لگتا ہے جب اللہ تعالی دوسروں کو اچھی قسمت سے نواز رہے تھے تو میں کسی کونے میں بے ہوش پڑی تھی ۔
جی رہے ہیں ایسی ان چاہی زندگی ۔جس کا کوئی حاصل نہیں۔بس صبح اٹھو۔کام کرنا شروع کرو۔اور کام کرتے کرتے ہی رات کو دکھے بدن اور حسرت زدہ دل کو لیے بستر پہ لیٹ جاؤ۔ یہ میری زندگی ہے اور یہی سانسوں کا ان چاہا سفر۔‘‘
ربیعہ بھابھی پچھلے دس منٹ سے مسلسل بڑبڑاتی جا رہی تھیں۔اور ساتھ میں کباب کے آمیزے کو اچھی طرح مکس کرنے کے بعد اب اسے کباب کی شکل میں ڈھالتی جا رہی تھیں۔قریب بیٹھی مومل انہیں اس طرح ناشکری بھرے کلمات بولتے روکنا تو چاہتی تھی۔لیکن بولی نہیں تھی وہ بس خاموشی سے ٹرے کی طرف دیکھے جا رہی تھی جس میں بھابھی کباب رکھ رہی تھیں۔‘‘تم کیوں اتنی خاموش بیٹھی ہو؟‘‘۔بالآخر ربیعہ بھابھی کو مومل کی خاموشی کا خیال آ ہی گیا۔
’’نن… نہیں کچھ نہیں، میں بس آپ کی باتیں سن رہی ہوں۔‘‘
مومل نے کہتے ہوئے اپنے برانڈڈ دوپٹے کو بے دھیانی سے واپس کندھے پہ لٹکایا۔
’’ہائے مومل! تمہارا کتنا سوٹ پیارا ہے… مہنگا بھی کافی ہوگا نا؟’’ربیعہ بھابھی نے تعریف کرنے کے ساتھ ساتھ تصدیق بھی چاہی ۔
کچھ بھی بولنے کے بجائے مومل نے مسکرا کر بات کو جیسے نپٹا دیا تھا۔
’’چلو تم کیوں اتنی چپ بیٹھی ہو، باتیں کرو نا۔ اپنے سسرال والوں کی ٓسناؤ۔تمہارے ساتھ اچھے تو ہیں نا؟’’۔ربیعہ بھابھی نے مومل کو بولنے پہ اکسایا
’’ہاں، اچھے ہیں۔‘‘
مومل نے ایک بار پھر مختصر جواب دیا۔
ایک تمہاری قسمت، اور ایک میری قسمت…ایم ایس سی، میتھ پڑھنے کے باوجود یوں بیٹھی ہوں جیسے کبھی یونیورسٹی کی شکل ہی نہیں دیکھی ہو۔تمہارے بھائیوں نے تو تمہارے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے بالکل ٹھیک بات کو سامنے رکھا دولت، پیسہ… یہی تو آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ ‘‘
ربیعہ بھابھی کا ملال آج تو جیسے کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔
بڑی بھابھی جو لاؤنج اور کچن سے متصل کھڑکی سے ربیعہ ان کی ساری باتیں سن رہی تھی۔وہ بھی ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کچن سے نکلی۔اور لاؤنج میں پڑے صوفے پہ آ بیٹھی۔‘‘قبر کا حال بس مردہ ہی جانتا ہے دوسروں کو کیا خبر اس بند اور تاریک قبر میں
’’…کیا کیا سہنا پڑتا ہے
مومل نے سر کو جھٹکتے ہوئے سوچا۔ساتھ ہی اس کے لبوں پہ عجیب سی مسکراہٹ بھی بکھری تھی۔مونا بھابھی کی نظریں اس پر ہی تھیں۔
مونا بھابھی کی نظر میں اس کی مسکراہٹ پہ آ ہی گئی تھی۔‘‘
’’تم کیوں مسکرا رہی ہو؟ ‘‘انہوں نے پوچھا۔
’’کچھ نہیں بھابھی… ویسے ہی‘‘مومل نے فورًا سیدھے ہو کر بیٹھتے ہوئے کہا
اور جلدی سے صوفے کے قریب ہی پڑے سلیپر اپنے پاؤں میں اڑسے اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی
’’دیکھا مونا بھابھی؟ ‘‘
آپ نے مومل کے انداز کو دیکھا؟ کیسے ہمیں اکڑ اکڑ کے دکھا رہی ہے ۔‘‘
مونا بھابھی کو مخاطب کر کے مومل کی شکایت لگائیربیعہ نے فوراً کہا۔
ہاں ۔ٹھیک کہہ رہی ہو ربیعہ۔لیکن جب حالات بدلتے ہیں۔تو ادائیں اور نزاکتیں تو خود بخود آ جاتی ہیں ۔‘‘
’’اچھا خیر چھوڑو تم مومل کو۔میں نے فیصل اور فہد کے اسکول میں بات کر لی ہے۔تم کہہ رہی تھیں نا تم نے سومی کو ان کے اسکول میں ایڈمیشن دلوانا ہے؟
مونا بھابھی نے کہہ کر ربیعہ بھابھی کی طرف دیکھا
’’ہاں ہاں، آپ نے ٹھیک کیا بھابھی۔فیصل اور فہد کے ساتھ سومی اسکول جائے گی تو مجھے بے فکری ہوگی۔ورنہ آپ کو تو دانش کا پتا ہی ہے۔لاپرواہی تو ان کی طبیعت میں ہے۔سومی کو دو دن اسکول چھوڑ کر آئیں گے۔تو چار دن اسکول چھوڑنے کے بجائے چھٹی ہی کروانے پر بضد ہوں گے۔
نہ اسکول جانا ہوگا نہ اٹھنا پڑے گا۔’’ربیعہ بھابھی نے کہا۔تو ان کی بات کی تائید میں سر کو ہاں میں ہلاتے ہوئے مونا بھابھی ۔
ہنس پڑی تھی ۔
’’میں ذرا چولہے پہ رکھے سالن کو دیکھ لوں۔‘‘
مونا بھابھی کچن کی سمت بڑھ گئیں۔ربیعہ بھابھی بھی کباب بنا چکی تھیں۔تو وہ بھی کبابوں کی ٹرے اٹھائے مونا بھابھی کے پیچھے کچن میں چلی آئی تھیں ۔
جہاں وہ اب دونوں مل کر روٹیاں بنانے والی تھیں
٭٭٭
مومل کمرے میں آئی تو صباحت بیگم عصر کی نماز پرھ رہی تھیں۔مومل خاموشی سے بیڈ پر آ کر لیٹ گئی۔
آنکھیں تو بند تھیں۔لیکن ذہن میں گھومنے والی باتیں اب آنکھوں کے پردے پہ لہراتی جا رہی تھیں ۔
عجیب سی بے چینی تھی۔اور بے کلی بھی ۔
مومل اسی بے چینی میں اپنے دائیں پاؤں کو مسلسل ہلا رہی تھی۔صباحت بیگم نے نماز مکمل کی۔اور تسبیح پڑھتے ہوئے بیٹی کی طرف دیکھا
’’مومل !تمہیں کوئی پریشانی ہے کیا؟’’مومل کے مسلسل ہلتے پاؤں کو دیکھ کر صباحت نے اپنی تسبیح کو روکا اور بیٹی سے سوال کیا ۔
مومل نے شاید ماں کی بات نہیں سنی تھی۔اسی لیے وہ ہنوز پہلے کی جیسی حالت میں لیٹی رہی۔اس کا یہ انداز ’’صباحت بیگم کو اور بھی فکرمندی میں ڈال گیا۔
مومل!’’اس بار صباحت بیگم نے قدرے اونچی آواز میں اسے پکارا۔تو خیالوں میں کھوئی ہوئی مومل نے اپنی آنکھوں سے بازو کو ہٹایا اور گردن موڑ کر ماں کی طرف ماں کی طرف دیکھا۔
میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں بیٹا’’صباحت بیگم کے لہجے میں نرمی تھی۔‘‘
’’میں ٹھیک ہوں امی۔‘‘
مومل نے مسکرا کر کہا۔جانے کیوں اس کی یہ مسکراہٹ صباحت بیگم کو مصنوعی لگی تھی۔اس سے پہلے کہ وہ مومل سے مزید کوئی سوال کرتیں۔مومل کا خاموش پڑا فون بجنے لگا تھا۔مومل نے ہاتھ بڑھا کر سائیڈ ٹیبل پہ پڑا فون اٹھایا۔اور اسکرین کی طرف دیکھا۔شہریار کی کال آ رہی تھی۔جانے کیوں مومل کااس وقت اس سے بات کرنے کا موڈ نہیں تھا۔
’’اس نے آہستگی سے فون کو واپس رکھ دیا۔‘‘
بری بات ہے بیٹا شوہر فون کر رہا ہے اس سے بات کرنے ،اس کی بات سننے کے بجائے تم نے فون رکھ دیا؟‘‘ صباحت بیگم بیٹی کو ٹوکے بنا نہ رہ سکیں’’
’’میں بعد میں کر لوں گی…’’مومل نے آہستگی سے کہا۔اور پھر واپس لیٹ کر کروٹ بدل لی۔
کچھ ہی دیر میں مومل نہ چاہتے ہوئے بھی سو گئی تھی
صباحت بیگم نے اپنی تسبیحات مکمل کیں نماز ختم کی۔اور اٹھ کر سوئی ہوئی مومل پر پھونک ماری
’’…اللہ میری بیٹی کو ہر بری نظر سے محفوظ رکھے۔‘‘
صباحت بیگم نے دل ہی دل میں دعا کی۔اور لائٹ آف کر کے کمرے سے نکل گئیں۔
٭٭٭
دونوں بھابھیوں نے مل کر شان دار کھانے کا اہتمام کیا تھا ۔
’’سچ میں بھابھی !میں تو اپنے گھر کے ذائقے اپنے گھر کے کھانوں کو بہت ہی بہت مس کرتی ہوں۔کتنے عرصے کے بعد میں نے پیٹ بھر کے کھانا …کھایا ۔‘‘
اس آخری جملے کو مومل نے دل ہی دل میں دہرایا تھا
’’چلو شکر ہے۔ کھانا تمہیں پسند آیا’’دونوں بھابھیاں خوش ہو گئی تھیں۔
’’رہ کر جانا، ہم سب تمہارے لیے بہت اداس ہو گئے تھے۔اگر تم نہ آتیں تومیں تمہیں خود لینے آنے والا تھادانش بھائی نے محبت لٹاتی نظروں سے چھوٹی بہن کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
مومل اتنی خالص اور بے ریا محبت پہ کھل کر مسکرائی تھی۔اسے دو دن ہو گئے تھے سسرال سے آئے ہوئے
لیکن پھر بھی یوں لگ رہا تھا۔جیسے وہ ابھی ابھی گھر آئی ہو۔
’’میں تو دعا کرتا ہوں۔ہماری بہن کے جیسا سسرال اللہ ہر بیٹی کے نصیب میں لکھ دے’’۔نبیل بھیا نے بریانی سے بھرا چمچ منہ میں رکھتے ہوئے کہا
تو پانی پیتی مومل کو ایک دم سے اچھو لگ گیا۔
’’ارے آرام سے!’’ربیعہ بھابھی نے پاس بیٹھی مومل کی پشت کو سہلاتے ہوئے کہا۔تو کھانستی ہوئی مومل نے اپنے سامنے پڑی پلیٹ کو ذرا سا پرے سرکایا۔اور اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔‘‘
ارے، ٹھیک سے کھانا تو کھاؤ’’نبیل بھائی نے مومل سے کہا۔‘‘
میں نے بہت کھا لیا ہے باقی رات میں کھاؤں گی’’مومل نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
’’ایسے کیسے؟’’مونا بھابھی نے اسے روکنا چاہا
’’بھابھی، میں ابھی یہیں ہوں فکر مت کریں۔ ’’مومل نے کہااور جھک کر سومی کے گال میں چٹکی بھر ی اسے ربیعہ بھابھی کی گود سے لیااور کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
سومی تھوڑی دیر تک پھوپھو کے ساتھ کھیلتی رہی لیکن پھر کچھ دیر بعد ہی اس کے پاس سے بھاگ کر باہر چلی گئی تھی۔شہریار کی کال ایک بار پھر اس کے فون کی اسکرین پر جگمگانے لگی تھی اور اس بار مومل نے اس کی کال پک کر لی تھی ۔
’’کہاں تھیں تم؟میں نے پہلے بھی کال کی تھی’’کال اٹینڈ کرتے ہی شہریار کی آواز مومل کے کانوں سے ٹکرائی۔
’’یہیں تھی ۔‘‘سب کے بیچ تھی مومل نے آہستگی سے کہا۔
’’تو سب کے بیچ سے اٹھ کر بھی تو جایا جا سکتا ہے؟‘‘اس کا مطلب تو یہ ہوا مجھے تمہاری فکر ہے۔تمہیں میری کوئی پرواہ نہیں’’شہریار نے اس سے شکوہ کیا ۔
مومل نے بے چینی سے پہلو بدلا۔
’’بولو بھی…’’شہریار کی آواز ایک بار پھر مومل کے کانوں سے ٹکرائی تھی۔
’’کیا بولوں۔‘‘مومل نے آہستگی سے کہا ۔جانے کیوں اسے اپنے حلق میں نمکین پانی اٹکتا محسوس ہو رہا تھا۔
’’کچھ بھی بولو۔کوئی بھی بات کرو۔اچھا یہ بتاؤ تم نے مجھے مس کیا؟’’شہریار اس سے استفسار کر رہا تھا ۔
’’پتا نہیںنمکین پانی اب آنکھوں میں ابھرنے لگا تھا۔
مومل…’’شہریار کی آواز میں اس بار غصہ تھا
’’میں جانتا ہوں تم مجھ سے ناراض ہو۔لیکن اونچ نیچ تو آتی رہتی ہے نا۔تم فکر مت کرو، سب ٹھیک۔‘‘
اس سے پہلے کہ شہریار اپنی بات مکمل کرتا۔مومل اس کی کال کاٹ چکی تھی۔وہ اپنے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں چھپائے سسک رہی تھی۔وہ اس درد کو کیسے برداشت کرتی جو وہ محسوس کر رہی تھی؟اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے؟کیا ایسا ہو گیا ہے؟
اسے اب یقین کرنا مشکل لگ رہا تھا۔اسے وہ دن یاد تھا ۔
وہ اس دن یونی سے گھر واپس آئی تھی۔اور سب سر جوڑے لائونج میں بیٹھے باتوں میں مصروف تھے۔
’’خیریت تو ہے نا؟‘‘کندھے پہ لٹکتے بیگ کو اتارتے ہوئے مومل نے ابرو چڑھا کر سوال کیا تھا۔
’’ہاں خیر ہے تم اپنے کمرے میں جاؤ‘‘مونا بھابھی نے اسے منظر سے ہٹانا چاہا تھا۔تو مومل بھی مزید کوئی بات کہے بغیر اپنے کمرے میں آ گئی تھی۔
فریش ہونے کے بعد بھوک کا احساس ستانے لگا …تو مومل نے جیسے ہی ادھ کھلے دروازے کے ناب پر ہاتھ رکھا،نبیل بھیا کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تھی مومل وہیں ٹھٹھک کر رکی۔اور باہر سے آنے والی آوازوں کو سننے لگی تھی۔ بات اسی کے متعلق …کی جا رہی تھی۔
٭٭٭
’’اتنے اچھے رشتے کو بنا دیکھے انکار کرنا میرے تو خیال میں کسی بھی طور مناسب نہیں ہے…اچھے رشتے بار بار دستک نہیں دیا کرتے۔‘‘نبیل بھیا کا لہجہ خاصا فکرمند اور سنجیدہ تھا۔
’’ہاں ہاں، میں بھی یہی کہہ رہی ہوں۔خالہ نے اگر اس رشتے کے بارے میں بتایا ہے تو سوچ سمجھ کر ہی بتایا ہوگا نا…‘‘
ربیعہ نے کہا۔
ربیعہ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہے۔ ’’ہمیں ایک بار تو ضرور لڑکے اور اس کے گھر والوں کو دیکھنے جانا چاہیے۔ویسے بھی ہم لوگوں سے انہوں نے خود رابطہ کیا ہے۔انہیں ہماری مومل اچھی لگی ہے۔وہ لوگ خود چل کر رشتہ لے کر آئے ہیں۔یہ بھی تو دیکھیں نا ۔‘‘
مونا بھابھی نے ربیعہ کی بات کی تائید کرتے ہوئے خاموش بیٹھے سسر اور ساس کو قائل کرنا چاہا
’’بیٹیاں اگر اچھے گھروں میں بیاہ دی جائیں۔تو آدھی پریشانیاں تو ویسے ہی ختم ہو جاتی ہیں…‘‘
ربیعہ بھابھی نے پھر سے اپنا حصہ ڈالا۔‘‘اچھے سلیقے رکھ رکھاؤ والے لوگ ہیںآپ نے دیکھا نہیں، ابھی تو رشتے کی بات کرنے آئے تھے تب بھی مٹھائی، ڈرائی فروٹس اور پھلوں کی ٹوکریوں کے ساتھ ساتھ بچوں کو پیسے بھی دے کر گئے ہیں
ان کا اپنا لیدر کا امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس ہے۔گھر شاندار بنا رہے ہیں۔اسی لیے تو کچھ عرصے کے لیے خالہ کے محلے میں شفٹ ہوئے ہیں۔اپنی گاڑی ہے۔سب کچھ اپنا ہے۔تو پھر ہمیں اتنا سوچنے کی کیا ضرورت ہے؟ ‘‘
دانش کو ماں باپ کی خاموشی سمجھ میں نہیں آ رہی تھی ۔
عزیز صاحب، جو اب تک خاموش بیٹھے سب کی باتیں سن رہے تھے۔ تھوڑا سیدھا ہو کر بیٹھے ۔
اور دھیرے مگر واضح لہجے میں گویا ہوئے ۔
’’ضرورت ہے بیٹا…سوچنے کی اور سمجھنے کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔بیٹیوں کے معاملے بہت نازک ہوتے ہیں۔تم لوگوں کو ان کا پیسہ نظر آ رہا ہے۔لیکن تم یہ بھول رہے ہو اگر گھر میں ہاتھی رکھنا ہے۔تو پہلے اپنے دروازے اونچے کرنا پڑتے ہیں۔میں ایک ریٹائرڈ ٹیچر ہوں ۔ساری زندگی ایمان دار ی سے کمایا۔اپنے بچوں کو نہ صرف اچھی تعلیم دی۔بلکہ ان کی تربیت پر بھی کوئی سمجھوتا نہیں کیا۔بہوؤں کا انتخاب بھی بہت سوچ سمجھ کر کیا ہے ۔
اور مجھے خوشی ہے کہ میرے فیصلے ہر لحاظ سے ٹھیک ثابت ہوئے۔اور اب بات میری بیٹی کی زندگی کی ہے تو مجھے ہر پہلو کے بارے میں سوچنا ہوگا۔‘‘
شہریار کی فیملی اچھی ہوگی۔لیکن میں صرف ظاہری شوشا دیکھنے کا قائل نہیں ہوں۔میں پوری تحقیق کرواؤں گا …ہر زاویے سے۔اگر یہ رشتہ واقعی اچھا ہوا۔تو مجھے ہاں کرنے میں کوئی د ُقت نہیں ہوگی۔‘‘
عزیز صاحب نے اپنی بات کہنے کے بعد ایک طائرانہ نظرسب پر ڈالی۔
جی ٹھیک ہے بابا، جیسے آپ کو مناسب لگے گا، وہی ہوگا۔نبیل نے سعادت مندی سے کہا۔تو عزیز صاحب مسکرا کر اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔انہیں عصر کی نماز کے لیے مسجد بھی جانا تھا۔
٭٭٭
شہریار…’’مومل نے آہستگی سے اس نام کو دہرایا’’
اور مسکرا کر دروازے سے ہٹ کر اپنے بیڈ پہ جا بیٹھی
وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اطراف میں رکھے مسکرائے جا رہی تھی ۔
شہریار کا خوبصورت سراپا اس کی نظروں کے سامنے آیا تھا۔وہ اتفاق ہی تھا ۔
وہ گھر میں بور ہو رہی تھی۔اور اس نے اس دن بات کرتے ہوئے اس بات کا ذکر اپنی اکلوتی خالہ سے کر دیا تھا۔
ہاں تو اگر بور ہو رہی ہو۔تو کچھ دنوں کے لیے میرے پاس آ جاؤ رہنے کے لیے جہلم سے راولپنڈی دور ہی کتنا ہے۔جو تم میرے پاس رہنے کے لیے نہیں آ سکتیں؟ ‘‘صائمہ خالہ نے جھٹ سے مومل کو اپنے ہاں آنے کی دعوت دی تھی تو مومل نے ’’اچھا، سوچوں گی۔‘‘
کہہ کہ ان کی بات کو ٹال دیا تھا۔لیکن صائمہ خالہ تو جیسے اس کے پیچھے ہی پڑ گئی تھیں۔اور تو اور انہوں نے نبیل کو فون کر کے مومل کو ایک ہفتے کے لیے اپنے پاس لانے کا حکم بھی صادر کر دیا تھا۔
’’ کیا ضرورت تھی تمہیں صائمہ کے سامنے زبان چلانے کی؟پتا بھی ہے تمہیں اچھی طرح سے تمہیں اپنی خالہ کا مزاج۔ جس بات کے پیچھے پڑ جائے پڑ ہی جاتی ہے۔‘‘
صباحت بیگم نے فون بند کرکے مومل کو غصے والی نظروں سے دیکھا تھا ۔
’’اب جب تک تمہیں بلوا نہیں لیتی، اسے سکون نہیں آئے گا’’صباحت بیگم نے مومل کو ڈانٹا تھا ۔
’’میں نے تو ایسے ہی کہہ دیا تھا۔مجھے کیا پتا تھا خالہ پیچھے ہی پڑ جائیں گی…’’مومل منمنائی تھی۔
لیکن پھر صائمہ کے بار بار کہنے پر صباحت بیگم نے مومل کو راولپنڈی بھیج دیا تھا۔جہاں ان کے محلے میں ایک نئی فیملی کا اضافہ ہوا تھا اور وہ …شہریار کی فیملی تھی
خالہ زبیدہ کا بیٹا آسٹریلیا جا رہا تھا ۔
جس کے لیے صائمہ کے ساتھ والے گھر میں قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا تھا۔مومل بھی خالہ کے ساتھ قرآن خوانی میں آئی تھی جہاں اس کی ملاقات شہریار کی والدہ اور بہن سے ہوئی تھی ۔
پہلی ملاقات بس سرسری سی تھی۔مومل نے ان سے سلام دعا کے علاوہ کوئی بات نہیں کی تھی۔لیکن اگلے دن ہی ۔
سحر، مومل سے ملنے خالہ کے گھر آ گئی تھی ۔
’’تم مجھے بہت اچھی لگی ہو…’’سحر نے کہا۔
۔تو مومل شرمندہ سی ہو گئی تھی۔اس دن ان دونوں نے خوب باتیں کی تھیں۔اور ان دونوں کی خوب دوستی بھی ہو گئی تھی۔اپنے گھر جانے سے پہلے۔سحر نے اسے اپنے گھر آنے کی دعوت دی تھی
جس پہ مومل نے کوئی خاص توجہ نہیں دی تھی۔مومل تو ان کے گھر نہیں گئی تھی۔مگر سحر اگلے دن پھر خالہ کے گھر آ گئی اور بہت زیادہ وقت مومل کے ساتھ گزار کر اپنے گھر گئی تھی۔
مومل کے جہلم واپس جانے کی تاریخ قریب آئی تو سحر کے ناراض ہونے کی وجہ سے مومل کو خالہ کے ساتھ ’’ان کے گھر جانا پڑا تھا جہاں…اس کی ملاقات شہریار سے ہوئی تھی۔
شہریار نے دروازہ کھولا۔
اور ساتھ ہی صائمہ خالہ کو سلام بھی کیا۔صائمہ خالہ ٓاس کے سلام کا جواب دے کر آگے بڑھ گئی تھیں۔ ’’اچھا تو آپ ہیں مومل؟ ‘‘
اس کی حیرانی بھری آواز پہ مومل بے اختیار اپنی جگہ رکی تھی۔
اس کی پرشوق نظریں مومل کے چہرے پہ گڑی تھیں
اس کی آنکھوں کی چمک اور لبوں پہ ہنسی کو دیکھ کر مومل سٹپٹا گئی تھی اور تیزی سے آگے کی جانب بڑھ گئی تھی لیکن نہ جانے کیوں اس کا دل یکبارگی دھڑکا اور پھر تیزی سے دھڑکتا چلا گیا
’’…یہ مجھے کیا ہو رہا ہے۔کیا پہلے میں نے کبھی کسی لڑکے سے بات نہیں کی جو میرا دل اس طرح ‘‘
وہ اپنے سر کو جھٹک کر سحر کی طرف متوجہ گئی تھی۔جو خوشی سے بھاگتی ہوئی آئی اور اس سے گلے لگ گئی تھی
٭٭٭
اور مومل اس بار راولپنڈی سے بہت ساری اچھی یادیں اور ایک بہت اچھی دوست پا کر واپس آئی تھی۔لیکن اسے نہیں پتا تھا کہ اس کے آنے کے کچھ دن کے بعد ہی خالہ شہریار کے رشتے کی بات اس کے گھر والوں سے کر یں گی۔نا صرف بات کریں گی۔بلکہ شہریار کی والدہ، والد اور دونوں بڑے بھائی ان کے ہاں خود چل کر آئیں گے۔
وہ لوگ نہایت عزت اور محبت سے مومل کا رشتہ مانگ رہے تھے۔اور رشتہ آنے کے کچھ دن بعد ایک دن خود شہریار نے مومل کو کال کی تھی۔
’’آپ کو میرا نمبر کہاں سے ملا؟‘‘
تو جواب میں شہریار کا شوخ سا قہقہ ابھرا۔شہریار کے تعارف پر مومل نے اگلا سوال کیا تھا۔
’’ نمبر لینا کون سا مشکل کام تھا؟
سحر کے پاس تمہارا نمبر تھا۔تو نمبر تو مل ہی گیا۔شہریار نے کہا۔لیکن مجھے اپنی خوش بختی پہ ناز تب ہوگا۔جب تم مجھے ملو گی، کیا میں اتنا خوش قسمت ہوں مومل کہ تم مجھے مل جائو۔‘‘ لہجہ ،دل کو چھو لینے والی آوازنے مومل کی دھڑکنوں کو اتھل پتھل کر دیا۔
مومل کو ایک بار پھر سے پکارا تھا۔شہریار گڈ لکنگ تھا
خوبصورت تھا۔پڑھا لکھا تھا۔اچھی فیملی سے تھا۔کوئی بھی لڑکی اس کی تمنا کر سکتی تھی
لیکن دھڑکنوں کے ارتعاش کے باوجود شہریار کے اچھا لگنے کے باوجود مومل نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا تھا۔کہ ’’جو بھی فیصلہ میرے پیرنٹس …کا ہوگا۔مجھے منظور ہوگا…’’فون تو بند ہو چکا تھا۔لیکن دل کو سنبھلنے میں اور اس کو سنبھالنے میں مومل کو بہت وقت لگا تھا
مومل کے فون کی میسج کی ٹون بجی تھی دفعتاً۔
مومل نے اپنے پاس پڑا فون اٹھایا۔اور اسکرین کو روشن کیا۔شہریار کا میسج تھا۔
’’مجھے بہت اچھا لگا مومل !
یہ جان کر کہ تم اپنے گھر والوں کی مرضی اور رضامندی کو اہمیت دیتی ہو۔جو لڑکی اپنے گھر والوں کو اتنی اہمیت دیتی ہے ۔وہ کل کو میری ہونے کے بعد مجھے اور میری محبت کو کتنی اہمیت دے گی۔اس کی کتنی قدر کرے گی۔میں دعا کروں گا۔اللہ ہمیشہ کے لیے تمہیں میرے نصیب میں لکھ دے۔‘‘
مومل نے شہریار کا میسج ایک بار نہیں کئی بار پڑھا اور پھر مسکرا کر خود کوبیڈ پہ گرا دیا ۔
’’میں بھی بہت دعا کروں گی۔اگر تم میرے حق میں بہتر ہو تو اللہ مجھے تمہارا ساتھ دے، آمین۔‘‘
کہہ کر مومل نے کروٹ بدل کر اپنے چہرے کو تکیے میں چھپا لیاِر…
٭٭٭
وقت کی خبر کسے ہوتی ہے۔اچھا وقت اگر بتا کر نہیں آتا تو برا وقت بھی دبے پاؤں ہمارے اتنے پاس آن ٹھہرتا ہے کہ ہمیں سنبھلنے، سمجھنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔اس دن عزیز صاحب شہریار کے رشتے کے حوالے سے فائنل بات کر کے مسجد گئے۔نماز کی ادائی کے بعد اپنے ایک دوست کی عیادت کے لیے گئے اور پھر اسی دوست کے بیٹے وسیم سے شہریار کے بارے میں تحقیق کروانے کی بات کی۔‘‘
’’بیٹا، میری بچی کا معاملہ ہے۔کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہیے…‘‘انہوں نے وسیم سے نرمی سے کہا تھا۔
’’بھروسا رکھیں انکل !دوستوں سے بھی کہوں گا۔ایسی بات کیوں کر رہے ہیں انکل۔مومل میری بھی بہن کی طرح ہے۔میں یہاں کے رہائشی اپنے دو تین قریبی دوست خود بھی شہریار کے پرانے محلے یہاں تک کہ ان کے کاروبار تک پہ ’’ہر پہلو سے سو فیصد تحقیق کے بعد ہی آپ کو بتاؤں گا ۔
وسیم نے عزیز صاحب کو تسلی دی تھی۔اور جواب میں عزیز صاحب نے کتنی ہی دعائیں وسیم کو دے کر فون بند کر دیا تھا۔پاس بیٹھے الطاف صاحب نے عزیز صاحب کی طرف دیکھا۔
’’ ہر بات میں جذباتی مت ہو جایا کرو عزیز…’’انہوں نے کہہ کر ان کے ہاتھ سے فون لے کر سائیڈ پہ رکھا۔
’’جذباتی نہیں، الطاف۔بیٹیاں پھول کی مانند ہوتی ہیں ۔میں چاہتا ہوں میری بیٹی پھولوں کی کی طرح کھلی رہے ۔…میں اپنی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں چاہتا۔باقی جو میری مومل کے نصیب میں ہوگا وہی ہوگا ۔‘‘
عزیز صاحب نے مدبرانہ انداز میں کہا۔‘‘انشائ اللہ… سب اچھا ہی ہوگا’’الطاف صاحب نے انہیں تسلی دی۔اور چائے کی طرف اشارہ کیا۔ لیکن تقدیر کے لکھے سے کون واقف تھا؟اسی رات عزیز صاحب کو ہارٹ اٹیک ہوا سب کچھ اتنا اچانک ہوا کہ کسی کو سنبھلنے کا وقت ہی نہیں ملا۔رات دو بجے کے قریب امی کی چیخوں نے سارا گھر جگا دیا تھا
’’!عزیز! عزیز… آنکھیں کھولو ،بات کرو مجھ سے… عزیز۔‘‘
صباحت بیگم کی ہچکیاں، چیخیں جیسے دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ رہی تھیں۔نبیل، دانش مونا بھابھی، ربیعہ سب بھاگتے ہوئے کمرے میں آئے تھے
نبیل اور دانش انہیں ہسپتال بھی نہیں لے جا پائے تھے جب عزیز صاحب نے زندگی کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا بھی لیا تھا…بالکل ٹھیک ٹھاک باتیں کرتے ہنستے مسکراتے عزیز صاحب یوں اچانک چلے گئے کہ یقین کرنا بھی محال تھا۔ ان کا یوں جانا اس گھر کے مکینوں کو اندر تک توڑ گیا تھا۔
’’بھلا کوئی یوں بھی جاتا ہے جیسے… بابا چلے گئے۔‘‘
مومل روتی بھائیوں کے شانے پر سر ٹکائے سسکیاں بھرتی رہی، اداسی جیسے اس گھر سے جانا ہی بھول گئی تھی۔عزیز صاحب کا چہلم بھی گزر گیا۔
چہلم کے دو دن بعد شمسہ بیگم ایک بار پھر مومل کے لیے دسِت سوال لیے ان کے در پر آ گئی تھیں
’’ہم اس وقت ایسا کوئی بھی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں…’’نبیل بھائی نے گلو گیر لہجے میں ان سے کہا۔
’’ہم انتظار کر لیتے ہیں…‘‘شمسہ بیگم نے نرمی سے کہا تھا۔تو نبیل بھائی انہیں دیکھ کر رہ گئے تھے
’’غم اور خوشی تو زندگی کا حصہ ہیں۔ان کے بنا زندگی مکمل نہیں ہوتی ہمیں تم لوگوں کے نقصان کا احساس ہے،ماں باپ کا یوں اچانک چلے جانا بہت تکلیف دیتا ہے لیکن بیٹا… یہ تو ازل کے قانون ہیں ابد تک ایسے ہی رہیں گے۔کوئی آ رہا ہے۔توکسی کے جانے کا وقت آ جاتا ہے…‘‘
شمسہ بیگم کے لہجے کی محبت اور اپنائیت میں جانے کیا جادو تھا کہ ماں کی عدت ختم ہوتے ہی نبیل اور دانش نے رشتے کے لیے ہاں کر دی تھی۔
’’تمہارے بابا نے کہا تھا تحقیق کروانے کے بعد…’’صباحت بیگم نے نرمی مگر تشویش بھرے لہجے میں بیٹے سے کہا۔
’’امی ابھی بھی ہمیں تحقیق کروانے کی ضرورت ہے۔ اتنے سلجھے، رکھ رکھاؤ والے خاندانی لوگ ہیں وہ۔آپ بس زیادہ مت سوچیںآخر کو ہم نے بھی تو دنیا دیکھی ہے’’نبیل بھائی نے متانت بھرے انداز میں جواب دیا۔
’’لیکن انہوں نے صائمہ کے محلے سے گھر کیوں بدل لیا؟ابھی تو ان کا گھر بھی مکمل نہیں ہوا۔تو پھر…’’صباحت بیگم نے پھر سے پوچھا’’ہو گیا ہوگا امی !کوئی ایشو ہوا ہوگا۔آپ زیادہ مت سوچیں بس۔منہ میٹھا کریں’’نبیل بھائی نے کہتے ہوئے سامنے پڑے مٹھائی کے ڈبے میں سے گلاب جامن اٹھا کے ماں کی طرف بڑھائی تو صباحت بیگم نے بھی
اپنے اندر اٹھتے سوالوں کو نظر انداز کر کے بیٹے کے ہاتھ سے منہ میٹھا کر لیا تھا۔
مٹھاس تو آئی تھی لیکن اس مٹھاس میں کوئی عجب سی تشویش ،کوئی چھپا ہوا کھٹا سا ذائقہ تھا۔جو زبان پر نہیں۔دل پہ محسوس ہو رہا تھا ۔
٭٭٭
گھر میں شادی کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں۔
چونکہ مومل بیاہ کر ایک امیر خاندان میں جا رہی تھی، اسی لیے نبیل اور دانش بھی اپنی طرف سے کوئی کمی نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔ بہترین فرنیچر، بہترین کراکری اور جہیز کے سامان سے لے کر انہوں نے شہر کے سب سے مہنگے ہوٹل میں بارات کی بکنگ کروائی۔
اس کے لیے دونوں بھائیوں کو اپنے آفس سے قرضہ بھی لینا پڑا تھا۔اکلوتی بہن کو اچھے سے رخصت کرنے کے سوا ان دونوں کے ذہن میں اس وقت کچھ نہیں تھا۔لیکن مومل کو یہ سب اچھا نہیں لگ رہا تھا، اور اسی لیے غصے سے ماں کے کمرے میں آئی، جو اپنے زیور کو الماری سے نکالے بیٹھی ہوئی تھیں۔
’’امی! یہ سب کیا ہے؟‘‘
مومل نے خفگی سے ماں سے استفسار کیا۔
’’کیا ہے؟ ‘‘
سیٹ کو اپنی نظروں کے سامنے کرتے ہوئے صباحت بیگم نے مصروف سے انداز میں پوچھا
’’!اتنا خرچا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ نبیل بھائی اور دانش بھائی کو قرضہ لینے کی ضرورت نہیں تھی۔ جو بھی تھا، جیسا بھی تھا، کافی تھا‘‘مومل کہتی ہوئی ماں کے پاس آ بیٹھی۔
’’کافی نہیں تھا۔ سسرال میں بیٹی کا سر ہمیشہ اونچا رہے، اس کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ اور تمہارے بھائی وہی کر رہے ہیں۔‘‘
’’امی، بھائیوں کی اپنی بھی فیملی ہے، قرضہ اگر لیا ہے تو قرضہ اتارنا بھی تو ہے نا؟ ان لوگوں نے کوئی ڈیمانڈ تو نہیں کی تھی، تو پھر ہمیں اس چکر میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
ان لوگوں کے پاس پیسہ ہے، وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں اپنی خوشی سے کر رہے ہیں۔ اور ہمارے پاس جو ہے، ہمیں اسی میں سب کچھ کرنا چاہیے، نہ کہ ان کی طرف دیکھ کر ہم قرضے میں ڈوب جائیں ۔‘‘
مومل نے کہتے ہوئے ماں کی جانب دیکھا۔
’’اہا. ہاں’’صباحت بیگم اس کی طرف متوجہ ہی کہاں تھیں۔
’’میں سوچ رہی ہوں، تمہاری ساس کو سونے کے کانٹے پہنا دیتے ہیں۔ اس دن وہ بتا رہی تھیں نا، انہوں نے تمہارے لیے دس تولے سونا بنوایا ہے۔ وہ تمہیں اتنا کچھ دیں گے اور ہم کچھ نہ دیں تو یہ تو زیادتی ہے نا؟ ‘‘
صباحت بیگم نے پرسوچ انداز میں کہتے ہوئے مومل کی طرف دیکھا۔
’’امی‘‘ مومل کے لہجے میں احتجاج در آیا تھا۔
’’تم ابھی چھوٹی ہو، سسرال کے معاملے کتنے نازک ہوتے ہیں، یہ تمہیں نہیں پتا۔ کرنا پڑتا ہے یہ سب۔‘‘صباحت بیگم نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہاتومومل انہیں دیکھ کر رہ گئی تھی، جب کوئی اس کی کوئی بات سننا ہی نہیں چاہتا تو بات کرنے کا بھی کیا فائدہ تھا۔ وہ چڑ کر ماں کے پاس سے اٹھ آئی تھی۔
٭٭٭
مہندی سے ایک دن پہلے شمسہ بیگم، سحر کے ہمراہ مومل کو چیزیں دینے کے لیے آئیں، تو ساتھ ہی انہوں نے حق مہر کی بات بھی چھیڑ دی جو بھی ہے، سب کچھ میرے بچوں کا ہی ہے۔ جو ہم مومل کو سونا، کپڑا دے رہے ہیں، وہ مومل کا ہی ہے۔ لیکن۔‘‘ شمسہ بیگم رکی تھیں نبیل اور دانش کی طرف دیکھا۔
’’ہم محمدیہ حق مہر ہی رکھیں گے۔ جو ہمارے نبی نے اپنی بیٹی کا حق مہر رکھا، ہم بھی وہی رکھیں گے۔آپ کو اس ’’بات سے اعتراض تو نہیں؟‘‘
انہوں نے رک کر مومل کے بھائیوں سے سوال کیا۔
’’نہیں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے، جیسے آپ کو ٹھیک لگے۔ ہم نے کون سا اپنی بیٹی کو اجاڑنا ہے۔ اس لیے ٹھیک ہے، جو آپ کہہ رہی ہیں، ہمیں‘‘شرعی حق مہر پہ کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘‘
نبیل بھائی نے کہا۔تو شمسہ بیگم نے مطمئن ہو کر اپنے سر کو ہلایا، اور مسکرا کر دوسری باتوں کی سمت متوجہ ہو گئیں۔
٭٭٭
مومل کی بارات کیا آئی تھی جیسے کوئی شہزادہ اپنی شہزادی کو لینے کے لیے آیا تھا۔
فوجی بینڈ باجوں کے ساتھ پیسوں کی برسات تھی کہ رک ہی نہیں رہی تھی۔دوست احباب رشتے دار تو منہ میں انگلیاں دابے مومل کی قسمت پرشک کر رہے تھے
دلہن بنی مومل کا لہنگا ہی دو لاکھ کا تھا۔آرٹیفیشل جیولری کی جگہ ٓاس کی ساس نے اسے سونے کا زیور پہنایا تھا، بیٹی کی قسمت پہ رشک کرتے ہوئے صباحت بیگم بار بار اپنی نم انکھوں کو دوپٹے کے پلو سے صاف کر رہی تھیں۔
نبیل اور دانش الگ اپنی بہن کی خوش بختی پہ نازاں ہوتے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کر رہے تھے۔سب کچھ بہترین تھا۔اعلا تھا۔صباحت بیگم نے بھی لڑکے اور اس کے والد کو سونے کی انگوٹھی اور ساس کو سونے کے کانٹے گفٹ کیے تھے۔بیٹی کو شان سے رخصت کرنے کی خوشی الگ تھی۔تو بیٹی اور بہن کی جدائی پہ وہ سب بہت اداس بھی تھے ۔
مومل شہریار کے ہمراہ رخصت ہو کر اپنے سسرال آئی تو اس کا شاندار استقبال کیا گیا تھا۔شادی کی پہلی رات شہریار نے منہ دکھائی میں مومل کو ڈائمنڈ رنگ دی جو مومل نے اگلے دن بہت تفاخر کے ساتھ اپنی بھابھیوں اور ماں کو دکھائی۔
’’اللہ میری بچی کے نصیب اچھے کرے ’’اسے ہر بری نظر سے بچائے۔‘‘
مومل کے ماتھے پہ بوسہ دیتے ہوئے صباحت بیگم نے اسے ڈھیروں ڈھیر دعاؤں سے نوازا تھا۔مومل مکلاوے پہ آئی تو اگلے دن ہی شہریار اپنی فیملی کے ساتھ اسے لینے کے لیے آ گیا تھا۔ماں اور بھائیوں سے جدا ہونے کا دکھ تھا۔لیکن شہریار کی سنگت میں اس دکھ کا درد کم ہو جاتا تھا۔ روتی ہوئی مومل ماں سے مل کر گاڑی میں آ بیٹھی۔اور شہریار کی طرف دیکھتے ہی اس کے لب اپنے آپ ہی مسکرا دیے تھے۔
٭٭٭
مومل کو سسرال میں آئے ابھی آدھا گھنٹہ بھی نہیں گزرا تھا۔کہ جب شہریار نے اس زیور کا مطالبہ کیا۔جو ان لوگوں نے اسے دیا تھا۔مومل زبان سے تو کچھ نہیں بولی تھی۔لیکن اس کی آنکھوں میں موجود سوال دیکھ کرشہریار نے خود ہی بولنا شروع کر دیاتھا ’’امی کہہ رہی ہیں ،تم کہیں گم نہ کر دو۔پتا ہے نا سونا کتنا مہنگا ہے۔
کرائے کا گھر ہے۔نیا محلہ ہے۔نئی جگہ ہے تو ہی ڈر سا لگا رہتا ہے۔کہیں ڈکیتی نہ ہو جائے بینک کے لاکر میں رکھوا دیتے ہیں۔سکون رہے گا۔
’’شہریار نے توجیہ پیش کی۔مومل اس کی بات کو سن کر اثبات میں سر ہلاتی ہوئی اپنی جگہ سے اٹھی اور الماری سے ان لوگوں کی طرف سے ملنے والے زیورات کے ساتھ ساتھ اپنے گھر کے دونوں سیٹ اور دو کڑے بھی شہریار کے حوالے کر دیے۔
’’ہاں یہ تم نے ٹھیک کیا۔‘‘شہریار کی آنکھیں چمکی تھیں یا پھر مومل کو ایسے ہی محسوس ہوا تھا
وہ سمجھ نہیں پائی تھی۔‘‘مجھے کیا ہو گیا ہے؟
مومل نے اپنے سر کو جھٹکتے ہوئے خود سے کہا۔اور سارے زیور شہریار کے حوالے کر دیے۔
٭٭٭
بات یہاں تک ختم کہاں ہوئی تھی.ہر روز ہی وہ لوگ اس سے کسی نہ کسی چیز کا مطالبہ کرنے لگے.کبھی سحر آ جاتی تو کبھی اس کی ساس۔
’’لہنگا اور میکسی دے دو۔اپنے بری کے سوٹ تو لائو۔‘‘
اسی طرح کرتے کرتے وہ مومل سے سارے سوٹ نکلوا چکی تھیں۔سوٹوں کے بعد جوتوں کی باری تھی۔آخری جوتے کا حکم سنتے ہی اب تو جیسے مومل کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا ۔
’’آنٹی! یہ تو میری چیزیں ہیں نا؟‘‘مومل روہانسی ہوئی تھی۔
’’نہیں، تمہاری نہیں ہیں ۔ہم نے یہ سب چیزیں کرائے پر لی تھیں۔ اور واپس کرنی ہے ۔جتنے دن گزر رہے ہیں، اتنا ہی کرایہ پڑھ رہا ہے
شمسہ بیگم کی بات پہ تو مومل کا منہ کھلے کا کھلا ہی رہ گیا تھا۔
’’میری بات سنو، ویسے تو تمہارے جہیز کی بہت چیزیں ہیں۔پھر بھی اگر تمہیں اور چیزیں چاہئیں تو اپنے شوہر سے کہہ دو، وہ تمہیں لا دے۔تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔
پہلے ہی ولیمے کے کھانے اور بارات لے جانے کا جو خرچا ہوا، اس کا بھی قرض مجھے ہی اتارنا ہے تمہارے شوہر اور باقی دونوں بیٹوں کو تو پرواہ نہیں۔دونوں بڑے بیٹوں کے سسرال والے تو مالی لحاظ سے تگڑے لوگ ہیں تو جیسے تیسے کر کے انہوں نے اپنی بیٹیوں کا گھر بسانا ہے۔اور اپنی ناک اونچی کرنے کے چکر میں دونوں کو اپنے اپنے کاروبار میں گھسا رکھا ہے۔نقصان میں تو شہریار ہے حالانکہ میں نے اسے کتنا سمجھایا تھا۔کہ تمہارے گھر والے ہمارے مطالبے پورے نہیں کر سکتے۔اور نہ ہی شہریار کو مالی لحاظ سے سپورٹ کرسکتے ہیں لیکن تب تو شہریار صاحب کو تمہارے سوا کوئی سوجھ ہی نہیں رہا تھا
نرا احمق۔اب لے مزہ!’’شمسہ بیگم آخر میں بڑبڑائی تھیں۔
لیکن آنٹی، وہ بزنس۔‘‘ مومل تو کپکپائے لہجے میں بات بھی مکمل نہیں کر پائی تھی۔
’’ کون سا بزنس؟ کیسا بزنس؟ سو کر اٹھیں گے نواب زادے تو کوئی بزنس کریں گے؟ سارا دن سوتے ہیں، ساری رات جاگتے ہیں اور جہاں تک بزنس کی بات ہے، تو وہ ماریہ کے باپ کا بزنس ہے۔‘‘
شمسہ بیگم نے بڑی بہو کا نام لیا۔اور سامنے پڑے جوتے ڈبوں میں بند کر کے سحر کو اٹھانے کا اشارہ کیا۔مومل صوفے پہ بیٹھی پتھرائی ہوئی نظروں سے انہیں دیکھ رہی تھی۔
’’دیکھو، یہی حقیقت ہے اور اس حقیقت کے ساتھ تمہیں بھی رہنا پڑے گا۔اور ویسے بھی اب ہم اتنے بھی بھوکے ننگے نہیں ہیں۔جو تمہیں دو وقت کا کھانا نہ دے سکیں۔ باقی تم نے جتنا رونا دھونا مچانا ہے، مچا لو۔ رہنا ہے تو رہو، نہیں رہنا تب بھی شہریار کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔حق مہر شرعی ہے، وہ آرام سے ادا کر دے گا۔مشکل تم ہی کو ہوگی۔سوچ لو، تمہارے گھر والوں نے اپنی حیثیت اور اوقات سے بڑھ کر تمہاری شادی کی ہے۔جس کے لیے انہیں یقینا قرضہ بھی لینا پڑا ہوگا،بوجھ بننا ہے تو بن جاؤ ۔’’اب تمہارا ہی فیصلہ ہے جو بھی فیصلہ ہوگا ۔‘‘
شمسہ بیگم نے لاپرواہی سے اپنے کندھوں کو ٓاچکاتے ہوئے کہا۔مومل کو تو ابھی تک یہ نہیں سمجھ پائی تھی۔کیا ہورہا ہے یہ وہی شمسہ آنٹی ہیں۔جن کے لہجے کی مٹھاس اور حلاوت دیکھ کر اس کے بھائیوں نے ہاں کی تھی اور آج ان کے الفاظ اندر تک ا کڑواہٹ میں لپٹے ہوئے تھے۔
’’آپ لوگوں نے کیسے پھر اتنا خرچا کیا؟ اور کیوں کیا؟‘‘
ولیمے کی بہترین تقریب ڈیکوریشن کیمرہ سب کچھ ہی بہترین تھا۔اور وہ سب مومل کی نظروں کے سامنے گھوم رہا تھا۔
’’قرضہ لیا ہے۔اور کہاں سے کرنا ہے؟اور کیوں کیا؟‘‘
شمسہ بیگم رکی تھیں’’ہمارے خاندان برادری میں ایسی ہی شادیاں ہوتی ہیں اتنی ہی دھوم دھام سے شادیاں ہوتی ہیں۔ ہم اگر ایسے شادی نہ کرتے ۔ تو ہماری ناک کٹ جاتی مجبوری ہے۔برادری میں شملہ اونچا رکھنے کے لیے یہ سب کرنا پڑتا ہے۔‘‘
’’شمسہ بیگم کے لیے جیسے یہ سب روٹین کی بات تھی۔ وہ اتنے ارام سے مومل کو یہ سب بتا رہی تھیں جیسے کوئی عام بات ڈسکس کر رہی ہوں۔!.مومل کے پاس لفظ نہیں تھے، بس حیرت تھی۔
شمسہ بیگم کا کام اور بات دونوں ہی مکمل ہو چکی تھی، اسی لیے وہ مومل کے کمرے سے جا چکی تھیں ۔ساکن بیٹھی مومل اگلے کئی گھنٹے تک یوں ہی گود میں ہاتھوں رکھے بیٹھی رہی۔
’’پیسہ دیکھ کر میں نے ہاں نہیں کرنی… جب تک شہریار اور اس کی فیملی کے بارے میں پوری تحقیق کر کے مطمئن نہیں ہو جاتا، میں ہاں نہیںکروں گا۔ ‘‘
اپنے بابا کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تھی۔
’’اور اگر بابا کی زندگی نے وفا کی ہوتی… تو شاید میں آج یہاں نہ ہوتی۔‘‘ ایک ہچکی اس کے لبوں پہ آن ٹھہری۔ وہ رونا چاہتی تھی لیکن رو نہیں پا رہی تھی، وہ بولنا چاہتی تھی لیکن لفظ تھے کہ ہاتھ چھڑائے اس کے ارد گرد گھوم رہے تھے۔‘‘کیا دھوکا ایسے بھی ہوتا ہے؟ دھوکا دینا اتنا آسان ہوتا ہے؟’ مومل کو یقین نہیں آ رہا تھا۔
اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ سوچتی، شہریار دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔
’’مومل !مجھے جانا ہے، تم ذرا میرا سوٹ پریس کر دو۔‘‘
شہریار بولتا ہوا اس کے قریب آیا لیکن پتھر بنی مومل کو دیکھ کر ٹھٹک کر رکا۔
’’کیا ہوا؟‘‘ اس نے مومل کے کندھے پہ ہاتھ رکھا توپتھر کی مورت میں جیسے جان آنے لگی تھی، حیرانی کے ملبے تلے جذبات اب غصے میں ڈھلنے لگے تھے۔ مومل نے اپنے کندھے پر دھرے شہریار کے ہاتھ کو جھٹکا اور اگلے ہی لمحے اپنے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں چھپا کر شدت سے رو دی۔
’’ایک تو یہ امی بھی نا… میں نے کہا بھی تھا کہ میں تم سے ساری چیزیں واپس دلوا دوں گا… لیکن وہ…’’شہریار غصے میں بولتا ہوا واپس پلٹا۔‘‘لائونج سے شہریار اور شمسہ بیگم کی آنے والی آوازوں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ دونوں غصے میں ایک دوسرے سے بحث کر رہے تھے۔ مومل ان دونوں کی بحث کو بھی سننا نہیں چاہتی تھی، اسی لیے تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھی اور اٹیچ باتھ میں خود کو بند کر کے دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔اپنا سر گھٹنوں پہ رکھ کر رو دی تھی۔
’’بیٹیاں ہونے سے کہاں ڈر لگتا ہے، بیٹیوں کے نصیب ڈراتے ہیں۔‘‘
باپ کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تھی۔
’’آپ ٹھیک کہتے تھے بابا… آپ سب ٹھیک کہتے تھے… کاش آپ اتنی جلدی نہ جاتے، کاش بابا آپ نہ جاتے.’’‘میں کیا کروں؟ میر کچھ سمجھ میں۔نہیں آ رہا، میں اب کیا کروں؟ کس کو بتاؤں؟ اور کیا بتاؤں؟ ‘‘
’’لوگ اپنی بیٹیوں کے نصیب میرے جیسے ہونے کی دعا کرتے ہیں، انہیں کیا پتا میرا نصیب کتنا سیاہ، ہے.میری زندگی میں کتنا اندھیرا ہے۔‘‘ مومل اس دن پوری رات روتی رہی، سسکتی رہی، تڑپتی رہی۔‘‘
’’کیا اور بھی کوئی جھوٹ ہے جو ابھی تک تم نے مجھے بتایا نہیں؟‘‘مومل نے شہریار سے اگلے دن سوال کیا۔
متورم چہرہ، سوجی آنکھیں… دیکھنے والے کو بتا سکتی تھیں کہ وہ کتنی روئی تھی۔
’’مومل! اصل میں.‘‘شہریار نے اس کا ہاتھ تھامنا چاہا لیکن مومل نے اس کے ہاتھ کو جھٹک دیا تھا۔
’’مجھے تم سے محبت ہو گئی تھی، میں دل کے ہاتھوں مجبور ہو گیا تھا۔‘‘شہریار نے ایک بار پھر اس کا ہاتھ تھامنے کی کوشش کی۔تو اس بار۔مومل نے اپنے دونوں ہاتھ شہریار کے سینے پر رکھ کر اسے پیچھے کی جانب دھکا دیا۔
’’‘جو اتنا بڑا ھوکا اتنے آرام سے دے سکتا ہے… اسے کسی سے محبت نہیں ہو سکتی، تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہے۔‘‘
اس کے حلق میں نمکین پانی کاگولہ اٹکا تھا۔
’’تم سب نے مل کر فراڈ کیا ہے، اسی لیے تو تم لوگ زیادہ دیر تک ایک محلے میں نہیں رہتے۔تم نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا شہریار، میں یہ سب ڈیزور نہیں کرتی تھی، بالکل بھی نہیں کرتی تھی۔‘‘وہ رو رہی تھی۔’’مجھے میری امی کی‘‘طرف کا زیور دو، یہ مت کہنا کہ وہ تم نے لاکر میں رکھوایا ہے، میری ماں نے بہت محنت سے اور محبت سے میرے لیے بنوایا تھا، وہ زیور مجھے واپس کردو۔‘‘وہ ضدی لہجے میں بول رہی تھی۔
تو شہریار اگلے ہی لمحے کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔
مومل کو پتا تھا وہ زیور اب اس کے ہاتھ سے جا چکا ہے۔
’’ہائے امی، آپ نے کتنی محبت سے وہ زیور مجھے دیا تھا، میں نے ایک بار بھی اس زیور کو پہن کر نہیں دیکھا۔آپ کہتی تھیں، میری مومل کی قسمت بہت اچھی ہے۔دیکھیں ،اب آپ کی مومل کی کیسی قسمت ہے۔’’میری قسمت مجھے کن لوگوں کے بیچ میں لے آئی جن کا اوڑھنا بچھونا، جھوٹ، فراڈ اور دھوکے بازی ہے۔
’’میں ان لوگوں کے ساتھ نہیں رہوں گی، میں یہاں نہیں رہوں گی۔میں یہاں رہی تو مر جاؤں گی، میں۔‘‘
اس سے پہلے کہ مومل مزید کچھ سوچتی، اس کے فون کی بیل بجی تھی۔
مومل نے ڈبڈبائی نظروں سے فون کی اسکرین کی طرف دیکھا
دانش بھائی کی کال تھی۔
مومل کو یوں لگا جیسے اس کے جلتے ہوئے وجود کو کسی بادل نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہو۔
اس نے بے تابی سے کال اٹینڈ کی۔ اور فون کو کان سے لگایا۔ :اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی، دوسری طرف سے دانش بھائی کی گھبرائی ہوئی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تھی۔
’’ مومل… نبیل بھائی کو… نبیل بھائی کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے…’’خبر ایسی تھی جیسے بم پھٹا ہو۔ اس کی تو جان ہی نکل گئی تھی۔
لیکن فکر کی کوئی بات نہیں ہے، بروقت ٹریٹمنٹ ملنے کی وجہ سے۔‘‘
ابھی دانش کی بات بھی مکمل نہیں ہو پائی تھی کہ مومل نے فون بیڈ کی طرف اچھالا اور شہریار کو پکارتی ہوئی باہر کی طرف دوڑی۔ شہریار جو لائونج میں اپنی ماں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، مومل کی آواز سنتے ہی اٹھ کر کھڑا ہوا۔
’’…مجھے اپنے گھر جانا ہے، مجھے نبیل بھائی کے پاس جانا ہے، میرے بھائی۔‘‘
اس سے پہلے کہ شہریار اسے کچھ کہتا، مومل بے ہوش ہو کر گری تھی، اور اگر شہریار بروقت اسے تھام نہ لیتا تو وہ زمین پر گر چکی ہوتی۔
٭٭٭
اس دن تو مومل جہلم نہیں آ سکی تھی، کیوں کہ خود اس کی حالت ہی ٹھیک نہیں تھی۔اور پھر اس سے اگلے دن وہ ہاسپٹل میں نبیل بھائی کے پاس تھی۔
’’میں بالکل ٹھیک ہوں، میری گڑیا… کوئی ایسے بھی اپنی طبیعت خراب کرتا ہے؟‘‘نبیل بھیا نے اپنا ایک بازو اس کے لیے وا کیا تو مومل بھائی کے بازو میں سمائی اور پھر سے رونے لگی۔
’’…مومل… مومل‘‘
نبیل کو بہن کے رونے سے تکلیف محسوس ہو رہی تھی۔
دانش زبردستی روتی مومل کو نبیل بھائی کے پاس سے راہداری میں لے آیا تھا۔
’’تم کب بڑی ہوگی مومل؟ ڈاکٹر نے سختی سے بھائی کو کو ٹینشن دینے سے منع کیا ہے۔ اور تمہیں پتا ہے نا، انہیں تمہارے رونے سے ٹینشن ہوگی ،بھائی ٹھیک ہیں، پلیز خود کو سنبھالو۔اور اگر اس طرح کرو گی تو میں تمہیں گھر بھیج دوں گا۔ ‘‘
دانش بھائی نے اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا تو مومل نے اپنے آنسوؤں کو صاف کر کے مسکرانے کی کوشش کی۔
’’گڈ گرل !یہ ہوئی نا بات۔ ‘‘
دانش بھائی نے کہتے ہوئے اس کے سر پہ ہلکی سی چپت لگائی اور ایک بار پھر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔
٭٭٭
وہ جو بہت کچھ کہنا چاہتی تھی، خاموش نظروں سے ہاسپٹل کے بستر پہ پڑے نبیل بھائی کو دیکھتی رہی۔
ابھی تو اس کی شادی کے لیے لیا گیا قرضہ بھی واپس نہیں ہوا تھا، ’’ابھی تو.. کتنے ہی ابھی تو‘‘مومل کے گرد گھومنے لگے اور اس کی خاموشی میں گھلنے لگے۔
وہ واپس تو آ گئی تھی، لیکن اب اس گھر اور اس گھر کے مکینوں سے اسے خوف آنے لگا تھا۔
اسے لگتا تھا اگر وہ زیادہ دیر تک اس گھر میں رہی، تواس کا دم گھٹ جائے گا۔
اسی لیے اس نے قریبی سکول میں جاب ڈھونڈ لی تھی۔ جس وقت وہ جاب سے واپس آتی، شہریار سو کر اٹھتا تھا، اور اس دن اس نے شہریار سے کہا تھا کہ وہ اسے اپنی سی وی دے، تاکہ وہ دانش بھائی سے کہہ کر کسی بینک میں اس کے لیے نوکری کی بات کر سکے۔
’’سی وی؟‘‘شہریار حیران ہوا، اور ساتھ بیٹھی سحر کا قہقہ بے ساختہ تھا۔
’’ہاں، وہ، اچھا…‘‘شہریار نے کہا اور بہن کو گھورتے ہوئے وہاں سے اٹھ کر چلا گیا۔
’’میری بات سنو، کوئی سی وی نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی ڈگری ہے، ایم بی اے کی۔ موصوف میٹرک پاس ہیں۔‘‘
سحر نے بتایا تو مومل کی آنکھیں حیرانی سے پھیل گئیں۔
’’تم لوگوں نے تو کہا تھا کہ شہریار نے ایم بی اے کیا ہوا ہے۔‘‘
مومل روہانسی ہوئی تھی۔
’’کہنے کو تو ہم نے اور بھی بہت کچھ کہا تھا. کیا ویسا ہے۔‘‘
سحر نے ابرو اچکا کر مومل سے سوال کیا، تو مومل کو اپنا وجود بے جان، ہوتا محسوس ہونے لگا۔
،وہ کتنی دیر تک اپنے بے جان وجود کو لیے بیٹھی رہی، اور پھر ہمت کر کے اپنے کمرے میں آئی
جہاں شہریار پہلے سے موجود تھا۔
’’مومل شہریار اس کے پاس صوفے پہ آ کر بیٹھا۔
’’مجھے کوئی بھی بات نہیں کرنی۔‘‘
اس نے کہا… اور اپنی پیشانی کو مسلا۔
’’سچ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔‘‘
’’!محبت؟ بھاڑ میں گئی یہ محبت اگر محبت ایسی ہوتی ہے تو ہزار بار ایسی محبت پہ لعنت ہے!‘‘اتنا جھوٹ، اتنا دھوکا۔ تم لوگوں کو اللہ سے ڈر نہیں لگتا؟ اللہ کی پکڑ سے نہیں۔ڈرتے؟ خوف نہیں آتا تم لوگوں کو بے وقوف بناتے ہو؟
کہتے ہوئے مومل پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی۔
’’اچھے بھلے ہو، تم بھائی۔ کام کر سکتے ہو، لیکن نہیں حلال کی کمائی، عزت کی روٹی کھانے کی تم لوگوں کو عادت ہی نہیں ۔
تمہاری دونوں بھابیاں بھی ایسے ہی دھوکے کا شکار بنیں۔
ان کے ماں باپ اپنی عزت کو بچانے کے لیے اور اپنی بیٹیوں کے نصیب کا لکھا سمجھ کر انہیں مہینے کا خرچا دینے کے ساتھ ساتھ تمہارے!بھائیوں کی جیبوں میں بھی پیسے ڈال دیتے ہیں۔لیکن میرے بھائی ایسا نہیں کر سکتے۔
اس بات کو اپنے ذہن سے نکال دو کہ میں کبھی اپنے بھائیوں سے مالی مدد کا مطالبہ کروں گی۔تمہیں کچھ کرنا ہے تو کر لو، نہیں کرنا تب بھی تمہاری مرضی!میں نوکری کر کے خود کو تو پال سکتی ہوں… تمہیں نہیں‘‘مومل کہہ کر ایک جھٹکے سے اس کے پاس سے اٹھی تھی، اور پھر دسمبر کی چھٹیاں ہونے پہ وہ اپنے گھر آ گئی تھی۔ وہ ابھی تک اپنے گھر میں کسی کو کچھ بھی نہیں بتا سکی تھی۔سب ہی کو لگتا تھا وہ اپنے گھر میں بہت خوش ہے، مطمئن ہے…لیکن کسی کو کیا خبر تھی وہ کس عذاب سے گزر رہی تھی۔
’’ایسا کب تک چلے گا۔ مجھے کوئی نہ کوئی تو فیصلہ کرنا پڑے گا۔‘‘
مومل بے چینی سے سوچتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھی اور کمرے سے نکل کر سیڑھیاں چڑھ کر چھت پہ آ گئی۔ کھلی فضا میں سانس لیتے ہوئے مومل کو لگا جیسے اس کے اندر کی گھٹن کچھ تو کم ہوئی ہے۔
وہ فیصلہ کر چکی تھی، اس نے سوچ بھی لیا تھا۔
لیکن ایسا نہیں ہو سکا تھا، کیونکہ
٭٭٭
کچھ دنوں سے مومل کو اپنی طبیعت گری گری سی محسوس ہو رہی تھی۔صباحت بیگم زبردستی اسے اپنے ساتھ ڈاکٹر کے پاس لے آئی تھیں،جہاں ڈاکٹر نے اسے ماں بننے کی خوشخبری سنا دی تھی۔ لیکن یہ خبر مومل کے لیے خوشی کی خبر نہیں تھی۔اسی لیے وہ بے اختیار رو پڑی تھی
’’کیوں ایسے رو رہی ہو؟‘‘ صباحت بیگم پریشان ہوئیں۔‘‘
وہ شہریار کو چھوڑنے کا فیصلہ کر چکی تھی، ایسے میں یہ ’’خبر…وہ ماں کے پاس سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں آ گئی تھی۔ خوب رونے کے بعد دل کا بوجھ تو ذرا کم ہوا تھا لیکن عقب میں کھٹکے کی آواز سن کر مومل نے گردن موڑ کر دروازے پر کھڑی ماں کی طرف دیکھا۔
’’کیا بات ہے مومل؟‘‘
صباحت بیگم نے لرزتے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
اور اس بار مومل ماں سے کچھ بھی نہیں چھپا پائی تھی۔
’’تھک گئی ہوں میں… اس بوجھ کو اٹھاتے اٹھاتے… تھک گئی ہوں شہریار کے دھوکوں سے۔‘‘
صباحت بیگم کتنی ہی دیر تک روتی ہوئی بیٹی کی طرف دیکھتی رہیں، اور پھر بولنے کے لیے اپنے لب کھولے۔
’’تمہاری قسمت میں یہی تھا، اور جانتی ہو مومل.. قسمت سے کبھی نہیں لڑا جا سکتا۔ ہاں، حالات سے لڑا جا سکتا ہے، حالات کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ لوٹ کر آنا تو آسان ہے بیٹا، لیکن اکیلے جینا، ایک عورت کے لیے ہمیشہ مشکل ہی بنا رہتا ہے۔
’’تمہارے پاس نہ رہنے کے بہت سے جواز ہو سکتے ہیں… لیکن ایک جواز ہے، جو تمہیں شہریار تک لے جا سکتا ہے ۔‘‘صباحت بیگم نے رک کر بیٹی کے چہرے کی طرف دیکھاجہاں سوالیہ تاثرات بکھرے پڑے تھے۔ اور اس بات کے غماز تھے کہ مومل جو ’’ہو چکا ہے’’، اسے قبول کر چکی ہے
لیکن جو ’’ہے’’، اسے قبول نہیں کر پا رہی۔
صباحت بیگم نے گہری سانس لی اور بیٹی کے چہرے سے اپنی نظریں ہٹائیں۔
’’بس ایک ہی جواز ہے۔تمہارا شوہر تم سے محبت کرتا ہے، اور محبت، مقابل کو بدلنے میں کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔‘‘وہ بھی تب، جب تم یہ چاہو گی۔
تھوڑا تھوڑا کر کے شہریار کو بدلنے کی کوشش کرو
’’تھوڑی سی کوشش تو کرو، اور آہستہ آہستہ سب سنورنے لگے گا۔ مومل !ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا۔
تم اس گھر کے تمام مکینوں کی سوچ کو نہیں بدل سکتیں۔ایک انسان سے شروع کرو… تو شاید’’
صباحت بیگم رکی تھیں۔
مومل کی آنکھیں ایک بار پھر نمکین پانی سے بھر گئی تھیں۔
’’لوگ ایسے کیسے کر لیتے ہیں امی؟ہم نے بابا کے مرنے کے بعد ان کی پہلی بات کیوں بھلا دی تھی؟ ’’نبیل بھائی نے، دانش بھائی نے، ایک بار بھی شہریار اور اس کی فیملی کی جانچ پڑتال ضروری نہیں سمجھی۔‘‘
’’اپنے بھائیوں کی نیت پر شک کر رہی ہو مومل؟‘‘ان لوگوں کا رویہ ہی ایسا تھا کہ تمہاری خالہ، ان کے ساتھ محلے میں رہنے کے باوجود، انہیں نہیں پہچان سکیں۔
’’میں بھائیوں کی محبت پر شک نہیں کر رہی امی۔لیکن وہ یہ بات کیوں نہیں سمجھے کہ بیٹی یا بہن کا رشتہ کرتے ہوئے ظاہری چیزوں سے متاثر نہیں ہوا جاتا۔ ’’ظاہری چیزیں تو پانی کا بلبلہ بھی ہو سکتی ہیں۔
ان لوگوں نے یہی سب کچھ ماریہ بھابھی اور فائزہ بھابھی کے ساتھ کیا.بیٹیوں کے ماں باپ، بیٹی دینے کے باوجود کتنے کمزور اور ڈر پوک ہو‘‘جاتے ہیں۔
،کبھی بیٹی کے نام کے سامنے ‘طلاق’ کا لفظ سوچ کر ..تو کبھی لوگوں کے طعنوں کا سوچ کربیٹی۔ والے تو امی، ڈر جاتے ہیں لیکن لڑکے والوں کو کیوں ڈر نہیں لگتا؟
وہ کیوں نہیں ڈرتے امی ،دھوکا دینے سے، جھوٹ بولنے سے، کبھی کسی کا دل دکھانے سے؟مومل رو رہی تھی اور اس کے ساتھ خود صباحت بیگم بھی رو رہی تھیں۔
،امی! ہر بیٹی اتنی طاقت ور نہیں ہوتی کہ ہلکی سی امید کی ڈور کے سہارے اپنی زندگی جینے کے لیے اس انسان کے ساتھ چل پڑے جس کے لیے اس کے دل میں کوئی جگہ نہ ہو۔
شہریار میرے دل میں نہیں ہے، امی۔
ہاں، میں اب چاہنے کے باوجود اسے خود سے الگ نہیں کر سکتی، کیونکہ اب… میری نہیں، آنے والی زندگی کی بات ہے۔ جو ہماری زندگی میں شامل ہو گئی ہے۔ میرے لیے دعا کریں امی… میں ہاروں نہیں۔ ’’مقدر کی ایک ٹھوکر کھانے کے بعد، میں مزید منہ کے بل نہیں گرنا چاہتی۔
مومل کے ہاتھ ماں کے سامنے جڑے تھے۔
’’میری ساری دعائیں میری بیٹی کے لیے ہیں۔‘‘
صباحت بیگم نے کہتے ہوئے مومل کے ماتھے پر بوسہ دیا۔
’’دیکھ لو… محبت ہو تو ایسی ہو۔تم نے ایک فون کال کی اور شہریار جھٹ سے تمہیں لینے کے لیے آ گیا،اور یہاں میں دو بچوں کے ساتھ سٹاپ پہ کھڑی ہو کر تمہارے بھائی کو کال کر کے کہہ بھی دوں نا کہ ہمیں بس اسٹینڈ سے لینے ہی آ جانا
تو محترم معصوم سا منہ بنا کر کہتے ہیں۔اب گجرانوالہ سے تم جہلم تک آ ہی گئی ہو،تو آگے بھی رکشے والے کو ہاتھ ہلا کر روکنا،اور اس میں بیٹھ کر گھر آ جانا۔ لو، اور ہم پہنچ گئے دھکے کھاتے ہوئے اپنے میاں کے گھر۔‘‘
مونا بھابھی نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا
اور مومل نے ایک نظر ماں کے چہرے کی طرف دیکھ کر سر جھکا لیا۔
لاعلمی بڑی نعمت ہوتی ہے۔
سامنے والا کہاں اور کس حال میں کھڑا ہے، پاس کھڑے شخص کو اس کی خبر نہیں ہوتی۔جیسے شادی سے لے کر اب تک،مومل کی دونوں بھابھیاں اسے دیکھ کر ایسے ہی ٹھنڈی آہیں بھرتی پھر رہی تھیں۔
’’اللہ کرے سب بیٹیوں کا نصیب ہماری مومل کے جیسا ہو۔
مونا بھابھی نے آگے بڑھ کر خاموش کھڑی مومل کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔
’’اللہ نہ کرے‘‘مومل نے فوراًکہا۔
اور ماں سے ملنے کے بعد، مومل لائونج میں آئی جہاں اس کے دونوں بھائیوں کے ساتھ بیٹھا شہریار اس کا انتظار کر رہا تھا۔
وہ سب سے مل کر گھر کے باہر کھڑی گاڑی میں آ بیٹھی۔ ،جب تک اس کی گاڑی نظروں سے اوجھل نہیں ہوئی تھی اس کے گھر والے پیچھے کھڑے ہاتھ ہلا ہلاکر اسے الوداع کہہ رہے تھے۔
’’گاڑی کس کی ہے؟ جیسے ہی سب منظر سے اوجھل ہوئے، مومل نے شہریار سے سوال کیا۔
’’دوست کی۔‘‘اس نے کہتے ہوئے مومل کی طرف دیکھا۔
’’آج کے بعد تم کسی بھی دوست سے گاڑی لے کر مجھے لینے کے لیے نہیں آئو گے۔‘‘ہم لوکل ٹرانسپورٹ میں سفر کیا کریں گے۔ ٹھیک ہے نا؟‘‘
مومل نے رک کر شہریار کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی بات کی تائید چاہی۔ شہریار کچھ کہنا چاہتا تھا۔
’’تم نے وعدہ کیا ہے شہریار… اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کروگے۔بدل جائو گے۔‘‘
مومل نے اسے اس کا وعدہ یاد دلایا۔
’’آہاں۔ہاں‘‘شہریار نے اثبات میں سر ہلایا۔
’’ہاں، بدل جائوں گا۔‘‘تمہارے لیے، اپنے بچے کے لیے… اور خود کے لیے بھی۔میں خود بھی بنجاروں والی بھاگتی ہوئی زندگی سے تنگ آ گیا ہوں۔قرض خواہوں سے بچنے کے لیے ہر چھ مہینے بعد گھر بدلنا پڑتا ہے،اور کبھی کبھی تو شہر بھی۔ ’’لیکن اب ایسا نہیں ہو گا۔ ‘‘
شہریار نے مسکرا کر مومل کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔
امید کی کرن مدھم تو تھی،لیکن تھی تو۔
اور اسی امید کے سہارے، مومل نے شہریار کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا تھا۔
جانے یہ فیصلہ ٹھیک ثابت ہونے والا تھا… یا پھر…؟
مومل نے گہرا سانس لیا اور بیک پر سر رکھ کر آنکھیں موند لیں۔ ،وہ مزید کچھ سوچنا نہیں چاہتی تھی اس لیے اس نے اپنی زندگی میں آنے والے بچے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا تھا۔
اور ایک ماں کے لیے اس سے زیادہ فرحت انگیز لمحہ کوئی اور ہو بھی نہیں سکتا تھا۔مومل کے لبوں پر مسکراہٹ بکھری.اور بکھرتی چلی گئی۔
٭٭







