ایک پل فیصلے کا – راشدہ رفعت

ایک پل فیصلے کا - راشدہ رفعت 72

نجمہ بنا بتائے کبھی چھٹی نہیں کرتی تھی۔ اس کے فون میں بیلنس نہ ہوتا تب بھی اس کے نمبر سے مس بیل ضرور موصول ہو جاتی۔ رباب کو اندازہ ہو جاتا کہ اس بے چاری کو ضرور کوئی اشد ضروری کام آن پڑا ہے اور اسے فون ملانے پر تصدیق ہو جاتی۔ وہ نہ بہانے باز تھی اور نہ کام چور اورآج کے دور میں ایسی ملازمہ ملنا کسی نعمت سے کم نہ تھا۔ رباب اس کی مجبوری کا احساس کرتے ہوئے کبھی بھی اس کی کسی چھٹی پر اس سے باز پرس نہ کرتی تھی۔

لیکن یہ پہلی بار ہوا تھا کہ نجمہ بنا رابطہ کیے مسلسل چھٹیاں کیے جا رہی تھی ،آج اس کی پانچویں لگاتار چھٹی تھی اور اب رباب کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا جا رہا تھا۔ دو چھوٹے بچوں کے ساتھ گھر بھر کے کام نمٹا نا آسان نہ تھا اوپر سے اس کی ساس رابعہ بیگم ضعیف العمری کے باعث ہر چھوٹے بڑے کام کے لیے اس کی محتاج تھیں۔ نجمہ کے ہونے سے رباب کو بڑا آسرا تھاویسے تو وہ صفائی ، برتن اور کپڑوں کی دھلائی کے لیے رکھی گئی تھی لیکن رباب اسے پیسے دے کر چھوٹے موٹے کئی اور کام بھی کروا لیتی تھی۔

’’فون تو ملائو اس کا ۔ وجہ توپتا چلے کیوں چھٹی پہ چھٹی کیے جا رہی ہے۔‘‘ رابعہ بیگم کو بھی بہو کو گھن چکر بنا دیکھ کر اس پر ترس آ رہا تھا۔

’’بہت بار ملایا ہے ،امی فون مسلسل بند جا رہا ہے۔‘‘وہ تھکے ہوئے لہجے میں بولی۔

ابھی نہ گھر کی صفائی ہوئی تھی اور نہ ناشتے کے بعد کچن سمیٹا گیا تھا۔ گیارہ بجنے کو آئے تھے اور ڈیڑھ سالہ فارہ اس کی گود میں ہونے کے باوجود ریں ریں

کیے جا رہی تھی۔ دھلائی والے کپڑوں کا ڈھیر الگ اکٹھا ہوا پڑا تھا۔ اسے سمجھ میں نہ آ رہا تھا کہ آج کی تاریخ میں یہ سب کام کیسے نمٹیں گے۔

’’فرحین کو فون کر کے دیکھ لو اگر اس کی ماسی کے پاس فرصت ہو تو آ کر تمہارے دوچار کام نمٹا دے، منہ مانگے پیسے دے دیں گے۔‘‘ رابعہ بیگم نے اپنی دانست میں مسئلے کا حل نکالا تھا۔

’’فرحین بھابھی کو فون کروں ؟ حد کرتی ہیں امی! اگر اسجد کے کان میں یہ بھنک بھی پڑ گئی توٹھیک ٹھاک کھنچائی کر دیں گے۔‘‘وہ ساس کی تجویز پر جھنجلا ہی تو گئی۔

’’تمہاری مدد کے خیال سے کہہ رہی تھی میں تو ۔ ‘ ‘ وہ دھیمے سے لہجے میں صفائی دینے لگیں۔

رباب کو بھی اپنے لہجے کی تلخی کا احساس ہوا۔ اس کی ساس بھلی مانس عورت تھیں۔ وہ کبھی اس کے لیے روایتی ساس ثابت نہ ہوئی تھیں۔ رباب نے بھی اچھی بہو بننے میں کبھی کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ وہ ہر دم ان کی خدمت پر کمر بستہ رہتی تھی لیکن یہ بھی سچ تھا کہ ان کی اداسی کا اس کے پاس کوئی علاج نہ تھا۔

اس کے شوہر اسجد کی ،اپنے اکلوتے چھوٹے بھائی سے تین سال سے بول چال بند تھی۔ دونوں بھائیوں کا مشترکہ کاروبار تھا۔ لین دین کے تنازعے پر معمولی سا جھگڑا اتنا بڑھا کہ دونوں ایک دوسرے کی شکل تک دیکھنے کے روادار نہ رہے۔ کاروبار کے حصے بخرے ہوئے توآبائی گھربھی فروخت ہو گیا۔ اسی علاقے میں دونوں بھائیوں نے اپنے اپنے علیحدہ مکان خرید کر رہائش اختیار کر لی۔

مسئلہ ماں کا تھا، جو ایک بیٹے کے پاس رہتیں تو دوسرے کو دیکھنے کے لیے آنکھیں ترس جاتیں دوسرے کے پاس جاتیں توپہلے کی یاد ستانے لگتی۔ رباب کو ان پر ترس توآتا لیکن اس معاملے میں وہ شوہر کی ہم نوا تھی۔ امجدنے ان کے ساتھ اچھا نہ کیا تھا۔اچھا بھلا پھلتا پھولتا کاروبار اس کی بد دیانتی کی نذر ہو گیا۔

ڈوبتے کاروبار کو بچانے کے لیے، اسجد نے کتنے ہاتھ پائوں مارے ،رباب نے اپنا سارا زیور بیچ ڈالا وہ تو بعد میں خبر ہوئی کہ جس کشتی کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے وہ ہاتھ پائوں مار رہے تھے ،اس میں چھید امجد نے کیا تھا۔ بہت تلخ کلامی اور جھگڑے کے بعد کاروبار کے حصے ہوئے تھے۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ،امجد کو اپنی زیادتی کا احساس ہوا تو نادم ہو کر معافی مانگنی چاہی لیکن اب اسجد کا دل سخت ہو گیا تھا ۔ اس نے بھائی اور اس کے گھر والوں سے مکمل لا تعلقی اختیار کر لی۔

امجد کی بیوی فرحین سے رباب کی بہت دوستی تھی دونوں دیورانی ،جیٹھانی ہر کام ایک دوسرے کے مشورے سے کرتی تھیں۔ رباب کو اللہ نے شادی کے طویل عرصے بعد اولاد کی نعمت سے نوازا تھا، اس نے دیور کے بچوں کے ماں کی طرح ہی لاڈ اٹھائے تھے ،وہ بھی اسے بڑی مما کہتے تھے لیکن یہ سب بیتے وقتوں کی باتیں تھیں۔

اب رباب خود ان لوگوں سے کوئی تعلق نہ رکھنا چاہتی تھی۔ اسجد نے جس کاروبار کو خون دل دے کر سینچا تھا ،عین عروج کے دنوں میں وہ چھوٹے بھائی کی نالائقی اور بد دیانتی کی وجہ سے ٹھپ ہو گیا۔ بعد کا عرصہ رباب اور اسجد نے کس تنگی ترشی سے گزارا یہ ان کا رب ہی جانتا تھا۔ جب طویل انتظار کے بعد اللہ نے انہیں اولاد کی نعمت سے نوازا تو ماضی کی خوش حالی اور فراخی خواب خیال ہو چکی تھی۔ بہت عرصہ لگا تھا اسجد کو کاروبار کی دنیا میں پھر سے قدم جمانے کے لیے۔

اللہ کے کرم سے اب حالات بہتر تھے مگر پہلے والی بات اب بھی نہ تھی رباب پھر بھی اللہ کا شکر ادا کرنے والوں میں سے تھی ہاں امجد سے تعلق ختم کرنے کے شوہر کے فیصلے پر پوری طرح اس کی ہم نوا تھی۔ رابعہ بیگم دبے دبے انداز میں ان میاں بیوی کو سمجھاتی تھیں کہ امجد کو معاف کر دیں۔ ان کی شدید خواہش تھی کہ دونوں بیٹوں کے ٹوٹے رشتے پھرسے بحال ہو جائیں۔ شاید اب بھی فرحین بھابھی کو فون کرنے کا اسی لیے کہہ رہی تھیں کہ رباب اشد ضرورت کے تحت دیورانی سے رابطہ کر لے اور ان چھوٹے چھوٹے اقدامات سے تعلق بحال ہونے میں مدد ملے۔ لیکن رباب نے ان کا مشورہ یکسر رد کر دیا۔ جیسے تیسے کر کے گھر کے کام خود ہی نمٹائے۔

٭٭٭

پورے ایک ہفتے کی چھٹی کے بعد نجمہ کی آمد ہوئی رباب اس بار اس پر چڑھائی کا مکمل ارادہ رکھتی تھی لیکن نجمہ کا ستا ہوا چہرہ اور متورم آنکھیں دیکھ کر ٹھٹکی۔

’’خیر تھی نجمہ ،بنا بتائے اتنی چھٹیاں ۔‘‘ وہ فقط یہ ہی پوچھ پائی ۔

’’میری اماں اللہ کو پیاری ہو گئی باجی۔‘‘ نجمہ بتاتے ہوئے ہچکیوں سے رونے لگی ۔ رباب نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا۔ وہ مزید شدت سے رونے لگی۔ چند لمحوں بعد وہ سنبھل گئی تھی۔

’’گائوں میں سگنل ہی نہیں آتے تھے باجی اور جب یہاں سے اماں کی موت کی خبر سن کر ہم گائوں بھاگے تب اتنا ہوش ہی نہیں تھا کہ آپ کو فون کر کے بتا پاتی ۔‘‘ وہ گلو گیر لہجے میں صفائی دینے لگی۔

’’چلو کوئی بات نہیں بس مجھے بھی یہ ہی فکر تھی کہ پہلے تم نے کبھی بنا بتائے اتنی چھٹیاں نہیں کیں۔‘‘ رباب نرم لہجے میں بولی۔ نجمہ کی ماں کی وفات پر اسے وقتی افسوس تو ضرور ہوا تھا اس سے کہیں بڑھ کر اس کی واپسی پر اطمینان تھا۔

نجمہ لپک جھپک کر سارے کام نمٹانے لگی۔ رباب کو اتنے دنوں بعد سکون سے ناشتہ کرنا نصیب ہوا۔

چند دن مزید گزرے وہ نوٹ کر رہی تھی کہ نجمہ اب بہت چپ چپ رہنے لگی ہے۔ اسے بے چاری پر ترس آتا۔ ماں کی جدائی کا صدمہ سہنا کسی کے لیے بھی آسان نہیں ہوتا پھر بھی اپنے تئیں اس نے نجمہ کو تسلی دلاسا دینے کی کوشش ضرور کی ۔

’’اماں کے مرنے کا غم اپنی جگہ باجی !لیکن میرا دکھ کوئی اور ہے۔‘‘ اس نے جب نجمہ کو اس کی ماں کے بڑھاپے ، بیماریوں اور تکلیفوں کا احساس دلا کر یہ باور کروانا چاہا کہ اب اس کی ماں سب تکلیفوں سے نجات پا کر ابدی سکون میں ہے تونجمہ نے ٹھنڈی آہ بھر کر اسے مخاطب کیا۔ وہ اپنے دکھ کی کوئی اور ہی وجہ بیان کر رہی تھی اور یہ وجہ جان کر رباب بھی گم صم ہو گئی۔

’’آپ کو تو پتا ہے باجی ۔ میری شانو کو پیدا ہوتے کے ساتھ ہی میری آپا نے مانگ لیا تھا اور جب میری شانو جوان ہوئی تو آپا اپنے کہے سے مکر گئی کہتی تھی ۔ میرے بیٹے کو اس کے چاچے کی بیٹی پسند ہے میں زبردستی کیسے کروں۔‘‘ میں نے آپا سے ہر تعلق واسطہ ختم کر لیا۔ میری ماں نے اپنی زندگی میں بڑی کوشش کی جی ہماری لڑائی ختم کروانے کی لیکن میں مان کر نہ دی اور پتا ہے باجی ماں کے مرنے پر میں سب سے پہلے کس کے گلے لگ کر دھاڑیں مار کر روئی ۔‘‘ نجمہ نے دوپٹے سے آنکھیں رگڑتے ہوئے فقرہ ادھورا چھوڑا۔

’’ماں کے مرنے کا غم میں صرف آپا کے گلے لگ کر منا سکتی تھی۔ پوری دنیا میں صرف وہ ہی تھی جو یہ غم بالکل میری طرح محسوس کر سکتی تھی۔ باقی تسلی دینے والے تو بہت تھے لیکن ہم دونوں کے دل کا حال بالکل ایک جیسا تھا۔ جو لڑائی میں خوامخواہ اتنے سال رکھے رہی ،وہ ماں کی روح نکلتے ہی ختم ہو گئی، بس میرے دل سے یہ دکھ ختم ہی نہیں ہو رہا کہ کاش میں اپنی ماں کی زندگی میں ہی اس کی بات مان لیتی۔ اس بے چاری کو اپنی زندگی میں یہ سکھ دیکھنے کو نہ ملا۔ وہ یہ حسرت لیے ہی دنیا سے رخصت ہو گئی کہ اس کی بیٹیاں ایک دوسرے کو آگے بڑھ کر گلے لگا لیں۔ اس کی خواہش اس کے مرنے پر ہی پوری ہوئی باجی ۔‘‘ نجمہ تھکے ہوئے لہجے میں بولی۔

رباب اسے تسلی کے دو بول بھی نہ بول پائی۔ اس کے اپنے دل و دماغ میں اضطراب برپا تھا۔ پہلی بار شوہر اور دیور کی لڑائی کو اس نے کسی اور تناظر میں پرکھا۔ اگر کل کلاں کو خدانخواستہ رابعہ بیگم کو کچھ ہو جاتا ہے تو اسجد اور وہ بھی اسی نوعیت کے پچھتاوے میں مبتلا نہ ہو جائیں گے۔ ایک ضعیف ، بیمار اور کمزور وجود کو زندگی کے آخری حصے میں اس پریشانی میں مبتلا رکھنا کہ ان کی سگی اولادیں ،ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کی روادار نہیں اور اگر وہ یہ حسرت لیے اس دنیا سے رخصت ہو گئیں تو دنیا کی کوئی طاقت بیتے وقت کو پلٹ کر واپس نہ لا سکے گی۔

نجمہ تو اپنا دکھڑا رو کر گھر کے کام نمٹانے لگی تھی لیکن رباب بہت دیر تک سوچوں میں گھری رہی۔ فیصلہ کرنا مشکل ضرور تھا لیکن بالآخر وہ ایک فیصلے پر پہنچ ہی گئی ،اس نے اسجد کو سمجھانا تھا کہ وہ محض ماں کی خاطر بھائی کو معاف کر کے اپنے گھر کے دروازے اس کے لیے کھول دے۔

امجد ان کا بھروسہ کھو چکا تھا۔ کاروبار تو دور کی بات وہ کسی بھی مالی معاملے میں اس پر انحصار کرنے کی غلطی نہیں کریں گے۔ مکمل طور پر دل صاف ہونے میں بھی ،شاید ایک عرصہ لگے لیکن اگر اس وقت ماں ہی موجود نہ ہو تو پھر سب کچھ بے کار تھا۔

رباب کو اپنی بات سمجھانے کا ڈھنگ آتا تھا اور شوہر اس کی سنتا بھی تھا اسے یقین تھا وہ اسجد کو بہت جلد منالے گی۔ رابعہ بیگم کی آنکھوں کی اداسی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہونے والی تھی۔ رباب نے مطمئن ہو کر سوچا اور پھر ساس کا پرہیزی کھانا بنانے کے لیے باورچی خانے کی طرف بڑھ گئی۔

٭٭

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں