سمیہ کی شادی کے شروع شروع کے دن چل رہے تھے ،خاندان میں بھی دعوتیں چل رہی تھیں۔ جہیز ، بری کے نئے نئے کپڑے میچنگ جیولری کے ساتھ پہننا میک اپ کر کے تیار ہونا سمیہ کو بڑا مزہ دیتا۔ پھر اگر میاں تعریف کر دیں تو اس تیاری کا مزہ ہی دوبالا ہو جاتا۔
میکے میں بھی سمیہ تیار ہوتی تو آپی اور امی ضرور تعریف کرتیں کہ پہننے اوڑھنے اور میک اپ کا سلیقہ تو سمیہ کو خوب ہے۔
سمیہ نے اپنا یہ سلیقہ شادی سے پہلے مزید موبائل سے میک اپ ، ٹرینڈ کو فالو کر کے گروم کر لیا کہ خاندان میں تو سب اس کی تعریف کرتے ہیںسسرال میں بھی لوگ تعریف کریں۔ مگر یہ سمیعہ کی سوچ ہی تھی۔
سمیہ کی ساس نے ولیمے والے دن سے سمیہ کو عجیب سے احساس کمتری میں مبتلا کر دیا تھا۔ ولیمے والے دن بھی پارلر سے لیتے ،آئیں تو سمیہ کو دیکھتے ہی کہنے لگیں۔
’’اتنی لائٹ لپ اسٹک ۔ دیکھی نہیں تھی۔‘‘
سمیہ خاموش رہی نیا نیا رشتہ تھا کیا بولتی۔ پھر ساس نے بیوٹیشن کے پاس واپس بھیجا اور لپ اسٹک ڈارک لگوائی۔
’’آج کل ٹرینڈ میں لائٹ ہی چل رہی ہے۔‘‘ مگر ساس کی اپنی ہی منطق کہ اتنے بھاری سوٹ پر ہلکی لپ اسٹک کون لگاتا ہے۔
خیرولیمے کے بعد بھی سمیہ جہیز کا جو بھی کپڑا پہنتی ساس کے پاس کچھ نہ کچھ ہوتا بولنے کو۔
’’ارے سمیہ ! کلر کومبنیشن کتنا اولڈ ہے۔ یہ بیل کتنی پتلی لگائی ہے۔ آج کل تو چوڑی بیلیں لگا رہے ہیں لوگ۔ بٹن پٹی پیٹ تک آ رہی ہے۔ یہ سامنے کیسے لگوالی بیل ۔ دوپٹہ کیسا رنگا ہوا ہے آدھا آدھا۔ یہ کیسا ڈیزائن ہے۔ بے تکا ۔‘‘
روزانہ شام میں سمیہ تیار ہوتی تو ساس کے اس طرح کے جملے بڑا دل دکھاتے۔ دل اس لیے دکھتا کہ یہ کپڑے سمیہ نے بڑے دل سے ڈیزائن کیے تھے کہ گھر میں ہلکے پھلکے لان ، کاٹن کے کپڑے بھی اسٹائلش ہوں۔ مگر ہر کپڑے پر ساس کے تبصرے ایسا دل خراب کرتے کہ ایسے بہت سے کپڑے جو بڑے دل سے بنوائے تھے۔ نہ پہننے کا ارادہ کر کے رکھ دیتی کہ میکے جائوں گی تو وہاں پہن لوں گی ۔ کلر ، ڈیزائن ، بیل ، بٹن ، اسٹیچنگ ہر چیز پر اعتراض ۔ صرف بری کے کپڑے جو انہوں نے بنوائے تھے اس کی ہی تعریف ہوتی۔ اکثر تنقید کے بعد سمیہ کپڑے بدل لیتی ۔
میاں بھی اکثر کہتے اتنی اچھی تو لگ رہی تھیں پھر کپڑے کیوں بدل لیے۔ کیا بتاتی کہ آپ کی امی جان کے تبصرے نہیں برداشت کر سکتی۔ مسکرا کر خاموش رہتی۔ بتاتی بھی تو کیا ؟
آج سمیہ کی پھپھو نے آنا تھا۔ طبیعت کی خرابی کی بنائ پر شادی اور ولیمے پر نہ آ سکی تھیں اب طبیعت بہتر تھی تو سوچا کہ بھتیجی کی سسرال کا ایک چکر تو بنتا ہے۔ پھپھی زاد بھائی کی بیوی کے میکے میں کوئی بیمار تھا۔ اسی لیے بھائی ، بھابھی کا پھپھو کو سمیہ کی طرف چھوڑ کر جانے کا پروگرام تھا۔ باقی سب نے تو شادی میں شرکت بھی کی تھی بس پھپھو ہی طبیعت کی وجہ سے نہیں آسکی تھیں۔
سمیہ آج بہت خوش تھی۔ پھپھو کی محبت ، باتیں ہمیشہ سمیہ بہت مس کرتی۔ امی بھی بڑی پھپھو کو دادی کے جانے کے بعد سے بہت مانتیں۔ مشورہ ، رائے ، دینا دلانا سب پھپھو کے مشورے سے ہوتا کہ بقول ابو کے میری بڑی بہن ماں کی جگہ ہے اور پھپھو نے بھی ہمیشہ بڑے پن کا ثبوت دیا۔
سمیہ کی شادی نہ اٹینڈ کرنے کا بھی انہیں بڑا دکھ تھا۔
پھپھو نے شام کی چائے پر آنا تھا۔ سمیہ نے دہی بڑے ، چھوے بنائے ،سینڈوچ تیار کر کے رکھے کہ پہلی بار پھپھو سسرال میں آئیں تو اچھا امپریشن پڑے۔ جلدی جلدی کام ختم کر کے سمیہ نے غسل کیا اورلائٹ اورنج کلر کا سوٹ پہنا اور ہلکا پھلکا تیار ہو کر باہر آ گئی۔
’’ارے سمیہ!تمہاری پھپھو آرہی ہیں یہ کیا پہن لیا۔ بالکل فانٹا کی بوتل لگ رہی ہو۔ گول گول کیساپرنٹ ہے یہ اور یہ بیل ۔ بالکل بکواس سوٹ لگ رہا ہے ۔ اور یہ گلاٹیلر نے ٹیڑھا بنا دیا کیا ۔‘‘
سمیہ کیا بتاتی کہ یہ اسٹائل ہے۔ پھر بھی بولنا بے کارتھا۔خاموشی سے سنااوردل میں ارادہ کیاکہ کپڑے بدل ہی لیتی ہوں ابھی توپھپھوکے آنے میں ٹائم ہے۔ مگر دروازہ بجا اور پھپھو کی انٹری ہو گئی۔
سمیہ بھی سب سے ملی۔ سب کو بٹھا کر اسکوائش لائی پیش کیا بھائی بھابھی تواسکوائش پی کر ہی اٹھ گئے کہ ہسپتال کے ٹائمنگ ہیں پھر اندر نہیں جانے دیں گے۔ پھپھو اور ساس باتیں کرنے لگیں۔ سمیعہ بھی گلاس دھو کر رکھنے کچن میں چلی گئی۔
واپس آئی تو ساس کسی کو فون پر تسلی دے رہی تھیں کہ بس وہ آدھے گھنٹے میں پہنچ جائیں گے۔ میاں بھی جلدی سے گاڑی کی چابی لینے بھاگے۔ فون بند ہوا تو پتا چلا کہ ساس صاحبہ کی بہن باتھ روم میں گر گئی ہیں ہسپتال لے کر جا رہے ہیں۔ مگر بہن کو بہن سے ہی تسلی ہوتی ہے بس اسی لیے ساس پھپھوسے معذرت کرنے لگیں کہ انہیں ایمرجینسی میں جانا ہے۔ ورنہ ضرور ان کے ساتھ وقت گزارتیں ،پھپھو نے بھی خوش دلی سے کہا کہ پھر ملاقات ہو جائے گی آپ کا ابھی وہاں بہن کے پاس ہوناضروری ہے۔یوں میاں اور ساس پھپھو سے معذرت کر کے چلے گئے۔
گیٹ بند کرکے سمیہ پھپھو کے پاس آکر بیٹھی تو تھوڑی بہت بات کرنے کے بعد پھپھو نے سمیعہ کا چہرہ اوپر کرتے ہوئے پوچھا کہ تم خوش توہو ناں؟ چہرہ کیوں اترا ہوا ہے۔ سب اچھے توہیں ناں تمہارے ساتھ۔ ‘‘
’’ہاں پھپھو ! سب بہت اچھے ہیں۔‘‘
’’ہاں مجھے بھی تمہارے میاں اور ساس اچھے لگے بات چیت کر کے۔ مگر تمہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ کوئی بات ہے۔‘‘
اتنا پوچھنا تھا کہ سمیہ پھٹ پڑی۔ آنکھوں میں آنسو بھی آ گئے۔ وقت ، موقعہ ، دستور سب تھا۔ پیاری پھپھو سے وہ ہربات کہتی چلی گئی جو اسے تکلیف دے رہی تھی۔ اپنی ذات پر تنقید ، اپنے کپڑوں پر تنقید ہر بات پھپھو کے گوش گزار کر دی۔
’’پھپھو ! میں کبھی کچھ نہیں کہتی خاموش رہتی ہوں۔ ابھی بھی ان کپڑوں میں مجھے فانٹا کی بوتل کہہ رہی تھیں اس گلے کو ٹیڑھا کہہ رہی تھیں۔ میں تو کپڑے بدلنے کا سوچ رہی تھی مگر آپ آ گئیں ۔‘‘
’’بیٹی! تمہاری خاموشی ہی تو انہیں اور بڑھاوا دے رہی ہے۔ کبھی کبھی ہمارا نہ بولنا ہی ہماری کمزوری بن جاتاہے۔ سامنے والااپنی بولنے کی حدیں بھول جاتاہے۔ بد تمیزی نہیں کرو لیکن اپنی بات بولنے کا ہنر سیکھو۔ کیا برائی ہے اس رنگ میں اتنی اچھی لگ رہی ہو۔
تعریف، تنقیداچھامشورہ بہت ضروری ہے۔ مگر جو تنقید کر رہا ہے۔ اسے تو دیکھو پہلے !
ابھی تمہاری ساس جو سوٹ پہنی ہوئی تھیں۔ اس کی شلوار کا ایک پائینچا بڑا اور دوسرا چھوٹا تھا۔ گلا شاید بڑا تھا۔ موڑ کر ٹانکے لگائے گئے ہیں۔ پرنٹ بھی بالکل چادر جیسا تھا۔ ماشائ اللہ جو برقعہ انہوں نے پہنا تھا اس کا کالر شایدپسند نہیں تھا بڑے برے طریقے سے قینچی سے اڑایا گیا تھا۔ ربن کی چندی سے چٹیا کسی ہوئی تھی آج کل کون ایسے بال بناتا ہے۔ ‘‘
’’پھپھو! یہ چیزیں مجھے کیوں اب تک نظر نہیں آئیں۔ ‘‘
’’کیونکہ تم خود کنفیوز ہو۔ دوسرے جو کہیں انہیں سچ نہیں مان لیتے۔انہوں نے کہا اور تم نے مان لیا۔ تم نے کپڑے اپنی پسند سے بنوائے ہیں تمہیں انہیں پہن کر خوشی ہو رہی ہے میاں تعریف کر رہا ہے پھر؟ تمہیں اپنے آپ پر اعتماد ہونا چاہیے۔ کہ تم اچھی لگ رہی ہو۔‘‘
’’صحیح کہہ رہی ہیں پھپھو! میرا کونفیڈینس ان باتوں کی وجہ سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔‘‘
’’میری عمر ہے تجربہ ہے بیٹا ! بولو گی نہیں تو اس احساس سے کبھی بھی پیچھا نہیں چھڑا سکو گی۔ ایسے لوگ قدم قدم پر ملیں گے جو آپ کے حلیے، ذات پر تنقید کریں گے۔ پھر کیا ہم ان کی طرح جینا شروع کر دیں گے۔ اگر واقعی تمہاری ساس بہت کلاس کا پہننے اوڑھنے والی ہوتیں تومیں واقعی تمہیں ان سے پھر سیکھنے کا کہتی مگر معاملہ توبالکل اس کے الٹ ہے۔ اب یہ تمہیں سوچنا ہے کہ تمہیں کیا حکمت عملی اپناتی ہے۔ اب تم عملی زندگی میں قدم رکھ چکی ہو زندگی میں بہت سے فیصلے کرو گی اگر اس طرح لوگوںکی باتوں کی پرواہ کرو گی تو اپنی زندگی بہت مشکل کر لو گی ۔
اپنی بات کہنے کا ہنر سیکھو ،ایسے کہ بدتمیزی بھی نہ ہو اور سامنے والا سوچے بھی کہ وہ بالکل پرفیکٹ نہیں ہے۔‘‘ پھپھو نے بھتیجی کے سوچنے کے لیے کئی در کھول دیے۔
٭٭







