں باڑے کے ایک کونے پہ بچھا کے سو رہے۔۔۔سارادن اس کا ابکائیاں روک روک کے برا حشر تھا۔۔۔رات کا کھانا بھی نہی کھا سکا تھا کہ جی الٹ رہا تھا۔۔۔بدبو اور گوبر جیسے اسے خود سے چمٹا محسوس ہوتا رہا۔۔۔اور اب دری اور کھیس کی گھسی اور خراب حالت نے اس کا دل مالش کرنا شروع کر دیا تھا۔۔۔وہ دونوں چیزیں ایک جانب رکھ کے خود دیوار سے کمر ٹیک کر پیروں کے بل بیٹھ گیا اور گھٹنوں میں سردیے گھٹ گھٹ کے رونے لگا۔۔۔باڑے میں ٹھنڈ تھی اور اندھیرا تھا۔۔۔پورے چاند کی روشنی نے ہر شے کو ہیولے میں بدل دیا تھا۔۔۔سب کچھ واضح دکھتا تھا اور کچھ بھی صاف نہی دکھتا تھا۔۔۔وہ روتا رہا اس بات سے بے خبر کہ چوبارے کی کھڑکی سے دیپک لال کب سے اسے ترحم سے دیکھ رہا تھا۔۔۔دو بچے دو دل اور دو انتہائیں۔۔ایک عسرت تو دوسری عشرت۔۔۔ایک انتہائی غریبی تو وسری انتہائی امارت۔۔۔۔لیکن یہی وہ لمحہ تھا جب دیپک لال اور خدا بخش کے دل کا تار جڑا تھا اوردونوں کی روحوں کا تعلق قائم ہوا تھا۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوٹے دادا۔۔۔اور کتنا چلنا ہے یار۔۔۔کچھ کھلا ہی دیں پہلے۔۔۔آپ کی جنم بھومی میں آئے ہیں۔۔۔کیا خاطر نہی کریں گے۔۔۔”؟”
ریان کب سے اس کے پیچھے تیز تیز قدموں سےچلتا تھک گیا تھا۔۔۔لیکن اس کے پیروں میں تو چھل بندھے تھے۔۔۔زمین پہ پڑتے ہی نا تھے اڑے جا رہے تھے جیسے۔۔۔پوتے کی پکار پہ وہ مسکراتا ہوا رکا اور پلٹ کے دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔
طعنہ مار دیا ورنہ منزل پہ پہنچنے سے پہلے میں رکنے والا نہی تھا۔۔۔”
اس نے اپنی پھولی سانسوں کو قابو کرتے ہوئے کہا اور ارد گرد دکانوں پہ نگاہ دوڑانے لگا۔۔۔وہ اس وقت بازار کےبیچ سے گزر رہے تھے۔۔۔یہاں اس زمانے میں اکا دکا دکانیں ہوا کرتی تھیں اور اب جیسے وہ اپنے کنچوں کو مٹھی میں بھر کے فرش پہ اچھالا کرتا تھا ویسے ہی کسی نے دکانوں کو جگہ جگہ پہ دانوں کی طرح بکھیر دیا تھا۔۔۔یہیں حلوائ کی دکان ہوا کرتی تھی ،چاچا کرم الہی نام تھا اس کا۔۔۔اس کی دودھ جلیبی سارے گاؤں میں مشہور تھی۔۔۔امرتیاں، بالو شاہیاں، بوندیاں اور پیٹھے کا حلوہ۔۔۔منہ میں شیرینی گھل گئ اور آنکھ میں نمکینی۔۔۔وہ اسے لیے ٹھیک اس جگہ پہنچا جہاں چاچا کرم الہی کی دکان تھی۔۔۔وہاں اب ایک چھوٹا سا ہوٹل تھا۔۔۔چائے ناشتے کے لیے۔۔۔ساتھ بیکری کی اشیائ پڑی تھیں۔۔۔وہ دل کا ہوکا دباتے ہوئے باہر ترتیب سے لگے بینچوں میں سے ایک پر بیٹھ گیا اور ریان کو بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔سر اٹھا کے سائن بورڈ کو دیکھا تو وہاں اب نام بدل چکا تھا۔۔۔یہ کوئی اسلم فوڈ پوائینٹ تھا۔۔۔اس نے حسرت زدہ سی سانس خارج کی اور یاسیت سے اس ویٹر نما لڑکے کو دیکھے گیا جو کندھے پہ ایک گندا سا رومال ہاتھ میں چھوٹا سا رائٹنگ پیڈ اور قلم تھامے اپنے تئیں اس سے مینیو پوچھنے کھڑا ہوا تھا۔۔۔اس نے ریان کو استفہامیہ نگاہوں سے دیکھ کے آرڈر لکھوانے کا کہا اور خود ادھر ادھر نظریں دوڑاتا وہ مناظر تازہ کرنے لگا جو اب سے بہتر سال پہلے اس کی زندگی ہوا کرتے تھے۔۔۔
ارے او رامو کاکا۔۔۔۔۔ارے او۔۔۔رک تو سہی۔۔۔!”
وہ اور دیپک لال ، رام پرساد کے چھکڑے کے پیچھے بھاگے چلے آ رہے تھے۔۔۔اس نے دیپک کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔۔۔بلآخر رامو کے چھکڑے تک پہنچ کر دونوں ایک جست میں اوپر کودے تھے۔۔۔دو موٹے تازے بیل تھے رامو کاکا کے اور وہ دونوں ہی انتظار کیا کرتے تھے کہ کب رامو کاکا یہاں سے گزرے اور وہ ساتھ ہو لیں۔۔۔وہ پیچھے سے یکدم گلاٹی مارتا آگے آ دھمکتا تھا اور رامو کاکا کے ہاتھ سے لگامیں تھام لیتا تھا۔۔۔وہ پہلے منع کرتا رہتا پھر بلآخر اس کی ضد کے آگے ہار جاتا۔۔۔اور دیپک لال بس اس کو ہنستا دیکھ کے ہنسے جاتا۔۔۔ایسا ہی دیوانہ تھا وہ خدا بخش کا۔۔۔اس کا بس چلتا تو سارا سارا دن اسی سے چپکا گزار دیتا۔۔۔دیپک کو خدا بخش کی شکل میں ایک دوست ہمدرد خیرخواہ اور رشتہ ملا تھا۔۔۔وہ دیوانگی کی ھد تک خدا بخش سے محبت کرنے لگا تھا۔۔۔محبت سے پہلے اسے انسیت ہوئی تھی خدا بخش سے اور وہ اسی رات ہوگئ تھی جس رات باڑے کے یخ اور بدبو دار ماحول میں اس نے خدا بخش کو پورے چاند کی روشنی میں روتے دیکھا تھا۔۔۔وہ دبے پیر چوبارے سے اترا تھا اور ہاتھ میں لالٹین تھامے چوکس نگاہی سے ادھر ادھر دیکھتا باڑے کے پھاٹک پہ کھڑا کنڈا ٹٹول رہا تھا۔۔۔ملازم جاتے ہوئے باہر سے لکڑی کا بڑا اور چوڑا سا دروازہ بند کر گیا تھا۔۔۔دیپک لال بغل میں اپنا سرخ قیمتی کمبل دبائے ہوئے تھا۔۔۔حتی الامکان بنا آواز کے وہ دروازہ کھول کے اندر داخل ہوا۔۔۔خدا بخش پہلے سے زیادہ سہم گیا۔۔۔چاند کی روشنی کے سامنے دیپک کا ہیولا اسے دہلا رہا تھا۔۔۔دیپک لال اندر داخل ہوا اور اسی احتیاط سے پھاٹک بند کیا اور رمکے رمکے چلتا اس کے پاس آن ٹھہرا۔۔۔
تھارے کو مائی کی یاد آ رہی ہے۔۔۔؟” دیپک لال نے ?مدردی سے استفسار کیا تو خدا بخش رونا بھول کے اسے دیکھنے لگا۔۔۔وہ دوبارہ بولا۔۔۔
میں تھار واسطے یہ گرم کمبل لایا تھا۔۔۔ٹھنڈ ہے۔۔۔!”
دیپک لال نے آگے بڑھ کے اس کے اوپر کمبل اوڑھا دیا اور خود بھی پنجوں کے بل اس کے نزدیک ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔اب دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کی شکل تک رہے تھے۔۔۔پورے چاند کی روشنی دونوں کےچہروں پہ پڑ کر انہیں جگمگا رہی تھی۔۔۔بچپنے کی اجلاہٹ تھی جو چمک بن کے چہروں پہ چھائی تھی۔۔۔
تھارو نام کائں ہے۔۔۔!” ( تمہارا نام کیا ہے) دیپک لال نے اشتیاق سے پوچھا۔۔۔جواب میں خدا بخش کی پھنسی ہوئی آواز نکلی۔۔۔
خدا بخس۔۔۔ہمار نام خدا بخس ہے۔۔۔!”
تھے مسلمان ہو۔۔۔؟”دیپک لال نے ذرا آگے کو جھک کر پوچھا۔۔۔خدا بخش نے سہمے انداز میں اثبات میں گردن ہلا دی۔۔۔دیپک لال کچھ دیر سوچتا رہا اور پھر وہیں اس کی دری پہ پیر پسار کربیٹھ گیا۔۔۔
یہاں بہت اندھیرو ہے۔۔۔میں تھارے ساتھ ہی بیٹھ جاتا ہوں۔۔۔اجارو ہوتے ہی چلا جاؤں گا۔۔۔!”
اور خدا بخش کا جواب سنے بنا وہ تسلی سے کمر ٹیک کر بیٹھ گیا۔۔۔اسے دیکھ خدا بخش بھی اطمینان سے چوکڑی مار کر بیٹھ گیا اور اپنے اوپر اوڑھا سرخ کمبل ایک طرف سے دیپک لال کو اوڑھا دیا۔۔۔نیم اندھیرے میں دیپک لال کی بھولی بھالی ہنسی گونجی اور خدا بخش کو بھی ہنسا گئ۔۔۔دونوں کچھ ہی دیر میں اس طرح باتیں کر رہے تھے جیسے کبھی کے دوست رہے ہوں۔۔۔دیپک لال کسی ساتھ کا ترسا ہوا بچہ تھا۔۔۔وہ خود سے نئ نئی منی منی سی داستانیں گڑھ کے خدا بخش کو سنا رہا تھا تا کہ وہ اس کا پکا دوست بن جائے۔۔۔دونوں کو خبر بھی نا ہوئی اور ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے وہ کب سوئے کہ پو پھٹتے جب ملازم باڑے میں داخل ہوا تو دیپک لال کا سر خدا بخش کے کندھے پر تھا اورخدا بخش کا سر دیپک لال کے سر پر۔۔۔اوردونوں زمانے بھر سے بے خبر نیند پوری کر رہے تھے۔۔۔اگلے چند منٹ میں پوری حویلی میں بھونچال آ گیا تھا۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیپک لال اپنے کمرے میں محصور تھا اور اس کی مائی اس کے ساتھ جہازی سائز نواڑی پلنگ پہ بیٹھی اس کا ہاتھ تھامے سہلا رہی تھی۔۔۔ہردو پل بعد دیپک لال کو جھٹکا سا لگتا اور وہ سہم کے کمرے کی کھلی کھڑکی کو تکنے لگتا جہاں سے خدا بخش کے چیخنے کی آواز آتی تھی۔۔۔جیسے ہی اسے بید کی چھڑی چھوتی وہ چلاتا اور اس کے چلانے سے دیپک لال کانپ کانپ جاتا۔۔۔یہ اس سے کیا ہو گیا تھا۔۔اس کے کارن خدا بخش کو مار پڑ رہی تھی۔۔۔وہ ایک نجس مسلمان کے ساتھ رات گزار کے آیا تھا۔۔۔اس کی مائی نے اسے پاک کیا تھا اور صاف ستھرے کپڑے پہنا کے کمرے میں لے آئی تھی کیونکہ اس کا باپ انتہائی طیش میں تھا۔۔۔وہ بیٹے کو کچھ نہی کہہ سکتا تھا لیکن سارا غصہ خدا بخش پر اتر رہا تھا۔۔۔کرپا شنکر کو لگ رہا تھا جیسے خدا بخش نے جان بوجھ کے دیپک لال کو رات اپنے پاس ٹھہرایا تھا تاکہ وہ بیمار پڑ جائے۔۔۔جب کہ وہ تو دیپک کو سرے سے جانتا تک نہی تھا لیکن ساڑ نکالنے کا بہانہ تھا جو کسی مسلمان پہ نکلتا تو بات بھی تھی۔۔۔خدا بخش کی چیخیں دم توڑ رہی تھیں لیکن بید کی ظالم چھڑی کو قرار نہی تھا۔۔۔تبھی دیپک لال کا سانس اکھڑنا شروع ہوا تھا۔۔۔وہ پہلے لمبے سانس بھرتا رہا اور پھر جب دقت بڑھی تو منہ کھول کے نرخرے تک سے آواز نکال نکال کے سانس لینے لگا۔۔۔اس کی ماں بوکھلا کے اس کی پیٹھ اور ہاتھ سہلا رہی تھی۔۔۔جب وہ نا سنبھلا تو راجھستانی ساڑی کا پلو منہ پہ دھرے وہ رونکھی ہوتی باہر کو بھاگی۔۔۔حویلی میں بھگدڑ مچ گئ۔۔۔کرپا شنکر نے ملازموں کو بھگایا وید جی کو لینے اور خود لنگی سنبھالتا بید کی چھڑی خدا بخش کے ادھ موئے وجود پر اچھال کے بیٹے کے کمرے کی اور بھاگا۔۔۔دیپک لال بستر پہ لیٹا کم بیٹھا سا سانس لینے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔دمے کی ہلکی شکایت تو اسے رہتی تھی لیکن آج یہ شدت معمول سے زیادہ تھی۔۔۔کرپا شنکر نے دو گالیاں زیر لب خدا بخش کو دیں اور دیپک لال کا سر اپنی گود میں لے کر بیٹھ گیا۔۔۔من ہی من گیتا کا پاٹ کرنے لگا۔۔۔وہ سمجھ رہا تھا کہ یہ ساری نحوست خدا بخش کی ڈالی ہوئی ہے جس کی وجود کے باعث اس کا اکلوتا لعل بیمار پڑ گیا تھا۔۔۔وید جی کے آنے تک دیپک لال بے سدھ ہو چکا تھا۔۔۔وید جی نے آ کر بکسے سے کوئی دوا نکال کر سنگھائی۔۔کوئی عرق حلق میں ٹپکایا لیکن دیپک کے دم میں دم نا آیا۔۔۔۔پریشان ہو کر وید جی نے سر جھکاتے ہوئے نیم شرمندہ سے انداز میں کرپا شنکر کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔
سرکار یو ہمار بس کی بات ناہی ہے۔۔۔تھے برکت اللہ حکیم کو بلوا لئیو۔۔۔چھورے کا علاج وہی کر سکت ہے۔۔۔ہم کا معاف کر دیو۔۔۔!”
یہ کہہ کر وید اپنی لنگی اور بکسہ سنبھالتا وہاں سے نکل گیا اور کرپا شنکر جیسے سکتے میں بیٹھا صورتحال پہ غور کر رہا تھا۔۔۔وہ ایک مسلمان حکیم کا احسان لے گا یہ تو اس کی غیرت کو گوارا ہی نہی تھا۔۔۔لیکن دیپک کا سانس ٹھیک ہونے کا نام نہی لے رہا تھا اور اس کی ماں بے آواز روتی کرلاتی اسے التجائیہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔لاچار ہو کر اس نے برکت اللہ حکیم کو بلوا بھیجا اور ایک ہی نسخے سے دیپک لال کچھ ہی دیر میں بھلا چنگا ہو گیا تھا۔۔۔
بچے کو بلاوجہ روک ٹوک متی کرنا۔۔۔اور بارلے( باہر) کھلی ہوا میں بھیجو۔۔۔کمرے میں بند رکھنے سے سانس گھٹے گا۔۔۔کھیل کود کا من ہووے تو اسے کھیلنے دو۔۔۔مرض اتنا شدید نہی ہے لیکن اگر تکلیف میں آئے گا تو سانس جلدی اکھڑے گا۔۔۔!”
کرپا شنکر نے کڑوی گولی کی طرح برکت اللہ حکیم کی بات حلق سے نیچے اتاری اور انہیں دروازے تک چھوڑنے گیا۔۔۔راستے میں دالان پار کرتے حکیم برکت اللہ نے خدا بخش کو بے سدھ پڑے دیکھا تو فورا پاس بیٹھ کے نبض ٹٹولی۔۔۔وہ محض بے ہوش تھا۔۔۔برکت اللہ حکیم نے خشمگیں نگاہوں سے کرپا شنکر کو گھورا تو وہ گڑبڑا گیا۔۔۔
ایس کا باپو رکھوا کے گیا ہے۔۔۔قرجا لیا ہے اوس نے۔۔۔بدلے میں چھورا دے گیا تھا۔۔۔ذرا تنگ کر رہا تھا تو کس بل نکال لیے ہم نے۔۔۔!”
برکت اللہ حکیم نے غصے سے اسے گھورا اور خدا بخش کے ماتھے سے بال ہٹاتے ہوئے بولے۔۔
اسے گرمائش پہنچاؤ اور کھانے کو دو۔۔۔یہی ہمار اجرت ہووے۔۔۔!”
برکت اللہ حکیم بنا پیسے لیے وہاں سے چلے گئے اور کرپا شنکر نے ملازم کو خدا بخش کو وہاں سے ہٹانے کا کہہ کر واپس اندر دیپک کے کمرے کی راہ لی۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واہ دادا۔۔۔مزہ ا گیا۔۔۔مجھے تو لگا میں اپنے دیس کا کھا رہا ہوں۔۔۔وہی ذائقہ وہی لذت۔۔۔یہ حلوہ پوری تو لاجواب تھا دادا۔۔۔لیکن آپ نے کچھ کھایا کیوں نہی۔۔۔!”
ریان شکم سیر ہو چکا تھا اور وہ دوبارہ چل پڑے تھے۔۔۔۔اس کے حلق سے ایک نوالہ بھی اتر نہی سکا تھا۔۔۔ریان کی بات پر چلتے چلتے اس نے اپنا دایاں ہاتھ اٹھا کر بغور دیکھا۔۔۔وہاں جھریوں اورنسوں کا جال تھا۔۔۔وہ بدقت اپنے آنسوؤں پر قابو پاتا ہوا بولا۔۔۔
میں نے ابھی ان ہاتھوں سے قبر کھودنی ہے ریان۔۔۔رزق کیسے کھاتا۔۔۔میرے پیٹ پہ تو عرصہ ہوا راکھ جم چکی ہے۔۔۔ہڈیوں کی راکھ۔۔۔مجھے خوراک ہضم ہی کب ہوتی ہے۔۔۔!”
اسی لیے آپ ہمیشہ سے بہت کم کھاتے ہیں نا دادا۔۔۔کبھی بتاتے تو ہیں نہی۔۔۔جب پوچھو ٹال جاتے ہیں۔۔۔اب بھی مجھے کچھ نہی پتا کہاں جانا ہے۔۔۔بس آپ کے پیچھے پیچھے چلا آ رہا ہوں۔۔۔!”
بس پھر آتے جاؤ۔۔۔ہمیں شمشان گھاٹ کے ساتھ پرانے مندرکے پیچھے کنویں تک جانا ہے۔۔۔!”
یار دادا کیوں ڈرا رہے ہیں۔۔۔مجھے تو سن کے ٹھنڈے پسینے آنے لگے ہیں۔۔۔نا کریں یار۔۔۔!”
خاموش رہو ریان۔۔۔اور آتے جاؤ میرے پیچھے۔۔۔!”
وہ نیم خفگی سے اسے پلٹ کے دیکھتے ہوئے بولا اور پھر حت الوسع تیز چلنے لگا۔۔۔بڑھاپا تھا اب تو ہمت طاقت بھی نا رہی تھی لیکن وہ یہاں کسی سے ملنے آیا تھا اور جس سے ملنے آیا تھا اس کے لیے وہ اپنی سانسیں دے سکتا تھا یہاں تو بس اکھڑ ہی رہی تھیں۔۔۔!
ناک کی سیدھ میں چلتے اب وہ اور ریان ارد گرد مکانات کی بھرمار پہ نگاہ مارتے چلے آ رہےتھے۔۔۔ریان شوق اور جوش سے دیکھ رہا تھا جبکہ اس کی نگاہوں میں الجھی سی مایوسی تھی جیسے وہ چاہتا تھا کہ اب بھی یہاں ریت کا میدان ہوتا اور دور تک محض کہیں کہیں لگے درخت اور جھاڑیاں۔۔۔جن کے بیچو بیچ بھاگتے دوڑتے وہ اور دیپک لال صبح سے شام کیا کرتے تھے۔۔۔ریت کے ٹیلے پر اب بھی ان کے قدموں کے نشانات تھے جو بس وہ دیکھ رہا تھا۔۔۔!
کرپا شنکر نے اگلی صبح ہی خدا بخش کو کوٹھری میں بند کروا دیا تھا اور ملازموں کو چکی وہاں پہنچانے کا کہہ دیا تھا۔۔۔اب اسے وہیں بیٹھ کے سارا دن چکی چلانی تھی اور گندم پیسنی تھی۔۔وہ باہر نہی نکل سکتا تھا۔۔۔دیپک لال نے طبیعت سنبھلتے ہی فورا صحن کا رخ کیا تھا اور اسے ہر جگہ تلاشا تھا۔۔۔جب کہیں نا ملا تو منیم جی سے پوچھا۔۔۔جوابا اس نے ڈرتے سہمتے بتا تو دیا کہ خدا بخش کہاں ہے لیکن دیپک لال کو اپنا نام لینے سے منع کر دیا۔۔۔دیپک لال طیش دباتا کوٹھری کی اور چل دیا۔۔۔وہاں اتنا سا خدا بخش گندم کے ڈھیر کے پیچھے چھپا چکی چلانے میں ہلکان ہو رہا تھا جس کی ہتھی نے دو منٹ میں اس کے ہاتھوں کی جلد کو چھیلنا شروع کر دیا تھا۔۔۔وہ بار بار ہاتھ روک کے انہیں منہ سے سانس پھونک کے ٹھنڈا کرتا اور پھردوبارہ شروع ہوتا۔۔۔دیپک جلدی سے آگے بڑھا اور اسے یہ سب چھوڑ کے اپنے ساتھ چلنے کو کہا۔۔۔
تھے ادر سے جا دیپک۔۔۔تھارے باپو نے دیکھ لیا تو منُے بوہت مارے گا۔۔۔کل ماری چمڑی ادھیڑ دی اوس نے۔۔۔ تھے جا بس ادر سے۔۔۔!”
خدا بخش کل کی مار سے بے حد ڈرا ہوا تھا۔۔۔ابھی بھی اس کی کمر سرخ لکیروں کی وجہ سے تکلیف میں تھی۔۔۔وہ دوبارہ بید کی چھڑیوں کا متحمل نہی ہو سکتا تھا۔۔۔دیپک لال نے افسردگی سے اسے دیکھا لیکن خدا بخش نے بنا پرواہ کیے چکی کی جانب توجہ مبذول رکھی۔۔۔دیپک کا تنفس تیز ہونے لگا۔۔۔وہ گھسٹتا ہوا دیوار سے جا لگا۔۔۔شائد اسے اپنی بات منوانے کا گر آ گیا تھا۔۔۔کچھ ہی دیر میں ملازم بوری لاد کر وہاں آیا تو دیپک کو اس حال میں اور خدا بخش کو متوحش سا اسے بے بسی سے تکتا دیکھ، وہ انہی قدموں واپس بھاگا۔۔۔حویلی دوبارہ گونج اٹھی۔۔۔چیخ للکار اور وید جی کی پکار۔۔۔دیپک کی میا ساڑھی سنبھالتی گرتی پڑتی پہلے وہاں پہنچی تھی۔۔۔کچھ ہی دیر میں کرپا شنکر دکان کھلی چھوڑ کر حویلی میں موجود تھا۔۔۔دیپک لال کو تب تک کمرے میں پہنچا دیا گیا تھا اور حکیم برکت اللہ اور وید جی دونوں کو پیغام بھیجا جا چکا تھا۔۔۔برکت اللہ حکیم پہلے پہنچے اوردیپک لال کی حالت دیکھتے ہی تادیبی انداز میں باپ کو دیکھتے ہوئے بولے۔۔۔
کہا تھا نا کہ بچے کو ٹوکنا متی۔۔۔اس کی بات پوری کر دینا۔۔۔ابھی طبیعت سنبھلی بھی نہی اور تم لوگو نے اس کی دوبارہ ویسی ہی حالت کر ڈالی۔۔۔مرض کی شدت بڑھ جائے گی
ایسے سنار بابو۔۔۔!”
کرپا شنکر بے بسی سے سر پہ ہاتھ مارتا بولا تھا۔۔
ہمار ایک ہی لڑکو ہے حکیم جی۔۔۔ہمار عقل گھاس چرنے گئیو ہے کا کہ ہم اس کی بات ٹالیں گے۔۔۔ونش ہے ہمار ھکیم جی۔۔۔ونش۔۔۔گھنو پیار ہے اس سے۔۔۔تھے اس کو ٹھیک کر دیو ہم وچن دیتے ہیں دوبارہ اس کی یو حالت ناہی ہونے دیں گے۔۔۔!”
حکیم جی نے سر جھٹکا اور آگے بڑھ کر بچے کو دیکھنے لگے۔۔۔کرپا شنکر اس دوران باہر جا کر ملازموں سے پوچھ پڑتال کرنے لگا۔۔۔بات گھوم پھر کے خدا بخش پہ آن ٹھہری تھی۔۔۔کرپا شنکر کا مارے غصے کے دماغ پھٹنے کو آگیا۔۔۔
آج یو چھورا مارے ہاتھ سےمر ہی جاوے گا۔۔۔!”
وہ کوٹھری کی جانب لنگی سنبھالتا بڑھا تھا کہ ملازم نے بتایا کہ حکیم صاحب اسے بلا رہے ہیں۔۔۔ارادہ ملتوی کرتا وہ واپس دیپک کے کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا دیپک لال بھلا چنگا سا پلنگ سے کمر ٹیکے بیٹھا تھا۔۔۔اس کی ماں بھی قریب دوسری جانب اس کے پہلو سے جڑی ایک ہاتھ اس کے شانے پر پھیلائے اور دوسرے سے گھونگٹ نکالے بیٹھی تھی۔۔۔
چلتا ہوں اب۔۔۔خیال رکھیو۔۔۔بچے کو وہ دو جس سے وہ خوش ہووے ہے۔۔۔روز روز کا دورہ اچھا نہی۔۔۔!”
برکت اللہ حکیم معنی خیز نگاہوں سے دیپک کو دیکھ کر اپنی صندقچی اٹھا کے چلے گئے۔۔۔کرپا شنکر دیپک کے سرہانے آن بیٹھا اور اسے خود سے لگاتے بڑی محبت سے پوچھا۔۔۔
دیکھ دیپو۔۔۔تھارے کو جو چاہیے مارے سے بول۔۔۔لیکن یوں مارے کو ستایو مت۔۔۔تھارے منوا ما جو ہے مانگ لے۔۔۔میں تھارے واسطے ساری دنیا کی دولت قدموں میں لاد سکت ہوں۔۔۔”
باپو۔۔۔” دیپک لال باپ کی نرمی دیکھ کے متاثر ہوتے ہوئے بولا تھا۔۔۔” او۔۔۔او خدا بخس کو مارے ساتھ رہن دیو۔۔۔مارے کو او بوت اچھا لاگت ہے۔۔۔تھے اسے کچھ نا کہو۔۔۔اسے مارو مت۔۔۔او۔۔۔باپو۔۔۔او۔۔۔منے پسند ہے۔۔۔مارا دوست ہے او۔۔۔کرپا کرو نا باپو۔۔۔ بنتی کرتا ہوں۔۔۔!”
اور کرپا شنکر سنار کا سارا لہو سمٹ کے چہرے پہ آن سمایا۔۔۔ایک مسلمان کا چھورا اس کے لڑکے کے اس قدر قریب کب ہوا کہ بیٹا اس کی خاطر جان ہلکان کیے ہوئے ہے۔۔۔کرپا شنکر نے بے حد دقت سے اپنے اعصاب کو قابو کیا اور اسے بہلاتے ہوئے بولا۔۔۔
جو میرا لاڈلو کہے گا اوہی ہووے گا۔۔۔تھے فکر نا کر۔۔۔بس بھلا چنگا ہو جا جلدی سے۔۔۔!”
اس کا ماتھا چوم کر اسے لٹاتے ہوئے اس نے گھورتی نگاہ بیوی پہ ڈالی اور اشارے سے اسے باہر چلنے کا کہا۔۔۔وہ پریشان سی گھونگٹ سنبھالتی ساتھ ہو لی۔۔۔برآمدہ پار کرتے ہی اس نے بیوی کو آڑے ہاتھوں لیا۔۔۔
تھارے ہوس کدھر گم ہیں پشپا۔۔۔تھارو چھورا ایک موسلے کے ساتھ دوستیاں بنائے ہے اور تھے بے خبر ہووے۔۔۔اوس چھورے کا تو آج قصہ ہی تمام کرتا ہوں لیکن تھے اپنے چھورے کو سمجھا دے کہ منے اس کا کسی مسلمان سے کھیلنا نہی بھاوے ہے۔۔۔سمجھی۔۔۔!”
وہ اس پر غراتا واپس مڑنے کو تھا جب پشپا نے اس کی بانہہ پکڑ کر التجائیہ لہجے میں اس سے کہا۔۔۔
دیپو کے باپو۔۔۔تھے مارو واسطے بھگوان ہووے۔۔۔منے کبھی تھاری بات ناہی ٹالی پرہمار ایک ہی لڑکو ہے۔۔۔تھے اس کا دل رکھن کی خاطر اوس مسلمان چھورے کو کچھ متی کہو۔۔۔ما خود دیپو کو سمجھا لوں گی بس اوس کی طبیعت تھوڑی سنبھلنے دیو دیپو کے باپو۔۔۔ماں ہاتھ جوڑو ہوں تھارے آگے۔۔۔!”
وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑی تھی اور کرپا شنکر سوچ کے عالم میں حویلی کے صحن میں دکھائی دیتے پھلدار درختوں کو گھور رہا تھا۔۔۔ایسی صورتحال کا تو اس نے تصور بھی نہی کیا تھا۔۔۔وہ کیسے اپنے بیٹے کو ایک مسلمان کی اولاد سے قریب ہونے دیتا لیکن بیٹے کی طبیعت اور پڑمردہ حالت اسے نرمی برتنے پہ مجبور کر رہی تھی۔۔۔وہ بے بسی سے سر ہلاتا وہاں سے چلا گیا تو پشپا سکون کا سانس لیتی ساڑھی سنبھالتی بیٹے کے کمرے کی جانب پلٹی۔۔۔باپ کے آنے سے پہلے دیپک لال نے ماں کے آگے عرضی ڈال دی تھی۔۔۔اور پشپا بیٹے کی اکھڑتی سانسوں کو دیکھتے اس سے وعدہ کر چکی تھی کہ وہ خدا بخش کو کچھ نہی ہونے دے گی۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یوں خدا بخش کی اور دیپک لال کی دوستی پروان چڑھی اور دنوں میں وہ ایک دوسرے کے اس قدر قریب آ گئے کہ رات کے چند گھنٹے جو دیپک لال کو اپنے کمرے میں گزارنے ہوتے تھے وہ بھی عذاب لگنے لگے۔۔۔خدا بخش اب بھی حویلی کا نوکر تھا لیکن اب اس کے ساتھ نرمی کا برتاؤ ہوتا تھا کیونکہ دیپک لال کا یار تھا وہ۔۔۔اس کا اکلوتا بیلی۔۔۔ملازموں کی تو جرات نہی تھی کہ خدا بخش کو کچھ کہتے پر اب کرپا شنکر بھی بل کھانے کے علاوہ کچھ نہی کر سکتا تھا۔۔۔دیپک لال کی صحت دنوں میں ابھری تھی۔۔۔گالوں پہ سوخی چھلکنے لگی تھی۔۔۔ہاتھوں کی چمرخ جلد بھری بھری ہو کے اچھی لگنے لگی تھی۔۔۔حکیم جی کے مطابق یہ سب اس کے دل کی خوشی کے کارن تھا۔۔۔وہ اندر سے خوش تھا لہذا اس کی بیماری بھی دبتی جا رہی تھی۔۔۔تھوڑا بڑا ہوتا تو امید تھی کہ اثرات معدوم ہو جاتے۔۔۔اور دیپک لال کی ماں بیٹے کو پھلتا دیکھ کے پہلی بار کرپا شنکر کے آڑے آنے لگی تھی۔۔۔اسے کبھی رونکھی ہو کے تو کبھی ہلکی سی دھونس کے ساتھ خدا بخش کے ساتھ کھیلنے اور پڑھنے پہ راضی کیے رکھتی۔۔۔دن گزرے تو دونوں حویلی سے باہر جانے لگے۔۔۔ایک ساتھ کھیلتے،شرارتیں کرتے, بیر اکھٹے کرتے اور کنچے کھیلتے دونوں یک جان دو قلب ٹھہرے۔۔۔خدا بخش کو اپنے گھر کی یاد بھی کم ہی ستاتی۔۔۔اسے دیپک لال کی شکل میں ایک ایسا دوست مل گیا تھا جو اس کی مرضی اور خوشی کا خیال رکھتا تھا۔۔۔دیپک لال اس کے لیے دیپو تھا اور وہ دیپک کے لیے بخسو۔۔۔دیپک اسے ناراض کبھی نہی کرتا تھا۔۔۔ایسا ہی دیوانہ تھا وہ اسکا کہ جہاں جہاں خدا بخش جا کر کھیلنا چاہتا وہاں وہاں دیپک لال کے قدم اس کے ہمقدم ہو جاتے۔۔۔دونوں کی ایک من پسند جگہ تھی جہاں وہ کھیلتے تو کوئی انہیں دیکھنے والا نا ہوتا۔۔۔شمشان گھاٹ کے ساتھ پرانے مندر کے پچھواڑے کھوئی۔۔۔!
جس کا پانی کبھی کا خشک ہو چکا تھا۔۔۔یہ کھوئی ویران تھی۔۔۔ارد گرد بے تھاشا خودرو جھاڑیاں اور جنگلی جڑی بوٹیوں کی افزائش ہو چکی تھی۔۔۔دور سے دیکھنے میں معلوم بھی نہی ہوتا تھا کہ یہاں کوئی کنواں ہے۔۔۔کائی زدہ اینٹیں جھاڑیوں کا حصہ لگا کرتیں۔۔۔۔۔یہاں بہت کم کسی کا آنا جانا تھا لیکن کئ دنوں سے دیپک لال اور خدا بخش نے جیسے اسے آباد کر دیا تھا۔۔۔وہ دونوں کنچے لیے وہاں آ جاتے اور جی بھر کر کھیلتے۔۔۔غلیل سے پرندوں کے نشانے لیتے۔۔۔دیپک لال کو خدا بخش نے غلیل چلانا سکھائی تھی اور کچھ ہی دن میں طاق کر دیا تھا۔۔۔چھپن چھپائی کھیلتے لیکن دیپک لال کھوئی کے بہت قریب نہی آتا تھا۔۔۔اسے خوف آتا تھا۔۔۔اس میں جھانکنے سے۔۔۔بغور دیکھنے سے۔۔۔اور وہم ستاتا کہ کبھی وہ اندر گر گیا تو۔۔۔۔اندر تو گھوراندھیرا تھا بس۔۔۔اسے اپنی تقدیر کا علم نہی تھا ورنہ ایسا بھاگتا کہ دم اکھڑنے تک کبھی پلٹ کے نا دیکھتا۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ شمشان گھاٹ سے ہوتے ہوئے اب پرانے مندر کے پچھواڑے بنی کھوئی تک پہنچ چکے تھے اور اب وہ اس کائ ی زدہ کو دور سے تک رہا تھا۔۔۔یکدم آنکھوں میں وحشت سی جاگ اٹھی اور وہ حلقوں سے باہر نکلنے کو بے تاب سی دکھیں۔۔۔ریان نے آگے بڑھ کے چھوٹے دادا کے کندھے پرہاتھ رکھا تو جیسے وہ نیند سے جاگا۔۔۔
فلاسک میں پانی ہے ریان۔۔۔؟”
اس کی پھنسی سی اجنبی آواز پر ریان نے فورا فلاسک نکالا اور اس کی اور بڑھا دیا۔۔۔وہ منہ سے لگا کے چند گھونٹ بمشکل حلق سے اتار پایا اور پھر اس کی آنکھیں ساون بھادوں بن گئیں۔۔۔یہ کھوئی اور اس سے وابستہ یادیں خاردار جھاڑی کی مانند اسکے جسم سے لپٹی ہوئی تھیں۔۔۔جب جب وہ اس جھاڑی کو خود سے الگ کرنے کی کوشش کرتا تب تب اس کے جسم کا گوشت ریشہ ریشہ ہو کر ہڈیاں چھوڑنے لگتا۔۔۔قدم قدم وہ اس کھوئی کے قریب ہو رہا تھا اور قدم قدم اس کے پیروں سے جان نکل رہی تھی۔۔۔ایک پل کو دل کیا وہ یہیں سے واپس ہو لے۔۔۔پلٹ جائے۔۔۔جیسےساری زندگی روتے سسکتے گزار آیا تھا ویسے ہی گزار کے مر جائے اور مٹی میں دب جائے۔۔۔اس کے آزار اس کے ساتھ مٹی ہو ہی جائیں گے لیکن وہ کیا کرتا کہ آج بھی اس کا دیپو اسے بلاتا تھا۔۔۔وہ اسے آوازیں دیتا تھا۔۔۔وہ کان لپیٹ لیتا تب بھی اس کی آواز اس کے سینے کے گنبد میں بازگشت کی مانند گونجتی رہتی اور اس کی پسلیاں تک تھرتھراتی رہتیں۔۔۔اس نے اپنی ہانپتی سانسیں جمع کر کے سینے میں بھریں اور بوجھل پلکیں اٹھا کے سامنے دیکھا تو دیپو کھڑا تھا۔۔۔دونوں بانہیں وا کیے وہ بلکل سامنے کھڑا تھا۔۔۔وقت حال پھاند کے واپس ماضی میں سر گھسیڑ رہا تھا۔۔۔وہ دونوں گھٹنوں کو کچی زمین پہ ٹیک کے آنکھیں بند کیے اس کے سنگ ہو لیا۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں بلاناغہ کھوئی کے پاس کھیلنے آتے تھے۔۔۔اب تو ایک انسیت سی ہو گئ تھی اس جگہ سے۔۔۔مندر کی گھنٹیاں بجتیں اور دیپک لال دونوں ہاتھ جوڑ کے ماتھے سے لگاتا اور عقیدت سے آنکھیں بند کر کے چند پل کچھ بڑبڑاتا اور پھر سے کھیل کی جانب متوجہ ہو جاتا۔۔۔خدا بخش اسے بغور دیکھتا لیکن کہتا کچھ نہی تھا۔۔۔دونوں پر ایک دوسرے کے دین دھرم کا فرق واضح تھا۔۔۔دیپک لال ایک دن اپنے ساتھ گھر کے مندر کا پرساد اٹھا لایا اور بڑے شوق سے خدا بخش کو کھانے کو دیا۔۔۔خدا بخش نے بے تاثر چہرے کے ساتھ اسے دیکھا اور نفی میں سر ہلا دیا۔۔۔
منے جائز نا ہووے۔۔۔بتوں کو چڑھا ہوا نہی کھاتے ہم۔۔۔گناہ لگتا ہے بوہت۔۔۔!”
دیپک لال نے خدا بخش کو ٹوک دیا۔۔۔
بخسو۔۔۔ما تھارے ساتھ مسجد گئو تھا تو تب امام جی نے مارے کو نیاج والےچاول پروسے تھے تو منے خوس ہو کے کھا لیئے تھے۔۔۔پر تھارے من ما مارے دھرم کے واسطے پریت کیوں ناہی ہووے۔۔۔تنے کبھی مارے بھگوان کے چرنوں کا پھل نہیں کھایا۔۔۔مارے کو آج بتا کہ تھارے من میں کیسی الجھن ہے۔۔۔!”
خدا بخش ہنس دیا اور ہاتھ میں تھامے کنچوں میں سے ایک کو اچھال کے واپس پکڑتا ہوا بولا۔۔۔
الجھن کاہے کی دیپو۔۔۔دیکھ سیدھی سی بات یو ہے کہ ہمار دین میں یو سب حرام ہووے۔۔۔ہم کسی بت کو سجدہ نہی کرتے نا اس کے چرنوں پہ دھری چیج کھاتے ہیں۔۔۔چل مارے کو ایک بات بتا۔۔۔تنے امام جی کی دی ہوئی چیج کھائی تو کیوں کھائی۔۔۔؟”
کیونکہ مارے کو اچھی لگی۔۔۔من ما شانتی اتری تھی۔۔۔ایسے لگتا تھا جیسے وہ بوہت پوتر ( پاک) ہے اور جب جب منے کچھ کھایا ہے نا تب تب منے رات میں سوتے ڈر نہی لگا۔۔۔یو پتا نہی کیا بات ہووے۔۔۔لیکن بخسو ایسا مارے کو محسوس ہوے ہے۔۔۔!”
دیپک لال نو سال کا بچہ تھا اور اس کی سمجھ ابھی شرک و بت پرستی کو نہی پرکھتی تھی جو اس نے محسوس کیا یا جو اسے مناسب لگا وہی اس نے کہہ ڈالا۔۔۔ خدا بخش ہنسا اور اس کے گال پہ چٹکی بھرتے ہوئے بولا۔۔۔
یو تو تھارے کو کچھ سمجھ نہی آیا تو کہہ دیا تنے۔۔۔لاکن مارے مجہب ( مذہب) ما صرف اللہ کی عبادت جائج ہووے۔۔۔باقی سب سرک ( شرک) ہووے۔۔۔!”
سرک کیا ہووے۔۔۔؟” دیپک لال نے سہم کے پوچھا تھا
دیپو جو بھی گیر( غیر) اللہ کی عبادت کرت نا وہ سرک کرت ہے۔۔۔جیسے تھارے بھگوان کو سجدہ کرنا یا او کے چرن ما پھل روپیا رکھنا یو سب سرک ہووے۔۔۔بس منے اتنا ہی پتا ہے۔۔۔امام جی نے بتایا تھا یو سب۔۔۔!”
تو بخسو کیا گیر اللہ کی عبادت کرن والا نرک میں جاوے گا۔۔۔؟”
دیپک لال کی سرسراتی آواز نکلی اور خدا بخش کو گنگ کر گئ۔۔۔وہ کیا جواب دے۔۔۔جواب اسے معلوم تھا لیکن دیپک کا پیلا چہرہ دیکھ کے وہ سوچ میں پڑ گیا تھا۔۔۔وہ جان بوجھ کے اس کا دل نہی دکھاتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ دیپک بہت حساس ہے۔۔۔چند پل مزید اسی خاموشی بھری شش وپنج میں گزر گئے تو یکدم خدا بخش بولا۔۔۔
اچھا چل۔۔۔تھارے کو رات میں ڈرا لگتا ہے نا اندھیرو سے۔۔۔ما تھارے ایک دعا یاد کرا دیتا ہوں۔۔۔تھے جب بھی ڈرے نا تو اس کو پڑھ کے اپنی چھاتی پہ پھونک لئیو۔۔۔پھر دیکھیو کیسے بھوت بھاگتا۔۔۔۔!”
تھے منے یاد کرا نا بخسو۔۔۔دیکھ مائی اب کہتی دیپو تھے بڑو ہو گئو۔۔۔یہ بھوت پریت تھارے کو کج بھی ناہی کہت اب۔۔۔او ماری بات ہی نہی مانتی۔۔۔!”
لےفر۔۔۔ فکرمتی کر۔۔۔ابھی یاد کرائی دیتا ہوں تھارے کو۔۔۔!”
اور خدا بخش نے چوری چوری دیپک لال کو آیت الکرسی یاد کروا دی۔۔۔امام جی کے پاس مسجد لے گیا اور سینے پہ دم کروا دیا۔۔۔امام جی نے اس کی آنکھوں میں بغور دیکھا تھا۔۔۔دیپک لال کی نگاہوں میں عقیدت کا دریا موجزن تھا۔۔۔وہ خاموش سے ہو گئے۔۔۔انہوں نے اکیلے میں خدا بخش کو سمجھایا کہ تم کسی کو کانوں کان خبرمت ہونے دینا کہ دیپک کو میرے پاس لائے ہو۔۔۔خدا بخش کچھ سمجھی کچھ نا سمجھی کر کے سر ہلاتا چلا گیا تھا لیکن امام جی کو فکرمند کرگیا تھا۔۔۔جاتے ہوئے خدا بخش قاعدہ اٹھا لے گیا مسجد سے اور دو کھجور کی بنی ٹوپیاں۔۔۔امام مسجد نے سرتھام لیا تھا لیکن منع بھی تو نہی کرسکتے تھے۔۔۔!
اس دن سے دیپک لال کوایسا چسکہ لگا کہ رات گہری ہوتے ہی وہ اپنےکمرے سے نکلتا اورباڑے کے ساتھ بنی چھوٹی سی کوٹھری کا کواڑ اس انداز میں بجاتا کہ خدا بخش کے ساتھ سویا ملازم نا اٹھنے پائے۔۔۔کرپا شنکر نے محض دیپک لال کا دل رکھنے کی خاطرخدا بخش کا سونا جاگنا اس باڑے سے کوٹھری میں منتقل کر دیا تھا۔۔۔دیپک لال کو یہی کافی تھا۔۔۔وہاں وہ سہولت سے خدا بخش کو ساتھ لیتا اور حویلی سے کھیلنے کو نکل جاتا۔۔۔اور جب حویلی میں ہوتا تو خود وہیں پایا جاتا۔۔۔اس کی ماں سب جانتی تھی لیکن شوہر کو خبر نہی ہونے دی کہ کہیں وہ دوبارہ دیپک پر پابندی نا لگا دے۔۔۔جس دن سےدیپک کو خدا بخش کا ساتھ ملا تھا اس دن سے اسے ایک باربھی دمے دورہ نہی پڑا تھا۔۔۔اور اس کے شکر کو یہی کافی تھا۔۔۔دیپک اور خدا بخش کی جوڑی دیکھ کے وہ ایک تکلیف دہ ہوکا تو بھرتی تھی لیکن اکلوتے بیٹے کی خاطر اسے دبا لیتی تھی۔۔۔۔اگر اسے خبر ہوتی کہ دونوں کا یہ ساتھ کیا رنگ لائے گا تو وہ یہیں سب کچھ ہونے سے روک لیتی۔۔۔وہ شائد اس دیپک کو بجھا دیتی جس سے اس کے آنگن میں اجالا تھا لیکن وہ بے خبرتھی کہ جو دیا دیپک لال کے دل میں جل اٹھا تھا اس کی روشنی سے اس کے دل کا میل دھل رہا تھا۔۔۔سیاہی سفیدی میں بدل رہی تھی اور باطل کو حق چِت کر رہا تھا۔۔۔خدا بخش کا باپ دو بار اسے لینے آ چکا تھا لیکن نا خدا بخش یہاں سے جانے کو تیار ہوتا تھا نا دیپک اسے جانے دینا چاہتا تھا۔۔۔کرپا شنکر کا قرضہ اتر چکا تھا اور وہ مزید ایک دن بھی خدا بخش کو سہہ نہی سکتا تھا۔۔۔اس نے اسے اس کے باپ کے ھوالے کیا اور سکون کا سانس لیا جیسے اس کی ھویلی سے کسی غلاظت کا خاتمہ ہوا ہو۔۔۔دیپک لال تڑپ تڑپ گیا۔۔۔لیکن خدا بخش نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔۔۔اور جب وہ اپنی گٹھری اٹھائے نکل رہا تھا تو باڑے کے پچھواڑے دیپک اس کے انتظار میں کھڑا تھا۔۔۔خدا بخش اسے دیکھ کر باپ کا ہاتھ چھڑاتا ہوا اس کے قریب بھاگ کر پہنچا۔۔۔
تھے رو ریئا ہے دیپو۔۔۔؟ دیکھ۔ ما بھی پریسان ہو گئیو سے جب ابا منے لینے آیا لکن فر سوچا کہ مارا جانا ہی بہتر ہو گا۔۔۔اب دیکھ نا تھے جب چاہے منے ملن واسطے امام جی کی مسجد بھی آ سکت ہے۔۔۔حویلی سے نکل کر تو ہم کا کتنے رستے بدلنے پڑت تھے۔۔۔یو کے باپو کے ملاجم پیچھو آتے تھے اور ہم دوناں کو کتنی مسکل ہوتی تھی کھوئی تک جان میں۔۔۔پھر وہاں سے امام جی کے پاس۔۔۔اب جب تھے نکلے گا نا حویلی سے تو کوئی تھارو پیچھو نہی آئے گا کیونکہ تھارے باپو کو مارے پہ سک ہووے کہ منے تھارے کو بگاڑ دیے۔۔۔جب تھے اکیلا نکلے گا نا تو او کا چنتا ناہی ہو گی۔۔۔سمجھ ریو نا ماری بات۔۔۔؟”
خدا بخش بڑی مصلحت اندیشی سے اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن دیپک کے چہرے پہ پریشانی اوردکھ کے سائے اسے مزید سنولا رہے تھے۔۔۔وہ روہانسا ہوتے ہوئے بولا۔۔۔
تھے منے بٓھل تو ناہی جائے گا نا بخسو۔۔۔دیکھ۔۔۔منے آیت الکرسی یاد کر لئی اب تھے مارے کو وچن دیا تھا کہ منے نماج سکھائے گا۔۔۔ بٓھل تو نہی جائے گا نا اپنا وچن۔۔۔!”
شششش۔۔ششششش۔۔۔۔ چٓپ کر۔۔۔مروائے گا منے کائں دیپو۔۔۔دھیرے بول۔۔۔”دونوں نے اردگرد چوکنی نگاہوں سے دیکھا ، وہاں بس کچھ فاصلے پر خدابخش کا باپ کھڑا تھا بیزار صورت بنائے وہ خدابخش کو گھور رہا تھا تاکہ وہ جلدی کرے لیکن منہ سے نہی کہہ سکتا تھا کیونکہ دیپک لال کے ساتھ تھا وہ۔۔۔
ماری بات پہ کان دھر دیپو۔۔۔تھے جب بھی ھویلی سے نکلے تو سیدھا کھوئی پہ پہنچیو۔۔۔جے کوئی تھارا پیچھا کر رئیا ہووے تا اوس کو اے ہی لاگے کہ تھے مندر جاوت ہے۔۔۔ما بھی وہیں تھارے کو ملوں کروں گا۔۔۔وہیں سے دوناں مسجد کو نکل لیے کریں گے۔۔۔کے سمجھا۔۔۔؟”
دونوں میں ڈیل ہو گئ تھی۔۔۔دونوں نے تمتماتے چہروں کا جوش چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے ہاتھ ملائے اور گلے مل کے ایک دوسرے کو الوداع کہا تھا۔۔۔دیپک لال واپس حویلی تو مڑ گیا تھا لیکن دل اور روح خدا بخش کے ساتھ روانہ کر کے آیا تھا۔۔۔اس کا دل حویلی میں پہلے ہی نہی لگتا تھا اور اب خدا بخش کے جانے سے وہ مزید بیزار ہوتا چلا جا رہا تھا۔۔۔کرپا شنکر اور اس کی بیوی پیار محبت نچھاور کرتے تا کہ وہ خدا بخش کو بھول جائے اور اس کی یاد میں اسے دمے کا دورہ نا پڑے۔۔۔انہیں اندازہ نہی تھا کہ وہ خدا بخش سے مندر کے پچھواڑے پرانی کھوئی پہ ملتا ہے۔۔۔چند دن کرپا شنکر نے اس کا پیچھا کرایا تو معلوم ہوا کہ وہ مندر جاتا ہے اور وہاں مورتیوں کے سامنے ہاتھ باندھے بیٹھا رہتا ہے۔۔۔ملازم کے بتانے پر کرپا شنکر کا برہمنی خون رگوں میں مارے خوشی کے اچھلنے لگتا کہ اس کا واحد سپوت مذہب کے قریب ہو رہا ہے۔۔۔دیپک لال چوکس رہا کرتا تھا جیسے ہی ملازم مندر کی سیڑھیاں واپسی کے لیے اترا کرتا وہ اپنی جگہ چھوڑ کر پچھواڑے چلا جاتا جہاں خدا بخش پہلے سے موجود ہوتا تھا۔۔۔۔پھر وہ ہوتے اور ریت اڑاتی کچی پگڈنڈیاں جن کے اختتام پر مسجدکا دروازہ آتا تھا اور اس کے پیچھے دیپک کے من کا سکون چھپا تھا۔۔۔وہ کلمہ پڑھ چکا تھا۔۔۔امام مسجد نے اسے اسی دن کلمہ پڑھانے میں پل بھر کی تاخیر نہی کی تھی جس دن اس نے پہلی بار فرمائش کی تھی لیکن اسے تاکید کی تھی کہ گھر والوں کو خبر نا ہونے دے تا وقتیکہ کچھ بڑا نا ہو جائے یا حالات اس کے حق میں نا ہو جائیں۔۔۔اس نو سالہ بچے کا دل کرتا تھا وہ چیخ چیخ کے دنیا کو بتاے کہ وہ مسلمان ہے۔۔۔اس نے خدا بخش کا دین قبول کر لیا ہے۔۔۔وہ اس کے ایک اللہ پر ایمان لے آیا ہے۔۔۔لیکن وہ ابھی بچہ تھا اور اس کے پاس نا الفاظ تھے نا اظہار کا سلیقہ۔۔۔بس وہ اتنا ہی جانتا تھا کہ اس کا دل پھر گیا تھا اس کی طرف جو سچ تھا جو حق تھا اور ازل سے تھا۔۔۔وہ گھر میں اب بھی مورتی کے آگے بیٹھتا تھا۔۔۔اب بھی ہاتھ جوڑے آنکھیں میچے جھومتا تھا پر یہ اس کی مجبوری تھی۔۔۔اس دوران وہ امام جی کے سکھائے توبہ کے کلمات دہراتا رہتا تھا۔۔۔اس کی مائی اسے پرساد دیتی وہ چپ چاپ ہتھیلی میں دبائے وہاں سے اٹھ جاتا اور جاتے جاتے باڑے میں گائے کو چٹا جاتا۔۔۔عجیب ڈرے سہمے دن تھے۔۔۔وہ راتوں کو اٹھ کے نماز پڑھنے کی کوشش کیا کرتا تھا جو ابھی اسے ٹھیک سے ازبر نہی تھی نا ہی یہ معلوم تھا کہ وہ کس نماز میں کتنی رکعتیں پڑھے۔۔۔تشہد میں کب بیٹھنا ہے اور کب سلام پھیرنا ہے اس یہ ابھی یاد نہی رہتا تھا لیکن شوق اور لگن تھی جو اسے کپڑا بچھانے اور اس پر تا دیر کھڑا رہنے پہ مجبور کرتی تھی۔۔۔اس کا دل اکتانے لگا تھا حویلی میں مورتیوں کی موجودگی سے اور ان کے سامنے بیٹھنے سے۔۔۔ان پہ چڑھاوا چڑھانے سے اور گھنٹیوں کی مسلسل بجتی آواز سے۔۔۔لیکن وہ خدابخش کی محبت اور امام جی کے سمجھانے کی بنا پر کچھ ظاہر نہی ہونے دیتا تھا۔۔۔معمولی سی بھنک کا انجام بھی کیا ہوتا ، اسے بخوبی پتا تھا۔۔۔اسے آیت الکرسی اور سورہ اخلاص اچھے سے یادتھی وہ اسی کو من ہی من دہراتا تھا۔۔۔سوہ اخلاص کا ترجمہ جس دن اس نےامام جی کے منہ سےسنا تھ اس دن کی رات اس پہ نہی اتری تھی۔۔۔وہ سحر ہونے تک گھٹ گھٹ کے روتا رہا تھا۔۔۔وہ چھوٹا سا بچہ اس قلق کو جھولی میں لیے بلکتارہا تھا کہ وہ اب تک بتوں کو سجدہ کرتاآیا تھا جبکہ اللہ کہتا ہے وہ واحد ہے۔۔۔وہ بے نیاز ہے۔۔۔کوئ بتوں کو پوجتا یا شیطان کو رب کو اس کی پرواہ نہی لیکن وہ ہدایت دیتا ہے اسے جسے چن لیتا ہے۔۔۔نا وہ کسی کا باپ ہے اور نا کسی کی اولاد تو وہ جن دیوی دیوتاؤں کو مانتا تھا وہ تو سب کسی نا کسی سےپیدا ہوئے اور ان کی اولادیں بھی ہوئیں۔۔۔یعنی دیوتاؤں کا ایک لمبا سلسلہ تھا جو شروع کہاں سے ہوا نہی معلوم تھا اورختم کبھی ہو ہی نہی سکا تھا۔۔۔۔رب کہتا ہے اس کے جیسا کوئی نہی اور سب بڑائی اوربزرگی اسی کے لیے ہے لیکن جن دیوتاؤں کو اس سے سجدہ کروایا گیا وہ تو سب ایک سے ہیں۔۔۔ان کی کہانیاں ایک سی ہیں۔۔۔ان کی تاریخ ایک دوجے سے جڑی ہے تو سچ اور حق وہی ہوا جو یکتا ہے اور واحد ہے۔۔۔جس کا کوئی شریک نہی۔۔۔نا ہمسر ہے۔۔۔۔اور یہیں آکے دیپک لال اندر سے ادھ موا ہو جاتا تھا۔۔۔وہ جھنجتا تھا خود سے اور سجدے میں سر گرا لیتا تھا کہ وہ پاپی رہ چکا ہے اورواحد اللہ اسے معاف کر دے۔۔۔اس کی بخشش کر دے۔۔۔اپنی عمر کے حساب سے وہ بس اتنا ہی کر سکتا تھا لیکن جانتا نہی تھا کہ جو وہ کرتا ہے ویسا کرنا کتنے ہی لوگوں کے مقدر میں نہی ہوا کرتا۔۔۔!
دنوں نے کروٹ لی تھی اور دیپک لال اور خدا بخش کو ملنے کے لیے اب دقتوں کا سامنا ہوا چاہتا تھا۔۔۔دیش کا بٹوارا ہونے جا رہا تھا اور ملک بھر میں فسادات کی دبی دبی چنگاریاں سلگنا شروع ہو گئ تھیں۔۔۔کوئی وقت جاتا تھا کہ کب یہ بھانبڑ بنتیں اور خلقت بھسم ہوتی۔۔۔مسلمان اور ہندو کی لڑائی بنا ٹکٹ کا تماشا بننے والی تھی۔۔۔ہلکی ہلکی شورش کا شکار خدا بخش اور دیپک لال کا گاوں بھی ہو رہا تھا۔۔۔وہ دونوں اب بھی ملتے تھے اور چپ چاپ کھوئی کی دیوار کے پیچھے نظر سے اوجھل ہوئے پیروں کے بل بیٹھے ریت پہ تنکوں سے لکیریں کھینچا کرتے۔۔۔جیسے کرنے کو فی الحال سبھی کام ختم ہو چکے تھے۔۔۔۔کنچوں کی گڑوی ان چھوئی دھری رہ جاتی۔۔۔جس پہ ملال کی گرد ٹھہر جاتی۔۔۔باتیں بے بہا تھیں لیکن نا شروع کرنے کا بہانہ ملتا تھا نا ختم کرنے کا سرا۔۔۔ایسے ہی ایک بے کل سے دن وہ دونوں دیوار سے کمر ٹیکے ایک دوجے سے سرجوڑے اپنی اپنی سوچوں کی دنیا کھنگال رہے تھے جب یکدم دیپو کی آواز ابھری۔۔۔
بخسو۔۔۔تھے منے چھوڑ کے چلا جاے گا۔۔۔؟”
تھارے کو کس نے بولا یو۔۔۔؟” خدا بخش نے سیدھے ہوتے ہوئے اچنبھے سے سوال کیا۔۔۔
رات باپو مائی سے کہہ رہت کہ مسلمان سبھی کو اادھر سے جانا پڑے گا ورنہ بوت فساد ہو گا۔۔۔بخسو۔۔۔۔” اس نے بھی دیوار چھوڑ کر سیدھے ہوتے ہوئے کہا۔۔۔
تھے منے بھی ساتھ لے چل نا اپنے۔۔۔!”
دیپو نے حسرت زدہ لہجے میں کہا تھا لیکن خدا بخش جیسے ٹھنڈا ہو گیا تھا۔۔۔وہ گنگ ہو گیا تھا بولے تو کیا بولے نا بولے تو کیا نا بولے۔۔۔۔
بول نا بخسو۔۔۔تھے منے بھی ساتھ لے لئو نا۔۔۔ما تھارے ساتھ پاکستان چلا چلوں گا۔۔۔دیکھ نا بخسو۔۔۔تیرا میرا دین دھرم بھی اب ایک ہووے۔۔۔تھے بھی مسلمان ما بھی مسلمان۔۔۔جے تھے منے چھوڑ کے چلا جاوے گا تو منے دین کی باتاں کون بتاوے گا۔۔۔امام جی بھی چلے جاویں گے تو ما تو دیواروں سے ٹکریں ماروں گا بخسو۔۔۔اس لیے ما بھی تھارو ساتھ پاکستان جاؤں گا۔۔۔!” آخر میں اس کا لہجہ ہٹیلا ہو گیا تھا۔۔۔خدا بخش کو سمجھ نہی آرہی تھی کہ آیا وہ انکار کرے یا اقرار۔۔۔یہ باتیں اس کے بھی من میں کئ دنوں سے کھد بد مچا رہی تھیں لیکن وہ کہنے میں جھجھک رہا تھا۔۔۔دیپک نے تاخیر نہی کی تھی۔۔۔وہ خدا بخش کے بنا تو رہ جاتا لیکن اسے جو لطف ایک اللہ کی باتیں کرنے اور سننے میں آتا تھا اس کا کیا کرتا۔۔۔خدا بخش اور وہ دونوں یونہی چپ چاپ ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے رہے اورپھر جیسے فیصلہ ہو گیا۔۔۔خدا بخش کو زبان سے کہنا نہی پڑا اور دیپک لال نے دل کی سن لی۔۔۔۔
پر تھارو ناں بدلنا پڑے گا۔۔۔دیپک لال بن کے تھے ساتھ ما سفر کیسے کرے گا دیپو۔۔۔تو آج سے تھارو ناں ہووے گا۔۔۔مممم” خدا بخش نے کنپٹی پہ انگلی بجاتے ہوئے سوچا” احمد۔۔۔احمد ناں گھنو بھلا لگتا ہے منے۔۔۔تھارو ناں احمد ہے اب سے ،آج سے۔۔۔!”
گھنو پیارا ہے۔۔۔ما آج ہی ھویلی پہنچ کے اپنی پوٹلی باندھے رکھوں گا۔۔۔تھے جب بھی پاکستان کے لیے نکلے گا تو منے بھی ساتھ لیئو چلو۔۔۔وہاں جا کرہم دوناں کو کوئی خوف ڈر ناہی ہو گا۔۔۔امام جی کے پاس جانے سے بھی کوئی ناہی روک سکے گا۔۔۔ما کھل کے نماج پڑھ سکوں گا۔۔۔!”
وہ نو سال کے دو بچے اس بات سے بے خبر پلاننگز کر رہے تھے جیسے پاکستان جانا ساتھ کے محلے میں جانے جیسا تھا۔۔۔انہیں اندازہ نہی تھا کہ آنے والے دنوں میں مسلمانوں پہ کیسا عتاب نازل ہونے والا تھا اور ان میں سے کون پاکستان جا پاتا اور کون نہی اس کا فیصلہ بھی جلد ہو جانے والا تھا۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیپک لال نے ہاتھ میں تھاما آخری تسبیح کا دانہ گڑوی میں ڈالا اور تسبیح کے کھلے دانوں سے بھری گڑوی کو اپنے پلنگ کے نیچے چھپایا۔۔۔تسبیح کے یہ دانے ایک ہزار کےقریب تھے اور اس نے یہ دانے امام جی سے زبردستی یا بے حد مان سے لیے تھے۔۔۔وہ خدا بخش کے ساتھ مسجد کے پچھلےاھاطے میں بیٹھا ہوا تھا۔۔۔امام جی چٹائی پر چوکڑی مارے بیٹھے تھے۔۔۔ان کے سامنے تسبیح کے دانے پڑے تھےجن کی وہ تسبیح پرو رہے تھے۔۔۔جو تسبیح وہ پرورہے تھے وہ مکمل ہو چلی تھی صرف اس کا امام پرونا باقی تھا۔۔۔دیپک لال کی نگاہ باقی بچے دانوں کی طرف تھی۔۔۔وہ اندازہ لگا رہا تھا کہ ان کی مدد سے ایک لمبی سی تسبیح بنائی جا سکتی ہے۔۔۔امام جی نے اس کی نگاہوں کا مفہوم بھانپ کے اسے مسکرا کے دیکھا اور پوچھ لیا۔۔۔
کے دیکھ رئیا ہے احمد۔۔۔؟کے چاہیئے۔۔۔؟”
تسبیح چاہیئے مارو۔۔۔ویسی ہی جیسو تھارے ہاتھ میں ہووے ہے۔۔۔مارو من کرتا ہے امام جی کہ راتاں کو جب سبھی سو جاتے تبھی ما اللہ اللہ کروں۔۔۔ایک تسبیح مارے بھی بنا دو نا امام جی۔۔۔!”
اورامام جی کو اس پر بے طرح پیار آیا۔۔۔کیسی قدرت تھی بے نیاز رب کی کہ جس کا باپ کٹر برہمن اور ماں بھی دیوداسی ان کے ہاں ایسی اولاد پل رہی تھی جس کا دل رب نے حق کی جانب موڑ ڈالا تھا۔۔۔وہ بچہ اپنی عمر کے اعتبار سے بہت چھوٹا تھا لیکن اس کی عقل بہت سوں کو پچھاڑ کے راہ بنا چکی تھی۔۔۔۔اس کا شعور اسے گیان دیتا تھا کہ وہ اب تک جس کو پوجتا آیا تھا وہ تو کئ بار اس کے ہاتھوں سے گرکر ٹوٹا تھا۔۔۔جب وہ چھوٹا تھا تب اور اس کی مائی نے کانوں کو ہاتھ لگا کر شما مانگی تھی اس ٹوٹے پتھر کے ٹکڑے سے۔۔۔اس وقت وہ بھی ایسا ہی کیا کرتا تھا لیکن یہ کوئی نہی جانتا تھا کہ وہ سب سے چھپ کر بارہا ان بتوں کو اکیلے میں پیٹا کرتا تھا محض اپنا تجسس دور کرنے کے لیے کہ ایسا کرنے سے وہ اسے کچھ کہیں گے یا نہی مگر اسے بدلے میں کبھی کوئی نقصان نہی پہنچا تھا۔۔۔!
امام جی نے اپنے سامنے بکھرے دانوں کو اکٹھا کیا اور خدا بخش کو پرچھتی سے چھوٹی سی گڑوی اتارنے کو کہا۔۔۔خدا بخش فٹافٹ جوشیلا ہو کر اتار لایا اور امام جی کو گڑوی دے دی۔۔۔انہوں نے سارے تسبیح کے دانے اس میں بھرے اور اس گڑوی کو دیپک لال کو تھماتے ہوئے بولے۔۔۔
دیکھ احمد۔۔۔ما تھارے کو تسبیح بنا کے ناہی دیوں گا کیونکہ ایس طراح تھارے پکڑے جانے کا ڈر ہو گا بٹوا۔۔۔ابھی تھے چھوٹا سی۔۔۔تھوڑا بڑا ہو جا تو اپنا دین سب کو بتا سکت ہے۔۔۔لیکن ابھی ما تھارے ساتھ ساتھ خدا بخس کی زندگی بھی خطرے میں ناہی ڈال سکتا۔۔۔اس لیے یہ دانے تھے ایس طرا ہی لے جا۔۔۔ان کو نکال کے پڑھ لیا کراور واپس گڑوی میں ڈال دیا کرنا۔۔۔کبھی جو پکڑو جائے تو کہہ دینا کہ گولیاں کھیلتا ہوں۔۔۔باقی اللہ تیری حفاجت کرے گا۔۔۔تھے فکر نا کر۔۔۔”
اور دیپک لال جو اب خدا بخش اور امام جی کے لیے احمد تھا ، وہ تسبیح کے دانوں سے بھری گڑوی ھویلی لے ایا تھا۔۔۔اس دن سے وہ روز رات کو سب کے سونے کے بعد اٹھ کے فرش پہ آلتی پالتی مارکے بیٹھ جاتا اور سارے دانے سامنے گرا لیتا پھر ایک ایک دانے پر اسم اللہ پڑھتا جاتا اور اسے واپس گڑوی میں ڈال دیتا۔۔۔اس کام میں اسے ایسی لذت ملی تھی جس کے بدلے کل کائنات کی دولت ہیچ تھی۔۔وہ بس سرور محسوس کرتا تھا اور من کرتا کہ آنکھیں بند کیے کسی اور جہان میں چلا جائے جہاں اس کی روح ٹھہر جائے اور کبھی واپس نا آئے۔۔۔لیکن ھویلی اور اس کا ماحول ایک اٹل حقیقت تھی جس سے وہ نگاہیں چرا نہی سکتا تھا۔۔۔ایسا نہی تھا کہ اسے اپنی مائی اور باپو سے محبت نہی تھی لیکن اس میں بھی شک نہی تھا کہ ان کی محبت اس محبت پہ حاوی نہی ہو پاتی تھی جو اسے اللہ سے ہو گئ تھی۔۔۔وہ اللہ کے لیے ہر شے تیاگنے کو تیار تھا اسی لیے اپنا دیش اپنا گھر بار اورماں باپ سب چھوڑ کے خدا بخش کے ساتھ پاکستان چلا تھا۔۔۔ایک پوٹلی ہمہ وقت اس کے کمرے کے داہنے کونے پہ رکھے صندوق میں پڑی تھی جس میں اس کے گنتی کے تین جوڑے اور ایک کنگھا رکھا تھا۔۔۔یہ وہ کل جائیداد تھی جو لاکھوں کی جائیداد کا اکلوتا مالک۔۔کرپا شنکر کے ونش کا اکلوتا سپوت اپنے ساتھ لیے جا رہا تھا۔۔۔اسے بس انتظارتھا کہ کب خدا بخش اور اس کے گھر والے یہاں سے کوچ کرتے ہیں۔۔۔وہ جانتا تھا کہ ھالات دن بدن سنگین ہوتے چلے جائیں گے اس لیے چاہتا تھا کہ جلد از جلد یہاں سے چلا جائے۔۔۔ لیکن اس کے لیے خدا بخش کے باپ کو اکسانے کی ضرورت تھی جو ابھی تک اس لیے ٹکا بیٹھا تھا کہ فساد کی تپش اس کے گھر کی دیواروں کو نہی پہنچی تھی۔۔۔اسے خوش فہمی تھی کہ نسل در نسل ساتھ رہنے کی بنا پر کوئی ہندو یا سکھ ایسے ہی نہی ان پہ ہاتھ ڈال دے گا۔۔۔کوئی لحاظ مروت ناپید تو نہی ہو گیا تھا نا۔۔۔وہ نہی جانتا تھا کہ درندگی انسان کے اندر چھپا وہ وصف ہے جو تب تک ظاہر نہی ہوتا جب تک انسان انسانیت کا شرف نا کھو دے۔۔۔ہتھیاروں کی چمک نا دیکھ لے۔۔۔خون کی ہولی کی للکار نا سن لے۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیپک لال ہاتھ میں تھاما پرساد گائے کو کھلانے کے لیے باڑے کی طرف جا رہا تھا۔۔۔۔جب اس نے لکڑی کے پھاٹک سے ٹیک لگائے پیروں کے بل بیٹھے حویلی کے دو ملازمین نتھو رام اور بجرنگ کو آپس میں باتیں کرتے سنا تھا۔۔۔
اس شنی وار کو تماااااام مسلمانوں کو خون میں نہلا دیویں گے۔۔۔جتنے بھی نکل لیے بس نکل لیے۔۔۔گھور پاپ ہو گیا یہ ہمار سب سے کہ اتنے سب موسلوں کو بنا کاٹے جانے دیا۔۔۔
لیکن بوہوت ہوا۔۔۔اب ایک بھی ناہی بچے گا۔۔۔شنی وار کی رات شکتی جتھا لے آئے گا،تھے سبھی ہتھیار تیز کر لئیو۔۔۔گاڑی تک ناہی پہنچنے دیویں گے ان موسلوں کو۔۔۔بیچ ما ہی ٹکڑے کر دیویں گے۔۔۔!”
اور دیپک لال انہی قدموں سےواپس ہو لیا تھا۔۔۔اس نے بنا تاخیر کے حرف حرف امام جی کو جا بتایا تھا۔۔۔راتوں رات امام جی نے سب مسلمان گھروں کے مردوں کو مسجد میں اکھٹا کیا اور پاکستان ہجرت کرنے کا حتمی دن طے ہو گیا۔۔۔شنی وار آنے میں ابھی پورے چار دن پڑے تھے۔۔۔اوربیچ کے تین دن میں علاقہ خالی کیا جاسکتا تھا۔۔۔تین میل پیدل چل کر پٹری دکھائی دیتی تھی۔۔۔وہاں سے گاڑی پاکستان جاتی تھی۔۔۔اس میں سوار ہو کر یہ قافلہ نکل سکتا تھا۔۔۔گاڑی میں پاکستانی فوجی ہتھیاروں کے ساتھ موجود ہوتے اس لیے سوار ہونے کے بعد خوف نا تھا لیکن پٹری تک پہنچنے کا جو تین میل کا سفر تھا وہ پٓرخطر بھی تھا اور جوکھم بھرا بھی۔۔۔راستے میں کچھ بھی ہو سکتا تھا۔۔سکھ بلوائی حملہ کرتے یا ہندو بھکشوؤں کے للکاریں مارتے اور کرپانیں چمکاتے جتھے بھنبھوڑ ڈالتے۔۔۔سب قسمت پہ منحصر تھا لیکن یہیں ہاتھ پہ ہاتھ دھر کےبیٹھ رہنے کا سمے بیت گیا تھا۔۔۔ماحول میں تناؤ کافی دنوں سے محسوس ہوتا تھا اور ہندوؤں اور سکھوں کے رویوں میں واضح تبدیلی تھی۔۔۔وہ سب جو ایک ساتھ ہنستے بولتے اور سکھ دکھ کے شریک رہا کرتے تھے اب تنفر سے منہ پھیرنے لگے تھے۔۔۔مسلمان کھسیائے ہوئے پھرتے تھے۔۔۔ہندو، سکھوں کی دکانوں سے راشن ملنا بند ہو گیا تھا اور مسلمانوں کی دکانوں کی بکری ختم ہو گئ تھی۔۔۔کھانے کے لالے جان کو آنے والے تھے۔۔۔کسی کافر میں اگر ہمدردی تھی تو وہ راشن خرید کے مسلمانوں کو فراہم کر دیتا لیکن کب تک۔۔۔سب اتنے چوکنے تھے کہ بلی کی چاپ بھانپ رہے تھے یہ تو پھر مسلمان کے منہ کا نوالہ تھا۔۔۔پہریداری شروع ہو گئ تھی کہ کسی دکان سے کھانے پینے کا سامان مسلمان کے گھر نا پہنچنے پائے۔۔۔عجیب سخت ترین دن تھے۔۔۔نا دن اترتا تھا نا رات گزرتی تھی۔۔۔سحر ہوتے ہی خوف آنگنوں میں چھلانگ لگائے داخل ہوتا اور سب کی سانسیں ساکن کیے رکھتا۔۔۔شام ڈھلتی تو وہی خوف موت کی بکل اوڑھ لیتا جو زیادہ ڈراؤنا لگتا۔۔۔!
دیپک لال کی پوٹلی پوری طرح تیار تھی۔۔۔وہ مرنے مارنے سے واقف نہی تھا۔۔۔بس اتنا جانتا تھا کہ نتھو رام اور بجرنگ سب کو ماریں گے۔۔شائد چماٹ ماریں گے زور زور سے۔۔۔یا ذہن میں ان چھڑیوں کا تصور ابھر آتا جو باڑے میں کونے میں پڑی رہا کرتی تھیں۔۔۔ھالانکہ اپنے کانوں سے سب سن چکا تھا پر دل کو اعتبار نہیں تھا کہ کاٹ ڈالنے کا مطلب کاٹ ڈالنا ہی ہوتا ہے۔۔۔چیر دینے کا مطلب دو ٹکڑے کرنا ہی ہوتا ہے۔۔۔خون کی ہولی جسموں کو کاٹ چیر کے کھیلی جاتی ہے نا کہ ست رنگی برادہ اڑا کے۔۔۔وہ حویلی کی صورتحال پر اپنی سی نگاہ رکھے ہوئے تھا۔۔۔جانتا تھا کہ اس کا باپ بھی مسلمانوں کا پکا دشمن ہے۔۔۔وہ بھی یقینا کوئی نا کوئی سازش ضرور رچے گا۔۔۔وہ روک کسی کو نہی سکتا تھا لیکن چوکس تھا تو محض یہ سوچ کر کہ اس کی دی گئ کوئ ی خبر مسلمانوں کے کام آ سکتی تھی۔۔۔!
وہ اپنے باپو اور مائی کے ساتھ رسوئی میں بیٹھا رات کا کھانا کھا رہا تھا۔۔۔چھوٹی چھوٹی چوکیوں پہ وہ دونوں باپ بیٹا سامنے کھانے کا تھال رکھے ہوئے تھے۔۔۔دیپک لال کے حلق میں نوالے پھنس رہے تھے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ کتنے دن سے کئ مسلمانوں کے گھروں میں چولہا نہی جلا۔۔۔خدا بخش بھی کل پرانی کھوئی کے پاس سے دیپک لال کے ہاتھ سے بیر اکھٹے کروا کے گھر لے کر گیا تھا۔۔۔اناج ختم ہو چکا تھا اور ہجرت سر پر کھڑی تھی۔۔۔دیپک لال من ہی من حساب لگا رہا تھا کہ وہ گودام میں رکھی دو بوریاں بھی اگر مسلمانوں کے قافلے کو فراہم کر دے تو آسرا ہو سکتا تھا۔۔۔اس کی مائی اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے فکرمند سی تھی۔۔۔وہ مسلسل شوہر اور بیٹے کو کھانا پروس رہی تھی اور خود اسے بعد میں کھانا تھا۔۔۔یہی اس کا وتیرہ تھا۔۔۔دیپک لال کے من میں کیا چل رہا تھا وہ یہ تو نہی جانتی تھی لیکن اتنا ضرور پتا تھا کہ وہ خدا بخش کو ہی سوچ رہا تھا۔۔۔اب سمے آ گیا تھا کہ اسے خدا بخش سے دور رہنے کی عادت پڑے۔۔۔اسے دمے کا دورہ بھی نہی پڑتا تھا۔۔۔اس کی بیماری کافی سنبھل چکی تھی۔۔۔حالات جو ہو چکے تھے ایسے میں خدا بخش کے سائے سے بھی بچنا لازم تھا۔۔۔اس نے محض اس کے دل میں ڈر بٹھانے کی خاطر شوہر سے پوچھا۔۔۔
اے جی۔۔۔یہ ہمار علاقے ما جتنے بھی مسلمان ہیں او سبھی کا یہاں سے جاون کا ارادہ بن گئیو ہے۔۔۔گھور خوشی ہے ہمار من ما تو۔۔۔پاپ دھل جائیں گے ہمار۔۔۔بس یو یہاں سے جاویں تو ہر طرف شانتی ہو جاوے گی۔۔۔!”
پگلا گئی ہے کے۔۔۔” کرپا شنکر نے سٹیل کے گلاس سے تھال کے آگے انگلیوں پر پانی گراتے ہوئے انہیں صاف کیا اور بیوی کی ناسمجھی پہ اسے گھورتے ہوئے بولا۔۔” پاپ تو تب لاگے گا جب یو سب کے سب یہاں سے جندہ نکل جاویں گے۔۔۔ان راونوں کی قبریں یہیں کھودیں گے۔۔۔یہیں دفنا کے مٹی ڈالیں گے سبھی پہ۔۔۔لیکن پہلے کاٹ چھیل کے ترکاری بناویں گے، اس کے بعد۔۔۔۔!”
وہ ہنسا اور پھر بیوی کی کم عقلی پہ سر مارتا ہوا اپنی لنگی سنبھالتے وہاں سے نکل گیا۔۔۔دیپک لال کا رنگ فق ہو چکا تھا۔۔۔اس کا ہاتھ میں تھاما نوالہ جوں کا توں رہ گیا تھا۔۔۔تو کیا اس کا باپ اسے بھی مار ڈالے گا۔۔۔وہ بھی تو ان کے ساتھ جا رہا تھا لیکن وہ تو پکڑا جائے گا۔۔۔پہچانا جائے گا۔۔۔تو کیا وہ پاکستان نہی جا پائے گا۔۔۔پر سب سے پہلے ضروری تھا سب کو خطرے سے خبردار کرنا۔۔۔وہ اسی ادھیڑ بن میں نوالہ ہاتھ میں لیے بیٹھا تھا جب اس کی ماں نے اسے ٹوک دیا۔۔۔
دیپو کے سوچ رہا ہے۔۔۔کدھررہتا ہے تھارا دھیان۔۔۔جب دیکھو تھے گم صم سا سب کو تکتا رہتا ہے۔۔۔کیا مائی کو نہی بتاوے گا کہ کائں سوچتا رہتا ہے۔۔۔تھے خدا بخس کے جانے سے اداس ہے نا۔۔۔دیکھ دیپو تھارے کو اچھے اچھے دوست مل جاویں گے۔۔۔برہمن ہندو۔۔۔اونچی جاتی کے۔۔۔تھے اوس خدا بخس کا دھیان من سے نکال کیوں ناہی دیتا۔۔۔تجھے شوبھا نہی دیتا کسی نیچ جات کو من ما جگہ دے کر اسے میلا کرے۔۔۔چل ساباس۔۔۔کھانا کھا اور سونے جا۔۔۔تھاری موسی بھی آن والی ہے تین دن تک۔۔۔او آ جائے گی تو تھارا بھی دل لگ جائے گا۔۔۔!”
وہ کچھ پل دکھ سے ماں کو دیکھتا رہا۔۔۔اسے اگر یہاں سے جانے کا دکھ تھا تو محض اپنی ماں کی وجہ سے۔۔۔وہ اسے یادآتی اوربے حد آتی لیکن جب وہ اللہ کے بارے میں سوچتا تو جیسے ہر جذبہ بھربھرا جاتا۔۔۔مٹی بن جاتا۔۔۔ اس کی ماں اور بھی کچھ بول رہی تھی لیکن دیپک لال کا دھیان ہی نہی تھا۔۔۔وہ اب بس ہجرت کی سوچ رہا تھا۔۔۔دھیان اسی کے گرد گردش کررہا تھا۔۔۔یہان سے نکلنا تھا اور چلے جانا تھا۔۔۔اسے مسلمان کے طور پر زندگی گزارنی تھی اور یہی اس کا اٹل فیصلہ تھا۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام ڈھلنے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا۔۔۔امام جی اور حکیم برکت اللہ اس وقت خدا بخش کے چھوٹے سے مٹی کے مکان کے صھن میں بیٹھے تھے۔۔۔چند اور بزرگ بھی وہیں موجود تھے جو قریب ہی رہنے والے مسلمان گھرانوں کے سربراہان تھے۔۔۔چار چارپائیاں چوکورانداز میں پڑی تھیں اور ان پروہ سب بیٹھے حالات کی سنگینی پربحث کررہے تھے۔۔۔آوازیں نیچی تھیں لیکن اتنی نہی کہ قریب کھیلتے خدابخش اور دیپک لال کے کانوں تک نا پہنچ پاتیں۔۔۔کچھ ہی فاصلے پر وہ دونوں کچے فرش پر آڑی ترچھے ڈبے بنا کے گوٹیاں کھیل رہے تھے۔۔۔دیپک لال کچھ ہی دیرمیں حویلی واپس جانے والا تھا جدھر سے وہ پنڈت جی کے بیٹے کے ساتھ کھیلنے کا بہانہ کر کے سیدھا یہاں آگیا تھا۔۔۔خدا بخش اور اس کے باپ کو ساری بات بتانے کے بعد امام جی کو بلایا گیا اور پھرکچھ ہی دیرمیں معتبر افراد یہیں اکھٹے ہو گئے اور حتمی فیصلے کے بعد اب یہ محفل برخاست ہوتی۔۔۔تبھی خدا بخش کے ہمسائے میں رہنے والے اکرم اللہ کی نگاہ دیپک لال پہ ٹھہرگئ۔۔۔وہ چند پل اسے جانچتی نگاہوں سے دیکھتے رہے اور پھر بولے تو آواز بے ھد دھیمی تھی۔۔۔
عنایت۔۔!تھارے کو یقین ہے نا کہ یو چھورا جھوٹ ناہی بولت ہے۔۔۔یو نا ہو کہ ہم سب کا مروائی دے۔۔۔ہے تو ہندو کا چھورا نا۔۔۔اس کا، کا اعتبار۔۔۔!” انہوں نے خدا بخش کے باپ کو مخاطب کیا تھا لیکن دیکھا سب کی جانب تھا۔۔۔امام جی نے پہلو بدلا اور قدرے توقف سے سوچ سوچ کر بولے۔۔۔
فکر ناہی کرو اکرام اللہ۔۔۔دیپک لال دل کا بوہت صاف ہے۔۔۔او ہمار سب سے محبت کرتا ہے۔۔۔کبھی بھی ہمرا نقصان نہی کرے گا۔۔۔جو تو خبر اس کی لائی ہووے تو کھری ہووے۔۔۔اور اب ہم سب کو یہاں سے راتوں رات نکلن کی کرنی ہے۔۔۔اس سے پہلے کہ بلوائی سب خون ماریں۔۔۔!”
برکت اللہ حکیم نے بھی امام جی کی بات کی فوری تائید کی تھی۔۔۔وہ دیپک لال کی خدا بخش سے محبت کے چشم دید گواہ تھے۔۔۔امام جی چاہتے تو انہیں بتا سکتے تھے کہ یہ بچہ مسلمان ہو چکا ہے لیکن ان کو موقع نہی مل پایا تھا۔۔۔پر اب یہ لازم ہو گیا تھا کہ کسی نا کسی طرح سفر کے دوران سب کو بتانا ہو گا کیونکہ دیپک لال کو ساتھ لے جانے کی ذمہ داری انہوں نے بھی لی تھی۔۔۔!
خدا بخش اور دیپک گھر سے باہر نکل گئے تھے اور اب دیپک دبی اواز میں اس سے کہہ رہا تھا۔۔۔
بخسو۔۔۔کل ما اپنی پوٹلی تھارے مکان میں چھپا دوں گا۔۔۔تھے اس کا دھیان رکھیو کہ کسی کے ہاتھ نا لاگے۔۔۔گھرما تو مائی ہر وقت مارے کمرے کے چکر کاٹت ہے۔۔۔جو تو پوٹلی پکڑی گئ تو بہت گڑبڑ ہو جاوے گی بخسو۔۔۔!”
تھے فکر متی کر احمد۔۔۔تھے ماری جمے داری ہووے ہے۔۔۔تھاری حفاجت جان سے بڑھ کر کروں گا۔۔۔!” خدا بخش نے اس کے ہاتھ تھام کے عقیدت سے کہا تھا۔۔۔وہ اس سے متاثر تھا۔۔۔اس کی ہمت اور لگن اسے رشک میں مبتلا کرتے تھے۔۔۔جب سے وہ مسلمان ہوا تھا اس سے محبت میں اضافہ ہو گیا تھا۔۔۔وہ اور اس کے گھر والے اور امام جی جانتے تھے بس کہ دیپک لال ان کے ساتھ پاکستان جانے والا ہے۔۔۔امام جی نے سختی سے منع کیا تھا کہ اس بارے میں کسی کو بھنک بھی نا پڑے ورنہ سب مارے جائیں گے۔۔۔وہ سب اب چپ چاپ ہجرت کی تیاریوں میں تھے۔۔جس دن معتبر حضرات کی جانب سے عندیہ مل جاتا سب نکل لیتے۔۔۔!
مسلمانوں نے اپنے اپنے گھروں میں ہتھیار اکھٹے کر رکھے تھے تا کہ بلوائ ئی شب خون ماریں تو ان کا مقابلہ کیا جا سکے۔۔۔روز دن میں تین چار بار سب کسی نا کسی کے گھر اکھٹے ہوتے اور نکلنے کی ترکیب طے کی جاتی۔۔۔حویلی میں دیپک لال حالات حاضرہ پر نگاہ رکھے ہوئے تھا اورمقدور بھر اطلاع بہم پہنچا دیتا۔۔۔کرپا شنکر الگ کھٹک رہا تھا۔۔۔ایک مخصوص سے خامشی نے جیسے سارے علاقے کو گھیررکھا تھا یوں جیسےدیگ کو دم آیا ہوا تھا۔۔۔حویلی میں مشٹنڈے غنڈے جمع ہوتے تھے اور کرپانیں ،برچھیاں ،تلواریں تیز کی جاتی تھیں۔۔۔کوئی دم جاتا تھا کہ ہلا بول دیا جاتا۔۔۔رکاوٹ تھی تو یہ کہ ہندوستانی فوجی گشت پر تھے اور فساد سےبچنے کے لیے ممکنہ حد تک ہجرت کرنے والوں کی مدد بھی کر رہےتھے۔۔۔جیسے ہی ان کا گشت ختم ہوتا یہاں مسلمانوں کا صفایاشروع ہو جاتا۔۔۔دوسری طرف اسی موقعے کا فائدہ مسلمان اٹھانا چاہ رہے تھے۔۔۔وہ فوجی جوانوں کی یہاں موجودگی کے دوران نکل لینا چاہتے تھے اور طے یہ پایا تھا کہ اگلی رات یہاں سے تین ٹولیوں کی شکل میں قافلہ نکلے گا۔۔۔پہلی ٹولی میں بوڑھے مرد، عورتیں اور شیر خوار بچے ہوں گے جن کے ہمراہ آٹھ سے دس جوان مردوں کا حفاظتی ٹولا ہو گا۔۔۔ان سے کم از کم دو کلومیٹر کے فاصلے پر دوسری ٹولی ہو گی جس میں جوان عورتیں اورلڑکیاں ہندو عورتوں کا لباس پہنے ہوں گی تاکہ پہچانی نا جائیں۔۔۔ان کے ہمراہ چھوٹے بڑےبچے اور ایک حفاظتی ٹولا۔۔۔سب سےپیچھے باقی تمام مرد حضرات ہتھیاروں کے ساتھ چلیں گے اور حفاظت کی غرض سے سب سے پیچھے رہیں گے۔۔۔سب کچھ طے ہو جانےکے بعد مسئلہ دیپک لال کا تھا کہ وہ حویلی سے کیسے نکلے۔۔۔اس کے لیے حکیم برکت اللہ کام آئے۔۔۔دیپک لال کو دمے کا دورہ پڑا تھا اور وہ سرخ قندھاری انار بنا ہانپ رہا تھا۔۔۔سانس نا باہر آتا تھا نا اندر جاتا تھا۔۔۔اس کی ماں کی بدھی شل ہو گئ اور اس نے بنا کرپا شنکر سے پوچھے حکیم برکت اللہ کو بلوا بھیجا۔۔۔حکیم صاحب پہنچے اور دیپک لال کا معائنہ کرنے کے بعد صاف کہہ دیا کہ بچے کو ان کے مطب چھوڑ دیں رات بھر کو ورنہ جان کی بازی ہار جائے گا۔۔۔وہاں ان کے پاس ایسی جڑی بوٹیاں ہیں جن کو سنگھا کے اورپلا کے وہ اسے بھلا چنگا کر دیں گے لیکن سبھی کچھ حویلی لانا ممکن نہی۔۔۔دیپک کی ماں وہموں کی ستائی ہوئی فورا تیار ہو گئ۔۔۔کرپا شنکر کی سواری حویلی کا پھاٹک عبور کرتی اندر آ کر رکی تو حکیم برکت اللہ ، دیپک لال کو پالکی میں ڈالے مطب لےجا رہے تھے۔۔۔کرپا شنکر غضبناک ہوتے ہوئے دھاڑا تو دیپک کی ماں اس کے پیروں میں آ گری۔۔۔بیٹے کی جان کے واسطے ڈالے اور حکیم برکت اللہ کی مجبوری کا بتایا۔۔۔کرپا شنکر نے پالکی میں جھانک کے بیٹے کی حالت دیکھی تو وہ جل بن مچھلی بنا تڑپ رہا تھا۔۔۔رنگت مٹیالی سے جامنی ہونے چلی تھی۔۔۔خود بھی مجبورا ساتھ ہی مطب روانہ ہوا اور سوچا رات بھر وہیں رہے گا۔۔۔حکیم برکت اللہ اس کے ٹھہرنے سے پریشان ضرور تھے لیکن اللہ پہ بھروسہ کیے اسے بستر پر لٹائے علاج کی ترکیبیں لڑاتے رہے۔۔۔کرپا شنکر کا دماغ اس فساد کی جانب ااٹکا تھا جو بس کل پو پھٹتے ہی برپا ہونے کو تھا۔۔۔خون کی ہولی کھیلی جانی تھی اورآسمان مسلمانوں کے خون سے رنگ دیا جانا تھا۔۔۔ایک ملازم دوڑتا ہوا آیا اور آکرکرپا شنکر کے کان میں پھسپھسایا۔۔۔کرپا شنکر کے ماتھے پہ تیوریاں پڑیں اور چیں بہ چیں ہوتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
حکیم جی ہم کا ایک جروری کام آئی گیا ہے۔۔۔جانا پڑے گا۔۔۔تھارے مطب پہ رام داس کو بٹھا کے جا رہا۔۔جیسے ہی ہمار چھورا ٹھیک ہو جائے اطلاع دے دیجیو۔۔۔پو پھٹن سے پہلو ہمار چھورا حویلی پہنچ جانا چاہیے۔۔۔!”
کڑک اور رعب کرپا شنکر کے لہجے سے عیاں تھا جیسےاسے معلوم تھا کہ اب نا عزت کرنے کی حاجت تھی نا مروت نبھانے کی ضرورت۔۔۔ایک رات تھی سب کے پاس اور قصہ کہانی ختم۔۔۔! ہندو راکشسوں نے تباہی رقم کر رکھی تھی اس پہ عمل ہونا باقی تھا۔۔۔ جیسے ہی کرپا شنکر وہاں سے نکلا دیپک لال بھلا چنگا اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔حکیم برکت اللہ اسے اور وہ حکیم برکت اللہ کو افسردگی سے دیکھنے لگے۔۔۔
تھے فکر ناہی کر احمد۔۔۔تھارے کو نکال لیں گے یہاں سے۔۔۔اللہ سبب بنان والا ہے۔۔۔اب تھے مسلمان ہووے اور مسلمان مصیبت سے گھبراوت ناہی۔۔۔!”
ما گھبراتا نہی حکیم جی۔۔۔ہمار جان اور مال سب حاجر ہے دین کا واسطے۔۔۔امام جی کی باتیں احمد بھولا نہی کہ مسلمان کا جان اور مال دین کی خدمت واسطے ہوتا ہے۔۔۔!”
اور حکیم برکت اللہ نے بے حد فخر سے اسے دیکھا تھا۔۔۔وہ نو سال کا بچہ بہت سے بڑوں سے زیادہ بڑا تھا۔۔بہت سے عقل والوں سے زیادہ شعور رکھتا تھا۔۔۔لیکن اندر ہی اندر انہیں اس کی فکر کھائ ے جا رہی تھی۔۔۔یہان سے دیپک لال کا نکل کر پاکستان پہنچنا بظاہر ناممکن دکھتا تھا کیونکہ اس کا پہچانے جانا بے حد آسان تھا۔۔۔حویلی سے نکال کر یہاں تک تو لے آئے تھے یہاں سے قافلے میں شامل کرنا خاصا دشوار تھا۔۔۔آج رات مسلمانوں کا ہجرت کرنا طے ہوا تھا۔۔۔حالات اس قدر پیچیدہ اور سنگین تھے کہ اب کوئی پل خطرے سے خالی نہی تھا۔۔۔باہرہر طرف ہندوؤں اور سکھوں کے ہرکارے پھر رہے تھے۔۔۔کرپا شنکر جاتے جاتے دو بندے مطب کے باہر بھی بٹھا گیا تھا۔۔۔حکیم برکت اللہ کے مطب کے پچھلی جانب ایک بند دروازہ تھا جو ہمیشہ بند رہنے کی وجہ سے کبھی کسی کی نگاہوں میں نہی آیا تھا لیکن آج رات انہیں اس کی ضرورت پڑنے والی تھی۔۔۔پر اس سے پہلے انہیں دیپک لال کے لیے کسی مسلمان بچے کے لباس کا انتظام کرنا تھا۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کرپا شنکر کی حویلی میں اس سمے وحشت چکرا رہی تھی۔۔۔باڑے سے متصل بڑے گودام کے باہری صحن میں دہشت ناک چہرے لیے ہندو اور سکھ بلوائی موجود تھے۔۔۔ خون بہانےکو بیتاب۔۔۔چیرنے، کاٹنے کو بی قرار سب کے سب اس وقت جنگل سے ائے درندے دکھائی دے رہے تھے۔۔۔بڑی بڑ ی مشعلوں کے بیچ میں دائرے کی شکل میں بیٹھے یہ سب مسلمانوں پہ دھاوا بولنے والے تھے۔۔۔اندر کی خبریں یہاں بھی پہنچ رہی تھیں کہ مسلمان رات میں ہی یہاں سے کوچ کرنے والے ہیں۔۔۔اب مزید انتظار کرنا بیوقوفی ہوتی۔۔۔ایک بھی مسلمان زندہ نکل جاتا تو قلق کبھی ختم نا ہوتا۔۔۔کب سے تو ان کا خون بہانے کی حسرت دلوں میں پنپ رہی تھی جسے دبا رکھا تھا۔۔۔بہلا رکھا تھا۔۔۔وہ حسرت نکالنے کا دن آن پہنچا تھا۔۔۔
دیکھو بھائی لوگو۔۔۔۔” کرپا شنکر کی سرسراتی آواز سب کے کانوں میں پڑی۔۔۔” آج کی رات ہمار جندگی کی بوہت اہم رات ہے۔۔۔آج ہم بلی چڑھاویں گے ان مسلمانوں کی اپنے بھگوان کے چرنوں ما۔۔۔ایک بھی یہاں سے بچ کے نکل گیو تو ساری عمر ہم خود کا معاف نہی کر سکت ہیں۔۔۔دیکھ نتھو تھے بات سن ہمری۔۔۔” اس نے نتھو رام کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔” کل تھارے کو مسلمان عورتوں اوربچوں کو گھیر کے جندہ مندر کے پچھواڑے کھوئی کے پاس لانا ہے۔۔۔باقی تھارے کو چرن داس سمجھا دیوے گا۔۔۔پریو موقع جائع متی کیجو۔۔۔مردوں کو کاٹ دینا۔۔عورتیں اور بچے کھوئی کے پاس لے آنا۔۔۔عورتوں میں سے جو تو تھارے کو پسند آوے اسے دھر لیجو باقیوں کو نرک میں بھیج دیجو۔۔۔سمجھ گئو نا تھے۔۔۔!”
اور نتھو رام نے اپنی منڈی اس زور سے ہلائی کے بالوں کے اوپربنی چھوٹی سی چٹیا ہلتی کتے کی دم جیسی لگی۔۔۔مزید کچھ وقت یہ میٹنگ جاری رہی تھی اور پھر تمام بلوائی اپنی لنگیاں کھیسے کس کے باہر نکل لیے تھے۔۔۔رات کے اندھیروں میں مشعلوں کی روشنی میں چمکتی تلواریں اور کرپانیں دیکھ کے کسی کا بھی دل دہل جاتا۔۔۔!
ہونی ہو کر رہتی ہے اور کرنی کرموں کا حصہ بن کے جان چھوڑتی ہے۔۔۔حکیم برکت اللہ پچھلے دروازے سے جا کر کسی بچے کا جوڑا پکڑ لائے تھے۔۔۔دیپک لال بھی لنگی باندھتا تھا اور یہ اس علاقے کے برہمن بچوں کی پہچان تھی۔۔۔باقی جاتی کے بچے ایسا لباس زیب تن نہی کرتے تھے اس لیے دیپک کا لباس بدلنا از حد ضروری تھا۔۔۔حکیم برکت اللہ نے اسے شلوار قمیض پہنا کرہاتھ میں کڑا ڈالا۔۔۔کرپان اس کی کمر سے باندھی۔۔۔سر کے بالوں کو سمیٹ کے چھوٹی سی سکھوں سے مشابہ پگڑی پہنا دی۔۔۔آنکھوں میں سرمے کی موٹی موٹی سلائیاں پھیر کے اس کی شکل کو مقدوربھر تبدیل کرنے کی کوشش میں کافی کامیاب ہو گئے تھے۔۔۔اب یہاں سے نکلنا تھا۔۔۔حکیم برکت اللہ باہر آئے تو وہاں کرپا شنکر کے ہرکارے بیٹھے اونگھ رہے تھے۔۔۔حکیم صاحب نے ان میں سے ایک کو جھنجھوڑا اور کرپا شنکر کو بلا کر لانے کا کہا۔۔۔دوسرے کو کاغذ پہ دو لفظ گھسیٹ کے دیے اور کہا کہ پنساری کی دکان کھلوا کے یہ دوائیں لا دے ، دیپک لال کےلیے لازمی ابھی چاہیئں۔۔۔ان دونوں کے جانے کے بعد حکیم برکت اللہ نے اندر کا رٓخ کیا اور مطب کے ساتھ ملحقہ رہائشی حصے سے گھر کے افراد کو نکالا اور اس مقام پہ روانہ کیا جہاں سبھی مسلمانوں کو قافلے کی صورت جمع ہونا تھا۔۔۔کرپا شنکر کے آدمیوں کے بیٹھے ہوئے یہ ممکن ہی نا تھا اور سبھی لوگ پچھلے دروازے سے نکلتے تو کھڑاک سے لازمی تھا کہ کرپا شنکر کے آدمی کھٹک جاتے۔۔۔ ایک ہاتھ میں لالٹین تھامے اور دوسرے میں دیپک لال کا ہاتھ، حکیم برکت اللہ رب کا نام لے کر پچھلے دروازے سے نکل کھڑے ہوئے۔۔۔پلٹ کے آخری افسردہ نگاہ اپنے مطب پہ ڈالی جہاں وہ مسیں بھیگنے سے پہلے کے اپنے والد کے ہمراہ بیٹھا کرتے تھے۔۔۔باپ دادا سب یہیں مرے اور دفن ہوئے تھے۔۔۔اب باقی بچی نسل کو بچانے اپنے آباؤ اجداد کا وطن چھوڑ رہے تھے۔۔۔جتنی جلدی ہو سکتا تھا وہ قافلے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔۔۔یہ ایک ریتلا میدان تھا جہاں سے شمال کی طرف سفر شروع کرتے تو بائیس کلومیٹر کے فاصلے پر پٹری گزرتی تھی۔۔۔وہاں سے سبھی کو ٹرین پہ سوار ہونا تھا۔۔حکیم برکت اللہ نے قافلے پہ نگاہ ڈالی آٹھ بیل گاڑیوں والا قافلہ کوچ کرنے کو تیار تھا۔۔۔اپنے بچے اور اہلیہ دیکھ کے سکون کا سانس لیا۔۔۔لگ بھگ ڈیڑھ سو بندہ تھا جسے ہجرت کی صعوبت سہنا تھی۔۔۔طے یہ پایا کہ عورتوں اور بچوں کو الگ کیا جائے اور انہیں اگلے اور پچھلے ٹولے کے درمیان رکھا جائے۔۔۔انہی عورتوں میں سے زیادہ تر نے مصلحتا ہندو اور سکھ عورتوں جیسا حلیہ بنا رکھا تھا تاکہ پہچانی نا جائیں۔۔۔یہ ٹولہ سولہ عورتوں اور تیرہ بچوں پہ مشتمل تھا۔۔۔جو سب بآسانی دو بیل گاڑیوں میں پورے آ گئے تھے۔۔۔۔باقی عورتیں اور جوان بچیاں دوسرے دو ٹولوں میں سمائی گئ تھیں۔۔۔خدا بخش اور دیپک لال اسی ٹولے کے ہمراہ تھے۔۔۔جبکہ خدا بخش کی ماں اوربہنیں دوسرے ٹولوں میں تھیں۔۔۔یہاں البتہ اس کی چاچی اور ان کی دو لڑکیاں موجود تھیں۔۔۔آٹھ تنومند مردوں کی سربراہی میں یہ چل پڑے تھے، جن کے ہاتھوں میں ہاتھ لگے ہتھیار تھے۔۔۔۔حکیم برکت اللہ بھی ہمراہ تھے کیونکہ ان کی اہلیہ اور بیٹی بھی یہیں تھیں۔۔۔سبھی اللہ کا نام لے کر نکل کھڑے ہوئے تھے۔۔۔رات ابھی گہری نہی ہوئی تھی اور رفتار کو اتنا تیز ضروررکھنا تھا کہ تہجد سے پہلے سب اس پٹری تک پہنچ جائیں۔۔۔تین بیل گاڑیاں سب سے اگلے ٹولے کے ساتھ موجودتھیں جن میں تمام مسافروں کا سامان رکھا گیا تھا اور وہ افراد جو چل نہی سکتے تھے انہیں سوار کیا گیا تھا۔۔۔مشعلیں اور لالٹینیں مصلحتا بجھا دی گئ تھیں تاکہ کسی کی نگاہوں میں نا آیا جائے لیکن سب بھول بیٹھے تھے کہ درندے کئ دن سے تاک لگائے ہوئے تھے۔۔۔شکار کی بٓو سونگھتے پھر رہے تھے۔۔۔سب چل پڑے تھے ہاتھوں میں تسبیحیں پکڑے اور زبان پہ اللہ کا ذکر کرتے۔۔۔موت کا خوف ان کے ہمقدم تھا۔۔۔کچھ بھی، کبھی بھی ہو سکتا تھا۔۔۔راجھستان کی ریت ان کے قدموں کے نشان اپنے سینے پہ ثبت کیے آخری الوداعی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔صحراؤں میں قدموں کی رفتار ہوا سے سست ہوا کرتی ہے اور ہوا نے شکار کی بٓو فضا میں پھیلا دی تھی۔۔۔خود رو جھاڑیاں یہاں قد آدم سے نکلتی ہر سو پھیلی تھیں۔۔۔ظالم کانٹے دار جھاڑیاں۔۔۔پناہ گاہ جھاڑیاں جن کے پیچھے قہر چھپا تھا۔۔۔ہو کا عالم تھا اور پورے چاند کی روشنی میں دور دورتک صحرا کی ریت چمک کر ہیولوں کی شکل میں تبدیل ہوتی دل دہلا رہی تھی۔۔۔اگلا ٹولہ سفر طے کرتا اس جگہ سے آگے نکل گیا تھا جہاں خاص بس عورتوں اور بچوں کی گھات لگائے مشٹنڈے چھپے بیٹھے تھے۔۔۔حکیم برکت اللہ کی اہلیہ کو پریشانی اور خوف میں متلی کا مسئلہ رہا کرتا تھا۔۔۔ان کی طبیعت بگڑنے لگی تو حکیم برکت اللہ نے اپنا دوا دارو کا بکسا کھوجا۔۔۔بیل گاڑی پہ کافی سامان تھا لیکن ان کی دوائیوں کا بکسا موجود نہی تھا۔۔۔۔دونوں بیل گاڑیاں دیکھنے کے بعد۔حکیم برکت اللہ کو یقین ہو گیا کہ ان کا بکسا پیچھے آنے والی بیل گاڑی میں رکھا گیا تھا۔۔۔چارو ناچار اہلیہ کی بگڑتی حالت کے پیش نظر انہوں نے پیچھے جانے کا قصد کیا۔۔۔معاملہ بے حد خطرناک تھا۔۔۔خطرہ مول لینے والی بات تھی لیکن مجبوری تھی۔۔خدا بخش نے ساتھ جانے کا عندیہ دیا تو حکیم برکت اللہ سوچ میں پڑ گئے۔۔۔کسی جوان مرد کو ساتھ لیتے تو یہاں کمی ہو جاتی جو کہ مناسب نہی تھی۔۔۔وہ خود تو چھپتے چھپاتے جا کر واپس آ سکتے تھے اس لیے یہی بہتر لگا کہ خدا بخش کو ساتھ لیں اور بکسا لے آئیں۔۔۔دیپک لال کا دل گھبرا گیا۔۔۔وہ بھی ساتھ جانے پہ بضد ہوا جسے حکیم برکت اللہ نے حد محبت اور نرمی سے باز رکھا۔۔۔اس کی پہچان چھپانے کے لیے کافی قصد کیا گیا تھا۔۔۔بہت مشکل سے قافلے میں شامل ہوا تھا۔۔۔اگر وہ نگاہوں کی زد میں آجاتا تو معاملہ بے حد گھمبیر ہو جاتا۔۔۔خدا بخش کی چچی نے دیپک لال کو سینے سے لگا کے تسلی دی اور اپنے ساتھ بٹھا لیا۔۔۔۔خدا بخش نے دیپک لال کو دیکھا تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ اسے حکیم برکت اللہ کے ساتھ نہی جانا چاہیے تھا۔۔۔دیپک لال کو اس کے ہونے کا آسرا تھا اور اس کے بعد وہ حکیم برکت اللہ کو جانتا تھا۔۔۔وہ دونوں کچھ دیر کے لیے بھی نگاہوں سے اوجھل ہوتے تو اس کا گھبرانا ناگزیر تھا۔۔۔لیکن اب یہ ہوچکا تھا اور حکیم برکت اللہ اس کی بانہہ تھامے ہوئے نکلنے کو تھے۔۔۔خدا بخش نے ڈوبتے دل سے دیپک لال کو دیکھا جو بیل گاڑی پہ ٹانگیں لٹکائے سکڑا سمٹا سا اسے ڈبڈبائی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔خدا بخش نے اسے آنکھوں ہی آنکھوں میں تسلی دی اور حکیم برکت اللہ کے ساتھ چل پڑا۔۔۔وہ پلٹ پلٹ کے دیپک لال کو دیکھتا تھا۔۔۔کوئی بے چینی تھی جو انگ انگ کو نوچ رہی تھی۔۔۔یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ دیپک سے ہمیشہ کے لیے دور ہو رہا ہو۔۔۔وہ ابہام کو جھٹکتا تیز تیز قدم اٹھاتا جا رہا تھا۔۔۔اسے جلد سے جلد واپس دیپک لال کے پاس لوٹنا تھا۔۔۔فرلانگ یا اس سے کچھ آگے ہاں بس اتنا ہی فاصلہ پٹا ہو گا ابھی جب حکیم برکت اللہ اور خدا بخش کے کانوں نے قیامت کا شور سنا۔۔۔حکیم برکت اللہ نے پل بھر کی دیر کیے بنا خدا بخش کو اور خود کو ریت پہ لٹا لیا تھا۔۔۔سمجھ نہی آتا تھا آسمان پھٹ پڑا تھا یا زمین نے کھال اتار دی تھی۔۔۔بلوائیوں کی للکاریں اور برچھیوں کرپانوں کی چمکیں مارتی دھاریں فضا میں بلند ہو کر سب کے کلیجے چیر رہی تھیں۔۔۔حکیم برکت اللہ نے اندازہ لگایا کہ آیا یہ آوازیں ان کی پشت سے ابھریں تھیں یا سامنے سے اور جیسے ہی اندازے پہ یقین کی مہر ثبت ہوئی وہ خدابخش کا ہاتھ تھام کے الٹے قدموں واپس بھاگے۔۔۔خدا بخش ” دیپو۔۔۔میرا یار دیپو۔۔۔” کی صدائیں بلند کرتا بانہہ چھڑانا چاہتا تھا لیکن حکیم برکت اللہ نے ایسا ناممکن بنا دیا۔۔۔وہ قریب پہنچ کے صورتحال کا جائزہ لینے پر ہی کوئی قدم اٹھاتے۔۔۔جوں جوں عورتوں اور بچوں پہ مشتمل ٹولا قریب آ رہا تھا ، مشعلوں کی روشنی میں چلنے والی تلواریں نیزے اور کرپانیں دکھائی دینے لگیں۔۔۔جوانوں کا جو گروہ حفاظت پہ معمور تھا وہ اللہ اکبر کے نعرے بلند کرتا ٹوٹ پڑا تھا لیکن اتنی ہی تیزی سے سب کے جگر کٹتے چلے گئے تھے۔۔۔حکیم برکت اللہ بے دم سے فاصلے پر ہی خدا بخش کے منہ پہ ہاتھ جما کے جھاڑ یو ں میں جا چھپے۔۔۔یہاں سے سارا منظر واضح تھا اور اس منظر نے حکیم برکت اللہ کا وجود دھجی کر دیا تھا۔۔۔عورتیں اور بچے ہانکے جانے لگے تھے پرانے مندر کی جانب۔۔۔اور مردوں کے سینے نیزے مار مارکے چھلنی کر دیے گئے تھے تا کہ دیکھنے والوں پہ حالت زار دیکھ کے دہشت بیٹھ سکے۔۔۔حکیم برکت اللہ نے بے بسی سے اپنی اہلیہ اور دس سالہ بیٹی کو دیکھا اور خدا بخش نے خوف سے سہما اور پھٹی آنکھوں والا دیپک لال دیکھا۔۔۔جو ابھی بھی پلٹ پلٹ کے متلاشی نگاہوں سے اس جانب دیکھ رہا تھا جہاں خدا بخش، حکیم برکت اللہ کے ہمراہ گئے تھے۔۔۔وہ کیا جانتا کہ خدا بخش بہتے آنسوؤں سے وہیں چھپا اسے تکتا تھا اور بال نوچتا تھا۔۔۔بلوائی سبھی عورتوں اور بچوں کو جس سمت لے چلے تھے پیچھے پیچھے فاصلہ رکھتے اور چھپتے چھپاتے حکیم برکت اللہ بھی ہو لیے۔۔۔خدا بخش کو انہوں نے سختی سے منہ بند رکھنے کا کہا تھا اس بات کا لالچ دے کر کہ اگر وہ دیپک لال کو بچانا چاہتا ہے تو چوکس رہے اور آواز نا کرے۔۔۔خدا بخش کے لیے اولین چاہ یہی تھی اس وقت۔۔۔وہ اپنی جان کی قیمت پہ دیپک کو بچاتا اور کر بھی گزرتا جو حکیم برکت اللہ کی آہنی گرفت میں نا ہوتا۔۔۔نیزوں اور برچھیوں کی نوکیں چھبو چبھو کر تمام عورتوں اور بچوں کو پرانے مندر کےپچھواڑے لے جایا گیا۔۔۔وہی پرانی کھوئی دیکھ کے دیپک لال کو لگا جیسے وہ اور خدا بخش کھیلتے ہوئے وہیں بھاگ دوڑ رہے ہیں۔۔۔منظر نگاہوں میں ابھرتا اور معدوم ہو رہا تھا۔۔۔خدا بخش اسے پکارتا اس کے پیچھے بھاگ رہا تھا۔۔۔وہ خدا بخش کے کنچوں والی گڑوی لیے آگے آگے تھا۔۔۔خدا بخش کھوئی کی منڈیرپہ بیٹھا تھا اور وہ خود اس کے پاس کھڑا تھا اور خدا بخش کے زور دینے پہ بھی منڈیر پہ نہی بیٹھتا کیونکہ وہ خوفزدہ ہوتا تھا کھوئی کے اندر جھانکننے سے۔۔۔اسے لگتا تھا جیسے اندر سانپ ہیں بچھو ہیں جو لپک لپک کے دیواروں پہ چڑھتے ہیں۔۔۔کبھی جھانکتا تو سوچتا کہ کیا ہو جو وہ اندر گر جائے۔۔۔کیا ہو جو اسے کوئی دھکا دے دے۔۔۔اور پھروہ جھرجھرا کے پرے ہو جاتا۔۔۔خدا بخش اس پہ ہنسا کرتا تھا۔۔۔ابھی بھی اس کے کانوں میں خدا بخش کی ہنسی گونجی تو اپنے ہونٹ بھی مسکرا اٹھے۔۔۔یکدم پیچھے سے کوئی تیز دھار انی سی چبھی تو وہ تکلیف کی شدت سے بلبلا اٹھا۔۔۔کسی درندہ صفت نے اسے نیزے کی نوک چبھوئی تھی آگے دھکیلنے کے لیے۔۔۔اس پل دیپک لال کو اپنی مائی کی یادبہت شدت سے آئی۔۔۔وہ اسے کانٹا بھی چبھنے نہی دیتی تھی۔۔۔ماں تھی نا تو پیارتو بے حد تھا۔۔۔اس کی تکلیف پہ روہانسی ہو جانے والی وہ اکیلی عورت تھی۔۔۔دیپک لال کو امام جی کا بتایا سبق یاد آیا۔۔۔
اللہ ہمار ساتھ ستر ماؤں سے جیادہ پیار کرت ہے۔۔۔جب جب ہم کا تکلیف پہنچتی ہے تب تب وہ مسلمان کو اجر دیتا ہے۔۔۔” دیپک لال نے زیر لب ” اللہ اللہ ” کا ورد شروع کر دیا۔۔۔۔یوں جیسے گھٹن میں ایک درز سی کھل گئ تھی۔۔۔اس کا من سکون سے بھر گیا۔۔۔وہ ابھی ہانکے جا رہے تھے کھوئی کی جانب اور اس کی زبان باآواز بلند رب کو پکارنے لگی تھی۔۔۔مشعلوں کے گھیرے میں وہ سب عورتیں اور بچے یوں کھڑے تھے جیسے خونی درندوں کے نرغے میں بھیڑ بکریاں۔۔۔۔!
کچھ فاصلے پہ مندرکی فصیل کی جڑ میں اگی بے تحاشا خودرو جھاڑیوں کے پیچھے حکیم برکت اللہ اور خدا بخش آ چھپے تھے۔۔۔دونوں کے رنگ فق تھے اور آنکھیں ضرورت سے زیادہ کھلی ہوئی تھیں جیسے یقین کر رہے ہوں کہ جو منظر دکھ رہا ہے وہ حقیقت ہے یا نہی۔۔۔ھکیم برکت اللہ کسی طرح وہاں تک تو پہنچ گئے تھے لیکن نہتے تھے اور ساتھ میں بچہ بھی تھا۔۔۔عقلمندی اسی میں تھی کہ چھپ کے بیٹھ رہیں شاید کوئی سبب پیدا ہو جائے ان سب کو بچانے کا۔۔۔وہ مقابلہ کر بھی نہی سکتے تھے۔۔۔خدا بخش کے مچلتے پھڑکتے وجود کو بمشکل قابو کر رکھا تھا۔۔۔جو کسی بھی طرح خود کو چھڑا کے دیپک لال کو بچانا چاہتا تھا۔۔۔حکیم برکت اللہ نے اسے گھٹنوں میں دبوچ کے منہ پہ سختی سے ہاتھ رکھ دیا تھا۔۔۔کوئ ی پل جاتا تھا کہ وہ اس کی گردن کی رگ دبا کے بے ہوش کر دیتے تاکہ سامنے کا روح فرسا منظر نا دیکھ سکے جس کا حصہ ان کی اہلیہ اور بچی بھی تھے۔۔. سامنے خبیث بدنوں میں چھپے شیطان عورتوں کی چھانٹی کر رہے تھے۔۔۔جوان اور قدرے صحتمند عورتوں کو الگ کیا جا رہا تھا۔۔۔باقی سب کو کھوئی کے پاس اکھٹاکر رہے تھے۔۔۔بچے بھی انہی کے ساتھ جمع کیے جا رہے تھے۔۔۔فرعونیت عروج پہ تھی اور مسکینیت دم توڑنے کو تھی۔۔۔ایسا دل خراش منظر عکس بند ہونے کو تھا جس کا مرتے دم تک نشان تاریخ ثبت کر لیتی۔۔۔حکیم برکت اللہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔۔۔انہوں نے اپنی اہلیہ اور بچی کو کھوئی کے قریب کھڑا دیکھ لیا تھا۔۔۔زمانہ شناس تھے۔۔۔حاذق حکیم تھے۔۔۔نبض دیکھ کے مرض کی جڑ تک پہنچ جایا کرتے تھے۔۔۔ظالم کے ظلم کا انداز چہروں سے جانچ گئے تھے۔۔۔سب کے ہونٹوں پہ کھیلتی بدنما خبیث مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ یہاں کیسا اندھیر مچنے جا رہا ہے۔۔۔خدا بخش کا مچلنا بند ہو کر اب سکتے میں تبدیل ہو رہا تھا۔۔۔دیپک لال کے زیر لب نکلنے والا اللہ اللہ کا ورد آواز پکڑ رہا تھا۔۔۔اس کی دیکھا دیکھی سبھی نے اللہ کو پکارنا شروع کر دیا تھا۔۔۔یکا یک جیسے صدائیں بلند ہونی شروع ہوئی تھیں اور انہی سداؤں نے بلوائیوں کو بدحواس کر دیا تھا۔۔۔کھوئی کی منڈیر سے سب سے پہلی ادھیڑ عمر عورت اندر پھینک دی گئ تھی۔۔۔ایک فلک شگاف چیخ بلند ہو کر معدوم ہو گئ تھی۔۔۔اتنا بھیانک منظر تھا کہ سبھی چپ ہو گئے۔۔۔دیپک لال سمیت۔۔۔پر اگلے پل اس سے زیادہ حیران کن تھے۔۔۔دیپک لال نے اللہ اکبر کی صدائیں بلند کرنا شروع کیں اور اس کی آواز کے ساتھ آوازیں ملتی چلی گئیں۔۔۔ایک کے بعد ایک عورت کھوئی میں گرتی چلی گئ۔۔۔جب حکیم برکت اللہ کی اہلیہ کی باری آئی تو انہوں نے قریب آتے کافروں کے ہاتھ لگنے سے پہلے ہی بچی کو سینے میں دبوچا اور خود ہی چھلانگ لگا دی۔۔۔حکیم برکت اللہ کے لبوں سے غم کی سسکاری نکل کے پورے جسم میں سرائیت کر گئ۔۔۔خدا بخش کے حواس برف کی طرح جم چکے تھے۔۔۔نگاہیں بس بچوں میں کبھی دکھائی دیتے تو کبھی اوجھل ہو جاتے دیپک لال پہ جمی تھیں اور خود کے ہونٹوں پہ حکیم برکت اللہ کا ہاتھ جما تھا۔۔۔!
بچوں کو باری باری انہی عورتوں کے اوپر کھوئی میں پھینکا جانے لگا تو کھوئی کے اندر سے چیخوں کی بازگشت نے پوری فضا کو دہلا کے رکھ دیا۔۔۔بچے گھور قبر جیسے اندھیرے میں گر رہےتھے اور ظالموں کے قہقہے گونج رہے تھے۔۔۔خدا بخش کے دل سے دعا ہوک بن کے نکلی ” اللہ جی احمد کی جان بچا لئیو۔۔۔”
لیکن مشیت کچھ اور تھی۔۔۔دیپک لال کو بازو سے پکڑ کے کھینچا گیا تو اس کا نعرہ تکبیر اس کی ہمتوں سے زیادہ بلند تھا۔۔۔آواز سب درزیں توڑتی حلق سے نکلی تھی اور آخری تھی۔۔۔دیپک لال کو منہ کے بل کھوئی میں ڈال دیا گیا۔۔۔وہی کھوئی جس کی منڈیر تک آتے اس کا دم نکلتا تھا۔۔۔جس کے اندر جھانکتے اس کے رونگٹے کھڑے ہوتے تھے۔۔۔سانپ بچھؤؤں کا خوف اسے ستایا کرتا تھا۔۔۔آج دیپک لال اس کھوئی کے اندر کھو گیا تھا۔۔۔نتھو رام اور چرن سنگھ ہاتھ پہ ہاتھ مارتے ہنسے تھے۔۔۔۔عورتوں میں سے جو الگ کی گئیں تھیں انہیں چرن سنگھ نیم غشی کے عالم میں دھکیلتا وہاں سےلے جانے لگا تو یکدم ایک جواں سالہ لڑکی پلٹی اور سجھائی دینے سے پہلے بھاگتی ہوئی کھوئی میں کود گئ۔۔۔چرن سنگھ اس کے پیچھے بھاگا لیکن دیرہو گئ تھی۔۔۔وہ طیش کے عالم میں باقیوں پر جھپٹا تھا۔۔۔ایک شور سا برپا تھا ہرطرف۔۔۔نتھو رام نے باقی ساتھیوں کے ساتھ جلدی جلدی درختوں کی ٹہنیاں توڑنی شروع کیں۔۔۔وہ پھرتی سے توڑتے جا رہے تھے اور کھوئی میں پھینکتے جا رہے تھے۔۔۔حتی کہ حتی المقدور پھینک دینے کے بعد نتھو رام نے ایک طرف پڑا کنستر اٹھایا اور اس کے اندرموجودسیال کھوئی میں انڈیلنا شروع کیا۔۔۔حکیم برکت اللہ نے آنکھیں میچ لیں۔۔۔۔یہ منظر ان کی جان نکالنے کو کافی ہوتا۔۔۔جان کنی کی کیفیت تو کب سےچل رہی تھی۔۔۔اپنی اہلیہ اور بچی کی سسکتی بلکتی حالت زار انہیں تڑپا رہی تھی لیکن وہ بے بس تھے۔۔۔کس کس بات کو روتے۔۔۔ان کی اہلیہ حاملہ تھی اور وہ حکیم تھے جانتے تھے کہ کیا بیت گئ ہونی۔۔۔نتھو نے مشعل پکڑی اور جنگلی بھینسے کی طرح بھناتا ہوا آیا اور مشعل کو سوکھی لکڑیوں سے بھری کھوئی کے اوپر پھینک دیا۔۔۔ایک زور دار شور اٹھا تھا۔۔۔لکڑیاں چٹخ چٹخ کے اچھلی تھیں۔۔۔ایک بھانبھڑ اٹھا تھا اور بھڑ بھڑ سب کچھ جلنے لگا تھا۔۔۔انسانی ماس کی بدبو انسانی چیخوں سے مدغم ہونے لگی۔۔۔۔خدا بخش زندہ درگور ہو گیا۔۔۔اس کا یار اس کا ساتھی اس کھوئی میں دفن، زندہ جل رہا تھا۔۔۔یکا یک یہ احساس خدا بخش کے سینے میں بھالے کی مانند اترا کہ دیپک لال کو تو دمہ ہے۔۔۔یہ دھواں تو اس کا دم گھوٹ دے گا۔۔۔وہ کھانس رہا ہو گا۔۔۔اس کا سانولہ چہرہ سرخ ہو چکا ہو گا۔۔۔وہ سینہ مسلتا بے بسی سے ہاتھ مارتا ہو گا۔۔۔اور پھر حکیم برکت اللہ کو اسے بے ہوش کرنے کے لیے نس نہیں دبانی پڑی تھی۔۔۔وہ خود ہی ہوش و خرد سےبیگانہ ہو گیا تھا۔۔۔آخری منظر جو اس کی بصارت اور سماعت محفوظ کرسکی تھی وہ کھوئی سے نکلتی آگ کے شعلوں کی لپٹیں اور اس کی تہہ سے آتا انسانی شور۔۔۔بے تحاشا شور۔۔۔اس کے دیپو کی چیخیں۔۔۔۔اس کا احمد ہجرت کی نذر ہو گیا تھا۔۔۔وہ راہ شوق کا ننھا شہید تھا۔۔۔جو تاقیامت اس کھوئی میں دفن ہو گیا تھا۔۔۔۔۔! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریان کھوئی کی کائی زدہ دیوار سے کمر ٹیکے ، ایک گھٹنا کھڑا کیے اوردوسری ٹانگ اندر کو موڑے بیٹھا تھا۔۔۔آنکھوں سے ایک تواتر سے آنسو بہہ رہے تھے۔۔۔دادا اس سے کچھ فاصلے پہ کھوئی کی دیوار سے بایاں پہلو لپٹائےبیٹھے تھے۔۔۔وہ رو نہی رہے تھے۔۔۔لیکن ان کی آواز میں بلا کی ویرانی تھی جیسے کسی بھرے پرے میلے کو لوٹ لیا گیا ہو۔۔۔نذر آتش کر دیا گیا ہو۔۔۔ان کا وجود خالی خالی سا کھڑکھڑاتے پتے سا کانپ رہا تھا۔۔۔ریان میں ہمت نہی تھی کہ وہ انہیں دلاسہ دیتا۔۔۔ساری عمر دادا کو چپ کی بکل اوڑھے دیکھا تھا۔۔۔کبھی نا ہسنے تھے نا زیادہ بات کرتے تھے۔۔۔مسکراتے تھے تو ایک دکھ ہونٹوں کے کنارے بھگوئے رکھتا تھا۔۔۔وہ نہی جانتا تھا کہ انہیں کیا دکھ ہے۔۔سوچتا تھا مزاج ہی ایسا ہے۔۔۔کبھی کھلنڈرے پن نے کرید ہی نا کرنے دی تھی۔۔۔آج معلوم ہوا وہ تو سراپا غم تھے۔۔۔سننے اور دیکھنے میں جو فرق ہوتا ہے وہی بیتنے اور بتانے میں ہوتا ہے۔۔۔ان پہ بیتی آج انہوں نے بتائی تھی تو اسے پتا چلا کہ وہ اندر سے مردہ ہیں۔۔۔ریان نے گردن موڑ کے انہیں دیکھا جن کی پتھرائی آنکھیں کھوئی کی اینٹوں میں کچھ کھوج رہی تھیں۔۔۔
دادا۔۔۔۔! پھر کیا ہوا۔۔۔آپ کیسے پہنچے پاکستان۔۔۔اور دیپک لال میرا مطلب احمد کا کسی کو پتا نا چلا کہ وہ کرپا شنکر کا بیٹا ہے۔۔۔۔؟”
کرپا شنکر نے اپنا ونش خود سوکھی لکڑی کی طرح جلتے دیکھا تھا۔۔۔اس نے اپنی نسل خود آگ میں جھونکی تھی۔۔۔نظارہ کیسے نا کرتا۔۔۔!”
فضا میں غیر مرئی نقطہ نگاہوں سے تھامتے وہ کچھ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔۔۔ان کی سانس دھونکی کیطرح چل رہی تھی۔۔۔لفظ ٹوٹ کے نکلتے تھے جیسے کوئی ان پہ ضرب لگاتا ہو۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خدا بخش کو جب ہوش آیا تو حکیم برکت اللہ اسے اپنی گود میں دبوچے ہوئے تھے۔۔۔ان کے لگاتار گرتے آنسوؤں نے ہی خدا بخش کو ہوش دلائی تھی۔۔۔جیسے ہی اس نے سراٹھایا تھا حکیم برکت اللہ نے ایک بار پھر اس کے ہونٹوں پہ ہاتھ دھر دیا تھا۔۔۔خدا بخش نے نرمی سے انہیں نگاہوں سے تسلی دی اور ہاتھ ہٹا دیا۔۔۔اس میں اب اتنی سکت تھی کہ وہ بچا کھچا دیکھ پاتا۔۔۔اسی اثنا میں مندر کے پھاٹک پہ شور اٹھا اور کرپا شنکر چند آدمیوں کے ساتھ شور مچاتا چیخ پکار کرتا وہاں آ رہا تھا۔۔۔وہاں پہلے سے موجود بلوائیوں میں ہلچل مچی اور سب الرٹ ہو کے کھڑے ہو گئے۔۔۔کرپا شنکر کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں۔۔۔سانس سے گدھے جیسی آوازیں ا رہی تھیں۔۔۔لنگی کا سرا ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا اور کچھ کچے فرش پہ رٓل رہا تھا۔۔۔وہاں پہنچتے ہی وہ نتھو رام اور اس کے ساتھیوں کے گریبان جھپٹنے لگا۔۔۔
کٹھے ہے مارا دیپو۔۔۔مارا دیپک۔۔۔مارے بتاؤ تھے کائں کیا اوس کے ساتھ۔۔۔۔کٹھے ہے وہ۔۔۔بولو۔۔۔بتاؤ مارے کو۔۔۔۔دیپو۔۔۔۔دیپو۔۔۔۔!”
کرپا شنکر پگلائے بیل کی طرح سب سے پوچھ رہا تھا کہ دیپک لال کہاں ہے۔۔۔وہان موجود سبھی اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔۔۔کسی کو نہی معلوم تھا کہ آخر ہوا کیا۔۔۔ ابھی جشن منانا باقی تھا۔۔۔مسلمان جلا دیے گئے تھے۔۔۔پیٹ والیاں سوکھی لکڑیوں کی طرح کھوئی میں بھسم ہو رہی تھیں۔۔۔بچے، ان کی نسل ساتھ ہی فنا ہو گئ تھی۔۔تو اب یہ کیا نیا تماشا تھا۔۔۔لیکن کرپا شنکر نا کسی کی سن رہا تھا نا دیکھ رہا تھا۔۔۔وہ بس بھاگ بھاگ کے سب سے دیپک لال کا پوچھ رہا تھا۔۔۔تھک کے وہ کھوئی کی جانب بھاگا۔۔۔
دیپووووووووو۔!” ایک دلخراش پکار تھی جو کھوئی کی دیواروں سے ٹکرا کے واپس فضا میں پھیلی تھی۔۔۔
مارا دیپو اس ما ہے۔۔۔کوئی پانی لاؤ۔۔۔۔مارا دیپو۔۔۔مارا دیپو سانس کس طرا لیوے گا۔۔۔۔او مر جاوے گا۔۔۔کوئی بھاگو۔۔۔او نتھو۔۔۔پانی پکڑیو۔۔۔جاؤ۔۔۔۔۔۔۔!” وہ چلا رہا تھا چیخ رہا تھا۔۔۔دکھ، تکلیف، صدمہ ان کی کوئی انتہا تھی تو وہ کرپا شنکر تھی۔۔۔وہ حکیم برکت اللہ تھے اور وہ ننھا خدا بخش تھا۔۔۔۔کرپا شنکر کا ونش ختم ہو گیا تھا۔۔۔حکیم برکت اللہ کا راکھ ہو گیا تھا اور خدا بخش کا سارا وجود خاک ہو گیا تھا۔۔۔وہ کبھی بڑا ہی نا ہو سکا۔۔۔اس کا بچپن صدمہ نگل کے اس کے اندر جم گیا۔۔۔۔دیپک لال کی ہڈیوں کی چٹخن اس کی روح میں ہمیشگی سرائیت کر گئ۔۔۔۔ایک دیپک لال نہی مرا تھا اس سے وابستہ بہت کچھ فنا ہوا تھا۔۔۔!
اس کے بعد وہیں کرپا شنکر پگلا گیا۔۔۔وہ ٹکریں مارتا تھا کھوئی کی منڈیر پہ۔۔۔جب تک اس میں لگی آگ سردنا ہوئی وہ اپنا سرپٹختا رہا تھا۔۔۔چرن سنگھ اور نتھو رام اپنے مالک کی یہ حالت دیکھ کے سکتے میں تھے۔۔۔کسی طرح گھسیٹ کے وہاں سے لے کے گئے تو اب پیچھے کھوئی سے اٹھتا دھواں تھا اور جھاڑیوں کے پیچھے چھپے بیٹھے حکیم برکت اللہ اور خدا بخش تھے۔۔۔دونوں ان سب کے جانے کے بعد بھی کتنی دیر مردوں کی طرح وہیں بیٹھے رہے تھے۔۔۔کافی وقت بعد سٓن قدموں کو گھسیٹتے کھوئی تک پہنچے تو اندر جھانکنے کی ہمت دونوں میں نہی تھی۔۔۔کیا دیکھتے۔۔۔اپنے پیاروں کی جلی ہوئی کوئلہ بنی لاشیں۔۔۔ہڈیوں کی راکھ۔۔۔نوحے اور چیخیں جیسے کھوئی کے درودیوار سے لپٹ گئیں تھیں۔۔۔حکیم برکت اللہ نے سینے میں لمبا سانس بھرا تھا اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے تھے۔۔۔خدا بخش نے بھی میکانکی انداز میں ایسا ہی کیا تھا لیکن اس کے لب ہلنے سے انکاری تھے۔۔۔نگاہیں بس دیپک لال کا تصور دیکھتی تھیں۔۔۔برکت اللہ جیسے تیسے وہاں سے نکل کے قافلے کے ساتھ جا ملے تھے۔۔۔جو اب ایک کیمپ میں مقیم تھے۔۔۔خدا بخش کا سارا خاندان وہاں صحیح سلامت پہنچ گیا تھا لیکن ان میں وہ خود ہی سلامت نہی تھا۔۔۔اس کی روح کھوئی کے پاس رہ گئ تھی اور جسم گھسٹتا ہوا یہاں پہنچا تھا۔۔۔برکت اللہ حکیم اپنے بچے ہوئے اہل وعیال کو بھینچے بچوں کی طرح کرلاتے رہے تھے۔۔۔امام جی کو جب دیپک لال یعنی احمد کی شہادت کا پتا چلا تو صدمے سے گنگ رہ گئے تھے۔۔۔وہ ننھا بچہ اتنا بہادر تھا کہ آخری دم تک کھوئی کے اندر سے شعلوں کی لپٹوں کے ساتھ اس کی اللہ اکبر کی پکارباہر آتی رہی تھی۔۔۔!
پاکستان پہنچ کے سب دھیرے دھیرے بسنے لگے۔۔۔دلوں کا درد چھپائے اور بھلائے زندگی گزارنے کا سامان کرنے لگے۔۔۔خدا بخش کے باپ کو یہاں نوکری مل گئ تو گھر کی دال روٹی وہاں سے اچھی چلنے لگی لہذا وہ بہت خوش تھا۔۔۔سبھی خوش تھے سوائے خدا بخش کے جسے خوشی کا مفہوم بھول گیا تھا۔۔۔وہ دن گزارتا اور رات بھر آنکھیں پھاڑے کھلے آسمان کو تکتا رہتا۔۔۔ستارے گن گن رات بسر کرتا اور صبح پھر ویسی ہی روٹین شروع ہو جاتی۔۔۔گزرتا وقت اس کے لیے مرہم کی بجائے کھرنڈ بنتا گیا جسے بس چھیڑنے کی دیر چاہیے تھی۔۔۔وہ سراپا زخم تھا۔۔۔جوان ہوا لیکن اس کی چپ کوئی شے نا توڑ سکی۔۔۔روزگار کے لیے شہروں شہروں گیا پر دل کا غبار نا چھٹا۔۔۔گھر والوں نے شادی کی کہ چلو بدل جاے گا پر وہ سال بھر میں اللہ کو پیاری ہو گئ تو دوبارہ خدا بخش نے نام بھی نا لینے دیا بیاہ کا۔۔۔بنجارہ بنا چپہ چپہ گھومتا رہتا بس۔۔۔بھائی بہنیں سب بیاہے گئے۔۔۔سر میں بڑھاپے کی گرد بیٹھ گئ تو تھک گیا اور بڑے بھائ کے پاس ہی رہنے لگا۔۔۔کمائی اب بھی آتی تھی سو کسی کو اعتراض نہی تھا بلکہ فائدہ ہی تھا۔۔۔ریان اس کے بڑے بھائی کا پوتا تھا جو گھر میں اس سے سب سے زیادہ قریب تھا حالانکہ خدا بخش باتیں نہی کرتا تھا لیکن ریان کو اپنے چھوٹے دادا کی شخصیت کا اسرار تجسس میں مبتلا رکھتا تھا۔۔۔وہ ان سے قریب ہوتا چلا گیا۔۔۔رفتہ رفتہ اسے ان کے اندر پلتے غم کا اندازہ تو ہوا لیکن وہ یہ نہی جان سکا تھا کہ وہ کس کو یاد کر کے غمزدہ رہتے ہیں۔۔وہ کبھی کچھ بتاتے ہی نہیں تھے۔۔۔ وہ انہیں اکسانے لگا کہ ہندوستان چلیں۔۔۔دادا ہتھے سے اکھڑ گئے کہ وہ ہر گز نہی جائیں گے۔۔۔ایک طویل عرصہ گزرا اور ایک دن چھوٹے دادا نے خود اسے آ کر کہا کہ وہ ہندوستان جانا چاہتے ہیں۔۔۔ریان نے فورا بھاگ دوڑ شروع کی اور اپنے دوست سے رابطہ کیا جس کے والد کے ایمبیسی میں تعلقات تھے۔۔۔زیادہ دیر نہی لگی تھی اور انہیں ویزہ مل گیا تھا۔۔۔چھوٹے دادا نے بائے روڈ جانے کا کہا تو ریان بھی اس ایڈوینچر کو کرنے کے لیے تیار ہو گیا تھا۔۔۔اس کے بعد کی روداد ریان کے لیے ایسی تکلیف دہ رہے گی اگر اسے اندازہ ہوتا تو وہ یہاں کبھی نا آتا۔۔۔!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پرانا مندر۔۔۔پرانی کھوئی۔۔۔پراسرار دل گرفتہ فضا۔۔۔۔دو”ونش” یہاں کھوئی سے کمر ٹیکے بیٹھے تھے۔۔۔دائیں جانب خدا بخش اور بائیں جانب ریان۔۔۔ریان کس قدر رو چکا تھا اسے یاد نہی تھا اور خدا بخش کے آنسو ساری آگ بجھانے میں مدتوں پہلے صرف ہو چکے تھے۔۔۔ریان نے کبھی سوچا نہی تھا کہ چھوٹے دادا کا دکھ اس نوعیت کا ہو سکتا ہے وہ تو سمجھتا تھا کہ ہجرت کے دوران جو واقعات اور حادثات ہوئے تھےانہوں نے ان کے ذہن کو جکڑ رکھا ہے جن کے اثر سے وہ کبھی نہی نکل پائے۔۔۔پر یہاں آ کر اس کھوئی اور اس سے منسلک دلخراش داستان نے اسے گنگ کر ڈالا تھا۔۔یہ کھوئی تھوڑا تھی یہ تو قبر تھی۔۔۔اجتماعی قبر جس میں اجتماعی نسلیں دفنا دیں گئیں۔۔۔سبھی کچھ بدل گیا تھا۔۔۔وقت، زمانہ لوگ۔۔۔لیکن اس کھوئی کے نوحے اب بھی وہی دکھ کہتے تھے جو ان میں انڈیلے گئے تھے۔۔۔!
ریان نے گردن موڑ کے خدا بخش کو دیکھا جو ساکت جسم کے ساتھ ٹانگیں پسارے ہوئے تھا۔۔۔اس کے کچھ کہنے سے پہلے وہ بول اٹھا۔۔۔
تم پوچھا کرتے تھے نا کہ میں ہنستا کیوں نہی۔۔۔میری ہنسی جل گئ تھی ریان۔۔۔جس وقت دیپو کو کھوئی میں پھینکا گیا تھا میرا دل بھسم ہو گیا تھا۔۔بس ایک لوتھڑا سا ہے جو اب تک دھڑک دھڑک رکا نہی۔۔۔اور آج قرار پانے کو یہاں تک لے آیا۔۔۔مجھے قرارآ گیا ریان۔۔۔مجھے قرار آ گیا۔۔۔!”
چھوٹے دادا۔۔۔میں سوچا کرتا تھا کہ محبت بس صنف مخالف سے زورآور ہوا کرتی ہے۔۔۔مجھے نہی معلوم تھا کہ کبھی کبھار ہم جنس سے محبت کا انداز سب پہ بھاری پڑ سکتا ہے۔۔۔کوئی کسی کے لیے دنیا تیاگ سکتا ہے تو وہ اس کا ہم جنس بھی ہو سکتا ہے۔۔۔چھوٹے دادا آپ کو دیپک لال سے ایسی والہانہ محبت تھی۔۔۔؟ اور اس دیپک لال کو اللہ سے کیسی محبت جاگی دادا کہ اتنا سا بچہ۔۔۔اتنا سا دل۔۔۔اتنا سا جسم اس نے آگ کی نذر کر دیا۔۔۔اتنا ڈھیر سارا ایمان تھا اس کے دل میں۔۔۔مجھے فخر ہے دادا کہ میں اس داستان کا حصہ ہوں۔۔۔میں اپ کا ” ونش” ہوں۔۔۔آپ میرے لیے اعزاز ہیں۔۔۔مجھے مرتے دم تک یہ ناز رہے گا کہ۔۔۔۔”
اسے لگا خدا بخش بلکل خاموش ہے۔۔۔اس کا کلبوت ساکن ہے۔۔۔جیسے کوئی بے جان مورت۔۔۔وہ جواب میں ہوں ہاں بھی نا کر رہا تھا۔۔۔ریان کے اندر جیسے کچھ ڈوب کے ابھرا۔۔۔وہ ایک جھٹکے سے آگے ہوا اور گھٹنوں کے بل گھسٹتا ہوا خدا بخش کے قریب ہوا۔۔۔
دادا۔۔۔دادا۔۔۔چھوٹے دادا۔۔۔” ریان نے اسے جھنجھوڑ دیا تھا۔۔۔لیکن خدا بخش ٹس سے مس نا ہوا۔۔۔اس نے ڈرتے ڈرتے خدا بخش کے گالوں کو تھپتھپایا تو اس کا سر ایک طرف کو یوں ڈھلک گیا جیسے پرانا کچا گھڑا کنکری لگنے سے ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔خدا بخش کا وجود بھی تو مدتوں کا بھربھری مٹی بن چکا تھا۔۔۔آج ڈھے گیا تھا۔۔۔وہ وہیں ا کے ٹوٹا تھا جہاں اس کا اور دیپک لال کا ساتھ جڑا تھا۔۔۔اس کی روح جسم کا ساتھ چھوڑ کے کھوئی میں اتر گئ تھی۔۔ریان بلکتے ہوئے خدا بخش کا سر اپنے سینے سے لگائے منہ آسمان کی جانب کیے رونے لگا تھا۔۔۔خدا بخش کا چہرہ اور سینہ مسلتے ہوئے اچانک اس کا ہاتھ اس کے کرتے کی اوپری جیب کو چھوا تو اس میں کچھ کھڑکھڑاہٹ محسوس ہوئی۔۔۔اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر باہر نکالا تو تہہ شدہ کاغذ تھا۔۔۔ریان کے ہاتھ لرز رہے تھے۔۔۔اس نے خدا بخش کو اپنے سینے کا سہارا دیا اور دونوں بازوؤں کے گھیرے میں اس کا سر لے کر ہاتھوں سے وہ کاغذ کھولا۔۔۔
میرے پیارے بیٹے ریان۔۔۔میں تمہارا چھوٹا دادا تمہیں یہ وصیت کرتا ہوں کہ مجھے اس کھوئی کے پہلو میں دفنا دینا جہاں میری قضا مجھے کھینچ لائی ہے۔۔۔مجھے احمد نے بلایا ہے۔۔۔اوراس بار میں اس کی پکار کو نظر انداز نہی کر سکتا۔۔۔آج تک میں اس دکھ سے نکل نہی سکا کہ اس نے تب بھی مجھے پکارا ہو گا اور میں کچھ نا کر سکا۔۔۔۔اور آج میں اپنے یار کو اکیلا نہی چھوڑوں گا۔۔۔مجھے اس کے ساتھ ہی رہنے دینا۔۔۔مجھے اس سے ملا دینا ریان۔۔۔مجھے یہین دفنا دینا۔۔۔میری اور اس کی مٹی یہیں کی تھی۔۔۔یہیں ملا دینا۔۔۔یہیں بھلا دینا۔۔۔!”
۔وہ دیپک لال سے جا ملا تھا تہتر سال بعد۔۔۔بلآخر۔۔۔داستان تمام ہوئی۔۔۔ادھوری کہانی مکمل ہوئی۔۔۔ونش برباد ہوئے لیکن نئی نسل میں محبت کی آبیاری کر گئے۔۔۔انہیں بتا گئے کہ سرحد پار دو دل ایک سا دھڑک سکتے ہیں۔۔۔دو دل ایک تار سے جڑ سکتے ہیں۔۔۔ادھوری کہانی مکمل ہو سکتی ہے۔۔۔اس دنیا میں نا سہی، وہاں سہی۔۔۔۔!
ختم شد۔۔







