سن ذرا – آسیہ رئیس خان

سن ذرا - آسیہ رئیس خان 71

وہ یہاں آتے ہوئے سارا راستہ الجھن کا شکار تھی کہ یوں کسی کے آگے دل کھول کے رکھنا کیا ٹھیک ہوگا ؟ تاہم اس شش و پنج کے باوجود قدم رکے نہیں تھے۔

بڑی سی عمارت کی زمینی منزل پر اس کا مطلوبہ مقام تھا۔ گیٹ سے اندر داخل ہو کر جب وہ دروازے کی طرف بڑھ رہی تھی تو اس نے دو افراد کو باہر نکلتے دیکھا تھا۔ ان کی پلکیں نم تھیں مگر چہرے پر اطمینان تھا۔ انھیں دیکھ کر اسے ذرا تسلی ہوئی کہ وہ صحیح جگہ آئی ہے۔

دروازے پر وہ رک گئی۔ اس کمرے میں مزید دروازے تھے جو اندر دیگر کمروں تک رسائی کا ذریعہ تھے مگر سامنے موجود چھ میزیں اور ہر میز پر آمنے سامنے رکھیں کرسیاں کہہ رہی تھیں کہ اس کے کام کا کمرہ یہ ہی ہے۔

اس وقت کمرہ خالی تھا سوائے ایک شخص کی موجودگی کے جو دائیں جانب رکھی میز کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس نے چند ثانیے بعد ہی گردن موڑ کے دروازے کی سمت دیکھا۔ دونوں کی نظریں ملیں۔ ثمرہ کو اس کے ہاتھ میں گہرا آسمانی ’ لین یارڈ ‘ تھا جس پر انگریزی کے نمایاں حروف میں ’ لسنر ‘ لکھا تھا۔ اس نے وہ گلے میں نہیں پہنا تھا۔ ثمرہ نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوئے پرس کے اسٹریپ پر گرفت مضبوط کی اور ابراہیم نے آہستہ سے وہ ڈوری اٹھا کر گلے میں ڈال لی جس پر شناختی کارڈ کی طرح ’ سامع ‘ کی پہچان درج تھی۔

ثمرہ کو یاد تھا میٹرو اسٹیشن کی دیوار پر چسپاں معلوماتی پرچے پر یہ ہی درج تھا کہ جس کے گلے میں وہ کارڈ دکھائی دے، آپ آدھے گھنٹے تک اسے اپنی بات کہہ سکتے ہیں۔ وہ نہ آپ سے کوئی سوال کرے گا نہ ٹوکے گا۔ بس وہ ’ لسنر ‘ یعنی سامع ہوگا جس کے آگے آپ اپنا دل ہلکا کر سکتے ہیں، رو سکتے ہیں، ساری بھڑاس نکال سکتے ہیں۔

اس نے سست سے قدم اٹھا کے میز کی سمت سفر شروع کیا۔ وہ اب بھی اس اقدام کے صحیح غلط ہونے میں الجھن کا شکار تھی۔ اب بھی کوئی آواز کہہ رہی تھی پلٹ جا، یہ بے وقوفی نہ کر لیکن اپنا دل ہلکا کرنے کی ایسی شدید خواہش تھی کہ اگر یہ غلطی تھی تو وہ غلطی کرنے بھی تیار تھی۔ اب اس بوجھ کے ساتھ آگے کا سفر بہے مشکل تھا۔ اس بوجھ سے جھکے کندھے اور دبے دل نے قدموں کو سست کر دیا تھا اور رک جانے کی رعایت اسے میسر نہیں تھی۔ اپنوں کی بے رخی، غفلت اور خود غرضی نے وہ بیڑیاں پیروں میں باندھ دی تھیں کہ سفر قید با مشقت ہوگیا تھا۔

وہ میز کے قریب پہنچی اور مقابل نے کرسی کی طرف اشارہ کیا۔ اس کا مطلب سمجھتے ہوئے وہ بیٹھ گئی۔ میز پر پانی سے بھرا گلاس ڈھک کے رکھا تھا مگر اس نے ادھر ہاتھ نہیں بڑھایا اور پرس میز پر ایک طرف رکھ دیا۔

’’ یہ کچھ کہیں تب میں بولوں یا خود ہی شروع ہو جاؤں ؟ ‘‘ اس نے دونوں ہاتھ گود میں رکھتے ہوئے سوچا۔

حیرت انگیز طور پر اس کی بے کلی اور گھبراہٹ معدوم ہوگئی تھی۔ یہ شاید انجان شخص اور نئی جگہ کا اثر تھا۔ ایک یقین کہ یہاں اسے کوئی نہیں جانتا اور نہ کوئی جاننے والا اس جگہ آ سکتا ہے۔

’’ اپنا تعارف دوں یا وہ ضروری نہیں ؟ ‘‘ وہ کشمکش میں تھی۔

ابراہیم نے جیسے اس کی سوچ پڑھ لی اور اپنے سامنے رکھا پرچہ اٹھا کے اس کے آگے رکھ دیا۔ وہ جھک کر بنا پرچے کو چھوئے پڑھنے لگی۔ وہاں درج سطروں کے مطابق اس پر منحصر تھا کہ وہ اپنا تعارف کروانا پسند کرتی ہے یا بنا تعارف کے ہی اپنی بات کہتی۔ وہاں یقین دہانی بھی تھی کہ ’ لسنر ‘ وہاں محض سننے کے لیے’ ایموشنلی اور فزیکلی ‘ موجود ہے اور اس کے وہاں سے اٹھتے ہی وہ سب بھول جائے گا۔ یہ افراد کا ’ اسٹریس ‘ کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اس نے پڑھنے کے بعد پرچہ ابراہیم کی جانب کھسکا یا اور ہلکے سے گلا صاف کر کے خود کو تیار کیا۔

ابراہیم کا کام اسے دیکھنا اور سننا ہی تھا۔ ویسے ثمرہ کے تصور میں ’ لسنر ‘ کوئی خاتون تھی مگر خیر یہ بھی اجنبی ہی تھا۔ اس نے اپنا تعارف نہ دینے کا فیصلہ کیا۔

’’ میری مدر کافی عرصے سے بیمار ہیں۔ ‘‘ اگر وہ اس کی طرف دیکھ رہی ہوتی تو ابراہیم کے بدلے تاثر پر ضرور غور کرتی مگر وہ میز کے وسط میں نظریں ٹکا کر بول رہی تھی۔ اس نے سامنے بیٹھے شخص کا مفصل جائزہ بھی نہیں لیا تھا۔

’’ میں گھر میں سب سے چھوٹی ہوں اور جب سے امی بیمار ہوئی ہیں میں ہی دیکھ بھال کے لیے ان کے ساتھ، ان کے پاس ہوں۔۔۔ ‘‘ وہ جھجھکتے ہوئے ٹھہر ٹھہر کے بول رہی تھی۔ اس نے پہلے سے کچھ سوچا نہیں تھا کہ کیسے شروعات کرے گی یا کیا کہے گی۔ اچانک اسے خیال آیا سامنے والے کو اس تفصیل سے کیا غرض ہوگی۔ اس نے سر اٹھا کے دیکھا اور حیرت ہوئی کہ وہ سنجیدگی اور مکمل توجہ سے اسے سننے تیار نظر آرہا تھا۔ مانو وہ اس کے لیے بھی بہت اہم گفتگو ہو۔ اس کا ایک ایک لفظ دھیان سے سننا لازمی ہو۔

’’ انھیں تو میری کسی بات سے غرض نہیں وہ صرف سامع ہیں۔ ‘‘ اس نے دل میں خود کو باور کرایا اور دوبارہ گویا ہوئی۔

’’ مجھے دنیا میں سب سے زیادہ اپنی امی سے پیار ہے، میں چاہتی ہوں وہ بہت بہت دنوں تک میرے ساتھ رہیں، مجھے ان کے کام اور خدمت کرنا برا نہیں لگتا۔۔۔ ‘‘ اس نے غیر محسوس طریقے سے پہلے ہی صفائیاں دے دیں۔

’’ لیکن۔۔۔ اب میں کبھی کبھی تھک جاتی ہوں، مجھے اس روٹین سے بے زاری ہوتی ہے، زیادہ موڈ آف ہو تو میں فوراً اٹھ کے ان کا کام نہیں کرتی اور بعد میں کئی دن تک اس گلٹ میں کڑھتی رہتی ہوں، کبھی میں اس قدر اداس اور قنوطی ہو جاتی ہوں کہ دو دن تک فیس واش سے چہرہ بھی نہیں دھوتی ہوں۔ اپنے ضروری کام کرنے کا بھی دل نہیں کرتا۔ مجھے لگتا ہے مجھ سے پوچھے بنا میری زندگی مجھ سے چھین لی گئی ہے۔ سب اپنا وقت اپنی مرضی اور پسند سے گزارتے ہیں مگر مجھے اس کی اجازت نہیں ہے۔ اب تو مجھے اپنا آپ امی سے زیادہ بیمار لگتا ہے، ان سے زیادہ خالی اور سرد۔ ایسا جمود کسی کی زندگی میں نہیں جیسا میرے پاس ہے۔ میرے بہن بھائی اندھے بہرے ہیں مگر گونگے نہیں۔ وہ مجھے مشورے دینا بند نہیں کرتے۔ وہ امی کو میرے حوالے کر کے بالکل بے فکر ہوگئے ہیں گویا امی صرف میری ذمہ داری ہے۔ میں زیادہ دیر ہال میں بیٹھ جاؤں تو بھی انھیں اپنی ماں کی فکر ہوتی ہے۔ وہ روم میں اکیلی ہیں اس لیے مجھے فوراً ان کے پاس بھیج کر ثواب کماتے ہیں۔ میں ایسے وقت میں چیخ کے ان سے کہنا چاہتی ہوں کہ وہ آپ کی بھی ذمہ داری ہے، میری جگہ آپ اٹھ کے ان کے پاس جائیں مگر میرا منہ بند رہتا ہے۔ مجھے غصہ آتا ہے لیکن اندر کہیں یہ خیال بھی دبک کر بیٹھے ہیں کہ وہ ناراض ہوگئے تو؟ وہی تو میرے ہیں۔ امی کے بعد مجھے ان کے ساتھ ہی رہنا ہے، ان سے اختلاف اور لڑائی کی تو دوسرا ٹھکانہ کہاں ہے ؟ کیونکہ اتنا تو طے ہے کہ میرے بہن بھائی خود غرض ہیں جنھیں اپنی ماں کی پروا نہیں وہ میرا کیا خیال کریں گے۔۔۔ پھر یہ خیال کچوکے لگانے لگتا ہے کہ کیا میں بھی مطلبی نہیں جو امی کا خیال اس لیے رکھتی ہوں کہ بھائی بہن مجھ سے خوش رہیں۔۔۔ ‘‘ اس کی آنکھیں لبالب ہوگئیں۔ یہ ایسی جنگ تھی جس کا اختتام تھا نہ کوئی حل۔

’’ لیکن سچ یہ بھی ہے مجھے امی سے پیار ہے وہ میری دنیا ہیں، میں انھیں آرام دینا چاہتی ہوں، ان کے کام کر کے مجھے سکون ملتا ہے۔۔۔ مگر اب ان خیالات سے چھٹکارا بھی نہیں۔۔۔ کون سا رخ سچا ہے میرا ؟ کیا اس مشکل میں میری اصلیت ابھر رہی ہے کہ میں بھی ماں سے محبت کا ڈھونگ کرتی ہوں باقیوں کی طرح ؟ ‘‘ اس نے رک کے پرس کھولا اور اندر سے رومال نکال کر آنکھیں خشک کیں۔

دوسرے دروازے سے دیکھ رہی مس پروین مداخلت کیے بنا واپس پلٹ گئیں۔

’’ مجھے اپنے مستقبل کی فکر رات کو سونے نہیں دیتی۔ اللہ امی کو لمبی عمر دے مگر مجھے وہم ستاتے ہیں، امی کے بعد میرا کیا ہوگا ؟ نہ بڑی بہنوں بھائیوں کو میرے مستقبل یا شادی کے بارے میں بات کرتے دیکھا نہ سنا۔ کیا امی کے بعد میں اس روم کی مستقبل مکین ہو جاؤں گی ؟ جیسے انھوں نے امی کو میرے بھروسے چھوڑ دیا ہے وہ مجھے بھی چھوڑ دیں گے کہ میں تو اپنا خیال خود رکھ سکتی ہوں۔ مجھے خاندان اور جان پہچان کی وہ عورتیں یاد آتی ہیں جن کی شادی نہ ہو سکی اور ادھیڑ عمر اور بڑھاپے میں وہ کس طرح رلتی رہی ہیں۔ مجھے ویسی زندگی سے خوف آتا ہے لیکن میں کس سے کہوں ؟ کہوں تو میں بے غیرت کہلاؤں گی۔ ‘‘ وہ بولتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے بار بار رومال کی دو تہ کھول کر پھر تہ لگا رہی تھی۔ آنسو خاموشی سے گلہ درج کرتے اس کے دامن اور میز پر پھسل کر دم توڑ رہے تھے۔

’’ میں سارے خیالات جھٹک دوں، اچھا سوچوں اگر گھر میں کوئی ایک میری مشقت اور ریاضت کی قدر کرنے والا ہو۔ کبھی تو کوئی بھائی یا باجی کہہ دیں کہ میں امی کے لیے راتوں کو جاگتی ہوں، سارا دن ان کے ساتھ رہتی ہوں تھک جاتی ہوگی، آرام کر لوں آج وہ ان کے پاس سو جائیں گے۔۔۔ کوئی ایک جملہ جو مجھے احساس کرائے کہ انھیں میری قدر ہے، میری مشقت کا احساس ہے۔۔۔ ‘‘ وہ رک گئی۔

’’ مجھے ڈر لگتا ہے میں ڈپریشن میں نہ چلی جاؤں، کسی دن سب کے سامنے پھٹ نہ پڑوں، کسی کمزور لمحے میں امی سے غافل نہ ہو جاؤں، بد تمیزی سے بھائی کے سامنے جا کر ’ اب مجھ سے نہیں ہوتا ‘ نہ کہہ دوں یا کسی دن ایسی تاریکی میں ڈوبوں کہ پھر ابھر ہی نہ سکوں اور ایسا ہوا تو امی کا کیا ہوگا ؟ کون ان کا خیال رکھے گا۔۔۔ یہ ہی سارے خوف مجھے یہاں تک لے آئے ہیں۔ ‘‘

اس نے ابراہیم کو دیکھا۔ وہ محض سننے کی رسم نہیں نبھا رہا تھا۔ اس چہرے پر اذیت کی جھلک تھی۔ اسے اچھا لگا کہ وہاں اس کے لیے ترحم نہیں تھا۔

’’ مجھے اپنی ماں سے پیار ہے، میں انھیں اپنی آخری سانس تک اپنے پاس دیکھنا چاہتی ہوں بٹ آئی ایڈمٹ کہ میں اکثر تھک بھی جاتی ہوں، میرا دل سب چھوڑ کر کہیں بھاگ جانے کرتا ہے، مجھ سے سب سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے، مجھے امی کے کام کرتے ہوئے بے بسی سے رونا آجاتا ہے، میں دل میں شکوہ کرتی ہوں کہ امی صرف میری ہی ماں تو نہیں، وہ ہم سب کی ماں ہیں۔۔۔ اپنے تنہا رہ جانے کی پاسبلٹی نیند اڑا دیتی ہے کہ اللہ امی کو سلامت رکھے مگر کیا میری زندگی اب ان کے ساتھ بندھ گئی ہے، باقی رونقوں پر میرا کوئی حق نہیں ؟ زندگی کی دیگر معاملات پر مجھے یا میرے اپنوں کو میرے بارے میں سوچنے کی ضرورت نہیں ؟ میں اپنے بہن بھائیوں سے بہت غصہ ہوں مگر ان کے علاوہ میرا کون ہے، اگر وہ بھی خفا ہوگئے تو۔۔۔ میری بزدلی مجھے ان سے کچھ کہنے نہیں دیتی۔ مگر کبھی کبھی اپنی بے قدری کا احساس ہر جذبے پر حاوی ہو جاتا ہے۔۔۔ ‘‘

اس اجنبی سامع کے چہرے پر نرمی کے ساتھ بھی کوئی تاثر تھا جسے ثمرہ کوئی نام نہ دے سکی۔

’’ پتا نہیں میری کون سی سوچیں درست اور جائز ہیں اور کون سی غلط مگر یہ سب میرے اندر اٹھنے والے سوال، اعتراض اور ناراضی ہے۔ ‘‘ یوں لگا تھا کہ یہ اس کے اختتامی کلمات ہیں مگر تبھی اسے کچھ یاد آگیا۔

’’ باہر والے جب امی کے پاس آتے ہیں تو وہ اتنی تعریفیں کرتے ہیں میری مانو میں کوئی فرشتہ ہوں۔ ایک آنٹی کہہ رہی تھی اپنی جوانی ماں پر خرچ کرتے ہوئے میں نے جنت کا ٹکٹ کٹا لیا ہے۔۔۔ ‘‘ ایک تلخ سی ہنسی اس کے ہونٹوں پر پھیلی۔

’’ مجھے ایسی تعریفیں کبھی اچھی نہیں لگیں۔ مہمانوں کا مجھے فرشتہ بنانا اور گھر والوں کا مجھے انسان تک نہ سمجھنا، ایک سا غصہ اور دکھ دیتا ہے۔ کوئی سمجھتا کیوں نہیں کہ یہ تھکانے والی ذمہ داری ہے۔ پیار محبت اپنی جگہ لیکن انسانی جسم اور ذہن کی بھی حد ہے کہ کہاں تک انھیں بنا آرام کے استعمال کیا جائے۔ ‘‘ اچانک گال کر نمی کا احساس ہوا تو وہ چونکی۔ گال پر ہاتھ پھیر کر اس نے آنسوؤں کو مٹایا۔

’’ گھر والے پروفیشنل ہیلپ افورڈ کر سکتے ہیں مگر وہ دنیا کے سامنے شرمندہ نہیں ہونا چاہتے کہ ماں کو نرس کے حوالے کر دیا اس لیے مجھے نرس بنا کر اب وہ یوں شو کرتے ہیں کہ ہم تو اپنی ماں کی دیکھ بھال خود کر رہے ہیں، کسی نرسنگ ہوم کے حوالے نہیں کیا، گھر میں رکھا ہے اتنی عظیم اولاد ہیں ہم۔ دونوں بہنیں باقاعدگی سے سسرال میں یہ کہہ کر آتی ہیں کہ امی کے پاس جا رہی ہیں۔ ان کی دیکھ بھال ان کا فرض ہے مگر انھوں نے ایک رات بھی ان کے کمرے میں گزاری نہ کبھی ان کی ڈائپر چینج کی نہ نہلایا۔۔۔ ہاں کبھی کبھی سر میں تیل لگا کر بال بنا دیتی ہیں۔ ‘‘ وہ خیال جو ہم بس سوچتے ہیں، شرمندہ ہوتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ وہ باتیں ہیں جو ہم کبھی بلند آواز میں نہیں کہیں گے، ثمرہ وہ بھی کہہ گئی تھی، کہہ رہی تھی۔

’’ میں یہ ٹھیک نہیں کرتی۔۔۔ مجھے ایسا نہیں سوچنا چاہیے۔ والدین کی خدمت کا موقع سب کو کہاں ملتا ہے، میں خوش نصیب ہوں کہ یہ سعادت نصیب ہوئی ہے، اس مشقت کے بدلے ایک دن امی اچھی ہو جائیں تو میں پل بھر میں سب بھول جاؤں۔۔۔ مجھے ایسا نہیں سوچنا چاہیے، میں بہت بری بیٹی ہوں جسے ماں بوجھ لگتی ہے۔۔۔۔ ‘‘ وہ رونے لگی۔ اس نے رومال آنکھوں پر رکھا لیکن خود پر ضبط اب مشکل ہو رہا تھا۔

کمرے میں اس کی دبی دبی سسکیاں پھیل گئیں۔ ابراہیم نے ڈھکا گلاس اٹھا کے اس کے آگے رکھا۔ اس نے رومال سے چہرہ صاف کیا اور گلاس اٹھا لیا۔ سارا پانی پینے کے بعد وہ خاموش ہی رہی۔ اس کا بھیگے گلابی چہرے پر کچھ دیر پہلے والی گھبراہٹ تھی نہ بات شروع کرتے وقت کا تناؤ۔

کافی دیر بعد اس نے سر اٹھا کے ابراہیم سے کہا۔

’’ میں خود کو بہت ہلکا محسوس کر رہی ہوں۔ ‘‘ یہ اعتراف تھا۔ ابراہیم خفیف سا مسکرایا۔

ثمرہ نے فون میں وقت دیکھا۔ اس پرچے پر تیس منٹ لکھا تھا کہ اتنا وقت وہ ’ لسنر ‘ سے جو کہنا ہے کہہ سکتے ہیں اور اس کے تیس منٹ ہوچکے تھے۔ کچھ دیر وہ سوچتی رہی کہ مزید کیا کہنا ہے مگر اب اتنے آنسو بہانے اور سب بول دینے کے بعد وہ ایسا ہلکی ہوگئی تھی۔

اس نے پرس اٹھایا اور کھڑی ہوگئی۔

’’ تھینک یو۔ ‘‘ اس کی آواز اور لہجے میں تشکر تھا۔

’’ بہت سارا تھینک یو۔ ‘‘ ابراہیم کرسی کی پشت سے ٹک کے مسکرایا۔ وہ ایک نظر اس مہربان کے سپرد کر کے دروازے کی طرف بڑھی۔

ابراہیم اس کے غائب ہونے تک دیکھتا رہا۔ اس نے گلے سے کارڈ نکال دیا تھا۔

وہ دروازے کی سمت دیکھتے ہوئے اسے ہی سوچ رہا تھا۔ گندمی رنگت والی اس جاذب نظر لڑکی کی عمر اندازاً اسے تیس سے کم یا اس کے قریب قریب لگی تھی۔ لباس اور نشست و برخاست کا انداز اسے تعلیم یافتہ اور متمول گھرانے کی بتا رہا تھا۔

مس پروین پٹیل دروازے کا پٹ بجا کر اپنے دفتر سے اس کمرے میں داخل ہوئیں تو وہ ادھر متوجہ ہوا۔

’’ سوری۔ ‘‘ مِس پروین پٹیل کی تنبیہی نظر کے جواب میں اس نے کہا۔ وہ ثمرہ کی چھوڑی کرسی پر بیٹھ گئیں۔

’’ روم میں صرف میں ہی تھا اور اس لیڈی کو لگا میں لسنر ہوں۔۔۔ ‘‘ وہ رکا اور میز پر رکھا کارڈ انھیں دکھایا۔

’’ سوچا آگے بھی یہ ہی کرنا ہے تو آج سے کیوں نہیں۔‘‘ وہ ایک دم سیدھی ہوئیں۔

’’ آپ والینٹیئرنگ کے لیے آئے ہیں ؟ ‘‘

’’ جی۔ ‘‘ وہ مسکرایا۔

’’ پھر بھی۔۔۔ ہم پہلے ’ لسنرز ‘ کچھ انسٹرکشنز اور ٹرینگ دیتے ہیں۔۔۔ ‘‘

وہ آیا کسی اور ارادے سے تھا اور اب کر کچھ اور رہا تھا۔

’ چھاؤں ‘ سے اس کی پہچان ابو کی وجہ سے ہوئی تھی۔ وہ دو مہینے تک باقاعدگی سے ہر اتوار انھیں یہاں لے کر آتا رہ تھا۔

٭٭٭٭

اسٹیشن سے باہر وہ رکشا روک رہی تھی تب نورن خالہ کی کال آگئی۔ وہ جب بھی گھر سے باہر نکلتی انھیں امی کے پاس چھوڑتی تھی۔

’’ بس پہنچ رہی ہوں خالہ۔ رکشا میں ہوں۔ ‘‘ اس نے فون اٹھاتے ہی کہا۔

وہ ڈیڑھ دو مہینے میں یا کبھی کوئی مسئلہ ہو تو امی کے ڈاکٹر کے پاس جاتی تھی۔ ان کی کیفیت بتا کر دوائیاں لینا، بدلوانا بھی اس کا کام تھا۔

آج اسے اسٹیشن کی دیوار پر اور میٹرو کے اندر بھی وہ انوکھا پرچا دکھائی دیا تھا۔ ایک ذہنی صحت اور نفسیاتی امراض کے لیے کام کرنے والی این جی او ’ چھاؤں ‘ کی جانب سے کوئی نیا پروگرام شروع کیا گیا تھا۔ صبح دس سے شام کے پانچ بجے تک کبھی بھی اس این جی او کے دفتر جا کر لوگ اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر سکتے تھے۔ این جی او نے ایسے افراد کو ’ لسنر ‘ یعنی سامع فراہم کیے تھے جو بوجہ کسی قریبی سے اپنا حال، دل کا بوجھ یا اپنی پریشانی، بانٹ نہیں سکتے۔ ان کو یہ دعوت عام تھی کہ وہ اپنا فرسٹریشن، غصہ، دکھ، سب کچھ باہر نکال سکیں۔ یہ اس بھاگتے دوڑتے دور میں لوگوں میں بڑھ رہا تناؤ کم کرنے کی کوشش تھی۔

وہ پڑھتے ہی اس کا دل ہمکنے لگا تھا کہ وہاں جانا چاہیے۔ یہ اس جیسے لوگوں کے لیے ہی تھا جن کے اندر سوچوں کا جنگل اگ آیا تھا اور جس کی کٹائی کسی سامع کی منتظر تھی۔ زبان سے لفظ نکلتے اور سوچ کی شاخیں ٹوٹ کے گرتی جاتیں۔ ورنہ اس جنگل کی تاریکی میں بھٹکنے اور گم ہونے کا ڈر تھا۔

گزشتہ چند دنوں میں یکے بعد دیگرے دو ایسی باتیں ہوئی تھیں کہ وہ پھٹ پڑنے اور ٹوٹنے کے قریب تھی۔ بھلا ہو ’ چھاؤں ‘ کا کہ اب وہ اچھا محسوس کر رہی تھی۔ اتنے دنوں بلکہ سالوں کی کفلت دور ہوگئی تھی۔

اسے تو کچھ بھی معلوم نہ تھا اور وہ بے خبر ہی رہ جاتی اگر پچھلے ہفتے اسے امی کے بی پی اپیرٹس کی خرابی کی اطلاع بھائی کو نہ دینی ہوتی۔ ان سب کو اطمینان تھا کہ وہ سو گئی ہے اور اگر سوئی نہیں بھی ہے تو اتنی رات کو کمرے سے باہر نہیں آئے گی۔

’’ ہم امی کے لیے نرس کا انتظام کر لیں گے۔ ‘‘ چھوٹی باجی ہی تھیں جو اس کی شادی کو لے کر سنجیدہ تھیں اور ایک آدھ رشتہ لے آتی تھیں۔

’’ اپنے جیسی کیئر کرتے ہیں نرس کہا کرے گی اور پھر اسے چوبیس گھنٹے گھر میں رکھنا ہوگا جو سب کے لیے بڑا ان کمفرٹیبل ہو جائے گا۔ ‘‘ بڑے بھیا نے یہ ’ پٰرستاؤ ‘ رد کر دیا۔

’’ پھر انھیں کسی اچھے کیئر سینٹر میں ایڈمٹ کرا دینا بہتر ہے۔ ‘‘ چھوٹی باجی نے نئی تجویز پیش کی۔

’’ کیسی بات کرتی ہو نمرہ ! اگر یہ ہی کرنا ہوتا تو کب سے کر دیتے۔ ہماری ماں ہم پر بھاری ہے نہ کوئی بوجھ ہے جو ہم اٹھا کے سینٹر والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیں۔ اللہ نے اتنا تو دیا ہے کہ آخری وقت تک انھیں گھر سے دور کریں گے نہ خدمت سے منہ موڑیں گے۔ ‘‘

’’ لیکن بھیا امی کا انتظام کیے بنا ہم ثمرہ کی شادی کیسے کریں ؟ ‘‘

’’ اتنی بھی کیا جلدی ہے۔‘‘ یہ بڑی بھابھی تھیں۔

’’ ثمرہ کے لیے بھی امی سے بڑھ کر کوئی کام اہم نہیں شادی تو بالکل نہیں، ثمرہ سے ہی پوچھ لو۔ ‘‘ بڑی باجی کا یقین بھرا جملہ اس کے دل کو بجھا گیا۔ کیا ستم ظریفی تھی کہ یہ سچ تھا اور سچ نہیں بھی تھا۔

’’ یہ بہت اچھا رشتہ ہے باجی۔ ‘‘

’’ خدانخواستہ ایسا نہیں ہے کہ ثمرہ کی عمرڈھل گئی ہے۔ اب بھی ماشائ اللہ پیاری لگتی ہے، کھاتے پیتے گھرانے سے ہے، سب سے چھوٹی اور لاڈلی ہے دیکھنا اگلے چار پانچ سال بھی اس کے لیے ایسے ہی رشتے آتے رہیں گے۔ ہمیں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے۔ ‘‘ چھوٹی بھابھی زیادہ ہی مثبت اور خوش فہم تھیں۔

’’ اور ہم ثمرہ کو یونہی تھوڑی نہ بیاہ دیں گے لوگ جانتے ہیں کہ اسے بھائی بہنوں سے بہت ملے گا اس لیے رشتوں کی کمی کی فکر تو ہونی ہی نہیں چاہیے۔ ‘‘ بڑی بھابھی کو خود بھی اپنی بات کی سچائی پر شبہ تھا مگر اس وقت وہ اہم دلیل تھی۔

’’ اگر ثمرہ سے پوچھا تو اس کا بھی دل دکھے گا کہ کیا فیصلہ کرے، تو کیوں اسے مشکل میں ڈالنا۔ آخر کچھ بھی ہو ہم سب کے لیے امی کی بھلائی ہی مقدم ہے، ثمرہ بھی وہی کرے گی۔ ‘‘ بڑی باجی کی بات بھی درست تھی۔ سب کے لیے امی کی بھلائی مقدم تھی مگر زندگی صرف اس کی رک گئی تھی۔ مشقت صرف اس کے حصے میں آئی تھی۔ تھکان بھی اس کا مقدر تھی۔ باقی محبت اور بھلائی کا دعویٰ سب کا ایک سا تھا۔

وہ اس کمال پر حیران ہوتی پلٹ گئی تھی۔

رکشا گھر کے آگے رکا تو وہ چونک کے حال میں لوٹی۔ گھر میں داخل ہوتے ہی پہلا سامنا بھابھی سے ہوگیا۔

’’ بہت دیر کر دی آج۔ ‘‘ انھوں نے ٹی وی سے نظر ہٹا کے اسے دیکھا۔

’’ جی بہت رش تھا ہاسپٹل میں اور کوئی ایمرجنسی آگئی تھی تو کافی انتظار کرنا پڑا۔ ‘‘ اس نے جوتا پیر سے نکال کر جوتوں کی الماری میں رکھا اور سلیپر پہن کر امی اور اپنے مشترکہ کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ بھابھی دوبارہ اسکرین کی جانب متوجہ ہوگئی تھیں۔

’’ سوری خالہ۔ ‘‘ اس نے دروازہ کھولتے ہی معذرت کی۔

’’ بیٹا مجھے بیگم ریاض کے یہاں جانا تھا آج اس لیے۔ وہ بڑی نازک مزاج ہیں۔ ‘‘ خالہ نے فرش سے اٹھتے ہوئے کہا۔ وہ زمین پر لیٹی تھیں۔

’’ اب وہ ناک بھوں چڑھائیں گی۔ ‘‘

’’ سوری۔ ‘‘ اسے افسوس ہوا کہ اس نے یہ سوچا ہی نہیں کہ انھیں وقت پر کہیں اور جانا ہوگا۔ اس نے پرس سے پانچ سو کا نوٹ نکال کر ان کی طرف بڑھایا۔

’’ بچوں کے لیے میری طرف سے کچھ لے لیجیے گا۔ ‘‘ انھوں نے نوٹ لے کر فراک کی جیب میں ڈالا اور باہر نکل گئیں۔

امی سو رہی تھیں۔ اس نے پرس اور دوپٹا اپنے پلنگ پر رکھا اور کنارے بیٹھ گئی۔ طبیعت واقعی کچھ تازگی محسوس کر رہی تھی۔

کل جب بڑی باجی نے جاتے ہوئے اسے دو ہزار روپے دیے تو اس کے اندر بھونچال آگیا تھا۔ وہ سارا وقت اندر ہی اندر کڑھتی رہی تھی۔ اسی لیے جیسے ہی اپنا غبار کم کرنے کا راستہ دکھائی دیا، وہ اس پر چل پڑی تھی۔

ان کے ہاتھ میں اپنے لیے پیسے دیکھ کر اسے ہمیشہ اپنا آپ ان کی بہن نہیں بلکہ نوکرانی محسوس ہوتا تھا۔ ان کا یہ رویہ اسے بیٹی سے ’ کیئر ٹیکر ‘ بنا دیتا تھا۔ کیا ہوتا اگر وہ اس کی ضروریات کا سامان خود لے آتیں، ایک جوڑا، نیا جوتا، میک اپ، موئسچرائزر، کچھ بھی۔ وہ اس کا سائز جانتی تھیں، جانتی تھیں وہ برسوں سے ایک ہی برینڈ کے اسکن کیئر پروڈکٹس استعمال کرتی ہے۔ کبھی مال سے اسے فون کرتیں کہ ثمرہ میں یہاں ہوں تمھارے لیے کیا لوں ؟ مگر افسوس تو سارا یہ ہی تھا کہ سب کے رویے اسے اپنے پن کا احساس دلانے کی بجائے دور کرتے تھے۔ وہ تھوڑا سا بھی کشٹ نہیں اٹھانا چاہتے تھے نہ ماں کے لیے نہ بہن کے لیے۔ وہ نہ ذمہ داری بانٹتے تھے نہ اس ذمہ داری سے اس پر پڑ رہا اثر جاننے میں دلچسپی رکھتے تھے۔

اٹھ کے اس نے منہ ہاتھ دھویا اور ایک بار امی کو دیکھنے کے بعد باورچی خانے میں آگئی۔ اپنے لیے چائے بنائی اور چند بسکٹس طشتری میں رکھ کے کمرے میں آگئی۔ دوپہر کا کھانا کھانے کا اب دل نہیں تھا۔

چائے کے گھونٹ لیتے ہوئے اسے ’ لسنر‘ یاد آیا۔

’’ جانے میرے بارے میں کیا سوچا ہوگا۔۔۔ مگر میں پہلی انسان تو نہیں ہوگی۔۔۔ یہ تو روٹین ہوتا ہوگا ان لوگوں کا۔۔۔ وہ کیسے اتنے لوگوں کی مختلف پریشانیاں سن کر نارمل رہتے ہیں ؟ وہ اسی لیے تو پروفیشنل ہوتے ہیں۔۔۔ ‘‘ وہ بہت دیر تک سوچتی رہی۔

امی یعنی کبریٰ بیگم کو فشار الدم کی شکایت تھی جس کی دوائیاں وہ پابندی سے لیتی تھیں مگر ایک دن فشار الدم اس قدر بڑھا کہ وہ برین اسٹروک کا شکار ہوگئیں۔ ان دنوں وہ کالج میں تھی۔ کچھ دن اسپتال میں داخل رہیں پھر اس سے سنبھلنے کے بعد ڈاکٹروں کی بتائی احتیاط کے ساتھ دن معمول کی طرح گزر رہے تھے۔

وہ ہنسنے مسکرانے والی زندہ دل ثمرہ ہوا کرتی تھی جس کے بہت سارے خواب تھے۔ وہ سب سے چھوٹی تھی۔ لاپروا، لابالی اور اپنی زندگی اور دوستوں میں خوش اور مگن رہنے والی۔ امی کا وزن بھی بہت زیادہ تھا۔ زیادہ چلنا پھرنا ان کے لیے آسان نہیں ہوتا تھا۔ ساری شادی شدہ اولادوں کے درمیان وہ بھی ان کی لاڈلی تھی۔ وہ ہمیشہ اور ہر جگہ اسے ساتھ رکھتیں۔ وہ ان کا ہاتھ تھام کر انھیں چلاتی، سہارا دے کر کھڑا کرتی، بٹھاتی۔

ایک دن وہ غسل خانے میں پھسل گئیں۔ ران کی ہڈی کا جوڑ ٹوٹ گیا جسے آپریشن سے ٹھیک کیا گیا۔ اس کے بعد کا وقت بڑا کٹھن تھا۔ سب کچھ بستر پر دینا اور کرنا پڑتا۔ گھر میں ملازمائیں تھیں مگر اس کا دل نہیں مانتا تھا کہ وہ انھیں مکمل ملازمہ کے سپرد کر دے۔ اس کا فائنل ایئر پڑھائی سے زیادہ ماں کی دیکھ بھال میں گزرا۔ گھر میں ان کا رعب اور دبدہ تھا لہٰذا وہ دوسروں سے بھی کام کرواتی تھیں مگر ثمرہ ماں کی تکلیف کے احساس اور اپنی محبت کے ہاتھوں مجبور تھی۔ جب پیر ٹھیک ہوا اور سہارے سے چلنے لگیں تو اسے کچھ راحت ملی۔

وہ ان دنوں ماسٹرز کرے یا کوئی اپنی پسند کی ملازمت، یہ ہی سوچ رہی تھی کہ انھیں ڈینگی ہوگیا۔ جن دنوں وہ اسپتال میں داخل تھیں، ماسٹرز کے داخلے جاری تھے اور اس نے کچھ جگہ ملازمت کے لیے درخواستیں بھی دے رکھی تھیں۔

جب اس نے یہ ہی بات بھائی سے کی کہ کچھ دن کے لیے امی کی دیکھ بھال کے لیے نورن خالہ یا کسی اور کو رکھ لیا جائے تاکہ وہ داخلہ بھی لے لے اور کچھ انٹرویو دے کر بھی دیکھ لے گی۔

’’ پچھلے کچھ وقت میں امی کی صحت بہت گر گئی ہے، انھیں ہماری زیادہ ضرورت ہے، وہ ہماری ماں ہیں۔ ہم انھیں کسی نوکر کے بھروسے کیسے چھوڑ سکتے ہیں بیٹا۔ پڑھائی نوکری کہاں بھاگی جا رہی ہے۔ یہ اگلے سال بھی ہو جائے گا۔ ‘‘ اور وہ شرمندہ ہوگئی۔ وہ سچ ہی تو کہہ رہے تھے۔

وہ دل و جان سے ماں کی خدمت اور تیمارداری کرنے لگی۔ وہ بھی اب اس کی عادی ہوگئی تھیں۔ آہستہ آہستہ وہ ہر کام کے لیے اسے پکارنے لگیں۔ اسے بڑا اچھا لگتا تھا جب وہ ملنے آنے والوں سے کہتیں کہ میری ثمرہ نے میرا بڑا خیال رکھا ہے۔ وہ ہی سنبھال رہی ہے مجھے، تو اس کا سیروں خون بڑھ جاتا۔ وہ دعائیں دیتیں تو وہ فخر محسوس کرتی۔

اس کے بعد انھیں دوسرا اسٹروک ہوا جو زیادہ خطرناک تھا۔ کئی دن اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں رہیں۔ ڈاکٹرز کوئی مثبت جواب نہیں دیتے تھے۔ ایسے میں جب وہ اچھی ہو کر گھر آئیں تو ثمرہ کو لگتا وہ اس کی دعاؤں کا ثمر ہے اور اللہ کے اس انعام کی اسے بہت قدر کرنی چاہیے۔

اس کے بعد دھیرے دھیرے ان کا نسیان ظاہر ہونے لگا۔ عمومی قوت مدافعت ان کی اتنی کمزور ہوگئی تھی کہ آئے دن کوئی نیا مسئلہ، ایک نئی بیماری لگ جاتی۔ اس صورت حال نے ان کے مزاج پر بھی اثر ڈالا۔ وہ چڑچڑی اور ضدی ہوتی گئیں۔

گھر سے نکلنا کم ہوتے ہوتے بند ہوگیا۔ گھر والے بھی انھیں کہیں لے جانے سے گریز کرتے تھے۔ ان کے ساتھ ثمرہ کا گھر میں رہنا بھی ویسے ہی معمول بن گیا جیسے ان کی وقت پر دوائیاں۔ وہ کم عمر تھی باپ کی وفات کے بعد ماں سے قریب اور وہمی ہوگئی تھی اس لیے ان سے چپکی رہتی۔ بہن بھائیوں نے چھوٹی بہن کی کیفیت سمجھ کر اسے تسلی، اعتماد اور حوصلہ دینے کی بجائے بیمار ماں کی ساری ذمہ داریاں بھی اس پر ڈال دیں۔ اس کی فکر، خوف، کم عمری، ناتجربے کاری کسی کو اہمیت نہیں دی۔

’’ وہ تو ثمرہ کی ہی سنتی ہیں۔ ‘‘

’’ انھیں صرف ثمرہ ہینڈل کر سکتی ہیں۔ ‘‘

’’ ان کی دوائیاں، ان کا وقت، ڈوز اور کسی کو یاد ہی نہیں سوائے ثمرہ کے ڈاکٹر بھی اسی سے سب پوچھتے ہیں، اسے ہی سمجھاتے ہیں۔ ‘‘

’’ وہ ثمرہ کے علاوہ کسی کو پکارتی ہی نہیں۔ ‘‘ جب ان کی قوت گویائی کام کرتی تھی۔

’’ ان کا غصہ ثمرہ کی بات سن کر ہی ٹھنڈا ہوتا ہے۔ ‘‘

’’ ثمرہ نے بڑی جلدی سب سیکھ لیا۔ ‘‘

’’ وہ ہمیں کچھ کرنے ہی نہیں دیتی۔ ‘‘ یہ اس کی تعریف ہوتی تھی۔

ایسے کئی جملے باجیوں، بھائیوں اور بھابھیوں کی زبان سے وہ سنتی رہتی جو ہر مہمان اور رشتے دار سے کہے جاتے تھے۔ جانے انجانے ان باتوں نے اسے باور کرایا کہ اس پر کتنی بڑی ذمہ داری ہے اور وہ کسی غفلت، غلطی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ کسی نے نہیں سمجھا کہ یہ باتیں اس پر کتنا دباؤ ڈال رہی ہیں۔ وہ خود سے سب کی اتنی توقعات پر بوکھلا جاتی۔ کہیں کوئی غلطی نہ ہو جائے اس کوشش میں زیادہ ہلکان ہوتی۔

اس کا ماسٹرز، ملازمت اور وہ سارے خواب جو اگلے سال تک کے لیے ’ ہولڈ ‘ پر تھے، وہیں رہ گئے۔

اصل امتحان اس وقت شروع ہوا جب ان کی ’ کگنائٹیو ‘ (ادراک و آگاہی) صلاحیتیں متاثر ہونا شروع ہوئی اور دھیرے دھیرے ان کا بولنا مکمل بند ہوگیا۔ اس کے کچھ دن بعد ایک نیا مسئلہ کھڑا ہوا کہ انھیں کبھی بھی فٹس آجاتے۔ پہلے پہل تو اس قدر شدید ہوتے تھے کہ وہ پلنگ سے نیچے گر جاتیں۔ اس کے بعد ان کے پاس ہمہ وقت کسی کا موجود ہونا لازمی ہوگیا۔

چوں کہ وہ کنواری یعنی اکیلی تھی نہ سسرال کا جھنجھٹ نہ شوہر اور بچے اس لیے اسے ہی امی کو سنبھالنا تھا، یہ خاموش اصول مزید پکا ہوگیا۔

ابتدا میں جوش، محنت اور احساس ذمہ داری اتنا تھا کہ اسے تعریف ستائش یا صرف اعتراف نہ کیا جانا کبھی کھلا ہی نہیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ اسے باقیوں کی دنیا داری سمجھ آنے لگی۔ کبھی کوئی اسے ایک دن ہی چھٹی دینے کا بھی نہیں سوچتا تھام بہنیں آتیں اور رات رات بھر جاگ کر گپے لگاتیں، چائے، اسنیکس کے دور چلتے، فلمیں دیکھی جاتیں مگر اٹھ کے ماں کے کمرے میں جانے کی بجائے فکر مندی سے اسے کہتیں، ’ امی کو ایک بار ذرا دیکھ آؤ تمھیں ہی سمجھتا ہے ان کا سب کچھ ! ‘

کبھی اس نے کہہ دیا آج آپ امی کے ساتھ سو جائیں تو جواب ملا۔

’’ مجھے نیند ہی نہیں آتی اور عجیب گھبراہٹ ہوتی ہے جب نیند امی کے منہ سے عجیب آواز نکالتی ہے تو۔ تمھیں تو عادت ہے۔ سچ کہوں تو ڈر لگتا ہے مجھے۔ ‘‘ اور جیسے کوئی آفاقی کلیہ تھا کہ یہ سب ثمرہ کو ہو ہی نہیں سکتا۔

انھوں نے نہ کبھی خود ثمرہ کی جگہ لینے کا سوچا اسے جذباتی سہارا دیا۔

بھابھیوں کا یہ احسان کم تھا کہ ان کے شوہر ماں اور بہن کے اخراجات اٹھا رہے تھے۔ وقت پر اسپتال لے جانا، دوائیاں لانا، ان کا حال پوچھ لینا جو ضرورت ہو وہ لا دینا، یہ کافی تھا۔ گھر میں چاربڑے بچے بھی تھے لیکن ان کو دادی سے کوئی سروکار ہی نہیں تھا۔

سوائے اس کے کسی کو پتا ہی نہیں چلا اور چھے سات سال گزر گئے۔

٭٭٭٭

وہ گھر جانے کی بجائے سڑکیں ناپتا رہا۔ اس کی ناراضی نے اسے بالکل تنہا کر دیا تھا۔ وہ شکوے شکایت اور لڑائی کی بجائے خاموشی سے سب سے دور ہوگیا تھا۔ اسے بابر اور آفرین کی یاد آتی تھی مگر وہ پتھر دل بنا ان سے ملنے بھی نہیں جا رہا تھا مگر آج سب کچھ بدل گیا تھا۔ سوچوں کی یلغار کے آگے وہ خود کو بے بس محسوس کر رہا تھا۔

گھر کے قریب ایک ریستوراں کے آگے اس نے کار روک دی۔ کئی دنوں سے وہ باہر ہی کھا رہا تھا اور اب ہر چیز کا ذائقہ ایک سا محسوس ہونے لگا تھا۔

وہ خود بھی ٹھیک ٹھاک پکا لیتا تھا مگر بازار سے سامان خریدنا اسے کبھی اچھا نہیں لگتا تھا۔ کوئی لا کر دے دے تو وہ آرام سے تینوں وقت پکا سکتا تھا۔

کھانا کھاتے ہوئے اس نے طے کیا کہ صفائی کے لیے آنے والی ماسی سے ہی سودا سلف بھی منگوالیا کرے گا۔

جب تک ابو تھے گھر میں ملازم کھانا بناتا تھا اور اس سے پہلے تو زندگی بڑی مختلف تھی۔

گھر میں داخل ہوا تو اسی خاموشی نے استقبال کیا جسے وہ بند گھر میں چھوڑ گیا تھا۔ کچھ دیر وہ لیپ ٹاپ کھولے دفتر کا کام کرتا رہا پھر جمائیاں آنے لگیں تو بستر پر لیٹ گیا۔ ان تمام کاموں کے دوران وہ اجنبی لڑکی اس کے دل و دماغ سے ایک پل کو بھی دور نہیں ہوئی تھی۔

فون اٹھایا تو بابر کے پیغام تھے۔ اسے چاچو کی یاد آرہی تھی اور وہ اسے گھر آنے کہہ رہا تھا۔

’’ میں بھی بہت مس کر رہا ہوں۔ کیوں نہ تم اور آفرین کچھ دن کے لیے ادھر آجاؤ! ‘‘ اس نے بابر کو جواب دیا۔

’’ پاپا اتنی رات میں اکیلے جانے نہیں دیں گے آپ لینے آ جائیں۔ ‘‘ چودہ سالہ بابر نے جواب دیا۔ وہ بے قراری سے ٹہل رہا تھا۔ آخر کچھ دیر بعد اس نے لکھا۔

’’ ریڈی ہو جاؤ، میں آرہا ہوں۔ ‘‘

ابو کے ساتھ جب اس نے گھر چھوڑا تھا تو خود سے وعدہ کیا تھا اب کبھی اس گھر میں قدم نہیں رکھے گا مگر آج ایک اجنبی لڑکی نے اسے اپنا وعدہ توڑنے پر مجبور کر دیا تھا۔ بنا کسی بناوٹ یا مصلحت کے اس نے اپنی جو مشکلیں، الجھنیں بیان کی تھیں انھوں نے اس کے لیے ایک نیا در کھول دیا تھا۔

بابر نے بتا دیا تھا اس لیے بھیا بھابھی نے حیرت کا اظہار نہیں کیا۔ آفرین سو گئی تھی۔

’’ میں اسے کل صبح چھوڑ دوں گا۔ ‘‘ بھیا نے کہا تھا اور وہ بابر کو لے کر آگیا۔ کسی نے پرانی بات نہیں چھیڑی، یوں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔

وہ بابر کے ساتھ دیر تک پلے اسٹیشن پر ’فیفا ‘ کھیلتا رہا۔ گھر کی خاموشی میں پہلی بار اتنا شور گونج رہا تھا۔

سونے سے پہلے اس نے فون تکیے کے دائیں جانب رکھ کے کروٹ لی اور جو وہ اتنی دیر سے نظر انداز کرکے کی کوشش کر رہا تھا، وہی باتیں پھر کانوں میں گونجنے لگیں۔

وہ لڑکی جس کا اسے نام بھی نہیں معلوم تھا، جسے اس نے آج پہلی بار دیکھا تھا، وہ اس کے لیے سب سے اہم ہوگئی تھی۔ زندگی کا رخ بدل دینے والی ہستی۔

٭٭٭٭

وہ زور نہیں جا سکتا۔ اس نے ہفتے کے دو دن اس کام کے لیے مختص کیے تھے۔ وہ توقع کر رہا تھا کہ وہ لڑکی دوبارہ آئے گی مگر آن دو دنوں میں وہ نہیں آئی۔ وہ کسی سے پوچھ بھی نہیں سکتا تھا۔ ’ چھاؤں ‘ کی کھوج بھی اس نے ابو کے لیے کی تھی وہاں عمر رسید? اور سبکدوش شہریوں کے لیے ہفتہ واری پروگرام ہوتا تھا۔ بلا تفریق جنس، بزرگ اکٹھا ہو کر گپے لگاتے، کبھی کچھ کھیل کھیلے جاتے۔ چند نوجوان بھی رضا کارانہ طور پر وہاں اس محفل کا حصہ ہوتے تھے۔ اکثر بڑھاپے کی بیماریوں سے نبرد آزما بزرگ ہی آتے تھے۔ جو تنہائی کے چھے دن اس ایک دن کے انتظار میں گزارتے تھے۔ وہ ابو کے بعد اس سیشن میں رضا کارانہ طور پر حصہ لینے کا سوچ کر وہاں گیا تھا تا کہ ضابطے کی کاروائی مکمل کر سکے۔

اس کا اپنا تجربہ اس لڑکی سے بہت مختلف تھا جسے سن کر پہلے تو اسے بڑی حیرانی ہوئی تھی۔ پھر دل میں بیسوں سوال اٹھے تھے اور اسے سب کے جواب درکار تھے مگر وہ دوبارہ ملتی تب نا !

وہ اب اکثر بابر اور آفرین کو اپنے ساتھ گھر لے آتا تھا۔ کبھی وہی واپس چھوڑ آتا اور کبھی بھیا انھیں لینے آ جاتے۔ ایک سرد ہو چکا رشتہ گرما رہا تھا۔ فاصلے کم ہو رہے تھے۔

چند دن مسلسل اسے سوچنے کے بعد اب اسے ثمرہ کا انتظار جواب طلبی کے لیے نہیں تھا بلکہ اب اسے اس دن والی اپنی جگہ اس لڑکی سے بدلنی تھی۔

٭٭٭٭

اس نے نورن خالہ کی مدد سے امی کو نہلایا، کپڑے تبدیل کروائے، بال بنائے اور دوائیاں دے کر لٹا دیا۔ اب بھی ان کا وزن زیادہ ہی تھا مگر پہلے کی نسبت کافی کم ہوگیا تھا۔ اندر جو بھی چلتا، وہ کوشش کرتی تھی ان کے سامنے مسکراتی رہے اور کام بھی خوش دلی سے کرے۔ وہ روبوٹ کی طرح تھی۔ سہارا دے کر اٹھاؤ تو کھڑی ہو جاتیں، لے کر چلو تو چلتی بھی تھیں، بیٹھ کر بال بنوالیتیں، وہ کھانا کھلاتی تو کھا لیتیں مگر بات نہیں کرتی تھیں۔ کبھی نظر اٹھا کے اسے دیکھتیں تو نگاہوں میں شناسائی کی رمق بھی نہ ہوتی۔ کبھی کبھار دیکھ کے مسکرا دیتیں مگر اس اجنبیت سے کہ ثمرہ کا دل بھر آتا۔

آغازمیں سب کچھ کٹھن امتحان جیسا تھا۔ سب سے بڑی آزمائش ان کی ڈائپر بدلنا ہوتا تھا۔ مگر وقت کے ساتھ وہ عادی ہوتی گئی۔ ابتدا میں نورن خالہ اس کی معاونت کرتی تھیں مگر اب وہ ان کے بنا ہی پیشتر کام کر لیتی تھی۔

ان کے اس طرح دیکھنے پر بچے ڈر کر بھاگ جاتے تھے پھر انھوں نے اس کمرے کا رخ کرنا ہی بند کر دیا۔ اگر والدین ماں کے پاس آتے بیٹھتے، ہاتھ تھامتے، چومتے تو بچے بھی ڈرنے کی بجائے مانوس ہوسکتے تھے۔

وہ باہر آئی تو ادھر ماحول کافی ہنگامہ خیز تھا۔ معلوم ہوا کہ آج فریحہ کے کالج میں الوداعی تقریب ہے اور وہ ساڑھی باندھ کر جا رہی ہے۔ دھوم ساڑھی پہننے اور میک اپ کی تھی۔

’’ اتنا وقت گزر گیا ! ‘‘ اس نے غور سے فریحہ کو دیکھا۔ وہ اسکول میں تھی جب اس کا گریجویشن مکمل ہوا تھا اور اب فریحہ گریجویٹ ہوگئی تھی۔

دونوں بھابھیاں اسے ساڑھی باندھنے میں مدد کر رہی تھیں۔ وہ اپنے لیے چائے بنا کر باہر آگئی۔

لان کے جھولے پر بیٹھتے ہوئے اسے اپنی اسکول اور کالج کی الوداعی تقریب یاد آرہی تھی۔

وہ بھی کبھی فریحہ اور لاعبہ کی طرح تیز لہجے میں اور جوش بھری آواز میں بولا کرتی تھی مگر اب تو خود اپنی آواز ہی اسے بہت کم سنائی دیتی تھی۔

’’ کتنا بدل گئی ہوں میں ! کیا کسی اور کو یہ محسوس نہیں ہوتا ؟ کسی نے کبھی کہا ہی نہیں اب تم کم بات کرتی ہو، ہنستی توبالکل نہیں۔ ‘‘

اس کی یہ غلط فہمی بھی جلد دور ہوگئی۔

اگلے دن بڑی باجی آئیں تو ساتھ ان کی نند اور دیورانی بھی ساتھ تھیں۔ وہ گھر کے قریبی مال میں آئی تھیں۔۔ ان کی نند کو اپنی بیٹی کی شادی کی دعوت بھی دینا تھی اس لیے وہ تینوں لدی پھندی گھر آئی تھیں کہ ایک ساتھ دو کام نمٹا لے۔ اتفاق کہ اس وقت دونوں بھابھیاں گھر میں موجود نہیں تھیں۔

’’ پھپو کچن میں آئیں نا ذرا ہیلپ کر دیں۔ ‘‘ فریحہ نے اندر جھانک کے کہا تو وہ اس کے پیچھے چل دی۔

اسے فریزر سے اسنیکس نکال کر تلنے کا کہہ کر اس نے تیل گرم ہونے رکھا اور چائے چڑھائی۔ لاعبہ کو اس نے برتن نکالنے کا کام سونپا۔

’’ پانی دیا انھیں ؟ ‘‘

’’ نہیں۔ ‘‘ لاعبہ نے جواب دیا۔

’’ تو وہ چھوڑوں پہلے پانی دے آؤ۔ ‘‘

لاعبہ پانی دے کر آئی تو پیغام بھی ساتھ لائی کہ وہ آپ کا پوچھ رہی ہیں۔

’’ تم چائے دیکھو میں مل کر آتی ہوں۔ ‘‘

سلام کے بعد انھوں نے اس کی امی کا حال پوچھا۔ کوئی اس سے نہیں پوچھتا تھا کہ تم کیسی ہو ؟ ہر کوئی امی کے متعلق استفسار کرتا تھا مگر سامنے موجود ہستی سے اس کے بارے میں پوچھنا بھول جاتے تھے۔

’’ ثمرہ کی وجہ سے ہی امی اس حال میں بھی اپ ٹو ڈیٹ رہتی ہیں۔ ‘‘ باجی نے اس کی تعریف ضروری سمجھی۔

’’ میں ان دونوں کو دیکھوں۔ ‘‘ بڑی باجی کی طرف دیکھ کے اس نے باورچی خانے کی سمت اشارہ کیا اور اٹھ گئی۔

جب وہ لوازمات ٹرے میں رکھ رہی تھی تو باجی جائزہ لینے چلی آئیں کہ تواضع میں کمی نہ رہ جائے۔

’’ میٹھا نہیں ہے کچھ ؟ ‘‘ سموسے، کباب، نمکین کی ٹرے دیکھ کر انھوں نے پوچھا۔

’’ آئس کریم ہے فریزر میں۔ ‘‘ فریحہ کو یاد آیا۔

’’ چائے بن گئی ہے تو اب آئس کریم کیسے دیں۔ دیکھو کہیں کیک کوکیز ہوگی۔ ‘‘ انھوں نے لاعبہ کو کام سے لگایا۔

’’ تم یہ لے جاؤ ثمرہ، میں چائے لے کر آتی ہوں۔ ‘‘

اس نے کچھ کہے بنا ٹرے اٹھالی۔

’’ چوبیس گھنٹے بیمار کے ساتھ رہنے سے انسان خود بھی بیمار ہو جاتا ہے۔ ‘‘ باجی کی دیورانی کی آواز پر اس کے قدم رک گئے۔

’’ ہاں نا دیکھو تو ذرا رونق نہیں اس کے چہرے پر حالاں کہ مجھے یاد ہے خاصی اٹریکٹیو اور فریش لگتی تھی۔ اب تو جیسے بھوت ہو کوئی۔ سفید چٹ صورت اور دکھی سا تاثر چہ ! ‘‘ یہ ان کی نند تھیں۔

اس کے دروازے سے پیر ٹکرا کے آواز پیدا کی اور آگے بڑھی۔ دونوں سنبھل گئیں۔

باجی چائے لے کر آئیں تو ان کے ساتھ لاعبہ بھی تھی۔ وہ امی کا بہانہ بنا کر وہاں سے اٹھ گئی۔

کمرے میں وہ آئینے کے سامنے رک گئی تھی۔ کچھ دیر اپنے عکس کو دیکھتے ہوئے اس کی آنکھیں بھر آئیں۔

٭٭٭٭

اس ہفتے کے اختتام پر بھی وہ نہیں آئی اور ابراہیم خود کو سمجھاتا اور ڈانٹتا ہی رہا۔

’’ کیا پاگل پن ہے ! تمھیں دوبارہ کیوں ملنا ہے اس سے ؟ اگر وہ آ بھی گئی تو تم اس سے کوئی سوال جواب تو کر نہیں سکوگے۔ ‘‘

اس نے آخری پودے کے پتوں پر پانی کا اسپرے کرنے کے بعد بوتل زور سے رکھی۔ گویا یہ خود کی سرزش تھی۔

ابو کو پودے پسند تھے اور ان کی خاطر اس نے گھر میں بے شمار پودے جمع کیے تھے۔ کچھ دن انھوں نے پودوں کی دیکھ بھال کی پھر آخری دنوں میں وہ بستر اور کمرے تک محدود ہوگئے تھے۔ ان کے جانے کے بعد اب اسے یہ مشغلہ اچھا لگنے لگا تھا بلکہ اس نے جانا تھا کہ ابو کا یہ شوق اس کے اندر بھی ہے۔

’’ بس اب اس کے بارے میں نہیں سوچوں گا۔ کبھی ’ چھاؤں ‘ آگئی تو ٹھیک اور کبھی ملی ہی نہیں تو بھی ٹھیک۔ ‘‘ اس نے خود سے یوں کہا مانو یہ باب اس کی طرف سے اس خیال کے بعد بند ہوا۔

آج تقریب میں شرکت کرنا تھی۔ وہ سارے خیال جھٹک کے الماری کھول کر پہننے کے لیے کپڑے منتخب کرنے لگا۔

اسے کہاں خبر تھی کہ اتنے دنوں بعد اس کی خواہش پوری کرنے کا ذریعہ اللہ تعالیٰ نے نورن خالہ کو بنایا ہے۔

ان کے محلے میں بجلی نہیں تھی اور اگلے اڑتالیس گھنٹے آنے کا امکان بھی نہیں تھا۔ جب انھوں نے گجر میں شادی میں جانے کی باتیں سنیں تو درمیان میں کود پڑیں کہ گھر میں بنا پنکھے کے سونا محال تھا۔

’’ ثمرہ بی بی کو بھی لے جائیں۔ وہ کہیں آتی جاتی ہی نہیں ہیں۔ ان کا بھی دل کرتا ہوگا۔ اس عمر میں تو شادی بیاہ میں جانے کا سب کو شوق ہوتا ہے۔ انھیں بھی اچھا لگے گا۔ مالکن کی فکر نہ کریں میں رک جاؤں گی ان کے پاس بلکہ آج یہیں سو جاؤں گی آپ سب کو دیر بھی ہوئی تو کوئی اڑچن نہیں مجھے۔ ‘‘

کسی کو کیا اعتراض ہوتا سوائے ثمرہ کے۔ کبھی وہ ایسے موقعوں پر دل مسوس کر رہ جاتی تھی۔ سب کے جانے کے بعد روتی رہتی تھی مگر اب اس کے شوق مر گئے تھے۔ اس کے بڑوں نے اپنے ارمان پورے کرتے ہوئے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ سب سے چھوٹی کے پاس بھی خواہشوں بھرا دل ہے۔

جب بڑی باجی نے فون کیا کہ تم بھی آؤ میری سسرال کا معاملہ ہے تو وہ چاہ کر بھی نہ انکار کر سکی نہ انھیں جتا سکی کہ سسرال کا معاملہ نہ ہوتا تو کیا وہ فون کرکے آنے کہتیں۔

اس کا بننا سنورنا عیدین تک محدود ہوگیا تھا۔ شوق اس کے بھی لڑکیوں والے تھے، دل اب بھی کرتا تھا کہ وہ اپنے لیے ہی سب کچھ کریں لیکن ہمت ہی نہیں بچتی تھی۔

آج موقع ملا تو اس نے پچھلی عید والا سفید اور سرخ امتزاج والا جوڑا پہنا جو اسے بے انتہا پسند تھا۔ عید کے بعد آج اس نے ہلکا میک اپ بھی کیا اور لباس کی مناسبت سے کان کے آویزے بھی بدل لیے۔ اسے کھلے بالوں سے ہمیشہ الجھن ہوتی تھی۔ اب بھی اس نے انھیں سلیقے سے لپیٹ کر لخوبصورت سا کیچر لگا دیا تھا۔

’’ آخر باجی کی سسرال کا معاملہ ہے ! ‘‘ سینڈل پہننے کے بعد اس نے سراپے پر نظر ڈالتے ہوئے تلخی سے سوچا۔

’’ جلد آجاؤں گی امی۔ ‘‘ اس نے ان کے ماتھے پر بوسہ دے کر گویا انھیں تسلی دی۔ اب اس کا دل ہی ان سے دور جانے کو آمادہ نہیں ہوتا تھا۔ انھیں کھونے کا خوف بہت ڈراتا تھا۔

ایسی تقاریب اور ہنگاموں کی اسے عادت نہیں رہی تھی۔ اس پر ستم جو بھی دیکھتا وہ،

’’ ارے ثمرہ بھی آئی ہے ! ‘‘

’’ اوہو بھئی آج چاند کدھر سے نکلا ہے ! ‘‘

’’ آج تو بڑے لوگ آئے ہیں ! ‘‘

جیسی باتیں کرتا تھا۔ ہر کسی کا لہجہ الگ تھا۔ کوئی واقعی خوش تھا، کوئی واقعی حیرت زدہ تو کچھ کا پتہ نہیں چل رہا تھا طنز ہے یا مذاق۔

وہ جلد ہی پچھتانے لگی۔ اس کی ہم عمر کزنز یا واقف کار لڑکیاں زیادہ تر شادی شدہ تھیں تو کچھ کی گود میں بچے بھی تھے۔ ان کی باتیں سنتی تو لگتا وہ دنیا سے کٹ گئی ہے۔

وہ کھانے سے فارغ ہو کر کوئی گوشہ ڈھونڈ کر بیٹھنے کے ارادے سے جا رہی تھی کہ پاس سے دوڑتا بچہ بے خیالی میں اس کا دوپٹا ساتھ کھینچتا چلا گیا۔

’’ ارر۔۔۔ رکو۔۔۔ ‘‘ وہ دوپٹا ہاتھ سے سنبھالتی اس کے پیچھے دوڑی۔ دوپٹا چھوڑ دیتی تو وہ پورا ہی لے جاتا اور اگر کھینچتی تو بچے کے گرنے کا ڈر تھا۔

تبھی بچے کے سامنے آکر کسی نے اسے روکا اور اس کے ہاتھ سے دوپٹا چھڑایا۔ بچہ اس قدر مستی اور اپنی دھن میں تھا کہ پلو چھوڑ کر بازو سے نکل کر بھاگ گیام

ثمرہ نے جھٹ دوپٹا پاس کھینچا اور اس کے کنارے ہاتھ میں لے کر دیکھے۔ سفید دوپٹے کے چاروں طرف سرخ پتلا سا کنارا بنا تھا اور چاروں کونوں خوبصورت لٹکن تھے مگر اب ایک کونے سے لٹک رہا سرخ موتی والا ریشمی پھندنا غائب تھا۔

’’ ٹیسٰل کہیں گرا دیا۔ ‘‘ اس کا پسندیدہ لباس تھا لہٰذا آواز میں تاسف در آیا تھا۔ وہ پیچھے مڑ کے دیکھنے لگی۔

ابراہیم نے جھک کے، وہ سرخ ریشمی گچھا اٹھا کے اس کی طرف بڑھایا۔ ثمرہ نے پلٹ کے دیکھا اور سر اٹھایا۔ دونوں کی نگاہیں ملیں اور دونوں چونک گئے مگر کسی نے ’ آپ ؟ ‘ اور ’ آپ یہاں کیسے ؟ ‘ نہیں پوچھا۔

’’ تھینک یو۔ ‘‘ ثمرہ نے اس کے ہاتھ سے ’ ٹیسل ‘ لے لیا۔ تبھی پیچھے سے چند افراد آئے اور ان دونوں کو راستہ دینے ایک ساتھ ایک طرف ہونا پڑا۔

’’ آپ بارات کے ساتھ آئی ہیں یا برائڈ کی سائیڈ سے ہیں ؟ ‘‘ ابراہیم کو انتظار تھا سو پہل بھی اس نے کی۔

ثمرہ نے پہلی بار اپنے ’ سامع ‘ کی آواز سنی۔

’’ برائڈ کی سائیڈ سے۔ ‘‘ اس کا دل عجیب ہو رہا تھا۔ وہ جان پہچان والوں کا واقف کار نکلا۔ اب وہ سب کو بتا دے گا۔ یہی ڈر تو تھا جو وہ کسی سے کچھ نہ کہنے والی ’ چھاؤں ‘ تک پہنچ گئی تھی۔ ایک دم اس کا دل ڈوبنے لگا۔ اسے لگا وہ ساری دنیا میں ’ ایکسپوز ‘ ہو گئی ہے۔ اس کی وہ بشری کمزوریاں، وقتی خیال، تھکان، بوجھ ، شکوے، ساری دنیا جان جائے گی اور اسے چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ وہ دنیا میں سب سے بری بیٹی مشہور ہو جائے گی۔

’’ آئیں اس طرف بیٹھتے ہیں۔ ‘‘ اس کی بدلتی صورت دیکھ کر ابراہیم نے پیش کش کی۔ وہ اپنی خوشی کام یابی سے چھپا رہا تھا۔ وہ جس کا ’ چھاؤں ‘ میں انتظار کرتا رہا وہ اسے قریب ہی مل گئی تھی۔

ثمرہ اپنی بے جان ہوتی ٹانگوں کے خوف سے ذرا فاصلے پر رکھی کرسیوں میں ایک پر بیٹھ گئی۔ درمیان کی کرسی چھوڑ کے ابراہیم بھی بیٹھ گیا۔

ابراہیم اس کا خوف سمجھ رہا تھا۔ اس کی تسلی کی خاطر اسے کہنا چاہیے تھا کہ ’ بے فکر رہیں آپ کی باتیں میں اسی وقت بھول چکا۔ ‘ مگر یہ جھوٹ تھا۔ وہ کچھ نہیں بھول پایا تھا۔

’’ آپ کی باتیں میرے پاس امانت ہیں۔ کوئی تیسرا انھیں کبھی نہیں جان پائے گا۔ ‘‘ آخر اس نے کہا۔

ثمرہ نے احسان مندی سے اسے دیکھا۔ اس کے پاس ہقین کرنے کے علاوہ چارہ بھی نہ تھا۔

’’ یہ بس اتفاق ہے۔ فاران میرا کزن اور دوست ہے۔ ‘‘ اس نے دولہے سے اپنا رشتہ بتایا۔

ثمرہ قدرے سنبھل گئی تھی۔ اس دن کے بکھرے بال اور شکن زدہ شرٹ کی بجائے آج ابراہیم کا حلیہ مختلف تھا۔ سیاہ کرتا شلوار میں وہ یکسر مختلف لگ رہا تھا۔ اس دن اس نے سرسری سا اسے میز کے دوسری جانب بیٹھے دیکھا تھا۔ اس دن کی صورت حال، اس وقت کی صورت حال سے قطعی مختلف تھی۔

’’ تھینک یو۔ ‘‘ ثمرہ نے اس کی یقین دہانی پر تشکر سے کہا۔ وہ مسکرا دیا۔

’’ آپ اجازت دیں تو ایک بات کہوں۔ ‘‘ ابراہیم جانتا تھا کہ وہ اس سے دور اور انجان ہی رہنا چاہتی ہوگی اسی لیے اس سے پہلے کہ وہ اٹھ کر بھیڑ میں مدغم ہوجاتی، ابراہیم نے وقت ضائع نہیں کیا۔

’’ جی۔ ‘‘ پھر اس کا دل ڈوبنے لگا کہ وہ اسے کوئی صلاح مشورہ دے گا اور وہ کیا ہوگا اسے اندازہ تھا۔ جس کا مطلب ہوتا کہ اس نے اس کی باتوں کو سمجھا ہی نہیں۔ جس ججمنٹ کے ڈر سے وہ اب تک چپ تھی، وہی سامنے تھا۔

اسے احساس ہی نہیں ہوا کہ اس خیال نے اس کی آنکھیں نم کر دی ہے جنھیں دیکھ کر ابراہیم ایک نئے احساس میں گھر گیا تھا جس میں حیرت تھی، افسوس تھا اور ایک اجنبی کے لیے تشویش بھی۔

’’ مجھے بھی ایک ’ لسنر ‘ کی ضرورت ہے اور میں چاہتا ہوں وہ آپ ہوں۔ ‘‘

اس انوکھی بات پر حیرت سے اس کے ہونٹ ایک دوسرے سے دور ہوگئے اور آنکھوں میں جمع آنسو بھی تعجب سے دیکھنے لگے۔

ابراہیم نے جیب سے والٹ نکالا اور اس میں سے اپنا کارڈ کھینچ کر درمیانی کرسی پر رکھ دیا۔

’’ آپ اگر ولنگ ہوں تو ایک میسج یا کال کیجیے گا۔ ‘‘

ثمرہ نے کارڈ کو دیکھا اور پھر ابراہیم کو جو پر امید نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ یوں لمحوں میں فیصلہ نہیں کر سکتی تھی نہ اس نے ابھی فیصلہ کرنے کہا تھا۔ اسے اچھا نہیں لگا کہ وہ اسے اسی وقت نہ کہہ کر مایوس کر دے۔

اس نے ہاتھ بڑھا کے کارڈ اٹھا لیا اور کھڑی ہوگئی۔

ابھی ایک قدم ہی اٹھایا تھا کہ ابراہیم کی آواز آئی۔

’’ سنیں ! ‘‘

اس کا دل مچل رہا تھا کہ وہ اس کا نام پوچھیں مگر وہ اسے یہ تاثر نہیں دینا چاہتا تھا کہ اسے اس کے متعلق تجسس ہے یا وہ کرید رہا ہے۔ اس کا اعتماد اور یقین قائم رکھنے کے لیے یہ ضروری تھا۔ وہ ایسی کوئی بات یا اشارہ دینے سے احتیاط برت رہا تھا جس سے اسے اپنے خیالات ایک ’ لسنر ‘ کے سامنے بیان کرنے کا افسوس ہوتا۔ مگر وہ اسے چلتے رہنے کا حوصلہ تو دے سکتا تھا۔

’’ ان سب خیالات کے ساتھ بھی آپ بہت اچھی بیٹی اور اچھی انسان ہیں۔ ‘‘ وہ بھی کھڑا ہوگیا تھا۔

ایک بار پھر ثمرہ کے آنکھیں جھلمل کرنے لگیں۔

کاش کاش کبھی اس کے بھائی بہن اس کا ہاتھ تھام کے یہ کہہ دیتے تو وہ ایک اجنبی سے سن کر اس قدر جذباتی نہ ہوتی !

’’ تھینک یو۔ ‘‘ اس نے جھلمل آنکھوں سے اس کے دھندلے سراپے کو دیکھتے ہوئے مسکرا کے کہا اور چند ثانیے اسے دیکھنے کے بعد چلی گئی۔

اس کے پیچھے جانے سے پہلے ابراہیم اس کی گود سے گرا وہ سرخ ریشم اٹھانا نہیں بھولا تھا۔

اس رات گھر پہنچنے سے پہلے وہ جان گیا تھا کہ وہ دلہن کی ممانی کی بہن ثمرہ ہے۔ اسے امید تھی وہ ولیمے میں اس سے پھر مل سکے گا۔

نورن خالہ سو گئی تھیں۔ اس نے انھیں جگایا نہیں۔ وہ لباس اور حلیہ تبدیل کر کے سونے جارہی تھی کہ اپنے پلنگ کی بجائے امی کے پلنگ کے کنارے بیٹھ گئی۔

وہ گہری نیند میں ڈوبی تھیں۔ ثمرہ نے ان کا ہاتھ تھاما۔

’’ امی ! آپ بھی جانتی ہیں نا میں اچھی بیٹی ہوں۔۔۔ ‘‘ اس کی آواز رندھ گئی۔ کتنا دل کرتا تھا اس کا کہ امی کسی دن ٹھیک ہو جائیں اور اسے گلے لگا کر کہیں۔

’’ تم بہت تھک گئی ہو ثمرہ آؤ میری آغوش میں آرام کرو۔ ‘‘

کچھ دیر ان کے پاس بیٹھی وہ، وہ وقت سوچتی رہی جب امی صحت مند تھیں اور واقعی زندہ بھی۔

جب سونے لیٹی تو اسے ابراہیم کی وہ انوکھی خواہش یاد آئی۔

’’ جس کا اتنا طویل ’ رینٹ ‘ سنا وہ اسے کیا سنانا چاہتے ہیں ؟ ‘‘ تعجب والی بات ہی تھی۔ پہلے سے اپنی پریشانیوں اور سوچوں سے لڑ رہے انسان کو کوئی کیوں اپنی پریشانیاں بتانا چاہے گا۔

’’ شاید اس لیے کہ میں سمجھ سکتی ہوں۔ ‘‘ نیند میں ڈوبنے سے قبل اس نے اس کی وجہ ڈھونڈ لی تھی۔

٭٭٭٭

’’ ابراہیم عنایت اللہ۔ ‘‘ وہ کارڈ ہاتھ میں لیے جانے کتنی دفعہ اس کا نام پڑھ چکی تھی۔ دور پار کا سہی مگر وہ رشتے داروں میں شامل تھا۔

وہ ابھی تک فیصلہ نہیں کر پائی تھی۔ اس کی خواہش پوری کرے یا منع کر دے۔ وہ تو اس این جی او کے ساتھ کام کرتا تھا جب کہ وہ عام سی انسان تھی جس کے اپنے مسائل تھے۔ میرے پاس کوئی پیشہ ورانہ تکنیک ہے نہ علم نہ مشق۔

’’ یہ تو وہ بھی جانتے ہیں پھر بھی مجھے سنانا چاہتے ہیں۔۔۔ اس کی کوئی تو وجہ ہوگی۔ ‘‘

وہ سوچتی رہتی۔ اسے اس کارڈ پر درج فون نمبر یاد ہوگیا مگر ابھی تک اس نے ہاں نہ کا پیغام نہیں بھیجا تھا۔

ابراہیم ہر دن ایک نئی امید لیے فون کو بار بار دیکھتا رہتا اور ہر رات مایوس ہوتے ہوتے دعائیں کرنے لگتا۔

’’ لیکن تھمارے کہنے سے اسے کیا فائدہ ہوگا ؟ ‘‘

اس سوال کا اس کے پاس روز ایک نیا جواب ہوتا تھا۔

جب کہ ثمرہ کا دل کہہ رہا تھا کہ ایک بار اس کے لیے ’ سامع ‘ بننے میں کوئی حرج نہیں۔

وہ اسے پیغام بھیجتی اس سے پہلے ہی پھر ان کی ملاقات ہوگئی۔

اسے نورن خالہ نے بتایا کہ کل گھر میں کسی نئے شادی شدہ جوڑے کی دعوت ہے۔ پھر اگلے دن صبح ہی بڑی باجی بچوں سمیت آگئیں تو کون مدعو ہے وہ جان گئی۔ پچھلے کچھ عرصے سے اس نے مہمانوں کے سامنے جانا بالکل بند کر دیا تھا کہ ہر بار وہی پرانی باتیں اور چند گھسے پٹے جملے مختلف انداز میں دہرائے جاتے تھے۔

نورن خالہ ہی ایسے موقعوں پر اسے کھانا کمرے میں پہنچا دیتی تھیں۔ وہ امی کو ان کا کھانا کھلا کر فارغ ہوئی تھی۔ انھیں دوائیاں دے کر اور لٹا کر وہ اپنے بالوں میں تیل لگانے کا سوچ رہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ اس نے بالوں کو جوڑے کی شکل میں لپیٹا اور دوپٹا گلے میں ڈال کر دروازے پر آئی۔ اسے لگا تھا نورن خالہ اس کے لیے کھانا لے کر آئی ہوں گی۔

دروازے کی دوسری طرف ابراہیم اور بڑی باجی تھیں۔ پہلے اسے لگا اس کا وہم ہے۔ وہ مسلسل فون کرے نہ کرے سوچ رہی ہے اس لیے تصوراسے وہی دکھا رہا ہے لیکن جب اس نے سلام کیا تو کوئی شبہ نہ رہا۔

باجی اسے ہاتھ سے ایک طرف کرتیں اندر آئیں۔

’’ آؤ۔ ‘‘ انھوں نے مڑ کے ابراہیم کو اندر آنے کہا۔ وہ ایک جانب ہو کے اپنا دوپٹا ٹھیک کر رہی تھی۔ ابراہیم اندر آگیا۔ کمرے میں آتے ہی فضا میں بوجھل پن محسوس ہوا۔ کوئی ناخوشگوار بو نہ تھی مگر ایک مخصوص سی مہک پھیلی تھی۔ بیماری کی، تنہائی اور اداسی کی پھر چوبیس گھنٹے اس فضا میں رہنے والا انسان خود بھی بیمار کیوں نہ محسوس کرے !

’’ ویسے امی کو دیکھ کر لگتا نہیں کہ وہ اتنے وقت سے بیمار اور بستر پر ہیں۔ ‘‘ باجی کی آواز میں ناز تھا۔

اسٹیرائیڈز کے اثرات تھے کچھ امی کے جینز کہ وہ اب بھی فربہی مائل تھیں۔ گورا رنگ جھریوں کے باوجود بھی چمکتا تھا۔ ذرا دیر پہلے غسل کر کے لباس تبدیل ہوا تھا، بال بنے تھے اس لیے بھی وہ نسبتاً تروتازہ محسوس ہو رہی تھیں۔

وہ پیچھے دروازے کے پاس ہی کھڑی تھی۔ ابراہیم ان کی بیماری کی بابت پوچھ رہا تھا اور باجی کو جتنا علم تھا وہ سرسری سا جواب دے رہی تھیں۔ اچانک اس نے مڑ کے ثمرہ کو دیکھا اور پھر سوالیہ نظروں سے باجی کو۔

’’ اوہ ! ‘‘ انھوں نے بھی پلٹ کے دیکھا۔

’’ یہ ثمرہ ہے۔ ہماری سب سے چھوٹی بہن۔ ہم سب تو فیملی والے اور مصروف ہیں، یہ ہی زیادہ تر امی کے پاس ہوتی ہے۔ ‘‘

’’ زیادہ تر ؟ ‘‘ اس نے سوچا۔

’’ لیکن یہ بھی ہمیشہ نہیں رہ سکتیں آئی مین ان کی بھی شادی فیملی ہوگی تو پھر۔۔۔ ؟ ‘‘

باجی جزبز ہوئیں اور اس کی تیوریاں چڑھ گئیں۔

اپنا دل کھولتے ہوئے اسے یقین تھا کہ سننے والا اس کی زندگی میں کسی قسم کی دخل اندازی نہیں کر سکتا اور ایسا ہی کچھ اس پرچے پر بھی درج تھا، پھر یہ کیا ہو رہا تھا ؟ اسے ابراہیم کی بات بالکل اچھی نہیں لگی۔

’’ ہماری ثمرہ امی کے علاوہ کچھ سوچتی ہی نہیں ہے۔ ‘‘ باجی نے پیار سے اسے دیکھا۔

’’ آئیں سب کھانے پر ویٹ کر رہے ہوں گے ہمارا۔ ‘‘ وہ دروازے کی طرف بڑھیں۔

وہ باہر نکل گئیں تب ابراہیم آگے آیا۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا مگر چہرے کے تاثرات مختلف تھے۔

وہ جو اب تک فیصلہ نہیں کر سکی تھی، اسی پل سوچ لیا کہ وہ اس سے ملے گی مگر اس کی ’ لسنر ‘ بننے نہیں بلکہ اس سے جواب طلب کرنے۔

مہمانوں کا کھانا ہونے کے بعد وہ جا کر نئے دولہا دولہن سے مل آئی تھی۔

رات بھر اسے نیند نہیں آئی۔ بار بار اس کا چہرہ اور اس کا سوال یاد آتا رہا۔ جب غصہ کر کے ذہن تھک گیا تو چپکے سے منمنایا۔

’’ وہ غلط تو نہیں کہہ رہا تھا۔ جو گھر والوں کے سوچنے کی بات ہے وہ کوئی غیر سوچ رہا ہے۔ ‘‘ اس نے کروٹ بدلی۔ سامنے ہی امی کا پلنگ تھا۔

’’ کاش امی آپ بولنے لگیں، اچھی ہو جائیں۔ اللہ یہ معجزہ دکھا دے۔ مجھے یقین ہے جو یہ سب نہیں سوچتے، وہ سب آپ کو ضرور پریشان کرتا ہوگا۔ ‘‘ وہ سب سے زیادہ یہ ہی دعا کرتی تھی کہ وہ بولنے لگیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ان کی آگاہی اور ادراک والی قوت ختم یا نہایت کم ہو چکی ہے۔ وہ بولنے سمجھنے سے قاصر ہی رہیں گی۔ اسٹروک اور اس کے بعد کی پیچیدگیوں کی وجہ سے ان کے دماغ کے وہ حصے متاثر ہوئے تھے جو ان کاموں کے لیے خاص تھے۔

٭٭٭٭

اس نے ملنے کا فیصلہ تو کر لیا تھا مگر گھر سے نکلنے کی وجہ بھی ضروری تھی۔ کوئی اس قید کو سمجھتا نہیں تھا جو وہ کاٹ رہی تھی۔ امی کی وجہ سے وہ کہیں جا نہیں سکتی، باہر نہیں نکلتی ہے، یہ باتیں اس کے کچھ کہے بنا ہی اس قدر عام ہوگئی تھیں کہ اسے باہر جانے کا خیال بھی احساس جرم میں مبتلا کر دیتا تھا۔

کچھ دیر کے لیے امی کو کوئی بھی دیکھ سکتا تھا۔ گھر میں دونوں بھابھیوں کے علاوہ فریحہ اور لاعبہ تھیں۔ رمیز اور اعجاز بھی کالج کے بعد اکثر گھر میں موجود رہتے تھے۔ کبھی کسی نے بڑھ کر یہ نہیں کہا تھا کہ آج آپ کی چھٹی ہم دادی یا امی کو دیکھ لیں گے۔ باجیوں کے پاس تو بظاہر مضبوط وجہ تھی۔

آغاز میں وہ انھیں ایک پل کے لیے بھی نہیں چھوڑتی تھی کہ دل میں ڈر تھا مبادا اس کی پلک جھکپتے ہی کچھ ہو نہ جائے۔ وہ رات میں اٹھ اٹھ کے انھیں دیکھتی رہتی۔ باقی گھر والوں نے اسے خود کو اس طرح نڈھال کرنے، توانائی خرچ کرنے اور تھکان سے بچانے کی بجائے معمول بنا لیا کہ ثمرہ ہمہ وقت ان کے ساتھ، ان کے پاس رہتی تو ہے۔

پہلے بھی کبھی وہ سہیلیوں اور کزنز کی تقاریب میں چلی جاتی تھی مگر دھیرے دھیرے وہ بھی ختم ہوگیا۔ اب تو وہ امی کے لیے اسپتال کے علاوہ شاد ہی کہیں نکلتی تھی۔

گھر سے نکلنے کی وجہ سوچتے ہوئے اس نے ابراہیم کا نمبر فون میں محفوظ کرنے کے بعد اسے لکھا۔

’’ میں کسی دن آپ سے مل لوں گی۔ ‘‘

ابراہیم نے تفصیل پوچھنے کی بجائے بس انگریزی میں ’ منتظر‘ لکھا تھا۔

اس نے نورن خالہ سے کہہ رکھا تھا کہ اسے ایک دن اپنی سہیلی کی طرف جانا ہے تو انھیں اس کی غیر موجودگی میں امی کے پاس رکنا ہوگا۔ وہ اس کام کے لیے ہمیشہ راضی رہتی تھیں۔ اس دوران انھیں بس اے سی والے کمرے میں سکون سے سونا ہی ہوتا تھا اور ثمرہ چند سو روپے بھی دیتی تھی۔

اب وہ سوچ رہی تھی اس سے کہاں ملے۔ ’ چھاؤں ‘ میں وہ لسنر تھا۔ وہاں وہ اس سے سوال جواب نہیں کر سکتی تھی۔

’’ ہاں میں اس این جی او میں جا کر ان کی شکایت ضرور کر سکتی ہوں۔ مگر اس سے پہلے مجھے ان سے بات کرنی ہے۔ ‘‘

چوں کہ وہ گھر میں اصل بات نہیں بتا سکتی تھی اس لیے یہ بھی ڈر تھا کہ باہر کسی نے اسے ابراہیم کے ساتھ دیکھ لیا تو ایک نیا بکھیڑا کھڑا ہو جائے گا۔

’’ لیکن اور کوئی جگہ بھی تو نہیں۔ کسی کافی شاپ یا پارک میں ہی مل سکتے ہیں۔۔۔ یا اسٹیشن پر بلاؤں۔۔۔ ہاں وہاں کسی نے دیکھ بھی لیا تو مسئلہ نہیں۔ ‘‘

اس رات امی کو دو قے ہوگئی۔ حالاں کہ کھانا ان کی ’ ڈائٹیشین ‘ کا تجویز کردہ ہی تھا۔ زیادہ ترغذا سوپ میں پروٹین پاؤڈڑ کی شکل میں ہی انھیں دی جاتی تھی۔

وہ ڈاکٹر سے فون پر بات کر سکتی تھی مگر اس نے اسپتال جانے کا سوچا۔ نورن خالہ کو امی کے پاس ٹھہرا کے وہ اسپتال چلی گئی۔

اسپتال سے نکلنے سے پہلے اس نے ابراہیم کو پیغام بھیجا کہ وہ تیس منٹ بعد سیتا برڈی میٹرو اسٹیشن پر ملے۔ گھر سے میٹرو اسٹیشن دور تھا لیکن جس اسپتال جانا ہوتا تھا وہ میٹرو اسٹیشن سے قریب تھا۔ اس لیے وہ اسپتال جانے آنے کے لیے میٹرو میں سفر کرتی تھی۔

ابراہیم کو اس جگہ ملنا ٹھیک نہیں لگا مگر فون پر، وہ بھی پیغام لکھ لکھ کر بحث بے کار تھی لہٰذا اس نے پلیٹ فارم مخصوص جگہ بتائی کہ وہ وہاں منتظر ہوگا۔ ثمرہ جب پلیٹ فارم پر اتری تو وہ اپنی بتائی جگہ کھڑا تھا۔

وہ اس کے قریب جاتے ہوئے خالی بینچ یا جگہ دیکھ رہی تھی جہاں بیٹھ کر اس سے بات ہو سکے۔

’’ ہم پاس ہی کسی کافی شاپ یا ریسٹورنٹ میں چلتے ہیں۔ ‘‘ وہ اس کے سامنے رکی اور ابراہیم نے کہا۔

’’ یہاں بھی ٹھیک ہی ہے۔ ‘‘اس نے اطراف میں نظر گھمائی۔

’’ نہیں۔‘‘ ابراہیم سے صاف رد کر دیا۔

’’ یوں شور اور لوگوں کے درمیان نہیں۔ ‘‘ ابراہیم نے کہا۔ وہ تو بس اس کے کل کے جملے پر اس سے باز پرس کا سوچ رہی تھی جب کہ ابراہیم کے لیے آج وہ دن تھا جو ثمرہ کے لیے پہلی ملاقات تھا یعنی اپنا دل اس کے آگے کھولنے والا۔

’’ اگر آپ نہیں چاہتیں تو ہم پارکنگ میں کار میں ہی بات کر لیتے ہیں۔ ‘‘ اس کے انداز میں نیم رضامندی بھانپ کے وہ باہر جانے والے راستے کی طرف مڑ گیا۔

’’ آئیں۔ ‘‘

اسے بھی تقلید کرنی پڑی۔ پارکنگ کی طرف جانے سے پہلے اس نے رک کر اسے دیکھا۔

’’ کہاں بات کرنا چاہتی ہیں آپ ؟ کار میں یا کہیں اور ؟ ‘‘ وہ جو پہلے اتنا سوچ بچار کر چکی تھی اس وقت بنا غور کیے بول پڑی۔

’’ جہاں آپ مناسب سمجھیں۔ ‘‘ اگلے پل ہی اسے یاد آگیا۔

’’ لیکن میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ ‘‘ اس نے فون میں وقت دیکھا۔

ابراہیم سر ہلاتا آگے بڑھ گیا۔ کار کے پاس رک کے اس نے ثمرہ کے لیے دروازہ کھولا۔ وہ اندر بیٹھ گئی تو دوسری جانب سے آکر اس نے ڈرائیور والی نشست سنبھال لی۔ اس نے اے سی چلایا تو وہ جان گئی، وہ کہیں اور نہیں جا رہے تھے۔ اس سے پہلے وہ اسے ’ لسنر ‘ بنا کے شروع ہوتا، ثمرہ نے اسے دیکھا۔

’’ کل آپ نے باجی سے میری شادی کا ذکر کیوں کیا ؟ ’ لسنر ‘ ساری باتیں بھول جائے گا یہ یقین دلایا گیا تھا اور آپ نے بھی کچھ ایسا ہی کیا تھا۔ ‘‘ ابراہیم اس کے لیے تیار نہیں تھا۔ ثمرہ کا لہجہ ہرگز نرم نہیں تھا۔

’’ کل میں نے وہ بات ’ لسنر ‘ بن کے نہیں کہی تھی بلکہ اس سچویشن کو دیکھ کر یہ خیال کسی کو بھی آ سکتا ہے۔ ‘‘

’’ جو کچھ میں نے آپ سے کہا تھا اس کے بعد آپ یوں جھوٹ نہیں کہہ سکتے۔ ‘‘ اس کے اندر ندامت اور پچھتاوا سر اٹھانے لگا کہ اس سے ’ چھاؤں ‘ جانے کی غلطی سرزد ہوئی ہے۔

’’ اور اگر ہم ٹکرا ہی گئے تھے تو آپ کو انجان بنے رہنا چاہیے تھا۔ ‘‘

اس رات اس کے الفاظ کہ وہ اچھی بیٹی اور اچھی انسان ہے، ایک طویل، تنہا مسافت کے بعد اسے بے انتہا خوشی، اطمینان اور حوصلہ دے گئے تھے مگر اب اسے سب ہی غلط لگ رہا تھا۔

ابراہیم پر سوچ سا اسے دیکھتا رہا۔ اسے سچ کہے یا نہیں، وہ سوچ رہا تھا۔

’’ جس دن آپ آئی تھیں، میں تب تک وہاں کا والینٹیر یا اِمپلائی نہیں تھا۔ ‘‘ آخر اس نے کہہ دیا۔

’’ میں وہاں مِس پروین کا ویٹ کر رہا تھا۔ آپ شاید میز پر رکھا ’ لسنر‘ کا بیچ دیکھ کر مجھے لسنر سمجھ بیٹھیں اور مجھے وہ بہتا سا تسلسل توڑنا مناسب نہیں لگا۔ اس عمارت تک آکر اس میز کی سمت بڑھنا معمولی بات نہیں تھی، اس مقام تک پہنچنے والا انسان بہت ہمت جٹا کے وہاں پہنچتا ہے۔ اگر میری صفائی کہ سوری میں لسنر نہیں، آپ کوسیکنڈ تھاٹ کا موقع دیتی اور آپ لوٹ جاتیں تو وہ اس دھوکے سے کہیں زیادہ غلط ہوتا۔ ‘‘ وہ بہت سنجیدہ تھا۔ ثمرہ اس نئی اطلاع پر متحیر تھی۔ تو غلطی اس کی تھی۔

’’ یقین کریں میں واقعی آپ کے وہاں سے اٹھتے ہی سب بھول جاتا اگر آپ کی زندگی کا یہ حصہ میری زندگی سے جڑا نہ ہوتا۔ ‘‘ اسے جھٹکا لگا۔

’’ اسی لیے میں چاہتا ہوں آپ میری ’ لسنر ‘ بنیں۔ ‘‘ وہ اس قدر متعجب تھی کہ کچھ کہہ ہی نہ سکی۔ عادتاً حیرت کے اظہار میں اس کے ہونٹ ایک دوسرے سے ذرا سے دور ہوگئے تھے۔ اس کی سیاہ آنکھیں حیران سی مزید گہری لگ رہی تھیں۔

تبھی اس کا فون بجنے لگا۔ اس نے پرس سے فون نکالا۔ نورن خالہ تھی۔ اس کا دل یکایک سہم گیا۔

’’ الہٰی خیر۔ ‘‘ اس نے دل میں کہتے ہوئے فون اٹھایا۔

’’ السلام علیکم خالہ۔ سب خیریت تو ہے ؟ ‘‘

دوسری جانب اچھی خبر نہیں تھی۔ امی کو پھر قے ہوئی تھی۔ ظاہر ہے انھیں عادت نہیں تھی تو ان کے لیے یہ بعد کی بہت مشکل کام تھا جو انھوں نے کسی طرح سر انجام دیا تھا۔ وہ بھانپ لیتی تھی کہ اگلا مرحلہ کیا ہوگا اور اس حساب سے عمل کرتی تو گندگی اور صفائی والا کام نہیں بڑھتا تھا۔

’’ میں آرہی ہوں بس کچھ منٹ رکیں۔ ‘‘

اس کا دل کر رہا تھا اڑ کے گھر پہنچ جائے۔ عجیب بے قراری اس پر طاری ہوئی تھی۔ اس نے فون بند کر کے ابراہیم کو دیکھا۔ ذرا دیر پہلے ہوا انکشاف اس لمحے ثانوی ہوگیا تھا۔

’’ میں آپ کو گھر ڈراپ کر دیتا ہوں۔ ‘‘ وہ اس سے پہلے مستعد ہوگیا تھا۔

’’ نہیں، میں چلی جاؤں گی۔ ‘‘

’’ آپ یہاں سے رکشا یا اوبر لیں گی یا واپس اسٹیشن جائیں گی اور ان دونوں سے کم وقت میں ہم گھر پہنچ جائیں گے۔ ‘‘

’’ نہیں۔۔۔ ‘‘ اس کا کہنا تو درست تھا مگر وہ گھر والوں کے سوال جواب سے بچنا چاہتی تھی۔

’’ میں اجنبی نہیں ہوں۔ آپ کے گھر میں سب جانتے ہیں اور مجھے ایک کام کے سلسلے میں آپ کی بھابھی سے ملنا بھی ہے، میں کہہ دوں گا۔۔۔ آپ راستے میں مل گئی تھیں۔‘‘

اس نے کار شروع کر دی تھی۔

’’ بھابھی سے انھیں کیا کام ؟ ‘‘ اس نے بغور اسے دیکھا جو کار احتیاط سے پارکنگ سے باہر نکال رہا تھا۔

اسے جلد گھر پہنچنا تھا لہٰذا وہ خلافِ مرضی اور پسند مصلحتاً چپ چاپ اس کے ساتھ چل پڑی۔

دونوں نے ہی راستے میں کوئی بات نہیں کی۔

گھر میں لان اور ڈرائینگ روم دونوں خالی تھے۔

’’ آپ بیٹھیں میں بھابھی سے کہتی ہوں۔ ‘‘ وہ اسے وہیں چھوڑ کر کمرے میں آگئی۔

’’ سوری خالہ۔ ‘‘

’’ سات توپوں کی سلامی تمھیں۔۔۔ کیسے اکیلے سنبھال لیتی ہو مالکن کو ؟ ‘‘ اسے دیکھتے ہی وہ بول پڑیں۔

وہ مسکراتی پرس رکھ کے امی کے پاس آئی۔ یہ ہی کام گھر کا کوئی اور کرتا تو اسے بھی قدر اور احساس ہوتا۔

’’ آپ تھوڑی مدد کریں، ہم کپڑے بدل لیتے ہیں امی کے۔ ‘‘ حالاں کہ نورن خالہ نے ٹھیک ٹھاک صفائی کی تھی مگر اس کی نفاست پسند طبیعت کو گوارہ نہ تھا۔

’’ قے کے بعد لباس نہ بدلو تو ایک بو سی آتی ہے۔ ‘‘

کپڑے بدلوانے اور نہلانے کے لیے وہ ہمیشہ ان کی مدد لیتی تھی۔

اچانک اسے یاد آیا۔

’’ پہلے بھابھی سے کہیں ڈرائنگ روم میں کوئی ان سے ملنے آیا ہے۔ ‘‘

’’ کون سی بھابھی سے ؟ ‘‘

یہ تو اس نے بھی نہیں پوچھا تھا۔

’’ دونوں سے کہہ دیں مہمان آئے ہیں۔ ‘‘

ان کے جانے کے بعد اس نے امی کے کپڑے نکالے اور پھر نورن خالہ کی مدد سے تبدیل کروائے۔ ڈاکٹر کی دی ہوئی نئی دوائیاں انھیں دیں تو کچھ دیر بعد ہی ان کی آنکھیں بند ہوگئیں۔

مغرب ہوگئی تھی۔ اس نے نماز پڑھی اور پھر باہر آئی۔ ڈرائنگ روم سے ابراہیم اور بڑی بھابھی کی آوازیں آ رہی تھیں۔

باورچی خانے میں آکر اس نے اپنے لیے چائے بنائی۔

’’ میری زندگی کا یہ حصہ ان کی زندگی سے کیسے جڑا ہے ؟ ‘‘ اس کے اندر تجسس جاگا تھا کہ وہ ابراہیم کے بارے میں مزید جانے۔ چائے لے کر کمرے میں یا لان میں جانے کی بجائے وہ ڈرائنگ روم میں آگئی۔

مرکزی تپائی کے شیشے پر فائلیں اور کاغذات بکھرے تھے اور دونوں ان پر جھکے تھے۔ وہ دروازے میں ہی رک گئی کہ اندر جائے یا پلٹ جائے

’’ آپ کسی اچھے وکیل سے کنسلٹ کریں یا آپ کہیں تو اپنے وکیل کا نمبر دیتا ہوں۔ ‘‘

’’ بہت مہربانی ہوگی آپ ان کا نمبر دے دیں۔ ‘‘ ابراہیم سیدھا ہوا اور بھابھی کاغذات سمیٹ کر فائلوں میں رکھنے لگیں۔

ابراہیم کی نظر اس پر پڑی۔ بھابھی فائلیں لیے کھڑی ہوئیں تو ابراہیم کی نگاہ کے تعاقب میں مڑ کے دیکھا۔

’’ آؤ ثمرہ۔ ‘‘ انھوں نے اسے بلایا۔

’’ میں یہ رکھ کر آتی ہوں اور ابھی بھائی سے بات کرلیتی ہوں ورنہ بھول جاؤں گی باریکیاں۔ اسے اگر مزید کچھ پوچھنا ہوا تو آپ کا نمبر دے دوں گی۔ ‘‘

اس کے پاس پہنچ کر انھوں نے اسے مخاطب کیا۔

’’ میں آتی ہوں تب تک بیٹھو ابراہیم کے پاس۔ ‘‘

وہ اندر چلی گئیں۔ ثمرہ آہستہ چلتی اس کے سامنے صوفے پر بیٹھ گئی۔ تپائی پر کوئی کپ تھا نہ ٹرے یعنی اس کی تواضع نہیں ہوئی تھی، ایسے میں اپنے ہاتھ میں تھاما کپ اسے مہمان کی بے ادبی محسوس ہوا۔ اس نے یوں کپ ابراہیم کے آگے رکھا جیسے اسی کے لیے چائے لائی تھی۔

’’ تھینک یو۔ ‘‘ ابراہیم کا زیر لب تبسم کہہ رہا تھا کہ اسے علم ہے یہ چائے اس نے اپنے لیے بنائی تھی۔

’’ بھابھی کو کیا کام تھا ؟ ‘‘ اسے دوسروں کی زندگی اور معاملات کریدنے کی عادت تھی نہ شوق مگر اس وقت کہیں سے تو گفتگو کا آغاز کرنا تھا۔ سیدھا یہ کہنا کہ ’ سنائیں جو سنانا تھا میں تیار ہوں۔ ‘ بھی مناسب نہیں تھا۔

’’ ان کے فادر کی وفات کے بعد بینک اکاونٹ اور دیگر پراپرٹی جو ان کے نام تھیں اسے کلیم کرنے کا مسئلہ ہے کیوں کہ انھوں نے کسی کو نامینی نہیں بنایا تھا، سیم ایشو ایک پلاٹ کے معاملے میں ہمیں بھی تھا جو ہم نے حل کیا، سو فاران نے کہا تھا میں انھیں اس معاملے میں گائیڈ کر دوں۔ ‘‘ ابراہیم نے مفصل جواب دیا۔

اس نے بس سر ہلانے پر اکتفا کیا۔

’’ آنٹی۔۔۔ آئی مین آپ کی امی ٹھیک ہیں ؟ ‘‘

’’ جی۔ ‘‘

’’ میں پوری ایمانداری سے آپ سے معافی چاہتا ہوں اس دن کی بات کے لیے۔ میرا مقصد آپ کو ہرٹ یا جج کرنا بالکل نہیں تھا۔ ‘‘ ابراہیم کی آواز دھیمی تھی۔ اپنی پہلےبدن والی غلطی کے بعد اب اس کا غصہ اتر گیا تھا۔ اس کی بات ’ پروفیشنل مس کنڈکٹ ‘ یا ’ بریچ آف ٹرسٹ ‘ نہیں تھی۔

’’ آپ مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہیں ؟ ‘‘ ثمرہ نے کچھ توقف کے بعد پوچھا۔

ابراہیم نے دروازے کی طرف دیکھا جہاں سے کسی بھی وقت بھابھی واپس آسکتی تھیں۔

’’ اس کے لیے مجھے بھی آپ کے تیس منٹ درکار ہوں گے۔ ‘‘

’’ میرا گھر سے نکلنا بہت مشکل ہوتا ہے۔۔۔ اس لیے یہ جو وقت ملا ہے اسے ہی کارآمد بنا لیں۔ ‘‘

ابراہیم نے چند پل یونہی گنوا دیے۔

’’ اپنے ابو کی وجہ سے میں نے کم و بیش وہ کردار ادا کیا جو آپ کی فیملی آپ کے لیے کر رہی ہے۔ ‘‘ ثمرہ کو دوسرا شدید جھٹکا لگا۔

’’ آپ سے ملنے سے پہلے مجھے احساس تھا نہ اندازہ کہ لمبے عرصے سے بیمار شخص کی دیکھ بھال کرنا کس قدر چیلنجنگ ٹاسک ہے۔ ‘‘ ثمرہ کے چہرے کی حیرت اسے نادم کر رہی تھی۔

ایک بار پھر حیرت سے اس کے ہونٹ خفیف سے وا ہوگئے تھے۔ اسے احساس نہیں تھا وہ یک ٹک ابراہیم کو دیکھ رہی ہے۔ ابراہیم نے دل میں اعتراف کیا کہ مسٹرڈ یلو رنگ اس پر بڑا بھلا لگ رہا تھا۔

’’ اپنی لا علمی اور کج فہمی کی وجہ سے میں نے اپنی فیملی سے بد سلوکی کی اور پھر ان سے ناراض بھی ہوگیا۔ اتنا کہ الگ گھر لے کر میں ابو کو اپنے ساتھ لے آیا۔ ‘‘

اس کی بات ایسی مشکل نہ تھی پھر بھی ثمرہ کے لیے اس میں کئی پہلیاں تھیں۔

’’ میرے دل پر بھی بہت بوجھ ہے، جن سے مجھے معافی مانگنی ہے وہ تو میں مانگ لوں گا مگر میں کتنا برا ہوں، یہ مجھے با آواز بلند کہنا ہے۔ ‘‘ پہلی بار ثمرہ کے دل کو کچھ ہوا۔ ابراہیم کے چہرے پر پھیلی خود اذیتی، اس دن والے شبنمی سے تاثر کے ساتھ گڈ مڈ ہونے لگی۔ وہ اسے آسانی دینے والا مہرباں تھا، اس کا دل ہلکا ہونے کا وسیلہ۔ وہ اس تصور کو کسی بری یاد سے کیسے اور کیوں بدلے ؟ اس کا دل کیا منع کر دے کہ مجھے نہیں سننا۔ میں آپ کو مہرباں کے طور پر ہی یاد رکھنا چاہتی ہوں مگر اگلے پل اس کا دل تڑپ اٹھا کہ وہ جانتی تھی اپنے اندر غبار لیے جینا اور ان دیکھا بوجھ ڈھونا کیسا ہوتا ہے۔

بھابھی کی آمد نے وہاں کی فضا میں ارتعاش پیدا کیا اور دونوں سنبھل گئے۔

ان کے ہاتھ میں لوازمات بھری ٹرے دیکھ کر اس نے چپکے سے ابراہیم کے آگے رکھا کپ اٹھالیا۔ اس نے ایک گھونٹ بھی نہیں لیا تھا۔ ان کے پیچھے چھوٹی بھابھی بھی تھیں۔ ثمرہ کھڑی ہوگئی۔ ابراہیم نے ایک آخری امید اور التجا بھری نظر اس پر ڈالی تھی۔

باورچی خانے میں آکے اس نے کپ مائیکرو ویو اوون میں گرم کیا اور کمرے میں آگئی۔ کچھ دیر بعد فریحہ اور لاعبہ بھی آگئیں جو اپنی خالہ کی طرف گئی تھیں۔

سارا وقت اس کے ذہن پر ابراہیم اور اس کی باتیں غالب رہیں۔ رات میں امی کے سارے کام نبٹانے کے بعد اس نے عشائ پڑھی اور امی کے سونے کا یقین کر کے باہر نکل آئی۔ سب کھانے کے بعد اپنے کمروں میں تھے۔ اگلے حصے کی ساری بتیاں بند تھیں۔ وہ اس سے باہر ملنے کے حق میں نہیں تھی نہ اس کی درخواست ٹھکرانا چاہتی تھی۔ وہ کسی بہانے پھر گھر آ بھی جاتا تو انھیں موقع ملنا ناممکن تھا۔

بڑی دیر گھاس پر ادھر ادھر ٹہلنے کے بعد اس نے فون روشن کیا۔

’’ آپ جب چاہیں مجھ سے فون پر بات کر سکتے ہیں۔ ‘‘ اس نے لکھا اور چند پل کے تامل کے بعد بھیج دیا۔

’’ یہاں کیا کر رہی ہو ؟ امی اکیلی ہیں ؟ ‘‘ جانے کدھر سے بھائی آگئے۔

’’ امی سو گئی ہیں۔ میں کچھ دیر ٹہلنے آئی تھی۔ ‘‘ اس نے کوشش کی اپنا انداز مجرموں سا نہ ہو۔

’’ اچھا۔ زیادہ دیر مت کرنا۔ ‘‘ وہ واپس چلے گئے۔

وہ بھی ان کے پیچھے کمرے میں آگئی۔

ابراہیم نے ریموٹ سے ٹی وی کی آواز بند کر کے اس کا پیغام پڑھا۔ اسے یقین تھا وہ انکار نہیں کرے گی۔ دل تو کیا اسی وقت اسے کال کرے مگر دن بھر کی تھکی ہاری بندی کو کم سے کم رات تو سکون والی ملنی چاہیے۔ اسے یہ کہنا کہ جب فارغ ہو بتایئے گا تا کہ کال کروں، بھی بے حسی تھی۔

’’ تھینک یو۔ ‘‘ اس نے لکھا۔

ثمرہ کال کی امید کر رہی تھی۔ وہ الجھ گئی۔

’’ صاف کہوں کہ ابھی کال کریں۔۔۔ اور اگر وہ مصروف ہوں یا ابھی بات نہ کرنا چاہتے ہو تو۔۔۔ ؟ لیکن میں اتنا سب کیوں سوچوں۔۔۔ ‘‘

’’ آپ چاہیں تو ابھی بات کر سکتے ہیں۔ ‘‘ اس نے لکھ بھیجا۔

ابراہیم نے پڑھتے ہی گہرا سانس لیا اور کھڑا ہوگیا۔ ریموٹ اٹھا کے ٹی وی بند کیا اور کھڑکی کے پاس چلا آیا۔ سترھویں منزل سے نیچے سڑک پر گاڑیاں دوڑ رہی تھیں۔ تاحد نظر عمارتوں کی روشنیاں تھیں۔ وہ کشن دیوار سے لگا کر ’ ونڈو بنچ ‘ پر بیٹھ گیا۔

کچھ دیر باہر دیکھنے کے بعد اس نے ثمرہ کو کال لگائی۔

دوسری رنگ پر ہی اس کی آواز ابھری۔

’’ السلام علیکم۔ ‘‘ ابراہیم نے جواب دیا۔

کچھ دیر دونوں جانب خاموشی رہی۔ ثمرہ فرش پر دیوار سے پیٹھ لگا کر بیٹھ گئی تھی۔

’’ میں پچھلے پانچ سال سے امریکہ میں تھا۔۔۔ ‘‘ اس نے کہنا شروع کیا اور ثمرہ کو اب خیال آیا کہ اس کی انگلش ’ ایکسنٹ زدہ ‘ تھی۔ جو چند لفظ اس نے سنے تھے ان سے ہی پتا چل جاتا تھا۔

’’ ابو یہیں بھیا کے ساتھ رہتے تھے۔ میں سال یا ڈیڑھ سال میں چند دن کے لیے آتا تھا۔ ابو کو کئی سال سے ہائپرٹینشن اور ڈائبیٹیس تھی۔ کچھ وہ سخت اصول پسند تھے۔ امی ان کے مزاج کے مطابق ڈھل گئی تھیں اس لیے کبھی کوئی بدمزگی میں نے نہیں دیکھی لیکن ان کے جانے کے بعد وہ ہر چھوٹی بڑی بات پر غصہ ہو جاتے تھے۔ بھابھی ہر طرح سے کوشش کرتی تھیں لیکن وہ امی نہیں تھیں۔ میں امی کی وفات کے بعد ہی یو ایس چلا گیا تھا۔ اس کے بعد میرا آبزرویشن چند دنوں کا ہوتا جب میں یہاں آتا۔ ابو اکثر شکایت اور طنز کرتے تھے۔ ان کے جملے کچھ اس قسم کے ہوتے تھے کہ ’ ایک بے کار شخص پرائرٹی نہیں ہوتا ‘ یا ’ ریٹائر بندے کو چپ چاپ جو اور جیسا ملے شکر کرنا پڑتا ہے۔ ‘‘

وہ درمیان میں پر سوچ سا رک رہا تھا۔ دوسری جانب ثمرہ بالکل خاموش تھی۔

’’ ڈیڑھ سال پہلے ان کا کینسر ڈائگنوس ہوا۔ میں کوشش کے باوجود آن گوئنگ پروجیکٹ چھوڑ کے آ نہیں سکا۔ جب آیا تو ڈاکٹرز نے جواب دے دیا تھا۔ ‘‘

ابراہیم نے آنکھیں بند کیں۔ وہ وقت یاد کرنا بھی سزا تھی۔ خاموشی کا وقفہ طویل ہوا تاہم ثمرہ دم سادھے اس کی سانس کے زیر و بم سنتی رہی۔

’’ لیکن میرے لیے ابو کی بگڑتی صحت سے زیادہ شاکنگ بھیا اور بھابھی کا فیصلہ تھا۔ انھوں نے ابو کے لیے ایک نیا نیا شروع ہوا ’ کیئر سینٹر فار ٹرمنلی اِل ‘ دیکھ رکھا تھا۔ مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔ ان دونوں نے مجھے سمجھانا چاہا کہ ابو ہمیشہ سے مشکل انسان رہے ہیں اور بیماری نے انھیں مشکل ترین بنا دیا ہے، اب ان میں بالکل برداشت اور صبر نہیں بچا ہے، وہ چاہتے ہیں سارا گھر اپنے کام چھوڑ کر ان کی سنے۔ بھابھی کے لیے گھر اور بچوں کے ساتھ انھیں سنبھالنا ناممکن ہوگیا ہے، وہ ذرا ذرا سی بات پر گھر سر پر اٹھا لیتے ہیں، بچے بھی متاثر ہو رہے ہیں، سہمے رہتے ہیں، گھر میں ہمیشہ ٹینشن پھیلا ہوتا ہے۔ ان کی وجہ سے سال بھر میں تین ملازمائیں کام چھوڑ کے چلی گئی ہیں۔ جب وہ غصہ ہوتے ہیں تو بھابھی کو کمرے میں بھی آنے نہیں دیتے اس طرح ان کا علاج اور کھانا پینا بھی متاثر ہو رہا ہے، اس سینٹر میں ان کی دیکھ بھال گھر سے زیادہ بہتر طریقے سے ہوگی اور بھی بہت کچھ۔۔۔ لیکن میرے لیے کوئی ایک وجہ بھی قابل قبول نہیں تھی۔۔۔ میں نے انھیں بہت سخت باتیں کہیں۔ ابو ان کے لیے بوجھ بن گئے ہیں، ان کی کمفرٹیبل زندگی میں ابو اب رکاوٹ ہیں اور بھابھی۔۔۔ آہ ! میں نے ان سے بہت بد تمیزی کی کہ وہ ہی نہیں چاہتیں کہ ابو وہاں رہیں۔ انھوں نے بچوں کی پڑھائی، ان کا اسٹریس، ٹینشن اور میڈز کے کام چھوڑنے جیسی اپنی غلطیاں بھی ابو کے سر لگا دی ہیں، بھیا کو ابو سے متنفر کر دیا ہے۔ بھابھی نے مجھ سے بحث یا لڑائی نہیں کی بس اتنا کہا کہ دور بیٹھ کے محبت جتانا بہت آسان ہے، تمھیں جو سمجھنا ہے سمجھو مگر اب میں تھک گئی ہوں، میں اب انھیں نہیں سنبھال سکتی۔ میں نے انھیں دکھانے جتانے کے لیے غصے میں گھر چبوڑ دیا کہ اب میں ابو کو پاس رکھ کر محبت ثابت کروں گا۔ میں ابو کے ساتھ نئے فلیٹ میں منتقل ہوگیا۔ اس کے بعد ابو کی زندگی چند ماہ میں تمام ہوگئی۔ وہ ابو سے ملنے آتے تھے۔ تب میں ان سے بات نہیں کرتا تھا اور ابو نے بھی کبھی ان سے اچھے انداز میں بات نہیں کی، وہ ان سے ناراض ہی رہتے تھے۔ جس بیٹے نے انھیں ساری عمر سنبھالا اس کے مقابلے میں ابو مجھے زیادہ محبت اور کریڈیٹ دیتے اور میری گردن مزید اکڑ جاتی۔ اس وقت میں نے بھیا کے چہرے پر پھیلی اذیت اور نم آنکھیں ہمیشہ نظر انداز ہی کی۔ اس کے بعد بھی میں بھیا بھابھی کے سامنے سینہ تان کر ہی رہا کہ جو انھوں نے نہیں کیا وہ میں نے تنہا کر دکھایا۔ آخر وقت میں ابو کو سنبھالا۔ ‘‘

وہ پھر رک گیا۔ ثمرہ سنتے ہوئے فرش پر ہی لیٹ گئی تھی۔

’’ اس دن تمھاری باتیں سن کر مجھ پر کئی انکشاف ہوئے۔ ‘‘ وہ اپنی رو میں تم کہہ گیا تھا جو ثمرہ نے بھی محسوس نہیں کیا۔

’’ مسلسل ایک بیمار شخص کی کیئر کرنے والا انسان کس مشکل راستے پر سفر کرتا ہے میں نے اس دن جانا۔ پھر ابو کا مزاج تو وہ صحت مند تھے تب بھی مشکل تھا اور بیماری نے انھیں مزید چڑچڑا اور بد مزاج کر دیا تھا۔ میں نے بھابھی کی ساری خدمت، قربانی اور خلوص اس ایک فیصلے کی وجہ سے کینسل کر دی جو انھوں نے جانے کن کن مشکلوں سے گزرنے کے بعد کیا تھا۔ ان کا فیصلہ غلط بھی تھا تو میں کیسے بھول گیا کہ اتنا عرصہ وہ ہی انھیں دیکھ رہی تھیں۔ کوسوں دور بیٹھ کر فون پر حال چال پوچھنے، فکر مند ہونے اور چند روپے بھیجنے والے کو انھیں جج کرنے کا کوئی حق نہیں تھا جو چوبیس گھنٹے ان کے ساتھ تھے۔ میں نے ابو کے لیے ایسا کیا ہی کیا تھا کہ خود کو ان کے لیے بھیا بھابھی سے بہتر فیصلہ کرنے کا حق دار سمجھ لیا۔۔۔ میں جانے کس گمان میں خود کو ان سے بہتر سمجھ رہا تھا۔ میں نے ان کا ایک فیصلہ دیکھا مگر اس سے پہلے وہ کن کن مشکلوں سے گزرے، ابو کو کیسے سنبھالا، سب کچھ کیسے مینج کیا، یہ جانتے کی کوشش کی نہ سمجھنے کی۔ ابو میرے پاس آئے تب تک بے حد کمزور ہو گئے تھے اور اپنی بیماری اور تب تک وہ قریب آ چکا انجام قبول کر چکے تھے اور یہ قبولیت انسان کو بہت ہمبل کر دیتی ہے میں نے بھی ابو میں وہ تبدیلی دیکھی۔ اور دل میں جانتے ہوئے بھی کہ یہ تبدیلی نئی نئی ہے مزید بھیا بھابھی سے بدگمان ہوا کہ ابو ایسے تو نہیں جیسا وہ نقشہ کھینچ رہے تھے۔ ابو کی وفات کے بعد بھی میں بھیا کے گھر نہیں گیا۔ بابر اور آفرین مجھے بلاتے رہے مگر میں نہیں گیا۔ میری اس حرکت کی وجہ سے خاندان میں بھی بھیا بھابھی کو غلط سمجھا گیا، ساری عمر انھیں سنبھالنے جھیلنے کے بعد بھی وہ ولن بن گئے اور میں انگلی کاٹ کر شہید کا درجہ پا گیا۔ ‘‘ اس کا لہجہ تلخ تھا۔

’’ جس دن میں نے تمھیں سنا اس دن، ابو کے بعد میں پہلی بار بھیا کے گھر گیا۔‘‘ جانے کیوں ثمرہ کے آنسو مچل کر گالوں پر پھسل آئے۔

’’ تم نے مجھے سمجھایا ایک بیمار کی دیکھ بھال کرنے والے کو بھی کیئر کی ضرورت ہوتی ہے۔ محبت اور خلوص کے باوجود عزیز کی بیماری کبھی بوجھ بھی بن جاتی ہے، کیئر ٹیکرز بھی بریک ڈیزرو کرتے ہیں، اس روٹین سے وہ بھی اکتا جاتے ہیں اور یہ سب نارمل ہے۔ ان میں سے کوئی بات، کوئی خیال غلط ہے نہ گناہ بلکہ ان سے ہر وقت ایک سی خدمت کی توقع غلط ہے اور سب سے اہم یہ سارے گھر کی ذمہ داری ہوتی ہے اسے مل بانٹ کر نبھانا ضروری ہے۔ کسی بھی بہانے یہ ایک شخص پر لاد دینا زیادتی ہے۔ ‘‘

وہ اٹھ بیٹھی کہ آنسوؤں میں روانی آگئی تھی۔ اس نے کوشش کی، دوسری جانب اس کی ’ سوں ‘ سنائی نہ دے مگر ناکام رہی۔ ابراہیم تھم گیا۔

کئی پل، اس صوتی رابطے سے آگے کوئی اور رابطہ قائم ہونے کے گواہ بنے آگے کھسک گئے۔ دونوں خاموش تھے مگر ایک گفتگو ہو تو رہی تھی۔

’’ میں نے کچھ دن پہلے بھیا اور بھابھی سے اپنے بد صورت رویے کے لیے معافی مانگی ہے۔ ابو کی زندگی میں ان کی خدمت اورمشکلوں کا اعتراف کیا ہے۔ ان کا فیصلہ میرے نزدیک اب بھی درست نہیں ہے مگر میں اس کے لیے انھیں جج کرنے کا حق بھی نہیں رکھتا کہ میں نے وہ سب نہ دیکھا نہ سہا جس کے بعد انھوں نے یہ حل سوچا تھا۔ اور یہ سب ممکن ہوا ہے تمھاری وجہ سے۔ لِسنر کا بیچ دیکھ کر تمھیں ہوئی غلط فہمی کی وجہ سے۔ ایسی جگہ انسان ایک پل صراط سے گزر کر آتا ہے اور تمھیں میز کے قریب آتے دیکھ میں نہیں چاہتا تھا ایک پل بھی تمھیں ملے یہ سوچنے کہ اب بھی وقت ہے پلٹ جانا چاہیے۔ ‘‘

اگر وہ کہتا کہ سوری میں لسنر نہیں آپ ادھر انتظار کریں تو وہ کیا کرتی ؟ ظاہر تھا ’ سیکنڈ تھاٹ ‘ تو آنا ہی تھا۔ بہت ممکن تھا کہ زیادہ وقت انتظار کرنا پڑتا تو وہ پلٹ ہی جاتی۔

’’ ویسے ایک اور اہم بات ہے۔ ‘‘ ابراہیم نے کہا۔

وہ شاید اس کے ’ کیا ؟ ‘ پوچھنے کے لیے رکا مگر ثمرہ تو آج سچی اور صرف ’ سامع ‘ بنی تھی۔

’’ اس ’ لسنر پروگرام ‘ کی اسٹارٹنگ ڈیٹ اگلے دن کی تھی۔ ‘‘ ایک بار پھر حیرت سے اس کے ہونٹ خفیف سے وا ہوگئے اور اس نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔

اتنی بڑی چوک کہ اس نے پرچے پر تاریخ ہی نہیں دیکھی۔ سچ بھی تھا کہ اسے یہ انوکھا پروگرام بڑا اچھا اور اتنا اپنے لائق لگا تھا کہ اس نے زیادہ توجہ ہی نہیں دی تھی۔ بس پتا دیکھا تھا اور اوقات۔

’’ تھینک یو۔ ‘‘ کچھ دیر بعد ابراہیم کی آواز ابھری۔

’’ میں اب ہلکا محسوس کر رہا ہوں۔ ‘‘ اس نے ثمرہ کے ہی الفاظ دہرائے تھے اتنی ہی دیانت داری سے۔

ابراہیم چاہتا تھا وہ کچھ کہے لیکن اس نے اس سے محض ’ لسنر ‘ بننے کی درخواست کی تھی۔

لاکھ نہ چاہنے کے باوجود اسے فون رکھنا تو تھا۔ پھر ایک طویل خاموش وقفے کے بعد اس نے دھیمے سے کہا۔

’’ گڈ نائٹ۔ ‘‘ اس نے فون بند نہیں کیا۔

ثمرہ جواب میں اسے شب بخیر کہنے کے قابل نہیں تھی سو فون کان سے ہٹا کے بند کر دیا پھر فون گود میں رکھ کے اس نے دونوں ہاتھ چہرے پر رکھے اور رو دی۔

ابراہیم اسکرین پر ختم ہو چکی کال کی تفصیل دیکھ رہا تھا۔ چند سیکنڈ بعد اسکرین تاریک ہوگئی مگر کہیں کچھ پہلی بار روشن ہوا تھا۔

٭٭٭٭

فون نمبر دونوں کے پاس تھے مگر کسی نے پھر نہ پیغام بھیجا نہ کال کی۔ ابراہیم چوں کہ جانتا تھا وہ تنہا ہے اور کس دور سے گزر رہی ہے اس لیے اس کے لیے آسانیاں پیدا کرنا چاہتا تھا مگر کیسے ؟ یہ بڑا سوال تھا۔ فون پر رابطہ کر کے دوستی اور باتیں۔۔۔ اس کے علاوہ کچھ اور سوجھ نہیں رہا تھا۔ مگر صحیح نیت اور مقصد کے باوجود اسے فون پر رابطہ مناسب نہیں لگ رہا تھا۔ کسی بہانے اس کے گھر چلا بھی جاتا تو ثمرہ سے ملاقات ہی مشکل تھی مدد کیا کرتا۔

جلد اسے ادراک ہوا کہ وہ سارا وقت اسے ہی سوچنے لگا ہے اور یہ اس مشکل میں اس کی مدد سے آگے کی باتیں تھیں۔

اب بھی وہ بڑی دیر سے دراز کھولے اس کے دوپٹے سے گرے موتی اور ریشم کے گھچے کو دیکھ رہا تھا۔ جانے کتنے منظر یاد کے پردے پر لہرا گئے۔ اس کی گھبرائی صورت کا دروازے میں دکھنا، میز کے پاس آکے کرسی پر بیٹھنا، اس کے ہاتھ میں متحرک رومال، اس کی بھری آنکھیں، اس کا تھینک یو، پھر شادی میں وہ ڈرامائی ملاقات۔ اسے ایسی خوشی کم ہی ہوئی تھی جیسی اس وقت اسے دیکھ کر ہوئی تھی۔ پھر اس کا بھیگا شکریہ، جانے کیا کیا تھا کہ اچانک مسٹرڈ دوپٹے میں حیرت سے وا ہوئے ہونٹ اور اس کا تاثر آنکھوں میں ٹھہر گیا۔

’’ میں کیوں عارضی آسانیوں کا سوچ رہا ہوں۔ ‘‘ اس نے ہاتھ بڑھا کہ وہ ’ ٹیسل ‘ اٹھا لیا۔

٭٭٭٭

ابراہیم اپنی سوچ کو عمل میں ڈھالتا اس سے پہلے ہی وہ بڑا سانحہ ہوگیا جو کب سے وقت کی کوکھ میں پرورش پا رہا تھا۔

اس رات وہ ان کو کھانا کھلانے کے بعد جانے لگی تو جانے کیسے انھوں نے اس کی انگلی پکڑ لی۔ ثمرہ نے تعجب سے انھیں دیکھا۔ وہ اسے دیکھ رہی تھیں۔ اس کا دل بھر آیا۔ کبھی کبھی وہ اس کا دوپٹا، کرتا، بال ہاتھ کچھ بھی پکڑ لیتی تھیں۔ یہ بس کچھ پل کے لیے ہوتا تھا۔ یہ ان کی کوئی شعوری کوشش تو نہیں ہوتی تھی مگر وہ خوش ہو جاتی تھی۔

وہ پلنگ کے کنارے بیٹھ گئی۔ آج انھوں نے ابھی تک اس کی انگلی نہیں چھوڑی تھی۔ آخر ثمرہ نے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا۔

’’ امی ! ‘‘ وہ خالی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھیں۔

ثمرہ نے ان کا ہاتھ اٹھا کر چوم لیا۔

’’ آپ اچھی ہو جائیں امی۔ مجھے آپ سے بہت ساری باتیں کرنی ہیں۔ ابھی اس لیے نہیں کہتی کہ وہ سن کر نا آپ کو مجھے کبھی ڈانٹنا پڑے گا، تو کبھی سمجھانا ہوگا اور کبھی یہ کہنا کہ آپ مجھ سے پیار کرتی ہیں، میں آپ کی سب سے پیاری بیٹی ہوں۔۔۔ ‘‘ حلق میں اٹکے پھندے نے آواز بند کردی۔ کچھ دیر بعد سنبھل کے وہ پھر بولنے لگی۔

’’ اور ابھی آپ اتنا سب بول نہیں پائیں گی اس لیے میں انتظار کر رہی ہوں کہ آپ اٹھیں اور مجھ سے کہیں ثمرہ آؤ، میرے پاس بیٹھ کر باتیں کرو۔ ‘‘ اس نے دوسرے ہاتھ سے ان کے بال سنوارے۔ جواب میں وہی خالی آنکھیں اس پر ٹکی تھیں۔ آج نئی بات یہ تھی کہ وہ مسلسل اسے دیکھ رہی تھیں۔

’’ سو جائیں آپ۔ ‘‘ اس نے ان کے ہاتھ لحاف کے اندر ڈالے۔ وہ لحاف کے اوپر سے ہی ان کا ہاتھ تھپکتی رہی یہاں تک کہ وہ سو گئیں۔

اس نے نماز پڑھی اور خود بھی سونے لیٹ گئی۔ آج ایک مسرت بھرا احساس اسے گھیرے تھا۔ امی نے کوئی پہل تو کی تھی۔ ان کا دیر تک اس کی انگلی پکڑنا اور مسلسل دیکھنا بڑی مثبت تبدیلی لگ رہی تھی۔ وہ مستقبل قریب میں ان کے خود سے چلنے پھرنے اور بات کرنے کے تصورات میں گھری سو گئی۔

اگلی صبح بھی اس پر پچھلی شب کا اثر تھا۔ فجر پڑھنے کے بعد اسے دوبارہ نیند ہی نہیں آئی۔ جب کھڑکی سے ہلکا سا اجالا پھیلتا دکھائی دیا تو ان کے سوئے رہنے کی تسلی کر کے وہ باہر آگئی۔

اس کا دل یہ سوچ کر مسرور تھا کہ جلد ہی اس کی یکسانیت بھری زندگی میں مثبت تبدیلیاں آنے والی ہیں، اسے آج امی کی شفایابی ممکن لگ رہی تھی۔ حالاں کہ ڈاکٹرز نے امی کی بابت کبھی کوئی خوش کن دلاسہ نہیں دیا تھا۔ ان کی دماغی و ذہنی تنزلی پلٹنے والی نہ تھی مگر اس مالک دو جہاں کے تو بس ’ کٓن ‘ کہنے کی دیر تھے اور وہ اسی کی منتظر تھی۔

وہ بہت دیر تک سوچوں میں گم لان میں ٹہلتی رہی۔ جب بڑے بھائی لان میں آئے تو وہ چونکی۔ وہ وہاں صبح صبح ورزش کرتے تھے۔ وہ انھیں سلام کرتی واپس کمرے میں آگئی۔

اندر کا منظر دیکھ کر اس کی چیخ نکل گئی جو صبح کے سناٹے میں سارے گھر میں گونج اٹھی۔ امی اوندھے منہ فرش پر پڑی تھیں۔ سیدھا کرنے کی کوشش میں انھیں چھوتے ہی اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑ گئی۔ ان کا سرد رہنے والا بدن اس وقت کچھ زیادہ ہی ٹھنڈا تھا۔ آواز سن کر سبھی آگئے تھے۔ اسے ہٹا کر بھائی، رمیز اور اعجاز نے انھیں پلنگ پر ڈالا۔ تب تک سب کو ہی کسی انہونی کا ادراک ہوچکا تھا۔

ڈاکٹر نے گھر آکر تصدیق کر دی۔ امی کی زندگی کی وہ آخری شب تھی جب انھوں نے اسے امید بھرے خواب اور تسلی بخش نیند سے نوازا تھا۔ گویا جانے سے پہلے یہ ان کا تحفہ تھا۔

ایک لمبی بیماری کے بعد کسی گھر میں وفات ہو تو وہاں کا ماحول اکثر اچانک وفات والے گھر سے مختلف ہوتا ہے۔ یعنی ایک نہ ایک دن یہ ہونا ہی تھا اور آج بلآخر ہوگیا والا ماحول۔ خاموش فضا میں وہ بھیگی آنکھوں کے ساتھ ایک گوشے میں بیٹھی تھی۔ بڑی باجی ابھی تک پہنچی نہیں تھیں۔ جب وہ آئی تو خاموش سوگوار فضا میں ہلچل مچ گئی۔ ان کا رونا اور بین سن کر اب تک چپ بیٹھی خواتین کی بھی آنکھیں نم ہوگئیں۔ وہ اس کے پاس بھی نہیں آئی تھیں۔ ماں کے بعد وہی تو اس کے اور سب کے لیے اب ماں کی جگہ تھیں۔ اسے نورن خالہ نے گلے لگایا تھا مگر کسی بھائی، بھابھی اور بہن نے نہیں۔ جب چپ ہوئیں تو بھابھی سے پوچھنے لگیں کہ کیسے ہوا۔ بھابھی سرگوشیوں میں انھیں بتانے لگیں۔

’’ یہ ہی تو ڈر لگا رہتا تھا اور آخر وہی ہوا امی نے اکیلے میں آخری سانس لی۔ کوئی نہیں تھا ان کے پاس۔۔۔ ہائے میری امی ! ‘‘ وہ منہ پر دوپٹا رکھ کے پھر رونے لگیں۔ اور اپنے اس قصور پر ثمرہ کا دل دکھ سے ٹوٹ گیا۔ ایک طویل ریاضت کے بعد آخر میں اس کے دامن میں شکوہ ہی اچھالا گیا۔

اکیلی تو وہ رہ گئی تھی اور کوئی اس کا دکھ نہیں سمجھ رہا تھا۔ اتنے برس ماں کے ساتھ گزارنے کے بعد سب سے بڑا خسارہ اس کا ہوا تھا۔ اسے دلاسے اور اپنوں کی حدت بھرے آغوش کی ضرورت تھی، یہ یقین دہانی کہ ہم ہیں نا مگر وہ یوں نظر انداز ہو رہی تھی جیسے ماں کے ساتھ وہ بھی ختم ہوگئی ہو۔ گھر والوں کی بہ نسبت رشتے دار اور ملنے ملانے والے زیادہ اس کی فکر کر رہے تھے۔ وہی اسے گھیر کر بیٹھے تھے۔

بڑی باجی کی بات اس کے دل کو نیا زخم دے گئی تھی۔ اسے نئے سرے سے اپنی غفلت کا احساس مارے دے رہا تھا۔

تدفین کے بعد لوگ تو چلے گئے مگر دونوں بہنیں یہیں تھیں۔ وہ نورن خالہ کے ساتھ مل کر امی کا بستر اور ان کا سامان اٹھا کر بند کر رہی تھی۔ آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔

’’ بیٹا تم آرام کرو میں رکھ دیتی ہوں۔ ‘‘ آخر نورن خالہ نے کہہ دیا۔ تبھی چھوٹی باجی اندر آئیں۔

’’ تم نے کھانا کھایا ؟ ‘‘ ان کے ہاتھ میں پلیٹ تھی۔

’’آؤ تھوڑا سا کھا لو۔ ‘‘ انھوں نے اس کے پلنگ پر پلیٹ رکھی۔

’’ بھوک نہیں ہے۔ ‘‘ اس نے دھیرے سے کہا۔

’’ بھوک تو کسی کو نہیں ہے مگر کھانا تو نہیں چھوڑ سکتے آؤ۔ وہ نورن خالہ کر لیں گی۔ خالہ کپڑے آپ لے جائیں امی کے یا کسی کو دینا چاہیں تو دے دیجیے گا۔ یہ بستر بھی۔ تم آؤ ثمرہ۔ ‘‘

وہ پلنگ پر بیٹھ گئی۔

’’ لو۔ ‘‘ انھوں نے چمچہ اس کے ہاتھ میں پکڑایا۔ پلیٹ میں پلاؤ اور رائتہ تھا۔

’’ تم باجی کی بات کو دل پر نہ لو۔ ‘‘ اس نے چمچ میں ذرا سے چاول لے کر منہ میں رکھے ہی تھے کہ ان کی بات پر اس کا ہاتھ رک گیا۔ تو انھوں نے غور کیا تھا۔

’’ تم نے جتنا امی کے لیے کیا کوئی نہیں کرتا اور ہم سب ساری زندگی اس کے لیے تمھارے احسان مند رہیں گے۔ ہمارے بدلے کی خدمت بھی تم نے کی۔ ‘‘ اس نے چمچہ واپس رکھا اور پھوٹ پھوٹ کے رو دی۔ کیا اتنے مشکل تھے یہ الفاظ یا اتنے نایاب جو باجی کو آج ہی ملے۔ اسے آگے بڑھنے، تازہ دم ہونے، نئی توانائی محسوس کرنے کے لیے ایسے جملوں کا ایندھن چاہیے تھا جو وہ اسے اب تھما رہی تھی جب سب ختم ہوگیا تھا۔

’’ رو کر طبیعت خراب ہو جائے گی تم پہلے کھانا کھاؤ۔ ‘‘ انھیں کہاں احساس تھا کہ وہ کس بات پر آنسو بہا رہی ہے۔

٭٭٭٭

وہ گھر کے اندر بھی گیا تھا اور تدفین کے بعد بھی گھر واپس آیا تھا مگر ثمرہ اسے دکھائی نہیں دی تھی۔ وہ گھنٹوں فون ہاتھ میں لیے بیٹھا رہتا مگر کوئی موزوں جملہ، مناسب بات سمجھ ہی نہیں آئی جو اسے لکھ بھیجتا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کسی کا دکھ، اس کے تنہا ہونے کا احساس اور درمیان کا فاصلہ اور اجنبیت اس سے سہے نہیں جا رہے تھے۔ کاش وہ تھوڑی جلد بازی دکھاتا اوراس موقعے پر وہ اس کے ساتھ کھڑا ہونے کے قابل ہوتا۔ گم صم سا بیمار وجود ہی جسے اپنا کل سہارا اور واحد محبت کرنے والا لگتا تھا، وہ ہی بچھڑ گیا تھا اور وہ اسے یقین دلانا چاہتا تھا کہ ایسی ایک ہستی دنیا میں موجود ہے جو اس کا سہارا اور محبت بننے کی متمنی ہے مگر وہ اسے فون بھی نہیں کر پا رہا تھا۔

آخر اس نے فون روشن کیا۔

’’ ثمرہ ! ‘‘ اس نے چیٹ میں جا کر اسے پکارا۔

ثمرہ نے آواز پر فون اٹھا کے دیکھا اور وہاں اپنا نام دیکھ کر اسے رونا آگیا۔

’’ میں ٹھیک ہوں۔ ‘‘ اس نے آنسوؤں کے درمیان لکھا۔ اس ایک لفظ میں چھپا ہر جذبہ، ہر فکر جیسے اس کے دل میں اتر گئی۔

’’ پہلی بار مجھے وہ الفاظ نہیں مل رہے ہیں جو تمھیں تسلی دے سکے۔ ‘‘ ابراہیم نے لکھا۔

وہ اسے کیسے بتاتی کہ بے شمار الفاظ بھی اس کے لکھے ’’ ثمرہ ‘‘ کے آگے بے معنی تھے۔ اس میں اپنائیت اور سچائی تھی۔ تعزیت اور دلاسے کی رسم نہیں۔

’’ میں نے دن بھر وہ بے شمار الفاظ ہی سنے ہیں مجھے مزید سننے کی تمنا بھی نہیں۔ ‘‘ اس نے لکھا۔

’’ میرے لیے آپ کا ایک لفظ زیادہ قیمتی ہے کہ وہ رسمی نہیں۔ ‘‘ اتنا سچ وہ اس سے بول چکی تھی کہ اب یہ سچ کہتے ہوئے اسے ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوئی۔

ابراہیم کو خوشی ہوئی۔

’’ چوں کہ میرا تجربہ زیادہ پرانا نہیں اس لیے بتا دوں کہ چند دن بالکل خالی سے گزرتے ہیں، ذہن بھی رک جاتا ہے، ہم روتے ہوئے میکانیکی انداز میں دن رات گزارتے ہیں مگر پھر آہستہ آہستہ جب آس پاس کے لوگ اور دنیا معمول پر لگ جاتی ہے تب ہمیں ریئلٹی پوری شدت سے ہٹ کرتی ہے۔ وہ خلا تب محسوس ہوتا ہے۔ دل پر اصل ضرب کا احساس تب ہوتا ہے۔۔۔ ‘‘ وہ اسے آنے والے وقت کے لیے تیار کر رہا تھا۔

ثمرہ ایک بار پھر ’ لسنر ‘ تھی۔ اس دوران اسے احساس ہوا کہ وہ اپنے والد کو بہت یاد کرتا ہے۔

٭٭٭٭

اس دن کے بعد ابراہیم نے پھر کوئی کال نہیں کی تھی۔ کبھی کبھار ’ کیسی ہو ؟ ‘ پوچھ لیتا تھا۔ وہ بھی جواب میں ’ ٹھیک ہوں ‘ لکھتی تھی۔

سب کی زندگی معمول پر آگئی تھی بلکہ ان کا معمول تو بس چند دن کے لیے بدلا تھا مگر اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیسے معمول پر آئے۔ جس مرکز کے گرد زندگی چل رہی تھی وہ ہی نہیں رہا تھا۔

کبھی سوچتی پڑھائی دوبارہ شروع کرے، کبھی گھر سے نکلنے کے لیے کوئی چھوٹا موٹا کورس مناسب لگتا کہ اتنا وقت گزر گیا تھا اب کالج یونیورسٹی جانے کا سوچ کر گھبراہٹ ہونے لگتی تھی۔ گھر میں کسی کو فکر نہیں تھی۔ کسی نے پوچھا تھا نہ کوئی مشورہ دیا تھا کہ اب فارغ ہو تو یہ کرو یا کیا کروگی۔

اس وقت دونوں بھابھیاں گھر پر نہیں تھیں۔ فریحہ لاعبہ اور رمیز اپنے کمروں میں تھے۔ نورن خالہ بھی کام ختم کر کے جا رہی تھیں کہ کمرے میں آکر اسے اطلاع دی کہ کوئی آیا ہے۔

وہ امی کے بستر پر لیٹی تھی۔ اسے اب کمرہ بھی کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا۔ اس نے اپنے نستر پر بیٹھنا سونا بھی چھوڑ دیا تھا۔ امی کے پلنگ پر اسے ان کی خوشبو ان کا لمس محسوس ہوتا تھا۔

’’ کوئی ہے نہیں ؟ ‘‘

’’ بھابھیاں نہیں ہیں اور بی بی لوگ کہاں کمرے سے باہر آتی ہیں مہمان کے لیے۔ ‘‘

اس نے سستی سے اٹھ کے دوپٹا اٹھایا اور ہاتھ سے بال ٹھیک کیے۔

’’ آپ پلیز مہمان کے لیے چائے بنا کے جائیں۔ ‘‘ ان سے کہتی وہ ڈرائنگ روم میں آئی۔

ابراہیم کو دیکھ کر وہ رک گئی۔ ایک بار پھر اس کے ہونٹ ہلکے سے ایک دوسرے سے جدا ہوکے رہ گئے تھے۔ اس کا دل ایسے بھر آیا جو عزیز کی وفات پر کسی اپنے کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ اس نے خود کو سنبھالا اور آگے بڑھی۔

’’ کیسی ہو؟ ‘‘ اس نے دھیرے سے پوچھا۔ کاش وہ اس وقت اسے بتاتا سکتا کہ اس سے ملنے کے لیے وہ کتنا بے چین تھا !

ثمرہ نے جھکے سر کے ساتھ سر ہلادیا کہ ٹھیک ہوں۔

’’ مجھے نہیں پتا کتنی دیر ہم بات کر پائیں گے اس لیے سوری کہ میں سیدھا وہی بات کر رہا ہوں جس کے لیے آیا ہوں۔ ‘‘

ثمرہ نے سر اٹھا کے اسے دیکھا۔ ابراہیم اسے ہی دیکھتا رہا۔ جب ثمرہ نے پھر سرجھکایا تو وہ ہوش میں آیا۔

’’ یہ مجھے آنٹی کی وفات سے پہلے کہنا تھا۔ میں آکر کہتا اس سے پہلے ہی آنٹی۔۔۔ ‘‘ اس نے دانستہ جملہ ادھورا چھوڑ دیا۔

’’ تمھاری ایک چیز میرے پاس ہے۔ ‘‘

ثمرہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔

ابراہیم نے جیب سے اس کا سرخ ’ ٹیسل ‘ نکال کر میز پر رکھا۔

’’ اوہ ! ‘‘ وہ اس کے پسندیدہ جوڑے کے دوپٹے کا خوبصورت حصہ تھا۔

’’ آں ہاں ! ‘‘ وہ اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھا رہی تھی کہ ابراہیم نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔

’’ میں یہ دینے نہیں آیا ہوں۔ ‘‘

’’ پھر ؟ ‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔

’’ یہ بے چارہ تنہا الماری میں اچھا نہیں لگتا اس لیے التماس ہے کہ اس کی کمپنی کے لیے وارڈروب ہی ادھر شفٹ کر لی جائے، پرمننٹلی۔ ‘‘ وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں کہہ رہا تھا۔

مدعا تو سادہ تھا مگر بیان پیچیدہ تاہم ثمرہ کو سمجھنے میں ایک پل سے بھی کم وقت لگا تھا۔ وہ مسکرا رہا تھا اور ثمرہ۔۔۔ وہ بے یقین سی اسے دیکھے جارہی تھی۔

’’ مجھے جواب چاہیے تاکہ میں اس پرمننٹ شفٹنگ کا انتظام کر سکوں۔ ‘‘ اس نے لٹکن جیب میں رکھی اور آگے جھک کے دھیمی آواز میں کہا۔

ثمرہ کے چہرے سے بے یقینی چھٹ کے اس کی جگہ خوش گوار حیرت در آئی اور جلد ہی اسے دھکا دے کر گلابی سا تبسم آن ٹھہرا۔ اس کا جواب لفظوں کا محتاج نہیں تھا۔ ابراہیم پیچھے ہوا اور سیدھا ہوکر صوفے کی پشت سے ٹک کے آرام سے بیٹھ گیا۔ سامنے کا منظر اتنا ہی دلچسپ تھا۔

تبھی نورن خالہ چائے لیے آئیں اور اس کے دو پل بعد باہری دروازے سے بھابھیوں کی آواز ابھری۔

ابراہیم نے شکر اداد کیا کہ اس نے وقت ضائع نہیں کیا تھا۔

بھابھیوں کے صوفہ سنبھالتے ہی وہ وہاں سے اٹھ کے کمرے میں آگئی۔ اب تو امی نہیں تھیں پھر بھی کسی نے کہا نہیں کہ کہاں چلی، بیٹھو مگر آج اسے کوئی شکوہ تھا نہ وہ اداس تھی۔ اس کے پاس خواب بننے کے لیے نیا ریشم تھا اور وہ مصروف ہوگئی۔

٭٭٭٭

چند دن بعد ابراہیم کے بھیا بھابھی، فاران کے والدین کے ساتھ ان کے گھر آئے۔ اتنے دنوں میں ابراہیم یہ تیاریاں کرتا رہا تھا۔ اسے بھی خاص طور پر ملنے کے لیے بلایا گیا۔ وہ یوں تو رسمی تعزیت کے لیے آئے تھے۔ انھوں نے رشتے کا ذکر نہیں کیا تھا مگر اس کے چند دن بعد فاران کی امی نے بھابھی کو فون کر کے بتایا کہ انھیں ثمرہ پسند آئی ہے اور وہ باقاعدہ رشتہ لے کر آنا چاہتے ہیں۔

اسے اس مختصر ملاقات میں ہی وہ دونوں اچھے لگے تھے۔ وہی اس وقت اس آمد کا مقصد جانتی تھی اس لیے سن گن لینے کی کوشش بھی نہیں کی۔ ویسے بھی اسے اس کی عادت نہیں تھی۔ وہ مطمئن تھی۔ اب نہ امی تھیں نہ رشتے کا فقدان تھا۔ سب ہی ابراہیم کو پسند کرتے تھے لہٰذا انکار کا تو سوال ہی نہیں تھا۔

ابراہیم نے اسی دن اسے خالی وارڈروب کی تصویر بھیجی کہ تیاریاں زوروں پر ہیں۔

مگر یہ سب اس کی خام خیالی تھی۔ ایک بار آپ اپنے گھر اور زندگی میں دوسرے درجے کے شہری بننا قبول کر لیں تو لوگ ہمیشہ ویسا ہی سلوک کرتے ہیں۔

’’ بھابھی عقل کو ہاتھ مارے آپ۔۔۔ ‘‘ چھوٹی بھابھی کی آواز میں دبا دبا جوش تھا۔

’’ نہ ماں باپ ہے نہ کوئی بہن۔۔۔ آپ کسی سے کچھ نہ کہے اور فریحہ کو لے کر جائیں فاران کے گھر۔ اس کی امی کو ہی رام کریں پہلے۔ وہ فریحہ کا کیس سامنے رکھیں گی تو ابراہیم کے بھائی بھابھی بھی سوچیں گے۔ ثمرہ کے لیے تو کچھ بھی کہہ کے انکار کر سکتے ہیں۔ ‘‘

’’ یہ تو راضی لگ رہے ہیں اور دونوں بہنیں بھی مان ہی جائیں گی، سب اچھا ہی ہے۔ ‘‘

’’ اسی لیے تو کہہ رہی ہوں کہ تھوڑی محنت کریں۔ فریحہ کے مقابلے ثمرہ کیسے ٹھہر سکے گی۔ دو چار باتیں کہنے کی دیر ہے۔ وہ ابھی تک شاک میں ہے، اتنی جلدی وہ شادی نہیں کرنا چاہتی، ابھی ماں کے صدمے سے سنبھلی نہیں ہے۔۔۔ اور بھی بہت ریزن ہیں۔ ‘‘ ان کے آخری الفاظ بہت سے امکانات سمیٹے تھے۔

فریحہ کی اتنی عمر نہیں تھی، اس کے لیے ابھی کئی اچھے رشتوں کا امکان تھا۔ اس کی شادی کا دور دور تک ذکر تک نہ تھا لیکن کتنا آسان تھا ثمرہ کو پیچھے دھکیل کر سنہری موقع ہتھیا لینا۔

انھیں علم نہیں تھا وہ لان میں موجود ہے۔ کب وہ ایک پر اعتماد اور خود کے فیصلے خود کرنے والی، خواب دیکھنے اوران کی تعبیر کی جدوجہد کا حوصلہ رکھنے والی لڑکی سے کھونٹے سے بندھی گائے ہوگئی تھی، جس کی رسی دوسروں کی مرضی کی محتاج تھی۔

وہ خاموش تماشائی اور دکھیاری بنی اپنی زندگی، اپنا مستقبل برباد نہیں کر سکتی تھی۔

وہ جو سوچ رہی تھی وہ ممکن نہیں تھا کہ ابراہیم ہی قبول نہ کرتا مگر وہ اپنے لیے کھڑی ہونا چاہتی تھی۔ اسے اپنے لاچار ہونے کے احساس سے چھٹکارا چاہیے تھا۔

پہلے اس نے سوچا چھوٹی باجی سے بات کریں۔ ایک انھیں ہی تھوڑا سا سہی احساس تھا۔ مگر ’ ویٹو پاور ‘ گھر میں بڑی باجی کے پاس تھا۔ پہلے سوچا انھیں پیغام لکھ کر بھیج دے لیکن پھر اس نے انھیں کال لگائی۔ دعا سلام کے بعد اس نے وقت برباد نہیں کیا۔

’’ باجی ! ابراہیم نے مجھ سے پوچھنے اور میری ہاں کے بعد پرپوزل بھیجا ہے۔ یہ آپ جان لیں اور باقی سب کو بھی بتا دیجیے گا۔ ‘‘

’’ کیا۔۔۔ تم کہہ رہی ہو اس نے تمھیں پرپوز کیا تھا ؟ ‘‘ ان کی آواز حیرت یا پھر صدمے سے اونچی ہوگئی۔

’’ جی۔ ‘‘

’’ یہ سب کب ہوا اور تم ملی کب اس سے ؟ ‘‘ ان کی آواز میں اس سے زیادہ تحیر اس نے پہلے محسوس نہیں کیا تھا۔

’’ جیا اور فاران کی شادی میں۔ ‘‘ اس نے جواب سوچ رکھا تھا۔

’’ اور پرپوز کب کیا اس نے تمھیں ؟ ‘‘

’’ امی کی وفات کے بعد ایک دفعہ گھر آئے تھے۔ ‘‘ وہ چپ ہوگئیں۔

’’ مجھے کال آرہی ہے، رکھتی ہوں۔ ‘‘ اس نے فون بند کر دیا۔

وہ خاندان اور جاننے والی دیگر آنٹیوں کی طرح تنہا زندگی نہیں گزارنا چاہتی تھی جو شرم غیرت لحاظ اور اپنوں کی بے اعتنائی کی سزا بھگت رہی تھیں۔

اس نے سوچ لیا تھا اگر بھائی کے سامنے بھی یہ کہنا پڑے تو وہ کہہ دے گی۔

ابراہیم نے اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی معافی مانگ کر معاملات سدھار لیے تھے۔ اسے بھی اپنی غلطی کا احساس ہوگیا تھا اور اس کی درستی اپنے لیے آواز اٹھا کر اور اپنی بھلائی کے اقدام سے ہی ہو سکتی تھی۔

٭٭٭٭

دل سے خوش تو صرف چھوٹی باجی تھیں۔ باقی سب نے رسم نبھائی تھی، ایک بوجھ اتارا تھا۔ دیورانی کے مشوروں کے بعد شاید بڑی بھابھی نے دور تک سوچ لیا تھا اور ذہن بھی بنا لیا تھا اس لیے وہ زیادہ ہی اکھڑی تھیں۔ ان دونوں کے پہلے ہی ایک دوسرے کو پسند کرنے والی بات بھی کسی کو خاص پسند نہیں آئی تھی کہ انھیں ثمرہ سے یہ امید نہیں تھی۔ چھ سات سالوں میں اس نے خود کو جیسے پس پشت ڈال رکھا تھا، لوگ اب بھی وہی چاہتے تھے کہ وہ سب کے لیے سوچے سوائے اپنے۔

بہر حال، وہ شادی کے بعد ابراہیم کے فلیٹ میں منتقل ہوگئی تھی، اپنی وارڈروب سمیت۔ اس کی خاموش، روکھی پھیکی اور بے رنگ زندگی میں اچانک رنگ اور ہنگامے در آئے تھے۔ وہ سنجیدہ مزاج نہیں تھی مگر ان گزرے سالوں نے اسے ایسا بنا دیا تھا۔ وہ دھیرے دھیرے ان چھ سات سالوں میں چڑھی پرتیں اتارنے کی کوشش کر رہی تھی۔ ابراہیم پہلے تاثر کے برعکس شوخ اور زندہ دل تھا۔

ثمرہ نے مس پروین پٹیل سے مل کر رضاکارانہ طور پر ’ لسنر ‘ بننے کی پیش کش کی تھی۔ اس پروگرام کو ویسی پذیرائی نہیں ملی تھی جیسی انھیں توقع تھی، تاہم پھر بھی انھوں نے اسے بند نہیں کیا تھا۔

اسے سوئی دھاگے سے نبرد آزما دیکھ کر ابراہیم بے اختیار مسکرا دیا۔

’’ اتنے ڈھیر سارے ڈریسز میں سے تمھیں یہ ہی پہننا ہے؟ ‘‘

’’ ہمم۔ ‘‘ وہ دوپٹے سے ٹوٹی سرخ لٹکن دوبارہ جوڑ رہی تھی۔ ساتھ ہی باقیوں کو بھی مزید پکے ٹانکے لگائے تھے کہ وہ گرے نہیں۔ دونوں ابراہیم کے بھیا کے یہاں مدعو تھے۔

’’ ویسے تم پر مسٹرڈ کلر زیادہ اچھا لگتا ہے۔ ‘‘ وہ اس کے بازو میں بیٹھتے ہوئے بولا۔ ثمرہ کا ہاتھ رک گیا۔

’’ آپ کو یہ ڈریس نہیں پسند ؟ ‘‘ آواز میں ہلکا صدمہ تھا۔

’’ تمھیں پسند تو مجھے کیوں نہیں ہوگا مگر تم پر مسٹرڈ زیادہ سوٹ کرتا ہے۔ ‘‘

’’ آپ نے کب مجھے اس کلر میں دیکھ لیا ؟ ‘‘

’’ تم ہی یاد کر کے بتاؤ۔ ‘‘

’’ ابھی ہمیں دیر ہو جائیں گی، بعد میں سوچوں گی۔ ‘‘ وہ سوئی دھاگا ڈبے میں رکھ کے اٹھنے لگی تھی کہ ابراہیم نے روکا۔

’’ ثمرہ ! ‘‘ وہ سنجیدہ تھا۔

’’ ہوں۔ ‘‘ اس نے دوپٹا گود میں رکھ لیا۔

’’ تم خوش ہو ؟ ‘‘

’’ آپ کو یہ خیال کیوں آیا ؟ ‘‘ وہ متعجب سی پوری اس کی سمت گھوم گئی۔

’’ ہر وقت تمھاری خوشی کا خیال ہی تو میرا کام ہے۔ ‘‘ وہ دھیمے سے مسکرایا۔

’’ میرا مطلب ہے یہ خیال کہ میں ناخوش بھی ہو سکتی ہوں ؟ ‘‘

’’ تمھیں ایک اداس جگہ سے میں اس خالی گھر میں لے آیا ہوں جہاں دن کے آٹھ دس گھنٹے تم میرے بنا گزارتی ہو۔۔۔ ‘‘ ابراہیم نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے۔ ابو کی بیماری کے دوران اس نے ’ ورک فرام ہوم ‘ کی سہولت لی تھی مگر اب روز دفتر جانا ضروری ہوگیا تھا۔

’’ کس نے کہا آپ سے کہ یہ خالی گھر ہے ؟ ‘‘ وہ مزید کہنے جا رہا تھا مگر ثمرہ نے بولنے نہیں دیا۔

’’ افراد کی گنتی کسی گھر کو بھرا پرا نہیں بناتی۔ احساس، محبت، پروا اور ایک آواز پر حاضر ہونے کی یقین دہانی گھر کو بھردیتی ہے، اسے آباد کرتی ہے اور یہاں یہ سب ہے۔ ‘‘

’’ بس ایسے ہی خیال آیا کہ شاید تم مجھ سے کہتی نہیں ہو اس لیے سوچا خود ہی پوچھ لوں۔ ‘‘

’’ میں آج کہتی ہوں۔۔۔ ‘‘ اس نے سر جھکا کے اس کی گرفت میں اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔

’’ مجھے جب بھی گزرا وقت، پرانی کوئی بات، کوئی دکھ یاد آتا ہے، وہ تمام لمحے جب مجھے کسی شانے کی ضرورت تھی۔۔۔ تو اب میں اسے محض یاد کر کے جھٹک نہیں دیتی بلکہ۔۔۔ ‘‘ اس نے نم پلکوں کے ساتھ سر اٹھایا اور ابراہیم کے شانے پر سر رکھ دیا۔

’’ ان مشکل اور اذیت بھرے لمحوں کی یاد کو اس طرح سکون میں بدل لیتی ہوں۔ ‘‘

وہ اکثر کچھ کہے بنا یا کسی وجہ کے بغیر ہی اس سے لپٹ جاتی تھی۔ ابراہیم اس مہربانی پر خوش ہی ہوتا تھا مگر آج اس نے یہ راز کھولا تھا کہ وہ بلا وجہ نہیں تھا۔ چھ سات سال کا وقفہ معمولی نہیں ہوتا کہ حالات بدلتے یا ایک محبوب کے زندگی میں آتے ہی وہ غائب ہو جاتا۔ ابراہیم جانتا تھا ثمرہ اس کی زندگی میں ان برسوں کے اثرات کے ساتھ آئی ہے۔

’’ اور میرے لیے اس سے بڑھ کر سکون دنیا میں کہیں نہیں جب بیوی اتنے قریب ہو۔ ‘‘ ابراہیم نے دونوں بازوں کا حلقہ بنا کر اسے مزید قریب کیا۔ ثمرہ مسکرا دی۔

’’ ویسے اگر تم مسٹرڈ یلو سوٹ پہنو تو ؟ ‘‘ ابراہیم نے کچھ دیر بعد دھیرے سے پوچھا۔

’’ مجھے ایک اور بات بتانی ہے۔ ‘‘ ثمرہ نے کہا۔

’’ کہو۔ ‘‘

’’ مجھے آج سے پہلے مسٹرڈ یلو کلر سب سے برا لگتا تھا۔ ‘‘

’’ اب تمھیں بد ذوق بھی نہیں کہہ سکتا۔۔۔ ‘‘ ابراہیم کی آواز میں مصنوعی تاسف تھا۔

’’ اس کی ضرورت نہیں۔ ‘‘ ثمرہ نے سر اٹھا کے اسے دیکھا۔

’’ اب آپ ساری الماری مسٹرڈ یلو کر دیں، مجھے ’ ٹوئٹی ‘ بننے میں بھی مسئلہ نہیں۔ ‘‘

ابراہیم نے دوبارہ اسے قریب کرتے ہوئے زور دار قہقہہ لگایا۔

ختم شد

٭٭٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں