چکن بریانی – حنابشریٰ

چکن بریانی - حنابشریٰ 71

ڈسپوزبل ڈبے ، ربڑ بینڈ اور شاپنگ بیگ۔ ان تمام چیزوں کے اعداد و شمار کے بعد وہ چکن بریانی میں استعمال ہونے والی چیزوں کا حساب لگانے لگی تھی۔ چاول ۔ چکن ۔ آئل ۔ دیگر مسالہ جات۔ اس نے کاپی پہ سب ترتیب سے لکھا تھا۔ اور پھر کیلکولیٹر سے ان سب چیزوں پہ آنے والی لاگت اور بچت کا حساب لگانے لگی تھی۔ منافع لاگت سے زیادہ رہا تھاتو دل میں اطمینان اتر آیا تھا۔ کاروبار نقصان میں نہیں نفع میں جا رہا تھا۔

ان سب چیزوں کا حساب کتاب کرنے کے بعد وہ فارغ ہوئی تو گھڑی نے بارہ بجے کا اشارہ دے دیا تھا۔ کافی دیر سے جھکی گردن نے سیدھا ہوتے ہی احساس دلایا کہ وہ تھکن سے چور ہے۔ اور یہی حال کمر کا تھا۔ کاپی پین بند کر کے اپنے تکیے کے نیچے حفاظت سے رکھنے کے بعد اس نے کمرے کی لائٹ بند کر کے نیلا نائٹ بلب جلایا ۔ اور جب تک وہ مکمل نیند کی آغوش میں چلی نہیں گئی۔ اس کا دماغ چکن بریانی کی تیاری میں ہی مصروف رہا۔

اگرچکن بریانی کے ساتھ سلاد اور پودینے کا رائتہ بھی ہو جائے !

یہ آخری خیال تھا جس کے بعد وہ اپنا آپ مکمل طور پر نیند کو سونپ چکی تھی۔

٭٭٭

’’چاول بھگو دیئے چھوٹی ؟‘‘ناشتے اور گھر کے دیگر چھوٹے موٹے کاموں سے فارغ ہوتے ہی وہ بہت صبح ہی چکن بریانی کی تیاری میں ،جت جایاکرتی تھی اور اس کام میں اس کی مددگار ہوتی تھی اس کی

چھوٹی بہن فریحہ ۔

’’جی مدیحہ آپی ۔‘‘ دونوں میں دو تین سال کا فرق تھا۔

’’گڈو باقی کا سامان لے آیا ہے ؟‘‘ گڈوان دونوں کا چھوٹا بھائی تھا نام تو اس کا عثمان تھا مگر پیار سے گڈو ہی کہتے تھے۔

’’ڈسپوزبل ڈبے ، شاپنگ بیگ اور ربڑبینڈ تو وہ صبح سویرے ہی دے گیا تھا۔‘‘ فریحہ نے چکن دھوتے ہوئے تفصیل سے جواب دیا۔

’’اور دہی ، پودینہ ، سلاد کے لیے دو تین سبزیاں ۔‘‘ مدیحہ کا دھیان ہر چیز کی طرف تھا۔ وہ کام کرنے کے معاملے میں بہت ہی منظم لڑکی واقع ہوئی تھی۔

’’آپی ! یہ سب سامان بھی وہ بس لاتا ہی ہو گا!‘‘ فریحہ نے جملہ مکمل ہی کیا تھا کہ باہر گڈو کی سائیکل کی گھنٹی کی آواز نے ،اس کی آمد کی اطلاع دی تو مدیحہ بھاگتی ہوئی دروازے تک جا پہنچی۔ وہ جب تک منگوایا ہوا سامان خود دیکھ نہیں لیتی تھی تسلی نہیں ہوتی تھی۔

گڈوسب کچھ لے آیا تھا جو اس نے منگوایا تھا۔ سو اطمینان نے مدیحہ کے چہرے کا احاطہ کیا۔

’’گڈو کی سائیکل تو اس کام میں بڑی کارآمد ہے بھئی۔‘‘ گڈو کی نئی نکور سائیکل جو کہ گڈو اور فریحہ کے اصرار پر مدیحہ نے پچھلے ماہ ہی لے کر دی تھی۔ سچ میں بہت کام آ رہی تھی۔ شروع میں تو مدیحہ کو ان حالات میں سائیکل خریدنا ایک اضافی خرچا لگا تھا۔ مگر جب گڈو اور فریحہ نے مل کر اپنی ضرورت اور سائیکل کی افادیت کا بتایا تو وہ قائل ہو گئی۔ اور بچت ہوتے ہی گڈو کو ایک اچھی سی سائیکل لے کر دے دی۔

’’ان شائ اللہ جلد ہی گڈو کو بائیک بھی لے کر دوں گی !‘‘

اور یہ بات سن کر تو گڈو اور فریحہ کے چہرے گلاب کی طرح کھل گئے تھے۔

٭٭٭

گرم تیل میں، پیاز سنہری کرنے کے لیے ڈالتے ہوئے اس کا ذہن ماضی کی بھول بھلیوں میں بھٹکنے لگا تھا۔

چھ سات افراد کا چھوٹا سا خوش حال گھرانہ چشم تصور میں آ گیا۔ اماں ، ابا دادا ابوکے علاوہ مدیحہ اور اس کے دونوں چھوٹے بہن بھائی کتنی آسودہ زندگی گزار رہے تھے۔ بچپن کتنا لاپروا سا تھا۔ نہ کوئی تنگی معاش اور نہ ہی کوئی مالی پریشانی۔ ابا ایک پرائیویٹ محکمہ میں ملازم تھے اور دادا ابو کا مین روڈ پہ اچھا خاصا بڑا سپر اسٹور تھا۔ جس میں ان کے مددگار طاہر چچا تھے۔

اماں گھر کے انتظام اور بچوں کی تربیت میں اپنا کردار ادا کر رہی تھیں۔ یہ وہ دور تھا جب رزق کی فراوانی تھی اور خوشحالی اپنے عروج پہ تھی۔ مدیحہ فورتھ ایئر میں تھی اور فریحہ سیکنڈ ایئر میں ۔ جبکہ گڈو میٹرک میں تھا۔

مدیحہ کا خواب اعلا تعلیم حاصل کرنے کا تھا۔ وہ اپنی تعلیم میں مگن تھی کہ ابا کو اچانک دل کا ایسا شدید دورہ پڑا کہ زندگی نے ساتھ چھوڑ دیا۔ اس اچانک افتاد نے خوشحال گھرانے کی بنیادوں کو بری طرح سے ہلایا کہ اس دن کے بعد گھر کے دروبام لرزتے ہوئے محسوس ہونے لگے۔ جیسے کسی انہونی اور اچانک مصیبت کے آجانے کے ڈر سے دل ہر پل لرزتا ہے۔

ابا کی اچانک موت نے دادا ابو کی جیسے ہمت توڑ دی۔ بھلا کہاں حوصلہ ہوتا ہے ماں باپ کے لیے اپنی اولاد کو اپنے سے پہلے رخصت کرنا۔ دادا نے دل پر پتھر رکھ کر ہمت دکھانے کی کوشش تو بہت کی مگر صرف چار ماہ کے لیے یہ صدمہ دل کا داغ بنا اور یہ داغ ان کی بھی جان لے گیا۔ دادا بھی ابا کے پاس چلے گئے۔ گئے دنوں کی یاد نے آنکھوں میں آنسو بھر دیئے۔

پیاز فرائی ہو چکی تھی ۔ لہسن ، ادرک ، ٹماٹر کے ساتھ کڑی پتہ ، دارچینی ، بڑی الائچی ، لونگ اور زیرہ ڈال کر مسالہ بھوننے لگی تو ہر سو خوشبو پھیل گئی۔

’’مدیحہ آپی ،سلاد تیار ہوگیاہے۔ پیک کرنے کے لیے پلاسٹک کے چھوٹے لفافے اور سفید دھاگہ دے دیں.!‘‘

ابھی نہ جانے اور کتنی دیر ماضی کی یادوں میں گم رہتی۔ اگر فریحہ نہ آتی۔ کمال مہارت سے اپنے آنسو چھپاتے ہوئے فریحہ کو مطلوبہ چیزیں فراہم کیں۔ مسالہ تیار ہوا تو اب چکن ڈال کر بھوننے کی باری تھی۔ ایک نگاہ گھڑی پہ ڈال کر ہاتھوں کو تیزی سے چلانے لگی تھی۔ دوپہر بارہ بجے تک اسے سب کچھ تیار کرنا تھا۔

٭٭٭

’’واہ بھئی بڑی زبردست خوشبو پھیلی ہوئی ہے چکن بریانی کی .!‘‘ دوپہر کے دو بج چکے تھے۔ تقریباً روز ہی اس مخصوص وقت پہ چکن بریانی کی خوشبو سونگھتے ہوئے ان کے گھر آنے والی یہ خاتون اسما آنٹی تھیں۔ جو اپنی چودہ سالہ بیٹی بسمہ کے ساتھ تشریف کا ٹوکرا لے کر پہنچ گئی تھیں ۔

’’کسی اورکام کے لیے اسما آنٹی اتنی وقت کی پابند ہوں نا ہوں، مگر چکن بریانی کھانے ،وقت مقررہ پر پہنچ جاتی ہیں.!‘‘

یہ بڑبڑاہٹ گڈو کی تھی۔ جو اس نے امی سے چھپ کر دونوں بڑی بہنوں کے سامنے کی تھی۔ جس پہ تائیدی انداز میں فریحہ اور مدیحہ دونوں نے سر جھٹکے تھے۔ بس کام میں مصروف ہونے کی وجہ سے دونوں نے کچھ کہا نہیں تھا۔

وہ دونوں تیزی سے ،چکن بریانی کے ڈسپوزبل ڈبوں کو بند کرنے کے بعد ان پہ ربڑ بینڈ چڑھا رہی تھیں۔ اور گڈو ہر ڈبے کے ساتھ پلاسٹک کی تھیلیوں میں بند رائتہ اور سلاد پوری ذمے داری کے ساتھ ڈال رہا تھا۔

’’بھئی پورے محلے میں پھیلی چکن بریانی کی خوشبو اس وقت بھوک چمکا رہی ہوتی ہے ۔‘‘

باہر صحن سے اسما آنٹی کے للچائے ہوئے انداز میں کہے الفاظ، کچن میں کام کرتے ان تینوں بہن بھائی نے سنے تو ایک ساتھ تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔

’’آ گئی ہیں مفت خوری چکن بریانی کھانے!‘‘ گڈو تو اسماآنٹی سے سخت چڑا کرتا تھا کہ اپنی بڑبڑاہٹ روک نہیں پاتا تھا۔

’’بسمہ نے کہا بھی امی بھوک لگی ہے کچھ پکا دو۔‘‘ ایک اور جملہ تیرتا ہوا ان تینوں کے کانوں میں اترا تھا۔

’’میں نے کہا کچھ پکانے کی بھلا کیا ضرورت ہے مدیحہ کے ہاتھ کی چکن بریانی چل کے کھاتے ہیں۔‘‘

اورپھر پورے صحن میں اسما آنٹی کابے ڈھنگاو بے ہنگم قہقہہ ان تینوں کو کھولا گیا تھا۔

’’دفع کرو گڈو.!‘‘ مدیحہ نے دانستہ اس کا دھیان ہٹانے کی کوشش کی تھی۔

’’تم گنتی کرو ڈبے پورے ہیں۔‘‘ مدیحہ کو کام کی جلدی تھی اس کے پاس اسما آنٹی کی فضول باتوں کی طرف دھیان دینے کا وقت نہیں تھا۔ مدیحہ کے کہنے پہ گڈو ڈبے گننے لگا تھا۔ ڈبے پورے چالیس تھے۔

’’چلوتم پہنچا کے آئو یہ ڈبے . ہم باقی کے تیار کرتے ہیں۔‘‘ بھائی کو ہدایت دیتی وہ دونوں تیزی سے مزید ڈبوں کی تیاری میں لگ گئی تھیں۔ انہیں وقت مقررہ پہ سب کے آرڈر پہنچانے تھے۔

ایک ہاتھ میں بیس ڈبوں کا شاپر، دوسرے میں بھی بیس ڈبوں کا شاپر پکڑے گڈو اسما آنٹی کے سامنے سے گزرا تو ان کی للچائی نظریں ڈبوں کا ایکسرے کرتی دکھائی دیں تو گڈو بس ضبط کر کے رہ گیا۔

’’کام پہ جا رہا ہے گڈو۔‘‘ خوامخواہ خوش اخلاقی بگھارتے ہوئے اسما آنٹی نے گڈو کو مخاطب کیا۔ مگر نظریں چکن بریانی کے ڈبوں کی طرف ہی لگی تھیں۔ کتنی زہر لگ رہی اسما آنٹی اس للچائے انداز میں ڈبوں کو دیکھتیں۔گڈو نے دل میں سوچا تھا۔ چکن بریانی تو اسما آنٹی کو بے قابو سا کر دیا کرتی تھی کہ ان سے اپنا ندیدہ پن کنٹرول کرنا مشکل ہو جایا کرتا تھا۔

ایک غصیلی نگاہ اسما آنٹی پر ڈالتے گڈوبنا کوئی جواب دیئے تیزی سے باہر نکل گیا تھا۔ جبکہ عقب سے سناتی رہتی امی کی آواز نے اس کا پارہ اور چڑھا دیا تھا۔

’’مدیحہ ! اسما آنٹی اور بسمہ کے لیے بریانی لے آئو بیٹا ۔‘‘

٭٭٭

’’واہ . واہ چکن بریانی کے ساتھ سلاد اور رائتہ بھی۔‘‘

ٹرے بھر کے امی کے حکم پہ چکن بریانی اسماآنٹی اور بسمہ کے سامنے رکھ دی گئی تھی اور ساتھ ہی سلاد اور رائتہ بھی۔

’’ویسے چکن بریانی کے ساتھ ان دونوں کے اضافے نے مزہ دوبالا کر دیا ہے فری ۔‘‘

یہ یقینا چکن بریانی کھانے کا جوش تھا جو فریحہ کے لیے پیار سے اسما آنٹی کے منہ سے فری نکل گیا تھا۔ ورنہ آگے پیچھے تو فریحہ بھی ایسے منہ ٹیڑھا میڑھا کر کے کہا جاتا تھا۔

’’ویسے یہ آئیڈیا کس کا تھاتمہارا یا مدی کا ؟‘‘

لوجی بریانی کھانے کی خوشی میں دیوانی اسما آنٹی نے آج مدیحہ کو بھی مدی بنا دیا تھا۔ فریحہ حیران ہوئے بنا نہ رہ سکی تھی۔

’’مدیحہ آپی کا .!‘‘ فریحہ نے جواب بہت خشک انداز میں دیا تھا۔ وہ تھکاوٹ کا بھی شکار لگ رہی تھی۔ صبح سے تو کام میں جت گئی تھی۔ ایسی صورت میں اسما آنٹی کی ہر بات ہی کوفت کا شکار کر رہی تھی۔

’’ویسے زہرا آپا ! چکن بریانی کے ساتھ ایک لیٹر والی کولڈ ڈرنک بھی ہو جائے تو ایک بریانی کے ڈبے پہ ڈبل کمائی ہو گی.!‘‘

منہ بھر کر چکن بریانی کھاتی اسما آنٹی کا یہ مفت مشورہ تھا۔ جبکہ اصل بات تو یہ تھی کہ اس وقت انہیں خود کولڈڈرنک کی طلب ہو رہی تھی۔ اتنی جنگلیوں کی طرح ٹوٹ کر بریانی جو کھائی تھی اب اسے نیچے اتارنے کے لیے درکار تھی۔‘‘

’’بھئی بریانی کے ساتھ سادہ پانی تھوڑی اچھا لگتا ہے ۔‘‘

ایک بار پھر سے بلاوجہ زور دار قہقہہ لگاتے اسماآنٹی نے گویا کو ایڈ کرنے کی فرمائش بھرپور انداز میں گویاں کی تھی۔ اور ان کی اس فرمائش پہ مدیحہ اور فریحہ بل کھا کر رہ گئی تھیں۔

’’ابھی بجٹ میں گنجائش نہیں ہے کولڈڈرنک شامل کرنے کی اسما آنٹی .!‘‘

فریحہ اب کے چپ نہ رہ سکی تھی تو بول پڑی تھی۔ وہ ابو کی پنشن میں سے کس طرح پیٹ کاٹ کر چکن بریانی کا کاروبار کر رہے تھے اس پہ اسما آنٹی کی یہ بے تکی سی فرمائش ۔

’’مشورہ تو اچھا ہے اسما کا ۔‘‘ یہ حمایت بھرے الفاظ زہر ا کے تھے جن کو سن کر خاموشی سے مدیحہ اور فریحہ نے ماں کو یوں دیکھا تھا کہ امی بھی بیکار میں ان کی حمایت کر کے انہیں اور چوڑا کر دیتی ہیں۔

’’امی ،آپ کو بھی کھانا لا دوں۔‘‘ ان کے مفت مشورے سے جان چھڑاتے ہوئے فریحہ ،ماں کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔ دوپہر کے تین بج گئے تھے امی نے سارا سلاد تیار کر کے بیٹیوں کی کام میں مدد کی تھی۔ ابھی تک خود بھوکی تھیں۔

’’ہاں بیٹا ،لا دو روٹی کے ساتھ تھوڑا سا سالن!‘‘ زہرا اپنے دھیان میں بیٹی سے مخاطب تھیں۔ اس بات سے بالکل بے خبر کہ دیوانوں کی طرح بریانی پلیٹ میں اتارتے ہوئے اسما آنٹی نے انہیں تعجب سے دیکھا تھا۔

’’چکن بریانی کے ہوتے ہوئے روٹی سالن آپا .؟‘‘ اسماآنٹی کے استفسار پہ زہرا تو بس مسکرا کر رہ گئی تھیں۔ جبکہ تاسف سے فریحہ نے ان ماں بیٹی کو چکن بریانی کھاتے اور بس دیکھ کر رہ گئی تھی۔

اب کیا بتاتی ان بے حس لوگوں کو چکن بریانی کے ہوتے ہوئے روٹی سالن کھانے کی وجہ .؟‘‘

٭٭٭

اسماآنٹی زہرا کی کزن تھیں۔جو انہی کے محلے میں سات گھر چھوڑ کر رہتی تھیں۔ شروع میں اسماآنٹی کے حالات اچھے تھے جب تو وہ ایسی ہوائوں میں اڑا کرتی تھیں کہ کبھی بھولے بھٹکے کے بھی زہرا کے گھرانے کی خیر خبر نہ لیا کرتی تھیں۔ جبکہ ان کو علم تھا کہ ان کے گھر کا سربراہ اب دنیا میں نہیں رہا ، اور ان کے حالات بہت خراب ہو چکے ہیں۔ مگر پھر بھی کبھی جھوٹے منہ ہی اسماآنٹی زہرا اور ان کے بچوں کی خیریت پوچھنے تک نہ آیا کرتی تھیں۔

اب اسماآنٹی کے جب سے اپنے حالات خراب ہوئے تھے تو مدد کے لیے روتی دھوتی اپنوں کی طرف دوڑی تھیں۔

ان کے شوہر کو ان کے افسروں نے انہی کی کسی غفلت اور فراڈ کی وجہ سے نوکری سے نکال دیا تھا۔ اپنے حالات کو لے کر اسماآنٹی نے ہر رشتے دار کے گھر جا کر ایسا رونا دھونا مچایا کہ جیسے دنیا میں واحد وہی سب سے زیادہ پریشان حال ہیں۔

باقی ساری دنیا تو موج اور عیش میں ہے۔

اسماآنٹی کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے کچھ مالی مدد ان کے بھائی کی طرف سے ملنے لگی اور دیگر ضروریات جیسے کپڑے ، راشن کی مدد اسماکی سگی بہن کی طرف سے ہونے لگی۔

زہرا جن کے اپنے حالات کچھ اچھے نہیں تھے تو پھر بھی اپنی استطاعت و گنجائش کے مطابق دوپہر کا کھانا اپنی طرف کھلا دیا کرتی تھیں۔ اور پھر اکثر ہی ساتھ بھی تین ڈبے بھجوا دیا کرتیں۔

’’امی ! ساتھ دینے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘

صبح فجر سے اس محنت مشقت میں لگی زہرا کی دونوں بیٹیوں سمیت گڈو کو بھی ماں کے اس عمل پہ اعتراض ہوا تو اظہار برملا کیا۔

’’بے چاری حالات کی ماری ہے ہم کوئی اور بڑی مدد نہیں کر سکتے تو چلو دو وقت کا کھانا ہی دے کر اس کی ضرورت پوری کر دیا کریں.!‘‘ یہ نیک فطرت زہرا کی درد مندانہ سی سوچ تھی ، حالات کی چکی نے انہیں ایسے گھن کی طرح پیسا تھا کہ طبیعت کی نرمی اور رحمدلی بڑھ گئی تھی۔ جیسے ہر پریشان حال میں انہیں اپنا آپ دکھائی دینے لگا تھا۔

’’امی ،وہ دونوں یہاں سے روز بلا ناغہ اچھا خاصا کھا کر جاتی ہیں پھر یہ اضافی ڈبے ۔‘‘

’’مدیحہ کے مطابق ان کے ساتھ دو تین چکن بریانی کے ڈبے بھجوانا ،ان کے بجٹ پہ اچھا خاصا بوجھ تھا وہ جو صرف ہفتے میں خود کو اور اپنے گھر والوں کو ایک دن بریانی کھانے پہ پابند کیے ہوئے تھی جن کے گھر روز چکن بریانی پکا کرتی تھی۔

مدیحہ کو تو چکن بریانی اتنی پسند تھی کہ بریانی بھری پلیٹ دیکھ کر خود پہ قابو کرنا مشکل ہو جاتا تھا۔ مگر حالات کی سختی نے جہاں بہت کچھ بدلا تھا اس کا یہ شوق بھی بدل دیا تھا ،وہ روز ڈھیروں ڈھیر بریانی بناتی تھی زیادہ سے زیادہ بک جائے پیسے آجائیں بس یہی سوچ زبان کے مزے کے آگے رکاوٹ بن جایا کرتی تھی۔

مدیحہ بہت بار ماں کے سامنے اس بوجھ کا ذکر کر چکی تھی۔ جو اسماآنٹی کو اضافی بریانی کے ڈبے دینے کی وجہ سے آتا تھا ۔

’’رشتے داروں کا خیال رکھنے سے اللہ اور دیتا ہے بیٹا۔‘‘ مدیحہ کے لیے ماں کو ابھی قائل کرنا سخت مشکل امر تھا۔

’’رشتے دار توہم بھی تھے اسماآنٹی کے ۔‘‘ آنکھیں نم ہوئیں ،لہجہ کڑوا زہر اور الفاظ تلخی سے بھر گئے۔

’’ضرورت مند بھی تھے اور حالات کے مارے ہوئے بھی امی .!‘‘ مدیحہ کا لہجہ بھیگا ہوا محسوس کر کے ماں کا دل جیسے مٹھی میں آ گیا تھا۔ حالات کی خرابی میں ایک روز مدیحہ نے اسماآنٹی سے تھوڑی پتی اور چینی مانگ لی تھی۔

امی کی طبیعت خراب تھی۔ دوا چائے کے ساتھ ڈاکٹر نے کھانے کو کہا تھا گھر میں اتنے پیسے نہیں تھے کہ چینی اور پتی فوری طور پر منگوائی جا سکتی۔ اس چھوٹی سی ضرورت کے لیے اسماآنٹی نے انہیں دس فون کروائے تھے۔ اور بالاخر فون پاور آف کر دیا تھا۔

کتنی ذلت کا احساس اس رو ز مدیحہ کو اندر ہی اندر کھا گیا تھا کہ اس روز کے بعد ،اس نے ذرہ برابر بھی کسی چیز کے لیے کسی بھی رشتے دار کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانے کی قسم کھالی تھی۔

’’واقعی اللہ راضی ہوتا ہے ان رشتے داروں کی مدد کرنے سے جو حقیقی ضرورت مند ہوں امی .!‘‘ مدیحہ کی تلخی سے بھری بات نے ماں کے ہونٹوں پہ جیسے چپ کی مہر لگا دی تھی۔

’’پتا نہیں اب اسماآنٹی حقیقی ضرورت مند ہیں یا صرف رشتے داروں سے ہمدردی اور امداد حاصل کرنے کے لیے ضرورت مند بننے کا ڈرامہ کر رہی ہیں۔‘‘ یہ خیال تلخ سافریحہ کا تھا۔

دل کی بھڑاس ماں کے سامنے نکال کر وہ دونوں پھر سے کاموں میں جت گئی تھیں۔ گڈو اپنے کام پہ روانہ ہو گیا تھا جبکہ زہرا کے دماغ میں گھنٹوں یہی باتیں گردش کرتی رہی تھیں۔

٭٭٭

دن بھر کی تھکی مدیحہ ،آج کا منافع اپنے اس چکن بریانی کے کاروبار کا کاپی میں لکھنے کے بعد اگلے روز کے لیے سامان کی فہرست تیار کرنے کے بعد بستر پہ لیٹی تو کمر تختے کی طرح اکڑی ہوئی لگی تھی۔ بدن کا ایک ایک جوڑ جیسے درد میں دکھتا دہائیاں دے رہا تھا۔ پاس ہی دوسری چارپائی پہ فریحہ یوں تھکی ٹوٹی پڑی سو رہی تھی کہ دیکھ کے لگ رہا تھا کہ سو نہیں رہی ، بلکہ تھکاوٹ سے بے ہوش ہو کر گر پڑی تھی۔

فریحہ کی حالت دیکھ کر پھر سے مدیحہ کی آنکھیں جلنے لگی تھیں۔

’’کیا کرتی وہ .‘‘ یہ کاروبار اس کی مجبوری تھا۔

یہ کاروبار نہ کرتے تو شاید ابھی تک بھوکے مر جاتے۔ سوتی ہوئی فریحہ پہ سے نظریں ہٹا کر اس نے دیوار پہ لگی گھڑی پہ ڈالی جو رات کے ساڑھے بارہ بجا رہی تھی۔ خاموشی چہار سو پھیلی تھی ۔ تاریکی گہری سے گہری ہوتی جا رہی تھی۔

ابو اور دادا کے دنیاسے چلنے جانے کے بعد وہ ایک دم سے عرش سے فرش پہ آ گئے تھے۔ خوشیاں جیسے کہیں کھو گئی تھیں۔ تنگی و ترشی کس عذاب کا نام تھا۔

زندگی پہلی بار اس سے دوچار ہوئی تو بوکھلا سی گئی تھی۔ ان حالات میں گھبرائے ، حالات سے پریشان تینوں بچوں اور ان کی بیوہ ماں کی نظریں گھر کے واحد کفیل طاہر چچا پہ تھیں وہ اب دادا کا سپر اسٹور چلا رہے تھے۔ ابو کی پنشن تو آ رہی تھی۔ مگر وہ تو گھر کے بلوں اور امی کی دوائی پہ ہی استعمال ہو جاتی تھی۔

دادا کا اسٹور لاکھوں کی مالیت کا تھا۔ جس میں دونوں بھائیوں کا حصہ برابر کا تھا۔ سو اس اعتبار سے جو حصہ مدیحہ کے باپ کا تھا، اس میں حصہ دار تینوں بچے اور ان کی بیوہ ماں تھی۔

حالات کیا بدلے انہوں نے طاہر چچا کو بھی بدل دیا ، راتوں رات انہوں نے اسٹور کا سودا کیا اور ساری کی ساری رقم جو لاکھوں میں تھی لے کر کسی دوسرے شہر میں اپنی فیملی سمیت ایسے غائب ہوتے کہ کسی کو خبر بھی نہ ہوئی ۔

یہ سب کرنے سے پہلے ،طاہر چچا نے ایک بار بھی نہ سوچا کہ ان بے سہاروں کا اب سہارا کون ہو گا۔ ان میں سے توابھی کوئی بچہ کمانے کے بھی قابل نہیں ہے ،دولت نے طاہر چچا کی آنکھوں پہ لالچ کی ایسی پٹی باندھی کہ دل خود غرض ہو کر ہر خونی رشتے کو بھول گیا۔

اب ان بے سہاروں کا سہاراصرف اللہ کی ذاتی تھی۔ اور دو وقت کی روٹی کے لیے باپ کی پنشن کا آسرا۔ مگر وہ اتنی چٹکی بھر تھی کہ اس میں سب کی ضروریات پورا کرنا نا ممکن تھا۔

گھڑی نے رات کا ایک بجایا اسے تلخی بھری یادوں سے گھسیٹ کر نکالا تو پھر سے صبح کے کام اس کے دماغ میں گردش کرتے ،اس کی ٹوٹی ہمت بندھاتے اسے جلد سونے کی طرف راغب کرنے لگے۔

٭٭٭

’’آپ کرتی ہیں گھر پہ چکن بریانی کا کاروبار؟‘‘مہذبانہ اندازمیں استفسار کرنے والی علاقے کے سرکاری اسکول کی کینٹین کی منتظم بتول صاحبہ تھیں۔

’’جی.!‘‘

’’اصل میں آپ کے ہاتھ کی بنی چکن بریانی کے بڑے چرچے سنے ہیں۔‘‘

یہ اظہار خیال ابھی بتول صاحبہ کر رہی تھیں کہ عین اس موقع پہ اسماآنٹی بسمہ کے ہمراہ آ دھمکیں۔ اور سب کے درمیان میں یوں پھنس کر بیٹھ گئیں کہ جیسے بتول صاحبہ خصوصی طور پر انہی سے ملنے آئی ہوں۔ اسماآنٹی کی بے وقت آمد پر مدیحہ سمیت فریحہ اور گڈوکو بھی سخت ناگواری ہوتی تھی۔

’’آپ نے کس سے چکن بریانی کے متعلق سنا۔‘‘ ناگواری کو پچھاڑتی مدیحہ کام کی بات کی طرف آئی تھی۔

’’وہ اصل میں.!‘‘بتول صاحبہ نے جو تفصیل بتائی وہ کچھ یوں تھی کہ مدیحہ کے محلے کی اکثر لڑکیاں جو اسی سرکاری اسکول میں زیر تعلیم تھیں انہی کے ذریعے یہ خبر ،اسکول کی کینٹین انتظامیہ تک پہنچی کہ مدیحہ گھر میں چکن بریانی بنا کر فروخت کرتی ہے تو بتول صاحبہ چھٹی کے فوراً بعد بچیوں سے مدیحہ کے گھر کا پتا پوچھتی آ پہنچیں۔

’’بہت اچھا کر رہی ہیں آپ مدیحہ ،جو اپنے ہنر کو کام میں لا رہی ہیں!‘‘ بتول صاحبہ کی داد تحسین نے سب افراد خانہ کے چہروں پہ مسرت بکھیر دی۔ سوائے اسماآنٹی کے۔

’’محنت کر کے کمانا دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلا کر مانگنے سے کئی درجہ بہتر ہے بتول صاحبہ!‘‘

مدیحہ کے بھیگے ہوئے لہجے نے بمشکل الفاظ کو بہنے سے روکا تھا۔ اس کے خیالات سن کر جہاں بتول صاحبہ متاثر ہوئیں وہیں اسماآنٹی یوں پہلو بدل کر رہ گئیں کہ جیسے یہ بات انہیں جتائی گئی ہو۔

گھور کربتول صاحبہ دیکھتے ہوئے اسماآنٹی نے منہ دوسری جانب پھیر لیا تھا۔ جبکہ ان کی حالت نے گڈو اور فریحہ کو بے حد محظوظ کیا تھا۔

’’اصل میں مدیحہ ،اسکول انتظامیہ کینٹین کے فوڈ آئٹم میں چکن بریانی کا اضافہ کرنا چاہتی ہے!‘‘ بتول صاحبہ نے اب کے وضاحت کے ساتھ اپنی آمد کا مقصد بتا کر مدیحہ کے گھرانے کا دل باغ باغ کر دیا۔ جبکہ دوسری طرف منہ پھیرے بے نیازی کا پتلا بنی اسماآنٹی نے یوں چونک کر دیکھا کہ جیسے کوئی بہت بڑی خبر سن لی ہو۔

’’کیا میں ایک بار آپ کے ہاتھ کی بنی چکن بریانی ٹیسٹ کر سکتی ہوں؟‘‘ یہ بتول صاحبہ کی خواہش تھی۔

انہوں نے مدیحہ کے ہاتھ کی بنی بریانی ٹیسٹ کی اور خوب دل کھول کر دا د دی۔ اور جانے سے پہلے باقاعدہ طور پر اسکول انتظامیہ کی طرف سے مدیحہ کے ساتھ کاروبار کرنے کی نوید سنانے کے ساتھ، اگلے روزکے لیے ستر ،اسی چکن بریانی کے ڈبوں کا آرڈر بھی بک کرواکر ساتھ ہی گڈو کو ڈلیوری کے لیے الگ سے چارجزدیئے جانے کا کہہ کر توسب کو خوش کر گئیں۔ تو وہیں اسماآنٹی کے اندر حسد و جلن کو باہر نکال گئیں۔

’’کوئی بھی کاروبار کے لیے آئے ۔ چکن بریانی ٹیسٹ کروانے پہ بھی چارجز لگائو مدیحہ !‘‘

یہ جلا بھنا مشورہ اسماآنٹی کا تھا۔ جنہیں بتول صاحبہ کا بریانی کی ایک پلیٹ کھانا بالکل ہضم نہ ہوا۔ وہ تویوں جل کر کباب ہوئیں جیسے وہ ان کے حصے کی پلیٹ کھا گئی ہوں۔

باہر کی دنیا سے یہ، پہلا باقاعدہ کاروباری رابطہ گویا مدیحہ کی کامیابی کی طرف پہلا قدم تھا۔ وہ بہت خوش تھی۔ کتنے عرصے بعد وہ کھل کر مسکرائی تھی ورنہ مسکراہٹ اور وہ جیسے ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہو گئے تھے۔

٭٭٭

کتنی کٹھن ہو گئی تھی زندگی ابو اور دادا کے چلے جانے کے بعد۔

ان کے حالات کیا خراب ہوئے ، بہت سے خوشحال رشتے داروں نے ان سے منہ ہی پھیر لیا تھا۔

مدیحہ کی تعلیم بھی اتنی نہ تھی کہ اسے کہیں ملازمت مل جاتی ، سو اس نے ہمت کر کے ٹیوشن پڑھانا شروع کیا مگر دو تین بچوں سے زیادہ کوئی پڑھنے کے لیے نہیں آئے اور وہ بچے بھی ایک ماہ کے بعد آنا چھوڑ گئے انہیں مدیحہ سے زیادہ قابل ٹیچر مل گئی تھی۔

گڈو نے گھر کے باہر چھوٹی سی دکان کھول لی تھی جس میں انڈے ، ڈبل روٹی گولیاں ، ٹافیاں ، بسکٹ وغیرہ کے علاوہ ایسا ہی کچھ ہلکا پھلکا سا سامان رکھ لیا تھا۔ مگر یہ کام بھی زیادہ دن نہ چل سکا الٹا بہت سے لوگ ادھار ہی سودا لینے آجاتے اور اگلے مہینے ادائیگی کا وعدہ کر کے ایسے غائب ہوتے کہ پھر نظر ہی نہ آتے ، یہ کام بھی دو تین ہفتوںبعد ہی ٹھپ ہو گیا۔

ان دونوں کاموں میں ناکامی کے بعد زہرا نے اپنی سلائی مشین سنبھال لی۔ زہرا اچھے کپڑے سی لیا کرتی تھیں مگر یہاں بھی بدقسمتی نے پیچھا نہ چھوڑا سلائی مشین کا پرزہ خراب ہوا ، ٹھیک کروانے کے لیے گڈو مشین کو دکان پہ دے آیا ایک ہفتے بعد دکاندار نے مشین ٹھیک کرنے کا وعدہ کیا۔

پورے ایک ہفتے کے بعد ،گڈو سلائی مشین لینے گیا تودکان کی پیشانی پہ لگا اشتہار دکان برائے فروخت دیکھ کر دم بخود رہ گیا۔ بے ایمان دکان دار ، دکان کا سارا سامان فروخت کر کے ، رقم اپنی جیب میں ڈال کر رفوچکر ہو گیا تھا۔

’’کیوں نا ہم کچھ کھانے پکانے کا کام گھر پہ شروع کر لیں.‘‘یہ خیال پہلی دفعہ فریحہ کے ذہن میں آیا تھا جو کسی کو پسند نہ آیا تھا کسی کے مطابق کھانے کا کام مہنگا ہو گا۔ محنت بھی بہت زیادہ ہوگی۔

’’اس سے پہلے جو کام شروع کیے وہ کون سے چلے جو اب یہ کام چل جائے گا۔‘‘ سب نے ہی بے دلی دکھائی مگر فریحہ انہیں مختلف طریقوں سے قائل کرتی رہی۔ اور بالآخر کامیاب ہو گئی۔

’’مثلاً کیا پکا کر بیچا جائے .؟‘‘

’’چکن بریانی .‘‘

’’چکن پتا ہے کتنی مہنگی ہے ا ور چاول . ؟ ‘‘

سب ہی مہنگائی سے ڈرے ہوئے تھے ان کے نزدیک یہ کاروبار بہت مہنگا ہو گا مگر آہستہ آہستہ فریحہ نے اس پہ بھی سب کو قائل کر ہی لیا۔

’’تجربہ کرنے میں حرج کیا ہے ؟‘‘

سواپنی ذمے داری پہ اس نے پہلا تجربہ کرنے کی ٹھانی۔ مدیحہ کو بہترین چکن بریانی بنانی آتی تھی۔ جو بھی اس کے ہاتھ کی پکی بریانی کھاتا تھا دنگ رہ جاتا تھا۔

’’یہ گھر میں بناتی ہے یا باہر سے منگوائی ہے ؟ ‘‘ کھانے والے کا یہ سوال لازمی ہوا کرتا تھا اور پھر مدیحہ کا یہی ہنر کا روبار کی شکل اختیار کر گیا۔

٭٭٭

سرکاری اسکول میں مدیحہ کے ہاتھ کی بریانی نے تودھوم مچا دی تھی وہ جو کچھ ماہ کے لیے اسکول کی کینٹین انتظامیہ نے اس کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔ اب اس کو اسکول نے مستقل کر دیا تھا۔بلکہ بتول صاحبہ کی طرف سے چکن بریانی کے کاروبار کو مزید پھیلانے کے لیے مفید مشورے بھی آنے لگے تھے۔

’’فیس بک پہ اشتہار لگائو۔‘‘

’’اخبار میں بھی اشتہار دو ۔‘‘

’’میں روڈ پہ گرلز اور بوائز ہاسٹل میں بھی اپنے بھائی کے ہاتھ اشتہارات بھجوائو اور کچھ بریانی کے ڈبے نمونے کے طور پہ .!‘‘

اورفون بھی بتول صاحبہ نے ایک دو اور اسکولز میں مدیحہ کی چکن بریانی کا کام خود سے خصوصی سفارش کر کے مستقل طور پہ شروع کر وایا۔ تو ایسی بکری ہونے لگی کہ یہ سب تو مدیحہ کے مستقل گاہک بن گئے۔

’’میں بہت شکر گزار ہوں آپ کی بتول صاحبہ. !‘‘ان کٹھن حالات میں مدیحہ کو وہ اپنی محسن لگی تھیں جو بے غرض ہو کر اس کے ساتھ تعاون کر رہی تھیں۔ اور مفید مشورے دینے کے علاوہ اس کے لیے نئے نئے گاہک بھی تلاش کر رہی تھیں۔

’’تم اتنی سی عمر میں اتنے باہمت طریقے سے یہ سب کر رہی ہو۔ تم تو بلند ہمتی کی مثال قائم کر رہی ہو مدیحہ .!‘‘

بتول صاحبہ کے یہ الفاظ مدیحہ کی ہمت و حوصلے کو کئی گنا بڑھا گئے تھے مدیحہ اب مزید ترقی کے خود بھی طریقے سوچنے لگی تھی۔ اللہ کے سہارے ترقی کرتے وہ بتا دینا چاہتی تھی ان سب خود غرض لوگوں کو جنہوں نے انہیں مشکل وقت میں اکیلا چھوڑ دیا تھا اور اس وقت ان کا سہارا بنی تو صرف اور صرف اللہ کی ذات ۔ اور جس کا سہارا اللہ کی ذات بن جائے وہ کبھی ناکام اور اکیلا نہیں رہتا۔ اس بات پہ مدیحہ کا ایمان پختہ ہو گیا تھا۔

٭٭٭

’’یہ دروازے کے باہر کھڑی نئی نکور چمچماتی موٹر بائیک کس کی ہے ۔‘‘

اپنے مقررہ ٹائم پہ چکن بریانی کھانے اسماآنٹی بسمہ کے ساتھ ٹپک پڑی تھیں۔ اندر داخل ہونے سے پہلے باہر کھڑی بائیک کو دیکھ کر آنکھیں پھٹی پھٹی رہ گئی تھیں۔ پہلے تو اس خیال سے حاسد دل کو بہلایا کہ کوئی ملنے ملانے والا آیا ہو گا یا کوئی بریانی لینے گاہک۔

’’گڈو کی .!‘‘ چکن بریانی کے ڈبوں کے ساتھ گلابی ، سفید ، نیلے ، پیلے رنگوں کے ٹشو پیپر رکھتی فریحہ کا جواب مسرت سے بھرپور لگا تھا جبکہ یہ خبر سن کر اسماآنٹی کی آنکھیں کناروں تک پھیل گئی تھیں۔

’’ہائیں گڈو نے بائیک لے لی؟‘‘اسماآنٹی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا ۔

’’ہائے کب کیسے کتنے میں لی زہرا آپا ؟‘‘ چمچماتی بائیک کو دیکھ کر اسماآنٹی کا دل ایسا بھسم ہوا تھا کہ ٹرے بھر کر آتی سامنے چکن بریانی بھی کچھ دیر کے لیے بھول گئی تھی۔

’’کل رات ہی لی ہے اسما!‘‘ زہرا بے پناہ خوش دکھائی دے رہی تھیں ۔

مدیحہ کا بہت عرصے سے ارادہ تھا کہ بھائی کو بائیک لے کردے اور اس کے پیچھے سوچ یہ تھی کہ جو کام سائیکل پہ دو گھنٹوں پہ ہوتا تھا وہ گڈو اب بائیک پہ ایک گھنٹے میں کر لیا کرے گا۔

گڈو جس طرح سے بڑی بہنوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر محنت کر رہا تھا اس کے لیے یہ بائیک تو اس کے لیے اس کا حق تھی۔۔

’’کتنے کی لی.؟ادائیگی یکمشت کی یا قسطوں میں!‘‘ ایک بار بھی اسماآنٹی کو توفیق نہ ہوتی تھی کہ جھوٹے منہ ہی چلو مبارک باد ہی زہرا کو دیں ۔

ان کا تو مقصد تھا کہ بس یہ اندازہ کرنا کہ اس گھرانے کی آمدنی کتنی بڑھ گئی ہے کہ ایک دم سے راتوں رات بائیک لے کر دروازے کے باہر کھڑی کر دی ہے ۔جلن کے مارے فضول سوالوں میں الجھی اسماکو ایک بار بھی توفیق نہ ہوئی کہ گڈو کو کوئی خیر کی دعا ہی دے دیں۔

’’اسماآنٹی یہ سیکرٹ ہے !‘‘ ہنستے ہوئے فریحہ نے جواب اس انداز سے دیا تھا کہ جیسے ان کی جلن و حسدسے محظوظ ہو رہی ہو اور اسماآنٹی کو فریحہ کا جواب اور شوخی اس سمے اتنی زہر لگی تھی کہ پاس بیٹھی بسمہ سے خوامخواہ ہی الجھ پڑی تھیں۔

’’میری پلیٹ میں ایک بوٹی تک نہیں ڈالی تو نے اور اپنی پلیٹ بوٹیوں سے بھرلی ہے۔‘‘

اور اس روز اسماآنٹی نے بریانی نہایت بے دلی سے کھائی تھی۔ سارا دھیان گڈو کی بائیک کی طرف جو لگا تھا۔ کھانے کے دوران وہ کسی نہ کسی بات پہ الجھتی کبھی بسمہ کے سر پہ چپت لگا دیتیں تو کبھی بازو پہ ۔

’’میں بھی سوچ رہی ہوں کہ گھر میں کوئی اپنا ذاتی کاروبار شروع کر لوں۔‘‘حاسد دل کو چین نہ پڑا تھاگڈو کی بائیک کو دیکھ کر۔

’’اسماآنٹی خود سے کوئی کام شروع کرنے کے بجائے اگر آپ ہمارے کام میں ہی مددگار!‘‘ ابھی مدیحہ کی بات بھی پوری نہ ہوئی تھی کہ بسمہ کو ڈانٹ پھٹکار کرتی اسماآنٹی اٹھ کھڑی ہوئیں۔

’’بس کر دے اور کتنا ٹھونسنا ہے بعدمیں ساری رات غسل خانے کے چکر لگاتی رہتی ہے۔‘‘ ایک بار پھربیٹی کے سرپہ چپت لگا کر اپنی چڑچڑاہٹ اسماآنٹی نے ان الفاظ کے ساتھ نکا لی تھی۔

’’بھئی لاؤ دو ہمارے چکن بریانی کے تین ڈبے ، تمہارے انکل صبح کے بھوکے انتظار میں بیٹھے ہوں گے.!‘‘

اتنی چڑچڑاہٹ میں بھی اسماآنٹی کو تین ڈبے نہ بھولے تھے ۔

اسماآنٹی کے اس استحقاق کے ساتھ بریانی کے ڈبے مانگنے پہ مدیحہ اور فریحہ انہیں افسوس سے دیکھ کر رہ گئی تھیں ہاں البتہ دونوں کے ذہنوں میں ایک مشترکہ سوچ لازمی آتی تھی۔

’’ہاں بھئی جو چسکا مفت کی چکن بریانی کھانے کا منہ کو لگ گیا ہے۔ وہ بھلا ہاتھ سے کما کر محنت کر کے کہاں ایسے لوگوں کو آتا ہے !‘‘

٭٭٭

چکن بریانی کا کام خوب چل پڑا تھا۔ دو تین اسکولوں کے علاوہ تین چار مارکیٹ کی بڑی اچھی دکانیں بھی مدیحہ کی مستقل گاہک بن گئی تھیں۔ اچھا خاصا منافع ہونے لگا تھا تو مدیحہ نے ذہن میں سوچ رکھے مختلف کاموں کے لیے رقم امی کے پاس جمع کروانی شروع کر دی تھی۔

’’مدیحہ آپی کسی بینک میں اکائونٹ کھلوا لیتے ہیں۔ ‘‘

یہ مشورہ فریحہ کا تھا اور مشورہ درست بھی تھا بس کام میں مصروف ،مدیحہ اس مشورے پہ عمل کرنے سے رہ جاتی تھی فی الحال جمع پونجی امی کے پاس محفوظ تھی۔ اور مدیحہ اس پہ مطمئن بھی تھی۔

٭٭٭

مدیحہ چکن بریانی کی تیاری کرتی چکن کی دھلائی میں مصروف تھی ،کام بڑھ جانے سے اب چکن کی مقدار بھی زیادہ ہوا کرتی تھی۔ اس کے دھونے میں وقت بھی زیادہ لگا کرتا تھا لیکن اس محنت و مشقت سے جو تھکن ہوتی تھی ،اس تھکن میں بھی اب مدیحہ کو مزہ آنے لگا تھا۔

اب وہ بہت سی ضرورتیں ا پنے گھرانے کی خود پوری کرنے کے قابل ہونے لگی تھی۔ اب مہینے کے آخر میں بل آنے پہ انہیں کبھی بجلی ، کبھی گیس ، کبھی پانی کے لیے کسی سے ادھار نہیں لینا پکڑنا پڑتا تھا۔

’’واقعی محنت میں عظمت تھی . اور ہاتھ سے کمانا افضل ترین عمل تھا۔‘‘ انہی خیالوں میں کھوئی وہ ساتھ ہی ساتھ کام میں لگی تھی کہ کچھ شور شرابہ ان سوچوں میں مخل ہوا تھا تو دھیان اس جانب چلا گیا۔

اسماآنٹی کے صبح سویرے ہی پہنچتے مدیحہ کی بے اختیار نظریں گھڑی کی طرف چلی گئی تھیں ابھی دن کے دس بج رہے تھے۔ اس حیرت کے ساتھ جس دوسری حیرت نے مدیحہ کے اندر سر اٹھایا ،وہ یہ تھی کہ آج اسماآنٹی کے ساتھ بسمہ کی ہم عمر چار لڑکیاں اور بھی تھیں۔

گڈو اور فریحہ کے ذریعے جو قصہ صبح سویرے اسماآنٹی کی آمد اور ان چار بن بلائے مہمانوں کا مدیحہ کے علم میں آیا ،اس کو جان کر مدیحہ نے اپنا سر پکڑ لیا۔

یہ چاروں لڑکیاں بسمہ کی سہیلیاں تھیں اور مدیحہ کے ہاتھ کی چکن بریانی کھانے اسماآنٹی اور بسمہ کی دعوت پہ آئی تھیں۔

’’آخر اسماآنٹی نے ہمیں سمجھ کیا لیا ہے۔ ہم چکن بریانی کا کاروبار کرتے ہیں کوئی فی سبیل اللہ بانٹتے نہیں.!‘‘

فریحہ کاتو بس نہیں چل رہا تھا کہ باہر صحن میں جا کر ان سب کی ایسی ،طبیعت صاف کرے کہ مفت بریانی کھانے کا آج انہیں سچ مچ میں سواد آجائے۔

وہ تو مدیحہ نے اس وقت بہن کو کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے روک تو لیا۔ مگر ان مفت خوروں کے خوب ’’رج‘‘ کے بریانی کھانے اور ساتھ اضافی سات آٹھ ڈبے لے کر جانے کا سارا غم و غصہ ماں کے سامنے بعد میں خوب کھل کر نکالا۔

٭٭٭

’’امی ،یہ کیا طریقہ ہے اسماآنٹی کا .؟‘‘

آج مدیحہ کا ارادہ تھا کہ جو چکن بریانی بچے گی وہ گھر والوں کو کھانے کے لیے دے گی ، ایک اصول طے کیا تھا کہ وہ گھر والے ہفتے میں صرف ایک دن بریانی کھائیں گے تاکہ بجٹ پہ بوجھ نہ پڑے پر اس دن شاہ خرچی دل میں آئی پر بسمہ آئی۔

’’بسمہ کی سہیلیاں کیوں آئی تھیں۔‘‘

مدیحہ کو وہ سات آٹھ اضافی لنچ باکس جو کے ماں کے کہنے پہ نجانے کس حوصلے سے بسمہ اور اس کی سہیلیوں کو دے تو دیئے تھے مگر ہضم نہیں ہو رہے تھے۔

’’بیٹا ،رشتے داروں کا خیال رکھنے کا بھی ثواب ملتا ہے!‘‘ امی عشائ پڑھ کے فارغ ہوئی تھیں۔

’’وہ چاروں لڑکیاں رشتے دار تھیں ،ہماری جن کا خیال ہم پہ فرض تھا۔‘‘

اب کے کڑے انداز میں یہ استفسار غصے میں بھری فریحہ کی طرف آیا تھا ،یہ سوال ایسا کڑا تھا کہ لمحہ بھر کے لیے تو زہرا بھی خاموشی میں چلی گئی تھیں۔

’’اسماآنٹی رشتے دار ہیں ان کا روز خیال آپ کے کہنے پہ رکھتے ہیں۔ کیا یہ کافی نہیں امی ؟‘‘

گڈو بھی بہنوں کی حمایت میں بول اٹھا تھا،اسماآنٹی کی آج کی حرکت نے اس کو بھی شدید غصہ دلایا تھا وہ دونوں ماں بیٹی روز آتی تھیں دونوں پیٹ بھر کے نہ صرف کھاتی تھیں بلکہ گھر کے لیے بھی لے جانا نہ بھولتی تھیں۔ ایک دن کا ناغہ بھی اسماآنٹی پہ حرام تھا اور اب تو بے دھڑک منہ سے بھی مانگ کر لے جانے لگی تھیں۔

’’کل ایک ڈبے میں بریانی ذرا کم تھی مدی۔‘‘ کھی کھی کرتے اسماآنٹی نے گویا کل اپنے ساتھ ہوئے ’’ظلم‘‘ کا قصہ سنایا تھا کہ کتنا بڑا ظلم ہو گیا تھا ۔

’’آنٹی ،بریانی بچی ہی اتنی تھی !‘‘ فریحہ بل کھا کر رہ گئی تھی۔

’’تو چندا پہلے ہی ہمارا حصہ نکال لیا کرو نا !‘‘ یہ نیا فرمان اسماآنٹی کا تھا اور اسی وجہ سے وہ ان چاروں بچیوں کو صبح ہی صبح لے کر پہنچ گئی تھیں کہ دیر سے گئے تو بریانی ختم ہی نہ ہو جائے۔ اور بریانی کے انتظار میں ان سب نے دوپہر بارہ بجے تک وہ شور شرابے کا طوفان اٹھا رکھا تھا کہ کان کے پردے بس پھٹنے کے قریب تھے ،کسی ایک نے بھی مدیحہ اور فریحہ کے کام میں ہاتھ بٹانے کے لیے ایک تنکا توڑنے کی بھی زحمت نہ کی تھی۔

’’ضرورت مند رشتے داروں کا احساس اور خیال رکھنے کا حکم ہے بیٹا .!’’وہ اس معاملے میں ایک ساتھ تھے اور زہرا اپنے موقف میں اکیلی سو آواز ذرا کمزور سی لگی تھی۔

’’کیا احساس و خیال کرنا صرف ہم پہ فرض ہے امی .؟‘‘ گڈو کو ماں کی کسی بات نے قائل نہ کیا تھا۔

’’بیٹا آج ہم ان کا خیال رکھیں گے تو کل کسی مشکل میں وہ بھی ہمارے کام آجائیں گے !‘‘ زہرا محسوس کر رہی تھیں کہ وہ جوان اولاد کو قائل کرنے میں ناکام سی ہو رہی ہیں پھر بھی یہ کہہ کر جیسے آخری کوشش کی تھی۔

’’جیسے مشکل وقت میں طاہر چچا کام آئے تھے امی .؟‘‘

اور مدیحہ کے اس جملے کے بعد کمرے میں سکوت چھا گیا تھا۔ اس کا بھیگا لہجہ اور بھیگے الفاظ فریحہ اور گڈو کی بھی آنکھیں نم کر گئے تھے ۔ بھیگ تو زہرا کی بھی آنکھیں گئی تھیں۔ انہوں نے ہمیشہ اپنے دیور طاہر کے ساتھ اولاد جیسا سلوک رکھا تھا اس کی ضرورتوں کا خیال ماں بن کر رکھا کرتی تھیں۔ جبکہ طاہر نے اس موقعے پہ انہیں ڈسا تھا کہ زہرا کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔

’’پتا نہیں طاہر کس بات کا بدلہ تم نے مجھ سے اور میری اولاد سے لیا !‘‘ اور وہ پوری رات زہرا کی آنسو بہاتے اور جاگتے ہوئے گزری تھی۔

’’اللہ تم سے اس کا حساب ضرورلے گا طاہر۔‘‘

یہ شاید آہ تھی۔ جو شاید غم کی حالت میں زہرا کے دل سے نکلی تھی۔

٭٭٭

چکن بریانی دم پہ چڑھا کر وہ رائتے کے لیے پودینے کی چٹنی بنا رہی تھی۔ جب اس کی سماعتوں نے دروازے کی دستک سنی تھی۔ دروازے پہ کنڈی نہ لگی تھی مگر پھر بھی آنے والے نے دستک دی تھی۔ جو اس کا اشارہ تھا کہ آنے والی اسماآنٹی اور بسمہ ہر گز نہیں کیونکہ یہ تہذیب و اخلاق اسماآنٹی میں دور دور تک نہیں تھا ۔

’’کون ہے ؟‘‘ زہرا کی آواز گونجی تھی۔

’’میں !‘‘ آنے والے نے اپنا نام بتایا تھاجو مدیحہ سل بٹے کے شور میں ٹھیک طرح سے سن نہ پائی تھی۔ اور پھر زہرا خود ہی اٹھ کر دروازے تک پہنچ گئی تھیں اور آنے والے کو احترام کے ساتھ اندر مہمان خانے میں لے آئی تھیں۔ کچن کی کھڑکی سے مدیحہ اور فریحہ نے ماں کے ہمراہ کسی سوٹڈ بوٹڈ باوقار نوجوان کو دیکھا تھا۔

٭٭٭

’’کون بناتا ہے آپ میں سے چکن بریانی ؟ ‘‘

خوش لباس و خوش گفتار یہ نوجوان زوہیب درانی تھا اور جو تفصیل بطور تعارف کے اس نوجوان نے خود سے متعلق مدیحہ کے اہل خانہ کو بتائی تھی ،وہ یہ تھی کہ اس شہر کی معروف شاہراہ پہ زوہیب درانی کا پاکستانی کھانوں کا ذاتی ریسٹورنٹ تھا۔

مسکراتے ہوئے استفہامی نظر زہرا پہ ، پھر فریحہ پہ اور آخر میں زوہیب درانی کی مدیحہ پہ آ ٹھہری تھی۔

’’آپی بناتی ہیں چکن بریانی!‘‘ مدیحہ کی خاموشی پہ فریحہ نے آہستگی سے کہا تھا۔

’’شیور ؟‘‘ تحیر سے پر۔ یوں کہ جیسے یقین نہ آیا ہو۔یقینا اس بے یقینی کی وجہ مدیحہ کی کم عمری تھی۔ اتنی سی عمر میں اتنی مہارت سے چکن بریانی بنانا حیران کن تھا۔زوہیب درانی کے خیال کے مطابق اتنی ذائقے دار بریانی وہ بھی اتنی مہارت کے ساتھ ان لڑکیوں کی والدہ بناتی ہوں گی اور باقی سب ان کے معاون۔

’’جی!‘‘ نجانے کیوں مدیحہ خود کو اس شخص کے سامنے گھبرائی ہوئی سی محسوس کر رہی تھی کہ ابھی تک کسی سوال کا جواب اعتمادسے نہیں دے پائی تھی۔ اس بار بھی ایک لفظی جواب جی مسکراتے ہوئے فریحہ کی طرف سے ہی آیا تھا۔

’’آپ واقعی بہت لذیذ و ذائقے دار چکن بریانی بناتی ہیں مس مدیحہ .!‘‘

یہ پہلا شخص تھا جو بتا رہا تھا کہ وہ مدیحہ کے ہاتھ کی بریانی ٹیسٹ (چکھ) کر چکا تھاورنہ تو جو بھی آتا تھا اس کو تجربے کے طور پہ ایک پلیٹ چکن بریانی پہلے ٹیسٹ کروائی جاتی تھی۔

’’شکریہ !‘‘ شاید یہ اس شخص کی شخصیت کے رعب کا اثر تھا کہ بمشکل مدیحہ محض یہ کہہ پائی تھی تو اس نے بغور مسکراتے مدیحہ کو یوں دیکھا کہ اگر اب بھی مدیحہ کی طرف سے جواب نہ آتا تو شاید وہ یہ سمجھ لیتا کہ وہ قوت گویائی سے محروم لڑکی ہے۔

’’آپ نے کب کھائی ہے آپی کے ہاتھ کی بنی چکن بریانی .؟‘‘یہ پرتجسس سوال گڈو کی طرف سے تھا۔ جبکہ اصل میں یہ سوال مدیحہ سمیت سب گھر والوں کے ذہن میں آیا تھا۔

’’بوائے تم نے ہی توپہلی بار کھلائی تھی اتنی ذائقے دار بریانی مجھے۔‘‘مسکراتے ہوئے زوہیب درانی کا جواب بہت دوستانہ انداز میں تھا۔

’’میں نے ؟‘‘ گڈو کو یاد نہیں آ رہا تھاتو حیرانی لازم تھی۔

’’ہاں تم نے !‘‘ اور پھر زوہیب درانی نے پہلی دفعہ مدیحہ کے ہاتھ کی پکی بریانی کھانے کا وہ سارا واقعہ بیان کیا جو گڈو فراموش کر چکا تھا۔

گڈو بوائز ہاسٹل میں بریانی کے چند ڈبوں کے ساتھ بتول صاحبہ کے مشورے پہ اشتہار باٹنے گیا تھا۔ زوہیب درانی ہاسٹل کے مالک کا قریبی دوست تھا اس روز وہ کسی ذاتی کام کے سلسلے میں وہیں موجود تھا۔ چکن بریانی کے سارے ڈبے بک گئے تھے سوائے دو ڈبوں کے ۔ گڈو کی خواہش تھی کہ یہ آخری دو ڈبے بھی بک جائیں سو وہ ڈبے ہاسٹل کے مالک اور زوہیب درانی کے حصے میں آئے۔ ان دونوں نے نہ صرف بریانی کھائی ، بلکہ خوب دل کھول کر تعریف بھی کی ،ہاسٹل کے مالک کا تو اگلے روز ہی تیس ڈبوں کا آڈر آ گیا۔ جبکہ زوہیب درانی خود چل کر ان کے گھر تک آ گیا تھا۔

٭٭٭

زوہیب درانی کی آمد کا مقصد اپنے ریسٹورنٹ کے لیے مدیحہ کی فیملی کے ساتھ چکن بریانی کا کام کرنا تھا۔

’’کیا آپ میرے ریسٹورنٹ میں بطور شیف کے جاب کر سکتی ہیں؟‘‘

یہ زوہیب درانی کی مدیحہ کے لیے پہلی آفر تھی جو زہرا نے رد کر دی ان کی بیٹی نے کبھی باہر نکل کر کام نہ کیا تھا سو ایک ماں کے دل کو یہ آفر پسند نہ آئی تو زوہیب درانی نے دوسری آفر چکن بریانی کے کنٹریکٹ کا روبارکی کر دی ۔ زوہیب کو مدیحہ کے ہاتھ کی بریانی اتنی پسند آئی تھی کہ وہ یہ ذائقہ .یہ مہارت کسی طور گنوانا نہیں چاہتا تھا۔

’’اتنی لذیذ بریانی میںنے آج تک نہیں کھائی۔ ‘‘

ایک ایک چاول کا دانہ الگ الگ .نکھرا نکھرا۔بہت کم لوگوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے ایسی مہارت۔‘‘ مسکراتے ہوئے زوہیب درانی نے لمحہ بھر کا توقف کیا تھا ہر نگاہ اس پہ جم گئی تھی۔ ’’وہ بھی اتنی کم عمری میں!‘‘ دل کی بات زبان پہ آ ہی گئی تھی مگر انتہائی اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے۔ ایک بار پھر زوہیب نے سراہتے ہوئے نگاہ مدیحہ پہ ڈالی تھی ، جس نے گھبراتے ہوئے نظریں جھکالی تھیں۔ نجانے کیا تھا ان نگاہوں میں کہ مدیحہ ان کے اندر جھانکنے کی ہمت نہ کر پا رہی تھی۔ ’’میرا ریسٹورنٹ آپ کے ساتھ ابتدائی طور پہ چھ ماہ کا کنٹریکٹ کرنا چاہتا ہے !‘‘اس بار زوہیب صرف مدیحہ سے مخاطب تھا۔ وہ مکمل طور پہ سنجیدہ اس کی طرف متوجہ تھا۔

’’کنٹریکٹ .!‘‘ کتنا بڑا لفظ تھا۔ جو مدیحہ سن رہی تھی اتنے مصروف ریسٹورنٹ کا مالک ایک عام گھریلو سی لڑکی ،جو گھر میں چکن بریانی کا ذاتی کاروبار کیا کرتی تھی اس کے ساتھ وہ کنٹریکٹ کا خواہش مند تھا۔ مدیحہ تو اپنی جگہ حیران تھی جبکہ باقی سب کے دل خوشی سے جھوم اٹھے تھے۔

’’جی کنٹریکٹ !‘‘

اور اس کنٹریکٹ کی وجہ جو زوہیب نے بتائی۔ وہ یہ تھی کہ اس کے ریسٹورنٹ میں چکن بریانی بنانے والے شیف موجود تو تھے مگر کسٹمرز، ان کے ہاتھ کی بنی چکن بریانی پسند نہیں کر رہے تھے۔

’’مرچیں زیادہ ہیں۔‘‘

’’چاول نرم ہو گیا ہے۔‘‘

’’چاول بہت زیادہ کھڑے کھڑے رہ گئے ہیں۔‘‘ اور ان سب باتوں سے پریشان زوہیب درانی نے چکن بریانی کا کنٹریکٹ ایک عام گھریلو سی لڑکی کے ساتھ کرنے کا سوچا تھا۔

’’سامان میرا ہو گا اور محنت آپ کی !‘‘ یہ پہلی سہولت

’’ڈلیور کرنے کے لیے آپ کے بھائی کو مشکل اٹھانے کی ضرورت نہ ہو گی ۔‘‘دوسری سہولت

’’میرے ریسٹورنٹ کی وین خود پک کرنے آیا کرے گی. !‘‘

یہ ایک شاندار کنٹریکٹ تھا۔ ایک گھریلو لڑکی کا باہر کی دنیا میں دوسرا مضبوط قدم تھا۔

اور ایڈوانس کے طور پر جو رقم زوہیب درانی نے مدیحہ کو پکڑائی اسے دیکھ کر مدیحہ کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ یہی حال زہرا اور فریحہ کا تھا۔

مدیحہ کو یہ سب خواب لگ رہا تھا۔ اس کنٹریکٹ کی خبر مدیحہ نے سب سے پہلے بتول صاحبہ کو دی تھی۔

’’یہ صرف تمہاری ہمت، خو د داری اور نیک نیتی کا ثمر ہے مدیحہ !‘‘ بتول صاحبہ اس خبر پر نہال ہو گئی تھیں۔

’’یہ سب آپ کی رہنمائی اور درست مشورے کی وجہ سے ہوا ہے ۔‘‘ احساس تشکر نے مدیحہ کے الفاظ آنسوئوں سے بھگو ڈالے تھے۔

’’اگر آپ نہ بنتیں تو شاید میں !‘‘ آنسوئوں نے لفظوں کا راستہ روک لیا تھا۔

’’یہ سب اللہ کے کام ہوتے ہیں مدیحہ ۔ کون کس کا ذریعہ بنا دیا جاتا ہے !‘‘ محبت سے مدیحہ کے سر پر دست شفقت رکھتی بتول صاحبہ کی اپنی آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔ ’’تم جیسی باہمت اور حوصلہ مند لڑکی ایسی شان دار کامیابی ڈیزرو کرتی تھی ۔‘‘

پریشانیوں میں گھری زندگی کیسے پر سکون راستوں پہ محو سفر ہو گئی تھی ،اللہ یوں اس کے راستے آسان کر دے گا۔ یہ اس نے کبھی نہیں سوچا تھا اس خوشی کے موقعے پہ اسے ابو بہت شدت سے یاد آئے تھے۔

’’یہ میری بیٹی نہیں بیٹا ہے ۔‘‘ وہ اکثر مدیحہ کے بارے میں یہ الفاظ کہا کرتے تھے۔

اور اس رات بڑی دیر تک مدیحہ اور فریحہ نے بہت سے کاموں کے بارے میں سوچا تھا۔ کمرے میں پنکھا لگوانا تھا ۔ کچن کے سنک کو ٹھیک کروانا تھا۔ ایک دو دروازوں کی ٹوٹی ہوئی کنڈیاں ٹھیک کروانی تھیں۔ گرمی آنے والی تھی۔ امی کے کمرے میں ایئرکولر لگوانا تھا۔ گھر میں جگہ جگہ اترے پلستر کو دیکھ کر رنگ و روغن کا بھی خیال آیا تھا۔

’’اور آپی ،پہلی فرصت میں بینک میں اکائونٹ بھی کھلوانا ہے۔‘‘

ہاں یہ کام تو سب سے زیادہ ضروری تھا۔

جو کسی مصروفیت کی وجہ سے اکثر ہی مدیحہ بھول جاتی تھی۔ مگر اب کرنا تھا ہر صورت کرنا تھا۔

٭٭٭

زوہیب درانی کے ریسٹورنٹ کی وین آڈرپک کرنے آتی تو سارا محلہ ہی اس شان دار وین کو دیکھنے گویا باہر نکل آیا تھا۔ کوئی دروازے میں کھڑا کسی نے سر کھڑکی سے نکالا ہوا تو کوئی چھت کی دیوار سے پیٹ تک لٹکا پورے انہماک سے وین کو دیکھ رہا تھا۔ کسی آنکھ میں رشک تو کسی میں حسد۔

انہی حاسدوں میں سے ایک حاسد اسماآنٹی جو اس وقت مدیحہ کے گھر میں ہی موجود تھیں۔ گڈو نے سارا آرڈر اپنی نگرانی میں خود احتیاط کے ساتھ وین میں رکھوایا تھا۔

’’مجھے بتانا بھی گوارا نہ کیا تم لوگوں نے کہ اتنے بڑے ہوٹل کے ساتھ کنٹریکٹ کر لیا ہے ۔‘‘ جلا کٹا سا انداز اسماآنٹی کا کہ ہر لفظ سے حسد کی آتی بو سب کو ہی محسوس ہوئی تھی۔

’’اسماآنٹی ہوٹل نہیں ریسٹورنٹ !‘‘ شاید ان کے جلاپے کا مزہ لینے کو فریحہ کا من چاہا تھا۔ اسے ہنستا دیکھ کر مدیحہ بھی مدھم سا مسکرائی تھی۔

’’ہاں ہاں .وہی وہی !‘‘ اسماآنٹی کا جلن سے برا حال تھا کہ اس سمے انہیں دونوں کا مسکرانا سخت زہر لگا تھا۔

’’ویسے آپ کو بتانا تو اس وقت ضروری ہوتا جب زوہیب درانی صاحب نے کنٹریکٹ پیپر پہ محترمہ اسماوالدہ بسمہ صاحبہ۔ کے دستخط لیتے ہوئے ‘ ‘ یہ شوخ جملہ اچھالنے والا گڈو تھا۔

اس کا مطمئن چہرہ بتا رہا تھا کہ کاروبار کے وسیع ہونے پہ وہ بہت خوش تھا۔ ہاتھ میں پکڑا نیا ٹچ موبائل لیتے وہ بذریعہ واٹس ایپ مختلف جگہوں سے چکن بریانی کے لیے آڈر وصول کر رہا تھا۔ مدیحہ نے کاروبار میں ترقی ہوتے ہی اسے ٹچ موبائل لے کر دیا تھا ۔اب اس موبائل پہ بھی اسماآنٹی کی طرف سے کوئی ہزار سوال آنے تھے۔

’’کتنے کا ہے ؟‘‘

’’کہاں سے لیا ہے ؟‘‘

’’استعمال شدہ ہے یا ڈبہ پیک.‘‘

’’پرانا جوتھا اس کا کیا کیا ؟‘‘

اور ان سب سوالوں کے جواب میں گڈو صرف انہیں اپنا فون نمبر دے کر فارغ ہو گیا تھا۔

اس روزاسما آنٹی اکیلی آئی تھیں۔ بسمہ ساتھ نہیں تھی۔ اس کی طبیعت خراب تھی اس روز جلن کی ماری اسماآنٹی نے بریانی بڑی بے دلی سے کھائی تھی اور ہر نہ نوالے جانے کیا کھسر پھسر کرنے کے لیے زہرا کے قریب ہو جایا کرتی تھیں یہ بات مدیحہ اور فریحہ کے علاوہ گڈو نے بھی نوٹ کی تھی۔

وہ کیا راز و نیاز کر رہی تھیں آواز بھی اتنی پست تھی کہ ایک لفظ بھی پلے نہیں پڑ رہا تھا۔

’’اچھا تم گھبرائو نہیں میں دیکھتی ہوں !‘‘ بس یہ الفاظ ماں کے ان دونوں کی سماعتوں نے بیک وقت سنے تھے۔ اسماآنٹی کسی بات پہ بہت گھبرائی ہوئی لگ رہی تھیں کس بات پہ زہرا نے انہیں تسلی دی تھی۔ کچھ پتا نہ چل سکا تھا۔

٭٭٭

مدیحہ کے ہاتھ کی بنی بریانی نے زوہیب درانی کے ریسٹورنٹ میں کسٹمرز کی تعداد بڑھا دی تھی۔ واٹس ایپ ، فیس بک پہ ملنے والی فیڈ بیک بتا رہی تھی کہ ریسٹورنٹ کی ترقی دو کی بجائے چار گنا ہونے لگی ہے۔

’’زوہیب صاحب کوئی نیا شیف رکھ لیا ہے۔‘‘ یہ اکثر کسٹمرز کا پوچھنا تھا۔

’’ہاں بس یہی سمجھ لو!‘‘زوہیب درانی نے ابھی یہ بات اپنے کسٹمرز پہ ظاہر نہ کی تھی کہ ریسٹورنٹ کی ترقی میں ایک عام گھر یلوسی لڑکی کا تعاون شامل ہونے سے یہ بہتری آ رہی ہے اور پھر زوہیب کے چشم تصور میں وہ چہرہ آ گیا تھا۔

جو ان تمام چہروں سے الگ اور منفرد سا تھا جو ابھی تک زوہیب درانی کی نظروں نے دیکھے تھے۔ کم گو سنجیدہ سی لڑکی جس کی شخصیت کا خاصا اس کی من موہنی سی صورت کے علاوہ ،اس کی روشن آنکھوں کی غیر معمولی چمک تھی۔ جس چمک میں بلند ہمتی اور مضبوط قوت ارادی جھلکتی تھی۔ عام سی نظر آنے والی یہ گھریلو سی لڑکی اپنے مضبوط ارادوں کی وجہ سے کتنی خاص دکھائی دیتی تھی۔ جو ان کٹھن حالات میں بڑی ہمت کے ساتھ اپنی ماں اور چھوٹے بہن بھائی کی کفیل بنی ہوئی تھی۔

کس قدر محنت طلب کام وہ دھان پان سی لڑکی کس عمدگی سے سر انجام دے رہی تھی۔ مدیحہ کی ذات کی یہ سب خوبیاں زوہیب درانی کے لیے دن بہ دن کشش کا باعث بننے لگی تھی۔

٭٭٭

مدیحہ کا کام پہلے سے بہت زیادہ ہو گیا تھا۔ مگر کنٹریکٹ کی وجہ سے ایسی سہولیات ملی تھیں کہ سب کام وہ خوش اسلوبی سے کر رہی تھی۔

مدیحہ نے اپنے کام کو دو حصوں میں تقسیم کر لیا تھا۔ دن بارہ ایک بجے تک وہ جتنی بربانی بناتی اس سے اسکولز اور مارکیٹ کی دو تین شاپ کے آڈر پورے کرتی۔ اور ایک بجے کے بعد سے لے کر شام چھ بجے تک جو بھی بنتا وہ بوائز ہاسٹل اور زوہیب درانی کے ریسٹورنٹ کے لیے ہوا کرتا تھا۔ کام کو منظم طریقے سے کرنے کے لیے اس نے تین چار لڑکیاں بطور ہیلپر بھی رکھ لی تھیں۔

یہ مشورہ گڈو کا تھا۔ جو بالکل ٹھیک تھا۔ یہ لڑکیاں مدیحہ کے محلے ہی کی تھیں۔ جو غربت اور مالی حالات کی پریشانی کی وجہ سے جگہ جگہ کام ڈھونڈتی دربدر پھر رہی تھیں۔ وہ بھی محنت کر کے حلال کمانا چاہتی تھیں اور اپنے گھر والوں کا سہارا بننا چاہتی تھیں۔ مدیحہ کو ان میںاپنا آپ نظر آتا تھا۔ کوکنگ تیزی سے ہو جائے اس کے لیے مدیحہ نے بڑے سائز کا کوکنگ رینج خرید لیا تھا۔ اور اس کوکنگ رینج کی بھی اسماآنٹی نے پوری انکوائری کی تھی۔

’’لگ رہا ہے مدی خوب پیسہ کما رہی ہے اس کاروبار میں!‘‘ اسماآنٹی کا انداز حوصلہ دینے والا کم حسد والا زیادہ ہوا کرتا تھا۔

’’کہا تو ہے اسماآنٹی کتنی بار آپ کو کہ ہمارے اس کاروبار میں شامل ہو جائیں پورا معاوضہ آپ کی محنت کا دیا جائے گا۔‘‘ یہ بڑی فراخدلانہ پیشکش تھی جو اسماآنٹی نے اپنی کام چوری اور آرام پسندی کی وجہ سے رد کر دی تھی ،شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ اگر وہ اس کام میں لگ جاتیں تو بیٹھے بٹھائے سگے بھائی اور سگی بہن سے مالی مدد کیسے ملتی۔

’’نہ بھئی مجھ سے نہیں ہوتا یہ کام !‘‘ یہ ٹکا سا جواب مہارانی اسماکا ہوا کرتا تھا۔

٭٭٭

مدیحہ نے اب گھر کے دیگر کاموں پہ بھی توجہ دینا شروع کر دی تھی ،جو پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ رہ جاتے تھے۔دوکمروں میں پنکھے نہیں تھے دروازوں کے لاک ٹوٹے ہوئے تھے دیواروں کا پلستر جگہ جگہ سے اکھڑا ہوا تھا اور گھر میں رنگ و روغن کروائے تو جیسے زمانہ بیت گیا تھا۔ وہ کچن کا سنک ٹھیک کروا رہی تھی اور ساتھ ہی ایک ایگزاسٹ فین بھی کچن میں بڑے سائز کا لگوایا تھا ،تاکہ گرمی کے دنوں میں کام سہولت سے ہو جایا کرے گا۔ گرمی میں چولہے کے پاس بیٹھ کر تو مدیحہ اور فریحہ کا حشر نشر ہو جاتا تھا۔ کوکنگ رینج کی فٹنگ کے ساتھ اس نے یہ کام بھی کروا لیے تھے۔

’’امی آپ کے پاس جو پچیس ہزار رکھوائے تھے وہ دے دیں!‘‘ بہت سے کام اکٹھے کروائے تھے تو ان کا اکٹھا بل پچیس ہزار کے قریب بن گیا تھا۔ مدیحہ رقم ابھی بھی امی کے پاس ہی رکھواتی تھی جبکہ فریحہ بہت بار اکائونٹ کھلوانے کا کہہ چکی تھی۔

’’وہ بیٹا .!‘‘ مدیحہ کو امی کچھ پریشان سی لگی تھیں۔

’’اصل میں مدیحہ ،پچیس ہزار تو خرچ ہو گئے ہیں!‘‘ زہرا کا جواب ان تینوں کو حیران کر گیا تھا۔ آج سے پہلے کبھی ایسا نہ ہوا تھا، کہ جو بھی رقم انہوں نے ماں کے پاس رکھوائی تھی محفوظ ہوتی تھی۔ اگر کسی ضرورت کے لیے استعمال بھی کرنے پڑتے تو زہرا پوری ذمے داری کے ساتھ تیس روپے تو کیا تین روپے کا بھی حساب لکھ کر کاپی میں مدیحہ کو بتا دیا کرتی تھیں۔

’’خرچ ہو گئے ؟‘‘ مدیحہ کے لہجے میں حیرانی تھی۔

’’مگر کہاںا می .؟‘‘ مستری بل بنا کر کھڑا تھا۔ اپنی مزدوری کا مطالبہ کر رہا تھا اور مدیحہ کو یہ سننے کو مل رہا تھا کہ پیسے خرچ ہو گئے ہیں۔اور یہ پہلی بار ہوا تھا کہ امی نے اس اچانک کے خرچے کی خبر مدیحہ کو نہ دی تھی۔ بات عجیب تھی مگر پھر بھی مدیحہ نے تحمل سے کام لیا تھا۔

’’وہ ایک ضرورت آن پڑی تھی .!‘‘ زہرا نے کہتے نظریں چرالی تھیں کہ جیسے خرچ ہوئی رقم کا حساب اس بار بیٹی کو دینے سے کترا رہی ہوں۔

’’امی ،ایسی کون سی ضرورت آن پڑی تھی کہ آپ نے ہم میں سے کسی .!‘‘ ابھی پریشانی میں گرفتار مدیحہ بات بھی پوری نہ کر پائی کہ خلاف توقع زہرا غصے میں آ گئیں۔

’’کیا ضروری ہے کہ اب ایک ماں خرچ ہونے والی پائی پائی کا حساب اپنی اولاد کو دے .!‘‘ زہرا کا غصہ اور لہجے و الفاظ کی سنگینی مدیحہ کو عجیب لگی تھی۔

’’کیا میں اپنی کسی ضرورت پہ اپنی مرضی سے کچھ خرچ بھی نہیں کر سکتی؟‘‘

ماں ہونے کے ناتے وہ بات بالکل غلط نہیں کہہ رہی تھیں۔ اولاد کی کمائی پہ ماں باپ کا پورا حق ہوتا ہے۔ بس عجیب اس میں وہ راز داری تھی۔ ’’ یعنی کہ دال میں کالا ۔‘‘ یہ فریحہ کا اندازہ تھا۔

٭٭٭

اس بات نے گھر کی فضا میں کشیدگی اور تنائو پیدا کر دیا تھا مدیحہ کے ساتھ گڈو اور فریحہ بھی محو حیرت تھے کہ آخر ماجرا کیا ہے ؟ ان کی ماں نے اتنی بڑی رقم خرچ کی تھی۔ وہ بھی ان کے علم میں لائے بغیر ۔ وہ دونوں اپنی اپنی سوچ کے مطابق اندازے لگا رہے تھے کہ رقم آخر خرچ کہاں ہوئی۔

’’آپی ،کتنی بار کہا تھا آپ کو کہ اکائونٹ بینک میں کھلوا لیتے ہیں۔‘‘ فریحہ کی بات سن کر مدیحہ گہرے افسوس میں گھر گئی تھی۔

٭٭٭

دوپہر کو سب کھانا خاموشی اور بے دلی سے کھا رہے تھے۔ جبکہ زہرا تو دستر خوان پہ بچوں کے ساتھ بیٹھی بھی نہ تھیں۔ جس پر مدیحہ کا دل سخت برا ہوا تھا۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ وہ سب دسترخوان پہ اکٹھے نہ تھے۔ چند لقمے زہر مار کر کے مدیحہ ماں کے کمرے میں آ گئی تھی۔ ٹرے میں ایک آدھا بچا رکھا ہوا کھانا بتا رہا تھا کہ کھانا ٹھیک سے زہرا نے بھی نہیں کھایا۔

’’امی ،میرا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ ایک روپیہ بھی اپنی مرضی سے خرچ نہیں کر سکتیں۔ ایک ایک پائی کا حساب اپنی اولاد کو دیں!‘‘ وہ فرش پہ بچھی چٹائی پہ بیٹھی تھی۔ جبکہ زہرا مسہری پہ بیٹھی تھیں۔

مدیحہ کی بات پہ زہرا مکمل خاموش رہی تھیں۔ چہرہ بتا رہا تھا کہ بے سکونی نے ان کے دل میں بھی ڈیرے لگا رکھے تھے۔

’’آپ کی اولاد آج جو کما رہی ہے وہ سب آپ کی وجہ سے تو کما رہی ہے!‘‘ آنکھیں تو مدیحہ کی ہر دم بھیگنے کے لیے تیار رہا کرتی تھیں۔

’’یہ ہنر آپ کا ہی تو دیا ہوا ہے۔ آپ ہی نے تو پکانا سکھائی تھی مجھے چکن بریانی پہلی بار.!‘‘ بے اختیار آنسو چھلک پڑے۔ مزید الفاظ ترتیب دینے کے لیے وہ چند لمحوں کے لیے رکی تھی۔

’’امی ان کٹھن حالات میں ہم تینوں اور آپ . !‘‘ مدیحہ کوئی خاص بات کہنے جا رہی تھی۔

’’ایک دوسرے کے لیے کھلی کتاب کی طرح رہے!کوئی بات ہمارے درمیان راز نہ بنی . ! ‘‘ مدیحہ کی آواز رندھ گئی تھی۔

’’مگر پہلی بار ہمارے درمیان یہ راز داری !‘‘ اور اس کے بعد مدیحہ ہچکیاں لینے لگی تو زہرا بھی اس راز کو دل میں مزید رکھ کر اولاد کا دل بدگمان نہ کر سکیں۔

’’وہ پچیس ہزار مجھ سے اسمانے مانگ لیے تھے.!‘‘ یہ تھا وہ دال میں کالا جس کا اشارہ فریحہ کے دل نے دیا تھا۔

٭٭٭

اس روز زہرا کو اسماکا شدت سے انتظار تھا جو آج سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔سلاد کے لیے بند گوبھی کش کرتیں زہرا نے کوئی بیس بار گھڑی کی جانب دیکھا تھا اور کوئی بیس بار دروازے کی طرف۔

دوبجے بالآخر اسماکی بسمہ کے ساتھ آمد ہوئی۔ یہ آمد پورے تین دن بعد ہوئی تھی۔ اسماتین روزسے زہرا کی طرف نہیں آئی تھیں۔

’’کیسے ہیں اشفاق بھائی اسما؟‘‘ ادھر ادھر کی کوئی بھی بات کیے بغیر زہرا نے بے حد تیکھے انداز میں پوچھا تھا اور اس تمام عرصے میں زہرا پہلی بار اسماکے ساتھ یوں تیکھی ہوئی تھیں۔

’’اشفاق ،کیوں انہیں کیا ہونا تھا؟‘‘ اپنے ہی دھیان میں ادھر ادھر تانک جھانک کرتی اسماجو بریانی کی منتظر تھیں ،وہ زہرا کا ایک دم سے تیکھا پن محسوس نہ کر پائیں اور نہ ہی سوال پر ٹھیک سے دھیان دیا تھا۔ ریڈار کی طرح آنکھیں گھماتی اسماکا سارا دھیان مدیحہ کی ہیلپر لڑکیوں کی طرف لگا تھا۔ جو کام میں مصروف اندر باہر آ جا رہی تھیں۔ اور اسمائ انہیں مشکوک نظروں سے گھور رہی تھیں کہ جیسے گھر میں چورنیاں گھس آئی ہوں۔

’’زہرا ،نظر رکھا کریں ان پر ۔ ایسے چھوٹے گھرانوں کی لڑکیوں کو چوری چکاری کی بڑی عادت ہوتی ہے !‘‘زہرا کے سوال کا جواب دیئے بغیر اسمااپنی ہی ہانکنے لگیں۔ آواز بھی دانستہ آہستہ کر لی تھی تاکہ وہ لڑکیاں نہ سن لیں۔

’’اسمامیں نے کچھ پوچھا ہے ؟‘‘ بند گوبھی کش ہو چکی تھی اب زہرا کڑے تیوروں کے ساتھ اسماکی طرف متوجہ ہوئیں تو اب کی بار اسمابھی چونکیں ۔ سخت لہجہ ، سنجیدہ تاثرات ۔ اسماکو زہرا کچھ نہیں بلکہ بہت زیادہ بدلی بدلی لگیں۔

’’آں ہاں اشفاق!‘‘ اسماتو یوں ہڑبڑائی تھیں کہ جیسے بہت عجیب سوال پوچھ لیا گیا ہو۔ جس کے متعلق اسماکے دماغ میں کوئی جواب تیار ہی نہ تھا۔

’’سچی سے آپا بڑی تکلیف میں رہے تین دن اشفاق !‘‘ناک پہ دوپٹہ رکھتے ہی بس شروع اسماکی ایکٹنگ ۔ اسمارونے کی اداکاری کرنے میں تو ایسی ماہر تھیں کہ آنسو آنکھوں سے گھسیٹ کر نکال لیا کرتی تھیں۔

سنجیدہ آنکھوں سے تکتی ،زہرا کا چہرہ بہت بے تاثر ساتھا۔ آج ان کے دل پہ اسماکے آنسوئوں کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔

’’دوتین راتوں سے میں سو نہیں سکی آپا .!‘‘ اب آنسوئوں کے ساتھ روتی اسماکے حلق سے مصنوعی ہچکیاں اور سسکیاں بھی نکلنے لگی تھیں۔

’’اچھا.!‘‘ زہراکا سرد اندازمیں کہا یہ لفظ اسماکو کچھ طنزیہ سا لگا تو وہ لمحے بھر کے لیے رونا دھونا بھول کر زہرا کے چہرے اور لہجے کی اجنبیت پر غور کرتیں عقل کے گھوڑے دوڑانے لگیں۔

’’کھانے کے لیے ایک چیز نہیں ہے گھر میں زہرا آپا.!‘‘ باریک بینی سے زہرا کے تاثرات جانچتی اسمانے ناک دوپٹے سے رگڑ کر مزید سرخ کرتے ہوئے اپنی بے بسی اور مصیبت کا رونا رویا۔ امید تھی کہ اس بار موم بس پگھلا ہی پگھلا۔

’’کیوں نگٹس ، کباب ، چکن رول اور چپلی کباب وغیرہ سب ختم ہو گئے تھے اسما.!‘‘

زہراکا طنزیہ انداز اسماکے ہوش ٹھکانے لگا گیا تھا کہ رونے کی اداکاری بھول بھال کر گول گول الو جیسی آنکھوں سے زہرا کو دیکھتی ایسی کھسیانی اور کچی پڑیں کہ ایک بات بھی مزید کہنے کے قابل نہ رہیں۔

٭٭٭

تین روز پہلے فریحہ اور گڈو گیس اور بجلی کے بل جمع کروانے کے بعد ،سودا سلف لیتے مارکیٹ آئے تو وہاں کے انتہائی بڑے اسٹور پر اسماآنٹی کو ان کے شوہر اور بسمہ کے ساتھ شاپنگ کرتے دیکھ کر وہ دونوں سکتے میں آ گئے۔ ان کی شاپنگ کا انداز ایسا شاہانہ تھا کہ ٹرالی کھانے پینے کی اشیا سے بھری تھی۔ ٹرالی میں کسی مہنگی کمپنی کے وہ سب فوڈ آئیٹم تھے جن کو بس فرائی کیا جائے اور کھانے کے لیے تیار۔

گڈواور فریحہ اسٹور کے اس طرف تھے کہ وہ تینوں کو دکھائی نہ دیتے تھے۔ اسماآنٹی کی الگ ٹرالی تھی اور بسمہ کی الگ۔ ٹرالیاں جوس ، چپس چاکلیٹ ، بسکٹ ساری بچوں والی چیزوں سے بھری انتہائی مہنگی اشیا تھیں۔ چہرے کو دوپٹے سے چھپا کر فریحہ کائونٹر پہ ان کی شاپنگ کا بل معلوم کرنے کے بہانے سے قریب جو گئی تو بائیس ہزار کا بل دیکھ کر اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔

ایک طرف حالات کا رونا اور دوسری طرف یہ شاہانہ شاپنگ ۔ جو یقینا زہرا سے مانگے گئے پچیس ہزار سے کی گئی تھی۔

فریحہ کے کہنے پہ گڈو نے اپنے ٹچ موبائل پر ان تینوں کی تصاویر بمعہ ٹرالیوں سمیت بنا کر محفوظ کیں اور گھر پہنچ کر ماں کو ان ضرورت مند رشتے دار کی بے بسی اور جھوٹ سے آگاہ کیا۔

’’امی ،یہ ذرا دیکھیں ان کے ٹھاٹ۔ ان کی شاپنگ !‘‘ فریحہ تو اچھی خاصی بھری تھی۔

اسمانے پچیس ہزار زہرا سے یہ کہہ کر مانگے تھے کہ ان کے شوہرسیڑھیوں سے گر گئے ہیں۔ ڈاکٹرز نے کہا ہے کہ گھٹنے کی ہڈی کو نقصان پہنچا ہے۔ تین مہینے تک چل پھر نہیں سکیں گے۔ جبکہ گڈو اور فریحہ نے ان بے چارے معذور اشفاق انکل کو بڑے شاہانہ انداز میں شاپنگ کرتے اپنی آنکھوں سے نا صرف دیکھا تھا بلکہ ثبوت کے طور پر ،یہ ویڈیو بنا کر ماں کے لیے بھی لے آئے تھے کہ وہ ان بے چاروں حالات کے ماروں کو دیکھ لیں۔ زہرا تو یہ سب دیکھ کر دنگ ہی رہ گئی تھیں ۔

’’امی ،کیا پتا اسماآنٹی اتنی مجبور اور پریشان حال نہ ہوں۔ جتنا بڑھا چڑھا کر آپ کے سامنے بیان کرتی ہیں ۔‘‘ مدیحہ اکثر کہا کرتی تھی۔

’’ہو سکتا ہے مجبوریوں کا رونا صرف ہمدردی جو کہ مالی مدد کی صورت میں ہو اس لیے رویا جاتا ہو۔‘‘

اس وقت سادہ لوح زہرا کو بچوں کی باتیں غلط محسوس ہوتی تھیں۔ ان کے مطابق ضرورت مند رشتے داروں کی مدد کرنی چاہیے ان کے کام آنا چاہیے۔ مگر آج اپنی آنکھوں سے سب دیکھ لیا تھا۔ تو انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ اسمانے ان کی سادگی اور رحم دلی کا ناجائز فائدہ اٹھا یا تھا۔

٭٭٭

’’کک . کیا مطلب ؟ ‘‘ اسماکی بوکھلاہٹ بتا رہی تھی کہ چوری کھل جانے پر اب ہاتھوں کے توتے اڑ گئے ہیں۔ مجبوری اور بے چارگی کا ڈرامہ فلاپ ہو گیا تھا۔ جس کو وہ زہرا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ابھی تک تو بڑی کامیابی سے چلاتی ہمدردی سمیٹ رہی تھیں۔

’’وہ آپا بس . بسمہ شاپنگ کے لیے ضد کر رہی تھی۔‘‘ اسماکا چہرہ کھسیانے پن کی وجہ سے لال ہو گیا تھا۔ مدیحہ اور فریحہ کے علاوہ گڈو بھی یہ شولائیو دیکھنے کے لیے صحن میں آ گیا تھا۔

’’میں شاپنگ کی بات نہیں کر رہی ہوں اسمائ!‘‘زہرا کا لہجہ کرخت تھا۔

’’میں بات کر رہی ہوں اس جھوٹ اور دھوکے بازی کی .!‘‘ اسمایقینا سمجھ گئی تھیں کہ کون سے جھوٹ اور دھوکے بازی کی طرف اشارہ ہو رہا تھا۔ شوہر کی بیماری اور نجانے کن کن مجبوریوں کا رونا رو کر اسمانے زہرا سے پچیس ہزار لیے تھے ۔

حالات کی خرابی نے زہرا کی رقیق القلبی میں اضافہ کر دیا تھا۔ طاہر (دیور) نے جو ان کے ساتھ سلوک کیا تھا اس سلوک نے ان کے دل کو پتھر نہیں بنایا تھا۔ وہ گھر آئے کسی بھی رشتے دار کے ساتھ کبھی بھی درشت نہ ہوئی تھیں۔ جو اسطاعت ہوتی ان کی مدد کر دیا کرتی تھیں۔

زہرا کی اولاد کے لیے ۔ طاہر چچا کا ظلم ان کے لیے ایسی گھنائونی مثال بن گیا تھا کہ اب ہر نئے آنے والے کو پرکھنے کے لیے اسی مثال کو سامنے رکھا کرتے تھے ،وہ اب آنکھیں بند کر کے ہر کسی پہ یقین نہیں کر لیا کرتے تھے ۔

’’اسمارشتے اعتبار سے چلتے ہیں اگر ان کے درمیان سے اعتبار نکل جائے تو پھر ایسے رشتے کھوکھلے ہو جاتے ہیں !‘‘ کن اکھیوں سے کبھی زہرا کو اور کبھی ان تینوں کو دیکھتی اسماچور بنی ہوئی تھیںایسا ہی حال بسمہ کا تھا۔

’’پتا نہیں کیا تربیت دے رہی ہو تم اپنی بیٹی کو بھی ۔‘‘

افسوس سے کہتے زہرا نے منہ دوسری طرف پھیر لیا تھا۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے انہیں اسماکے جھوٹ اور دھوکے پہ دلی رنج ہوا تھا طاہر کے بعد وہ پھر کسی اپنے کے ہاتھوں دھوکے کا شکار ہوئی تھیں۔ زہرا کا صدمہ اور غصہ اپنی جگہ جائز تھا۔

’’اچھا چلیں آپا ،غصہ تھوک دیں معاف کر دیں۔ خون کے رشتے بھلا ایسے تھوڑی ٹوٹتے ہیں۔‘‘

پھر سے اپنی فطری و ازلی مکاری و عیاری پہ اترتے اسماخوشامدپہ اتر آئی تھیں۔ اسماکی سوچ کے مطابق زہرا کی ناراضی وقتی ہو گی ،اسماکی معافی تلافی پھر سے ان کا دل نرم کر دے گی اور پھر سب پہلے جیسا ہو جائے گا۔

وہ سب میلے ٹھیلے.وہی پھر سے مفت بریانی کی دعوتوں کا سلسلہ ۔ لیکن اسماجیسے لوگ شاید بھول جاتے ہیں کہ جو ایک بار دل سے اتر جائے اسے پھر وہ مقام نہیں ملتا۔

’’اچھا آپا مٹی ڈالیں ساری بات پہ !‘‘اسمااب زہر ا کے قریب جا بیٹھی تھیں۔

’’بڑی زوروں کی بھوک لگی ہے آپا ، کیا آج اپنی بہن کا پیٹ ڈانٹ ڈپٹ سے ہی بھریں گی ؟‘‘ اسماتو بطخ کی طرح پر جھاڑ کر ایک دم سے یوں کھڑی ہو گئی تھیں کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

’’بریانی نہیں کھلائیں گی آج اپنی بہن کو !‘‘ اسماتو ایسی تیزی دکھا رہی تھیں کہ پھونک ماریں اور زہرا کا غصہ اور ناراضی سب اڑ جاتے۔

’’اسمااب یہاں بریانی کھانے کے بھی چارجز ہوں گے اور ساتھ لے کر جانے کے لیے بھی !‘‘ زہرا کا کورا جواب اسماکے کانوں سے دھواں نکال گیا تھا۔

’’میرے بچے چکن بریانی بڑی محنت سے بنا کر بیچتے ہیں کوئی فی سبیل اللہ نہیں بانٹتے اسما.!‘‘ ماں کی بات سن کر تینوں کے دل خوشی سے کھل گئے تھے۔

’’ایسے مطلبی اور خود غرض رشتے دار کسی قسم کی نرمی کے قابل نہیں ہوتے ، ایسوں کے ساتھ حد سے زیادہ نرمی برتنا ،خود اپنے ساتھ زیادتی کے مترادف ہوتا ہے۔ پچیس ہزار جیسی بڑی رقم جو مدیحہ نے دن رات مشقت کر کے کمائی تھی ایک بے حس رشتے دار نے کیسے چٹکی بجا کر شاپنگ میں اڑادی تھی۔مال مفت دل بے رحم ۔‘‘

اس روز کے بعد اسماکا آنا جانا مدیحہ کے ہاں بالکل بند ہو گیا تھا۔

’’بڑی بے ذائقہ بریانی ہوتی ہے ان لوگوں کی ، مرچیں اتنی تیز کہ زبان پہ جیسے انگارہ رکھ دیا ہو۔ اس سے اچھی تو چکن بریانی میری بسمہ بنانے لگی ہے۔‘‘

پڑوسنوں سے اسماکی باتیں مدیحہ کے گھر والوں کو سننے کو ملتی رہتی تھیں۔ اب کھسیانی بلی بھلا کھمبا نوچنے کے سوا کیا کر سکتی تھی۔ مدیحہ کے گھرانے کو ان باتوں سے کچھ فرق نہیں پڑ رہا تھا۔ ان کا کاروبار خوب پھیل رہا تھا ۔

٭٭٭

سات سال کا یہ سفر کتنا صبر آزما اور مشقت بھرا تھا۔ سرمئی سڑک پہ دوڑتی چمک دار نئے ماڈل کی گاڑی ڈرائیو ر بڑی مہارت سے چلا رہا تھا اورپچھلی سیٹ پہ مدیحہ ، زہرااور فریحہ بیٹھی ہوئی تھیں۔ گاڑی ریسٹورنٹ گولڈن ویلی کی جانب رواں دواں تھی۔

گولڈن ویلی ریسٹورنٹ کا ایک سال کامیابی سے مکمل ہو گیا تھا آج اس ریسٹورنٹ کی پہلی سالگرہ تھی۔ یہ ریسٹورنٹ کسی غیر کا نہیں تھا مدیحہ کے بھائی عثمان کا تھا جس نے ہوٹل منیجمنٹ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنا ذاتی ریسٹورنٹ زوہیب درانی کی رہنمائی اور مشورے سے کھول لیا تھا۔

اور اس سلسلے میں زوہیب درانی نے عثمان کی ہر قدم پہ مدد کی تھی۔فریحہ نے ایم بی اے کرنے کے بعد بینک میں جاب شروع کر دی تھی مدیحہ کے سارے خواب ایک ساتھ تکمیل کو پہنچ گئے تھے ۔ وہ کتنی شاداں نظر آ رہی تھی۔

اور ان خوابوں کی تکمیل میں ،جو ہم سفر پورے سات سال ساتھ رہا تھا وہ زوہیب درانی تھا۔ زوہیب کے ساتھ کاروبار کرتے جب حالات بہتری کی طرف آنے لگے تو مدیحہ نے عثمان اور فریحہ کو ان کا ٹوٹا ہوا تعلیمی سلسلہ وہیں سے جوڑنے کا کہہ دیا۔ فریحہ کو ہمیشہ سے بینکنگ لائن میں آنے کا شوق تھا۔ عثمان نے زوہیب کے کہنے پہ ہوٹل منیجمنٹ کی تعلیم حاصل کی ۔

٭٭٭

رنگ و نور اور خوشبوئوں میں بسا ماحول ان تینوں کا استقبال کر رہا تھا۔ مہمانوں کی کثیر تعداد آ چکی تھی۔ ریسٹورنٹ کے فنکشن کی سب تیاری عثمان نے زوہیب درانی کے تعاون سے کی تھی۔ عثمان کو تو زوہیب درانی کی شکل میں بڑا بھائی مل گیا تھا۔ یہ اعتراف خود عثمان کا تھا۔

’’گولڈن ویلی‘‘ ریسٹورنٹ اس وقت شہر کے بہترین ریسٹورنٹ میں شمار ہونے لگا تھا۔ عثمان ریسٹورنٹ کا مالک بن گیا تھا اب اس کا معاشرے میں نام و مقام تھا دولت کی ریل پیل کے علاوہ ڈیفنس میں شان دار بنگلہ لے کر وہ ماں اور بہنوں کے ساتھ وہاں شفٹ ہو گیا تھا۔

٭٭٭

کتنا شان دار دن تھا کہ مدیحہ اپنے سب خوابوں کی تعبیر جاگتی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھ رہی تھی۔ ایک عام سی گھریلو لڑکی نے جو کام ابتدا میں گھریلو پیمانے پہ شروع کیا تھا۔ آج وہ اس ریسٹورنٹ کی صورت میں زندگی کے مقصد میں کامیابی پہ مدیحہ کو مبارک باد دے رہا تھا۔

کتنا مشکل لگا کرتا تھا ابتدا میں یہ سب ۔ مگر اس نے ہمت نہ ہاری اس نے جان لڑا دی تھی حالات کو سدھارنے اور اپنے بہن بھائی کو اپنے پیروں پہ کھڑا کرنے کے لیے تھے۔

’’مدیحہ ،تم نے زمانے کو بتا دیا ہے کہ انسان کا کوئی ہنر بھی چھوٹا اور معمولی نہیں ہوتا.!‘‘

بتول صاحبہ جو کہ ریسٹورنٹ کی تقریب میں شریک تھیں۔ مدیحہ کی ہمت اور جرات کو سراہ رہی تھیں۔

’’میں اکیلی کہاں تھی۔ اس کام میں بتول صاحبہ آپ جیسے بہت سے مہربان دوستوں کا ساتھ مجھے اس مقام پہ لایا ہے !‘‘

وہ بھیگی آنکھوں کے ساتھ اپنے دلی جذبات کا اظہار بتول صاحبہ کے سامنے کر رہی تھی کہ عقب سے اک شناساسی آواز سماعتوں میں اتری۔

’’تھوڑا سا وقت اب میرے لیے ہو گا آپ کے پاس ؟‘‘

یہ وہ آواز تھی جس میں مدیحہ نے اپنے لیے کچھ خاص محسوس کیا تھا ۔

وہ آواز جو ہمیشہ دل کے تار چھیڑ دیا کرتی تھی۔وہ آواز جو شروع روز سے ہی اسے اپنی اور کھنچتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔

’’آپ .!‘‘ زوہیب درانی اس کے روبرو تھا۔ بلیک پینٹ کوٹ میں ہمیشہ کی طرح سحر انگیز وباوقار دکھائی دے رہا تھا۔ وہ سحر انگیزی جس نے پہلے روز سے ہی مدیحہ کو اپنا اسیر کر لیا تھا۔ وہ بمشکل اس شخص کے سامنے اپنی گھبراہٹوں پہ قابو پاتی تھی کہ چہرے کی سرخی چغلی کھا ہی جاتی تھی۔

’’میں کافی دیر سے آپ کا منتظر تھا بلکہ .!‘‘ فریحہ اور زہرامہمانوں کے ساتھ گفتگو میں مصروف تھیں اور عثمان اپنے دوستوں کے درمیان ۔

’’بلکہ.!‘‘زوہیب درانی کی دلکش مسکراہٹ اور یہ لفظ مدیحہ کو کچھ معنی خیز سا لگا۔

’’پورے سات سال سے منتظر .!‘‘

تصور میں، تخیل میں ، خوابوں میں ، خیالوں میں

میری بیتاب نظروں نے جدھر دیکھا تمہیں دیکھا

کنٹریکٹ کے پورے دو سال کے بعد جب مدیحہ کا کام بہت شاندار طریقے سے چل نکلا تو اس دوران زوہیب نے مدیحہ کو پروپوز کر دیا زوہیب درانی کا پروپوزل تو ایسا تھا کہ مدیحہ کے گھر میں خوشی کی کہہ دوڑ گئی تھی ۔ زہرا کو تو کوئی اعتراض نہ تھا۔ فریحہ اور عثمان بھی بے حد خوش تھے۔ مگر مدیحہ کے انکار نے زوہیب درانی کو حیرت میں ڈال دیا تھا۔

’’میں نہیں کر سکتی ابھی آپ سے شادی !‘‘

’’مگر کیوں .‘‘

’’میری کچھ ذمے داریاں ہیں۔ کچھ خواب ہیں۔ کچھ مقاصد ہیں!‘‘

’’میں انتظار کر لوں گا!‘‘

’’انتظار طویل ہو سکتا ہے !‘‘

’’جتنا بھی طویل ہو میں انتظار کر لوں گا مدیحہ !‘‘

’’آپ تھک جائیں گے زوہیب !‘‘

’’تھکتے تو وہ ہیں جن کے جذبے وقتی ہوں۔ جن کی محبتیں خالص نہ ہوں!‘‘

اور پھرسات سال پورے صبرسے وہ مدیحہ کا منتظر رہا تھا۔ اور اس کی ثابت قدمی اور جذبوں کی صداقت نے مدیحہ کے سامنے ثابت کر دیا تھا کہ واقعی زوہیب درانی کا جذبہ وقتی نہیں تھا ۔

’’تمہارے خوابوں کی تکمیل کے لیے میں نے تمہیں پورے سات سال کا وقت دیا۔ اب کچھ میرے بھی خواب ادھورے ہیں جن کی تکمیل تم سے جڑی ہے مدیحہ !‘‘ وہ شخص ایک بار پھر سے سوالی بنا اپنی شدتوں کا اظہار کر رہا تھا۔ جو شدتیں سات سال پہلے تھیں وہ شخص اپنی چاہتوں کے سچا ہونے کا ثبوت دے چکا تھا۔ اب اس سوالی کو خالی ہاتھ لوٹانا تو ہین محبت تھی۔

زوہیب کا بڑھا ہوا ہاتھ مسکراتے ہوئے تھام کر مدیحہ نے نظریں جھکا لیں۔ اسی ہم سفر و ہمدم کے ساتھ اسے زندگی کا نیا سفر شروع کرنا تھا۔

جس نے قدم قدم پہ ایک مہربان دوست کی طرح اس کا ہاتھ دیا تھا۔ آج وہ زندگی کے جس مقام پہ تھی اس شخص کے ساتھ اور تعاون کی بدولت تھی۔ جس نے لمحہ بھر بھی اسے تنہا نہیں چھوڑا تھا۔ وہ شخص محبت کا ہالہ بنا اس کی ذات کے گرد رہا تھا۔

’’مدیحہ، اب تم چکن بریانی کی ریسپی ہوٹل شیف کے حوالے کر دو کیونکہ اب تمہارے ہاتھ کی بریانی کھانے کا حق صرف میرا ہو گا!‘‘

زوہیب نے شوخی سے کہا تومسکراہٹوں نے ان دونوں کے گرد گھیرا ڈالتے ہوئے والہانہ انداز میں رقص شروع کر رہا تھا یوں لگتا تھا کہ جیسے سارا جہاں ان کے ساتھ مسکرا اٹھا ہو۔

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں